al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 25 · 77 verses
25:1تَبَارَكَ ٱلَّذِي نَزَّلَ ٱلۡفُرۡقَانَ عَلَىٰ عَبۡدِهِۦ لِيَكُونَ لِلۡعَٰلَمِينَ نَذِيرًا
بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے نازل کیا فرقان اوپر اپنے بندے کےتاکہ ہو وہ جہان (والوں ) کے لیے ڈرانے والا (1) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور نہیں بنائی اس نے کوئی اولاد اور نہیں ہے اس کا کوئی شریک بادشاہی میں اور پیدا کیا اس نے ہر چیز کو، پس اس نے اندازہ کیا اس کا (پورا) اندازہ کرنا (2)
[1] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظمت کاملہ، ہر لحاظ سے وحدانیت میں اس کے متفرد ہونے، اس کی بھلائی اور احسان کی کثرت کا بیان ہے، چنانچہ فرمایا:﴿تَبٰرَكَ﴾ یعنی وہ بہت بڑا ہے اس کے تمام اوصاف نہایت کامل اور اس کے احسانات بہت زیادہ ہیں ۔ اس کا سب سے بڑا احسان اور سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ عظیم قرآن نازل فرمایا جو حلال و حرام، ہدایت و ضلالت، اہل سعادت اور اہل شقاوت کے درمیان فرق بیان کرتا ہے۔﴿ عَلٰى عَبۡدِهٖ ﴾ یہ فرقان عظیم اس نے اپنے بندے محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمایا جنھوں نے تمام مراتب عبودیت مکمل کر لیے اور اللہ نے ان کو تمام انبیاء و مرسلین پر فوقیت عطا کی۔ ﴿لِيَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ ہو جائے۔‘‘ یعنی اپنے بندے پر اس فرقان کا نازل کرنا﴿ لِلۡعٰلَمِيۡنَ نَذِيۡرًا ﴾ ’’جہانوں کے لیے ڈرانے والا۔‘‘ جو ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب اور غصے سے ڈراتا ہے اور ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی ناراضی کے مقامات کو واضح کرتا ہے۔ جو کوئی اس کے اِنذار کو قبول کر کے اس پر عمل پیرا ہوتا ہے وہ دنیا و آخرت میں نجات پانے والوں میں شمار ہوتا ہے، جنھیں ابدی سعادت اور سرمدی بادشاہی حاصل ہوتی ہے۔ پس کیا اللہ تعالیٰ کی اس نعمت اور اس کے اس فضل و احسان سے بڑھ کر بھی کوئی اور چیز ہے؟ پس نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات، جس کے احسانات و برکات میں قرآن بھی شامل ہے۔
[2]﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی۔‘‘ یعنی وہ اکیلا ہی زمین و آسمان میں تصرف کرتا ہے اور زمین اور آسمانوں میں رہنے والے، سب اللہ تعالیٰ کے مملوک اور غلام ہیں ، اس کی عظمت کے سامنے فروتن، اس کی ربوبیت کے سامنے سرافگندہ اور اس کی رحمت کے محتاج ہیں ۔ ﴿ وَلَمۡ يَتَّؔخِذۡ وَلَدًا وَّلَمۡ يَؔكُنۡ لَّهٗ شَرِيۡكٌ فِي الۡمُلۡكِ ﴾ ’’اس نے کوئی اولاد بنائی ہے نہ اس کا بادشاہی میں کوئی شریک ہے۔‘‘ کوئی اس کا بیٹا یا شریک کیسے ہو سکتا ہے، حالانکہ وہ مالک ہے دیگر تمام لوگ اس کی مملوک ہیں ، وہ قاہر و غالب ہے اور تمام مخلوق مقہور ہے۔ وہ ہر لحاظ سے بذاتہ غنی ہے اور تمام مخلوق ہر لحاظ سے اس کی محتاج ہے؟ کوئی کیسے اقتدار میں اس کا شریک ہو سکتا ہے، حالانکہ تمام بندوں کی پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں ، اس کی اجازت کے بغیر ان میں کوئی حرکت ہے نہ سکون اور نہ وہ کسی تصرف کا اختیار رکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس شرک سے بہت بلند اور بالاتر ہے۔ جس کسی نے اس کے بارے میں یہ بات کہی ہے اس نے اس کی ویسی قدر نہیں کی جیسا کہ قدر کرنے کا حق ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَخَلَقَ كُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔‘‘ یہ تخلیق عالم علوی، عالم سفلی، تمام حیوانات، نباتات اور جمادات کو شامل ہے ﴿ فَقَدَّرَهٗ تَقۡدِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کا مناسب اندازہ کیا۔‘‘ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی کی ہر مخلوق کو ایسی تخلیق عطا کی جو اس کے لائق اور اس کے لیے مناسب ہے اور جو اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے۔ جہاں تمام مخلوق کی شکل ایسے ہے کہ عقل صحیح یہ تصور بھی نہیں کر سکتی کہ وہ کسی ایسی شکل میں ہو جو موجودہ شکل و صورت کے خلاف ہو جس کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں بلکہ مخلوق واحد کا کوئی جزو اور کوئی عضو صرف اسی جگہ مناسب ہے جہاں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّكَ الۡاَعۡلَىۙ۰۰الَّذِيۡ خَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰وَالَّذِيۡ قَدَّرَ فَهَدٰى ﴾(الاعلی:87؍1-3) ’’تسبیح بیان کیجیے اپنے عالی شان رب کے نام کی۔ جس نے (انسان کو) پیدا کیا اور اس کو نک سک سے برابر کیا اور جس نے اس کا اندازہ ٹھہرایا پھر اس کو راہ دکھائی۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ رَبُّنَا الَّذِيۡۤ اَعۡطٰى كُلَّ شَيۡءٍ خَلۡقَهٗ ثُمَّ هَدٰؔى ﴾(طہ:20؍50) ’’ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی تخلیق عطا کی پھر اس کو راہ دکھائی۔‘‘ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عظمت، اپنے کمال اور اپنے کثرت احسان کو بیان فرمایا اور یہ چیز اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ صرف اسی کو الٰہ، محبوب و معظم ہونا چاہیے، صرف اسی کے لیے عبادت کو خالص کیا جائے۔ اس کا کوئی شریک نہیں … تب مناسب ہے کہ غیر اللہ کی عبادت کے بطلان کو بھی بیان کیا جائے، اس لیے فرمایا:
25:2ٱلَّذِي لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَمۡ يَتَّخِذۡ وَلَدٗا وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ شَرِيكٞ فِي ٱلۡمُلۡكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيۡءٖ فَقَدَّرَهُۥ تَقۡدِيرٗا
بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے نازل کیا فرقان اوپر اپنے بندے کےتاکہ ہو وہ جہان (والوں ) کے لیے ڈرانے والا (1) وہ ذات کہ اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور نہیں بنائی اس نے کوئی اولاد اور نہیں ہے اس کا کوئی شریک بادشاہی میں اور پیدا کیا اس نے ہر چیز کو، پس اس نے اندازہ کیا اس کا (پورا) اندازہ کرنا (2)
[1] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظمت کاملہ، ہر لحاظ سے وحدانیت میں اس کے متفرد ہونے، اس کی بھلائی اور احسان کی کثرت کا بیان ہے، چنانچہ فرمایا:﴿تَبٰرَكَ﴾ یعنی وہ بہت بڑا ہے اس کے تمام اوصاف نہایت کامل اور اس کے احسانات بہت زیادہ ہیں ۔ اس کا سب سے بڑا احسان اور سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ عظیم قرآن نازل فرمایا جو حلال و حرام، ہدایت و ضلالت، اہل سعادت اور اہل شقاوت کے درمیان فرق بیان کرتا ہے۔﴿ عَلٰى عَبۡدِهٖ ﴾ یہ فرقان عظیم اس نے اپنے بندے محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمایا جنھوں نے تمام مراتب عبودیت مکمل کر لیے اور اللہ نے ان کو تمام انبیاء و مرسلین پر فوقیت عطا کی۔ ﴿لِيَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ ہو جائے۔‘‘ یعنی اپنے بندے پر اس فرقان کا نازل کرنا﴿ لِلۡعٰلَمِيۡنَ نَذِيۡرًا ﴾ ’’جہانوں کے لیے ڈرانے والا۔‘‘ جو ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب اور غصے سے ڈراتا ہے اور ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی ناراضی کے مقامات کو واضح کرتا ہے۔ جو کوئی اس کے اِنذار کو قبول کر کے اس پر عمل پیرا ہوتا ہے وہ دنیا و آخرت میں نجات پانے والوں میں شمار ہوتا ہے، جنھیں ابدی سعادت اور سرمدی بادشاہی حاصل ہوتی ہے۔ پس کیا اللہ تعالیٰ کی اس نعمت اور اس کے اس فضل و احسان سے بڑھ کر بھی کوئی اور چیز ہے؟ پس نہایت ہی بابرکت ہے وہ ذات، جس کے احسانات و برکات میں قرآن بھی شامل ہے۔
[2]﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی۔‘‘ یعنی وہ اکیلا ہی زمین و آسمان میں تصرف کرتا ہے اور زمین اور آسمانوں میں رہنے والے، سب اللہ تعالیٰ کے مملوک اور غلام ہیں ، اس کی عظمت کے سامنے فروتن، اس کی ربوبیت کے سامنے سرافگندہ اور اس کی رحمت کے محتاج ہیں ۔ ﴿ وَلَمۡ يَتَّؔخِذۡ وَلَدًا وَّلَمۡ يَؔكُنۡ لَّهٗ شَرِيۡكٌ فِي الۡمُلۡكِ ﴾ ’’اس نے کوئی اولاد بنائی ہے نہ اس کا بادشاہی میں کوئی شریک ہے۔‘‘ کوئی اس کا بیٹا یا شریک کیسے ہو سکتا ہے، حالانکہ وہ مالک ہے دیگر تمام لوگ اس کی مملوک ہیں ، وہ قاہر و غالب ہے اور تمام مخلوق مقہور ہے۔ وہ ہر لحاظ سے بذاتہ غنی ہے اور تمام مخلوق ہر لحاظ سے اس کی محتاج ہے؟ کوئی کیسے اقتدار میں اس کا شریک ہو سکتا ہے، حالانکہ تمام بندوں کی پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں ، اس کی اجازت کے بغیر ان میں کوئی حرکت ہے نہ سکون اور نہ وہ کسی تصرف کا اختیار رکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس شرک سے بہت بلند اور بالاتر ہے۔ جس کسی نے اس کے بارے میں یہ بات کہی ہے اس نے اس کی ویسی قدر نہیں کی جیسا کہ قدر کرنے کا حق ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَخَلَقَ كُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔‘‘ یہ تخلیق عالم علوی، عالم سفلی، تمام حیوانات، نباتات اور جمادات کو شامل ہے ﴿ فَقَدَّرَهٗ تَقۡدِيۡرًا ﴾ ’’اور اس کا مناسب اندازہ کیا۔‘‘ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی کی ہر مخلوق کو ایسی تخلیق عطا کی جو اس کے لائق اور اس کے لیے مناسب ہے اور جو اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے۔ جہاں تمام مخلوق کی شکل ایسے ہے کہ عقل صحیح یہ تصور بھی نہیں کر سکتی کہ وہ کسی ایسی شکل میں ہو جو موجودہ شکل و صورت کے خلاف ہو جس کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں بلکہ مخلوق واحد کا کوئی جزو اور کوئی عضو صرف اسی جگہ مناسب ہے جہاں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّكَ الۡاَعۡلَىۙ۰۰الَّذِيۡ خَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰وَالَّذِيۡ قَدَّرَ فَهَدٰى ﴾(الاعلی:87؍1-3) ’’تسبیح بیان کیجیے اپنے عالی شان رب کے نام کی۔ جس نے (انسان کو) پیدا کیا اور اس کو نک سک سے برابر کیا اور جس نے اس کا اندازہ ٹھہرایا پھر اس کو راہ دکھائی۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ رَبُّنَا الَّذِيۡۤ اَعۡطٰى كُلَّ شَيۡءٍ خَلۡقَهٗ ثُمَّ هَدٰؔى ﴾(طہ:20؍50) ’’ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی تخلیق عطا کی پھر اس کو راہ دکھائی۔‘‘ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عظمت، اپنے کمال اور اپنے کثرت احسان کو بیان فرمایا اور یہ چیز اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ صرف اسی کو الٰہ، محبوب و معظم ہونا چاہیے، صرف اسی کے لیے عبادت کو خالص کیا جائے۔ اس کا کوئی شریک نہیں … تب مناسب ہے کہ غیر اللہ کی عبادت کے بطلان کو بھی بیان کیا جائے، اس لیے فرمایا:
25:3وَٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةٗ لَّا يَخۡلُقُونَ شَيۡـٔٗا وَهُمۡ يُخۡلَقُونَ وَلَا يَمۡلِكُونَ لِأَنفُسِهِمۡ ضَرّٗا وَلَا نَفۡعٗا وَلَا يَمۡلِكُونَ مَوۡتٗا وَلَا حَيَوٰةٗ وَلَا نُشُورٗا
اور بنا لیے ہیں (مشرکوں نے) سوائے اس کے (اور) معبود جو، نہیں پیدا کرتے کچھ بھی اور وہ (خود) پیدا کیے جاتے ہیں اور نہیں اختیار رکھتے وہ اپنے نفسوں کے لیے کسی نقصان کا اور نہ کسی نفع کااور نہیں اختیار رکھتے وہ موت کا اور نہ زندگی کا اور نہ دوبارہ (جی) اٹھنے ہی کا (3)
[3] یہ عجیب ترین بات ہے اور ان کی بے وقوفی اور کم عقلی کی سب سے بڑی دلیل ہے بلکہ ان کے ظلم اور اپنے رب کے حضور ان کی جسارت پر بھی بہت بڑی دلیل ہے کہ انھوں نے کمال عجز سے موصوف ہستیوں کو اپنا معبود بنا لیا۔ ان کے خود ساختہ معبودوں کا عجز یہاں تک پہنچا ہوا ہے کہ وہ کسی چیز کی تخلیق پر قادر نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں بلکہ ان میں سے بعض تو خود ان کے اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں ۔ ﴿ وَلَا يَمۡلِكُوۡنَ لِاَنۡفُسِهِمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا ﴾ ’’اور وہ اپنے نفسوں کے لیے بھی نفع نقصان کے مالک نہیں ہیں ‘‘ خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ۔ یہاں سیاق نفی میں نکرہ کا استعمال ہے جو عموم پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ وَّلَا يَمۡلِكُوۡنَ مَوۡتًا وَّلَا حَيٰؔوةً وَّلَا نُشُوۡرًؔا ﴾ ’’اور نہ وہ اختیار رکھتے ہیں کسی کے مارنے کا اور نہ زندہ کرنے کا اور (نہ مرنے کے بعد دوبارہ) زندہ کرنے کا۔‘‘ احکام عقل میں سب سے بڑا حکم، ان خود ساختہ معبودان کی الوہیت کے بطلان اور ان کے فساد کا حکم ہے، نیز سب سے بڑا حکم ان لوگوں کے فساد عقل کا حکم ہے، جنھوں نے ان کو معبود بنا کر اس ہستی کا شریک ٹھہرا دیا ہے جو بغیر کسی شراکت کے خالق کائنات ہے جس کے دست قدرت میں نفع و نقصان، عطا کرنا اور محروم کرنا ہے، جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے، وہ ہستی قبروں میں پڑے ہوئے مردوں کو دوبارہ زندہ کرکے قیامت کے روز جمع کرے گی۔ اس نے لوگوں کے لیے آخرت میں دو گھر بنائے، پہلا بدبختی، رسوائی اور عذاب کا گھر، یہ اس شخص کا گھر ہو گا جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو الٰہ بنا رکھا ہے، دوسرا کامیابی، خوش بختی اور دائمی نعمتوں کا گھر اور یہ اس شخص کا گھر ہو گا جس نے صرف اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا معبود قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے قطعی اور واضح دلیل کے ذریعے سے توحید کی صحت اور شرک کے بطلان کو ثابت کرنے کے بعد رسالت کی صحت اور منکرین رسالت کے موقف کے بطلان کو ثابت کرنے کے لیے دلائل دیے، چنانچہ فرمایا:
25:4وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّآ إِفۡكٌ ٱفۡتَرَىٰهُ وَأَعَانَهُۥ عَلَيۡهِ قَوۡمٌ ءَاخَرُونَۖ فَقَدۡ جَآءُو ظُلۡمٗا وَزُورٗا
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جھوٹ ہی، گھڑا ہے اس( پیغمبر) نے اسے اور مدد کی ہے اس کی اس پر کچھ اور لوگوں نے پس تحقیق آئے ہیں وہ (لوگ) ظلم اورجھوٹ کو (4) اور کہا انھوں نے، یہ قصے کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی، لکھ لیا ہے اس نے ان کو، پس وہ پڑھی جاتی ہیں اس پر صبح اور شام(5) آپ کہہ دیجیے! نازل کیا ہے اس (قرآن) کو اس (اللہ) نے جو جانتا ہے بھید آسمانوں اور زمین کے، بے شک وہ ہے بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (6)
[4] یعنی اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے، جن کے قرآن اور رسول کے بارے میں قول باطل کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان پر کفر واجب کیا… کہتے ہیں کہ یہ قرآن جھوٹ ہے جسے محمد (ﷺ)نے خود تصنیف کیا ہے، ایک بہتان ہے جسے محمد (ﷺ)نے گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا ہے اور ایسا کرنے میں کچھ دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ان کا انکار حق، ظلم اور باطل پر مبنی اقدام ہے جو کسی کی عقل میں نہیں آ سکتا، حالانکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے احوال، آپ کے کامل صدق و امانت اور آپ کی کامل نیکی کی پوری پوری معرفت رکھتے ہیں ۔ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ محمد ﷺ اور دیگر تمام مخلوق کے لیے یہ قرآن تصنیف کرنا ممکن نہیں جو جلیل ترین اور بلند ترین درجے کا کلام ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ محمد ﷺ اس قرآن کی تصنیف میں مدد حاصل کرنے کے لیے کسی کے پاس نہیں گئے … پس کفار نے ظلم اور جھوٹ پر مبنی بات کہی ہے۔
[5] ان کی ان باتوں میں سے ایک بات یہ ہے کہ یہ قرآن، جسے محمد ﷺ لے کر آئے ہیں ﴿اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ اكۡتَتَبَهَا ﴾ یعنی یہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جو لوگوں میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں اورانھیں ہر شخص آگے بیان کر دیتا ہے محمد (ﷺ)نے بھی ان کہانیوں کو سن کر لکھ لیا ہے۔ ﴿فَهِيَ تُمۡلٰى عَلَيۡهِ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا ﴾’’پس وہ صبح و شام اس پر پڑھی جاتی ہیں ۔‘‘ ان کی اس بات میں متعدد گناہ کی باتیں ہیں :(۱)ان کا رسولﷺپر جھوٹ اور عظیم جسارت کے ارتکاب کا بہتان لگانا، حالانکہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ نیک اور سچے ہیں ۔(۲)قرآن کریم کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ جھوٹ اور افتراء ہے، حالانکہ یہ سب سے سچا، جلیل ترین اور عظیم ترین کلام ہے۔(۳)اس ضمن میں ان کا یہ دعویٰ کہ وہ ایسا کلام لانے کی قدرت رکھتے ہیں یعنی یہ مخلوق جو ہر پہلو سے ناقص ہے، خالق جو ہر لحاظ سے کامل ہے، کی ایک صفت یعنی صفت کلام میں اس کی برابری کر سکتی ہے؟(۴) رسولﷺکے احوال معلوم ہیں یہ آپ کے احوال کو سب سے زیادہ جانتے ہیں انھیں خوب معلوم ہے کہ آپ لکھ سکتے ہیں نہ آپ کسی ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں جو آپ کو لکھ کر دے۔ اس کے باوجود وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ یہ قصے کہانیاں کسی کے پاس سے لکھ لاتے ہیں ۔
[6] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ اَنۡزَلَهُ الَّذِيۡ يَعۡلَمُ السِّرَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی اس قرآن عظیم کو اس ہستی نے نازل کیا ہے جس کے علم نے زمین و آسمان کی ہر چیز کا، خواہ وہ غائب ہو یا سامنے ہو، چھپی ہوئی ہو یا ظاہر ہو… احاطہ کر رکھا ہے۔ جیسے اللہ کا ارشاد ہے:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ رب العالمین کی طرف سے اتاری ہوئی چیز ہے۔ جسے لے کر روح الامین آپ کے دل پر اترا ہے تاکہ آپ ان لوگوں میں شامل ہوں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو ان کے انجام سے ڈرانے والے ہیں ۔‘‘ اس میں ان پر حجت قائم کرنے کا پہلو یہ ہے کہ وہ ہستی، جس نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور جس کا علم ہر چیز کا احاطہ كيے ہوئے ہے، اس کے بارے میں یہ محال اور ممتنع ہے کہ کوئی مخلوق یہ قرآن گھڑ کر اس کی طرف منسوب کر دے اور کہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرے اس کی جان و مال کو مباح قرار دے دے اور دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، بایں ہمہ وہ اس شخص کی اس کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کرتا ہے، ان کی جانوں اور شہروں کو اس کے حوالے کر دیتا ہے… پس اللہ تعالیٰ کے علم کا انکار كيے بغیر، کسی کے لیے اس قرآن کا انکار کرنا ممکن نہیں ۔ بنی آدم میں سے سوائے دہریے فلاسفہ کے، کوئی ایسی بات نہیں کہتا۔نیز اللہ تعالیٰ کا اپنے وسیع علم کا ذکر کرنا، ان کو قرآن میں تدبر کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے، اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ اس کے علم اور احکام میں کوئی ایسی چیز ضرور دیکھتے جو قطعی طور پر دلالت کرتی کہ یہ قرآن غائب اور حاضر، تمام امور کا علم رکھنے والی ہستی کے سوا، کسی کی طرف سے نہیں … ان کے توحید و رسالت کا، جو ان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے… انکار کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے ظلم کے حوالے کر کے چھوڑ نہیں دیا بلکہ ان کو توبہ و انابت کی طرف بلایا اور ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ اگر وہ توبہ کریں گے تو وہ ان کو اپنی رحمت اور مغفرت سے نوازے گا۔ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوۡرًا ﴾ ’’وہ بہت بخشنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس کا وصف یہ ہے کہ وہ مجرموں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے، جب وہ مغفرت کے اسباب کام میں لاتے ہیں ، یعنی وہ گناہوں سے رجوع کر کے توبہ کرتے ہیں ۔﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ ان پر بہت رحم کرنے والا ہے کیونکہ اس نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی حالانکہ انھوں نے اس کے تقاضوں کو پورا کر دیا تھا۔ ان کی نافرمانیوں کے بعد اس نے ان کی توبہ قبول فرمائی، ان کی برائیوں کے ارتکاب کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی برائیوں کو مٹا دیا، اس نے ان کی نیکیوں کو قبول فرمایا، اس نے اپنے سے دور بھاگنے کے بعد اپنی طرف رجوع کرنے والوں کو اور روگردانی کے بعد اپنی طرف متوجہ ہونے والوں کو اطاعت مندوں اور رجوع کرنے والوں کی حالت کی طرف لوٹا دیا۔
25:5وَقَالُوٓاْ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ ٱكۡتَتَبَهَا فَهِيَ تُمۡلَىٰ عَلَيۡهِ بُكۡرَةٗ وَأَصِيلٗا
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جھوٹ ہی، گھڑا ہے اس( پیغمبر) نے اسے اور مدد کی ہے اس کی اس پر کچھ اور لوگوں نے پس تحقیق آئے ہیں وہ (لوگ) ظلم اورجھوٹ کو (4) اور کہا انھوں نے، یہ قصے کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی، لکھ لیا ہے اس نے ان کو، پس وہ پڑھی جاتی ہیں اس پر صبح اور شام(5) آپ کہہ دیجیے! نازل کیا ہے اس (قرآن) کو اس (اللہ) نے جو جانتا ہے بھید آسمانوں اور زمین کے، بے شک وہ ہے بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (6)
[4] یعنی اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے، جن کے قرآن اور رسول کے بارے میں قول باطل کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان پر کفر واجب کیا… کہتے ہیں کہ یہ قرآن جھوٹ ہے جسے محمد (ﷺ)نے خود تصنیف کیا ہے، ایک بہتان ہے جسے محمد (ﷺ)نے گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا ہے اور ایسا کرنے میں کچھ دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ان کا انکار حق، ظلم اور باطل پر مبنی اقدام ہے جو کسی کی عقل میں نہیں آ سکتا، حالانکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے احوال، آپ کے کامل صدق و امانت اور آپ کی کامل نیکی کی پوری پوری معرفت رکھتے ہیں ۔ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ محمد ﷺ اور دیگر تمام مخلوق کے لیے یہ قرآن تصنیف کرنا ممکن نہیں جو جلیل ترین اور بلند ترین درجے کا کلام ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ محمد ﷺ اس قرآن کی تصنیف میں مدد حاصل کرنے کے لیے کسی کے پاس نہیں گئے … پس کفار نے ظلم اور جھوٹ پر مبنی بات کہی ہے۔
[5] ان کی ان باتوں میں سے ایک بات یہ ہے کہ یہ قرآن، جسے محمد ﷺ لے کر آئے ہیں ﴿اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ اكۡتَتَبَهَا ﴾ یعنی یہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جو لوگوں میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں اورانھیں ہر شخص آگے بیان کر دیتا ہے محمد (ﷺ)نے بھی ان کہانیوں کو سن کر لکھ لیا ہے۔ ﴿فَهِيَ تُمۡلٰى عَلَيۡهِ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا ﴾’’پس وہ صبح و شام اس پر پڑھی جاتی ہیں ۔‘‘ ان کی اس بات میں متعدد گناہ کی باتیں ہیں :(۱)ان کا رسولﷺپر جھوٹ اور عظیم جسارت کے ارتکاب کا بہتان لگانا، حالانکہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ نیک اور سچے ہیں ۔(۲)قرآن کریم کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ جھوٹ اور افتراء ہے، حالانکہ یہ سب سے سچا، جلیل ترین اور عظیم ترین کلام ہے۔(۳)اس ضمن میں ان کا یہ دعویٰ کہ وہ ایسا کلام لانے کی قدرت رکھتے ہیں یعنی یہ مخلوق جو ہر پہلو سے ناقص ہے، خالق جو ہر لحاظ سے کامل ہے، کی ایک صفت یعنی صفت کلام میں اس کی برابری کر سکتی ہے؟(۴) رسولﷺکے احوال معلوم ہیں یہ آپ کے احوال کو سب سے زیادہ جانتے ہیں انھیں خوب معلوم ہے کہ آپ لکھ سکتے ہیں نہ آپ کسی ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں جو آپ کو لکھ کر دے۔ اس کے باوجود وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ یہ قصے کہانیاں کسی کے پاس سے لکھ لاتے ہیں ۔
[6] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ اَنۡزَلَهُ الَّذِيۡ يَعۡلَمُ السِّرَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی اس قرآن عظیم کو اس ہستی نے نازل کیا ہے جس کے علم نے زمین و آسمان کی ہر چیز کا، خواہ وہ غائب ہو یا سامنے ہو، چھپی ہوئی ہو یا ظاہر ہو… احاطہ کر رکھا ہے۔ جیسے اللہ کا ارشاد ہے:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ رب العالمین کی طرف سے اتاری ہوئی چیز ہے۔ جسے لے کر روح الامین آپ کے دل پر اترا ہے تاکہ آپ ان لوگوں میں شامل ہوں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو ان کے انجام سے ڈرانے والے ہیں ۔‘‘ اس میں ان پر حجت قائم کرنے کا پہلو یہ ہے کہ وہ ہستی، جس نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور جس کا علم ہر چیز کا احاطہ كيے ہوئے ہے، اس کے بارے میں یہ محال اور ممتنع ہے کہ کوئی مخلوق یہ قرآن گھڑ کر اس کی طرف منسوب کر دے اور کہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرے اس کی جان و مال کو مباح قرار دے دے اور دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، بایں ہمہ وہ اس شخص کی اس کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کرتا ہے، ان کی جانوں اور شہروں کو اس کے حوالے کر دیتا ہے… پس اللہ تعالیٰ کے علم کا انکار كيے بغیر، کسی کے لیے اس قرآن کا انکار کرنا ممکن نہیں ۔ بنی آدم میں سے سوائے دہریے فلاسفہ کے، کوئی ایسی بات نہیں کہتا۔نیز اللہ تعالیٰ کا اپنے وسیع علم کا ذکر کرنا، ان کو قرآن میں تدبر کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے، اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ اس کے علم اور احکام میں کوئی ایسی چیز ضرور دیکھتے جو قطعی طور پر دلالت کرتی کہ یہ قرآن غائب اور حاضر، تمام امور کا علم رکھنے والی ہستی کے سوا، کسی کی طرف سے نہیں … ان کے توحید و رسالت کا، جو ان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے… انکار کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے ظلم کے حوالے کر کے چھوڑ نہیں دیا بلکہ ان کو توبہ و انابت کی طرف بلایا اور ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ اگر وہ توبہ کریں گے تو وہ ان کو اپنی رحمت اور مغفرت سے نوازے گا۔ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوۡرًا ﴾ ’’وہ بہت بخشنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس کا وصف یہ ہے کہ وہ مجرموں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے، جب وہ مغفرت کے اسباب کام میں لاتے ہیں ، یعنی وہ گناہوں سے رجوع کر کے توبہ کرتے ہیں ۔﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ ان پر بہت رحم کرنے والا ہے کیونکہ اس نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی حالانکہ انھوں نے اس کے تقاضوں کو پورا کر دیا تھا۔ ان کی نافرمانیوں کے بعد اس نے ان کی توبہ قبول فرمائی، ان کی برائیوں کے ارتکاب کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی برائیوں کو مٹا دیا، اس نے ان کی نیکیوں کو قبول فرمایا، اس نے اپنے سے دور بھاگنے کے بعد اپنی طرف رجوع کرنے والوں کو اور روگردانی کے بعد اپنی طرف متوجہ ہونے والوں کو اطاعت مندوں اور رجوع کرنے والوں کی حالت کی طرف لوٹا دیا۔
25:6قُلۡ أَنزَلَهُ ٱلَّذِي يَعۡلَمُ ٱلسِّرَّ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جھوٹ ہی، گھڑا ہے اس( پیغمبر) نے اسے اور مدد کی ہے اس کی اس پر کچھ اور لوگوں نے پس تحقیق آئے ہیں وہ (لوگ) ظلم اورجھوٹ کو (4) اور کہا انھوں نے، یہ قصے کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی، لکھ لیا ہے اس نے ان کو، پس وہ پڑھی جاتی ہیں اس پر صبح اور شام(5) آپ کہہ دیجیے! نازل کیا ہے اس (قرآن) کو اس (اللہ) نے جو جانتا ہے بھید آسمانوں اور زمین کے، بے شک وہ ہے بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (6)
[4] یعنی اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے، جن کے قرآن اور رسول کے بارے میں قول باطل کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان پر کفر واجب کیا… کہتے ہیں کہ یہ قرآن جھوٹ ہے جسے محمد (ﷺ)نے خود تصنیف کیا ہے، ایک بہتان ہے جسے محمد (ﷺ)نے گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیا ہے اور ایسا کرنے میں کچھ دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ان کا انکار حق، ظلم اور باطل پر مبنی اقدام ہے جو کسی کی عقل میں نہیں آ سکتا، حالانکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے احوال، آپ کے کامل صدق و امانت اور آپ کی کامل نیکی کی پوری پوری معرفت رکھتے ہیں ۔ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ محمد ﷺ اور دیگر تمام مخلوق کے لیے یہ قرآن تصنیف کرنا ممکن نہیں جو جلیل ترین اور بلند ترین درجے کا کلام ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ محمد ﷺ اس قرآن کی تصنیف میں مدد حاصل کرنے کے لیے کسی کے پاس نہیں گئے … پس کفار نے ظلم اور جھوٹ پر مبنی بات کہی ہے۔
[5] ان کی ان باتوں میں سے ایک بات یہ ہے کہ یہ قرآن، جسے محمد ﷺ لے کر آئے ہیں ﴿اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ اكۡتَتَبَهَا ﴾ یعنی یہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جو لوگوں میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں اورانھیں ہر شخص آگے بیان کر دیتا ہے محمد (ﷺ)نے بھی ان کہانیوں کو سن کر لکھ لیا ہے۔ ﴿فَهِيَ تُمۡلٰى عَلَيۡهِ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا ﴾’’پس وہ صبح و شام اس پر پڑھی جاتی ہیں ۔‘‘ ان کی اس بات میں متعدد گناہ کی باتیں ہیں :(۱)ان کا رسولﷺپر جھوٹ اور عظیم جسارت کے ارتکاب کا بہتان لگانا، حالانکہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ نیک اور سچے ہیں ۔(۲)قرآن کریم کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ جھوٹ اور افتراء ہے، حالانکہ یہ سب سے سچا، جلیل ترین اور عظیم ترین کلام ہے۔(۳)اس ضمن میں ان کا یہ دعویٰ کہ وہ ایسا کلام لانے کی قدرت رکھتے ہیں یعنی یہ مخلوق جو ہر پہلو سے ناقص ہے، خالق جو ہر لحاظ سے کامل ہے، کی ایک صفت یعنی صفت کلام میں اس کی برابری کر سکتی ہے؟(۴) رسولﷺکے احوال معلوم ہیں یہ آپ کے احوال کو سب سے زیادہ جانتے ہیں انھیں خوب معلوم ہے کہ آپ لکھ سکتے ہیں نہ آپ کسی ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں جو آپ کو لکھ کر دے۔ اس کے باوجود وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ یہ قصے کہانیاں کسی کے پاس سے لکھ لاتے ہیں ۔
[6] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ اَنۡزَلَهُ الَّذِيۡ يَعۡلَمُ السِّرَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی اس قرآن عظیم کو اس ہستی نے نازل کیا ہے جس کے علم نے زمین و آسمان کی ہر چیز کا، خواہ وہ غائب ہو یا سامنے ہو، چھپی ہوئی ہو یا ظاہر ہو… احاطہ کر رکھا ہے۔ جیسے اللہ کا ارشاد ہے:﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ رب العالمین کی طرف سے اتاری ہوئی چیز ہے۔ جسے لے کر روح الامین آپ کے دل پر اترا ہے تاکہ آپ ان لوگوں میں شامل ہوں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو ان کے انجام سے ڈرانے والے ہیں ۔‘‘ اس میں ان پر حجت قائم کرنے کا پہلو یہ ہے کہ وہ ہستی، جس نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور جس کا علم ہر چیز کا احاطہ كيے ہوئے ہے، اس کے بارے میں یہ محال اور ممتنع ہے کہ کوئی مخلوق یہ قرآن گھڑ کر اس کی طرف منسوب کر دے اور کہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرے اس کی جان و مال کو مباح قرار دے دے اور دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، بایں ہمہ وہ اس شخص کی اس کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کرتا ہے، ان کی جانوں اور شہروں کو اس کے حوالے کر دیتا ہے… پس اللہ تعالیٰ کے علم کا انکار كيے بغیر، کسی کے لیے اس قرآن کا انکار کرنا ممکن نہیں ۔ بنی آدم میں سے سوائے دہریے فلاسفہ کے، کوئی ایسی بات نہیں کہتا۔نیز اللہ تعالیٰ کا اپنے وسیع علم کا ذکر کرنا، ان کو قرآن میں تدبر کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے، اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ اس کے علم اور احکام میں کوئی ایسی چیز ضرور دیکھتے جو قطعی طور پر دلالت کرتی کہ یہ قرآن غائب اور حاضر، تمام امور کا علم رکھنے والی ہستی کے سوا، کسی کی طرف سے نہیں … ان کے توحید و رسالت کا، جو ان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے… انکار کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے ظلم کے حوالے کر کے چھوڑ نہیں دیا بلکہ ان کو توبہ و انابت کی طرف بلایا اور ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ اگر وہ توبہ کریں گے تو وہ ان کو اپنی رحمت اور مغفرت سے نوازے گا۔ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوۡرًا ﴾ ’’وہ بہت بخشنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس کا وصف یہ ہے کہ وہ مجرموں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے، جب وہ مغفرت کے اسباب کام میں لاتے ہیں ، یعنی وہ گناہوں سے رجوع کر کے توبہ کرتے ہیں ۔﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ ان پر بہت رحم کرنے والا ہے کیونکہ اس نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی حالانکہ انھوں نے اس کے تقاضوں کو پورا کر دیا تھا۔ ان کی نافرمانیوں کے بعد اس نے ان کی توبہ قبول فرمائی، ان کی برائیوں کے ارتکاب کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی برائیوں کو مٹا دیا، اس نے ان کی نیکیوں کو قبول فرمایا، اس نے اپنے سے دور بھاگنے کے بعد اپنی طرف رجوع کرنے والوں کو اور روگردانی کے بعد اپنی طرف متوجہ ہونے والوں کو اطاعت مندوں اور رجوع کرنے والوں کی حالت کی طرف لوٹا دیا۔
25:7وَقَالُواْ مَالِ هَٰذَا ٱلرَّسُولِ يَأۡكُلُ ٱلطَّعَامَ وَيَمۡشِي فِي ٱلۡأَسۡوَاقِ لَوۡلَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مَلَكٞ فَيَكُونَ مَعَهُۥ نَذِيرًا
اور کہا انھوں نے، کیا ہے اس رسول کو کہ وہ کھاتا ہے کھانا اور چلتا ہے بازاروں میں ؟ کیوں نہیں نازل کیا گیا اس کی طرف کوئی فرشتہ کہ ہوتا وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا؟ (7)یا ڈالا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ یا ہوتا اس کے لیے کوئی باغ کہ وہ کھاتا اس میں سے اور کہا (ان)ظالموں نے (مومنوں سے)، نہیں اتباع کرتے تم مگر ایسے شخص کا (جس پر) جادو کیا گیا ہے (8) دیکھیے! کیسی بیان کیں ان لوگوں نے آپ کے لیے مثالیں ؟ پس گمراہ ہو گئے وہ، پس نہیں استطاعت رکھتے وہ راہ (یابی) کی (9) بڑی ہی بابرکت ہے وہ (اللہ کی) ذات کہ اگر وہ چاہے تو بنادے آپ کے لیے بہت بہتر اس سے، ایسے باغات کہ بہتی ہوں ان کے نیچے نہریں ، اور وہ بنا دے آپ کے لیے محلات (10)بلکہ انھوں جھٹلایا قیامت کواور تیار کی ہے ہم نے، اس شخص کے لیے جو جھٹلائے قیامت کو، بھڑکتی آگ (11) جب وہ (آگ) دیکھے گی ان (مجرموں ) کو دور کے مکان سے تو سنیں گے وہ واسطے اس کے سخت غصیلی آواز اور چلانا (12)اورجب وہ ڈالے جائیں گے اس میں سے کسی تنگ جگہ میں ، زنجیروں میں جکڑے ہوئے تو وہ پکاریں گے وہاں ہلاکت (موت) کو (13)(انھیں کہا جائے گا) نہ پکارو تم آج ایک ہلاکت (موت) کواور (بلکہ) پکارو تم بہت زیادہ ہلاکتوں (موتوں ) کو (14)
[7] یہ ان لوگوں کا قول ہے جنھوں نے رسول (ﷺ)کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدح کی۔ انھوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا؟ چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ مَالِ هٰؔذَا الرَّسُوۡلِ ﴾ یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے﴿ يَاۡكُلُ الطَّعَامَ﴾ ’’کھانا کھاتا ہے‘‘ حالانکہ یہ تو بشر کی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔﴿ وَيَمۡشِيۡ فِي الۡاَسۡوَاقِ﴾ یعنی خریدوفروخت کے لیے ’’بازاروں میں چلتا پھرتا ہے‘‘ اور یہ … ان کے خیال کے مطابق … ایک رسول کے لائق نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمۡ لَيَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَيَمۡشُوۡنَ فِي الۡاَسۡوَاقِ ﴾(الفرقان: 25؍20)’’ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ سب کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔‘‘﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ ﴾ یعنی اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل کیا گیا جو اس کا ہاتھ بٹاتا﴿ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًا﴾ ’’پس وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔‘‘ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق آپ رسالت کا بوجھ اٹھانے کے لیے کافی نہیں ہیں اور نہ آپ کو رسالت کی ذمہ داریاں اٹھانے کی طاقت اور قدرت حاصل ہے۔
[8]﴿ اَوۡ يُلۡقٰۤى اِلَيۡهِ كَنۡزٌ ﴾ ’’یا ڈال دیا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ۔‘‘ یعنی ایسا مال جو بغیر کسی محنت مشقت کے اکٹھا کیا گیا ہو﴿ اَوۡ تَكُوۡنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاۡكُلُ مِنۡهَا﴾ ’’یا اس کے لیے باغ ہوتا جس سے وہ کھاتا۔‘‘ یعنی اس باغ کی وجہ سے وہ طلب رزق کی خاطر بازاروں میں چلنے پھرنے سے مستغنی ہو جاتا ﴿وَقَالَ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ظالموں نے کہا۔‘‘ یعنی ان کے اس اعتراض کا باعث ان کا اشتباہ نہیں بلکہ ان کا ظلم ہے: ﴿ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴾ ’’تم تو ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔‘‘ حالانکہ وہ آپ کی کامل عقل، آپ کی اچھی شہرت اور تمام مطاعن سے سلامت اور محفوظ ہونے کے بارے میں خوب جانتے تھے۔
[9] چونکہ ان کے یہ اعتراض بہت ہی عجیب و غریب تھے اس لیے ان کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ ضَرَبُوۡا لَكَ الۡاَمۡثَالَ ﴾ ’’دیکھو، وہ آپ کے لیے کیسے مثالیں بیان کرتے ہیں ۔‘‘ اور وہ یہ کہ وہ (رسول)فرشتہ کیوں نہ ہوا؟ اور اس سے بشری خصوصیات کیوں زائل نہ ہوئیں ؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے وہ اس کی قدرت نہیں رکھتا یا اس پر کوئی خزانہ اتارا گیا ہوتا یا اس کی ملکیت میں کوئی باغ ہوتا جو اس کو بازاروں میں طلب معاش کے لیے مارے مارے پھرنے سے مستغنی رکھتا؟ یا یہ کوئی سحر زدہ آدمی ہے؟﴿ فَضَلُّوۡا فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَبِيۡلًا ﴾ ’’پس وہ گمراہ ہو گئے اور کسی طرح وہ راہ پر نہیں آ سکتے۔‘‘ انھوں نے اس قسم کی متناقض باتیں کہی ہیں جو سراسر جہالت، گمراہی اور حماقت پر مبنی ہیں ۔ ان میں کوئی بھی ہدایت کی بات نہیں بلکہ ان میں کوئی ادنیٰ سا شبہ ڈالنے والی بات بھی نہیں جو رسالت میں قادح ہو۔ مجرد غوروفکر کرنے سے ایک عقلمند شخص کو اس کے بطلان کا قطعی یقین ہو جاتا ہے جو اس کو رد کرنے کے لیے کافی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے غوروفکر اور تدبر کرنے کا حکم دیا ہے کہ آیا یہ اعتراضات رسول کی رسالت اور صداقت کے قطعی یقین کے بارے میں توقف کے موجب بن سکتے ہیں ؟
[10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ آپ کو اس دنیا میں خیر کثیر سے نوازنے کی قدرت رکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡۤ اِنۡ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيۡرًا مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بابرکت ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو آپ کے لیے ان سے بہتر چیزیں کر دے۔‘‘ یعنی ان چیزوں سے بھی بہتر جن کا انھوں نے ذکر کیا ہے پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۙ وَيَجۡعَلۡ لَّكَ قُصُوۡرًا ﴾ ’’باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور کردے وہ آپ کے لیے محلات۔‘‘ یعنی بلند اور آراستہ محل۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں مگر چونکہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی حقیر چیز ہے، اس لیے وہ اپنے انبیاء و اولیاء کو صرف اتنی ہی دنیا عطا کرتا ہے جتنی حکمت اس کا تقاضا کرتی ہے اور ان کے دشمنوں کے اعتراضات کہ انھیں بہت زیادہ رزق سے کیوں نہیں نوازا گیا، محض ظلم اور جسارت ہے۔
[11] چونکہ ان تمام اعتراضات و اقوال کا فساد واضح ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی آگاہ فرما دیا ہے کہ ان کی طرف سے یہ تمام اعتراضات طلب حق کی خاطر صادر ہوئے ہیں نہ دلیل کی پیروی کے لیے بلکہ یہ تمام اعتراضات انھوں نے تعنت، ظلم اورتکذیب حق کی وجہ سے كيے ہیں ، انھوں نے وہی بات کہی جو ان کے دل میں تھی بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلۡ كَذَّبُوۡا بِالسَّاعَةِ﴾ ’’بلکہ انھوں نے قیامت کی تکذیب کی۔‘‘ اور تکذیب کرنے والے اور اعتراض کے لیے لغزشیں تلاش کرنے والے شخص کے لیے جس کا مقصد اتباع حق نہیں ہوتا ،ہدایت کا کوئی راستہ نہیں اور نہ اس کے ساتھ بحث کرنے میں کوئی فائدہ ہے اس کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ اس پر عذاب نازل کر دیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لِمَنۡ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيۡرًا ﴾ ’’اور ہم نے قیامت کی تکذیب کرنے والوں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کی ہے۔‘‘ یعنی بڑی آگ جس کے شعلے بہت زیادہ بھڑک رہے ہوں گے، جہنمیوں پر سخت غیظ و غضب ظاہر کرے گی اور اس کی پھنکار بہت شدید اور خوف ناک ہوگی۔
[12]﴿ اِذَا رَاَتۡهُمۡ مِّنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’جب وہ (آگ) ان کو دیکھے گی دور کی جگہ سے۔‘‘ یعنی اس سے پہلے کہ وہ جہنم میں پہنچیں اور جہنم ان کو وصول کرے﴿ سَمِعُوۡا لَهَا تَغَيُّظًا ﴾ ’’وہ (اپنے اوپر) اس کے غیظ و غضب کی آوازیں سنیں گے‘‘ ﴿ وَّزَفِيۡرًا ﴾ ’’اور دھاڑنا (سنیں گے)۔‘‘ کہ جس سے صدمے اور خوف کی وجہ سے کلیجے پھٹ جائیں گے اور دل پارہ پارہ ہو جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی خوف اور دہشت کے مارے مر ہی جائے۔ جہنم اپنے خالق کے غضب کی وجہ سے ان پر غضب ناک ہو گی، ان کے کفر اور برائی کی کثرت کی وجہ سے جہنم کے شعلے اور زیادہ ہو جائیں گے۔
[13]﴿ وَاِذَاۤ اُلۡقُوۡا مِنۡهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيۡنَ ﴾ ’’اور جب انھیں جکڑ کر جہنم میں کسی تنگ جگہ میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘ یعنی عذاب کے وقت، جہنم کے عین وسط میں ایک بہت ہی تنگ جگہ اور بھیڑ میں ، بیڑیوں اور زنجیروں میں باندھ کر ڈال دیا جائے گا۔ جب یہ اس منحوس جگہ پر پہنچیں گے اور انھیں بدترین حبس کا سامنا کرنا پڑے گا ﴿ دَعَوۡا هُنَالِكَ ثُبُوۡرًا﴾ تو اس وقت وہ اپنے لیے موت، رسوائی اور فضیحت کو پکاریں گے۔ انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ ظالم اور حد سے بڑھنے والے ہیں اور خالق کائنات نے انھیں ان کے اعمال کی پاداش میں اس جگہ بھیج کر انصاف کیا ہے۔
[14] مگر یہ دعا اور استغاثہ ان کے کسی کام آئیں گے نہ انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں گے بلکہ ان سے کہا جائے گا: ﴿ لَا تَدۡعُوا الۡيَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا كَثِيۡرًا﴾ ’’آج تم ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں (ہلاکتوں ) کو پکارو!‘‘ یعنی اگر تم اس سے بھی کئی گنا زیادہ چیختے چلاتے رہو تو تمھیں حزن و غم کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
ظالموں کی سزا بیان کرنے کے بعد یہ مناسب تھا کہ متقین کی جزا کا ذکر کیا جائے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
25:8أَوۡ يُلۡقَىٰٓ إِلَيۡهِ كَنزٌ أَوۡ تَكُونُ لَهُۥ جَنَّةٞ يَأۡكُلُ مِنۡهَاۚ وَقَالَ ٱلظَّـٰلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلٗا مَّسۡحُورًا
اور کہا انھوں نے، کیا ہے اس رسول کو کہ وہ کھاتا ہے کھانا اور چلتا ہے بازاروں میں ؟ کیوں نہیں نازل کیا گیا اس کی طرف کوئی فرشتہ کہ ہوتا وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا؟ (7)یا ڈالا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ یا ہوتا اس کے لیے کوئی باغ کہ وہ کھاتا اس میں سے اور کہا (ان)ظالموں نے (مومنوں سے)، نہیں اتباع کرتے تم مگر ایسے شخص کا (جس پر) جادو کیا گیا ہے (8) دیکھیے! کیسی بیان کیں ان لوگوں نے آپ کے لیے مثالیں ؟ پس گمراہ ہو گئے وہ، پس نہیں استطاعت رکھتے وہ راہ (یابی) کی (9) بڑی ہی بابرکت ہے وہ (اللہ کی) ذات کہ اگر وہ چاہے تو بنادے آپ کے لیے بہت بہتر اس سے، ایسے باغات کہ بہتی ہوں ان کے نیچے نہریں ، اور وہ بنا دے آپ کے لیے محلات (10)بلکہ انھوں جھٹلایا قیامت کواور تیار کی ہے ہم نے، اس شخص کے لیے جو جھٹلائے قیامت کو، بھڑکتی آگ (11) جب وہ (آگ) دیکھے گی ان (مجرموں ) کو دور کے مکان سے تو سنیں گے وہ واسطے اس کے سخت غصیلی آواز اور چلانا (12)اورجب وہ ڈالے جائیں گے اس میں سے کسی تنگ جگہ میں ، زنجیروں میں جکڑے ہوئے تو وہ پکاریں گے وہاں ہلاکت (موت) کو (13)(انھیں کہا جائے گا) نہ پکارو تم آج ایک ہلاکت (موت) کواور (بلکہ) پکارو تم بہت زیادہ ہلاکتوں (موتوں ) کو (14)
[7] یہ ان لوگوں کا قول ہے جنھوں نے رسول (ﷺ)کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدح کی۔ انھوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا؟ چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ مَالِ هٰؔذَا الرَّسُوۡلِ ﴾ یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے﴿ يَاۡكُلُ الطَّعَامَ﴾ ’’کھانا کھاتا ہے‘‘ حالانکہ یہ تو بشر کی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔﴿ وَيَمۡشِيۡ فِي الۡاَسۡوَاقِ﴾ یعنی خریدوفروخت کے لیے ’’بازاروں میں چلتا پھرتا ہے‘‘ اور یہ … ان کے خیال کے مطابق … ایک رسول کے لائق نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمۡ لَيَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَيَمۡشُوۡنَ فِي الۡاَسۡوَاقِ ﴾(الفرقان: 25؍20)’’ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ سب کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔‘‘﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ ﴾ یعنی اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل کیا گیا جو اس کا ہاتھ بٹاتا﴿ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًا﴾ ’’پس وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔‘‘ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق آپ رسالت کا بوجھ اٹھانے کے لیے کافی نہیں ہیں اور نہ آپ کو رسالت کی ذمہ داریاں اٹھانے کی طاقت اور قدرت حاصل ہے۔
[8]﴿ اَوۡ يُلۡقٰۤى اِلَيۡهِ كَنۡزٌ ﴾ ’’یا ڈال دیا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ۔‘‘ یعنی ایسا مال جو بغیر کسی محنت مشقت کے اکٹھا کیا گیا ہو﴿ اَوۡ تَكُوۡنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاۡكُلُ مِنۡهَا﴾ ’’یا اس کے لیے باغ ہوتا جس سے وہ کھاتا۔‘‘ یعنی اس باغ کی وجہ سے وہ طلب رزق کی خاطر بازاروں میں چلنے پھرنے سے مستغنی ہو جاتا ﴿وَقَالَ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ظالموں نے کہا۔‘‘ یعنی ان کے اس اعتراض کا باعث ان کا اشتباہ نہیں بلکہ ان کا ظلم ہے: ﴿ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴾ ’’تم تو ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔‘‘ حالانکہ وہ آپ کی کامل عقل، آپ کی اچھی شہرت اور تمام مطاعن سے سلامت اور محفوظ ہونے کے بارے میں خوب جانتے تھے۔
[9] چونکہ ان کے یہ اعتراض بہت ہی عجیب و غریب تھے اس لیے ان کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ ضَرَبُوۡا لَكَ الۡاَمۡثَالَ ﴾ ’’دیکھو، وہ آپ کے لیے کیسے مثالیں بیان کرتے ہیں ۔‘‘ اور وہ یہ کہ وہ (رسول)فرشتہ کیوں نہ ہوا؟ اور اس سے بشری خصوصیات کیوں زائل نہ ہوئیں ؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے وہ اس کی قدرت نہیں رکھتا یا اس پر کوئی خزانہ اتارا گیا ہوتا یا اس کی ملکیت میں کوئی باغ ہوتا جو اس کو بازاروں میں طلب معاش کے لیے مارے مارے پھرنے سے مستغنی رکھتا؟ یا یہ کوئی سحر زدہ آدمی ہے؟﴿ فَضَلُّوۡا فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَبِيۡلًا ﴾ ’’پس وہ گمراہ ہو گئے اور کسی طرح وہ راہ پر نہیں آ سکتے۔‘‘ انھوں نے اس قسم کی متناقض باتیں کہی ہیں جو سراسر جہالت، گمراہی اور حماقت پر مبنی ہیں ۔ ان میں کوئی بھی ہدایت کی بات نہیں بلکہ ان میں کوئی ادنیٰ سا شبہ ڈالنے والی بات بھی نہیں جو رسالت میں قادح ہو۔ مجرد غوروفکر کرنے سے ایک عقلمند شخص کو اس کے بطلان کا قطعی یقین ہو جاتا ہے جو اس کو رد کرنے کے لیے کافی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے غوروفکر اور تدبر کرنے کا حکم دیا ہے کہ آیا یہ اعتراضات رسول کی رسالت اور صداقت کے قطعی یقین کے بارے میں توقف کے موجب بن سکتے ہیں ؟
[10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ آپ کو اس دنیا میں خیر کثیر سے نوازنے کی قدرت رکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡۤ اِنۡ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيۡرًا مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بابرکت ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو آپ کے لیے ان سے بہتر چیزیں کر دے۔‘‘ یعنی ان چیزوں سے بھی بہتر جن کا انھوں نے ذکر کیا ہے پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۙ وَيَجۡعَلۡ لَّكَ قُصُوۡرًا ﴾ ’’باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور کردے وہ آپ کے لیے محلات۔‘‘ یعنی بلند اور آراستہ محل۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں مگر چونکہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی حقیر چیز ہے، اس لیے وہ اپنے انبیاء و اولیاء کو صرف اتنی ہی دنیا عطا کرتا ہے جتنی حکمت اس کا تقاضا کرتی ہے اور ان کے دشمنوں کے اعتراضات کہ انھیں بہت زیادہ رزق سے کیوں نہیں نوازا گیا، محض ظلم اور جسارت ہے۔
[11] چونکہ ان تمام اعتراضات و اقوال کا فساد واضح ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی آگاہ فرما دیا ہے کہ ان کی طرف سے یہ تمام اعتراضات طلب حق کی خاطر صادر ہوئے ہیں نہ دلیل کی پیروی کے لیے بلکہ یہ تمام اعتراضات انھوں نے تعنت، ظلم اورتکذیب حق کی وجہ سے كيے ہیں ، انھوں نے وہی بات کہی جو ان کے دل میں تھی بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلۡ كَذَّبُوۡا بِالسَّاعَةِ﴾ ’’بلکہ انھوں نے قیامت کی تکذیب کی۔‘‘ اور تکذیب کرنے والے اور اعتراض کے لیے لغزشیں تلاش کرنے والے شخص کے لیے جس کا مقصد اتباع حق نہیں ہوتا ،ہدایت کا کوئی راستہ نہیں اور نہ اس کے ساتھ بحث کرنے میں کوئی فائدہ ہے اس کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ اس پر عذاب نازل کر دیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لِمَنۡ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيۡرًا ﴾ ’’اور ہم نے قیامت کی تکذیب کرنے والوں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کی ہے۔‘‘ یعنی بڑی آگ جس کے شعلے بہت زیادہ بھڑک رہے ہوں گے، جہنمیوں پر سخت غیظ و غضب ظاہر کرے گی اور اس کی پھنکار بہت شدید اور خوف ناک ہوگی۔
[12]﴿ اِذَا رَاَتۡهُمۡ مِّنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’جب وہ (آگ) ان کو دیکھے گی دور کی جگہ سے۔‘‘ یعنی اس سے پہلے کہ وہ جہنم میں پہنچیں اور جہنم ان کو وصول کرے﴿ سَمِعُوۡا لَهَا تَغَيُّظًا ﴾ ’’وہ (اپنے اوپر) اس کے غیظ و غضب کی آوازیں سنیں گے‘‘ ﴿ وَّزَفِيۡرًا ﴾ ’’اور دھاڑنا (سنیں گے)۔‘‘ کہ جس سے صدمے اور خوف کی وجہ سے کلیجے پھٹ جائیں گے اور دل پارہ پارہ ہو جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی خوف اور دہشت کے مارے مر ہی جائے۔ جہنم اپنے خالق کے غضب کی وجہ سے ان پر غضب ناک ہو گی، ان کے کفر اور برائی کی کثرت کی وجہ سے جہنم کے شعلے اور زیادہ ہو جائیں گے۔
[13]﴿ وَاِذَاۤ اُلۡقُوۡا مِنۡهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيۡنَ ﴾ ’’اور جب انھیں جکڑ کر جہنم میں کسی تنگ جگہ میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘ یعنی عذاب کے وقت، جہنم کے عین وسط میں ایک بہت ہی تنگ جگہ اور بھیڑ میں ، بیڑیوں اور زنجیروں میں باندھ کر ڈال دیا جائے گا۔ جب یہ اس منحوس جگہ پر پہنچیں گے اور انھیں بدترین حبس کا سامنا کرنا پڑے گا ﴿ دَعَوۡا هُنَالِكَ ثُبُوۡرًا﴾ تو اس وقت وہ اپنے لیے موت، رسوائی اور فضیحت کو پکاریں گے۔ انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ ظالم اور حد سے بڑھنے والے ہیں اور خالق کائنات نے انھیں ان کے اعمال کی پاداش میں اس جگہ بھیج کر انصاف کیا ہے۔
[14] مگر یہ دعا اور استغاثہ ان کے کسی کام آئیں گے نہ انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں گے بلکہ ان سے کہا جائے گا: ﴿ لَا تَدۡعُوا الۡيَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا كَثِيۡرًا﴾ ’’آج تم ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں (ہلاکتوں ) کو پکارو!‘‘ یعنی اگر تم اس سے بھی کئی گنا زیادہ چیختے چلاتے رہو تو تمھیں حزن و غم کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
ظالموں کی سزا بیان کرنے کے بعد یہ مناسب تھا کہ متقین کی جزا کا ذکر کیا جائے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
25:9ٱنظُرۡ كَيۡفَ ضَرَبُواْ لَكَ ٱلۡأَمۡثَٰلَ فَضَلُّواْ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ سَبِيلٗا
اور کہا انھوں نے، کیا ہے اس رسول کو کہ وہ کھاتا ہے کھانا اور چلتا ہے بازاروں میں ؟ کیوں نہیں نازل کیا گیا اس کی طرف کوئی فرشتہ کہ ہوتا وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا؟ (7)یا ڈالا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ یا ہوتا اس کے لیے کوئی باغ کہ وہ کھاتا اس میں سے اور کہا (ان)ظالموں نے (مومنوں سے)، نہیں اتباع کرتے تم مگر ایسے شخص کا (جس پر) جادو کیا گیا ہے (8) دیکھیے! کیسی بیان کیں ان لوگوں نے آپ کے لیے مثالیں ؟ پس گمراہ ہو گئے وہ، پس نہیں استطاعت رکھتے وہ راہ (یابی) کی (9) بڑی ہی بابرکت ہے وہ (اللہ کی) ذات کہ اگر وہ چاہے تو بنادے آپ کے لیے بہت بہتر اس سے، ایسے باغات کہ بہتی ہوں ان کے نیچے نہریں ، اور وہ بنا دے آپ کے لیے محلات (10)بلکہ انھوں جھٹلایا قیامت کواور تیار کی ہے ہم نے، اس شخص کے لیے جو جھٹلائے قیامت کو، بھڑکتی آگ (11) جب وہ (آگ) دیکھے گی ان (مجرموں ) کو دور کے مکان سے تو سنیں گے وہ واسطے اس کے سخت غصیلی آواز اور چلانا (12)اورجب وہ ڈالے جائیں گے اس میں سے کسی تنگ جگہ میں ، زنجیروں میں جکڑے ہوئے تو وہ پکاریں گے وہاں ہلاکت (موت) کو (13)(انھیں کہا جائے گا) نہ پکارو تم آج ایک ہلاکت (موت) کواور (بلکہ) پکارو تم بہت زیادہ ہلاکتوں (موتوں ) کو (14)
[7] یہ ان لوگوں کا قول ہے جنھوں نے رسول (ﷺ)کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدح کی۔ انھوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا؟ چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ مَالِ هٰؔذَا الرَّسُوۡلِ ﴾ یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے﴿ يَاۡكُلُ الطَّعَامَ﴾ ’’کھانا کھاتا ہے‘‘ حالانکہ یہ تو بشر کی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔﴿ وَيَمۡشِيۡ فِي الۡاَسۡوَاقِ﴾ یعنی خریدوفروخت کے لیے ’’بازاروں میں چلتا پھرتا ہے‘‘ اور یہ … ان کے خیال کے مطابق … ایک رسول کے لائق نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمۡ لَيَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَيَمۡشُوۡنَ فِي الۡاَسۡوَاقِ ﴾(الفرقان: 25؍20)’’ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ سب کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔‘‘﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ ﴾ یعنی اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل کیا گیا جو اس کا ہاتھ بٹاتا﴿ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًا﴾ ’’پس وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔‘‘ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق آپ رسالت کا بوجھ اٹھانے کے لیے کافی نہیں ہیں اور نہ آپ کو رسالت کی ذمہ داریاں اٹھانے کی طاقت اور قدرت حاصل ہے۔
[8]﴿ اَوۡ يُلۡقٰۤى اِلَيۡهِ كَنۡزٌ ﴾ ’’یا ڈال دیا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ۔‘‘ یعنی ایسا مال جو بغیر کسی محنت مشقت کے اکٹھا کیا گیا ہو﴿ اَوۡ تَكُوۡنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاۡكُلُ مِنۡهَا﴾ ’’یا اس کے لیے باغ ہوتا جس سے وہ کھاتا۔‘‘ یعنی اس باغ کی وجہ سے وہ طلب رزق کی خاطر بازاروں میں چلنے پھرنے سے مستغنی ہو جاتا ﴿وَقَالَ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ظالموں نے کہا۔‘‘ یعنی ان کے اس اعتراض کا باعث ان کا اشتباہ نہیں بلکہ ان کا ظلم ہے: ﴿ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴾ ’’تم تو ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔‘‘ حالانکہ وہ آپ کی کامل عقل، آپ کی اچھی شہرت اور تمام مطاعن سے سلامت اور محفوظ ہونے کے بارے میں خوب جانتے تھے۔
[9] چونکہ ان کے یہ اعتراض بہت ہی عجیب و غریب تھے اس لیے ان کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ ضَرَبُوۡا لَكَ الۡاَمۡثَالَ ﴾ ’’دیکھو، وہ آپ کے لیے کیسے مثالیں بیان کرتے ہیں ۔‘‘ اور وہ یہ کہ وہ (رسول)فرشتہ کیوں نہ ہوا؟ اور اس سے بشری خصوصیات کیوں زائل نہ ہوئیں ؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے وہ اس کی قدرت نہیں رکھتا یا اس پر کوئی خزانہ اتارا گیا ہوتا یا اس کی ملکیت میں کوئی باغ ہوتا جو اس کو بازاروں میں طلب معاش کے لیے مارے مارے پھرنے سے مستغنی رکھتا؟ یا یہ کوئی سحر زدہ آدمی ہے؟﴿ فَضَلُّوۡا فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَبِيۡلًا ﴾ ’’پس وہ گمراہ ہو گئے اور کسی طرح وہ راہ پر نہیں آ سکتے۔‘‘ انھوں نے اس قسم کی متناقض باتیں کہی ہیں جو سراسر جہالت، گمراہی اور حماقت پر مبنی ہیں ۔ ان میں کوئی بھی ہدایت کی بات نہیں بلکہ ان میں کوئی ادنیٰ سا شبہ ڈالنے والی بات بھی نہیں جو رسالت میں قادح ہو۔ مجرد غوروفکر کرنے سے ایک عقلمند شخص کو اس کے بطلان کا قطعی یقین ہو جاتا ہے جو اس کو رد کرنے کے لیے کافی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے غوروفکر اور تدبر کرنے کا حکم دیا ہے کہ آیا یہ اعتراضات رسول کی رسالت اور صداقت کے قطعی یقین کے بارے میں توقف کے موجب بن سکتے ہیں ؟
[10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ آپ کو اس دنیا میں خیر کثیر سے نوازنے کی قدرت رکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡۤ اِنۡ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيۡرًا مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بابرکت ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو آپ کے لیے ان سے بہتر چیزیں کر دے۔‘‘ یعنی ان چیزوں سے بھی بہتر جن کا انھوں نے ذکر کیا ہے پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۙ وَيَجۡعَلۡ لَّكَ قُصُوۡرًا ﴾ ’’باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور کردے وہ آپ کے لیے محلات۔‘‘ یعنی بلند اور آراستہ محل۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں مگر چونکہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی حقیر چیز ہے، اس لیے وہ اپنے انبیاء و اولیاء کو صرف اتنی ہی دنیا عطا کرتا ہے جتنی حکمت اس کا تقاضا کرتی ہے اور ان کے دشمنوں کے اعتراضات کہ انھیں بہت زیادہ رزق سے کیوں نہیں نوازا گیا، محض ظلم اور جسارت ہے۔
[11] چونکہ ان تمام اعتراضات و اقوال کا فساد واضح ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی آگاہ فرما دیا ہے کہ ان کی طرف سے یہ تمام اعتراضات طلب حق کی خاطر صادر ہوئے ہیں نہ دلیل کی پیروی کے لیے بلکہ یہ تمام اعتراضات انھوں نے تعنت، ظلم اورتکذیب حق کی وجہ سے كيے ہیں ، انھوں نے وہی بات کہی جو ان کے دل میں تھی بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلۡ كَذَّبُوۡا بِالسَّاعَةِ﴾ ’’بلکہ انھوں نے قیامت کی تکذیب کی۔‘‘ اور تکذیب کرنے والے اور اعتراض کے لیے لغزشیں تلاش کرنے والے شخص کے لیے جس کا مقصد اتباع حق نہیں ہوتا ،ہدایت کا کوئی راستہ نہیں اور نہ اس کے ساتھ بحث کرنے میں کوئی فائدہ ہے اس کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ اس پر عذاب نازل کر دیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لِمَنۡ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيۡرًا ﴾ ’’اور ہم نے قیامت کی تکذیب کرنے والوں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کی ہے۔‘‘ یعنی بڑی آگ جس کے شعلے بہت زیادہ بھڑک رہے ہوں گے، جہنمیوں پر سخت غیظ و غضب ظاہر کرے گی اور اس کی پھنکار بہت شدید اور خوف ناک ہوگی۔
[12]﴿ اِذَا رَاَتۡهُمۡ مِّنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’جب وہ (آگ) ان کو دیکھے گی دور کی جگہ سے۔‘‘ یعنی اس سے پہلے کہ وہ جہنم میں پہنچیں اور جہنم ان کو وصول کرے﴿ سَمِعُوۡا لَهَا تَغَيُّظًا ﴾ ’’وہ (اپنے اوپر) اس کے غیظ و غضب کی آوازیں سنیں گے‘‘ ﴿ وَّزَفِيۡرًا ﴾ ’’اور دھاڑنا (سنیں گے)۔‘‘ کہ جس سے صدمے اور خوف کی وجہ سے کلیجے پھٹ جائیں گے اور دل پارہ پارہ ہو جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی خوف اور دہشت کے مارے مر ہی جائے۔ جہنم اپنے خالق کے غضب کی وجہ سے ان پر غضب ناک ہو گی، ان کے کفر اور برائی کی کثرت کی وجہ سے جہنم کے شعلے اور زیادہ ہو جائیں گے۔
[13]﴿ وَاِذَاۤ اُلۡقُوۡا مِنۡهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيۡنَ ﴾ ’’اور جب انھیں جکڑ کر جہنم میں کسی تنگ جگہ میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘ یعنی عذاب کے وقت، جہنم کے عین وسط میں ایک بہت ہی تنگ جگہ اور بھیڑ میں ، بیڑیوں اور زنجیروں میں باندھ کر ڈال دیا جائے گا۔ جب یہ اس منحوس جگہ پر پہنچیں گے اور انھیں بدترین حبس کا سامنا کرنا پڑے گا ﴿ دَعَوۡا هُنَالِكَ ثُبُوۡرًا﴾ تو اس وقت وہ اپنے لیے موت، رسوائی اور فضیحت کو پکاریں گے۔ انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ ظالم اور حد سے بڑھنے والے ہیں اور خالق کائنات نے انھیں ان کے اعمال کی پاداش میں اس جگہ بھیج کر انصاف کیا ہے۔
[14] مگر یہ دعا اور استغاثہ ان کے کسی کام آئیں گے نہ انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں گے بلکہ ان سے کہا جائے گا: ﴿ لَا تَدۡعُوا الۡيَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا كَثِيۡرًا﴾ ’’آج تم ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں (ہلاکتوں ) کو پکارو!‘‘ یعنی اگر تم اس سے بھی کئی گنا زیادہ چیختے چلاتے رہو تو تمھیں حزن و غم کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
ظالموں کی سزا بیان کرنے کے بعد یہ مناسب تھا کہ متقین کی جزا کا ذکر کیا جائے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
25:10تَبَارَكَ ٱلَّذِيٓ إِن شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيۡرٗا مِّن ذَٰلِكَ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ وَيَجۡعَل لَّكَ قُصُورَۢا
اور کہا انھوں نے، کیا ہے اس رسول کو کہ وہ کھاتا ہے کھانا اور چلتا ہے بازاروں میں ؟ کیوں نہیں نازل کیا گیا اس کی طرف کوئی فرشتہ کہ ہوتا وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا؟ (7)یا ڈالا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ یا ہوتا اس کے لیے کوئی باغ کہ وہ کھاتا اس میں سے اور کہا (ان)ظالموں نے (مومنوں سے)، نہیں اتباع کرتے تم مگر ایسے شخص کا (جس پر) جادو کیا گیا ہے (8) دیکھیے! کیسی بیان کیں ان لوگوں نے آپ کے لیے مثالیں ؟ پس گمراہ ہو گئے وہ، پس نہیں استطاعت رکھتے وہ راہ (یابی) کی (9) بڑی ہی بابرکت ہے وہ (اللہ کی) ذات کہ اگر وہ چاہے تو بنادے آپ کے لیے بہت بہتر اس سے، ایسے باغات کہ بہتی ہوں ان کے نیچے نہریں ، اور وہ بنا دے آپ کے لیے محلات (10)بلکہ انھوں جھٹلایا قیامت کواور تیار کی ہے ہم نے، اس شخص کے لیے جو جھٹلائے قیامت کو، بھڑکتی آگ (11) جب وہ (آگ) دیکھے گی ان (مجرموں ) کو دور کے مکان سے تو سنیں گے وہ واسطے اس کے سخت غصیلی آواز اور چلانا (12)اورجب وہ ڈالے جائیں گے اس میں سے کسی تنگ جگہ میں ، زنجیروں میں جکڑے ہوئے تو وہ پکاریں گے وہاں ہلاکت (موت) کو (13)(انھیں کہا جائے گا) نہ پکارو تم آج ایک ہلاکت (موت) کواور (بلکہ) پکارو تم بہت زیادہ ہلاکتوں (موتوں ) کو (14)
[7] یہ ان لوگوں کا قول ہے جنھوں نے رسول (ﷺ)کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدح کی۔ انھوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا؟ چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ مَالِ هٰؔذَا الرَّسُوۡلِ ﴾ یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے﴿ يَاۡكُلُ الطَّعَامَ﴾ ’’کھانا کھاتا ہے‘‘ حالانکہ یہ تو بشر کی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔﴿ وَيَمۡشِيۡ فِي الۡاَسۡوَاقِ﴾ یعنی خریدوفروخت کے لیے ’’بازاروں میں چلتا پھرتا ہے‘‘ اور یہ … ان کے خیال کے مطابق … ایک رسول کے لائق نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمۡ لَيَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَيَمۡشُوۡنَ فِي الۡاَسۡوَاقِ ﴾(الفرقان: 25؍20)’’ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ سب کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔‘‘﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ ﴾ یعنی اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل کیا گیا جو اس کا ہاتھ بٹاتا﴿ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًا﴾ ’’پس وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔‘‘ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق آپ رسالت کا بوجھ اٹھانے کے لیے کافی نہیں ہیں اور نہ آپ کو رسالت کی ذمہ داریاں اٹھانے کی طاقت اور قدرت حاصل ہے۔
[8]﴿ اَوۡ يُلۡقٰۤى اِلَيۡهِ كَنۡزٌ ﴾ ’’یا ڈال دیا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ۔‘‘ یعنی ایسا مال جو بغیر کسی محنت مشقت کے اکٹھا کیا گیا ہو﴿ اَوۡ تَكُوۡنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاۡكُلُ مِنۡهَا﴾ ’’یا اس کے لیے باغ ہوتا جس سے وہ کھاتا۔‘‘ یعنی اس باغ کی وجہ سے وہ طلب رزق کی خاطر بازاروں میں چلنے پھرنے سے مستغنی ہو جاتا ﴿وَقَالَ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ظالموں نے کہا۔‘‘ یعنی ان کے اس اعتراض کا باعث ان کا اشتباہ نہیں بلکہ ان کا ظلم ہے: ﴿ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴾ ’’تم تو ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔‘‘ حالانکہ وہ آپ کی کامل عقل، آپ کی اچھی شہرت اور تمام مطاعن سے سلامت اور محفوظ ہونے کے بارے میں خوب جانتے تھے۔
[9] چونکہ ان کے یہ اعتراض بہت ہی عجیب و غریب تھے اس لیے ان کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ ضَرَبُوۡا لَكَ الۡاَمۡثَالَ ﴾ ’’دیکھو، وہ آپ کے لیے کیسے مثالیں بیان کرتے ہیں ۔‘‘ اور وہ یہ کہ وہ (رسول)فرشتہ کیوں نہ ہوا؟ اور اس سے بشری خصوصیات کیوں زائل نہ ہوئیں ؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے وہ اس کی قدرت نہیں رکھتا یا اس پر کوئی خزانہ اتارا گیا ہوتا یا اس کی ملکیت میں کوئی باغ ہوتا جو اس کو بازاروں میں طلب معاش کے لیے مارے مارے پھرنے سے مستغنی رکھتا؟ یا یہ کوئی سحر زدہ آدمی ہے؟﴿ فَضَلُّوۡا فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَبِيۡلًا ﴾ ’’پس وہ گمراہ ہو گئے اور کسی طرح وہ راہ پر نہیں آ سکتے۔‘‘ انھوں نے اس قسم کی متناقض باتیں کہی ہیں جو سراسر جہالت، گمراہی اور حماقت پر مبنی ہیں ۔ ان میں کوئی بھی ہدایت کی بات نہیں بلکہ ان میں کوئی ادنیٰ سا شبہ ڈالنے والی بات بھی نہیں جو رسالت میں قادح ہو۔ مجرد غوروفکر کرنے سے ایک عقلمند شخص کو اس کے بطلان کا قطعی یقین ہو جاتا ہے جو اس کو رد کرنے کے لیے کافی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے غوروفکر اور تدبر کرنے کا حکم دیا ہے کہ آیا یہ اعتراضات رسول کی رسالت اور صداقت کے قطعی یقین کے بارے میں توقف کے موجب بن سکتے ہیں ؟
[10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ آپ کو اس دنیا میں خیر کثیر سے نوازنے کی قدرت رکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡۤ اِنۡ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيۡرًا مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بابرکت ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو آپ کے لیے ان سے بہتر چیزیں کر دے۔‘‘ یعنی ان چیزوں سے بھی بہتر جن کا انھوں نے ذکر کیا ہے پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۙ وَيَجۡعَلۡ لَّكَ قُصُوۡرًا ﴾ ’’باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور کردے وہ آپ کے لیے محلات۔‘‘ یعنی بلند اور آراستہ محل۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں مگر چونکہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی حقیر چیز ہے، اس لیے وہ اپنے انبیاء و اولیاء کو صرف اتنی ہی دنیا عطا کرتا ہے جتنی حکمت اس کا تقاضا کرتی ہے اور ان کے دشمنوں کے اعتراضات کہ انھیں بہت زیادہ رزق سے کیوں نہیں نوازا گیا، محض ظلم اور جسارت ہے۔
[11] چونکہ ان تمام اعتراضات و اقوال کا فساد واضح ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی آگاہ فرما دیا ہے کہ ان کی طرف سے یہ تمام اعتراضات طلب حق کی خاطر صادر ہوئے ہیں نہ دلیل کی پیروی کے لیے بلکہ یہ تمام اعتراضات انھوں نے تعنت، ظلم اورتکذیب حق کی وجہ سے كيے ہیں ، انھوں نے وہی بات کہی جو ان کے دل میں تھی بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلۡ كَذَّبُوۡا بِالسَّاعَةِ﴾ ’’بلکہ انھوں نے قیامت کی تکذیب کی۔‘‘ اور تکذیب کرنے والے اور اعتراض کے لیے لغزشیں تلاش کرنے والے شخص کے لیے جس کا مقصد اتباع حق نہیں ہوتا ،ہدایت کا کوئی راستہ نہیں اور نہ اس کے ساتھ بحث کرنے میں کوئی فائدہ ہے اس کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ اس پر عذاب نازل کر دیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لِمَنۡ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيۡرًا ﴾ ’’اور ہم نے قیامت کی تکذیب کرنے والوں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کی ہے۔‘‘ یعنی بڑی آگ جس کے شعلے بہت زیادہ بھڑک رہے ہوں گے، جہنمیوں پر سخت غیظ و غضب ظاہر کرے گی اور اس کی پھنکار بہت شدید اور خوف ناک ہوگی۔
[12]﴿ اِذَا رَاَتۡهُمۡ مِّنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’جب وہ (آگ) ان کو دیکھے گی دور کی جگہ سے۔‘‘ یعنی اس سے پہلے کہ وہ جہنم میں پہنچیں اور جہنم ان کو وصول کرے﴿ سَمِعُوۡا لَهَا تَغَيُّظًا ﴾ ’’وہ (اپنے اوپر) اس کے غیظ و غضب کی آوازیں سنیں گے‘‘ ﴿ وَّزَفِيۡرًا ﴾ ’’اور دھاڑنا (سنیں گے)۔‘‘ کہ جس سے صدمے اور خوف کی وجہ سے کلیجے پھٹ جائیں گے اور دل پارہ پارہ ہو جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی خوف اور دہشت کے مارے مر ہی جائے۔ جہنم اپنے خالق کے غضب کی وجہ سے ان پر غضب ناک ہو گی، ان کے کفر اور برائی کی کثرت کی وجہ سے جہنم کے شعلے اور زیادہ ہو جائیں گے۔
[13]﴿ وَاِذَاۤ اُلۡقُوۡا مِنۡهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيۡنَ ﴾ ’’اور جب انھیں جکڑ کر جہنم میں کسی تنگ جگہ میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘ یعنی عذاب کے وقت، جہنم کے عین وسط میں ایک بہت ہی تنگ جگہ اور بھیڑ میں ، بیڑیوں اور زنجیروں میں باندھ کر ڈال دیا جائے گا۔ جب یہ اس منحوس جگہ پر پہنچیں گے اور انھیں بدترین حبس کا سامنا کرنا پڑے گا ﴿ دَعَوۡا هُنَالِكَ ثُبُوۡرًا﴾ تو اس وقت وہ اپنے لیے موت، رسوائی اور فضیحت کو پکاریں گے۔ انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ ظالم اور حد سے بڑھنے والے ہیں اور خالق کائنات نے انھیں ان کے اعمال کی پاداش میں اس جگہ بھیج کر انصاف کیا ہے۔
[14] مگر یہ دعا اور استغاثہ ان کے کسی کام آئیں گے نہ انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں گے بلکہ ان سے کہا جائے گا: ﴿ لَا تَدۡعُوا الۡيَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا كَثِيۡرًا﴾ ’’آج تم ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں (ہلاکتوں ) کو پکارو!‘‘ یعنی اگر تم اس سے بھی کئی گنا زیادہ چیختے چلاتے رہو تو تمھیں حزن و غم کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
ظالموں کی سزا بیان کرنے کے بعد یہ مناسب تھا کہ متقین کی جزا کا ذکر کیا جائے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
25:11بَلۡ كَذَّبُواْ بِٱلسَّاعَةِۖ وَأَعۡتَدۡنَا لِمَن كَذَّبَ بِٱلسَّاعَةِ سَعِيرًا
اور کہا انھوں نے، کیا ہے اس رسول کو کہ وہ کھاتا ہے کھانا اور چلتا ہے بازاروں میں ؟ کیوں نہیں نازل کیا گیا اس کی طرف کوئی فرشتہ کہ ہوتا وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا؟ (7)یا ڈالا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ یا ہوتا اس کے لیے کوئی باغ کہ وہ کھاتا اس میں سے اور کہا (ان)ظالموں نے (مومنوں سے)، نہیں اتباع کرتے تم مگر ایسے شخص کا (جس پر) جادو کیا گیا ہے (8) دیکھیے! کیسی بیان کیں ان لوگوں نے آپ کے لیے مثالیں ؟ پس گمراہ ہو گئے وہ، پس نہیں استطاعت رکھتے وہ راہ (یابی) کی (9) بڑی ہی بابرکت ہے وہ (اللہ کی) ذات کہ اگر وہ چاہے تو بنادے آپ کے لیے بہت بہتر اس سے، ایسے باغات کہ بہتی ہوں ان کے نیچے نہریں ، اور وہ بنا دے آپ کے لیے محلات (10)بلکہ انھوں جھٹلایا قیامت کواور تیار کی ہے ہم نے، اس شخص کے لیے جو جھٹلائے قیامت کو، بھڑکتی آگ (11) جب وہ (آگ) دیکھے گی ان (مجرموں ) کو دور کے مکان سے تو سنیں گے وہ واسطے اس کے سخت غصیلی آواز اور چلانا (12)اورجب وہ ڈالے جائیں گے اس میں سے کسی تنگ جگہ میں ، زنجیروں میں جکڑے ہوئے تو وہ پکاریں گے وہاں ہلاکت (موت) کو (13)(انھیں کہا جائے گا) نہ پکارو تم آج ایک ہلاکت (موت) کواور (بلکہ) پکارو تم بہت زیادہ ہلاکتوں (موتوں ) کو (14)
[7] یہ ان لوگوں کا قول ہے جنھوں نے رسول (ﷺ)کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدح کی۔ انھوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا؟ چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ مَالِ هٰؔذَا الرَّسُوۡلِ ﴾ یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے﴿ يَاۡكُلُ الطَّعَامَ﴾ ’’کھانا کھاتا ہے‘‘ حالانکہ یہ تو بشر کی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔﴿ وَيَمۡشِيۡ فِي الۡاَسۡوَاقِ﴾ یعنی خریدوفروخت کے لیے ’’بازاروں میں چلتا پھرتا ہے‘‘ اور یہ … ان کے خیال کے مطابق … ایک رسول کے لائق نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمۡ لَيَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَيَمۡشُوۡنَ فِي الۡاَسۡوَاقِ ﴾(الفرقان: 25؍20)’’ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ سب کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔‘‘﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ ﴾ یعنی اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل کیا گیا جو اس کا ہاتھ بٹاتا﴿ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًا﴾ ’’پس وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔‘‘ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق آپ رسالت کا بوجھ اٹھانے کے لیے کافی نہیں ہیں اور نہ آپ کو رسالت کی ذمہ داریاں اٹھانے کی طاقت اور قدرت حاصل ہے۔
[8]﴿ اَوۡ يُلۡقٰۤى اِلَيۡهِ كَنۡزٌ ﴾ ’’یا ڈال دیا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ۔‘‘ یعنی ایسا مال جو بغیر کسی محنت مشقت کے اکٹھا کیا گیا ہو﴿ اَوۡ تَكُوۡنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاۡكُلُ مِنۡهَا﴾ ’’یا اس کے لیے باغ ہوتا جس سے وہ کھاتا۔‘‘ یعنی اس باغ کی وجہ سے وہ طلب رزق کی خاطر بازاروں میں چلنے پھرنے سے مستغنی ہو جاتا ﴿وَقَالَ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ظالموں نے کہا۔‘‘ یعنی ان کے اس اعتراض کا باعث ان کا اشتباہ نہیں بلکہ ان کا ظلم ہے: ﴿ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴾ ’’تم تو ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔‘‘ حالانکہ وہ آپ کی کامل عقل، آپ کی اچھی شہرت اور تمام مطاعن سے سلامت اور محفوظ ہونے کے بارے میں خوب جانتے تھے۔
[9] چونکہ ان کے یہ اعتراض بہت ہی عجیب و غریب تھے اس لیے ان کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ ضَرَبُوۡا لَكَ الۡاَمۡثَالَ ﴾ ’’دیکھو، وہ آپ کے لیے کیسے مثالیں بیان کرتے ہیں ۔‘‘ اور وہ یہ کہ وہ (رسول)فرشتہ کیوں نہ ہوا؟ اور اس سے بشری خصوصیات کیوں زائل نہ ہوئیں ؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے وہ اس کی قدرت نہیں رکھتا یا اس پر کوئی خزانہ اتارا گیا ہوتا یا اس کی ملکیت میں کوئی باغ ہوتا جو اس کو بازاروں میں طلب معاش کے لیے مارے مارے پھرنے سے مستغنی رکھتا؟ یا یہ کوئی سحر زدہ آدمی ہے؟﴿ فَضَلُّوۡا فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَبِيۡلًا ﴾ ’’پس وہ گمراہ ہو گئے اور کسی طرح وہ راہ پر نہیں آ سکتے۔‘‘ انھوں نے اس قسم کی متناقض باتیں کہی ہیں جو سراسر جہالت، گمراہی اور حماقت پر مبنی ہیں ۔ ان میں کوئی بھی ہدایت کی بات نہیں بلکہ ان میں کوئی ادنیٰ سا شبہ ڈالنے والی بات بھی نہیں جو رسالت میں قادح ہو۔ مجرد غوروفکر کرنے سے ایک عقلمند شخص کو اس کے بطلان کا قطعی یقین ہو جاتا ہے جو اس کو رد کرنے کے لیے کافی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے غوروفکر اور تدبر کرنے کا حکم دیا ہے کہ آیا یہ اعتراضات رسول کی رسالت اور صداقت کے قطعی یقین کے بارے میں توقف کے موجب بن سکتے ہیں ؟
[10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ آپ کو اس دنیا میں خیر کثیر سے نوازنے کی قدرت رکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡۤ اِنۡ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيۡرًا مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بابرکت ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو آپ کے لیے ان سے بہتر چیزیں کر دے۔‘‘ یعنی ان چیزوں سے بھی بہتر جن کا انھوں نے ذکر کیا ہے پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۙ وَيَجۡعَلۡ لَّكَ قُصُوۡرًا ﴾ ’’باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور کردے وہ آپ کے لیے محلات۔‘‘ یعنی بلند اور آراستہ محل۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں مگر چونکہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی حقیر چیز ہے، اس لیے وہ اپنے انبیاء و اولیاء کو صرف اتنی ہی دنیا عطا کرتا ہے جتنی حکمت اس کا تقاضا کرتی ہے اور ان کے دشمنوں کے اعتراضات کہ انھیں بہت زیادہ رزق سے کیوں نہیں نوازا گیا، محض ظلم اور جسارت ہے۔
[11] چونکہ ان تمام اعتراضات و اقوال کا فساد واضح ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی آگاہ فرما دیا ہے کہ ان کی طرف سے یہ تمام اعتراضات طلب حق کی خاطر صادر ہوئے ہیں نہ دلیل کی پیروی کے لیے بلکہ یہ تمام اعتراضات انھوں نے تعنت، ظلم اورتکذیب حق کی وجہ سے كيے ہیں ، انھوں نے وہی بات کہی جو ان کے دل میں تھی بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلۡ كَذَّبُوۡا بِالسَّاعَةِ﴾ ’’بلکہ انھوں نے قیامت کی تکذیب کی۔‘‘ اور تکذیب کرنے والے اور اعتراض کے لیے لغزشیں تلاش کرنے والے شخص کے لیے جس کا مقصد اتباع حق نہیں ہوتا ،ہدایت کا کوئی راستہ نہیں اور نہ اس کے ساتھ بحث کرنے میں کوئی فائدہ ہے اس کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ اس پر عذاب نازل کر دیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لِمَنۡ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيۡرًا ﴾ ’’اور ہم نے قیامت کی تکذیب کرنے والوں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کی ہے۔‘‘ یعنی بڑی آگ جس کے شعلے بہت زیادہ بھڑک رہے ہوں گے، جہنمیوں پر سخت غیظ و غضب ظاہر کرے گی اور اس کی پھنکار بہت شدید اور خوف ناک ہوگی۔
[12]﴿ اِذَا رَاَتۡهُمۡ مِّنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’جب وہ (آگ) ان کو دیکھے گی دور کی جگہ سے۔‘‘ یعنی اس سے پہلے کہ وہ جہنم میں پہنچیں اور جہنم ان کو وصول کرے﴿ سَمِعُوۡا لَهَا تَغَيُّظًا ﴾ ’’وہ (اپنے اوپر) اس کے غیظ و غضب کی آوازیں سنیں گے‘‘ ﴿ وَّزَفِيۡرًا ﴾ ’’اور دھاڑنا (سنیں گے)۔‘‘ کہ جس سے صدمے اور خوف کی وجہ سے کلیجے پھٹ جائیں گے اور دل پارہ پارہ ہو جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی خوف اور دہشت کے مارے مر ہی جائے۔ جہنم اپنے خالق کے غضب کی وجہ سے ان پر غضب ناک ہو گی، ان کے کفر اور برائی کی کثرت کی وجہ سے جہنم کے شعلے اور زیادہ ہو جائیں گے۔
[13]﴿ وَاِذَاۤ اُلۡقُوۡا مِنۡهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيۡنَ ﴾ ’’اور جب انھیں جکڑ کر جہنم میں کسی تنگ جگہ میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘ یعنی عذاب کے وقت، جہنم کے عین وسط میں ایک بہت ہی تنگ جگہ اور بھیڑ میں ، بیڑیوں اور زنجیروں میں باندھ کر ڈال دیا جائے گا۔ جب یہ اس منحوس جگہ پر پہنچیں گے اور انھیں بدترین حبس کا سامنا کرنا پڑے گا ﴿ دَعَوۡا هُنَالِكَ ثُبُوۡرًا﴾ تو اس وقت وہ اپنے لیے موت، رسوائی اور فضیحت کو پکاریں گے۔ انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ ظالم اور حد سے بڑھنے والے ہیں اور خالق کائنات نے انھیں ان کے اعمال کی پاداش میں اس جگہ بھیج کر انصاف کیا ہے۔
[14] مگر یہ دعا اور استغاثہ ان کے کسی کام آئیں گے نہ انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں گے بلکہ ان سے کہا جائے گا: ﴿ لَا تَدۡعُوا الۡيَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا كَثِيۡرًا﴾ ’’آج تم ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں (ہلاکتوں ) کو پکارو!‘‘ یعنی اگر تم اس سے بھی کئی گنا زیادہ چیختے چلاتے رہو تو تمھیں حزن و غم کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
ظالموں کی سزا بیان کرنے کے بعد یہ مناسب تھا کہ متقین کی جزا کا ذکر کیا جائے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
25:12إِذَا رَأَتۡهُم مِّن مَّكَانِۭ بَعِيدٖ سَمِعُواْ لَهَا تَغَيُّظٗا وَزَفِيرٗا
اور کہا انھوں نے، کیا ہے اس رسول کو کہ وہ کھاتا ہے کھانا اور چلتا ہے بازاروں میں ؟ کیوں نہیں نازل کیا گیا اس کی طرف کوئی فرشتہ کہ ہوتا وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا؟ (7)یا ڈالا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ یا ہوتا اس کے لیے کوئی باغ کہ وہ کھاتا اس میں سے اور کہا (ان)ظالموں نے (مومنوں سے)، نہیں اتباع کرتے تم مگر ایسے شخص کا (جس پر) جادو کیا گیا ہے (8) دیکھیے! کیسی بیان کیں ان لوگوں نے آپ کے لیے مثالیں ؟ پس گمراہ ہو گئے وہ، پس نہیں استطاعت رکھتے وہ راہ (یابی) کی (9) بڑی ہی بابرکت ہے وہ (اللہ کی) ذات کہ اگر وہ چاہے تو بنادے آپ کے لیے بہت بہتر اس سے، ایسے باغات کہ بہتی ہوں ان کے نیچے نہریں ، اور وہ بنا دے آپ کے لیے محلات (10)بلکہ انھوں جھٹلایا قیامت کواور تیار کی ہے ہم نے، اس شخص کے لیے جو جھٹلائے قیامت کو، بھڑکتی آگ (11) جب وہ (آگ) دیکھے گی ان (مجرموں ) کو دور کے مکان سے تو سنیں گے وہ واسطے اس کے سخت غصیلی آواز اور چلانا (12)اورجب وہ ڈالے جائیں گے اس میں سے کسی تنگ جگہ میں ، زنجیروں میں جکڑے ہوئے تو وہ پکاریں گے وہاں ہلاکت (موت) کو (13)(انھیں کہا جائے گا) نہ پکارو تم آج ایک ہلاکت (موت) کواور (بلکہ) پکارو تم بہت زیادہ ہلاکتوں (موتوں ) کو (14)
[7] یہ ان لوگوں کا قول ہے جنھوں نے رسول (ﷺ)کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدح کی۔ انھوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا؟ چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ مَالِ هٰؔذَا الرَّسُوۡلِ ﴾ یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے﴿ يَاۡكُلُ الطَّعَامَ﴾ ’’کھانا کھاتا ہے‘‘ حالانکہ یہ تو بشر کی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔﴿ وَيَمۡشِيۡ فِي الۡاَسۡوَاقِ﴾ یعنی خریدوفروخت کے لیے ’’بازاروں میں چلتا پھرتا ہے‘‘ اور یہ … ان کے خیال کے مطابق … ایک رسول کے لائق نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمۡ لَيَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَيَمۡشُوۡنَ فِي الۡاَسۡوَاقِ ﴾(الفرقان: 25؍20)’’ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ سب کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔‘‘﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ ﴾ یعنی اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل کیا گیا جو اس کا ہاتھ بٹاتا﴿ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًا﴾ ’’پس وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔‘‘ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق آپ رسالت کا بوجھ اٹھانے کے لیے کافی نہیں ہیں اور نہ آپ کو رسالت کی ذمہ داریاں اٹھانے کی طاقت اور قدرت حاصل ہے۔
[8]﴿ اَوۡ يُلۡقٰۤى اِلَيۡهِ كَنۡزٌ ﴾ ’’یا ڈال دیا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ۔‘‘ یعنی ایسا مال جو بغیر کسی محنت مشقت کے اکٹھا کیا گیا ہو﴿ اَوۡ تَكُوۡنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاۡكُلُ مِنۡهَا﴾ ’’یا اس کے لیے باغ ہوتا جس سے وہ کھاتا۔‘‘ یعنی اس باغ کی وجہ سے وہ طلب رزق کی خاطر بازاروں میں چلنے پھرنے سے مستغنی ہو جاتا ﴿وَقَالَ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ظالموں نے کہا۔‘‘ یعنی ان کے اس اعتراض کا باعث ان کا اشتباہ نہیں بلکہ ان کا ظلم ہے: ﴿ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴾ ’’تم تو ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔‘‘ حالانکہ وہ آپ کی کامل عقل، آپ کی اچھی شہرت اور تمام مطاعن سے سلامت اور محفوظ ہونے کے بارے میں خوب جانتے تھے۔
[9] چونکہ ان کے یہ اعتراض بہت ہی عجیب و غریب تھے اس لیے ان کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ ضَرَبُوۡا لَكَ الۡاَمۡثَالَ ﴾ ’’دیکھو، وہ آپ کے لیے کیسے مثالیں بیان کرتے ہیں ۔‘‘ اور وہ یہ کہ وہ (رسول)فرشتہ کیوں نہ ہوا؟ اور اس سے بشری خصوصیات کیوں زائل نہ ہوئیں ؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے وہ اس کی قدرت نہیں رکھتا یا اس پر کوئی خزانہ اتارا گیا ہوتا یا اس کی ملکیت میں کوئی باغ ہوتا جو اس کو بازاروں میں طلب معاش کے لیے مارے مارے پھرنے سے مستغنی رکھتا؟ یا یہ کوئی سحر زدہ آدمی ہے؟﴿ فَضَلُّوۡا فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَبِيۡلًا ﴾ ’’پس وہ گمراہ ہو گئے اور کسی طرح وہ راہ پر نہیں آ سکتے۔‘‘ انھوں نے اس قسم کی متناقض باتیں کہی ہیں جو سراسر جہالت، گمراہی اور حماقت پر مبنی ہیں ۔ ان میں کوئی بھی ہدایت کی بات نہیں بلکہ ان میں کوئی ادنیٰ سا شبہ ڈالنے والی بات بھی نہیں جو رسالت میں قادح ہو۔ مجرد غوروفکر کرنے سے ایک عقلمند شخص کو اس کے بطلان کا قطعی یقین ہو جاتا ہے جو اس کو رد کرنے کے لیے کافی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے غوروفکر اور تدبر کرنے کا حکم دیا ہے کہ آیا یہ اعتراضات رسول کی رسالت اور صداقت کے قطعی یقین کے بارے میں توقف کے موجب بن سکتے ہیں ؟
[10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ آپ کو اس دنیا میں خیر کثیر سے نوازنے کی قدرت رکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡۤ اِنۡ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيۡرًا مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بابرکت ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو آپ کے لیے ان سے بہتر چیزیں کر دے۔‘‘ یعنی ان چیزوں سے بھی بہتر جن کا انھوں نے ذکر کیا ہے پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۙ وَيَجۡعَلۡ لَّكَ قُصُوۡرًا ﴾ ’’باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور کردے وہ آپ کے لیے محلات۔‘‘ یعنی بلند اور آراستہ محل۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں مگر چونکہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی حقیر چیز ہے، اس لیے وہ اپنے انبیاء و اولیاء کو صرف اتنی ہی دنیا عطا کرتا ہے جتنی حکمت اس کا تقاضا کرتی ہے اور ان کے دشمنوں کے اعتراضات کہ انھیں بہت زیادہ رزق سے کیوں نہیں نوازا گیا، محض ظلم اور جسارت ہے۔
[11] چونکہ ان تمام اعتراضات و اقوال کا فساد واضح ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی آگاہ فرما دیا ہے کہ ان کی طرف سے یہ تمام اعتراضات طلب حق کی خاطر صادر ہوئے ہیں نہ دلیل کی پیروی کے لیے بلکہ یہ تمام اعتراضات انھوں نے تعنت، ظلم اورتکذیب حق کی وجہ سے كيے ہیں ، انھوں نے وہی بات کہی جو ان کے دل میں تھی بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلۡ كَذَّبُوۡا بِالسَّاعَةِ﴾ ’’بلکہ انھوں نے قیامت کی تکذیب کی۔‘‘ اور تکذیب کرنے والے اور اعتراض کے لیے لغزشیں تلاش کرنے والے شخص کے لیے جس کا مقصد اتباع حق نہیں ہوتا ،ہدایت کا کوئی راستہ نہیں اور نہ اس کے ساتھ بحث کرنے میں کوئی فائدہ ہے اس کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ اس پر عذاب نازل کر دیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لِمَنۡ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيۡرًا ﴾ ’’اور ہم نے قیامت کی تکذیب کرنے والوں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کی ہے۔‘‘ یعنی بڑی آگ جس کے شعلے بہت زیادہ بھڑک رہے ہوں گے، جہنمیوں پر سخت غیظ و غضب ظاہر کرے گی اور اس کی پھنکار بہت شدید اور خوف ناک ہوگی۔
[12]﴿ اِذَا رَاَتۡهُمۡ مِّنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’جب وہ (آگ) ان کو دیکھے گی دور کی جگہ سے۔‘‘ یعنی اس سے پہلے کہ وہ جہنم میں پہنچیں اور جہنم ان کو وصول کرے﴿ سَمِعُوۡا لَهَا تَغَيُّظًا ﴾ ’’وہ (اپنے اوپر) اس کے غیظ و غضب کی آوازیں سنیں گے‘‘ ﴿ وَّزَفِيۡرًا ﴾ ’’اور دھاڑنا (سنیں گے)۔‘‘ کہ جس سے صدمے اور خوف کی وجہ سے کلیجے پھٹ جائیں گے اور دل پارہ پارہ ہو جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی خوف اور دہشت کے مارے مر ہی جائے۔ جہنم اپنے خالق کے غضب کی وجہ سے ان پر غضب ناک ہو گی، ان کے کفر اور برائی کی کثرت کی وجہ سے جہنم کے شعلے اور زیادہ ہو جائیں گے۔
[13]﴿ وَاِذَاۤ اُلۡقُوۡا مِنۡهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيۡنَ ﴾ ’’اور جب انھیں جکڑ کر جہنم میں کسی تنگ جگہ میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘ یعنی عذاب کے وقت، جہنم کے عین وسط میں ایک بہت ہی تنگ جگہ اور بھیڑ میں ، بیڑیوں اور زنجیروں میں باندھ کر ڈال دیا جائے گا۔ جب یہ اس منحوس جگہ پر پہنچیں گے اور انھیں بدترین حبس کا سامنا کرنا پڑے گا ﴿ دَعَوۡا هُنَالِكَ ثُبُوۡرًا﴾ تو اس وقت وہ اپنے لیے موت، رسوائی اور فضیحت کو پکاریں گے۔ انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ ظالم اور حد سے بڑھنے والے ہیں اور خالق کائنات نے انھیں ان کے اعمال کی پاداش میں اس جگہ بھیج کر انصاف کیا ہے۔
[14] مگر یہ دعا اور استغاثہ ان کے کسی کام آئیں گے نہ انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں گے بلکہ ان سے کہا جائے گا: ﴿ لَا تَدۡعُوا الۡيَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا كَثِيۡرًا﴾ ’’آج تم ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں (ہلاکتوں ) کو پکارو!‘‘ یعنی اگر تم اس سے بھی کئی گنا زیادہ چیختے چلاتے رہو تو تمھیں حزن و غم کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
ظالموں کی سزا بیان کرنے کے بعد یہ مناسب تھا کہ متقین کی جزا کا ذکر کیا جائے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
25:13وَإِذَآ أُلۡقُواْ مِنۡهَا مَكَانٗا ضَيِّقٗا مُّقَرَّنِينَ دَعَوۡاْ هُنَالِكَ ثُبُورٗا
اور کہا انھوں نے، کیا ہے اس رسول کو کہ وہ کھاتا ہے کھانا اور چلتا ہے بازاروں میں ؟ کیوں نہیں نازل کیا گیا اس کی طرف کوئی فرشتہ کہ ہوتا وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا؟ (7)یا ڈالا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ یا ہوتا اس کے لیے کوئی باغ کہ وہ کھاتا اس میں سے اور کہا (ان)ظالموں نے (مومنوں سے)، نہیں اتباع کرتے تم مگر ایسے شخص کا (جس پر) جادو کیا گیا ہے (8) دیکھیے! کیسی بیان کیں ان لوگوں نے آپ کے لیے مثالیں ؟ پس گمراہ ہو گئے وہ، پس نہیں استطاعت رکھتے وہ راہ (یابی) کی (9) بڑی ہی بابرکت ہے وہ (اللہ کی) ذات کہ اگر وہ چاہے تو بنادے آپ کے لیے بہت بہتر اس سے، ایسے باغات کہ بہتی ہوں ان کے نیچے نہریں ، اور وہ بنا دے آپ کے لیے محلات (10)بلکہ انھوں جھٹلایا قیامت کواور تیار کی ہے ہم نے، اس شخص کے لیے جو جھٹلائے قیامت کو، بھڑکتی آگ (11) جب وہ (آگ) دیکھے گی ان (مجرموں ) کو دور کے مکان سے تو سنیں گے وہ واسطے اس کے سخت غصیلی آواز اور چلانا (12)اورجب وہ ڈالے جائیں گے اس میں سے کسی تنگ جگہ میں ، زنجیروں میں جکڑے ہوئے تو وہ پکاریں گے وہاں ہلاکت (موت) کو (13)(انھیں کہا جائے گا) نہ پکارو تم آج ایک ہلاکت (موت) کواور (بلکہ) پکارو تم بہت زیادہ ہلاکتوں (موتوں ) کو (14)
[7] یہ ان لوگوں کا قول ہے جنھوں نے رسول (ﷺ)کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدح کی۔ انھوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا؟ چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ مَالِ هٰؔذَا الرَّسُوۡلِ ﴾ یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے﴿ يَاۡكُلُ الطَّعَامَ﴾ ’’کھانا کھاتا ہے‘‘ حالانکہ یہ تو بشر کی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔﴿ وَيَمۡشِيۡ فِي الۡاَسۡوَاقِ﴾ یعنی خریدوفروخت کے لیے ’’بازاروں میں چلتا پھرتا ہے‘‘ اور یہ … ان کے خیال کے مطابق … ایک رسول کے لائق نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمۡ لَيَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَيَمۡشُوۡنَ فِي الۡاَسۡوَاقِ ﴾(الفرقان: 25؍20)’’ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ سب کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔‘‘﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ ﴾ یعنی اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل کیا گیا جو اس کا ہاتھ بٹاتا﴿ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًا﴾ ’’پس وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔‘‘ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق آپ رسالت کا بوجھ اٹھانے کے لیے کافی نہیں ہیں اور نہ آپ کو رسالت کی ذمہ داریاں اٹھانے کی طاقت اور قدرت حاصل ہے۔
[8]﴿ اَوۡ يُلۡقٰۤى اِلَيۡهِ كَنۡزٌ ﴾ ’’یا ڈال دیا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ۔‘‘ یعنی ایسا مال جو بغیر کسی محنت مشقت کے اکٹھا کیا گیا ہو﴿ اَوۡ تَكُوۡنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاۡكُلُ مِنۡهَا﴾ ’’یا اس کے لیے باغ ہوتا جس سے وہ کھاتا۔‘‘ یعنی اس باغ کی وجہ سے وہ طلب رزق کی خاطر بازاروں میں چلنے پھرنے سے مستغنی ہو جاتا ﴿وَقَالَ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ظالموں نے کہا۔‘‘ یعنی ان کے اس اعتراض کا باعث ان کا اشتباہ نہیں بلکہ ان کا ظلم ہے: ﴿ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴾ ’’تم تو ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔‘‘ حالانکہ وہ آپ کی کامل عقل، آپ کی اچھی شہرت اور تمام مطاعن سے سلامت اور محفوظ ہونے کے بارے میں خوب جانتے تھے۔
[9] چونکہ ان کے یہ اعتراض بہت ہی عجیب و غریب تھے اس لیے ان کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ ضَرَبُوۡا لَكَ الۡاَمۡثَالَ ﴾ ’’دیکھو، وہ آپ کے لیے کیسے مثالیں بیان کرتے ہیں ۔‘‘ اور وہ یہ کہ وہ (رسول)فرشتہ کیوں نہ ہوا؟ اور اس سے بشری خصوصیات کیوں زائل نہ ہوئیں ؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے وہ اس کی قدرت نہیں رکھتا یا اس پر کوئی خزانہ اتارا گیا ہوتا یا اس کی ملکیت میں کوئی باغ ہوتا جو اس کو بازاروں میں طلب معاش کے لیے مارے مارے پھرنے سے مستغنی رکھتا؟ یا یہ کوئی سحر زدہ آدمی ہے؟﴿ فَضَلُّوۡا فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَبِيۡلًا ﴾ ’’پس وہ گمراہ ہو گئے اور کسی طرح وہ راہ پر نہیں آ سکتے۔‘‘ انھوں نے اس قسم کی متناقض باتیں کہی ہیں جو سراسر جہالت، گمراہی اور حماقت پر مبنی ہیں ۔ ان میں کوئی بھی ہدایت کی بات نہیں بلکہ ان میں کوئی ادنیٰ سا شبہ ڈالنے والی بات بھی نہیں جو رسالت میں قادح ہو۔ مجرد غوروفکر کرنے سے ایک عقلمند شخص کو اس کے بطلان کا قطعی یقین ہو جاتا ہے جو اس کو رد کرنے کے لیے کافی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے غوروفکر اور تدبر کرنے کا حکم دیا ہے کہ آیا یہ اعتراضات رسول کی رسالت اور صداقت کے قطعی یقین کے بارے میں توقف کے موجب بن سکتے ہیں ؟
[10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ آپ کو اس دنیا میں خیر کثیر سے نوازنے کی قدرت رکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡۤ اِنۡ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيۡرًا مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بابرکت ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو آپ کے لیے ان سے بہتر چیزیں کر دے۔‘‘ یعنی ان چیزوں سے بھی بہتر جن کا انھوں نے ذکر کیا ہے پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۙ وَيَجۡعَلۡ لَّكَ قُصُوۡرًا ﴾ ’’باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور کردے وہ آپ کے لیے محلات۔‘‘ یعنی بلند اور آراستہ محل۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں مگر چونکہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی حقیر چیز ہے، اس لیے وہ اپنے انبیاء و اولیاء کو صرف اتنی ہی دنیا عطا کرتا ہے جتنی حکمت اس کا تقاضا کرتی ہے اور ان کے دشمنوں کے اعتراضات کہ انھیں بہت زیادہ رزق سے کیوں نہیں نوازا گیا، محض ظلم اور جسارت ہے۔
[11] چونکہ ان تمام اعتراضات و اقوال کا فساد واضح ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی آگاہ فرما دیا ہے کہ ان کی طرف سے یہ تمام اعتراضات طلب حق کی خاطر صادر ہوئے ہیں نہ دلیل کی پیروی کے لیے بلکہ یہ تمام اعتراضات انھوں نے تعنت، ظلم اورتکذیب حق کی وجہ سے كيے ہیں ، انھوں نے وہی بات کہی جو ان کے دل میں تھی بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلۡ كَذَّبُوۡا بِالسَّاعَةِ﴾ ’’بلکہ انھوں نے قیامت کی تکذیب کی۔‘‘ اور تکذیب کرنے والے اور اعتراض کے لیے لغزشیں تلاش کرنے والے شخص کے لیے جس کا مقصد اتباع حق نہیں ہوتا ،ہدایت کا کوئی راستہ نہیں اور نہ اس کے ساتھ بحث کرنے میں کوئی فائدہ ہے اس کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ اس پر عذاب نازل کر دیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لِمَنۡ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيۡرًا ﴾ ’’اور ہم نے قیامت کی تکذیب کرنے والوں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کی ہے۔‘‘ یعنی بڑی آگ جس کے شعلے بہت زیادہ بھڑک رہے ہوں گے، جہنمیوں پر سخت غیظ و غضب ظاہر کرے گی اور اس کی پھنکار بہت شدید اور خوف ناک ہوگی۔
[12]﴿ اِذَا رَاَتۡهُمۡ مِّنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’جب وہ (آگ) ان کو دیکھے گی دور کی جگہ سے۔‘‘ یعنی اس سے پہلے کہ وہ جہنم میں پہنچیں اور جہنم ان کو وصول کرے﴿ سَمِعُوۡا لَهَا تَغَيُّظًا ﴾ ’’وہ (اپنے اوپر) اس کے غیظ و غضب کی آوازیں سنیں گے‘‘ ﴿ وَّزَفِيۡرًا ﴾ ’’اور دھاڑنا (سنیں گے)۔‘‘ کہ جس سے صدمے اور خوف کی وجہ سے کلیجے پھٹ جائیں گے اور دل پارہ پارہ ہو جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی خوف اور دہشت کے مارے مر ہی جائے۔ جہنم اپنے خالق کے غضب کی وجہ سے ان پر غضب ناک ہو گی، ان کے کفر اور برائی کی کثرت کی وجہ سے جہنم کے شعلے اور زیادہ ہو جائیں گے۔
[13]﴿ وَاِذَاۤ اُلۡقُوۡا مِنۡهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيۡنَ ﴾ ’’اور جب انھیں جکڑ کر جہنم میں کسی تنگ جگہ میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘ یعنی عذاب کے وقت، جہنم کے عین وسط میں ایک بہت ہی تنگ جگہ اور بھیڑ میں ، بیڑیوں اور زنجیروں میں باندھ کر ڈال دیا جائے گا۔ جب یہ اس منحوس جگہ پر پہنچیں گے اور انھیں بدترین حبس کا سامنا کرنا پڑے گا ﴿ دَعَوۡا هُنَالِكَ ثُبُوۡرًا﴾ تو اس وقت وہ اپنے لیے موت، رسوائی اور فضیحت کو پکاریں گے۔ انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ ظالم اور حد سے بڑھنے والے ہیں اور خالق کائنات نے انھیں ان کے اعمال کی پاداش میں اس جگہ بھیج کر انصاف کیا ہے۔
[14] مگر یہ دعا اور استغاثہ ان کے کسی کام آئیں گے نہ انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں گے بلکہ ان سے کہا جائے گا: ﴿ لَا تَدۡعُوا الۡيَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا كَثِيۡرًا﴾ ’’آج تم ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں (ہلاکتوں ) کو پکارو!‘‘ یعنی اگر تم اس سے بھی کئی گنا زیادہ چیختے چلاتے رہو تو تمھیں حزن و غم کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
ظالموں کی سزا بیان کرنے کے بعد یہ مناسب تھا کہ متقین کی جزا کا ذکر کیا جائے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
25:14لَّا تَدۡعُواْ ٱلۡيَوۡمَ ثُبُورٗا وَٰحِدٗا وَٱدۡعُواْ ثُبُورٗا كَثِيرٗا
اور کہا انھوں نے، کیا ہے اس رسول کو کہ وہ کھاتا ہے کھانا اور چلتا ہے بازاروں میں ؟ کیوں نہیں نازل کیا گیا اس کی طرف کوئی فرشتہ کہ ہوتا وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا؟ (7)یا ڈالا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ یا ہوتا اس کے لیے کوئی باغ کہ وہ کھاتا اس میں سے اور کہا (ان)ظالموں نے (مومنوں سے)، نہیں اتباع کرتے تم مگر ایسے شخص کا (جس پر) جادو کیا گیا ہے (8) دیکھیے! کیسی بیان کیں ان لوگوں نے آپ کے لیے مثالیں ؟ پس گمراہ ہو گئے وہ، پس نہیں استطاعت رکھتے وہ راہ (یابی) کی (9) بڑی ہی بابرکت ہے وہ (اللہ کی) ذات کہ اگر وہ چاہے تو بنادے آپ کے لیے بہت بہتر اس سے، ایسے باغات کہ بہتی ہوں ان کے نیچے نہریں ، اور وہ بنا دے آپ کے لیے محلات (10)بلکہ انھوں جھٹلایا قیامت کواور تیار کی ہے ہم نے، اس شخص کے لیے جو جھٹلائے قیامت کو، بھڑکتی آگ (11) جب وہ (آگ) دیکھے گی ان (مجرموں ) کو دور کے مکان سے تو سنیں گے وہ واسطے اس کے سخت غصیلی آواز اور چلانا (12)اورجب وہ ڈالے جائیں گے اس میں سے کسی تنگ جگہ میں ، زنجیروں میں جکڑے ہوئے تو وہ پکاریں گے وہاں ہلاکت (موت) کو (13)(انھیں کہا جائے گا) نہ پکارو تم آج ایک ہلاکت (موت) کواور (بلکہ) پکارو تم بہت زیادہ ہلاکتوں (موتوں ) کو (14)
[7] یہ ان لوگوں کا قول ہے جنھوں نے رسول (ﷺ)کو جھٹلایا اور آپ کی رسالت میں جرح و قدح کی۔ انھوں نے اعتراض کیا کہ یہ رسول فرشتہ یا کوئی بادشاہ کیوں نہیں یا اس کی خدمت اور مدد کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا؟ چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ مَالِ هٰؔذَا الرَّسُوۡلِ ﴾ یعنی یہ کیسا شخص ہے جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے﴿ يَاۡكُلُ الطَّعَامَ﴾ ’’کھانا کھاتا ہے‘‘ حالانکہ یہ تو بشر کی خصوصیات میں سے ہے۔ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ ان امور کا محتاج ہوتا بشر جن کا محتاج ہے۔﴿ وَيَمۡشِيۡ فِي الۡاَسۡوَاقِ﴾ یعنی خریدوفروخت کے لیے ’’بازاروں میں چلتا پھرتا ہے‘‘ اور یہ … ان کے خیال کے مطابق … ایک رسول کے لائق نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمۡ لَيَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَيَمۡشُوۡنَ فِي الۡاَسۡوَاقِ ﴾(الفرقان: 25؍20)’’ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ سب کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔‘‘﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ ﴾ یعنی اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل کیا گیا جو اس کا ہاتھ بٹاتا﴿ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًا﴾ ’’پس وہ اس کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔‘‘ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق آپ رسالت کا بوجھ اٹھانے کے لیے کافی نہیں ہیں اور نہ آپ کو رسالت کی ذمہ داریاں اٹھانے کی طاقت اور قدرت حاصل ہے۔
[8]﴿ اَوۡ يُلۡقٰۤى اِلَيۡهِ كَنۡزٌ ﴾ ’’یا ڈال دیا جاتا اس کی طرف کوئی خزانہ۔‘‘ یعنی ایسا مال جو بغیر کسی محنت مشقت کے اکٹھا کیا گیا ہو﴿ اَوۡ تَكُوۡنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاۡكُلُ مِنۡهَا﴾ ’’یا اس کے لیے باغ ہوتا جس سے وہ کھاتا۔‘‘ یعنی اس باغ کی وجہ سے وہ طلب رزق کی خاطر بازاروں میں چلنے پھرنے سے مستغنی ہو جاتا ﴿وَقَالَ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ظالموں نے کہا۔‘‘ یعنی ان کے اس اعتراض کا باعث ان کا اشتباہ نہیں بلکہ ان کا ظلم ہے: ﴿ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ﴾ ’’تم تو ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔‘‘ حالانکہ وہ آپ کی کامل عقل، آپ کی اچھی شہرت اور تمام مطاعن سے سلامت اور محفوظ ہونے کے بارے میں خوب جانتے تھے۔
[9] چونکہ ان کے یہ اعتراض بہت ہی عجیب و غریب تھے اس لیے ان کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ ضَرَبُوۡا لَكَ الۡاَمۡثَالَ ﴾ ’’دیکھو، وہ آپ کے لیے کیسے مثالیں بیان کرتے ہیں ۔‘‘ اور وہ یہ کہ وہ (رسول)فرشتہ کیوں نہ ہوا؟ اور اس سے بشری خصوصیات کیوں زائل نہ ہوئیں ؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے وہ اس کی قدرت نہیں رکھتا یا اس پر کوئی خزانہ اتارا گیا ہوتا یا اس کی ملکیت میں کوئی باغ ہوتا جو اس کو بازاروں میں طلب معاش کے لیے مارے مارے پھرنے سے مستغنی رکھتا؟ یا یہ کوئی سحر زدہ آدمی ہے؟﴿ فَضَلُّوۡا فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَبِيۡلًا ﴾ ’’پس وہ گمراہ ہو گئے اور کسی طرح وہ راہ پر نہیں آ سکتے۔‘‘ انھوں نے اس قسم کی متناقض باتیں کہی ہیں جو سراسر جہالت، گمراہی اور حماقت پر مبنی ہیں ۔ ان میں کوئی بھی ہدایت کی بات نہیں بلکہ ان میں کوئی ادنیٰ سا شبہ ڈالنے والی بات بھی نہیں جو رسالت میں قادح ہو۔ مجرد غوروفکر کرنے سے ایک عقلمند شخص کو اس کے بطلان کا قطعی یقین ہو جاتا ہے جو اس کو رد کرنے کے لیے کافی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے غوروفکر اور تدبر کرنے کا حکم دیا ہے کہ آیا یہ اعتراضات رسول کی رسالت اور صداقت کے قطعی یقین کے بارے میں توقف کے موجب بن سکتے ہیں ؟
[10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ آپ کو اس دنیا میں خیر کثیر سے نوازنے کی قدرت رکھتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡۤ اِنۡ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيۡرًا مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’بابرکت ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو آپ کے لیے ان سے بہتر چیزیں کر دے۔‘‘ یعنی ان چیزوں سے بھی بہتر جن کا انھوں نے ذکر کیا ہے پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۙ وَيَجۡعَلۡ لَّكَ قُصُوۡرًا ﴾ ’’باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور کردے وہ آپ کے لیے محلات۔‘‘ یعنی بلند اور آراستہ محل۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں مگر چونکہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی حقیر چیز ہے، اس لیے وہ اپنے انبیاء و اولیاء کو صرف اتنی ہی دنیا عطا کرتا ہے جتنی حکمت اس کا تقاضا کرتی ہے اور ان کے دشمنوں کے اعتراضات کہ انھیں بہت زیادہ رزق سے کیوں نہیں نوازا گیا، محض ظلم اور جسارت ہے۔
[11] چونکہ ان تمام اعتراضات و اقوال کا فساد واضح ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی آگاہ فرما دیا ہے کہ ان کی طرف سے یہ تمام اعتراضات طلب حق کی خاطر صادر ہوئے ہیں نہ دلیل کی پیروی کے لیے بلکہ یہ تمام اعتراضات انھوں نے تعنت، ظلم اورتکذیب حق کی وجہ سے كيے ہیں ، انھوں نے وہی بات کہی جو ان کے دل میں تھی بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلۡ كَذَّبُوۡا بِالسَّاعَةِ﴾ ’’بلکہ انھوں نے قیامت کی تکذیب کی۔‘‘ اور تکذیب کرنے والے اور اعتراض کے لیے لغزشیں تلاش کرنے والے شخص کے لیے جس کا مقصد اتباع حق نہیں ہوتا ،ہدایت کا کوئی راستہ نہیں اور نہ اس کے ساتھ بحث کرنے میں کوئی فائدہ ہے اس کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ اس پر عذاب نازل کر دیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لِمَنۡ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيۡرًا ﴾ ’’اور ہم نے قیامت کی تکذیب کرنے والوں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کی ہے۔‘‘ یعنی بڑی آگ جس کے شعلے بہت زیادہ بھڑک رہے ہوں گے، جہنمیوں پر سخت غیظ و غضب ظاہر کرے گی اور اس کی پھنکار بہت شدید اور خوف ناک ہوگی۔
[12]﴿ اِذَا رَاَتۡهُمۡ مِّنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’جب وہ (آگ) ان کو دیکھے گی دور کی جگہ سے۔‘‘ یعنی اس سے پہلے کہ وہ جہنم میں پہنچیں اور جہنم ان کو وصول کرے﴿ سَمِعُوۡا لَهَا تَغَيُّظًا ﴾ ’’وہ (اپنے اوپر) اس کے غیظ و غضب کی آوازیں سنیں گے‘‘ ﴿ وَّزَفِيۡرًا ﴾ ’’اور دھاڑنا (سنیں گے)۔‘‘ کہ جس سے صدمے اور خوف کی وجہ سے کلیجے پھٹ جائیں گے اور دل پارہ پارہ ہو جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی خوف اور دہشت کے مارے مر ہی جائے۔ جہنم اپنے خالق کے غضب کی وجہ سے ان پر غضب ناک ہو گی، ان کے کفر اور برائی کی کثرت کی وجہ سے جہنم کے شعلے اور زیادہ ہو جائیں گے۔
[13]﴿ وَاِذَاۤ اُلۡقُوۡا مِنۡهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيۡنَ ﴾ ’’اور جب انھیں جکڑ کر جہنم میں کسی تنگ جگہ میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘ یعنی عذاب کے وقت، جہنم کے عین وسط میں ایک بہت ہی تنگ جگہ اور بھیڑ میں ، بیڑیوں اور زنجیروں میں باندھ کر ڈال دیا جائے گا۔ جب یہ اس منحوس جگہ پر پہنچیں گے اور انھیں بدترین حبس کا سامنا کرنا پڑے گا ﴿ دَعَوۡا هُنَالِكَ ثُبُوۡرًا﴾ تو اس وقت وہ اپنے لیے موت، رسوائی اور فضیحت کو پکاریں گے۔ انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ ظالم اور حد سے بڑھنے والے ہیں اور خالق کائنات نے انھیں ان کے اعمال کی پاداش میں اس جگہ بھیج کر انصاف کیا ہے۔
[14] مگر یہ دعا اور استغاثہ ان کے کسی کام آئیں گے نہ انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں گے بلکہ ان سے کہا جائے گا: ﴿ لَا تَدۡعُوا الۡيَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا كَثِيۡرًا﴾ ’’آج تم ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں (ہلاکتوں ) کو پکارو!‘‘ یعنی اگر تم اس سے بھی کئی گنا زیادہ چیختے چلاتے رہو تو تمھیں حزن و غم کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
ظالموں کی سزا بیان کرنے کے بعد یہ مناسب تھا کہ متقین کی جزا کا ذکر کیا جائے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
25:15قُلۡ أَذَٰلِكَ خَيۡرٌ أَمۡ جَنَّةُ ٱلۡخُلۡدِ ٱلَّتِي وُعِدَ ٱلۡمُتَّقُونَۚ كَانَتۡ لَهُمۡ جَزَآءٗ وَمَصِيرٗا
کہہ دیجیے! کیا یہ (عذاب) بہتر ہے یا جنت ہمیشگی کی، وہ جس کا وعدہ دیے گئے متقی لوگ؟ ہے وہ ان کے لیے جزا اور واپسی کی جگہ (15) ان کے لیے اس میں ہوگا جو کچھ وہ چاہیں گے، ہمیشہ رہنے والے،ہے (یہ) آپ کے رب کے ذمے وعدہ قابل طلب (16)
[15] یعنی ان کی حماقت اور ان کے نفع کی بجائے نقصان کو اختیار کرنے کو بیان کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے! ﴿ اَذٰلِكَ ﴾ یعنی وہ عذاب جو میں نے تمھارے لیے بیان کیا ہے﴿ خَيۡرٌ اَمۡ جَنَّةُ الۡخُلۡدِ الَّتِيۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’بہتر ہے یا وہ ہمیشگی والی جنت، جس کا وعدہ متقین سے کیا گیا ہے؟‘‘ جن کو تقویٰ نے بڑھا دیا ہے، پس جو کوئی تقویٰ قائم کرتا ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔﴿كَانَتۡ لَهُمۡ جَزَآءً ﴾ ’’ہو گی وہ ان کے لیے بدلہ۔‘‘ یعنی متقین کے تقویٰ کی جزا کے طور پر ﴿ وَّمَصِيۡرًا ﴾ اور ان کا ٹھکانا ہو گی، جس کی طرف وہ لوٹیں گے جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔
[16]﴿لَهُمۡ فِيۡهَا مَا يَشَآءُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں جس چیز کی طلب ہو گی اور جنت میں جس چیز کی خواہش اور آرزو ہو گی وہ انھیں حاصل ہو گی، مثلاً:لذیذ مطعومات و مشروبات، ملبوسات فاخرہ، خوبصورت بیویاں ، بلندوبالا محل، باغات، پھلوں سے لدے ہوئے باغیچے، میوے، جن کی خوبصورتی، ان کا تنوع اور ان کی کثرت اصناف دیکھنے والوں اور کھانے والوں کو خوش کر دے گی۔ جنت کی پھلواریوں اور باغات میں نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہ جدھر چاہیں گے ان نہروں کو موڑ سکیں گے، وہ نہ بدلنے والے اس پانی کی نہروں کو جہاں چاہیں گے لے جا سکیں گے، کچھ دودھ کی نہریں ہوں گی جن کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوا ہو گا، پینے والوں کی لذت کی خاطر کچھ نہریں شراب کی ہوں گی، کچھ نہریں مصفیٰ شہد کی ہوں گے، جن میں خوشبوئیں پھیلی ہوئی ہوں گی، آراستہ اور مزین گھر ہوں گے، سحرانگیز اور دلکش آوازیں ہوں گی اور وہ بھائیوں کی زیارت اور دوستوں کی ملاقاتوں سے لطف اندوز ہوں گے۔اور ان تمام نعمتوں سے اعلیٰ تر رب رحیم کے دیدار اور اس کے کلام کے سماع سے لطف اندوز ہونا، اس کے قرب اور رضا کی سعادت حاصل کرنا، اس کی ناراضی سے مامون ہونا ان نعمتوں کا دوام اور وقت گزرنے کے ساتھ ان تمام نعمتوں کا بڑھتے چلے جانا ہے۔﴿ كَانَ ﴾ ’’ہے (یہ)‘‘ جنت میں داخل ہونا اور جنت میں پہنچنا ﴿ عَلٰى رَبِّكَ وَعۡدًا مَّسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’آپ کے رب کے ذمے قابل درخواست وعدہ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اپنی زبان حال اور زبان قال سے، اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے۔ پس ان دونوں گھروں میں سے کون سا گھر اچھا ہے کہ اس کو ترجیح دی جائے؟ اے عقل مندو! ان دونوں قسم کے عمل کرنے والوں ، یعنی دار شقاوت کے اعمال رکھنے والوں اور دار سعادت کے اعمال رکھنے والوں میں سے کون سے لوگ فضیلت، عقل اور فخر کے مستحق ہیں ؟حق واضح اور راہ راست روشن ہو گئی ہے اب کسی افراط پسند کے پاس دلیل کو ترک کرنے کا کوئی عذر نہیں ۔ اے وہ ذات گرامی! جس نے کچھ لوگوں کے لیے شقاوت اور کچھ لوگوں کے لیے سعادت کا فیصلہ کیا ہے، ہم تیرے حضور اس بات کے امیدوار ہیں کہ تو ہمیں ان لوگوں میں شامل کر دے جن کے لیے تو نے بھلائی اور اپنے دیدار کا شرف لکھ دیا ہے اور اے اللہ! ہم بدبختوں کے احوال سے تیری مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔
25:16لَّهُمۡ فِيهَا مَا يَشَآءُونَ خَٰلِدِينَۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ وَعۡدٗا مَّسۡـُٔولٗا
کہہ دیجیے! کیا یہ (عذاب) بہتر ہے یا جنت ہمیشگی کی، وہ جس کا وعدہ دیے گئے متقی لوگ؟ ہے وہ ان کے لیے جزا اور واپسی کی جگہ (15) ان کے لیے اس میں ہوگا جو کچھ وہ چاہیں گے، ہمیشہ رہنے والے،ہے (یہ) آپ کے رب کے ذمے وعدہ قابل طلب (16)
[15] یعنی ان کی حماقت اور ان کے نفع کی بجائے نقصان کو اختیار کرنے کو بیان کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے! ﴿ اَذٰلِكَ ﴾ یعنی وہ عذاب جو میں نے تمھارے لیے بیان کیا ہے﴿ خَيۡرٌ اَمۡ جَنَّةُ الۡخُلۡدِ الَّتِيۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’بہتر ہے یا وہ ہمیشگی والی جنت، جس کا وعدہ متقین سے کیا گیا ہے؟‘‘ جن کو تقویٰ نے بڑھا دیا ہے، پس جو کوئی تقویٰ قائم کرتا ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔﴿كَانَتۡ لَهُمۡ جَزَآءً ﴾ ’’ہو گی وہ ان کے لیے بدلہ۔‘‘ یعنی متقین کے تقویٰ کی جزا کے طور پر ﴿ وَّمَصِيۡرًا ﴾ اور ان کا ٹھکانا ہو گی، جس کی طرف وہ لوٹیں گے جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔
[16]﴿لَهُمۡ فِيۡهَا مَا يَشَآءُوۡنَ ﴾ یعنی انھیں جس چیز کی طلب ہو گی اور جنت میں جس چیز کی خواہش اور آرزو ہو گی وہ انھیں حاصل ہو گی، مثلاً:لذیذ مطعومات و مشروبات، ملبوسات فاخرہ، خوبصورت بیویاں ، بلندوبالا محل، باغات، پھلوں سے لدے ہوئے باغیچے، میوے، جن کی خوبصورتی، ان کا تنوع اور ان کی کثرت اصناف دیکھنے والوں اور کھانے والوں کو خوش کر دے گی۔ جنت کی پھلواریوں اور باغات میں نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہ جدھر چاہیں گے ان نہروں کو موڑ سکیں گے، وہ نہ بدلنے والے اس پانی کی نہروں کو جہاں چاہیں گے لے جا سکیں گے، کچھ دودھ کی نہریں ہوں گی جن کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوا ہو گا، پینے والوں کی لذت کی خاطر کچھ نہریں شراب کی ہوں گی، کچھ نہریں مصفیٰ شہد کی ہوں گے، جن میں خوشبوئیں پھیلی ہوئی ہوں گی، آراستہ اور مزین گھر ہوں گے، سحرانگیز اور دلکش آوازیں ہوں گی اور وہ بھائیوں کی زیارت اور دوستوں کی ملاقاتوں سے لطف اندوز ہوں گے۔اور ان تمام نعمتوں سے اعلیٰ تر رب رحیم کے دیدار اور اس کے کلام کے سماع سے لطف اندوز ہونا، اس کے قرب اور رضا کی سعادت حاصل کرنا، اس کی ناراضی سے مامون ہونا ان نعمتوں کا دوام اور وقت گزرنے کے ساتھ ان تمام نعمتوں کا بڑھتے چلے جانا ہے۔﴿ كَانَ ﴾ ’’ہے (یہ)‘‘ جنت میں داخل ہونا اور جنت میں پہنچنا ﴿ عَلٰى رَبِّكَ وَعۡدًا مَّسۡـُٔوۡلًا ﴾ ’’آپ کے رب کے ذمے قابل درخواست وعدہ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اپنی زبان حال اور زبان قال سے، اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے۔ پس ان دونوں گھروں میں سے کون سا گھر اچھا ہے کہ اس کو ترجیح دی جائے؟ اے عقل مندو! ان دونوں قسم کے عمل کرنے والوں ، یعنی دار شقاوت کے اعمال رکھنے والوں اور دار سعادت کے اعمال رکھنے والوں میں سے کون سے لوگ فضیلت، عقل اور فخر کے مستحق ہیں ؟حق واضح اور راہ راست روشن ہو گئی ہے اب کسی افراط پسند کے پاس دلیل کو ترک کرنے کا کوئی عذر نہیں ۔ اے وہ ذات گرامی! جس نے کچھ لوگوں کے لیے شقاوت اور کچھ لوگوں کے لیے سعادت کا فیصلہ کیا ہے، ہم تیرے حضور اس بات کے امیدوار ہیں کہ تو ہمیں ان لوگوں میں شامل کر دے جن کے لیے تو نے بھلائی اور اپنے دیدار کا شرف لکھ دیا ہے اور اے اللہ! ہم بدبختوں کے احوال سے تیری مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔
25:17وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَقُولُ ءَأَنتُمۡ أَضۡلَلۡتُمۡ عِبَادِي هَـٰٓؤُلَآءِ أَمۡ هُمۡ ضَلُّواْ ٱلسَّبِيلَ
اور جس دن اللہ اکٹھا کرے گا انھیں اورجن کی وہ عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے تو وہ (اللہ) کہے گا (معبودان باطلہ سے) کیا تم نے گمراہ کیا تھا میرے ان بندوں کو یا وہ خود ہی بھٹک گئے تھے راہ (حق) سے؟ (17) وہ کہیں گے، پاک ہے تو، نہیں تھا لائق ہمارے یہ کہ بنائیں ہم سوائے تیرے کار ساز لیکن تو نے فائدہ (سامان زندگی) دیا انھیں اور ان کے باپ دادا کو بھی، یہاں تک کہ بھول گئے وہ ذکر (تیرا) اور تھے یہ لوگ ہلاک ہونے والے (18)(اللہ کہے گا) پس تحقیق انھوں نے جھٹلایا تمھیں ان باتوں میں جو تم کہتے تھے، پس نہیں استطاعت رکھتے تم (عذاب کے) ہٹانے کی اور نہ مدد کرنے کی اور جو کوئی ظلم (شرک) کرے گا تم میں سے ہم چکھائیں گے اسے عذاب بہت بڑا (19) اور نہیں بھیجے ہم نے آپ سے پہلے رسول مگر بلاشبہ وہ البتہ کھاتے تھے کھانااور وہ چلتے تھے بازاروں میں اور بنایا ہم نے تمھارے ایک کو، دوسرے کے لیے آزمائش، کیا تم صبر کرتے ہو (یا نہیں )؟ اور ہے آپ کا رب خوب دیکھنے والا (20)
[17] قیامت کے روز مشرکین اور ان کے خود ساختہ معبودوں کے احوال کے بارے میں اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتاہے کہ ان کے خود ساختہ معبود ان سے براء ت کا اظہار کریں گے اور ان کی تمام کوششیں رائگاں جائیں گی۔ فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ ﴾ ’’اور اس دن اکٹھا کرے گا ان کو۔‘‘ یعنی ان تکذیب کرنے والے مشرکین کو اکٹھا کرے گا ﴿ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَيَقُوۡلُ ﴾ ’’اور ان کوبھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے اللہ کے سوا اور کہے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو جھڑکنے کی خاطر ان کے جھوٹے معبودوں سے مخاطب ہو کر کہے گا: ﴿ ءَاَنۡتُمۡ اَضۡلَلۡتُمۡ عِبَادِيۡ هٰۤؤُلَآءِ اَمۡ هُمۡ ضَلُّوا السَّبِيۡلَ ﴾ ’’کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ خود ہی راستے سے بھٹک گئے تھے؟‘‘ یعنی کیا تم نے انھیں اپنی عبادت کا حکم دیا تھا اور اس کو ان کے سامنے آراستہ کیا تھا یا یہ خود ان کی اپنی کارستانی تھی؟
[18]﴿ قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’وہ کہیں گے: تو پاک ہے۔‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کو مشرکین کے شرک سے پاک گردانیں گے اور خود کو شرک سے برئ الذمہ قرار دیتے ہوئے کہیں گے: ﴿ مَا كَانَ يَنۢۡبَغِيۡ لَنَاۤ ﴾ ’’یہ ہماری شان کے لائق نہیں ‘‘ اور نہ ہم ایسا کر ہی سکتے ہیں کہ تیرے سوا کسی اورکو اپنا سرپرست، والی و مددگار بنائیں، اس کی عبادت کریں اور اپنی حاجتوں میں اس کو پکاریں ۔ جب ہم تیری عبادت کرنے کے محتاج ہیں اور تیرے سوا کسی اور کی عبادت سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں تب ہم کسی کو اپنی عبادت کا کیسے حکم دے سکتے ہیں ؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔تو پاک ہے ﴿ اَنۡ نَّؔتَّؔخِذَ مِنۡ دُوۡنِكَ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اس بات سے کہ ہم تیرے سوا کوئی دوست بنائیں ۔‘‘ ان کا یہ قول حضرت عیسیٰu کے قول کی مانند ہے: ﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ١ؐ ؕ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ۰۰مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾(المائدہ:5؍116، 117) ’’جب اللہ کہے گا: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟ حضرت عیسیٰ جواب دیں گے: تو پاک ہے! میری شان کے لائق نہیں کہ میں کوئی ایسی بات کہتا جس کا مجھے کوئی حق نہیں ۔ اگر میں نے کوئی ایسی بات کہی ہوتی تو وہ تیرے علم میں ہوتی کیونکہ جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اورجو بات تیرے دل میں ہے میں اسے نہیں جانتا بے شک تو علام الغیوب ہے۔ تو نے جو مجھے حکم دیا تھا میں نے اس کے سوا انھیں کچھ نہیں کہا کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب اور تمھارا رب ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ۰۰قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ١ۚ بَلۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ١ۚ اَ كۡثَرُهُمۡ بِهِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ﴾(سبا:34؍40، 41) ’’جس روز وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا پھر فرشتوں سے کہے گا: کیا یہ لوگ تمھاری عبادت کیا کرتے تھے؟ تو وہ جواب میں عرض کریں گے: تو پاک ہے، ان کو چھوڑ کر ہمارا ولی تو تُو ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ ہماری نہیں بلکہ وہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر انھی کو مانتے تھے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءًؔ وَّكَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾(الاحقاف:46؍6) ’’جب تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کر دیں گے۔‘‘ جب انھوں نے اس بات سے اپنے آپ کو بری ٔالذمہ قرار دیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کی طرف ان کو بلایا یا ان کو گمراہ کیا ہو۔ تو انھوں نے مشرکین کی گمراہی کا اصل سبب ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿ وَلٰكِنۡ مَّتَّعۡتَهُمۡ وَاٰبَآءَهُمۡ ﴾ یعنی تو نے ان کو اور ان کے آباءواجداد کو دنیا کی لذات و شہوات اور اس کے دیگر مطالب سے فائدہ اٹھانے دیا﴿ حَتّٰى نَسُوا الذِّكۡرَ﴾ ’’یہاں تک کہ وہ نصیحت کو بھلا بیٹھے۔‘‘ لذات دنیا میں مشغول اور اس کی شہوت میں مستغرق ہو کر ۔ پس انھوں نے اپنی دنیا کی تو حفاظت کی لیکن اپنے دین کو ضائع کر دیا﴿ وَؔكَانُوۡا قَوۡمًۢا بُوۡرًا ﴾ ’’اور تھی وہ ہلاک ہی ہونے والی قوم۔‘‘ (بائرین) ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جن میں کوئی بھلائی نہ ہو۔ وہ کسی اصلاح کی طرف راغب نہیں ہوتے اور وہ ہلاکت کے سوا کسی چیز کے لائق نہیں ہوتے۔ پس انھوں نے اس مانع کا ذکر کیا جس نے ان کو اتباع ہدایت سے روک دیا اور وہ ہے ان کا دنیا سے متمتع ہونا، جس نے ان کو راہ راست سے ہٹا دیا… پس ان کے لیے ہدایت کا تقاضا معدوم ہے یعنی ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں جب تقاضا معدوم اور مانع موجود ہو تو آپ جو شر اور ہلاکت چاہیں وہ ان کے اندر دیکھ سکتے ہیں ۔
[19] پس جب ان مشرکین کے معبود ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے تو اللہ تعالیٰ معاندین حق کی زجروتوبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ فَقَدۡ كَذَّبُوۡؔكُمۡ بِمَا تَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے تو تمھیں تمھاری باتوں میں جھٹلا دیا۔‘‘ یعنی وہ اس بات کا انکار کریں گے کہ انھوں نے تمھیں اپنی عبادت کا حکم دیا تھا یا تمھارے اس شرک پر راضی تھے یا یہ کہ وہ تمھارے رب کے پاس تمھاری سفارش کریں گے۔ وہ تمھارے اس زعم باطل کی تکذیب کریں گے اور وہ تمھارے سب سے بڑے دشمن بن جائیں گے۔ پس تم پر عذاب واجب ہو جائے گا۔ ﴿ فَمَا تَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ صَرۡفًا ﴾ ’’پس نہیں طاقت رکھو گے تم اس کو پھیرنے کی۔‘‘ یعنی تم بالفعل اپنے سے اس عذاب کو ہٹا سکو گے نہ فدیہ وغیرہ کے ذریعے اس کو دور کر سکو گے﴿ وَّلَا نَصۡرًا﴾ ’’اور نہ مدد کرنے کی۔‘‘ یعنی تم اپنے عجز اور کسی حامی و ناصر کے نہ ہونے کی وجہ سے، اپنی مدد نہ کر سکو گے۔ یہ گمراہ اور جاہل مقلدین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور یہ، جیسا کہ آپ نے دیکھا، ان کے حق میں انتہائی برا فیصلہ اور ان کا بدترین ٹھکانا ہے۔رہا ان میں سے حق کے ساتھ عناد رکھنے والا شخص، جس نے حق کو پہچان کر اس سے منہ موڑ لیا تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّظۡلِمۡ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ یعنی تم میں سے جو کوئی ظلم اور عناد کی بنا پر حق کو چھوڑ دیتا ہے تو ﴿ نُذِقۡهُ عَذَابًا كَبِيۡرًا ﴾ ہم اس کو اتنے بڑے عذاب کا مزا چکھائیں گے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کے اعتراض﴿ مَالِ هٰؔذَا الرَّسُوۡلِ يَاۡكُلُ الطَّعَامَ وَيَمۡشِيۡ فِي الۡاَسۡوَاقِ ﴾(الفرقان:25؍7) ’’یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔‘‘ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمۡ لَيَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَيَمۡشُوۡنَ فِي الۡاَسۡوَاقِ ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب کے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے۔‘‘ پس ہم نے ان کو کوئی ایسی مخلوق نہیں بنایا جو کھانا نہ کھاتی ہو اور نہ ہم نے ان کو فرشتے بنایا۔ پس وہ آپ کے لیے نمونہ ہیں ۔رہا فقروغنا تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اس کی حکمت پر مبنی آزمائش ہے جیسا کہ فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا بَعۡضَكُمۡ لِبَعۡضٍ فِتۡنَةً﴾ ’’اور بنایا ہم نے ایک کو دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ۔‘‘ یعنی رسول ان لوگوں کے لیے آزمائش ہے جن کی طرف اسے مبعوث کیا گیا ہے، نیز اس لیے مبعوث کیا گیا ہے تاکہ اطاعت کرنے والوں اور نافرمانی کرنے والوں کے درمیان فرق واضح ہو جائے اور رسولوں کو ہم نے آزمایا مخلوق کو دعوت دینے کے ذریعے سے۔ مال دار فقیر کے لیے اور فقیر مال دار کے لیے آزمائش ہے اور اسی طرح اس دنیا میں مخلوق کی تمام قسمیں آزمائش، ابتلاء اور امتحان میں مبتلا ہیں ۔اس امتحان اور آزمائش سے مقصود یہ ہے۔ ﴿ اَتَصۡبِرُوۡنَ﴾ کہ تم صبر کر کے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہو تاکہ تمھارا مولا تمھیں ثواب عطا کرے یا صبر نہیں کرتے اور اس طرح تم عذاب کے مستحق ٹھہرتے ہو﴿ وَؔكَانَ رَبُّكَ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اور آپ کا رب خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ تمھارے احوال کو دیکھتا اور جانتا ہے اور وہ اس شخص کو چن لیتا ہے جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ وہ رسالت کا اہل ہے اور وہ اسے اپنی فضیلت کے لیے مختص کر لیتا ہے۔ وہ تمھارے اعمال کا علم رکھتا ہے، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اگر اچھے اعمال ہوں گے تو اچھی جزا ہو گی اور برے اعمال ہوں گے تو بری جزا ہو گی۔
25:18قَالُواْ سُبۡحَٰنَكَ مَا كَانَ يَنۢبَغِي لَنَآ أَن نَّتَّخِذَ مِن دُونِكَ مِنۡ أَوۡلِيَآءَ وَلَٰكِن مَّتَّعۡتَهُمۡ وَءَابَآءَهُمۡ حَتَّىٰ نَسُواْ ٱلذِّكۡرَ وَكَانُواْ قَوۡمَۢا بُورٗا
اور جس دن اللہ اکٹھا کرے گا انھیں اورجن کی وہ عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے تو وہ (اللہ) کہے گا (معبودان باطلہ سے) کیا تم نے گمراہ کیا تھا میرے ان بندوں کو یا وہ خود ہی بھٹک گئے تھے راہ (حق) سے؟ (17) وہ کہیں گے، پاک ہے تو، نہیں تھا لائق ہمارے یہ کہ بنائیں ہم سوائے تیرے کار ساز لیکن تو نے فائدہ (سامان زندگی) دیا انھیں اور ان کے باپ دادا کو بھی، یہاں تک کہ بھول گئے وہ ذکر (تیرا) اور تھے یہ لوگ ہلاک ہونے والے (18)(اللہ کہے گا) پس تحقیق انھوں نے جھٹلایا تمھیں ان باتوں میں جو تم کہتے تھے، پس نہیں استطاعت رکھتے تم (عذاب کے) ہٹانے کی اور نہ مدد کرنے کی اور جو کوئی ظلم (شرک) کرے گا تم میں سے ہم چکھائیں گے اسے عذاب بہت بڑا (19) اور نہیں بھیجے ہم نے آپ سے پہلے رسول مگر بلاشبہ وہ البتہ کھاتے تھے کھانااور وہ چلتے تھے بازاروں میں اور بنایا ہم نے تمھارے ایک کو، دوسرے کے لیے آزمائش، کیا تم صبر کرتے ہو (یا نہیں )؟ اور ہے آپ کا رب خوب دیکھنے والا (20)
[17] قیامت کے روز مشرکین اور ان کے خود ساختہ معبودوں کے احوال کے بارے میں اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتاہے کہ ان کے خود ساختہ معبود ان سے براء ت کا اظہار کریں گے اور ان کی تمام کوششیں رائگاں جائیں گی۔ فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ ﴾ ’’اور اس دن اکٹھا کرے گا ان کو۔‘‘ یعنی ان تکذیب کرنے والے مشرکین کو اکٹھا کرے گا ﴿ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَيَقُوۡلُ ﴾ ’’اور ان کوبھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے اللہ کے سوا اور کہے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو جھڑکنے کی خاطر ان کے جھوٹے معبودوں سے مخاطب ہو کر کہے گا: ﴿ ءَاَنۡتُمۡ اَضۡلَلۡتُمۡ عِبَادِيۡ هٰۤؤُلَآءِ اَمۡ هُمۡ ضَلُّوا السَّبِيۡلَ ﴾ ’’کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ خود ہی راستے سے بھٹک گئے تھے؟‘‘ یعنی کیا تم نے انھیں اپنی عبادت کا حکم دیا تھا اور اس کو ان کے سامنے آراستہ کیا تھا یا یہ خود ان کی اپنی کارستانی تھی؟
[18]﴿ قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’وہ کہیں گے: تو پاک ہے۔‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کو مشرکین کے شرک سے پاک گردانیں گے اور خود کو شرک سے برئ الذمہ قرار دیتے ہوئے کہیں گے: ﴿ مَا كَانَ يَنۢۡبَغِيۡ لَنَاۤ ﴾ ’’یہ ہماری شان کے لائق نہیں ‘‘ اور نہ ہم ایسا کر ہی سکتے ہیں کہ تیرے سوا کسی اورکو اپنا سرپرست، والی و مددگار بنائیں، اس کی عبادت کریں اور اپنی حاجتوں میں اس کو پکاریں ۔ جب ہم تیری عبادت کرنے کے محتاج ہیں اور تیرے سوا کسی اور کی عبادت سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں تب ہم کسی کو اپنی عبادت کا کیسے حکم دے سکتے ہیں ؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔تو پاک ہے ﴿ اَنۡ نَّؔتَّؔخِذَ مِنۡ دُوۡنِكَ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اس بات سے کہ ہم تیرے سوا کوئی دوست بنائیں ۔‘‘ ان کا یہ قول حضرت عیسیٰu کے قول کی مانند ہے: ﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ١ؐ ؕ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ۰۰مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾(المائدہ:5؍116، 117) ’’جب اللہ کہے گا: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟ حضرت عیسیٰ جواب دیں گے: تو پاک ہے! میری شان کے لائق نہیں کہ میں کوئی ایسی بات کہتا جس کا مجھے کوئی حق نہیں ۔ اگر میں نے کوئی ایسی بات کہی ہوتی تو وہ تیرے علم میں ہوتی کیونکہ جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اورجو بات تیرے دل میں ہے میں اسے نہیں جانتا بے شک تو علام الغیوب ہے۔ تو نے جو مجھے حکم دیا تھا میں نے اس کے سوا انھیں کچھ نہیں کہا کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب اور تمھارا رب ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ۰۰قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ١ۚ بَلۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ١ۚ اَ كۡثَرُهُمۡ بِهِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ﴾(سبا:34؍40، 41) ’’جس روز وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا پھر فرشتوں سے کہے گا: کیا یہ لوگ تمھاری عبادت کیا کرتے تھے؟ تو وہ جواب میں عرض کریں گے: تو پاک ہے، ان کو چھوڑ کر ہمارا ولی تو تُو ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ ہماری نہیں بلکہ وہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر انھی کو مانتے تھے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءًؔ وَّكَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾(الاحقاف:46؍6) ’’جب تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کر دیں گے۔‘‘ جب انھوں نے اس بات سے اپنے آپ کو بری ٔالذمہ قرار دیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کی طرف ان کو بلایا یا ان کو گمراہ کیا ہو۔ تو انھوں نے مشرکین کی گمراہی کا اصل سبب ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿ وَلٰكِنۡ مَّتَّعۡتَهُمۡ وَاٰبَآءَهُمۡ ﴾ یعنی تو نے ان کو اور ان کے آباءواجداد کو دنیا کی لذات و شہوات اور اس کے دیگر مطالب سے فائدہ اٹھانے دیا﴿ حَتّٰى نَسُوا الذِّكۡرَ﴾ ’’یہاں تک کہ وہ نصیحت کو بھلا بیٹھے۔‘‘ لذات دنیا میں مشغول اور اس کی شہوت میں مستغرق ہو کر ۔ پس انھوں نے اپنی دنیا کی تو حفاظت کی لیکن اپنے دین کو ضائع کر دیا﴿ وَؔكَانُوۡا قَوۡمًۢا بُوۡرًا ﴾ ’’اور تھی وہ ہلاک ہی ہونے والی قوم۔‘‘ (بائرین) ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جن میں کوئی بھلائی نہ ہو۔ وہ کسی اصلاح کی طرف راغب نہیں ہوتے اور وہ ہلاکت کے سوا کسی چیز کے لائق نہیں ہوتے۔ پس انھوں نے اس مانع کا ذکر کیا جس نے ان کو اتباع ہدایت سے روک دیا اور وہ ہے ان کا دنیا سے متمتع ہونا، جس نے ان کو راہ راست سے ہٹا دیا… پس ان کے لیے ہدایت کا تقاضا معدوم ہے یعنی ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں جب تقاضا معدوم اور مانع موجود ہو تو آپ جو شر اور ہلاکت چاہیں وہ ان کے اندر دیکھ سکتے ہیں ۔
[19] پس جب ان مشرکین کے معبود ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے تو اللہ تعالیٰ معاندین حق کی زجروتوبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ فَقَدۡ كَذَّبُوۡؔكُمۡ بِمَا تَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے تو تمھیں تمھاری باتوں میں جھٹلا دیا۔‘‘ یعنی وہ اس بات کا انکار کریں گے کہ انھوں نے تمھیں اپنی عبادت کا حکم دیا تھا یا تمھارے اس شرک پر راضی تھے یا یہ کہ وہ تمھارے رب کے پاس تمھاری سفارش کریں گے۔ وہ تمھارے اس زعم باطل کی تکذیب کریں گے اور وہ تمھارے سب سے بڑے دشمن بن جائیں گے۔ پس تم پر عذاب واجب ہو جائے گا۔ ﴿ فَمَا تَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ صَرۡفًا ﴾ ’’پس نہیں طاقت رکھو گے تم اس کو پھیرنے کی۔‘‘ یعنی تم بالفعل اپنے سے اس عذاب کو ہٹا سکو گے نہ فدیہ وغیرہ کے ذریعے اس کو دور کر سکو گے﴿ وَّلَا نَصۡرًا﴾ ’’اور نہ مدد کرنے کی۔‘‘ یعنی تم اپنے عجز اور کسی حامی و ناصر کے نہ ہونے کی وجہ سے، اپنی مدد نہ کر سکو گے۔ یہ گمراہ اور جاہل مقلدین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور یہ، جیسا کہ آپ نے دیکھا، ان کے حق میں انتہائی برا فیصلہ اور ان کا بدترین ٹھکانا ہے۔رہا ان میں سے حق کے ساتھ عناد رکھنے والا شخص، جس نے حق کو پہچان کر اس سے منہ موڑ لیا تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّظۡلِمۡ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ یعنی تم میں سے جو کوئی ظلم اور عناد کی بنا پر حق کو چھوڑ دیتا ہے تو ﴿ نُذِقۡهُ عَذَابًا كَبِيۡرًا ﴾ ہم اس کو اتنے بڑے عذاب کا مزا چکھائیں گے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کے اعتراض﴿ مَالِ هٰؔذَا الرَّسُوۡلِ يَاۡكُلُ الطَّعَامَ وَيَمۡشِيۡ فِي الۡاَسۡوَاقِ ﴾(الفرقان:25؍7) ’’یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔‘‘ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمۡ لَيَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَيَمۡشُوۡنَ فِي الۡاَسۡوَاقِ ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب کے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے۔‘‘ پس ہم نے ان کو کوئی ایسی مخلوق نہیں بنایا جو کھانا نہ کھاتی ہو اور نہ ہم نے ان کو فرشتے بنایا۔ پس وہ آپ کے لیے نمونہ ہیں ۔رہا فقروغنا تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اس کی حکمت پر مبنی آزمائش ہے جیسا کہ فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا بَعۡضَكُمۡ لِبَعۡضٍ فِتۡنَةً﴾ ’’اور بنایا ہم نے ایک کو دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ۔‘‘ یعنی رسول ان لوگوں کے لیے آزمائش ہے جن کی طرف اسے مبعوث کیا گیا ہے، نیز اس لیے مبعوث کیا گیا ہے تاکہ اطاعت کرنے والوں اور نافرمانی کرنے والوں کے درمیان فرق واضح ہو جائے اور رسولوں کو ہم نے آزمایا مخلوق کو دعوت دینے کے ذریعے سے۔ مال دار فقیر کے لیے اور فقیر مال دار کے لیے آزمائش ہے اور اسی طرح اس دنیا میں مخلوق کی تمام قسمیں آزمائش، ابتلاء اور امتحان میں مبتلا ہیں ۔اس امتحان اور آزمائش سے مقصود یہ ہے۔ ﴿ اَتَصۡبِرُوۡنَ﴾ کہ تم صبر کر کے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہو تاکہ تمھارا مولا تمھیں ثواب عطا کرے یا صبر نہیں کرتے اور اس طرح تم عذاب کے مستحق ٹھہرتے ہو﴿ وَؔكَانَ رَبُّكَ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اور آپ کا رب خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ تمھارے احوال کو دیکھتا اور جانتا ہے اور وہ اس شخص کو چن لیتا ہے جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ وہ رسالت کا اہل ہے اور وہ اسے اپنی فضیلت کے لیے مختص کر لیتا ہے۔ وہ تمھارے اعمال کا علم رکھتا ہے، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اگر اچھے اعمال ہوں گے تو اچھی جزا ہو گی اور برے اعمال ہوں گے تو بری جزا ہو گی۔
25:19فَقَدۡ كَذَّبُوكُم بِمَا تَقُولُونَ فَمَا تَسۡتَطِيعُونَ صَرۡفٗا وَلَا نَصۡرٗاۚ وَمَن يَظۡلِم مِّنكُمۡ نُذِقۡهُ عَذَابٗا كَبِيرٗا
اور جس دن اللہ اکٹھا کرے گا انھیں اورجن کی وہ عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے تو وہ (اللہ) کہے گا (معبودان باطلہ سے) کیا تم نے گمراہ کیا تھا میرے ان بندوں کو یا وہ خود ہی بھٹک گئے تھے راہ (حق) سے؟ (17) وہ کہیں گے، پاک ہے تو، نہیں تھا لائق ہمارے یہ کہ بنائیں ہم سوائے تیرے کار ساز لیکن تو نے فائدہ (سامان زندگی) دیا انھیں اور ان کے باپ دادا کو بھی، یہاں تک کہ بھول گئے وہ ذکر (تیرا) اور تھے یہ لوگ ہلاک ہونے والے (18)(اللہ کہے گا) پس تحقیق انھوں نے جھٹلایا تمھیں ان باتوں میں جو تم کہتے تھے، پس نہیں استطاعت رکھتے تم (عذاب کے) ہٹانے کی اور نہ مدد کرنے کی اور جو کوئی ظلم (شرک) کرے گا تم میں سے ہم چکھائیں گے اسے عذاب بہت بڑا (19) اور نہیں بھیجے ہم نے آپ سے پہلے رسول مگر بلاشبہ وہ البتہ کھاتے تھے کھانااور وہ چلتے تھے بازاروں میں اور بنایا ہم نے تمھارے ایک کو، دوسرے کے لیے آزمائش، کیا تم صبر کرتے ہو (یا نہیں )؟ اور ہے آپ کا رب خوب دیکھنے والا (20)
[17] قیامت کے روز مشرکین اور ان کے خود ساختہ معبودوں کے احوال کے بارے میں اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتاہے کہ ان کے خود ساختہ معبود ان سے براء ت کا اظہار کریں گے اور ان کی تمام کوششیں رائگاں جائیں گی۔ فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ ﴾ ’’اور اس دن اکٹھا کرے گا ان کو۔‘‘ یعنی ان تکذیب کرنے والے مشرکین کو اکٹھا کرے گا ﴿ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَيَقُوۡلُ ﴾ ’’اور ان کوبھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے اللہ کے سوا اور کہے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو جھڑکنے کی خاطر ان کے جھوٹے معبودوں سے مخاطب ہو کر کہے گا: ﴿ ءَاَنۡتُمۡ اَضۡلَلۡتُمۡ عِبَادِيۡ هٰۤؤُلَآءِ اَمۡ هُمۡ ضَلُّوا السَّبِيۡلَ ﴾ ’’کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ خود ہی راستے سے بھٹک گئے تھے؟‘‘ یعنی کیا تم نے انھیں اپنی عبادت کا حکم دیا تھا اور اس کو ان کے سامنے آراستہ کیا تھا یا یہ خود ان کی اپنی کارستانی تھی؟
[18]﴿ قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’وہ کہیں گے: تو پاک ہے۔‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کو مشرکین کے شرک سے پاک گردانیں گے اور خود کو شرک سے برئ الذمہ قرار دیتے ہوئے کہیں گے: ﴿ مَا كَانَ يَنۢۡبَغِيۡ لَنَاۤ ﴾ ’’یہ ہماری شان کے لائق نہیں ‘‘ اور نہ ہم ایسا کر ہی سکتے ہیں کہ تیرے سوا کسی اورکو اپنا سرپرست، والی و مددگار بنائیں، اس کی عبادت کریں اور اپنی حاجتوں میں اس کو پکاریں ۔ جب ہم تیری عبادت کرنے کے محتاج ہیں اور تیرے سوا کسی اور کی عبادت سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں تب ہم کسی کو اپنی عبادت کا کیسے حکم دے سکتے ہیں ؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔تو پاک ہے ﴿ اَنۡ نَّؔتَّؔخِذَ مِنۡ دُوۡنِكَ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اس بات سے کہ ہم تیرے سوا کوئی دوست بنائیں ۔‘‘ ان کا یہ قول حضرت عیسیٰu کے قول کی مانند ہے: ﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ١ؐ ؕ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ۰۰مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾(المائدہ:5؍116، 117) ’’جب اللہ کہے گا: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟ حضرت عیسیٰ جواب دیں گے: تو پاک ہے! میری شان کے لائق نہیں کہ میں کوئی ایسی بات کہتا جس کا مجھے کوئی حق نہیں ۔ اگر میں نے کوئی ایسی بات کہی ہوتی تو وہ تیرے علم میں ہوتی کیونکہ جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اورجو بات تیرے دل میں ہے میں اسے نہیں جانتا بے شک تو علام الغیوب ہے۔ تو نے جو مجھے حکم دیا تھا میں نے اس کے سوا انھیں کچھ نہیں کہا کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب اور تمھارا رب ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ۰۰قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ١ۚ بَلۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ١ۚ اَ كۡثَرُهُمۡ بِهِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ﴾(سبا:34؍40، 41) ’’جس روز وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا پھر فرشتوں سے کہے گا: کیا یہ لوگ تمھاری عبادت کیا کرتے تھے؟ تو وہ جواب میں عرض کریں گے: تو پاک ہے، ان کو چھوڑ کر ہمارا ولی تو تُو ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ ہماری نہیں بلکہ وہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر انھی کو مانتے تھے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءًؔ وَّكَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾(الاحقاف:46؍6) ’’جب تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کر دیں گے۔‘‘ جب انھوں نے اس بات سے اپنے آپ کو بری ٔالذمہ قرار دیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کی طرف ان کو بلایا یا ان کو گمراہ کیا ہو۔ تو انھوں نے مشرکین کی گمراہی کا اصل سبب ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿ وَلٰكِنۡ مَّتَّعۡتَهُمۡ وَاٰبَآءَهُمۡ ﴾ یعنی تو نے ان کو اور ان کے آباءواجداد کو دنیا کی لذات و شہوات اور اس کے دیگر مطالب سے فائدہ اٹھانے دیا﴿ حَتّٰى نَسُوا الذِّكۡرَ﴾ ’’یہاں تک کہ وہ نصیحت کو بھلا بیٹھے۔‘‘ لذات دنیا میں مشغول اور اس کی شہوت میں مستغرق ہو کر ۔ پس انھوں نے اپنی دنیا کی تو حفاظت کی لیکن اپنے دین کو ضائع کر دیا﴿ وَؔكَانُوۡا قَوۡمًۢا بُوۡرًا ﴾ ’’اور تھی وہ ہلاک ہی ہونے والی قوم۔‘‘ (بائرین) ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جن میں کوئی بھلائی نہ ہو۔ وہ کسی اصلاح کی طرف راغب نہیں ہوتے اور وہ ہلاکت کے سوا کسی چیز کے لائق نہیں ہوتے۔ پس انھوں نے اس مانع کا ذکر کیا جس نے ان کو اتباع ہدایت سے روک دیا اور وہ ہے ان کا دنیا سے متمتع ہونا، جس نے ان کو راہ راست سے ہٹا دیا… پس ان کے لیے ہدایت کا تقاضا معدوم ہے یعنی ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں جب تقاضا معدوم اور مانع موجود ہو تو آپ جو شر اور ہلاکت چاہیں وہ ان کے اندر دیکھ سکتے ہیں ۔
[19] پس جب ان مشرکین کے معبود ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے تو اللہ تعالیٰ معاندین حق کی زجروتوبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ فَقَدۡ كَذَّبُوۡؔكُمۡ بِمَا تَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے تو تمھیں تمھاری باتوں میں جھٹلا دیا۔‘‘ یعنی وہ اس بات کا انکار کریں گے کہ انھوں نے تمھیں اپنی عبادت کا حکم دیا تھا یا تمھارے اس شرک پر راضی تھے یا یہ کہ وہ تمھارے رب کے پاس تمھاری سفارش کریں گے۔ وہ تمھارے اس زعم باطل کی تکذیب کریں گے اور وہ تمھارے سب سے بڑے دشمن بن جائیں گے۔ پس تم پر عذاب واجب ہو جائے گا۔ ﴿ فَمَا تَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ صَرۡفًا ﴾ ’’پس نہیں طاقت رکھو گے تم اس کو پھیرنے کی۔‘‘ یعنی تم بالفعل اپنے سے اس عذاب کو ہٹا سکو گے نہ فدیہ وغیرہ کے ذریعے اس کو دور کر سکو گے﴿ وَّلَا نَصۡرًا﴾ ’’اور نہ مدد کرنے کی۔‘‘ یعنی تم اپنے عجز اور کسی حامی و ناصر کے نہ ہونے کی وجہ سے، اپنی مدد نہ کر سکو گے۔ یہ گمراہ اور جاہل مقلدین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور یہ، جیسا کہ آپ نے دیکھا، ان کے حق میں انتہائی برا فیصلہ اور ان کا بدترین ٹھکانا ہے۔رہا ان میں سے حق کے ساتھ عناد رکھنے والا شخص، جس نے حق کو پہچان کر اس سے منہ موڑ لیا تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّظۡلِمۡ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ یعنی تم میں سے جو کوئی ظلم اور عناد کی بنا پر حق کو چھوڑ دیتا ہے تو ﴿ نُذِقۡهُ عَذَابًا كَبِيۡرًا ﴾ ہم اس کو اتنے بڑے عذاب کا مزا چکھائیں گے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کے اعتراض﴿ مَالِ هٰؔذَا الرَّسُوۡلِ يَاۡكُلُ الطَّعَامَ وَيَمۡشِيۡ فِي الۡاَسۡوَاقِ ﴾(الفرقان:25؍7) ’’یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔‘‘ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمۡ لَيَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَيَمۡشُوۡنَ فِي الۡاَسۡوَاقِ ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب کے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے۔‘‘ پس ہم نے ان کو کوئی ایسی مخلوق نہیں بنایا جو کھانا نہ کھاتی ہو اور نہ ہم نے ان کو فرشتے بنایا۔ پس وہ آپ کے لیے نمونہ ہیں ۔رہا فقروغنا تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اس کی حکمت پر مبنی آزمائش ہے جیسا کہ فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا بَعۡضَكُمۡ لِبَعۡضٍ فِتۡنَةً﴾ ’’اور بنایا ہم نے ایک کو دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ۔‘‘ یعنی رسول ان لوگوں کے لیے آزمائش ہے جن کی طرف اسے مبعوث کیا گیا ہے، نیز اس لیے مبعوث کیا گیا ہے تاکہ اطاعت کرنے والوں اور نافرمانی کرنے والوں کے درمیان فرق واضح ہو جائے اور رسولوں کو ہم نے آزمایا مخلوق کو دعوت دینے کے ذریعے سے۔ مال دار فقیر کے لیے اور فقیر مال دار کے لیے آزمائش ہے اور اسی طرح اس دنیا میں مخلوق کی تمام قسمیں آزمائش، ابتلاء اور امتحان میں مبتلا ہیں ۔اس امتحان اور آزمائش سے مقصود یہ ہے۔ ﴿ اَتَصۡبِرُوۡنَ﴾ کہ تم صبر کر کے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہو تاکہ تمھارا مولا تمھیں ثواب عطا کرے یا صبر نہیں کرتے اور اس طرح تم عذاب کے مستحق ٹھہرتے ہو﴿ وَؔكَانَ رَبُّكَ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اور آپ کا رب خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ تمھارے احوال کو دیکھتا اور جانتا ہے اور وہ اس شخص کو چن لیتا ہے جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ وہ رسالت کا اہل ہے اور وہ اسے اپنی فضیلت کے لیے مختص کر لیتا ہے۔ وہ تمھارے اعمال کا علم رکھتا ہے، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اگر اچھے اعمال ہوں گے تو اچھی جزا ہو گی اور برے اعمال ہوں گے تو بری جزا ہو گی۔
25:20وَمَآ أَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ إِلَّآ إِنَّهُمۡ لَيَأۡكُلُونَ ٱلطَّعَامَ وَيَمۡشُونَ فِي ٱلۡأَسۡوَاقِۗ وَجَعَلۡنَا بَعۡضَكُمۡ لِبَعۡضٖ فِتۡنَةً أَتَصۡبِرُونَۗ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرٗا
اور جس دن اللہ اکٹھا کرے گا انھیں اورجن کی وہ عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے تو وہ (اللہ) کہے گا (معبودان باطلہ سے) کیا تم نے گمراہ کیا تھا میرے ان بندوں کو یا وہ خود ہی بھٹک گئے تھے راہ (حق) سے؟ (17) وہ کہیں گے، پاک ہے تو، نہیں تھا لائق ہمارے یہ کہ بنائیں ہم سوائے تیرے کار ساز لیکن تو نے فائدہ (سامان زندگی) دیا انھیں اور ان کے باپ دادا کو بھی، یہاں تک کہ بھول گئے وہ ذکر (تیرا) اور تھے یہ لوگ ہلاک ہونے والے (18)(اللہ کہے گا) پس تحقیق انھوں نے جھٹلایا تمھیں ان باتوں میں جو تم کہتے تھے، پس نہیں استطاعت رکھتے تم (عذاب کے) ہٹانے کی اور نہ مدد کرنے کی اور جو کوئی ظلم (شرک) کرے گا تم میں سے ہم چکھائیں گے اسے عذاب بہت بڑا (19) اور نہیں بھیجے ہم نے آپ سے پہلے رسول مگر بلاشبہ وہ البتہ کھاتے تھے کھانااور وہ چلتے تھے بازاروں میں اور بنایا ہم نے تمھارے ایک کو، دوسرے کے لیے آزمائش، کیا تم صبر کرتے ہو (یا نہیں )؟ اور ہے آپ کا رب خوب دیکھنے والا (20)
[17] قیامت کے روز مشرکین اور ان کے خود ساختہ معبودوں کے احوال کے بارے میں اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتاہے کہ ان کے خود ساختہ معبود ان سے براء ت کا اظہار کریں گے اور ان کی تمام کوششیں رائگاں جائیں گی۔ فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ ﴾ ’’اور اس دن اکٹھا کرے گا ان کو۔‘‘ یعنی ان تکذیب کرنے والے مشرکین کو اکٹھا کرے گا ﴿ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَيَقُوۡلُ ﴾ ’’اور ان کوبھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے اللہ کے سوا اور کہے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو جھڑکنے کی خاطر ان کے جھوٹے معبودوں سے مخاطب ہو کر کہے گا: ﴿ ءَاَنۡتُمۡ اَضۡلَلۡتُمۡ عِبَادِيۡ هٰۤؤُلَآءِ اَمۡ هُمۡ ضَلُّوا السَّبِيۡلَ ﴾ ’’کیا تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ خود ہی راستے سے بھٹک گئے تھے؟‘‘ یعنی کیا تم نے انھیں اپنی عبادت کا حکم دیا تھا اور اس کو ان کے سامنے آراستہ کیا تھا یا یہ خود ان کی اپنی کارستانی تھی؟
[18]﴿ قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’وہ کہیں گے: تو پاک ہے۔‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کو مشرکین کے شرک سے پاک گردانیں گے اور خود کو شرک سے برئ الذمہ قرار دیتے ہوئے کہیں گے: ﴿ مَا كَانَ يَنۢۡبَغِيۡ لَنَاۤ ﴾ ’’یہ ہماری شان کے لائق نہیں ‘‘ اور نہ ہم ایسا کر ہی سکتے ہیں کہ تیرے سوا کسی اورکو اپنا سرپرست، والی و مددگار بنائیں، اس کی عبادت کریں اور اپنی حاجتوں میں اس کو پکاریں ۔ جب ہم تیری عبادت کرنے کے محتاج ہیں اور تیرے سوا کسی اور کی عبادت سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں تب ہم کسی کو اپنی عبادت کا کیسے حکم دے سکتے ہیں ؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔تو پاک ہے ﴿ اَنۡ نَّؔتَّؔخِذَ مِنۡ دُوۡنِكَ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اس بات سے کہ ہم تیرے سوا کوئی دوست بنائیں ۔‘‘ ان کا یہ قول حضرت عیسیٰu کے قول کی مانند ہے: ﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ١ؐ ؕ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ۰۰مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾(المائدہ:5؍116، 117) ’’جب اللہ کہے گا: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟ حضرت عیسیٰ جواب دیں گے: تو پاک ہے! میری شان کے لائق نہیں کہ میں کوئی ایسی بات کہتا جس کا مجھے کوئی حق نہیں ۔ اگر میں نے کوئی ایسی بات کہی ہوتی تو وہ تیرے علم میں ہوتی کیونکہ جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اورجو بات تیرے دل میں ہے میں اسے نہیں جانتا بے شک تو علام الغیوب ہے۔ تو نے جو مجھے حکم دیا تھا میں نے اس کے سوا انھیں کچھ نہیں کہا کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب اور تمھارا رب ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ۰۰قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ١ۚ بَلۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ١ۚ اَ كۡثَرُهُمۡ بِهِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ﴾(سبا:34؍40، 41) ’’جس روز وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا پھر فرشتوں سے کہے گا: کیا یہ لوگ تمھاری عبادت کیا کرتے تھے؟ تو وہ جواب میں عرض کریں گے: تو پاک ہے، ان کو چھوڑ کر ہمارا ولی تو تُو ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ ہماری نہیں بلکہ وہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر انھی کو مانتے تھے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءًؔ وَّكَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾(الاحقاف:46؍6) ’’جب تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کر دیں گے۔‘‘ جب انھوں نے اس بات سے اپنے آپ کو بری ٔالذمہ قرار دیا کہ انھوں نے غیر اللہ کی عبادت کی طرف ان کو بلایا یا ان کو گمراہ کیا ہو۔ تو انھوں نے مشرکین کی گمراہی کا اصل سبب ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿ وَلٰكِنۡ مَّتَّعۡتَهُمۡ وَاٰبَآءَهُمۡ ﴾ یعنی تو نے ان کو اور ان کے آباءواجداد کو دنیا کی لذات و شہوات اور اس کے دیگر مطالب سے فائدہ اٹھانے دیا﴿ حَتّٰى نَسُوا الذِّكۡرَ﴾ ’’یہاں تک کہ وہ نصیحت کو بھلا بیٹھے۔‘‘ لذات دنیا میں مشغول اور اس کی شہوت میں مستغرق ہو کر ۔ پس انھوں نے اپنی دنیا کی تو حفاظت کی لیکن اپنے دین کو ضائع کر دیا﴿ وَؔكَانُوۡا قَوۡمًۢا بُوۡرًا ﴾ ’’اور تھی وہ ہلاک ہی ہونے والی قوم۔‘‘ (بائرین) ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جن میں کوئی بھلائی نہ ہو۔ وہ کسی اصلاح کی طرف راغب نہیں ہوتے اور وہ ہلاکت کے سوا کسی چیز کے لائق نہیں ہوتے۔ پس انھوں نے اس مانع کا ذکر کیا جس نے ان کو اتباع ہدایت سے روک دیا اور وہ ہے ان کا دنیا سے متمتع ہونا، جس نے ان کو راہ راست سے ہٹا دیا… پس ان کے لیے ہدایت کا تقاضا معدوم ہے یعنی ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں جب تقاضا معدوم اور مانع موجود ہو تو آپ جو شر اور ہلاکت چاہیں وہ ان کے اندر دیکھ سکتے ہیں ۔
[19] پس جب ان مشرکین کے معبود ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے تو اللہ تعالیٰ معاندین حق کی زجروتوبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ فَقَدۡ كَذَّبُوۡؔكُمۡ بِمَا تَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے تو تمھیں تمھاری باتوں میں جھٹلا دیا۔‘‘ یعنی وہ اس بات کا انکار کریں گے کہ انھوں نے تمھیں اپنی عبادت کا حکم دیا تھا یا تمھارے اس شرک پر راضی تھے یا یہ کہ وہ تمھارے رب کے پاس تمھاری سفارش کریں گے۔ وہ تمھارے اس زعم باطل کی تکذیب کریں گے اور وہ تمھارے سب سے بڑے دشمن بن جائیں گے۔ پس تم پر عذاب واجب ہو جائے گا۔ ﴿ فَمَا تَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ صَرۡفًا ﴾ ’’پس نہیں طاقت رکھو گے تم اس کو پھیرنے کی۔‘‘ یعنی تم بالفعل اپنے سے اس عذاب کو ہٹا سکو گے نہ فدیہ وغیرہ کے ذریعے اس کو دور کر سکو گے﴿ وَّلَا نَصۡرًا﴾ ’’اور نہ مدد کرنے کی۔‘‘ یعنی تم اپنے عجز اور کسی حامی و ناصر کے نہ ہونے کی وجہ سے، اپنی مدد نہ کر سکو گے۔ یہ گمراہ اور جاہل مقلدین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور یہ، جیسا کہ آپ نے دیکھا، ان کے حق میں انتہائی برا فیصلہ اور ان کا بدترین ٹھکانا ہے۔رہا ان میں سے حق کے ساتھ عناد رکھنے والا شخص، جس نے حق کو پہچان کر اس سے منہ موڑ لیا تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّظۡلِمۡ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ یعنی تم میں سے جو کوئی ظلم اور عناد کی بنا پر حق کو چھوڑ دیتا ہے تو ﴿ نُذِقۡهُ عَذَابًا كَبِيۡرًا ﴾ ہم اس کو اتنے بڑے عذاب کا مزا چکھائیں گے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔
[20] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کے اعتراض﴿ مَالِ هٰؔذَا الرَّسُوۡلِ يَاۡكُلُ الطَّعَامَ وَيَمۡشِيۡ فِي الۡاَسۡوَاقِ ﴾(الفرقان:25؍7) ’’یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔‘‘ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمۡ لَيَاۡكُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَيَمۡشُوۡنَ فِي الۡاَسۡوَاقِ ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب کے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے۔‘‘ پس ہم نے ان کو کوئی ایسی مخلوق نہیں بنایا جو کھانا نہ کھاتی ہو اور نہ ہم نے ان کو فرشتے بنایا۔ پس وہ آپ کے لیے نمونہ ہیں ۔رہا فقروغنا تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اس کی حکمت پر مبنی آزمائش ہے جیسا کہ فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا بَعۡضَكُمۡ لِبَعۡضٍ فِتۡنَةً﴾ ’’اور بنایا ہم نے ایک کو دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ۔‘‘ یعنی رسول ان لوگوں کے لیے آزمائش ہے جن کی طرف اسے مبعوث کیا گیا ہے، نیز اس لیے مبعوث کیا گیا ہے تاکہ اطاعت کرنے والوں اور نافرمانی کرنے والوں کے درمیان فرق واضح ہو جائے اور رسولوں کو ہم نے آزمایا مخلوق کو دعوت دینے کے ذریعے سے۔ مال دار فقیر کے لیے اور فقیر مال دار کے لیے آزمائش ہے اور اسی طرح اس دنیا میں مخلوق کی تمام قسمیں آزمائش، ابتلاء اور امتحان میں مبتلا ہیں ۔اس امتحان اور آزمائش سے مقصود یہ ہے۔ ﴿ اَتَصۡبِرُوۡنَ﴾ کہ تم صبر کر کے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہو تاکہ تمھارا مولا تمھیں ثواب عطا کرے یا صبر نہیں کرتے اور اس طرح تم عذاب کے مستحق ٹھہرتے ہو﴿ وَؔكَانَ رَبُّكَ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اور آپ کا رب خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ تمھارے احوال کو دیکھتا اور جانتا ہے اور وہ اس شخص کو چن لیتا ہے جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ وہ رسالت کا اہل ہے اور وہ اسے اپنی فضیلت کے لیے مختص کر لیتا ہے۔ وہ تمھارے اعمال کا علم رکھتا ہے، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اگر اچھے اعمال ہوں گے تو اچھی جزا ہو گی اور برے اعمال ہوں گے تو بری جزا ہو گی۔
25:21۞وَقَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرۡجُونَ لِقَآءَنَا لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡنَا ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ أَوۡ نَرَىٰ رَبَّنَاۗ لَقَدِ ٱسۡتَكۡبَرُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ وَعَتَوۡ عُتُوّٗا كَبِيرٗا
اور کہا ان لوگوں نے جو نہیں امید رکھتے ہماری ملاقات کی، کیوں نہیں نازل کیے گئے ہم پر فرشتے؟ یادیکھتے ہم اپنے رب کو البتہ تحقیق تکبر کیا انھوں نے اپنے دلوں میں اور سرکشی کی انھوں نے سرکشی بہت بڑی (21) جس دن وہ دیکھیں گے فرشتوں کو، نہیں ہو گی کوئی خوشخبری اس دن مجرموں کے لیے اور وہ (فرشتے) کہیں گے (بہشت تم پر) ممنوع ہے، حرام کر دی گئی ہے (22) اور قصد کریں گے ہم طرف اس کی جو کیے تھے انھوں نے کوئی (نیک) عمل، پس بنا دیں گے ہم ان کو مانند ذرات اڑائے ہوؤں کے (23)
[21] وہ لوگ جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ و وعید کو جھٹلایا، جن کے دل میں وعید کا خوف ہے نہ خالق سے ملاقات کی امید… انھوں نے کہا:﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ نَرٰى رَبَّنَا﴾ یعنی فرشتے کیوں نہ اترے جو تیری رسالت کی گواہی دیتے اور تیری تائید کرتے یا مستقل رسول نازل ہوتے یا ہم اپنے رب کو دیکھتے وہ ہمارے ساتھ کلام کرتا اور خود کہتا کہ یہ میرا رسول ہے اس کی اتباع کرو؟ رسول (ﷺ)کے ساتھ یہ معارضہ کسی اعتراض کی بنا پر نہیں بلکہ اس کا سبب صرف تکبر، تغلب اور سرکشی ہے۔ ﴿لَقَدِ اسۡتَكۡبَرُوۡا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ رکھا ہے۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اس قسم کے اعتراض كيے اور اتنی جسارت کا مظاہرہ کیا۔ اے محتاج اور بے بس لوگو! تم ہو کون، جو اللہ تعالیٰ کے دیدار کا مطالبہ کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ رسالت کی صحت کا ثبوت اللہ تعالیٰ کے دیدار پر موقوف ہے۔ اس سے بڑا تکبر اور کیا ہو سکتا ہے؟ ﴿وَعَتَوۡ عُتُوًّا كَبِيۡرًا ﴾ ’’اور انھوں نے بڑی سرکشی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے حق کے خلاف قساوت اور صلابت کا رویہ اختیار کیا۔ پس ان کے دل پتھر اور فولاد سے زیادہ سخت تھے وہ حق کے لیے نرم پڑتے تھے نہ خیرخواہی کرنے والوں کی آواز پر کان دھرتے تھے، اس لیے ان کو کسی وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ نہ دیا اور جب ان کے پاس ان کو ان کے انجام سے ڈرانے والا آیا تو انھوں نے اس کی پیروی نہ کی بلکہ انھوں نے مخلوق میں سب سے زیادہ سچی اور خیرخواہ ہستی کا اور اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کا اعراض و تکذیب کے ساتھ استقبال کیا، اس سے بڑھ کر اور کونسی سرکشی ہو سکتی ہے؟ بنابریں ان کے اعمال باطل ہو کر اکارت گئے اور وہ سخت خسارے میں مبتلا ہو گئے۔
[22]﴿ يَوۡمَ يَرَوۡنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ ﴾ ’’جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے۔‘‘ جن کے نزول کا انھوں نے مطالبہ کیا تھا ﴿ لَا بُشۡرٰى يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اس دن مجرموں کے لیے کوئی خوش خبری نہ ہو گی۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہ وہ اپنے جرم اور عناد پر جمے رہنے کی بنا پر فرشتوں کو صرف اس وقت دیکھیں گے جب وہ ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے آئیں گے۔ پس یہ پہلا موقع ہو گا جب موت کے وقت ان پر فرشتے نازل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ١ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(الانعام: 6؍93) ’’کاش آپ ان ظالم مشرکوں کو اس وقت دیکھیں ، جب یہ موت کی سختیوں میں مبتلا ہوں گے اور فرشتے جان قبض کرنے کے لیے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے، (اور کہتے ہوں گے) نکالو اپنی جانیں ، آج تمھیں انتہائی رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی یہ سزا اس پاداش میں ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کیا کرتے تھے۔‘‘ دوسرا موقع وہ ہے جب قبر میں ان کے پاس منکرنکیر آئیں گے، پس وہ ان سے ان کے رب، ان کے نبی اور ان کے دین کے بارے میں پوچھیں گے اور وہ کوئی ایسا جواب نہ دے پائیں گے جو ان کو عذاب سے نجات دلا سکے۔ پس ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی نازل ہو گی اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیے جائیں گے۔تیسرا موقع وہ ہے جب قیامت کے روز فرشتے انھیں جہنم کی طرف ہانک کر لے جائیں گے اور پھر ان کو جہنم کے فرشتوں کے حوالے کر دیں گے جو ان کو سزا اور عذاب دینے پر مقرر ہوں گے۔ پس یہی وہ چیز ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں اور اگر وہ اپنے جرائم پر جمے رہے تو لازمی طور پر اس کا سامنا کریں گے اور وہ اس وقت فرشتوں سے پناہ مانگیں گے، ان سے فرار ہونے کی کوشش کریں گے لیکن ان کے لیے کوئی فرار کی راہ نہ ہو گی۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ حِجۡرًا مَّؔحۡجُوۡرًا﴾ ’’اور وہ کہیں گے یہ محروم ہی محروم کیے گئے ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍23) ’’اے جن و انس کے گروہ! تمھیں زمین و آسمان کے کناروں سے نکل جانے کی قدرت ہے تو نکل جاؤ، تم طاقت کے سوا نکل نہیں سکتے۔ ‘‘
[23]﴿ وَقَدِمۡنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوۡا مِنۡ عَمَلٍ ﴾ یعنی ان کے وہ اعمال جن کے بارے میں انھیں امید ہے کہ وہ نیکی کے کام ہیں اور ان کے لیے انھوں نے مشقت اٹھائی ہے ﴿ فَجَعَلۡنٰهُ هَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴾ ’’پس ہم ان کو اڑے ہوئے ذرات کی طرح کر دیں گے۔‘‘ یعنی ان کا سب کیا دھرا باطل کر دیں گے، وہ گھاٹے میں رہیں گے اور ان کو اجر سے محروم کر دیا جائے گا اور ان کو سزا دی جائے گی۔ کیونکہ یہ اعمال ایسے شخص سے صادر ہوئے ہیں جس میں ایمان کا فقدان ہے اور جو اللہ اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو مخلص مومن، رسولوں کی تصدیق اور ان کی اتباع کرنے والے سے صادر ہو۔
25:22يَوۡمَ يَرَوۡنَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةَ لَا بُشۡرَىٰ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُجۡرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجۡرٗا مَّحۡجُورٗا
اور کہا ان لوگوں نے جو نہیں امید رکھتے ہماری ملاقات کی، کیوں نہیں نازل کیے گئے ہم پر فرشتے؟ یادیکھتے ہم اپنے رب کو البتہ تحقیق تکبر کیا انھوں نے اپنے دلوں میں اور سرکشی کی انھوں نے سرکشی بہت بڑی (21) جس دن وہ دیکھیں گے فرشتوں کو، نہیں ہو گی کوئی خوشخبری اس دن مجرموں کے لیے اور وہ (فرشتے) کہیں گے (بہشت تم پر) ممنوع ہے، حرام کر دی گئی ہے (22) اور قصد کریں گے ہم طرف اس کی جو کیے تھے انھوں نے کوئی (نیک) عمل، پس بنا دیں گے ہم ان کو مانند ذرات اڑائے ہوؤں کے (23)
[21] وہ لوگ جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ و وعید کو جھٹلایا، جن کے دل میں وعید کا خوف ہے نہ خالق سے ملاقات کی امید… انھوں نے کہا:﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ نَرٰى رَبَّنَا﴾ یعنی فرشتے کیوں نہ اترے جو تیری رسالت کی گواہی دیتے اور تیری تائید کرتے یا مستقل رسول نازل ہوتے یا ہم اپنے رب کو دیکھتے وہ ہمارے ساتھ کلام کرتا اور خود کہتا کہ یہ میرا رسول ہے اس کی اتباع کرو؟ رسول (ﷺ)کے ساتھ یہ معارضہ کسی اعتراض کی بنا پر نہیں بلکہ اس کا سبب صرف تکبر، تغلب اور سرکشی ہے۔ ﴿لَقَدِ اسۡتَكۡبَرُوۡا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ رکھا ہے۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اس قسم کے اعتراض كيے اور اتنی جسارت کا مظاہرہ کیا۔ اے محتاج اور بے بس لوگو! تم ہو کون، جو اللہ تعالیٰ کے دیدار کا مطالبہ کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ رسالت کی صحت کا ثبوت اللہ تعالیٰ کے دیدار پر موقوف ہے۔ اس سے بڑا تکبر اور کیا ہو سکتا ہے؟ ﴿وَعَتَوۡ عُتُوًّا كَبِيۡرًا ﴾ ’’اور انھوں نے بڑی سرکشی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے حق کے خلاف قساوت اور صلابت کا رویہ اختیار کیا۔ پس ان کے دل پتھر اور فولاد سے زیادہ سخت تھے وہ حق کے لیے نرم پڑتے تھے نہ خیرخواہی کرنے والوں کی آواز پر کان دھرتے تھے، اس لیے ان کو کسی وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ نہ دیا اور جب ان کے پاس ان کو ان کے انجام سے ڈرانے والا آیا تو انھوں نے اس کی پیروی نہ کی بلکہ انھوں نے مخلوق میں سب سے زیادہ سچی اور خیرخواہ ہستی کا اور اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کا اعراض و تکذیب کے ساتھ استقبال کیا، اس سے بڑھ کر اور کونسی سرکشی ہو سکتی ہے؟ بنابریں ان کے اعمال باطل ہو کر اکارت گئے اور وہ سخت خسارے میں مبتلا ہو گئے۔
[22]﴿ يَوۡمَ يَرَوۡنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ ﴾ ’’جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے۔‘‘ جن کے نزول کا انھوں نے مطالبہ کیا تھا ﴿ لَا بُشۡرٰى يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اس دن مجرموں کے لیے کوئی خوش خبری نہ ہو گی۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہ وہ اپنے جرم اور عناد پر جمے رہنے کی بنا پر فرشتوں کو صرف اس وقت دیکھیں گے جب وہ ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے آئیں گے۔ پس یہ پہلا موقع ہو گا جب موت کے وقت ان پر فرشتے نازل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ١ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(الانعام: 6؍93) ’’کاش آپ ان ظالم مشرکوں کو اس وقت دیکھیں ، جب یہ موت کی سختیوں میں مبتلا ہوں گے اور فرشتے جان قبض کرنے کے لیے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے، (اور کہتے ہوں گے) نکالو اپنی جانیں ، آج تمھیں انتہائی رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی یہ سزا اس پاداش میں ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کیا کرتے تھے۔‘‘ دوسرا موقع وہ ہے جب قبر میں ان کے پاس منکرنکیر آئیں گے، پس وہ ان سے ان کے رب، ان کے نبی اور ان کے دین کے بارے میں پوچھیں گے اور وہ کوئی ایسا جواب نہ دے پائیں گے جو ان کو عذاب سے نجات دلا سکے۔ پس ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی نازل ہو گی اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیے جائیں گے۔تیسرا موقع وہ ہے جب قیامت کے روز فرشتے انھیں جہنم کی طرف ہانک کر لے جائیں گے اور پھر ان کو جہنم کے فرشتوں کے حوالے کر دیں گے جو ان کو سزا اور عذاب دینے پر مقرر ہوں گے۔ پس یہی وہ چیز ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں اور اگر وہ اپنے جرائم پر جمے رہے تو لازمی طور پر اس کا سامنا کریں گے اور وہ اس وقت فرشتوں سے پناہ مانگیں گے، ان سے فرار ہونے کی کوشش کریں گے لیکن ان کے لیے کوئی فرار کی راہ نہ ہو گی۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ حِجۡرًا مَّؔحۡجُوۡرًا﴾ ’’اور وہ کہیں گے یہ محروم ہی محروم کیے گئے ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍23) ’’اے جن و انس کے گروہ! تمھیں زمین و آسمان کے کناروں سے نکل جانے کی قدرت ہے تو نکل جاؤ، تم طاقت کے سوا نکل نہیں سکتے۔ ‘‘
[23]﴿ وَقَدِمۡنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوۡا مِنۡ عَمَلٍ ﴾ یعنی ان کے وہ اعمال جن کے بارے میں انھیں امید ہے کہ وہ نیکی کے کام ہیں اور ان کے لیے انھوں نے مشقت اٹھائی ہے ﴿ فَجَعَلۡنٰهُ هَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴾ ’’پس ہم ان کو اڑے ہوئے ذرات کی طرح کر دیں گے۔‘‘ یعنی ان کا سب کیا دھرا باطل کر دیں گے، وہ گھاٹے میں رہیں گے اور ان کو اجر سے محروم کر دیا جائے گا اور ان کو سزا دی جائے گی۔ کیونکہ یہ اعمال ایسے شخص سے صادر ہوئے ہیں جس میں ایمان کا فقدان ہے اور جو اللہ اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو مخلص مومن، رسولوں کی تصدیق اور ان کی اتباع کرنے والے سے صادر ہو۔
25:23وَقَدِمۡنَآ إِلَىٰ مَا عَمِلُواْ مِنۡ عَمَلٖ فَجَعَلۡنَٰهُ هَبَآءٗ مَّنثُورًا
اور کہا ان لوگوں نے جو نہیں امید رکھتے ہماری ملاقات کی، کیوں نہیں نازل کیے گئے ہم پر فرشتے؟ یادیکھتے ہم اپنے رب کو البتہ تحقیق تکبر کیا انھوں نے اپنے دلوں میں اور سرکشی کی انھوں نے سرکشی بہت بڑی (21) جس دن وہ دیکھیں گے فرشتوں کو، نہیں ہو گی کوئی خوشخبری اس دن مجرموں کے لیے اور وہ (فرشتے) کہیں گے (بہشت تم پر) ممنوع ہے، حرام کر دی گئی ہے (22) اور قصد کریں گے ہم طرف اس کی جو کیے تھے انھوں نے کوئی (نیک) عمل، پس بنا دیں گے ہم ان کو مانند ذرات اڑائے ہوؤں کے (23)
[21] وہ لوگ جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ و وعید کو جھٹلایا، جن کے دل میں وعید کا خوف ہے نہ خالق سے ملاقات کی امید… انھوں نے کہا:﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَوۡ نَرٰى رَبَّنَا﴾ یعنی فرشتے کیوں نہ اترے جو تیری رسالت کی گواہی دیتے اور تیری تائید کرتے یا مستقل رسول نازل ہوتے یا ہم اپنے رب کو دیکھتے وہ ہمارے ساتھ کلام کرتا اور خود کہتا کہ یہ میرا رسول ہے اس کی اتباع کرو؟ رسول (ﷺ)کے ساتھ یہ معارضہ کسی اعتراض کی بنا پر نہیں بلکہ اس کا سبب صرف تکبر، تغلب اور سرکشی ہے۔ ﴿لَقَدِ اسۡتَكۡبَرُوۡا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’انھوں نے اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ رکھا ہے۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اس قسم کے اعتراض كيے اور اتنی جسارت کا مظاہرہ کیا۔ اے محتاج اور بے بس لوگو! تم ہو کون، جو اللہ تعالیٰ کے دیدار کا مطالبہ کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ رسالت کی صحت کا ثبوت اللہ تعالیٰ کے دیدار پر موقوف ہے۔ اس سے بڑا تکبر اور کیا ہو سکتا ہے؟ ﴿وَعَتَوۡ عُتُوًّا كَبِيۡرًا ﴾ ’’اور انھوں نے بڑی سرکشی کی۔‘‘ یعنی انھوں نے حق کے خلاف قساوت اور صلابت کا رویہ اختیار کیا۔ پس ان کے دل پتھر اور فولاد سے زیادہ سخت تھے وہ حق کے لیے نرم پڑتے تھے نہ خیرخواہی کرنے والوں کی آواز پر کان دھرتے تھے، اس لیے ان کو کسی وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ نہ دیا اور جب ان کے پاس ان کو ان کے انجام سے ڈرانے والا آیا تو انھوں نے اس کی پیروی نہ کی بلکہ انھوں نے مخلوق میں سب سے زیادہ سچی اور خیرخواہ ہستی کا اور اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کا اعراض و تکذیب کے ساتھ استقبال کیا، اس سے بڑھ کر اور کونسی سرکشی ہو سکتی ہے؟ بنابریں ان کے اعمال باطل ہو کر اکارت گئے اور وہ سخت خسارے میں مبتلا ہو گئے۔
[22]﴿ يَوۡمَ يَرَوۡنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ ﴾ ’’جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے۔‘‘ جن کے نزول کا انھوں نے مطالبہ کیا تھا ﴿ لَا بُشۡرٰى يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اس دن مجرموں کے لیے کوئی خوش خبری نہ ہو گی۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہ وہ اپنے جرم اور عناد پر جمے رہنے کی بنا پر فرشتوں کو صرف اس وقت دیکھیں گے جب وہ ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے آئیں گے۔ پس یہ پہلا موقع ہو گا جب موت کے وقت ان پر فرشتے نازل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ١ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(الانعام: 6؍93) ’’کاش آپ ان ظالم مشرکوں کو اس وقت دیکھیں ، جب یہ موت کی سختیوں میں مبتلا ہوں گے اور فرشتے جان قبض کرنے کے لیے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے، (اور کہتے ہوں گے) نکالو اپنی جانیں ، آج تمھیں انتہائی رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی یہ سزا اس پاداش میں ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کیا کرتے تھے۔‘‘ دوسرا موقع وہ ہے جب قبر میں ان کے پاس منکرنکیر آئیں گے، پس وہ ان سے ان کے رب، ان کے نبی اور ان کے دین کے بارے میں پوچھیں گے اور وہ کوئی ایسا جواب نہ دے پائیں گے جو ان کو عذاب سے نجات دلا سکے۔ پس ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی نازل ہو گی اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیے جائیں گے۔تیسرا موقع وہ ہے جب قیامت کے روز فرشتے انھیں جہنم کی طرف ہانک کر لے جائیں گے اور پھر ان کو جہنم کے فرشتوں کے حوالے کر دیں گے جو ان کو سزا اور عذاب دینے پر مقرر ہوں گے۔ پس یہی وہ چیز ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں اور اگر وہ اپنے جرائم پر جمے رہے تو لازمی طور پر اس کا سامنا کریں گے اور وہ اس وقت فرشتوں سے پناہ مانگیں گے، ان سے فرار ہونے کی کوشش کریں گے لیکن ان کے لیے کوئی فرار کی راہ نہ ہو گی۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ حِجۡرًا مَّؔحۡجُوۡرًا﴾ ’’اور وہ کہیں گے یہ محروم ہی محروم کیے گئے ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍23) ’’اے جن و انس کے گروہ! تمھیں زمین و آسمان کے کناروں سے نکل جانے کی قدرت ہے تو نکل جاؤ، تم طاقت کے سوا نکل نہیں سکتے۔ ‘‘
[23]﴿ وَقَدِمۡنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوۡا مِنۡ عَمَلٍ ﴾ یعنی ان کے وہ اعمال جن کے بارے میں انھیں امید ہے کہ وہ نیکی کے کام ہیں اور ان کے لیے انھوں نے مشقت اٹھائی ہے ﴿ فَجَعَلۡنٰهُ هَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴾ ’’پس ہم ان کو اڑے ہوئے ذرات کی طرح کر دیں گے۔‘‘ یعنی ان کا سب کیا دھرا باطل کر دیں گے، وہ گھاٹے میں رہیں گے اور ان کو اجر سے محروم کر دیا جائے گا اور ان کو سزا دی جائے گی۔ کیونکہ یہ اعمال ایسے شخص سے صادر ہوئے ہیں جس میں ایمان کا فقدان ہے اور جو اللہ اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو مخلص مومن، رسولوں کی تصدیق اور ان کی اتباع کرنے والے سے صادر ہو۔
25:24أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِ يَوۡمَئِذٍ خَيۡرٞ مُّسۡتَقَرّٗا وَأَحۡسَنُ مَقِيلٗا
جنتی لوگ اس دن بہت بہتر ہوں گے باعتبار ٹھکانے کے اور بہت اچھے ہوں گے باعتبار آرام گاہ کے (24)
[24] یعنی قیامت کے ہول ناک اور سخت مصیبت والے دن ﴿ اَصۡحٰؔبُ الۡجَنَّةِ ﴾ ’’اہل جنت‘‘ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے، انھوں نے نیک کام كيے اور اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ ﴿ خَيۡرٌ مُّسۡتَقَرًّا ﴾ ’’وہ بہتر ہوں گے باعتبار ٹھکانے کے‘‘ جہنمیوں سے ﴿ وَّاَحۡسَنُ مَقِيۡلًا ﴾ ’’اور خواب گاہ بھی عمدہ ہوگی۔‘‘ یعنی ان کا ٹھکانا جنت میں ہو گا، وہ آرام اور راحت میں قیلولہ کریں گے کیونکہ وہ کامل نعمتوں پر مشتمل، جن میں تکدر کا کوئی شائبہ تک نہ ہو گا، بہت اچھا اور مکمل طور پر آرام دہ ٹھکانا ہو گا۔ اس کے برعکس اہل جہنم کا ٹھکانا بہت برا ٹھکانا ہو گا… یہ اسلوب بیان اسم تفضیل کے اس باب سے تعلق رکھتا ہے جس میں دوسری طرف، اس میں سے کوئی چیز نہیں ہوتی کیونکہ اہل جہنم کے ٹھکانے اور قیلولے کی جگہ میں کوئی بھلائی نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ آٰللّٰهُ خَيۡرٌ اَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾(النمل:27؍59) ’’اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا وہ معبودان باطل جنھیں یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رہے ہیں ؟‘‘
25:25وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ ٱلسَّمَآءُ بِٱلۡغَمَٰمِ وَنُزِّلَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ تَنزِيلًا
اور جس دن پھٹ جائے گا آسمان ساتھ بادلوں کے اور نازل کیے جائیں گے فرشتے (لگاتار) نازل کیے جانا (25) بادشاہی، اس دن حقیقی، رحمن ہی کے لیے ہو گی اور ہو گا وہ دن کافروں پر نہایت سخت (26)اور جس دن دانتوں سے کاٹے گا ظالم اپنے دونوں ہاتھ (اور)کہے گا، اے کاش! پکڑتا (اختیار کرتا) میں رسول کے ساتھ راستہ (27) ہائے میری کم بختی! کاش کہ میں نہ پکڑتا فلاں (شخص) کو دوست (28) البتہ تحقیق گمرہ کیا اس نے مجھے اس ذکر (قرآن) سے بعد اس کے کہ وہ آیا میرے پاس اور ہے شیطان، انسان کو بے یارو مدد گار چھوڑ دینے والا (29)
[26,25] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کی عظمت اور اس دن پیش آنے والی سختی اور کرب اور دلوں کو ہلا دینے والے مناظر کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ﴾ ’’اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا ساتھ بادل کے۔‘‘ یہ وہ بادل ہو گا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں سے نزول فرمائے گا۔ پس آسمان پھٹ جائیں گے اور تمام آسمانوں کے فرشتے نیچے اتر آئیں گے اور صف در صف کھڑے ہو جائیں گے یا تو تمام ایک ہی صف بنا کر تمام خلائق کو گھیر لیں گے یا اس کی صورت یہ ہو گی کہ ایک آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اس کے ساتھ دوسرے آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اور اسی طرح ساتوں آسمانوں کے فرشتے صف در صف موجود ہوں گے مقصد یہ ہے کہ فرشتے نہایت کثرت اور قوت کے ساتھ نازل ہوں گے۔ ان میں سے کوئی فرشتہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کلام نہیں کر سکے گا۔ (اس روز جب یہ حال ہو گا) تو اس کمزور آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس نے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کیا، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے کام كيے اور توبہ كيے بغیر گناہوں کا بوجھ اٹھائے اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ جو بادشاہ اور خلاّقِ کائنات ہے، ان کے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس میں ذرہ بھر ظلم وجور نہ ہو گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ يَوۡمًا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ عَسِيۡرًا ﴾ یہ دن اپنی سختی اور صعوبت کی وجہ سے کفار کے لیے بہت کٹھن ہو گا اور ان کے تمام امور ان کے لیے بہت مشکل ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس مومن کا معاملہ آسان اور اس کا بوجھ بہت ہلکا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ يَوۡمَ نَحۡشُرُ الۡمُتَّقِيۡنَ اِلَى الرَّحۡمٰنِ وَفۡدًاۙ۰۰ وَّنَسُوۡقُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرۡدًا﴾(مریم:19؍85۔86)’’جس روز ہم اہل تقویٰ کو اکٹھا کر کے رحمان کے حضور مہمانوں کے طور پر پیش کریں گے اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے ہانک کر لے جائیں گے۔‘‘﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذٍ﴾ ’’بادشاہی اس روز‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمان ہی کے لیے صحیح طور پر ہو گی۔‘‘ یعنی مخلوقات میں سے کسی کے لیے کوئی اختیار یا اختیار و اقتدار کی کوئی صورت نہیں ہو گی جس طرح کہ وہ دنیا میں تھے۔ بلکہ بادشاہ اور ان کی رعایا، آزاد اور غلام، اشرف اور نیچ سب برابر ہوں گے اور جس چیز سے دل کو راحت اور نفس کو اطمینان حاصل ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اقتدار کی اپنے اسم مبارک ﴿الرَّحۡمٰنِ ﴾ کی طرف اضافت کی ہے۔ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر زندہ کے لیے عام ہے، اس نے تمام کائنات کو لبریز کر رکھا ہے، دنیا و آخرت اللہ تعالیٰ کی رحمت سے معمور ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہر ناقص کامل ہو جاتا ہے اور اس کی رحمت سے ہر نقص زائل ہو جاتا ہے۔ اس کی رحمت پر دلالت کرنے والے اسمائے حسنیٰ ان اسمائے حسنیٰ پر غالب ہیں جو اس کے غضب پر دلالت کرتے ہیں ۔ اس کی رحمت کو اس کے غضب پر سبقت حاصل ہے، اس کی رحمت غضب پر غالب ہے۔پس اس کے لیے سبقت اور غلبہ ہے۔یہ کمزور آدمی اس لیے پیدا کیا گیا ہے اور اسے عزت و تکریم اس لیے عطا کی گئی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمت کا اتمام کرے اور اسے اپنی نعمت سے ڈھانپ لے۔ لوگ تذلل، خضوع اور انکسار کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر انتظار کریں گے کہ وہ کیا حکم جاری کرتا ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرتا ہے جتنا وہ خود اپنے آپ پر رحم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے والدین سے بھی زیادہ رحیم ہے۔ پس آپ کا کیا خیال ہے وہ اپنے بندوں کے ساتھ کیسا معاملہ کرے گا؟اور اللہ تعالیٰ صرف اسی کو ہلاک کرے گا جو خود ہلاک ہونا چاہتا ہے، اس کی رحمت کے دائرے سے صرف وہی خارج ہو گا جس پر بدبختی غالب آ گئی ہو اور جس پر عذاب واجب ٹھہر گیا ہو۔
[27]﴿ وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ ﴾ ’’اور جس دن کاٹے گا ظالم‘‘ اپنے شرک، کفر اور انبیاء ورسل کی تکذیب کی بنا پر ﴿ عَلٰى يَدَيۡهِ﴾ ’’اپنے ہاتھوں کو۔‘‘ تاسف، حسرت اور حزن و غم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ ﴿ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا﴾ ’’وہ کہے گا، ہائے افسوس! میں نے پکڑا ہوتا رسول کے ساتھ راستہ۔‘‘ یعنی رسول (ﷺ)پر ایمان، آپ کی تصدیق اور آپ کی اتباع کا راستہ۔
[28]﴿ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا ﴾ ’’ہائے افسوس، کاش نہ پکڑا ہوتا میں نے فلاں کو‘‘ یعنی شیاطین انس و جن کو ﴿ خَلِيۡلًا ﴾ یعنی اپنا جگری دوست اور مخلص ساتھی۔ میں نے ان ہستیوں سے عداوت رکھی جو میرے سب سے زیادہ خیرخواہ، میرے ساتھ سب سے زیادہ بھلائی کرنے والے اور مجھ پر سب سے زیادہ مہربان تھے اور اس کو دوست بنایا جو درحقیقت میرا سب سے بڑا دشمن تھا۔ اس کی دوستی نے بدبختی، خسارے، رسوائی اور ہلاکت کے سوا کوئی فائدہ نہ دیا۔
[29]﴿ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ﴾ ’’بلاشبہ میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد اس نے مجھے اس سے بھٹکا دیا۔‘‘ کیونکہ اس نے دھوکے اور فریب سے اس کی گمراہی کو اس کے سامنے مزین کر دیا۔ ﴿ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا﴾ ’’اور ہے شیطان، انسان کو دغا دینے والا۔‘‘ یعنی شیطان انسان کے سامنے باطل کو آراستہ کرتا ہے اور حق کو بری صورت میں پیش کرتا ہے، اسے بڑی بڑی آرزوئیں دلاتا ہے بعدازاں اس سے علیحدہ ہو کر اس سے براء ت کا اظہار کرتا ہے جیسا کہ قیامت کے روز۔ جب تمام معاملات چکا دیے جائیں گے اور اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق کے حساب کتاب سے فارغ ہو گا تو شیطان اس روز اپنے پیروں کاروں سے کہے گا:﴿ وَقَالَ الشَّيۡطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَوَعَدۡتُّكُمۡ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ۠١ؕ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُكُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۡ١ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِيۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِكُمۡ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِيَّ١ؕ اِنِّيۡ كَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَؔكۡتُمُوۡنِ۠ مِنۡ قَبۡلُ﴾(ابراہیم:14؍22) ’’اور جب تمام معاملات کا فیصلہ کردیا جائے گا تو شیطان کہے گا، بے شک اللہ نے جو تم سے وعدہ کیا تھا وہ سچا وعدہ تھا اور میں نے تمھارے ساتھ جتنے وعدے كيے تھے ان میں کوئی وعدہ پورا نہ کیا، میرا تم پر کوئی اختیار نہ تھا۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ میں نے تمھیں اپنے راستے کی طرف بلایا اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ پس اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔ اب میں تمھاری فریاد رسی کر سکتا ہوں نہ تم میری کر سکتے ہو، اس سے پہلے تم نے جو مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا میں اس سے بھی براء ت کا اعلان کرتا ہوں ۔‘‘پس بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ پر غور کرے اور اس وقت سے پہلے کہ گناہوں کا تدارک ممکن نہ رہے بندے کو چاہیے کہ اپنے گناہوں کا تدارک کرلے۔ اور اس ہستی کو اپنا دوست بنائے جس کی دوستی میں سعادت ہے اور اسے اپنا دشمن سمجھے جس کو دشمن سمجھنے میں فائدہ اور اس کے دوست بنانے میں سراسر نقصان ہے۔ واللہ الموفق۔
25:26ٱلۡمُلۡكُ يَوۡمَئِذٍ ٱلۡحَقُّ لِلرَّحۡمَٰنِۚ وَكَانَ يَوۡمًا عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ عَسِيرٗا
اور جس دن پھٹ جائے گا آسمان ساتھ بادلوں کے اور نازل کیے جائیں گے فرشتے (لگاتار) نازل کیے جانا (25) بادشاہی، اس دن حقیقی، رحمن ہی کے لیے ہو گی اور ہو گا وہ دن کافروں پر نہایت سخت (26)اور جس دن دانتوں سے کاٹے گا ظالم اپنے دونوں ہاتھ (اور)کہے گا، اے کاش! پکڑتا (اختیار کرتا) میں رسول کے ساتھ راستہ (27) ہائے میری کم بختی! کاش کہ میں نہ پکڑتا فلاں (شخص) کو دوست (28) البتہ تحقیق گمرہ کیا اس نے مجھے اس ذکر (قرآن) سے بعد اس کے کہ وہ آیا میرے پاس اور ہے شیطان، انسان کو بے یارو مدد گار چھوڑ دینے والا (29)
[26,25] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کی عظمت اور اس دن پیش آنے والی سختی اور کرب اور دلوں کو ہلا دینے والے مناظر کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ﴾ ’’اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا ساتھ بادل کے۔‘‘ یہ وہ بادل ہو گا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں سے نزول فرمائے گا۔ پس آسمان پھٹ جائیں گے اور تمام آسمانوں کے فرشتے نیچے اتر آئیں گے اور صف در صف کھڑے ہو جائیں گے یا تو تمام ایک ہی صف بنا کر تمام خلائق کو گھیر لیں گے یا اس کی صورت یہ ہو گی کہ ایک آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اس کے ساتھ دوسرے آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اور اسی طرح ساتوں آسمانوں کے فرشتے صف در صف موجود ہوں گے مقصد یہ ہے کہ فرشتے نہایت کثرت اور قوت کے ساتھ نازل ہوں گے۔ ان میں سے کوئی فرشتہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کلام نہیں کر سکے گا۔ (اس روز جب یہ حال ہو گا) تو اس کمزور آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس نے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کیا، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے کام كيے اور توبہ كيے بغیر گناہوں کا بوجھ اٹھائے اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ جو بادشاہ اور خلاّقِ کائنات ہے، ان کے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس میں ذرہ بھر ظلم وجور نہ ہو گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ يَوۡمًا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ عَسِيۡرًا ﴾ یہ دن اپنی سختی اور صعوبت کی وجہ سے کفار کے لیے بہت کٹھن ہو گا اور ان کے تمام امور ان کے لیے بہت مشکل ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس مومن کا معاملہ آسان اور اس کا بوجھ بہت ہلکا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ يَوۡمَ نَحۡشُرُ الۡمُتَّقِيۡنَ اِلَى الرَّحۡمٰنِ وَفۡدًاۙ۰۰ وَّنَسُوۡقُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرۡدًا﴾(مریم:19؍85۔86)’’جس روز ہم اہل تقویٰ کو اکٹھا کر کے رحمان کے حضور مہمانوں کے طور پر پیش کریں گے اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے ہانک کر لے جائیں گے۔‘‘﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذٍ﴾ ’’بادشاہی اس روز‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمان ہی کے لیے صحیح طور پر ہو گی۔‘‘ یعنی مخلوقات میں سے کسی کے لیے کوئی اختیار یا اختیار و اقتدار کی کوئی صورت نہیں ہو گی جس طرح کہ وہ دنیا میں تھے۔ بلکہ بادشاہ اور ان کی رعایا، آزاد اور غلام، اشرف اور نیچ سب برابر ہوں گے اور جس چیز سے دل کو راحت اور نفس کو اطمینان حاصل ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اقتدار کی اپنے اسم مبارک ﴿الرَّحۡمٰنِ ﴾ کی طرف اضافت کی ہے۔ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر زندہ کے لیے عام ہے، اس نے تمام کائنات کو لبریز کر رکھا ہے، دنیا و آخرت اللہ تعالیٰ کی رحمت سے معمور ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہر ناقص کامل ہو جاتا ہے اور اس کی رحمت سے ہر نقص زائل ہو جاتا ہے۔ اس کی رحمت پر دلالت کرنے والے اسمائے حسنیٰ ان اسمائے حسنیٰ پر غالب ہیں جو اس کے غضب پر دلالت کرتے ہیں ۔ اس کی رحمت کو اس کے غضب پر سبقت حاصل ہے، اس کی رحمت غضب پر غالب ہے۔پس اس کے لیے سبقت اور غلبہ ہے۔یہ کمزور آدمی اس لیے پیدا کیا گیا ہے اور اسے عزت و تکریم اس لیے عطا کی گئی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمت کا اتمام کرے اور اسے اپنی نعمت سے ڈھانپ لے۔ لوگ تذلل، خضوع اور انکسار کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر انتظار کریں گے کہ وہ کیا حکم جاری کرتا ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرتا ہے جتنا وہ خود اپنے آپ پر رحم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے والدین سے بھی زیادہ رحیم ہے۔ پس آپ کا کیا خیال ہے وہ اپنے بندوں کے ساتھ کیسا معاملہ کرے گا؟اور اللہ تعالیٰ صرف اسی کو ہلاک کرے گا جو خود ہلاک ہونا چاہتا ہے، اس کی رحمت کے دائرے سے صرف وہی خارج ہو گا جس پر بدبختی غالب آ گئی ہو اور جس پر عذاب واجب ٹھہر گیا ہو۔
[27]﴿ وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ ﴾ ’’اور جس دن کاٹے گا ظالم‘‘ اپنے شرک، کفر اور انبیاء ورسل کی تکذیب کی بنا پر ﴿ عَلٰى يَدَيۡهِ﴾ ’’اپنے ہاتھوں کو۔‘‘ تاسف، حسرت اور حزن و غم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ ﴿ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا﴾ ’’وہ کہے گا، ہائے افسوس! میں نے پکڑا ہوتا رسول کے ساتھ راستہ۔‘‘ یعنی رسول (ﷺ)پر ایمان، آپ کی تصدیق اور آپ کی اتباع کا راستہ۔
[28]﴿ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا ﴾ ’’ہائے افسوس، کاش نہ پکڑا ہوتا میں نے فلاں کو‘‘ یعنی شیاطین انس و جن کو ﴿ خَلِيۡلًا ﴾ یعنی اپنا جگری دوست اور مخلص ساتھی۔ میں نے ان ہستیوں سے عداوت رکھی جو میرے سب سے زیادہ خیرخواہ، میرے ساتھ سب سے زیادہ بھلائی کرنے والے اور مجھ پر سب سے زیادہ مہربان تھے اور اس کو دوست بنایا جو درحقیقت میرا سب سے بڑا دشمن تھا۔ اس کی دوستی نے بدبختی، خسارے، رسوائی اور ہلاکت کے سوا کوئی فائدہ نہ دیا۔
[29]﴿ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ﴾ ’’بلاشبہ میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد اس نے مجھے اس سے بھٹکا دیا۔‘‘ کیونکہ اس نے دھوکے اور فریب سے اس کی گمراہی کو اس کے سامنے مزین کر دیا۔ ﴿ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا﴾ ’’اور ہے شیطان، انسان کو دغا دینے والا۔‘‘ یعنی شیطان انسان کے سامنے باطل کو آراستہ کرتا ہے اور حق کو بری صورت میں پیش کرتا ہے، اسے بڑی بڑی آرزوئیں دلاتا ہے بعدازاں اس سے علیحدہ ہو کر اس سے براء ت کا اظہار کرتا ہے جیسا کہ قیامت کے روز۔ جب تمام معاملات چکا دیے جائیں گے اور اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق کے حساب کتاب سے فارغ ہو گا تو شیطان اس روز اپنے پیروں کاروں سے کہے گا:﴿ وَقَالَ الشَّيۡطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَوَعَدۡتُّكُمۡ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ۠١ؕ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُكُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۡ١ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِيۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِكُمۡ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِيَّ١ؕ اِنِّيۡ كَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَؔكۡتُمُوۡنِ۠ مِنۡ قَبۡلُ﴾(ابراہیم:14؍22) ’’اور جب تمام معاملات کا فیصلہ کردیا جائے گا تو شیطان کہے گا، بے شک اللہ نے جو تم سے وعدہ کیا تھا وہ سچا وعدہ تھا اور میں نے تمھارے ساتھ جتنے وعدے كيے تھے ان میں کوئی وعدہ پورا نہ کیا، میرا تم پر کوئی اختیار نہ تھا۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ میں نے تمھیں اپنے راستے کی طرف بلایا اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ پس اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔ اب میں تمھاری فریاد رسی کر سکتا ہوں نہ تم میری کر سکتے ہو، اس سے پہلے تم نے جو مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا میں اس سے بھی براء ت کا اعلان کرتا ہوں ۔‘‘پس بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ پر غور کرے اور اس وقت سے پہلے کہ گناہوں کا تدارک ممکن نہ رہے بندے کو چاہیے کہ اپنے گناہوں کا تدارک کرلے۔ اور اس ہستی کو اپنا دوست بنائے جس کی دوستی میں سعادت ہے اور اسے اپنا دشمن سمجھے جس کو دشمن سمجھنے میں فائدہ اور اس کے دوست بنانے میں سراسر نقصان ہے۔ واللہ الموفق۔
25:27وَيَوۡمَ يَعَضُّ ٱلظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيۡهِ يَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي ٱتَّخَذۡتُ مَعَ ٱلرَّسُولِ سَبِيلٗا
اور جس دن پھٹ جائے گا آسمان ساتھ بادلوں کے اور نازل کیے جائیں گے فرشتے (لگاتار) نازل کیے جانا (25) بادشاہی، اس دن حقیقی، رحمن ہی کے لیے ہو گی اور ہو گا وہ دن کافروں پر نہایت سخت (26)اور جس دن دانتوں سے کاٹے گا ظالم اپنے دونوں ہاتھ (اور)کہے گا، اے کاش! پکڑتا (اختیار کرتا) میں رسول کے ساتھ راستہ (27) ہائے میری کم بختی! کاش کہ میں نہ پکڑتا فلاں (شخص) کو دوست (28) البتہ تحقیق گمرہ کیا اس نے مجھے اس ذکر (قرآن) سے بعد اس کے کہ وہ آیا میرے پاس اور ہے شیطان، انسان کو بے یارو مدد گار چھوڑ دینے والا (29)
[26,25] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کی عظمت اور اس دن پیش آنے والی سختی اور کرب اور دلوں کو ہلا دینے والے مناظر کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ﴾ ’’اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا ساتھ بادل کے۔‘‘ یہ وہ بادل ہو گا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں سے نزول فرمائے گا۔ پس آسمان پھٹ جائیں گے اور تمام آسمانوں کے فرشتے نیچے اتر آئیں گے اور صف در صف کھڑے ہو جائیں گے یا تو تمام ایک ہی صف بنا کر تمام خلائق کو گھیر لیں گے یا اس کی صورت یہ ہو گی کہ ایک آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اس کے ساتھ دوسرے آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اور اسی طرح ساتوں آسمانوں کے فرشتے صف در صف موجود ہوں گے مقصد یہ ہے کہ فرشتے نہایت کثرت اور قوت کے ساتھ نازل ہوں گے۔ ان میں سے کوئی فرشتہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کلام نہیں کر سکے گا۔ (اس روز جب یہ حال ہو گا) تو اس کمزور آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس نے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کیا، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے کام كيے اور توبہ كيے بغیر گناہوں کا بوجھ اٹھائے اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ جو بادشاہ اور خلاّقِ کائنات ہے، ان کے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس میں ذرہ بھر ظلم وجور نہ ہو گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ يَوۡمًا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ عَسِيۡرًا ﴾ یہ دن اپنی سختی اور صعوبت کی وجہ سے کفار کے لیے بہت کٹھن ہو گا اور ان کے تمام امور ان کے لیے بہت مشکل ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس مومن کا معاملہ آسان اور اس کا بوجھ بہت ہلکا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ يَوۡمَ نَحۡشُرُ الۡمُتَّقِيۡنَ اِلَى الرَّحۡمٰنِ وَفۡدًاۙ۰۰ وَّنَسُوۡقُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرۡدًا﴾(مریم:19؍85۔86)’’جس روز ہم اہل تقویٰ کو اکٹھا کر کے رحمان کے حضور مہمانوں کے طور پر پیش کریں گے اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے ہانک کر لے جائیں گے۔‘‘﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذٍ﴾ ’’بادشاہی اس روز‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمان ہی کے لیے صحیح طور پر ہو گی۔‘‘ یعنی مخلوقات میں سے کسی کے لیے کوئی اختیار یا اختیار و اقتدار کی کوئی صورت نہیں ہو گی جس طرح کہ وہ دنیا میں تھے۔ بلکہ بادشاہ اور ان کی رعایا، آزاد اور غلام، اشرف اور نیچ سب برابر ہوں گے اور جس چیز سے دل کو راحت اور نفس کو اطمینان حاصل ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اقتدار کی اپنے اسم مبارک ﴿الرَّحۡمٰنِ ﴾ کی طرف اضافت کی ہے۔ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر زندہ کے لیے عام ہے، اس نے تمام کائنات کو لبریز کر رکھا ہے، دنیا و آخرت اللہ تعالیٰ کی رحمت سے معمور ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہر ناقص کامل ہو جاتا ہے اور اس کی رحمت سے ہر نقص زائل ہو جاتا ہے۔ اس کی رحمت پر دلالت کرنے والے اسمائے حسنیٰ ان اسمائے حسنیٰ پر غالب ہیں جو اس کے غضب پر دلالت کرتے ہیں ۔ اس کی رحمت کو اس کے غضب پر سبقت حاصل ہے، اس کی رحمت غضب پر غالب ہے۔پس اس کے لیے سبقت اور غلبہ ہے۔یہ کمزور آدمی اس لیے پیدا کیا گیا ہے اور اسے عزت و تکریم اس لیے عطا کی گئی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمت کا اتمام کرے اور اسے اپنی نعمت سے ڈھانپ لے۔ لوگ تذلل، خضوع اور انکسار کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر انتظار کریں گے کہ وہ کیا حکم جاری کرتا ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرتا ہے جتنا وہ خود اپنے آپ پر رحم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے والدین سے بھی زیادہ رحیم ہے۔ پس آپ کا کیا خیال ہے وہ اپنے بندوں کے ساتھ کیسا معاملہ کرے گا؟اور اللہ تعالیٰ صرف اسی کو ہلاک کرے گا جو خود ہلاک ہونا چاہتا ہے، اس کی رحمت کے دائرے سے صرف وہی خارج ہو گا جس پر بدبختی غالب آ گئی ہو اور جس پر عذاب واجب ٹھہر گیا ہو۔
[27]﴿ وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ ﴾ ’’اور جس دن کاٹے گا ظالم‘‘ اپنے شرک، کفر اور انبیاء ورسل کی تکذیب کی بنا پر ﴿ عَلٰى يَدَيۡهِ﴾ ’’اپنے ہاتھوں کو۔‘‘ تاسف، حسرت اور حزن و غم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ ﴿ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا﴾ ’’وہ کہے گا، ہائے افسوس! میں نے پکڑا ہوتا رسول کے ساتھ راستہ۔‘‘ یعنی رسول (ﷺ)پر ایمان، آپ کی تصدیق اور آپ کی اتباع کا راستہ۔
[28]﴿ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا ﴾ ’’ہائے افسوس، کاش نہ پکڑا ہوتا میں نے فلاں کو‘‘ یعنی شیاطین انس و جن کو ﴿ خَلِيۡلًا ﴾ یعنی اپنا جگری دوست اور مخلص ساتھی۔ میں نے ان ہستیوں سے عداوت رکھی جو میرے سب سے زیادہ خیرخواہ، میرے ساتھ سب سے زیادہ بھلائی کرنے والے اور مجھ پر سب سے زیادہ مہربان تھے اور اس کو دوست بنایا جو درحقیقت میرا سب سے بڑا دشمن تھا۔ اس کی دوستی نے بدبختی، خسارے، رسوائی اور ہلاکت کے سوا کوئی فائدہ نہ دیا۔
[29]﴿ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ﴾ ’’بلاشبہ میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد اس نے مجھے اس سے بھٹکا دیا۔‘‘ کیونکہ اس نے دھوکے اور فریب سے اس کی گمراہی کو اس کے سامنے مزین کر دیا۔ ﴿ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا﴾ ’’اور ہے شیطان، انسان کو دغا دینے والا۔‘‘ یعنی شیطان انسان کے سامنے باطل کو آراستہ کرتا ہے اور حق کو بری صورت میں پیش کرتا ہے، اسے بڑی بڑی آرزوئیں دلاتا ہے بعدازاں اس سے علیحدہ ہو کر اس سے براء ت کا اظہار کرتا ہے جیسا کہ قیامت کے روز۔ جب تمام معاملات چکا دیے جائیں گے اور اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق کے حساب کتاب سے فارغ ہو گا تو شیطان اس روز اپنے پیروں کاروں سے کہے گا:﴿ وَقَالَ الشَّيۡطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَوَعَدۡتُّكُمۡ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ۠١ؕ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُكُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۡ١ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِيۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِكُمۡ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِيَّ١ؕ اِنِّيۡ كَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَؔكۡتُمُوۡنِ۠ مِنۡ قَبۡلُ﴾(ابراہیم:14؍22) ’’اور جب تمام معاملات کا فیصلہ کردیا جائے گا تو شیطان کہے گا، بے شک اللہ نے جو تم سے وعدہ کیا تھا وہ سچا وعدہ تھا اور میں نے تمھارے ساتھ جتنے وعدے كيے تھے ان میں کوئی وعدہ پورا نہ کیا، میرا تم پر کوئی اختیار نہ تھا۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ میں نے تمھیں اپنے راستے کی طرف بلایا اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ پس اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔ اب میں تمھاری فریاد رسی کر سکتا ہوں نہ تم میری کر سکتے ہو، اس سے پہلے تم نے جو مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا میں اس سے بھی براء ت کا اعلان کرتا ہوں ۔‘‘پس بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ پر غور کرے اور اس وقت سے پہلے کہ گناہوں کا تدارک ممکن نہ رہے بندے کو چاہیے کہ اپنے گناہوں کا تدارک کرلے۔ اور اس ہستی کو اپنا دوست بنائے جس کی دوستی میں سعادت ہے اور اسے اپنا دشمن سمجھے جس کو دشمن سمجھنے میں فائدہ اور اس کے دوست بنانے میں سراسر نقصان ہے۔ واللہ الموفق۔
25:28يَٰوَيۡلَتَىٰ لَيۡتَنِي لَمۡ أَتَّخِذۡ فُلَانًا خَلِيلٗا
اور جس دن پھٹ جائے گا آسمان ساتھ بادلوں کے اور نازل کیے جائیں گے فرشتے (لگاتار) نازل کیے جانا (25) بادشاہی، اس دن حقیقی، رحمن ہی کے لیے ہو گی اور ہو گا وہ دن کافروں پر نہایت سخت (26)اور جس دن دانتوں سے کاٹے گا ظالم اپنے دونوں ہاتھ (اور)کہے گا، اے کاش! پکڑتا (اختیار کرتا) میں رسول کے ساتھ راستہ (27) ہائے میری کم بختی! کاش کہ میں نہ پکڑتا فلاں (شخص) کو دوست (28) البتہ تحقیق گمرہ کیا اس نے مجھے اس ذکر (قرآن) سے بعد اس کے کہ وہ آیا میرے پاس اور ہے شیطان، انسان کو بے یارو مدد گار چھوڑ دینے والا (29)
[26,25] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کی عظمت اور اس دن پیش آنے والی سختی اور کرب اور دلوں کو ہلا دینے والے مناظر کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ﴾ ’’اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا ساتھ بادل کے۔‘‘ یہ وہ بادل ہو گا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں سے نزول فرمائے گا۔ پس آسمان پھٹ جائیں گے اور تمام آسمانوں کے فرشتے نیچے اتر آئیں گے اور صف در صف کھڑے ہو جائیں گے یا تو تمام ایک ہی صف بنا کر تمام خلائق کو گھیر لیں گے یا اس کی صورت یہ ہو گی کہ ایک آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اس کے ساتھ دوسرے آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اور اسی طرح ساتوں آسمانوں کے فرشتے صف در صف موجود ہوں گے مقصد یہ ہے کہ فرشتے نہایت کثرت اور قوت کے ساتھ نازل ہوں گے۔ ان میں سے کوئی فرشتہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کلام نہیں کر سکے گا۔ (اس روز جب یہ حال ہو گا) تو اس کمزور آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس نے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کیا، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے کام كيے اور توبہ كيے بغیر گناہوں کا بوجھ اٹھائے اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ جو بادشاہ اور خلاّقِ کائنات ہے، ان کے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس میں ذرہ بھر ظلم وجور نہ ہو گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ يَوۡمًا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ عَسِيۡرًا ﴾ یہ دن اپنی سختی اور صعوبت کی وجہ سے کفار کے لیے بہت کٹھن ہو گا اور ان کے تمام امور ان کے لیے بہت مشکل ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس مومن کا معاملہ آسان اور اس کا بوجھ بہت ہلکا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ يَوۡمَ نَحۡشُرُ الۡمُتَّقِيۡنَ اِلَى الرَّحۡمٰنِ وَفۡدًاۙ۰۰ وَّنَسُوۡقُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرۡدًا﴾(مریم:19؍85۔86)’’جس روز ہم اہل تقویٰ کو اکٹھا کر کے رحمان کے حضور مہمانوں کے طور پر پیش کریں گے اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے ہانک کر لے جائیں گے۔‘‘﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذٍ﴾ ’’بادشاہی اس روز‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمان ہی کے لیے صحیح طور پر ہو گی۔‘‘ یعنی مخلوقات میں سے کسی کے لیے کوئی اختیار یا اختیار و اقتدار کی کوئی صورت نہیں ہو گی جس طرح کہ وہ دنیا میں تھے۔ بلکہ بادشاہ اور ان کی رعایا، آزاد اور غلام، اشرف اور نیچ سب برابر ہوں گے اور جس چیز سے دل کو راحت اور نفس کو اطمینان حاصل ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اقتدار کی اپنے اسم مبارک ﴿الرَّحۡمٰنِ ﴾ کی طرف اضافت کی ہے۔ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر زندہ کے لیے عام ہے، اس نے تمام کائنات کو لبریز کر رکھا ہے، دنیا و آخرت اللہ تعالیٰ کی رحمت سے معمور ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہر ناقص کامل ہو جاتا ہے اور اس کی رحمت سے ہر نقص زائل ہو جاتا ہے۔ اس کی رحمت پر دلالت کرنے والے اسمائے حسنیٰ ان اسمائے حسنیٰ پر غالب ہیں جو اس کے غضب پر دلالت کرتے ہیں ۔ اس کی رحمت کو اس کے غضب پر سبقت حاصل ہے، اس کی رحمت غضب پر غالب ہے۔پس اس کے لیے سبقت اور غلبہ ہے۔یہ کمزور آدمی اس لیے پیدا کیا گیا ہے اور اسے عزت و تکریم اس لیے عطا کی گئی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمت کا اتمام کرے اور اسے اپنی نعمت سے ڈھانپ لے۔ لوگ تذلل، خضوع اور انکسار کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر انتظار کریں گے کہ وہ کیا حکم جاری کرتا ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرتا ہے جتنا وہ خود اپنے آپ پر رحم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے والدین سے بھی زیادہ رحیم ہے۔ پس آپ کا کیا خیال ہے وہ اپنے بندوں کے ساتھ کیسا معاملہ کرے گا؟اور اللہ تعالیٰ صرف اسی کو ہلاک کرے گا جو خود ہلاک ہونا چاہتا ہے، اس کی رحمت کے دائرے سے صرف وہی خارج ہو گا جس پر بدبختی غالب آ گئی ہو اور جس پر عذاب واجب ٹھہر گیا ہو۔
[27]﴿ وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ ﴾ ’’اور جس دن کاٹے گا ظالم‘‘ اپنے شرک، کفر اور انبیاء ورسل کی تکذیب کی بنا پر ﴿ عَلٰى يَدَيۡهِ﴾ ’’اپنے ہاتھوں کو۔‘‘ تاسف، حسرت اور حزن و غم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ ﴿ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا﴾ ’’وہ کہے گا، ہائے افسوس! میں نے پکڑا ہوتا رسول کے ساتھ راستہ۔‘‘ یعنی رسول (ﷺ)پر ایمان، آپ کی تصدیق اور آپ کی اتباع کا راستہ۔
[28]﴿ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا ﴾ ’’ہائے افسوس، کاش نہ پکڑا ہوتا میں نے فلاں کو‘‘ یعنی شیاطین انس و جن کو ﴿ خَلِيۡلًا ﴾ یعنی اپنا جگری دوست اور مخلص ساتھی۔ میں نے ان ہستیوں سے عداوت رکھی جو میرے سب سے زیادہ خیرخواہ، میرے ساتھ سب سے زیادہ بھلائی کرنے والے اور مجھ پر سب سے زیادہ مہربان تھے اور اس کو دوست بنایا جو درحقیقت میرا سب سے بڑا دشمن تھا۔ اس کی دوستی نے بدبختی، خسارے، رسوائی اور ہلاکت کے سوا کوئی فائدہ نہ دیا۔
[29]﴿ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ﴾ ’’بلاشبہ میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد اس نے مجھے اس سے بھٹکا دیا۔‘‘ کیونکہ اس نے دھوکے اور فریب سے اس کی گمراہی کو اس کے سامنے مزین کر دیا۔ ﴿ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا﴾ ’’اور ہے شیطان، انسان کو دغا دینے والا۔‘‘ یعنی شیطان انسان کے سامنے باطل کو آراستہ کرتا ہے اور حق کو بری صورت میں پیش کرتا ہے، اسے بڑی بڑی آرزوئیں دلاتا ہے بعدازاں اس سے علیحدہ ہو کر اس سے براء ت کا اظہار کرتا ہے جیسا کہ قیامت کے روز۔ جب تمام معاملات چکا دیے جائیں گے اور اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق کے حساب کتاب سے فارغ ہو گا تو شیطان اس روز اپنے پیروں کاروں سے کہے گا:﴿ وَقَالَ الشَّيۡطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَوَعَدۡتُّكُمۡ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ۠١ؕ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُكُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۡ١ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِيۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِكُمۡ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِيَّ١ؕ اِنِّيۡ كَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَؔكۡتُمُوۡنِ۠ مِنۡ قَبۡلُ﴾(ابراہیم:14؍22) ’’اور جب تمام معاملات کا فیصلہ کردیا جائے گا تو شیطان کہے گا، بے شک اللہ نے جو تم سے وعدہ کیا تھا وہ سچا وعدہ تھا اور میں نے تمھارے ساتھ جتنے وعدے كيے تھے ان میں کوئی وعدہ پورا نہ کیا، میرا تم پر کوئی اختیار نہ تھا۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ میں نے تمھیں اپنے راستے کی طرف بلایا اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ پس اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔ اب میں تمھاری فریاد رسی کر سکتا ہوں نہ تم میری کر سکتے ہو، اس سے پہلے تم نے جو مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا میں اس سے بھی براء ت کا اعلان کرتا ہوں ۔‘‘پس بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ پر غور کرے اور اس وقت سے پہلے کہ گناہوں کا تدارک ممکن نہ رہے بندے کو چاہیے کہ اپنے گناہوں کا تدارک کرلے۔ اور اس ہستی کو اپنا دوست بنائے جس کی دوستی میں سعادت ہے اور اسے اپنا دشمن سمجھے جس کو دشمن سمجھنے میں فائدہ اور اس کے دوست بنانے میں سراسر نقصان ہے۔ واللہ الموفق۔
25:29لَّقَدۡ أَضَلَّنِي عَنِ ٱلذِّكۡرِ بَعۡدَ إِذۡ جَآءَنِيۗ وَكَانَ ٱلشَّيۡطَٰنُ لِلۡإِنسَٰنِ خَذُولٗا
اور جس دن پھٹ جائے گا آسمان ساتھ بادلوں کے اور نازل کیے جائیں گے فرشتے (لگاتار) نازل کیے جانا (25) بادشاہی، اس دن حقیقی، رحمن ہی کے لیے ہو گی اور ہو گا وہ دن کافروں پر نہایت سخت (26)اور جس دن دانتوں سے کاٹے گا ظالم اپنے دونوں ہاتھ (اور)کہے گا، اے کاش! پکڑتا (اختیار کرتا) میں رسول کے ساتھ راستہ (27) ہائے میری کم بختی! کاش کہ میں نہ پکڑتا فلاں (شخص) کو دوست (28) البتہ تحقیق گمرہ کیا اس نے مجھے اس ذکر (قرآن) سے بعد اس کے کہ وہ آیا میرے پاس اور ہے شیطان، انسان کو بے یارو مدد گار چھوڑ دینے والا (29)
[26,25] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کی عظمت اور اس دن پیش آنے والی سختی اور کرب اور دلوں کو ہلا دینے والے مناظر کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ﴾ ’’اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا ساتھ بادل کے۔‘‘ یہ وہ بادل ہو گا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں سے نزول فرمائے گا۔ پس آسمان پھٹ جائیں گے اور تمام آسمانوں کے فرشتے نیچے اتر آئیں گے اور صف در صف کھڑے ہو جائیں گے یا تو تمام ایک ہی صف بنا کر تمام خلائق کو گھیر لیں گے یا اس کی صورت یہ ہو گی کہ ایک آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اس کے ساتھ دوسرے آسمان کے فرشتے صف بنائیں گے اور اسی طرح ساتوں آسمانوں کے فرشتے صف در صف موجود ہوں گے مقصد یہ ہے کہ فرشتے نہایت کثرت اور قوت کے ساتھ نازل ہوں گے۔ ان میں سے کوئی فرشتہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کلام نہیں کر سکے گا۔ (اس روز جب یہ حال ہو گا) تو اس کمزور آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس نے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کیا، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے کام كيے اور توبہ كيے بغیر گناہوں کا بوجھ اٹھائے اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ جو بادشاہ اور خلاّقِ کائنات ہے، ان کے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا جس میں ذرہ بھر ظلم وجور نہ ہو گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ يَوۡمًا عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ عَسِيۡرًا ﴾ یہ دن اپنی سختی اور صعوبت کی وجہ سے کفار کے لیے بہت کٹھن ہو گا اور ان کے تمام امور ان کے لیے بہت مشکل ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس مومن کا معاملہ آسان اور اس کا بوجھ بہت ہلکا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ يَوۡمَ نَحۡشُرُ الۡمُتَّقِيۡنَ اِلَى الرَّحۡمٰنِ وَفۡدًاۙ۰۰ وَّنَسُوۡقُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرۡدًا﴾(مریم:19؍85۔86)’’جس روز ہم اہل تقویٰ کو اکٹھا کر کے رحمان کے حضور مہمانوں کے طور پر پیش کریں گے اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے ہانک کر لے جائیں گے۔‘‘﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذٍ﴾ ’’بادشاہی اس روز‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمان ہی کے لیے صحیح طور پر ہو گی۔‘‘ یعنی مخلوقات میں سے کسی کے لیے کوئی اختیار یا اختیار و اقتدار کی کوئی صورت نہیں ہو گی جس طرح کہ وہ دنیا میں تھے۔ بلکہ بادشاہ اور ان کی رعایا، آزاد اور غلام، اشرف اور نیچ سب برابر ہوں گے اور جس چیز سے دل کو راحت اور نفس کو اطمینان حاصل ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اقتدار کی اپنے اسم مبارک ﴿الرَّحۡمٰنِ ﴾ کی طرف اضافت کی ہے۔ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر زندہ کے لیے عام ہے، اس نے تمام کائنات کو لبریز کر رکھا ہے، دنیا و آخرت اللہ تعالیٰ کی رحمت سے معمور ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہر ناقص کامل ہو جاتا ہے اور اس کی رحمت سے ہر نقص زائل ہو جاتا ہے۔ اس کی رحمت پر دلالت کرنے والے اسمائے حسنیٰ ان اسمائے حسنیٰ پر غالب ہیں جو اس کے غضب پر دلالت کرتے ہیں ۔ اس کی رحمت کو اس کے غضب پر سبقت حاصل ہے، اس کی رحمت غضب پر غالب ہے۔پس اس کے لیے سبقت اور غلبہ ہے۔یہ کمزور آدمی اس لیے پیدا کیا گیا ہے اور اسے عزت و تکریم اس لیے عطا کی گئی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمت کا اتمام کرے اور اسے اپنی نعمت سے ڈھانپ لے۔ لوگ تذلل، خضوع اور انکسار کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر انتظار کریں گے کہ وہ کیا حکم جاری کرتا ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرتا ہے جتنا وہ خود اپنے آپ پر رحم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے والدین سے بھی زیادہ رحیم ہے۔ پس آپ کا کیا خیال ہے وہ اپنے بندوں کے ساتھ کیسا معاملہ کرے گا؟اور اللہ تعالیٰ صرف اسی کو ہلاک کرے گا جو خود ہلاک ہونا چاہتا ہے، اس کی رحمت کے دائرے سے صرف وہی خارج ہو گا جس پر بدبختی غالب آ گئی ہو اور جس پر عذاب واجب ٹھہر گیا ہو۔
[27]﴿ وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ ﴾ ’’اور جس دن کاٹے گا ظالم‘‘ اپنے شرک، کفر اور انبیاء ورسل کی تکذیب کی بنا پر ﴿ عَلٰى يَدَيۡهِ﴾ ’’اپنے ہاتھوں کو۔‘‘ تاسف، حسرت اور حزن و غم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ ﴿ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا﴾ ’’وہ کہے گا، ہائے افسوس! میں نے پکڑا ہوتا رسول کے ساتھ راستہ۔‘‘ یعنی رسول (ﷺ)پر ایمان، آپ کی تصدیق اور آپ کی اتباع کا راستہ۔
[28]﴿ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا ﴾ ’’ہائے افسوس، کاش نہ پکڑا ہوتا میں نے فلاں کو‘‘ یعنی شیاطین انس و جن کو ﴿ خَلِيۡلًا ﴾ یعنی اپنا جگری دوست اور مخلص ساتھی۔ میں نے ان ہستیوں سے عداوت رکھی جو میرے سب سے زیادہ خیرخواہ، میرے ساتھ سب سے زیادہ بھلائی کرنے والے اور مجھ پر سب سے زیادہ مہربان تھے اور اس کو دوست بنایا جو درحقیقت میرا سب سے بڑا دشمن تھا۔ اس کی دوستی نے بدبختی، خسارے، رسوائی اور ہلاکت کے سوا کوئی فائدہ نہ دیا۔
[29]﴿ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ﴾ ’’بلاشبہ میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد اس نے مجھے اس سے بھٹکا دیا۔‘‘ کیونکہ اس نے دھوکے اور فریب سے اس کی گمراہی کو اس کے سامنے مزین کر دیا۔ ﴿ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا﴾ ’’اور ہے شیطان، انسان کو دغا دینے والا۔‘‘ یعنی شیطان انسان کے سامنے باطل کو آراستہ کرتا ہے اور حق کو بری صورت میں پیش کرتا ہے، اسے بڑی بڑی آرزوئیں دلاتا ہے بعدازاں اس سے علیحدہ ہو کر اس سے براء ت کا اظہار کرتا ہے جیسا کہ قیامت کے روز۔ جب تمام معاملات چکا دیے جائیں گے اور اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق کے حساب کتاب سے فارغ ہو گا تو شیطان اس روز اپنے پیروں کاروں سے کہے گا:﴿ وَقَالَ الشَّيۡطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَوَعَدۡتُّكُمۡ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ۠١ؕ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُكُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۡ١ۚ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِيۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِكُمۡ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِيَّ١ؕ اِنِّيۡ كَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَؔكۡتُمُوۡنِ۠ مِنۡ قَبۡلُ﴾(ابراہیم:14؍22) ’’اور جب تمام معاملات کا فیصلہ کردیا جائے گا تو شیطان کہے گا، بے شک اللہ نے جو تم سے وعدہ کیا تھا وہ سچا وعدہ تھا اور میں نے تمھارے ساتھ جتنے وعدے كيے تھے ان میں کوئی وعدہ پورا نہ کیا، میرا تم پر کوئی اختیار نہ تھا۔ میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ میں نے تمھیں اپنے راستے کی طرف بلایا اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ پس اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔ اب میں تمھاری فریاد رسی کر سکتا ہوں نہ تم میری کر سکتے ہو، اس سے پہلے تم نے جو مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا میں اس سے بھی براء ت کا اعلان کرتا ہوں ۔‘‘پس بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ پر غور کرے اور اس وقت سے پہلے کہ گناہوں کا تدارک ممکن نہ رہے بندے کو چاہیے کہ اپنے گناہوں کا تدارک کرلے۔ اور اس ہستی کو اپنا دوست بنائے جس کی دوستی میں سعادت ہے اور اسے اپنا دشمن سمجھے جس کو دشمن سمجھنے میں فائدہ اور اس کے دوست بنانے میں سراسر نقصان ہے۔ واللہ الموفق۔
25:30وَقَالَ ٱلرَّسُولُ يَٰرَبِّ إِنَّ قَوۡمِي ٱتَّخَذُواْ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ مَهۡجُورٗا
اور کہیں گے (اللہ کے) رسول، اے میرے رب ! بلاشبہ میری قوم نے بنا (ٹھہرا) لیا تھا اس قرآن کو چھوڑا ہوا (30) اور اسی طرح بنائے ہم نے واسطے ہر نبی کے دشمن مجرموں میں سے اورکافی ہے آپ کا رب ہدایت دینے والااور مدد گار (31)
[30]﴿وَقَالَ الرَّسُوۡلُ ﴾ اور کہا رسول(ﷺ) نے‘‘ اپنے رب کو پکارتے، قرآن سے ان کی روگردانی کا شکوہ کرتے اور ان کے رویے پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے:﴿ يٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِي ﴾ ’’اے میرے رب! میری قوم نے۔‘‘ جن کی ہدایت اور جن میں تبلیغ کرنے کے لیے تو نے مجھے مبعوث کیا تھا ﴿ اتَّؔخَذُوۡا هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنَ مَهۡجُوۡرًا﴾ انھوں نے اس قرآن سے اعراض کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا ہے حالانکہ ان پر واجب ہے کہ وہ اس کے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کرتے، اس کے احکام کو قبول کرتے اور اس کی پیروی کرتے۔
[31] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول(ﷺ) کو تسلی دیتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ ان کے گزشتہ آباء واجداد نے بھی ایسا ہی کیا تھا جیسا کہ یہ کر رہے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَذٰلِكَ جَعَلۡنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور اسی طرح بنایا ہم نے ہر نبی کا دشمن، گناہ گاروں میں سے۔‘‘ یعنی ان لوگوں میں سے جو بھلائی کی صلاحیت رکھتے تھے نہ اس کے لائق تھے بلکہ اس کے برعکس وہ انبیاء ورسل کی مخالفت کرتے تھے، ان کی دعوت کو ٹھکراتے تھے اور باطل دلائل کے ذریعے سے ان کے ساتھ جھگڑتے تھے۔یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ حق ہمیشہ باطل پر غالب آتا ہے، حق پوری طرح واضح ہوتا ہے کیونکہ باطل کا حق کے ساتھ معارضہ ایک ایسا امر ہے جو حق کو اور زیادہ واضح اور استدلال کو درجۂ کمال تک پہنچا دیتا ہے اور یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل حق کو کس عزت و تکریم سے سرفراز کرے گا اور اہل باطل کے ساتھ کیا سلوک کرے گا، لہٰذا آپ ان کی باتوں پر غمزوہ نہ ہوں اور ان پر حسرت اور غم کے مارے آپ کی جان نہ گھلے۔ ﴿ وَؔكَفٰى بِرَبِّكَ هَادِيًا﴾ ’’اور آپ کو راہ دکھانے کے لیے آپ کا رب کافی ہے۔‘‘ پس آپ کو اپنا مطلوب و مقصود اور دنیا و آخرت کے تمام مصالح حاصل ہوں گے۔ ﴿وَنَصِيۡرًا﴾ ’’اور مددگار بھی۔‘‘ وہ آپ کے دشمنوں کے خلاف آپ کی مدد کرے گا آپ کے دینی اور دنیاوی معاملات میں آپ سے تکلیف دہ امور کو دور کرے گا، اس لیے آپ اللہ تعالیٰ ہی کو کافی سمجھیے اور اسی پر بھروسہ کیجیے۔
25:31وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوّٗا مِّنَ ٱلۡمُجۡرِمِينَۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيٗا وَنَصِيرٗا
اور کہیں گے (اللہ کے) رسول، اے میرے رب ! بلاشبہ میری قوم نے بنا (ٹھہرا) لیا تھا اس قرآن کو چھوڑا ہوا (30) اور اسی طرح بنائے ہم نے واسطے ہر نبی کے دشمن مجرموں میں سے اورکافی ہے آپ کا رب ہدایت دینے والااور مدد گار (31)
[30]﴿وَقَالَ الرَّسُوۡلُ ﴾ اور کہا رسول(ﷺ) نے‘‘ اپنے رب کو پکارتے، قرآن سے ان کی روگردانی کا شکوہ کرتے اور ان کے رویے پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے:﴿ يٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِي ﴾ ’’اے میرے رب! میری قوم نے۔‘‘ جن کی ہدایت اور جن میں تبلیغ کرنے کے لیے تو نے مجھے مبعوث کیا تھا ﴿ اتَّؔخَذُوۡا هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنَ مَهۡجُوۡرًا﴾ انھوں نے اس قرآن سے اعراض کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا ہے حالانکہ ان پر واجب ہے کہ وہ اس کے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کرتے، اس کے احکام کو قبول کرتے اور اس کی پیروی کرتے۔
[31] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول(ﷺ) کو تسلی دیتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ ان کے گزشتہ آباء واجداد نے بھی ایسا ہی کیا تھا جیسا کہ یہ کر رہے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَذٰلِكَ جَعَلۡنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’اور اسی طرح بنایا ہم نے ہر نبی کا دشمن، گناہ گاروں میں سے۔‘‘ یعنی ان لوگوں میں سے جو بھلائی کی صلاحیت رکھتے تھے نہ اس کے لائق تھے بلکہ اس کے برعکس وہ انبیاء ورسل کی مخالفت کرتے تھے، ان کی دعوت کو ٹھکراتے تھے اور باطل دلائل کے ذریعے سے ان کے ساتھ جھگڑتے تھے۔یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ حق ہمیشہ باطل پر غالب آتا ہے، حق پوری طرح واضح ہوتا ہے کیونکہ باطل کا حق کے ساتھ معارضہ ایک ایسا امر ہے جو حق کو اور زیادہ واضح اور استدلال کو درجۂ کمال تک پہنچا دیتا ہے اور یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل حق کو کس عزت و تکریم سے سرفراز کرے گا اور اہل باطل کے ساتھ کیا سلوک کرے گا، لہٰذا آپ ان کی باتوں پر غمزوہ نہ ہوں اور ان پر حسرت اور غم کے مارے آپ کی جان نہ گھلے۔ ﴿ وَؔكَفٰى بِرَبِّكَ هَادِيًا﴾ ’’اور آپ کو راہ دکھانے کے لیے آپ کا رب کافی ہے۔‘‘ پس آپ کو اپنا مطلوب و مقصود اور دنیا و آخرت کے تمام مصالح حاصل ہوں گے۔ ﴿وَنَصِيۡرًا﴾ ’’اور مددگار بھی۔‘‘ وہ آپ کے دشمنوں کے خلاف آپ کی مدد کرے گا آپ کے دینی اور دنیاوی معاملات میں آپ سے تکلیف دہ امور کو دور کرے گا، اس لیے آپ اللہ تعالیٰ ہی کو کافی سمجھیے اور اسی پر بھروسہ کیجیے۔
25:32وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ ٱلۡقُرۡءَانُ جُمۡلَةٗ وَٰحِدَةٗۚ كَذَٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِۦ فُؤَادَكَۖ وَرَتَّلۡنَٰهُ تَرۡتِيلٗا
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیوں نہیں اتارا گیا اس (رسول) پر (یہ) قرآن اکٹھا ایک بار ہی؟ اسی طرح (اتارا ہم نے) تاکہ ہم مضبوط کر دیں اس کے ذریعے سے آپ کا دل اور ہم نے اتارا اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارنا(32) اور نہیں لاتے وہ آپ کے پاس کوئی مثال مگر لاتے ہیں ہم آپ کے پاس حق اور بہترین توجیہ (33)
[32] یہ کفار کے جملہ اعتراضات میں سے ایک اعتراض ہے جو ان کو ان کے نفس نے سجھایا ہے، چنانچہ ان کا قول ہے:﴿ لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً﴾ یعنی وہ کونسی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے تمام قرآن ایک ہی دفعہ نازل نہیں ہوا، جیسا کہ اس سے پہلے کتابیں نازل ہوئیں ؟ بلکہ اس کا ایک ہی دفعہ نازل ہونا تو زیادہ اچھا ہے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ﴾ یعنی اسی طرح ہم نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا ہے ﴿لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ﴾ ’’تاکہ ہم اس کے ذریعے سے آپ کے دل کو مضبوط کریں ۔‘‘ کیونکہ جب بھی آپ پر قرآن کا کوئی حصہ نازل ہوتا تھا آپ کے اطمینان اور ثابت قدمی میں اضافہ ہو جاتا تھا، خاص طور پر اس وقت جب اسباب قلق وارد ہوتے تو آپ کا اطمینان بڑھ جاتا تھا کیونکہ کسی قلق کے پیش آنے پر قرآن کا نازل ہونا بر محل ہے اور بہت زیادہ ثبات کا باعث ہے اور اس سے زیادہ فائدہ مند ہے کہ اس واقعہ سے پہلے نازل ہوا ہو اور اس سبب کے وقوع پر یاد آئے۔ ﴿ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا﴾ ’’ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر ہی پڑھ سنایا ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اسے آہستہ آہستہ بتدریج نازل کیا۔ یہ تمام آیات کریمہ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اعتناء پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو رسول ﷺ کے احوال اور آپ کے دینی مصالح کے مطابق نازل فرمایا۔
[33] اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ ﴾ ’’اور یہ لوگ کوئی بھی ایسی مثال آپ کے سامنے پیش نہیں کریں گے۔‘‘ جس سے وہ حق کے ساتھ معارضہ (مقابلہ) کریں اور آپ کی رسالت کا انکار کریں ۔ ﴿ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا ﴾ ’’مگر ہم اس کا سچا جواب اور عمدہ توجیہ آپ کو بتا دیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا جو اپنے معانی میں جامع، اپنے الفاظ میں واضح اور بیان کامل کا حامل ہے۔ اس کے تمام معانی حق اور صداقت پر مبنی ہیں جس میں کسی بھی پہلو سے باطل کا کوئی شائبہ نہیں ، تمام اشیاء کے بارے میں اس کے الفاظ اور حدود انتہائی واضح، مفصل اور معانی کو کامل طور پر بیان کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ علم میں بحث کرنے والے محدث، معلم یا واعظ کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنے رب کی تدبیر کی پیروی کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے احوال کے مطابق تدبیر فرمائی اسی طرح اس عالم کو چاہیے کو وہ مخلوق کے معاملے کی اسی طرح تدبیر کرے جب بھی کوئی ایسا موجب اور موقع پیش آئے تو موقع کی مناسبت سے لوگوں میں آیات قرآنی، احادیث نبوی اور مواعظ بیان کرے۔نیز ان آیات کریمہ میں جہمیہ کا رد ہے جو قرآن کریم کی تفسیر میں تکلف سے کام لیتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی بہت سے نصوص کو ان کے ظاہری معنوں پر محمول نہیں کیا جائے گا، ان کے اصل معانی ان معانی سے مختلف ہیں جو ظاہر میں سمجھ میں آئے ہیں تب اگر ان کی اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو قرآن کی یہ تفسیر ’’احسن تفسیر‘‘ نہیں ہو گی ان کے زعم باطل کے مطابق، احسن تفسیر تو وہ ہے، جس کے لیے وہ معانی میں تحریف کرتے ہیں ۔
25:33وَلَا يَأۡتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ وَأَحۡسَنَ تَفۡسِيرًا
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کیوں نہیں اتارا گیا اس (رسول) پر (یہ) قرآن اکٹھا ایک بار ہی؟ اسی طرح (اتارا ہم نے) تاکہ ہم مضبوط کر دیں اس کے ذریعے سے آپ کا دل اور ہم نے اتارا اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارنا(32) اور نہیں لاتے وہ آپ کے پاس کوئی مثال مگر لاتے ہیں ہم آپ کے پاس حق اور بہترین توجیہ (33)
[32] یہ کفار کے جملہ اعتراضات میں سے ایک اعتراض ہے جو ان کو ان کے نفس نے سجھایا ہے، چنانچہ ان کا قول ہے:﴿ لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً﴾ یعنی وہ کونسی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے تمام قرآن ایک ہی دفعہ نازل نہیں ہوا، جیسا کہ اس سے پہلے کتابیں نازل ہوئیں ؟ بلکہ اس کا ایک ہی دفعہ نازل ہونا تو زیادہ اچھا ہے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ﴾ یعنی اسی طرح ہم نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا ہے ﴿لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ﴾ ’’تاکہ ہم اس کے ذریعے سے آپ کے دل کو مضبوط کریں ۔‘‘ کیونکہ جب بھی آپ پر قرآن کا کوئی حصہ نازل ہوتا تھا آپ کے اطمینان اور ثابت قدمی میں اضافہ ہو جاتا تھا، خاص طور پر اس وقت جب اسباب قلق وارد ہوتے تو آپ کا اطمینان بڑھ جاتا تھا کیونکہ کسی قلق کے پیش آنے پر قرآن کا نازل ہونا بر محل ہے اور بہت زیادہ ثبات کا باعث ہے اور اس سے زیادہ فائدہ مند ہے کہ اس واقعہ سے پہلے نازل ہوا ہو اور اس سبب کے وقوع پر یاد آئے۔ ﴿ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا﴾ ’’ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر ہی پڑھ سنایا ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اسے آہستہ آہستہ بتدریج نازل کیا۔ یہ تمام آیات کریمہ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اعتناء پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو رسول ﷺ کے احوال اور آپ کے دینی مصالح کے مطابق نازل فرمایا۔
[33] اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ ﴾ ’’اور یہ لوگ کوئی بھی ایسی مثال آپ کے سامنے پیش نہیں کریں گے۔‘‘ جس سے وہ حق کے ساتھ معارضہ (مقابلہ) کریں اور آپ کی رسالت کا انکار کریں ۔ ﴿ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا ﴾ ’’مگر ہم اس کا سچا جواب اور عمدہ توجیہ آپ کو بتا دیں گے۔‘‘ یعنی ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا جو اپنے معانی میں جامع، اپنے الفاظ میں واضح اور بیان کامل کا حامل ہے۔ اس کے تمام معانی حق اور صداقت پر مبنی ہیں جس میں کسی بھی پہلو سے باطل کا کوئی شائبہ نہیں ، تمام اشیاء کے بارے میں اس کے الفاظ اور حدود انتہائی واضح، مفصل اور معانی کو کامل طور پر بیان کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ علم میں بحث کرنے والے محدث، معلم یا واعظ کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنے رب کی تدبیر کی پیروی کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے احوال کے مطابق تدبیر فرمائی اسی طرح اس عالم کو چاہیے کو وہ مخلوق کے معاملے کی اسی طرح تدبیر کرے جب بھی کوئی ایسا موجب اور موقع پیش آئے تو موقع کی مناسبت سے لوگوں میں آیات قرآنی، احادیث نبوی اور مواعظ بیان کرے۔نیز ان آیات کریمہ میں جہمیہ کا رد ہے جو قرآن کریم کی تفسیر میں تکلف سے کام لیتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی بہت سے نصوص کو ان کے ظاہری معنوں پر محمول نہیں کیا جائے گا، ان کے اصل معانی ان معانی سے مختلف ہیں جو ظاہر میں سمجھ میں آئے ہیں تب اگر ان کی اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو قرآن کی یہ تفسیر ’’احسن تفسیر‘‘ نہیں ہو گی ان کے زعم باطل کے مطابق، احسن تفسیر تو وہ ہے، جس کے لیے وہ معانی میں تحریف کرتے ہیں ۔
25:34ٱلَّذِينَ يُحۡشَرُونَ عَلَىٰ وُجُوهِهِمۡ إِلَىٰ جَهَنَّمَ أُوْلَـٰٓئِكَ شَرّٞ مَّكَانٗا وَأَضَلُّ سَبِيلٗا
وہ لوگ کہ اکٹھے کیے جائیں گے وہ اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف، یہ لوگ بدترین ہیں باعتبار مکان کےاور سب سے زیادہ بہکے ہوئے ہیں باعتبار راہ کے (34)
[34] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے احوال اور ان کے انجام کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿يُحۡشَرُوۡنَ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ ﴾ ’’وہ منہ کے بل جمع کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو جمع كيے جانے کا منظر بدترین منظر ہو گا۔ عذاب کے فرشتے انھیں (چہروں کے بل) گھسیٹ رہے ہوں گے ﴿ اِلٰى جَهَنَّمَ﴾ ’’جہنم کی طرف۔‘‘ جس میں ہر قسم کا بدترین عذاب اور عقاب جمع ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی جن کا حال یہ ہے ﴿ شَرٌّ مَّكَانًا ﴾ ان کی جگہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والوں کی جگہ کی نسبت سے بدترین جگہ ہے۔ ﴿ وَّاَضَلُّ سَبِيۡلًا ﴾ ’’اور بہت زیادہ گمراہ راستے والے ہیں ۔‘‘ یہ اسلوب بیان اسم تفضیل کے اس باب میں سے ہے جس کے بالمقابل دوسرا پہلو موجود نہیں ہوتا۔ پس اہل ایمان کی جگہ بہترین ٹھکانا ہو گی۔ اس دنیا میں ان کو راہ راست کی طرف راہنمائی عطا کی جاتی ہے اور آخرت میں انھیں نعمت والے باغوں میں داخل کیا جائے گا۔
25:35وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ وَجَعَلۡنَا مَعَهُۥٓ أَخَاهُ هَٰرُونَ وَزِيرٗا
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا تھا ہم نے اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو مدد گار (35) پس کہا ہم نے ، جاؤ تم دونوں اس قوم کی طرف، جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، پس ہلاک کر دیا ہم نے انھیں (بالکل ہی) ہلاک کرنا (36)اور قوم نوح کو (بھی) جب جھٹلایا انھوں نے رسولوں کو، غرق کر دیا ہم نے ان کواور بنا دیا ہم نے انھیں لوگوں کے لیے (عبرت کا) نشان اور تیار کیا ہے ہم نے ظالموں کے لیے عذاب بہت درد ناک(37) اور (ہلاک کر دیا ہم نے) قوم عاد اورثموداور کنویں والوں کو اور (دیگر) قوموں کو درمیان ان کے بہت سی (38) اور ہر ایک، بیان کیں ہم نے اس کے لیے مثالیں اور سب کو ملیامیٹ کر دیا ہم نے تباہ و برباد کر کے (39)اور البتہ تحقیق وہ آئے (گزرے) ہیں اوپر اس بستی کے کہ جس پر برسائی گئی بارش بری کیا پس نہیں تھے وہ، کہ دیکھتے وہ اس (بستی) کو؟بلکہ تھے وہ نہیں امید رکھتے دوبارہ (جی) اٹھنے کی (40)
[40-35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں ۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں ، مثلاً: حجر کے علاقے میں صالح u کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا ہے۔ وہ قومیں ان سے کوئی زیادہ بری نہیں تھیں اور نہ ان کے رسول ان لوگوں کے رسول (ﷺ)سے بہتر تھے۔ ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾(القمر:54؍43) ’’کیا تمھارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمھارے لیے پہلی کتابوں میں براء ت نامہ تحریر کر دیا گیا ہے۔‘‘ جس چیز نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے، حالانکہ وہ نشانیوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں ، وہ یہ ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی امید نہیں رکھتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کی امید رکھتے ہیں نہ اس کی سزا سے ڈرتے ہیں ۔ اسی لیے وہ اپنے عناد پر جمے ہوئے ہیں ورنہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں آئی ہیں جنھوں نے کوئی شک و شبہ اور کوئی اشکال وریب باقی نہیں رہنے دیا۔
25:36فَقُلۡنَا ٱذۡهَبَآ إِلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا فَدَمَّرۡنَٰهُمۡ تَدۡمِيرٗا
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا تھا ہم نے اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو مدد گار (35) پس کہا ہم نے ، جاؤ تم دونوں اس قوم کی طرف، جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، پس ہلاک کر دیا ہم نے انھیں (بالکل ہی) ہلاک کرنا (36)اور قوم نوح کو (بھی) جب جھٹلایا انھوں نے رسولوں کو، غرق کر دیا ہم نے ان کواور بنا دیا ہم نے انھیں لوگوں کے لیے (عبرت کا) نشان اور تیار کیا ہے ہم نے ظالموں کے لیے عذاب بہت درد ناک(37) اور (ہلاک کر دیا ہم نے) قوم عاد اورثموداور کنویں والوں کو اور (دیگر) قوموں کو درمیان ان کے بہت سی (38) اور ہر ایک، بیان کیں ہم نے اس کے لیے مثالیں اور سب کو ملیامیٹ کر دیا ہم نے تباہ و برباد کر کے (39)اور البتہ تحقیق وہ آئے (گزرے) ہیں اوپر اس بستی کے کہ جس پر برسائی گئی بارش بری کیا پس نہیں تھے وہ، کہ دیکھتے وہ اس (بستی) کو؟بلکہ تھے وہ نہیں امید رکھتے دوبارہ (جی) اٹھنے کی (40)
[40-35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں ۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں ، مثلاً: حجر کے علاقے میں صالح u کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا ہے۔ وہ قومیں ان سے کوئی زیادہ بری نہیں تھیں اور نہ ان کے رسول ان لوگوں کے رسول (ﷺ)سے بہتر تھے۔ ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾(القمر:54؍43) ’’کیا تمھارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمھارے لیے پہلی کتابوں میں براء ت نامہ تحریر کر دیا گیا ہے۔‘‘ جس چیز نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے، حالانکہ وہ نشانیوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں ، وہ یہ ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی امید نہیں رکھتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کی امید رکھتے ہیں نہ اس کی سزا سے ڈرتے ہیں ۔ اسی لیے وہ اپنے عناد پر جمے ہوئے ہیں ورنہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں آئی ہیں جنھوں نے کوئی شک و شبہ اور کوئی اشکال وریب باقی نہیں رہنے دیا۔
25:37وَقَوۡمَ نُوحٖ لَّمَّا كَذَّبُواْ ٱلرُّسُلَ أَغۡرَقۡنَٰهُمۡ وَجَعَلۡنَٰهُمۡ لِلنَّاسِ ءَايَةٗۖ وَأَعۡتَدۡنَا لِلظَّـٰلِمِينَ عَذَابًا أَلِيمٗا
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا تھا ہم نے اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو مدد گار (35) پس کہا ہم نے ، جاؤ تم دونوں اس قوم کی طرف، جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، پس ہلاک کر دیا ہم نے انھیں (بالکل ہی) ہلاک کرنا (36)اور قوم نوح کو (بھی) جب جھٹلایا انھوں نے رسولوں کو، غرق کر دیا ہم نے ان کواور بنا دیا ہم نے انھیں لوگوں کے لیے (عبرت کا) نشان اور تیار کیا ہے ہم نے ظالموں کے لیے عذاب بہت درد ناک(37) اور (ہلاک کر دیا ہم نے) قوم عاد اورثموداور کنویں والوں کو اور (دیگر) قوموں کو درمیان ان کے بہت سی (38) اور ہر ایک، بیان کیں ہم نے اس کے لیے مثالیں اور سب کو ملیامیٹ کر دیا ہم نے تباہ و برباد کر کے (39)اور البتہ تحقیق وہ آئے (گزرے) ہیں اوپر اس بستی کے کہ جس پر برسائی گئی بارش بری کیا پس نہیں تھے وہ، کہ دیکھتے وہ اس (بستی) کو؟بلکہ تھے وہ نہیں امید رکھتے دوبارہ (جی) اٹھنے کی (40)
[40-35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں ۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں ، مثلاً: حجر کے علاقے میں صالح u کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا ہے۔ وہ قومیں ان سے کوئی زیادہ بری نہیں تھیں اور نہ ان کے رسول ان لوگوں کے رسول (ﷺ)سے بہتر تھے۔ ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾(القمر:54؍43) ’’کیا تمھارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمھارے لیے پہلی کتابوں میں براء ت نامہ تحریر کر دیا گیا ہے۔‘‘ جس چیز نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے، حالانکہ وہ نشانیوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں ، وہ یہ ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی امید نہیں رکھتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کی امید رکھتے ہیں نہ اس کی سزا سے ڈرتے ہیں ۔ اسی لیے وہ اپنے عناد پر جمے ہوئے ہیں ورنہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں آئی ہیں جنھوں نے کوئی شک و شبہ اور کوئی اشکال وریب باقی نہیں رہنے دیا۔
25:38وَعَادٗا وَثَمُودَاْ وَأَصۡحَٰبَ ٱلرَّسِّ وَقُرُونَۢا بَيۡنَ ذَٰلِكَ كَثِيرٗا
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا تھا ہم نے اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو مدد گار (35) پس کہا ہم نے ، جاؤ تم دونوں اس قوم کی طرف، جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، پس ہلاک کر دیا ہم نے انھیں (بالکل ہی) ہلاک کرنا (36)اور قوم نوح کو (بھی) جب جھٹلایا انھوں نے رسولوں کو، غرق کر دیا ہم نے ان کواور بنا دیا ہم نے انھیں لوگوں کے لیے (عبرت کا) نشان اور تیار کیا ہے ہم نے ظالموں کے لیے عذاب بہت درد ناک(37) اور (ہلاک کر دیا ہم نے) قوم عاد اورثموداور کنویں والوں کو اور (دیگر) قوموں کو درمیان ان کے بہت سی (38) اور ہر ایک، بیان کیں ہم نے اس کے لیے مثالیں اور سب کو ملیامیٹ کر دیا ہم نے تباہ و برباد کر کے (39)اور البتہ تحقیق وہ آئے (گزرے) ہیں اوپر اس بستی کے کہ جس پر برسائی گئی بارش بری کیا پس نہیں تھے وہ، کہ دیکھتے وہ اس (بستی) کو؟بلکہ تھے وہ نہیں امید رکھتے دوبارہ (جی) اٹھنے کی (40)
[40-35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں ۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں ، مثلاً: حجر کے علاقے میں صالح u کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا ہے۔ وہ قومیں ان سے کوئی زیادہ بری نہیں تھیں اور نہ ان کے رسول ان لوگوں کے رسول (ﷺ)سے بہتر تھے۔ ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾(القمر:54؍43) ’’کیا تمھارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمھارے لیے پہلی کتابوں میں براء ت نامہ تحریر کر دیا گیا ہے۔‘‘ جس چیز نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے، حالانکہ وہ نشانیوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں ، وہ یہ ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی امید نہیں رکھتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کی امید رکھتے ہیں نہ اس کی سزا سے ڈرتے ہیں ۔ اسی لیے وہ اپنے عناد پر جمے ہوئے ہیں ورنہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں آئی ہیں جنھوں نے کوئی شک و شبہ اور کوئی اشکال وریب باقی نہیں رہنے دیا۔
25:39وَكُلّٗا ضَرَبۡنَا لَهُ ٱلۡأَمۡثَٰلَۖ وَكُلّٗا تَبَّرۡنَا تَتۡبِيرٗا
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا تھا ہم نے اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو مدد گار (35) پس کہا ہم نے ، جاؤ تم دونوں اس قوم کی طرف، جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، پس ہلاک کر دیا ہم نے انھیں (بالکل ہی) ہلاک کرنا (36)اور قوم نوح کو (بھی) جب جھٹلایا انھوں نے رسولوں کو، غرق کر دیا ہم نے ان کواور بنا دیا ہم نے انھیں لوگوں کے لیے (عبرت کا) نشان اور تیار کیا ہے ہم نے ظالموں کے لیے عذاب بہت درد ناک(37) اور (ہلاک کر دیا ہم نے) قوم عاد اورثموداور کنویں والوں کو اور (دیگر) قوموں کو درمیان ان کے بہت سی (38) اور ہر ایک، بیان کیں ہم نے اس کے لیے مثالیں اور سب کو ملیامیٹ کر دیا ہم نے تباہ و برباد کر کے (39)اور البتہ تحقیق وہ آئے (گزرے) ہیں اوپر اس بستی کے کہ جس پر برسائی گئی بارش بری کیا پس نہیں تھے وہ، کہ دیکھتے وہ اس (بستی) کو؟بلکہ تھے وہ نہیں امید رکھتے دوبارہ (جی) اٹھنے کی (40)
[40-35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں ۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں ، مثلاً: حجر کے علاقے میں صالح u کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا ہے۔ وہ قومیں ان سے کوئی زیادہ بری نہیں تھیں اور نہ ان کے رسول ان لوگوں کے رسول (ﷺ)سے بہتر تھے۔ ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾(القمر:54؍43) ’’کیا تمھارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمھارے لیے پہلی کتابوں میں براء ت نامہ تحریر کر دیا گیا ہے۔‘‘ جس چیز نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے، حالانکہ وہ نشانیوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں ، وہ یہ ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی امید نہیں رکھتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کی امید رکھتے ہیں نہ اس کی سزا سے ڈرتے ہیں ۔ اسی لیے وہ اپنے عناد پر جمے ہوئے ہیں ورنہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں آئی ہیں جنھوں نے کوئی شک و شبہ اور کوئی اشکال وریب باقی نہیں رہنے دیا۔
25:40وَلَقَدۡ أَتَوۡاْ عَلَى ٱلۡقَرۡيَةِ ٱلَّتِيٓ أُمۡطِرَتۡ مَطَرَ ٱلسَّوۡءِۚ أَفَلَمۡ يَكُونُواْ يَرَوۡنَهَاۚ بَلۡ كَانُواْ لَا يَرۡجُونَ نُشُورٗا
اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا تھا ہم نے اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو مدد گار (35) پس کہا ہم نے ، جاؤ تم دونوں اس قوم کی طرف، جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، پس ہلاک کر دیا ہم نے انھیں (بالکل ہی) ہلاک کرنا (36)اور قوم نوح کو (بھی) جب جھٹلایا انھوں نے رسولوں کو، غرق کر دیا ہم نے ان کواور بنا دیا ہم نے انھیں لوگوں کے لیے (عبرت کا) نشان اور تیار کیا ہے ہم نے ظالموں کے لیے عذاب بہت درد ناک(37) اور (ہلاک کر دیا ہم نے) قوم عاد اورثموداور کنویں والوں کو اور (دیگر) قوموں کو درمیان ان کے بہت سی (38) اور ہر ایک، بیان کیں ہم نے اس کے لیے مثالیں اور سب کو ملیامیٹ کر دیا ہم نے تباہ و برباد کر کے (39)اور البتہ تحقیق وہ آئے (گزرے) ہیں اوپر اس بستی کے کہ جس پر برسائی گئی بارش بری کیا پس نہیں تھے وہ، کہ دیکھتے وہ اس (بستی) کو؟بلکہ تھے وہ نہیں امید رکھتے دوبارہ (جی) اٹھنے کی (40)
[40-35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں ۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں ، مثلاً: حجر کے علاقے میں صالح u کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا ہے۔ وہ قومیں ان سے کوئی زیادہ بری نہیں تھیں اور نہ ان کے رسول ان لوگوں کے رسول (ﷺ)سے بہتر تھے۔ ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾(القمر:54؍43) ’’کیا تمھارے کفار ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمھارے لیے پہلی کتابوں میں براء ت نامہ تحریر کر دیا گیا ہے۔‘‘ جس چیز نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے، حالانکہ وہ نشانیوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں ، وہ یہ ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی امید نہیں رکھتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کی امید رکھتے ہیں نہ اس کی سزا سے ڈرتے ہیں ۔ اسی لیے وہ اپنے عناد پر جمے ہوئے ہیں ورنہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں آئی ہیں جنھوں نے کوئی شک و شبہ اور کوئی اشکال وریب باقی نہیں رہنے دیا۔
25:41وَإِذَا رَأَوۡكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَٰذَا ٱلَّذِي بَعَثَ ٱللَّهُ رَسُولًا
اور جب وہ دیکھتے ہیں آپ کو تو نہیں پکڑتے وہ آپ کو مگر ٹھٹھا مذاق (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جسے بھیجا ہے اللہ نے رسول (بنا کر)؟ (41) تحقیق قریب تھا وہ کہ گمراہ کر دیتا ہمیں ہمارے معبودوں سے، اگر نہ ہوتی یہ بات کہ جمے رہے ہم ان پر اور عنقریب جان لیں گے وہ، جب وہ دیکھیں گے عذاب، کہ کون زیادہ گمراہ تھا راستے سے؟ (42) کیا آپ نے دیکھا اس شخص کو کہ بنا لیا اس نے اپنا معبود اپنی خواہش کو؟ کیا پس آپ ہیں اس کے ذمے دار؟ (43) یا گمان کرتے ہیں آپ کہ بے شک اکثر ان کے سنتے یاسمجھتے ہیں ؟ نہیں ہیں وہ مگر چوپایوں ہی کی طرح بلکہ وہ زیادہ گمراہ ہیں باعتبار راستے کے (44)
[41] اے محمد! (ﷺ) آپ کی تکذیب کرنے والے، اللہ تعالیٰ کی آیات سے عناد رکھنے والے اور زمین پر تکبر سے چلنے والے جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے استہزاء کرتے ہیں اور آپ کی تحقیر کرتے ہیں ، آپ کو معمولی سمجھتے ہوئے حقارت آمیز لہجے میں کہتے ہیں :﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوۡلًا ﴾ ’’کیا یہی وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟‘‘ یعنی یہ مناسب اور لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسول بناتا۔ یہ سب کچھ ان کے شدت ظلم، ان کے عناد اور حقائق بدلنے کے سبب تھا کیونکہ ان کے اس کلام سے یہ ذہن میں آتا ہے کہ (معاذ اللہ) رسول (ﷺ)انتہائی خسیس اور حقیر شخص تھے اور اگر رسالت کا منصب کسی اور شخص کو عطا کیا گیا ہوتا تو زیادہ مناسب تھا۔ ﴿ وَقَالُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡيَتَيۡنِ عَظِيۡمٍ ﴾(الزخرف:43؍31) ’’وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں شہروں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اتارا گیا۔‘‘ پس یہ کلام کسی جاہل ترین اور گمراہ ترین شخص ہی سے صادر ہو سکتا ہے یا کسی ایسے شخص سے صادر ہو سکتا ہے جو بڑا عناد پسند اور جانتے بوجھتے جاہل ہو۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اپنے نظریات کو رائج کرے اور حق اور حق پیش کرنے والے میں جرح و قدح کرے، ورنہ اگر کوئی شخص، رسول مصطفیٰ محمد بن عبداللہ ﷺ کے احوال پر غور کرے تو وہ آپ کو عقل، علم، ذہانت، وقار، مکارم اخلاق، محاسن عادات، عفت، شجاعت اور تمام اخلاق فاضلہ میں دنیا کا سب سے بڑا شخص، ان کا سردار اور ان کا قائد پائے گا۔ آپ کو حقیر جاننے اور آپ کے ساتھ دشمنی رکھنے والے شخص میں حماقت، جہالت، گمراہی، تناقض، ظلم اور تعدی جمع ہیں جو کسی اور شخص میں جمع نہیں ۔ اس کی جہالت اور گمراہی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس عظیم رسول اور بہترین قائد میں جرح و قدح کرتا ہے۔ اس جرح و قدح سے اس کا مقصد آپ کا تمسخر اڑانا، اپنے باطل نظریات پر ڈٹے رہنا اور ضعیف العقل لوگوں کو فریب دینا ہے۔
[42] اس لیے انھوں نے کہا: ﴿ اِنۡ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنۡ اٰلِهَتِنَا ﴾ ’’یقینا یہ تو ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکا چلا تھا۔‘‘ کیونکہ یہ سب معبودوں کو ختم کر کے ایک ہی معبود قرار دیتا ہے۔ ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ صَبَرۡنَا عَلَيۡهَا ﴾ ’’اگر ہم ان معبودوں کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے‘‘ تو اس نے ہمیں گمراہ کر دیا ہوتا۔ وہ سمجھتے تھے… اللہ ان کا برا کرے… کہ توحید گمراہی ہے اوران کے شرکیہ عقائد ہی سراسر ہدایت ہیں ، لہٰذا وہ اپنے ان عقائد پر ثابت قدم رہنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرتے تھے۔ ﴿ وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ﴾(صٓ:38؍6) ’’اور سرداران قوم یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ چلو اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہو۔‘‘ یہاں ان مشرکین نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ صَبَرۡنَا عَلَيۡهَا ﴾ اور صبر سوائے اس مقام کے ہر مقام پر قابل تعریف ہے کیونکہ یہ اسباب غضب اور جہنم کا ایندھن بننے پر صبر کرنا ہے۔ رہے اہل ایمان تو ان کے رویے کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَتَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ١ۙ۬ وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ﴾(العصر:103؍3) ’’وہ ایک دوسرے کو حق کی تلقین اور ایک دوسرے کو صبر کی تاکید کرتے ہیں ۔‘‘ چونکہ ان کا فیصلہ تھا کہ وہ راہ راست پر گامزن ہیں اور رسول گمراہ ہے حالانکہ یہ بات متحقق ہے کہ ان کے پاس تصرف کی قدرت اور کوئی اختیار نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے آگاہ فرمایا: ﴿حِيۡنَ يَرَوۡنَ الۡعَذَابَ﴾ ’’کہ جب وہ عذاب کو دیکھیں گے‘‘ تب انھیں اس حقیقت کا علم ہو گا کہ ﴿ مَنۡ اَضَلُّ سَبِيۡلًا﴾ ’’راہ راست سے کون زیادہ بھٹکا ہوا ہے؟‘‘ ﴿ وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27) ’’اور اس روز ظالم اپنا ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔‘‘
[43] کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی گمراہی ہے کہ انسان اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لے اور جو جی چاہے کرتا رہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ اَرَءَيۡتَ مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ﴾ ’’کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا۔‘‘ کیا آپ کو اس کے حال پر تعجب نہیں ، کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ وہ کس گمراہی میں مبتلا ہے اور حال یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بلند منازل کا مستحق سمجھتا ہے؟ ﴿ اَفَاَنۡتَ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’کیا آپ اس پر وکیل ہوں گے؟‘‘ یعنی آپ کو اس پر نگران مقرر نہیں کیا آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں ۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
[44] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حد کو پہنچی ہوئی گمراہی پر یہ فیصلہ کیا کہ ان کی عقل اور سماعت کو سلب کر لیا اور گمراہی میں ان کو مویشیوں سے تشبیہ دی جو آواز اور پکار کے سوا کچھ نہیں سنتے وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں اس لیے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا، بلکہ یہ تو چوپایوں سے بھی زیادہ گمراہ ہیں ۔ کیونکہ مویشیوں کو جب ان کا چرواہا راہ دکھاتا ہے تو وہ اس راہ پر چل پڑتے ہیں وہ ہلاکت کی راہوں کو پہچانتے ہیں اس لیے ان سے بچتے ہیں ۔ ان چوپایوں کی عاقبت ان گمراہوں کی نسبت زیادہ محفوظ ہے۔پس اس سے واضح ہو گیا کہ رسول (ﷺ)پر گمراہی کا الزام لگانے والا خود اس وصف کا زیادہ مستحق ہے اور جانور بھی اس سے زیادہ راہ راست پر ہیں ۔
25:42إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنۡ ءَالِهَتِنَا لَوۡلَآ أَن صَبَرۡنَا عَلَيۡهَاۚ وَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ حِينَ يَرَوۡنَ ٱلۡعَذَابَ مَنۡ أَضَلُّ سَبِيلًا
اور جب وہ دیکھتے ہیں آپ کو تو نہیں پکڑتے وہ آپ کو مگر ٹھٹھا مذاق (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جسے بھیجا ہے اللہ نے رسول (بنا کر)؟ (41) تحقیق قریب تھا وہ کہ گمراہ کر دیتا ہمیں ہمارے معبودوں سے، اگر نہ ہوتی یہ بات کہ جمے رہے ہم ان پر اور عنقریب جان لیں گے وہ، جب وہ دیکھیں گے عذاب، کہ کون زیادہ گمراہ تھا راستے سے؟ (42) کیا آپ نے دیکھا اس شخص کو کہ بنا لیا اس نے اپنا معبود اپنی خواہش کو؟ کیا پس آپ ہیں اس کے ذمے دار؟ (43) یا گمان کرتے ہیں آپ کہ بے شک اکثر ان کے سنتے یاسمجھتے ہیں ؟ نہیں ہیں وہ مگر چوپایوں ہی کی طرح بلکہ وہ زیادہ گمراہ ہیں باعتبار راستے کے (44)
[41] اے محمد! (ﷺ) آپ کی تکذیب کرنے والے، اللہ تعالیٰ کی آیات سے عناد رکھنے والے اور زمین پر تکبر سے چلنے والے جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے استہزاء کرتے ہیں اور آپ کی تحقیر کرتے ہیں ، آپ کو معمولی سمجھتے ہوئے حقارت آمیز لہجے میں کہتے ہیں :﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوۡلًا ﴾ ’’کیا یہی وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟‘‘ یعنی یہ مناسب اور لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسول بناتا۔ یہ سب کچھ ان کے شدت ظلم، ان کے عناد اور حقائق بدلنے کے سبب تھا کیونکہ ان کے اس کلام سے یہ ذہن میں آتا ہے کہ (معاذ اللہ) رسول (ﷺ)انتہائی خسیس اور حقیر شخص تھے اور اگر رسالت کا منصب کسی اور شخص کو عطا کیا گیا ہوتا تو زیادہ مناسب تھا۔ ﴿ وَقَالُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡيَتَيۡنِ عَظِيۡمٍ ﴾(الزخرف:43؍31) ’’وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں شہروں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اتارا گیا۔‘‘ پس یہ کلام کسی جاہل ترین اور گمراہ ترین شخص ہی سے صادر ہو سکتا ہے یا کسی ایسے شخص سے صادر ہو سکتا ہے جو بڑا عناد پسند اور جانتے بوجھتے جاہل ہو۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اپنے نظریات کو رائج کرے اور حق اور حق پیش کرنے والے میں جرح و قدح کرے، ورنہ اگر کوئی شخص، رسول مصطفیٰ محمد بن عبداللہ ﷺ کے احوال پر غور کرے تو وہ آپ کو عقل، علم، ذہانت، وقار، مکارم اخلاق، محاسن عادات، عفت، شجاعت اور تمام اخلاق فاضلہ میں دنیا کا سب سے بڑا شخص، ان کا سردار اور ان کا قائد پائے گا۔ آپ کو حقیر جاننے اور آپ کے ساتھ دشمنی رکھنے والے شخص میں حماقت، جہالت، گمراہی، تناقض، ظلم اور تعدی جمع ہیں جو کسی اور شخص میں جمع نہیں ۔ اس کی جہالت اور گمراہی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس عظیم رسول اور بہترین قائد میں جرح و قدح کرتا ہے۔ اس جرح و قدح سے اس کا مقصد آپ کا تمسخر اڑانا، اپنے باطل نظریات پر ڈٹے رہنا اور ضعیف العقل لوگوں کو فریب دینا ہے۔
[42] اس لیے انھوں نے کہا: ﴿ اِنۡ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنۡ اٰلِهَتِنَا ﴾ ’’یقینا یہ تو ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکا چلا تھا۔‘‘ کیونکہ یہ سب معبودوں کو ختم کر کے ایک ہی معبود قرار دیتا ہے۔ ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ صَبَرۡنَا عَلَيۡهَا ﴾ ’’اگر ہم ان معبودوں کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے‘‘ تو اس نے ہمیں گمراہ کر دیا ہوتا۔ وہ سمجھتے تھے… اللہ ان کا برا کرے… کہ توحید گمراہی ہے اوران کے شرکیہ عقائد ہی سراسر ہدایت ہیں ، لہٰذا وہ اپنے ان عقائد پر ثابت قدم رہنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرتے تھے۔ ﴿ وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ﴾(صٓ:38؍6) ’’اور سرداران قوم یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ چلو اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہو۔‘‘ یہاں ان مشرکین نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ صَبَرۡنَا عَلَيۡهَا ﴾ اور صبر سوائے اس مقام کے ہر مقام پر قابل تعریف ہے کیونکہ یہ اسباب غضب اور جہنم کا ایندھن بننے پر صبر کرنا ہے۔ رہے اہل ایمان تو ان کے رویے کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَتَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ١ۙ۬ وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ﴾(العصر:103؍3) ’’وہ ایک دوسرے کو حق کی تلقین اور ایک دوسرے کو صبر کی تاکید کرتے ہیں ۔‘‘ چونکہ ان کا فیصلہ تھا کہ وہ راہ راست پر گامزن ہیں اور رسول گمراہ ہے حالانکہ یہ بات متحقق ہے کہ ان کے پاس تصرف کی قدرت اور کوئی اختیار نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے آگاہ فرمایا: ﴿حِيۡنَ يَرَوۡنَ الۡعَذَابَ﴾ ’’کہ جب وہ عذاب کو دیکھیں گے‘‘ تب انھیں اس حقیقت کا علم ہو گا کہ ﴿ مَنۡ اَضَلُّ سَبِيۡلًا﴾ ’’راہ راست سے کون زیادہ بھٹکا ہوا ہے؟‘‘ ﴿ وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27) ’’اور اس روز ظالم اپنا ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔‘‘
[43] کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی گمراہی ہے کہ انسان اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لے اور جو جی چاہے کرتا رہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ اَرَءَيۡتَ مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ﴾ ’’کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا۔‘‘ کیا آپ کو اس کے حال پر تعجب نہیں ، کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ وہ کس گمراہی میں مبتلا ہے اور حال یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بلند منازل کا مستحق سمجھتا ہے؟ ﴿ اَفَاَنۡتَ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’کیا آپ اس پر وکیل ہوں گے؟‘‘ یعنی آپ کو اس پر نگران مقرر نہیں کیا آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں ۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
[44] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حد کو پہنچی ہوئی گمراہی پر یہ فیصلہ کیا کہ ان کی عقل اور سماعت کو سلب کر لیا اور گمراہی میں ان کو مویشیوں سے تشبیہ دی جو آواز اور پکار کے سوا کچھ نہیں سنتے وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں اس لیے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا، بلکہ یہ تو چوپایوں سے بھی زیادہ گمراہ ہیں ۔ کیونکہ مویشیوں کو جب ان کا چرواہا راہ دکھاتا ہے تو وہ اس راہ پر چل پڑتے ہیں وہ ہلاکت کی راہوں کو پہچانتے ہیں اس لیے ان سے بچتے ہیں ۔ ان چوپایوں کی عاقبت ان گمراہوں کی نسبت زیادہ محفوظ ہے۔پس اس سے واضح ہو گیا کہ رسول (ﷺ)پر گمراہی کا الزام لگانے والا خود اس وصف کا زیادہ مستحق ہے اور جانور بھی اس سے زیادہ راہ راست پر ہیں ۔
25:43أَرَءَيۡتَ مَنِ ٱتَّخَذَ إِلَٰهَهُۥ هَوَىٰهُ أَفَأَنتَ تَكُونُ عَلَيۡهِ وَكِيلًا
اور جب وہ دیکھتے ہیں آپ کو تو نہیں پکڑتے وہ آپ کو مگر ٹھٹھا مذاق (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جسے بھیجا ہے اللہ نے رسول (بنا کر)؟ (41) تحقیق قریب تھا وہ کہ گمراہ کر دیتا ہمیں ہمارے معبودوں سے، اگر نہ ہوتی یہ بات کہ جمے رہے ہم ان پر اور عنقریب جان لیں گے وہ، جب وہ دیکھیں گے عذاب، کہ کون زیادہ گمراہ تھا راستے سے؟ (42) کیا آپ نے دیکھا اس شخص کو کہ بنا لیا اس نے اپنا معبود اپنی خواہش کو؟ کیا پس آپ ہیں اس کے ذمے دار؟ (43) یا گمان کرتے ہیں آپ کہ بے شک اکثر ان کے سنتے یاسمجھتے ہیں ؟ نہیں ہیں وہ مگر چوپایوں ہی کی طرح بلکہ وہ زیادہ گمراہ ہیں باعتبار راستے کے (44)
[41] اے محمد! (ﷺ) آپ کی تکذیب کرنے والے، اللہ تعالیٰ کی آیات سے عناد رکھنے والے اور زمین پر تکبر سے چلنے والے جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے استہزاء کرتے ہیں اور آپ کی تحقیر کرتے ہیں ، آپ کو معمولی سمجھتے ہوئے حقارت آمیز لہجے میں کہتے ہیں :﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوۡلًا ﴾ ’’کیا یہی وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟‘‘ یعنی یہ مناسب اور لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسول بناتا۔ یہ سب کچھ ان کے شدت ظلم، ان کے عناد اور حقائق بدلنے کے سبب تھا کیونکہ ان کے اس کلام سے یہ ذہن میں آتا ہے کہ (معاذ اللہ) رسول (ﷺ)انتہائی خسیس اور حقیر شخص تھے اور اگر رسالت کا منصب کسی اور شخص کو عطا کیا گیا ہوتا تو زیادہ مناسب تھا۔ ﴿ وَقَالُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡيَتَيۡنِ عَظِيۡمٍ ﴾(الزخرف:43؍31) ’’وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں شہروں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اتارا گیا۔‘‘ پس یہ کلام کسی جاہل ترین اور گمراہ ترین شخص ہی سے صادر ہو سکتا ہے یا کسی ایسے شخص سے صادر ہو سکتا ہے جو بڑا عناد پسند اور جانتے بوجھتے جاہل ہو۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اپنے نظریات کو رائج کرے اور حق اور حق پیش کرنے والے میں جرح و قدح کرے، ورنہ اگر کوئی شخص، رسول مصطفیٰ محمد بن عبداللہ ﷺ کے احوال پر غور کرے تو وہ آپ کو عقل، علم، ذہانت، وقار، مکارم اخلاق، محاسن عادات، عفت، شجاعت اور تمام اخلاق فاضلہ میں دنیا کا سب سے بڑا شخص، ان کا سردار اور ان کا قائد پائے گا۔ آپ کو حقیر جاننے اور آپ کے ساتھ دشمنی رکھنے والے شخص میں حماقت، جہالت، گمراہی، تناقض، ظلم اور تعدی جمع ہیں جو کسی اور شخص میں جمع نہیں ۔ اس کی جہالت اور گمراہی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس عظیم رسول اور بہترین قائد میں جرح و قدح کرتا ہے۔ اس جرح و قدح سے اس کا مقصد آپ کا تمسخر اڑانا، اپنے باطل نظریات پر ڈٹے رہنا اور ضعیف العقل لوگوں کو فریب دینا ہے۔
[42] اس لیے انھوں نے کہا: ﴿ اِنۡ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنۡ اٰلِهَتِنَا ﴾ ’’یقینا یہ تو ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکا چلا تھا۔‘‘ کیونکہ یہ سب معبودوں کو ختم کر کے ایک ہی معبود قرار دیتا ہے۔ ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ صَبَرۡنَا عَلَيۡهَا ﴾ ’’اگر ہم ان معبودوں کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے‘‘ تو اس نے ہمیں گمراہ کر دیا ہوتا۔ وہ سمجھتے تھے… اللہ ان کا برا کرے… کہ توحید گمراہی ہے اوران کے شرکیہ عقائد ہی سراسر ہدایت ہیں ، لہٰذا وہ اپنے ان عقائد پر ثابت قدم رہنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرتے تھے۔ ﴿ وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ﴾(صٓ:38؍6) ’’اور سرداران قوم یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ چلو اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہو۔‘‘ یہاں ان مشرکین نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ صَبَرۡنَا عَلَيۡهَا ﴾ اور صبر سوائے اس مقام کے ہر مقام پر قابل تعریف ہے کیونکہ یہ اسباب غضب اور جہنم کا ایندھن بننے پر صبر کرنا ہے۔ رہے اہل ایمان تو ان کے رویے کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَتَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ١ۙ۬ وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ﴾(العصر:103؍3) ’’وہ ایک دوسرے کو حق کی تلقین اور ایک دوسرے کو صبر کی تاکید کرتے ہیں ۔‘‘ چونکہ ان کا فیصلہ تھا کہ وہ راہ راست پر گامزن ہیں اور رسول گمراہ ہے حالانکہ یہ بات متحقق ہے کہ ان کے پاس تصرف کی قدرت اور کوئی اختیار نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے آگاہ فرمایا: ﴿حِيۡنَ يَرَوۡنَ الۡعَذَابَ﴾ ’’کہ جب وہ عذاب کو دیکھیں گے‘‘ تب انھیں اس حقیقت کا علم ہو گا کہ ﴿ مَنۡ اَضَلُّ سَبِيۡلًا﴾ ’’راہ راست سے کون زیادہ بھٹکا ہوا ہے؟‘‘ ﴿ وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27) ’’اور اس روز ظالم اپنا ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔‘‘
[43] کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی گمراہی ہے کہ انسان اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لے اور جو جی چاہے کرتا رہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ اَرَءَيۡتَ مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ﴾ ’’کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا۔‘‘ کیا آپ کو اس کے حال پر تعجب نہیں ، کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ وہ کس گمراہی میں مبتلا ہے اور حال یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بلند منازل کا مستحق سمجھتا ہے؟ ﴿ اَفَاَنۡتَ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’کیا آپ اس پر وکیل ہوں گے؟‘‘ یعنی آپ کو اس پر نگران مقرر نہیں کیا آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں ۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
[44] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حد کو پہنچی ہوئی گمراہی پر یہ فیصلہ کیا کہ ان کی عقل اور سماعت کو سلب کر لیا اور گمراہی میں ان کو مویشیوں سے تشبیہ دی جو آواز اور پکار کے سوا کچھ نہیں سنتے وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں اس لیے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا، بلکہ یہ تو چوپایوں سے بھی زیادہ گمراہ ہیں ۔ کیونکہ مویشیوں کو جب ان کا چرواہا راہ دکھاتا ہے تو وہ اس راہ پر چل پڑتے ہیں وہ ہلاکت کی راہوں کو پہچانتے ہیں اس لیے ان سے بچتے ہیں ۔ ان چوپایوں کی عاقبت ان گمراہوں کی نسبت زیادہ محفوظ ہے۔پس اس سے واضح ہو گیا کہ رسول (ﷺ)پر گمراہی کا الزام لگانے والا خود اس وصف کا زیادہ مستحق ہے اور جانور بھی اس سے زیادہ راہ راست پر ہیں ۔
25:44أَمۡ تَحۡسَبُ أَنَّ أَكۡثَرَهُمۡ يَسۡمَعُونَ أَوۡ يَعۡقِلُونَۚ إِنۡ هُمۡ إِلَّا كَٱلۡأَنۡعَٰمِ بَلۡ هُمۡ أَضَلُّ سَبِيلًا
اور جب وہ دیکھتے ہیں آپ کو تو نہیں پکڑتے وہ آپ کو مگر ٹھٹھا مذاق (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جسے بھیجا ہے اللہ نے رسول (بنا کر)؟ (41) تحقیق قریب تھا وہ کہ گمراہ کر دیتا ہمیں ہمارے معبودوں سے، اگر نہ ہوتی یہ بات کہ جمے رہے ہم ان پر اور عنقریب جان لیں گے وہ، جب وہ دیکھیں گے عذاب، کہ کون زیادہ گمراہ تھا راستے سے؟ (42) کیا آپ نے دیکھا اس شخص کو کہ بنا لیا اس نے اپنا معبود اپنی خواہش کو؟ کیا پس آپ ہیں اس کے ذمے دار؟ (43) یا گمان کرتے ہیں آپ کہ بے شک اکثر ان کے سنتے یاسمجھتے ہیں ؟ نہیں ہیں وہ مگر چوپایوں ہی کی طرح بلکہ وہ زیادہ گمراہ ہیں باعتبار راستے کے (44)
[41] اے محمد! (ﷺ) آپ کی تکذیب کرنے والے، اللہ تعالیٰ کی آیات سے عناد رکھنے والے اور زمین پر تکبر سے چلنے والے جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ سے استہزاء کرتے ہیں اور آپ کی تحقیر کرتے ہیں ، آپ کو معمولی سمجھتے ہوئے حقارت آمیز لہجے میں کہتے ہیں :﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوۡلًا ﴾ ’’کیا یہی وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟‘‘ یعنی یہ مناسب اور لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسول بناتا۔ یہ سب کچھ ان کے شدت ظلم، ان کے عناد اور حقائق بدلنے کے سبب تھا کیونکہ ان کے اس کلام سے یہ ذہن میں آتا ہے کہ (معاذ اللہ) رسول (ﷺ)انتہائی خسیس اور حقیر شخص تھے اور اگر رسالت کا منصب کسی اور شخص کو عطا کیا گیا ہوتا تو زیادہ مناسب تھا۔ ﴿ وَقَالُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡيَتَيۡنِ عَظِيۡمٍ ﴾(الزخرف:43؍31) ’’وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دونوں شہروں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اتارا گیا۔‘‘ پس یہ کلام کسی جاہل ترین اور گمراہ ترین شخص ہی سے صادر ہو سکتا ہے یا کسی ایسے شخص سے صادر ہو سکتا ہے جو بڑا عناد پسند اور جانتے بوجھتے جاہل ہو۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اپنے نظریات کو رائج کرے اور حق اور حق پیش کرنے والے میں جرح و قدح کرے، ورنہ اگر کوئی شخص، رسول مصطفیٰ محمد بن عبداللہ ﷺ کے احوال پر غور کرے تو وہ آپ کو عقل، علم، ذہانت، وقار، مکارم اخلاق، محاسن عادات، عفت، شجاعت اور تمام اخلاق فاضلہ میں دنیا کا سب سے بڑا شخص، ان کا سردار اور ان کا قائد پائے گا۔ آپ کو حقیر جاننے اور آپ کے ساتھ دشمنی رکھنے والے شخص میں حماقت، جہالت، گمراہی، تناقض، ظلم اور تعدی جمع ہیں جو کسی اور شخص میں جمع نہیں ۔ اس کی جہالت اور گمراہی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس عظیم رسول اور بہترین قائد میں جرح و قدح کرتا ہے۔ اس جرح و قدح سے اس کا مقصد آپ کا تمسخر اڑانا، اپنے باطل نظریات پر ڈٹے رہنا اور ضعیف العقل لوگوں کو فریب دینا ہے۔
[42] اس لیے انھوں نے کہا: ﴿ اِنۡ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنۡ اٰلِهَتِنَا ﴾ ’’یقینا یہ تو ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکا چلا تھا۔‘‘ کیونکہ یہ سب معبودوں کو ختم کر کے ایک ہی معبود قرار دیتا ہے۔ ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ صَبَرۡنَا عَلَيۡهَا ﴾ ’’اگر ہم ان معبودوں کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے‘‘ تو اس نے ہمیں گمراہ کر دیا ہوتا۔ وہ سمجھتے تھے… اللہ ان کا برا کرے… کہ توحید گمراہی ہے اوران کے شرکیہ عقائد ہی سراسر ہدایت ہیں ، لہٰذا وہ اپنے ان عقائد پر ثابت قدم رہنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرتے تھے۔ ﴿ وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ﴾(صٓ:38؍6) ’’اور سرداران قوم یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ چلو اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہو۔‘‘ یہاں ان مشرکین نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ صَبَرۡنَا عَلَيۡهَا ﴾ اور صبر سوائے اس مقام کے ہر مقام پر قابل تعریف ہے کیونکہ یہ اسباب غضب اور جہنم کا ایندھن بننے پر صبر کرنا ہے۔ رہے اہل ایمان تو ان کے رویے کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَتَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ١ۙ۬ وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ﴾(العصر:103؍3) ’’وہ ایک دوسرے کو حق کی تلقین اور ایک دوسرے کو صبر کی تاکید کرتے ہیں ۔‘‘ چونکہ ان کا فیصلہ تھا کہ وہ راہ راست پر گامزن ہیں اور رسول گمراہ ہے حالانکہ یہ بات متحقق ہے کہ ان کے پاس تصرف کی قدرت اور کوئی اختیار نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے آگاہ فرمایا: ﴿حِيۡنَ يَرَوۡنَ الۡعَذَابَ﴾ ’’کہ جب وہ عذاب کو دیکھیں گے‘‘ تب انھیں اس حقیقت کا علم ہو گا کہ ﴿ مَنۡ اَضَلُّ سَبِيۡلًا﴾ ’’راہ راست سے کون زیادہ بھٹکا ہوا ہے؟‘‘ ﴿ وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27) ’’اور اس روز ظالم اپنا ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔‘‘
[43] کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی گمراہی ہے کہ انسان اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لے اور جو جی چاہے کرتا رہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ اَرَءَيۡتَ مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ﴾ ’’کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا۔‘‘ کیا آپ کو اس کے حال پر تعجب نہیں ، کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ وہ کس گمراہی میں مبتلا ہے اور حال یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بلند منازل کا مستحق سمجھتا ہے؟ ﴿ اَفَاَنۡتَ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’کیا آپ اس پر وکیل ہوں گے؟‘‘ یعنی آپ کو اس پر نگران مقرر نہیں کیا آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں ۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
[44] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حد کو پہنچی ہوئی گمراہی پر یہ فیصلہ کیا کہ ان کی عقل اور سماعت کو سلب کر لیا اور گمراہی میں ان کو مویشیوں سے تشبیہ دی جو آواز اور پکار کے سوا کچھ نہیں سنتے وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں اس لیے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا، بلکہ یہ تو چوپایوں سے بھی زیادہ گمراہ ہیں ۔ کیونکہ مویشیوں کو جب ان کا چرواہا راہ دکھاتا ہے تو وہ اس راہ پر چل پڑتے ہیں وہ ہلاکت کی راہوں کو پہچانتے ہیں اس لیے ان سے بچتے ہیں ۔ ان چوپایوں کی عاقبت ان گمراہوں کی نسبت زیادہ محفوظ ہے۔پس اس سے واضح ہو گیا کہ رسول (ﷺ)پر گمراہی کا الزام لگانے والا خود اس وصف کا زیادہ مستحق ہے اور جانور بھی اس سے زیادہ راہ راست پر ہیں ۔
25:45أَلَمۡ تَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ كَيۡفَ مَدَّ ٱلظِّلَّ وَلَوۡ شَآءَ لَجَعَلَهُۥ سَاكِنٗا ثُمَّ جَعَلۡنَا ٱلشَّمۡسَ عَلَيۡهِ دَلِيلٗا
کیا نہیں دیکھا آپ نے اپنے رب (کی قدرت) کی طرف کہ کیسے پھیلا دیا اس نے سائے کو؟ اور اگر وہ چاہتا تو البتہ بنا دیتا اسے ساکن، پھر بنایا ہم نے سورج کو اس پر راہنما (45) پھر سمیٹ لیا ہم نے اسے اپنی طرف سمیٹنا تھوڑا تھوڑا(46)
[46,45] کیا تم نے اپنی آنکھ اور اپنی بصیرت سے اپنے رب کی قدرت کاملہ اور بے پایاں رحمت کا مشاہدہ نہیں کیا کہ وہ بندوں پر سائے کو پھیلا دیتا ہے اور یہ طلوع آفتاب سے قبل ہوتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ جَعَلۡنَا الشَّمۡسَ عَلَيۡهِ دَلِيۡلًا﴾ ’’پھر بنایا ہم نے سورج کو اس پر‘‘ یعنی سائے پر ﴿ دَلِيۡلًا ﴾ ’’دلیل‘‘ اگر سورج نہ ہوتا تو سایہ نہ پہچانا جاتا کیونکہ تمام اشیاء اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ قَبَضۡنٰهُ اِلَيۡنَا قَبۡضًا يَّسِيۡرًا ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچ لیا۔‘‘ پس جوں جوں سورج بلند ہوتا ہے تو سایہ آہستہ آہستہ سکڑتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ختم ہو جاتا ہے۔ مخلوق پر سائے اور دھوپ کا یکے بعد دیگرے واقع ہونا جس کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں ، اسی سے لیل و نہار ترتیب پاتے ہیں اور ایک دوسرے کا تعاقب کرتے ہیں پھر مختلف موسم ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں اور اس سبب سے مخلوق کے بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں … یہ تمام امور اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ قدرت و عظمت کا مالک ہے وہ اپنے بندوں سے کمال رحمت و عنایت سے پیش آتا ہے۔ وہ اکیلا ہی معبود محمود، محبت اور تعظیم کا مستحق اور ذوالجلال والاکرام ہے۔
25:46ثُمَّ قَبَضۡنَٰهُ إِلَيۡنَا قَبۡضٗا يَسِيرٗا
کیا نہیں دیکھا آپ نے اپنے رب (کی قدرت) کی طرف کہ کیسے پھیلا دیا اس نے سائے کو؟ اور اگر وہ چاہتا تو البتہ بنا دیتا اسے ساکن، پھر بنایا ہم نے سورج کو اس پر راہنما (45) پھر سمیٹ لیا ہم نے اسے اپنی طرف سمیٹنا تھوڑا تھوڑا(46)
[46,45] کیا تم نے اپنی آنکھ اور اپنی بصیرت سے اپنے رب کی قدرت کاملہ اور بے پایاں رحمت کا مشاہدہ نہیں کیا کہ وہ بندوں پر سائے کو پھیلا دیتا ہے اور یہ طلوع آفتاب سے قبل ہوتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ جَعَلۡنَا الشَّمۡسَ عَلَيۡهِ دَلِيۡلًا﴾ ’’پھر بنایا ہم نے سورج کو اس پر‘‘ یعنی سائے پر ﴿ دَلِيۡلًا ﴾ ’’دلیل‘‘ اگر سورج نہ ہوتا تو سایہ نہ پہچانا جاتا کیونکہ تمام اشیاء اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں ۔ ﴿ ثُمَّ قَبَضۡنٰهُ اِلَيۡنَا قَبۡضًا يَّسِيۡرًا ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچ لیا۔‘‘ پس جوں جوں سورج بلند ہوتا ہے تو سایہ آہستہ آہستہ سکڑتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ختم ہو جاتا ہے۔ مخلوق پر سائے اور دھوپ کا یکے بعد دیگرے واقع ہونا جس کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں ، اسی سے لیل و نہار ترتیب پاتے ہیں اور ایک دوسرے کا تعاقب کرتے ہیں پھر مختلف موسم ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں اور اس سبب سے مخلوق کے بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں … یہ تمام امور اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ قدرت و عظمت کا مالک ہے وہ اپنے بندوں سے کمال رحمت و عنایت سے پیش آتا ہے۔ وہ اکیلا ہی معبود محمود، محبت اور تعظیم کا مستحق اور ذوالجلال والاکرام ہے۔
25:47وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ لِبَاسٗا وَٱلنَّوۡمَ سُبَاتٗا وَجَعَلَ ٱلنَّهَارَ نُشُورٗا
اور وہی ہے (اللہ) جس نے بنایا تمھارے لیے رات کو لباس اور نیند کو (ذریعۂ) آرام اور اس نے بنایا دن کو اٹھ کھڑے ہونے کا وقت (47)
[47] یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر بے پایاں رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے کہ اس نے رات کو تمھارے لیے بمنزلہ لباس بنایا جو تمھیں ڈھانپ لیتی ہے حتیٰ کہ تم رات کے وقت قرار پکڑتے ہو، سو کر آرام کرتے ہو اور نیند کے وقت تمھاری تمام حرکات منقطع ہو جاتی ہیں ۔ اگر رات نہ ہوتی تو بندے آرام نہ کر سکتے اور اپنی مصروفیات کو جاری نہ رکھ سکتے اور اس طرح انھیں بہت زیادہ ضرر پہنچتا اور اس کے برعکس اگر ہمیشہ رات رہتی تو بندے کی معاش اور دیگر مصالح معطل ہو کر رہ جاتے۔ مگر دن کو اللہ تعالیٰ نے جی اٹھنے کا وقت بنایا ہے جس میں بندے اپنی تجارت، سفر اور دیگر کاروبار کے لیے پھیل جاتے ہیں اور اس سے ان کے مصالح کا انتظام ہوتا ہے۔
25:48وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ ٱلرِّيَٰحَ بُشۡرَۢا بَيۡنَ يَدَيۡ رَحۡمَتِهِۦۚ وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ طَهُورٗا
اور وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا ہواؤں کو خوشخبری دینے والی پہلے اپنی رحمت (بارش) کےاور نازل کیا ہم نے آسمان سے پانی پاک (48) تاکہ زندہ کریں ہم اس کے ذریعے سے مردہ شہر کو اور تاکہ پلائیں ہم وہ پانی، ان چیزوں میں سے جنھیں پیدا کیا ہم نے، مویشیوں کو اور بہت سے انسانوں کو (49) اور البتہ تحقیق پھیر پھیر کر بیان کیا ہم نے اس (قرآن) کو ان کے درمیان تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں پس انکار کیا اکثر لوگوں نے مگر کفر کرنے سے (انکار نہیں کیا)(50)
[49,48]یعنی اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت سے ڈھانپ لیا ہے اور اپنے رزق کی ان پر اس طرح فراوانی کی کہ اس نے اپنی رحمت یعنی بارش کے آگے آگے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجیں اور اس کے ذریعے سے اس نے بادلوں پر اپنے رزق کے دروازے کھول دیے … ان ہواؤں کے ذریعے سے بادل اٹھتا ہے پھر اکٹھا ہو کر گھٹا کے ٹکڑے بن جاتا ہے، ہوائیں اسے بار آور کرتی ہیں اور پھر اپنے رب اور تصرف کرنے والے کے حکم سے اس گھٹا کو کھینچ کر لاتی ہیں … تاکہ بارش برسنے سے پہلے بندے بارش کی آمد کی نوید پر خوش ہو جائیں اور بارش کے اچانک آجانے سے پہلے بارش کے لیے تیار ہو جائیں ۔﴿وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوۡرًا ﴾ ’’اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی پاک کرنے والا۔‘‘ جو بندوں کو حدث اور گندگی سے پاک اور میل کچیل کو صاف کرتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی برکت یہ ہے کہ اس نے بارش برسا کر مردہ زمین کو زندہ کیا، پھر اس سے مختلف قسم کی نباتات اور درخت اگائے جنھیں انسان اور مویشی کھاتے ہیں :﴿وَّنُسۡقِيَهٗ مِمَّا خَلَقۡنَاۤ اَنۡعَامًا وَّاَنَاسِيَّ كَثِيۡرًا ﴾ یعنی ہم تمھیں اور تمھارے مویشیوں کو اس پانی سے سیراب کرتے ہیں ۔ کیا وہ ہستی جس نے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجیں ، ان کو متنوع امور پر مامور کیا، جس نے آسمان سے پاک اور بابرکت پانی برسایا، جس میں بندوں اور ان کے جانوروں کا رزق ہے اس بات کی مستحق نہیں کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہرایا جائے؟
[50] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کا ذکر فرمایا جن کا عینی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور بندوں کی طرف انھیں پھیر دیا تاکہ بندے اپنے رب کو پہچان لیں ، اس کا شکر ادا کریں اور اس کو یاد رکھیں مگر اس کے باوجود ﴿فَاَبٰۤى اَ كۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوۡرًا ﴾ اکثر لوگوں نے فساد اخلاق اور فساد طبائع کی بنا پر کفر اور ناشکری ہی کا رویہ اختیار کیا۔
25:49لِّنُحۡـِۧيَ بِهِۦ بَلۡدَةٗ مَّيۡتٗا وَنُسۡقِيَهُۥ مِمَّا خَلَقۡنَآ أَنۡعَٰمٗا وَأَنَاسِيَّ كَثِيرٗا
اور وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا ہواؤں کو خوشخبری دینے والی پہلے اپنی رحمت (بارش) کےاور نازل کیا ہم نے آسمان سے پانی پاک (48) تاکہ زندہ کریں ہم اس کے ذریعے سے مردہ شہر کو اور تاکہ پلائیں ہم وہ پانی، ان چیزوں میں سے جنھیں پیدا کیا ہم نے، مویشیوں کو اور بہت سے انسانوں کو (49) اور البتہ تحقیق پھیر پھیر کر بیان کیا ہم نے اس (قرآن) کو ان کے درمیان تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں پس انکار کیا اکثر لوگوں نے مگر کفر کرنے سے (انکار نہیں کیا)(50)
[49,48]یعنی اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت سے ڈھانپ لیا ہے اور اپنے رزق کی ان پر اس طرح فراوانی کی کہ اس نے اپنی رحمت یعنی بارش کے آگے آگے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجیں اور اس کے ذریعے سے اس نے بادلوں پر اپنے رزق کے دروازے کھول دیے … ان ہواؤں کے ذریعے سے بادل اٹھتا ہے پھر اکٹھا ہو کر گھٹا کے ٹکڑے بن جاتا ہے، ہوائیں اسے بار آور کرتی ہیں اور پھر اپنے رب اور تصرف کرنے والے کے حکم سے اس گھٹا کو کھینچ کر لاتی ہیں … تاکہ بارش برسنے سے پہلے بندے بارش کی آمد کی نوید پر خوش ہو جائیں اور بارش کے اچانک آجانے سے پہلے بارش کے لیے تیار ہو جائیں ۔﴿وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوۡرًا ﴾ ’’اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی پاک کرنے والا۔‘‘ جو بندوں کو حدث اور گندگی سے پاک اور میل کچیل کو صاف کرتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی برکت یہ ہے کہ اس نے بارش برسا کر مردہ زمین کو زندہ کیا، پھر اس سے مختلف قسم کی نباتات اور درخت اگائے جنھیں انسان اور مویشی کھاتے ہیں :﴿وَّنُسۡقِيَهٗ مِمَّا خَلَقۡنَاۤ اَنۡعَامًا وَّاَنَاسِيَّ كَثِيۡرًا ﴾ یعنی ہم تمھیں اور تمھارے مویشیوں کو اس پانی سے سیراب کرتے ہیں ۔ کیا وہ ہستی جس نے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجیں ، ان کو متنوع امور پر مامور کیا، جس نے آسمان سے پاک اور بابرکت پانی برسایا، جس میں بندوں اور ان کے جانوروں کا رزق ہے اس بات کی مستحق نہیں کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہرایا جائے؟
[50] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کا ذکر فرمایا جن کا عینی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور بندوں کی طرف انھیں پھیر دیا تاکہ بندے اپنے رب کو پہچان لیں ، اس کا شکر ادا کریں اور اس کو یاد رکھیں مگر اس کے باوجود ﴿فَاَبٰۤى اَ كۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوۡرًا ﴾ اکثر لوگوں نے فساد اخلاق اور فساد طبائع کی بنا پر کفر اور ناشکری ہی کا رویہ اختیار کیا۔
25:50وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَٰهُ بَيۡنَهُمۡ لِيَذَّكَّرُواْ فَأَبَىٰٓ أَكۡثَرُ ٱلنَّاسِ إِلَّا كُفُورٗا
اور وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا ہواؤں کو خوشخبری دینے والی پہلے اپنی رحمت (بارش) کےاور نازل کیا ہم نے آسمان سے پانی پاک (48) تاکہ زندہ کریں ہم اس کے ذریعے سے مردہ شہر کو اور تاکہ پلائیں ہم وہ پانی، ان چیزوں میں سے جنھیں پیدا کیا ہم نے، مویشیوں کو اور بہت سے انسانوں کو (49) اور البتہ تحقیق پھیر پھیر کر بیان کیا ہم نے اس (قرآن) کو ان کے درمیان تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں پس انکار کیا اکثر لوگوں نے مگر کفر کرنے سے (انکار نہیں کیا)(50)
[49,48]یعنی اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اپنے بندوں کو اپنی بے پایاں رحمت سے ڈھانپ لیا ہے اور اپنے رزق کی ان پر اس طرح فراوانی کی کہ اس نے اپنی رحمت یعنی بارش کے آگے آگے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجیں اور اس کے ذریعے سے اس نے بادلوں پر اپنے رزق کے دروازے کھول دیے … ان ہواؤں کے ذریعے سے بادل اٹھتا ہے پھر اکٹھا ہو کر گھٹا کے ٹکڑے بن جاتا ہے، ہوائیں اسے بار آور کرتی ہیں اور پھر اپنے رب اور تصرف کرنے والے کے حکم سے اس گھٹا کو کھینچ کر لاتی ہیں … تاکہ بارش برسنے سے پہلے بندے بارش کی آمد کی نوید پر خوش ہو جائیں اور بارش کے اچانک آجانے سے پہلے بارش کے لیے تیار ہو جائیں ۔﴿وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوۡرًا ﴾ ’’اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی پاک کرنے والا۔‘‘ جو بندوں کو حدث اور گندگی سے پاک اور میل کچیل کو صاف کرتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی برکت یہ ہے کہ اس نے بارش برسا کر مردہ زمین کو زندہ کیا، پھر اس سے مختلف قسم کی نباتات اور درخت اگائے جنھیں انسان اور مویشی کھاتے ہیں :﴿وَّنُسۡقِيَهٗ مِمَّا خَلَقۡنَاۤ اَنۡعَامًا وَّاَنَاسِيَّ كَثِيۡرًا ﴾ یعنی ہم تمھیں اور تمھارے مویشیوں کو اس پانی سے سیراب کرتے ہیں ۔ کیا وہ ہستی جس نے خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیجیں ، ان کو متنوع امور پر مامور کیا، جس نے آسمان سے پاک اور بابرکت پانی برسایا، جس میں بندوں اور ان کے جانوروں کا رزق ہے اس بات کی مستحق نہیں کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہرایا جائے؟
[50] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کا ذکر فرمایا جن کا عینی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور بندوں کی طرف انھیں پھیر دیا تاکہ بندے اپنے رب کو پہچان لیں ، اس کا شکر ادا کریں اور اس کو یاد رکھیں مگر اس کے باوجود ﴿فَاَبٰۤى اَ كۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوۡرًا ﴾ اکثر لوگوں نے فساد اخلاق اور فساد طبائع کی بنا پر کفر اور ناشکری ہی کا رویہ اختیار کیا۔
25:51وَلَوۡ شِئۡنَا لَبَعَثۡنَا فِي كُلِّ قَرۡيَةٖ نَّذِيرٗا
اور اگر ہم چاہتے تو البتہ بھیجتے ہم ہر بستی میں ایک ڈرانے والا (51)پس نہ اطاعت کریں آپ کافروں کی اور جہاد کریں آپ ان سے قرآن کے ذریعے سے جہاد خوب زور سے (52)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی مشیت کے نفوذ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو ہر بستی میں ڈرانے والا بھیج دیتا، یعنی ہر بستی میں ایسا رسول بھیج دیتا جو ان کو گناہوں کے انجام سے ڈراتا۔ پس اس کی مشیت اس سے قاصر نہ تھی مگر اے محمد! (ﷺ)آپ اور اپنے بندوں پر اس کی حکمت اور رحمت کا تقاضا یہ تھا کہ اس نے آپ کو سرخ و سیاہ، عربی و عجمی اور انس و جن تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔
[52] اس لیے ﴿فَلَا تُطِعِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’پس نہ بات مانیں آپ کافروں کی۔‘‘ یعنی کفار کی بات مان کر اس چیز کو ترک نہ کیجیے جس چیز کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے بلکہ اس کی تبلیغ کے لیے پوری کوشش کیجیے۔ ﴿ وَجَاهِدۡهُمۡ بِهٖ ﴾ ’’اور ان کے ساتھ جہاد کیجیے‘‘ ﴿ جِهَادًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’جہاد بہت بڑا۔‘‘ یعنی نصرت حق اور باطل کے قلع قمع کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیے۔ اگر آپ دیکھتے ہیں کہ وہ تکذیب اور جسارت پر جمے ہوئے ہیں تو آپ اپنی پوری کوشش کرتے رہیے، آپ ان کی ہدایت سے مایوس ہو کر اور ان کی خواہشات کی خاطر تبلیغ کو ترک نہ کیجیے۔
25:52فَلَا تُطِعِ ٱلۡكَٰفِرِينَ وَجَٰهِدۡهُم بِهِۦ جِهَادٗا كَبِيرٗا
اور اگر ہم چاہتے تو البتہ بھیجتے ہم ہر بستی میں ایک ڈرانے والا (51)پس نہ اطاعت کریں آپ کافروں کی اور جہاد کریں آپ ان سے قرآن کے ذریعے سے جہاد خوب زور سے (52)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی مشیت کے نفوذ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو ہر بستی میں ڈرانے والا بھیج دیتا، یعنی ہر بستی میں ایسا رسول بھیج دیتا جو ان کو گناہوں کے انجام سے ڈراتا۔ پس اس کی مشیت اس سے قاصر نہ تھی مگر اے محمد! (ﷺ)آپ اور اپنے بندوں پر اس کی حکمت اور رحمت کا تقاضا یہ تھا کہ اس نے آپ کو سرخ و سیاہ، عربی و عجمی اور انس و جن تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔
[52] اس لیے ﴿فَلَا تُطِعِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’پس نہ بات مانیں آپ کافروں کی۔‘‘ یعنی کفار کی بات مان کر اس چیز کو ترک نہ کیجیے جس چیز کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے بلکہ اس کی تبلیغ کے لیے پوری کوشش کیجیے۔ ﴿ وَجَاهِدۡهُمۡ بِهٖ ﴾ ’’اور ان کے ساتھ جہاد کیجیے‘‘ ﴿ جِهَادًا كَبِيۡرًا ﴾ ’’جہاد بہت بڑا۔‘‘ یعنی نصرت حق اور باطل کے قلع قمع کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیے۔ اگر آپ دیکھتے ہیں کہ وہ تکذیب اور جسارت پر جمے ہوئے ہیں تو آپ اپنی پوری کوشش کرتے رہیے، آپ ان کی ہدایت سے مایوس ہو کر اور ان کی خواہشات کی خاطر تبلیغ کو ترک نہ کیجیے۔
25:53۞وَهُوَ ٱلَّذِي مَرَجَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ هَٰذَا عَذۡبٞ فُرَاتٞ وَهَٰذَا مِلۡحٌ أُجَاجٞ وَجَعَلَ بَيۡنَهُمَا بَرۡزَخٗا وَحِجۡرٗا مَّحۡجُورٗا
اور وہی ہے (اللہ) جس نے ملا دیا دو سمندروں کو، یہ میٹھا ہے خوب میٹھااور یہ کھارا ہے، نہایت کڑوا اور بنا دیا اللہ نے ان دونوں کے درمیان ایک پردہ اورآڑ مضبوط (53)
[53] یعنی وہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے، ایک لذیذ اور شیریں پانی اور یہ روئے زمین پر بہنے والے دریا ہیں ، دوسرا تلخ اور شور پانی۔ دونوں کی منفعت بندوں کے مصالح کے لیے ہے۔ ﴿وَجَعَلَ بَيۡنَهُمَا بَرۡزَخًا ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل کر رکھا ہے‘‘ جو دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملنے سے روکتا ہے تاکہ منفعت مقصود ضائع نہ ہو۔ ﴿ وَّحِجۡرًا مَّحۡجُوۡرًا﴾ اور دونوں کے درمیان ایک مضبوط رکاوٹ حائل ہے۔
25:54وَهُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ مِنَ ٱلۡمَآءِ بَشَرٗا فَجَعَلَهُۥ نَسَبٗا وَصِهۡرٗاۗ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرٗا
اور وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیا پانی (منی) سے انسان کو، پھر بنایا اسے نسب (والا) اور سسرال (والا) اور ہے آپ کا رب بڑی قدرت والا (54)
[54] وہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے انسان کو ایک حقیر پانی سے پیدا کیا پھر اس میں سے بے شمار اولاد پھیلائی پھر اس نے نسب اور سسرال کے دو الگ الگ اور اکٹھے سلسلے چلائے ان تمام کا مادہ یہی حقیر پانی ہے اور یہ چیز اس کے اقتدار پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيۡرًا ﴾ ’’اور آپ کا رب بہت قدرت والا ہے۔‘‘ اور اللہ کا قادر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی عبادت حق ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے۔
25:55وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُهُمۡ وَلَا يَضُرُّهُمۡۗ وَكَانَ ٱلۡكَافِرُ عَلَىٰ رَبِّهِۦ ظَهِيرٗا
اور عبادت کرتے ہیں وہ سوائے اللہ کے ان کی کہ نہیں نفع دے سکتے وہ انھیں اور نہ وہ نقصان پہنچا سکتے ہیں ان کواور ہے کافر اپنے رب کے مقابلے میں (شیطان کا) مدد گار (55)
[55] یعنی یہ لوگ بتوں اور مردوں کی عبادت کرتے ہیں جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان۔ انھوں نے ان معبودان باطل کو نفع و نقصان کے مالک کے ہمسر بنا رکھا ہے، حالانکہ ان پر فرض ہے کہ وہ اپنے رب کے ارشادات کی پیروی کریں اور اس کے دین کا دفاع کریں لیکن ان کا رویہ اس کے برعکس ہے۔ ﴿وَكَانَ الۡكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِيۡرًا ﴾ ’’اور ہے کافر اپنے رب کے خلاف مدد کرنے والا۔‘‘ پس باطل جو خود ساختہ بت اور ہمسر ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں اور کافر اپنے رب کے خلاف ان کی معاونت کر کے اپنے رب کا دشمن بن جاتا ہے اور اس کے خلاف جنگ اور عداوت کا اعلان کرتا ہے، حالانکہ وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا، اسے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت، تسلط اور قبضۂ قدرت سے باہر نہیں نکل سکتا اور اللہ تعالیٰ اس سے اپنے احسان اور بھلائی کو کبھی منقطع نہیں کرتا، لیکن وہ ہے کہ اپنی جہالت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ عداوت پر ڈٹا ہوا ہے۔
25:56وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا مُبَشِّرٗا وَنَذِيرٗا
اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر خوشخبری دینے والااور ڈرانے والا (بنا کر)(56) آپ کہہ دیجیے! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی صلے کا مگر جو چاہے یہ کہ وہ پکڑے اپنے رب کی طرف راستہ (تو وہ اسے مان لے)(57) اور آپ توکل کیجیے اوپر اس زندہ (اللہ) کے جو نہیں مرتااور آپ تسبیح کریں ساتھ اس کی حمد کےاور کافی ہے اللہ ساتھ گناہوں کے اپنے بندوں کے خبر دار ہونے کے اعتبار سے (58) وہ ذات جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اورجو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں ، پھر مستوی ہوا عرش پر، (وہی) رحمن ہے، پس پوچھ لیں اس کی بابت کسی خبر رکھنے والے سے (59) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، سجدہ کرو تم رحمن کو تو کہتے ہیں وہ اور کیا ہے رحمن؟ کیا ہم سجدہ کریں اسے جس کی بابت تو حکم دیتا ہے ہمیں ؟ اور زیادہ کر دیا ان کو (تبلیغ نے) نفرت میں (60)
[56] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمدﷺ کو لوگوں پر داروغہ بنا کر بھیجا ہے نہ انھیں فرشتہ بنایا ہے اور نہ ان کے پاس چیزوں کے خزانے ہیں اس نے تو آپ کو صرف ﴿ مُبَشِّرًا ﴾ ’’خوشخبری سنانے والا‘‘ بنا کر بھیجا ہے آپ اس شخص کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سناتے ہیں جواللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے ﴿ وَّنَذِيۡرًا﴾ ’’اور ڈرانے والا۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اس کو دنیاوی اور اخروی سزا سے ڈراتے ہیں اور یہ اوامر و نواہی میں سے ان امور کی تبیین کو مستلزم ہے جن کی بشارت دی گئی ہے اور جن سے انذار حاصل ہوتا ہے۔
[57] اے محمد! (ﷺ)آپ قرآن اور ہدایت پہنچانے پر ان سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتے کہ یہ چیز ان کو آپ کی اتباع کرنے سے روکتی ہو اور انھیں اس مالی بوجھ کی تکلیف اٹھانی پڑتی ہو۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيۡلًا ﴾ ’’مگر جو چاہے یہ کہ وہ اپنے رب کی طرف کوئی راستہ پکڑے۔‘‘ یعنی سوائے اس شخص کے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس کی رضا کی خاطر کچھ خرچ کرنا چاہتا ہے تو اس بارے میں بھی میں تمھیں ترغیب دیتا ہوں لیکن تمھیں اس پر مجبور نہیں کرتا اور تمھارے ذمے میرا کوئی اجر نہیں ، یہ تو تمھاری راجح مصلحت اور تمھارے رب کے پاس پہنچانے والے راستے پر تمھارا گامزن ہونا ہے۔
[58] پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے رب پر بھروسہ کرنے اور اسی سے مدد مانگنے کا حکم دیا، فرمایا :﴿ وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡحَيِّ ﴾ ’’اور اس زندہ پر بھروسہ کیجیے۔‘‘ یعنی اس ہستی پر بھروسہ کیجیے جس کے لیے کامل اور مطلق زندگی ہے ﴿ الَّذِيۡ لَا يَمُوۡتُ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِهٖ﴾ ’’جو کبھی نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کیجیے اور اپنی ذات اور مخلوق سے متعلق عام امور کے بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿ وَكَفٰى بِهٖ بِذُنُوۡبِ عِبَادِهٖ خَبِيۡرً﴾ ’’اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کے لیے کافی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار ہے وہ انھیں ان گناہوں کی سزا دے گا۔ ان کی ہدایت کی ذمہ داری آپ پر ہے نہ ان کے اعمال کی حفاظت آپ کا فرض ہے۔ یہ تمام امور صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ۔
[59]﴿الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى ﴾ ’’جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر وہ مستوی ہوا۔‘‘ یعنی ان امور کے بعد ﴿ عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش پر ‘‘وہ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور تمام مخلوقات سے بلند، سب سے وسیع اور سب سے خوبصورت ہے۔ ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ ’’وہ رحم کرنے والا ہے‘‘ جس کی بے پایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اپنی سب سے زیادہ وسیع صفت کے ساتھ مخلوقات میں سے سب سے زیادہ وسیع مخلوق پر مستوی ہوا۔اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، وہ ان کے تمام ظاہر و باطن کی اطلاع رکھتا ہے، وہ عرش کے اوپر مستوی اور تمام مخلوق سے جدا ہے۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بِهٖ خَبِيۡرًا ﴾ ’’تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کر۔‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہی ذات کریمہ مراد لی ہے۔ وہی ہے جو اپنے تمام اوصاف اور اپنی عظمت و جلال کا علم رکھتا ہے اور اس نے تمھیں اپنے بارے میں آگاہ فرما دیا ہے اور اس نے تمھارے سامنے اپنی عظمت بیان کر دی ہے۔ جس کے ذریعے سے تم اس کی معرفت حاصل کر سکتے ہو۔ عارف اس کی معرفت حاصل کر کے اس کے سامنے سرافگندہ ہو گئے اور کفار نے اس کی عبادت سے تکبر کیا اور اس کو عار گردانتے ہوئے اس سے اعراض کیا۔
[60] بنابریں فرمایا: ﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اسۡجُدُوۡا لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمان کو سجدہ کرو۔‘‘ یعنی صرف رحمن کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ جس نے تمھیں تمام نعمتوں سے نواز رکھا ہے اور تم سے تمام سختیوں کو دور کیا ہے ﴿قَالُوۡا﴾ ’’تو انھوں نے (انکار کرتے ہوئے) کہا:‘‘ ﴿وَمَا الرَّحۡمٰنُ﴾ ’’اور رحمان کیا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے زعم فاسد کے مطابق کہتے ہیں کہ وہ ’’رحمن‘‘ کو نہیں پہچانتے۔ رسول (ﷺ)کے بارے میں ان کی جملہ جرح وقدح یہ بھی ہے کہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت سے روکتا ہے اور خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک اور معبود کو پکارتا ہے اور کہتا ہے )یارحمٰن( جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلِ ادۡعُوا اللّٰهَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ١ؕ اَيًّا مَّا تَدۡعُوۡا فَلَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰؔى ﴾(بنی اسرائیل:17؍110) ’’کہہ دیجیے کہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر پکارو۔ اسے جس نام سے بھی پکارو اس کے سب نام بہت اچھے ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے کثرت اوصاف اور تعدد کمال کی بنا پر اس کے نام بھی بکثرت ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام اس کی ایک صفت کمال پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ اَنَسۡجُدُ لِمَا تَاۡمُرُنَا ﴾ ’’کیا جس کے لیے تم ہمیں کہتے ہو کہ ہم اس کے آگے سجدہ کریں ۔‘‘ یعنی مجرد تیرے حکم دینے سے اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں ۔ ان کا یہ قول رسول (ﷺ)کی تکذیب اور اللہ کی اطاعت کے بارے میں ان کے تکبر پر مبنی ہے۔ ﴿ وَزَادَهُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کیا ان کو‘‘ یعنی رحمن کو سجدہ کرنے کی دعوت نے ﴿ نُفُوۡرًا ﴾ ’’بدکنے میں ‘‘ یعنی ان کے حق سے باطل کی طرف بھاگنے، ان کے کفر اور ان کی بدبختی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ کریمہ میں (تبارک) کا لفظ تین مرتبہ استعمال فرمایا ہے کیونکہ، جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے، یہ لفظ باری تعالیٰ کی عظمت، اس کے اوصاف کی کثرت اور اس کے احسان اور بھلائی کی وسعت پر دلالت کرتا ہے۔ یہ سورۂ مبارکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت، اس کی لامحدود قوت و تسلط، اس کی مشیت کے نفوذ، اس کے علم و قدرت کے عموم، امری و جزائی احکام پر اس کے احاطۂ اختیار اور اس کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ اس میں بعض ایسی چیزیں بھی ہیں جو اس کی بے پایاں رحمت، اس کے وسیع جود وکرم اور اس کے دینی و دنیاوی احسانات پر دلالت کرتی ہیں یہ تمام اس وصف حسن کے تکرار کا تقاضا کرتے ہیں ،
25:57قُلۡ مَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍ إِلَّا مَن شَآءَ أَن يَتَّخِذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلٗا
اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر خوشخبری دینے والااور ڈرانے والا (بنا کر)(56) آپ کہہ دیجیے! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی صلے کا مگر جو چاہے یہ کہ وہ پکڑے اپنے رب کی طرف راستہ (تو وہ اسے مان لے)(57) اور آپ توکل کیجیے اوپر اس زندہ (اللہ) کے جو نہیں مرتااور آپ تسبیح کریں ساتھ اس کی حمد کےاور کافی ہے اللہ ساتھ گناہوں کے اپنے بندوں کے خبر دار ہونے کے اعتبار سے (58) وہ ذات جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اورجو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں ، پھر مستوی ہوا عرش پر، (وہی) رحمن ہے، پس پوچھ لیں اس کی بابت کسی خبر رکھنے والے سے (59) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، سجدہ کرو تم رحمن کو تو کہتے ہیں وہ اور کیا ہے رحمن؟ کیا ہم سجدہ کریں اسے جس کی بابت تو حکم دیتا ہے ہمیں ؟ اور زیادہ کر دیا ان کو (تبلیغ نے) نفرت میں (60)
[56] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمدﷺ کو لوگوں پر داروغہ بنا کر بھیجا ہے نہ انھیں فرشتہ بنایا ہے اور نہ ان کے پاس چیزوں کے خزانے ہیں اس نے تو آپ کو صرف ﴿ مُبَشِّرًا ﴾ ’’خوشخبری سنانے والا‘‘ بنا کر بھیجا ہے آپ اس شخص کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سناتے ہیں جواللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے ﴿ وَّنَذِيۡرًا﴾ ’’اور ڈرانے والا۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اس کو دنیاوی اور اخروی سزا سے ڈراتے ہیں اور یہ اوامر و نواہی میں سے ان امور کی تبیین کو مستلزم ہے جن کی بشارت دی گئی ہے اور جن سے انذار حاصل ہوتا ہے۔
[57] اے محمد! (ﷺ)آپ قرآن اور ہدایت پہنچانے پر ان سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتے کہ یہ چیز ان کو آپ کی اتباع کرنے سے روکتی ہو اور انھیں اس مالی بوجھ کی تکلیف اٹھانی پڑتی ہو۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيۡلًا ﴾ ’’مگر جو چاہے یہ کہ وہ اپنے رب کی طرف کوئی راستہ پکڑے۔‘‘ یعنی سوائے اس شخص کے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس کی رضا کی خاطر کچھ خرچ کرنا چاہتا ہے تو اس بارے میں بھی میں تمھیں ترغیب دیتا ہوں لیکن تمھیں اس پر مجبور نہیں کرتا اور تمھارے ذمے میرا کوئی اجر نہیں ، یہ تو تمھاری راجح مصلحت اور تمھارے رب کے پاس پہنچانے والے راستے پر تمھارا گامزن ہونا ہے۔
[58] پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے رب پر بھروسہ کرنے اور اسی سے مدد مانگنے کا حکم دیا، فرمایا :﴿ وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡحَيِّ ﴾ ’’اور اس زندہ پر بھروسہ کیجیے۔‘‘ یعنی اس ہستی پر بھروسہ کیجیے جس کے لیے کامل اور مطلق زندگی ہے ﴿ الَّذِيۡ لَا يَمُوۡتُ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِهٖ﴾ ’’جو کبھی نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کیجیے اور اپنی ذات اور مخلوق سے متعلق عام امور کے بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿ وَكَفٰى بِهٖ بِذُنُوۡبِ عِبَادِهٖ خَبِيۡرً﴾ ’’اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کے لیے کافی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار ہے وہ انھیں ان گناہوں کی سزا دے گا۔ ان کی ہدایت کی ذمہ داری آپ پر ہے نہ ان کے اعمال کی حفاظت آپ کا فرض ہے۔ یہ تمام امور صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ۔
[59]﴿الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى ﴾ ’’جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر وہ مستوی ہوا۔‘‘ یعنی ان امور کے بعد ﴿ عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش پر ‘‘وہ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور تمام مخلوقات سے بلند، سب سے وسیع اور سب سے خوبصورت ہے۔ ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ ’’وہ رحم کرنے والا ہے‘‘ جس کی بے پایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اپنی سب سے زیادہ وسیع صفت کے ساتھ مخلوقات میں سے سب سے زیادہ وسیع مخلوق پر مستوی ہوا۔اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، وہ ان کے تمام ظاہر و باطن کی اطلاع رکھتا ہے، وہ عرش کے اوپر مستوی اور تمام مخلوق سے جدا ہے۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بِهٖ خَبِيۡرًا ﴾ ’’تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کر۔‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہی ذات کریمہ مراد لی ہے۔ وہی ہے جو اپنے تمام اوصاف اور اپنی عظمت و جلال کا علم رکھتا ہے اور اس نے تمھیں اپنے بارے میں آگاہ فرما دیا ہے اور اس نے تمھارے سامنے اپنی عظمت بیان کر دی ہے۔ جس کے ذریعے سے تم اس کی معرفت حاصل کر سکتے ہو۔ عارف اس کی معرفت حاصل کر کے اس کے سامنے سرافگندہ ہو گئے اور کفار نے اس کی عبادت سے تکبر کیا اور اس کو عار گردانتے ہوئے اس سے اعراض کیا۔
[60] بنابریں فرمایا: ﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اسۡجُدُوۡا لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمان کو سجدہ کرو۔‘‘ یعنی صرف رحمن کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ جس نے تمھیں تمام نعمتوں سے نواز رکھا ہے اور تم سے تمام سختیوں کو دور کیا ہے ﴿قَالُوۡا﴾ ’’تو انھوں نے (انکار کرتے ہوئے) کہا:‘‘ ﴿وَمَا الرَّحۡمٰنُ﴾ ’’اور رحمان کیا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے زعم فاسد کے مطابق کہتے ہیں کہ وہ ’’رحمن‘‘ کو نہیں پہچانتے۔ رسول (ﷺ)کے بارے میں ان کی جملہ جرح وقدح یہ بھی ہے کہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت سے روکتا ہے اور خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک اور معبود کو پکارتا ہے اور کہتا ہے )یارحمٰن( جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلِ ادۡعُوا اللّٰهَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ١ؕ اَيًّا مَّا تَدۡعُوۡا فَلَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰؔى ﴾(بنی اسرائیل:17؍110) ’’کہہ دیجیے کہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر پکارو۔ اسے جس نام سے بھی پکارو اس کے سب نام بہت اچھے ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے کثرت اوصاف اور تعدد کمال کی بنا پر اس کے نام بھی بکثرت ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام اس کی ایک صفت کمال پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ اَنَسۡجُدُ لِمَا تَاۡمُرُنَا ﴾ ’’کیا جس کے لیے تم ہمیں کہتے ہو کہ ہم اس کے آگے سجدہ کریں ۔‘‘ یعنی مجرد تیرے حکم دینے سے اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں ۔ ان کا یہ قول رسول (ﷺ)کی تکذیب اور اللہ کی اطاعت کے بارے میں ان کے تکبر پر مبنی ہے۔ ﴿ وَزَادَهُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کیا ان کو‘‘ یعنی رحمن کو سجدہ کرنے کی دعوت نے ﴿ نُفُوۡرًا ﴾ ’’بدکنے میں ‘‘ یعنی ان کے حق سے باطل کی طرف بھاگنے، ان کے کفر اور ان کی بدبختی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ کریمہ میں (تبارک) کا لفظ تین مرتبہ استعمال فرمایا ہے کیونکہ، جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے، یہ لفظ باری تعالیٰ کی عظمت، اس کے اوصاف کی کثرت اور اس کے احسان اور بھلائی کی وسعت پر دلالت کرتا ہے۔ یہ سورۂ مبارکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت، اس کی لامحدود قوت و تسلط، اس کی مشیت کے نفوذ، اس کے علم و قدرت کے عموم، امری و جزائی احکام پر اس کے احاطۂ اختیار اور اس کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ اس میں بعض ایسی چیزیں بھی ہیں جو اس کی بے پایاں رحمت، اس کے وسیع جود وکرم اور اس کے دینی و دنیاوی احسانات پر دلالت کرتی ہیں یہ تمام اس وصف حسن کے تکرار کا تقاضا کرتے ہیں ،
25:58وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱلۡحَيِّ ٱلَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِهِۦۚ وَكَفَىٰ بِهِۦ بِذُنُوبِ عِبَادِهِۦ خَبِيرًا
اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر خوشخبری دینے والااور ڈرانے والا (بنا کر)(56) آپ کہہ دیجیے! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی صلے کا مگر جو چاہے یہ کہ وہ پکڑے اپنے رب کی طرف راستہ (تو وہ اسے مان لے)(57) اور آپ توکل کیجیے اوپر اس زندہ (اللہ) کے جو نہیں مرتااور آپ تسبیح کریں ساتھ اس کی حمد کےاور کافی ہے اللہ ساتھ گناہوں کے اپنے بندوں کے خبر دار ہونے کے اعتبار سے (58) وہ ذات جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اورجو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں ، پھر مستوی ہوا عرش پر، (وہی) رحمن ہے، پس پوچھ لیں اس کی بابت کسی خبر رکھنے والے سے (59) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، سجدہ کرو تم رحمن کو تو کہتے ہیں وہ اور کیا ہے رحمن؟ کیا ہم سجدہ کریں اسے جس کی بابت تو حکم دیتا ہے ہمیں ؟ اور زیادہ کر دیا ان کو (تبلیغ نے) نفرت میں (60)
[56] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمدﷺ کو لوگوں پر داروغہ بنا کر بھیجا ہے نہ انھیں فرشتہ بنایا ہے اور نہ ان کے پاس چیزوں کے خزانے ہیں اس نے تو آپ کو صرف ﴿ مُبَشِّرًا ﴾ ’’خوشخبری سنانے والا‘‘ بنا کر بھیجا ہے آپ اس شخص کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سناتے ہیں جواللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے ﴿ وَّنَذِيۡرًا﴾ ’’اور ڈرانے والا۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اس کو دنیاوی اور اخروی سزا سے ڈراتے ہیں اور یہ اوامر و نواہی میں سے ان امور کی تبیین کو مستلزم ہے جن کی بشارت دی گئی ہے اور جن سے انذار حاصل ہوتا ہے۔
[57] اے محمد! (ﷺ)آپ قرآن اور ہدایت پہنچانے پر ان سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتے کہ یہ چیز ان کو آپ کی اتباع کرنے سے روکتی ہو اور انھیں اس مالی بوجھ کی تکلیف اٹھانی پڑتی ہو۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيۡلًا ﴾ ’’مگر جو چاہے یہ کہ وہ اپنے رب کی طرف کوئی راستہ پکڑے۔‘‘ یعنی سوائے اس شخص کے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس کی رضا کی خاطر کچھ خرچ کرنا چاہتا ہے تو اس بارے میں بھی میں تمھیں ترغیب دیتا ہوں لیکن تمھیں اس پر مجبور نہیں کرتا اور تمھارے ذمے میرا کوئی اجر نہیں ، یہ تو تمھاری راجح مصلحت اور تمھارے رب کے پاس پہنچانے والے راستے پر تمھارا گامزن ہونا ہے۔
[58] پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے رب پر بھروسہ کرنے اور اسی سے مدد مانگنے کا حکم دیا، فرمایا :﴿ وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡحَيِّ ﴾ ’’اور اس زندہ پر بھروسہ کیجیے۔‘‘ یعنی اس ہستی پر بھروسہ کیجیے جس کے لیے کامل اور مطلق زندگی ہے ﴿ الَّذِيۡ لَا يَمُوۡتُ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِهٖ﴾ ’’جو کبھی نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کیجیے اور اپنی ذات اور مخلوق سے متعلق عام امور کے بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿ وَكَفٰى بِهٖ بِذُنُوۡبِ عِبَادِهٖ خَبِيۡرً﴾ ’’اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کے لیے کافی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار ہے وہ انھیں ان گناہوں کی سزا دے گا۔ ان کی ہدایت کی ذمہ داری آپ پر ہے نہ ان کے اعمال کی حفاظت آپ کا فرض ہے۔ یہ تمام امور صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ۔
[59]﴿الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى ﴾ ’’جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر وہ مستوی ہوا۔‘‘ یعنی ان امور کے بعد ﴿ عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش پر ‘‘وہ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور تمام مخلوقات سے بلند، سب سے وسیع اور سب سے خوبصورت ہے۔ ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ ’’وہ رحم کرنے والا ہے‘‘ جس کی بے پایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اپنی سب سے زیادہ وسیع صفت کے ساتھ مخلوقات میں سے سب سے زیادہ وسیع مخلوق پر مستوی ہوا۔اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، وہ ان کے تمام ظاہر و باطن کی اطلاع رکھتا ہے، وہ عرش کے اوپر مستوی اور تمام مخلوق سے جدا ہے۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بِهٖ خَبِيۡرًا ﴾ ’’تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کر۔‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہی ذات کریمہ مراد لی ہے۔ وہی ہے جو اپنے تمام اوصاف اور اپنی عظمت و جلال کا علم رکھتا ہے اور اس نے تمھیں اپنے بارے میں آگاہ فرما دیا ہے اور اس نے تمھارے سامنے اپنی عظمت بیان کر دی ہے۔ جس کے ذریعے سے تم اس کی معرفت حاصل کر سکتے ہو۔ عارف اس کی معرفت حاصل کر کے اس کے سامنے سرافگندہ ہو گئے اور کفار نے اس کی عبادت سے تکبر کیا اور اس کو عار گردانتے ہوئے اس سے اعراض کیا۔
[60] بنابریں فرمایا: ﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اسۡجُدُوۡا لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمان کو سجدہ کرو۔‘‘ یعنی صرف رحمن کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ جس نے تمھیں تمام نعمتوں سے نواز رکھا ہے اور تم سے تمام سختیوں کو دور کیا ہے ﴿قَالُوۡا﴾ ’’تو انھوں نے (انکار کرتے ہوئے) کہا:‘‘ ﴿وَمَا الرَّحۡمٰنُ﴾ ’’اور رحمان کیا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے زعم فاسد کے مطابق کہتے ہیں کہ وہ ’’رحمن‘‘ کو نہیں پہچانتے۔ رسول (ﷺ)کے بارے میں ان کی جملہ جرح وقدح یہ بھی ہے کہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت سے روکتا ہے اور خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک اور معبود کو پکارتا ہے اور کہتا ہے )یارحمٰن( جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلِ ادۡعُوا اللّٰهَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ١ؕ اَيًّا مَّا تَدۡعُوۡا فَلَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰؔى ﴾(بنی اسرائیل:17؍110) ’’کہہ دیجیے کہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر پکارو۔ اسے جس نام سے بھی پکارو اس کے سب نام بہت اچھے ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے کثرت اوصاف اور تعدد کمال کی بنا پر اس کے نام بھی بکثرت ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام اس کی ایک صفت کمال پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ اَنَسۡجُدُ لِمَا تَاۡمُرُنَا ﴾ ’’کیا جس کے لیے تم ہمیں کہتے ہو کہ ہم اس کے آگے سجدہ کریں ۔‘‘ یعنی مجرد تیرے حکم دینے سے اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں ۔ ان کا یہ قول رسول (ﷺ)کی تکذیب اور اللہ کی اطاعت کے بارے میں ان کے تکبر پر مبنی ہے۔ ﴿ وَزَادَهُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کیا ان کو‘‘ یعنی رحمن کو سجدہ کرنے کی دعوت نے ﴿ نُفُوۡرًا ﴾ ’’بدکنے میں ‘‘ یعنی ان کے حق سے باطل کی طرف بھاگنے، ان کے کفر اور ان کی بدبختی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ کریمہ میں (تبارک) کا لفظ تین مرتبہ استعمال فرمایا ہے کیونکہ، جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے، یہ لفظ باری تعالیٰ کی عظمت، اس کے اوصاف کی کثرت اور اس کے احسان اور بھلائی کی وسعت پر دلالت کرتا ہے۔ یہ سورۂ مبارکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت، اس کی لامحدود قوت و تسلط، اس کی مشیت کے نفوذ، اس کے علم و قدرت کے عموم، امری و جزائی احکام پر اس کے احاطۂ اختیار اور اس کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ اس میں بعض ایسی چیزیں بھی ہیں جو اس کی بے پایاں رحمت، اس کے وسیع جود وکرم اور اس کے دینی و دنیاوی احسانات پر دلالت کرتی ہیں یہ تمام اس وصف حسن کے تکرار کا تقاضا کرتے ہیں ،
25:59ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ ٱلرَّحۡمَٰنُ فَسۡـَٔلۡ بِهِۦ خَبِيرٗا
اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر خوشخبری دینے والااور ڈرانے والا (بنا کر)(56) آپ کہہ دیجیے! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی صلے کا مگر جو چاہے یہ کہ وہ پکڑے اپنے رب کی طرف راستہ (تو وہ اسے مان لے)(57) اور آپ توکل کیجیے اوپر اس زندہ (اللہ) کے جو نہیں مرتااور آپ تسبیح کریں ساتھ اس کی حمد کےاور کافی ہے اللہ ساتھ گناہوں کے اپنے بندوں کے خبر دار ہونے کے اعتبار سے (58) وہ ذات جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اورجو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں ، پھر مستوی ہوا عرش پر، (وہی) رحمن ہے، پس پوچھ لیں اس کی بابت کسی خبر رکھنے والے سے (59) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، سجدہ کرو تم رحمن کو تو کہتے ہیں وہ اور کیا ہے رحمن؟ کیا ہم سجدہ کریں اسے جس کی بابت تو حکم دیتا ہے ہمیں ؟ اور زیادہ کر دیا ان کو (تبلیغ نے) نفرت میں (60)
[56] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمدﷺ کو لوگوں پر داروغہ بنا کر بھیجا ہے نہ انھیں فرشتہ بنایا ہے اور نہ ان کے پاس چیزوں کے خزانے ہیں اس نے تو آپ کو صرف ﴿ مُبَشِّرًا ﴾ ’’خوشخبری سنانے والا‘‘ بنا کر بھیجا ہے آپ اس شخص کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سناتے ہیں جواللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے ﴿ وَّنَذِيۡرًا﴾ ’’اور ڈرانے والا۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اس کو دنیاوی اور اخروی سزا سے ڈراتے ہیں اور یہ اوامر و نواہی میں سے ان امور کی تبیین کو مستلزم ہے جن کی بشارت دی گئی ہے اور جن سے انذار حاصل ہوتا ہے۔
[57] اے محمد! (ﷺ)آپ قرآن اور ہدایت پہنچانے پر ان سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتے کہ یہ چیز ان کو آپ کی اتباع کرنے سے روکتی ہو اور انھیں اس مالی بوجھ کی تکلیف اٹھانی پڑتی ہو۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيۡلًا ﴾ ’’مگر جو چاہے یہ کہ وہ اپنے رب کی طرف کوئی راستہ پکڑے۔‘‘ یعنی سوائے اس شخص کے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس کی رضا کی خاطر کچھ خرچ کرنا چاہتا ہے تو اس بارے میں بھی میں تمھیں ترغیب دیتا ہوں لیکن تمھیں اس پر مجبور نہیں کرتا اور تمھارے ذمے میرا کوئی اجر نہیں ، یہ تو تمھاری راجح مصلحت اور تمھارے رب کے پاس پہنچانے والے راستے پر تمھارا گامزن ہونا ہے۔
[58] پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے رب پر بھروسہ کرنے اور اسی سے مدد مانگنے کا حکم دیا، فرمایا :﴿ وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡحَيِّ ﴾ ’’اور اس زندہ پر بھروسہ کیجیے۔‘‘ یعنی اس ہستی پر بھروسہ کیجیے جس کے لیے کامل اور مطلق زندگی ہے ﴿ الَّذِيۡ لَا يَمُوۡتُ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِهٖ﴾ ’’جو کبھی نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کیجیے اور اپنی ذات اور مخلوق سے متعلق عام امور کے بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿ وَكَفٰى بِهٖ بِذُنُوۡبِ عِبَادِهٖ خَبِيۡرً﴾ ’’اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کے لیے کافی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار ہے وہ انھیں ان گناہوں کی سزا دے گا۔ ان کی ہدایت کی ذمہ داری آپ پر ہے نہ ان کے اعمال کی حفاظت آپ کا فرض ہے۔ یہ تمام امور صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ۔
[59]﴿الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى ﴾ ’’جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر وہ مستوی ہوا۔‘‘ یعنی ان امور کے بعد ﴿ عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش پر ‘‘وہ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور تمام مخلوقات سے بلند، سب سے وسیع اور سب سے خوبصورت ہے۔ ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ ’’وہ رحم کرنے والا ہے‘‘ جس کی بے پایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اپنی سب سے زیادہ وسیع صفت کے ساتھ مخلوقات میں سے سب سے زیادہ وسیع مخلوق پر مستوی ہوا۔اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، وہ ان کے تمام ظاہر و باطن کی اطلاع رکھتا ہے، وہ عرش کے اوپر مستوی اور تمام مخلوق سے جدا ہے۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بِهٖ خَبِيۡرًا ﴾ ’’تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کر۔‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہی ذات کریمہ مراد لی ہے۔ وہی ہے جو اپنے تمام اوصاف اور اپنی عظمت و جلال کا علم رکھتا ہے اور اس نے تمھیں اپنے بارے میں آگاہ فرما دیا ہے اور اس نے تمھارے سامنے اپنی عظمت بیان کر دی ہے۔ جس کے ذریعے سے تم اس کی معرفت حاصل کر سکتے ہو۔ عارف اس کی معرفت حاصل کر کے اس کے سامنے سرافگندہ ہو گئے اور کفار نے اس کی عبادت سے تکبر کیا اور اس کو عار گردانتے ہوئے اس سے اعراض کیا۔
[60] بنابریں فرمایا: ﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اسۡجُدُوۡا لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمان کو سجدہ کرو۔‘‘ یعنی صرف رحمن کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ جس نے تمھیں تمام نعمتوں سے نواز رکھا ہے اور تم سے تمام سختیوں کو دور کیا ہے ﴿قَالُوۡا﴾ ’’تو انھوں نے (انکار کرتے ہوئے) کہا:‘‘ ﴿وَمَا الرَّحۡمٰنُ﴾ ’’اور رحمان کیا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے زعم فاسد کے مطابق کہتے ہیں کہ وہ ’’رحمن‘‘ کو نہیں پہچانتے۔ رسول (ﷺ)کے بارے میں ان کی جملہ جرح وقدح یہ بھی ہے کہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت سے روکتا ہے اور خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک اور معبود کو پکارتا ہے اور کہتا ہے )یارحمٰن( جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلِ ادۡعُوا اللّٰهَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ١ؕ اَيًّا مَّا تَدۡعُوۡا فَلَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰؔى ﴾(بنی اسرائیل:17؍110) ’’کہہ دیجیے کہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر پکارو۔ اسے جس نام سے بھی پکارو اس کے سب نام بہت اچھے ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے کثرت اوصاف اور تعدد کمال کی بنا پر اس کے نام بھی بکثرت ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام اس کی ایک صفت کمال پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ اَنَسۡجُدُ لِمَا تَاۡمُرُنَا ﴾ ’’کیا جس کے لیے تم ہمیں کہتے ہو کہ ہم اس کے آگے سجدہ کریں ۔‘‘ یعنی مجرد تیرے حکم دینے سے اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں ۔ ان کا یہ قول رسول (ﷺ)کی تکذیب اور اللہ کی اطاعت کے بارے میں ان کے تکبر پر مبنی ہے۔ ﴿ وَزَادَهُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کیا ان کو‘‘ یعنی رحمن کو سجدہ کرنے کی دعوت نے ﴿ نُفُوۡرًا ﴾ ’’بدکنے میں ‘‘ یعنی ان کے حق سے باطل کی طرف بھاگنے، ان کے کفر اور ان کی بدبختی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ کریمہ میں (تبارک) کا لفظ تین مرتبہ استعمال فرمایا ہے کیونکہ، جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے، یہ لفظ باری تعالیٰ کی عظمت، اس کے اوصاف کی کثرت اور اس کے احسان اور بھلائی کی وسعت پر دلالت کرتا ہے۔ یہ سورۂ مبارکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت، اس کی لامحدود قوت و تسلط، اس کی مشیت کے نفوذ، اس کے علم و قدرت کے عموم، امری و جزائی احکام پر اس کے احاطۂ اختیار اور اس کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ اس میں بعض ایسی چیزیں بھی ہیں جو اس کی بے پایاں رحمت، اس کے وسیع جود وکرم اور اس کے دینی و دنیاوی احسانات پر دلالت کرتی ہیں یہ تمام اس وصف حسن کے تکرار کا تقاضا کرتے ہیں ،
25:60وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱسۡجُدُواْۤ لِلرَّحۡمَٰنِ قَالُواْ وَمَا ٱلرَّحۡمَٰنُ أَنَسۡجُدُ لِمَا تَأۡمُرُنَا وَزَادَهُمۡ نُفُورٗا۩
اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر خوشخبری دینے والااور ڈرانے والا (بنا کر)(56) آپ کہہ دیجیے! نہیں سوال کرتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کسی صلے کا مگر جو چاہے یہ کہ وہ پکڑے اپنے رب کی طرف راستہ (تو وہ اسے مان لے)(57) اور آپ توکل کیجیے اوپر اس زندہ (اللہ) کے جو نہیں مرتااور آپ تسبیح کریں ساتھ اس کی حمد کےاور کافی ہے اللہ ساتھ گناہوں کے اپنے بندوں کے خبر دار ہونے کے اعتبار سے (58) وہ ذات جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اورجو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں ، پھر مستوی ہوا عرش پر، (وہی) رحمن ہے، پس پوچھ لیں اس کی بابت کسی خبر رکھنے والے سے (59) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، سجدہ کرو تم رحمن کو تو کہتے ہیں وہ اور کیا ہے رحمن؟ کیا ہم سجدہ کریں اسے جس کی بابت تو حکم دیتا ہے ہمیں ؟ اور زیادہ کر دیا ان کو (تبلیغ نے) نفرت میں (60)
[56] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمدﷺ کو لوگوں پر داروغہ بنا کر بھیجا ہے نہ انھیں فرشتہ بنایا ہے اور نہ ان کے پاس چیزوں کے خزانے ہیں اس نے تو آپ کو صرف ﴿ مُبَشِّرًا ﴾ ’’خوشخبری سنانے والا‘‘ بنا کر بھیجا ہے آپ اس شخص کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سناتے ہیں جواللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے ﴿ وَّنَذِيۡرًا﴾ ’’اور ڈرانے والا۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اس کو دنیاوی اور اخروی سزا سے ڈراتے ہیں اور یہ اوامر و نواہی میں سے ان امور کی تبیین کو مستلزم ہے جن کی بشارت دی گئی ہے اور جن سے انذار حاصل ہوتا ہے۔
[57] اے محمد! (ﷺ)آپ قرآن اور ہدایت پہنچانے پر ان سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتے کہ یہ چیز ان کو آپ کی اتباع کرنے سے روکتی ہو اور انھیں اس مالی بوجھ کی تکلیف اٹھانی پڑتی ہو۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيۡلًا ﴾ ’’مگر جو چاہے یہ کہ وہ اپنے رب کی طرف کوئی راستہ پکڑے۔‘‘ یعنی سوائے اس شخص کے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس کی رضا کی خاطر کچھ خرچ کرنا چاہتا ہے تو اس بارے میں بھی میں تمھیں ترغیب دیتا ہوں لیکن تمھیں اس پر مجبور نہیں کرتا اور تمھارے ذمے میرا کوئی اجر نہیں ، یہ تو تمھاری راجح مصلحت اور تمھارے رب کے پاس پہنچانے والے راستے پر تمھارا گامزن ہونا ہے۔
[58] پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے رب پر بھروسہ کرنے اور اسی سے مدد مانگنے کا حکم دیا، فرمایا :﴿ وَتَوَكَّلۡ عَلَى الۡحَيِّ ﴾ ’’اور اس زندہ پر بھروسہ کیجیے۔‘‘ یعنی اس ہستی پر بھروسہ کیجیے جس کے لیے کامل اور مطلق زندگی ہے ﴿ الَّذِيۡ لَا يَمُوۡتُ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِهٖ﴾ ’’جو کبھی نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کیجیے اور اپنی ذات اور مخلوق سے متعلق عام امور کے بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿ وَكَفٰى بِهٖ بِذُنُوۡبِ عِبَادِهٖ خَبِيۡرً﴾ ’’اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کے لیے کافی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار ہے وہ انھیں ان گناہوں کی سزا دے گا۔ ان کی ہدایت کی ذمہ داری آپ پر ہے نہ ان کے اعمال کی حفاظت آپ کا فرض ہے۔ یہ تمام امور صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ۔
[59]﴿الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى ﴾ ’’جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر وہ مستوی ہوا۔‘‘ یعنی ان امور کے بعد ﴿ عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش پر ‘‘وہ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور تمام مخلوقات سے بلند، سب سے وسیع اور سب سے خوبصورت ہے۔ ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ ’’وہ رحم کرنے والا ہے‘‘ جس کی بے پایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اپنی سب سے زیادہ وسیع صفت کے ساتھ مخلوقات میں سے سب سے زیادہ وسیع مخلوق پر مستوی ہوا۔اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا، وہ ان کے تمام ظاہر و باطن کی اطلاع رکھتا ہے، وہ عرش کے اوپر مستوی اور تمام مخلوق سے جدا ہے۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بِهٖ خَبِيۡرًا ﴾ ’’تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کر۔‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہی ذات کریمہ مراد لی ہے۔ وہی ہے جو اپنے تمام اوصاف اور اپنی عظمت و جلال کا علم رکھتا ہے اور اس نے تمھیں اپنے بارے میں آگاہ فرما دیا ہے اور اس نے تمھارے سامنے اپنی عظمت بیان کر دی ہے۔ جس کے ذریعے سے تم اس کی معرفت حاصل کر سکتے ہو۔ عارف اس کی معرفت حاصل کر کے اس کے سامنے سرافگندہ ہو گئے اور کفار نے اس کی عبادت سے تکبر کیا اور اس کو عار گردانتے ہوئے اس سے اعراض کیا۔
[60] بنابریں فرمایا: ﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اسۡجُدُوۡا لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمان کو سجدہ کرو۔‘‘ یعنی صرف رحمن کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ جس نے تمھیں تمام نعمتوں سے نواز رکھا ہے اور تم سے تمام سختیوں کو دور کیا ہے ﴿قَالُوۡا﴾ ’’تو انھوں نے (انکار کرتے ہوئے) کہا:‘‘ ﴿وَمَا الرَّحۡمٰنُ﴾ ’’اور رحمان کیا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے زعم فاسد کے مطابق کہتے ہیں کہ وہ ’’رحمن‘‘ کو نہیں پہچانتے۔ رسول (ﷺ)کے بارے میں ان کی جملہ جرح وقدح یہ بھی ہے کہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت سے روکتا ہے اور خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک اور معبود کو پکارتا ہے اور کہتا ہے )یارحمٰن( جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلِ ادۡعُوا اللّٰهَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ١ؕ اَيًّا مَّا تَدۡعُوۡا فَلَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰؔى ﴾(بنی اسرائیل:17؍110) ’’کہہ دیجیے کہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر پکارو۔ اسے جس نام سے بھی پکارو اس کے سب نام بہت اچھے ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے کثرت اوصاف اور تعدد کمال کی بنا پر اس کے نام بھی بکثرت ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام اس کی ایک صفت کمال پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ اَنَسۡجُدُ لِمَا تَاۡمُرُنَا ﴾ ’’کیا جس کے لیے تم ہمیں کہتے ہو کہ ہم اس کے آگے سجدہ کریں ۔‘‘ یعنی مجرد تیرے حکم دینے سے اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں ۔ ان کا یہ قول رسول (ﷺ)کی تکذیب اور اللہ کی اطاعت کے بارے میں ان کے تکبر پر مبنی ہے۔ ﴿ وَزَادَهُمۡ ﴾ ’’اور زیادہ کیا ان کو‘‘ یعنی رحمن کو سجدہ کرنے کی دعوت نے ﴿ نُفُوۡرًا ﴾ ’’بدکنے میں ‘‘ یعنی ان کے حق سے باطل کی طرف بھاگنے، ان کے کفر اور ان کی بدبختی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ کریمہ میں (تبارک) کا لفظ تین مرتبہ استعمال فرمایا ہے کیونکہ، جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے، یہ لفظ باری تعالیٰ کی عظمت، اس کے اوصاف کی کثرت اور اس کے احسان اور بھلائی کی وسعت پر دلالت کرتا ہے۔ یہ سورۂ مبارکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت، اس کی لامحدود قوت و تسلط، اس کی مشیت کے نفوذ، اس کے علم و قدرت کے عموم، امری و جزائی احکام پر اس کے احاطۂ اختیار اور اس کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ اس میں بعض ایسی چیزیں بھی ہیں جو اس کی بے پایاں رحمت، اس کے وسیع جود وکرم اور اس کے دینی و دنیاوی احسانات پر دلالت کرتی ہیں یہ تمام اس وصف حسن کے تکرار کا تقاضا کرتے ہیں ،
25:61تَبَارَكَ ٱلَّذِي جَعَلَ فِي ٱلسَّمَآءِ بُرُوجٗا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَٰجٗا وَقَمَرٗا مُّنِيرٗا
بابرکت ہے وہ ذات جس نے بنائے آسمان میں برج اور اس نے بنایا اس میں چراغ (سورج) اور چاند روشن (61)اور وہی ہے، (اللہ) جس نے بنایا رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا واسطے اس شخص کے جو چاہے یہ کہ نصیحت حاصل کرے وہ یا چاہے وہ شکر کرنا (62)
[61] چنانچہ فرمایا: ﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡ جَعَلَ فِي السَّمَآءِ بُرُوۡجًا ﴾ ’’اور بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمانوں میں برج بنائے۔‘‘ یہ عام ستارے ہیں یا سورج اور چاند کی منازل ہیں جہاں وہ منزل بمنزل چلتے رہتے ہیں اور وہ منازل ایسی ہیں جیسے شہروں کی حفاظت کے لیے برج اور قلعے ہوتے ہیں ۔ اس طرح ستارے ان برجوں کی مانند ہوتے ہیں جو حفاظت کے لیے بنائے جاتے ہیں … کیونکہ یہ ستارے شیاطین کے لیے شہاب ثاقب ہیں ۔ ﴿ وَّجَعَلَ فِيۡهَا سِرٰجًا﴾ ’’اور اس میں (آفتاب کو) چراغ بنایا۔‘‘ یعنی جس میں روشنی اور حرارت ہو اس سے مراد سورج ہے ﴿ وَّقَمَرًا مُّنِيۡرًا ﴾ ’’اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا۔‘‘ جس میں روشنی ہو مگر حرارت نہ ہو (وہ چاند ہے) یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظمت اور اس کے بے شمار احسانات کی دلیل ہے چونکہ اس میں نمایاں تخلیق، انتہائی منظم تدبیر اور عظیم جمال ہے اس لیے یہ اپنے خالق کے تمام اوصاف میں اس کی عظمت پر دلالت کرتی ہے اور چونکہ ان میں مخلوق کے لیے مصالح اور منافع ہیں اس لیے یہ اس کی بھلائیوں کی کثرت پر دلالت کرتی ہے۔
[62]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ جَعَلَ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ خِلۡفَةً ﴾ ’’اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا۔‘‘ یعنی دن رات میں سے ایک جاتا ہے تو دوسرا اس کا پیچھا کرتا ہے یہ سلسلہ یونہی ہمیشہ چلتا رہے گا وہ کبھی اکٹھے ہوں گے نہ کبھی مرتفع ہوں گے۔ ﴿ لِّمَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّذَّكَّـرَ اَوۡ اَرَادَ شُكُوۡرًا﴾ ’’اس شخص کے لیے جو غور کرنا چاہے یا شکرگزاری کا ارادہ کرے۔‘‘ یہ شب و روز اس شخص کے لیے نصیحت ہیں جو ان سے نصیحت حاصل کرنا، عبرت پکڑنا، ان کے ذریعے سے بہت سے مطالب الٰہیہ پر استدلال کرنا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہتا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کاشکر کرنا چاہتا ہے تو دن یا رات میں اس کے لیے ورد ہے۔ اگر کسی ایک وقت اس سے اس کا ورد فوت ہو جائے تو وہ دوسرے وقت میں اس کی تلافی کر سکتا ہے۔ نیز دل بھی شب و روز کی مختلف گھڑیوں میں ، اپنی کیفیات کے اعتبار سے تبدیلیوں کا سامنا کرتے رہتے ہیں انھیں نشاط اور کسل مندی، ذکر اور غفلت، قبض اور بسط، اقبال اور اعراض کی کیفیات پیش آتی رہتی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے شب و روز کو اس طرح تخلیق فرمایا ہے کہ وہ تسلسل سے باری باری وارد ہوتے رہتے ہیں تاکہ اگر ایک وقت فوت ہو جائے تو دوسرے وقت میں نشاط، ذکر اور شکر کی کیفیت حاصل ہو جائے نیز شب و روز کے تکرار میں عبادات کے اوقات کا تکرار ہے۔ جب بھی عبادات کا وقت دوبارہ آئے گا تو بندے میں ایک نیا ارادہ پیدا ہو گا جو گزشتہ وقت میں اس کی کسل مندی کا شکار ہو گیا تھا۔ اس طرح اس کے ذکر و شکر میں اضافہ ہو گا نیکیوں کا وظیفہ شجرۂ ایمان کے لیے آب پاشی کی حیثیت رکھتا ہے جس سے ایمان بڑھتا چلا جاتا ہے اگر یہ نہ ہو تو ایمان کا پودا مرجھا کر سوکھ جاتا ہے۔
اس پر اللہ تعالیٰ کی خوبصورت پیرائے میں کامل ترین حمد ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان بے شمار بھلائیوں اور احسانات کا ذکر کیا ہے جن سے اس نے اپنے نیک بندوں کو نوازا اور انھیں نیک اعمال کی توفیق سے سرفراز کیا جو انھیں جنت میں بلند ترین مقامات پر فائز کریں گے، چنانچہ فرمایا :
25:62وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ خِلۡفَةٗ لِّمَنۡ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوۡ أَرَادَ شُكُورٗا
بابرکت ہے وہ ذات جس نے بنائے آسمان میں برج اور اس نے بنایا اس میں چراغ (سورج) اور چاند روشن (61)اور وہی ہے، (اللہ) جس نے بنایا رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا واسطے اس شخص کے جو چاہے یہ کہ نصیحت حاصل کرے وہ یا چاہے وہ شکر کرنا (62)
[61] چنانچہ فرمایا: ﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡ جَعَلَ فِي السَّمَآءِ بُرُوۡجًا ﴾ ’’اور بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمانوں میں برج بنائے۔‘‘ یہ عام ستارے ہیں یا سورج اور چاند کی منازل ہیں جہاں وہ منزل بمنزل چلتے رہتے ہیں اور وہ منازل ایسی ہیں جیسے شہروں کی حفاظت کے لیے برج اور قلعے ہوتے ہیں ۔ اس طرح ستارے ان برجوں کی مانند ہوتے ہیں جو حفاظت کے لیے بنائے جاتے ہیں … کیونکہ یہ ستارے شیاطین کے لیے شہاب ثاقب ہیں ۔ ﴿ وَّجَعَلَ فِيۡهَا سِرٰجًا﴾ ’’اور اس میں (آفتاب کو) چراغ بنایا۔‘‘ یعنی جس میں روشنی اور حرارت ہو اس سے مراد سورج ہے ﴿ وَّقَمَرًا مُّنِيۡرًا ﴾ ’’اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا۔‘‘ جس میں روشنی ہو مگر حرارت نہ ہو (وہ چاند ہے) یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظمت اور اس کے بے شمار احسانات کی دلیل ہے چونکہ اس میں نمایاں تخلیق، انتہائی منظم تدبیر اور عظیم جمال ہے اس لیے یہ اپنے خالق کے تمام اوصاف میں اس کی عظمت پر دلالت کرتی ہے اور چونکہ ان میں مخلوق کے لیے مصالح اور منافع ہیں اس لیے یہ اس کی بھلائیوں کی کثرت پر دلالت کرتی ہے۔
[62]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ جَعَلَ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ خِلۡفَةً ﴾ ’’اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا۔‘‘ یعنی دن رات میں سے ایک جاتا ہے تو دوسرا اس کا پیچھا کرتا ہے یہ سلسلہ یونہی ہمیشہ چلتا رہے گا وہ کبھی اکٹھے ہوں گے نہ کبھی مرتفع ہوں گے۔ ﴿ لِّمَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّذَّكَّـرَ اَوۡ اَرَادَ شُكُوۡرًا﴾ ’’اس شخص کے لیے جو غور کرنا چاہے یا شکرگزاری کا ارادہ کرے۔‘‘ یہ شب و روز اس شخص کے لیے نصیحت ہیں جو ان سے نصیحت حاصل کرنا، عبرت پکڑنا، ان کے ذریعے سے بہت سے مطالب الٰہیہ پر استدلال کرنا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہتا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کاشکر کرنا چاہتا ہے تو دن یا رات میں اس کے لیے ورد ہے۔ اگر کسی ایک وقت اس سے اس کا ورد فوت ہو جائے تو وہ دوسرے وقت میں اس کی تلافی کر سکتا ہے۔ نیز دل بھی شب و روز کی مختلف گھڑیوں میں ، اپنی کیفیات کے اعتبار سے تبدیلیوں کا سامنا کرتے رہتے ہیں انھیں نشاط اور کسل مندی، ذکر اور غفلت، قبض اور بسط، اقبال اور اعراض کی کیفیات پیش آتی رہتی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے شب و روز کو اس طرح تخلیق فرمایا ہے کہ وہ تسلسل سے باری باری وارد ہوتے رہتے ہیں تاکہ اگر ایک وقت فوت ہو جائے تو دوسرے وقت میں نشاط، ذکر اور شکر کی کیفیت حاصل ہو جائے نیز شب و روز کے تکرار میں عبادات کے اوقات کا تکرار ہے۔ جب بھی عبادات کا وقت دوبارہ آئے گا تو بندے میں ایک نیا ارادہ پیدا ہو گا جو گزشتہ وقت میں اس کی کسل مندی کا شکار ہو گیا تھا۔ اس طرح اس کے ذکر و شکر میں اضافہ ہو گا نیکیوں کا وظیفہ شجرۂ ایمان کے لیے آب پاشی کی حیثیت رکھتا ہے جس سے ایمان بڑھتا چلا جاتا ہے اگر یہ نہ ہو تو ایمان کا پودا مرجھا کر سوکھ جاتا ہے۔
اس پر اللہ تعالیٰ کی خوبصورت پیرائے میں کامل ترین حمد ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان بے شمار بھلائیوں اور احسانات کا ذکر کیا ہے جن سے اس نے اپنے نیک بندوں کو نوازا اور انھیں نیک اعمال کی توفیق سے سرفراز کیا جو انھیں جنت میں بلند ترین مقامات پر فائز کریں گے، چنانچہ فرمایا :
25:63وَعِبَادُ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلَّذِينَ يَمۡشُونَ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ هَوۡنٗا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ ٱلۡجَٰهِلُونَ قَالُواْ سَلَٰمٗا
اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77)
[63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔
[64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘
[65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔
[66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔
[67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
[68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘
[69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔
[70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
[71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔
[72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔
[73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
[74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔
[76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔
[77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔
25:64وَٱلَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدٗا وَقِيَٰمٗا
اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77)
[63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔
[64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘
[65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔
[66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔
[67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
[68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘
[69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔
[70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
[71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔
[72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔
[73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
[74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔
[76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔
[77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔
25:65وَٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا
اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77)
[63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔
[64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘
[65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔
[66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔
[67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
[68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘
[69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔
[70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
[71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔
[72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔
[73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
[74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔
[76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔
[77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔
25:66إِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرّٗا وَمُقَامٗا
اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77)
[63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔
[64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘
[65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔
[66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔
[67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
[68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘
[69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔
[70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
[71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔
[72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔
[73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
[74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔
[76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔
[77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔
25:67وَٱلَّذِينَ إِذَآ أَنفَقُواْ لَمۡ يُسۡرِفُواْ وَلَمۡ يَقۡتُرُواْ وَكَانَ بَيۡنَ ذَٰلِكَ قَوَامٗا
اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77)
[63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔
[64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘
[65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔
[66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔
[67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
[68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘
[69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔
[70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
[71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔
[72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔
[73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
[74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔
[76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔
[77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔
25:68وَٱلَّذِينَ لَا يَدۡعُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ وَلَا يَقۡتُلُونَ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَلَا يَزۡنُونَۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ يَلۡقَ أَثَامٗا
اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77)
[63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔
[64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘
[65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔
[66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔
[67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
[68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘
[69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔
[70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
[71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔
[72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔
[73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
[74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔
[76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔
[77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔
25:69يُضَٰعَفۡ لَهُ ٱلۡعَذَابُ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيهِۦ مُهَانًا
اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77)
[63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔
[64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘
[65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔
[66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔
[67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
[68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘
[69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔
[70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
[71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔
[72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔
[73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
[74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔
[76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔
[77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔
25:70إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ عَمَلٗا صَٰلِحٗا فَأُوْلَـٰٓئِكَ يُبَدِّلُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِهِمۡ حَسَنَٰتٖۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا
اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77)
[63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔
[64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘
[65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔
[66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔
[67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
[68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘
[69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔
[70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
[71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔
[72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔
[73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
[74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔
[76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔
[77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔
25:71وَمَن تَابَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَإِنَّهُۥ يَتُوبُ إِلَى ٱللَّهِ مَتَابٗا
اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77)
[63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔
[64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘
[65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔
[66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔
[67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
[68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘
[69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔
[70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
[71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔
[72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔
[73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
[74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔
[76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔
[77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔
25:72وَٱلَّذِينَ لَا يَشۡهَدُونَ ٱلزُّورَ وَإِذَا مَرُّواْ بِٱللَّغۡوِ مَرُّواْ كِرَامٗا
اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77)
[63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔
[64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘
[65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔
[66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔
[67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
[68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘
[69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔
[70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
[71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔
[72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔
[73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
[74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔
[76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔
[77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔
25:73وَٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُواْ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ لَمۡ يَخِرُّواْ عَلَيۡهَا صُمّٗا وَعُمۡيَانٗا
اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77)
[63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔
[64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘
[65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔
[66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔
[67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
[68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘
[69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔
[70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
[71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔
[72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔
[73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
[74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔
[76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔
[77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔
25:74وَٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ أَزۡوَٰجِنَا وَذُرِّيَّـٰتِنَا قُرَّةَ أَعۡيُنٖ وَٱجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِينَ إِمَامًا
اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77)
[63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔
[64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘
[65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔
[66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔
[67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
[68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘
[69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔
[70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
[71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔
[72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔
[73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
[74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔
[76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔
[77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔
25:75أُوْلَـٰٓئِكَ يُجۡزَوۡنَ ٱلۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُواْ وَيُلَقَّوۡنَ فِيهَا تَحِيَّةٗ وَسَلَٰمًا
اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77)
[63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔
[64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘
[65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔
[66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔
[67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
[68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘
[69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔
[70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
[71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔
[72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔
[73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
[74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔
[76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔
[77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔
25:76خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ حَسُنَتۡ مُسۡتَقَرّٗا وَمُقَامٗا
اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77)
[63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔
[64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘
[65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔
[66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔
[67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
[68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘
[69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔
[70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
[71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔
[72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔
[73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
[74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔
[76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔
[77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔
25:77قُلۡ مَا يَعۡبَؤُاْ بِكُمۡ رَبِّي لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡۖ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُونُ لِزَامَۢا
اور رحمن کے بندے وہ لوگ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر آہستگی (وقار اور عاجزی) سے اور جب بات کرتے ہیں ان سے جاہل (لوگ) تو وہ کہتے ہیں سلام ہے (63)اور وہ لوگ رات گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے (64) اور وہ لوگ جو کہتے ہیں ، اے ہمار رب! پھیر دے ہم سے عذاب جہنم کا، بلاشبہ عذاب اس کا ہے چمٹنے والا، دائمی (65) بے شک وہ (جہنم) بری ہے جگہ ٹھہرنے کی اور قیام کرنے کی(66)اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہیں بے جا خرچ کرتے وہ اور تنگی کرتے ہیں اور ہوتا ہے (خرچ کرنا ان کا) درمیان اس کے معتدل گزران (67) اوروہ لوگ کہ نہیں پکارتے وہ ساتھ اللہ کے دوسرے معبود کواور نہیں قتل کرتے وہ اس جان کو جسے (مارنا) حرام کیا ہے اللہ نے مگر ساتھ حق کے اور نہیں وہ زنا کرتے اورجو کوئی کرے گا یہ کام، وہ ملے گا گناہ (کی سزا) کو (68) دگنا کیا جائے گا اس کے لیے عذاب دن قیامت کےاور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل ہو کر (69) مگر جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لایا اور اس نے عمل کیا عمل نیک تو یہ لوگ ہیں کہ بدل دے گا اللہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں سے اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا (70) اور جو کوئی توبہ کرے اور عمل کرے نیک، پس بلاشبہ وہ شخص تو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا (71) اور وہ لوگ کہ نہیں شہادت دیتے وہ جھوٹی اور جب گزرتے ہیں وہ ساتھ لغو کاموں کے تو وہ گزر جاتے ہیں عزت ووقار سے (72) اور وہ لوگ کہ جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں اپنے رب کی آیتوں کے ساتھ تو نہیں گر پڑتے وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر (73) اور وہ لوگ کہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! عطا کر ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ٹھنڈک آنکھوں کی اور بنا ہمیں متقیوں کا امام (74) یہ لوگ جزاء دیے جائیں گے وہ بالا خانے (جنت میں ) بوجہ اس کے کہ صبر کیا انھوں نے، استقبال کیے جائیں گے وہ اس میں دعاء اور سلام کے ساتھ (75) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ، اچھی ہے وہ قرار گاہ اور قیام گاہ (76) آپ کہہ دیجیے، نہیں پروا کرتا تمھاری میرا رب، اگر نہ ہوتا دعا کرنا تمھارا، پس تحقیق جھٹلایا ہے تم نے حق کو سو عنقریب ہو گی (سزا اس کی) لازمی (77)
[63]اللہ تعالیٰ کی عبودیت کی دو اقسام ہیں :(۱) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنا پر اس کی عبودیت: یہ عبودیت مسلمان اور کافر، نیک اور بد تمام مخلوق میں مشترک ہے تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی غلام، اس کی ربوبیت کی محتاج اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93)’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں وہ سب رحمان کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘(۲) اللہ تعالیٰ کی الوہیت اس کی عبادت اور اس کی رحمت کے سبب سے اس کی عبودیت: یہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کے اولیاء کی عبودیت ہے اور یہاں عبودیت کی یہی قسم مراد ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی اضافت اپنے اسم مبارک (رحمن) کی طرف کی جو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب سے اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان کی صفات سب سے کامل اور ان کی نعت سب سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا ﴾ ’’وہ زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے سامنے نہایت پرسکون متواضع ہوتے ہیں ۔ وقار، سکون اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے تواضع اور انکساری ان کا وصف ہے۔ ﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ﴾ ’’اور جب جاہل لوگ ان سے گفتگو کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جہالت پر مبنی خطاب اور اس کی دلیل یہ ہے کہ فعل کی اضافت اور اس کی نسبت اس وصف کی طرف ہے ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾ ’’تو سلام کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ انھیں اس طریقے سے خطاب کرتے ہیں جس سے وہ گناہ اور جاہل کی جہالت کے مقابلہ سے محفوظ رہتے ہیں ۔ یہ ان کے حلم، برائی کے بدلے احسان، جاہل سے عفوو درگزر اور وفور عقل کی مدح ہے جس نے انھیں اس بلند مقام پر فائز کیا۔
[64]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبِيۡتُوۡنَ لِرَبِّهِمۡ سُجَّدًا وَّقِيَامًا ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اور قیام کر کے راتیں بسر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی راتوں کے وقت بہت کثرت سے نماز پڑھتے ہیں ، اپنے رب کے سامنے اخلاص اور تذلل کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِـعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا١ٞ وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۰۰فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدہ:32؍16، 17) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا کیا ہے، اس میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ۔ کسی متنفس کو خبر نہیں کہ کیا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے۔‘‘
[65]﴿وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اصۡرِفۡ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ﴾ ’’اور وہ جو دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔‘‘ یعنی اسباب عصمت کے ذریعے سے اور ہمارے ان گناہوں کو بخش کر جو موجب عذاب ہیں ، ہم سے جہنم کے عذاب کو دور فرما۔ ﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ﴾ ’’بے شک اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔‘‘ یعنی جہنم کا عذاب جہنمیوں سے چپک جائے گا۔ جیسے قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے۔
[66]﴿اِنَّهَا سَآءَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ ’’بلاشبہ دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے اپنے رب کے سامنے عاجزی اور شدت احتیاج کا اظہار ہے۔ نیز یہ کہ ان میں اتنی طاقت نہیں کہ اس عذاب کو برداشت کر سکیں … نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھیں کیونکہ سختی کو دور کرنا بھی اس کی شدت اور برائی کے مطابق ہوتا ہے اور سختی جس قدر زیادہ شدت سے واقع ہو گی، اس کے ہٹائے جانے سے خوشی بھی اسی قدر زیادہ ہو گی۔
[67]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور وہ جب خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ و مستحبہ ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا﴾ ’’تو اسراف نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ حد اعتدال سے آگے بڑھ کر تبذیر اور حقوق واجبہ سے بے اعتنائی کی حدود میں داخل نہیں ہوتے ﴿ لَمۡ يُسۡرِفُوۡا وَلَمۡ يَقۡتُرُوۡا﴾ اور نہ نفقات میں تنگی کر کے بخل اور کنجوسی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿وَكَانَ﴾ ’’اور ہوتا ہے‘‘ یعنی ان کا خرچ کرنا۔ ﴿ بَيۡنَ ذٰلِكَ ﴾ اسراف اور بخل کے بین بین ﴿ قَوَامًا ﴾ ’’اعتدال کی راہ پر۔‘‘ وہ ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا واجب ہے ، مثلاً: زکاۃ، کفارہ اور نفقات واجبہ وغیرہ۔ نیز ان مقامات پر خرچ کرتے ہیں جہاں خرچ کرنا مناسب ہو اور اس سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔ یہ ان کے عدل و انصاف اور اعتدال کی دلیل ہے۔
[68]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔‘‘ بلکہ وہ دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے غیر اللہ سے منہ موڑ کر یکسوئی کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں ﴿ وَلَا يَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِيۡ حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’اور جس جان کا مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے۔‘‘ اس سے مراد مسلمان اور معاہد کافر ہے ﴿ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’مگر جائز طریق پر۔‘‘ ، مثلاً: قتل کے قصاص میں قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو زنا کی پاداش میں قتل کرنا اور اس کافر کو قتل کرنا جس کو قتل کرنا جائز ہو۔ ﴿ وَلَا يَزۡنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ زنا نہیں کرتے۔‘‘ بلکہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ﴿ اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾(المومنون:23؍6) ’’سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جوان کی ملکیت میں ہوں ۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور جو یہ کام کرے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور زنا کا ارتکاب کرے گا اور ناحق قتل کرے گا تو عنقریب ﴿ يَلۡقَ اَثَامًا﴾ ’’وہ گناہ کا بدلہ پائے گا۔‘‘
[69] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يُّضٰعَفۡ لَهُ الۡعَذَابُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيۡهٖ﴾ ’’قیامت کے دن اس کو دگنا عذاب ہو گا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔‘‘ یعنی وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا ﴿ مُهَانًا ﴾ ’’رسوائی کے ساتھ۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی ان تمام افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اسی طرح شرک کا مرتکب بھی ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اسی طرح ان تینوں گناہوں میں سے ہرگناہ کے ارتکاب پر سخت عذاب کی وعید ہے۔ کیونکہ یہ گناہ یا تو شرک ہے یا کبیرہ گناہ ہے۔ رہا قاتل اور زناکار کا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا تو قرآن اور سنت کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، اس لیے کہ تمام اہل ایمان جہنم سے نکال لیے جائیں گے، کوئی مومن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا خواہ اس نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہ کیوں نہ كيے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ انھیں اس لیے ذکر کیا ہے کہ یہ تینوں سب سے بڑے گناہ ہیں ۔ شرک فساد ادیان، قتل فساد ابدان اور زنا فساد عزت و ناموس ہے۔
[70]﴿اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ ’’مگر جس نے توبہ کی۔‘‘ یعنی جس نے ان گناہوں اور دیگر گناہوں سے توبہ کی، اس نے فی الفور ان گناہوں کو ترک کر دیا، ان گناہوں پر نادم ہوا اور پختہ عزم کر لیا کہ اب وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ ’’اور ایمان لایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جو گناہوں کو ترک کرنے اور نیکیوں کے اکتساب کا تقاضا کرتا ہے ﴿ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ ’’اور اچھے کام کیے۔‘‘ یعنی وہ ایسے نیک کام کرتا ہے جن کا شارع نے حکم دیا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔‘‘ یعنی ان کے وہ افعال اور اقوال جو برائی کی راہ میں سرانجام پانے کے لیے تیار تھے، نیکیوں میں بدل جاتے ہیں ، چنانچہ ان کا شرک ایمان میں بدل جاتا ہے،ا ن کی نافرمانی اطاعت میں اور وہ برائیاں جن کا انھوں نے ارتکاب کیا تھا، بدل جاتی ہیں ، پھر ان کا وصف یہ بن جاتا ہے کہ جو بھی گناہ ان سے صادر ہوتا ہے تو وہ اس کے بعد توبہ کرتے اور انابت و اطاعت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، جس سے وہ گناہ بھی نیکیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، جیسا کہ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث وارد ہوئی ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے بعض گناہوں کا اللہ تعالیٰ محاسبہ کرے گا اور ان گناہوں کو اس کے سامنے شمار کرے گا پھر ہر برائی کو نیکی میں بدل دے گا۔ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ’’اے میرے رب! میری تو بہت سی برائیاں تھیں جومجھے یہاں دکھائی نہیں دیتیں ۔‘‘(صحیح مسلم، الایمان، باب ادنیٰ اہل الجنۃ منزلۃ فیہا، ح:190) واللہ اعلم ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا﴾ ’’اور اللہ تو بخشنے والا ہے۔‘‘ جو توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا ﴾ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ان کو ان کے گناہ کرنے کے بعد توبہ کی طرف بلایا ہے، پھر انھیں توبہ کی توفیق عطا کی اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
[71]﴿ وَمَنۡ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ يَتُوۡبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴾ ’’اور جو توبہ کرتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو بے شک وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔‘‘ یعنی بندے کو معلوم ہونا چاہیے کہ توبہ کمال کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ توبہ اس راستے کی طرف رجوع ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے اور اس مقام پر پہنچنے میں بندے کی عین سعادت اور فلاح ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ توبہ میں اخلاص سے کام لے اور توبہ کو اغراض فاسدہ کے تمام شائبوں سے پاک رکھے۔اس سے مقصود دراصل بندوں کو تکمیل توبہ نیز بہترین اور جلیل القدر انداز سے اس کی اتباع کی ترغیب دینا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی طرف توجہ فرمائے اور توبہ کی تکمیل کے مطابق، پورا پورا اجر عطا کرے۔
[72]﴿ وَالَّذِيۡنَ لَا يَشۡهَدُوۡنَ الزُّوۡرَ﴾ یعنی جو لوگ جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے (الزور) سے مراد حرام قول و فعل ہے۔ پس وہ ان تمام مجالس سے اجتناب کرتے ہیں جواقوال محرمہ یا افعال محرمہ پر مشتمل ہوتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کی آیات میں باطل انداز سے گفتگو میں مشغول ہونا اور جھگڑنا، غیبت، چغلی، سب و شتم، قذف و استہزا، حرام گانا بجانا، شراب پینا، ریشم کے بچھونے اور تصاویر وغیرہ۔ جب وہ جھوٹ میں حاضر ہونے سے اجتناب کرتے ہیں تو جھوٹی بات کہنے اور جھوٹے فعل کے ارتکاب سے بدرجہ اولیٰ بچتے ہوں گے۔ جھوٹی گواہی جھوٹی بات میں داخل ہے اور یہ بھی بدرجہ اولیٰ اس آیت کریمہ میں داخل ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ﴾ ’’اور جب وہ بے ہودہ چیزوں کے پاس سے گزرتے ہیں ۔‘‘ (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو، مثلاً:بیوقوف لوگوں کا کلام ﴿ مَرُّوۡا كِرَامًا ﴾ ’’تو باوقار انداز سے گزر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ لغویات میں مشغول ہونے سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ لغویات میں مغشول ہونا خواہ ان میں کوئی گناہ کی بات نہ ہو، سفاہت ہے جو انسانیت اور مروت کے منافی ہے بنابریں وہ اپنے لیے اسے پسند نہیں کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغۡوِ ﴾ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان لغویات میں حاضر ہونا اور انھیں سننا، ان کا مقصد نہیں بلکہ اگر کسی لغو بات کا کہیں سامنا ہو جاتا ہے تو نہایت باوقار طریقے سے اپنے آپ کو وہاں سے بچا لیتے ہیں ۔
[73]﴿ وَالَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور وہ لوگ جب ان کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے سمجھایا جاتا ہے۔‘‘ جن کو سننے اور جن سے راہنمائی حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ لَمۡ يَخِرُّوۡا عَلَيۡهَا صُمًّا وَّعُمۡيَانًا﴾ ’’تو ان پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے۔‘‘ یعنی ان سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہ آیات الٰہی کو بہرے بن کر سنتے ہیں نہ اپنے قلب و نظر کی توجہ کو کسی دوسری طرف کرتے ہیں ، جس طرح اس پر ایمان نہ لانے والوں اور اس کی تصدیق نہ کرنے والوں کا رویہ ہوتا ہے۔ ان کا آیات الٰہی کے سماع کے وقت یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِّرُوۡا بِهَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(السجدہ:32؍15) ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ ریزہ ہو جاتے ہیں ۔ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو آیات الٰہی کا محتاج سمجھتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
[74]﴿ وَالَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں عطا کر ہماری بیویوں کی طرف سے‘‘ یعنی ہمارے ہم عصروں ، ہمارے ساتھیوں اور ہماری بیویوں کی طرف سے ﴿ وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعۡيُنٍ ﴾ ’’اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک۔‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔جب ہم ان اللہ کے نیک بندوں کے احوال و اوصاف کا استقرا کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بلند ہمت اور عالی مرتبہ لوگ ہیں ، اس لیے ان کی آنکھیں تب ہی ٹھنڈی ہوں گی جب وہ انھیں اپنے رب کے حضور مطیع، اس کے متعلق جاننے والے اور نیک اعمال کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ گویا کہ ان کی یہ دعا جو ان کی بیویوں اور ان کی اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے ہے، درحقیقت وہ ان کے اپنے ہی لیے ہے۔ کیونکہ اس دعا کا فائدہ خود ان ہی کی طرف لوٹتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کواپنے لیے ہبہ قرار دیتے ہوئے یوں کہا:﴿ هَبۡ لَنَا ﴾’’ہمیں عطا فرما۔‘‘ بلکہ ان کی دعا کا فائدہ عام مسلمانوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ مذکورہ لوگوں کی اصلاح سے بہت سے لوگوں کی اصلاح ہو گی جو ان سے متعلق ہیں اور جو ان سے مستفید ہوتے ہیں ۔﴿ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾ اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘ یعنی، اے ہمارے رب! ہمیں بلند درجہ یعنی صدیقین اور اللہ کے صالح بندوں کے درجے پہ پہنچا دے اور وہ ہے امامت دینی کا درجہ، نیز یہ کہ وہ اپنے اقوال و افعال میں اہل تقویٰ کے لیے نمونہ بن جائیں لوگ ان کے افعال کی پیروی کریں اور ان کے اقوال پر مطمئن ہوں اور اہل خیر ان کے پیچھے چلیں اور ان سے راہنمائی حاصل کریں ۔یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی چیز تک پہنچنے کی دعا ایسی چیز کی دعا ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ یہ درجہ، امامت دین کا درجہ ہے اور صبر ویقین کے بغیر اس درجہ کی تکمیل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین رکھتے رہے تو ہم نے ان کے اندر راہنما پیدا کر دیے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔‘‘ یہ دعا اعمال صالحہ، اطاعت الٰہی پر استقامت اور ثابت قدمی، معاصی سے باز رہنے، المناک تقدیر پر صبر کرنے، علم کامل … جو صاحب علم کو درجۂ یقین پر فائز کرتا ہے … خیر کثیر اور عطائے جزیل کو مستلزم ہے۔ نیز یہ دعا اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین کے بعد مخلوق میں بلند ترین درجہ پر فائز ہوں ۔
[76,75] چونکہ وہ بلند ہمت اور بلند مقصد لوگ ہیں اس لیے ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہو گی، اللہ تعالیٰ انھیں جزا کے طور پر بلند منازل عطا کرے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَةَ بِمَا صَبَرُوۡا﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی انھیں بلند منازل اور خوبصورت مساکن عطا كيے جائیں گے اوران کے لیے ہر وہ چیز جمع ہو گی جس کی دل خواہش کرے گا اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ سب کچھ انھیں ان کے صبر کی بنا پر عطا ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍۚ۰۰ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد:13؍23، 24) ’’فرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ سب کچھ اس بنا پر عطا ہوا کہ تم نے صبر کیا تھا، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔‘‘ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَيُلَقَّوۡنَ فِيۡهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا ﴾ ’’اور وہ ان سے دعا و سلام سے ملاقات کریں گے۔‘‘ یعنی ان کو ان کے رب کی طرف سے سلام بھیجا جائے گا، عالی قدر فرشتے ان کو سلام کہیں گے اوروہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھی سلام کہیں گے اور وہ ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ ہوں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں وقار، سکینت، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے لیے تواضع اور انکسار، حسن ادب، بردباری، وسعت اخلاق، جہلاء سے درگزر اور اعراض، ان کے برے سلوک کے مقابلے میں حسن سلوک، تہجد، اس میں اخلاص، جہنم سے خوف، اس (جہنم) سے اپنی نجات کے لیے اپنے رب کے سامنے گڑ گرانے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں واجب اور مستحب نفقات میں سے خرچ کرنے اور اس میں اعتدال کی راہ اختیار کرنے جیسے اوصاف سے ان کو موصوف کیا ہے۔ جب خرچ کرنے میں ، جس کے بارے میں عادۃً افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے، وہ اعتدال کو اختیار کرتے ہیں تو دیگر معاملات میں ان کی میانہ روی تو بدرجہ اولیٰ ہو گی۔ وہ کبائر سے محفوظ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص، جان اور ناموس کے معاملات میں عفت اور کسی گناہ کے صادر ہونے پر توبہ جیسی صفات سے متصف ہیں نیز وہ ایسی تقریبات اور مجالس میں حاضر نہیں ہوتے جن میں منکرات اور قولی و فعلی فسق و فجور ہو اور نہ وہ خود اس کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ لغویات اور ایسے گھٹیا افعال سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں ، جن میں کوئی فائدہ نہیں اور یہ چیز ان کی مروت، انسانیت اور ان کے کمال کو مستلزم ہے نیز اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ قولی وفعلی طور پر خسیس افعال سے بالاوبلند تر ہیں ۔وہ آیات الٰہی کا قبولیت کے ساتھ استقبال کرتے ہیں ، ان کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان پر عمل کرتے ہیں ، ان کے احکام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کو کامل ترین طریقے سے پکارتے ہیں جس سے وہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے متعلقین فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں کی اصلاح سے تمام مسلمان فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ان تمام امور کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دیتے ہیں ، انھیں نصیحت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خیرخواہی کا رویہ رکھتے ہیں کیونکہ جو کوئی کسی چیز کی خواہش کرتا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس کے لیے اسباب بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بلندترین درجات پر پہنچنے کی دعا کرتے ہیں جہاں تک پہنچنا ان کے لیے ممکن ہے اور وہ امامت اور صدیقیت کا درجہ ہے… اللہ کی قسم! یہ کتنی بلند مرتبہ صفات ہیں ، یہ کتنی بلند ہمتی ہے، یہ کتنے جلیل القدر مقاصد ہیں ، یہ نفوس کتنے پاک اور یہ قلوب کتنے طاہر ہیں ، یہ چنے ہوئے لوگ کتنے پاکیزہ اور یہ سادات کتنے متقی ہیں ! یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل، اس کی نعمت اور اس کی رحمت ہے جس نے ان کو ڈھانپ لیا ہے اور یہ اس کا لطف و کرم ہے جس نے ان کو ان بلند مقامات تک پہنچایا۔اللہ کی قسم! یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت ہے کہ اس نے ان کے سامنے اپنے ان بلند ہمت بندوں کے اوصاف بیان فرمائے، ان کی نشانیاں بیان کیں ، ان کے سامنے ان کی ہمت اور عزائم آشکارا كيے اور ان کا اجر واضح کیا تاکہ ان میں بھی ان اوصاف سے متصف ہونے کا اشتیاق پیدا ہو اور یہ بھی اس راستے میں جدوجہد کریں اور وہ اس ہستی سے سوال کریں ، جس نے اپنے ان بندوں پر احسان کیا، جس نے ان کو اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا اور جس کا فضل و کرم ہر زمان و مکان میں ہر وقت اور ہرآن عام ہے … کہ وہ انھیں بھی ہدایت سے نوازے جیسے ان کو ہدایت سے نوازا ہے اور اپنی تربیت خاص کے ذریعے سے ان کی بھی سرپرستی فرمائے جیسے ان کی سرپرستی فرمائی ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی ستائش کا صرف تو ہی مستحق ہے، میں صرف تیرے ہی پاس شکوہ کرتا ہوں ، تجھ ہی سے اعانت طلب کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ۔ مجھ میں گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی مگر صرف تیری توفیق کے ساتھ۔ہم خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور اگر تو ہمیں نیکی کرنے کی توفیق عطا کر کے نیکی کو ہمارے لیے آسان نہ کرے تو ہم ذرہ برابر بھی نیکی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، ہم ہر لحاظ سے نہایت کمزور اور عاجز بندے ہیں ۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اگر تو ایک لمحے کے لیے بھی ہمیں ہمارے نفس کے حوالے کر دے تو گویا تو نے ہمیں کمزوری، عجز اور گناہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم صرف تیری رحمت پر بھروسہ کرتے ہیں جس کی بنا پر تو نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں رزق عطا کیا، ہمیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز کیا اور تکلیفوں اور سختیوں کو ہم سے دور کیا، ہم پر ایسی رحمت کو سایہ کناں کر جو ہمیں تیری رحمت کے سوا ہر رحمت سے بے نیاز کر دے۔ پس جو کوئی تجھ سے سوال کرتا ہے اور تجھ سے امیدیں باندھتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا۔
[77] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کی اپنی رحمت کی طرف اضافت کی ہے اوران کے فضل و شرف کی وجہ سے ان کو اپنی عبودیت سے مختص کیا ہے اس لیے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے سوا وہ بذات خود اور دوسرے لوگ عبودیت میں داخل کیوں نہیں ہو سکتے؟ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کو ان مذکورہ لوگوں کے سوا کسی کی پروا نہیں ۔ اگر تم نے دعائے عبادت اور مسئلہ میں اسے نہ پکارا ہوتا تو وہ تمھاری کبھی پروا کرتا نہ تم سے محبت کرتا، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَا يَعۡبَؤُا بِكُمۡ رَبِّيۡ لَوۡلَا دُعَآؤُكُمۡ١ۚ فَقَدۡ كَذَّبۡتُمۡ فَسَوۡفَ يَكُوۡنُ لِزَامًا ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تم اللہ کو نہ پکارتے تو میرا رب بھی تمھاری کچھ پروا نہ کرتا۔ پس تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا لازم ہو گی۔‘‘ یعنی عذاب تم سے اس طرح چپک جائے گا جس طرح قرض خواہ مقروض سے چپک جاتا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ تمھارے درمیان اور اپنے مومن بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔