QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Al-Anbya

ٱلْأَنْبِيَاء

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 21 · 112 verses

21:1

ٱقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ وَهُمۡ فِي غَفۡلَةٖ مُّعۡرِضُونَ

قریب آگیا ہے لوگوں کے لیے حساب (کا وقت) ان کا جبکہ وہ غفلت میں پڑے اعراض کرنے والے ہیں (1) نہیں آتا ان کے پاس کوئی ذکر ان کے رب کی طرف سے نیا مگر وہ سنتے ہیں اس کو اس حال میں کہ وہ کھیل رہے ہوتے ہیں (2) غافل ہیں دل ان کےاور چپکے چپکے کیا مشورہ ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا، نہیں ہے یہ (رسول) مگر بشر ہی تم جیسا، کیا پس تم آتے (مانتے) ہو جادو کو جبکہ تم دیکھ بھی رہے ہو (3) رسول نے کہا، میرا رب جانتا ہے (ہر) بات کو آسمان اور زمین میں اور وہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے (4) [1] یہ لوگوں کے احوال پر تعجب کا اظہار ہے اور اس امر کی آگاہی کہ انھیں کوئی وعظ و نصیحت فائدہ دیتی ہے نہ وہ کسی ڈرانے والے کی طرف دھیان دیتے ہیں اور یہ کہ ان کے حساب اور ان کے اعمال صالحہ کی جزا کا وقت قریب آ گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں پڑے روگردانی کر رہے ہیں ، یعنی وہ ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ گویا کہ انھیں صرف دنیا کے لیے تخلیق کیا گیا ہے اور وہ محض اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نئے نئے انداز سے انھیں وعظ و نصیحت کرتا ہے اور یہ ہیں کہ اپنی غفلت اور اعراض میں مستغرق ہیں ۔ [2] اس لیے فرمایا: ﴿ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ مُّؔحۡدَثٍ ﴾ ’’نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت۔‘‘ جو انھیں ایسی باتوں کی یاددہانی کراتی اور ان کی ان کو ترغیب دیتی ہے جو انھیں فائدہ دیتی ہے اور ان باتوں کی بھی، جو ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور ان سے ان کو ڈراتی ہے۔ ﴿اِلَّا اسۡتَمَعُوۡهُ﴾ مگر وہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے ﴿وَهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَ﴾ [3]﴿لَاهِيَةً قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ یعنی ان کے دل اپنے دنیاوی اغراض و مقاصد میں مستغرق ہو کر اس ’’ذکر‘‘ سے روگرداں اور ان کے جسم شہوات کے حصول، باطل پر عمل پیرا ہونے اور ردی اقوال میں مشغول ہیں ۔جبکہ ان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اس صفت سے متصف نہ ہوں بلکہ اس کے برعکس وہ اللہ تعالیٰ کے امرونہی کو قبول کریں ، اسے اس طرح سنیں جس سے اس کی مراد ان کی سمجھ میں آئے، ان کے جوارح اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ روز قیامت، حساب و کتاب اور جزا و سزا کو ہمیشہ یاد رکھیں ۔ اس طرح ہی ان کے معاملے کی تکمیل ہو گی، ان کے احوال درست اور ان کے اعمال پاک ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ ﴾’’لوگوں کے لیے ان کا حساب قریب آ گیا ہے۔‘‘ کی تفسیر میں اصحاب تفسیر سے دو قول منقول ہیں۔(۱) پہلا قول یہ ہے کہ یہ امت آخری امت اور یہ رسول آخری رسول ہے۔ اس رسول کی امت پر ہی قیامت قائم ہو گی گزشتہ امتوں کی نسبت، قیامت اس امت کے زیادہ قریب ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’مجھے اس زمانے میں مبعوث کیا گیا ہے کہ میں اور قیامت کا دن اس طرح ساتھ ساتھ ہیں ۔‘‘ اور آپﷺ نے شہادت کی انگلی اور ساتھ والی انگلی کو اکٹھا کر کے دکھایا۔(صحیح البخاري، الرقاق، باب قول النبیﷺ (بعث انا…)، ح:6503 و صحیح مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ، ح:867)(۲) دوسرا قول یہ ہے کہ ’’حساب‘‘ کے قریب ہونے سے مراد موت کا قریب ہونا ہے، نیز یہ کہ جو کوئی مر جاتا ہے ،اس کی قیامت قائم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے اعمال کی جزا و سزا کے لیے دارالجزا میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ تعجب ہر اس شخص پر ہے جو غافل اور روگرداں ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ صبح یا شام، کب اچانک موت کا پیغام آ جائے۔ تمام لوگوں کی یہی حالت ہے سوائے اس کے جس پر عنایت ربانی سایہ کناں ہے۔ پس وہ موت اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کے لیے تیاری کرتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ ظالم کفار عناد اور باطل کے ذریعے سے حق کا مقابلہ کرنے کی خاطر ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہیں اور رسول اللہﷺ کے بارے میں یہ کہنے پر متفق ہیں کہ وہ تو ایک بشر ہے، کس بنا پر اسے تم پر فضیلت دی گئی ہے اور کس وجہ سے اسے تم میں سے خاص کر لیا گیا ہے اور تم میں سے کوئی اس قسم کا دعویٰ کرے تو اس کا دعویٰ بھی اسی طرح کا دعویٰ ہو گا۔ درحقیقت یہ شخص تم پر اپنی فضیلت ثابت کر کے تمھارا سردار بننا چاہتا ہے، اس لیے اس کی اطاعت کرنا نہ اس کی تصدیق کرنا، یہ جادوگر ہے اور یہ جو قرآن لے کر آیا ہے، وہ جادو ہے، اس لیے اس سے خود بھی دور رہو اور لوگوں کو بھی اس سے متنفر کرو اور لوگوں سے کہو! ﴿اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ یعنی اسے دیکھتے ہوئے تم اس جادو کی طرف کھنچے چلے آ رہے ہو… حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ آپﷺ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں کیونکہ وہ بڑی بڑی آیات الٰہی کا مشاہدہ کرتے ہیں جن کا مشاہدہ ان کے علاوہ کسی اور نے نہیں کیا لیکن ظلم، عناد اور بدبختی نے ان کو اس انکار پر آمادہ کیا۔ [4] اور جو وہ سرگوشیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے عنقریب وہ ان کو ان سرگوشیوں کی سزا دے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿قٰلَ رَبِّيۡ يَعۡلَمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی میرا رب جلی اور خفی ہر بات کو جانتا ہے ﴿ فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان ا ور زمین میں ۔‘‘ یعنی ہر اس جگہ میں جن کو ان دونوں کے کناروں نے گھیر رکھا ہے۔ ﴿ وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی لوگوں کی زبانوں کے اختلافات اور ان کی متنوع حاجات کے باوجود ان کی آوازیں سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ دلوں کے بھید کو بھی جانتا ہے۔
21:2

مَا يَأۡتِيهِم مِّن ذِكۡرٖ مِّن رَّبِّهِم مُّحۡدَثٍ إِلَّا ٱسۡتَمَعُوهُ وَهُمۡ يَلۡعَبُونَ

قریب آگیا ہے لوگوں کے لیے حساب (کا وقت) ان کا جبکہ وہ غفلت میں پڑے اعراض کرنے والے ہیں (1) نہیں آتا ان کے پاس کوئی ذکر ان کے رب کی طرف سے نیا مگر وہ سنتے ہیں اس کو اس حال میں کہ وہ کھیل رہے ہوتے ہیں (2) غافل ہیں دل ان کےاور چپکے چپکے کیا مشورہ ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا، نہیں ہے یہ (رسول) مگر بشر ہی تم جیسا، کیا پس تم آتے (مانتے) ہو جادو کو جبکہ تم دیکھ بھی رہے ہو (3) رسول نے کہا، میرا رب جانتا ہے (ہر) بات کو آسمان اور زمین میں اور وہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے (4) [1] یہ لوگوں کے احوال پر تعجب کا اظہار ہے اور اس امر کی آگاہی کہ انھیں کوئی وعظ و نصیحت فائدہ دیتی ہے نہ وہ کسی ڈرانے والے کی طرف دھیان دیتے ہیں اور یہ کہ ان کے حساب اور ان کے اعمال صالحہ کی جزا کا وقت قریب آ گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں پڑے روگردانی کر رہے ہیں ، یعنی وہ ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ گویا کہ انھیں صرف دنیا کے لیے تخلیق کیا گیا ہے اور وہ محض اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نئے نئے انداز سے انھیں وعظ و نصیحت کرتا ہے اور یہ ہیں کہ اپنی غفلت اور اعراض میں مستغرق ہیں ۔ [2] اس لیے فرمایا: ﴿ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ مُّؔحۡدَثٍ ﴾ ’’نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت۔‘‘ جو انھیں ایسی باتوں کی یاددہانی کراتی اور ان کی ان کو ترغیب دیتی ہے جو انھیں فائدہ دیتی ہے اور ان باتوں کی بھی، جو ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور ان سے ان کو ڈراتی ہے۔ ﴿اِلَّا اسۡتَمَعُوۡهُ﴾ مگر وہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے ﴿وَهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَ﴾ [3]﴿لَاهِيَةً قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ یعنی ان کے دل اپنے دنیاوی اغراض و مقاصد میں مستغرق ہو کر اس ’’ذکر‘‘ سے روگرداں اور ان کے جسم شہوات کے حصول، باطل پر عمل پیرا ہونے اور ردی اقوال میں مشغول ہیں ۔جبکہ ان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اس صفت سے متصف نہ ہوں بلکہ اس کے برعکس وہ اللہ تعالیٰ کے امرونہی کو قبول کریں ، اسے اس طرح سنیں جس سے اس کی مراد ان کی سمجھ میں آئے، ان کے جوارح اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ روز قیامت، حساب و کتاب اور جزا و سزا کو ہمیشہ یاد رکھیں ۔ اس طرح ہی ان کے معاملے کی تکمیل ہو گی، ان کے احوال درست اور ان کے اعمال پاک ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ ﴾’’لوگوں کے لیے ان کا حساب قریب آ گیا ہے۔‘‘ کی تفسیر میں اصحاب تفسیر سے دو قول منقول ہیں۔(۱) پہلا قول یہ ہے کہ یہ امت آخری امت اور یہ رسول آخری رسول ہے۔ اس رسول کی امت پر ہی قیامت قائم ہو گی گزشتہ امتوں کی نسبت، قیامت اس امت کے زیادہ قریب ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’مجھے اس زمانے میں مبعوث کیا گیا ہے کہ میں اور قیامت کا دن اس طرح ساتھ ساتھ ہیں ۔‘‘ اور آپﷺ نے شہادت کی انگلی اور ساتھ والی انگلی کو اکٹھا کر کے دکھایا۔(صحیح البخاري، الرقاق، باب قول النبیﷺ (بعث انا…)، ح:6503 و صحیح مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ، ح:867)(۲) دوسرا قول یہ ہے کہ ’’حساب‘‘ کے قریب ہونے سے مراد موت کا قریب ہونا ہے، نیز یہ کہ جو کوئی مر جاتا ہے ،اس کی قیامت قائم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے اعمال کی جزا و سزا کے لیے دارالجزا میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ تعجب ہر اس شخص پر ہے جو غافل اور روگرداں ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ صبح یا شام، کب اچانک موت کا پیغام آ جائے۔ تمام لوگوں کی یہی حالت ہے سوائے اس کے جس پر عنایت ربانی سایہ کناں ہے۔ پس وہ موت اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کے لیے تیاری کرتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ ظالم کفار عناد اور باطل کے ذریعے سے حق کا مقابلہ کرنے کی خاطر ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہیں اور رسول اللہﷺ کے بارے میں یہ کہنے پر متفق ہیں کہ وہ تو ایک بشر ہے، کس بنا پر اسے تم پر فضیلت دی گئی ہے اور کس وجہ سے اسے تم میں سے خاص کر لیا گیا ہے اور تم میں سے کوئی اس قسم کا دعویٰ کرے تو اس کا دعویٰ بھی اسی طرح کا دعویٰ ہو گا۔ درحقیقت یہ شخص تم پر اپنی فضیلت ثابت کر کے تمھارا سردار بننا چاہتا ہے، اس لیے اس کی اطاعت کرنا نہ اس کی تصدیق کرنا، یہ جادوگر ہے اور یہ جو قرآن لے کر آیا ہے، وہ جادو ہے، اس لیے اس سے خود بھی دور رہو اور لوگوں کو بھی اس سے متنفر کرو اور لوگوں سے کہو! ﴿اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ یعنی اسے دیکھتے ہوئے تم اس جادو کی طرف کھنچے چلے آ رہے ہو… حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ آپﷺ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں کیونکہ وہ بڑی بڑی آیات الٰہی کا مشاہدہ کرتے ہیں جن کا مشاہدہ ان کے علاوہ کسی اور نے نہیں کیا لیکن ظلم، عناد اور بدبختی نے ان کو اس انکار پر آمادہ کیا۔ [4] اور جو وہ سرگوشیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے عنقریب وہ ان کو ان سرگوشیوں کی سزا دے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿قٰلَ رَبِّيۡ يَعۡلَمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی میرا رب جلی اور خفی ہر بات کو جانتا ہے ﴿ فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان ا ور زمین میں ۔‘‘ یعنی ہر اس جگہ میں جن کو ان دونوں کے کناروں نے گھیر رکھا ہے۔ ﴿ وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی لوگوں کی زبانوں کے اختلافات اور ان کی متنوع حاجات کے باوجود ان کی آوازیں سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ دلوں کے بھید کو بھی جانتا ہے۔
21:3

لَاهِيَةٗ قُلُوبُهُمۡۗ وَأَسَرُّواْ ٱلنَّجۡوَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ هَلۡ هَٰذَآ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡۖ أَفَتَأۡتُونَ ٱلسِّحۡرَ وَأَنتُمۡ تُبۡصِرُونَ

قریب آگیا ہے لوگوں کے لیے حساب (کا وقت) ان کا جبکہ وہ غفلت میں پڑے اعراض کرنے والے ہیں (1) نہیں آتا ان کے پاس کوئی ذکر ان کے رب کی طرف سے نیا مگر وہ سنتے ہیں اس کو اس حال میں کہ وہ کھیل رہے ہوتے ہیں (2) غافل ہیں دل ان کےاور چپکے چپکے کیا مشورہ ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا، نہیں ہے یہ (رسول) مگر بشر ہی تم جیسا، کیا پس تم آتے (مانتے) ہو جادو کو جبکہ تم دیکھ بھی رہے ہو (3) رسول نے کہا، میرا رب جانتا ہے (ہر) بات کو آسمان اور زمین میں اور وہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے (4) [1] یہ لوگوں کے احوال پر تعجب کا اظہار ہے اور اس امر کی آگاہی کہ انھیں کوئی وعظ و نصیحت فائدہ دیتی ہے نہ وہ کسی ڈرانے والے کی طرف دھیان دیتے ہیں اور یہ کہ ان کے حساب اور ان کے اعمال صالحہ کی جزا کا وقت قریب آ گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں پڑے روگردانی کر رہے ہیں ، یعنی وہ ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ گویا کہ انھیں صرف دنیا کے لیے تخلیق کیا گیا ہے اور وہ محض اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نئے نئے انداز سے انھیں وعظ و نصیحت کرتا ہے اور یہ ہیں کہ اپنی غفلت اور اعراض میں مستغرق ہیں ۔ [2] اس لیے فرمایا: ﴿ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ مُّؔحۡدَثٍ ﴾ ’’نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت۔‘‘ جو انھیں ایسی باتوں کی یاددہانی کراتی اور ان کی ان کو ترغیب دیتی ہے جو انھیں فائدہ دیتی ہے اور ان باتوں کی بھی، جو ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور ان سے ان کو ڈراتی ہے۔ ﴿اِلَّا اسۡتَمَعُوۡهُ﴾ مگر وہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے ﴿وَهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَ﴾ [3]﴿لَاهِيَةً قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ یعنی ان کے دل اپنے دنیاوی اغراض و مقاصد میں مستغرق ہو کر اس ’’ذکر‘‘ سے روگرداں اور ان کے جسم شہوات کے حصول، باطل پر عمل پیرا ہونے اور ردی اقوال میں مشغول ہیں ۔جبکہ ان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اس صفت سے متصف نہ ہوں بلکہ اس کے برعکس وہ اللہ تعالیٰ کے امرونہی کو قبول کریں ، اسے اس طرح سنیں جس سے اس کی مراد ان کی سمجھ میں آئے، ان کے جوارح اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ روز قیامت، حساب و کتاب اور جزا و سزا کو ہمیشہ یاد رکھیں ۔ اس طرح ہی ان کے معاملے کی تکمیل ہو گی، ان کے احوال درست اور ان کے اعمال پاک ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ ﴾’’لوگوں کے لیے ان کا حساب قریب آ گیا ہے۔‘‘ کی تفسیر میں اصحاب تفسیر سے دو قول منقول ہیں۔(۱) پہلا قول یہ ہے کہ یہ امت آخری امت اور یہ رسول آخری رسول ہے۔ اس رسول کی امت پر ہی قیامت قائم ہو گی گزشتہ امتوں کی نسبت، قیامت اس امت کے زیادہ قریب ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’مجھے اس زمانے میں مبعوث کیا گیا ہے کہ میں اور قیامت کا دن اس طرح ساتھ ساتھ ہیں ۔‘‘ اور آپﷺ نے شہادت کی انگلی اور ساتھ والی انگلی کو اکٹھا کر کے دکھایا۔(صحیح البخاري، الرقاق، باب قول النبیﷺ (بعث انا…)، ح:6503 و صحیح مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ، ح:867)(۲) دوسرا قول یہ ہے کہ ’’حساب‘‘ کے قریب ہونے سے مراد موت کا قریب ہونا ہے، نیز یہ کہ جو کوئی مر جاتا ہے ،اس کی قیامت قائم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے اعمال کی جزا و سزا کے لیے دارالجزا میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ تعجب ہر اس شخص پر ہے جو غافل اور روگرداں ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ صبح یا شام، کب اچانک موت کا پیغام آ جائے۔ تمام لوگوں کی یہی حالت ہے سوائے اس کے جس پر عنایت ربانی سایہ کناں ہے۔ پس وہ موت اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کے لیے تیاری کرتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ ظالم کفار عناد اور باطل کے ذریعے سے حق کا مقابلہ کرنے کی خاطر ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہیں اور رسول اللہﷺ کے بارے میں یہ کہنے پر متفق ہیں کہ وہ تو ایک بشر ہے، کس بنا پر اسے تم پر فضیلت دی گئی ہے اور کس وجہ سے اسے تم میں سے خاص کر لیا گیا ہے اور تم میں سے کوئی اس قسم کا دعویٰ کرے تو اس کا دعویٰ بھی اسی طرح کا دعویٰ ہو گا۔ درحقیقت یہ شخص تم پر اپنی فضیلت ثابت کر کے تمھارا سردار بننا چاہتا ہے، اس لیے اس کی اطاعت کرنا نہ اس کی تصدیق کرنا، یہ جادوگر ہے اور یہ جو قرآن لے کر آیا ہے، وہ جادو ہے، اس لیے اس سے خود بھی دور رہو اور لوگوں کو بھی اس سے متنفر کرو اور لوگوں سے کہو! ﴿اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ یعنی اسے دیکھتے ہوئے تم اس جادو کی طرف کھنچے چلے آ رہے ہو… حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ آپﷺ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں کیونکہ وہ بڑی بڑی آیات الٰہی کا مشاہدہ کرتے ہیں جن کا مشاہدہ ان کے علاوہ کسی اور نے نہیں کیا لیکن ظلم، عناد اور بدبختی نے ان کو اس انکار پر آمادہ کیا۔ [4] اور جو وہ سرگوشیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے عنقریب وہ ان کو ان سرگوشیوں کی سزا دے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿قٰلَ رَبِّيۡ يَعۡلَمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی میرا رب جلی اور خفی ہر بات کو جانتا ہے ﴿ فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان ا ور زمین میں ۔‘‘ یعنی ہر اس جگہ میں جن کو ان دونوں کے کناروں نے گھیر رکھا ہے۔ ﴿ وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی لوگوں کی زبانوں کے اختلافات اور ان کی متنوع حاجات کے باوجود ان کی آوازیں سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ دلوں کے بھید کو بھی جانتا ہے۔
21:4

قَالَ رَبِّي يَعۡلَمُ ٱلۡقَوۡلَ فِي ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ

قریب آگیا ہے لوگوں کے لیے حساب (کا وقت) ان کا جبکہ وہ غفلت میں پڑے اعراض کرنے والے ہیں (1) نہیں آتا ان کے پاس کوئی ذکر ان کے رب کی طرف سے نیا مگر وہ سنتے ہیں اس کو اس حال میں کہ وہ کھیل رہے ہوتے ہیں (2) غافل ہیں دل ان کےاور چپکے چپکے کیا مشورہ ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا، نہیں ہے یہ (رسول) مگر بشر ہی تم جیسا، کیا پس تم آتے (مانتے) ہو جادو کو جبکہ تم دیکھ بھی رہے ہو (3) رسول نے کہا، میرا رب جانتا ہے (ہر) بات کو آسمان اور زمین میں اور وہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے (4) [1] یہ لوگوں کے احوال پر تعجب کا اظہار ہے اور اس امر کی آگاہی کہ انھیں کوئی وعظ و نصیحت فائدہ دیتی ہے نہ وہ کسی ڈرانے والے کی طرف دھیان دیتے ہیں اور یہ کہ ان کے حساب اور ان کے اعمال صالحہ کی جزا کا وقت قریب آ گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں پڑے روگردانی کر رہے ہیں ، یعنی وہ ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ گویا کہ انھیں صرف دنیا کے لیے تخلیق کیا گیا ہے اور وہ محض اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نئے نئے انداز سے انھیں وعظ و نصیحت کرتا ہے اور یہ ہیں کہ اپنی غفلت اور اعراض میں مستغرق ہیں ۔ [2] اس لیے فرمایا: ﴿ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ ذِكۡرٍ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ مُّؔحۡدَثٍ ﴾ ’’نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت۔‘‘ جو انھیں ایسی باتوں کی یاددہانی کراتی اور ان کی ان کو ترغیب دیتی ہے جو انھیں فائدہ دیتی ہے اور ان باتوں کی بھی، جو ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور ان سے ان کو ڈراتی ہے۔ ﴿اِلَّا اسۡتَمَعُوۡهُ﴾ مگر وہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے ﴿وَهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَ﴾ [3]﴿لَاهِيَةً قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ یعنی ان کے دل اپنے دنیاوی اغراض و مقاصد میں مستغرق ہو کر اس ’’ذکر‘‘ سے روگرداں اور ان کے جسم شہوات کے حصول، باطل پر عمل پیرا ہونے اور ردی اقوال میں مشغول ہیں ۔جبکہ ان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اس صفت سے متصف نہ ہوں بلکہ اس کے برعکس وہ اللہ تعالیٰ کے امرونہی کو قبول کریں ، اسے اس طرح سنیں جس سے اس کی مراد ان کی سمجھ میں آئے، ان کے جوارح اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ روز قیامت، حساب و کتاب اور جزا و سزا کو ہمیشہ یاد رکھیں ۔ اس طرح ہی ان کے معاملے کی تکمیل ہو گی، ان کے احوال درست اور ان کے اعمال پاک ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ ﴾’’لوگوں کے لیے ان کا حساب قریب آ گیا ہے۔‘‘ کی تفسیر میں اصحاب تفسیر سے دو قول منقول ہیں۔(۱) پہلا قول یہ ہے کہ یہ امت آخری امت اور یہ رسول آخری رسول ہے۔ اس رسول کی امت پر ہی قیامت قائم ہو گی گزشتہ امتوں کی نسبت، قیامت اس امت کے زیادہ قریب ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’مجھے اس زمانے میں مبعوث کیا گیا ہے کہ میں اور قیامت کا دن اس طرح ساتھ ساتھ ہیں ۔‘‘ اور آپﷺ نے شہادت کی انگلی اور ساتھ والی انگلی کو اکٹھا کر کے دکھایا۔(صحیح البخاري، الرقاق، باب قول النبیﷺ (بعث انا…)، ح:6503 و صحیح مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ، ح:867)(۲) دوسرا قول یہ ہے کہ ’’حساب‘‘ کے قریب ہونے سے مراد موت کا قریب ہونا ہے، نیز یہ کہ جو کوئی مر جاتا ہے ،اس کی قیامت قائم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے اعمال کی جزا و سزا کے لیے دارالجزا میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ تعجب ہر اس شخص پر ہے جو غافل اور روگرداں ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ صبح یا شام، کب اچانک موت کا پیغام آ جائے۔ تمام لوگوں کی یہی حالت ہے سوائے اس کے جس پر عنایت ربانی سایہ کناں ہے۔ پس وہ موت اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کے لیے تیاری کرتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ ظالم کفار عناد اور باطل کے ذریعے سے حق کا مقابلہ کرنے کی خاطر ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہیں اور رسول اللہﷺ کے بارے میں یہ کہنے پر متفق ہیں کہ وہ تو ایک بشر ہے، کس بنا پر اسے تم پر فضیلت دی گئی ہے اور کس وجہ سے اسے تم میں سے خاص کر لیا گیا ہے اور تم میں سے کوئی اس قسم کا دعویٰ کرے تو اس کا دعویٰ بھی اسی طرح کا دعویٰ ہو گا۔ درحقیقت یہ شخص تم پر اپنی فضیلت ثابت کر کے تمھارا سردار بننا چاہتا ہے، اس لیے اس کی اطاعت کرنا نہ اس کی تصدیق کرنا، یہ جادوگر ہے اور یہ جو قرآن لے کر آیا ہے، وہ جادو ہے، اس لیے اس سے خود بھی دور رہو اور لوگوں کو بھی اس سے متنفر کرو اور لوگوں سے کہو! ﴿اَفَتَاۡتُوۡنَ السِّحۡرَ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ یعنی اسے دیکھتے ہوئے تم اس جادو کی طرف کھنچے چلے آ رہے ہو… حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ آپﷺ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں کیونکہ وہ بڑی بڑی آیات الٰہی کا مشاہدہ کرتے ہیں جن کا مشاہدہ ان کے علاوہ کسی اور نے نہیں کیا لیکن ظلم، عناد اور بدبختی نے ان کو اس انکار پر آمادہ کیا۔ [4] اور جو وہ سرگوشیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے عنقریب وہ ان کو ان سرگوشیوں کی سزا دے گا۔ اس لیے فرمایا: ﴿قٰلَ رَبِّيۡ يَعۡلَمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی میرا رب جلی اور خفی ہر بات کو جانتا ہے ﴿ فِي السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان ا ور زمین میں ۔‘‘ یعنی ہر اس جگہ میں جن کو ان دونوں کے کناروں نے گھیر رکھا ہے۔ ﴿ وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ یعنی لوگوں کی زبانوں کے اختلافات اور ان کی متنوع حاجات کے باوجود ان کی آوازیں سنتا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ دلوں کے بھید کو بھی جانتا ہے۔
21:5

بَلۡ قَالُوٓاْ أَضۡغَٰثُ أَحۡلَٰمِۭ بَلِ ٱفۡتَرَىٰهُ بَلۡ هُوَ شَاعِرٞ فَلۡيَأۡتِنَا بِـَٔايَةٖ كَمَآ أُرۡسِلَ ٱلۡأَوَّلُونَ

بلکہ انھوں نے کہا ، پراگندہ خواب ہیں بلکہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اسےبلکہ وہ شاعر ہے، پس چاہیے کہ لے آئے ہمارے پاس کوئی نشانی جیسا کہ بھیجے گئے تھے پہلے (پیغمبر)(5) نہیں ایمان لائے ان سے پہلے کوئی بستی (والے) کہ ہلاک کیا ہم نے انھیں ، کیا پس وہ (اب) ایمان لے آئیں گے؟ (6) [5] اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت محمد مصطفیﷺ اور آپﷺ کے لائے ہوئے قرآن عظیم پر کفار کی بہتان طرازی کا ذکر کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بارے میں جھوٹ گھڑتے اور اس کے بارے میں مختلف باطل باتیں پھیلاتے ہیں ۔ کبھی کہتے ہیں ’’یہ پراگندہ خواب ہیں ‘‘ ایک سوئے ہوئے شخص کے ہذیانی کلام کی مانند، جسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ کبھی کہتے ہیں ’’یہ اس کا من گھڑت کلام ہے‘‘ جو اس نے اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کر دیا ہے اور کبھی کہتے ہیں ’’یہ شاعر ہے‘‘ اور جو قرآن یہ لے کر آیا ہے وہ محض شاعری ہے۔ جو کوئی واقعات اور رسولﷺ کے احوال کی ادنیٰ سی بھی معرفت رکھتا ہے اور اس کلام میں غور کرتا ہے جسے رسول اللہﷺ لے کر آئے ہیں وہ ایسے جزم و یقین سے پکار اٹھتا ہے، جس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں ہوتا کہ یہ نہایت جلیل القدر اور بلند ترین کلام ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ کوئی بشر اس جیسا کلام پیش کرنے پر قادر نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کے سامنے چیلنج کیا ہے کہ وہ اس کلام کا مقابلہ کر دکھائیں ، حالانکہ ان کے اندر قرآن عظیم کی مخالفت اور اس کے ساتھ عداوت کا وافر داعیہ موجود تھا۔ بایں ہمہ وہ اس کلام کا مقابلہ نہ کر سکے اور وہ یہ سب کچھ جانتے ہیں ۔ ورنہ وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو باز رکھا، ان کو کانٹوں پر لوٹنے پر مجبور کیا اور ان کی زبانوں کو گنگ کر دیا؟… وہ حق کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی؟اور چونکہ وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے اس لیے ایسے لوگوں کو، جو اس کی معرفت نہیں رکھتے متنفر کرنے کے لیے اس قسم باتیں کرتے ہیں ۔ یہ قرآن عظیم ہمیشہ رہنے والا سب سے بڑا معجزہ ہے جو رسول اللہﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرتا ہے اور یہ کافی و شافی ہے۔ پس جو اس کے علاوہ کوئی اور دلیل طلب کرتا ہے اور اپنی خواہش کے مطابق معجزوں کا مطالبہ کرتا ہے، وہ جاہل اور ظالم ہے اور ان معاندین حق سے مشابہت رکھتا ہے جنھوں نے اس کی تکذیب کی، معجزات کا مطالبہ کیا جو ان کے لیے سب سے زیادہ ضرر رساں چیز ہے اور ان معجزات میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں کیونکہ اگر ان کا مقصد و ضوح دلیل کے ذریعے سے معرفت حق ہے تو دلیل ان معجزات کے بغیر بھی واضح ہو چکی ہے اور اگر ان کا مقصد عاجز کرنا اور معجزات کا مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں اپنے لیے عذر کا جواز پیدا کرنا ہے… تو اس صورت میں بھی جبکہ فرض کر لیا جائے کہ ان کی خواہش کے مطابق معجزہ پیش کر دیا جائے، وہ قطعاً ایمان نہیں لائیں گے۔ پس واقعہ یہ ہے کہ اگر ان کے پاس ہر قسم کا معجزہ ہی کیوں نہ آ جائے تو پھر بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا قول نقل فرمایا:﴿ فَلۡيَاۡتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَاۤ اُرۡسِلَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمارے پاس ایسی کوئی نشانی لائے جیسے پہلے پیغمبر (ان کے ساتھ) بھیجے گئے۔‘‘ جیسے صالح کی اونٹنی اور موسیٰu کا عصااور اس جیسے معجزات۔ [6] بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ مَاۤ اٰمَنَتۡ قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا١ۚ اَفَهُمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’نہیں ایمان لائی ان سے پہلے کوئی بستی جن کو ہم نے ہلاک کیا، کیا پس یہ لوگ ایمان لے آئیں گے؟‘‘ یعنی ان معجزات پر جو ان کے مطالبوں پر پیش کیے جائیں گے۔ اللہ کی سنت کا تقاضا تو یہ ہے کہ جو معجزے طلب کرتا ہے، پھر وہ اسے دکھا دیا جاتا ہے (پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتا تو) وہ فوری سزا سے محفوظ نہیں ہے۔ پس پہلے لوگ ان معجزات کی وجہ سے ایمان نہیں لائے تو کیا یہ ان کی وجہ سے ایمان لے آئیں گے؟ آخر ان (عربوں ) کو پہلے لوگوں پر کیا فضیلت حاصل ہے اور وہ کیا بھلائی ہے جو ان کے اندر موجود ہے جو اس بات کی مقتضی ہو کہ معجزات کے صدور پر یہ ایمان لے آئیں گے؟ یہ استفہام، نفی کے معنی میں ہے، یعنی ان سے کبھی ایسا نہیں ہو گا کہ وہ ایمان لے آئیں۔
21:6

مَآ ءَامَنَتۡ قَبۡلَهُم مِّن قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَٰهَآۖ أَفَهُمۡ يُؤۡمِنُونَ

بلکہ انھوں نے کہا ، پراگندہ خواب ہیں بلکہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اسےبلکہ وہ شاعر ہے، پس چاہیے کہ لے آئے ہمارے پاس کوئی نشانی جیسا کہ بھیجے گئے تھے پہلے (پیغمبر)(5) نہیں ایمان لائے ان سے پہلے کوئی بستی (والے) کہ ہلاک کیا ہم نے انھیں ، کیا پس وہ (اب) ایمان لے آئیں گے؟ (6) [5] اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت محمد مصطفیﷺ اور آپﷺ کے لائے ہوئے قرآن عظیم پر کفار کی بہتان طرازی کا ذکر کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بارے میں جھوٹ گھڑتے اور اس کے بارے میں مختلف باطل باتیں پھیلاتے ہیں ۔ کبھی کہتے ہیں ’’یہ پراگندہ خواب ہیں ‘‘ ایک سوئے ہوئے شخص کے ہذیانی کلام کی مانند، جسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ کبھی کہتے ہیں ’’یہ اس کا من گھڑت کلام ہے‘‘ جو اس نے اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کر دیا ہے اور کبھی کہتے ہیں ’’یہ شاعر ہے‘‘ اور جو قرآن یہ لے کر آیا ہے وہ محض شاعری ہے۔ جو کوئی واقعات اور رسولﷺ کے احوال کی ادنیٰ سی بھی معرفت رکھتا ہے اور اس کلام میں غور کرتا ہے جسے رسول اللہﷺ لے کر آئے ہیں وہ ایسے جزم و یقین سے پکار اٹھتا ہے، جس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں ہوتا کہ یہ نہایت جلیل القدر اور بلند ترین کلام ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ کوئی بشر اس جیسا کلام پیش کرنے پر قادر نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کے سامنے چیلنج کیا ہے کہ وہ اس کلام کا مقابلہ کر دکھائیں ، حالانکہ ان کے اندر قرآن عظیم کی مخالفت اور اس کے ساتھ عداوت کا وافر داعیہ موجود تھا۔ بایں ہمہ وہ اس کلام کا مقابلہ نہ کر سکے اور وہ یہ سب کچھ جانتے ہیں ۔ ورنہ وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو باز رکھا، ان کو کانٹوں پر لوٹنے پر مجبور کیا اور ان کی زبانوں کو گنگ کر دیا؟… وہ حق کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی؟اور چونکہ وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے اس لیے ایسے لوگوں کو، جو اس کی معرفت نہیں رکھتے متنفر کرنے کے لیے اس قسم باتیں کرتے ہیں ۔ یہ قرآن عظیم ہمیشہ رہنے والا سب سے بڑا معجزہ ہے جو رسول اللہﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرتا ہے اور یہ کافی و شافی ہے۔ پس جو اس کے علاوہ کوئی اور دلیل طلب کرتا ہے اور اپنی خواہش کے مطابق معجزوں کا مطالبہ کرتا ہے، وہ جاہل اور ظالم ہے اور ان معاندین حق سے مشابہت رکھتا ہے جنھوں نے اس کی تکذیب کی، معجزات کا مطالبہ کیا جو ان کے لیے سب سے زیادہ ضرر رساں چیز ہے اور ان معجزات میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں کیونکہ اگر ان کا مقصد و ضوح دلیل کے ذریعے سے معرفت حق ہے تو دلیل ان معجزات کے بغیر بھی واضح ہو چکی ہے اور اگر ان کا مقصد عاجز کرنا اور معجزات کا مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں اپنے لیے عذر کا جواز پیدا کرنا ہے… تو اس صورت میں بھی جبکہ فرض کر لیا جائے کہ ان کی خواہش کے مطابق معجزہ پیش کر دیا جائے، وہ قطعاً ایمان نہیں لائیں گے۔ پس واقعہ یہ ہے کہ اگر ان کے پاس ہر قسم کا معجزہ ہی کیوں نہ آ جائے تو پھر بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا قول نقل فرمایا:﴿ فَلۡيَاۡتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَاۤ اُرۡسِلَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمارے پاس ایسی کوئی نشانی لائے جیسے پہلے پیغمبر (ان کے ساتھ) بھیجے گئے۔‘‘ جیسے صالح کی اونٹنی اور موسیٰu کا عصااور اس جیسے معجزات۔ [6] بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ مَاۤ اٰمَنَتۡ قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا١ۚ اَفَهُمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’نہیں ایمان لائی ان سے پہلے کوئی بستی جن کو ہم نے ہلاک کیا، کیا پس یہ لوگ ایمان لے آئیں گے؟‘‘ یعنی ان معجزات پر جو ان کے مطالبوں پر پیش کیے جائیں گے۔ اللہ کی سنت کا تقاضا تو یہ ہے کہ جو معجزے طلب کرتا ہے، پھر وہ اسے دکھا دیا جاتا ہے (پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتا تو) وہ فوری سزا سے محفوظ نہیں ہے۔ پس پہلے لوگ ان معجزات کی وجہ سے ایمان نہیں لائے تو کیا یہ ان کی وجہ سے ایمان لے آئیں گے؟ آخر ان (عربوں ) کو پہلے لوگوں پر کیا فضیلت حاصل ہے اور وہ کیا بھلائی ہے جو ان کے اندر موجود ہے جو اس بات کی مقتضی ہو کہ معجزات کے صدور پر یہ ایمان لے آئیں گے؟ یہ استفہام، نفی کے معنی میں ہے، یعنی ان سے کبھی ایسا نہیں ہو گا کہ وہ ایمان لے آئیں۔
21:7

وَمَآ أَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ إِلَّا رِجَالٗا نُّوحِيٓ إِلَيۡهِمۡۖ فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ

اور نہیں بھیجے ہم نے (رسول) آپ سے پہلے مگر مرد ہی، ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، پس پوچھ لو تم اہل ذکر سے اگر ہو تم نہیں جانتے (7) اور نہیں بنائے تھے ہم نے ان (رسولوں ) کے ایسے جسم کہ نہ کھاتے ہوں وہ طعام، نہ تھے وہ ہمیشہ رہنے والے (8) پھر سچا کیا ہم نے ان سے وعدہ، پس نجات دی ہم نے انھیں اور جنھیں ہم چاہتے تھےاور ہلاک کر دیا ہم نے حد سے گزرنے والوں کو (9) [9-7] یہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کے شبہ کا جواب ہے جو یہ کہتے تھے۔ ’’کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو کھانے پینے اور بازاروں میں گھومنے پھرنے کا محتاج نہ ہوتا؟ کوئی ایسا رسول کیوں نہ بھیجا گیا جسے دائمی زندگی عطا کی گئی ہوتی؟ جب ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ وہ رسول نہیں ہے۔‘‘ یہ شبہ انبیاء و رسل کو جھٹلانے والوں کے دلوں میں ہمیشہ رہا ہے۔ چونکہ اہل تکذیب کفر میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اس لیے ان کے نظریات بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کفار کو… جو رسول اللہﷺ کو تو جھٹلاتے ہیں اور گزشتہ رسولوں کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں اگرچہ صرف حضرت ابراہیمu ہی نبی ہوتے جن کی نبوت کا تمام گروہ اقرار کرتے ہیں بلکہ مشرکین تو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ان کی ملت پر ہیں … ان کے شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت محمد مصطفیﷺ سے پہلے بھی تمام رسول بشر ہی تھے، جو کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے، ان پر موت وغیرہ اور تمام بشری عوارض طاری ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے قوموں اور امتوں میں مبعوث فرمایا ان قوموں میں سے کسی نے ان کی تصدیق کی اور کسی نے ان کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور ان کے متبعین سے نجات اور سعادت کا جو وعدہ کیا تھا اس نے پورا کر دیا اور اس نے حد سے بڑھنے والے اہل تکذیب کو ہلاک کر ڈالا تو محمد مصطفیﷺ کے ساتھ یہ کیا معاملہ ہے کہ آپﷺ کی رسالت کے انکار کے لیے باطل شبہات قائم كيے جاتے ہیں ، حالانکہ یہی شبہات دیگر انبیاء و مرسلین پر بھی وارد ہوتے ہیں جن کی رسالت کا یہ لوگ اقرار کرتے ہیں جو محمدﷺ کی تکذیب کرتے ہیں … پس ان پر یہ الزامی جواب بالکل واضح ہے۔ اگر انھوں نے کسی رسول بشر کا اقرار کیا ہے تو وہ کسی غیر بشر رسول کا اقرار ہرگز نہیں کریں گے تب ان کے شبہات باطل ہیں انھوں نے ان شبہات کے فساد اور اپنے تناقض کا اقرار کر کے خود ان شبہات کا ابطال کر لیا ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ لوگ سرے ہی سے کسی بشر کے نبی ہونے کے منکر ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ صرف دائمی زندگی رکھنے والا فرشتہ ہی نبی ہو سکتا ہے جو کھانا نہیں کھاتا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ وَقَالُوۡا لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ مَلَكٌ١ؕ وَلَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الۡاَمۡرُ ثُمَّ لَا يُنۡظَرُوۡنَ۰۰وَلَوۡ جَعَلۡنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلۡنٰهُ رَجُلًا وَّلَلَبَسۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّا يَلۡبِسُوۡنَ﴾(الانعام:6؍8،9) ’’اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا، اگر ہم نے فرشتہ اتارا ہوا ہوتا تو تمام معاملے کا فیصلہ ہو گیا ہوتا، پھر ان کو ڈھیل نہ دی جاتی اور اگر ہم نے اس کو فرشتہ بنایا ہوتا تو تب بھی اس کو بشر ہی بنایا ہوتا اور (اس طرح) ہم معاملہ ان پر مشتبہ کر دیتے جیسے اب وہ اشتباہ پیش کر رہے ہیں۔‘‘ انسان فرشتوں سے وحی اخذ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ارشاد فرمایا: ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ فِي الۡاَرۡضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَىِٕنِّيۡنَ۠ لَـنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍95) ’’کہہ دیجیے کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے اور اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ان کے پاس کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے۔ ‘‘ اگر گزشتہ رسولوں کے بارے میں تمھیں کوئی شک ہے یا ان کے احوال کا علم نہیں ﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ ﴾ ’’تو تم اہل ذکر سے پوچھ لو۔‘‘ یعنی کتب سابقہ رکھنے والوں سے پوچھ لو، مثلاً:اہل تورات اور اہل انجیل وغیرہ، ان کے پاس جو علم ہے وہ اس کے مطابق تمھیں بتائیں گے کہ گزشتہ تمام رسول انسان تھے جیسے یہ انسان ہیں ۔ اس آیت کریمہ کا سبب نزول انبیائے متقدمین کے بارے میں اہل کتاب سے سوال کرنے سے مختص ہے کیونکہ وہ اس بارے میں علم رکھتے تھے… مگر یہ دین کے اصول و فروع کے تمام مسائل کے لیے عام ہے۔ جب انسان کے پاس ان مسائل کا علم نہ ہو تو وہ اس شخص سے پوچھ لے جو اس کا علم رکھتا ہے، نیز اس آیت کریمہ میں علم حاصل کرنے اور اہل علم سے سوال کرنے کا حکم ہے اور اہل علم سے سوال کرنے کا اس لیے حکم دیا گیا کہ اہل علم پر تعلیم دینا اور اپنے علم کے مطابق جواب دینا فرض ہے۔ اہل علم اور اہل ذکر سے سوال کرنے کی تخصیص سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو شخص جہالت اور عدم علم میں معروف ہو اس سے سوال کرنے کی ممانعت ہے اور اس شخص کے لیے بھی جواب دینے کے درپے ہونا ممنوع ہے۔ اس آیت میں اس امر پر دلیل ہے کہ عورتیں نبی نہیں ہوئیں ، حضرت مریم [ نبی تھیں نہ کوئی اور عورت۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اِلَّا رِجَالًا﴾ یعنی ہم نے صرف مرد ہی نبی بنا کر بھیجے۔
21:8

وَمَا جَعَلۡنَٰهُمۡ جَسَدٗا لَّا يَأۡكُلُونَ ٱلطَّعَامَ وَمَا كَانُواْ خَٰلِدِينَ

اور نہیں بھیجے ہم نے (رسول) آپ سے پہلے مگر مرد ہی، ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، پس پوچھ لو تم اہل ذکر سے اگر ہو تم نہیں جانتے (7) اور نہیں بنائے تھے ہم نے ان (رسولوں ) کے ایسے جسم کہ نہ کھاتے ہوں وہ طعام، نہ تھے وہ ہمیشہ رہنے والے (8) پھر سچا کیا ہم نے ان سے وعدہ، پس نجات دی ہم نے انھیں اور جنھیں ہم چاہتے تھےاور ہلاک کر دیا ہم نے حد سے گزرنے والوں کو (9) [9-7] یہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کے شبہ کا جواب ہے جو یہ کہتے تھے۔ ’’کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو کھانے پینے اور بازاروں میں گھومنے پھرنے کا محتاج نہ ہوتا؟ کوئی ایسا رسول کیوں نہ بھیجا گیا جسے دائمی زندگی عطا کی گئی ہوتی؟ جب ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ وہ رسول نہیں ہے۔‘‘ یہ شبہ انبیاء و رسل کو جھٹلانے والوں کے دلوں میں ہمیشہ رہا ہے۔ چونکہ اہل تکذیب کفر میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اس لیے ان کے نظریات بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کفار کو… جو رسول اللہﷺ کو تو جھٹلاتے ہیں اور گزشتہ رسولوں کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں اگرچہ صرف حضرت ابراہیمu ہی نبی ہوتے جن کی نبوت کا تمام گروہ اقرار کرتے ہیں بلکہ مشرکین تو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ان کی ملت پر ہیں … ان کے شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت محمد مصطفیﷺ سے پہلے بھی تمام رسول بشر ہی تھے، جو کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے، ان پر موت وغیرہ اور تمام بشری عوارض طاری ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے قوموں اور امتوں میں مبعوث فرمایا ان قوموں میں سے کسی نے ان کی تصدیق کی اور کسی نے ان کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور ان کے متبعین سے نجات اور سعادت کا جو وعدہ کیا تھا اس نے پورا کر دیا اور اس نے حد سے بڑھنے والے اہل تکذیب کو ہلاک کر ڈالا تو محمد مصطفیﷺ کے ساتھ یہ کیا معاملہ ہے کہ آپﷺ کی رسالت کے انکار کے لیے باطل شبہات قائم كيے جاتے ہیں ، حالانکہ یہی شبہات دیگر انبیاء و مرسلین پر بھی وارد ہوتے ہیں جن کی رسالت کا یہ لوگ اقرار کرتے ہیں جو محمدﷺ کی تکذیب کرتے ہیں … پس ان پر یہ الزامی جواب بالکل واضح ہے۔ اگر انھوں نے کسی رسول بشر کا اقرار کیا ہے تو وہ کسی غیر بشر رسول کا اقرار ہرگز نہیں کریں گے تب ان کے شبہات باطل ہیں انھوں نے ان شبہات کے فساد اور اپنے تناقض کا اقرار کر کے خود ان شبہات کا ابطال کر لیا ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ لوگ سرے ہی سے کسی بشر کے نبی ہونے کے منکر ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ صرف دائمی زندگی رکھنے والا فرشتہ ہی نبی ہو سکتا ہے جو کھانا نہیں کھاتا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ وَقَالُوۡا لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ مَلَكٌ١ؕ وَلَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الۡاَمۡرُ ثُمَّ لَا يُنۡظَرُوۡنَ۰۰وَلَوۡ جَعَلۡنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلۡنٰهُ رَجُلًا وَّلَلَبَسۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّا يَلۡبِسُوۡنَ﴾(الانعام:6؍8،9) ’’اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا، اگر ہم نے فرشتہ اتارا ہوا ہوتا تو تمام معاملے کا فیصلہ ہو گیا ہوتا، پھر ان کو ڈھیل نہ دی جاتی اور اگر ہم نے اس کو فرشتہ بنایا ہوتا تو تب بھی اس کو بشر ہی بنایا ہوتا اور (اس طرح) ہم معاملہ ان پر مشتبہ کر دیتے جیسے اب وہ اشتباہ پیش کر رہے ہیں۔‘‘ انسان فرشتوں سے وحی اخذ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ارشاد فرمایا: ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ فِي الۡاَرۡضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَىِٕنِّيۡنَ۠ لَـنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍95) ’’کہہ دیجیے کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے اور اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ان کے پاس کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے۔ ‘‘ اگر گزشتہ رسولوں کے بارے میں تمھیں کوئی شک ہے یا ان کے احوال کا علم نہیں ﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ ﴾ ’’تو تم اہل ذکر سے پوچھ لو۔‘‘ یعنی کتب سابقہ رکھنے والوں سے پوچھ لو، مثلاً:اہل تورات اور اہل انجیل وغیرہ، ان کے پاس جو علم ہے وہ اس کے مطابق تمھیں بتائیں گے کہ گزشتہ تمام رسول انسان تھے جیسے یہ انسان ہیں ۔ اس آیت کریمہ کا سبب نزول انبیائے متقدمین کے بارے میں اہل کتاب سے سوال کرنے سے مختص ہے کیونکہ وہ اس بارے میں علم رکھتے تھے… مگر یہ دین کے اصول و فروع کے تمام مسائل کے لیے عام ہے۔ جب انسان کے پاس ان مسائل کا علم نہ ہو تو وہ اس شخص سے پوچھ لے جو اس کا علم رکھتا ہے، نیز اس آیت کریمہ میں علم حاصل کرنے اور اہل علم سے سوال کرنے کا حکم ہے اور اہل علم سے سوال کرنے کا اس لیے حکم دیا گیا کہ اہل علم پر تعلیم دینا اور اپنے علم کے مطابق جواب دینا فرض ہے۔ اہل علم اور اہل ذکر سے سوال کرنے کی تخصیص سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو شخص جہالت اور عدم علم میں معروف ہو اس سے سوال کرنے کی ممانعت ہے اور اس شخص کے لیے بھی جواب دینے کے درپے ہونا ممنوع ہے۔ اس آیت میں اس امر پر دلیل ہے کہ عورتیں نبی نہیں ہوئیں ، حضرت مریم [ نبی تھیں نہ کوئی اور عورت۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اِلَّا رِجَالًا﴾ یعنی ہم نے صرف مرد ہی نبی بنا کر بھیجے۔
21:9

ثُمَّ صَدَقۡنَٰهُمُ ٱلۡوَعۡدَ فَأَنجَيۡنَٰهُمۡ وَمَن نَّشَآءُ وَأَهۡلَكۡنَا ٱلۡمُسۡرِفِينَ

اور نہیں بھیجے ہم نے (رسول) آپ سے پہلے مگر مرد ہی، ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، پس پوچھ لو تم اہل ذکر سے اگر ہو تم نہیں جانتے (7) اور نہیں بنائے تھے ہم نے ان (رسولوں ) کے ایسے جسم کہ نہ کھاتے ہوں وہ طعام، نہ تھے وہ ہمیشہ رہنے والے (8) پھر سچا کیا ہم نے ان سے وعدہ، پس نجات دی ہم نے انھیں اور جنھیں ہم چاہتے تھےاور ہلاک کر دیا ہم نے حد سے گزرنے والوں کو (9) [9-7] یہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کے شبہ کا جواب ہے جو یہ کہتے تھے۔ ’’کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو کھانے پینے اور بازاروں میں گھومنے پھرنے کا محتاج نہ ہوتا؟ کوئی ایسا رسول کیوں نہ بھیجا گیا جسے دائمی زندگی عطا کی گئی ہوتی؟ جب ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ وہ رسول نہیں ہے۔‘‘ یہ شبہ انبیاء و رسل کو جھٹلانے والوں کے دلوں میں ہمیشہ رہا ہے۔ چونکہ اہل تکذیب کفر میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اس لیے ان کے نظریات بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کفار کو… جو رسول اللہﷺ کو تو جھٹلاتے ہیں اور گزشتہ رسولوں کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں اگرچہ صرف حضرت ابراہیمu ہی نبی ہوتے جن کی نبوت کا تمام گروہ اقرار کرتے ہیں بلکہ مشرکین تو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ان کی ملت پر ہیں … ان کے شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت محمد مصطفیﷺ سے پہلے بھی تمام رسول بشر ہی تھے، جو کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے، ان پر موت وغیرہ اور تمام بشری عوارض طاری ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے قوموں اور امتوں میں مبعوث فرمایا ان قوموں میں سے کسی نے ان کی تصدیق کی اور کسی نے ان کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور ان کے متبعین سے نجات اور سعادت کا جو وعدہ کیا تھا اس نے پورا کر دیا اور اس نے حد سے بڑھنے والے اہل تکذیب کو ہلاک کر ڈالا تو محمد مصطفیﷺ کے ساتھ یہ کیا معاملہ ہے کہ آپﷺ کی رسالت کے انکار کے لیے باطل شبہات قائم كيے جاتے ہیں ، حالانکہ یہی شبہات دیگر انبیاء و مرسلین پر بھی وارد ہوتے ہیں جن کی رسالت کا یہ لوگ اقرار کرتے ہیں جو محمدﷺ کی تکذیب کرتے ہیں … پس ان پر یہ الزامی جواب بالکل واضح ہے۔ اگر انھوں نے کسی رسول بشر کا اقرار کیا ہے تو وہ کسی غیر بشر رسول کا اقرار ہرگز نہیں کریں گے تب ان کے شبہات باطل ہیں انھوں نے ان شبہات کے فساد اور اپنے تناقض کا اقرار کر کے خود ان شبہات کا ابطال کر لیا ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ لوگ سرے ہی سے کسی بشر کے نبی ہونے کے منکر ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ صرف دائمی زندگی رکھنے والا فرشتہ ہی نبی ہو سکتا ہے جو کھانا نہیں کھاتا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ وَقَالُوۡا لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ مَلَكٌ١ؕ وَلَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الۡاَمۡرُ ثُمَّ لَا يُنۡظَرُوۡنَ۰۰وَلَوۡ جَعَلۡنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلۡنٰهُ رَجُلًا وَّلَلَبَسۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّا يَلۡبِسُوۡنَ﴾(الانعام:6؍8،9) ’’اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا، اگر ہم نے فرشتہ اتارا ہوا ہوتا تو تمام معاملے کا فیصلہ ہو گیا ہوتا، پھر ان کو ڈھیل نہ دی جاتی اور اگر ہم نے اس کو فرشتہ بنایا ہوتا تو تب بھی اس کو بشر ہی بنایا ہوتا اور (اس طرح) ہم معاملہ ان پر مشتبہ کر دیتے جیسے اب وہ اشتباہ پیش کر رہے ہیں۔‘‘ انسان فرشتوں سے وحی اخذ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ارشاد فرمایا: ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ فِي الۡاَرۡضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَىِٕنِّيۡنَ۠ لَـنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍95) ’’کہہ دیجیے کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے اور اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ان کے پاس کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے۔ ‘‘ اگر گزشتہ رسولوں کے بارے میں تمھیں کوئی شک ہے یا ان کے احوال کا علم نہیں ﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ ﴾ ’’تو تم اہل ذکر سے پوچھ لو۔‘‘ یعنی کتب سابقہ رکھنے والوں سے پوچھ لو، مثلاً:اہل تورات اور اہل انجیل وغیرہ، ان کے پاس جو علم ہے وہ اس کے مطابق تمھیں بتائیں گے کہ گزشتہ تمام رسول انسان تھے جیسے یہ انسان ہیں ۔ اس آیت کریمہ کا سبب نزول انبیائے متقدمین کے بارے میں اہل کتاب سے سوال کرنے سے مختص ہے کیونکہ وہ اس بارے میں علم رکھتے تھے… مگر یہ دین کے اصول و فروع کے تمام مسائل کے لیے عام ہے۔ جب انسان کے پاس ان مسائل کا علم نہ ہو تو وہ اس شخص سے پوچھ لے جو اس کا علم رکھتا ہے، نیز اس آیت کریمہ میں علم حاصل کرنے اور اہل علم سے سوال کرنے کا حکم ہے اور اہل علم سے سوال کرنے کا اس لیے حکم دیا گیا کہ اہل علم پر تعلیم دینا اور اپنے علم کے مطابق جواب دینا فرض ہے۔ اہل علم اور اہل ذکر سے سوال کرنے کی تخصیص سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جو شخص جہالت اور عدم علم میں معروف ہو اس سے سوال کرنے کی ممانعت ہے اور اس شخص کے لیے بھی جواب دینے کے درپے ہونا ممنوع ہے۔ اس آیت میں اس امر پر دلیل ہے کہ عورتیں نبی نہیں ہوئیں ، حضرت مریم [ نبی تھیں نہ کوئی اور عورت۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اِلَّا رِجَالًا﴾ یعنی ہم نے صرف مرد ہی نبی بنا کر بھیجے۔
21:10

لَقَدۡ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكُمۡ كِتَٰبٗا فِيهِ ذِكۡرُكُمۡۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ

البتہ تحقیق نازل کی ہم نے تمھاری طرف ایک کتاب، اس میں ذکر ہے تمھارا، کیا پس نہیں سمجھتے ؟ (10) [10] اے وہ لوگو! جن کی طرف محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب (ﷺ) کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے، ہم نے تمھاری طرف ایک جلیل القدر کتاب اور ایک واضح قرآن نازل کیا ﴿ فِيۡهِ ذِكۡرُؔكُمۡ ﴾ یعنی جو کچھ اس میں سچی باتیں بیان کی گئیں ہیں اگر تم اس سے نصیحت پکڑو، انھیں اپنا اعتقاد بناؤ اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو تو اس میں تمھارا شرف و فخر اور تمھاری سربلندی ہے، تمھاری قدر بڑھے گی اور تمھارا معاملہ عظیم ہو جائے گا۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾ کیا تم ان معاملات کو نہیں سمجھ سکتے جن میں تمھارا نفع و نقصان ہے؟ تم اس چیز پر کیوں عمل پیرا نہیں ہوتے جس میں تمھارا ذکر اور جس میں تمھارے لیے دنیا و آخرت کا شرف ہے؟ اگر تم میں عقل ہوتی تو تم اسی راستے پر گامزن ہوتے۔ چونکہ تم اسے راستے پر نہیں چلے بلکہ تم نے کوئی دوسرا راستہ اختیار کر لیا ہے جس میں تمھارے لیے دنیا و آخرت کی ذلت اور تحقیر ہے اور جس کی منزل تمھارے لیے دنیا و آخرت کی بدبختی ہے، اس لیے معلوم ہوا کہ تم صحیح معقولات اور راجح آراء سے تہی دامن ہو… جو کچھ واقع ہوا یہ آیت کریمہ اس کا مصداق ہے۔ کیونکہ رسول اللہﷺ پر ایمان لانے والے صحابہ کرام اور بعد میں آنے والے اہل ایمان نے اس قرآن سے نصیحت پکڑی تو انھیں غلبہ، سربلندی، عظیم شہرت اور بادشاہوں پر سرداری حاصل ہوئی اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہر شخص جانتا ہے جیسے اس شخص کے بارے میں معلوم ہے جس نے اس قرآن کے ذریعے سے سربلندی حاصل نہیں کی، اس کی راہنمائی قبول نہیں کی اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو پاک نہ کیا، اس کے نصیب میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی، ذلت و رسوائی، گمنامی اور بدبختی ہے۔ پس دنیا و آخرت کی سعادت تک رسائی صرف اس کتاب عظیم کے ذریعے نصیحت پکڑنے ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔
21:11

وَكَمۡ قَصَمۡنَا مِن قَرۡيَةٖ كَانَتۡ ظَالِمَةٗ وَأَنشَأۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا ءَاخَرِينَ

اور کتنی ہی تہس نہس کر دیں ہم نے بستیاں کہ تھیں وہ ظالم اور پیدا کیں ہم نے ان کے بعد قومیں دوسری (11) پس جب محسوس کیا انھوں نے ہمارا عذاب تب وہ لوگ ان (بستیوں ) سے بھاگتے تھے (12)(انھیں کہا گیا) مت بھاگو تم! اور لوٹ آؤ طرف ان نعمتوں کی کہ آسودگی دیے گئے تھے تم ان میں اور اپنے مکانوں کی طرف تاکہ تم پوچھے جاؤ (13) انھوں نے کہا، ہائے ہماری کم بختی! بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم (14) پس ہمیشہ رہی یہی پکار ان کی، یہاں تک کہ کر دیا ہم نے انھیں کٹی کھیتی (کی طرح) بجھے ہوئے (مردہ)(15) [11] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنھوں نے دیگر انبیاء و مرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ؔكَمۡ قَصَمۡنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کر دیں ۔‘‘ یعنی جڑ کانٹے والے عذاب کے ذریعے سے ﴿ مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’بستیاں ‘‘ جنھوں نے اپنے انجام کو نظرانداز کیا۔ ﴿ وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔‘‘ [13,12] جب ان ہلاک ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کے عقاب کے نزول کو دیکھ لیا تو ان کے لیے لوٹنا ممکن نہ رہا اور اس عذاب سے رہائی پانے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہ رہا تو وہ تو صرف ندامت، افسوس اور اپنی کرتوتوں پر حسرت کے مارے زمین پر پاؤں پٹختے تھے تو تمسخر اور ٹھٹھے کے انداز میں ان سے کہا گیا:﴿ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اب ندامت کا اظہار کرنے اور ایڑیاں مارنے سے تمھیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر تم قدرت رکھتے ہو تو اپنی لذتوں اور شہوتوں بھری خوشحال زندگی، اپنے آراستہ اور مزین گھروں اور اس دنیا کی طرف واپس لوٹ کر دکھاؤ جس نے تمھیں دھوکے میں ڈال کر غافل رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا۔ پس واپس لوٹ کر دنیا میں ڈیرے ڈال دو، اس کی لذات کی خاطر جرائم کا ارتکاب کرو، اپنے گھروں میں اطمینان کے ساتھ بڑے بن کر رہو۔ شاید اپنے امور میں تم پھر مقصود بن جاؤ اور دنیا کے معاملات میں پھر تم سے جواب دہی کی جائے جیسا کہ پہلے تمھارا حال تھا… لیکن یہ بہت بعید ہے۔ [14] اب دنیا میں کیسے واپس جایا جا سکتا ہے، وہ وقت ہاتھ سے نکل گیا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کا عذاب نازل ہو گیا، ان کا عزوشرف ختم ہو گیا اور ان کی دنیا بھی فنا ہو گئی اور ندامت اور حسرت ان کا نصیب بن گئی۔ اس لیے وہ پکار اٹھیں گے:﴿ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ہائے افسوس، ہم ہی ظالم تھے۔‘‘ [15]﴿ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ ﴾ پس ہمیشہ رہے گا ان کا یہ پکارنا۔‘‘ یعنی ہلاکت اور موت کی دعا مانگنا۔ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ خود انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے میں ان کے ساتھ انصاف کیا ہے ﴿حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾ ’’علاوہ ازیں یہاں تک کہ کر دیا ہم نے ان کو کٹے ہوئے کھیت اور بجھنے والی آگ (کی طرح)۔‘‘ یعنی اس نباتات کی مانند جسے کاٹ گرایا گیا ہو۔ ان کی حرکات مدہم پڑ گئیں اور آوازیں ختم ہو گئیں ، اس لیے اے لوگو جن کو مخاطب کیا جا رہا ہے تم افضل ترین رسول (ﷺ) کو جھٹلانے سے بچو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اللہ کا عذاب اسی طرح نازل ہو جائے جیسے ان لوگوں پر ہوا تھا۔
21:12

فَلَمَّآ أَحَسُّواْ بَأۡسَنَآ إِذَا هُم مِّنۡهَا يَرۡكُضُونَ

اور کتنی ہی تہس نہس کر دیں ہم نے بستیاں کہ تھیں وہ ظالم اور پیدا کیں ہم نے ان کے بعد قومیں دوسری (11) پس جب محسوس کیا انھوں نے ہمارا عذاب تب وہ لوگ ان (بستیوں ) سے بھاگتے تھے (12)(انھیں کہا گیا) مت بھاگو تم! اور لوٹ آؤ طرف ان نعمتوں کی کہ آسودگی دیے گئے تھے تم ان میں اور اپنے مکانوں کی طرف تاکہ تم پوچھے جاؤ (13) انھوں نے کہا، ہائے ہماری کم بختی! بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم (14) پس ہمیشہ رہی یہی پکار ان کی، یہاں تک کہ کر دیا ہم نے انھیں کٹی کھیتی (کی طرح) بجھے ہوئے (مردہ)(15) [11] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنھوں نے دیگر انبیاء و مرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ؔكَمۡ قَصَمۡنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کر دیں ۔‘‘ یعنی جڑ کانٹے والے عذاب کے ذریعے سے ﴿ مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’بستیاں ‘‘ جنھوں نے اپنے انجام کو نظرانداز کیا۔ ﴿ وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔‘‘ [13,12] جب ان ہلاک ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کے عقاب کے نزول کو دیکھ لیا تو ان کے لیے لوٹنا ممکن نہ رہا اور اس عذاب سے رہائی پانے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہ رہا تو وہ تو صرف ندامت، افسوس اور اپنی کرتوتوں پر حسرت کے مارے زمین پر پاؤں پٹختے تھے تو تمسخر اور ٹھٹھے کے انداز میں ان سے کہا گیا:﴿ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اب ندامت کا اظہار کرنے اور ایڑیاں مارنے سے تمھیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر تم قدرت رکھتے ہو تو اپنی لذتوں اور شہوتوں بھری خوشحال زندگی، اپنے آراستہ اور مزین گھروں اور اس دنیا کی طرف واپس لوٹ کر دکھاؤ جس نے تمھیں دھوکے میں ڈال کر غافل رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا۔ پس واپس لوٹ کر دنیا میں ڈیرے ڈال دو، اس کی لذات کی خاطر جرائم کا ارتکاب کرو، اپنے گھروں میں اطمینان کے ساتھ بڑے بن کر رہو۔ شاید اپنے امور میں تم پھر مقصود بن جاؤ اور دنیا کے معاملات میں پھر تم سے جواب دہی کی جائے جیسا کہ پہلے تمھارا حال تھا… لیکن یہ بہت بعید ہے۔ [14] اب دنیا میں کیسے واپس جایا جا سکتا ہے، وہ وقت ہاتھ سے نکل گیا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کا عذاب نازل ہو گیا، ان کا عزوشرف ختم ہو گیا اور ان کی دنیا بھی فنا ہو گئی اور ندامت اور حسرت ان کا نصیب بن گئی۔ اس لیے وہ پکار اٹھیں گے:﴿ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ہائے افسوس، ہم ہی ظالم تھے۔‘‘ [15]﴿ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ ﴾ پس ہمیشہ رہے گا ان کا یہ پکارنا۔‘‘ یعنی ہلاکت اور موت کی دعا مانگنا۔ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ خود انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے میں ان کے ساتھ انصاف کیا ہے ﴿حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾ ’’علاوہ ازیں یہاں تک کہ کر دیا ہم نے ان کو کٹے ہوئے کھیت اور بجھنے والی آگ (کی طرح)۔‘‘ یعنی اس نباتات کی مانند جسے کاٹ گرایا گیا ہو۔ ان کی حرکات مدہم پڑ گئیں اور آوازیں ختم ہو گئیں ، اس لیے اے لوگو جن کو مخاطب کیا جا رہا ہے تم افضل ترین رسول (ﷺ) کو جھٹلانے سے بچو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اللہ کا عذاب اسی طرح نازل ہو جائے جیسے ان لوگوں پر ہوا تھا۔
21:13

لَا تَرۡكُضُواْ وَٱرۡجِعُوٓاْ إِلَىٰ مَآ أُتۡرِفۡتُمۡ فِيهِ وَمَسَٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُونَ

اور کتنی ہی تہس نہس کر دیں ہم نے بستیاں کہ تھیں وہ ظالم اور پیدا کیں ہم نے ان کے بعد قومیں دوسری (11) پس جب محسوس کیا انھوں نے ہمارا عذاب تب وہ لوگ ان (بستیوں ) سے بھاگتے تھے (12)(انھیں کہا گیا) مت بھاگو تم! اور لوٹ آؤ طرف ان نعمتوں کی کہ آسودگی دیے گئے تھے تم ان میں اور اپنے مکانوں کی طرف تاکہ تم پوچھے جاؤ (13) انھوں نے کہا، ہائے ہماری کم بختی! بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم (14) پس ہمیشہ رہی یہی پکار ان کی، یہاں تک کہ کر دیا ہم نے انھیں کٹی کھیتی (کی طرح) بجھے ہوئے (مردہ)(15) [11] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنھوں نے دیگر انبیاء و مرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ؔكَمۡ قَصَمۡنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کر دیں ۔‘‘ یعنی جڑ کانٹے والے عذاب کے ذریعے سے ﴿ مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’بستیاں ‘‘ جنھوں نے اپنے انجام کو نظرانداز کیا۔ ﴿ وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔‘‘ [13,12] جب ان ہلاک ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کے عقاب کے نزول کو دیکھ لیا تو ان کے لیے لوٹنا ممکن نہ رہا اور اس عذاب سے رہائی پانے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہ رہا تو وہ تو صرف ندامت، افسوس اور اپنی کرتوتوں پر حسرت کے مارے زمین پر پاؤں پٹختے تھے تو تمسخر اور ٹھٹھے کے انداز میں ان سے کہا گیا:﴿ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اب ندامت کا اظہار کرنے اور ایڑیاں مارنے سے تمھیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر تم قدرت رکھتے ہو تو اپنی لذتوں اور شہوتوں بھری خوشحال زندگی، اپنے آراستہ اور مزین گھروں اور اس دنیا کی طرف واپس لوٹ کر دکھاؤ جس نے تمھیں دھوکے میں ڈال کر غافل رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا۔ پس واپس لوٹ کر دنیا میں ڈیرے ڈال دو، اس کی لذات کی خاطر جرائم کا ارتکاب کرو، اپنے گھروں میں اطمینان کے ساتھ بڑے بن کر رہو۔ شاید اپنے امور میں تم پھر مقصود بن جاؤ اور دنیا کے معاملات میں پھر تم سے جواب دہی کی جائے جیسا کہ پہلے تمھارا حال تھا… لیکن یہ بہت بعید ہے۔ [14] اب دنیا میں کیسے واپس جایا جا سکتا ہے، وہ وقت ہاتھ سے نکل گیا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کا عذاب نازل ہو گیا، ان کا عزوشرف ختم ہو گیا اور ان کی دنیا بھی فنا ہو گئی اور ندامت اور حسرت ان کا نصیب بن گئی۔ اس لیے وہ پکار اٹھیں گے:﴿ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ہائے افسوس، ہم ہی ظالم تھے۔‘‘ [15]﴿ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ ﴾ پس ہمیشہ رہے گا ان کا یہ پکارنا۔‘‘ یعنی ہلاکت اور موت کی دعا مانگنا۔ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ خود انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے میں ان کے ساتھ انصاف کیا ہے ﴿حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾ ’’علاوہ ازیں یہاں تک کہ کر دیا ہم نے ان کو کٹے ہوئے کھیت اور بجھنے والی آگ (کی طرح)۔‘‘ یعنی اس نباتات کی مانند جسے کاٹ گرایا گیا ہو۔ ان کی حرکات مدہم پڑ گئیں اور آوازیں ختم ہو گئیں ، اس لیے اے لوگو جن کو مخاطب کیا جا رہا ہے تم افضل ترین رسول (ﷺ) کو جھٹلانے سے بچو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اللہ کا عذاب اسی طرح نازل ہو جائے جیسے ان لوگوں پر ہوا تھا۔
21:14

قَالُواْ يَٰوَيۡلَنَآ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ

اور کتنی ہی تہس نہس کر دیں ہم نے بستیاں کہ تھیں وہ ظالم اور پیدا کیں ہم نے ان کے بعد قومیں دوسری (11) پس جب محسوس کیا انھوں نے ہمارا عذاب تب وہ لوگ ان (بستیوں ) سے بھاگتے تھے (12)(انھیں کہا گیا) مت بھاگو تم! اور لوٹ آؤ طرف ان نعمتوں کی کہ آسودگی دیے گئے تھے تم ان میں اور اپنے مکانوں کی طرف تاکہ تم پوچھے جاؤ (13) انھوں نے کہا، ہائے ہماری کم بختی! بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم (14) پس ہمیشہ رہی یہی پکار ان کی، یہاں تک کہ کر دیا ہم نے انھیں کٹی کھیتی (کی طرح) بجھے ہوئے (مردہ)(15) [11] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنھوں نے دیگر انبیاء و مرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ؔكَمۡ قَصَمۡنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کر دیں ۔‘‘ یعنی جڑ کانٹے والے عذاب کے ذریعے سے ﴿ مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’بستیاں ‘‘ جنھوں نے اپنے انجام کو نظرانداز کیا۔ ﴿ وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔‘‘ [13,12] جب ان ہلاک ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کے عقاب کے نزول کو دیکھ لیا تو ان کے لیے لوٹنا ممکن نہ رہا اور اس عذاب سے رہائی پانے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہ رہا تو وہ تو صرف ندامت، افسوس اور اپنی کرتوتوں پر حسرت کے مارے زمین پر پاؤں پٹختے تھے تو تمسخر اور ٹھٹھے کے انداز میں ان سے کہا گیا:﴿ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اب ندامت کا اظہار کرنے اور ایڑیاں مارنے سے تمھیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر تم قدرت رکھتے ہو تو اپنی لذتوں اور شہوتوں بھری خوشحال زندگی، اپنے آراستہ اور مزین گھروں اور اس دنیا کی طرف واپس لوٹ کر دکھاؤ جس نے تمھیں دھوکے میں ڈال کر غافل رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا۔ پس واپس لوٹ کر دنیا میں ڈیرے ڈال دو، اس کی لذات کی خاطر جرائم کا ارتکاب کرو، اپنے گھروں میں اطمینان کے ساتھ بڑے بن کر رہو۔ شاید اپنے امور میں تم پھر مقصود بن جاؤ اور دنیا کے معاملات میں پھر تم سے جواب دہی کی جائے جیسا کہ پہلے تمھارا حال تھا… لیکن یہ بہت بعید ہے۔ [14] اب دنیا میں کیسے واپس جایا جا سکتا ہے، وہ وقت ہاتھ سے نکل گیا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کا عذاب نازل ہو گیا، ان کا عزوشرف ختم ہو گیا اور ان کی دنیا بھی فنا ہو گئی اور ندامت اور حسرت ان کا نصیب بن گئی۔ اس لیے وہ پکار اٹھیں گے:﴿ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ہائے افسوس، ہم ہی ظالم تھے۔‘‘ [15]﴿ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ ﴾ پس ہمیشہ رہے گا ان کا یہ پکارنا۔‘‘ یعنی ہلاکت اور موت کی دعا مانگنا۔ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ خود انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے میں ان کے ساتھ انصاف کیا ہے ﴿حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾ ’’علاوہ ازیں یہاں تک کہ کر دیا ہم نے ان کو کٹے ہوئے کھیت اور بجھنے والی آگ (کی طرح)۔‘‘ یعنی اس نباتات کی مانند جسے کاٹ گرایا گیا ہو۔ ان کی حرکات مدہم پڑ گئیں اور آوازیں ختم ہو گئیں ، اس لیے اے لوگو جن کو مخاطب کیا جا رہا ہے تم افضل ترین رسول (ﷺ) کو جھٹلانے سے بچو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اللہ کا عذاب اسی طرح نازل ہو جائے جیسے ان لوگوں پر ہوا تھا۔
21:15

فَمَا زَالَت تِّلۡكَ دَعۡوَىٰهُمۡ حَتَّىٰ جَعَلۡنَٰهُمۡ حَصِيدًا خَٰمِدِينَ

اور کتنی ہی تہس نہس کر دیں ہم نے بستیاں کہ تھیں وہ ظالم اور پیدا کیں ہم نے ان کے بعد قومیں دوسری (11) پس جب محسوس کیا انھوں نے ہمارا عذاب تب وہ لوگ ان (بستیوں ) سے بھاگتے تھے (12)(انھیں کہا گیا) مت بھاگو تم! اور لوٹ آؤ طرف ان نعمتوں کی کہ آسودگی دیے گئے تھے تم ان میں اور اپنے مکانوں کی طرف تاکہ تم پوچھے جاؤ (13) انھوں نے کہا، ہائے ہماری کم بختی! بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم (14) پس ہمیشہ رہی یہی پکار ان کی، یہاں تک کہ کر دیا ہم نے انھیں کٹی کھیتی (کی طرح) بجھے ہوئے (مردہ)(15) [11] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنھوں نے دیگر انبیاء و مرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ؔكَمۡ قَصَمۡنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کر دیں ۔‘‘ یعنی جڑ کانٹے والے عذاب کے ذریعے سے ﴿ مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’بستیاں ‘‘ جنھوں نے اپنے انجام کو نظرانداز کیا۔ ﴿ وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔‘‘ [13,12] جب ان ہلاک ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کے عقاب کے نزول کو دیکھ لیا تو ان کے لیے لوٹنا ممکن نہ رہا اور اس عذاب سے رہائی پانے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہ رہا تو وہ تو صرف ندامت، افسوس اور اپنی کرتوتوں پر حسرت کے مارے زمین پر پاؤں پٹختے تھے تو تمسخر اور ٹھٹھے کے انداز میں ان سے کہا گیا:﴿ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اب ندامت کا اظہار کرنے اور ایڑیاں مارنے سے تمھیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اگر تم قدرت رکھتے ہو تو اپنی لذتوں اور شہوتوں بھری خوشحال زندگی، اپنے آراستہ اور مزین گھروں اور اس دنیا کی طرف واپس لوٹ کر دکھاؤ جس نے تمھیں دھوکے میں ڈال کر غافل رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا۔ پس واپس لوٹ کر دنیا میں ڈیرے ڈال دو، اس کی لذات کی خاطر جرائم کا ارتکاب کرو، اپنے گھروں میں اطمینان کے ساتھ بڑے بن کر رہو۔ شاید اپنے امور میں تم پھر مقصود بن جاؤ اور دنیا کے معاملات میں پھر تم سے جواب دہی کی جائے جیسا کہ پہلے تمھارا حال تھا… لیکن یہ بہت بعید ہے۔ [14] اب دنیا میں کیسے واپس جایا جا سکتا ہے، وہ وقت ہاتھ سے نکل گیا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کا عذاب نازل ہو گیا، ان کا عزوشرف ختم ہو گیا اور ان کی دنیا بھی فنا ہو گئی اور ندامت اور حسرت ان کا نصیب بن گئی۔ اس لیے وہ پکار اٹھیں گے:﴿ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ہائے افسوس، ہم ہی ظالم تھے۔‘‘ [15]﴿ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ ﴾ پس ہمیشہ رہے گا ان کا یہ پکارنا۔‘‘ یعنی ہلاکت اور موت کی دعا مانگنا۔ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ خود انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے میں ان کے ساتھ انصاف کیا ہے ﴿حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾ ’’علاوہ ازیں یہاں تک کہ کر دیا ہم نے ان کو کٹے ہوئے کھیت اور بجھنے والی آگ (کی طرح)۔‘‘ یعنی اس نباتات کی مانند جسے کاٹ گرایا گیا ہو۔ ان کی حرکات مدہم پڑ گئیں اور آوازیں ختم ہو گئیں ، اس لیے اے لوگو جن کو مخاطب کیا جا رہا ہے تم افضل ترین رسول (ﷺ) کو جھٹلانے سے بچو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اللہ کا عذاب اسی طرح نازل ہو جائے جیسے ان لوگوں پر ہوا تھا۔
21:16

وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا لَٰعِبِينَ

اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، کھیلتے ہوئے (بے فائدہ)(16) اگر ہم چاہتے یہ کہ بنائیں کوئی کھیل تماشہ تو ا لبتہ بنا لیتے ہم اس کو اپنے پاس سے اگر ہوتے ہم (یہ کام) کرنے والے (17) [16] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے زمین اور آسمان کو کھیل تماشے کے طور پر عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ان کو حق کے ساتھ اور حق کے لیے پیدا کیا ہے تاکہ بندے اس کائنات سے استدلال کریں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، عظمت والا، کائنات کی تدبیر کرنے والا، حکمت والا اور رحمان و رحیم ہے، جو کمال کلی، ہر قسم کی تعریف اور تمام تر عزت کا مالک ہے۔ وہ اپنے قول میں سچا ہے اس کے رسول بھی اس کی طرف سے خبردینے میں سچے ہیں ۔ وہ قادر ہستی جو زمین و آسمان کو ان کی وسعت اور عظمت کے ساتھ پیدا کرنے پر قادر ہے وہ جسموں کے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قدرت رکھتی ہے تاکہ نیک کو اس کی نیکی کی جزا اور بدکو اس کی بدی کی سزا دے۔ [17]﴿ لَوۡ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نَّؔتَّؔخِذَ لَهۡوًا ﴾ ’’اگر ہم کھیل تماشے ہی کا ارادہ کرتے‘‘ یعنی بفرض محال اگر یہ تسلیم کر لیا جائے ﴿ لَّاتَّؔخَذۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّاۤ﴾ ’’تو ہم اسے بنا لیتے اپنی طرف ہی سے۔‘‘ ﴿ اِنۡ كُنَّا فٰعِلِيۡنَ﴾ ’’اگر ہوتے ہم کرنے والے۔‘‘ اور کھیل تماشے کی بابت تمھیں مطلع بھی نہ کرتے کیونکہ یہ نقص اور برا وصف ہے، جسے ہم تمھیں دکھانا پسند نہ کرتے۔ یہ زمین و آسمان جو ہمیشہ سے تمھارے سامنے ہیں ، ممکن نہیں کہ ان کو عبث اور کھیل تماشے کے مقصد سے پیدا کیا گیا ہو۔ یہ سب کچھ موٹی عقل کے لوگوں کی سطح پر اتر کر کہا گیا ہے تاکہ ان کو ہر لحاظ سے مطمئن کیا جائے۔ پس پاک ہے وہ ذات جو حلم والی، رحم کرنے والی اور حکمت والی ہے، وہ تمام اشیاء کو ان کے اپنے مقام پر رکھنے میں حکمت سے کام لیتی ہے۔
21:17

لَوۡ أَرَدۡنَآ أَن نَّتَّخِذَ لَهۡوٗا لَّٱتَّخَذۡنَٰهُ مِن لَّدُنَّآ إِن كُنَّا فَٰعِلِينَ

اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، کھیلتے ہوئے (بے فائدہ)(16) اگر ہم چاہتے یہ کہ بنائیں کوئی کھیل تماشہ تو ا لبتہ بنا لیتے ہم اس کو اپنے پاس سے اگر ہوتے ہم (یہ کام) کرنے والے (17) [16] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے زمین اور آسمان کو کھیل تماشے کے طور پر عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ان کو حق کے ساتھ اور حق کے لیے پیدا کیا ہے تاکہ بندے اس کائنات سے استدلال کریں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، عظمت والا، کائنات کی تدبیر کرنے والا، حکمت والا اور رحمان و رحیم ہے، جو کمال کلی، ہر قسم کی تعریف اور تمام تر عزت کا مالک ہے۔ وہ اپنے قول میں سچا ہے اس کے رسول بھی اس کی طرف سے خبردینے میں سچے ہیں ۔ وہ قادر ہستی جو زمین و آسمان کو ان کی وسعت اور عظمت کے ساتھ پیدا کرنے پر قادر ہے وہ جسموں کے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قدرت رکھتی ہے تاکہ نیک کو اس کی نیکی کی جزا اور بدکو اس کی بدی کی سزا دے۔ [17]﴿ لَوۡ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نَّؔتَّؔخِذَ لَهۡوًا ﴾ ’’اگر ہم کھیل تماشے ہی کا ارادہ کرتے‘‘ یعنی بفرض محال اگر یہ تسلیم کر لیا جائے ﴿ لَّاتَّؔخَذۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّاۤ﴾ ’’تو ہم اسے بنا لیتے اپنی طرف ہی سے۔‘‘ ﴿ اِنۡ كُنَّا فٰعِلِيۡنَ﴾ ’’اگر ہوتے ہم کرنے والے۔‘‘ اور کھیل تماشے کی بابت تمھیں مطلع بھی نہ کرتے کیونکہ یہ نقص اور برا وصف ہے، جسے ہم تمھیں دکھانا پسند نہ کرتے۔ یہ زمین و آسمان جو ہمیشہ سے تمھارے سامنے ہیں ، ممکن نہیں کہ ان کو عبث اور کھیل تماشے کے مقصد سے پیدا کیا گیا ہو۔ یہ سب کچھ موٹی عقل کے لوگوں کی سطح پر اتر کر کہا گیا ہے تاکہ ان کو ہر لحاظ سے مطمئن کیا جائے۔ پس پاک ہے وہ ذات جو حلم والی، رحم کرنے والی اور حکمت والی ہے، وہ تمام اشیاء کو ان کے اپنے مقام پر رکھنے میں حکمت سے کام لیتی ہے۔
21:18

بَلۡ نَقۡذِفُ بِٱلۡحَقِّ عَلَى ٱلۡبَٰطِلِ فَيَدۡمَغُهُۥ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٞۚ وَلَكُمُ ٱلۡوَيۡلُ مِمَّا تَصِفُونَ

بلکہ ہم پھینک مارتے ہیں حق کو اوپر باطل (کے سر) کے تو وہ اس کا سر پھوڑ دیتا ہے، پس یکا یک وہ مٹ جانے والا ہو جاتا ہے اور تمھارے لیے ہلاکت ہے بوجہ ان باتوں کے جو تم (اللہ کی بابت) بیان کرتے ہو (18) اور اسی کا ہے جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ جو اس کے پاس ہیں نہیں تکبر کرتے وہ اس کی عبادت سے اور نہ وہ تھکتے ہیں (19) وہ تسبیح کرتے ہیں (اس کی) رات اوردن، نہیں سستی کرتے وہ (اس سے)(20) [18] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے احقاق حق اور ابطلال باطل کی ذمہ داری لی ہے۔ باطل خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ حق، علم اور بیان نازل کرتا ہے، جس سے باطل پر ضرب لگتی ہے پس باطل مضمحل ہو جاتا ہے اور اس کا بطلان ہر ایک پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ﴾ یعنی مضمحل ہو کر فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے اور تمام دینی مسائل میں یہی اصول عام ہے، جب بھی کوئی باطل پرست شخص باطل کو حق ثابت کرنے یا حق کو رد کرنے کے لیے کوئی عقلی یا نقلی شبہ وارد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے عقلی اور نقلی دلائل میں اتنا زور ہوتا ہے کہ وہ اس قول باطل کو زائل کر کے اس کا قلع قمع کر دیتا ہے اور یوں اس کا بطلان ہر شخص پر واضح ہو جاتا ہے۔ اگر تمام مسائل میں ایک ایک مسئلہ کا استقراء کیا جائے تو آپ اس اصول کو اسی طرح پائیں گے۔ پھر ارشاد فرمایا:﴿ وَلَكُمُ ﴾ ’’اور تمھارے لیے۔‘‘ اے لوگو! جو اللہ تعالیٰ کو ان صفات سے موصوف کرتے ہو جو اس کے شایان شان نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کا بیٹا، بیوی، اس کے ہمسر اور شریک قراردینا۔ان باطل باتوں میں سے تمھارا حصہ اور تمھارا نصیب ہے کہ اس پاداش میں تمھارے لیے ہلاکت، ندامت اور خسارہ ہے تم نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمھارے لیے کوئی فائدہ ہے نہ تمھارے لیے کوئی بھلائی، جس کی خاطر تم عمل کر رہے ہو اور جہاں پہنچنے کے لیے تم کوشاں ہو، البتہ تمھارے مقصود و مطلوب کے برعکس، تمھارے نصیب میں ناکامی اور محرومی ہے۔ [19] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ زمین، آسمان اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی غلام اور مملوک ہے۔ زمین و آسمان کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کی ملکیت ہے نہ اس میں کسی کا حصہ ہے، نہ اس اقتدار میں اس کا کوئی معاون ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر سکے گا، پھر کیسے ان کو معبود بنایا جا سکتا ہے اور کیسے ان میں سے کسی کو اللہ کا بیٹا قرار دیا جا سکتا ہے؟… بالا و بلند اور پاک ہے وہ ہستی جو مالک اور عظمت والی ہے جس کے سامنے گردنیں جھکی ہوئی، بڑے بڑے سرکش سرافگندہ اور جس کے حضور مقرب فرشتے عاجز اور فروتن ہیں اور سب اس کی دائمی عبادت میں مصروف ہیں ۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَمَنۡ عِنۡدَهٗ ﴾ ’’اور جو اس کے پاس ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتے ﴿ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ عَنۡ عِبَادَتِهٖ وَلَا يَسۡتَحۡسِرُوۡنَ۠﴾ ’’وہ اس کی عبادت سے انکار کرتے ہیں نہ وہ تھکتے ہیں ۔‘‘ یعنی شدت رغبت، کامل محبت اور اپنے بدن کی طاقت کی وجہ سے، اس کی عبادت سے تھکتے ہیں نہ اکتاتے ہیں ۔ [20]﴿يُسَبِّحُوۡنَ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفۡتُرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی تسبیح و تحمید میں مستغرق رہتے ہیں ۔ ان کے اوقات میں کوئی وقت فارغ ہے نہ عبادت سے خالی ہے۔ وہ اپنی کثرت کے باوصف اس صفت سے متصف ہیں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال، اس کی قدرت، اس کے کامل علم و حکمت کا بیان ہے جو اس امر کا موجب ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت کی جائے نہ عبادت کو غیر اللہ کی طرف پھیرا جائے۔
21:19

وَلَهُۥ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَمَنۡ عِندَهُۥ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِهِۦ وَلَا يَسۡتَحۡسِرُونَ

بلکہ ہم پھینک مارتے ہیں حق کو اوپر باطل (کے سر) کے تو وہ اس کا سر پھوڑ دیتا ہے، پس یکا یک وہ مٹ جانے والا ہو جاتا ہے اور تمھارے لیے ہلاکت ہے بوجہ ان باتوں کے جو تم (اللہ کی بابت) بیان کرتے ہو (18) اور اسی کا ہے جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ جو اس کے پاس ہیں نہیں تکبر کرتے وہ اس کی عبادت سے اور نہ وہ تھکتے ہیں (19) وہ تسبیح کرتے ہیں (اس کی) رات اوردن، نہیں سستی کرتے وہ (اس سے)(20) [18] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے احقاق حق اور ابطلال باطل کی ذمہ داری لی ہے۔ باطل خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ حق، علم اور بیان نازل کرتا ہے، جس سے باطل پر ضرب لگتی ہے پس باطل مضمحل ہو جاتا ہے اور اس کا بطلان ہر ایک پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ﴾ یعنی مضمحل ہو کر فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے اور تمام دینی مسائل میں یہی اصول عام ہے، جب بھی کوئی باطل پرست شخص باطل کو حق ثابت کرنے یا حق کو رد کرنے کے لیے کوئی عقلی یا نقلی شبہ وارد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے عقلی اور نقلی دلائل میں اتنا زور ہوتا ہے کہ وہ اس قول باطل کو زائل کر کے اس کا قلع قمع کر دیتا ہے اور یوں اس کا بطلان ہر شخص پر واضح ہو جاتا ہے۔ اگر تمام مسائل میں ایک ایک مسئلہ کا استقراء کیا جائے تو آپ اس اصول کو اسی طرح پائیں گے۔ پھر ارشاد فرمایا:﴿ وَلَكُمُ ﴾ ’’اور تمھارے لیے۔‘‘ اے لوگو! جو اللہ تعالیٰ کو ان صفات سے موصوف کرتے ہو جو اس کے شایان شان نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کا بیٹا، بیوی، اس کے ہمسر اور شریک قراردینا۔ان باطل باتوں میں سے تمھارا حصہ اور تمھارا نصیب ہے کہ اس پاداش میں تمھارے لیے ہلاکت، ندامت اور خسارہ ہے تم نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمھارے لیے کوئی فائدہ ہے نہ تمھارے لیے کوئی بھلائی، جس کی خاطر تم عمل کر رہے ہو اور جہاں پہنچنے کے لیے تم کوشاں ہو، البتہ تمھارے مقصود و مطلوب کے برعکس، تمھارے نصیب میں ناکامی اور محرومی ہے۔ [19] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ زمین، آسمان اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی غلام اور مملوک ہے۔ زمین و آسمان کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کی ملکیت ہے نہ اس میں کسی کا حصہ ہے، نہ اس اقتدار میں اس کا کوئی معاون ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر سکے گا، پھر کیسے ان کو معبود بنایا جا سکتا ہے اور کیسے ان میں سے کسی کو اللہ کا بیٹا قرار دیا جا سکتا ہے؟… بالا و بلند اور پاک ہے وہ ہستی جو مالک اور عظمت والی ہے جس کے سامنے گردنیں جھکی ہوئی، بڑے بڑے سرکش سرافگندہ اور جس کے حضور مقرب فرشتے عاجز اور فروتن ہیں اور سب اس کی دائمی عبادت میں مصروف ہیں ۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَمَنۡ عِنۡدَهٗ ﴾ ’’اور جو اس کے پاس ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتے ﴿ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ عَنۡ عِبَادَتِهٖ وَلَا يَسۡتَحۡسِرُوۡنَ۠﴾ ’’وہ اس کی عبادت سے انکار کرتے ہیں نہ وہ تھکتے ہیں ۔‘‘ یعنی شدت رغبت، کامل محبت اور اپنے بدن کی طاقت کی وجہ سے، اس کی عبادت سے تھکتے ہیں نہ اکتاتے ہیں ۔ [20]﴿يُسَبِّحُوۡنَ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفۡتُرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی تسبیح و تحمید میں مستغرق رہتے ہیں ۔ ان کے اوقات میں کوئی وقت فارغ ہے نہ عبادت سے خالی ہے۔ وہ اپنی کثرت کے باوصف اس صفت سے متصف ہیں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال، اس کی قدرت، اس کے کامل علم و حکمت کا بیان ہے جو اس امر کا موجب ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت کی جائے نہ عبادت کو غیر اللہ کی طرف پھیرا جائے۔
21:20

يُسَبِّحُونَ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ لَا يَفۡتُرُونَ

بلکہ ہم پھینک مارتے ہیں حق کو اوپر باطل (کے سر) کے تو وہ اس کا سر پھوڑ دیتا ہے، پس یکا یک وہ مٹ جانے والا ہو جاتا ہے اور تمھارے لیے ہلاکت ہے بوجہ ان باتوں کے جو تم (اللہ کی بابت) بیان کرتے ہو (18) اور اسی کا ہے جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ جو اس کے پاس ہیں نہیں تکبر کرتے وہ اس کی عبادت سے اور نہ وہ تھکتے ہیں (19) وہ تسبیح کرتے ہیں (اس کی) رات اوردن، نہیں سستی کرتے وہ (اس سے)(20) [18] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے احقاق حق اور ابطلال باطل کی ذمہ داری لی ہے۔ باطل خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ حق، علم اور بیان نازل کرتا ہے، جس سے باطل پر ضرب لگتی ہے پس باطل مضمحل ہو جاتا ہے اور اس کا بطلان ہر ایک پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ﴾ یعنی مضمحل ہو کر فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے اور تمام دینی مسائل میں یہی اصول عام ہے، جب بھی کوئی باطل پرست شخص باطل کو حق ثابت کرنے یا حق کو رد کرنے کے لیے کوئی عقلی یا نقلی شبہ وارد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے عقلی اور نقلی دلائل میں اتنا زور ہوتا ہے کہ وہ اس قول باطل کو زائل کر کے اس کا قلع قمع کر دیتا ہے اور یوں اس کا بطلان ہر شخص پر واضح ہو جاتا ہے۔ اگر تمام مسائل میں ایک ایک مسئلہ کا استقراء کیا جائے تو آپ اس اصول کو اسی طرح پائیں گے۔ پھر ارشاد فرمایا:﴿ وَلَكُمُ ﴾ ’’اور تمھارے لیے۔‘‘ اے لوگو! جو اللہ تعالیٰ کو ان صفات سے موصوف کرتے ہو جو اس کے شایان شان نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کا بیٹا، بیوی، اس کے ہمسر اور شریک قراردینا۔ان باطل باتوں میں سے تمھارا حصہ اور تمھارا نصیب ہے کہ اس پاداش میں تمھارے لیے ہلاکت، ندامت اور خسارہ ہے تم نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمھارے لیے کوئی فائدہ ہے نہ تمھارے لیے کوئی بھلائی، جس کی خاطر تم عمل کر رہے ہو اور جہاں پہنچنے کے لیے تم کوشاں ہو، البتہ تمھارے مقصود و مطلوب کے برعکس، تمھارے نصیب میں ناکامی اور محرومی ہے۔ [19] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ زمین، آسمان اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی غلام اور مملوک ہے۔ زمین و آسمان کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کی ملکیت ہے نہ اس میں کسی کا حصہ ہے، نہ اس اقتدار میں اس کا کوئی معاون ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر سکے گا، پھر کیسے ان کو معبود بنایا جا سکتا ہے اور کیسے ان میں سے کسی کو اللہ کا بیٹا قرار دیا جا سکتا ہے؟… بالا و بلند اور پاک ہے وہ ہستی جو مالک اور عظمت والی ہے جس کے سامنے گردنیں جھکی ہوئی، بڑے بڑے سرکش سرافگندہ اور جس کے حضور مقرب فرشتے عاجز اور فروتن ہیں اور سب اس کی دائمی عبادت میں مصروف ہیں ۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَمَنۡ عِنۡدَهٗ ﴾ ’’اور جو اس کے پاس ہیں ۔‘‘ یعنی فرشتے ﴿ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ عَنۡ عِبَادَتِهٖ وَلَا يَسۡتَحۡسِرُوۡنَ۠﴾ ’’وہ اس کی عبادت سے انکار کرتے ہیں نہ وہ تھکتے ہیں ۔‘‘ یعنی شدت رغبت، کامل محبت اور اپنے بدن کی طاقت کی وجہ سے، اس کی عبادت سے تھکتے ہیں نہ اکتاتے ہیں ۔ [20]﴿يُسَبِّحُوۡنَ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفۡتُرُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی تسبیح و تحمید میں مستغرق رہتے ہیں ۔ ان کے اوقات میں کوئی وقت فارغ ہے نہ عبادت سے خالی ہے۔ وہ اپنی کثرت کے باوصف اس صفت سے متصف ہیں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال، اس کی قدرت، اس کے کامل علم و حکمت کا بیان ہے جو اس امر کا موجب ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت کی جائے نہ عبادت کو غیر اللہ کی طرف پھیرا جائے۔
21:21

أَمِ ٱتَّخَذُوٓاْ ءَالِهَةٗ مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ هُمۡ يُنشِرُونَ

کیا بنا لیے ہیں انھوں نے معبود زمین میں سے کہ وہ زندہ کر دیں گے (مردوں کو)؟ (21) اگر ہوتے ان (آسمانوں و زمین) میں کئی معبود سوائے اللہ کے تو البتہ بگڑ جاتے وہ دونوں پس پاک ہے اللہ، جو رب ہے عرش کا، ان سے جو وہ بیان کرتے ہیں (22) نہیں پوچھا جاسکتا اس سے اس چیز کی بات جو وہ کرتا ہے، جبکہ وہ (لوگ) پوچھے جائیں گے(23) کیا بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اس کے اور معبود؟ کہہ دیجیے! لاؤ تم دلیل اپنی، یہ (توحید ہی) ذکر ہے ان لوگوں کا جو میرے ساتھ ہیں اور ذکر ہے ان لوگوں کا جو مجھ سے پہلے تھےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے حق کو، پس وہ اعراض کرنے والے ہیں (24)اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول مگر وحی کرتے تھے ہم اس کی طرف (یہ بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود مگر میں ہی، سو تم عبادت کرو میری ہی (25) [21] اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اقتدار اور اپنی عظمت کا ذکر کرنے اور اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد کہ ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے، مشرکین پر نکیر کی جنھوں نے اللہ کے سوا زمین سے معبود بنا لیے ہیں جو انتہائی عاجز اور قدرت سے محروم ہیں ۔ ﴿ هُمۡ يُنۡشِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکیں گے؟‘‘ یہ استفہام نفی کے معنٰی میں ہے، یعنی وہ ان کے حشرونشر پر قادر نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتا ہے۔ ﴿وَاتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡـًٔؔا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَمۡلِكُوۡنَ لِاَنۡفُسِهِمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا وَّلَا يَمۡلِكُوۡنَ مَوۡتًا وَّلَا حَيٰؔوةً وَّلَا نُشُوۡرًؔا﴾(الفرقان:25؍3) ’’انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے خدا بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو خود پیدا كيے جاتے ہیں وہ خود اپنے لیے کسی نقصان کا اختیار رکھتے ہیں نہ نفع کا اور نہ وہ موت و حیات کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ جی اٹھنے کا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمۡ يُنۡصَرُوۡنَؕ۰۰لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَهُمۡ١ۙ وَهُمۡ لَهُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ ﴾(یٰسین:36؍74،75) ’’انھوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنائے ہیں شائد کہ ان کی طرف سے ان کی مدد کی جائے (حالانکہ) وہ ان کی مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ تو خود ان کے لشکری ہیں حاضر کیے ہوئے۔‘‘ [22] پس مشرک مخلوق کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو ترک کر دیتا ہے جو تمام کمالات کا مالک ہے اور تمام معاملات اور نفع و نقصان اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ یہ توفیق سے محرومی، اس کی بدقسمتی، اس کی جہالت کی فراوانی اور اس کے ظلم کی شدت ہے۔ یہ وجود کائنات صرف ایک ہی الٰہ کے لیے درست اور لائق ہے اور اس وجود کائنات میں صرف ایک ہی رب موجود ہے، اس لیے فرمایا ﴿ لَوۡ كَانَ فِيۡهِمَاۤ ﴾ اگر ہوتے زمین اور آسمان میں ﴿ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ﴾ ’’کئی معبود اللہ کے سوا تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے۔‘‘خود زمین و آسمان فساد کا شکار ہو جاتے اور زمین و آسمان میں موجود تمام مخلوق میں فساد برپا ہو جاتا۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی… جیسا کہ نظر آ رہا ہے بہترین اور کامل ترین انتظام کے تحت چل رہے ہیں جس میں کوئی خلل ہے نہ عیب، جس میں کوئی اختلاف ہے نہ معارضہ… پس کائنات کا یہ انتظام دلالت کرتا ہے کہ ان کی تدبیر کرنے والا، ان کا رب اور ان کا معبود ایک ہے۔ اگر اس کائنات کی تدبیر کرنے والے اور اس کے رب دو یا دو سے زیادہ ہوتے تو اس کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا اور اس کے تمام ارکان منہدم ہو جاتے کیونکہ دونوں معبود ایک دوسرے کے معارض ہوتے اور ایک دوسرے کے انتظام سے مزاحم ہوتے۔ جب ان دو خداؤں میں سے ایک خدا کسی چیز کی تدبیر کا ارادہ کرتا اور دوسرا اس کو معدوم کرنے کا ارادہ کرتا تو بیک وقت دونوں کی مراد کا وجود میں آنا محال ہوتا اور دونوں میں سے کسی ایک کی مراد کا پورا ہونا دوسرے کے عجز اور اس کے عدم اقتدار پر دلالت کرتا ہے اور تمام معاملات میں کسی ایک مراد پر دونوں کا متفق ہونا ناممکن ہے، تب یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ وہ غالب و قاہر ہستی جس اکیلی ہی کی مراد بغیر کسی مانع کے وجود میں آتی ہے، وہ اللہ واحد و قہار ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمانع کی دلیل یہ بیان فرمائی۔ ﴿مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ١ؕ سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ﴾(المومنون:23؍91) ’’ا للہ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ کوئی دوسرا معبود ہی اس کی خدائی میں اس کے ساتھ شریک ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق کو لے کر علیحدہ ہو جاتا اور غالب آنے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے۔ جن اوصاف سے تم اسے موصوف کر رہے ہو اللہ ان سے پاک ہے۔‘‘ اور ایک تفسیر کے مطابق درج ذیل آیت بھی اسی تمانع کی دلیل ہے۔ ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِي الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا۰۰سُبۡحٰؔنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّا كَبِيۡرًؔا ﴾(بنی اسرائیل:17؍42، 43) ’’کہہ دیجیے اگر اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں تو عرش کے مالک تک پہنچنے کے لیے کوئی راستہ ضرور تلاش کرتے، وہ پاک اور بلند و بالاہے ان باتوں سے جو یہ مشرکین کہہ رہے ہیں ۔‘‘ اسی لیے فرمایا:﴿فَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ایک اور منزہ ہے ہر نقص سے کیونکہ وہ اکیلا کمال کا مالک ہے ﴿ رَبِّ الۡعَرۡشِ ﴾ ’’رب ہے عرش کا۔‘‘ وہ عرش جو مخلوقات کی چھت، تمام مخلوقات سے زیادہ وسیع اور سب سے بڑا ہے، لہٰذا اس سے کمتر مخلوق کے لیے اس کا رب ہونا تو طریق اولیٰ کے باب سے ہے۔ ﴿ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی یہ منکرین حق اور کفار جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور بیوی ہے، کسی بھی لحاظ سے اس کا کوئی شریک ہے۔ان سب باتوں سے وہ پاک ہے۔ [23]﴿ لَا يُسۡـَٔلُ عَمَّا يَفۡعَلُ ﴾ ’’نہیں پوچھا جائے گا اس سے (اس کی بابت) جو وہ کرتا ہے۔‘‘ اس کی طاقت، اس کے غلبہ اور اس کی کامل قدرت کی بنا پر کوئی اس کے افعال میں ، قول یا فعل کے ذریعے، مزاحم نہیں ہو سکتا اس نے اپنی حکمت کاملہ کی بنا پر تمام اشیاء کو ان کے لائق مقامات پر رکھا ہے، ان کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا اور ہر چیز کو احسن طریقے سے بنایا، عقل جس کا اندازہ کر سکتی ہے۔ اس پر سوال وارد نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی تخلیق میں کوئی خلل اور نقص نہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ ﴾ یعنی تمام مخلوقات ﴿ يُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اپنے افعال و اقوال کے بارے میں جواب دہ ہیں کیونکہ وہ عاجز، محتاج اور غلام ہیں ۔ وہ خود اپنی ذات پر یا کسی دوسرے پر ذرہ بھر اختیار نہیں رکھتے۔ [24] پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کے احوال کی تحقیر کی طرف لوٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا بہت سے معبود بنا لیے ہیں ، لہٰذا ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہو! ﴿ اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ﴾ یعنی اپنے موقف کی صحت پر حجت اور دلیل لاؤ مگر وہ کبھی دلیل نہ لا سکیں گے بلکہ اس کے برعکس ان کے اس موقف کے بطلان پر قطعی دلائل دلالت کرتے ہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ هٰؔذَا ذِكۡرُ مَنۡ مَّعِيَ وَذِكۡرُ مَنۡ قَبۡلِيۡ ﴾یعنی تمام آسمانی کتابیں اور شریعتیں ، ابطال شرک کے بارے میں میرے موقف کی صحت پر متفق ہیں ۔ یہ اللہ کی کتاب ہے جس میں عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ ہر چیز کا ذکر موجود ہے اور یہ سابقہ تمام کتب ہیں ، یہ بھی میرے موقف پر واضح دلیل اور برہان ہیں اور چونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ ان کے موقف کے بطلان پر حجت و برہان قائم ہو گئی اس لیے صاف ظاہر ہو گیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں کیونکہ دلیل و برہان قطعی طور پر فیصلہ کر دیتی ہے کہ اس کا کوئی معارض نہیں ۔ اگر بظاہر کچھ معارضات موجود ہوں تو یہ محض شبہات ہیں جو حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آ سکتے۔﴿بَلۡ اَ كۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡحَقَّ ﴾ یعنی وہ اپنے اسلاف کی تقلید کی بنا پر اپنے باطل موقف پر قائم ہیں اور بغیر کسی علم اور ہدایت کے جھگڑا کرتے ہیں ۔ ان کا حق کے علم سے محروم ہونے کا باعث یہ نہیں کہ حق مخفی ہے بلکہ اس محرومی کا سبب ان کی حق سے روگردانی ہے۔ ورنہ اگر انھوں نے حق کی طرف ادنیٰ سا التفات بھی کیا ہوتا تو حق ان پر روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ [25] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے متقدمین کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ اس مسئلے کی توضیح و تبیین کے بارے میں ان کی طرف رجوع کیا جائے، اس لیے اس مسئلہ کو اپنے اس ارشاد مقدس میں مکمل طور پر واضح فرما دیا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ پس آپﷺ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت اور ان کی کتابوں کا لب لباب اور مقصد ِ وحید، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا حکم اور اس حقیقت کو کھول کر بیان کرنا ہے کہ صرف وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے۔
21:22

لَوۡ كَانَ فِيهِمَآ ءَالِهَةٌ إِلَّا ٱللَّهُ لَفَسَدَتَاۚ فَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُونَ

کیا بنا لیے ہیں انھوں نے معبود زمین میں سے کہ وہ زندہ کر دیں گے (مردوں کو)؟ (21) اگر ہوتے ان (آسمانوں و زمین) میں کئی معبود سوائے اللہ کے تو البتہ بگڑ جاتے وہ دونوں پس پاک ہے اللہ، جو رب ہے عرش کا، ان سے جو وہ بیان کرتے ہیں (22) نہیں پوچھا جاسکتا اس سے اس چیز کی بات جو وہ کرتا ہے، جبکہ وہ (لوگ) پوچھے جائیں گے(23) کیا بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اس کے اور معبود؟ کہہ دیجیے! لاؤ تم دلیل اپنی، یہ (توحید ہی) ذکر ہے ان لوگوں کا جو میرے ساتھ ہیں اور ذکر ہے ان لوگوں کا جو مجھ سے پہلے تھےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے حق کو، پس وہ اعراض کرنے والے ہیں (24)اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول مگر وحی کرتے تھے ہم اس کی طرف (یہ بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود مگر میں ہی، سو تم عبادت کرو میری ہی (25) [21] اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اقتدار اور اپنی عظمت کا ذکر کرنے اور اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد کہ ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے، مشرکین پر نکیر کی جنھوں نے اللہ کے سوا زمین سے معبود بنا لیے ہیں جو انتہائی عاجز اور قدرت سے محروم ہیں ۔ ﴿ هُمۡ يُنۡشِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکیں گے؟‘‘ یہ استفہام نفی کے معنٰی میں ہے، یعنی وہ ان کے حشرونشر پر قادر نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتا ہے۔ ﴿وَاتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡـًٔؔا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَمۡلِكُوۡنَ لِاَنۡفُسِهِمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا وَّلَا يَمۡلِكُوۡنَ مَوۡتًا وَّلَا حَيٰؔوةً وَّلَا نُشُوۡرًؔا﴾(الفرقان:25؍3) ’’انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے خدا بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو خود پیدا كيے جاتے ہیں وہ خود اپنے لیے کسی نقصان کا اختیار رکھتے ہیں نہ نفع کا اور نہ وہ موت و حیات کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ جی اٹھنے کا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمۡ يُنۡصَرُوۡنَؕ۰۰لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَهُمۡ١ۙ وَهُمۡ لَهُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ ﴾(یٰسین:36؍74،75) ’’انھوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنائے ہیں شائد کہ ان کی طرف سے ان کی مدد کی جائے (حالانکہ) وہ ان کی مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ تو خود ان کے لشکری ہیں حاضر کیے ہوئے۔‘‘ [22] پس مشرک مخلوق کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو ترک کر دیتا ہے جو تمام کمالات کا مالک ہے اور تمام معاملات اور نفع و نقصان اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ یہ توفیق سے محرومی، اس کی بدقسمتی، اس کی جہالت کی فراوانی اور اس کے ظلم کی شدت ہے۔ یہ وجود کائنات صرف ایک ہی الٰہ کے لیے درست اور لائق ہے اور اس وجود کائنات میں صرف ایک ہی رب موجود ہے، اس لیے فرمایا ﴿ لَوۡ كَانَ فِيۡهِمَاۤ ﴾ اگر ہوتے زمین اور آسمان میں ﴿ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ﴾ ’’کئی معبود اللہ کے سوا تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے۔‘‘خود زمین و آسمان فساد کا شکار ہو جاتے اور زمین و آسمان میں موجود تمام مخلوق میں فساد برپا ہو جاتا۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی… جیسا کہ نظر آ رہا ہے بہترین اور کامل ترین انتظام کے تحت چل رہے ہیں جس میں کوئی خلل ہے نہ عیب، جس میں کوئی اختلاف ہے نہ معارضہ… پس کائنات کا یہ انتظام دلالت کرتا ہے کہ ان کی تدبیر کرنے والا، ان کا رب اور ان کا معبود ایک ہے۔ اگر اس کائنات کی تدبیر کرنے والے اور اس کے رب دو یا دو سے زیادہ ہوتے تو اس کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا اور اس کے تمام ارکان منہدم ہو جاتے کیونکہ دونوں معبود ایک دوسرے کے معارض ہوتے اور ایک دوسرے کے انتظام سے مزاحم ہوتے۔ جب ان دو خداؤں میں سے ایک خدا کسی چیز کی تدبیر کا ارادہ کرتا اور دوسرا اس کو معدوم کرنے کا ارادہ کرتا تو بیک وقت دونوں کی مراد کا وجود میں آنا محال ہوتا اور دونوں میں سے کسی ایک کی مراد کا پورا ہونا دوسرے کے عجز اور اس کے عدم اقتدار پر دلالت کرتا ہے اور تمام معاملات میں کسی ایک مراد پر دونوں کا متفق ہونا ناممکن ہے، تب یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ وہ غالب و قاہر ہستی جس اکیلی ہی کی مراد بغیر کسی مانع کے وجود میں آتی ہے، وہ اللہ واحد و قہار ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمانع کی دلیل یہ بیان فرمائی۔ ﴿مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ١ؕ سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ﴾(المومنون:23؍91) ’’ا للہ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ کوئی دوسرا معبود ہی اس کی خدائی میں اس کے ساتھ شریک ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق کو لے کر علیحدہ ہو جاتا اور غالب آنے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے۔ جن اوصاف سے تم اسے موصوف کر رہے ہو اللہ ان سے پاک ہے۔‘‘ اور ایک تفسیر کے مطابق درج ذیل آیت بھی اسی تمانع کی دلیل ہے۔ ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِي الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا۰۰سُبۡحٰؔنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّا كَبِيۡرًؔا ﴾(بنی اسرائیل:17؍42، 43) ’’کہہ دیجیے اگر اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں تو عرش کے مالک تک پہنچنے کے لیے کوئی راستہ ضرور تلاش کرتے، وہ پاک اور بلند و بالاہے ان باتوں سے جو یہ مشرکین کہہ رہے ہیں ۔‘‘ اسی لیے فرمایا:﴿فَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ایک اور منزہ ہے ہر نقص سے کیونکہ وہ اکیلا کمال کا مالک ہے ﴿ رَبِّ الۡعَرۡشِ ﴾ ’’رب ہے عرش کا۔‘‘ وہ عرش جو مخلوقات کی چھت، تمام مخلوقات سے زیادہ وسیع اور سب سے بڑا ہے، لہٰذا اس سے کمتر مخلوق کے لیے اس کا رب ہونا تو طریق اولیٰ کے باب سے ہے۔ ﴿ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی یہ منکرین حق اور کفار جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور بیوی ہے، کسی بھی لحاظ سے اس کا کوئی شریک ہے۔ان سب باتوں سے وہ پاک ہے۔ [23]﴿ لَا يُسۡـَٔلُ عَمَّا يَفۡعَلُ ﴾ ’’نہیں پوچھا جائے گا اس سے (اس کی بابت) جو وہ کرتا ہے۔‘‘ اس کی طاقت، اس کے غلبہ اور اس کی کامل قدرت کی بنا پر کوئی اس کے افعال میں ، قول یا فعل کے ذریعے، مزاحم نہیں ہو سکتا اس نے اپنی حکمت کاملہ کی بنا پر تمام اشیاء کو ان کے لائق مقامات پر رکھا ہے، ان کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا اور ہر چیز کو احسن طریقے سے بنایا، عقل جس کا اندازہ کر سکتی ہے۔ اس پر سوال وارد نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی تخلیق میں کوئی خلل اور نقص نہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ ﴾ یعنی تمام مخلوقات ﴿ يُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اپنے افعال و اقوال کے بارے میں جواب دہ ہیں کیونکہ وہ عاجز، محتاج اور غلام ہیں ۔ وہ خود اپنی ذات پر یا کسی دوسرے پر ذرہ بھر اختیار نہیں رکھتے۔ [24] پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کے احوال کی تحقیر کی طرف لوٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا بہت سے معبود بنا لیے ہیں ، لہٰذا ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہو! ﴿ اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ﴾ یعنی اپنے موقف کی صحت پر حجت اور دلیل لاؤ مگر وہ کبھی دلیل نہ لا سکیں گے بلکہ اس کے برعکس ان کے اس موقف کے بطلان پر قطعی دلائل دلالت کرتے ہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ هٰؔذَا ذِكۡرُ مَنۡ مَّعِيَ وَذِكۡرُ مَنۡ قَبۡلِيۡ ﴾یعنی تمام آسمانی کتابیں اور شریعتیں ، ابطال شرک کے بارے میں میرے موقف کی صحت پر متفق ہیں ۔ یہ اللہ کی کتاب ہے جس میں عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ ہر چیز کا ذکر موجود ہے اور یہ سابقہ تمام کتب ہیں ، یہ بھی میرے موقف پر واضح دلیل اور برہان ہیں اور چونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ ان کے موقف کے بطلان پر حجت و برہان قائم ہو گئی اس لیے صاف ظاہر ہو گیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں کیونکہ دلیل و برہان قطعی طور پر فیصلہ کر دیتی ہے کہ اس کا کوئی معارض نہیں ۔ اگر بظاہر کچھ معارضات موجود ہوں تو یہ محض شبہات ہیں جو حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آ سکتے۔﴿بَلۡ اَ كۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡحَقَّ ﴾ یعنی وہ اپنے اسلاف کی تقلید کی بنا پر اپنے باطل موقف پر قائم ہیں اور بغیر کسی علم اور ہدایت کے جھگڑا کرتے ہیں ۔ ان کا حق کے علم سے محروم ہونے کا باعث یہ نہیں کہ حق مخفی ہے بلکہ اس محرومی کا سبب ان کی حق سے روگردانی ہے۔ ورنہ اگر انھوں نے حق کی طرف ادنیٰ سا التفات بھی کیا ہوتا تو حق ان پر روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ [25] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے متقدمین کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ اس مسئلے کی توضیح و تبیین کے بارے میں ان کی طرف رجوع کیا جائے، اس لیے اس مسئلہ کو اپنے اس ارشاد مقدس میں مکمل طور پر واضح فرما دیا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ پس آپﷺ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت اور ان کی کتابوں کا لب لباب اور مقصد ِ وحید، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا حکم اور اس حقیقت کو کھول کر بیان کرنا ہے کہ صرف وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے۔
21:23

لَا يُسۡـَٔلُ عَمَّا يَفۡعَلُ وَهُمۡ يُسۡـَٔلُونَ

کیا بنا لیے ہیں انھوں نے معبود زمین میں سے کہ وہ زندہ کر دیں گے (مردوں کو)؟ (21) اگر ہوتے ان (آسمانوں و زمین) میں کئی معبود سوائے اللہ کے تو البتہ بگڑ جاتے وہ دونوں پس پاک ہے اللہ، جو رب ہے عرش کا، ان سے جو وہ بیان کرتے ہیں (22) نہیں پوچھا جاسکتا اس سے اس چیز کی بات جو وہ کرتا ہے، جبکہ وہ (لوگ) پوچھے جائیں گے(23) کیا بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اس کے اور معبود؟ کہہ دیجیے! لاؤ تم دلیل اپنی، یہ (توحید ہی) ذکر ہے ان لوگوں کا جو میرے ساتھ ہیں اور ذکر ہے ان لوگوں کا جو مجھ سے پہلے تھےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے حق کو، پس وہ اعراض کرنے والے ہیں (24)اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول مگر وحی کرتے تھے ہم اس کی طرف (یہ بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود مگر میں ہی، سو تم عبادت کرو میری ہی (25) [21] اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اقتدار اور اپنی عظمت کا ذکر کرنے اور اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد کہ ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے، مشرکین پر نکیر کی جنھوں نے اللہ کے سوا زمین سے معبود بنا لیے ہیں جو انتہائی عاجز اور قدرت سے محروم ہیں ۔ ﴿ هُمۡ يُنۡشِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکیں گے؟‘‘ یہ استفہام نفی کے معنٰی میں ہے، یعنی وہ ان کے حشرونشر پر قادر نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتا ہے۔ ﴿وَاتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡـًٔؔا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَمۡلِكُوۡنَ لِاَنۡفُسِهِمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا وَّلَا يَمۡلِكُوۡنَ مَوۡتًا وَّلَا حَيٰؔوةً وَّلَا نُشُوۡرًؔا﴾(الفرقان:25؍3) ’’انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے خدا بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو خود پیدا كيے جاتے ہیں وہ خود اپنے لیے کسی نقصان کا اختیار رکھتے ہیں نہ نفع کا اور نہ وہ موت و حیات کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ جی اٹھنے کا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمۡ يُنۡصَرُوۡنَؕ۰۰لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَهُمۡ١ۙ وَهُمۡ لَهُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ ﴾(یٰسین:36؍74،75) ’’انھوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنائے ہیں شائد کہ ان کی طرف سے ان کی مدد کی جائے (حالانکہ) وہ ان کی مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ تو خود ان کے لشکری ہیں حاضر کیے ہوئے۔‘‘ [22] پس مشرک مخلوق کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو ترک کر دیتا ہے جو تمام کمالات کا مالک ہے اور تمام معاملات اور نفع و نقصان اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ یہ توفیق سے محرومی، اس کی بدقسمتی، اس کی جہالت کی فراوانی اور اس کے ظلم کی شدت ہے۔ یہ وجود کائنات صرف ایک ہی الٰہ کے لیے درست اور لائق ہے اور اس وجود کائنات میں صرف ایک ہی رب موجود ہے، اس لیے فرمایا ﴿ لَوۡ كَانَ فِيۡهِمَاۤ ﴾ اگر ہوتے زمین اور آسمان میں ﴿ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ﴾ ’’کئی معبود اللہ کے سوا تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے۔‘‘خود زمین و آسمان فساد کا شکار ہو جاتے اور زمین و آسمان میں موجود تمام مخلوق میں فساد برپا ہو جاتا۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی… جیسا کہ نظر آ رہا ہے بہترین اور کامل ترین انتظام کے تحت چل رہے ہیں جس میں کوئی خلل ہے نہ عیب، جس میں کوئی اختلاف ہے نہ معارضہ… پس کائنات کا یہ انتظام دلالت کرتا ہے کہ ان کی تدبیر کرنے والا، ان کا رب اور ان کا معبود ایک ہے۔ اگر اس کائنات کی تدبیر کرنے والے اور اس کے رب دو یا دو سے زیادہ ہوتے تو اس کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا اور اس کے تمام ارکان منہدم ہو جاتے کیونکہ دونوں معبود ایک دوسرے کے معارض ہوتے اور ایک دوسرے کے انتظام سے مزاحم ہوتے۔ جب ان دو خداؤں میں سے ایک خدا کسی چیز کی تدبیر کا ارادہ کرتا اور دوسرا اس کو معدوم کرنے کا ارادہ کرتا تو بیک وقت دونوں کی مراد کا وجود میں آنا محال ہوتا اور دونوں میں سے کسی ایک کی مراد کا پورا ہونا دوسرے کے عجز اور اس کے عدم اقتدار پر دلالت کرتا ہے اور تمام معاملات میں کسی ایک مراد پر دونوں کا متفق ہونا ناممکن ہے، تب یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ وہ غالب و قاہر ہستی جس اکیلی ہی کی مراد بغیر کسی مانع کے وجود میں آتی ہے، وہ اللہ واحد و قہار ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمانع کی دلیل یہ بیان فرمائی۔ ﴿مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ١ؕ سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ﴾(المومنون:23؍91) ’’ا للہ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ کوئی دوسرا معبود ہی اس کی خدائی میں اس کے ساتھ شریک ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق کو لے کر علیحدہ ہو جاتا اور غالب آنے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے۔ جن اوصاف سے تم اسے موصوف کر رہے ہو اللہ ان سے پاک ہے۔‘‘ اور ایک تفسیر کے مطابق درج ذیل آیت بھی اسی تمانع کی دلیل ہے۔ ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِي الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا۰۰سُبۡحٰؔنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّا كَبِيۡرًؔا ﴾(بنی اسرائیل:17؍42، 43) ’’کہہ دیجیے اگر اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں تو عرش کے مالک تک پہنچنے کے لیے کوئی راستہ ضرور تلاش کرتے، وہ پاک اور بلند و بالاہے ان باتوں سے جو یہ مشرکین کہہ رہے ہیں ۔‘‘ اسی لیے فرمایا:﴿فَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ایک اور منزہ ہے ہر نقص سے کیونکہ وہ اکیلا کمال کا مالک ہے ﴿ رَبِّ الۡعَرۡشِ ﴾ ’’رب ہے عرش کا۔‘‘ وہ عرش جو مخلوقات کی چھت، تمام مخلوقات سے زیادہ وسیع اور سب سے بڑا ہے، لہٰذا اس سے کمتر مخلوق کے لیے اس کا رب ہونا تو طریق اولیٰ کے باب سے ہے۔ ﴿ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی یہ منکرین حق اور کفار جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور بیوی ہے، کسی بھی لحاظ سے اس کا کوئی شریک ہے۔ان سب باتوں سے وہ پاک ہے۔ [23]﴿ لَا يُسۡـَٔلُ عَمَّا يَفۡعَلُ ﴾ ’’نہیں پوچھا جائے گا اس سے (اس کی بابت) جو وہ کرتا ہے۔‘‘ اس کی طاقت، اس کے غلبہ اور اس کی کامل قدرت کی بنا پر کوئی اس کے افعال میں ، قول یا فعل کے ذریعے، مزاحم نہیں ہو سکتا اس نے اپنی حکمت کاملہ کی بنا پر تمام اشیاء کو ان کے لائق مقامات پر رکھا ہے، ان کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا اور ہر چیز کو احسن طریقے سے بنایا، عقل جس کا اندازہ کر سکتی ہے۔ اس پر سوال وارد نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی تخلیق میں کوئی خلل اور نقص نہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ ﴾ یعنی تمام مخلوقات ﴿ يُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اپنے افعال و اقوال کے بارے میں جواب دہ ہیں کیونکہ وہ عاجز، محتاج اور غلام ہیں ۔ وہ خود اپنی ذات پر یا کسی دوسرے پر ذرہ بھر اختیار نہیں رکھتے۔ [24] پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کے احوال کی تحقیر کی طرف لوٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا بہت سے معبود بنا لیے ہیں ، لہٰذا ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہو! ﴿ اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ﴾ یعنی اپنے موقف کی صحت پر حجت اور دلیل لاؤ مگر وہ کبھی دلیل نہ لا سکیں گے بلکہ اس کے برعکس ان کے اس موقف کے بطلان پر قطعی دلائل دلالت کرتے ہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ هٰؔذَا ذِكۡرُ مَنۡ مَّعِيَ وَذِكۡرُ مَنۡ قَبۡلِيۡ ﴾یعنی تمام آسمانی کتابیں اور شریعتیں ، ابطال شرک کے بارے میں میرے موقف کی صحت پر متفق ہیں ۔ یہ اللہ کی کتاب ہے جس میں عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ ہر چیز کا ذکر موجود ہے اور یہ سابقہ تمام کتب ہیں ، یہ بھی میرے موقف پر واضح دلیل اور برہان ہیں اور چونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ ان کے موقف کے بطلان پر حجت و برہان قائم ہو گئی اس لیے صاف ظاہر ہو گیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں کیونکہ دلیل و برہان قطعی طور پر فیصلہ کر دیتی ہے کہ اس کا کوئی معارض نہیں ۔ اگر بظاہر کچھ معارضات موجود ہوں تو یہ محض شبہات ہیں جو حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آ سکتے۔﴿بَلۡ اَ كۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡحَقَّ ﴾ یعنی وہ اپنے اسلاف کی تقلید کی بنا پر اپنے باطل موقف پر قائم ہیں اور بغیر کسی علم اور ہدایت کے جھگڑا کرتے ہیں ۔ ان کا حق کے علم سے محروم ہونے کا باعث یہ نہیں کہ حق مخفی ہے بلکہ اس محرومی کا سبب ان کی حق سے روگردانی ہے۔ ورنہ اگر انھوں نے حق کی طرف ادنیٰ سا التفات بھی کیا ہوتا تو حق ان پر روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ [25] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے متقدمین کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ اس مسئلے کی توضیح و تبیین کے بارے میں ان کی طرف رجوع کیا جائے، اس لیے اس مسئلہ کو اپنے اس ارشاد مقدس میں مکمل طور پر واضح فرما دیا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ پس آپﷺ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت اور ان کی کتابوں کا لب لباب اور مقصد ِ وحید، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا حکم اور اس حقیقت کو کھول کر بیان کرنا ہے کہ صرف وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے۔
21:24

أَمِ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةٗۖ قُلۡ هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡۖ هَٰذَا ذِكۡرُ مَن مَّعِيَ وَذِكۡرُ مَن قَبۡلِيۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٱلۡحَقَّۖ فَهُم مُّعۡرِضُونَ

کیا بنا لیے ہیں انھوں نے معبود زمین میں سے کہ وہ زندہ کر دیں گے (مردوں کو)؟ (21) اگر ہوتے ان (آسمانوں و زمین) میں کئی معبود سوائے اللہ کے تو البتہ بگڑ جاتے وہ دونوں پس پاک ہے اللہ، جو رب ہے عرش کا، ان سے جو وہ بیان کرتے ہیں (22) نہیں پوچھا جاسکتا اس سے اس چیز کی بات جو وہ کرتا ہے، جبکہ وہ (لوگ) پوچھے جائیں گے(23) کیا بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اس کے اور معبود؟ کہہ دیجیے! لاؤ تم دلیل اپنی، یہ (توحید ہی) ذکر ہے ان لوگوں کا جو میرے ساتھ ہیں اور ذکر ہے ان لوگوں کا جو مجھ سے پہلے تھےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے حق کو، پس وہ اعراض کرنے والے ہیں (24)اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول مگر وحی کرتے تھے ہم اس کی طرف (یہ بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود مگر میں ہی، سو تم عبادت کرو میری ہی (25) [21] اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اقتدار اور اپنی عظمت کا ذکر کرنے اور اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد کہ ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے، مشرکین پر نکیر کی جنھوں نے اللہ کے سوا زمین سے معبود بنا لیے ہیں جو انتہائی عاجز اور قدرت سے محروم ہیں ۔ ﴿ هُمۡ يُنۡشِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکیں گے؟‘‘ یہ استفہام نفی کے معنٰی میں ہے، یعنی وہ ان کے حشرونشر پر قادر نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتا ہے۔ ﴿وَاتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡـًٔؔا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَمۡلِكُوۡنَ لِاَنۡفُسِهِمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا وَّلَا يَمۡلِكُوۡنَ مَوۡتًا وَّلَا حَيٰؔوةً وَّلَا نُشُوۡرًؔا﴾(الفرقان:25؍3) ’’انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے خدا بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو خود پیدا كيے جاتے ہیں وہ خود اپنے لیے کسی نقصان کا اختیار رکھتے ہیں نہ نفع کا اور نہ وہ موت و حیات کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ جی اٹھنے کا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمۡ يُنۡصَرُوۡنَؕ۰۰لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَهُمۡ١ۙ وَهُمۡ لَهُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ ﴾(یٰسین:36؍74،75) ’’انھوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنائے ہیں شائد کہ ان کی طرف سے ان کی مدد کی جائے (حالانکہ) وہ ان کی مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ تو خود ان کے لشکری ہیں حاضر کیے ہوئے۔‘‘ [22] پس مشرک مخلوق کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو ترک کر دیتا ہے جو تمام کمالات کا مالک ہے اور تمام معاملات اور نفع و نقصان اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ یہ توفیق سے محرومی، اس کی بدقسمتی، اس کی جہالت کی فراوانی اور اس کے ظلم کی شدت ہے۔ یہ وجود کائنات صرف ایک ہی الٰہ کے لیے درست اور لائق ہے اور اس وجود کائنات میں صرف ایک ہی رب موجود ہے، اس لیے فرمایا ﴿ لَوۡ كَانَ فِيۡهِمَاۤ ﴾ اگر ہوتے زمین اور آسمان میں ﴿ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ﴾ ’’کئی معبود اللہ کے سوا تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے۔‘‘خود زمین و آسمان فساد کا شکار ہو جاتے اور زمین و آسمان میں موجود تمام مخلوق میں فساد برپا ہو جاتا۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی… جیسا کہ نظر آ رہا ہے بہترین اور کامل ترین انتظام کے تحت چل رہے ہیں جس میں کوئی خلل ہے نہ عیب، جس میں کوئی اختلاف ہے نہ معارضہ… پس کائنات کا یہ انتظام دلالت کرتا ہے کہ ان کی تدبیر کرنے والا، ان کا رب اور ان کا معبود ایک ہے۔ اگر اس کائنات کی تدبیر کرنے والے اور اس کے رب دو یا دو سے زیادہ ہوتے تو اس کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا اور اس کے تمام ارکان منہدم ہو جاتے کیونکہ دونوں معبود ایک دوسرے کے معارض ہوتے اور ایک دوسرے کے انتظام سے مزاحم ہوتے۔ جب ان دو خداؤں میں سے ایک خدا کسی چیز کی تدبیر کا ارادہ کرتا اور دوسرا اس کو معدوم کرنے کا ارادہ کرتا تو بیک وقت دونوں کی مراد کا وجود میں آنا محال ہوتا اور دونوں میں سے کسی ایک کی مراد کا پورا ہونا دوسرے کے عجز اور اس کے عدم اقتدار پر دلالت کرتا ہے اور تمام معاملات میں کسی ایک مراد پر دونوں کا متفق ہونا ناممکن ہے، تب یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ وہ غالب و قاہر ہستی جس اکیلی ہی کی مراد بغیر کسی مانع کے وجود میں آتی ہے، وہ اللہ واحد و قہار ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمانع کی دلیل یہ بیان فرمائی۔ ﴿مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ١ؕ سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ﴾(المومنون:23؍91) ’’ا للہ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ کوئی دوسرا معبود ہی اس کی خدائی میں اس کے ساتھ شریک ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق کو لے کر علیحدہ ہو جاتا اور غالب آنے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے۔ جن اوصاف سے تم اسے موصوف کر رہے ہو اللہ ان سے پاک ہے۔‘‘ اور ایک تفسیر کے مطابق درج ذیل آیت بھی اسی تمانع کی دلیل ہے۔ ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِي الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا۰۰سُبۡحٰؔنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّا كَبِيۡرًؔا ﴾(بنی اسرائیل:17؍42، 43) ’’کہہ دیجیے اگر اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں تو عرش کے مالک تک پہنچنے کے لیے کوئی راستہ ضرور تلاش کرتے، وہ پاک اور بلند و بالاہے ان باتوں سے جو یہ مشرکین کہہ رہے ہیں ۔‘‘ اسی لیے فرمایا:﴿فَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ایک اور منزہ ہے ہر نقص سے کیونکہ وہ اکیلا کمال کا مالک ہے ﴿ رَبِّ الۡعَرۡشِ ﴾ ’’رب ہے عرش کا۔‘‘ وہ عرش جو مخلوقات کی چھت، تمام مخلوقات سے زیادہ وسیع اور سب سے بڑا ہے، لہٰذا اس سے کمتر مخلوق کے لیے اس کا رب ہونا تو طریق اولیٰ کے باب سے ہے۔ ﴿ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی یہ منکرین حق اور کفار جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور بیوی ہے، کسی بھی لحاظ سے اس کا کوئی شریک ہے۔ان سب باتوں سے وہ پاک ہے۔ [23]﴿ لَا يُسۡـَٔلُ عَمَّا يَفۡعَلُ ﴾ ’’نہیں پوچھا جائے گا اس سے (اس کی بابت) جو وہ کرتا ہے۔‘‘ اس کی طاقت، اس کے غلبہ اور اس کی کامل قدرت کی بنا پر کوئی اس کے افعال میں ، قول یا فعل کے ذریعے، مزاحم نہیں ہو سکتا اس نے اپنی حکمت کاملہ کی بنا پر تمام اشیاء کو ان کے لائق مقامات پر رکھا ہے، ان کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا اور ہر چیز کو احسن طریقے سے بنایا، عقل جس کا اندازہ کر سکتی ہے۔ اس پر سوال وارد نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی تخلیق میں کوئی خلل اور نقص نہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ ﴾ یعنی تمام مخلوقات ﴿ يُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اپنے افعال و اقوال کے بارے میں جواب دہ ہیں کیونکہ وہ عاجز، محتاج اور غلام ہیں ۔ وہ خود اپنی ذات پر یا کسی دوسرے پر ذرہ بھر اختیار نہیں رکھتے۔ [24] پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کے احوال کی تحقیر کی طرف لوٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا بہت سے معبود بنا لیے ہیں ، لہٰذا ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہو! ﴿ اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ﴾ یعنی اپنے موقف کی صحت پر حجت اور دلیل لاؤ مگر وہ کبھی دلیل نہ لا سکیں گے بلکہ اس کے برعکس ان کے اس موقف کے بطلان پر قطعی دلائل دلالت کرتے ہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ هٰؔذَا ذِكۡرُ مَنۡ مَّعِيَ وَذِكۡرُ مَنۡ قَبۡلِيۡ ﴾یعنی تمام آسمانی کتابیں اور شریعتیں ، ابطال شرک کے بارے میں میرے موقف کی صحت پر متفق ہیں ۔ یہ اللہ کی کتاب ہے جس میں عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ ہر چیز کا ذکر موجود ہے اور یہ سابقہ تمام کتب ہیں ، یہ بھی میرے موقف پر واضح دلیل اور برہان ہیں اور چونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ ان کے موقف کے بطلان پر حجت و برہان قائم ہو گئی اس لیے صاف ظاہر ہو گیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں کیونکہ دلیل و برہان قطعی طور پر فیصلہ کر دیتی ہے کہ اس کا کوئی معارض نہیں ۔ اگر بظاہر کچھ معارضات موجود ہوں تو یہ محض شبہات ہیں جو حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آ سکتے۔﴿بَلۡ اَ كۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡحَقَّ ﴾ یعنی وہ اپنے اسلاف کی تقلید کی بنا پر اپنے باطل موقف پر قائم ہیں اور بغیر کسی علم اور ہدایت کے جھگڑا کرتے ہیں ۔ ان کا حق کے علم سے محروم ہونے کا باعث یہ نہیں کہ حق مخفی ہے بلکہ اس محرومی کا سبب ان کی حق سے روگردانی ہے۔ ورنہ اگر انھوں نے حق کی طرف ادنیٰ سا التفات بھی کیا ہوتا تو حق ان پر روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ [25] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے متقدمین کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ اس مسئلے کی توضیح و تبیین کے بارے میں ان کی طرف رجوع کیا جائے، اس لیے اس مسئلہ کو اپنے اس ارشاد مقدس میں مکمل طور پر واضح فرما دیا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ پس آپﷺ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت اور ان کی کتابوں کا لب لباب اور مقصد ِ وحید، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا حکم اور اس حقیقت کو کھول کر بیان کرنا ہے کہ صرف وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے۔
21:25

وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِيٓ إِلَيۡهِ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعۡبُدُونِ

کیا بنا لیے ہیں انھوں نے معبود زمین میں سے کہ وہ زندہ کر دیں گے (مردوں کو)؟ (21) اگر ہوتے ان (آسمانوں و زمین) میں کئی معبود سوائے اللہ کے تو البتہ بگڑ جاتے وہ دونوں پس پاک ہے اللہ، جو رب ہے عرش کا، ان سے جو وہ بیان کرتے ہیں (22) نہیں پوچھا جاسکتا اس سے اس چیز کی بات جو وہ کرتا ہے، جبکہ وہ (لوگ) پوچھے جائیں گے(23) کیا بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اس کے اور معبود؟ کہہ دیجیے! لاؤ تم دلیل اپنی، یہ (توحید ہی) ذکر ہے ان لوگوں کا جو میرے ساتھ ہیں اور ذکر ہے ان لوگوں کا جو مجھ سے پہلے تھےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے حق کو، پس وہ اعراض کرنے والے ہیں (24)اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول مگر وحی کرتے تھے ہم اس کی طرف (یہ بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود مگر میں ہی، سو تم عبادت کرو میری ہی (25) [21] اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اقتدار اور اپنی عظمت کا ذکر کرنے اور اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد کہ ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے، مشرکین پر نکیر کی جنھوں نے اللہ کے سوا زمین سے معبود بنا لیے ہیں جو انتہائی عاجز اور قدرت سے محروم ہیں ۔ ﴿ هُمۡ يُنۡشِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکیں گے؟‘‘ یہ استفہام نفی کے معنٰی میں ہے، یعنی وہ ان کے حشرونشر پر قادر نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتا ہے۔ ﴿وَاتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡـًٔؔا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَمۡلِكُوۡنَ لِاَنۡفُسِهِمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا وَّلَا يَمۡلِكُوۡنَ مَوۡتًا وَّلَا حَيٰؔوةً وَّلَا نُشُوۡرًؔا﴾(الفرقان:25؍3) ’’انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے خدا بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو خود پیدا كيے جاتے ہیں وہ خود اپنے لیے کسی نقصان کا اختیار رکھتے ہیں نہ نفع کا اور نہ وہ موت و حیات کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ جی اٹھنے کا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمۡ يُنۡصَرُوۡنَؕ۰۰لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَهُمۡ١ۙ وَهُمۡ لَهُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ ﴾(یٰسین:36؍74،75) ’’انھوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنائے ہیں شائد کہ ان کی طرف سے ان کی مدد کی جائے (حالانکہ) وہ ان کی مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ تو خود ان کے لشکری ہیں حاضر کیے ہوئے۔‘‘ [22] پس مشرک مخلوق کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو ترک کر دیتا ہے جو تمام کمالات کا مالک ہے اور تمام معاملات اور نفع و نقصان اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ یہ توفیق سے محرومی، اس کی بدقسمتی، اس کی جہالت کی فراوانی اور اس کے ظلم کی شدت ہے۔ یہ وجود کائنات صرف ایک ہی الٰہ کے لیے درست اور لائق ہے اور اس وجود کائنات میں صرف ایک ہی رب موجود ہے، اس لیے فرمایا ﴿ لَوۡ كَانَ فِيۡهِمَاۤ ﴾ اگر ہوتے زمین اور آسمان میں ﴿ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ﴾ ’’کئی معبود اللہ کے سوا تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے۔‘‘خود زمین و آسمان فساد کا شکار ہو جاتے اور زمین و آسمان میں موجود تمام مخلوق میں فساد برپا ہو جاتا۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی… جیسا کہ نظر آ رہا ہے بہترین اور کامل ترین انتظام کے تحت چل رہے ہیں جس میں کوئی خلل ہے نہ عیب، جس میں کوئی اختلاف ہے نہ معارضہ… پس کائنات کا یہ انتظام دلالت کرتا ہے کہ ان کی تدبیر کرنے والا، ان کا رب اور ان کا معبود ایک ہے۔ اگر اس کائنات کی تدبیر کرنے والے اور اس کے رب دو یا دو سے زیادہ ہوتے تو اس کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا اور اس کے تمام ارکان منہدم ہو جاتے کیونکہ دونوں معبود ایک دوسرے کے معارض ہوتے اور ایک دوسرے کے انتظام سے مزاحم ہوتے۔ جب ان دو خداؤں میں سے ایک خدا کسی چیز کی تدبیر کا ارادہ کرتا اور دوسرا اس کو معدوم کرنے کا ارادہ کرتا تو بیک وقت دونوں کی مراد کا وجود میں آنا محال ہوتا اور دونوں میں سے کسی ایک کی مراد کا پورا ہونا دوسرے کے عجز اور اس کے عدم اقتدار پر دلالت کرتا ہے اور تمام معاملات میں کسی ایک مراد پر دونوں کا متفق ہونا ناممکن ہے، تب یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ وہ غالب و قاہر ہستی جس اکیلی ہی کی مراد بغیر کسی مانع کے وجود میں آتی ہے، وہ اللہ واحد و قہار ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمانع کی دلیل یہ بیان فرمائی۔ ﴿مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ١ؕ سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ﴾(المومنون:23؍91) ’’ا للہ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ کوئی دوسرا معبود ہی اس کی خدائی میں اس کے ساتھ شریک ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق کو لے کر علیحدہ ہو جاتا اور غالب آنے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے۔ جن اوصاف سے تم اسے موصوف کر رہے ہو اللہ ان سے پاک ہے۔‘‘ اور ایک تفسیر کے مطابق درج ذیل آیت بھی اسی تمانع کی دلیل ہے۔ ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِي الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا۰۰سُبۡحٰؔنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّا كَبِيۡرًؔا ﴾(بنی اسرائیل:17؍42، 43) ’’کہہ دیجیے اگر اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں تو عرش کے مالک تک پہنچنے کے لیے کوئی راستہ ضرور تلاش کرتے، وہ پاک اور بلند و بالاہے ان باتوں سے جو یہ مشرکین کہہ رہے ہیں ۔‘‘ اسی لیے فرمایا:﴿فَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ایک اور منزہ ہے ہر نقص سے کیونکہ وہ اکیلا کمال کا مالک ہے ﴿ رَبِّ الۡعَرۡشِ ﴾ ’’رب ہے عرش کا۔‘‘ وہ عرش جو مخلوقات کی چھت، تمام مخلوقات سے زیادہ وسیع اور سب سے بڑا ہے، لہٰذا اس سے کمتر مخلوق کے لیے اس کا رب ہونا تو طریق اولیٰ کے باب سے ہے۔ ﴿ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی یہ منکرین حق اور کفار جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور بیوی ہے، کسی بھی لحاظ سے اس کا کوئی شریک ہے۔ان سب باتوں سے وہ پاک ہے۔ [23]﴿ لَا يُسۡـَٔلُ عَمَّا يَفۡعَلُ ﴾ ’’نہیں پوچھا جائے گا اس سے (اس کی بابت) جو وہ کرتا ہے۔‘‘ اس کی طاقت، اس کے غلبہ اور اس کی کامل قدرت کی بنا پر کوئی اس کے افعال میں ، قول یا فعل کے ذریعے، مزاحم نہیں ہو سکتا اس نے اپنی حکمت کاملہ کی بنا پر تمام اشیاء کو ان کے لائق مقامات پر رکھا ہے، ان کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا اور ہر چیز کو احسن طریقے سے بنایا، عقل جس کا اندازہ کر سکتی ہے۔ اس پر سوال وارد نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی تخلیق میں کوئی خلل اور نقص نہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ ﴾ یعنی تمام مخلوقات ﴿ يُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اپنے افعال و اقوال کے بارے میں جواب دہ ہیں کیونکہ وہ عاجز، محتاج اور غلام ہیں ۔ وہ خود اپنی ذات پر یا کسی دوسرے پر ذرہ بھر اختیار نہیں رکھتے۔ [24] پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کے احوال کی تحقیر کی طرف لوٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا بہت سے معبود بنا لیے ہیں ، لہٰذا ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہو! ﴿ اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ﴾ یعنی اپنے موقف کی صحت پر حجت اور دلیل لاؤ مگر وہ کبھی دلیل نہ لا سکیں گے بلکہ اس کے برعکس ان کے اس موقف کے بطلان پر قطعی دلائل دلالت کرتے ہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ هٰؔذَا ذِكۡرُ مَنۡ مَّعِيَ وَذِكۡرُ مَنۡ قَبۡلِيۡ ﴾یعنی تمام آسمانی کتابیں اور شریعتیں ، ابطال شرک کے بارے میں میرے موقف کی صحت پر متفق ہیں ۔ یہ اللہ کی کتاب ہے جس میں عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ ہر چیز کا ذکر موجود ہے اور یہ سابقہ تمام کتب ہیں ، یہ بھی میرے موقف پر واضح دلیل اور برہان ہیں اور چونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ ان کے موقف کے بطلان پر حجت و برہان قائم ہو گئی اس لیے صاف ظاہر ہو گیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں کیونکہ دلیل و برہان قطعی طور پر فیصلہ کر دیتی ہے کہ اس کا کوئی معارض نہیں ۔ اگر بظاہر کچھ معارضات موجود ہوں تو یہ محض شبہات ہیں جو حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آ سکتے۔﴿بَلۡ اَ كۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡحَقَّ ﴾ یعنی وہ اپنے اسلاف کی تقلید کی بنا پر اپنے باطل موقف پر قائم ہیں اور بغیر کسی علم اور ہدایت کے جھگڑا کرتے ہیں ۔ ان کا حق کے علم سے محروم ہونے کا باعث یہ نہیں کہ حق مخفی ہے بلکہ اس محرومی کا سبب ان کی حق سے روگردانی ہے۔ ورنہ اگر انھوں نے حق کی طرف ادنیٰ سا التفات بھی کیا ہوتا تو حق ان پر روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ [25] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے متقدمین کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ اس مسئلے کی توضیح و تبیین کے بارے میں ان کی طرف رجوع کیا جائے، اس لیے اس مسئلہ کو اپنے اس ارشاد مقدس میں مکمل طور پر واضح فرما دیا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ پس آپﷺ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت اور ان کی کتابوں کا لب لباب اور مقصد ِ وحید، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا حکم اور اس حقیقت کو کھول کر بیان کرنا ہے کہ صرف وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے۔
21:26

وَقَالُواْ ٱتَّخَذَ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَلَدٗاۗ سُبۡحَٰنَهُۥۚ بَلۡ عِبَادٞ مُّكۡرَمُونَ

اور انھوں نے کہا، بنائی ہے رحمن نے اولاد، پاک ہے وہ بلکہ وہ (فرشتے) تو (اس کے) بندے ہیں معزز (26) نہیں سبقت کرتے وہ اس (اللہ) سے بات (کرنے) میں اور وہ اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں (27) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور وہ (فرشتے) نہیں سفارش کریں گے مگر واسطے اسی شخص کے (جس کے لیے) اللہ پسند کرے گااور وہ اس کے خوف سے ڈرنے والے ہیں (28) اور جو کوئی بھی کہے ان میں سے کہ بے شک میں معبود ہوں سوائے اس (اللہ) کے تو وہ شخص، سزا دیں گے ہم اسے جہنم کی، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (29) [26] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول (ﷺ) کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی سفاہت اور ان کے زعم باطل کے بارے میں خبر دیتا ہے… ان کا برا ہو… کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا بیٹا بنایا ہے اور وہ ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس ہرزہ سرائی سے بلندوبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اوصاف کے متعلق آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے مرہون بندے اور اس کے دست تدبیر کے تحت مجبور ہیں اور انھیں کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں لائق تکریم ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی رحمت اور کرامت کے مستحق بندوں میں شامل کیا ہے، انھیں رذائل سے پاک اور بے شمار فضائل سے مختص فرمایا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی باادب اور اس کے احکامات کی تعمیل کرنے والے ہیں ۔ [27]﴿لَا يَسۡبِقُوۡنَهٗ بِالۡقَوۡلِ ﴾ تدبیر مملکت کے متعلق اس وقت تک کوئی بات نہیں کرتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ارشاد نہ فرمائے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کامل طور پرمؤدب اور اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت سے پوری طرح آگاہ ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ بِاَمۡرِهٖ يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ وہ انھیں جو بھی حکم دیتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں اور جس کام پر انھیں لگاتا ہے وہ اسے سرانجام دیتے ہیں ۔ وہ لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں نہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو نظر انداز کر کے اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگتے ہیں۔ [28] اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ﴿ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ماضی اور مستقبل کے تمام معاملات کا علم رکھتا ہے، وہ اس کے احاطۂ علم سے اسی طرح باہر نہیں نکل سکتے جیسے وہ اس کے دائرۂ امروتدبیر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ ان کے اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی بات میں اللہ تعالیٰ سے سبقت نہیں کر سکتے اور نہ اس کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر کسی کی سفارش کر سکتے ہیں ، اس لیے جب االلہ تعالیٰ ان کو اجازت دیتا ہے اور جس کے بارے میں وہ سفارش کرنا چاہتے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، تب وہ سفارش کرتے ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ صرف اسی قول و عمل سے راضی ہوتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے اور رسول (ﷺ) کی اتباع میں کیا گیا ہو… یہ آیت کریمہ شفاعت کے اثبات پر دلالت کرتی ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے شفاعت کریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ مِّنۡ خَشۡيَتِهٖ مُشۡفِقُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے غلبہ و جمال کے سامنے سرافگندہ ہیں ۔ [29] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ الوہیت میں ان (فرشتوں ) کا کوئی حق نہیں اور نہ وہ عبودیت ہی کا کوئی استحقاق رکھتے ہیں کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہیں جو عدم استحقاق کا تقاضا کرتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ذکر فرمایا دیا کہ الوہیت میں ان کا کوئی حصہ بھی نہیں اور نہ مجرد دعویٰ سے الوہیت کا استحقاق ہی ثابت ہوتا ہے اور ان میں سے جو کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ﴿ اِنِّيۡۤ اِلٰهٌ مِّنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں ‘‘ یعنی فرض کیا اگر ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے ﴿ فَذٰلِكَ نَجۡزِيۡهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے، اسی طرح ہم ظالموں کو جزاء دیتے ہیں۔‘‘ اور اس سے بڑا اور کونسا ظلم ہو سکتا ہے کہ ایک ناقص مخلوق جو ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے، خصائص الوہیت و ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کی شریک ہونے کا دعویٰ کرے؟
21:27

لَا يَسۡبِقُونَهُۥ بِٱلۡقَوۡلِ وَهُم بِأَمۡرِهِۦ يَعۡمَلُونَ

اور انھوں نے کہا، بنائی ہے رحمن نے اولاد، پاک ہے وہ بلکہ وہ (فرشتے) تو (اس کے) بندے ہیں معزز (26) نہیں سبقت کرتے وہ اس (اللہ) سے بات (کرنے) میں اور وہ اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں (27) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور وہ (فرشتے) نہیں سفارش کریں گے مگر واسطے اسی شخص کے (جس کے لیے) اللہ پسند کرے گااور وہ اس کے خوف سے ڈرنے والے ہیں (28) اور جو کوئی بھی کہے ان میں سے کہ بے شک میں معبود ہوں سوائے اس (اللہ) کے تو وہ شخص، سزا دیں گے ہم اسے جہنم کی، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (29) [26] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول (ﷺ) کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی سفاہت اور ان کے زعم باطل کے بارے میں خبر دیتا ہے… ان کا برا ہو… کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا بیٹا بنایا ہے اور وہ ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس ہرزہ سرائی سے بلندوبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اوصاف کے متعلق آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے مرہون بندے اور اس کے دست تدبیر کے تحت مجبور ہیں اور انھیں کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں لائق تکریم ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی رحمت اور کرامت کے مستحق بندوں میں شامل کیا ہے، انھیں رذائل سے پاک اور بے شمار فضائل سے مختص فرمایا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی باادب اور اس کے احکامات کی تعمیل کرنے والے ہیں ۔ [27]﴿لَا يَسۡبِقُوۡنَهٗ بِالۡقَوۡلِ ﴾ تدبیر مملکت کے متعلق اس وقت تک کوئی بات نہیں کرتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ارشاد نہ فرمائے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کامل طور پرمؤدب اور اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت سے پوری طرح آگاہ ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ بِاَمۡرِهٖ يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ وہ انھیں جو بھی حکم دیتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں اور جس کام پر انھیں لگاتا ہے وہ اسے سرانجام دیتے ہیں ۔ وہ لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں نہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو نظر انداز کر کے اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگتے ہیں۔ [28] اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ﴿ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ماضی اور مستقبل کے تمام معاملات کا علم رکھتا ہے، وہ اس کے احاطۂ علم سے اسی طرح باہر نہیں نکل سکتے جیسے وہ اس کے دائرۂ امروتدبیر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ ان کے اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی بات میں اللہ تعالیٰ سے سبقت نہیں کر سکتے اور نہ اس کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر کسی کی سفارش کر سکتے ہیں ، اس لیے جب االلہ تعالیٰ ان کو اجازت دیتا ہے اور جس کے بارے میں وہ سفارش کرنا چاہتے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، تب وہ سفارش کرتے ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ صرف اسی قول و عمل سے راضی ہوتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے اور رسول (ﷺ) کی اتباع میں کیا گیا ہو… یہ آیت کریمہ شفاعت کے اثبات پر دلالت کرتی ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے شفاعت کریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ مِّنۡ خَشۡيَتِهٖ مُشۡفِقُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے غلبہ و جمال کے سامنے سرافگندہ ہیں ۔ [29] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ الوہیت میں ان (فرشتوں ) کا کوئی حق نہیں اور نہ وہ عبودیت ہی کا کوئی استحقاق رکھتے ہیں کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہیں جو عدم استحقاق کا تقاضا کرتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ذکر فرمایا دیا کہ الوہیت میں ان کا کوئی حصہ بھی نہیں اور نہ مجرد دعویٰ سے الوہیت کا استحقاق ہی ثابت ہوتا ہے اور ان میں سے جو کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ﴿ اِنِّيۡۤ اِلٰهٌ مِّنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں ‘‘ یعنی فرض کیا اگر ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے ﴿ فَذٰلِكَ نَجۡزِيۡهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے، اسی طرح ہم ظالموں کو جزاء دیتے ہیں۔‘‘ اور اس سے بڑا اور کونسا ظلم ہو سکتا ہے کہ ایک ناقص مخلوق جو ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے، خصائص الوہیت و ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کی شریک ہونے کا دعویٰ کرے؟
21:28

يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ وَلَا يَشۡفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ٱرۡتَضَىٰ وَهُم مِّنۡ خَشۡيَتِهِۦ مُشۡفِقُونَ

اور انھوں نے کہا، بنائی ہے رحمن نے اولاد، پاک ہے وہ بلکہ وہ (فرشتے) تو (اس کے) بندے ہیں معزز (26) نہیں سبقت کرتے وہ اس (اللہ) سے بات (کرنے) میں اور وہ اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں (27) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور وہ (فرشتے) نہیں سفارش کریں گے مگر واسطے اسی شخص کے (جس کے لیے) اللہ پسند کرے گااور وہ اس کے خوف سے ڈرنے والے ہیں (28) اور جو کوئی بھی کہے ان میں سے کہ بے شک میں معبود ہوں سوائے اس (اللہ) کے تو وہ شخص، سزا دیں گے ہم اسے جہنم کی، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (29) [26] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول (ﷺ) کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی سفاہت اور ان کے زعم باطل کے بارے میں خبر دیتا ہے… ان کا برا ہو… کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا بیٹا بنایا ہے اور وہ ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس ہرزہ سرائی سے بلندوبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اوصاف کے متعلق آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے مرہون بندے اور اس کے دست تدبیر کے تحت مجبور ہیں اور انھیں کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں لائق تکریم ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی رحمت اور کرامت کے مستحق بندوں میں شامل کیا ہے، انھیں رذائل سے پاک اور بے شمار فضائل سے مختص فرمایا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی باادب اور اس کے احکامات کی تعمیل کرنے والے ہیں ۔ [27]﴿لَا يَسۡبِقُوۡنَهٗ بِالۡقَوۡلِ ﴾ تدبیر مملکت کے متعلق اس وقت تک کوئی بات نہیں کرتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ارشاد نہ فرمائے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کامل طور پرمؤدب اور اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت سے پوری طرح آگاہ ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ بِاَمۡرِهٖ يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ وہ انھیں جو بھی حکم دیتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں اور جس کام پر انھیں لگاتا ہے وہ اسے سرانجام دیتے ہیں ۔ وہ لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں نہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو نظر انداز کر کے اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگتے ہیں۔ [28] اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ﴿ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ماضی اور مستقبل کے تمام معاملات کا علم رکھتا ہے، وہ اس کے احاطۂ علم سے اسی طرح باہر نہیں نکل سکتے جیسے وہ اس کے دائرۂ امروتدبیر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ ان کے اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی بات میں اللہ تعالیٰ سے سبقت نہیں کر سکتے اور نہ اس کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر کسی کی سفارش کر سکتے ہیں ، اس لیے جب االلہ تعالیٰ ان کو اجازت دیتا ہے اور جس کے بارے میں وہ سفارش کرنا چاہتے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، تب وہ سفارش کرتے ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ صرف اسی قول و عمل سے راضی ہوتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے اور رسول (ﷺ) کی اتباع میں کیا گیا ہو… یہ آیت کریمہ شفاعت کے اثبات پر دلالت کرتی ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے شفاعت کریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ مِّنۡ خَشۡيَتِهٖ مُشۡفِقُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے غلبہ و جمال کے سامنے سرافگندہ ہیں ۔ [29] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ الوہیت میں ان (فرشتوں ) کا کوئی حق نہیں اور نہ وہ عبودیت ہی کا کوئی استحقاق رکھتے ہیں کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہیں جو عدم استحقاق کا تقاضا کرتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ذکر فرمایا دیا کہ الوہیت میں ان کا کوئی حصہ بھی نہیں اور نہ مجرد دعویٰ سے الوہیت کا استحقاق ہی ثابت ہوتا ہے اور ان میں سے جو کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ﴿ اِنِّيۡۤ اِلٰهٌ مِّنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں ‘‘ یعنی فرض کیا اگر ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے ﴿ فَذٰلِكَ نَجۡزِيۡهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے، اسی طرح ہم ظالموں کو جزاء دیتے ہیں۔‘‘ اور اس سے بڑا اور کونسا ظلم ہو سکتا ہے کہ ایک ناقص مخلوق جو ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے، خصائص الوہیت و ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کی شریک ہونے کا دعویٰ کرے؟
21:29

۞وَمَن يَقُلۡ مِنۡهُمۡ إِنِّيٓ إِلَٰهٞ مِّن دُونِهِۦ فَذَٰلِكَ نَجۡزِيهِ جَهَنَّمَۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلظَّـٰلِمِينَ

اور انھوں نے کہا، بنائی ہے رحمن نے اولاد، پاک ہے وہ بلکہ وہ (فرشتے) تو (اس کے) بندے ہیں معزز (26) نہیں سبقت کرتے وہ اس (اللہ) سے بات (کرنے) میں اور وہ اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں (27) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور وہ (فرشتے) نہیں سفارش کریں گے مگر واسطے اسی شخص کے (جس کے لیے) اللہ پسند کرے گااور وہ اس کے خوف سے ڈرنے والے ہیں (28) اور جو کوئی بھی کہے ان میں سے کہ بے شک میں معبود ہوں سوائے اس (اللہ) کے تو وہ شخص، سزا دیں گے ہم اسے جہنم کی، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (29) [26] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول (ﷺ) کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی سفاہت اور ان کے زعم باطل کے بارے میں خبر دیتا ہے… ان کا برا ہو… کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا بیٹا بنایا ہے اور وہ ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس ہرزہ سرائی سے بلندوبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اوصاف کے متعلق آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے مرہون بندے اور اس کے دست تدبیر کے تحت مجبور ہیں اور انھیں کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں لائق تکریم ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی رحمت اور کرامت کے مستحق بندوں میں شامل کیا ہے، انھیں رذائل سے پاک اور بے شمار فضائل سے مختص فرمایا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی باادب اور اس کے احکامات کی تعمیل کرنے والے ہیں ۔ [27]﴿لَا يَسۡبِقُوۡنَهٗ بِالۡقَوۡلِ ﴾ تدبیر مملکت کے متعلق اس وقت تک کوئی بات نہیں کرتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ارشاد نہ فرمائے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کامل طور پرمؤدب اور اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت سے پوری طرح آگاہ ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ بِاَمۡرِهٖ يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ وہ انھیں جو بھی حکم دیتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں اور جس کام پر انھیں لگاتا ہے وہ اسے سرانجام دیتے ہیں ۔ وہ لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں نہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو نظر انداز کر کے اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگتے ہیں۔ [28] اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ﴿ يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ماضی اور مستقبل کے تمام معاملات کا علم رکھتا ہے، وہ اس کے احاطۂ علم سے اسی طرح باہر نہیں نکل سکتے جیسے وہ اس کے دائرۂ امروتدبیر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ ان کے اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی بات میں اللہ تعالیٰ سے سبقت نہیں کر سکتے اور نہ اس کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر کسی کی سفارش کر سکتے ہیں ، اس لیے جب االلہ تعالیٰ ان کو اجازت دیتا ہے اور جس کے بارے میں وہ سفارش کرنا چاہتے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، تب وہ سفارش کرتے ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ صرف اسی قول و عمل سے راضی ہوتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے اور رسول (ﷺ) کی اتباع میں کیا گیا ہو… یہ آیت کریمہ شفاعت کے اثبات پر دلالت کرتی ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے شفاعت کریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ مِّنۡ خَشۡيَتِهٖ مُشۡفِقُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے غلبہ و جمال کے سامنے سرافگندہ ہیں ۔ [29] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ الوہیت میں ان (فرشتوں ) کا کوئی حق نہیں اور نہ وہ عبودیت ہی کا کوئی استحقاق رکھتے ہیں کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہیں جو عدم استحقاق کا تقاضا کرتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ذکر فرمایا دیا کہ الوہیت میں ان کا کوئی حصہ بھی نہیں اور نہ مجرد دعویٰ سے الوہیت کا استحقاق ہی ثابت ہوتا ہے اور ان میں سے جو کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ﴿ اِنِّيۡۤ اِلٰهٌ مِّنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں ‘‘ یعنی فرض کیا اگر ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے ﴿ فَذٰلِكَ نَجۡزِيۡهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے، اسی طرح ہم ظالموں کو جزاء دیتے ہیں۔‘‘ اور اس سے بڑا اور کونسا ظلم ہو سکتا ہے کہ ایک ناقص مخلوق جو ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے، خصائص الوہیت و ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کی شریک ہونے کا دعویٰ کرے؟
21:30

أَوَلَمۡ يَرَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَنَّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ كَانَتَا رَتۡقٗا فَفَتَقۡنَٰهُمَاۖ وَجَعَلۡنَا مِنَ ٱلۡمَآءِ كُلَّ شَيۡءٍ حَيٍّۚ أَفَلَا يُؤۡمِنُونَ

کیا نہیں دیکھا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، کہ بلاشبہ آسمان اور زمین تھے باہم ملے ہوئے؟ پھر الگ الگ کیا ہم نے ان دونوں کو اور بنائی ہم نے پانی سے ہر چیز جاندار کیا پس نہیں ایمان لاتے وہ؟ (30) [30] کیا ان لوگوں نے… جنھوں نے اپنے رب سے کفر کیا اور عبودیت کو اس کے لیے خالص کرنے سے انکار کیا… ان نشانیوں کو نہیں دیکھا جو عیاں طور پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی رب محمود و کریم اور معبود ہے۔ وہ زمین و آسمان کا مشاہدہ کرتے ہیں وہ ان کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا پاتے ہیں ، آسمان میں کوئی بادل ہوتا ہے نہ بارش، زمین مردہ اور بنجر دکھائی دیتی ہے، بے آب و گیاہ، پھر ہم دونوں کو جدا کر دیتے ہیں ، آسمان کو پانی کے ذریعے سے اور زمین کو نباتات کے ذریعے سے۔ کیا وہ ہستی جو آسمان پر بادل وجود میں لائی تھی جبکہ آسمان بالکل صاف تھا کہیں بادل کا ٹکڑا نظر نہیں آتا تھا، پھر اس نے اس میں بہت سا پانی ودیعت کیا، پھر وہ ہستی اس بادل کو ایک ایسی مردہ زمین پر لے گئی جہاں پانی کی نایابی کی وجہ سے اس کے کناروں تک خاک اڑتی تھی۔ پس اس نے اس مردہ زمین میں بارش برسائی اور وہ لہلہا اٹھی، حرکت کرنے اور بڑھنے لگی اور اس نے مختلف انواع اور متعدد فوائد کی خوشنما نباتات اگائی۔ کیا یہ سب کچھ اس بات کی دلیل نہیں کہ صرف وہی حق ہے اور اس کے سوا سب باطل ہے، وہی مردوں کو زندہ کرے گا، وہی رحمن و رحیم ہے؟ اس لیے فرمایا ﴿ اَفَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ یعنی کیا وہ صحیح طور پر ایمان نہیں لاتے جس میں کوئی شک ہو نہ شرک۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دلائل آفاقی شمار کرتے ہوئے فرمایا:
21:31

وَجَعَلۡنَا فِي ٱلۡأَرۡضِ رَوَٰسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمۡ وَجَعَلۡنَا فِيهَا فِجَاجٗا سُبُلٗا لَّعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُونَ

اور بنائے ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑتاکہ (نہ) جھک پڑے وہ (کسی ایک طرف) انھیں لے کر اور بنائے ہم نے اس میں کشادہ راستے تاکہ وہ (لوگ) راہ پائیں (31) اور بنایا ہم نے آسمان کو چھت محفوظ اور وہ اس (آسمان) کی نشانیوں سے اعراض کرنے والے ہیں (32) اور وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیے رات اور دن اور سورج اورچاند، سب اپنے اپنے مدار میں تیرتے ہیں (33) [31] یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کے کمال، اس کی وحدانیت اور رحمت پر دلیل ہے کہ جب زمین میں پہاڑوں کے بغیر ٹھہراؤ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں ٹھہراؤ پیدا کیا تاکہ وہ بندوں ساتھ جھک نہ جائے یعنی زمین میں اضطراب پیدا نہ ہو اور بندے سکون اور کھیتی باڑی کرنے سے محروم نہ رہ جائیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ زمین میں ٹھہراؤ نہ رہے… اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے زمین کو ٹھہراؤ عطا کیا تب اس سبب سے بندوں کو جو بہت سے مصالح اور منافع حاصل ہوئے،وہ محتاجِ وضاحت نہیں ۔ چونکہ پہاڑ ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور ان میں بہت زیادہ اتصال ہے۔ اگر اسی حالت اتصال میں بڑے بڑے پہاڑ اور بلند چوٹیاں ہوتیں تو بہت سے شہروں کا آپس میں رابطہ نہ رہتا، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور بندوں پر اس کی رحمت ہے کہ اس نے پہاڑوں کے درمیان راستے بنائے، یعنی آسان راستے جن پر چلنا مشکل نہ ہو تاکہ وہ اپنی مطلوبہ منزلوں تک پہنچ سکیں اور شاید وہ اسی طرح احسان کرنے والی اس ہستی کی وحدانیت پر اس سے استدلال کر کے راہِ ہدایت پا لیں ۔ [33,32]﴿ وَجَعَلۡنَا السَّمَآءَ سَقۡفًا ﴾ یعنی آسمان کو اس زمین کے لیے چھت بنایا جس پر تم رہ رہے ہو ﴿ مَّحۡفُوۡظًا﴾ یعنی گرنے سے محفوظ۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ﴾(فاطر:35؍41)’’بے شک اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آسمانوں او زمین کو تھام رکھا ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو شیاطین کے سن گن لینے سے بھی محفوظ کر رکھا ہے۔﴿ وَّهُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اس کی آیات سے غافل اور لہوولعب میں مبتلا ہیں ۔ یہ آسمان کی تمام نشانیوں کے لیے عام ہے، مثلاً:اس کی بلندی، کشادگی، عظمت، اس کے حسین رنگ، حیرت انگیز مہارت سے اس کی مضبوطی وغیرہ، نیز اس میں بہت سی دیگر نشانیوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، مثلاً:ستارے، سیارے، روشن سورج اور چاند جو رات اور دن کے وجود کا باعث بنتے ہیں اور ہمیشہ سے اپنے افلاک میں تیر رہے ہیں ۔ اسی طرح ستارے اپنے اپنے فلک میں رواں دواں ہیں ۔ پس اس سبب سے بندوں کے مصالح پورے ہوتے ہیں ، مثلاً:گرمی سردی کا پیدا ہونا، موسموں کا تغیر و تبدل، جس سے بندے اپنی عبادات اور دیگر معاملات کا حساب رکھتے ہیں ، رات کے وقت راحت اور سکون پاتے ہیں اور دن کے وقت اپنی معاش کے حصول کے لیے زمین میں پھیل جاتے ہیں ۔ ان تمام امور کی تدبیر ایک دانا و بینا ہستی کر رہی ہے اور وہ نہایت توجہ سے اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک وقت مقرر اور حتمی مدت تک کے لیے بنایا ہے تاکہ اس دوران میں اپنے مصالح و منافع حاصل کر لیں اور فائدہ اٹھا لیں ۔ اس کے بعد یہ سب کچھ زائل ہو کر مضمحل ہو جائے گا اور وہ ہستی اسے فنا کے گھاٹ اتار دے گی جو اسے وجود میں لائی ہے، وہ ہستی اس کون و مکاں کو ساکن کر دے گی جس نے اس کو متحرک کیا ہے۔ مکلفین اس گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہو جائیں گے جہاں انھیں ان کے اعمال کی پوری پوری جزا دی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دنیا آخرت کے دائمی گھر کے لیے کھیتی ہے، یہ سفر کی ایک منزل ہے، مستقل قیام کی جگہ نہیں ہے۔
21:32

وَجَعَلۡنَا ٱلسَّمَآءَ سَقۡفٗا مَّحۡفُوظٗاۖ وَهُمۡ عَنۡ ءَايَٰتِهَا مُعۡرِضُونَ

اور بنائے ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑتاکہ (نہ) جھک پڑے وہ (کسی ایک طرف) انھیں لے کر اور بنائے ہم نے اس میں کشادہ راستے تاکہ وہ (لوگ) راہ پائیں (31) اور بنایا ہم نے آسمان کو چھت محفوظ اور وہ اس (آسمان) کی نشانیوں سے اعراض کرنے والے ہیں (32) اور وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیے رات اور دن اور سورج اورچاند، سب اپنے اپنے مدار میں تیرتے ہیں (33) [31] یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کے کمال، اس کی وحدانیت اور رحمت پر دلیل ہے کہ جب زمین میں پہاڑوں کے بغیر ٹھہراؤ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں ٹھہراؤ پیدا کیا تاکہ وہ بندوں ساتھ جھک نہ جائے یعنی زمین میں اضطراب پیدا نہ ہو اور بندے سکون اور کھیتی باڑی کرنے سے محروم نہ رہ جائیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ زمین میں ٹھہراؤ نہ رہے… اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے زمین کو ٹھہراؤ عطا کیا تب اس سبب سے بندوں کو جو بہت سے مصالح اور منافع حاصل ہوئے،وہ محتاجِ وضاحت نہیں ۔ چونکہ پہاڑ ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور ان میں بہت زیادہ اتصال ہے۔ اگر اسی حالت اتصال میں بڑے بڑے پہاڑ اور بلند چوٹیاں ہوتیں تو بہت سے شہروں کا آپس میں رابطہ نہ رہتا، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور بندوں پر اس کی رحمت ہے کہ اس نے پہاڑوں کے درمیان راستے بنائے، یعنی آسان راستے جن پر چلنا مشکل نہ ہو تاکہ وہ اپنی مطلوبہ منزلوں تک پہنچ سکیں اور شاید وہ اسی طرح احسان کرنے والی اس ہستی کی وحدانیت پر اس سے استدلال کر کے راہِ ہدایت پا لیں ۔ [33,32]﴿ وَجَعَلۡنَا السَّمَآءَ سَقۡفًا ﴾ یعنی آسمان کو اس زمین کے لیے چھت بنایا جس پر تم رہ رہے ہو ﴿ مَّحۡفُوۡظًا﴾ یعنی گرنے سے محفوظ۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ﴾(فاطر:35؍41)’’بے شک اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آسمانوں او زمین کو تھام رکھا ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو شیاطین کے سن گن لینے سے بھی محفوظ کر رکھا ہے۔﴿ وَّهُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اس کی آیات سے غافل اور لہوولعب میں مبتلا ہیں ۔ یہ آسمان کی تمام نشانیوں کے لیے عام ہے، مثلاً:اس کی بلندی، کشادگی، عظمت، اس کے حسین رنگ، حیرت انگیز مہارت سے اس کی مضبوطی وغیرہ، نیز اس میں بہت سی دیگر نشانیوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، مثلاً:ستارے، سیارے، روشن سورج اور چاند جو رات اور دن کے وجود کا باعث بنتے ہیں اور ہمیشہ سے اپنے افلاک میں تیر رہے ہیں ۔ اسی طرح ستارے اپنے اپنے فلک میں رواں دواں ہیں ۔ پس اس سبب سے بندوں کے مصالح پورے ہوتے ہیں ، مثلاً:گرمی سردی کا پیدا ہونا، موسموں کا تغیر و تبدل، جس سے بندے اپنی عبادات اور دیگر معاملات کا حساب رکھتے ہیں ، رات کے وقت راحت اور سکون پاتے ہیں اور دن کے وقت اپنی معاش کے حصول کے لیے زمین میں پھیل جاتے ہیں ۔ ان تمام امور کی تدبیر ایک دانا و بینا ہستی کر رہی ہے اور وہ نہایت توجہ سے اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک وقت مقرر اور حتمی مدت تک کے لیے بنایا ہے تاکہ اس دوران میں اپنے مصالح و منافع حاصل کر لیں اور فائدہ اٹھا لیں ۔ اس کے بعد یہ سب کچھ زائل ہو کر مضمحل ہو جائے گا اور وہ ہستی اسے فنا کے گھاٹ اتار دے گی جو اسے وجود میں لائی ہے، وہ ہستی اس کون و مکاں کو ساکن کر دے گی جس نے اس کو متحرک کیا ہے۔ مکلفین اس گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہو جائیں گے جہاں انھیں ان کے اعمال کی پوری پوری جزا دی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دنیا آخرت کے دائمی گھر کے لیے کھیتی ہے، یہ سفر کی ایک منزل ہے، مستقل قیام کی جگہ نہیں ہے۔
21:33

وَهُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلّٞ فِي فَلَكٖ يَسۡبَحُونَ

اور بنائے ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑتاکہ (نہ) جھک پڑے وہ (کسی ایک طرف) انھیں لے کر اور بنائے ہم نے اس میں کشادہ راستے تاکہ وہ (لوگ) راہ پائیں (31) اور بنایا ہم نے آسمان کو چھت محفوظ اور وہ اس (آسمان) کی نشانیوں سے اعراض کرنے والے ہیں (32) اور وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیے رات اور دن اور سورج اورچاند، سب اپنے اپنے مدار میں تیرتے ہیں (33) [31] یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کے کمال، اس کی وحدانیت اور رحمت پر دلیل ہے کہ جب زمین میں پہاڑوں کے بغیر ٹھہراؤ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں ٹھہراؤ پیدا کیا تاکہ وہ بندوں ساتھ جھک نہ جائے یعنی زمین میں اضطراب پیدا نہ ہو اور بندے سکون اور کھیتی باڑی کرنے سے محروم نہ رہ جائیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ زمین میں ٹھہراؤ نہ رہے… اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے زمین کو ٹھہراؤ عطا کیا تب اس سبب سے بندوں کو جو بہت سے مصالح اور منافع حاصل ہوئے،وہ محتاجِ وضاحت نہیں ۔ چونکہ پہاڑ ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور ان میں بہت زیادہ اتصال ہے۔ اگر اسی حالت اتصال میں بڑے بڑے پہاڑ اور بلند چوٹیاں ہوتیں تو بہت سے شہروں کا آپس میں رابطہ نہ رہتا، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور بندوں پر اس کی رحمت ہے کہ اس نے پہاڑوں کے درمیان راستے بنائے، یعنی آسان راستے جن پر چلنا مشکل نہ ہو تاکہ وہ اپنی مطلوبہ منزلوں تک پہنچ سکیں اور شاید وہ اسی طرح احسان کرنے والی اس ہستی کی وحدانیت پر اس سے استدلال کر کے راہِ ہدایت پا لیں ۔ [33,32]﴿ وَجَعَلۡنَا السَّمَآءَ سَقۡفًا ﴾ یعنی آسمان کو اس زمین کے لیے چھت بنایا جس پر تم رہ رہے ہو ﴿ مَّحۡفُوۡظًا﴾ یعنی گرنے سے محفوظ۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ﴾(فاطر:35؍41)’’بے شک اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آسمانوں او زمین کو تھام رکھا ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو شیاطین کے سن گن لینے سے بھی محفوظ کر رکھا ہے۔﴿ وَّهُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اس کی آیات سے غافل اور لہوولعب میں مبتلا ہیں ۔ یہ آسمان کی تمام نشانیوں کے لیے عام ہے، مثلاً:اس کی بلندی، کشادگی، عظمت، اس کے حسین رنگ، حیرت انگیز مہارت سے اس کی مضبوطی وغیرہ، نیز اس میں بہت سی دیگر نشانیوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، مثلاً:ستارے، سیارے، روشن سورج اور چاند جو رات اور دن کے وجود کا باعث بنتے ہیں اور ہمیشہ سے اپنے افلاک میں تیر رہے ہیں ۔ اسی طرح ستارے اپنے اپنے فلک میں رواں دواں ہیں ۔ پس اس سبب سے بندوں کے مصالح پورے ہوتے ہیں ، مثلاً:گرمی سردی کا پیدا ہونا، موسموں کا تغیر و تبدل، جس سے بندے اپنی عبادات اور دیگر معاملات کا حساب رکھتے ہیں ، رات کے وقت راحت اور سکون پاتے ہیں اور دن کے وقت اپنی معاش کے حصول کے لیے زمین میں پھیل جاتے ہیں ۔ ان تمام امور کی تدبیر ایک دانا و بینا ہستی کر رہی ہے اور وہ نہایت توجہ سے اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک وقت مقرر اور حتمی مدت تک کے لیے بنایا ہے تاکہ اس دوران میں اپنے مصالح و منافع حاصل کر لیں اور فائدہ اٹھا لیں ۔ اس کے بعد یہ سب کچھ زائل ہو کر مضمحل ہو جائے گا اور وہ ہستی اسے فنا کے گھاٹ اتار دے گی جو اسے وجود میں لائی ہے، وہ ہستی اس کون و مکاں کو ساکن کر دے گی جس نے اس کو متحرک کیا ہے۔ مکلفین اس گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہو جائیں گے جہاں انھیں ان کے اعمال کی پوری پوری جزا دی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دنیا آخرت کے دائمی گھر کے لیے کھیتی ہے، یہ سفر کی ایک منزل ہے، مستقل قیام کی جگہ نہیں ہے۔
21:34

وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٖ مِّن قَبۡلِكَ ٱلۡخُلۡدَۖ أَفَإِيْن مِّتَّ فَهُمُ ٱلۡخَٰلِدُونَ

اور نہیں کیا ہم نے کسی بشر کے لیے آپ سے پہلے ہمیشہ رہنا، کیا پس اگر آپ مر جائیں تو (کیا) وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ؟ (34) ہر نفس چکھنے والا ہے (تلخی) موت کی اور ہم آزماتے ہیں تمھیں ساتھ برائی اور اچھائی کے خوب آزمانا اور ہماری طرف ہی تر لوٹائے جاؤ گے (35) [34] رسول اللہﷺ کے دشمن کہا کرتے تھے تم اس(ﷺ) کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو! تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موت کا راستہ ایک ایسی گزرگاہ ہے جس پر سب رواں دواں ہیں ۔ ﴿ وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ الۡخُلۡدَ ﴾ ’’اے محمد! (ﷺ) ہم نے آپ سے پہلے بھی دنیا میں کسی بشر کو دائمی زندگی عطا نہیں کی۔‘‘ اگر آپﷺ موت سے ہم آغوش ہوں گے تو آپﷺ کی طرح دیگر رسول، انبیاء اور اولیاء بھی اسی راستے پر گامزن رہے ہیں جس کی منزل موت ہے۔ ﴿ اَفَاۡىِٕنۡ مِّؔتَّ فَهُمُ الۡخٰؔلِدُوۡنَ﴾ یعنی اگر آپﷺ وفات پا جائیں گے تو کیا آپﷺ کے بعد یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے تاکہ وہ اس دائمی زندگی سے لطف اندوز ہوں ؟ معاملہ اس طرح نہیں (جس طرح انھوں نے سمجھ رکھا ہے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی زمین پر ہے اس کی منزل فنا ہے۔ [35] اس لیے فرمایا: ﴿كُلُّ نَفۡسٍ ذَآىِٕقَةُ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ تمام خلائق کے نفوس کو شامل ہے۔ بندے کو خواہ کتنی ہی لمبی مہلت اور کتنی ہی طویل عمر کیوں نہ دے دی جائے، آخر موت کا پیالہ اسے پینا ہی پڑے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنے بندوں کو وجود بخشا، ان کو اوامر و نواہی عطا كيے ان کو خیروشر، غناوفقر، عزت و ذلت اور موت و حیات کے ذریعے سے آزمائش میں مبتلا کیا تاکہ وہ دیکھے کہ فتنے کے مواقع پر کون فتنے میں مبتلا ہوتا ہے اور کون فتنے سے نجات پاتا ہے۔ فرمایا:﴿ثُمَّ اِلَيۡنَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ پھر ہم تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دیں گے، اگر اچھے اعمال ہیں تو جزا اچھی ہو گی، اگر برے اعمال ہیں تو جزا بھی بری ہو گی۔ ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ:41؍46) ’’اور آپ کا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے بطلان پر دلالت کرتی ہے جو حضرت خضر u کی بقاء کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت خضر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ، نیز یہ دلائل شرعیہ کے بھی منافی ہے۔
21:35

كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۗ وَنَبۡلُوكُم بِٱلشَّرِّ وَٱلۡخَيۡرِ فِتۡنَةٗۖ وَإِلَيۡنَا تُرۡجَعُونَ

اور نہیں کیا ہم نے کسی بشر کے لیے آپ سے پہلے ہمیشہ رہنا، کیا پس اگر آپ مر جائیں تو (کیا) وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ؟ (34) ہر نفس چکھنے والا ہے (تلخی) موت کی اور ہم آزماتے ہیں تمھیں ساتھ برائی اور اچھائی کے خوب آزمانا اور ہماری طرف ہی تر لوٹائے جاؤ گے (35) [34] رسول اللہﷺ کے دشمن کہا کرتے تھے تم اس(ﷺ) کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو! تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موت کا راستہ ایک ایسی گزرگاہ ہے جس پر سب رواں دواں ہیں ۔ ﴿ وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ الۡخُلۡدَ ﴾ ’’اے محمد! (ﷺ) ہم نے آپ سے پہلے بھی دنیا میں کسی بشر کو دائمی زندگی عطا نہیں کی۔‘‘ اگر آپﷺ موت سے ہم آغوش ہوں گے تو آپﷺ کی طرح دیگر رسول، انبیاء اور اولیاء بھی اسی راستے پر گامزن رہے ہیں جس کی منزل موت ہے۔ ﴿ اَفَاۡىِٕنۡ مِّؔتَّ فَهُمُ الۡخٰؔلِدُوۡنَ﴾ یعنی اگر آپﷺ وفات پا جائیں گے تو کیا آپﷺ کے بعد یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے تاکہ وہ اس دائمی زندگی سے لطف اندوز ہوں ؟ معاملہ اس طرح نہیں (جس طرح انھوں نے سمجھ رکھا ہے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی زمین پر ہے اس کی منزل فنا ہے۔ [35] اس لیے فرمایا: ﴿كُلُّ نَفۡسٍ ذَآىِٕقَةُ الۡمَوۡتِ ﴾ ’’ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ تمام خلائق کے نفوس کو شامل ہے۔ بندے کو خواہ کتنی ہی لمبی مہلت اور کتنی ہی طویل عمر کیوں نہ دے دی جائے، آخر موت کا پیالہ اسے پینا ہی پڑے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنے بندوں کو وجود بخشا، ان کو اوامر و نواہی عطا كيے ان کو خیروشر، غناوفقر، عزت و ذلت اور موت و حیات کے ذریعے سے آزمائش میں مبتلا کیا تاکہ وہ دیکھے کہ فتنے کے مواقع پر کون فتنے میں مبتلا ہوتا ہے اور کون فتنے سے نجات پاتا ہے۔ فرمایا:﴿ثُمَّ اِلَيۡنَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ پھر ہم تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دیں گے، اگر اچھے اعمال ہیں تو جزا اچھی ہو گی، اگر برے اعمال ہیں تو جزا بھی بری ہو گی۔ ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ:41؍46) ’’اور آپ کا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے بطلان پر دلالت کرتی ہے جو حضرت خضر u کی بقاء کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت خضر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ، نیز یہ دلائل شرعیہ کے بھی منافی ہے۔
21:36

وَإِذَا رَءَاكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَٰذَا ٱلَّذِي يَذۡكُرُ ءَالِهَتَكُمۡ وَهُم بِذِكۡرِ ٱلرَّحۡمَٰنِ هُمۡ كَٰفِرُونَ

اور جب دیکھتے ہیں آپ کو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو نہیں بناتے آپ کو مگر مذاق ہی (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جو ذکر کرتا ہے تمھارے معبودوں کا؟ جبکہ وہ تو ذکرِ رحمن ہی سے آپ (خود) منکر ہیں (36) پیدا کیا گیا ہے انسان جلد بازی (کے خمیر) سے، عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں اپنی نشانیاں ، پس نہ جلدی طلب کرو تم مجھ سے (37) او ر وہ لوگ کہتے ہیں ، کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ، اگر ہو تم سچے؟ (38) اگر جان لیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (اس وقت کو) کہ جس وقت نہیں ہٹا سکیں گے وہ اپنے مونہوں سے آگ کواور نہ اپنی پیٹھوں سےاور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے (39)بلکہ وہ (قیامت) آئے گی ان کے پاس اچانک ہی، پس وہ بدحواس کر دے گی انھیں ، پھر وہ نہ استطاعت رکھیں گے اسے ٹالنے کی اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(40) اور البتہ تحقیق ٹھٹھا کیا گیا کئی رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے، پس گھیر لیا ان لوگوں کو جو ٹھٹھا کرتے تھے ان میں سے، اس (عذاب) نے کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (41) [36] یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہﷺ کو دیکھتے تو آپﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے: ﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ﴾ یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمھارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو… یہ سب کچھ رسول اللہﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپﷺ کی تحقیر ہے جو آپﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں ۔ آپﷺ وہ اکمل و افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص للہ، غیر اللہ کی عبادت کی مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔ ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لیے ہے جن میں ہر قسم کے مذموم اخلاق جمع ہیں ۔ اگر ان میں صرف یہی عیب ہوتا کہ انھوں نے رب کریم کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا تو اس کی وجہ سے ہی وہ مخلوق میں سب سے زیادہ گھٹیا اور رذیل ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا رحمن کا ذکر کرنا، جو ان کا بلند ترین حال ہے، اس کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں یا اس پر ایمان لاتے ہیں تو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں ، اس لیے جب ان کا ذکر کفر اور شرک ہے تو اس کے بعد ان کے دیگر احوال کیسے ہوں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَهُمۡ بِذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ رحمن کے ذکر کے منکر ہیں ۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (الرحمن) کا ذکر کرنے میں ان کے حال کی قباحت کا بیان ہے، نیز یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رحمن کا کیسے کفر اور شرک کے ساتھ سامنا کرتے ہیں ، حالانکہ وہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا اور مصائب کو دور کرنے والا ہے، بندوں کے پاس جتنی نعمتیں ہیں وہ اسی کی طرف سے ہیں اور تمام تکلیف کو صرف وہی رفع کرتا ہے۔ [37]﴿ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ﴾ یعنی انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا ہے، وہ تمام امور میں عجلت پسند ہے اور ان کے وقوع میں جلدی مچاتا ہے۔ اہل ایمان کفار کے لیے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کفار پر عذاب بھیجنے میں دیر کر دی گئی ہے۔ کفار تکذیب و عناد کے ساتھ روگردانی کرتے اور نزول عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں اور کہتے ہیں :﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’کب ہے یہ (عذاب کا) وعدہ، اگر تم سچے ہو۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نہایت حلم کے ساتھ ان کو مہلت دیتا ہے ان کو مہمل نہیں چھوڑتا اور ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ سَاعَةً وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍34) ’’جب ان کا وقت مقرر آن پہنچتا ہے تو ان کے لیے ایک گھڑی بھر کی تاخیر ہوتی ہے نہ تقدیم۔‘‘ اور اسی لیے فرمایا: ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ یعنی جس نے میرے ساتھ کفر کیا اور میری نافرمانی کی میں انھیں اپنے انتقام کا مزا چکھانے میں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا ﴿ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴾ اس لیے اس کی بابت جلدی نہ مچاؤ۔ [38] اسی طرح جو کفار کہتے تھے کہ ﴿۠ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ وہ فریب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ بات کہتے تھے کیونکہ ابھی ان کے لیے سزا مقرر نہیں ہوئی تھی اور ان پر عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔ [39]﴿ لَوۡ يَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’کا ش جان لیں کافر‘‘ یعنی اپنی بری حالت کو ﴿ حِيۡنَ لَا يَكُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’کہ جب نہیں روک سکیں گے وہ عذاب کو اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے۔‘‘ جب عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا اور ہر طرف سے ان پر چھا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی کوئی ان کی مدد کر سکے گا نہ وہ خود کسی کی مدد کر سکیں گے اور نہ کسی سے مدد حاصل کر سکیں گے۔ [40]﴿ بَلۡ تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’بلکہ آ جائے گی ان کے پاس۔‘‘ یعنی آگ ﴿ بَغۡتَةً فَتَبۡهَتُهُمۡ ﴾ ’’اچانک، پس وہ ان کو مبہوت کر دے گی۔‘‘ یعنی ناگہاں ان پر ٹوٹ پڑے گی، گھبراہٹ، دہشت اور عظیم خوف انھیں ہکا بکا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ رَدَّهَا ﴾ ’’پس وہ اس کو لوٹانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔‘‘ کیوں کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز اور بہت کمزور ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کو مہلت دے کر ان پر سے عذاب موخر نہیں کیا جائے گا۔ اگر انھیں اپنی اس حالت اور انجام کا علم ہوتا تو کبھی عذاب کے لیے جلدی نہ مچاتے بلکہ عذاب سے بہت زیادہ ڈرتے۔ مگر جب یہ علم ان کے پاس نہ رہا تو انھوں نے اس قسم کی باتیں کیں۔ [41] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے ساتھ کفار کے تمسخر کا ذکر فرمایا ﴿اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو تسلی دی کہ گزشتہ قوموں کا بھی اپنے رسولوں کے ساتھ یہی رویہ تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ ’’اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزاء کیا گیا۔ پس گھیر لیا ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے استہزاء کیا تھا اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے، اس لیے ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو گزشتہ امتوں پر نازل ہوا تھا جنھوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔
21:37

خُلِقَ ٱلۡإِنسَٰنُ مِنۡ عَجَلٖۚ سَأُوْرِيكُمۡ ءَايَٰتِي فَلَا تَسۡتَعۡجِلُونِ

اور جب دیکھتے ہیں آپ کو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو نہیں بناتے آپ کو مگر مذاق ہی (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جو ذکر کرتا ہے تمھارے معبودوں کا؟ جبکہ وہ تو ذکرِ رحمن ہی سے آپ (خود) منکر ہیں (36) پیدا کیا گیا ہے انسان جلد بازی (کے خمیر) سے، عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں اپنی نشانیاں ، پس نہ جلدی طلب کرو تم مجھ سے (37) او ر وہ لوگ کہتے ہیں ، کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ، اگر ہو تم سچے؟ (38) اگر جان لیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (اس وقت کو) کہ جس وقت نہیں ہٹا سکیں گے وہ اپنے مونہوں سے آگ کواور نہ اپنی پیٹھوں سےاور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے (39)بلکہ وہ (قیامت) آئے گی ان کے پاس اچانک ہی، پس وہ بدحواس کر دے گی انھیں ، پھر وہ نہ استطاعت رکھیں گے اسے ٹالنے کی اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(40) اور البتہ تحقیق ٹھٹھا کیا گیا کئی رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے، پس گھیر لیا ان لوگوں کو جو ٹھٹھا کرتے تھے ان میں سے، اس (عذاب) نے کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (41) [36] یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہﷺ کو دیکھتے تو آپﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے: ﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ﴾ یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمھارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو… یہ سب کچھ رسول اللہﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپﷺ کی تحقیر ہے جو آپﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں ۔ آپﷺ وہ اکمل و افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص للہ، غیر اللہ کی عبادت کی مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔ ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لیے ہے جن میں ہر قسم کے مذموم اخلاق جمع ہیں ۔ اگر ان میں صرف یہی عیب ہوتا کہ انھوں نے رب کریم کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا تو اس کی وجہ سے ہی وہ مخلوق میں سب سے زیادہ گھٹیا اور رذیل ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا رحمن کا ذکر کرنا، جو ان کا بلند ترین حال ہے، اس کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں یا اس پر ایمان لاتے ہیں تو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں ، اس لیے جب ان کا ذکر کفر اور شرک ہے تو اس کے بعد ان کے دیگر احوال کیسے ہوں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَهُمۡ بِذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ رحمن کے ذکر کے منکر ہیں ۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (الرحمن) کا ذکر کرنے میں ان کے حال کی قباحت کا بیان ہے، نیز یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رحمن کا کیسے کفر اور شرک کے ساتھ سامنا کرتے ہیں ، حالانکہ وہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا اور مصائب کو دور کرنے والا ہے، بندوں کے پاس جتنی نعمتیں ہیں وہ اسی کی طرف سے ہیں اور تمام تکلیف کو صرف وہی رفع کرتا ہے۔ [37]﴿ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ﴾ یعنی انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا ہے، وہ تمام امور میں عجلت پسند ہے اور ان کے وقوع میں جلدی مچاتا ہے۔ اہل ایمان کفار کے لیے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کفار پر عذاب بھیجنے میں دیر کر دی گئی ہے۔ کفار تکذیب و عناد کے ساتھ روگردانی کرتے اور نزول عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں اور کہتے ہیں :﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’کب ہے یہ (عذاب کا) وعدہ، اگر تم سچے ہو۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نہایت حلم کے ساتھ ان کو مہلت دیتا ہے ان کو مہمل نہیں چھوڑتا اور ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ سَاعَةً وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍34) ’’جب ان کا وقت مقرر آن پہنچتا ہے تو ان کے لیے ایک گھڑی بھر کی تاخیر ہوتی ہے نہ تقدیم۔‘‘ اور اسی لیے فرمایا: ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ یعنی جس نے میرے ساتھ کفر کیا اور میری نافرمانی کی میں انھیں اپنے انتقام کا مزا چکھانے میں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا ﴿ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴾ اس لیے اس کی بابت جلدی نہ مچاؤ۔ [38] اسی طرح جو کفار کہتے تھے کہ ﴿۠ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ وہ فریب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ بات کہتے تھے کیونکہ ابھی ان کے لیے سزا مقرر نہیں ہوئی تھی اور ان پر عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔ [39]﴿ لَوۡ يَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’کا ش جان لیں کافر‘‘ یعنی اپنی بری حالت کو ﴿ حِيۡنَ لَا يَكُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’کہ جب نہیں روک سکیں گے وہ عذاب کو اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے۔‘‘ جب عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا اور ہر طرف سے ان پر چھا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی کوئی ان کی مدد کر سکے گا نہ وہ خود کسی کی مدد کر سکیں گے اور نہ کسی سے مدد حاصل کر سکیں گے۔ [40]﴿ بَلۡ تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’بلکہ آ جائے گی ان کے پاس۔‘‘ یعنی آگ ﴿ بَغۡتَةً فَتَبۡهَتُهُمۡ ﴾ ’’اچانک، پس وہ ان کو مبہوت کر دے گی۔‘‘ یعنی ناگہاں ان پر ٹوٹ پڑے گی، گھبراہٹ، دہشت اور عظیم خوف انھیں ہکا بکا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ رَدَّهَا ﴾ ’’پس وہ اس کو لوٹانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔‘‘ کیوں کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز اور بہت کمزور ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کو مہلت دے کر ان پر سے عذاب موخر نہیں کیا جائے گا۔ اگر انھیں اپنی اس حالت اور انجام کا علم ہوتا تو کبھی عذاب کے لیے جلدی نہ مچاتے بلکہ عذاب سے بہت زیادہ ڈرتے۔ مگر جب یہ علم ان کے پاس نہ رہا تو انھوں نے اس قسم کی باتیں کیں۔ [41] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے ساتھ کفار کے تمسخر کا ذکر فرمایا ﴿اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو تسلی دی کہ گزشتہ قوموں کا بھی اپنے رسولوں کے ساتھ یہی رویہ تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ ’’اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزاء کیا گیا۔ پس گھیر لیا ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے استہزاء کیا تھا اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے، اس لیے ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو گزشتہ امتوں پر نازل ہوا تھا جنھوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔
21:38

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ

اور جب دیکھتے ہیں آپ کو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو نہیں بناتے آپ کو مگر مذاق ہی (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جو ذکر کرتا ہے تمھارے معبودوں کا؟ جبکہ وہ تو ذکرِ رحمن ہی سے آپ (خود) منکر ہیں (36) پیدا کیا گیا ہے انسان جلد بازی (کے خمیر) سے، عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں اپنی نشانیاں ، پس نہ جلدی طلب کرو تم مجھ سے (37) او ر وہ لوگ کہتے ہیں ، کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ، اگر ہو تم سچے؟ (38) اگر جان لیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (اس وقت کو) کہ جس وقت نہیں ہٹا سکیں گے وہ اپنے مونہوں سے آگ کواور نہ اپنی پیٹھوں سےاور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے (39)بلکہ وہ (قیامت) آئے گی ان کے پاس اچانک ہی، پس وہ بدحواس کر دے گی انھیں ، پھر وہ نہ استطاعت رکھیں گے اسے ٹالنے کی اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(40) اور البتہ تحقیق ٹھٹھا کیا گیا کئی رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے، پس گھیر لیا ان لوگوں کو جو ٹھٹھا کرتے تھے ان میں سے، اس (عذاب) نے کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (41) [36] یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہﷺ کو دیکھتے تو آپﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے: ﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ﴾ یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمھارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو… یہ سب کچھ رسول اللہﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپﷺ کی تحقیر ہے جو آپﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں ۔ آپﷺ وہ اکمل و افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص للہ، غیر اللہ کی عبادت کی مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔ ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لیے ہے جن میں ہر قسم کے مذموم اخلاق جمع ہیں ۔ اگر ان میں صرف یہی عیب ہوتا کہ انھوں نے رب کریم کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا تو اس کی وجہ سے ہی وہ مخلوق میں سب سے زیادہ گھٹیا اور رذیل ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا رحمن کا ذکر کرنا، جو ان کا بلند ترین حال ہے، اس کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں یا اس پر ایمان لاتے ہیں تو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں ، اس لیے جب ان کا ذکر کفر اور شرک ہے تو اس کے بعد ان کے دیگر احوال کیسے ہوں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَهُمۡ بِذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ رحمن کے ذکر کے منکر ہیں ۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (الرحمن) کا ذکر کرنے میں ان کے حال کی قباحت کا بیان ہے، نیز یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رحمن کا کیسے کفر اور شرک کے ساتھ سامنا کرتے ہیں ، حالانکہ وہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا اور مصائب کو دور کرنے والا ہے، بندوں کے پاس جتنی نعمتیں ہیں وہ اسی کی طرف سے ہیں اور تمام تکلیف کو صرف وہی رفع کرتا ہے۔ [37]﴿ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ﴾ یعنی انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا ہے، وہ تمام امور میں عجلت پسند ہے اور ان کے وقوع میں جلدی مچاتا ہے۔ اہل ایمان کفار کے لیے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کفار پر عذاب بھیجنے میں دیر کر دی گئی ہے۔ کفار تکذیب و عناد کے ساتھ روگردانی کرتے اور نزول عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں اور کہتے ہیں :﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’کب ہے یہ (عذاب کا) وعدہ، اگر تم سچے ہو۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نہایت حلم کے ساتھ ان کو مہلت دیتا ہے ان کو مہمل نہیں چھوڑتا اور ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ سَاعَةً وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍34) ’’جب ان کا وقت مقرر آن پہنچتا ہے تو ان کے لیے ایک گھڑی بھر کی تاخیر ہوتی ہے نہ تقدیم۔‘‘ اور اسی لیے فرمایا: ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ یعنی جس نے میرے ساتھ کفر کیا اور میری نافرمانی کی میں انھیں اپنے انتقام کا مزا چکھانے میں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا ﴿ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴾ اس لیے اس کی بابت جلدی نہ مچاؤ۔ [38] اسی طرح جو کفار کہتے تھے کہ ﴿۠ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ وہ فریب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ بات کہتے تھے کیونکہ ابھی ان کے لیے سزا مقرر نہیں ہوئی تھی اور ان پر عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔ [39]﴿ لَوۡ يَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’کا ش جان لیں کافر‘‘ یعنی اپنی بری حالت کو ﴿ حِيۡنَ لَا يَكُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’کہ جب نہیں روک سکیں گے وہ عذاب کو اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے۔‘‘ جب عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا اور ہر طرف سے ان پر چھا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی کوئی ان کی مدد کر سکے گا نہ وہ خود کسی کی مدد کر سکیں گے اور نہ کسی سے مدد حاصل کر سکیں گے۔ [40]﴿ بَلۡ تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’بلکہ آ جائے گی ان کے پاس۔‘‘ یعنی آگ ﴿ بَغۡتَةً فَتَبۡهَتُهُمۡ ﴾ ’’اچانک، پس وہ ان کو مبہوت کر دے گی۔‘‘ یعنی ناگہاں ان پر ٹوٹ پڑے گی، گھبراہٹ، دہشت اور عظیم خوف انھیں ہکا بکا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ رَدَّهَا ﴾ ’’پس وہ اس کو لوٹانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔‘‘ کیوں کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز اور بہت کمزور ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کو مہلت دے کر ان پر سے عذاب موخر نہیں کیا جائے گا۔ اگر انھیں اپنی اس حالت اور انجام کا علم ہوتا تو کبھی عذاب کے لیے جلدی نہ مچاتے بلکہ عذاب سے بہت زیادہ ڈرتے۔ مگر جب یہ علم ان کے پاس نہ رہا تو انھوں نے اس قسم کی باتیں کیں۔ [41] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے ساتھ کفار کے تمسخر کا ذکر فرمایا ﴿اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو تسلی دی کہ گزشتہ قوموں کا بھی اپنے رسولوں کے ساتھ یہی رویہ تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ ’’اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزاء کیا گیا۔ پس گھیر لیا ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے استہزاء کیا تھا اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے، اس لیے ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو گزشتہ امتوں پر نازل ہوا تھا جنھوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔
21:39

لَوۡ يَعۡلَمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ ٱلنَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمۡ وَلَا هُمۡ يُنصَرُونَ

اور جب دیکھتے ہیں آپ کو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو نہیں بناتے آپ کو مگر مذاق ہی (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جو ذکر کرتا ہے تمھارے معبودوں کا؟ جبکہ وہ تو ذکرِ رحمن ہی سے آپ (خود) منکر ہیں (36) پیدا کیا گیا ہے انسان جلد بازی (کے خمیر) سے، عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں اپنی نشانیاں ، پس نہ جلدی طلب کرو تم مجھ سے (37) او ر وہ لوگ کہتے ہیں ، کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ، اگر ہو تم سچے؟ (38) اگر جان لیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (اس وقت کو) کہ جس وقت نہیں ہٹا سکیں گے وہ اپنے مونہوں سے آگ کواور نہ اپنی پیٹھوں سےاور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے (39)بلکہ وہ (قیامت) آئے گی ان کے پاس اچانک ہی، پس وہ بدحواس کر دے گی انھیں ، پھر وہ نہ استطاعت رکھیں گے اسے ٹالنے کی اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(40) اور البتہ تحقیق ٹھٹھا کیا گیا کئی رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے، پس گھیر لیا ان لوگوں کو جو ٹھٹھا کرتے تھے ان میں سے، اس (عذاب) نے کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (41) [36] یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہﷺ کو دیکھتے تو آپﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے: ﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ﴾ یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمھارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو… یہ سب کچھ رسول اللہﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپﷺ کی تحقیر ہے جو آپﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں ۔ آپﷺ وہ اکمل و افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص للہ، غیر اللہ کی عبادت کی مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔ ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لیے ہے جن میں ہر قسم کے مذموم اخلاق جمع ہیں ۔ اگر ان میں صرف یہی عیب ہوتا کہ انھوں نے رب کریم کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا تو اس کی وجہ سے ہی وہ مخلوق میں سب سے زیادہ گھٹیا اور رذیل ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا رحمن کا ذکر کرنا، جو ان کا بلند ترین حال ہے، اس کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں یا اس پر ایمان لاتے ہیں تو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں ، اس لیے جب ان کا ذکر کفر اور شرک ہے تو اس کے بعد ان کے دیگر احوال کیسے ہوں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَهُمۡ بِذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ رحمن کے ذکر کے منکر ہیں ۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (الرحمن) کا ذکر کرنے میں ان کے حال کی قباحت کا بیان ہے، نیز یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رحمن کا کیسے کفر اور شرک کے ساتھ سامنا کرتے ہیں ، حالانکہ وہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا اور مصائب کو دور کرنے والا ہے، بندوں کے پاس جتنی نعمتیں ہیں وہ اسی کی طرف سے ہیں اور تمام تکلیف کو صرف وہی رفع کرتا ہے۔ [37]﴿ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ﴾ یعنی انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا ہے، وہ تمام امور میں عجلت پسند ہے اور ان کے وقوع میں جلدی مچاتا ہے۔ اہل ایمان کفار کے لیے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کفار پر عذاب بھیجنے میں دیر کر دی گئی ہے۔ کفار تکذیب و عناد کے ساتھ روگردانی کرتے اور نزول عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں اور کہتے ہیں :﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’کب ہے یہ (عذاب کا) وعدہ، اگر تم سچے ہو۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نہایت حلم کے ساتھ ان کو مہلت دیتا ہے ان کو مہمل نہیں چھوڑتا اور ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ سَاعَةً وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍34) ’’جب ان کا وقت مقرر آن پہنچتا ہے تو ان کے لیے ایک گھڑی بھر کی تاخیر ہوتی ہے نہ تقدیم۔‘‘ اور اسی لیے فرمایا: ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ یعنی جس نے میرے ساتھ کفر کیا اور میری نافرمانی کی میں انھیں اپنے انتقام کا مزا چکھانے میں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا ﴿ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴾ اس لیے اس کی بابت جلدی نہ مچاؤ۔ [38] اسی طرح جو کفار کہتے تھے کہ ﴿۠ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ وہ فریب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ بات کہتے تھے کیونکہ ابھی ان کے لیے سزا مقرر نہیں ہوئی تھی اور ان پر عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔ [39]﴿ لَوۡ يَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’کا ش جان لیں کافر‘‘ یعنی اپنی بری حالت کو ﴿ حِيۡنَ لَا يَكُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’کہ جب نہیں روک سکیں گے وہ عذاب کو اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے۔‘‘ جب عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا اور ہر طرف سے ان پر چھا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی کوئی ان کی مدد کر سکے گا نہ وہ خود کسی کی مدد کر سکیں گے اور نہ کسی سے مدد حاصل کر سکیں گے۔ [40]﴿ بَلۡ تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’بلکہ آ جائے گی ان کے پاس۔‘‘ یعنی آگ ﴿ بَغۡتَةً فَتَبۡهَتُهُمۡ ﴾ ’’اچانک، پس وہ ان کو مبہوت کر دے گی۔‘‘ یعنی ناگہاں ان پر ٹوٹ پڑے گی، گھبراہٹ، دہشت اور عظیم خوف انھیں ہکا بکا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ رَدَّهَا ﴾ ’’پس وہ اس کو لوٹانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔‘‘ کیوں کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز اور بہت کمزور ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کو مہلت دے کر ان پر سے عذاب موخر نہیں کیا جائے گا۔ اگر انھیں اپنی اس حالت اور انجام کا علم ہوتا تو کبھی عذاب کے لیے جلدی نہ مچاتے بلکہ عذاب سے بہت زیادہ ڈرتے۔ مگر جب یہ علم ان کے پاس نہ رہا تو انھوں نے اس قسم کی باتیں کیں۔ [41] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے ساتھ کفار کے تمسخر کا ذکر فرمایا ﴿اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو تسلی دی کہ گزشتہ قوموں کا بھی اپنے رسولوں کے ساتھ یہی رویہ تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ ’’اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزاء کیا گیا۔ پس گھیر لیا ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے استہزاء کیا تھا اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے، اس لیے ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو گزشتہ امتوں پر نازل ہوا تھا جنھوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔
21:40

بَلۡ تَأۡتِيهِم بَغۡتَةٗ فَتَبۡهَتُهُمۡ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ

اور جب دیکھتے ہیں آپ کو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو نہیں بناتے آپ کو مگر مذاق ہی (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جو ذکر کرتا ہے تمھارے معبودوں کا؟ جبکہ وہ تو ذکرِ رحمن ہی سے آپ (خود) منکر ہیں (36) پیدا کیا گیا ہے انسان جلد بازی (کے خمیر) سے، عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں اپنی نشانیاں ، پس نہ جلدی طلب کرو تم مجھ سے (37) او ر وہ لوگ کہتے ہیں ، کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ، اگر ہو تم سچے؟ (38) اگر جان لیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (اس وقت کو) کہ جس وقت نہیں ہٹا سکیں گے وہ اپنے مونہوں سے آگ کواور نہ اپنی پیٹھوں سےاور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے (39)بلکہ وہ (قیامت) آئے گی ان کے پاس اچانک ہی، پس وہ بدحواس کر دے گی انھیں ، پھر وہ نہ استطاعت رکھیں گے اسے ٹالنے کی اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(40) اور البتہ تحقیق ٹھٹھا کیا گیا کئی رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے، پس گھیر لیا ان لوگوں کو جو ٹھٹھا کرتے تھے ان میں سے، اس (عذاب) نے کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (41) [36] یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہﷺ کو دیکھتے تو آپﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے: ﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ﴾ یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمھارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو… یہ سب کچھ رسول اللہﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپﷺ کی تحقیر ہے جو آپﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں ۔ آپﷺ وہ اکمل و افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص للہ، غیر اللہ کی عبادت کی مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔ ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لیے ہے جن میں ہر قسم کے مذموم اخلاق جمع ہیں ۔ اگر ان میں صرف یہی عیب ہوتا کہ انھوں نے رب کریم کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا تو اس کی وجہ سے ہی وہ مخلوق میں سب سے زیادہ گھٹیا اور رذیل ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا رحمن کا ذکر کرنا، جو ان کا بلند ترین حال ہے، اس کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں یا اس پر ایمان لاتے ہیں تو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں ، اس لیے جب ان کا ذکر کفر اور شرک ہے تو اس کے بعد ان کے دیگر احوال کیسے ہوں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَهُمۡ بِذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ رحمن کے ذکر کے منکر ہیں ۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (الرحمن) کا ذکر کرنے میں ان کے حال کی قباحت کا بیان ہے، نیز یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رحمن کا کیسے کفر اور شرک کے ساتھ سامنا کرتے ہیں ، حالانکہ وہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا اور مصائب کو دور کرنے والا ہے، بندوں کے پاس جتنی نعمتیں ہیں وہ اسی کی طرف سے ہیں اور تمام تکلیف کو صرف وہی رفع کرتا ہے۔ [37]﴿ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ﴾ یعنی انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا ہے، وہ تمام امور میں عجلت پسند ہے اور ان کے وقوع میں جلدی مچاتا ہے۔ اہل ایمان کفار کے لیے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کفار پر عذاب بھیجنے میں دیر کر دی گئی ہے۔ کفار تکذیب و عناد کے ساتھ روگردانی کرتے اور نزول عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں اور کہتے ہیں :﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’کب ہے یہ (عذاب کا) وعدہ، اگر تم سچے ہو۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نہایت حلم کے ساتھ ان کو مہلت دیتا ہے ان کو مہمل نہیں چھوڑتا اور ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ سَاعَةً وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍34) ’’جب ان کا وقت مقرر آن پہنچتا ہے تو ان کے لیے ایک گھڑی بھر کی تاخیر ہوتی ہے نہ تقدیم۔‘‘ اور اسی لیے فرمایا: ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ یعنی جس نے میرے ساتھ کفر کیا اور میری نافرمانی کی میں انھیں اپنے انتقام کا مزا چکھانے میں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا ﴿ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴾ اس لیے اس کی بابت جلدی نہ مچاؤ۔ [38] اسی طرح جو کفار کہتے تھے کہ ﴿۠ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ وہ فریب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ بات کہتے تھے کیونکہ ابھی ان کے لیے سزا مقرر نہیں ہوئی تھی اور ان پر عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔ [39]﴿ لَوۡ يَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’کا ش جان لیں کافر‘‘ یعنی اپنی بری حالت کو ﴿ حِيۡنَ لَا يَكُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’کہ جب نہیں روک سکیں گے وہ عذاب کو اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے۔‘‘ جب عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا اور ہر طرف سے ان پر چھا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی کوئی ان کی مدد کر سکے گا نہ وہ خود کسی کی مدد کر سکیں گے اور نہ کسی سے مدد حاصل کر سکیں گے۔ [40]﴿ بَلۡ تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’بلکہ آ جائے گی ان کے پاس۔‘‘ یعنی آگ ﴿ بَغۡتَةً فَتَبۡهَتُهُمۡ ﴾ ’’اچانک، پس وہ ان کو مبہوت کر دے گی۔‘‘ یعنی ناگہاں ان پر ٹوٹ پڑے گی، گھبراہٹ، دہشت اور عظیم خوف انھیں ہکا بکا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ رَدَّهَا ﴾ ’’پس وہ اس کو لوٹانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔‘‘ کیوں کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز اور بہت کمزور ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کو مہلت دے کر ان پر سے عذاب موخر نہیں کیا جائے گا۔ اگر انھیں اپنی اس حالت اور انجام کا علم ہوتا تو کبھی عذاب کے لیے جلدی نہ مچاتے بلکہ عذاب سے بہت زیادہ ڈرتے۔ مگر جب یہ علم ان کے پاس نہ رہا تو انھوں نے اس قسم کی باتیں کیں۔ [41] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے ساتھ کفار کے تمسخر کا ذکر فرمایا ﴿اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو تسلی دی کہ گزشتہ قوموں کا بھی اپنے رسولوں کے ساتھ یہی رویہ تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ ’’اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزاء کیا گیا۔ پس گھیر لیا ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے استہزاء کیا تھا اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے، اس لیے ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو گزشتہ امتوں پر نازل ہوا تھا جنھوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔
21:41

وَلَقَدِ ٱسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٖ مِّن قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِٱلَّذِينَ سَخِرُواْ مِنۡهُم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ

اور جب دیکھتے ہیں آپ کو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو نہیں بناتے آپ کو مگر مذاق ہی (کہتے ہیں ) کیا یہی ہے وہ جو ذکر کرتا ہے تمھارے معبودوں کا؟ جبکہ وہ تو ذکرِ رحمن ہی سے آپ (خود) منکر ہیں (36) پیدا کیا گیا ہے انسان جلد بازی (کے خمیر) سے، عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں اپنی نشانیاں ، پس نہ جلدی طلب کرو تم مجھ سے (37) او ر وہ لوگ کہتے ہیں ، کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ، اگر ہو تم سچے؟ (38) اگر جان لیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا (اس وقت کو) کہ جس وقت نہیں ہٹا سکیں گے وہ اپنے مونہوں سے آگ کواور نہ اپنی پیٹھوں سےاور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے (39)بلکہ وہ (قیامت) آئے گی ان کے پاس اچانک ہی، پس وہ بدحواس کر دے گی انھیں ، پھر وہ نہ استطاعت رکھیں گے اسے ٹالنے کی اور نہ وہ مہلت ہی دیے جائیں گے(40) اور البتہ تحقیق ٹھٹھا کیا گیا کئی رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے، پس گھیر لیا ان لوگوں کو جو ٹھٹھا کرتے تھے ان میں سے، اس (عذاب) نے کہ تھے وہ ساتھ اس کے ٹھٹھا کرتے (41) [36] یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہﷺ کو دیکھتے تو آپﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے: ﴿ اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ﴾ یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمھارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو… یہ سب کچھ رسول اللہﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپﷺ کی تحقیر ہے جو آپﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں ۔ آپﷺ وہ اکمل و افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص للہ، غیر اللہ کی عبادت کی مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔ ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لیے ہے جن میں ہر قسم کے مذموم اخلاق جمع ہیں ۔ اگر ان میں صرف یہی عیب ہوتا کہ انھوں نے رب کریم کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا تو اس کی وجہ سے ہی وہ مخلوق میں سب سے زیادہ گھٹیا اور رذیل ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا رحمن کا ذکر کرنا، جو ان کا بلند ترین حال ہے، اس کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں یا اس پر ایمان لاتے ہیں تو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں ، اس لیے جب ان کا ذکر کفر اور شرک ہے تو اس کے بعد ان کے دیگر احوال کیسے ہوں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَهُمۡ بِذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ رحمن کے ذکر کے منکر ہیں ۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (الرحمن) کا ذکر کرنے میں ان کے حال کی قباحت کا بیان ہے، نیز یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رحمن کا کیسے کفر اور شرک کے ساتھ سامنا کرتے ہیں ، حالانکہ وہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا اور مصائب کو دور کرنے والا ہے، بندوں کے پاس جتنی نعمتیں ہیں وہ اسی کی طرف سے ہیں اور تمام تکلیف کو صرف وہی رفع کرتا ہے۔ [37]﴿ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ﴾ یعنی انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا ہے، وہ تمام امور میں عجلت پسند ہے اور ان کے وقوع میں جلدی مچاتا ہے۔ اہل ایمان کفار کے لیے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کفار پر عذاب بھیجنے میں دیر کر دی گئی ہے۔ کفار تکذیب و عناد کے ساتھ روگردانی کرتے اور نزول عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں اور کہتے ہیں :﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’کب ہے یہ (عذاب کا) وعدہ، اگر تم سچے ہو۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نہایت حلم کے ساتھ ان کو مہلت دیتا ہے ان کو مہمل نہیں چھوڑتا اور ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ سَاعَةً وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍34) ’’جب ان کا وقت مقرر آن پہنچتا ہے تو ان کے لیے ایک گھڑی بھر کی تاخیر ہوتی ہے نہ تقدیم۔‘‘ اور اسی لیے فرمایا: ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ یعنی جس نے میرے ساتھ کفر کیا اور میری نافرمانی کی میں انھیں اپنے انتقام کا مزا چکھانے میں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا ﴿ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴾ اس لیے اس کی بابت جلدی نہ مچاؤ۔ [38] اسی طرح جو کفار کہتے تھے کہ ﴿۠ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ وہ فریب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ بات کہتے تھے کیونکہ ابھی ان کے لیے سزا مقرر نہیں ہوئی تھی اور ان پر عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔ [39]﴿ لَوۡ يَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’کا ش جان لیں کافر‘‘ یعنی اپنی بری حالت کو ﴿ حِيۡنَ لَا يَكُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’کہ جب نہیں روک سکیں گے وہ عذاب کو اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے۔‘‘ جب عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا اور ہر طرف سے ان پر چھا جائے گا ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی کوئی ان کی مدد کر سکے گا نہ وہ خود کسی کی مدد کر سکیں گے اور نہ کسی سے مدد حاصل کر سکیں گے۔ [40]﴿ بَلۡ تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’بلکہ آ جائے گی ان کے پاس۔‘‘ یعنی آگ ﴿ بَغۡتَةً فَتَبۡهَتُهُمۡ ﴾ ’’اچانک، پس وہ ان کو مبہوت کر دے گی۔‘‘ یعنی ناگہاں ان پر ٹوٹ پڑے گی، گھبراہٹ، دہشت اور عظیم خوف انھیں ہکا بکا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ رَدَّهَا ﴾ ’’پس وہ اس کو لوٹانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔‘‘ کیوں کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز اور بہت کمزور ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ یعنی ان کو مہلت دے کر ان پر سے عذاب موخر نہیں کیا جائے گا۔ اگر انھیں اپنی اس حالت اور انجام کا علم ہوتا تو کبھی عذاب کے لیے جلدی نہ مچاتے بلکہ عذاب سے بہت زیادہ ڈرتے۔ مگر جب یہ علم ان کے پاس نہ رہا تو انھوں نے اس قسم کی باتیں کیں۔ [41] اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے ساتھ کفار کے تمسخر کا ذکر فرمایا ﴿اَهٰؔذَا الَّذِيۡ يَذۡكُرُ اٰلِهَتَكُمۡ ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو تسلی دی کہ گزشتہ قوموں کا بھی اپنے رسولوں کے ساتھ یہی رویہ تھا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ ’’اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزاء کیا گیا۔ پس گھیر لیا ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے استہزاء کیا تھا اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے، اس لیے ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر بھی وہ عذاب نازل نہ ہو جائے جو گزشتہ امتوں پر نازل ہوا تھا جنھوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی۔
21:42

قُلۡ مَن يَكۡلَؤُكُم بِٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ مِنَ ٱلرَّحۡمَٰنِۚ بَلۡ هُمۡ عَن ذِكۡرِ رَبِّهِم مُّعۡرِضُونَ

کہہ دیجیے! کون نگہبانی کرتا ہے تمھاری رات اوردن میں ، رحمن (کے عذاب) سے؟بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں (42) کیا ان کے لیے (اور) معبود ہیں جو بچاتے ہوں ان کو، ہمارے سوا؟ نہیں استطاعت رکھتے وہ مدد کرنے کی اپنی ہی جانوں کی اورنہ وہ ہم (ہمارے عذاب) ہی سے محفوظ ہیں (43)بلکہ فائدہ دیا ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو، یہاں تک کہ طویل ہو گئیں ان کی عمریں ، کیا پس نہیں دیکھتے وہ کہ بے شک ہم آتے زمین کو، کم کرتے ہیں ہم اس کو اس کے کناروں سے؟ کیا پس وہ غالب ہیں ؟ (44) [42] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کی بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے جنھوں نے اللہ کے بغیر دوسرے معبود بنا لیے… کہ وہ اپنے رب رحمان کے محتاج ہیں جس کی بے پایاں رحمت شب و روز ہر نیک اور بد پر سایہ کناں ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۡ يَّكۡلَؤُكُمۡ ﴾ یعنی کون تمھاری حفاظت کرتا ہے ﴿ بِالَّيۡلِ ﴾ ’’رات کو۔‘‘ یعنی جب تم اپنے بستروں میں سو رہے اور اپنے حواس سے محروم ہوتے ہو ﴿ وَالنَّهَارِ ﴾ ’’اور دن کو۔‘‘ یعنی تمھارے زمین میں پھیل جانے اور تمھاری غفلت کے وقت ﴿ مِنَ الرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمن کے مقابلے میں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کون تمھاری حفاظت کرتا ہے اس کے بغیر کوئی ہے جو تمھاری حفاظت کرتا ہو؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی تمھاری حفاظت کرنے والا نہیں ۔ ﴿ بَلۡ هُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اسی لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کیا۔ اگر انھوں نے اپنے رب کی طرف توجہ کی ہوتی، اس کی نصیحتوں کو قبول کیا ہوتا تو یقینا انھیں رشد و ہدایت عطا کر دی جاتی اور ان کے معاملے میں انھیں توفیق سے نواز دیا جاتا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اٰلِهَةٌ تَمۡنَعُهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ﴾ یعنی جب ہم ان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کرتے ہیں تو کیا ان کے خود ساختہ معبود ان کو اس برائی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے شر سے بچانے کی قدرت رکھتے ہیں ؟ ﴿لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَ اَنۡفُسِهِمۡ وَلَا هُمۡ مِّؔنَّا يُصۡحَبُوۡنَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے وہ خود اپنی مدد کرنے کی اور نہ وہ ہماری طرف سے رفاقت دیے جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہماری طرف سے ان کے معاملات میں ان کی مدد نہیں کی جاتی۔ جب ان کی مدد نہ کی جائے تو گویا ان کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے محروم کر کے ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور یوں وہ کوئی فائدہ اٹھانے اور ضرر دور کرنے پر قادر نہیں ہوتے۔ [44] جو چیز ان کے اپنے کفر و شرک پر جمے رہنے کی باعث بنی اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ بَلۡ مَتَّعۡنَا هٰۤؤُلَآءِ وَاٰبَآءَهُمۡ حَتّٰى طَالَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ ﴾ ہم نے مال اور اولاد کے ذریعے سے ان کی مدد کی، ان کو لمبی عمریں عطا کیں تو وہ ان مقاصد کو چھوڑ کر جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا تھا، لہو و لعب کی بنا پر، مال اور اولاد سے متمتع ہونے میں مشغول ہو گئے اور ان کی مدت مہلت طویل ہو گئی، جس سے ان کے دل سخت ہو گئے، ان کی سرکشی بڑھ گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا۔ اگر وہ اس زمین پر دائیں بائیں مڑ کر اپنے جیسے لوگوں کا انجام دیکھتے تو ہلاک ہونے والوں کے سوا کچھ نہ پاتے اور موت کی خبر دینے والے کی آواز کے سوا کوئی آواز نہ سنتے۔ انھیں معلوم ہوتا کہ کئی قومیں پے در پے ہلاک ہو گئیں اور موت نے نفوس کو پھانسنے کے لیے ہر راستے پر پھندہ لگا رکھا ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿اَفَلَا يَرَوۡنَ اَنَّا نَاۡتِي الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُهَا مِنۡ اَطۡرَافِهَا﴾ یعنی ہم زمین کو اہل زمین کی موت اور ان کو فنا کرنے کے ذریعے آہستہ آہستہ کم کررہے ہیں یہاں تک کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی زمین اور زمین کے رہنے والوں کا وارث ہو گا اور وہ بہترین وارث ہے اگر وہ اپنی اس حالت کو دیکھیں تو کبھی فریب میں مبتلا نہ ہوں اور کبھی اپنے کفر و شرک کے موجودہ رویے پر جمے نہ رہیں ۔ ﴿ اَفَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’کیا پس وہ غالب ہیں ۔‘‘ جو اپنے زور سے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کو روک سکتے ہوں اور اپنی طاقت سے موت سے بچ سکتے ہوں ؟ کیا یہ ان کا وصف ہے کہ جس کی بنا پر وہ طول بقاء کے فریب میں مبتلا ہیں ؟ یا ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کی ارواح کو قبض کرنے کے لیے ان کے رب کا فرشتہ ان کے پاس آئے گا تو اس کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور ادنیٰ سی مزاحمت پر بھی قادر نہ ہوں گے۔
21:43

أَمۡ لَهُمۡ ءَالِهَةٞ تَمۡنَعُهُم مِّن دُونِنَاۚ لَا يَسۡتَطِيعُونَ نَصۡرَ أَنفُسِهِمۡ وَلَا هُم مِّنَّا يُصۡحَبُونَ

کہہ دیجیے! کون نگہبانی کرتا ہے تمھاری رات اوردن میں ، رحمن (کے عذاب) سے؟بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں (42) کیا ان کے لیے (اور) معبود ہیں جو بچاتے ہوں ان کو، ہمارے سوا؟ نہیں استطاعت رکھتے وہ مدد کرنے کی اپنی ہی جانوں کی اورنہ وہ ہم (ہمارے عذاب) ہی سے محفوظ ہیں (43)بلکہ فائدہ دیا ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو، یہاں تک کہ طویل ہو گئیں ان کی عمریں ، کیا پس نہیں دیکھتے وہ کہ بے شک ہم آتے زمین کو، کم کرتے ہیں ہم اس کو اس کے کناروں سے؟ کیا پس وہ غالب ہیں ؟ (44) [42] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کی بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے جنھوں نے اللہ کے بغیر دوسرے معبود بنا لیے… کہ وہ اپنے رب رحمان کے محتاج ہیں جس کی بے پایاں رحمت شب و روز ہر نیک اور بد پر سایہ کناں ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۡ يَّكۡلَؤُكُمۡ ﴾ یعنی کون تمھاری حفاظت کرتا ہے ﴿ بِالَّيۡلِ ﴾ ’’رات کو۔‘‘ یعنی جب تم اپنے بستروں میں سو رہے اور اپنے حواس سے محروم ہوتے ہو ﴿ وَالنَّهَارِ ﴾ ’’اور دن کو۔‘‘ یعنی تمھارے زمین میں پھیل جانے اور تمھاری غفلت کے وقت ﴿ مِنَ الرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمن کے مقابلے میں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کون تمھاری حفاظت کرتا ہے اس کے بغیر کوئی ہے جو تمھاری حفاظت کرتا ہو؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی تمھاری حفاظت کرنے والا نہیں ۔ ﴿ بَلۡ هُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اسی لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کیا۔ اگر انھوں نے اپنے رب کی طرف توجہ کی ہوتی، اس کی نصیحتوں کو قبول کیا ہوتا تو یقینا انھیں رشد و ہدایت عطا کر دی جاتی اور ان کے معاملے میں انھیں توفیق سے نواز دیا جاتا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اٰلِهَةٌ تَمۡنَعُهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ﴾ یعنی جب ہم ان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کرتے ہیں تو کیا ان کے خود ساختہ معبود ان کو اس برائی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے شر سے بچانے کی قدرت رکھتے ہیں ؟ ﴿لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَ اَنۡفُسِهِمۡ وَلَا هُمۡ مِّؔنَّا يُصۡحَبُوۡنَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے وہ خود اپنی مدد کرنے کی اور نہ وہ ہماری طرف سے رفاقت دیے جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہماری طرف سے ان کے معاملات میں ان کی مدد نہیں کی جاتی۔ جب ان کی مدد نہ کی جائے تو گویا ان کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے محروم کر کے ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور یوں وہ کوئی فائدہ اٹھانے اور ضرر دور کرنے پر قادر نہیں ہوتے۔ [44] جو چیز ان کے اپنے کفر و شرک پر جمے رہنے کی باعث بنی اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ بَلۡ مَتَّعۡنَا هٰۤؤُلَآءِ وَاٰبَآءَهُمۡ حَتّٰى طَالَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ ﴾ ہم نے مال اور اولاد کے ذریعے سے ان کی مدد کی، ان کو لمبی عمریں عطا کیں تو وہ ان مقاصد کو چھوڑ کر جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا تھا، لہو و لعب کی بنا پر، مال اور اولاد سے متمتع ہونے میں مشغول ہو گئے اور ان کی مدت مہلت طویل ہو گئی، جس سے ان کے دل سخت ہو گئے، ان کی سرکشی بڑھ گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا۔ اگر وہ اس زمین پر دائیں بائیں مڑ کر اپنے جیسے لوگوں کا انجام دیکھتے تو ہلاک ہونے والوں کے سوا کچھ نہ پاتے اور موت کی خبر دینے والے کی آواز کے سوا کوئی آواز نہ سنتے۔ انھیں معلوم ہوتا کہ کئی قومیں پے در پے ہلاک ہو گئیں اور موت نے نفوس کو پھانسنے کے لیے ہر راستے پر پھندہ لگا رکھا ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿اَفَلَا يَرَوۡنَ اَنَّا نَاۡتِي الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُهَا مِنۡ اَطۡرَافِهَا﴾ یعنی ہم زمین کو اہل زمین کی موت اور ان کو فنا کرنے کے ذریعے آہستہ آہستہ کم کررہے ہیں یہاں تک کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی زمین اور زمین کے رہنے والوں کا وارث ہو گا اور وہ بہترین وارث ہے اگر وہ اپنی اس حالت کو دیکھیں تو کبھی فریب میں مبتلا نہ ہوں اور کبھی اپنے کفر و شرک کے موجودہ رویے پر جمے نہ رہیں ۔ ﴿ اَفَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’کیا پس وہ غالب ہیں ۔‘‘ جو اپنے زور سے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کو روک سکتے ہوں اور اپنی طاقت سے موت سے بچ سکتے ہوں ؟ کیا یہ ان کا وصف ہے کہ جس کی بنا پر وہ طول بقاء کے فریب میں مبتلا ہیں ؟ یا ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کی ارواح کو قبض کرنے کے لیے ان کے رب کا فرشتہ ان کے پاس آئے گا تو اس کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور ادنیٰ سی مزاحمت پر بھی قادر نہ ہوں گے۔
21:44

بَلۡ مَتَّعۡنَا هَـٰٓؤُلَآءِ وَءَابَآءَهُمۡ حَتَّىٰ طَالَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡعُمُرُۗ أَفَلَا يَرَوۡنَ أَنَّا نَأۡتِي ٱلۡأَرۡضَ نَنقُصُهَا مِنۡ أَطۡرَافِهَآۚ أَفَهُمُ ٱلۡغَٰلِبُونَ

کہہ دیجیے! کون نگہبانی کرتا ہے تمھاری رات اوردن میں ، رحمن (کے عذاب) سے؟بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں (42) کیا ان کے لیے (اور) معبود ہیں جو بچاتے ہوں ان کو، ہمارے سوا؟ نہیں استطاعت رکھتے وہ مدد کرنے کی اپنی ہی جانوں کی اورنہ وہ ہم (ہمارے عذاب) ہی سے محفوظ ہیں (43)بلکہ فائدہ دیا ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو، یہاں تک کہ طویل ہو گئیں ان کی عمریں ، کیا پس نہیں دیکھتے وہ کہ بے شک ہم آتے زمین کو، کم کرتے ہیں ہم اس کو اس کے کناروں سے؟ کیا پس وہ غالب ہیں ؟ (44) [42] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کی بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے جنھوں نے اللہ کے بغیر دوسرے معبود بنا لیے… کہ وہ اپنے رب رحمان کے محتاج ہیں جس کی بے پایاں رحمت شب و روز ہر نیک اور بد پر سایہ کناں ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ مَنۡ يَّكۡلَؤُكُمۡ ﴾ یعنی کون تمھاری حفاظت کرتا ہے ﴿ بِالَّيۡلِ ﴾ ’’رات کو۔‘‘ یعنی جب تم اپنے بستروں میں سو رہے اور اپنے حواس سے محروم ہوتے ہو ﴿ وَالنَّهَارِ ﴾ ’’اور دن کو۔‘‘ یعنی تمھارے زمین میں پھیل جانے اور تمھاری غفلت کے وقت ﴿ مِنَ الرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمن کے مقابلے میں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کون تمھاری حفاظت کرتا ہے اس کے بغیر کوئی ہے جو تمھاری حفاظت کرتا ہو؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی تمھاری حفاظت کرنے والا نہیں ۔ ﴿ بَلۡ هُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّهِمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ اسی لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کیا۔ اگر انھوں نے اپنے رب کی طرف توجہ کی ہوتی، اس کی نصیحتوں کو قبول کیا ہوتا تو یقینا انھیں رشد و ہدایت عطا کر دی جاتی اور ان کے معاملے میں انھیں توفیق سے نواز دیا جاتا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اٰلِهَةٌ تَمۡنَعُهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ﴾ یعنی جب ہم ان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کرتے ہیں تو کیا ان کے خود ساختہ معبود ان کو اس برائی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے شر سے بچانے کی قدرت رکھتے ہیں ؟ ﴿لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَ اَنۡفُسِهِمۡ وَلَا هُمۡ مِّؔنَّا يُصۡحَبُوۡنَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے وہ خود اپنی مدد کرنے کی اور نہ وہ ہماری طرف سے رفاقت دیے جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہماری طرف سے ان کے معاملات میں ان کی مدد نہیں کی جاتی۔ جب ان کی مدد نہ کی جائے تو گویا ان کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے محروم کر کے ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور یوں وہ کوئی فائدہ اٹھانے اور ضرر دور کرنے پر قادر نہیں ہوتے۔ [44] جو چیز ان کے اپنے کفر و شرک پر جمے رہنے کی باعث بنی اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ بَلۡ مَتَّعۡنَا هٰۤؤُلَآءِ وَاٰبَآءَهُمۡ حَتّٰى طَالَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ ﴾ ہم نے مال اور اولاد کے ذریعے سے ان کی مدد کی، ان کو لمبی عمریں عطا کیں تو وہ ان مقاصد کو چھوڑ کر جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا تھا، لہو و لعب کی بنا پر، مال اور اولاد سے متمتع ہونے میں مشغول ہو گئے اور ان کی مدت مہلت طویل ہو گئی، جس سے ان کے دل سخت ہو گئے، ان کی سرکشی بڑھ گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا۔ اگر وہ اس زمین پر دائیں بائیں مڑ کر اپنے جیسے لوگوں کا انجام دیکھتے تو ہلاک ہونے والوں کے سوا کچھ نہ پاتے اور موت کی خبر دینے والے کی آواز کے سوا کوئی آواز نہ سنتے۔ انھیں معلوم ہوتا کہ کئی قومیں پے در پے ہلاک ہو گئیں اور موت نے نفوس کو پھانسنے کے لیے ہر راستے پر پھندہ لگا رکھا ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿اَفَلَا يَرَوۡنَ اَنَّا نَاۡتِي الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُهَا مِنۡ اَطۡرَافِهَا﴾ یعنی ہم زمین کو اہل زمین کی موت اور ان کو فنا کرنے کے ذریعے آہستہ آہستہ کم کررہے ہیں یہاں تک کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی زمین اور زمین کے رہنے والوں کا وارث ہو گا اور وہ بہترین وارث ہے اگر وہ اپنی اس حالت کو دیکھیں تو کبھی فریب میں مبتلا نہ ہوں اور کبھی اپنے کفر و شرک کے موجودہ رویے پر جمے نہ رہیں ۔ ﴿ اَفَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’کیا پس وہ غالب ہیں ۔‘‘ جو اپنے زور سے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کو روک سکتے ہوں اور اپنی طاقت سے موت سے بچ سکتے ہوں ؟ کیا یہ ان کا وصف ہے کہ جس کی بنا پر وہ طول بقاء کے فریب میں مبتلا ہیں ؟ یا ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کی ارواح کو قبض کرنے کے لیے ان کے رب کا فرشتہ ان کے پاس آئے گا تو اس کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور ادنیٰ سی مزاحمت پر بھی قادر نہ ہوں گے۔
21:45

قُلۡ إِنَّمَآ أُنذِرُكُم بِٱلۡوَحۡيِۚ وَلَا يَسۡمَعُ ٱلصُّمُّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا مَا يُنذَرُونَ

کہہ دیجیے! یقینا ڈراتا ہوں میں تمھیں وحی کے ذریعے سےاور نہیں سنتے بہرے پکار کو جب وہ ڈرائے جائیں (45)اور البتہ اگر چھو جائے انھیں ایک (ہلکا سا) جھونکا آپ کے رب کے عذاب کا تو البتہ ضرور کہیں گے وہ، ہائے ہماری کم بختی! بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم (46) [45]﴿قُلۡ ﴾ اے محمد! (ﷺ) تمام لوگوں سے کہہ دیجیے ﴿ اِنَّمَاۤ اُنۡذِرُؔكُمۡ بِالۡوَحۡيِ﴾یعنی میں تو اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو کچھ تمھارے پاس لایا ہوں وہ اپنی طرف سے نہیں لایا نہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں ، نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں دعویٰ کرتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ، میں تو صرف اس چیز کے ذریعے سے تمھیں ڈراتا ہوں جو اللہ تعالیٰ میری طرف وحی کرتا ہے۔ اگر تم نے میری دعوت پر لبیک کہی تو یہ اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک ہے وہ تمھیں اس پر ثواب عطا کرے گا اور اگر تم روگردانی کر کے اس کی مخالفت کروگے تو میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں ۔ اختیار تو تمام تر اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے اور تقدیر صرف اسی کی طرف سے ہے۔﴿ وَلَا يَسۡمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ ﴾ یعنی بہرہ کسی قسم کی آواز نہیں سن سکتا کیونکہ اس کی سماعت خراب ہو چکی ہے جس طرح آواز کا سننا اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ آواز کو قبول کرنے والا مقام و محل موجود ہو۔ اسی طرح وحی قلب و روح کے لیے زندگی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کا سبب ہے لیکن اگر قلب ہدایت کی آواز کو قبول نہیں کرتا تو وہ ہدایت اور ایمان کی نسبت سے اس بہرے کی مانند ہے جو آوازوں کو نہیں سن سکتا۔ یہ مشرکین بھی ہدایت اور ایمان کی آواز سننے سے بہرے ہیں اس لیے ان کا ہدایت کو قبول نہ کرنا کوئی تعجب انگیز بات نہیں خاص طور پر اس حالت میں کہ ابھی تک ان کو عذاب اور اس کی تکلیف نے چھویا نہیں ۔ [46]﴿ وَلَىِٕنۡ مَّسَّتۡهُمۡ نَفۡحَةٌ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّكَ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ایک معمولی سا حصہ ان کو چھو لے ﴿ لَيَقُوۡلُنَّ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! ہم تو ظالم تھے۔‘‘ یعنی وہ اپنی ہلاکت اور موت ہی کو پکاریں گے اور ان کی پکار اپنی ندامت کا اظہار اور اپنے ظلم، کفر اور استحقاق عذاب ہی کا اعتراف ہو گی۔
21:46

وَلَئِن مَّسَّتۡهُمۡ نَفۡحَةٞ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَٰوَيۡلَنَآ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ

کہہ دیجیے! یقینا ڈراتا ہوں میں تمھیں وحی کے ذریعے سےاور نہیں سنتے بہرے پکار کو جب وہ ڈرائے جائیں (45)اور البتہ اگر چھو جائے انھیں ایک (ہلکا سا) جھونکا آپ کے رب کے عذاب کا تو البتہ ضرور کہیں گے وہ، ہائے ہماری کم بختی! بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم (46) [45]﴿قُلۡ ﴾ اے محمد! (ﷺ) تمام لوگوں سے کہہ دیجیے ﴿ اِنَّمَاۤ اُنۡذِرُؔكُمۡ بِالۡوَحۡيِ﴾یعنی میں تو اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو کچھ تمھارے پاس لایا ہوں وہ اپنی طرف سے نہیں لایا نہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں ، نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں دعویٰ کرتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ، میں تو صرف اس چیز کے ذریعے سے تمھیں ڈراتا ہوں جو اللہ تعالیٰ میری طرف وحی کرتا ہے۔ اگر تم نے میری دعوت پر لبیک کہی تو یہ اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک ہے وہ تمھیں اس پر ثواب عطا کرے گا اور اگر تم روگردانی کر کے اس کی مخالفت کروگے تو میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں ۔ اختیار تو تمام تر اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے اور تقدیر صرف اسی کی طرف سے ہے۔﴿ وَلَا يَسۡمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ ﴾ یعنی بہرہ کسی قسم کی آواز نہیں سن سکتا کیونکہ اس کی سماعت خراب ہو چکی ہے جس طرح آواز کا سننا اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ آواز کو قبول کرنے والا مقام و محل موجود ہو۔ اسی طرح وحی قلب و روح کے لیے زندگی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کا سبب ہے لیکن اگر قلب ہدایت کی آواز کو قبول نہیں کرتا تو وہ ہدایت اور ایمان کی نسبت سے اس بہرے کی مانند ہے جو آوازوں کو نہیں سن سکتا۔ یہ مشرکین بھی ہدایت اور ایمان کی آواز سننے سے بہرے ہیں اس لیے ان کا ہدایت کو قبول نہ کرنا کوئی تعجب انگیز بات نہیں خاص طور پر اس حالت میں کہ ابھی تک ان کو عذاب اور اس کی تکلیف نے چھویا نہیں ۔ [46]﴿ وَلَىِٕنۡ مَّسَّتۡهُمۡ نَفۡحَةٌ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّكَ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ایک معمولی سا حصہ ان کو چھو لے ﴿ لَيَقُوۡلُنَّ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! ہم تو ظالم تھے۔‘‘ یعنی وہ اپنی ہلاکت اور موت ہی کو پکاریں گے اور ان کی پکار اپنی ندامت کا اظہار اور اپنے ظلم، کفر اور استحقاق عذاب ہی کا اعتراف ہو گی۔
21:47

وَنَضَعُ ٱلۡمَوَٰزِينَ ٱلۡقِسۡطَ لِيَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ فَلَا تُظۡلَمُ نَفۡسٞ شَيۡـٔٗاۖ وَإِن كَانَ مِثۡقَالَ حَبَّةٖ مِّنۡ خَرۡدَلٍ أَتَيۡنَا بِهَاۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَٰسِبِينَ

اور ہم رکھیں گے ترازوئیں انصاف کی دن قیامت کے، پس نہ ظلم کیا جائے گا کسی نفس پر کچھ بھی اور اگر ہوگا (عمل) برابر دانے ایک رائی کے بھی تو لے آئیں گے ہم اسے اور کافی ہیں ہم حساب کرنے والے (47) [47] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے عدل پر مبنی حکم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، قیامت کے روز جب وہ اپنے بندوں کو جمع کرے گا تو ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا۔ نہایت عدل کے ساتھ وزن کرنے والی ترازوئیں قائم کر دی جائیں گی جن پر ذرہ بھر وزن بھی واضح ہو جائے گا۔ یہ ترازوئیں نیکیوں اور برائیوں کا وزن کریں گی۔ ﴿ فَلَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ ﴾ ’’پس کسی نفس پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر ﴿ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’کچھ بھی۔‘‘ یعنی کسی شخص کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی نہ کسی شخص کی برائیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ ﴿ وَاِنۡ كَانَ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اور اگر ہو گا (عمل) رائی کے دانے کے برابر۔‘‘ جو کہ سب سے چھوٹی اور حقیر سی چیز ہے یعنی رائی کے دانے کے برابر بھی نیکی یا بدی ہو گی ﴿ اَتَيۡنَا بِهَا﴾ ہم اسے سامنے حاضر کر دیں گے تاکہ اس پر اس کے مرتکب کو جزا دی جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗؕ۰۰وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ ﴾(الزلزال:99؍7 ،8) ’’جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے اور جس نے ذرہ بھر برائی کا ارتکاب کیا ہو گا وہ اسے دیکھ لے گا۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’وہ کہیں گے کہ ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ کوئی چھوٹا یا بڑا عمل ایسا نہیں جو اس میں لکھنے سے رہ گیا ہو اور وہ اپنے تمام اعمال کو موجود پائیں گے۔‘‘ ﴿ وَكَفٰى بِنَا حٰؔسِبِيۡنَ﴾ اللہ تعالیٰ کی اس سے مراد خود اپنا نفس کریمہ ہے اور وہ حساب لینے کے لیے کافی ہے، یعنی اللہ اپنے بندوں کے اعمال کا علم رکھتا ہے، ان اعمال کو کتا ب میں درج کر کے ان کی حفاظت کرتا ہے، وہ ان اعمال کی مقدار کے مطابق ثواب اور ان کے استحقاق کا بھی علم رکھتا ہے اور وہ عمل کرنے والوں کو ان کی جزا عطا کرے گا۔
21:48

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ ٱلۡفُرۡقَانَ وَضِيَآءٗ وَذِكۡرٗا لِّلۡمُتَّقِينَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی (کتاب) اور روشنی اور ذکر (نصیحت) پرہیز گاروں کے لیے (48) وہ لوگ جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھےاور وہ قیامت سے بھی ڈرنے والے ہیں (49) اور یہ (قرآن) ذکر ہے، برکت والا ہے، ہم نے نازل کیا ہے اسے، کیا پس تم اس کے منکر ہو؟ (50) [48] اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت کثرت سے ان دو جلیل القدر کتابوں کا اکٹھا ذکر کیا ہے ان دونوں سے افضل، ذکر میں ان سے بڑی، ان سے زیادہ بابرکت اور ہدایت و بیان کے لیے زیادہ عظیم کوئی اور کتاب دنیا میں نازل نہیں ہوئی اور وہ ہیں تورات اور قرآن کریم، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰu کو اصلاً اور حضرت ہارونu کو تبعاً تورات عطا فرمائی ﴿ الۡفُرۡقَانَ ﴾ جو حق اور باطل کے درمیان اور ہدایت اور گمراہی کے درمیان فرق کرتی ہے ﴿وَضِيَآءً ﴾نور ہے جس سے راہنمائی کے خواہشمند راہنمائی حاصل کرتے ہیں ، اہل سلوک اس کو اپنا امام بناتے ہیں ، اس سے احکام کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے حلال و حرام کی پہچان حاصل ہوتی ہے، وہ جہالت، گمراہی اور بدعات کی تاریکیوں میں روشنی عطا کرتی ہے۔﴿ وَّذِكۡرًا لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’اور نصیحت ہے متقین کے لیے۔‘‘ یعنی اہل تقویٰ کے ذریعے سے نصیحت پکڑتے ہیں کہ کون سے امور ان کو فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور اس کے ذریعے سے خیروشر کی معرفت حاصل کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کو ’’ذکر‘‘ کے ساتھ اس لیے مختص کیا ہے کیونکہ صرف وہی اس سے علم و عمل میں فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ [49] پھر اللہ تعالیٰ نے ’’متقین‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ ﴾ یعنی اپنے تنہائی کے اوقات میں جب لوگ ان کو دیکھ نہیں رہے ہوتے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور جب ایسا ہے تو لوگوں کے سامنے تو بطریق اولیٰ ڈرتے ہیں ۔ پس وہ حرام امور سے بچتے ہیں اور جو امور ان پر لازم ٹھہرا دیے گئے ان کا التزام کرتے ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ مِّنَ السَّاعَةِ مُشۡفِقُوۡنَ ﴾ اور وہ، اپنے رب کی کامل معرفت حاصل ہونے کی بنا پر، قیامت کی گھڑی سے ڈرتے ہیں … پس انھوں نے احسان اور خوف الٰہی کو یکجا کر کے اپنے اندر سمو لیا۔ یہاں عطف، ایک ہی چیز اور ایک ہی موصوف پر وارد ہونے والی متضاد صفات پر عطف کے باب میں سے ہے۔ [50]﴿ وَهٰؔذَا ﴾ ’’اور یہ‘‘ یعنی قرآن کریم ﴿ ذِكۡرٌ مُّبٰرَكٌ ﴾’’ذکر ہے مبارک۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو دو جلیل القدر اوصاف سے موسوم کیا ہے۔(۱)قرآن حکیم ’’ذکر‘‘ ہے۔ تمام مطالب میں قرآن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال، اس کے انبیاء و اولیاء کی صفات اور احکام جزا، جنت اور جہنم کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے قرآن کو اس لیے بھی ’’ذکر‘‘ کہا ہے کہ قرآن… اخبار صادقہ کی تصدیق، ان امور کا حکم دینا جو عقلاً حسن ہیں اور ان امور سے روکنا جو عقلاً قبیح ہیں ، جیسی صفات کو جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی عقل و فطرت میں ودیعت کر رکھی ہیں ان کی یاد دہانی کراتا ہے۔(۲) قرآن کریم کا ’’مبارک‘‘ (یعنی بابرکت) ہونا اس میں بھلائی کی کثرت، بھلائی کی نشوونما اور اس میں اضافے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس قرآن حکیم سے بڑھ کر کوئی چیز بابرکت نہیں کیونکہ ہر بھلائی، ہر نعمت، دینی، دنیاوی اور اخروی امور میں ہر اضافہ اسی کے سبب سے ہے اور اس پر عمل کے آثار ہیں ۔ جب ’’ذکر‘‘ بابرکت ہو تو اس کو قبول کرنا، اس کی اطاعت کرنا اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا واجب ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی اس جلیل القدر نعمت کا شکر ادا ہو،اس کو قائم کیا جا سکے اور اس کے الفاظ و معانی کو سیکھ کر اس سے برکت حاصل کی جائے اور اس رویے سے متضاد رویہ، یعنی اس سے روگردانی کرنا، اسے درخور اعتنانہ سمجھنا، اس کا انکار کرنا اور اس پر ایمان نہ لانا سب سے بڑا کفر، شدید ترین جہالت اور سخت ظلم ہے، اس لیے جو کوئی اس کا انکار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر نکیر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَاَنۡتُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ کیا تم اس کا انکار کرتے ہو۔
21:49

ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَيۡبِ وَهُم مِّنَ ٱلسَّاعَةِ مُشۡفِقُونَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی (کتاب) اور روشنی اور ذکر (نصیحت) پرہیز گاروں کے لیے (48) وہ لوگ جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھےاور وہ قیامت سے بھی ڈرنے والے ہیں (49) اور یہ (قرآن) ذکر ہے، برکت والا ہے، ہم نے نازل کیا ہے اسے، کیا پس تم اس کے منکر ہو؟ (50) [48] اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت کثرت سے ان دو جلیل القدر کتابوں کا اکٹھا ذکر کیا ہے ان دونوں سے افضل، ذکر میں ان سے بڑی، ان سے زیادہ بابرکت اور ہدایت و بیان کے لیے زیادہ عظیم کوئی اور کتاب دنیا میں نازل نہیں ہوئی اور وہ ہیں تورات اور قرآن کریم، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰu کو اصلاً اور حضرت ہارونu کو تبعاً تورات عطا فرمائی ﴿ الۡفُرۡقَانَ ﴾ جو حق اور باطل کے درمیان اور ہدایت اور گمراہی کے درمیان فرق کرتی ہے ﴿وَضِيَآءً ﴾نور ہے جس سے راہنمائی کے خواہشمند راہنمائی حاصل کرتے ہیں ، اہل سلوک اس کو اپنا امام بناتے ہیں ، اس سے احکام کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے حلال و حرام کی پہچان حاصل ہوتی ہے، وہ جہالت، گمراہی اور بدعات کی تاریکیوں میں روشنی عطا کرتی ہے۔﴿ وَّذِكۡرًا لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’اور نصیحت ہے متقین کے لیے۔‘‘ یعنی اہل تقویٰ کے ذریعے سے نصیحت پکڑتے ہیں کہ کون سے امور ان کو فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور اس کے ذریعے سے خیروشر کی معرفت حاصل کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کو ’’ذکر‘‘ کے ساتھ اس لیے مختص کیا ہے کیونکہ صرف وہی اس سے علم و عمل میں فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ [49] پھر اللہ تعالیٰ نے ’’متقین‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ ﴾ یعنی اپنے تنہائی کے اوقات میں جب لوگ ان کو دیکھ نہیں رہے ہوتے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور جب ایسا ہے تو لوگوں کے سامنے تو بطریق اولیٰ ڈرتے ہیں ۔ پس وہ حرام امور سے بچتے ہیں اور جو امور ان پر لازم ٹھہرا دیے گئے ان کا التزام کرتے ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ مِّنَ السَّاعَةِ مُشۡفِقُوۡنَ ﴾ اور وہ، اپنے رب کی کامل معرفت حاصل ہونے کی بنا پر، قیامت کی گھڑی سے ڈرتے ہیں … پس انھوں نے احسان اور خوف الٰہی کو یکجا کر کے اپنے اندر سمو لیا۔ یہاں عطف، ایک ہی چیز اور ایک ہی موصوف پر وارد ہونے والی متضاد صفات پر عطف کے باب میں سے ہے۔ [50]﴿ وَهٰؔذَا ﴾ ’’اور یہ‘‘ یعنی قرآن کریم ﴿ ذِكۡرٌ مُّبٰرَكٌ ﴾’’ذکر ہے مبارک۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو دو جلیل القدر اوصاف سے موسوم کیا ہے۔(۱)قرآن حکیم ’’ذکر‘‘ ہے۔ تمام مطالب میں قرآن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال، اس کے انبیاء و اولیاء کی صفات اور احکام جزا، جنت اور جہنم کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے قرآن کو اس لیے بھی ’’ذکر‘‘ کہا ہے کہ قرآن… اخبار صادقہ کی تصدیق، ان امور کا حکم دینا جو عقلاً حسن ہیں اور ان امور سے روکنا جو عقلاً قبیح ہیں ، جیسی صفات کو جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی عقل و فطرت میں ودیعت کر رکھی ہیں ان کی یاد دہانی کراتا ہے۔(۲) قرآن کریم کا ’’مبارک‘‘ (یعنی بابرکت) ہونا اس میں بھلائی کی کثرت، بھلائی کی نشوونما اور اس میں اضافے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس قرآن حکیم سے بڑھ کر کوئی چیز بابرکت نہیں کیونکہ ہر بھلائی، ہر نعمت، دینی، دنیاوی اور اخروی امور میں ہر اضافہ اسی کے سبب سے ہے اور اس پر عمل کے آثار ہیں ۔ جب ’’ذکر‘‘ بابرکت ہو تو اس کو قبول کرنا، اس کی اطاعت کرنا اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا واجب ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی اس جلیل القدر نعمت کا شکر ادا ہو،اس کو قائم کیا جا سکے اور اس کے الفاظ و معانی کو سیکھ کر اس سے برکت حاصل کی جائے اور اس رویے سے متضاد رویہ، یعنی اس سے روگردانی کرنا، اسے درخور اعتنانہ سمجھنا، اس کا انکار کرنا اور اس پر ایمان نہ لانا سب سے بڑا کفر، شدید ترین جہالت اور سخت ظلم ہے، اس لیے جو کوئی اس کا انکار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر نکیر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَاَنۡتُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ کیا تم اس کا انکار کرتے ہو۔
21:50

وَهَٰذَا ذِكۡرٞ مُّبَارَكٌ أَنزَلۡنَٰهُۚ أَفَأَنتُمۡ لَهُۥ مُنكِرُونَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی (کتاب) اور روشنی اور ذکر (نصیحت) پرہیز گاروں کے لیے (48) وہ لوگ جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھےاور وہ قیامت سے بھی ڈرنے والے ہیں (49) اور یہ (قرآن) ذکر ہے، برکت والا ہے، ہم نے نازل کیا ہے اسے، کیا پس تم اس کے منکر ہو؟ (50) [48] اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت کثرت سے ان دو جلیل القدر کتابوں کا اکٹھا ذکر کیا ہے ان دونوں سے افضل، ذکر میں ان سے بڑی، ان سے زیادہ بابرکت اور ہدایت و بیان کے لیے زیادہ عظیم کوئی اور کتاب دنیا میں نازل نہیں ہوئی اور وہ ہیں تورات اور قرآن کریم، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰu کو اصلاً اور حضرت ہارونu کو تبعاً تورات عطا فرمائی ﴿ الۡفُرۡقَانَ ﴾ جو حق اور باطل کے درمیان اور ہدایت اور گمراہی کے درمیان فرق کرتی ہے ﴿وَضِيَآءً ﴾نور ہے جس سے راہنمائی کے خواہشمند راہنمائی حاصل کرتے ہیں ، اہل سلوک اس کو اپنا امام بناتے ہیں ، اس سے احکام کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے حلال و حرام کی پہچان حاصل ہوتی ہے، وہ جہالت، گمراہی اور بدعات کی تاریکیوں میں روشنی عطا کرتی ہے۔﴿ وَّذِكۡرًا لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’اور نصیحت ہے متقین کے لیے۔‘‘ یعنی اہل تقویٰ کے ذریعے سے نصیحت پکڑتے ہیں کہ کون سے امور ان کو فائدہ دیتے ہیں اور کون سے امور ان کے لیے نقصان دہ ہیں اور اس کے ذریعے سے خیروشر کی معرفت حاصل کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کو ’’ذکر‘‘ کے ساتھ اس لیے مختص کیا ہے کیونکہ صرف وہی اس سے علم و عمل میں فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ [49] پھر اللہ تعالیٰ نے ’’متقین‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ ﴾ یعنی اپنے تنہائی کے اوقات میں جب لوگ ان کو دیکھ نہیں رہے ہوتے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور جب ایسا ہے تو لوگوں کے سامنے تو بطریق اولیٰ ڈرتے ہیں ۔ پس وہ حرام امور سے بچتے ہیں اور جو امور ان پر لازم ٹھہرا دیے گئے ان کا التزام کرتے ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ مِّنَ السَّاعَةِ مُشۡفِقُوۡنَ ﴾ اور وہ، اپنے رب کی کامل معرفت حاصل ہونے کی بنا پر، قیامت کی گھڑی سے ڈرتے ہیں … پس انھوں نے احسان اور خوف الٰہی کو یکجا کر کے اپنے اندر سمو لیا۔ یہاں عطف، ایک ہی چیز اور ایک ہی موصوف پر وارد ہونے والی متضاد صفات پر عطف کے باب میں سے ہے۔ [50]﴿ وَهٰؔذَا ﴾ ’’اور یہ‘‘ یعنی قرآن کریم ﴿ ذِكۡرٌ مُّبٰرَكٌ ﴾’’ذکر ہے مبارک۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو دو جلیل القدر اوصاف سے موسوم کیا ہے۔(۱)قرآن حکیم ’’ذکر‘‘ ہے۔ تمام مطالب میں قرآن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال، اس کے انبیاء و اولیاء کی صفات اور احکام جزا، جنت اور جہنم کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے قرآن کو اس لیے بھی ’’ذکر‘‘ کہا ہے کہ قرآن… اخبار صادقہ کی تصدیق، ان امور کا حکم دینا جو عقلاً حسن ہیں اور ان امور سے روکنا جو عقلاً قبیح ہیں ، جیسی صفات کو جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی عقل و فطرت میں ودیعت کر رکھی ہیں ان کی یاد دہانی کراتا ہے۔(۲) قرآن کریم کا ’’مبارک‘‘ (یعنی بابرکت) ہونا اس میں بھلائی کی کثرت، بھلائی کی نشوونما اور اس میں اضافے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس قرآن حکیم سے بڑھ کر کوئی چیز بابرکت نہیں کیونکہ ہر بھلائی، ہر نعمت، دینی، دنیاوی اور اخروی امور میں ہر اضافہ اسی کے سبب سے ہے اور اس پر عمل کے آثار ہیں ۔ جب ’’ذکر‘‘ بابرکت ہو تو اس کو قبول کرنا، اس کی اطاعت کرنا اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا واجب ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی اس جلیل القدر نعمت کا شکر ادا ہو،اس کو قائم کیا جا سکے اور اس کے الفاظ و معانی کو سیکھ کر اس سے برکت حاصل کی جائے اور اس رویے سے متضاد رویہ، یعنی اس سے روگردانی کرنا، اسے درخور اعتنانہ سمجھنا، اس کا انکار کرنا اور اس پر ایمان نہ لانا سب سے بڑا کفر، شدید ترین جہالت اور سخت ظلم ہے، اس لیے جو کوئی اس کا انکار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر نکیر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَفَاَنۡتُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ کیا تم اس کا انکار کرتے ہو۔
21:51

۞وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَآ إِبۡرَٰهِيمَ رُشۡدَهُۥ مِن قَبۡلُ وَكُنَّا بِهِۦ عَٰلِمِينَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:52

إِذۡ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوۡمِهِۦ مَا هَٰذِهِ ٱلتَّمَاثِيلُ ٱلَّتِيٓ أَنتُمۡ لَهَا عَٰكِفُونَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:53

قَالُواْ وَجَدۡنَآ ءَابَآءَنَا لَهَا عَٰبِدِينَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:54

قَالَ لَقَدۡ كُنتُمۡ أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُمۡ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:55

قَالُوٓاْ أَجِئۡتَنَا بِٱلۡحَقِّ أَمۡ أَنتَ مِنَ ٱللَّـٰعِبِينَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:56

قَالَ بَل رَّبُّكُمۡ رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ ٱلَّذِي فَطَرَهُنَّ وَأَنَا۠ عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:57

وَتَٱللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصۡنَٰمَكُم بَعۡدَ أَن تُوَلُّواْ مُدۡبِرِينَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:58

فَجَعَلَهُمۡ جُذَٰذًا إِلَّا كَبِيرٗا لَّهُمۡ لَعَلَّهُمۡ إِلَيۡهِ يَرۡجِعُونَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:59

قَالُواْ مَن فَعَلَ هَٰذَا بِـَٔالِهَتِنَآ إِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:60

قَالُواْ سَمِعۡنَا فَتٗى يَذۡكُرُهُمۡ يُقَالُ لَهُۥٓ إِبۡرَٰهِيمُ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:61

قَالُواْ فَأۡتُواْ بِهِۦ عَلَىٰٓ أَعۡيُنِ ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُونَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:62

قَالُوٓاْ ءَأَنتَ فَعَلۡتَ هَٰذَا بِـَٔالِهَتِنَا يَـٰٓإِبۡرَٰهِيمُ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:63

قَالَ بَلۡ فَعَلَهُۥ كَبِيرُهُمۡ هَٰذَا فَسۡـَٔلُوهُمۡ إِن كَانُواْ يَنطِقُونَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:64

فَرَجَعُوٓاْ إِلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ فَقَالُوٓاْ إِنَّكُمۡ أَنتُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:65

ثُمَّ نُكِسُواْ عَلَىٰ رُءُوسِهِمۡ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هَـٰٓؤُلَآءِ يَنطِقُونَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:66

قَالَ أَفَتَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَا يَضُرُّكُمۡ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:67

أُفّٖ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:68

قَالُواْ حَرِّقُوهُ وَٱنصُرُوٓاْ ءَالِهَتَكُمۡ إِن كُنتُمۡ فَٰعِلِينَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:69

قُلۡنَا يَٰنَارُ كُونِي بَرۡدٗا وَسَلَٰمًا عَلَىٰٓ إِبۡرَٰهِيمَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:70

وَأَرَادُواْ بِهِۦ كَيۡدٗا فَجَعَلۡنَٰهُمُ ٱلۡأَخۡسَرِينَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:71

وَنَجَّيۡنَٰهُ وَلُوطًا إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ٱلَّتِي بَٰرَكۡنَا فِيهَا لِلۡعَٰلَمِينَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:72

وَوَهَبۡنَا لَهُۥٓ إِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ نَافِلَةٗۖ وَكُلّٗا جَعَلۡنَا صَٰلِحِينَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:73

وَجَعَلۡنَٰهُمۡ أَئِمَّةٗ يَهۡدُونَ بِأَمۡرِنَا وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ ٱلۡخَيۡرَٰتِ وَإِقَامَ ٱلصَّلَوٰةِ وَإِيتَآءَ ٱلزَّكَوٰةِۖ وَكَانُواْ لَنَا عَٰبِدِينَ

اور البتہ تحقیق دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت اس سے پہلے اور تھے ہم اسے (خوب)جاننے والے (51) جب کہا تھا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، کیا ہیں یہ مورتیاں وہ جو تم ہو ان کے لیے (تعظیم سے) جھکنے والے؟ (52) انھوں نے کہا، پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے (53) ابراہیم نے کہا، البتہ تحقیق ہو تم خود اور (تھے) باپ دادا تمھارے گمراہی صریح میں (54) انھوں نے کہا، کیا لایا ہے تو ہمارے پاس حق یا ہے تو کھیل کرنے والوں میں سے؟(55) ابراہیم نے کہابلکہ تمھارا رب رب ہے آسمانوں اور زمین کا، وہ جس نے پیدا کیا ان کواور میں اوپر اس (بات) کے گواہوں میں سے ہوں (56) اور اللہ کی قسم! البتہ ضرور ایک تدبیر کروں گا میں تمھارے بتوں (کو توڑنے) کے لیے، بعد اس کے کہ چلے جاؤ گے تم پیٹھ پھیر کر (57) پھر کر دیا اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے سوائے ایک بڑے کے ان کے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں (58) انھوں نے کہا، کس نے کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ؟ بلاشبہ وہ البتہ ظالموں میں سے ہے (59) انھوں نے کہا، سنا ہم نے ایک جو ان کو، وہ ذکر کرتا تھا ان کا، کہا جاتا ہے اسے ابراہیم (60) انھوں نے کہا، پس لے آؤ تم اسے روبرو لوگوں کے تاکہ وہ (عبرت کے لیے) دیکھیں (61)انھوں نے کہا، کیا تو نے ہی کیا ہے یہ (کام) ہمارے معبودوں کے ساتھ، اے ابراہیم؟ (62)اس نے کہا (نہیں )بلکہ کیا ہے یہ کام ان کے اس بڑے (بت) نے، پس تم پوچھو ان سے اگر ہیں وہ بولتے (63) پس لوٹے وہ اپنے نفسوں کی طرف (یعنی سوچا) اور کہا (آپس میں ) بلاشبہ تم ہی ظالم ہو (64) پھر وہ الٹے کر دیے گئے اپنے سروں کے بل (اور کہا) البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں یہ (بت) بولتے (65) ابراہیم نے کہا، کیا پس تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے ان کی جو نہیں نفع دے سکتے تمھیں کچھ اور نہ نقصان دے سکتے ہیں تمھیں ؟ (66) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (67) انھوں نے کہا، جلا دو تم اس کو اور مدد کرو اپنے معبودوں کی، اگر ہو تم (کچھ) کرنے والے (68) ہم نے کہا، اے آگ ہو جا تو ٹھنڈی اور سلامتی (والی) اوپر ابراہیم کے (69) اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کے ساتھ مکر کا، پس کر دیا ہم نے انھیں ہی خسارہ پانے والے (70) اور نجات دی ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو طرف اس زمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں جہان والوں کے لیے(71) اور عطا کیا ہم نے اس (ابراہیم) کو اسحاق اور یعقوب مزیداور ہر ایک کو بنایا ہم نے صالح (72) اور بنایا ہم نے انھیں امام، وہ ہدایت کرتے تھے ہمارے حکم کے ساتھ اور وحی کی ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے کی اور زکاۃ ادا کرنے کی اور تھے وہ ہمارے عبادت گزار (فرماں بردار) بندے (73) [51] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u اور حضرت محمد مصطفیﷺ اور ان کی جلیل القدر کتابوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ رُشۡدَهٗ ﴾یعنی حضرت موسیٰu اور حضرت محمدﷺ کی بعثت اور ان کی کتابوں کے نازل ہونے سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے ابراہیم u کو زمین و آسمان کی بادشاہی کا مشاہدہ کروایا اور انھیں رشد و ہدایت عطا کی، جس سے ان کے نفس کو کمال حاصل ہوا اور آپ نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰﷺ کے سوا کسی کو عطا نہیں کی اور آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کے باعث، آپ کے حسب حال اور آپ کے بلند مرتبہ کی بنا پر رشد کو آپ کی طرف مضاف کیا گیا ورنہ ہر مومن کو اس کے حسب ایمان رشد و ہدایت سے نوازا گیا ہے۔﴿ وَؔكُنَّا بِهٖ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ’’اور ہم اس کو جانتے تھے۔‘‘ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو رشد و ہدایت کی، ان کو رسالت کے لیے منتخب کیا، انھیں اپنا خلیل بنایا اور دنیا و آخرت میں انھیں اپنے لیے چن لیا اس لیے کہ ہم جانتے تھے کہ وہ اس مرتبہ کے اہل اور اپنی پاکیزگی اور ذہانت کی بنا پر اس کے مستحق ہیں ۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنی قوم کے ساتھ مباحثہ، شرک سے ان کو روکنے، بتوں کو توڑنے اور ان پر آپ کے حجت قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [52]﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِيۡلُ ﴾ ’’جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں ؟‘‘ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِيۡۤ اَنۡتُمۡ لَهَا عٰكِفُوۡنَ ﴾ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں ؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟ [53] تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا﴾ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں … [54] اس لیے ابراہیم u نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كُنۡتُمۡ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں ، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔ [55]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم u کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم u نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا بِالۡحَقِّ اَمۡ اَنۡتَ مِنَ اللّٰعِبِيۡنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیمu کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم uکی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیمu لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔ [56] ابراہیم u نے ان کی بات کا اس طرح جواب دیا جس سے ان کی سفاہت اور کم عقلی واضح ہوتی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿ بَلۡ رَّبُّكُمۡ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الَّذِيۡ فَطَرَهُنَّ١ۖٞ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’بلکہ تمھارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں بھی ان باتوں کو ماننے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ حضرت ابراہیم نے ان کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلیلوں کو جمع کر دیا۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر ایک شخص، حتیٰ کہ وہ خود بھی جنھوں نے ابراہیم u کے ساتھ جھگڑا کیا، جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے انسانوں ، فرشتوں ، جنوں، جانوروں اور زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو مختلف الانواع تدابیر کے ساتھ ان کی تدبیر کر رہا ہے۔ پس تمام مخلوق پیدا شدہ، محتاج تدبیر اور وہ زیر تصرف ہے اور جن کی یہ مشرکین عبادت کرتے ہیں وہ بھی اس مخلوق میں داخل ہیں … کیا یہ چیز اس شخص کے نزدیک، جو ادنیٰ سی عقل اور تمیز رکھتا ہے… مناسب ہے کہ ایک ایسی مخلوق ہستی کی عبادت کی جائے جو کسی کے زیر تصرف ہے، جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں ، جو زندگی اور موت پر قدرت رکھتی ہے نہ دوبارہ زندہ کرنے پر اور خالق، رازق اور مدبر کائنات کی عبادت کو چھوڑ دیا جائے؟ نقلی اور سمعی دلیل وہ ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ معصوم اور غلطیوں سے پاک ہے اور وہ صرف حق کی خبر دیتا ہے اور دلیل سمعی اس کی ایک قسم کسی نبی کی گواہی ہے، بنابریں ابراہیم u نے فرمایا:﴿ وَاَنَا عَلٰى ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’اور میں اس پر‘‘ یعنی اس امر پر کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کے بعد کونسی گواہی ہے جو انبیاء و رسل کی گواہی سے افضل ہو خاص طور پر اولوالعزم رسول اور رحمان کے خلیل کی گواہی سے؟ [57] چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں ، اس لیے ابراہیم u نے فرمایا:﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِيۡدَنَّ اَصۡنَامَكُمۡ ﴾ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔‘‘ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔ [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمۡ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے:(الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَي الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم)’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔﴿ لَعَلَّهُمۡ اِلَيۡهِ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘ [59] جب انھوں نے اپنے معبودوں کی اہانت اور رسوائی دیکھی تو کہنے لگے: ﴿ مَنۡ فَعَلَ هٰؔذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾’’ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا ہے؟ یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔‘‘ انھوں نے حضرت ابراہیمu کو ظالم کہا، حالانکہ وہ خود اس صفت کے زیادہ مستحق ہیں حضرت ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑا اور آپ کا ان بتوں کو توڑنا آپ کے بہترین مناقب میں سے ہے، نیز آپ کے عدل اور آپ کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ ظالم تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا لیا تھا، حالانکہ انھوں نے دیکھ لیا کہ ان کے معبودوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ [60]﴿ سَمِعۡنَا فَتًى يَّذۡكُرُهُمۡ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیمu ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔ [61] جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیمu نے کیا ہے ﴿ قَالُوۡا فَاۡتُوۡا بِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤى اَعۡيُنِ النَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَشۡهَدُوۡنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم u چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ u کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ u نے فرمایا تھا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾(طٰہ:20؍59) ’’تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔‘‘ [62] جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم u کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیمu سے پوچھا ﴿ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ هٰؔذَا ﴾ ’’کیا تو نے یہ کیا ہے؟‘‘ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟ [63] ابراہیم u نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلۡ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِيۡرُهُمۡ هٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم u کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ فَسۡـَٔلُوۡهُمۡ اِنۡ كَانُوۡا يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ ’’ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں ، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں ، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ۔ [64]﴿ فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔‘‘ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوۡۤا اِنَّـكُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔‘‘ پس اس سے حضرت ابراہیم u کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔ [65] مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوۡا عَلٰى رُءُوۡسِهِمۡ﴾ ’’اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔‘‘ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیمu سے کہنے لگے:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ يَنۡطِقُوۡنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟ [66] اس پر ابراہیم u نے ان کی زجروتوبیخ اور علی الاعلان ان کے شرک اور عبادت کے لیے ان کے خداؤں کے عدم استحقاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَفَتَعۡبُدُوۡنَ۠ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنۡفَعُكُمۡ شَيۡـًٔؔا وَّلَا يَضُرُّكُمۡ﴾ ’’کیا جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو؟‘‘ [67]﴿ اُفٍّ لَّكُمۡ وَلِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔ [68] جب ابراہیم u نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے:﴿ حَرِّقُوۡهُ وَانۡصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں ، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں ، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔ [69] پس جب انھوں نے ابراہیم u کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوۡنِيۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ﴾ ’’ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔‘‘ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیمu کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔ [70]﴿ وَاَرَادُوۡا بِهٖ كَيۡدًا﴾ ’’انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔‘‘ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلۡنٰهُمُ الۡاَخۡسَرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل u اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔ [71]﴿ وَنَجَّيۡنٰهُ وَلُوۡطًا ﴾ ’’اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم u پر حضرت لوط u کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط u حضرت ابراہیم u کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا لِلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ’’بابل‘‘ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَ اِنِّيۡ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾(الصافات:37؍99) ’’انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔‘‘ سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل u کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔ [72]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ﴾ ’’اور ہم نے عطا کیے اسے۔‘‘ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسۡحٰقَ١ؕ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اسحاق اور یعقوب بن اسحاقi ‘‘﴿نَافِلَةً﴾ ’’مزید‘‘ یعنی ابراہیم u کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق u کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنۡ وَّرَؔآءِ اِسۡحٰؔقَ يَعۡقُوۡبَ ﴾(ھود:11؍71) ’’اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔‘‘ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیلu ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیمi، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں ۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ آپ ہی کی نسل میں سے ہیں ۔ ﴿ وَكُلًّا﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کو ﴿ جَعَلۡنَا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے نیک بنایا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔ [73]ان کی صالحیت میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رہبر و راہنما بنایا جو اس کے حکم سے راہنمائی حاصل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ راہنما ہو اور لوگ اس کی راہنمائی میں راہ راست پر گامزن ہوں … چلنے والے ان کو راہنمائی میں چلتے تھے اور ان کی راہنمائی کی یہ نعمت اس سبب سے عطا ہوئی کہ وہ صابر تھے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھتے تھے۔﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا﴾ یعنی ہمارے دین کے ذریعے سے لوگوں کی راہنمائی کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی خواہشات نفس کے مطابق حکم نہیں دیتے تھے بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی رضا کی اتباع ہی کا حکم دیتے تھے اور بندہ اس وقت تک امامت کے رتبے پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دعوت نہ دے۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ فِعۡلَ الۡخَيۡرٰتِ﴾’’اور ہم نے ان کی طرف وحی کی نیک کاموں کے کرنے کی۔‘‘ وہ خود بھی ان نیک کاموں کو سرانجام دیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیتے تھے۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام نیک کاموں کو شامل ہے۔﴿ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءَ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے کی۔‘‘ یہ عام پر خاص کے عطف کے باب سے ہے کیونکہ ان دونوں عبادات کو باقی تمام عبادات پر شرف اور فضیلت حاصل ہے، نیز اس لیے بھی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان عبادات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس نے دین کو قائم کر لیا اور جس نے ان دونوں عبادت کو ضائع کر دیا، اس سے ان کے علاوہ دیگر امور کو ضائع کرنے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے، نیز نماز ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کے حق پر مبنی ہیں اور زکاۃ ان عملوں میں سب سے افضل عمل ہے جن میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَنَا عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اپنے تمام اوقات میں قلبی، قولی اور بدنی عبادات میں مصروف رہتے تھے۔ پس وہ اس بات کے مستحق ہو گئے کہ عبادت ان کا وصف بن جائے، چنانچہ وہ اس صفت سے متصف ہوگئے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو متصف ہونے کا حکم دیا اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔
21:74

وَلُوطًا ءَاتَيۡنَٰهُ حُكۡمٗا وَعِلۡمٗا وَنَجَّيۡنَٰهُ مِنَ ٱلۡقَرۡيَةِ ٱلَّتِي كَانَت تَّعۡمَلُ ٱلۡخَبَـٰٓئِثَۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمَ سَوۡءٖ فَٰسِقِينَ

اور لوط کو، دیا ہم نے اسے حکم اور علم اور نجات دی ہم نے اسے اس بستی سے وہ جو کرتے تھے (اس کے باشندے) کام ناپاک، بلاشبہ وہ تھے لوگ برے، نافرمان (74) اور داخل کیا ہم نے اس (لوط) کو اپنی رحمت میں ، بے شک وہ صالح لوگوں میں سے تھا(75) [74] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول لوط u کی مدح و ثناء ہے کہ وہ شریعت کا علم رکھتے تھے، نیز یہ کہ و ہ لوگوں کے درمیان صواب اور راستی کے ساتھ فیصلے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے انھیں ان کی بدکاریوں اور فواحش سے روکتے تھے۔ پس وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر انھوں نے ان کی دعوت پر لبیک نہ کہی۔ تو اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کر دیا ﴿ كَانُوۡا قَوۡمَ سَوۡءٍ فٰسِقِيۡنَ﴾ کیونکہ وہ بڑے ہی برے اور فاسق لوگ تھے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے داعی کو جھٹلایا اور انھیں ملک بدر کرنے کی دھمکی دی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے لوط u کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات اس بستی سے دور نکل جائیں ، چنانچہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر اس بستی سے دور نکل گئے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہے اور یہ ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی وجہ سے ہوا۔ [75] ارشاد فرمایا: ﴿ وَاَدۡخَلۡنٰهُ فِيۡ رَحۡمَتِنَا ﴾ ’’اور ہم نے اس کو داخل کر لیا اپنی رحمت میں ۔‘‘ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہو جاتا ہے وہ ان لوگوں میں شامل ہو جاتا ہے جو ہر قسم کے خوف سے مامون ہیں ، جو ہر قسم کی بھلائی، سعادت، نیکی، مسرت اور مدح و ثنا سے بہرہ ور ہیں ۔ یہ اس لیے کہ لوط u ان صالحین میں سے ہیں ، جن کے اعمال درست اور احوال پاک ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام فاسد امور کو درست فرما دیا اور بندے کا درست ہونا اللہ تعالیٰ کی رحمت میں اس کے داخل ہونے کا سبب ہے جیسے بندے کا فاسد ہونا اس کے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور خیر سے محروم ہونے کا سبب ہے۔صالحیت کے اعتبار سے انبیاء کرام علیہ السلام سب سے بڑے لوگ ہیں اس لیے صالحیت کے ساتھ ان کا وصف بیان فرمایا۔ حضرت سلیمان u نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا مانگی:﴿ وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾(النمل:27؍19) ’’مجھے اپنی رحمت سے اپنے صالح بندوں میں شامل کر۔‘‘
21:75

وَأَدۡخَلۡنَٰهُ فِي رَحۡمَتِنَآۖ إِنَّهُۥ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ

اور لوط کو، دیا ہم نے اسے حکم اور علم اور نجات دی ہم نے اسے اس بستی سے وہ جو کرتے تھے (اس کے باشندے) کام ناپاک، بلاشبہ وہ تھے لوگ برے، نافرمان (74) اور داخل کیا ہم نے اس (لوط) کو اپنی رحمت میں ، بے شک وہ صالح لوگوں میں سے تھا(75) [74] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول لوط u کی مدح و ثناء ہے کہ وہ شریعت کا علم رکھتے تھے، نیز یہ کہ و ہ لوگوں کے درمیان صواب اور راستی کے ساتھ فیصلے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے انھیں ان کی بدکاریوں اور فواحش سے روکتے تھے۔ پس وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر انھوں نے ان کی دعوت پر لبیک نہ کہی۔ تو اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کر دیا ﴿ كَانُوۡا قَوۡمَ سَوۡءٍ فٰسِقِيۡنَ﴾ کیونکہ وہ بڑے ہی برے اور فاسق لوگ تھے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے داعی کو جھٹلایا اور انھیں ملک بدر کرنے کی دھمکی دی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے لوط u کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات اس بستی سے دور نکل جائیں ، چنانچہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر اس بستی سے دور نکل گئے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہے اور یہ ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی وجہ سے ہوا۔ [75] ارشاد فرمایا: ﴿ وَاَدۡخَلۡنٰهُ فِيۡ رَحۡمَتِنَا ﴾ ’’اور ہم نے اس کو داخل کر لیا اپنی رحمت میں ۔‘‘ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہو جاتا ہے وہ ان لوگوں میں شامل ہو جاتا ہے جو ہر قسم کے خوف سے مامون ہیں ، جو ہر قسم کی بھلائی، سعادت، نیکی، مسرت اور مدح و ثنا سے بہرہ ور ہیں ۔ یہ اس لیے کہ لوط u ان صالحین میں سے ہیں ، جن کے اعمال درست اور احوال پاک ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام فاسد امور کو درست فرما دیا اور بندے کا درست ہونا اللہ تعالیٰ کی رحمت میں اس کے داخل ہونے کا سبب ہے جیسے بندے کا فاسد ہونا اس کے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور خیر سے محروم ہونے کا سبب ہے۔صالحیت کے اعتبار سے انبیاء کرام علیہ السلام سب سے بڑے لوگ ہیں اس لیے صالحیت کے ساتھ ان کا وصف بیان فرمایا۔ حضرت سلیمان u نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا مانگی:﴿ وَاَدۡخِلۡنِيۡ بِرَحۡمَتِكَ فِيۡ عِبَادِكَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾(النمل:27؍19) ’’مجھے اپنی رحمت سے اپنے صالح بندوں میں شامل کر۔‘‘
21:76

وَنُوحًا إِذۡ نَادَىٰ مِن قَبۡلُ فَٱسۡتَجَبۡنَا لَهُۥ فَنَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥ مِنَ ٱلۡكَرۡبِ ٱلۡعَظِيمِ

اور یاد کیجیے نوح کو جب اس نے پکارا تھا اس سے پہلے،پس قبول کی ہم نے (دعا) اس کی اور نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل (مومنوں ) کو غم سے جو بہت بڑا تھا (76) اور مدد کی ہم نے اس کی اس قوم کے خلاف جنھوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیتوں کو، بلاشبہ وہ تھے لوگ برے، پس غرق کر دیا ہم نے ان کو سب کو (77) [77,76] ہمارے بندے اور رسول نوح (u) کی مدح و ثنا بیان کرتے ہوئے ان کا ذکر کیجیے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی طرف مبعوث فرمایا اور وہ ان کے اندر ساڑھے نو سو سال رہے، ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاتے رہے، انھیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے سے روکتے رہے، بار بار انھیں کھلے چھپے اور شب و روز اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تو انھوں نے اپنے رب کو پکارا اور دعا کی۔ ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا ﴾(نوح: 71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! روئے زمین پر کسی کافر کو آباد نہ رہنے دے اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور فاجر اور کافر اولاد ہی کو جنم دیں گے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نوح u کی دعا کو قبول فرما لیا اور ان کو سیلاب میں غرق کر دیا، ان میں سے ایک شخص کو بھی زندہ باقی نہ چھوڑا۔ صرف نوح u کی ذریت باقی رہ گئی اور اللہ تعالیٰ نے ٹھٹھا کرنے والی قوم کے خلاف ان کی مدد فرمائی۔
21:77

وَنَصَرۡنَٰهُ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَآۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمَ سَوۡءٖ فَأَغۡرَقۡنَٰهُمۡ أَجۡمَعِينَ

اور یاد کیجیے نوح کو جب اس نے پکارا تھا اس سے پہلے،پس قبول کی ہم نے (دعا) اس کی اور نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل (مومنوں ) کو غم سے جو بہت بڑا تھا (76) اور مدد کی ہم نے اس کی اس قوم کے خلاف جنھوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیتوں کو، بلاشبہ وہ تھے لوگ برے، پس غرق کر دیا ہم نے ان کو سب کو (77) [77,76] ہمارے بندے اور رسول نوح (u) کی مدح و ثنا بیان کرتے ہوئے ان کا ذکر کیجیے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی طرف مبعوث فرمایا اور وہ ان کے اندر ساڑھے نو سو سال رہے، ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاتے رہے، انھیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے سے روکتے رہے، بار بار انھیں کھلے چھپے اور شب و روز اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تو انھوں نے اپنے رب کو پکارا اور دعا کی۔ ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا۰۰اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا ﴾(نوح: 71؍26 ،27) ’’اے میرے رب! روئے زمین پر کسی کافر کو آباد نہ رہنے دے اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور فاجر اور کافر اولاد ہی کو جنم دیں گے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نوح u کی دعا کو قبول فرما لیا اور ان کو سیلاب میں غرق کر دیا، ان میں سے ایک شخص کو بھی زندہ باقی نہ چھوڑا۔ صرف نوح u کی ذریت باقی رہ گئی اور اللہ تعالیٰ نے ٹھٹھا کرنے والی قوم کے خلاف ان کی مدد فرمائی۔
21:78

وَدَاوُۥدَ وَسُلَيۡمَٰنَ إِذۡ يَحۡكُمَانِ فِي ٱلۡحَرۡثِ إِذۡ نَفَشَتۡ فِيهِ غَنَمُ ٱلۡقَوۡمِ وَكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شَٰهِدِينَ

اور (یاد کیجیے) داود اور سلیمان کو جس وقت فیصلہ کر رہے تھے وہ دونوں کھیتی کی بابت جبکہ رات کو چر گئی تھیں اس میں بکریاں ایک قوم کی اور تھے ہم ان کے فیصلہ کرنے کے وقت حاضر (78) پس سمجھا دیا ہم نے وہ (فیصلہ) سلیمان کواور اہر ایک کو دیا ہم نے حکم اور علم اور تابع کیے تھے ہم نے ساتھ داود کے پہاڑ، وہ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی (تابع کیے) اور تھے ہم ہی کرنے والے (79) اور سکھائی ہم نے اسے کاریگری لباس (زر ہیں ) بنانے کی تمھارے لیے تاکہ وہ (لباس) حفاظت کرے تمھاری، تمھاری لڑائی سے تو کیا تم شکر کرنے والے ہو؟ (80) اور سلیمان کے لیے ہوا تندوتیز (تابع کر دی ہم نے)، وہ چلتی تھی اس کے حکم سے طرف اس سرزمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں اور تھے ہم ہر چیز کو جاننے والے (81) اور کچھ شیطان بھی (ہم نے اس کے تابع کر دیے تھے)، وہ جو غوطہ لگاتے تھے اس کے لیے اور کرتے تھے (اور بھی) کئی کام سوائے اس کے اور تھے ہم ہی ان کی حفاظت کرنے والے (82) [78] ہمارے دو انبیائے کرام، سلیمان اور داؤدi کا مدح و ثنا کے ساتھ ذکر کیجیے جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کو وسیع علم سے نوازا اور انھیں بندوں کے درمیان فیصلے کرنے کی صلاحیت بخشی اور اس کی دلیل یہ ہے۔ ﴿اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ ﴾ یعنی جب ایک کھیتی کا مالک ان کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے آیا جسے دوسرے لوگوں کی بکریاں چر گئی تھیں ، یعنی رات کے وقت کھیت میں داخل ہو گئیں اور اس کے درختوں اور تمام فصل کو چر گئیں ۔ اس جھگڑے میں داؤدu نے فیصلہ کیا کہ تمام بکریاں کھیتی کے مالک کو دے دی جائیں کیونکہ بکریوں کے مالک عام طور پر کوتاہی سے کام لیتے ہیں ۔ پس اس طرح آپ نے ان کو سزا دی۔ سلیمان u نے اس قضیے میں حق و صواب کے مطابق فیصلہ سنایا کہ بکریوں کے مالک اپنی بکریاں کھیتی کے مالک کے حوالے کر دیں تاکہ وہ ان بکریوں کے دودھ اور اون سے فائدہ اٹھائے اور بکریوں کے مالک اس کے باغ اور کھیت میں اس وقت تک کام کریں گے جب تک کہ باغ اپنی پہلی حالت پر نہیں آتا۔ جب باغ اپنی پہلی حالت پر واپس آ جائے تو دونوں ایک دوسرے کا مال لوٹا دیں اور ہر شخص اپنا اپنا مال لے لے۔ یہ فیصلہ حضرت سلیمانu کے کمال فہم اور فطانت پر دلالت کرتا ہے۔ [79] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾ یعنی ہم نے سلیمان کو اس قضیے کا فہم عطا کیا۔ یہ چیز اس امر پر دلالت نہیں کرتی کہ داؤد u کو کسی دوسرے قضیے کا فہم بھی عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اس لیے ان دونوں کا ذکر فرمایا اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مقدس ہے ﴿ وَؔكُلًّا ﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی داؤد اور سلیمانi کو ﴿ اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾ ’’دیا ہم نے حکم اور علم۔‘‘ فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور علم سے ہم نے دونوں کو سرفراز کیا تھا۔ یہ واقعہ دلالت کرتا ہے کہ حاکم جب کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کا فیصلہ کبھی تو حق و صواب کے موافق ہوتا ہے اور کبھی اس میں اس سے خطا بھی ہو جاتی ہے۔ اگر فیصلے میں کوشش و اجتہاد کے باوجود اس سے خطا ہو جائے تو وہ ملامت کا مستحق نہیں ۔ پھر ان مخصوص امور کا ذکر فرمایا جن سے ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ نوازا گیا تھا۔ فرمایا: ﴿ وَّسَخَّرۡنَا مَعَ دَاوٗدَ الۡجِبَالَ يُسَبِّحۡنَ وَالطَّيۡرَ﴾ ’’اور تابع کر دیے ہم نے داؤد کے پہاڑ، وہ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی۔‘‘ ذکر کیا جاتا ہے کہ داؤد u سب سے زیادہ عبادت گزار اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح و تحمید کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوبصورت اور نرم آواز اور رقت عطا کی تھی جو کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ جب آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمدوثنا بیان کرتے تو ٹھوس پتھر، گونگے پرندے اور بے شعور جانور بھی ان کے ہم زبان ہو جاتے اور یہ داؤد u پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا، اس لیے فرمایا:﴿وَؔكُنَّا فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اس فعل کو کرنے والے ہم ہی تھے۔ [80]﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوۡسٍ لَّـكُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے داؤد u کو زرہ بکتر بنانے کا علم بخشا اور حضرت داؤدu پہلے شخص ہیں جنھوں نے زرہ بکتر بنائی اور پھر اس کا علم آئندہ آنے والوں کی طرف منتقل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا اور ان کو زرہ بنانا سکھایا، اس میں بہت بڑا فائدہ ہے۔ ﴿لِتُحۡصِنَكُمۡ مِّنۢۡ بَاۡسِكُمۡ﴾ یعنی سخت لڑائی اور جنگ میں تمھاری حفاظت کرنے والی ہے۔ ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ شٰكِرُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہو جو اس نے اپنے بندے داؤدu کے توسط سے تمھیں عطا کی؟ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ سَرَابِيۡلَ تَقِيۡكُمُ الۡحَرَّ وَسَرَابِيۡلَ تَقِيۡكُمۡ بَاۡسَكُمۡ١ؕ كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡلِمُوۡنَ ﴾(النحل:16؍81) ’’اور تمھارے لیے ایسی پوشاک بنائی جو گرمی سے تمھاری حفاظت کرتی ہے اور ایسی پوشاک بنائی جو جنگ میں تمھاری حفاظت کرتی ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم سرتسلیم خم کرو۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا داؤد u کو زرہ بکتر بنانا سکھانا اور ان کے لیے لوہے کو نرم کرنا، خارق عادت امر ہو… جیسا کہ مفسرین کہتے ہیں … اللہ تعالیٰ نے داؤد u کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔ وہ لوہے کو آگ میں پگھلائے بغیر اسی طرح استعمال میں لاتے تھے گویا کہ وہ گندھا ہوا آٹا اور گندھی مٹی ہو۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ عادت جاریہ کے مطابق انھیں لوہے کو استعمال میں لانا سکھایا گیا ہو۔ اللہ کی طرف سے لوہے کو نرم کرنے کی تعلیم ان معروف اسباب میں سے سے ہو جن کے ذریعے سے آج کل لوہا پگھلایا جاتا ہے… اور یہی راجح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا اور ان کو اس پر شکر کرنے کا حکم دیا اور اگر صنعت آہن گری ان امور میں سے نہ ہوتی جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تصرف کی قدرت عطا کی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر اس احسان اور اس کے فوائد کا ذکر نہ کرتا کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ داؤد u کی جن زرہوں کے بنانے کا ذکر ہے اس سے مراد متعین زرہیں ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تو زرہ بکتر کی جنس کا ذکر کر کے اپنا احسان یاد دلایا ہے اور وہ احتمال جس کا ذکر اصحاب تفسیر کرتے ہیں تو اس کی کوئی دلیل نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے ﴿وَاَلَنَّا لَهُ الۡحَدِيۡدَ﴾(سبا:34؍10) ’’ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔‘‘ اور اس میں یہ واضح نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوہے کو بغیر کسی سبب کے نرم کر دیا تھا۔ واللہ اعلم۔ [81]﴿وَلِسُلَيۡمٰنَ الرِّيۡحَ ﴾ یعنی ہم نے سلیمان (u) کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا ﴿عَاصِفَةً ﴾ جو بہت تیز چلتی تھی۔ ﴿تَجۡرِيۡ بِاَمۡرِهٖۤ ﴾ جہاں چلنے کا اس کو حکم دیا جاتا تھا ہَوا اس حکم کی اطاعت کرتی تھی۔ صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا۔ ﴿اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا﴾ ’’اس زمین کی طرف، جس میں ہم نے برکت رکھی تھی۔‘‘ یعنی سرزمین شام، جو سلیمان u کا مستقر تھا، وہ ہوا کے دوش پر مشرق و مغرب میں سفر کرتے تھے اور ہوا کا ٹھکانا اور لوٹنا ارض مقدس کی طرف ہوتا تھا۔ ﴿وَؔكُنَّا بِكُلِّ شَيۡءٍ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ہمارا علم، تمام چیزوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے ہم نے داؤد اور سلیمان (i) کو ان امور کی تعلیم دی جن کے ذریعے سے ہم نے ان کو اس مقام پر پہنچایا جس کا ہم ذکر کر چکے ہیں ۔ [82]﴿وَمِنَ الشَّيٰطِيۡنِ مَنۡ يَّغُوۡصُوۡنَ لَهٗ وَيَعۡمَلُوۡنَ عَمَلًا دُوۡنَ ذٰلِكَ﴾ ’’اور جنات میں سے بھی ہم نے بہت سے ان کے تابع کر دیے تھے جو ان کے لیے غوطے لگاتے تھے اور اس کے علاوہ کئی کام کرتے تھے۔‘‘ یہ چیز بھی سلیمان u کے خصائص میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جن اور عفریت مسخر کر دیے اور آپ کو ان پر تسلط بخشا۔ وہ آپ کے لیے بڑے بڑے کام کرتے تھے اور ان میں سے بہت سے کاموں کو ان کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ ان میں کچھ جن وہ تھے جو سمندر میں غوطہ لگاتے اور اس کی تہہ سے موتی نکالتے تھے اور کچھ وہ تھے جو ان کے لیے ﴿ مَّحَارِيۡبَ وَتَمَاثِيۡلَ وَجِفَانٍ كَالۡجَوَابِ وَقُدُوۡرٍ رّٰسِيٰتٍ ﴾(سبا:34؍13) ’’اونچی محرابیں (عمارتیں ) تصویریں ، بڑے بڑے حوض کی مانند لگن اور اپنی جگہ پر جمی ہوئی بڑی بڑی دیگیں بناتے تھے۔‘‘ اور ان میں سے ایک گروہ کو بیت المقدس کی تعمیر کے لیے مسخر کر رکھا تھا۔ جب سلیمان u نے وفات پائی تو جن بیت المقدس کی تعمیر میں مصروف تھے آپ کی وفات کے بعد ایک سال تک یہ کام کرتے رہے یہاں تک کہ ان کو آپ کی وفات کا علم ہو گیا جیسا کہ ان شاء اللہ عنقریب اس کا ذکر آئے گا۔ ﴿وَؔكُنَّا لَهُمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کی حفاظت کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی وہ سلیمان u کی نافرمانی پر قادر نہ تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قوت، غلبہ اور تسلط کے ذریعے سے ان کو حضرت سلیمانu کا مطیع کر رکھا تھا۔
21:79

فَفَهَّمۡنَٰهَا سُلَيۡمَٰنَۚ وَكُلًّا ءَاتَيۡنَا حُكۡمٗا وَعِلۡمٗاۚ وَسَخَّرۡنَا مَعَ دَاوُۥدَ ٱلۡجِبَالَ يُسَبِّحۡنَ وَٱلطَّيۡرَۚ وَكُنَّا فَٰعِلِينَ

اور (یاد کیجیے) داود اور سلیمان کو جس وقت فیصلہ کر رہے تھے وہ دونوں کھیتی کی بابت جبکہ رات کو چر گئی تھیں اس میں بکریاں ایک قوم کی اور تھے ہم ان کے فیصلہ کرنے کے وقت حاضر (78) پس سمجھا دیا ہم نے وہ (فیصلہ) سلیمان کواور اہر ایک کو دیا ہم نے حکم اور علم اور تابع کیے تھے ہم نے ساتھ داود کے پہاڑ، وہ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی (تابع کیے) اور تھے ہم ہی کرنے والے (79) اور سکھائی ہم نے اسے کاریگری لباس (زر ہیں ) بنانے کی تمھارے لیے تاکہ وہ (لباس) حفاظت کرے تمھاری، تمھاری لڑائی سے تو کیا تم شکر کرنے والے ہو؟ (80) اور سلیمان کے لیے ہوا تندوتیز (تابع کر دی ہم نے)، وہ چلتی تھی اس کے حکم سے طرف اس سرزمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں اور تھے ہم ہر چیز کو جاننے والے (81) اور کچھ شیطان بھی (ہم نے اس کے تابع کر دیے تھے)، وہ جو غوطہ لگاتے تھے اس کے لیے اور کرتے تھے (اور بھی) کئی کام سوائے اس کے اور تھے ہم ہی ان کی حفاظت کرنے والے (82) [78] ہمارے دو انبیائے کرام، سلیمان اور داؤدi کا مدح و ثنا کے ساتھ ذکر کیجیے جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کو وسیع علم سے نوازا اور انھیں بندوں کے درمیان فیصلے کرنے کی صلاحیت بخشی اور اس کی دلیل یہ ہے۔ ﴿اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ ﴾ یعنی جب ایک کھیتی کا مالک ان کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے آیا جسے دوسرے لوگوں کی بکریاں چر گئی تھیں ، یعنی رات کے وقت کھیت میں داخل ہو گئیں اور اس کے درختوں اور تمام فصل کو چر گئیں ۔ اس جھگڑے میں داؤدu نے فیصلہ کیا کہ تمام بکریاں کھیتی کے مالک کو دے دی جائیں کیونکہ بکریوں کے مالک عام طور پر کوتاہی سے کام لیتے ہیں ۔ پس اس طرح آپ نے ان کو سزا دی۔ سلیمان u نے اس قضیے میں حق و صواب کے مطابق فیصلہ سنایا کہ بکریوں کے مالک اپنی بکریاں کھیتی کے مالک کے حوالے کر دیں تاکہ وہ ان بکریوں کے دودھ اور اون سے فائدہ اٹھائے اور بکریوں کے مالک اس کے باغ اور کھیت میں اس وقت تک کام کریں گے جب تک کہ باغ اپنی پہلی حالت پر نہیں آتا۔ جب باغ اپنی پہلی حالت پر واپس آ جائے تو دونوں ایک دوسرے کا مال لوٹا دیں اور ہر شخص اپنا اپنا مال لے لے۔ یہ فیصلہ حضرت سلیمانu کے کمال فہم اور فطانت پر دلالت کرتا ہے۔ [79] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾ یعنی ہم نے سلیمان کو اس قضیے کا فہم عطا کیا۔ یہ چیز اس امر پر دلالت نہیں کرتی کہ داؤد u کو کسی دوسرے قضیے کا فہم بھی عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اس لیے ان دونوں کا ذکر فرمایا اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مقدس ہے ﴿ وَؔكُلًّا ﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی داؤد اور سلیمانi کو ﴿ اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾ ’’دیا ہم نے حکم اور علم۔‘‘ فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور علم سے ہم نے دونوں کو سرفراز کیا تھا۔ یہ واقعہ دلالت کرتا ہے کہ حاکم جب کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کا فیصلہ کبھی تو حق و صواب کے موافق ہوتا ہے اور کبھی اس میں اس سے خطا بھی ہو جاتی ہے۔ اگر فیصلے میں کوشش و اجتہاد کے باوجود اس سے خطا ہو جائے تو وہ ملامت کا مستحق نہیں ۔ پھر ان مخصوص امور کا ذکر فرمایا جن سے ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ نوازا گیا تھا۔ فرمایا: ﴿ وَّسَخَّرۡنَا مَعَ دَاوٗدَ الۡجِبَالَ يُسَبِّحۡنَ وَالطَّيۡرَ﴾ ’’اور تابع کر دیے ہم نے داؤد کے پہاڑ، وہ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی۔‘‘ ذکر کیا جاتا ہے کہ داؤد u سب سے زیادہ عبادت گزار اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح و تحمید کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوبصورت اور نرم آواز اور رقت عطا کی تھی جو کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ جب آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمدوثنا بیان کرتے تو ٹھوس پتھر، گونگے پرندے اور بے شعور جانور بھی ان کے ہم زبان ہو جاتے اور یہ داؤد u پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا، اس لیے فرمایا:﴿وَؔكُنَّا فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اس فعل کو کرنے والے ہم ہی تھے۔ [80]﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوۡسٍ لَّـكُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے داؤد u کو زرہ بکتر بنانے کا علم بخشا اور حضرت داؤدu پہلے شخص ہیں جنھوں نے زرہ بکتر بنائی اور پھر اس کا علم آئندہ آنے والوں کی طرف منتقل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا اور ان کو زرہ بنانا سکھایا، اس میں بہت بڑا فائدہ ہے۔ ﴿لِتُحۡصِنَكُمۡ مِّنۢۡ بَاۡسِكُمۡ﴾ یعنی سخت لڑائی اور جنگ میں تمھاری حفاظت کرنے والی ہے۔ ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ شٰكِرُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہو جو اس نے اپنے بندے داؤدu کے توسط سے تمھیں عطا کی؟ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ سَرَابِيۡلَ تَقِيۡكُمُ الۡحَرَّ وَسَرَابِيۡلَ تَقِيۡكُمۡ بَاۡسَكُمۡ١ؕ كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡلِمُوۡنَ ﴾(النحل:16؍81) ’’اور تمھارے لیے ایسی پوشاک بنائی جو گرمی سے تمھاری حفاظت کرتی ہے اور ایسی پوشاک بنائی جو جنگ میں تمھاری حفاظت کرتی ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم سرتسلیم خم کرو۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا داؤد u کو زرہ بکتر بنانا سکھانا اور ان کے لیے لوہے کو نرم کرنا، خارق عادت امر ہو… جیسا کہ مفسرین کہتے ہیں … اللہ تعالیٰ نے داؤد u کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔ وہ لوہے کو آگ میں پگھلائے بغیر اسی طرح استعمال میں لاتے تھے گویا کہ وہ گندھا ہوا آٹا اور گندھی مٹی ہو۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ عادت جاریہ کے مطابق انھیں لوہے کو استعمال میں لانا سکھایا گیا ہو۔ اللہ کی طرف سے لوہے کو نرم کرنے کی تعلیم ان معروف اسباب میں سے سے ہو جن کے ذریعے سے آج کل لوہا پگھلایا جاتا ہے… اور یہی راجح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا اور ان کو اس پر شکر کرنے کا حکم دیا اور اگر صنعت آہن گری ان امور میں سے نہ ہوتی جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تصرف کی قدرت عطا کی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر اس احسان اور اس کے فوائد کا ذکر نہ کرتا کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ داؤد u کی جن زرہوں کے بنانے کا ذکر ہے اس سے مراد متعین زرہیں ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تو زرہ بکتر کی جنس کا ذکر کر کے اپنا احسان یاد دلایا ہے اور وہ احتمال جس کا ذکر اصحاب تفسیر کرتے ہیں تو اس کی کوئی دلیل نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے ﴿وَاَلَنَّا لَهُ الۡحَدِيۡدَ﴾(سبا:34؍10) ’’ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔‘‘ اور اس میں یہ واضح نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوہے کو بغیر کسی سبب کے نرم کر دیا تھا۔ واللہ اعلم۔ [81]﴿وَلِسُلَيۡمٰنَ الرِّيۡحَ ﴾ یعنی ہم نے سلیمان (u) کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا ﴿عَاصِفَةً ﴾ جو بہت تیز چلتی تھی۔ ﴿تَجۡرِيۡ بِاَمۡرِهٖۤ ﴾ جہاں چلنے کا اس کو حکم دیا جاتا تھا ہَوا اس حکم کی اطاعت کرتی تھی۔ صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا۔ ﴿اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا﴾ ’’اس زمین کی طرف، جس میں ہم نے برکت رکھی تھی۔‘‘ یعنی سرزمین شام، جو سلیمان u کا مستقر تھا، وہ ہوا کے دوش پر مشرق و مغرب میں سفر کرتے تھے اور ہوا کا ٹھکانا اور لوٹنا ارض مقدس کی طرف ہوتا تھا۔ ﴿وَؔكُنَّا بِكُلِّ شَيۡءٍ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ہمارا علم، تمام چیزوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے ہم نے داؤد اور سلیمان (i) کو ان امور کی تعلیم دی جن کے ذریعے سے ہم نے ان کو اس مقام پر پہنچایا جس کا ہم ذکر کر چکے ہیں ۔ [82]﴿وَمِنَ الشَّيٰطِيۡنِ مَنۡ يَّغُوۡصُوۡنَ لَهٗ وَيَعۡمَلُوۡنَ عَمَلًا دُوۡنَ ذٰلِكَ﴾ ’’اور جنات میں سے بھی ہم نے بہت سے ان کے تابع کر دیے تھے جو ان کے لیے غوطے لگاتے تھے اور اس کے علاوہ کئی کام کرتے تھے۔‘‘ یہ چیز بھی سلیمان u کے خصائص میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جن اور عفریت مسخر کر دیے اور آپ کو ان پر تسلط بخشا۔ وہ آپ کے لیے بڑے بڑے کام کرتے تھے اور ان میں سے بہت سے کاموں کو ان کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ ان میں کچھ جن وہ تھے جو سمندر میں غوطہ لگاتے اور اس کی تہہ سے موتی نکالتے تھے اور کچھ وہ تھے جو ان کے لیے ﴿ مَّحَارِيۡبَ وَتَمَاثِيۡلَ وَجِفَانٍ كَالۡجَوَابِ وَقُدُوۡرٍ رّٰسِيٰتٍ ﴾(سبا:34؍13) ’’اونچی محرابیں (عمارتیں ) تصویریں ، بڑے بڑے حوض کی مانند لگن اور اپنی جگہ پر جمی ہوئی بڑی بڑی دیگیں بناتے تھے۔‘‘ اور ان میں سے ایک گروہ کو بیت المقدس کی تعمیر کے لیے مسخر کر رکھا تھا۔ جب سلیمان u نے وفات پائی تو جن بیت المقدس کی تعمیر میں مصروف تھے آپ کی وفات کے بعد ایک سال تک یہ کام کرتے رہے یہاں تک کہ ان کو آپ کی وفات کا علم ہو گیا جیسا کہ ان شاء اللہ عنقریب اس کا ذکر آئے گا۔ ﴿وَؔكُنَّا لَهُمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کی حفاظت کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی وہ سلیمان u کی نافرمانی پر قادر نہ تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قوت، غلبہ اور تسلط کے ذریعے سے ان کو حضرت سلیمانu کا مطیع کر رکھا تھا۔
21:80

وَعَلَّمۡنَٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوسٖ لَّكُمۡ لِتُحۡصِنَكُم مِّنۢ بَأۡسِكُمۡۖ فَهَلۡ أَنتُمۡ شَٰكِرُونَ

اور (یاد کیجیے) داود اور سلیمان کو جس وقت فیصلہ کر رہے تھے وہ دونوں کھیتی کی بابت جبکہ رات کو چر گئی تھیں اس میں بکریاں ایک قوم کی اور تھے ہم ان کے فیصلہ کرنے کے وقت حاضر (78) پس سمجھا دیا ہم نے وہ (فیصلہ) سلیمان کواور اہر ایک کو دیا ہم نے حکم اور علم اور تابع کیے تھے ہم نے ساتھ داود کے پہاڑ، وہ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی (تابع کیے) اور تھے ہم ہی کرنے والے (79) اور سکھائی ہم نے اسے کاریگری لباس (زر ہیں ) بنانے کی تمھارے لیے تاکہ وہ (لباس) حفاظت کرے تمھاری، تمھاری لڑائی سے تو کیا تم شکر کرنے والے ہو؟ (80) اور سلیمان کے لیے ہوا تندوتیز (تابع کر دی ہم نے)، وہ چلتی تھی اس کے حکم سے طرف اس سرزمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں اور تھے ہم ہر چیز کو جاننے والے (81) اور کچھ شیطان بھی (ہم نے اس کے تابع کر دیے تھے)، وہ جو غوطہ لگاتے تھے اس کے لیے اور کرتے تھے (اور بھی) کئی کام سوائے اس کے اور تھے ہم ہی ان کی حفاظت کرنے والے (82) [78] ہمارے دو انبیائے کرام، سلیمان اور داؤدi کا مدح و ثنا کے ساتھ ذکر کیجیے جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کو وسیع علم سے نوازا اور انھیں بندوں کے درمیان فیصلے کرنے کی صلاحیت بخشی اور اس کی دلیل یہ ہے۔ ﴿اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ ﴾ یعنی جب ایک کھیتی کا مالک ان کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے آیا جسے دوسرے لوگوں کی بکریاں چر گئی تھیں ، یعنی رات کے وقت کھیت میں داخل ہو گئیں اور اس کے درختوں اور تمام فصل کو چر گئیں ۔ اس جھگڑے میں داؤدu نے فیصلہ کیا کہ تمام بکریاں کھیتی کے مالک کو دے دی جائیں کیونکہ بکریوں کے مالک عام طور پر کوتاہی سے کام لیتے ہیں ۔ پس اس طرح آپ نے ان کو سزا دی۔ سلیمان u نے اس قضیے میں حق و صواب کے مطابق فیصلہ سنایا کہ بکریوں کے مالک اپنی بکریاں کھیتی کے مالک کے حوالے کر دیں تاکہ وہ ان بکریوں کے دودھ اور اون سے فائدہ اٹھائے اور بکریوں کے مالک اس کے باغ اور کھیت میں اس وقت تک کام کریں گے جب تک کہ باغ اپنی پہلی حالت پر نہیں آتا۔ جب باغ اپنی پہلی حالت پر واپس آ جائے تو دونوں ایک دوسرے کا مال لوٹا دیں اور ہر شخص اپنا اپنا مال لے لے۔ یہ فیصلہ حضرت سلیمانu کے کمال فہم اور فطانت پر دلالت کرتا ہے۔ [79] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾ یعنی ہم نے سلیمان کو اس قضیے کا فہم عطا کیا۔ یہ چیز اس امر پر دلالت نہیں کرتی کہ داؤد u کو کسی دوسرے قضیے کا فہم بھی عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اس لیے ان دونوں کا ذکر فرمایا اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مقدس ہے ﴿ وَؔكُلًّا ﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی داؤد اور سلیمانi کو ﴿ اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾ ’’دیا ہم نے حکم اور علم۔‘‘ فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور علم سے ہم نے دونوں کو سرفراز کیا تھا۔ یہ واقعہ دلالت کرتا ہے کہ حاکم جب کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کا فیصلہ کبھی تو حق و صواب کے موافق ہوتا ہے اور کبھی اس میں اس سے خطا بھی ہو جاتی ہے۔ اگر فیصلے میں کوشش و اجتہاد کے باوجود اس سے خطا ہو جائے تو وہ ملامت کا مستحق نہیں ۔ پھر ان مخصوص امور کا ذکر فرمایا جن سے ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ نوازا گیا تھا۔ فرمایا: ﴿ وَّسَخَّرۡنَا مَعَ دَاوٗدَ الۡجِبَالَ يُسَبِّحۡنَ وَالطَّيۡرَ﴾ ’’اور تابع کر دیے ہم نے داؤد کے پہاڑ، وہ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی۔‘‘ ذکر کیا جاتا ہے کہ داؤد u سب سے زیادہ عبادت گزار اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح و تحمید کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوبصورت اور نرم آواز اور رقت عطا کی تھی جو کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ جب آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمدوثنا بیان کرتے تو ٹھوس پتھر، گونگے پرندے اور بے شعور جانور بھی ان کے ہم زبان ہو جاتے اور یہ داؤد u پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا، اس لیے فرمایا:﴿وَؔكُنَّا فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اس فعل کو کرنے والے ہم ہی تھے۔ [80]﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوۡسٍ لَّـكُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے داؤد u کو زرہ بکتر بنانے کا علم بخشا اور حضرت داؤدu پہلے شخص ہیں جنھوں نے زرہ بکتر بنائی اور پھر اس کا علم آئندہ آنے والوں کی طرف منتقل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا اور ان کو زرہ بنانا سکھایا، اس میں بہت بڑا فائدہ ہے۔ ﴿لِتُحۡصِنَكُمۡ مِّنۢۡ بَاۡسِكُمۡ﴾ یعنی سخت لڑائی اور جنگ میں تمھاری حفاظت کرنے والی ہے۔ ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ شٰكِرُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہو جو اس نے اپنے بندے داؤدu کے توسط سے تمھیں عطا کی؟ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ سَرَابِيۡلَ تَقِيۡكُمُ الۡحَرَّ وَسَرَابِيۡلَ تَقِيۡكُمۡ بَاۡسَكُمۡ١ؕ كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡلِمُوۡنَ ﴾(النحل:16؍81) ’’اور تمھارے لیے ایسی پوشاک بنائی جو گرمی سے تمھاری حفاظت کرتی ہے اور ایسی پوشاک بنائی جو جنگ میں تمھاری حفاظت کرتی ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم سرتسلیم خم کرو۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا داؤد u کو زرہ بکتر بنانا سکھانا اور ان کے لیے لوہے کو نرم کرنا، خارق عادت امر ہو… جیسا کہ مفسرین کہتے ہیں … اللہ تعالیٰ نے داؤد u کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔ وہ لوہے کو آگ میں پگھلائے بغیر اسی طرح استعمال میں لاتے تھے گویا کہ وہ گندھا ہوا آٹا اور گندھی مٹی ہو۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ عادت جاریہ کے مطابق انھیں لوہے کو استعمال میں لانا سکھایا گیا ہو۔ اللہ کی طرف سے لوہے کو نرم کرنے کی تعلیم ان معروف اسباب میں سے سے ہو جن کے ذریعے سے آج کل لوہا پگھلایا جاتا ہے… اور یہی راجح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا اور ان کو اس پر شکر کرنے کا حکم دیا اور اگر صنعت آہن گری ان امور میں سے نہ ہوتی جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تصرف کی قدرت عطا کی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر اس احسان اور اس کے فوائد کا ذکر نہ کرتا کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ داؤد u کی جن زرہوں کے بنانے کا ذکر ہے اس سے مراد متعین زرہیں ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تو زرہ بکتر کی جنس کا ذکر کر کے اپنا احسان یاد دلایا ہے اور وہ احتمال جس کا ذکر اصحاب تفسیر کرتے ہیں تو اس کی کوئی دلیل نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے ﴿وَاَلَنَّا لَهُ الۡحَدِيۡدَ﴾(سبا:34؍10) ’’ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔‘‘ اور اس میں یہ واضح نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوہے کو بغیر کسی سبب کے نرم کر دیا تھا۔ واللہ اعلم۔ [81]﴿وَلِسُلَيۡمٰنَ الرِّيۡحَ ﴾ یعنی ہم نے سلیمان (u) کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا ﴿عَاصِفَةً ﴾ جو بہت تیز چلتی تھی۔ ﴿تَجۡرِيۡ بِاَمۡرِهٖۤ ﴾ جہاں چلنے کا اس کو حکم دیا جاتا تھا ہَوا اس حکم کی اطاعت کرتی تھی۔ صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا۔ ﴿اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا﴾ ’’اس زمین کی طرف، جس میں ہم نے برکت رکھی تھی۔‘‘ یعنی سرزمین شام، جو سلیمان u کا مستقر تھا، وہ ہوا کے دوش پر مشرق و مغرب میں سفر کرتے تھے اور ہوا کا ٹھکانا اور لوٹنا ارض مقدس کی طرف ہوتا تھا۔ ﴿وَؔكُنَّا بِكُلِّ شَيۡءٍ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ہمارا علم، تمام چیزوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے ہم نے داؤد اور سلیمان (i) کو ان امور کی تعلیم دی جن کے ذریعے سے ہم نے ان کو اس مقام پر پہنچایا جس کا ہم ذکر کر چکے ہیں ۔ [82]﴿وَمِنَ الشَّيٰطِيۡنِ مَنۡ يَّغُوۡصُوۡنَ لَهٗ وَيَعۡمَلُوۡنَ عَمَلًا دُوۡنَ ذٰلِكَ﴾ ’’اور جنات میں سے بھی ہم نے بہت سے ان کے تابع کر دیے تھے جو ان کے لیے غوطے لگاتے تھے اور اس کے علاوہ کئی کام کرتے تھے۔‘‘ یہ چیز بھی سلیمان u کے خصائص میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جن اور عفریت مسخر کر دیے اور آپ کو ان پر تسلط بخشا۔ وہ آپ کے لیے بڑے بڑے کام کرتے تھے اور ان میں سے بہت سے کاموں کو ان کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ ان میں کچھ جن وہ تھے جو سمندر میں غوطہ لگاتے اور اس کی تہہ سے موتی نکالتے تھے اور کچھ وہ تھے جو ان کے لیے ﴿ مَّحَارِيۡبَ وَتَمَاثِيۡلَ وَجِفَانٍ كَالۡجَوَابِ وَقُدُوۡرٍ رّٰسِيٰتٍ ﴾(سبا:34؍13) ’’اونچی محرابیں (عمارتیں ) تصویریں ، بڑے بڑے حوض کی مانند لگن اور اپنی جگہ پر جمی ہوئی بڑی بڑی دیگیں بناتے تھے۔‘‘ اور ان میں سے ایک گروہ کو بیت المقدس کی تعمیر کے لیے مسخر کر رکھا تھا۔ جب سلیمان u نے وفات پائی تو جن بیت المقدس کی تعمیر میں مصروف تھے آپ کی وفات کے بعد ایک سال تک یہ کام کرتے رہے یہاں تک کہ ان کو آپ کی وفات کا علم ہو گیا جیسا کہ ان شاء اللہ عنقریب اس کا ذکر آئے گا۔ ﴿وَؔكُنَّا لَهُمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کی حفاظت کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی وہ سلیمان u کی نافرمانی پر قادر نہ تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قوت، غلبہ اور تسلط کے ذریعے سے ان کو حضرت سلیمانu کا مطیع کر رکھا تھا۔
21:81

وَلِسُلَيۡمَٰنَ ٱلرِّيحَ عَاصِفَةٗ تَجۡرِي بِأَمۡرِهِۦٓ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ٱلَّتِي بَٰرَكۡنَا فِيهَاۚ وَكُنَّا بِكُلِّ شَيۡءٍ عَٰلِمِينَ

اور (یاد کیجیے) داود اور سلیمان کو جس وقت فیصلہ کر رہے تھے وہ دونوں کھیتی کی بابت جبکہ رات کو چر گئی تھیں اس میں بکریاں ایک قوم کی اور تھے ہم ان کے فیصلہ کرنے کے وقت حاضر (78) پس سمجھا دیا ہم نے وہ (فیصلہ) سلیمان کواور اہر ایک کو دیا ہم نے حکم اور علم اور تابع کیے تھے ہم نے ساتھ داود کے پہاڑ، وہ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی (تابع کیے) اور تھے ہم ہی کرنے والے (79) اور سکھائی ہم نے اسے کاریگری لباس (زر ہیں ) بنانے کی تمھارے لیے تاکہ وہ (لباس) حفاظت کرے تمھاری، تمھاری لڑائی سے تو کیا تم شکر کرنے والے ہو؟ (80) اور سلیمان کے لیے ہوا تندوتیز (تابع کر دی ہم نے)، وہ چلتی تھی اس کے حکم سے طرف اس سرزمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں اور تھے ہم ہر چیز کو جاننے والے (81) اور کچھ شیطان بھی (ہم نے اس کے تابع کر دیے تھے)، وہ جو غوطہ لگاتے تھے اس کے لیے اور کرتے تھے (اور بھی) کئی کام سوائے اس کے اور تھے ہم ہی ان کی حفاظت کرنے والے (82) [78] ہمارے دو انبیائے کرام، سلیمان اور داؤدi کا مدح و ثنا کے ساتھ ذکر کیجیے جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کو وسیع علم سے نوازا اور انھیں بندوں کے درمیان فیصلے کرنے کی صلاحیت بخشی اور اس کی دلیل یہ ہے۔ ﴿اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ ﴾ یعنی جب ایک کھیتی کا مالک ان کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے آیا جسے دوسرے لوگوں کی بکریاں چر گئی تھیں ، یعنی رات کے وقت کھیت میں داخل ہو گئیں اور اس کے درختوں اور تمام فصل کو چر گئیں ۔ اس جھگڑے میں داؤدu نے فیصلہ کیا کہ تمام بکریاں کھیتی کے مالک کو دے دی جائیں کیونکہ بکریوں کے مالک عام طور پر کوتاہی سے کام لیتے ہیں ۔ پس اس طرح آپ نے ان کو سزا دی۔ سلیمان u نے اس قضیے میں حق و صواب کے مطابق فیصلہ سنایا کہ بکریوں کے مالک اپنی بکریاں کھیتی کے مالک کے حوالے کر دیں تاکہ وہ ان بکریوں کے دودھ اور اون سے فائدہ اٹھائے اور بکریوں کے مالک اس کے باغ اور کھیت میں اس وقت تک کام کریں گے جب تک کہ باغ اپنی پہلی حالت پر نہیں آتا۔ جب باغ اپنی پہلی حالت پر واپس آ جائے تو دونوں ایک دوسرے کا مال لوٹا دیں اور ہر شخص اپنا اپنا مال لے لے۔ یہ فیصلہ حضرت سلیمانu کے کمال فہم اور فطانت پر دلالت کرتا ہے۔ [79] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾ یعنی ہم نے سلیمان کو اس قضیے کا فہم عطا کیا۔ یہ چیز اس امر پر دلالت نہیں کرتی کہ داؤد u کو کسی دوسرے قضیے کا فہم بھی عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اس لیے ان دونوں کا ذکر فرمایا اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مقدس ہے ﴿ وَؔكُلًّا ﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی داؤد اور سلیمانi کو ﴿ اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾ ’’دیا ہم نے حکم اور علم۔‘‘ فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور علم سے ہم نے دونوں کو سرفراز کیا تھا۔ یہ واقعہ دلالت کرتا ہے کہ حاکم جب کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کا فیصلہ کبھی تو حق و صواب کے موافق ہوتا ہے اور کبھی اس میں اس سے خطا بھی ہو جاتی ہے۔ اگر فیصلے میں کوشش و اجتہاد کے باوجود اس سے خطا ہو جائے تو وہ ملامت کا مستحق نہیں ۔ پھر ان مخصوص امور کا ذکر فرمایا جن سے ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ نوازا گیا تھا۔ فرمایا: ﴿ وَّسَخَّرۡنَا مَعَ دَاوٗدَ الۡجِبَالَ يُسَبِّحۡنَ وَالطَّيۡرَ﴾ ’’اور تابع کر دیے ہم نے داؤد کے پہاڑ، وہ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی۔‘‘ ذکر کیا جاتا ہے کہ داؤد u سب سے زیادہ عبادت گزار اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح و تحمید کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوبصورت اور نرم آواز اور رقت عطا کی تھی جو کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ جب آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمدوثنا بیان کرتے تو ٹھوس پتھر، گونگے پرندے اور بے شعور جانور بھی ان کے ہم زبان ہو جاتے اور یہ داؤد u پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا، اس لیے فرمایا:﴿وَؔكُنَّا فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اس فعل کو کرنے والے ہم ہی تھے۔ [80]﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوۡسٍ لَّـكُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے داؤد u کو زرہ بکتر بنانے کا علم بخشا اور حضرت داؤدu پہلے شخص ہیں جنھوں نے زرہ بکتر بنائی اور پھر اس کا علم آئندہ آنے والوں کی طرف منتقل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا اور ان کو زرہ بنانا سکھایا، اس میں بہت بڑا فائدہ ہے۔ ﴿لِتُحۡصِنَكُمۡ مِّنۢۡ بَاۡسِكُمۡ﴾ یعنی سخت لڑائی اور جنگ میں تمھاری حفاظت کرنے والی ہے۔ ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ شٰكِرُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہو جو اس نے اپنے بندے داؤدu کے توسط سے تمھیں عطا کی؟ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ سَرَابِيۡلَ تَقِيۡكُمُ الۡحَرَّ وَسَرَابِيۡلَ تَقِيۡكُمۡ بَاۡسَكُمۡ١ؕ كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡلِمُوۡنَ ﴾(النحل:16؍81) ’’اور تمھارے لیے ایسی پوشاک بنائی جو گرمی سے تمھاری حفاظت کرتی ہے اور ایسی پوشاک بنائی جو جنگ میں تمھاری حفاظت کرتی ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم سرتسلیم خم کرو۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا داؤد u کو زرہ بکتر بنانا سکھانا اور ان کے لیے لوہے کو نرم کرنا، خارق عادت امر ہو… جیسا کہ مفسرین کہتے ہیں … اللہ تعالیٰ نے داؤد u کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔ وہ لوہے کو آگ میں پگھلائے بغیر اسی طرح استعمال میں لاتے تھے گویا کہ وہ گندھا ہوا آٹا اور گندھی مٹی ہو۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ عادت جاریہ کے مطابق انھیں لوہے کو استعمال میں لانا سکھایا گیا ہو۔ اللہ کی طرف سے لوہے کو نرم کرنے کی تعلیم ان معروف اسباب میں سے سے ہو جن کے ذریعے سے آج کل لوہا پگھلایا جاتا ہے… اور یہی راجح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا اور ان کو اس پر شکر کرنے کا حکم دیا اور اگر صنعت آہن گری ان امور میں سے نہ ہوتی جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تصرف کی قدرت عطا کی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر اس احسان اور اس کے فوائد کا ذکر نہ کرتا کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ داؤد u کی جن زرہوں کے بنانے کا ذکر ہے اس سے مراد متعین زرہیں ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تو زرہ بکتر کی جنس کا ذکر کر کے اپنا احسان یاد دلایا ہے اور وہ احتمال جس کا ذکر اصحاب تفسیر کرتے ہیں تو اس کی کوئی دلیل نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے ﴿وَاَلَنَّا لَهُ الۡحَدِيۡدَ﴾(سبا:34؍10) ’’ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔‘‘ اور اس میں یہ واضح نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوہے کو بغیر کسی سبب کے نرم کر دیا تھا۔ واللہ اعلم۔ [81]﴿وَلِسُلَيۡمٰنَ الرِّيۡحَ ﴾ یعنی ہم نے سلیمان (u) کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا ﴿عَاصِفَةً ﴾ جو بہت تیز چلتی تھی۔ ﴿تَجۡرِيۡ بِاَمۡرِهٖۤ ﴾ جہاں چلنے کا اس کو حکم دیا جاتا تھا ہَوا اس حکم کی اطاعت کرتی تھی۔ صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا۔ ﴿اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا﴾ ’’اس زمین کی طرف، جس میں ہم نے برکت رکھی تھی۔‘‘ یعنی سرزمین شام، جو سلیمان u کا مستقر تھا، وہ ہوا کے دوش پر مشرق و مغرب میں سفر کرتے تھے اور ہوا کا ٹھکانا اور لوٹنا ارض مقدس کی طرف ہوتا تھا۔ ﴿وَؔكُنَّا بِكُلِّ شَيۡءٍ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ہمارا علم، تمام چیزوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے ہم نے داؤد اور سلیمان (i) کو ان امور کی تعلیم دی جن کے ذریعے سے ہم نے ان کو اس مقام پر پہنچایا جس کا ہم ذکر کر چکے ہیں ۔ [82]﴿وَمِنَ الشَّيٰطِيۡنِ مَنۡ يَّغُوۡصُوۡنَ لَهٗ وَيَعۡمَلُوۡنَ عَمَلًا دُوۡنَ ذٰلِكَ﴾ ’’اور جنات میں سے بھی ہم نے بہت سے ان کے تابع کر دیے تھے جو ان کے لیے غوطے لگاتے تھے اور اس کے علاوہ کئی کام کرتے تھے۔‘‘ یہ چیز بھی سلیمان u کے خصائص میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جن اور عفریت مسخر کر دیے اور آپ کو ان پر تسلط بخشا۔ وہ آپ کے لیے بڑے بڑے کام کرتے تھے اور ان میں سے بہت سے کاموں کو ان کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ ان میں کچھ جن وہ تھے جو سمندر میں غوطہ لگاتے اور اس کی تہہ سے موتی نکالتے تھے اور کچھ وہ تھے جو ان کے لیے ﴿ مَّحَارِيۡبَ وَتَمَاثِيۡلَ وَجِفَانٍ كَالۡجَوَابِ وَقُدُوۡرٍ رّٰسِيٰتٍ ﴾(سبا:34؍13) ’’اونچی محرابیں (عمارتیں ) تصویریں ، بڑے بڑے حوض کی مانند لگن اور اپنی جگہ پر جمی ہوئی بڑی بڑی دیگیں بناتے تھے۔‘‘ اور ان میں سے ایک گروہ کو بیت المقدس کی تعمیر کے لیے مسخر کر رکھا تھا۔ جب سلیمان u نے وفات پائی تو جن بیت المقدس کی تعمیر میں مصروف تھے آپ کی وفات کے بعد ایک سال تک یہ کام کرتے رہے یہاں تک کہ ان کو آپ کی وفات کا علم ہو گیا جیسا کہ ان شاء اللہ عنقریب اس کا ذکر آئے گا۔ ﴿وَؔكُنَّا لَهُمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کی حفاظت کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی وہ سلیمان u کی نافرمانی پر قادر نہ تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قوت، غلبہ اور تسلط کے ذریعے سے ان کو حضرت سلیمانu کا مطیع کر رکھا تھا۔
21:82

وَمِنَ ٱلشَّيَٰطِينِ مَن يَغُوصُونَ لَهُۥ وَيَعۡمَلُونَ عَمَلٗا دُونَ ذَٰلِكَۖ وَكُنَّا لَهُمۡ حَٰفِظِينَ

اور (یاد کیجیے) داود اور سلیمان کو جس وقت فیصلہ کر رہے تھے وہ دونوں کھیتی کی بابت جبکہ رات کو چر گئی تھیں اس میں بکریاں ایک قوم کی اور تھے ہم ان کے فیصلہ کرنے کے وقت حاضر (78) پس سمجھا دیا ہم نے وہ (فیصلہ) سلیمان کواور اہر ایک کو دیا ہم نے حکم اور علم اور تابع کیے تھے ہم نے ساتھ داود کے پہاڑ، وہ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی (تابع کیے) اور تھے ہم ہی کرنے والے (79) اور سکھائی ہم نے اسے کاریگری لباس (زر ہیں ) بنانے کی تمھارے لیے تاکہ وہ (لباس) حفاظت کرے تمھاری، تمھاری لڑائی سے تو کیا تم شکر کرنے والے ہو؟ (80) اور سلیمان کے لیے ہوا تندوتیز (تابع کر دی ہم نے)، وہ چلتی تھی اس کے حکم سے طرف اس سرزمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں اور تھے ہم ہر چیز کو جاننے والے (81) اور کچھ شیطان بھی (ہم نے اس کے تابع کر دیے تھے)، وہ جو غوطہ لگاتے تھے اس کے لیے اور کرتے تھے (اور بھی) کئی کام سوائے اس کے اور تھے ہم ہی ان کی حفاظت کرنے والے (82) [78] ہمارے دو انبیائے کرام، سلیمان اور داؤدi کا مدح و ثنا کے ساتھ ذکر کیجیے جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کو وسیع علم سے نوازا اور انھیں بندوں کے درمیان فیصلے کرنے کی صلاحیت بخشی اور اس کی دلیل یہ ہے۔ ﴿اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ ﴾ یعنی جب ایک کھیتی کا مالک ان کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے آیا جسے دوسرے لوگوں کی بکریاں چر گئی تھیں ، یعنی رات کے وقت کھیت میں داخل ہو گئیں اور اس کے درختوں اور تمام فصل کو چر گئیں ۔ اس جھگڑے میں داؤدu نے فیصلہ کیا کہ تمام بکریاں کھیتی کے مالک کو دے دی جائیں کیونکہ بکریوں کے مالک عام طور پر کوتاہی سے کام لیتے ہیں ۔ پس اس طرح آپ نے ان کو سزا دی۔ سلیمان u نے اس قضیے میں حق و صواب کے مطابق فیصلہ سنایا کہ بکریوں کے مالک اپنی بکریاں کھیتی کے مالک کے حوالے کر دیں تاکہ وہ ان بکریوں کے دودھ اور اون سے فائدہ اٹھائے اور بکریوں کے مالک اس کے باغ اور کھیت میں اس وقت تک کام کریں گے جب تک کہ باغ اپنی پہلی حالت پر نہیں آتا۔ جب باغ اپنی پہلی حالت پر واپس آ جائے تو دونوں ایک دوسرے کا مال لوٹا دیں اور ہر شخص اپنا اپنا مال لے لے۔ یہ فیصلہ حضرت سلیمانu کے کمال فہم اور فطانت پر دلالت کرتا ہے۔ [79] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾ یعنی ہم نے سلیمان کو اس قضیے کا فہم عطا کیا۔ یہ چیز اس امر پر دلالت نہیں کرتی کہ داؤد u کو کسی دوسرے قضیے کا فہم بھی عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اس لیے ان دونوں کا ذکر فرمایا اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مقدس ہے ﴿ وَؔكُلًّا ﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی داؤد اور سلیمانi کو ﴿ اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾ ’’دیا ہم نے حکم اور علم۔‘‘ فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور علم سے ہم نے دونوں کو سرفراز کیا تھا۔ یہ واقعہ دلالت کرتا ہے کہ حاکم جب کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کا فیصلہ کبھی تو حق و صواب کے موافق ہوتا ہے اور کبھی اس میں اس سے خطا بھی ہو جاتی ہے۔ اگر فیصلے میں کوشش و اجتہاد کے باوجود اس سے خطا ہو جائے تو وہ ملامت کا مستحق نہیں ۔ پھر ان مخصوص امور کا ذکر فرمایا جن سے ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ نوازا گیا تھا۔ فرمایا: ﴿ وَّسَخَّرۡنَا مَعَ دَاوٗدَ الۡجِبَالَ يُسَبِّحۡنَ وَالطَّيۡرَ﴾ ’’اور تابع کر دیے ہم نے داؤد کے پہاڑ، وہ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی۔‘‘ ذکر کیا جاتا ہے کہ داؤد u سب سے زیادہ عبادت گزار اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح و تحمید کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوبصورت اور نرم آواز اور رقت عطا کی تھی جو کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ جب آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمدوثنا بیان کرتے تو ٹھوس پتھر، گونگے پرندے اور بے شعور جانور بھی ان کے ہم زبان ہو جاتے اور یہ داؤد u پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا، اس لیے فرمایا:﴿وَؔكُنَّا فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اس فعل کو کرنے والے ہم ہی تھے۔ [80]﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوۡسٍ لَّـكُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے داؤد u کو زرہ بکتر بنانے کا علم بخشا اور حضرت داؤدu پہلے شخص ہیں جنھوں نے زرہ بکتر بنائی اور پھر اس کا علم آئندہ آنے والوں کی طرف منتقل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا اور ان کو زرہ بنانا سکھایا، اس میں بہت بڑا فائدہ ہے۔ ﴿لِتُحۡصِنَكُمۡ مِّنۢۡ بَاۡسِكُمۡ﴾ یعنی سخت لڑائی اور جنگ میں تمھاری حفاظت کرنے والی ہے۔ ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ شٰكِرُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہو جو اس نے اپنے بندے داؤدu کے توسط سے تمھیں عطا کی؟ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ سَرَابِيۡلَ تَقِيۡكُمُ الۡحَرَّ وَسَرَابِيۡلَ تَقِيۡكُمۡ بَاۡسَكُمۡ١ؕ كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡلِمُوۡنَ ﴾(النحل:16؍81) ’’اور تمھارے لیے ایسی پوشاک بنائی جو گرمی سے تمھاری حفاظت کرتی ہے اور ایسی پوشاک بنائی جو جنگ میں تمھاری حفاظت کرتی ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم سرتسلیم خم کرو۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا داؤد u کو زرہ بکتر بنانا سکھانا اور ان کے لیے لوہے کو نرم کرنا، خارق عادت امر ہو… جیسا کہ مفسرین کہتے ہیں … اللہ تعالیٰ نے داؤد u کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔ وہ لوہے کو آگ میں پگھلائے بغیر اسی طرح استعمال میں لاتے تھے گویا کہ وہ گندھا ہوا آٹا اور گندھی مٹی ہو۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ عادت جاریہ کے مطابق انھیں لوہے کو استعمال میں لانا سکھایا گیا ہو۔ اللہ کی طرف سے لوہے کو نرم کرنے کی تعلیم ان معروف اسباب میں سے سے ہو جن کے ذریعے سے آج کل لوہا پگھلایا جاتا ہے… اور یہی راجح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا اور ان کو اس پر شکر کرنے کا حکم دیا اور اگر صنعت آہن گری ان امور میں سے نہ ہوتی جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تصرف کی قدرت عطا کی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر اس احسان اور اس کے فوائد کا ذکر نہ کرتا کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ داؤد u کی جن زرہوں کے بنانے کا ذکر ہے اس سے مراد متعین زرہیں ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تو زرہ بکتر کی جنس کا ذکر کر کے اپنا احسان یاد دلایا ہے اور وہ احتمال جس کا ذکر اصحاب تفسیر کرتے ہیں تو اس کی کوئی دلیل نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے ﴿وَاَلَنَّا لَهُ الۡحَدِيۡدَ﴾(سبا:34؍10) ’’ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔‘‘ اور اس میں یہ واضح نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوہے کو بغیر کسی سبب کے نرم کر دیا تھا۔ واللہ اعلم۔ [81]﴿وَلِسُلَيۡمٰنَ الرِّيۡحَ ﴾ یعنی ہم نے سلیمان (u) کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا ﴿عَاصِفَةً ﴾ جو بہت تیز چلتی تھی۔ ﴿تَجۡرِيۡ بِاَمۡرِهٖۤ ﴾ جہاں چلنے کا اس کو حکم دیا جاتا تھا ہَوا اس حکم کی اطاعت کرتی تھی۔ صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا۔ ﴿اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا﴾ ’’اس زمین کی طرف، جس میں ہم نے برکت رکھی تھی۔‘‘ یعنی سرزمین شام، جو سلیمان u کا مستقر تھا، وہ ہوا کے دوش پر مشرق و مغرب میں سفر کرتے تھے اور ہوا کا ٹھکانا اور لوٹنا ارض مقدس کی طرف ہوتا تھا۔ ﴿وَؔكُنَّا بِكُلِّ شَيۡءٍ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ہمارا علم، تمام چیزوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے ہم نے داؤد اور سلیمان (i) کو ان امور کی تعلیم دی جن کے ذریعے سے ہم نے ان کو اس مقام پر پہنچایا جس کا ہم ذکر کر چکے ہیں ۔ [82]﴿وَمِنَ الشَّيٰطِيۡنِ مَنۡ يَّغُوۡصُوۡنَ لَهٗ وَيَعۡمَلُوۡنَ عَمَلًا دُوۡنَ ذٰلِكَ﴾ ’’اور جنات میں سے بھی ہم نے بہت سے ان کے تابع کر دیے تھے جو ان کے لیے غوطے لگاتے تھے اور اس کے علاوہ کئی کام کرتے تھے۔‘‘ یہ چیز بھی سلیمان u کے خصائص میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جن اور عفریت مسخر کر دیے اور آپ کو ان پر تسلط بخشا۔ وہ آپ کے لیے بڑے بڑے کام کرتے تھے اور ان میں سے بہت سے کاموں کو ان کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ ان میں کچھ جن وہ تھے جو سمندر میں غوطہ لگاتے اور اس کی تہہ سے موتی نکالتے تھے اور کچھ وہ تھے جو ان کے لیے ﴿ مَّحَارِيۡبَ وَتَمَاثِيۡلَ وَجِفَانٍ كَالۡجَوَابِ وَقُدُوۡرٍ رّٰسِيٰتٍ ﴾(سبا:34؍13) ’’اونچی محرابیں (عمارتیں ) تصویریں ، بڑے بڑے حوض کی مانند لگن اور اپنی جگہ پر جمی ہوئی بڑی بڑی دیگیں بناتے تھے۔‘‘ اور ان میں سے ایک گروہ کو بیت المقدس کی تعمیر کے لیے مسخر کر رکھا تھا۔ جب سلیمان u نے وفات پائی تو جن بیت المقدس کی تعمیر میں مصروف تھے آپ کی وفات کے بعد ایک سال تک یہ کام کرتے رہے یہاں تک کہ ان کو آپ کی وفات کا علم ہو گیا جیسا کہ ان شاء اللہ عنقریب اس کا ذکر آئے گا۔ ﴿وَؔكُنَّا لَهُمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کی حفاظت کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی وہ سلیمان u کی نافرمانی پر قادر نہ تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قوت، غلبہ اور تسلط کے ذریعے سے ان کو حضرت سلیمانu کا مطیع کر رکھا تھا۔
21:83

۞وَأَيُّوبَ إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّي مَسَّنِيَ ٱلضُّرُّ وَأَنتَ أَرۡحَمُ ٱلرَّـٰحِمِينَ

اور (یاد کیجیے) ایوب کو، جب پکارا تھا اس نے اپنے رب کو کہ بے شک پہنچی ہے مجھے تکلیف، او ر تو زیادہ رحم کرنے والوں سے (83) پس قبول کی ہم نے (دعا) اس کی، پھر ہٹا دی ہم نے جو کچھ کہ تھی اسے کوئی تکلیف اور دیا ہم نے اسے اہل (کنبہ) اس کا اورمثل ان کے اور لوگ بھی ساتھ ان کے، رحمت کرتے ہوئے اپنی طرف سے اور نصیحت ہے عبادت کرنے والوں کے لیے (84) [83] یعنی ہمارے بندے اور رسول ایوب (u) کا تعظیم و ثنا اور ان کی قدرو منزلت بڑھاتے ہوئے ذکرکیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک نہایت ہی سخت آزمائش میں مبتلا کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو صابر اور اللہ سے راضی پایا… اور یہ اس طرح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتلا اور آزمائش کے طور پر شیطان کو آپ پر مسلط کر دیا گیا۔ شیطان نے آپ کے جسم پر پھونک ماری جس کے نتیجہ میں جسم پر بڑے بڑے پھوڑے بن گئے، وہ اس امتحان اور مصیبت میں مدت تک مبتلا رہے۔ اس دوران میں آپ کے گھر والے وفات پا گئے، آپ کا تمام مال چلا گیا تب حضرت ایوب نے اپنے رب کو پکارا:﴿ اَنِّيۡ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ ﴾ ’’مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے حال کے ذکر کو وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اب تکلیف اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے۔ [84] ان کے رب نے اپنی بے پایاں رحمت سے ان کی دعا قبول فرما لی اور فرمایا: ﴿ اُرۡؔكُضۡ بِرِجۡلِكَ١ۚ هٰؔذَا مُغۡتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ ﴾(ص:38؍42) ’’زمین پر اپنا پاؤں مار، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کے لیے۔‘‘ ایوب u نے زمین پر ایڑی ماری اور وہاں سے ٹھنڈے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ آپ نے اس پانی کو پیا اور اس سے غسل کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیف دور کر دی۔ ﴿وَّاٰتَيۡنٰهُ اَهۡلَهٗ ﴾ یعنی ہم نے ان کو ان کا مال اور اہل و عیال واپس لوٹا دیے ﴿ وَمِثۡلَهُمۡ مَّعَهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی مثل ان کے ساتھ اور۔‘‘ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عافیت، اہل و عیال اور بہت سا مال عطا کیا ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’اپنی طرف سے مہربانی کرتے ہوئے۔‘‘ کیونکہ آپ نے صبر کیا اور اللہ تعالیٰ پر راضی رہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اخروی ثواب سے پہلے دنیاوی ثواب سے سرفراز کیا۔ ﴿ وَذِكۡرٰى لِلۡعٰبِدِيۡنَ ﴾ ہم نے اس واقعہ کو عبادت گزاروں کے لیے عبرت بنا دیا جو صبر سے کام لیتے ہیں ۔ اگر لوگ دیکھیں کہ ایوب u کس آزمائش میں مبتلا ہوئے پھر اس مصیبت کے زائل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتنے بڑے ثواب سے نوازا تو صبر ہی کو اس کا سبب پائیں گے۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ایوب u کی ان الفاظ میں مدح فرمائی۔ ﴿اِنَّا وَجَدۡنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾(ص:38؍44) ’’ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا، وہ بہترین بندہ اور اپنے رب کی طرف بہت ہی رجوع کرنے والا تھا۔‘‘ جب اہل ایمان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو حضرت ایوبu کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے صبر کرتے ہیں ۔
21:84

فَٱسۡتَجَبۡنَا لَهُۥ فَكَشَفۡنَا مَا بِهِۦ مِن ضُرّٖۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ أَهۡلَهُۥ وَمِثۡلَهُم مَّعَهُمۡ رَحۡمَةٗ مِّنۡ عِندِنَا وَذِكۡرَىٰ لِلۡعَٰبِدِينَ

اور (یاد کیجیے) ایوب کو، جب پکارا تھا اس نے اپنے رب کو کہ بے شک پہنچی ہے مجھے تکلیف، او ر تو زیادہ رحم کرنے والوں سے (83) پس قبول کی ہم نے (دعا) اس کی، پھر ہٹا دی ہم نے جو کچھ کہ تھی اسے کوئی تکلیف اور دیا ہم نے اسے اہل (کنبہ) اس کا اورمثل ان کے اور لوگ بھی ساتھ ان کے، رحمت کرتے ہوئے اپنی طرف سے اور نصیحت ہے عبادت کرنے والوں کے لیے (84) [83] یعنی ہمارے بندے اور رسول ایوب (u) کا تعظیم و ثنا اور ان کی قدرو منزلت بڑھاتے ہوئے ذکرکیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک نہایت ہی سخت آزمائش میں مبتلا کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو صابر اور اللہ سے راضی پایا… اور یہ اس طرح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتلا اور آزمائش کے طور پر شیطان کو آپ پر مسلط کر دیا گیا۔ شیطان نے آپ کے جسم پر پھونک ماری جس کے نتیجہ میں جسم پر بڑے بڑے پھوڑے بن گئے، وہ اس امتحان اور مصیبت میں مدت تک مبتلا رہے۔ اس دوران میں آپ کے گھر والے وفات پا گئے، آپ کا تمام مال چلا گیا تب حضرت ایوب نے اپنے رب کو پکارا:﴿ اَنِّيۡ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ ﴾ ’’مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے حال کے ذکر کو وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اب تکلیف اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے۔ [84] ان کے رب نے اپنی بے پایاں رحمت سے ان کی دعا قبول فرما لی اور فرمایا: ﴿ اُرۡؔكُضۡ بِرِجۡلِكَ١ۚ هٰؔذَا مُغۡتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ ﴾(ص:38؍42) ’’زمین پر اپنا پاؤں مار، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کے لیے۔‘‘ ایوب u نے زمین پر ایڑی ماری اور وہاں سے ٹھنڈے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ آپ نے اس پانی کو پیا اور اس سے غسل کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیف دور کر دی۔ ﴿وَّاٰتَيۡنٰهُ اَهۡلَهٗ ﴾ یعنی ہم نے ان کو ان کا مال اور اہل و عیال واپس لوٹا دیے ﴿ وَمِثۡلَهُمۡ مَّعَهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی مثل ان کے ساتھ اور۔‘‘ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عافیت، اہل و عیال اور بہت سا مال عطا کیا ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’اپنی طرف سے مہربانی کرتے ہوئے۔‘‘ کیونکہ آپ نے صبر کیا اور اللہ تعالیٰ پر راضی رہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اخروی ثواب سے پہلے دنیاوی ثواب سے سرفراز کیا۔ ﴿ وَذِكۡرٰى لِلۡعٰبِدِيۡنَ ﴾ ہم نے اس واقعہ کو عبادت گزاروں کے لیے عبرت بنا دیا جو صبر سے کام لیتے ہیں ۔ اگر لوگ دیکھیں کہ ایوب u کس آزمائش میں مبتلا ہوئے پھر اس مصیبت کے زائل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتنے بڑے ثواب سے نوازا تو صبر ہی کو اس کا سبب پائیں گے۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ایوب u کی ان الفاظ میں مدح فرمائی۔ ﴿اِنَّا وَجَدۡنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾(ص:38؍44) ’’ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا، وہ بہترین بندہ اور اپنے رب کی طرف بہت ہی رجوع کرنے والا تھا۔‘‘ جب اہل ایمان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو حضرت ایوبu کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے صبر کرتے ہیں ۔
21:85

وَإِسۡمَٰعِيلَ وَإِدۡرِيسَ وَذَا ٱلۡكِفۡلِۖ كُلّٞ مِّنَ ٱلصَّـٰبِرِينَ

اور (یاد کیجیے) اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو ہر ایک (ان میں سے) تھا صبر کرنے والوں سے (85) اور داخل کیا ہم نے انھیں اپنی رحمت میں ، بے شک وہ تھے صالح لوگوں میں سے (86) [85] یعنی ہمارے چنے ہوئے بندوں اور انبیاء و مرسلین کو بہترین اسلوب میں یاد کیجیے اور بلیغ ترین پیرائے میں ان کی مدح و ثنا کیجیے، یعنی اسماعیل، ادریس، ذوالکفل اور بنی اسرائیل کے انبیاء علیہ السلام کا ذکر کیجیے۔ ﴿ كُلٌّ ﴾ یعنی تمام انبیاء جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے ﴿ مِّنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ صبر کرنے والے تھے۔ صبر سے مراد نفس کو اس کی طبیعت کی طرف مائل ہونے سے روکنا ہے اور یہ صبر تین انواع پر مشتمل ہے۔۱۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر (یعنی اس کے حکموں کی پابندی) کرنا۔۲۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے صبر کرنا (یعنی اس کے حکموں کی خلاف ورزی نہ کرنا)۳۔ اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاو قدر پر صبر کرنا۔ بندہ صبر کامل کے نام کا اس وقت تک مستحق نہیں ہوتا جب تک کہ صبر کی مذکورہ تینوں اقسام کا حق ادا نہ کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام کو صبر کی صفت کے ساتھ موصوف کیا ہے، لہٰذا یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انھوں نے صبر کی ان تینوں اقسام کو پورا کیا اور صبر کا اسی طرح التزام کیا جس طرح کرنا چاہیے تھا۔ [86] نیز ان کو ’’صلاح‘‘ کی صفت سے موصوف فرمایا جو مشتمل ہے صلاح قلب پر جو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور ہر وقت اس کی طرف انابت سے حاصل ہوتی ہے اور صلاح لسان پر، جس کا مطلب ہر وقت زبان کا اللہ کے ذکر سے تر رہنا ہے اور صلاح جوارح پر، جس کا مطلب جوارح (اعضاء) کو اللہ کی اطاعت میں لگائے رکھنا اور نافرمانی سے ان کو روکے رکھنا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے صبر اور صلاح کی بناء پر اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں سمیٹ لیا، ان کو ان کے دیگر برادر انبیاء و مرسلین میں شامل کیا اور انھیں دنیاوی اور اخروی ثواب عطا کیا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنا بڑا ثواب عطا نہ بھی کیا ہوتا تب بھی اللہ نے جو دنیا میں ان کا ذکر بلند کیا ہے اور آئندہ لوگوں میں انھیں سچی شہرت عطا کی ہے تو ان کے فضل و شرف کے لیے یہی کافی تھا۔
21:86

وَأَدۡخَلۡنَٰهُمۡ فِي رَحۡمَتِنَآۖ إِنَّهُم مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ

اور (یاد کیجیے) اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو ہر ایک (ان میں سے) تھا صبر کرنے والوں سے (85) اور داخل کیا ہم نے انھیں اپنی رحمت میں ، بے شک وہ تھے صالح لوگوں میں سے (86) [85] یعنی ہمارے چنے ہوئے بندوں اور انبیاء و مرسلین کو بہترین اسلوب میں یاد کیجیے اور بلیغ ترین پیرائے میں ان کی مدح و ثنا کیجیے، یعنی اسماعیل، ادریس، ذوالکفل اور بنی اسرائیل کے انبیاء علیہ السلام کا ذکر کیجیے۔ ﴿ كُلٌّ ﴾ یعنی تمام انبیاء جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے ﴿ مِّنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ صبر کرنے والے تھے۔ صبر سے مراد نفس کو اس کی طبیعت کی طرف مائل ہونے سے روکنا ہے اور یہ صبر تین انواع پر مشتمل ہے۔۱۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر (یعنی اس کے حکموں کی پابندی) کرنا۔۲۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے صبر کرنا (یعنی اس کے حکموں کی خلاف ورزی نہ کرنا)۳۔ اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاو قدر پر صبر کرنا۔ بندہ صبر کامل کے نام کا اس وقت تک مستحق نہیں ہوتا جب تک کہ صبر کی مذکورہ تینوں اقسام کا حق ادا نہ کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام کو صبر کی صفت کے ساتھ موصوف کیا ہے، لہٰذا یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انھوں نے صبر کی ان تینوں اقسام کو پورا کیا اور صبر کا اسی طرح التزام کیا جس طرح کرنا چاہیے تھا۔ [86] نیز ان کو ’’صلاح‘‘ کی صفت سے موصوف فرمایا جو مشتمل ہے صلاح قلب پر جو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور ہر وقت اس کی طرف انابت سے حاصل ہوتی ہے اور صلاح لسان پر، جس کا مطلب ہر وقت زبان کا اللہ کے ذکر سے تر رہنا ہے اور صلاح جوارح پر، جس کا مطلب جوارح (اعضاء) کو اللہ کی اطاعت میں لگائے رکھنا اور نافرمانی سے ان کو روکے رکھنا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے صبر اور صلاح کی بناء پر اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں سمیٹ لیا، ان کو ان کے دیگر برادر انبیاء و مرسلین میں شامل کیا اور انھیں دنیاوی اور اخروی ثواب عطا کیا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنا بڑا ثواب عطا نہ بھی کیا ہوتا تب بھی اللہ نے جو دنیا میں ان کا ذکر بلند کیا ہے اور آئندہ لوگوں میں انھیں سچی شہرت عطا کی ہے تو ان کے فضل و شرف کے لیے یہی کافی تھا۔
21:87

وَذَا ٱلنُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَٰضِبٗا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ فَنَادَىٰ فِي ٱلظُّلُمَٰتِ أَن لَّآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبۡحَٰنَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ

اور (یاد کیجیے) مچھلی والے (یونس) کو، جب چلا گیا تھا وہ (اپنی قوم سے) ناراض ہو کر، پس گمان کیا اس نے کہ ہرگز نہیں تنگی کریں گے ہم اس پر، پس پکارا اس نے اندھیروں میں یہ کہ نہیں ہے کوئی معبود (مشکل کشا) مگر تو ہی، پاک ہے تو، بلاشبہ میں ہی ہوں ظالموں میں سے (87) پس قبول کی ہم نے (دعا) اس کی اور نجات دی ہم نے اسے (اس) غم سےاور اسی طرح نجات دیتے ہیں ہم مومنوں کو (88) [88-87] یعنی ہمارے بندے اور رسول ذوالنون کو ذکر جمیل اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کریں اور ذوالنون سے مراد حضرت یونس u ہیں ، یعنی مچھلی والے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ ایمان نہ لائے۔ حضرت یونس u نے ان کو نزول عذاب کی وعید سنائی اور عذاب کے نزول کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا۔پس جب ان پر عذاب آیا اور انھوں نے اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائے اور توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾(یونس:10؍98) ’’کوئی ایسی بستی کی مثال ہے جو عذاب دیکھنے کے بعد ایمان لائی ہو اور اس کے ایمان لانے نے اس کو کوئی فائدہ دیا ہو۔ قوم یونس کے سوا۔ وہ لوگ جب ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوا کن عذاب کو ٹال دیا اور ایک مدت تک کے لیے ہم نے اس کو متاع دنیا سے بہرہ مند رکھا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَۚ۰۰فَاٰمَنُوۡا فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾(الصافات:37؍147، 148) ’’اور ہم نے اسے ایک لاکھ یا اس سے کچھ زائد لوگوں کی طرف مبعوث کیا پس وہ ایمان لے آئے اور ہم نے ایک وقت تک ان کو متاع دنیا سے بہرہ مند رکھا۔‘‘ یہ ایک بہت بڑی امت تھی جو یونس u پر ایمان لائی۔ یہ واقعہ آپ کی سب سے بڑی فضیلت ہے۔ مگر حضرت یونس u، کسی گناہ کی بنا پر، ناراضی کی حالت میں اپنے رب سے فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ وہ کونسا گناہ تھا اور اس کے تعین کی ہمیں حاجت بھی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:﴿اِذۡ اَبَقَ اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِۙ۰۰فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَۚ۰۰فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَهُوَ مُلِيۡمٌ ﴾(الصافات:37؍140۔142) ’’جب وہ فرار ہو کر ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف آیا۔ پس وہ قرعہ اندازی میں شامل ہوا اور ہار گیا۔ آخر مچھلی نے اس کو نگل لیا اور وہ ملامت زدہ تھا۔‘‘ یعنی وہ قابل ملامت فعل کا ارتکاب کرنے والے تھے۔ظاہری طورپر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا جلدی کرنا، قوم پر غصہ ہونا اور ان کے پاس سے نکل بھاگنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہلے تھا۔ اور ان کو گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ان پر قدرت نہیں ، یعنی اللہ تعالیٰ ان کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس نہیں کر سکتا یا ان کا خیال تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے نکل بھاگیں گے اور مخلوق میں سے کسی کو بھی ایسا گمان پیش آنے سے کچھ مانع نہیں مگر اس طرح کہ اس کو استقرار اور استمرار حاصل نہ ہو… پس یونس u بھاگ کر کچھ لوگوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہو گئے… اور انھوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی کہ ان میں سے کس کو سمندر میں پھینکا جائے کیونکہ انھیں خوف تھا کہ اگر سب کشتی میں رہے تو کشتی ڈوب جائے گی۔ قرعہ یونس u کے نام کا نکلا اور ان کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ ایک بہت بڑی مچھلی ان کو نگل کر سمندر کی گہرائیوں میں لے کر چلی گئی۔ سمندر کی ان تاریکیوں میں حضرت یونسu نے اپنے رب کو پکارا:﴿ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے میں ہی ظلم کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘پس حضرت یونس u نے اللہ کی کامل الوہیت کا اقرار کیا، اس کی ذات مقدس کو ہر نقص، ہر عیب اور ہر آفت سے منزہ اور پاک قرار دیا اور اپنے ظلم و جرم کا اعتراف کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَ۠ۙ۰۰لَلَبِثَ فِيۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ﴾(الصافات:37؍143، 144) ’’اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں نہ ہوتا تو قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ ہی میں رہتا۔ ‘‘اسی لیے یہاں فرمایا: ﴿ فَاسۡتَجَبۡنَا لَهٗ١ۙ وَنَجَّيۡنٰهُ مِنَ الۡغَمِّ﴾ ’’ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی۔‘‘ یعنی اس مصیبت سے نجات دی جس میں وہ مبتلا ہو گئے تھے۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نُـۨۡجِي الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں ۔‘‘ یہ ہر اس مومن کے لیے وعدہ اور بشارت ہے جو کسی مصیبت اور غم میں مبتلا ہو جائے۔ یقینا اللہ تعالیٰ اس کو اس مصیبت سے نجات دے گا، اس کے ایمان کے سبب سے اس کی مصیبت کو دور کر دے گا۔ جیسا کہ اس نے حضرت یونس u کے ساتھ کیا تھا۔
21:88

فَٱسۡتَجَبۡنَا لَهُۥ وَنَجَّيۡنَٰهُ مِنَ ٱلۡغَمِّۚ وَكَذَٰلِكَ نُـۨجِي ٱلۡمُؤۡمِنِينَ

اور (یاد کیجیے) مچھلی والے (یونس) کو، جب چلا گیا تھا وہ (اپنی قوم سے) ناراض ہو کر، پس گمان کیا اس نے کہ ہرگز نہیں تنگی کریں گے ہم اس پر، پس پکارا اس نے اندھیروں میں یہ کہ نہیں ہے کوئی معبود (مشکل کشا) مگر تو ہی، پاک ہے تو، بلاشبہ میں ہی ہوں ظالموں میں سے (87) پس قبول کی ہم نے (دعا) اس کی اور نجات دی ہم نے اسے (اس) غم سےاور اسی طرح نجات دیتے ہیں ہم مومنوں کو (88) [88-87] یعنی ہمارے بندے اور رسول ذوالنون کو ذکر جمیل اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کریں اور ذوالنون سے مراد حضرت یونس u ہیں ، یعنی مچھلی والے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ ایمان نہ لائے۔ حضرت یونس u نے ان کو نزول عذاب کی وعید سنائی اور عذاب کے نزول کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا۔پس جب ان پر عذاب آیا اور انھوں نے اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائے اور توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾(یونس:10؍98) ’’کوئی ایسی بستی کی مثال ہے جو عذاب دیکھنے کے بعد ایمان لائی ہو اور اس کے ایمان لانے نے اس کو کوئی فائدہ دیا ہو۔ قوم یونس کے سوا۔ وہ لوگ جب ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوا کن عذاب کو ٹال دیا اور ایک مدت تک کے لیے ہم نے اس کو متاع دنیا سے بہرہ مند رکھا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَۚ۰۰فَاٰمَنُوۡا فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾(الصافات:37؍147، 148) ’’اور ہم نے اسے ایک لاکھ یا اس سے کچھ زائد لوگوں کی طرف مبعوث کیا پس وہ ایمان لے آئے اور ہم نے ایک وقت تک ان کو متاع دنیا سے بہرہ مند رکھا۔‘‘ یہ ایک بہت بڑی امت تھی جو یونس u پر ایمان لائی۔ یہ واقعہ آپ کی سب سے بڑی فضیلت ہے۔ مگر حضرت یونس u، کسی گناہ کی بنا پر، ناراضی کی حالت میں اپنے رب سے فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ وہ کونسا گناہ تھا اور اس کے تعین کی ہمیں حاجت بھی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:﴿اِذۡ اَبَقَ اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِۙ۰۰فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَۚ۰۰فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَهُوَ مُلِيۡمٌ ﴾(الصافات:37؍140۔142) ’’جب وہ فرار ہو کر ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف آیا۔ پس وہ قرعہ اندازی میں شامل ہوا اور ہار گیا۔ آخر مچھلی نے اس کو نگل لیا اور وہ ملامت زدہ تھا۔‘‘ یعنی وہ قابل ملامت فعل کا ارتکاب کرنے والے تھے۔ظاہری طورپر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا جلدی کرنا، قوم پر غصہ ہونا اور ان کے پاس سے نکل بھاگنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہلے تھا۔ اور ان کو گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ان پر قدرت نہیں ، یعنی اللہ تعالیٰ ان کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس نہیں کر سکتا یا ان کا خیال تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے نکل بھاگیں گے اور مخلوق میں سے کسی کو بھی ایسا گمان پیش آنے سے کچھ مانع نہیں مگر اس طرح کہ اس کو استقرار اور استمرار حاصل نہ ہو… پس یونس u بھاگ کر کچھ لوگوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہو گئے… اور انھوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی کہ ان میں سے کس کو سمندر میں پھینکا جائے کیونکہ انھیں خوف تھا کہ اگر سب کشتی میں رہے تو کشتی ڈوب جائے گی۔ قرعہ یونس u کے نام کا نکلا اور ان کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ ایک بہت بڑی مچھلی ان کو نگل کر سمندر کی گہرائیوں میں لے کر چلی گئی۔ سمندر کی ان تاریکیوں میں حضرت یونسu نے اپنے رب کو پکارا:﴿ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے میں ہی ظلم کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘پس حضرت یونس u نے اللہ کی کامل الوہیت کا اقرار کیا، اس کی ذات مقدس کو ہر نقص، ہر عیب اور ہر آفت سے منزہ اور پاک قرار دیا اور اپنے ظلم و جرم کا اعتراف کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَ۠ۙ۰۰لَلَبِثَ فِيۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ﴾(الصافات:37؍143، 144) ’’اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں نہ ہوتا تو قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ ہی میں رہتا۔ ‘‘اسی لیے یہاں فرمایا: ﴿ فَاسۡتَجَبۡنَا لَهٗ١ۙ وَنَجَّيۡنٰهُ مِنَ الۡغَمِّ﴾ ’’ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی۔‘‘ یعنی اس مصیبت سے نجات دی جس میں وہ مبتلا ہو گئے تھے۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نُـۨۡجِي الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں ۔‘‘ یہ ہر اس مومن کے لیے وعدہ اور بشارت ہے جو کسی مصیبت اور غم میں مبتلا ہو جائے۔ یقینا اللہ تعالیٰ اس کو اس مصیبت سے نجات دے گا، اس کے ایمان کے سبب سے اس کی مصیبت کو دور کر دے گا۔ جیسا کہ اس نے حضرت یونس u کے ساتھ کیا تھا۔
21:89

وَزَكَرِيَّآ إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥ رَبِّ لَا تَذَرۡنِي فَرۡدٗا وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلۡوَٰرِثِينَ

اور (یاد کیجیے) زکریا کو، جب پکارا تھا اس نے اپنے رب کو، اے میرے رب! نہ چھوڑ تو مجھے تنہا اور تو ہی ہے سب سے بہترین وارث (89) پس قبول کی ہم نے (دعا) اس کی اورعطا کیا ہم نے اسے یحیی اوردرست کر دیا ہم نے اس کے لیے اس کی بیوی کو، بے شک وہ (انبیاء) تھے جلدی کرتے نیکی کے کاموں میں اور پکارتے تھے ہمیں رغبت کرتے اور خوف کھاتے ہوئےاور تھے وہ ہمارے لیے عاجزی کرنے والے (90) [89] یعنی ہمارے بندے اور رسول زکریاu کو اس کی تعریف و تعظیم کے ساتھ اور ان مناقب و فضائل کا ذکر کرتے ہوئے یاد کیجیے۔ ان جملہ فضائل میں یہ عظیم منقبت بھی شامل ہے کہ انھوں نے مخلوق کے ساتھ خیرخواہی کی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہوئی۔ زکریا u نے اپنے رب کو پکارا: ﴿ رَبِّ لَا تَذَرۡنِيۡ فَرۡدًا﴾ ’’اے رب! مجھے تنہا نہ چھوڑنا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ وَهَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّيۡ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَيۡبًا وَّلَمۡ اَكُنۢۡ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا۰۰وَاِنِّيۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِيَ مِنۡ وَّرَآءِيۡ وَؔكَانَتِ امۡرَاَتِيۡ عَاقِرًا فَهَبۡ لِيۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّاۙ۰۰يَّرِثُنِيۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ١ۖ ۗ وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا ﴾(مریم:19؍4-6) ’’اے میرے رب! میری ہڈیاں کمزور پڑ گئیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے سفید ہو گیا۔ اے میرے رب میں تجھ سے دعا مانگ کر کبھی نامراد نہیں رہا۔ مجھے اپنے پیچھے اپنے رشتہ داروں کے بارے میں خوف ہے اور میری بیوی بانجھ ہے تو اپنی عنایت سے مجھے ایک وارث عطا کر جو میرا وارث ہو اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے رب! تو اسے ایک پسندیدہ انسان بنا۔‘‘ ان آیات کریمہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ رَبِّ لَا تَذَرۡنِيۡ فَرۡدًا ﴾سے مراد یہ ہے کہ جب حضرت زکریا u کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ کو یہ خوف لاحق ہوا کہ آپ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور مخلوق کے ساتھ خیرخواہی کرنے کے لیے کوئی آپ کا قائم مقام نہ ہو گا، نیز یہ کہ حضرت زکریاu اس وقت تنہا تھے کوئی ان کا خلف رشید نہ تھا جو دعوت میں ان کی اعانت کرتا۔﴿ وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡوٰرِثِيۡنَ ﴾ یعنی تو باقی رہنے والوں میں سب سے بہتر ہے اور بھلائی میں میرے کسی خلف رشید سے بہتر ہے اور تو اپنے بندوں کے ساتھ مجھ سے زیادہ رحم کرنے والا ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ میرا دل مطمئن اور نفس کو سکون حاصل ہو اور میرے لیے اس کا ثواب جاری رہے۔ [90]﴿فَاسۡتَجَبۡنَا لَهٗ١ٞ وَوَهَبۡنَا لَهٗ يَحۡيٰى﴾ ’’پس ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا۔‘‘ جو ایسا مکرم نبی ہے کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس نام کا کوئی شخص نہیں کیا ﴿وَاَصۡلَحۡنَا لَهٗ زَوۡجَهٗ﴾ ’’اور ہم نے درست کر دیا اس کے لیے اس کی بیوی کو۔‘‘ یعنی حضرت زکریاu کی بیوی بانجھ تھیں اور ان کا رحم بچہ پیدا کرنے کے قابل نہ تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی زکریا u کی خاطر ان کے رحم کو درست کر کے اسے حمل کے قابل بنا دیا۔ نیک ساتھی اور ہم نشین کے فوائد میں سے ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے لیے بابرکت ہوتا ہے۔ پس حضرت یحییٰ u ماں باپ میں (برکت کے لیے) مشترک ہو گئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام انبیاء و مرسلین کا فرداً فرداً ذکر کرنے کے بعد ان سب کو عمومی مدح و ثنا سے نوازا ہے چنانچہ فرمایا : ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا يُسٰرِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ﴾ یعنی وہ نیکیوں میں سبقت کرتے تھے، اوقات فاضلہ میں نیکیاں کرتے تھے اور ان کی تکمیل اس طریقے سے کرتے تھے جو ان کے لائق اور ان کے لیے مناسب ہو۔ وہ مقدور بھر کسی فضیلت کو نہ چھوڑتے تھے اور فرصت کو غنیمت جانتے تھے۔ ﴿وَيَدۡعُوۡنَنَا رَغَبًا وَّرَهَبًا ﴾ یعنی ہم سے دنیا و آخرت کے مرغوب امور کا سوال کرتے تھے اور دنیا و آخرت کے ضرر رساں ، خوفناک امور سے ہماری پناہ طلب کرتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت رکھتے تھے، وہ غافل اور کھیل کود میں ڈوبے ہوئے تھے نہ اللہ تعالیٰ کے حضور گستاخی اور جرأت کرتے تھے۔ ﴿وَؔكَانُوۡا لَنَا خٰشِعِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے سامنے خشوع، تذلل اور انکساری کا اظہار کرتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ اپنے رب کی کامل معرفت رکھتے تھے۔
21:90

فَٱسۡتَجَبۡنَا لَهُۥ وَوَهَبۡنَا لَهُۥ يَحۡيَىٰ وَأَصۡلَحۡنَا لَهُۥ زَوۡجَهُۥٓۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ يُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡخَيۡرَٰتِ وَيَدۡعُونَنَا رَغَبٗا وَرَهَبٗاۖ وَكَانُواْ لَنَا خَٰشِعِينَ

اور (یاد کیجیے) زکریا کو، جب پکارا تھا اس نے اپنے رب کو، اے میرے رب! نہ چھوڑ تو مجھے تنہا اور تو ہی ہے سب سے بہترین وارث (89) پس قبول کی ہم نے (دعا) اس کی اورعطا کیا ہم نے اسے یحیی اوردرست کر دیا ہم نے اس کے لیے اس کی بیوی کو، بے شک وہ (انبیاء) تھے جلدی کرتے نیکی کے کاموں میں اور پکارتے تھے ہمیں رغبت کرتے اور خوف کھاتے ہوئےاور تھے وہ ہمارے لیے عاجزی کرنے والے (90) [89] یعنی ہمارے بندے اور رسول زکریاu کو اس کی تعریف و تعظیم کے ساتھ اور ان مناقب و فضائل کا ذکر کرتے ہوئے یاد کیجیے۔ ان جملہ فضائل میں یہ عظیم منقبت بھی شامل ہے کہ انھوں نے مخلوق کے ساتھ خیرخواہی کی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہوئی۔ زکریا u نے اپنے رب کو پکارا: ﴿ رَبِّ لَا تَذَرۡنِيۡ فَرۡدًا﴾ ’’اے رب! مجھے تنہا نہ چھوڑنا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ وَهَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّيۡ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَيۡبًا وَّلَمۡ اَكُنۢۡ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا۰۰وَاِنِّيۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِيَ مِنۡ وَّرَآءِيۡ وَؔكَانَتِ امۡرَاَتِيۡ عَاقِرًا فَهَبۡ لِيۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّاۙ۰۰يَّرِثُنِيۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ١ۖ ۗ وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا ﴾(مریم:19؍4-6) ’’اے میرے رب! میری ہڈیاں کمزور پڑ گئیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے سفید ہو گیا۔ اے میرے رب میں تجھ سے دعا مانگ کر کبھی نامراد نہیں رہا۔ مجھے اپنے پیچھے اپنے رشتہ داروں کے بارے میں خوف ہے اور میری بیوی بانجھ ہے تو اپنی عنایت سے مجھے ایک وارث عطا کر جو میرا وارث ہو اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے رب! تو اسے ایک پسندیدہ انسان بنا۔‘‘ ان آیات کریمہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ رَبِّ لَا تَذَرۡنِيۡ فَرۡدًا ﴾سے مراد یہ ہے کہ جب حضرت زکریا u کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ کو یہ خوف لاحق ہوا کہ آپ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور مخلوق کے ساتھ خیرخواہی کرنے کے لیے کوئی آپ کا قائم مقام نہ ہو گا، نیز یہ کہ حضرت زکریاu اس وقت تنہا تھے کوئی ان کا خلف رشید نہ تھا جو دعوت میں ان کی اعانت کرتا۔﴿ وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡوٰرِثِيۡنَ ﴾ یعنی تو باقی رہنے والوں میں سب سے بہتر ہے اور بھلائی میں میرے کسی خلف رشید سے بہتر ہے اور تو اپنے بندوں کے ساتھ مجھ سے زیادہ رحم کرنے والا ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ میرا دل مطمئن اور نفس کو سکون حاصل ہو اور میرے لیے اس کا ثواب جاری رہے۔ [90]﴿فَاسۡتَجَبۡنَا لَهٗ١ٞ وَوَهَبۡنَا لَهٗ يَحۡيٰى﴾ ’’پس ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا۔‘‘ جو ایسا مکرم نبی ہے کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس نام کا کوئی شخص نہیں کیا ﴿وَاَصۡلَحۡنَا لَهٗ زَوۡجَهٗ﴾ ’’اور ہم نے درست کر دیا اس کے لیے اس کی بیوی کو۔‘‘ یعنی حضرت زکریاu کی بیوی بانجھ تھیں اور ان کا رحم بچہ پیدا کرنے کے قابل نہ تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی زکریا u کی خاطر ان کے رحم کو درست کر کے اسے حمل کے قابل بنا دیا۔ نیک ساتھی اور ہم نشین کے فوائد میں سے ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے لیے بابرکت ہوتا ہے۔ پس حضرت یحییٰ u ماں باپ میں (برکت کے لیے) مشترک ہو گئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام انبیاء و مرسلین کا فرداً فرداً ذکر کرنے کے بعد ان سب کو عمومی مدح و ثنا سے نوازا ہے چنانچہ فرمایا : ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا يُسٰرِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ﴾ یعنی وہ نیکیوں میں سبقت کرتے تھے، اوقات فاضلہ میں نیکیاں کرتے تھے اور ان کی تکمیل اس طریقے سے کرتے تھے جو ان کے لائق اور ان کے لیے مناسب ہو۔ وہ مقدور بھر کسی فضیلت کو نہ چھوڑتے تھے اور فرصت کو غنیمت جانتے تھے۔ ﴿وَيَدۡعُوۡنَنَا رَغَبًا وَّرَهَبًا ﴾ یعنی ہم سے دنیا و آخرت کے مرغوب امور کا سوال کرتے تھے اور دنیا و آخرت کے ضرر رساں ، خوفناک امور سے ہماری پناہ طلب کرتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت رکھتے تھے، وہ غافل اور کھیل کود میں ڈوبے ہوئے تھے نہ اللہ تعالیٰ کے حضور گستاخی اور جرأت کرتے تھے۔ ﴿وَؔكَانُوۡا لَنَا خٰشِعِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے سامنے خشوع، تذلل اور انکساری کا اظہار کرتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ اپنے رب کی کامل معرفت رکھتے تھے۔
21:91

وَٱلَّتِيٓ أَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلۡنَٰهَا وَٱبۡنَهَآ ءَايَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ

اور (یاد کیجیے) اس عورت کو جس نے حفاظت کی تھی اپنی شرم گاہ کی، پس پھونکی ہم نے اس میں اپنی روح اور بنایا ہم نے اسے اور اس کے بیٹے (عیسیٰ) کو (عظیم) نشانی جہان والوں کے لیے (91) بلاشبہ یہ تمھارا دین ایک ہی دین ہے اور میں تمھارا رب ہوں ، سو تم میری ہی عبادت کرو (92) اور ٹکڑے ٹکڑے کر لیا انھوں نے اپنا کام آپس میں (وہ) سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں (93) پس جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں انکار کیا جائے گا ان کی کوشش کا اور بے شک ہم ہیں اس کے لیے لکھنے والے (94) [91] یعنی مریم[ کا، ان کی مدح و ثنا کے ساتھ، ان کی قدر و منزلت کا بیان اور ان کے فضل و شرف کا اعلان کرتے ہوئے، ذکر کیجیے! فرمایا:﴿وَالَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا ﴾ یعنی جس نے حرام کے قریب جانے سے بلکہ حلال سے بھی اپنی شرمگاہ کو بچائے رکھا۔ پس مریم[ نے ہمہ وقت عبادت میں مشغول اور اپنے رب کی خدمت میں مستغرق رہنے کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی۔ جب حضرت جبریل u ایک کامل اور خوبصورت مرد کی شکل میں مریم[ کے پاس آئے تو آپ کہنے لگیں : ﴿اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡكَ اِنۡ كُنۡتَ تَقِيًّا ﴾(مریم:19؍18) ’’میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں ، اگر تو اللہ سے ڈرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم[ کو ان کے عمل کی جنس ہی سے اس کا بدلہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بغیر باپ کے ایک بیٹے سے نوازا۔ جبریل u نے پھونک ماری تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت مریم[ کو حمل ٹھہر گیا ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا وَابۡنَهَاۤ اٰيَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور کر دیا ہم نے اس کو اور اس کے بیٹے کو نشانی جہانوں کے لیے۔‘‘ کیونکہ حضرت مریم[ کو بغیر کسی مرد کے چھوئے حمل ٹھہرا اور پھر بیٹے کو جنم دیا اور اس بیٹے نے گہوارے میں کلام کیا اور بہتان طراز آپ پر جو تہمت لگاتے تھے اس سے مریم[ کی براء ت کا اعلان کیا اور اسی حالت میں انھوں نے اپنے بارے میں آگاہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر معجزات ظاہر فرمائے جو کہ سب کو معلوم ہیں ۔حضرت مریم اور ان کا فرزند ارجمندi تمام جہانوں کے لیے ایک نشانی بن گئے لوگ نسل در نسل اس واقعے کو بیان کرتے اور اس سے عبرت حاصل کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ [92] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہ السلام کا ذکر فرمایا تو لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً﴾ یہ تمام انبیاء و مرسلین جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے وہ تمھاری امت اور تمھارے امام ہیں جن کی راہنمائی میں تم ان کے طریقے کی پیروی کرتے ہو۔ ان سب کا دین ایک، سب کا راستہ ایک اور سب کا رب ایک ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَّاَنَا رَبُّكُمۡ ﴾ میں تمھارا رب ہوں جس نے تمھیں پیدا کیا اور دین و دنیا میں اپنی نعمت کے ذریعے سے تمھاری پرورش کی۔ جب تمھارا رب ایک، تمھارا نبی ایک اور تمھارا دین ایک، یعنی عبادت کی تمام انواع کے ذریعے ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا… تو تمھارا وظیفہ اور تم پر فرض ہے کہ تم اسی کی عبادت کرو، اس لیے فرمایا:﴿ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ ’’پس تم میری ہی عبادت کرو۔‘‘ پس حرف ’’فاء‘‘ کے ذریعے سے اس جملے کو گزشتہ مضمون کے ساتھ اس طرح مرتب کیا جس طرح مسبب سبب پر مترتب ہوتا ہے۔ [93] مناسب یہی تھا کہ اس امر پر سب کا اتفاق اور اجتماع ہوتا اور اس میں تفرق اور تشتت نہ ہوتا مگر ظلم اور زیادتی سے افتراق اور تشتت پیدا ہو کر ہی رہا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَتَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ بَيۡنَهُمۡ﴾ یعنی انبیائے کرام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والے، فرقوں میں تقسیم اور تشتت کا شکار ہو گئے۔ ان میں ہر فرقہ دعویٰ کرتا تھا کہ حق اس کے ساتھ ہے اور دوسرا فرقہ باطل پر ہے۔ ﴿كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُوۡنَ ﴾(الروم:30؍32) اور یہ بات معلوم ہے کہ ان میں سے راہ صواب پر صرف وہی ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے دین قویم اور صراط مستقیم پر گامزن ہے… اور یہ حقیقت اس وقت ظاہر ہو گی جب پردہ ہٹ جائے گا اور اصلیت سامنے آ جائے گی اور اللہ تعالیٰ فیصلوں کے لیے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا تب اس وقت صاف نظر آئے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون، اس لیے فرمایا:﴿ كُلٌّ ﴾ تمام فرقوں میں سے ہر فرقہ ﴿ اِلَيۡنَا رٰجِعُوۡنَ ﴾ ہماری ہی طرف لوٹے گا اور ہم اسے پوری پوری جزا دیں گے۔ [94] پھر منطوق اور مفہوم کے اسلوب میں ، اس جزا کی تفصیل بیان کی، فرمایا:﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی ایسے عمل كيے جن کو انبیائے کرام نے مشروع کیا اور کتب الٰہیہ نے ان کی ترغیب دی۔ ﴿ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور ان کی لائی ہوئی کتابوں پر ایمان رکھتا ہو۔ ﴿ فَلَا كُفۡرَانَ لِسَعۡيِهٖ﴾ یعنی ہم اس کی کوششوں کو ضائع کریں گے نہ باطل کریں گے بلکہ اس کو کئی گنا بڑھا کر اجر عطا کریں گے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ كٰتِبُوۡن ﴾ یعنی ہم اس کی کوشش کو لوح محفوظ اور ان صحیفوں میں لکھنے والے ہیں جو کرام الکاتبین کے پاس ہیں ۔دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کوئی نیک کام کرے اور وہ مومن نہ ہو تو وہ ثواب آخرت سے محروم اور اپنے دین و دنیا میں خائب و خاسر ہو گا۔
21:92

إِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَأَنَا۠ رَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُونِ

اور (یاد کیجیے) اس عورت کو جس نے حفاظت کی تھی اپنی شرم گاہ کی، پس پھونکی ہم نے اس میں اپنی روح اور بنایا ہم نے اسے اور اس کے بیٹے (عیسیٰ) کو (عظیم) نشانی جہان والوں کے لیے (91) بلاشبہ یہ تمھارا دین ایک ہی دین ہے اور میں تمھارا رب ہوں ، سو تم میری ہی عبادت کرو (92) اور ٹکڑے ٹکڑے کر لیا انھوں نے اپنا کام آپس میں (وہ) سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں (93) پس جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں انکار کیا جائے گا ان کی کوشش کا اور بے شک ہم ہیں اس کے لیے لکھنے والے (94) [91] یعنی مریم[ کا، ان کی مدح و ثنا کے ساتھ، ان کی قدر و منزلت کا بیان اور ان کے فضل و شرف کا اعلان کرتے ہوئے، ذکر کیجیے! فرمایا:﴿وَالَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا ﴾ یعنی جس نے حرام کے قریب جانے سے بلکہ حلال سے بھی اپنی شرمگاہ کو بچائے رکھا۔ پس مریم[ نے ہمہ وقت عبادت میں مشغول اور اپنے رب کی خدمت میں مستغرق رہنے کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی۔ جب حضرت جبریل u ایک کامل اور خوبصورت مرد کی شکل میں مریم[ کے پاس آئے تو آپ کہنے لگیں : ﴿اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡكَ اِنۡ كُنۡتَ تَقِيًّا ﴾(مریم:19؍18) ’’میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں ، اگر تو اللہ سے ڈرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم[ کو ان کے عمل کی جنس ہی سے اس کا بدلہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بغیر باپ کے ایک بیٹے سے نوازا۔ جبریل u نے پھونک ماری تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت مریم[ کو حمل ٹھہر گیا ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا وَابۡنَهَاۤ اٰيَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور کر دیا ہم نے اس کو اور اس کے بیٹے کو نشانی جہانوں کے لیے۔‘‘ کیونکہ حضرت مریم[ کو بغیر کسی مرد کے چھوئے حمل ٹھہرا اور پھر بیٹے کو جنم دیا اور اس بیٹے نے گہوارے میں کلام کیا اور بہتان طراز آپ پر جو تہمت لگاتے تھے اس سے مریم[ کی براء ت کا اعلان کیا اور اسی حالت میں انھوں نے اپنے بارے میں آگاہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر معجزات ظاہر فرمائے جو کہ سب کو معلوم ہیں ۔حضرت مریم اور ان کا فرزند ارجمندi تمام جہانوں کے لیے ایک نشانی بن گئے لوگ نسل در نسل اس واقعے کو بیان کرتے اور اس سے عبرت حاصل کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ [92] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہ السلام کا ذکر فرمایا تو لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً﴾ یہ تمام انبیاء و مرسلین جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے وہ تمھاری امت اور تمھارے امام ہیں جن کی راہنمائی میں تم ان کے طریقے کی پیروی کرتے ہو۔ ان سب کا دین ایک، سب کا راستہ ایک اور سب کا رب ایک ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَّاَنَا رَبُّكُمۡ ﴾ میں تمھارا رب ہوں جس نے تمھیں پیدا کیا اور دین و دنیا میں اپنی نعمت کے ذریعے سے تمھاری پرورش کی۔ جب تمھارا رب ایک، تمھارا نبی ایک اور تمھارا دین ایک، یعنی عبادت کی تمام انواع کے ذریعے ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا… تو تمھارا وظیفہ اور تم پر فرض ہے کہ تم اسی کی عبادت کرو، اس لیے فرمایا:﴿ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ ’’پس تم میری ہی عبادت کرو۔‘‘ پس حرف ’’فاء‘‘ کے ذریعے سے اس جملے کو گزشتہ مضمون کے ساتھ اس طرح مرتب کیا جس طرح مسبب سبب پر مترتب ہوتا ہے۔ [93] مناسب یہی تھا کہ اس امر پر سب کا اتفاق اور اجتماع ہوتا اور اس میں تفرق اور تشتت نہ ہوتا مگر ظلم اور زیادتی سے افتراق اور تشتت پیدا ہو کر ہی رہا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَتَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ بَيۡنَهُمۡ﴾ یعنی انبیائے کرام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والے، فرقوں میں تقسیم اور تشتت کا شکار ہو گئے۔ ان میں ہر فرقہ دعویٰ کرتا تھا کہ حق اس کے ساتھ ہے اور دوسرا فرقہ باطل پر ہے۔ ﴿كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُوۡنَ ﴾(الروم:30؍32) اور یہ بات معلوم ہے کہ ان میں سے راہ صواب پر صرف وہی ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے دین قویم اور صراط مستقیم پر گامزن ہے… اور یہ حقیقت اس وقت ظاہر ہو گی جب پردہ ہٹ جائے گا اور اصلیت سامنے آ جائے گی اور اللہ تعالیٰ فیصلوں کے لیے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا تب اس وقت صاف نظر آئے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون، اس لیے فرمایا:﴿ كُلٌّ ﴾ تمام فرقوں میں سے ہر فرقہ ﴿ اِلَيۡنَا رٰجِعُوۡنَ ﴾ ہماری ہی طرف لوٹے گا اور ہم اسے پوری پوری جزا دیں گے۔ [94] پھر منطوق اور مفہوم کے اسلوب میں ، اس جزا کی تفصیل بیان کی، فرمایا:﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی ایسے عمل كيے جن کو انبیائے کرام نے مشروع کیا اور کتب الٰہیہ نے ان کی ترغیب دی۔ ﴿ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور ان کی لائی ہوئی کتابوں پر ایمان رکھتا ہو۔ ﴿ فَلَا كُفۡرَانَ لِسَعۡيِهٖ﴾ یعنی ہم اس کی کوششوں کو ضائع کریں گے نہ باطل کریں گے بلکہ اس کو کئی گنا بڑھا کر اجر عطا کریں گے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ كٰتِبُوۡن ﴾ یعنی ہم اس کی کوشش کو لوح محفوظ اور ان صحیفوں میں لکھنے والے ہیں جو کرام الکاتبین کے پاس ہیں ۔دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کوئی نیک کام کرے اور وہ مومن نہ ہو تو وہ ثواب آخرت سے محروم اور اپنے دین و دنیا میں خائب و خاسر ہو گا۔
21:93

وَتَقَطَّعُوٓاْ أَمۡرَهُم بَيۡنَهُمۡۖ كُلٌّ إِلَيۡنَا رَٰجِعُونَ

اور (یاد کیجیے) اس عورت کو جس نے حفاظت کی تھی اپنی شرم گاہ کی، پس پھونکی ہم نے اس میں اپنی روح اور بنایا ہم نے اسے اور اس کے بیٹے (عیسیٰ) کو (عظیم) نشانی جہان والوں کے لیے (91) بلاشبہ یہ تمھارا دین ایک ہی دین ہے اور میں تمھارا رب ہوں ، سو تم میری ہی عبادت کرو (92) اور ٹکڑے ٹکڑے کر لیا انھوں نے اپنا کام آپس میں (وہ) سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں (93) پس جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں انکار کیا جائے گا ان کی کوشش کا اور بے شک ہم ہیں اس کے لیے لکھنے والے (94) [91] یعنی مریم[ کا، ان کی مدح و ثنا کے ساتھ، ان کی قدر و منزلت کا بیان اور ان کے فضل و شرف کا اعلان کرتے ہوئے، ذکر کیجیے! فرمایا:﴿وَالَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا ﴾ یعنی جس نے حرام کے قریب جانے سے بلکہ حلال سے بھی اپنی شرمگاہ کو بچائے رکھا۔ پس مریم[ نے ہمہ وقت عبادت میں مشغول اور اپنے رب کی خدمت میں مستغرق رہنے کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی۔ جب حضرت جبریل u ایک کامل اور خوبصورت مرد کی شکل میں مریم[ کے پاس آئے تو آپ کہنے لگیں : ﴿اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡكَ اِنۡ كُنۡتَ تَقِيًّا ﴾(مریم:19؍18) ’’میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں ، اگر تو اللہ سے ڈرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم[ کو ان کے عمل کی جنس ہی سے اس کا بدلہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بغیر باپ کے ایک بیٹے سے نوازا۔ جبریل u نے پھونک ماری تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت مریم[ کو حمل ٹھہر گیا ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا وَابۡنَهَاۤ اٰيَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور کر دیا ہم نے اس کو اور اس کے بیٹے کو نشانی جہانوں کے لیے۔‘‘ کیونکہ حضرت مریم[ کو بغیر کسی مرد کے چھوئے حمل ٹھہرا اور پھر بیٹے کو جنم دیا اور اس بیٹے نے گہوارے میں کلام کیا اور بہتان طراز آپ پر جو تہمت لگاتے تھے اس سے مریم[ کی براء ت کا اعلان کیا اور اسی حالت میں انھوں نے اپنے بارے میں آگاہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر معجزات ظاہر فرمائے جو کہ سب کو معلوم ہیں ۔حضرت مریم اور ان کا فرزند ارجمندi تمام جہانوں کے لیے ایک نشانی بن گئے لوگ نسل در نسل اس واقعے کو بیان کرتے اور اس سے عبرت حاصل کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ [92] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہ السلام کا ذکر فرمایا تو لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً﴾ یہ تمام انبیاء و مرسلین جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے وہ تمھاری امت اور تمھارے امام ہیں جن کی راہنمائی میں تم ان کے طریقے کی پیروی کرتے ہو۔ ان سب کا دین ایک، سب کا راستہ ایک اور سب کا رب ایک ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَّاَنَا رَبُّكُمۡ ﴾ میں تمھارا رب ہوں جس نے تمھیں پیدا کیا اور دین و دنیا میں اپنی نعمت کے ذریعے سے تمھاری پرورش کی۔ جب تمھارا رب ایک، تمھارا نبی ایک اور تمھارا دین ایک، یعنی عبادت کی تمام انواع کے ذریعے ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا… تو تمھارا وظیفہ اور تم پر فرض ہے کہ تم اسی کی عبادت کرو، اس لیے فرمایا:﴿ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ ’’پس تم میری ہی عبادت کرو۔‘‘ پس حرف ’’فاء‘‘ کے ذریعے سے اس جملے کو گزشتہ مضمون کے ساتھ اس طرح مرتب کیا جس طرح مسبب سبب پر مترتب ہوتا ہے۔ [93] مناسب یہی تھا کہ اس امر پر سب کا اتفاق اور اجتماع ہوتا اور اس میں تفرق اور تشتت نہ ہوتا مگر ظلم اور زیادتی سے افتراق اور تشتت پیدا ہو کر ہی رہا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَتَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ بَيۡنَهُمۡ﴾ یعنی انبیائے کرام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والے، فرقوں میں تقسیم اور تشتت کا شکار ہو گئے۔ ان میں ہر فرقہ دعویٰ کرتا تھا کہ حق اس کے ساتھ ہے اور دوسرا فرقہ باطل پر ہے۔ ﴿كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُوۡنَ ﴾(الروم:30؍32) اور یہ بات معلوم ہے کہ ان میں سے راہ صواب پر صرف وہی ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے دین قویم اور صراط مستقیم پر گامزن ہے… اور یہ حقیقت اس وقت ظاہر ہو گی جب پردہ ہٹ جائے گا اور اصلیت سامنے آ جائے گی اور اللہ تعالیٰ فیصلوں کے لیے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا تب اس وقت صاف نظر آئے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون، اس لیے فرمایا:﴿ كُلٌّ ﴾ تمام فرقوں میں سے ہر فرقہ ﴿ اِلَيۡنَا رٰجِعُوۡنَ ﴾ ہماری ہی طرف لوٹے گا اور ہم اسے پوری پوری جزا دیں گے۔ [94] پھر منطوق اور مفہوم کے اسلوب میں ، اس جزا کی تفصیل بیان کی، فرمایا:﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی ایسے عمل كيے جن کو انبیائے کرام نے مشروع کیا اور کتب الٰہیہ نے ان کی ترغیب دی۔ ﴿ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور ان کی لائی ہوئی کتابوں پر ایمان رکھتا ہو۔ ﴿ فَلَا كُفۡرَانَ لِسَعۡيِهٖ﴾ یعنی ہم اس کی کوششوں کو ضائع کریں گے نہ باطل کریں گے بلکہ اس کو کئی گنا بڑھا کر اجر عطا کریں گے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ كٰتِبُوۡن ﴾ یعنی ہم اس کی کوشش کو لوح محفوظ اور ان صحیفوں میں لکھنے والے ہیں جو کرام الکاتبین کے پاس ہیں ۔دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کوئی نیک کام کرے اور وہ مومن نہ ہو تو وہ ثواب آخرت سے محروم اور اپنے دین و دنیا میں خائب و خاسر ہو گا۔
21:94

فَمَن يَعۡمَلۡ مِنَ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَا كُفۡرَانَ لِسَعۡيِهِۦ وَإِنَّا لَهُۥ كَٰتِبُونَ

اور (یاد کیجیے) اس عورت کو جس نے حفاظت کی تھی اپنی شرم گاہ کی، پس پھونکی ہم نے اس میں اپنی روح اور بنایا ہم نے اسے اور اس کے بیٹے (عیسیٰ) کو (عظیم) نشانی جہان والوں کے لیے (91) بلاشبہ یہ تمھارا دین ایک ہی دین ہے اور میں تمھارا رب ہوں ، سو تم میری ہی عبادت کرو (92) اور ٹکڑے ٹکڑے کر لیا انھوں نے اپنا کام آپس میں (وہ) سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں (93) پس جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں انکار کیا جائے گا ان کی کوشش کا اور بے شک ہم ہیں اس کے لیے لکھنے والے (94) [91] یعنی مریم[ کا، ان کی مدح و ثنا کے ساتھ، ان کی قدر و منزلت کا بیان اور ان کے فضل و شرف کا اعلان کرتے ہوئے، ذکر کیجیے! فرمایا:﴿وَالَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا ﴾ یعنی جس نے حرام کے قریب جانے سے بلکہ حلال سے بھی اپنی شرمگاہ کو بچائے رکھا۔ پس مریم[ نے ہمہ وقت عبادت میں مشغول اور اپنے رب کی خدمت میں مستغرق رہنے کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی۔ جب حضرت جبریل u ایک کامل اور خوبصورت مرد کی شکل میں مریم[ کے پاس آئے تو آپ کہنے لگیں : ﴿اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡكَ اِنۡ كُنۡتَ تَقِيًّا ﴾(مریم:19؍18) ’’میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں ، اگر تو اللہ سے ڈرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم[ کو ان کے عمل کی جنس ہی سے اس کا بدلہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بغیر باپ کے ایک بیٹے سے نوازا۔ جبریل u نے پھونک ماری تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت مریم[ کو حمل ٹھہر گیا ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا وَابۡنَهَاۤ اٰيَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور کر دیا ہم نے اس کو اور اس کے بیٹے کو نشانی جہانوں کے لیے۔‘‘ کیونکہ حضرت مریم[ کو بغیر کسی مرد کے چھوئے حمل ٹھہرا اور پھر بیٹے کو جنم دیا اور اس بیٹے نے گہوارے میں کلام کیا اور بہتان طراز آپ پر جو تہمت لگاتے تھے اس سے مریم[ کی براء ت کا اعلان کیا اور اسی حالت میں انھوں نے اپنے بارے میں آگاہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر معجزات ظاہر فرمائے جو کہ سب کو معلوم ہیں ۔حضرت مریم اور ان کا فرزند ارجمندi تمام جہانوں کے لیے ایک نشانی بن گئے لوگ نسل در نسل اس واقعے کو بیان کرتے اور اس سے عبرت حاصل کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ [92] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہ السلام کا ذکر فرمایا تو لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً﴾ یہ تمام انبیاء و مرسلین جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے وہ تمھاری امت اور تمھارے امام ہیں جن کی راہنمائی میں تم ان کے طریقے کی پیروی کرتے ہو۔ ان سب کا دین ایک، سب کا راستہ ایک اور سب کا رب ایک ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَّاَنَا رَبُّكُمۡ ﴾ میں تمھارا رب ہوں جس نے تمھیں پیدا کیا اور دین و دنیا میں اپنی نعمت کے ذریعے سے تمھاری پرورش کی۔ جب تمھارا رب ایک، تمھارا نبی ایک اور تمھارا دین ایک، یعنی عبادت کی تمام انواع کے ذریعے ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا… تو تمھارا وظیفہ اور تم پر فرض ہے کہ تم اسی کی عبادت کرو، اس لیے فرمایا:﴿ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ ’’پس تم میری ہی عبادت کرو۔‘‘ پس حرف ’’فاء‘‘ کے ذریعے سے اس جملے کو گزشتہ مضمون کے ساتھ اس طرح مرتب کیا جس طرح مسبب سبب پر مترتب ہوتا ہے۔ [93] مناسب یہی تھا کہ اس امر پر سب کا اتفاق اور اجتماع ہوتا اور اس میں تفرق اور تشتت نہ ہوتا مگر ظلم اور زیادتی سے افتراق اور تشتت پیدا ہو کر ہی رہا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَتَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ بَيۡنَهُمۡ﴾ یعنی انبیائے کرام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والے، فرقوں میں تقسیم اور تشتت کا شکار ہو گئے۔ ان میں ہر فرقہ دعویٰ کرتا تھا کہ حق اس کے ساتھ ہے اور دوسرا فرقہ باطل پر ہے۔ ﴿كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُوۡنَ ﴾(الروم:30؍32) اور یہ بات معلوم ہے کہ ان میں سے راہ صواب پر صرف وہی ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے دین قویم اور صراط مستقیم پر گامزن ہے… اور یہ حقیقت اس وقت ظاہر ہو گی جب پردہ ہٹ جائے گا اور اصلیت سامنے آ جائے گی اور اللہ تعالیٰ فیصلوں کے لیے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا تب اس وقت صاف نظر آئے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون، اس لیے فرمایا:﴿ كُلٌّ ﴾ تمام فرقوں میں سے ہر فرقہ ﴿ اِلَيۡنَا رٰجِعُوۡنَ ﴾ ہماری ہی طرف لوٹے گا اور ہم اسے پوری پوری جزا دیں گے۔ [94] پھر منطوق اور مفہوم کے اسلوب میں ، اس جزا کی تفصیل بیان کی، فرمایا:﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی ایسے عمل كيے جن کو انبیائے کرام نے مشروع کیا اور کتب الٰہیہ نے ان کی ترغیب دی۔ ﴿ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور ان کی لائی ہوئی کتابوں پر ایمان رکھتا ہو۔ ﴿ فَلَا كُفۡرَانَ لِسَعۡيِهٖ﴾ یعنی ہم اس کی کوششوں کو ضائع کریں گے نہ باطل کریں گے بلکہ اس کو کئی گنا بڑھا کر اجر عطا کریں گے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ كٰتِبُوۡن ﴾ یعنی ہم اس کی کوشش کو لوح محفوظ اور ان صحیفوں میں لکھنے والے ہیں جو کرام الکاتبین کے پاس ہیں ۔دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کوئی نیک کام کرے اور وہ مومن نہ ہو تو وہ ثواب آخرت سے محروم اور اپنے دین و دنیا میں خائب و خاسر ہو گا۔
21:95

وَحَرَٰمٌ عَلَىٰ قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَٰهَآ أَنَّهُمۡ لَا يَرۡجِعُونَ

اور لازم ہے اوپر اس بستی (والوں ) کے کہ ہلاک کیا ہم نے اسے،بے شک وہ نہیں واپس لوٹیں گے (95) [95] یعنی ان بستیوں کا، جنھیں عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا گیا، اپنی کوتاہیوں کی تلافی کی خاطر اس دنیا میں واپس لوٹنا ممکن نہیں ، پس ان کے لیے واپس لوٹنے کا کوئی راستہ نہیں جنھیں عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا گیا۔ اس لیے مخاطبین کو ان اعمال پر جمے رہنے سے ڈرنا چاہیے جو ہلاکت کا باعث بنتے ہیں … مباداکہ یہ اعمال انھیں ہلاکت میں ڈال دیں اور اس وقت اس ہلاکت سے بچنا ممکن نہ ہو گا، اس لیے تلافی اور استدراک کے وقت اس قسم کے کاموں سے باز آ جانا چاہیے۔
21:96

حَتَّىٰٓ إِذَا فُتِحَتۡ يَأۡجُوجُ وَمَأۡجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٖ يَنسِلُونَ

یہاں تک کہ جب کھولے جائیں گے یاجوج اور ماجوج اور وہ ہر اونچی جگہ سے دوڑتے ہوں گے (96) اور قریب آپہنچے گا وعدہ سچا (قیامت کا)، پس ناگہاں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی آنکھیں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا (اور وہ کہیں گے) ہائے ہماری کم بختی! تحقیق تھے ہم غفلت میں اس (قیامت) سےبلکہ تھے ہم ہی ظالم (97) [96] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے لیے تحذیر ہے کہ وہ اپنے کفر اور معاصی پر جمے نہ رہیں ۔ یاجوج و ماجوج کے کھلنے کا وقت قریب ہے اور یاجوج و ماجوج بنی آدم کے دو قبیلوں کا نام ہے۔ جب ذوالقرنین سے ان کے فساد فی الارض کا شکوہ کیا گیا تو اس نے درے کو دیوار کے ذریعے بند کر کے ان کا راستہ مسدود کر دیا۔ آخری زمانے میں یہ درہ کھل جائے گا اور وہ اس طرح لوگوں کی طرف نکلیں گے جیسے اللہ نے یہاں ذکر فرمایا ہے کہ وہ نہایت تیزی سے ہر ٹیلے سے نیچے اترتے نظر آئیں گے۔ یہ آیت کریمہ ان کی کثرت اور نہایت تیزی کے ساتھ ان کے زمین میں پھیل جانے پر دلالت کرتی ہے۔ ان کی نقل و حرکت میں سرعت یا تو اس وجہ سے ہو گی کہ وہ جسمانی اعتبار سے نہایت پھرتیلے اور سریع الحرکت ہوں گے یا اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ان اسباب کی وجہ سے، جو دور کی مسافتوں کو قریب اور آسان کر دیں گے۔ وہ لوگوں پر قہر بن کر ٹوٹیں گے اور اس دنیا میں ان پر غالب آ جائیں گے، نیز یہ کہ کسی کے اندر ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہو گی۔ [97]﴿ وَاقۡتَرَبَ الۡوَعۡدُ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور قریب آ لگے گا برحق وعدہ۔‘‘ یعنی قیامت کا دن، جس کے آنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر کھا ہے اور اس کا وعدہ سچا اور برحق ہے۔ پس اس روز گھبراہٹ، خوف اور دہلا دینے والے زلزلوں سے کفار کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی کیونکہ انھیں اپنے جرائم اور گناہوں کا علم ہو گا۔ وہ موت کو پکاریں گے اور اپنی کوتاہیوں پر ندامت اور حسرت کا اظہار کریں گے، کہیں گے:﴿ قَدۡ كُنَّا فِيۡ غَفۡلَةٍ مِّنۡ هٰؔذَا﴾ ’’ہم اس عظیم دن سے غافل تھے‘‘ پس دنیا کے لہوولعب میں مستغرق رہے حتیٰ کہ فرشتہ اجل آ گیا اور ہم قیامت کی گھاٹی میں اتر گئے۔ اگر کوئی حسرت و ندامت کی وجہ سے مرتا ہو تو وہ ضرور مرتے۔ وہ کہیں گے ﴿ بَلۡ كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم ہی ظالم تھے۔‘‘ وہ اپنے ظلم اور اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اعتراف کریں گے۔ اس وقت حکم دیا جائے گا کہ انھیں اور ان کے ان معبودوں کو جہنم میں جھونک دو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:
21:97

وَٱقۡتَرَبَ ٱلۡوَعۡدُ ٱلۡحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَٰخِصَةٌ أَبۡصَٰرُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَٰوَيۡلَنَا قَدۡ كُنَّا فِي غَفۡلَةٖ مِّنۡ هَٰذَا بَلۡ كُنَّا ظَٰلِمِينَ

یہاں تک کہ جب کھولے جائیں گے یاجوج اور ماجوج اور وہ ہر اونچی جگہ سے دوڑتے ہوں گے (96) اور قریب آپہنچے گا وعدہ سچا (قیامت کا)، پس ناگہاں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی آنکھیں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا (اور وہ کہیں گے) ہائے ہماری کم بختی! تحقیق تھے ہم غفلت میں اس (قیامت) سےبلکہ تھے ہم ہی ظالم (97) [96] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے لیے تحذیر ہے کہ وہ اپنے کفر اور معاصی پر جمے نہ رہیں ۔ یاجوج و ماجوج کے کھلنے کا وقت قریب ہے اور یاجوج و ماجوج بنی آدم کے دو قبیلوں کا نام ہے۔ جب ذوالقرنین سے ان کے فساد فی الارض کا شکوہ کیا گیا تو اس نے درے کو دیوار کے ذریعے بند کر کے ان کا راستہ مسدود کر دیا۔ آخری زمانے میں یہ درہ کھل جائے گا اور وہ اس طرح لوگوں کی طرف نکلیں گے جیسے اللہ نے یہاں ذکر فرمایا ہے کہ وہ نہایت تیزی سے ہر ٹیلے سے نیچے اترتے نظر آئیں گے۔ یہ آیت کریمہ ان کی کثرت اور نہایت تیزی کے ساتھ ان کے زمین میں پھیل جانے پر دلالت کرتی ہے۔ ان کی نقل و حرکت میں سرعت یا تو اس وجہ سے ہو گی کہ وہ جسمانی اعتبار سے نہایت پھرتیلے اور سریع الحرکت ہوں گے یا اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ان اسباب کی وجہ سے، جو دور کی مسافتوں کو قریب اور آسان کر دیں گے۔ وہ لوگوں پر قہر بن کر ٹوٹیں گے اور اس دنیا میں ان پر غالب آ جائیں گے، نیز یہ کہ کسی کے اندر ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہو گی۔ [97]﴿ وَاقۡتَرَبَ الۡوَعۡدُ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور قریب آ لگے گا برحق وعدہ۔‘‘ یعنی قیامت کا دن، جس کے آنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر کھا ہے اور اس کا وعدہ سچا اور برحق ہے۔ پس اس روز گھبراہٹ، خوف اور دہلا دینے والے زلزلوں سے کفار کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی کیونکہ انھیں اپنے جرائم اور گناہوں کا علم ہو گا۔ وہ موت کو پکاریں گے اور اپنی کوتاہیوں پر ندامت اور حسرت کا اظہار کریں گے، کہیں گے:﴿ قَدۡ كُنَّا فِيۡ غَفۡلَةٍ مِّنۡ هٰؔذَا﴾ ’’ہم اس عظیم دن سے غافل تھے‘‘ پس دنیا کے لہوولعب میں مستغرق رہے حتیٰ کہ فرشتہ اجل آ گیا اور ہم قیامت کی گھاٹی میں اتر گئے۔ اگر کوئی حسرت و ندامت کی وجہ سے مرتا ہو تو وہ ضرور مرتے۔ وہ کہیں گے ﴿ بَلۡ كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم ہی ظالم تھے۔‘‘ وہ اپنے ظلم اور اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اعتراف کریں گے۔ اس وقت حکم دیا جائے گا کہ انھیں اور ان کے ان معبودوں کو جہنم میں جھونک دو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:
21:98

إِنَّكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمۡ لَهَا وَٰرِدُونَ

بلاشبہ تم اور و ہ جن کی تم عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے، ایندھن ہو گئے جہنم کا تم اس میں وارد ہونے والے ہو (98) اگر ہوتے یہ (واقعی) معبود تو نہ وارد ہوتے اس جہنم میں اور وہ سب اس میں ہمیشہ رہیں گے (99) ان کے لیے اس میں چیخنا چلانا ہو گا اور وہ اس میں (کچھ) نہ سنیں گے (100) بے شک وہ لوگ کہ پہلے سے ٹھہر چکی ہے ان کے لیے ہماری طرف سے نیکی، وہ لوگ اس سے دور رکھے جائیں گے(101) نہیں سنیں گے وہ آہٹ تک اس کی اور وہ ان (نعمتوں ) میں کہ جنھیں چاہیں گے نفس ان کے، ہمیشہ رہیں گے(102) نہیں غمگین کرے گی انھیں گبھراہٹ بڑی اور ملیں گے ان کو فرشتے (یہ کہتے ہوئے کہ) یہ ہے تمھارا دن وہ جو تھے تم (اس کا) وعدہ دیے جاتے (103) [98] یعنی اے وہ لوگو! جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہو ﴿ حَصَبُ جَهَنَّمَ ﴾ تم سب جہنم کا ایندھن ہو ﴿ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾ تمھیں اور تمھارے بتوں کو جہنم میں جھونکا جائے گا۔ [99] بتوں کو جہنم میں جھونکنے میں حکمت یہ ہے… حالانکہ یہ پتھر ہیں ، عقل و شعور نہیں رکھتے اور ان کا کوئی گناہ بھی نہیں … کہ ان کا کذب و افترا واضح ہو جائے جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا رکھا تھا اور تاکہ ان کے عذاب میں اضافہ ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿ لَوۡ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوۡهَا ﴾ ’’اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں کبھی داخل نہ ہوتے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد مقدس کی مانند ہے۔ ﴿لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيۡ يَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰذِبِيۡنَ ﴾(النحل:16؍39) ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس حقیقت کو اضح کر دے جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں اور تاکہ کفار جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔‘‘ اور عابدومعبود سب ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، اس سے کبھی باہر نہیں نکلیں گے اور نہ جہنم سے کسی اور جگہ منتقل ہوں گے۔ [100]﴿ لَهُمۡ فِيۡهَا زَفِيۡرٌ ﴾ ’’وہ جہنم میں پھنکاریں گے شدت عذاب کی وجہ سے ‘‘ ﴿ وَّهُمۡ فِيۡهَا لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہوں گے یا جہنم کے سخت بھڑکنے، اس کے غیظ و غضب اور اس کی پھنکار کے باعث، جہنم کی آواز کے سوا کوئی اور آواز نہیں سن سکیں گے۔ [102,101] اور مشرکین کے معبودوں کا جہنم میں داخل ہونا اس وجہ سے ہے کہ وہ پتھر کے بت ہیں یا صرف اس شخص کو اپنی عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں جھونکا جائے گا جو اپنی عبادت كيے جانے پر راضی تھا۔ رہے حضرت مسیح، حضرت عزیرi، فرشتے اور اولیاء کرام جن کی عبادت کی جاتی ہے تو ان کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى ﴾ ’’اور وہ لوگ کہ سبقت کر گئی ان کے لیے ہماری طرف سے بھلائی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں ان کے لیے پہلے ہی سے لوح محفوظ میں سعادت لکھ دی گئی اور دنیا میں نیک اعمال ان کے لیے آسان کر دیے گئے ہیں ۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا ﴾ ’’یہ لوگ اس سے۔‘‘ یعنی جہنم سے ﴿ مُبۡعَدُوۡنَ﴾’’دور رکھے جائیں گے۔‘‘ پس وہ جہنم میں داخل ہوں گے نہ جہنم کے قریب جائیں گے بلکہ وہ اس سے انتہائی حد تک دور رہیں گے حتیٰ کہ اس کی آواز تک نہیں سنیں گے اور نہ اس کا نظارہ کر سکیں گے۔﴿ وَهُمۡ فِيۡ مَا اشۡتَهَتۡ اَنۡفُسُهُمۡ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اپنے من چاہے ماکولات، مشروبات، بیویوں اور دلکش مناظر میں ہمیشہ رہیں گے، جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں ان کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔ یہ نعمتیں ان کے لیے ہمیشہ رہیں گی، ان کا حسن سالہا سال گزرنے پر بھی روز افزوں ہی رہے گا۔ [103]﴿ لَا يَحۡزُنُهُمُ الۡفَزَعُ الۡاَكۡبَرُ ﴾ ’’نہیں غم میں ڈالے گی انھیں بڑی گھبراہٹ۔‘‘ یعنی جب لوگ بہت زیادہ گھبراہٹ میں ہوں گے تو انھیں کسی قسم کا قلق نہ ہو گا اور یہ قیامت کے روز ہو گا۔ جب جہنم کو قریب لایا جائے گا جہنم کفار اور نافرمان لوگوں پر سخت غضبناک ہو گی، اس بنا پر لوگ سخت گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے۔ مگر انھیں کوئی غم نہ ہو گا کیونکہ انھیں علم ہو گا کہ وہ اللہ کے پاس کیا لے کر حاضر ہوئے جائیں ، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس چیز سے مامون کر دیا ہے جس سے وہ ڈرتے تھے۔ ﴿ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ ’’اور ہاتھوں ہاتھ لیں گے ان کو فرشتے۔‘‘ جب فرشتے ان کو ان کی قبروں سے اٹھائیں گے اور وہ نیک لوگوں کے پاس ان کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے وفد کی صورت میں آئیں گے اور ان کو مبارک دیتے ہوئے کہیں گے: ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُكُمُ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ تمھارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔‘‘ لہٰذا تمھیں مبارک ہو وہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے تم سے کیا ہے… تمھارے سامنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عزت و تکریم تمھاری منتظر ہے اس پر تمھیں بہت زیادہ خوش ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں خوفناک اور ناپسندیدہ حالات سے تمھیں محفوظ و مامون رکھا ہے اس پر تمھیں بے پایاں فرحت اور سرور ہونا چاہیے۔
21:99

لَوۡ كَانَ هَـٰٓؤُلَآءِ ءَالِهَةٗ مَّا وَرَدُوهَاۖ وَكُلّٞ فِيهَا خَٰلِدُونَ

بلاشبہ تم اور و ہ جن کی تم عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے، ایندھن ہو گئے جہنم کا تم اس میں وارد ہونے والے ہو (98) اگر ہوتے یہ (واقعی) معبود تو نہ وارد ہوتے اس جہنم میں اور وہ سب اس میں ہمیشہ رہیں گے (99) ان کے لیے اس میں چیخنا چلانا ہو گا اور وہ اس میں (کچھ) نہ سنیں گے (100) بے شک وہ لوگ کہ پہلے سے ٹھہر چکی ہے ان کے لیے ہماری طرف سے نیکی، وہ لوگ اس سے دور رکھے جائیں گے(101) نہیں سنیں گے وہ آہٹ تک اس کی اور وہ ان (نعمتوں ) میں کہ جنھیں چاہیں گے نفس ان کے، ہمیشہ رہیں گے(102) نہیں غمگین کرے گی انھیں گبھراہٹ بڑی اور ملیں گے ان کو فرشتے (یہ کہتے ہوئے کہ) یہ ہے تمھارا دن وہ جو تھے تم (اس کا) وعدہ دیے جاتے (103) [98] یعنی اے وہ لوگو! جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہو ﴿ حَصَبُ جَهَنَّمَ ﴾ تم سب جہنم کا ایندھن ہو ﴿ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾ تمھیں اور تمھارے بتوں کو جہنم میں جھونکا جائے گا۔ [99] بتوں کو جہنم میں جھونکنے میں حکمت یہ ہے… حالانکہ یہ پتھر ہیں ، عقل و شعور نہیں رکھتے اور ان کا کوئی گناہ بھی نہیں … کہ ان کا کذب و افترا واضح ہو جائے جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا رکھا تھا اور تاکہ ان کے عذاب میں اضافہ ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿ لَوۡ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوۡهَا ﴾ ’’اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں کبھی داخل نہ ہوتے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد مقدس کی مانند ہے۔ ﴿لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيۡ يَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰذِبِيۡنَ ﴾(النحل:16؍39) ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس حقیقت کو اضح کر دے جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں اور تاکہ کفار جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔‘‘ اور عابدومعبود سب ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، اس سے کبھی باہر نہیں نکلیں گے اور نہ جہنم سے کسی اور جگہ منتقل ہوں گے۔ [100]﴿ لَهُمۡ فِيۡهَا زَفِيۡرٌ ﴾ ’’وہ جہنم میں پھنکاریں گے شدت عذاب کی وجہ سے ‘‘ ﴿ وَّهُمۡ فِيۡهَا لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہوں گے یا جہنم کے سخت بھڑکنے، اس کے غیظ و غضب اور اس کی پھنکار کے باعث، جہنم کی آواز کے سوا کوئی اور آواز نہیں سن سکیں گے۔ [102,101] اور مشرکین کے معبودوں کا جہنم میں داخل ہونا اس وجہ سے ہے کہ وہ پتھر کے بت ہیں یا صرف اس شخص کو اپنی عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں جھونکا جائے گا جو اپنی عبادت كيے جانے پر راضی تھا۔ رہے حضرت مسیح، حضرت عزیرi، فرشتے اور اولیاء کرام جن کی عبادت کی جاتی ہے تو ان کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى ﴾ ’’اور وہ لوگ کہ سبقت کر گئی ان کے لیے ہماری طرف سے بھلائی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں ان کے لیے پہلے ہی سے لوح محفوظ میں سعادت لکھ دی گئی اور دنیا میں نیک اعمال ان کے لیے آسان کر دیے گئے ہیں ۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا ﴾ ’’یہ لوگ اس سے۔‘‘ یعنی جہنم سے ﴿ مُبۡعَدُوۡنَ﴾’’دور رکھے جائیں گے۔‘‘ پس وہ جہنم میں داخل ہوں گے نہ جہنم کے قریب جائیں گے بلکہ وہ اس سے انتہائی حد تک دور رہیں گے حتیٰ کہ اس کی آواز تک نہیں سنیں گے اور نہ اس کا نظارہ کر سکیں گے۔﴿ وَهُمۡ فِيۡ مَا اشۡتَهَتۡ اَنۡفُسُهُمۡ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اپنے من چاہے ماکولات، مشروبات، بیویوں اور دلکش مناظر میں ہمیشہ رہیں گے، جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں ان کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔ یہ نعمتیں ان کے لیے ہمیشہ رہیں گی، ان کا حسن سالہا سال گزرنے پر بھی روز افزوں ہی رہے گا۔ [103]﴿ لَا يَحۡزُنُهُمُ الۡفَزَعُ الۡاَكۡبَرُ ﴾ ’’نہیں غم میں ڈالے گی انھیں بڑی گھبراہٹ۔‘‘ یعنی جب لوگ بہت زیادہ گھبراہٹ میں ہوں گے تو انھیں کسی قسم کا قلق نہ ہو گا اور یہ قیامت کے روز ہو گا۔ جب جہنم کو قریب لایا جائے گا جہنم کفار اور نافرمان لوگوں پر سخت غضبناک ہو گی، اس بنا پر لوگ سخت گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے۔ مگر انھیں کوئی غم نہ ہو گا کیونکہ انھیں علم ہو گا کہ وہ اللہ کے پاس کیا لے کر حاضر ہوئے جائیں ، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس چیز سے مامون کر دیا ہے جس سے وہ ڈرتے تھے۔ ﴿ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ ’’اور ہاتھوں ہاتھ لیں گے ان کو فرشتے۔‘‘ جب فرشتے ان کو ان کی قبروں سے اٹھائیں گے اور وہ نیک لوگوں کے پاس ان کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے وفد کی صورت میں آئیں گے اور ان کو مبارک دیتے ہوئے کہیں گے: ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُكُمُ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ تمھارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔‘‘ لہٰذا تمھیں مبارک ہو وہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے تم سے کیا ہے… تمھارے سامنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عزت و تکریم تمھاری منتظر ہے اس پر تمھیں بہت زیادہ خوش ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں خوفناک اور ناپسندیدہ حالات سے تمھیں محفوظ و مامون رکھا ہے اس پر تمھیں بے پایاں فرحت اور سرور ہونا چاہیے۔
21:100

لَهُمۡ فِيهَا زَفِيرٞ وَهُمۡ فِيهَا لَا يَسۡمَعُونَ

بلاشبہ تم اور و ہ جن کی تم عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے، ایندھن ہو گئے جہنم کا تم اس میں وارد ہونے والے ہو (98) اگر ہوتے یہ (واقعی) معبود تو نہ وارد ہوتے اس جہنم میں اور وہ سب اس میں ہمیشہ رہیں گے (99) ان کے لیے اس میں چیخنا چلانا ہو گا اور وہ اس میں (کچھ) نہ سنیں گے (100) بے شک وہ لوگ کہ پہلے سے ٹھہر چکی ہے ان کے لیے ہماری طرف سے نیکی، وہ لوگ اس سے دور رکھے جائیں گے(101) نہیں سنیں گے وہ آہٹ تک اس کی اور وہ ان (نعمتوں ) میں کہ جنھیں چاہیں گے نفس ان کے، ہمیشہ رہیں گے(102) نہیں غمگین کرے گی انھیں گبھراہٹ بڑی اور ملیں گے ان کو فرشتے (یہ کہتے ہوئے کہ) یہ ہے تمھارا دن وہ جو تھے تم (اس کا) وعدہ دیے جاتے (103) [98] یعنی اے وہ لوگو! جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہو ﴿ حَصَبُ جَهَنَّمَ ﴾ تم سب جہنم کا ایندھن ہو ﴿ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾ تمھیں اور تمھارے بتوں کو جہنم میں جھونکا جائے گا۔ [99] بتوں کو جہنم میں جھونکنے میں حکمت یہ ہے… حالانکہ یہ پتھر ہیں ، عقل و شعور نہیں رکھتے اور ان کا کوئی گناہ بھی نہیں … کہ ان کا کذب و افترا واضح ہو جائے جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا رکھا تھا اور تاکہ ان کے عذاب میں اضافہ ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿ لَوۡ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوۡهَا ﴾ ’’اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں کبھی داخل نہ ہوتے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد مقدس کی مانند ہے۔ ﴿لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيۡ يَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰذِبِيۡنَ ﴾(النحل:16؍39) ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس حقیقت کو اضح کر دے جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں اور تاکہ کفار جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔‘‘ اور عابدومعبود سب ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، اس سے کبھی باہر نہیں نکلیں گے اور نہ جہنم سے کسی اور جگہ منتقل ہوں گے۔ [100]﴿ لَهُمۡ فِيۡهَا زَفِيۡرٌ ﴾ ’’وہ جہنم میں پھنکاریں گے شدت عذاب کی وجہ سے ‘‘ ﴿ وَّهُمۡ فِيۡهَا لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہوں گے یا جہنم کے سخت بھڑکنے، اس کے غیظ و غضب اور اس کی پھنکار کے باعث، جہنم کی آواز کے سوا کوئی اور آواز نہیں سن سکیں گے۔ [102,101] اور مشرکین کے معبودوں کا جہنم میں داخل ہونا اس وجہ سے ہے کہ وہ پتھر کے بت ہیں یا صرف اس شخص کو اپنی عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں جھونکا جائے گا جو اپنی عبادت كيے جانے پر راضی تھا۔ رہے حضرت مسیح، حضرت عزیرi، فرشتے اور اولیاء کرام جن کی عبادت کی جاتی ہے تو ان کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى ﴾ ’’اور وہ لوگ کہ سبقت کر گئی ان کے لیے ہماری طرف سے بھلائی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں ان کے لیے پہلے ہی سے لوح محفوظ میں سعادت لکھ دی گئی اور دنیا میں نیک اعمال ان کے لیے آسان کر دیے گئے ہیں ۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا ﴾ ’’یہ لوگ اس سے۔‘‘ یعنی جہنم سے ﴿ مُبۡعَدُوۡنَ﴾’’دور رکھے جائیں گے۔‘‘ پس وہ جہنم میں داخل ہوں گے نہ جہنم کے قریب جائیں گے بلکہ وہ اس سے انتہائی حد تک دور رہیں گے حتیٰ کہ اس کی آواز تک نہیں سنیں گے اور نہ اس کا نظارہ کر سکیں گے۔﴿ وَهُمۡ فِيۡ مَا اشۡتَهَتۡ اَنۡفُسُهُمۡ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اپنے من چاہے ماکولات، مشروبات، بیویوں اور دلکش مناظر میں ہمیشہ رہیں گے، جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں ان کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔ یہ نعمتیں ان کے لیے ہمیشہ رہیں گی، ان کا حسن سالہا سال گزرنے پر بھی روز افزوں ہی رہے گا۔ [103]﴿ لَا يَحۡزُنُهُمُ الۡفَزَعُ الۡاَكۡبَرُ ﴾ ’’نہیں غم میں ڈالے گی انھیں بڑی گھبراہٹ۔‘‘ یعنی جب لوگ بہت زیادہ گھبراہٹ میں ہوں گے تو انھیں کسی قسم کا قلق نہ ہو گا اور یہ قیامت کے روز ہو گا۔ جب جہنم کو قریب لایا جائے گا جہنم کفار اور نافرمان لوگوں پر سخت غضبناک ہو گی، اس بنا پر لوگ سخت گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے۔ مگر انھیں کوئی غم نہ ہو گا کیونکہ انھیں علم ہو گا کہ وہ اللہ کے پاس کیا لے کر حاضر ہوئے جائیں ، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس چیز سے مامون کر دیا ہے جس سے وہ ڈرتے تھے۔ ﴿ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ ’’اور ہاتھوں ہاتھ لیں گے ان کو فرشتے۔‘‘ جب فرشتے ان کو ان کی قبروں سے اٹھائیں گے اور وہ نیک لوگوں کے پاس ان کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے وفد کی صورت میں آئیں گے اور ان کو مبارک دیتے ہوئے کہیں گے: ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُكُمُ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ تمھارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔‘‘ لہٰذا تمھیں مبارک ہو وہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے تم سے کیا ہے… تمھارے سامنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عزت و تکریم تمھاری منتظر ہے اس پر تمھیں بہت زیادہ خوش ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں خوفناک اور ناپسندیدہ حالات سے تمھیں محفوظ و مامون رکھا ہے اس پر تمھیں بے پایاں فرحت اور سرور ہونا چاہیے۔
21:101

إِنَّ ٱلَّذِينَ سَبَقَتۡ لَهُم مِّنَّا ٱلۡحُسۡنَىٰٓ أُوْلَـٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُونَ

بلاشبہ تم اور و ہ جن کی تم عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے، ایندھن ہو گئے جہنم کا تم اس میں وارد ہونے والے ہو (98) اگر ہوتے یہ (واقعی) معبود تو نہ وارد ہوتے اس جہنم میں اور وہ سب اس میں ہمیشہ رہیں گے (99) ان کے لیے اس میں چیخنا چلانا ہو گا اور وہ اس میں (کچھ) نہ سنیں گے (100) بے شک وہ لوگ کہ پہلے سے ٹھہر چکی ہے ان کے لیے ہماری طرف سے نیکی، وہ لوگ اس سے دور رکھے جائیں گے(101) نہیں سنیں گے وہ آہٹ تک اس کی اور وہ ان (نعمتوں ) میں کہ جنھیں چاہیں گے نفس ان کے، ہمیشہ رہیں گے(102) نہیں غمگین کرے گی انھیں گبھراہٹ بڑی اور ملیں گے ان کو فرشتے (یہ کہتے ہوئے کہ) یہ ہے تمھارا دن وہ جو تھے تم (اس کا) وعدہ دیے جاتے (103) [98] یعنی اے وہ لوگو! جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہو ﴿ حَصَبُ جَهَنَّمَ ﴾ تم سب جہنم کا ایندھن ہو ﴿ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾ تمھیں اور تمھارے بتوں کو جہنم میں جھونکا جائے گا۔ [99] بتوں کو جہنم میں جھونکنے میں حکمت یہ ہے… حالانکہ یہ پتھر ہیں ، عقل و شعور نہیں رکھتے اور ان کا کوئی گناہ بھی نہیں … کہ ان کا کذب و افترا واضح ہو جائے جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا رکھا تھا اور تاکہ ان کے عذاب میں اضافہ ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿ لَوۡ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوۡهَا ﴾ ’’اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں کبھی داخل نہ ہوتے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد مقدس کی مانند ہے۔ ﴿لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيۡ يَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰذِبِيۡنَ ﴾(النحل:16؍39) ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس حقیقت کو اضح کر دے جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں اور تاکہ کفار جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔‘‘ اور عابدومعبود سب ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، اس سے کبھی باہر نہیں نکلیں گے اور نہ جہنم سے کسی اور جگہ منتقل ہوں گے۔ [100]﴿ لَهُمۡ فِيۡهَا زَفِيۡرٌ ﴾ ’’وہ جہنم میں پھنکاریں گے شدت عذاب کی وجہ سے ‘‘ ﴿ وَّهُمۡ فِيۡهَا لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہوں گے یا جہنم کے سخت بھڑکنے، اس کے غیظ و غضب اور اس کی پھنکار کے باعث، جہنم کی آواز کے سوا کوئی اور آواز نہیں سن سکیں گے۔ [102,101] اور مشرکین کے معبودوں کا جہنم میں داخل ہونا اس وجہ سے ہے کہ وہ پتھر کے بت ہیں یا صرف اس شخص کو اپنی عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں جھونکا جائے گا جو اپنی عبادت كيے جانے پر راضی تھا۔ رہے حضرت مسیح، حضرت عزیرi، فرشتے اور اولیاء کرام جن کی عبادت کی جاتی ہے تو ان کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى ﴾ ’’اور وہ لوگ کہ سبقت کر گئی ان کے لیے ہماری طرف سے بھلائی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں ان کے لیے پہلے ہی سے لوح محفوظ میں سعادت لکھ دی گئی اور دنیا میں نیک اعمال ان کے لیے آسان کر دیے گئے ہیں ۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا ﴾ ’’یہ لوگ اس سے۔‘‘ یعنی جہنم سے ﴿ مُبۡعَدُوۡنَ﴾’’دور رکھے جائیں گے۔‘‘ پس وہ جہنم میں داخل ہوں گے نہ جہنم کے قریب جائیں گے بلکہ وہ اس سے انتہائی حد تک دور رہیں گے حتیٰ کہ اس کی آواز تک نہیں سنیں گے اور نہ اس کا نظارہ کر سکیں گے۔﴿ وَهُمۡ فِيۡ مَا اشۡتَهَتۡ اَنۡفُسُهُمۡ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اپنے من چاہے ماکولات، مشروبات، بیویوں اور دلکش مناظر میں ہمیشہ رہیں گے، جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں ان کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔ یہ نعمتیں ان کے لیے ہمیشہ رہیں گی، ان کا حسن سالہا سال گزرنے پر بھی روز افزوں ہی رہے گا۔ [103]﴿ لَا يَحۡزُنُهُمُ الۡفَزَعُ الۡاَكۡبَرُ ﴾ ’’نہیں غم میں ڈالے گی انھیں بڑی گھبراہٹ۔‘‘ یعنی جب لوگ بہت زیادہ گھبراہٹ میں ہوں گے تو انھیں کسی قسم کا قلق نہ ہو گا اور یہ قیامت کے روز ہو گا۔ جب جہنم کو قریب لایا جائے گا جہنم کفار اور نافرمان لوگوں پر سخت غضبناک ہو گی، اس بنا پر لوگ سخت گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے۔ مگر انھیں کوئی غم نہ ہو گا کیونکہ انھیں علم ہو گا کہ وہ اللہ کے پاس کیا لے کر حاضر ہوئے جائیں ، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس چیز سے مامون کر دیا ہے جس سے وہ ڈرتے تھے۔ ﴿ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ ’’اور ہاتھوں ہاتھ لیں گے ان کو فرشتے۔‘‘ جب فرشتے ان کو ان کی قبروں سے اٹھائیں گے اور وہ نیک لوگوں کے پاس ان کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے وفد کی صورت میں آئیں گے اور ان کو مبارک دیتے ہوئے کہیں گے: ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُكُمُ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ تمھارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔‘‘ لہٰذا تمھیں مبارک ہو وہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے تم سے کیا ہے… تمھارے سامنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عزت و تکریم تمھاری منتظر ہے اس پر تمھیں بہت زیادہ خوش ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں خوفناک اور ناپسندیدہ حالات سے تمھیں محفوظ و مامون رکھا ہے اس پر تمھیں بے پایاں فرحت اور سرور ہونا چاہیے۔
21:102

لَا يَسۡمَعُونَ حَسِيسَهَاۖ وَهُمۡ فِي مَا ٱشۡتَهَتۡ أَنفُسُهُمۡ خَٰلِدُونَ

بلاشبہ تم اور و ہ جن کی تم عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے، ایندھن ہو گئے جہنم کا تم اس میں وارد ہونے والے ہو (98) اگر ہوتے یہ (واقعی) معبود تو نہ وارد ہوتے اس جہنم میں اور وہ سب اس میں ہمیشہ رہیں گے (99) ان کے لیے اس میں چیخنا چلانا ہو گا اور وہ اس میں (کچھ) نہ سنیں گے (100) بے شک وہ لوگ کہ پہلے سے ٹھہر چکی ہے ان کے لیے ہماری طرف سے نیکی، وہ لوگ اس سے دور رکھے جائیں گے(101) نہیں سنیں گے وہ آہٹ تک اس کی اور وہ ان (نعمتوں ) میں کہ جنھیں چاہیں گے نفس ان کے، ہمیشہ رہیں گے(102) نہیں غمگین کرے گی انھیں گبھراہٹ بڑی اور ملیں گے ان کو فرشتے (یہ کہتے ہوئے کہ) یہ ہے تمھارا دن وہ جو تھے تم (اس کا) وعدہ دیے جاتے (103) [98] یعنی اے وہ لوگو! جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہو ﴿ حَصَبُ جَهَنَّمَ ﴾ تم سب جہنم کا ایندھن ہو ﴿ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾ تمھیں اور تمھارے بتوں کو جہنم میں جھونکا جائے گا۔ [99] بتوں کو جہنم میں جھونکنے میں حکمت یہ ہے… حالانکہ یہ پتھر ہیں ، عقل و شعور نہیں رکھتے اور ان کا کوئی گناہ بھی نہیں … کہ ان کا کذب و افترا واضح ہو جائے جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا رکھا تھا اور تاکہ ان کے عذاب میں اضافہ ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿ لَوۡ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوۡهَا ﴾ ’’اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں کبھی داخل نہ ہوتے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد مقدس کی مانند ہے۔ ﴿لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيۡ يَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰذِبِيۡنَ ﴾(النحل:16؍39) ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس حقیقت کو اضح کر دے جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں اور تاکہ کفار جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔‘‘ اور عابدومعبود سب ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، اس سے کبھی باہر نہیں نکلیں گے اور نہ جہنم سے کسی اور جگہ منتقل ہوں گے۔ [100]﴿ لَهُمۡ فِيۡهَا زَفِيۡرٌ ﴾ ’’وہ جہنم میں پھنکاریں گے شدت عذاب کی وجہ سے ‘‘ ﴿ وَّهُمۡ فِيۡهَا لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہوں گے یا جہنم کے سخت بھڑکنے، اس کے غیظ و غضب اور اس کی پھنکار کے باعث، جہنم کی آواز کے سوا کوئی اور آواز نہیں سن سکیں گے۔ [102,101] اور مشرکین کے معبودوں کا جہنم میں داخل ہونا اس وجہ سے ہے کہ وہ پتھر کے بت ہیں یا صرف اس شخص کو اپنی عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں جھونکا جائے گا جو اپنی عبادت كيے جانے پر راضی تھا۔ رہے حضرت مسیح، حضرت عزیرi، فرشتے اور اولیاء کرام جن کی عبادت کی جاتی ہے تو ان کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى ﴾ ’’اور وہ لوگ کہ سبقت کر گئی ان کے لیے ہماری طرف سے بھلائی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں ان کے لیے پہلے ہی سے لوح محفوظ میں سعادت لکھ دی گئی اور دنیا میں نیک اعمال ان کے لیے آسان کر دیے گئے ہیں ۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا ﴾ ’’یہ لوگ اس سے۔‘‘ یعنی جہنم سے ﴿ مُبۡعَدُوۡنَ﴾’’دور رکھے جائیں گے۔‘‘ پس وہ جہنم میں داخل ہوں گے نہ جہنم کے قریب جائیں گے بلکہ وہ اس سے انتہائی حد تک دور رہیں گے حتیٰ کہ اس کی آواز تک نہیں سنیں گے اور نہ اس کا نظارہ کر سکیں گے۔﴿ وَهُمۡ فِيۡ مَا اشۡتَهَتۡ اَنۡفُسُهُمۡ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اپنے من چاہے ماکولات، مشروبات، بیویوں اور دلکش مناظر میں ہمیشہ رہیں گے، جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں ان کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔ یہ نعمتیں ان کے لیے ہمیشہ رہیں گی، ان کا حسن سالہا سال گزرنے پر بھی روز افزوں ہی رہے گا۔ [103]﴿ لَا يَحۡزُنُهُمُ الۡفَزَعُ الۡاَكۡبَرُ ﴾ ’’نہیں غم میں ڈالے گی انھیں بڑی گھبراہٹ۔‘‘ یعنی جب لوگ بہت زیادہ گھبراہٹ میں ہوں گے تو انھیں کسی قسم کا قلق نہ ہو گا اور یہ قیامت کے روز ہو گا۔ جب جہنم کو قریب لایا جائے گا جہنم کفار اور نافرمان لوگوں پر سخت غضبناک ہو گی، اس بنا پر لوگ سخت گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے۔ مگر انھیں کوئی غم نہ ہو گا کیونکہ انھیں علم ہو گا کہ وہ اللہ کے پاس کیا لے کر حاضر ہوئے جائیں ، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس چیز سے مامون کر دیا ہے جس سے وہ ڈرتے تھے۔ ﴿ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ ’’اور ہاتھوں ہاتھ لیں گے ان کو فرشتے۔‘‘ جب فرشتے ان کو ان کی قبروں سے اٹھائیں گے اور وہ نیک لوگوں کے پاس ان کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے وفد کی صورت میں آئیں گے اور ان کو مبارک دیتے ہوئے کہیں گے: ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُكُمُ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ تمھارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔‘‘ لہٰذا تمھیں مبارک ہو وہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے تم سے کیا ہے… تمھارے سامنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عزت و تکریم تمھاری منتظر ہے اس پر تمھیں بہت زیادہ خوش ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں خوفناک اور ناپسندیدہ حالات سے تمھیں محفوظ و مامون رکھا ہے اس پر تمھیں بے پایاں فرحت اور سرور ہونا چاہیے۔
21:103

لَا يَحۡزُنُهُمُ ٱلۡفَزَعُ ٱلۡأَكۡبَرُ وَتَتَلَقَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ هَٰذَا يَوۡمُكُمُ ٱلَّذِي كُنتُمۡ تُوعَدُونَ

بلاشبہ تم اور و ہ جن کی تم عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے، ایندھن ہو گئے جہنم کا تم اس میں وارد ہونے والے ہو (98) اگر ہوتے یہ (واقعی) معبود تو نہ وارد ہوتے اس جہنم میں اور وہ سب اس میں ہمیشہ رہیں گے (99) ان کے لیے اس میں چیخنا چلانا ہو گا اور وہ اس میں (کچھ) نہ سنیں گے (100) بے شک وہ لوگ کہ پہلے سے ٹھہر چکی ہے ان کے لیے ہماری طرف سے نیکی، وہ لوگ اس سے دور رکھے جائیں گے(101) نہیں سنیں گے وہ آہٹ تک اس کی اور وہ ان (نعمتوں ) میں کہ جنھیں چاہیں گے نفس ان کے، ہمیشہ رہیں گے(102) نہیں غمگین کرے گی انھیں گبھراہٹ بڑی اور ملیں گے ان کو فرشتے (یہ کہتے ہوئے کہ) یہ ہے تمھارا دن وہ جو تھے تم (اس کا) وعدہ دیے جاتے (103) [98] یعنی اے وہ لوگو! جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہو ﴿ حَصَبُ جَهَنَّمَ ﴾ تم سب جہنم کا ایندھن ہو ﴿ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾ تمھیں اور تمھارے بتوں کو جہنم میں جھونکا جائے گا۔ [99] بتوں کو جہنم میں جھونکنے میں حکمت یہ ہے… حالانکہ یہ پتھر ہیں ، عقل و شعور نہیں رکھتے اور ان کا کوئی گناہ بھی نہیں … کہ ان کا کذب و افترا واضح ہو جائے جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا رکھا تھا اور تاکہ ان کے عذاب میں اضافہ ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿ لَوۡ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوۡهَا ﴾ ’’اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں کبھی داخل نہ ہوتے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد مقدس کی مانند ہے۔ ﴿لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيۡ يَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰذِبِيۡنَ ﴾(النحل:16؍39) ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس حقیقت کو اضح کر دے جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں اور تاکہ کفار جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔‘‘ اور عابدومعبود سب ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، اس سے کبھی باہر نہیں نکلیں گے اور نہ جہنم سے کسی اور جگہ منتقل ہوں گے۔ [100]﴿ لَهُمۡ فِيۡهَا زَفِيۡرٌ ﴾ ’’وہ جہنم میں پھنکاریں گے شدت عذاب کی وجہ سے ‘‘ ﴿ وَّهُمۡ فِيۡهَا لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہوں گے یا جہنم کے سخت بھڑکنے، اس کے غیظ و غضب اور اس کی پھنکار کے باعث، جہنم کی آواز کے سوا کوئی اور آواز نہیں سن سکیں گے۔ [102,101] اور مشرکین کے معبودوں کا جہنم میں داخل ہونا اس وجہ سے ہے کہ وہ پتھر کے بت ہیں یا صرف اس شخص کو اپنی عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں جھونکا جائے گا جو اپنی عبادت كيے جانے پر راضی تھا۔ رہے حضرت مسیح، حضرت عزیرi، فرشتے اور اولیاء کرام جن کی عبادت کی جاتی ہے تو ان کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى ﴾ ’’اور وہ لوگ کہ سبقت کر گئی ان کے لیے ہماری طرف سے بھلائی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں ان کے لیے پہلے ہی سے لوح محفوظ میں سعادت لکھ دی گئی اور دنیا میں نیک اعمال ان کے لیے آسان کر دیے گئے ہیں ۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا ﴾ ’’یہ لوگ اس سے۔‘‘ یعنی جہنم سے ﴿ مُبۡعَدُوۡنَ﴾’’دور رکھے جائیں گے۔‘‘ پس وہ جہنم میں داخل ہوں گے نہ جہنم کے قریب جائیں گے بلکہ وہ اس سے انتہائی حد تک دور رہیں گے حتیٰ کہ اس کی آواز تک نہیں سنیں گے اور نہ اس کا نظارہ کر سکیں گے۔﴿ وَهُمۡ فِيۡ مَا اشۡتَهَتۡ اَنۡفُسُهُمۡ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اپنے من چاہے ماکولات، مشروبات، بیویوں اور دلکش مناظر میں ہمیشہ رہیں گے، جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں ان کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔ یہ نعمتیں ان کے لیے ہمیشہ رہیں گی، ان کا حسن سالہا سال گزرنے پر بھی روز افزوں ہی رہے گا۔ [103]﴿ لَا يَحۡزُنُهُمُ الۡفَزَعُ الۡاَكۡبَرُ ﴾ ’’نہیں غم میں ڈالے گی انھیں بڑی گھبراہٹ۔‘‘ یعنی جب لوگ بہت زیادہ گھبراہٹ میں ہوں گے تو انھیں کسی قسم کا قلق نہ ہو گا اور یہ قیامت کے روز ہو گا۔ جب جہنم کو قریب لایا جائے گا جہنم کفار اور نافرمان لوگوں پر سخت غضبناک ہو گی، اس بنا پر لوگ سخت گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے۔ مگر انھیں کوئی غم نہ ہو گا کیونکہ انھیں علم ہو گا کہ وہ اللہ کے پاس کیا لے کر حاضر ہوئے جائیں ، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس چیز سے مامون کر دیا ہے جس سے وہ ڈرتے تھے۔ ﴿ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ ’’اور ہاتھوں ہاتھ لیں گے ان کو فرشتے۔‘‘ جب فرشتے ان کو ان کی قبروں سے اٹھائیں گے اور وہ نیک لوگوں کے پاس ان کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے وفد کی صورت میں آئیں گے اور ان کو مبارک دیتے ہوئے کہیں گے: ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُكُمُ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ تمھارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔‘‘ لہٰذا تمھیں مبارک ہو وہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے تم سے کیا ہے… تمھارے سامنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عزت و تکریم تمھاری منتظر ہے اس پر تمھیں بہت زیادہ خوش ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں خوفناک اور ناپسندیدہ حالات سے تمھیں محفوظ و مامون رکھا ہے اس پر تمھیں بے پایاں فرحت اور سرور ہونا چاہیے۔
21:104

يَوۡمَ نَطۡوِي ٱلسَّمَآءَ كَطَيِّ ٱلسِّجِلِّ لِلۡكُتُبِۚ كَمَا بَدَأۡنَآ أَوَّلَ خَلۡقٖ نُّعِيدُهُۥۚ وَعۡدًا عَلَيۡنَآۚ إِنَّا كُنَّا فَٰعِلِينَ

(یاد کیجیے) جس دن لپیٹیں گے ہر آسمان کو مانند لپیٹنے کاغذ کے جو لکھا ہوا ہو جس طرح پہلے پہل کی تھی ہم نے پہلی (مرتبہ) پیدائش (اسی طرح) ہم لوٹائیں گے اس کو، وعدہ ہے ہمارے ذمے، بلاشبہ ہم ہیں کرنے والے (104) اور البتہ تحقیق لکھی ہے ہم نے زبور میں بعد نصیحت کے (یہ بات کہ) بے شک زمین، وارث ہوں گے اس کے میرے بندے نیک (105) [104] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز آسمانوں کو… ان کی عظمت اور وسعت کے باوجود، لپیٹ دے گا، جس طرح کاتب ورق کو لپیٹتا ہے یہاں (السجل) سے مراد ورق ہے جس کے اندر کچھ تحریر کیا گیا ہو۔ پس آسمان کے تمام ستارے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ سورج اور چاند اپنی روشنی سے محروم ہو کر اپنی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے۔ ﴿كَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلۡقٍ نُّعِيۡدُهٗ﴾ہم مخلوق کو دوبارہ اسی طرح پیدا کریں گے جس طرح ہم نے ان کو ابتدا میں پیدا کیا تھا۔ پس جس طرح ہم نے ان کو اس وقت پیدا کیا جب وہ کچھ بھی نہ تھے، اسی طرح ہم ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کریں گے۔﴿وَعۡدًا عَلَيۡنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی جو ہم نے وعدہ کیا ہے اس کو پورا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے اور کوئی چیز اس کے لیے ناممکن نہیں ۔ [105] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ كَتَبۡنَا فِي الزَّبُوۡرِ ﴾ ’’اور ہم نے لکھا زبور میں ۔‘‘ اور وہ ہے لکھی ہوئی کتاب اور اس سے مراد ہے کتب الٰہیہ، مثلاً:تورات وغیرہ ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ الذِّكۡرِ ﴾ ’’ذکر (میں لکھنے) کے بعد۔‘‘ یعنی ہم نے کتاب سابق لوح محفوظ یعنی ام الکتاب میں لکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتابوں میں لکھ دیا۔ تمام تقدیریں ام الکتاب کے موافق واقع ہوتی ہیں اور اس میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ﴿ اَنَّ الۡاَرۡضَ ﴾ ’’بلاشبہ زمین‘‘ یعنی جنت کی زمین ﴿ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’اس کے وارث ہوں گے میرے نیک بندے۔‘‘ جو مامورات کو قائم اور منہیات سے اجتناب کرتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا قول نقل فرمایا: ﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ صَدَقَنَا وَعۡدَهٗ وَاَوۡرَثَنَا الۡاَرۡضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الۡؔجَنَّةِ حَيۡثُ نَشَآءُ ﴾(الزمر:39؍74) ’’ہر قسم کی حمدوثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنے وعدے کو سچا کر دکھایا اور ہمیں زمین کا وارث بنایا ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں ۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ زمین سے مراد زمین کی خلافت ہو۔ اللہ تعالیٰ صالحین کو زمین میں اقتدار عطا کرے گا اور ان کو زمین کا والی بنائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾(النور:24؍55) ’’اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے، جو ایمان لائیں گے اور نیک کام کریں گے کہ وہ ان کو اسی طرح زمین کی خلافت عطا کرے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو عطا کی تھی۔‘‘
21:105

وَلَقَدۡ كَتَبۡنَا فِي ٱلزَّبُورِ مِنۢ بَعۡدِ ٱلذِّكۡرِ أَنَّ ٱلۡأَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ ٱلصَّـٰلِحُونَ

(یاد کیجیے) جس دن لپیٹیں گے ہر آسمان کو مانند لپیٹنے کاغذ کے جو لکھا ہوا ہو جس طرح پہلے پہل کی تھی ہم نے پہلی (مرتبہ) پیدائش (اسی طرح) ہم لوٹائیں گے اس کو، وعدہ ہے ہمارے ذمے، بلاشبہ ہم ہیں کرنے والے (104) اور البتہ تحقیق لکھی ہے ہم نے زبور میں بعد نصیحت کے (یہ بات کہ) بے شک زمین، وارث ہوں گے اس کے میرے بندے نیک (105) [104] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز آسمانوں کو… ان کی عظمت اور وسعت کے باوجود، لپیٹ دے گا، جس طرح کاتب ورق کو لپیٹتا ہے یہاں (السجل) سے مراد ورق ہے جس کے اندر کچھ تحریر کیا گیا ہو۔ پس آسمان کے تمام ستارے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ سورج اور چاند اپنی روشنی سے محروم ہو کر اپنی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے۔ ﴿كَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلۡقٍ نُّعِيۡدُهٗ﴾ہم مخلوق کو دوبارہ اسی طرح پیدا کریں گے جس طرح ہم نے ان کو ابتدا میں پیدا کیا تھا۔ پس جس طرح ہم نے ان کو اس وقت پیدا کیا جب وہ کچھ بھی نہ تھے، اسی طرح ہم ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کریں گے۔﴿وَعۡدًا عَلَيۡنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی جو ہم نے وعدہ کیا ہے اس کو پورا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے اور کوئی چیز اس کے لیے ناممکن نہیں ۔ [105] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ كَتَبۡنَا فِي الزَّبُوۡرِ ﴾ ’’اور ہم نے لکھا زبور میں ۔‘‘ اور وہ ہے لکھی ہوئی کتاب اور اس سے مراد ہے کتب الٰہیہ، مثلاً:تورات وغیرہ ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ الذِّكۡرِ ﴾ ’’ذکر (میں لکھنے) کے بعد۔‘‘ یعنی ہم نے کتاب سابق لوح محفوظ یعنی ام الکتاب میں لکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتابوں میں لکھ دیا۔ تمام تقدیریں ام الکتاب کے موافق واقع ہوتی ہیں اور اس میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ﴿ اَنَّ الۡاَرۡضَ ﴾ ’’بلاشبہ زمین‘‘ یعنی جنت کی زمین ﴿ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’اس کے وارث ہوں گے میرے نیک بندے۔‘‘ جو مامورات کو قائم اور منہیات سے اجتناب کرتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا قول نقل فرمایا: ﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ صَدَقَنَا وَعۡدَهٗ وَاَوۡرَثَنَا الۡاَرۡضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الۡؔجَنَّةِ حَيۡثُ نَشَآءُ ﴾(الزمر:39؍74) ’’ہر قسم کی حمدوثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنے وعدے کو سچا کر دکھایا اور ہمیں زمین کا وارث بنایا ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں ۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ زمین سے مراد زمین کی خلافت ہو۔ اللہ تعالیٰ صالحین کو زمین میں اقتدار عطا کرے گا اور ان کو زمین کا والی بنائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾(النور:24؍55) ’’اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے، جو ایمان لائیں گے اور نیک کام کریں گے کہ وہ ان کو اسی طرح زمین کی خلافت عطا کرے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو عطا کی تھی۔‘‘
21:106

إِنَّ فِي هَٰذَا لَبَلَٰغٗا لِّقَوۡمٍ عَٰبِدِينَ

بلاشبہ اس (وعظ و نصیحت) میں البتہ کفایت ہے ان لوگوں کے لیے جو عبادت کرنے والے ہیں (106) اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر رحمت بنا کر تمام جہانوں کے لیے (107) آپ کہہ دیجیے! یقینا وحی کی جاتی ہے میری طرف (یہ بات کہ) بلاشبہ تمھارا معبود، معبود ایک ہی ہے، پس کیا تم اس کی فرماں برداری کرنے والے ہو؟ (108) پس اگر وہ منہ موڑ لیں (اس سے) تو کہہ دیجیے! خبر دار کر دیا ہے میں نے تمھیں اوپر برابری کے اور نہیں جانتا میں کہ آیا قریب ہے یا بعید وہ جو تم وعدہ دیے جاتے ہو؟ (109) بے شک اللہ جانتا ہے پکار کر کہی ہوئی بات کو او روہ جانتا ہے (اسے بھی) جو تم چھپاتے ہو (110) اور نہیں جانتا میں شاید کہ وہ آزمائش ہو تمھارے لیےاور فائدہ اٹھانا ایک وقت (معین) تک (111) اس (رسول) نے کہا، اے میرے رب! فیصلہ فرما تو ساتھ حق کےاور ہمارا رب نہایت مہربان ہے، وہ جس سے مدد طلب کی جاتی ہے اوپر ان باتوں کے جو تم بیان کرتے ہو (112) [106] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عزیز، قرآن کریم کی ستائش کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز سے مکمل کفایت ہے اور اس سے مستغنی نہیں رہا جا سکتا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ هٰؔذَا لَبَلٰغًا لِّقَوۡمٍ عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں البتہ کفایت ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی وہ اپنے رب اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچنے کے لیے قرآن عزیز پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ پس یہ گراں قدر کتاب ان کو جلیل ترین مقاصد اور افضل ترین مرغوبات تک پہنچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لیے، جو سب سے زیادہ فضل و شرف کے حامل ہیں ، اس سے آگے اور کوئی منزل نہیں کیونکہ قرآن ان کے رب کی، اس کے اسماء و صفات اور افعال کے ذریعے سے معرفت کے لیے کفیل ہے اور غیب کی خبریں بیان کرنے اور حقائق ایمان اور شواہد ایقان کی دعوت کا بھی کفیل ہے، قرآن ہی تمام مامورات اور تمام منہیات کو بیان کرتا ہے، یہ قرآن ہی ہے جو نفس و عمل کے عیوب اور دین کے دقیق و جلیل معاملات میں ان راستوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جن پر اہل ایمان کو گامزن رہنا چاہیے اور یہ قرآن ہی ہے جو شیطان کے راستوں پر چلنے سے بچاتا ہے اور انسان کے عقائد و اعمال میں اس کی مداخلت کے دروازوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جسے قرآن مستغنی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کو مستغنی نہ کرے اور جس کے لیے قرآن کافی نہیں ، اللہ اس کو کفایت نہ کرے۔ [107] پھر اپنے رسول (ﷺ) کی جو قرآن لے کر آئے، مدح بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا رَحۡمَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ پس آپﷺ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لیے اس کی رحمت کا تحفہ ہیں ۔ پس اہل ایمان نے اس رحمت کو قبول کیا، اس کی قدر کی اور اس کے تقاضوں پر عمل کیا اور جو آپ پر ایمان نہ لائے انھوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اس کی اس رحمت اور نعمت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ [108]﴿ قُلۡ ﴾ اے محمدﷺ کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے۔‘‘ جس کے سوا کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس کی عبودیت کو اختیار اور اس کی الوہیت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہو؟… اگر وہ ایسا کریں تو انھیں اپنے رب کی ستائش کرنی چاہیے کہ اس نے ان کو اس نعمت سے سرفراز کیا، جو تمام نعمتوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ [110,109]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ اگر وہ اپنے رب کی عبودیت سے منہ موڑ لیں تو ان کو گزری ہوئی قوموں پر نازل ہونے والے عذاب اور سزا سے ڈراؤ! ﴿ فَقُلۡ اٰذَنۡتُكُمۡ﴾ یعنی میں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں تمھیں آگاہ کر دیا ہے ﴿ عَلٰى سَوَآءٍ ﴾ ’’برابری پر۔‘‘ یعنی میں اور تم اس حقیقت کو برابر طور پر جانتے ہیں ، اس لیے جب تم پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسے تو یہ نہ کہنا ﴿ مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ ﴾(المائدۃ:5؍19) ’’ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا آیا ہے نہ کوئی ڈرانے والا۔‘‘ بلکہ ہم اس حقیقت سے برابر طور پر آگاہ ہیں کیونکہ میں تم کو ڈرا چکا ہوں اور تمھیں کفر کے انجام کے بارے میں آگاہ کر چکا ہوں اور میں نے تم سے کچھ بھی نہیں چھپایا۔ [111]﴿وَاِنۡ اَدۡرِيۡۤ اَقَرِيۡبٌ اَمۡ بَعِيۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ یعنی جس عذاب کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے (میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب آن لگا ہے یا دور ہے)کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں ۔﴿ وَاِنۡ اَدۡرِيۡ لَعَلَّهٗ فِتۡنَةٌ لَّـكُمۡ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی… شاید اس عذاب میں تاخیر جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، تمھارے لیے بہت بری ہے اور اگر تم ایک وقت مقرر تک اس دنیا سے متمتع ہوتے ہو تو یہ تمھارے لیے بہت بڑے عذاب کا باعث ہو گا۔ [112]﴿ قٰلَ رَبِّ احۡكُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ ’’کہا، اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ کر دے‘‘ یعنی ہمارے اور کافروں کی قوم کے درمیان۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرما لی اور اس دنیا میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر وغیرہ میں ان کافروں کو سزا دے دی۔ ﴿ وَرَبُّنَا الرَّحۡمٰنُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی تم جو باتیں بناتے ہوں ان کے مقابلے میں ہم اپنے رب رحمان ہی سے سوال کرتے ہیں اور اسی سے مدد کے طلب گار ہیں ، ہم عنقریب تم پر غالب آئیں گے اور عنقریب تمھارا دین ختم ہو جائے گا۔ پس اس بارے میں ہم کسی خود پسندی میں مبتلا ہیں نہ ہم اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ ہم تو رب رحمن سے مدد مانگتے ہیں جس کے قبضۂ قدرت میں تمام مخلوق کی پیشانی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم نے رب رحمن سے جس امر کے بارے میں استعانت طلب کی ہے، وہ اپنی رحمت سے ضرور اس کو پورا کرے گا… اور اس نے ایسا کیا۔ ولِلّٰہِ الْحَمْد۔
21:107

وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا رَحۡمَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ

بلاشبہ اس (وعظ و نصیحت) میں البتہ کفایت ہے ان لوگوں کے لیے جو عبادت کرنے والے ہیں (106) اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر رحمت بنا کر تمام جہانوں کے لیے (107) آپ کہہ دیجیے! یقینا وحی کی جاتی ہے میری طرف (یہ بات کہ) بلاشبہ تمھارا معبود، معبود ایک ہی ہے، پس کیا تم اس کی فرماں برداری کرنے والے ہو؟ (108) پس اگر وہ منہ موڑ لیں (اس سے) تو کہہ دیجیے! خبر دار کر دیا ہے میں نے تمھیں اوپر برابری کے اور نہیں جانتا میں کہ آیا قریب ہے یا بعید وہ جو تم وعدہ دیے جاتے ہو؟ (109) بے شک اللہ جانتا ہے پکار کر کہی ہوئی بات کو او روہ جانتا ہے (اسے بھی) جو تم چھپاتے ہو (110) اور نہیں جانتا میں شاید کہ وہ آزمائش ہو تمھارے لیےاور فائدہ اٹھانا ایک وقت (معین) تک (111) اس (رسول) نے کہا، اے میرے رب! فیصلہ فرما تو ساتھ حق کےاور ہمارا رب نہایت مہربان ہے، وہ جس سے مدد طلب کی جاتی ہے اوپر ان باتوں کے جو تم بیان کرتے ہو (112) [106] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عزیز، قرآن کریم کی ستائش کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز سے مکمل کفایت ہے اور اس سے مستغنی نہیں رہا جا سکتا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ هٰؔذَا لَبَلٰغًا لِّقَوۡمٍ عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں البتہ کفایت ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی وہ اپنے رب اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچنے کے لیے قرآن عزیز پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ پس یہ گراں قدر کتاب ان کو جلیل ترین مقاصد اور افضل ترین مرغوبات تک پہنچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لیے، جو سب سے زیادہ فضل و شرف کے حامل ہیں ، اس سے آگے اور کوئی منزل نہیں کیونکہ قرآن ان کے رب کی، اس کے اسماء و صفات اور افعال کے ذریعے سے معرفت کے لیے کفیل ہے اور غیب کی خبریں بیان کرنے اور حقائق ایمان اور شواہد ایقان کی دعوت کا بھی کفیل ہے، قرآن ہی تمام مامورات اور تمام منہیات کو بیان کرتا ہے، یہ قرآن ہی ہے جو نفس و عمل کے عیوب اور دین کے دقیق و جلیل معاملات میں ان راستوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جن پر اہل ایمان کو گامزن رہنا چاہیے اور یہ قرآن ہی ہے جو شیطان کے راستوں پر چلنے سے بچاتا ہے اور انسان کے عقائد و اعمال میں اس کی مداخلت کے دروازوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جسے قرآن مستغنی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کو مستغنی نہ کرے اور جس کے لیے قرآن کافی نہیں ، اللہ اس کو کفایت نہ کرے۔ [107] پھر اپنے رسول (ﷺ) کی جو قرآن لے کر آئے، مدح بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا رَحۡمَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ پس آپﷺ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لیے اس کی رحمت کا تحفہ ہیں ۔ پس اہل ایمان نے اس رحمت کو قبول کیا، اس کی قدر کی اور اس کے تقاضوں پر عمل کیا اور جو آپ پر ایمان نہ لائے انھوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اس کی اس رحمت اور نعمت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ [108]﴿ قُلۡ ﴾ اے محمدﷺ کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے۔‘‘ جس کے سوا کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس کی عبودیت کو اختیار اور اس کی الوہیت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہو؟… اگر وہ ایسا کریں تو انھیں اپنے رب کی ستائش کرنی چاہیے کہ اس نے ان کو اس نعمت سے سرفراز کیا، جو تمام نعمتوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ [110,109]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ اگر وہ اپنے رب کی عبودیت سے منہ موڑ لیں تو ان کو گزری ہوئی قوموں پر نازل ہونے والے عذاب اور سزا سے ڈراؤ! ﴿ فَقُلۡ اٰذَنۡتُكُمۡ﴾ یعنی میں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں تمھیں آگاہ کر دیا ہے ﴿ عَلٰى سَوَآءٍ ﴾ ’’برابری پر۔‘‘ یعنی میں اور تم اس حقیقت کو برابر طور پر جانتے ہیں ، اس لیے جب تم پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسے تو یہ نہ کہنا ﴿ مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ ﴾(المائدۃ:5؍19) ’’ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا آیا ہے نہ کوئی ڈرانے والا۔‘‘ بلکہ ہم اس حقیقت سے برابر طور پر آگاہ ہیں کیونکہ میں تم کو ڈرا چکا ہوں اور تمھیں کفر کے انجام کے بارے میں آگاہ کر چکا ہوں اور میں نے تم سے کچھ بھی نہیں چھپایا۔ [111]﴿وَاِنۡ اَدۡرِيۡۤ اَقَرِيۡبٌ اَمۡ بَعِيۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ یعنی جس عذاب کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے (میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب آن لگا ہے یا دور ہے)کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں ۔﴿ وَاِنۡ اَدۡرِيۡ لَعَلَّهٗ فِتۡنَةٌ لَّـكُمۡ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی… شاید اس عذاب میں تاخیر جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، تمھارے لیے بہت بری ہے اور اگر تم ایک وقت مقرر تک اس دنیا سے متمتع ہوتے ہو تو یہ تمھارے لیے بہت بڑے عذاب کا باعث ہو گا۔ [112]﴿ قٰلَ رَبِّ احۡكُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ ’’کہا، اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ کر دے‘‘ یعنی ہمارے اور کافروں کی قوم کے درمیان۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرما لی اور اس دنیا میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر وغیرہ میں ان کافروں کو سزا دے دی۔ ﴿ وَرَبُّنَا الرَّحۡمٰنُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی تم جو باتیں بناتے ہوں ان کے مقابلے میں ہم اپنے رب رحمان ہی سے سوال کرتے ہیں اور اسی سے مدد کے طلب گار ہیں ، ہم عنقریب تم پر غالب آئیں گے اور عنقریب تمھارا دین ختم ہو جائے گا۔ پس اس بارے میں ہم کسی خود پسندی میں مبتلا ہیں نہ ہم اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ ہم تو رب رحمن سے مدد مانگتے ہیں جس کے قبضۂ قدرت میں تمام مخلوق کی پیشانی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم نے رب رحمن سے جس امر کے بارے میں استعانت طلب کی ہے، وہ اپنی رحمت سے ضرور اس کو پورا کرے گا… اور اس نے ایسا کیا۔ ولِلّٰہِ الْحَمْد۔
21:108

قُلۡ إِنَّمَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۖ فَهَلۡ أَنتُم مُّسۡلِمُونَ

بلاشبہ اس (وعظ و نصیحت) میں البتہ کفایت ہے ان لوگوں کے لیے جو عبادت کرنے والے ہیں (106) اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر رحمت بنا کر تمام جہانوں کے لیے (107) آپ کہہ دیجیے! یقینا وحی کی جاتی ہے میری طرف (یہ بات کہ) بلاشبہ تمھارا معبود، معبود ایک ہی ہے، پس کیا تم اس کی فرماں برداری کرنے والے ہو؟ (108) پس اگر وہ منہ موڑ لیں (اس سے) تو کہہ دیجیے! خبر دار کر دیا ہے میں نے تمھیں اوپر برابری کے اور نہیں جانتا میں کہ آیا قریب ہے یا بعید وہ جو تم وعدہ دیے جاتے ہو؟ (109) بے شک اللہ جانتا ہے پکار کر کہی ہوئی بات کو او روہ جانتا ہے (اسے بھی) جو تم چھپاتے ہو (110) اور نہیں جانتا میں شاید کہ وہ آزمائش ہو تمھارے لیےاور فائدہ اٹھانا ایک وقت (معین) تک (111) اس (رسول) نے کہا، اے میرے رب! فیصلہ فرما تو ساتھ حق کےاور ہمارا رب نہایت مہربان ہے، وہ جس سے مدد طلب کی جاتی ہے اوپر ان باتوں کے جو تم بیان کرتے ہو (112) [106] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عزیز، قرآن کریم کی ستائش کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز سے مکمل کفایت ہے اور اس سے مستغنی نہیں رہا جا سکتا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ هٰؔذَا لَبَلٰغًا لِّقَوۡمٍ عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں البتہ کفایت ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی وہ اپنے رب اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچنے کے لیے قرآن عزیز پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ پس یہ گراں قدر کتاب ان کو جلیل ترین مقاصد اور افضل ترین مرغوبات تک پہنچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لیے، جو سب سے زیادہ فضل و شرف کے حامل ہیں ، اس سے آگے اور کوئی منزل نہیں کیونکہ قرآن ان کے رب کی، اس کے اسماء و صفات اور افعال کے ذریعے سے معرفت کے لیے کفیل ہے اور غیب کی خبریں بیان کرنے اور حقائق ایمان اور شواہد ایقان کی دعوت کا بھی کفیل ہے، قرآن ہی تمام مامورات اور تمام منہیات کو بیان کرتا ہے، یہ قرآن ہی ہے جو نفس و عمل کے عیوب اور دین کے دقیق و جلیل معاملات میں ان راستوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جن پر اہل ایمان کو گامزن رہنا چاہیے اور یہ قرآن ہی ہے جو شیطان کے راستوں پر چلنے سے بچاتا ہے اور انسان کے عقائد و اعمال میں اس کی مداخلت کے دروازوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جسے قرآن مستغنی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کو مستغنی نہ کرے اور جس کے لیے قرآن کافی نہیں ، اللہ اس کو کفایت نہ کرے۔ [107] پھر اپنے رسول (ﷺ) کی جو قرآن لے کر آئے، مدح بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا رَحۡمَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ پس آپﷺ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لیے اس کی رحمت کا تحفہ ہیں ۔ پس اہل ایمان نے اس رحمت کو قبول کیا، اس کی قدر کی اور اس کے تقاضوں پر عمل کیا اور جو آپ پر ایمان نہ لائے انھوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اس کی اس رحمت اور نعمت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ [108]﴿ قُلۡ ﴾ اے محمدﷺ کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے۔‘‘ جس کے سوا کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس کی عبودیت کو اختیار اور اس کی الوہیت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہو؟… اگر وہ ایسا کریں تو انھیں اپنے رب کی ستائش کرنی چاہیے کہ اس نے ان کو اس نعمت سے سرفراز کیا، جو تمام نعمتوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ [110,109]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ اگر وہ اپنے رب کی عبودیت سے منہ موڑ لیں تو ان کو گزری ہوئی قوموں پر نازل ہونے والے عذاب اور سزا سے ڈراؤ! ﴿ فَقُلۡ اٰذَنۡتُكُمۡ﴾ یعنی میں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں تمھیں آگاہ کر دیا ہے ﴿ عَلٰى سَوَآءٍ ﴾ ’’برابری پر۔‘‘ یعنی میں اور تم اس حقیقت کو برابر طور پر جانتے ہیں ، اس لیے جب تم پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسے تو یہ نہ کہنا ﴿ مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ ﴾(المائدۃ:5؍19) ’’ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا آیا ہے نہ کوئی ڈرانے والا۔‘‘ بلکہ ہم اس حقیقت سے برابر طور پر آگاہ ہیں کیونکہ میں تم کو ڈرا چکا ہوں اور تمھیں کفر کے انجام کے بارے میں آگاہ کر چکا ہوں اور میں نے تم سے کچھ بھی نہیں چھپایا۔ [111]﴿وَاِنۡ اَدۡرِيۡۤ اَقَرِيۡبٌ اَمۡ بَعِيۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ یعنی جس عذاب کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے (میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب آن لگا ہے یا دور ہے)کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں ۔﴿ وَاِنۡ اَدۡرِيۡ لَعَلَّهٗ فِتۡنَةٌ لَّـكُمۡ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی… شاید اس عذاب میں تاخیر جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، تمھارے لیے بہت بری ہے اور اگر تم ایک وقت مقرر تک اس دنیا سے متمتع ہوتے ہو تو یہ تمھارے لیے بہت بڑے عذاب کا باعث ہو گا۔ [112]﴿ قٰلَ رَبِّ احۡكُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ ’’کہا، اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ کر دے‘‘ یعنی ہمارے اور کافروں کی قوم کے درمیان۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرما لی اور اس دنیا میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر وغیرہ میں ان کافروں کو سزا دے دی۔ ﴿ وَرَبُّنَا الرَّحۡمٰنُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی تم جو باتیں بناتے ہوں ان کے مقابلے میں ہم اپنے رب رحمان ہی سے سوال کرتے ہیں اور اسی سے مدد کے طلب گار ہیں ، ہم عنقریب تم پر غالب آئیں گے اور عنقریب تمھارا دین ختم ہو جائے گا۔ پس اس بارے میں ہم کسی خود پسندی میں مبتلا ہیں نہ ہم اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ ہم تو رب رحمن سے مدد مانگتے ہیں جس کے قبضۂ قدرت میں تمام مخلوق کی پیشانی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم نے رب رحمن سے جس امر کے بارے میں استعانت طلب کی ہے، وہ اپنی رحمت سے ضرور اس کو پورا کرے گا… اور اس نے ایسا کیا۔ ولِلّٰہِ الْحَمْد۔
21:109

فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقُلۡ ءَاذَنتُكُمۡ عَلَىٰ سَوَآءٖۖ وَإِنۡ أَدۡرِيٓ أَقَرِيبٌ أَم بَعِيدٞ مَّا تُوعَدُونَ

بلاشبہ اس (وعظ و نصیحت) میں البتہ کفایت ہے ان لوگوں کے لیے جو عبادت کرنے والے ہیں (106) اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر رحمت بنا کر تمام جہانوں کے لیے (107) آپ کہہ دیجیے! یقینا وحی کی جاتی ہے میری طرف (یہ بات کہ) بلاشبہ تمھارا معبود، معبود ایک ہی ہے، پس کیا تم اس کی فرماں برداری کرنے والے ہو؟ (108) پس اگر وہ منہ موڑ لیں (اس سے) تو کہہ دیجیے! خبر دار کر دیا ہے میں نے تمھیں اوپر برابری کے اور نہیں جانتا میں کہ آیا قریب ہے یا بعید وہ جو تم وعدہ دیے جاتے ہو؟ (109) بے شک اللہ جانتا ہے پکار کر کہی ہوئی بات کو او روہ جانتا ہے (اسے بھی) جو تم چھپاتے ہو (110) اور نہیں جانتا میں شاید کہ وہ آزمائش ہو تمھارے لیےاور فائدہ اٹھانا ایک وقت (معین) تک (111) اس (رسول) نے کہا، اے میرے رب! فیصلہ فرما تو ساتھ حق کےاور ہمارا رب نہایت مہربان ہے، وہ جس سے مدد طلب کی جاتی ہے اوپر ان باتوں کے جو تم بیان کرتے ہو (112) [106] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عزیز، قرآن کریم کی ستائش کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز سے مکمل کفایت ہے اور اس سے مستغنی نہیں رہا جا سکتا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ هٰؔذَا لَبَلٰغًا لِّقَوۡمٍ عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں البتہ کفایت ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی وہ اپنے رب اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچنے کے لیے قرآن عزیز پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ پس یہ گراں قدر کتاب ان کو جلیل ترین مقاصد اور افضل ترین مرغوبات تک پہنچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لیے، جو سب سے زیادہ فضل و شرف کے حامل ہیں ، اس سے آگے اور کوئی منزل نہیں کیونکہ قرآن ان کے رب کی، اس کے اسماء و صفات اور افعال کے ذریعے سے معرفت کے لیے کفیل ہے اور غیب کی خبریں بیان کرنے اور حقائق ایمان اور شواہد ایقان کی دعوت کا بھی کفیل ہے، قرآن ہی تمام مامورات اور تمام منہیات کو بیان کرتا ہے، یہ قرآن ہی ہے جو نفس و عمل کے عیوب اور دین کے دقیق و جلیل معاملات میں ان راستوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جن پر اہل ایمان کو گامزن رہنا چاہیے اور یہ قرآن ہی ہے جو شیطان کے راستوں پر چلنے سے بچاتا ہے اور انسان کے عقائد و اعمال میں اس کی مداخلت کے دروازوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جسے قرآن مستغنی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کو مستغنی نہ کرے اور جس کے لیے قرآن کافی نہیں ، اللہ اس کو کفایت نہ کرے۔ [107] پھر اپنے رسول (ﷺ) کی جو قرآن لے کر آئے، مدح بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا رَحۡمَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ پس آپﷺ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لیے اس کی رحمت کا تحفہ ہیں ۔ پس اہل ایمان نے اس رحمت کو قبول کیا، اس کی قدر کی اور اس کے تقاضوں پر عمل کیا اور جو آپ پر ایمان نہ لائے انھوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اس کی اس رحمت اور نعمت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ [108]﴿ قُلۡ ﴾ اے محمدﷺ کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے۔‘‘ جس کے سوا کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس کی عبودیت کو اختیار اور اس کی الوہیت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہو؟… اگر وہ ایسا کریں تو انھیں اپنے رب کی ستائش کرنی چاہیے کہ اس نے ان کو اس نعمت سے سرفراز کیا، جو تمام نعمتوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ [110,109]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ اگر وہ اپنے رب کی عبودیت سے منہ موڑ لیں تو ان کو گزری ہوئی قوموں پر نازل ہونے والے عذاب اور سزا سے ڈراؤ! ﴿ فَقُلۡ اٰذَنۡتُكُمۡ﴾ یعنی میں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں تمھیں آگاہ کر دیا ہے ﴿ عَلٰى سَوَآءٍ ﴾ ’’برابری پر۔‘‘ یعنی میں اور تم اس حقیقت کو برابر طور پر جانتے ہیں ، اس لیے جب تم پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسے تو یہ نہ کہنا ﴿ مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ ﴾(المائدۃ:5؍19) ’’ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا آیا ہے نہ کوئی ڈرانے والا۔‘‘ بلکہ ہم اس حقیقت سے برابر طور پر آگاہ ہیں کیونکہ میں تم کو ڈرا چکا ہوں اور تمھیں کفر کے انجام کے بارے میں آگاہ کر چکا ہوں اور میں نے تم سے کچھ بھی نہیں چھپایا۔ [111]﴿وَاِنۡ اَدۡرِيۡۤ اَقَرِيۡبٌ اَمۡ بَعِيۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ یعنی جس عذاب کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے (میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب آن لگا ہے یا دور ہے)کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں ۔﴿ وَاِنۡ اَدۡرِيۡ لَعَلَّهٗ فِتۡنَةٌ لَّـكُمۡ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی… شاید اس عذاب میں تاخیر جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، تمھارے لیے بہت بری ہے اور اگر تم ایک وقت مقرر تک اس دنیا سے متمتع ہوتے ہو تو یہ تمھارے لیے بہت بڑے عذاب کا باعث ہو گا۔ [112]﴿ قٰلَ رَبِّ احۡكُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ ’’کہا، اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ کر دے‘‘ یعنی ہمارے اور کافروں کی قوم کے درمیان۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرما لی اور اس دنیا میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر وغیرہ میں ان کافروں کو سزا دے دی۔ ﴿ وَرَبُّنَا الرَّحۡمٰنُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی تم جو باتیں بناتے ہوں ان کے مقابلے میں ہم اپنے رب رحمان ہی سے سوال کرتے ہیں اور اسی سے مدد کے طلب گار ہیں ، ہم عنقریب تم پر غالب آئیں گے اور عنقریب تمھارا دین ختم ہو جائے گا۔ پس اس بارے میں ہم کسی خود پسندی میں مبتلا ہیں نہ ہم اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ ہم تو رب رحمن سے مدد مانگتے ہیں جس کے قبضۂ قدرت میں تمام مخلوق کی پیشانی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم نے رب رحمن سے جس امر کے بارے میں استعانت طلب کی ہے، وہ اپنی رحمت سے ضرور اس کو پورا کرے گا… اور اس نے ایسا کیا۔ ولِلّٰہِ الْحَمْد۔
21:110

إِنَّهُۥ يَعۡلَمُ ٱلۡجَهۡرَ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ وَيَعۡلَمُ مَا تَكۡتُمُونَ

بلاشبہ اس (وعظ و نصیحت) میں البتہ کفایت ہے ان لوگوں کے لیے جو عبادت کرنے والے ہیں (106) اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر رحمت بنا کر تمام جہانوں کے لیے (107) آپ کہہ دیجیے! یقینا وحی کی جاتی ہے میری طرف (یہ بات کہ) بلاشبہ تمھارا معبود، معبود ایک ہی ہے، پس کیا تم اس کی فرماں برداری کرنے والے ہو؟ (108) پس اگر وہ منہ موڑ لیں (اس سے) تو کہہ دیجیے! خبر دار کر دیا ہے میں نے تمھیں اوپر برابری کے اور نہیں جانتا میں کہ آیا قریب ہے یا بعید وہ جو تم وعدہ دیے جاتے ہو؟ (109) بے شک اللہ جانتا ہے پکار کر کہی ہوئی بات کو او روہ جانتا ہے (اسے بھی) جو تم چھپاتے ہو (110) اور نہیں جانتا میں شاید کہ وہ آزمائش ہو تمھارے لیےاور فائدہ اٹھانا ایک وقت (معین) تک (111) اس (رسول) نے کہا، اے میرے رب! فیصلہ فرما تو ساتھ حق کےاور ہمارا رب نہایت مہربان ہے، وہ جس سے مدد طلب کی جاتی ہے اوپر ان باتوں کے جو تم بیان کرتے ہو (112) [106] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عزیز، قرآن کریم کی ستائش کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز سے مکمل کفایت ہے اور اس سے مستغنی نہیں رہا جا سکتا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ هٰؔذَا لَبَلٰغًا لِّقَوۡمٍ عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں البتہ کفایت ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی وہ اپنے رب اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچنے کے لیے قرآن عزیز پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ پس یہ گراں قدر کتاب ان کو جلیل ترین مقاصد اور افضل ترین مرغوبات تک پہنچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لیے، جو سب سے زیادہ فضل و شرف کے حامل ہیں ، اس سے آگے اور کوئی منزل نہیں کیونکہ قرآن ان کے رب کی، اس کے اسماء و صفات اور افعال کے ذریعے سے معرفت کے لیے کفیل ہے اور غیب کی خبریں بیان کرنے اور حقائق ایمان اور شواہد ایقان کی دعوت کا بھی کفیل ہے، قرآن ہی تمام مامورات اور تمام منہیات کو بیان کرتا ہے، یہ قرآن ہی ہے جو نفس و عمل کے عیوب اور دین کے دقیق و جلیل معاملات میں ان راستوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جن پر اہل ایمان کو گامزن رہنا چاہیے اور یہ قرآن ہی ہے جو شیطان کے راستوں پر چلنے سے بچاتا ہے اور انسان کے عقائد و اعمال میں اس کی مداخلت کے دروازوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جسے قرآن مستغنی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کو مستغنی نہ کرے اور جس کے لیے قرآن کافی نہیں ، اللہ اس کو کفایت نہ کرے۔ [107] پھر اپنے رسول (ﷺ) کی جو قرآن لے کر آئے، مدح بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا رَحۡمَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ پس آپﷺ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لیے اس کی رحمت کا تحفہ ہیں ۔ پس اہل ایمان نے اس رحمت کو قبول کیا، اس کی قدر کی اور اس کے تقاضوں پر عمل کیا اور جو آپ پر ایمان نہ لائے انھوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اس کی اس رحمت اور نعمت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ [108]﴿ قُلۡ ﴾ اے محمدﷺ کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے۔‘‘ جس کے سوا کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس کی عبودیت کو اختیار اور اس کی الوہیت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہو؟… اگر وہ ایسا کریں تو انھیں اپنے رب کی ستائش کرنی چاہیے کہ اس نے ان کو اس نعمت سے سرفراز کیا، جو تمام نعمتوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ [110,109]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ اگر وہ اپنے رب کی عبودیت سے منہ موڑ لیں تو ان کو گزری ہوئی قوموں پر نازل ہونے والے عذاب اور سزا سے ڈراؤ! ﴿ فَقُلۡ اٰذَنۡتُكُمۡ﴾ یعنی میں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں تمھیں آگاہ کر دیا ہے ﴿ عَلٰى سَوَآءٍ ﴾ ’’برابری پر۔‘‘ یعنی میں اور تم اس حقیقت کو برابر طور پر جانتے ہیں ، اس لیے جب تم پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسے تو یہ نہ کہنا ﴿ مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ ﴾(المائدۃ:5؍19) ’’ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا آیا ہے نہ کوئی ڈرانے والا۔‘‘ بلکہ ہم اس حقیقت سے برابر طور پر آگاہ ہیں کیونکہ میں تم کو ڈرا چکا ہوں اور تمھیں کفر کے انجام کے بارے میں آگاہ کر چکا ہوں اور میں نے تم سے کچھ بھی نہیں چھپایا۔ [111]﴿وَاِنۡ اَدۡرِيۡۤ اَقَرِيۡبٌ اَمۡ بَعِيۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ یعنی جس عذاب کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے (میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب آن لگا ہے یا دور ہے)کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں ۔﴿ وَاِنۡ اَدۡرِيۡ لَعَلَّهٗ فِتۡنَةٌ لَّـكُمۡ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی… شاید اس عذاب میں تاخیر جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، تمھارے لیے بہت بری ہے اور اگر تم ایک وقت مقرر تک اس دنیا سے متمتع ہوتے ہو تو یہ تمھارے لیے بہت بڑے عذاب کا باعث ہو گا۔ [112]﴿ قٰلَ رَبِّ احۡكُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ ’’کہا، اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ کر دے‘‘ یعنی ہمارے اور کافروں کی قوم کے درمیان۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرما لی اور اس دنیا میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر وغیرہ میں ان کافروں کو سزا دے دی۔ ﴿ وَرَبُّنَا الرَّحۡمٰنُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی تم جو باتیں بناتے ہوں ان کے مقابلے میں ہم اپنے رب رحمان ہی سے سوال کرتے ہیں اور اسی سے مدد کے طلب گار ہیں ، ہم عنقریب تم پر غالب آئیں گے اور عنقریب تمھارا دین ختم ہو جائے گا۔ پس اس بارے میں ہم کسی خود پسندی میں مبتلا ہیں نہ ہم اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ ہم تو رب رحمن سے مدد مانگتے ہیں جس کے قبضۂ قدرت میں تمام مخلوق کی پیشانی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم نے رب رحمن سے جس امر کے بارے میں استعانت طلب کی ہے، وہ اپنی رحمت سے ضرور اس کو پورا کرے گا… اور اس نے ایسا کیا۔ ولِلّٰہِ الْحَمْد۔
21:111

وَإِنۡ أَدۡرِي لَعَلَّهُۥ فِتۡنَةٞ لَّكُمۡ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٖ

بلاشبہ اس (وعظ و نصیحت) میں البتہ کفایت ہے ان لوگوں کے لیے جو عبادت کرنے والے ہیں (106) اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر رحمت بنا کر تمام جہانوں کے لیے (107) آپ کہہ دیجیے! یقینا وحی کی جاتی ہے میری طرف (یہ بات کہ) بلاشبہ تمھارا معبود، معبود ایک ہی ہے، پس کیا تم اس کی فرماں برداری کرنے والے ہو؟ (108) پس اگر وہ منہ موڑ لیں (اس سے) تو کہہ دیجیے! خبر دار کر دیا ہے میں نے تمھیں اوپر برابری کے اور نہیں جانتا میں کہ آیا قریب ہے یا بعید وہ جو تم وعدہ دیے جاتے ہو؟ (109) بے شک اللہ جانتا ہے پکار کر کہی ہوئی بات کو او روہ جانتا ہے (اسے بھی) جو تم چھپاتے ہو (110) اور نہیں جانتا میں شاید کہ وہ آزمائش ہو تمھارے لیےاور فائدہ اٹھانا ایک وقت (معین) تک (111) اس (رسول) نے کہا، اے میرے رب! فیصلہ فرما تو ساتھ حق کےاور ہمارا رب نہایت مہربان ہے، وہ جس سے مدد طلب کی جاتی ہے اوپر ان باتوں کے جو تم بیان کرتے ہو (112) [106] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عزیز، قرآن کریم کی ستائش کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز سے مکمل کفایت ہے اور اس سے مستغنی نہیں رہا جا سکتا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ هٰؔذَا لَبَلٰغًا لِّقَوۡمٍ عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں البتہ کفایت ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی وہ اپنے رب اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچنے کے لیے قرآن عزیز پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ پس یہ گراں قدر کتاب ان کو جلیل ترین مقاصد اور افضل ترین مرغوبات تک پہنچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لیے، جو سب سے زیادہ فضل و شرف کے حامل ہیں ، اس سے آگے اور کوئی منزل نہیں کیونکہ قرآن ان کے رب کی، اس کے اسماء و صفات اور افعال کے ذریعے سے معرفت کے لیے کفیل ہے اور غیب کی خبریں بیان کرنے اور حقائق ایمان اور شواہد ایقان کی دعوت کا بھی کفیل ہے، قرآن ہی تمام مامورات اور تمام منہیات کو بیان کرتا ہے، یہ قرآن ہی ہے جو نفس و عمل کے عیوب اور دین کے دقیق و جلیل معاملات میں ان راستوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جن پر اہل ایمان کو گامزن رہنا چاہیے اور یہ قرآن ہی ہے جو شیطان کے راستوں پر چلنے سے بچاتا ہے اور انسان کے عقائد و اعمال میں اس کی مداخلت کے دروازوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جسے قرآن مستغنی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کو مستغنی نہ کرے اور جس کے لیے قرآن کافی نہیں ، اللہ اس کو کفایت نہ کرے۔ [107] پھر اپنے رسول (ﷺ) کی جو قرآن لے کر آئے، مدح بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا رَحۡمَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ پس آپﷺ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لیے اس کی رحمت کا تحفہ ہیں ۔ پس اہل ایمان نے اس رحمت کو قبول کیا، اس کی قدر کی اور اس کے تقاضوں پر عمل کیا اور جو آپ پر ایمان نہ لائے انھوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اس کی اس رحمت اور نعمت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ [108]﴿ قُلۡ ﴾ اے محمدﷺ کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے۔‘‘ جس کے سوا کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس کی عبودیت کو اختیار اور اس کی الوہیت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہو؟… اگر وہ ایسا کریں تو انھیں اپنے رب کی ستائش کرنی چاہیے کہ اس نے ان کو اس نعمت سے سرفراز کیا، جو تمام نعمتوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ [110,109]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ اگر وہ اپنے رب کی عبودیت سے منہ موڑ لیں تو ان کو گزری ہوئی قوموں پر نازل ہونے والے عذاب اور سزا سے ڈراؤ! ﴿ فَقُلۡ اٰذَنۡتُكُمۡ﴾ یعنی میں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں تمھیں آگاہ کر دیا ہے ﴿ عَلٰى سَوَآءٍ ﴾ ’’برابری پر۔‘‘ یعنی میں اور تم اس حقیقت کو برابر طور پر جانتے ہیں ، اس لیے جب تم پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسے تو یہ نہ کہنا ﴿ مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ ﴾(المائدۃ:5؍19) ’’ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا آیا ہے نہ کوئی ڈرانے والا۔‘‘ بلکہ ہم اس حقیقت سے برابر طور پر آگاہ ہیں کیونکہ میں تم کو ڈرا چکا ہوں اور تمھیں کفر کے انجام کے بارے میں آگاہ کر چکا ہوں اور میں نے تم سے کچھ بھی نہیں چھپایا۔ [111]﴿وَاِنۡ اَدۡرِيۡۤ اَقَرِيۡبٌ اَمۡ بَعِيۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ یعنی جس عذاب کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے (میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب آن لگا ہے یا دور ہے)کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں ۔﴿ وَاِنۡ اَدۡرِيۡ لَعَلَّهٗ فِتۡنَةٌ لَّـكُمۡ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی… شاید اس عذاب میں تاخیر جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، تمھارے لیے بہت بری ہے اور اگر تم ایک وقت مقرر تک اس دنیا سے متمتع ہوتے ہو تو یہ تمھارے لیے بہت بڑے عذاب کا باعث ہو گا۔ [112]﴿ قٰلَ رَبِّ احۡكُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ ’’کہا، اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ کر دے‘‘ یعنی ہمارے اور کافروں کی قوم کے درمیان۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرما لی اور اس دنیا میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر وغیرہ میں ان کافروں کو سزا دے دی۔ ﴿ وَرَبُّنَا الرَّحۡمٰنُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی تم جو باتیں بناتے ہوں ان کے مقابلے میں ہم اپنے رب رحمان ہی سے سوال کرتے ہیں اور اسی سے مدد کے طلب گار ہیں ، ہم عنقریب تم پر غالب آئیں گے اور عنقریب تمھارا دین ختم ہو جائے گا۔ پس اس بارے میں ہم کسی خود پسندی میں مبتلا ہیں نہ ہم اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ ہم تو رب رحمن سے مدد مانگتے ہیں جس کے قبضۂ قدرت میں تمام مخلوق کی پیشانی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم نے رب رحمن سے جس امر کے بارے میں استعانت طلب کی ہے، وہ اپنی رحمت سے ضرور اس کو پورا کرے گا… اور اس نے ایسا کیا۔ ولِلّٰہِ الْحَمْد۔
21:112

قَٰلَ رَبِّ ٱحۡكُم بِٱلۡحَقِّۗ وَرَبُّنَا ٱلرَّحۡمَٰنُ ٱلۡمُسۡتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ

بلاشبہ اس (وعظ و نصیحت) میں البتہ کفایت ہے ان لوگوں کے لیے جو عبادت کرنے والے ہیں (106) اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر رحمت بنا کر تمام جہانوں کے لیے (107) آپ کہہ دیجیے! یقینا وحی کی جاتی ہے میری طرف (یہ بات کہ) بلاشبہ تمھارا معبود، معبود ایک ہی ہے، پس کیا تم اس کی فرماں برداری کرنے والے ہو؟ (108) پس اگر وہ منہ موڑ لیں (اس سے) تو کہہ دیجیے! خبر دار کر دیا ہے میں نے تمھیں اوپر برابری کے اور نہیں جانتا میں کہ آیا قریب ہے یا بعید وہ جو تم وعدہ دیے جاتے ہو؟ (109) بے شک اللہ جانتا ہے پکار کر کہی ہوئی بات کو او روہ جانتا ہے (اسے بھی) جو تم چھپاتے ہو (110) اور نہیں جانتا میں شاید کہ وہ آزمائش ہو تمھارے لیےاور فائدہ اٹھانا ایک وقت (معین) تک (111) اس (رسول) نے کہا، اے میرے رب! فیصلہ فرما تو ساتھ حق کےاور ہمارا رب نہایت مہربان ہے، وہ جس سے مدد طلب کی جاتی ہے اوپر ان باتوں کے جو تم بیان کرتے ہو (112) [106] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عزیز، قرآن کریم کی ستائش کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز سے مکمل کفایت ہے اور اس سے مستغنی نہیں رہا جا سکتا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ هٰؔذَا لَبَلٰغًا لِّقَوۡمٍ عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں البتہ کفایت ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی وہ اپنے رب اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچنے کے لیے قرآن عزیز پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ پس یہ گراں قدر کتاب ان کو جلیل ترین مقاصد اور افضل ترین مرغوبات تک پہنچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لیے، جو سب سے زیادہ فضل و شرف کے حامل ہیں ، اس سے آگے اور کوئی منزل نہیں کیونکہ قرآن ان کے رب کی، اس کے اسماء و صفات اور افعال کے ذریعے سے معرفت کے لیے کفیل ہے اور غیب کی خبریں بیان کرنے اور حقائق ایمان اور شواہد ایقان کی دعوت کا بھی کفیل ہے، قرآن ہی تمام مامورات اور تمام منہیات کو بیان کرتا ہے، یہ قرآن ہی ہے جو نفس و عمل کے عیوب اور دین کے دقیق و جلیل معاملات میں ان راستوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جن پر اہل ایمان کو گامزن رہنا چاہیے اور یہ قرآن ہی ہے جو شیطان کے راستوں پر چلنے سے بچاتا ہے اور انسان کے عقائد و اعمال میں اس کی مداخلت کے دروازوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جسے قرآن مستغنی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کو مستغنی نہ کرے اور جس کے لیے قرآن کافی نہیں ، اللہ اس کو کفایت نہ کرے۔ [107] پھر اپنے رسول (ﷺ) کی جو قرآن لے کر آئے، مدح بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا رَحۡمَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ پس آپﷺ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لیے اس کی رحمت کا تحفہ ہیں ۔ پس اہل ایمان نے اس رحمت کو قبول کیا، اس کی قدر کی اور اس کے تقاضوں پر عمل کیا اور جو آپ پر ایمان نہ لائے انھوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اس کی اس رحمت اور نعمت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ [108]﴿ قُلۡ ﴾ اے محمدﷺ کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے۔‘‘ جس کے سوا کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس کی عبودیت کو اختیار اور اس کی الوہیت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہو؟… اگر وہ ایسا کریں تو انھیں اپنے رب کی ستائش کرنی چاہیے کہ اس نے ان کو اس نعمت سے سرفراز کیا، جو تمام نعمتوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ [110,109]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ اگر وہ اپنے رب کی عبودیت سے منہ موڑ لیں تو ان کو گزری ہوئی قوموں پر نازل ہونے والے عذاب اور سزا سے ڈراؤ! ﴿ فَقُلۡ اٰذَنۡتُكُمۡ﴾ یعنی میں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں تمھیں آگاہ کر دیا ہے ﴿ عَلٰى سَوَآءٍ ﴾ ’’برابری پر۔‘‘ یعنی میں اور تم اس حقیقت کو برابر طور پر جانتے ہیں ، اس لیے جب تم پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسے تو یہ نہ کہنا ﴿ مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ ﴾(المائدۃ:5؍19) ’’ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا آیا ہے نہ کوئی ڈرانے والا۔‘‘ بلکہ ہم اس حقیقت سے برابر طور پر آگاہ ہیں کیونکہ میں تم کو ڈرا چکا ہوں اور تمھیں کفر کے انجام کے بارے میں آگاہ کر چکا ہوں اور میں نے تم سے کچھ بھی نہیں چھپایا۔ [111]﴿وَاِنۡ اَدۡرِيۡۤ اَقَرِيۡبٌ اَمۡ بَعِيۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ یعنی جس عذاب کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے (میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب آن لگا ہے یا دور ہے)کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں ۔﴿ وَاِنۡ اَدۡرِيۡ لَعَلَّهٗ فِتۡنَةٌ لَّـكُمۡ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی… شاید اس عذاب میں تاخیر جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، تمھارے لیے بہت بری ہے اور اگر تم ایک وقت مقرر تک اس دنیا سے متمتع ہوتے ہو تو یہ تمھارے لیے بہت بڑے عذاب کا باعث ہو گا۔ [112]﴿ قٰلَ رَبِّ احۡكُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ ’’کہا، اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ کر دے‘‘ یعنی ہمارے اور کافروں کی قوم کے درمیان۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرما لی اور اس دنیا میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر وغیرہ میں ان کافروں کو سزا دے دی۔ ﴿ وَرَبُّنَا الرَّحۡمٰنُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی تم جو باتیں بناتے ہوں ان کے مقابلے میں ہم اپنے رب رحمان ہی سے سوال کرتے ہیں اور اسی سے مدد کے طلب گار ہیں ، ہم عنقریب تم پر غالب آئیں گے اور عنقریب تمھارا دین ختم ہو جائے گا۔ پس اس بارے میں ہم کسی خود پسندی میں مبتلا ہیں نہ ہم اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ ہم تو رب رحمن سے مدد مانگتے ہیں جس کے قبضۂ قدرت میں تمام مخلوق کی پیشانی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم نے رب رحمن سے جس امر کے بارے میں استعانت طلب کی ہے، وہ اپنی رحمت سے ضرور اس کو پورا کرے گا… اور اس نے ایسا کیا۔ ولِلّٰہِ الْحَمْد۔