QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Al-Mu'minun

ٱلْمُؤْمِنُون

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 23 · 118 verses

23:1

قَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ

یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ [1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔ [2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ [3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔ [4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔ [5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔ [6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔ [7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں) [8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔ [9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔ [10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾ [11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
23:2

ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي صَلَاتِهِمۡ خَٰشِعُونَ

یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ [1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔ [2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ [3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔ [4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔ [5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔ [6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔ [7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں) [8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔ [9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔ [10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾ [11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
23:3

وَٱلَّذِينَ هُمۡ عَنِ ٱللَّغۡوِ مُعۡرِضُونَ

یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ [1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔ [2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ [3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔ [4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔ [5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔ [6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔ [7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں) [8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔ [9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔ [10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾ [11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
23:4

وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِلزَّكَوٰةِ فَٰعِلُونَ

یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ [1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔ [2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ [3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔ [4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔ [5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔ [6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔ [7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں) [8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔ [9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔ [10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾ [11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
23:5

وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِفُرُوجِهِمۡ حَٰفِظُونَ

یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ [1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔ [2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ [3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔ [4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔ [5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔ [6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔ [7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں) [8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔ [9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔ [10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾ [11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
23:6

إِلَّا عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِهِمۡ أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُمۡ فَإِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُومِينَ

یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ [1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔ [2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ [3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔ [4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔ [5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔ [6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔ [7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں) [8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔ [9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔ [10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾ [11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
23:7

فَمَنِ ٱبۡتَغَىٰ وَرَآءَ ذَٰلِكَ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡعَادُونَ

یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ [1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔ [2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ [3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔ [4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔ [5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔ [6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔ [7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں) [8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔ [9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔ [10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾ [11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
23:8

وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِأَمَٰنَٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رَٰعُونَ

یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ [1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔ [2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ [3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔ [4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔ [5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔ [6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔ [7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں) [8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔ [9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔ [10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾ [11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
23:9

وَٱلَّذِينَ هُمۡ عَلَىٰ صَلَوَٰتِهِمۡ يُحَافِظُونَ

یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ [1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔ [2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ [3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔ [4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔ [5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔ [6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔ [7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں) [8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔ [9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔ [10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾ [11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
23:10

أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡوَٰرِثُونَ

یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ [1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔ [2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ [3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔ [4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔ [5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔ [6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔ [7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں) [8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔ [9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔ [10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾ [11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
23:11

ٱلَّذِينَ يَرِثُونَ ٱلۡفِرۡدَوۡسَ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ

یقینا فلاح پاگئے مومن (1) وہ لوگ جو وہ اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں (2) اور وہ لوگ جو وہ لغویات سے اعراض کرنے والے ہیں (3) اور وہ لوگ جو وہ زکاۃ (ادا) کرنے والے ہیں (4)اور وہ لوگ جو وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں (5)مگر اپنی بیویوں سے یا جن (کنیزوں ) کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، پس بلاشبہ وہ نہیں ہیں ملامت زدہ (6) پھر جو تلاش کرے سوائے ان کے تو یہی لوگ ہیں حد سے گزرنے والے (7) اور وہ لوگ جو وہ اپنی امانتوں کی اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں (8) اور وہ لوگ کہ وہ اوپر اپنی نمازوں کے حفاظت کرتے ہیں (9) یہ لوگ وہی ہیں وارث (10)وہ لوگ جو وارث ہوں گے فردوس (بہشت اعلیٰ) کے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (11) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی تعریف و تعظیم اور ان کی فلاح و سعادت کا ذکر ہے، نیز اس امر کا بیان ہے کہ وہ فلاح و سعادت کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں اہل ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان مذکورہ صفات سے متصف کریں ۔ پس بندۂ مومن ان آیات کی میزان پر اپنے آپ کا وزن کرے اور یہ معلوم کرے کہ اس کے پاس اور دوسروں کے پاس قلت و کثرت یا اضافے اور کمی کے اعتبار سے کتنا ایمان ہے۔ [1] پس فرمایا: ﴿قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ یعنی اہل ایمان کامیابی اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے اور انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کرلی جس کا حصول اہل ایمان کا مقصود و مطلوب ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی۔ [2] جن کی صفات کاملہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ بلاشبہ وہ ﴿ فِيۡ صَلَاتِهِمۡ خٰشِعُوۡنَؔ﴾ ’’اپنی نماز میں خشوع اختیارکرتے ہیں ۔‘‘ نماز میں خشوع یہ ہے کہ بندے کا دل اللہ تعالیٰ کو قریب سمجھتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو… اس سے قلب کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اس کی تمام حرکات ساکن اور غیر اللہ کی طرف اس کا التفات کم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے رب کے سامنے نہایت ادب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اپنی نماز کے اندر، اول سے لے کر آخر تک جو کچھ کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے پورے استحضار کے ساتھ کہتا ہے۔ اس طرح اس کے دل سے تمام وسوسے اور غلط افکار زائل ہو جاتے ہیں ۔ یہی نماز کی روح اور یہی اس سے مقصود ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو بندے کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔پس وہ نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو اس پر اگرچہ ثواب ملتا ہے مگر صرف اتنا ملتا ہے جتنا قلب اس کو سمجھ کر ادا کرتا ہے۔ [3]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ ﴾ ’’اور وہ لغو سے۔‘‘ یہاں (لغو) سے مراد وہ کلام ہے جس میں کوئی بھلائی اور کوئی فائدہ نہ ہو۔ ﴿مُعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اپنے آپ کو لغو سے پاک اور برتر رکھنے کے لیے۔ جب کبھی کسی لغو چیز پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو نہایت وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور جب یہ لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں تو حرام کاموں سے ان کا اعراض اولیٰ و احریٰ ہے۔ جب بندہ بھلائی کے سوا لغویات میں اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے تو معاملہ اس کے اختیار میں آجاتا ہے جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے، جبکہ آپ معاذ بن جبلt کو نصیحت فرما رہے تھے … فرمایا ’’کیا میں تمھیں اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس پر ان سب چیزوں کا دارومدار ہے؟‘‘ حضرت معاذ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا، جی ہاں ! ضرور بتائیں ، چنانچہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا ’’اس کو اپنے قابو میں رکھو‘‘(جامع الترمذي، الإیمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ، ح:2616 و سنن ابن ماجہ، الفتن، باب کف اللسان فی الفتنۃ، ح:3973) پس اہل ایمان کی صفات حمیدہ میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ لغویات اور محرمات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں ۔ [4]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوۡنَ﴾ یعنی مال کی مختلف جنسوں کے مطابق اس کی زکاۃ ادا کرتے ہیں اپنے آپ کو گندے اخلاق اور برے اعمال سے پاک کرتے ہوئے جن کے ترک کرنے اور جن کے اجتناب ہی سے نفس پاک ہوتے ہیں ۔ پس وہ نماز میں خشوع کا اہتمام کر کے اپنے خالق کی اچھے طریقے سے عبادت کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرکے مخلوق کے ساتھ احسان کا رویہ اپناتے ہیں ۔ [5]﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰؔفِظُوۡنَ﴾ ’’اور وہ (زنا سے) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ اور کامل حفاظت یہ ہے کہ ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو زنا کی دعوت دیتے ہیں ، مثلاً:غیر محرم کو دیکھنا اور چھونا وغیرہ۔ پس وہ اپنی شرم گاہوں کی ہر ایک سے حفاظت کرتے ہیں۔ [6]﴿اِلَّا عَلٰۤى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’سوائے اپنی بیویوں اور مملوکہ لونڈیوں کے۔‘‘ ﴿فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ﴾ یعنی اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جانے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حلال ٹھہرایا ہے۔ [7]﴿فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَؔ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس جو تلاش کرے گا اس کے علاوہ۔‘‘ یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ﴾ ’’پس وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں سے تجاوز کرکے حرام میں پڑگئے اوراللہ تعالیٰ کی محرمات کے ارتکاب کی جسارت کی۔اس آیت کریمہ کا عموم تحریم متعہ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ نکاح متعہ کے ذریعے بنی ہوئی بیوی حقیقی بیوی ہے نہ اس کو نکاح میں باقی رکھنا ہی مقصود ہے اور نہ وہ لونڈیوں ہی کے زمرے میں آتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ نکاح حلالہ کی تحریم پر بھی دلالت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ مملوکہ لونڈی کی حلت کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ تمام کی تمام صرف اسی کی ملکیت میں ہو۔ اگر وہ صرف اس کے کچھ حصے کا مالک ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر اس کا مالک نہیں کیونکہ وہ اس کی اور کسی دوسرے شخص کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پس جس طرح یہ جائز نہیں کہ کسی آزاد عورت کے دو شوہر ہوں ، اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی لونڈی کی ملکیت میں دو مالکوں کا اشتراک ہو (اور وہ اس سے مجامعت کرتے ہوں) [8]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ یعنی وہ اپنی امانت اور اپنے عہد کی رعایت اور حفاظت کرتے ہیں ، ان کو قائم کرنے اور ان کے نفاذ کے بہت حریص ہیں … یہ آیت کریمہ تمام امانتوں کے لیے عام ہے خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ ﴾(الاحزاب:33؍72) ’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا مگر انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس ذمہ داری کو اٹھا لیا۔‘‘ پس ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پرفرض کی ہے، امانت ہے، اس کو پوری طرح سے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا بندے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح انسانوں کی امانتیں اس کے تحت آتی ہے، مثلاً:مال کی امانت اور راز کی امانت وغیرہ۔ پس امانت کی ان دونوں اقسام کی حفاظت اور ان کو پوری طرح ادا کرنا فرض ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُؔكُمۡ اَنۡ تُـؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهۡلِهَا﴾(النساء:4؍58) ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کو ان کی امانتیں واپس کر دیا کرو۔‘‘ اسی طرح عہد کا پورا کرنا بھی فرض ہے اور یہ اس عہد کو شامل ہے جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہے اور جو ان کے اور بندوں کے درمیان ہے اور اس سے مراد وہ التزامات اور معاہدے ہیں جو بندہ کسی سے کرتا ہے، ان کی حفاظت کرنا اور ان کو پورا کرنا اس پرواجب ہے، ان میں کوتاہی کرنا یا ان کو جان بوجھ کرچھوڑ دینا حرام ہے۔ [9]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ ﴾ یعنی وہ نمازوں کو ہمیشہ ان کے اوقات میں ، ان کی حدود، شرائط اور ارکان کی کامل رعایت کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے نماز میں ان کے خشوع اور نماز کی حفاظت ، دونوں باتوں کی بنا پر ان کی مدح و ستائش کی ہے کیونکہ ان کا معاملہ ان دونوں امور کے بغیر تکمیل نہیں پاتا۔ پس جو شخص نماز پر مداومت تو کرتا ہے مگر بغیر خشوع کے نماز پڑھتا ہے یا وہ کامل خشوع کے ساتھ تو نماز پڑھتا ہے مگر اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ ناقص اور مذموم ہے۔ [10]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ جو مذکورہ صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡوٰرِثُوۡنَ﴾ [11]﴿الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَ﴾ ’’فردوس کے وارث ہوں گے‘‘ جو جنت کا بلند ترین، بہتر اور افضل طبقہ ہے کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہوئے ہیں جو بھلائی کی صفات میں سب سے اعلیٰ صفات ہیں … یا اس سے مراد تمام جنت ہے تاکہ عام مومن اپنے اپنے درجات و مراتب اور اپنے اپنے حال کے مطابق اس میں داخل ہو جائیں ۔ ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ وہ وہاں سے کبھی کوچ کریں گے نہ وہاں سے منتقل ہونا چاہیں گے کیونکہ جنت فردوس کامل اور افضل ترین نعمتوں پر مشتمل ہے وہاں کوئی تکدر ہوگا نہ پریشانی۔
23:12

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن سُلَٰلَةٖ مِّن طِينٖ

اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہے ہم نے انسان کو خلاصے سے مٹی کے (12) پھر کیا ہم نے اس کو نطفہ قرار گاہ محفوظ میں (13) پھر بنایا ہم نے (اس) نطفے کو جما ہوا خون، پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو گوشت کا لوتھڑا ، پھر بنائیں ہم نے (اس) لوتھڑے کی ہڈیاں ، پھر پہنایا ہم نے (ان) ہڈیوں کو گوشت، پھر پیدا کیا ہم نے اسے مخلوق اور (نئی) پس بڑا بابرکت ہے اللہ جو سب سے حسین بنانے والا ہے (14) پھر بے شک تم بعد اس کے البتہ مرنے والے ہو (15) پھر یقینا تم دن قیامت کے دوبارہ اٹھائے جاؤ گے (16) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں انسان کی ابتدائے تخلیق سے لے کر آخر تک مختلف اطواراور مراحل کا ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشری کے جدامجد آدمu کی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ ﴿ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’اسے زمین کے ست سے پیدا کیا۔‘‘ جوکہ تمام زمین سے حاصل کیا گیا تھا۔ بنابریں حضرت آدم کے بیٹے زمین کی نوعیت کے مطابق ہیں ، ان میں کچھ پاک، کچھ خبیث اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں اور کچھ نرم دل، کچھ سخت دل اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں ۔ [13]﴿ ثُمَّ جَعَلۡنٰهُ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی جنس آدم کو ﴿ نُطۡفَةً ﴾ ’’نطفہ‘‘ جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پھر وہ نطفہ جگہ پکڑتا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ ﴾ ’’ایک محفوظ جگہ میں ۔‘‘ اس سے مراد رحم مادر ہے جو ہر قسم کی خرابی اور ہوا وغیرہ سے محفوظ ہے۔ [14]﴿ ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَةَ ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے نطفے کو‘‘ جو رحم مادر میں قرار پا چکا تھا ﴿ عَلَقَةً ﴾ ’’لوتھڑا‘‘ یعنی نطفے کو چالیس دن گزرنے کے بعد سرخ خون میں تبدیل کر دیا۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَةَ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو‘‘ یعنی چالیس دن کے بعد اس خون کے لوتھڑے کو ﴿ مُضۡغَةً ﴾ ’’گوشت کا ٹکڑا‘‘ یعنی گوشت کی چھوٹی سی بوٹی یعنی اس مقدار کے برابر جسے چبایا جا سکتا ہے۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَةَ ﴾ ’’پھر بنایا نرم بوٹی کو‘‘ ﴿ عِظٰمًا ﴾ ’’ہڈیاں ‘‘ یعنی سخت ہڈیاں بنا دیتے ہیں جوکہ بدن کی ضرورت کے مطابق گوشت کے درمیان ہوتی ہیں ۔ ﴿ فَكَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا﴾ یعنی ہم ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنا دیتے ہیں جس طرح ہڈیوں کو گوشت کا سہارا بنایا اور یہ تیسرے چالیس دنوں میں سرانجام پاتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰهُ خَلۡقًا اٰخَرَ﴾ ’’پھر پیدا کیا ہم نے اس کو ایک دوسری بناوٹ میں ۔‘‘ اس میں روح پھونک دی، پس وہ بے جان جسم سے جان دار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بہت بلند، بہت بڑا اور بہت زیادہ بھلائی والا ہے۔ ﴿ اَحۡسَنُ الۡخٰؔلِقِيۡنَ﴾ ’’وہ سب تخلیق کاروں سے اچھا تخلیق کار ہے‘‘ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍7-9) ’’جس نے ہر چیز بہترین طریقے سے پیدا کی اور اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی پھر اس کی نسل ایک خلاصے یعنی ایک حقیر پانی سے چلائی، پھر اسے نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی اور اس نے تمھارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر گزار ہو۔‘‘ انسان کی تمام تخلیق اچھی ہے اور انسان بہترین مخلوق بلکہ تمام مخلوقات میں علی الاطلاق بہترین ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے‘‘ اس لیے انسان کے خواص تمام مخلوق میں سب سے افضل اور سب سے کامل ہیں ۔ [15]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی انسان کی تخلیق اور اس میں روح کے پھونکے جانے کے بعد ﴿ لَمَيِّتُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مراحل میں سے گزرتے ہوئے ایک مرحلہ میں موت سے ہم کنار ہوگے۔ [16]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔‘‘ پھر تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًىؕ۰۰اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰىؕ۰۰اَلَيۡسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيِۧ الۡمَوۡتٰى ﴾(القیامۃ: 75؍36۔40) ’’کیا انسان سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا ، کیا وہ منی کا ایک ٹپکایا ہوا قطرہ نہ تھا پھر وہ لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو تخلیق کیا اور نک سک سے درست کیا پھر اس کی دوقسمیں بنائیں یعنی مرد اور عورت۔ کیا اللہ اس بات پرقادر نہیں کہ مردوں کوزندہ کرے؟‘‘
23:13

ثُمَّ جَعَلۡنَٰهُ نُطۡفَةٗ فِي قَرَارٖ مَّكِينٖ

اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہے ہم نے انسان کو خلاصے سے مٹی کے (12) پھر کیا ہم نے اس کو نطفہ قرار گاہ محفوظ میں (13) پھر بنایا ہم نے (اس) نطفے کو جما ہوا خون، پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو گوشت کا لوتھڑا ، پھر بنائیں ہم نے (اس) لوتھڑے کی ہڈیاں ، پھر پہنایا ہم نے (ان) ہڈیوں کو گوشت، پھر پیدا کیا ہم نے اسے مخلوق اور (نئی) پس بڑا بابرکت ہے اللہ جو سب سے حسین بنانے والا ہے (14) پھر بے شک تم بعد اس کے البتہ مرنے والے ہو (15) پھر یقینا تم دن قیامت کے دوبارہ اٹھائے جاؤ گے (16) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں انسان کی ابتدائے تخلیق سے لے کر آخر تک مختلف اطواراور مراحل کا ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشری کے جدامجد آدمu کی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ ﴿ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’اسے زمین کے ست سے پیدا کیا۔‘‘ جوکہ تمام زمین سے حاصل کیا گیا تھا۔ بنابریں حضرت آدم کے بیٹے زمین کی نوعیت کے مطابق ہیں ، ان میں کچھ پاک، کچھ خبیث اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں اور کچھ نرم دل، کچھ سخت دل اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں ۔ [13]﴿ ثُمَّ جَعَلۡنٰهُ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی جنس آدم کو ﴿ نُطۡفَةً ﴾ ’’نطفہ‘‘ جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پھر وہ نطفہ جگہ پکڑتا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ ﴾ ’’ایک محفوظ جگہ میں ۔‘‘ اس سے مراد رحم مادر ہے جو ہر قسم کی خرابی اور ہوا وغیرہ سے محفوظ ہے۔ [14]﴿ ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَةَ ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے نطفے کو‘‘ جو رحم مادر میں قرار پا چکا تھا ﴿ عَلَقَةً ﴾ ’’لوتھڑا‘‘ یعنی نطفے کو چالیس دن گزرنے کے بعد سرخ خون میں تبدیل کر دیا۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَةَ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو‘‘ یعنی چالیس دن کے بعد اس خون کے لوتھڑے کو ﴿ مُضۡغَةً ﴾ ’’گوشت کا ٹکڑا‘‘ یعنی گوشت کی چھوٹی سی بوٹی یعنی اس مقدار کے برابر جسے چبایا جا سکتا ہے۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَةَ ﴾ ’’پھر بنایا نرم بوٹی کو‘‘ ﴿ عِظٰمًا ﴾ ’’ہڈیاں ‘‘ یعنی سخت ہڈیاں بنا دیتے ہیں جوکہ بدن کی ضرورت کے مطابق گوشت کے درمیان ہوتی ہیں ۔ ﴿ فَكَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا﴾ یعنی ہم ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنا دیتے ہیں جس طرح ہڈیوں کو گوشت کا سہارا بنایا اور یہ تیسرے چالیس دنوں میں سرانجام پاتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰهُ خَلۡقًا اٰخَرَ﴾ ’’پھر پیدا کیا ہم نے اس کو ایک دوسری بناوٹ میں ۔‘‘ اس میں روح پھونک دی، پس وہ بے جان جسم سے جان دار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بہت بلند، بہت بڑا اور بہت زیادہ بھلائی والا ہے۔ ﴿ اَحۡسَنُ الۡخٰؔلِقِيۡنَ﴾ ’’وہ سب تخلیق کاروں سے اچھا تخلیق کار ہے‘‘ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍7-9) ’’جس نے ہر چیز بہترین طریقے سے پیدا کی اور اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی پھر اس کی نسل ایک خلاصے یعنی ایک حقیر پانی سے چلائی، پھر اسے نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی اور اس نے تمھارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر گزار ہو۔‘‘ انسان کی تمام تخلیق اچھی ہے اور انسان بہترین مخلوق بلکہ تمام مخلوقات میں علی الاطلاق بہترین ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے‘‘ اس لیے انسان کے خواص تمام مخلوق میں سب سے افضل اور سب سے کامل ہیں ۔ [15]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی انسان کی تخلیق اور اس میں روح کے پھونکے جانے کے بعد ﴿ لَمَيِّتُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مراحل میں سے گزرتے ہوئے ایک مرحلہ میں موت سے ہم کنار ہوگے۔ [16]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔‘‘ پھر تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًىؕ۰۰اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰىؕ۰۰اَلَيۡسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيِۧ الۡمَوۡتٰى ﴾(القیامۃ: 75؍36۔40) ’’کیا انسان سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا ، کیا وہ منی کا ایک ٹپکایا ہوا قطرہ نہ تھا پھر وہ لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو تخلیق کیا اور نک سک سے درست کیا پھر اس کی دوقسمیں بنائیں یعنی مرد اور عورت۔ کیا اللہ اس بات پرقادر نہیں کہ مردوں کوزندہ کرے؟‘‘
23:14

ثُمَّ خَلَقۡنَا ٱلنُّطۡفَةَ عَلَقَةٗ فَخَلَقۡنَا ٱلۡعَلَقَةَ مُضۡغَةٗ فَخَلَقۡنَا ٱلۡمُضۡغَةَ عِظَٰمٗا فَكَسَوۡنَا ٱلۡعِظَٰمَ لَحۡمٗا ثُمَّ أَنشَأۡنَٰهُ خَلۡقًا ءَاخَرَۚ فَتَبَارَكَ ٱللَّهُ أَحۡسَنُ ٱلۡخَٰلِقِينَ

اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہے ہم نے انسان کو خلاصے سے مٹی کے (12) پھر کیا ہم نے اس کو نطفہ قرار گاہ محفوظ میں (13) پھر بنایا ہم نے (اس) نطفے کو جما ہوا خون، پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو گوشت کا لوتھڑا ، پھر بنائیں ہم نے (اس) لوتھڑے کی ہڈیاں ، پھر پہنایا ہم نے (ان) ہڈیوں کو گوشت، پھر پیدا کیا ہم نے اسے مخلوق اور (نئی) پس بڑا بابرکت ہے اللہ جو سب سے حسین بنانے والا ہے (14) پھر بے شک تم بعد اس کے البتہ مرنے والے ہو (15) پھر یقینا تم دن قیامت کے دوبارہ اٹھائے جاؤ گے (16) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں انسان کی ابتدائے تخلیق سے لے کر آخر تک مختلف اطواراور مراحل کا ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشری کے جدامجد آدمu کی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ ﴿ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’اسے زمین کے ست سے پیدا کیا۔‘‘ جوکہ تمام زمین سے حاصل کیا گیا تھا۔ بنابریں حضرت آدم کے بیٹے زمین کی نوعیت کے مطابق ہیں ، ان میں کچھ پاک، کچھ خبیث اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں اور کچھ نرم دل، کچھ سخت دل اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں ۔ [13]﴿ ثُمَّ جَعَلۡنٰهُ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی جنس آدم کو ﴿ نُطۡفَةً ﴾ ’’نطفہ‘‘ جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پھر وہ نطفہ جگہ پکڑتا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ ﴾ ’’ایک محفوظ جگہ میں ۔‘‘ اس سے مراد رحم مادر ہے جو ہر قسم کی خرابی اور ہوا وغیرہ سے محفوظ ہے۔ [14]﴿ ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَةَ ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے نطفے کو‘‘ جو رحم مادر میں قرار پا چکا تھا ﴿ عَلَقَةً ﴾ ’’لوتھڑا‘‘ یعنی نطفے کو چالیس دن گزرنے کے بعد سرخ خون میں تبدیل کر دیا۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَةَ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو‘‘ یعنی چالیس دن کے بعد اس خون کے لوتھڑے کو ﴿ مُضۡغَةً ﴾ ’’گوشت کا ٹکڑا‘‘ یعنی گوشت کی چھوٹی سی بوٹی یعنی اس مقدار کے برابر جسے چبایا جا سکتا ہے۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَةَ ﴾ ’’پھر بنایا نرم بوٹی کو‘‘ ﴿ عِظٰمًا ﴾ ’’ہڈیاں ‘‘ یعنی سخت ہڈیاں بنا دیتے ہیں جوکہ بدن کی ضرورت کے مطابق گوشت کے درمیان ہوتی ہیں ۔ ﴿ فَكَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا﴾ یعنی ہم ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنا دیتے ہیں جس طرح ہڈیوں کو گوشت کا سہارا بنایا اور یہ تیسرے چالیس دنوں میں سرانجام پاتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰهُ خَلۡقًا اٰخَرَ﴾ ’’پھر پیدا کیا ہم نے اس کو ایک دوسری بناوٹ میں ۔‘‘ اس میں روح پھونک دی، پس وہ بے جان جسم سے جان دار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بہت بلند، بہت بڑا اور بہت زیادہ بھلائی والا ہے۔ ﴿ اَحۡسَنُ الۡخٰؔلِقِيۡنَ﴾ ’’وہ سب تخلیق کاروں سے اچھا تخلیق کار ہے‘‘ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍7-9) ’’جس نے ہر چیز بہترین طریقے سے پیدا کی اور اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی پھر اس کی نسل ایک خلاصے یعنی ایک حقیر پانی سے چلائی، پھر اسے نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی اور اس نے تمھارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر گزار ہو۔‘‘ انسان کی تمام تخلیق اچھی ہے اور انسان بہترین مخلوق بلکہ تمام مخلوقات میں علی الاطلاق بہترین ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے‘‘ اس لیے انسان کے خواص تمام مخلوق میں سب سے افضل اور سب سے کامل ہیں ۔ [15]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی انسان کی تخلیق اور اس میں روح کے پھونکے جانے کے بعد ﴿ لَمَيِّتُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مراحل میں سے گزرتے ہوئے ایک مرحلہ میں موت سے ہم کنار ہوگے۔ [16]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔‘‘ پھر تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًىؕ۰۰اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰىؕ۰۰اَلَيۡسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيِۧ الۡمَوۡتٰى ﴾(القیامۃ: 75؍36۔40) ’’کیا انسان سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا ، کیا وہ منی کا ایک ٹپکایا ہوا قطرہ نہ تھا پھر وہ لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو تخلیق کیا اور نک سک سے درست کیا پھر اس کی دوقسمیں بنائیں یعنی مرد اور عورت۔ کیا اللہ اس بات پرقادر نہیں کہ مردوں کوزندہ کرے؟‘‘
23:15

ثُمَّ إِنَّكُم بَعۡدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ

اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہے ہم نے انسان کو خلاصے سے مٹی کے (12) پھر کیا ہم نے اس کو نطفہ قرار گاہ محفوظ میں (13) پھر بنایا ہم نے (اس) نطفے کو جما ہوا خون، پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو گوشت کا لوتھڑا ، پھر بنائیں ہم نے (اس) لوتھڑے کی ہڈیاں ، پھر پہنایا ہم نے (ان) ہڈیوں کو گوشت، پھر پیدا کیا ہم نے اسے مخلوق اور (نئی) پس بڑا بابرکت ہے اللہ جو سب سے حسین بنانے والا ہے (14) پھر بے شک تم بعد اس کے البتہ مرنے والے ہو (15) پھر یقینا تم دن قیامت کے دوبارہ اٹھائے جاؤ گے (16) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں انسان کی ابتدائے تخلیق سے لے کر آخر تک مختلف اطواراور مراحل کا ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشری کے جدامجد آدمu کی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ ﴿ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’اسے زمین کے ست سے پیدا کیا۔‘‘ جوکہ تمام زمین سے حاصل کیا گیا تھا۔ بنابریں حضرت آدم کے بیٹے زمین کی نوعیت کے مطابق ہیں ، ان میں کچھ پاک، کچھ خبیث اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں اور کچھ نرم دل، کچھ سخت دل اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں ۔ [13]﴿ ثُمَّ جَعَلۡنٰهُ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی جنس آدم کو ﴿ نُطۡفَةً ﴾ ’’نطفہ‘‘ جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پھر وہ نطفہ جگہ پکڑتا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ ﴾ ’’ایک محفوظ جگہ میں ۔‘‘ اس سے مراد رحم مادر ہے جو ہر قسم کی خرابی اور ہوا وغیرہ سے محفوظ ہے۔ [14]﴿ ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَةَ ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے نطفے کو‘‘ جو رحم مادر میں قرار پا چکا تھا ﴿ عَلَقَةً ﴾ ’’لوتھڑا‘‘ یعنی نطفے کو چالیس دن گزرنے کے بعد سرخ خون میں تبدیل کر دیا۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَةَ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو‘‘ یعنی چالیس دن کے بعد اس خون کے لوتھڑے کو ﴿ مُضۡغَةً ﴾ ’’گوشت کا ٹکڑا‘‘ یعنی گوشت کی چھوٹی سی بوٹی یعنی اس مقدار کے برابر جسے چبایا جا سکتا ہے۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَةَ ﴾ ’’پھر بنایا نرم بوٹی کو‘‘ ﴿ عِظٰمًا ﴾ ’’ہڈیاں ‘‘ یعنی سخت ہڈیاں بنا دیتے ہیں جوکہ بدن کی ضرورت کے مطابق گوشت کے درمیان ہوتی ہیں ۔ ﴿ فَكَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا﴾ یعنی ہم ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنا دیتے ہیں جس طرح ہڈیوں کو گوشت کا سہارا بنایا اور یہ تیسرے چالیس دنوں میں سرانجام پاتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰهُ خَلۡقًا اٰخَرَ﴾ ’’پھر پیدا کیا ہم نے اس کو ایک دوسری بناوٹ میں ۔‘‘ اس میں روح پھونک دی، پس وہ بے جان جسم سے جان دار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بہت بلند، بہت بڑا اور بہت زیادہ بھلائی والا ہے۔ ﴿ اَحۡسَنُ الۡخٰؔلِقِيۡنَ﴾ ’’وہ سب تخلیق کاروں سے اچھا تخلیق کار ہے‘‘ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍7-9) ’’جس نے ہر چیز بہترین طریقے سے پیدا کی اور اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی پھر اس کی نسل ایک خلاصے یعنی ایک حقیر پانی سے چلائی، پھر اسے نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی اور اس نے تمھارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر گزار ہو۔‘‘ انسان کی تمام تخلیق اچھی ہے اور انسان بہترین مخلوق بلکہ تمام مخلوقات میں علی الاطلاق بہترین ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے‘‘ اس لیے انسان کے خواص تمام مخلوق میں سب سے افضل اور سب سے کامل ہیں ۔ [15]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی انسان کی تخلیق اور اس میں روح کے پھونکے جانے کے بعد ﴿ لَمَيِّتُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مراحل میں سے گزرتے ہوئے ایک مرحلہ میں موت سے ہم کنار ہوگے۔ [16]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔‘‘ پھر تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًىؕ۰۰اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰىؕ۰۰اَلَيۡسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيِۧ الۡمَوۡتٰى ﴾(القیامۃ: 75؍36۔40) ’’کیا انسان سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا ، کیا وہ منی کا ایک ٹپکایا ہوا قطرہ نہ تھا پھر وہ لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو تخلیق کیا اور نک سک سے درست کیا پھر اس کی دوقسمیں بنائیں یعنی مرد اور عورت۔ کیا اللہ اس بات پرقادر نہیں کہ مردوں کوزندہ کرے؟‘‘
23:16

ثُمَّ إِنَّكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ تُبۡعَثُونَ

اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہے ہم نے انسان کو خلاصے سے مٹی کے (12) پھر کیا ہم نے اس کو نطفہ قرار گاہ محفوظ میں (13) پھر بنایا ہم نے (اس) نطفے کو جما ہوا خون، پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو گوشت کا لوتھڑا ، پھر بنائیں ہم نے (اس) لوتھڑے کی ہڈیاں ، پھر پہنایا ہم نے (ان) ہڈیوں کو گوشت، پھر پیدا کیا ہم نے اسے مخلوق اور (نئی) پس بڑا بابرکت ہے اللہ جو سب سے حسین بنانے والا ہے (14) پھر بے شک تم بعد اس کے البتہ مرنے والے ہو (15) پھر یقینا تم دن قیامت کے دوبارہ اٹھائے جاؤ گے (16) [12] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں انسان کی ابتدائے تخلیق سے لے کر آخر تک مختلف اطواراور مراحل کا ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشری کے جدامجد آدمu کی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ ﴿ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’اسے زمین کے ست سے پیدا کیا۔‘‘ جوکہ تمام زمین سے حاصل کیا گیا تھا۔ بنابریں حضرت آدم کے بیٹے زمین کی نوعیت کے مطابق ہیں ، ان میں کچھ پاک، کچھ خبیث اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں اور کچھ نرم دل، کچھ سخت دل اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں ۔ [13]﴿ ثُمَّ جَعَلۡنٰهُ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی جنس آدم کو ﴿ نُطۡفَةً ﴾ ’’نطفہ‘‘ جو انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے، پھر وہ نطفہ جگہ پکڑتا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ ﴾ ’’ایک محفوظ جگہ میں ۔‘‘ اس سے مراد رحم مادر ہے جو ہر قسم کی خرابی اور ہوا وغیرہ سے محفوظ ہے۔ [14]﴿ ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَةَ ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے نطفے کو‘‘ جو رحم مادر میں قرار پا چکا تھا ﴿ عَلَقَةً ﴾ ’’لوتھڑا‘‘ یعنی نطفے کو چالیس دن گزرنے کے بعد سرخ خون میں تبدیل کر دیا۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَةَ﴾ ’’پھر بنایا ہم نے جمے ہوئے خون کو‘‘ یعنی چالیس دن کے بعد اس خون کے لوتھڑے کو ﴿ مُضۡغَةً ﴾ ’’گوشت کا ٹکڑا‘‘ یعنی گوشت کی چھوٹی سی بوٹی یعنی اس مقدار کے برابر جسے چبایا جا سکتا ہے۔ ﴿ فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَةَ ﴾ ’’پھر بنایا نرم بوٹی کو‘‘ ﴿ عِظٰمًا ﴾ ’’ہڈیاں ‘‘ یعنی سخت ہڈیاں بنا دیتے ہیں جوکہ بدن کی ضرورت کے مطابق گوشت کے درمیان ہوتی ہیں ۔ ﴿ فَكَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا﴾ یعنی ہم ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنا دیتے ہیں جس طرح ہڈیوں کو گوشت کا سہارا بنایا اور یہ تیسرے چالیس دنوں میں سرانجام پاتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰهُ خَلۡقًا اٰخَرَ﴾ ’’پھر پیدا کیا ہم نے اس کو ایک دوسری بناوٹ میں ۔‘‘ اس میں روح پھونک دی، پس وہ بے جان جسم سے جان دار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بہت بلند، بہت بڑا اور بہت زیادہ بھلائی والا ہے۔ ﴿ اَحۡسَنُ الۡخٰؔلِقِيۡنَ﴾ ’’وہ سب تخلیق کاروں سے اچھا تخلیق کار ہے‘‘ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍۚ۰۰ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡـِٕدَةَ١ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍7-9) ’’جس نے ہر چیز بہترین طریقے سے پیدا کی اور اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی پھر اس کی نسل ایک خلاصے یعنی ایک حقیر پانی سے چلائی، پھر اسے نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی اور اس نے تمھارے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر گزار ہو۔‘‘ انسان کی تمام تخلیق اچھی ہے اور انسان بہترین مخلوق بلکہ تمام مخلوقات میں علی الاطلاق بہترین ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے‘‘ اس لیے انسان کے خواص تمام مخلوق میں سب سے افضل اور سب سے کامل ہیں ۔ [15]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ بَعۡدَ ذٰلِكَ﴾ یعنی انسان کی تخلیق اور اس میں روح کے پھونکے جانے کے بعد ﴿ لَمَيِّتُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مراحل میں سے گزرتے ہوئے ایک مرحلہ میں موت سے ہم کنار ہوگے۔ [16]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔‘‘ پھر تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًىؕ۰۰اَلَمۡ يَكُ نُطۡفَةً مِّنۡ مَّنِيٍّ يُّمۡنٰىۙ۰۰ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰فَجَعَلَ مِنۡهُ الزَّوۡجَيۡنِ الذَّكَرَ وَالۡاُنۡثٰىؕ۰۰اَلَيۡسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنۡ يُّحۡيِۧ الۡمَوۡتٰى ﴾(القیامۃ: 75؍36۔40) ’’کیا انسان سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا ، کیا وہ منی کا ایک ٹپکایا ہوا قطرہ نہ تھا پھر وہ لوتھڑا بنا پھر اللہ نے اس کو تخلیق کیا اور نک سک سے درست کیا پھر اس کی دوقسمیں بنائیں یعنی مرد اور عورت۔ کیا اللہ اس بات پرقادر نہیں کہ مردوں کوزندہ کرے؟‘‘
23:17

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآئِقَ وَمَا كُنَّا عَنِ ٱلۡخَلۡقِ غَٰفِلِينَ

اور البتہ تحقیق پیدا کیے ہیں ہم نے تمھارے اوپر سات تہ بہ تہ آسمان اور نہیں ہیں ہم (اپنی) مخلوق سے غافل (17) اور ہم نے نازل کیاآسمان سے پانی ساتھ اندازے کے ، پھر ٹھہرایا ہم نے اسے زمین میں اور بے شک ہم اس کے لے جانے پر بھی البتہ قادر ہیں (18) پھر پیدا کیے ہم نے تمھارے لیے اس کے ذریعے سے باغات کھجوروں اور انگوروں کے ، تمھارے لیے ان میں (لذیذ) میوے ہیں بہت اور کچھ کو ان میں سے تم کھاتے ہو (19) اور (پیدا کیا ہم نے) ایک درخت کو جو نکلتا (اگتا) ہے طُوْرِ سَیْنَاء سے، وہ اگاتا ہے تیل اور سالن کھانے والوں کے لیے (20) [17] اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد، اس کے مسکن اور اس پر ہر لحاظ سے اپنی بے پایاں نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ ﴾ ’’اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر‘‘ یعنی شہروں کی چھت کے طور پر اور بندوں کے فائدے کی خاطر ﴿ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ﴾ہم نے سات آسمان طبق بر طبق بنائے کہ ہر طبقے کے اوپر دوسرا طبقہ ہے۔ اور ان کو سورج، چاند اور ستاروں کے ذریعے سے سجایا اور ان میں مخلوق کے تمام فوائد ودیعت كيے گئے۔﴿ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں ۔‘‘ پس جیسے ہماری تخلیق ہر مخلوق کے لیے عام ہے۔ اسی طرح ہمارا علم بھی تمام مخلوق پر محیط ہے، ہم اپنی کسی مخلوق سے غافل ہیں نہ اسے بھولتے ہیں اور نہ کسی مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اسے ضائع کرتے ہیں ، آسمان سے غافل ہوتے ہیں کہ وہ زمین پر گر پڑے نہ سمندروں کی موجوں میں تیرتے ہوئے اور صحراؤں میں پڑے ہوئے ایک ذرے کو بھی فراموش کرتے ہیں ۔ کوئی ایسا جان دار نہیں جس کو ہم رزق نہ پہنچاتے ہوں ۔ ﴿ وَمَا مِنۡ دَآبَّةٍ فِي الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا﴾(ھود:11؍6) ’’زمین میں چلنے والا کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کہاں اس کا ٹھکانہ ہے اور کہاں اسے سونپا جانا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے بہت کثرت سے اپنی تخلیق اور اپنے علم کو اکٹھا بیان کیا ہے، مثلاًفرمایا:﴿ اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ١ؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ﴾(الملک:67؍14) ’’کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے، حالانکہ وہ پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ بَلٰى ١ۗ وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾(یٰس:36؍81) ’’کیوں نہیں ! جبکہ وہ پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ مخلوقات کی تخلیق، ان کے خالق کے علم اور حکمت پر سب سے بڑی عقلی دلیل ہے۔ [18]﴿ وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً﴾ ’’اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی‘‘ تاکہ تمھارے لیے اور تمھارے مویشیوں کے لیے بقدر کفایت رزق حاصل ہو۔ پس وہ اسے اتنا کم بھی نہیں کرتا کہ جس سے زمین اور درختوں کی ضرورت پوری نہ ہو اور مقصود حاصل نہ ہو اور نہ اسے اتنا زیادہ کرتا ہے کہ جس سے آبادیاں تلف ہو جائیں اور نباتات اور درخت اس کے ساتھ زندہ نہ رہیں بلکہ جب اس کو نازل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نازل کرتا ہے اور جب اس کے زیادہ برسنے سے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے تو اسے روک دیتا ہے۔ ﴿ فَاَسۡكَنّٰهُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’پس ہم اس کو زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم پانی کو زمین پر نازل کرتے ہیں اور وہ وہاں ٹھہر جاتا ہے اور اپنے نازل کرنے والے کی قدرت سے، ہر قسم کی نباتات اگاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دور زیر زمین پانی کے خزانوں تک لے جا کر ٹھہراتا ہے حتیٰ کہ کنواں کھودنے والا اس کی گہرائیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں ۔‘‘ اس طرح کہ یا تو ہم اسے نازل ہی نہ کریں یا نازل تو کریں لیکن اسے اتنا گہرا لے جائیں کہ وہاں تک پہنچنا ممکن نہ ہو یا اس سے مقصد حاصل نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو تنبیہ ہے کہ وہ اس کی نعمت کا شکر ادا کریں اور اس کے معدوم ہونے پر اندازہ کریں کہ انھیں کیا نقصان پہنچ سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾(الملک:67؍30) ’’کہہ دیجیے کہ کیا تم نے سوچا اگر تمھارا پانی گہرا چلا جائے یعنی خشک ہو جائے تو کون ہے جو تمھارے لیے پانی کا چشمہ بہا لائے ۔‘‘ [19]﴿ فَاَنۡشَاۡنَا لَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’پس ہم پیدا کرتے ہیں تمھارے لیے اس کے ساتھ‘‘ یعنی اس پانی کے ذریعے ﴿ جَنّٰتٍ ﴾ یعنی باغات ﴿ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّاَعۡنَابٍ﴾ ’’کھجور اور انگور کے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان دو قسموں کا ذکر کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے درخت اور نباتات وغیرہ بھی پانی ہی سے پیدا کی ہیں کیونکہ یہ اپنی فضیلت اور منفعت کی بنا پر دیگر درختوں پر فوقیت رکھتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں عام ذکر فرمایا ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’تمھارے لیے ان (باغات) میں ‘‘ ﴿ فَوَاكِهُ كَثِيۡرَةٌ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾ ’’بہت سے میوے ہوتے ہیں ، انھی میں سے تم کھاتے ہو‘‘ یعنی زیتون، لیموں ، انار اور سیب وغیرہ۔ [20]﴿ وَشَجَرَةً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَيۡنَآءَؔ ﴾ ’’اور وہ درخت جو طور سیناء (پہاڑ) سے نکلتا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد زیتون کا درخت ہے یعنی جنس زیتون۔ خاص طور پر اس کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ ارض شام میں اس کا خاص علاقہ ہے، نیز اس کے کچھ فوائد ہیں ۔ ان میں سے بعض اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں مذکور ہیں ۔ ﴿تَنۢۡـبُتُ بِالدُّهۡنِ وَصِبۡغٍ لِّلۡاٰكِلِيۡنَ ﴾ ’’اگاتا ہے وہ تیل اور سالن ہے کھانے والوں کے لیے۔‘‘ اس میں سے زیتون کا تیل نکلتا ہے جوکہ چکنائی ہے جسے روشنی کرنے اور کھانے کے لیے بکثرت استعمال کیا جاتا ہے یعنی اس کوکھانے کے لیے سالن بنایا جاتا ہے۔ اس میں اس کے علاوہ دیگر فوائد بھی ہیں ۔
23:18

وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءَۢ بِقَدَرٖ فَأَسۡكَنَّـٰهُ فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَإِنَّا عَلَىٰ ذَهَابِۭ بِهِۦ لَقَٰدِرُونَ

اور البتہ تحقیق پیدا کیے ہیں ہم نے تمھارے اوپر سات تہ بہ تہ آسمان اور نہیں ہیں ہم (اپنی) مخلوق سے غافل (17) اور ہم نے نازل کیاآسمان سے پانی ساتھ اندازے کے ، پھر ٹھہرایا ہم نے اسے زمین میں اور بے شک ہم اس کے لے جانے پر بھی البتہ قادر ہیں (18) پھر پیدا کیے ہم نے تمھارے لیے اس کے ذریعے سے باغات کھجوروں اور انگوروں کے ، تمھارے لیے ان میں (لذیذ) میوے ہیں بہت اور کچھ کو ان میں سے تم کھاتے ہو (19) اور (پیدا کیا ہم نے) ایک درخت کو جو نکلتا (اگتا) ہے طُوْرِ سَیْنَاء سے، وہ اگاتا ہے تیل اور سالن کھانے والوں کے لیے (20) [17] اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد، اس کے مسکن اور اس پر ہر لحاظ سے اپنی بے پایاں نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ ﴾ ’’اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر‘‘ یعنی شہروں کی چھت کے طور پر اور بندوں کے فائدے کی خاطر ﴿ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ﴾ہم نے سات آسمان طبق بر طبق بنائے کہ ہر طبقے کے اوپر دوسرا طبقہ ہے۔ اور ان کو سورج، چاند اور ستاروں کے ذریعے سے سجایا اور ان میں مخلوق کے تمام فوائد ودیعت كيے گئے۔﴿ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں ۔‘‘ پس جیسے ہماری تخلیق ہر مخلوق کے لیے عام ہے۔ اسی طرح ہمارا علم بھی تمام مخلوق پر محیط ہے، ہم اپنی کسی مخلوق سے غافل ہیں نہ اسے بھولتے ہیں اور نہ کسی مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اسے ضائع کرتے ہیں ، آسمان سے غافل ہوتے ہیں کہ وہ زمین پر گر پڑے نہ سمندروں کی موجوں میں تیرتے ہوئے اور صحراؤں میں پڑے ہوئے ایک ذرے کو بھی فراموش کرتے ہیں ۔ کوئی ایسا جان دار نہیں جس کو ہم رزق نہ پہنچاتے ہوں ۔ ﴿ وَمَا مِنۡ دَآبَّةٍ فِي الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا﴾(ھود:11؍6) ’’زمین میں چلنے والا کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کہاں اس کا ٹھکانہ ہے اور کہاں اسے سونپا جانا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے بہت کثرت سے اپنی تخلیق اور اپنے علم کو اکٹھا بیان کیا ہے، مثلاًفرمایا:﴿ اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ١ؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ﴾(الملک:67؍14) ’’کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے، حالانکہ وہ پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ بَلٰى ١ۗ وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾(یٰس:36؍81) ’’کیوں نہیں ! جبکہ وہ پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ مخلوقات کی تخلیق، ان کے خالق کے علم اور حکمت پر سب سے بڑی عقلی دلیل ہے۔ [18]﴿ وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً﴾ ’’اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی‘‘ تاکہ تمھارے لیے اور تمھارے مویشیوں کے لیے بقدر کفایت رزق حاصل ہو۔ پس وہ اسے اتنا کم بھی نہیں کرتا کہ جس سے زمین اور درختوں کی ضرورت پوری نہ ہو اور مقصود حاصل نہ ہو اور نہ اسے اتنا زیادہ کرتا ہے کہ جس سے آبادیاں تلف ہو جائیں اور نباتات اور درخت اس کے ساتھ زندہ نہ رہیں بلکہ جب اس کو نازل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نازل کرتا ہے اور جب اس کے زیادہ برسنے سے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے تو اسے روک دیتا ہے۔ ﴿ فَاَسۡكَنّٰهُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’پس ہم اس کو زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم پانی کو زمین پر نازل کرتے ہیں اور وہ وہاں ٹھہر جاتا ہے اور اپنے نازل کرنے والے کی قدرت سے، ہر قسم کی نباتات اگاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دور زیر زمین پانی کے خزانوں تک لے جا کر ٹھہراتا ہے حتیٰ کہ کنواں کھودنے والا اس کی گہرائیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں ۔‘‘ اس طرح کہ یا تو ہم اسے نازل ہی نہ کریں یا نازل تو کریں لیکن اسے اتنا گہرا لے جائیں کہ وہاں تک پہنچنا ممکن نہ ہو یا اس سے مقصد حاصل نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو تنبیہ ہے کہ وہ اس کی نعمت کا شکر ادا کریں اور اس کے معدوم ہونے پر اندازہ کریں کہ انھیں کیا نقصان پہنچ سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾(الملک:67؍30) ’’کہہ دیجیے کہ کیا تم نے سوچا اگر تمھارا پانی گہرا چلا جائے یعنی خشک ہو جائے تو کون ہے جو تمھارے لیے پانی کا چشمہ بہا لائے ۔‘‘ [19]﴿ فَاَنۡشَاۡنَا لَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’پس ہم پیدا کرتے ہیں تمھارے لیے اس کے ساتھ‘‘ یعنی اس پانی کے ذریعے ﴿ جَنّٰتٍ ﴾ یعنی باغات ﴿ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّاَعۡنَابٍ﴾ ’’کھجور اور انگور کے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان دو قسموں کا ذکر کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے درخت اور نباتات وغیرہ بھی پانی ہی سے پیدا کی ہیں کیونکہ یہ اپنی فضیلت اور منفعت کی بنا پر دیگر درختوں پر فوقیت رکھتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں عام ذکر فرمایا ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’تمھارے لیے ان (باغات) میں ‘‘ ﴿ فَوَاكِهُ كَثِيۡرَةٌ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾ ’’بہت سے میوے ہوتے ہیں ، انھی میں سے تم کھاتے ہو‘‘ یعنی زیتون، لیموں ، انار اور سیب وغیرہ۔ [20]﴿ وَشَجَرَةً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَيۡنَآءَؔ ﴾ ’’اور وہ درخت جو طور سیناء (پہاڑ) سے نکلتا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد زیتون کا درخت ہے یعنی جنس زیتون۔ خاص طور پر اس کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ ارض شام میں اس کا خاص علاقہ ہے، نیز اس کے کچھ فوائد ہیں ۔ ان میں سے بعض اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں مذکور ہیں ۔ ﴿تَنۢۡـبُتُ بِالدُّهۡنِ وَصِبۡغٍ لِّلۡاٰكِلِيۡنَ ﴾ ’’اگاتا ہے وہ تیل اور سالن ہے کھانے والوں کے لیے۔‘‘ اس میں سے زیتون کا تیل نکلتا ہے جوکہ چکنائی ہے جسے روشنی کرنے اور کھانے کے لیے بکثرت استعمال کیا جاتا ہے یعنی اس کوکھانے کے لیے سالن بنایا جاتا ہے۔ اس میں اس کے علاوہ دیگر فوائد بھی ہیں ۔
23:19

فَأَنشَأۡنَا لَكُم بِهِۦ جَنَّـٰتٖ مِّن نَّخِيلٖ وَأَعۡنَٰبٖ لَّكُمۡ فِيهَا فَوَٰكِهُ كَثِيرَةٞ وَمِنۡهَا تَأۡكُلُونَ

اور البتہ تحقیق پیدا کیے ہیں ہم نے تمھارے اوپر سات تہ بہ تہ آسمان اور نہیں ہیں ہم (اپنی) مخلوق سے غافل (17) اور ہم نے نازل کیاآسمان سے پانی ساتھ اندازے کے ، پھر ٹھہرایا ہم نے اسے زمین میں اور بے شک ہم اس کے لے جانے پر بھی البتہ قادر ہیں (18) پھر پیدا کیے ہم نے تمھارے لیے اس کے ذریعے سے باغات کھجوروں اور انگوروں کے ، تمھارے لیے ان میں (لذیذ) میوے ہیں بہت اور کچھ کو ان میں سے تم کھاتے ہو (19) اور (پیدا کیا ہم نے) ایک درخت کو جو نکلتا (اگتا) ہے طُوْرِ سَیْنَاء سے، وہ اگاتا ہے تیل اور سالن کھانے والوں کے لیے (20) [17] اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد، اس کے مسکن اور اس پر ہر لحاظ سے اپنی بے پایاں نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ ﴾ ’’اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر‘‘ یعنی شہروں کی چھت کے طور پر اور بندوں کے فائدے کی خاطر ﴿ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ﴾ہم نے سات آسمان طبق بر طبق بنائے کہ ہر طبقے کے اوپر دوسرا طبقہ ہے۔ اور ان کو سورج، چاند اور ستاروں کے ذریعے سے سجایا اور ان میں مخلوق کے تمام فوائد ودیعت كيے گئے۔﴿ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں ۔‘‘ پس جیسے ہماری تخلیق ہر مخلوق کے لیے عام ہے۔ اسی طرح ہمارا علم بھی تمام مخلوق پر محیط ہے، ہم اپنی کسی مخلوق سے غافل ہیں نہ اسے بھولتے ہیں اور نہ کسی مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اسے ضائع کرتے ہیں ، آسمان سے غافل ہوتے ہیں کہ وہ زمین پر گر پڑے نہ سمندروں کی موجوں میں تیرتے ہوئے اور صحراؤں میں پڑے ہوئے ایک ذرے کو بھی فراموش کرتے ہیں ۔ کوئی ایسا جان دار نہیں جس کو ہم رزق نہ پہنچاتے ہوں ۔ ﴿ وَمَا مِنۡ دَآبَّةٍ فِي الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا﴾(ھود:11؍6) ’’زمین میں چلنے والا کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کہاں اس کا ٹھکانہ ہے اور کہاں اسے سونپا جانا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے بہت کثرت سے اپنی تخلیق اور اپنے علم کو اکٹھا بیان کیا ہے، مثلاًفرمایا:﴿ اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ١ؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ﴾(الملک:67؍14) ’’کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے، حالانکہ وہ پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ بَلٰى ١ۗ وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾(یٰس:36؍81) ’’کیوں نہیں ! جبکہ وہ پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ مخلوقات کی تخلیق، ان کے خالق کے علم اور حکمت پر سب سے بڑی عقلی دلیل ہے۔ [18]﴿ وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً﴾ ’’اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی‘‘ تاکہ تمھارے لیے اور تمھارے مویشیوں کے لیے بقدر کفایت رزق حاصل ہو۔ پس وہ اسے اتنا کم بھی نہیں کرتا کہ جس سے زمین اور درختوں کی ضرورت پوری نہ ہو اور مقصود حاصل نہ ہو اور نہ اسے اتنا زیادہ کرتا ہے کہ جس سے آبادیاں تلف ہو جائیں اور نباتات اور درخت اس کے ساتھ زندہ نہ رہیں بلکہ جب اس کو نازل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نازل کرتا ہے اور جب اس کے زیادہ برسنے سے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے تو اسے روک دیتا ہے۔ ﴿ فَاَسۡكَنّٰهُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’پس ہم اس کو زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم پانی کو زمین پر نازل کرتے ہیں اور وہ وہاں ٹھہر جاتا ہے اور اپنے نازل کرنے والے کی قدرت سے، ہر قسم کی نباتات اگاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دور زیر زمین پانی کے خزانوں تک لے جا کر ٹھہراتا ہے حتیٰ کہ کنواں کھودنے والا اس کی گہرائیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں ۔‘‘ اس طرح کہ یا تو ہم اسے نازل ہی نہ کریں یا نازل تو کریں لیکن اسے اتنا گہرا لے جائیں کہ وہاں تک پہنچنا ممکن نہ ہو یا اس سے مقصد حاصل نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو تنبیہ ہے کہ وہ اس کی نعمت کا شکر ادا کریں اور اس کے معدوم ہونے پر اندازہ کریں کہ انھیں کیا نقصان پہنچ سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾(الملک:67؍30) ’’کہہ دیجیے کہ کیا تم نے سوچا اگر تمھارا پانی گہرا چلا جائے یعنی خشک ہو جائے تو کون ہے جو تمھارے لیے پانی کا چشمہ بہا لائے ۔‘‘ [19]﴿ فَاَنۡشَاۡنَا لَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’پس ہم پیدا کرتے ہیں تمھارے لیے اس کے ساتھ‘‘ یعنی اس پانی کے ذریعے ﴿ جَنّٰتٍ ﴾ یعنی باغات ﴿ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّاَعۡنَابٍ﴾ ’’کھجور اور انگور کے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان دو قسموں کا ذکر کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے درخت اور نباتات وغیرہ بھی پانی ہی سے پیدا کی ہیں کیونکہ یہ اپنی فضیلت اور منفعت کی بنا پر دیگر درختوں پر فوقیت رکھتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں عام ذکر فرمایا ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’تمھارے لیے ان (باغات) میں ‘‘ ﴿ فَوَاكِهُ كَثِيۡرَةٌ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾ ’’بہت سے میوے ہوتے ہیں ، انھی میں سے تم کھاتے ہو‘‘ یعنی زیتون، لیموں ، انار اور سیب وغیرہ۔ [20]﴿ وَشَجَرَةً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَيۡنَآءَؔ ﴾ ’’اور وہ درخت جو طور سیناء (پہاڑ) سے نکلتا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد زیتون کا درخت ہے یعنی جنس زیتون۔ خاص طور پر اس کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ ارض شام میں اس کا خاص علاقہ ہے، نیز اس کے کچھ فوائد ہیں ۔ ان میں سے بعض اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں مذکور ہیں ۔ ﴿تَنۢۡـبُتُ بِالدُّهۡنِ وَصِبۡغٍ لِّلۡاٰكِلِيۡنَ ﴾ ’’اگاتا ہے وہ تیل اور سالن ہے کھانے والوں کے لیے۔‘‘ اس میں سے زیتون کا تیل نکلتا ہے جوکہ چکنائی ہے جسے روشنی کرنے اور کھانے کے لیے بکثرت استعمال کیا جاتا ہے یعنی اس کوکھانے کے لیے سالن بنایا جاتا ہے۔ اس میں اس کے علاوہ دیگر فوائد بھی ہیں ۔
23:20

وَشَجَرَةٗ تَخۡرُجُ مِن طُورِ سَيۡنَآءَ تَنۢبُتُ بِٱلدُّهۡنِ وَصِبۡغٖ لِّلۡأٓكِلِينَ

اور البتہ تحقیق پیدا کیے ہیں ہم نے تمھارے اوپر سات تہ بہ تہ آسمان اور نہیں ہیں ہم (اپنی) مخلوق سے غافل (17) اور ہم نے نازل کیاآسمان سے پانی ساتھ اندازے کے ، پھر ٹھہرایا ہم نے اسے زمین میں اور بے شک ہم اس کے لے جانے پر بھی البتہ قادر ہیں (18) پھر پیدا کیے ہم نے تمھارے لیے اس کے ذریعے سے باغات کھجوروں اور انگوروں کے ، تمھارے لیے ان میں (لذیذ) میوے ہیں بہت اور کچھ کو ان میں سے تم کھاتے ہو (19) اور (پیدا کیا ہم نے) ایک درخت کو جو نکلتا (اگتا) ہے طُوْرِ سَیْنَاء سے، وہ اگاتا ہے تیل اور سالن کھانے والوں کے لیے (20) [17] اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد، اس کے مسکن اور اس پر ہر لحاظ سے اپنی بے پایاں نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ ﴾ ’’اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر‘‘ یعنی شہروں کی چھت کے طور پر اور بندوں کے فائدے کی خاطر ﴿ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ﴾ہم نے سات آسمان طبق بر طبق بنائے کہ ہر طبقے کے اوپر دوسرا طبقہ ہے۔ اور ان کو سورج، چاند اور ستاروں کے ذریعے سے سجایا اور ان میں مخلوق کے تمام فوائد ودیعت كيے گئے۔﴿ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں ۔‘‘ پس جیسے ہماری تخلیق ہر مخلوق کے لیے عام ہے۔ اسی طرح ہمارا علم بھی تمام مخلوق پر محیط ہے، ہم اپنی کسی مخلوق سے غافل ہیں نہ اسے بھولتے ہیں اور نہ کسی مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اسے ضائع کرتے ہیں ، آسمان سے غافل ہوتے ہیں کہ وہ زمین پر گر پڑے نہ سمندروں کی موجوں میں تیرتے ہوئے اور صحراؤں میں پڑے ہوئے ایک ذرے کو بھی فراموش کرتے ہیں ۔ کوئی ایسا جان دار نہیں جس کو ہم رزق نہ پہنچاتے ہوں ۔ ﴿ وَمَا مِنۡ دَآبَّةٍ فِي الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا﴾(ھود:11؍6) ’’زمین میں چلنے والا کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کہاں اس کا ٹھکانہ ہے اور کہاں اسے سونپا جانا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے بہت کثرت سے اپنی تخلیق اور اپنے علم کو اکٹھا بیان کیا ہے، مثلاًفرمایا:﴿ اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ١ؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ﴾(الملک:67؍14) ’’کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے، حالانکہ وہ پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ بَلٰى ١ۗ وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ ﴾(یٰس:36؍81) ’’کیوں نہیں ! جبکہ وہ پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔‘‘ کیونکہ مخلوقات کی تخلیق، ان کے خالق کے علم اور حکمت پر سب سے بڑی عقلی دلیل ہے۔ [18]﴿ وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً﴾ ’’اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی‘‘ تاکہ تمھارے لیے اور تمھارے مویشیوں کے لیے بقدر کفایت رزق حاصل ہو۔ پس وہ اسے اتنا کم بھی نہیں کرتا کہ جس سے زمین اور درختوں کی ضرورت پوری نہ ہو اور مقصود حاصل نہ ہو اور نہ اسے اتنا زیادہ کرتا ہے کہ جس سے آبادیاں تلف ہو جائیں اور نباتات اور درخت اس کے ساتھ زندہ نہ رہیں بلکہ جب اس کو نازل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے نازل کرتا ہے اور جب اس کے زیادہ برسنے سے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے تو اسے روک دیتا ہے۔ ﴿ فَاَسۡكَنّٰهُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’پس ہم اس کو زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم پانی کو زمین پر نازل کرتے ہیں اور وہ وہاں ٹھہر جاتا ہے اور اپنے نازل کرنے والے کی قدرت سے، ہر قسم کی نباتات اگاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دور زیر زمین پانی کے خزانوں تک لے جا کر ٹھہراتا ہے حتیٰ کہ کنواں کھودنے والا اس کی گہرائیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس کے لے جانے پر قادر ہیں ۔‘‘ اس طرح کہ یا تو ہم اسے نازل ہی نہ کریں یا نازل تو کریں لیکن اسے اتنا گہرا لے جائیں کہ وہاں تک پہنچنا ممکن نہ ہو یا اس سے مقصد حاصل نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو تنبیہ ہے کہ وہ اس کی نعمت کا شکر ادا کریں اور اس کے معدوم ہونے پر اندازہ کریں کہ انھیں کیا نقصان پہنچ سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾(الملک:67؍30) ’’کہہ دیجیے کہ کیا تم نے سوچا اگر تمھارا پانی گہرا چلا جائے یعنی خشک ہو جائے تو کون ہے جو تمھارے لیے پانی کا چشمہ بہا لائے ۔‘‘ [19]﴿ فَاَنۡشَاۡنَا لَكُمۡ بِهٖ﴾ ’’پس ہم پیدا کرتے ہیں تمھارے لیے اس کے ساتھ‘‘ یعنی اس پانی کے ذریعے ﴿ جَنّٰتٍ ﴾ یعنی باغات ﴿ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّاَعۡنَابٍ﴾ ’’کھجور اور انگور کے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان دو قسموں کا ذکر کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے درخت اور نباتات وغیرہ بھی پانی ہی سے پیدا کی ہیں کیونکہ یہ اپنی فضیلت اور منفعت کی بنا پر دیگر درختوں پر فوقیت رکھتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں عام ذکر فرمایا ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا﴾ ’’تمھارے لیے ان (باغات) میں ‘‘ ﴿ فَوَاكِهُ كَثِيۡرَةٌ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾ ’’بہت سے میوے ہوتے ہیں ، انھی میں سے تم کھاتے ہو‘‘ یعنی زیتون، لیموں ، انار اور سیب وغیرہ۔ [20]﴿ وَشَجَرَةً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَيۡنَآءَؔ ﴾ ’’اور وہ درخت جو طور سیناء (پہاڑ) سے نکلتا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد زیتون کا درخت ہے یعنی جنس زیتون۔ خاص طور پر اس کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ ارض شام میں اس کا خاص علاقہ ہے، نیز اس کے کچھ فوائد ہیں ۔ ان میں سے بعض اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں مذکور ہیں ۔ ﴿تَنۢۡـبُتُ بِالدُّهۡنِ وَصِبۡغٍ لِّلۡاٰكِلِيۡنَ ﴾ ’’اگاتا ہے وہ تیل اور سالن ہے کھانے والوں کے لیے۔‘‘ اس میں سے زیتون کا تیل نکلتا ہے جوکہ چکنائی ہے جسے روشنی کرنے اور کھانے کے لیے بکثرت استعمال کیا جاتا ہے یعنی اس کوکھانے کے لیے سالن بنایا جاتا ہے۔ اس میں اس کے علاوہ دیگر فوائد بھی ہیں ۔
23:21

وَإِنَّ لَكُمۡ فِي ٱلۡأَنۡعَٰمِ لَعِبۡرَةٗۖ نُّسۡقِيكُم مِّمَّا فِي بُطُونِهَا وَلَكُمۡ فِيهَا مَنَٰفِعُ كَثِيرَةٞ وَمِنۡهَا تَأۡكُلُونَ

اور بلاشبہ تمھارے لیے چوپایوں میں البتہ عبرت ہے، ہم پلاتے ہیں تمھیں اس سے جو ان کے پیٹوں میں ہےاور تمھارے لیے ان میں منافع ہیں بہت اور بعض کو ان میں سے تم کھاتے ہو (21) اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو (22) [21]﴿ وَاِنَّ لَكُمۡ فِي الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَةً﴾ یعنی یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے مویشيوں ، یعنی اونٹوں ، گایوں اور بکریوں کو مسخر کیا۔ اس میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور فائدہ اٹھانے والوں کے لیے فوائد ہیں ۔ ﴿ نُسۡقِيۡكُمۡ مِّؔمَّا فِيۡ بُطُوۡنِهَا﴾ ’’پلاتے ہیں ہم تمھیں اس سے جو ان کے پیٹوں میں ہے۔‘‘ یعنی دودھ، جو گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے جو خالص اور پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار ہے ﴿ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَنَافِعُ كَثِيۡرَةٌ ﴾ یعنی ان کی پشم، اون اور بالوں میں تمھارے لیے بہت سے فائدے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کے چمڑے سے تمھارے لیے خیمے بنائے جنھیں تم اپنے سفر اور پڑاؤ کے دوران (استعمال میں ) بہت ہلکا پاتے ہو۔ ﴿ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾ یعنی تم ان كے گوشت اور چربی سے حاصل شدہ بہترین کھانا کھاتے ہو۔ [22]﴿ وَعَلَيۡهَا وَعَلَى الۡفُلۡكِ تُحۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کرائے جاتے ہو۔‘‘ یعنی خشکی پر تم ایک شہر سے دوسرے شہر تک ان جانوروں پر اپنے بوجھ لاد کر لے جاتے ہو جہاں تم سخت مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے، جیسے سمندر میں تمھارے سفر کے لیے کشتیاں بنائیں جو تمھیں اور تمھارے سامان کو، خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ اٹھائے پھرتی ہیں ۔ پس وہ ہستی جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں ، جس نے مختلف انواع کے احسانات كيے ہیں اور جس نے اپنی نوازشوں کی بارش کی، وہی کامل شکر، کامل حمدوثنا اور عبودیت میں پوری کوشش کی مستحق ہے اور وہ اس چیز کی بھی مستحق ہے کہ اس کی نعمتوں سے اس کی نافرمانی پر مدد نہ لی جائے۔
23:22

وَعَلَيۡهَا وَعَلَى ٱلۡفُلۡكِ تُحۡمَلُونَ

اور بلاشبہ تمھارے لیے چوپایوں میں البتہ عبرت ہے، ہم پلاتے ہیں تمھیں اس سے جو ان کے پیٹوں میں ہےاور تمھارے لیے ان میں منافع ہیں بہت اور بعض کو ان میں سے تم کھاتے ہو (21) اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو (22) [21]﴿ وَاِنَّ لَكُمۡ فِي الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَةً﴾ یعنی یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے مویشيوں ، یعنی اونٹوں ، گایوں اور بکریوں کو مسخر کیا۔ اس میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور فائدہ اٹھانے والوں کے لیے فوائد ہیں ۔ ﴿ نُسۡقِيۡكُمۡ مِّؔمَّا فِيۡ بُطُوۡنِهَا﴾ ’’پلاتے ہیں ہم تمھیں اس سے جو ان کے پیٹوں میں ہے۔‘‘ یعنی دودھ، جو گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے جو خالص اور پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار ہے ﴿ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَنَافِعُ كَثِيۡرَةٌ ﴾ یعنی ان کی پشم، اون اور بالوں میں تمھارے لیے بہت سے فائدے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کے چمڑے سے تمھارے لیے خیمے بنائے جنھیں تم اپنے سفر اور پڑاؤ کے دوران (استعمال میں ) بہت ہلکا پاتے ہو۔ ﴿ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾ یعنی تم ان كے گوشت اور چربی سے حاصل شدہ بہترین کھانا کھاتے ہو۔ [22]﴿ وَعَلَيۡهَا وَعَلَى الۡفُلۡكِ تُحۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کرائے جاتے ہو۔‘‘ یعنی خشکی پر تم ایک شہر سے دوسرے شہر تک ان جانوروں پر اپنے بوجھ لاد کر لے جاتے ہو جہاں تم سخت مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے، جیسے سمندر میں تمھارے سفر کے لیے کشتیاں بنائیں جو تمھیں اور تمھارے سامان کو، خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ اٹھائے پھرتی ہیں ۔ پس وہ ہستی جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں ، جس نے مختلف انواع کے احسانات كيے ہیں اور جس نے اپنی نوازشوں کی بارش کی، وہی کامل شکر، کامل حمدوثنا اور عبودیت میں پوری کوشش کی مستحق ہے اور وہ اس چیز کی بھی مستحق ہے کہ اس کی نعمتوں سے اس کی نافرمانی پر مدد نہ لی جائے۔
23:23

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ فَقَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥٓۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (23) پس کہا(ان) سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں ہے یہ مگر بشر تم جیسا ہی، وہ چاہتا ہے یہ کہ برتری حاصل کرے تم پر اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ نازل کرتا فرشتے، نہیں سنی ہم نے یہ (توحید کی بات) اپنے پہلے باپ دادا میں (24) نہیں ہے یہ مگر ایک آدمی ہی، اسے جنون ہے، پس انتظار کرو تم اس کا ایک وقت تک (25) نوح نے کہا، اے میرے رب! تو میری مدد کر بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (26)پس وحی کی ہم نے اس کی طرف یہ کہ بنا تو کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے (مطابق) پس جب آجائے ہمارا حکم اور ابل پڑے تنور تو داخل (سوار) کر اس میں ہر قسم سے جوڑا دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم (اللہ کا) ان میں سے اورنہ بات کرنا مجھ سے ان لوگوں (کے بارے) میں جنھوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ (سب) ڈبوئے جائیں گے (27) پس جب پورے طور پر بیٹھ جائے تو اور وہ جو تیرے ساتھ ہیں ، کشتی پر تو کہہ: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نجات دی ہمیں ظالم قوم سے (28) اور کہہ تو، اے میرے رب! تو اتار مجھے اتارنا بابرکت اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے (29) بلاشبہ اس (واقعے) میں البتہ نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ہیں البتہ آزمانے والے (30) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح u کا ذکر کرتا ہے حضرت نوحu زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، چنانچہ انھوں نے فرمایا:﴿يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں ۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔ [24] حضرت نوح u نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ﴿ فَقَالَ الۡمَلَؤُا ﴾ پس نوحu کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کی اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی یہ محض تمھارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشوا بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنا پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمھاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا:﴿ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا١ؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ۰۰قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم: 14؍10، 11) ’’تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا: ہم تمھارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔‘‘ پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انھوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا:﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کر دیتا۔‘‘ یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضۂ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کر سکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہو جائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا ﴿ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿ فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔‘‘ اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطۂ علم میں نہیں ، اس لیے وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں ۔اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباء و اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں ۔ [25] کفار نے کہا: ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ ﴾ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں ۔ پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں ، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ [26] جب نوح u نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ حضرت نوحu نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا﴾(نوح:71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾(الصافات:37؍75) ’’نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں ۔‘‘ [27]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾ ہم نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’یہ کہ کشتی تیار کر‘‘ ﴿ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آجائے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ﴾یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔﴿ فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔‘‘ جیسے جناب نوح u کا بیٹا۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔ [28]﴿ فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡفُلۡكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ نَجّٰؔىنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحu اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں ۔ [29]﴿ وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِيۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا سن لی اور فرمایا:﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(ھود:11؍44) ’’اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ ﴾(ھود:11؍48) ’’کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ۔‘‘ [30]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ بلاشبہ اس قصہ میں ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’نشانیاں ہیں ۔‘‘ جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح u سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انھیں ان کے باپ حضرت نوحu کی صلب میں ، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ﴾(القمر:54؍15) ’’ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘ اسی لیے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں ۔‘‘
23:24

فَقَالَ ٱلۡمَلَؤُاْ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ مَا هَٰذَآ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡ يُرِيدُ أَن يَتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَأَنزَلَ مَلَـٰٓئِكَةٗ مَّا سَمِعۡنَا بِهَٰذَا فِيٓ ءَابَآئِنَا ٱلۡأَوَّلِينَ

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (23) پس کہا(ان) سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں ہے یہ مگر بشر تم جیسا ہی، وہ چاہتا ہے یہ کہ برتری حاصل کرے تم پر اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ نازل کرتا فرشتے، نہیں سنی ہم نے یہ (توحید کی بات) اپنے پہلے باپ دادا میں (24) نہیں ہے یہ مگر ایک آدمی ہی، اسے جنون ہے، پس انتظار کرو تم اس کا ایک وقت تک (25) نوح نے کہا، اے میرے رب! تو میری مدد کر بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (26)پس وحی کی ہم نے اس کی طرف یہ کہ بنا تو کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے (مطابق) پس جب آجائے ہمارا حکم اور ابل پڑے تنور تو داخل (سوار) کر اس میں ہر قسم سے جوڑا دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم (اللہ کا) ان میں سے اورنہ بات کرنا مجھ سے ان لوگوں (کے بارے) میں جنھوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ (سب) ڈبوئے جائیں گے (27) پس جب پورے طور پر بیٹھ جائے تو اور وہ جو تیرے ساتھ ہیں ، کشتی پر تو کہہ: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نجات دی ہمیں ظالم قوم سے (28) اور کہہ تو، اے میرے رب! تو اتار مجھے اتارنا بابرکت اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے (29) بلاشبہ اس (واقعے) میں البتہ نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ہیں البتہ آزمانے والے (30) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح u کا ذکر کرتا ہے حضرت نوحu زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، چنانچہ انھوں نے فرمایا:﴿يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں ۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔ [24] حضرت نوح u نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ﴿ فَقَالَ الۡمَلَؤُا ﴾ پس نوحu کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کی اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی یہ محض تمھارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشوا بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنا پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمھاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا:﴿ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا١ؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ۰۰قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم: 14؍10، 11) ’’تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا: ہم تمھارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔‘‘ پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انھوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا:﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کر دیتا۔‘‘ یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضۂ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کر سکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہو جائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا ﴿ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿ فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔‘‘ اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطۂ علم میں نہیں ، اس لیے وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں ۔اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباء و اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں ۔ [25] کفار نے کہا: ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ ﴾ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں ۔ پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں ، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ [26] جب نوح u نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ حضرت نوحu نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا﴾(نوح:71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾(الصافات:37؍75) ’’نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں ۔‘‘ [27]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾ ہم نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’یہ کہ کشتی تیار کر‘‘ ﴿ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آجائے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ﴾یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔﴿ فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔‘‘ جیسے جناب نوح u کا بیٹا۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔ [28]﴿ فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡفُلۡكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ نَجّٰؔىنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحu اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں ۔ [29]﴿ وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِيۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا سن لی اور فرمایا:﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(ھود:11؍44) ’’اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ ﴾(ھود:11؍48) ’’کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ۔‘‘ [30]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ بلاشبہ اس قصہ میں ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’نشانیاں ہیں ۔‘‘ جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح u سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انھیں ان کے باپ حضرت نوحu کی صلب میں ، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ﴾(القمر:54؍15) ’’ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘ اسی لیے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں ۔‘‘
23:25

إِنۡ هُوَ إِلَّا رَجُلُۢ بِهِۦ جِنَّةٞ فَتَرَبَّصُواْ بِهِۦ حَتَّىٰ حِينٖ

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (23) پس کہا(ان) سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں ہے یہ مگر بشر تم جیسا ہی، وہ چاہتا ہے یہ کہ برتری حاصل کرے تم پر اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ نازل کرتا فرشتے، نہیں سنی ہم نے یہ (توحید کی بات) اپنے پہلے باپ دادا میں (24) نہیں ہے یہ مگر ایک آدمی ہی، اسے جنون ہے، پس انتظار کرو تم اس کا ایک وقت تک (25) نوح نے کہا، اے میرے رب! تو میری مدد کر بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (26)پس وحی کی ہم نے اس کی طرف یہ کہ بنا تو کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے (مطابق) پس جب آجائے ہمارا حکم اور ابل پڑے تنور تو داخل (سوار) کر اس میں ہر قسم سے جوڑا دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم (اللہ کا) ان میں سے اورنہ بات کرنا مجھ سے ان لوگوں (کے بارے) میں جنھوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ (سب) ڈبوئے جائیں گے (27) پس جب پورے طور پر بیٹھ جائے تو اور وہ جو تیرے ساتھ ہیں ، کشتی پر تو کہہ: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نجات دی ہمیں ظالم قوم سے (28) اور کہہ تو، اے میرے رب! تو اتار مجھے اتارنا بابرکت اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے (29) بلاشبہ اس (واقعے) میں البتہ نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ہیں البتہ آزمانے والے (30) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح u کا ذکر کرتا ہے حضرت نوحu زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، چنانچہ انھوں نے فرمایا:﴿يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں ۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔ [24] حضرت نوح u نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ﴿ فَقَالَ الۡمَلَؤُا ﴾ پس نوحu کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کی اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی یہ محض تمھارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشوا بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنا پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمھاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا:﴿ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا١ؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ۰۰قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم: 14؍10، 11) ’’تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا: ہم تمھارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔‘‘ پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انھوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا:﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کر دیتا۔‘‘ یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضۂ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کر سکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہو جائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا ﴿ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿ فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔‘‘ اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطۂ علم میں نہیں ، اس لیے وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں ۔اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباء و اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں ۔ [25] کفار نے کہا: ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ ﴾ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں ۔ پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں ، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ [26] جب نوح u نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ حضرت نوحu نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا﴾(نوح:71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾(الصافات:37؍75) ’’نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں ۔‘‘ [27]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾ ہم نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’یہ کہ کشتی تیار کر‘‘ ﴿ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آجائے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ﴾یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔﴿ فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔‘‘ جیسے جناب نوح u کا بیٹا۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔ [28]﴿ فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡفُلۡكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ نَجّٰؔىنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحu اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں ۔ [29]﴿ وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِيۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا سن لی اور فرمایا:﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(ھود:11؍44) ’’اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ ﴾(ھود:11؍48) ’’کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ۔‘‘ [30]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ بلاشبہ اس قصہ میں ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’نشانیاں ہیں ۔‘‘ جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح u سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انھیں ان کے باپ حضرت نوحu کی صلب میں ، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ﴾(القمر:54؍15) ’’ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘ اسی لیے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں ۔‘‘
23:26

قَالَ رَبِّ ٱنصُرۡنِي بِمَا كَذَّبُونِ

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (23) پس کہا(ان) سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں ہے یہ مگر بشر تم جیسا ہی، وہ چاہتا ہے یہ کہ برتری حاصل کرے تم پر اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ نازل کرتا فرشتے، نہیں سنی ہم نے یہ (توحید کی بات) اپنے پہلے باپ دادا میں (24) نہیں ہے یہ مگر ایک آدمی ہی، اسے جنون ہے، پس انتظار کرو تم اس کا ایک وقت تک (25) نوح نے کہا، اے میرے رب! تو میری مدد کر بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (26)پس وحی کی ہم نے اس کی طرف یہ کہ بنا تو کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے (مطابق) پس جب آجائے ہمارا حکم اور ابل پڑے تنور تو داخل (سوار) کر اس میں ہر قسم سے جوڑا دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم (اللہ کا) ان میں سے اورنہ بات کرنا مجھ سے ان لوگوں (کے بارے) میں جنھوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ (سب) ڈبوئے جائیں گے (27) پس جب پورے طور پر بیٹھ جائے تو اور وہ جو تیرے ساتھ ہیں ، کشتی پر تو کہہ: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نجات دی ہمیں ظالم قوم سے (28) اور کہہ تو، اے میرے رب! تو اتار مجھے اتارنا بابرکت اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے (29) بلاشبہ اس (واقعے) میں البتہ نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ہیں البتہ آزمانے والے (30) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح u کا ذکر کرتا ہے حضرت نوحu زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، چنانچہ انھوں نے فرمایا:﴿يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں ۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔ [24] حضرت نوح u نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ﴿ فَقَالَ الۡمَلَؤُا ﴾ پس نوحu کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کی اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی یہ محض تمھارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشوا بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنا پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمھاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا:﴿ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا١ؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ۰۰قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم: 14؍10، 11) ’’تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا: ہم تمھارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔‘‘ پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انھوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا:﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کر دیتا۔‘‘ یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضۂ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کر سکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہو جائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا ﴿ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿ فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔‘‘ اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطۂ علم میں نہیں ، اس لیے وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں ۔اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباء و اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں ۔ [25] کفار نے کہا: ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ ﴾ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں ۔ پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں ، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ [26] جب نوح u نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ حضرت نوحu نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا﴾(نوح:71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾(الصافات:37؍75) ’’نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں ۔‘‘ [27]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾ ہم نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’یہ کہ کشتی تیار کر‘‘ ﴿ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آجائے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ﴾یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔﴿ فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔‘‘ جیسے جناب نوح u کا بیٹا۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔ [28]﴿ فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡفُلۡكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ نَجّٰؔىنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحu اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں ۔ [29]﴿ وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِيۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا سن لی اور فرمایا:﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(ھود:11؍44) ’’اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ ﴾(ھود:11؍48) ’’کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ۔‘‘ [30]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ بلاشبہ اس قصہ میں ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’نشانیاں ہیں ۔‘‘ جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح u سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انھیں ان کے باپ حضرت نوحu کی صلب میں ، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ﴾(القمر:54؍15) ’’ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘ اسی لیے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں ۔‘‘
23:27

فَأَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡهِ أَنِ ٱصۡنَعِ ٱلۡفُلۡكَ بِأَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا فَإِذَا جَآءَ أَمۡرُنَا وَفَارَ ٱلتَّنُّورُ فَٱسۡلُكۡ فِيهَا مِن كُلّٖ زَوۡجَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِ وَأَهۡلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيۡهِ ٱلۡقَوۡلُ مِنۡهُمۡۖ وَلَا تُخَٰطِبۡنِي فِي ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ إِنَّهُم مُّغۡرَقُونَ

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (23) پس کہا(ان) سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں ہے یہ مگر بشر تم جیسا ہی، وہ چاہتا ہے یہ کہ برتری حاصل کرے تم پر اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ نازل کرتا فرشتے، نہیں سنی ہم نے یہ (توحید کی بات) اپنے پہلے باپ دادا میں (24) نہیں ہے یہ مگر ایک آدمی ہی، اسے جنون ہے، پس انتظار کرو تم اس کا ایک وقت تک (25) نوح نے کہا، اے میرے رب! تو میری مدد کر بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (26)پس وحی کی ہم نے اس کی طرف یہ کہ بنا تو کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے (مطابق) پس جب آجائے ہمارا حکم اور ابل پڑے تنور تو داخل (سوار) کر اس میں ہر قسم سے جوڑا دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم (اللہ کا) ان میں سے اورنہ بات کرنا مجھ سے ان لوگوں (کے بارے) میں جنھوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ (سب) ڈبوئے جائیں گے (27) پس جب پورے طور پر بیٹھ جائے تو اور وہ جو تیرے ساتھ ہیں ، کشتی پر تو کہہ: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نجات دی ہمیں ظالم قوم سے (28) اور کہہ تو، اے میرے رب! تو اتار مجھے اتارنا بابرکت اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے (29) بلاشبہ اس (واقعے) میں البتہ نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ہیں البتہ آزمانے والے (30) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح u کا ذکر کرتا ہے حضرت نوحu زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، چنانچہ انھوں نے فرمایا:﴿يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں ۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔ [24] حضرت نوح u نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ﴿ فَقَالَ الۡمَلَؤُا ﴾ پس نوحu کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کی اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی یہ محض تمھارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشوا بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنا پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمھاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا:﴿ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا١ؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ۰۰قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم: 14؍10، 11) ’’تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا: ہم تمھارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔‘‘ پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انھوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا:﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کر دیتا۔‘‘ یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضۂ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کر سکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہو جائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا ﴿ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿ فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔‘‘ اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطۂ علم میں نہیں ، اس لیے وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں ۔اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباء و اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں ۔ [25] کفار نے کہا: ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ ﴾ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں ۔ پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں ، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ [26] جب نوح u نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ حضرت نوحu نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا﴾(نوح:71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾(الصافات:37؍75) ’’نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں ۔‘‘ [27]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾ ہم نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’یہ کہ کشتی تیار کر‘‘ ﴿ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آجائے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ﴾یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔﴿ فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔‘‘ جیسے جناب نوح u کا بیٹا۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔ [28]﴿ فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡفُلۡكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ نَجّٰؔىنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحu اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں ۔ [29]﴿ وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِيۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا سن لی اور فرمایا:﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(ھود:11؍44) ’’اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ ﴾(ھود:11؍48) ’’کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ۔‘‘ [30]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ بلاشبہ اس قصہ میں ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’نشانیاں ہیں ۔‘‘ جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح u سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انھیں ان کے باپ حضرت نوحu کی صلب میں ، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ﴾(القمر:54؍15) ’’ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘ اسی لیے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں ۔‘‘
23:28

فَإِذَا ٱسۡتَوَيۡتَ أَنتَ وَمَن مَّعَكَ عَلَى ٱلۡفُلۡكِ فَقُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي نَجَّىٰنَا مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (23) پس کہا(ان) سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں ہے یہ مگر بشر تم جیسا ہی، وہ چاہتا ہے یہ کہ برتری حاصل کرے تم پر اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ نازل کرتا فرشتے، نہیں سنی ہم نے یہ (توحید کی بات) اپنے پہلے باپ دادا میں (24) نہیں ہے یہ مگر ایک آدمی ہی، اسے جنون ہے، پس انتظار کرو تم اس کا ایک وقت تک (25) نوح نے کہا، اے میرے رب! تو میری مدد کر بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (26)پس وحی کی ہم نے اس کی طرف یہ کہ بنا تو کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے (مطابق) پس جب آجائے ہمارا حکم اور ابل پڑے تنور تو داخل (سوار) کر اس میں ہر قسم سے جوڑا دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم (اللہ کا) ان میں سے اورنہ بات کرنا مجھ سے ان لوگوں (کے بارے) میں جنھوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ (سب) ڈبوئے جائیں گے (27) پس جب پورے طور پر بیٹھ جائے تو اور وہ جو تیرے ساتھ ہیں ، کشتی پر تو کہہ: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نجات دی ہمیں ظالم قوم سے (28) اور کہہ تو، اے میرے رب! تو اتار مجھے اتارنا بابرکت اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے (29) بلاشبہ اس (واقعے) میں البتہ نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ہیں البتہ آزمانے والے (30) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح u کا ذکر کرتا ہے حضرت نوحu زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، چنانچہ انھوں نے فرمایا:﴿يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں ۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔ [24] حضرت نوح u نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ﴿ فَقَالَ الۡمَلَؤُا ﴾ پس نوحu کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کی اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی یہ محض تمھارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشوا بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنا پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمھاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا:﴿ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا١ؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ۰۰قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم: 14؍10، 11) ’’تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا: ہم تمھارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔‘‘ پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انھوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا:﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کر دیتا۔‘‘ یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضۂ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کر سکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہو جائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا ﴿ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿ فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔‘‘ اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطۂ علم میں نہیں ، اس لیے وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں ۔اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباء و اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں ۔ [25] کفار نے کہا: ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ ﴾ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں ۔ پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں ، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ [26] جب نوح u نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ حضرت نوحu نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا﴾(نوح:71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾(الصافات:37؍75) ’’نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں ۔‘‘ [27]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾ ہم نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’یہ کہ کشتی تیار کر‘‘ ﴿ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آجائے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ﴾یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔﴿ فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔‘‘ جیسے جناب نوح u کا بیٹا۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔ [28]﴿ فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡفُلۡكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ نَجّٰؔىنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحu اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں ۔ [29]﴿ وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِيۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا سن لی اور فرمایا:﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(ھود:11؍44) ’’اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ ﴾(ھود:11؍48) ’’کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ۔‘‘ [30]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ بلاشبہ اس قصہ میں ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’نشانیاں ہیں ۔‘‘ جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح u سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انھیں ان کے باپ حضرت نوحu کی صلب میں ، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ﴾(القمر:54؍15) ’’ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘ اسی لیے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں ۔‘‘
23:29

وَقُل رَّبِّ أَنزِلۡنِي مُنزَلٗا مُّبَارَكٗا وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلۡمُنزِلِينَ

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (23) پس کہا(ان) سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں ہے یہ مگر بشر تم جیسا ہی، وہ چاہتا ہے یہ کہ برتری حاصل کرے تم پر اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ نازل کرتا فرشتے، نہیں سنی ہم نے یہ (توحید کی بات) اپنے پہلے باپ دادا میں (24) نہیں ہے یہ مگر ایک آدمی ہی، اسے جنون ہے، پس انتظار کرو تم اس کا ایک وقت تک (25) نوح نے کہا، اے میرے رب! تو میری مدد کر بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (26)پس وحی کی ہم نے اس کی طرف یہ کہ بنا تو کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے (مطابق) پس جب آجائے ہمارا حکم اور ابل پڑے تنور تو داخل (سوار) کر اس میں ہر قسم سے جوڑا دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم (اللہ کا) ان میں سے اورنہ بات کرنا مجھ سے ان لوگوں (کے بارے) میں جنھوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ (سب) ڈبوئے جائیں گے (27) پس جب پورے طور پر بیٹھ جائے تو اور وہ جو تیرے ساتھ ہیں ، کشتی پر تو کہہ: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نجات دی ہمیں ظالم قوم سے (28) اور کہہ تو، اے میرے رب! تو اتار مجھے اتارنا بابرکت اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے (29) بلاشبہ اس (واقعے) میں البتہ نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ہیں البتہ آزمانے والے (30) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح u کا ذکر کرتا ہے حضرت نوحu زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، چنانچہ انھوں نے فرمایا:﴿يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں ۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔ [24] حضرت نوح u نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ﴿ فَقَالَ الۡمَلَؤُا ﴾ پس نوحu کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کی اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی یہ محض تمھارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشوا بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنا پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمھاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا:﴿ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا١ؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ۰۰قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم: 14؍10، 11) ’’تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا: ہم تمھارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔‘‘ پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انھوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا:﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کر دیتا۔‘‘ یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضۂ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کر سکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہو جائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا ﴿ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿ فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔‘‘ اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطۂ علم میں نہیں ، اس لیے وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں ۔اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباء و اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں ۔ [25] کفار نے کہا: ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ ﴾ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں ۔ پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں ، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ [26] جب نوح u نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ حضرت نوحu نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا﴾(نوح:71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾(الصافات:37؍75) ’’نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں ۔‘‘ [27]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾ ہم نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’یہ کہ کشتی تیار کر‘‘ ﴿ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آجائے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ﴾یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔﴿ فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔‘‘ جیسے جناب نوح u کا بیٹا۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔ [28]﴿ فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡفُلۡكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ نَجّٰؔىنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحu اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں ۔ [29]﴿ وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِيۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا سن لی اور فرمایا:﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(ھود:11؍44) ’’اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ ﴾(ھود:11؍48) ’’کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ۔‘‘ [30]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ بلاشبہ اس قصہ میں ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’نشانیاں ہیں ۔‘‘ جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح u سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انھیں ان کے باپ حضرت نوحu کی صلب میں ، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ﴾(القمر:54؍15) ’’ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘ اسی لیے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں ۔‘‘
23:30

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ وَإِن كُنَّا لَمُبۡتَلِينَ

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے، کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (23) پس کہا(ان) سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں ہے یہ مگر بشر تم جیسا ہی، وہ چاہتا ہے یہ کہ برتری حاصل کرے تم پر اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ نازل کرتا فرشتے، نہیں سنی ہم نے یہ (توحید کی بات) اپنے پہلے باپ دادا میں (24) نہیں ہے یہ مگر ایک آدمی ہی، اسے جنون ہے، پس انتظار کرو تم اس کا ایک وقت تک (25) نوح نے کہا، اے میرے رب! تو میری مدد کر بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (26)پس وحی کی ہم نے اس کی طرف یہ کہ بنا تو کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے (مطابق) پس جب آجائے ہمارا حکم اور ابل پڑے تنور تو داخل (سوار) کر اس میں ہر قسم سے جوڑا دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم (اللہ کا) ان میں سے اورنہ بات کرنا مجھ سے ان لوگوں (کے بارے) میں جنھوں نے ظلم کیا، بلاشبہ وہ (سب) ڈبوئے جائیں گے (27) پس جب پورے طور پر بیٹھ جائے تو اور وہ جو تیرے ساتھ ہیں ، کشتی پر تو کہہ: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نجات دی ہمیں ظالم قوم سے (28) اور کہہ تو، اے میرے رب! تو اتار مجھے اتارنا بابرکت اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے (29) بلاشبہ اس (واقعے) میں البتہ نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم ہیں البتہ آزمانے والے (30) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول نوح u کا ذکر کرتا ہے حضرت نوحu زمین پر پہلے رسول تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ وہ بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ انھوں نے اپنی قوم کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ، چنانچہ انھوں نے فرمایا:﴿يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی اس کے لیے عبادت کو خالص کرو کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت قابل قبول نہیں ۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ اس میں غیر اللہ کی الوہیت کا ابطال اور صرف اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے وہی خالق اور رازق ہے اور غیر اللہ کے برعکس صرف وہی کامل کمال کا مالک ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ کیا تم استھانوں اور بتوں کی عبادت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ، جن کو قوم کے صالح لوگوں کی شکل پر گھڑ لیا گیا تھا، اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی بھی عبادت شروع کر دی تھی۔ [24] حضرت نوح u نے ان کو کھلے چھپے، شب و روز، ساڑھے نو سو برس تک دعوت دی مگر ان کی سرکشی اور روگردانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ ﴿ فَقَالَ الۡمَلَؤُا ﴾ پس نوحu کی قوم کے اشراف اور سرداروں نے معارضہ اور مخالفت کے طور پر اور ان کی اتباع سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی یہ محض تمھارے ہی جیسا آدمی ہے اور اس نے تم پر فضیلت حاصل کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تاکہ وہ سردار اور پیشوا بن سکے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنا پر اسے تم پر فضیلت حاصل ہو حالانکہ وہ تمھاری ہی جنس سے ہے؟ یہ معارضہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں میں ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر اس کا شافی جواب دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ کے اس ارشاد میں ہے کہ کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا:﴿ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا١ؕ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَصُدُّوۡنَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاۡتُوۡنَا بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ۰۰قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم: 14؍10، 11) ’’تم اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم جیسے ہی انسان ہو، تم ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لاؤ۔ رسولوں نے ان سے کہا: ہم تمھارے ہی جیسے بشر ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، نوازتا ہے۔‘‘ پس رسولوں نے ان کو آگاہ فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی عنایت ہے تم اللہ تعالیٰ پر پابندی لگا سکتے ہو نہ اس کے فضل کو ہم تک پہنچنے سے روک سکتے ہو۔ انھوں نے اپنے رسولوں سے یہ بھی کہا:﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنۡزَلَ مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے نازل کر دیتا۔‘‘ یہ بھی ان کا مشیت الٰہی کے ساتھ معارضۂ باطلہ ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو فرشتے نازل کر سکتا ہے مگر وہ نہایت مہربان اور بہت حکمت والا ہے۔ اس کی حکمت اور بے پایاں رحمت تقاضا کرتی ہے کہ رسول انسانوں ہی کی جنس میں سے ہو کیونکہ انسان فرشتوں سے مخاطب ہونے کی قدرت نہیں رکھتے، نیز اگر فرشتہ بھیجا جائے تو اس کا انسان ہی کی شکل میں آنا ممکن ہے۔ تب اشتباہ تو ان پر پھر بھی واقع ہو جائے گا جیسا کہ پہلے ہے۔ کفار کا قول تھا ﴿ مَّا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یعنی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿ فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کے زمانے میں۔‘‘ اور یہ کون سی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد میں کسی رسول کے مبعوث ہونے کے بارے میں نہیں سنا؟ کیونکہ گزرے واقعات ان کے احاطۂ علم میں نہیں ، اس لیے وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کو دلیل نہ بنائیں ۔اور فرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو گی کہ وہ سب ہدایت پر ہوں گے تب اس صورت میں ان میں رسول بھیجنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر وہ ہدایت پر نہ تھے تو انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ان کو ایسی نعمت سے خصوصی طور پر نوازا ہے جو ان کے آباء و اجداد کو عطا نہیں ہوئی اور نہ ان کو اس نعمت کا شعور تھا۔ دوسروں پر عدم احسان کو سبب بنا کر خود پر اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناشکری نہ کریں ۔ [25] کفار نے کہا: ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ یعنی یہ تو مجنون ہے ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا بِهٖ ﴾ یعنی اس کے بارے میں انتظار کرو ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے۔ یہ شبہات جو انھوں نے وارد كيے تھے درحقیقت یہ اپنے نبی سے ان کا معارضہ تھا جو ان کے کفر اور عناد کی شدت پر دلالت کرتا ہے نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انتہائی جہالت اور ضلالت میں مبتلا تھے۔ یہ شبہات کسی بھی لحاظ سے معارضے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں بلکہ یہ شبہات فی نفسہ متناقض اور متعارض ہیں ۔ پس ان کا یہ کہنا ﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ١ۙ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتَفَضَّلَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ان کا نبی عقل مند ہے جو ان کے خلاف چال چلتے ہوئے ان پر غلبہ حاصل کر کے ان پر سرداری کرے گا اور ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سے بچا جائے تاکہ اس سے دھوکہ نہ کھایا جا سکے۔ ان کا یہ مذکورہ قول ان کے اس دعوے کے ساتھ کیسے مناسبت رکھتا ہے ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ کیا یہ گمراہ شخص کا شبہ نہیں ، جو اسی کے خلاف جاتا ہے؟ اس شخص کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان کی دعوت کو روکا جائے اور اسے علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر کے رہتا ہے جو اس کے رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ [26] جب نوح u نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔‘‘ حضرت نوحu نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا﴾(نوح:71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَادٰىنَا نُوۡحٌ فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾(الصافات:37؍75) ’’نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں ۔‘‘ [27]﴿ فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾ ہم نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِ اصۡنَعِ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’یہ کہ کشتی تیار کر‘‘ ﴿ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں ۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُنَا ﴾ ’’پس جب ہمارا حکم آجائے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ ﴾یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔﴿ فَاسۡلُكۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔‘‘ جیسے جناب نوح u کا بیٹا۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔ [28]﴿ فَاِذَا اسۡتَوَيۡتَ اَنۡتَ وَمَنۡ مَّعَكَ عَلَى الۡفُلۡكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ نَجّٰؔىنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحu اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں ۔ [29]﴿ وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِيۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا سن لی اور فرمایا:﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(ھود:11؍44) ’’اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ ﴾(ھود:11؍48) ’’کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ۔‘‘ [30]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ بلاشبہ اس قصہ میں ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’نشانیاں ہیں ۔‘‘ جو دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے اور اس کے رسول نوح u سچے ہیں اور ان کی قوم جھوٹی ہے، نیز دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے انھیں ان کے باپ حضرت نوحu کی صلب میں ، کشتی پر سوار کر کے محفوظ کیا جبکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام لوگ ڈوب گئے اور کشتی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ﴾(القمر:54؍15) ’’ہم نے اس کشتی کو نشانی کے طور پر چھوڑ دیا۔ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘ اسی لیے اس کو یہاں جمع کیا ہے کیونکہ یہ متعدد آیات و مطالب پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَّاِنۡ كُنَّا لَمُبۡتَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم آزمائش کر کے ہی رہتے ہیں ۔‘‘
23:31

ثُمَّ أَنشَأۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا ءَاخَرِينَ

پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41) [31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ [32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔ [33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔ [34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘ [36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘ [37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘ [39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔ [41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
23:32

فَأَرۡسَلۡنَا فِيهِمۡ رَسُولٗا مِّنۡهُمۡ أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥٓۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ

پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41) [31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ [32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔ [33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔ [34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘ [36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘ [37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘ [39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔ [41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
23:33

وَقَالَ ٱلۡمَلَأُ مِن قَوۡمِهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِلِقَآءِ ٱلۡأٓخِرَةِ وَأَتۡرَفۡنَٰهُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا مَا هَٰذَآ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡ يَأۡكُلُ مِمَّا تَأۡكُلُونَ مِنۡهُ وَيَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُونَ

پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41) [31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ [32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔ [33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔ [34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘ [36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘ [37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘ [39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔ [41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
23:34

وَلَئِنۡ أَطَعۡتُم بَشَرٗا مِّثۡلَكُمۡ إِنَّكُمۡ إِذٗا لَّخَٰسِرُونَ

پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41) [31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ [32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔ [33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔ [34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘ [36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘ [37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘ [39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔ [41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
23:35

أَيَعِدُكُمۡ أَنَّكُمۡ إِذَا مِتُّمۡ وَكُنتُمۡ تُرَابٗا وَعِظَٰمًا أَنَّكُم مُّخۡرَجُونَ

پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41) [31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ [32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔ [33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔ [34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘ [36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘ [37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘ [39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔ [41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
23:36

۞هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ

پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41) [31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ [32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔ [33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔ [34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘ [36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘ [37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘ [39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔ [41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
23:37

إِنۡ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنۡيَا نَمُوتُ وَنَحۡيَا وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوثِينَ

پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41) [31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ [32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔ [33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔ [34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘ [36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘ [37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘ [39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔ [41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
23:38

إِنۡ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا وَمَا نَحۡنُ لَهُۥ بِمُؤۡمِنِينَ

پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41) [31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ [32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔ [33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔ [34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘ [36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘ [37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘ [39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔ [41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
23:39

قَالَ رَبِّ ٱنصُرۡنِي بِمَا كَذَّبُونِ

پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41) [31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ [32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔ [33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔ [34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘ [36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘ [37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘ [39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔ [41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
23:40

قَالَ عَمَّا قَلِيلٖ لَّيُصۡبِحُنَّ نَٰدِمِينَ

پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41) [31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ [32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔ [33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔ [34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘ [36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘ [37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘ [39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔ [41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
23:41

فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلصَّيۡحَةُ بِٱلۡحَقِّ فَجَعَلۡنَٰهُمۡ غُثَآءٗۚ فَبُعۡدٗا لِّلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ

پھر پیدا کی ہم نے ان کے بعد ایک امت دوسری (31) پس بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول انھی میں سے یہ کہ تم عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی (اور) معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (32)اور کہا (ان) وڈیروں نے اس کی قوم میں سے جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ملاقات کو آخرت کی اور خوشحالی دی تھی ہم نے انھیں زندگانیٔ دنیا میں، نہیں ہے یہ (رسول) مگر ایک بشر تم جیسا ہی، وہ کھاتا ہے اس (چیز) میں سے کہ کھاتے ہو تم اس میں سےاور وہ پیتا ہے اس میں سے (جس سے) پیتے ہو تم (33) اور البتہ اگر اطاعت کی تم نے ایک بشر اپنے جیسے کی تو بلاشبہ تم اس وقت البتہ خسارہ پانے والے ہو گے (34) کیا وہ وعدہ دیتا ہے تمھیں کہ بے شک تم جب مر جاؤ گے اور ہو جاؤ گے تم مٹی اور ہڈیاں تو بلاشبہ تم (زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے (35) دور ہے (عقل و خرد سے بہت) دور ہے جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(36) نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا ہی کی، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (37) نہیں ہے وہ (رسول) مگر ایسا آدمی کہ باندھا ہے اس نے اللہ پر جھوٹ اور نہیں ہم اس پر ایمان لانے والے(38) اس نے کہا، اے رب! تو میری مدد فرما بدلے اس کے کہ انھوں نے مجھے جھٹلایا ہے (39) اللہ نے کہا، تھوڑے سے عرصے میں البتہ وہ ہو جائیں گے پچھتانے والے (40) پس پکڑا ان کو چیخ نے ساتھ حق کے پس کر دیا ہم نے انھیں (سیلابی) خس و خاشاک پس لعنت ہے واسطے ظالم قوم کے (41) [31] نوح u اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔‘‘ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح u کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ [32]﴿فَاَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا‘‘ جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ﴾ ’’کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا:﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں ؟‘‘ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔ [33]﴿ وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ وَاَتۡرَفۡنٰهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ﴾ ’’نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ يَاۡكُلُ مِمَّا تَاۡكُلُوۡنَ مِنۡهُ وَ يَشۡرَبُ مِمَّا تَشۡرَبُوۡنَ﴾ ’’وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔‘‘ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔ [34]﴿ وَلَىِٕنۡ اَطَعۡتُمۡ بَشَرًا مِّؔثۡلَكُمۡ اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ﴾ یعنی اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی اتباع کی اور اس کو اپنا سردار بنا لیا تو تمھاری عقل ماری گئی اور تم اپنے اس فعل پر ندامت اٹھاؤ گے… یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کیونکہ حقیقی ندامت تو اس شخص کے لیے ہے جو رسول کی اتباع اور اطاعت نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کی سب سے بڑی جہالت اور سفاہت ہے جو تکبر کے باعث ایسے انسان کی اطاعت نہ کرے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی سے مختص کر کے اپنی رسالت کے ذریعے فضیلت بخشی اور شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو جائے۔ اس کی نظیر کفار کا یہ قول ہے ﴿ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِذًا لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۰۰ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ ﴾(القمر:54؍24۔25) ’’بھلا ہم ایک آدمی کی پیروی کریں جو ہم ہی میں سے ہے، تب تو ہم سخت گمراہی اور دیوانگی میں پڑ گئے۔ کیا ہم سب میں سے صرف اسی پر وحی نازل کی گئی، نہیں بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور متکبر ہے۔‘‘ [36,35] چونکہ انھوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کر دیا تھا، اس لیے انھوں نے بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کر دیا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ اَيَعِدُكُمۡ اَنَّـكُمۡ اِذَا مِتُّمۡ وَؔكُنۡتُمۡ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّـكُمۡ مُّخۡرَجُوۡنَ۪ۙ۰۰ هَيۡهَاتَ هَيۡهَاتَ لِمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی تمھارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد، تمھارے دوبارہ زندہ كيے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمھارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انھوں نے انتہائی کوتاہ بینی کا ثبوت دیا اور انھوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندتر ہے۔پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہو جانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے كہ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌۚ۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾(ق:50؍2، 3) ’’ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تو کافروں نے کہا: یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے (تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡهُمۡ١ۚ وَعِنۡدَنَا كِتٰبٌ حَفِيۡظٌ ﴾(ق:50؍4) ’’ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔‘‘ [37]﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا﴾ ’’بس یہ دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے اور جیتے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘ [39] پس جب ان کا کفر بہت بڑھ گیا اور انذار نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔تو ان کے نبی نے ان کے لیے بددعا کی، اس نے کہا:﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ ﴾ ’’اے میرے رب! میری مدد فرما بسبب اس کے جو انھوں نے مجھے جھٹلایا۔‘‘ ان کو ہلاک کر کے اور آخرت سے پہلے دنیا میں ان کو رسوا کر کے۔ [41,40]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿عَمَّا قَلِيۡلٍ لَّيُصۡبِحُنَّ نٰدِمِيۡنَۚ۰۰ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بہت ہی جلد یہ اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے، پس ان کو چیخ نے پکڑ لیا حق (عدل) کے ساتھ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ظلم وجور سے نہیں پکڑا بلکہ اس کی پکڑ ان کے ظلم اور اس کے عدل کی وجہ سے ہوئی، چنانچہ ایک زبردست چنگھاڑنے ان کو آ لیا ﴿فَجَعَلۡنٰهُمۡ غُثَآءً﴾ یعنی ہم نے ان کو خشک بھوسہ بنا کر رکھ دیا ایسے لگتا تھا جیسے کوڑے کرکٹ کو سیلاب نے وادی کے کناروں پر پھینک دیا ہو، ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوۡا كَهَشِيۡمِ الۡمُحۡتَظِرِ﴾(القمر:54؍31) ’’ہم نے ان پر عذاب کے لیے ایک زبردست چیخ بھیجی اور وہ ایسے ہو گئے جیسے ٹوٹی ہوئی باڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ فَبُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دوری ہے ظالم لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ، اس کی رحمت سے محرومی، اس کی لعنت اور جہانوں کی مذمت بھی ان کے حصے میں آئی۔ ﴿ فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ﴾(الدخان:44؍29) ’’پس ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔‘‘
23:42

ثُمَّ أَنشَأۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِمۡ قُرُونًا ءَاخَرِينَ

پھر پیدا کیں ہم نے ان کے بعد امتیں دوسری (42)نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے وقت مقرر سےاور نہ وہ لوگ پیچھے ہی رہ سکتے ہیں (43) پھر بھیجے ہم نے رسول اپنے پے درپے جب بھی آیا کسی امت کے پاس اس کا رسول تو انھوں نے جھٹلایا اسے، پس پیچھے لگایا ہم نے ان کے بعض کو بعض کے اور بنا دیا ہم نے انھیں قصے کہانیاں پس (رحمت سے) دوری ہے ان لوگوں کے لیے جو نہیں ایمان لاتے (44) [43,42] یعنی ان جھٹلانے والے معاندین حق کے بعد ہم نے دوسری قومیں پیدا کیں ، ہر قوم وقت مقرر اور مدت معین کے لیے برپا کی گئی، اس سے ایک لمحہ کے لیے آگے پیچھے نہیں ہو سکتی، پھر ان میں پے در پے رسول بھیجے، شاید کہ وہ ایمان لے آئیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں ۔ مگر کفر اور تکذیب نافرمان، کافر اور باغی قوموں کا وتیرہ بنا رہا۔ کسی قوم کے پاس جب بھی ان کا رسول آتا، وہ اس کو جھٹلاتے رہے، حالانکہ وہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں لے کر آتا جو انسان کے بس سے باہر تھیں بلکہ ان رسولوں کی مجرد دعوت اور شریعت ہی اس چیز کی حقانیت پر دلالت کرتی تھی جو وہ لے کر آتے رہے۔ [44]﴿فَاَتۡبَعۡنَا بَعۡضَهُمۡ بَعۡضًا﴾ ’’پس پیچھے لگایا ہم نے بعض کو بعض کے۔‘‘ ہلاک کرنے میں ، یعنی یکے بعد دیگرے سب کو ہلاک کر دیا۔ پس ان میں سے کوئی قوم باقی نہ رہی اور ان کے بعد ان کے گھر اجڑ گئے ﴿ وَّجَعَلۡنٰهُمۡ اَحَادِيۡثَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا‘‘ جن کو بیان کیا جاتا، جو اہل تقویٰ کے لیے عبرت، مکذبین کے لیے عقوبت اور خود ان کے لیے عذاب اور رسوائی ہے۔ ﴿ فَبُعۡدًا لِّقَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’پس دوری ہے اس قوم کے لیے جو ایمان نہیں لاتی۔‘‘ کتنے بدبخت ہیں وہ اور ان کی تجارت کس قدر خسارے کی تجارت ہے۔ بہت عرصے کی بات ہے، کسی اہل علم کا قول میری نظر سے گزرا ہے، جن کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں … کہ موسیٰ u کی بعثت اور تورات کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوموں پر سے عذاب کو اٹھا لیا، یعنی وہ عذاب جو ان کا جڑ سے خاتمہ کر دیتا تھا اور اس کی جگہ اللہ تعالیٰ نے مکذبین و معاندین حق کے خلاف جہاد مشروع کیا۔ معلوم نہیں انھوں نے یہ رائے کہاں سے اخذ کی ہے لیکن جب میں نے ان آیات کو سورۃ القصص کی آیات کے ساتھ ملا کر غور کیا تو میرے سامنے اس کا سبب واضح ہو گیا کہ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے پے در پے ہلاک ہونے والی قوموں کا ذکر فرمایا پھر آگاہ فرمایا کہ اس نے ان قوموں کے بعد حضرت موسیٰu کو رسول بنا کر بھیجا ان پر تورات نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے راہنمائی تھی اور فرعون کی ہلاکت سے اس نقطہ نظر کی تردید نہیں ہوتی کیونکہ فرعون نزول تورات سے پہلے ہلاک ہو گیا تھا۔ رہی سورۃ القصص کی آیات تو وہ نہایت واضح ہیں کیونکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾(القصص:28؍43) ’’پچھلی قوموں کو ہلاک کر دینے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب سے نوازا، لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ شاید وہ نصیحت پکڑیں ۔‘‘ اس آیت کریمہ میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان باغی اور سرکش قوموں کی ہلاکت کے بعد موسیٰu کو تورات عطا فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ کتاب لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت کے طور پر نازل کی گئی ہے۔ شاید وہ آیات بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے سورۂ یونس میں ذکر فرمایا ہے:﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ فَجَآءُوۡهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡا بِمَا كَذَّبُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِ الۡمُعۡتَدِيۡنَ۰۰ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ مُّوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ…﴾(یونس: 10؍74، 75) ’’پھر نوح کے بعد ہم نے دیگر رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے مگر جس کو انھوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا وہ اب بھی اس پر ایمان نہ لائے ہم اسی طرح حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں ، پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو مبعوث کیا … ‘‘ واللہ اعلم۔
23:43

مَا تَسۡبِقُ مِنۡ أُمَّةٍ أَجَلَهَا وَمَا يَسۡتَـٔۡخِرُونَ

پھر پیدا کیں ہم نے ان کے بعد امتیں دوسری (42)نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے وقت مقرر سےاور نہ وہ لوگ پیچھے ہی رہ سکتے ہیں (43) پھر بھیجے ہم نے رسول اپنے پے درپے جب بھی آیا کسی امت کے پاس اس کا رسول تو انھوں نے جھٹلایا اسے، پس پیچھے لگایا ہم نے ان کے بعض کو بعض کے اور بنا دیا ہم نے انھیں قصے کہانیاں پس (رحمت سے) دوری ہے ان لوگوں کے لیے جو نہیں ایمان لاتے (44) [43,42] یعنی ان جھٹلانے والے معاندین حق کے بعد ہم نے دوسری قومیں پیدا کیں ، ہر قوم وقت مقرر اور مدت معین کے لیے برپا کی گئی، اس سے ایک لمحہ کے لیے آگے پیچھے نہیں ہو سکتی، پھر ان میں پے در پے رسول بھیجے، شاید کہ وہ ایمان لے آئیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں ۔ مگر کفر اور تکذیب نافرمان، کافر اور باغی قوموں کا وتیرہ بنا رہا۔ کسی قوم کے پاس جب بھی ان کا رسول آتا، وہ اس کو جھٹلاتے رہے، حالانکہ وہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں لے کر آتا جو انسان کے بس سے باہر تھیں بلکہ ان رسولوں کی مجرد دعوت اور شریعت ہی اس چیز کی حقانیت پر دلالت کرتی تھی جو وہ لے کر آتے رہے۔ [44]﴿فَاَتۡبَعۡنَا بَعۡضَهُمۡ بَعۡضًا﴾ ’’پس پیچھے لگایا ہم نے بعض کو بعض کے۔‘‘ ہلاک کرنے میں ، یعنی یکے بعد دیگرے سب کو ہلاک کر دیا۔ پس ان میں سے کوئی قوم باقی نہ رہی اور ان کے بعد ان کے گھر اجڑ گئے ﴿ وَّجَعَلۡنٰهُمۡ اَحَادِيۡثَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا‘‘ جن کو بیان کیا جاتا، جو اہل تقویٰ کے لیے عبرت، مکذبین کے لیے عقوبت اور خود ان کے لیے عذاب اور رسوائی ہے۔ ﴿ فَبُعۡدًا لِّقَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’پس دوری ہے اس قوم کے لیے جو ایمان نہیں لاتی۔‘‘ کتنے بدبخت ہیں وہ اور ان کی تجارت کس قدر خسارے کی تجارت ہے۔ بہت عرصے کی بات ہے، کسی اہل علم کا قول میری نظر سے گزرا ہے، جن کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں … کہ موسیٰ u کی بعثت اور تورات کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوموں پر سے عذاب کو اٹھا لیا، یعنی وہ عذاب جو ان کا جڑ سے خاتمہ کر دیتا تھا اور اس کی جگہ اللہ تعالیٰ نے مکذبین و معاندین حق کے خلاف جہاد مشروع کیا۔ معلوم نہیں انھوں نے یہ رائے کہاں سے اخذ کی ہے لیکن جب میں نے ان آیات کو سورۃ القصص کی آیات کے ساتھ ملا کر غور کیا تو میرے سامنے اس کا سبب واضح ہو گیا کہ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے پے در پے ہلاک ہونے والی قوموں کا ذکر فرمایا پھر آگاہ فرمایا کہ اس نے ان قوموں کے بعد حضرت موسیٰu کو رسول بنا کر بھیجا ان پر تورات نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے راہنمائی تھی اور فرعون کی ہلاکت سے اس نقطہ نظر کی تردید نہیں ہوتی کیونکہ فرعون نزول تورات سے پہلے ہلاک ہو گیا تھا۔ رہی سورۃ القصص کی آیات تو وہ نہایت واضح ہیں کیونکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾(القصص:28؍43) ’’پچھلی قوموں کو ہلاک کر دینے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب سے نوازا، لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ شاید وہ نصیحت پکڑیں ۔‘‘ اس آیت کریمہ میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان باغی اور سرکش قوموں کی ہلاکت کے بعد موسیٰu کو تورات عطا فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ کتاب لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت کے طور پر نازل کی گئی ہے۔ شاید وہ آیات بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے سورۂ یونس میں ذکر فرمایا ہے:﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ فَجَآءُوۡهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡا بِمَا كَذَّبُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِ الۡمُعۡتَدِيۡنَ۰۰ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ مُّوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ…﴾(یونس: 10؍74، 75) ’’پھر نوح کے بعد ہم نے دیگر رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے مگر جس کو انھوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا وہ اب بھی اس پر ایمان نہ لائے ہم اسی طرح حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں ، پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو مبعوث کیا … ‘‘ واللہ اعلم۔
23:44

ثُمَّ أَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا تَتۡرَاۖ كُلَّ مَا جَآءَ أُمَّةٗ رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُۖ فَأَتۡبَعۡنَا بَعۡضَهُم بَعۡضٗا وَجَعَلۡنَٰهُمۡ أَحَادِيثَۚ فَبُعۡدٗا لِّقَوۡمٖ لَّا يُؤۡمِنُونَ

پھر پیدا کیں ہم نے ان کے بعد امتیں دوسری (42)نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے وقت مقرر سےاور نہ وہ لوگ پیچھے ہی رہ سکتے ہیں (43) پھر بھیجے ہم نے رسول اپنے پے درپے جب بھی آیا کسی امت کے پاس اس کا رسول تو انھوں نے جھٹلایا اسے، پس پیچھے لگایا ہم نے ان کے بعض کو بعض کے اور بنا دیا ہم نے انھیں قصے کہانیاں پس (رحمت سے) دوری ہے ان لوگوں کے لیے جو نہیں ایمان لاتے (44) [43,42] یعنی ان جھٹلانے والے معاندین حق کے بعد ہم نے دوسری قومیں پیدا کیں ، ہر قوم وقت مقرر اور مدت معین کے لیے برپا کی گئی، اس سے ایک لمحہ کے لیے آگے پیچھے نہیں ہو سکتی، پھر ان میں پے در پے رسول بھیجے، شاید کہ وہ ایمان لے آئیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں ۔ مگر کفر اور تکذیب نافرمان، کافر اور باغی قوموں کا وتیرہ بنا رہا۔ کسی قوم کے پاس جب بھی ان کا رسول آتا، وہ اس کو جھٹلاتے رہے، حالانکہ وہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں لے کر آتا جو انسان کے بس سے باہر تھیں بلکہ ان رسولوں کی مجرد دعوت اور شریعت ہی اس چیز کی حقانیت پر دلالت کرتی تھی جو وہ لے کر آتے رہے۔ [44]﴿فَاَتۡبَعۡنَا بَعۡضَهُمۡ بَعۡضًا﴾ ’’پس پیچھے لگایا ہم نے بعض کو بعض کے۔‘‘ ہلاک کرنے میں ، یعنی یکے بعد دیگرے سب کو ہلاک کر دیا۔ پس ان میں سے کوئی قوم باقی نہ رہی اور ان کے بعد ان کے گھر اجڑ گئے ﴿ وَّجَعَلۡنٰهُمۡ اَحَادِيۡثَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا‘‘ جن کو بیان کیا جاتا، جو اہل تقویٰ کے لیے عبرت، مکذبین کے لیے عقوبت اور خود ان کے لیے عذاب اور رسوائی ہے۔ ﴿ فَبُعۡدًا لِّقَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’پس دوری ہے اس قوم کے لیے جو ایمان نہیں لاتی۔‘‘ کتنے بدبخت ہیں وہ اور ان کی تجارت کس قدر خسارے کی تجارت ہے۔ بہت عرصے کی بات ہے، کسی اہل علم کا قول میری نظر سے گزرا ہے، جن کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں … کہ موسیٰ u کی بعثت اور تورات کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوموں پر سے عذاب کو اٹھا لیا، یعنی وہ عذاب جو ان کا جڑ سے خاتمہ کر دیتا تھا اور اس کی جگہ اللہ تعالیٰ نے مکذبین و معاندین حق کے خلاف جہاد مشروع کیا۔ معلوم نہیں انھوں نے یہ رائے کہاں سے اخذ کی ہے لیکن جب میں نے ان آیات کو سورۃ القصص کی آیات کے ساتھ ملا کر غور کیا تو میرے سامنے اس کا سبب واضح ہو گیا کہ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے پے در پے ہلاک ہونے والی قوموں کا ذکر فرمایا پھر آگاہ فرمایا کہ اس نے ان قوموں کے بعد حضرت موسیٰu کو رسول بنا کر بھیجا ان پر تورات نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے راہنمائی تھی اور فرعون کی ہلاکت سے اس نقطہ نظر کی تردید نہیں ہوتی کیونکہ فرعون نزول تورات سے پہلے ہلاک ہو گیا تھا۔ رہی سورۃ القصص کی آیات تو وہ نہایت واضح ہیں کیونکہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾(القصص:28؍43) ’’پچھلی قوموں کو ہلاک کر دینے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب سے نوازا، لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ شاید وہ نصیحت پکڑیں ۔‘‘ اس آیت کریمہ میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان باغی اور سرکش قوموں کی ہلاکت کے بعد موسیٰu کو تورات عطا فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ کتاب لوگوں کے لیے بصیرت، ہدایت اور رحمت کے طور پر نازل کی گئی ہے۔ شاید وہ آیات بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے سورۂ یونس میں ذکر فرمایا ہے:﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ فَجَآءُوۡهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡا بِمَا كَذَّبُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِ الۡمُعۡتَدِيۡنَ۰۰ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ مُّوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ…﴾(یونس: 10؍74، 75) ’’پھر نوح کے بعد ہم نے دیگر رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے مگر جس کو انھوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا وہ اب بھی اس پر ایمان نہ لائے ہم اسی طرح حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں ، پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو مبعوث کیا … ‘‘ واللہ اعلم۔
23:45

ثُمَّ أَرۡسَلۡنَا مُوسَىٰ وَأَخَاهُ هَٰرُونَ بِـَٔايَٰتِنَا وَسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٍ

پھر بھیجا ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو ساتھ اپنی نشانیوں اور دلیل واضح کے (45) طرف فرعون اور اس کے درباریوں کی، پس انھوں نے تکبر کیااور تھے وہ لوگ سرکش (46) پس انھوں نے کہا، کیا ہم ایمان لائیں ایسے دو آدمیوں پر جو ہم جیسے ہیں ؟ جبکہ ان دونوں کی قوم ہماری غلام ہے (47) سو انھوں نے جھٹلایا ان دونوں کو پس ہو گئے وہ ہلاک شدہ لوگوں میں سے (48) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پا جائیں (49) [45]﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى﴾ ’’پھر ہم نے موسیٰ (بن عمران، کلیم اللہ) کو بھیجا‘‘ ﴿ وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’اور (ان کے ساتھ) ان کے بھائی ہارون کو‘‘ جب حضرت موسیٰ u نے دعا کی کہ حضرت ہارون کو نبوت کے معاملے میں ان کے ساتھ شریک کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی تھیں ۔ ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور واضح برہان کے ساتھ۔‘‘ ان دلائل میں ایسی قوت تھی کہ وہ دلوں پر غالب آجاتے اور اپنی قوت کی بنا پر دلوں میں گھر کر لیتے اور اہل ایمان کے دل ان کو مان لیتے اور معاندین حق کے خلاف حجت قائم ہو جاتی۔اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى تِسۡعَ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نو کھلی کھلی نشانیاں عطا کیں ۔‘‘ اس لیے معاندین حق کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ ﴾ ’’آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے! جب موسیٰ یہ نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے‘‘ ﴿فَقَالَ﴾ تو فرعون نے حضرت موسیٰu سے کہا ﴿ اِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰؔى مَسۡحُوۡرًا ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اے موسیٰ! میں تو تجھے سحر زدہ خیال کرتا ہوں ۔‘‘ ﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ١ۚ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًؔا ﴾(بنی اسرآء یل: 17؍102) ’’موسیٰ نے کہا: تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں اللہ کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔ اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر ان نشانیوں کو جھٹلایا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو مان لیا تھا۔‘‘ [46] یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ ﴾ ’’پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح برہان کے ساتھ، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ مثلاً: ہامان اور دیگر سرداران قوم۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ پس تکبر کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اس کے انبیاء کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ ﴿وَكَانُوۡا قَوۡمًا عَالِيۡنَ﴾ ’’اور تھے وہ سرکش لوگ۔‘‘ یعنی ان کا وصف غلبہ، قہر اور فساد فی الارض تھا اس لیے ان سے تکبر صادر ہوا اور اسے وہ کوئی بری بات نہیں سمجھتے تھے۔ [47]﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تکبر اور غرور سے ضعیف العقل لوگوں کو ڈراتے اور فریب کاری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَيۡنِ مِثۡلِنَا ﴾ ’’کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں ؟‘‘ جیسا کہ ان سے پہلے لوگ بھی ایسے ہی کہا کرتے تھے چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے اس لیے ان کے اقوال و افعال بھی ایک دوسرے کے مشابہ تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے ذریعے سے ان پر جو عنایت کی انھوں نے اسے جھٹلا دیا ﴿وَقَوۡمُهُمَا﴾ ’’اور ان دونوں کی قوم‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَنَا عٰؔبِدُوۡنَ﴾ ’’ہماری غلام ہے۔‘‘ یعنی وہ پر مشقت کام سرانجام دینے کے لیے ہمارے مطیع ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَؔكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَؔكُمۡ١ؕ وَ فِيۡ ذٰلِكُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾(البقرہ:2؍49) ’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمھیں آل فرعون سے نجات دی وہ تمھیں بہت عذاب دیتے تھے۔ تمھارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمھاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘ پس ہم ان کے متبوع (پیشوا) ہوتے ہوئے ان کے تابع کیسے بن سکتے ہیں ؟ اور یہ ہم پر سردار کیسے ہو سکتے ہیں ؟ ان کے قول کی نظیر نوح u کی قوم کا یہ قول ہے ﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍111) ’’کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی تو رذیل لوگوں نے کی ہے۔ ‘‘ ﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّاۡيِ ﴾(ھود:11؍27) ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف انھی لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہماری قوم میں رذیل اور چھچھورے تصور كيے جاتے ہیں ۔‘‘ [48] اور یہ بات واضح ہے کہ حق کو رد کرنے کے لیے یہ بات درست نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تکذیب اور عناد ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَكَانُوۡا مِنَ الۡمُهۡلَكِيۡنَ ﴾ ’’پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور وہ بھی ہلاک شدہ لوگوں میں ہو گئے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے آنکھوں دیکھتے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ [49]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے اسرائیلی قوم کو موسیٰ u کی معیت میں نجات بخشی تب موسیٰ uکو قوت اور طاقت حاصل ہوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم اور اس کے شعائر کوغالب کریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ آپ پر چالیس دن میں تورات نازل کرے گا۔ موسیٰ u اپنے رب کے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡعِظَةً وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾(الاعراف:7؍145) ’’اور ہم نے ہر چیز کے متعلق نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اس کے لیے تختیوں پر لکھ دی‘‘ بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ ہدایت پائیں ۔‘‘ یعنی امرونہی اورثواب و عقاب کی تفاصیل کی معرفت حاصل کرکے شاید راہ راست پر گامزن ہو جائیں اور اپنے رب کے اسماء و صفات کی بھی معرفت حاصل کریں ۔
23:46

إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِۦ فَٱسۡتَكۡبَرُواْ وَكَانُواْ قَوۡمًا عَالِينَ

پھر بھیجا ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو ساتھ اپنی نشانیوں اور دلیل واضح کے (45) طرف فرعون اور اس کے درباریوں کی، پس انھوں نے تکبر کیااور تھے وہ لوگ سرکش (46) پس انھوں نے کہا، کیا ہم ایمان لائیں ایسے دو آدمیوں پر جو ہم جیسے ہیں ؟ جبکہ ان دونوں کی قوم ہماری غلام ہے (47) سو انھوں نے جھٹلایا ان دونوں کو پس ہو گئے وہ ہلاک شدہ لوگوں میں سے (48) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پا جائیں (49) [45]﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى﴾ ’’پھر ہم نے موسیٰ (بن عمران، کلیم اللہ) کو بھیجا‘‘ ﴿ وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’اور (ان کے ساتھ) ان کے بھائی ہارون کو‘‘ جب حضرت موسیٰ u نے دعا کی کہ حضرت ہارون کو نبوت کے معاملے میں ان کے ساتھ شریک کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی تھیں ۔ ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور واضح برہان کے ساتھ۔‘‘ ان دلائل میں ایسی قوت تھی کہ وہ دلوں پر غالب آجاتے اور اپنی قوت کی بنا پر دلوں میں گھر کر لیتے اور اہل ایمان کے دل ان کو مان لیتے اور معاندین حق کے خلاف حجت قائم ہو جاتی۔اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى تِسۡعَ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نو کھلی کھلی نشانیاں عطا کیں ۔‘‘ اس لیے معاندین حق کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ ﴾ ’’آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے! جب موسیٰ یہ نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے‘‘ ﴿فَقَالَ﴾ تو فرعون نے حضرت موسیٰu سے کہا ﴿ اِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰؔى مَسۡحُوۡرًا ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اے موسیٰ! میں تو تجھے سحر زدہ خیال کرتا ہوں ۔‘‘ ﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ١ۚ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًؔا ﴾(بنی اسرآء یل: 17؍102) ’’موسیٰ نے کہا: تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں اللہ کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔ اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر ان نشانیوں کو جھٹلایا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو مان لیا تھا۔‘‘ [46] یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ ﴾ ’’پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح برہان کے ساتھ، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ مثلاً: ہامان اور دیگر سرداران قوم۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ پس تکبر کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اس کے انبیاء کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ ﴿وَكَانُوۡا قَوۡمًا عَالِيۡنَ﴾ ’’اور تھے وہ سرکش لوگ۔‘‘ یعنی ان کا وصف غلبہ، قہر اور فساد فی الارض تھا اس لیے ان سے تکبر صادر ہوا اور اسے وہ کوئی بری بات نہیں سمجھتے تھے۔ [47]﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تکبر اور غرور سے ضعیف العقل لوگوں کو ڈراتے اور فریب کاری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَيۡنِ مِثۡلِنَا ﴾ ’’کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں ؟‘‘ جیسا کہ ان سے پہلے لوگ بھی ایسے ہی کہا کرتے تھے چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے اس لیے ان کے اقوال و افعال بھی ایک دوسرے کے مشابہ تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے ذریعے سے ان پر جو عنایت کی انھوں نے اسے جھٹلا دیا ﴿وَقَوۡمُهُمَا﴾ ’’اور ان دونوں کی قوم‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَنَا عٰؔبِدُوۡنَ﴾ ’’ہماری غلام ہے۔‘‘ یعنی وہ پر مشقت کام سرانجام دینے کے لیے ہمارے مطیع ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَؔكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَؔكُمۡ١ؕ وَ فِيۡ ذٰلِكُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾(البقرہ:2؍49) ’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمھیں آل فرعون سے نجات دی وہ تمھیں بہت عذاب دیتے تھے۔ تمھارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمھاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘ پس ہم ان کے متبوع (پیشوا) ہوتے ہوئے ان کے تابع کیسے بن سکتے ہیں ؟ اور یہ ہم پر سردار کیسے ہو سکتے ہیں ؟ ان کے قول کی نظیر نوح u کی قوم کا یہ قول ہے ﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍111) ’’کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی تو رذیل لوگوں نے کی ہے۔ ‘‘ ﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّاۡيِ ﴾(ھود:11؍27) ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف انھی لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہماری قوم میں رذیل اور چھچھورے تصور كيے جاتے ہیں ۔‘‘ [48] اور یہ بات واضح ہے کہ حق کو رد کرنے کے لیے یہ بات درست نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تکذیب اور عناد ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَكَانُوۡا مِنَ الۡمُهۡلَكِيۡنَ ﴾ ’’پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور وہ بھی ہلاک شدہ لوگوں میں ہو گئے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے آنکھوں دیکھتے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ [49]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے اسرائیلی قوم کو موسیٰ u کی معیت میں نجات بخشی تب موسیٰ uکو قوت اور طاقت حاصل ہوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم اور اس کے شعائر کوغالب کریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ آپ پر چالیس دن میں تورات نازل کرے گا۔ موسیٰ u اپنے رب کے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡعِظَةً وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾(الاعراف:7؍145) ’’اور ہم نے ہر چیز کے متعلق نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اس کے لیے تختیوں پر لکھ دی‘‘ بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ ہدایت پائیں ۔‘‘ یعنی امرونہی اورثواب و عقاب کی تفاصیل کی معرفت حاصل کرکے شاید راہ راست پر گامزن ہو جائیں اور اپنے رب کے اسماء و صفات کی بھی معرفت حاصل کریں ۔
23:47

فَقَالُوٓاْ أَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَيۡنِ مِثۡلِنَا وَقَوۡمُهُمَا لَنَا عَٰبِدُونَ

پھر بھیجا ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو ساتھ اپنی نشانیوں اور دلیل واضح کے (45) طرف فرعون اور اس کے درباریوں کی، پس انھوں نے تکبر کیااور تھے وہ لوگ سرکش (46) پس انھوں نے کہا، کیا ہم ایمان لائیں ایسے دو آدمیوں پر جو ہم جیسے ہیں ؟ جبکہ ان دونوں کی قوم ہماری غلام ہے (47) سو انھوں نے جھٹلایا ان دونوں کو پس ہو گئے وہ ہلاک شدہ لوگوں میں سے (48) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پا جائیں (49) [45]﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى﴾ ’’پھر ہم نے موسیٰ (بن عمران، کلیم اللہ) کو بھیجا‘‘ ﴿ وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’اور (ان کے ساتھ) ان کے بھائی ہارون کو‘‘ جب حضرت موسیٰ u نے دعا کی کہ حضرت ہارون کو نبوت کے معاملے میں ان کے ساتھ شریک کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی تھیں ۔ ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور واضح برہان کے ساتھ۔‘‘ ان دلائل میں ایسی قوت تھی کہ وہ دلوں پر غالب آجاتے اور اپنی قوت کی بنا پر دلوں میں گھر کر لیتے اور اہل ایمان کے دل ان کو مان لیتے اور معاندین حق کے خلاف حجت قائم ہو جاتی۔اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى تِسۡعَ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نو کھلی کھلی نشانیاں عطا کیں ۔‘‘ اس لیے معاندین حق کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ ﴾ ’’آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے! جب موسیٰ یہ نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے‘‘ ﴿فَقَالَ﴾ تو فرعون نے حضرت موسیٰu سے کہا ﴿ اِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰؔى مَسۡحُوۡرًا ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اے موسیٰ! میں تو تجھے سحر زدہ خیال کرتا ہوں ۔‘‘ ﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ١ۚ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًؔا ﴾(بنی اسرآء یل: 17؍102) ’’موسیٰ نے کہا: تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں اللہ کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔ اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر ان نشانیوں کو جھٹلایا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو مان لیا تھا۔‘‘ [46] یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ ﴾ ’’پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح برہان کے ساتھ، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ مثلاً: ہامان اور دیگر سرداران قوم۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ پس تکبر کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اس کے انبیاء کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ ﴿وَكَانُوۡا قَوۡمًا عَالِيۡنَ﴾ ’’اور تھے وہ سرکش لوگ۔‘‘ یعنی ان کا وصف غلبہ، قہر اور فساد فی الارض تھا اس لیے ان سے تکبر صادر ہوا اور اسے وہ کوئی بری بات نہیں سمجھتے تھے۔ [47]﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تکبر اور غرور سے ضعیف العقل لوگوں کو ڈراتے اور فریب کاری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَيۡنِ مِثۡلِنَا ﴾ ’’کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں ؟‘‘ جیسا کہ ان سے پہلے لوگ بھی ایسے ہی کہا کرتے تھے چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے اس لیے ان کے اقوال و افعال بھی ایک دوسرے کے مشابہ تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے ذریعے سے ان پر جو عنایت کی انھوں نے اسے جھٹلا دیا ﴿وَقَوۡمُهُمَا﴾ ’’اور ان دونوں کی قوم‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَنَا عٰؔبِدُوۡنَ﴾ ’’ہماری غلام ہے۔‘‘ یعنی وہ پر مشقت کام سرانجام دینے کے لیے ہمارے مطیع ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَؔكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَؔكُمۡ١ؕ وَ فِيۡ ذٰلِكُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾(البقرہ:2؍49) ’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمھیں آل فرعون سے نجات دی وہ تمھیں بہت عذاب دیتے تھے۔ تمھارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمھاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘ پس ہم ان کے متبوع (پیشوا) ہوتے ہوئے ان کے تابع کیسے بن سکتے ہیں ؟ اور یہ ہم پر سردار کیسے ہو سکتے ہیں ؟ ان کے قول کی نظیر نوح u کی قوم کا یہ قول ہے ﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍111) ’’کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی تو رذیل لوگوں نے کی ہے۔ ‘‘ ﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّاۡيِ ﴾(ھود:11؍27) ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف انھی لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہماری قوم میں رذیل اور چھچھورے تصور كيے جاتے ہیں ۔‘‘ [48] اور یہ بات واضح ہے کہ حق کو رد کرنے کے لیے یہ بات درست نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تکذیب اور عناد ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَكَانُوۡا مِنَ الۡمُهۡلَكِيۡنَ ﴾ ’’پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور وہ بھی ہلاک شدہ لوگوں میں ہو گئے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے آنکھوں دیکھتے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ [49]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے اسرائیلی قوم کو موسیٰ u کی معیت میں نجات بخشی تب موسیٰ uکو قوت اور طاقت حاصل ہوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم اور اس کے شعائر کوغالب کریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ آپ پر چالیس دن میں تورات نازل کرے گا۔ موسیٰ u اپنے رب کے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡعِظَةً وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾(الاعراف:7؍145) ’’اور ہم نے ہر چیز کے متعلق نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اس کے لیے تختیوں پر لکھ دی‘‘ بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ ہدایت پائیں ۔‘‘ یعنی امرونہی اورثواب و عقاب کی تفاصیل کی معرفت حاصل کرکے شاید راہ راست پر گامزن ہو جائیں اور اپنے رب کے اسماء و صفات کی بھی معرفت حاصل کریں ۔
23:48

فَكَذَّبُوهُمَا فَكَانُواْ مِنَ ٱلۡمُهۡلَكِينَ

پھر بھیجا ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو ساتھ اپنی نشانیوں اور دلیل واضح کے (45) طرف فرعون اور اس کے درباریوں کی، پس انھوں نے تکبر کیااور تھے وہ لوگ سرکش (46) پس انھوں نے کہا، کیا ہم ایمان لائیں ایسے دو آدمیوں پر جو ہم جیسے ہیں ؟ جبکہ ان دونوں کی قوم ہماری غلام ہے (47) سو انھوں نے جھٹلایا ان دونوں کو پس ہو گئے وہ ہلاک شدہ لوگوں میں سے (48) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پا جائیں (49) [45]﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى﴾ ’’پھر ہم نے موسیٰ (بن عمران، کلیم اللہ) کو بھیجا‘‘ ﴿ وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’اور (ان کے ساتھ) ان کے بھائی ہارون کو‘‘ جب حضرت موسیٰ u نے دعا کی کہ حضرت ہارون کو نبوت کے معاملے میں ان کے ساتھ شریک کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی تھیں ۔ ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور واضح برہان کے ساتھ۔‘‘ ان دلائل میں ایسی قوت تھی کہ وہ دلوں پر غالب آجاتے اور اپنی قوت کی بنا پر دلوں میں گھر کر لیتے اور اہل ایمان کے دل ان کو مان لیتے اور معاندین حق کے خلاف حجت قائم ہو جاتی۔اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى تِسۡعَ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نو کھلی کھلی نشانیاں عطا کیں ۔‘‘ اس لیے معاندین حق کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ ﴾ ’’آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے! جب موسیٰ یہ نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے‘‘ ﴿فَقَالَ﴾ تو فرعون نے حضرت موسیٰu سے کہا ﴿ اِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰؔى مَسۡحُوۡرًا ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اے موسیٰ! میں تو تجھے سحر زدہ خیال کرتا ہوں ۔‘‘ ﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ١ۚ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًؔا ﴾(بنی اسرآء یل: 17؍102) ’’موسیٰ نے کہا: تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں اللہ کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔ اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر ان نشانیوں کو جھٹلایا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو مان لیا تھا۔‘‘ [46] یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ ﴾ ’’پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح برہان کے ساتھ، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ مثلاً: ہامان اور دیگر سرداران قوم۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ پس تکبر کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اس کے انبیاء کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ ﴿وَكَانُوۡا قَوۡمًا عَالِيۡنَ﴾ ’’اور تھے وہ سرکش لوگ۔‘‘ یعنی ان کا وصف غلبہ، قہر اور فساد فی الارض تھا اس لیے ان سے تکبر صادر ہوا اور اسے وہ کوئی بری بات نہیں سمجھتے تھے۔ [47]﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تکبر اور غرور سے ضعیف العقل لوگوں کو ڈراتے اور فریب کاری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَيۡنِ مِثۡلِنَا ﴾ ’’کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں ؟‘‘ جیسا کہ ان سے پہلے لوگ بھی ایسے ہی کہا کرتے تھے چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے اس لیے ان کے اقوال و افعال بھی ایک دوسرے کے مشابہ تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے ذریعے سے ان پر جو عنایت کی انھوں نے اسے جھٹلا دیا ﴿وَقَوۡمُهُمَا﴾ ’’اور ان دونوں کی قوم‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَنَا عٰؔبِدُوۡنَ﴾ ’’ہماری غلام ہے۔‘‘ یعنی وہ پر مشقت کام سرانجام دینے کے لیے ہمارے مطیع ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَؔكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَؔكُمۡ١ؕ وَ فِيۡ ذٰلِكُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾(البقرہ:2؍49) ’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمھیں آل فرعون سے نجات دی وہ تمھیں بہت عذاب دیتے تھے۔ تمھارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمھاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘ پس ہم ان کے متبوع (پیشوا) ہوتے ہوئے ان کے تابع کیسے بن سکتے ہیں ؟ اور یہ ہم پر سردار کیسے ہو سکتے ہیں ؟ ان کے قول کی نظیر نوح u کی قوم کا یہ قول ہے ﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍111) ’’کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی تو رذیل لوگوں نے کی ہے۔ ‘‘ ﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّاۡيِ ﴾(ھود:11؍27) ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف انھی لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہماری قوم میں رذیل اور چھچھورے تصور كيے جاتے ہیں ۔‘‘ [48] اور یہ بات واضح ہے کہ حق کو رد کرنے کے لیے یہ بات درست نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تکذیب اور عناد ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَكَانُوۡا مِنَ الۡمُهۡلَكِيۡنَ ﴾ ’’پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور وہ بھی ہلاک شدہ لوگوں میں ہو گئے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے آنکھوں دیکھتے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ [49]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے اسرائیلی قوم کو موسیٰ u کی معیت میں نجات بخشی تب موسیٰ uکو قوت اور طاقت حاصل ہوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم اور اس کے شعائر کوغالب کریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ آپ پر چالیس دن میں تورات نازل کرے گا۔ موسیٰ u اپنے رب کے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡعِظَةً وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾(الاعراف:7؍145) ’’اور ہم نے ہر چیز کے متعلق نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اس کے لیے تختیوں پر لکھ دی‘‘ بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ ہدایت پائیں ۔‘‘ یعنی امرونہی اورثواب و عقاب کی تفاصیل کی معرفت حاصل کرکے شاید راہ راست پر گامزن ہو جائیں اور اپنے رب کے اسماء و صفات کی بھی معرفت حاصل کریں ۔
23:49

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُونَ

پھر بھیجا ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو ساتھ اپنی نشانیوں اور دلیل واضح کے (45) طرف فرعون اور اس کے درباریوں کی، پس انھوں نے تکبر کیااور تھے وہ لوگ سرکش (46) پس انھوں نے کہا، کیا ہم ایمان لائیں ایسے دو آدمیوں پر جو ہم جیسے ہیں ؟ جبکہ ان دونوں کی قوم ہماری غلام ہے (47) سو انھوں نے جھٹلایا ان دونوں کو پس ہو گئے وہ ہلاک شدہ لوگوں میں سے (48) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پا جائیں (49) [45]﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى﴾ ’’پھر ہم نے موسیٰ (بن عمران، کلیم اللہ) کو بھیجا‘‘ ﴿ وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’اور (ان کے ساتھ) ان کے بھائی ہارون کو‘‘ جب حضرت موسیٰ u نے دعا کی کہ حضرت ہارون کو نبوت کے معاملے میں ان کے ساتھ شریک کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی تھیں ۔ ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور واضح برہان کے ساتھ۔‘‘ ان دلائل میں ایسی قوت تھی کہ وہ دلوں پر غالب آجاتے اور اپنی قوت کی بنا پر دلوں میں گھر کر لیتے اور اہل ایمان کے دل ان کو مان لیتے اور معاندین حق کے خلاف حجت قائم ہو جاتی۔اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى تِسۡعَ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نو کھلی کھلی نشانیاں عطا کیں ۔‘‘ اس لیے معاندین حق کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ ﴾ ’’آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے! جب موسیٰ یہ نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے‘‘ ﴿فَقَالَ﴾ تو فرعون نے حضرت موسیٰu سے کہا ﴿ اِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰؔى مَسۡحُوۡرًا ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اے موسیٰ! میں تو تجھے سحر زدہ خیال کرتا ہوں ۔‘‘ ﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ١ۚ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًؔا ﴾(بنی اسرآء یل: 17؍102) ’’موسیٰ نے کہا: تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں اللہ کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔ اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر ان نشانیوں کو جھٹلایا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو مان لیا تھا۔‘‘ [46] یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ ﴾ ’’پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح برہان کے ساتھ، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ مثلاً: ہامان اور دیگر سرداران قوم۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ پس تکبر کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اس کے انبیاء کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ ﴿وَكَانُوۡا قَوۡمًا عَالِيۡنَ﴾ ’’اور تھے وہ سرکش لوگ۔‘‘ یعنی ان کا وصف غلبہ، قہر اور فساد فی الارض تھا اس لیے ان سے تکبر صادر ہوا اور اسے وہ کوئی بری بات نہیں سمجھتے تھے۔ [47]﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تکبر اور غرور سے ضعیف العقل لوگوں کو ڈراتے اور فریب کاری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَيۡنِ مِثۡلِنَا ﴾ ’’کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں ؟‘‘ جیسا کہ ان سے پہلے لوگ بھی ایسے ہی کہا کرتے تھے چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے اس لیے ان کے اقوال و افعال بھی ایک دوسرے کے مشابہ تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے ذریعے سے ان پر جو عنایت کی انھوں نے اسے جھٹلا دیا ﴿وَقَوۡمُهُمَا﴾ ’’اور ان دونوں کی قوم‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَنَا عٰؔبِدُوۡنَ﴾ ’’ہماری غلام ہے۔‘‘ یعنی وہ پر مشقت کام سرانجام دینے کے لیے ہمارے مطیع ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَؔكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَؔكُمۡ١ؕ وَ فِيۡ ذٰلِكُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾(البقرہ:2؍49) ’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمھیں آل فرعون سے نجات دی وہ تمھیں بہت عذاب دیتے تھے۔ تمھارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمھاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘ پس ہم ان کے متبوع (پیشوا) ہوتے ہوئے ان کے تابع کیسے بن سکتے ہیں ؟ اور یہ ہم پر سردار کیسے ہو سکتے ہیں ؟ ان کے قول کی نظیر نوح u کی قوم کا یہ قول ہے ﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍111) ’’کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی تو رذیل لوگوں نے کی ہے۔ ‘‘ ﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّاۡيِ ﴾(ھود:11؍27) ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف انھی لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہماری قوم میں رذیل اور چھچھورے تصور كيے جاتے ہیں ۔‘‘ [48] اور یہ بات واضح ہے کہ حق کو رد کرنے کے لیے یہ بات درست نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تکذیب اور عناد ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَكَانُوۡا مِنَ الۡمُهۡلَكِيۡنَ ﴾ ’’پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور وہ بھی ہلاک شدہ لوگوں میں ہو گئے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے آنکھوں دیکھتے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ [49]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے اسرائیلی قوم کو موسیٰ u کی معیت میں نجات بخشی تب موسیٰ uکو قوت اور طاقت حاصل ہوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم اور اس کے شعائر کوغالب کریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ آپ پر چالیس دن میں تورات نازل کرے گا۔ موسیٰ u اپنے رب کے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡعِظَةً وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾(الاعراف:7؍145) ’’اور ہم نے ہر چیز کے متعلق نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اس کے لیے تختیوں پر لکھ دی‘‘ بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ ہدایت پائیں ۔‘‘ یعنی امرونہی اورثواب و عقاب کی تفاصیل کی معرفت حاصل کرکے شاید راہ راست پر گامزن ہو جائیں اور اپنے رب کے اسماء و صفات کی بھی معرفت حاصل کریں ۔
23:50

وَجَعَلۡنَا ٱبۡنَ مَرۡيَمَ وَأُمَّهُۥٓ ءَايَةٗ وَءَاوَيۡنَٰهُمَآ إِلَىٰ رَبۡوَةٖ ذَاتِ قَرَارٖ وَمَعِينٖ

اور بنایا ہم نے (عیسیٰ) ابن مریم اور اس کی ماں کو ایک (عظیم) نشانی اور پناہ دی ہم نے ان دونوں کو طرف ایک بلند جگہ کی (جو) سکون و آرام اور جاری چشمہ والی (تھی)(50) [50]﴿ وَجَعَلۡنَا ابۡنَ مَرۡيَمَ وَاُمَّهٗۤ اٰيَةً ﴾ یعنی ہم نے عیسیٰ ابن مریم (i) پر احسان کیا، ان کو اور ان کی والدہ کو انتہائی تعجب انگیز نشان بنا دیا کیونکہ حضرت مریم[ نے حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے اپنے پیٹ میں رکھا اور پھر آپ کو جنم دیا اور حضرت عیسیٰu نے گہوارے میں کلام کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر بڑے بڑے معجزات دکھائے۔ ﴿ وَّاٰوَيۡنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبۡوَةٍ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں کو ایک بلند مقام پر پناہ دی اور یہ اس وقت کی بات ہے… واللہ اعلم … جب حضرت جناب مریم[ نے عیسیٰ u کو جنم دیا۔ ﴿ ذَاتِ قَرَارٍ ﴾ یعنی آرام دہ ٹھکانا ﴿ مَعِيۡنٍ ﴾ یعنی جاری چشمے کا پانی اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔﴿ قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ ﴾ ’’کر دی ہے تیرے رب نے تیرے نیچے‘‘ یعنی اس جگہ سے بہت نیچے جہاں حضرت مریم[ نے پناہ لی تھی اور یہ اس لیے کہا گیا کیونکہ آپ بلند جگہ پر تھیں ۔ ﴿ سَرِيًّا ﴾ یعنی ندی اور وہ چشمے کا بہتا ہوا پانی ہے۔ ﴿ وَهُزِّيۡۤ اِلَيۡكِ بِجِذۡعِ النَّخۡلَةِ تُسٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبًا جَنِيًّاٞ۰۰فَكُلِيۡ وَاشۡرَبِيۡ وَقَرِّيۡ عَيۡنًا ﴾(مریم:19؍25،26) ’’تو کھجور کے تنے کو ہلا تجھ پر تازہ کھجوریں گریں گی۔ کھا، پی اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر۔‘‘
23:51

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلرُّسُلُ كُلُواْ مِنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَٱعۡمَلُواْ صَٰلِحًاۖ إِنِّي بِمَا تَعۡمَلُونَ عَلِيمٞ

اے رسولو! کھاؤ تم پاکیزہ چیزوں میں سےاورعمل کرونیک، بے شک میں ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہوں (51) اور بلاشبہ یہ تمھاری امت ہے، امت ایک ہی اور میں تمھارا رب ہوں ، پس ڈرو تم مجھ ہی سے (52) پس جدا جدا کر لیا انھوں نے اپنے معاملے (دین) کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر ایک گروہ ساتھ اس کے جو ان کے پاس ہے خوش ہے (53) پس آپ چھوڑ دیجیے ان کو ان کی غفلت میں ایک وقت تک (54)کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ جو ہم بڑھا رہے ہیں انھیں ساتھ اس کے، مال اور اولاد سے (55) ہم جلدی کر رہے ہیں ان کے لیے بھلائیوں میں ؟ (نہیں ، نہیں )بلکہ نہیں شعور رکھتے وہ (56) [51]﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا١ؕ اِنِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بے شک میں تمھارے عملوں کو خوب جانتا ہوں ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کوخبردارکیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام انبیاء کھانے پینے کی تمام پاک چیزوں کی اباحت اور ناپاک چیزوں کی تحریم پر متفق ہیں نیز وہ تمام اعمال صالحہ پر بھی متفق ہیں ۔ اگرچہ بعض مامورات کی جنس میں تنوع اور بعض شرائع میں اختلاف ہے تاہم ہر شریعت اعمال صالحہ پر مشتمل ہے، البتہ زمانے کے تفاوت کی بنا پر متفاوت ہیں ، اس لیے وہ تمام اعمال صالحہ جو ہر زمانے میں صلاح کے حامل تھے ان پرتمام انبیاء اور شریعتیں متفق ہیں ، مثلاً: توحید الٰہی ، دین میں اخلاص، محبت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، نیکی، صدق، ایفائے عہد، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، کمزوروں ، مسکینوں اور یتیموں کی دستگیری اور تمام مخلوق کے ساتھ مہربانی کا رویہ جیسے احکام۔ اس لیے تمام اہل علم، کتب سابقہ اور عقل سلیم کے مالک محمد مصطفیﷺ کی نبوت پر، آپ کے مامورات اور منہیات کی جنس کے ذریعے سے استدلال کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہرقل نے استدلال کیا تھا کیونکہ اگر آپﷺ ان امور کا حکم دیتے ہیں جن کا حکم آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیائے کرام دیتے رہے ہیں اور آپﷺ ان چیزوں سے روکتے ہیں جن سے گزشتہ انبیائے کرام روکتے رہے ہیں تو یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی انبیائے کرام کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے برعکس ایک کذاب برائی کا حکم دے گا اور بھلائی سے روکے گا۔ [52] بنابریں انبیائے کرام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ اے رسولوں کے گروہ! تمھاری جماعت ایک دین پر متفق ہے اور تمھارا رب بھی ایک ہے ﴿ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’پس تم مجھ سے ڈرو۔‘‘ میرے احکام کی تعمیل کر کے اورمیرے زجر و توبیخ کے موجب امور سے اجتناب کر کے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کوانھی امور کا حکم دیا جن کا حکم اپنے رسولوں کو دیا کیونکہ اہل ایمان انبیاء و رسل کی پیروی کرنے والے اور انھی کے راستے پر گامزن ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ وَاشۡكُرُوۡا لِلّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍172) ’’اے اہل ایمان ! جو پاک چیزیں ہم نے تمھیں عطا کی ہیں ،انھیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس انبیائے کرام سے نسبت رکھنے والوں اور دیگر لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں ۔ [53] بایں ہمہ جھٹلانے والے ظالم، نافرمان ہی رہے اس لیے فرمایا:﴿ فَتَقَطَّعُوۡۤا ﴾ ’’پس کاٹ دیا۔‘‘ یعنی انبیاء و رسل کی اتباع کا دعویٰ کرنے والوں نے ﴿اَمۡرَهُمۡ ﴾ یعنی اپنے دین کو ﴿ بَيۡنَهُمۡ زُبُرًا﴾ ’’آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے۔‘‘ ﴿ كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہر گروہ اس پر جو اس کے پاس ہے۔‘‘ یعنی ہر گروہ اور فرقے کے پاس جو علم اور دین ہے ﴿ فَرِحُوۡنَ ﴾ وہ اسی پر خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دیگر لوگ حق پر نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے حق پر صرف وہی لوگ ہیں جو انبیاء کے راستے پر گامزن ہیں ، پاک چیزیں کھاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ۔ ان کے سوا دیگر لوگ تو باطل کی راہوں میں سرگرداں ہیں ۔ [54]﴿ فَذَرۡهُمۡ فِيۡ غَمۡرَتِهِمۡ ﴾ ’’پس چھوڑ دیجیے آپ ان کو ان کی غفلت ہی میں ۔‘‘ یعنی انھیں حق کے بارے میں ان کی جہالت اور ان کے دعووں میں ، کہ وہ حق پر ہیں ، غلطاں چھوڑ دیجیے ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی اس وقت تک جب تک کہ ان پر عذاب نازل نہیں ہو جاتا کیونکہ ان کو کوئی وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ چیزیں انھیں فائدہ دے بھی کیسے سکتی ہیں جبکہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اپنے اس مسلک کی طرف دوسروں کو دعوت دینے کے متمنی ہوں ۔ [56,55]﴿اَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمۡ بِهٖ مِنۡ مَّالٍ وَّبَنِيۡنَۙ۰۰ نُسَارِعُ لَهُمۡ فِي الۡخَيۡرٰتِ﴾ یعنی کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں ہماری طرف سے اضافہ، اس امر کی دلیل ہے کہ وہ بھلائی اور سعادت سے بہرہ مند ہیں اور دنیا اور آخرت کی بھلائی انھی کے لیے ہے؟ یہ ان کا اپنا زعم باطل ہے حالانکہ معاملہ ایسے نہیں ہے۔ ﴿ بَلۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔‘‘ کہ ہم ان کو ڈھیل اور مہلت دیے جا رہے ہیں اور ان کو نعمتوں سے نواز رہے ہیں ، وہ اس لیے کہ تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں اور آخرت میں اپنے عذاب کو بڑھا لیں اور دنیا میں ان کو جو نعمتیں عطا ہوئی ہیں انھی سے مزے لیتے رہیں ۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً ﴾(الانعام:6؍44) ’’حتیٰ کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا، اس سے بہت خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایات اور نوازشیں اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ بھلائی اور فضیلت کی راہ پر چل رہے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنھوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا، چنانچہ فرمایا:
23:52

وَإِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَأَنَا۠ رَبُّكُمۡ فَٱتَّقُونِ

اے رسولو! کھاؤ تم پاکیزہ چیزوں میں سےاورعمل کرونیک، بے شک میں ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہوں (51) اور بلاشبہ یہ تمھاری امت ہے، امت ایک ہی اور میں تمھارا رب ہوں ، پس ڈرو تم مجھ ہی سے (52) پس جدا جدا کر لیا انھوں نے اپنے معاملے (دین) کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر ایک گروہ ساتھ اس کے جو ان کے پاس ہے خوش ہے (53) پس آپ چھوڑ دیجیے ان کو ان کی غفلت میں ایک وقت تک (54)کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ جو ہم بڑھا رہے ہیں انھیں ساتھ اس کے، مال اور اولاد سے (55) ہم جلدی کر رہے ہیں ان کے لیے بھلائیوں میں ؟ (نہیں ، نہیں )بلکہ نہیں شعور رکھتے وہ (56) [51]﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا١ؕ اِنِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بے شک میں تمھارے عملوں کو خوب جانتا ہوں ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کوخبردارکیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام انبیاء کھانے پینے کی تمام پاک چیزوں کی اباحت اور ناپاک چیزوں کی تحریم پر متفق ہیں نیز وہ تمام اعمال صالحہ پر بھی متفق ہیں ۔ اگرچہ بعض مامورات کی جنس میں تنوع اور بعض شرائع میں اختلاف ہے تاہم ہر شریعت اعمال صالحہ پر مشتمل ہے، البتہ زمانے کے تفاوت کی بنا پر متفاوت ہیں ، اس لیے وہ تمام اعمال صالحہ جو ہر زمانے میں صلاح کے حامل تھے ان پرتمام انبیاء اور شریعتیں متفق ہیں ، مثلاً: توحید الٰہی ، دین میں اخلاص، محبت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، نیکی، صدق، ایفائے عہد، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، کمزوروں ، مسکینوں اور یتیموں کی دستگیری اور تمام مخلوق کے ساتھ مہربانی کا رویہ جیسے احکام۔ اس لیے تمام اہل علم، کتب سابقہ اور عقل سلیم کے مالک محمد مصطفیﷺ کی نبوت پر، آپ کے مامورات اور منہیات کی جنس کے ذریعے سے استدلال کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہرقل نے استدلال کیا تھا کیونکہ اگر آپﷺ ان امور کا حکم دیتے ہیں جن کا حکم آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیائے کرام دیتے رہے ہیں اور آپﷺ ان چیزوں سے روکتے ہیں جن سے گزشتہ انبیائے کرام روکتے رہے ہیں تو یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی انبیائے کرام کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے برعکس ایک کذاب برائی کا حکم دے گا اور بھلائی سے روکے گا۔ [52] بنابریں انبیائے کرام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ اے رسولوں کے گروہ! تمھاری جماعت ایک دین پر متفق ہے اور تمھارا رب بھی ایک ہے ﴿ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’پس تم مجھ سے ڈرو۔‘‘ میرے احکام کی تعمیل کر کے اورمیرے زجر و توبیخ کے موجب امور سے اجتناب کر کے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کوانھی امور کا حکم دیا جن کا حکم اپنے رسولوں کو دیا کیونکہ اہل ایمان انبیاء و رسل کی پیروی کرنے والے اور انھی کے راستے پر گامزن ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ وَاشۡكُرُوۡا لِلّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍172) ’’اے اہل ایمان ! جو پاک چیزیں ہم نے تمھیں عطا کی ہیں ،انھیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس انبیائے کرام سے نسبت رکھنے والوں اور دیگر لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں ۔ [53] بایں ہمہ جھٹلانے والے ظالم، نافرمان ہی رہے اس لیے فرمایا:﴿ فَتَقَطَّعُوۡۤا ﴾ ’’پس کاٹ دیا۔‘‘ یعنی انبیاء و رسل کی اتباع کا دعویٰ کرنے والوں نے ﴿اَمۡرَهُمۡ ﴾ یعنی اپنے دین کو ﴿ بَيۡنَهُمۡ زُبُرًا﴾ ’’آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے۔‘‘ ﴿ كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہر گروہ اس پر جو اس کے پاس ہے۔‘‘ یعنی ہر گروہ اور فرقے کے پاس جو علم اور دین ہے ﴿ فَرِحُوۡنَ ﴾ وہ اسی پر خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دیگر لوگ حق پر نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے حق پر صرف وہی لوگ ہیں جو انبیاء کے راستے پر گامزن ہیں ، پاک چیزیں کھاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ۔ ان کے سوا دیگر لوگ تو باطل کی راہوں میں سرگرداں ہیں ۔ [54]﴿ فَذَرۡهُمۡ فِيۡ غَمۡرَتِهِمۡ ﴾ ’’پس چھوڑ دیجیے آپ ان کو ان کی غفلت ہی میں ۔‘‘ یعنی انھیں حق کے بارے میں ان کی جہالت اور ان کے دعووں میں ، کہ وہ حق پر ہیں ، غلطاں چھوڑ دیجیے ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی اس وقت تک جب تک کہ ان پر عذاب نازل نہیں ہو جاتا کیونکہ ان کو کوئی وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ چیزیں انھیں فائدہ دے بھی کیسے سکتی ہیں جبکہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اپنے اس مسلک کی طرف دوسروں کو دعوت دینے کے متمنی ہوں ۔ [56,55]﴿اَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمۡ بِهٖ مِنۡ مَّالٍ وَّبَنِيۡنَۙ۰۰ نُسَارِعُ لَهُمۡ فِي الۡخَيۡرٰتِ﴾ یعنی کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں ہماری طرف سے اضافہ، اس امر کی دلیل ہے کہ وہ بھلائی اور سعادت سے بہرہ مند ہیں اور دنیا اور آخرت کی بھلائی انھی کے لیے ہے؟ یہ ان کا اپنا زعم باطل ہے حالانکہ معاملہ ایسے نہیں ہے۔ ﴿ بَلۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔‘‘ کہ ہم ان کو ڈھیل اور مہلت دیے جا رہے ہیں اور ان کو نعمتوں سے نواز رہے ہیں ، وہ اس لیے کہ تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں اور آخرت میں اپنے عذاب کو بڑھا لیں اور دنیا میں ان کو جو نعمتیں عطا ہوئی ہیں انھی سے مزے لیتے رہیں ۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً ﴾(الانعام:6؍44) ’’حتیٰ کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا، اس سے بہت خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایات اور نوازشیں اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ بھلائی اور فضیلت کی راہ پر چل رہے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنھوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا، چنانچہ فرمایا:
23:53

فَتَقَطَّعُوٓاْ أَمۡرَهُم بَيۡنَهُمۡ زُبُرٗاۖ كُلُّ حِزۡبِۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُونَ

اے رسولو! کھاؤ تم پاکیزہ چیزوں میں سےاورعمل کرونیک، بے شک میں ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہوں (51) اور بلاشبہ یہ تمھاری امت ہے، امت ایک ہی اور میں تمھارا رب ہوں ، پس ڈرو تم مجھ ہی سے (52) پس جدا جدا کر لیا انھوں نے اپنے معاملے (دین) کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر ایک گروہ ساتھ اس کے جو ان کے پاس ہے خوش ہے (53) پس آپ چھوڑ دیجیے ان کو ان کی غفلت میں ایک وقت تک (54)کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ جو ہم بڑھا رہے ہیں انھیں ساتھ اس کے، مال اور اولاد سے (55) ہم جلدی کر رہے ہیں ان کے لیے بھلائیوں میں ؟ (نہیں ، نہیں )بلکہ نہیں شعور رکھتے وہ (56) [51]﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا١ؕ اِنِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بے شک میں تمھارے عملوں کو خوب جانتا ہوں ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کوخبردارکیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام انبیاء کھانے پینے کی تمام پاک چیزوں کی اباحت اور ناپاک چیزوں کی تحریم پر متفق ہیں نیز وہ تمام اعمال صالحہ پر بھی متفق ہیں ۔ اگرچہ بعض مامورات کی جنس میں تنوع اور بعض شرائع میں اختلاف ہے تاہم ہر شریعت اعمال صالحہ پر مشتمل ہے، البتہ زمانے کے تفاوت کی بنا پر متفاوت ہیں ، اس لیے وہ تمام اعمال صالحہ جو ہر زمانے میں صلاح کے حامل تھے ان پرتمام انبیاء اور شریعتیں متفق ہیں ، مثلاً: توحید الٰہی ، دین میں اخلاص، محبت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، نیکی، صدق، ایفائے عہد، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، کمزوروں ، مسکینوں اور یتیموں کی دستگیری اور تمام مخلوق کے ساتھ مہربانی کا رویہ جیسے احکام۔ اس لیے تمام اہل علم، کتب سابقہ اور عقل سلیم کے مالک محمد مصطفیﷺ کی نبوت پر، آپ کے مامورات اور منہیات کی جنس کے ذریعے سے استدلال کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہرقل نے استدلال کیا تھا کیونکہ اگر آپﷺ ان امور کا حکم دیتے ہیں جن کا حکم آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیائے کرام دیتے رہے ہیں اور آپﷺ ان چیزوں سے روکتے ہیں جن سے گزشتہ انبیائے کرام روکتے رہے ہیں تو یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی انبیائے کرام کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے برعکس ایک کذاب برائی کا حکم دے گا اور بھلائی سے روکے گا۔ [52] بنابریں انبیائے کرام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ اے رسولوں کے گروہ! تمھاری جماعت ایک دین پر متفق ہے اور تمھارا رب بھی ایک ہے ﴿ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’پس تم مجھ سے ڈرو۔‘‘ میرے احکام کی تعمیل کر کے اورمیرے زجر و توبیخ کے موجب امور سے اجتناب کر کے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کوانھی امور کا حکم دیا جن کا حکم اپنے رسولوں کو دیا کیونکہ اہل ایمان انبیاء و رسل کی پیروی کرنے والے اور انھی کے راستے پر گامزن ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ وَاشۡكُرُوۡا لِلّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍172) ’’اے اہل ایمان ! جو پاک چیزیں ہم نے تمھیں عطا کی ہیں ،انھیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس انبیائے کرام سے نسبت رکھنے والوں اور دیگر لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں ۔ [53] بایں ہمہ جھٹلانے والے ظالم، نافرمان ہی رہے اس لیے فرمایا:﴿ فَتَقَطَّعُوۡۤا ﴾ ’’پس کاٹ دیا۔‘‘ یعنی انبیاء و رسل کی اتباع کا دعویٰ کرنے والوں نے ﴿اَمۡرَهُمۡ ﴾ یعنی اپنے دین کو ﴿ بَيۡنَهُمۡ زُبُرًا﴾ ’’آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے۔‘‘ ﴿ كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہر گروہ اس پر جو اس کے پاس ہے۔‘‘ یعنی ہر گروہ اور فرقے کے پاس جو علم اور دین ہے ﴿ فَرِحُوۡنَ ﴾ وہ اسی پر خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دیگر لوگ حق پر نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے حق پر صرف وہی لوگ ہیں جو انبیاء کے راستے پر گامزن ہیں ، پاک چیزیں کھاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ۔ ان کے سوا دیگر لوگ تو باطل کی راہوں میں سرگرداں ہیں ۔ [54]﴿ فَذَرۡهُمۡ فِيۡ غَمۡرَتِهِمۡ ﴾ ’’پس چھوڑ دیجیے آپ ان کو ان کی غفلت ہی میں ۔‘‘ یعنی انھیں حق کے بارے میں ان کی جہالت اور ان کے دعووں میں ، کہ وہ حق پر ہیں ، غلطاں چھوڑ دیجیے ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی اس وقت تک جب تک کہ ان پر عذاب نازل نہیں ہو جاتا کیونکہ ان کو کوئی وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ چیزیں انھیں فائدہ دے بھی کیسے سکتی ہیں جبکہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اپنے اس مسلک کی طرف دوسروں کو دعوت دینے کے متمنی ہوں ۔ [56,55]﴿اَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمۡ بِهٖ مِنۡ مَّالٍ وَّبَنِيۡنَۙ۰۰ نُسَارِعُ لَهُمۡ فِي الۡخَيۡرٰتِ﴾ یعنی کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں ہماری طرف سے اضافہ، اس امر کی دلیل ہے کہ وہ بھلائی اور سعادت سے بہرہ مند ہیں اور دنیا اور آخرت کی بھلائی انھی کے لیے ہے؟ یہ ان کا اپنا زعم باطل ہے حالانکہ معاملہ ایسے نہیں ہے۔ ﴿ بَلۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔‘‘ کہ ہم ان کو ڈھیل اور مہلت دیے جا رہے ہیں اور ان کو نعمتوں سے نواز رہے ہیں ، وہ اس لیے کہ تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں اور آخرت میں اپنے عذاب کو بڑھا لیں اور دنیا میں ان کو جو نعمتیں عطا ہوئی ہیں انھی سے مزے لیتے رہیں ۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً ﴾(الانعام:6؍44) ’’حتیٰ کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا، اس سے بہت خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایات اور نوازشیں اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ بھلائی اور فضیلت کی راہ پر چل رہے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنھوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا، چنانچہ فرمایا:
23:54

فَذَرۡهُمۡ فِي غَمۡرَتِهِمۡ حَتَّىٰ حِينٍ

اے رسولو! کھاؤ تم پاکیزہ چیزوں میں سےاورعمل کرونیک، بے شک میں ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہوں (51) اور بلاشبہ یہ تمھاری امت ہے، امت ایک ہی اور میں تمھارا رب ہوں ، پس ڈرو تم مجھ ہی سے (52) پس جدا جدا کر لیا انھوں نے اپنے معاملے (دین) کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر ایک گروہ ساتھ اس کے جو ان کے پاس ہے خوش ہے (53) پس آپ چھوڑ دیجیے ان کو ان کی غفلت میں ایک وقت تک (54)کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ جو ہم بڑھا رہے ہیں انھیں ساتھ اس کے، مال اور اولاد سے (55) ہم جلدی کر رہے ہیں ان کے لیے بھلائیوں میں ؟ (نہیں ، نہیں )بلکہ نہیں شعور رکھتے وہ (56) [51]﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا١ؕ اِنِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بے شک میں تمھارے عملوں کو خوب جانتا ہوں ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کوخبردارکیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام انبیاء کھانے پینے کی تمام پاک چیزوں کی اباحت اور ناپاک چیزوں کی تحریم پر متفق ہیں نیز وہ تمام اعمال صالحہ پر بھی متفق ہیں ۔ اگرچہ بعض مامورات کی جنس میں تنوع اور بعض شرائع میں اختلاف ہے تاہم ہر شریعت اعمال صالحہ پر مشتمل ہے، البتہ زمانے کے تفاوت کی بنا پر متفاوت ہیں ، اس لیے وہ تمام اعمال صالحہ جو ہر زمانے میں صلاح کے حامل تھے ان پرتمام انبیاء اور شریعتیں متفق ہیں ، مثلاً: توحید الٰہی ، دین میں اخلاص، محبت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، نیکی، صدق، ایفائے عہد، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، کمزوروں ، مسکینوں اور یتیموں کی دستگیری اور تمام مخلوق کے ساتھ مہربانی کا رویہ جیسے احکام۔ اس لیے تمام اہل علم، کتب سابقہ اور عقل سلیم کے مالک محمد مصطفیﷺ کی نبوت پر، آپ کے مامورات اور منہیات کی جنس کے ذریعے سے استدلال کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہرقل نے استدلال کیا تھا کیونکہ اگر آپﷺ ان امور کا حکم دیتے ہیں جن کا حکم آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیائے کرام دیتے رہے ہیں اور آپﷺ ان چیزوں سے روکتے ہیں جن سے گزشتہ انبیائے کرام روکتے رہے ہیں تو یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی انبیائے کرام کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے برعکس ایک کذاب برائی کا حکم دے گا اور بھلائی سے روکے گا۔ [52] بنابریں انبیائے کرام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ اے رسولوں کے گروہ! تمھاری جماعت ایک دین پر متفق ہے اور تمھارا رب بھی ایک ہے ﴿ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’پس تم مجھ سے ڈرو۔‘‘ میرے احکام کی تعمیل کر کے اورمیرے زجر و توبیخ کے موجب امور سے اجتناب کر کے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کوانھی امور کا حکم دیا جن کا حکم اپنے رسولوں کو دیا کیونکہ اہل ایمان انبیاء و رسل کی پیروی کرنے والے اور انھی کے راستے پر گامزن ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ وَاشۡكُرُوۡا لِلّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍172) ’’اے اہل ایمان ! جو پاک چیزیں ہم نے تمھیں عطا کی ہیں ،انھیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس انبیائے کرام سے نسبت رکھنے والوں اور دیگر لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں ۔ [53] بایں ہمہ جھٹلانے والے ظالم، نافرمان ہی رہے اس لیے فرمایا:﴿ فَتَقَطَّعُوۡۤا ﴾ ’’پس کاٹ دیا۔‘‘ یعنی انبیاء و رسل کی اتباع کا دعویٰ کرنے والوں نے ﴿اَمۡرَهُمۡ ﴾ یعنی اپنے دین کو ﴿ بَيۡنَهُمۡ زُبُرًا﴾ ’’آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے۔‘‘ ﴿ كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہر گروہ اس پر جو اس کے پاس ہے۔‘‘ یعنی ہر گروہ اور فرقے کے پاس جو علم اور دین ہے ﴿ فَرِحُوۡنَ ﴾ وہ اسی پر خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دیگر لوگ حق پر نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے حق پر صرف وہی لوگ ہیں جو انبیاء کے راستے پر گامزن ہیں ، پاک چیزیں کھاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ۔ ان کے سوا دیگر لوگ تو باطل کی راہوں میں سرگرداں ہیں ۔ [54]﴿ فَذَرۡهُمۡ فِيۡ غَمۡرَتِهِمۡ ﴾ ’’پس چھوڑ دیجیے آپ ان کو ان کی غفلت ہی میں ۔‘‘ یعنی انھیں حق کے بارے میں ان کی جہالت اور ان کے دعووں میں ، کہ وہ حق پر ہیں ، غلطاں چھوڑ دیجیے ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی اس وقت تک جب تک کہ ان پر عذاب نازل نہیں ہو جاتا کیونکہ ان کو کوئی وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ چیزیں انھیں فائدہ دے بھی کیسے سکتی ہیں جبکہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اپنے اس مسلک کی طرف دوسروں کو دعوت دینے کے متمنی ہوں ۔ [56,55]﴿اَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمۡ بِهٖ مِنۡ مَّالٍ وَّبَنِيۡنَۙ۰۰ نُسَارِعُ لَهُمۡ فِي الۡخَيۡرٰتِ﴾ یعنی کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں ہماری طرف سے اضافہ، اس امر کی دلیل ہے کہ وہ بھلائی اور سعادت سے بہرہ مند ہیں اور دنیا اور آخرت کی بھلائی انھی کے لیے ہے؟ یہ ان کا اپنا زعم باطل ہے حالانکہ معاملہ ایسے نہیں ہے۔ ﴿ بَلۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔‘‘ کہ ہم ان کو ڈھیل اور مہلت دیے جا رہے ہیں اور ان کو نعمتوں سے نواز رہے ہیں ، وہ اس لیے کہ تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں اور آخرت میں اپنے عذاب کو بڑھا لیں اور دنیا میں ان کو جو نعمتیں عطا ہوئی ہیں انھی سے مزے لیتے رہیں ۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً ﴾(الانعام:6؍44) ’’حتیٰ کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا، اس سے بہت خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایات اور نوازشیں اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ بھلائی اور فضیلت کی راہ پر چل رہے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنھوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا، چنانچہ فرمایا:
23:55

أَيَحۡسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِۦ مِن مَّالٖ وَبَنِينَ

اے رسولو! کھاؤ تم پاکیزہ چیزوں میں سےاورعمل کرونیک، بے شک میں ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہوں (51) اور بلاشبہ یہ تمھاری امت ہے، امت ایک ہی اور میں تمھارا رب ہوں ، پس ڈرو تم مجھ ہی سے (52) پس جدا جدا کر لیا انھوں نے اپنے معاملے (دین) کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر ایک گروہ ساتھ اس کے جو ان کے پاس ہے خوش ہے (53) پس آپ چھوڑ دیجیے ان کو ان کی غفلت میں ایک وقت تک (54)کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ جو ہم بڑھا رہے ہیں انھیں ساتھ اس کے، مال اور اولاد سے (55) ہم جلدی کر رہے ہیں ان کے لیے بھلائیوں میں ؟ (نہیں ، نہیں )بلکہ نہیں شعور رکھتے وہ (56) [51]﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا١ؕ اِنِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بے شک میں تمھارے عملوں کو خوب جانتا ہوں ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کوخبردارکیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام انبیاء کھانے پینے کی تمام پاک چیزوں کی اباحت اور ناپاک چیزوں کی تحریم پر متفق ہیں نیز وہ تمام اعمال صالحہ پر بھی متفق ہیں ۔ اگرچہ بعض مامورات کی جنس میں تنوع اور بعض شرائع میں اختلاف ہے تاہم ہر شریعت اعمال صالحہ پر مشتمل ہے، البتہ زمانے کے تفاوت کی بنا پر متفاوت ہیں ، اس لیے وہ تمام اعمال صالحہ جو ہر زمانے میں صلاح کے حامل تھے ان پرتمام انبیاء اور شریعتیں متفق ہیں ، مثلاً: توحید الٰہی ، دین میں اخلاص، محبت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، نیکی، صدق، ایفائے عہد، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، کمزوروں ، مسکینوں اور یتیموں کی دستگیری اور تمام مخلوق کے ساتھ مہربانی کا رویہ جیسے احکام۔ اس لیے تمام اہل علم، کتب سابقہ اور عقل سلیم کے مالک محمد مصطفیﷺ کی نبوت پر، آپ کے مامورات اور منہیات کی جنس کے ذریعے سے استدلال کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہرقل نے استدلال کیا تھا کیونکہ اگر آپﷺ ان امور کا حکم دیتے ہیں جن کا حکم آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیائے کرام دیتے رہے ہیں اور آپﷺ ان چیزوں سے روکتے ہیں جن سے گزشتہ انبیائے کرام روکتے رہے ہیں تو یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی انبیائے کرام کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے برعکس ایک کذاب برائی کا حکم دے گا اور بھلائی سے روکے گا۔ [52] بنابریں انبیائے کرام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ اے رسولوں کے گروہ! تمھاری جماعت ایک دین پر متفق ہے اور تمھارا رب بھی ایک ہے ﴿ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’پس تم مجھ سے ڈرو۔‘‘ میرے احکام کی تعمیل کر کے اورمیرے زجر و توبیخ کے موجب امور سے اجتناب کر کے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کوانھی امور کا حکم دیا جن کا حکم اپنے رسولوں کو دیا کیونکہ اہل ایمان انبیاء و رسل کی پیروی کرنے والے اور انھی کے راستے پر گامزن ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ وَاشۡكُرُوۡا لِلّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍172) ’’اے اہل ایمان ! جو پاک چیزیں ہم نے تمھیں عطا کی ہیں ،انھیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس انبیائے کرام سے نسبت رکھنے والوں اور دیگر لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں ۔ [53] بایں ہمہ جھٹلانے والے ظالم، نافرمان ہی رہے اس لیے فرمایا:﴿ فَتَقَطَّعُوۡۤا ﴾ ’’پس کاٹ دیا۔‘‘ یعنی انبیاء و رسل کی اتباع کا دعویٰ کرنے والوں نے ﴿اَمۡرَهُمۡ ﴾ یعنی اپنے دین کو ﴿ بَيۡنَهُمۡ زُبُرًا﴾ ’’آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے۔‘‘ ﴿ كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہر گروہ اس پر جو اس کے پاس ہے۔‘‘ یعنی ہر گروہ اور فرقے کے پاس جو علم اور دین ہے ﴿ فَرِحُوۡنَ ﴾ وہ اسی پر خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دیگر لوگ حق پر نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے حق پر صرف وہی لوگ ہیں جو انبیاء کے راستے پر گامزن ہیں ، پاک چیزیں کھاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ۔ ان کے سوا دیگر لوگ تو باطل کی راہوں میں سرگرداں ہیں ۔ [54]﴿ فَذَرۡهُمۡ فِيۡ غَمۡرَتِهِمۡ ﴾ ’’پس چھوڑ دیجیے آپ ان کو ان کی غفلت ہی میں ۔‘‘ یعنی انھیں حق کے بارے میں ان کی جہالت اور ان کے دعووں میں ، کہ وہ حق پر ہیں ، غلطاں چھوڑ دیجیے ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی اس وقت تک جب تک کہ ان پر عذاب نازل نہیں ہو جاتا کیونکہ ان کو کوئی وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ چیزیں انھیں فائدہ دے بھی کیسے سکتی ہیں جبکہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اپنے اس مسلک کی طرف دوسروں کو دعوت دینے کے متمنی ہوں ۔ [56,55]﴿اَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمۡ بِهٖ مِنۡ مَّالٍ وَّبَنِيۡنَۙ۰۰ نُسَارِعُ لَهُمۡ فِي الۡخَيۡرٰتِ﴾ یعنی کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں ہماری طرف سے اضافہ، اس امر کی دلیل ہے کہ وہ بھلائی اور سعادت سے بہرہ مند ہیں اور دنیا اور آخرت کی بھلائی انھی کے لیے ہے؟ یہ ان کا اپنا زعم باطل ہے حالانکہ معاملہ ایسے نہیں ہے۔ ﴿ بَلۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔‘‘ کہ ہم ان کو ڈھیل اور مہلت دیے جا رہے ہیں اور ان کو نعمتوں سے نواز رہے ہیں ، وہ اس لیے کہ تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں اور آخرت میں اپنے عذاب کو بڑھا لیں اور دنیا میں ان کو جو نعمتیں عطا ہوئی ہیں انھی سے مزے لیتے رہیں ۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً ﴾(الانعام:6؍44) ’’حتیٰ کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا، اس سے بہت خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایات اور نوازشیں اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ بھلائی اور فضیلت کی راہ پر چل رہے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنھوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا، چنانچہ فرمایا:
23:56

نُسَارِعُ لَهُمۡ فِي ٱلۡخَيۡرَٰتِۚ بَل لَّا يَشۡعُرُونَ

اے رسولو! کھاؤ تم پاکیزہ چیزوں میں سےاورعمل کرونیک، بے شک میں ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہوں (51) اور بلاشبہ یہ تمھاری امت ہے، امت ایک ہی اور میں تمھارا رب ہوں ، پس ڈرو تم مجھ ہی سے (52) پس جدا جدا کر لیا انھوں نے اپنے معاملے (دین) کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر ایک گروہ ساتھ اس کے جو ان کے پاس ہے خوش ہے (53) پس آپ چھوڑ دیجیے ان کو ان کی غفلت میں ایک وقت تک (54)کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ جو ہم بڑھا رہے ہیں انھیں ساتھ اس کے، مال اور اولاد سے (55) ہم جلدی کر رہے ہیں ان کے لیے بھلائیوں میں ؟ (نہیں ، نہیں )بلکہ نہیں شعور رکھتے وہ (56) [51]﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا١ؕ اِنِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بے شک میں تمھارے عملوں کو خوب جانتا ہوں ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کوخبردارکیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام انبیاء کھانے پینے کی تمام پاک چیزوں کی اباحت اور ناپاک چیزوں کی تحریم پر متفق ہیں نیز وہ تمام اعمال صالحہ پر بھی متفق ہیں ۔ اگرچہ بعض مامورات کی جنس میں تنوع اور بعض شرائع میں اختلاف ہے تاہم ہر شریعت اعمال صالحہ پر مشتمل ہے، البتہ زمانے کے تفاوت کی بنا پر متفاوت ہیں ، اس لیے وہ تمام اعمال صالحہ جو ہر زمانے میں صلاح کے حامل تھے ان پرتمام انبیاء اور شریعتیں متفق ہیں ، مثلاً: توحید الٰہی ، دین میں اخلاص، محبت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، نیکی، صدق، ایفائے عہد، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، کمزوروں ، مسکینوں اور یتیموں کی دستگیری اور تمام مخلوق کے ساتھ مہربانی کا رویہ جیسے احکام۔ اس لیے تمام اہل علم، کتب سابقہ اور عقل سلیم کے مالک محمد مصطفیﷺ کی نبوت پر، آپ کے مامورات اور منہیات کی جنس کے ذریعے سے استدلال کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہرقل نے استدلال کیا تھا کیونکہ اگر آپﷺ ان امور کا حکم دیتے ہیں جن کا حکم آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیائے کرام دیتے رہے ہیں اور آپﷺ ان چیزوں سے روکتے ہیں جن سے گزشتہ انبیائے کرام روکتے رہے ہیں تو یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی انبیائے کرام کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے برعکس ایک کذاب برائی کا حکم دے گا اور بھلائی سے روکے گا۔ [52] بنابریں انبیائے کرام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ اے رسولوں کے گروہ! تمھاری جماعت ایک دین پر متفق ہے اور تمھارا رب بھی ایک ہے ﴿ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’پس تم مجھ سے ڈرو۔‘‘ میرے احکام کی تعمیل کر کے اورمیرے زجر و توبیخ کے موجب امور سے اجتناب کر کے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کوانھی امور کا حکم دیا جن کا حکم اپنے رسولوں کو دیا کیونکہ اہل ایمان انبیاء و رسل کی پیروی کرنے والے اور انھی کے راستے پر گامزن ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ وَاشۡكُرُوۡا لِلّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍172) ’’اے اہل ایمان ! جو پاک چیزیں ہم نے تمھیں عطا کی ہیں ،انھیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس انبیائے کرام سے نسبت رکھنے والوں اور دیگر لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں ۔ [53] بایں ہمہ جھٹلانے والے ظالم، نافرمان ہی رہے اس لیے فرمایا:﴿ فَتَقَطَّعُوۡۤا ﴾ ’’پس کاٹ دیا۔‘‘ یعنی انبیاء و رسل کی اتباع کا دعویٰ کرنے والوں نے ﴿اَمۡرَهُمۡ ﴾ یعنی اپنے دین کو ﴿ بَيۡنَهُمۡ زُبُرًا﴾ ’’آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے۔‘‘ ﴿ كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہر گروہ اس پر جو اس کے پاس ہے۔‘‘ یعنی ہر گروہ اور فرقے کے پاس جو علم اور دین ہے ﴿ فَرِحُوۡنَ ﴾ وہ اسی پر خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دیگر لوگ حق پر نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے حق پر صرف وہی لوگ ہیں جو انبیاء کے راستے پر گامزن ہیں ، پاک چیزیں کھاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ۔ ان کے سوا دیگر لوگ تو باطل کی راہوں میں سرگرداں ہیں ۔ [54]﴿ فَذَرۡهُمۡ فِيۡ غَمۡرَتِهِمۡ ﴾ ’’پس چھوڑ دیجیے آپ ان کو ان کی غفلت ہی میں ۔‘‘ یعنی انھیں حق کے بارے میں ان کی جہالت اور ان کے دعووں میں ، کہ وہ حق پر ہیں ، غلطاں چھوڑ دیجیے ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی اس وقت تک جب تک کہ ان پر عذاب نازل نہیں ہو جاتا کیونکہ ان کو کوئی وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ چیزیں انھیں فائدہ دے بھی کیسے سکتی ہیں جبکہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اپنے اس مسلک کی طرف دوسروں کو دعوت دینے کے متمنی ہوں ۔ [56,55]﴿اَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمۡ بِهٖ مِنۡ مَّالٍ وَّبَنِيۡنَۙ۰۰ نُسَارِعُ لَهُمۡ فِي الۡخَيۡرٰتِ﴾ یعنی کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں ہماری طرف سے اضافہ، اس امر کی دلیل ہے کہ وہ بھلائی اور سعادت سے بہرہ مند ہیں اور دنیا اور آخرت کی بھلائی انھی کے لیے ہے؟ یہ ان کا اپنا زعم باطل ہے حالانکہ معاملہ ایسے نہیں ہے۔ ﴿ بَلۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔‘‘ کہ ہم ان کو ڈھیل اور مہلت دیے جا رہے ہیں اور ان کو نعمتوں سے نواز رہے ہیں ، وہ اس لیے کہ تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں اور آخرت میں اپنے عذاب کو بڑھا لیں اور دنیا میں ان کو جو نعمتیں عطا ہوئی ہیں انھی سے مزے لیتے رہیں ۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً ﴾(الانعام:6؍44) ’’حتیٰ کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا، اس سے بہت خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایات اور نوازشیں اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ بھلائی اور فضیلت کی راہ پر چل رہے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنھوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا، چنانچہ فرمایا:
23:57

إِنَّ ٱلَّذِينَ هُم مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِم مُّشۡفِقُونَ

بے شک وہ لوگ کہ جو خوف سے اپنے رب کے، ڈرنے والے ہیں (57) اور وہ لوگ کہ جو آیتوں کے ساتھ اپنے رب کی، ایمان لاتے ہیں (58) اور وہ لوگ کہ جو اپنے رب کے ساتھ نہیں شریک ٹھہراتے (59) اور وہ لوگ كہ جو دیتے ہیں جو کچھ وہ دیتے ہیں (صدقہ) جبکہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں (اس سے) کہ بے شک وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں (60) یہی لوگ ہیں کہ جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں اور وہ ان کے لیے سبقت کرنے والے ہیں (61)اور نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے، وہ بولتی ہے ساتھ حق کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (62) [57]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ ’’بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انھیں اپنے بارے میں سوء ِ ظن ہے کہ انھوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے، انھیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان کا یہ خوف انھیں گناہوں اور واجبات میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔ [58]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، نیز وہ آیات قرآنی میں تفکر و تدبر کرتے ہیں تو ان پر قرآن عظیم کی جلالت شان، اس کی آیات و مضامین میں اتفاق اور ان میں عدم اختلاف اور عدم تناقض واضح ہوتا ہے اور وہ ان کو اللہ تعالیٰ، اس کے خوف ، اس سے امید اور احوال جزا و سزا کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے ان کو ایمان کی تفاصیل حاصل ہوتی ہیں ۔ زبان جن کی تعبیرکرنے سے قاصر ہے۔ نیز وہ آیات آفاقی میں بھی غور و فکر کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾(آل عمران:3؍190) ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔‘‘ [59]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِرَبِّهِمۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ کسی شرک جلی میں مبتلا نہیں ہیں ، مثلاً: غیراللہ کو معبود بنانا، اس کو پکارنا اور اس سے امیدیں رکھنا اور نہ شرک خفی میں مبتلا ہیں ، مثلاً:ریا وغیرہ۔ بلکہ وہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور احوال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص رکھتے ہیں ۔ [60]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا﴾ ’’اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں ، مثلاً:نماز، زکاۃ، حج، صدقہ وغیرہ ﴿وَ﴾ اس کے باوجود ﴿ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ ﴾ ’’ان کے دل خوف زدہ ہیں ۔‘‘ ﴿ اَنَّهُمۡ اِلٰى رَبِّهِمۡ رٰجِعُوۡنَ﴾ ’’اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش كيے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔ [61]﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جو جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں ۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی سے لپکتے ہیں ان کا عزم صرف اسی چیز پر مرتکز ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور ان کا ارادہ انھی امور میں مصروف ہوتا ہے جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دیتے ہیں ۔ ہر بھلائی جو وہ سنتے ہیں یا اس کی جب بھی انھیں فرصت ملتی ہے، اٹھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں ۔ وہ اولیاء اللہ، اس کے چنیدہ بندوں کو اپنے آگے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں جو بھلائی کے کاموں میں لپکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مسابقت کرنے والا جب کسی دوسرے سے مسابقت کرتا ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور کوشش سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی کوتاہی کی بنا پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ یہ سبقت کرنے والے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُمۡ لَهَا ﴾ ’’اور وہ اس کے لیے۔‘‘ یعنی بھلائیوں کے لیے ﴿ سٰبِقُوۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہیں ۔‘‘ بلاشبہ وہ بھلائی کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں ۔ وہ سب سے آگے نکلنے والے سے مسابقت کرتے ہیں ، نیز اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت لکھ دی گئی کہ وہ سبقت کرنے والے ہیں ۔ [62] جب اللہ تعالیٰ نے نیکیوں میں ان کی سرعت اور سبقت کا ذکر کیا تو اس سے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا تھا کہ ان سے اور دیگر لوگوں سے ایسے امور مطلوب ہیں جو ان کی مقدرت سے باہر یا بہت مشکل ہیں ، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴾یعنی ہم ہر نفس کو بس اتنی ہی تکلیف دیتے ہیں جتنی اس کی قوت کے دائرے میں ہوتی ہے اور وہ تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو اس کی پوری قوت کو صرف کر دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے تاکہ اس کے پاس پہنچنے کا راستہ ہو اور اہل سلوک کی راہیں ہر وقت آباد رہیں ۔﴿ وَلَدَيۡنَا كِتٰبٌ يَّنۡطِقُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے۔‘‘ اور وہ کتاب اول ہے جس میں ہر چیز درج ہے اور چونکہ جو کچھ اس میں درج ہے ہر چیز اس کے مطابق واقع ہوگی، اس لیے یہ حق ہے۔ ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی نہ ان کی سزا اور گناہوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔
23:58

وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُونَ

بے شک وہ لوگ کہ جو خوف سے اپنے رب کے، ڈرنے والے ہیں (57) اور وہ لوگ کہ جو آیتوں کے ساتھ اپنے رب کی، ایمان لاتے ہیں (58) اور وہ لوگ کہ جو اپنے رب کے ساتھ نہیں شریک ٹھہراتے (59) اور وہ لوگ كہ جو دیتے ہیں جو کچھ وہ دیتے ہیں (صدقہ) جبکہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں (اس سے) کہ بے شک وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں (60) یہی لوگ ہیں کہ جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں اور وہ ان کے لیے سبقت کرنے والے ہیں (61)اور نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے، وہ بولتی ہے ساتھ حق کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (62) [57]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ ’’بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انھیں اپنے بارے میں سوء ِ ظن ہے کہ انھوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے، انھیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان کا یہ خوف انھیں گناہوں اور واجبات میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔ [58]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، نیز وہ آیات قرآنی میں تفکر و تدبر کرتے ہیں تو ان پر قرآن عظیم کی جلالت شان، اس کی آیات و مضامین میں اتفاق اور ان میں عدم اختلاف اور عدم تناقض واضح ہوتا ہے اور وہ ان کو اللہ تعالیٰ، اس کے خوف ، اس سے امید اور احوال جزا و سزا کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے ان کو ایمان کی تفاصیل حاصل ہوتی ہیں ۔ زبان جن کی تعبیرکرنے سے قاصر ہے۔ نیز وہ آیات آفاقی میں بھی غور و فکر کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾(آل عمران:3؍190) ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔‘‘ [59]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِرَبِّهِمۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ کسی شرک جلی میں مبتلا نہیں ہیں ، مثلاً: غیراللہ کو معبود بنانا، اس کو پکارنا اور اس سے امیدیں رکھنا اور نہ شرک خفی میں مبتلا ہیں ، مثلاً:ریا وغیرہ۔ بلکہ وہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور احوال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص رکھتے ہیں ۔ [60]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا﴾ ’’اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں ، مثلاً:نماز، زکاۃ، حج، صدقہ وغیرہ ﴿وَ﴾ اس کے باوجود ﴿ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ ﴾ ’’ان کے دل خوف زدہ ہیں ۔‘‘ ﴿ اَنَّهُمۡ اِلٰى رَبِّهِمۡ رٰجِعُوۡنَ﴾ ’’اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش كيے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔ [61]﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جو جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں ۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی سے لپکتے ہیں ان کا عزم صرف اسی چیز پر مرتکز ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور ان کا ارادہ انھی امور میں مصروف ہوتا ہے جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دیتے ہیں ۔ ہر بھلائی جو وہ سنتے ہیں یا اس کی جب بھی انھیں فرصت ملتی ہے، اٹھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں ۔ وہ اولیاء اللہ، اس کے چنیدہ بندوں کو اپنے آگے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں جو بھلائی کے کاموں میں لپکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مسابقت کرنے والا جب کسی دوسرے سے مسابقت کرتا ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور کوشش سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی کوتاہی کی بنا پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ یہ سبقت کرنے والے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُمۡ لَهَا ﴾ ’’اور وہ اس کے لیے۔‘‘ یعنی بھلائیوں کے لیے ﴿ سٰبِقُوۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہیں ۔‘‘ بلاشبہ وہ بھلائی کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں ۔ وہ سب سے آگے نکلنے والے سے مسابقت کرتے ہیں ، نیز اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت لکھ دی گئی کہ وہ سبقت کرنے والے ہیں ۔ [62] جب اللہ تعالیٰ نے نیکیوں میں ان کی سرعت اور سبقت کا ذکر کیا تو اس سے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا تھا کہ ان سے اور دیگر لوگوں سے ایسے امور مطلوب ہیں جو ان کی مقدرت سے باہر یا بہت مشکل ہیں ، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴾یعنی ہم ہر نفس کو بس اتنی ہی تکلیف دیتے ہیں جتنی اس کی قوت کے دائرے میں ہوتی ہے اور وہ تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو اس کی پوری قوت کو صرف کر دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے تاکہ اس کے پاس پہنچنے کا راستہ ہو اور اہل سلوک کی راہیں ہر وقت آباد رہیں ۔﴿ وَلَدَيۡنَا كِتٰبٌ يَّنۡطِقُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے۔‘‘ اور وہ کتاب اول ہے جس میں ہر چیز درج ہے اور چونکہ جو کچھ اس میں درج ہے ہر چیز اس کے مطابق واقع ہوگی، اس لیے یہ حق ہے۔ ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی نہ ان کی سزا اور گناہوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔
23:59

وَٱلَّذِينَ هُم بِرَبِّهِمۡ لَا يُشۡرِكُونَ

بے شک وہ لوگ کہ جو خوف سے اپنے رب کے، ڈرنے والے ہیں (57) اور وہ لوگ کہ جو آیتوں کے ساتھ اپنے رب کی، ایمان لاتے ہیں (58) اور وہ لوگ کہ جو اپنے رب کے ساتھ نہیں شریک ٹھہراتے (59) اور وہ لوگ كہ جو دیتے ہیں جو کچھ وہ دیتے ہیں (صدقہ) جبکہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں (اس سے) کہ بے شک وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں (60) یہی لوگ ہیں کہ جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں اور وہ ان کے لیے سبقت کرنے والے ہیں (61)اور نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے، وہ بولتی ہے ساتھ حق کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (62) [57]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ ’’بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انھیں اپنے بارے میں سوء ِ ظن ہے کہ انھوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے، انھیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان کا یہ خوف انھیں گناہوں اور واجبات میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔ [58]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، نیز وہ آیات قرآنی میں تفکر و تدبر کرتے ہیں تو ان پر قرآن عظیم کی جلالت شان، اس کی آیات و مضامین میں اتفاق اور ان میں عدم اختلاف اور عدم تناقض واضح ہوتا ہے اور وہ ان کو اللہ تعالیٰ، اس کے خوف ، اس سے امید اور احوال جزا و سزا کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے ان کو ایمان کی تفاصیل حاصل ہوتی ہیں ۔ زبان جن کی تعبیرکرنے سے قاصر ہے۔ نیز وہ آیات آفاقی میں بھی غور و فکر کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾(آل عمران:3؍190) ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔‘‘ [59]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِرَبِّهِمۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ کسی شرک جلی میں مبتلا نہیں ہیں ، مثلاً: غیراللہ کو معبود بنانا، اس کو پکارنا اور اس سے امیدیں رکھنا اور نہ شرک خفی میں مبتلا ہیں ، مثلاً:ریا وغیرہ۔ بلکہ وہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور احوال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص رکھتے ہیں ۔ [60]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا﴾ ’’اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں ، مثلاً:نماز، زکاۃ، حج، صدقہ وغیرہ ﴿وَ﴾ اس کے باوجود ﴿ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ ﴾ ’’ان کے دل خوف زدہ ہیں ۔‘‘ ﴿ اَنَّهُمۡ اِلٰى رَبِّهِمۡ رٰجِعُوۡنَ﴾ ’’اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش كيے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔ [61]﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جو جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں ۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی سے لپکتے ہیں ان کا عزم صرف اسی چیز پر مرتکز ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور ان کا ارادہ انھی امور میں مصروف ہوتا ہے جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دیتے ہیں ۔ ہر بھلائی جو وہ سنتے ہیں یا اس کی جب بھی انھیں فرصت ملتی ہے، اٹھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں ۔ وہ اولیاء اللہ، اس کے چنیدہ بندوں کو اپنے آگے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں جو بھلائی کے کاموں میں لپکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مسابقت کرنے والا جب کسی دوسرے سے مسابقت کرتا ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور کوشش سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی کوتاہی کی بنا پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ یہ سبقت کرنے والے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُمۡ لَهَا ﴾ ’’اور وہ اس کے لیے۔‘‘ یعنی بھلائیوں کے لیے ﴿ سٰبِقُوۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہیں ۔‘‘ بلاشبہ وہ بھلائی کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں ۔ وہ سب سے آگے نکلنے والے سے مسابقت کرتے ہیں ، نیز اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت لکھ دی گئی کہ وہ سبقت کرنے والے ہیں ۔ [62] جب اللہ تعالیٰ نے نیکیوں میں ان کی سرعت اور سبقت کا ذکر کیا تو اس سے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا تھا کہ ان سے اور دیگر لوگوں سے ایسے امور مطلوب ہیں جو ان کی مقدرت سے باہر یا بہت مشکل ہیں ، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴾یعنی ہم ہر نفس کو بس اتنی ہی تکلیف دیتے ہیں جتنی اس کی قوت کے دائرے میں ہوتی ہے اور وہ تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو اس کی پوری قوت کو صرف کر دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے تاکہ اس کے پاس پہنچنے کا راستہ ہو اور اہل سلوک کی راہیں ہر وقت آباد رہیں ۔﴿ وَلَدَيۡنَا كِتٰبٌ يَّنۡطِقُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے۔‘‘ اور وہ کتاب اول ہے جس میں ہر چیز درج ہے اور چونکہ جو کچھ اس میں درج ہے ہر چیز اس کے مطابق واقع ہوگی، اس لیے یہ حق ہے۔ ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی نہ ان کی سزا اور گناہوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔
23:60

وَٱلَّذِينَ يُؤۡتُونَ مَآ ءَاتَواْ وَّقُلُوبُهُمۡ وَجِلَةٌ أَنَّهُمۡ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ رَٰجِعُونَ

بے شک وہ لوگ کہ جو خوف سے اپنے رب کے، ڈرنے والے ہیں (57) اور وہ لوگ کہ جو آیتوں کے ساتھ اپنے رب کی، ایمان لاتے ہیں (58) اور وہ لوگ کہ جو اپنے رب کے ساتھ نہیں شریک ٹھہراتے (59) اور وہ لوگ كہ جو دیتے ہیں جو کچھ وہ دیتے ہیں (صدقہ) جبکہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں (اس سے) کہ بے شک وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں (60) یہی لوگ ہیں کہ جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں اور وہ ان کے لیے سبقت کرنے والے ہیں (61)اور نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے، وہ بولتی ہے ساتھ حق کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (62) [57]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ ’’بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انھیں اپنے بارے میں سوء ِ ظن ہے کہ انھوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے، انھیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان کا یہ خوف انھیں گناہوں اور واجبات میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔ [58]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، نیز وہ آیات قرآنی میں تفکر و تدبر کرتے ہیں تو ان پر قرآن عظیم کی جلالت شان، اس کی آیات و مضامین میں اتفاق اور ان میں عدم اختلاف اور عدم تناقض واضح ہوتا ہے اور وہ ان کو اللہ تعالیٰ، اس کے خوف ، اس سے امید اور احوال جزا و سزا کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے ان کو ایمان کی تفاصیل حاصل ہوتی ہیں ۔ زبان جن کی تعبیرکرنے سے قاصر ہے۔ نیز وہ آیات آفاقی میں بھی غور و فکر کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾(آل عمران:3؍190) ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔‘‘ [59]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِرَبِّهِمۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ کسی شرک جلی میں مبتلا نہیں ہیں ، مثلاً: غیراللہ کو معبود بنانا، اس کو پکارنا اور اس سے امیدیں رکھنا اور نہ شرک خفی میں مبتلا ہیں ، مثلاً:ریا وغیرہ۔ بلکہ وہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور احوال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص رکھتے ہیں ۔ [60]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا﴾ ’’اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں ، مثلاً:نماز، زکاۃ، حج، صدقہ وغیرہ ﴿وَ﴾ اس کے باوجود ﴿ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ ﴾ ’’ان کے دل خوف زدہ ہیں ۔‘‘ ﴿ اَنَّهُمۡ اِلٰى رَبِّهِمۡ رٰجِعُوۡنَ﴾ ’’اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش كيے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔ [61]﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جو جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں ۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی سے لپکتے ہیں ان کا عزم صرف اسی چیز پر مرتکز ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور ان کا ارادہ انھی امور میں مصروف ہوتا ہے جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دیتے ہیں ۔ ہر بھلائی جو وہ سنتے ہیں یا اس کی جب بھی انھیں فرصت ملتی ہے، اٹھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں ۔ وہ اولیاء اللہ، اس کے چنیدہ بندوں کو اپنے آگے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں جو بھلائی کے کاموں میں لپکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مسابقت کرنے والا جب کسی دوسرے سے مسابقت کرتا ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور کوشش سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی کوتاہی کی بنا پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ یہ سبقت کرنے والے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُمۡ لَهَا ﴾ ’’اور وہ اس کے لیے۔‘‘ یعنی بھلائیوں کے لیے ﴿ سٰبِقُوۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہیں ۔‘‘ بلاشبہ وہ بھلائی کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں ۔ وہ سب سے آگے نکلنے والے سے مسابقت کرتے ہیں ، نیز اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت لکھ دی گئی کہ وہ سبقت کرنے والے ہیں ۔ [62] جب اللہ تعالیٰ نے نیکیوں میں ان کی سرعت اور سبقت کا ذکر کیا تو اس سے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا تھا کہ ان سے اور دیگر لوگوں سے ایسے امور مطلوب ہیں جو ان کی مقدرت سے باہر یا بہت مشکل ہیں ، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴾یعنی ہم ہر نفس کو بس اتنی ہی تکلیف دیتے ہیں جتنی اس کی قوت کے دائرے میں ہوتی ہے اور وہ تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو اس کی پوری قوت کو صرف کر دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے تاکہ اس کے پاس پہنچنے کا راستہ ہو اور اہل سلوک کی راہیں ہر وقت آباد رہیں ۔﴿ وَلَدَيۡنَا كِتٰبٌ يَّنۡطِقُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے۔‘‘ اور وہ کتاب اول ہے جس میں ہر چیز درج ہے اور چونکہ جو کچھ اس میں درج ہے ہر چیز اس کے مطابق واقع ہوگی، اس لیے یہ حق ہے۔ ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی نہ ان کی سزا اور گناہوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔
23:61

أُوْلَـٰٓئِكَ يُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡخَيۡرَٰتِ وَهُمۡ لَهَا سَٰبِقُونَ

بے شک وہ لوگ کہ جو خوف سے اپنے رب کے، ڈرنے والے ہیں (57) اور وہ لوگ کہ جو آیتوں کے ساتھ اپنے رب کی، ایمان لاتے ہیں (58) اور وہ لوگ کہ جو اپنے رب کے ساتھ نہیں شریک ٹھہراتے (59) اور وہ لوگ كہ جو دیتے ہیں جو کچھ وہ دیتے ہیں (صدقہ) جبکہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں (اس سے) کہ بے شک وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں (60) یہی لوگ ہیں کہ جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں اور وہ ان کے لیے سبقت کرنے والے ہیں (61)اور نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے، وہ بولتی ہے ساتھ حق کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (62) [57]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ ’’بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انھیں اپنے بارے میں سوء ِ ظن ہے کہ انھوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے، انھیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان کا یہ خوف انھیں گناہوں اور واجبات میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔ [58]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، نیز وہ آیات قرآنی میں تفکر و تدبر کرتے ہیں تو ان پر قرآن عظیم کی جلالت شان، اس کی آیات و مضامین میں اتفاق اور ان میں عدم اختلاف اور عدم تناقض واضح ہوتا ہے اور وہ ان کو اللہ تعالیٰ، اس کے خوف ، اس سے امید اور احوال جزا و سزا کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے ان کو ایمان کی تفاصیل حاصل ہوتی ہیں ۔ زبان جن کی تعبیرکرنے سے قاصر ہے۔ نیز وہ آیات آفاقی میں بھی غور و فکر کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾(آل عمران:3؍190) ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔‘‘ [59]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِرَبِّهِمۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ کسی شرک جلی میں مبتلا نہیں ہیں ، مثلاً: غیراللہ کو معبود بنانا، اس کو پکارنا اور اس سے امیدیں رکھنا اور نہ شرک خفی میں مبتلا ہیں ، مثلاً:ریا وغیرہ۔ بلکہ وہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور احوال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص رکھتے ہیں ۔ [60]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا﴾ ’’اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں ، مثلاً:نماز، زکاۃ، حج، صدقہ وغیرہ ﴿وَ﴾ اس کے باوجود ﴿ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ ﴾ ’’ان کے دل خوف زدہ ہیں ۔‘‘ ﴿ اَنَّهُمۡ اِلٰى رَبِّهِمۡ رٰجِعُوۡنَ﴾ ’’اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش كيے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔ [61]﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جو جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں ۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی سے لپکتے ہیں ان کا عزم صرف اسی چیز پر مرتکز ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور ان کا ارادہ انھی امور میں مصروف ہوتا ہے جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دیتے ہیں ۔ ہر بھلائی جو وہ سنتے ہیں یا اس کی جب بھی انھیں فرصت ملتی ہے، اٹھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں ۔ وہ اولیاء اللہ، اس کے چنیدہ بندوں کو اپنے آگے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں جو بھلائی کے کاموں میں لپکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مسابقت کرنے والا جب کسی دوسرے سے مسابقت کرتا ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور کوشش سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی کوتاہی کی بنا پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ یہ سبقت کرنے والے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُمۡ لَهَا ﴾ ’’اور وہ اس کے لیے۔‘‘ یعنی بھلائیوں کے لیے ﴿ سٰبِقُوۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہیں ۔‘‘ بلاشبہ وہ بھلائی کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں ۔ وہ سب سے آگے نکلنے والے سے مسابقت کرتے ہیں ، نیز اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت لکھ دی گئی کہ وہ سبقت کرنے والے ہیں ۔ [62] جب اللہ تعالیٰ نے نیکیوں میں ان کی سرعت اور سبقت کا ذکر کیا تو اس سے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا تھا کہ ان سے اور دیگر لوگوں سے ایسے امور مطلوب ہیں جو ان کی مقدرت سے باہر یا بہت مشکل ہیں ، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴾یعنی ہم ہر نفس کو بس اتنی ہی تکلیف دیتے ہیں جتنی اس کی قوت کے دائرے میں ہوتی ہے اور وہ تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو اس کی پوری قوت کو صرف کر دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے تاکہ اس کے پاس پہنچنے کا راستہ ہو اور اہل سلوک کی راہیں ہر وقت آباد رہیں ۔﴿ وَلَدَيۡنَا كِتٰبٌ يَّنۡطِقُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے۔‘‘ اور وہ کتاب اول ہے جس میں ہر چیز درج ہے اور چونکہ جو کچھ اس میں درج ہے ہر چیز اس کے مطابق واقع ہوگی، اس لیے یہ حق ہے۔ ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی نہ ان کی سزا اور گناہوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔
23:62

وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ وَلَدَيۡنَا كِتَٰبٞ يَنطِقُ بِٱلۡحَقِّ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ

بے شک وہ لوگ کہ جو خوف سے اپنے رب کے، ڈرنے والے ہیں (57) اور وہ لوگ کہ جو آیتوں کے ساتھ اپنے رب کی، ایمان لاتے ہیں (58) اور وہ لوگ کہ جو اپنے رب کے ساتھ نہیں شریک ٹھہراتے (59) اور وہ لوگ كہ جو دیتے ہیں جو کچھ وہ دیتے ہیں (صدقہ) جبکہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں (اس سے) کہ بے شک وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں (60) یہی لوگ ہیں کہ جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں اور وہ ان کے لیے سبقت کرنے والے ہیں (61)اور نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے، وہ بولتی ہے ساتھ حق کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (62) [57]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ ’’بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انھیں اپنے بارے میں سوء ِ ظن ہے کہ انھوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے، انھیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان کا یہ خوف انھیں گناہوں اور واجبات میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔ [58]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، نیز وہ آیات قرآنی میں تفکر و تدبر کرتے ہیں تو ان پر قرآن عظیم کی جلالت شان، اس کی آیات و مضامین میں اتفاق اور ان میں عدم اختلاف اور عدم تناقض واضح ہوتا ہے اور وہ ان کو اللہ تعالیٰ، اس کے خوف ، اس سے امید اور احوال جزا و سزا کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے ان کو ایمان کی تفاصیل حاصل ہوتی ہیں ۔ زبان جن کی تعبیرکرنے سے قاصر ہے۔ نیز وہ آیات آفاقی میں بھی غور و فکر کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾(آل عمران:3؍190) ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔‘‘ [59]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِرَبِّهِمۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ کسی شرک جلی میں مبتلا نہیں ہیں ، مثلاً: غیراللہ کو معبود بنانا، اس کو پکارنا اور اس سے امیدیں رکھنا اور نہ شرک خفی میں مبتلا ہیں ، مثلاً:ریا وغیرہ۔ بلکہ وہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور احوال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص رکھتے ہیں ۔ [60]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا﴾ ’’اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں ، مثلاً:نماز، زکاۃ، حج، صدقہ وغیرہ ﴿وَ﴾ اس کے باوجود ﴿ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ ﴾ ’’ان کے دل خوف زدہ ہیں ۔‘‘ ﴿ اَنَّهُمۡ اِلٰى رَبِّهِمۡ رٰجِعُوۡنَ﴾ ’’اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش كيے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔ [61]﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جو جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں ۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی سے لپکتے ہیں ان کا عزم صرف اسی چیز پر مرتکز ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور ان کا ارادہ انھی امور میں مصروف ہوتا ہے جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دیتے ہیں ۔ ہر بھلائی جو وہ سنتے ہیں یا اس کی جب بھی انھیں فرصت ملتی ہے، اٹھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں ۔ وہ اولیاء اللہ، اس کے چنیدہ بندوں کو اپنے آگے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں جو بھلائی کے کاموں میں لپکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مسابقت کرنے والا جب کسی دوسرے سے مسابقت کرتا ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور کوشش سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی کوتاہی کی بنا پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ یہ سبقت کرنے والے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُمۡ لَهَا ﴾ ’’اور وہ اس کے لیے۔‘‘ یعنی بھلائیوں کے لیے ﴿ سٰبِقُوۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہیں ۔‘‘ بلاشبہ وہ بھلائی کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں ۔ وہ سب سے آگے نکلنے والے سے مسابقت کرتے ہیں ، نیز اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت لکھ دی گئی کہ وہ سبقت کرنے والے ہیں ۔ [62] جب اللہ تعالیٰ نے نیکیوں میں ان کی سرعت اور سبقت کا ذکر کیا تو اس سے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا تھا کہ ان سے اور دیگر لوگوں سے ایسے امور مطلوب ہیں جو ان کی مقدرت سے باہر یا بہت مشکل ہیں ، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴾یعنی ہم ہر نفس کو بس اتنی ہی تکلیف دیتے ہیں جتنی اس کی قوت کے دائرے میں ہوتی ہے اور وہ تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو اس کی پوری قوت کو صرف کر دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے تاکہ اس کے پاس پہنچنے کا راستہ ہو اور اہل سلوک کی راہیں ہر وقت آباد رہیں ۔﴿ وَلَدَيۡنَا كِتٰبٌ يَّنۡطِقُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے۔‘‘ اور وہ کتاب اول ہے جس میں ہر چیز درج ہے اور چونکہ جو کچھ اس میں درج ہے ہر چیز اس کے مطابق واقع ہوگی، اس لیے یہ حق ہے۔ ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی نہ ان کی سزا اور گناہوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔
23:63

بَلۡ قُلُوبُهُمۡ فِي غَمۡرَةٖ مِّنۡ هَٰذَا وَلَهُمۡ أَعۡمَٰلٞ مِّن دُونِ ذَٰلِكَ هُمۡ لَهَا عَٰمِلُونَ

بلکہ ان کے دل غفلت میں ہیں اس (قرآن) سےاور ان کے لیے اور اعمال (خبیثہ بھی) ہیں سوائے اس (غفلت) کے کہ وہ انھیں کرنے والے ہیں (63) یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم ان کے خوشحال لوگوں کو ساتھ عذاب کے تو اس وقت وہ چیخ و پکار کریں گے (64)(انھیں کہا جائے گا) مت چیخو چلاؤ آج، یقینا تم ہمارے ہاں سے نہیں مدد کیے جاؤگے (65) تحقیق تھیں میری آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تم پر تو تھے تم اوپر اپنی ایڑیوں کے الٹے پھر جاتے (66) تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس (قرآن) کے، افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بے ہودہ گوئی کرتے تھے (67)کیا پس نہیں غور کیا انھوں نے قرآن میں یا آیا ہے ان کے پاس وہ جو نہیں آیا تھا ان کے پہلے باپ دادا کے پاس؟ (68)یا نہیں پہچانا انھوں نے اپنے رسول کو؟ پس وہ اس کے منکر ہیں (69) یا وہ کہتے ہیں ، اسے جنون ہے؟بلکہ وہ لایا ہے ان کے پاس حق اور اکثر ان کے حق کو ناپسند کرنے والے ہیں (70)اور اگر پیروی کرے حق ان کی خواہشات کی تو البتہ خراب ہو جائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس ان کی نصیحت، پس وہ اپنی نصیحت سے اعراض کرنے والے ہیں (71) [63] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے، اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت، ظلم، غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انھیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔاۙ۰۰وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍45، 46) ’’جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں ۔‘‘ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں تو وہ اپنے حسب حال کفریہ اور شریعت کے خلاف اعمال بجا لائیں گے جو ان کے لیے عذاب کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ ﴾ مگر ان کے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ﴿ هُمۡ لَهَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’جنھیں وہ کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت فراہم کررہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج كيے گئے ہیں ۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب میں منتقل ہوں گے۔ [65,64]﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡرَفِيۡهِمۡ ﴾ یعنی جب ہم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہیں ، جو صرف ناز و نعمت اور خوشحالی کے عادی ہیں اور انھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ ﴿ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’عذاب کے ساتھ‘‘ یعنی جب ہم نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا اور انھوں نے بھی عذاب کو دیکھ لیا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَجۡـَٔرُوۡنَ ﴾ تب وہ چیخنے اور چلانے لگے کیونکہ آج ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی گزشتہ حالت سے مختلف تھی۔ وہ مدد کے لیے پکارنے لگے تو ان سے کہا گیا: ﴿ لَا تَجۡـَٔرُوا الۡيَوۡمَ١۫ اِنَّـكُمۡ مِّؔنَّا لَا تُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’نہ چیخو چلاؤ آج، تم ہماری طرف سے مدد نہیں کیے جاؤ گے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نہ آئی اور اس کی جانب سے مدد منقطع ہو گئی تو وہ خود اپنی مدد کرنے پر قادر ہوئے نہ کوئی ان کی مدد کرسکا۔ [66] گویا پوچھا گیا کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے ان کو اس حال پر پہنچا یا تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ كَانَتۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’میری آیات پڑھی جاتی تھیں تم پر۔‘‘ تاکہ تم ان آیات پر ایمان لاؤ اور ان کی طرف توجہ کرو مگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ﴿ فَكُنۡتُمۡ عَلٰۤى اَعۡقَابِكُمۡ تَنۡؔكِصُوۡنَ﴾ ’’تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے کیونکہ قرآن کی اتباع کے ذریعے لوگ آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کرکے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پرجا اترتے ہیں ۔ [67]﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهۡجُرُوۡنَ ﴾ ’’تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس کے افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بیہودہ بکتے تھے۔‘‘ اصحاب تفسیر اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ ﴾ میں ضمیر بیت اللہ یا حرم کی طرف لوٹتی ہے، جو مخاطبین کے ہاں معہود (ذہن میں موجود) ہے یعنی تم حرم یا بیت اللہ کے سبب سے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں بنابریں ہم دوسروں سے اعلیٰ و افضل ہیں ۔ ﴿ سٰمِرًا ﴾ یعنی ایسی جماعت کی صورت میں جو رات کے وقت بیت اللہ کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ ﴿ تَهۡجُرُوۡنَ﴾ یعنی تم اس قرآن عظیم کے بارے میں قبیح گفتگو کرتے تھے۔پس قرآن کریم کے بارے میں اہل تکذیب کا طریقہ روگردانی پر مبنی تھا اور اسی طریقے کی وہ ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ﴾(حم السجدۃ:41؍26) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو، جب سنایا جائے تو شور مچا دیا کرو شاید کہ تم غالب رہو‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:﴿ اَفَمِنۡ هٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ تَعۡجَبُوۡنَۙ۰۰وَتَضۡحَكُوۡنَ وَلَا تَبۡكُوۡنَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ سٰؔمِدُوۡنَ ﴾(النجم:53؍59-61) ’’کیا تم اس کلام کے بارے میں تعجب کرتے ہو، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ ﴾(الطور:52؍ 33)’’کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ آپ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟‘‘ وہ ان رذائل کے جامع تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پرعذاب واجب ہوگیا اور جب یہ عذاب واقع ہوگیا تو ان کا کوئی حامی بنا جو ان کی مدد کرسکے نہ فریاد رس بنا ہوگا جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے اس وقت ان کے اعمال بد کی بنا پر ان کو زجر و توبیخ کی گئی۔ [68]﴿ اَفَلَمۡ يَدَّبَّرُوا الۡقَوۡلَ ﴾ ’’کیا انھوں نے قرآن میں غور و فکر اور تدبر نہیں کیا؟‘‘ اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر سے منع کرنے کا باعث بنتا مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن میں تدبر و تفکر ہر بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غور و فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ۔ ﴿ اَمۡ جَآءَهُمۡ مَّا لَمۡ يَاۡتِ اٰبَآءَهُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے آباء و اجداد کے پاس آئی تھی لہٰذا یہ اپنے گمراہ آباء و اجداد کی راہ پر چلنے پر راضی ہوگئے۔ جو چیز اس راہ کے خلاف تھی انھوں نے اس کی مخالفت کی لہٰذا انھوں نے اور ان جیسے دوسرے کفار نے یہی کہا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ﴾(الزخرف:43؍23) ’’اسی طرح آپ سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی ڈرانے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے ہم تو انھی کی پیروی کررہے ہیں ۔ ‘‘ اور ان کے جواب میں ہر رسول نے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰؔى مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’کیا تم اسی طریقے پر چلتے چلے جاؤ گے خواہ میں تمھیں اس راستے سے بہتر راستہ بتاؤں جس پر تم نے آباء و اجداد کوپایا ہے‘‘ اگر تمھارا مقصد حق جوئی ہے تو کیا تم اس کی پیروی کرو گے؟ اور انھوں نے اپنی نیتوں کے مطابق جواب دیا:﴿ اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’بلاشبہ تمھیں جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ [69] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ٞ اَمۡ لَمۡ يَعۡرِفُوۡا رَسُوۡلَهُمۡ فَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ﴾ ’’یا کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ وہ اس کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ یعنی کیا اس چیز نے انھیں اتباع حق سے روک رکھا ہے کہ ان کے رسول محمد مصطفیﷺ، ان کے ہاں غیر معروف ہیں اور وہ آپﷺ کو نہیں پہچانتے، اس لیے ان کو ماننے سے انکار کررہے ہیں ؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں جانتے نہ اس کی صداقت کے بارے میں ہمیں کچھ علم ہے۔ ہمیں چھوڑ دو ہم اس کے احوال کے بارے میں غور کریں اس کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کریں ۔نہیں ! ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہﷺ کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ آپ کو ان کا چھوٹا اور بڑا ہر شخص جانتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ اخلاق جمیلہ کے حامل ہیں وہ آپ کے صدق و امانت کو خوب پہچانتے ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کو بعثت سے قبل ’’الامین‘‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ جب آپ ان کے پاس حق عظیم اور صدق مبین لے کر آئے تب انھوں نے آپ کی تصدیق کیوں نہ کی؟ [70]﴿اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا وہ کہتے ہیں کہ اسے جنون لاحق ہے‘‘ اس لیے وہ ایسی باتیں کررہا ہے اور مجنون کی باتوں پر کان دھرا جاتا ہے نہ اس کی باتوں کا اعتبار ہی کیا جاتا ہے کیونکہ وہ باطل اور احمقانہ باتیں منہ سے نکالتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول (ﷺ) ان کے پاس حق (امر ثابت) لے کر آئے ہیں جو سراسر صدق و عدل پر مبنی ہے جس میں کوئی اختلاف ہے نہ تناقض۔ تب وہ شخص جو یہ چیز لے کر آیا ہو وہ کیسے پاگل ہے؟… بلکہ وہ تو علم و عقل اور مکارم اخلاق کے اعتبار سے درجہ کمال پر فائز ہے۔ اس میں گزشتہ مضمون سے انتقال ہے یعنی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے منع کیا ہے کہ آپﷺ ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ وَاَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ﴾ ’’ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے۔‘‘ اور سب سے بڑا حق جو آپﷺ ان کے پاس لے کر آئے ہیں ، اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور غیر اللہ کی عبادت کو ترک کرنا ہے اور ان کا اس بات کو ناپسند کرنا اور اس سے تعجب کرنا معلوم ہے۔پس رسول (ﷺ) کا حق لے کر آنا اور ان کا حق کو ناپسند کرنا دراصل حق کی تکذیب کرنا ہے۔ یہ کسی شک کی بنا پر ہے نہ رسولﷺ کی تکذیب کی وجہ سے بلکہ یہ انکار حق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍33) ’’یہ آپﷺ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ [71] اگر یہ کہا جائے کہ حق ان کی خواہشات نفس کے موافق کیوں نہیں تاکہ وہ ایمان لے آتے اور جلدی سے حق کی اطاعت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں جواب عطا فرمایا: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ ’’اگر حق (دین) ہی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے تو آسمانوں اور زمین کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہشات نفس ظلم، کفر اور فسادپر مبنی اخلاق و اعمال سے متعلق ہوتی ہیں ۔ پس اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو آسمان و زمین ظلم اور عدم عدل پر مبنی تدبیر و تصرف کی وجہ سے فساد کا شکار ہو جائیں ، اس لیے کہ آسمان اور زمین تو صرف حق و عدل کی بنا پر درست ہیں ۔ ﴿بَلۡ اَتَيۡنٰهُمۡ بِذِكۡرِهِمۡ﴾ یعنی ہم ان کے پاس یہ قرآن لے کر آئے جو ان کو ہر قسم کی بھلائی کی نصیحت کرتا ہے۔ یہ ان کا فخر و شرف ہے۔ اگر وہ اس کو قائم کریں گے تو لوگوں کی سیادت کریں گے۔ ﴿ فَهُمۡ عَنۡ ذِكۡرِهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’وہ اپنے ذکر (نصیحت) سے روگردانی کررہے ہیں ‘‘ اپنی بدبختی اور عدم توفیق کی وجہ سے ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمۡ ﴾(التوبہ:9؍67) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو فراموش کر دیا۔‘‘ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنۡسٰىهُمۡ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾(الحشر:59؍19) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اللہ نے ان کو اپنے تئیں بھلوا دیا۔‘‘ پس قرآن عظیم اور اس کو لانے والی ہستی سب سے بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہے مگر انھوں نے اس عظیم نعمت کو ٹھکرا دیا اور اس سے روگردانی کی۔ کیا اس ایمان سے محرومی کے بعد، اس سے بڑی کوئی حرماں نصیبی ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے انتہائی درجے کا خسارہ نہیں ؟
23:64

حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذۡنَا مُتۡرَفِيهِم بِٱلۡعَذَابِ إِذَا هُمۡ يَجۡـَٔرُونَ

بلکہ ان کے دل غفلت میں ہیں اس (قرآن) سےاور ان کے لیے اور اعمال (خبیثہ بھی) ہیں سوائے اس (غفلت) کے کہ وہ انھیں کرنے والے ہیں (63) یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم ان کے خوشحال لوگوں کو ساتھ عذاب کے تو اس وقت وہ چیخ و پکار کریں گے (64)(انھیں کہا جائے گا) مت چیخو چلاؤ آج، یقینا تم ہمارے ہاں سے نہیں مدد کیے جاؤگے (65) تحقیق تھیں میری آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تم پر تو تھے تم اوپر اپنی ایڑیوں کے الٹے پھر جاتے (66) تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس (قرآن) کے، افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بے ہودہ گوئی کرتے تھے (67)کیا پس نہیں غور کیا انھوں نے قرآن میں یا آیا ہے ان کے پاس وہ جو نہیں آیا تھا ان کے پہلے باپ دادا کے پاس؟ (68)یا نہیں پہچانا انھوں نے اپنے رسول کو؟ پس وہ اس کے منکر ہیں (69) یا وہ کہتے ہیں ، اسے جنون ہے؟بلکہ وہ لایا ہے ان کے پاس حق اور اکثر ان کے حق کو ناپسند کرنے والے ہیں (70)اور اگر پیروی کرے حق ان کی خواہشات کی تو البتہ خراب ہو جائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس ان کی نصیحت، پس وہ اپنی نصیحت سے اعراض کرنے والے ہیں (71) [63] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے، اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت، ظلم، غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انھیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔاۙ۰۰وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍45، 46) ’’جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں ۔‘‘ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں تو وہ اپنے حسب حال کفریہ اور شریعت کے خلاف اعمال بجا لائیں گے جو ان کے لیے عذاب کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ ﴾ مگر ان کے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ﴿ هُمۡ لَهَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’جنھیں وہ کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت فراہم کررہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج كيے گئے ہیں ۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب میں منتقل ہوں گے۔ [65,64]﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡرَفِيۡهِمۡ ﴾ یعنی جب ہم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہیں ، جو صرف ناز و نعمت اور خوشحالی کے عادی ہیں اور انھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ ﴿ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’عذاب کے ساتھ‘‘ یعنی جب ہم نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا اور انھوں نے بھی عذاب کو دیکھ لیا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَجۡـَٔرُوۡنَ ﴾ تب وہ چیخنے اور چلانے لگے کیونکہ آج ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی گزشتہ حالت سے مختلف تھی۔ وہ مدد کے لیے پکارنے لگے تو ان سے کہا گیا: ﴿ لَا تَجۡـَٔرُوا الۡيَوۡمَ١۫ اِنَّـكُمۡ مِّؔنَّا لَا تُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’نہ چیخو چلاؤ آج، تم ہماری طرف سے مدد نہیں کیے جاؤ گے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نہ آئی اور اس کی جانب سے مدد منقطع ہو گئی تو وہ خود اپنی مدد کرنے پر قادر ہوئے نہ کوئی ان کی مدد کرسکا۔ [66] گویا پوچھا گیا کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے ان کو اس حال پر پہنچا یا تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ كَانَتۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’میری آیات پڑھی جاتی تھیں تم پر۔‘‘ تاکہ تم ان آیات پر ایمان لاؤ اور ان کی طرف توجہ کرو مگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ﴿ فَكُنۡتُمۡ عَلٰۤى اَعۡقَابِكُمۡ تَنۡؔكِصُوۡنَ﴾ ’’تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے کیونکہ قرآن کی اتباع کے ذریعے لوگ آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کرکے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پرجا اترتے ہیں ۔ [67]﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهۡجُرُوۡنَ ﴾ ’’تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس کے افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بیہودہ بکتے تھے۔‘‘ اصحاب تفسیر اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ ﴾ میں ضمیر بیت اللہ یا حرم کی طرف لوٹتی ہے، جو مخاطبین کے ہاں معہود (ذہن میں موجود) ہے یعنی تم حرم یا بیت اللہ کے سبب سے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں بنابریں ہم دوسروں سے اعلیٰ و افضل ہیں ۔ ﴿ سٰمِرًا ﴾ یعنی ایسی جماعت کی صورت میں جو رات کے وقت بیت اللہ کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ ﴿ تَهۡجُرُوۡنَ﴾ یعنی تم اس قرآن عظیم کے بارے میں قبیح گفتگو کرتے تھے۔پس قرآن کریم کے بارے میں اہل تکذیب کا طریقہ روگردانی پر مبنی تھا اور اسی طریقے کی وہ ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ﴾(حم السجدۃ:41؍26) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو، جب سنایا جائے تو شور مچا دیا کرو شاید کہ تم غالب رہو‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:﴿ اَفَمِنۡ هٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ تَعۡجَبُوۡنَۙ۰۰وَتَضۡحَكُوۡنَ وَلَا تَبۡكُوۡنَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ سٰؔمِدُوۡنَ ﴾(النجم:53؍59-61) ’’کیا تم اس کلام کے بارے میں تعجب کرتے ہو، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ ﴾(الطور:52؍ 33)’’کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ آپ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟‘‘ وہ ان رذائل کے جامع تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پرعذاب واجب ہوگیا اور جب یہ عذاب واقع ہوگیا تو ان کا کوئی حامی بنا جو ان کی مدد کرسکے نہ فریاد رس بنا ہوگا جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے اس وقت ان کے اعمال بد کی بنا پر ان کو زجر و توبیخ کی گئی۔ [68]﴿ اَفَلَمۡ يَدَّبَّرُوا الۡقَوۡلَ ﴾ ’’کیا انھوں نے قرآن میں غور و فکر اور تدبر نہیں کیا؟‘‘ اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر سے منع کرنے کا باعث بنتا مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن میں تدبر و تفکر ہر بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غور و فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ۔ ﴿ اَمۡ جَآءَهُمۡ مَّا لَمۡ يَاۡتِ اٰبَآءَهُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے آباء و اجداد کے پاس آئی تھی لہٰذا یہ اپنے گمراہ آباء و اجداد کی راہ پر چلنے پر راضی ہوگئے۔ جو چیز اس راہ کے خلاف تھی انھوں نے اس کی مخالفت کی لہٰذا انھوں نے اور ان جیسے دوسرے کفار نے یہی کہا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ﴾(الزخرف:43؍23) ’’اسی طرح آپ سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی ڈرانے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے ہم تو انھی کی پیروی کررہے ہیں ۔ ‘‘ اور ان کے جواب میں ہر رسول نے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰؔى مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’کیا تم اسی طریقے پر چلتے چلے جاؤ گے خواہ میں تمھیں اس راستے سے بہتر راستہ بتاؤں جس پر تم نے آباء و اجداد کوپایا ہے‘‘ اگر تمھارا مقصد حق جوئی ہے تو کیا تم اس کی پیروی کرو گے؟ اور انھوں نے اپنی نیتوں کے مطابق جواب دیا:﴿ اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’بلاشبہ تمھیں جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ [69] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ٞ اَمۡ لَمۡ يَعۡرِفُوۡا رَسُوۡلَهُمۡ فَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ﴾ ’’یا کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ وہ اس کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ یعنی کیا اس چیز نے انھیں اتباع حق سے روک رکھا ہے کہ ان کے رسول محمد مصطفیﷺ، ان کے ہاں غیر معروف ہیں اور وہ آپﷺ کو نہیں پہچانتے، اس لیے ان کو ماننے سے انکار کررہے ہیں ؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں جانتے نہ اس کی صداقت کے بارے میں ہمیں کچھ علم ہے۔ ہمیں چھوڑ دو ہم اس کے احوال کے بارے میں غور کریں اس کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کریں ۔نہیں ! ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہﷺ کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ آپ کو ان کا چھوٹا اور بڑا ہر شخص جانتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ اخلاق جمیلہ کے حامل ہیں وہ آپ کے صدق و امانت کو خوب پہچانتے ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کو بعثت سے قبل ’’الامین‘‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ جب آپ ان کے پاس حق عظیم اور صدق مبین لے کر آئے تب انھوں نے آپ کی تصدیق کیوں نہ کی؟ [70]﴿اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا وہ کہتے ہیں کہ اسے جنون لاحق ہے‘‘ اس لیے وہ ایسی باتیں کررہا ہے اور مجنون کی باتوں پر کان دھرا جاتا ہے نہ اس کی باتوں کا اعتبار ہی کیا جاتا ہے کیونکہ وہ باطل اور احمقانہ باتیں منہ سے نکالتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول (ﷺ) ان کے پاس حق (امر ثابت) لے کر آئے ہیں جو سراسر صدق و عدل پر مبنی ہے جس میں کوئی اختلاف ہے نہ تناقض۔ تب وہ شخص جو یہ چیز لے کر آیا ہو وہ کیسے پاگل ہے؟… بلکہ وہ تو علم و عقل اور مکارم اخلاق کے اعتبار سے درجہ کمال پر فائز ہے۔ اس میں گزشتہ مضمون سے انتقال ہے یعنی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے منع کیا ہے کہ آپﷺ ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ وَاَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ﴾ ’’ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے۔‘‘ اور سب سے بڑا حق جو آپﷺ ان کے پاس لے کر آئے ہیں ، اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور غیر اللہ کی عبادت کو ترک کرنا ہے اور ان کا اس بات کو ناپسند کرنا اور اس سے تعجب کرنا معلوم ہے۔پس رسول (ﷺ) کا حق لے کر آنا اور ان کا حق کو ناپسند کرنا دراصل حق کی تکذیب کرنا ہے۔ یہ کسی شک کی بنا پر ہے نہ رسولﷺ کی تکذیب کی وجہ سے بلکہ یہ انکار حق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍33) ’’یہ آپﷺ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ [71] اگر یہ کہا جائے کہ حق ان کی خواہشات نفس کے موافق کیوں نہیں تاکہ وہ ایمان لے آتے اور جلدی سے حق کی اطاعت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں جواب عطا فرمایا: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ ’’اگر حق (دین) ہی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے تو آسمانوں اور زمین کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہشات نفس ظلم، کفر اور فسادپر مبنی اخلاق و اعمال سے متعلق ہوتی ہیں ۔ پس اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو آسمان و زمین ظلم اور عدم عدل پر مبنی تدبیر و تصرف کی وجہ سے فساد کا شکار ہو جائیں ، اس لیے کہ آسمان اور زمین تو صرف حق و عدل کی بنا پر درست ہیں ۔ ﴿بَلۡ اَتَيۡنٰهُمۡ بِذِكۡرِهِمۡ﴾ یعنی ہم ان کے پاس یہ قرآن لے کر آئے جو ان کو ہر قسم کی بھلائی کی نصیحت کرتا ہے۔ یہ ان کا فخر و شرف ہے۔ اگر وہ اس کو قائم کریں گے تو لوگوں کی سیادت کریں گے۔ ﴿ فَهُمۡ عَنۡ ذِكۡرِهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’وہ اپنے ذکر (نصیحت) سے روگردانی کررہے ہیں ‘‘ اپنی بدبختی اور عدم توفیق کی وجہ سے ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمۡ ﴾(التوبہ:9؍67) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو فراموش کر دیا۔‘‘ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنۡسٰىهُمۡ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾(الحشر:59؍19) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اللہ نے ان کو اپنے تئیں بھلوا دیا۔‘‘ پس قرآن عظیم اور اس کو لانے والی ہستی سب سے بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہے مگر انھوں نے اس عظیم نعمت کو ٹھکرا دیا اور اس سے روگردانی کی۔ کیا اس ایمان سے محرومی کے بعد، اس سے بڑی کوئی حرماں نصیبی ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے انتہائی درجے کا خسارہ نہیں ؟
23:65

لَا تَجۡـَٔرُواْ ٱلۡيَوۡمَۖ إِنَّكُم مِّنَّا لَا تُنصَرُونَ

بلکہ ان کے دل غفلت میں ہیں اس (قرآن) سےاور ان کے لیے اور اعمال (خبیثہ بھی) ہیں سوائے اس (غفلت) کے کہ وہ انھیں کرنے والے ہیں (63) یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم ان کے خوشحال لوگوں کو ساتھ عذاب کے تو اس وقت وہ چیخ و پکار کریں گے (64)(انھیں کہا جائے گا) مت چیخو چلاؤ آج، یقینا تم ہمارے ہاں سے نہیں مدد کیے جاؤگے (65) تحقیق تھیں میری آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تم پر تو تھے تم اوپر اپنی ایڑیوں کے الٹے پھر جاتے (66) تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس (قرآن) کے، افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بے ہودہ گوئی کرتے تھے (67)کیا پس نہیں غور کیا انھوں نے قرآن میں یا آیا ہے ان کے پاس وہ جو نہیں آیا تھا ان کے پہلے باپ دادا کے پاس؟ (68)یا نہیں پہچانا انھوں نے اپنے رسول کو؟ پس وہ اس کے منکر ہیں (69) یا وہ کہتے ہیں ، اسے جنون ہے؟بلکہ وہ لایا ہے ان کے پاس حق اور اکثر ان کے حق کو ناپسند کرنے والے ہیں (70)اور اگر پیروی کرے حق ان کی خواہشات کی تو البتہ خراب ہو جائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس ان کی نصیحت، پس وہ اپنی نصیحت سے اعراض کرنے والے ہیں (71) [63] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے، اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت، ظلم، غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انھیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔاۙ۰۰وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍45، 46) ’’جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں ۔‘‘ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں تو وہ اپنے حسب حال کفریہ اور شریعت کے خلاف اعمال بجا لائیں گے جو ان کے لیے عذاب کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ ﴾ مگر ان کے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ﴿ هُمۡ لَهَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’جنھیں وہ کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت فراہم کررہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج كيے گئے ہیں ۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب میں منتقل ہوں گے۔ [65,64]﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡرَفِيۡهِمۡ ﴾ یعنی جب ہم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہیں ، جو صرف ناز و نعمت اور خوشحالی کے عادی ہیں اور انھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ ﴿ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’عذاب کے ساتھ‘‘ یعنی جب ہم نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا اور انھوں نے بھی عذاب کو دیکھ لیا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَجۡـَٔرُوۡنَ ﴾ تب وہ چیخنے اور چلانے لگے کیونکہ آج ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی گزشتہ حالت سے مختلف تھی۔ وہ مدد کے لیے پکارنے لگے تو ان سے کہا گیا: ﴿ لَا تَجۡـَٔرُوا الۡيَوۡمَ١۫ اِنَّـكُمۡ مِّؔنَّا لَا تُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’نہ چیخو چلاؤ آج، تم ہماری طرف سے مدد نہیں کیے جاؤ گے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نہ آئی اور اس کی جانب سے مدد منقطع ہو گئی تو وہ خود اپنی مدد کرنے پر قادر ہوئے نہ کوئی ان کی مدد کرسکا۔ [66] گویا پوچھا گیا کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے ان کو اس حال پر پہنچا یا تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ كَانَتۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’میری آیات پڑھی جاتی تھیں تم پر۔‘‘ تاکہ تم ان آیات پر ایمان لاؤ اور ان کی طرف توجہ کرو مگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ﴿ فَكُنۡتُمۡ عَلٰۤى اَعۡقَابِكُمۡ تَنۡؔكِصُوۡنَ﴾ ’’تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے کیونکہ قرآن کی اتباع کے ذریعے لوگ آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کرکے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پرجا اترتے ہیں ۔ [67]﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهۡجُرُوۡنَ ﴾ ’’تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس کے افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بیہودہ بکتے تھے۔‘‘ اصحاب تفسیر اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ ﴾ میں ضمیر بیت اللہ یا حرم کی طرف لوٹتی ہے، جو مخاطبین کے ہاں معہود (ذہن میں موجود) ہے یعنی تم حرم یا بیت اللہ کے سبب سے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں بنابریں ہم دوسروں سے اعلیٰ و افضل ہیں ۔ ﴿ سٰمِرًا ﴾ یعنی ایسی جماعت کی صورت میں جو رات کے وقت بیت اللہ کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ ﴿ تَهۡجُرُوۡنَ﴾ یعنی تم اس قرآن عظیم کے بارے میں قبیح گفتگو کرتے تھے۔پس قرآن کریم کے بارے میں اہل تکذیب کا طریقہ روگردانی پر مبنی تھا اور اسی طریقے کی وہ ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ﴾(حم السجدۃ:41؍26) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو، جب سنایا جائے تو شور مچا دیا کرو شاید کہ تم غالب رہو‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:﴿ اَفَمِنۡ هٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ تَعۡجَبُوۡنَۙ۰۰وَتَضۡحَكُوۡنَ وَلَا تَبۡكُوۡنَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ سٰؔمِدُوۡنَ ﴾(النجم:53؍59-61) ’’کیا تم اس کلام کے بارے میں تعجب کرتے ہو، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ ﴾(الطور:52؍ 33)’’کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ آپ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟‘‘ وہ ان رذائل کے جامع تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پرعذاب واجب ہوگیا اور جب یہ عذاب واقع ہوگیا تو ان کا کوئی حامی بنا جو ان کی مدد کرسکے نہ فریاد رس بنا ہوگا جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے اس وقت ان کے اعمال بد کی بنا پر ان کو زجر و توبیخ کی گئی۔ [68]﴿ اَفَلَمۡ يَدَّبَّرُوا الۡقَوۡلَ ﴾ ’’کیا انھوں نے قرآن میں غور و فکر اور تدبر نہیں کیا؟‘‘ اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر سے منع کرنے کا باعث بنتا مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن میں تدبر و تفکر ہر بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غور و فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ۔ ﴿ اَمۡ جَآءَهُمۡ مَّا لَمۡ يَاۡتِ اٰبَآءَهُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے آباء و اجداد کے پاس آئی تھی لہٰذا یہ اپنے گمراہ آباء و اجداد کی راہ پر چلنے پر راضی ہوگئے۔ جو چیز اس راہ کے خلاف تھی انھوں نے اس کی مخالفت کی لہٰذا انھوں نے اور ان جیسے دوسرے کفار نے یہی کہا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ﴾(الزخرف:43؍23) ’’اسی طرح آپ سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی ڈرانے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے ہم تو انھی کی پیروی کررہے ہیں ۔ ‘‘ اور ان کے جواب میں ہر رسول نے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰؔى مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’کیا تم اسی طریقے پر چلتے چلے جاؤ گے خواہ میں تمھیں اس راستے سے بہتر راستہ بتاؤں جس پر تم نے آباء و اجداد کوپایا ہے‘‘ اگر تمھارا مقصد حق جوئی ہے تو کیا تم اس کی پیروی کرو گے؟ اور انھوں نے اپنی نیتوں کے مطابق جواب دیا:﴿ اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’بلاشبہ تمھیں جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ [69] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ٞ اَمۡ لَمۡ يَعۡرِفُوۡا رَسُوۡلَهُمۡ فَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ﴾ ’’یا کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ وہ اس کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ یعنی کیا اس چیز نے انھیں اتباع حق سے روک رکھا ہے کہ ان کے رسول محمد مصطفیﷺ، ان کے ہاں غیر معروف ہیں اور وہ آپﷺ کو نہیں پہچانتے، اس لیے ان کو ماننے سے انکار کررہے ہیں ؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں جانتے نہ اس کی صداقت کے بارے میں ہمیں کچھ علم ہے۔ ہمیں چھوڑ دو ہم اس کے احوال کے بارے میں غور کریں اس کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کریں ۔نہیں ! ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہﷺ کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ آپ کو ان کا چھوٹا اور بڑا ہر شخص جانتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ اخلاق جمیلہ کے حامل ہیں وہ آپ کے صدق و امانت کو خوب پہچانتے ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کو بعثت سے قبل ’’الامین‘‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ جب آپ ان کے پاس حق عظیم اور صدق مبین لے کر آئے تب انھوں نے آپ کی تصدیق کیوں نہ کی؟ [70]﴿اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا وہ کہتے ہیں کہ اسے جنون لاحق ہے‘‘ اس لیے وہ ایسی باتیں کررہا ہے اور مجنون کی باتوں پر کان دھرا جاتا ہے نہ اس کی باتوں کا اعتبار ہی کیا جاتا ہے کیونکہ وہ باطل اور احمقانہ باتیں منہ سے نکالتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول (ﷺ) ان کے پاس حق (امر ثابت) لے کر آئے ہیں جو سراسر صدق و عدل پر مبنی ہے جس میں کوئی اختلاف ہے نہ تناقض۔ تب وہ شخص جو یہ چیز لے کر آیا ہو وہ کیسے پاگل ہے؟… بلکہ وہ تو علم و عقل اور مکارم اخلاق کے اعتبار سے درجہ کمال پر فائز ہے۔ اس میں گزشتہ مضمون سے انتقال ہے یعنی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے منع کیا ہے کہ آپﷺ ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ وَاَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ﴾ ’’ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے۔‘‘ اور سب سے بڑا حق جو آپﷺ ان کے پاس لے کر آئے ہیں ، اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور غیر اللہ کی عبادت کو ترک کرنا ہے اور ان کا اس بات کو ناپسند کرنا اور اس سے تعجب کرنا معلوم ہے۔پس رسول (ﷺ) کا حق لے کر آنا اور ان کا حق کو ناپسند کرنا دراصل حق کی تکذیب کرنا ہے۔ یہ کسی شک کی بنا پر ہے نہ رسولﷺ کی تکذیب کی وجہ سے بلکہ یہ انکار حق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍33) ’’یہ آپﷺ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ [71] اگر یہ کہا جائے کہ حق ان کی خواہشات نفس کے موافق کیوں نہیں تاکہ وہ ایمان لے آتے اور جلدی سے حق کی اطاعت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں جواب عطا فرمایا: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ ’’اگر حق (دین) ہی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے تو آسمانوں اور زمین کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہشات نفس ظلم، کفر اور فسادپر مبنی اخلاق و اعمال سے متعلق ہوتی ہیں ۔ پس اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو آسمان و زمین ظلم اور عدم عدل پر مبنی تدبیر و تصرف کی وجہ سے فساد کا شکار ہو جائیں ، اس لیے کہ آسمان اور زمین تو صرف حق و عدل کی بنا پر درست ہیں ۔ ﴿بَلۡ اَتَيۡنٰهُمۡ بِذِكۡرِهِمۡ﴾ یعنی ہم ان کے پاس یہ قرآن لے کر آئے جو ان کو ہر قسم کی بھلائی کی نصیحت کرتا ہے۔ یہ ان کا فخر و شرف ہے۔ اگر وہ اس کو قائم کریں گے تو لوگوں کی سیادت کریں گے۔ ﴿ فَهُمۡ عَنۡ ذِكۡرِهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’وہ اپنے ذکر (نصیحت) سے روگردانی کررہے ہیں ‘‘ اپنی بدبختی اور عدم توفیق کی وجہ سے ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمۡ ﴾(التوبہ:9؍67) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو فراموش کر دیا۔‘‘ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنۡسٰىهُمۡ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾(الحشر:59؍19) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اللہ نے ان کو اپنے تئیں بھلوا دیا۔‘‘ پس قرآن عظیم اور اس کو لانے والی ہستی سب سے بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہے مگر انھوں نے اس عظیم نعمت کو ٹھکرا دیا اور اس سے روگردانی کی۔ کیا اس ایمان سے محرومی کے بعد، اس سے بڑی کوئی حرماں نصیبی ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے انتہائی درجے کا خسارہ نہیں ؟
23:66

قَدۡ كَانَتۡ ءَايَٰتِي تُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ فَكُنتُمۡ عَلَىٰٓ أَعۡقَٰبِكُمۡ تَنكِصُونَ

بلکہ ان کے دل غفلت میں ہیں اس (قرآن) سےاور ان کے لیے اور اعمال (خبیثہ بھی) ہیں سوائے اس (غفلت) کے کہ وہ انھیں کرنے والے ہیں (63) یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم ان کے خوشحال لوگوں کو ساتھ عذاب کے تو اس وقت وہ چیخ و پکار کریں گے (64)(انھیں کہا جائے گا) مت چیخو چلاؤ آج، یقینا تم ہمارے ہاں سے نہیں مدد کیے جاؤگے (65) تحقیق تھیں میری آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تم پر تو تھے تم اوپر اپنی ایڑیوں کے الٹے پھر جاتے (66) تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس (قرآن) کے، افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بے ہودہ گوئی کرتے تھے (67)کیا پس نہیں غور کیا انھوں نے قرآن میں یا آیا ہے ان کے پاس وہ جو نہیں آیا تھا ان کے پہلے باپ دادا کے پاس؟ (68)یا نہیں پہچانا انھوں نے اپنے رسول کو؟ پس وہ اس کے منکر ہیں (69) یا وہ کہتے ہیں ، اسے جنون ہے؟بلکہ وہ لایا ہے ان کے پاس حق اور اکثر ان کے حق کو ناپسند کرنے والے ہیں (70)اور اگر پیروی کرے حق ان کی خواہشات کی تو البتہ خراب ہو جائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس ان کی نصیحت، پس وہ اپنی نصیحت سے اعراض کرنے والے ہیں (71) [63] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے، اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت، ظلم، غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انھیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔاۙ۰۰وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍45، 46) ’’جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں ۔‘‘ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں تو وہ اپنے حسب حال کفریہ اور شریعت کے خلاف اعمال بجا لائیں گے جو ان کے لیے عذاب کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ ﴾ مگر ان کے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ﴿ هُمۡ لَهَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’جنھیں وہ کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت فراہم کررہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج كيے گئے ہیں ۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب میں منتقل ہوں گے۔ [65,64]﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡرَفِيۡهِمۡ ﴾ یعنی جب ہم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہیں ، جو صرف ناز و نعمت اور خوشحالی کے عادی ہیں اور انھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ ﴿ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’عذاب کے ساتھ‘‘ یعنی جب ہم نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا اور انھوں نے بھی عذاب کو دیکھ لیا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَجۡـَٔرُوۡنَ ﴾ تب وہ چیخنے اور چلانے لگے کیونکہ آج ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی گزشتہ حالت سے مختلف تھی۔ وہ مدد کے لیے پکارنے لگے تو ان سے کہا گیا: ﴿ لَا تَجۡـَٔرُوا الۡيَوۡمَ١۫ اِنَّـكُمۡ مِّؔنَّا لَا تُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’نہ چیخو چلاؤ آج، تم ہماری طرف سے مدد نہیں کیے جاؤ گے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نہ آئی اور اس کی جانب سے مدد منقطع ہو گئی تو وہ خود اپنی مدد کرنے پر قادر ہوئے نہ کوئی ان کی مدد کرسکا۔ [66] گویا پوچھا گیا کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے ان کو اس حال پر پہنچا یا تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ كَانَتۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’میری آیات پڑھی جاتی تھیں تم پر۔‘‘ تاکہ تم ان آیات پر ایمان لاؤ اور ان کی طرف توجہ کرو مگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ﴿ فَكُنۡتُمۡ عَلٰۤى اَعۡقَابِكُمۡ تَنۡؔكِصُوۡنَ﴾ ’’تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے کیونکہ قرآن کی اتباع کے ذریعے لوگ آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کرکے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پرجا اترتے ہیں ۔ [67]﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهۡجُرُوۡنَ ﴾ ’’تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس کے افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بیہودہ بکتے تھے۔‘‘ اصحاب تفسیر اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ ﴾ میں ضمیر بیت اللہ یا حرم کی طرف لوٹتی ہے، جو مخاطبین کے ہاں معہود (ذہن میں موجود) ہے یعنی تم حرم یا بیت اللہ کے سبب سے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں بنابریں ہم دوسروں سے اعلیٰ و افضل ہیں ۔ ﴿ سٰمِرًا ﴾ یعنی ایسی جماعت کی صورت میں جو رات کے وقت بیت اللہ کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ ﴿ تَهۡجُرُوۡنَ﴾ یعنی تم اس قرآن عظیم کے بارے میں قبیح گفتگو کرتے تھے۔پس قرآن کریم کے بارے میں اہل تکذیب کا طریقہ روگردانی پر مبنی تھا اور اسی طریقے کی وہ ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ﴾(حم السجدۃ:41؍26) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو، جب سنایا جائے تو شور مچا دیا کرو شاید کہ تم غالب رہو‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:﴿ اَفَمِنۡ هٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ تَعۡجَبُوۡنَۙ۰۰وَتَضۡحَكُوۡنَ وَلَا تَبۡكُوۡنَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ سٰؔمِدُوۡنَ ﴾(النجم:53؍59-61) ’’کیا تم اس کلام کے بارے میں تعجب کرتے ہو، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ ﴾(الطور:52؍ 33)’’کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ آپ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟‘‘ وہ ان رذائل کے جامع تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پرعذاب واجب ہوگیا اور جب یہ عذاب واقع ہوگیا تو ان کا کوئی حامی بنا جو ان کی مدد کرسکے نہ فریاد رس بنا ہوگا جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے اس وقت ان کے اعمال بد کی بنا پر ان کو زجر و توبیخ کی گئی۔ [68]﴿ اَفَلَمۡ يَدَّبَّرُوا الۡقَوۡلَ ﴾ ’’کیا انھوں نے قرآن میں غور و فکر اور تدبر نہیں کیا؟‘‘ اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر سے منع کرنے کا باعث بنتا مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن میں تدبر و تفکر ہر بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غور و فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ۔ ﴿ اَمۡ جَآءَهُمۡ مَّا لَمۡ يَاۡتِ اٰبَآءَهُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے آباء و اجداد کے پاس آئی تھی لہٰذا یہ اپنے گمراہ آباء و اجداد کی راہ پر چلنے پر راضی ہوگئے۔ جو چیز اس راہ کے خلاف تھی انھوں نے اس کی مخالفت کی لہٰذا انھوں نے اور ان جیسے دوسرے کفار نے یہی کہا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ﴾(الزخرف:43؍23) ’’اسی طرح آپ سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی ڈرانے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے ہم تو انھی کی پیروی کررہے ہیں ۔ ‘‘ اور ان کے جواب میں ہر رسول نے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰؔى مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’کیا تم اسی طریقے پر چلتے چلے جاؤ گے خواہ میں تمھیں اس راستے سے بہتر راستہ بتاؤں جس پر تم نے آباء و اجداد کوپایا ہے‘‘ اگر تمھارا مقصد حق جوئی ہے تو کیا تم اس کی پیروی کرو گے؟ اور انھوں نے اپنی نیتوں کے مطابق جواب دیا:﴿ اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’بلاشبہ تمھیں جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ [69] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ٞ اَمۡ لَمۡ يَعۡرِفُوۡا رَسُوۡلَهُمۡ فَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ﴾ ’’یا کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ وہ اس کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ یعنی کیا اس چیز نے انھیں اتباع حق سے روک رکھا ہے کہ ان کے رسول محمد مصطفیﷺ، ان کے ہاں غیر معروف ہیں اور وہ آپﷺ کو نہیں پہچانتے، اس لیے ان کو ماننے سے انکار کررہے ہیں ؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں جانتے نہ اس کی صداقت کے بارے میں ہمیں کچھ علم ہے۔ ہمیں چھوڑ دو ہم اس کے احوال کے بارے میں غور کریں اس کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کریں ۔نہیں ! ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہﷺ کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ آپ کو ان کا چھوٹا اور بڑا ہر شخص جانتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ اخلاق جمیلہ کے حامل ہیں وہ آپ کے صدق و امانت کو خوب پہچانتے ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کو بعثت سے قبل ’’الامین‘‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ جب آپ ان کے پاس حق عظیم اور صدق مبین لے کر آئے تب انھوں نے آپ کی تصدیق کیوں نہ کی؟ [70]﴿اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا وہ کہتے ہیں کہ اسے جنون لاحق ہے‘‘ اس لیے وہ ایسی باتیں کررہا ہے اور مجنون کی باتوں پر کان دھرا جاتا ہے نہ اس کی باتوں کا اعتبار ہی کیا جاتا ہے کیونکہ وہ باطل اور احمقانہ باتیں منہ سے نکالتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول (ﷺ) ان کے پاس حق (امر ثابت) لے کر آئے ہیں جو سراسر صدق و عدل پر مبنی ہے جس میں کوئی اختلاف ہے نہ تناقض۔ تب وہ شخص جو یہ چیز لے کر آیا ہو وہ کیسے پاگل ہے؟… بلکہ وہ تو علم و عقل اور مکارم اخلاق کے اعتبار سے درجہ کمال پر فائز ہے۔ اس میں گزشتہ مضمون سے انتقال ہے یعنی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے منع کیا ہے کہ آپﷺ ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ وَاَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ﴾ ’’ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے۔‘‘ اور سب سے بڑا حق جو آپﷺ ان کے پاس لے کر آئے ہیں ، اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور غیر اللہ کی عبادت کو ترک کرنا ہے اور ان کا اس بات کو ناپسند کرنا اور اس سے تعجب کرنا معلوم ہے۔پس رسول (ﷺ) کا حق لے کر آنا اور ان کا حق کو ناپسند کرنا دراصل حق کی تکذیب کرنا ہے۔ یہ کسی شک کی بنا پر ہے نہ رسولﷺ کی تکذیب کی وجہ سے بلکہ یہ انکار حق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍33) ’’یہ آپﷺ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ [71] اگر یہ کہا جائے کہ حق ان کی خواہشات نفس کے موافق کیوں نہیں تاکہ وہ ایمان لے آتے اور جلدی سے حق کی اطاعت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں جواب عطا فرمایا: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ ’’اگر حق (دین) ہی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے تو آسمانوں اور زمین کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہشات نفس ظلم، کفر اور فسادپر مبنی اخلاق و اعمال سے متعلق ہوتی ہیں ۔ پس اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو آسمان و زمین ظلم اور عدم عدل پر مبنی تدبیر و تصرف کی وجہ سے فساد کا شکار ہو جائیں ، اس لیے کہ آسمان اور زمین تو صرف حق و عدل کی بنا پر درست ہیں ۔ ﴿بَلۡ اَتَيۡنٰهُمۡ بِذِكۡرِهِمۡ﴾ یعنی ہم ان کے پاس یہ قرآن لے کر آئے جو ان کو ہر قسم کی بھلائی کی نصیحت کرتا ہے۔ یہ ان کا فخر و شرف ہے۔ اگر وہ اس کو قائم کریں گے تو لوگوں کی سیادت کریں گے۔ ﴿ فَهُمۡ عَنۡ ذِكۡرِهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’وہ اپنے ذکر (نصیحت) سے روگردانی کررہے ہیں ‘‘ اپنی بدبختی اور عدم توفیق کی وجہ سے ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمۡ ﴾(التوبہ:9؍67) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو فراموش کر دیا۔‘‘ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنۡسٰىهُمۡ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾(الحشر:59؍19) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اللہ نے ان کو اپنے تئیں بھلوا دیا۔‘‘ پس قرآن عظیم اور اس کو لانے والی ہستی سب سے بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہے مگر انھوں نے اس عظیم نعمت کو ٹھکرا دیا اور اس سے روگردانی کی۔ کیا اس ایمان سے محرومی کے بعد، اس سے بڑی کوئی حرماں نصیبی ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے انتہائی درجے کا خسارہ نہیں ؟
23:67

مُسۡتَكۡبِرِينَ بِهِۦ سَٰمِرٗا تَهۡجُرُونَ

بلکہ ان کے دل غفلت میں ہیں اس (قرآن) سےاور ان کے لیے اور اعمال (خبیثہ بھی) ہیں سوائے اس (غفلت) کے کہ وہ انھیں کرنے والے ہیں (63) یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم ان کے خوشحال لوگوں کو ساتھ عذاب کے تو اس وقت وہ چیخ و پکار کریں گے (64)(انھیں کہا جائے گا) مت چیخو چلاؤ آج، یقینا تم ہمارے ہاں سے نہیں مدد کیے جاؤگے (65) تحقیق تھیں میری آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تم پر تو تھے تم اوپر اپنی ایڑیوں کے الٹے پھر جاتے (66) تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس (قرآن) کے، افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بے ہودہ گوئی کرتے تھے (67)کیا پس نہیں غور کیا انھوں نے قرآن میں یا آیا ہے ان کے پاس وہ جو نہیں آیا تھا ان کے پہلے باپ دادا کے پاس؟ (68)یا نہیں پہچانا انھوں نے اپنے رسول کو؟ پس وہ اس کے منکر ہیں (69) یا وہ کہتے ہیں ، اسے جنون ہے؟بلکہ وہ لایا ہے ان کے پاس حق اور اکثر ان کے حق کو ناپسند کرنے والے ہیں (70)اور اگر پیروی کرے حق ان کی خواہشات کی تو البتہ خراب ہو جائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس ان کی نصیحت، پس وہ اپنی نصیحت سے اعراض کرنے والے ہیں (71) [63] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے، اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت، ظلم، غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انھیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔاۙ۰۰وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍45، 46) ’’جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں ۔‘‘ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں تو وہ اپنے حسب حال کفریہ اور شریعت کے خلاف اعمال بجا لائیں گے جو ان کے لیے عذاب کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ ﴾ مگر ان کے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ﴿ هُمۡ لَهَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’جنھیں وہ کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت فراہم کررہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج كيے گئے ہیں ۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب میں منتقل ہوں گے۔ [65,64]﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡرَفِيۡهِمۡ ﴾ یعنی جب ہم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہیں ، جو صرف ناز و نعمت اور خوشحالی کے عادی ہیں اور انھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ ﴿ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’عذاب کے ساتھ‘‘ یعنی جب ہم نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا اور انھوں نے بھی عذاب کو دیکھ لیا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَجۡـَٔرُوۡنَ ﴾ تب وہ چیخنے اور چلانے لگے کیونکہ آج ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی گزشتہ حالت سے مختلف تھی۔ وہ مدد کے لیے پکارنے لگے تو ان سے کہا گیا: ﴿ لَا تَجۡـَٔرُوا الۡيَوۡمَ١۫ اِنَّـكُمۡ مِّؔنَّا لَا تُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’نہ چیخو چلاؤ آج، تم ہماری طرف سے مدد نہیں کیے جاؤ گے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نہ آئی اور اس کی جانب سے مدد منقطع ہو گئی تو وہ خود اپنی مدد کرنے پر قادر ہوئے نہ کوئی ان کی مدد کرسکا۔ [66] گویا پوچھا گیا کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے ان کو اس حال پر پہنچا یا تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ كَانَتۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’میری آیات پڑھی جاتی تھیں تم پر۔‘‘ تاکہ تم ان آیات پر ایمان لاؤ اور ان کی طرف توجہ کرو مگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ﴿ فَكُنۡتُمۡ عَلٰۤى اَعۡقَابِكُمۡ تَنۡؔكِصُوۡنَ﴾ ’’تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے کیونکہ قرآن کی اتباع کے ذریعے لوگ آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کرکے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پرجا اترتے ہیں ۔ [67]﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهۡجُرُوۡنَ ﴾ ’’تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس کے افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بیہودہ بکتے تھے۔‘‘ اصحاب تفسیر اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ ﴾ میں ضمیر بیت اللہ یا حرم کی طرف لوٹتی ہے، جو مخاطبین کے ہاں معہود (ذہن میں موجود) ہے یعنی تم حرم یا بیت اللہ کے سبب سے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں بنابریں ہم دوسروں سے اعلیٰ و افضل ہیں ۔ ﴿ سٰمِرًا ﴾ یعنی ایسی جماعت کی صورت میں جو رات کے وقت بیت اللہ کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ ﴿ تَهۡجُرُوۡنَ﴾ یعنی تم اس قرآن عظیم کے بارے میں قبیح گفتگو کرتے تھے۔پس قرآن کریم کے بارے میں اہل تکذیب کا طریقہ روگردانی پر مبنی تھا اور اسی طریقے کی وہ ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ﴾(حم السجدۃ:41؍26) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو، جب سنایا جائے تو شور مچا دیا کرو شاید کہ تم غالب رہو‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:﴿ اَفَمِنۡ هٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ تَعۡجَبُوۡنَۙ۰۰وَتَضۡحَكُوۡنَ وَلَا تَبۡكُوۡنَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ سٰؔمِدُوۡنَ ﴾(النجم:53؍59-61) ’’کیا تم اس کلام کے بارے میں تعجب کرتے ہو، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ ﴾(الطور:52؍ 33)’’کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ آپ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟‘‘ وہ ان رذائل کے جامع تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پرعذاب واجب ہوگیا اور جب یہ عذاب واقع ہوگیا تو ان کا کوئی حامی بنا جو ان کی مدد کرسکے نہ فریاد رس بنا ہوگا جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے اس وقت ان کے اعمال بد کی بنا پر ان کو زجر و توبیخ کی گئی۔ [68]﴿ اَفَلَمۡ يَدَّبَّرُوا الۡقَوۡلَ ﴾ ’’کیا انھوں نے قرآن میں غور و فکر اور تدبر نہیں کیا؟‘‘ اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر سے منع کرنے کا باعث بنتا مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن میں تدبر و تفکر ہر بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غور و فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ۔ ﴿ اَمۡ جَآءَهُمۡ مَّا لَمۡ يَاۡتِ اٰبَآءَهُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے آباء و اجداد کے پاس آئی تھی لہٰذا یہ اپنے گمراہ آباء و اجداد کی راہ پر چلنے پر راضی ہوگئے۔ جو چیز اس راہ کے خلاف تھی انھوں نے اس کی مخالفت کی لہٰذا انھوں نے اور ان جیسے دوسرے کفار نے یہی کہا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ﴾(الزخرف:43؍23) ’’اسی طرح آپ سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی ڈرانے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے ہم تو انھی کی پیروی کررہے ہیں ۔ ‘‘ اور ان کے جواب میں ہر رسول نے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰؔى مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’کیا تم اسی طریقے پر چلتے چلے جاؤ گے خواہ میں تمھیں اس راستے سے بہتر راستہ بتاؤں جس پر تم نے آباء و اجداد کوپایا ہے‘‘ اگر تمھارا مقصد حق جوئی ہے تو کیا تم اس کی پیروی کرو گے؟ اور انھوں نے اپنی نیتوں کے مطابق جواب دیا:﴿ اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’بلاشبہ تمھیں جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ [69] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ٞ اَمۡ لَمۡ يَعۡرِفُوۡا رَسُوۡلَهُمۡ فَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ﴾ ’’یا کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ وہ اس کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ یعنی کیا اس چیز نے انھیں اتباع حق سے روک رکھا ہے کہ ان کے رسول محمد مصطفیﷺ، ان کے ہاں غیر معروف ہیں اور وہ آپﷺ کو نہیں پہچانتے، اس لیے ان کو ماننے سے انکار کررہے ہیں ؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں جانتے نہ اس کی صداقت کے بارے میں ہمیں کچھ علم ہے۔ ہمیں چھوڑ دو ہم اس کے احوال کے بارے میں غور کریں اس کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کریں ۔نہیں ! ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہﷺ کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ آپ کو ان کا چھوٹا اور بڑا ہر شخص جانتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ اخلاق جمیلہ کے حامل ہیں وہ آپ کے صدق و امانت کو خوب پہچانتے ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کو بعثت سے قبل ’’الامین‘‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ جب آپ ان کے پاس حق عظیم اور صدق مبین لے کر آئے تب انھوں نے آپ کی تصدیق کیوں نہ کی؟ [70]﴿اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا وہ کہتے ہیں کہ اسے جنون لاحق ہے‘‘ اس لیے وہ ایسی باتیں کررہا ہے اور مجنون کی باتوں پر کان دھرا جاتا ہے نہ اس کی باتوں کا اعتبار ہی کیا جاتا ہے کیونکہ وہ باطل اور احمقانہ باتیں منہ سے نکالتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول (ﷺ) ان کے پاس حق (امر ثابت) لے کر آئے ہیں جو سراسر صدق و عدل پر مبنی ہے جس میں کوئی اختلاف ہے نہ تناقض۔ تب وہ شخص جو یہ چیز لے کر آیا ہو وہ کیسے پاگل ہے؟… بلکہ وہ تو علم و عقل اور مکارم اخلاق کے اعتبار سے درجہ کمال پر فائز ہے۔ اس میں گزشتہ مضمون سے انتقال ہے یعنی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے منع کیا ہے کہ آپﷺ ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ وَاَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ﴾ ’’ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے۔‘‘ اور سب سے بڑا حق جو آپﷺ ان کے پاس لے کر آئے ہیں ، اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور غیر اللہ کی عبادت کو ترک کرنا ہے اور ان کا اس بات کو ناپسند کرنا اور اس سے تعجب کرنا معلوم ہے۔پس رسول (ﷺ) کا حق لے کر آنا اور ان کا حق کو ناپسند کرنا دراصل حق کی تکذیب کرنا ہے۔ یہ کسی شک کی بنا پر ہے نہ رسولﷺ کی تکذیب کی وجہ سے بلکہ یہ انکار حق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍33) ’’یہ آپﷺ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ [71] اگر یہ کہا جائے کہ حق ان کی خواہشات نفس کے موافق کیوں نہیں تاکہ وہ ایمان لے آتے اور جلدی سے حق کی اطاعت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں جواب عطا فرمایا: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ ’’اگر حق (دین) ہی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے تو آسمانوں اور زمین کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہشات نفس ظلم، کفر اور فسادپر مبنی اخلاق و اعمال سے متعلق ہوتی ہیں ۔ پس اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو آسمان و زمین ظلم اور عدم عدل پر مبنی تدبیر و تصرف کی وجہ سے فساد کا شکار ہو جائیں ، اس لیے کہ آسمان اور زمین تو صرف حق و عدل کی بنا پر درست ہیں ۔ ﴿بَلۡ اَتَيۡنٰهُمۡ بِذِكۡرِهِمۡ﴾ یعنی ہم ان کے پاس یہ قرآن لے کر آئے جو ان کو ہر قسم کی بھلائی کی نصیحت کرتا ہے۔ یہ ان کا فخر و شرف ہے۔ اگر وہ اس کو قائم کریں گے تو لوگوں کی سیادت کریں گے۔ ﴿ فَهُمۡ عَنۡ ذِكۡرِهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’وہ اپنے ذکر (نصیحت) سے روگردانی کررہے ہیں ‘‘ اپنی بدبختی اور عدم توفیق کی وجہ سے ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمۡ ﴾(التوبہ:9؍67) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو فراموش کر دیا۔‘‘ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنۡسٰىهُمۡ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾(الحشر:59؍19) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اللہ نے ان کو اپنے تئیں بھلوا دیا۔‘‘ پس قرآن عظیم اور اس کو لانے والی ہستی سب سے بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہے مگر انھوں نے اس عظیم نعمت کو ٹھکرا دیا اور اس سے روگردانی کی۔ کیا اس ایمان سے محرومی کے بعد، اس سے بڑی کوئی حرماں نصیبی ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے انتہائی درجے کا خسارہ نہیں ؟
23:68

أَفَلَمۡ يَدَّبَّرُواْ ٱلۡقَوۡلَ أَمۡ جَآءَهُم مَّا لَمۡ يَأۡتِ ءَابَآءَهُمُ ٱلۡأَوَّلِينَ

بلکہ ان کے دل غفلت میں ہیں اس (قرآن) سےاور ان کے لیے اور اعمال (خبیثہ بھی) ہیں سوائے اس (غفلت) کے کہ وہ انھیں کرنے والے ہیں (63) یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم ان کے خوشحال لوگوں کو ساتھ عذاب کے تو اس وقت وہ چیخ و پکار کریں گے (64)(انھیں کہا جائے گا) مت چیخو چلاؤ آج، یقینا تم ہمارے ہاں سے نہیں مدد کیے جاؤگے (65) تحقیق تھیں میری آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تم پر تو تھے تم اوپر اپنی ایڑیوں کے الٹے پھر جاتے (66) تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس (قرآن) کے، افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بے ہودہ گوئی کرتے تھے (67)کیا پس نہیں غور کیا انھوں نے قرآن میں یا آیا ہے ان کے پاس وہ جو نہیں آیا تھا ان کے پہلے باپ دادا کے پاس؟ (68)یا نہیں پہچانا انھوں نے اپنے رسول کو؟ پس وہ اس کے منکر ہیں (69) یا وہ کہتے ہیں ، اسے جنون ہے؟بلکہ وہ لایا ہے ان کے پاس حق اور اکثر ان کے حق کو ناپسند کرنے والے ہیں (70)اور اگر پیروی کرے حق ان کی خواہشات کی تو البتہ خراب ہو جائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس ان کی نصیحت، پس وہ اپنی نصیحت سے اعراض کرنے والے ہیں (71) [63] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے، اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت، ظلم، غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انھیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔاۙ۰۰وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍45، 46) ’’جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں ۔‘‘ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں تو وہ اپنے حسب حال کفریہ اور شریعت کے خلاف اعمال بجا لائیں گے جو ان کے لیے عذاب کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ ﴾ مگر ان کے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ﴿ هُمۡ لَهَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’جنھیں وہ کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت فراہم کررہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج كيے گئے ہیں ۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب میں منتقل ہوں گے۔ [65,64]﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡرَفِيۡهِمۡ ﴾ یعنی جب ہم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہیں ، جو صرف ناز و نعمت اور خوشحالی کے عادی ہیں اور انھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ ﴿ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’عذاب کے ساتھ‘‘ یعنی جب ہم نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا اور انھوں نے بھی عذاب کو دیکھ لیا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَجۡـَٔرُوۡنَ ﴾ تب وہ چیخنے اور چلانے لگے کیونکہ آج ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی گزشتہ حالت سے مختلف تھی۔ وہ مدد کے لیے پکارنے لگے تو ان سے کہا گیا: ﴿ لَا تَجۡـَٔرُوا الۡيَوۡمَ١۫ اِنَّـكُمۡ مِّؔنَّا لَا تُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’نہ چیخو چلاؤ آج، تم ہماری طرف سے مدد نہیں کیے جاؤ گے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نہ آئی اور اس کی جانب سے مدد منقطع ہو گئی تو وہ خود اپنی مدد کرنے پر قادر ہوئے نہ کوئی ان کی مدد کرسکا۔ [66] گویا پوچھا گیا کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے ان کو اس حال پر پہنچا یا تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ كَانَتۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’میری آیات پڑھی جاتی تھیں تم پر۔‘‘ تاکہ تم ان آیات پر ایمان لاؤ اور ان کی طرف توجہ کرو مگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ﴿ فَكُنۡتُمۡ عَلٰۤى اَعۡقَابِكُمۡ تَنۡؔكِصُوۡنَ﴾ ’’تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے کیونکہ قرآن کی اتباع کے ذریعے لوگ آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کرکے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پرجا اترتے ہیں ۔ [67]﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهۡجُرُوۡنَ ﴾ ’’تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس کے افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بیہودہ بکتے تھے۔‘‘ اصحاب تفسیر اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ ﴾ میں ضمیر بیت اللہ یا حرم کی طرف لوٹتی ہے، جو مخاطبین کے ہاں معہود (ذہن میں موجود) ہے یعنی تم حرم یا بیت اللہ کے سبب سے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں بنابریں ہم دوسروں سے اعلیٰ و افضل ہیں ۔ ﴿ سٰمِرًا ﴾ یعنی ایسی جماعت کی صورت میں جو رات کے وقت بیت اللہ کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ ﴿ تَهۡجُرُوۡنَ﴾ یعنی تم اس قرآن عظیم کے بارے میں قبیح گفتگو کرتے تھے۔پس قرآن کریم کے بارے میں اہل تکذیب کا طریقہ روگردانی پر مبنی تھا اور اسی طریقے کی وہ ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ﴾(حم السجدۃ:41؍26) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو، جب سنایا جائے تو شور مچا دیا کرو شاید کہ تم غالب رہو‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:﴿ اَفَمِنۡ هٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ تَعۡجَبُوۡنَۙ۰۰وَتَضۡحَكُوۡنَ وَلَا تَبۡكُوۡنَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ سٰؔمِدُوۡنَ ﴾(النجم:53؍59-61) ’’کیا تم اس کلام کے بارے میں تعجب کرتے ہو، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ ﴾(الطور:52؍ 33)’’کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ آپ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟‘‘ وہ ان رذائل کے جامع تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پرعذاب واجب ہوگیا اور جب یہ عذاب واقع ہوگیا تو ان کا کوئی حامی بنا جو ان کی مدد کرسکے نہ فریاد رس بنا ہوگا جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے اس وقت ان کے اعمال بد کی بنا پر ان کو زجر و توبیخ کی گئی۔ [68]﴿ اَفَلَمۡ يَدَّبَّرُوا الۡقَوۡلَ ﴾ ’’کیا انھوں نے قرآن میں غور و فکر اور تدبر نہیں کیا؟‘‘ اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر سے منع کرنے کا باعث بنتا مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن میں تدبر و تفکر ہر بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غور و فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ۔ ﴿ اَمۡ جَآءَهُمۡ مَّا لَمۡ يَاۡتِ اٰبَآءَهُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے آباء و اجداد کے پاس آئی تھی لہٰذا یہ اپنے گمراہ آباء و اجداد کی راہ پر چلنے پر راضی ہوگئے۔ جو چیز اس راہ کے خلاف تھی انھوں نے اس کی مخالفت کی لہٰذا انھوں نے اور ان جیسے دوسرے کفار نے یہی کہا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ﴾(الزخرف:43؍23) ’’اسی طرح آپ سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی ڈرانے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے ہم تو انھی کی پیروی کررہے ہیں ۔ ‘‘ اور ان کے جواب میں ہر رسول نے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰؔى مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’کیا تم اسی طریقے پر چلتے چلے جاؤ گے خواہ میں تمھیں اس راستے سے بہتر راستہ بتاؤں جس پر تم نے آباء و اجداد کوپایا ہے‘‘ اگر تمھارا مقصد حق جوئی ہے تو کیا تم اس کی پیروی کرو گے؟ اور انھوں نے اپنی نیتوں کے مطابق جواب دیا:﴿ اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’بلاشبہ تمھیں جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ [69] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ٞ اَمۡ لَمۡ يَعۡرِفُوۡا رَسُوۡلَهُمۡ فَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ﴾ ’’یا کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ وہ اس کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ یعنی کیا اس چیز نے انھیں اتباع حق سے روک رکھا ہے کہ ان کے رسول محمد مصطفیﷺ، ان کے ہاں غیر معروف ہیں اور وہ آپﷺ کو نہیں پہچانتے، اس لیے ان کو ماننے سے انکار کررہے ہیں ؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں جانتے نہ اس کی صداقت کے بارے میں ہمیں کچھ علم ہے۔ ہمیں چھوڑ دو ہم اس کے احوال کے بارے میں غور کریں اس کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کریں ۔نہیں ! ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہﷺ کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ آپ کو ان کا چھوٹا اور بڑا ہر شخص جانتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ اخلاق جمیلہ کے حامل ہیں وہ آپ کے صدق و امانت کو خوب پہچانتے ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کو بعثت سے قبل ’’الامین‘‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ جب آپ ان کے پاس حق عظیم اور صدق مبین لے کر آئے تب انھوں نے آپ کی تصدیق کیوں نہ کی؟ [70]﴿اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا وہ کہتے ہیں کہ اسے جنون لاحق ہے‘‘ اس لیے وہ ایسی باتیں کررہا ہے اور مجنون کی باتوں پر کان دھرا جاتا ہے نہ اس کی باتوں کا اعتبار ہی کیا جاتا ہے کیونکہ وہ باطل اور احمقانہ باتیں منہ سے نکالتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول (ﷺ) ان کے پاس حق (امر ثابت) لے کر آئے ہیں جو سراسر صدق و عدل پر مبنی ہے جس میں کوئی اختلاف ہے نہ تناقض۔ تب وہ شخص جو یہ چیز لے کر آیا ہو وہ کیسے پاگل ہے؟… بلکہ وہ تو علم و عقل اور مکارم اخلاق کے اعتبار سے درجہ کمال پر فائز ہے۔ اس میں گزشتہ مضمون سے انتقال ہے یعنی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے منع کیا ہے کہ آپﷺ ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ وَاَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ﴾ ’’ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے۔‘‘ اور سب سے بڑا حق جو آپﷺ ان کے پاس لے کر آئے ہیں ، اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور غیر اللہ کی عبادت کو ترک کرنا ہے اور ان کا اس بات کو ناپسند کرنا اور اس سے تعجب کرنا معلوم ہے۔پس رسول (ﷺ) کا حق لے کر آنا اور ان کا حق کو ناپسند کرنا دراصل حق کی تکذیب کرنا ہے۔ یہ کسی شک کی بنا پر ہے نہ رسولﷺ کی تکذیب کی وجہ سے بلکہ یہ انکار حق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍33) ’’یہ آپﷺ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ [71] اگر یہ کہا جائے کہ حق ان کی خواہشات نفس کے موافق کیوں نہیں تاکہ وہ ایمان لے آتے اور جلدی سے حق کی اطاعت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں جواب عطا فرمایا: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ ’’اگر حق (دین) ہی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے تو آسمانوں اور زمین کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہشات نفس ظلم، کفر اور فسادپر مبنی اخلاق و اعمال سے متعلق ہوتی ہیں ۔ پس اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو آسمان و زمین ظلم اور عدم عدل پر مبنی تدبیر و تصرف کی وجہ سے فساد کا شکار ہو جائیں ، اس لیے کہ آسمان اور زمین تو صرف حق و عدل کی بنا پر درست ہیں ۔ ﴿بَلۡ اَتَيۡنٰهُمۡ بِذِكۡرِهِمۡ﴾ یعنی ہم ان کے پاس یہ قرآن لے کر آئے جو ان کو ہر قسم کی بھلائی کی نصیحت کرتا ہے۔ یہ ان کا فخر و شرف ہے۔ اگر وہ اس کو قائم کریں گے تو لوگوں کی سیادت کریں گے۔ ﴿ فَهُمۡ عَنۡ ذِكۡرِهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’وہ اپنے ذکر (نصیحت) سے روگردانی کررہے ہیں ‘‘ اپنی بدبختی اور عدم توفیق کی وجہ سے ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمۡ ﴾(التوبہ:9؍67) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو فراموش کر دیا۔‘‘ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنۡسٰىهُمۡ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾(الحشر:59؍19) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اللہ نے ان کو اپنے تئیں بھلوا دیا۔‘‘ پس قرآن عظیم اور اس کو لانے والی ہستی سب سے بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہے مگر انھوں نے اس عظیم نعمت کو ٹھکرا دیا اور اس سے روگردانی کی۔ کیا اس ایمان سے محرومی کے بعد، اس سے بڑی کوئی حرماں نصیبی ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے انتہائی درجے کا خسارہ نہیں ؟
23:69

أَمۡ لَمۡ يَعۡرِفُواْ رَسُولَهُمۡ فَهُمۡ لَهُۥ مُنكِرُونَ

بلکہ ان کے دل غفلت میں ہیں اس (قرآن) سےاور ان کے لیے اور اعمال (خبیثہ بھی) ہیں سوائے اس (غفلت) کے کہ وہ انھیں کرنے والے ہیں (63) یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم ان کے خوشحال لوگوں کو ساتھ عذاب کے تو اس وقت وہ چیخ و پکار کریں گے (64)(انھیں کہا جائے گا) مت چیخو چلاؤ آج، یقینا تم ہمارے ہاں سے نہیں مدد کیے جاؤگے (65) تحقیق تھیں میری آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تم پر تو تھے تم اوپر اپنی ایڑیوں کے الٹے پھر جاتے (66) تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس (قرآن) کے، افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بے ہودہ گوئی کرتے تھے (67)کیا پس نہیں غور کیا انھوں نے قرآن میں یا آیا ہے ان کے پاس وہ جو نہیں آیا تھا ان کے پہلے باپ دادا کے پاس؟ (68)یا نہیں پہچانا انھوں نے اپنے رسول کو؟ پس وہ اس کے منکر ہیں (69) یا وہ کہتے ہیں ، اسے جنون ہے؟بلکہ وہ لایا ہے ان کے پاس حق اور اکثر ان کے حق کو ناپسند کرنے والے ہیں (70)اور اگر پیروی کرے حق ان کی خواہشات کی تو البتہ خراب ہو جائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس ان کی نصیحت، پس وہ اپنی نصیحت سے اعراض کرنے والے ہیں (71) [63] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے، اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت، ظلم، غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انھیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔاۙ۰۰وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍45، 46) ’’جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں ۔‘‘ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں تو وہ اپنے حسب حال کفریہ اور شریعت کے خلاف اعمال بجا لائیں گے جو ان کے لیے عذاب کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ ﴾ مگر ان کے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ﴿ هُمۡ لَهَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’جنھیں وہ کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت فراہم کررہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج كيے گئے ہیں ۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب میں منتقل ہوں گے۔ [65,64]﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡرَفِيۡهِمۡ ﴾ یعنی جب ہم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہیں ، جو صرف ناز و نعمت اور خوشحالی کے عادی ہیں اور انھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ ﴿ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’عذاب کے ساتھ‘‘ یعنی جب ہم نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا اور انھوں نے بھی عذاب کو دیکھ لیا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَجۡـَٔرُوۡنَ ﴾ تب وہ چیخنے اور چلانے لگے کیونکہ آج ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی گزشتہ حالت سے مختلف تھی۔ وہ مدد کے لیے پکارنے لگے تو ان سے کہا گیا: ﴿ لَا تَجۡـَٔرُوا الۡيَوۡمَ١۫ اِنَّـكُمۡ مِّؔنَّا لَا تُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’نہ چیخو چلاؤ آج، تم ہماری طرف سے مدد نہیں کیے جاؤ گے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نہ آئی اور اس کی جانب سے مدد منقطع ہو گئی تو وہ خود اپنی مدد کرنے پر قادر ہوئے نہ کوئی ان کی مدد کرسکا۔ [66] گویا پوچھا گیا کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے ان کو اس حال پر پہنچا یا تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ كَانَتۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’میری آیات پڑھی جاتی تھیں تم پر۔‘‘ تاکہ تم ان آیات پر ایمان لاؤ اور ان کی طرف توجہ کرو مگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ﴿ فَكُنۡتُمۡ عَلٰۤى اَعۡقَابِكُمۡ تَنۡؔكِصُوۡنَ﴾ ’’تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے کیونکہ قرآن کی اتباع کے ذریعے لوگ آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کرکے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پرجا اترتے ہیں ۔ [67]﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهۡجُرُوۡنَ ﴾ ’’تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس کے افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بیہودہ بکتے تھے۔‘‘ اصحاب تفسیر اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ ﴾ میں ضمیر بیت اللہ یا حرم کی طرف لوٹتی ہے، جو مخاطبین کے ہاں معہود (ذہن میں موجود) ہے یعنی تم حرم یا بیت اللہ کے سبب سے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں بنابریں ہم دوسروں سے اعلیٰ و افضل ہیں ۔ ﴿ سٰمِرًا ﴾ یعنی ایسی جماعت کی صورت میں جو رات کے وقت بیت اللہ کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ ﴿ تَهۡجُرُوۡنَ﴾ یعنی تم اس قرآن عظیم کے بارے میں قبیح گفتگو کرتے تھے۔پس قرآن کریم کے بارے میں اہل تکذیب کا طریقہ روگردانی پر مبنی تھا اور اسی طریقے کی وہ ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ﴾(حم السجدۃ:41؍26) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو، جب سنایا جائے تو شور مچا دیا کرو شاید کہ تم غالب رہو‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:﴿ اَفَمِنۡ هٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ تَعۡجَبُوۡنَۙ۰۰وَتَضۡحَكُوۡنَ وَلَا تَبۡكُوۡنَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ سٰؔمِدُوۡنَ ﴾(النجم:53؍59-61) ’’کیا تم اس کلام کے بارے میں تعجب کرتے ہو، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ ﴾(الطور:52؍ 33)’’کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ آپ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟‘‘ وہ ان رذائل کے جامع تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پرعذاب واجب ہوگیا اور جب یہ عذاب واقع ہوگیا تو ان کا کوئی حامی بنا جو ان کی مدد کرسکے نہ فریاد رس بنا ہوگا جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے اس وقت ان کے اعمال بد کی بنا پر ان کو زجر و توبیخ کی گئی۔ [68]﴿ اَفَلَمۡ يَدَّبَّرُوا الۡقَوۡلَ ﴾ ’’کیا انھوں نے قرآن میں غور و فکر اور تدبر نہیں کیا؟‘‘ اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر سے منع کرنے کا باعث بنتا مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن میں تدبر و تفکر ہر بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غور و فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ۔ ﴿ اَمۡ جَآءَهُمۡ مَّا لَمۡ يَاۡتِ اٰبَآءَهُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے آباء و اجداد کے پاس آئی تھی لہٰذا یہ اپنے گمراہ آباء و اجداد کی راہ پر چلنے پر راضی ہوگئے۔ جو چیز اس راہ کے خلاف تھی انھوں نے اس کی مخالفت کی لہٰذا انھوں نے اور ان جیسے دوسرے کفار نے یہی کہا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ﴾(الزخرف:43؍23) ’’اسی طرح آپ سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی ڈرانے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے ہم تو انھی کی پیروی کررہے ہیں ۔ ‘‘ اور ان کے جواب میں ہر رسول نے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰؔى مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’کیا تم اسی طریقے پر چلتے چلے جاؤ گے خواہ میں تمھیں اس راستے سے بہتر راستہ بتاؤں جس پر تم نے آباء و اجداد کوپایا ہے‘‘ اگر تمھارا مقصد حق جوئی ہے تو کیا تم اس کی پیروی کرو گے؟ اور انھوں نے اپنی نیتوں کے مطابق جواب دیا:﴿ اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’بلاشبہ تمھیں جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ [69] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ٞ اَمۡ لَمۡ يَعۡرِفُوۡا رَسُوۡلَهُمۡ فَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ﴾ ’’یا کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ وہ اس کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ یعنی کیا اس چیز نے انھیں اتباع حق سے روک رکھا ہے کہ ان کے رسول محمد مصطفیﷺ، ان کے ہاں غیر معروف ہیں اور وہ آپﷺ کو نہیں پہچانتے، اس لیے ان کو ماننے سے انکار کررہے ہیں ؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں جانتے نہ اس کی صداقت کے بارے میں ہمیں کچھ علم ہے۔ ہمیں چھوڑ دو ہم اس کے احوال کے بارے میں غور کریں اس کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کریں ۔نہیں ! ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہﷺ کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ آپ کو ان کا چھوٹا اور بڑا ہر شخص جانتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ اخلاق جمیلہ کے حامل ہیں وہ آپ کے صدق و امانت کو خوب پہچانتے ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کو بعثت سے قبل ’’الامین‘‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ جب آپ ان کے پاس حق عظیم اور صدق مبین لے کر آئے تب انھوں نے آپ کی تصدیق کیوں نہ کی؟ [70]﴿اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا وہ کہتے ہیں کہ اسے جنون لاحق ہے‘‘ اس لیے وہ ایسی باتیں کررہا ہے اور مجنون کی باتوں پر کان دھرا جاتا ہے نہ اس کی باتوں کا اعتبار ہی کیا جاتا ہے کیونکہ وہ باطل اور احمقانہ باتیں منہ سے نکالتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول (ﷺ) ان کے پاس حق (امر ثابت) لے کر آئے ہیں جو سراسر صدق و عدل پر مبنی ہے جس میں کوئی اختلاف ہے نہ تناقض۔ تب وہ شخص جو یہ چیز لے کر آیا ہو وہ کیسے پاگل ہے؟… بلکہ وہ تو علم و عقل اور مکارم اخلاق کے اعتبار سے درجہ کمال پر فائز ہے۔ اس میں گزشتہ مضمون سے انتقال ہے یعنی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے منع کیا ہے کہ آپﷺ ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ وَاَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ﴾ ’’ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے۔‘‘ اور سب سے بڑا حق جو آپﷺ ان کے پاس لے کر آئے ہیں ، اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور غیر اللہ کی عبادت کو ترک کرنا ہے اور ان کا اس بات کو ناپسند کرنا اور اس سے تعجب کرنا معلوم ہے۔پس رسول (ﷺ) کا حق لے کر آنا اور ان کا حق کو ناپسند کرنا دراصل حق کی تکذیب کرنا ہے۔ یہ کسی شک کی بنا پر ہے نہ رسولﷺ کی تکذیب کی وجہ سے بلکہ یہ انکار حق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍33) ’’یہ آپﷺ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ [71] اگر یہ کہا جائے کہ حق ان کی خواہشات نفس کے موافق کیوں نہیں تاکہ وہ ایمان لے آتے اور جلدی سے حق کی اطاعت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں جواب عطا فرمایا: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ ’’اگر حق (دین) ہی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے تو آسمانوں اور زمین کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہشات نفس ظلم، کفر اور فسادپر مبنی اخلاق و اعمال سے متعلق ہوتی ہیں ۔ پس اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو آسمان و زمین ظلم اور عدم عدل پر مبنی تدبیر و تصرف کی وجہ سے فساد کا شکار ہو جائیں ، اس لیے کہ آسمان اور زمین تو صرف حق و عدل کی بنا پر درست ہیں ۔ ﴿بَلۡ اَتَيۡنٰهُمۡ بِذِكۡرِهِمۡ﴾ یعنی ہم ان کے پاس یہ قرآن لے کر آئے جو ان کو ہر قسم کی بھلائی کی نصیحت کرتا ہے۔ یہ ان کا فخر و شرف ہے۔ اگر وہ اس کو قائم کریں گے تو لوگوں کی سیادت کریں گے۔ ﴿ فَهُمۡ عَنۡ ذِكۡرِهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’وہ اپنے ذکر (نصیحت) سے روگردانی کررہے ہیں ‘‘ اپنی بدبختی اور عدم توفیق کی وجہ سے ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمۡ ﴾(التوبہ:9؍67) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو فراموش کر دیا۔‘‘ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنۡسٰىهُمۡ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾(الحشر:59؍19) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اللہ نے ان کو اپنے تئیں بھلوا دیا۔‘‘ پس قرآن عظیم اور اس کو لانے والی ہستی سب سے بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہے مگر انھوں نے اس عظیم نعمت کو ٹھکرا دیا اور اس سے روگردانی کی۔ کیا اس ایمان سے محرومی کے بعد، اس سے بڑی کوئی حرماں نصیبی ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے انتہائی درجے کا خسارہ نہیں ؟
23:70

أَمۡ يَقُولُونَ بِهِۦ جِنَّةُۢۚ بَلۡ جَآءَهُم بِٱلۡحَقِّ وَأَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كَٰرِهُونَ

بلکہ ان کے دل غفلت میں ہیں اس (قرآن) سےاور ان کے لیے اور اعمال (خبیثہ بھی) ہیں سوائے اس (غفلت) کے کہ وہ انھیں کرنے والے ہیں (63) یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم ان کے خوشحال لوگوں کو ساتھ عذاب کے تو اس وقت وہ چیخ و پکار کریں گے (64)(انھیں کہا جائے گا) مت چیخو چلاؤ آج، یقینا تم ہمارے ہاں سے نہیں مدد کیے جاؤگے (65) تحقیق تھیں میری آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تم پر تو تھے تم اوپر اپنی ایڑیوں کے الٹے پھر جاتے (66) تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس (قرآن) کے، افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بے ہودہ گوئی کرتے تھے (67)کیا پس نہیں غور کیا انھوں نے قرآن میں یا آیا ہے ان کے پاس وہ جو نہیں آیا تھا ان کے پہلے باپ دادا کے پاس؟ (68)یا نہیں پہچانا انھوں نے اپنے رسول کو؟ پس وہ اس کے منکر ہیں (69) یا وہ کہتے ہیں ، اسے جنون ہے؟بلکہ وہ لایا ہے ان کے پاس حق اور اکثر ان کے حق کو ناپسند کرنے والے ہیں (70)اور اگر پیروی کرے حق ان کی خواہشات کی تو البتہ خراب ہو جائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس ان کی نصیحت، پس وہ اپنی نصیحت سے اعراض کرنے والے ہیں (71) [63] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے، اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت، ظلم، غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انھیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔاۙ۰۰وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍45، 46) ’’جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں ۔‘‘ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں تو وہ اپنے حسب حال کفریہ اور شریعت کے خلاف اعمال بجا لائیں گے جو ان کے لیے عذاب کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ ﴾ مگر ان کے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ﴿ هُمۡ لَهَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’جنھیں وہ کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت فراہم کررہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج كيے گئے ہیں ۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب میں منتقل ہوں گے۔ [65,64]﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡرَفِيۡهِمۡ ﴾ یعنی جب ہم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہیں ، جو صرف ناز و نعمت اور خوشحالی کے عادی ہیں اور انھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ ﴿ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’عذاب کے ساتھ‘‘ یعنی جب ہم نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا اور انھوں نے بھی عذاب کو دیکھ لیا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَجۡـَٔرُوۡنَ ﴾ تب وہ چیخنے اور چلانے لگے کیونکہ آج ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی گزشتہ حالت سے مختلف تھی۔ وہ مدد کے لیے پکارنے لگے تو ان سے کہا گیا: ﴿ لَا تَجۡـَٔرُوا الۡيَوۡمَ١۫ اِنَّـكُمۡ مِّؔنَّا لَا تُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’نہ چیخو چلاؤ آج، تم ہماری طرف سے مدد نہیں کیے جاؤ گے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نہ آئی اور اس کی جانب سے مدد منقطع ہو گئی تو وہ خود اپنی مدد کرنے پر قادر ہوئے نہ کوئی ان کی مدد کرسکا۔ [66] گویا پوچھا گیا کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے ان کو اس حال پر پہنچا یا تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ كَانَتۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’میری آیات پڑھی جاتی تھیں تم پر۔‘‘ تاکہ تم ان آیات پر ایمان لاؤ اور ان کی طرف توجہ کرو مگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ﴿ فَكُنۡتُمۡ عَلٰۤى اَعۡقَابِكُمۡ تَنۡؔكِصُوۡنَ﴾ ’’تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے کیونکہ قرآن کی اتباع کے ذریعے لوگ آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کرکے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پرجا اترتے ہیں ۔ [67]﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهۡجُرُوۡنَ ﴾ ’’تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس کے افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بیہودہ بکتے تھے۔‘‘ اصحاب تفسیر اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ ﴾ میں ضمیر بیت اللہ یا حرم کی طرف لوٹتی ہے، جو مخاطبین کے ہاں معہود (ذہن میں موجود) ہے یعنی تم حرم یا بیت اللہ کے سبب سے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں بنابریں ہم دوسروں سے اعلیٰ و افضل ہیں ۔ ﴿ سٰمِرًا ﴾ یعنی ایسی جماعت کی صورت میں جو رات کے وقت بیت اللہ کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ ﴿ تَهۡجُرُوۡنَ﴾ یعنی تم اس قرآن عظیم کے بارے میں قبیح گفتگو کرتے تھے۔پس قرآن کریم کے بارے میں اہل تکذیب کا طریقہ روگردانی پر مبنی تھا اور اسی طریقے کی وہ ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ﴾(حم السجدۃ:41؍26) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو، جب سنایا جائے تو شور مچا دیا کرو شاید کہ تم غالب رہو‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:﴿ اَفَمِنۡ هٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ تَعۡجَبُوۡنَۙ۰۰وَتَضۡحَكُوۡنَ وَلَا تَبۡكُوۡنَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ سٰؔمِدُوۡنَ ﴾(النجم:53؍59-61) ’’کیا تم اس کلام کے بارے میں تعجب کرتے ہو، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ ﴾(الطور:52؍ 33)’’کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ آپ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟‘‘ وہ ان رذائل کے جامع تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پرعذاب واجب ہوگیا اور جب یہ عذاب واقع ہوگیا تو ان کا کوئی حامی بنا جو ان کی مدد کرسکے نہ فریاد رس بنا ہوگا جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے اس وقت ان کے اعمال بد کی بنا پر ان کو زجر و توبیخ کی گئی۔ [68]﴿ اَفَلَمۡ يَدَّبَّرُوا الۡقَوۡلَ ﴾ ’’کیا انھوں نے قرآن میں غور و فکر اور تدبر نہیں کیا؟‘‘ اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر سے منع کرنے کا باعث بنتا مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن میں تدبر و تفکر ہر بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غور و فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ۔ ﴿ اَمۡ جَآءَهُمۡ مَّا لَمۡ يَاۡتِ اٰبَآءَهُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے آباء و اجداد کے پاس آئی تھی لہٰذا یہ اپنے گمراہ آباء و اجداد کی راہ پر چلنے پر راضی ہوگئے۔ جو چیز اس راہ کے خلاف تھی انھوں نے اس کی مخالفت کی لہٰذا انھوں نے اور ان جیسے دوسرے کفار نے یہی کہا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ﴾(الزخرف:43؍23) ’’اسی طرح آپ سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی ڈرانے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے ہم تو انھی کی پیروی کررہے ہیں ۔ ‘‘ اور ان کے جواب میں ہر رسول نے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰؔى مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’کیا تم اسی طریقے پر چلتے چلے جاؤ گے خواہ میں تمھیں اس راستے سے بہتر راستہ بتاؤں جس پر تم نے آباء و اجداد کوپایا ہے‘‘ اگر تمھارا مقصد حق جوئی ہے تو کیا تم اس کی پیروی کرو گے؟ اور انھوں نے اپنی نیتوں کے مطابق جواب دیا:﴿ اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’بلاشبہ تمھیں جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ [69] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ٞ اَمۡ لَمۡ يَعۡرِفُوۡا رَسُوۡلَهُمۡ فَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ﴾ ’’یا کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ وہ اس کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ یعنی کیا اس چیز نے انھیں اتباع حق سے روک رکھا ہے کہ ان کے رسول محمد مصطفیﷺ، ان کے ہاں غیر معروف ہیں اور وہ آپﷺ کو نہیں پہچانتے، اس لیے ان کو ماننے سے انکار کررہے ہیں ؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں جانتے نہ اس کی صداقت کے بارے میں ہمیں کچھ علم ہے۔ ہمیں چھوڑ دو ہم اس کے احوال کے بارے میں غور کریں اس کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کریں ۔نہیں ! ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہﷺ کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ آپ کو ان کا چھوٹا اور بڑا ہر شخص جانتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ اخلاق جمیلہ کے حامل ہیں وہ آپ کے صدق و امانت کو خوب پہچانتے ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کو بعثت سے قبل ’’الامین‘‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ جب آپ ان کے پاس حق عظیم اور صدق مبین لے کر آئے تب انھوں نے آپ کی تصدیق کیوں نہ کی؟ [70]﴿اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا وہ کہتے ہیں کہ اسے جنون لاحق ہے‘‘ اس لیے وہ ایسی باتیں کررہا ہے اور مجنون کی باتوں پر کان دھرا جاتا ہے نہ اس کی باتوں کا اعتبار ہی کیا جاتا ہے کیونکہ وہ باطل اور احمقانہ باتیں منہ سے نکالتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول (ﷺ) ان کے پاس حق (امر ثابت) لے کر آئے ہیں جو سراسر صدق و عدل پر مبنی ہے جس میں کوئی اختلاف ہے نہ تناقض۔ تب وہ شخص جو یہ چیز لے کر آیا ہو وہ کیسے پاگل ہے؟… بلکہ وہ تو علم و عقل اور مکارم اخلاق کے اعتبار سے درجہ کمال پر فائز ہے۔ اس میں گزشتہ مضمون سے انتقال ہے یعنی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے منع کیا ہے کہ آپﷺ ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ وَاَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ﴾ ’’ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے۔‘‘ اور سب سے بڑا حق جو آپﷺ ان کے پاس لے کر آئے ہیں ، اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور غیر اللہ کی عبادت کو ترک کرنا ہے اور ان کا اس بات کو ناپسند کرنا اور اس سے تعجب کرنا معلوم ہے۔پس رسول (ﷺ) کا حق لے کر آنا اور ان کا حق کو ناپسند کرنا دراصل حق کی تکذیب کرنا ہے۔ یہ کسی شک کی بنا پر ہے نہ رسولﷺ کی تکذیب کی وجہ سے بلکہ یہ انکار حق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍33) ’’یہ آپﷺ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ [71] اگر یہ کہا جائے کہ حق ان کی خواہشات نفس کے موافق کیوں نہیں تاکہ وہ ایمان لے آتے اور جلدی سے حق کی اطاعت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں جواب عطا فرمایا: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ ’’اگر حق (دین) ہی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے تو آسمانوں اور زمین کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہشات نفس ظلم، کفر اور فسادپر مبنی اخلاق و اعمال سے متعلق ہوتی ہیں ۔ پس اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو آسمان و زمین ظلم اور عدم عدل پر مبنی تدبیر و تصرف کی وجہ سے فساد کا شکار ہو جائیں ، اس لیے کہ آسمان اور زمین تو صرف حق و عدل کی بنا پر درست ہیں ۔ ﴿بَلۡ اَتَيۡنٰهُمۡ بِذِكۡرِهِمۡ﴾ یعنی ہم ان کے پاس یہ قرآن لے کر آئے جو ان کو ہر قسم کی بھلائی کی نصیحت کرتا ہے۔ یہ ان کا فخر و شرف ہے۔ اگر وہ اس کو قائم کریں گے تو لوگوں کی سیادت کریں گے۔ ﴿ فَهُمۡ عَنۡ ذِكۡرِهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’وہ اپنے ذکر (نصیحت) سے روگردانی کررہے ہیں ‘‘ اپنی بدبختی اور عدم توفیق کی وجہ سے ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمۡ ﴾(التوبہ:9؍67) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو فراموش کر دیا۔‘‘ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنۡسٰىهُمۡ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾(الحشر:59؍19) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اللہ نے ان کو اپنے تئیں بھلوا دیا۔‘‘ پس قرآن عظیم اور اس کو لانے والی ہستی سب سے بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہے مگر انھوں نے اس عظیم نعمت کو ٹھکرا دیا اور اس سے روگردانی کی۔ کیا اس ایمان سے محرومی کے بعد، اس سے بڑی کوئی حرماں نصیبی ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے انتہائی درجے کا خسارہ نہیں ؟
23:71

وَلَوِ ٱتَّبَعَ ٱلۡحَقُّ أَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ ٱلسَّمَٰوَٰتُ وَٱلۡأَرۡضُ وَمَن فِيهِنَّۚ بَلۡ أَتَيۡنَٰهُم بِذِكۡرِهِمۡ فَهُمۡ عَن ذِكۡرِهِم مُّعۡرِضُونَ

بلکہ ان کے دل غفلت میں ہیں اس (قرآن) سےاور ان کے لیے اور اعمال (خبیثہ بھی) ہیں سوائے اس (غفلت) کے کہ وہ انھیں کرنے والے ہیں (63) یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم ان کے خوشحال لوگوں کو ساتھ عذاب کے تو اس وقت وہ چیخ و پکار کریں گے (64)(انھیں کہا جائے گا) مت چیخو چلاؤ آج، یقینا تم ہمارے ہاں سے نہیں مدد کیے جاؤگے (65) تحقیق تھیں میری آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تم پر تو تھے تم اوپر اپنی ایڑیوں کے الٹے پھر جاتے (66) تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس (قرآن) کے، افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بے ہودہ گوئی کرتے تھے (67)کیا پس نہیں غور کیا انھوں نے قرآن میں یا آیا ہے ان کے پاس وہ جو نہیں آیا تھا ان کے پہلے باپ دادا کے پاس؟ (68)یا نہیں پہچانا انھوں نے اپنے رسول کو؟ پس وہ اس کے منکر ہیں (69) یا وہ کہتے ہیں ، اسے جنون ہے؟بلکہ وہ لایا ہے ان کے پاس حق اور اکثر ان کے حق کو ناپسند کرنے والے ہیں (70)اور اگر پیروی کرے حق ان کی خواہشات کی تو البتہ خراب ہو جائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس ان کی نصیحت، پس وہ اپنی نصیحت سے اعراض کرنے والے ہیں (71) [63] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ جھٹلانے والے، اس بارے میں جہالت میں مبتلا ہیں یعنی جہالت، ظلم، غفلت اور روگردانی میں غلطاں ہیں یہ جہالت اور غفلت انھیں قرآن تک نہیں پہنچنے دیتی۔ پس یہ قرآن سے راہنمائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور قرآن سے ان کے دلوں تک کچھ نہیں پہنچتا۔ فرمایا:﴿وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًؔاۙ۰۰وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍45، 46) ’’جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو آپ کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں اور دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دیتے ہیں ۔‘‘ اور جب ان کے دل غفلت اور جہالت میں مستغرق ہیں تو وہ اپنے حسب حال کفریہ اور شریعت کے خلاف اعمال بجا لائیں گے جو ان کے لیے عذاب کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ اَعۡمَالٌ مِّنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ ﴾ مگر ان کے علاوہ بھی ان کے برے اعمال ہیں ﴿ هُمۡ لَهَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’جنھیں وہ کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ عذاب کے عدم وقوع پر تعجب نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت فراہم کررہا ہے تاکہ وہ ان اعمال بد کا ارتکاب بھی کرلیں جو باقی رہ گئے ہیں اور جو ان کے لیے درج كيے گئے ہیں ۔ جب وہ ان اعمال بد کا پوری طرح ارتکاب کرلیں گے تو وہ بدترین حالت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب میں منتقل ہوں گے۔ [65,64]﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡرَفِيۡهِمۡ ﴾ یعنی جب ہم نے ان لوگوں کو پکڑ لیا جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے متمتع ہیں ، جو صرف ناز و نعمت اور خوشحالی کے عادی ہیں اور انھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچی۔ ﴿ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’عذاب کے ساتھ‘‘ یعنی جب ہم نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا اور انھوں نے بھی عذاب کو دیکھ لیا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَجۡـَٔرُوۡنَ ﴾ تب وہ چیخنے اور چلانے لگے کیونکہ آج ایک ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو ان کی گزشتہ حالت سے مختلف تھی۔ وہ مدد کے لیے پکارنے لگے تو ان سے کہا گیا: ﴿ لَا تَجۡـَٔرُوا الۡيَوۡمَ١۫ اِنَّـكُمۡ مِّؔنَّا لَا تُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’نہ چیخو چلاؤ آج، تم ہماری طرف سے مدد نہیں کیے جاؤ گے۔‘‘ اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت نہ آئی اور اس کی جانب سے مدد منقطع ہو گئی تو وہ خود اپنی مدد کرنے پر قادر ہوئے نہ کوئی ان کی مدد کرسکا۔ [66] گویا پوچھا گیا کہ وہ کون سا سبب ہے جس نے ان کو اس حال پر پہنچا یا تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ كَانَتۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’میری آیات پڑھی جاتی تھیں تم پر۔‘‘ تاکہ تم ان آیات پر ایمان لاؤ اور ان کی طرف توجہ کرو مگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس ﴿ فَكُنۡتُمۡ عَلٰۤى اَعۡقَابِكُمۡ تَنۡؔكِصُوۡنَ﴾ ’’تم پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتے رہے کیونکہ قرآن کی اتباع کے ذریعے لوگ آگے بڑھتے ہیں اور اس سے روگردانی کرکے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پست ترین مقام پرجا اترتے ہیں ۔ [67]﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهۡجُرُوۡنَ ﴾ ’’تکبر کرتے ہوئے ساتھ اس کے افسانہ گوئی کرتے ہوئے تم بیہودہ بکتے تھے۔‘‘ اصحاب تفسیر اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ ﴿ مُسۡتَكۡبِرِيۡنَ۠١ۖ ۗ بِهٖ ﴾ میں ضمیر بیت اللہ یا حرم کی طرف لوٹتی ہے، جو مخاطبین کے ہاں معہود (ذہن میں موجود) ہے یعنی تم حرم یا بیت اللہ کے سبب سے لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل حرم ہیں بنابریں ہم دوسروں سے اعلیٰ و افضل ہیں ۔ ﴿ سٰمِرًا ﴾ یعنی ایسی جماعت کی صورت میں جو رات کے وقت بیت اللہ کے گرد بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔ ﴿ تَهۡجُرُوۡنَ﴾ یعنی تم اس قرآن عظیم کے بارے میں قبیح گفتگو کرتے تھے۔پس قرآن کریم کے بارے میں اہل تکذیب کا طریقہ روگردانی پر مبنی تھا اور اسی طریقے کی وہ ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ﴾(حم السجدۃ:41؍26) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ اس قرآن کو مت سنو، جب سنایا جائے تو شور مچا دیا کرو شاید کہ تم غالب رہو‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:﴿ اَفَمِنۡ هٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ تَعۡجَبُوۡنَۙ۰۰وَتَضۡحَكُوۡنَ وَلَا تَبۡكُوۡنَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ سٰؔمِدُوۡنَ ﴾(النجم:53؍59-61) ’’کیا تم اس کلام کے بارے میں تعجب کرتے ہو، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ ﴾(الطور:52؍ 33)’’کیا کفار یہ کہتے ہیں کہ آپ نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟‘‘ وہ ان رذائل کے جامع تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پرعذاب واجب ہوگیا اور جب یہ عذاب واقع ہوگیا تو ان کا کوئی حامی بنا جو ان کی مدد کرسکے نہ فریاد رس بنا ہوگا جو ان کو اس عذاب سے بچا سکے اس وقت ان کے اعمال بد کی بنا پر ان کو زجر و توبیخ کی گئی۔ [68]﴿ اَفَلَمۡ يَدَّبَّرُوا الۡقَوۡلَ ﴾ ’’کیا انھوں نے قرآن میں غور و فکر اور تدبر نہیں کیا؟‘‘ اگر انھوں نے قرآن میں تدبر کیا ہوتا تو وہ ان کے ایمان کا موجب اور ان کو کفر سے منع کرنے کا باعث بنتا مگر ان پر جو مصیبت نازل ہوئی ہے اس کا سبب ان کا قرآن سے اعراض ہے اور یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ قرآن میں تدبر و تفکر ہر بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے اور ہر برائی سے بچاتا ہے اور جس چیز نے ان کو قرآن میں غور و فکر کرنے سے روک رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ۔ ﴿ اَمۡ جَآءَهُمۡ مَّا لَمۡ يَاۡتِ اٰبَآءَهُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی یا اس بات نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ ان کے پاس رسول آیا اور ایک ایسی کتاب ان کے پاس آئی جو ان کے آباء و اجداد کے پاس آئی تھی لہٰذا یہ اپنے گمراہ آباء و اجداد کی راہ پر چلنے پر راضی ہوگئے۔ جو چیز اس راہ کے خلاف تھی انھوں نے اس کی مخالفت کی لہٰذا انھوں نے اور ان جیسے دوسرے کفار نے یہی کہا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ﴾(الزخرف:43؍23) ’’اسی طرح آپ سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی ڈرانے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے کہا: ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا ہے ہم تو انھی کی پیروی کررہے ہیں ۔ ‘‘ اور ان کے جواب میں ہر رسول نے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡ جِئۡتُكُمۡ بِاَهۡدٰؔى مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَيۡهِ اٰبَآءَكُمۡ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’کیا تم اسی طریقے پر چلتے چلے جاؤ گے خواہ میں تمھیں اس راستے سے بہتر راستہ بتاؤں جس پر تم نے آباء و اجداد کوپایا ہے‘‘ اگر تمھارا مقصد حق جوئی ہے تو کیا تم اس کی پیروی کرو گے؟ اور انھوں نے اپنی نیتوں کے مطابق جواب دیا:﴿ اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾(الزخرف:43؍24) ’’بلاشبہ تمھیں جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ [69] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ٞ اَمۡ لَمۡ يَعۡرِفُوۡا رَسُوۡلَهُمۡ فَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ﴾ ’’یا کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا کہ وہ اس کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ یعنی کیا اس چیز نے انھیں اتباع حق سے روک رکھا ہے کہ ان کے رسول محمد مصطفیﷺ، ان کے ہاں غیر معروف ہیں اور وہ آپﷺ کو نہیں پہچانتے، اس لیے ان کو ماننے سے انکار کررہے ہیں ؟ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں جانتے نہ اس کی صداقت کے بارے میں ہمیں کچھ علم ہے۔ ہمیں چھوڑ دو ہم اس کے احوال کے بارے میں غور کریں اس کے متعلق لوگوں سے معلومات حاصل کریں ۔نہیں ! ایسی بات نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہﷺ کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ آپ کو ان کا چھوٹا اور بڑا ہر شخص جانتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آپ اخلاق جمیلہ کے حامل ہیں وہ آپ کے صدق و امانت کو خوب پہچانتے ہیں حتیٰ کہ وہ آپ کو بعثت سے قبل ’’الامین‘‘ کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ جب آپ ان کے پاس حق عظیم اور صدق مبین لے کر آئے تب انھوں نے آپ کی تصدیق کیوں نہ کی؟ [70]﴿اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ بِهٖ جِنَّةٌ ﴾ ’’یا وہ کہتے ہیں کہ اسے جنون لاحق ہے‘‘ اس لیے وہ ایسی باتیں کررہا ہے اور مجنون کی باتوں پر کان دھرا جاتا ہے نہ اس کی باتوں کا اعتبار ہی کیا جاتا ہے کیونکہ وہ باطل اور احمقانہ باتیں منہ سے نکالتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول (ﷺ) ان کے پاس حق (امر ثابت) لے کر آئے ہیں جو سراسر صدق و عدل پر مبنی ہے جس میں کوئی اختلاف ہے نہ تناقض۔ تب وہ شخص جو یہ چیز لے کر آیا ہو وہ کیسے پاگل ہے؟… بلکہ وہ تو علم و عقل اور مکارم اخلاق کے اعتبار سے درجہ کمال پر فائز ہے۔ اس میں گزشتہ مضمون سے انتقال ہے یعنی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کو ایمان لانے سے صرف اس چیز نے منع کیا ہے کہ آپﷺ ﴿ بَلۡ جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ وَاَكۡثَرُهُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ﴾ ’’ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن ان کی اکثریت حق کو ناپسند کرنے والی ہے۔‘‘ اور سب سے بڑا حق جو آپﷺ ان کے پاس لے کر آئے ہیں ، اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور غیر اللہ کی عبادت کو ترک کرنا ہے اور ان کا اس بات کو ناپسند کرنا اور اس سے تعجب کرنا معلوم ہے۔پس رسول (ﷺ) کا حق لے کر آنا اور ان کا حق کو ناپسند کرنا دراصل حق کی تکذیب کرنا ہے۔ یہ کسی شک کی بنا پر ہے نہ رسولﷺ کی تکذیب کی وجہ سے بلکہ یہ انکار حق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾(الانعام:6؍33) ’’یہ آپﷺ کو نہیں جھٹلا رہے بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کررہے ہیں ۔‘‘ [71] اگر یہ کہا جائے کہ حق ان کی خواہشات نفس کے موافق کیوں نہیں تاکہ وہ ایمان لے آتے اور جلدی سے حق کی اطاعت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یوں جواب عطا فرمایا: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الۡحَقُّ اَهۡوَآءَهُمۡ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ ’’اگر حق (دین) ہی ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے تو آسمانوں اور زمین کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی خواہشات نفس ظلم، کفر اور فسادپر مبنی اخلاق و اعمال سے متعلق ہوتی ہیں ۔ پس اگر حق ان کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے تو آسمان و زمین ظلم اور عدم عدل پر مبنی تدبیر و تصرف کی وجہ سے فساد کا شکار ہو جائیں ، اس لیے کہ آسمان اور زمین تو صرف حق و عدل کی بنا پر درست ہیں ۔ ﴿بَلۡ اَتَيۡنٰهُمۡ بِذِكۡرِهِمۡ﴾ یعنی ہم ان کے پاس یہ قرآن لے کر آئے جو ان کو ہر قسم کی بھلائی کی نصیحت کرتا ہے۔ یہ ان کا فخر و شرف ہے۔ اگر وہ اس کو قائم کریں گے تو لوگوں کی سیادت کریں گے۔ ﴿ فَهُمۡ عَنۡ ذِكۡرِهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’وہ اپنے ذکر (نصیحت) سے روگردانی کررہے ہیں ‘‘ اپنی بدبختی اور عدم توفیق کی وجہ سے ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمۡ ﴾(التوبہ:9؍67) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی ان کو فراموش کر دیا۔‘‘ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنۡسٰىهُمۡ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾(الحشر:59؍19) ’’انھوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اللہ نے ان کو اپنے تئیں بھلوا دیا۔‘‘ پس قرآن عظیم اور اس کو لانے والی ہستی سب سے بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہے مگر انھوں نے اس عظیم نعمت کو ٹھکرا دیا اور اس سے روگردانی کی۔ کیا اس ایمان سے محرومی کے بعد، اس سے بڑی کوئی حرماں نصیبی ہے؟ اور کیا اس کے پیچھے انتہائی درجے کا خسارہ نہیں ؟
23:72

أَمۡ تَسۡـَٔلُهُمۡ خَرۡجٗا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَيۡرٞۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلرَّـٰزِقِينَ

یا آپ سوال کرتے ہیں ان سے اجرت کا؟ پس اجرت آپ کے رب کی بہت بہتر ہےاور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے (72) [72]﴿اَمۡ تَسۡـَٔلُهُمۡ خَرۡجًا﴾ اے محمد ! (ﷺ) کیا ان کو آپ کی اتباع سے اس چیز نے روکا ہے کہ آپ ان سے اس کام پر کوئی اجرت طلب کرتے ہیں ؟ ﴿فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾(الطور:52؍40) ’’کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے ‘‘ اور اس طرح آپ کی اطاعت سے ان کو تکلیف پہنچتی ہے کیونکہ آپﷺ ان سے اجرت اور خراج طلب کرتے ہیں ؟ معاملہ یوں نہیں بلکہ ﴿فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَيۡرٌ١ۖ ۗ وَّهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ﴾ ’’آپ کے رب کی اجرت بہت بہتر ہے اور وہ بہترین روزی رساں ہے۔‘‘ یہ اسی طرح کا قول ہے جس طرح انبیاء کرام علیہ السلام نے اپنی اپنی قوم سے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾(ہود:11؍51) ’’اے میری قوم! میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا‘‘ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾(ہود:11؍29) ’’میرا صلہ تو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ یعنی انبیائے کرام علیہ السلام کی طرف سے لوگوں کو دعوت دینے میں یہ لالچ نہیں ہوتا کہ انھیں لوگوں کی طرف سے مال و دولت حاصل ہوگا۔ وہ تو صرف خیرخواہی اور ان کے اپنے فائدے کی خاطر ان کو دعوت دیتے ہیں بلکہ انبیاء و مرسلین مخلوق کے لیے، خود ان سے بھی زیادہ خیر خواہ ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کی امتوں کی طرف سے جزائے خیر عطا کرے اور تمام احوال میں ہمیں بھی ان کی اقتداء سے بہرہ مند کرے۔
23:73

وَإِنَّكَ لَتَدۡعُوهُمۡ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ

اور بلاشبہ آپ البتہ بلاتے ہیں ان کو طرف راہ راست (اسلام) کی (73)اوربلاشبہ وہ لوگ کہ نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ آخرت کے، (وہ اس) راہ سے البتہ انحراف کرنے والے ہیں (74) [74,73] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ان تمام اسباب کا ذکر کیا ہے جو ایمان کے موجب ہیں اسی طرح تمام موانع ایمان کا ذکر کیا ہے اور فرداً فرداً ان کے فساد کو واضح کیا ہے۔ پس موانع ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ منکرین حق کے دل غفلت اور جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں ، انھوں نے قرآن میں غور و فکر نہیں کیا، وہ اپنے آباء و اجداد کی تقلید پر جمے ہوئے ہیں اور اپنے رسول (ﷺ) کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انھیں جنون لاحق ہے جیسا کہ گزشتہ صفحات میں اس کا ذکر ہو چکا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے ان امور کا بھی ذکر کیا، جو موجب ایمان ہیں اور وہ ہیں قرآن میں تدبر کرنا، اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو قبول کرنا، رسول مصطفیﷺ کے احوال اور آپ کے کمال صدق و امانت کی معرفت حاصل کرنا، نیز یہ کہ آپ ان سے کسی قسم کے اجر و صلہ کے طلب گار نہیں آپ کی کوشش تو صرف لوگوں کے فائدے اور مصالح کے لیے ہے اور جس راستے کی طرف آپ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں وہ سیدھا راستہ ہے۔ سیدھا ہونے کی بنا پر تمام لوگوں کے لیے نہایت آسان اور منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے قریب ترین راستہ ہے۔ نرمی اور آسانی پر مبنی دین حنیف ہے، یعنی توحید میں حنیفیت اور اعمال میں آسانی۔پس آپ کا ان کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دینا، اس شخص کے لیے جو حق کا ارادہ رکھتا ہے، اس بات کا موجب ہے کہ وہ آپ کی اتباع کرے کیونکہ یہ ایسا راستہ ہے جس کے اچھا اور انسانی مصالح کے موافق ہونے کی شہادت عقل صحیح اور فطرت سلیم بھی دیتی ہے… اگر وہ آپﷺ کی اتباع نہیں کرتے تو کہاں جائیں گے کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس کو اختیار کرکے آپ کی اتباع سے مستغنی ہو جائیں کیونکہ ﴿عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوۡنَ ﴾ وہ صراط مستقیم سے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے، انحراف کرنے والے ہیں ان کے پاس ضلالت و جہالت کے سوا کچھ نہیں ۔ یہی معاملہ ہر اس شخص کا ہے جو حق کی مخالفت کرتا ہے، وہ لازمی طور پر تمام معاملات میں راہ راست سے منحرف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ١ؕ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ ﴾(القصص:28؍50) ’’اور اب اگر وہ آپ کی بات نہیں مانتے۔ تو سمجھ لیجیے کہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کررہے ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش نفس کی پیروی کرے۔‘‘
23:74

وَإِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ عَنِ ٱلصِّرَٰطِ لَنَٰكِبُونَ

اور بلاشبہ آپ البتہ بلاتے ہیں ان کو طرف راہ راست (اسلام) کی (73)اوربلاشبہ وہ لوگ کہ نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ آخرت کے، (وہ اس) راہ سے البتہ انحراف کرنے والے ہیں (74) [74,73] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں ان تمام اسباب کا ذکر کیا ہے جو ایمان کے موجب ہیں اسی طرح تمام موانع ایمان کا ذکر کیا ہے اور فرداً فرداً ان کے فساد کو واضح کیا ہے۔ پس موانع ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ منکرین حق کے دل غفلت اور جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں ، انھوں نے قرآن میں غور و فکر نہیں کیا، وہ اپنے آباء و اجداد کی تقلید پر جمے ہوئے ہیں اور اپنے رسول (ﷺ) کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انھیں جنون لاحق ہے جیسا کہ گزشتہ صفحات میں اس کا ذکر ہو چکا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے ان امور کا بھی ذکر کیا، جو موجب ایمان ہیں اور وہ ہیں قرآن میں تدبر کرنا، اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو قبول کرنا، رسول مصطفیﷺ کے احوال اور آپ کے کمال صدق و امانت کی معرفت حاصل کرنا، نیز یہ کہ آپ ان سے کسی قسم کے اجر و صلہ کے طلب گار نہیں آپ کی کوشش تو صرف لوگوں کے فائدے اور مصالح کے لیے ہے اور جس راستے کی طرف آپ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں وہ سیدھا راستہ ہے۔ سیدھا ہونے کی بنا پر تمام لوگوں کے لیے نہایت آسان اور منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے قریب ترین راستہ ہے۔ نرمی اور آسانی پر مبنی دین حنیف ہے، یعنی توحید میں حنیفیت اور اعمال میں آسانی۔پس آپ کا ان کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دینا، اس شخص کے لیے جو حق کا ارادہ رکھتا ہے، اس بات کا موجب ہے کہ وہ آپ کی اتباع کرے کیونکہ یہ ایسا راستہ ہے جس کے اچھا اور انسانی مصالح کے موافق ہونے کی شہادت عقل صحیح اور فطرت سلیم بھی دیتی ہے… اگر وہ آپﷺ کی اتباع نہیں کرتے تو کہاں جائیں گے کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس کو اختیار کرکے آپ کی اتباع سے مستغنی ہو جائیں کیونکہ ﴿عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوۡنَ ﴾ وہ صراط مستقیم سے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے، انحراف کرنے والے ہیں ان کے پاس ضلالت و جہالت کے سوا کچھ نہیں ۔ یہی معاملہ ہر اس شخص کا ہے جو حق کی مخالفت کرتا ہے، وہ لازمی طور پر تمام معاملات میں راہ راست سے منحرف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ١ؕ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ ﴾(القصص:28؍50) ’’اور اب اگر وہ آپ کی بات نہیں مانتے۔ تو سمجھ لیجیے کہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کررہے ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش نفس کی پیروی کرے۔‘‘
23:75

۞وَلَوۡ رَحِمۡنَٰهُمۡ وَكَشَفۡنَا مَا بِهِم مِّن ضُرّٖ لَّلَجُّواْ فِي طُغۡيَٰنِهِمۡ يَعۡمَهُونَ

اور اگر رحم کریں ہم ان پر اوردور کر دیں ہم وہ جو ان کے ساتھ ہیں تکلیفیں تو ضرور اصرار کریں گے اپنی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے (75) اور البتہ تحقیق پکڑا تھا ہم نے انھیں ساتھ عذاب کے، پس نہ عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کے سامنے اور نہ وہ گڑگڑاتے ہی ہیں (76)یہاں تک کہ جب کھول دیا ہم نے ان پر دروازہ سخت عذاب کا تو اسی وقت وہ اس (حالت) میں ناامید ہونے والے ہو گئے (77) [75] یہ ان کے شدید تمرد کا بیان ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس کو دور کرنے کی دعا مانگتے ہیں تاکہ وہ ایمان لے آئیں یا اللہ تعالیٰ ان کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ جب ان کی تکلیف دور کر دیتا ہے تو پھر سرکشی اختیار کر لیتے ہیں اور ہمیشہ اپنی سرکشی میں سرگرداں اور اپنے کفر میں متردد اور حیرت زدہ رہتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ان کا حال بیان کیا ہے کہ اس وقت وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ان ہستیوں کو بھول جاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور جب اللہ تعالیٰ ان کو اس صورت سے نجات دیتا ہے تو پھر زمین میں شرک کرتے ہوئے بغاوت کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں ۔ [76]﴿وَلَقَدۡ اَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو پکڑ لیا ساتھ عذاب کے۔‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے وہ قحط مراد ہے جس میں وہ سات سال تک مبتلا رہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس مصیبت میں اس لیے ڈالا تاکہ وہ تذلل اور اطاعت کے ساتھ اس کی طرف رجوع کریں مگر اس چیز نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ ان میں سے کوئی کامیاب ہوا۔ ﴿ فَمَا اسۡتَكَانُوۡا لِرَبِّهِمۡ﴾ پس وہ اپنے رب کے سامنے جھکے نہ انھوں نے فروتنی اختیار کی۔﴿وَ مَا يَتَضَرَّعُوۡنَ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائے نہ انھوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھا بلکہ قحط آیا اور گزر گیا مگر وہ اپنی گمراہی اور کفر پر قائم رہے گویا ان پر کوئی مصیبت آئی ہی نہ تھی۔ [77] مگر ان کے پیچھے ایک ایسا عذاب ہے جسے روکا نہیں جا سکتا، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ حَتّٰۤى اِذَا فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیا۔‘‘ جیسے بدر کے روز ان کا قتل کیا جانا ﴿ اِذَا هُمۡ فِيۡهِ مُبۡلِسُوۡنَ ﴾ تب وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جاتے ہیں ان کے پاس شر اور اس کے اسباب پہنچ چکے ہیں ، لہٰذا انھیں چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب نازل ہونے سے پہلے پہلے اپنا بچاؤ کرلیں ایسا عذاب جسے روکا نہیں جا سکتا۔ اس کے برعکس عام عذاب بسااوقات ان سے روک لیا جاتا ہے جیسے دنیاوی سزائیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی تادیب کرتا ہے۔ اس قسم کی سزاؤں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِي النَّاسِ لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(الروم:30؍41) ’’خشکی اور سمندروں میں لوگوں کی کرتوتوں کی وجہ سے فساد برپا ہوگیا تاکہ اللہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائے شاید کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کریں ۔‘‘
23:76

وَلَقَدۡ أَخَذۡنَٰهُم بِٱلۡعَذَابِ فَمَا ٱسۡتَكَانُواْ لِرَبِّهِمۡ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ

اور اگر رحم کریں ہم ان پر اوردور کر دیں ہم وہ جو ان کے ساتھ ہیں تکلیفیں تو ضرور اصرار کریں گے اپنی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے (75) اور البتہ تحقیق پکڑا تھا ہم نے انھیں ساتھ عذاب کے، پس نہ عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کے سامنے اور نہ وہ گڑگڑاتے ہی ہیں (76)یہاں تک کہ جب کھول دیا ہم نے ان پر دروازہ سخت عذاب کا تو اسی وقت وہ اس (حالت) میں ناامید ہونے والے ہو گئے (77) [75] یہ ان کے شدید تمرد کا بیان ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس کو دور کرنے کی دعا مانگتے ہیں تاکہ وہ ایمان لے آئیں یا اللہ تعالیٰ ان کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ جب ان کی تکلیف دور کر دیتا ہے تو پھر سرکشی اختیار کر لیتے ہیں اور ہمیشہ اپنی سرکشی میں سرگرداں اور اپنے کفر میں متردد اور حیرت زدہ رہتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ان کا حال بیان کیا ہے کہ اس وقت وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ان ہستیوں کو بھول جاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور جب اللہ تعالیٰ ان کو اس صورت سے نجات دیتا ہے تو پھر زمین میں شرک کرتے ہوئے بغاوت کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں ۔ [76]﴿وَلَقَدۡ اَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو پکڑ لیا ساتھ عذاب کے۔‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے وہ قحط مراد ہے جس میں وہ سات سال تک مبتلا رہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس مصیبت میں اس لیے ڈالا تاکہ وہ تذلل اور اطاعت کے ساتھ اس کی طرف رجوع کریں مگر اس چیز نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ ان میں سے کوئی کامیاب ہوا۔ ﴿ فَمَا اسۡتَكَانُوۡا لِرَبِّهِمۡ﴾ پس وہ اپنے رب کے سامنے جھکے نہ انھوں نے فروتنی اختیار کی۔﴿وَ مَا يَتَضَرَّعُوۡنَ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائے نہ انھوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھا بلکہ قحط آیا اور گزر گیا مگر وہ اپنی گمراہی اور کفر پر قائم رہے گویا ان پر کوئی مصیبت آئی ہی نہ تھی۔ [77] مگر ان کے پیچھے ایک ایسا عذاب ہے جسے روکا نہیں جا سکتا، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ حَتّٰۤى اِذَا فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیا۔‘‘ جیسے بدر کے روز ان کا قتل کیا جانا ﴿ اِذَا هُمۡ فِيۡهِ مُبۡلِسُوۡنَ ﴾ تب وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جاتے ہیں ان کے پاس شر اور اس کے اسباب پہنچ چکے ہیں ، لہٰذا انھیں چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب نازل ہونے سے پہلے پہلے اپنا بچاؤ کرلیں ایسا عذاب جسے روکا نہیں جا سکتا۔ اس کے برعکس عام عذاب بسااوقات ان سے روک لیا جاتا ہے جیسے دنیاوی سزائیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی تادیب کرتا ہے۔ اس قسم کی سزاؤں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِي النَّاسِ لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(الروم:30؍41) ’’خشکی اور سمندروں میں لوگوں کی کرتوتوں کی وجہ سے فساد برپا ہوگیا تاکہ اللہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائے شاید کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کریں ۔‘‘
23:77

حَتَّىٰٓ إِذَا فَتَحۡنَا عَلَيۡهِم بَابٗا ذَا عَذَابٖ شَدِيدٍ إِذَا هُمۡ فِيهِ مُبۡلِسُونَ

اور اگر رحم کریں ہم ان پر اوردور کر دیں ہم وہ جو ان کے ساتھ ہیں تکلیفیں تو ضرور اصرار کریں گے اپنی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے (75) اور البتہ تحقیق پکڑا تھا ہم نے انھیں ساتھ عذاب کے، پس نہ عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کے سامنے اور نہ وہ گڑگڑاتے ہی ہیں (76)یہاں تک کہ جب کھول دیا ہم نے ان پر دروازہ سخت عذاب کا تو اسی وقت وہ اس (حالت) میں ناامید ہونے والے ہو گئے (77) [75] یہ ان کے شدید تمرد کا بیان ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس کو دور کرنے کی دعا مانگتے ہیں تاکہ وہ ایمان لے آئیں یا اللہ تعالیٰ ان کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ جب ان کی تکلیف دور کر دیتا ہے تو پھر سرکشی اختیار کر لیتے ہیں اور ہمیشہ اپنی سرکشی میں سرگرداں اور اپنے کفر میں متردد اور حیرت زدہ رہتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ان کا حال بیان کیا ہے کہ اس وقت وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ان ہستیوں کو بھول جاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور جب اللہ تعالیٰ ان کو اس صورت سے نجات دیتا ہے تو پھر زمین میں شرک کرتے ہوئے بغاوت کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں ۔ [76]﴿وَلَقَدۡ اَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو پکڑ لیا ساتھ عذاب کے۔‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے وہ قحط مراد ہے جس میں وہ سات سال تک مبتلا رہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس مصیبت میں اس لیے ڈالا تاکہ وہ تذلل اور اطاعت کے ساتھ اس کی طرف رجوع کریں مگر اس چیز نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ ان میں سے کوئی کامیاب ہوا۔ ﴿ فَمَا اسۡتَكَانُوۡا لِرَبِّهِمۡ﴾ پس وہ اپنے رب کے سامنے جھکے نہ انھوں نے فروتنی اختیار کی۔﴿وَ مَا يَتَضَرَّعُوۡنَ﴾ اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائے نہ انھوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھا بلکہ قحط آیا اور گزر گیا مگر وہ اپنی گمراہی اور کفر پر قائم رہے گویا ان پر کوئی مصیبت آئی ہی نہ تھی۔ [77] مگر ان کے پیچھے ایک ایسا عذاب ہے جسے روکا نہیں جا سکتا، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ حَتّٰۤى اِذَا فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِيۡدٍ ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیا۔‘‘ جیسے بدر کے روز ان کا قتل کیا جانا ﴿ اِذَا هُمۡ فِيۡهِ مُبۡلِسُوۡنَ ﴾ تب وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جاتے ہیں ان کے پاس شر اور اس کے اسباب پہنچ چکے ہیں ، لہٰذا انھیں چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب نازل ہونے سے پہلے پہلے اپنا بچاؤ کرلیں ایسا عذاب جسے روکا نہیں جا سکتا۔ اس کے برعکس عام عذاب بسااوقات ان سے روک لیا جاتا ہے جیسے دنیاوی سزائیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی تادیب کرتا ہے۔ اس قسم کی سزاؤں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِي النَّاسِ لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(الروم:30؍41) ’’خشکی اور سمندروں میں لوگوں کی کرتوتوں کی وجہ سے فساد برپا ہوگیا تاکہ اللہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائے شاید کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کریں ۔‘‘
23:78

وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنشَأَ لَكُمُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَٱلۡأَفۡـِٔدَةَۚ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ

اور (اللہ) وہی ہے جس نے پیدا کیے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اوردل، تھوڑا ہی شکر کرتے ہو تم (78) اور وہی ہے جس نے پھیلایا تمھیں زمین میں اوراسی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے (79) اور وہی ہے جو زندہ کرتااور مارتا ہےاور اسی (کے حکم) سے ہے ادل بدل کر آنا رات اور دن کا، کیا پس نہیں سمجھتے تم؟ (80) [78] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتا ہے جو انھیں اس کے شکر اور اس کے حقوق ادا کرنے کی دعوت دیتی ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَ لَكُمُ السَّمۡعَ ﴾ ’’اور وہی ہے جس نے پیدا کیے تمھارے لیے کان۔‘‘ تاکہ مسموعات کا ادراک کرسکو اور اس طرح تم اپنے دین و دنیا میں فائدہ اٹھا سکو ﴿ وَالۡاَبۡصَارَ ﴾ ’’اور آنکھیں ‘‘ تاکہ مرئیات کا ادراک کرسکو اور اپنے مصالح میں ان سے فائدہ اٹھا سکو۔ ﴿وَالۡاَفۡـِٕدَةَ﴾ ’’اور دل۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں عقل سے نوازا تاکہ تم اس کے ذریعے سے اشیاء کا ادراک کر سکو اور جانوروں سے ممتاز ہو سکو۔ اگر تم سماعت، بصارت اور عقل سے محروم ہو جاؤ بایں طو ر کہ تم بہرے، اندھے اور گونگے ہو جاؤ تو تمھارا کیا حال ہو؟ اور تم کن کن ضروریات اور کون کون سے کمالات سے محروم ہوکر رہ جاؤ؟ کیا تم اس ہستی کا شکر نہیں کرتے جس نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے کہ تم اس کی توحید اور اطاعت پر قائم رہتے؟ مگر اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی پے درپے نعمتوں کے باوجود، تم اس کا بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔ [79]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ ذَرَاَكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمھیں مختلف سمتوں میں زمین کے کناروں تک پھیلایا اور تمھیں زمین کے فوائد اور مصالح حاصل کرنے کی قدرت عطا کی اور زمین کو تمھاری معاش اور رہائش کے لیے کافی کر دیا۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’اور (مرنے کے بعد) تم اسی کے پاس اکٹھے كيے جاؤ گے‘‘ اور زمین پر تم جس خیر و شر کا ارتکاب کرتے رہے ہو اس کا بدلہ پاؤ گے اور زمین، جس پر تم آباد تھے، تمھاری خبریں بیان کرے گی۔ [80]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زندگی اور موت میں تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَلَهُ اخۡتِلَافُ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ﴾ یعنی شب و روز کا باری باری ایک دوسرے کے پیچھے آنا اسی کے اختیار میں ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے پھر اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمھارے آرام و سکون کے لیے تمھیں رات واپس لا دے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے پھر اللہ کے سوا کون ہے جو تمھیں دن کی روشنی واپس لا دے؟ کیا تم دیکھتے نہیں ؟ ﴿ وَمِنۡ رَّحۡمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾(القصص:28؍73) ’’یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم آرام کر سکو اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کر سکو اور شاید تم اللہ تعالیٰ کا شکر کرو۔‘‘بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’کیا تم عقل نہیں رکھتے؟‘‘ کہ تم یہ پہچان سکو کہ وہ ہستی جس نے تمھیں سماعت و بصارت اور عقل جیسی نعمتیں عطا کیں ، جس اکیلے نے تمھیں زمین پر پھیلایا، وہ ہستی جو اکیلی زندگی اور موت پر اختیار رکھتی ہے اور جو اکیلی رات اور دن پر تصرف کرتی ہے، یہ بات اس بات کو واجب ٹھہراتی ہے کہ تم خالص اسی کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں اور ان تمام ہستیوں کی عبادت چھوڑ دو، جو کسی قسم کا کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان اور نہ وہ کسی چیز میں تصرف کی مالک ہی ہیں بلکہ وہ ہر لحاظ سے عاجز ہیں اگر تم میں ذرہ بھر بھی عقل ہوتی تو تم کبھی بھی ان کی عبادت نہ کرتے۔
23:79

وَهُوَ ٱلَّذِي ذَرَأَكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَإِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ

اور (اللہ) وہی ہے جس نے پیدا کیے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اوردل، تھوڑا ہی شکر کرتے ہو تم (78) اور وہی ہے جس نے پھیلایا تمھیں زمین میں اوراسی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے (79) اور وہی ہے جو زندہ کرتااور مارتا ہےاور اسی (کے حکم) سے ہے ادل بدل کر آنا رات اور دن کا، کیا پس نہیں سمجھتے تم؟ (80) [78] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتا ہے جو انھیں اس کے شکر اور اس کے حقوق ادا کرنے کی دعوت دیتی ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَ لَكُمُ السَّمۡعَ ﴾ ’’اور وہی ہے جس نے پیدا کیے تمھارے لیے کان۔‘‘ تاکہ مسموعات کا ادراک کرسکو اور اس طرح تم اپنے دین و دنیا میں فائدہ اٹھا سکو ﴿ وَالۡاَبۡصَارَ ﴾ ’’اور آنکھیں ‘‘ تاکہ مرئیات کا ادراک کرسکو اور اپنے مصالح میں ان سے فائدہ اٹھا سکو۔ ﴿وَالۡاَفۡـِٕدَةَ﴾ ’’اور دل۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں عقل سے نوازا تاکہ تم اس کے ذریعے سے اشیاء کا ادراک کر سکو اور جانوروں سے ممتاز ہو سکو۔ اگر تم سماعت، بصارت اور عقل سے محروم ہو جاؤ بایں طو ر کہ تم بہرے، اندھے اور گونگے ہو جاؤ تو تمھارا کیا حال ہو؟ اور تم کن کن ضروریات اور کون کون سے کمالات سے محروم ہوکر رہ جاؤ؟ کیا تم اس ہستی کا شکر نہیں کرتے جس نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے کہ تم اس کی توحید اور اطاعت پر قائم رہتے؟ مگر اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی پے درپے نعمتوں کے باوجود، تم اس کا بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔ [79]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ ذَرَاَكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمھیں مختلف سمتوں میں زمین کے کناروں تک پھیلایا اور تمھیں زمین کے فوائد اور مصالح حاصل کرنے کی قدرت عطا کی اور زمین کو تمھاری معاش اور رہائش کے لیے کافی کر دیا۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’اور (مرنے کے بعد) تم اسی کے پاس اکٹھے كيے جاؤ گے‘‘ اور زمین پر تم جس خیر و شر کا ارتکاب کرتے رہے ہو اس کا بدلہ پاؤ گے اور زمین، جس پر تم آباد تھے، تمھاری خبریں بیان کرے گی۔ [80]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زندگی اور موت میں تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَلَهُ اخۡتِلَافُ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ﴾ یعنی شب و روز کا باری باری ایک دوسرے کے پیچھے آنا اسی کے اختیار میں ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے پھر اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمھارے آرام و سکون کے لیے تمھیں رات واپس لا دے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے پھر اللہ کے سوا کون ہے جو تمھیں دن کی روشنی واپس لا دے؟ کیا تم دیکھتے نہیں ؟ ﴿ وَمِنۡ رَّحۡمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾(القصص:28؍73) ’’یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم آرام کر سکو اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کر سکو اور شاید تم اللہ تعالیٰ کا شکر کرو۔‘‘بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’کیا تم عقل نہیں رکھتے؟‘‘ کہ تم یہ پہچان سکو کہ وہ ہستی جس نے تمھیں سماعت و بصارت اور عقل جیسی نعمتیں عطا کیں ، جس اکیلے نے تمھیں زمین پر پھیلایا، وہ ہستی جو اکیلی زندگی اور موت پر اختیار رکھتی ہے اور جو اکیلی رات اور دن پر تصرف کرتی ہے، یہ بات اس بات کو واجب ٹھہراتی ہے کہ تم خالص اسی کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں اور ان تمام ہستیوں کی عبادت چھوڑ دو، جو کسی قسم کا کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان اور نہ وہ کسی چیز میں تصرف کی مالک ہی ہیں بلکہ وہ ہر لحاظ سے عاجز ہیں اگر تم میں ذرہ بھر بھی عقل ہوتی تو تم کبھی بھی ان کی عبادت نہ کرتے۔
23:80

وَهُوَ ٱلَّذِي يُحۡيِۦ وَيُمِيتُ وَلَهُ ٱخۡتِلَٰفُ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ

اور (اللہ) وہی ہے جس نے پیدا کیے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اوردل، تھوڑا ہی شکر کرتے ہو تم (78) اور وہی ہے جس نے پھیلایا تمھیں زمین میں اوراسی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے (79) اور وہی ہے جو زندہ کرتااور مارتا ہےاور اسی (کے حکم) سے ہے ادل بدل کر آنا رات اور دن کا، کیا پس نہیں سمجھتے تم؟ (80) [78] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتا ہے جو انھیں اس کے شکر اور اس کے حقوق ادا کرنے کی دعوت دیتی ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَ لَكُمُ السَّمۡعَ ﴾ ’’اور وہی ہے جس نے پیدا کیے تمھارے لیے کان۔‘‘ تاکہ مسموعات کا ادراک کرسکو اور اس طرح تم اپنے دین و دنیا میں فائدہ اٹھا سکو ﴿ وَالۡاَبۡصَارَ ﴾ ’’اور آنکھیں ‘‘ تاکہ مرئیات کا ادراک کرسکو اور اپنے مصالح میں ان سے فائدہ اٹھا سکو۔ ﴿وَالۡاَفۡـِٕدَةَ﴾ ’’اور دل۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں عقل سے نوازا تاکہ تم اس کے ذریعے سے اشیاء کا ادراک کر سکو اور جانوروں سے ممتاز ہو سکو۔ اگر تم سماعت، بصارت اور عقل سے محروم ہو جاؤ بایں طو ر کہ تم بہرے، اندھے اور گونگے ہو جاؤ تو تمھارا کیا حال ہو؟ اور تم کن کن ضروریات اور کون کون سے کمالات سے محروم ہوکر رہ جاؤ؟ کیا تم اس ہستی کا شکر نہیں کرتے جس نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے کہ تم اس کی توحید اور اطاعت پر قائم رہتے؟ مگر اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی پے درپے نعمتوں کے باوجود، تم اس کا بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔ [79]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ ذَرَاَكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمھیں مختلف سمتوں میں زمین کے کناروں تک پھیلایا اور تمھیں زمین کے فوائد اور مصالح حاصل کرنے کی قدرت عطا کی اور زمین کو تمھاری معاش اور رہائش کے لیے کافی کر دیا۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’اور (مرنے کے بعد) تم اسی کے پاس اکٹھے كيے جاؤ گے‘‘ اور زمین پر تم جس خیر و شر کا ارتکاب کرتے رہے ہو اس کا بدلہ پاؤ گے اور زمین، جس پر تم آباد تھے، تمھاری خبریں بیان کرے گی۔ [80]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو زندگی اور موت میں تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَلَهُ اخۡتِلَافُ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ﴾ یعنی شب و روز کا باری باری ایک دوسرے کے پیچھے آنا اسی کے اختیار میں ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے پھر اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمھارے آرام و سکون کے لیے تمھیں رات واپس لا دے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے پھر اللہ کے سوا کون ہے جو تمھیں دن کی روشنی واپس لا دے؟ کیا تم دیکھتے نہیں ؟ ﴿ وَمِنۡ رَّحۡمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾(القصص:28؍73) ’’یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم آرام کر سکو اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کر سکو اور شاید تم اللہ تعالیٰ کا شکر کرو۔‘‘بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’کیا تم عقل نہیں رکھتے؟‘‘ کہ تم یہ پہچان سکو کہ وہ ہستی جس نے تمھیں سماعت و بصارت اور عقل جیسی نعمتیں عطا کیں ، جس اکیلے نے تمھیں زمین پر پھیلایا، وہ ہستی جو اکیلی زندگی اور موت پر اختیار رکھتی ہے اور جو اکیلی رات اور دن پر تصرف کرتی ہے، یہ بات اس بات کو واجب ٹھہراتی ہے کہ تم خالص اسی کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں اور ان تمام ہستیوں کی عبادت چھوڑ دو، جو کسی قسم کا کوئی فائدہ دے سکتی ہیں نہ نقصان اور نہ وہ کسی چیز میں تصرف کی مالک ہی ہیں بلکہ وہ ہر لحاظ سے عاجز ہیں اگر تم میں ذرہ بھر بھی عقل ہوتی تو تم کبھی بھی ان کی عبادت نہ کرتے۔
23:81

بَلۡ قَالُواْ مِثۡلَ مَا قَالَ ٱلۡأَوَّلُونَ

بلکہ انھوں کہامثل اسی کے جو کہا تھا پہلوں نے (81) انھوں نے کہا، کیاجب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں گے مٹی اور ہڈیاں ، کیا ہم البتہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (82) البتہ تحقیق وعدہ دیے گئے ہیں ہم، ہم اور ہمارے باپ دادا بھی یہی اس سے پہلے، نہیں ہیں یہ مگر (قصے) کہانیاں پہلے لوگوں کی (83) [81,83]﴿ بَلۡ قَالُوۡا مِثۡلَ مَا قَالَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے بھی ایسی ہی بات کہی جو پہلوں نے کہی تھی۔‘‘ یعنی یہ مکذبین بھی انھی راہوں پر چل پڑے جن پر ان سے پہلے زندگی بعد موت کی تکذیب کرنے والے گامزن تھے، زندگی بعد موت کو بہت بعید سمجھتے تھے اور کہاکرتے تھے:﴿ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠ ﴾’’کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے؟‘‘ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق اس کا تصور کیا جا سکتا ہے نہ یہ بات عقل میں آسکتی ہے۔﴿ لَقَدۡ وُعِدۡنَا نَحۡنُ وَاٰبَآؤُنَا هٰؔذَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی ہمارے ساتھ ہمیشہ سے یہ وعدہ کیا جاتا رہا ہے کہ قیامت آئے گی، ہمیں اور ہمارے آباء و اجداد کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ہم نے تو اسے نہیں دیکھا اور نہ آئندہ ہی وہ آئے گی۔ ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یہ تو محض قصے کہانیاں ہیں جو کھیل کے طور پر بیان کی جاتی ہیں ورنہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ۔وہ جھوٹ کہتے ہیں … اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے … اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کروایا جو قیامت کے برپا ہونے سے بھی بڑی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَخَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَكۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ النَّاسِ ﴾(غافر:40؍57) ’’آسمانوں اور زمین کی تخلیق یقیناً انسان کی تخلیق سے زیادہ بڑا کام ہے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلۡقَهٗ١ؕ قَالَ مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ﴾(یٰسۗ:36؍78) ’’وہ ہمارے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی تخلیق کو بھول جاتا ہے اور کہتا ہے: ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو کر مٹی بن چکی ہوں گی۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَتَرَى الۡاَرۡضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَؔ اهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡ ﴾(الحج:22؍5) ’’تو زمین کو دیکھتا ہے کہ وہ سوکھی پڑی ہے،ہم نے اس پر پانی برسایا تو وہ لہلہا اٹھی اور پھول گئی۔‘‘
23:82

قَالُوٓاْ أَءِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابٗا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبۡعُوثُونَ

بلکہ انھوں کہامثل اسی کے جو کہا تھا پہلوں نے (81) انھوں نے کہا، کیاجب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں گے مٹی اور ہڈیاں ، کیا ہم البتہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (82) البتہ تحقیق وعدہ دیے گئے ہیں ہم، ہم اور ہمارے باپ دادا بھی یہی اس سے پہلے، نہیں ہیں یہ مگر (قصے) کہانیاں پہلے لوگوں کی (83) [81,83]﴿ بَلۡ قَالُوۡا مِثۡلَ مَا قَالَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے بھی ایسی ہی بات کہی جو پہلوں نے کہی تھی۔‘‘ یعنی یہ مکذبین بھی انھی راہوں پر چل پڑے جن پر ان سے پہلے زندگی بعد موت کی تکذیب کرنے والے گامزن تھے، زندگی بعد موت کو بہت بعید سمجھتے تھے اور کہاکرتے تھے:﴿ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠ ﴾’’کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے؟‘‘ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق اس کا تصور کیا جا سکتا ہے نہ یہ بات عقل میں آسکتی ہے۔﴿ لَقَدۡ وُعِدۡنَا نَحۡنُ وَاٰبَآؤُنَا هٰؔذَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی ہمارے ساتھ ہمیشہ سے یہ وعدہ کیا جاتا رہا ہے کہ قیامت آئے گی، ہمیں اور ہمارے آباء و اجداد کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ہم نے تو اسے نہیں دیکھا اور نہ آئندہ ہی وہ آئے گی۔ ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یہ تو محض قصے کہانیاں ہیں جو کھیل کے طور پر بیان کی جاتی ہیں ورنہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ۔وہ جھوٹ کہتے ہیں … اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے … اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کروایا جو قیامت کے برپا ہونے سے بھی بڑی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَخَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَكۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ النَّاسِ ﴾(غافر:40؍57) ’’آسمانوں اور زمین کی تخلیق یقیناً انسان کی تخلیق سے زیادہ بڑا کام ہے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلۡقَهٗ١ؕ قَالَ مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ﴾(یٰسۗ:36؍78) ’’وہ ہمارے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی تخلیق کو بھول جاتا ہے اور کہتا ہے: ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو کر مٹی بن چکی ہوں گی۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَتَرَى الۡاَرۡضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَؔ اهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡ ﴾(الحج:22؍5) ’’تو زمین کو دیکھتا ہے کہ وہ سوکھی پڑی ہے،ہم نے اس پر پانی برسایا تو وہ لہلہا اٹھی اور پھول گئی۔‘‘
23:83

لَقَدۡ وُعِدۡنَا نَحۡنُ وَءَابَآؤُنَا هَٰذَا مِن قَبۡلُ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ

بلکہ انھوں کہامثل اسی کے جو کہا تھا پہلوں نے (81) انھوں نے کہا، کیاجب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں گے مٹی اور ہڈیاں ، کیا ہم البتہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (82) البتہ تحقیق وعدہ دیے گئے ہیں ہم، ہم اور ہمارے باپ دادا بھی یہی اس سے پہلے، نہیں ہیں یہ مگر (قصے) کہانیاں پہلے لوگوں کی (83) [81,83]﴿ بَلۡ قَالُوۡا مِثۡلَ مَا قَالَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے بھی ایسی ہی بات کہی جو پہلوں نے کہی تھی۔‘‘ یعنی یہ مکذبین بھی انھی راہوں پر چل پڑے جن پر ان سے پہلے زندگی بعد موت کی تکذیب کرنے والے گامزن تھے، زندگی بعد موت کو بہت بعید سمجھتے تھے اور کہاکرتے تھے:﴿ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠ ﴾’’کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے؟‘‘ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق اس کا تصور کیا جا سکتا ہے نہ یہ بات عقل میں آسکتی ہے۔﴿ لَقَدۡ وُعِدۡنَا نَحۡنُ وَاٰبَآؤُنَا هٰؔذَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ یعنی ہمارے ساتھ ہمیشہ سے یہ وعدہ کیا جاتا رہا ہے کہ قیامت آئے گی، ہمیں اور ہمارے آباء و اجداد کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ہم نے تو اسے نہیں دیکھا اور نہ آئندہ ہی وہ آئے گی۔ ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یہ تو محض قصے کہانیاں ہیں جو کھیل کے طور پر بیان کی جاتی ہیں ورنہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ۔وہ جھوٹ کہتے ہیں … اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے … اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کروایا جو قیامت کے برپا ہونے سے بھی بڑی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَخَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَكۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ النَّاسِ ﴾(غافر:40؍57) ’’آسمانوں اور زمین کی تخلیق یقیناً انسان کی تخلیق سے زیادہ بڑا کام ہے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلۡقَهٗ١ؕ قَالَ مَنۡ يُّحۡيِ الۡعِظَامَ وَهِيَ رَمِيۡمٌ﴾(یٰسۗ:36؍78) ’’وہ ہمارے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی تخلیق کو بھول جاتا ہے اور کہتا ہے: ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو کر مٹی بن چکی ہوں گی۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَتَرَى الۡاَرۡضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَؔ اهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡ ﴾(الحج:22؍5) ’’تو زمین کو دیکھتا ہے کہ وہ سوکھی پڑی ہے،ہم نے اس پر پانی برسایا تو وہ لہلہا اٹھی اور پھول گئی۔‘‘
23:84

قُل لِّمَنِ ٱلۡأَرۡضُ وَمَن فِيهَآ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ

آپ کہہ دیجیے! کس کے لیے ہے زمین اور جو (مخلوق) اس میں ہے اگر ہو تم جانتے ؟ (84) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے۔ کہہ دیجیے! کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (85) کہہ دیجیے! کون ہے رب ساتوں آسمانوں کا اور رب عرش عظیم کا؟ (86) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے، کہہ دیجیے! کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (87)کہہ دیجیے! کون ہے جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی ہر چیز کی اور وہی پناہ دیتا ہے اور نہیں پناہ دی جاسکتی اس کے مقابلے میں اگر ہو تم جانتے؟ (88) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے، کہہ دیجیے! پس کہاں سے جادو کیے جاتے ہو تم؟ (89) [85,84] یعنی زندگی بعد الموت اور آخرت کی تکذیب کرنے والوں سے، جو اللہ تعالیٰ کے ہم سر اور شریک ٹھہراتے ہیں توحید ربوبیت کو جس کا وہ اقرار اور اثبات کرتے ہیں توحید الوہیت اور توحید عبادت پر دلیل بناتے ہوئے، اسی طرح بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق کے اثبات کو، مرنے کے بعد زندگی کے اعادہ پر، جوکہ اس سے آسان تر ہے، برہان ٹھہراتے ہوئے، کہیے! ﴿ لِّمَنِ الۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهَاۤ ﴾ یعنی زمین اور زمین کی تمام مخلوقات، حیوانات، نباتات، جمادات، سمندروں ، دریاؤں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا، ان کا مالک کون ہے اور کون ان کی تدبیر کرتا ہے؟ اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں تو وہ یہی جواب دیں گے ’’صرف اللہ‘‘! جب وہ اس حقیقت کا اقرار کرلیں تو آپ ان سے کہیے! ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس چیز کی طرف رجوع نہیں کرتے جس کی یاددہانی تمھیں اللہ تعالیٰ نے کروائی ہے جس کا تمھیں علم ہے جو تمھاری فطرت میں راسخ ہے البتہ اعراض بسااوقات اسے ذہن سے غائب کر دیتا ہے … حقیقت یہ ہے کہ اگر تم مجرد تھوڑے سے غور و فکر کے ذریعے سے، اپنی اس یاددہانی کی طرف رجوع کرو تو تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ اس تمام کائنات کا مالک ہی اکیلا معبود ہے اور وہ ہستی جو مملوک ہے، اس کی الوہیت سب سے بڑا باطل ہے۔ [87,86] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی بڑی دلیل کی طرف منتقل ہوتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبۡعِ ﴾ ’’کہہ دیجیے سات آسمانوں کا رب کون ہے؟‘‘ اور ان کے اندر ستاروں ، سیاروں ، کواکب اور ثوابت کا رب کون ہے؟ ﴿ وَرَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور عرش عظیم کا رب کون ہے‘‘ جو تمام مخلوقات سے زیادہ بلند، سب سے وسیع اور سب سے بڑا ہے؟ وہ کون ہے جس نے اس پورے نظام کی تخلیق کی پھر اس کی تدبیر کی اور وہ مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے؟ ﴿ سَيَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰهِ﴾ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ ان سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے جب وہ اس کا اقرار کرلیں تو ان سے کہیے! ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا پس تم (عاجز اور بے بس مخلوق کی عبادت سے ) بچتے کیوں نہیں ؟‘‘ اس کے برعکس تم رب عظیم کی عبادت سے، جو کامل قدرت اور عظیم قوت کا مالک ہے، دور بھاگتے ہو۔ اس آیت کریمہ میں خطاب کا ایسا اسلوب ہے جو لطف و کرم پر مبنی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ میں نظر آتا ہے، نیز اس میں وعظ و نصیحت کا ایسا پیرایہ ہے جو انتہائی دلکش ہے۔ [89,88] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس امر کے اقرار کی طرف منتقل ہوتا ہے جو ان سب سے زیادہ عمومیت کا حامل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۢۡ بِيَدِهٖ مَلَكُوۡتُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی میں جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے اور جو کچھ ہمیں نظر نہیں آتا ان سب کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے؟ (الملکوت)اقتدار اور بادشاہی کے لیے مبالغے کا صیغہ ہے۔ ﴿ وَّهُوَ يُجِيۡرُ ﴾ ’’وہ شر سے پناہ دیتا ہے‘‘ اپنے بندوں کو ، ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان چیزوں سے ان کو محفوظ کرتا ہے جو انھیں ضرر پہنچاتی ہیں ﴿وَلَا يُجَارُ عَلَيۡهِ ﴾ کسی کی قدرت میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو پناہ دے سکے اور نہ کوئی اس شر اور تکلیف کو دور کر سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہو بلکہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کسی کو سفارش کرنے کی بھی مجال نہیں ۔ ﴿ سَيَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰهِ ﴾ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے، وہی پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ ﴿قُلۡ﴾ جب وہ اس حقیقت کا اقرار کریں تو الزامی طور پر ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاَنّٰى تُسۡحَرُوۡنَ﴾ ’’پھر تم کہاں سے جادو کر دیے جاتے ہو؟‘‘ یعنی پھر تمھاری عقل کہاں ماری جاتی ہے کہ تم ان ہستیوں کی عبادت کرنے لگے جن کے بارے میں تم خود جانتے ہو کہ وہ کسی چیز کی مالک نہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہیں اور تم نے مالک عظیم، قادر مطلق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والے کے لیے اخلاص کو ترک کر دیا۔ اس لیے وہ عقل جس نے اس غیر معقول کام کی طرف تمھاری راہ نمائی کی ہے، سحر زدہ ہونے کے سوا کچھ نہیں ۔ بلاشبہ شیطان نے ان کی عقل پر جادو کر دیا ہے اس نے ان کے سامنے شرک کو مزین کرکے خوبصورت بنا کر دکھایا، حقائق کو بدل ڈالا اور یوں ان کی عقلوں پر جادو کر دیا جس طرح جادوگر لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیتے ہیں ۔
23:85

سَيَقُولُونَ لِلَّهِۚ قُلۡ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

آپ کہہ دیجیے! کس کے لیے ہے زمین اور جو (مخلوق) اس میں ہے اگر ہو تم جانتے ؟ (84) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے۔ کہہ دیجیے! کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (85) کہہ دیجیے! کون ہے رب ساتوں آسمانوں کا اور رب عرش عظیم کا؟ (86) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے، کہہ دیجیے! کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (87)کہہ دیجیے! کون ہے جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی ہر چیز کی اور وہی پناہ دیتا ہے اور نہیں پناہ دی جاسکتی اس کے مقابلے میں اگر ہو تم جانتے؟ (88) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے، کہہ دیجیے! پس کہاں سے جادو کیے جاتے ہو تم؟ (89) [85,84] یعنی زندگی بعد الموت اور آخرت کی تکذیب کرنے والوں سے، جو اللہ تعالیٰ کے ہم سر اور شریک ٹھہراتے ہیں توحید ربوبیت کو جس کا وہ اقرار اور اثبات کرتے ہیں توحید الوہیت اور توحید عبادت پر دلیل بناتے ہوئے، اسی طرح بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق کے اثبات کو، مرنے کے بعد زندگی کے اعادہ پر، جوکہ اس سے آسان تر ہے، برہان ٹھہراتے ہوئے، کہیے! ﴿ لِّمَنِ الۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهَاۤ ﴾ یعنی زمین اور زمین کی تمام مخلوقات، حیوانات، نباتات، جمادات، سمندروں ، دریاؤں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا، ان کا مالک کون ہے اور کون ان کی تدبیر کرتا ہے؟ اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں تو وہ یہی جواب دیں گے ’’صرف اللہ‘‘! جب وہ اس حقیقت کا اقرار کرلیں تو آپ ان سے کہیے! ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس چیز کی طرف رجوع نہیں کرتے جس کی یاددہانی تمھیں اللہ تعالیٰ نے کروائی ہے جس کا تمھیں علم ہے جو تمھاری فطرت میں راسخ ہے البتہ اعراض بسااوقات اسے ذہن سے غائب کر دیتا ہے … حقیقت یہ ہے کہ اگر تم مجرد تھوڑے سے غور و فکر کے ذریعے سے، اپنی اس یاددہانی کی طرف رجوع کرو تو تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ اس تمام کائنات کا مالک ہی اکیلا معبود ہے اور وہ ہستی جو مملوک ہے، اس کی الوہیت سب سے بڑا باطل ہے۔ [87,86] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی بڑی دلیل کی طرف منتقل ہوتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبۡعِ ﴾ ’’کہہ دیجیے سات آسمانوں کا رب کون ہے؟‘‘ اور ان کے اندر ستاروں ، سیاروں ، کواکب اور ثوابت کا رب کون ہے؟ ﴿ وَرَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور عرش عظیم کا رب کون ہے‘‘ جو تمام مخلوقات سے زیادہ بلند، سب سے وسیع اور سب سے بڑا ہے؟ وہ کون ہے جس نے اس پورے نظام کی تخلیق کی پھر اس کی تدبیر کی اور وہ مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے؟ ﴿ سَيَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰهِ﴾ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ ان سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے جب وہ اس کا اقرار کرلیں تو ان سے کہیے! ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا پس تم (عاجز اور بے بس مخلوق کی عبادت سے ) بچتے کیوں نہیں ؟‘‘ اس کے برعکس تم رب عظیم کی عبادت سے، جو کامل قدرت اور عظیم قوت کا مالک ہے، دور بھاگتے ہو۔ اس آیت کریمہ میں خطاب کا ایسا اسلوب ہے جو لطف و کرم پر مبنی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ میں نظر آتا ہے، نیز اس میں وعظ و نصیحت کا ایسا پیرایہ ہے جو انتہائی دلکش ہے۔ [89,88] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس امر کے اقرار کی طرف منتقل ہوتا ہے جو ان سب سے زیادہ عمومیت کا حامل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۢۡ بِيَدِهٖ مَلَكُوۡتُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی میں جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے اور جو کچھ ہمیں نظر نہیں آتا ان سب کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے؟ (الملکوت)اقتدار اور بادشاہی کے لیے مبالغے کا صیغہ ہے۔ ﴿ وَّهُوَ يُجِيۡرُ ﴾ ’’وہ شر سے پناہ دیتا ہے‘‘ اپنے بندوں کو ، ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان چیزوں سے ان کو محفوظ کرتا ہے جو انھیں ضرر پہنچاتی ہیں ﴿وَلَا يُجَارُ عَلَيۡهِ ﴾ کسی کی قدرت میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو پناہ دے سکے اور نہ کوئی اس شر اور تکلیف کو دور کر سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہو بلکہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کسی کو سفارش کرنے کی بھی مجال نہیں ۔ ﴿ سَيَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰهِ ﴾ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے، وہی پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ ﴿قُلۡ﴾ جب وہ اس حقیقت کا اقرار کریں تو الزامی طور پر ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاَنّٰى تُسۡحَرُوۡنَ﴾ ’’پھر تم کہاں سے جادو کر دیے جاتے ہو؟‘‘ یعنی پھر تمھاری عقل کہاں ماری جاتی ہے کہ تم ان ہستیوں کی عبادت کرنے لگے جن کے بارے میں تم خود جانتے ہو کہ وہ کسی چیز کی مالک نہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہیں اور تم نے مالک عظیم، قادر مطلق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والے کے لیے اخلاص کو ترک کر دیا۔ اس لیے وہ عقل جس نے اس غیر معقول کام کی طرف تمھاری راہ نمائی کی ہے، سحر زدہ ہونے کے سوا کچھ نہیں ۔ بلاشبہ شیطان نے ان کی عقل پر جادو کر دیا ہے اس نے ان کے سامنے شرک کو مزین کرکے خوبصورت بنا کر دکھایا، حقائق کو بدل ڈالا اور یوں ان کی عقلوں پر جادو کر دیا جس طرح جادوگر لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیتے ہیں ۔
23:86

قُلۡ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ ٱلسَّبۡعِ وَرَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡعَظِيمِ

آپ کہہ دیجیے! کس کے لیے ہے زمین اور جو (مخلوق) اس میں ہے اگر ہو تم جانتے ؟ (84) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے۔ کہہ دیجیے! کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (85) کہہ دیجیے! کون ہے رب ساتوں آسمانوں کا اور رب عرش عظیم کا؟ (86) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے، کہہ دیجیے! کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (87)کہہ دیجیے! کون ہے جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی ہر چیز کی اور وہی پناہ دیتا ہے اور نہیں پناہ دی جاسکتی اس کے مقابلے میں اگر ہو تم جانتے؟ (88) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے، کہہ دیجیے! پس کہاں سے جادو کیے جاتے ہو تم؟ (89) [85,84] یعنی زندگی بعد الموت اور آخرت کی تکذیب کرنے والوں سے، جو اللہ تعالیٰ کے ہم سر اور شریک ٹھہراتے ہیں توحید ربوبیت کو جس کا وہ اقرار اور اثبات کرتے ہیں توحید الوہیت اور توحید عبادت پر دلیل بناتے ہوئے، اسی طرح بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق کے اثبات کو، مرنے کے بعد زندگی کے اعادہ پر، جوکہ اس سے آسان تر ہے، برہان ٹھہراتے ہوئے، کہیے! ﴿ لِّمَنِ الۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهَاۤ ﴾ یعنی زمین اور زمین کی تمام مخلوقات، حیوانات، نباتات، جمادات، سمندروں ، دریاؤں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا، ان کا مالک کون ہے اور کون ان کی تدبیر کرتا ہے؟ اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں تو وہ یہی جواب دیں گے ’’صرف اللہ‘‘! جب وہ اس حقیقت کا اقرار کرلیں تو آپ ان سے کہیے! ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس چیز کی طرف رجوع نہیں کرتے جس کی یاددہانی تمھیں اللہ تعالیٰ نے کروائی ہے جس کا تمھیں علم ہے جو تمھاری فطرت میں راسخ ہے البتہ اعراض بسااوقات اسے ذہن سے غائب کر دیتا ہے … حقیقت یہ ہے کہ اگر تم مجرد تھوڑے سے غور و فکر کے ذریعے سے، اپنی اس یاددہانی کی طرف رجوع کرو تو تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ اس تمام کائنات کا مالک ہی اکیلا معبود ہے اور وہ ہستی جو مملوک ہے، اس کی الوہیت سب سے بڑا باطل ہے۔ [87,86] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی بڑی دلیل کی طرف منتقل ہوتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبۡعِ ﴾ ’’کہہ دیجیے سات آسمانوں کا رب کون ہے؟‘‘ اور ان کے اندر ستاروں ، سیاروں ، کواکب اور ثوابت کا رب کون ہے؟ ﴿ وَرَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور عرش عظیم کا رب کون ہے‘‘ جو تمام مخلوقات سے زیادہ بلند، سب سے وسیع اور سب سے بڑا ہے؟ وہ کون ہے جس نے اس پورے نظام کی تخلیق کی پھر اس کی تدبیر کی اور وہ مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے؟ ﴿ سَيَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰهِ﴾ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ ان سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے جب وہ اس کا اقرار کرلیں تو ان سے کہیے! ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا پس تم (عاجز اور بے بس مخلوق کی عبادت سے ) بچتے کیوں نہیں ؟‘‘ اس کے برعکس تم رب عظیم کی عبادت سے، جو کامل قدرت اور عظیم قوت کا مالک ہے، دور بھاگتے ہو۔ اس آیت کریمہ میں خطاب کا ایسا اسلوب ہے جو لطف و کرم پر مبنی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ میں نظر آتا ہے، نیز اس میں وعظ و نصیحت کا ایسا پیرایہ ہے جو انتہائی دلکش ہے۔ [89,88] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس امر کے اقرار کی طرف منتقل ہوتا ہے جو ان سب سے زیادہ عمومیت کا حامل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۢۡ بِيَدِهٖ مَلَكُوۡتُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی میں جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے اور جو کچھ ہمیں نظر نہیں آتا ان سب کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے؟ (الملکوت)اقتدار اور بادشاہی کے لیے مبالغے کا صیغہ ہے۔ ﴿ وَّهُوَ يُجِيۡرُ ﴾ ’’وہ شر سے پناہ دیتا ہے‘‘ اپنے بندوں کو ، ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان چیزوں سے ان کو محفوظ کرتا ہے جو انھیں ضرر پہنچاتی ہیں ﴿وَلَا يُجَارُ عَلَيۡهِ ﴾ کسی کی قدرت میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو پناہ دے سکے اور نہ کوئی اس شر اور تکلیف کو دور کر سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہو بلکہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کسی کو سفارش کرنے کی بھی مجال نہیں ۔ ﴿ سَيَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰهِ ﴾ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے، وہی پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ ﴿قُلۡ﴾ جب وہ اس حقیقت کا اقرار کریں تو الزامی طور پر ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاَنّٰى تُسۡحَرُوۡنَ﴾ ’’پھر تم کہاں سے جادو کر دیے جاتے ہو؟‘‘ یعنی پھر تمھاری عقل کہاں ماری جاتی ہے کہ تم ان ہستیوں کی عبادت کرنے لگے جن کے بارے میں تم خود جانتے ہو کہ وہ کسی چیز کی مالک نہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہیں اور تم نے مالک عظیم، قادر مطلق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والے کے لیے اخلاص کو ترک کر دیا۔ اس لیے وہ عقل جس نے اس غیر معقول کام کی طرف تمھاری راہ نمائی کی ہے، سحر زدہ ہونے کے سوا کچھ نہیں ۔ بلاشبہ شیطان نے ان کی عقل پر جادو کر دیا ہے اس نے ان کے سامنے شرک کو مزین کرکے خوبصورت بنا کر دکھایا، حقائق کو بدل ڈالا اور یوں ان کی عقلوں پر جادو کر دیا جس طرح جادوگر لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیتے ہیں ۔
23:87

سَيَقُولُونَ لِلَّهِۚ قُلۡ أَفَلَا تَتَّقُونَ

آپ کہہ دیجیے! کس کے لیے ہے زمین اور جو (مخلوق) اس میں ہے اگر ہو تم جانتے ؟ (84) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے۔ کہہ دیجیے! کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (85) کہہ دیجیے! کون ہے رب ساتوں آسمانوں کا اور رب عرش عظیم کا؟ (86) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے، کہہ دیجیے! کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (87)کہہ دیجیے! کون ہے جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی ہر چیز کی اور وہی پناہ دیتا ہے اور نہیں پناہ دی جاسکتی اس کے مقابلے میں اگر ہو تم جانتے؟ (88) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے، کہہ دیجیے! پس کہاں سے جادو کیے جاتے ہو تم؟ (89) [85,84] یعنی زندگی بعد الموت اور آخرت کی تکذیب کرنے والوں سے، جو اللہ تعالیٰ کے ہم سر اور شریک ٹھہراتے ہیں توحید ربوبیت کو جس کا وہ اقرار اور اثبات کرتے ہیں توحید الوہیت اور توحید عبادت پر دلیل بناتے ہوئے، اسی طرح بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق کے اثبات کو، مرنے کے بعد زندگی کے اعادہ پر، جوکہ اس سے آسان تر ہے، برہان ٹھہراتے ہوئے، کہیے! ﴿ لِّمَنِ الۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهَاۤ ﴾ یعنی زمین اور زمین کی تمام مخلوقات، حیوانات، نباتات، جمادات، سمندروں ، دریاؤں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا، ان کا مالک کون ہے اور کون ان کی تدبیر کرتا ہے؟ اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں تو وہ یہی جواب دیں گے ’’صرف اللہ‘‘! جب وہ اس حقیقت کا اقرار کرلیں تو آپ ان سے کہیے! ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس چیز کی طرف رجوع نہیں کرتے جس کی یاددہانی تمھیں اللہ تعالیٰ نے کروائی ہے جس کا تمھیں علم ہے جو تمھاری فطرت میں راسخ ہے البتہ اعراض بسااوقات اسے ذہن سے غائب کر دیتا ہے … حقیقت یہ ہے کہ اگر تم مجرد تھوڑے سے غور و فکر کے ذریعے سے، اپنی اس یاددہانی کی طرف رجوع کرو تو تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ اس تمام کائنات کا مالک ہی اکیلا معبود ہے اور وہ ہستی جو مملوک ہے، اس کی الوہیت سب سے بڑا باطل ہے۔ [87,86] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی بڑی دلیل کی طرف منتقل ہوتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبۡعِ ﴾ ’’کہہ دیجیے سات آسمانوں کا رب کون ہے؟‘‘ اور ان کے اندر ستاروں ، سیاروں ، کواکب اور ثوابت کا رب کون ہے؟ ﴿ وَرَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور عرش عظیم کا رب کون ہے‘‘ جو تمام مخلوقات سے زیادہ بلند، سب سے وسیع اور سب سے بڑا ہے؟ وہ کون ہے جس نے اس پورے نظام کی تخلیق کی پھر اس کی تدبیر کی اور وہ مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے؟ ﴿ سَيَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰهِ﴾ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ ان سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے جب وہ اس کا اقرار کرلیں تو ان سے کہیے! ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا پس تم (عاجز اور بے بس مخلوق کی عبادت سے ) بچتے کیوں نہیں ؟‘‘ اس کے برعکس تم رب عظیم کی عبادت سے، جو کامل قدرت اور عظیم قوت کا مالک ہے، دور بھاگتے ہو۔ اس آیت کریمہ میں خطاب کا ایسا اسلوب ہے جو لطف و کرم پر مبنی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ میں نظر آتا ہے، نیز اس میں وعظ و نصیحت کا ایسا پیرایہ ہے جو انتہائی دلکش ہے۔ [89,88] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس امر کے اقرار کی طرف منتقل ہوتا ہے جو ان سب سے زیادہ عمومیت کا حامل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۢۡ بِيَدِهٖ مَلَكُوۡتُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی میں جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے اور جو کچھ ہمیں نظر نہیں آتا ان سب کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے؟ (الملکوت)اقتدار اور بادشاہی کے لیے مبالغے کا صیغہ ہے۔ ﴿ وَّهُوَ يُجِيۡرُ ﴾ ’’وہ شر سے پناہ دیتا ہے‘‘ اپنے بندوں کو ، ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان چیزوں سے ان کو محفوظ کرتا ہے جو انھیں ضرر پہنچاتی ہیں ﴿وَلَا يُجَارُ عَلَيۡهِ ﴾ کسی کی قدرت میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو پناہ دے سکے اور نہ کوئی اس شر اور تکلیف کو دور کر سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہو بلکہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کسی کو سفارش کرنے کی بھی مجال نہیں ۔ ﴿ سَيَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰهِ ﴾ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے، وہی پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ ﴿قُلۡ﴾ جب وہ اس حقیقت کا اقرار کریں تو الزامی طور پر ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاَنّٰى تُسۡحَرُوۡنَ﴾ ’’پھر تم کہاں سے جادو کر دیے جاتے ہو؟‘‘ یعنی پھر تمھاری عقل کہاں ماری جاتی ہے کہ تم ان ہستیوں کی عبادت کرنے لگے جن کے بارے میں تم خود جانتے ہو کہ وہ کسی چیز کی مالک نہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہیں اور تم نے مالک عظیم، قادر مطلق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والے کے لیے اخلاص کو ترک کر دیا۔ اس لیے وہ عقل جس نے اس غیر معقول کام کی طرف تمھاری راہ نمائی کی ہے، سحر زدہ ہونے کے سوا کچھ نہیں ۔ بلاشبہ شیطان نے ان کی عقل پر جادو کر دیا ہے اس نے ان کے سامنے شرک کو مزین کرکے خوبصورت بنا کر دکھایا، حقائق کو بدل ڈالا اور یوں ان کی عقلوں پر جادو کر دیا جس طرح جادوگر لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیتے ہیں ۔
23:88

قُلۡ مَنۢ بِيَدِهِۦ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيۡءٖ وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيۡهِ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ

آپ کہہ دیجیے! کس کے لیے ہے زمین اور جو (مخلوق) اس میں ہے اگر ہو تم جانتے ؟ (84) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے۔ کہہ دیجیے! کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (85) کہہ دیجیے! کون ہے رب ساتوں آسمانوں کا اور رب عرش عظیم کا؟ (86) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے، کہہ دیجیے! کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (87)کہہ دیجیے! کون ہے جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی ہر چیز کی اور وہی پناہ دیتا ہے اور نہیں پناہ دی جاسکتی اس کے مقابلے میں اگر ہو تم جانتے؟ (88) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے، کہہ دیجیے! پس کہاں سے جادو کیے جاتے ہو تم؟ (89) [85,84] یعنی زندگی بعد الموت اور آخرت کی تکذیب کرنے والوں سے، جو اللہ تعالیٰ کے ہم سر اور شریک ٹھہراتے ہیں توحید ربوبیت کو جس کا وہ اقرار اور اثبات کرتے ہیں توحید الوہیت اور توحید عبادت پر دلیل بناتے ہوئے، اسی طرح بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق کے اثبات کو، مرنے کے بعد زندگی کے اعادہ پر، جوکہ اس سے آسان تر ہے، برہان ٹھہراتے ہوئے، کہیے! ﴿ لِّمَنِ الۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهَاۤ ﴾ یعنی زمین اور زمین کی تمام مخلوقات، حیوانات، نباتات، جمادات، سمندروں ، دریاؤں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا، ان کا مالک کون ہے اور کون ان کی تدبیر کرتا ہے؟ اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں تو وہ یہی جواب دیں گے ’’صرف اللہ‘‘! جب وہ اس حقیقت کا اقرار کرلیں تو آپ ان سے کہیے! ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس چیز کی طرف رجوع نہیں کرتے جس کی یاددہانی تمھیں اللہ تعالیٰ نے کروائی ہے جس کا تمھیں علم ہے جو تمھاری فطرت میں راسخ ہے البتہ اعراض بسااوقات اسے ذہن سے غائب کر دیتا ہے … حقیقت یہ ہے کہ اگر تم مجرد تھوڑے سے غور و فکر کے ذریعے سے، اپنی اس یاددہانی کی طرف رجوع کرو تو تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ اس تمام کائنات کا مالک ہی اکیلا معبود ہے اور وہ ہستی جو مملوک ہے، اس کی الوہیت سب سے بڑا باطل ہے۔ [87,86] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی بڑی دلیل کی طرف منتقل ہوتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبۡعِ ﴾ ’’کہہ دیجیے سات آسمانوں کا رب کون ہے؟‘‘ اور ان کے اندر ستاروں ، سیاروں ، کواکب اور ثوابت کا رب کون ہے؟ ﴿ وَرَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور عرش عظیم کا رب کون ہے‘‘ جو تمام مخلوقات سے زیادہ بلند، سب سے وسیع اور سب سے بڑا ہے؟ وہ کون ہے جس نے اس پورے نظام کی تخلیق کی پھر اس کی تدبیر کی اور وہ مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے؟ ﴿ سَيَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰهِ﴾ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ ان سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے جب وہ اس کا اقرار کرلیں تو ان سے کہیے! ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا پس تم (عاجز اور بے بس مخلوق کی عبادت سے ) بچتے کیوں نہیں ؟‘‘ اس کے برعکس تم رب عظیم کی عبادت سے، جو کامل قدرت اور عظیم قوت کا مالک ہے، دور بھاگتے ہو۔ اس آیت کریمہ میں خطاب کا ایسا اسلوب ہے جو لطف و کرم پر مبنی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ میں نظر آتا ہے، نیز اس میں وعظ و نصیحت کا ایسا پیرایہ ہے جو انتہائی دلکش ہے۔ [89,88] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس امر کے اقرار کی طرف منتقل ہوتا ہے جو ان سب سے زیادہ عمومیت کا حامل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۢۡ بِيَدِهٖ مَلَكُوۡتُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی میں جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے اور جو کچھ ہمیں نظر نہیں آتا ان سب کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے؟ (الملکوت)اقتدار اور بادشاہی کے لیے مبالغے کا صیغہ ہے۔ ﴿ وَّهُوَ يُجِيۡرُ ﴾ ’’وہ شر سے پناہ دیتا ہے‘‘ اپنے بندوں کو ، ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان چیزوں سے ان کو محفوظ کرتا ہے جو انھیں ضرر پہنچاتی ہیں ﴿وَلَا يُجَارُ عَلَيۡهِ ﴾ کسی کی قدرت میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو پناہ دے سکے اور نہ کوئی اس شر اور تکلیف کو دور کر سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہو بلکہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کسی کو سفارش کرنے کی بھی مجال نہیں ۔ ﴿ سَيَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰهِ ﴾ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے، وہی پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ ﴿قُلۡ﴾ جب وہ اس حقیقت کا اقرار کریں تو الزامی طور پر ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاَنّٰى تُسۡحَرُوۡنَ﴾ ’’پھر تم کہاں سے جادو کر دیے جاتے ہو؟‘‘ یعنی پھر تمھاری عقل کہاں ماری جاتی ہے کہ تم ان ہستیوں کی عبادت کرنے لگے جن کے بارے میں تم خود جانتے ہو کہ وہ کسی چیز کی مالک نہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہیں اور تم نے مالک عظیم، قادر مطلق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والے کے لیے اخلاص کو ترک کر دیا۔ اس لیے وہ عقل جس نے اس غیر معقول کام کی طرف تمھاری راہ نمائی کی ہے، سحر زدہ ہونے کے سوا کچھ نہیں ۔ بلاشبہ شیطان نے ان کی عقل پر جادو کر دیا ہے اس نے ان کے سامنے شرک کو مزین کرکے خوبصورت بنا کر دکھایا، حقائق کو بدل ڈالا اور یوں ان کی عقلوں پر جادو کر دیا جس طرح جادوگر لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیتے ہیں ۔
23:89

سَيَقُولُونَ لِلَّهِۚ قُلۡ فَأَنَّىٰ تُسۡحَرُونَ

آپ کہہ دیجیے! کس کے لیے ہے زمین اور جو (مخلوق) اس میں ہے اگر ہو تم جانتے ؟ (84) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے۔ کہہ دیجیے! کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (85) کہہ دیجیے! کون ہے رب ساتوں آسمانوں کا اور رب عرش عظیم کا؟ (86) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے، کہہ دیجیے! کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (87)کہہ دیجیے! کون ہے جس کے ہاتھ میں ہے بادشاہی ہر چیز کی اور وہی پناہ دیتا ہے اور نہیں پناہ دی جاسکتی اس کے مقابلے میں اگر ہو تم جانتے؟ (88) ضرور کہیں گے وہ، اللہ ہی کے لیے ہے، کہہ دیجیے! پس کہاں سے جادو کیے جاتے ہو تم؟ (89) [85,84] یعنی زندگی بعد الموت اور آخرت کی تکذیب کرنے والوں سے، جو اللہ تعالیٰ کے ہم سر اور شریک ٹھہراتے ہیں توحید ربوبیت کو جس کا وہ اقرار اور اثبات کرتے ہیں توحید الوہیت اور توحید عبادت پر دلیل بناتے ہوئے، اسی طرح بڑی بڑی مخلوقات کی تخلیق کے اثبات کو، مرنے کے بعد زندگی کے اعادہ پر، جوکہ اس سے آسان تر ہے، برہان ٹھہراتے ہوئے، کہیے! ﴿ لِّمَنِ الۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهَاۤ ﴾ یعنی زمین اور زمین کی تمام مخلوقات، حیوانات، نباتات، جمادات، سمندروں ، دریاؤں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا، ان کا مالک کون ہے اور کون ان کی تدبیر کرتا ہے؟ اگر آپ ان سے اس بارے میں سوال کریں تو وہ یہی جواب دیں گے ’’صرف اللہ‘‘! جب وہ اس حقیقت کا اقرار کرلیں تو آپ ان سے کہیے! ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس چیز کی طرف رجوع نہیں کرتے جس کی یاددہانی تمھیں اللہ تعالیٰ نے کروائی ہے جس کا تمھیں علم ہے جو تمھاری فطرت میں راسخ ہے البتہ اعراض بسااوقات اسے ذہن سے غائب کر دیتا ہے … حقیقت یہ ہے کہ اگر تم مجرد تھوڑے سے غور و فکر کے ذریعے سے، اپنی اس یاددہانی کی طرف رجوع کرو تو تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ اس تمام کائنات کا مالک ہی اکیلا معبود ہے اور وہ ہستی جو مملوک ہے، اس کی الوہیت سب سے بڑا باطل ہے۔ [87,86] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بھی بڑی دلیل کی طرف منتقل ہوتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبۡعِ ﴾ ’’کہہ دیجیے سات آسمانوں کا رب کون ہے؟‘‘ اور ان کے اندر ستاروں ، سیاروں ، کواکب اور ثوابت کا رب کون ہے؟ ﴿ وَرَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور عرش عظیم کا رب کون ہے‘‘ جو تمام مخلوقات سے زیادہ بلند، سب سے وسیع اور سب سے بڑا ہے؟ وہ کون ہے جس نے اس پورے نظام کی تخلیق کی پھر اس کی تدبیر کی اور وہ مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان میں تصرف کرتا ہے؟ ﴿ سَيَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰهِ﴾ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ ان سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے جب وہ اس کا اقرار کرلیں تو ان سے کہیے! ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’کیا پس تم (عاجز اور بے بس مخلوق کی عبادت سے ) بچتے کیوں نہیں ؟‘‘ اس کے برعکس تم رب عظیم کی عبادت سے، جو کامل قدرت اور عظیم قوت کا مالک ہے، دور بھاگتے ہو۔ اس آیت کریمہ میں خطاب کا ایسا اسلوب ہے جو لطف و کرم پر مبنی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴾ میں نظر آتا ہے، نیز اس میں وعظ و نصیحت کا ایسا پیرایہ ہے جو انتہائی دلکش ہے۔ [89,88] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس امر کے اقرار کی طرف منتقل ہوتا ہے جو ان سب سے زیادہ عمومیت کا حامل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۢۡ بِيَدِهٖ مَلَكُوۡتُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی میں جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے اور جو کچھ ہمیں نظر نہیں آتا ان سب کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے؟ (الملکوت)اقتدار اور بادشاہی کے لیے مبالغے کا صیغہ ہے۔ ﴿ وَّهُوَ يُجِيۡرُ ﴾ ’’وہ شر سے پناہ دیتا ہے‘‘ اپنے بندوں کو ، ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان چیزوں سے ان کو محفوظ کرتا ہے جو انھیں ضرر پہنچاتی ہیں ﴿وَلَا يُجَارُ عَلَيۡهِ ﴾ کسی کی قدرت میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو پناہ دے سکے اور نہ کوئی اس شر اور تکلیف کو دور کر سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہو بلکہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کسی کو سفارش کرنے کی بھی مجال نہیں ۔ ﴿ سَيَقُوۡلُوۡنَ لِلّٰهِ ﴾ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے، وہی پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ ﴿قُلۡ﴾ جب وہ اس حقیقت کا اقرار کریں تو الزامی طور پر ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاَنّٰى تُسۡحَرُوۡنَ﴾ ’’پھر تم کہاں سے جادو کر دیے جاتے ہو؟‘‘ یعنی پھر تمھاری عقل کہاں ماری جاتی ہے کہ تم ان ہستیوں کی عبادت کرنے لگے جن کے بارے میں تم خود جانتے ہو کہ وہ کسی چیز کی مالک نہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہیں اور تم نے مالک عظیم، قادر مطلق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والے کے لیے اخلاص کو ترک کر دیا۔ اس لیے وہ عقل جس نے اس غیر معقول کام کی طرف تمھاری راہ نمائی کی ہے، سحر زدہ ہونے کے سوا کچھ نہیں ۔ بلاشبہ شیطان نے ان کی عقل پر جادو کر دیا ہے اس نے ان کے سامنے شرک کو مزین کرکے خوبصورت بنا کر دکھایا، حقائق کو بدل ڈالا اور یوں ان کی عقلوں پر جادو کر دیا جس طرح جادوگر لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیتے ہیں ۔
23:90

بَلۡ أَتَيۡنَٰهُم بِٱلۡحَقِّ وَإِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ

بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس حق اور بلاشبہ وہ البتہ جھوٹے ہیں (90) نہیں بنائی اللہ نے کوئی اولاد اور نہ ہے اس کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہی (اگر ہوتا تو) اس وقت البتہ لے جاتا ہر معبود اس چیز کو جو اس نے پیدا کی اور البتہ چڑھائی کرتا بعض ان کا اوپر بعض کے، پاک ہے اللہ ان (باتوں ) سے جو وہ بیان کرتے ہیں (91) جاننے والا ہے غیب اور حاضر کا، پس وہ برتر ہے اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں (92) [92-90] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے بلکہ ہم ان جھٹلانے والوں کے پاس حق لے کر آئے ہیں جو خبر میں صدق اور امرونہی میں عدل کو متضمن ہے۔ ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ حق کا اعتراف نہیں کرتے حالانکہ حق اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے؟ ان کے پاس جھوٹ اور ظلم کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں جو حق کا بدل بن سکے، اس لیے فرمایا:﴿ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾’’اور وہ سخت جھوٹے ہیں ۔‘‘﴿ مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ﴾ ’’اللہ کی کوئی اولاد ہے نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہے۔‘‘ یعنی یہ سب جھوٹ ہے جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے آگاہ فرمایا ہے اور جسے عقل صحیح خوب پہچانتی ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے دو خداؤں کے ممتنع ہونے پر عقلی دلیل کی طرف توجہ دلائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذًا ﴾ ’’اس وقت۔‘‘ یعنی اگر ان کے زعم باطل کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوں ﴿ لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ ﴾ یعنی دونوں خدا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ایک دوسرے پر غالب آنے کے لیے اپنی اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہو جاتے۔ ﴿ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’اور ایک، دوسرے پر چڑھ دوڑتا۔‘‘ پس جو غالب ہوتا وہی معبود ہوتا ۔ اس قسم کی کھینچا تانی میں وجود کائنات کا باقی رہنا ممکن نہیں تھا اور نہ اس صورت حال میں کائنات کے اس عظیم انتظام کا تصور کیا جا سکتا ہے جسے دیکھ کر عقل حیرت میں گم ہو جاتی ہے۔اس کا اندازہ سورج، چاند، منجمد ستاروں اور سیاروں کے درمیان باہمی نظم کودیکھ کر کرو! جب سے ان کو پیدا کیا گیا ہے یہ ایک خاص ترتیب اور ایک خاص نظام کے مطابق چل رہے ہیں ، اس بے کراں کائنات کے تمام سیارے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے مسخر ہیں ، اس کی حکمت تمام مخلوق کی ضروریات و مصالح کے مطابق ان کی تدبیر کرتی ہے، ان میں کوئی ایک دوسرے پر منحصر نہیں ۔ آپ اس نظام کائنات میں ، اس کے کسی ادنیٰ سے تصرف میں بھی کوئی خلل دیکھیں گے نہ تناقض اور تعارض۔ کیا دو معبودوں کے انتظام کے تحت اس قسم کے نظام کا تصور کیا جا سکتا ہے ؟ … ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان چیزوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یہ تمام کائنات اپنی زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے اور اپنی مختلف اشکال کے ذریعے سے سمجھا رہی ہے کہ اس کی تدبیر کرنے والا، الٰہ ایک ہے جو کامل اسماء و صفات کا مالک ہے تمام مخلوقات، اس کی ربوبیت و الوہیت میں اس کی محتاج ہے۔ جس طرح اس کی ربوبیت کے بغیر مخلوقات کا کوئی وجود ہے نہ اس کو کوئی دوام، اسی طرح صرف اسی کی عبادت اور صرف اسی کی اطاعت کے بغیر مخلوقات کے لیے کوئی صلاح ہے نہ اس کا کوئی قوام۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک نمونے کے ذریعے سے اپنی صفات مقدسہ کی عظمت کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے اور وہ ہے اس کا علم محیط، چنانچہ فرمایا:﴿عٰلِمِ الۡغَيۡبِ ﴾ یعنی وہ تمام واجبات، مستحیلات اور ممکنات کوجاننے والا ہے جو ہماری نظروں اور ہمارے علم سے اوجھل ہیں ﴿ وَالشَّهَادَةِ ﴾ اور وہ ان امور کو بھی جانتا ہے جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں ۔ ﴿فَتَعٰلٰى ﴾ وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے ﴿ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’ان ہستیوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ کہ جن کے پاس کوئی علم نہیں سوائے اس علم کے جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔
23:91

مَا ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ مِن وَلَدٖ وَمَا كَانَ مَعَهُۥ مِنۡ إِلَٰهٍۚ إِذٗا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَٰهِۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ

بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس حق اور بلاشبہ وہ البتہ جھوٹے ہیں (90) نہیں بنائی اللہ نے کوئی اولاد اور نہ ہے اس کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہی (اگر ہوتا تو) اس وقت البتہ لے جاتا ہر معبود اس چیز کو جو اس نے پیدا کی اور البتہ چڑھائی کرتا بعض ان کا اوپر بعض کے، پاک ہے اللہ ان (باتوں ) سے جو وہ بیان کرتے ہیں (91) جاننے والا ہے غیب اور حاضر کا، پس وہ برتر ہے اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں (92) [92-90] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے بلکہ ہم ان جھٹلانے والوں کے پاس حق لے کر آئے ہیں جو خبر میں صدق اور امرونہی میں عدل کو متضمن ہے۔ ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ حق کا اعتراف نہیں کرتے حالانکہ حق اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے؟ ان کے پاس جھوٹ اور ظلم کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں جو حق کا بدل بن سکے، اس لیے فرمایا:﴿ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾’’اور وہ سخت جھوٹے ہیں ۔‘‘﴿ مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ﴾ ’’اللہ کی کوئی اولاد ہے نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہے۔‘‘ یعنی یہ سب جھوٹ ہے جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے آگاہ فرمایا ہے اور جسے عقل صحیح خوب پہچانتی ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے دو خداؤں کے ممتنع ہونے پر عقلی دلیل کی طرف توجہ دلائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذًا ﴾ ’’اس وقت۔‘‘ یعنی اگر ان کے زعم باطل کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوں ﴿ لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ ﴾ یعنی دونوں خدا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ایک دوسرے پر غالب آنے کے لیے اپنی اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہو جاتے۔ ﴿ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’اور ایک، دوسرے پر چڑھ دوڑتا۔‘‘ پس جو غالب ہوتا وہی معبود ہوتا ۔ اس قسم کی کھینچا تانی میں وجود کائنات کا باقی رہنا ممکن نہیں تھا اور نہ اس صورت حال میں کائنات کے اس عظیم انتظام کا تصور کیا جا سکتا ہے جسے دیکھ کر عقل حیرت میں گم ہو جاتی ہے۔اس کا اندازہ سورج، چاند، منجمد ستاروں اور سیاروں کے درمیان باہمی نظم کودیکھ کر کرو! جب سے ان کو پیدا کیا گیا ہے یہ ایک خاص ترتیب اور ایک خاص نظام کے مطابق چل رہے ہیں ، اس بے کراں کائنات کے تمام سیارے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے مسخر ہیں ، اس کی حکمت تمام مخلوق کی ضروریات و مصالح کے مطابق ان کی تدبیر کرتی ہے، ان میں کوئی ایک دوسرے پر منحصر نہیں ۔ آپ اس نظام کائنات میں ، اس کے کسی ادنیٰ سے تصرف میں بھی کوئی خلل دیکھیں گے نہ تناقض اور تعارض۔ کیا دو معبودوں کے انتظام کے تحت اس قسم کے نظام کا تصور کیا جا سکتا ہے ؟ … ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان چیزوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یہ تمام کائنات اپنی زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے اور اپنی مختلف اشکال کے ذریعے سے سمجھا رہی ہے کہ اس کی تدبیر کرنے والا، الٰہ ایک ہے جو کامل اسماء و صفات کا مالک ہے تمام مخلوقات، اس کی ربوبیت و الوہیت میں اس کی محتاج ہے۔ جس طرح اس کی ربوبیت کے بغیر مخلوقات کا کوئی وجود ہے نہ اس کو کوئی دوام، اسی طرح صرف اسی کی عبادت اور صرف اسی کی اطاعت کے بغیر مخلوقات کے لیے کوئی صلاح ہے نہ اس کا کوئی قوام۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک نمونے کے ذریعے سے اپنی صفات مقدسہ کی عظمت کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے اور وہ ہے اس کا علم محیط، چنانچہ فرمایا:﴿عٰلِمِ الۡغَيۡبِ ﴾ یعنی وہ تمام واجبات، مستحیلات اور ممکنات کوجاننے والا ہے جو ہماری نظروں اور ہمارے علم سے اوجھل ہیں ﴿ وَالشَّهَادَةِ ﴾ اور وہ ان امور کو بھی جانتا ہے جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں ۔ ﴿فَتَعٰلٰى ﴾ وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے ﴿ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’ان ہستیوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ کہ جن کے پاس کوئی علم نہیں سوائے اس علم کے جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔
23:92

عَٰلِمِ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ

بلکہ لائے ہیں ہم ان کے پاس حق اور بلاشبہ وہ البتہ جھوٹے ہیں (90) نہیں بنائی اللہ نے کوئی اولاد اور نہ ہے اس کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہی (اگر ہوتا تو) اس وقت البتہ لے جاتا ہر معبود اس چیز کو جو اس نے پیدا کی اور البتہ چڑھائی کرتا بعض ان کا اوپر بعض کے، پاک ہے اللہ ان (باتوں ) سے جو وہ بیان کرتے ہیں (91) جاننے والا ہے غیب اور حاضر کا، پس وہ برتر ہے اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں (92) [92-90] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے بلکہ ہم ان جھٹلانے والوں کے پاس حق لے کر آئے ہیں جو خبر میں صدق اور امرونہی میں عدل کو متضمن ہے۔ ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ حق کا اعتراف نہیں کرتے حالانکہ حق اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے؟ ان کے پاس جھوٹ اور ظلم کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں جو حق کا بدل بن سکے، اس لیے فرمایا:﴿ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾’’اور وہ سخت جھوٹے ہیں ۔‘‘﴿ مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ﴾ ’’اللہ کی کوئی اولاد ہے نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہے۔‘‘ یعنی یہ سب جھوٹ ہے جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے آگاہ فرمایا ہے اور جسے عقل صحیح خوب پہچانتی ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے دو خداؤں کے ممتنع ہونے پر عقلی دلیل کی طرف توجہ دلائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذًا ﴾ ’’اس وقت۔‘‘ یعنی اگر ان کے زعم باطل کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوں ﴿ لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ ﴾ یعنی دونوں خدا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ایک دوسرے پر غالب آنے کے لیے اپنی اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہو جاتے۔ ﴿ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’اور ایک، دوسرے پر چڑھ دوڑتا۔‘‘ پس جو غالب ہوتا وہی معبود ہوتا ۔ اس قسم کی کھینچا تانی میں وجود کائنات کا باقی رہنا ممکن نہیں تھا اور نہ اس صورت حال میں کائنات کے اس عظیم انتظام کا تصور کیا جا سکتا ہے جسے دیکھ کر عقل حیرت میں گم ہو جاتی ہے۔اس کا اندازہ سورج، چاند، منجمد ستاروں اور سیاروں کے درمیان باہمی نظم کودیکھ کر کرو! جب سے ان کو پیدا کیا گیا ہے یہ ایک خاص ترتیب اور ایک خاص نظام کے مطابق چل رہے ہیں ، اس بے کراں کائنات کے تمام سیارے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے مسخر ہیں ، اس کی حکمت تمام مخلوق کی ضروریات و مصالح کے مطابق ان کی تدبیر کرتی ہے، ان میں کوئی ایک دوسرے پر منحصر نہیں ۔ آپ اس نظام کائنات میں ، اس کے کسی ادنیٰ سے تصرف میں بھی کوئی خلل دیکھیں گے نہ تناقض اور تعارض۔ کیا دو معبودوں کے انتظام کے تحت اس قسم کے نظام کا تصور کیا جا سکتا ہے ؟ … ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان چیزوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یہ تمام کائنات اپنی زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے اور اپنی مختلف اشکال کے ذریعے سے سمجھا رہی ہے کہ اس کی تدبیر کرنے والا، الٰہ ایک ہے جو کامل اسماء و صفات کا مالک ہے تمام مخلوقات، اس کی ربوبیت و الوہیت میں اس کی محتاج ہے۔ جس طرح اس کی ربوبیت کے بغیر مخلوقات کا کوئی وجود ہے نہ اس کو کوئی دوام، اسی طرح صرف اسی کی عبادت اور صرف اسی کی اطاعت کے بغیر مخلوقات کے لیے کوئی صلاح ہے نہ اس کا کوئی قوام۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک نمونے کے ذریعے سے اپنی صفات مقدسہ کی عظمت کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے اور وہ ہے اس کا علم محیط، چنانچہ فرمایا:﴿عٰلِمِ الۡغَيۡبِ ﴾ یعنی وہ تمام واجبات، مستحیلات اور ممکنات کوجاننے والا ہے جو ہماری نظروں اور ہمارے علم سے اوجھل ہیں ﴿ وَالشَّهَادَةِ ﴾ اور وہ ان امور کو بھی جانتا ہے جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں ۔ ﴿فَتَعٰلٰى ﴾ وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے ﴿ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’ان ہستیوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ کہ جن کے پاس کوئی علم نہیں سوائے اس علم کے جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔
23:93

قُل رَّبِّ إِمَّا تُرِيَنِّي مَا يُوعَدُونَ

آپ کہہ دیجیے! اے میرے رب! اگر تو دکھلادے مجھے وہ جو وعدہ دیے جاتے ہیں وہ (93) اے میرے رب! پس نہ کرنا مجھے ظالم لوگوں میں (94) اور بلاشبہ ہم اس (بات) پر، کہ ہم دکھلائیں آپ کو وہ (عذاب) جس کا وعدہ کر رہے ہیں ہم ان سے، البتہ قادر ہیں (95) [95-93] چونکہ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں پر اپنے عظیم دلائل و براہین قائم کر دیے مگر انھوں نے ان دلائل کی طرف التفات کیا نہ ان کے سامنے سر تسلیم خم کیا اس لیے ان پر عذاب واجب ہوگیا اور ان پر عذاب نازل ہونے کی دھمکی دے دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا کہ وہ یوں کہیں : ﴿ قُلۡ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَنِّيۡ مَا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی اے رب! تو جس وقت بھی ان پر ٹوٹنے والا عذاب مجھے دکھائے اور میری موجودگی میں تو یہ عذاب لائے ﴿ رَبِّ فَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ فِي الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اے میرے رب! تو مجھے ظالموں میں سے نہ کرنا۔‘‘ یعنی اے میرے رب! مجھ پر رحم فرما مجھے ان گناہوں سے بچا لے جو تیری ناراضی کے موجب ہیں اور جن کے ذریعے سے تو نے ان کفار کو آزمائش میں مبتلا کیا ہے۔ اے میرے رب ! مجھے اس عذاب سے بھی بچا لے جو ان پر نازل ہوگا کیونکہ عذاب عام جب نازل ہوتا ہے تو نیک اور بد سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ عذاب کے قریب ہونے کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿ وَاِنَّا عَلٰۤى اَنۡ نُّرِيَكَ مَا نَعِدُهُمۡ لَقٰدِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس بات پر کہ ہم آپ کو وہ (عذاب) دکھا دیں جس کا وعدہ ہم ان سے کرتے ہیں ، یقینا قادر ہیں ۔‘‘ لیکن اگر ہم اس عذاب کو موخر کرتے ہیں تو کسی حکمت کی بنا پر، ورنہ ہم اس عذاب کو واقع کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتے ہیں ۔
23:94

رَبِّ فَلَا تَجۡعَلۡنِي فِي ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ

آپ کہہ دیجیے! اے میرے رب! اگر تو دکھلادے مجھے وہ جو وعدہ دیے جاتے ہیں وہ (93) اے میرے رب! پس نہ کرنا مجھے ظالم لوگوں میں (94) اور بلاشبہ ہم اس (بات) پر، کہ ہم دکھلائیں آپ کو وہ (عذاب) جس کا وعدہ کر رہے ہیں ہم ان سے، البتہ قادر ہیں (95) [95-93] چونکہ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں پر اپنے عظیم دلائل و براہین قائم کر دیے مگر انھوں نے ان دلائل کی طرف التفات کیا نہ ان کے سامنے سر تسلیم خم کیا اس لیے ان پر عذاب واجب ہوگیا اور ان پر عذاب نازل ہونے کی دھمکی دے دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا کہ وہ یوں کہیں : ﴿ قُلۡ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَنِّيۡ مَا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی اے رب! تو جس وقت بھی ان پر ٹوٹنے والا عذاب مجھے دکھائے اور میری موجودگی میں تو یہ عذاب لائے ﴿ رَبِّ فَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ فِي الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اے میرے رب! تو مجھے ظالموں میں سے نہ کرنا۔‘‘ یعنی اے میرے رب! مجھ پر رحم فرما مجھے ان گناہوں سے بچا لے جو تیری ناراضی کے موجب ہیں اور جن کے ذریعے سے تو نے ان کفار کو آزمائش میں مبتلا کیا ہے۔ اے میرے رب ! مجھے اس عذاب سے بھی بچا لے جو ان پر نازل ہوگا کیونکہ عذاب عام جب نازل ہوتا ہے تو نیک اور بد سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ عذاب کے قریب ہونے کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿ وَاِنَّا عَلٰۤى اَنۡ نُّرِيَكَ مَا نَعِدُهُمۡ لَقٰدِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس بات پر کہ ہم آپ کو وہ (عذاب) دکھا دیں جس کا وعدہ ہم ان سے کرتے ہیں ، یقینا قادر ہیں ۔‘‘ لیکن اگر ہم اس عذاب کو موخر کرتے ہیں تو کسی حکمت کی بنا پر، ورنہ ہم اس عذاب کو واقع کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتے ہیں ۔
23:95

وَإِنَّا عَلَىٰٓ أَن نُّرِيَكَ مَا نَعِدُهُمۡ لَقَٰدِرُونَ

آپ کہہ دیجیے! اے میرے رب! اگر تو دکھلادے مجھے وہ جو وعدہ دیے جاتے ہیں وہ (93) اے میرے رب! پس نہ کرنا مجھے ظالم لوگوں میں (94) اور بلاشبہ ہم اس (بات) پر، کہ ہم دکھلائیں آپ کو وہ (عذاب) جس کا وعدہ کر رہے ہیں ہم ان سے، البتہ قادر ہیں (95) [95-93] چونکہ اللہ تعالیٰ نے حق کی تکذیب کرنے والوں پر اپنے عظیم دلائل و براہین قائم کر دیے مگر انھوں نے ان دلائل کی طرف التفات کیا نہ ان کے سامنے سر تسلیم خم کیا اس لیے ان پر عذاب واجب ہوگیا اور ان پر عذاب نازل ہونے کی دھمکی دے دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا کہ وہ یوں کہیں : ﴿ قُلۡ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَنِّيۡ مَا يُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی اے رب! تو جس وقت بھی ان پر ٹوٹنے والا عذاب مجھے دکھائے اور میری موجودگی میں تو یہ عذاب لائے ﴿ رَبِّ فَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ فِي الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو اے میرے رب! تو مجھے ظالموں میں سے نہ کرنا۔‘‘ یعنی اے میرے رب! مجھ پر رحم فرما مجھے ان گناہوں سے بچا لے جو تیری ناراضی کے موجب ہیں اور جن کے ذریعے سے تو نے ان کفار کو آزمائش میں مبتلا کیا ہے۔ اے میرے رب ! مجھے اس عذاب سے بھی بچا لے جو ان پر نازل ہوگا کیونکہ عذاب عام جب نازل ہوتا ہے تو نیک اور بد سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ عذاب کے قریب ہونے کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿ وَاِنَّا عَلٰۤى اَنۡ نُّرِيَكَ مَا نَعِدُهُمۡ لَقٰدِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس بات پر کہ ہم آپ کو وہ (عذاب) دکھا دیں جس کا وعدہ ہم ان سے کرتے ہیں ، یقینا قادر ہیں ۔‘‘ لیکن اگر ہم اس عذاب کو موخر کرتے ہیں تو کسی حکمت کی بنا پر، ورنہ ہم اس عذاب کو واقع کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتے ہیں ۔
23:96

ٱدۡفَعۡ بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ ٱلسَّيِّئَةَۚ نَحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَا يَصِفُونَ

ٹالیے ساتھ اس (طریقے) کے کہ وہ اچھا ہے، برائی کو۔ ہم خوب جانتے ہیں اس کو جو وہ بیان کرتے ہیں (96)اور کہیں ، اے میرے رب! میں تیری پناہ میں آتا ہوں وسوسوں سے شیطانوں کے (97) اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اے میرے رب! اس سے کہ وہ حاضر ہوں میرے پاس (98) [96] یہ ان مکارم اخلاق میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ) کو حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ السَّيِّئَةَ ﴾ ’’دور کریں برائی کو اس طریقے سے جو احسن ہو۔‘‘ یعنی جب آپﷺ کے دشمن قول و فعل کے ذریعے سے آپ کے ساتھ برائی سے پیش آئیں تو آپ ان کے ساتھ برائی سے پیش نہ آئیں ، ہرچند کہ برائی کا بدلہ اسی قسم کی برائی سے دینا جائز ہے مگر آپ ان کے برے سلوک کے بدلے میں ، ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آئیں یہ آپﷺ کی طرف سے برا سلوک کرنے والے پر احسان ہے۔ اس میں فائدہ یہ ہے کہ حال اور مستقبل میں آپﷺ کی طرف سے برائی میں تخفیف ہوگی۔ آپ کا یہ حسن سلوک آپ کے ساتھ برائی سے پیش آنے والے کو حق کی طرف لانے میں زیادہ ممد ثابت ہوگا۔ آپ کا حسن سلوک برائی سے پیش آنے والے کو ندامت، تاسف اور توبہ کے ذریعے سے بدسلوکی سے رجوع کرنے کے زیادہ قریب لے آئے گا۔ معاف کرنے والے کو احسان کی صفت سے متصف ہونا چاہیے ، اس سے وہ اپنے دشمن شیطان پر غلبہ حاصل کرتا ہے اور رب کریم کی طرف سے ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوریٰ:42؍40) ’’جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِيۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيۡمٌ۰۰وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾(حم السجدۃ:41؍34،35) ’’آپ برائی کو ایسی نیکی کے ذریعے سے روكيے جو بہترین ہو تب آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص، جس کی آپ کے ساتھ عداوت ہے، آپ کا جگری دوست بن جائے گا اور یہ صفت نصیب نہیں ہوتی (یعنی خلق جمیل کی توفیق)مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور اس صفت سے بہرہ مند نہیں ہوتے مگر وہ لوگ جو بہت بڑے نصیب کے مالک ہیں ۔‘‘﴿نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’ہم خوب جانتے ہیں جو وہ بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان باتوں کو جو کفر اور تکذیب حق کو متضمن ہیں ہمارے علم نے ان کی باتوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ہم نے ان کے بارے میں حلم سے کام لیا، ہم نے ان کو مہلت دی اور ہم نے ان کے بارے میں صبر کیا ہے۔ حق ہمارے لیے ہے اور ان کی تکذیب بھی ہماری طرف لوٹتی ہے۔ اے محمد! (ﷺ) آپ کے لیے مناسب یہ ہے کہ آپ ان کی اذیت ناک باتوں پر صبر کریں اور ان سے حسن سلوک سے پیش آئیں انسانوں کی طرف سے برے سلوک کے مقابلے میں بندۂ مومن کا یہی وظیفہ ہے۔ [98,97] رہی شیاطین کی بدسلوکی تو ان کے ساتھ حسن سلوک کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ شیاطین تو اپنے گروہ کے لوگوں کو دعوت دیتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ جہنم میں جھونکے جانے والوں میں شامل ہو جائیں ۔پس شیطان کی بدسلوکی کے مقابلے میں بندۂ مومن کا وظیفہ وہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی راہ نمائی فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَقُلۡ رَّبِّ اَعُوۡذُ بِكَ ﴾ یعنی میں اپنی قدرت و قوت سے براء ت کا اظہار کرکے تیری قدرت و قوت کی پناہ پکڑتا ہوں ۔ ﴿ مِنۡ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيۡنِۙ۰۰ وَاَعُوۡذُ بِكَ رَبِّ اَنۡ يَّحۡضُرُوۡنِ ﴾ یعنی میں اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو ان شیاطین سے ملنے جلنے کی وجہ سے مجھے لاحق ہو سکتا ہے، نیز میں ان کی وسوسہ اندازی اور ایذارسانی سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں اور میں اس شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو ان کی موجودگی اور ان کی وسوسہ اندازی کے باعث مجھے لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ استعاذہ ہر قسم کے شر اور اس کی اصل سے پناہ طلبی ہے اس میں شیطان کی دراندازی، اس کا وسوسہ اور اس کی ایذارسانی وغیرہ سب داخل ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعا قبول کرکے اسے شیطان کے شر سے پناہ دے دیتا ہے تو بندہ ہر شر سے محفوظ و مصئون ہو جاتا ہے اور اسے ہر بھلائی کی توفیق عطا ہو جاتی ہے۔
23:97

وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنۡ هَمَزَٰتِ ٱلشَّيَٰطِينِ

ٹالیے ساتھ اس (طریقے) کے کہ وہ اچھا ہے، برائی کو۔ ہم خوب جانتے ہیں اس کو جو وہ بیان کرتے ہیں (96)اور کہیں ، اے میرے رب! میں تیری پناہ میں آتا ہوں وسوسوں سے شیطانوں کے (97) اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اے میرے رب! اس سے کہ وہ حاضر ہوں میرے پاس (98) [96] یہ ان مکارم اخلاق میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ) کو حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ السَّيِّئَةَ ﴾ ’’دور کریں برائی کو اس طریقے سے جو احسن ہو۔‘‘ یعنی جب آپﷺ کے دشمن قول و فعل کے ذریعے سے آپ کے ساتھ برائی سے پیش آئیں تو آپ ان کے ساتھ برائی سے پیش نہ آئیں ، ہرچند کہ برائی کا بدلہ اسی قسم کی برائی سے دینا جائز ہے مگر آپ ان کے برے سلوک کے بدلے میں ، ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آئیں یہ آپﷺ کی طرف سے برا سلوک کرنے والے پر احسان ہے۔ اس میں فائدہ یہ ہے کہ حال اور مستقبل میں آپﷺ کی طرف سے برائی میں تخفیف ہوگی۔ آپ کا یہ حسن سلوک آپ کے ساتھ برائی سے پیش آنے والے کو حق کی طرف لانے میں زیادہ ممد ثابت ہوگا۔ آپ کا حسن سلوک برائی سے پیش آنے والے کو ندامت، تاسف اور توبہ کے ذریعے سے بدسلوکی سے رجوع کرنے کے زیادہ قریب لے آئے گا۔ معاف کرنے والے کو احسان کی صفت سے متصف ہونا چاہیے ، اس سے وہ اپنے دشمن شیطان پر غلبہ حاصل کرتا ہے اور رب کریم کی طرف سے ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوریٰ:42؍40) ’’جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِيۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيۡمٌ۰۰وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾(حم السجدۃ:41؍34،35) ’’آپ برائی کو ایسی نیکی کے ذریعے سے روكيے جو بہترین ہو تب آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص، جس کی آپ کے ساتھ عداوت ہے، آپ کا جگری دوست بن جائے گا اور یہ صفت نصیب نہیں ہوتی (یعنی خلق جمیل کی توفیق)مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور اس صفت سے بہرہ مند نہیں ہوتے مگر وہ لوگ جو بہت بڑے نصیب کے مالک ہیں ۔‘‘﴿نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’ہم خوب جانتے ہیں جو وہ بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان باتوں کو جو کفر اور تکذیب حق کو متضمن ہیں ہمارے علم نے ان کی باتوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ہم نے ان کے بارے میں حلم سے کام لیا، ہم نے ان کو مہلت دی اور ہم نے ان کے بارے میں صبر کیا ہے۔ حق ہمارے لیے ہے اور ان کی تکذیب بھی ہماری طرف لوٹتی ہے۔ اے محمد! (ﷺ) آپ کے لیے مناسب یہ ہے کہ آپ ان کی اذیت ناک باتوں پر صبر کریں اور ان سے حسن سلوک سے پیش آئیں انسانوں کی طرف سے برے سلوک کے مقابلے میں بندۂ مومن کا یہی وظیفہ ہے۔ [98,97] رہی شیاطین کی بدسلوکی تو ان کے ساتھ حسن سلوک کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ شیاطین تو اپنے گروہ کے لوگوں کو دعوت دیتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ جہنم میں جھونکے جانے والوں میں شامل ہو جائیں ۔پس شیطان کی بدسلوکی کے مقابلے میں بندۂ مومن کا وظیفہ وہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی راہ نمائی فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَقُلۡ رَّبِّ اَعُوۡذُ بِكَ ﴾ یعنی میں اپنی قدرت و قوت سے براء ت کا اظہار کرکے تیری قدرت و قوت کی پناہ پکڑتا ہوں ۔ ﴿ مِنۡ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيۡنِۙ۰۰ وَاَعُوۡذُ بِكَ رَبِّ اَنۡ يَّحۡضُرُوۡنِ ﴾ یعنی میں اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو ان شیاطین سے ملنے جلنے کی وجہ سے مجھے لاحق ہو سکتا ہے، نیز میں ان کی وسوسہ اندازی اور ایذارسانی سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں اور میں اس شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو ان کی موجودگی اور ان کی وسوسہ اندازی کے باعث مجھے لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ استعاذہ ہر قسم کے شر اور اس کی اصل سے پناہ طلبی ہے اس میں شیطان کی دراندازی، اس کا وسوسہ اور اس کی ایذارسانی وغیرہ سب داخل ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعا قبول کرکے اسے شیطان کے شر سے پناہ دے دیتا ہے تو بندہ ہر شر سے محفوظ و مصئون ہو جاتا ہے اور اسے ہر بھلائی کی توفیق عطا ہو جاتی ہے۔
23:98

وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحۡضُرُونِ

ٹالیے ساتھ اس (طریقے) کے کہ وہ اچھا ہے، برائی کو۔ ہم خوب جانتے ہیں اس کو جو وہ بیان کرتے ہیں (96)اور کہیں ، اے میرے رب! میں تیری پناہ میں آتا ہوں وسوسوں سے شیطانوں کے (97) اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں اے میرے رب! اس سے کہ وہ حاضر ہوں میرے پاس (98) [96] یہ ان مکارم اخلاق میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ) کو حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ السَّيِّئَةَ ﴾ ’’دور کریں برائی کو اس طریقے سے جو احسن ہو۔‘‘ یعنی جب آپﷺ کے دشمن قول و فعل کے ذریعے سے آپ کے ساتھ برائی سے پیش آئیں تو آپ ان کے ساتھ برائی سے پیش نہ آئیں ، ہرچند کہ برائی کا بدلہ اسی قسم کی برائی سے دینا جائز ہے مگر آپ ان کے برے سلوک کے بدلے میں ، ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آئیں یہ آپﷺ کی طرف سے برا سلوک کرنے والے پر احسان ہے۔ اس میں فائدہ یہ ہے کہ حال اور مستقبل میں آپﷺ کی طرف سے برائی میں تخفیف ہوگی۔ آپ کا یہ حسن سلوک آپ کے ساتھ برائی سے پیش آنے والے کو حق کی طرف لانے میں زیادہ ممد ثابت ہوگا۔ آپ کا حسن سلوک برائی سے پیش آنے والے کو ندامت، تاسف اور توبہ کے ذریعے سے بدسلوکی سے رجوع کرنے کے زیادہ قریب لے آئے گا۔ معاف کرنے والے کو احسان کی صفت سے متصف ہونا چاہیے ، اس سے وہ اپنے دشمن شیطان پر غلبہ حاصل کرتا ہے اور رب کریم کی طرف سے ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوریٰ:42؍40) ’’جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِيۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيۡمٌ۰۰وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾(حم السجدۃ:41؍34،35) ’’آپ برائی کو ایسی نیکی کے ذریعے سے روكيے جو بہترین ہو تب آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص، جس کی آپ کے ساتھ عداوت ہے، آپ کا جگری دوست بن جائے گا اور یہ صفت نصیب نہیں ہوتی (یعنی خلق جمیل کی توفیق)مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور اس صفت سے بہرہ مند نہیں ہوتے مگر وہ لوگ جو بہت بڑے نصیب کے مالک ہیں ۔‘‘﴿نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’ہم خوب جانتے ہیں جو وہ بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان باتوں کو جو کفر اور تکذیب حق کو متضمن ہیں ہمارے علم نے ان کی باتوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ہم نے ان کے بارے میں حلم سے کام لیا، ہم نے ان کو مہلت دی اور ہم نے ان کے بارے میں صبر کیا ہے۔ حق ہمارے لیے ہے اور ان کی تکذیب بھی ہماری طرف لوٹتی ہے۔ اے محمد! (ﷺ) آپ کے لیے مناسب یہ ہے کہ آپ ان کی اذیت ناک باتوں پر صبر کریں اور ان سے حسن سلوک سے پیش آئیں انسانوں کی طرف سے برے سلوک کے مقابلے میں بندۂ مومن کا یہی وظیفہ ہے۔ [98,97] رہی شیاطین کی بدسلوکی تو ان کے ساتھ حسن سلوک کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ شیاطین تو اپنے گروہ کے لوگوں کو دعوت دیتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ جہنم میں جھونکے جانے والوں میں شامل ہو جائیں ۔پس شیطان کی بدسلوکی کے مقابلے میں بندۂ مومن کا وظیفہ وہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی راہ نمائی فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَقُلۡ رَّبِّ اَعُوۡذُ بِكَ ﴾ یعنی میں اپنی قدرت و قوت سے براء ت کا اظہار کرکے تیری قدرت و قوت کی پناہ پکڑتا ہوں ۔ ﴿ مِنۡ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيۡنِۙ۰۰ وَاَعُوۡذُ بِكَ رَبِّ اَنۡ يَّحۡضُرُوۡنِ ﴾ یعنی میں اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو ان شیاطین سے ملنے جلنے کی وجہ سے مجھے لاحق ہو سکتا ہے، نیز میں ان کی وسوسہ اندازی اور ایذارسانی سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں اور میں اس شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو ان کی موجودگی اور ان کی وسوسہ اندازی کے باعث مجھے لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ استعاذہ ہر قسم کے شر اور اس کی اصل سے پناہ طلبی ہے اس میں شیطان کی دراندازی، اس کا وسوسہ اور اس کی ایذارسانی وغیرہ سب داخل ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعا قبول کرکے اسے شیطان کے شر سے پناہ دے دیتا ہے تو بندہ ہر شر سے محفوظ و مصئون ہو جاتا ہے اور اسے ہر بھلائی کی توفیق عطا ہو جاتی ہے۔
23:99

حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَهُمُ ٱلۡمَوۡتُ قَالَ رَبِّ ٱرۡجِعُونِ

حتی کہ جب آئے گی ایک کو ان میں سے موت تو کہے گا، اے میرے رب! واپس لوٹادے مجھے (99) تاکہ میں عمل کروں صالح دنیا میں جسے میں چھوڑ آیا، ہرگز نہیں ، بے شک یہ ایک بات ہے، وہ کہنے والا ہے اسے اور ان کے آگے ایک پردہ ہے اس دن تک کہ وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے (100) [100,99] اللہ تبارک و تعالیٰ بدکردار اور ظالم لوگوں کے ان لمحات کا حال بیان فرماتا ہے جب موت ان کے سامنے آتی ہے۔ جب وہ اپنے انجام کو دیکھتے ہیں اور اپنے اعمالِ بد کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اس حال میں وہ سخت نادم ہوتے ہیں تو وہ دنیا میں واپس لوٹنے کی خواہش کرتے ہیں ، اس کی لذات سے متمتع اور اس کی شہوات سے مستفید ہونے کی خاطر نہیں بلکہ وہ صرف یہ کہتے ہیں :﴿لَعَلِّيۡۤ اَعۡمَلُ صَالِحًا فِيۡمَا تَرَؔكۡتُ ﴾ ’’شاید کہ میں نیک عمل کروں اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں ۔‘‘ یعنی میں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی اور نیک اعمال کو ترک کیا شاید ان نیک اعمال کو سرانجام دے سکوں ۔ ﴿كَلَّا﴾ ’’ہرگز نہیں ‘‘ یعنی اب وہ دنیا میں واپس لوٹ سکیں گے نہ ان کو مہلت عطا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ صادر کر دیا ہے کہ وہ دنیا میں واپس نہیں جائیں گے۔ ﴿اِنَّهَا ﴾ یعنی ان کی وہ بات جس میں وہ دنیا میں واپس جانے کی تمنا کرتے ہیں ﴿ كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا﴾ مجرد زبان سے نکلی ہوئی بات ہے جو اپنے قائل کو حسرت و ندامت کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی… علاوہ بریں وہ اس میں بھی سچا نہیں ہے کیونکہ اگر اسے دنیا میں واپس بھیج بھی دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کرے گا جن سے اس کو روکا گیا تھا۔ ﴿ وَمِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ بَرۡزَخٌ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے سامنے برزخ ہے ان کے دوبارہ اٹھائے جانے تک۔‘‘ (برزخ) دو چیزوں کے درمیان رکاوٹ کو کہا جاتا ہے۔ یہاں وہ حجاب مراد ہے جو دنیا اور آخرت کے درمیان حائل ہے۔ اس برزخ میں اللہ تعالیٰ کے مطیع بندے نعمتوں سے سرفراز ہوں گے اور نافرمانوں کو عذاب دیا جائے گا موت کی ابتدا یعنی ان کو قبروں میں رکھے جانے سے لے کر قیامت کے روز دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت تک۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کے لیے تیاری اور اس کا سامان کریں ۔
23:100

لَعَلِّيٓ أَعۡمَلُ صَٰلِحٗا فِيمَا تَرَكۡتُۚ كَلَّآۚ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَاۖ وَمِن وَرَآئِهِم بَرۡزَخٌ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ

حتی کہ جب آئے گی ایک کو ان میں سے موت تو کہے گا، اے میرے رب! واپس لوٹادے مجھے (99) تاکہ میں عمل کروں صالح دنیا میں جسے میں چھوڑ آیا، ہرگز نہیں ، بے شک یہ ایک بات ہے، وہ کہنے والا ہے اسے اور ان کے آگے ایک پردہ ہے اس دن تک کہ وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے (100) [100,99] اللہ تبارک و تعالیٰ بدکردار اور ظالم لوگوں کے ان لمحات کا حال بیان فرماتا ہے جب موت ان کے سامنے آتی ہے۔ جب وہ اپنے انجام کو دیکھتے ہیں اور اپنے اعمالِ بد کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اس حال میں وہ سخت نادم ہوتے ہیں تو وہ دنیا میں واپس لوٹنے کی خواہش کرتے ہیں ، اس کی لذات سے متمتع اور اس کی شہوات سے مستفید ہونے کی خاطر نہیں بلکہ وہ صرف یہ کہتے ہیں :﴿لَعَلِّيۡۤ اَعۡمَلُ صَالِحًا فِيۡمَا تَرَؔكۡتُ ﴾ ’’شاید کہ میں نیک عمل کروں اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں ۔‘‘ یعنی میں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی اور نیک اعمال کو ترک کیا شاید ان نیک اعمال کو سرانجام دے سکوں ۔ ﴿كَلَّا﴾ ’’ہرگز نہیں ‘‘ یعنی اب وہ دنیا میں واپس لوٹ سکیں گے نہ ان کو مہلت عطا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ صادر کر دیا ہے کہ وہ دنیا میں واپس نہیں جائیں گے۔ ﴿اِنَّهَا ﴾ یعنی ان کی وہ بات جس میں وہ دنیا میں واپس جانے کی تمنا کرتے ہیں ﴿ كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا﴾ مجرد زبان سے نکلی ہوئی بات ہے جو اپنے قائل کو حسرت و ندامت کے سوا کچھ فائدہ نہ دے گی… علاوہ بریں وہ اس میں بھی سچا نہیں ہے کیونکہ اگر اسے دنیا میں واپس بھیج بھی دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کرے گا جن سے اس کو روکا گیا تھا۔ ﴿ وَمِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ بَرۡزَخٌ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے سامنے برزخ ہے ان کے دوبارہ اٹھائے جانے تک۔‘‘ (برزخ) دو چیزوں کے درمیان رکاوٹ کو کہا جاتا ہے۔ یہاں وہ حجاب مراد ہے جو دنیا اور آخرت کے درمیان حائل ہے۔ اس برزخ میں اللہ تعالیٰ کے مطیع بندے نعمتوں سے سرفراز ہوں گے اور نافرمانوں کو عذاب دیا جائے گا موت کی ابتدا یعنی ان کو قبروں میں رکھے جانے سے لے کر قیامت کے روز دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت تک۔ پس ان کو چاہیے کہ وہ اس کے لیے تیاری اور اس کا سامان کریں ۔
23:101

فَإِذَا نُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَلَآ أَنسَابَ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَئِذٖ وَلَا يَتَسَآءَلُونَ

پس جب پھونکاجائے گا صور میں تو نہ قرابت داریاں رہیں گے ان کے درمیان اس دن اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے (101) پس وہ شخص کہ بھاری ہو گئے پلڑے اس کے تو وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں (102)اور وہ شخص کہ ہلکے ہو گئے پلڑے اس (کی نیکیوں ) کے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو، جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے (103) جلا ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہوں گے (104)(کہا جائے گا) کیا نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تھے تم ان کو جھٹلاتے؟ (105) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! غالب آگئی ہم پر ہماری بد بختی اور تھے ہم لوگ گمراہ (63) اے ہمارے رب! تو نکال ہمیں اس سے، پس اگر دوبارہ کریں ہم تو بلاشبہ ہم ظالم ہوں گے (63) اللہ کہے گا، ذلیل و خوار پڑے رہو اسی میں اور مت کلام کرو مجھ سے (74) بے شک تھا ایک فریق میرے بندوں میں سے وہ کہتے تھے، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم سو بخش دے تو ہمیں اور رحم فرما تو ہم پراور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (74) پس کرتے تھے تم ان سے مسخری، یہاں تک کہ بھلا دیا تھا انھوں نے تمھیں میرا ذکر اور تھے تم ان سے ہنستے (110) بلاشبہ میں نے جزا دی ہے انھیں آج بوجہ اس کے جو انھوں نے صبر کیا، کہ بے شک وہی لوگ ہی کامیاب ہیں (111) اللہ کہے گا کتنی (مدت) ٹھہرے تم زمین میں (بہ اعتبار) شمار کرنے کے سالوں کے؟ (112) وہ کہیں گے، ٹھہرے ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، پس پوچھ لے تو شمار کرنے والوں سے (113) اللہ کہے گا نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا سا وقت، کاش کہ بے شک ہوتے تم جانتے (114) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جوکہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسانفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ، ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دوچار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ۰۰يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍33-37) ’’جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔‘‘ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ ﴿يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِۙ۰۰وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا١ۙ ثُمَّ يُنۡجِيۡهِ﴾(المعارج:70؍11-14) ’’اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں ، بیوی، بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔‘‘ [102] قیامت کے روز بعض مقامات ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام، جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بداعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہو جائے گا۔ ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے [103]﴿ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں ۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِيۡ جَهَنَّمَ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔‘‘ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں ، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں ۔ [104] پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَلۡفَحُ وُجُوۡهَهُمُ النَّارُ ﴾ ’’جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا كٰلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔‘‘ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔ [105] زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’كيا ميری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟‘‘ ان آیات کے ذریعے سے تمھیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تمھارے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو۔ ﴿ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں ۔ [106] یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا ﴾ کہیں گے: ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم، حق سے روگردانی، ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ ﴿ وَؔكُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور ہم گمراہ لوگ تھے۔‘‘ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں ، یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام كيے جس طرح گمراہ، بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں ۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(الملک:67؍10) ’’اور کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔‘‘ [107]﴿ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔‘‘ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں ۔ [108] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾ ’’پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام… ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں … علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی، زجروتوبیخ، ذلت، خسارے، ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی خوشخبری کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ [109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو، اس کی ربوبیت کے توسل کو، ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کر دیا۔ یہ آیت کریمہ ضمناً اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں ۔ [110]﴿ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔‘‘ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخۡرِيًّا ﴾ ’’مذاق (کا موضوع)‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔‘‘ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟ [111]﴿ اِنِّيۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ﴾ میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾(المطففین:83؍34) ’’آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔‘‘ [114-112]﴿ قٰلَ﴾ اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہو گا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انھوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے ان نیکیوں کا اکتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں ۔ ﴿ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’تم زمین میں کتنے برس رہے، وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ ان کا یہ کلام، ان کے دنیا میں رہنے، اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعیین کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہیں گے۔ ﴿ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ﴾ یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کر دینے والے عذاب میں مبتلا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ﴿اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔‘‘ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمھارے لیے برابر ہے۔ ﴿ لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کاش تمھیں علم ہوتا۔‘‘
23:102

فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ

پس جب پھونکاجائے گا صور میں تو نہ قرابت داریاں رہیں گے ان کے درمیان اس دن اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے (101) پس وہ شخص کہ بھاری ہو گئے پلڑے اس کے تو وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں (102)اور وہ شخص کہ ہلکے ہو گئے پلڑے اس (کی نیکیوں ) کے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو، جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے (103) جلا ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہوں گے (104)(کہا جائے گا) کیا نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تھے تم ان کو جھٹلاتے؟ (105) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! غالب آگئی ہم پر ہماری بد بختی اور تھے ہم لوگ گمراہ (63) اے ہمارے رب! تو نکال ہمیں اس سے، پس اگر دوبارہ کریں ہم تو بلاشبہ ہم ظالم ہوں گے (63) اللہ کہے گا، ذلیل و خوار پڑے رہو اسی میں اور مت کلام کرو مجھ سے (74) بے شک تھا ایک فریق میرے بندوں میں سے وہ کہتے تھے، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم سو بخش دے تو ہمیں اور رحم فرما تو ہم پراور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (74) پس کرتے تھے تم ان سے مسخری، یہاں تک کہ بھلا دیا تھا انھوں نے تمھیں میرا ذکر اور تھے تم ان سے ہنستے (110) بلاشبہ میں نے جزا دی ہے انھیں آج بوجہ اس کے جو انھوں نے صبر کیا، کہ بے شک وہی لوگ ہی کامیاب ہیں (111) اللہ کہے گا کتنی (مدت) ٹھہرے تم زمین میں (بہ اعتبار) شمار کرنے کے سالوں کے؟ (112) وہ کہیں گے، ٹھہرے ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، پس پوچھ لے تو شمار کرنے والوں سے (113) اللہ کہے گا نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا سا وقت، کاش کہ بے شک ہوتے تم جانتے (114) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جوکہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسانفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ، ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دوچار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ۰۰يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍33-37) ’’جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔‘‘ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ ﴿يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِۙ۰۰وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا١ۙ ثُمَّ يُنۡجِيۡهِ﴾(المعارج:70؍11-14) ’’اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں ، بیوی، بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔‘‘ [102] قیامت کے روز بعض مقامات ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام، جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بداعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہو جائے گا۔ ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے [103]﴿ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں ۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِيۡ جَهَنَّمَ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔‘‘ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں ، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں ۔ [104] پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَلۡفَحُ وُجُوۡهَهُمُ النَّارُ ﴾ ’’جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا كٰلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔‘‘ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔ [105] زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’كيا ميری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟‘‘ ان آیات کے ذریعے سے تمھیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تمھارے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو۔ ﴿ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں ۔ [106] یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا ﴾ کہیں گے: ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم، حق سے روگردانی، ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ ﴿ وَؔكُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور ہم گمراہ لوگ تھے۔‘‘ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں ، یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام كيے جس طرح گمراہ، بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں ۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(الملک:67؍10) ’’اور کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔‘‘ [107]﴿ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔‘‘ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں ۔ [108] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾ ’’پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام… ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں … علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی، زجروتوبیخ، ذلت، خسارے، ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی خوشخبری کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ [109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو، اس کی ربوبیت کے توسل کو، ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کر دیا۔ یہ آیت کریمہ ضمناً اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں ۔ [110]﴿ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔‘‘ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخۡرِيًّا ﴾ ’’مذاق (کا موضوع)‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔‘‘ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟ [111]﴿ اِنِّيۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ﴾ میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾(المطففین:83؍34) ’’آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔‘‘ [114-112]﴿ قٰلَ﴾ اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہو گا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انھوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے ان نیکیوں کا اکتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں ۔ ﴿ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’تم زمین میں کتنے برس رہے، وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ ان کا یہ کلام، ان کے دنیا میں رہنے، اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعیین کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہیں گے۔ ﴿ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ﴾ یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کر دینے والے عذاب میں مبتلا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ﴿اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔‘‘ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمھارے لیے برابر ہے۔ ﴿ لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کاش تمھیں علم ہوتا۔‘‘
23:103

وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فِي جَهَنَّمَ خَٰلِدُونَ

پس جب پھونکاجائے گا صور میں تو نہ قرابت داریاں رہیں گے ان کے درمیان اس دن اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے (101) پس وہ شخص کہ بھاری ہو گئے پلڑے اس کے تو وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں (102)اور وہ شخص کہ ہلکے ہو گئے پلڑے اس (کی نیکیوں ) کے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو، جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے (103) جلا ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہوں گے (104)(کہا جائے گا) کیا نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تھے تم ان کو جھٹلاتے؟ (105) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! غالب آگئی ہم پر ہماری بد بختی اور تھے ہم لوگ گمراہ (63) اے ہمارے رب! تو نکال ہمیں اس سے، پس اگر دوبارہ کریں ہم تو بلاشبہ ہم ظالم ہوں گے (63) اللہ کہے گا، ذلیل و خوار پڑے رہو اسی میں اور مت کلام کرو مجھ سے (74) بے شک تھا ایک فریق میرے بندوں میں سے وہ کہتے تھے، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم سو بخش دے تو ہمیں اور رحم فرما تو ہم پراور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (74) پس کرتے تھے تم ان سے مسخری، یہاں تک کہ بھلا دیا تھا انھوں نے تمھیں میرا ذکر اور تھے تم ان سے ہنستے (110) بلاشبہ میں نے جزا دی ہے انھیں آج بوجہ اس کے جو انھوں نے صبر کیا، کہ بے شک وہی لوگ ہی کامیاب ہیں (111) اللہ کہے گا کتنی (مدت) ٹھہرے تم زمین میں (بہ اعتبار) شمار کرنے کے سالوں کے؟ (112) وہ کہیں گے، ٹھہرے ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، پس پوچھ لے تو شمار کرنے والوں سے (113) اللہ کہے گا نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا سا وقت، کاش کہ بے شک ہوتے تم جانتے (114) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جوکہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسانفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ، ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دوچار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ۰۰يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍33-37) ’’جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔‘‘ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ ﴿يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِۙ۰۰وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا١ۙ ثُمَّ يُنۡجِيۡهِ﴾(المعارج:70؍11-14) ’’اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں ، بیوی، بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔‘‘ [102] قیامت کے روز بعض مقامات ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام، جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بداعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہو جائے گا۔ ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے [103]﴿ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں ۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِيۡ جَهَنَّمَ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔‘‘ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں ، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں ۔ [104] پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَلۡفَحُ وُجُوۡهَهُمُ النَّارُ ﴾ ’’جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا كٰلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔‘‘ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔ [105] زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’كيا ميری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟‘‘ ان آیات کے ذریعے سے تمھیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تمھارے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو۔ ﴿ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں ۔ [106] یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا ﴾ کہیں گے: ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم، حق سے روگردانی، ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ ﴿ وَؔكُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور ہم گمراہ لوگ تھے۔‘‘ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں ، یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام كيے جس طرح گمراہ، بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں ۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(الملک:67؍10) ’’اور کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔‘‘ [107]﴿ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔‘‘ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں ۔ [108] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾ ’’پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام… ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں … علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی، زجروتوبیخ، ذلت، خسارے، ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی خوشخبری کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ [109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو، اس کی ربوبیت کے توسل کو، ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کر دیا۔ یہ آیت کریمہ ضمناً اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں ۔ [110]﴿ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔‘‘ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخۡرِيًّا ﴾ ’’مذاق (کا موضوع)‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔‘‘ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟ [111]﴿ اِنِّيۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ﴾ میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾(المطففین:83؍34) ’’آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔‘‘ [114-112]﴿ قٰلَ﴾ اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہو گا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انھوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے ان نیکیوں کا اکتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں ۔ ﴿ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’تم زمین میں کتنے برس رہے، وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ ان کا یہ کلام، ان کے دنیا میں رہنے، اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعیین کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہیں گے۔ ﴿ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ﴾ یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کر دینے والے عذاب میں مبتلا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ﴿اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔‘‘ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمھارے لیے برابر ہے۔ ﴿ لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کاش تمھیں علم ہوتا۔‘‘
23:104

تَلۡفَحُ وُجُوهَهُمُ ٱلنَّارُ وَهُمۡ فِيهَا كَٰلِحُونَ

پس جب پھونکاجائے گا صور میں تو نہ قرابت داریاں رہیں گے ان کے درمیان اس دن اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے (101) پس وہ شخص کہ بھاری ہو گئے پلڑے اس کے تو وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں (102)اور وہ شخص کہ ہلکے ہو گئے پلڑے اس (کی نیکیوں ) کے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو، جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے (103) جلا ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہوں گے (104)(کہا جائے گا) کیا نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تھے تم ان کو جھٹلاتے؟ (105) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! غالب آگئی ہم پر ہماری بد بختی اور تھے ہم لوگ گمراہ (63) اے ہمارے رب! تو نکال ہمیں اس سے، پس اگر دوبارہ کریں ہم تو بلاشبہ ہم ظالم ہوں گے (63) اللہ کہے گا، ذلیل و خوار پڑے رہو اسی میں اور مت کلام کرو مجھ سے (74) بے شک تھا ایک فریق میرے بندوں میں سے وہ کہتے تھے، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم سو بخش دے تو ہمیں اور رحم فرما تو ہم پراور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (74) پس کرتے تھے تم ان سے مسخری، یہاں تک کہ بھلا دیا تھا انھوں نے تمھیں میرا ذکر اور تھے تم ان سے ہنستے (110) بلاشبہ میں نے جزا دی ہے انھیں آج بوجہ اس کے جو انھوں نے صبر کیا، کہ بے شک وہی لوگ ہی کامیاب ہیں (111) اللہ کہے گا کتنی (مدت) ٹھہرے تم زمین میں (بہ اعتبار) شمار کرنے کے سالوں کے؟ (112) وہ کہیں گے، ٹھہرے ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، پس پوچھ لے تو شمار کرنے والوں سے (113) اللہ کہے گا نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا سا وقت، کاش کہ بے شک ہوتے تم جانتے (114) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جوکہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسانفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ، ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دوچار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ۰۰يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍33-37) ’’جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔‘‘ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ ﴿يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِۙ۰۰وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا١ۙ ثُمَّ يُنۡجِيۡهِ﴾(المعارج:70؍11-14) ’’اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں ، بیوی، بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔‘‘ [102] قیامت کے روز بعض مقامات ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام، جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بداعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہو جائے گا۔ ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے [103]﴿ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں ۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِيۡ جَهَنَّمَ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔‘‘ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں ، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں ۔ [104] پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَلۡفَحُ وُجُوۡهَهُمُ النَّارُ ﴾ ’’جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا كٰلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔‘‘ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔ [105] زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’كيا ميری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟‘‘ ان آیات کے ذریعے سے تمھیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تمھارے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو۔ ﴿ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں ۔ [106] یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا ﴾ کہیں گے: ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم، حق سے روگردانی، ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ ﴿ وَؔكُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور ہم گمراہ لوگ تھے۔‘‘ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں ، یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام كيے جس طرح گمراہ، بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں ۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(الملک:67؍10) ’’اور کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔‘‘ [107]﴿ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔‘‘ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں ۔ [108] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾ ’’پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام… ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں … علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی، زجروتوبیخ، ذلت، خسارے، ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی خوشخبری کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ [109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو، اس کی ربوبیت کے توسل کو، ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کر دیا۔ یہ آیت کریمہ ضمناً اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں ۔ [110]﴿ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔‘‘ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخۡرِيًّا ﴾ ’’مذاق (کا موضوع)‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔‘‘ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟ [111]﴿ اِنِّيۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ﴾ میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾(المطففین:83؍34) ’’آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔‘‘ [114-112]﴿ قٰلَ﴾ اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہو گا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انھوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے ان نیکیوں کا اکتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں ۔ ﴿ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’تم زمین میں کتنے برس رہے، وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ ان کا یہ کلام، ان کے دنیا میں رہنے، اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعیین کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہیں گے۔ ﴿ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ﴾ یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کر دینے والے عذاب میں مبتلا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ﴿اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔‘‘ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمھارے لیے برابر ہے۔ ﴿ لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کاش تمھیں علم ہوتا۔‘‘
23:105

أَلَمۡ تَكُنۡ ءَايَٰتِي تُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ فَكُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ

پس جب پھونکاجائے گا صور میں تو نہ قرابت داریاں رہیں گے ان کے درمیان اس دن اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے (101) پس وہ شخص کہ بھاری ہو گئے پلڑے اس کے تو وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں (102)اور وہ شخص کہ ہلکے ہو گئے پلڑے اس (کی نیکیوں ) کے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو، جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے (103) جلا ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہوں گے (104)(کہا جائے گا) کیا نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تھے تم ان کو جھٹلاتے؟ (105) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! غالب آگئی ہم پر ہماری بد بختی اور تھے ہم لوگ گمراہ (63) اے ہمارے رب! تو نکال ہمیں اس سے، پس اگر دوبارہ کریں ہم تو بلاشبہ ہم ظالم ہوں گے (63) اللہ کہے گا، ذلیل و خوار پڑے رہو اسی میں اور مت کلام کرو مجھ سے (74) بے شک تھا ایک فریق میرے بندوں میں سے وہ کہتے تھے، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم سو بخش دے تو ہمیں اور رحم فرما تو ہم پراور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (74) پس کرتے تھے تم ان سے مسخری، یہاں تک کہ بھلا دیا تھا انھوں نے تمھیں میرا ذکر اور تھے تم ان سے ہنستے (110) بلاشبہ میں نے جزا دی ہے انھیں آج بوجہ اس کے جو انھوں نے صبر کیا، کہ بے شک وہی لوگ ہی کامیاب ہیں (111) اللہ کہے گا کتنی (مدت) ٹھہرے تم زمین میں (بہ اعتبار) شمار کرنے کے سالوں کے؟ (112) وہ کہیں گے، ٹھہرے ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، پس پوچھ لے تو شمار کرنے والوں سے (113) اللہ کہے گا نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا سا وقت، کاش کہ بے شک ہوتے تم جانتے (114) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جوکہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسانفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ، ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دوچار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ۰۰يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍33-37) ’’جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔‘‘ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ ﴿يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِۙ۰۰وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا١ۙ ثُمَّ يُنۡجِيۡهِ﴾(المعارج:70؍11-14) ’’اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں ، بیوی، بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔‘‘ [102] قیامت کے روز بعض مقامات ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام، جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بداعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہو جائے گا۔ ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے [103]﴿ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں ۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِيۡ جَهَنَّمَ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔‘‘ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں ، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں ۔ [104] پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَلۡفَحُ وُجُوۡهَهُمُ النَّارُ ﴾ ’’جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا كٰلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔‘‘ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔ [105] زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’كيا ميری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟‘‘ ان آیات کے ذریعے سے تمھیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تمھارے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو۔ ﴿ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں ۔ [106] یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا ﴾ کہیں گے: ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم، حق سے روگردانی، ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ ﴿ وَؔكُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور ہم گمراہ لوگ تھے۔‘‘ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں ، یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام كيے جس طرح گمراہ، بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں ۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(الملک:67؍10) ’’اور کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔‘‘ [107]﴿ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔‘‘ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں ۔ [108] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾ ’’پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام… ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں … علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی، زجروتوبیخ، ذلت، خسارے، ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی خوشخبری کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ [109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو، اس کی ربوبیت کے توسل کو، ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کر دیا۔ یہ آیت کریمہ ضمناً اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں ۔ [110]﴿ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔‘‘ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخۡرِيًّا ﴾ ’’مذاق (کا موضوع)‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔‘‘ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟ [111]﴿ اِنِّيۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ﴾ میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾(المطففین:83؍34) ’’آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔‘‘ [114-112]﴿ قٰلَ﴾ اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہو گا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انھوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے ان نیکیوں کا اکتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں ۔ ﴿ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’تم زمین میں کتنے برس رہے، وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ ان کا یہ کلام، ان کے دنیا میں رہنے، اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعیین کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہیں گے۔ ﴿ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ﴾ یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کر دینے والے عذاب میں مبتلا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ﴿اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔‘‘ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمھارے لیے برابر ہے۔ ﴿ لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کاش تمھیں علم ہوتا۔‘‘
23:106

قَالُواْ رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا وَكُنَّا قَوۡمٗا ضَآلِّينَ

پس جب پھونکاجائے گا صور میں تو نہ قرابت داریاں رہیں گے ان کے درمیان اس دن اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے (101) پس وہ شخص کہ بھاری ہو گئے پلڑے اس کے تو وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں (102)اور وہ شخص کہ ہلکے ہو گئے پلڑے اس (کی نیکیوں ) کے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو، جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے (103) جلا ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہوں گے (104)(کہا جائے گا) کیا نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تھے تم ان کو جھٹلاتے؟ (105) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! غالب آگئی ہم پر ہماری بد بختی اور تھے ہم لوگ گمراہ (63) اے ہمارے رب! تو نکال ہمیں اس سے، پس اگر دوبارہ کریں ہم تو بلاشبہ ہم ظالم ہوں گے (63) اللہ کہے گا، ذلیل و خوار پڑے رہو اسی میں اور مت کلام کرو مجھ سے (74) بے شک تھا ایک فریق میرے بندوں میں سے وہ کہتے تھے، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم سو بخش دے تو ہمیں اور رحم فرما تو ہم پراور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (74) پس کرتے تھے تم ان سے مسخری، یہاں تک کہ بھلا دیا تھا انھوں نے تمھیں میرا ذکر اور تھے تم ان سے ہنستے (110) بلاشبہ میں نے جزا دی ہے انھیں آج بوجہ اس کے جو انھوں نے صبر کیا، کہ بے شک وہی لوگ ہی کامیاب ہیں (111) اللہ کہے گا کتنی (مدت) ٹھہرے تم زمین میں (بہ اعتبار) شمار کرنے کے سالوں کے؟ (112) وہ کہیں گے، ٹھہرے ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، پس پوچھ لے تو شمار کرنے والوں سے (113) اللہ کہے گا نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا سا وقت، کاش کہ بے شک ہوتے تم جانتے (114) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جوکہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسانفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ، ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دوچار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ۰۰يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍33-37) ’’جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔‘‘ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ ﴿يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِۙ۰۰وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا١ۙ ثُمَّ يُنۡجِيۡهِ﴾(المعارج:70؍11-14) ’’اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں ، بیوی، بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔‘‘ [102] قیامت کے روز بعض مقامات ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام، جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بداعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہو جائے گا۔ ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے [103]﴿ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں ۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِيۡ جَهَنَّمَ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔‘‘ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں ، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں ۔ [104] پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَلۡفَحُ وُجُوۡهَهُمُ النَّارُ ﴾ ’’جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا كٰلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔‘‘ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔ [105] زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’كيا ميری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟‘‘ ان آیات کے ذریعے سے تمھیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تمھارے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو۔ ﴿ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں ۔ [106] یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا ﴾ کہیں گے: ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم، حق سے روگردانی، ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ ﴿ وَؔكُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور ہم گمراہ لوگ تھے۔‘‘ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں ، یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام كيے جس طرح گمراہ، بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں ۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(الملک:67؍10) ’’اور کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔‘‘ [107]﴿ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔‘‘ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں ۔ [108] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾ ’’پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام… ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں … علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی، زجروتوبیخ، ذلت، خسارے، ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی خوشخبری کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ [109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو، اس کی ربوبیت کے توسل کو، ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کر دیا۔ یہ آیت کریمہ ضمناً اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں ۔ [110]﴿ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔‘‘ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخۡرِيًّا ﴾ ’’مذاق (کا موضوع)‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔‘‘ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟ [111]﴿ اِنِّيۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ﴾ میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾(المطففین:83؍34) ’’آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔‘‘ [114-112]﴿ قٰلَ﴾ اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہو گا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انھوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے ان نیکیوں کا اکتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں ۔ ﴿ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’تم زمین میں کتنے برس رہے، وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ ان کا یہ کلام، ان کے دنیا میں رہنے، اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعیین کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہیں گے۔ ﴿ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ﴾ یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کر دینے والے عذاب میں مبتلا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ﴿اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔‘‘ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمھارے لیے برابر ہے۔ ﴿ لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کاش تمھیں علم ہوتا۔‘‘
23:107

رَبَّنَآ أَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَإِنۡ عُدۡنَا فَإِنَّا ظَٰلِمُونَ

پس جب پھونکاجائے گا صور میں تو نہ قرابت داریاں رہیں گے ان کے درمیان اس دن اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے (101) پس وہ شخص کہ بھاری ہو گئے پلڑے اس کے تو وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں (102)اور وہ شخص کہ ہلکے ہو گئے پلڑے اس (کی نیکیوں ) کے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو، جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے (103) جلا ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہوں گے (104)(کہا جائے گا) کیا نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تھے تم ان کو جھٹلاتے؟ (105) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! غالب آگئی ہم پر ہماری بد بختی اور تھے ہم لوگ گمراہ (63) اے ہمارے رب! تو نکال ہمیں اس سے، پس اگر دوبارہ کریں ہم تو بلاشبہ ہم ظالم ہوں گے (63) اللہ کہے گا، ذلیل و خوار پڑے رہو اسی میں اور مت کلام کرو مجھ سے (74) بے شک تھا ایک فریق میرے بندوں میں سے وہ کہتے تھے، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم سو بخش دے تو ہمیں اور رحم فرما تو ہم پراور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (74) پس کرتے تھے تم ان سے مسخری، یہاں تک کہ بھلا دیا تھا انھوں نے تمھیں میرا ذکر اور تھے تم ان سے ہنستے (110) بلاشبہ میں نے جزا دی ہے انھیں آج بوجہ اس کے جو انھوں نے صبر کیا، کہ بے شک وہی لوگ ہی کامیاب ہیں (111) اللہ کہے گا کتنی (مدت) ٹھہرے تم زمین میں (بہ اعتبار) شمار کرنے کے سالوں کے؟ (112) وہ کہیں گے، ٹھہرے ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، پس پوچھ لے تو شمار کرنے والوں سے (113) اللہ کہے گا نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا سا وقت، کاش کہ بے شک ہوتے تم جانتے (114) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جوکہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسانفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ، ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دوچار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ۰۰يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍33-37) ’’جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔‘‘ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ ﴿يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِۙ۰۰وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا١ۙ ثُمَّ يُنۡجِيۡهِ﴾(المعارج:70؍11-14) ’’اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں ، بیوی، بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔‘‘ [102] قیامت کے روز بعض مقامات ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام، جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بداعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہو جائے گا۔ ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے [103]﴿ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں ۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِيۡ جَهَنَّمَ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔‘‘ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں ، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں ۔ [104] پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَلۡفَحُ وُجُوۡهَهُمُ النَّارُ ﴾ ’’جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا كٰلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔‘‘ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔ [105] زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’كيا ميری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟‘‘ ان آیات کے ذریعے سے تمھیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تمھارے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو۔ ﴿ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں ۔ [106] یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا ﴾ کہیں گے: ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم، حق سے روگردانی، ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ ﴿ وَؔكُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور ہم گمراہ لوگ تھے۔‘‘ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں ، یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام كيے جس طرح گمراہ، بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں ۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(الملک:67؍10) ’’اور کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔‘‘ [107]﴿ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔‘‘ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں ۔ [108] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾ ’’پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام… ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں … علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی، زجروتوبیخ، ذلت، خسارے، ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی خوشخبری کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ [109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو، اس کی ربوبیت کے توسل کو، ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کر دیا۔ یہ آیت کریمہ ضمناً اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں ۔ [110]﴿ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔‘‘ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخۡرِيًّا ﴾ ’’مذاق (کا موضوع)‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔‘‘ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟ [111]﴿ اِنِّيۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ﴾ میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾(المطففین:83؍34) ’’آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔‘‘ [114-112]﴿ قٰلَ﴾ اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہو گا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انھوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے ان نیکیوں کا اکتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں ۔ ﴿ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’تم زمین میں کتنے برس رہے، وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ ان کا یہ کلام، ان کے دنیا میں رہنے، اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعیین کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہیں گے۔ ﴿ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ﴾ یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کر دینے والے عذاب میں مبتلا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ﴿اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔‘‘ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمھارے لیے برابر ہے۔ ﴿ لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کاش تمھیں علم ہوتا۔‘‘
23:108

قَالَ ٱخۡسَـُٔواْ فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ

پس جب پھونکاجائے گا صور میں تو نہ قرابت داریاں رہیں گے ان کے درمیان اس دن اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے (101) پس وہ شخص کہ بھاری ہو گئے پلڑے اس کے تو وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں (102)اور وہ شخص کہ ہلکے ہو گئے پلڑے اس (کی نیکیوں ) کے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو، جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے (103) جلا ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہوں گے (104)(کہا جائے گا) کیا نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تھے تم ان کو جھٹلاتے؟ (105) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! غالب آگئی ہم پر ہماری بد بختی اور تھے ہم لوگ گمراہ (63) اے ہمارے رب! تو نکال ہمیں اس سے، پس اگر دوبارہ کریں ہم تو بلاشبہ ہم ظالم ہوں گے (63) اللہ کہے گا، ذلیل و خوار پڑے رہو اسی میں اور مت کلام کرو مجھ سے (74) بے شک تھا ایک فریق میرے بندوں میں سے وہ کہتے تھے، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم سو بخش دے تو ہمیں اور رحم فرما تو ہم پراور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (74) پس کرتے تھے تم ان سے مسخری، یہاں تک کہ بھلا دیا تھا انھوں نے تمھیں میرا ذکر اور تھے تم ان سے ہنستے (110) بلاشبہ میں نے جزا دی ہے انھیں آج بوجہ اس کے جو انھوں نے صبر کیا، کہ بے شک وہی لوگ ہی کامیاب ہیں (111) اللہ کہے گا کتنی (مدت) ٹھہرے تم زمین میں (بہ اعتبار) شمار کرنے کے سالوں کے؟ (112) وہ کہیں گے، ٹھہرے ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، پس پوچھ لے تو شمار کرنے والوں سے (113) اللہ کہے گا نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا سا وقت، کاش کہ بے شک ہوتے تم جانتے (114) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جوکہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسانفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ، ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دوچار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ۰۰يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍33-37) ’’جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔‘‘ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ ﴿يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِۙ۰۰وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا١ۙ ثُمَّ يُنۡجِيۡهِ﴾(المعارج:70؍11-14) ’’اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں ، بیوی، بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔‘‘ [102] قیامت کے روز بعض مقامات ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام، جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بداعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہو جائے گا۔ ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے [103]﴿ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں ۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِيۡ جَهَنَّمَ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔‘‘ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں ، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں ۔ [104] پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَلۡفَحُ وُجُوۡهَهُمُ النَّارُ ﴾ ’’جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا كٰلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔‘‘ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔ [105] زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’كيا ميری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟‘‘ ان آیات کے ذریعے سے تمھیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تمھارے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو۔ ﴿ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں ۔ [106] یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا ﴾ کہیں گے: ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم، حق سے روگردانی، ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ ﴿ وَؔكُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور ہم گمراہ لوگ تھے۔‘‘ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں ، یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام كيے جس طرح گمراہ، بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں ۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(الملک:67؍10) ’’اور کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔‘‘ [107]﴿ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔‘‘ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں ۔ [108] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾ ’’پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام… ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں … علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی، زجروتوبیخ، ذلت، خسارے، ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی خوشخبری کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ [109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو، اس کی ربوبیت کے توسل کو، ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کر دیا۔ یہ آیت کریمہ ضمناً اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں ۔ [110]﴿ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔‘‘ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخۡرِيًّا ﴾ ’’مذاق (کا موضوع)‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔‘‘ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟ [111]﴿ اِنِّيۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ﴾ میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾(المطففین:83؍34) ’’آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔‘‘ [114-112]﴿ قٰلَ﴾ اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہو گا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انھوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے ان نیکیوں کا اکتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں ۔ ﴿ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’تم زمین میں کتنے برس رہے، وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ ان کا یہ کلام، ان کے دنیا میں رہنے، اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعیین کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہیں گے۔ ﴿ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ﴾ یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کر دینے والے عذاب میں مبتلا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ﴿اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔‘‘ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمھارے لیے برابر ہے۔ ﴿ لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کاش تمھیں علم ہوتا۔‘‘
23:109

إِنَّهُۥ كَانَ فَرِيقٞ مِّنۡ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغۡفِرۡ لَنَا وَٱرۡحَمۡنَا وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلرَّـٰحِمِينَ

پس جب پھونکاجائے گا صور میں تو نہ قرابت داریاں رہیں گے ان کے درمیان اس دن اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے (101) پس وہ شخص کہ بھاری ہو گئے پلڑے اس کے تو وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں (102)اور وہ شخص کہ ہلکے ہو گئے پلڑے اس (کی نیکیوں ) کے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو، جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے (103) جلا ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہوں گے (104)(کہا جائے گا) کیا نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تھے تم ان کو جھٹلاتے؟ (105) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! غالب آگئی ہم پر ہماری بد بختی اور تھے ہم لوگ گمراہ (63) اے ہمارے رب! تو نکال ہمیں اس سے، پس اگر دوبارہ کریں ہم تو بلاشبہ ہم ظالم ہوں گے (63) اللہ کہے گا، ذلیل و خوار پڑے رہو اسی میں اور مت کلام کرو مجھ سے (74) بے شک تھا ایک فریق میرے بندوں میں سے وہ کہتے تھے، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم سو بخش دے تو ہمیں اور رحم فرما تو ہم پراور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (74) پس کرتے تھے تم ان سے مسخری، یہاں تک کہ بھلا دیا تھا انھوں نے تمھیں میرا ذکر اور تھے تم ان سے ہنستے (110) بلاشبہ میں نے جزا دی ہے انھیں آج بوجہ اس کے جو انھوں نے صبر کیا، کہ بے شک وہی لوگ ہی کامیاب ہیں (111) اللہ کہے گا کتنی (مدت) ٹھہرے تم زمین میں (بہ اعتبار) شمار کرنے کے سالوں کے؟ (112) وہ کہیں گے، ٹھہرے ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، پس پوچھ لے تو شمار کرنے والوں سے (113) اللہ کہے گا نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا سا وقت، کاش کہ بے شک ہوتے تم جانتے (114) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جوکہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسانفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ، ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دوچار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ۰۰يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍33-37) ’’جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔‘‘ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ ﴿يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِۙ۰۰وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا١ۙ ثُمَّ يُنۡجِيۡهِ﴾(المعارج:70؍11-14) ’’اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں ، بیوی، بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔‘‘ [102] قیامت کے روز بعض مقامات ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام، جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بداعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہو جائے گا۔ ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے [103]﴿ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں ۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِيۡ جَهَنَّمَ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔‘‘ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں ، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں ۔ [104] پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَلۡفَحُ وُجُوۡهَهُمُ النَّارُ ﴾ ’’جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا كٰلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔‘‘ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔ [105] زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’كيا ميری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟‘‘ ان آیات کے ذریعے سے تمھیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تمھارے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو۔ ﴿ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں ۔ [106] یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا ﴾ کہیں گے: ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم، حق سے روگردانی، ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ ﴿ وَؔكُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور ہم گمراہ لوگ تھے۔‘‘ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں ، یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام كيے جس طرح گمراہ، بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں ۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(الملک:67؍10) ’’اور کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔‘‘ [107]﴿ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔‘‘ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں ۔ [108] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾ ’’پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام… ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں … علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی، زجروتوبیخ، ذلت، خسارے، ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی خوشخبری کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ [109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو، اس کی ربوبیت کے توسل کو، ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کر دیا۔ یہ آیت کریمہ ضمناً اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں ۔ [110]﴿ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔‘‘ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخۡرِيًّا ﴾ ’’مذاق (کا موضوع)‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔‘‘ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟ [111]﴿ اِنِّيۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ﴾ میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾(المطففین:83؍34) ’’آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔‘‘ [114-112]﴿ قٰلَ﴾ اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہو گا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انھوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے ان نیکیوں کا اکتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں ۔ ﴿ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’تم زمین میں کتنے برس رہے، وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ ان کا یہ کلام، ان کے دنیا میں رہنے، اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعیین کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہیں گے۔ ﴿ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ﴾ یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کر دینے والے عذاب میں مبتلا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ﴿اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔‘‘ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمھارے لیے برابر ہے۔ ﴿ لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کاش تمھیں علم ہوتا۔‘‘
23:110

فَٱتَّخَذۡتُمُوهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتَّىٰٓ أَنسَوۡكُمۡ ذِكۡرِي وَكُنتُم مِّنۡهُمۡ تَضۡحَكُونَ

پس جب پھونکاجائے گا صور میں تو نہ قرابت داریاں رہیں گے ان کے درمیان اس دن اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے (101) پس وہ شخص کہ بھاری ہو گئے پلڑے اس کے تو وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں (102)اور وہ شخص کہ ہلکے ہو گئے پلڑے اس (کی نیکیوں ) کے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو، جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے (103) جلا ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہوں گے (104)(کہا جائے گا) کیا نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تھے تم ان کو جھٹلاتے؟ (105) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! غالب آگئی ہم پر ہماری بد بختی اور تھے ہم لوگ گمراہ (63) اے ہمارے رب! تو نکال ہمیں اس سے، پس اگر دوبارہ کریں ہم تو بلاشبہ ہم ظالم ہوں گے (63) اللہ کہے گا، ذلیل و خوار پڑے رہو اسی میں اور مت کلام کرو مجھ سے (74) بے شک تھا ایک فریق میرے بندوں میں سے وہ کہتے تھے، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم سو بخش دے تو ہمیں اور رحم فرما تو ہم پراور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (74) پس کرتے تھے تم ان سے مسخری، یہاں تک کہ بھلا دیا تھا انھوں نے تمھیں میرا ذکر اور تھے تم ان سے ہنستے (110) بلاشبہ میں نے جزا دی ہے انھیں آج بوجہ اس کے جو انھوں نے صبر کیا، کہ بے شک وہی لوگ ہی کامیاب ہیں (111) اللہ کہے گا کتنی (مدت) ٹھہرے تم زمین میں (بہ اعتبار) شمار کرنے کے سالوں کے؟ (112) وہ کہیں گے، ٹھہرے ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، پس پوچھ لے تو شمار کرنے والوں سے (113) اللہ کہے گا نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا سا وقت، کاش کہ بے شک ہوتے تم جانتے (114) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جوکہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسانفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ، ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دوچار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ۰۰يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍33-37) ’’جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔‘‘ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ ﴿يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِۙ۰۰وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا١ۙ ثُمَّ يُنۡجِيۡهِ﴾(المعارج:70؍11-14) ’’اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں ، بیوی، بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔‘‘ [102] قیامت کے روز بعض مقامات ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام، جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بداعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہو جائے گا۔ ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے [103]﴿ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں ۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِيۡ جَهَنَّمَ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔‘‘ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں ، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں ۔ [104] پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَلۡفَحُ وُجُوۡهَهُمُ النَّارُ ﴾ ’’جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا كٰلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔‘‘ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔ [105] زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’كيا ميری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟‘‘ ان آیات کے ذریعے سے تمھیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تمھارے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو۔ ﴿ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں ۔ [106] یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا ﴾ کہیں گے: ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم، حق سے روگردانی، ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ ﴿ وَؔكُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور ہم گمراہ لوگ تھے۔‘‘ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں ، یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام كيے جس طرح گمراہ، بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں ۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(الملک:67؍10) ’’اور کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔‘‘ [107]﴿ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔‘‘ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں ۔ [108] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾ ’’پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام… ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں … علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی، زجروتوبیخ، ذلت، خسارے، ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی خوشخبری کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ [109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو، اس کی ربوبیت کے توسل کو، ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کر دیا۔ یہ آیت کریمہ ضمناً اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں ۔ [110]﴿ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔‘‘ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخۡرِيًّا ﴾ ’’مذاق (کا موضوع)‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔‘‘ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟ [111]﴿ اِنِّيۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ﴾ میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾(المطففین:83؍34) ’’آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔‘‘ [114-112]﴿ قٰلَ﴾ اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہو گا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انھوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے ان نیکیوں کا اکتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں ۔ ﴿ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’تم زمین میں کتنے برس رہے، وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ ان کا یہ کلام، ان کے دنیا میں رہنے، اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعیین کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہیں گے۔ ﴿ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ﴾ یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کر دینے والے عذاب میں مبتلا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ﴿اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔‘‘ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمھارے لیے برابر ہے۔ ﴿ لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کاش تمھیں علم ہوتا۔‘‘
23:111

إِنِّي جَزَيۡتُهُمُ ٱلۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوٓاْ أَنَّهُمۡ هُمُ ٱلۡفَآئِزُونَ

پس جب پھونکاجائے گا صور میں تو نہ قرابت داریاں رہیں گے ان کے درمیان اس دن اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے (101) پس وہ شخص کہ بھاری ہو گئے پلڑے اس کے تو وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں (102)اور وہ شخص کہ ہلکے ہو گئے پلڑے اس (کی نیکیوں ) کے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو، جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے (103) جلا ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہوں گے (104)(کہا جائے گا) کیا نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تھے تم ان کو جھٹلاتے؟ (105) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! غالب آگئی ہم پر ہماری بد بختی اور تھے ہم لوگ گمراہ (63) اے ہمارے رب! تو نکال ہمیں اس سے، پس اگر دوبارہ کریں ہم تو بلاشبہ ہم ظالم ہوں گے (63) اللہ کہے گا، ذلیل و خوار پڑے رہو اسی میں اور مت کلام کرو مجھ سے (74) بے شک تھا ایک فریق میرے بندوں میں سے وہ کہتے تھے، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم سو بخش دے تو ہمیں اور رحم فرما تو ہم پراور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (74) پس کرتے تھے تم ان سے مسخری، یہاں تک کہ بھلا دیا تھا انھوں نے تمھیں میرا ذکر اور تھے تم ان سے ہنستے (110) بلاشبہ میں نے جزا دی ہے انھیں آج بوجہ اس کے جو انھوں نے صبر کیا، کہ بے شک وہی لوگ ہی کامیاب ہیں (111) اللہ کہے گا کتنی (مدت) ٹھہرے تم زمین میں (بہ اعتبار) شمار کرنے کے سالوں کے؟ (112) وہ کہیں گے، ٹھہرے ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، پس پوچھ لے تو شمار کرنے والوں سے (113) اللہ کہے گا نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا سا وقت، کاش کہ بے شک ہوتے تم جانتے (114) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جوکہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسانفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ، ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دوچار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ۰۰يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍33-37) ’’جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔‘‘ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ ﴿يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِۙ۰۰وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا١ۙ ثُمَّ يُنۡجِيۡهِ﴾(المعارج:70؍11-14) ’’اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں ، بیوی، بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔‘‘ [102] قیامت کے روز بعض مقامات ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام، جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بداعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہو جائے گا۔ ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے [103]﴿ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں ۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِيۡ جَهَنَّمَ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔‘‘ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں ، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں ۔ [104] پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَلۡفَحُ وُجُوۡهَهُمُ النَّارُ ﴾ ’’جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا كٰلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔‘‘ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔ [105] زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’كيا ميری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟‘‘ ان آیات کے ذریعے سے تمھیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تمھارے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو۔ ﴿ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں ۔ [106] یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا ﴾ کہیں گے: ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم، حق سے روگردانی، ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ ﴿ وَؔكُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور ہم گمراہ لوگ تھے۔‘‘ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں ، یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام كيے جس طرح گمراہ، بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں ۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(الملک:67؍10) ’’اور کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔‘‘ [107]﴿ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔‘‘ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں ۔ [108] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾ ’’پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام… ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں … علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی، زجروتوبیخ، ذلت، خسارے، ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی خوشخبری کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ [109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو، اس کی ربوبیت کے توسل کو، ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کر دیا۔ یہ آیت کریمہ ضمناً اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں ۔ [110]﴿ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔‘‘ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخۡرِيًّا ﴾ ’’مذاق (کا موضوع)‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔‘‘ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟ [111]﴿ اِنِّيۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ﴾ میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾(المطففین:83؍34) ’’آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔‘‘ [114-112]﴿ قٰلَ﴾ اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہو گا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انھوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے ان نیکیوں کا اکتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں ۔ ﴿ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’تم زمین میں کتنے برس رہے، وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ ان کا یہ کلام، ان کے دنیا میں رہنے، اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعیین کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہیں گے۔ ﴿ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ﴾ یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کر دینے والے عذاب میں مبتلا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ﴿اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔‘‘ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمھارے لیے برابر ہے۔ ﴿ لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کاش تمھیں علم ہوتا۔‘‘
23:112

قَٰلَ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ عَدَدَ سِنِينَ

پس جب پھونکاجائے گا صور میں تو نہ قرابت داریاں رہیں گے ان کے درمیان اس دن اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے (101) پس وہ شخص کہ بھاری ہو گئے پلڑے اس کے تو وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں (102)اور وہ شخص کہ ہلکے ہو گئے پلڑے اس (کی نیکیوں ) کے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو، جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے (103) جلا ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہوں گے (104)(کہا جائے گا) کیا نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تھے تم ان کو جھٹلاتے؟ (105) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! غالب آگئی ہم پر ہماری بد بختی اور تھے ہم لوگ گمراہ (63) اے ہمارے رب! تو نکال ہمیں اس سے، پس اگر دوبارہ کریں ہم تو بلاشبہ ہم ظالم ہوں گے (63) اللہ کہے گا، ذلیل و خوار پڑے رہو اسی میں اور مت کلام کرو مجھ سے (74) بے شک تھا ایک فریق میرے بندوں میں سے وہ کہتے تھے، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم سو بخش دے تو ہمیں اور رحم فرما تو ہم پراور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (74) پس کرتے تھے تم ان سے مسخری، یہاں تک کہ بھلا دیا تھا انھوں نے تمھیں میرا ذکر اور تھے تم ان سے ہنستے (110) بلاشبہ میں نے جزا دی ہے انھیں آج بوجہ اس کے جو انھوں نے صبر کیا، کہ بے شک وہی لوگ ہی کامیاب ہیں (111) اللہ کہے گا کتنی (مدت) ٹھہرے تم زمین میں (بہ اعتبار) شمار کرنے کے سالوں کے؟ (112) وہ کہیں گے، ٹھہرے ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، پس پوچھ لے تو شمار کرنے والوں سے (113) اللہ کہے گا نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا سا وقت، کاش کہ بے شک ہوتے تم جانتے (114) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جوکہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسانفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ، ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دوچار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ۰۰يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍33-37) ’’جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔‘‘ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ ﴿يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِۙ۰۰وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا١ۙ ثُمَّ يُنۡجِيۡهِ﴾(المعارج:70؍11-14) ’’اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں ، بیوی، بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔‘‘ [102] قیامت کے روز بعض مقامات ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام، جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بداعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہو جائے گا۔ ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے [103]﴿ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں ۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِيۡ جَهَنَّمَ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔‘‘ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں ، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں ۔ [104] پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَلۡفَحُ وُجُوۡهَهُمُ النَّارُ ﴾ ’’جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا كٰلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔‘‘ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔ [105] زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’كيا ميری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟‘‘ ان آیات کے ذریعے سے تمھیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تمھارے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو۔ ﴿ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں ۔ [106] یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا ﴾ کہیں گے: ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم، حق سے روگردانی، ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ ﴿ وَؔكُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور ہم گمراہ لوگ تھے۔‘‘ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں ، یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام كيے جس طرح گمراہ، بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں ۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(الملک:67؍10) ’’اور کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔‘‘ [107]﴿ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔‘‘ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں ۔ [108] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾ ’’پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام… ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں … علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی، زجروتوبیخ، ذلت، خسارے، ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی خوشخبری کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ [109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو، اس کی ربوبیت کے توسل کو، ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کر دیا۔ یہ آیت کریمہ ضمناً اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں ۔ [110]﴿ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔‘‘ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخۡرِيًّا ﴾ ’’مذاق (کا موضوع)‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔‘‘ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟ [111]﴿ اِنِّيۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ﴾ میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾(المطففین:83؍34) ’’آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔‘‘ [114-112]﴿ قٰلَ﴾ اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہو گا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انھوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے ان نیکیوں کا اکتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں ۔ ﴿ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’تم زمین میں کتنے برس رہے، وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ ان کا یہ کلام، ان کے دنیا میں رہنے، اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعیین کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہیں گے۔ ﴿ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ﴾ یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کر دینے والے عذاب میں مبتلا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ﴿اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔‘‘ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمھارے لیے برابر ہے۔ ﴿ لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کاش تمھیں علم ہوتا۔‘‘
23:113

قَالُواْ لَبِثۡنَا يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٖ فَسۡـَٔلِ ٱلۡعَآدِّينَ

پس جب پھونکاجائے گا صور میں تو نہ قرابت داریاں رہیں گے ان کے درمیان اس دن اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے (101) پس وہ شخص کہ بھاری ہو گئے پلڑے اس کے تو وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں (102)اور وہ شخص کہ ہلکے ہو گئے پلڑے اس (کی نیکیوں ) کے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو، جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے (103) جلا ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہوں گے (104)(کہا جائے گا) کیا نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تھے تم ان کو جھٹلاتے؟ (105) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! غالب آگئی ہم پر ہماری بد بختی اور تھے ہم لوگ گمراہ (63) اے ہمارے رب! تو نکال ہمیں اس سے، پس اگر دوبارہ کریں ہم تو بلاشبہ ہم ظالم ہوں گے (63) اللہ کہے گا، ذلیل و خوار پڑے رہو اسی میں اور مت کلام کرو مجھ سے (74) بے شک تھا ایک فریق میرے بندوں میں سے وہ کہتے تھے، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم سو بخش دے تو ہمیں اور رحم فرما تو ہم پراور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (74) پس کرتے تھے تم ان سے مسخری، یہاں تک کہ بھلا دیا تھا انھوں نے تمھیں میرا ذکر اور تھے تم ان سے ہنستے (110) بلاشبہ میں نے جزا دی ہے انھیں آج بوجہ اس کے جو انھوں نے صبر کیا، کہ بے شک وہی لوگ ہی کامیاب ہیں (111) اللہ کہے گا کتنی (مدت) ٹھہرے تم زمین میں (بہ اعتبار) شمار کرنے کے سالوں کے؟ (112) وہ کہیں گے، ٹھہرے ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، پس پوچھ لے تو شمار کرنے والوں سے (113) اللہ کہے گا نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا سا وقت، کاش کہ بے شک ہوتے تم جانتے (114) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جوکہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسانفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ، ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دوچار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ۰۰يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍33-37) ’’جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔‘‘ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ ﴿يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِۙ۰۰وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا١ۙ ثُمَّ يُنۡجِيۡهِ﴾(المعارج:70؍11-14) ’’اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں ، بیوی، بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔‘‘ [102] قیامت کے روز بعض مقامات ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام، جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بداعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہو جائے گا۔ ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے [103]﴿ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں ۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِيۡ جَهَنَّمَ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔‘‘ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں ، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں ۔ [104] پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَلۡفَحُ وُجُوۡهَهُمُ النَّارُ ﴾ ’’جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا كٰلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔‘‘ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔ [105] زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’كيا ميری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟‘‘ ان آیات کے ذریعے سے تمھیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تمھارے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو۔ ﴿ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں ۔ [106] یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا ﴾ کہیں گے: ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم، حق سے روگردانی، ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ ﴿ وَؔكُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور ہم گمراہ لوگ تھے۔‘‘ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں ، یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام كيے جس طرح گمراہ، بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں ۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(الملک:67؍10) ’’اور کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔‘‘ [107]﴿ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔‘‘ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں ۔ [108] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾ ’’پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام… ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں … علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی، زجروتوبیخ، ذلت، خسارے، ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی خوشخبری کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ [109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو، اس کی ربوبیت کے توسل کو، ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کر دیا۔ یہ آیت کریمہ ضمناً اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں ۔ [110]﴿ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔‘‘ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخۡرِيًّا ﴾ ’’مذاق (کا موضوع)‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔‘‘ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟ [111]﴿ اِنِّيۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ﴾ میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾(المطففین:83؍34) ’’آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔‘‘ [114-112]﴿ قٰلَ﴾ اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہو گا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انھوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے ان نیکیوں کا اکتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں ۔ ﴿ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’تم زمین میں کتنے برس رہے، وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ ان کا یہ کلام، ان کے دنیا میں رہنے، اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعیین کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہیں گے۔ ﴿ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ﴾ یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کر دینے والے عذاب میں مبتلا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ﴿اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔‘‘ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمھارے لیے برابر ہے۔ ﴿ لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کاش تمھیں علم ہوتا۔‘‘
23:114

قَٰلَ إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا قَلِيلٗاۖ لَّوۡ أَنَّكُمۡ كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ

پس جب پھونکاجائے گا صور میں تو نہ قرابت داریاں رہیں گے ان کے درمیان اس دن اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے (101) پس وہ شخص کہ بھاری ہو گئے پلڑے اس کے تو وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں (102)اور وہ شخص کہ ہلکے ہو گئے پلڑے اس (کی نیکیوں ) کے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو، جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے (103) جلا ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہوں گے (104)(کہا جائے گا) کیا نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تھے تم ان کو جھٹلاتے؟ (105) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! غالب آگئی ہم پر ہماری بد بختی اور تھے ہم لوگ گمراہ (63) اے ہمارے رب! تو نکال ہمیں اس سے، پس اگر دوبارہ کریں ہم تو بلاشبہ ہم ظالم ہوں گے (63) اللہ کہے گا، ذلیل و خوار پڑے رہو اسی میں اور مت کلام کرو مجھ سے (74) بے شک تھا ایک فریق میرے بندوں میں سے وہ کہتے تھے، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم سو بخش دے تو ہمیں اور رحم فرما تو ہم پراور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (74) پس کرتے تھے تم ان سے مسخری، یہاں تک کہ بھلا دیا تھا انھوں نے تمھیں میرا ذکر اور تھے تم ان سے ہنستے (110) بلاشبہ میں نے جزا دی ہے انھیں آج بوجہ اس کے جو انھوں نے صبر کیا، کہ بے شک وہی لوگ ہی کامیاب ہیں (111) اللہ کہے گا کتنی (مدت) ٹھہرے تم زمین میں (بہ اعتبار) شمار کرنے کے سالوں کے؟ (112) وہ کہیں گے، ٹھہرے ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، پس پوچھ لے تو شمار کرنے والوں سے (113) اللہ کہے گا نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا سا وقت، کاش کہ بے شک ہوتے تم جانتے (114) [101] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جوکہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسانفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ، ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دوچار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ۰۰يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍33-37) ’’جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔‘‘ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ ﴿يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِۙ۰۰وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا١ۙ ثُمَّ يُنۡجِيۡهِ﴾(المعارج:70؍11-14) ’’اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں ، بیوی، بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔‘‘ [102] قیامت کے روز بعض مقامات ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام، جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بداعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہو جائے گا۔ ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے [103]﴿ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں ۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِيۡ جَهَنَّمَ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔‘‘ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں ، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں ۔ [104] پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَلۡفَحُ وُجُوۡهَهُمُ النَّارُ ﴾ ’’جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا كٰلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔‘‘ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔ [105] زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’كيا ميری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟‘‘ ان آیات کے ذریعے سے تمھیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تمھارے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو۔ ﴿ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں ۔ [106] یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا ﴾ کہیں گے: ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم، حق سے روگردانی، ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ ﴿ وَؔكُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور ہم گمراہ لوگ تھے۔‘‘ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں ، یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام كيے جس طرح گمراہ، بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں ۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(الملک:67؍10) ’’اور کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔‘‘ [107]﴿ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔‘‘ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں ۔ [108] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾ ’’پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام… ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں … علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی، زجروتوبیخ، ذلت، خسارے، ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی خوشخبری کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ [109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو، اس کی ربوبیت کے توسل کو، ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کر دیا۔ یہ آیت کریمہ ضمناً اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں ۔ [110]﴿ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔‘‘ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخۡرِيًّا ﴾ ’’مذاق (کا موضوع)‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔‘‘ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟ [111]﴿ اِنِّيۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ﴾ میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾(المطففین:83؍34) ’’آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔‘‘ [114-112]﴿ قٰلَ﴾ اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہو گا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انھوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے ان نیکیوں کا اکتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں ۔ ﴿ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’تم زمین میں کتنے برس رہے، وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ ان کا یہ کلام، ان کے دنیا میں رہنے، اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعیین کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہیں گے۔ ﴿ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ﴾ یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کر دینے والے عذاب میں مبتلا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ﴿اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔‘‘ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمھارے لیے برابر ہے۔ ﴿ لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کاش تمھیں علم ہوتا۔‘‘
23:115

أَفَحَسِبۡتُمۡ أَنَّمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ عَبَثٗا وَأَنَّكُمۡ إِلَيۡنَا لَا تُرۡجَعُونَ

کیا گمان کیا تھا تم نے یہ کہ پیدا کیا ہم نے تمھیں بے فائدہ اور یہ کہ بے شک تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے؟ (115) پس برتر ہے اللہ، بادشاہ سچا، نہیں کوئی (اور) معبود سوائے اس کے، (وہ) رب ہے عرش کریم کا (116) [116,115]﴿ اَفَحَسِبۡتُمۡ ﴾ یعنی اے مخلوق! ’’کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے‘‘ کہ ﴿ اَنَّمَا خَلَقۡنٰكُمۡ عَبَثًا ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے تمھیں بے فائدہ اور باطل پیدا کیا ہے‘‘ کہ تم کھاؤ، پیو، زمین پر اکڑ کر چلو اور دنیا کی لذتوں سے متمتع ہوتے رہو اور ہم تمھیں یونہی چھوڑ دیں گے۔ ہم تمھیں کسی چیز کا حکم دیں گے نہ تمھیں منع کریں گے، تمھیں ثواب عطا کریں گے نہ تمھیں عذاب دیں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَّاَنَّـكُمۡ اِلَيۡنَا لَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴾’’اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے؟‘‘ یہ بات تمھارے دل ہی میں نہ آئے۔﴿ فَتَعٰلَى اللّٰهُ ﴾ یعنی اس گمان باطل سے اللہ بہت بڑا اور بلندتر ہے جو اس کی حکمت میں قادح ہے۔ ﴿الۡمَلِكُ الۡحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’وہ حقیقی بادشاہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش کریم کا رب ہے۔‘‘ اس کا تمام مخلوق کا مالک ہونا حق ہے وہ اپنے صدق، اپنے وعدہ اور وعید میں حق ہے، وہ محبوب اور معبود ہے کیونکہ وہ ہر کمال کا مالک ہے۔﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡكَرِيۡمِ ﴾ ’’وہ عرش کریم کا رب ہے۔‘‘ پھر اس سے کم تر مخلوق کا تو بدرجہ اولیٰ رب ہے۔ یہ چیز مانع ہے اس سے کہ وہ تمھیں عبث پیدا کرے۔
23:116

فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ ٱلۡمَلِكُ ٱلۡحَقُّۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡكَرِيمِ

کیا گمان کیا تھا تم نے یہ کہ پیدا کیا ہم نے تمھیں بے فائدہ اور یہ کہ بے شک تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے؟ (115) پس برتر ہے اللہ، بادشاہ سچا، نہیں کوئی (اور) معبود سوائے اس کے، (وہ) رب ہے عرش کریم کا (116) [116,115]﴿ اَفَحَسِبۡتُمۡ ﴾ یعنی اے مخلوق! ’’کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے‘‘ کہ ﴿ اَنَّمَا خَلَقۡنٰكُمۡ عَبَثًا ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے تمھیں بے فائدہ اور باطل پیدا کیا ہے‘‘ کہ تم کھاؤ، پیو، زمین پر اکڑ کر چلو اور دنیا کی لذتوں سے متمتع ہوتے رہو اور ہم تمھیں یونہی چھوڑ دیں گے۔ ہم تمھیں کسی چیز کا حکم دیں گے نہ تمھیں منع کریں گے، تمھیں ثواب عطا کریں گے نہ تمھیں عذاب دیں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَّاَنَّـكُمۡ اِلَيۡنَا لَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴾’’اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے؟‘‘ یہ بات تمھارے دل ہی میں نہ آئے۔﴿ فَتَعٰلَى اللّٰهُ ﴾ یعنی اس گمان باطل سے اللہ بہت بڑا اور بلندتر ہے جو اس کی حکمت میں قادح ہے۔ ﴿الۡمَلِكُ الۡحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’وہ حقیقی بادشاہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش کریم کا رب ہے۔‘‘ اس کا تمام مخلوق کا مالک ہونا حق ہے وہ اپنے صدق، اپنے وعدہ اور وعید میں حق ہے، وہ محبوب اور معبود ہے کیونکہ وہ ہر کمال کا مالک ہے۔﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡكَرِيۡمِ ﴾ ’’وہ عرش کریم کا رب ہے۔‘‘ پھر اس سے کم تر مخلوق کا تو بدرجہ اولیٰ رب ہے۔ یہ چیز مانع ہے اس سے کہ وہ تمھیں عبث پیدا کرے۔
23:117

وَمَن يَدۡعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ لَا بُرۡهَٰنَ لَهُۥ بِهِۦ فَإِنَّمَا حِسَابُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦٓۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلۡكَٰفِرُونَ

اور جو کوئی پکارے ساتھ اللہ کے معبود کسی اور کو کہ نہیں کوئی دلیل اس کے لیے اس (بات) کی تویقینا حساب اس کا اس کے رب کے پاس ہے، بلاشبہ نہیں فلاح پائیں گے کافر (117) اور آپ کہیں ، اے میرے رب! تو بخش دے اور رحم فرمااور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (118) [117] یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کو پکارتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دلیل اور برہان نہیں جو اس کے اس مذہب کی صحت پر دلالت کرتی ہو۔ یہ ایک الزامی قید ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی غیر اللہ کو پکارتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی ہی نہیں بلکہ تمام دلائل و براہین اس کے مذہب کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں مگر اس نے ظلم اور عناد کی بنا پر ان سے روگردانی کی۔ پس یہ شخص جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے برے اعمال کا بدلہ دے گا اسے فلاح میں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ وہ کافر ہے۔ ﴿اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ، کافر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ پس ان کے کفر نے ان کو فلاح سے محروم کر دیا۔ [118]﴿ وَقُلۡ ﴾ دین کو اپنے رب کے لیے خالص کر کے اسے پکارتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿ رَّبِّ اغۡفِرۡ وَارۡحَمۡ ﴾ اے میرے رب! ہمیں بخش دے یہاں تک کہ ہمیں ناپسندیدہ چیزوں سے بچا اور ہم پر رحم فرما تاکہ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت کے ساتھ ہر بھلائی کی منزل تک پہنچا دے۔ ﴿ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’اور تو سب رحم کرنے والوں میں سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ بندے پر رحم کرنے والی ہر ہستی سے زیادہ رحیم ہے ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم و شفیق ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ بلکہ انسان اپنے آپ پر جس قدر رحم کر سکتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ رحیم ہے۔
23:118

وَقُل رَّبِّ ٱغۡفِرۡ وَٱرۡحَمۡ وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلرَّـٰحِمِينَ

اور جو کوئی پکارے ساتھ اللہ کے معبود کسی اور کو کہ نہیں کوئی دلیل اس کے لیے اس (بات) کی تویقینا حساب اس کا اس کے رب کے پاس ہے، بلاشبہ نہیں فلاح پائیں گے کافر (117) اور آپ کہیں ، اے میرے رب! تو بخش دے اور رحم فرمااور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (118) [117] یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کو پکارتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دلیل اور برہان نہیں جو اس کے اس مذہب کی صحت پر دلالت کرتی ہو۔ یہ ایک الزامی قید ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی غیر اللہ کو پکارتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی ہی نہیں بلکہ تمام دلائل و براہین اس کے مذہب کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں مگر اس نے ظلم اور عناد کی بنا پر ان سے روگردانی کی۔ پس یہ شخص جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے برے اعمال کا بدلہ دے گا اسے فلاح میں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ وہ کافر ہے۔ ﴿اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ، کافر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ پس ان کے کفر نے ان کو فلاح سے محروم کر دیا۔ [118]﴿ وَقُلۡ ﴾ دین کو اپنے رب کے لیے خالص کر کے اسے پکارتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿ رَّبِّ اغۡفِرۡ وَارۡحَمۡ ﴾ اے میرے رب! ہمیں بخش دے یہاں تک کہ ہمیں ناپسندیدہ چیزوں سے بچا اور ہم پر رحم فرما تاکہ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت کے ساتھ ہر بھلائی کی منزل تک پہنچا دے۔ ﴿ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’اور تو سب رحم کرنے والوں میں سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ بندے پر رحم کرنے والی ہر ہستی سے زیادہ رحیم ہے ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم و شفیق ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ بلکہ انسان اپنے آپ پر جس قدر رحم کر سکتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ رحیم ہے۔