QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Al-Hajj

ٱلْحَجّ

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 22 · 78 verses

22:1

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡۚ إِنَّ زَلۡزَلَةَ ٱلسَّاعَةِ شَيۡءٌ عَظِيمٞ

اے لوگو! ڈرو تم اپنے رب سے، بے شک زلزلہ قیامت کا ایک چیز ہے بہت بڑی (1) جس دن تم دیکھو گے اسے، غافل ہو جائے گی ہر دودھ پلانے والی اس سے جسے اس نے دودھ پلایا تھااورڈال دے گی ہر حمل والی اپنا حمل اور دیکھیں گے آپ لوگوں کو نشے میں (مدہوش) حالانکہ نہیں ہوں گے وہ نشے میں لیکن عذاب اللہ کا شدید ہوگا(2) [1] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے رب سے ڈریں جس نے ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے ان کی پرورش کی، اس لیے ان کے لائق یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں ، شرک، فسق اور نافرمانی کو ترک کر دیں اور جہاں تک استطاعت ہو، اس کے احکام پر عمل کریں ، پھر ان امور کا ذکر فرمایا جو تقویٰ اختیار کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں اور ان لوگوں کو ڈراتے ہیں جو تقویٰ کو ترک کر دیتے ہیں اور وہ ہے قیامت کی ہولناکیوں کی خبر دینا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ زَلۡزَلَةَ السَّاعَةِ شَيۡءٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک قیامت کا بھونچال، بہت بڑی چیز ہے۔‘‘ کوئی اس کا اندازہ کر سکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچ سکتا ہے۔ جب قیامت واقع ہو گی تو زمین کو نہایت شدت سے ہلا دیا جائے گا، زمین میں زلزلہ آ جائے گا، پہاڑ پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور بڑے بڑے ہولناک ٹیلوں کی شکل اختیار کر لیں گے، پھر غبار بن کر اڑ جائیں گے، پھر لوگ تین اقسام میں منقسم ہو جائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا، سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے، ستارے بکھر جائیں گے، ایسے خوفناک زلزلے آئیں گے کہ خوف کے مارے دل پھٹ جائیں گے، خوف سے بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے اور بڑی بڑی سخت چٹانیں پگھل جائیں گی۔ [2] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَ تَرَوۡنَهَا تَذۡهَلُ كُلُّ مُرۡضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرۡضَعَتۡ ﴾ ’’جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پلاتے بچے کو بھول جائے گی۔‘‘ حالانکہ دودھ پلانے والی ماں کی جبلت میں اپنے بچے کی محبت رچی بسی ہوتی ہے، خاص طور پر اس حال میں جبکہ بچہ ماں کے بغیر زندہ نہ رہ سکتا ہو۔ ﴿وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمۡلٍ حَمۡلَهَا﴾ یعنی شدت ہول اور سخت گھبراہٹ کے عالم میں ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ ﴿ وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَمَا هُمۡ بِسُكٰرٰى ﴾ یعنی اے دیکھنے والو! تم سمجھو گے کہ لوگ شراب کے نشہ میں مدہوش ہیں ، حالانکہ وہ شراب نوشی کی وجہ سے مدہوش نہ ہوں گے ﴿ وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيۡدٌ ﴾ ’’بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہی بڑا سخت ہو گا‘‘ جس کی وجہ سے عقل ماری جائے گی، دل خالی ہو کر گھبراہٹ اور خوف سے لبریز ہو جائیں گے، دل اچھل کر حلق میں اٹک جائیں گے اور آنکھیں خوف سے کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ اس روز کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے بدلہ دینے والا ہو گا۔ ﴿ يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِؕ۰۰﴾(عبس:80؍34-37) ’’اس روز بھائی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، اپنی بیوی اور بیٹوں سے، اس روز ہر شخص ایک فکر میں مبتلا ہو گا جو اس کو دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گی۔‘‘ وہاں ﴿يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا ﴾(الفرقان:25؍27۔28) ’’ظالم مارے پشیمانی اور حسرت کے اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا اور پکار اٹھے گا، اے کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ اس وقت کچھ چہرے سیاہ پڑ جائیں گے اور کچھ چہرے روشن ہوں گے۔ ترازوئیں نصب کر دی جائیں گی جن میں ذرہ بھر نیکی اور بدی کا بھی وزن کیا جا سکے گا۔ اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے اور ان کے اندر درج كيے ہوئے تمام اعمال، اقوال اور نیتیں ، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، سامنے ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط کو نصب کر دیا جائے گا۔ جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی اور جہنم کو گمراہ لوگوں کے سامنے کر دیا جائے گا ﴿اِذَا رَاَتۡهُمۡ مِّنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ سَمِعُوۡا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيۡرًا۰۰وَاِذَاۤ اُلۡقُوۡا مِنۡهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيۡنَ دَعَوۡا هُنَالِكَ ثُبُوۡرًا﴾(الفرقان:25؍12۔13) ’’جب وہ جہنم کو دور سے دیکھیں گے تو اس کی غضبناک آواز اور اس کی پھنکار سنیں گے اور جب ان کو جکڑ کر جہنم کی کسی تنگ جگہ میں پھینک دیا جائے گا تو وہاں اپنی موت کو پکارنے لگیں گے‘‘ ان سے کہا جائے گا ﴿لَا تَدۡعُوا الۡيَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا كَثِيۡرًا ﴾(الفرقان:25؍14) ’’آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کا پکارو۔‘‘ اور جب وہ اپنے رب کو پکاریں گے کہ وہ ان کو وہاں سے نکالے تو رب تعالیٰ فرمائے گا۔ ﴿اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون:23؍108) ’’دفع ہو جاؤ میرے سامنے سے پڑے رہو جہنم میں اور میرے ساتھ کلام نہ کرو‘‘ رب رحیم کا غضب ان پر بھڑک اٹھے گا اور وہ ان کو دردناک عذاب میں ڈال دے گا، وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور وہ اپنے تمام اعمال کو موجود پائیں گے اور کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی مفقود نہیں ہو گا۔ یہ تو ہو گا کفار کا حال اور متقین کو جنت کے باغات میں خوش آمدید کہا جائے گا۔ وہ انواع و اقسام کی لذتوں سے لطف اندوز ہوں گے، جہاں جی چاہے گا وہاں ہمیشہ رہیں گے۔پس عقل مند شخص، جو جانتا ہے کہ یہ سب کچھ پیش آنے والا ہے تو اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اس کے لیے تیاری کر رکھے، مہلت اسے غفلت میں مبتلا نہ کر دے کہ وہ عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ تقویٰ الٰہی اس کا شعار، خوف الٰہی اس کا سرمایہ اور اللہ کی محبت اور اس کا ذکر اس کے اعمال کی روح ہو۔
22:2

يَوۡمَ تَرَوۡنَهَا تَذۡهَلُ كُلُّ مُرۡضِعَةٍ عَمَّآ أَرۡضَعَتۡ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمۡلٍ حَمۡلَهَا وَتَرَى ٱلنَّاسَ سُكَٰرَىٰ وَمَا هُم بِسُكَٰرَىٰ وَلَٰكِنَّ عَذَابَ ٱللَّهِ شَدِيدٞ

اے لوگو! ڈرو تم اپنے رب سے، بے شک زلزلہ قیامت کا ایک چیز ہے بہت بڑی (1) جس دن تم دیکھو گے اسے، غافل ہو جائے گی ہر دودھ پلانے والی اس سے جسے اس نے دودھ پلایا تھااورڈال دے گی ہر حمل والی اپنا حمل اور دیکھیں گے آپ لوگوں کو نشے میں (مدہوش) حالانکہ نہیں ہوں گے وہ نشے میں لیکن عذاب اللہ کا شدید ہوگا(2) [1] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے رب سے ڈریں جس نے ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے ان کی پرورش کی، اس لیے ان کے لائق یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں ، شرک، فسق اور نافرمانی کو ترک کر دیں اور جہاں تک استطاعت ہو، اس کے احکام پر عمل کریں ، پھر ان امور کا ذکر فرمایا جو تقویٰ اختیار کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں اور ان لوگوں کو ڈراتے ہیں جو تقویٰ کو ترک کر دیتے ہیں اور وہ ہے قیامت کی ہولناکیوں کی خبر دینا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ زَلۡزَلَةَ السَّاعَةِ شَيۡءٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک قیامت کا بھونچال، بہت بڑی چیز ہے۔‘‘ کوئی اس کا اندازہ کر سکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچ سکتا ہے۔ جب قیامت واقع ہو گی تو زمین کو نہایت شدت سے ہلا دیا جائے گا، زمین میں زلزلہ آ جائے گا، پہاڑ پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور بڑے بڑے ہولناک ٹیلوں کی شکل اختیار کر لیں گے، پھر غبار بن کر اڑ جائیں گے، پھر لوگ تین اقسام میں منقسم ہو جائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا، سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے، ستارے بکھر جائیں گے، ایسے خوفناک زلزلے آئیں گے کہ خوف کے مارے دل پھٹ جائیں گے، خوف سے بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے اور بڑی بڑی سخت چٹانیں پگھل جائیں گی۔ [2] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَ تَرَوۡنَهَا تَذۡهَلُ كُلُّ مُرۡضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرۡضَعَتۡ ﴾ ’’جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پلاتے بچے کو بھول جائے گی۔‘‘ حالانکہ دودھ پلانے والی ماں کی جبلت میں اپنے بچے کی محبت رچی بسی ہوتی ہے، خاص طور پر اس حال میں جبکہ بچہ ماں کے بغیر زندہ نہ رہ سکتا ہو۔ ﴿وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمۡلٍ حَمۡلَهَا﴾ یعنی شدت ہول اور سخت گھبراہٹ کے عالم میں ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ ﴿ وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَمَا هُمۡ بِسُكٰرٰى ﴾ یعنی اے دیکھنے والو! تم سمجھو گے کہ لوگ شراب کے نشہ میں مدہوش ہیں ، حالانکہ وہ شراب نوشی کی وجہ سے مدہوش نہ ہوں گے ﴿ وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيۡدٌ ﴾ ’’بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہی بڑا سخت ہو گا‘‘ جس کی وجہ سے عقل ماری جائے گی، دل خالی ہو کر گھبراہٹ اور خوف سے لبریز ہو جائیں گے، دل اچھل کر حلق میں اٹک جائیں گے اور آنکھیں خوف سے کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ اس روز کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے بدلہ دینے والا ہو گا۔ ﴿ يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِؕ۰۰﴾(عبس:80؍34-37) ’’اس روز بھائی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، اپنی بیوی اور بیٹوں سے، اس روز ہر شخص ایک فکر میں مبتلا ہو گا جو اس کو دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گی۔‘‘ وہاں ﴿يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا ﴾(الفرقان:25؍27۔28) ’’ظالم مارے پشیمانی اور حسرت کے اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا اور پکار اٹھے گا، اے کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ اس وقت کچھ چہرے سیاہ پڑ جائیں گے اور کچھ چہرے روشن ہوں گے۔ ترازوئیں نصب کر دی جائیں گی جن میں ذرہ بھر نیکی اور بدی کا بھی وزن کیا جا سکے گا۔ اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے اور ان کے اندر درج كيے ہوئے تمام اعمال، اقوال اور نیتیں ، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، سامنے ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط کو نصب کر دیا جائے گا۔ جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی اور جہنم کو گمراہ لوگوں کے سامنے کر دیا جائے گا ﴿اِذَا رَاَتۡهُمۡ مِّنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ سَمِعُوۡا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيۡرًا۰۰وَاِذَاۤ اُلۡقُوۡا مِنۡهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيۡنَ دَعَوۡا هُنَالِكَ ثُبُوۡرًا﴾(الفرقان:25؍12۔13) ’’جب وہ جہنم کو دور سے دیکھیں گے تو اس کی غضبناک آواز اور اس کی پھنکار سنیں گے اور جب ان کو جکڑ کر جہنم کی کسی تنگ جگہ میں پھینک دیا جائے گا تو وہاں اپنی موت کو پکارنے لگیں گے‘‘ ان سے کہا جائے گا ﴿لَا تَدۡعُوا الۡيَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا كَثِيۡرًا ﴾(الفرقان:25؍14) ’’آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کا پکارو۔‘‘ اور جب وہ اپنے رب کو پکاریں گے کہ وہ ان کو وہاں سے نکالے تو رب تعالیٰ فرمائے گا۔ ﴿اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون:23؍108) ’’دفع ہو جاؤ میرے سامنے سے پڑے رہو جہنم میں اور میرے ساتھ کلام نہ کرو‘‘ رب رحیم کا غضب ان پر بھڑک اٹھے گا اور وہ ان کو دردناک عذاب میں ڈال دے گا، وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور وہ اپنے تمام اعمال کو موجود پائیں گے اور کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی مفقود نہیں ہو گا۔ یہ تو ہو گا کفار کا حال اور متقین کو جنت کے باغات میں خوش آمدید کہا جائے گا۔ وہ انواع و اقسام کی لذتوں سے لطف اندوز ہوں گے، جہاں جی چاہے گا وہاں ہمیشہ رہیں گے۔پس عقل مند شخص، جو جانتا ہے کہ یہ سب کچھ پیش آنے والا ہے تو اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اس کے لیے تیاری کر رکھے، مہلت اسے غفلت میں مبتلا نہ کر دے کہ وہ عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ تقویٰ الٰہی اس کا شعار، خوف الٰہی اس کا سرمایہ اور اللہ کی محبت اور اس کا ذکر اس کے اعمال کی روح ہو۔
22:3

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَٰدِلُ فِي ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيۡطَٰنٖ مَّرِيدٖ

اور کچھ لوگ وہ ہیں جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی بابت بغیر علم کےاور اتباع کرتے ہیں وہ ہر شیطان سرکش کا (3) لکھ دیا گیا ہے اس کی بابت کو بے شک جو کوئی دوستی کرے گا اس سے تو بے شک وہ گمراہ کر دے گا اس کواور راہنمائی کرے گا اس کی طرف عذاب جہنم کی (4) [4,3] یعنی لوگوں میں ایک گروہ ایسا ہے جو گمراہی کے راستے پر گامزن ہے، وہ باطل دلائل کے ساتھ حق سے جھگڑتے ہیں ، وہ باطل کو حق اور حق کو باطل ثابت کرنا چاہتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ جہالت کی انتہاء کو پہنچے ہوئے ہیں ، ان کے پاس کچھ بھی علم نہیں ۔ ان کے علم کی انتہا یہ ہے کہ وہ ائمہ ضلال اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ عناد رکھتا ہے، ان کے خلاف سرکشی کرتا ہے۔ وہ اللہ اور رسول کی مخالفت کر کے ائمہ ضلال میں شامل ہو جاتا ہے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ كُتِبَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’لکھ دیا گیا ہے اس پر۔‘‘ یعنی اس سرکش شیطان کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے ﴿ اَنَّهٗ مَنۡ تَوَلَّاهُ ﴾ کہ جو اس کی پیروی کرے گا ﴿ فَاَنَّهٗ يُضِلُّهٗ ﴾ وہ اسے حق سے دور اور راہ راست سے بھٹکا دے گا ﴿ وَيَهۡدِيۡهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيۡرِ﴾ اور اسے جہنم کا راستہ دکھائے گا اور یہ یقینا ابلیس کا نائب ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6) ’’وہ اپنے پیروکاروں کو صرف اس لیے اپنی راہ پر بلا رہا ہے تاکہ وہ بھی جہنمیوں میں شامل ہو جائیں ۔‘‘ یہی وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتا ہے، خود اپنے آپ کو بھی گمراہ کرتا ہے اور لوگوں کو بھی گمراہ کرنے کے درپے ہوتا ہے اور یہی وہ شخص ہے جو ہر سرکش شیطان کا مقلد ہے… اندھیرے ایک سے ایک بڑھ کر ہیں ۔ اس گروہ میں اہل کفر اور اہل بدعت کی اکثریت شامل ہے کیونکہ ان کی اکثریت مقلدین پر مشتمل ہے جو بغیر علم کے جھگڑتی ہے۔
22:4

كُتِبَ عَلَيۡهِ أَنَّهُۥ مَن تَوَلَّاهُ فَأَنَّهُۥ يُضِلُّهُۥ وَيَهۡدِيهِ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ

اور کچھ لوگ وہ ہیں جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی بابت بغیر علم کےاور اتباع کرتے ہیں وہ ہر شیطان سرکش کا (3) لکھ دیا گیا ہے اس کی بابت کو بے شک جو کوئی دوستی کرے گا اس سے تو بے شک وہ گمراہ کر دے گا اس کواور راہنمائی کرے گا اس کی طرف عذاب جہنم کی (4) [4,3] یعنی لوگوں میں ایک گروہ ایسا ہے جو گمراہی کے راستے پر گامزن ہے، وہ باطل دلائل کے ساتھ حق سے جھگڑتے ہیں ، وہ باطل کو حق اور حق کو باطل ثابت کرنا چاہتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ جہالت کی انتہاء کو پہنچے ہوئے ہیں ، ان کے پاس کچھ بھی علم نہیں ۔ ان کے علم کی انتہا یہ ہے کہ وہ ائمہ ضلال اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ عناد رکھتا ہے، ان کے خلاف سرکشی کرتا ہے۔ وہ اللہ اور رسول کی مخالفت کر کے ائمہ ضلال میں شامل ہو جاتا ہے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ كُتِبَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’لکھ دیا گیا ہے اس پر۔‘‘ یعنی اس سرکش شیطان کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے ﴿ اَنَّهٗ مَنۡ تَوَلَّاهُ ﴾ کہ جو اس کی پیروی کرے گا ﴿ فَاَنَّهٗ يُضِلُّهٗ ﴾ وہ اسے حق سے دور اور راہ راست سے بھٹکا دے گا ﴿ وَيَهۡدِيۡهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيۡرِ﴾ اور اسے جہنم کا راستہ دکھائے گا اور یہ یقینا ابلیس کا نائب ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6) ’’وہ اپنے پیروکاروں کو صرف اس لیے اپنی راہ پر بلا رہا ہے تاکہ وہ بھی جہنمیوں میں شامل ہو جائیں ۔‘‘ یہی وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتا ہے، خود اپنے آپ کو بھی گمراہ کرتا ہے اور لوگوں کو بھی گمراہ کرنے کے درپے ہوتا ہے اور یہی وہ شخص ہے جو ہر سرکش شیطان کا مقلد ہے… اندھیرے ایک سے ایک بڑھ کر ہیں ۔ اس گروہ میں اہل کفر اور اہل بدعت کی اکثریت شامل ہے کیونکہ ان کی اکثریت مقلدین پر مشتمل ہے جو بغیر علم کے جھگڑتی ہے۔
22:5

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِن كُنتُمۡ فِي رَيۡبٖ مِّنَ ٱلۡبَعۡثِ فَإِنَّا خَلَقۡنَٰكُم مِّن تُرَابٖ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٖ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٖ ثُمَّ مِن مُّضۡغَةٖ مُّخَلَّقَةٖ وَغَيۡرِ مُخَلَّقَةٖ لِّنُبَيِّنَ لَكُمۡۚ وَنُقِرُّ فِي ٱلۡأَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى ثُمَّ نُخۡرِجُكُمۡ طِفۡلٗا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوٓاْ أَشُدَّكُمۡۖ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰٓ أَرۡذَلِ ٱلۡعُمُرِ لِكَيۡلَا يَعۡلَمَ مِنۢ بَعۡدِ عِلۡمٖ شَيۡـٔٗاۚ وَتَرَى ٱلۡأَرۡضَ هَامِدَةٗ فَإِذَآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡهَا ٱلۡمَآءَ ٱهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡ وَأَنۢبَتَتۡ مِن كُلِّ زَوۡجِۭ بَهِيجٖ

اے لوگو! اگر ہو تم شک میں دوبارہ جی اٹھنے سے تو بلاشبہ ہم ہی نے پیدا کیا تمھیں مٹی سے، پھر نطفے سے، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے، جو واضح شکل و صورت والا اور غیر واضح (ادھوری) شکل و صورت والا ہے تاکہ ہم بیان کریں تمھارے لیے اور ہم ٹھہراتے ہیں رحموں میں ، جس (نطفے) کو ہم چاہتے ہیں ایک وقت مقرر تک ، پھر نکالتے ہیں ہم تمھیں (مکمل) بچہ (بنا کر) ، پھر (عمر دیتے ہیں ) تاکہ تم پہنچو اپنی جوانی کواور بعض تم میں سے ہیں جو فوت کیے جاتے ہیں اور بعض تم میں سے ہیں جو لاٹائے جاتے ہیں طرف ناکارہ عمر کی تاکہ نہ جانے وہ بعد جاننے کے کچھ بھی اور دیکھتے ہیں آپ زمین کو خشک (مردہ و بے آباد) ، پھر جب اتارتے ہیں ہم اس پر پانی (بارش) تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور وہ اگاتی ہے ہر قسم کی خوش نما چیزیں (5) یہ بسبب اس کے ہے کہ بے شک اللہ ہی حق ہےاور (یہ کہ) بلاشبہ وہی زندہ کرتا ہے مردوں کواور یہ کہ بے شک وہی اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے (6) اور یہ کہ بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، نہیں کوئی شک اس میں اور یہ کہ بے شک اللہ دوبارہ اٹھائے گا ان کو جو قبروں میں ہیں (7) [5] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ رَيۡبٍ مِّنَ الۡبَعۡثِ ﴾ یعنی اگر تم کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو اور قیامت کے وقوع کے بارے میں تمھیں کوئی علم نہیں جبکہ تم پر لازم ہے کہ تم اس بارے میں اپنے رب اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرو لیکن اگر تم شک كيے بغیر نہ رہ سکو تو تمھارے سامنے یہ دو عقلی دلائل ہیں جن میں سے ہر ایک کا تم مشاہدہ کرتے ہو۔ جس بارے میں تم شک کرتے ہو اس پر قطعی دلالت کرتے ہیں اور تمھارے دلوں میں شک کو زائل کرتے ہیں :پہلی دلیل: انسان کی تخلیق کی ابتداء سے استدلال ہے، یعنی وہ ہستی جس نے ابتداء میں اس کو پیدا کیا ہے وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ﴾ ’’ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ اور یہ اس طرح کہ اس نے ابوالبشر آدم u کو مٹی سے پیدا کیا ﴿ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ یعنی منی سے پیدا کیا۔ یہ انسان کی تخلیق کا اولین مرحلہ ہے ﴿ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٍ ﴾ ’’پھر گاڑھے خون سے۔‘‘ یعنی پھر یہ نطفہ اللہ کے حکم سے سرخ خون میں بدل جاتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَةٍ ﴾ ’’پھر لوتھڑے سے۔‘‘ یعنی پھر وہ گاڑھا خون لوتھڑے یعنی بوٹی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اور یہ بوٹی کبھی تو ﴿ مُّخَلَّقَةٍ ﴾ اس سے آدمی کی تصویر بن جاتی ہے۔ ﴿ وَّغَيۡرِ مُخَلَّقَةٍ ﴾ ’’اور بے تصویر‘‘ یعنی کبھی اس کی تخلیق سے قبل ہی رحم سے اس کا اسقاط ہو جاتا ہے۔ ﴿ لِّنُبَيِّنَ لَكُمۡ ﴾’’تاکہ ہم تمھارے سامنے تمھاری اصل تخلیق کو واضح کریں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک لمحہ میں اس کی تخلیق کی تکمیل کر سکتا ہے مگر وہ ہمارے سامنے اپنی کامل حکمت، عظیم قدرت اور بے پایاں رحمت کا اظہار کرتا ہے۔﴿ وَنُقِرُّ فِي الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ یعنی اگر اسقاط نہ ہو تو اسے جب تک ہم چاہتے ہیں رحم میں باقی رکھتے ہیں ، یعنی مدت حمل تک ﴿ ثُمَّ نُخۡرِجُكُمۡ ﴾ پھر ہم تمھیں تمھاری ماؤں کے رحموں سے باہر نکال لاتے ہیں ﴿ طِفۡلًا ﴾’’بچے کی صورت میں ‘‘ اس وقت تمھیں کسی بات کا علم ہوتا ہے نہ کسی چیز کی قدرت اور تمھاری ماؤں کو تمھارے لیے مسخر کر دیتے اور اس کی چھاتی میں سے تمھارے لیے رزق جاری کر دیتے ہیں پھر تم ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے ہو حتیٰ کہ تم اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جاتے ہو اور یہ مکمل قوت اور عقل کی عمر ہے۔﴿ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّتَوَفّٰى ﴾ اور تم میں کچھ بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں اور کچھ اس سے آگے گزر کر رذیل ترین یعنی خسیس ترین عمر کو پہنچ جاتا ہے اور یہ وہ عمر ہے جب انسان نہايت کمزور ہو جاتا ہے، قویٰ فاسد ہو جاتے ہیں ، عقل بھی اسی طرح مضمحل ہو کر زائل ہو جاتی ہے جس طرح دیگر قویٰ کمزور پڑ جاتے ہیں ۔ ﴿ لِكَيۡلَا يَعۡلَمَ مِنۢۡ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَيۡـًٔؔا﴾ یعنی… تاکہ اس معمر شخص کو ان تمام چیزوں کا کچھ بھی علم نہ ہو جن کو وہ اس سے قبل جانتا تھا اور اس کا سبب اس کا ضعف عقل ہے۔پس انسان کی قوت دو قسم کے ضعفوں میں گھری ہوئی ہے۔۱۔ طفولیت کا ضعف اور اس کا نقص۔۲۔ بڑھاپے کا ضعف اور اس کا نقصجیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ ضُؔعۡفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢۡ بَعۡدِ ضُؔعۡفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنۢۡ بَعۡدِ قُوَّةٍ ضُؔعۡفًا وَّشَيۡبَةً١ؕ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ١ۚ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡقَدِيۡرُ﴾(الروم:30؍54) ’’اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد تمھیں قوت عطا کی پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ علم والا اور قدرت والا ہے۔‘‘ دوسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا ہے چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡاَرۡضَ هَامِدَةً ﴾ ’’اور تو دیکھتا ہے زمین کو بنجر۔‘‘ یعنی خشک، چٹیل اور بے آب و گیا ہ﴿ فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَؔ اهۡتَزَّتۡ ﴾ ’’پس جب ہم اس پر بارش نازل کرتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے۔‘‘ یعنی نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے ﴿ وَرَبَتۡ ﴾ ’’اور پھولتی ہے۔‘‘ یعنی خشک ہونے کے بعد خوب سرسبز ہو کر بلند ہوتی ہے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتَتۡ مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍۭ ﴾ یعنی زمین نباتات کی ہر صنف کو اگاتی ہے ﴿ بَهِيۡـجٍ ﴾ یعنی جو دیکھنے والوں کو خوش کرتی ہے۔ [7,6] یہ دو قطعی دلائل ہیں جو ان پانچ مقاصد پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یہ سب کچھ یعنی آدمی کا اس طرح پیدا کرنا جو اللہ نے بیان کیا اور زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کرنا، اس لیے ہے کہ ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اللہ، وہی حق ہے۔‘‘ یعنی وہی رب معبود ہے اس کے سوا کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں ، اسی کی عبادت حق ہے اور اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت باطل ہے ﴿ وَاَنَّهٗ يُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ ’’اور وہ زندہ کرے گا مُردوں کو۔‘‘ جس طرح اس نے ابتداء تخلیق کی اور جس طرح اس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا ﴿ وَاَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾’’بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ جیسا کہ اس نے اپنی بدیع قدرت اور عظیم صنعت کا تمھیں مشاہدہ کروایا۔﴿ وَّاَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيۡبَ فِيۡهَا ﴾ ’’اور بلاشبہ قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔‘‘ پس اس کو بعید سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ﴿وَاَنَّ اللّٰهَ يَبۡعَثُ مَنۡ فِي الۡقُبُوۡرِ ﴾ ’’اور اللہ ان کو دوباروہ اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں ۔‘‘ پھر تمھیں تمھارے تمام اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔
22:6

ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡحَقُّ وَأَنَّهُۥ يُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَأَنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ

اے لوگو! اگر ہو تم شک میں دوبارہ جی اٹھنے سے تو بلاشبہ ہم ہی نے پیدا کیا تمھیں مٹی سے، پھر نطفے سے، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے، جو واضح شکل و صورت والا اور غیر واضح (ادھوری) شکل و صورت والا ہے تاکہ ہم بیان کریں تمھارے لیے اور ہم ٹھہراتے ہیں رحموں میں ، جس (نطفے) کو ہم چاہتے ہیں ایک وقت مقرر تک ، پھر نکالتے ہیں ہم تمھیں (مکمل) بچہ (بنا کر) ، پھر (عمر دیتے ہیں ) تاکہ تم پہنچو اپنی جوانی کواور بعض تم میں سے ہیں جو فوت کیے جاتے ہیں اور بعض تم میں سے ہیں جو لاٹائے جاتے ہیں طرف ناکارہ عمر کی تاکہ نہ جانے وہ بعد جاننے کے کچھ بھی اور دیکھتے ہیں آپ زمین کو خشک (مردہ و بے آباد) ، پھر جب اتارتے ہیں ہم اس پر پانی (بارش) تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور وہ اگاتی ہے ہر قسم کی خوش نما چیزیں (5) یہ بسبب اس کے ہے کہ بے شک اللہ ہی حق ہےاور (یہ کہ) بلاشبہ وہی زندہ کرتا ہے مردوں کواور یہ کہ بے شک وہی اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے (6) اور یہ کہ بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، نہیں کوئی شک اس میں اور یہ کہ بے شک اللہ دوبارہ اٹھائے گا ان کو جو قبروں میں ہیں (7) [5] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ رَيۡبٍ مِّنَ الۡبَعۡثِ ﴾ یعنی اگر تم کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو اور قیامت کے وقوع کے بارے میں تمھیں کوئی علم نہیں جبکہ تم پر لازم ہے کہ تم اس بارے میں اپنے رب اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرو لیکن اگر تم شک كيے بغیر نہ رہ سکو تو تمھارے سامنے یہ دو عقلی دلائل ہیں جن میں سے ہر ایک کا تم مشاہدہ کرتے ہو۔ جس بارے میں تم شک کرتے ہو اس پر قطعی دلالت کرتے ہیں اور تمھارے دلوں میں شک کو زائل کرتے ہیں :پہلی دلیل: انسان کی تخلیق کی ابتداء سے استدلال ہے، یعنی وہ ہستی جس نے ابتداء میں اس کو پیدا کیا ہے وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ﴾ ’’ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ اور یہ اس طرح کہ اس نے ابوالبشر آدم u کو مٹی سے پیدا کیا ﴿ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ یعنی منی سے پیدا کیا۔ یہ انسان کی تخلیق کا اولین مرحلہ ہے ﴿ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٍ ﴾ ’’پھر گاڑھے خون سے۔‘‘ یعنی پھر یہ نطفہ اللہ کے حکم سے سرخ خون میں بدل جاتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَةٍ ﴾ ’’پھر لوتھڑے سے۔‘‘ یعنی پھر وہ گاڑھا خون لوتھڑے یعنی بوٹی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اور یہ بوٹی کبھی تو ﴿ مُّخَلَّقَةٍ ﴾ اس سے آدمی کی تصویر بن جاتی ہے۔ ﴿ وَّغَيۡرِ مُخَلَّقَةٍ ﴾ ’’اور بے تصویر‘‘ یعنی کبھی اس کی تخلیق سے قبل ہی رحم سے اس کا اسقاط ہو جاتا ہے۔ ﴿ لِّنُبَيِّنَ لَكُمۡ ﴾’’تاکہ ہم تمھارے سامنے تمھاری اصل تخلیق کو واضح کریں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک لمحہ میں اس کی تخلیق کی تکمیل کر سکتا ہے مگر وہ ہمارے سامنے اپنی کامل حکمت، عظیم قدرت اور بے پایاں رحمت کا اظہار کرتا ہے۔﴿ وَنُقِرُّ فِي الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ یعنی اگر اسقاط نہ ہو تو اسے جب تک ہم چاہتے ہیں رحم میں باقی رکھتے ہیں ، یعنی مدت حمل تک ﴿ ثُمَّ نُخۡرِجُكُمۡ ﴾ پھر ہم تمھیں تمھاری ماؤں کے رحموں سے باہر نکال لاتے ہیں ﴿ طِفۡلًا ﴾’’بچے کی صورت میں ‘‘ اس وقت تمھیں کسی بات کا علم ہوتا ہے نہ کسی چیز کی قدرت اور تمھاری ماؤں کو تمھارے لیے مسخر کر دیتے اور اس کی چھاتی میں سے تمھارے لیے رزق جاری کر دیتے ہیں پھر تم ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے ہو حتیٰ کہ تم اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جاتے ہو اور یہ مکمل قوت اور عقل کی عمر ہے۔﴿ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّتَوَفّٰى ﴾ اور تم میں کچھ بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں اور کچھ اس سے آگے گزر کر رذیل ترین یعنی خسیس ترین عمر کو پہنچ جاتا ہے اور یہ وہ عمر ہے جب انسان نہايت کمزور ہو جاتا ہے، قویٰ فاسد ہو جاتے ہیں ، عقل بھی اسی طرح مضمحل ہو کر زائل ہو جاتی ہے جس طرح دیگر قویٰ کمزور پڑ جاتے ہیں ۔ ﴿ لِكَيۡلَا يَعۡلَمَ مِنۢۡ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَيۡـًٔؔا﴾ یعنی… تاکہ اس معمر شخص کو ان تمام چیزوں کا کچھ بھی علم نہ ہو جن کو وہ اس سے قبل جانتا تھا اور اس کا سبب اس کا ضعف عقل ہے۔پس انسان کی قوت دو قسم کے ضعفوں میں گھری ہوئی ہے۔۱۔ طفولیت کا ضعف اور اس کا نقص۔۲۔ بڑھاپے کا ضعف اور اس کا نقصجیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ ضُؔعۡفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢۡ بَعۡدِ ضُؔعۡفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنۢۡ بَعۡدِ قُوَّةٍ ضُؔعۡفًا وَّشَيۡبَةً١ؕ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ١ۚ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡقَدِيۡرُ﴾(الروم:30؍54) ’’اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد تمھیں قوت عطا کی پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ علم والا اور قدرت والا ہے۔‘‘ دوسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا ہے چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡاَرۡضَ هَامِدَةً ﴾ ’’اور تو دیکھتا ہے زمین کو بنجر۔‘‘ یعنی خشک، چٹیل اور بے آب و گیا ہ﴿ فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَؔ اهۡتَزَّتۡ ﴾ ’’پس جب ہم اس پر بارش نازل کرتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے۔‘‘ یعنی نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے ﴿ وَرَبَتۡ ﴾ ’’اور پھولتی ہے۔‘‘ یعنی خشک ہونے کے بعد خوب سرسبز ہو کر بلند ہوتی ہے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتَتۡ مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍۭ ﴾ یعنی زمین نباتات کی ہر صنف کو اگاتی ہے ﴿ بَهِيۡـجٍ ﴾ یعنی جو دیکھنے والوں کو خوش کرتی ہے۔ [7,6] یہ دو قطعی دلائل ہیں جو ان پانچ مقاصد پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یہ سب کچھ یعنی آدمی کا اس طرح پیدا کرنا جو اللہ نے بیان کیا اور زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کرنا، اس لیے ہے کہ ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اللہ، وہی حق ہے۔‘‘ یعنی وہی رب معبود ہے اس کے سوا کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں ، اسی کی عبادت حق ہے اور اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت باطل ہے ﴿ وَاَنَّهٗ يُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ ’’اور وہ زندہ کرے گا مُردوں کو۔‘‘ جس طرح اس نے ابتداء تخلیق کی اور جس طرح اس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا ﴿ وَاَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾’’بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ جیسا کہ اس نے اپنی بدیع قدرت اور عظیم صنعت کا تمھیں مشاہدہ کروایا۔﴿ وَّاَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيۡبَ فِيۡهَا ﴾ ’’اور بلاشبہ قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔‘‘ پس اس کو بعید سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ﴿وَاَنَّ اللّٰهَ يَبۡعَثُ مَنۡ فِي الۡقُبُوۡرِ ﴾ ’’اور اللہ ان کو دوباروہ اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں ۔‘‘ پھر تمھیں تمھارے تمام اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔
22:7

وَأَنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِيَةٞ لَّا رَيۡبَ فِيهَا وَأَنَّ ٱللَّهَ يَبۡعَثُ مَن فِي ٱلۡقُبُورِ

اے لوگو! اگر ہو تم شک میں دوبارہ جی اٹھنے سے تو بلاشبہ ہم ہی نے پیدا کیا تمھیں مٹی سے، پھر نطفے سے، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے، جو واضح شکل و صورت والا اور غیر واضح (ادھوری) شکل و صورت والا ہے تاکہ ہم بیان کریں تمھارے لیے اور ہم ٹھہراتے ہیں رحموں میں ، جس (نطفے) کو ہم چاہتے ہیں ایک وقت مقرر تک ، پھر نکالتے ہیں ہم تمھیں (مکمل) بچہ (بنا کر) ، پھر (عمر دیتے ہیں ) تاکہ تم پہنچو اپنی جوانی کواور بعض تم میں سے ہیں جو فوت کیے جاتے ہیں اور بعض تم میں سے ہیں جو لاٹائے جاتے ہیں طرف ناکارہ عمر کی تاکہ نہ جانے وہ بعد جاننے کے کچھ بھی اور دیکھتے ہیں آپ زمین کو خشک (مردہ و بے آباد) ، پھر جب اتارتے ہیں ہم اس پر پانی (بارش) تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور وہ اگاتی ہے ہر قسم کی خوش نما چیزیں (5) یہ بسبب اس کے ہے کہ بے شک اللہ ہی حق ہےاور (یہ کہ) بلاشبہ وہی زندہ کرتا ہے مردوں کواور یہ کہ بے شک وہی اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے (6) اور یہ کہ بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، نہیں کوئی شک اس میں اور یہ کہ بے شک اللہ دوبارہ اٹھائے گا ان کو جو قبروں میں ہیں (7) [5] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ رَيۡبٍ مِّنَ الۡبَعۡثِ ﴾ یعنی اگر تم کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو اور قیامت کے وقوع کے بارے میں تمھیں کوئی علم نہیں جبکہ تم پر لازم ہے کہ تم اس بارے میں اپنے رب اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرو لیکن اگر تم شک كيے بغیر نہ رہ سکو تو تمھارے سامنے یہ دو عقلی دلائل ہیں جن میں سے ہر ایک کا تم مشاہدہ کرتے ہو۔ جس بارے میں تم شک کرتے ہو اس پر قطعی دلالت کرتے ہیں اور تمھارے دلوں میں شک کو زائل کرتے ہیں :پہلی دلیل: انسان کی تخلیق کی ابتداء سے استدلال ہے، یعنی وہ ہستی جس نے ابتداء میں اس کو پیدا کیا ہے وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ﴾ ’’ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ اور یہ اس طرح کہ اس نے ابوالبشر آدم u کو مٹی سے پیدا کیا ﴿ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ یعنی منی سے پیدا کیا۔ یہ انسان کی تخلیق کا اولین مرحلہ ہے ﴿ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٍ ﴾ ’’پھر گاڑھے خون سے۔‘‘ یعنی پھر یہ نطفہ اللہ کے حکم سے سرخ خون میں بدل جاتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَةٍ ﴾ ’’پھر لوتھڑے سے۔‘‘ یعنی پھر وہ گاڑھا خون لوتھڑے یعنی بوٹی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اور یہ بوٹی کبھی تو ﴿ مُّخَلَّقَةٍ ﴾ اس سے آدمی کی تصویر بن جاتی ہے۔ ﴿ وَّغَيۡرِ مُخَلَّقَةٍ ﴾ ’’اور بے تصویر‘‘ یعنی کبھی اس کی تخلیق سے قبل ہی رحم سے اس کا اسقاط ہو جاتا ہے۔ ﴿ لِّنُبَيِّنَ لَكُمۡ ﴾’’تاکہ ہم تمھارے سامنے تمھاری اصل تخلیق کو واضح کریں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک لمحہ میں اس کی تخلیق کی تکمیل کر سکتا ہے مگر وہ ہمارے سامنے اپنی کامل حکمت، عظیم قدرت اور بے پایاں رحمت کا اظہار کرتا ہے۔﴿ وَنُقِرُّ فِي الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ یعنی اگر اسقاط نہ ہو تو اسے جب تک ہم چاہتے ہیں رحم میں باقی رکھتے ہیں ، یعنی مدت حمل تک ﴿ ثُمَّ نُخۡرِجُكُمۡ ﴾ پھر ہم تمھیں تمھاری ماؤں کے رحموں سے باہر نکال لاتے ہیں ﴿ طِفۡلًا ﴾’’بچے کی صورت میں ‘‘ اس وقت تمھیں کسی بات کا علم ہوتا ہے نہ کسی چیز کی قدرت اور تمھاری ماؤں کو تمھارے لیے مسخر کر دیتے اور اس کی چھاتی میں سے تمھارے لیے رزق جاری کر دیتے ہیں پھر تم ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے ہو حتیٰ کہ تم اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جاتے ہو اور یہ مکمل قوت اور عقل کی عمر ہے۔﴿ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّتَوَفّٰى ﴾ اور تم میں کچھ بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں اور کچھ اس سے آگے گزر کر رذیل ترین یعنی خسیس ترین عمر کو پہنچ جاتا ہے اور یہ وہ عمر ہے جب انسان نہايت کمزور ہو جاتا ہے، قویٰ فاسد ہو جاتے ہیں ، عقل بھی اسی طرح مضمحل ہو کر زائل ہو جاتی ہے جس طرح دیگر قویٰ کمزور پڑ جاتے ہیں ۔ ﴿ لِكَيۡلَا يَعۡلَمَ مِنۢۡ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَيۡـًٔؔا﴾ یعنی… تاکہ اس معمر شخص کو ان تمام چیزوں کا کچھ بھی علم نہ ہو جن کو وہ اس سے قبل جانتا تھا اور اس کا سبب اس کا ضعف عقل ہے۔پس انسان کی قوت دو قسم کے ضعفوں میں گھری ہوئی ہے۔۱۔ طفولیت کا ضعف اور اس کا نقص۔۲۔ بڑھاپے کا ضعف اور اس کا نقصجیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ ضُؔعۡفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢۡ بَعۡدِ ضُؔعۡفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنۢۡ بَعۡدِ قُوَّةٍ ضُؔعۡفًا وَّشَيۡبَةً١ؕ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ١ۚ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡقَدِيۡرُ﴾(الروم:30؍54) ’’اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد تمھیں قوت عطا کی پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ علم والا اور قدرت والا ہے۔‘‘ دوسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا ہے چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡاَرۡضَ هَامِدَةً ﴾ ’’اور تو دیکھتا ہے زمین کو بنجر۔‘‘ یعنی خشک، چٹیل اور بے آب و گیا ہ﴿ فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَؔ اهۡتَزَّتۡ ﴾ ’’پس جب ہم اس پر بارش نازل کرتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے۔‘‘ یعنی نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے ﴿ وَرَبَتۡ ﴾ ’’اور پھولتی ہے۔‘‘ یعنی خشک ہونے کے بعد خوب سرسبز ہو کر بلند ہوتی ہے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتَتۡ مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍۭ ﴾ یعنی زمین نباتات کی ہر صنف کو اگاتی ہے ﴿ بَهِيۡـجٍ ﴾ یعنی جو دیکھنے والوں کو خوش کرتی ہے۔ [7,6] یہ دو قطعی دلائل ہیں جو ان پانچ مقاصد پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یہ سب کچھ یعنی آدمی کا اس طرح پیدا کرنا جو اللہ نے بیان کیا اور زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کرنا، اس لیے ہے کہ ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اللہ، وہی حق ہے۔‘‘ یعنی وہی رب معبود ہے اس کے سوا کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں ، اسی کی عبادت حق ہے اور اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت باطل ہے ﴿ وَاَنَّهٗ يُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ ’’اور وہ زندہ کرے گا مُردوں کو۔‘‘ جس طرح اس نے ابتداء تخلیق کی اور جس طرح اس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا ﴿ وَاَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾’’بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ جیسا کہ اس نے اپنی بدیع قدرت اور عظیم صنعت کا تمھیں مشاہدہ کروایا۔﴿ وَّاَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيۡبَ فِيۡهَا ﴾ ’’اور بلاشبہ قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔‘‘ پس اس کو بعید سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ﴿وَاَنَّ اللّٰهَ يَبۡعَثُ مَنۡ فِي الۡقُبُوۡرِ ﴾ ’’اور اللہ ان کو دوباروہ اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں ۔‘‘ پھر تمھیں تمھارے تمام اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔
22:8

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَٰدِلُ فِي ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَلَا هُدٗى وَلَا كِتَٰبٖ مُّنِيرٖ

اور بعض لوگوں میں سے وہ ہے جو جھگڑا کرتا ہے اللہ کی بابت بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کتاب روشن کے (8) درآنحالیکہ وہ موڑنے والا ہے اپنا پہلو تاکہ گمراہ کرے وہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہےاور ہم چکھائیں گے اسے دن قیامت کے عذاب جلانے والا (9) یہ بوجہ اس کے ہے جو آگے بھیجا تیرے دونوں ہاتھوں نےاور یہ کہ بلاشبہ اللہ نہیں ظلم کرنے والا (اپنے) بندوں پر (10) [8] وہ جھگڑا جس کا ذکر گزشتہ سطور میں ہوا ، وہ مقلد کا جھگڑا تھا اور یہ جھگڑا سرکش شیطان کے ساتھ ہے جو لوگوں کو بدعات کی طرف دعوت دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا:﴿ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل اور ان کے متبعین کے ساتھ باطل دلائل سے جھگڑتا ہے تاکہ حق کو نیچا دکھائے ﴿بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ بغیر کسی صحیح علم کے ﴿ وَّلَا هُدًى ﴾ وہ اپنے جھگڑے میں کسی ایسے شخص کی اتباع نہیں کرتا جو اس کی راہنمائی کرے، نہ عقل کے پیچھا لگتا ہے جو اس کو راہ راست پر رکھے اور نہ کسی مقتدا کی اقتداء کرتا ہے جو خود ہدایت یافتہ ہو۔ ﴿ وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کسی روشن اور واضح کتاب کی پیروی کرتا ہے۔‘‘ لہٰذا اس کے پاس کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی دلیل، یہ محض شبہات ہیں جو شیطان اس کی طرف القاء کرتا ہے۔ ﴿وَاِنَّ الشَّيٰطِيۡنَ لَيُوۡحُوۡنَ اِلٰۤى اَوۡلِيِٰٕٓهِمۡ۠ لِيُجَادِلُوۡؔكُمۡ﴾(الانعام؍121) ’’اور شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں القاء کرتے ہیں تاکہ وہ تمھارے ساتھ جھگڑا کریں ۔‘‘ [9] اس کے ساتھ ساتھ ﴿ ثَانِيَ عِطۡفِهٖ﴾ وہ گردن اکڑائے، منہ موڑ کر چلتا ہے یہ حق کے بارے میں اس کے تکبر اور مخلوق کے ساتھ اس کے حقارت آمیز رویے کے لیے کنایہ ہے۔ پس وہ اسی پر فرحاں و شاداں ہے کہ اس کے پاس غیر نافع علم ہے اور وہ حق اور اہل حق کو حقیر گردانتا ہے۔ ﴿ لِيُضِلَّ ﴾ ’’تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے‘‘ یعنی گمراہی کے داعیوں میں اس کا شمار ہو۔ اس آیت کریمہ کے تحت تمام ائمہ کفروضلالت آ جاتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے دنیاوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَهٗ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ ﴾ یعنی وہ آخرت سے پہلے، اس دنیا ہی میں رسوا ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک عجیب نشانی ہے۔ آپ داعیان کفر و ضلالت میں سے جس کو بھی دیکھیں وہ تمام لوگوں کی ناراضی، لعنت، بغض اور مذمت کا اسی طرح نشانہ ہوتا ہے جیسے وہ اس کا مستحق ہوتا ہے اور ہر شخص حسب حال جزا پاتا ہے۔ ﴿ وَّنُذِيۡقُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾یعنی ہم اسے جہنم کی سخت گرمی اور اس کی بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ اور یہ سب کچھ اس کے ان کرتوتوں کی وجہ سے ہے جو اس نے آگے بھیجے۔[10]﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ دنیاوی اور اُخروی عذاب جس کا ذکر کیا گیا اور اس میں بعد کا جو معنی پایا جاتا ہے (اور وہ ہے (ذلک) کے اندر موجود لام کا معنی جو بُعد کی طرف اشارہ کے لیے وضع کیا گیا ہے) وہ اس امر پر دلیل ہے کہ کفار ہول اور قباحت کی انتہاء پر ہوں گے۔ ﴿ بِمَا قَدَّمَتۡ يَدٰؔكَ ﴾ یعنی اس سبب سے، جو تیرے ہاتھوں نے کفر اور معاصی کا اکتساب کیا ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ لَيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾ اور حقیقت امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کے پہلے گناہوں کے بغیر عذاب نہیں دے گا۔ اس کا اجمالی معنی یہ ہے کہ اس کافر کو، جو ان صفات سے متصف ہے جن کا ذکر مذکورہ دو آیتوں میں گزر چکا ہے، کہا جائے گا کہ یہ عذاب اور رسوائی جس کا تو سامنا کر رہا ہے تیری افترا پردازی اور تکبر کے سبب سے ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ عادل ہے ظلم نہیں کرتا وہ مومن اور کافر، نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کرتا وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دیتا ہے۔
22:9

ثَانِيَ عِطۡفِهِۦ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۖ لَهُۥ فِي ٱلدُّنۡيَا خِزۡيٞۖ وَنُذِيقُهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عَذَابَ ٱلۡحَرِيقِ

اور بعض لوگوں میں سے وہ ہے جو جھگڑا کرتا ہے اللہ کی بابت بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کتاب روشن کے (8) درآنحالیکہ وہ موڑنے والا ہے اپنا پہلو تاکہ گمراہ کرے وہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہےاور ہم چکھائیں گے اسے دن قیامت کے عذاب جلانے والا (9) یہ بوجہ اس کے ہے جو آگے بھیجا تیرے دونوں ہاتھوں نےاور یہ کہ بلاشبہ اللہ نہیں ظلم کرنے والا (اپنے) بندوں پر (10) [8] وہ جھگڑا جس کا ذکر گزشتہ سطور میں ہوا ، وہ مقلد کا جھگڑا تھا اور یہ جھگڑا سرکش شیطان کے ساتھ ہے جو لوگوں کو بدعات کی طرف دعوت دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا:﴿ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل اور ان کے متبعین کے ساتھ باطل دلائل سے جھگڑتا ہے تاکہ حق کو نیچا دکھائے ﴿بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ بغیر کسی صحیح علم کے ﴿ وَّلَا هُدًى ﴾ وہ اپنے جھگڑے میں کسی ایسے شخص کی اتباع نہیں کرتا جو اس کی راہنمائی کرے، نہ عقل کے پیچھا لگتا ہے جو اس کو راہ راست پر رکھے اور نہ کسی مقتدا کی اقتداء کرتا ہے جو خود ہدایت یافتہ ہو۔ ﴿ وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کسی روشن اور واضح کتاب کی پیروی کرتا ہے۔‘‘ لہٰذا اس کے پاس کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی دلیل، یہ محض شبہات ہیں جو شیطان اس کی طرف القاء کرتا ہے۔ ﴿وَاِنَّ الشَّيٰطِيۡنَ لَيُوۡحُوۡنَ اِلٰۤى اَوۡلِيِٰٕٓهِمۡ۠ لِيُجَادِلُوۡؔكُمۡ﴾(الانعام؍121) ’’اور شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں القاء کرتے ہیں تاکہ وہ تمھارے ساتھ جھگڑا کریں ۔‘‘ [9] اس کے ساتھ ساتھ ﴿ ثَانِيَ عِطۡفِهٖ﴾ وہ گردن اکڑائے، منہ موڑ کر چلتا ہے یہ حق کے بارے میں اس کے تکبر اور مخلوق کے ساتھ اس کے حقارت آمیز رویے کے لیے کنایہ ہے۔ پس وہ اسی پر فرحاں و شاداں ہے کہ اس کے پاس غیر نافع علم ہے اور وہ حق اور اہل حق کو حقیر گردانتا ہے۔ ﴿ لِيُضِلَّ ﴾ ’’تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے‘‘ یعنی گمراہی کے داعیوں میں اس کا شمار ہو۔ اس آیت کریمہ کے تحت تمام ائمہ کفروضلالت آ جاتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے دنیاوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَهٗ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ ﴾ یعنی وہ آخرت سے پہلے، اس دنیا ہی میں رسوا ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک عجیب نشانی ہے۔ آپ داعیان کفر و ضلالت میں سے جس کو بھی دیکھیں وہ تمام لوگوں کی ناراضی، لعنت، بغض اور مذمت کا اسی طرح نشانہ ہوتا ہے جیسے وہ اس کا مستحق ہوتا ہے اور ہر شخص حسب حال جزا پاتا ہے۔ ﴿ وَّنُذِيۡقُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾یعنی ہم اسے جہنم کی سخت گرمی اور اس کی بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ اور یہ سب کچھ اس کے ان کرتوتوں کی وجہ سے ہے جو اس نے آگے بھیجے۔[10]﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ دنیاوی اور اُخروی عذاب جس کا ذکر کیا گیا اور اس میں بعد کا جو معنی پایا جاتا ہے (اور وہ ہے (ذلک) کے اندر موجود لام کا معنی جو بُعد کی طرف اشارہ کے لیے وضع کیا گیا ہے) وہ اس امر پر دلیل ہے کہ کفار ہول اور قباحت کی انتہاء پر ہوں گے۔ ﴿ بِمَا قَدَّمَتۡ يَدٰؔكَ ﴾ یعنی اس سبب سے، جو تیرے ہاتھوں نے کفر اور معاصی کا اکتساب کیا ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ لَيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾ اور حقیقت امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کے پہلے گناہوں کے بغیر عذاب نہیں دے گا۔ اس کا اجمالی معنی یہ ہے کہ اس کافر کو، جو ان صفات سے متصف ہے جن کا ذکر مذکورہ دو آیتوں میں گزر چکا ہے، کہا جائے گا کہ یہ عذاب اور رسوائی جس کا تو سامنا کر رہا ہے تیری افترا پردازی اور تکبر کے سبب سے ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ عادل ہے ظلم نہیں کرتا وہ مومن اور کافر، نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کرتا وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دیتا ہے۔
22:10

ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ يَدَاكَ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيۡسَ بِظَلَّـٰمٖ لِّلۡعَبِيدِ

اور بعض لوگوں میں سے وہ ہے جو جھگڑا کرتا ہے اللہ کی بابت بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کتاب روشن کے (8) درآنحالیکہ وہ موڑنے والا ہے اپنا پہلو تاکہ گمراہ کرے وہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہےاور ہم چکھائیں گے اسے دن قیامت کے عذاب جلانے والا (9) یہ بوجہ اس کے ہے جو آگے بھیجا تیرے دونوں ہاتھوں نےاور یہ کہ بلاشبہ اللہ نہیں ظلم کرنے والا (اپنے) بندوں پر (10) [8] وہ جھگڑا جس کا ذکر گزشتہ سطور میں ہوا ، وہ مقلد کا جھگڑا تھا اور یہ جھگڑا سرکش شیطان کے ساتھ ہے جو لوگوں کو بدعات کی طرف دعوت دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا:﴿ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل اور ان کے متبعین کے ساتھ باطل دلائل سے جھگڑتا ہے تاکہ حق کو نیچا دکھائے ﴿بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ بغیر کسی صحیح علم کے ﴿ وَّلَا هُدًى ﴾ وہ اپنے جھگڑے میں کسی ایسے شخص کی اتباع نہیں کرتا جو اس کی راہنمائی کرے، نہ عقل کے پیچھا لگتا ہے جو اس کو راہ راست پر رکھے اور نہ کسی مقتدا کی اقتداء کرتا ہے جو خود ہدایت یافتہ ہو۔ ﴿ وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کسی روشن اور واضح کتاب کی پیروی کرتا ہے۔‘‘ لہٰذا اس کے پاس کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی دلیل، یہ محض شبہات ہیں جو شیطان اس کی طرف القاء کرتا ہے۔ ﴿وَاِنَّ الشَّيٰطِيۡنَ لَيُوۡحُوۡنَ اِلٰۤى اَوۡلِيِٰٕٓهِمۡ۠ لِيُجَادِلُوۡؔكُمۡ﴾(الانعام؍121) ’’اور شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں القاء کرتے ہیں تاکہ وہ تمھارے ساتھ جھگڑا کریں ۔‘‘ [9] اس کے ساتھ ساتھ ﴿ ثَانِيَ عِطۡفِهٖ﴾ وہ گردن اکڑائے، منہ موڑ کر چلتا ہے یہ حق کے بارے میں اس کے تکبر اور مخلوق کے ساتھ اس کے حقارت آمیز رویے کے لیے کنایہ ہے۔ پس وہ اسی پر فرحاں و شاداں ہے کہ اس کے پاس غیر نافع علم ہے اور وہ حق اور اہل حق کو حقیر گردانتا ہے۔ ﴿ لِيُضِلَّ ﴾ ’’تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے‘‘ یعنی گمراہی کے داعیوں میں اس کا شمار ہو۔ اس آیت کریمہ کے تحت تمام ائمہ کفروضلالت آ جاتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے دنیاوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَهٗ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ ﴾ یعنی وہ آخرت سے پہلے، اس دنیا ہی میں رسوا ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک عجیب نشانی ہے۔ آپ داعیان کفر و ضلالت میں سے جس کو بھی دیکھیں وہ تمام لوگوں کی ناراضی، لعنت، بغض اور مذمت کا اسی طرح نشانہ ہوتا ہے جیسے وہ اس کا مستحق ہوتا ہے اور ہر شخص حسب حال جزا پاتا ہے۔ ﴿ وَّنُذِيۡقُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾یعنی ہم اسے جہنم کی سخت گرمی اور اس کی بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ اور یہ سب کچھ اس کے ان کرتوتوں کی وجہ سے ہے جو اس نے آگے بھیجے۔[10]﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ دنیاوی اور اُخروی عذاب جس کا ذکر کیا گیا اور اس میں بعد کا جو معنی پایا جاتا ہے (اور وہ ہے (ذلک) کے اندر موجود لام کا معنی جو بُعد کی طرف اشارہ کے لیے وضع کیا گیا ہے) وہ اس امر پر دلیل ہے کہ کفار ہول اور قباحت کی انتہاء پر ہوں گے۔ ﴿ بِمَا قَدَّمَتۡ يَدٰؔكَ ﴾ یعنی اس سبب سے، جو تیرے ہاتھوں نے کفر اور معاصی کا اکتساب کیا ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ لَيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾ اور حقیقت امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کے پہلے گناہوں کے بغیر عذاب نہیں دے گا۔ اس کا اجمالی معنی یہ ہے کہ اس کافر کو، جو ان صفات سے متصف ہے جن کا ذکر مذکورہ دو آیتوں میں گزر چکا ہے، کہا جائے گا کہ یہ عذاب اور رسوائی جس کا تو سامنا کر رہا ہے تیری افترا پردازی اور تکبر کے سبب سے ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ عادل ہے ظلم نہیں کرتا وہ مومن اور کافر، نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کرتا وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دیتا ہے۔
22:11

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَعۡبُدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ حَرۡفٖۖ فَإِنۡ أَصَابَهُۥ خَيۡرٌ ٱطۡمَأَنَّ بِهِۦۖ وَإِنۡ أَصَابَتۡهُ فِتۡنَةٌ ٱنقَلَبَ عَلَىٰ وَجۡهِهِۦ خَسِرَ ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةَۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡخُسۡرَانُ ٱلۡمُبِينُ

اور بعض لوگوں میں سے وہ ہیں جو عبادت کرتے ہیں اللہ کی اوپر ایک کنارے کے ، پس اگر پہنچے اس کو بھلائی تو وہ مطمئن ہو جاتا ہے اس پراور اگر پہنچے اس کو کو ئی فتنہ (آزمائش) تو الٹا ، پھر جاتا ہے اوپر اپنے منہ کے،خسارہ اٹھایا اس نے دنیا اور آخرت میں ، یہی ہے وہ خسارہ صریح (11) وہ پکارتا ہے سوائے اللہ کے اس کو جو نہیں نقصان پہنچا سکتا اسے اور نہ وہ نفع دے سکتا ہے اسے، یہی ہے وہ گمراہی دور کی (12) وہ پکارتا ہے اس شخص کو کہ نقصان اس کا (یقینا) زیادہ قریب ہے اس کے نفع سے، البتہ برا ہے وہ کارساز اور البتہ برا ہے وہ ساتھی (13) [11] یعنی لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو ضعیف الایمان ہے جس کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا، ایمان کی بشاشت اس کے دل میں جاگزیں نہیں ہوئی۔ بلکہ وہ یا تو خوف سے ایمان لایا ہے یا محض عادت کی بنا پر اور وہ بھی اس طریقے سے کہ وہ سختیاں برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ ﴿ فَاِنۡ اَصَابَهٗ خَيۡرُنِ اطۡمَاَنَّ بِهٖ﴾ یعنی اگر اسے وافر رزق مل رہا ہے اور اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچتی تو وہ ایمان پر نہیں بلکہ پہنچنے والی بھلائی پر مطمئن ہوتا ہے… اور اللہ تعالیٰ بسا اوقات اسے عافیت میں رکھتا ہے اور اسے ایسے فتنوں میں مبتلا نہیں کرتا جو اسے اس کے دین سے پھیر دیں ۔ ﴿ وَاِنۡ اَصَابَتۡهُ فِتۡنَةٌ ﴾ اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کوئی محبوب چیز اس سے چھن جاتی ہے ﴿اِنۡقَلَبَ عَلٰى وَجۡهِهٖ﴾ ’’پھر جاتا ہے اپنے چہرے پر۔‘‘ یعنی اپنے دین سے پھر جاتا ہے۔ ﴿خَسِرَ الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةَ﴾ ’’خسارہ اٹھایا اس نے دنیا اور آخرت کا۔‘‘ دنیا میں خسارہ یہ ہے کہ جس امید پر وہ مرتد ہوا اور جس امید کو اس نے سرمایہ قرار دے رکھا تھا وہ پوری نہ ہوئی اور وہ عوض جس کے حاصل ہونے کا اسے یقین تھا حاصل نہ ہوا۔ پس اس کی کوشش ناکام ہوئی اور اسے صرف وہی کچھ حاصل ہوا جو اس کی قسمت میں لکھا ہوا تھا۔ رہا آخرت کا خسارہ تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو جس کی کشادگی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، اس پر حرام کر دیا اور وہ جہنم کا مستحق ہوا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ اور یہ واضح اور کھلا خسارہ ہے۔ [13,12]﴿ يَدۡعُوۡا ﴾ ’’پکارتا ہے۔‘‘ یعنی یہ مرتد ﴿ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهٗ وَمَا لَا يَنۡفَعُهٗ﴾ اللہ کے سوا ایسی ہستیوں کو، جو اسے کوئی نقصان دے سکتی ہیں نہ نفع۔ یہ ہر اس معبود باطل کی صفت ہے، جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ معبود باطل اپنے لیے یا کسی اور کے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِيۡدُ﴾ یہ گمراہی بعد میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہے کیونکہ اس نے اس ہستی کی عبادت سے روگردانی کی جس کے قبضۂ قدرت میں نفع و نقصان ہے، جو خود بے نیاز ہے اور بے نیاز کرنے والی ہے… اور اپنے جیسی یا اپنے سے بھی کمتر ہستی کے سامنے سربسجود ہوا جس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے مقصد کی ضد کے حصول کے زیادہ قریب ہے، اس لیے فرمایا:﴿ يَدۡعُوۡا لَمَنۡ ضَرُّهٗۤ اَقۡرَبُ مِنۡ نَّفۡعِهٖ ﴾ ’’ وہ اسے پکارتے ہیں جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔‘‘ اس لیے کہ اس کا نقصان عقل، بدن، دنیا اور آخرت میں ہے ﴿ لَبِئۡسَ الۡمَوۡلٰى ﴾ ’’البتہ برا ہے والی۔‘‘ یعنی یہ معبود باطل ﴿ وَلَبِئۡسَ الۡعَشِيۡرُ﴾ یعنی بہت برا ہم نشین ہے جس کی صحبت کو اس نے لازم پکڑ رکھا ہے کیونکہ دوست اور ہم نشین سے حصول نفع اور دفع ضرر مقصود ہوتا ہے۔ اگر اس میں اسے کچھ بھی حاصل نہ ہو تو وہ قابل مذمت اور قابل ملامت ہے۔
22:12

يَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُۥ وَمَا لَا يَنفَعُهُۥۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلضَّلَٰلُ ٱلۡبَعِيدُ

اور بعض لوگوں میں سے وہ ہیں جو عبادت کرتے ہیں اللہ کی اوپر ایک کنارے کے ، پس اگر پہنچے اس کو بھلائی تو وہ مطمئن ہو جاتا ہے اس پراور اگر پہنچے اس کو کو ئی فتنہ (آزمائش) تو الٹا ، پھر جاتا ہے اوپر اپنے منہ کے،خسارہ اٹھایا اس نے دنیا اور آخرت میں ، یہی ہے وہ خسارہ صریح (11) وہ پکارتا ہے سوائے اللہ کے اس کو جو نہیں نقصان پہنچا سکتا اسے اور نہ وہ نفع دے سکتا ہے اسے، یہی ہے وہ گمراہی دور کی (12) وہ پکارتا ہے اس شخص کو کہ نقصان اس کا (یقینا) زیادہ قریب ہے اس کے نفع سے، البتہ برا ہے وہ کارساز اور البتہ برا ہے وہ ساتھی (13) [11] یعنی لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو ضعیف الایمان ہے جس کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا، ایمان کی بشاشت اس کے دل میں جاگزیں نہیں ہوئی۔ بلکہ وہ یا تو خوف سے ایمان لایا ہے یا محض عادت کی بنا پر اور وہ بھی اس طریقے سے کہ وہ سختیاں برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ ﴿ فَاِنۡ اَصَابَهٗ خَيۡرُنِ اطۡمَاَنَّ بِهٖ﴾ یعنی اگر اسے وافر رزق مل رہا ہے اور اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچتی تو وہ ایمان پر نہیں بلکہ پہنچنے والی بھلائی پر مطمئن ہوتا ہے… اور اللہ تعالیٰ بسا اوقات اسے عافیت میں رکھتا ہے اور اسے ایسے فتنوں میں مبتلا نہیں کرتا جو اسے اس کے دین سے پھیر دیں ۔ ﴿ وَاِنۡ اَصَابَتۡهُ فِتۡنَةٌ ﴾ اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کوئی محبوب چیز اس سے چھن جاتی ہے ﴿اِنۡقَلَبَ عَلٰى وَجۡهِهٖ﴾ ’’پھر جاتا ہے اپنے چہرے پر۔‘‘ یعنی اپنے دین سے پھر جاتا ہے۔ ﴿خَسِرَ الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةَ﴾ ’’خسارہ اٹھایا اس نے دنیا اور آخرت کا۔‘‘ دنیا میں خسارہ یہ ہے کہ جس امید پر وہ مرتد ہوا اور جس امید کو اس نے سرمایہ قرار دے رکھا تھا وہ پوری نہ ہوئی اور وہ عوض جس کے حاصل ہونے کا اسے یقین تھا حاصل نہ ہوا۔ پس اس کی کوشش ناکام ہوئی اور اسے صرف وہی کچھ حاصل ہوا جو اس کی قسمت میں لکھا ہوا تھا۔ رہا آخرت کا خسارہ تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو جس کی کشادگی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، اس پر حرام کر دیا اور وہ جہنم کا مستحق ہوا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ اور یہ واضح اور کھلا خسارہ ہے۔ [13,12]﴿ يَدۡعُوۡا ﴾ ’’پکارتا ہے۔‘‘ یعنی یہ مرتد ﴿ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهٗ وَمَا لَا يَنۡفَعُهٗ﴾ اللہ کے سوا ایسی ہستیوں کو، جو اسے کوئی نقصان دے سکتی ہیں نہ نفع۔ یہ ہر اس معبود باطل کی صفت ہے، جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ معبود باطل اپنے لیے یا کسی اور کے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِيۡدُ﴾ یہ گمراہی بعد میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہے کیونکہ اس نے اس ہستی کی عبادت سے روگردانی کی جس کے قبضۂ قدرت میں نفع و نقصان ہے، جو خود بے نیاز ہے اور بے نیاز کرنے والی ہے… اور اپنے جیسی یا اپنے سے بھی کمتر ہستی کے سامنے سربسجود ہوا جس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے مقصد کی ضد کے حصول کے زیادہ قریب ہے، اس لیے فرمایا:﴿ يَدۡعُوۡا لَمَنۡ ضَرُّهٗۤ اَقۡرَبُ مِنۡ نَّفۡعِهٖ ﴾ ’’ وہ اسے پکارتے ہیں جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔‘‘ اس لیے کہ اس کا نقصان عقل، بدن، دنیا اور آخرت میں ہے ﴿ لَبِئۡسَ الۡمَوۡلٰى ﴾ ’’البتہ برا ہے والی۔‘‘ یعنی یہ معبود باطل ﴿ وَلَبِئۡسَ الۡعَشِيۡرُ﴾ یعنی بہت برا ہم نشین ہے جس کی صحبت کو اس نے لازم پکڑ رکھا ہے کیونکہ دوست اور ہم نشین سے حصول نفع اور دفع ضرر مقصود ہوتا ہے۔ اگر اس میں اسے کچھ بھی حاصل نہ ہو تو وہ قابل مذمت اور قابل ملامت ہے۔
22:13

يَدۡعُواْ لَمَن ضَرُّهُۥٓ أَقۡرَبُ مِن نَّفۡعِهِۦۚ لَبِئۡسَ ٱلۡمَوۡلَىٰ وَلَبِئۡسَ ٱلۡعَشِيرُ

اور بعض لوگوں میں سے وہ ہیں جو عبادت کرتے ہیں اللہ کی اوپر ایک کنارے کے ، پس اگر پہنچے اس کو بھلائی تو وہ مطمئن ہو جاتا ہے اس پراور اگر پہنچے اس کو کو ئی فتنہ (آزمائش) تو الٹا ، پھر جاتا ہے اوپر اپنے منہ کے،خسارہ اٹھایا اس نے دنیا اور آخرت میں ، یہی ہے وہ خسارہ صریح (11) وہ پکارتا ہے سوائے اللہ کے اس کو جو نہیں نقصان پہنچا سکتا اسے اور نہ وہ نفع دے سکتا ہے اسے، یہی ہے وہ گمراہی دور کی (12) وہ پکارتا ہے اس شخص کو کہ نقصان اس کا (یقینا) زیادہ قریب ہے اس کے نفع سے، البتہ برا ہے وہ کارساز اور البتہ برا ہے وہ ساتھی (13) [11] یعنی لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو ضعیف الایمان ہے جس کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا، ایمان کی بشاشت اس کے دل میں جاگزیں نہیں ہوئی۔ بلکہ وہ یا تو خوف سے ایمان لایا ہے یا محض عادت کی بنا پر اور وہ بھی اس طریقے سے کہ وہ سختیاں برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ ﴿ فَاِنۡ اَصَابَهٗ خَيۡرُنِ اطۡمَاَنَّ بِهٖ﴾ یعنی اگر اسے وافر رزق مل رہا ہے اور اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچتی تو وہ ایمان پر نہیں بلکہ پہنچنے والی بھلائی پر مطمئن ہوتا ہے… اور اللہ تعالیٰ بسا اوقات اسے عافیت میں رکھتا ہے اور اسے ایسے فتنوں میں مبتلا نہیں کرتا جو اسے اس کے دین سے پھیر دیں ۔ ﴿ وَاِنۡ اَصَابَتۡهُ فِتۡنَةٌ ﴾ اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کوئی محبوب چیز اس سے چھن جاتی ہے ﴿اِنۡقَلَبَ عَلٰى وَجۡهِهٖ﴾ ’’پھر جاتا ہے اپنے چہرے پر۔‘‘ یعنی اپنے دین سے پھر جاتا ہے۔ ﴿خَسِرَ الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةَ﴾ ’’خسارہ اٹھایا اس نے دنیا اور آخرت کا۔‘‘ دنیا میں خسارہ یہ ہے کہ جس امید پر وہ مرتد ہوا اور جس امید کو اس نے سرمایہ قرار دے رکھا تھا وہ پوری نہ ہوئی اور وہ عوض جس کے حاصل ہونے کا اسے یقین تھا حاصل نہ ہوا۔ پس اس کی کوشش ناکام ہوئی اور اسے صرف وہی کچھ حاصل ہوا جو اس کی قسمت میں لکھا ہوا تھا۔ رہا آخرت کا خسارہ تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو جس کی کشادگی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، اس پر حرام کر دیا اور وہ جہنم کا مستحق ہوا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ اور یہ واضح اور کھلا خسارہ ہے۔ [13,12]﴿ يَدۡعُوۡا ﴾ ’’پکارتا ہے۔‘‘ یعنی یہ مرتد ﴿ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهٗ وَمَا لَا يَنۡفَعُهٗ﴾ اللہ کے سوا ایسی ہستیوں کو، جو اسے کوئی نقصان دے سکتی ہیں نہ نفع۔ یہ ہر اس معبود باطل کی صفت ہے، جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ معبود باطل اپنے لیے یا کسی اور کے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِيۡدُ﴾ یہ گمراہی بعد میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہے کیونکہ اس نے اس ہستی کی عبادت سے روگردانی کی جس کے قبضۂ قدرت میں نفع و نقصان ہے، جو خود بے نیاز ہے اور بے نیاز کرنے والی ہے… اور اپنے جیسی یا اپنے سے بھی کمتر ہستی کے سامنے سربسجود ہوا جس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے مقصد کی ضد کے حصول کے زیادہ قریب ہے، اس لیے فرمایا:﴿ يَدۡعُوۡا لَمَنۡ ضَرُّهٗۤ اَقۡرَبُ مِنۡ نَّفۡعِهٖ ﴾ ’’ وہ اسے پکارتے ہیں جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔‘‘ اس لیے کہ اس کا نقصان عقل، بدن، دنیا اور آخرت میں ہے ﴿ لَبِئۡسَ الۡمَوۡلٰى ﴾ ’’البتہ برا ہے والی۔‘‘ یعنی یہ معبود باطل ﴿ وَلَبِئۡسَ الۡعَشِيۡرُ﴾ یعنی بہت برا ہم نشین ہے جس کی صحبت کو اس نے لازم پکڑ رکھا ہے کیونکہ دوست اور ہم نشین سے حصول نفع اور دفع ضرر مقصود ہوتا ہے۔ اگر اس میں اسے کچھ بھی حاصل نہ ہو تو وہ قابل مذمت اور قابل ملامت ہے۔
22:14

إِنَّ ٱللَّهَ يُدۡخِلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَفۡعَلُ مَا يُرِيدُ

بے شک اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، بے شک اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے (14) [14] جب اللہ تعالیٰ نے باطل دلیلوں سے جھگڑنے والے کا ذکر فرمایا اور یہ بھی بتایا کہ ایسے لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں ، ایک مقلدین اور دوسرے اپنی بدعات کی طرف دعوت دینے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بھی دو اقسام ذکر فرمائیں جو اپنے آپ کو ایمان سے منسوب کرتے ہیں ۔ پہلی قسم ان لوگوں کی جن کے دلوں میں ابھی ایمان داخل نہیں ہوا جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا اور دوسری قسم ان لوگوں کی جو حقیقی مومن ہیں جنھوں نے اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی۔ پس ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جنت کو ’’جنت‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ یہ خوبصورت منازل، محلوں ، درختوں اور نباتات پر مشتمل ہے یہ درخت اور نباتات اپنی کثرت کے باعث ان لوگوں کو ڈھانپ لیں گے اور ان پر سایہ کناں ہوں گے جو اس میں داخل ہوں گے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَفۡعَلُ مَا يُرِيۡدُ﴾ پس اللہ تعالیٰ جو بھی ارادہ کرتا ہے اسے بغیر کسی مانع اور معارض کے، کر گزرتا ہے۔ اس کا ایک ارادہ یہ ہے کہ وہ جنت کو اہل جنت میں داخل کرے گا… اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم اور احسان سے ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے۔
22:15

مَن كَانَ يَظُنُّ أَن لَّن يَنصُرَهُ ٱللَّهُ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ فَلۡيَمۡدُدۡ بِسَبَبٍ إِلَى ٱلسَّمَآءِ ثُمَّ لۡيَقۡطَعۡ فَلۡيَنظُرۡ هَلۡ يُذۡهِبَنَّ كَيۡدُهُۥ مَا يَغِيظُ

جو شخص گمان کرتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں مدد کرے گا اللہ اس (رسول) کی دنیا اور آخرت میں تو چاہیے کہ وہ دراز کرے ایک رسی آسمان تک ، پھر چاہیے کہ کاٹ دے (اسے) ، پھرچاہیے کہ وہ دیکھے کیا لے جاتی ہے تدبیر اس کی ، اس کے غصے کو؟ (15) [15] یعنی جو کوئی یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ) کی مدد نہیں کرے گا اور اس کا دین عنقریب ختم ہو جائے گا تو بلاشبہ مدد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ ﴿ فَلۡيَمۡدُدۡ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لۡيَقۡطَعۡ ﴾ ’’پس وہ آسمان کی طرف رسی دراز کرے، پھر کاٹ دے۔‘‘ رسول اللہﷺ سے اس مدد کو منقطع کر دکھائے۔ ﴿ فَلۡيَنۡظُرۡ هَلۡ يُذۡهِبَنَّ كَيۡدُهٗ ﴾ یعنی وہ کیا چیز ہے جس کے ذریعے سے وہ رسول اللہﷺ کے خلاف چال چل سکتا ہے، آپﷺ کے خلاف جنگ برپا کر سکتا ہے، جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے ابطال کی خواہش رکھتا ہے وہ کیا چیز ہے جو دین کے ظہور پر اسے غیظ و غضب میں مبتلا کرتی ہے… یہ استفہام نفی کے معنی میں ہے یعنی وہ ان اسباب کے ذریعے اپنے غیظ و غضب کو ٹھنڈا نہیں کر سکتا۔ اس آیت مقدسہ کا معنیٰ یہ ہے، اے وہ شخص! جو محمد رسول اللہﷺ سے عداوت رکھتا ہے، جو آپﷺ کے دین کو مٹانے میں کوشاں ہے، جو اپنی جہالت کی بنا پر سمجھتا ہے کہ اس کی کوشش رنگ لائے گی، تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ تو جو بھی اسباب اختیار کر لے، رسول (ﷺ) کے خلاف کوئی بھی چال چل لے، اس سے تیرا غیظ و غضب اور تیرے دل کی بیماری کو شفا حاصل نہیں ہو گی۔ اس پر تجھے کوئی قدرت حاصل نہیں البتہ ہم تجھے ایک مشورہ دیتے ہیں جس سے تو اپنے دل کی آگ کو ٹھنڈا کر سکتا ہے اور اگر یہ ممکن ہے کہ تو رسول (ﷺ) سے اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کو منقطع کر سکتا ہے تو معاملے میں صحیح راستے سے داخل ہو اور درست اسباب اختیار کر اور وہ یہ کہ کھجور وغیرہ کی چھال سے بٹی ہوئی رسی لے، پھر اسے آسمان پر لٹکا کر آسمان پر چڑھ جا اور ان دروازوں تک پہنچ جا جہاں سے اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہوتی ہے اور ان دروازوں کو بند کر کے اللہ تعالیٰ کی مدد منقطع کر دے۔ اس طریقے سے تیرے غیظ و غضب کو شفا حاصل ہو گی… بس یہ تجویز اور چال ہے اس طریقے کے علاوہ تیرے دل میں بھی یہ بات نہیں آنی چاہیے کہ تو اپنے غیظ و عضب سے چھٹکارا پا سکتا ہے خواہ مخلوق تیری مدد کے لیے کمر کیوں نہ باندھ لے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے دین، اپنے رسول اور اپنے مومن بندوں کے لیے فتح و نصرت کا جو وعدہ اور خوشخبری ہے، وہ مخفی نہیں اور کفار کے لیے مایوسی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے اور خواہ وہ اس نور کو بجھانے کی امکان بھر کوشش کیوں نہ کر لیں ۔
22:16

وَكَذَٰلِكَ أَنزَلۡنَٰهُ ءَايَٰتِۭ بَيِّنَٰتٖ وَأَنَّ ٱللَّهَ يَهۡدِي مَن يُرِيدُ

اور اسی طرح نازل کیا ہم نے اس (قرآن) کو آیات واضحہ (کی صورت میں ) اور بے شک اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے (16) [16] یعنی اسی طرح جب ہم نے اس قرآن عظیم میں تفاصیل بیان کی تو ہم نے اس کو آیات بینات بنایا جو تمام مطالب اور مسائل نافعہ پر دلالت کرتی ہیں لیکن ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ جس کی ہدایت کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ اس قرآن کے ذریعے سے ہدایت پالیتا ہے، وہ قرآن کو اپنا راہنما اور مقتدا بنا لیتا ہے اور قرآن کے نور سے روشنی حاصل کرتا ہے۔ اور جس کی ہدایت اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا اس کے پاس خواہ ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ کبھی ایمان نہیں لاتا، قرآن اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا بلکہ قرآن اس کے خلاف حجت بنے گا۔
22:17

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱلَّذِينَ هَادُواْ وَٱلصَّـٰبِـِٔينَ وَٱلنَّصَٰرَىٰ وَٱلۡمَجُوسَ وَٱلَّذِينَ أَشۡرَكُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائےاور وہ لوگ جو یہودی ہوئےاور صابی (بے دین) اور نصاریٰ اور مجوسی اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا بے شک اللہ فیصلہ کرے گا ان کے درمیان دن قیامت کے بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے گواہ ہے (17) کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ،سجدہ کرتا ہے اسے جو کوئی آسمانوں میں اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اورچوپائے اور بہت سے لوگوں میں سے (بھی) اور بہت سے ایسے ہیں کہ ثابت ہو گیا ہے ان پر عذاب اور جس کو ذلیل کرے اللہ تو نہیں ہے اسے کوئی عزت دینے والا بے شک اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے (18) وہ دو گرہ وہ جھگڑنے والے ہیں ، جھگڑا کیا انھوں نے اپنے رب کی بابت، پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کاٹے جائیں گے ان کے لیے کپڑے آگ کے، انڈیلا جائے گا اوپر سے ان کے سروں کے کھولتا ہوا پانی (19) پگھلا دیا جائے گا اس کے سبب سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہو گا اور کھالیں (20) اور ان (کو مارنے) کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے کے (21) جب بھی وہ ارادہ کریں گے یہ کہ نکلیں وہ اس (آگ) میں سے، مارے غم کے، وہ لوٹا دیے جائیں گے اس میں اور (کہا جائے گا) چکھو تم عذاب جلانے والا (22) بے شک اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ پہنائے جائیں گے ان میں کچھ کنگن سونے کےاور موتی اور لباس ان کا اس میں ریشم کا ہو گا (23) اور وہ ہدایت دیے گئے تھے (دنیا میں ) پاکیزہ بات (توحید) کی طرفاور وہ ہدایت دیے گئے تھے ایسے راستے کی طرف (جو) قابل تعریف ہے (24) [17] اللہ تبارک و تعالیٰ روئے زمین پر بسنے والے مذاہب کے پیروکاروں کے تمام گروہوں ، یعنی وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی ہے، مثلاً:اہل ایمان، یہود، نصاریٰ، صابئین، مجوس اور مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا جن کو اس نے حفاظت کے ساتھ ان کے اعمال ناموں میں درج کر رکھا ہے اور ان پر گواہ ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ ‘‘ [22-19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿هٰؔذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِيۡ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں ۔‘‘ ان میں سے ہر فریق دعویٰ کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ ﴿فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یہ جملہ تمام کفار، یعنی یہود، نصاریٰ، مجوس، صابئین اور مشرکین کو شامل ہے۔ ﴿ قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ﴾یعنی ان کے کپڑے گندھک کے ہوں گے جن میں آگ شعلہ زن ہو گی تاکہ عذاب ان کو ہر جانب سے پوری طرح گھیرلے۔﴿يُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُؔءُوۡسِهِمُ الۡحَمِيۡمُ﴾ یعنی ان کے سروں پر سخت کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا جس کی شدت حرارت سے ان کے پیٹ کے اندر گوشت، چربی، انتڑیاں گل جائیں گی۔ ﴿ وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ ﴾ ’’اور ان کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے كے۔‘‘ جو سخت اور درشت خو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوں گے جن کے ساتھ وہ ان کو ماریں گے اور سزا دیں گے۔فرمایا: ﴿ كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا مِنۡ غَمٍّ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’جب بھی وہ اس جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، غم کی وجہ سے تو وہ اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ پس کسی وقت بھی عذاب ان سے منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائی گی بلکہ زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا:﴿وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾ یعنی دلوں اور بدنوں کو جلانے والا عذاب چکھو۔ [23]﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُدۡخِلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے، ایسے باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ یہ وصف مسلمان کے علاوہ کسی اور پر صادق نہیں آتا، جو تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان لائے ہیں ۔ ﴿يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ ﴾ یعنی تمام اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ﴿وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾ ’’اور ان کا لباس اس میں ریشم کا ہو گا۔‘‘ پس اس کے ساتھ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور لذیذ ماکولات کی تکمیل ہو جائے گی جن پر جنت مشتمل ہے، نیز یہ بہتی ہوئی نہروں کے ذکر کو بھی شامل ہے، یعنی پانی کی نہریں ، دودھ کی نہریں ، شہد کی نہریں اور شراب کی نہریں ، انواع و اقسام کے لباس اور قیمتی زیورات۔ [24] یہ سب کچھ اس سبب سے عطا ہو گا کہ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الۡقَوۡلِ﴾ ’’ان کی رہنمائی پاکیزہ بات کی طرف کی گئی ۔‘‘ جس میں سب سے افضل اور سب سے اچھا قول کلمۂ اخلاص ہے، پھر دیگر تمام اقوال طیبہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے یا اللہ تعالیٰ کی عبادت کو اچھے طریقے سے کرنا ہے۔ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلٰى صِرَاطِ الۡحَمِيۡدِ ﴾ ’’اور ان کی رہنمائی کی گئی صراطِ حمید کی طرف۔‘‘ یعنی قابل ستائش طریقے کی طرف۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت الٰہی تمام تر حکمت، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا، مامورات کے حسن اور منہیات کی قباحت پر مشتمل ہے اور یہ ایک ایسا دین ہے جس میں کوئی افراط اور تفریط نہیں جو علم نافع اور عمل صالح پر مبنی ہے۔ یا اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف رہنمائی کی گئی، وہ اللہ جو قابل تعریف ہے، اس لیے کہ اکثر راستے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاتی ہے کیونکہ وہ چلنے والے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے (الحمید) کا ذکر فرمایا کیونکہ اہل ایمان یعنی اس راستے پر گامزن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا اور اس کے احسان ہی کی بنا پر ہدایت حاصل کی۔ بنابریں وہ جنت میں کہیں گے: ﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ هَدٰؔىنَا لِهٰؔذَا١۫ وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِيَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ﴾(الاعراف؍43) ’’ہر قسم کی ستائش اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں جنت کی راہ دکھائی، ہم خود کبھی یہ راہ نہ پا سکتے اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا۔‘‘ [18]اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ کے درمیان، جملہ معترضہ کے طور پر اپنے لیے مخلوقات کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے، یعنی آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات، سورج، چاند، ستاروں ، پہاڑ، زمین پر چلنے والے تمام جاندار یعنی تمام حیوانات اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد یعنی اہل ایمان کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے۔﴿ وَؔكَثِيۡرٌ حَقَّ عَلَيۡهِ الۡعَذَابُ ﴾ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں ، جن کے کفر اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر عذاب واجب ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی توفیق نہ بخشی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسوا کیا ﴿ وَمَنۡ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ مُّكۡرِمٍ ﴾ ’’اور جس کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے تو کوئی اس کو عزت دینے والا نہیں۔‘‘ اور کوئی اس کو اس کے ارادے سے باز نہیں رکھ سکتا اور نہ کوئی ہستی اس کی مشیت کی مخالفت کر سکتی ہے۔ پس جب تمام مخلوق اپنے رب کے حضور سربسجود، اس کی عظمت کے سامنے سرافگندہ، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز و فروتن اور اس کے تسلط کے سامنے لاچار ہے۔ تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہی اکیلا رب معبود اور بادشاہ محمود ہے اور جو کوئی اس سے روگردانی کر کے کسی اور کی عبادت کرتا ہے تو وہ بہت دور کی گمراہی اور واضح خسارے میں جا پڑا۔
22:18

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَسۡجُدُۤ لَهُۥۤ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَرُ وَٱلنُّجُومُ وَٱلۡجِبَالُ وَٱلشَّجَرُ وَٱلدَّوَآبُّ وَكَثِيرٞ مِّنَ ٱلنَّاسِۖ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيۡهِ ٱلۡعَذَابُۗ وَمَن يُهِنِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن مُّكۡرِمٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ۩

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائےاور وہ لوگ جو یہودی ہوئےاور صابی (بے دین) اور نصاریٰ اور مجوسی اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا بے شک اللہ فیصلہ کرے گا ان کے درمیان دن قیامت کے بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے گواہ ہے (17) کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ،سجدہ کرتا ہے اسے جو کوئی آسمانوں میں اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اورچوپائے اور بہت سے لوگوں میں سے (بھی) اور بہت سے ایسے ہیں کہ ثابت ہو گیا ہے ان پر عذاب اور جس کو ذلیل کرے اللہ تو نہیں ہے اسے کوئی عزت دینے والا بے شک اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے (18) وہ دو گرہ وہ جھگڑنے والے ہیں ، جھگڑا کیا انھوں نے اپنے رب کی بابت، پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کاٹے جائیں گے ان کے لیے کپڑے آگ کے، انڈیلا جائے گا اوپر سے ان کے سروں کے کھولتا ہوا پانی (19) پگھلا دیا جائے گا اس کے سبب سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہو گا اور کھالیں (20) اور ان (کو مارنے) کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے کے (21) جب بھی وہ ارادہ کریں گے یہ کہ نکلیں وہ اس (آگ) میں سے، مارے غم کے، وہ لوٹا دیے جائیں گے اس میں اور (کہا جائے گا) چکھو تم عذاب جلانے والا (22) بے شک اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ پہنائے جائیں گے ان میں کچھ کنگن سونے کےاور موتی اور لباس ان کا اس میں ریشم کا ہو گا (23) اور وہ ہدایت دیے گئے تھے (دنیا میں ) پاکیزہ بات (توحید) کی طرفاور وہ ہدایت دیے گئے تھے ایسے راستے کی طرف (جو) قابل تعریف ہے (24) [17] اللہ تبارک و تعالیٰ روئے زمین پر بسنے والے مذاہب کے پیروکاروں کے تمام گروہوں ، یعنی وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی ہے، مثلاً:اہل ایمان، یہود، نصاریٰ، صابئین، مجوس اور مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا جن کو اس نے حفاظت کے ساتھ ان کے اعمال ناموں میں درج کر رکھا ہے اور ان پر گواہ ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ ‘‘ [22-19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿هٰؔذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِيۡ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں ۔‘‘ ان میں سے ہر فریق دعویٰ کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ ﴿فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یہ جملہ تمام کفار، یعنی یہود، نصاریٰ، مجوس، صابئین اور مشرکین کو شامل ہے۔ ﴿ قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ﴾یعنی ان کے کپڑے گندھک کے ہوں گے جن میں آگ شعلہ زن ہو گی تاکہ عذاب ان کو ہر جانب سے پوری طرح گھیرلے۔﴿يُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُؔءُوۡسِهِمُ الۡحَمِيۡمُ﴾ یعنی ان کے سروں پر سخت کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا جس کی شدت حرارت سے ان کے پیٹ کے اندر گوشت، چربی، انتڑیاں گل جائیں گی۔ ﴿ وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ ﴾ ’’اور ان کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے كے۔‘‘ جو سخت اور درشت خو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوں گے جن کے ساتھ وہ ان کو ماریں گے اور سزا دیں گے۔فرمایا: ﴿ كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا مِنۡ غَمٍّ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’جب بھی وہ اس جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، غم کی وجہ سے تو وہ اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ پس کسی وقت بھی عذاب ان سے منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائی گی بلکہ زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا:﴿وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾ یعنی دلوں اور بدنوں کو جلانے والا عذاب چکھو۔ [23]﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُدۡخِلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے، ایسے باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ یہ وصف مسلمان کے علاوہ کسی اور پر صادق نہیں آتا، جو تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان لائے ہیں ۔ ﴿يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ ﴾ یعنی تمام اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ﴿وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾ ’’اور ان کا لباس اس میں ریشم کا ہو گا۔‘‘ پس اس کے ساتھ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور لذیذ ماکولات کی تکمیل ہو جائے گی جن پر جنت مشتمل ہے، نیز یہ بہتی ہوئی نہروں کے ذکر کو بھی شامل ہے، یعنی پانی کی نہریں ، دودھ کی نہریں ، شہد کی نہریں اور شراب کی نہریں ، انواع و اقسام کے لباس اور قیمتی زیورات۔ [24] یہ سب کچھ اس سبب سے عطا ہو گا کہ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الۡقَوۡلِ﴾ ’’ان کی رہنمائی پاکیزہ بات کی طرف کی گئی ۔‘‘ جس میں سب سے افضل اور سب سے اچھا قول کلمۂ اخلاص ہے، پھر دیگر تمام اقوال طیبہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے یا اللہ تعالیٰ کی عبادت کو اچھے طریقے سے کرنا ہے۔ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلٰى صِرَاطِ الۡحَمِيۡدِ ﴾ ’’اور ان کی رہنمائی کی گئی صراطِ حمید کی طرف۔‘‘ یعنی قابل ستائش طریقے کی طرف۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت الٰہی تمام تر حکمت، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا، مامورات کے حسن اور منہیات کی قباحت پر مشتمل ہے اور یہ ایک ایسا دین ہے جس میں کوئی افراط اور تفریط نہیں جو علم نافع اور عمل صالح پر مبنی ہے۔ یا اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف رہنمائی کی گئی، وہ اللہ جو قابل تعریف ہے، اس لیے کہ اکثر راستے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاتی ہے کیونکہ وہ چلنے والے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے (الحمید) کا ذکر فرمایا کیونکہ اہل ایمان یعنی اس راستے پر گامزن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا اور اس کے احسان ہی کی بنا پر ہدایت حاصل کی۔ بنابریں وہ جنت میں کہیں گے: ﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ هَدٰؔىنَا لِهٰؔذَا١۫ وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِيَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ﴾(الاعراف؍43) ’’ہر قسم کی ستائش اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں جنت کی راہ دکھائی، ہم خود کبھی یہ راہ نہ پا سکتے اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا۔‘‘ [18]اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ کے درمیان، جملہ معترضہ کے طور پر اپنے لیے مخلوقات کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے، یعنی آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات، سورج، چاند، ستاروں ، پہاڑ، زمین پر چلنے والے تمام جاندار یعنی تمام حیوانات اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد یعنی اہل ایمان کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے۔﴿ وَؔكَثِيۡرٌ حَقَّ عَلَيۡهِ الۡعَذَابُ ﴾ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں ، جن کے کفر اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر عذاب واجب ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی توفیق نہ بخشی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسوا کیا ﴿ وَمَنۡ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ مُّكۡرِمٍ ﴾ ’’اور جس کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے تو کوئی اس کو عزت دینے والا نہیں۔‘‘ اور کوئی اس کو اس کے ارادے سے باز نہیں رکھ سکتا اور نہ کوئی ہستی اس کی مشیت کی مخالفت کر سکتی ہے۔ پس جب تمام مخلوق اپنے رب کے حضور سربسجود، اس کی عظمت کے سامنے سرافگندہ، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز و فروتن اور اس کے تسلط کے سامنے لاچار ہے۔ تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہی اکیلا رب معبود اور بادشاہ محمود ہے اور جو کوئی اس سے روگردانی کر کے کسی اور کی عبادت کرتا ہے تو وہ بہت دور کی گمراہی اور واضح خسارے میں جا پڑا۔
22:19

۞هَٰذَانِ خَصۡمَانِ ٱخۡتَصَمُواْ فِي رَبِّهِمۡۖ فَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٞ مِّن نَّارٖ يُصَبُّ مِن فَوۡقِ رُءُوسِهِمُ ٱلۡحَمِيمُ

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائےاور وہ لوگ جو یہودی ہوئےاور صابی (بے دین) اور نصاریٰ اور مجوسی اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا بے شک اللہ فیصلہ کرے گا ان کے درمیان دن قیامت کے بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے گواہ ہے (17) کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ،سجدہ کرتا ہے اسے جو کوئی آسمانوں میں اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اورچوپائے اور بہت سے لوگوں میں سے (بھی) اور بہت سے ایسے ہیں کہ ثابت ہو گیا ہے ان پر عذاب اور جس کو ذلیل کرے اللہ تو نہیں ہے اسے کوئی عزت دینے والا بے شک اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے (18) وہ دو گرہ وہ جھگڑنے والے ہیں ، جھگڑا کیا انھوں نے اپنے رب کی بابت، پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کاٹے جائیں گے ان کے لیے کپڑے آگ کے، انڈیلا جائے گا اوپر سے ان کے سروں کے کھولتا ہوا پانی (19) پگھلا دیا جائے گا اس کے سبب سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہو گا اور کھالیں (20) اور ان (کو مارنے) کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے کے (21) جب بھی وہ ارادہ کریں گے یہ کہ نکلیں وہ اس (آگ) میں سے، مارے غم کے، وہ لوٹا دیے جائیں گے اس میں اور (کہا جائے گا) چکھو تم عذاب جلانے والا (22) بے شک اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ پہنائے جائیں گے ان میں کچھ کنگن سونے کےاور موتی اور لباس ان کا اس میں ریشم کا ہو گا (23) اور وہ ہدایت دیے گئے تھے (دنیا میں ) پاکیزہ بات (توحید) کی طرفاور وہ ہدایت دیے گئے تھے ایسے راستے کی طرف (جو) قابل تعریف ہے (24) [17] اللہ تبارک و تعالیٰ روئے زمین پر بسنے والے مذاہب کے پیروکاروں کے تمام گروہوں ، یعنی وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی ہے، مثلاً:اہل ایمان، یہود، نصاریٰ، صابئین، مجوس اور مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا جن کو اس نے حفاظت کے ساتھ ان کے اعمال ناموں میں درج کر رکھا ہے اور ان پر گواہ ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ ‘‘ [22-19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿هٰؔذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِيۡ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں ۔‘‘ ان میں سے ہر فریق دعویٰ کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ ﴿فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یہ جملہ تمام کفار، یعنی یہود، نصاریٰ، مجوس، صابئین اور مشرکین کو شامل ہے۔ ﴿ قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ﴾یعنی ان کے کپڑے گندھک کے ہوں گے جن میں آگ شعلہ زن ہو گی تاکہ عذاب ان کو ہر جانب سے پوری طرح گھیرلے۔﴿يُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُؔءُوۡسِهِمُ الۡحَمِيۡمُ﴾ یعنی ان کے سروں پر سخت کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا جس کی شدت حرارت سے ان کے پیٹ کے اندر گوشت، چربی، انتڑیاں گل جائیں گی۔ ﴿ وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ ﴾ ’’اور ان کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے كے۔‘‘ جو سخت اور درشت خو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوں گے جن کے ساتھ وہ ان کو ماریں گے اور سزا دیں گے۔فرمایا: ﴿ كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا مِنۡ غَمٍّ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’جب بھی وہ اس جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، غم کی وجہ سے تو وہ اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ پس کسی وقت بھی عذاب ان سے منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائی گی بلکہ زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا:﴿وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾ یعنی دلوں اور بدنوں کو جلانے والا عذاب چکھو۔ [23]﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُدۡخِلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے، ایسے باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ یہ وصف مسلمان کے علاوہ کسی اور پر صادق نہیں آتا، جو تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان لائے ہیں ۔ ﴿يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ ﴾ یعنی تمام اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ﴿وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾ ’’اور ان کا لباس اس میں ریشم کا ہو گا۔‘‘ پس اس کے ساتھ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور لذیذ ماکولات کی تکمیل ہو جائے گی جن پر جنت مشتمل ہے، نیز یہ بہتی ہوئی نہروں کے ذکر کو بھی شامل ہے، یعنی پانی کی نہریں ، دودھ کی نہریں ، شہد کی نہریں اور شراب کی نہریں ، انواع و اقسام کے لباس اور قیمتی زیورات۔ [24] یہ سب کچھ اس سبب سے عطا ہو گا کہ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الۡقَوۡلِ﴾ ’’ان کی رہنمائی پاکیزہ بات کی طرف کی گئی ۔‘‘ جس میں سب سے افضل اور سب سے اچھا قول کلمۂ اخلاص ہے، پھر دیگر تمام اقوال طیبہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے یا اللہ تعالیٰ کی عبادت کو اچھے طریقے سے کرنا ہے۔ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلٰى صِرَاطِ الۡحَمِيۡدِ ﴾ ’’اور ان کی رہنمائی کی گئی صراطِ حمید کی طرف۔‘‘ یعنی قابل ستائش طریقے کی طرف۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت الٰہی تمام تر حکمت، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا، مامورات کے حسن اور منہیات کی قباحت پر مشتمل ہے اور یہ ایک ایسا دین ہے جس میں کوئی افراط اور تفریط نہیں جو علم نافع اور عمل صالح پر مبنی ہے۔ یا اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف رہنمائی کی گئی، وہ اللہ جو قابل تعریف ہے، اس لیے کہ اکثر راستے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاتی ہے کیونکہ وہ چلنے والے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے (الحمید) کا ذکر فرمایا کیونکہ اہل ایمان یعنی اس راستے پر گامزن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا اور اس کے احسان ہی کی بنا پر ہدایت حاصل کی۔ بنابریں وہ جنت میں کہیں گے: ﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ هَدٰؔىنَا لِهٰؔذَا١۫ وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِيَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ﴾(الاعراف؍43) ’’ہر قسم کی ستائش اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں جنت کی راہ دکھائی، ہم خود کبھی یہ راہ نہ پا سکتے اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا۔‘‘ [18]اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ کے درمیان، جملہ معترضہ کے طور پر اپنے لیے مخلوقات کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے، یعنی آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات، سورج، چاند، ستاروں ، پہاڑ، زمین پر چلنے والے تمام جاندار یعنی تمام حیوانات اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد یعنی اہل ایمان کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے۔﴿ وَؔكَثِيۡرٌ حَقَّ عَلَيۡهِ الۡعَذَابُ ﴾ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں ، جن کے کفر اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر عذاب واجب ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی توفیق نہ بخشی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسوا کیا ﴿ وَمَنۡ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ مُّكۡرِمٍ ﴾ ’’اور جس کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے تو کوئی اس کو عزت دینے والا نہیں۔‘‘ اور کوئی اس کو اس کے ارادے سے باز نہیں رکھ سکتا اور نہ کوئی ہستی اس کی مشیت کی مخالفت کر سکتی ہے۔ پس جب تمام مخلوق اپنے رب کے حضور سربسجود، اس کی عظمت کے سامنے سرافگندہ، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز و فروتن اور اس کے تسلط کے سامنے لاچار ہے۔ تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہی اکیلا رب معبود اور بادشاہ محمود ہے اور جو کوئی اس سے روگردانی کر کے کسی اور کی عبادت کرتا ہے تو وہ بہت دور کی گمراہی اور واضح خسارے میں جا پڑا۔
22:20

يُصۡهَرُ بِهِۦ مَا فِي بُطُونِهِمۡ وَٱلۡجُلُودُ

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائےاور وہ لوگ جو یہودی ہوئےاور صابی (بے دین) اور نصاریٰ اور مجوسی اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا بے شک اللہ فیصلہ کرے گا ان کے درمیان دن قیامت کے بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے گواہ ہے (17) کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ،سجدہ کرتا ہے اسے جو کوئی آسمانوں میں اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اورچوپائے اور بہت سے لوگوں میں سے (بھی) اور بہت سے ایسے ہیں کہ ثابت ہو گیا ہے ان پر عذاب اور جس کو ذلیل کرے اللہ تو نہیں ہے اسے کوئی عزت دینے والا بے شک اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے (18) وہ دو گرہ وہ جھگڑنے والے ہیں ، جھگڑا کیا انھوں نے اپنے رب کی بابت، پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کاٹے جائیں گے ان کے لیے کپڑے آگ کے، انڈیلا جائے گا اوپر سے ان کے سروں کے کھولتا ہوا پانی (19) پگھلا دیا جائے گا اس کے سبب سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہو گا اور کھالیں (20) اور ان (کو مارنے) کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے کے (21) جب بھی وہ ارادہ کریں گے یہ کہ نکلیں وہ اس (آگ) میں سے، مارے غم کے، وہ لوٹا دیے جائیں گے اس میں اور (کہا جائے گا) چکھو تم عذاب جلانے والا (22) بے شک اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ پہنائے جائیں گے ان میں کچھ کنگن سونے کےاور موتی اور لباس ان کا اس میں ریشم کا ہو گا (23) اور وہ ہدایت دیے گئے تھے (دنیا میں ) پاکیزہ بات (توحید) کی طرفاور وہ ہدایت دیے گئے تھے ایسے راستے کی طرف (جو) قابل تعریف ہے (24) [17] اللہ تبارک و تعالیٰ روئے زمین پر بسنے والے مذاہب کے پیروکاروں کے تمام گروہوں ، یعنی وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی ہے، مثلاً:اہل ایمان، یہود، نصاریٰ، صابئین، مجوس اور مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا جن کو اس نے حفاظت کے ساتھ ان کے اعمال ناموں میں درج کر رکھا ہے اور ان پر گواہ ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ ‘‘ [22-19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿هٰؔذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِيۡ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں ۔‘‘ ان میں سے ہر فریق دعویٰ کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ ﴿فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یہ جملہ تمام کفار، یعنی یہود، نصاریٰ، مجوس، صابئین اور مشرکین کو شامل ہے۔ ﴿ قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ﴾یعنی ان کے کپڑے گندھک کے ہوں گے جن میں آگ شعلہ زن ہو گی تاکہ عذاب ان کو ہر جانب سے پوری طرح گھیرلے۔﴿يُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُؔءُوۡسِهِمُ الۡحَمِيۡمُ﴾ یعنی ان کے سروں پر سخت کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا جس کی شدت حرارت سے ان کے پیٹ کے اندر گوشت، چربی، انتڑیاں گل جائیں گی۔ ﴿ وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ ﴾ ’’اور ان کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے كے۔‘‘ جو سخت اور درشت خو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوں گے جن کے ساتھ وہ ان کو ماریں گے اور سزا دیں گے۔فرمایا: ﴿ كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا مِنۡ غَمٍّ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’جب بھی وہ اس جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، غم کی وجہ سے تو وہ اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ پس کسی وقت بھی عذاب ان سے منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائی گی بلکہ زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا:﴿وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾ یعنی دلوں اور بدنوں کو جلانے والا عذاب چکھو۔ [23]﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُدۡخِلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے، ایسے باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ یہ وصف مسلمان کے علاوہ کسی اور پر صادق نہیں آتا، جو تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان لائے ہیں ۔ ﴿يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ ﴾ یعنی تمام اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ﴿وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾ ’’اور ان کا لباس اس میں ریشم کا ہو گا۔‘‘ پس اس کے ساتھ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور لذیذ ماکولات کی تکمیل ہو جائے گی جن پر جنت مشتمل ہے، نیز یہ بہتی ہوئی نہروں کے ذکر کو بھی شامل ہے، یعنی پانی کی نہریں ، دودھ کی نہریں ، شہد کی نہریں اور شراب کی نہریں ، انواع و اقسام کے لباس اور قیمتی زیورات۔ [24] یہ سب کچھ اس سبب سے عطا ہو گا کہ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الۡقَوۡلِ﴾ ’’ان کی رہنمائی پاکیزہ بات کی طرف کی گئی ۔‘‘ جس میں سب سے افضل اور سب سے اچھا قول کلمۂ اخلاص ہے، پھر دیگر تمام اقوال طیبہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے یا اللہ تعالیٰ کی عبادت کو اچھے طریقے سے کرنا ہے۔ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلٰى صِرَاطِ الۡحَمِيۡدِ ﴾ ’’اور ان کی رہنمائی کی گئی صراطِ حمید کی طرف۔‘‘ یعنی قابل ستائش طریقے کی طرف۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت الٰہی تمام تر حکمت، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا، مامورات کے حسن اور منہیات کی قباحت پر مشتمل ہے اور یہ ایک ایسا دین ہے جس میں کوئی افراط اور تفریط نہیں جو علم نافع اور عمل صالح پر مبنی ہے۔ یا اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف رہنمائی کی گئی، وہ اللہ جو قابل تعریف ہے، اس لیے کہ اکثر راستے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاتی ہے کیونکہ وہ چلنے والے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے (الحمید) کا ذکر فرمایا کیونکہ اہل ایمان یعنی اس راستے پر گامزن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا اور اس کے احسان ہی کی بنا پر ہدایت حاصل کی۔ بنابریں وہ جنت میں کہیں گے: ﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ هَدٰؔىنَا لِهٰؔذَا١۫ وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِيَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ﴾(الاعراف؍43) ’’ہر قسم کی ستائش اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں جنت کی راہ دکھائی، ہم خود کبھی یہ راہ نہ پا سکتے اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا۔‘‘ [18]اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ کے درمیان، جملہ معترضہ کے طور پر اپنے لیے مخلوقات کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے، یعنی آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات، سورج، چاند، ستاروں ، پہاڑ، زمین پر چلنے والے تمام جاندار یعنی تمام حیوانات اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد یعنی اہل ایمان کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے۔﴿ وَؔكَثِيۡرٌ حَقَّ عَلَيۡهِ الۡعَذَابُ ﴾ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں ، جن کے کفر اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر عذاب واجب ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی توفیق نہ بخشی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسوا کیا ﴿ وَمَنۡ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ مُّكۡرِمٍ ﴾ ’’اور جس کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے تو کوئی اس کو عزت دینے والا نہیں۔‘‘ اور کوئی اس کو اس کے ارادے سے باز نہیں رکھ سکتا اور نہ کوئی ہستی اس کی مشیت کی مخالفت کر سکتی ہے۔ پس جب تمام مخلوق اپنے رب کے حضور سربسجود، اس کی عظمت کے سامنے سرافگندہ، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز و فروتن اور اس کے تسلط کے سامنے لاچار ہے۔ تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہی اکیلا رب معبود اور بادشاہ محمود ہے اور جو کوئی اس سے روگردانی کر کے کسی اور کی عبادت کرتا ہے تو وہ بہت دور کی گمراہی اور واضح خسارے میں جا پڑا۔
22:21

وَلَهُم مَّقَٰمِعُ مِنۡ حَدِيدٖ

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائےاور وہ لوگ جو یہودی ہوئےاور صابی (بے دین) اور نصاریٰ اور مجوسی اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا بے شک اللہ فیصلہ کرے گا ان کے درمیان دن قیامت کے بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے گواہ ہے (17) کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ،سجدہ کرتا ہے اسے جو کوئی آسمانوں میں اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اورچوپائے اور بہت سے لوگوں میں سے (بھی) اور بہت سے ایسے ہیں کہ ثابت ہو گیا ہے ان پر عذاب اور جس کو ذلیل کرے اللہ تو نہیں ہے اسے کوئی عزت دینے والا بے شک اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے (18) وہ دو گرہ وہ جھگڑنے والے ہیں ، جھگڑا کیا انھوں نے اپنے رب کی بابت، پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کاٹے جائیں گے ان کے لیے کپڑے آگ کے، انڈیلا جائے گا اوپر سے ان کے سروں کے کھولتا ہوا پانی (19) پگھلا دیا جائے گا اس کے سبب سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہو گا اور کھالیں (20) اور ان (کو مارنے) کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے کے (21) جب بھی وہ ارادہ کریں گے یہ کہ نکلیں وہ اس (آگ) میں سے، مارے غم کے، وہ لوٹا دیے جائیں گے اس میں اور (کہا جائے گا) چکھو تم عذاب جلانے والا (22) بے شک اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ پہنائے جائیں گے ان میں کچھ کنگن سونے کےاور موتی اور لباس ان کا اس میں ریشم کا ہو گا (23) اور وہ ہدایت دیے گئے تھے (دنیا میں ) پاکیزہ بات (توحید) کی طرفاور وہ ہدایت دیے گئے تھے ایسے راستے کی طرف (جو) قابل تعریف ہے (24) [17] اللہ تبارک و تعالیٰ روئے زمین پر بسنے والے مذاہب کے پیروکاروں کے تمام گروہوں ، یعنی وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی ہے، مثلاً:اہل ایمان، یہود، نصاریٰ، صابئین، مجوس اور مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا جن کو اس نے حفاظت کے ساتھ ان کے اعمال ناموں میں درج کر رکھا ہے اور ان پر گواہ ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ ‘‘ [22-19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿هٰؔذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِيۡ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں ۔‘‘ ان میں سے ہر فریق دعویٰ کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ ﴿فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یہ جملہ تمام کفار، یعنی یہود، نصاریٰ، مجوس، صابئین اور مشرکین کو شامل ہے۔ ﴿ قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ﴾یعنی ان کے کپڑے گندھک کے ہوں گے جن میں آگ شعلہ زن ہو گی تاکہ عذاب ان کو ہر جانب سے پوری طرح گھیرلے۔﴿يُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُؔءُوۡسِهِمُ الۡحَمِيۡمُ﴾ یعنی ان کے سروں پر سخت کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا جس کی شدت حرارت سے ان کے پیٹ کے اندر گوشت، چربی، انتڑیاں گل جائیں گی۔ ﴿ وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ ﴾ ’’اور ان کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے كے۔‘‘ جو سخت اور درشت خو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوں گے جن کے ساتھ وہ ان کو ماریں گے اور سزا دیں گے۔فرمایا: ﴿ كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا مِنۡ غَمٍّ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’جب بھی وہ اس جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، غم کی وجہ سے تو وہ اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ پس کسی وقت بھی عذاب ان سے منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائی گی بلکہ زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا:﴿وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾ یعنی دلوں اور بدنوں کو جلانے والا عذاب چکھو۔ [23]﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُدۡخِلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے، ایسے باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ یہ وصف مسلمان کے علاوہ کسی اور پر صادق نہیں آتا، جو تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان لائے ہیں ۔ ﴿يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ ﴾ یعنی تمام اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ﴿وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾ ’’اور ان کا لباس اس میں ریشم کا ہو گا۔‘‘ پس اس کے ساتھ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور لذیذ ماکولات کی تکمیل ہو جائے گی جن پر جنت مشتمل ہے، نیز یہ بہتی ہوئی نہروں کے ذکر کو بھی شامل ہے، یعنی پانی کی نہریں ، دودھ کی نہریں ، شہد کی نہریں اور شراب کی نہریں ، انواع و اقسام کے لباس اور قیمتی زیورات۔ [24] یہ سب کچھ اس سبب سے عطا ہو گا کہ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الۡقَوۡلِ﴾ ’’ان کی رہنمائی پاکیزہ بات کی طرف کی گئی ۔‘‘ جس میں سب سے افضل اور سب سے اچھا قول کلمۂ اخلاص ہے، پھر دیگر تمام اقوال طیبہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے یا اللہ تعالیٰ کی عبادت کو اچھے طریقے سے کرنا ہے۔ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلٰى صِرَاطِ الۡحَمِيۡدِ ﴾ ’’اور ان کی رہنمائی کی گئی صراطِ حمید کی طرف۔‘‘ یعنی قابل ستائش طریقے کی طرف۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت الٰہی تمام تر حکمت، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا، مامورات کے حسن اور منہیات کی قباحت پر مشتمل ہے اور یہ ایک ایسا دین ہے جس میں کوئی افراط اور تفریط نہیں جو علم نافع اور عمل صالح پر مبنی ہے۔ یا اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف رہنمائی کی گئی، وہ اللہ جو قابل تعریف ہے، اس لیے کہ اکثر راستے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاتی ہے کیونکہ وہ چلنے والے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے (الحمید) کا ذکر فرمایا کیونکہ اہل ایمان یعنی اس راستے پر گامزن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا اور اس کے احسان ہی کی بنا پر ہدایت حاصل کی۔ بنابریں وہ جنت میں کہیں گے: ﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ هَدٰؔىنَا لِهٰؔذَا١۫ وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِيَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ﴾(الاعراف؍43) ’’ہر قسم کی ستائش اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں جنت کی راہ دکھائی، ہم خود کبھی یہ راہ نہ پا سکتے اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا۔‘‘ [18]اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ کے درمیان، جملہ معترضہ کے طور پر اپنے لیے مخلوقات کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے، یعنی آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات، سورج، چاند، ستاروں ، پہاڑ، زمین پر چلنے والے تمام جاندار یعنی تمام حیوانات اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد یعنی اہل ایمان کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے۔﴿ وَؔكَثِيۡرٌ حَقَّ عَلَيۡهِ الۡعَذَابُ ﴾ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں ، جن کے کفر اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر عذاب واجب ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی توفیق نہ بخشی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسوا کیا ﴿ وَمَنۡ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ مُّكۡرِمٍ ﴾ ’’اور جس کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے تو کوئی اس کو عزت دینے والا نہیں۔‘‘ اور کوئی اس کو اس کے ارادے سے باز نہیں رکھ سکتا اور نہ کوئی ہستی اس کی مشیت کی مخالفت کر سکتی ہے۔ پس جب تمام مخلوق اپنے رب کے حضور سربسجود، اس کی عظمت کے سامنے سرافگندہ، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز و فروتن اور اس کے تسلط کے سامنے لاچار ہے۔ تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہی اکیلا رب معبود اور بادشاہ محمود ہے اور جو کوئی اس سے روگردانی کر کے کسی اور کی عبادت کرتا ہے تو وہ بہت دور کی گمراہی اور واضح خسارے میں جا پڑا۔
22:22

كُلَّمَآ أَرَادُوٓاْ أَن يَخۡرُجُواْ مِنۡهَا مِنۡ غَمٍّ أُعِيدُواْ فِيهَا وَذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡحَرِيقِ

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائےاور وہ لوگ جو یہودی ہوئےاور صابی (بے دین) اور نصاریٰ اور مجوسی اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا بے شک اللہ فیصلہ کرے گا ان کے درمیان دن قیامت کے بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے گواہ ہے (17) کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ،سجدہ کرتا ہے اسے جو کوئی آسمانوں میں اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اورچوپائے اور بہت سے لوگوں میں سے (بھی) اور بہت سے ایسے ہیں کہ ثابت ہو گیا ہے ان پر عذاب اور جس کو ذلیل کرے اللہ تو نہیں ہے اسے کوئی عزت دینے والا بے شک اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے (18) وہ دو گرہ وہ جھگڑنے والے ہیں ، جھگڑا کیا انھوں نے اپنے رب کی بابت، پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کاٹے جائیں گے ان کے لیے کپڑے آگ کے، انڈیلا جائے گا اوپر سے ان کے سروں کے کھولتا ہوا پانی (19) پگھلا دیا جائے گا اس کے سبب سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہو گا اور کھالیں (20) اور ان (کو مارنے) کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے کے (21) جب بھی وہ ارادہ کریں گے یہ کہ نکلیں وہ اس (آگ) میں سے، مارے غم کے، وہ لوٹا دیے جائیں گے اس میں اور (کہا جائے گا) چکھو تم عذاب جلانے والا (22) بے شک اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ پہنائے جائیں گے ان میں کچھ کنگن سونے کےاور موتی اور لباس ان کا اس میں ریشم کا ہو گا (23) اور وہ ہدایت دیے گئے تھے (دنیا میں ) پاکیزہ بات (توحید) کی طرفاور وہ ہدایت دیے گئے تھے ایسے راستے کی طرف (جو) قابل تعریف ہے (24) [17] اللہ تبارک و تعالیٰ روئے زمین پر بسنے والے مذاہب کے پیروکاروں کے تمام گروہوں ، یعنی وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی ہے، مثلاً:اہل ایمان، یہود، نصاریٰ، صابئین، مجوس اور مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا جن کو اس نے حفاظت کے ساتھ ان کے اعمال ناموں میں درج کر رکھا ہے اور ان پر گواہ ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ ‘‘ [22-19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿هٰؔذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِيۡ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں ۔‘‘ ان میں سے ہر فریق دعویٰ کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ ﴿فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یہ جملہ تمام کفار، یعنی یہود، نصاریٰ، مجوس، صابئین اور مشرکین کو شامل ہے۔ ﴿ قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ﴾یعنی ان کے کپڑے گندھک کے ہوں گے جن میں آگ شعلہ زن ہو گی تاکہ عذاب ان کو ہر جانب سے پوری طرح گھیرلے۔﴿يُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُؔءُوۡسِهِمُ الۡحَمِيۡمُ﴾ یعنی ان کے سروں پر سخت کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا جس کی شدت حرارت سے ان کے پیٹ کے اندر گوشت، چربی، انتڑیاں گل جائیں گی۔ ﴿ وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ ﴾ ’’اور ان کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے كے۔‘‘ جو سخت اور درشت خو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوں گے جن کے ساتھ وہ ان کو ماریں گے اور سزا دیں گے۔فرمایا: ﴿ كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا مِنۡ غَمٍّ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’جب بھی وہ اس جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، غم کی وجہ سے تو وہ اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ پس کسی وقت بھی عذاب ان سے منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائی گی بلکہ زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا:﴿وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾ یعنی دلوں اور بدنوں کو جلانے والا عذاب چکھو۔ [23]﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُدۡخِلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے، ایسے باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ یہ وصف مسلمان کے علاوہ کسی اور پر صادق نہیں آتا، جو تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان لائے ہیں ۔ ﴿يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ ﴾ یعنی تمام اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ﴿وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾ ’’اور ان کا لباس اس میں ریشم کا ہو گا۔‘‘ پس اس کے ساتھ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور لذیذ ماکولات کی تکمیل ہو جائے گی جن پر جنت مشتمل ہے، نیز یہ بہتی ہوئی نہروں کے ذکر کو بھی شامل ہے، یعنی پانی کی نہریں ، دودھ کی نہریں ، شہد کی نہریں اور شراب کی نہریں ، انواع و اقسام کے لباس اور قیمتی زیورات۔ [24] یہ سب کچھ اس سبب سے عطا ہو گا کہ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الۡقَوۡلِ﴾ ’’ان کی رہنمائی پاکیزہ بات کی طرف کی گئی ۔‘‘ جس میں سب سے افضل اور سب سے اچھا قول کلمۂ اخلاص ہے، پھر دیگر تمام اقوال طیبہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے یا اللہ تعالیٰ کی عبادت کو اچھے طریقے سے کرنا ہے۔ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلٰى صِرَاطِ الۡحَمِيۡدِ ﴾ ’’اور ان کی رہنمائی کی گئی صراطِ حمید کی طرف۔‘‘ یعنی قابل ستائش طریقے کی طرف۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت الٰہی تمام تر حکمت، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا، مامورات کے حسن اور منہیات کی قباحت پر مشتمل ہے اور یہ ایک ایسا دین ہے جس میں کوئی افراط اور تفریط نہیں جو علم نافع اور عمل صالح پر مبنی ہے۔ یا اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف رہنمائی کی گئی، وہ اللہ جو قابل تعریف ہے، اس لیے کہ اکثر راستے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاتی ہے کیونکہ وہ چلنے والے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے (الحمید) کا ذکر فرمایا کیونکہ اہل ایمان یعنی اس راستے پر گامزن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا اور اس کے احسان ہی کی بنا پر ہدایت حاصل کی۔ بنابریں وہ جنت میں کہیں گے: ﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ هَدٰؔىنَا لِهٰؔذَا١۫ وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِيَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ﴾(الاعراف؍43) ’’ہر قسم کی ستائش اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں جنت کی راہ دکھائی، ہم خود کبھی یہ راہ نہ پا سکتے اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا۔‘‘ [18]اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ کے درمیان، جملہ معترضہ کے طور پر اپنے لیے مخلوقات کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے، یعنی آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات، سورج، چاند، ستاروں ، پہاڑ، زمین پر چلنے والے تمام جاندار یعنی تمام حیوانات اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد یعنی اہل ایمان کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے۔﴿ وَؔكَثِيۡرٌ حَقَّ عَلَيۡهِ الۡعَذَابُ ﴾ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں ، جن کے کفر اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر عذاب واجب ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی توفیق نہ بخشی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسوا کیا ﴿ وَمَنۡ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ مُّكۡرِمٍ ﴾ ’’اور جس کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے تو کوئی اس کو عزت دینے والا نہیں۔‘‘ اور کوئی اس کو اس کے ارادے سے باز نہیں رکھ سکتا اور نہ کوئی ہستی اس کی مشیت کی مخالفت کر سکتی ہے۔ پس جب تمام مخلوق اپنے رب کے حضور سربسجود، اس کی عظمت کے سامنے سرافگندہ، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز و فروتن اور اس کے تسلط کے سامنے لاچار ہے۔ تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہی اکیلا رب معبود اور بادشاہ محمود ہے اور جو کوئی اس سے روگردانی کر کے کسی اور کی عبادت کرتا ہے تو وہ بہت دور کی گمراہی اور واضح خسارے میں جا پڑا۔
22:23

إِنَّ ٱللَّهَ يُدۡخِلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ يُحَلَّوۡنَ فِيهَا مِنۡ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٖ وَلُؤۡلُؤٗاۖ وَلِبَاسُهُمۡ فِيهَا حَرِيرٞ

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائےاور وہ لوگ جو یہودی ہوئےاور صابی (بے دین) اور نصاریٰ اور مجوسی اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا بے شک اللہ فیصلہ کرے گا ان کے درمیان دن قیامت کے بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے گواہ ہے (17) کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ،سجدہ کرتا ہے اسے جو کوئی آسمانوں میں اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اورچوپائے اور بہت سے لوگوں میں سے (بھی) اور بہت سے ایسے ہیں کہ ثابت ہو گیا ہے ان پر عذاب اور جس کو ذلیل کرے اللہ تو نہیں ہے اسے کوئی عزت دینے والا بے شک اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے (18) وہ دو گرہ وہ جھگڑنے والے ہیں ، جھگڑا کیا انھوں نے اپنے رب کی بابت، پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کاٹے جائیں گے ان کے لیے کپڑے آگ کے، انڈیلا جائے گا اوپر سے ان کے سروں کے کھولتا ہوا پانی (19) پگھلا دیا جائے گا اس کے سبب سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہو گا اور کھالیں (20) اور ان (کو مارنے) کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے کے (21) جب بھی وہ ارادہ کریں گے یہ کہ نکلیں وہ اس (آگ) میں سے، مارے غم کے، وہ لوٹا دیے جائیں گے اس میں اور (کہا جائے گا) چکھو تم عذاب جلانے والا (22) بے شک اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ پہنائے جائیں گے ان میں کچھ کنگن سونے کےاور موتی اور لباس ان کا اس میں ریشم کا ہو گا (23) اور وہ ہدایت دیے گئے تھے (دنیا میں ) پاکیزہ بات (توحید) کی طرفاور وہ ہدایت دیے گئے تھے ایسے راستے کی طرف (جو) قابل تعریف ہے (24) [17] اللہ تبارک و تعالیٰ روئے زمین پر بسنے والے مذاہب کے پیروکاروں کے تمام گروہوں ، یعنی وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی ہے، مثلاً:اہل ایمان، یہود، نصاریٰ، صابئین، مجوس اور مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا جن کو اس نے حفاظت کے ساتھ ان کے اعمال ناموں میں درج کر رکھا ہے اور ان پر گواہ ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ ‘‘ [22-19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿هٰؔذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِيۡ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں ۔‘‘ ان میں سے ہر فریق دعویٰ کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ ﴿فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یہ جملہ تمام کفار، یعنی یہود، نصاریٰ، مجوس، صابئین اور مشرکین کو شامل ہے۔ ﴿ قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ﴾یعنی ان کے کپڑے گندھک کے ہوں گے جن میں آگ شعلہ زن ہو گی تاکہ عذاب ان کو ہر جانب سے پوری طرح گھیرلے۔﴿يُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُؔءُوۡسِهِمُ الۡحَمِيۡمُ﴾ یعنی ان کے سروں پر سخت کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا جس کی شدت حرارت سے ان کے پیٹ کے اندر گوشت، چربی، انتڑیاں گل جائیں گی۔ ﴿ وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ ﴾ ’’اور ان کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے كے۔‘‘ جو سخت اور درشت خو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوں گے جن کے ساتھ وہ ان کو ماریں گے اور سزا دیں گے۔فرمایا: ﴿ كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا مِنۡ غَمٍّ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’جب بھی وہ اس جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، غم کی وجہ سے تو وہ اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ پس کسی وقت بھی عذاب ان سے منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائی گی بلکہ زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا:﴿وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾ یعنی دلوں اور بدنوں کو جلانے والا عذاب چکھو۔ [23]﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُدۡخِلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے، ایسے باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ یہ وصف مسلمان کے علاوہ کسی اور پر صادق نہیں آتا، جو تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان لائے ہیں ۔ ﴿يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ ﴾ یعنی تمام اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ﴿وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾ ’’اور ان کا لباس اس میں ریشم کا ہو گا۔‘‘ پس اس کے ساتھ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور لذیذ ماکولات کی تکمیل ہو جائے گی جن پر جنت مشتمل ہے، نیز یہ بہتی ہوئی نہروں کے ذکر کو بھی شامل ہے، یعنی پانی کی نہریں ، دودھ کی نہریں ، شہد کی نہریں اور شراب کی نہریں ، انواع و اقسام کے لباس اور قیمتی زیورات۔ [24] یہ سب کچھ اس سبب سے عطا ہو گا کہ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الۡقَوۡلِ﴾ ’’ان کی رہنمائی پاکیزہ بات کی طرف کی گئی ۔‘‘ جس میں سب سے افضل اور سب سے اچھا قول کلمۂ اخلاص ہے، پھر دیگر تمام اقوال طیبہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے یا اللہ تعالیٰ کی عبادت کو اچھے طریقے سے کرنا ہے۔ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلٰى صِرَاطِ الۡحَمِيۡدِ ﴾ ’’اور ان کی رہنمائی کی گئی صراطِ حمید کی طرف۔‘‘ یعنی قابل ستائش طریقے کی طرف۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت الٰہی تمام تر حکمت، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا، مامورات کے حسن اور منہیات کی قباحت پر مشتمل ہے اور یہ ایک ایسا دین ہے جس میں کوئی افراط اور تفریط نہیں جو علم نافع اور عمل صالح پر مبنی ہے۔ یا اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف رہنمائی کی گئی، وہ اللہ جو قابل تعریف ہے، اس لیے کہ اکثر راستے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاتی ہے کیونکہ وہ چلنے والے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے (الحمید) کا ذکر فرمایا کیونکہ اہل ایمان یعنی اس راستے پر گامزن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا اور اس کے احسان ہی کی بنا پر ہدایت حاصل کی۔ بنابریں وہ جنت میں کہیں گے: ﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ هَدٰؔىنَا لِهٰؔذَا١۫ وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِيَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ﴾(الاعراف؍43) ’’ہر قسم کی ستائش اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں جنت کی راہ دکھائی، ہم خود کبھی یہ راہ نہ پا سکتے اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا۔‘‘ [18]اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ کے درمیان، جملہ معترضہ کے طور پر اپنے لیے مخلوقات کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے، یعنی آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات، سورج، چاند، ستاروں ، پہاڑ، زمین پر چلنے والے تمام جاندار یعنی تمام حیوانات اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد یعنی اہل ایمان کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے۔﴿ وَؔكَثِيۡرٌ حَقَّ عَلَيۡهِ الۡعَذَابُ ﴾ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں ، جن کے کفر اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر عذاب واجب ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی توفیق نہ بخشی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسوا کیا ﴿ وَمَنۡ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ مُّكۡرِمٍ ﴾ ’’اور جس کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے تو کوئی اس کو عزت دینے والا نہیں۔‘‘ اور کوئی اس کو اس کے ارادے سے باز نہیں رکھ سکتا اور نہ کوئی ہستی اس کی مشیت کی مخالفت کر سکتی ہے۔ پس جب تمام مخلوق اپنے رب کے حضور سربسجود، اس کی عظمت کے سامنے سرافگندہ، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز و فروتن اور اس کے تسلط کے سامنے لاچار ہے۔ تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہی اکیلا رب معبود اور بادشاہ محمود ہے اور جو کوئی اس سے روگردانی کر کے کسی اور کی عبادت کرتا ہے تو وہ بہت دور کی گمراہی اور واضح خسارے میں جا پڑا۔
22:24

وَهُدُوٓاْ إِلَى ٱلطَّيِّبِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ وَهُدُوٓاْ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلۡحَمِيدِ

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائےاور وہ لوگ جو یہودی ہوئےاور صابی (بے دین) اور نصاریٰ اور مجوسی اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا بے شک اللہ فیصلہ کرے گا ان کے درمیان دن قیامت کے بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے گواہ ہے (17) کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ،سجدہ کرتا ہے اسے جو کوئی آسمانوں میں اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اورچوپائے اور بہت سے لوگوں میں سے (بھی) اور بہت سے ایسے ہیں کہ ثابت ہو گیا ہے ان پر عذاب اور جس کو ذلیل کرے اللہ تو نہیں ہے اسے کوئی عزت دینے والا بے شک اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے (18) وہ دو گرہ وہ جھگڑنے والے ہیں ، جھگڑا کیا انھوں نے اپنے رب کی بابت، پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کاٹے جائیں گے ان کے لیے کپڑے آگ کے، انڈیلا جائے گا اوپر سے ان کے سروں کے کھولتا ہوا پانی (19) پگھلا دیا جائے گا اس کے سبب سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہو گا اور کھالیں (20) اور ان (کو مارنے) کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے کے (21) جب بھی وہ ارادہ کریں گے یہ کہ نکلیں وہ اس (آگ) میں سے، مارے غم کے، وہ لوٹا دیے جائیں گے اس میں اور (کہا جائے گا) چکھو تم عذاب جلانے والا (22) بے شک اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ پہنائے جائیں گے ان میں کچھ کنگن سونے کےاور موتی اور لباس ان کا اس میں ریشم کا ہو گا (23) اور وہ ہدایت دیے گئے تھے (دنیا میں ) پاکیزہ بات (توحید) کی طرفاور وہ ہدایت دیے گئے تھے ایسے راستے کی طرف (جو) قابل تعریف ہے (24) [17] اللہ تبارک و تعالیٰ روئے زمین پر بسنے والے مذاہب کے پیروکاروں کے تمام گروہوں ، یعنی وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی ہے، مثلاً:اہل ایمان، یہود، نصاریٰ، صابئین، مجوس اور مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو قیامت کے روز جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا جن کو اس نے حفاظت کے ساتھ ان کے اعمال ناموں میں درج کر رکھا ہے اور ان پر گواہ ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ ‘‘ [22-19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿هٰؔذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِيۡ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں ۔‘‘ ان میں سے ہر فریق دعویٰ کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ ﴿فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یہ جملہ تمام کفار، یعنی یہود، نصاریٰ، مجوس، صابئین اور مشرکین کو شامل ہے۔ ﴿ قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ﴾یعنی ان کے کپڑے گندھک کے ہوں گے جن میں آگ شعلہ زن ہو گی تاکہ عذاب ان کو ہر جانب سے پوری طرح گھیرلے۔﴿يُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُؔءُوۡسِهِمُ الۡحَمِيۡمُ﴾ یعنی ان کے سروں پر سخت کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا جس کی شدت حرارت سے ان کے پیٹ کے اندر گوشت، چربی، انتڑیاں گل جائیں گی۔ ﴿ وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ ﴾ ’’اور ان کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے كے۔‘‘ جو سخت اور درشت خو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوں گے جن کے ساتھ وہ ان کو ماریں گے اور سزا دیں گے۔فرمایا: ﴿ كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا مِنۡ غَمٍّ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’جب بھی وہ اس جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، غم کی وجہ سے تو وہ اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ پس کسی وقت بھی عذاب ان سے منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائی گی بلکہ زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا:﴿وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾ یعنی دلوں اور بدنوں کو جلانے والا عذاب چکھو۔ [23]﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُدۡخِلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے، ایسے باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ یہ وصف مسلمان کے علاوہ کسی اور پر صادق نہیں آتا، جو تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان لائے ہیں ۔ ﴿يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ ﴾ یعنی تمام اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ﴿وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾ ’’اور ان کا لباس اس میں ریشم کا ہو گا۔‘‘ پس اس کے ساتھ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور لذیذ ماکولات کی تکمیل ہو جائے گی جن پر جنت مشتمل ہے، نیز یہ بہتی ہوئی نہروں کے ذکر کو بھی شامل ہے، یعنی پانی کی نہریں ، دودھ کی نہریں ، شہد کی نہریں اور شراب کی نہریں ، انواع و اقسام کے لباس اور قیمتی زیورات۔ [24] یہ سب کچھ اس سبب سے عطا ہو گا کہ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الۡقَوۡلِ﴾ ’’ان کی رہنمائی پاکیزہ بات کی طرف کی گئی ۔‘‘ جس میں سب سے افضل اور سب سے اچھا قول کلمۂ اخلاص ہے، پھر دیگر تمام اقوال طیبہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے یا اللہ تعالیٰ کی عبادت کو اچھے طریقے سے کرنا ہے۔ ﴿وَهُدُوۡۤا اِلٰى صِرَاطِ الۡحَمِيۡدِ ﴾ ’’اور ان کی رہنمائی کی گئی صراطِ حمید کی طرف۔‘‘ یعنی قابل ستائش طریقے کی طرف۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت الٰہی تمام تر حکمت، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا، مامورات کے حسن اور منہیات کی قباحت پر مشتمل ہے اور یہ ایک ایسا دین ہے جس میں کوئی افراط اور تفریط نہیں جو علم نافع اور عمل صالح پر مبنی ہے۔ یا اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف رہنمائی کی گئی، وہ اللہ جو قابل تعریف ہے، اس لیے کہ اکثر راستے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاتی ہے کیونکہ وہ چلنے والے کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے (الحمید) کا ذکر فرمایا کیونکہ اہل ایمان یعنی اس راستے پر گامزن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا اور اس کے احسان ہی کی بنا پر ہدایت حاصل کی۔ بنابریں وہ جنت میں کہیں گے: ﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ هَدٰؔىنَا لِهٰؔذَا١۫ وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِيَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ﴾(الاعراف؍43) ’’ہر قسم کی ستائش اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں جنت کی راہ دکھائی، ہم خود کبھی یہ راہ نہ پا سکتے اگر اللہ ہمیں یہ راہ نہ دکھاتا۔‘‘ [18]اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ کے درمیان، جملہ معترضہ کے طور پر اپنے لیے مخلوقات کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے، یعنی آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات، سورج، چاند، ستاروں ، پہاڑ، زمین پر چلنے والے تمام جاندار یعنی تمام حیوانات اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد یعنی اہل ایمان کے سجدے کا ذکر فرمایا ہے۔﴿ وَؔكَثِيۡرٌ حَقَّ عَلَيۡهِ الۡعَذَابُ ﴾ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں ، جن کے کفر اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر عذاب واجب ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی توفیق نہ بخشی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسوا کیا ﴿ وَمَنۡ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ مُّكۡرِمٍ ﴾ ’’اور جس کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے تو کوئی اس کو عزت دینے والا نہیں۔‘‘ اور کوئی اس کو اس کے ارادے سے باز نہیں رکھ سکتا اور نہ کوئی ہستی اس کی مشیت کی مخالفت کر سکتی ہے۔ پس جب تمام مخلوق اپنے رب کے حضور سربسجود، اس کی عظمت کے سامنے سرافگندہ، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز و فروتن اور اس کے تسلط کے سامنے لاچار ہے۔ تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہی اکیلا رب معبود اور بادشاہ محمود ہے اور جو کوئی اس سے روگردانی کر کے کسی اور کی عبادت کرتا ہے تو وہ بہت دور کی گمراہی اور واضح خسارے میں جا پڑا۔
22:25

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ ٱلَّذِي جَعَلۡنَٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءً ٱلۡعَٰكِفُ فِيهِ وَٱلۡبَادِۚ وَمَن يُرِدۡ فِيهِ بِإِلۡحَادِۭ بِظُلۡمٖ نُّذِقۡهُ مِنۡ عَذَابٍ أَلِيمٖ

بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور وہ روکتے ہیں اللہ کی راہ سےاور مسجد حرام سے وہ جو بنایا ہم نے اسے(سب) لوگوں کے لیے، برابر ہے مقیم اس میں اور باہر سے آنے والا اورجو شخص ارادہ کرے اس میں کج روی کا ظلم سے ہم چکھائیں گے اسے عذاب نہایت درد ناک (25) [25] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی برائی کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا، انھوں نے اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کا انکار کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا، لوگوں کو ایمان لانے سے منع کیا اور لوگوں کو مسجد حرام سے روکا، جو ان کی ملکیت ہے نہ ان کے باپ دادا کی۔ بلکہ مسجد حرام مقیم اور دور سے زیارت کے لیے آنے والوں کے لیے برابر ہے۔ بلکہ انھوں نے مخلوق میں افضل ترین ہستی محمدﷺ اور آپ کے اصحاب کرام کو بھی مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا، حالانکہ مسجد حرام کا احترام، حرمت اور عظمت یہ ہے کہ جو کوئی اس مسجد میں الحاد اور ظلم کا ارادہ کرتا ہے، ہم اسے درد ناک عذاب کا مزا چکھاتے ہیں ۔پس حرم میں مجرد ظلم اور الحاد کا ارادہ ہی عذاب کا موجب ہے، حالانکہ دیگر گناہوں میں بندے کو صرف اس وقت سزا ملتی ہے جب وہ اپنے ارادۂ گناہ پر عمل کرتا ہے۔ تو اس شخص کا کیا حال ہو گا جو مسجد میں سب سے بڑے گناہ یعنی کفر اور شرک کا ارتکاب کرتا ہے، لوگوں کو اللہ کے راستے سے اور زیارت کا ارادہ رکھنے والوں کو مسجد حرام سے روکتا ہے۔ تمھارا کیا خیال ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ اس آیت کریمہ میں حرم کے احترام اور اس کی شدت تعظیم کے وجوب کا اور اس کے اندر ارادۂ معصیت اور اس کے ارتکاب سے بچنے کی تاکید کا اثبات ہے۔
22:26

وَإِذۡ بَوَّأۡنَا لِإِبۡرَٰهِيمَ مَكَانَ ٱلۡبَيۡتِ أَن لَّا تُشۡرِكۡ بِي شَيۡـٔٗا وَطَهِّرۡ بَيۡتِيَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلۡقَآئِمِينَ وَٱلرُّكَّعِ ٱلسُّجُودِ

اور جب مقرر کر دی ہم نے واسطے ابراہیم کے جگہ بیت اللہ کی (اور اسے حکم دیا) یہ کہ نہ شریک ٹھہرانا تو میرے ساتھ کسی چیز کو بھی اور پاک کر تو میرا گھر طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدے کے لیے (26)اور تو اعلان کر دے لوگوں میں حج کا، وہ آئیں گے تیرے پاس پیدل اور (سوار ہو کر) اوپر ہر دبلے (پتلے) اونٹ کے وہ (اونٹ) آئیں گے ہر دور دراز راستے سے (27)تاکہ وہ حاضر ہوں منافع کے لیے واسطے اپنےاور (تاکہ) یاد کریں وہ (بوقت ذبح) نام اللہ کا ان ایام میں جو معلوم ہیں اوپر ان کے جو دیے ہیں ان کو (اللہ نے) چوپائے مویشیوں میں سے، پس کھاؤ تم ان میں سے اور کھلاؤ فاقہ کش فقیر کو (28) پھر چاہیے کہ وہ دور کریں میل کچیل اپنا اورچاہیے کہ پوری کریں اپنی نذریں (منتیں ) اور چاہیے کہ وہ طواف کریں قدیم گھر کا (29) [26] اللہ تبارک و تعالیٰ مسجد حرام کی عظمت و جلال اور اس کے بانی، رحمان کے خلیل، ابراہیم u کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿وَاِذۡ بَوَّاۡنَا لِاِبۡرٰؔهِيۡمَ مَكَانَ الۡبَيۡتِ ﴾ ’’اور جب ہم نے مقرر کر دی ابراہیم کے لیے بیت اللہ کی جگہ۔‘‘ یعنی ہم نے ان کے لیے اسے مہیا کر دیا ، آپ کو وہاں رہنے کے لیے بھیج دیا اور آپ کی اولاد کے ایک حصے کو وہاں آباد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا پس آپ نے بیت اللہ کو تقویٰ اور اطاعت الٰہی کی اساس پر تعمیر کیا۔ بیت اللہ کو آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیلi نے مل کر تعمیر کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، نیز یہ کہ اپنے اعمال کو اللہ کے لیے خالص کریں اور اس مقدس گھر کی اللہ تعالیٰ کے نام پر بنیاد رکھیں ۔ ﴿ وَّطَهِّرۡ بَيۡتِيَ ﴾ یعنی میرے گھر کو شرک، معاصی، نجاست اور گندگی سے پاک کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو شرف اور فضیلت بخشنے، بندوں کے دلوں میں اس کی عظمت کو اجاگر کرنے اور ہر جانب سے دلوں کو اس کی طرف مائل کرنے کے لیے اپنی طرف مضاف کیا ہے تاکہ یہ طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں ، ذکر، قراء ت قرآن، تعلیم و تعلم اور دیگر عبادت کے لیے ٹھہرنے والوں کے لیے رب تعالیٰ کا گھر ہونے کے ناطے سے اپنی تطہیر اور تعظیم کے لیے عظیم ترین گھر ہو۔ ﴿وَالرُّكَّعِ السُّجُوۡدِ ﴾ ’’اور رکوع سجود کرنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی نماز پڑھنے والوں کے لیے، یعنی اس گھر کو ان اصحاب فضیلت کے لیے پاک کیجیے جن کا ارادہ یہ ہے کہ وہ اس گھر کے پاس اپنے آقا کی اطاعت اور اس کی خدمت کریں ، نیز اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ یہی لوگ حقدار ہیں اور انھیں کے لیے اکرام ہے۔ ان کا اکرام یہ ہے کہ ان کی خاطر اس گھر کی تطہیر کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی تطہیر میں لغو آوازوں اور شور و شغب سے اس کا پاک صاف ہونا بھی شامل ہے جو نماز اور طواف میں مصروف لوگوں کو تشویش میں ڈالتی ہیں ۔ طواف کو اعتکاف اور نماز پر اس لیے مقدم رکھا ہے کیونکہ طواف صرف اسی گھر کے ساتھ مختص ہے اور پھر اعتکاف کا ذکر کیا کیونکہ وہ تمام مساجد سے مختص ہے۔ [27]﴿ وَاَذِّنۡ فِي النَّاسِ بِالۡحَجِّ ﴾ یعنی حج کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے اور ان کو حج کی دعوت دیجیے، نیز قریب اور دور کے رہنے والے تمام لوگوں کو حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کی تبلیغ کیجیے کیونکہ جب آپ ان کو حج کی دعوت دیں گے تو حج کے ارادے سے آپ کے پاس آئیں گے اور اس گھر کو آباد کرنے کے شوق میں پیدل چل کر آئیں گے ﴿ وَّعَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ ﴾ لاغر اونٹنیوں پر مسلسل سفر کرتے ہوئے، صحراؤں اور بیابانوں کو چیرتے ہوئے سب سے زیادہ شرف کے حامل اس مقام پر پہنچیں گے ﴿ مِنۡ كُلِّ فَجٍّ عَمِيۡقٍ﴾ ’’دوردراز کی تمام راہوں سے۔‘‘ یعنی لوگ تمام دور دراز کے شہروں سے پہنچیں گے۔حضرت خلیل u نے لوگوں میں حج کا اعلان فرمایا۔ آپ کے بعد آپ کے بیٹے حضرت محمد مصطفیﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی۔ دونوں مقدس ہستیوں نے لوگوں کو اس گھر کے حج کی دعوت دی، ان دونوں نے ابتداء کی اور اس کا اعادہ کیا اور وہ مقصد حاصل ہو گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا… اور لوگ مشرق و مغرب سے پیدل اور سوار ہو کر بیت اللہ کی زیارت کے لیے پہنچے۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ترغیب کی خاطر ان فوائد کا ذکر فرمایا جو بیت اللہ کی زیارت سے حاصل ہوتے ہیں ، چنانچہ فرمایا ﴿ لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ ﴾تاکہ بیت اللہ میں دینی منافع، یعنی فضیلت والی عبادات اور ان عبادات کا ثواب حاصل کریں جو اس گھر کے سوا کہیں اور نہیں کی جا سکتیں اور دنیاوی منفعتیں ، یعنی اکتساب مال اور دنیاوی فوائد حاصل کریں ۔ یہ مشاہدہ میں آنے والا ایسا امر ہے جسے ہر شخص جانتا ہے۔﴿ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِيۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ﴾ ’’اور اللہ کا نام یاد کریں پالتو چوپایوں پر جو اللہ نے ان کو دیے۔‘‘ اور یہ چیز دینی اور دنیاوی منافع میں شمار ہوتی ہے، یعنی قربانیوں کو ذبح کرتے وقت، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے، کہ اس نے یہ قربانیاں عطا فرمائیں اور ان کے لیے یہ قربانیاں میسر کیں … ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لیں اور جب تم ان کو ذبح کر چکو ﴿ فَكُلُوۡا مِنۡهَا وَاَطۡعِمُوا الۡبَآىِٕسَ الۡفَقِيۡرَ﴾ ’’تو خود بھی اس میں سے کھاؤ اور بھوکے فقیر کو بھی کھلاؤ۔‘‘ یعنی اسے بھی کھلاؤ جو سخت محتاج ہو۔ [29]﴿ ثُمَّ لۡيَقۡضُوۡا تَفَثَهُمۡ ﴾ ’’پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں ۔‘‘ یعنی اپنے مناسک پورے کریں اور پھر اپنے جسم سے وہ میل کچیل دور کریں جو حالت احرام میں ان کو لاحق ہو گیا تھا ﴿ وَلۡيُوۡفُوۡا نُذُوۡرَهُمۡ ﴾ اور اپنی نذروں کو پورا کریں جو انھوں نے اپنے آپ پر واجب کی تھیں ، یعنی حج، عمرہ اور ہدی وغیرہ ﴿وَلۡيَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَيۡتِ الۡعَتِيۡقِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے قدیم گھر کا طواف کریں جو علی الاطلاق تمام مساجد میں سب سے افضل ہے اور ہر جابر و سرکش کے تسلط سے آزاد ہے۔ یہ طواف کا حکم ہے، تمام مناسک کا عمومی حکم دینے کے بعد اس کے فضل و شرف کی بنا پر یہ خصوصی حکم ہے کیونکہ یہ بالذات مقصود ہے اور اس سے قبل تمام امور اس مقصد کے حصول کے وسائل اور ذرائع ہیں ۔ اور شاید… واللہ اعلم… اس میں ایک اور فائدہ بھی ہے اور وہ ہے کہ طواف ہر وقت اور ہر آن مشروع ہے خواہ یہ طواف مناسک حج کے تابع ہو یا بنفسہ مستقل حیثیت کا حامل ہو۔
22:27

وَأَذِّن فِي ٱلنَّاسِ بِٱلۡحَجِّ يَأۡتُوكَ رِجَالٗا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٖ يَأۡتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٖ

اور جب مقرر کر دی ہم نے واسطے ابراہیم کے جگہ بیت اللہ کی (اور اسے حکم دیا) یہ کہ نہ شریک ٹھہرانا تو میرے ساتھ کسی چیز کو بھی اور پاک کر تو میرا گھر طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدے کے لیے (26)اور تو اعلان کر دے لوگوں میں حج کا، وہ آئیں گے تیرے پاس پیدل اور (سوار ہو کر) اوپر ہر دبلے (پتلے) اونٹ کے وہ (اونٹ) آئیں گے ہر دور دراز راستے سے (27)تاکہ وہ حاضر ہوں منافع کے لیے واسطے اپنےاور (تاکہ) یاد کریں وہ (بوقت ذبح) نام اللہ کا ان ایام میں جو معلوم ہیں اوپر ان کے جو دیے ہیں ان کو (اللہ نے) چوپائے مویشیوں میں سے، پس کھاؤ تم ان میں سے اور کھلاؤ فاقہ کش فقیر کو (28) پھر چاہیے کہ وہ دور کریں میل کچیل اپنا اورچاہیے کہ پوری کریں اپنی نذریں (منتیں ) اور چاہیے کہ وہ طواف کریں قدیم گھر کا (29) [26] اللہ تبارک و تعالیٰ مسجد حرام کی عظمت و جلال اور اس کے بانی، رحمان کے خلیل، ابراہیم u کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿وَاِذۡ بَوَّاۡنَا لِاِبۡرٰؔهِيۡمَ مَكَانَ الۡبَيۡتِ ﴾ ’’اور جب ہم نے مقرر کر دی ابراہیم کے لیے بیت اللہ کی جگہ۔‘‘ یعنی ہم نے ان کے لیے اسے مہیا کر دیا ، آپ کو وہاں رہنے کے لیے بھیج دیا اور آپ کی اولاد کے ایک حصے کو وہاں آباد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا پس آپ نے بیت اللہ کو تقویٰ اور اطاعت الٰہی کی اساس پر تعمیر کیا۔ بیت اللہ کو آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیلi نے مل کر تعمیر کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، نیز یہ کہ اپنے اعمال کو اللہ کے لیے خالص کریں اور اس مقدس گھر کی اللہ تعالیٰ کے نام پر بنیاد رکھیں ۔ ﴿ وَّطَهِّرۡ بَيۡتِيَ ﴾ یعنی میرے گھر کو شرک، معاصی، نجاست اور گندگی سے پاک کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو شرف اور فضیلت بخشنے، بندوں کے دلوں میں اس کی عظمت کو اجاگر کرنے اور ہر جانب سے دلوں کو اس کی طرف مائل کرنے کے لیے اپنی طرف مضاف کیا ہے تاکہ یہ طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں ، ذکر، قراء ت قرآن، تعلیم و تعلم اور دیگر عبادت کے لیے ٹھہرنے والوں کے لیے رب تعالیٰ کا گھر ہونے کے ناطے سے اپنی تطہیر اور تعظیم کے لیے عظیم ترین گھر ہو۔ ﴿وَالرُّكَّعِ السُّجُوۡدِ ﴾ ’’اور رکوع سجود کرنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی نماز پڑھنے والوں کے لیے، یعنی اس گھر کو ان اصحاب فضیلت کے لیے پاک کیجیے جن کا ارادہ یہ ہے کہ وہ اس گھر کے پاس اپنے آقا کی اطاعت اور اس کی خدمت کریں ، نیز اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ یہی لوگ حقدار ہیں اور انھیں کے لیے اکرام ہے۔ ان کا اکرام یہ ہے کہ ان کی خاطر اس گھر کی تطہیر کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی تطہیر میں لغو آوازوں اور شور و شغب سے اس کا پاک صاف ہونا بھی شامل ہے جو نماز اور طواف میں مصروف لوگوں کو تشویش میں ڈالتی ہیں ۔ طواف کو اعتکاف اور نماز پر اس لیے مقدم رکھا ہے کیونکہ طواف صرف اسی گھر کے ساتھ مختص ہے اور پھر اعتکاف کا ذکر کیا کیونکہ وہ تمام مساجد سے مختص ہے۔ [27]﴿ وَاَذِّنۡ فِي النَّاسِ بِالۡحَجِّ ﴾ یعنی حج کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے اور ان کو حج کی دعوت دیجیے، نیز قریب اور دور کے رہنے والے تمام لوگوں کو حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کی تبلیغ کیجیے کیونکہ جب آپ ان کو حج کی دعوت دیں گے تو حج کے ارادے سے آپ کے پاس آئیں گے اور اس گھر کو آباد کرنے کے شوق میں پیدل چل کر آئیں گے ﴿ وَّعَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ ﴾ لاغر اونٹنیوں پر مسلسل سفر کرتے ہوئے، صحراؤں اور بیابانوں کو چیرتے ہوئے سب سے زیادہ شرف کے حامل اس مقام پر پہنچیں گے ﴿ مِنۡ كُلِّ فَجٍّ عَمِيۡقٍ﴾ ’’دوردراز کی تمام راہوں سے۔‘‘ یعنی لوگ تمام دور دراز کے شہروں سے پہنچیں گے۔حضرت خلیل u نے لوگوں میں حج کا اعلان فرمایا۔ آپ کے بعد آپ کے بیٹے حضرت محمد مصطفیﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی۔ دونوں مقدس ہستیوں نے لوگوں کو اس گھر کے حج کی دعوت دی، ان دونوں نے ابتداء کی اور اس کا اعادہ کیا اور وہ مقصد حاصل ہو گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا… اور لوگ مشرق و مغرب سے پیدل اور سوار ہو کر بیت اللہ کی زیارت کے لیے پہنچے۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ترغیب کی خاطر ان فوائد کا ذکر فرمایا جو بیت اللہ کی زیارت سے حاصل ہوتے ہیں ، چنانچہ فرمایا ﴿ لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ ﴾تاکہ بیت اللہ میں دینی منافع، یعنی فضیلت والی عبادات اور ان عبادات کا ثواب حاصل کریں جو اس گھر کے سوا کہیں اور نہیں کی جا سکتیں اور دنیاوی منفعتیں ، یعنی اکتساب مال اور دنیاوی فوائد حاصل کریں ۔ یہ مشاہدہ میں آنے والا ایسا امر ہے جسے ہر شخص جانتا ہے۔﴿ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِيۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ﴾ ’’اور اللہ کا نام یاد کریں پالتو چوپایوں پر جو اللہ نے ان کو دیے۔‘‘ اور یہ چیز دینی اور دنیاوی منافع میں شمار ہوتی ہے، یعنی قربانیوں کو ذبح کرتے وقت، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے، کہ اس نے یہ قربانیاں عطا فرمائیں اور ان کے لیے یہ قربانیاں میسر کیں … ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لیں اور جب تم ان کو ذبح کر چکو ﴿ فَكُلُوۡا مِنۡهَا وَاَطۡعِمُوا الۡبَآىِٕسَ الۡفَقِيۡرَ﴾ ’’تو خود بھی اس میں سے کھاؤ اور بھوکے فقیر کو بھی کھلاؤ۔‘‘ یعنی اسے بھی کھلاؤ جو سخت محتاج ہو۔ [29]﴿ ثُمَّ لۡيَقۡضُوۡا تَفَثَهُمۡ ﴾ ’’پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں ۔‘‘ یعنی اپنے مناسک پورے کریں اور پھر اپنے جسم سے وہ میل کچیل دور کریں جو حالت احرام میں ان کو لاحق ہو گیا تھا ﴿ وَلۡيُوۡفُوۡا نُذُوۡرَهُمۡ ﴾ اور اپنی نذروں کو پورا کریں جو انھوں نے اپنے آپ پر واجب کی تھیں ، یعنی حج، عمرہ اور ہدی وغیرہ ﴿وَلۡيَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَيۡتِ الۡعَتِيۡقِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے قدیم گھر کا طواف کریں جو علی الاطلاق تمام مساجد میں سب سے افضل ہے اور ہر جابر و سرکش کے تسلط سے آزاد ہے۔ یہ طواف کا حکم ہے، تمام مناسک کا عمومی حکم دینے کے بعد اس کے فضل و شرف کی بنا پر یہ خصوصی حکم ہے کیونکہ یہ بالذات مقصود ہے اور اس سے قبل تمام امور اس مقصد کے حصول کے وسائل اور ذرائع ہیں ۔ اور شاید… واللہ اعلم… اس میں ایک اور فائدہ بھی ہے اور وہ ہے کہ طواف ہر وقت اور ہر آن مشروع ہے خواہ یہ طواف مناسک حج کے تابع ہو یا بنفسہ مستقل حیثیت کا حامل ہو۔
22:28

لِّيَشۡهَدُواْ مَنَٰفِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُواْ ٱسۡمَ ٱللَّهِ فِيٓ أَيَّامٖ مَّعۡلُومَٰتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّنۢ بَهِيمَةِ ٱلۡأَنۡعَٰمِۖ فَكُلُواْ مِنۡهَا وَأَطۡعِمُواْ ٱلۡبَآئِسَ ٱلۡفَقِيرَ

اور جب مقرر کر دی ہم نے واسطے ابراہیم کے جگہ بیت اللہ کی (اور اسے حکم دیا) یہ کہ نہ شریک ٹھہرانا تو میرے ساتھ کسی چیز کو بھی اور پاک کر تو میرا گھر طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدے کے لیے (26)اور تو اعلان کر دے لوگوں میں حج کا، وہ آئیں گے تیرے پاس پیدل اور (سوار ہو کر) اوپر ہر دبلے (پتلے) اونٹ کے وہ (اونٹ) آئیں گے ہر دور دراز راستے سے (27)تاکہ وہ حاضر ہوں منافع کے لیے واسطے اپنےاور (تاکہ) یاد کریں وہ (بوقت ذبح) نام اللہ کا ان ایام میں جو معلوم ہیں اوپر ان کے جو دیے ہیں ان کو (اللہ نے) چوپائے مویشیوں میں سے، پس کھاؤ تم ان میں سے اور کھلاؤ فاقہ کش فقیر کو (28) پھر چاہیے کہ وہ دور کریں میل کچیل اپنا اورچاہیے کہ پوری کریں اپنی نذریں (منتیں ) اور چاہیے کہ وہ طواف کریں قدیم گھر کا (29) [26] اللہ تبارک و تعالیٰ مسجد حرام کی عظمت و جلال اور اس کے بانی، رحمان کے خلیل، ابراہیم u کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿وَاِذۡ بَوَّاۡنَا لِاِبۡرٰؔهِيۡمَ مَكَانَ الۡبَيۡتِ ﴾ ’’اور جب ہم نے مقرر کر دی ابراہیم کے لیے بیت اللہ کی جگہ۔‘‘ یعنی ہم نے ان کے لیے اسے مہیا کر دیا ، آپ کو وہاں رہنے کے لیے بھیج دیا اور آپ کی اولاد کے ایک حصے کو وہاں آباد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا پس آپ نے بیت اللہ کو تقویٰ اور اطاعت الٰہی کی اساس پر تعمیر کیا۔ بیت اللہ کو آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیلi نے مل کر تعمیر کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، نیز یہ کہ اپنے اعمال کو اللہ کے لیے خالص کریں اور اس مقدس گھر کی اللہ تعالیٰ کے نام پر بنیاد رکھیں ۔ ﴿ وَّطَهِّرۡ بَيۡتِيَ ﴾ یعنی میرے گھر کو شرک، معاصی، نجاست اور گندگی سے پاک کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو شرف اور فضیلت بخشنے، بندوں کے دلوں میں اس کی عظمت کو اجاگر کرنے اور ہر جانب سے دلوں کو اس کی طرف مائل کرنے کے لیے اپنی طرف مضاف کیا ہے تاکہ یہ طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں ، ذکر، قراء ت قرآن، تعلیم و تعلم اور دیگر عبادت کے لیے ٹھہرنے والوں کے لیے رب تعالیٰ کا گھر ہونے کے ناطے سے اپنی تطہیر اور تعظیم کے لیے عظیم ترین گھر ہو۔ ﴿وَالرُّكَّعِ السُّجُوۡدِ ﴾ ’’اور رکوع سجود کرنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی نماز پڑھنے والوں کے لیے، یعنی اس گھر کو ان اصحاب فضیلت کے لیے پاک کیجیے جن کا ارادہ یہ ہے کہ وہ اس گھر کے پاس اپنے آقا کی اطاعت اور اس کی خدمت کریں ، نیز اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ یہی لوگ حقدار ہیں اور انھیں کے لیے اکرام ہے۔ ان کا اکرام یہ ہے کہ ان کی خاطر اس گھر کی تطہیر کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی تطہیر میں لغو آوازوں اور شور و شغب سے اس کا پاک صاف ہونا بھی شامل ہے جو نماز اور طواف میں مصروف لوگوں کو تشویش میں ڈالتی ہیں ۔ طواف کو اعتکاف اور نماز پر اس لیے مقدم رکھا ہے کیونکہ طواف صرف اسی گھر کے ساتھ مختص ہے اور پھر اعتکاف کا ذکر کیا کیونکہ وہ تمام مساجد سے مختص ہے۔ [27]﴿ وَاَذِّنۡ فِي النَّاسِ بِالۡحَجِّ ﴾ یعنی حج کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے اور ان کو حج کی دعوت دیجیے، نیز قریب اور دور کے رہنے والے تمام لوگوں کو حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کی تبلیغ کیجیے کیونکہ جب آپ ان کو حج کی دعوت دیں گے تو حج کے ارادے سے آپ کے پاس آئیں گے اور اس گھر کو آباد کرنے کے شوق میں پیدل چل کر آئیں گے ﴿ وَّعَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ ﴾ لاغر اونٹنیوں پر مسلسل سفر کرتے ہوئے، صحراؤں اور بیابانوں کو چیرتے ہوئے سب سے زیادہ شرف کے حامل اس مقام پر پہنچیں گے ﴿ مِنۡ كُلِّ فَجٍّ عَمِيۡقٍ﴾ ’’دوردراز کی تمام راہوں سے۔‘‘ یعنی لوگ تمام دور دراز کے شہروں سے پہنچیں گے۔حضرت خلیل u نے لوگوں میں حج کا اعلان فرمایا۔ آپ کے بعد آپ کے بیٹے حضرت محمد مصطفیﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی۔ دونوں مقدس ہستیوں نے لوگوں کو اس گھر کے حج کی دعوت دی، ان دونوں نے ابتداء کی اور اس کا اعادہ کیا اور وہ مقصد حاصل ہو گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا… اور لوگ مشرق و مغرب سے پیدل اور سوار ہو کر بیت اللہ کی زیارت کے لیے پہنچے۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ترغیب کی خاطر ان فوائد کا ذکر فرمایا جو بیت اللہ کی زیارت سے حاصل ہوتے ہیں ، چنانچہ فرمایا ﴿ لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ ﴾تاکہ بیت اللہ میں دینی منافع، یعنی فضیلت والی عبادات اور ان عبادات کا ثواب حاصل کریں جو اس گھر کے سوا کہیں اور نہیں کی جا سکتیں اور دنیاوی منفعتیں ، یعنی اکتساب مال اور دنیاوی فوائد حاصل کریں ۔ یہ مشاہدہ میں آنے والا ایسا امر ہے جسے ہر شخص جانتا ہے۔﴿ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِيۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ﴾ ’’اور اللہ کا نام یاد کریں پالتو چوپایوں پر جو اللہ نے ان کو دیے۔‘‘ اور یہ چیز دینی اور دنیاوی منافع میں شمار ہوتی ہے، یعنی قربانیوں کو ذبح کرتے وقت، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے، کہ اس نے یہ قربانیاں عطا فرمائیں اور ان کے لیے یہ قربانیاں میسر کیں … ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لیں اور جب تم ان کو ذبح کر چکو ﴿ فَكُلُوۡا مِنۡهَا وَاَطۡعِمُوا الۡبَآىِٕسَ الۡفَقِيۡرَ﴾ ’’تو خود بھی اس میں سے کھاؤ اور بھوکے فقیر کو بھی کھلاؤ۔‘‘ یعنی اسے بھی کھلاؤ جو سخت محتاج ہو۔ [29]﴿ ثُمَّ لۡيَقۡضُوۡا تَفَثَهُمۡ ﴾ ’’پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں ۔‘‘ یعنی اپنے مناسک پورے کریں اور پھر اپنے جسم سے وہ میل کچیل دور کریں جو حالت احرام میں ان کو لاحق ہو گیا تھا ﴿ وَلۡيُوۡفُوۡا نُذُوۡرَهُمۡ ﴾ اور اپنی نذروں کو پورا کریں جو انھوں نے اپنے آپ پر واجب کی تھیں ، یعنی حج، عمرہ اور ہدی وغیرہ ﴿وَلۡيَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَيۡتِ الۡعَتِيۡقِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے قدیم گھر کا طواف کریں جو علی الاطلاق تمام مساجد میں سب سے افضل ہے اور ہر جابر و سرکش کے تسلط سے آزاد ہے۔ یہ طواف کا حکم ہے، تمام مناسک کا عمومی حکم دینے کے بعد اس کے فضل و شرف کی بنا پر یہ خصوصی حکم ہے کیونکہ یہ بالذات مقصود ہے اور اس سے قبل تمام امور اس مقصد کے حصول کے وسائل اور ذرائع ہیں ۔ اور شاید… واللہ اعلم… اس میں ایک اور فائدہ بھی ہے اور وہ ہے کہ طواف ہر وقت اور ہر آن مشروع ہے خواہ یہ طواف مناسک حج کے تابع ہو یا بنفسہ مستقل حیثیت کا حامل ہو۔
22:29

ثُمَّ لۡيَقۡضُواْ تَفَثَهُمۡ وَلۡيُوفُواْ نُذُورَهُمۡ وَلۡيَطَّوَّفُواْ بِٱلۡبَيۡتِ ٱلۡعَتِيقِ

اور جب مقرر کر دی ہم نے واسطے ابراہیم کے جگہ بیت اللہ کی (اور اسے حکم دیا) یہ کہ نہ شریک ٹھہرانا تو میرے ساتھ کسی چیز کو بھی اور پاک کر تو میرا گھر طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدے کے لیے (26)اور تو اعلان کر دے لوگوں میں حج کا، وہ آئیں گے تیرے پاس پیدل اور (سوار ہو کر) اوپر ہر دبلے (پتلے) اونٹ کے وہ (اونٹ) آئیں گے ہر دور دراز راستے سے (27)تاکہ وہ حاضر ہوں منافع کے لیے واسطے اپنےاور (تاکہ) یاد کریں وہ (بوقت ذبح) نام اللہ کا ان ایام میں جو معلوم ہیں اوپر ان کے جو دیے ہیں ان کو (اللہ نے) چوپائے مویشیوں میں سے، پس کھاؤ تم ان میں سے اور کھلاؤ فاقہ کش فقیر کو (28) پھر چاہیے کہ وہ دور کریں میل کچیل اپنا اورچاہیے کہ پوری کریں اپنی نذریں (منتیں ) اور چاہیے کہ وہ طواف کریں قدیم گھر کا (29) [26] اللہ تبارک و تعالیٰ مسجد حرام کی عظمت و جلال اور اس کے بانی، رحمان کے خلیل، ابراہیم u کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿وَاِذۡ بَوَّاۡنَا لِاِبۡرٰؔهِيۡمَ مَكَانَ الۡبَيۡتِ ﴾ ’’اور جب ہم نے مقرر کر دی ابراہیم کے لیے بیت اللہ کی جگہ۔‘‘ یعنی ہم نے ان کے لیے اسے مہیا کر دیا ، آپ کو وہاں رہنے کے لیے بھیج دیا اور آپ کی اولاد کے ایک حصے کو وہاں آباد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا پس آپ نے بیت اللہ کو تقویٰ اور اطاعت الٰہی کی اساس پر تعمیر کیا۔ بیت اللہ کو آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیلi نے مل کر تعمیر کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، نیز یہ کہ اپنے اعمال کو اللہ کے لیے خالص کریں اور اس مقدس گھر کی اللہ تعالیٰ کے نام پر بنیاد رکھیں ۔ ﴿ وَّطَهِّرۡ بَيۡتِيَ ﴾ یعنی میرے گھر کو شرک، معاصی، نجاست اور گندگی سے پاک کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو شرف اور فضیلت بخشنے، بندوں کے دلوں میں اس کی عظمت کو اجاگر کرنے اور ہر جانب سے دلوں کو اس کی طرف مائل کرنے کے لیے اپنی طرف مضاف کیا ہے تاکہ یہ طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں ، ذکر، قراء ت قرآن، تعلیم و تعلم اور دیگر عبادت کے لیے ٹھہرنے والوں کے لیے رب تعالیٰ کا گھر ہونے کے ناطے سے اپنی تطہیر اور تعظیم کے لیے عظیم ترین گھر ہو۔ ﴿وَالرُّكَّعِ السُّجُوۡدِ ﴾ ’’اور رکوع سجود کرنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی نماز پڑھنے والوں کے لیے، یعنی اس گھر کو ان اصحاب فضیلت کے لیے پاک کیجیے جن کا ارادہ یہ ہے کہ وہ اس گھر کے پاس اپنے آقا کی اطاعت اور اس کی خدمت کریں ، نیز اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ یہی لوگ حقدار ہیں اور انھیں کے لیے اکرام ہے۔ ان کا اکرام یہ ہے کہ ان کی خاطر اس گھر کی تطہیر کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی تطہیر میں لغو آوازوں اور شور و شغب سے اس کا پاک صاف ہونا بھی شامل ہے جو نماز اور طواف میں مصروف لوگوں کو تشویش میں ڈالتی ہیں ۔ طواف کو اعتکاف اور نماز پر اس لیے مقدم رکھا ہے کیونکہ طواف صرف اسی گھر کے ساتھ مختص ہے اور پھر اعتکاف کا ذکر کیا کیونکہ وہ تمام مساجد سے مختص ہے۔ [27]﴿ وَاَذِّنۡ فِي النَّاسِ بِالۡحَجِّ ﴾ یعنی حج کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے اور ان کو حج کی دعوت دیجیے، نیز قریب اور دور کے رہنے والے تمام لوگوں کو حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کی تبلیغ کیجیے کیونکہ جب آپ ان کو حج کی دعوت دیں گے تو حج کے ارادے سے آپ کے پاس آئیں گے اور اس گھر کو آباد کرنے کے شوق میں پیدل چل کر آئیں گے ﴿ وَّعَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ ﴾ لاغر اونٹنیوں پر مسلسل سفر کرتے ہوئے، صحراؤں اور بیابانوں کو چیرتے ہوئے سب سے زیادہ شرف کے حامل اس مقام پر پہنچیں گے ﴿ مِنۡ كُلِّ فَجٍّ عَمِيۡقٍ﴾ ’’دوردراز کی تمام راہوں سے۔‘‘ یعنی لوگ تمام دور دراز کے شہروں سے پہنچیں گے۔حضرت خلیل u نے لوگوں میں حج کا اعلان فرمایا۔ آپ کے بعد آپ کے بیٹے حضرت محمد مصطفیﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی۔ دونوں مقدس ہستیوں نے لوگوں کو اس گھر کے حج کی دعوت دی، ان دونوں نے ابتداء کی اور اس کا اعادہ کیا اور وہ مقصد حاصل ہو گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا… اور لوگ مشرق و مغرب سے پیدل اور سوار ہو کر بیت اللہ کی زیارت کے لیے پہنچے۔ [28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ترغیب کی خاطر ان فوائد کا ذکر فرمایا جو بیت اللہ کی زیارت سے حاصل ہوتے ہیں ، چنانچہ فرمایا ﴿ لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ ﴾تاکہ بیت اللہ میں دینی منافع، یعنی فضیلت والی عبادات اور ان عبادات کا ثواب حاصل کریں جو اس گھر کے سوا کہیں اور نہیں کی جا سکتیں اور دنیاوی منفعتیں ، یعنی اکتساب مال اور دنیاوی فوائد حاصل کریں ۔ یہ مشاہدہ میں آنے والا ایسا امر ہے جسے ہر شخص جانتا ہے۔﴿ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِيۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ﴾ ’’اور اللہ کا نام یاد کریں پالتو چوپایوں پر جو اللہ نے ان کو دیے۔‘‘ اور یہ چیز دینی اور دنیاوی منافع میں شمار ہوتی ہے، یعنی قربانیوں کو ذبح کرتے وقت، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے، کہ اس نے یہ قربانیاں عطا فرمائیں اور ان کے لیے یہ قربانیاں میسر کیں … ان پر اللہ تعالیٰ کا نام لیں اور جب تم ان کو ذبح کر چکو ﴿ فَكُلُوۡا مِنۡهَا وَاَطۡعِمُوا الۡبَآىِٕسَ الۡفَقِيۡرَ﴾ ’’تو خود بھی اس میں سے کھاؤ اور بھوکے فقیر کو بھی کھلاؤ۔‘‘ یعنی اسے بھی کھلاؤ جو سخت محتاج ہو۔ [29]﴿ ثُمَّ لۡيَقۡضُوۡا تَفَثَهُمۡ ﴾ ’’پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں ۔‘‘ یعنی اپنے مناسک پورے کریں اور پھر اپنے جسم سے وہ میل کچیل دور کریں جو حالت احرام میں ان کو لاحق ہو گیا تھا ﴿ وَلۡيُوۡفُوۡا نُذُوۡرَهُمۡ ﴾ اور اپنی نذروں کو پورا کریں جو انھوں نے اپنے آپ پر واجب کی تھیں ، یعنی حج، عمرہ اور ہدی وغیرہ ﴿وَلۡيَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَيۡتِ الۡعَتِيۡقِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے قدیم گھر کا طواف کریں جو علی الاطلاق تمام مساجد میں سب سے افضل ہے اور ہر جابر و سرکش کے تسلط سے آزاد ہے۔ یہ طواف کا حکم ہے، تمام مناسک کا عمومی حکم دینے کے بعد اس کے فضل و شرف کی بنا پر یہ خصوصی حکم ہے کیونکہ یہ بالذات مقصود ہے اور اس سے قبل تمام امور اس مقصد کے حصول کے وسائل اور ذرائع ہیں ۔ اور شاید… واللہ اعلم… اس میں ایک اور فائدہ بھی ہے اور وہ ہے کہ طواف ہر وقت اور ہر آن مشروع ہے خواہ یہ طواف مناسک حج کے تابع ہو یا بنفسہ مستقل حیثیت کا حامل ہو۔
22:30

ذَٰلِكَۖ وَمَن يُعَظِّمۡ حُرُمَٰتِ ٱللَّهِ فَهُوَ خَيۡرٞ لَّهُۥ عِندَ رَبِّهِۦۗ وَأُحِلَّتۡ لَكُمُ ٱلۡأَنۡعَٰمُ إِلَّا مَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡۖ فَٱجۡتَنِبُواْ ٱلرِّجۡسَ مِنَ ٱلۡأَوۡثَٰنِ وَٱجۡتَنِبُواْ قَوۡلَ ٱلزُّورِ

(حکم) یہی ہے اور جو شخص تعظیم کرے اللہ کی حرمتوں کی تو وہ بہت بہتر ہے اس کے لیے نزدیک اس کے رب کےاورحلال کیے گئے ہیں تمھارے لیے چوپائے سوائے ان کے جو پڑھے جاتے ہیں تم پر پس بچو تم ناپاکی سے بتوں کی اور بچو تم بات جھوٹی سے (30) یکسو ہو کر اللہ ہی کے لیے اس حال میں کہ نہ ہو شریک ٹھہرانے والے اس کے ساتھ اور جو کوئی شرک کرے اللہ کے ساتھ تو گویا وہ گرا آسمان سے اور اچک لے جائیں اسے پرندے یا (لے جا کر) گرا دے اسے ہوا کسی دور کے مکان میں (31) [30]﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی وہ احکام جن کا ہم تمھارے سامنے ذکر کر چکے ہیں ، ان میں اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم توقیر اور تکریم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم ایسے امور میں شمار ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو نہایت محبوب اور اس کے تقرب کا ذریعہ ہیں ۔ جس نے ان کی تعظیم و توقیر کی، اللہ تعالیٰ اسے بے پایاں ثواب عطا کرے گا یہ حرمات اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندے کے دین، دنیا اور آخرت میں اس کے لیے بہتر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی حرمات سے مراد، وہ امور ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں محترم ہیں اور جن کے احترام کا اس نے حکم دیا ہے، یعنی عبادات وغیرہ، مثلاً: تمام مناسک حج، حرم اور احرام، بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانور اور وہ تمام عبادات جن کو قائم کرنے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے۔ پس ان کی تعظیم یہ ہے کہ دل سے ان کی توقیر اور ان کے ساتھ محبت کی جائے اور کسی تحقیر، سستی اور بے دلی کے بغیر ان میں عبودیت کی تکمیل کی جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان اور اپنی نوازشات کا ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے بندوں کے لیے چوپایوں میں سے مویشی حلال کر دیے، مثلاً:اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری وغیرہ اور ان کو ان جملہ مناسک میں مشروع کیا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے۔ پس ان دونوں پہلوؤں سے ان میں اللہ تعالیٰ کی عنایت بہت عظیم ہو گئی ہے۔ ﴿ اِلَّا مَا يُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’سوائے ان جانوروں کے جن کی تلاوت تم پر کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی جن کی تحریم قرآن مجید میں بایں الفاظ ہے۔ ﴿ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ۠ وَالنَّطِيۡحَةُ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّـيۡتُمۡ١۫ وَمَا ذُبِـحَ عَلَى النُّصُبِ﴾(المائدۃ:5؍3) ’’حرام کر دیا گیا تم پر مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے، وہ جانور جو گلا گھٹ کر مر جائے، جو چوٹ لگ کر مر جائے، جو سینگ لگ کر مر جائے اور جس کو درندے پھاڑ کھائیں سوائے اس کے جس کو تم مرنے سے پہلے ذبح کر لو اور وہ جانور جن کو استھانوں پر ذبح کیا جائے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت ہے کہ اس نے ان چیزوں کو ان کے تزکیہ کے لیے اور شرک اور جھوٹی بات سے تطہیر کی خاطر حرام قرار دیا ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ فَاجۡتَنِبُوا الرِّجۡسَ ﴾ یعنی خبث اور گندگی سے اجتناب کرو۔ ﴿ مِنَ الۡاَوۡثَانِ ﴾ ’’یعنی بتوں سے‘‘ یعنی ہمسروں سے، جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا رکھا ہے، یہ معبودان باطل سب سے بڑی گندگی ہیں ۔ ظاہر ہے یہاں حرفِ جار (من) بیان جنس کے لیے نہیں ہے، جیسا کہ اکثر مفسرین کی رائے ہے بلکہ یہ تبعیض کے لیے ہے اور (رجس) تمام منہیات محرمات کے لیے عام ہے تب یہ نہی عام ہے اور بتوں کی گندگی سے اجتناب کا حکم خاص ہے، جو حرام شدہ منہیات ہی کا حصہ ہے ﴿ وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ ﴾ یعنی تمام حرام شدہ اقوال سے اجتناب کرو کیونکہ یہ سب جھوٹی کلام میں شمار ہوتے ہیں ۔ [31] اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ﴿ حُنَفَآءَؔ لِلّٰهِ ﴾ اللہ تعالیٰ کے لیے یکسور ہیں یعنی ہر ماسوا سے منہ پھیر کر صرف اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھیں ۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے۔‘‘ اس کی مثال ایسے ہے۔ ﴿ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ ﴾ جیسے کہ وہ آسمان سے گر پڑا ہو۔ ﴿ فَتَخۡطَفُهُ الطَّيۡرُ ﴾ ’’پس پرندوں نے اسے اچک لیا ہو‘‘ نہایت سرعت سے ﴿ اَوۡ تَهۡوِيۡ بِهِ الرِّيۡحُ فِيۡ مَكَانٍ سَحِيۡقٍ ﴾ ’’یا ہوا اسے کہیں دور لے جا کر پھینک دے۔‘‘ یہی حال مشرکین کا ہے۔ پس ایمان آسمان کی مانند محفوظ اور بلند ہے اور جس نے ایمان کو ترک کر دیا وہ اس چیز کی مانند ہے جو آسمان سے گرے اور آفات و بلیات کا شکار ہو جائے تو اسے پرندے اچک لیتے ہیں اور اس کے اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں ۔ مشرک کا یہی حال ہے جب وہ ایمان کو ترک کر دیتا ہے تو شیاطین ہر جانب سے اسے اچک لیتے ہیں ، اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے ہیں اور اس کا دین اور دنیا تباہ کر دیتے ہیں … یا اسے سخت تیز ہوا لے اڑتی ہے اور اسے فضا کے مختلف طبقات میں لیے پھرتی ہے اور اس کے اعضاء کے چیتھڑے بنا کر کہیں دور جا پھینکتی ہے۔
22:31

حُنَفَآءَ لِلَّهِ غَيۡرَ مُشۡرِكِينَ بِهِۦۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَتَخۡطَفُهُ ٱلطَّيۡرُ أَوۡ تَهۡوِي بِهِ ٱلرِّيحُ فِي مَكَانٖ سَحِيقٖ

(حکم) یہی ہے اور جو شخص تعظیم کرے اللہ کی حرمتوں کی تو وہ بہت بہتر ہے اس کے لیے نزدیک اس کے رب کےاورحلال کیے گئے ہیں تمھارے لیے چوپائے سوائے ان کے جو پڑھے جاتے ہیں تم پر پس بچو تم ناپاکی سے بتوں کی اور بچو تم بات جھوٹی سے (30) یکسو ہو کر اللہ ہی کے لیے اس حال میں کہ نہ ہو شریک ٹھہرانے والے اس کے ساتھ اور جو کوئی شرک کرے اللہ کے ساتھ تو گویا وہ گرا آسمان سے اور اچک لے جائیں اسے پرندے یا (لے جا کر) گرا دے اسے ہوا کسی دور کے مکان میں (31) [30]﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی وہ احکام جن کا ہم تمھارے سامنے ذکر کر چکے ہیں ، ان میں اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم توقیر اور تکریم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم ایسے امور میں شمار ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو نہایت محبوب اور اس کے تقرب کا ذریعہ ہیں ۔ جس نے ان کی تعظیم و توقیر کی، اللہ تعالیٰ اسے بے پایاں ثواب عطا کرے گا یہ حرمات اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندے کے دین، دنیا اور آخرت میں اس کے لیے بہتر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی حرمات سے مراد، وہ امور ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں محترم ہیں اور جن کے احترام کا اس نے حکم دیا ہے، یعنی عبادات وغیرہ، مثلاً: تمام مناسک حج، حرم اور احرام، بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانور اور وہ تمام عبادات جن کو قائم کرنے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے۔ پس ان کی تعظیم یہ ہے کہ دل سے ان کی توقیر اور ان کے ساتھ محبت کی جائے اور کسی تحقیر، سستی اور بے دلی کے بغیر ان میں عبودیت کی تکمیل کی جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان اور اپنی نوازشات کا ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے بندوں کے لیے چوپایوں میں سے مویشی حلال کر دیے، مثلاً:اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری وغیرہ اور ان کو ان جملہ مناسک میں مشروع کیا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے۔ پس ان دونوں پہلوؤں سے ان میں اللہ تعالیٰ کی عنایت بہت عظیم ہو گئی ہے۔ ﴿ اِلَّا مَا يُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’سوائے ان جانوروں کے جن کی تلاوت تم پر کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی جن کی تحریم قرآن مجید میں بایں الفاظ ہے۔ ﴿ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ۠ وَالنَّطِيۡحَةُ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّـيۡتُمۡ١۫ وَمَا ذُبِـحَ عَلَى النُّصُبِ﴾(المائدۃ:5؍3) ’’حرام کر دیا گیا تم پر مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے، وہ جانور جو گلا گھٹ کر مر جائے، جو چوٹ لگ کر مر جائے، جو سینگ لگ کر مر جائے اور جس کو درندے پھاڑ کھائیں سوائے اس کے جس کو تم مرنے سے پہلے ذبح کر لو اور وہ جانور جن کو استھانوں پر ذبح کیا جائے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت ہے کہ اس نے ان چیزوں کو ان کے تزکیہ کے لیے اور شرک اور جھوٹی بات سے تطہیر کی خاطر حرام قرار دیا ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ فَاجۡتَنِبُوا الرِّجۡسَ ﴾ یعنی خبث اور گندگی سے اجتناب کرو۔ ﴿ مِنَ الۡاَوۡثَانِ ﴾ ’’یعنی بتوں سے‘‘ یعنی ہمسروں سے، جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا رکھا ہے، یہ معبودان باطل سب سے بڑی گندگی ہیں ۔ ظاہر ہے یہاں حرفِ جار (من) بیان جنس کے لیے نہیں ہے، جیسا کہ اکثر مفسرین کی رائے ہے بلکہ یہ تبعیض کے لیے ہے اور (رجس) تمام منہیات محرمات کے لیے عام ہے تب یہ نہی عام ہے اور بتوں کی گندگی سے اجتناب کا حکم خاص ہے، جو حرام شدہ منہیات ہی کا حصہ ہے ﴿ وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ ﴾ یعنی تمام حرام شدہ اقوال سے اجتناب کرو کیونکہ یہ سب جھوٹی کلام میں شمار ہوتے ہیں ۔ [31] اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ﴿ حُنَفَآءَؔ لِلّٰهِ ﴾ اللہ تعالیٰ کے لیے یکسور ہیں یعنی ہر ماسوا سے منہ پھیر کر صرف اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھیں ۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے۔‘‘ اس کی مثال ایسے ہے۔ ﴿ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ ﴾ جیسے کہ وہ آسمان سے گر پڑا ہو۔ ﴿ فَتَخۡطَفُهُ الطَّيۡرُ ﴾ ’’پس پرندوں نے اسے اچک لیا ہو‘‘ نہایت سرعت سے ﴿ اَوۡ تَهۡوِيۡ بِهِ الرِّيۡحُ فِيۡ مَكَانٍ سَحِيۡقٍ ﴾ ’’یا ہوا اسے کہیں دور لے جا کر پھینک دے۔‘‘ یہی حال مشرکین کا ہے۔ پس ایمان آسمان کی مانند محفوظ اور بلند ہے اور جس نے ایمان کو ترک کر دیا وہ اس چیز کی مانند ہے جو آسمان سے گرے اور آفات و بلیات کا شکار ہو جائے تو اسے پرندے اچک لیتے ہیں اور اس کے اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں ۔ مشرک کا یہی حال ہے جب وہ ایمان کو ترک کر دیتا ہے تو شیاطین ہر جانب سے اسے اچک لیتے ہیں ، اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے ہیں اور اس کا دین اور دنیا تباہ کر دیتے ہیں … یا اسے سخت تیز ہوا لے اڑتی ہے اور اسے فضا کے مختلف طبقات میں لیے پھرتی ہے اور اس کے اعضاء کے چیتھڑے بنا کر کہیں دور جا پھینکتی ہے۔
22:32

ذَٰلِكَۖ وَمَن يُعَظِّمۡ شَعَـٰٓئِرَ ٱللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقۡوَى ٱلۡقُلُوبِ

(بات) یہی ہےاور جو شخص تعظیم کرے اللہ کی (عظمت کی) نشانیوں کی تو بلاشبہ یہ ہے دلوں کی پرہیز گاری سے (32)تمھارے لیے ان (چوپایوں ) میں منافع ہیں ایک وقت مقرر تک ، پھر ان کے حلال (ذبح) ہو نے کی جگہ ہے نزدیک قدیم گھر (بیت اللہ) کے (33) [32] یعنی اللہ تعالیٰ کی وہ حرمات اور اس کے شعائر کی تعظیم جس کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے اور شعائر سے مراد دین کی ظاہری علامات ہیں ۔ انھی شعائر میں تمام مناسک حج شامل ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِنَّ الصَّفَا وَالۡمَرۡوَةَ مِنۡ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ﴾(البقرۃ:2؍158) ’’صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں ۔‘‘ بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانور بھی اللہ تعالیٰ کے شعائر ہیں اور گزشتہ سطور میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ ان شعائر کی تعظیم سے مراد ان کی توقیر، ان کو قائم کرنا اور بندے کی استطاعت اور قدرت کے مطابق ان کی تکمیل کرنا ہے۔ ہدی یعنی بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانوربھی شعائر اللہ میں سے ہیں ۔ پس ان کی تعظیم سے مراد ان کی توقیر کرنا ان کو اچھا جاننا اور ان کو موٹا کرنا ہے، نیز یہ کہ قربانی کے یہ جانور ہر لحاظ سے کامل ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم، دلوں کے تقویٰ سے صادر ہوتی ہے۔ پس شعائر کی تعظیم کرنے والا اپنے تقویٰ اور صحت ایمان کی دلیل پیش کرتا ہے، اس لیے کہ شعائر کی تعظیم دراصل اللہ تعالیٰ کی تعظیم و توقیر کے تابع ہے۔ [33]﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’تمھارے لیے ان میں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے گھر کو بھیجی گئی قربانیوں میں ﴿ مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’ایک مقررہ مدت تک فائدے ہیں ۔‘‘ بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے اونٹوں وغیرہ میں ایک مدت کے لیے چند فوائد ہیں جن سے ان کے مالک استفادہ کر سکتے ہیں ، مثلاً: ان پر سوار ہونا اور ان کے دودھ دوہنا وغیرہ اور ایسے ہی بعض دیگر کام، جن سے ان قربانیوں کو ضرر نہ پہنچے۔ ﴿ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ یعنی ان کے ذبح ہونے کے وقت تک فوائد ہیں ۔ جب وہ مقام مقصود پر پہنچ جائیں اور وہ (البیت العتیق) ’’بیت اللہ‘‘ ہے، یعنی سارا حرم، منیٰ وغیرہ۔ پس جب ان کو ذبح کر دیا جائے تو ان کا گوشت خود بھی کھاؤ، ہدیہ بھیجو اور محتاجوں کو کھلاؤ۔
22:33

لَكُمۡ فِيهَا مَنَٰفِعُ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى ثُمَّ مَحِلُّهَآ إِلَى ٱلۡبَيۡتِ ٱلۡعَتِيقِ

(بات) یہی ہےاور جو شخص تعظیم کرے اللہ کی (عظمت کی) نشانیوں کی تو بلاشبہ یہ ہے دلوں کی پرہیز گاری سے (32)تمھارے لیے ان (چوپایوں ) میں منافع ہیں ایک وقت مقرر تک ، پھر ان کے حلال (ذبح) ہو نے کی جگہ ہے نزدیک قدیم گھر (بیت اللہ) کے (33) [32] یعنی اللہ تعالیٰ کی وہ حرمات اور اس کے شعائر کی تعظیم جس کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے اور شعائر سے مراد دین کی ظاہری علامات ہیں ۔ انھی شعائر میں تمام مناسک حج شامل ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِنَّ الصَّفَا وَالۡمَرۡوَةَ مِنۡ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ﴾(البقرۃ:2؍158) ’’صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں ۔‘‘ بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانور بھی اللہ تعالیٰ کے شعائر ہیں اور گزشتہ سطور میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ ان شعائر کی تعظیم سے مراد ان کی توقیر، ان کو قائم کرنا اور بندے کی استطاعت اور قدرت کے مطابق ان کی تکمیل کرنا ہے۔ ہدی یعنی بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانوربھی شعائر اللہ میں سے ہیں ۔ پس ان کی تعظیم سے مراد ان کی توقیر کرنا ان کو اچھا جاننا اور ان کو موٹا کرنا ہے، نیز یہ کہ قربانی کے یہ جانور ہر لحاظ سے کامل ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم، دلوں کے تقویٰ سے صادر ہوتی ہے۔ پس شعائر کی تعظیم کرنے والا اپنے تقویٰ اور صحت ایمان کی دلیل پیش کرتا ہے، اس لیے کہ شعائر کی تعظیم دراصل اللہ تعالیٰ کی تعظیم و توقیر کے تابع ہے۔ [33]﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’تمھارے لیے ان میں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے گھر کو بھیجی گئی قربانیوں میں ﴿ مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’ایک مقررہ مدت تک فائدے ہیں ۔‘‘ بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے اونٹوں وغیرہ میں ایک مدت کے لیے چند فوائد ہیں جن سے ان کے مالک استفادہ کر سکتے ہیں ، مثلاً: ان پر سوار ہونا اور ان کے دودھ دوہنا وغیرہ اور ایسے ہی بعض دیگر کام، جن سے ان قربانیوں کو ضرر نہ پہنچے۔ ﴿ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ یعنی ان کے ذبح ہونے کے وقت تک فوائد ہیں ۔ جب وہ مقام مقصود پر پہنچ جائیں اور وہ (البیت العتیق) ’’بیت اللہ‘‘ ہے، یعنی سارا حرم، منیٰ وغیرہ۔ پس جب ان کو ذبح کر دیا جائے تو ان کا گوشت خود بھی کھاؤ، ہدیہ بھیجو اور محتاجوں کو کھلاؤ۔
22:34

وَلِكُلِّ أُمَّةٖ جَعَلۡنَا مَنسَكٗا لِّيَذۡكُرُواْ ٱسۡمَ ٱللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّنۢ بَهِيمَةِ ٱلۡأَنۡعَٰمِۗ فَإِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ فَلَهُۥٓ أَسۡلِمُواْۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُخۡبِتِينَ

اور واسطے ہر امت کے مقرر کی ہے ہم نے قربانی تاکہ یاد کریں وہ (بوقت ذبح) نام اللہ کا اوپر ان کے جو دیے انھیں (اللہ نے) چوپائے مویشیوں میں سے پس تمھارا معبود، معبود ایک ہی ہے، سو اسی کے لیے تم مطیع ہو جاؤاور خوشخبری سنا دیجیے عاجزی کرنے والوں کو (34) وہ لوگ کہ جب ذکر کیا جاتا ہے اللہ کا تو ڈرجاتے ہیں ان کے دل اور وہ صبر کرنے والے ہیں اوپر اس (تکلیف) کے جوپہنچتی ہے انھیں اوروہ جو قائم کرنے والے ہیں نمازاور اس میں سے جو رزق دیا ہم نے ان کو، وہ خرچ کرتے ہیں (35) [34] ہم نے گزشتہ تمام قوموں کے لیے قربانی کو مشروع کیا ہے۔ پس تم تیزی کے ساتھ نیکیوں کی طرف بڑھو تاکہ ہم دیکھیں کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ ہر قوم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قربانی کے طریقے کو مقرر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم اور اس کے شکر کی طرف التفات ہو، اس لیے فرمایا:﴿ لِّيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ﴾ اگرچہ تمام شریعتیں مختلف ہیں مگر ایک اصول پر سب متفق ہیں اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی الوہیت، اللہ تعالیٰ اکیلے کا عبودیت کا مستحق ہونا اور اس کے ساتھ شرک کا ترک کر دینا، اس لیے فرمایا:﴿ فَلَهٗۤ اَسۡلِمُوۡا ﴾ یعنی اسی کی اطاعت کرو اسی کے سامنے سرتسلیم خم کرو، اس کے سوا کسی کی اطاعت نہ کرو کیونکہ اس کی اطاعت ہی سلامتی کے گھر تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ ﴿وَبَشِّرِ الۡمُخۡبِتِيۡنَ﴾ یعنی عاجزی کرنے والوں کو دنیا و آخرت کی بھلائی کی خوشخبری دو (اَلْمُخْبِت) سے مراد اپنے رب کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرنے والا، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والا اور اس کے بندوں کے ساتھ نہایت تواضع سے پیش آنے والا ہے۔ [35] پھر اللہ تعالیٰ نے عاجزی کرنے والوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’وہ لوگ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کے خوف سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور صرف اس کے خوف ہی کی بنا پر محرمات کو ترک کر دیتے ہیں ﴿ وَالصّٰؔبِرِيۡنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمۡ ﴾ان پر جو مصیبتیں اور سختیاں آتی ہیں اور انھیں جن مختلف اقسام کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان پر صبر کرتے ہیں ، ان میں سے کسی چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ناراضی کا اظہار نہیں کرتے بلکہ اپنے رب کی رضا کے حصول کی خاطر صبر کرتے ہیں اور اس پر اللہ تعالیٰ سے اجروثواب کی امید رکھتے ہیں ۔﴿ وَالۡمُقِيۡمِي الصَّلٰوةِ﴾ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو کامل اور درست طریقے سے قائم کرتے ہیں ، یعنی وہ اس کی ظاہری اور باطنی عبودیت اور اس کے تمام فرائض و مستحبات کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یہ تمام نفقاتِ واجبہ، مثلاً:زكاة، کفارات، بیویوں ، غلاموں اور اقارب پر خرچ کرنا اور تمام نفقات مستحبہ جیسے تمام قسم کے صدقات ہیں ، کو شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حرف جار (من) کا استعمال کیا ہے جو تبعیض کا فائدہ دیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے، اس میں سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے رغبت کرے نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو رزق عطا کیا ہے، یہ اس کا بہت معمولی حصہ ہے، اس رزق کے حصول میں بندے کی قدرت کو کوئی دخل نہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کے حصول کو آسان نہ بناتا اور اس کو عطا نہ کرتا تو بندہ اسے حاصل نہ کر سکتا… پس اے وہ شخص! جس کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نوازا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق کو خرچ کر، اللہ تعالیٰ تجھ پر خرچ کرے گا اور اپنے فضل سے تیرے رزق میں اضافہ کرے گا۔
22:35

ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتۡ قُلُوبُهُمۡ وَٱلصَّـٰبِرِينَ عَلَىٰ مَآ أَصَابَهُمۡ وَٱلۡمُقِيمِي ٱلصَّلَوٰةِ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ

اور واسطے ہر امت کے مقرر کی ہے ہم نے قربانی تاکہ یاد کریں وہ (بوقت ذبح) نام اللہ کا اوپر ان کے جو دیے انھیں (اللہ نے) چوپائے مویشیوں میں سے پس تمھارا معبود، معبود ایک ہی ہے، سو اسی کے لیے تم مطیع ہو جاؤاور خوشخبری سنا دیجیے عاجزی کرنے والوں کو (34) وہ لوگ کہ جب ذکر کیا جاتا ہے اللہ کا تو ڈرجاتے ہیں ان کے دل اور وہ صبر کرنے والے ہیں اوپر اس (تکلیف) کے جوپہنچتی ہے انھیں اوروہ جو قائم کرنے والے ہیں نمازاور اس میں سے جو رزق دیا ہم نے ان کو، وہ خرچ کرتے ہیں (35) [34] ہم نے گزشتہ تمام قوموں کے لیے قربانی کو مشروع کیا ہے۔ پس تم تیزی کے ساتھ نیکیوں کی طرف بڑھو تاکہ ہم دیکھیں کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ ہر قوم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قربانی کے طریقے کو مقرر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم اور اس کے شکر کی طرف التفات ہو، اس لیے فرمایا:﴿ لِّيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ﴾ اگرچہ تمام شریعتیں مختلف ہیں مگر ایک اصول پر سب متفق ہیں اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی الوہیت، اللہ تعالیٰ اکیلے کا عبودیت کا مستحق ہونا اور اس کے ساتھ شرک کا ترک کر دینا، اس لیے فرمایا:﴿ فَلَهٗۤ اَسۡلِمُوۡا ﴾ یعنی اسی کی اطاعت کرو اسی کے سامنے سرتسلیم خم کرو، اس کے سوا کسی کی اطاعت نہ کرو کیونکہ اس کی اطاعت ہی سلامتی کے گھر تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ ﴿وَبَشِّرِ الۡمُخۡبِتِيۡنَ﴾ یعنی عاجزی کرنے والوں کو دنیا و آخرت کی بھلائی کی خوشخبری دو (اَلْمُخْبِت) سے مراد اپنے رب کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرنے والا، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والا اور اس کے بندوں کے ساتھ نہایت تواضع سے پیش آنے والا ہے۔ [35] پھر اللہ تعالیٰ نے عاجزی کرنے والوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’وہ لوگ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کے خوف سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور صرف اس کے خوف ہی کی بنا پر محرمات کو ترک کر دیتے ہیں ﴿ وَالصّٰؔبِرِيۡنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمۡ ﴾ان پر جو مصیبتیں اور سختیاں آتی ہیں اور انھیں جن مختلف اقسام کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان پر صبر کرتے ہیں ، ان میں سے کسی چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ناراضی کا اظہار نہیں کرتے بلکہ اپنے رب کی رضا کے حصول کی خاطر صبر کرتے ہیں اور اس پر اللہ تعالیٰ سے اجروثواب کی امید رکھتے ہیں ۔﴿ وَالۡمُقِيۡمِي الصَّلٰوةِ﴾ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو نماز کو کامل اور درست طریقے سے قائم کرتے ہیں ، یعنی وہ اس کی ظاہری اور باطنی عبودیت اور اس کے تمام فرائض و مستحبات کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یہ تمام نفقاتِ واجبہ، مثلاً:زكاة، کفارات، بیویوں ، غلاموں اور اقارب پر خرچ کرنا اور تمام نفقات مستحبہ جیسے تمام قسم کے صدقات ہیں ، کو شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حرف جار (من) کا استعمال کیا ہے جو تبعیض کا فائدہ دیتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے، اس میں سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے رغبت کرے نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو رزق عطا کیا ہے، یہ اس کا بہت معمولی حصہ ہے، اس رزق کے حصول میں بندے کی قدرت کو کوئی دخل نہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کے حصول کو آسان نہ بناتا اور اس کو عطا نہ کرتا تو بندہ اسے حاصل نہ کر سکتا… پس اے وہ شخص! جس کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نوازا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق کو خرچ کر، اللہ تعالیٰ تجھ پر خرچ کرے گا اور اپنے فضل سے تیرے رزق میں اضافہ کرے گا۔
22:36

وَٱلۡبُدۡنَ جَعَلۡنَٰهَا لَكُم مِّن شَعَـٰٓئِرِ ٱللَّهِ لَكُمۡ فِيهَا خَيۡرٞۖ فَٱذۡكُرُواْ ٱسۡمَ ٱللَّهِ عَلَيۡهَا صَوَآفَّۖ فَإِذَا وَجَبَتۡ جُنُوبُهَا فَكُلُواْ مِنۡهَا وَأَطۡعِمُواْ ٱلۡقَانِعَ وَٱلۡمُعۡتَرَّۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرۡنَٰهَا لَكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ

اور قربانی کے اونٹ بنایا ہے ہم نے انھیں تمھارے لیے اللہ (کی عظمت) کی نشانیوں میں سے، تمھارے لیے ان میں بہت بھلائی ہے، پس یاد کرو تم نام اللہ کا ان پر صف بستہ (کھڑا کر کے) ، پھر جب گر جائیں (زمین پر) ان کے پہلو تو تم کھاؤ ان میں سے اورکھلاؤ بے سوالی محتاج اور سوالی (ضرورت مند) کو، اسی طرح تابع کر دیا ہم نے ان (چوپایوں ) کو تمھارے لیے تاکہ تم شکر کرو (36) ہرگز نہیں پہنچیں گے اللہ کو ان کے گوشت اور نہ ان کے خون لیکن پہنچے گا اسے تقویٰ تمھارا، اسی طرح اللہ نے تابع کر دیا ان کو واسطے تمھارے تاکہ تم بڑائی بیان کرو اللہ کی اوپر اس کے کہ اس نے ہدایت دی تمھیں اور خوشخبری سنا دیجیے نیکی کرنے والوں کو (37) [36] یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ ’’شعائر‘‘ دین کی تمام ظاہری علامات میں عام ہے۔ گزشتہ صفحات میں بیان کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جملہ شعائر میں (البدن) بھی داخل ہیں ۔ ایک قول کے مطابق ’’بدن‘‘ وہ اونٹ اور گائے وغیرہ ہیں جن کو قربانی کے لیے بڑا اور موٹا کیا جائے اور ان کو اچھا جانا جائے۔ ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا خَيۡرٌ﴾ یعنی قربانی دینے والے کے لیے اس میں بھلائی ہے یعنی اس میں سے کھانا، صدقہ کرنا، اس سے متمتع ہونا اور اجروثواب ، سب بھلائی ہے ﴿ فَاذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ عَلَيۡهَا ﴾ یعنی ذبح کرتے وقت ’’بسم اللہ‘‘ پڑھ کر ان کو ذبح کیا کرو۔ ﴿ صَوَآفَّ ﴾ یعنی کھڑے ہونے کی حالت میں ان کو ذبح کرو۔ ان کو چاروں پاؤں پہ کھڑا کرو پھر ان کا اگلا بایاں پاؤں باندھ دو اور پھر ان کو نحر کرو۔ ﴿فَاِذَا وَجَبَتۡ جُنُوۡبُهَا﴾ جب ان کے پہلو زمین پر ٹک جائیں ، پھر قصاب ان کو زمین پر گرا کر اس کی کھال وغیرہ اتار دے تب یہ جانور کھائے جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں ۔ ﴿ فَكُلُوۡا مِنۡهَا ﴾ ’’پس تم کھاؤ اس سے۔‘‘ یہ قربانی کرنے والے سے خطاب ہے۔ پس اس کا اپنی قربانی کا گوشت کھانا جائز ہے۔ ﴿وَاَطۡعِمُوا الۡقَانِعَ وَالۡمُعۡتَرَّ﴾یعنی اس محتاج کو بھی گوشت کھلاؤ جو قناعت اور عفت پسندی کی بنا پر سوال نہیں کرتا اور اس فقیر کو بھی قربانی کا گوشت دو جو اس کا سوال کرتا ہے۔ ہر ایک کا حق ہے۔﴿ كَذٰلِكَ سَخَّرۡنٰهَا لَكُمۡ ﴾ یعنی ہم نے ان قربانیوں کو تمھارے لیے مسخر کیا ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ تاکہ ان کی تسخیر پر تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھارے لیے مسخر نہ کیا ہوتا تو تم میں ان کو مسخر کرنے کی طاقت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھارا مطیع بنایا، تم پر رحم اور احسان کرتے ہوئے ان کو تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ پس اسی کی حمدوثنا بیان کرو۔ [37] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَنۡ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوۡمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا ﴾ یعنی ان کو فقط ذبح کرنا مقصود نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون پہنچتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سب چیزوں سے بے نیاز اور قابل ستائش ہے اس کے پاس تو صرف بندوں کا اخلاص، ثواب کی امید اور صالح نیت پہنچتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ يَّنَالُهُ التَّقۡوٰى مِنۡكُمۡ ﴾’’لیکن اس کے پاس تو تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘پس اس آیت کریمہ میں قربانی میں اخلاص کی ترغیب دی گئی ہے۔ قربانی کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب ہو، اس کا مقصد تفاخر، ریاکاری، شہرت کی خواہش یا محض عادت نہ ہو۔ اسی طرح دیگر تمام عبادات کے ساتھ اگر اخلاص اور تقویٰ مقرون نہ ہوں تو وہ اسی چھلکے کی مانند ہیں جس کے اندر مغز نہ ہو اور اس کی مثال اس جسد کی سی ہے جس کے اندر روح نہ ہو۔﴿كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمۡ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ ﴾ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی تعظیم و توقیر کرو ﴿ عَلٰى مَا هَدٰؔىكُمۡ ﴾ یعنی اس بنا پر کہ اس نے تمھیں ہدایت سے نوازا ہے کیونکہ وہ کامل ترین ثنا، جلیل ترین حمد اور بلند ترین تعظیم کا مستحق ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور خوشخبری دے دو نیکی کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتے ہیں گویا وہ اسے دیکھ رہے ہیں ، اگر وہ اس درجہ پر فائز نہیں تو عبادت کے وقت یہ اعتقاد رکھتے ہوئے عبادت کرتے ہیں کہ اللہ ان سے مطلع ہے اور ان کو دیکھ رہا ہے، وہ اس کے بندوں سے ہر لحاظ سے اچھے سلوک سے پیش آتے ہیں ، یعنی ان کو مالی فائدہ یا علمی فائدہ پہنچاتے ہیں یا انھیں منصب اور جاہ کے ذریعے سے کوئی فائدہ دیتے ہیں یا ان کی خیرخواہی کرتے ہیں یا ان کو کسی نیکی کا حکم دیتے ہیں یا ان کو کسی برائی سے روک دیتے ہیں یا انھیں کوئی اچھی بات کہہ دیتے ہیں یہ تمام چیزیں ’’احسان‘‘ کے زمرے میں آتی ہیں ۔پس احسان کرنے والوں کے لیے دنیا و آخرت میں سعادت کی خوشخبری ہے۔ جس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادات میں احسان کو مدنظر رکھا، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے گا، جیسا کہ فرمایا:﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ ﴾(الرحمن:55؍60) ’’احسان کا بدلہ، احسان کے سوا کچھ اور ہے؟‘‘ اور فرمایا:﴿ لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوا الۡحُسۡنٰى وَزِيَادَةٌ ﴾(یونس:10؍26) ’’جو احسان کے طریقے پرکاربند ہوئے ان کے لیے احسان ہے اور کچھ زیادہ ہے۔‘‘ (یعنی دیدارِ الٰہی)
22:37

لَن يَنَالَ ٱللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ ٱلتَّقۡوَىٰ مِنكُمۡۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمۡ لِتُكَبِّرُواْ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمۡۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُحۡسِنِينَ

اور قربانی کے اونٹ بنایا ہے ہم نے انھیں تمھارے لیے اللہ (کی عظمت) کی نشانیوں میں سے، تمھارے لیے ان میں بہت بھلائی ہے، پس یاد کرو تم نام اللہ کا ان پر صف بستہ (کھڑا کر کے) ، پھر جب گر جائیں (زمین پر) ان کے پہلو تو تم کھاؤ ان میں سے اورکھلاؤ بے سوالی محتاج اور سوالی (ضرورت مند) کو، اسی طرح تابع کر دیا ہم نے ان (چوپایوں ) کو تمھارے لیے تاکہ تم شکر کرو (36) ہرگز نہیں پہنچیں گے اللہ کو ان کے گوشت اور نہ ان کے خون لیکن پہنچے گا اسے تقویٰ تمھارا، اسی طرح اللہ نے تابع کر دیا ان کو واسطے تمھارے تاکہ تم بڑائی بیان کرو اللہ کی اوپر اس کے کہ اس نے ہدایت دی تمھیں اور خوشخبری سنا دیجیے نیکی کرنے والوں کو (37) [36] یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ ’’شعائر‘‘ دین کی تمام ظاہری علامات میں عام ہے۔ گزشتہ صفحات میں بیان کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جملہ شعائر میں (البدن) بھی داخل ہیں ۔ ایک قول کے مطابق ’’بدن‘‘ وہ اونٹ اور گائے وغیرہ ہیں جن کو قربانی کے لیے بڑا اور موٹا کیا جائے اور ان کو اچھا جانا جائے۔ ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا خَيۡرٌ﴾ یعنی قربانی دینے والے کے لیے اس میں بھلائی ہے یعنی اس میں سے کھانا، صدقہ کرنا، اس سے متمتع ہونا اور اجروثواب ، سب بھلائی ہے ﴿ فَاذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ عَلَيۡهَا ﴾ یعنی ذبح کرتے وقت ’’بسم اللہ‘‘ پڑھ کر ان کو ذبح کیا کرو۔ ﴿ صَوَآفَّ ﴾ یعنی کھڑے ہونے کی حالت میں ان کو ذبح کرو۔ ان کو چاروں پاؤں پہ کھڑا کرو پھر ان کا اگلا بایاں پاؤں باندھ دو اور پھر ان کو نحر کرو۔ ﴿فَاِذَا وَجَبَتۡ جُنُوۡبُهَا﴾ جب ان کے پہلو زمین پر ٹک جائیں ، پھر قصاب ان کو زمین پر گرا کر اس کی کھال وغیرہ اتار دے تب یہ جانور کھائے جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں ۔ ﴿ فَكُلُوۡا مِنۡهَا ﴾ ’’پس تم کھاؤ اس سے۔‘‘ یہ قربانی کرنے والے سے خطاب ہے۔ پس اس کا اپنی قربانی کا گوشت کھانا جائز ہے۔ ﴿وَاَطۡعِمُوا الۡقَانِعَ وَالۡمُعۡتَرَّ﴾یعنی اس محتاج کو بھی گوشت کھلاؤ جو قناعت اور عفت پسندی کی بنا پر سوال نہیں کرتا اور اس فقیر کو بھی قربانی کا گوشت دو جو اس کا سوال کرتا ہے۔ ہر ایک کا حق ہے۔﴿ كَذٰلِكَ سَخَّرۡنٰهَا لَكُمۡ ﴾ یعنی ہم نے ان قربانیوں کو تمھارے لیے مسخر کیا ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ تاکہ ان کی تسخیر پر تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھارے لیے مسخر نہ کیا ہوتا تو تم میں ان کو مسخر کرنے کی طاقت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھارا مطیع بنایا، تم پر رحم اور احسان کرتے ہوئے ان کو تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ پس اسی کی حمدوثنا بیان کرو۔ [37] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَنۡ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوۡمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا ﴾ یعنی ان کو فقط ذبح کرنا مقصود نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون پہنچتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سب چیزوں سے بے نیاز اور قابل ستائش ہے اس کے پاس تو صرف بندوں کا اخلاص، ثواب کی امید اور صالح نیت پہنچتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ يَّنَالُهُ التَّقۡوٰى مِنۡكُمۡ ﴾’’لیکن اس کے پاس تو تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘پس اس آیت کریمہ میں قربانی میں اخلاص کی ترغیب دی گئی ہے۔ قربانی کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب ہو، اس کا مقصد تفاخر، ریاکاری، شہرت کی خواہش یا محض عادت نہ ہو۔ اسی طرح دیگر تمام عبادات کے ساتھ اگر اخلاص اور تقویٰ مقرون نہ ہوں تو وہ اسی چھلکے کی مانند ہیں جس کے اندر مغز نہ ہو اور اس کی مثال اس جسد کی سی ہے جس کے اندر روح نہ ہو۔﴿كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمۡ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ ﴾ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی تعظیم و توقیر کرو ﴿ عَلٰى مَا هَدٰؔىكُمۡ ﴾ یعنی اس بنا پر کہ اس نے تمھیں ہدایت سے نوازا ہے کیونکہ وہ کامل ترین ثنا، جلیل ترین حمد اور بلند ترین تعظیم کا مستحق ہے۔ ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور خوشخبری دے دو نیکی کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتے ہیں گویا وہ اسے دیکھ رہے ہیں ، اگر وہ اس درجہ پر فائز نہیں تو عبادت کے وقت یہ اعتقاد رکھتے ہوئے عبادت کرتے ہیں کہ اللہ ان سے مطلع ہے اور ان کو دیکھ رہا ہے، وہ اس کے بندوں سے ہر لحاظ سے اچھے سلوک سے پیش آتے ہیں ، یعنی ان کو مالی فائدہ یا علمی فائدہ پہنچاتے ہیں یا انھیں منصب اور جاہ کے ذریعے سے کوئی فائدہ دیتے ہیں یا ان کی خیرخواہی کرتے ہیں یا ان کو کسی نیکی کا حکم دیتے ہیں یا ان کو کسی برائی سے روک دیتے ہیں یا انھیں کوئی اچھی بات کہہ دیتے ہیں یہ تمام چیزیں ’’احسان‘‘ کے زمرے میں آتی ہیں ۔پس احسان کرنے والوں کے لیے دنیا و آخرت میں سعادت کی خوشخبری ہے۔ جس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادات میں احسان کو مدنظر رکھا، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے گا، جیسا کہ فرمایا:﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ ﴾(الرحمن:55؍60) ’’احسان کا بدلہ، احسان کے سوا کچھ اور ہے؟‘‘ اور فرمایا:﴿ لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوا الۡحُسۡنٰى وَزِيَادَةٌ ﴾(یونس:10؍26) ’’جو احسان کے طریقے پرکاربند ہوئے ان کے لیے احسان ہے اور کچھ زیادہ ہے۔‘‘ (یعنی دیدارِ الٰہی)
22:38

۞إِنَّ ٱللَّهَ يُدَٰفِعُ عَنِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٖ كَفُورٍ

بلاشبہ اللہ دور کرتا ہے (دشمنوں کو) ان لوگوں سے جو ایمان لائے، بے شک اللہ نہیں پسند کرتا ہر خیانت کرنے والے، ناشکرے کو (38) [38]یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے خوشخبری اور وعدہ ہے کہ وہ ہر تکلیف دہ معاملے میں ان کی مدافعت کرے گا، یعنی وہ ان کے ایمان کے سبب سے کفار کے ہر قسم کے شر سے، شیطان کے وسوسوں کے شر سے اور خود ان کے اپنے نفس اور برے اعمال کے شر سے ان کی مدافعت کرے گا۔ مصائب کے نزول کے وقت جن کا بوجھ اٹھانے سے وہ قاصر ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے یہ بوجھ اٹھائے گا اور انتہائی حد تک ان کے بوجھ کو ہلکا کر دے گا۔ ہر مومن اپنے ایمان کے مطابق اس فضیلت اور مدافعت سے سے بہرہ ور ہوگا۔ کسی کو کم حصہ ملے گا کسی کو زیادہ۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ ﴾ اللہ تعالیٰ امانت میں خیانت کرنے والے کو پسند نہیں کرتا، جو اس نے اس کے سپرد کی ہے۔ پس خائن اللہ تعالیٰ کے حقوق میں کوتاہی کرتا ہے، ان میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے اور مخلوق کے حقوق میں بھی خیانت کرتا ہے ﴿كَفُوۡرٍ﴾ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والا، اللہ تعالیٰ اس پر احسان کرتا ہے اور یہ خائن جواب میں کفر اور عصیان پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو کبھی پسند نہیں کرتا بلکہ اس سے ناراض ہوتا ہے۔ وہ عنقریب اسے اس کے کفر اور خیانت کی سزا دے گا۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر امانت دار شخص سے، جو اپنی امانت کی حفاظت کرتا ہے اور اپنے مولا کا شکر گزار ہے… محبت کرتا ہے۔
22:39

أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَٰتَلُونَ بِأَنَّهُمۡ ظُلِمُواْۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ نَصۡرِهِمۡ لَقَدِيرٌ

اجازت دی گئی ہے (جہاد کی) ان لوگوں کو کہ لڑائی کیے جاتے ہیں وہ، بسبب اس کے کہ بے شک وہ مظلوم ہیں اور بلاشبہ اللہ ان کی مدد کرنے پر البتہ خوب قادر ہے (39) وہ لوگ جو نکالے گئے اپنے گھروں سے بغیر حق کے، صرف ان کے یہ کہنے پر کہ ہمارا رب اللہ ہےاور اگر نہ ہوتا دور کرنا اللہ کا لوگوں کو ان کے ایک کو دوسرے کے ذریعے سے تو البتہ ڈھا دیے جاتے راہبوں کے خلوت خانے اور گرجےاور عبادت خانے یہودیوں کےاور مسجدیں کہ ذکر کیا جاتا ہے ان میں نام اللہ کا بہت اور البتہ ضرور مدد کرے گا اللہ اس کی جو مدد کرے گا اس (کے دین) کی، بے شک اللہ البتہ بہت قوت والا، غالب ہے (40) وہ لوگ کہ اگر ہم قدرت دیں ان کو زمین میں تو وہ قائم کریں نماز اور ادا کریں زکاۃ اور وہ حکم دیں اچھے (نیک) کاموں کا اور روکیں برے کاموں سے اوراللہ ہی کے اختیار میں ہے انجام تمام امور کا (41) [39] اسلام کی ابتداء میں مسلمانوں کو کفار کے خلاف جنگ کرنے کی ممانعت تھی اور ان کو صبر کرنے کا حکم تھا، اس میں حکمت الہیہ پوشیدہ تھی۔ جب انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور انھیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں ستایا گیا اور مدینہ منورہ پہنچ کر انھیں طاقت اور قوت حاصل ہوگئی تو انھیں کفار کے خلاف جہاد کی اجازت دیدی گئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اُذِنَ لِلَّذِيۡنَ يُقٰتَلُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کو اجازت دی جاتی ہے جن سے کافر لڑائی کرتے ہیں ۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اس سے قبل مسلمانوں کو جہاد کی اجازت نہ تھی پس اللہ نے انھیں ان لوگوں کے خلاف جہاد اور جنگ کی اجازت مرحمت فرما دی جو ان کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور انھیں کفار کے خلاف جنگ کرنے کی اجازت صرف اس لیے ملی کیونکہ ان پر ظلم ڈھائے گئے، انھیں ان کے دین سے روکا گیا، دین کی وجہ سے ان کو اذیتیں دی گئیں اور ان کو ان کے گھروں اور وطن سے نکال دیا گیا۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصۡرِهِمۡ لَقَدِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ ان کی مدد کرنے پر یقینا قادر ہے۔‘‘ اس لیے اہل ایمان اسی سے نصرت طلب کریں اور اسی سے مدد مانگیں ۔ [40] پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ ﴾ یعنی ان کو اذیتوں اور فتنے میں مبتلا کرکے اپنے گھروں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا گیا ﴿ بِغَيۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ ﴾ یعنی ناحق اور ان کا گناہ اس کے سوا کچھ نہیں جس کی بنا پر ان کے دشمن ناراض ہوکران کو سزا دینے پر تلے ہوئے ہیں کہ وہ ﴿ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ﴾ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے، یعنی ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرتے ہیں اور دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے، اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرنا گناہ ہے تو وہ ضرور گنہگار ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ﴾(البروج:85؍8) ’’وہ اہل ایمان سے صرف اس بات پر ناراض ہیں کہ اللہ تعالیٰ غالب اور قابل ستائش پر ایمان لاتے ہیں۔‘‘ یہ آیت کریمہ جہاد کی حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ جہاد کا مقصد اقامت دین یا اہل ایمان کا کفار کی اذیتوں ، ان کے ظلم اور ان کی تعدی سے دفاع کرنا ہے جو اہل ایمان پر ظلم و زیادتی کی ابتدا کرتے ہیں ، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کو ممکن بنایا جائے اور دین کے تمام ظاہری قوانین کو نافذ کیا جائے، اس لیے فرمایا:﴿وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ ﴾ ’’اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے نہ ہٹاتا۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ مجاہدین فی سبیل اللہ کے ذریعے سے کفار کی ریشہ دوانیوں کا سدباب کرتا ہے۔ ﴿ لَّهُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ ﴾ یعنی یہ بڑے بڑے معابد منہدم کر دیے جاتے ہیں جو اہل کتاب کے مختلف گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں ، مثلاً:یہود و نصاریٰ کے معابد اور مسلمانوں کی مساجد۔﴿ يُذۡكَرُ فِيۡهَا﴾ ’’ذکر کیا جاتا ہے ان میں ‘‘ یعنی ان عبادت گاہوں میں ﴿ اسۡمُ اللّٰهِ كَثِيۡرًا﴾ ’’اللہ کا نام بہت زیادہ۔‘‘ یعنی ان عبادت گاہوں کے اندر نماز قائم کی جاتی ہے، کتب الہیہ کی تلاوت ہوتی ہے اور مختلف طریقوں سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیاجاتا ہے اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ روکے توکفار مسلمانوں پر غالب آجائیں ، ان کے معابد کو تباہ کر دیں اور دین کے بارے میں ان کو آزمائش میں مبتلا کر دیں ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جہاد جارح کی جارحیت اور ایذارسانی کا سدباب کرنے اور بعض دیگر مقاصد کے لیے مشروع کیا گیا ہے، نیز یہ اس امر کی بھی دلیل ہے کہ وہ شہر جہاں امن اور اطمینان سے اللہ تعالیٰ کی عبادت ہوتی ہے، اس کی مساجد آباد ہیں جہاں دین کے تمام شعائر قائم ہیں ، یہ مجاہدین کی فضیلت اور ان کی برکت کی وجہ سے ہے۔ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے کفار کی ریشہ دوانیوں کا سدباب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَلَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾(البقرۃ:2؍251) ’’اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے نہ ہٹاتا رہے تو زمین میں فساد برپا ہو جائے مگر اللہ تعالیٰ جہان والوں پر بڑا ہی فضل کرتا ہے۔‘‘ اگر آپ یہ اعتراض کریں کہ ہم آج کل مسلمانوں کی مساجد کو آباد دیکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان مساجد میں ایک چھوٹی سی امارت اور ایک غیر منظم حکومت قائم ہوتی ہے حالانکہ ان پر اردگرد کے فرنگیوں کے خلاف جہاد لازم ہے بلکہ ہم ایسی مساجد بھی دیکھتے ہیں جو کفار کی حکومت اور ان کے انتظام کے تحت آباد ہیں ۔ اہل مسجد پر امن اور مطمئن ہیں حالانکہ کافر حکومتوں کو قدرت اور طاقت حاصل ہے کہ وہ ان مساجد کو منہدم کر دیں ۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے نہ ہٹائے تو یہ معابد منہدم کر دیے جائیں اور ہم نے تو لوگوں کو ایک دوسرے کو ہٹاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اس اعتراض اور اشکال کا جواب، اس آیت کریمہ کے عموم میں داخل اور اس کے افراد میں سے ایک فرد ہے۔ جو کوئی زمانہ ٔجدید کی حکومتوں کے حالات اور ان کے نظام کی معرفت رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ ان حکومتوں کے تحت زندگی بسر کرنے والا ہر گروہ اور ہر قوم کو، اس مملکت کا رکن، اس کے اجزائے حکومت میں سے ایک جزو تصور کیا جاتا ہے خواہ یہ گروہ اپنی تعداد کی بنا پر اقتدار میں ہو، خواہ اپنی حربی استعداد یا مال یا علم یا خدمات کی بنا پر اقتدار میں شریک ہو۔ حکومتیں اس گروہ کے دینی اور دنیاوی مصالح و مفادات کی رعایت رکھتی ہیں اور اس بات سے ڈرتی ہیں کہ اگر انھوں نے ان کے مصالح کی رعایت نہ رکھی تو حکومت کے انتظام میں خلل واقع ہو جائے گا اور حکومت کے بعض ارکان مفقود ہو جائیں گے۔ پس اس سبب سے دین کے معاملات قائم ہیں ۔ خاص طور پر مساجد کا نظم و نسق… اَلْحَمْدُللّٰہ… بہترین طریقے سے ہورہا ہے حتیٰ کہ بڑے بڑے ممالک کے درالحکومتوں میں مساجد کا انتظام انتہائی اچھے طریقے سے چل رہا ہے۔ ان ممالک کی حکومتیں ، اپنی مسلمان رعایا کی دل جوئی کی خاطر اس بات کا پورا خیال رکھتی ہیں ، حالانکہ ان نصرانی ممالک کے درمیان آپس میں ایک دوسرے کے خلاف بغض اور حسد موجود ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ یہ بغض اور حسد ان کے درمیان روز قیامت تک موجود رہے گا۔ پس مسلمان حکومت، جو اپنا دفاع کرنے کی طاقت نہیں رکھتی، ان کے آپس کے افتراق اور حسد کی وجہ سے ان کی جارحیت سے محفوظ رہتی ہے۔ کوئی ملک اس مسلمان ملک کے خلاف اس خوف سے جارحیت کا ارتکاب کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کہ وہ کسی اور ملک کی حمایت اور مدد حاصل کرے گا۔ علاوہ ازیں یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اسلام اور مسلمانوں کی نصرت کا مشاہدہ کروائے جس کا اس نے اپنی کتاب میں وعدہ کررکھا ہے اور دین کی طرف مسلمانوں کے رجوع کی ضرورت کے شعور کے اجاگر ہونے کی بنا پر اس نصرت کے اسباب ظاہر ہو گئے ہیں … وللہ الحمد … اور شعور عمل کی بنیاد ہے … ہم اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہم پر اپنی نعمت کا اتمام کرے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا جو واقع کے مطابق سچ ثابت ہوا، فرمایا:﴿ وَلَيَنۡصُرَنَّ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے جو اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راستے میں جہاد کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيۡزٌ ﴾ یعنی وہ پوری قوت کا مالک اور غالب ہے اس کے سامنے کسی کی کوئی مجال نہیں ۔ وہ تمام مخلوق پر غالب ہے ان کی پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ پس اے مسلمانو! خوش ہو جاؤ کہ اگرچہ تم تعداد اور سازوسامان کے اعتبار سے کمزور ہو اور تمھارا دشمن طاقتور ہے مگر تمھیں قوت والی اور غالب ہستی پر بھروسہ اور اس ذات پر اعتماد ہے جس نے تمھیں اور تمھارے اعمال کو تخلیق کیا۔ پس وہ تمام اسباب اختیار کرو جن کو استعمال کرنے کا تم کو حکم دیا گیا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو، وہ ضرور تمھاری مدد کرے گا۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَنۡصُرُوا اللّٰهَ يَنۡصُرۡؔكُمۡ وَيُثَبِّتۡ اَقۡدَامَكُمۡ ﴾(محمد:47؍7) ’’اے ایمان لانے والے لوگو ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں ثابت قدم رکھے گا۔‘‘ اے مسلمانو ! ایمان اور عمل صالح کی خاطر اٹھ کھڑے ہو! ﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١۪ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِي ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا١ؕ يَعۡبُدُوۡنَنِيۡ۠ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِيۡ شَيۡـًٔـا﴾(النور:24؍55) ’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین کی خلافت عطا کرے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو زمین کی خلافت عطا کی تھی، ان کے دین کو ان کے لیے مستحکم کردے گا، جسے اللہ نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا، وہ میری عبادت کریں گے اورمیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔‘‘ [41] پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی علامت بیان فرمائی ہے جو اس کی مدد کرتے ہیں ۔ یہی علامت ان کی پہچان ہے اور جو کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی مدد کرتا ہے مگر وہ اس وصف سے متصف نہیں ہوتا تو وہ جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ علامت بیان فرمائی ہے۔ ﴿ اَلَّذِيۡنَ اِنۡ مَّؔكَّـنّٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ﴾ یعنی اگر ہم ان کو زمین کا مالک بنا دیں اور ان کو زمین کا تسلط بخش دیں اور کوئی ان کی معارضت اور مخالفت کرنے والا باقی نہ رہے ﴿ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ تو وہ نماز کے اوقات میں نماز کو اس کی تمام حدود، ارکان، شرائط، جمعہ اور جماعت کے ساتھ قائم کرتے ہیں ﴿ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ جو ان پر خاص طور پر اور رعایا پر عام طور پر واجب ہے، یہ زكاة وہ مستحقین کو اداکرتے ہیں ﴿ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ نیکیوں کا حکم دیتے ہیں ۔ (معروف) ہر اس کام کو شامل ہے جو عقلاً اور شرعاً حقوق اللہ اور حقوق العباد کے اعتبار سے نیک ہو۔ ﴿ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برائی سے وہ روکتے ہیں ۔‘‘ ہر برائی جس کی قباحت شرعاً اور عقلاً معروف ہو (منکر) کہلاتی ہے۔ کسی چیز کے حکم دینے اور اس کے منع کرنے میں ہر وہ چیز داخل ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل ممکن نہ ہو۔ پس جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تعلیم و تعلم پر موقوف ہے تو لوگوں کو تعلیم اور تعلم پر مجبور کرتے ہیں اور جب امربالمعروف اور نہی عن المنکر، شرعی طور پر مقرر کردہ یا غیر مقرر کردہ تادیب پر موقوف ہو، مثلاً:مختلف قسم کی تعزیرات تو انھیں قائم کرتے ہیں ۔ جب یہ معاملہ اس بات پر موقوف ہو کہ لوگ کچھ امور کے خوگر ہوں جن کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اتمام ممکن نہیں تو ان پر ان امور کو لازم کیا جائے گااور اسی طرح معاملات ہیں کہ ان کے بغیر اگر امربالمعروف یا نہی عن المنکر ممکن نہ ہو تو ان کا اہتمام ضروری ہو گا۔﴿وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ ﴾ یعنی تمام امور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اچھا انجام تقویٰ ہی کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن بادشاہوں کو بندوں پر تسلط بخشا اور انھوں نے اللہ کے حکم کو نافذ کیا ان کی حالت رشد و ہدایت پر مبنی اور ان کی عاقبت قابل ستائش ہے۔اور وہ بادشاہ، جو جبر سے لوگوں پر مسلط ہو جاتا ہے پھر وہ اپنی خواہشات نفس کو ان پر نافذ کرتا ہے تو اقتدار اگرچہ ایک مقررہ وقت تک اس کے پاس رہتا ہے تاہم اس کا انجام ناقابل ستائش، اس کی حکومت نامقبول اور اس کی عاقبت مذموم ہے۔
22:40

ٱلَّذِينَ أُخۡرِجُواْ مِن دِيَٰرِهِم بِغَيۡرِ حَقٍّ إِلَّآ أَن يَقُولُواْ رَبُّنَا ٱللَّهُۗ وَلَوۡلَا دَفۡعُ ٱللَّهِ ٱلنَّاسَ بَعۡضَهُم بِبَعۡضٖ لَّهُدِّمَتۡ صَوَٰمِعُ وَبِيَعٞ وَصَلَوَٰتٞ وَمَسَٰجِدُ يُذۡكَرُ فِيهَا ٱسۡمُ ٱللَّهِ كَثِيرٗاۗ وَلَيَنصُرَنَّ ٱللَّهُ مَن يَنصُرُهُۥٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ

اجازت دی گئی ہے (جہاد کی) ان لوگوں کو کہ لڑائی کیے جاتے ہیں وہ، بسبب اس کے کہ بے شک وہ مظلوم ہیں اور بلاشبہ اللہ ان کی مدد کرنے پر البتہ خوب قادر ہے (39) وہ لوگ جو نکالے گئے اپنے گھروں سے بغیر حق کے، صرف ان کے یہ کہنے پر کہ ہمارا رب اللہ ہےاور اگر نہ ہوتا دور کرنا اللہ کا لوگوں کو ان کے ایک کو دوسرے کے ذریعے سے تو البتہ ڈھا دیے جاتے راہبوں کے خلوت خانے اور گرجےاور عبادت خانے یہودیوں کےاور مسجدیں کہ ذکر کیا جاتا ہے ان میں نام اللہ کا بہت اور البتہ ضرور مدد کرے گا اللہ اس کی جو مدد کرے گا اس (کے دین) کی، بے شک اللہ البتہ بہت قوت والا، غالب ہے (40) وہ لوگ کہ اگر ہم قدرت دیں ان کو زمین میں تو وہ قائم کریں نماز اور ادا کریں زکاۃ اور وہ حکم دیں اچھے (نیک) کاموں کا اور روکیں برے کاموں سے اوراللہ ہی کے اختیار میں ہے انجام تمام امور کا (41) [39] اسلام کی ابتداء میں مسلمانوں کو کفار کے خلاف جنگ کرنے کی ممانعت تھی اور ان کو صبر کرنے کا حکم تھا، اس میں حکمت الہیہ پوشیدہ تھی۔ جب انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور انھیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں ستایا گیا اور مدینہ منورہ پہنچ کر انھیں طاقت اور قوت حاصل ہوگئی تو انھیں کفار کے خلاف جہاد کی اجازت دیدی گئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اُذِنَ لِلَّذِيۡنَ يُقٰتَلُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کو اجازت دی جاتی ہے جن سے کافر لڑائی کرتے ہیں ۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اس سے قبل مسلمانوں کو جہاد کی اجازت نہ تھی پس اللہ نے انھیں ان لوگوں کے خلاف جہاد اور جنگ کی اجازت مرحمت فرما دی جو ان کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور انھیں کفار کے خلاف جنگ کرنے کی اجازت صرف اس لیے ملی کیونکہ ان پر ظلم ڈھائے گئے، انھیں ان کے دین سے روکا گیا، دین کی وجہ سے ان کو اذیتیں دی گئیں اور ان کو ان کے گھروں اور وطن سے نکال دیا گیا۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصۡرِهِمۡ لَقَدِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ ان کی مدد کرنے پر یقینا قادر ہے۔‘‘ اس لیے اہل ایمان اسی سے نصرت طلب کریں اور اسی سے مدد مانگیں ۔ [40] پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ ﴾ یعنی ان کو اذیتوں اور فتنے میں مبتلا کرکے اپنے گھروں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا گیا ﴿ بِغَيۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ ﴾ یعنی ناحق اور ان کا گناہ اس کے سوا کچھ نہیں جس کی بنا پر ان کے دشمن ناراض ہوکران کو سزا دینے پر تلے ہوئے ہیں کہ وہ ﴿ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ﴾ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے، یعنی ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرتے ہیں اور دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے، اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرنا گناہ ہے تو وہ ضرور گنہگار ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ﴾(البروج:85؍8) ’’وہ اہل ایمان سے صرف اس بات پر ناراض ہیں کہ اللہ تعالیٰ غالب اور قابل ستائش پر ایمان لاتے ہیں۔‘‘ یہ آیت کریمہ جہاد کی حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ جہاد کا مقصد اقامت دین یا اہل ایمان کا کفار کی اذیتوں ، ان کے ظلم اور ان کی تعدی سے دفاع کرنا ہے جو اہل ایمان پر ظلم و زیادتی کی ابتدا کرتے ہیں ، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کو ممکن بنایا جائے اور دین کے تمام ظاہری قوانین کو نافذ کیا جائے، اس لیے فرمایا:﴿وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ ﴾ ’’اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے نہ ہٹاتا۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ مجاہدین فی سبیل اللہ کے ذریعے سے کفار کی ریشہ دوانیوں کا سدباب کرتا ہے۔ ﴿ لَّهُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ ﴾ یعنی یہ بڑے بڑے معابد منہدم کر دیے جاتے ہیں جو اہل کتاب کے مختلف گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں ، مثلاً:یہود و نصاریٰ کے معابد اور مسلمانوں کی مساجد۔﴿ يُذۡكَرُ فِيۡهَا﴾ ’’ذکر کیا جاتا ہے ان میں ‘‘ یعنی ان عبادت گاہوں میں ﴿ اسۡمُ اللّٰهِ كَثِيۡرًا﴾ ’’اللہ کا نام بہت زیادہ۔‘‘ یعنی ان عبادت گاہوں کے اندر نماز قائم کی جاتی ہے، کتب الہیہ کی تلاوت ہوتی ہے اور مختلف طریقوں سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیاجاتا ہے اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ روکے توکفار مسلمانوں پر غالب آجائیں ، ان کے معابد کو تباہ کر دیں اور دین کے بارے میں ان کو آزمائش میں مبتلا کر دیں ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جہاد جارح کی جارحیت اور ایذارسانی کا سدباب کرنے اور بعض دیگر مقاصد کے لیے مشروع کیا گیا ہے، نیز یہ اس امر کی بھی دلیل ہے کہ وہ شہر جہاں امن اور اطمینان سے اللہ تعالیٰ کی عبادت ہوتی ہے، اس کی مساجد آباد ہیں جہاں دین کے تمام شعائر قائم ہیں ، یہ مجاہدین کی فضیلت اور ان کی برکت کی وجہ سے ہے۔ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے کفار کی ریشہ دوانیوں کا سدباب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَلَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾(البقرۃ:2؍251) ’’اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے نہ ہٹاتا رہے تو زمین میں فساد برپا ہو جائے مگر اللہ تعالیٰ جہان والوں پر بڑا ہی فضل کرتا ہے۔‘‘ اگر آپ یہ اعتراض کریں کہ ہم آج کل مسلمانوں کی مساجد کو آباد دیکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان مساجد میں ایک چھوٹی سی امارت اور ایک غیر منظم حکومت قائم ہوتی ہے حالانکہ ان پر اردگرد کے فرنگیوں کے خلاف جہاد لازم ہے بلکہ ہم ایسی مساجد بھی دیکھتے ہیں جو کفار کی حکومت اور ان کے انتظام کے تحت آباد ہیں ۔ اہل مسجد پر امن اور مطمئن ہیں حالانکہ کافر حکومتوں کو قدرت اور طاقت حاصل ہے کہ وہ ان مساجد کو منہدم کر دیں ۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے نہ ہٹائے تو یہ معابد منہدم کر دیے جائیں اور ہم نے تو لوگوں کو ایک دوسرے کو ہٹاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اس اعتراض اور اشکال کا جواب، اس آیت کریمہ کے عموم میں داخل اور اس کے افراد میں سے ایک فرد ہے۔ جو کوئی زمانہ ٔجدید کی حکومتوں کے حالات اور ان کے نظام کی معرفت رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ ان حکومتوں کے تحت زندگی بسر کرنے والا ہر گروہ اور ہر قوم کو، اس مملکت کا رکن، اس کے اجزائے حکومت میں سے ایک جزو تصور کیا جاتا ہے خواہ یہ گروہ اپنی تعداد کی بنا پر اقتدار میں ہو، خواہ اپنی حربی استعداد یا مال یا علم یا خدمات کی بنا پر اقتدار میں شریک ہو۔ حکومتیں اس گروہ کے دینی اور دنیاوی مصالح و مفادات کی رعایت رکھتی ہیں اور اس بات سے ڈرتی ہیں کہ اگر انھوں نے ان کے مصالح کی رعایت نہ رکھی تو حکومت کے انتظام میں خلل واقع ہو جائے گا اور حکومت کے بعض ارکان مفقود ہو جائیں گے۔ پس اس سبب سے دین کے معاملات قائم ہیں ۔ خاص طور پر مساجد کا نظم و نسق… اَلْحَمْدُللّٰہ… بہترین طریقے سے ہورہا ہے حتیٰ کہ بڑے بڑے ممالک کے درالحکومتوں میں مساجد کا انتظام انتہائی اچھے طریقے سے چل رہا ہے۔ ان ممالک کی حکومتیں ، اپنی مسلمان رعایا کی دل جوئی کی خاطر اس بات کا پورا خیال رکھتی ہیں ، حالانکہ ان نصرانی ممالک کے درمیان آپس میں ایک دوسرے کے خلاف بغض اور حسد موجود ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ یہ بغض اور حسد ان کے درمیان روز قیامت تک موجود رہے گا۔ پس مسلمان حکومت، جو اپنا دفاع کرنے کی طاقت نہیں رکھتی، ان کے آپس کے افتراق اور حسد کی وجہ سے ان کی جارحیت سے محفوظ رہتی ہے۔ کوئی ملک اس مسلمان ملک کے خلاف اس خوف سے جارحیت کا ارتکاب کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کہ وہ کسی اور ملک کی حمایت اور مدد حاصل کرے گا۔ علاوہ ازیں یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اسلام اور مسلمانوں کی نصرت کا مشاہدہ کروائے جس کا اس نے اپنی کتاب میں وعدہ کررکھا ہے اور دین کی طرف مسلمانوں کے رجوع کی ضرورت کے شعور کے اجاگر ہونے کی بنا پر اس نصرت کے اسباب ظاہر ہو گئے ہیں … وللہ الحمد … اور شعور عمل کی بنیاد ہے … ہم اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہم پر اپنی نعمت کا اتمام کرے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا جو واقع کے مطابق سچ ثابت ہوا، فرمایا:﴿ وَلَيَنۡصُرَنَّ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے جو اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راستے میں جہاد کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيۡزٌ ﴾ یعنی وہ پوری قوت کا مالک اور غالب ہے اس کے سامنے کسی کی کوئی مجال نہیں ۔ وہ تمام مخلوق پر غالب ہے ان کی پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ پس اے مسلمانو! خوش ہو جاؤ کہ اگرچہ تم تعداد اور سازوسامان کے اعتبار سے کمزور ہو اور تمھارا دشمن طاقتور ہے مگر تمھیں قوت والی اور غالب ہستی پر بھروسہ اور اس ذات پر اعتماد ہے جس نے تمھیں اور تمھارے اعمال کو تخلیق کیا۔ پس وہ تمام اسباب اختیار کرو جن کو استعمال کرنے کا تم کو حکم دیا گیا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو، وہ ضرور تمھاری مدد کرے گا۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَنۡصُرُوا اللّٰهَ يَنۡصُرۡؔكُمۡ وَيُثَبِّتۡ اَقۡدَامَكُمۡ ﴾(محمد:47؍7) ’’اے ایمان لانے والے لوگو ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں ثابت قدم رکھے گا۔‘‘ اے مسلمانو ! ایمان اور عمل صالح کی خاطر اٹھ کھڑے ہو! ﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١۪ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِي ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا١ؕ يَعۡبُدُوۡنَنِيۡ۠ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِيۡ شَيۡـًٔـا﴾(النور:24؍55) ’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین کی خلافت عطا کرے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو زمین کی خلافت عطا کی تھی، ان کے دین کو ان کے لیے مستحکم کردے گا، جسے اللہ نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا، وہ میری عبادت کریں گے اورمیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔‘‘ [41] پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی علامت بیان فرمائی ہے جو اس کی مدد کرتے ہیں ۔ یہی علامت ان کی پہچان ہے اور جو کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی مدد کرتا ہے مگر وہ اس وصف سے متصف نہیں ہوتا تو وہ جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ علامت بیان فرمائی ہے۔ ﴿ اَلَّذِيۡنَ اِنۡ مَّؔكَّـنّٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ﴾ یعنی اگر ہم ان کو زمین کا مالک بنا دیں اور ان کو زمین کا تسلط بخش دیں اور کوئی ان کی معارضت اور مخالفت کرنے والا باقی نہ رہے ﴿ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ تو وہ نماز کے اوقات میں نماز کو اس کی تمام حدود، ارکان، شرائط، جمعہ اور جماعت کے ساتھ قائم کرتے ہیں ﴿ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ جو ان پر خاص طور پر اور رعایا پر عام طور پر واجب ہے، یہ زكاة وہ مستحقین کو اداکرتے ہیں ﴿ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ نیکیوں کا حکم دیتے ہیں ۔ (معروف) ہر اس کام کو شامل ہے جو عقلاً اور شرعاً حقوق اللہ اور حقوق العباد کے اعتبار سے نیک ہو۔ ﴿ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برائی سے وہ روکتے ہیں ۔‘‘ ہر برائی جس کی قباحت شرعاً اور عقلاً معروف ہو (منکر) کہلاتی ہے۔ کسی چیز کے حکم دینے اور اس کے منع کرنے میں ہر وہ چیز داخل ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل ممکن نہ ہو۔ پس جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تعلیم و تعلم پر موقوف ہے تو لوگوں کو تعلیم اور تعلم پر مجبور کرتے ہیں اور جب امربالمعروف اور نہی عن المنکر، شرعی طور پر مقرر کردہ یا غیر مقرر کردہ تادیب پر موقوف ہو، مثلاً:مختلف قسم کی تعزیرات تو انھیں قائم کرتے ہیں ۔ جب یہ معاملہ اس بات پر موقوف ہو کہ لوگ کچھ امور کے خوگر ہوں جن کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اتمام ممکن نہیں تو ان پر ان امور کو لازم کیا جائے گااور اسی طرح معاملات ہیں کہ ان کے بغیر اگر امربالمعروف یا نہی عن المنکر ممکن نہ ہو تو ان کا اہتمام ضروری ہو گا۔﴿وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ ﴾ یعنی تمام امور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اچھا انجام تقویٰ ہی کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن بادشاہوں کو بندوں پر تسلط بخشا اور انھوں نے اللہ کے حکم کو نافذ کیا ان کی حالت رشد و ہدایت پر مبنی اور ان کی عاقبت قابل ستائش ہے۔اور وہ بادشاہ، جو جبر سے لوگوں پر مسلط ہو جاتا ہے پھر وہ اپنی خواہشات نفس کو ان پر نافذ کرتا ہے تو اقتدار اگرچہ ایک مقررہ وقت تک اس کے پاس رہتا ہے تاہم اس کا انجام ناقابل ستائش، اس کی حکومت نامقبول اور اس کی عاقبت مذموم ہے۔
22:41

ٱلَّذِينَ إِن مَّكَّنَّـٰهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَمَرُواْ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَنَهَوۡاْ عَنِ ٱلۡمُنكَرِۗ وَلِلَّهِ عَٰقِبَةُ ٱلۡأُمُورِ

اجازت دی گئی ہے (جہاد کی) ان لوگوں کو کہ لڑائی کیے جاتے ہیں وہ، بسبب اس کے کہ بے شک وہ مظلوم ہیں اور بلاشبہ اللہ ان کی مدد کرنے پر البتہ خوب قادر ہے (39) وہ لوگ جو نکالے گئے اپنے گھروں سے بغیر حق کے، صرف ان کے یہ کہنے پر کہ ہمارا رب اللہ ہےاور اگر نہ ہوتا دور کرنا اللہ کا لوگوں کو ان کے ایک کو دوسرے کے ذریعے سے تو البتہ ڈھا دیے جاتے راہبوں کے خلوت خانے اور گرجےاور عبادت خانے یہودیوں کےاور مسجدیں کہ ذکر کیا جاتا ہے ان میں نام اللہ کا بہت اور البتہ ضرور مدد کرے گا اللہ اس کی جو مدد کرے گا اس (کے دین) کی، بے شک اللہ البتہ بہت قوت والا، غالب ہے (40) وہ لوگ کہ اگر ہم قدرت دیں ان کو زمین میں تو وہ قائم کریں نماز اور ادا کریں زکاۃ اور وہ حکم دیں اچھے (نیک) کاموں کا اور روکیں برے کاموں سے اوراللہ ہی کے اختیار میں ہے انجام تمام امور کا (41) [39] اسلام کی ابتداء میں مسلمانوں کو کفار کے خلاف جنگ کرنے کی ممانعت تھی اور ان کو صبر کرنے کا حکم تھا، اس میں حکمت الہیہ پوشیدہ تھی۔ جب انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور انھیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں ستایا گیا اور مدینہ منورہ پہنچ کر انھیں طاقت اور قوت حاصل ہوگئی تو انھیں کفار کے خلاف جہاد کی اجازت دیدی گئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اُذِنَ لِلَّذِيۡنَ يُقٰتَلُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کو اجازت دی جاتی ہے جن سے کافر لڑائی کرتے ہیں ۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اس سے قبل مسلمانوں کو جہاد کی اجازت نہ تھی پس اللہ نے انھیں ان لوگوں کے خلاف جہاد اور جنگ کی اجازت مرحمت فرما دی جو ان کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور انھیں کفار کے خلاف جنگ کرنے کی اجازت صرف اس لیے ملی کیونکہ ان پر ظلم ڈھائے گئے، انھیں ان کے دین سے روکا گیا، دین کی وجہ سے ان کو اذیتیں دی گئیں اور ان کو ان کے گھروں اور وطن سے نکال دیا گیا۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصۡرِهِمۡ لَقَدِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ ان کی مدد کرنے پر یقینا قادر ہے۔‘‘ اس لیے اہل ایمان اسی سے نصرت طلب کریں اور اسی سے مدد مانگیں ۔ [40] پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ ﴾ یعنی ان کو اذیتوں اور فتنے میں مبتلا کرکے اپنے گھروں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا گیا ﴿ بِغَيۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ ﴾ یعنی ناحق اور ان کا گناہ اس کے سوا کچھ نہیں جس کی بنا پر ان کے دشمن ناراض ہوکران کو سزا دینے پر تلے ہوئے ہیں کہ وہ ﴿ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ﴾ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے، یعنی ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرتے ہیں اور دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے، اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرنا گناہ ہے تو وہ ضرور گنہگار ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ﴾(البروج:85؍8) ’’وہ اہل ایمان سے صرف اس بات پر ناراض ہیں کہ اللہ تعالیٰ غالب اور قابل ستائش پر ایمان لاتے ہیں۔‘‘ یہ آیت کریمہ جہاد کی حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ جہاد کا مقصد اقامت دین یا اہل ایمان کا کفار کی اذیتوں ، ان کے ظلم اور ان کی تعدی سے دفاع کرنا ہے جو اہل ایمان پر ظلم و زیادتی کی ابتدا کرتے ہیں ، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کو ممکن بنایا جائے اور دین کے تمام ظاہری قوانین کو نافذ کیا جائے، اس لیے فرمایا:﴿وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ ﴾ ’’اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے نہ ہٹاتا۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ مجاہدین فی سبیل اللہ کے ذریعے سے کفار کی ریشہ دوانیوں کا سدباب کرتا ہے۔ ﴿ لَّهُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ ﴾ یعنی یہ بڑے بڑے معابد منہدم کر دیے جاتے ہیں جو اہل کتاب کے مختلف گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں ، مثلاً:یہود و نصاریٰ کے معابد اور مسلمانوں کی مساجد۔﴿ يُذۡكَرُ فِيۡهَا﴾ ’’ذکر کیا جاتا ہے ان میں ‘‘ یعنی ان عبادت گاہوں میں ﴿ اسۡمُ اللّٰهِ كَثِيۡرًا﴾ ’’اللہ کا نام بہت زیادہ۔‘‘ یعنی ان عبادت گاہوں کے اندر نماز قائم کی جاتی ہے، کتب الہیہ کی تلاوت ہوتی ہے اور مختلف طریقوں سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیاجاتا ہے اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے نہ روکے توکفار مسلمانوں پر غالب آجائیں ، ان کے معابد کو تباہ کر دیں اور دین کے بارے میں ان کو آزمائش میں مبتلا کر دیں ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جہاد جارح کی جارحیت اور ایذارسانی کا سدباب کرنے اور بعض دیگر مقاصد کے لیے مشروع کیا گیا ہے، نیز یہ اس امر کی بھی دلیل ہے کہ وہ شہر جہاں امن اور اطمینان سے اللہ تعالیٰ کی عبادت ہوتی ہے، اس کی مساجد آباد ہیں جہاں دین کے تمام شعائر قائم ہیں ، یہ مجاہدین کی فضیلت اور ان کی برکت کی وجہ سے ہے۔ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے کفار کی ریشہ دوانیوں کا سدباب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَلَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾(البقرۃ:2؍251) ’’اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے نہ ہٹاتا رہے تو زمین میں فساد برپا ہو جائے مگر اللہ تعالیٰ جہان والوں پر بڑا ہی فضل کرتا ہے۔‘‘ اگر آپ یہ اعتراض کریں کہ ہم آج کل مسلمانوں کی مساجد کو آباد دیکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان مساجد میں ایک چھوٹی سی امارت اور ایک غیر منظم حکومت قائم ہوتی ہے حالانکہ ان پر اردگرد کے فرنگیوں کے خلاف جہاد لازم ہے بلکہ ہم ایسی مساجد بھی دیکھتے ہیں جو کفار کی حکومت اور ان کے انتظام کے تحت آباد ہیں ۔ اہل مسجد پر امن اور مطمئن ہیں حالانکہ کافر حکومتوں کو قدرت اور طاقت حاصل ہے کہ وہ ان مساجد کو منہدم کر دیں ۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے نہ ہٹائے تو یہ معابد منہدم کر دیے جائیں اور ہم نے تو لوگوں کو ایک دوسرے کو ہٹاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اس اعتراض اور اشکال کا جواب، اس آیت کریمہ کے عموم میں داخل اور اس کے افراد میں سے ایک فرد ہے۔ جو کوئی زمانہ ٔجدید کی حکومتوں کے حالات اور ان کے نظام کی معرفت رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ ان حکومتوں کے تحت زندگی بسر کرنے والا ہر گروہ اور ہر قوم کو، اس مملکت کا رکن، اس کے اجزائے حکومت میں سے ایک جزو تصور کیا جاتا ہے خواہ یہ گروہ اپنی تعداد کی بنا پر اقتدار میں ہو، خواہ اپنی حربی استعداد یا مال یا علم یا خدمات کی بنا پر اقتدار میں شریک ہو۔ حکومتیں اس گروہ کے دینی اور دنیاوی مصالح و مفادات کی رعایت رکھتی ہیں اور اس بات سے ڈرتی ہیں کہ اگر انھوں نے ان کے مصالح کی رعایت نہ رکھی تو حکومت کے انتظام میں خلل واقع ہو جائے گا اور حکومت کے بعض ارکان مفقود ہو جائیں گے۔ پس اس سبب سے دین کے معاملات قائم ہیں ۔ خاص طور پر مساجد کا نظم و نسق… اَلْحَمْدُللّٰہ… بہترین طریقے سے ہورہا ہے حتیٰ کہ بڑے بڑے ممالک کے درالحکومتوں میں مساجد کا انتظام انتہائی اچھے طریقے سے چل رہا ہے۔ ان ممالک کی حکومتیں ، اپنی مسلمان رعایا کی دل جوئی کی خاطر اس بات کا پورا خیال رکھتی ہیں ، حالانکہ ان نصرانی ممالک کے درمیان آپس میں ایک دوسرے کے خلاف بغض اور حسد موجود ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ یہ بغض اور حسد ان کے درمیان روز قیامت تک موجود رہے گا۔ پس مسلمان حکومت، جو اپنا دفاع کرنے کی طاقت نہیں رکھتی، ان کے آپس کے افتراق اور حسد کی وجہ سے ان کی جارحیت سے محفوظ رہتی ہے۔ کوئی ملک اس مسلمان ملک کے خلاف اس خوف سے جارحیت کا ارتکاب کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کہ وہ کسی اور ملک کی حمایت اور مدد حاصل کرے گا۔ علاوہ ازیں یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اسلام اور مسلمانوں کی نصرت کا مشاہدہ کروائے جس کا اس نے اپنی کتاب میں وعدہ کررکھا ہے اور دین کی طرف مسلمانوں کے رجوع کی ضرورت کے شعور کے اجاگر ہونے کی بنا پر اس نصرت کے اسباب ظاہر ہو گئے ہیں … وللہ الحمد … اور شعور عمل کی بنیاد ہے … ہم اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہم پر اپنی نعمت کا اتمام کرے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا جو واقع کے مطابق سچ ثابت ہوا، فرمایا:﴿ وَلَيَنۡصُرَنَّ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے جو اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راستے میں جہاد کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيۡزٌ ﴾ یعنی وہ پوری قوت کا مالک اور غالب ہے اس کے سامنے کسی کی کوئی مجال نہیں ۔ وہ تمام مخلوق پر غالب ہے ان کی پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ پس اے مسلمانو! خوش ہو جاؤ کہ اگرچہ تم تعداد اور سازوسامان کے اعتبار سے کمزور ہو اور تمھارا دشمن طاقتور ہے مگر تمھیں قوت والی اور غالب ہستی پر بھروسہ اور اس ذات پر اعتماد ہے جس نے تمھیں اور تمھارے اعمال کو تخلیق کیا۔ پس وہ تمام اسباب اختیار کرو جن کو استعمال کرنے کا تم کو حکم دیا گیا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو، وہ ضرور تمھاری مدد کرے گا۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَنۡصُرُوا اللّٰهَ يَنۡصُرۡؔكُمۡ وَيُثَبِّتۡ اَقۡدَامَكُمۡ ﴾(محمد:47؍7) ’’اے ایمان لانے والے لوگو ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں ثابت قدم رکھے گا۔‘‘ اے مسلمانو ! ایمان اور عمل صالح کی خاطر اٹھ کھڑے ہو! ﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١۪ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِي ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا١ؕ يَعۡبُدُوۡنَنِيۡ۠ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِيۡ شَيۡـًٔـا﴾(النور:24؍55) ’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین کی خلافت عطا کرے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو زمین کی خلافت عطا کی تھی، ان کے دین کو ان کے لیے مستحکم کردے گا، جسے اللہ نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا، وہ میری عبادت کریں گے اورمیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔‘‘ [41] پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی علامت بیان فرمائی ہے جو اس کی مدد کرتے ہیں ۔ یہی علامت ان کی پہچان ہے اور جو کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی مدد کرتا ہے مگر وہ اس وصف سے متصف نہیں ہوتا تو وہ جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ علامت بیان فرمائی ہے۔ ﴿ اَلَّذِيۡنَ اِنۡ مَّؔكَّـنّٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ﴾ یعنی اگر ہم ان کو زمین کا مالک بنا دیں اور ان کو زمین کا تسلط بخش دیں اور کوئی ان کی معارضت اور مخالفت کرنے والا باقی نہ رہے ﴿ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ تو وہ نماز کے اوقات میں نماز کو اس کی تمام حدود، ارکان، شرائط، جمعہ اور جماعت کے ساتھ قائم کرتے ہیں ﴿ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ جو ان پر خاص طور پر اور رعایا پر عام طور پر واجب ہے، یہ زكاة وہ مستحقین کو اداکرتے ہیں ﴿ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ نیکیوں کا حکم دیتے ہیں ۔ (معروف) ہر اس کام کو شامل ہے جو عقلاً اور شرعاً حقوق اللہ اور حقوق العباد کے اعتبار سے نیک ہو۔ ﴿ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برائی سے وہ روکتے ہیں ۔‘‘ ہر برائی جس کی قباحت شرعاً اور عقلاً معروف ہو (منکر) کہلاتی ہے۔ کسی چیز کے حکم دینے اور اس کے منع کرنے میں ہر وہ چیز داخل ہے جس کے بغیر اس کی تکمیل ممکن نہ ہو۔ پس جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تعلیم و تعلم پر موقوف ہے تو لوگوں کو تعلیم اور تعلم پر مجبور کرتے ہیں اور جب امربالمعروف اور نہی عن المنکر، شرعی طور پر مقرر کردہ یا غیر مقرر کردہ تادیب پر موقوف ہو، مثلاً:مختلف قسم کی تعزیرات تو انھیں قائم کرتے ہیں ۔ جب یہ معاملہ اس بات پر موقوف ہو کہ لوگ کچھ امور کے خوگر ہوں جن کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اتمام ممکن نہیں تو ان پر ان امور کو لازم کیا جائے گااور اسی طرح معاملات ہیں کہ ان کے بغیر اگر امربالمعروف یا نہی عن المنکر ممکن نہ ہو تو ان کا اہتمام ضروری ہو گا۔﴿وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ ﴾ یعنی تمام امور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اچھا انجام تقویٰ ہی کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن بادشاہوں کو بندوں پر تسلط بخشا اور انھوں نے اللہ کے حکم کو نافذ کیا ان کی حالت رشد و ہدایت پر مبنی اور ان کی عاقبت قابل ستائش ہے۔اور وہ بادشاہ، جو جبر سے لوگوں پر مسلط ہو جاتا ہے پھر وہ اپنی خواہشات نفس کو ان پر نافذ کرتا ہے تو اقتدار اگرچہ ایک مقررہ وقت تک اس کے پاس رہتا ہے تاہم اس کا انجام ناقابل ستائش، اس کی حکومت نامقبول اور اس کی عاقبت مذموم ہے۔
22:42

وَإِن يُكَذِّبُوكَ فَقَدۡ كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوحٖ وَعَادٞ وَثَمُودُ

اور اگر جھٹلائیں آپ کو تو تحقیق جھٹلایا ہے ان سے پہلے قوم نوح نےاور عاد اور ثمود نے (42) اورقوم ابراہیم اور قوم لوط نے (43) اور اہل مدین نے بھی اور جھٹلائے گئے موسی بھی، پس مہلت دی میں نے کافروں کو، پھر میں نے پکڑا ان کو پس کیسا تھا میرا عذاب؟ (44) پس کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہلاک کر دیا ہم نے ان کو اور وہ ظالم تھیں ، پس وہ گری پڑی ہیں اوپر اپنی چھتوں کےاور (کتنے ہی) کنویں ہیں ناکارہ پڑے ہوئے اور (کتنے ہی) محل ہیں مضبوط (ویران)؟ (45) کیا پس نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں ؟ کہ ہوتے ان کے دل کہ سمجھتے وہ ان کے ساتھ یا (ہوتے ان کے) کان کہ وہ سنتے ان کے ساتھ، پس بلاشبہ قصہ یہ ہے کہ نہیں اندھی ہوتیں آنکھیں لیکن اندھے ہوتے ہیں دل، وہ جو سینوں میں ہیں (46) [44-42] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو اور یہ امت بھی کوئی پہلی امت نہیں جس نے اپنے رسول کو جھٹلایا ہے۔ ﴿ فَقَدۡ كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ وَّثَمُوۡدُ۰۰وَقَوۡمُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ وَقَوۡمُ لُوۡطٍ ۰۰ وَّاَصۡحٰؔبُ مَدۡيَنَ وَؔكُذِّبَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’بلاشبہ ان سے پہلے قومِ نوح نے، عاد و و ثمود نے، قوم ابراہیم و قومِ لوط نے اور اصحاب مدین (قوم شعیب) نے رسولوں کو جھٹلایا، موسیٰ u کی بھی تکذیب کی گئی۔‘‘ ﴿ فَاَمۡلَيۡتُ لِلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ یعنی تکذیب کرنے والوں کو میں نے ڈھیل دی۔ ان کو سزا دینے میں میں نے جلدی نہ کی، یہاں تک کہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اپنے کفر و شر میں بڑھتے ہی چلے گئے ﴿ثُمَّ اَخَذۡتُهُمۡ ﴾ پھر میں نے ان کوغالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی طرح عذاب کے ذریعے سے گرفت میں لے لیا۔ ﴿فَكَيۡفَ كَانَ نَؔكِيۡرِ ﴾ پھر دیکھا ان کے کفر اور ان کی تکذیب پر میری نکیر کیسی تھی اور اس کا کیسا حال تھا۔ ان کے لیے بدترین سزا اور قبیح ترین عذاب تھا۔ ان میں سے بعض کو غرق کردیا گیا، بعض کو ایک چنگھاڑ نے آلیا اور بعض طوفانی ہوا کے ذریعے ہلاک کر دیے گئے، بعض کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور بعض کو چھتری والے دن کے عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا، لہٰذا تکذیب کرنے والوں کو ان قوموں سے عبرت پکڑنی چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی وہی عذاب آ لے جو گزشتہ بدکردار قوموں پر نازل ہوا یہ ان سے بہتر نہیں ہیں اور نہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں ہی میں براء ت کی کوئی ضمانت ہے۔ [45] ان جیسے کتنے ہی لوگ ہیں جن کو عذاب سے ہلاک کیا گیا، اس لیے فرمایا:﴿ فَكَاَيِّنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ یعنی کتنی ہی بستیاں ہیں ﴿ اَهۡلَكۡنٰهَا ﴾ جن کو ہم نے دنیاوی رسوائی کے ساتھ سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا۔ ﴿ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ﴾ اور ان کی حالت یہ تھی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار اور رسول کی تکذیب کرکے ظلم کا ارتکاب کیا تھا۔ ان کے لیے ہماری سزا ظلم نہ تھی۔ ﴿ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوۡشِهَا ﴾پس ان کے گھر منہدم ہوکر اجڑے پڑے ہیں ، ان کے محل اور عمارتیں اپنی چھتوں پر الٹی پڑی ہیں ۔ کبھی یہ آباد تھیں اب ویران پڑی ہیں ، کبھی اپنے رہنے والوں کے ساتھ معمور تھیں اب وہاں وحشت ٹپکتی ہے۔﴿ وَبِئۡرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصۡرٍ مَّشِيۡدٍ ﴾ کتنے ہی کنویں ہیں جہاں کبھی پانی پینے اور مویشیوں کو پلانے کے لیے لوگوں کا ازدحام ہوا کرتا تھا۔ اب ان کنوؤں کے مالک مفقود اور پانی پینے والے معدوم ہیں ، کتنے ہی محل اور قصر ہیں جن کے لیے ان کے رہنے والوں نے مشقت اٹھائی ان کو چونے سے مضبوط کیا، ان کو بلند کیا، ان کو محفوظ کیا اور ان کو خوب سجایا مگر جب اللہ کا حکم آگیا تو کچھ بھی ان کے کام نہ آیا اور یہ محل خالی پڑے رہ گئے اور ان میں رہنے والے عبرت پکڑنے والوں کے لیے سامان عبرت اور فکر و نظر رکھنے والوں کے لیے مثال بن گئے۔ [46] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو زمین میں چلنے پھرنے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں اور عبرت پکڑیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ کیا وہ اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین میں چلے پھرے نہیں ۔ ﴿ فَتَكُوۡنَ لَهُمۡ قُلُوۡبٌ يَّعۡقِلُوۡنَ بِهَاۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھتے اور عبرت کے لیے ان میں غور و فکر کرتے۔ ﴿ اَوۡ اٰذَانٌ يَّسۡمَعُوۡنَ بِهَا﴾ یعنی گزرے ہوئے لوگوں کے واقعات اور جن قوموں پر عذاب نازل کیا گیا ان کی خبریں سنتے… وگرنہ محض آنکھوں اور کانوں سے سننا اور تفکر اور عبرت سے خالی ہوکر زمین میں چلنا پھرنا کوئی فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے مطلوب کا حصول ممکن ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ فَاِنَّهَا لَا تَعۡمَى الۡاَبۡصَارُ وَلٰكِنۡ تَعۡمَى الۡقُلُوۡبُ الَّتِيۡ فِي الصُّدُوۡرِ ﴾ یعنی یہ اندھا پن جو دین کے لیے ضرر رساں ہے، درحقیقت حق کے بارے میں قلب کا اندھاپن ہے حتیٰ کہ جیسے بصارت کا اندھا مرئیات کا مشاہدہ نہیں کر سکتا اسی طرح بصیرت کا اندھا حق کا مشاہدہ کرنے سے عاری ہے لیکن بصارت کا اندھا تو صرف دنیاوی منفعت تک پہنچنے سے محروم ہے۔
22:43

وَقَوۡمُ إِبۡرَٰهِيمَ وَقَوۡمُ لُوطٖ

اور اگر جھٹلائیں آپ کو تو تحقیق جھٹلایا ہے ان سے پہلے قوم نوح نےاور عاد اور ثمود نے (42) اورقوم ابراہیم اور قوم لوط نے (43) اور اہل مدین نے بھی اور جھٹلائے گئے موسی بھی، پس مہلت دی میں نے کافروں کو، پھر میں نے پکڑا ان کو پس کیسا تھا میرا عذاب؟ (44) پس کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہلاک کر دیا ہم نے ان کو اور وہ ظالم تھیں ، پس وہ گری پڑی ہیں اوپر اپنی چھتوں کےاور (کتنے ہی) کنویں ہیں ناکارہ پڑے ہوئے اور (کتنے ہی) محل ہیں مضبوط (ویران)؟ (45) کیا پس نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں ؟ کہ ہوتے ان کے دل کہ سمجھتے وہ ان کے ساتھ یا (ہوتے ان کے) کان کہ وہ سنتے ان کے ساتھ، پس بلاشبہ قصہ یہ ہے کہ نہیں اندھی ہوتیں آنکھیں لیکن اندھے ہوتے ہیں دل، وہ جو سینوں میں ہیں (46) [44-42] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو اور یہ امت بھی کوئی پہلی امت نہیں جس نے اپنے رسول کو جھٹلایا ہے۔ ﴿ فَقَدۡ كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ وَّثَمُوۡدُ۰۰وَقَوۡمُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ وَقَوۡمُ لُوۡطٍ ۰۰ وَّاَصۡحٰؔبُ مَدۡيَنَ وَؔكُذِّبَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’بلاشبہ ان سے پہلے قومِ نوح نے، عاد و و ثمود نے، قوم ابراہیم و قومِ لوط نے اور اصحاب مدین (قوم شعیب) نے رسولوں کو جھٹلایا، موسیٰ u کی بھی تکذیب کی گئی۔‘‘ ﴿ فَاَمۡلَيۡتُ لِلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ یعنی تکذیب کرنے والوں کو میں نے ڈھیل دی۔ ان کو سزا دینے میں میں نے جلدی نہ کی، یہاں تک کہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اپنے کفر و شر میں بڑھتے ہی چلے گئے ﴿ثُمَّ اَخَذۡتُهُمۡ ﴾ پھر میں نے ان کوغالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی طرح عذاب کے ذریعے سے گرفت میں لے لیا۔ ﴿فَكَيۡفَ كَانَ نَؔكِيۡرِ ﴾ پھر دیکھا ان کے کفر اور ان کی تکذیب پر میری نکیر کیسی تھی اور اس کا کیسا حال تھا۔ ان کے لیے بدترین سزا اور قبیح ترین عذاب تھا۔ ان میں سے بعض کو غرق کردیا گیا، بعض کو ایک چنگھاڑ نے آلیا اور بعض طوفانی ہوا کے ذریعے ہلاک کر دیے گئے، بعض کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور بعض کو چھتری والے دن کے عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا، لہٰذا تکذیب کرنے والوں کو ان قوموں سے عبرت پکڑنی چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی وہی عذاب آ لے جو گزشتہ بدکردار قوموں پر نازل ہوا یہ ان سے بہتر نہیں ہیں اور نہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں ہی میں براء ت کی کوئی ضمانت ہے۔ [45] ان جیسے کتنے ہی لوگ ہیں جن کو عذاب سے ہلاک کیا گیا، اس لیے فرمایا:﴿ فَكَاَيِّنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ یعنی کتنی ہی بستیاں ہیں ﴿ اَهۡلَكۡنٰهَا ﴾ جن کو ہم نے دنیاوی رسوائی کے ساتھ سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا۔ ﴿ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ﴾ اور ان کی حالت یہ تھی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار اور رسول کی تکذیب کرکے ظلم کا ارتکاب کیا تھا۔ ان کے لیے ہماری سزا ظلم نہ تھی۔ ﴿ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوۡشِهَا ﴾پس ان کے گھر منہدم ہوکر اجڑے پڑے ہیں ، ان کے محل اور عمارتیں اپنی چھتوں پر الٹی پڑی ہیں ۔ کبھی یہ آباد تھیں اب ویران پڑی ہیں ، کبھی اپنے رہنے والوں کے ساتھ معمور تھیں اب وہاں وحشت ٹپکتی ہے۔﴿ وَبِئۡرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصۡرٍ مَّشِيۡدٍ ﴾ کتنے ہی کنویں ہیں جہاں کبھی پانی پینے اور مویشیوں کو پلانے کے لیے لوگوں کا ازدحام ہوا کرتا تھا۔ اب ان کنوؤں کے مالک مفقود اور پانی پینے والے معدوم ہیں ، کتنے ہی محل اور قصر ہیں جن کے لیے ان کے رہنے والوں نے مشقت اٹھائی ان کو چونے سے مضبوط کیا، ان کو بلند کیا، ان کو محفوظ کیا اور ان کو خوب سجایا مگر جب اللہ کا حکم آگیا تو کچھ بھی ان کے کام نہ آیا اور یہ محل خالی پڑے رہ گئے اور ان میں رہنے والے عبرت پکڑنے والوں کے لیے سامان عبرت اور فکر و نظر رکھنے والوں کے لیے مثال بن گئے۔ [46] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو زمین میں چلنے پھرنے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں اور عبرت پکڑیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ کیا وہ اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین میں چلے پھرے نہیں ۔ ﴿ فَتَكُوۡنَ لَهُمۡ قُلُوۡبٌ يَّعۡقِلُوۡنَ بِهَاۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھتے اور عبرت کے لیے ان میں غور و فکر کرتے۔ ﴿ اَوۡ اٰذَانٌ يَّسۡمَعُوۡنَ بِهَا﴾ یعنی گزرے ہوئے لوگوں کے واقعات اور جن قوموں پر عذاب نازل کیا گیا ان کی خبریں سنتے… وگرنہ محض آنکھوں اور کانوں سے سننا اور تفکر اور عبرت سے خالی ہوکر زمین میں چلنا پھرنا کوئی فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے مطلوب کا حصول ممکن ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ فَاِنَّهَا لَا تَعۡمَى الۡاَبۡصَارُ وَلٰكِنۡ تَعۡمَى الۡقُلُوۡبُ الَّتِيۡ فِي الصُّدُوۡرِ ﴾ یعنی یہ اندھا پن جو دین کے لیے ضرر رساں ہے، درحقیقت حق کے بارے میں قلب کا اندھاپن ہے حتیٰ کہ جیسے بصارت کا اندھا مرئیات کا مشاہدہ نہیں کر سکتا اسی طرح بصیرت کا اندھا حق کا مشاہدہ کرنے سے عاری ہے لیکن بصارت کا اندھا تو صرف دنیاوی منفعت تک پہنچنے سے محروم ہے۔
22:44

وَأَصۡحَٰبُ مَدۡيَنَۖ وَكُذِّبَ مُوسَىٰۖ فَأَمۡلَيۡتُ لِلۡكَٰفِرِينَ ثُمَّ أَخَذۡتُهُمۡۖ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيرِ

اور اگر جھٹلائیں آپ کو تو تحقیق جھٹلایا ہے ان سے پہلے قوم نوح نےاور عاد اور ثمود نے (42) اورقوم ابراہیم اور قوم لوط نے (43) اور اہل مدین نے بھی اور جھٹلائے گئے موسی بھی، پس مہلت دی میں نے کافروں کو، پھر میں نے پکڑا ان کو پس کیسا تھا میرا عذاب؟ (44) پس کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہلاک کر دیا ہم نے ان کو اور وہ ظالم تھیں ، پس وہ گری پڑی ہیں اوپر اپنی چھتوں کےاور (کتنے ہی) کنویں ہیں ناکارہ پڑے ہوئے اور (کتنے ہی) محل ہیں مضبوط (ویران)؟ (45) کیا پس نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں ؟ کہ ہوتے ان کے دل کہ سمجھتے وہ ان کے ساتھ یا (ہوتے ان کے) کان کہ وہ سنتے ان کے ساتھ، پس بلاشبہ قصہ یہ ہے کہ نہیں اندھی ہوتیں آنکھیں لیکن اندھے ہوتے ہیں دل، وہ جو سینوں میں ہیں (46) [44-42] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو اور یہ امت بھی کوئی پہلی امت نہیں جس نے اپنے رسول کو جھٹلایا ہے۔ ﴿ فَقَدۡ كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ وَّثَمُوۡدُ۰۰وَقَوۡمُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ وَقَوۡمُ لُوۡطٍ ۰۰ وَّاَصۡحٰؔبُ مَدۡيَنَ وَؔكُذِّبَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’بلاشبہ ان سے پہلے قومِ نوح نے، عاد و و ثمود نے، قوم ابراہیم و قومِ لوط نے اور اصحاب مدین (قوم شعیب) نے رسولوں کو جھٹلایا، موسیٰ u کی بھی تکذیب کی گئی۔‘‘ ﴿ فَاَمۡلَيۡتُ لِلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ یعنی تکذیب کرنے والوں کو میں نے ڈھیل دی۔ ان کو سزا دینے میں میں نے جلدی نہ کی، یہاں تک کہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اپنے کفر و شر میں بڑھتے ہی چلے گئے ﴿ثُمَّ اَخَذۡتُهُمۡ ﴾ پھر میں نے ان کوغالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی طرح عذاب کے ذریعے سے گرفت میں لے لیا۔ ﴿فَكَيۡفَ كَانَ نَؔكِيۡرِ ﴾ پھر دیکھا ان کے کفر اور ان کی تکذیب پر میری نکیر کیسی تھی اور اس کا کیسا حال تھا۔ ان کے لیے بدترین سزا اور قبیح ترین عذاب تھا۔ ان میں سے بعض کو غرق کردیا گیا، بعض کو ایک چنگھاڑ نے آلیا اور بعض طوفانی ہوا کے ذریعے ہلاک کر دیے گئے، بعض کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور بعض کو چھتری والے دن کے عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا، لہٰذا تکذیب کرنے والوں کو ان قوموں سے عبرت پکڑنی چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی وہی عذاب آ لے جو گزشتہ بدکردار قوموں پر نازل ہوا یہ ان سے بہتر نہیں ہیں اور نہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں ہی میں براء ت کی کوئی ضمانت ہے۔ [45] ان جیسے کتنے ہی لوگ ہیں جن کو عذاب سے ہلاک کیا گیا، اس لیے فرمایا:﴿ فَكَاَيِّنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ یعنی کتنی ہی بستیاں ہیں ﴿ اَهۡلَكۡنٰهَا ﴾ جن کو ہم نے دنیاوی رسوائی کے ساتھ سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا۔ ﴿ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ﴾ اور ان کی حالت یہ تھی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار اور رسول کی تکذیب کرکے ظلم کا ارتکاب کیا تھا۔ ان کے لیے ہماری سزا ظلم نہ تھی۔ ﴿ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوۡشِهَا ﴾پس ان کے گھر منہدم ہوکر اجڑے پڑے ہیں ، ان کے محل اور عمارتیں اپنی چھتوں پر الٹی پڑی ہیں ۔ کبھی یہ آباد تھیں اب ویران پڑی ہیں ، کبھی اپنے رہنے والوں کے ساتھ معمور تھیں اب وہاں وحشت ٹپکتی ہے۔﴿ وَبِئۡرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصۡرٍ مَّشِيۡدٍ ﴾ کتنے ہی کنویں ہیں جہاں کبھی پانی پینے اور مویشیوں کو پلانے کے لیے لوگوں کا ازدحام ہوا کرتا تھا۔ اب ان کنوؤں کے مالک مفقود اور پانی پینے والے معدوم ہیں ، کتنے ہی محل اور قصر ہیں جن کے لیے ان کے رہنے والوں نے مشقت اٹھائی ان کو چونے سے مضبوط کیا، ان کو بلند کیا، ان کو محفوظ کیا اور ان کو خوب سجایا مگر جب اللہ کا حکم آگیا تو کچھ بھی ان کے کام نہ آیا اور یہ محل خالی پڑے رہ گئے اور ان میں رہنے والے عبرت پکڑنے والوں کے لیے سامان عبرت اور فکر و نظر رکھنے والوں کے لیے مثال بن گئے۔ [46] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو زمین میں چلنے پھرنے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں اور عبرت پکڑیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ کیا وہ اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین میں چلے پھرے نہیں ۔ ﴿ فَتَكُوۡنَ لَهُمۡ قُلُوۡبٌ يَّعۡقِلُوۡنَ بِهَاۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھتے اور عبرت کے لیے ان میں غور و فکر کرتے۔ ﴿ اَوۡ اٰذَانٌ يَّسۡمَعُوۡنَ بِهَا﴾ یعنی گزرے ہوئے لوگوں کے واقعات اور جن قوموں پر عذاب نازل کیا گیا ان کی خبریں سنتے… وگرنہ محض آنکھوں اور کانوں سے سننا اور تفکر اور عبرت سے خالی ہوکر زمین میں چلنا پھرنا کوئی فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے مطلوب کا حصول ممکن ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ فَاِنَّهَا لَا تَعۡمَى الۡاَبۡصَارُ وَلٰكِنۡ تَعۡمَى الۡقُلُوۡبُ الَّتِيۡ فِي الصُّدُوۡرِ ﴾ یعنی یہ اندھا پن جو دین کے لیے ضرر رساں ہے، درحقیقت حق کے بارے میں قلب کا اندھاپن ہے حتیٰ کہ جیسے بصارت کا اندھا مرئیات کا مشاہدہ نہیں کر سکتا اسی طرح بصیرت کا اندھا حق کا مشاہدہ کرنے سے عاری ہے لیکن بصارت کا اندھا تو صرف دنیاوی منفعت تک پہنچنے سے محروم ہے۔
22:45

فَكَأَيِّن مِّن قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَٰهَا وَهِيَ ظَالِمَةٞ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئۡرٖ مُّعَطَّلَةٖ وَقَصۡرٖ مَّشِيدٍ

اور اگر جھٹلائیں آپ کو تو تحقیق جھٹلایا ہے ان سے پہلے قوم نوح نےاور عاد اور ثمود نے (42) اورقوم ابراہیم اور قوم لوط نے (43) اور اہل مدین نے بھی اور جھٹلائے گئے موسی بھی، پس مہلت دی میں نے کافروں کو، پھر میں نے پکڑا ان کو پس کیسا تھا میرا عذاب؟ (44) پس کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہلاک کر دیا ہم نے ان کو اور وہ ظالم تھیں ، پس وہ گری پڑی ہیں اوپر اپنی چھتوں کےاور (کتنے ہی) کنویں ہیں ناکارہ پڑے ہوئے اور (کتنے ہی) محل ہیں مضبوط (ویران)؟ (45) کیا پس نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں ؟ کہ ہوتے ان کے دل کہ سمجھتے وہ ان کے ساتھ یا (ہوتے ان کے) کان کہ وہ سنتے ان کے ساتھ، پس بلاشبہ قصہ یہ ہے کہ نہیں اندھی ہوتیں آنکھیں لیکن اندھے ہوتے ہیں دل، وہ جو سینوں میں ہیں (46) [44-42] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو اور یہ امت بھی کوئی پہلی امت نہیں جس نے اپنے رسول کو جھٹلایا ہے۔ ﴿ فَقَدۡ كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ وَّثَمُوۡدُ۰۰وَقَوۡمُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ وَقَوۡمُ لُوۡطٍ ۰۰ وَّاَصۡحٰؔبُ مَدۡيَنَ وَؔكُذِّبَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’بلاشبہ ان سے پہلے قومِ نوح نے، عاد و و ثمود نے، قوم ابراہیم و قومِ لوط نے اور اصحاب مدین (قوم شعیب) نے رسولوں کو جھٹلایا، موسیٰ u کی بھی تکذیب کی گئی۔‘‘ ﴿ فَاَمۡلَيۡتُ لِلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ یعنی تکذیب کرنے والوں کو میں نے ڈھیل دی۔ ان کو سزا دینے میں میں نے جلدی نہ کی، یہاں تک کہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اپنے کفر و شر میں بڑھتے ہی چلے گئے ﴿ثُمَّ اَخَذۡتُهُمۡ ﴾ پھر میں نے ان کوغالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی طرح عذاب کے ذریعے سے گرفت میں لے لیا۔ ﴿فَكَيۡفَ كَانَ نَؔكِيۡرِ ﴾ پھر دیکھا ان کے کفر اور ان کی تکذیب پر میری نکیر کیسی تھی اور اس کا کیسا حال تھا۔ ان کے لیے بدترین سزا اور قبیح ترین عذاب تھا۔ ان میں سے بعض کو غرق کردیا گیا، بعض کو ایک چنگھاڑ نے آلیا اور بعض طوفانی ہوا کے ذریعے ہلاک کر دیے گئے، بعض کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور بعض کو چھتری والے دن کے عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا، لہٰذا تکذیب کرنے والوں کو ان قوموں سے عبرت پکڑنی چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی وہی عذاب آ لے جو گزشتہ بدکردار قوموں پر نازل ہوا یہ ان سے بہتر نہیں ہیں اور نہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں ہی میں براء ت کی کوئی ضمانت ہے۔ [45] ان جیسے کتنے ہی لوگ ہیں جن کو عذاب سے ہلاک کیا گیا، اس لیے فرمایا:﴿ فَكَاَيِّنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ یعنی کتنی ہی بستیاں ہیں ﴿ اَهۡلَكۡنٰهَا ﴾ جن کو ہم نے دنیاوی رسوائی کے ساتھ سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا۔ ﴿ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ﴾ اور ان کی حالت یہ تھی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار اور رسول کی تکذیب کرکے ظلم کا ارتکاب کیا تھا۔ ان کے لیے ہماری سزا ظلم نہ تھی۔ ﴿ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوۡشِهَا ﴾پس ان کے گھر منہدم ہوکر اجڑے پڑے ہیں ، ان کے محل اور عمارتیں اپنی چھتوں پر الٹی پڑی ہیں ۔ کبھی یہ آباد تھیں اب ویران پڑی ہیں ، کبھی اپنے رہنے والوں کے ساتھ معمور تھیں اب وہاں وحشت ٹپکتی ہے۔﴿ وَبِئۡرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصۡرٍ مَّشِيۡدٍ ﴾ کتنے ہی کنویں ہیں جہاں کبھی پانی پینے اور مویشیوں کو پلانے کے لیے لوگوں کا ازدحام ہوا کرتا تھا۔ اب ان کنوؤں کے مالک مفقود اور پانی پینے والے معدوم ہیں ، کتنے ہی محل اور قصر ہیں جن کے لیے ان کے رہنے والوں نے مشقت اٹھائی ان کو چونے سے مضبوط کیا، ان کو بلند کیا، ان کو محفوظ کیا اور ان کو خوب سجایا مگر جب اللہ کا حکم آگیا تو کچھ بھی ان کے کام نہ آیا اور یہ محل خالی پڑے رہ گئے اور ان میں رہنے والے عبرت پکڑنے والوں کے لیے سامان عبرت اور فکر و نظر رکھنے والوں کے لیے مثال بن گئے۔ [46] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو زمین میں چلنے پھرنے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں اور عبرت پکڑیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ کیا وہ اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین میں چلے پھرے نہیں ۔ ﴿ فَتَكُوۡنَ لَهُمۡ قُلُوۡبٌ يَّعۡقِلُوۡنَ بِهَاۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھتے اور عبرت کے لیے ان میں غور و فکر کرتے۔ ﴿ اَوۡ اٰذَانٌ يَّسۡمَعُوۡنَ بِهَا﴾ یعنی گزرے ہوئے لوگوں کے واقعات اور جن قوموں پر عذاب نازل کیا گیا ان کی خبریں سنتے… وگرنہ محض آنکھوں اور کانوں سے سننا اور تفکر اور عبرت سے خالی ہوکر زمین میں چلنا پھرنا کوئی فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے مطلوب کا حصول ممکن ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ فَاِنَّهَا لَا تَعۡمَى الۡاَبۡصَارُ وَلٰكِنۡ تَعۡمَى الۡقُلُوۡبُ الَّتِيۡ فِي الصُّدُوۡرِ ﴾ یعنی یہ اندھا پن جو دین کے لیے ضرر رساں ہے، درحقیقت حق کے بارے میں قلب کا اندھاپن ہے حتیٰ کہ جیسے بصارت کا اندھا مرئیات کا مشاہدہ نہیں کر سکتا اسی طرح بصیرت کا اندھا حق کا مشاہدہ کرنے سے عاری ہے لیکن بصارت کا اندھا تو صرف دنیاوی منفعت تک پہنچنے سے محروم ہے۔
22:46

أَفَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَتَكُونَ لَهُمۡ قُلُوبٞ يَعۡقِلُونَ بِهَآ أَوۡ ءَاذَانٞ يَسۡمَعُونَ بِهَاۖ فَإِنَّهَا لَا تَعۡمَى ٱلۡأَبۡصَٰرُ وَلَٰكِن تَعۡمَى ٱلۡقُلُوبُ ٱلَّتِي فِي ٱلصُّدُورِ

اور اگر جھٹلائیں آپ کو تو تحقیق جھٹلایا ہے ان سے پہلے قوم نوح نےاور عاد اور ثمود نے (42) اورقوم ابراہیم اور قوم لوط نے (43) اور اہل مدین نے بھی اور جھٹلائے گئے موسی بھی، پس مہلت دی میں نے کافروں کو، پھر میں نے پکڑا ان کو پس کیسا تھا میرا عذاب؟ (44) پس کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہلاک کر دیا ہم نے ان کو اور وہ ظالم تھیں ، پس وہ گری پڑی ہیں اوپر اپنی چھتوں کےاور (کتنے ہی) کنویں ہیں ناکارہ پڑے ہوئے اور (کتنے ہی) محل ہیں مضبوط (ویران)؟ (45) کیا پس نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں ؟ کہ ہوتے ان کے دل کہ سمجھتے وہ ان کے ساتھ یا (ہوتے ان کے) کان کہ وہ سنتے ان کے ساتھ، پس بلاشبہ قصہ یہ ہے کہ نہیں اندھی ہوتیں آنکھیں لیکن اندھے ہوتے ہیں دل، وہ جو سینوں میں ہیں (46) [44-42] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو اور یہ امت بھی کوئی پہلی امت نہیں جس نے اپنے رسول کو جھٹلایا ہے۔ ﴿ فَقَدۡ كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ وَّثَمُوۡدُ۰۰وَقَوۡمُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ وَقَوۡمُ لُوۡطٍ ۰۰ وَّاَصۡحٰؔبُ مَدۡيَنَ وَؔكُذِّبَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’بلاشبہ ان سے پہلے قومِ نوح نے، عاد و و ثمود نے، قوم ابراہیم و قومِ لوط نے اور اصحاب مدین (قوم شعیب) نے رسولوں کو جھٹلایا، موسیٰ u کی بھی تکذیب کی گئی۔‘‘ ﴿ فَاَمۡلَيۡتُ لِلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ یعنی تکذیب کرنے والوں کو میں نے ڈھیل دی۔ ان کو سزا دینے میں میں نے جلدی نہ کی، یہاں تک کہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اپنے کفر و شر میں بڑھتے ہی چلے گئے ﴿ثُمَّ اَخَذۡتُهُمۡ ﴾ پھر میں نے ان کوغالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی طرح عذاب کے ذریعے سے گرفت میں لے لیا۔ ﴿فَكَيۡفَ كَانَ نَؔكِيۡرِ ﴾ پھر دیکھا ان کے کفر اور ان کی تکذیب پر میری نکیر کیسی تھی اور اس کا کیسا حال تھا۔ ان کے لیے بدترین سزا اور قبیح ترین عذاب تھا۔ ان میں سے بعض کو غرق کردیا گیا، بعض کو ایک چنگھاڑ نے آلیا اور بعض طوفانی ہوا کے ذریعے ہلاک کر دیے گئے، بعض کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور بعض کو چھتری والے دن کے عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا، لہٰذا تکذیب کرنے والوں کو ان قوموں سے عبرت پکڑنی چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی وہی عذاب آ لے جو گزشتہ بدکردار قوموں پر نازل ہوا یہ ان سے بہتر نہیں ہیں اور نہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں ہی میں براء ت کی کوئی ضمانت ہے۔ [45] ان جیسے کتنے ہی لوگ ہیں جن کو عذاب سے ہلاک کیا گیا، اس لیے فرمایا:﴿ فَكَاَيِّنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ یعنی کتنی ہی بستیاں ہیں ﴿ اَهۡلَكۡنٰهَا ﴾ جن کو ہم نے دنیاوی رسوائی کے ساتھ سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا۔ ﴿ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ﴾ اور ان کی حالت یہ تھی کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار اور رسول کی تکذیب کرکے ظلم کا ارتکاب کیا تھا۔ ان کے لیے ہماری سزا ظلم نہ تھی۔ ﴿ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوۡشِهَا ﴾پس ان کے گھر منہدم ہوکر اجڑے پڑے ہیں ، ان کے محل اور عمارتیں اپنی چھتوں پر الٹی پڑی ہیں ۔ کبھی یہ آباد تھیں اب ویران پڑی ہیں ، کبھی اپنے رہنے والوں کے ساتھ معمور تھیں اب وہاں وحشت ٹپکتی ہے۔﴿ وَبِئۡرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصۡرٍ مَّشِيۡدٍ ﴾ کتنے ہی کنویں ہیں جہاں کبھی پانی پینے اور مویشیوں کو پلانے کے لیے لوگوں کا ازدحام ہوا کرتا تھا۔ اب ان کنوؤں کے مالک مفقود اور پانی پینے والے معدوم ہیں ، کتنے ہی محل اور قصر ہیں جن کے لیے ان کے رہنے والوں نے مشقت اٹھائی ان کو چونے سے مضبوط کیا، ان کو بلند کیا، ان کو محفوظ کیا اور ان کو خوب سجایا مگر جب اللہ کا حکم آگیا تو کچھ بھی ان کے کام نہ آیا اور یہ محل خالی پڑے رہ گئے اور ان میں رہنے والے عبرت پکڑنے والوں کے لیے سامان عبرت اور فکر و نظر رکھنے والوں کے لیے مثال بن گئے۔ [46] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو زمین میں چلنے پھرنے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں اور عبرت پکڑیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ کیا وہ اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین میں چلے پھرے نہیں ۔ ﴿ فَتَكُوۡنَ لَهُمۡ قُلُوۡبٌ يَّعۡقِلُوۡنَ بِهَاۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھتے اور عبرت کے لیے ان میں غور و فکر کرتے۔ ﴿ اَوۡ اٰذَانٌ يَّسۡمَعُوۡنَ بِهَا﴾ یعنی گزرے ہوئے لوگوں کے واقعات اور جن قوموں پر عذاب نازل کیا گیا ان کی خبریں سنتے… وگرنہ محض آنکھوں اور کانوں سے سننا اور تفکر اور عبرت سے خالی ہوکر زمین میں چلنا پھرنا کوئی فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے مطلوب کا حصول ممکن ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ فَاِنَّهَا لَا تَعۡمَى الۡاَبۡصَارُ وَلٰكِنۡ تَعۡمَى الۡقُلُوۡبُ الَّتِيۡ فِي الصُّدُوۡرِ ﴾ یعنی یہ اندھا پن جو دین کے لیے ضرر رساں ہے، درحقیقت حق کے بارے میں قلب کا اندھاپن ہے حتیٰ کہ جیسے بصارت کا اندھا مرئیات کا مشاہدہ نہیں کر سکتا اسی طرح بصیرت کا اندھا حق کا مشاہدہ کرنے سے عاری ہے لیکن بصارت کا اندھا تو صرف دنیاوی منفعت تک پہنچنے سے محروم ہے۔
22:47

وَيَسۡتَعۡجِلُونَكَ بِٱلۡعَذَابِ وَلَن يُخۡلِفَ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥۚ وَإِنَّ يَوۡمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلۡفِ سَنَةٖ مِّمَّا تَعُدُّونَ

اور وہ (لوگ) جلدی طلب کرتے ہیں آپ سے عذاب کواور ہرگز نہیں خلاف کرے گا اللہ اپنے وعدے کےاور بلاشبہ ایک دن نزدیک آپ کے رب کے مانند ایک ہزار سال کے ہے ان (دنوں ) سے جوتم گنتے ہو (47) اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ مہلت دی میں نے ان کو جبکہ وہ ظالم تھیں ، پھر میں نے پکڑا ان کواور میری طرف ہی (سب کی) واپسی ہے (48) [47] عذاب کی تکذیب کرنے والے، اپنی جہالت، ظلم، عناد، اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرتے ہوئے آپﷺ سے جلدی عذاب نازل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عذاب کا جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور واقع ہو کر رہے گا کوئی روکنے والا اس کو روک نہیں سکتا۔ رہا اس عذاب کا جلدی آنا تو اے محمد ! (ﷺ) یہ آپ کے اختیار میں نہیں ان کے جلدی مچانے اور ہمیں عاجز گرداننے پر، آپﷺ کو ہلکا نہ سمجھیں ، قیامت کا دن ان کے سامنے ہے، جس میں اللہ تعالیٰ تمام اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا، ان کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی اور ان کو دردناک عذاب میں ڈالا جائے گا، اس لیے فرمایا:﴿ وَاِنَّ يَوۡمًا عِنۡدَ رَبِّكَ كَاَلۡفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴾ یعنی قیامت کا دن اپنی طوالت، اپنی شدت اور اپنی ہولناکی کی وجہ سے ہزار برس کا لگے گا … لہذا خواہ ان پر دنیا کا عذاب نازل ہو جائے یا آخرت تک عذاب کو موخر کر دیا جائے یہ دن تو بہرطور ان پر آکر رہے گا۔اور یہ احتمال بھی ہے کہ مراد یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نہایت حلم والا ہے، پس اگر وہ عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں تو (انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک دن تمھارے شمار کے ہزاربرس کے برابر ہے۔ پس یہ مدت خواہ تم اس کو کتنا ہی لمبا کیوں نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کتنا ہی دور کیوں نہ سمجھو، اللہ تعالیٰ بہت طویل مدتوں تک مہلت عطا کرتا رہتا ہے مگر حساب لیے بغیر، بے فائدہ نہیں چھوڑتا حتیٰ کہ جب وہ ظالموں کو اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیتا ہے تو پھر ان کو چھوڑتا نہیں ۔ [48]﴿ وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَمۡلَيۡتُ لَهَا ﴾ یعنی میں نے ایک طویل مدت تک ان کو مہلت دی ﴿ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ﴾ یعنی ان کے ظلم کے باوجود اور ان کا ظلم میں سبقت کرنا ہمارے عذاب میں جلدی کا موجب نہ بنا ﴿ ثُمَّ اَخَذۡتُهَا﴾ پھر میں نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا۔ ﴿ وَاِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ دنیا میں ان پر عذاب نازل کرنے کے باوجود، انھیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ انھیں ان کے گناہوں کی پاداش میں عذاب دے گا۔ یہ ظالم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے فریب نہ کھائیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نازل ہونے سے بچیں ۔
22:48

وَكَأَيِّن مِّن قَرۡيَةٍ أَمۡلَيۡتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٞ ثُمَّ أَخَذۡتُهَا وَإِلَيَّ ٱلۡمَصِيرُ

اور وہ (لوگ) جلدی طلب کرتے ہیں آپ سے عذاب کواور ہرگز نہیں خلاف کرے گا اللہ اپنے وعدے کےاور بلاشبہ ایک دن نزدیک آپ کے رب کے مانند ایک ہزار سال کے ہے ان (دنوں ) سے جوتم گنتے ہو (47) اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ مہلت دی میں نے ان کو جبکہ وہ ظالم تھیں ، پھر میں نے پکڑا ان کواور میری طرف ہی (سب کی) واپسی ہے (48) [47] عذاب کی تکذیب کرنے والے، اپنی جہالت، ظلم، عناد، اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرتے ہوئے آپﷺ سے جلدی عذاب نازل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عذاب کا جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور واقع ہو کر رہے گا کوئی روکنے والا اس کو روک نہیں سکتا۔ رہا اس عذاب کا جلدی آنا تو اے محمد ! (ﷺ) یہ آپ کے اختیار میں نہیں ان کے جلدی مچانے اور ہمیں عاجز گرداننے پر، آپﷺ کو ہلکا نہ سمجھیں ، قیامت کا دن ان کے سامنے ہے، جس میں اللہ تعالیٰ تمام اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا، ان کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی اور ان کو دردناک عذاب میں ڈالا جائے گا، اس لیے فرمایا:﴿ وَاِنَّ يَوۡمًا عِنۡدَ رَبِّكَ كَاَلۡفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴾ یعنی قیامت کا دن اپنی طوالت، اپنی شدت اور اپنی ہولناکی کی وجہ سے ہزار برس کا لگے گا … لہذا خواہ ان پر دنیا کا عذاب نازل ہو جائے یا آخرت تک عذاب کو موخر کر دیا جائے یہ دن تو بہرطور ان پر آکر رہے گا۔اور یہ احتمال بھی ہے کہ مراد یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نہایت حلم والا ہے، پس اگر وہ عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں تو (انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک دن تمھارے شمار کے ہزاربرس کے برابر ہے۔ پس یہ مدت خواہ تم اس کو کتنا ہی لمبا کیوں نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کتنا ہی دور کیوں نہ سمجھو، اللہ تعالیٰ بہت طویل مدتوں تک مہلت عطا کرتا رہتا ہے مگر حساب لیے بغیر، بے فائدہ نہیں چھوڑتا حتیٰ کہ جب وہ ظالموں کو اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیتا ہے تو پھر ان کو چھوڑتا نہیں ۔ [48]﴿ وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَمۡلَيۡتُ لَهَا ﴾ یعنی میں نے ایک طویل مدت تک ان کو مہلت دی ﴿ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ﴾ یعنی ان کے ظلم کے باوجود اور ان کا ظلم میں سبقت کرنا ہمارے عذاب میں جلدی کا موجب نہ بنا ﴿ ثُمَّ اَخَذۡتُهَا﴾ پھر میں نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا۔ ﴿ وَاِلَيَّ الۡمَصِيۡرُ ﴾ دنیا میں ان پر عذاب نازل کرنے کے باوجود، انھیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ انھیں ان کے گناہوں کی پاداش میں عذاب دے گا۔ یہ ظالم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے فریب نہ کھائیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نازل ہونے سے بچیں ۔
22:49

قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَآ أَنَا۠ لَكُمۡ نَذِيرٞ مُّبِينٞ

کہہ دیجیے، اے لوگو! یقینا میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں کھلم کھلا (49)پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے مغفرت ہے اور روزی عزت والی (50) اور وہ لوگ جنھوں نے کوشش کی ہماری آیتوں (کے جھٹلانے) میں (ہمیں ) عاجز کرنے کے لیے، وہی لوگ ہیں جہنمی(51) [49] اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کوحکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں سے مخاطب ہوکر کہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں ، اہل ایمان کو ثواب کی خوشخبری سنانے والے اور کافروں اور ظالموں کو اس کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں ۔ ﴿ مُّبِيۡنٌ﴾ یعنی واضح طور پر ڈرانے والے ہیں ۔ ’’انذار‘‘ سے مراد ایسا ڈرانا ہے جس میں اس امر سے بھی خبردار کیا گیا ہو جس سے ڈرانا مقصود ہے کیونکہ آپﷺ نے جس امر سے ان کو ڈرایا، اس کی صداقت پر روشن اور واضح دلائل قائم كيے۔ [50] پھر اللہ تعالیٰ نے اس انذار اور تبشیر کی تفصیل بیان فرمائی ﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’اہل ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے مغفرت ہے۔‘‘ یعنی ان سے کسی گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ اس سے مراد جنت ہے، یعنی رزق کی اقسام میں بہترین قسم، جو تمام فضائل کی جامع اور تمام کمالات سے بڑھ کر ہے۔ آیت کریمہ کا حاصل معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گھر کر گیا اور پھر ایمان صادق بن گیا … اور اس ایمان کے ساتھ انھوں نے نیک کام بھی كيے، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان گناہوں کی مغفرت ہے جو ان سے واقع ہوگئے تھے اور ان کے لیے جنت میں بہترین رزق ہوگا اور یہ رزق تمام فضائل و کمالات کا جامع ہوگا۔ [51]﴿ وَالَّذِيۡنَ سَعَوۡا فِيۡۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيۡنَ ﴾ ’’وہ لوگ جو ہماری آیتوں کو پست کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ‘‘ یعنی جو بزعم خود اللہ تعالیٰ کی آیات کو نیچا دکھانے کے لیے بڑھ چڑھ کر کوشش کرتے ہیں یہ امید رکھتے ہوئے کہ اسلام کے خلاف ان کی سازش کامیاب ہو جائے گی۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی لوگ ‘‘ جو آیات الٰہی کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنے سے موصوف ہیں ۔‘‘ ﴿ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ ﴾ ’’جہنمی ہیں ۔‘‘ یعنی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے اور ہر وقت وہیں رہیں گے۔ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہوگی نہ لمحہ بھر کے لیے یہ دردناک عذاب ان سے ہٹایا جائے گا۔حاصل معنی یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں اور بزعم خود اہل ایمان کو نیچا دکھانے کے لیے ان کی مخالفت اور ان سے دشمنی کرتے ہیں اور سمجھتے کہ اس طرح وہ اپنا مقصد حاصل کرلیں گے۔ یہ لوگ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں رہیں گے۔
22:50

فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَرِزۡقٞ كَرِيمٞ

کہہ دیجیے، اے لوگو! یقینا میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں کھلم کھلا (49)پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے مغفرت ہے اور روزی عزت والی (50) اور وہ لوگ جنھوں نے کوشش کی ہماری آیتوں (کے جھٹلانے) میں (ہمیں ) عاجز کرنے کے لیے، وہی لوگ ہیں جہنمی(51) [49] اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کوحکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں سے مخاطب ہوکر کہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں ، اہل ایمان کو ثواب کی خوشخبری سنانے والے اور کافروں اور ظالموں کو اس کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں ۔ ﴿ مُّبِيۡنٌ﴾ یعنی واضح طور پر ڈرانے والے ہیں ۔ ’’انذار‘‘ سے مراد ایسا ڈرانا ہے جس میں اس امر سے بھی خبردار کیا گیا ہو جس سے ڈرانا مقصود ہے کیونکہ آپﷺ نے جس امر سے ان کو ڈرایا، اس کی صداقت پر روشن اور واضح دلائل قائم كيے۔ [50] پھر اللہ تعالیٰ نے اس انذار اور تبشیر کی تفصیل بیان فرمائی ﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’اہل ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے مغفرت ہے۔‘‘ یعنی ان سے کسی گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ اس سے مراد جنت ہے، یعنی رزق کی اقسام میں بہترین قسم، جو تمام فضائل کی جامع اور تمام کمالات سے بڑھ کر ہے۔ آیت کریمہ کا حاصل معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گھر کر گیا اور پھر ایمان صادق بن گیا … اور اس ایمان کے ساتھ انھوں نے نیک کام بھی كيے، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان گناہوں کی مغفرت ہے جو ان سے واقع ہوگئے تھے اور ان کے لیے جنت میں بہترین رزق ہوگا اور یہ رزق تمام فضائل و کمالات کا جامع ہوگا۔ [51]﴿ وَالَّذِيۡنَ سَعَوۡا فِيۡۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيۡنَ ﴾ ’’وہ لوگ جو ہماری آیتوں کو پست کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ‘‘ یعنی جو بزعم خود اللہ تعالیٰ کی آیات کو نیچا دکھانے کے لیے بڑھ چڑھ کر کوشش کرتے ہیں یہ امید رکھتے ہوئے کہ اسلام کے خلاف ان کی سازش کامیاب ہو جائے گی۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی لوگ ‘‘ جو آیات الٰہی کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنے سے موصوف ہیں ۔‘‘ ﴿ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ ﴾ ’’جہنمی ہیں ۔‘‘ یعنی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے اور ہر وقت وہیں رہیں گے۔ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہوگی نہ لمحہ بھر کے لیے یہ دردناک عذاب ان سے ہٹایا جائے گا۔حاصل معنی یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں اور بزعم خود اہل ایمان کو نیچا دکھانے کے لیے ان کی مخالفت اور ان سے دشمنی کرتے ہیں اور سمجھتے کہ اس طرح وہ اپنا مقصد حاصل کرلیں گے۔ یہ لوگ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں رہیں گے۔
22:51

وَٱلَّذِينَ سَعَوۡاْ فِيٓ ءَايَٰتِنَا مُعَٰجِزِينَ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَحِيمِ

کہہ دیجیے، اے لوگو! یقینا میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں کھلم کھلا (49)پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے مغفرت ہے اور روزی عزت والی (50) اور وہ لوگ جنھوں نے کوشش کی ہماری آیتوں (کے جھٹلانے) میں (ہمیں ) عاجز کرنے کے لیے، وہی لوگ ہیں جہنمی(51) [49] اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کوحکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں سے مخاطب ہوکر کہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں ، اہل ایمان کو ثواب کی خوشخبری سنانے والے اور کافروں اور ظالموں کو اس کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں ۔ ﴿ مُّبِيۡنٌ﴾ یعنی واضح طور پر ڈرانے والے ہیں ۔ ’’انذار‘‘ سے مراد ایسا ڈرانا ہے جس میں اس امر سے بھی خبردار کیا گیا ہو جس سے ڈرانا مقصود ہے کیونکہ آپﷺ نے جس امر سے ان کو ڈرایا، اس کی صداقت پر روشن اور واضح دلائل قائم كيے۔ [50] پھر اللہ تعالیٰ نے اس انذار اور تبشیر کی تفصیل بیان فرمائی ﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’اہل ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے مغفرت ہے۔‘‘ یعنی ان سے کسی گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ اس سے مراد جنت ہے، یعنی رزق کی اقسام میں بہترین قسم، جو تمام فضائل کی جامع اور تمام کمالات سے بڑھ کر ہے۔ آیت کریمہ کا حاصل معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گھر کر گیا اور پھر ایمان صادق بن گیا … اور اس ایمان کے ساتھ انھوں نے نیک کام بھی كيے، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان گناہوں کی مغفرت ہے جو ان سے واقع ہوگئے تھے اور ان کے لیے جنت میں بہترین رزق ہوگا اور یہ رزق تمام فضائل و کمالات کا جامع ہوگا۔ [51]﴿ وَالَّذِيۡنَ سَعَوۡا فِيۡۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيۡنَ ﴾ ’’وہ لوگ جو ہماری آیتوں کو پست کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ‘‘ یعنی جو بزعم خود اللہ تعالیٰ کی آیات کو نیچا دکھانے کے لیے بڑھ چڑھ کر کوشش کرتے ہیں یہ امید رکھتے ہوئے کہ اسلام کے خلاف ان کی سازش کامیاب ہو جائے گی۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی لوگ ‘‘ جو آیات الٰہی کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنے سے موصوف ہیں ۔‘‘ ﴿ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ ﴾ ’’جہنمی ہیں ۔‘‘ یعنی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے اور ہر وقت وہیں رہیں گے۔ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہوگی نہ لمحہ بھر کے لیے یہ دردناک عذاب ان سے ہٹایا جائے گا۔حاصل معنی یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں اور بزعم خود اہل ایمان کو نیچا دکھانے کے لیے ان کی مخالفت اور ان سے دشمنی کرتے ہیں اور سمجھتے کہ اس طرح وہ اپنا مقصد حاصل کرلیں گے۔ یہ لوگ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں رہیں گے۔
22:52

وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ مِن رَّسُولٖ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّآ إِذَا تَمَنَّىٰٓ أَلۡقَى ٱلشَّيۡطَٰنُ فِيٓ أُمۡنِيَّتِهِۦ فَيَنسَخُ ٱللَّهُ مَا يُلۡقِي ٱلشَّيۡطَٰنُ ثُمَّ يُحۡكِمُ ٱللَّهُ ءَايَٰتِهِۦۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ

اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر جب وہ تلاوت کرتا تو ڈال دیتا شیطان اس کی تلاوت میں (کچھ اپنی طرف سے) پس مٹا دیتا اللہ اس (وسوسے) کو جو ڈالتا شیطان، پھر محکم (پختہ) کر دیتا اللہ اپنی آیتیں اور اللہ خوب جاننے والا ، حکمت والا ہے (52) تاکہ بنا دے اللہ اس کو جو ڈالتا ہے شیطان آزمائش ان لوگوں کے لیے کہ ان کے دلوں میں روگ ہےاور وہ جو سخت ہیں دل ان کےاور بے شک ظالم تو (پڑے ہوئے) ہیں مخالفت میں دور کی (53) اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جو دیے گئے علم، کہ بلاشبہ یہ (قرآن) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس وہ ایمان لائیں اس کے ساتھ، پھر جھک جائیں اس کے لیے ان کے دل اور بے شک اللہ البتہ ہدایت دینے والا ہے ان لوگوں کو جو ایمان لائے، طرف سیدھے راستے کی (54) [52] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ اور اپنے بندوں کے لیے جو کچھ اختیار کررکھا ہے اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز بیان فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیﷺ سے پہلے ﴿مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّلَا نَبِيٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى ﴾ ’’جو بھی رسول اور نبی گزرا، جب بھی اس نے تمنا کی‘‘ یعنی قراء ت کی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں کو نصیحت کرتا، ان کو معروف کا حکم دیتا اور منکر سے روکتا ﴿ اَلۡقَى الشَّيۡطٰنُ فِيۡۤ اُمۡنِيَّتِهٖ﴾ ’’تو شیطان اس کی تمنا میں القاء کر دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کی قراءت میں ایسے امر سے فریب دینے کی کوشش کرتا جو اس قراء ت کے مناقض (مخالف) ہوتا … حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو تبلیغ رسالت کے ضمن میں معصوم رکھا ہے اور ہر چیز سے اپنی وحی کی حفاظت کی ہے تاکہ اس میں کوئی اشتباہ یا اختلاط واقع نہ ہو۔ مگر اس شیطانی القاء کو استقرار اور دوام نہیں ہوتا۔ یہ ایک عارض ہے جو پیش آتا ہے پھر زائل ہو جاتا ہے اور عوارض کے کچھ احکام ہیں اس لیے فرمایا: ﴿ فَيَنۡسَخُ اللّٰهُ مَا يُلۡقِي الشَّيۡطٰنُ ﴾یعنی اللہ تعالیٰ اس القاء کو زائل کرکے باطل کر دیتا ہے اور واضح کر دیتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں ہیں ۔﴿ ثُمَّ يُحۡكِمُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ ﴾ یعنی پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم اور متحقق کر دیتا ہے اور ان کی حفاظت کرتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی آیات شیطانی القاء کے اختلاط سے محفوظ اور خالص رہتی ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کامل قوت و اقتدار کا مالک ہے۔ وہ اپنی قوت کاملہ سے اپنی وحی کی حفاظت کرکے شیطانی القاء کو زائل کر دیتا ہے۔ ﴿ حَكِيۡمٌ﴾ وہ اشیاء کو ان کے لائق شان مقام پر رکھتا ہے۔ [53] پس یہ اس کے کمال حکمت کا حصہ ہے کہ اس نے شیاطین کو القاء کا اختیار دیا تاکہ اس امر کا حصول ہو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لِّيَجۡعَلَ مَا يُلۡقِي الشَّيۡطٰنُ فِتۡنَةً ﴾ ’’تاکہ کر دے اللہ القائے شیطانی کو آزمائش۔‘‘ لوگوں کے دو گروہوں کے لیے فتنہ بنا دے۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں اور یہ وہ لوگ ہیں ﴿ لِّلَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ جن کے دلوں میں کمزوری ہے اور ان کے دلوں میں ایمان کامل اور تصدیق جازم معدوم ہیں ۔ پس یہ القاء ایسے دلوں پر اثر کرتا ہے جن کے دلوں میں ادنیٰ سا شبہ بھی ہوتا ہے، جب وہ اس شیطانی القاء کو سنتے ہیں تو شک و ریب ان کے دلوں میں گھر کر لیتا ہے اور یہ چیز ان کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ ﴿ وَّالۡقَاسِيَةِ قُلُوۡبُهُمۡ﴾ یعنی (دوسرا گروہ) وہ لوگ ہیں جن کے دل سخت ہوتے ہیں ۔ ان کی قساوت قلبی کی بنا پر کوئی وعظ و نصیحت اور کوئی زجر و توبیخ ان پر اثرکرتی ہے نہ اللہ اور اس کے رسول کی کوئی بات ان کی سمجھ میں آتی ہے۔ پس جب وہ شیطانی القاء کو سنتے ہیں تو اسے اپنے باطل کے لیے حجت بنا لیتے ہیں اور اس کو دلیل بنا کر جھگڑا کرتے ہیں اور پھر اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ،اسی لیے فرمایا:﴿ وَاِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ لَفِيۡ شِقَاقٍۭؔ بَعِيۡدٍ﴾ یعنی یہ ظالم لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دشمنی، حق کے ساتھ عناد اور اس کی مخالفت میں راہ صواب سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔ پس شیطان جو کچھ القاء کرتا ہے وہ ان دونوں قسم کے گروہوں کے لیے فتنہ بن جاتا ہے اور یوں ان کے دلوں میں جو خبث چھپا ہوتا ہے ظاہر ہو جاتا ہے۔ [54] رہا تیسرا گروہ تو یہ شیطانی القاء ان کے حق میں رحمت بن جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ ﴿ وَّلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ اَنَّهُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا کہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے ان کو علم سے نواز رکھا ہے، جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کے درمیان امتیاز کرتے ہیں ۔ پس وہ دونوں امور میں تفریق کرتے ہیں ، ایک حق مستقر ہے، جس کو اللہ محکم کرتا ہے اور دوسرا عارضی طور پر طاری ہونے والا باطل ہے، جس کو اللہ تعالیٰ زائل کر دیتا ہے، وہ حق و باطل کے شواہد اور علامات کے ذریعے سے ان میں تفریق کرتے ہیں … تاکہ ان کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے۔ وہ آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ اچھے اور برے نفوس میں چھپے ہوئے خیالات کو ظاہر کر دے۔ ﴿ فَيُؤۡمِنُوۡا بِهٖ ﴾ تاکہ وہ اس سبب سے اس پر ایمان لائیں اور معارضات و شبہات کے دور ہونے سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿ فَتُخۡبِتَ لَهٗ قُلُوۡبُهُمۡ﴾ اور اس کے سامنے ان کے دل جھک جائیں اور اس کی حکمت کو تسلیم کرلیں اور یہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ اللہ ان کو ان کے ایمان کے سبب سے راہ راست پر گامزن کرتا ہے، یعنی حق کے علم اور اس کے تقاضوں پر عمل کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ قول ثابت کے ذریعے سے اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی عطا کرتا ہے… اور یہ نوع، بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ثابت قدمی ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس امر کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ کے لیے گزشتہ انبیاء و مرسلین کا طریقہ ایک نمونہ ہے۔ نبی اکرمﷺ نے سورۃ (النجم) تلاوت فرمائی تو جب آپﷺ اس مقام پر پہنچے ﴿ اَفَرَءَيۡتُمُ اللّٰتَ وَالۡعُزّٰىۙ۰۰وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الۡاُخۡرٰى ﴾(النجم:53؍19 ،20) ’’بھلا تم لوگوں نے لات اور عزی کو دیکھا اور تیسرے منات کو بھی (بھلا یہ بت معبود ہو سکتے ہیں ؟‘‘ تو شیطان نے آپ کی تلاوت کے درمیان یہ الفاظ القاء کر دیے۔ (تلک الغرانیق العلی ۔ وان شفاعتھن لترتجی) ’’یہ خوبصورت اور بلند مرتبہ دیویاں ہیں جن کی سفارش کی توقع کی جا سکتی ہے۔‘‘ اس طرح رسولﷺ کو حزن و غم کا سامنا کرنا پڑا اور لوگ فتنہ میں مبتلا ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔(حدیث غرانیق موضوع اور باطل ہے۔ محدث عصر علامہ ناصرالدین البانیa نے اپنے رسالہ ’’نصب المجانیق فی نسف حدیث الغرانیق‘‘ میں سند اور متن دونوں اعتبار سے حدیث غرانیق کا بطلان واضح کیا ہے۔اور اس سے قبل شیخ محمد عبدہ نے بھی اس کے موضوع ہونے کی وضاحت کی ہے، ازمحقق)
22:53

لِّيَجۡعَلَ مَا يُلۡقِي ٱلشَّيۡطَٰنُ فِتۡنَةٗ لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ وَٱلۡقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمۡۗ وَإِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ لَفِي شِقَاقِۭ بَعِيدٖ

اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر جب وہ تلاوت کرتا تو ڈال دیتا شیطان اس کی تلاوت میں (کچھ اپنی طرف سے) پس مٹا دیتا اللہ اس (وسوسے) کو جو ڈالتا شیطان، پھر محکم (پختہ) کر دیتا اللہ اپنی آیتیں اور اللہ خوب جاننے والا ، حکمت والا ہے (52) تاکہ بنا دے اللہ اس کو جو ڈالتا ہے شیطان آزمائش ان لوگوں کے لیے کہ ان کے دلوں میں روگ ہےاور وہ جو سخت ہیں دل ان کےاور بے شک ظالم تو (پڑے ہوئے) ہیں مخالفت میں دور کی (53) اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جو دیے گئے علم، کہ بلاشبہ یہ (قرآن) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس وہ ایمان لائیں اس کے ساتھ، پھر جھک جائیں اس کے لیے ان کے دل اور بے شک اللہ البتہ ہدایت دینے والا ہے ان لوگوں کو جو ایمان لائے، طرف سیدھے راستے کی (54) [52] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ اور اپنے بندوں کے لیے جو کچھ اختیار کررکھا ہے اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز بیان فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیﷺ سے پہلے ﴿مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّلَا نَبِيٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى ﴾ ’’جو بھی رسول اور نبی گزرا، جب بھی اس نے تمنا کی‘‘ یعنی قراء ت کی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں کو نصیحت کرتا، ان کو معروف کا حکم دیتا اور منکر سے روکتا ﴿ اَلۡقَى الشَّيۡطٰنُ فِيۡۤ اُمۡنِيَّتِهٖ﴾ ’’تو شیطان اس کی تمنا میں القاء کر دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کی قراءت میں ایسے امر سے فریب دینے کی کوشش کرتا جو اس قراء ت کے مناقض (مخالف) ہوتا … حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو تبلیغ رسالت کے ضمن میں معصوم رکھا ہے اور ہر چیز سے اپنی وحی کی حفاظت کی ہے تاکہ اس میں کوئی اشتباہ یا اختلاط واقع نہ ہو۔ مگر اس شیطانی القاء کو استقرار اور دوام نہیں ہوتا۔ یہ ایک عارض ہے جو پیش آتا ہے پھر زائل ہو جاتا ہے اور عوارض کے کچھ احکام ہیں اس لیے فرمایا: ﴿ فَيَنۡسَخُ اللّٰهُ مَا يُلۡقِي الشَّيۡطٰنُ ﴾یعنی اللہ تعالیٰ اس القاء کو زائل کرکے باطل کر دیتا ہے اور واضح کر دیتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں ہیں ۔﴿ ثُمَّ يُحۡكِمُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ ﴾ یعنی پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم اور متحقق کر دیتا ہے اور ان کی حفاظت کرتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی آیات شیطانی القاء کے اختلاط سے محفوظ اور خالص رہتی ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کامل قوت و اقتدار کا مالک ہے۔ وہ اپنی قوت کاملہ سے اپنی وحی کی حفاظت کرکے شیطانی القاء کو زائل کر دیتا ہے۔ ﴿ حَكِيۡمٌ﴾ وہ اشیاء کو ان کے لائق شان مقام پر رکھتا ہے۔ [53] پس یہ اس کے کمال حکمت کا حصہ ہے کہ اس نے شیاطین کو القاء کا اختیار دیا تاکہ اس امر کا حصول ہو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لِّيَجۡعَلَ مَا يُلۡقِي الشَّيۡطٰنُ فِتۡنَةً ﴾ ’’تاکہ کر دے اللہ القائے شیطانی کو آزمائش۔‘‘ لوگوں کے دو گروہوں کے لیے فتنہ بنا دے۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں اور یہ وہ لوگ ہیں ﴿ لِّلَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ جن کے دلوں میں کمزوری ہے اور ان کے دلوں میں ایمان کامل اور تصدیق جازم معدوم ہیں ۔ پس یہ القاء ایسے دلوں پر اثر کرتا ہے جن کے دلوں میں ادنیٰ سا شبہ بھی ہوتا ہے، جب وہ اس شیطانی القاء کو سنتے ہیں تو شک و ریب ان کے دلوں میں گھر کر لیتا ہے اور یہ چیز ان کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ ﴿ وَّالۡقَاسِيَةِ قُلُوۡبُهُمۡ﴾ یعنی (دوسرا گروہ) وہ لوگ ہیں جن کے دل سخت ہوتے ہیں ۔ ان کی قساوت قلبی کی بنا پر کوئی وعظ و نصیحت اور کوئی زجر و توبیخ ان پر اثرکرتی ہے نہ اللہ اور اس کے رسول کی کوئی بات ان کی سمجھ میں آتی ہے۔ پس جب وہ شیطانی القاء کو سنتے ہیں تو اسے اپنے باطل کے لیے حجت بنا لیتے ہیں اور اس کو دلیل بنا کر جھگڑا کرتے ہیں اور پھر اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ،اسی لیے فرمایا:﴿ وَاِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ لَفِيۡ شِقَاقٍۭؔ بَعِيۡدٍ﴾ یعنی یہ ظالم لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دشمنی، حق کے ساتھ عناد اور اس کی مخالفت میں راہ صواب سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔ پس شیطان جو کچھ القاء کرتا ہے وہ ان دونوں قسم کے گروہوں کے لیے فتنہ بن جاتا ہے اور یوں ان کے دلوں میں جو خبث چھپا ہوتا ہے ظاہر ہو جاتا ہے۔ [54] رہا تیسرا گروہ تو یہ شیطانی القاء ان کے حق میں رحمت بن جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ ﴿ وَّلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ اَنَّهُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا کہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے ان کو علم سے نواز رکھا ہے، جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کے درمیان امتیاز کرتے ہیں ۔ پس وہ دونوں امور میں تفریق کرتے ہیں ، ایک حق مستقر ہے، جس کو اللہ محکم کرتا ہے اور دوسرا عارضی طور پر طاری ہونے والا باطل ہے، جس کو اللہ تعالیٰ زائل کر دیتا ہے، وہ حق و باطل کے شواہد اور علامات کے ذریعے سے ان میں تفریق کرتے ہیں … تاکہ ان کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے۔ وہ آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ اچھے اور برے نفوس میں چھپے ہوئے خیالات کو ظاہر کر دے۔ ﴿ فَيُؤۡمِنُوۡا بِهٖ ﴾ تاکہ وہ اس سبب سے اس پر ایمان لائیں اور معارضات و شبہات کے دور ہونے سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿ فَتُخۡبِتَ لَهٗ قُلُوۡبُهُمۡ﴾ اور اس کے سامنے ان کے دل جھک جائیں اور اس کی حکمت کو تسلیم کرلیں اور یہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ اللہ ان کو ان کے ایمان کے سبب سے راہ راست پر گامزن کرتا ہے، یعنی حق کے علم اور اس کے تقاضوں پر عمل کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ قول ثابت کے ذریعے سے اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی عطا کرتا ہے… اور یہ نوع، بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ثابت قدمی ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس امر کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ کے لیے گزشتہ انبیاء و مرسلین کا طریقہ ایک نمونہ ہے۔ نبی اکرمﷺ نے سورۃ (النجم) تلاوت فرمائی تو جب آپﷺ اس مقام پر پہنچے ﴿ اَفَرَءَيۡتُمُ اللّٰتَ وَالۡعُزّٰىۙ۰۰وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الۡاُخۡرٰى ﴾(النجم:53؍19 ،20) ’’بھلا تم لوگوں نے لات اور عزی کو دیکھا اور تیسرے منات کو بھی (بھلا یہ بت معبود ہو سکتے ہیں ؟‘‘ تو شیطان نے آپ کی تلاوت کے درمیان یہ الفاظ القاء کر دیے۔ (تلک الغرانیق العلی ۔ وان شفاعتھن لترتجی) ’’یہ خوبصورت اور بلند مرتبہ دیویاں ہیں جن کی سفارش کی توقع کی جا سکتی ہے۔‘‘ اس طرح رسولﷺ کو حزن و غم کا سامنا کرنا پڑا اور لوگ فتنہ میں مبتلا ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔(حدیث غرانیق موضوع اور باطل ہے۔ محدث عصر علامہ ناصرالدین البانیa نے اپنے رسالہ ’’نصب المجانیق فی نسف حدیث الغرانیق‘‘ میں سند اور متن دونوں اعتبار سے حدیث غرانیق کا بطلان واضح کیا ہے۔اور اس سے قبل شیخ محمد عبدہ نے بھی اس کے موضوع ہونے کی وضاحت کی ہے، ازمحقق)
22:54

وَلِيَعۡلَمَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ أَنَّهُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَيُؤۡمِنُواْ بِهِۦ فَتُخۡبِتَ لَهُۥ قُلُوبُهُمۡۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهَادِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ

اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر جب وہ تلاوت کرتا تو ڈال دیتا شیطان اس کی تلاوت میں (کچھ اپنی طرف سے) پس مٹا دیتا اللہ اس (وسوسے) کو جو ڈالتا شیطان، پھر محکم (پختہ) کر دیتا اللہ اپنی آیتیں اور اللہ خوب جاننے والا ، حکمت والا ہے (52) تاکہ بنا دے اللہ اس کو جو ڈالتا ہے شیطان آزمائش ان لوگوں کے لیے کہ ان کے دلوں میں روگ ہےاور وہ جو سخت ہیں دل ان کےاور بے شک ظالم تو (پڑے ہوئے) ہیں مخالفت میں دور کی (53) اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جو دیے گئے علم، کہ بلاشبہ یہ (قرآن) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس وہ ایمان لائیں اس کے ساتھ، پھر جھک جائیں اس کے لیے ان کے دل اور بے شک اللہ البتہ ہدایت دینے والا ہے ان لوگوں کو جو ایمان لائے، طرف سیدھے راستے کی (54) [52] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ اور اپنے بندوں کے لیے جو کچھ اختیار کررکھا ہے اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز بیان فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیﷺ سے پہلے ﴿مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّلَا نَبِيٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى ﴾ ’’جو بھی رسول اور نبی گزرا، جب بھی اس نے تمنا کی‘‘ یعنی قراء ت کی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں کو نصیحت کرتا، ان کو معروف کا حکم دیتا اور منکر سے روکتا ﴿ اَلۡقَى الشَّيۡطٰنُ فِيۡۤ اُمۡنِيَّتِهٖ﴾ ’’تو شیطان اس کی تمنا میں القاء کر دیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کی قراءت میں ایسے امر سے فریب دینے کی کوشش کرتا جو اس قراء ت کے مناقض (مخالف) ہوتا … حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو تبلیغ رسالت کے ضمن میں معصوم رکھا ہے اور ہر چیز سے اپنی وحی کی حفاظت کی ہے تاکہ اس میں کوئی اشتباہ یا اختلاط واقع نہ ہو۔ مگر اس شیطانی القاء کو استقرار اور دوام نہیں ہوتا۔ یہ ایک عارض ہے جو پیش آتا ہے پھر زائل ہو جاتا ہے اور عوارض کے کچھ احکام ہیں اس لیے فرمایا: ﴿ فَيَنۡسَخُ اللّٰهُ مَا يُلۡقِي الشَّيۡطٰنُ ﴾یعنی اللہ تعالیٰ اس القاء کو زائل کرکے باطل کر دیتا ہے اور واضح کر دیتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں ہیں ۔﴿ ثُمَّ يُحۡكِمُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ ﴾ یعنی پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم اور متحقق کر دیتا ہے اور ان کی حفاظت کرتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی آیات شیطانی القاء کے اختلاط سے محفوظ اور خالص رہتی ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کامل قوت و اقتدار کا مالک ہے۔ وہ اپنی قوت کاملہ سے اپنی وحی کی حفاظت کرکے شیطانی القاء کو زائل کر دیتا ہے۔ ﴿ حَكِيۡمٌ﴾ وہ اشیاء کو ان کے لائق شان مقام پر رکھتا ہے۔ [53] پس یہ اس کے کمال حکمت کا حصہ ہے کہ اس نے شیاطین کو القاء کا اختیار دیا تاکہ اس امر کا حصول ہو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لِّيَجۡعَلَ مَا يُلۡقِي الشَّيۡطٰنُ فِتۡنَةً ﴾ ’’تاکہ کر دے اللہ القائے شیطانی کو آزمائش۔‘‘ لوگوں کے دو گروہوں کے لیے فتنہ بنا دے۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں اور یہ وہ لوگ ہیں ﴿ لِّلَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ جن کے دلوں میں کمزوری ہے اور ان کے دلوں میں ایمان کامل اور تصدیق جازم معدوم ہیں ۔ پس یہ القاء ایسے دلوں پر اثر کرتا ہے جن کے دلوں میں ادنیٰ سا شبہ بھی ہوتا ہے، جب وہ اس شیطانی القاء کو سنتے ہیں تو شک و ریب ان کے دلوں میں گھر کر لیتا ہے اور یہ چیز ان کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ ﴿ وَّالۡقَاسِيَةِ قُلُوۡبُهُمۡ﴾ یعنی (دوسرا گروہ) وہ لوگ ہیں جن کے دل سخت ہوتے ہیں ۔ ان کی قساوت قلبی کی بنا پر کوئی وعظ و نصیحت اور کوئی زجر و توبیخ ان پر اثرکرتی ہے نہ اللہ اور اس کے رسول کی کوئی بات ان کی سمجھ میں آتی ہے۔ پس جب وہ شیطانی القاء کو سنتے ہیں تو اسے اپنے باطل کے لیے حجت بنا لیتے ہیں اور اس کو دلیل بنا کر جھگڑا کرتے ہیں اور پھر اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ،اسی لیے فرمایا:﴿ وَاِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ لَفِيۡ شِقَاقٍۭؔ بَعِيۡدٍ﴾ یعنی یہ ظالم لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دشمنی، حق کے ساتھ عناد اور اس کی مخالفت میں راہ صواب سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔ پس شیطان جو کچھ القاء کرتا ہے وہ ان دونوں قسم کے گروہوں کے لیے فتنہ بن جاتا ہے اور یوں ان کے دلوں میں جو خبث چھپا ہوتا ہے ظاہر ہو جاتا ہے۔ [54] رہا تیسرا گروہ تو یہ شیطانی القاء ان کے حق میں رحمت بن جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ ﴿ وَّلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ اَنَّهُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا کہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے ان کو علم سے نواز رکھا ہے، جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کے درمیان امتیاز کرتے ہیں ۔ پس وہ دونوں امور میں تفریق کرتے ہیں ، ایک حق مستقر ہے، جس کو اللہ محکم کرتا ہے اور دوسرا عارضی طور پر طاری ہونے والا باطل ہے، جس کو اللہ تعالیٰ زائل کر دیتا ہے، وہ حق و باطل کے شواہد اور علامات کے ذریعے سے ان میں تفریق کرتے ہیں … تاکہ ان کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے۔ وہ آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ اچھے اور برے نفوس میں چھپے ہوئے خیالات کو ظاہر کر دے۔ ﴿ فَيُؤۡمِنُوۡا بِهٖ ﴾ تاکہ وہ اس سبب سے اس پر ایمان لائیں اور معارضات و شبہات کے دور ہونے سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿ فَتُخۡبِتَ لَهٗ قُلُوۡبُهُمۡ﴾ اور اس کے سامنے ان کے دل جھک جائیں اور اس کی حکمت کو تسلیم کرلیں اور یہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ اللہ ان کو ان کے ایمان کے سبب سے راہ راست پر گامزن کرتا ہے، یعنی حق کے علم اور اس کے تقاضوں پر عمل کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ قول ثابت کے ذریعے سے اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی عطا کرتا ہے… اور یہ نوع، بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ثابت قدمی ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس امر کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ کے لیے گزشتہ انبیاء و مرسلین کا طریقہ ایک نمونہ ہے۔ نبی اکرمﷺ نے سورۃ (النجم) تلاوت فرمائی تو جب آپﷺ اس مقام پر پہنچے ﴿ اَفَرَءَيۡتُمُ اللّٰتَ وَالۡعُزّٰىۙ۰۰وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الۡاُخۡرٰى ﴾(النجم:53؍19 ،20) ’’بھلا تم لوگوں نے لات اور عزی کو دیکھا اور تیسرے منات کو بھی (بھلا یہ بت معبود ہو سکتے ہیں ؟‘‘ تو شیطان نے آپ کی تلاوت کے درمیان یہ الفاظ القاء کر دیے۔ (تلک الغرانیق العلی ۔ وان شفاعتھن لترتجی) ’’یہ خوبصورت اور بلند مرتبہ دیویاں ہیں جن کی سفارش کی توقع کی جا سکتی ہے۔‘‘ اس طرح رسولﷺ کو حزن و غم کا سامنا کرنا پڑا اور لوگ فتنہ میں مبتلا ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔(حدیث غرانیق موضوع اور باطل ہے۔ محدث عصر علامہ ناصرالدین البانیa نے اپنے رسالہ ’’نصب المجانیق فی نسف حدیث الغرانیق‘‘ میں سند اور متن دونوں اعتبار سے حدیث غرانیق کا بطلان واضح کیا ہے۔اور اس سے قبل شیخ محمد عبدہ نے بھی اس کے موضوع ہونے کی وضاحت کی ہے، ازمحقق)
22:55

وَلَا يَزَالُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي مِرۡيَةٖ مِّنۡهُ حَتَّىٰ تَأۡتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغۡتَةً أَوۡ يَأۡتِيَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَقِيمٍ

اور ہمیشہ رہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، شک میں اس (قرآن) سے، یہاں تک کہ آجائے ان کے پاس قیامت اچانک یا آجائے ان پر عذاب بانجھ (بے برکت) دن کا (55) بادشاہی اس دن اللہ ہی کی ہوگی وہ فیصلہ کرے گا ان کے درمیان، پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، (وہ ہوں گے) باغات میں نعمتوں کے (56) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو تو یہ لوگ، ان کے لیے ہے عذاب ذلیل کرنے والا (57) [55] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کی حالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ کفار ہمیشہ شک و ریب میں مبتلا رہیں گے۔ اے محمد! (ﷺ) آپ جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں کفار اپنے عناد اور اعراض کے باعث شک کرتے رہیں گے اور وہ اسی حال میں ہمیشہ رہیں گے ﴿ حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغۡتَةً ﴾ ’’یہاں تک کہ ان کے پاس قیامت کی گھڑی اچانک آجائے‘‘ ﴿ اَوۡ يَاۡتِيَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَقِيۡمٍ ﴾ ’’یا ان کے پاس بانجھ دن کا عذاب آ جائے۔‘‘ یعنی ایسے دن کا عذاب آجائے، جس میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں اور وہ قیامت کا دن ہے۔ جب قیامت کی گھڑی ان کے پاس آجائے گی یا وہ دن آجائے گا تو ان لوگوں کو معلوم ہو جائے گا جنھوں نے کفر کیا کہ وہ جھوٹے تھے۔ وہ نادم ہوں گے جبکہ ان کی ندامت انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ کاش انھوں نے رسول پر ایمان لا کر اس کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ اس آیت میں کفار کو اپنے شک و شبہات اور افترا پردازی پر قائم رہنے سے ڈرایا گیا ہے۔ [57,56]﴿ اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’بادشاہی اس دن۔‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ لِّلّٰهِ﴾ ’’صرف اللہ تعالیٰ کی ہوگی۔‘‘ اور اس کے سوا کسی اور کا کوئی اقتدار و اختیار نہ ہوگا۔ ﴿ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ ﴾ وہ ان کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کرے گا۔ ﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ پس وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور جو کچھ رسول لے کر آئے، اس پر ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ اور نیک عمل كيے تاکہ ان کے ذریعے سے اپنے ایمان کی سچائی کا ثبوت بہم پہنچائیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ ﴾’’نعمت والے باغوں میں ہوں گے۔‘‘ یعنی انھیں قلب و روح اور بدن کی ایسی نعمت حاصل ہوگی جسے کوئی بیان کرنے والا بیان کر سکتا ہے نہ عقل اس کا ادراک کر سکتی ہے۔﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور وہ جنھوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کیا ﴿ وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ اور حق و صواب کی طرف راہ نمائی کرنے والی ہماری آیات کی تکذیب کی، ان سے روگردانی کی یا ان سے عناد رکھا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ان کے لیے،انتہائی شدید، المناک اور دلوں تک اتر جانے والا رسوا کن عذاب ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کی آیات کی اہانت کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کواہانت آمیز عذاب میں مبتلا کیا۔
22:56

ٱلۡمُلۡكُ يَوۡمَئِذٖ لِّلَّهِ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فِي جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ

اور ہمیشہ رہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، شک میں اس (قرآن) سے، یہاں تک کہ آجائے ان کے پاس قیامت اچانک یا آجائے ان پر عذاب بانجھ (بے برکت) دن کا (55) بادشاہی اس دن اللہ ہی کی ہوگی وہ فیصلہ کرے گا ان کے درمیان، پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، (وہ ہوں گے) باغات میں نعمتوں کے (56) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو تو یہ لوگ، ان کے لیے ہے عذاب ذلیل کرنے والا (57) [55] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کی حالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ کفار ہمیشہ شک و ریب میں مبتلا رہیں گے۔ اے محمد! (ﷺ) آپ جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں کفار اپنے عناد اور اعراض کے باعث شک کرتے رہیں گے اور وہ اسی حال میں ہمیشہ رہیں گے ﴿ حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغۡتَةً ﴾ ’’یہاں تک کہ ان کے پاس قیامت کی گھڑی اچانک آجائے‘‘ ﴿ اَوۡ يَاۡتِيَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَقِيۡمٍ ﴾ ’’یا ان کے پاس بانجھ دن کا عذاب آ جائے۔‘‘ یعنی ایسے دن کا عذاب آجائے، جس میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں اور وہ قیامت کا دن ہے۔ جب قیامت کی گھڑی ان کے پاس آجائے گی یا وہ دن آجائے گا تو ان لوگوں کو معلوم ہو جائے گا جنھوں نے کفر کیا کہ وہ جھوٹے تھے۔ وہ نادم ہوں گے جبکہ ان کی ندامت انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ کاش انھوں نے رسول پر ایمان لا کر اس کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ اس آیت میں کفار کو اپنے شک و شبہات اور افترا پردازی پر قائم رہنے سے ڈرایا گیا ہے۔ [57,56]﴿ اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’بادشاہی اس دن۔‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ لِّلّٰهِ﴾ ’’صرف اللہ تعالیٰ کی ہوگی۔‘‘ اور اس کے سوا کسی اور کا کوئی اقتدار و اختیار نہ ہوگا۔ ﴿ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ ﴾ وہ ان کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کرے گا۔ ﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ پس وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور جو کچھ رسول لے کر آئے، اس پر ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ اور نیک عمل كيے تاکہ ان کے ذریعے سے اپنے ایمان کی سچائی کا ثبوت بہم پہنچائیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ ﴾’’نعمت والے باغوں میں ہوں گے۔‘‘ یعنی انھیں قلب و روح اور بدن کی ایسی نعمت حاصل ہوگی جسے کوئی بیان کرنے والا بیان کر سکتا ہے نہ عقل اس کا ادراک کر سکتی ہے۔﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور وہ جنھوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کیا ﴿ وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ اور حق و صواب کی طرف راہ نمائی کرنے والی ہماری آیات کی تکذیب کی، ان سے روگردانی کی یا ان سے عناد رکھا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ان کے لیے،انتہائی شدید، المناک اور دلوں تک اتر جانے والا رسوا کن عذاب ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کی آیات کی اہانت کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کواہانت آمیز عذاب میں مبتلا کیا۔
22:57

وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا فَأُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ

اور ہمیشہ رہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، شک میں اس (قرآن) سے، یہاں تک کہ آجائے ان کے پاس قیامت اچانک یا آجائے ان پر عذاب بانجھ (بے برکت) دن کا (55) بادشاہی اس دن اللہ ہی کی ہوگی وہ فیصلہ کرے گا ان کے درمیان، پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، (وہ ہوں گے) باغات میں نعمتوں کے (56) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو تو یہ لوگ، ان کے لیے ہے عذاب ذلیل کرنے والا (57) [55] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کی حالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ کفار ہمیشہ شک و ریب میں مبتلا رہیں گے۔ اے محمد! (ﷺ) آپ جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں کفار اپنے عناد اور اعراض کے باعث شک کرتے رہیں گے اور وہ اسی حال میں ہمیشہ رہیں گے ﴿ حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغۡتَةً ﴾ ’’یہاں تک کہ ان کے پاس قیامت کی گھڑی اچانک آجائے‘‘ ﴿ اَوۡ يَاۡتِيَهُمۡ عَذَابُ يَوۡمٍ عَقِيۡمٍ ﴾ ’’یا ان کے پاس بانجھ دن کا عذاب آ جائے۔‘‘ یعنی ایسے دن کا عذاب آجائے، جس میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں اور وہ قیامت کا دن ہے۔ جب قیامت کی گھڑی ان کے پاس آجائے گی یا وہ دن آجائے گا تو ان لوگوں کو معلوم ہو جائے گا جنھوں نے کفر کیا کہ وہ جھوٹے تھے۔ وہ نادم ہوں گے جبکہ ان کی ندامت انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ کاش انھوں نے رسول پر ایمان لا کر اس کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ اس آیت میں کفار کو اپنے شک و شبہات اور افترا پردازی پر قائم رہنے سے ڈرایا گیا ہے۔ [57,56]﴿ اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’بادشاہی اس دن۔‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ لِّلّٰهِ﴾ ’’صرف اللہ تعالیٰ کی ہوگی۔‘‘ اور اس کے سوا کسی اور کا کوئی اقتدار و اختیار نہ ہوگا۔ ﴿ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ ﴾ وہ ان کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کرے گا۔ ﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ پس وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور جو کچھ رسول لے کر آئے، اس پر ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ اور نیک عمل كيے تاکہ ان کے ذریعے سے اپنے ایمان کی سچائی کا ثبوت بہم پہنچائیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ ﴾’’نعمت والے باغوں میں ہوں گے۔‘‘ یعنی انھیں قلب و روح اور بدن کی ایسی نعمت حاصل ہوگی جسے کوئی بیان کرنے والا بیان کر سکتا ہے نہ عقل اس کا ادراک کر سکتی ہے۔﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور وہ جنھوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کیا ﴿ وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ اور حق و صواب کی طرف راہ نمائی کرنے والی ہماری آیات کی تکذیب کی، ان سے روگردانی کی یا ان سے عناد رکھا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ان کے لیے،انتہائی شدید، المناک اور دلوں تک اتر جانے والا رسوا کن عذاب ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کی آیات کی اہانت کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کواہانت آمیز عذاب میں مبتلا کیا۔
22:58

وَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ قُتِلُوٓاْ أَوۡ مَاتُواْ لَيَرۡزُقَنَّهُمُ ٱللَّهُ رِزۡقًا حَسَنٗاۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهُوَ خَيۡرُ ٱلرَّـٰزِقِينَ

اور وہ لوگ جنھوں نے ہجرت کی اللہ کی راہ میں ، پھر وہ قتل (شہید) کیے گئے یا وہ مر گئے البتہ ضرور رزق دے گا ان کو اللہ رزق بہت اچھا اور بلاشبہ اللہ، البتہ وہی ہے سب سے بہتر رزق دینے والا (58) البتہ ضرور داخل کرے گا وہ ان کو اس مقام میں کہ وہ پسند کریں گے اسے اور بلاشبہ اللہ البتہ خوب جاننے والا بردبار ہے (59) [58] یہ آیت کریمہ اس شخص کے لیے بہت بڑی بشارت ہے جس نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی، وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین کی نصرت کی خاطراپنا گھر بار، مال اور اولاد چھوڑ کر وطن سے نکلا۔ اب یہ شخص خواہ اپنے بستر پرجان دے یا جہاد کرتے ہوئے اللہ کے راستے میں قتل کردیا جائے، اللہ تعالیٰ پر اس کا اجر واجب ہوگیا ﴿ لَيَرۡزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزۡقًا حَسَنًا﴾ ’’اللہ تعالیٰ انھیں اچھا رزق عطا کرے گا ‘‘ عالم برزخ میں اور قیامت کے روز جنت میں داخل کرکے اچھے رزق سے نوازے گا۔ اس جنت میں آرام، خوشبوئیں ، حسن، احسان اور قلب و بدن کی تمام نعمتیں جمع ہوں گی۔ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہجرت کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کشادہ اور اچھے رزق کی ذمہ داری اٹھائی ہے، خواہ اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ بستر پرجان دے یا اللہ کے راستے میں شہید کر دیا جائے، ان سب کے لیے رزق کی ضمانت ہے۔ اس لیے ہجرت کرنے والے کو یہ وہم لاحق نہ ہو کہ جب وہ اپنے گھر بار اور مال و اولاد کو چھوڑ کر نکلے گا تو محتاج ہو جائے گا کیونکہ اس کا رازق وہ ہے جو سب سے بہتر رزق عطا کرنے والا ہے۔ یہ اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا تھا۔ مہاجرین سابقین نے نصرت دین کی خاطر اپنا گھر بار، اولاد اور مال چھوڑ دیا تو ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں سے بہت سے شہر فتح کروائے، انھیں لوگوں پر اقتدار و اختیار عطا کیا تو انھوں نے ان شہروں سے مال حاصل کیا اور اس مال کے ذریعے سے سب سے دولت مند ہوگئے۔ [59] اور انکا حال اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مصداق ہوگیا : ﴿ لَيُدۡخِلَنَّهُمۡ مُّدۡخَلًا يَّرۡضَوۡنَهٗ ﴾ ’’اور اللہ ان کو ایسی جگہ میں داخل فرمائے گا جس کو وہ پسند کریں گے۔‘‘ اس سے مراد یا تو وہ شہر ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں پر فتح كيے، خاص طور پر مکہ مکرمہ کیونکہ اہل ایمان مکہ مکرمہ میں نہایت مسرت اور رضا کی حالات میں داخل ہوئے تھے … یا اس سے مراد آخرت کا رزق اور جنت میں داخل ہونا ہے۔ پس آیت کریمہ رزق کی دونوں اقسام، یعنی رزق دنیا اور رزق آخرت دونوں کو جمع کرنے والی ہے لفظ کا اطلاق دونوں کے لیے درست اور معنی دونوں کے صحیح ہے۔ ان تمام معانی کے اطلاق سے کوئی امر مانع نہیں ۔ ﴿وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَلِيۡمٌ ﴾ اللہ تعالیٰ ظاہری اور باطنی، گزرے ہوئے اور آنے والے تمام امور کا علم رکھتا ہے۔ ﴿ حَلِيۡمٌ ﴾ مخلوق اس کی نافرمانی کرتی ہے اور بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتی ہے مگر وہ کامل قدرت رکھنے کے باوجود سزا دینے میں جلدی نہیں کرتابلکہ ان کو پیہم رزق مہیا فرماتا اور اپنے فضل سے انھیں نوازتا ہے۔
22:59

لَيُدۡخِلَنَّهُم مُّدۡخَلٗا يَرۡضَوۡنَهُۥۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَعَلِيمٌ حَلِيمٞ

اور وہ لوگ جنھوں نے ہجرت کی اللہ کی راہ میں ، پھر وہ قتل (شہید) کیے گئے یا وہ مر گئے البتہ ضرور رزق دے گا ان کو اللہ رزق بہت اچھا اور بلاشبہ اللہ، البتہ وہی ہے سب سے بہتر رزق دینے والا (58) البتہ ضرور داخل کرے گا وہ ان کو اس مقام میں کہ وہ پسند کریں گے اسے اور بلاشبہ اللہ البتہ خوب جاننے والا بردبار ہے (59) [58] یہ آیت کریمہ اس شخص کے لیے بہت بڑی بشارت ہے جس نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی، وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین کی نصرت کی خاطراپنا گھر بار، مال اور اولاد چھوڑ کر وطن سے نکلا۔ اب یہ شخص خواہ اپنے بستر پرجان دے یا جہاد کرتے ہوئے اللہ کے راستے میں قتل کردیا جائے، اللہ تعالیٰ پر اس کا اجر واجب ہوگیا ﴿ لَيَرۡزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزۡقًا حَسَنًا﴾ ’’اللہ تعالیٰ انھیں اچھا رزق عطا کرے گا ‘‘ عالم برزخ میں اور قیامت کے روز جنت میں داخل کرکے اچھے رزق سے نوازے گا۔ اس جنت میں آرام، خوشبوئیں ، حسن، احسان اور قلب و بدن کی تمام نعمتیں جمع ہوں گی۔ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہجرت کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کشادہ اور اچھے رزق کی ذمہ داری اٹھائی ہے، خواہ اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ بستر پرجان دے یا اللہ کے راستے میں شہید کر دیا جائے، ان سب کے لیے رزق کی ضمانت ہے۔ اس لیے ہجرت کرنے والے کو یہ وہم لاحق نہ ہو کہ جب وہ اپنے گھر بار اور مال و اولاد کو چھوڑ کر نکلے گا تو محتاج ہو جائے گا کیونکہ اس کا رازق وہ ہے جو سب سے بہتر رزق عطا کرنے والا ہے۔ یہ اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا تھا۔ مہاجرین سابقین نے نصرت دین کی خاطر اپنا گھر بار، اولاد اور مال چھوڑ دیا تو ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں سے بہت سے شہر فتح کروائے، انھیں لوگوں پر اقتدار و اختیار عطا کیا تو انھوں نے ان شہروں سے مال حاصل کیا اور اس مال کے ذریعے سے سب سے دولت مند ہوگئے۔ [59] اور انکا حال اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مصداق ہوگیا : ﴿ لَيُدۡخِلَنَّهُمۡ مُّدۡخَلًا يَّرۡضَوۡنَهٗ ﴾ ’’اور اللہ ان کو ایسی جگہ میں داخل فرمائے گا جس کو وہ پسند کریں گے۔‘‘ اس سے مراد یا تو وہ شہر ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں پر فتح كيے، خاص طور پر مکہ مکرمہ کیونکہ اہل ایمان مکہ مکرمہ میں نہایت مسرت اور رضا کی حالات میں داخل ہوئے تھے … یا اس سے مراد آخرت کا رزق اور جنت میں داخل ہونا ہے۔ پس آیت کریمہ رزق کی دونوں اقسام، یعنی رزق دنیا اور رزق آخرت دونوں کو جمع کرنے والی ہے لفظ کا اطلاق دونوں کے لیے درست اور معنی دونوں کے صحیح ہے۔ ان تمام معانی کے اطلاق سے کوئی امر مانع نہیں ۔ ﴿وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَلِيۡمٌ ﴾ اللہ تعالیٰ ظاہری اور باطنی، گزرے ہوئے اور آنے والے تمام امور کا علم رکھتا ہے۔ ﴿ حَلِيۡمٌ ﴾ مخلوق اس کی نافرمانی کرتی ہے اور بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتی ہے مگر وہ کامل قدرت رکھنے کے باوجود سزا دینے میں جلدی نہیں کرتابلکہ ان کو پیہم رزق مہیا فرماتا اور اپنے فضل سے انھیں نوازتا ہے۔
22:60

۞ذَٰلِكَۖ وَمَنۡ عَاقَبَ بِمِثۡلِ مَا عُوقِبَ بِهِۦ ثُمَّ بُغِيَ عَلَيۡهِ لَيَنصُرَنَّهُ ٱللَّهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٞ

(بات) یہی ہےاور جو شخص بدلہ مثل اس کے جو زیادتی کی گئی اس کے ساتھ، پھر ظلم کیا جائے اس پر تو البتہ ضرور مدد کرے گا اس کی اللہ بلاشبہ اللہ البتہ نہایت معاف کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے (60) [60] جس شخص کے ساتھ زیادتی اور ظلم کا ارتکاب کیا گیا ہو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس ظالم کامقابلہ ویسی ہی زیادتی کے ساتھ کرے۔ اگر وہ ایسا کرے تو اس پر کوئی مواخذہ اور کوئی ملامت نہیں ۔ پس اگر اس کے بعد بھی وہ اس پر زیادتی کرے تو اللہ تعالیٰ اس ظالم کی مدد کرے گا کیونکہ وہ اب مظلوم ہے، اس بنا پر اس کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنانا جائز نہیں کیوں کہ اس نے اپنا حق وصول کرلیا ہے پس جب دوسرے سے اس کی برائی کا بدلہ لینے والا شخص اپنا بدلہ لینے کے بعد زیادتی کرے تو کے بعد اس پر پھر ظلم کیا جائے، اللہ تعالیٰ اس دوسرے کی (جو اب مظلوم ہے)مدد فرماتا ہے تو جو مظلوم سرے سے بدلہ ہی نہ لے تو اس کے لیے تو اللہ کی مدد بہت زیادہ قریب ہے۔﴿اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ﴾ ’’بلاشبہ اللہ بہت معاف کرنے والا، بہت بخشنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ گناہ گاروں کو معاف کر دیتا ہے۔ ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا، وہ ان کے گناہ بخش دیتا ہے اور ان گناہوں کو دور کر کے ان کے آثار بھی مٹا دیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی، دائمی اور وصف لازم ہے اور ہر وقت اپنے بندوں کے ساتھ اس کا معاملہ عفو اور مغفرت کا معاملہ ہوتا ہے، اس لیے اے وہ مظلوم لوگو! جن کے خلاف جرم کیا گیا ہے، تمھارے لیے مناسب یہی ہے کہ تم معاف کر دو، درگزر سے کام لو اور بخش دو تاکہ اللہ تعالیٰ بھی تمھارے ساتھ وہی معاملہ کرے جو تم نے اس کے ساتھ کیا ہے۔ ﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوریٰ:42؍40) ’’جس نے معاف کر دیا اور اصلاح کی تو اس کا اجر اللہ کے ہاں واجب ٹھہرا۔‘‘
22:61

ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ يُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِ وَأَنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٞ

یہ اس لیے کہ بے شک اللہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور (یہ کہ) بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے (61)یہ اس لیے کہ بے شک اللہ ، وہی حق ہےاور جس کو وہ پکارتے ہیں سوائے اس کے، وہ باطل ہےاور (یہ کہ) بلاشبہ اللہ، وہی ہے بلند تر، بہت بڑا (62) [61] وہ اللہ جس نے تمھارے لیے یہ اچھے اور انصاف پر مبنی احکام مشروع كيے ہیں ، اپنی تقدیر اور تدبیر میں بہترین طریقے سے تصرف کرتا ہے، جو ﴿ يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ ﴾رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ پس وہ دن کے بعد رات کو اور رات کے بعد دن کو لاتا ہے اور وہ ان دونوں میں سے ایک کو بڑھاتا اور دوسرے میں اسی حساب سے کمی کرتا رہتا ہے، پھر اس کے برعکس پہلے میں کمی کرتا ہے اور دوسرے کو بڑھاتا ہے۔ پس دن رات کی اس کمی بیشی پر موسم مترتب ہوتے ہیں اور اسی پر شب و روز اور سورج چاند کے فوائد کا انحصار ہے، جو بندوں پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہیں اور یہ مختلف مواسم ان کے لیے نہایت ضروری ہیں ۔﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا ہے۔‘‘ بندوں کی زبان کے اختلاف اور ان کی مختلف حاجات کے باوجود وہ ان کی چیخ و پکار میں ہر ایک کی بات سنتا ہے۔ ﴿ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ رات کی تاریکی میں ، ٹھوس چٹان کے نیچے، سیاہ چیونٹی کو چلتے ہوئے دیکھتا ہے۔ ﴿ سَوَؔآءٌ مِّؔنۡكُمۡ مَّنۡ اَسَرَّ الۡقَوۡلَ وَمَنۡ جَهَرَ بِهٖ وَمَنۡ هُوَ مُسۡتَخۡفٍۭؔ بِالَّيۡلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ ﴾(الرعد:13؍10) ’’تم میں سے کوئی شخص خواہ بلند آواز سے بات کرے یا آہستہ اور کوئی رات کے اندھیروں میں چھپا ہوا ہو یا دن کے اجالے میں چل رہا ہو اس کے لیے سب برابر ہے۔‘‘ [62]﴿ ذٰلِكَ ﴾ یہ حکم اور احکام والی ہستی ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ ﴾ وہ ثابت ہے جو ہمیشہ سے ہے، وہ زائل ہونے والی نہیں ، وہ ’’اول‘‘ ہے اس سے پہلے کچھ نہ تھا وہ ’’آخر‘‘ ہے اس کے بعد کچھ نہیں ، وہ کامل اسماء و صفات کا مالک، وعدے کا سچا، اس کا وعدہ حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کا دین حق ہے، اس کی عبادت حق، نفع مند اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ ﴿ وَاَنَّ مَا يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ اور اس کے سوا تم جن بتوں اور جمادات و حیوانات میں سے خود ساختہ خداؤں کو پکارتے ہو ﴿ هُوَ الۡبَاطِلُ ﴾وہ فی نفسہ باطل ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے کیونکہ یہ ایسی ہستی سے متعلق ہے جو مضمحل اور فانی ہے، لہٰذا وہ بھی اپنے باطل مقصد کی بنا پر باطل ہے۔﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡعَلِيُّ الۡكَبِيۡرُ ﴾ وہ فی ذاتہ بلند ہے، اس لیے وہ تمام مخلوقات سے بلند ہے، وہ عالی قدر ہے، اس لیے وہ اپنی صفات میں کامل ہے، وہ تمام مخلوقات پر غالب ہے، وہ اپنی ذات اور اسماء و صفات میں بلند ہے۔ یہ اس کی عظمت و کبریائی ہے کہ قیامت کے روز زمین اس کے قبضۂ قدرت میں اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔ یہ اس کی کبریائی ہے کہ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر محیط ہے، یہ اس کی کبریائی ہے کہ تمام بندوں کی پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ وہ اس کی مشیت کے بغیر تصرف نہیں کر سکتے۔ وہ اس کے ارادے کے بغیر حرکت کر سکتے ہیں نہ ساکن ہو سکتے ہیں ۔ اس کی کبریائی کی حقیقت کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ کوئی نبىٔ مرسل۔ ہر صفت کمال و جلال اور عظمت و کبریائی اس کے لیے ثابت ہے۔ اس کی یہ صفت کامل ترین اور جلیل ترین درجے پر ہے۔ یہ اس کی کبریائی ہے کہ زمین و آسمان سے صادر ہونے والی عبادات کا مقصد وحید اس کی تعظیم و کبریائی کا اقرار اور اس کے جلال و اکرام کا اعتراف ہے، بنابریں تکبیر تمام بڑی بڑی عبادات ، مثلاً: نماز وغیرہ کا شعار ہے۔
22:62

ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ هُوَ ٱلۡبَٰطِلُ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡكَبِيرُ

یہ اس لیے کہ بے شک اللہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور (یہ کہ) بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے (61)یہ اس لیے کہ بے شک اللہ ، وہی حق ہےاور جس کو وہ پکارتے ہیں سوائے اس کے، وہ باطل ہےاور (یہ کہ) بلاشبہ اللہ، وہی ہے بلند تر، بہت بڑا (62) [61] وہ اللہ جس نے تمھارے لیے یہ اچھے اور انصاف پر مبنی احکام مشروع كيے ہیں ، اپنی تقدیر اور تدبیر میں بہترین طریقے سے تصرف کرتا ہے، جو ﴿ يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ ﴾رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ پس وہ دن کے بعد رات کو اور رات کے بعد دن کو لاتا ہے اور وہ ان دونوں میں سے ایک کو بڑھاتا اور دوسرے میں اسی حساب سے کمی کرتا رہتا ہے، پھر اس کے برعکس پہلے میں کمی کرتا ہے اور دوسرے کو بڑھاتا ہے۔ پس دن رات کی اس کمی بیشی پر موسم مترتب ہوتے ہیں اور اسی پر شب و روز اور سورج چاند کے فوائد کا انحصار ہے، جو بندوں پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہیں اور یہ مختلف مواسم ان کے لیے نہایت ضروری ہیں ۔﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا ہے۔‘‘ بندوں کی زبان کے اختلاف اور ان کی مختلف حاجات کے باوجود وہ ان کی چیخ و پکار میں ہر ایک کی بات سنتا ہے۔ ﴿ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ رات کی تاریکی میں ، ٹھوس چٹان کے نیچے، سیاہ چیونٹی کو چلتے ہوئے دیکھتا ہے۔ ﴿ سَوَؔآءٌ مِّؔنۡكُمۡ مَّنۡ اَسَرَّ الۡقَوۡلَ وَمَنۡ جَهَرَ بِهٖ وَمَنۡ هُوَ مُسۡتَخۡفٍۭؔ بِالَّيۡلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ ﴾(الرعد:13؍10) ’’تم میں سے کوئی شخص خواہ بلند آواز سے بات کرے یا آہستہ اور کوئی رات کے اندھیروں میں چھپا ہوا ہو یا دن کے اجالے میں چل رہا ہو اس کے لیے سب برابر ہے۔‘‘ [62]﴿ ذٰلِكَ ﴾ یہ حکم اور احکام والی ہستی ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ ﴾ وہ ثابت ہے جو ہمیشہ سے ہے، وہ زائل ہونے والی نہیں ، وہ ’’اول‘‘ ہے اس سے پہلے کچھ نہ تھا وہ ’’آخر‘‘ ہے اس کے بعد کچھ نہیں ، وہ کامل اسماء و صفات کا مالک، وعدے کا سچا، اس کا وعدہ حق ہے، اس سے ملاقات ہونا حق ہے، اس کا دین حق ہے، اس کی عبادت حق، نفع مند اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ ﴿ وَاَنَّ مَا يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ اور اس کے سوا تم جن بتوں اور جمادات و حیوانات میں سے خود ساختہ خداؤں کو پکارتے ہو ﴿ هُوَ الۡبَاطِلُ ﴾وہ فی نفسہ باطل ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے کیونکہ یہ ایسی ہستی سے متعلق ہے جو مضمحل اور فانی ہے، لہٰذا وہ بھی اپنے باطل مقصد کی بنا پر باطل ہے۔﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡعَلِيُّ الۡكَبِيۡرُ ﴾ وہ فی ذاتہ بلند ہے، اس لیے وہ تمام مخلوقات سے بلند ہے، وہ عالی قدر ہے، اس لیے وہ اپنی صفات میں کامل ہے، وہ تمام مخلوقات پر غالب ہے، وہ اپنی ذات اور اسماء و صفات میں بلند ہے۔ یہ اس کی عظمت و کبریائی ہے کہ قیامت کے روز زمین اس کے قبضۂ قدرت میں اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔ یہ اس کی کبریائی ہے کہ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر محیط ہے، یہ اس کی کبریائی ہے کہ تمام بندوں کی پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ وہ اس کی مشیت کے بغیر تصرف نہیں کر سکتے۔ وہ اس کے ارادے کے بغیر حرکت کر سکتے ہیں نہ ساکن ہو سکتے ہیں ۔ اس کی کبریائی کی حقیقت کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ کوئی نبىٔ مرسل۔ ہر صفت کمال و جلال اور عظمت و کبریائی اس کے لیے ثابت ہے۔ اس کی یہ صفت کامل ترین اور جلیل ترین درجے پر ہے۔ یہ اس کی کبریائی ہے کہ زمین و آسمان سے صادر ہونے والی عبادات کا مقصد وحید اس کی تعظیم و کبریائی کا اقرار اور اس کے جلال و اکرام کا اعتراف ہے، بنابریں تکبیر تمام بڑی بڑی عبادات ، مثلاً: نماز وغیرہ کا شعار ہے۔
22:63

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَتُصۡبِحُ ٱلۡأَرۡضُ مُخۡضَرَّةًۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٞ

کیا نہیں دیکھا آپ نے یہ کہ بے شک اللہ ہی نے نازل کیا آسمان سے پانی، کہ ہو جاتی ہے (اس سے) زمین سرسبز، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بین، باخبر ہے (63) اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بے شک اللہ، البتہ وہی بے پروا، قابل تعریف ہے (64) [63] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے آیات الٰہی میں تفکروتدبر کی ترغیب ہے، جو اس کی وحدانیت اور اس کے کمال پر دلالت کرتی ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ تَرَ﴾ یعنی کیا تم نے چشم بصارت اور چشم بصیرت سے دیکھا نہیں ؟ ﴿ اَنَّ اللّٰهَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً﴾ ’’بے شک اللہ اتارتا ہے آسمان سے پانی۔‘‘ اس سے مراد بارش ہے جو پیاسی اور قحط زدہ زمین پر، جس کے کنارے غبار آلود اور اس میں موجود تمام درخت اور نباتات خشک ہو چکے ہوتے ہیں ، نازل ہوتی ہے۔ پس زمین سرسبز ہو جاتی ہے، ہر قسم کا خوبصورت لباس پہن لیتی ہے اور اس طرح زمین خوش منظر بن جاتی ہے۔بلاشبہ وہ ہستی جس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا، مردوں کو ان کے بوسیدہ ہو جانے کے بعد زندہ کرے گی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ ﴾(اللطیف) سے مراد وہ ہستی ہے جو تمام اشیاء کے باطن، ان کے مخفی امور اور ان کے تمام بھیدوں کو خوب جانتی ہے، جو اپنے بندوں کو اَن دیکھے راستوں سے بھلائی عطا کرتی ہے اور ان سے برائی کو دور کرتی ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ وہ اپنے بندے کو اپنے انتقام میں اپنی قوت اور اپنی قدرت کاملہ کا نظارہ کرواتا ہے اور جب بندہ ہلاکت کے گھڑے کے کنارے پر پہنچ جاتا ہے تو اس پر اپنے لطف کا اظہار کرتا ہے۔ یہ بھی اس کے لطف و کرم کا حصہ ہے کہ وہ بارش ہونے کی جگہوں اور زمین کے سینے میں چھپے ہوئے بیجوں کو جانتا ہے۔ وہ بارش کے اس پانی کو اس بیج تک پہنچاتا ہے، جو مخلوق سے مخفی ہے پھر اس سے مختلف انواع کی نباتات اگاتا ہے۔ ﴿خَبِيۡرٌ﴾ وہ تمام امور کے رازوں اور تمام سینوں کے بھیدوں کی خبر رکھتا ہے۔ [64]﴿ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ﴾ یعنی جو کچھ زمین و آسمان میں ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنی قوت، حکمت اور اقتدار کامل سے ان میں تصرف کرتا ہے۔ اس معاملے میں اس کے سوا کسی کو کوئی اختیار نہیں ﴿وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الۡغَنِيُّ ﴾یعنی وہ بذاتہ غنی ہے، جو ہر لحاظ سے غنائے مطلق و تام کا مالک ہے یہ اس کی غنائے کامل ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں وہ ذلت سے بچنے کے لیے ان کو مددگار بناتا ہے نہ قلت کو دور کرنے کے لیے ان کے ذریعے کثرت حاصل کرتا ہے۔ یہ اس کی غنائے تام ہے کہ اس کی کوئی بیوی ہے نہ اولاد۔ یہ اس کی غنا ہے کہ وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے وہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے کسی لحاظ سے وہ کسی چیز کا محتاج نہیں جس کی مخلوق محتاج ہوتی ہے، وہ مخلوق کو کھلاتا ہے کوئی اس کو نہیں کھلاتا۔ یہ اس کی غنا ہے کہ تمام مخلوق اپنے وجود میں آنے، اپنے تیار ہونے، اپنی امداد میں اور اپنے دین و دنیا میں اسی کی محتاج ہے۔ یہ اس کی غنائے تام ہے کہ اگر آسمانوں اور زمین کے تمام لوگ زندہ و مردہ سب ایک میدان میں جمع ہو جائیں ، پھر اس میں سے ہر شخص اپنی اپنی خواہش و تمنا کے مطابق اس سے سوال کرے اور وہ ان کو ان کی تمنا اور خواہش سے بڑھ کر عطا کر دے تب بھی اس کے خزانے میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔ یہ اس کی غنا ہے کہ اس کا دست عطا دن رات خیر و برکات عنایت کرتا رہتا ہے، اس کا فضل و کرم تمام جانداروں پر حاوی و ساری ہے۔ یہ اس کی غنا ہے کہ اس نے اپنے اکرام و تکریم والے گھر میں وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور سے اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔﴿الۡحَمِيۡدُ ﴾ وہ اپنی ذات میں محمود ہے اور وہ اپنے اسماء میں محمود ہے کیونکہ اس کے تمام نام اچھے ہیں ۔ وہ اپنی صفات میں محمود ہے کیونکہ اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ وہ اپنے افعال میں محمود ہے کیونکہ اس کے تمام افعال عدل و احسان اور رحمت و حکمت پر مبنی ہیں ۔ وہ اپنی تشریع میں محمود ہے کیونکہ وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں کوئی خالص یا راجح مصلحت ہو اور وہ اسی چیز سے روکتا ہے جس میں کوئی خالص یا راجح فساد ہو۔ وہ جس کے لیے ہر قسم کی ستائش ہے جس نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور ان کے بعد جو کچھ وہ چاہے، سب کو لبریز کر رکھا ہے۔ وہ ہستی کہ بندے اس کی حمد و ثنا بیان کرنے سے قاصر ہیں بلکہ وہ ویسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی حمد و ثنا بیان کی ہے۔ وہ اس حمد و ثنا سے بالا و بلند تر ہے جو بندے بیان کرتے ہیں ۔ وہ جسے اپنی توفیق سے نوازتا ہے تو اپنی توفیق پر قابل تعریف ہے اور جب اس سے علیحدہ ہو کر اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے تو اس پر بھی قابل تعریف ہے۔ وہ اپنی حمد و ثنا میں غنی اور اپنی غنا میں قابل تعریف ہے۔
22:64

لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ

کیا نہیں دیکھا آپ نے یہ کہ بے شک اللہ ہی نے نازل کیا آسمان سے پانی، کہ ہو جاتی ہے (اس سے) زمین سرسبز، بلاشبہ اللہ نہایت باریک بین، باخبر ہے (63) اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بے شک اللہ، البتہ وہی بے پروا، قابل تعریف ہے (64) [63] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے آیات الٰہی میں تفکروتدبر کی ترغیب ہے، جو اس کی وحدانیت اور اس کے کمال پر دلالت کرتی ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ تَرَ﴾ یعنی کیا تم نے چشم بصارت اور چشم بصیرت سے دیکھا نہیں ؟ ﴿ اَنَّ اللّٰهَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً﴾ ’’بے شک اللہ اتارتا ہے آسمان سے پانی۔‘‘ اس سے مراد بارش ہے جو پیاسی اور قحط زدہ زمین پر، جس کے کنارے غبار آلود اور اس میں موجود تمام درخت اور نباتات خشک ہو چکے ہوتے ہیں ، نازل ہوتی ہے۔ پس زمین سرسبز ہو جاتی ہے، ہر قسم کا خوبصورت لباس پہن لیتی ہے اور اس طرح زمین خوش منظر بن جاتی ہے۔بلاشبہ وہ ہستی جس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا، مردوں کو ان کے بوسیدہ ہو جانے کے بعد زندہ کرے گی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيۡفٌ ﴾(اللطیف) سے مراد وہ ہستی ہے جو تمام اشیاء کے باطن، ان کے مخفی امور اور ان کے تمام بھیدوں کو خوب جانتی ہے، جو اپنے بندوں کو اَن دیکھے راستوں سے بھلائی عطا کرتی ہے اور ان سے برائی کو دور کرتی ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ وہ اپنے بندے کو اپنے انتقام میں اپنی قوت اور اپنی قدرت کاملہ کا نظارہ کرواتا ہے اور جب بندہ ہلاکت کے گھڑے کے کنارے پر پہنچ جاتا ہے تو اس پر اپنے لطف کا اظہار کرتا ہے۔ یہ بھی اس کے لطف و کرم کا حصہ ہے کہ وہ بارش ہونے کی جگہوں اور زمین کے سینے میں چھپے ہوئے بیجوں کو جانتا ہے۔ وہ بارش کے اس پانی کو اس بیج تک پہنچاتا ہے، جو مخلوق سے مخفی ہے پھر اس سے مختلف انواع کی نباتات اگاتا ہے۔ ﴿خَبِيۡرٌ﴾ وہ تمام امور کے رازوں اور تمام سینوں کے بھیدوں کی خبر رکھتا ہے۔ [64]﴿ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ﴾ یعنی جو کچھ زمین و آسمان میں ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنی قوت، حکمت اور اقتدار کامل سے ان میں تصرف کرتا ہے۔ اس معاملے میں اس کے سوا کسی کو کوئی اختیار نہیں ﴿وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الۡغَنِيُّ ﴾یعنی وہ بذاتہ غنی ہے، جو ہر لحاظ سے غنائے مطلق و تام کا مالک ہے یہ اس کی غنائے کامل ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں وہ ذلت سے بچنے کے لیے ان کو مددگار بناتا ہے نہ قلت کو دور کرنے کے لیے ان کے ذریعے کثرت حاصل کرتا ہے۔ یہ اس کی غنائے تام ہے کہ اس کی کوئی بیوی ہے نہ اولاد۔ یہ اس کی غنا ہے کہ وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے وہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے کسی لحاظ سے وہ کسی چیز کا محتاج نہیں جس کی مخلوق محتاج ہوتی ہے، وہ مخلوق کو کھلاتا ہے کوئی اس کو نہیں کھلاتا۔ یہ اس کی غنا ہے کہ تمام مخلوق اپنے وجود میں آنے، اپنے تیار ہونے، اپنی امداد میں اور اپنے دین و دنیا میں اسی کی محتاج ہے۔ یہ اس کی غنائے تام ہے کہ اگر آسمانوں اور زمین کے تمام لوگ زندہ و مردہ سب ایک میدان میں جمع ہو جائیں ، پھر اس میں سے ہر شخص اپنی اپنی خواہش و تمنا کے مطابق اس سے سوال کرے اور وہ ان کو ان کی تمنا اور خواہش سے بڑھ کر عطا کر دے تب بھی اس کے خزانے میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔ یہ اس کی غنا ہے کہ اس کا دست عطا دن رات خیر و برکات عنایت کرتا رہتا ہے، اس کا فضل و کرم تمام جانداروں پر حاوی و ساری ہے۔ یہ اس کی غنا ہے کہ اس نے اپنے اکرام و تکریم والے گھر میں وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور سے اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔﴿الۡحَمِيۡدُ ﴾ وہ اپنی ذات میں محمود ہے اور وہ اپنے اسماء میں محمود ہے کیونکہ اس کے تمام نام اچھے ہیں ۔ وہ اپنی صفات میں محمود ہے کیونکہ اس کی تمام صفات، صفات کمال ہیں ۔ وہ اپنے افعال میں محمود ہے کیونکہ اس کے تمام افعال عدل و احسان اور رحمت و حکمت پر مبنی ہیں ۔ وہ اپنی تشریع میں محمود ہے کیونکہ وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں کوئی خالص یا راجح مصلحت ہو اور وہ اسی چیز سے روکتا ہے جس میں کوئی خالص یا راجح فساد ہو۔ وہ جس کے لیے ہر قسم کی ستائش ہے جس نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور ان کے بعد جو کچھ وہ چاہے، سب کو لبریز کر رکھا ہے۔ وہ ہستی کہ بندے اس کی حمد و ثنا بیان کرنے سے قاصر ہیں بلکہ وہ ویسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی حمد و ثنا بیان کی ہے۔ وہ اس حمد و ثنا سے بالا و بلند تر ہے جو بندے بیان کرتے ہیں ۔ وہ جسے اپنی توفیق سے نوازتا ہے تو اپنی توفیق پر قابل تعریف ہے اور جب اس سے علیحدہ ہو کر اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے تو اس پر بھی قابل تعریف ہے۔ وہ اپنی حمد و ثنا میں غنی اور اپنی غنا میں قابل تعریف ہے۔
22:65

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱلۡفُلۡكَ تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِأَمۡرِهِۦ وَيُمۡسِكُ ٱلسَّمَآءَ أَن تَقَعَ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ

کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ نے تابع کر دیا واسطے تمھارے جو کچھ زمین میں ہے اور کشتیوں کو جو چلتی ہیں سمندر میں ساتھ اس کے حکم کے اور وہی تھامے رکھتا ہے آسمان کو اس سے کہ گر پڑے وہ اوپر زمین کے مگر ساتھ اسی کے حکم کے بلاشبہ اللہ لوگوں پر البتہ نہایت شفقت کرنے والا ، بڑا مہربان ہے (65) اور وہی ہے جس نے زندہ کیا تمھیں ، پھر وہ مارے گا تمھیں ، پھر (دوبارہ) وہ زندہ کرے گا تمھیں ، بے شک انسان البتہ بڑا ناشکراہے (66) [65] کیا تم نے اپنی آنکھ اور دل سے اپنے رب کی بے پایاں نعمت اور بے حد احسانات کو نہیں دیکھا؟ ﴿ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمۡ مَّا فِي الۡاَرۡضِ ﴾یعنی اللہ تعالیٰ نے حیوانات نباتات اور جمادات کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے۔ روئے زمین کی تمام موجودات کو اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کے لیے مسخر کر دیا ہے، چنانچہ زمین کے تمام حیوانات کو انسان کی سواری، نقل و حمل، کام کاج، کھانے اور مختلف انواع کے استفادے کے لیے مسخر کر دیا اور اس کے تمام درختوں اور پھلوں کو بھی مسخر کر دیا تاکہ وہ ان سے خوراک حاصل کر سکے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو درخت لگانے زمین سے غلہ حاصل کرنے اور معدنیات نکالنے کی طاقت عطا کی تاکہ وہ ان سے استفادہ کرے۔﴿ وَالۡفُلۡكَ ﴾ یعنی تمھارے لیے کشتیوں کو مسخر کر دیا ﴿ تَجۡرِيۡ فِي الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِهٖ﴾ وہ سمندوں میں تمھیں اور تمھارے تجارتی سامان کو اٹھائے پھرتی ہیں اور تمھیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتی ہیں ، نیز تم سمندر سے موتی نکالتے ہو جنھیں تم زیور کے طور پر پہنتے ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ ﴿وَيُمۡسِكُ السَّمَآءَؔ اَنۡ تَقَعَ عَلَى الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اس نے آسمان کو زمین پر گرنے سے تھام رکھا ہے۔‘‘ اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی قدرت نہ ہوتی تو آسمان زمین پر گر پڑتا اور زمین پر موجود ہر چیز کو تلف اور ہر انسان کو ہلاک کر دیتا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ١ۚ ۬ وَلَىِٕنۡ زَالَتَاۤ اِنۡ اَمۡسَكَهُمَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًا ﴾(فاطر:35؍41) ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو تھام رکھا ہے اگر وہ دونوں ٹل (ڈول)جائیں تو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور ان کو تھامنے والا نہیں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ بہت حلیم اور بخش دینے والا ہے۔ ‘‘﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ اللہ تعالیٰ ان پر ان کے والدین سے اور خود ان سے زیادہ مہربان ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے لیے بھلائی چاہتا ہے اور وہ خود برائی اور ضرر چاہتے ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان تمام اشیاء کو ان کے لیے مسخر کر دیا ہے۔ [66]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡۤ اَحۡيَاكُمۡ ﴾ ’’اور وہی ہے جس نے تمھیں زندہ کیا۔‘‘ اور تمھیں عدم سے وجود میں لایا ﴿ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ﴾ پھر وہ تمھیں زندہ کرنے کے بعد مارے گا ﴿ ثُمَّ يُحۡيِيۡكُمۡ﴾ پھر تمھارے مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ نیک کو اس کی نیکی اور بد کو اس کی بدی کا بدلہ دے۔ ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ﴾ ’’بے شک انسان۔‘‘ یعنی جنس انسان ، سوائے اس کے جس کو اللہ تعالیٰ بچا لے ﴿ لَكَفُوۡرٌ ﴾ ’’ناشکرا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اور اللہ تعالیٰ کا ناسپاس ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے احسان کا اعتراف نہیں کرتا بلکہ بسااوقات وہ دوبارہ اٹھائے جانے کا اور اپنے رب کی قدرت کا انکار کرتا ہے۔
22:66

وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَحۡيَاكُمۡ ثُمَّ يُمِيتُكُمۡ ثُمَّ يُحۡيِيكُمۡۗ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَكَفُورٞ

کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ نے تابع کر دیا واسطے تمھارے جو کچھ زمین میں ہے اور کشتیوں کو جو چلتی ہیں سمندر میں ساتھ اس کے حکم کے اور وہی تھامے رکھتا ہے آسمان کو اس سے کہ گر پڑے وہ اوپر زمین کے مگر ساتھ اسی کے حکم کے بلاشبہ اللہ لوگوں پر البتہ نہایت شفقت کرنے والا ، بڑا مہربان ہے (65) اور وہی ہے جس نے زندہ کیا تمھیں ، پھر وہ مارے گا تمھیں ، پھر (دوبارہ) وہ زندہ کرے گا تمھیں ، بے شک انسان البتہ بڑا ناشکراہے (66) [65] کیا تم نے اپنی آنکھ اور دل سے اپنے رب کی بے پایاں نعمت اور بے حد احسانات کو نہیں دیکھا؟ ﴿ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمۡ مَّا فِي الۡاَرۡضِ ﴾یعنی اللہ تعالیٰ نے حیوانات نباتات اور جمادات کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے۔ روئے زمین کی تمام موجودات کو اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کے لیے مسخر کر دیا ہے، چنانچہ زمین کے تمام حیوانات کو انسان کی سواری، نقل و حمل، کام کاج، کھانے اور مختلف انواع کے استفادے کے لیے مسخر کر دیا اور اس کے تمام درختوں اور پھلوں کو بھی مسخر کر دیا تاکہ وہ ان سے خوراک حاصل کر سکے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو درخت لگانے زمین سے غلہ حاصل کرنے اور معدنیات نکالنے کی طاقت عطا کی تاکہ وہ ان سے استفادہ کرے۔﴿ وَالۡفُلۡكَ ﴾ یعنی تمھارے لیے کشتیوں کو مسخر کر دیا ﴿ تَجۡرِيۡ فِي الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِهٖ﴾ وہ سمندوں میں تمھیں اور تمھارے تجارتی سامان کو اٹھائے پھرتی ہیں اور تمھیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتی ہیں ، نیز تم سمندر سے موتی نکالتے ہو جنھیں تم زیور کے طور پر پہنتے ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ ﴿وَيُمۡسِكُ السَّمَآءَؔ اَنۡ تَقَعَ عَلَى الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اس نے آسمان کو زمین پر گرنے سے تھام رکھا ہے۔‘‘ اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی قدرت نہ ہوتی تو آسمان زمین پر گر پڑتا اور زمین پر موجود ہر چیز کو تلف اور ہر انسان کو ہلاک کر دیتا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ١ۚ ۬ وَلَىِٕنۡ زَالَتَاۤ اِنۡ اَمۡسَكَهُمَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًا ﴾(فاطر:35؍41) ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو تھام رکھا ہے اگر وہ دونوں ٹل (ڈول)جائیں تو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور ان کو تھامنے والا نہیں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ بہت حلیم اور بخش دینے والا ہے۔ ‘‘﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ اللہ تعالیٰ ان پر ان کے والدین سے اور خود ان سے زیادہ مہربان ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے لیے بھلائی چاہتا ہے اور وہ خود برائی اور ضرر چاہتے ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان تمام اشیاء کو ان کے لیے مسخر کر دیا ہے۔ [66]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡۤ اَحۡيَاكُمۡ ﴾ ’’اور وہی ہے جس نے تمھیں زندہ کیا۔‘‘ اور تمھیں عدم سے وجود میں لایا ﴿ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ﴾ پھر وہ تمھیں زندہ کرنے کے بعد مارے گا ﴿ ثُمَّ يُحۡيِيۡكُمۡ﴾ پھر تمھارے مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ نیک کو اس کی نیکی اور بد کو اس کی بدی کا بدلہ دے۔ ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ﴾ ’’بے شک انسان۔‘‘ یعنی جنس انسان ، سوائے اس کے جس کو اللہ تعالیٰ بچا لے ﴿ لَكَفُوۡرٌ ﴾ ’’ناشکرا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اور اللہ تعالیٰ کا ناسپاس ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے احسان کا اعتراف نہیں کرتا بلکہ بسااوقات وہ دوبارہ اٹھائے جانے کا اور اپنے رب کی قدرت کا انکار کرتا ہے۔
22:67

لِّكُلِّ أُمَّةٖ جَعَلۡنَا مَنسَكًا هُمۡ نَاسِكُوهُۖ فَلَا يُنَٰزِعُنَّكَ فِي ٱلۡأَمۡرِۚ وَٱدۡعُ إِلَىٰ رَبِّكَۖ إِنَّكَ لَعَلَىٰ هُدٗى مُّسۡتَقِيمٖ

واسطے ہر امت کے مقرر کیا ہے ہم نے طریقہ عبادت کا، وہ بجالانے والے ہیں اس کو، پس نہ جھگڑا کریں وہ آپ سے اس معاملے میں اور آپ بلائیں طرف اپنے رب کی ، بلاشبہ آپ البتہ اوپر راہ راست کے ہیں (67) اور اگر وہ (لوگ) جھگڑا کریں آپ سے تو آپ کہہ دیجیے! اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (68) اللہ ہی فیصلہ کرے گا تمھارے درمیان دن قیامت کے ان باتوں میں کہ تھے تم ان میں اختلاف کرتے (69) کیا نہیں جانتے آپ کہ بے شک اللہ ہی جانتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے؟ بلاشبہ یہ (سب کچھ) لوح محفوظ میں (درج) ہے، بے شک یہ اوپر اللہ کے آسان ہے (70) [67] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے ہر امت کے لیے ﴿ مَنۡسَكًا ﴾ ایک عبادت مقرر کی ہے جو عدل و حکمت پر متفق ہونے کے باوجود بعض امور میں مختلف ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لِكُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ شِرۡعَةً وَّمِنۡهَاجًا١ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَؔكُمۡ فِيۡ مَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾(المائدۃ:5؍48)’’ہم نے تم میں سے ہر ایک گروہ کے لیے ایک شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمھیں ایک ہی امت بنا دیتا مگر اس نے جو احکام تمھیں دیے ہیں وہ ان میں تمھیں آزمانا چاہتا ہے۔‘‘﴿ هُمۡ نَاسِكُوۡهُ ﴾ یعنی وہ اس پر اپنے احوال کے مطابق عمل پیرا ہیں ، اس لیے ان شریعتوں میں سے کسی شریعت پر اعتراض کی گنجائش نہیں ، خاص طور پر ان پڑھوں کے لیے جو شرک اور کھلی جہالت میں مبتلا ہیں کیونکہ جب رسول کی رسالت دلائل کے ساتھ ثابت ہو گئی تو اس پر اعتراض کو ترک کرنا، ان تمام احکام کو قبول کرنا اور ان کے سامنے سرتسلیم کرنا واجب ہے، جو رسول لے کر آیا ہے، بناء بریں فرمایا:﴿ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الۡاَمۡرِ ﴾ یعنی آپﷺ کی تکذیب کرنے والے اپنی فاسد عقل کی بنیاد پر آپ کے ساتھ جھگڑا کریں نہ آپ کی لائی ہوئی کتاب پر اعتراض کریں ، جیسے وہ اپنے فاسد قیاس کی بنا پر مردار کی حلت کے بارے میں آپﷺ سے جھگڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’جسے تم قتل کرتے ہو اسے تو کھا لیتے ہو اور جسے اللہ تعالیٰ قتل کرتا ہے اسے نہیں کھاتے‘‘ اور جیسے وہ سود کی حلت کے لیے کہتے ہیں : ’’تجارت بھی تو سود ہی کی مانند ہے‘‘ اور اس قسم کے دیگر اعتراضات، جن کا جواب دینا لازم نہیں ۔ وہ درحقیقت، اصل رسالت ہی کے منکر ہیں ، جس میں کسی بحث اور مجادلے کی گنجائش نہیں بلکہ ہر مقام کے لیے ایک الگ دلیل اور گفتگو ہے۔اس قسم کا اعتراض کرنے والا، منکر رسالت جب یہ دعویٰ کرے کہ وہ تو صرف تلاش حق کے لیے بحث کرتا ہے تو اس سے یہ کہا جائے: ’’آپ کے ساتھ صرف رسالت کے اثبات اور عدم اثبات پر گفتگو ہو سکتی ہے‘‘ ورنہ اس کا صرف اپنی بات پر اقتصار کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مقصد محض عاجز کرنا اور مشقت میں ڈالنا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے رب کی طرف بلائیں اور اسی رویے کو اپنائے رکھیں ، خواہ معترضین اعتراض کریں یا نہ کریں اور یہ مناسب نہیں کہ کوئی چیز آپ کو اس دعوت سے ہٹا دے کیونکہ ﴿اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’یقینا آپﷺ سیدھے راستے پر ہیں ‘‘ جو معتدل اور منزل مقصود پر پہنچاتا ہے اور علم حق اور اس پر عمل کا متضمن ہے۔ آپ کو اپنی دعوت کی حقانیت پر اعتماد اور اپنے دین پر یقین ہے، لہٰذا یہ اعتماد اور یقین اس امر کے موجب ہیں کہ آپﷺ اپنے موقف پر سختی سے جمے رہیں اور وہ کام کرتے رہیں جس کا آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے۔ آپﷺ کا موقف مشکوک اور کمزور نہیں یا آپ کی دعوت جھوٹ پر مبنی نہیں کہ آپ لوگوں کی خواہشات نفس اور ان کی آراء کی طرف التفات کریں اور ان کا اعتراض آپﷺ کی راہ کو کھوٹا کر دے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:﴿ فَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الۡحَقِّ الۡمُبِيۡنِ ﴾(النمل:27؍79) ’’اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے، بے شک آپ واضح حق پر ہیں ۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ میں جزئیات شرع پر معترضین کے اس اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ ہے جو عقل صحیح پر مبنی ہے کیونکہ ہدایت ہر اس چیز کا وصف ہے جسے رسول لے کر آئے ہیں ۔ ہدایت وہ طریق کار ہے جس سے اصولی اور فروعی مسائل میں راہنمائی حاصل ہوتی ہے اور یہ وہ مسائل ہیں جن کا حسن اور جن میں پنہاں عدل و حکمت عقل صحیح اور فطرت سلیم کے نزدیک معروف ہے اور یہ چیز مامورات و منہیات کی تفاصیل پر غور کرنے سے معلوم کی جا سکتی ہے۔ [69,68] بناء بریں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حالت میں ان کے ساتھ بحث کرنے سے گریز کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ﴿ وَاِنۡ جٰؔدَلُوۡكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اگر وہ آپ سے جھگڑا کریں تو کہہ دیجیے، اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے مقاصد اور تمھاری نیتوں کو خوب جانتا ہے۔ وہ تمھیں قیامت کے دن ان کی جزا دے گااور تمھارے درمیان ان سب باتوں کا فیصلہ کرے گا جن کے بارے میں تم آپس میں اختلاف کرتے ہو۔ پس جو کوئی صراط مستقیم کے موافق ہو گا وہ ان لوگوں میں شامل ہو گا جنھیں نعمتوں سے نوازا جائے گا اور جو صراط مستقیم سے ہٹا ہوا ہو گا وہ جہنمیوں میں شامل ہو گا۔ [70] اس کے فیصلے کی تکمیل یہ ہے کہ یہ فیصلہ اس کے علم کی بنیاد پر ہو گا، بنابریں اللہ تعالیٰ نے احاطۂ علم اور احاطۂ کتاب کا ذکر فرمایا:﴿ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ اللہ تعالیٰ پر تمام معاملات کے ظاہر و باطن، جلی و خفی اور اول و آخر میں سے کچھ بھی مخفی نہیں ، زمین و آسمان کی موجودات کا احاطہ کرنے والا علم اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب میں درج کر رکھا ہے… اور وہ ہے لوح محفوظ۔ اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اسے حکم دیا ’’لکھ! قلم نے عرض کیا ’’کیا لکھوں ؟ فرمایا ’’قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اسے لکھ‘‘(سنن ابی داود، السنۃ، باب فی القدر، ح:4700 و جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ نون و القلم، ح:3319)﴿ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ ﴾ اگرچہ تمھارے نزدیک اس کے تصور کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا مگر اللہ تعالیٰ کے لیے تمام اشیاء کے علم کا احاطہ کرنا بہت آسان ہے اور اس کے لیے یہ بھی بہت آسان ہے کہ آئندہ واقعات کے علم کو واقعات کے مطابق ایک کتاب میں درج کر دے۔
22:68

وَإِن جَٰدَلُوكَ فَقُلِ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُونَ

واسطے ہر امت کے مقرر کیا ہے ہم نے طریقہ عبادت کا، وہ بجالانے والے ہیں اس کو، پس نہ جھگڑا کریں وہ آپ سے اس معاملے میں اور آپ بلائیں طرف اپنے رب کی ، بلاشبہ آپ البتہ اوپر راہ راست کے ہیں (67) اور اگر وہ (لوگ) جھگڑا کریں آپ سے تو آپ کہہ دیجیے! اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (68) اللہ ہی فیصلہ کرے گا تمھارے درمیان دن قیامت کے ان باتوں میں کہ تھے تم ان میں اختلاف کرتے (69) کیا نہیں جانتے آپ کہ بے شک اللہ ہی جانتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے؟ بلاشبہ یہ (سب کچھ) لوح محفوظ میں (درج) ہے، بے شک یہ اوپر اللہ کے آسان ہے (70) [67] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے ہر امت کے لیے ﴿ مَنۡسَكًا ﴾ ایک عبادت مقرر کی ہے جو عدل و حکمت پر متفق ہونے کے باوجود بعض امور میں مختلف ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لِكُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ شِرۡعَةً وَّمِنۡهَاجًا١ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَؔكُمۡ فِيۡ مَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾(المائدۃ:5؍48)’’ہم نے تم میں سے ہر ایک گروہ کے لیے ایک شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمھیں ایک ہی امت بنا دیتا مگر اس نے جو احکام تمھیں دیے ہیں وہ ان میں تمھیں آزمانا چاہتا ہے۔‘‘﴿ هُمۡ نَاسِكُوۡهُ ﴾ یعنی وہ اس پر اپنے احوال کے مطابق عمل پیرا ہیں ، اس لیے ان شریعتوں میں سے کسی شریعت پر اعتراض کی گنجائش نہیں ، خاص طور پر ان پڑھوں کے لیے جو شرک اور کھلی جہالت میں مبتلا ہیں کیونکہ جب رسول کی رسالت دلائل کے ساتھ ثابت ہو گئی تو اس پر اعتراض کو ترک کرنا، ان تمام احکام کو قبول کرنا اور ان کے سامنے سرتسلیم کرنا واجب ہے، جو رسول لے کر آیا ہے، بناء بریں فرمایا:﴿ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الۡاَمۡرِ ﴾ یعنی آپﷺ کی تکذیب کرنے والے اپنی فاسد عقل کی بنیاد پر آپ کے ساتھ جھگڑا کریں نہ آپ کی لائی ہوئی کتاب پر اعتراض کریں ، جیسے وہ اپنے فاسد قیاس کی بنا پر مردار کی حلت کے بارے میں آپﷺ سے جھگڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’جسے تم قتل کرتے ہو اسے تو کھا لیتے ہو اور جسے اللہ تعالیٰ قتل کرتا ہے اسے نہیں کھاتے‘‘ اور جیسے وہ سود کی حلت کے لیے کہتے ہیں : ’’تجارت بھی تو سود ہی کی مانند ہے‘‘ اور اس قسم کے دیگر اعتراضات، جن کا جواب دینا لازم نہیں ۔ وہ درحقیقت، اصل رسالت ہی کے منکر ہیں ، جس میں کسی بحث اور مجادلے کی گنجائش نہیں بلکہ ہر مقام کے لیے ایک الگ دلیل اور گفتگو ہے۔اس قسم کا اعتراض کرنے والا، منکر رسالت جب یہ دعویٰ کرے کہ وہ تو صرف تلاش حق کے لیے بحث کرتا ہے تو اس سے یہ کہا جائے: ’’آپ کے ساتھ صرف رسالت کے اثبات اور عدم اثبات پر گفتگو ہو سکتی ہے‘‘ ورنہ اس کا صرف اپنی بات پر اقتصار کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مقصد محض عاجز کرنا اور مشقت میں ڈالنا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے رب کی طرف بلائیں اور اسی رویے کو اپنائے رکھیں ، خواہ معترضین اعتراض کریں یا نہ کریں اور یہ مناسب نہیں کہ کوئی چیز آپ کو اس دعوت سے ہٹا دے کیونکہ ﴿اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’یقینا آپﷺ سیدھے راستے پر ہیں ‘‘ جو معتدل اور منزل مقصود پر پہنچاتا ہے اور علم حق اور اس پر عمل کا متضمن ہے۔ آپ کو اپنی دعوت کی حقانیت پر اعتماد اور اپنے دین پر یقین ہے، لہٰذا یہ اعتماد اور یقین اس امر کے موجب ہیں کہ آپﷺ اپنے موقف پر سختی سے جمے رہیں اور وہ کام کرتے رہیں جس کا آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے۔ آپﷺ کا موقف مشکوک اور کمزور نہیں یا آپ کی دعوت جھوٹ پر مبنی نہیں کہ آپ لوگوں کی خواہشات نفس اور ان کی آراء کی طرف التفات کریں اور ان کا اعتراض آپﷺ کی راہ کو کھوٹا کر دے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:﴿ فَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الۡحَقِّ الۡمُبِيۡنِ ﴾(النمل:27؍79) ’’اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے، بے شک آپ واضح حق پر ہیں ۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ میں جزئیات شرع پر معترضین کے اس اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ ہے جو عقل صحیح پر مبنی ہے کیونکہ ہدایت ہر اس چیز کا وصف ہے جسے رسول لے کر آئے ہیں ۔ ہدایت وہ طریق کار ہے جس سے اصولی اور فروعی مسائل میں راہنمائی حاصل ہوتی ہے اور یہ وہ مسائل ہیں جن کا حسن اور جن میں پنہاں عدل و حکمت عقل صحیح اور فطرت سلیم کے نزدیک معروف ہے اور یہ چیز مامورات و منہیات کی تفاصیل پر غور کرنے سے معلوم کی جا سکتی ہے۔ [69,68] بناء بریں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حالت میں ان کے ساتھ بحث کرنے سے گریز کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ﴿ وَاِنۡ جٰؔدَلُوۡكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اگر وہ آپ سے جھگڑا کریں تو کہہ دیجیے، اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے مقاصد اور تمھاری نیتوں کو خوب جانتا ہے۔ وہ تمھیں قیامت کے دن ان کی جزا دے گااور تمھارے درمیان ان سب باتوں کا فیصلہ کرے گا جن کے بارے میں تم آپس میں اختلاف کرتے ہو۔ پس جو کوئی صراط مستقیم کے موافق ہو گا وہ ان لوگوں میں شامل ہو گا جنھیں نعمتوں سے نوازا جائے گا اور جو صراط مستقیم سے ہٹا ہوا ہو گا وہ جہنمیوں میں شامل ہو گا۔ [70] اس کے فیصلے کی تکمیل یہ ہے کہ یہ فیصلہ اس کے علم کی بنیاد پر ہو گا، بنابریں اللہ تعالیٰ نے احاطۂ علم اور احاطۂ کتاب کا ذکر فرمایا:﴿ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ اللہ تعالیٰ پر تمام معاملات کے ظاہر و باطن، جلی و خفی اور اول و آخر میں سے کچھ بھی مخفی نہیں ، زمین و آسمان کی موجودات کا احاطہ کرنے والا علم اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب میں درج کر رکھا ہے… اور وہ ہے لوح محفوظ۔ اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اسے حکم دیا ’’لکھ! قلم نے عرض کیا ’’کیا لکھوں ؟ فرمایا ’’قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اسے لکھ‘‘(سنن ابی داود، السنۃ، باب فی القدر، ح:4700 و جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ نون و القلم، ح:3319)﴿ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ ﴾ اگرچہ تمھارے نزدیک اس کے تصور کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا مگر اللہ تعالیٰ کے لیے تمام اشیاء کے علم کا احاطہ کرنا بہت آسان ہے اور اس کے لیے یہ بھی بہت آسان ہے کہ آئندہ واقعات کے علم کو واقعات کے مطابق ایک کتاب میں درج کر دے۔
22:69

ٱللَّهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ

واسطے ہر امت کے مقرر کیا ہے ہم نے طریقہ عبادت کا، وہ بجالانے والے ہیں اس کو، پس نہ جھگڑا کریں وہ آپ سے اس معاملے میں اور آپ بلائیں طرف اپنے رب کی ، بلاشبہ آپ البتہ اوپر راہ راست کے ہیں (67) اور اگر وہ (لوگ) جھگڑا کریں آپ سے تو آپ کہہ دیجیے! اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (68) اللہ ہی فیصلہ کرے گا تمھارے درمیان دن قیامت کے ان باتوں میں کہ تھے تم ان میں اختلاف کرتے (69) کیا نہیں جانتے آپ کہ بے شک اللہ ہی جانتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے؟ بلاشبہ یہ (سب کچھ) لوح محفوظ میں (درج) ہے، بے شک یہ اوپر اللہ کے آسان ہے (70) [67] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے ہر امت کے لیے ﴿ مَنۡسَكًا ﴾ ایک عبادت مقرر کی ہے جو عدل و حکمت پر متفق ہونے کے باوجود بعض امور میں مختلف ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لِكُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ شِرۡعَةً وَّمِنۡهَاجًا١ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَؔكُمۡ فِيۡ مَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾(المائدۃ:5؍48)’’ہم نے تم میں سے ہر ایک گروہ کے لیے ایک شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمھیں ایک ہی امت بنا دیتا مگر اس نے جو احکام تمھیں دیے ہیں وہ ان میں تمھیں آزمانا چاہتا ہے۔‘‘﴿ هُمۡ نَاسِكُوۡهُ ﴾ یعنی وہ اس پر اپنے احوال کے مطابق عمل پیرا ہیں ، اس لیے ان شریعتوں میں سے کسی شریعت پر اعتراض کی گنجائش نہیں ، خاص طور پر ان پڑھوں کے لیے جو شرک اور کھلی جہالت میں مبتلا ہیں کیونکہ جب رسول کی رسالت دلائل کے ساتھ ثابت ہو گئی تو اس پر اعتراض کو ترک کرنا، ان تمام احکام کو قبول کرنا اور ان کے سامنے سرتسلیم کرنا واجب ہے، جو رسول لے کر آیا ہے، بناء بریں فرمایا:﴿ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الۡاَمۡرِ ﴾ یعنی آپﷺ کی تکذیب کرنے والے اپنی فاسد عقل کی بنیاد پر آپ کے ساتھ جھگڑا کریں نہ آپ کی لائی ہوئی کتاب پر اعتراض کریں ، جیسے وہ اپنے فاسد قیاس کی بنا پر مردار کی حلت کے بارے میں آپﷺ سے جھگڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’جسے تم قتل کرتے ہو اسے تو کھا لیتے ہو اور جسے اللہ تعالیٰ قتل کرتا ہے اسے نہیں کھاتے‘‘ اور جیسے وہ سود کی حلت کے لیے کہتے ہیں : ’’تجارت بھی تو سود ہی کی مانند ہے‘‘ اور اس قسم کے دیگر اعتراضات، جن کا جواب دینا لازم نہیں ۔ وہ درحقیقت، اصل رسالت ہی کے منکر ہیں ، جس میں کسی بحث اور مجادلے کی گنجائش نہیں بلکہ ہر مقام کے لیے ایک الگ دلیل اور گفتگو ہے۔اس قسم کا اعتراض کرنے والا، منکر رسالت جب یہ دعویٰ کرے کہ وہ تو صرف تلاش حق کے لیے بحث کرتا ہے تو اس سے یہ کہا جائے: ’’آپ کے ساتھ صرف رسالت کے اثبات اور عدم اثبات پر گفتگو ہو سکتی ہے‘‘ ورنہ اس کا صرف اپنی بات پر اقتصار کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مقصد محض عاجز کرنا اور مشقت میں ڈالنا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے رب کی طرف بلائیں اور اسی رویے کو اپنائے رکھیں ، خواہ معترضین اعتراض کریں یا نہ کریں اور یہ مناسب نہیں کہ کوئی چیز آپ کو اس دعوت سے ہٹا دے کیونکہ ﴿اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’یقینا آپﷺ سیدھے راستے پر ہیں ‘‘ جو معتدل اور منزل مقصود پر پہنچاتا ہے اور علم حق اور اس پر عمل کا متضمن ہے۔ آپ کو اپنی دعوت کی حقانیت پر اعتماد اور اپنے دین پر یقین ہے، لہٰذا یہ اعتماد اور یقین اس امر کے موجب ہیں کہ آپﷺ اپنے موقف پر سختی سے جمے رہیں اور وہ کام کرتے رہیں جس کا آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے۔ آپﷺ کا موقف مشکوک اور کمزور نہیں یا آپ کی دعوت جھوٹ پر مبنی نہیں کہ آپ لوگوں کی خواہشات نفس اور ان کی آراء کی طرف التفات کریں اور ان کا اعتراض آپﷺ کی راہ کو کھوٹا کر دے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:﴿ فَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الۡحَقِّ الۡمُبِيۡنِ ﴾(النمل:27؍79) ’’اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے، بے شک آپ واضح حق پر ہیں ۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ میں جزئیات شرع پر معترضین کے اس اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ ہے جو عقل صحیح پر مبنی ہے کیونکہ ہدایت ہر اس چیز کا وصف ہے جسے رسول لے کر آئے ہیں ۔ ہدایت وہ طریق کار ہے جس سے اصولی اور فروعی مسائل میں راہنمائی حاصل ہوتی ہے اور یہ وہ مسائل ہیں جن کا حسن اور جن میں پنہاں عدل و حکمت عقل صحیح اور فطرت سلیم کے نزدیک معروف ہے اور یہ چیز مامورات و منہیات کی تفاصیل پر غور کرنے سے معلوم کی جا سکتی ہے۔ [69,68] بناء بریں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حالت میں ان کے ساتھ بحث کرنے سے گریز کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ﴿ وَاِنۡ جٰؔدَلُوۡكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اگر وہ آپ سے جھگڑا کریں تو کہہ دیجیے، اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے مقاصد اور تمھاری نیتوں کو خوب جانتا ہے۔ وہ تمھیں قیامت کے دن ان کی جزا دے گااور تمھارے درمیان ان سب باتوں کا فیصلہ کرے گا جن کے بارے میں تم آپس میں اختلاف کرتے ہو۔ پس جو کوئی صراط مستقیم کے موافق ہو گا وہ ان لوگوں میں شامل ہو گا جنھیں نعمتوں سے نوازا جائے گا اور جو صراط مستقیم سے ہٹا ہوا ہو گا وہ جہنمیوں میں شامل ہو گا۔ [70] اس کے فیصلے کی تکمیل یہ ہے کہ یہ فیصلہ اس کے علم کی بنیاد پر ہو گا، بنابریں اللہ تعالیٰ نے احاطۂ علم اور احاطۂ کتاب کا ذکر فرمایا:﴿ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ اللہ تعالیٰ پر تمام معاملات کے ظاہر و باطن، جلی و خفی اور اول و آخر میں سے کچھ بھی مخفی نہیں ، زمین و آسمان کی موجودات کا احاطہ کرنے والا علم اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب میں درج کر رکھا ہے… اور وہ ہے لوح محفوظ۔ اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اسے حکم دیا ’’لکھ! قلم نے عرض کیا ’’کیا لکھوں ؟ فرمایا ’’قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اسے لکھ‘‘(سنن ابی داود، السنۃ، باب فی القدر، ح:4700 و جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ نون و القلم، ح:3319)﴿ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ ﴾ اگرچہ تمھارے نزدیک اس کے تصور کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا مگر اللہ تعالیٰ کے لیے تمام اشیاء کے علم کا احاطہ کرنا بہت آسان ہے اور اس کے لیے یہ بھی بہت آسان ہے کہ آئندہ واقعات کے علم کو واقعات کے مطابق ایک کتاب میں درج کر دے۔
22:70

أَلَمۡ تَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَٰبٍۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ

واسطے ہر امت کے مقرر کیا ہے ہم نے طریقہ عبادت کا، وہ بجالانے والے ہیں اس کو، پس نہ جھگڑا کریں وہ آپ سے اس معاملے میں اور آپ بلائیں طرف اپنے رب کی ، بلاشبہ آپ البتہ اوپر راہ راست کے ہیں (67) اور اگر وہ (لوگ) جھگڑا کریں آپ سے تو آپ کہہ دیجیے! اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (68) اللہ ہی فیصلہ کرے گا تمھارے درمیان دن قیامت کے ان باتوں میں کہ تھے تم ان میں اختلاف کرتے (69) کیا نہیں جانتے آپ کہ بے شک اللہ ہی جانتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے؟ بلاشبہ یہ (سب کچھ) لوح محفوظ میں (درج) ہے، بے شک یہ اوپر اللہ کے آسان ہے (70) [67] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے ہر امت کے لیے ﴿ مَنۡسَكًا ﴾ ایک عبادت مقرر کی ہے جو عدل و حکمت پر متفق ہونے کے باوجود بعض امور میں مختلف ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لِكُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ شِرۡعَةً وَّمِنۡهَاجًا١ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَؔكُمۡ فِيۡ مَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾(المائدۃ:5؍48)’’ہم نے تم میں سے ہر ایک گروہ کے لیے ایک شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمھیں ایک ہی امت بنا دیتا مگر اس نے جو احکام تمھیں دیے ہیں وہ ان میں تمھیں آزمانا چاہتا ہے۔‘‘﴿ هُمۡ نَاسِكُوۡهُ ﴾ یعنی وہ اس پر اپنے احوال کے مطابق عمل پیرا ہیں ، اس لیے ان شریعتوں میں سے کسی شریعت پر اعتراض کی گنجائش نہیں ، خاص طور پر ان پڑھوں کے لیے جو شرک اور کھلی جہالت میں مبتلا ہیں کیونکہ جب رسول کی رسالت دلائل کے ساتھ ثابت ہو گئی تو اس پر اعتراض کو ترک کرنا، ان تمام احکام کو قبول کرنا اور ان کے سامنے سرتسلیم کرنا واجب ہے، جو رسول لے کر آیا ہے، بناء بریں فرمایا:﴿ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الۡاَمۡرِ ﴾ یعنی آپﷺ کی تکذیب کرنے والے اپنی فاسد عقل کی بنیاد پر آپ کے ساتھ جھگڑا کریں نہ آپ کی لائی ہوئی کتاب پر اعتراض کریں ، جیسے وہ اپنے فاسد قیاس کی بنا پر مردار کی حلت کے بارے میں آپﷺ سے جھگڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’جسے تم قتل کرتے ہو اسے تو کھا لیتے ہو اور جسے اللہ تعالیٰ قتل کرتا ہے اسے نہیں کھاتے‘‘ اور جیسے وہ سود کی حلت کے لیے کہتے ہیں : ’’تجارت بھی تو سود ہی کی مانند ہے‘‘ اور اس قسم کے دیگر اعتراضات، جن کا جواب دینا لازم نہیں ۔ وہ درحقیقت، اصل رسالت ہی کے منکر ہیں ، جس میں کسی بحث اور مجادلے کی گنجائش نہیں بلکہ ہر مقام کے لیے ایک الگ دلیل اور گفتگو ہے۔اس قسم کا اعتراض کرنے والا، منکر رسالت جب یہ دعویٰ کرے کہ وہ تو صرف تلاش حق کے لیے بحث کرتا ہے تو اس سے یہ کہا جائے: ’’آپ کے ساتھ صرف رسالت کے اثبات اور عدم اثبات پر گفتگو ہو سکتی ہے‘‘ ورنہ اس کا صرف اپنی بات پر اقتصار کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مقصد محض عاجز کرنا اور مشقت میں ڈالنا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے رب کی طرف بلائیں اور اسی رویے کو اپنائے رکھیں ، خواہ معترضین اعتراض کریں یا نہ کریں اور یہ مناسب نہیں کہ کوئی چیز آپ کو اس دعوت سے ہٹا دے کیونکہ ﴿اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’یقینا آپﷺ سیدھے راستے پر ہیں ‘‘ جو معتدل اور منزل مقصود پر پہنچاتا ہے اور علم حق اور اس پر عمل کا متضمن ہے۔ آپ کو اپنی دعوت کی حقانیت پر اعتماد اور اپنے دین پر یقین ہے، لہٰذا یہ اعتماد اور یقین اس امر کے موجب ہیں کہ آپﷺ اپنے موقف پر سختی سے جمے رہیں اور وہ کام کرتے رہیں جس کا آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے۔ آپﷺ کا موقف مشکوک اور کمزور نہیں یا آپ کی دعوت جھوٹ پر مبنی نہیں کہ آپ لوگوں کی خواہشات نفس اور ان کی آراء کی طرف التفات کریں اور ان کا اعتراض آپﷺ کی راہ کو کھوٹا کر دے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:﴿ فَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الۡحَقِّ الۡمُبِيۡنِ ﴾(النمل:27؍79) ’’اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے، بے شک آپ واضح حق پر ہیں ۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ میں جزئیات شرع پر معترضین کے اس اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ ہے جو عقل صحیح پر مبنی ہے کیونکہ ہدایت ہر اس چیز کا وصف ہے جسے رسول لے کر آئے ہیں ۔ ہدایت وہ طریق کار ہے جس سے اصولی اور فروعی مسائل میں راہنمائی حاصل ہوتی ہے اور یہ وہ مسائل ہیں جن کا حسن اور جن میں پنہاں عدل و حکمت عقل صحیح اور فطرت سلیم کے نزدیک معروف ہے اور یہ چیز مامورات و منہیات کی تفاصیل پر غور کرنے سے معلوم کی جا سکتی ہے۔ [69,68] بناء بریں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس حالت میں ان کے ساتھ بحث کرنے سے گریز کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ﴿ وَاِنۡ جٰؔدَلُوۡكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اگر وہ آپ سے جھگڑا کریں تو کہہ دیجیے، اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے مقاصد اور تمھاری نیتوں کو خوب جانتا ہے۔ وہ تمھیں قیامت کے دن ان کی جزا دے گااور تمھارے درمیان ان سب باتوں کا فیصلہ کرے گا جن کے بارے میں تم آپس میں اختلاف کرتے ہو۔ پس جو کوئی صراط مستقیم کے موافق ہو گا وہ ان لوگوں میں شامل ہو گا جنھیں نعمتوں سے نوازا جائے گا اور جو صراط مستقیم سے ہٹا ہوا ہو گا وہ جہنمیوں میں شامل ہو گا۔ [70] اس کے فیصلے کی تکمیل یہ ہے کہ یہ فیصلہ اس کے علم کی بنیاد پر ہو گا، بنابریں اللہ تعالیٰ نے احاطۂ علم اور احاطۂ کتاب کا ذکر فرمایا:﴿ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ اللہ تعالیٰ پر تمام معاملات کے ظاہر و باطن، جلی و خفی اور اول و آخر میں سے کچھ بھی مخفی نہیں ، زمین و آسمان کی موجودات کا احاطہ کرنے والا علم اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب میں درج کر رکھا ہے… اور وہ ہے لوح محفوظ۔ اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اسے حکم دیا ’’لکھ! قلم نے عرض کیا ’’کیا لکھوں ؟ فرمایا ’’قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اسے لکھ‘‘(سنن ابی داود، السنۃ، باب فی القدر، ح:4700 و جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ نون و القلم، ح:3319)﴿ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ ﴾ اگرچہ تمھارے نزدیک اس کے تصور کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا مگر اللہ تعالیٰ کے لیے تمام اشیاء کے علم کا احاطہ کرنا بہت آسان ہے اور اس کے لیے یہ بھی بہت آسان ہے کہ آئندہ واقعات کے علم کو واقعات کے مطابق ایک کتاب میں درج کر دے۔
22:71

وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ سُلۡطَٰنٗا وَمَا لَيۡسَ لَهُم بِهِۦ عِلۡمٞۗ وَمَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِن نَّصِيرٖ

اور وہ (مشرک) عبادت کرتے ہیں سوائے اللہ کے اس چیز (بتوں ) کی کہ نہیں نازل کی اللہ نے اس کی کوئی دلیل اور اس چیز کی کہ نہیں ہے ان کو اس کاکوئی علم اور نہیں ہے واسطے ظالموں کے کوئی مدد گار (71) جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں واضح تو پہچانتے ہیں آپ چہروں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا ناگواری، قریب ہوتے ہیں وہ کہ حملہ کر دیں ان لوگوں پر جو پڑھتے ہیں ان پر ہماری آیتیں ، آپ کہہ دیجیے! کیاپس خبر دوں میں تمھیں ساتھ بدتر کے اس سے بھی؟ (وہ) آگ ہے، وعدہ کیا اس کا اللہ نے ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیااوربری ہے و ہ ، پھرنے کی جگہ (72) [71] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی حالت کا ذکر کرتا ہے جنھوں نے خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرا رکھا ہے کہ ان کی حالت بدترین حالت ہے۔ ان افعال پر ان کے پاس کوئی سند ہے نہ ان کے پاس کوئی علم ہی ہے۔ یہ تو محض مقلد ہیں یہ سب کچھ انھوں نے اپنے گمراہ آباؤ واجداد سے حاصل کیا ہے… اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان جو کوئی کام کرتا ہے اس کے پاس… فی نفس الامر… کوئی علمی دلیل نہیں ہوتی چنانچہ یہاں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شرک پر کوئی دلیل نازل نہیں کی جو اس کے جواز پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ایسی براہین قاطعہ نازل فرمائی ہیں جو اس کے فساد و بطلان پر دلالت کرتی ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان ظالموں کو، جو حق کے ساتھ عناد رکھتے ہیں ، وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ نَّصِيۡرٍ ﴾ ’’ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا‘‘ جو ان کو اللہ تعالیٰ کے نازل ہونے والے عذاب سے بچا سکے۔ [72] کیا یہ لوگ جن کو اپنے موقف کے بطلان کا علم نہیں ، یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات اور ہدایت آ جائے گی وہ اس کی اتباع کریں گے یا وہ اپنے باطل ہی پر راضی ہیں ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ ﴾ ’’جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری واضح آیات۔‘‘ وہ جو اللہ تعالیٰ کی جلیل القدر آیات ہیں اور باطل میں سے حق کو واضح کرنے کو مستلزم ہیں … تو یہ ان آیات کی طرف التفات کرتے ہیں نہ ان کو درخور اعتناء سمجھتے ہیں بلکہ اس کے برعکس ﴿ تَعۡرِفُ فِيۡ وُجُوۡهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الۡمُنۡؔكَرَ﴾ آپﷺ ان کے چہروں کو، ان آیات الٰہی کے ساتھ ان کے بغض و کراہت کی بنا پر، بگڑا ہوا اور ان کو منقبض اور ترش رو دیکھتے ہیں ۔ ﴿ يَكَادُوۡنَ يَسۡطُوۡنَ بِالَّذِيۡنَ يَتۡلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ یعنی ان کے شدت بغض اور حق کے ساتھ عناد اور عداوت کی وجہ سے قریب ہے کہ وہ ان آیات کی تلاوت کرنے والے کو قتل کرنے یا مارنے کے لیے اس پر چڑھ دوڑیں ۔ پس کفار کی یہ حالت بہت ہی بری حالت اور ان کا شر بہت ہی برا شر ہے مگر ان کی ایک حالت اس سے بھی بدتر ہے جس کی طرف یہ لوٹیں گے، اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اَفَاُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِكُمۡ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’کہہ دیجیے! کیا میں تمھیں خبر دوں اس سے بھی بدتر چیز کی، وہ آگ ہے جس کا وعدہ اللہ نے کافروں سے کیا ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔‘‘ پس اس کا شر بہت طویل اور عریض ہے، اس کے آلام بہت شدید ہیں جو ہمیشہ بڑھتے ہی رہیں گے۔
22:72

وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ تَعۡرِفُ فِي وُجُوهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلۡمُنكَرَۖ يَكَادُونَ يَسۡطُونَ بِٱلَّذِينَ يَتۡلُونَ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِنَاۗ قُلۡ أَفَأُنَبِّئُكُم بِشَرّٖ مِّن ذَٰلِكُمُۚ ٱلنَّارُ وَعَدَهَا ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ

اور وہ (مشرک) عبادت کرتے ہیں سوائے اللہ کے اس چیز (بتوں ) کی کہ نہیں نازل کی اللہ نے اس کی کوئی دلیل اور اس چیز کی کہ نہیں ہے ان کو اس کاکوئی علم اور نہیں ہے واسطے ظالموں کے کوئی مدد گار (71) جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں واضح تو پہچانتے ہیں آپ چہروں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا ناگواری، قریب ہوتے ہیں وہ کہ حملہ کر دیں ان لوگوں پر جو پڑھتے ہیں ان پر ہماری آیتیں ، آپ کہہ دیجیے! کیاپس خبر دوں میں تمھیں ساتھ بدتر کے اس سے بھی؟ (وہ) آگ ہے، وعدہ کیا اس کا اللہ نے ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیااوربری ہے و ہ ، پھرنے کی جگہ (72) [71] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی حالت کا ذکر کرتا ہے جنھوں نے خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرا رکھا ہے کہ ان کی حالت بدترین حالت ہے۔ ان افعال پر ان کے پاس کوئی سند ہے نہ ان کے پاس کوئی علم ہی ہے۔ یہ تو محض مقلد ہیں یہ سب کچھ انھوں نے اپنے گمراہ آباؤ واجداد سے حاصل کیا ہے… اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان جو کوئی کام کرتا ہے اس کے پاس… فی نفس الامر… کوئی علمی دلیل نہیں ہوتی چنانچہ یہاں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شرک پر کوئی دلیل نازل نہیں کی جو اس کے جواز پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ایسی براہین قاطعہ نازل فرمائی ہیں جو اس کے فساد و بطلان پر دلالت کرتی ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان ظالموں کو، جو حق کے ساتھ عناد رکھتے ہیں ، وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ نَّصِيۡرٍ ﴾ ’’ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا‘‘ جو ان کو اللہ تعالیٰ کے نازل ہونے والے عذاب سے بچا سکے۔ [72] کیا یہ لوگ جن کو اپنے موقف کے بطلان کا علم نہیں ، یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات اور ہدایت آ جائے گی وہ اس کی اتباع کریں گے یا وہ اپنے باطل ہی پر راضی ہیں ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ ﴾ ’’جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری واضح آیات۔‘‘ وہ جو اللہ تعالیٰ کی جلیل القدر آیات ہیں اور باطل میں سے حق کو واضح کرنے کو مستلزم ہیں … تو یہ ان آیات کی طرف التفات کرتے ہیں نہ ان کو درخور اعتناء سمجھتے ہیں بلکہ اس کے برعکس ﴿ تَعۡرِفُ فِيۡ وُجُوۡهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الۡمُنۡؔكَرَ﴾ آپﷺ ان کے چہروں کو، ان آیات الٰہی کے ساتھ ان کے بغض و کراہت کی بنا پر، بگڑا ہوا اور ان کو منقبض اور ترش رو دیکھتے ہیں ۔ ﴿ يَكَادُوۡنَ يَسۡطُوۡنَ بِالَّذِيۡنَ يَتۡلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ یعنی ان کے شدت بغض اور حق کے ساتھ عناد اور عداوت کی وجہ سے قریب ہے کہ وہ ان آیات کی تلاوت کرنے والے کو قتل کرنے یا مارنے کے لیے اس پر چڑھ دوڑیں ۔ پس کفار کی یہ حالت بہت ہی بری حالت اور ان کا شر بہت ہی برا شر ہے مگر ان کی ایک حالت اس سے بھی بدتر ہے جس کی طرف یہ لوٹیں گے، اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اَفَاُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِكُمۡ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’کہہ دیجیے! کیا میں تمھیں خبر دوں اس سے بھی بدتر چیز کی، وہ آگ ہے جس کا وعدہ اللہ نے کافروں سے کیا ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔‘‘ پس اس کا شر بہت طویل اور عریض ہے، اس کے آلام بہت شدید ہیں جو ہمیشہ بڑھتے ہی رہیں گے۔
22:73

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٞ فَٱسۡتَمِعُواْ لَهُۥٓۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَن يَخۡلُقُواْ ذُبَابٗا وَلَوِ ٱجۡتَمَعُواْ لَهُۥۖ وَإِن يَسۡلُبۡهُمُ ٱلذُّبَابُ شَيۡـٔٗا لَّا يَسۡتَنقِذُوهُ مِنۡهُۚ ضَعُفَ ٱلطَّالِبُ وَٱلۡمَطۡلُوبُ

اے لوگو! بیان کی گئی ہے ایک مثال، پس کان لگاؤ تم اس کے لیے (غور سے سنو)، بے شک وہ لوگ جنھیں تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے، ہرگز نہیں پیدا کر سکیں گے وہ ایک مکھی بھی اگر چہ اکٹھے ہو جائیں وہ اس کے لیے اور اگر چھین لے ان سے مکھی کچھ تو نہیں چھڑا سکتے وہ اس کو اس سے ، کمزور ہے طلب کرنے والا (عابد) اور وہ جس سے طلب کیا جاتا ہے (معبود)(73) نہیں قدر کی انھوں نے اللہ کی جس طرح حق ہے اس کی قدر کرنے کا، بے شک اللہ البتہ نہایت قوت والا غالب ہے (74) [74,73] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بتوں کی عبادت کی قباحت، ان کی عبادت کرنے والوں میں عقل کی کمی اور ان سب کی کمزوری کو بیان کرنے کے لیے ایک مثال بیان کی ہے۔ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ ﴾ ’’اے لوگو!‘‘ یہ خطاب مومنین اور کفار دونوں کے لیے ہے۔ اس سے اہل ایمان کے علم و بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے اور کفار کے خلاف حجت قائم ہوتی ہے۔ ﴿ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسۡتَمِعُوۡا لَهٗ﴾ یعنی اس بیان کردہ مثال کو غور سے سنو اور اس کے مطالب کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ یہ تمھارے دلوں کو غافل اور تمھارے کانوں کو اس سے اعراض کرنے والا نہ پائے بلکہ اپنے کانوں اور دلوں سے خوب غور سے سنو۔وہ مثال یہ ہے۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان تمام ہستیوں کو شامل ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔ ﴿ لَنۡ يَّخۡلُقُوۡا ذُبَابًا ﴾ ’’وہ مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے‘‘ جو حقیر ترین اور خسیس ترین مخلوق ہے۔ پس وہ اس نہایت کمزور سی مخلوق کو پیدا کرنے پر قادر نہیں ہیں ، اس لیے بڑی مخلوق تو وہ کیا پیدا کر سکتے ہیں ؟ ﴿ وَّلَوِ اجۡتَمَعُوۡا لَهٗ﴾ ’’اگرچہ وہ سب اکٹھے کیوں نہ ہو جائیں ۔‘‘ بلکہ اس سے بھی بلیغ تر بات یہ ہے کہ ﴿ وَاِنۡ يَّسۡلُبۡهُمُ الذُّبَابُ شَيۡـًٔؔا لَّا يَسۡتَنۡقِذُوۡهُ۠ مِنۡهُ﴾’’اگر مکھی ان سے کچھ چھین کر لے جائے تو وہ اس سے وہ بھی نہیں چھڑا سکتے۔‘‘ یہ عجز اور بے بسی کی انتہاء ہے۔﴿ ضَعُفَ الطَّالِبُ ﴾ ’’کمزور ہے طالب۔‘‘ یعنی وہ جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے ﴿ وَالۡمَطۡلُوۡبُ ﴾ ’’اور وہ جس سے طلب کیا جا رہا ہے۔‘‘ یعنی مکھی، پس دونوں ہی کمزور ہیں اور ان دونوں سے بھی کمزور تر وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان کو رب العالمین کے مقام پر فائز کر رکھا ہے۔ پس یہ وہ لوگ ہیں ﴿مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدۡرِهٖ ﴾’’جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہ پہچانی جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایک ایسی ہستی کو جو ہر لحاظ سے محتاج اور عاجز ہے، اس اللہ تعالیٰ کا ہم پلہ بنا دیا جو ہر اعتبار سے بے نیاز اور طاقتور ہے۔ انھوں نے اس ہستی کو، جو خود اپنے یا کسی دوسرے کے لیے کسی نفع و نقصان کی مالک ہے نہ زندگی اور موت کا اختیار رکھتی ہے اور نہ دوبارہ زندہ اٹھانے پر قادر ہے، اس ہستی کے برابر ٹھہرا دیا جو نفع و نقصان کی مالک ہے، جو عطا کرتی ہے اور محروم کرتی ہے، جو اقتدار کی مالک اور اپنی بادشاہی میں ہر قسم کا تصرف کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔﴿اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيۡزٌ ﴾ یعنی وہ کامل قوت اور کامل عزت کا مالک ہے اس کی قوت کاملہ اور کامل غلبے کا یہ حال ہے کہ تمام مخلوق کی پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ اس کے ارادہ اور مشیت کے بغیر کوئی چیز حرکت کر سکتی ہے نہ ساکن ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ ہو جاتا ہے، جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہو سکتا اور یہ اس کا کمال قوت ہے کہ وہ تمام مخلوق کو اول سے لے کر آخر تک، ایک چنگھاڑ کے ذریعے سے زندہ اٹھا کر کھڑا کرے گا اور یہ اس کا کمال قوت ہے کہ اس نے بڑے بڑے جابروں اور سرکش قوموں کو ایک معمولی سی چیز اور اپنے عذاب کے کوڑے سے ہلاک کر ڈالا۔
22:74

مَا قَدَرُواْ ٱللَّهَ حَقَّ قَدۡرِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ

اے لوگو! بیان کی گئی ہے ایک مثال، پس کان لگاؤ تم اس کے لیے (غور سے سنو)، بے شک وہ لوگ جنھیں تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے، ہرگز نہیں پیدا کر سکیں گے وہ ایک مکھی بھی اگر چہ اکٹھے ہو جائیں وہ اس کے لیے اور اگر چھین لے ان سے مکھی کچھ تو نہیں چھڑا سکتے وہ اس کو اس سے ، کمزور ہے طلب کرنے والا (عابد) اور وہ جس سے طلب کیا جاتا ہے (معبود)(73) نہیں قدر کی انھوں نے اللہ کی جس طرح حق ہے اس کی قدر کرنے کا، بے شک اللہ البتہ نہایت قوت والا غالب ہے (74) [74,73] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بتوں کی عبادت کی قباحت، ان کی عبادت کرنے والوں میں عقل کی کمی اور ان سب کی کمزوری کو بیان کرنے کے لیے ایک مثال بیان کی ہے۔ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ ﴾ ’’اے لوگو!‘‘ یہ خطاب مومنین اور کفار دونوں کے لیے ہے۔ اس سے اہل ایمان کے علم و بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے اور کفار کے خلاف حجت قائم ہوتی ہے۔ ﴿ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسۡتَمِعُوۡا لَهٗ﴾ یعنی اس بیان کردہ مثال کو غور سے سنو اور اس کے مطالب کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ یہ تمھارے دلوں کو غافل اور تمھارے کانوں کو اس سے اعراض کرنے والا نہ پائے بلکہ اپنے کانوں اور دلوں سے خوب غور سے سنو۔وہ مثال یہ ہے۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان تمام ہستیوں کو شامل ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔ ﴿ لَنۡ يَّخۡلُقُوۡا ذُبَابًا ﴾ ’’وہ مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے‘‘ جو حقیر ترین اور خسیس ترین مخلوق ہے۔ پس وہ اس نہایت کمزور سی مخلوق کو پیدا کرنے پر قادر نہیں ہیں ، اس لیے بڑی مخلوق تو وہ کیا پیدا کر سکتے ہیں ؟ ﴿ وَّلَوِ اجۡتَمَعُوۡا لَهٗ﴾ ’’اگرچہ وہ سب اکٹھے کیوں نہ ہو جائیں ۔‘‘ بلکہ اس سے بھی بلیغ تر بات یہ ہے کہ ﴿ وَاِنۡ يَّسۡلُبۡهُمُ الذُّبَابُ شَيۡـًٔؔا لَّا يَسۡتَنۡقِذُوۡهُ۠ مِنۡهُ﴾’’اگر مکھی ان سے کچھ چھین کر لے جائے تو وہ اس سے وہ بھی نہیں چھڑا سکتے۔‘‘ یہ عجز اور بے بسی کی انتہاء ہے۔﴿ ضَعُفَ الطَّالِبُ ﴾ ’’کمزور ہے طالب۔‘‘ یعنی وہ جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے ﴿ وَالۡمَطۡلُوۡبُ ﴾ ’’اور وہ جس سے طلب کیا جا رہا ہے۔‘‘ یعنی مکھی، پس دونوں ہی کمزور ہیں اور ان دونوں سے بھی کمزور تر وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان کو رب العالمین کے مقام پر فائز کر رکھا ہے۔ پس یہ وہ لوگ ہیں ﴿مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدۡرِهٖ ﴾’’جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہ پہچانی جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایک ایسی ہستی کو جو ہر لحاظ سے محتاج اور عاجز ہے، اس اللہ تعالیٰ کا ہم پلہ بنا دیا جو ہر اعتبار سے بے نیاز اور طاقتور ہے۔ انھوں نے اس ہستی کو، جو خود اپنے یا کسی دوسرے کے لیے کسی نفع و نقصان کی مالک ہے نہ زندگی اور موت کا اختیار رکھتی ہے اور نہ دوبارہ زندہ اٹھانے پر قادر ہے، اس ہستی کے برابر ٹھہرا دیا جو نفع و نقصان کی مالک ہے، جو عطا کرتی ہے اور محروم کرتی ہے، جو اقتدار کی مالک اور اپنی بادشاہی میں ہر قسم کا تصرف کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔﴿اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيۡزٌ ﴾ یعنی وہ کامل قوت اور کامل عزت کا مالک ہے اس کی قوت کاملہ اور کامل غلبے کا یہ حال ہے کہ تمام مخلوق کی پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ اس کے ارادہ اور مشیت کے بغیر کوئی چیز حرکت کر سکتی ہے نہ ساکن ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ ہو جاتا ہے، جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہو سکتا اور یہ اس کا کمال قوت ہے کہ وہ تمام مخلوق کو اول سے لے کر آخر تک، ایک چنگھاڑ کے ذریعے سے زندہ اٹھا کر کھڑا کرے گا اور یہ اس کا کمال قوت ہے کہ اس نے بڑے بڑے جابروں اور سرکش قوموں کو ایک معمولی سی چیز اور اپنے عذاب کے کوڑے سے ہلاک کر ڈالا۔
22:75

ٱللَّهُ يَصۡطَفِي مِنَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ رُسُلٗا وَمِنَ ٱلنَّاسِۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٞ

اللہ چن لیتا ہے فرشتوں میں سے کچھ قاصد اور لوگوں میں سے(بھی) یقینا اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے (75) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور (76) [76,75] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا کمال اور بتوں کی کمزوری اور عجز بیان کرنے کے بعد، نیز یہ کہ وہی معبودِ برحق ہے… انبیاء و رسل کا حال بیان کیا ہے اور ان کے وہ امتیازی فضائل بیان كيے جن کے ذریعے سے وہ دیگر مخلوق سے ممتاز ہیں ۔ فرمایا:﴿ اَللّٰهُ يَصۡطَفِيۡ مِنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ﴾ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں میں سے رسول منتخب کرتا ہے جو اپنی نوع میں بہترین فرد اور صفات مجد کے سب سے زیادہ جامع اور منتخب كيے جانے کے سب سے زیادہ اہل اورمستحق ہوتے ہیں ۔پس رسول علی الاطلاق مخلوق میں سے چنے ہوئے لوگ ہوتے ہیں اور جس ہستی نے ان کو رسالت کے منصب کے لیے منتخب کیا ہے وہ اشیاء کے حقائق سے لاعلم نہیں یا وہ ایسی ہستی نہیں کہ وہ کچھ چیزوں کا علم رکھتی ہو اور کچھ چیزوں سے لاعلم ہو بلکہ ان کو منتخب کرنے والی ہستی، سمیع و بصیر ہے جس کے علم اور سمع و بصر نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے، اس لیے اس نے اپنے علم ہی کی بنیاد پر ان لوگوں کو اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا ہے۔ وہ اس منصب کے اہل ہیں اور وحی کی ذمہ داری سونپے جانے کے لیے یہ صحیح لوگ ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ حَيۡثُ يَجۡعَلُ رِسَالَتَهٗ﴾(الانعام:6؍124) ’’اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ رسالت کسے عنایت فرمائے۔‘‘ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ رسولوں کو بھیجتا ہے وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں ، کچھ لوگ ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور کچھ لوگ ان کی دعوت کو رد کر دیتے ہیں ، کچھ لوگ ان کی لائی ہوئی وحی پر عمل کرتے ہیں اور کچھ لوگ اس پر عمل نہیں کرتے۔ پس یہ تو ہے رسولوں کی ذمہ داری اور ان کا وظیفہ۔ اور رہی ان اعمال کی جزا و سزا تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ پس وہ اس جزاء و سزا میں فضل و کرم کا اہتمام بھی کرے گا اور عدل و انصاف کا بھی۔
22:76

يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرۡجَعُ ٱلۡأُمُورُ

اللہ چن لیتا ہے فرشتوں میں سے کچھ قاصد اور لوگوں میں سے(بھی) یقینا اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے (75) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور (76) [76,75] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا کمال اور بتوں کی کمزوری اور عجز بیان کرنے کے بعد، نیز یہ کہ وہی معبودِ برحق ہے… انبیاء و رسل کا حال بیان کیا ہے اور ان کے وہ امتیازی فضائل بیان كيے جن کے ذریعے سے وہ دیگر مخلوق سے ممتاز ہیں ۔ فرمایا:﴿ اَللّٰهُ يَصۡطَفِيۡ مِنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ﴾ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں میں سے رسول منتخب کرتا ہے جو اپنی نوع میں بہترین فرد اور صفات مجد کے سب سے زیادہ جامع اور منتخب كيے جانے کے سب سے زیادہ اہل اورمستحق ہوتے ہیں ۔پس رسول علی الاطلاق مخلوق میں سے چنے ہوئے لوگ ہوتے ہیں اور جس ہستی نے ان کو رسالت کے منصب کے لیے منتخب کیا ہے وہ اشیاء کے حقائق سے لاعلم نہیں یا وہ ایسی ہستی نہیں کہ وہ کچھ چیزوں کا علم رکھتی ہو اور کچھ چیزوں سے لاعلم ہو بلکہ ان کو منتخب کرنے والی ہستی، سمیع و بصیر ہے جس کے علم اور سمع و بصر نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے، اس لیے اس نے اپنے علم ہی کی بنیاد پر ان لوگوں کو اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا ہے۔ وہ اس منصب کے اہل ہیں اور وحی کی ذمہ داری سونپے جانے کے لیے یہ صحیح لوگ ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ حَيۡثُ يَجۡعَلُ رِسَالَتَهٗ﴾(الانعام:6؍124) ’’اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ رسالت کسے عنایت فرمائے۔‘‘ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴾ ’’اور اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ رسولوں کو بھیجتا ہے وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں ، کچھ لوگ ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور کچھ لوگ ان کی دعوت کو رد کر دیتے ہیں ، کچھ لوگ ان کی لائی ہوئی وحی پر عمل کرتے ہیں اور کچھ لوگ اس پر عمل نہیں کرتے۔ پس یہ تو ہے رسولوں کی ذمہ داری اور ان کا وظیفہ۔ اور رہی ان اعمال کی جزا و سزا تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ پس وہ اس جزاء و سزا میں فضل و کرم کا اہتمام بھی کرے گا اور عدل و انصاف کا بھی۔
22:77

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱرۡكَعُواْ وَٱسۡجُدُواْۤ وَٱعۡبُدُواْ رَبَّكُمۡ وَٱفۡعَلُواْ ٱلۡخَيۡرَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ۩

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! رکوع کرواور سجدہ کرو اور عبادت کرو اپنے رب کی اور کرو بھلائی (کے کام) تاکہ تم فلاح پاؤ (77) اور جہاد کرو تم اللہ کی راہ میں جیسا کہ حق ہے اس کے جہاد کرنے کا اسی نے پسند کیا تمھیں اور نہیں رکھی اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی (مانند) دین تمھارے باپ ابراہیم کے اسی نے نام رکھا تمھارا مسلمان اس (قرآن) سے پہلے اور اس (قرآن) میں بھی ،تاکہ ہوں رسول اللہ(ﷺ) گواہ تم پراور تم ہو گواہ اوپر لوگوں کے، پس قائم کرو تم نماز اور ادا کرو زکاۃاور مضبوطی سے پکڑو تم اللہ کو، وہی کارساز ہے تمھارا، پس بہترین کارساز ہے وہ اور بہترین مدد گار ہے وہ (78) [77] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو نماز کا حکم دیتا ہے اور اس نے رکوع و سجود کا، ان کی فضیلت اور ان کے رکن نماز ہونے کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ نماز اس کی عبادت ہے جو آنکھوں کی ٹھنڈک اور غمزدہ دل کے لیے تسلی ہے۔ اس کی ربوبیت اور بندوں پر اس کا احسان ان سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ عبادت کو اس کے لیے خالص کریں ۔ نیز اللہ تعالیٰ عمومی طور پر ان کو بھلائی کے کاموں کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فلاح کو انھی امور سے وابستہ کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾یعنی تم اپنے مطلوب و مرغوب کے حصول اور ناپسندیدہ اور خوفناک امور سے نجات پانے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔ پس اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور اس کے بندوں کو نفع پہنچانے کی کوشش کے سوا، فلاح کے حصول کا کوئی راستہ نہیں ۔ جسے اس راستے کی توفیق حاصل ہو گئی اسی کے لیے کامیابی، سعادت اور فلاح ہے۔﴿ وَجَاهِدُوۡا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ﴾ ’’اور اللہ کی راہ میں ویسا ہی جہاد کرو جیسے جہاد کا حق ہے۔‘‘ مقصود و مطلوب کے حصول میں پوری کوشش کرنا جہاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد، جیساکہ جہاد کرنے کا حق ہے… یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو پوری طرح نافذ کیا جائے، مخلوق کو ہر طریقے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دی جائے۔ خیر خواہی سے، تعلیم، قتال اور تادیب سے، زجرو توبیخ یا وعظ و نصیحت کے ذریعے سے اس مقصد کے لیے جس طریقے اور ذریعے کی بھی ضرورت ہو، اسے اختیار کیا جائے۔ ﴿ هُوَ اجۡتَبٰؔىكُم ﴾ یعنی اے مسلمانوں کے گروہ! اس نے تمھیں لوگوں سے چن لیا ہے اور تمھارے لیے دین کو منتخب کرکے اسے تمھارے لیے پسند کرلیا ہے، تمھارے لیے افضل ترین کتاب اور افضل ترین رسولﷺ کو منتخب کیا، اس لیے جہاد کو اچھی طرح قائم کرکے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نوازش کا بدلہ دو۔ [78] چونکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَجَاهِدُوۡا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ﴾ سے بسااوقات کسی متوہم کو یہ وہم ہوتا ہے کہ یہ ایسا حکم ہے جس کی تعمیل طاقت سے باہر ہے یا جس کی تعمیل میں سخت مشقت ہے، اس لیے اس وہم سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِي الدِّيۡنِ مِنۡ حَرَجٍ﴾ ’’اور نہیں کی اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی۔‘‘ یعنی مشقت اور تنگی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دین کو انتہائی آسان اور سہل بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف انھی امور کا حکم دیا ہے، جس کو بجا لانا نفوس انسانی کے لیے نہایت سہل ہے جو ان کے لیے گراں بار ہیں نہ تھکا دینے والے ہیں ، پھر بھی اگر کوئی ایسا سبب پیش آجائے جو تخفیف کا موجب ہو تو اللہ تعالیٰ اس حکم کو ساقط کرکے یا اس میں کمی کرکے اس میں تخفیف کردیتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے ایک شرعی قاعدہ اخذ کیا جاتا ہے اور وہ ہے (المشقۃ تجلب التیسیر) ’’مشقت اپنے ساتھ آسانی لے کر آتی ہے‘‘ (الضرورات تبیح المحظورات)’’ضرورت ممنوع چیز کو مباح کر دیتی ہے۔‘‘ بہت سے فروعی احکام اس قاعدہ کے تحت آتے ہیں جن کا ذکر احکام کی کتابوں میں معروف ہیں ۔﴿ مِلَّةَ اَبِيۡكُمۡ اِبۡرٰؔهِيۡمَ﴾ یعنی مذکورہ دین اور احکام تمھارے باپ ابراہیم u کا دین ہیں جن پر وہ ہمیشہ عمل پیرا رہے، اس لیے تم بھی ان کا التزام کرو اور ان پر عمل پیرا رہو۔ ﴿ هُوَ سَمّٰؔىكُمُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی اس نے کتب سابقہ میں تمھارا نام ’’مسلم‘‘ رکھا ہے اور اسی نام سے تم مذکور و مشہور ہو یعنی ابراہیم u ہی نے تمھارا نام ’’مسلم‘‘ رکھا ہے۔ ﴿ وَفِيۡ هٰؔذَا ﴾ اور اس کتاب اور اس شریعت میں بھی تمھارا نام ’’مسلم‘‘ ہی ہے یعنی قدیم اور جدید زمانے میں تمھیں ’’مسلم‘‘ کے نام ہی سے پکارا جاتا رہا ہے۔ ﴿ لِيَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ شَهِيۡدًا عَلَيۡكُمۡ﴾ تاکہ رسول تمھارے اچھے اور برے اعمال کی گواہی دیں ۔ ﴿وَتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ ﴾تم انبیاء و رسل کے حق میں ان کی امتوں کے خلاف گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جو کچھ نازل فرمایا تھا انھوں نے اپنی امتوں کو پہنچا دیا تھا کیونکہ تم بہترین، معتدل، بھلائی کے راستے پر گامزن اور امت وسط ہو۔﴿فَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ ﴾ نماز کو اس کے تمام ارکان، تمام شرائط و حدود اور اس کے تمام لوازم کے ساتھ قائم کرو۔ ﴿ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے تمھیں جن نعمتوں سے نوازا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے زکاۃ مفروضہ ادا کرو۔ ﴿ وَاعۡتَصِمُوۡا بِاللّٰهِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاؤ اور اس بارے میں صرف اسی پر بھروسہ کرو اور اپنی قوت و اختیار پر اعتماد نہ کرو۔ ﴿ هُوَ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ ’’وہی تمھارا مولیٰ ہے‘‘ جو تمھارے تمام امور کی دیکھ بھال کرنے والا ہے۔ پس وہ بہترین طریقے سے تمھاری تدبیر اور بہترین اندازے سے تم میں تصرف کرتا ہے۔ ﴿ فَنِعۡمَ الۡمَوۡلٰى وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ ﴾ ’’پس کیا اچھا مولیٰ اور کیا اچھا مددگار ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جس کی سرپرستی کرتا ہے تو وہ بہترین سرپرست ہے۔ پس اس سے اس کا مطلوب و مقصود حاصل ہو جاتا ہے اورجو کوئی اپنی مصیبت دور کرنے کے لیے اس سے مدد مانگتا ہے تو وہ بہترین مدد گار ہے، اس سے اس مصیبت کو وہ دور کر دیتا ہے۔
22:78

وَجَٰهِدُواْ فِي ٱللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِۦۚ هُوَ ٱجۡتَبَىٰكُمۡ وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِي ٱلدِّينِ مِنۡ حَرَجٖۚ مِّلَّةَ أَبِيكُمۡ إِبۡرَٰهِيمَۚ هُوَ سَمَّىٰكُمُ ٱلۡمُسۡلِمِينَ مِن قَبۡلُ وَفِي هَٰذَا لِيَكُونَ ٱلرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيۡكُمۡ وَتَكُونُواْ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِۚ فَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱعۡتَصِمُواْ بِٱللَّهِ هُوَ مَوۡلَىٰكُمۡۖ فَنِعۡمَ ٱلۡمَوۡلَىٰ وَنِعۡمَ ٱلنَّصِيرُ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! رکوع کرواور سجدہ کرو اور عبادت کرو اپنے رب کی اور کرو بھلائی (کے کام) تاکہ تم فلاح پاؤ (77) اور جہاد کرو تم اللہ کی راہ میں جیسا کہ حق ہے اس کے جہاد کرنے کا اسی نے پسند کیا تمھیں اور نہیں رکھی اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی (مانند) دین تمھارے باپ ابراہیم کے اسی نے نام رکھا تمھارا مسلمان اس (قرآن) سے پہلے اور اس (قرآن) میں بھی ،تاکہ ہوں رسول اللہ(ﷺ) گواہ تم پراور تم ہو گواہ اوپر لوگوں کے، پس قائم کرو تم نماز اور ادا کرو زکاۃاور مضبوطی سے پکڑو تم اللہ کو، وہی کارساز ہے تمھارا، پس بہترین کارساز ہے وہ اور بہترین مدد گار ہے وہ (78) [77] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو نماز کا حکم دیتا ہے اور اس نے رکوع و سجود کا، ان کی فضیلت اور ان کے رکن نماز ہونے کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ نماز اس کی عبادت ہے جو آنکھوں کی ٹھنڈک اور غمزدہ دل کے لیے تسلی ہے۔ اس کی ربوبیت اور بندوں پر اس کا احسان ان سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ عبادت کو اس کے لیے خالص کریں ۔ نیز اللہ تعالیٰ عمومی طور پر ان کو بھلائی کے کاموں کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فلاح کو انھی امور سے وابستہ کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾یعنی تم اپنے مطلوب و مرغوب کے حصول اور ناپسندیدہ اور خوفناک امور سے نجات پانے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔ پس اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور اس کے بندوں کو نفع پہنچانے کی کوشش کے سوا، فلاح کے حصول کا کوئی راستہ نہیں ۔ جسے اس راستے کی توفیق حاصل ہو گئی اسی کے لیے کامیابی، سعادت اور فلاح ہے۔﴿ وَجَاهِدُوۡا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ﴾ ’’اور اللہ کی راہ میں ویسا ہی جہاد کرو جیسے جہاد کا حق ہے۔‘‘ مقصود و مطلوب کے حصول میں پوری کوشش کرنا جہاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد، جیساکہ جہاد کرنے کا حق ہے… یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو پوری طرح نافذ کیا جائے، مخلوق کو ہر طریقے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دی جائے۔ خیر خواہی سے، تعلیم، قتال اور تادیب سے، زجرو توبیخ یا وعظ و نصیحت کے ذریعے سے اس مقصد کے لیے جس طریقے اور ذریعے کی بھی ضرورت ہو، اسے اختیار کیا جائے۔ ﴿ هُوَ اجۡتَبٰؔىكُم ﴾ یعنی اے مسلمانوں کے گروہ! اس نے تمھیں لوگوں سے چن لیا ہے اور تمھارے لیے دین کو منتخب کرکے اسے تمھارے لیے پسند کرلیا ہے، تمھارے لیے افضل ترین کتاب اور افضل ترین رسولﷺ کو منتخب کیا، اس لیے جہاد کو اچھی طرح قائم کرکے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نوازش کا بدلہ دو۔ [78] چونکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَجَاهِدُوۡا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ﴾ سے بسااوقات کسی متوہم کو یہ وہم ہوتا ہے کہ یہ ایسا حکم ہے جس کی تعمیل طاقت سے باہر ہے یا جس کی تعمیل میں سخت مشقت ہے، اس لیے اس وہم سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِي الدِّيۡنِ مِنۡ حَرَجٍ﴾ ’’اور نہیں کی اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی۔‘‘ یعنی مشقت اور تنگی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دین کو انتہائی آسان اور سہل بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف انھی امور کا حکم دیا ہے، جس کو بجا لانا نفوس انسانی کے لیے نہایت سہل ہے جو ان کے لیے گراں بار ہیں نہ تھکا دینے والے ہیں ، پھر بھی اگر کوئی ایسا سبب پیش آجائے جو تخفیف کا موجب ہو تو اللہ تعالیٰ اس حکم کو ساقط کرکے یا اس میں کمی کرکے اس میں تخفیف کردیتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے ایک شرعی قاعدہ اخذ کیا جاتا ہے اور وہ ہے (المشقۃ تجلب التیسیر) ’’مشقت اپنے ساتھ آسانی لے کر آتی ہے‘‘ (الضرورات تبیح المحظورات)’’ضرورت ممنوع چیز کو مباح کر دیتی ہے۔‘‘ بہت سے فروعی احکام اس قاعدہ کے تحت آتے ہیں جن کا ذکر احکام کی کتابوں میں معروف ہیں ۔﴿ مِلَّةَ اَبِيۡكُمۡ اِبۡرٰؔهِيۡمَ﴾ یعنی مذکورہ دین اور احکام تمھارے باپ ابراہیم u کا دین ہیں جن پر وہ ہمیشہ عمل پیرا رہے، اس لیے تم بھی ان کا التزام کرو اور ان پر عمل پیرا رہو۔ ﴿ هُوَ سَمّٰؔىكُمُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی اس نے کتب سابقہ میں تمھارا نام ’’مسلم‘‘ رکھا ہے اور اسی نام سے تم مذکور و مشہور ہو یعنی ابراہیم u ہی نے تمھارا نام ’’مسلم‘‘ رکھا ہے۔ ﴿ وَفِيۡ هٰؔذَا ﴾ اور اس کتاب اور اس شریعت میں بھی تمھارا نام ’’مسلم‘‘ ہی ہے یعنی قدیم اور جدید زمانے میں تمھیں ’’مسلم‘‘ کے نام ہی سے پکارا جاتا رہا ہے۔ ﴿ لِيَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ شَهِيۡدًا عَلَيۡكُمۡ﴾ تاکہ رسول تمھارے اچھے اور برے اعمال کی گواہی دیں ۔ ﴿وَتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ ﴾تم انبیاء و رسل کے حق میں ان کی امتوں کے خلاف گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جو کچھ نازل فرمایا تھا انھوں نے اپنی امتوں کو پہنچا دیا تھا کیونکہ تم بہترین، معتدل، بھلائی کے راستے پر گامزن اور امت وسط ہو۔﴿فَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ ﴾ نماز کو اس کے تمام ارکان، تمام شرائط و حدود اور اس کے تمام لوازم کے ساتھ قائم کرو۔ ﴿ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے تمھیں جن نعمتوں سے نوازا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے زکاۃ مفروضہ ادا کرو۔ ﴿ وَاعۡتَصِمُوۡا بِاللّٰهِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاؤ اور اس بارے میں صرف اسی پر بھروسہ کرو اور اپنی قوت و اختیار پر اعتماد نہ کرو۔ ﴿ هُوَ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ ’’وہی تمھارا مولیٰ ہے‘‘ جو تمھارے تمام امور کی دیکھ بھال کرنے والا ہے۔ پس وہ بہترین طریقے سے تمھاری تدبیر اور بہترین اندازے سے تم میں تصرف کرتا ہے۔ ﴿ فَنِعۡمَ الۡمَوۡلٰى وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ ﴾ ’’پس کیا اچھا مولیٰ اور کیا اچھا مددگار ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جس کی سرپرستی کرتا ہے تو وہ بہترین سرپرست ہے۔ پس اس سے اس کا مطلوب و مقصود حاصل ہو جاتا ہے اورجو کوئی اپنی مصیبت دور کرنے کے لیے اس سے مدد مانگتا ہے تو وہ بہترین مدد گار ہے، اس سے اس مصیبت کو وہ دور کر دیتا ہے۔