al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 20 · 135 verses
20:1طٰہٰ(1) نہیں نازل کیا ہم نے آپ پر قرآن ، اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں (2) مگر نصیحت کے لیے واسطے اس شخص کے جو ڈرتا ہے (3) نازل کیا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا زمین کو اور بلند آسمانوں کو (4)(وہ) رحمٰن ہے، اوپر عرش کے مستوی ہے (5) اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اورجو کچھ ہے درمیان ان دونوں کےاورجو کچھ ہے نیچے نمناک زمین کے (6) اور اگر آپ بلند آواز سے بات کریں تو بلاشبہ وہ جانتا ہے پوشیدہ اور پوشیدہ تر بات کو (7) اللہ، نہیں ہے کوئی بھی معبود مگر وہی، اسی کے ہیں سب نام اچھے (8)
[2,1]﴿ طٰهٰؔ﴾ اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرمﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ ﴿ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤى ﴾ ’’نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں ۔‘‘ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں ، (ایسا نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قویٰ اس پر عمل کرنے سے عاجز ہو جائیں ۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوزوفلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام راستوں اور دروازوں کو آسان بنایا اور اسے قلب و روح کی غذا اور بدن کی راحت قرار دیا۔ فطرت سلیم اور عقل مستقیم نے اسے قبول کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا کیونکہ فطرت سلیم اور عقل مستقیم کو علم ہے کہ یہ دنیا و آخرت کی بھلائی پر مشتمل ہے ۔
[3] اس لیے فرمایا: ﴿ اِلَّا تَذۡكِرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ یہ اس لیے نازل کیا تاکہ اس سے وہ شخص نصیحت پکڑے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ پس وہ جلیل ترین مقاصد کی خاطر اس کے اندر دی گئی ترغیب سے نصیحت پکڑتا اور اس کی وجہ سے اس پر عمل کرتا ہے اور اس کے اندر شقاوت و خسران سے جو ڈرایا گیا ہے، اس سے ڈرتا اور شریعت کے احکام جمیلہ سے نصیحت پکڑتا ہے جن کا حسن و جمال، مجمل طور پر عقل میں جاگزیں ہے اور وہ ان تفاصیل کے مطابق ہیں جو اس کی عقل و فطرت میں موجود ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو (تذکرہ) کہا ہے۔ کسی چیز کا ’’تذکرہ‘‘ موجود ہوتا ہے البتہ انسان خود اس سے غافل ہوتا ہے یا اس کی تفاصیل مستحضر نہیں ہوتیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس ’’تذکرہ‘‘ (یاد دہانی) کو اس شخص کے ساتھ مختص کیا ہے ﴿ ِمَنۡ يَّخۡشٰى﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والا شخص اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ شخص فائدہ اٹھا بھی کیسے سکتا ہے جو جنت پر ایمان رکھتا ہے نہ جہنم پر اور اس کے قلب میں ذرہ بھر بھی خوف الٰہی موجود نہیں ؟ یہ ایسی بات ہے جو کبھی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ۙ۰۰وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى﴾(الاعلیٰ:87؍10-12) ’’جو اللہ کا خوف رکھتا ہے وہی اس سے نصیحت پکڑتا ہے اور بدبخت (اور بے خوف انسان) اس سے پہلو تہی کرتا ہے، وہ جو بہت بڑی دہکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا۔‘‘
[4] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قرآن عظیم کی جلالت شان کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خالق ارض و سماء کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے جوتمام کائنات کی تدبیر کرتا ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو حد درجہ اطاعت اور محبت و تسلیم کے ساتھ قبول کرو اور انتہائی حد تک اس کی تعظیم کرو۔ اللہ تعالیٰ نے بہت دفعہ (خَلق) اور (اَمر) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں بھی ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے: ﴿ اَلَا لَهُ الۡخَلۡقُ وَالۡاَمۡرُ ﴾(الاعراف:7؍54) ’’آگاہ رہو کہ تخلیق بھی اسی کی اور حکم بھی اسی کا ہے۔‘‘ اور جیسا کہ فرمایا: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ ﴾(الطلاق:65؍12) ’’اللہ ہی تو ہے جس نے ساتوں آسمان پیدا کیے اور ویسی ہی (سات) زمینیں ، ان میں امر الٰہی نازل ہوتا ہے۔‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق کائنات، حکم دینے والا اور روکنے والا ہے۔ پس جس طرح اس کے سوا کوئی خالق نہیں ، اسی طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لازم کرنے والا نہیں ۔ ان کے خالق کے سوا کوئی حکم دے سکتا ہے نہ روک سکتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس کے خلق میں اس کی تدبیر کونی و قدری جاری و ساری ہے اور اس کے امر میں دینی و شرعی تدبیر کارفرما ہے۔ پس جیسے اس کی تخلیق اس کی حکمت کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی، اس نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی۔ پس اسی طرح اللہ تعالیٰ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جو عدل و احسان پر مبنی ہو اور صرف عدل و احسان اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی کسی چیز سے روکتا ہے۔
[5] جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کا خالق اور مدبر ہے، وہی حکم دینے والا اور روکنے والا ہے تو اس نے اپنی عظمت اور کبریائی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلرَّحۡمٰنُ عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’ رحمٰن عرش پر‘‘ جو تمام کائنات سے بلند، تمام کائنات سے بڑا اور تمام کائنات سے وسیع ہے ﴿ اسۡتَوٰى ﴾ ’’مستوی ہے‘‘ یہاں استواء سے مراد وہ استواء ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کی عظمت و جمال سے مناسبت رکھتا ہے۔ پس وہ عرش پر مستوی اور کائنات پر حاوی ہے۔
[6]﴿ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ تمام ملائکہ، جن و انس، حیوانات، جمادات اور نباتات۔ ﴿ وَمَا تَحۡتَ الـثَّرٰى ﴾ اور جو کچھ سطح زمین کے نیچے ہے، سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے بندے ہیں جو اس کے دست تدبیراور اس کی قضا و قدر کے تحت مسخر ہیں ۔ اقتدار الٰہی میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھائے جانے پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔
[7]﴿ وَاِنۡ تَجۡهَرۡ بِالۡقَوۡلِ فَاِنَّهٗ يَعۡلَمُ السِّرَّ ﴾ ’’اور اگر آپ اونچی بات کہیں تو وہ تو جانتا ہے سری بات کو بھی۔‘‘ یعنی پوشیدہ کلام کو ﴿ وَاَخۡفٰى ﴾ ’’اور سری سے بھی زیادہ مخفی بات کو۔‘‘ یعنی خفی سے خفی تر بات، جو انسان کے دل میں ہوتی ہے اور ابھی نطق زبان پر نہیں آئی ہوتی۔ یا (السِّرّ) سے مراد وہ خیال ہے جو انسان کے دل میں آتا ہے اور (اخْفٰی) سے مراد وہ خیال ہے جسے ابھی دل میں آنا ہے اورابھی تک نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کب وہ خیال اپنے وقت پر اپنی صفت کے ساتھ دل میں داخل ہو گا۔ معنی یہ ہے کہ علم الٰہی، چھوٹی بڑی اور ظاہر و باطن تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس لیے آپ بلند آواز سے بولیں یا آہستہ آواز سے، علم الٰہی کی نسبت سے سب برابر ہے۔
[8] جب یہ بات متحقق ہو گئی کہ وہ کمال مطلق کا مالک ہے، اپنی تخلیق کے عموم کی وجہ، اپنے امرونہی اور اپنی رحمت کے عموم کی وجہ سے، اپنی عظمت کی وسعت اور اپنے عرش پر بلند ہونے کی وجہ سے اور اپنی بادشاہی اور اپنے علم کے عموم کی وجہ سے تو اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اور اسی کی عبادت حق ہے جس کو شریعت اور عقل و فطرت واجب ٹھہراتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت باطل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی کوئی معبود حق ہے نہ کوئی قابل عبادت جس کے سامنے محبت، تذلل، خوف، امید اور انابت کا اظہار کیا جائے اور اس کو پکارا جائے مگر صرف اللہ ہی۔ ﴿ لَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اسی کے لیے ہیں اچھے نام‘‘ یعنی اس کے بہت سے نام ہیں جو بہت اچھے ہیں ۔ اس کے ناموں کا حسن یہ ہے کہ وہ نام تمام تر مدح پر دلالت کرتے ہیں ۔ ان ناموں میں سے کوئی نام ایسا نہیں جو مدح و حمد پر دلالت نہ کرتا ہو۔ ان ناموں کا حسن یہ بھی ہے کہ وہ محض اَعلام (نام) نہیں بلکہ وہ نام اور اوصاف ہیں۔ ان کا حسن یہ بھی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل صفات پر دلالت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کامل، عام اور جلیل ترین ہے اور ان کا حسن یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کوحکم دیا ہے کہ وہ اسے ان ناموں سے پکاریں کیونکہ یہ ایک وسیلہ ہیں جو بندوں کو اللہ کے قریب کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان ناموں کو پسند کرتا ہے اور ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو ان ناموں کو پسند کرتے ہیں اور جو انھیں یاد کر تے ہیں اور ان لوگوں سے بھی محبت کرتا ہے جو ان کے معانی کی تحقیق کرتے ہیں اور ان ناموں کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَلِلّٰهِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى فَادۡعُوۡهُ بِهَا ﴾(الاعراف:7؍180) ’’اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں اسے انھی ناموں سے پکارو۔‘‘
20:2مَآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡقُرۡءَانَ لِتَشۡقَىٰٓ
طٰہٰ(1) نہیں نازل کیا ہم نے آپ پر قرآن ، اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں (2) مگر نصیحت کے لیے واسطے اس شخص کے جو ڈرتا ہے (3) نازل کیا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا زمین کو اور بلند آسمانوں کو (4)(وہ) رحمٰن ہے، اوپر عرش کے مستوی ہے (5) اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اورجو کچھ ہے درمیان ان دونوں کےاورجو کچھ ہے نیچے نمناک زمین کے (6) اور اگر آپ بلند آواز سے بات کریں تو بلاشبہ وہ جانتا ہے پوشیدہ اور پوشیدہ تر بات کو (7) اللہ، نہیں ہے کوئی بھی معبود مگر وہی، اسی کے ہیں سب نام اچھے (8)
[2,1]﴿ طٰهٰؔ﴾ اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرمﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ ﴿ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤى ﴾ ’’نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں ۔‘‘ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں ، (ایسا نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قویٰ اس پر عمل کرنے سے عاجز ہو جائیں ۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوزوفلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام راستوں اور دروازوں کو آسان بنایا اور اسے قلب و روح کی غذا اور بدن کی راحت قرار دیا۔ فطرت سلیم اور عقل مستقیم نے اسے قبول کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا کیونکہ فطرت سلیم اور عقل مستقیم کو علم ہے کہ یہ دنیا و آخرت کی بھلائی پر مشتمل ہے ۔
[3] اس لیے فرمایا: ﴿ اِلَّا تَذۡكِرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ یہ اس لیے نازل کیا تاکہ اس سے وہ شخص نصیحت پکڑے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ پس وہ جلیل ترین مقاصد کی خاطر اس کے اندر دی گئی ترغیب سے نصیحت پکڑتا اور اس کی وجہ سے اس پر عمل کرتا ہے اور اس کے اندر شقاوت و خسران سے جو ڈرایا گیا ہے، اس سے ڈرتا اور شریعت کے احکام جمیلہ سے نصیحت پکڑتا ہے جن کا حسن و جمال، مجمل طور پر عقل میں جاگزیں ہے اور وہ ان تفاصیل کے مطابق ہیں جو اس کی عقل و فطرت میں موجود ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو (تذکرہ) کہا ہے۔ کسی چیز کا ’’تذکرہ‘‘ موجود ہوتا ہے البتہ انسان خود اس سے غافل ہوتا ہے یا اس کی تفاصیل مستحضر نہیں ہوتیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس ’’تذکرہ‘‘ (یاد دہانی) کو اس شخص کے ساتھ مختص کیا ہے ﴿ ِمَنۡ يَّخۡشٰى﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والا شخص اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ شخص فائدہ اٹھا بھی کیسے سکتا ہے جو جنت پر ایمان رکھتا ہے نہ جہنم پر اور اس کے قلب میں ذرہ بھر بھی خوف الٰہی موجود نہیں ؟ یہ ایسی بات ہے جو کبھی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ۙ۰۰وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى﴾(الاعلیٰ:87؍10-12) ’’جو اللہ کا خوف رکھتا ہے وہی اس سے نصیحت پکڑتا ہے اور بدبخت (اور بے خوف انسان) اس سے پہلو تہی کرتا ہے، وہ جو بہت بڑی دہکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا۔‘‘
[4] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قرآن عظیم کی جلالت شان کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خالق ارض و سماء کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے جوتمام کائنات کی تدبیر کرتا ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو حد درجہ اطاعت اور محبت و تسلیم کے ساتھ قبول کرو اور انتہائی حد تک اس کی تعظیم کرو۔ اللہ تعالیٰ نے بہت دفعہ (خَلق) اور (اَمر) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں بھی ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے: ﴿ اَلَا لَهُ الۡخَلۡقُ وَالۡاَمۡرُ ﴾(الاعراف:7؍54) ’’آگاہ رہو کہ تخلیق بھی اسی کی اور حکم بھی اسی کا ہے۔‘‘ اور جیسا کہ فرمایا: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ ﴾(الطلاق:65؍12) ’’اللہ ہی تو ہے جس نے ساتوں آسمان پیدا کیے اور ویسی ہی (سات) زمینیں ، ان میں امر الٰہی نازل ہوتا ہے۔‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق کائنات، حکم دینے والا اور روکنے والا ہے۔ پس جس طرح اس کے سوا کوئی خالق نہیں ، اسی طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لازم کرنے والا نہیں ۔ ان کے خالق کے سوا کوئی حکم دے سکتا ہے نہ روک سکتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس کے خلق میں اس کی تدبیر کونی و قدری جاری و ساری ہے اور اس کے امر میں دینی و شرعی تدبیر کارفرما ہے۔ پس جیسے اس کی تخلیق اس کی حکمت کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی، اس نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی۔ پس اسی طرح اللہ تعالیٰ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جو عدل و احسان پر مبنی ہو اور صرف عدل و احسان اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی کسی چیز سے روکتا ہے۔
[5] جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کا خالق اور مدبر ہے، وہی حکم دینے والا اور روکنے والا ہے تو اس نے اپنی عظمت اور کبریائی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلرَّحۡمٰنُ عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’ رحمٰن عرش پر‘‘ جو تمام کائنات سے بلند، تمام کائنات سے بڑا اور تمام کائنات سے وسیع ہے ﴿ اسۡتَوٰى ﴾ ’’مستوی ہے‘‘ یہاں استواء سے مراد وہ استواء ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کی عظمت و جمال سے مناسبت رکھتا ہے۔ پس وہ عرش پر مستوی اور کائنات پر حاوی ہے۔
[6]﴿ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ تمام ملائکہ، جن و انس، حیوانات، جمادات اور نباتات۔ ﴿ وَمَا تَحۡتَ الـثَّرٰى ﴾ اور جو کچھ سطح زمین کے نیچے ہے، سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے بندے ہیں جو اس کے دست تدبیراور اس کی قضا و قدر کے تحت مسخر ہیں ۔ اقتدار الٰہی میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھائے جانے پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔
[7]﴿ وَاِنۡ تَجۡهَرۡ بِالۡقَوۡلِ فَاِنَّهٗ يَعۡلَمُ السِّرَّ ﴾ ’’اور اگر آپ اونچی بات کہیں تو وہ تو جانتا ہے سری بات کو بھی۔‘‘ یعنی پوشیدہ کلام کو ﴿ وَاَخۡفٰى ﴾ ’’اور سری سے بھی زیادہ مخفی بات کو۔‘‘ یعنی خفی سے خفی تر بات، جو انسان کے دل میں ہوتی ہے اور ابھی نطق زبان پر نہیں آئی ہوتی۔ یا (السِّرّ) سے مراد وہ خیال ہے جو انسان کے دل میں آتا ہے اور (اخْفٰی) سے مراد وہ خیال ہے جسے ابھی دل میں آنا ہے اورابھی تک نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کب وہ خیال اپنے وقت پر اپنی صفت کے ساتھ دل میں داخل ہو گا۔ معنی یہ ہے کہ علم الٰہی، چھوٹی بڑی اور ظاہر و باطن تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس لیے آپ بلند آواز سے بولیں یا آہستہ آواز سے، علم الٰہی کی نسبت سے سب برابر ہے۔
[8] جب یہ بات متحقق ہو گئی کہ وہ کمال مطلق کا مالک ہے، اپنی تخلیق کے عموم کی وجہ، اپنے امرونہی اور اپنی رحمت کے عموم کی وجہ سے، اپنی عظمت کی وسعت اور اپنے عرش پر بلند ہونے کی وجہ سے اور اپنی بادشاہی اور اپنے علم کے عموم کی وجہ سے تو اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اور اسی کی عبادت حق ہے جس کو شریعت اور عقل و فطرت واجب ٹھہراتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت باطل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی کوئی معبود حق ہے نہ کوئی قابل عبادت جس کے سامنے محبت، تذلل، خوف، امید اور انابت کا اظہار کیا جائے اور اس کو پکارا جائے مگر صرف اللہ ہی۔ ﴿ لَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اسی کے لیے ہیں اچھے نام‘‘ یعنی اس کے بہت سے نام ہیں جو بہت اچھے ہیں ۔ اس کے ناموں کا حسن یہ ہے کہ وہ نام تمام تر مدح پر دلالت کرتے ہیں ۔ ان ناموں میں سے کوئی نام ایسا نہیں جو مدح و حمد پر دلالت نہ کرتا ہو۔ ان ناموں کا حسن یہ بھی ہے کہ وہ محض اَعلام (نام) نہیں بلکہ وہ نام اور اوصاف ہیں۔ ان کا حسن یہ بھی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل صفات پر دلالت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کامل، عام اور جلیل ترین ہے اور ان کا حسن یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کوحکم دیا ہے کہ وہ اسے ان ناموں سے پکاریں کیونکہ یہ ایک وسیلہ ہیں جو بندوں کو اللہ کے قریب کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان ناموں کو پسند کرتا ہے اور ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو ان ناموں کو پسند کرتے ہیں اور جو انھیں یاد کر تے ہیں اور ان لوگوں سے بھی محبت کرتا ہے جو ان کے معانی کی تحقیق کرتے ہیں اور ان ناموں کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَلِلّٰهِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى فَادۡعُوۡهُ بِهَا ﴾(الاعراف:7؍180) ’’اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں اسے انھی ناموں سے پکارو۔‘‘
20:3إِلَّا تَذۡكِرَةٗ لِّمَن يَخۡشَىٰ
طٰہٰ(1) نہیں نازل کیا ہم نے آپ پر قرآن ، اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں (2) مگر نصیحت کے لیے واسطے اس شخص کے جو ڈرتا ہے (3) نازل کیا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا زمین کو اور بلند آسمانوں کو (4)(وہ) رحمٰن ہے، اوپر عرش کے مستوی ہے (5) اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اورجو کچھ ہے درمیان ان دونوں کےاورجو کچھ ہے نیچے نمناک زمین کے (6) اور اگر آپ بلند آواز سے بات کریں تو بلاشبہ وہ جانتا ہے پوشیدہ اور پوشیدہ تر بات کو (7) اللہ، نہیں ہے کوئی بھی معبود مگر وہی، اسی کے ہیں سب نام اچھے (8)
[2,1]﴿ طٰهٰؔ﴾ اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرمﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ ﴿ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤى ﴾ ’’نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں ۔‘‘ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں ، (ایسا نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قویٰ اس پر عمل کرنے سے عاجز ہو جائیں ۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوزوفلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام راستوں اور دروازوں کو آسان بنایا اور اسے قلب و روح کی غذا اور بدن کی راحت قرار دیا۔ فطرت سلیم اور عقل مستقیم نے اسے قبول کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا کیونکہ فطرت سلیم اور عقل مستقیم کو علم ہے کہ یہ دنیا و آخرت کی بھلائی پر مشتمل ہے ۔
[3] اس لیے فرمایا: ﴿ اِلَّا تَذۡكِرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ یہ اس لیے نازل کیا تاکہ اس سے وہ شخص نصیحت پکڑے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ پس وہ جلیل ترین مقاصد کی خاطر اس کے اندر دی گئی ترغیب سے نصیحت پکڑتا اور اس کی وجہ سے اس پر عمل کرتا ہے اور اس کے اندر شقاوت و خسران سے جو ڈرایا گیا ہے، اس سے ڈرتا اور شریعت کے احکام جمیلہ سے نصیحت پکڑتا ہے جن کا حسن و جمال، مجمل طور پر عقل میں جاگزیں ہے اور وہ ان تفاصیل کے مطابق ہیں جو اس کی عقل و فطرت میں موجود ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو (تذکرہ) کہا ہے۔ کسی چیز کا ’’تذکرہ‘‘ موجود ہوتا ہے البتہ انسان خود اس سے غافل ہوتا ہے یا اس کی تفاصیل مستحضر نہیں ہوتیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس ’’تذکرہ‘‘ (یاد دہانی) کو اس شخص کے ساتھ مختص کیا ہے ﴿ ِمَنۡ يَّخۡشٰى﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والا شخص اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ شخص فائدہ اٹھا بھی کیسے سکتا ہے جو جنت پر ایمان رکھتا ہے نہ جہنم پر اور اس کے قلب میں ذرہ بھر بھی خوف الٰہی موجود نہیں ؟ یہ ایسی بات ہے جو کبھی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ۙ۰۰وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى﴾(الاعلیٰ:87؍10-12) ’’جو اللہ کا خوف رکھتا ہے وہی اس سے نصیحت پکڑتا ہے اور بدبخت (اور بے خوف انسان) اس سے پہلو تہی کرتا ہے، وہ جو بہت بڑی دہکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا۔‘‘
[4] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قرآن عظیم کی جلالت شان کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خالق ارض و سماء کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے جوتمام کائنات کی تدبیر کرتا ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو حد درجہ اطاعت اور محبت و تسلیم کے ساتھ قبول کرو اور انتہائی حد تک اس کی تعظیم کرو۔ اللہ تعالیٰ نے بہت دفعہ (خَلق) اور (اَمر) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں بھی ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے: ﴿ اَلَا لَهُ الۡخَلۡقُ وَالۡاَمۡرُ ﴾(الاعراف:7؍54) ’’آگاہ رہو کہ تخلیق بھی اسی کی اور حکم بھی اسی کا ہے۔‘‘ اور جیسا کہ فرمایا: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ ﴾(الطلاق:65؍12) ’’اللہ ہی تو ہے جس نے ساتوں آسمان پیدا کیے اور ویسی ہی (سات) زمینیں ، ان میں امر الٰہی نازل ہوتا ہے۔‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق کائنات، حکم دینے والا اور روکنے والا ہے۔ پس جس طرح اس کے سوا کوئی خالق نہیں ، اسی طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لازم کرنے والا نہیں ۔ ان کے خالق کے سوا کوئی حکم دے سکتا ہے نہ روک سکتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس کے خلق میں اس کی تدبیر کونی و قدری جاری و ساری ہے اور اس کے امر میں دینی و شرعی تدبیر کارفرما ہے۔ پس جیسے اس کی تخلیق اس کی حکمت کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی، اس نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی۔ پس اسی طرح اللہ تعالیٰ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جو عدل و احسان پر مبنی ہو اور صرف عدل و احسان اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی کسی چیز سے روکتا ہے۔
[5] جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کا خالق اور مدبر ہے، وہی حکم دینے والا اور روکنے والا ہے تو اس نے اپنی عظمت اور کبریائی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلرَّحۡمٰنُ عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’ رحمٰن عرش پر‘‘ جو تمام کائنات سے بلند، تمام کائنات سے بڑا اور تمام کائنات سے وسیع ہے ﴿ اسۡتَوٰى ﴾ ’’مستوی ہے‘‘ یہاں استواء سے مراد وہ استواء ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کی عظمت و جمال سے مناسبت رکھتا ہے۔ پس وہ عرش پر مستوی اور کائنات پر حاوی ہے۔
[6]﴿ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ تمام ملائکہ، جن و انس، حیوانات، جمادات اور نباتات۔ ﴿ وَمَا تَحۡتَ الـثَّرٰى ﴾ اور جو کچھ سطح زمین کے نیچے ہے، سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے بندے ہیں جو اس کے دست تدبیراور اس کی قضا و قدر کے تحت مسخر ہیں ۔ اقتدار الٰہی میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھائے جانے پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔
[7]﴿ وَاِنۡ تَجۡهَرۡ بِالۡقَوۡلِ فَاِنَّهٗ يَعۡلَمُ السِّرَّ ﴾ ’’اور اگر آپ اونچی بات کہیں تو وہ تو جانتا ہے سری بات کو بھی۔‘‘ یعنی پوشیدہ کلام کو ﴿ وَاَخۡفٰى ﴾ ’’اور سری سے بھی زیادہ مخفی بات کو۔‘‘ یعنی خفی سے خفی تر بات، جو انسان کے دل میں ہوتی ہے اور ابھی نطق زبان پر نہیں آئی ہوتی۔ یا (السِّرّ) سے مراد وہ خیال ہے جو انسان کے دل میں آتا ہے اور (اخْفٰی) سے مراد وہ خیال ہے جسے ابھی دل میں آنا ہے اورابھی تک نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کب وہ خیال اپنے وقت پر اپنی صفت کے ساتھ دل میں داخل ہو گا۔ معنی یہ ہے کہ علم الٰہی، چھوٹی بڑی اور ظاہر و باطن تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس لیے آپ بلند آواز سے بولیں یا آہستہ آواز سے، علم الٰہی کی نسبت سے سب برابر ہے۔
[8] جب یہ بات متحقق ہو گئی کہ وہ کمال مطلق کا مالک ہے، اپنی تخلیق کے عموم کی وجہ، اپنے امرونہی اور اپنی رحمت کے عموم کی وجہ سے، اپنی عظمت کی وسعت اور اپنے عرش پر بلند ہونے کی وجہ سے اور اپنی بادشاہی اور اپنے علم کے عموم کی وجہ سے تو اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اور اسی کی عبادت حق ہے جس کو شریعت اور عقل و فطرت واجب ٹھہراتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت باطل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی کوئی معبود حق ہے نہ کوئی قابل عبادت جس کے سامنے محبت، تذلل، خوف، امید اور انابت کا اظہار کیا جائے اور اس کو پکارا جائے مگر صرف اللہ ہی۔ ﴿ لَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اسی کے لیے ہیں اچھے نام‘‘ یعنی اس کے بہت سے نام ہیں جو بہت اچھے ہیں ۔ اس کے ناموں کا حسن یہ ہے کہ وہ نام تمام تر مدح پر دلالت کرتے ہیں ۔ ان ناموں میں سے کوئی نام ایسا نہیں جو مدح و حمد پر دلالت نہ کرتا ہو۔ ان ناموں کا حسن یہ بھی ہے کہ وہ محض اَعلام (نام) نہیں بلکہ وہ نام اور اوصاف ہیں۔ ان کا حسن یہ بھی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل صفات پر دلالت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کامل، عام اور جلیل ترین ہے اور ان کا حسن یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کوحکم دیا ہے کہ وہ اسے ان ناموں سے پکاریں کیونکہ یہ ایک وسیلہ ہیں جو بندوں کو اللہ کے قریب کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان ناموں کو پسند کرتا ہے اور ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو ان ناموں کو پسند کرتے ہیں اور جو انھیں یاد کر تے ہیں اور ان لوگوں سے بھی محبت کرتا ہے جو ان کے معانی کی تحقیق کرتے ہیں اور ان ناموں کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَلِلّٰهِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى فَادۡعُوۡهُ بِهَا ﴾(الاعراف:7؍180) ’’اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں اسے انھی ناموں سے پکارو۔‘‘
20:4تَنزِيلٗا مِّمَّنۡ خَلَقَ ٱلۡأَرۡضَ وَٱلسَّمَٰوَٰتِ ٱلۡعُلَى
طٰہٰ(1) نہیں نازل کیا ہم نے آپ پر قرآن ، اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں (2) مگر نصیحت کے لیے واسطے اس شخص کے جو ڈرتا ہے (3) نازل کیا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا زمین کو اور بلند آسمانوں کو (4)(وہ) رحمٰن ہے، اوپر عرش کے مستوی ہے (5) اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اورجو کچھ ہے درمیان ان دونوں کےاورجو کچھ ہے نیچے نمناک زمین کے (6) اور اگر آپ بلند آواز سے بات کریں تو بلاشبہ وہ جانتا ہے پوشیدہ اور پوشیدہ تر بات کو (7) اللہ، نہیں ہے کوئی بھی معبود مگر وہی، اسی کے ہیں سب نام اچھے (8)
[2,1]﴿ طٰهٰؔ﴾ اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرمﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ ﴿ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤى ﴾ ’’نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں ۔‘‘ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں ، (ایسا نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قویٰ اس پر عمل کرنے سے عاجز ہو جائیں ۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوزوفلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام راستوں اور دروازوں کو آسان بنایا اور اسے قلب و روح کی غذا اور بدن کی راحت قرار دیا۔ فطرت سلیم اور عقل مستقیم نے اسے قبول کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا کیونکہ فطرت سلیم اور عقل مستقیم کو علم ہے کہ یہ دنیا و آخرت کی بھلائی پر مشتمل ہے ۔
[3] اس لیے فرمایا: ﴿ اِلَّا تَذۡكِرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ یہ اس لیے نازل کیا تاکہ اس سے وہ شخص نصیحت پکڑے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ پس وہ جلیل ترین مقاصد کی خاطر اس کے اندر دی گئی ترغیب سے نصیحت پکڑتا اور اس کی وجہ سے اس پر عمل کرتا ہے اور اس کے اندر شقاوت و خسران سے جو ڈرایا گیا ہے، اس سے ڈرتا اور شریعت کے احکام جمیلہ سے نصیحت پکڑتا ہے جن کا حسن و جمال، مجمل طور پر عقل میں جاگزیں ہے اور وہ ان تفاصیل کے مطابق ہیں جو اس کی عقل و فطرت میں موجود ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو (تذکرہ) کہا ہے۔ کسی چیز کا ’’تذکرہ‘‘ موجود ہوتا ہے البتہ انسان خود اس سے غافل ہوتا ہے یا اس کی تفاصیل مستحضر نہیں ہوتیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس ’’تذکرہ‘‘ (یاد دہانی) کو اس شخص کے ساتھ مختص کیا ہے ﴿ ِمَنۡ يَّخۡشٰى﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والا شخص اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ شخص فائدہ اٹھا بھی کیسے سکتا ہے جو جنت پر ایمان رکھتا ہے نہ جہنم پر اور اس کے قلب میں ذرہ بھر بھی خوف الٰہی موجود نہیں ؟ یہ ایسی بات ہے جو کبھی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ۙ۰۰وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى﴾(الاعلیٰ:87؍10-12) ’’جو اللہ کا خوف رکھتا ہے وہی اس سے نصیحت پکڑتا ہے اور بدبخت (اور بے خوف انسان) اس سے پہلو تہی کرتا ہے، وہ جو بہت بڑی دہکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا۔‘‘
[4] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قرآن عظیم کی جلالت شان کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خالق ارض و سماء کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے جوتمام کائنات کی تدبیر کرتا ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو حد درجہ اطاعت اور محبت و تسلیم کے ساتھ قبول کرو اور انتہائی حد تک اس کی تعظیم کرو۔ اللہ تعالیٰ نے بہت دفعہ (خَلق) اور (اَمر) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں بھی ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے: ﴿ اَلَا لَهُ الۡخَلۡقُ وَالۡاَمۡرُ ﴾(الاعراف:7؍54) ’’آگاہ رہو کہ تخلیق بھی اسی کی اور حکم بھی اسی کا ہے۔‘‘ اور جیسا کہ فرمایا: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ ﴾(الطلاق:65؍12) ’’اللہ ہی تو ہے جس نے ساتوں آسمان پیدا کیے اور ویسی ہی (سات) زمینیں ، ان میں امر الٰہی نازل ہوتا ہے۔‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق کائنات، حکم دینے والا اور روکنے والا ہے۔ پس جس طرح اس کے سوا کوئی خالق نہیں ، اسی طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لازم کرنے والا نہیں ۔ ان کے خالق کے سوا کوئی حکم دے سکتا ہے نہ روک سکتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس کے خلق میں اس کی تدبیر کونی و قدری جاری و ساری ہے اور اس کے امر میں دینی و شرعی تدبیر کارفرما ہے۔ پس جیسے اس کی تخلیق اس کی حکمت کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی، اس نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی۔ پس اسی طرح اللہ تعالیٰ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جو عدل و احسان پر مبنی ہو اور صرف عدل و احسان اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی کسی چیز سے روکتا ہے۔
[5] جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کا خالق اور مدبر ہے، وہی حکم دینے والا اور روکنے والا ہے تو اس نے اپنی عظمت اور کبریائی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلرَّحۡمٰنُ عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’ رحمٰن عرش پر‘‘ جو تمام کائنات سے بلند، تمام کائنات سے بڑا اور تمام کائنات سے وسیع ہے ﴿ اسۡتَوٰى ﴾ ’’مستوی ہے‘‘ یہاں استواء سے مراد وہ استواء ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کی عظمت و جمال سے مناسبت رکھتا ہے۔ پس وہ عرش پر مستوی اور کائنات پر حاوی ہے۔
[6]﴿ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ تمام ملائکہ، جن و انس، حیوانات، جمادات اور نباتات۔ ﴿ وَمَا تَحۡتَ الـثَّرٰى ﴾ اور جو کچھ سطح زمین کے نیچے ہے، سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے بندے ہیں جو اس کے دست تدبیراور اس کی قضا و قدر کے تحت مسخر ہیں ۔ اقتدار الٰہی میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھائے جانے پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔
[7]﴿ وَاِنۡ تَجۡهَرۡ بِالۡقَوۡلِ فَاِنَّهٗ يَعۡلَمُ السِّرَّ ﴾ ’’اور اگر آپ اونچی بات کہیں تو وہ تو جانتا ہے سری بات کو بھی۔‘‘ یعنی پوشیدہ کلام کو ﴿ وَاَخۡفٰى ﴾ ’’اور سری سے بھی زیادہ مخفی بات کو۔‘‘ یعنی خفی سے خفی تر بات، جو انسان کے دل میں ہوتی ہے اور ابھی نطق زبان پر نہیں آئی ہوتی۔ یا (السِّرّ) سے مراد وہ خیال ہے جو انسان کے دل میں آتا ہے اور (اخْفٰی) سے مراد وہ خیال ہے جسے ابھی دل میں آنا ہے اورابھی تک نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کب وہ خیال اپنے وقت پر اپنی صفت کے ساتھ دل میں داخل ہو گا۔ معنی یہ ہے کہ علم الٰہی، چھوٹی بڑی اور ظاہر و باطن تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس لیے آپ بلند آواز سے بولیں یا آہستہ آواز سے، علم الٰہی کی نسبت سے سب برابر ہے۔
[8] جب یہ بات متحقق ہو گئی کہ وہ کمال مطلق کا مالک ہے، اپنی تخلیق کے عموم کی وجہ، اپنے امرونہی اور اپنی رحمت کے عموم کی وجہ سے، اپنی عظمت کی وسعت اور اپنے عرش پر بلند ہونے کی وجہ سے اور اپنی بادشاہی اور اپنے علم کے عموم کی وجہ سے تو اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اور اسی کی عبادت حق ہے جس کو شریعت اور عقل و فطرت واجب ٹھہراتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت باطل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی کوئی معبود حق ہے نہ کوئی قابل عبادت جس کے سامنے محبت، تذلل، خوف، امید اور انابت کا اظہار کیا جائے اور اس کو پکارا جائے مگر صرف اللہ ہی۔ ﴿ لَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اسی کے لیے ہیں اچھے نام‘‘ یعنی اس کے بہت سے نام ہیں جو بہت اچھے ہیں ۔ اس کے ناموں کا حسن یہ ہے کہ وہ نام تمام تر مدح پر دلالت کرتے ہیں ۔ ان ناموں میں سے کوئی نام ایسا نہیں جو مدح و حمد پر دلالت نہ کرتا ہو۔ ان ناموں کا حسن یہ بھی ہے کہ وہ محض اَعلام (نام) نہیں بلکہ وہ نام اور اوصاف ہیں۔ ان کا حسن یہ بھی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل صفات پر دلالت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کامل، عام اور جلیل ترین ہے اور ان کا حسن یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کوحکم دیا ہے کہ وہ اسے ان ناموں سے پکاریں کیونکہ یہ ایک وسیلہ ہیں جو بندوں کو اللہ کے قریب کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان ناموں کو پسند کرتا ہے اور ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو ان ناموں کو پسند کرتے ہیں اور جو انھیں یاد کر تے ہیں اور ان لوگوں سے بھی محبت کرتا ہے جو ان کے معانی کی تحقیق کرتے ہیں اور ان ناموں کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَلِلّٰهِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى فَادۡعُوۡهُ بِهَا ﴾(الاعراف:7؍180) ’’اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں اسے انھی ناموں سے پکارو۔‘‘
20:5ٱلرَّحۡمَٰنُ عَلَى ٱلۡعَرۡشِ ٱسۡتَوَىٰ
طٰہٰ(1) نہیں نازل کیا ہم نے آپ پر قرآن ، اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں (2) مگر نصیحت کے لیے واسطے اس شخص کے جو ڈرتا ہے (3) نازل کیا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا زمین کو اور بلند آسمانوں کو (4)(وہ) رحمٰن ہے، اوپر عرش کے مستوی ہے (5) اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اورجو کچھ ہے درمیان ان دونوں کےاورجو کچھ ہے نیچے نمناک زمین کے (6) اور اگر آپ بلند آواز سے بات کریں تو بلاشبہ وہ جانتا ہے پوشیدہ اور پوشیدہ تر بات کو (7) اللہ، نہیں ہے کوئی بھی معبود مگر وہی، اسی کے ہیں سب نام اچھے (8)
[2,1]﴿ طٰهٰؔ﴾ اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرمﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ ﴿ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤى ﴾ ’’نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں ۔‘‘ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں ، (ایسا نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قویٰ اس پر عمل کرنے سے عاجز ہو جائیں ۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوزوفلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام راستوں اور دروازوں کو آسان بنایا اور اسے قلب و روح کی غذا اور بدن کی راحت قرار دیا۔ فطرت سلیم اور عقل مستقیم نے اسے قبول کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا کیونکہ فطرت سلیم اور عقل مستقیم کو علم ہے کہ یہ دنیا و آخرت کی بھلائی پر مشتمل ہے ۔
[3] اس لیے فرمایا: ﴿ اِلَّا تَذۡكِرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ یہ اس لیے نازل کیا تاکہ اس سے وہ شخص نصیحت پکڑے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ پس وہ جلیل ترین مقاصد کی خاطر اس کے اندر دی گئی ترغیب سے نصیحت پکڑتا اور اس کی وجہ سے اس پر عمل کرتا ہے اور اس کے اندر شقاوت و خسران سے جو ڈرایا گیا ہے، اس سے ڈرتا اور شریعت کے احکام جمیلہ سے نصیحت پکڑتا ہے جن کا حسن و جمال، مجمل طور پر عقل میں جاگزیں ہے اور وہ ان تفاصیل کے مطابق ہیں جو اس کی عقل و فطرت میں موجود ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو (تذکرہ) کہا ہے۔ کسی چیز کا ’’تذکرہ‘‘ موجود ہوتا ہے البتہ انسان خود اس سے غافل ہوتا ہے یا اس کی تفاصیل مستحضر نہیں ہوتیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس ’’تذکرہ‘‘ (یاد دہانی) کو اس شخص کے ساتھ مختص کیا ہے ﴿ ِمَنۡ يَّخۡشٰى﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والا شخص اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ شخص فائدہ اٹھا بھی کیسے سکتا ہے جو جنت پر ایمان رکھتا ہے نہ جہنم پر اور اس کے قلب میں ذرہ بھر بھی خوف الٰہی موجود نہیں ؟ یہ ایسی بات ہے جو کبھی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ۙ۰۰وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى﴾(الاعلیٰ:87؍10-12) ’’جو اللہ کا خوف رکھتا ہے وہی اس سے نصیحت پکڑتا ہے اور بدبخت (اور بے خوف انسان) اس سے پہلو تہی کرتا ہے، وہ جو بہت بڑی دہکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا۔‘‘
[4] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قرآن عظیم کی جلالت شان کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خالق ارض و سماء کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے جوتمام کائنات کی تدبیر کرتا ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو حد درجہ اطاعت اور محبت و تسلیم کے ساتھ قبول کرو اور انتہائی حد تک اس کی تعظیم کرو۔ اللہ تعالیٰ نے بہت دفعہ (خَلق) اور (اَمر) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں بھی ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے: ﴿ اَلَا لَهُ الۡخَلۡقُ وَالۡاَمۡرُ ﴾(الاعراف:7؍54) ’’آگاہ رہو کہ تخلیق بھی اسی کی اور حکم بھی اسی کا ہے۔‘‘ اور جیسا کہ فرمایا: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ ﴾(الطلاق:65؍12) ’’اللہ ہی تو ہے جس نے ساتوں آسمان پیدا کیے اور ویسی ہی (سات) زمینیں ، ان میں امر الٰہی نازل ہوتا ہے۔‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق کائنات، حکم دینے والا اور روکنے والا ہے۔ پس جس طرح اس کے سوا کوئی خالق نہیں ، اسی طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لازم کرنے والا نہیں ۔ ان کے خالق کے سوا کوئی حکم دے سکتا ہے نہ روک سکتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس کے خلق میں اس کی تدبیر کونی و قدری جاری و ساری ہے اور اس کے امر میں دینی و شرعی تدبیر کارفرما ہے۔ پس جیسے اس کی تخلیق اس کی حکمت کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی، اس نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی۔ پس اسی طرح اللہ تعالیٰ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جو عدل و احسان پر مبنی ہو اور صرف عدل و احسان اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی کسی چیز سے روکتا ہے۔
[5] جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کا خالق اور مدبر ہے، وہی حکم دینے والا اور روکنے والا ہے تو اس نے اپنی عظمت اور کبریائی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلرَّحۡمٰنُ عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’ رحمٰن عرش پر‘‘ جو تمام کائنات سے بلند، تمام کائنات سے بڑا اور تمام کائنات سے وسیع ہے ﴿ اسۡتَوٰى ﴾ ’’مستوی ہے‘‘ یہاں استواء سے مراد وہ استواء ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کی عظمت و جمال سے مناسبت رکھتا ہے۔ پس وہ عرش پر مستوی اور کائنات پر حاوی ہے۔
[6]﴿ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ تمام ملائکہ، جن و انس، حیوانات، جمادات اور نباتات۔ ﴿ وَمَا تَحۡتَ الـثَّرٰى ﴾ اور جو کچھ سطح زمین کے نیچے ہے، سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے بندے ہیں جو اس کے دست تدبیراور اس کی قضا و قدر کے تحت مسخر ہیں ۔ اقتدار الٰہی میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھائے جانے پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔
[7]﴿ وَاِنۡ تَجۡهَرۡ بِالۡقَوۡلِ فَاِنَّهٗ يَعۡلَمُ السِّرَّ ﴾ ’’اور اگر آپ اونچی بات کہیں تو وہ تو جانتا ہے سری بات کو بھی۔‘‘ یعنی پوشیدہ کلام کو ﴿ وَاَخۡفٰى ﴾ ’’اور سری سے بھی زیادہ مخفی بات کو۔‘‘ یعنی خفی سے خفی تر بات، جو انسان کے دل میں ہوتی ہے اور ابھی نطق زبان پر نہیں آئی ہوتی۔ یا (السِّرّ) سے مراد وہ خیال ہے جو انسان کے دل میں آتا ہے اور (اخْفٰی) سے مراد وہ خیال ہے جسے ابھی دل میں آنا ہے اورابھی تک نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کب وہ خیال اپنے وقت پر اپنی صفت کے ساتھ دل میں داخل ہو گا۔ معنی یہ ہے کہ علم الٰہی، چھوٹی بڑی اور ظاہر و باطن تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس لیے آپ بلند آواز سے بولیں یا آہستہ آواز سے، علم الٰہی کی نسبت سے سب برابر ہے۔
[8] جب یہ بات متحقق ہو گئی کہ وہ کمال مطلق کا مالک ہے، اپنی تخلیق کے عموم کی وجہ، اپنے امرونہی اور اپنی رحمت کے عموم کی وجہ سے، اپنی عظمت کی وسعت اور اپنے عرش پر بلند ہونے کی وجہ سے اور اپنی بادشاہی اور اپنے علم کے عموم کی وجہ سے تو اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اور اسی کی عبادت حق ہے جس کو شریعت اور عقل و فطرت واجب ٹھہراتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت باطل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی کوئی معبود حق ہے نہ کوئی قابل عبادت جس کے سامنے محبت، تذلل، خوف، امید اور انابت کا اظہار کیا جائے اور اس کو پکارا جائے مگر صرف اللہ ہی۔ ﴿ لَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اسی کے لیے ہیں اچھے نام‘‘ یعنی اس کے بہت سے نام ہیں جو بہت اچھے ہیں ۔ اس کے ناموں کا حسن یہ ہے کہ وہ نام تمام تر مدح پر دلالت کرتے ہیں ۔ ان ناموں میں سے کوئی نام ایسا نہیں جو مدح و حمد پر دلالت نہ کرتا ہو۔ ان ناموں کا حسن یہ بھی ہے کہ وہ محض اَعلام (نام) نہیں بلکہ وہ نام اور اوصاف ہیں۔ ان کا حسن یہ بھی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل صفات پر دلالت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کامل، عام اور جلیل ترین ہے اور ان کا حسن یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کوحکم دیا ہے کہ وہ اسے ان ناموں سے پکاریں کیونکہ یہ ایک وسیلہ ہیں جو بندوں کو اللہ کے قریب کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان ناموں کو پسند کرتا ہے اور ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو ان ناموں کو پسند کرتے ہیں اور جو انھیں یاد کر تے ہیں اور ان لوگوں سے بھی محبت کرتا ہے جو ان کے معانی کی تحقیق کرتے ہیں اور ان ناموں کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَلِلّٰهِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى فَادۡعُوۡهُ بِهَا ﴾(الاعراف:7؍180) ’’اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں اسے انھی ناموں سے پکارو۔‘‘
20:6لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا وَمَا تَحۡتَ ٱلثَّرَىٰ
طٰہٰ(1) نہیں نازل کیا ہم نے آپ پر قرآن ، اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں (2) مگر نصیحت کے لیے واسطے اس شخص کے جو ڈرتا ہے (3) نازل کیا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا زمین کو اور بلند آسمانوں کو (4)(وہ) رحمٰن ہے، اوپر عرش کے مستوی ہے (5) اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اورجو کچھ ہے درمیان ان دونوں کےاورجو کچھ ہے نیچے نمناک زمین کے (6) اور اگر آپ بلند آواز سے بات کریں تو بلاشبہ وہ جانتا ہے پوشیدہ اور پوشیدہ تر بات کو (7) اللہ، نہیں ہے کوئی بھی معبود مگر وہی، اسی کے ہیں سب نام اچھے (8)
[2,1]﴿ طٰهٰؔ﴾ اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرمﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ ﴿ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤى ﴾ ’’نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں ۔‘‘ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں ، (ایسا نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قویٰ اس پر عمل کرنے سے عاجز ہو جائیں ۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوزوفلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام راستوں اور دروازوں کو آسان بنایا اور اسے قلب و روح کی غذا اور بدن کی راحت قرار دیا۔ فطرت سلیم اور عقل مستقیم نے اسے قبول کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا کیونکہ فطرت سلیم اور عقل مستقیم کو علم ہے کہ یہ دنیا و آخرت کی بھلائی پر مشتمل ہے ۔
[3] اس لیے فرمایا: ﴿ اِلَّا تَذۡكِرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ یہ اس لیے نازل کیا تاکہ اس سے وہ شخص نصیحت پکڑے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ پس وہ جلیل ترین مقاصد کی خاطر اس کے اندر دی گئی ترغیب سے نصیحت پکڑتا اور اس کی وجہ سے اس پر عمل کرتا ہے اور اس کے اندر شقاوت و خسران سے جو ڈرایا گیا ہے، اس سے ڈرتا اور شریعت کے احکام جمیلہ سے نصیحت پکڑتا ہے جن کا حسن و جمال، مجمل طور پر عقل میں جاگزیں ہے اور وہ ان تفاصیل کے مطابق ہیں جو اس کی عقل و فطرت میں موجود ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو (تذکرہ) کہا ہے۔ کسی چیز کا ’’تذکرہ‘‘ موجود ہوتا ہے البتہ انسان خود اس سے غافل ہوتا ہے یا اس کی تفاصیل مستحضر نہیں ہوتیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس ’’تذکرہ‘‘ (یاد دہانی) کو اس شخص کے ساتھ مختص کیا ہے ﴿ ِمَنۡ يَّخۡشٰى﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والا شخص اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ شخص فائدہ اٹھا بھی کیسے سکتا ہے جو جنت پر ایمان رکھتا ہے نہ جہنم پر اور اس کے قلب میں ذرہ بھر بھی خوف الٰہی موجود نہیں ؟ یہ ایسی بات ہے جو کبھی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ۙ۰۰وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى﴾(الاعلیٰ:87؍10-12) ’’جو اللہ کا خوف رکھتا ہے وہی اس سے نصیحت پکڑتا ہے اور بدبخت (اور بے خوف انسان) اس سے پہلو تہی کرتا ہے، وہ جو بہت بڑی دہکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا۔‘‘
[4] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قرآن عظیم کی جلالت شان کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خالق ارض و سماء کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے جوتمام کائنات کی تدبیر کرتا ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو حد درجہ اطاعت اور محبت و تسلیم کے ساتھ قبول کرو اور انتہائی حد تک اس کی تعظیم کرو۔ اللہ تعالیٰ نے بہت دفعہ (خَلق) اور (اَمر) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں بھی ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے: ﴿ اَلَا لَهُ الۡخَلۡقُ وَالۡاَمۡرُ ﴾(الاعراف:7؍54) ’’آگاہ رہو کہ تخلیق بھی اسی کی اور حکم بھی اسی کا ہے۔‘‘ اور جیسا کہ فرمایا: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ ﴾(الطلاق:65؍12) ’’اللہ ہی تو ہے جس نے ساتوں آسمان پیدا کیے اور ویسی ہی (سات) زمینیں ، ان میں امر الٰہی نازل ہوتا ہے۔‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق کائنات، حکم دینے والا اور روکنے والا ہے۔ پس جس طرح اس کے سوا کوئی خالق نہیں ، اسی طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لازم کرنے والا نہیں ۔ ان کے خالق کے سوا کوئی حکم دے سکتا ہے نہ روک سکتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس کے خلق میں اس کی تدبیر کونی و قدری جاری و ساری ہے اور اس کے امر میں دینی و شرعی تدبیر کارفرما ہے۔ پس جیسے اس کی تخلیق اس کی حکمت کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی، اس نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی۔ پس اسی طرح اللہ تعالیٰ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جو عدل و احسان پر مبنی ہو اور صرف عدل و احسان اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی کسی چیز سے روکتا ہے۔
[5] جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کا خالق اور مدبر ہے، وہی حکم دینے والا اور روکنے والا ہے تو اس نے اپنی عظمت اور کبریائی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلرَّحۡمٰنُ عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’ رحمٰن عرش پر‘‘ جو تمام کائنات سے بلند، تمام کائنات سے بڑا اور تمام کائنات سے وسیع ہے ﴿ اسۡتَوٰى ﴾ ’’مستوی ہے‘‘ یہاں استواء سے مراد وہ استواء ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کی عظمت و جمال سے مناسبت رکھتا ہے۔ پس وہ عرش پر مستوی اور کائنات پر حاوی ہے۔
[6]﴿ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ تمام ملائکہ، جن و انس، حیوانات، جمادات اور نباتات۔ ﴿ وَمَا تَحۡتَ الـثَّرٰى ﴾ اور جو کچھ سطح زمین کے نیچے ہے، سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے بندے ہیں جو اس کے دست تدبیراور اس کی قضا و قدر کے تحت مسخر ہیں ۔ اقتدار الٰہی میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھائے جانے پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔
[7]﴿ وَاِنۡ تَجۡهَرۡ بِالۡقَوۡلِ فَاِنَّهٗ يَعۡلَمُ السِّرَّ ﴾ ’’اور اگر آپ اونچی بات کہیں تو وہ تو جانتا ہے سری بات کو بھی۔‘‘ یعنی پوشیدہ کلام کو ﴿ وَاَخۡفٰى ﴾ ’’اور سری سے بھی زیادہ مخفی بات کو۔‘‘ یعنی خفی سے خفی تر بات، جو انسان کے دل میں ہوتی ہے اور ابھی نطق زبان پر نہیں آئی ہوتی۔ یا (السِّرّ) سے مراد وہ خیال ہے جو انسان کے دل میں آتا ہے اور (اخْفٰی) سے مراد وہ خیال ہے جسے ابھی دل میں آنا ہے اورابھی تک نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کب وہ خیال اپنے وقت پر اپنی صفت کے ساتھ دل میں داخل ہو گا۔ معنی یہ ہے کہ علم الٰہی، چھوٹی بڑی اور ظاہر و باطن تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس لیے آپ بلند آواز سے بولیں یا آہستہ آواز سے، علم الٰہی کی نسبت سے سب برابر ہے۔
[8] جب یہ بات متحقق ہو گئی کہ وہ کمال مطلق کا مالک ہے، اپنی تخلیق کے عموم کی وجہ، اپنے امرونہی اور اپنی رحمت کے عموم کی وجہ سے، اپنی عظمت کی وسعت اور اپنے عرش پر بلند ہونے کی وجہ سے اور اپنی بادشاہی اور اپنے علم کے عموم کی وجہ سے تو اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اور اسی کی عبادت حق ہے جس کو شریعت اور عقل و فطرت واجب ٹھہراتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت باطل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی کوئی معبود حق ہے نہ کوئی قابل عبادت جس کے سامنے محبت، تذلل، خوف، امید اور انابت کا اظہار کیا جائے اور اس کو پکارا جائے مگر صرف اللہ ہی۔ ﴿ لَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اسی کے لیے ہیں اچھے نام‘‘ یعنی اس کے بہت سے نام ہیں جو بہت اچھے ہیں ۔ اس کے ناموں کا حسن یہ ہے کہ وہ نام تمام تر مدح پر دلالت کرتے ہیں ۔ ان ناموں میں سے کوئی نام ایسا نہیں جو مدح و حمد پر دلالت نہ کرتا ہو۔ ان ناموں کا حسن یہ بھی ہے کہ وہ محض اَعلام (نام) نہیں بلکہ وہ نام اور اوصاف ہیں۔ ان کا حسن یہ بھی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل صفات پر دلالت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کامل، عام اور جلیل ترین ہے اور ان کا حسن یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کوحکم دیا ہے کہ وہ اسے ان ناموں سے پکاریں کیونکہ یہ ایک وسیلہ ہیں جو بندوں کو اللہ کے قریب کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان ناموں کو پسند کرتا ہے اور ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو ان ناموں کو پسند کرتے ہیں اور جو انھیں یاد کر تے ہیں اور ان لوگوں سے بھی محبت کرتا ہے جو ان کے معانی کی تحقیق کرتے ہیں اور ان ناموں کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَلِلّٰهِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى فَادۡعُوۡهُ بِهَا ﴾(الاعراف:7؍180) ’’اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں اسے انھی ناموں سے پکارو۔‘‘
20:7وَإِن تَجۡهَرۡ بِٱلۡقَوۡلِ فَإِنَّهُۥ يَعۡلَمُ ٱلسِّرَّ وَأَخۡفَى
طٰہٰ(1) نہیں نازل کیا ہم نے آپ پر قرآن ، اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں (2) مگر نصیحت کے لیے واسطے اس شخص کے جو ڈرتا ہے (3) نازل کیا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا زمین کو اور بلند آسمانوں کو (4)(وہ) رحمٰن ہے، اوپر عرش کے مستوی ہے (5) اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اورجو کچھ ہے درمیان ان دونوں کےاورجو کچھ ہے نیچے نمناک زمین کے (6) اور اگر آپ بلند آواز سے بات کریں تو بلاشبہ وہ جانتا ہے پوشیدہ اور پوشیدہ تر بات کو (7) اللہ، نہیں ہے کوئی بھی معبود مگر وہی، اسی کے ہیں سب نام اچھے (8)
[2,1]﴿ طٰهٰؔ﴾ اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرمﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ ﴿ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤى ﴾ ’’نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں ۔‘‘ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں ، (ایسا نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قویٰ اس پر عمل کرنے سے عاجز ہو جائیں ۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوزوفلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام راستوں اور دروازوں کو آسان بنایا اور اسے قلب و روح کی غذا اور بدن کی راحت قرار دیا۔ فطرت سلیم اور عقل مستقیم نے اسے قبول کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا کیونکہ فطرت سلیم اور عقل مستقیم کو علم ہے کہ یہ دنیا و آخرت کی بھلائی پر مشتمل ہے ۔
[3] اس لیے فرمایا: ﴿ اِلَّا تَذۡكِرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ یہ اس لیے نازل کیا تاکہ اس سے وہ شخص نصیحت پکڑے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ پس وہ جلیل ترین مقاصد کی خاطر اس کے اندر دی گئی ترغیب سے نصیحت پکڑتا اور اس کی وجہ سے اس پر عمل کرتا ہے اور اس کے اندر شقاوت و خسران سے جو ڈرایا گیا ہے، اس سے ڈرتا اور شریعت کے احکام جمیلہ سے نصیحت پکڑتا ہے جن کا حسن و جمال، مجمل طور پر عقل میں جاگزیں ہے اور وہ ان تفاصیل کے مطابق ہیں جو اس کی عقل و فطرت میں موجود ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو (تذکرہ) کہا ہے۔ کسی چیز کا ’’تذکرہ‘‘ موجود ہوتا ہے البتہ انسان خود اس سے غافل ہوتا ہے یا اس کی تفاصیل مستحضر نہیں ہوتیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس ’’تذکرہ‘‘ (یاد دہانی) کو اس شخص کے ساتھ مختص کیا ہے ﴿ ِمَنۡ يَّخۡشٰى﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والا شخص اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ شخص فائدہ اٹھا بھی کیسے سکتا ہے جو جنت پر ایمان رکھتا ہے نہ جہنم پر اور اس کے قلب میں ذرہ بھر بھی خوف الٰہی موجود نہیں ؟ یہ ایسی بات ہے جو کبھی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ۙ۰۰وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى﴾(الاعلیٰ:87؍10-12) ’’جو اللہ کا خوف رکھتا ہے وہی اس سے نصیحت پکڑتا ہے اور بدبخت (اور بے خوف انسان) اس سے پہلو تہی کرتا ہے، وہ جو بہت بڑی دہکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا۔‘‘
[4] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قرآن عظیم کی جلالت شان کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خالق ارض و سماء کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے جوتمام کائنات کی تدبیر کرتا ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو حد درجہ اطاعت اور محبت و تسلیم کے ساتھ قبول کرو اور انتہائی حد تک اس کی تعظیم کرو۔ اللہ تعالیٰ نے بہت دفعہ (خَلق) اور (اَمر) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں بھی ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے: ﴿ اَلَا لَهُ الۡخَلۡقُ وَالۡاَمۡرُ ﴾(الاعراف:7؍54) ’’آگاہ رہو کہ تخلیق بھی اسی کی اور حکم بھی اسی کا ہے۔‘‘ اور جیسا کہ فرمایا: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ ﴾(الطلاق:65؍12) ’’اللہ ہی تو ہے جس نے ساتوں آسمان پیدا کیے اور ویسی ہی (سات) زمینیں ، ان میں امر الٰہی نازل ہوتا ہے۔‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق کائنات، حکم دینے والا اور روکنے والا ہے۔ پس جس طرح اس کے سوا کوئی خالق نہیں ، اسی طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لازم کرنے والا نہیں ۔ ان کے خالق کے سوا کوئی حکم دے سکتا ہے نہ روک سکتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس کے خلق میں اس کی تدبیر کونی و قدری جاری و ساری ہے اور اس کے امر میں دینی و شرعی تدبیر کارفرما ہے۔ پس جیسے اس کی تخلیق اس کی حکمت کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی، اس نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی۔ پس اسی طرح اللہ تعالیٰ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جو عدل و احسان پر مبنی ہو اور صرف عدل و احسان اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی کسی چیز سے روکتا ہے۔
[5] جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کا خالق اور مدبر ہے، وہی حکم دینے والا اور روکنے والا ہے تو اس نے اپنی عظمت اور کبریائی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلرَّحۡمٰنُ عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’ رحمٰن عرش پر‘‘ جو تمام کائنات سے بلند، تمام کائنات سے بڑا اور تمام کائنات سے وسیع ہے ﴿ اسۡتَوٰى ﴾ ’’مستوی ہے‘‘ یہاں استواء سے مراد وہ استواء ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کی عظمت و جمال سے مناسبت رکھتا ہے۔ پس وہ عرش پر مستوی اور کائنات پر حاوی ہے۔
[6]﴿ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ تمام ملائکہ، جن و انس، حیوانات، جمادات اور نباتات۔ ﴿ وَمَا تَحۡتَ الـثَّرٰى ﴾ اور جو کچھ سطح زمین کے نیچے ہے، سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے بندے ہیں جو اس کے دست تدبیراور اس کی قضا و قدر کے تحت مسخر ہیں ۔ اقتدار الٰہی میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھائے جانے پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔
[7]﴿ وَاِنۡ تَجۡهَرۡ بِالۡقَوۡلِ فَاِنَّهٗ يَعۡلَمُ السِّرَّ ﴾ ’’اور اگر آپ اونچی بات کہیں تو وہ تو جانتا ہے سری بات کو بھی۔‘‘ یعنی پوشیدہ کلام کو ﴿ وَاَخۡفٰى ﴾ ’’اور سری سے بھی زیادہ مخفی بات کو۔‘‘ یعنی خفی سے خفی تر بات، جو انسان کے دل میں ہوتی ہے اور ابھی نطق زبان پر نہیں آئی ہوتی۔ یا (السِّرّ) سے مراد وہ خیال ہے جو انسان کے دل میں آتا ہے اور (اخْفٰی) سے مراد وہ خیال ہے جسے ابھی دل میں آنا ہے اورابھی تک نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کب وہ خیال اپنے وقت پر اپنی صفت کے ساتھ دل میں داخل ہو گا۔ معنی یہ ہے کہ علم الٰہی، چھوٹی بڑی اور ظاہر و باطن تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس لیے آپ بلند آواز سے بولیں یا آہستہ آواز سے، علم الٰہی کی نسبت سے سب برابر ہے۔
[8] جب یہ بات متحقق ہو گئی کہ وہ کمال مطلق کا مالک ہے، اپنی تخلیق کے عموم کی وجہ، اپنے امرونہی اور اپنی رحمت کے عموم کی وجہ سے، اپنی عظمت کی وسعت اور اپنے عرش پر بلند ہونے کی وجہ سے اور اپنی بادشاہی اور اپنے علم کے عموم کی وجہ سے تو اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اور اسی کی عبادت حق ہے جس کو شریعت اور عقل و فطرت واجب ٹھہراتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت باطل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی کوئی معبود حق ہے نہ کوئی قابل عبادت جس کے سامنے محبت، تذلل، خوف، امید اور انابت کا اظہار کیا جائے اور اس کو پکارا جائے مگر صرف اللہ ہی۔ ﴿ لَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اسی کے لیے ہیں اچھے نام‘‘ یعنی اس کے بہت سے نام ہیں جو بہت اچھے ہیں ۔ اس کے ناموں کا حسن یہ ہے کہ وہ نام تمام تر مدح پر دلالت کرتے ہیں ۔ ان ناموں میں سے کوئی نام ایسا نہیں جو مدح و حمد پر دلالت نہ کرتا ہو۔ ان ناموں کا حسن یہ بھی ہے کہ وہ محض اَعلام (نام) نہیں بلکہ وہ نام اور اوصاف ہیں۔ ان کا حسن یہ بھی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل صفات پر دلالت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کامل، عام اور جلیل ترین ہے اور ان کا حسن یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کوحکم دیا ہے کہ وہ اسے ان ناموں سے پکاریں کیونکہ یہ ایک وسیلہ ہیں جو بندوں کو اللہ کے قریب کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان ناموں کو پسند کرتا ہے اور ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو ان ناموں کو پسند کرتے ہیں اور جو انھیں یاد کر تے ہیں اور ان لوگوں سے بھی محبت کرتا ہے جو ان کے معانی کی تحقیق کرتے ہیں اور ان ناموں کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَلِلّٰهِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى فَادۡعُوۡهُ بِهَا ﴾(الاعراف:7؍180) ’’اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں اسے انھی ناموں سے پکارو۔‘‘
20:8ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ لَهُ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ
طٰہٰ(1) نہیں نازل کیا ہم نے آپ پر قرآن ، اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں (2) مگر نصیحت کے لیے واسطے اس شخص کے جو ڈرتا ہے (3) نازل کیا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا زمین کو اور بلند آسمانوں کو (4)(وہ) رحمٰن ہے، اوپر عرش کے مستوی ہے (5) اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اورجو کچھ ہے درمیان ان دونوں کےاورجو کچھ ہے نیچے نمناک زمین کے (6) اور اگر آپ بلند آواز سے بات کریں تو بلاشبہ وہ جانتا ہے پوشیدہ اور پوشیدہ تر بات کو (7) اللہ، نہیں ہے کوئی بھی معبود مگر وہی، اسی کے ہیں سب نام اچھے (8)
[2,1]﴿ طٰهٰؔ﴾ اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرمﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ ﴿ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤى ﴾ ’’نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں ۔‘‘ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں ، (ایسا نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قویٰ اس پر عمل کرنے سے عاجز ہو جائیں ۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوزوفلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام راستوں اور دروازوں کو آسان بنایا اور اسے قلب و روح کی غذا اور بدن کی راحت قرار دیا۔ فطرت سلیم اور عقل مستقیم نے اسے قبول کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا کیونکہ فطرت سلیم اور عقل مستقیم کو علم ہے کہ یہ دنیا و آخرت کی بھلائی پر مشتمل ہے ۔
[3] اس لیے فرمایا: ﴿ اِلَّا تَذۡكِرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ یہ اس لیے نازل کیا تاکہ اس سے وہ شخص نصیحت پکڑے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ پس وہ جلیل ترین مقاصد کی خاطر اس کے اندر دی گئی ترغیب سے نصیحت پکڑتا اور اس کی وجہ سے اس پر عمل کرتا ہے اور اس کے اندر شقاوت و خسران سے جو ڈرایا گیا ہے، اس سے ڈرتا اور شریعت کے احکام جمیلہ سے نصیحت پکڑتا ہے جن کا حسن و جمال، مجمل طور پر عقل میں جاگزیں ہے اور وہ ان تفاصیل کے مطابق ہیں جو اس کی عقل و فطرت میں موجود ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو (تذکرہ) کہا ہے۔ کسی چیز کا ’’تذکرہ‘‘ موجود ہوتا ہے البتہ انسان خود اس سے غافل ہوتا ہے یا اس کی تفاصیل مستحضر نہیں ہوتیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس ’’تذکرہ‘‘ (یاد دہانی) کو اس شخص کے ساتھ مختص کیا ہے ﴿ ِمَنۡ يَّخۡشٰى﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والا شخص اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ شخص فائدہ اٹھا بھی کیسے سکتا ہے جو جنت پر ایمان رکھتا ہے نہ جہنم پر اور اس کے قلب میں ذرہ بھر بھی خوف الٰہی موجود نہیں ؟ یہ ایسی بات ہے جو کبھی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ۙ۰۰وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى﴾(الاعلیٰ:87؍10-12) ’’جو اللہ کا خوف رکھتا ہے وہی اس سے نصیحت پکڑتا ہے اور بدبخت (اور بے خوف انسان) اس سے پہلو تہی کرتا ہے، وہ جو بہت بڑی دہکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا۔‘‘
[4] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قرآن عظیم کی جلالت شان کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خالق ارض و سماء کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے جوتمام کائنات کی تدبیر کرتا ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو حد درجہ اطاعت اور محبت و تسلیم کے ساتھ قبول کرو اور انتہائی حد تک اس کی تعظیم کرو۔ اللہ تعالیٰ نے بہت دفعہ (خَلق) اور (اَمر) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں بھی ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے: ﴿ اَلَا لَهُ الۡخَلۡقُ وَالۡاَمۡرُ ﴾(الاعراف:7؍54) ’’آگاہ رہو کہ تخلیق بھی اسی کی اور حکم بھی اسی کا ہے۔‘‘ اور جیسا کہ فرمایا: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ ﴾(الطلاق:65؍12) ’’اللہ ہی تو ہے جس نے ساتوں آسمان پیدا کیے اور ویسی ہی (سات) زمینیں ، ان میں امر الٰہی نازل ہوتا ہے۔‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق کائنات، حکم دینے والا اور روکنے والا ہے۔ پس جس طرح اس کے سوا کوئی خالق نہیں ، اسی طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لازم کرنے والا نہیں ۔ ان کے خالق کے سوا کوئی حکم دے سکتا ہے نہ روک سکتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس کے خلق میں اس کی تدبیر کونی و قدری جاری و ساری ہے اور اس کے امر میں دینی و شرعی تدبیر کارفرما ہے۔ پس جیسے اس کی تخلیق اس کی حکمت کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی، اس نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی۔ پس اسی طرح اللہ تعالیٰ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جو عدل و احسان پر مبنی ہو اور صرف عدل و احسان اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی کسی چیز سے روکتا ہے۔
[5] جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کا خالق اور مدبر ہے، وہی حکم دینے والا اور روکنے والا ہے تو اس نے اپنی عظمت اور کبریائی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلرَّحۡمٰنُ عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’ رحمٰن عرش پر‘‘ جو تمام کائنات سے بلند، تمام کائنات سے بڑا اور تمام کائنات سے وسیع ہے ﴿ اسۡتَوٰى ﴾ ’’مستوی ہے‘‘ یہاں استواء سے مراد وہ استواء ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کی عظمت و جمال سے مناسبت رکھتا ہے۔ پس وہ عرش پر مستوی اور کائنات پر حاوی ہے۔
[6]﴿ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ تمام ملائکہ، جن و انس، حیوانات، جمادات اور نباتات۔ ﴿ وَمَا تَحۡتَ الـثَّرٰى ﴾ اور جو کچھ سطح زمین کے نیچے ہے، سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے بندے ہیں جو اس کے دست تدبیراور اس کی قضا و قدر کے تحت مسخر ہیں ۔ اقتدار الٰہی میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھائے جانے پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔
[7]﴿ وَاِنۡ تَجۡهَرۡ بِالۡقَوۡلِ فَاِنَّهٗ يَعۡلَمُ السِّرَّ ﴾ ’’اور اگر آپ اونچی بات کہیں تو وہ تو جانتا ہے سری بات کو بھی۔‘‘ یعنی پوشیدہ کلام کو ﴿ وَاَخۡفٰى ﴾ ’’اور سری سے بھی زیادہ مخفی بات کو۔‘‘ یعنی خفی سے خفی تر بات، جو انسان کے دل میں ہوتی ہے اور ابھی نطق زبان پر نہیں آئی ہوتی۔ یا (السِّرّ) سے مراد وہ خیال ہے جو انسان کے دل میں آتا ہے اور (اخْفٰی) سے مراد وہ خیال ہے جسے ابھی دل میں آنا ہے اورابھی تک نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کب وہ خیال اپنے وقت پر اپنی صفت کے ساتھ دل میں داخل ہو گا۔ معنی یہ ہے کہ علم الٰہی، چھوٹی بڑی اور ظاہر و باطن تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس لیے آپ بلند آواز سے بولیں یا آہستہ آواز سے، علم الٰہی کی نسبت سے سب برابر ہے۔
[8] جب یہ بات متحقق ہو گئی کہ وہ کمال مطلق کا مالک ہے، اپنی تخلیق کے عموم کی وجہ، اپنے امرونہی اور اپنی رحمت کے عموم کی وجہ سے، اپنی عظمت کی وسعت اور اپنے عرش پر بلند ہونے کی وجہ سے اور اپنی بادشاہی اور اپنے علم کے عموم کی وجہ سے تو اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اور اسی کی عبادت حق ہے جس کو شریعت اور عقل و فطرت واجب ٹھہراتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت باطل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی کوئی معبود حق ہے نہ کوئی قابل عبادت جس کے سامنے محبت، تذلل، خوف، امید اور انابت کا اظہار کیا جائے اور اس کو پکارا جائے مگر صرف اللہ ہی۔ ﴿ لَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اسی کے لیے ہیں اچھے نام‘‘ یعنی اس کے بہت سے نام ہیں جو بہت اچھے ہیں ۔ اس کے ناموں کا حسن یہ ہے کہ وہ نام تمام تر مدح پر دلالت کرتے ہیں ۔ ان ناموں میں سے کوئی نام ایسا نہیں جو مدح و حمد پر دلالت نہ کرتا ہو۔ ان ناموں کا حسن یہ بھی ہے کہ وہ محض اَعلام (نام) نہیں بلکہ وہ نام اور اوصاف ہیں۔ ان کا حسن یہ بھی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل صفات پر دلالت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کامل، عام اور جلیل ترین ہے اور ان کا حسن یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کوحکم دیا ہے کہ وہ اسے ان ناموں سے پکاریں کیونکہ یہ ایک وسیلہ ہیں جو بندوں کو اللہ کے قریب کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان ناموں کو پسند کرتا ہے اور ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو ان ناموں کو پسند کرتے ہیں اور جو انھیں یاد کر تے ہیں اور ان لوگوں سے بھی محبت کرتا ہے جو ان کے معانی کی تحقیق کرتے ہیں اور ان ناموں کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَلِلّٰهِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى فَادۡعُوۡهُ بِهَا ﴾(الاعراف:7؍180) ’’اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں اسے انھی ناموں سے پکارو۔‘‘
20:9وَهَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ
اور کیا آئی ہے آپ کے پاس بات موسی کی؟ (9) جب اس نے دیکھی آگ تو کہا اپنے گھر والوں سے، ٹھہرو تم، بلاشبہ میں نے دیکھی ہے آگ تاکہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس میں سے کوئی انگارا یا میں پاؤں آگ کے پاس راستہ بتلانے والا (10) پس جب وہ آیا اس آگ کے پاس تو آواز دیا گیا، اے موسی! (11) بے شک میں تیرا رب ہوں ، سو تو اتار دے اپنی جوتیاں ، بلاشبہ تو وادیٔ مقدس طُویٰ میں ہے (12) اور میں نے تجھے پسند کر لیا ہے، پس تو غور سے سن اس کو جو وحی کی جاتی ہے (13) بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں ، نہیں کوئی معبود (برحق) مگر میں ہی، سو تو عبادت کر میری ہی اور قائم کر نماز میرے ذکر کے لیے (14) بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، قریب ہے کہ چھپاؤں میں اس کو تاکہ بدلہ دیا جائے ہر جان کو، اس کا جو وہ کوشش کرتا ہے (15)
[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے استفہام تقریری کے طور پر اور اس قصہء مذکورہ کی تعظیم اور عظمت کی خاطر، فرماتا ہے:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’کیا آپ کے پاس موسیٰ کی بات آئی؟‘‘ یعنی جناب موسیٰ u کی اس حالت کا قصہ، جو ان کی سعادت کی بنیاد اور ان کی نبوت کی ابتدا تھی کہ انھیں بہت دور سے آگ نظر آئی اور وہ راستے سے بھٹک گئے تھے اور سردی محسوس کر رہے تھے اور ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے وہ اپنے سفر میں گرمی حاصل کر سکیں ۔ ﴿ اِذۡ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ ’’تو انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا، ذرا ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے‘‘ اور یہ آگ کوہ طور کے دائیں جانب تھی۔ ﴿ لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِقَبَسٍ ﴾ ’’شاید میں تمھارے پاس اس میں سے ایک انگارہ لاؤں ۔‘‘ تاکہ تم اس سے آگ تاپ سکو ﴿اَوۡ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى ﴾ یا اس آگ کے پاس مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے راستہ بتا دے۔ موسیٰu کا مقصود تو حسی روشنی اور حسی ہدایت تھا۔ مگر انھوں نے وہاں معنوی نور یعنی نورِ وحی پا لیا۔ جس سے قلوب و ارواح روشن ہوتے ہیں اور انھیں حقیقی ہدایت یعنی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل ہوئی جو نعمتوں بھری جنت کو جاتی ہے۔ حضرت موسیٰu ایک ایسی چیز سے بہرہ ور ہوئے جو ان کے کسی حساب اور خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔
[11]﴿ فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا ﴾ یعنی جب حضرت موسیٰ u اس آگ کے پاس پہنچے جو انھوں نے دور سے دیکھی تھی… جو درحقیقت نور تھا اور وہ ایسی آگ ہے جو جلا ڈالتی ہے اور روشنی دیتی ہے اس حقیقت پر رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے ’حِجَابُہُ النُّورُ۔ وَفِي رِوَایَۃٍ: النَّارُ۔ لَوْ کَشَفَہُ لأَ حْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْھِہِ مَا انْتَھَی إِلَیْہِ بَصَرُہُ‘(صحیح مسلم، الإیمان، باب فی قولہﷺ،(ان اللہ لاینام)…، ح:179) ’’اس کا حجاب نور ہے ایک روایت میں ہے: آگ۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال حد نگاہ تک ہر چیز کو بھسم کر ڈالے۔‘‘ جب موسیٰ u وہاں پہنچے تو اس میں سے آواز آئی یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو ندا دی جیسا کہ ارشاد فرمایا: ﴿ وَنَادَيۡنٰهُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنِ وَقَرَّبۡنٰهُ نَؔجِيًّا ﴾(مریم:19؍52) ’’ہم نے اسے کوہ طور کی دائیں جانب سے پکارا اور سرگوشی کرنے کے لیے اس کو قریب کیا۔‘‘
[12]﴿ اِنِّيۡۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخۡلَعۡ نَعۡلَيۡكَ١ۚ اِنَّكَ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ موسیٰu کا رب ہے اور حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مناجات کے لیے تیار اور اس کا اہتمام کر لیں اور اپنے جوتے اتار دیں کیونکہ وہ مقدس، پاک اور قابل تعظیم وادی میں ہیں ۔ اگر وادی کی تقدیس کے لیے کوئی اور چیز نہ ہوتی تب بھی حضرت موسیٰ کلیم اللہu کو مناجات کے لیے چن لینا ہی کافی تھا۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو جوتے اتارنے کا اس لیے حکم دیا تھا کیونکہ وہ گدھے کی کھال سے بنے ہوئے تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
[13]﴿ وَاَنَا اخۡتَرۡتُكَ ﴾ یعنی میں نے لوگوں میں سے تجھے چن لیا ہے۔ یہ سب سے بڑی نعمت اور احسان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کو نوازا جو اس شکر کا تقاضا کرتی ہے جو اس کے لائق ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَاسۡتَمِعۡ لِمَا يُوۡحٰؔى ﴾ یعنی اس وحی کو غور سے سن جو تیری طرف کی جا رہی ہے، وہ اس کی مستحق ہے کہ اس کو غور سے سنا جائے کیونکہ یہ دین کی اساس اور دعوت اسلامی کا ستون ہے۔
[14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس وحی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا ﴾’’بے شک میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اللہ ہی ہے جو الوہیت کا مستحق اور اس سے متصف ہے کیونکہ وہ اسماء و صفات میں کامل اور اپنے افعال میں منفرد ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ مثیل اور جس کا کوئی ہمسر ہے نہ برابری کرنے والا۔﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ﴾ ’’پس میری ہی عبادت کر۔‘‘ عبادت کی ظاہری اور باطنی،اصولی اور فروعی تمام انواع کے ذریعے سے، پھر نماز کا بطور خاص ذکر فرمایا، حالانکہ نماز عبادت میں داخل ہے۔ اس کی ایک وجہ نماز کا شرف و فضل ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نماز ایسی عبادت ہے جو دل، زبان اور اعضاء کی عبادت کو متضمن ہے۔ ﴿ لِـذِكۡرِيۡ ﴾ یہاں لام تعلیل کے لیے ہے، یعنی میرے ذکر کی خاطر نماز قائم کر کیونکہ ذکر الٰہی جلیل ترین مقصد ہے، علاوہ ازیں یہ عبودیت قلب کو متضمن ہے اور اسی پر انسان کی سعادت کا دارومدار ہے۔ پس ذکر الٰہی سے خالی دل، ہر بھلائی سے محروم ہو کر پوری طرح برباد ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مختلف انواع کی عبادات مشروع فرمائی ہیں ، خاص طور پر نماز تو ان عبادات کا مقصد صرف ذکر الٰہی کا قیام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ مِنَ الۡكِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡؔكَرِ١ؕ وَلَذِكۡرُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ ﴾(العنبکوت:29؍45) ’’اس کتاب کی تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کیجیے بے شک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور ذکر الٰہی اس سے بھی بڑی چیز ہے۔‘‘ یعنی نماز کے اندر اللہ تعالیٰ کا جو ذکر ہے، وہ نماز کے فحش اور برے کاموں سے روکنے سے زیادہ بڑی چیز ہے۔ عبادت کی اس نوع کو توحید الوہیت اور توحید عبادت کہا جاتا ہے۔ الوہیت اللہ تعالیٰ کا وصف ہے اور عبودیت بندے کا وصف ہے۔
[15]﴿ اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی کا واقع ہونا لازمی امر ہے۔ ﴿ اَكَادُ اُخۡفِيۡهَا ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی خود آپﷺ سے چھپی ہوئی ہے، جیسا کہ بعض قراء ت میں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے:﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾(الاحزاب:33؍63) ’’آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دیجیے اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾(لقمان:31؍34) ’’قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم کو تمام مخلوقات سے چھپا رکھا ہے قیامت کے بارے میں کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ کوئی نبی ٔ مرسل۔اور قیامت کے آنے کی حکمت یہ ہے کہ ﴿ لِتُجۡزٰى كُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا تَسۡعٰى ﴾ ہر شخص نے جو بھلے یا برے اعمال میں بھاگ دوڑ کی ہے اس کو ان کی جزا دی جائے کیونکہ قیامت دارالجزا کا دروازہ ہے۔ ﴿ لِيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا بِالۡحُسۡنٰى﴾(النجم:53؍31) ’’تاکہ جن لوگوں نے برے کام کیے، انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جنھوں نے نیک کام کیے ان کو اچھا بدلہ دے۔‘‘
20:10إِذۡ رَءَا نَارٗا فَقَالَ لِأَهۡلِهِ ٱمۡكُثُوٓاْ إِنِّيٓ ءَانَسۡتُ نَارٗا لَّعَلِّيٓ ءَاتِيكُم مِّنۡهَا بِقَبَسٍ أَوۡ أَجِدُ عَلَى ٱلنَّارِ هُدٗى
اور کیا آئی ہے آپ کے پاس بات موسی کی؟ (9) جب اس نے دیکھی آگ تو کہا اپنے گھر والوں سے، ٹھہرو تم، بلاشبہ میں نے دیکھی ہے آگ تاکہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس میں سے کوئی انگارا یا میں پاؤں آگ کے پاس راستہ بتلانے والا (10) پس جب وہ آیا اس آگ کے پاس تو آواز دیا گیا، اے موسی! (11) بے شک میں تیرا رب ہوں ، سو تو اتار دے اپنی جوتیاں ، بلاشبہ تو وادیٔ مقدس طُویٰ میں ہے (12) اور میں نے تجھے پسند کر لیا ہے، پس تو غور سے سن اس کو جو وحی کی جاتی ہے (13) بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں ، نہیں کوئی معبود (برحق) مگر میں ہی، سو تو عبادت کر میری ہی اور قائم کر نماز میرے ذکر کے لیے (14) بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، قریب ہے کہ چھپاؤں میں اس کو تاکہ بدلہ دیا جائے ہر جان کو، اس کا جو وہ کوشش کرتا ہے (15)
[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے استفہام تقریری کے طور پر اور اس قصہء مذکورہ کی تعظیم اور عظمت کی خاطر، فرماتا ہے:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’کیا آپ کے پاس موسیٰ کی بات آئی؟‘‘ یعنی جناب موسیٰ u کی اس حالت کا قصہ، جو ان کی سعادت کی بنیاد اور ان کی نبوت کی ابتدا تھی کہ انھیں بہت دور سے آگ نظر آئی اور وہ راستے سے بھٹک گئے تھے اور سردی محسوس کر رہے تھے اور ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے وہ اپنے سفر میں گرمی حاصل کر سکیں ۔ ﴿ اِذۡ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ ’’تو انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا، ذرا ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے‘‘ اور یہ آگ کوہ طور کے دائیں جانب تھی۔ ﴿ لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِقَبَسٍ ﴾ ’’شاید میں تمھارے پاس اس میں سے ایک انگارہ لاؤں ۔‘‘ تاکہ تم اس سے آگ تاپ سکو ﴿اَوۡ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى ﴾ یا اس آگ کے پاس مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے راستہ بتا دے۔ موسیٰu کا مقصود تو حسی روشنی اور حسی ہدایت تھا۔ مگر انھوں نے وہاں معنوی نور یعنی نورِ وحی پا لیا۔ جس سے قلوب و ارواح روشن ہوتے ہیں اور انھیں حقیقی ہدایت یعنی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل ہوئی جو نعمتوں بھری جنت کو جاتی ہے۔ حضرت موسیٰu ایک ایسی چیز سے بہرہ ور ہوئے جو ان کے کسی حساب اور خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔
[11]﴿ فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا ﴾ یعنی جب حضرت موسیٰ u اس آگ کے پاس پہنچے جو انھوں نے دور سے دیکھی تھی… جو درحقیقت نور تھا اور وہ ایسی آگ ہے جو جلا ڈالتی ہے اور روشنی دیتی ہے اس حقیقت پر رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے ’حِجَابُہُ النُّورُ۔ وَفِي رِوَایَۃٍ: النَّارُ۔ لَوْ کَشَفَہُ لأَ حْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْھِہِ مَا انْتَھَی إِلَیْہِ بَصَرُہُ‘(صحیح مسلم، الإیمان، باب فی قولہﷺ،(ان اللہ لاینام)…، ح:179) ’’اس کا حجاب نور ہے ایک روایت میں ہے: آگ۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال حد نگاہ تک ہر چیز کو بھسم کر ڈالے۔‘‘ جب موسیٰ u وہاں پہنچے تو اس میں سے آواز آئی یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو ندا دی جیسا کہ ارشاد فرمایا: ﴿ وَنَادَيۡنٰهُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنِ وَقَرَّبۡنٰهُ نَؔجِيًّا ﴾(مریم:19؍52) ’’ہم نے اسے کوہ طور کی دائیں جانب سے پکارا اور سرگوشی کرنے کے لیے اس کو قریب کیا۔‘‘
[12]﴿ اِنِّيۡۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخۡلَعۡ نَعۡلَيۡكَ١ۚ اِنَّكَ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ موسیٰu کا رب ہے اور حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مناجات کے لیے تیار اور اس کا اہتمام کر لیں اور اپنے جوتے اتار دیں کیونکہ وہ مقدس، پاک اور قابل تعظیم وادی میں ہیں ۔ اگر وادی کی تقدیس کے لیے کوئی اور چیز نہ ہوتی تب بھی حضرت موسیٰ کلیم اللہu کو مناجات کے لیے چن لینا ہی کافی تھا۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو جوتے اتارنے کا اس لیے حکم دیا تھا کیونکہ وہ گدھے کی کھال سے بنے ہوئے تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
[13]﴿ وَاَنَا اخۡتَرۡتُكَ ﴾ یعنی میں نے لوگوں میں سے تجھے چن لیا ہے۔ یہ سب سے بڑی نعمت اور احسان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کو نوازا جو اس شکر کا تقاضا کرتی ہے جو اس کے لائق ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَاسۡتَمِعۡ لِمَا يُوۡحٰؔى ﴾ یعنی اس وحی کو غور سے سن جو تیری طرف کی جا رہی ہے، وہ اس کی مستحق ہے کہ اس کو غور سے سنا جائے کیونکہ یہ دین کی اساس اور دعوت اسلامی کا ستون ہے۔
[14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس وحی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا ﴾’’بے شک میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اللہ ہی ہے جو الوہیت کا مستحق اور اس سے متصف ہے کیونکہ وہ اسماء و صفات میں کامل اور اپنے افعال میں منفرد ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ مثیل اور جس کا کوئی ہمسر ہے نہ برابری کرنے والا۔﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ﴾ ’’پس میری ہی عبادت کر۔‘‘ عبادت کی ظاہری اور باطنی،اصولی اور فروعی تمام انواع کے ذریعے سے، پھر نماز کا بطور خاص ذکر فرمایا، حالانکہ نماز عبادت میں داخل ہے۔ اس کی ایک وجہ نماز کا شرف و فضل ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نماز ایسی عبادت ہے جو دل، زبان اور اعضاء کی عبادت کو متضمن ہے۔ ﴿ لِـذِكۡرِيۡ ﴾ یہاں لام تعلیل کے لیے ہے، یعنی میرے ذکر کی خاطر نماز قائم کر کیونکہ ذکر الٰہی جلیل ترین مقصد ہے، علاوہ ازیں یہ عبودیت قلب کو متضمن ہے اور اسی پر انسان کی سعادت کا دارومدار ہے۔ پس ذکر الٰہی سے خالی دل، ہر بھلائی سے محروم ہو کر پوری طرح برباد ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مختلف انواع کی عبادات مشروع فرمائی ہیں ، خاص طور پر نماز تو ان عبادات کا مقصد صرف ذکر الٰہی کا قیام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ مِنَ الۡكِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡؔكَرِ١ؕ وَلَذِكۡرُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ ﴾(العنبکوت:29؍45) ’’اس کتاب کی تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کیجیے بے شک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور ذکر الٰہی اس سے بھی بڑی چیز ہے۔‘‘ یعنی نماز کے اندر اللہ تعالیٰ کا جو ذکر ہے، وہ نماز کے فحش اور برے کاموں سے روکنے سے زیادہ بڑی چیز ہے۔ عبادت کی اس نوع کو توحید الوہیت اور توحید عبادت کہا جاتا ہے۔ الوہیت اللہ تعالیٰ کا وصف ہے اور عبودیت بندے کا وصف ہے۔
[15]﴿ اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی کا واقع ہونا لازمی امر ہے۔ ﴿ اَكَادُ اُخۡفِيۡهَا ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی خود آپﷺ سے چھپی ہوئی ہے، جیسا کہ بعض قراء ت میں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے:﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾(الاحزاب:33؍63) ’’آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دیجیے اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾(لقمان:31؍34) ’’قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم کو تمام مخلوقات سے چھپا رکھا ہے قیامت کے بارے میں کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ کوئی نبی ٔ مرسل۔اور قیامت کے آنے کی حکمت یہ ہے کہ ﴿ لِتُجۡزٰى كُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا تَسۡعٰى ﴾ ہر شخص نے جو بھلے یا برے اعمال میں بھاگ دوڑ کی ہے اس کو ان کی جزا دی جائے کیونکہ قیامت دارالجزا کا دروازہ ہے۔ ﴿ لِيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا بِالۡحُسۡنٰى﴾(النجم:53؍31) ’’تاکہ جن لوگوں نے برے کام کیے، انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جنھوں نے نیک کام کیے ان کو اچھا بدلہ دے۔‘‘
20:11فَلَمَّآ أَتَىٰهَا نُودِيَ يَٰمُوسَىٰٓ
اور کیا آئی ہے آپ کے پاس بات موسی کی؟ (9) جب اس نے دیکھی آگ تو کہا اپنے گھر والوں سے، ٹھہرو تم، بلاشبہ میں نے دیکھی ہے آگ تاکہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس میں سے کوئی انگارا یا میں پاؤں آگ کے پاس راستہ بتلانے والا (10) پس جب وہ آیا اس آگ کے پاس تو آواز دیا گیا، اے موسی! (11) بے شک میں تیرا رب ہوں ، سو تو اتار دے اپنی جوتیاں ، بلاشبہ تو وادیٔ مقدس طُویٰ میں ہے (12) اور میں نے تجھے پسند کر لیا ہے، پس تو غور سے سن اس کو جو وحی کی جاتی ہے (13) بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں ، نہیں کوئی معبود (برحق) مگر میں ہی، سو تو عبادت کر میری ہی اور قائم کر نماز میرے ذکر کے لیے (14) بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، قریب ہے کہ چھپاؤں میں اس کو تاکہ بدلہ دیا جائے ہر جان کو، اس کا جو وہ کوشش کرتا ہے (15)
[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے استفہام تقریری کے طور پر اور اس قصہء مذکورہ کی تعظیم اور عظمت کی خاطر، فرماتا ہے:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’کیا آپ کے پاس موسیٰ کی بات آئی؟‘‘ یعنی جناب موسیٰ u کی اس حالت کا قصہ، جو ان کی سعادت کی بنیاد اور ان کی نبوت کی ابتدا تھی کہ انھیں بہت دور سے آگ نظر آئی اور وہ راستے سے بھٹک گئے تھے اور سردی محسوس کر رہے تھے اور ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے وہ اپنے سفر میں گرمی حاصل کر سکیں ۔ ﴿ اِذۡ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ ’’تو انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا، ذرا ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے‘‘ اور یہ آگ کوہ طور کے دائیں جانب تھی۔ ﴿ لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِقَبَسٍ ﴾ ’’شاید میں تمھارے پاس اس میں سے ایک انگارہ لاؤں ۔‘‘ تاکہ تم اس سے آگ تاپ سکو ﴿اَوۡ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى ﴾ یا اس آگ کے پاس مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے راستہ بتا دے۔ موسیٰu کا مقصود تو حسی روشنی اور حسی ہدایت تھا۔ مگر انھوں نے وہاں معنوی نور یعنی نورِ وحی پا لیا۔ جس سے قلوب و ارواح روشن ہوتے ہیں اور انھیں حقیقی ہدایت یعنی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل ہوئی جو نعمتوں بھری جنت کو جاتی ہے۔ حضرت موسیٰu ایک ایسی چیز سے بہرہ ور ہوئے جو ان کے کسی حساب اور خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔
[11]﴿ فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا ﴾ یعنی جب حضرت موسیٰ u اس آگ کے پاس پہنچے جو انھوں نے دور سے دیکھی تھی… جو درحقیقت نور تھا اور وہ ایسی آگ ہے جو جلا ڈالتی ہے اور روشنی دیتی ہے اس حقیقت پر رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے ’حِجَابُہُ النُّورُ۔ وَفِي رِوَایَۃٍ: النَّارُ۔ لَوْ کَشَفَہُ لأَ حْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْھِہِ مَا انْتَھَی إِلَیْہِ بَصَرُہُ‘(صحیح مسلم، الإیمان، باب فی قولہﷺ،(ان اللہ لاینام)…، ح:179) ’’اس کا حجاب نور ہے ایک روایت میں ہے: آگ۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال حد نگاہ تک ہر چیز کو بھسم کر ڈالے۔‘‘ جب موسیٰ u وہاں پہنچے تو اس میں سے آواز آئی یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو ندا دی جیسا کہ ارشاد فرمایا: ﴿ وَنَادَيۡنٰهُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنِ وَقَرَّبۡنٰهُ نَؔجِيًّا ﴾(مریم:19؍52) ’’ہم نے اسے کوہ طور کی دائیں جانب سے پکارا اور سرگوشی کرنے کے لیے اس کو قریب کیا۔‘‘
[12]﴿ اِنِّيۡۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخۡلَعۡ نَعۡلَيۡكَ١ۚ اِنَّكَ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ موسیٰu کا رب ہے اور حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مناجات کے لیے تیار اور اس کا اہتمام کر لیں اور اپنے جوتے اتار دیں کیونکہ وہ مقدس، پاک اور قابل تعظیم وادی میں ہیں ۔ اگر وادی کی تقدیس کے لیے کوئی اور چیز نہ ہوتی تب بھی حضرت موسیٰ کلیم اللہu کو مناجات کے لیے چن لینا ہی کافی تھا۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو جوتے اتارنے کا اس لیے حکم دیا تھا کیونکہ وہ گدھے کی کھال سے بنے ہوئے تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
[13]﴿ وَاَنَا اخۡتَرۡتُكَ ﴾ یعنی میں نے لوگوں میں سے تجھے چن لیا ہے۔ یہ سب سے بڑی نعمت اور احسان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کو نوازا جو اس شکر کا تقاضا کرتی ہے جو اس کے لائق ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَاسۡتَمِعۡ لِمَا يُوۡحٰؔى ﴾ یعنی اس وحی کو غور سے سن جو تیری طرف کی جا رہی ہے، وہ اس کی مستحق ہے کہ اس کو غور سے سنا جائے کیونکہ یہ دین کی اساس اور دعوت اسلامی کا ستون ہے۔
[14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس وحی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا ﴾’’بے شک میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اللہ ہی ہے جو الوہیت کا مستحق اور اس سے متصف ہے کیونکہ وہ اسماء و صفات میں کامل اور اپنے افعال میں منفرد ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ مثیل اور جس کا کوئی ہمسر ہے نہ برابری کرنے والا۔﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ﴾ ’’پس میری ہی عبادت کر۔‘‘ عبادت کی ظاہری اور باطنی،اصولی اور فروعی تمام انواع کے ذریعے سے، پھر نماز کا بطور خاص ذکر فرمایا، حالانکہ نماز عبادت میں داخل ہے۔ اس کی ایک وجہ نماز کا شرف و فضل ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نماز ایسی عبادت ہے جو دل، زبان اور اعضاء کی عبادت کو متضمن ہے۔ ﴿ لِـذِكۡرِيۡ ﴾ یہاں لام تعلیل کے لیے ہے، یعنی میرے ذکر کی خاطر نماز قائم کر کیونکہ ذکر الٰہی جلیل ترین مقصد ہے، علاوہ ازیں یہ عبودیت قلب کو متضمن ہے اور اسی پر انسان کی سعادت کا دارومدار ہے۔ پس ذکر الٰہی سے خالی دل، ہر بھلائی سے محروم ہو کر پوری طرح برباد ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مختلف انواع کی عبادات مشروع فرمائی ہیں ، خاص طور پر نماز تو ان عبادات کا مقصد صرف ذکر الٰہی کا قیام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ مِنَ الۡكِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡؔكَرِ١ؕ وَلَذِكۡرُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ ﴾(العنبکوت:29؍45) ’’اس کتاب کی تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کیجیے بے شک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور ذکر الٰہی اس سے بھی بڑی چیز ہے۔‘‘ یعنی نماز کے اندر اللہ تعالیٰ کا جو ذکر ہے، وہ نماز کے فحش اور برے کاموں سے روکنے سے زیادہ بڑی چیز ہے۔ عبادت کی اس نوع کو توحید الوہیت اور توحید عبادت کہا جاتا ہے۔ الوہیت اللہ تعالیٰ کا وصف ہے اور عبودیت بندے کا وصف ہے۔
[15]﴿ اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی کا واقع ہونا لازمی امر ہے۔ ﴿ اَكَادُ اُخۡفِيۡهَا ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی خود آپﷺ سے چھپی ہوئی ہے، جیسا کہ بعض قراء ت میں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے:﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾(الاحزاب:33؍63) ’’آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دیجیے اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾(لقمان:31؍34) ’’قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم کو تمام مخلوقات سے چھپا رکھا ہے قیامت کے بارے میں کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ کوئی نبی ٔ مرسل۔اور قیامت کے آنے کی حکمت یہ ہے کہ ﴿ لِتُجۡزٰى كُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا تَسۡعٰى ﴾ ہر شخص نے جو بھلے یا برے اعمال میں بھاگ دوڑ کی ہے اس کو ان کی جزا دی جائے کیونکہ قیامت دارالجزا کا دروازہ ہے۔ ﴿ لِيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا بِالۡحُسۡنٰى﴾(النجم:53؍31) ’’تاکہ جن لوگوں نے برے کام کیے، انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جنھوں نے نیک کام کیے ان کو اچھا بدلہ دے۔‘‘
20:12إِنِّيٓ أَنَا۠ رَبُّكَ فَٱخۡلَعۡ نَعۡلَيۡكَ إِنَّكَ بِٱلۡوَادِ ٱلۡمُقَدَّسِ طُوٗى
اور کیا آئی ہے آپ کے پاس بات موسی کی؟ (9) جب اس نے دیکھی آگ تو کہا اپنے گھر والوں سے، ٹھہرو تم، بلاشبہ میں نے دیکھی ہے آگ تاکہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس میں سے کوئی انگارا یا میں پاؤں آگ کے پاس راستہ بتلانے والا (10) پس جب وہ آیا اس آگ کے پاس تو آواز دیا گیا، اے موسی! (11) بے شک میں تیرا رب ہوں ، سو تو اتار دے اپنی جوتیاں ، بلاشبہ تو وادیٔ مقدس طُویٰ میں ہے (12) اور میں نے تجھے پسند کر لیا ہے، پس تو غور سے سن اس کو جو وحی کی جاتی ہے (13) بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں ، نہیں کوئی معبود (برحق) مگر میں ہی، سو تو عبادت کر میری ہی اور قائم کر نماز میرے ذکر کے لیے (14) بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، قریب ہے کہ چھپاؤں میں اس کو تاکہ بدلہ دیا جائے ہر جان کو، اس کا جو وہ کوشش کرتا ہے (15)
[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے استفہام تقریری کے طور پر اور اس قصہء مذکورہ کی تعظیم اور عظمت کی خاطر، فرماتا ہے:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’کیا آپ کے پاس موسیٰ کی بات آئی؟‘‘ یعنی جناب موسیٰ u کی اس حالت کا قصہ، جو ان کی سعادت کی بنیاد اور ان کی نبوت کی ابتدا تھی کہ انھیں بہت دور سے آگ نظر آئی اور وہ راستے سے بھٹک گئے تھے اور سردی محسوس کر رہے تھے اور ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے وہ اپنے سفر میں گرمی حاصل کر سکیں ۔ ﴿ اِذۡ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ ’’تو انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا، ذرا ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے‘‘ اور یہ آگ کوہ طور کے دائیں جانب تھی۔ ﴿ لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِقَبَسٍ ﴾ ’’شاید میں تمھارے پاس اس میں سے ایک انگارہ لاؤں ۔‘‘ تاکہ تم اس سے آگ تاپ سکو ﴿اَوۡ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى ﴾ یا اس آگ کے پاس مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے راستہ بتا دے۔ موسیٰu کا مقصود تو حسی روشنی اور حسی ہدایت تھا۔ مگر انھوں نے وہاں معنوی نور یعنی نورِ وحی پا لیا۔ جس سے قلوب و ارواح روشن ہوتے ہیں اور انھیں حقیقی ہدایت یعنی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل ہوئی جو نعمتوں بھری جنت کو جاتی ہے۔ حضرت موسیٰu ایک ایسی چیز سے بہرہ ور ہوئے جو ان کے کسی حساب اور خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔
[11]﴿ فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا ﴾ یعنی جب حضرت موسیٰ u اس آگ کے پاس پہنچے جو انھوں نے دور سے دیکھی تھی… جو درحقیقت نور تھا اور وہ ایسی آگ ہے جو جلا ڈالتی ہے اور روشنی دیتی ہے اس حقیقت پر رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے ’حِجَابُہُ النُّورُ۔ وَفِي رِوَایَۃٍ: النَّارُ۔ لَوْ کَشَفَہُ لأَ حْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْھِہِ مَا انْتَھَی إِلَیْہِ بَصَرُہُ‘(صحیح مسلم، الإیمان، باب فی قولہﷺ،(ان اللہ لاینام)…، ح:179) ’’اس کا حجاب نور ہے ایک روایت میں ہے: آگ۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال حد نگاہ تک ہر چیز کو بھسم کر ڈالے۔‘‘ جب موسیٰ u وہاں پہنچے تو اس میں سے آواز آئی یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو ندا دی جیسا کہ ارشاد فرمایا: ﴿ وَنَادَيۡنٰهُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنِ وَقَرَّبۡنٰهُ نَؔجِيًّا ﴾(مریم:19؍52) ’’ہم نے اسے کوہ طور کی دائیں جانب سے پکارا اور سرگوشی کرنے کے لیے اس کو قریب کیا۔‘‘
[12]﴿ اِنِّيۡۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخۡلَعۡ نَعۡلَيۡكَ١ۚ اِنَّكَ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ موسیٰu کا رب ہے اور حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مناجات کے لیے تیار اور اس کا اہتمام کر لیں اور اپنے جوتے اتار دیں کیونکہ وہ مقدس، پاک اور قابل تعظیم وادی میں ہیں ۔ اگر وادی کی تقدیس کے لیے کوئی اور چیز نہ ہوتی تب بھی حضرت موسیٰ کلیم اللہu کو مناجات کے لیے چن لینا ہی کافی تھا۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو جوتے اتارنے کا اس لیے حکم دیا تھا کیونکہ وہ گدھے کی کھال سے بنے ہوئے تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
[13]﴿ وَاَنَا اخۡتَرۡتُكَ ﴾ یعنی میں نے لوگوں میں سے تجھے چن لیا ہے۔ یہ سب سے بڑی نعمت اور احسان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کو نوازا جو اس شکر کا تقاضا کرتی ہے جو اس کے لائق ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَاسۡتَمِعۡ لِمَا يُوۡحٰؔى ﴾ یعنی اس وحی کو غور سے سن جو تیری طرف کی جا رہی ہے، وہ اس کی مستحق ہے کہ اس کو غور سے سنا جائے کیونکہ یہ دین کی اساس اور دعوت اسلامی کا ستون ہے۔
[14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس وحی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا ﴾’’بے شک میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اللہ ہی ہے جو الوہیت کا مستحق اور اس سے متصف ہے کیونکہ وہ اسماء و صفات میں کامل اور اپنے افعال میں منفرد ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ مثیل اور جس کا کوئی ہمسر ہے نہ برابری کرنے والا۔﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ﴾ ’’پس میری ہی عبادت کر۔‘‘ عبادت کی ظاہری اور باطنی،اصولی اور فروعی تمام انواع کے ذریعے سے، پھر نماز کا بطور خاص ذکر فرمایا، حالانکہ نماز عبادت میں داخل ہے۔ اس کی ایک وجہ نماز کا شرف و فضل ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نماز ایسی عبادت ہے جو دل، زبان اور اعضاء کی عبادت کو متضمن ہے۔ ﴿ لِـذِكۡرِيۡ ﴾ یہاں لام تعلیل کے لیے ہے، یعنی میرے ذکر کی خاطر نماز قائم کر کیونکہ ذکر الٰہی جلیل ترین مقصد ہے، علاوہ ازیں یہ عبودیت قلب کو متضمن ہے اور اسی پر انسان کی سعادت کا دارومدار ہے۔ پس ذکر الٰہی سے خالی دل، ہر بھلائی سے محروم ہو کر پوری طرح برباد ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مختلف انواع کی عبادات مشروع فرمائی ہیں ، خاص طور پر نماز تو ان عبادات کا مقصد صرف ذکر الٰہی کا قیام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ مِنَ الۡكِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡؔكَرِ١ؕ وَلَذِكۡرُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ ﴾(العنبکوت:29؍45) ’’اس کتاب کی تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کیجیے بے شک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور ذکر الٰہی اس سے بھی بڑی چیز ہے۔‘‘ یعنی نماز کے اندر اللہ تعالیٰ کا جو ذکر ہے، وہ نماز کے فحش اور برے کاموں سے روکنے سے زیادہ بڑی چیز ہے۔ عبادت کی اس نوع کو توحید الوہیت اور توحید عبادت کہا جاتا ہے۔ الوہیت اللہ تعالیٰ کا وصف ہے اور عبودیت بندے کا وصف ہے۔
[15]﴿ اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی کا واقع ہونا لازمی امر ہے۔ ﴿ اَكَادُ اُخۡفِيۡهَا ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی خود آپﷺ سے چھپی ہوئی ہے، جیسا کہ بعض قراء ت میں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے:﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾(الاحزاب:33؍63) ’’آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دیجیے اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾(لقمان:31؍34) ’’قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم کو تمام مخلوقات سے چھپا رکھا ہے قیامت کے بارے میں کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ کوئی نبی ٔ مرسل۔اور قیامت کے آنے کی حکمت یہ ہے کہ ﴿ لِتُجۡزٰى كُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا تَسۡعٰى ﴾ ہر شخص نے جو بھلے یا برے اعمال میں بھاگ دوڑ کی ہے اس کو ان کی جزا دی جائے کیونکہ قیامت دارالجزا کا دروازہ ہے۔ ﴿ لِيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا بِالۡحُسۡنٰى﴾(النجم:53؍31) ’’تاکہ جن لوگوں نے برے کام کیے، انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جنھوں نے نیک کام کیے ان کو اچھا بدلہ دے۔‘‘
20:13وَأَنَا ٱخۡتَرۡتُكَ فَٱسۡتَمِعۡ لِمَا يُوحَىٰٓ
اور کیا آئی ہے آپ کے پاس بات موسی کی؟ (9) جب اس نے دیکھی آگ تو کہا اپنے گھر والوں سے، ٹھہرو تم، بلاشبہ میں نے دیکھی ہے آگ تاکہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس میں سے کوئی انگارا یا میں پاؤں آگ کے پاس راستہ بتلانے والا (10) پس جب وہ آیا اس آگ کے پاس تو آواز دیا گیا، اے موسی! (11) بے شک میں تیرا رب ہوں ، سو تو اتار دے اپنی جوتیاں ، بلاشبہ تو وادیٔ مقدس طُویٰ میں ہے (12) اور میں نے تجھے پسند کر لیا ہے، پس تو غور سے سن اس کو جو وحی کی جاتی ہے (13) بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں ، نہیں کوئی معبود (برحق) مگر میں ہی، سو تو عبادت کر میری ہی اور قائم کر نماز میرے ذکر کے لیے (14) بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، قریب ہے کہ چھپاؤں میں اس کو تاکہ بدلہ دیا جائے ہر جان کو، اس کا جو وہ کوشش کرتا ہے (15)
[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے استفہام تقریری کے طور پر اور اس قصہء مذکورہ کی تعظیم اور عظمت کی خاطر، فرماتا ہے:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’کیا آپ کے پاس موسیٰ کی بات آئی؟‘‘ یعنی جناب موسیٰ u کی اس حالت کا قصہ، جو ان کی سعادت کی بنیاد اور ان کی نبوت کی ابتدا تھی کہ انھیں بہت دور سے آگ نظر آئی اور وہ راستے سے بھٹک گئے تھے اور سردی محسوس کر رہے تھے اور ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے وہ اپنے سفر میں گرمی حاصل کر سکیں ۔ ﴿ اِذۡ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ ’’تو انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا، ذرا ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے‘‘ اور یہ آگ کوہ طور کے دائیں جانب تھی۔ ﴿ لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِقَبَسٍ ﴾ ’’شاید میں تمھارے پاس اس میں سے ایک انگارہ لاؤں ۔‘‘ تاکہ تم اس سے آگ تاپ سکو ﴿اَوۡ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى ﴾ یا اس آگ کے پاس مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے راستہ بتا دے۔ موسیٰu کا مقصود تو حسی روشنی اور حسی ہدایت تھا۔ مگر انھوں نے وہاں معنوی نور یعنی نورِ وحی پا لیا۔ جس سے قلوب و ارواح روشن ہوتے ہیں اور انھیں حقیقی ہدایت یعنی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل ہوئی جو نعمتوں بھری جنت کو جاتی ہے۔ حضرت موسیٰu ایک ایسی چیز سے بہرہ ور ہوئے جو ان کے کسی حساب اور خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔
[11]﴿ فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا ﴾ یعنی جب حضرت موسیٰ u اس آگ کے پاس پہنچے جو انھوں نے دور سے دیکھی تھی… جو درحقیقت نور تھا اور وہ ایسی آگ ہے جو جلا ڈالتی ہے اور روشنی دیتی ہے اس حقیقت پر رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے ’حِجَابُہُ النُّورُ۔ وَفِي رِوَایَۃٍ: النَّارُ۔ لَوْ کَشَفَہُ لأَ حْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْھِہِ مَا انْتَھَی إِلَیْہِ بَصَرُہُ‘(صحیح مسلم، الإیمان، باب فی قولہﷺ،(ان اللہ لاینام)…، ح:179) ’’اس کا حجاب نور ہے ایک روایت میں ہے: آگ۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال حد نگاہ تک ہر چیز کو بھسم کر ڈالے۔‘‘ جب موسیٰ u وہاں پہنچے تو اس میں سے آواز آئی یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو ندا دی جیسا کہ ارشاد فرمایا: ﴿ وَنَادَيۡنٰهُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنِ وَقَرَّبۡنٰهُ نَؔجِيًّا ﴾(مریم:19؍52) ’’ہم نے اسے کوہ طور کی دائیں جانب سے پکارا اور سرگوشی کرنے کے لیے اس کو قریب کیا۔‘‘
[12]﴿ اِنِّيۡۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخۡلَعۡ نَعۡلَيۡكَ١ۚ اِنَّكَ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ موسیٰu کا رب ہے اور حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مناجات کے لیے تیار اور اس کا اہتمام کر لیں اور اپنے جوتے اتار دیں کیونکہ وہ مقدس، پاک اور قابل تعظیم وادی میں ہیں ۔ اگر وادی کی تقدیس کے لیے کوئی اور چیز نہ ہوتی تب بھی حضرت موسیٰ کلیم اللہu کو مناجات کے لیے چن لینا ہی کافی تھا۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو جوتے اتارنے کا اس لیے حکم دیا تھا کیونکہ وہ گدھے کی کھال سے بنے ہوئے تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
[13]﴿ وَاَنَا اخۡتَرۡتُكَ ﴾ یعنی میں نے لوگوں میں سے تجھے چن لیا ہے۔ یہ سب سے بڑی نعمت اور احسان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کو نوازا جو اس شکر کا تقاضا کرتی ہے جو اس کے لائق ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَاسۡتَمِعۡ لِمَا يُوۡحٰؔى ﴾ یعنی اس وحی کو غور سے سن جو تیری طرف کی جا رہی ہے، وہ اس کی مستحق ہے کہ اس کو غور سے سنا جائے کیونکہ یہ دین کی اساس اور دعوت اسلامی کا ستون ہے۔
[14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس وحی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا ﴾’’بے شک میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اللہ ہی ہے جو الوہیت کا مستحق اور اس سے متصف ہے کیونکہ وہ اسماء و صفات میں کامل اور اپنے افعال میں منفرد ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ مثیل اور جس کا کوئی ہمسر ہے نہ برابری کرنے والا۔﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ﴾ ’’پس میری ہی عبادت کر۔‘‘ عبادت کی ظاہری اور باطنی،اصولی اور فروعی تمام انواع کے ذریعے سے، پھر نماز کا بطور خاص ذکر فرمایا، حالانکہ نماز عبادت میں داخل ہے۔ اس کی ایک وجہ نماز کا شرف و فضل ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نماز ایسی عبادت ہے جو دل، زبان اور اعضاء کی عبادت کو متضمن ہے۔ ﴿ لِـذِكۡرِيۡ ﴾ یہاں لام تعلیل کے لیے ہے، یعنی میرے ذکر کی خاطر نماز قائم کر کیونکہ ذکر الٰہی جلیل ترین مقصد ہے، علاوہ ازیں یہ عبودیت قلب کو متضمن ہے اور اسی پر انسان کی سعادت کا دارومدار ہے۔ پس ذکر الٰہی سے خالی دل، ہر بھلائی سے محروم ہو کر پوری طرح برباد ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مختلف انواع کی عبادات مشروع فرمائی ہیں ، خاص طور پر نماز تو ان عبادات کا مقصد صرف ذکر الٰہی کا قیام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ مِنَ الۡكِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡؔكَرِ١ؕ وَلَذِكۡرُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ ﴾(العنبکوت:29؍45) ’’اس کتاب کی تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کیجیے بے شک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور ذکر الٰہی اس سے بھی بڑی چیز ہے۔‘‘ یعنی نماز کے اندر اللہ تعالیٰ کا جو ذکر ہے، وہ نماز کے فحش اور برے کاموں سے روکنے سے زیادہ بڑی چیز ہے۔ عبادت کی اس نوع کو توحید الوہیت اور توحید عبادت کہا جاتا ہے۔ الوہیت اللہ تعالیٰ کا وصف ہے اور عبودیت بندے کا وصف ہے۔
[15]﴿ اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی کا واقع ہونا لازمی امر ہے۔ ﴿ اَكَادُ اُخۡفِيۡهَا ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی خود آپﷺ سے چھپی ہوئی ہے، جیسا کہ بعض قراء ت میں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے:﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾(الاحزاب:33؍63) ’’آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دیجیے اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾(لقمان:31؍34) ’’قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم کو تمام مخلوقات سے چھپا رکھا ہے قیامت کے بارے میں کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ کوئی نبی ٔ مرسل۔اور قیامت کے آنے کی حکمت یہ ہے کہ ﴿ لِتُجۡزٰى كُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا تَسۡعٰى ﴾ ہر شخص نے جو بھلے یا برے اعمال میں بھاگ دوڑ کی ہے اس کو ان کی جزا دی جائے کیونکہ قیامت دارالجزا کا دروازہ ہے۔ ﴿ لِيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا بِالۡحُسۡنٰى﴾(النجم:53؍31) ’’تاکہ جن لوگوں نے برے کام کیے، انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جنھوں نے نیک کام کیے ان کو اچھا بدلہ دے۔‘‘
20:14إِنَّنِيٓ أَنَا ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعۡبُدۡنِي وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِذِكۡرِيٓ
اور کیا آئی ہے آپ کے پاس بات موسی کی؟ (9) جب اس نے دیکھی آگ تو کہا اپنے گھر والوں سے، ٹھہرو تم، بلاشبہ میں نے دیکھی ہے آگ تاکہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس میں سے کوئی انگارا یا میں پاؤں آگ کے پاس راستہ بتلانے والا (10) پس جب وہ آیا اس آگ کے پاس تو آواز دیا گیا، اے موسی! (11) بے شک میں تیرا رب ہوں ، سو تو اتار دے اپنی جوتیاں ، بلاشبہ تو وادیٔ مقدس طُویٰ میں ہے (12) اور میں نے تجھے پسند کر لیا ہے، پس تو غور سے سن اس کو جو وحی کی جاتی ہے (13) بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں ، نہیں کوئی معبود (برحق) مگر میں ہی، سو تو عبادت کر میری ہی اور قائم کر نماز میرے ذکر کے لیے (14) بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، قریب ہے کہ چھپاؤں میں اس کو تاکہ بدلہ دیا جائے ہر جان کو، اس کا جو وہ کوشش کرتا ہے (15)
[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے استفہام تقریری کے طور پر اور اس قصہء مذکورہ کی تعظیم اور عظمت کی خاطر، فرماتا ہے:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’کیا آپ کے پاس موسیٰ کی بات آئی؟‘‘ یعنی جناب موسیٰ u کی اس حالت کا قصہ، جو ان کی سعادت کی بنیاد اور ان کی نبوت کی ابتدا تھی کہ انھیں بہت دور سے آگ نظر آئی اور وہ راستے سے بھٹک گئے تھے اور سردی محسوس کر رہے تھے اور ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے وہ اپنے سفر میں گرمی حاصل کر سکیں ۔ ﴿ اِذۡ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ ’’تو انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا، ذرا ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے‘‘ اور یہ آگ کوہ طور کے دائیں جانب تھی۔ ﴿ لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِقَبَسٍ ﴾ ’’شاید میں تمھارے پاس اس میں سے ایک انگارہ لاؤں ۔‘‘ تاکہ تم اس سے آگ تاپ سکو ﴿اَوۡ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى ﴾ یا اس آگ کے پاس مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے راستہ بتا دے۔ موسیٰu کا مقصود تو حسی روشنی اور حسی ہدایت تھا۔ مگر انھوں نے وہاں معنوی نور یعنی نورِ وحی پا لیا۔ جس سے قلوب و ارواح روشن ہوتے ہیں اور انھیں حقیقی ہدایت یعنی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل ہوئی جو نعمتوں بھری جنت کو جاتی ہے۔ حضرت موسیٰu ایک ایسی چیز سے بہرہ ور ہوئے جو ان کے کسی حساب اور خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔
[11]﴿ فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا ﴾ یعنی جب حضرت موسیٰ u اس آگ کے پاس پہنچے جو انھوں نے دور سے دیکھی تھی… جو درحقیقت نور تھا اور وہ ایسی آگ ہے جو جلا ڈالتی ہے اور روشنی دیتی ہے اس حقیقت پر رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے ’حِجَابُہُ النُّورُ۔ وَفِي رِوَایَۃٍ: النَّارُ۔ لَوْ کَشَفَہُ لأَ حْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْھِہِ مَا انْتَھَی إِلَیْہِ بَصَرُہُ‘(صحیح مسلم، الإیمان، باب فی قولہﷺ،(ان اللہ لاینام)…، ح:179) ’’اس کا حجاب نور ہے ایک روایت میں ہے: آگ۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال حد نگاہ تک ہر چیز کو بھسم کر ڈالے۔‘‘ جب موسیٰ u وہاں پہنچے تو اس میں سے آواز آئی یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو ندا دی جیسا کہ ارشاد فرمایا: ﴿ وَنَادَيۡنٰهُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنِ وَقَرَّبۡنٰهُ نَؔجِيًّا ﴾(مریم:19؍52) ’’ہم نے اسے کوہ طور کی دائیں جانب سے پکارا اور سرگوشی کرنے کے لیے اس کو قریب کیا۔‘‘
[12]﴿ اِنِّيۡۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخۡلَعۡ نَعۡلَيۡكَ١ۚ اِنَّكَ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ موسیٰu کا رب ہے اور حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مناجات کے لیے تیار اور اس کا اہتمام کر لیں اور اپنے جوتے اتار دیں کیونکہ وہ مقدس، پاک اور قابل تعظیم وادی میں ہیں ۔ اگر وادی کی تقدیس کے لیے کوئی اور چیز نہ ہوتی تب بھی حضرت موسیٰ کلیم اللہu کو مناجات کے لیے چن لینا ہی کافی تھا۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو جوتے اتارنے کا اس لیے حکم دیا تھا کیونکہ وہ گدھے کی کھال سے بنے ہوئے تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
[13]﴿ وَاَنَا اخۡتَرۡتُكَ ﴾ یعنی میں نے لوگوں میں سے تجھے چن لیا ہے۔ یہ سب سے بڑی نعمت اور احسان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کو نوازا جو اس شکر کا تقاضا کرتی ہے جو اس کے لائق ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَاسۡتَمِعۡ لِمَا يُوۡحٰؔى ﴾ یعنی اس وحی کو غور سے سن جو تیری طرف کی جا رہی ہے، وہ اس کی مستحق ہے کہ اس کو غور سے سنا جائے کیونکہ یہ دین کی اساس اور دعوت اسلامی کا ستون ہے۔
[14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس وحی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا ﴾’’بے شک میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اللہ ہی ہے جو الوہیت کا مستحق اور اس سے متصف ہے کیونکہ وہ اسماء و صفات میں کامل اور اپنے افعال میں منفرد ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ مثیل اور جس کا کوئی ہمسر ہے نہ برابری کرنے والا۔﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ﴾ ’’پس میری ہی عبادت کر۔‘‘ عبادت کی ظاہری اور باطنی،اصولی اور فروعی تمام انواع کے ذریعے سے، پھر نماز کا بطور خاص ذکر فرمایا، حالانکہ نماز عبادت میں داخل ہے۔ اس کی ایک وجہ نماز کا شرف و فضل ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نماز ایسی عبادت ہے جو دل، زبان اور اعضاء کی عبادت کو متضمن ہے۔ ﴿ لِـذِكۡرِيۡ ﴾ یہاں لام تعلیل کے لیے ہے، یعنی میرے ذکر کی خاطر نماز قائم کر کیونکہ ذکر الٰہی جلیل ترین مقصد ہے، علاوہ ازیں یہ عبودیت قلب کو متضمن ہے اور اسی پر انسان کی سعادت کا دارومدار ہے۔ پس ذکر الٰہی سے خالی دل، ہر بھلائی سے محروم ہو کر پوری طرح برباد ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مختلف انواع کی عبادات مشروع فرمائی ہیں ، خاص طور پر نماز تو ان عبادات کا مقصد صرف ذکر الٰہی کا قیام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ مِنَ الۡكِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡؔكَرِ١ؕ وَلَذِكۡرُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ ﴾(العنبکوت:29؍45) ’’اس کتاب کی تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کیجیے بے شک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور ذکر الٰہی اس سے بھی بڑی چیز ہے۔‘‘ یعنی نماز کے اندر اللہ تعالیٰ کا جو ذکر ہے، وہ نماز کے فحش اور برے کاموں سے روکنے سے زیادہ بڑی چیز ہے۔ عبادت کی اس نوع کو توحید الوہیت اور توحید عبادت کہا جاتا ہے۔ الوہیت اللہ تعالیٰ کا وصف ہے اور عبودیت بندے کا وصف ہے۔
[15]﴿ اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی کا واقع ہونا لازمی امر ہے۔ ﴿ اَكَادُ اُخۡفِيۡهَا ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی خود آپﷺ سے چھپی ہوئی ہے، جیسا کہ بعض قراء ت میں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے:﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾(الاحزاب:33؍63) ’’آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دیجیے اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾(لقمان:31؍34) ’’قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم کو تمام مخلوقات سے چھپا رکھا ہے قیامت کے بارے میں کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ کوئی نبی ٔ مرسل۔اور قیامت کے آنے کی حکمت یہ ہے کہ ﴿ لِتُجۡزٰى كُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا تَسۡعٰى ﴾ ہر شخص نے جو بھلے یا برے اعمال میں بھاگ دوڑ کی ہے اس کو ان کی جزا دی جائے کیونکہ قیامت دارالجزا کا دروازہ ہے۔ ﴿ لِيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا بِالۡحُسۡنٰى﴾(النجم:53؍31) ’’تاکہ جن لوگوں نے برے کام کیے، انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جنھوں نے نیک کام کیے ان کو اچھا بدلہ دے۔‘‘
20:15إِنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِيَةٌ أَكَادُ أُخۡفِيهَا لِتُجۡزَىٰ كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا تَسۡعَىٰ
اور کیا آئی ہے آپ کے پاس بات موسی کی؟ (9) جب اس نے دیکھی آگ تو کہا اپنے گھر والوں سے، ٹھہرو تم، بلاشبہ میں نے دیکھی ہے آگ تاکہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس میں سے کوئی انگارا یا میں پاؤں آگ کے پاس راستہ بتلانے والا (10) پس جب وہ آیا اس آگ کے پاس تو آواز دیا گیا، اے موسی! (11) بے شک میں تیرا رب ہوں ، سو تو اتار دے اپنی جوتیاں ، بلاشبہ تو وادیٔ مقدس طُویٰ میں ہے (12) اور میں نے تجھے پسند کر لیا ہے، پس تو غور سے سن اس کو جو وحی کی جاتی ہے (13) بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں ، نہیں کوئی معبود (برحق) مگر میں ہی، سو تو عبادت کر میری ہی اور قائم کر نماز میرے ذکر کے لیے (14) بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، قریب ہے کہ چھپاؤں میں اس کو تاکہ بدلہ دیا جائے ہر جان کو، اس کا جو وہ کوشش کرتا ہے (15)
[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے استفہام تقریری کے طور پر اور اس قصہء مذکورہ کی تعظیم اور عظمت کی خاطر، فرماتا ہے:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’کیا آپ کے پاس موسیٰ کی بات آئی؟‘‘ یعنی جناب موسیٰ u کی اس حالت کا قصہ، جو ان کی سعادت کی بنیاد اور ان کی نبوت کی ابتدا تھی کہ انھیں بہت دور سے آگ نظر آئی اور وہ راستے سے بھٹک گئے تھے اور سردی محسوس کر رہے تھے اور ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے وہ اپنے سفر میں گرمی حاصل کر سکیں ۔ ﴿ اِذۡ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ ’’تو انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا، ذرا ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے‘‘ اور یہ آگ کوہ طور کے دائیں جانب تھی۔ ﴿ لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِقَبَسٍ ﴾ ’’شاید میں تمھارے پاس اس میں سے ایک انگارہ لاؤں ۔‘‘ تاکہ تم اس سے آگ تاپ سکو ﴿اَوۡ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى ﴾ یا اس آگ کے پاس مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے راستہ بتا دے۔ موسیٰu کا مقصود تو حسی روشنی اور حسی ہدایت تھا۔ مگر انھوں نے وہاں معنوی نور یعنی نورِ وحی پا لیا۔ جس سے قلوب و ارواح روشن ہوتے ہیں اور انھیں حقیقی ہدایت یعنی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل ہوئی جو نعمتوں بھری جنت کو جاتی ہے۔ حضرت موسیٰu ایک ایسی چیز سے بہرہ ور ہوئے جو ان کے کسی حساب اور خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔
[11]﴿ فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا ﴾ یعنی جب حضرت موسیٰ u اس آگ کے پاس پہنچے جو انھوں نے دور سے دیکھی تھی… جو درحقیقت نور تھا اور وہ ایسی آگ ہے جو جلا ڈالتی ہے اور روشنی دیتی ہے اس حقیقت پر رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے ’حِجَابُہُ النُّورُ۔ وَفِي رِوَایَۃٍ: النَّارُ۔ لَوْ کَشَفَہُ لأَ حْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْھِہِ مَا انْتَھَی إِلَیْہِ بَصَرُہُ‘(صحیح مسلم، الإیمان، باب فی قولہﷺ،(ان اللہ لاینام)…، ح:179) ’’اس کا حجاب نور ہے ایک روایت میں ہے: آگ۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال حد نگاہ تک ہر چیز کو بھسم کر ڈالے۔‘‘ جب موسیٰ u وہاں پہنچے تو اس میں سے آواز آئی یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو ندا دی جیسا کہ ارشاد فرمایا: ﴿ وَنَادَيۡنٰهُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنِ وَقَرَّبۡنٰهُ نَؔجِيًّا ﴾(مریم:19؍52) ’’ہم نے اسے کوہ طور کی دائیں جانب سے پکارا اور سرگوشی کرنے کے لیے اس کو قریب کیا۔‘‘
[12]﴿ اِنِّيۡۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخۡلَعۡ نَعۡلَيۡكَ١ۚ اِنَّكَ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ موسیٰu کا رب ہے اور حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مناجات کے لیے تیار اور اس کا اہتمام کر لیں اور اپنے جوتے اتار دیں کیونکہ وہ مقدس، پاک اور قابل تعظیم وادی میں ہیں ۔ اگر وادی کی تقدیس کے لیے کوئی اور چیز نہ ہوتی تب بھی حضرت موسیٰ کلیم اللہu کو مناجات کے لیے چن لینا ہی کافی تھا۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو جوتے اتارنے کا اس لیے حکم دیا تھا کیونکہ وہ گدھے کی کھال سے بنے ہوئے تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
[13]﴿ وَاَنَا اخۡتَرۡتُكَ ﴾ یعنی میں نے لوگوں میں سے تجھے چن لیا ہے۔ یہ سب سے بڑی نعمت اور احسان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کو نوازا جو اس شکر کا تقاضا کرتی ہے جو اس کے لائق ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَاسۡتَمِعۡ لِمَا يُوۡحٰؔى ﴾ یعنی اس وحی کو غور سے سن جو تیری طرف کی جا رہی ہے، وہ اس کی مستحق ہے کہ اس کو غور سے سنا جائے کیونکہ یہ دین کی اساس اور دعوت اسلامی کا ستون ہے۔
[14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس وحی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا ﴾’’بے شک میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اللہ ہی ہے جو الوہیت کا مستحق اور اس سے متصف ہے کیونکہ وہ اسماء و صفات میں کامل اور اپنے افعال میں منفرد ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ مثیل اور جس کا کوئی ہمسر ہے نہ برابری کرنے والا۔﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ﴾ ’’پس میری ہی عبادت کر۔‘‘ عبادت کی ظاہری اور باطنی،اصولی اور فروعی تمام انواع کے ذریعے سے، پھر نماز کا بطور خاص ذکر فرمایا، حالانکہ نماز عبادت میں داخل ہے۔ اس کی ایک وجہ نماز کا شرف و فضل ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نماز ایسی عبادت ہے جو دل، زبان اور اعضاء کی عبادت کو متضمن ہے۔ ﴿ لِـذِكۡرِيۡ ﴾ یہاں لام تعلیل کے لیے ہے، یعنی میرے ذکر کی خاطر نماز قائم کر کیونکہ ذکر الٰہی جلیل ترین مقصد ہے، علاوہ ازیں یہ عبودیت قلب کو متضمن ہے اور اسی پر انسان کی سعادت کا دارومدار ہے۔ پس ذکر الٰہی سے خالی دل، ہر بھلائی سے محروم ہو کر پوری طرح برباد ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مختلف انواع کی عبادات مشروع فرمائی ہیں ، خاص طور پر نماز تو ان عبادات کا مقصد صرف ذکر الٰہی کا قیام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ مِنَ الۡكِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡؔكَرِ١ؕ وَلَذِكۡرُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ ﴾(العنبکوت:29؍45) ’’اس کتاب کی تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کیجیے بے شک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور ذکر الٰہی اس سے بھی بڑی چیز ہے۔‘‘ یعنی نماز کے اندر اللہ تعالیٰ کا جو ذکر ہے، وہ نماز کے فحش اور برے کاموں سے روکنے سے زیادہ بڑی چیز ہے۔ عبادت کی اس نوع کو توحید الوہیت اور توحید عبادت کہا جاتا ہے۔ الوہیت اللہ تعالیٰ کا وصف ہے اور عبودیت بندے کا وصف ہے۔
[15]﴿ اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی کا واقع ہونا لازمی امر ہے۔ ﴿ اَكَادُ اُخۡفِيۡهَا ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی خود آپﷺ سے چھپی ہوئی ہے، جیسا کہ بعض قراء ت میں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے:﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾(الاحزاب:33؍63) ’’آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دیجیے اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾(لقمان:31؍34) ’’قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم کو تمام مخلوقات سے چھپا رکھا ہے قیامت کے بارے میں کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ کوئی نبی ٔ مرسل۔اور قیامت کے آنے کی حکمت یہ ہے کہ ﴿ لِتُجۡزٰى كُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا تَسۡعٰى ﴾ ہر شخص نے جو بھلے یا برے اعمال میں بھاگ دوڑ کی ہے اس کو ان کی جزا دی جائے کیونکہ قیامت دارالجزا کا دروازہ ہے۔ ﴿ لِيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا بِالۡحُسۡنٰى﴾(النجم:53؍31) ’’تاکہ جن لوگوں نے برے کام کیے، انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جنھوں نے نیک کام کیے ان کو اچھا بدلہ دے۔‘‘
20:16فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنۡهَا مَن لَّا يُؤۡمِنُ بِهَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ فَتَرۡدَىٰ
پس نہ روکے تجھ کو اس سے وہ شخص جو نہیں ایمان لاتا ساتھ اس کےاور پیروی کی اس نے اپنی خواہش کی، پس تو (بھی) ہلاک ہو جائے (16)
[16] وہ شخص، جو قیامت کا انکار کرتا ہے اور اس کے واقع ہونے کا اعتقاد نہیں رکھتا وہ آپ(ﷺ) کو قیامت اور جزا و سزا پر ایمان لانے اور اس کے مطابق عمل کرنے سے روک نہ دے۔ وہ اس بارے میں شک کرتا ہے اور شک پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس بارے میں باطل دلائل کے ذریعے سے بحث کرتا ہے، خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہوئے، مقدور بھر قیامت کے بارے میں شبہات پیدا کرتا ہے، اس کا مقصد حق تک پہنچنا نہیں بلکہ اس کا مقصد صرف خواہشات نفس کی پیروی ہے۔ جس شخص کا یہ حال ہو اس کی بات پر کان دھرنے اور اس کے اقوال و افعال کو، جو قیامت پر ایمان لانے سے روکتے ہیں، قبول کرنے سے بچیے۔ جس شخص کا یہ حال ہے اس سے بچنے کا اللہ تعالیٰ نے صرف اس لیے حکم دیا ہے کہ وہ ایسا شخص ہے جس کا دجل اور اس کی وسوسہ اندازی مومن کے لیے سب سے زیادہ ڈرنے کی چیز ہے اور نفوس انسانی کی فطرت ہے کہ وہ اپنے ابنائے جنس کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان کی پیروی کرتے ہیں ۔ اس میں تنبیہ اور اشارہ ہے کہ ہر اس شخص سے بچا جائے جو باطل کی طرف دعوت دیتا ہے، ایمان واجب یا اس کی تکمیل سے روکتا ہے اور قلب میں شبہات پیدا کرتا ہے، نیز ان تمام کتابوں سے بچا جائے جو باطل نظریات پر مشتمل ہیں ۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان، آخرت پر ایمان اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ یہ تینوں امور ایمان کی اساس اور دین کا ستون ہیں ۔ اگر یہ امور کامل ہیں تو دین بھی کامل ہے اور ان امور کے فقدان یا ان کے ناقص رہنے سے دین بھی ناقص رہ جاتا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ ارشاد ہے جس میں ان گروہوں کی سعادت اور شقاوت کی میزان کے بارے میں خبر دی گئی ہے، جن کو کتاب عطا کی گئی تھی۔ فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالصّٰؔبِـُٔوۡنَ وَالنَّصٰرٰى مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ۰۰﴾(المائدۃ:5؍69) ’’بے شک جو لوگ ایمان لائے یا یہودی ہوئے یا صابی یا عیسائی، جو بھی اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل بھی کرے گا، ان کے لیے کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ ارشاد فرمایا:﴿ فَتَرۡدٰى ﴾ یعنی اگر آپ اس شخص کے راستے پر گامزن ہوئے جو مذکورہ امور سے روکتا ہے تو آپ ہلاک ہو کر بدبختی کا شکار ہو جائیں گے۔
20:17وَمَا تِلۡكَ بِيَمِينِكَ يَٰمُوسَىٰ
اور کیا ہے یہ تیرے دائیں ہاتھ میں اے موسیٰ؟ (17) موسیٰ نے کہا، یہ میرا عصا ہے، ٹیک لگاتا ہوں میں اس پراور پتے جھاڑتا ہوں اس کے ساتھ اپنی بکریوں پراور میرے لیے اس میں مقاصد ہیں اور بھی (18) اللہ نے فرمایا، ڈال دے اسے، اے موسی(19) پس جب اس نے ڈالا اسے تو ناگہاں وہ سانپ تھا دوڑتا ہوا (20) فرمایا، پکڑ لے اسے اور مت ڈر تو، ابھی ہم لوٹا دیں گے اسے اس کی پہلی ہی حالت پر (21) اور ملا اپنا ہاتھ ساتھ اپنی بغل کے، نکلے گا وہ چمکتا ہوا بغیر کسی بیماری کے، یہ نشانی ہے دوسری (22) تاکہ ہم دکھائیں تجھے کچھ اپنی نشانیاں بڑی بڑی (23)
[17] جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انھیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تائید سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا تِلۡكَ بِيَمِيۡنِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ ’’اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔
[18] موسیٰ u نے جواب میں عرض کیا: ﴿ قَالَ هِيَ عَصَايَ١ۚ اَتَوَؔكَّـؤُا عَلَيۡهَا وَاَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِيۡ ﴾’’یہ میری لاٹھی ہے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں ۔‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ نے دو فوائد ذکر فرمائے ہیں ۔(۱)آدمی کے لیے فائدہ، وہ چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں اس کا سہارا لیتا ہے اور اسے اس سے مدد حاصل ہوتی ہے۔(۲) بہائم کے لیے فائدہ، آدمی اس کے ذریعے اپنی بھیڑ بکریوں کو چراتا ہے۔ جب وہ اپنے مویشیوں کو درختوں کے پاس چراتا ہے تو اس سے درختوں کے پتے جھاڑتا ہے، یعنی یہ عصا درخت پر مارتا ہے تاکہ پتے جھڑیں اور ان کو بکریاں چر لیں ۔ یہ حضرت موسیٰ u کا حسن خلق ہے جس کے آثار یہ ہیں کہ وہ بہائم و حیوانات کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتے تھے اور ان کے ساتھ حسن رعایت سے پیش آتے تھے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت موسیٰu پر اللہ تعالیٰ کی عنایت تھی اللہ تعالیٰ نے انھیں چن کر اپنے لیے مخصوص کر لیا تھا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت اس تخصیص کا تقاضا کرتی تھی۔ ﴿ وَلِيَ فِيۡهَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰؔى ﴾ ’’اور میرے لیے اس میں دوسرے مقاصد بھی ہیں ۔‘‘ یعنی ان مذکورہ دو مقاصد کے علاوہ، دیگر مقاصد۔ یہ موسیٰ u کا ادب تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال کیا کہ ان کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے… یہ سوال عصا کے عین کے بارے میں ہے یا اس کی منفعت کے بارے میں ، اس میں دونوں احتمالات ہیں … موسیٰ u نے اس کے عین اور منفعت، یعنی دونوں احتمالات کے مطابق جواب دیا۔
[20,19] اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے ارشاد فرمایا: ﴿ قَالَ اَلۡقِهَا يٰمُوۡسٰؔى فَاَلۡقٰىهَا فَاِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسۡعٰى ﴾ ’’اے موسیٰ! اسے زمین پر ڈال دے تو انھوں نے ڈال دیا، پس وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ عصا ایک بہت بڑے سانپ میں تبدیل ہو گیا اور موسیٰ u خوف کھا کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
[21] اس سانپ کا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ حرکت کرتا تھا یہ ایک وہم کے ازالے کے لیے تھا جو ممکن تھا کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ سب تخیل کی کارفرمائی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ۔ پس اس کے حرکت کرنے نے اس وہم کا ازالہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿ خُذۡهَا وَلَا تَخَفۡ﴾ ’’اسے پکڑ لے اور مت ڈر‘‘ یعنی اس سے تجھ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ ﴿ سَنُعِيۡدُهَا سِيۡرَتَهَا الۡاُوۡلٰى﴾ یعنی ہم اسے اس کی اصلی ہیئت اور صفت کی طرف لوٹا دیں گے جو عصا کی ہوتی ہے۔ موسیٰ u نے ایمان اور تسلیم و رضا سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور سانپ کو پکڑ لیا اور سانپ اسی جانے پہچانے عصا میں تبدیل ہو گیا۔ یہ (پہلا) معجزہ ہے۔
[22] اللہ تعالیٰ نے دوسرے معجزے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاضۡمُمۡ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال اور اپنے بازو کو اپنے ساتھ لگا لے جو انسان کے پرَ ہیں ۔ ﴿ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَؔ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ یعنی بغیر کسی عیب اور برص وغیرہ کے، سفید، چمکتا ہوا نکلے گا۔ ﴿ اٰيَةً اُخۡرٰى﴾ یہ دوسرا معجزہ ہے۔
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَذٰنِكَ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(القصص:28؍32)’’تیرے رب کی طرف سے یہ دو معجزے ہیں ، فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘﴿ لِـنُرِيَكَ مِنۡ اٰيٰتِنَا الۡكُبۡرٰى ﴾ یہ مذکور افعال… یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا دیکھنے والوں کے لیے سفید چمکدار ہو جانا… صرف اس لیے سرانجام دیے ہیں تاکہ ہم تجھ کو اپنی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کروائیں ، جو تیری رسالت کی صحت اور جو کچھ تو لے کر آیا ہے اس کی حقیقت پر دلالت کرتی ہیں اور یوں تجھ کو اطمینان قلب حاصل ہو گا، تیرے علم میں اضافہ ہو گا اور تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور نصرت کے وعدے پر بھروسہ کرے گا، نیز یہ نشانیاں ان لوگوں کے سامنے حجت اور دلیل ہوں گی جن کی طرف تجھ کو مبعوث کیا جا رہا ہے۔
20:18قَالَ هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّؤُاْ عَلَيۡهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَىٰ غَنَمِي وَلِيَ فِيهَا مَـَٔارِبُ أُخۡرَىٰ
اور کیا ہے یہ تیرے دائیں ہاتھ میں اے موسیٰ؟ (17) موسیٰ نے کہا، یہ میرا عصا ہے، ٹیک لگاتا ہوں میں اس پراور پتے جھاڑتا ہوں اس کے ساتھ اپنی بکریوں پراور میرے لیے اس میں مقاصد ہیں اور بھی (18) اللہ نے فرمایا، ڈال دے اسے، اے موسی(19) پس جب اس نے ڈالا اسے تو ناگہاں وہ سانپ تھا دوڑتا ہوا (20) فرمایا، پکڑ لے اسے اور مت ڈر تو، ابھی ہم لوٹا دیں گے اسے اس کی پہلی ہی حالت پر (21) اور ملا اپنا ہاتھ ساتھ اپنی بغل کے، نکلے گا وہ چمکتا ہوا بغیر کسی بیماری کے، یہ نشانی ہے دوسری (22) تاکہ ہم دکھائیں تجھے کچھ اپنی نشانیاں بڑی بڑی (23)
[17] جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انھیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تائید سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا تِلۡكَ بِيَمِيۡنِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ ’’اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔
[18] موسیٰ u نے جواب میں عرض کیا: ﴿ قَالَ هِيَ عَصَايَ١ۚ اَتَوَؔكَّـؤُا عَلَيۡهَا وَاَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِيۡ ﴾’’یہ میری لاٹھی ہے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں ۔‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ نے دو فوائد ذکر فرمائے ہیں ۔(۱)آدمی کے لیے فائدہ، وہ چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں اس کا سہارا لیتا ہے اور اسے اس سے مدد حاصل ہوتی ہے۔(۲) بہائم کے لیے فائدہ، آدمی اس کے ذریعے اپنی بھیڑ بکریوں کو چراتا ہے۔ جب وہ اپنے مویشیوں کو درختوں کے پاس چراتا ہے تو اس سے درختوں کے پتے جھاڑتا ہے، یعنی یہ عصا درخت پر مارتا ہے تاکہ پتے جھڑیں اور ان کو بکریاں چر لیں ۔ یہ حضرت موسیٰ u کا حسن خلق ہے جس کے آثار یہ ہیں کہ وہ بہائم و حیوانات کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتے تھے اور ان کے ساتھ حسن رعایت سے پیش آتے تھے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت موسیٰu پر اللہ تعالیٰ کی عنایت تھی اللہ تعالیٰ نے انھیں چن کر اپنے لیے مخصوص کر لیا تھا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت اس تخصیص کا تقاضا کرتی تھی۔ ﴿ وَلِيَ فِيۡهَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰؔى ﴾ ’’اور میرے لیے اس میں دوسرے مقاصد بھی ہیں ۔‘‘ یعنی ان مذکورہ دو مقاصد کے علاوہ، دیگر مقاصد۔ یہ موسیٰ u کا ادب تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال کیا کہ ان کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے… یہ سوال عصا کے عین کے بارے میں ہے یا اس کی منفعت کے بارے میں ، اس میں دونوں احتمالات ہیں … موسیٰ u نے اس کے عین اور منفعت، یعنی دونوں احتمالات کے مطابق جواب دیا۔
[20,19] اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے ارشاد فرمایا: ﴿ قَالَ اَلۡقِهَا يٰمُوۡسٰؔى فَاَلۡقٰىهَا فَاِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسۡعٰى ﴾ ’’اے موسیٰ! اسے زمین پر ڈال دے تو انھوں نے ڈال دیا، پس وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ عصا ایک بہت بڑے سانپ میں تبدیل ہو گیا اور موسیٰ u خوف کھا کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
[21] اس سانپ کا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ حرکت کرتا تھا یہ ایک وہم کے ازالے کے لیے تھا جو ممکن تھا کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ سب تخیل کی کارفرمائی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ۔ پس اس کے حرکت کرنے نے اس وہم کا ازالہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿ خُذۡهَا وَلَا تَخَفۡ﴾ ’’اسے پکڑ لے اور مت ڈر‘‘ یعنی اس سے تجھ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ ﴿ سَنُعِيۡدُهَا سِيۡرَتَهَا الۡاُوۡلٰى﴾ یعنی ہم اسے اس کی اصلی ہیئت اور صفت کی طرف لوٹا دیں گے جو عصا کی ہوتی ہے۔ موسیٰ u نے ایمان اور تسلیم و رضا سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور سانپ کو پکڑ لیا اور سانپ اسی جانے پہچانے عصا میں تبدیل ہو گیا۔ یہ (پہلا) معجزہ ہے۔
[22] اللہ تعالیٰ نے دوسرے معجزے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاضۡمُمۡ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال اور اپنے بازو کو اپنے ساتھ لگا لے جو انسان کے پرَ ہیں ۔ ﴿ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَؔ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ یعنی بغیر کسی عیب اور برص وغیرہ کے، سفید، چمکتا ہوا نکلے گا۔ ﴿ اٰيَةً اُخۡرٰى﴾ یہ دوسرا معجزہ ہے۔
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَذٰنِكَ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(القصص:28؍32)’’تیرے رب کی طرف سے یہ دو معجزے ہیں ، فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘﴿ لِـنُرِيَكَ مِنۡ اٰيٰتِنَا الۡكُبۡرٰى ﴾ یہ مذکور افعال… یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا دیکھنے والوں کے لیے سفید چمکدار ہو جانا… صرف اس لیے سرانجام دیے ہیں تاکہ ہم تجھ کو اپنی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کروائیں ، جو تیری رسالت کی صحت اور جو کچھ تو لے کر آیا ہے اس کی حقیقت پر دلالت کرتی ہیں اور یوں تجھ کو اطمینان قلب حاصل ہو گا، تیرے علم میں اضافہ ہو گا اور تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور نصرت کے وعدے پر بھروسہ کرے گا، نیز یہ نشانیاں ان لوگوں کے سامنے حجت اور دلیل ہوں گی جن کی طرف تجھ کو مبعوث کیا جا رہا ہے۔
20:19قَالَ أَلۡقِهَا يَٰمُوسَىٰ
اور کیا ہے یہ تیرے دائیں ہاتھ میں اے موسیٰ؟ (17) موسیٰ نے کہا، یہ میرا عصا ہے، ٹیک لگاتا ہوں میں اس پراور پتے جھاڑتا ہوں اس کے ساتھ اپنی بکریوں پراور میرے لیے اس میں مقاصد ہیں اور بھی (18) اللہ نے فرمایا، ڈال دے اسے، اے موسی(19) پس جب اس نے ڈالا اسے تو ناگہاں وہ سانپ تھا دوڑتا ہوا (20) فرمایا، پکڑ لے اسے اور مت ڈر تو، ابھی ہم لوٹا دیں گے اسے اس کی پہلی ہی حالت پر (21) اور ملا اپنا ہاتھ ساتھ اپنی بغل کے، نکلے گا وہ چمکتا ہوا بغیر کسی بیماری کے، یہ نشانی ہے دوسری (22) تاکہ ہم دکھائیں تجھے کچھ اپنی نشانیاں بڑی بڑی (23)
[17] جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انھیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تائید سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا تِلۡكَ بِيَمِيۡنِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ ’’اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔
[18] موسیٰ u نے جواب میں عرض کیا: ﴿ قَالَ هِيَ عَصَايَ١ۚ اَتَوَؔكَّـؤُا عَلَيۡهَا وَاَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِيۡ ﴾’’یہ میری لاٹھی ہے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں ۔‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ نے دو فوائد ذکر فرمائے ہیں ۔(۱)آدمی کے لیے فائدہ، وہ چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں اس کا سہارا لیتا ہے اور اسے اس سے مدد حاصل ہوتی ہے۔(۲) بہائم کے لیے فائدہ، آدمی اس کے ذریعے اپنی بھیڑ بکریوں کو چراتا ہے۔ جب وہ اپنے مویشیوں کو درختوں کے پاس چراتا ہے تو اس سے درختوں کے پتے جھاڑتا ہے، یعنی یہ عصا درخت پر مارتا ہے تاکہ پتے جھڑیں اور ان کو بکریاں چر لیں ۔ یہ حضرت موسیٰ u کا حسن خلق ہے جس کے آثار یہ ہیں کہ وہ بہائم و حیوانات کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتے تھے اور ان کے ساتھ حسن رعایت سے پیش آتے تھے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت موسیٰu پر اللہ تعالیٰ کی عنایت تھی اللہ تعالیٰ نے انھیں چن کر اپنے لیے مخصوص کر لیا تھا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت اس تخصیص کا تقاضا کرتی تھی۔ ﴿ وَلِيَ فِيۡهَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰؔى ﴾ ’’اور میرے لیے اس میں دوسرے مقاصد بھی ہیں ۔‘‘ یعنی ان مذکورہ دو مقاصد کے علاوہ، دیگر مقاصد۔ یہ موسیٰ u کا ادب تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال کیا کہ ان کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے… یہ سوال عصا کے عین کے بارے میں ہے یا اس کی منفعت کے بارے میں ، اس میں دونوں احتمالات ہیں … موسیٰ u نے اس کے عین اور منفعت، یعنی دونوں احتمالات کے مطابق جواب دیا۔
[20,19] اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے ارشاد فرمایا: ﴿ قَالَ اَلۡقِهَا يٰمُوۡسٰؔى فَاَلۡقٰىهَا فَاِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسۡعٰى ﴾ ’’اے موسیٰ! اسے زمین پر ڈال دے تو انھوں نے ڈال دیا، پس وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ عصا ایک بہت بڑے سانپ میں تبدیل ہو گیا اور موسیٰ u خوف کھا کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
[21] اس سانپ کا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ حرکت کرتا تھا یہ ایک وہم کے ازالے کے لیے تھا جو ممکن تھا کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ سب تخیل کی کارفرمائی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ۔ پس اس کے حرکت کرنے نے اس وہم کا ازالہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿ خُذۡهَا وَلَا تَخَفۡ﴾ ’’اسے پکڑ لے اور مت ڈر‘‘ یعنی اس سے تجھ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ ﴿ سَنُعِيۡدُهَا سِيۡرَتَهَا الۡاُوۡلٰى﴾ یعنی ہم اسے اس کی اصلی ہیئت اور صفت کی طرف لوٹا دیں گے جو عصا کی ہوتی ہے۔ موسیٰ u نے ایمان اور تسلیم و رضا سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور سانپ کو پکڑ لیا اور سانپ اسی جانے پہچانے عصا میں تبدیل ہو گیا۔ یہ (پہلا) معجزہ ہے۔
[22] اللہ تعالیٰ نے دوسرے معجزے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاضۡمُمۡ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال اور اپنے بازو کو اپنے ساتھ لگا لے جو انسان کے پرَ ہیں ۔ ﴿ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَؔ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ یعنی بغیر کسی عیب اور برص وغیرہ کے، سفید، چمکتا ہوا نکلے گا۔ ﴿ اٰيَةً اُخۡرٰى﴾ یہ دوسرا معجزہ ہے۔
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَذٰنِكَ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(القصص:28؍32)’’تیرے رب کی طرف سے یہ دو معجزے ہیں ، فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘﴿ لِـنُرِيَكَ مِنۡ اٰيٰتِنَا الۡكُبۡرٰى ﴾ یہ مذکور افعال… یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا دیکھنے والوں کے لیے سفید چمکدار ہو جانا… صرف اس لیے سرانجام دیے ہیں تاکہ ہم تجھ کو اپنی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کروائیں ، جو تیری رسالت کی صحت اور جو کچھ تو لے کر آیا ہے اس کی حقیقت پر دلالت کرتی ہیں اور یوں تجھ کو اطمینان قلب حاصل ہو گا، تیرے علم میں اضافہ ہو گا اور تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور نصرت کے وعدے پر بھروسہ کرے گا، نیز یہ نشانیاں ان لوگوں کے سامنے حجت اور دلیل ہوں گی جن کی طرف تجھ کو مبعوث کیا جا رہا ہے۔
20:20فَأَلۡقَىٰهَا فَإِذَا هِيَ حَيَّةٞ تَسۡعَىٰ
اور کیا ہے یہ تیرے دائیں ہاتھ میں اے موسیٰ؟ (17) موسیٰ نے کہا، یہ میرا عصا ہے، ٹیک لگاتا ہوں میں اس پراور پتے جھاڑتا ہوں اس کے ساتھ اپنی بکریوں پراور میرے لیے اس میں مقاصد ہیں اور بھی (18) اللہ نے فرمایا، ڈال دے اسے، اے موسی(19) پس جب اس نے ڈالا اسے تو ناگہاں وہ سانپ تھا دوڑتا ہوا (20) فرمایا، پکڑ لے اسے اور مت ڈر تو، ابھی ہم لوٹا دیں گے اسے اس کی پہلی ہی حالت پر (21) اور ملا اپنا ہاتھ ساتھ اپنی بغل کے، نکلے گا وہ چمکتا ہوا بغیر کسی بیماری کے، یہ نشانی ہے دوسری (22) تاکہ ہم دکھائیں تجھے کچھ اپنی نشانیاں بڑی بڑی (23)
[17] جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انھیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تائید سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا تِلۡكَ بِيَمِيۡنِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ ’’اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔
[18] موسیٰ u نے جواب میں عرض کیا: ﴿ قَالَ هِيَ عَصَايَ١ۚ اَتَوَؔكَّـؤُا عَلَيۡهَا وَاَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِيۡ ﴾’’یہ میری لاٹھی ہے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں ۔‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ نے دو فوائد ذکر فرمائے ہیں ۔(۱)آدمی کے لیے فائدہ، وہ چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں اس کا سہارا لیتا ہے اور اسے اس سے مدد حاصل ہوتی ہے۔(۲) بہائم کے لیے فائدہ، آدمی اس کے ذریعے اپنی بھیڑ بکریوں کو چراتا ہے۔ جب وہ اپنے مویشیوں کو درختوں کے پاس چراتا ہے تو اس سے درختوں کے پتے جھاڑتا ہے، یعنی یہ عصا درخت پر مارتا ہے تاکہ پتے جھڑیں اور ان کو بکریاں چر لیں ۔ یہ حضرت موسیٰ u کا حسن خلق ہے جس کے آثار یہ ہیں کہ وہ بہائم و حیوانات کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتے تھے اور ان کے ساتھ حسن رعایت سے پیش آتے تھے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت موسیٰu پر اللہ تعالیٰ کی عنایت تھی اللہ تعالیٰ نے انھیں چن کر اپنے لیے مخصوص کر لیا تھا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت اس تخصیص کا تقاضا کرتی تھی۔ ﴿ وَلِيَ فِيۡهَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰؔى ﴾ ’’اور میرے لیے اس میں دوسرے مقاصد بھی ہیں ۔‘‘ یعنی ان مذکورہ دو مقاصد کے علاوہ، دیگر مقاصد۔ یہ موسیٰ u کا ادب تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال کیا کہ ان کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے… یہ سوال عصا کے عین کے بارے میں ہے یا اس کی منفعت کے بارے میں ، اس میں دونوں احتمالات ہیں … موسیٰ u نے اس کے عین اور منفعت، یعنی دونوں احتمالات کے مطابق جواب دیا۔
[20,19] اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے ارشاد فرمایا: ﴿ قَالَ اَلۡقِهَا يٰمُوۡسٰؔى فَاَلۡقٰىهَا فَاِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسۡعٰى ﴾ ’’اے موسیٰ! اسے زمین پر ڈال دے تو انھوں نے ڈال دیا، پس وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ عصا ایک بہت بڑے سانپ میں تبدیل ہو گیا اور موسیٰ u خوف کھا کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
[21] اس سانپ کا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ حرکت کرتا تھا یہ ایک وہم کے ازالے کے لیے تھا جو ممکن تھا کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ سب تخیل کی کارفرمائی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ۔ پس اس کے حرکت کرنے نے اس وہم کا ازالہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿ خُذۡهَا وَلَا تَخَفۡ﴾ ’’اسے پکڑ لے اور مت ڈر‘‘ یعنی اس سے تجھ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ ﴿ سَنُعِيۡدُهَا سِيۡرَتَهَا الۡاُوۡلٰى﴾ یعنی ہم اسے اس کی اصلی ہیئت اور صفت کی طرف لوٹا دیں گے جو عصا کی ہوتی ہے۔ موسیٰ u نے ایمان اور تسلیم و رضا سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور سانپ کو پکڑ لیا اور سانپ اسی جانے پہچانے عصا میں تبدیل ہو گیا۔ یہ (پہلا) معجزہ ہے۔
[22] اللہ تعالیٰ نے دوسرے معجزے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاضۡمُمۡ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال اور اپنے بازو کو اپنے ساتھ لگا لے جو انسان کے پرَ ہیں ۔ ﴿ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَؔ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ یعنی بغیر کسی عیب اور برص وغیرہ کے، سفید، چمکتا ہوا نکلے گا۔ ﴿ اٰيَةً اُخۡرٰى﴾ یہ دوسرا معجزہ ہے۔
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَذٰنِكَ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(القصص:28؍32)’’تیرے رب کی طرف سے یہ دو معجزے ہیں ، فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘﴿ لِـنُرِيَكَ مِنۡ اٰيٰتِنَا الۡكُبۡرٰى ﴾ یہ مذکور افعال… یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا دیکھنے والوں کے لیے سفید چمکدار ہو جانا… صرف اس لیے سرانجام دیے ہیں تاکہ ہم تجھ کو اپنی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کروائیں ، جو تیری رسالت کی صحت اور جو کچھ تو لے کر آیا ہے اس کی حقیقت پر دلالت کرتی ہیں اور یوں تجھ کو اطمینان قلب حاصل ہو گا، تیرے علم میں اضافہ ہو گا اور تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور نصرت کے وعدے پر بھروسہ کرے گا، نیز یہ نشانیاں ان لوگوں کے سامنے حجت اور دلیل ہوں گی جن کی طرف تجھ کو مبعوث کیا جا رہا ہے۔
20:21قَالَ خُذۡهَا وَلَا تَخَفۡۖ سَنُعِيدُهَا سِيرَتَهَا ٱلۡأُولَىٰ
اور کیا ہے یہ تیرے دائیں ہاتھ میں اے موسیٰ؟ (17) موسیٰ نے کہا، یہ میرا عصا ہے، ٹیک لگاتا ہوں میں اس پراور پتے جھاڑتا ہوں اس کے ساتھ اپنی بکریوں پراور میرے لیے اس میں مقاصد ہیں اور بھی (18) اللہ نے فرمایا، ڈال دے اسے، اے موسی(19) پس جب اس نے ڈالا اسے تو ناگہاں وہ سانپ تھا دوڑتا ہوا (20) فرمایا، پکڑ لے اسے اور مت ڈر تو، ابھی ہم لوٹا دیں گے اسے اس کی پہلی ہی حالت پر (21) اور ملا اپنا ہاتھ ساتھ اپنی بغل کے، نکلے گا وہ چمکتا ہوا بغیر کسی بیماری کے، یہ نشانی ہے دوسری (22) تاکہ ہم دکھائیں تجھے کچھ اپنی نشانیاں بڑی بڑی (23)
[17] جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انھیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تائید سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا تِلۡكَ بِيَمِيۡنِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ ’’اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔
[18] موسیٰ u نے جواب میں عرض کیا: ﴿ قَالَ هِيَ عَصَايَ١ۚ اَتَوَؔكَّـؤُا عَلَيۡهَا وَاَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِيۡ ﴾’’یہ میری لاٹھی ہے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں ۔‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ نے دو فوائد ذکر فرمائے ہیں ۔(۱)آدمی کے لیے فائدہ، وہ چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں اس کا سہارا لیتا ہے اور اسے اس سے مدد حاصل ہوتی ہے۔(۲) بہائم کے لیے فائدہ، آدمی اس کے ذریعے اپنی بھیڑ بکریوں کو چراتا ہے۔ جب وہ اپنے مویشیوں کو درختوں کے پاس چراتا ہے تو اس سے درختوں کے پتے جھاڑتا ہے، یعنی یہ عصا درخت پر مارتا ہے تاکہ پتے جھڑیں اور ان کو بکریاں چر لیں ۔ یہ حضرت موسیٰ u کا حسن خلق ہے جس کے آثار یہ ہیں کہ وہ بہائم و حیوانات کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتے تھے اور ان کے ساتھ حسن رعایت سے پیش آتے تھے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت موسیٰu پر اللہ تعالیٰ کی عنایت تھی اللہ تعالیٰ نے انھیں چن کر اپنے لیے مخصوص کر لیا تھا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت اس تخصیص کا تقاضا کرتی تھی۔ ﴿ وَلِيَ فِيۡهَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰؔى ﴾ ’’اور میرے لیے اس میں دوسرے مقاصد بھی ہیں ۔‘‘ یعنی ان مذکورہ دو مقاصد کے علاوہ، دیگر مقاصد۔ یہ موسیٰ u کا ادب تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال کیا کہ ان کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے… یہ سوال عصا کے عین کے بارے میں ہے یا اس کی منفعت کے بارے میں ، اس میں دونوں احتمالات ہیں … موسیٰ u نے اس کے عین اور منفعت، یعنی دونوں احتمالات کے مطابق جواب دیا۔
[20,19] اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے ارشاد فرمایا: ﴿ قَالَ اَلۡقِهَا يٰمُوۡسٰؔى فَاَلۡقٰىهَا فَاِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسۡعٰى ﴾ ’’اے موسیٰ! اسے زمین پر ڈال دے تو انھوں نے ڈال دیا، پس وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ عصا ایک بہت بڑے سانپ میں تبدیل ہو گیا اور موسیٰ u خوف کھا کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
[21] اس سانپ کا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ حرکت کرتا تھا یہ ایک وہم کے ازالے کے لیے تھا جو ممکن تھا کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ سب تخیل کی کارفرمائی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ۔ پس اس کے حرکت کرنے نے اس وہم کا ازالہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿ خُذۡهَا وَلَا تَخَفۡ﴾ ’’اسے پکڑ لے اور مت ڈر‘‘ یعنی اس سے تجھ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ ﴿ سَنُعِيۡدُهَا سِيۡرَتَهَا الۡاُوۡلٰى﴾ یعنی ہم اسے اس کی اصلی ہیئت اور صفت کی طرف لوٹا دیں گے جو عصا کی ہوتی ہے۔ موسیٰ u نے ایمان اور تسلیم و رضا سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور سانپ کو پکڑ لیا اور سانپ اسی جانے پہچانے عصا میں تبدیل ہو گیا۔ یہ (پہلا) معجزہ ہے۔
[22] اللہ تعالیٰ نے دوسرے معجزے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاضۡمُمۡ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال اور اپنے بازو کو اپنے ساتھ لگا لے جو انسان کے پرَ ہیں ۔ ﴿ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَؔ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ یعنی بغیر کسی عیب اور برص وغیرہ کے، سفید، چمکتا ہوا نکلے گا۔ ﴿ اٰيَةً اُخۡرٰى﴾ یہ دوسرا معجزہ ہے۔
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَذٰنِكَ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(القصص:28؍32)’’تیرے رب کی طرف سے یہ دو معجزے ہیں ، فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘﴿ لِـنُرِيَكَ مِنۡ اٰيٰتِنَا الۡكُبۡرٰى ﴾ یہ مذکور افعال… یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا دیکھنے والوں کے لیے سفید چمکدار ہو جانا… صرف اس لیے سرانجام دیے ہیں تاکہ ہم تجھ کو اپنی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کروائیں ، جو تیری رسالت کی صحت اور جو کچھ تو لے کر آیا ہے اس کی حقیقت پر دلالت کرتی ہیں اور یوں تجھ کو اطمینان قلب حاصل ہو گا، تیرے علم میں اضافہ ہو گا اور تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور نصرت کے وعدے پر بھروسہ کرے گا، نیز یہ نشانیاں ان لوگوں کے سامنے حجت اور دلیل ہوں گی جن کی طرف تجھ کو مبعوث کیا جا رہا ہے۔
20:22وَٱضۡمُمۡ يَدَكَ إِلَىٰ جَنَاحِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوٓءٍ ءَايَةً أُخۡرَىٰ
اور کیا ہے یہ تیرے دائیں ہاتھ میں اے موسیٰ؟ (17) موسیٰ نے کہا، یہ میرا عصا ہے، ٹیک لگاتا ہوں میں اس پراور پتے جھاڑتا ہوں اس کے ساتھ اپنی بکریوں پراور میرے لیے اس میں مقاصد ہیں اور بھی (18) اللہ نے فرمایا، ڈال دے اسے، اے موسی(19) پس جب اس نے ڈالا اسے تو ناگہاں وہ سانپ تھا دوڑتا ہوا (20) فرمایا، پکڑ لے اسے اور مت ڈر تو، ابھی ہم لوٹا دیں گے اسے اس کی پہلی ہی حالت پر (21) اور ملا اپنا ہاتھ ساتھ اپنی بغل کے، نکلے گا وہ چمکتا ہوا بغیر کسی بیماری کے، یہ نشانی ہے دوسری (22) تاکہ ہم دکھائیں تجھے کچھ اپنی نشانیاں بڑی بڑی (23)
[17] جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انھیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تائید سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا تِلۡكَ بِيَمِيۡنِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ ’’اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔
[18] موسیٰ u نے جواب میں عرض کیا: ﴿ قَالَ هِيَ عَصَايَ١ۚ اَتَوَؔكَّـؤُا عَلَيۡهَا وَاَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِيۡ ﴾’’یہ میری لاٹھی ہے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں ۔‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ نے دو فوائد ذکر فرمائے ہیں ۔(۱)آدمی کے لیے فائدہ، وہ چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں اس کا سہارا لیتا ہے اور اسے اس سے مدد حاصل ہوتی ہے۔(۲) بہائم کے لیے فائدہ، آدمی اس کے ذریعے اپنی بھیڑ بکریوں کو چراتا ہے۔ جب وہ اپنے مویشیوں کو درختوں کے پاس چراتا ہے تو اس سے درختوں کے پتے جھاڑتا ہے، یعنی یہ عصا درخت پر مارتا ہے تاکہ پتے جھڑیں اور ان کو بکریاں چر لیں ۔ یہ حضرت موسیٰ u کا حسن خلق ہے جس کے آثار یہ ہیں کہ وہ بہائم و حیوانات کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتے تھے اور ان کے ساتھ حسن رعایت سے پیش آتے تھے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت موسیٰu پر اللہ تعالیٰ کی عنایت تھی اللہ تعالیٰ نے انھیں چن کر اپنے لیے مخصوص کر لیا تھا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت اس تخصیص کا تقاضا کرتی تھی۔ ﴿ وَلِيَ فِيۡهَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰؔى ﴾ ’’اور میرے لیے اس میں دوسرے مقاصد بھی ہیں ۔‘‘ یعنی ان مذکورہ دو مقاصد کے علاوہ، دیگر مقاصد۔ یہ موسیٰ u کا ادب تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال کیا کہ ان کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے… یہ سوال عصا کے عین کے بارے میں ہے یا اس کی منفعت کے بارے میں ، اس میں دونوں احتمالات ہیں … موسیٰ u نے اس کے عین اور منفعت، یعنی دونوں احتمالات کے مطابق جواب دیا۔
[20,19] اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے ارشاد فرمایا: ﴿ قَالَ اَلۡقِهَا يٰمُوۡسٰؔى فَاَلۡقٰىهَا فَاِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسۡعٰى ﴾ ’’اے موسیٰ! اسے زمین پر ڈال دے تو انھوں نے ڈال دیا، پس وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ عصا ایک بہت بڑے سانپ میں تبدیل ہو گیا اور موسیٰ u خوف کھا کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
[21] اس سانپ کا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ حرکت کرتا تھا یہ ایک وہم کے ازالے کے لیے تھا جو ممکن تھا کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ سب تخیل کی کارفرمائی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ۔ پس اس کے حرکت کرنے نے اس وہم کا ازالہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿ خُذۡهَا وَلَا تَخَفۡ﴾ ’’اسے پکڑ لے اور مت ڈر‘‘ یعنی اس سے تجھ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ ﴿ سَنُعِيۡدُهَا سِيۡرَتَهَا الۡاُوۡلٰى﴾ یعنی ہم اسے اس کی اصلی ہیئت اور صفت کی طرف لوٹا دیں گے جو عصا کی ہوتی ہے۔ موسیٰ u نے ایمان اور تسلیم و رضا سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور سانپ کو پکڑ لیا اور سانپ اسی جانے پہچانے عصا میں تبدیل ہو گیا۔ یہ (پہلا) معجزہ ہے۔
[22] اللہ تعالیٰ نے دوسرے معجزے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاضۡمُمۡ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال اور اپنے بازو کو اپنے ساتھ لگا لے جو انسان کے پرَ ہیں ۔ ﴿ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَؔ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ یعنی بغیر کسی عیب اور برص وغیرہ کے، سفید، چمکتا ہوا نکلے گا۔ ﴿ اٰيَةً اُخۡرٰى﴾ یہ دوسرا معجزہ ہے۔
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَذٰنِكَ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(القصص:28؍32)’’تیرے رب کی طرف سے یہ دو معجزے ہیں ، فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘﴿ لِـنُرِيَكَ مِنۡ اٰيٰتِنَا الۡكُبۡرٰى ﴾ یہ مذکور افعال… یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا دیکھنے والوں کے لیے سفید چمکدار ہو جانا… صرف اس لیے سرانجام دیے ہیں تاکہ ہم تجھ کو اپنی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کروائیں ، جو تیری رسالت کی صحت اور جو کچھ تو لے کر آیا ہے اس کی حقیقت پر دلالت کرتی ہیں اور یوں تجھ کو اطمینان قلب حاصل ہو گا، تیرے علم میں اضافہ ہو گا اور تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور نصرت کے وعدے پر بھروسہ کرے گا، نیز یہ نشانیاں ان لوگوں کے سامنے حجت اور دلیل ہوں گی جن کی طرف تجھ کو مبعوث کیا جا رہا ہے۔
20:23لِنُرِيَكَ مِنۡ ءَايَٰتِنَا ٱلۡكُبۡرَى
اور کیا ہے یہ تیرے دائیں ہاتھ میں اے موسیٰ؟ (17) موسیٰ نے کہا، یہ میرا عصا ہے، ٹیک لگاتا ہوں میں اس پراور پتے جھاڑتا ہوں اس کے ساتھ اپنی بکریوں پراور میرے لیے اس میں مقاصد ہیں اور بھی (18) اللہ نے فرمایا، ڈال دے اسے، اے موسی(19) پس جب اس نے ڈالا اسے تو ناگہاں وہ سانپ تھا دوڑتا ہوا (20) فرمایا، پکڑ لے اسے اور مت ڈر تو، ابھی ہم لوٹا دیں گے اسے اس کی پہلی ہی حالت پر (21) اور ملا اپنا ہاتھ ساتھ اپنی بغل کے، نکلے گا وہ چمکتا ہوا بغیر کسی بیماری کے، یہ نشانی ہے دوسری (22) تاکہ ہم دکھائیں تجھے کچھ اپنی نشانیاں بڑی بڑی (23)
[17] جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انھیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تائید سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا تِلۡكَ بِيَمِيۡنِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ ’’اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔
[18] موسیٰ u نے جواب میں عرض کیا: ﴿ قَالَ هِيَ عَصَايَ١ۚ اَتَوَؔكَّـؤُا عَلَيۡهَا وَاَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِيۡ ﴾’’یہ میری لاٹھی ہے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں ۔‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ نے دو فوائد ذکر فرمائے ہیں ۔(۱)آدمی کے لیے فائدہ، وہ چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں اس کا سہارا لیتا ہے اور اسے اس سے مدد حاصل ہوتی ہے۔(۲) بہائم کے لیے فائدہ، آدمی اس کے ذریعے اپنی بھیڑ بکریوں کو چراتا ہے۔ جب وہ اپنے مویشیوں کو درختوں کے پاس چراتا ہے تو اس سے درختوں کے پتے جھاڑتا ہے، یعنی یہ عصا درخت پر مارتا ہے تاکہ پتے جھڑیں اور ان کو بکریاں چر لیں ۔ یہ حضرت موسیٰ u کا حسن خلق ہے جس کے آثار یہ ہیں کہ وہ بہائم و حیوانات کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتے تھے اور ان کے ساتھ حسن رعایت سے پیش آتے تھے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت موسیٰu پر اللہ تعالیٰ کی عنایت تھی اللہ تعالیٰ نے انھیں چن کر اپنے لیے مخصوص کر لیا تھا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت اس تخصیص کا تقاضا کرتی تھی۔ ﴿ وَلِيَ فِيۡهَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰؔى ﴾ ’’اور میرے لیے اس میں دوسرے مقاصد بھی ہیں ۔‘‘ یعنی ان مذکورہ دو مقاصد کے علاوہ، دیگر مقاصد۔ یہ موسیٰ u کا ادب تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال کیا کہ ان کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے… یہ سوال عصا کے عین کے بارے میں ہے یا اس کی منفعت کے بارے میں ، اس میں دونوں احتمالات ہیں … موسیٰ u نے اس کے عین اور منفعت، یعنی دونوں احتمالات کے مطابق جواب دیا۔
[20,19] اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے ارشاد فرمایا: ﴿ قَالَ اَلۡقِهَا يٰمُوۡسٰؔى فَاَلۡقٰىهَا فَاِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسۡعٰى ﴾ ’’اے موسیٰ! اسے زمین پر ڈال دے تو انھوں نے ڈال دیا، پس وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ عصا ایک بہت بڑے سانپ میں تبدیل ہو گیا اور موسیٰ u خوف کھا کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
[21] اس سانپ کا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ حرکت کرتا تھا یہ ایک وہم کے ازالے کے لیے تھا جو ممکن تھا کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ سب تخیل کی کارفرمائی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ۔ پس اس کے حرکت کرنے نے اس وہم کا ازالہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿ خُذۡهَا وَلَا تَخَفۡ﴾ ’’اسے پکڑ لے اور مت ڈر‘‘ یعنی اس سے تجھ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ ﴿ سَنُعِيۡدُهَا سِيۡرَتَهَا الۡاُوۡلٰى﴾ یعنی ہم اسے اس کی اصلی ہیئت اور صفت کی طرف لوٹا دیں گے جو عصا کی ہوتی ہے۔ موسیٰ u نے ایمان اور تسلیم و رضا سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور سانپ کو پکڑ لیا اور سانپ اسی جانے پہچانے عصا میں تبدیل ہو گیا۔ یہ (پہلا) معجزہ ہے۔
[22] اللہ تعالیٰ نے دوسرے معجزے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاضۡمُمۡ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال اور اپنے بازو کو اپنے ساتھ لگا لے جو انسان کے پرَ ہیں ۔ ﴿ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَؔ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ یعنی بغیر کسی عیب اور برص وغیرہ کے، سفید، چمکتا ہوا نکلے گا۔ ﴿ اٰيَةً اُخۡرٰى﴾ یہ دوسرا معجزہ ہے۔
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَذٰنِكَ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(القصص:28؍32)’’تیرے رب کی طرف سے یہ دو معجزے ہیں ، فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘﴿ لِـنُرِيَكَ مِنۡ اٰيٰتِنَا الۡكُبۡرٰى ﴾ یہ مذکور افعال… یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا دیکھنے والوں کے لیے سفید چمکدار ہو جانا… صرف اس لیے سرانجام دیے ہیں تاکہ ہم تجھ کو اپنی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کروائیں ، جو تیری رسالت کی صحت اور جو کچھ تو لے کر آیا ہے اس کی حقیقت پر دلالت کرتی ہیں اور یوں تجھ کو اطمینان قلب حاصل ہو گا، تیرے علم میں اضافہ ہو گا اور تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور نصرت کے وعدے پر بھروسہ کرے گا، نیز یہ نشانیاں ان لوگوں کے سامنے حجت اور دلیل ہوں گی جن کی طرف تجھ کو مبعوث کیا جا رہا ہے۔
20:24ٱذۡهَبۡ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ
تو جا فرعون کی طرف، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے (24) موسیٰ نے کہا، اے رب! کھول دے میرے لیے میرا سینہ (25) اور آسان کر دے میرے لیے میرا کلام (26) اور کھول دے گرہ میری زبان کی (27)(تاکہ) وہ سمجھیں میری بات (28) اور بنا دے میرے لیے وزیر میرے اہل سے (29)(، یعنی ) ہارون میرے بھائی کو (30) مضبوط کر تو ساتھ اس کے میری کمر (31) اور شریک کر اسے میرے کام (نبوت) میں (32) تاکہ ہم تسبیح بیان کریں تیری بہت (33) اور (تاکہ) ہم یاد کریں تجھے کثرت سے (34)بلاشبہ تو ہے ہمیں خوب دیکھنے والا (35) اللہ نے کہا تحقیق دے دیا گیا تو اپنا سوال اے موسیٰ! (36)
[24] جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u پر وحی نازل کر کے انھیں نبوت عطا کر دی اور انھیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴾ ’’فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ ، اپنے کفر و فسادمیں ، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ اس نے ربویت اور الوہیت کا دعویٰ کر دیا… قبحہ اللّٰہ… یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت قائم نہیں کر دیتا۔
[25] اس وقت موسیٰ u کو معلوم ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور انھیں ایک جابر اور سرکش انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جس کا مصر میں مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں جبکہ موسیٰ u نے تن تنہا ہیں ، علاوہ ازیں ان سے ایک قتل بھی سرزد ہو چکا تھا لیکن انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور انشراح صدر کے ساتھ اس کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور اسباب کی فراہمی کا سوال کیا جن کی بنا پر دعوت کی تکمیل ہوتی ہے، چنانچہ عرض کیا:﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡ﴾ یعنی اے اللہ! میرے سینے کو کھول دے اور اسے وسعت عطا کر تاکہ میں قولی اور فعلی اذیتیں برداشت کر سکوں اور میرا قلب تکدر کا شکار نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ انسان کا سینہ جب تنگ ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا اہل نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ١ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ﴾(آل عمران:3؍159) ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ(ﷺ) ان کے لیے بہت نرم دل ہیں اگر آپ تندخو سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے۔‘‘ لوگ (داعی کی) نرم خوئی، کشادہ دلی اور ان کے بارے میں اس سے انشراح صدر کی بنا پر قبول حق کے قریب آتے ہیں ۔
[26]﴿ وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ یعنی میرے لیے میرا ہر معاملہ اور اپنے راستے میں میری ہر منزل کو آسان کر دے، میرے سامنے جو مشکلات اور سختیاں ہیں ان کو نرم کر دے۔ معاملے کو آسان کرنا یہ ہے کہ داعی نہایت آسانی کے ساتھ تمام معاملات کو ان کے اپنے اپنے دائرے میں نمٹا سکے۔ ہر شخص سے اس کے مزاج کی مناسبت سے مخاطب ہو اور اسے اس طریقے سے دعوت دے جو قبول حق کے قریب تر ہو۔
[28,27]﴿ وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰ يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ﴾ موسیٰ u کی زبان میں ثقل تھا جس کی وجہ سے ان کی بات مشکل سے سمجھ میں آتی تھی۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا: ﴿ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا ﴾(القصص:28؍34) ’’اور میرا بھائی ہارون، مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے۔‘‘ حضرت موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کی زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ ان کی بات کو سمجھ سکیں اور خطاب اور معانی کے بیان کا مقصد پورا ہو سکے۔
[30,29]﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡ﴾ یعنی میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دے جو میری مدد کرے، جو میرا بوجھ بٹائے اور جن لوگوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہے ان کے مقابلے میں مجھے تقویت دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کی کہ یہ مددگار ان کے گھر والوں میں سے ہو اس لیے کہ یہ صلہ رحمی کا ایک طریقہ ہے۔ انسان کی نیکی کا سب سے زیادہ مستحق اس کا رشتہ دار ہوتا ہے، پھر اپنی دعا میں اس مددگار کا تعین کرتے ہوئے فرمایا:﴿هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾
[32,31]﴿اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِيۡ﴾ یعنی مجھے میرے بھائی کے ذریعے قوت عطا کر اور میری کمر کو مضبوط کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور آپ دونوں کو غلبہ دیں گے۔‘‘ ﴿وَاَشۡرِكۡهُ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ نبوت میں اسے میرا شریک بنا دے، یعنی اسے بھی نبی اور رسول بنا دے جس طرح مجھے بنایا ہے۔
[34,33] پھر اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰ وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا﴾ موسیٰu کو معلوم تھا کہ تمام عبادات اور دین کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کے ساتھ ان کے بھائی کو بھی نبوت عطا کر دے، وہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی تسبیح و تہلیل اور عبادات کی دیگر انواع میں اضافہ ہو گا۔
[35]﴿اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ﴾ اے اللہ! تو ہمارے حال، ہماری کمزوری اور ہمارے عجز کو جانتا ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں تیرے محتاج ہیں تو ہمیں ہم سے زیادہ دیکھتا ہے اور ہم پر ہم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پس ہم نے تجھ سے جو سوال کیا ہے وہ ہمیں عطا کر کے ہمیں ممنون فرما اور ہماری دعا قبول فرما۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ اے موسیٰ! جو کچھ تو نے مانگا ہے تجھ کو عطا کیا جاتا ہے، ہم تجھ کو انشراح صدر عطا کر دیں گے، تیرے معاملے کو آسان کر دیں گے، تیری زبان کی گرہ کھول دیں گے، لوگ تیری بات کو سمجھیں گے اور ہم تیرے بھائی ہارون کے ذریعے سے تیرے ہاتھ مضبوط کر دیں گے ﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم تم دونوں کو غلبہ دیں گے اور وہ ہماری نشانیوں کے سبب سے تم دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، غلبہ تم دونوں اور تمھارے متبعین ہی کا ہو گا۔‘‘ موسیٰ u کا سوال اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل تھی، آپ کمال درجے کے ذہین و فطین تھے اور تمام معاملات کی کامل معرفت رکھتے تھے اور کامل خیرخواہی سے بہرہ ور تھے، نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوق کی راہنمائی کرنے والا… خاص طور پرجب اس داعی کے مخاطب اہل عناد، متکبر اور سرکش لوگ ہوں … کشادہ دلی، اذیتوں پر بردباری اور فصاحت زبان کا، جس کے ذریعے سے وہ اپنے مقاصد اور ارادوں کی تعبیر پر قادر ہو، محتاج ہوتا ہے بلکہ اس مقام پر فائز شخص کے لیے فصاحت و بلاغت نہایت ضروری ملکہ ہے کیونکہ اسے کثرت سے بحث و تکرار کی ضرورت پیش آتی ہے، علاوہ ازیں یہ بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حتی المقدور حق کو خوب صورت اور مزین کر کے پیش کرے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو اور باطل کی قباحت و شناعت کو اجاگر کرے تاکہ لوگ اس سے متنفر ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ داعی ٔحق اس بات کا بھی محتاج ہے کہ اس کے معاملے میں آسانی پیدا ہو اور وہ اس کے لیے درست طریق کار اختیار کرے۔ حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین طریق گفتگو کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دے اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب حال معاملہ کرے اور ان سب باتوں کی تکمیل یہ ہے کہ جو شخص یہ وصف رکھتا ہو اس کے کچھ اعوان و مددگار ہوں جو اس کے مقصد کے حصول میں اس کی مدد کریں کیونکہ جب آوازیں زیادہ ہوں گی تو وہ زیادہ اثر انداز ہوں گی، اسی لیے موسیٰ u نے ان امور کا سوال کیا تھا جو انھیں عطا کر دیے گئے۔ اگر آپ انبیاء کی حالت پر غور کریں گے، جن کو مخلوق کی طرف بھیجا گیا تو ان کے احوال کے مطابق ان کو اسی حال میں پائیں گے۔ خاص طور پر افضل الانبیاء خاتم المرسلین جناب محمدﷺ کو، جو ہر صفت کمال میں بلندترین درجے پر فائز تھے۔ آپﷺ کو جس طرح شرح صدر، تیسیر امر، فصاحت زبان، حسن تعبیر و بیان اور حق کی راہ میں اعوان و انصار یعنی صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں سے نوازا گیا، دوسرے انبیاء کو یہ خوبیان اس انداز سے میسر نہیں آئیں ۔
20:25قَالَ رَبِّ ٱشۡرَحۡ لِي صَدۡرِي
تو جا فرعون کی طرف، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے (24) موسیٰ نے کہا، اے رب! کھول دے میرے لیے میرا سینہ (25) اور آسان کر دے میرے لیے میرا کلام (26) اور کھول دے گرہ میری زبان کی (27)(تاکہ) وہ سمجھیں میری بات (28) اور بنا دے میرے لیے وزیر میرے اہل سے (29)(، یعنی ) ہارون میرے بھائی کو (30) مضبوط کر تو ساتھ اس کے میری کمر (31) اور شریک کر اسے میرے کام (نبوت) میں (32) تاکہ ہم تسبیح بیان کریں تیری بہت (33) اور (تاکہ) ہم یاد کریں تجھے کثرت سے (34)بلاشبہ تو ہے ہمیں خوب دیکھنے والا (35) اللہ نے کہا تحقیق دے دیا گیا تو اپنا سوال اے موسیٰ! (36)
[24] جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u پر وحی نازل کر کے انھیں نبوت عطا کر دی اور انھیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴾ ’’فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ ، اپنے کفر و فسادمیں ، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ اس نے ربویت اور الوہیت کا دعویٰ کر دیا… قبحہ اللّٰہ… یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت قائم نہیں کر دیتا۔
[25] اس وقت موسیٰ u کو معلوم ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور انھیں ایک جابر اور سرکش انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جس کا مصر میں مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں جبکہ موسیٰ u نے تن تنہا ہیں ، علاوہ ازیں ان سے ایک قتل بھی سرزد ہو چکا تھا لیکن انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور انشراح صدر کے ساتھ اس کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور اسباب کی فراہمی کا سوال کیا جن کی بنا پر دعوت کی تکمیل ہوتی ہے، چنانچہ عرض کیا:﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡ﴾ یعنی اے اللہ! میرے سینے کو کھول دے اور اسے وسعت عطا کر تاکہ میں قولی اور فعلی اذیتیں برداشت کر سکوں اور میرا قلب تکدر کا شکار نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ انسان کا سینہ جب تنگ ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا اہل نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ١ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ﴾(آل عمران:3؍159) ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ(ﷺ) ان کے لیے بہت نرم دل ہیں اگر آپ تندخو سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے۔‘‘ لوگ (داعی کی) نرم خوئی، کشادہ دلی اور ان کے بارے میں اس سے انشراح صدر کی بنا پر قبول حق کے قریب آتے ہیں ۔
[26]﴿ وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ یعنی میرے لیے میرا ہر معاملہ اور اپنے راستے میں میری ہر منزل کو آسان کر دے، میرے سامنے جو مشکلات اور سختیاں ہیں ان کو نرم کر دے۔ معاملے کو آسان کرنا یہ ہے کہ داعی نہایت آسانی کے ساتھ تمام معاملات کو ان کے اپنے اپنے دائرے میں نمٹا سکے۔ ہر شخص سے اس کے مزاج کی مناسبت سے مخاطب ہو اور اسے اس طریقے سے دعوت دے جو قبول حق کے قریب تر ہو۔
[28,27]﴿ وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰ يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ﴾ موسیٰ u کی زبان میں ثقل تھا جس کی وجہ سے ان کی بات مشکل سے سمجھ میں آتی تھی۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا: ﴿ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا ﴾(القصص:28؍34) ’’اور میرا بھائی ہارون، مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے۔‘‘ حضرت موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کی زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ ان کی بات کو سمجھ سکیں اور خطاب اور معانی کے بیان کا مقصد پورا ہو سکے۔
[30,29]﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡ﴾ یعنی میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دے جو میری مدد کرے، جو میرا بوجھ بٹائے اور جن لوگوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہے ان کے مقابلے میں مجھے تقویت دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کی کہ یہ مددگار ان کے گھر والوں میں سے ہو اس لیے کہ یہ صلہ رحمی کا ایک طریقہ ہے۔ انسان کی نیکی کا سب سے زیادہ مستحق اس کا رشتہ دار ہوتا ہے، پھر اپنی دعا میں اس مددگار کا تعین کرتے ہوئے فرمایا:﴿هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾
[32,31]﴿اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِيۡ﴾ یعنی مجھے میرے بھائی کے ذریعے قوت عطا کر اور میری کمر کو مضبوط کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور آپ دونوں کو غلبہ دیں گے۔‘‘ ﴿وَاَشۡرِكۡهُ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ نبوت میں اسے میرا شریک بنا دے، یعنی اسے بھی نبی اور رسول بنا دے جس طرح مجھے بنایا ہے۔
[34,33] پھر اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰ وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا﴾ موسیٰu کو معلوم تھا کہ تمام عبادات اور دین کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کے ساتھ ان کے بھائی کو بھی نبوت عطا کر دے، وہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی تسبیح و تہلیل اور عبادات کی دیگر انواع میں اضافہ ہو گا۔
[35]﴿اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ﴾ اے اللہ! تو ہمارے حال، ہماری کمزوری اور ہمارے عجز کو جانتا ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں تیرے محتاج ہیں تو ہمیں ہم سے زیادہ دیکھتا ہے اور ہم پر ہم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پس ہم نے تجھ سے جو سوال کیا ہے وہ ہمیں عطا کر کے ہمیں ممنون فرما اور ہماری دعا قبول فرما۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ اے موسیٰ! جو کچھ تو نے مانگا ہے تجھ کو عطا کیا جاتا ہے، ہم تجھ کو انشراح صدر عطا کر دیں گے، تیرے معاملے کو آسان کر دیں گے، تیری زبان کی گرہ کھول دیں گے، لوگ تیری بات کو سمجھیں گے اور ہم تیرے بھائی ہارون کے ذریعے سے تیرے ہاتھ مضبوط کر دیں گے ﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم تم دونوں کو غلبہ دیں گے اور وہ ہماری نشانیوں کے سبب سے تم دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، غلبہ تم دونوں اور تمھارے متبعین ہی کا ہو گا۔‘‘ موسیٰ u کا سوال اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل تھی، آپ کمال درجے کے ذہین و فطین تھے اور تمام معاملات کی کامل معرفت رکھتے تھے اور کامل خیرخواہی سے بہرہ ور تھے، نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوق کی راہنمائی کرنے والا… خاص طور پرجب اس داعی کے مخاطب اہل عناد، متکبر اور سرکش لوگ ہوں … کشادہ دلی، اذیتوں پر بردباری اور فصاحت زبان کا، جس کے ذریعے سے وہ اپنے مقاصد اور ارادوں کی تعبیر پر قادر ہو، محتاج ہوتا ہے بلکہ اس مقام پر فائز شخص کے لیے فصاحت و بلاغت نہایت ضروری ملکہ ہے کیونکہ اسے کثرت سے بحث و تکرار کی ضرورت پیش آتی ہے، علاوہ ازیں یہ بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حتی المقدور حق کو خوب صورت اور مزین کر کے پیش کرے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو اور باطل کی قباحت و شناعت کو اجاگر کرے تاکہ لوگ اس سے متنفر ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ داعی ٔحق اس بات کا بھی محتاج ہے کہ اس کے معاملے میں آسانی پیدا ہو اور وہ اس کے لیے درست طریق کار اختیار کرے۔ حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین طریق گفتگو کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دے اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب حال معاملہ کرے اور ان سب باتوں کی تکمیل یہ ہے کہ جو شخص یہ وصف رکھتا ہو اس کے کچھ اعوان و مددگار ہوں جو اس کے مقصد کے حصول میں اس کی مدد کریں کیونکہ جب آوازیں زیادہ ہوں گی تو وہ زیادہ اثر انداز ہوں گی، اسی لیے موسیٰ u نے ان امور کا سوال کیا تھا جو انھیں عطا کر دیے گئے۔ اگر آپ انبیاء کی حالت پر غور کریں گے، جن کو مخلوق کی طرف بھیجا گیا تو ان کے احوال کے مطابق ان کو اسی حال میں پائیں گے۔ خاص طور پر افضل الانبیاء خاتم المرسلین جناب محمدﷺ کو، جو ہر صفت کمال میں بلندترین درجے پر فائز تھے۔ آپﷺ کو جس طرح شرح صدر، تیسیر امر، فصاحت زبان، حسن تعبیر و بیان اور حق کی راہ میں اعوان و انصار یعنی صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں سے نوازا گیا، دوسرے انبیاء کو یہ خوبیان اس انداز سے میسر نہیں آئیں ۔
20:26تو جا فرعون کی طرف، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے (24) موسیٰ نے کہا، اے رب! کھول دے میرے لیے میرا سینہ (25) اور آسان کر دے میرے لیے میرا کلام (26) اور کھول دے گرہ میری زبان کی (27)(تاکہ) وہ سمجھیں میری بات (28) اور بنا دے میرے لیے وزیر میرے اہل سے (29)(، یعنی ) ہارون میرے بھائی کو (30) مضبوط کر تو ساتھ اس کے میری کمر (31) اور شریک کر اسے میرے کام (نبوت) میں (32) تاکہ ہم تسبیح بیان کریں تیری بہت (33) اور (تاکہ) ہم یاد کریں تجھے کثرت سے (34)بلاشبہ تو ہے ہمیں خوب دیکھنے والا (35) اللہ نے کہا تحقیق دے دیا گیا تو اپنا سوال اے موسیٰ! (36)
[24] جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u پر وحی نازل کر کے انھیں نبوت عطا کر دی اور انھیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴾ ’’فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ ، اپنے کفر و فسادمیں ، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ اس نے ربویت اور الوہیت کا دعویٰ کر دیا… قبحہ اللّٰہ… یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت قائم نہیں کر دیتا۔
[25] اس وقت موسیٰ u کو معلوم ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور انھیں ایک جابر اور سرکش انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جس کا مصر میں مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں جبکہ موسیٰ u نے تن تنہا ہیں ، علاوہ ازیں ان سے ایک قتل بھی سرزد ہو چکا تھا لیکن انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور انشراح صدر کے ساتھ اس کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور اسباب کی فراہمی کا سوال کیا جن کی بنا پر دعوت کی تکمیل ہوتی ہے، چنانچہ عرض کیا:﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡ﴾ یعنی اے اللہ! میرے سینے کو کھول دے اور اسے وسعت عطا کر تاکہ میں قولی اور فعلی اذیتیں برداشت کر سکوں اور میرا قلب تکدر کا شکار نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ انسان کا سینہ جب تنگ ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا اہل نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ١ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ﴾(آل عمران:3؍159) ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ(ﷺ) ان کے لیے بہت نرم دل ہیں اگر آپ تندخو سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے۔‘‘ لوگ (داعی کی) نرم خوئی، کشادہ دلی اور ان کے بارے میں اس سے انشراح صدر کی بنا پر قبول حق کے قریب آتے ہیں ۔
[26]﴿ وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ یعنی میرے لیے میرا ہر معاملہ اور اپنے راستے میں میری ہر منزل کو آسان کر دے، میرے سامنے جو مشکلات اور سختیاں ہیں ان کو نرم کر دے۔ معاملے کو آسان کرنا یہ ہے کہ داعی نہایت آسانی کے ساتھ تمام معاملات کو ان کے اپنے اپنے دائرے میں نمٹا سکے۔ ہر شخص سے اس کے مزاج کی مناسبت سے مخاطب ہو اور اسے اس طریقے سے دعوت دے جو قبول حق کے قریب تر ہو۔
[28,27]﴿ وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰ يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ﴾ موسیٰ u کی زبان میں ثقل تھا جس کی وجہ سے ان کی بات مشکل سے سمجھ میں آتی تھی۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا: ﴿ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا ﴾(القصص:28؍34) ’’اور میرا بھائی ہارون، مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے۔‘‘ حضرت موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کی زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ ان کی بات کو سمجھ سکیں اور خطاب اور معانی کے بیان کا مقصد پورا ہو سکے۔
[30,29]﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡ﴾ یعنی میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دے جو میری مدد کرے، جو میرا بوجھ بٹائے اور جن لوگوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہے ان کے مقابلے میں مجھے تقویت دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کی کہ یہ مددگار ان کے گھر والوں میں سے ہو اس لیے کہ یہ صلہ رحمی کا ایک طریقہ ہے۔ انسان کی نیکی کا سب سے زیادہ مستحق اس کا رشتہ دار ہوتا ہے، پھر اپنی دعا میں اس مددگار کا تعین کرتے ہوئے فرمایا:﴿هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾
[32,31]﴿اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِيۡ﴾ یعنی مجھے میرے بھائی کے ذریعے قوت عطا کر اور میری کمر کو مضبوط کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور آپ دونوں کو غلبہ دیں گے۔‘‘ ﴿وَاَشۡرِكۡهُ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ نبوت میں اسے میرا شریک بنا دے، یعنی اسے بھی نبی اور رسول بنا دے جس طرح مجھے بنایا ہے۔
[34,33] پھر اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰ وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا﴾ موسیٰu کو معلوم تھا کہ تمام عبادات اور دین کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کے ساتھ ان کے بھائی کو بھی نبوت عطا کر دے، وہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی تسبیح و تہلیل اور عبادات کی دیگر انواع میں اضافہ ہو گا۔
[35]﴿اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ﴾ اے اللہ! تو ہمارے حال، ہماری کمزوری اور ہمارے عجز کو جانتا ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں تیرے محتاج ہیں تو ہمیں ہم سے زیادہ دیکھتا ہے اور ہم پر ہم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پس ہم نے تجھ سے جو سوال کیا ہے وہ ہمیں عطا کر کے ہمیں ممنون فرما اور ہماری دعا قبول فرما۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ اے موسیٰ! جو کچھ تو نے مانگا ہے تجھ کو عطا کیا جاتا ہے، ہم تجھ کو انشراح صدر عطا کر دیں گے، تیرے معاملے کو آسان کر دیں گے، تیری زبان کی گرہ کھول دیں گے، لوگ تیری بات کو سمجھیں گے اور ہم تیرے بھائی ہارون کے ذریعے سے تیرے ہاتھ مضبوط کر دیں گے ﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم تم دونوں کو غلبہ دیں گے اور وہ ہماری نشانیوں کے سبب سے تم دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، غلبہ تم دونوں اور تمھارے متبعین ہی کا ہو گا۔‘‘ موسیٰ u کا سوال اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل تھی، آپ کمال درجے کے ذہین و فطین تھے اور تمام معاملات کی کامل معرفت رکھتے تھے اور کامل خیرخواہی سے بہرہ ور تھے، نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوق کی راہنمائی کرنے والا… خاص طور پرجب اس داعی کے مخاطب اہل عناد، متکبر اور سرکش لوگ ہوں … کشادہ دلی، اذیتوں پر بردباری اور فصاحت زبان کا، جس کے ذریعے سے وہ اپنے مقاصد اور ارادوں کی تعبیر پر قادر ہو، محتاج ہوتا ہے بلکہ اس مقام پر فائز شخص کے لیے فصاحت و بلاغت نہایت ضروری ملکہ ہے کیونکہ اسے کثرت سے بحث و تکرار کی ضرورت پیش آتی ہے، علاوہ ازیں یہ بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حتی المقدور حق کو خوب صورت اور مزین کر کے پیش کرے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو اور باطل کی قباحت و شناعت کو اجاگر کرے تاکہ لوگ اس سے متنفر ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ داعی ٔحق اس بات کا بھی محتاج ہے کہ اس کے معاملے میں آسانی پیدا ہو اور وہ اس کے لیے درست طریق کار اختیار کرے۔ حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین طریق گفتگو کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دے اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب حال معاملہ کرے اور ان سب باتوں کی تکمیل یہ ہے کہ جو شخص یہ وصف رکھتا ہو اس کے کچھ اعوان و مددگار ہوں جو اس کے مقصد کے حصول میں اس کی مدد کریں کیونکہ جب آوازیں زیادہ ہوں گی تو وہ زیادہ اثر انداز ہوں گی، اسی لیے موسیٰ u نے ان امور کا سوال کیا تھا جو انھیں عطا کر دیے گئے۔ اگر آپ انبیاء کی حالت پر غور کریں گے، جن کو مخلوق کی طرف بھیجا گیا تو ان کے احوال کے مطابق ان کو اسی حال میں پائیں گے۔ خاص طور پر افضل الانبیاء خاتم المرسلین جناب محمدﷺ کو، جو ہر صفت کمال میں بلندترین درجے پر فائز تھے۔ آپﷺ کو جس طرح شرح صدر، تیسیر امر، فصاحت زبان، حسن تعبیر و بیان اور حق کی راہ میں اعوان و انصار یعنی صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں سے نوازا گیا، دوسرے انبیاء کو یہ خوبیان اس انداز سے میسر نہیں آئیں ۔
20:27وَٱحۡلُلۡ عُقۡدَةٗ مِّن لِّسَانِي
تو جا فرعون کی طرف، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے (24) موسیٰ نے کہا، اے رب! کھول دے میرے لیے میرا سینہ (25) اور آسان کر دے میرے لیے میرا کلام (26) اور کھول دے گرہ میری زبان کی (27)(تاکہ) وہ سمجھیں میری بات (28) اور بنا دے میرے لیے وزیر میرے اہل سے (29)(، یعنی ) ہارون میرے بھائی کو (30) مضبوط کر تو ساتھ اس کے میری کمر (31) اور شریک کر اسے میرے کام (نبوت) میں (32) تاکہ ہم تسبیح بیان کریں تیری بہت (33) اور (تاکہ) ہم یاد کریں تجھے کثرت سے (34)بلاشبہ تو ہے ہمیں خوب دیکھنے والا (35) اللہ نے کہا تحقیق دے دیا گیا تو اپنا سوال اے موسیٰ! (36)
[24] جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u پر وحی نازل کر کے انھیں نبوت عطا کر دی اور انھیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴾ ’’فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ ، اپنے کفر و فسادمیں ، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ اس نے ربویت اور الوہیت کا دعویٰ کر دیا… قبحہ اللّٰہ… یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت قائم نہیں کر دیتا۔
[25] اس وقت موسیٰ u کو معلوم ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور انھیں ایک جابر اور سرکش انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جس کا مصر میں مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں جبکہ موسیٰ u نے تن تنہا ہیں ، علاوہ ازیں ان سے ایک قتل بھی سرزد ہو چکا تھا لیکن انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور انشراح صدر کے ساتھ اس کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور اسباب کی فراہمی کا سوال کیا جن کی بنا پر دعوت کی تکمیل ہوتی ہے، چنانچہ عرض کیا:﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡ﴾ یعنی اے اللہ! میرے سینے کو کھول دے اور اسے وسعت عطا کر تاکہ میں قولی اور فعلی اذیتیں برداشت کر سکوں اور میرا قلب تکدر کا شکار نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ انسان کا سینہ جب تنگ ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا اہل نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ١ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ﴾(آل عمران:3؍159) ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ(ﷺ) ان کے لیے بہت نرم دل ہیں اگر آپ تندخو سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے۔‘‘ لوگ (داعی کی) نرم خوئی، کشادہ دلی اور ان کے بارے میں اس سے انشراح صدر کی بنا پر قبول حق کے قریب آتے ہیں ۔
[26]﴿ وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ یعنی میرے لیے میرا ہر معاملہ اور اپنے راستے میں میری ہر منزل کو آسان کر دے، میرے سامنے جو مشکلات اور سختیاں ہیں ان کو نرم کر دے۔ معاملے کو آسان کرنا یہ ہے کہ داعی نہایت آسانی کے ساتھ تمام معاملات کو ان کے اپنے اپنے دائرے میں نمٹا سکے۔ ہر شخص سے اس کے مزاج کی مناسبت سے مخاطب ہو اور اسے اس طریقے سے دعوت دے جو قبول حق کے قریب تر ہو۔
[28,27]﴿ وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰ يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ﴾ موسیٰ u کی زبان میں ثقل تھا جس کی وجہ سے ان کی بات مشکل سے سمجھ میں آتی تھی۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا: ﴿ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا ﴾(القصص:28؍34) ’’اور میرا بھائی ہارون، مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے۔‘‘ حضرت موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کی زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ ان کی بات کو سمجھ سکیں اور خطاب اور معانی کے بیان کا مقصد پورا ہو سکے۔
[30,29]﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡ﴾ یعنی میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دے جو میری مدد کرے، جو میرا بوجھ بٹائے اور جن لوگوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہے ان کے مقابلے میں مجھے تقویت دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کی کہ یہ مددگار ان کے گھر والوں میں سے ہو اس لیے کہ یہ صلہ رحمی کا ایک طریقہ ہے۔ انسان کی نیکی کا سب سے زیادہ مستحق اس کا رشتہ دار ہوتا ہے، پھر اپنی دعا میں اس مددگار کا تعین کرتے ہوئے فرمایا:﴿هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾
[32,31]﴿اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِيۡ﴾ یعنی مجھے میرے بھائی کے ذریعے قوت عطا کر اور میری کمر کو مضبوط کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور آپ دونوں کو غلبہ دیں گے۔‘‘ ﴿وَاَشۡرِكۡهُ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ نبوت میں اسے میرا شریک بنا دے، یعنی اسے بھی نبی اور رسول بنا دے جس طرح مجھے بنایا ہے۔
[34,33] پھر اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰ وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا﴾ موسیٰu کو معلوم تھا کہ تمام عبادات اور دین کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کے ساتھ ان کے بھائی کو بھی نبوت عطا کر دے، وہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی تسبیح و تہلیل اور عبادات کی دیگر انواع میں اضافہ ہو گا۔
[35]﴿اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ﴾ اے اللہ! تو ہمارے حال، ہماری کمزوری اور ہمارے عجز کو جانتا ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں تیرے محتاج ہیں تو ہمیں ہم سے زیادہ دیکھتا ہے اور ہم پر ہم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پس ہم نے تجھ سے جو سوال کیا ہے وہ ہمیں عطا کر کے ہمیں ممنون فرما اور ہماری دعا قبول فرما۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ اے موسیٰ! جو کچھ تو نے مانگا ہے تجھ کو عطا کیا جاتا ہے، ہم تجھ کو انشراح صدر عطا کر دیں گے، تیرے معاملے کو آسان کر دیں گے، تیری زبان کی گرہ کھول دیں گے، لوگ تیری بات کو سمجھیں گے اور ہم تیرے بھائی ہارون کے ذریعے سے تیرے ہاتھ مضبوط کر دیں گے ﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم تم دونوں کو غلبہ دیں گے اور وہ ہماری نشانیوں کے سبب سے تم دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، غلبہ تم دونوں اور تمھارے متبعین ہی کا ہو گا۔‘‘ موسیٰ u کا سوال اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل تھی، آپ کمال درجے کے ذہین و فطین تھے اور تمام معاملات کی کامل معرفت رکھتے تھے اور کامل خیرخواہی سے بہرہ ور تھے، نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوق کی راہنمائی کرنے والا… خاص طور پرجب اس داعی کے مخاطب اہل عناد، متکبر اور سرکش لوگ ہوں … کشادہ دلی، اذیتوں پر بردباری اور فصاحت زبان کا، جس کے ذریعے سے وہ اپنے مقاصد اور ارادوں کی تعبیر پر قادر ہو، محتاج ہوتا ہے بلکہ اس مقام پر فائز شخص کے لیے فصاحت و بلاغت نہایت ضروری ملکہ ہے کیونکہ اسے کثرت سے بحث و تکرار کی ضرورت پیش آتی ہے، علاوہ ازیں یہ بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حتی المقدور حق کو خوب صورت اور مزین کر کے پیش کرے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو اور باطل کی قباحت و شناعت کو اجاگر کرے تاکہ لوگ اس سے متنفر ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ داعی ٔحق اس بات کا بھی محتاج ہے کہ اس کے معاملے میں آسانی پیدا ہو اور وہ اس کے لیے درست طریق کار اختیار کرے۔ حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین طریق گفتگو کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دے اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب حال معاملہ کرے اور ان سب باتوں کی تکمیل یہ ہے کہ جو شخص یہ وصف رکھتا ہو اس کے کچھ اعوان و مددگار ہوں جو اس کے مقصد کے حصول میں اس کی مدد کریں کیونکہ جب آوازیں زیادہ ہوں گی تو وہ زیادہ اثر انداز ہوں گی، اسی لیے موسیٰ u نے ان امور کا سوال کیا تھا جو انھیں عطا کر دیے گئے۔ اگر آپ انبیاء کی حالت پر غور کریں گے، جن کو مخلوق کی طرف بھیجا گیا تو ان کے احوال کے مطابق ان کو اسی حال میں پائیں گے۔ خاص طور پر افضل الانبیاء خاتم المرسلین جناب محمدﷺ کو، جو ہر صفت کمال میں بلندترین درجے پر فائز تھے۔ آپﷺ کو جس طرح شرح صدر، تیسیر امر، فصاحت زبان، حسن تعبیر و بیان اور حق کی راہ میں اعوان و انصار یعنی صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں سے نوازا گیا، دوسرے انبیاء کو یہ خوبیان اس انداز سے میسر نہیں آئیں ۔
20:28تو جا فرعون کی طرف، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے (24) موسیٰ نے کہا، اے رب! کھول دے میرے لیے میرا سینہ (25) اور آسان کر دے میرے لیے میرا کلام (26) اور کھول دے گرہ میری زبان کی (27)(تاکہ) وہ سمجھیں میری بات (28) اور بنا دے میرے لیے وزیر میرے اہل سے (29)(، یعنی ) ہارون میرے بھائی کو (30) مضبوط کر تو ساتھ اس کے میری کمر (31) اور شریک کر اسے میرے کام (نبوت) میں (32) تاکہ ہم تسبیح بیان کریں تیری بہت (33) اور (تاکہ) ہم یاد کریں تجھے کثرت سے (34)بلاشبہ تو ہے ہمیں خوب دیکھنے والا (35) اللہ نے کہا تحقیق دے دیا گیا تو اپنا سوال اے موسیٰ! (36)
[24] جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u پر وحی نازل کر کے انھیں نبوت عطا کر دی اور انھیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴾ ’’فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ ، اپنے کفر و فسادمیں ، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ اس نے ربویت اور الوہیت کا دعویٰ کر دیا… قبحہ اللّٰہ… یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت قائم نہیں کر دیتا۔
[25] اس وقت موسیٰ u کو معلوم ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور انھیں ایک جابر اور سرکش انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جس کا مصر میں مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں جبکہ موسیٰ u نے تن تنہا ہیں ، علاوہ ازیں ان سے ایک قتل بھی سرزد ہو چکا تھا لیکن انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور انشراح صدر کے ساتھ اس کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور اسباب کی فراہمی کا سوال کیا جن کی بنا پر دعوت کی تکمیل ہوتی ہے، چنانچہ عرض کیا:﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡ﴾ یعنی اے اللہ! میرے سینے کو کھول دے اور اسے وسعت عطا کر تاکہ میں قولی اور فعلی اذیتیں برداشت کر سکوں اور میرا قلب تکدر کا شکار نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ انسان کا سینہ جب تنگ ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا اہل نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ١ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ﴾(آل عمران:3؍159) ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ(ﷺ) ان کے لیے بہت نرم دل ہیں اگر آپ تندخو سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے۔‘‘ لوگ (داعی کی) نرم خوئی، کشادہ دلی اور ان کے بارے میں اس سے انشراح صدر کی بنا پر قبول حق کے قریب آتے ہیں ۔
[26]﴿ وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ یعنی میرے لیے میرا ہر معاملہ اور اپنے راستے میں میری ہر منزل کو آسان کر دے، میرے سامنے جو مشکلات اور سختیاں ہیں ان کو نرم کر دے۔ معاملے کو آسان کرنا یہ ہے کہ داعی نہایت آسانی کے ساتھ تمام معاملات کو ان کے اپنے اپنے دائرے میں نمٹا سکے۔ ہر شخص سے اس کے مزاج کی مناسبت سے مخاطب ہو اور اسے اس طریقے سے دعوت دے جو قبول حق کے قریب تر ہو۔
[28,27]﴿ وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰ يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ﴾ موسیٰ u کی زبان میں ثقل تھا جس کی وجہ سے ان کی بات مشکل سے سمجھ میں آتی تھی۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا: ﴿ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا ﴾(القصص:28؍34) ’’اور میرا بھائی ہارون، مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے۔‘‘ حضرت موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کی زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ ان کی بات کو سمجھ سکیں اور خطاب اور معانی کے بیان کا مقصد پورا ہو سکے۔
[30,29]﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡ﴾ یعنی میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دے جو میری مدد کرے، جو میرا بوجھ بٹائے اور جن لوگوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہے ان کے مقابلے میں مجھے تقویت دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کی کہ یہ مددگار ان کے گھر والوں میں سے ہو اس لیے کہ یہ صلہ رحمی کا ایک طریقہ ہے۔ انسان کی نیکی کا سب سے زیادہ مستحق اس کا رشتہ دار ہوتا ہے، پھر اپنی دعا میں اس مددگار کا تعین کرتے ہوئے فرمایا:﴿هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾
[32,31]﴿اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِيۡ﴾ یعنی مجھے میرے بھائی کے ذریعے قوت عطا کر اور میری کمر کو مضبوط کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور آپ دونوں کو غلبہ دیں گے۔‘‘ ﴿وَاَشۡرِكۡهُ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ نبوت میں اسے میرا شریک بنا دے، یعنی اسے بھی نبی اور رسول بنا دے جس طرح مجھے بنایا ہے۔
[34,33] پھر اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰ وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا﴾ موسیٰu کو معلوم تھا کہ تمام عبادات اور دین کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کے ساتھ ان کے بھائی کو بھی نبوت عطا کر دے، وہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی تسبیح و تہلیل اور عبادات کی دیگر انواع میں اضافہ ہو گا۔
[35]﴿اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ﴾ اے اللہ! تو ہمارے حال، ہماری کمزوری اور ہمارے عجز کو جانتا ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں تیرے محتاج ہیں تو ہمیں ہم سے زیادہ دیکھتا ہے اور ہم پر ہم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پس ہم نے تجھ سے جو سوال کیا ہے وہ ہمیں عطا کر کے ہمیں ممنون فرما اور ہماری دعا قبول فرما۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ اے موسیٰ! جو کچھ تو نے مانگا ہے تجھ کو عطا کیا جاتا ہے، ہم تجھ کو انشراح صدر عطا کر دیں گے، تیرے معاملے کو آسان کر دیں گے، تیری زبان کی گرہ کھول دیں گے، لوگ تیری بات کو سمجھیں گے اور ہم تیرے بھائی ہارون کے ذریعے سے تیرے ہاتھ مضبوط کر دیں گے ﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم تم دونوں کو غلبہ دیں گے اور وہ ہماری نشانیوں کے سبب سے تم دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، غلبہ تم دونوں اور تمھارے متبعین ہی کا ہو گا۔‘‘ موسیٰ u کا سوال اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل تھی، آپ کمال درجے کے ذہین و فطین تھے اور تمام معاملات کی کامل معرفت رکھتے تھے اور کامل خیرخواہی سے بہرہ ور تھے، نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوق کی راہنمائی کرنے والا… خاص طور پرجب اس داعی کے مخاطب اہل عناد، متکبر اور سرکش لوگ ہوں … کشادہ دلی، اذیتوں پر بردباری اور فصاحت زبان کا، جس کے ذریعے سے وہ اپنے مقاصد اور ارادوں کی تعبیر پر قادر ہو، محتاج ہوتا ہے بلکہ اس مقام پر فائز شخص کے لیے فصاحت و بلاغت نہایت ضروری ملکہ ہے کیونکہ اسے کثرت سے بحث و تکرار کی ضرورت پیش آتی ہے، علاوہ ازیں یہ بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حتی المقدور حق کو خوب صورت اور مزین کر کے پیش کرے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو اور باطل کی قباحت و شناعت کو اجاگر کرے تاکہ لوگ اس سے متنفر ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ داعی ٔحق اس بات کا بھی محتاج ہے کہ اس کے معاملے میں آسانی پیدا ہو اور وہ اس کے لیے درست طریق کار اختیار کرے۔ حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین طریق گفتگو کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دے اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب حال معاملہ کرے اور ان سب باتوں کی تکمیل یہ ہے کہ جو شخص یہ وصف رکھتا ہو اس کے کچھ اعوان و مددگار ہوں جو اس کے مقصد کے حصول میں اس کی مدد کریں کیونکہ جب آوازیں زیادہ ہوں گی تو وہ زیادہ اثر انداز ہوں گی، اسی لیے موسیٰ u نے ان امور کا سوال کیا تھا جو انھیں عطا کر دیے گئے۔ اگر آپ انبیاء کی حالت پر غور کریں گے، جن کو مخلوق کی طرف بھیجا گیا تو ان کے احوال کے مطابق ان کو اسی حال میں پائیں گے۔ خاص طور پر افضل الانبیاء خاتم المرسلین جناب محمدﷺ کو، جو ہر صفت کمال میں بلندترین درجے پر فائز تھے۔ آپﷺ کو جس طرح شرح صدر، تیسیر امر، فصاحت زبان، حسن تعبیر و بیان اور حق کی راہ میں اعوان و انصار یعنی صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں سے نوازا گیا، دوسرے انبیاء کو یہ خوبیان اس انداز سے میسر نہیں آئیں ۔
20:29وَٱجۡعَل لِّي وَزِيرٗا مِّنۡ أَهۡلِي
تو جا فرعون کی طرف، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے (24) موسیٰ نے کہا، اے رب! کھول دے میرے لیے میرا سینہ (25) اور آسان کر دے میرے لیے میرا کلام (26) اور کھول دے گرہ میری زبان کی (27)(تاکہ) وہ سمجھیں میری بات (28) اور بنا دے میرے لیے وزیر میرے اہل سے (29)(، یعنی ) ہارون میرے بھائی کو (30) مضبوط کر تو ساتھ اس کے میری کمر (31) اور شریک کر اسے میرے کام (نبوت) میں (32) تاکہ ہم تسبیح بیان کریں تیری بہت (33) اور (تاکہ) ہم یاد کریں تجھے کثرت سے (34)بلاشبہ تو ہے ہمیں خوب دیکھنے والا (35) اللہ نے کہا تحقیق دے دیا گیا تو اپنا سوال اے موسیٰ! (36)
[24] جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u پر وحی نازل کر کے انھیں نبوت عطا کر دی اور انھیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴾ ’’فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ ، اپنے کفر و فسادمیں ، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ اس نے ربویت اور الوہیت کا دعویٰ کر دیا… قبحہ اللّٰہ… یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت قائم نہیں کر دیتا۔
[25] اس وقت موسیٰ u کو معلوم ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور انھیں ایک جابر اور سرکش انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جس کا مصر میں مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں جبکہ موسیٰ u نے تن تنہا ہیں ، علاوہ ازیں ان سے ایک قتل بھی سرزد ہو چکا تھا لیکن انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور انشراح صدر کے ساتھ اس کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور اسباب کی فراہمی کا سوال کیا جن کی بنا پر دعوت کی تکمیل ہوتی ہے، چنانچہ عرض کیا:﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡ﴾ یعنی اے اللہ! میرے سینے کو کھول دے اور اسے وسعت عطا کر تاکہ میں قولی اور فعلی اذیتیں برداشت کر سکوں اور میرا قلب تکدر کا شکار نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ انسان کا سینہ جب تنگ ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا اہل نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ١ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ﴾(آل عمران:3؍159) ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ(ﷺ) ان کے لیے بہت نرم دل ہیں اگر آپ تندخو سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے۔‘‘ لوگ (داعی کی) نرم خوئی، کشادہ دلی اور ان کے بارے میں اس سے انشراح صدر کی بنا پر قبول حق کے قریب آتے ہیں ۔
[26]﴿ وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ یعنی میرے لیے میرا ہر معاملہ اور اپنے راستے میں میری ہر منزل کو آسان کر دے، میرے سامنے جو مشکلات اور سختیاں ہیں ان کو نرم کر دے۔ معاملے کو آسان کرنا یہ ہے کہ داعی نہایت آسانی کے ساتھ تمام معاملات کو ان کے اپنے اپنے دائرے میں نمٹا سکے۔ ہر شخص سے اس کے مزاج کی مناسبت سے مخاطب ہو اور اسے اس طریقے سے دعوت دے جو قبول حق کے قریب تر ہو۔
[28,27]﴿ وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰ يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ﴾ موسیٰ u کی زبان میں ثقل تھا جس کی وجہ سے ان کی بات مشکل سے سمجھ میں آتی تھی۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا: ﴿ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا ﴾(القصص:28؍34) ’’اور میرا بھائی ہارون، مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے۔‘‘ حضرت موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کی زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ ان کی بات کو سمجھ سکیں اور خطاب اور معانی کے بیان کا مقصد پورا ہو سکے۔
[30,29]﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡ﴾ یعنی میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دے جو میری مدد کرے، جو میرا بوجھ بٹائے اور جن لوگوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہے ان کے مقابلے میں مجھے تقویت دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کی کہ یہ مددگار ان کے گھر والوں میں سے ہو اس لیے کہ یہ صلہ رحمی کا ایک طریقہ ہے۔ انسان کی نیکی کا سب سے زیادہ مستحق اس کا رشتہ دار ہوتا ہے، پھر اپنی دعا میں اس مددگار کا تعین کرتے ہوئے فرمایا:﴿هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾
[32,31]﴿اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِيۡ﴾ یعنی مجھے میرے بھائی کے ذریعے قوت عطا کر اور میری کمر کو مضبوط کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور آپ دونوں کو غلبہ دیں گے۔‘‘ ﴿وَاَشۡرِكۡهُ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ نبوت میں اسے میرا شریک بنا دے، یعنی اسے بھی نبی اور رسول بنا دے جس طرح مجھے بنایا ہے۔
[34,33] پھر اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰ وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا﴾ موسیٰu کو معلوم تھا کہ تمام عبادات اور دین کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کے ساتھ ان کے بھائی کو بھی نبوت عطا کر دے، وہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی تسبیح و تہلیل اور عبادات کی دیگر انواع میں اضافہ ہو گا۔
[35]﴿اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ﴾ اے اللہ! تو ہمارے حال، ہماری کمزوری اور ہمارے عجز کو جانتا ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں تیرے محتاج ہیں تو ہمیں ہم سے زیادہ دیکھتا ہے اور ہم پر ہم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پس ہم نے تجھ سے جو سوال کیا ہے وہ ہمیں عطا کر کے ہمیں ممنون فرما اور ہماری دعا قبول فرما۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ اے موسیٰ! جو کچھ تو نے مانگا ہے تجھ کو عطا کیا جاتا ہے، ہم تجھ کو انشراح صدر عطا کر دیں گے، تیرے معاملے کو آسان کر دیں گے، تیری زبان کی گرہ کھول دیں گے، لوگ تیری بات کو سمجھیں گے اور ہم تیرے بھائی ہارون کے ذریعے سے تیرے ہاتھ مضبوط کر دیں گے ﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم تم دونوں کو غلبہ دیں گے اور وہ ہماری نشانیوں کے سبب سے تم دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، غلبہ تم دونوں اور تمھارے متبعین ہی کا ہو گا۔‘‘ موسیٰ u کا سوال اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل تھی، آپ کمال درجے کے ذہین و فطین تھے اور تمام معاملات کی کامل معرفت رکھتے تھے اور کامل خیرخواہی سے بہرہ ور تھے، نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوق کی راہنمائی کرنے والا… خاص طور پرجب اس داعی کے مخاطب اہل عناد، متکبر اور سرکش لوگ ہوں … کشادہ دلی، اذیتوں پر بردباری اور فصاحت زبان کا، جس کے ذریعے سے وہ اپنے مقاصد اور ارادوں کی تعبیر پر قادر ہو، محتاج ہوتا ہے بلکہ اس مقام پر فائز شخص کے لیے فصاحت و بلاغت نہایت ضروری ملکہ ہے کیونکہ اسے کثرت سے بحث و تکرار کی ضرورت پیش آتی ہے، علاوہ ازیں یہ بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حتی المقدور حق کو خوب صورت اور مزین کر کے پیش کرے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو اور باطل کی قباحت و شناعت کو اجاگر کرے تاکہ لوگ اس سے متنفر ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ داعی ٔحق اس بات کا بھی محتاج ہے کہ اس کے معاملے میں آسانی پیدا ہو اور وہ اس کے لیے درست طریق کار اختیار کرے۔ حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین طریق گفتگو کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دے اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب حال معاملہ کرے اور ان سب باتوں کی تکمیل یہ ہے کہ جو شخص یہ وصف رکھتا ہو اس کے کچھ اعوان و مددگار ہوں جو اس کے مقصد کے حصول میں اس کی مدد کریں کیونکہ جب آوازیں زیادہ ہوں گی تو وہ زیادہ اثر انداز ہوں گی، اسی لیے موسیٰ u نے ان امور کا سوال کیا تھا جو انھیں عطا کر دیے گئے۔ اگر آپ انبیاء کی حالت پر غور کریں گے، جن کو مخلوق کی طرف بھیجا گیا تو ان کے احوال کے مطابق ان کو اسی حال میں پائیں گے۔ خاص طور پر افضل الانبیاء خاتم المرسلین جناب محمدﷺ کو، جو ہر صفت کمال میں بلندترین درجے پر فائز تھے۔ آپﷺ کو جس طرح شرح صدر، تیسیر امر، فصاحت زبان، حسن تعبیر و بیان اور حق کی راہ میں اعوان و انصار یعنی صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں سے نوازا گیا، دوسرے انبیاء کو یہ خوبیان اس انداز سے میسر نہیں آئیں ۔
20:30تو جا فرعون کی طرف، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے (24) موسیٰ نے کہا، اے رب! کھول دے میرے لیے میرا سینہ (25) اور آسان کر دے میرے لیے میرا کلام (26) اور کھول دے گرہ میری زبان کی (27)(تاکہ) وہ سمجھیں میری بات (28) اور بنا دے میرے لیے وزیر میرے اہل سے (29)(، یعنی ) ہارون میرے بھائی کو (30) مضبوط کر تو ساتھ اس کے میری کمر (31) اور شریک کر اسے میرے کام (نبوت) میں (32) تاکہ ہم تسبیح بیان کریں تیری بہت (33) اور (تاکہ) ہم یاد کریں تجھے کثرت سے (34)بلاشبہ تو ہے ہمیں خوب دیکھنے والا (35) اللہ نے کہا تحقیق دے دیا گیا تو اپنا سوال اے موسیٰ! (36)
[24] جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u پر وحی نازل کر کے انھیں نبوت عطا کر دی اور انھیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴾ ’’فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ ، اپنے کفر و فسادمیں ، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ اس نے ربویت اور الوہیت کا دعویٰ کر دیا… قبحہ اللّٰہ… یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت قائم نہیں کر دیتا۔
[25] اس وقت موسیٰ u کو معلوم ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور انھیں ایک جابر اور سرکش انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جس کا مصر میں مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں جبکہ موسیٰ u نے تن تنہا ہیں ، علاوہ ازیں ان سے ایک قتل بھی سرزد ہو چکا تھا لیکن انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور انشراح صدر کے ساتھ اس کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور اسباب کی فراہمی کا سوال کیا جن کی بنا پر دعوت کی تکمیل ہوتی ہے، چنانچہ عرض کیا:﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡ﴾ یعنی اے اللہ! میرے سینے کو کھول دے اور اسے وسعت عطا کر تاکہ میں قولی اور فعلی اذیتیں برداشت کر سکوں اور میرا قلب تکدر کا شکار نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ انسان کا سینہ جب تنگ ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا اہل نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ١ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ﴾(آل عمران:3؍159) ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ(ﷺ) ان کے لیے بہت نرم دل ہیں اگر آپ تندخو سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے۔‘‘ لوگ (داعی کی) نرم خوئی، کشادہ دلی اور ان کے بارے میں اس سے انشراح صدر کی بنا پر قبول حق کے قریب آتے ہیں ۔
[26]﴿ وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ یعنی میرے لیے میرا ہر معاملہ اور اپنے راستے میں میری ہر منزل کو آسان کر دے، میرے سامنے جو مشکلات اور سختیاں ہیں ان کو نرم کر دے۔ معاملے کو آسان کرنا یہ ہے کہ داعی نہایت آسانی کے ساتھ تمام معاملات کو ان کے اپنے اپنے دائرے میں نمٹا سکے۔ ہر شخص سے اس کے مزاج کی مناسبت سے مخاطب ہو اور اسے اس طریقے سے دعوت دے جو قبول حق کے قریب تر ہو۔
[28,27]﴿ وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰ يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ﴾ موسیٰ u کی زبان میں ثقل تھا جس کی وجہ سے ان کی بات مشکل سے سمجھ میں آتی تھی۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا: ﴿ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا ﴾(القصص:28؍34) ’’اور میرا بھائی ہارون، مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے۔‘‘ حضرت موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کی زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ ان کی بات کو سمجھ سکیں اور خطاب اور معانی کے بیان کا مقصد پورا ہو سکے۔
[30,29]﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡ﴾ یعنی میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دے جو میری مدد کرے، جو میرا بوجھ بٹائے اور جن لوگوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہے ان کے مقابلے میں مجھے تقویت دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کی کہ یہ مددگار ان کے گھر والوں میں سے ہو اس لیے کہ یہ صلہ رحمی کا ایک طریقہ ہے۔ انسان کی نیکی کا سب سے زیادہ مستحق اس کا رشتہ دار ہوتا ہے، پھر اپنی دعا میں اس مددگار کا تعین کرتے ہوئے فرمایا:﴿هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾
[32,31]﴿اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِيۡ﴾ یعنی مجھے میرے بھائی کے ذریعے قوت عطا کر اور میری کمر کو مضبوط کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور آپ دونوں کو غلبہ دیں گے۔‘‘ ﴿وَاَشۡرِكۡهُ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ نبوت میں اسے میرا شریک بنا دے، یعنی اسے بھی نبی اور رسول بنا دے جس طرح مجھے بنایا ہے۔
[34,33] پھر اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰ وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا﴾ موسیٰu کو معلوم تھا کہ تمام عبادات اور دین کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کے ساتھ ان کے بھائی کو بھی نبوت عطا کر دے، وہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی تسبیح و تہلیل اور عبادات کی دیگر انواع میں اضافہ ہو گا۔
[35]﴿اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ﴾ اے اللہ! تو ہمارے حال، ہماری کمزوری اور ہمارے عجز کو جانتا ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں تیرے محتاج ہیں تو ہمیں ہم سے زیادہ دیکھتا ہے اور ہم پر ہم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پس ہم نے تجھ سے جو سوال کیا ہے وہ ہمیں عطا کر کے ہمیں ممنون فرما اور ہماری دعا قبول فرما۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ اے موسیٰ! جو کچھ تو نے مانگا ہے تجھ کو عطا کیا جاتا ہے، ہم تجھ کو انشراح صدر عطا کر دیں گے، تیرے معاملے کو آسان کر دیں گے، تیری زبان کی گرہ کھول دیں گے، لوگ تیری بات کو سمجھیں گے اور ہم تیرے بھائی ہارون کے ذریعے سے تیرے ہاتھ مضبوط کر دیں گے ﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم تم دونوں کو غلبہ دیں گے اور وہ ہماری نشانیوں کے سبب سے تم دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، غلبہ تم دونوں اور تمھارے متبعین ہی کا ہو گا۔‘‘ موسیٰ u کا سوال اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل تھی، آپ کمال درجے کے ذہین و فطین تھے اور تمام معاملات کی کامل معرفت رکھتے تھے اور کامل خیرخواہی سے بہرہ ور تھے، نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوق کی راہنمائی کرنے والا… خاص طور پرجب اس داعی کے مخاطب اہل عناد، متکبر اور سرکش لوگ ہوں … کشادہ دلی، اذیتوں پر بردباری اور فصاحت زبان کا، جس کے ذریعے سے وہ اپنے مقاصد اور ارادوں کی تعبیر پر قادر ہو، محتاج ہوتا ہے بلکہ اس مقام پر فائز شخص کے لیے فصاحت و بلاغت نہایت ضروری ملکہ ہے کیونکہ اسے کثرت سے بحث و تکرار کی ضرورت پیش آتی ہے، علاوہ ازیں یہ بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حتی المقدور حق کو خوب صورت اور مزین کر کے پیش کرے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو اور باطل کی قباحت و شناعت کو اجاگر کرے تاکہ لوگ اس سے متنفر ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ داعی ٔحق اس بات کا بھی محتاج ہے کہ اس کے معاملے میں آسانی پیدا ہو اور وہ اس کے لیے درست طریق کار اختیار کرے۔ حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین طریق گفتگو کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دے اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب حال معاملہ کرے اور ان سب باتوں کی تکمیل یہ ہے کہ جو شخص یہ وصف رکھتا ہو اس کے کچھ اعوان و مددگار ہوں جو اس کے مقصد کے حصول میں اس کی مدد کریں کیونکہ جب آوازیں زیادہ ہوں گی تو وہ زیادہ اثر انداز ہوں گی، اسی لیے موسیٰ u نے ان امور کا سوال کیا تھا جو انھیں عطا کر دیے گئے۔ اگر آپ انبیاء کی حالت پر غور کریں گے، جن کو مخلوق کی طرف بھیجا گیا تو ان کے احوال کے مطابق ان کو اسی حال میں پائیں گے۔ خاص طور پر افضل الانبیاء خاتم المرسلین جناب محمدﷺ کو، جو ہر صفت کمال میں بلندترین درجے پر فائز تھے۔ آپﷺ کو جس طرح شرح صدر، تیسیر امر، فصاحت زبان، حسن تعبیر و بیان اور حق کی راہ میں اعوان و انصار یعنی صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں سے نوازا گیا، دوسرے انبیاء کو یہ خوبیان اس انداز سے میسر نہیں آئیں ۔
20:31تو جا فرعون کی طرف، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے (24) موسیٰ نے کہا، اے رب! کھول دے میرے لیے میرا سینہ (25) اور آسان کر دے میرے لیے میرا کلام (26) اور کھول دے گرہ میری زبان کی (27)(تاکہ) وہ سمجھیں میری بات (28) اور بنا دے میرے لیے وزیر میرے اہل سے (29)(، یعنی ) ہارون میرے بھائی کو (30) مضبوط کر تو ساتھ اس کے میری کمر (31) اور شریک کر اسے میرے کام (نبوت) میں (32) تاکہ ہم تسبیح بیان کریں تیری بہت (33) اور (تاکہ) ہم یاد کریں تجھے کثرت سے (34)بلاشبہ تو ہے ہمیں خوب دیکھنے والا (35) اللہ نے کہا تحقیق دے دیا گیا تو اپنا سوال اے موسیٰ! (36)
[24] جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u پر وحی نازل کر کے انھیں نبوت عطا کر دی اور انھیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴾ ’’فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ ، اپنے کفر و فسادمیں ، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ اس نے ربویت اور الوہیت کا دعویٰ کر دیا… قبحہ اللّٰہ… یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت قائم نہیں کر دیتا۔
[25] اس وقت موسیٰ u کو معلوم ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور انھیں ایک جابر اور سرکش انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جس کا مصر میں مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں جبکہ موسیٰ u نے تن تنہا ہیں ، علاوہ ازیں ان سے ایک قتل بھی سرزد ہو چکا تھا لیکن انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور انشراح صدر کے ساتھ اس کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور اسباب کی فراہمی کا سوال کیا جن کی بنا پر دعوت کی تکمیل ہوتی ہے، چنانچہ عرض کیا:﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡ﴾ یعنی اے اللہ! میرے سینے کو کھول دے اور اسے وسعت عطا کر تاکہ میں قولی اور فعلی اذیتیں برداشت کر سکوں اور میرا قلب تکدر کا شکار نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ انسان کا سینہ جب تنگ ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا اہل نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ١ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ﴾(آل عمران:3؍159) ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ(ﷺ) ان کے لیے بہت نرم دل ہیں اگر آپ تندخو سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے۔‘‘ لوگ (داعی کی) نرم خوئی، کشادہ دلی اور ان کے بارے میں اس سے انشراح صدر کی بنا پر قبول حق کے قریب آتے ہیں ۔
[26]﴿ وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ یعنی میرے لیے میرا ہر معاملہ اور اپنے راستے میں میری ہر منزل کو آسان کر دے، میرے سامنے جو مشکلات اور سختیاں ہیں ان کو نرم کر دے۔ معاملے کو آسان کرنا یہ ہے کہ داعی نہایت آسانی کے ساتھ تمام معاملات کو ان کے اپنے اپنے دائرے میں نمٹا سکے۔ ہر شخص سے اس کے مزاج کی مناسبت سے مخاطب ہو اور اسے اس طریقے سے دعوت دے جو قبول حق کے قریب تر ہو۔
[28,27]﴿ وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰ يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ﴾ موسیٰ u کی زبان میں ثقل تھا جس کی وجہ سے ان کی بات مشکل سے سمجھ میں آتی تھی۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا: ﴿ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا ﴾(القصص:28؍34) ’’اور میرا بھائی ہارون، مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے۔‘‘ حضرت موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کی زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ ان کی بات کو سمجھ سکیں اور خطاب اور معانی کے بیان کا مقصد پورا ہو سکے۔
[30,29]﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡ﴾ یعنی میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دے جو میری مدد کرے، جو میرا بوجھ بٹائے اور جن لوگوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہے ان کے مقابلے میں مجھے تقویت دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کی کہ یہ مددگار ان کے گھر والوں میں سے ہو اس لیے کہ یہ صلہ رحمی کا ایک طریقہ ہے۔ انسان کی نیکی کا سب سے زیادہ مستحق اس کا رشتہ دار ہوتا ہے، پھر اپنی دعا میں اس مددگار کا تعین کرتے ہوئے فرمایا:﴿هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾
[32,31]﴿اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِيۡ﴾ یعنی مجھے میرے بھائی کے ذریعے قوت عطا کر اور میری کمر کو مضبوط کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور آپ دونوں کو غلبہ دیں گے۔‘‘ ﴿وَاَشۡرِكۡهُ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ نبوت میں اسے میرا شریک بنا دے، یعنی اسے بھی نبی اور رسول بنا دے جس طرح مجھے بنایا ہے۔
[34,33] پھر اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰ وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا﴾ موسیٰu کو معلوم تھا کہ تمام عبادات اور دین کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کے ساتھ ان کے بھائی کو بھی نبوت عطا کر دے، وہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی تسبیح و تہلیل اور عبادات کی دیگر انواع میں اضافہ ہو گا۔
[35]﴿اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ﴾ اے اللہ! تو ہمارے حال، ہماری کمزوری اور ہمارے عجز کو جانتا ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں تیرے محتاج ہیں تو ہمیں ہم سے زیادہ دیکھتا ہے اور ہم پر ہم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پس ہم نے تجھ سے جو سوال کیا ہے وہ ہمیں عطا کر کے ہمیں ممنون فرما اور ہماری دعا قبول فرما۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ اے موسیٰ! جو کچھ تو نے مانگا ہے تجھ کو عطا کیا جاتا ہے، ہم تجھ کو انشراح صدر عطا کر دیں گے، تیرے معاملے کو آسان کر دیں گے، تیری زبان کی گرہ کھول دیں گے، لوگ تیری بات کو سمجھیں گے اور ہم تیرے بھائی ہارون کے ذریعے سے تیرے ہاتھ مضبوط کر دیں گے ﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم تم دونوں کو غلبہ دیں گے اور وہ ہماری نشانیوں کے سبب سے تم دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، غلبہ تم دونوں اور تمھارے متبعین ہی کا ہو گا۔‘‘ موسیٰ u کا سوال اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل تھی، آپ کمال درجے کے ذہین و فطین تھے اور تمام معاملات کی کامل معرفت رکھتے تھے اور کامل خیرخواہی سے بہرہ ور تھے، نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوق کی راہنمائی کرنے والا… خاص طور پرجب اس داعی کے مخاطب اہل عناد، متکبر اور سرکش لوگ ہوں … کشادہ دلی، اذیتوں پر بردباری اور فصاحت زبان کا، جس کے ذریعے سے وہ اپنے مقاصد اور ارادوں کی تعبیر پر قادر ہو، محتاج ہوتا ہے بلکہ اس مقام پر فائز شخص کے لیے فصاحت و بلاغت نہایت ضروری ملکہ ہے کیونکہ اسے کثرت سے بحث و تکرار کی ضرورت پیش آتی ہے، علاوہ ازیں یہ بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حتی المقدور حق کو خوب صورت اور مزین کر کے پیش کرے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو اور باطل کی قباحت و شناعت کو اجاگر کرے تاکہ لوگ اس سے متنفر ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ داعی ٔحق اس بات کا بھی محتاج ہے کہ اس کے معاملے میں آسانی پیدا ہو اور وہ اس کے لیے درست طریق کار اختیار کرے۔ حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین طریق گفتگو کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دے اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب حال معاملہ کرے اور ان سب باتوں کی تکمیل یہ ہے کہ جو شخص یہ وصف رکھتا ہو اس کے کچھ اعوان و مددگار ہوں جو اس کے مقصد کے حصول میں اس کی مدد کریں کیونکہ جب آوازیں زیادہ ہوں گی تو وہ زیادہ اثر انداز ہوں گی، اسی لیے موسیٰ u نے ان امور کا سوال کیا تھا جو انھیں عطا کر دیے گئے۔ اگر آپ انبیاء کی حالت پر غور کریں گے، جن کو مخلوق کی طرف بھیجا گیا تو ان کے احوال کے مطابق ان کو اسی حال میں پائیں گے۔ خاص طور پر افضل الانبیاء خاتم المرسلین جناب محمدﷺ کو، جو ہر صفت کمال میں بلندترین درجے پر فائز تھے۔ آپﷺ کو جس طرح شرح صدر، تیسیر امر، فصاحت زبان، حسن تعبیر و بیان اور حق کی راہ میں اعوان و انصار یعنی صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں سے نوازا گیا، دوسرے انبیاء کو یہ خوبیان اس انداز سے میسر نہیں آئیں ۔
20:32وَأَشۡرِكۡهُ فِيٓ أَمۡرِي
تو جا فرعون کی طرف، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے (24) موسیٰ نے کہا، اے رب! کھول دے میرے لیے میرا سینہ (25) اور آسان کر دے میرے لیے میرا کلام (26) اور کھول دے گرہ میری زبان کی (27)(تاکہ) وہ سمجھیں میری بات (28) اور بنا دے میرے لیے وزیر میرے اہل سے (29)(، یعنی ) ہارون میرے بھائی کو (30) مضبوط کر تو ساتھ اس کے میری کمر (31) اور شریک کر اسے میرے کام (نبوت) میں (32) تاکہ ہم تسبیح بیان کریں تیری بہت (33) اور (تاکہ) ہم یاد کریں تجھے کثرت سے (34)بلاشبہ تو ہے ہمیں خوب دیکھنے والا (35) اللہ نے کہا تحقیق دے دیا گیا تو اپنا سوال اے موسیٰ! (36)
[24] جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u پر وحی نازل کر کے انھیں نبوت عطا کر دی اور انھیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴾ ’’فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ ، اپنے کفر و فسادمیں ، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ اس نے ربویت اور الوہیت کا دعویٰ کر دیا… قبحہ اللّٰہ… یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت قائم نہیں کر دیتا۔
[25] اس وقت موسیٰ u کو معلوم ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور انھیں ایک جابر اور سرکش انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جس کا مصر میں مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں جبکہ موسیٰ u نے تن تنہا ہیں ، علاوہ ازیں ان سے ایک قتل بھی سرزد ہو چکا تھا لیکن انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور انشراح صدر کے ساتھ اس کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور اسباب کی فراہمی کا سوال کیا جن کی بنا پر دعوت کی تکمیل ہوتی ہے، چنانچہ عرض کیا:﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡ﴾ یعنی اے اللہ! میرے سینے کو کھول دے اور اسے وسعت عطا کر تاکہ میں قولی اور فعلی اذیتیں برداشت کر سکوں اور میرا قلب تکدر کا شکار نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ انسان کا سینہ جب تنگ ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا اہل نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ١ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ﴾(آل عمران:3؍159) ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ(ﷺ) ان کے لیے بہت نرم دل ہیں اگر آپ تندخو سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے۔‘‘ لوگ (داعی کی) نرم خوئی، کشادہ دلی اور ان کے بارے میں اس سے انشراح صدر کی بنا پر قبول حق کے قریب آتے ہیں ۔
[26]﴿ وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ یعنی میرے لیے میرا ہر معاملہ اور اپنے راستے میں میری ہر منزل کو آسان کر دے، میرے سامنے جو مشکلات اور سختیاں ہیں ان کو نرم کر دے۔ معاملے کو آسان کرنا یہ ہے کہ داعی نہایت آسانی کے ساتھ تمام معاملات کو ان کے اپنے اپنے دائرے میں نمٹا سکے۔ ہر شخص سے اس کے مزاج کی مناسبت سے مخاطب ہو اور اسے اس طریقے سے دعوت دے جو قبول حق کے قریب تر ہو۔
[28,27]﴿ وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰ يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ﴾ موسیٰ u کی زبان میں ثقل تھا جس کی وجہ سے ان کی بات مشکل سے سمجھ میں آتی تھی۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا: ﴿ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا ﴾(القصص:28؍34) ’’اور میرا بھائی ہارون، مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے۔‘‘ حضرت موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کی زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ ان کی بات کو سمجھ سکیں اور خطاب اور معانی کے بیان کا مقصد پورا ہو سکے۔
[30,29]﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡ﴾ یعنی میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دے جو میری مدد کرے، جو میرا بوجھ بٹائے اور جن لوگوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہے ان کے مقابلے میں مجھے تقویت دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کی کہ یہ مددگار ان کے گھر والوں میں سے ہو اس لیے کہ یہ صلہ رحمی کا ایک طریقہ ہے۔ انسان کی نیکی کا سب سے زیادہ مستحق اس کا رشتہ دار ہوتا ہے، پھر اپنی دعا میں اس مددگار کا تعین کرتے ہوئے فرمایا:﴿هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾
[32,31]﴿اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِيۡ﴾ یعنی مجھے میرے بھائی کے ذریعے قوت عطا کر اور میری کمر کو مضبوط کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور آپ دونوں کو غلبہ دیں گے۔‘‘ ﴿وَاَشۡرِكۡهُ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ نبوت میں اسے میرا شریک بنا دے، یعنی اسے بھی نبی اور رسول بنا دے جس طرح مجھے بنایا ہے۔
[34,33] پھر اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰ وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا﴾ موسیٰu کو معلوم تھا کہ تمام عبادات اور دین کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کے ساتھ ان کے بھائی کو بھی نبوت عطا کر دے، وہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی تسبیح و تہلیل اور عبادات کی دیگر انواع میں اضافہ ہو گا۔
[35]﴿اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ﴾ اے اللہ! تو ہمارے حال، ہماری کمزوری اور ہمارے عجز کو جانتا ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں تیرے محتاج ہیں تو ہمیں ہم سے زیادہ دیکھتا ہے اور ہم پر ہم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پس ہم نے تجھ سے جو سوال کیا ہے وہ ہمیں عطا کر کے ہمیں ممنون فرما اور ہماری دعا قبول فرما۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ اے موسیٰ! جو کچھ تو نے مانگا ہے تجھ کو عطا کیا جاتا ہے، ہم تجھ کو انشراح صدر عطا کر دیں گے، تیرے معاملے کو آسان کر دیں گے، تیری زبان کی گرہ کھول دیں گے، لوگ تیری بات کو سمجھیں گے اور ہم تیرے بھائی ہارون کے ذریعے سے تیرے ہاتھ مضبوط کر دیں گے ﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم تم دونوں کو غلبہ دیں گے اور وہ ہماری نشانیوں کے سبب سے تم دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، غلبہ تم دونوں اور تمھارے متبعین ہی کا ہو گا۔‘‘ موسیٰ u کا سوال اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل تھی، آپ کمال درجے کے ذہین و فطین تھے اور تمام معاملات کی کامل معرفت رکھتے تھے اور کامل خیرخواہی سے بہرہ ور تھے، نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوق کی راہنمائی کرنے والا… خاص طور پرجب اس داعی کے مخاطب اہل عناد، متکبر اور سرکش لوگ ہوں … کشادہ دلی، اذیتوں پر بردباری اور فصاحت زبان کا، جس کے ذریعے سے وہ اپنے مقاصد اور ارادوں کی تعبیر پر قادر ہو، محتاج ہوتا ہے بلکہ اس مقام پر فائز شخص کے لیے فصاحت و بلاغت نہایت ضروری ملکہ ہے کیونکہ اسے کثرت سے بحث و تکرار کی ضرورت پیش آتی ہے، علاوہ ازیں یہ بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حتی المقدور حق کو خوب صورت اور مزین کر کے پیش کرے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو اور باطل کی قباحت و شناعت کو اجاگر کرے تاکہ لوگ اس سے متنفر ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ داعی ٔحق اس بات کا بھی محتاج ہے کہ اس کے معاملے میں آسانی پیدا ہو اور وہ اس کے لیے درست طریق کار اختیار کرے۔ حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین طریق گفتگو کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دے اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب حال معاملہ کرے اور ان سب باتوں کی تکمیل یہ ہے کہ جو شخص یہ وصف رکھتا ہو اس کے کچھ اعوان و مددگار ہوں جو اس کے مقصد کے حصول میں اس کی مدد کریں کیونکہ جب آوازیں زیادہ ہوں گی تو وہ زیادہ اثر انداز ہوں گی، اسی لیے موسیٰ u نے ان امور کا سوال کیا تھا جو انھیں عطا کر دیے گئے۔ اگر آپ انبیاء کی حالت پر غور کریں گے، جن کو مخلوق کی طرف بھیجا گیا تو ان کے احوال کے مطابق ان کو اسی حال میں پائیں گے۔ خاص طور پر افضل الانبیاء خاتم المرسلین جناب محمدﷺ کو، جو ہر صفت کمال میں بلندترین درجے پر فائز تھے۔ آپﷺ کو جس طرح شرح صدر، تیسیر امر، فصاحت زبان، حسن تعبیر و بیان اور حق کی راہ میں اعوان و انصار یعنی صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں سے نوازا گیا، دوسرے انبیاء کو یہ خوبیان اس انداز سے میسر نہیں آئیں ۔
20:33كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيرٗا
تو جا فرعون کی طرف، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے (24) موسیٰ نے کہا، اے رب! کھول دے میرے لیے میرا سینہ (25) اور آسان کر دے میرے لیے میرا کلام (26) اور کھول دے گرہ میری زبان کی (27)(تاکہ) وہ سمجھیں میری بات (28) اور بنا دے میرے لیے وزیر میرے اہل سے (29)(، یعنی ) ہارون میرے بھائی کو (30) مضبوط کر تو ساتھ اس کے میری کمر (31) اور شریک کر اسے میرے کام (نبوت) میں (32) تاکہ ہم تسبیح بیان کریں تیری بہت (33) اور (تاکہ) ہم یاد کریں تجھے کثرت سے (34)بلاشبہ تو ہے ہمیں خوب دیکھنے والا (35) اللہ نے کہا تحقیق دے دیا گیا تو اپنا سوال اے موسیٰ! (36)
[24] جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u پر وحی نازل کر کے انھیں نبوت عطا کر دی اور انھیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴾ ’’فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ ، اپنے کفر و فسادمیں ، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ اس نے ربویت اور الوہیت کا دعویٰ کر دیا… قبحہ اللّٰہ… یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت قائم نہیں کر دیتا۔
[25] اس وقت موسیٰ u کو معلوم ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور انھیں ایک جابر اور سرکش انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جس کا مصر میں مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں جبکہ موسیٰ u نے تن تنہا ہیں ، علاوہ ازیں ان سے ایک قتل بھی سرزد ہو چکا تھا لیکن انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور انشراح صدر کے ساتھ اس کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور اسباب کی فراہمی کا سوال کیا جن کی بنا پر دعوت کی تکمیل ہوتی ہے، چنانچہ عرض کیا:﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡ﴾ یعنی اے اللہ! میرے سینے کو کھول دے اور اسے وسعت عطا کر تاکہ میں قولی اور فعلی اذیتیں برداشت کر سکوں اور میرا قلب تکدر کا شکار نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ انسان کا سینہ جب تنگ ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا اہل نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ١ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ﴾(آل عمران:3؍159) ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ(ﷺ) ان کے لیے بہت نرم دل ہیں اگر آپ تندخو سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے۔‘‘ لوگ (داعی کی) نرم خوئی، کشادہ دلی اور ان کے بارے میں اس سے انشراح صدر کی بنا پر قبول حق کے قریب آتے ہیں ۔
[26]﴿ وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ یعنی میرے لیے میرا ہر معاملہ اور اپنے راستے میں میری ہر منزل کو آسان کر دے، میرے سامنے جو مشکلات اور سختیاں ہیں ان کو نرم کر دے۔ معاملے کو آسان کرنا یہ ہے کہ داعی نہایت آسانی کے ساتھ تمام معاملات کو ان کے اپنے اپنے دائرے میں نمٹا سکے۔ ہر شخص سے اس کے مزاج کی مناسبت سے مخاطب ہو اور اسے اس طریقے سے دعوت دے جو قبول حق کے قریب تر ہو۔
[28,27]﴿ وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰ يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ﴾ موسیٰ u کی زبان میں ثقل تھا جس کی وجہ سے ان کی بات مشکل سے سمجھ میں آتی تھی۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا: ﴿ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا ﴾(القصص:28؍34) ’’اور میرا بھائی ہارون، مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے۔‘‘ حضرت موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کی زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ ان کی بات کو سمجھ سکیں اور خطاب اور معانی کے بیان کا مقصد پورا ہو سکے۔
[30,29]﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡ﴾ یعنی میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دے جو میری مدد کرے، جو میرا بوجھ بٹائے اور جن لوگوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہے ان کے مقابلے میں مجھے تقویت دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کی کہ یہ مددگار ان کے گھر والوں میں سے ہو اس لیے کہ یہ صلہ رحمی کا ایک طریقہ ہے۔ انسان کی نیکی کا سب سے زیادہ مستحق اس کا رشتہ دار ہوتا ہے، پھر اپنی دعا میں اس مددگار کا تعین کرتے ہوئے فرمایا:﴿هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾
[32,31]﴿اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِيۡ﴾ یعنی مجھے میرے بھائی کے ذریعے قوت عطا کر اور میری کمر کو مضبوط کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور آپ دونوں کو غلبہ دیں گے۔‘‘ ﴿وَاَشۡرِكۡهُ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ نبوت میں اسے میرا شریک بنا دے، یعنی اسے بھی نبی اور رسول بنا دے جس طرح مجھے بنایا ہے۔
[34,33] پھر اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰ وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا﴾ موسیٰu کو معلوم تھا کہ تمام عبادات اور دین کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کے ساتھ ان کے بھائی کو بھی نبوت عطا کر دے، وہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی تسبیح و تہلیل اور عبادات کی دیگر انواع میں اضافہ ہو گا۔
[35]﴿اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ﴾ اے اللہ! تو ہمارے حال، ہماری کمزوری اور ہمارے عجز کو جانتا ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں تیرے محتاج ہیں تو ہمیں ہم سے زیادہ دیکھتا ہے اور ہم پر ہم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پس ہم نے تجھ سے جو سوال کیا ہے وہ ہمیں عطا کر کے ہمیں ممنون فرما اور ہماری دعا قبول فرما۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ اے موسیٰ! جو کچھ تو نے مانگا ہے تجھ کو عطا کیا جاتا ہے، ہم تجھ کو انشراح صدر عطا کر دیں گے، تیرے معاملے کو آسان کر دیں گے، تیری زبان کی گرہ کھول دیں گے، لوگ تیری بات کو سمجھیں گے اور ہم تیرے بھائی ہارون کے ذریعے سے تیرے ہاتھ مضبوط کر دیں گے ﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم تم دونوں کو غلبہ دیں گے اور وہ ہماری نشانیوں کے سبب سے تم دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، غلبہ تم دونوں اور تمھارے متبعین ہی کا ہو گا۔‘‘ موسیٰ u کا سوال اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل تھی، آپ کمال درجے کے ذہین و فطین تھے اور تمام معاملات کی کامل معرفت رکھتے تھے اور کامل خیرخواہی سے بہرہ ور تھے، نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوق کی راہنمائی کرنے والا… خاص طور پرجب اس داعی کے مخاطب اہل عناد، متکبر اور سرکش لوگ ہوں … کشادہ دلی، اذیتوں پر بردباری اور فصاحت زبان کا، جس کے ذریعے سے وہ اپنے مقاصد اور ارادوں کی تعبیر پر قادر ہو، محتاج ہوتا ہے بلکہ اس مقام پر فائز شخص کے لیے فصاحت و بلاغت نہایت ضروری ملکہ ہے کیونکہ اسے کثرت سے بحث و تکرار کی ضرورت پیش آتی ہے، علاوہ ازیں یہ بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حتی المقدور حق کو خوب صورت اور مزین کر کے پیش کرے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو اور باطل کی قباحت و شناعت کو اجاگر کرے تاکہ لوگ اس سے متنفر ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ داعی ٔحق اس بات کا بھی محتاج ہے کہ اس کے معاملے میں آسانی پیدا ہو اور وہ اس کے لیے درست طریق کار اختیار کرے۔ حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین طریق گفتگو کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دے اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب حال معاملہ کرے اور ان سب باتوں کی تکمیل یہ ہے کہ جو شخص یہ وصف رکھتا ہو اس کے کچھ اعوان و مددگار ہوں جو اس کے مقصد کے حصول میں اس کی مدد کریں کیونکہ جب آوازیں زیادہ ہوں گی تو وہ زیادہ اثر انداز ہوں گی، اسی لیے موسیٰ u نے ان امور کا سوال کیا تھا جو انھیں عطا کر دیے گئے۔ اگر آپ انبیاء کی حالت پر غور کریں گے، جن کو مخلوق کی طرف بھیجا گیا تو ان کے احوال کے مطابق ان کو اسی حال میں پائیں گے۔ خاص طور پر افضل الانبیاء خاتم المرسلین جناب محمدﷺ کو، جو ہر صفت کمال میں بلندترین درجے پر فائز تھے۔ آپﷺ کو جس طرح شرح صدر، تیسیر امر، فصاحت زبان، حسن تعبیر و بیان اور حق کی راہ میں اعوان و انصار یعنی صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں سے نوازا گیا، دوسرے انبیاء کو یہ خوبیان اس انداز سے میسر نہیں آئیں ۔
20:34تو جا فرعون کی طرف، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے (24) موسیٰ نے کہا، اے رب! کھول دے میرے لیے میرا سینہ (25) اور آسان کر دے میرے لیے میرا کلام (26) اور کھول دے گرہ میری زبان کی (27)(تاکہ) وہ سمجھیں میری بات (28) اور بنا دے میرے لیے وزیر میرے اہل سے (29)(، یعنی ) ہارون میرے بھائی کو (30) مضبوط کر تو ساتھ اس کے میری کمر (31) اور شریک کر اسے میرے کام (نبوت) میں (32) تاکہ ہم تسبیح بیان کریں تیری بہت (33) اور (تاکہ) ہم یاد کریں تجھے کثرت سے (34)بلاشبہ تو ہے ہمیں خوب دیکھنے والا (35) اللہ نے کہا تحقیق دے دیا گیا تو اپنا سوال اے موسیٰ! (36)
[24] جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u پر وحی نازل کر کے انھیں نبوت عطا کر دی اور انھیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴾ ’’فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ ، اپنے کفر و فسادمیں ، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ اس نے ربویت اور الوہیت کا دعویٰ کر دیا… قبحہ اللّٰہ… یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت قائم نہیں کر دیتا۔
[25] اس وقت موسیٰ u کو معلوم ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور انھیں ایک جابر اور سرکش انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جس کا مصر میں مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں جبکہ موسیٰ u نے تن تنہا ہیں ، علاوہ ازیں ان سے ایک قتل بھی سرزد ہو چکا تھا لیکن انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور انشراح صدر کے ساتھ اس کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور اسباب کی فراہمی کا سوال کیا جن کی بنا پر دعوت کی تکمیل ہوتی ہے، چنانچہ عرض کیا:﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡ﴾ یعنی اے اللہ! میرے سینے کو کھول دے اور اسے وسعت عطا کر تاکہ میں قولی اور فعلی اذیتیں برداشت کر سکوں اور میرا قلب تکدر کا شکار نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ انسان کا سینہ جب تنگ ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا اہل نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ١ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ﴾(آل عمران:3؍159) ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ(ﷺ) ان کے لیے بہت نرم دل ہیں اگر آپ تندخو سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے۔‘‘ لوگ (داعی کی) نرم خوئی، کشادہ دلی اور ان کے بارے میں اس سے انشراح صدر کی بنا پر قبول حق کے قریب آتے ہیں ۔
[26]﴿ وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ یعنی میرے لیے میرا ہر معاملہ اور اپنے راستے میں میری ہر منزل کو آسان کر دے، میرے سامنے جو مشکلات اور سختیاں ہیں ان کو نرم کر دے۔ معاملے کو آسان کرنا یہ ہے کہ داعی نہایت آسانی کے ساتھ تمام معاملات کو ان کے اپنے اپنے دائرے میں نمٹا سکے۔ ہر شخص سے اس کے مزاج کی مناسبت سے مخاطب ہو اور اسے اس طریقے سے دعوت دے جو قبول حق کے قریب تر ہو۔
[28,27]﴿ وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰ يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ﴾ موسیٰ u کی زبان میں ثقل تھا جس کی وجہ سے ان کی بات مشکل سے سمجھ میں آتی تھی۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا: ﴿ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا ﴾(القصص:28؍34) ’’اور میرا بھائی ہارون، مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے۔‘‘ حضرت موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کی زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ ان کی بات کو سمجھ سکیں اور خطاب اور معانی کے بیان کا مقصد پورا ہو سکے۔
[30,29]﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡ﴾ یعنی میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دے جو میری مدد کرے، جو میرا بوجھ بٹائے اور جن لوگوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہے ان کے مقابلے میں مجھے تقویت دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کی کہ یہ مددگار ان کے گھر والوں میں سے ہو اس لیے کہ یہ صلہ رحمی کا ایک طریقہ ہے۔ انسان کی نیکی کا سب سے زیادہ مستحق اس کا رشتہ دار ہوتا ہے، پھر اپنی دعا میں اس مددگار کا تعین کرتے ہوئے فرمایا:﴿هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾
[32,31]﴿اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِيۡ﴾ یعنی مجھے میرے بھائی کے ذریعے قوت عطا کر اور میری کمر کو مضبوط کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور آپ دونوں کو غلبہ دیں گے۔‘‘ ﴿وَاَشۡرِكۡهُ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ نبوت میں اسے میرا شریک بنا دے، یعنی اسے بھی نبی اور رسول بنا دے جس طرح مجھے بنایا ہے۔
[34,33] پھر اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰ وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا﴾ موسیٰu کو معلوم تھا کہ تمام عبادات اور دین کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کے ساتھ ان کے بھائی کو بھی نبوت عطا کر دے، وہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی تسبیح و تہلیل اور عبادات کی دیگر انواع میں اضافہ ہو گا۔
[35]﴿اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ﴾ اے اللہ! تو ہمارے حال، ہماری کمزوری اور ہمارے عجز کو جانتا ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں تیرے محتاج ہیں تو ہمیں ہم سے زیادہ دیکھتا ہے اور ہم پر ہم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پس ہم نے تجھ سے جو سوال کیا ہے وہ ہمیں عطا کر کے ہمیں ممنون فرما اور ہماری دعا قبول فرما۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ اے موسیٰ! جو کچھ تو نے مانگا ہے تجھ کو عطا کیا جاتا ہے، ہم تجھ کو انشراح صدر عطا کر دیں گے، تیرے معاملے کو آسان کر دیں گے، تیری زبان کی گرہ کھول دیں گے، لوگ تیری بات کو سمجھیں گے اور ہم تیرے بھائی ہارون کے ذریعے سے تیرے ہاتھ مضبوط کر دیں گے ﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم تم دونوں کو غلبہ دیں گے اور وہ ہماری نشانیوں کے سبب سے تم دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، غلبہ تم دونوں اور تمھارے متبعین ہی کا ہو گا۔‘‘ موسیٰ u کا سوال اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل تھی، آپ کمال درجے کے ذہین و فطین تھے اور تمام معاملات کی کامل معرفت رکھتے تھے اور کامل خیرخواہی سے بہرہ ور تھے، نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوق کی راہنمائی کرنے والا… خاص طور پرجب اس داعی کے مخاطب اہل عناد، متکبر اور سرکش لوگ ہوں … کشادہ دلی، اذیتوں پر بردباری اور فصاحت زبان کا، جس کے ذریعے سے وہ اپنے مقاصد اور ارادوں کی تعبیر پر قادر ہو، محتاج ہوتا ہے بلکہ اس مقام پر فائز شخص کے لیے فصاحت و بلاغت نہایت ضروری ملکہ ہے کیونکہ اسے کثرت سے بحث و تکرار کی ضرورت پیش آتی ہے، علاوہ ازیں یہ بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حتی المقدور حق کو خوب صورت اور مزین کر کے پیش کرے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو اور باطل کی قباحت و شناعت کو اجاگر کرے تاکہ لوگ اس سے متنفر ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ داعی ٔحق اس بات کا بھی محتاج ہے کہ اس کے معاملے میں آسانی پیدا ہو اور وہ اس کے لیے درست طریق کار اختیار کرے۔ حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین طریق گفتگو کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دے اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب حال معاملہ کرے اور ان سب باتوں کی تکمیل یہ ہے کہ جو شخص یہ وصف رکھتا ہو اس کے کچھ اعوان و مددگار ہوں جو اس کے مقصد کے حصول میں اس کی مدد کریں کیونکہ جب آوازیں زیادہ ہوں گی تو وہ زیادہ اثر انداز ہوں گی، اسی لیے موسیٰ u نے ان امور کا سوال کیا تھا جو انھیں عطا کر دیے گئے۔ اگر آپ انبیاء کی حالت پر غور کریں گے، جن کو مخلوق کی طرف بھیجا گیا تو ان کے احوال کے مطابق ان کو اسی حال میں پائیں گے۔ خاص طور پر افضل الانبیاء خاتم المرسلین جناب محمدﷺ کو، جو ہر صفت کمال میں بلندترین درجے پر فائز تھے۔ آپﷺ کو جس طرح شرح صدر، تیسیر امر، فصاحت زبان، حسن تعبیر و بیان اور حق کی راہ میں اعوان و انصار یعنی صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں سے نوازا گیا، دوسرے انبیاء کو یہ خوبیان اس انداز سے میسر نہیں آئیں ۔
20:35إِنَّكَ كُنتَ بِنَا بَصِيرٗا
تو جا فرعون کی طرف، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے (24) موسیٰ نے کہا، اے رب! کھول دے میرے لیے میرا سینہ (25) اور آسان کر دے میرے لیے میرا کلام (26) اور کھول دے گرہ میری زبان کی (27)(تاکہ) وہ سمجھیں میری بات (28) اور بنا دے میرے لیے وزیر میرے اہل سے (29)(، یعنی ) ہارون میرے بھائی کو (30) مضبوط کر تو ساتھ اس کے میری کمر (31) اور شریک کر اسے میرے کام (نبوت) میں (32) تاکہ ہم تسبیح بیان کریں تیری بہت (33) اور (تاکہ) ہم یاد کریں تجھے کثرت سے (34)بلاشبہ تو ہے ہمیں خوب دیکھنے والا (35) اللہ نے کہا تحقیق دے دیا گیا تو اپنا سوال اے موسیٰ! (36)
[24] جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u پر وحی نازل کر کے انھیں نبوت عطا کر دی اور انھیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴾ ’’فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ ، اپنے کفر و فسادمیں ، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ اس نے ربویت اور الوہیت کا دعویٰ کر دیا… قبحہ اللّٰہ… یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت قائم نہیں کر دیتا۔
[25] اس وقت موسیٰ u کو معلوم ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور انھیں ایک جابر اور سرکش انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جس کا مصر میں مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں جبکہ موسیٰ u نے تن تنہا ہیں ، علاوہ ازیں ان سے ایک قتل بھی سرزد ہو چکا تھا لیکن انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور انشراح صدر کے ساتھ اس کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور اسباب کی فراہمی کا سوال کیا جن کی بنا پر دعوت کی تکمیل ہوتی ہے، چنانچہ عرض کیا:﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡ﴾ یعنی اے اللہ! میرے سینے کو کھول دے اور اسے وسعت عطا کر تاکہ میں قولی اور فعلی اذیتیں برداشت کر سکوں اور میرا قلب تکدر کا شکار نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ انسان کا سینہ جب تنگ ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا اہل نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ١ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ﴾(آل عمران:3؍159) ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ(ﷺ) ان کے لیے بہت نرم دل ہیں اگر آپ تندخو سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے۔‘‘ لوگ (داعی کی) نرم خوئی، کشادہ دلی اور ان کے بارے میں اس سے انشراح صدر کی بنا پر قبول حق کے قریب آتے ہیں ۔
[26]﴿ وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ یعنی میرے لیے میرا ہر معاملہ اور اپنے راستے میں میری ہر منزل کو آسان کر دے، میرے سامنے جو مشکلات اور سختیاں ہیں ان کو نرم کر دے۔ معاملے کو آسان کرنا یہ ہے کہ داعی نہایت آسانی کے ساتھ تمام معاملات کو ان کے اپنے اپنے دائرے میں نمٹا سکے۔ ہر شخص سے اس کے مزاج کی مناسبت سے مخاطب ہو اور اسے اس طریقے سے دعوت دے جو قبول حق کے قریب تر ہو۔
[28,27]﴿ وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰ يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ﴾ موسیٰ u کی زبان میں ثقل تھا جس کی وجہ سے ان کی بات مشکل سے سمجھ میں آتی تھی۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا: ﴿ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا ﴾(القصص:28؍34) ’’اور میرا بھائی ہارون، مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے۔‘‘ حضرت موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کی زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ ان کی بات کو سمجھ سکیں اور خطاب اور معانی کے بیان کا مقصد پورا ہو سکے۔
[30,29]﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡ﴾ یعنی میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دے جو میری مدد کرے، جو میرا بوجھ بٹائے اور جن لوگوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہے ان کے مقابلے میں مجھے تقویت دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کی کہ یہ مددگار ان کے گھر والوں میں سے ہو اس لیے کہ یہ صلہ رحمی کا ایک طریقہ ہے۔ انسان کی نیکی کا سب سے زیادہ مستحق اس کا رشتہ دار ہوتا ہے، پھر اپنی دعا میں اس مددگار کا تعین کرتے ہوئے فرمایا:﴿هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾
[32,31]﴿اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِيۡ﴾ یعنی مجھے میرے بھائی کے ذریعے قوت عطا کر اور میری کمر کو مضبوط کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور آپ دونوں کو غلبہ دیں گے۔‘‘ ﴿وَاَشۡرِكۡهُ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ نبوت میں اسے میرا شریک بنا دے، یعنی اسے بھی نبی اور رسول بنا دے جس طرح مجھے بنایا ہے۔
[34,33] پھر اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰ وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا﴾ موسیٰu کو معلوم تھا کہ تمام عبادات اور دین کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کے ساتھ ان کے بھائی کو بھی نبوت عطا کر دے، وہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی تسبیح و تہلیل اور عبادات کی دیگر انواع میں اضافہ ہو گا۔
[35]﴿اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ﴾ اے اللہ! تو ہمارے حال، ہماری کمزوری اور ہمارے عجز کو جانتا ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں تیرے محتاج ہیں تو ہمیں ہم سے زیادہ دیکھتا ہے اور ہم پر ہم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پس ہم نے تجھ سے جو سوال کیا ہے وہ ہمیں عطا کر کے ہمیں ممنون فرما اور ہماری دعا قبول فرما۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ اے موسیٰ! جو کچھ تو نے مانگا ہے تجھ کو عطا کیا جاتا ہے، ہم تجھ کو انشراح صدر عطا کر دیں گے، تیرے معاملے کو آسان کر دیں گے، تیری زبان کی گرہ کھول دیں گے، لوگ تیری بات کو سمجھیں گے اور ہم تیرے بھائی ہارون کے ذریعے سے تیرے ہاتھ مضبوط کر دیں گے ﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم تم دونوں کو غلبہ دیں گے اور وہ ہماری نشانیوں کے سبب سے تم دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، غلبہ تم دونوں اور تمھارے متبعین ہی کا ہو گا۔‘‘ موسیٰ u کا سوال اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل تھی، آپ کمال درجے کے ذہین و فطین تھے اور تمام معاملات کی کامل معرفت رکھتے تھے اور کامل خیرخواہی سے بہرہ ور تھے، نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوق کی راہنمائی کرنے والا… خاص طور پرجب اس داعی کے مخاطب اہل عناد، متکبر اور سرکش لوگ ہوں … کشادہ دلی، اذیتوں پر بردباری اور فصاحت زبان کا، جس کے ذریعے سے وہ اپنے مقاصد اور ارادوں کی تعبیر پر قادر ہو، محتاج ہوتا ہے بلکہ اس مقام پر فائز شخص کے لیے فصاحت و بلاغت نہایت ضروری ملکہ ہے کیونکہ اسے کثرت سے بحث و تکرار کی ضرورت پیش آتی ہے، علاوہ ازیں یہ بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حتی المقدور حق کو خوب صورت اور مزین کر کے پیش کرے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو اور باطل کی قباحت و شناعت کو اجاگر کرے تاکہ لوگ اس سے متنفر ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ داعی ٔحق اس بات کا بھی محتاج ہے کہ اس کے معاملے میں آسانی پیدا ہو اور وہ اس کے لیے درست طریق کار اختیار کرے۔ حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین طریق گفتگو کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دے اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب حال معاملہ کرے اور ان سب باتوں کی تکمیل یہ ہے کہ جو شخص یہ وصف رکھتا ہو اس کے کچھ اعوان و مددگار ہوں جو اس کے مقصد کے حصول میں اس کی مدد کریں کیونکہ جب آوازیں زیادہ ہوں گی تو وہ زیادہ اثر انداز ہوں گی، اسی لیے موسیٰ u نے ان امور کا سوال کیا تھا جو انھیں عطا کر دیے گئے۔ اگر آپ انبیاء کی حالت پر غور کریں گے، جن کو مخلوق کی طرف بھیجا گیا تو ان کے احوال کے مطابق ان کو اسی حال میں پائیں گے۔ خاص طور پر افضل الانبیاء خاتم المرسلین جناب محمدﷺ کو، جو ہر صفت کمال میں بلندترین درجے پر فائز تھے۔ آپﷺ کو جس طرح شرح صدر، تیسیر امر، فصاحت زبان، حسن تعبیر و بیان اور حق کی راہ میں اعوان و انصار یعنی صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں سے نوازا گیا، دوسرے انبیاء کو یہ خوبیان اس انداز سے میسر نہیں آئیں ۔
20:36قَالَ قَدۡ أُوتِيتَ سُؤۡلَكَ يَٰمُوسَىٰ
تو جا فرعون کی طرف، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے (24) موسیٰ نے کہا، اے رب! کھول دے میرے لیے میرا سینہ (25) اور آسان کر دے میرے لیے میرا کلام (26) اور کھول دے گرہ میری زبان کی (27)(تاکہ) وہ سمجھیں میری بات (28) اور بنا دے میرے لیے وزیر میرے اہل سے (29)(، یعنی ) ہارون میرے بھائی کو (30) مضبوط کر تو ساتھ اس کے میری کمر (31) اور شریک کر اسے میرے کام (نبوت) میں (32) تاکہ ہم تسبیح بیان کریں تیری بہت (33) اور (تاکہ) ہم یاد کریں تجھے کثرت سے (34)بلاشبہ تو ہے ہمیں خوب دیکھنے والا (35) اللہ نے کہا تحقیق دے دیا گیا تو اپنا سوال اے موسیٰ! (36)
[24] جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u پر وحی نازل کر کے انھیں نبوت عطا کر دی اور انھیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴾ ’’فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ ، اپنے کفر و فسادمیں ، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ اس نے ربویت اور الوہیت کا دعویٰ کر دیا… قبحہ اللّٰہ… یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت قائم نہیں کر دیتا۔
[25] اس وقت موسیٰ u کو معلوم ہوا کہ انھوں نے بہت بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے اور انھیں ایک جابر اور سرکش انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جس کا مصر میں مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں جبکہ موسیٰ u نے تن تنہا ہیں ، علاوہ ازیں ان سے ایک قتل بھی سرزد ہو چکا تھا لیکن انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور انشراح صدر کے ساتھ اس کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور اسباب کی فراہمی کا سوال کیا جن کی بنا پر دعوت کی تکمیل ہوتی ہے، چنانچہ عرض کیا:﴿ رَبِّ اشۡرَحۡ لِيۡ صَدۡرِيۡ﴾ یعنی اے اللہ! میرے سینے کو کھول دے اور اسے وسعت عطا کر تاکہ میں قولی اور فعلی اذیتیں برداشت کر سکوں اور میرا قلب تکدر کا شکار نہ ہو اور میرا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ انسان کا سینہ جب تنگ ہوتا ہے تو وہ مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا اہل نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ١ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ﴾(آل عمران:3؍159) ’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ(ﷺ) ان کے لیے بہت نرم دل ہیں اگر آپ تندخو سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے اردگرد سے چھٹ جاتے۔‘‘ لوگ (داعی کی) نرم خوئی، کشادہ دلی اور ان کے بارے میں اس سے انشراح صدر کی بنا پر قبول حق کے قریب آتے ہیں ۔
[26]﴿ وَيَسِّرۡ لِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ یعنی میرے لیے میرا ہر معاملہ اور اپنے راستے میں میری ہر منزل کو آسان کر دے، میرے سامنے جو مشکلات اور سختیاں ہیں ان کو نرم کر دے۔ معاملے کو آسان کرنا یہ ہے کہ داعی نہایت آسانی کے ساتھ تمام معاملات کو ان کے اپنے اپنے دائرے میں نمٹا سکے۔ ہر شخص سے اس کے مزاج کی مناسبت سے مخاطب ہو اور اسے اس طریقے سے دعوت دے جو قبول حق کے قریب تر ہو۔
[28,27]﴿ وَاحۡلُلۡ عُقۡدَةً مِّنۡ لِّسَانِيۡۙ۰۰ يَفۡقَهُوۡا قَوۡلِيۡ﴾ موسیٰ u کی زبان میں ثقل تھا جس کی وجہ سے ان کی بات مشکل سے سمجھ میں آتی تھی۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا: ﴿ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا ﴾(القصص:28؍34) ’’اور میرا بھائی ہارون، مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے۔‘‘ حضرت موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کی زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ ان کی بات کو سمجھ سکیں اور خطاب اور معانی کے بیان کا مقصد پورا ہو سکے۔
[30,29]﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ وَزِيۡرًا مِّنۡ اَهۡلِيۡ﴾ یعنی میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دے جو میری مدد کرے، جو میرا بوجھ بٹائے اور جن لوگوں کی طرف مجھے رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہے ان کے مقابلے میں مجھے تقویت دے اور اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کی کہ یہ مددگار ان کے گھر والوں میں سے ہو اس لیے کہ یہ صلہ رحمی کا ایک طریقہ ہے۔ انسان کی نیکی کا سب سے زیادہ مستحق اس کا رشتہ دار ہوتا ہے، پھر اپنی دعا میں اس مددگار کا تعین کرتے ہوئے فرمایا:﴿هٰؔرُوۡنَ اَخِي﴾
[32,31]﴿اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِيۡ﴾ یعنی مجھے میرے بھائی کے ذریعے قوت عطا کر اور میری کمر کو مضبوط کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور آپ دونوں کو غلبہ دیں گے۔‘‘ ﴿وَاَشۡرِكۡهُ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ﴾ نبوت میں اسے میرا شریک بنا دے، یعنی اسے بھی نبی اور رسول بنا دے جس طرح مجھے بنایا ہے۔
[34,33] پھر اس کا فائدہ بیان کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰ وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا﴾ موسیٰu کو معلوم تھا کہ تمام عبادات اور دین کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ان کے ساتھ ان کے بھائی کو بھی نبوت عطا کر دے، وہ نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا ذکر یعنی تسبیح و تہلیل اور عبادات کی دیگر انواع میں اضافہ ہو گا۔
[35]﴿اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ﴾ اے اللہ! تو ہمارے حال، ہماری کمزوری اور ہمارے عجز کو جانتا ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم ہر معاملے میں تیرے محتاج ہیں تو ہمیں ہم سے زیادہ دیکھتا ہے اور ہم پر ہم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پس ہم نے تجھ سے جو سوال کیا ہے وہ ہمیں عطا کر کے ہمیں ممنون فرما اور ہماری دعا قبول فرما۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ اے موسیٰ! جو کچھ تو نے مانگا ہے تجھ کو عطا کیا جاتا ہے، ہم تجھ کو انشراح صدر عطا کر دیں گے، تیرے معاملے کو آسان کر دیں گے، تیری زبان کی گرہ کھول دیں گے، لوگ تیری بات کو سمجھیں گے اور ہم تیرے بھائی ہارون کے ذریعے سے تیرے ہاتھ مضبوط کر دیں گے ﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ ١ۛۚ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾(القصص:28؍35) ’’ہم تم دونوں کو غلبہ دیں گے اور وہ ہماری نشانیوں کے سبب سے تم دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، غلبہ تم دونوں اور تمھارے متبعین ہی کا ہو گا۔‘‘ موسیٰ u کا سوال اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل معرفت حاصل تھی، آپ کمال درجے کے ذہین و فطین تھے اور تمام معاملات کی کامل معرفت رکھتے تھے اور کامل خیرخواہی سے بہرہ ور تھے، نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوق کی راہنمائی کرنے والا… خاص طور پرجب اس داعی کے مخاطب اہل عناد، متکبر اور سرکش لوگ ہوں … کشادہ دلی، اذیتوں پر بردباری اور فصاحت زبان کا، جس کے ذریعے سے وہ اپنے مقاصد اور ارادوں کی تعبیر پر قادر ہو، محتاج ہوتا ہے بلکہ اس مقام پر فائز شخص کے لیے فصاحت و بلاغت نہایت ضروری ملکہ ہے کیونکہ اسے کثرت سے بحث و تکرار کی ضرورت پیش آتی ہے، علاوہ ازیں یہ بھی اس کی ضرورت ہے کہ وہ حتی المقدور حق کو خوب صورت اور مزین کر کے پیش کرے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو اور باطل کی قباحت و شناعت کو اجاگر کرے تاکہ لوگ اس سے متنفر ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ داعی ٔحق اس بات کا بھی محتاج ہے کہ اس کے معاملے میں آسانی پیدا ہو اور وہ اس کے لیے درست طریق کار اختیار کرے۔ حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین طریق گفتگو کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دے اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسب حال معاملہ کرے اور ان سب باتوں کی تکمیل یہ ہے کہ جو شخص یہ وصف رکھتا ہو اس کے کچھ اعوان و مددگار ہوں جو اس کے مقصد کے حصول میں اس کی مدد کریں کیونکہ جب آوازیں زیادہ ہوں گی تو وہ زیادہ اثر انداز ہوں گی، اسی لیے موسیٰ u نے ان امور کا سوال کیا تھا جو انھیں عطا کر دیے گئے۔ اگر آپ انبیاء کی حالت پر غور کریں گے، جن کو مخلوق کی طرف بھیجا گیا تو ان کے احوال کے مطابق ان کو اسی حال میں پائیں گے۔ خاص طور پر افضل الانبیاء خاتم المرسلین جناب محمدﷺ کو، جو ہر صفت کمال میں بلندترین درجے پر فائز تھے۔ آپﷺ کو جس طرح شرح صدر، تیسیر امر، فصاحت زبان، حسن تعبیر و بیان اور حق کی راہ میں اعوان و انصار یعنی صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں سے نوازا گیا، دوسرے انبیاء کو یہ خوبیان اس انداز سے میسر نہیں آئیں ۔
20:37وَلَقَدۡ مَنَنَّا عَلَيۡكَ مَرَّةً أُخۡرَىٰٓ
اور البتہ تحقیق احسان کر چکے ہیں ہم تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی (37)جب الہام کیا تھا ہم نے تیری ماں کی طرف، وہ جو (اب) وحی کی جاتی ہے (38) یہ کہ ڈال دے تو اس (موسیٰ) کو صندوق میں ، پھر ڈال دے اس (صندوق) کو دریا میں ، پس لا ڈالے گا اس کو دریا ساحل پر، کہ پکڑے اس کو دشمن میرا اور دشمن اس کااور ڈال دی میں نے تجھ پر محبت اپنی طرف سےاور تو پرورش کیا جائے میری آنکھوں کے سامنے (39)جب چلتی تھی تیری بہن، پس کہتی تھی وہ، کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اس شخص پر جو کفالت کرے اس کی؟ پھر لوٹایا ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہو آنکھ اس کی اور نہ غم کھائے وہ، اور قتل کیا تھا تو نے ایک نفس کو، پس نجات دی ہم نے تجھے غم سےاورآزمایا ہم نے تجھے (خوب آزمانا)، پس ٹھہرا رہا تو کئی سال اہل مدین میں ، پھر آیا تو اوپر تقدیر (الٰہی) کے، اے موسی! (40) اور خاص کر لیا میں نے تجھے اپنے کام کے لیے (41)
[39-37] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو دین، وحی،رسالت اور قبولیت دعا سے نوازا… اس نعمت کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰu کو ان کی پرورش اور ان کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتے وقت عطا کی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ مَنَنَّا عَلَيۡكَ مَرَّةً اُخۡرٰۤى ﴾ ’’اور ہم نے تجھ پر احسان کیا دوسری مرتبہ‘‘ جب ہم نے تیری والدہ کی طرف الہام کیا کہ وہ تجھ کو رضاعت کے وقت، فرعون کے خوف سے، ایک صندوق میں ڈال دے کیونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا، موسیٰ u کی والدہ نے آپ کو چھپا دیا، انھیں حضرت موسیٰu کے بارے میں سخت خوف لاحق ہوا چنانچہ انھوں نے آپ کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا یعنی دریائے نیل میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ وہ اس صندوق کو کنارے پر لگا دے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر دیا کہ اس صندوق کو، اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰu کا سب سے بڑا دشمن پکڑ لے اور اس کی اپنی اولاد کے ساتھ تربیت حاصل کرے اور جو کوئی اس کو دیکھے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔اسی لیے فرمایا:﴿ وَاَلۡقَيۡتُ عَلَيۡكَ مَحَبَّةً مِّنِّيۡ﴾ ’’اور میں نے ڈال دی تجھ پر محبت اپنی طرف سے۔‘‘ یعنی جو کوئی آپ کو دیکھتا محبت کرنے لگتا تھا۔ ﴿وَلِتُصۡنَعَ عَلٰى عَيۡنِيۡ ﴾ یعنی تاکہ تو میری آنکھوں کے سامنے، میری حفاظت میں تربیت حاصل کرے اور رحیم و کریم اللہ کی سرپرستی سے بڑھ کر کس کی کفالت اور دیکھ بھال جلیل القدر اور کامل ہو سکتی ہے، جو اپنے بندے کو اس کے مصالح عطا کرنے اور ضرر رساں امور کو اس سے دور کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے؟ پس موسیٰ u ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہی ان کی مصلحت کے مطابق ان کی تدبیر فرماتا ۔
[40] اور یہ اللہ تعالیٰ کی حسن تدبیر ہی تھی کہ جب موسیٰ u دشمن کے قبضے میں چلے گئے تو ان کی والدہ سخت بے چین ہو گئیں اور ان کا دل رنجیدہ ہو گیا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو مضبوط نہ کیا ہوتا تو قریب تھا کہ وہ حضرت موسیٰu کا بھید کھول دیتیں ۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u پر تمام دودھ پلانے والیوں کا دودھ حرام کر دیا۔ انھوں نے کسی عورت کی چھاتی کو منہ نہ لگایا تاکہ معاملہ آخرکار ماں تک پہنچے اور ماں ان کو دودھ پلائے، بچہ ماں کے پاس رہے اور ماں مطمئن اور پرسکون ہو اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں ۔ فرعون کے کارندے دودھ پلانے والیوں کو ایک ایک کر کے بچے کے پاس لائے مگر اس نے کسی کی چھاتی کو قبول نہ کیا۔ موسیٰ u کی بہن آئی اور فرعون اور اسکے کارندوں سے کہنے لگی۔ ﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾(القصص:28؍12)’’کیا میں تمھیں ایسے گھرانے کے متعلق نہ بتاؤں جو اسکی کفالت کریں اور اس کی خیر خواہی بھی کریں ؟‘‘ چنانچہ اس طرح ہم نے موسیٰu کو اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا۔﴿ فَرَجَعۡنٰكَ اِلٰۤى اُمِّؔكَ كَيۡ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ١ؕ۬ وَقَتَلۡتَ نَفۡسًا ﴾ ’’پھر ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف لوٹایا تاکہ اسکی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کرے اور تو نے ایک جان کو قتل کر دیا۔‘‘ وہ مقتول قبطی تھا۔ ایک روز موسیٰu ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے جب شہر کے لوگ غفلت میں تھے۔ آپ نے دیکھا کہ دو شخص آپس میں لڑ رہے ہیں ان میں ایک موسیٰ u کی قوم کا آدمی تھا اور دوسرا ان کی دشمن قوم یعنی قبطیوں سے تعلق رکھتا تھا۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ ﴾(القصص:28؍15)’’جو شخص ان کی قوم سے تھا اس شخص کے خلاف موسیٰ کو مدد کے لیے پکارا جو اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا، موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ اس پر موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی، اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا۔ حضرت موسیٰu کو معلوم ہوا کہ دربار کے لوگ ان کو تلاش کر رہے ہیں تاکہ ان کو قتل کر دیا جائے تو وہ وہاں سے فرار ہو گئے۔﴿ فَنَجَّيۡنٰكَ مِنَ الۡغَمِّ ﴾ ’’پس ہم نے تجھ کو نجات دی غم سے‘‘ یعنی گناہ کی سزا اور قتل سے۔ ﴿ وَفَتَنّٰكَ فُتُوۡنًا ﴾ یعنی ہم نے تجھ کو آزمایا اور تجھ کو اپنے تمام احوال میں راست رو پایا یا ہم تجھ کو مختلف احوال و اطوار میں منتقل کرتے رہے یہاں تک کہ تو اپنے اس مقام کو پہنچ گیا جہاں تجھے پہنچنا تھا۔ ﴿فَلَبِثۡتَ سِنِيۡنَ فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ﴾ ’’پس تو اہل مدین میں کئی سال رہا۔‘‘ یعنی جب حضرت موسیٰu کو فرعون اور اس کے درباریوں نے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تو موسیٰu وہاں سے فرار ہو کر مدین پہنچ گئے اور وہاں انھوں نے نکاح کر لیا اور مدین میں آٹھ یا دس سال رہے۔ ﴿ ثُمَّ جِئۡتَ عَلٰى قَدَرٍ يّٰمُوۡسٰؔى ﴾ ’’پھر تو آیا تقدیر کے مطابق اے موسیٰ!‘‘ یعنی تو اس مقام پر اتفاقاً، بغیر قصدو ارادہ اور بغیر ہماری تدبیر کے نہیں پہنچا بلکہ ہمارے لطف و کرم اور اندازے سے یہاں پہنچا ہے۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ موسیٰ کلیم اللہ u پر اللہ تعالیٰ کی کامل نظر عنایت تھی۔
[41] بنا بریں فرمایا: ﴿ وَاصۡطَنَعۡتُكَ لِنَفۡسِيۡ﴾ ’’اور میں نے تجھ کو پسند کر لیا اپنی ذات کے لیے۔‘‘ یعنی میں نے تجھ پر اپنی نعمتوں کا فیضان کیا اور تجھ کو اپنی خصوصی توجہ اور تربیت سے نوازا تاکہ تو میرا خاص محبوب بندہ بن جائے اور ایسے مقام پر فائز ہو جائے جہاں تک کوئی شاذو نادر شخص ہی پہنچتا ہے۔ مخلوق میں جب ایک دوست دوسرے دوست کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کا دوست اپنے کمال مطلوب میں بلند ترین مقام پر پہنچ جائے تو وہ اس کو اس مقام پہ پہنچانے کے لیے انتہائی کوشش اور جدوجہد کرتا ہے… جب مخلوق کا یہ حال ہے تو آپ کا رب قادر و کریم کے بارے میں کیا خیال ہے، کہ وہ مخلوق میں سے جس کو اپنا محبوب اور دوست بنانے کے لیے چن لے اس کے ساتھ کیا کرے گا؟
20:38إِذۡ أَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰٓ أُمِّكَ مَا يُوحَىٰٓ
اور البتہ تحقیق احسان کر چکے ہیں ہم تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی (37)جب الہام کیا تھا ہم نے تیری ماں کی طرف، وہ جو (اب) وحی کی جاتی ہے (38) یہ کہ ڈال دے تو اس (موسیٰ) کو صندوق میں ، پھر ڈال دے اس (صندوق) کو دریا میں ، پس لا ڈالے گا اس کو دریا ساحل پر، کہ پکڑے اس کو دشمن میرا اور دشمن اس کااور ڈال دی میں نے تجھ پر محبت اپنی طرف سےاور تو پرورش کیا جائے میری آنکھوں کے سامنے (39)جب چلتی تھی تیری بہن، پس کہتی تھی وہ، کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اس شخص پر جو کفالت کرے اس کی؟ پھر لوٹایا ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہو آنکھ اس کی اور نہ غم کھائے وہ، اور قتل کیا تھا تو نے ایک نفس کو، پس نجات دی ہم نے تجھے غم سےاورآزمایا ہم نے تجھے (خوب آزمانا)، پس ٹھہرا رہا تو کئی سال اہل مدین میں ، پھر آیا تو اوپر تقدیر (الٰہی) کے، اے موسی! (40) اور خاص کر لیا میں نے تجھے اپنے کام کے لیے (41)
[39-37] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو دین، وحی،رسالت اور قبولیت دعا سے نوازا… اس نعمت کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰu کو ان کی پرورش اور ان کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتے وقت عطا کی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ مَنَنَّا عَلَيۡكَ مَرَّةً اُخۡرٰۤى ﴾ ’’اور ہم نے تجھ پر احسان کیا دوسری مرتبہ‘‘ جب ہم نے تیری والدہ کی طرف الہام کیا کہ وہ تجھ کو رضاعت کے وقت، فرعون کے خوف سے، ایک صندوق میں ڈال دے کیونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا، موسیٰ u کی والدہ نے آپ کو چھپا دیا، انھیں حضرت موسیٰu کے بارے میں سخت خوف لاحق ہوا چنانچہ انھوں نے آپ کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا یعنی دریائے نیل میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ وہ اس صندوق کو کنارے پر لگا دے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر دیا کہ اس صندوق کو، اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰu کا سب سے بڑا دشمن پکڑ لے اور اس کی اپنی اولاد کے ساتھ تربیت حاصل کرے اور جو کوئی اس کو دیکھے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔اسی لیے فرمایا:﴿ وَاَلۡقَيۡتُ عَلَيۡكَ مَحَبَّةً مِّنِّيۡ﴾ ’’اور میں نے ڈال دی تجھ پر محبت اپنی طرف سے۔‘‘ یعنی جو کوئی آپ کو دیکھتا محبت کرنے لگتا تھا۔ ﴿وَلِتُصۡنَعَ عَلٰى عَيۡنِيۡ ﴾ یعنی تاکہ تو میری آنکھوں کے سامنے، میری حفاظت میں تربیت حاصل کرے اور رحیم و کریم اللہ کی سرپرستی سے بڑھ کر کس کی کفالت اور دیکھ بھال جلیل القدر اور کامل ہو سکتی ہے، جو اپنے بندے کو اس کے مصالح عطا کرنے اور ضرر رساں امور کو اس سے دور کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے؟ پس موسیٰ u ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہی ان کی مصلحت کے مطابق ان کی تدبیر فرماتا ۔
[40] اور یہ اللہ تعالیٰ کی حسن تدبیر ہی تھی کہ جب موسیٰ u دشمن کے قبضے میں چلے گئے تو ان کی والدہ سخت بے چین ہو گئیں اور ان کا دل رنجیدہ ہو گیا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو مضبوط نہ کیا ہوتا تو قریب تھا کہ وہ حضرت موسیٰu کا بھید کھول دیتیں ۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u پر تمام دودھ پلانے والیوں کا دودھ حرام کر دیا۔ انھوں نے کسی عورت کی چھاتی کو منہ نہ لگایا تاکہ معاملہ آخرکار ماں تک پہنچے اور ماں ان کو دودھ پلائے، بچہ ماں کے پاس رہے اور ماں مطمئن اور پرسکون ہو اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں ۔ فرعون کے کارندے دودھ پلانے والیوں کو ایک ایک کر کے بچے کے پاس لائے مگر اس نے کسی کی چھاتی کو قبول نہ کیا۔ موسیٰ u کی بہن آئی اور فرعون اور اسکے کارندوں سے کہنے لگی۔ ﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾(القصص:28؍12)’’کیا میں تمھیں ایسے گھرانے کے متعلق نہ بتاؤں جو اسکی کفالت کریں اور اس کی خیر خواہی بھی کریں ؟‘‘ چنانچہ اس طرح ہم نے موسیٰu کو اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا۔﴿ فَرَجَعۡنٰكَ اِلٰۤى اُمِّؔكَ كَيۡ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ١ؕ۬ وَقَتَلۡتَ نَفۡسًا ﴾ ’’پھر ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف لوٹایا تاکہ اسکی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کرے اور تو نے ایک جان کو قتل کر دیا۔‘‘ وہ مقتول قبطی تھا۔ ایک روز موسیٰu ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے جب شہر کے لوگ غفلت میں تھے۔ آپ نے دیکھا کہ دو شخص آپس میں لڑ رہے ہیں ان میں ایک موسیٰ u کی قوم کا آدمی تھا اور دوسرا ان کی دشمن قوم یعنی قبطیوں سے تعلق رکھتا تھا۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ ﴾(القصص:28؍15)’’جو شخص ان کی قوم سے تھا اس شخص کے خلاف موسیٰ کو مدد کے لیے پکارا جو اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا، موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ اس پر موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی، اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا۔ حضرت موسیٰu کو معلوم ہوا کہ دربار کے لوگ ان کو تلاش کر رہے ہیں تاکہ ان کو قتل کر دیا جائے تو وہ وہاں سے فرار ہو گئے۔﴿ فَنَجَّيۡنٰكَ مِنَ الۡغَمِّ ﴾ ’’پس ہم نے تجھ کو نجات دی غم سے‘‘ یعنی گناہ کی سزا اور قتل سے۔ ﴿ وَفَتَنّٰكَ فُتُوۡنًا ﴾ یعنی ہم نے تجھ کو آزمایا اور تجھ کو اپنے تمام احوال میں راست رو پایا یا ہم تجھ کو مختلف احوال و اطوار میں منتقل کرتے رہے یہاں تک کہ تو اپنے اس مقام کو پہنچ گیا جہاں تجھے پہنچنا تھا۔ ﴿فَلَبِثۡتَ سِنِيۡنَ فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ﴾ ’’پس تو اہل مدین میں کئی سال رہا۔‘‘ یعنی جب حضرت موسیٰu کو فرعون اور اس کے درباریوں نے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تو موسیٰu وہاں سے فرار ہو کر مدین پہنچ گئے اور وہاں انھوں نے نکاح کر لیا اور مدین میں آٹھ یا دس سال رہے۔ ﴿ ثُمَّ جِئۡتَ عَلٰى قَدَرٍ يّٰمُوۡسٰؔى ﴾ ’’پھر تو آیا تقدیر کے مطابق اے موسیٰ!‘‘ یعنی تو اس مقام پر اتفاقاً، بغیر قصدو ارادہ اور بغیر ہماری تدبیر کے نہیں پہنچا بلکہ ہمارے لطف و کرم اور اندازے سے یہاں پہنچا ہے۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ موسیٰ کلیم اللہ u پر اللہ تعالیٰ کی کامل نظر عنایت تھی۔
[41] بنا بریں فرمایا: ﴿ وَاصۡطَنَعۡتُكَ لِنَفۡسِيۡ﴾ ’’اور میں نے تجھ کو پسند کر لیا اپنی ذات کے لیے۔‘‘ یعنی میں نے تجھ پر اپنی نعمتوں کا فیضان کیا اور تجھ کو اپنی خصوصی توجہ اور تربیت سے نوازا تاکہ تو میرا خاص محبوب بندہ بن جائے اور ایسے مقام پر فائز ہو جائے جہاں تک کوئی شاذو نادر شخص ہی پہنچتا ہے۔ مخلوق میں جب ایک دوست دوسرے دوست کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کا دوست اپنے کمال مطلوب میں بلند ترین مقام پر پہنچ جائے تو وہ اس کو اس مقام پہ پہنچانے کے لیے انتہائی کوشش اور جدوجہد کرتا ہے… جب مخلوق کا یہ حال ہے تو آپ کا رب قادر و کریم کے بارے میں کیا خیال ہے، کہ وہ مخلوق میں سے جس کو اپنا محبوب اور دوست بنانے کے لیے چن لے اس کے ساتھ کیا کرے گا؟
20:39أَنِ ٱقۡذِفِيهِ فِي ٱلتَّابُوتِ فَٱقۡذِفِيهِ فِي ٱلۡيَمِّ فَلۡيُلۡقِهِ ٱلۡيَمُّ بِٱلسَّاحِلِ يَأۡخُذۡهُ عَدُوّٞ لِّي وَعَدُوّٞ لَّهُۥۚ وَأَلۡقَيۡتُ عَلَيۡكَ مَحَبَّةٗ مِّنِّي وَلِتُصۡنَعَ عَلَىٰ عَيۡنِيٓ
اور البتہ تحقیق احسان کر چکے ہیں ہم تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی (37)جب الہام کیا تھا ہم نے تیری ماں کی طرف، وہ جو (اب) وحی کی جاتی ہے (38) یہ کہ ڈال دے تو اس (موسیٰ) کو صندوق میں ، پھر ڈال دے اس (صندوق) کو دریا میں ، پس لا ڈالے گا اس کو دریا ساحل پر، کہ پکڑے اس کو دشمن میرا اور دشمن اس کااور ڈال دی میں نے تجھ پر محبت اپنی طرف سےاور تو پرورش کیا جائے میری آنکھوں کے سامنے (39)جب چلتی تھی تیری بہن، پس کہتی تھی وہ، کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اس شخص پر جو کفالت کرے اس کی؟ پھر لوٹایا ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہو آنکھ اس کی اور نہ غم کھائے وہ، اور قتل کیا تھا تو نے ایک نفس کو، پس نجات دی ہم نے تجھے غم سےاورآزمایا ہم نے تجھے (خوب آزمانا)، پس ٹھہرا رہا تو کئی سال اہل مدین میں ، پھر آیا تو اوپر تقدیر (الٰہی) کے، اے موسی! (40) اور خاص کر لیا میں نے تجھے اپنے کام کے لیے (41)
[39-37] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو دین، وحی،رسالت اور قبولیت دعا سے نوازا… اس نعمت کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰu کو ان کی پرورش اور ان کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتے وقت عطا کی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ مَنَنَّا عَلَيۡكَ مَرَّةً اُخۡرٰۤى ﴾ ’’اور ہم نے تجھ پر احسان کیا دوسری مرتبہ‘‘ جب ہم نے تیری والدہ کی طرف الہام کیا کہ وہ تجھ کو رضاعت کے وقت، فرعون کے خوف سے، ایک صندوق میں ڈال دے کیونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا، موسیٰ u کی والدہ نے آپ کو چھپا دیا، انھیں حضرت موسیٰu کے بارے میں سخت خوف لاحق ہوا چنانچہ انھوں نے آپ کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا یعنی دریائے نیل میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ وہ اس صندوق کو کنارے پر لگا دے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر دیا کہ اس صندوق کو، اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰu کا سب سے بڑا دشمن پکڑ لے اور اس کی اپنی اولاد کے ساتھ تربیت حاصل کرے اور جو کوئی اس کو دیکھے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔اسی لیے فرمایا:﴿ وَاَلۡقَيۡتُ عَلَيۡكَ مَحَبَّةً مِّنِّيۡ﴾ ’’اور میں نے ڈال دی تجھ پر محبت اپنی طرف سے۔‘‘ یعنی جو کوئی آپ کو دیکھتا محبت کرنے لگتا تھا۔ ﴿وَلِتُصۡنَعَ عَلٰى عَيۡنِيۡ ﴾ یعنی تاکہ تو میری آنکھوں کے سامنے، میری حفاظت میں تربیت حاصل کرے اور رحیم و کریم اللہ کی سرپرستی سے بڑھ کر کس کی کفالت اور دیکھ بھال جلیل القدر اور کامل ہو سکتی ہے، جو اپنے بندے کو اس کے مصالح عطا کرنے اور ضرر رساں امور کو اس سے دور کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے؟ پس موسیٰ u ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہی ان کی مصلحت کے مطابق ان کی تدبیر فرماتا ۔
[40] اور یہ اللہ تعالیٰ کی حسن تدبیر ہی تھی کہ جب موسیٰ u دشمن کے قبضے میں چلے گئے تو ان کی والدہ سخت بے چین ہو گئیں اور ان کا دل رنجیدہ ہو گیا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو مضبوط نہ کیا ہوتا تو قریب تھا کہ وہ حضرت موسیٰu کا بھید کھول دیتیں ۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u پر تمام دودھ پلانے والیوں کا دودھ حرام کر دیا۔ انھوں نے کسی عورت کی چھاتی کو منہ نہ لگایا تاکہ معاملہ آخرکار ماں تک پہنچے اور ماں ان کو دودھ پلائے، بچہ ماں کے پاس رہے اور ماں مطمئن اور پرسکون ہو اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں ۔ فرعون کے کارندے دودھ پلانے والیوں کو ایک ایک کر کے بچے کے پاس لائے مگر اس نے کسی کی چھاتی کو قبول نہ کیا۔ موسیٰ u کی بہن آئی اور فرعون اور اسکے کارندوں سے کہنے لگی۔ ﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾(القصص:28؍12)’’کیا میں تمھیں ایسے گھرانے کے متعلق نہ بتاؤں جو اسکی کفالت کریں اور اس کی خیر خواہی بھی کریں ؟‘‘ چنانچہ اس طرح ہم نے موسیٰu کو اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا۔﴿ فَرَجَعۡنٰكَ اِلٰۤى اُمِّؔكَ كَيۡ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ١ؕ۬ وَقَتَلۡتَ نَفۡسًا ﴾ ’’پھر ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف لوٹایا تاکہ اسکی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کرے اور تو نے ایک جان کو قتل کر دیا۔‘‘ وہ مقتول قبطی تھا۔ ایک روز موسیٰu ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے جب شہر کے لوگ غفلت میں تھے۔ آپ نے دیکھا کہ دو شخص آپس میں لڑ رہے ہیں ان میں ایک موسیٰ u کی قوم کا آدمی تھا اور دوسرا ان کی دشمن قوم یعنی قبطیوں سے تعلق رکھتا تھا۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ ﴾(القصص:28؍15)’’جو شخص ان کی قوم سے تھا اس شخص کے خلاف موسیٰ کو مدد کے لیے پکارا جو اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا، موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ اس پر موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی، اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا۔ حضرت موسیٰu کو معلوم ہوا کہ دربار کے لوگ ان کو تلاش کر رہے ہیں تاکہ ان کو قتل کر دیا جائے تو وہ وہاں سے فرار ہو گئے۔﴿ فَنَجَّيۡنٰكَ مِنَ الۡغَمِّ ﴾ ’’پس ہم نے تجھ کو نجات دی غم سے‘‘ یعنی گناہ کی سزا اور قتل سے۔ ﴿ وَفَتَنّٰكَ فُتُوۡنًا ﴾ یعنی ہم نے تجھ کو آزمایا اور تجھ کو اپنے تمام احوال میں راست رو پایا یا ہم تجھ کو مختلف احوال و اطوار میں منتقل کرتے رہے یہاں تک کہ تو اپنے اس مقام کو پہنچ گیا جہاں تجھے پہنچنا تھا۔ ﴿فَلَبِثۡتَ سِنِيۡنَ فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ﴾ ’’پس تو اہل مدین میں کئی سال رہا۔‘‘ یعنی جب حضرت موسیٰu کو فرعون اور اس کے درباریوں نے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تو موسیٰu وہاں سے فرار ہو کر مدین پہنچ گئے اور وہاں انھوں نے نکاح کر لیا اور مدین میں آٹھ یا دس سال رہے۔ ﴿ ثُمَّ جِئۡتَ عَلٰى قَدَرٍ يّٰمُوۡسٰؔى ﴾ ’’پھر تو آیا تقدیر کے مطابق اے موسیٰ!‘‘ یعنی تو اس مقام پر اتفاقاً، بغیر قصدو ارادہ اور بغیر ہماری تدبیر کے نہیں پہنچا بلکہ ہمارے لطف و کرم اور اندازے سے یہاں پہنچا ہے۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ موسیٰ کلیم اللہ u پر اللہ تعالیٰ کی کامل نظر عنایت تھی۔
[41] بنا بریں فرمایا: ﴿ وَاصۡطَنَعۡتُكَ لِنَفۡسِيۡ﴾ ’’اور میں نے تجھ کو پسند کر لیا اپنی ذات کے لیے۔‘‘ یعنی میں نے تجھ پر اپنی نعمتوں کا فیضان کیا اور تجھ کو اپنی خصوصی توجہ اور تربیت سے نوازا تاکہ تو میرا خاص محبوب بندہ بن جائے اور ایسے مقام پر فائز ہو جائے جہاں تک کوئی شاذو نادر شخص ہی پہنچتا ہے۔ مخلوق میں جب ایک دوست دوسرے دوست کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کا دوست اپنے کمال مطلوب میں بلند ترین مقام پر پہنچ جائے تو وہ اس کو اس مقام پہ پہنچانے کے لیے انتہائی کوشش اور جدوجہد کرتا ہے… جب مخلوق کا یہ حال ہے تو آپ کا رب قادر و کریم کے بارے میں کیا خیال ہے، کہ وہ مخلوق میں سے جس کو اپنا محبوب اور دوست بنانے کے لیے چن لے اس کے ساتھ کیا کرے گا؟
20:40إِذۡ تَمۡشِيٓ أُخۡتُكَ فَتَقُولُ هَلۡ أَدُلُّكُمۡ عَلَىٰ مَن يَكۡفُلُهُۥۖ فَرَجَعۡنَٰكَ إِلَىٰٓ أُمِّكَ كَيۡ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَۚ وَقَتَلۡتَ نَفۡسٗا فَنَجَّيۡنَٰكَ مِنَ ٱلۡغَمِّ وَفَتَنَّـٰكَ فُتُونٗاۚ فَلَبِثۡتَ سِنِينَ فِيٓ أَهۡلِ مَدۡيَنَ ثُمَّ جِئۡتَ عَلَىٰ قَدَرٖ يَٰمُوسَىٰ
اور البتہ تحقیق احسان کر چکے ہیں ہم تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی (37)جب الہام کیا تھا ہم نے تیری ماں کی طرف، وہ جو (اب) وحی کی جاتی ہے (38) یہ کہ ڈال دے تو اس (موسیٰ) کو صندوق میں ، پھر ڈال دے اس (صندوق) کو دریا میں ، پس لا ڈالے گا اس کو دریا ساحل پر، کہ پکڑے اس کو دشمن میرا اور دشمن اس کااور ڈال دی میں نے تجھ پر محبت اپنی طرف سےاور تو پرورش کیا جائے میری آنکھوں کے سامنے (39)جب چلتی تھی تیری بہن، پس کہتی تھی وہ، کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اس شخص پر جو کفالت کرے اس کی؟ پھر لوٹایا ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہو آنکھ اس کی اور نہ غم کھائے وہ، اور قتل کیا تھا تو نے ایک نفس کو، پس نجات دی ہم نے تجھے غم سےاورآزمایا ہم نے تجھے (خوب آزمانا)، پس ٹھہرا رہا تو کئی سال اہل مدین میں ، پھر آیا تو اوپر تقدیر (الٰہی) کے، اے موسی! (40) اور خاص کر لیا میں نے تجھے اپنے کام کے لیے (41)
[39-37] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو دین، وحی،رسالت اور قبولیت دعا سے نوازا… اس نعمت کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰu کو ان کی پرورش اور ان کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتے وقت عطا کی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ مَنَنَّا عَلَيۡكَ مَرَّةً اُخۡرٰۤى ﴾ ’’اور ہم نے تجھ پر احسان کیا دوسری مرتبہ‘‘ جب ہم نے تیری والدہ کی طرف الہام کیا کہ وہ تجھ کو رضاعت کے وقت، فرعون کے خوف سے، ایک صندوق میں ڈال دے کیونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا، موسیٰ u کی والدہ نے آپ کو چھپا دیا، انھیں حضرت موسیٰu کے بارے میں سخت خوف لاحق ہوا چنانچہ انھوں نے آپ کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا یعنی دریائے نیل میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ وہ اس صندوق کو کنارے پر لگا دے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر دیا کہ اس صندوق کو، اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰu کا سب سے بڑا دشمن پکڑ لے اور اس کی اپنی اولاد کے ساتھ تربیت حاصل کرے اور جو کوئی اس کو دیکھے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔اسی لیے فرمایا:﴿ وَاَلۡقَيۡتُ عَلَيۡكَ مَحَبَّةً مِّنِّيۡ﴾ ’’اور میں نے ڈال دی تجھ پر محبت اپنی طرف سے۔‘‘ یعنی جو کوئی آپ کو دیکھتا محبت کرنے لگتا تھا۔ ﴿وَلِتُصۡنَعَ عَلٰى عَيۡنِيۡ ﴾ یعنی تاکہ تو میری آنکھوں کے سامنے، میری حفاظت میں تربیت حاصل کرے اور رحیم و کریم اللہ کی سرپرستی سے بڑھ کر کس کی کفالت اور دیکھ بھال جلیل القدر اور کامل ہو سکتی ہے، جو اپنے بندے کو اس کے مصالح عطا کرنے اور ضرر رساں امور کو اس سے دور کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے؟ پس موسیٰ u ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہی ان کی مصلحت کے مطابق ان کی تدبیر فرماتا ۔
[40] اور یہ اللہ تعالیٰ کی حسن تدبیر ہی تھی کہ جب موسیٰ u دشمن کے قبضے میں چلے گئے تو ان کی والدہ سخت بے چین ہو گئیں اور ان کا دل رنجیدہ ہو گیا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو مضبوط نہ کیا ہوتا تو قریب تھا کہ وہ حضرت موسیٰu کا بھید کھول دیتیں ۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u پر تمام دودھ پلانے والیوں کا دودھ حرام کر دیا۔ انھوں نے کسی عورت کی چھاتی کو منہ نہ لگایا تاکہ معاملہ آخرکار ماں تک پہنچے اور ماں ان کو دودھ پلائے، بچہ ماں کے پاس رہے اور ماں مطمئن اور پرسکون ہو اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں ۔ فرعون کے کارندے دودھ پلانے والیوں کو ایک ایک کر کے بچے کے پاس لائے مگر اس نے کسی کی چھاتی کو قبول نہ کیا۔ موسیٰ u کی بہن آئی اور فرعون اور اسکے کارندوں سے کہنے لگی۔ ﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾(القصص:28؍12)’’کیا میں تمھیں ایسے گھرانے کے متعلق نہ بتاؤں جو اسکی کفالت کریں اور اس کی خیر خواہی بھی کریں ؟‘‘ چنانچہ اس طرح ہم نے موسیٰu کو اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا۔﴿ فَرَجَعۡنٰكَ اِلٰۤى اُمِّؔكَ كَيۡ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ١ؕ۬ وَقَتَلۡتَ نَفۡسًا ﴾ ’’پھر ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف لوٹایا تاکہ اسکی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کرے اور تو نے ایک جان کو قتل کر دیا۔‘‘ وہ مقتول قبطی تھا۔ ایک روز موسیٰu ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے جب شہر کے لوگ غفلت میں تھے۔ آپ نے دیکھا کہ دو شخص آپس میں لڑ رہے ہیں ان میں ایک موسیٰ u کی قوم کا آدمی تھا اور دوسرا ان کی دشمن قوم یعنی قبطیوں سے تعلق رکھتا تھا۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ ﴾(القصص:28؍15)’’جو شخص ان کی قوم سے تھا اس شخص کے خلاف موسیٰ کو مدد کے لیے پکارا جو اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا، موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ اس پر موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی، اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا۔ حضرت موسیٰu کو معلوم ہوا کہ دربار کے لوگ ان کو تلاش کر رہے ہیں تاکہ ان کو قتل کر دیا جائے تو وہ وہاں سے فرار ہو گئے۔﴿ فَنَجَّيۡنٰكَ مِنَ الۡغَمِّ ﴾ ’’پس ہم نے تجھ کو نجات دی غم سے‘‘ یعنی گناہ کی سزا اور قتل سے۔ ﴿ وَفَتَنّٰكَ فُتُوۡنًا ﴾ یعنی ہم نے تجھ کو آزمایا اور تجھ کو اپنے تمام احوال میں راست رو پایا یا ہم تجھ کو مختلف احوال و اطوار میں منتقل کرتے رہے یہاں تک کہ تو اپنے اس مقام کو پہنچ گیا جہاں تجھے پہنچنا تھا۔ ﴿فَلَبِثۡتَ سِنِيۡنَ فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ﴾ ’’پس تو اہل مدین میں کئی سال رہا۔‘‘ یعنی جب حضرت موسیٰu کو فرعون اور اس کے درباریوں نے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تو موسیٰu وہاں سے فرار ہو کر مدین پہنچ گئے اور وہاں انھوں نے نکاح کر لیا اور مدین میں آٹھ یا دس سال رہے۔ ﴿ ثُمَّ جِئۡتَ عَلٰى قَدَرٍ يّٰمُوۡسٰؔى ﴾ ’’پھر تو آیا تقدیر کے مطابق اے موسیٰ!‘‘ یعنی تو اس مقام پر اتفاقاً، بغیر قصدو ارادہ اور بغیر ہماری تدبیر کے نہیں پہنچا بلکہ ہمارے لطف و کرم اور اندازے سے یہاں پہنچا ہے۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ موسیٰ کلیم اللہ u پر اللہ تعالیٰ کی کامل نظر عنایت تھی۔
[41] بنا بریں فرمایا: ﴿ وَاصۡطَنَعۡتُكَ لِنَفۡسِيۡ﴾ ’’اور میں نے تجھ کو پسند کر لیا اپنی ذات کے لیے۔‘‘ یعنی میں نے تجھ پر اپنی نعمتوں کا فیضان کیا اور تجھ کو اپنی خصوصی توجہ اور تربیت سے نوازا تاکہ تو میرا خاص محبوب بندہ بن جائے اور ایسے مقام پر فائز ہو جائے جہاں تک کوئی شاذو نادر شخص ہی پہنچتا ہے۔ مخلوق میں جب ایک دوست دوسرے دوست کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کا دوست اپنے کمال مطلوب میں بلند ترین مقام پر پہنچ جائے تو وہ اس کو اس مقام پہ پہنچانے کے لیے انتہائی کوشش اور جدوجہد کرتا ہے… جب مخلوق کا یہ حال ہے تو آپ کا رب قادر و کریم کے بارے میں کیا خیال ہے، کہ وہ مخلوق میں سے جس کو اپنا محبوب اور دوست بنانے کے لیے چن لے اس کے ساتھ کیا کرے گا؟
20:41وَٱصۡطَنَعۡتُكَ لِنَفۡسِي
اور البتہ تحقیق احسان کر چکے ہیں ہم تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی (37)جب الہام کیا تھا ہم نے تیری ماں کی طرف، وہ جو (اب) وحی کی جاتی ہے (38) یہ کہ ڈال دے تو اس (موسیٰ) کو صندوق میں ، پھر ڈال دے اس (صندوق) کو دریا میں ، پس لا ڈالے گا اس کو دریا ساحل پر، کہ پکڑے اس کو دشمن میرا اور دشمن اس کااور ڈال دی میں نے تجھ پر محبت اپنی طرف سےاور تو پرورش کیا جائے میری آنکھوں کے سامنے (39)جب چلتی تھی تیری بہن، پس کہتی تھی وہ، کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اس شخص پر جو کفالت کرے اس کی؟ پھر لوٹایا ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہو آنکھ اس کی اور نہ غم کھائے وہ، اور قتل کیا تھا تو نے ایک نفس کو، پس نجات دی ہم نے تجھے غم سےاورآزمایا ہم نے تجھے (خوب آزمانا)، پس ٹھہرا رہا تو کئی سال اہل مدین میں ، پھر آیا تو اوپر تقدیر (الٰہی) کے، اے موسی! (40) اور خاص کر لیا میں نے تجھے اپنے کام کے لیے (41)
[39-37] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو دین، وحی،رسالت اور قبولیت دعا سے نوازا… اس نعمت کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰu کو ان کی پرورش اور ان کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتے وقت عطا کی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ مَنَنَّا عَلَيۡكَ مَرَّةً اُخۡرٰۤى ﴾ ’’اور ہم نے تجھ پر احسان کیا دوسری مرتبہ‘‘ جب ہم نے تیری والدہ کی طرف الہام کیا کہ وہ تجھ کو رضاعت کے وقت، فرعون کے خوف سے، ایک صندوق میں ڈال دے کیونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا، موسیٰ u کی والدہ نے آپ کو چھپا دیا، انھیں حضرت موسیٰu کے بارے میں سخت خوف لاحق ہوا چنانچہ انھوں نے آپ کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا یعنی دریائے نیل میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ وہ اس صندوق کو کنارے پر لگا دے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر دیا کہ اس صندوق کو، اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰu کا سب سے بڑا دشمن پکڑ لے اور اس کی اپنی اولاد کے ساتھ تربیت حاصل کرے اور جو کوئی اس کو دیکھے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔اسی لیے فرمایا:﴿ وَاَلۡقَيۡتُ عَلَيۡكَ مَحَبَّةً مِّنِّيۡ﴾ ’’اور میں نے ڈال دی تجھ پر محبت اپنی طرف سے۔‘‘ یعنی جو کوئی آپ کو دیکھتا محبت کرنے لگتا تھا۔ ﴿وَلِتُصۡنَعَ عَلٰى عَيۡنِيۡ ﴾ یعنی تاکہ تو میری آنکھوں کے سامنے، میری حفاظت میں تربیت حاصل کرے اور رحیم و کریم اللہ کی سرپرستی سے بڑھ کر کس کی کفالت اور دیکھ بھال جلیل القدر اور کامل ہو سکتی ہے، جو اپنے بندے کو اس کے مصالح عطا کرنے اور ضرر رساں امور کو اس سے دور کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے؟ پس موسیٰ u ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہی ان کی مصلحت کے مطابق ان کی تدبیر فرماتا ۔
[40] اور یہ اللہ تعالیٰ کی حسن تدبیر ہی تھی کہ جب موسیٰ u دشمن کے قبضے میں چلے گئے تو ان کی والدہ سخت بے چین ہو گئیں اور ان کا دل رنجیدہ ہو گیا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو مضبوط نہ کیا ہوتا تو قریب تھا کہ وہ حضرت موسیٰu کا بھید کھول دیتیں ۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u پر تمام دودھ پلانے والیوں کا دودھ حرام کر دیا۔ انھوں نے کسی عورت کی چھاتی کو منہ نہ لگایا تاکہ معاملہ آخرکار ماں تک پہنچے اور ماں ان کو دودھ پلائے، بچہ ماں کے پاس رہے اور ماں مطمئن اور پرسکون ہو اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں ۔ فرعون کے کارندے دودھ پلانے والیوں کو ایک ایک کر کے بچے کے پاس لائے مگر اس نے کسی کی چھاتی کو قبول نہ کیا۔ موسیٰ u کی بہن آئی اور فرعون اور اسکے کارندوں سے کہنے لگی۔ ﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾(القصص:28؍12)’’کیا میں تمھیں ایسے گھرانے کے متعلق نہ بتاؤں جو اسکی کفالت کریں اور اس کی خیر خواہی بھی کریں ؟‘‘ چنانچہ اس طرح ہم نے موسیٰu کو اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا۔﴿ فَرَجَعۡنٰكَ اِلٰۤى اُمِّؔكَ كَيۡ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ١ؕ۬ وَقَتَلۡتَ نَفۡسًا ﴾ ’’پھر ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف لوٹایا تاکہ اسکی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کرے اور تو نے ایک جان کو قتل کر دیا۔‘‘ وہ مقتول قبطی تھا۔ ایک روز موسیٰu ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے جب شہر کے لوگ غفلت میں تھے۔ آپ نے دیکھا کہ دو شخص آپس میں لڑ رہے ہیں ان میں ایک موسیٰ u کی قوم کا آدمی تھا اور دوسرا ان کی دشمن قوم یعنی قبطیوں سے تعلق رکھتا تھا۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ ﴾(القصص:28؍15)’’جو شخص ان کی قوم سے تھا اس شخص کے خلاف موسیٰ کو مدد کے لیے پکارا جو اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا، موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ اس پر موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی، اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا۔ حضرت موسیٰu کو معلوم ہوا کہ دربار کے لوگ ان کو تلاش کر رہے ہیں تاکہ ان کو قتل کر دیا جائے تو وہ وہاں سے فرار ہو گئے۔﴿ فَنَجَّيۡنٰكَ مِنَ الۡغَمِّ ﴾ ’’پس ہم نے تجھ کو نجات دی غم سے‘‘ یعنی گناہ کی سزا اور قتل سے۔ ﴿ وَفَتَنّٰكَ فُتُوۡنًا ﴾ یعنی ہم نے تجھ کو آزمایا اور تجھ کو اپنے تمام احوال میں راست رو پایا یا ہم تجھ کو مختلف احوال و اطوار میں منتقل کرتے رہے یہاں تک کہ تو اپنے اس مقام کو پہنچ گیا جہاں تجھے پہنچنا تھا۔ ﴿فَلَبِثۡتَ سِنِيۡنَ فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ﴾ ’’پس تو اہل مدین میں کئی سال رہا۔‘‘ یعنی جب حضرت موسیٰu کو فرعون اور اس کے درباریوں نے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تو موسیٰu وہاں سے فرار ہو کر مدین پہنچ گئے اور وہاں انھوں نے نکاح کر لیا اور مدین میں آٹھ یا دس سال رہے۔ ﴿ ثُمَّ جِئۡتَ عَلٰى قَدَرٍ يّٰمُوۡسٰؔى ﴾ ’’پھر تو آیا تقدیر کے مطابق اے موسیٰ!‘‘ یعنی تو اس مقام پر اتفاقاً، بغیر قصدو ارادہ اور بغیر ہماری تدبیر کے نہیں پہنچا بلکہ ہمارے لطف و کرم اور اندازے سے یہاں پہنچا ہے۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ موسیٰ کلیم اللہ u پر اللہ تعالیٰ کی کامل نظر عنایت تھی۔
[41] بنا بریں فرمایا: ﴿ وَاصۡطَنَعۡتُكَ لِنَفۡسِيۡ﴾ ’’اور میں نے تجھ کو پسند کر لیا اپنی ذات کے لیے۔‘‘ یعنی میں نے تجھ پر اپنی نعمتوں کا فیضان کیا اور تجھ کو اپنی خصوصی توجہ اور تربیت سے نوازا تاکہ تو میرا خاص محبوب بندہ بن جائے اور ایسے مقام پر فائز ہو جائے جہاں تک کوئی شاذو نادر شخص ہی پہنچتا ہے۔ مخلوق میں جب ایک دوست دوسرے دوست کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کا دوست اپنے کمال مطلوب میں بلند ترین مقام پر پہنچ جائے تو وہ اس کو اس مقام پہ پہنچانے کے لیے انتہائی کوشش اور جدوجہد کرتا ہے… جب مخلوق کا یہ حال ہے تو آپ کا رب قادر و کریم کے بارے میں کیا خیال ہے، کہ وہ مخلوق میں سے جس کو اپنا محبوب اور دوست بنانے کے لیے چن لے اس کے ساتھ کیا کرے گا؟
20:42ٱذۡهَبۡ أَنتَ وَأَخُوكَ بِـَٔايَٰتِي وَلَا تَنِيَا فِي ذِكۡرِي
جا تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں (معجزے) لے کراور نہ سستی کرنا تم دونوں میری یاد میں (42) تم دونوں جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ وہ سرکش ہو گیا ہے (43) پس کہو تم دونوں اس سے بات نرم، شاید کہ وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے (44) ان دونوں نے کہا، اے ہمارے رب! بلاشبہ ہم تو ڈرتے ہیں اس سے کہ وہ زیادتی کرے ہم پر، یا یہ کہ وہ سرکشی کرے (45) اللہ نے کہا، مت ڈرو تم دونوں ، بلاشبہ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ، میں سنتا اور دیکھتا ہوں (46)
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u کو دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازنے کے بعد فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اَنۡتَ وَاَخُوۡكَ ﴾ ’’جا تو اور تیرا بھائی۔‘‘ یعنی ہارونu ﴿بِاٰيٰتِيۡ﴾ ’’میری نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی ان نشانیوں کے ساتھ جائیں جو حق کے حسن اور باطل کی قباحت پر دلالت کرتی ہیں ، مثلاً:ید بیضاء، عصا اور دیگر نو معجزات لے کر فرعون اور اس کی اشرافیہ کے پاس پاس جائیں ۔ ﴿ وَلَا تَنِيَا فِيۡ ذِكۡرِيۡ﴾ ’’اور تم دونوں میرے ذکر میں سستی نہ کرو۔‘‘ یعنی میرا ذکر ہمیشہ کرتے رہو اور اس کو دائمی طور پر قائم رکھتے ہوئے کسی سستی کا شکار نہ ہو، میرے ذکر کو لازم بناؤ جیسا کہ تم دونوں نے خود ان الفاظ میں وعدہ کیا ہے۔ ﴿ كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا ﴾(طٰہ:20؍33،34) اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر تمام معاملات میں مدد و معونت فراہم کر کے ان کو سہل بناتا ہے اور ان معاملات کے بوجھ میں تخفیف کرتا ہے۔
[43]﴿ اِذۡهَبَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ کفر، سرکشی، ظلم اور تعدی کی تمام حدود پھلانگ گیا ہے۔
[44]﴿ فَقُوۡلَا لَهٗ قَوۡلًا لَّيِّنًا﴾ لفظی آداب کا خیال رکھتے ہوئے، نرمی کے ساتھ نہایت سہل اور لطیف بات کیجیے، فحش گوئی، ڈینگیں مارنے، سخت الفاظ اور درشت افعال سے پرہیز کیجیے۔ ﴿ لَّعَلَّهٗ﴾ شاید وہ اس نرم گوئی کے سبب سے ﴿ يَتَذَكَّـرُ ﴾ نصیحت پکڑے جو اس کو فائدہ دے اور وہ اس پر عمل کرنے لگے ﴿اَوۡ يَخۡشٰى ﴾ اور نقصان دہ چیز سے ڈرے اور اسے ترک کر دے کیونکہ نرم گوئی اس کی طرف دعوت دیتی ہے اور سخت گوئی لوگوں کو اس سے متنفر کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ’’نرم گوئی‘‘ کی اپنے ارشاد میں تفسیر بیان کی ہے۔ ﴿ فَقُلۡ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ۙ۰۰وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخۡشٰى ﴾(النزعت:79؍18،19) ’’اور اس سے کہیے کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے اور میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے؟‘‘ کیونکہ اس قول میں جو نرمی اور آسانی پنہاں ہے اور سختی اور درشتی سے جس طرح پاک ہے، غور کرنے والے پر مخفی نہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے (ھل) کا لفظ استعمال کیا ہے جو ’’عرض‘‘ اور ’’مشاورت‘‘ پر دلالت کرتا ہے جس سے کوئی شخص نفرت نہیں کرتا اور اسے ہر قسم کی گندگی سے تطہیر اور تزکیہ کی طرف بلایا ہے۔ جس کی اصل شرک کی گندگی سے تطہیر ہے جسے ہر عقل سلیم قبول کرتی ہے۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا (اُزَکِّیکَ) ’’میں تجھے پاک کروں ‘‘ بلکہ فرمایا: (تَزَکّٰی) یعنی ’’تو خود پاک ہو جائے۔‘‘ پھر موسیٰ u نے اسے اس کے رب کی طرف بلایا جس نے اس کی پرورش کی اور اسے ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا جن پر شکر اور ذکر کرنا چاہیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخۡشٰى ﴾(النازعات:79؍19) ’’اور تاکہ میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے۔‘‘ جب فرعون نے اس کلام نرم و نازک کو قبول نہ کیا، جس کا حسن دلوں کو پکڑ لیتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کو وعظ و نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اسے اسی طرح پکڑلیا جس طرح ایک غالب اور مقتدر ہستی پکڑتی ہے۔
[45]﴿ قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنۡ يَّفۡرُطَ عَلَيۡنَاۤ ﴾ ’’دونوں نے کہا، اے ہمارے رب! ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے۔‘‘ یعنی کہیں وہ ہمیں عقوبت میں نہ ڈال دے اور تیرا پیغام پہنچانے اور اس پر حجت قائم کرنے سے پہلے ہی کہیں ہمیں کسی تعذیب میں مبتلا نہ کر دے ﴿ اَوۡ اَنۡ يَّطۡغٰى ﴾ یا وہ حق کے خلاف تکبر سے اقتدار و سلطنت، اپنے اعوان اور اپنی افواج کی بنا پر سرکشی نہ دکھائے۔
[46]﴿ قَالَ لَا تَخَافَاۤ ﴾ فرمایا، اس بات سے نہ ڈرو کہ وہ تم پر زیادتی کرے گا ﴿ اِنَّنِيۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى ﴾ ’’میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ، سنتا اور دیکھتا ہوں۔‘‘ یعنی تم دونوں میری حفاظت اور نگرانی میں ہو، میں تمھاری بات کو سن رہا اور تمھارے تمام احوال کو دیکھ رہا ہوں اس لیے فرعون سے نہ ڈرو! چنانچہ ان دونوں کے دلوں سے فرعون کا خوف زائل ہو گیا اور اپنے رب کے وعدے پر ان کا دل مطمئن ہو گیا۔
20:43ٱذۡهَبَآ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ
جا تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں (معجزے) لے کراور نہ سستی کرنا تم دونوں میری یاد میں (42) تم دونوں جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ وہ سرکش ہو گیا ہے (43) پس کہو تم دونوں اس سے بات نرم، شاید کہ وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے (44) ان دونوں نے کہا، اے ہمارے رب! بلاشبہ ہم تو ڈرتے ہیں اس سے کہ وہ زیادتی کرے ہم پر، یا یہ کہ وہ سرکشی کرے (45) اللہ نے کہا، مت ڈرو تم دونوں ، بلاشبہ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ، میں سنتا اور دیکھتا ہوں (46)
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u کو دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازنے کے بعد فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اَنۡتَ وَاَخُوۡكَ ﴾ ’’جا تو اور تیرا بھائی۔‘‘ یعنی ہارونu ﴿بِاٰيٰتِيۡ﴾ ’’میری نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی ان نشانیوں کے ساتھ جائیں جو حق کے حسن اور باطل کی قباحت پر دلالت کرتی ہیں ، مثلاً:ید بیضاء، عصا اور دیگر نو معجزات لے کر فرعون اور اس کی اشرافیہ کے پاس پاس جائیں ۔ ﴿ وَلَا تَنِيَا فِيۡ ذِكۡرِيۡ﴾ ’’اور تم دونوں میرے ذکر میں سستی نہ کرو۔‘‘ یعنی میرا ذکر ہمیشہ کرتے رہو اور اس کو دائمی طور پر قائم رکھتے ہوئے کسی سستی کا شکار نہ ہو، میرے ذکر کو لازم بناؤ جیسا کہ تم دونوں نے خود ان الفاظ میں وعدہ کیا ہے۔ ﴿ كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا ﴾(طٰہ:20؍33،34) اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر تمام معاملات میں مدد و معونت فراہم کر کے ان کو سہل بناتا ہے اور ان معاملات کے بوجھ میں تخفیف کرتا ہے۔
[43]﴿ اِذۡهَبَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ کفر، سرکشی، ظلم اور تعدی کی تمام حدود پھلانگ گیا ہے۔
[44]﴿ فَقُوۡلَا لَهٗ قَوۡلًا لَّيِّنًا﴾ لفظی آداب کا خیال رکھتے ہوئے، نرمی کے ساتھ نہایت سہل اور لطیف بات کیجیے، فحش گوئی، ڈینگیں مارنے، سخت الفاظ اور درشت افعال سے پرہیز کیجیے۔ ﴿ لَّعَلَّهٗ﴾ شاید وہ اس نرم گوئی کے سبب سے ﴿ يَتَذَكَّـرُ ﴾ نصیحت پکڑے جو اس کو فائدہ دے اور وہ اس پر عمل کرنے لگے ﴿اَوۡ يَخۡشٰى ﴾ اور نقصان دہ چیز سے ڈرے اور اسے ترک کر دے کیونکہ نرم گوئی اس کی طرف دعوت دیتی ہے اور سخت گوئی لوگوں کو اس سے متنفر کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ’’نرم گوئی‘‘ کی اپنے ارشاد میں تفسیر بیان کی ہے۔ ﴿ فَقُلۡ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ۙ۰۰وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخۡشٰى ﴾(النزعت:79؍18،19) ’’اور اس سے کہیے کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے اور میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے؟‘‘ کیونکہ اس قول میں جو نرمی اور آسانی پنہاں ہے اور سختی اور درشتی سے جس طرح پاک ہے، غور کرنے والے پر مخفی نہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے (ھل) کا لفظ استعمال کیا ہے جو ’’عرض‘‘ اور ’’مشاورت‘‘ پر دلالت کرتا ہے جس سے کوئی شخص نفرت نہیں کرتا اور اسے ہر قسم کی گندگی سے تطہیر اور تزکیہ کی طرف بلایا ہے۔ جس کی اصل شرک کی گندگی سے تطہیر ہے جسے ہر عقل سلیم قبول کرتی ہے۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا (اُزَکِّیکَ) ’’میں تجھے پاک کروں ‘‘ بلکہ فرمایا: (تَزَکّٰی) یعنی ’’تو خود پاک ہو جائے۔‘‘ پھر موسیٰ u نے اسے اس کے رب کی طرف بلایا جس نے اس کی پرورش کی اور اسے ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا جن پر شکر اور ذکر کرنا چاہیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخۡشٰى ﴾(النازعات:79؍19) ’’اور تاکہ میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے۔‘‘ جب فرعون نے اس کلام نرم و نازک کو قبول نہ کیا، جس کا حسن دلوں کو پکڑ لیتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کو وعظ و نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اسے اسی طرح پکڑلیا جس طرح ایک غالب اور مقتدر ہستی پکڑتی ہے۔
[45]﴿ قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنۡ يَّفۡرُطَ عَلَيۡنَاۤ ﴾ ’’دونوں نے کہا، اے ہمارے رب! ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے۔‘‘ یعنی کہیں وہ ہمیں عقوبت میں نہ ڈال دے اور تیرا پیغام پہنچانے اور اس پر حجت قائم کرنے سے پہلے ہی کہیں ہمیں کسی تعذیب میں مبتلا نہ کر دے ﴿ اَوۡ اَنۡ يَّطۡغٰى ﴾ یا وہ حق کے خلاف تکبر سے اقتدار و سلطنت، اپنے اعوان اور اپنی افواج کی بنا پر سرکشی نہ دکھائے۔
[46]﴿ قَالَ لَا تَخَافَاۤ ﴾ فرمایا، اس بات سے نہ ڈرو کہ وہ تم پر زیادتی کرے گا ﴿ اِنَّنِيۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى ﴾ ’’میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ، سنتا اور دیکھتا ہوں۔‘‘ یعنی تم دونوں میری حفاظت اور نگرانی میں ہو، میں تمھاری بات کو سن رہا اور تمھارے تمام احوال کو دیکھ رہا ہوں اس لیے فرعون سے نہ ڈرو! چنانچہ ان دونوں کے دلوں سے فرعون کا خوف زائل ہو گیا اور اپنے رب کے وعدے پر ان کا دل مطمئن ہو گیا۔
20:44فَقُولَا لَهُۥ قَوۡلٗا لَّيِّنٗا لَّعَلَّهُۥ يَتَذَكَّرُ أَوۡ يَخۡشَىٰ
جا تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں (معجزے) لے کراور نہ سستی کرنا تم دونوں میری یاد میں (42) تم دونوں جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ وہ سرکش ہو گیا ہے (43) پس کہو تم دونوں اس سے بات نرم، شاید کہ وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے (44) ان دونوں نے کہا، اے ہمارے رب! بلاشبہ ہم تو ڈرتے ہیں اس سے کہ وہ زیادتی کرے ہم پر، یا یہ کہ وہ سرکشی کرے (45) اللہ نے کہا، مت ڈرو تم دونوں ، بلاشبہ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ، میں سنتا اور دیکھتا ہوں (46)
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u کو دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازنے کے بعد فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اَنۡتَ وَاَخُوۡكَ ﴾ ’’جا تو اور تیرا بھائی۔‘‘ یعنی ہارونu ﴿بِاٰيٰتِيۡ﴾ ’’میری نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی ان نشانیوں کے ساتھ جائیں جو حق کے حسن اور باطل کی قباحت پر دلالت کرتی ہیں ، مثلاً:ید بیضاء، عصا اور دیگر نو معجزات لے کر فرعون اور اس کی اشرافیہ کے پاس پاس جائیں ۔ ﴿ وَلَا تَنِيَا فِيۡ ذِكۡرِيۡ﴾ ’’اور تم دونوں میرے ذکر میں سستی نہ کرو۔‘‘ یعنی میرا ذکر ہمیشہ کرتے رہو اور اس کو دائمی طور پر قائم رکھتے ہوئے کسی سستی کا شکار نہ ہو، میرے ذکر کو لازم بناؤ جیسا کہ تم دونوں نے خود ان الفاظ میں وعدہ کیا ہے۔ ﴿ كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا ﴾(طٰہ:20؍33،34) اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر تمام معاملات میں مدد و معونت فراہم کر کے ان کو سہل بناتا ہے اور ان معاملات کے بوجھ میں تخفیف کرتا ہے۔
[43]﴿ اِذۡهَبَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ کفر، سرکشی، ظلم اور تعدی کی تمام حدود پھلانگ گیا ہے۔
[44]﴿ فَقُوۡلَا لَهٗ قَوۡلًا لَّيِّنًا﴾ لفظی آداب کا خیال رکھتے ہوئے، نرمی کے ساتھ نہایت سہل اور لطیف بات کیجیے، فحش گوئی، ڈینگیں مارنے، سخت الفاظ اور درشت افعال سے پرہیز کیجیے۔ ﴿ لَّعَلَّهٗ﴾ شاید وہ اس نرم گوئی کے سبب سے ﴿ يَتَذَكَّـرُ ﴾ نصیحت پکڑے جو اس کو فائدہ دے اور وہ اس پر عمل کرنے لگے ﴿اَوۡ يَخۡشٰى ﴾ اور نقصان دہ چیز سے ڈرے اور اسے ترک کر دے کیونکہ نرم گوئی اس کی طرف دعوت دیتی ہے اور سخت گوئی لوگوں کو اس سے متنفر کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ’’نرم گوئی‘‘ کی اپنے ارشاد میں تفسیر بیان کی ہے۔ ﴿ فَقُلۡ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ۙ۰۰وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخۡشٰى ﴾(النزعت:79؍18،19) ’’اور اس سے کہیے کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے اور میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے؟‘‘ کیونکہ اس قول میں جو نرمی اور آسانی پنہاں ہے اور سختی اور درشتی سے جس طرح پاک ہے، غور کرنے والے پر مخفی نہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے (ھل) کا لفظ استعمال کیا ہے جو ’’عرض‘‘ اور ’’مشاورت‘‘ پر دلالت کرتا ہے جس سے کوئی شخص نفرت نہیں کرتا اور اسے ہر قسم کی گندگی سے تطہیر اور تزکیہ کی طرف بلایا ہے۔ جس کی اصل شرک کی گندگی سے تطہیر ہے جسے ہر عقل سلیم قبول کرتی ہے۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا (اُزَکِّیکَ) ’’میں تجھے پاک کروں ‘‘ بلکہ فرمایا: (تَزَکّٰی) یعنی ’’تو خود پاک ہو جائے۔‘‘ پھر موسیٰ u نے اسے اس کے رب کی طرف بلایا جس نے اس کی پرورش کی اور اسے ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا جن پر شکر اور ذکر کرنا چاہیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخۡشٰى ﴾(النازعات:79؍19) ’’اور تاکہ میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے۔‘‘ جب فرعون نے اس کلام نرم و نازک کو قبول نہ کیا، جس کا حسن دلوں کو پکڑ لیتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کو وعظ و نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اسے اسی طرح پکڑلیا جس طرح ایک غالب اور مقتدر ہستی پکڑتی ہے۔
[45]﴿ قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنۡ يَّفۡرُطَ عَلَيۡنَاۤ ﴾ ’’دونوں نے کہا، اے ہمارے رب! ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے۔‘‘ یعنی کہیں وہ ہمیں عقوبت میں نہ ڈال دے اور تیرا پیغام پہنچانے اور اس پر حجت قائم کرنے سے پہلے ہی کہیں ہمیں کسی تعذیب میں مبتلا نہ کر دے ﴿ اَوۡ اَنۡ يَّطۡغٰى ﴾ یا وہ حق کے خلاف تکبر سے اقتدار و سلطنت، اپنے اعوان اور اپنی افواج کی بنا پر سرکشی نہ دکھائے۔
[46]﴿ قَالَ لَا تَخَافَاۤ ﴾ فرمایا، اس بات سے نہ ڈرو کہ وہ تم پر زیادتی کرے گا ﴿ اِنَّنِيۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى ﴾ ’’میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ، سنتا اور دیکھتا ہوں۔‘‘ یعنی تم دونوں میری حفاظت اور نگرانی میں ہو، میں تمھاری بات کو سن رہا اور تمھارے تمام احوال کو دیکھ رہا ہوں اس لیے فرعون سے نہ ڈرو! چنانچہ ان دونوں کے دلوں سے فرعون کا خوف زائل ہو گیا اور اپنے رب کے وعدے پر ان کا دل مطمئن ہو گیا۔
20:45قَالَا رَبَّنَآ إِنَّنَا نَخَافُ أَن يَفۡرُطَ عَلَيۡنَآ أَوۡ أَن يَطۡغَىٰ
جا تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں (معجزے) لے کراور نہ سستی کرنا تم دونوں میری یاد میں (42) تم دونوں جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ وہ سرکش ہو گیا ہے (43) پس کہو تم دونوں اس سے بات نرم، شاید کہ وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے (44) ان دونوں نے کہا، اے ہمارے رب! بلاشبہ ہم تو ڈرتے ہیں اس سے کہ وہ زیادتی کرے ہم پر، یا یہ کہ وہ سرکشی کرے (45) اللہ نے کہا، مت ڈرو تم دونوں ، بلاشبہ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ، میں سنتا اور دیکھتا ہوں (46)
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u کو دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازنے کے بعد فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اَنۡتَ وَاَخُوۡكَ ﴾ ’’جا تو اور تیرا بھائی۔‘‘ یعنی ہارونu ﴿بِاٰيٰتِيۡ﴾ ’’میری نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی ان نشانیوں کے ساتھ جائیں جو حق کے حسن اور باطل کی قباحت پر دلالت کرتی ہیں ، مثلاً:ید بیضاء، عصا اور دیگر نو معجزات لے کر فرعون اور اس کی اشرافیہ کے پاس پاس جائیں ۔ ﴿ وَلَا تَنِيَا فِيۡ ذِكۡرِيۡ﴾ ’’اور تم دونوں میرے ذکر میں سستی نہ کرو۔‘‘ یعنی میرا ذکر ہمیشہ کرتے رہو اور اس کو دائمی طور پر قائم رکھتے ہوئے کسی سستی کا شکار نہ ہو، میرے ذکر کو لازم بناؤ جیسا کہ تم دونوں نے خود ان الفاظ میں وعدہ کیا ہے۔ ﴿ كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا ﴾(طٰہ:20؍33،34) اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر تمام معاملات میں مدد و معونت فراہم کر کے ان کو سہل بناتا ہے اور ان معاملات کے بوجھ میں تخفیف کرتا ہے۔
[43]﴿ اِذۡهَبَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ کفر، سرکشی، ظلم اور تعدی کی تمام حدود پھلانگ گیا ہے۔
[44]﴿ فَقُوۡلَا لَهٗ قَوۡلًا لَّيِّنًا﴾ لفظی آداب کا خیال رکھتے ہوئے، نرمی کے ساتھ نہایت سہل اور لطیف بات کیجیے، فحش گوئی، ڈینگیں مارنے، سخت الفاظ اور درشت افعال سے پرہیز کیجیے۔ ﴿ لَّعَلَّهٗ﴾ شاید وہ اس نرم گوئی کے سبب سے ﴿ يَتَذَكَّـرُ ﴾ نصیحت پکڑے جو اس کو فائدہ دے اور وہ اس پر عمل کرنے لگے ﴿اَوۡ يَخۡشٰى ﴾ اور نقصان دہ چیز سے ڈرے اور اسے ترک کر دے کیونکہ نرم گوئی اس کی طرف دعوت دیتی ہے اور سخت گوئی لوگوں کو اس سے متنفر کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ’’نرم گوئی‘‘ کی اپنے ارشاد میں تفسیر بیان کی ہے۔ ﴿ فَقُلۡ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ۙ۰۰وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخۡشٰى ﴾(النزعت:79؍18،19) ’’اور اس سے کہیے کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے اور میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے؟‘‘ کیونکہ اس قول میں جو نرمی اور آسانی پنہاں ہے اور سختی اور درشتی سے جس طرح پاک ہے، غور کرنے والے پر مخفی نہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے (ھل) کا لفظ استعمال کیا ہے جو ’’عرض‘‘ اور ’’مشاورت‘‘ پر دلالت کرتا ہے جس سے کوئی شخص نفرت نہیں کرتا اور اسے ہر قسم کی گندگی سے تطہیر اور تزکیہ کی طرف بلایا ہے۔ جس کی اصل شرک کی گندگی سے تطہیر ہے جسے ہر عقل سلیم قبول کرتی ہے۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا (اُزَکِّیکَ) ’’میں تجھے پاک کروں ‘‘ بلکہ فرمایا: (تَزَکّٰی) یعنی ’’تو خود پاک ہو جائے۔‘‘ پھر موسیٰ u نے اسے اس کے رب کی طرف بلایا جس نے اس کی پرورش کی اور اسے ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا جن پر شکر اور ذکر کرنا چاہیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخۡشٰى ﴾(النازعات:79؍19) ’’اور تاکہ میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے۔‘‘ جب فرعون نے اس کلام نرم و نازک کو قبول نہ کیا، جس کا حسن دلوں کو پکڑ لیتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کو وعظ و نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اسے اسی طرح پکڑلیا جس طرح ایک غالب اور مقتدر ہستی پکڑتی ہے۔
[45]﴿ قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنۡ يَّفۡرُطَ عَلَيۡنَاۤ ﴾ ’’دونوں نے کہا، اے ہمارے رب! ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے۔‘‘ یعنی کہیں وہ ہمیں عقوبت میں نہ ڈال دے اور تیرا پیغام پہنچانے اور اس پر حجت قائم کرنے سے پہلے ہی کہیں ہمیں کسی تعذیب میں مبتلا نہ کر دے ﴿ اَوۡ اَنۡ يَّطۡغٰى ﴾ یا وہ حق کے خلاف تکبر سے اقتدار و سلطنت، اپنے اعوان اور اپنی افواج کی بنا پر سرکشی نہ دکھائے۔
[46]﴿ قَالَ لَا تَخَافَاۤ ﴾ فرمایا، اس بات سے نہ ڈرو کہ وہ تم پر زیادتی کرے گا ﴿ اِنَّنِيۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى ﴾ ’’میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ، سنتا اور دیکھتا ہوں۔‘‘ یعنی تم دونوں میری حفاظت اور نگرانی میں ہو، میں تمھاری بات کو سن رہا اور تمھارے تمام احوال کو دیکھ رہا ہوں اس لیے فرعون سے نہ ڈرو! چنانچہ ان دونوں کے دلوں سے فرعون کا خوف زائل ہو گیا اور اپنے رب کے وعدے پر ان کا دل مطمئن ہو گیا۔
20:46قَالَ لَا تَخَافَآۖ إِنَّنِي مَعَكُمَآ أَسۡمَعُ وَأَرَىٰ
جا تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں (معجزے) لے کراور نہ سستی کرنا تم دونوں میری یاد میں (42) تم دونوں جاؤ فرعون کی طرف، بلاشبہ وہ سرکش ہو گیا ہے (43) پس کہو تم دونوں اس سے بات نرم، شاید کہ وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے (44) ان دونوں نے کہا، اے ہمارے رب! بلاشبہ ہم تو ڈرتے ہیں اس سے کہ وہ زیادتی کرے ہم پر، یا یہ کہ وہ سرکشی کرے (45) اللہ نے کہا، مت ڈرو تم دونوں ، بلاشبہ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ، میں سنتا اور دیکھتا ہوں (46)
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ u کو دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازنے کے بعد فرمایا: ﴿ اِذۡهَبۡ اَنۡتَ وَاَخُوۡكَ ﴾ ’’جا تو اور تیرا بھائی۔‘‘ یعنی ہارونu ﴿بِاٰيٰتِيۡ﴾ ’’میری نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی ان نشانیوں کے ساتھ جائیں جو حق کے حسن اور باطل کی قباحت پر دلالت کرتی ہیں ، مثلاً:ید بیضاء، عصا اور دیگر نو معجزات لے کر فرعون اور اس کی اشرافیہ کے پاس پاس جائیں ۔ ﴿ وَلَا تَنِيَا فِيۡ ذِكۡرِيۡ﴾ ’’اور تم دونوں میرے ذکر میں سستی نہ کرو۔‘‘ یعنی میرا ذکر ہمیشہ کرتے رہو اور اس کو دائمی طور پر قائم رکھتے ہوئے کسی سستی کا شکار نہ ہو، میرے ذکر کو لازم بناؤ جیسا کہ تم دونوں نے خود ان الفاظ میں وعدہ کیا ہے۔ ﴿ كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًاۙ۰۰وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا ﴾(طٰہ:20؍33،34) اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر تمام معاملات میں مدد و معونت فراہم کر کے ان کو سہل بناتا ہے اور ان معاملات کے بوجھ میں تخفیف کرتا ہے۔
[43]﴿ اِذۡهَبَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى﴾ ’’تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ کفر، سرکشی، ظلم اور تعدی کی تمام حدود پھلانگ گیا ہے۔
[44]﴿ فَقُوۡلَا لَهٗ قَوۡلًا لَّيِّنًا﴾ لفظی آداب کا خیال رکھتے ہوئے، نرمی کے ساتھ نہایت سہل اور لطیف بات کیجیے، فحش گوئی، ڈینگیں مارنے، سخت الفاظ اور درشت افعال سے پرہیز کیجیے۔ ﴿ لَّعَلَّهٗ﴾ شاید وہ اس نرم گوئی کے سبب سے ﴿ يَتَذَكَّـرُ ﴾ نصیحت پکڑے جو اس کو فائدہ دے اور وہ اس پر عمل کرنے لگے ﴿اَوۡ يَخۡشٰى ﴾ اور نقصان دہ چیز سے ڈرے اور اسے ترک کر دے کیونکہ نرم گوئی اس کی طرف دعوت دیتی ہے اور سخت گوئی لوگوں کو اس سے متنفر کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ’’نرم گوئی‘‘ کی اپنے ارشاد میں تفسیر بیان کی ہے۔ ﴿ فَقُلۡ هَلۡ لَّكَ اِلٰۤى اَنۡ تَزَؔكّٰى ۙ۰۰وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخۡشٰى ﴾(النزعت:79؍18،19) ’’اور اس سے کہیے کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے اور میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے؟‘‘ کیونکہ اس قول میں جو نرمی اور آسانی پنہاں ہے اور سختی اور درشتی سے جس طرح پاک ہے، غور کرنے والے پر مخفی نہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے (ھل) کا لفظ استعمال کیا ہے جو ’’عرض‘‘ اور ’’مشاورت‘‘ پر دلالت کرتا ہے جس سے کوئی شخص نفرت نہیں کرتا اور اسے ہر قسم کی گندگی سے تطہیر اور تزکیہ کی طرف بلایا ہے۔ جس کی اصل شرک کی گندگی سے تطہیر ہے جسے ہر عقل سلیم قبول کرتی ہے۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا (اُزَکِّیکَ) ’’میں تجھے پاک کروں ‘‘ بلکہ فرمایا: (تَزَکّٰی) یعنی ’’تو خود پاک ہو جائے۔‘‘ پھر موسیٰ u نے اسے اس کے رب کی طرف بلایا جس نے اس کی پرورش کی اور اسے ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا جن پر شکر اور ذکر کرنا چاہیے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَاَهۡدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخۡشٰى ﴾(النازعات:79؍19) ’’اور تاکہ میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے۔‘‘ جب فرعون نے اس کلام نرم و نازک کو قبول نہ کیا، جس کا حسن دلوں کو پکڑ لیتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کو وعظ و نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اسے اسی طرح پکڑلیا جس طرح ایک غالب اور مقتدر ہستی پکڑتی ہے۔
[45]﴿ قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنۡ يَّفۡرُطَ عَلَيۡنَاۤ ﴾ ’’دونوں نے کہا، اے ہمارے رب! ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے۔‘‘ یعنی کہیں وہ ہمیں عقوبت میں نہ ڈال دے اور تیرا پیغام پہنچانے اور اس پر حجت قائم کرنے سے پہلے ہی کہیں ہمیں کسی تعذیب میں مبتلا نہ کر دے ﴿ اَوۡ اَنۡ يَّطۡغٰى ﴾ یا وہ حق کے خلاف تکبر سے اقتدار و سلطنت، اپنے اعوان اور اپنی افواج کی بنا پر سرکشی نہ دکھائے۔
[46]﴿ قَالَ لَا تَخَافَاۤ ﴾ فرمایا، اس بات سے نہ ڈرو کہ وہ تم پر زیادتی کرے گا ﴿ اِنَّنِيۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى ﴾ ’’میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ، سنتا اور دیکھتا ہوں۔‘‘ یعنی تم دونوں میری حفاظت اور نگرانی میں ہو، میں تمھاری بات کو سن رہا اور تمھارے تمام احوال کو دیکھ رہا ہوں اس لیے فرعون سے نہ ڈرو! چنانچہ ان دونوں کے دلوں سے فرعون کا خوف زائل ہو گیا اور اپنے رب کے وعدے پر ان کا دل مطمئن ہو گیا۔
20:47فَأۡتِيَاهُ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ وَلَا تُعَذِّبۡهُمۡۖ قَدۡ جِئۡنَٰكَ بِـَٔايَةٖ مِّن رَّبِّكَۖ وَٱلسَّلَٰمُ عَلَىٰ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلۡهُدَىٰٓ
سو تم دونوں جاؤ اس کے پاس اور کہو، بے شک ہم رسول ہیں تیرے رب کے، پس تو بھیج ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کواور نہ ستا انھیں ، تحقیق ہم لائے ہیں تیرے پاس نشانی تیرے رب کی طرف سےاور سلامتی ہے اس شخص پر جس نے پیروی کی ہدایت کی (47) بے شک ہم، تحقیق وحی کی گئی ہے ہماری طرف کہ بے شک عذاب ہے اس شخص پر جس نے تکذیب کی اور منہ پھیرا (48)
[47]یعنی ان دو باتوں کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں ۔(۱)فرعون کو اسلام کی دعوت دیں ۔(۲)شرف کے حامل قبیلہء بنی اسرائیل کو فرعون کی قید اور اس کی غلامی سے نجات دلائیں تاکہ وہ آزاد ہو کر اپنے معاملات کے بارے میں خود فیصلہ کریں اور موسیٰ u ان پر اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کے دین کو نافذ کریں ۔﴿ قَدۡ جِئۡنٰكَ بِاٰيَةٍ ﴾ ’’ہم تیرے پاس آئے ہیں نشانی لے کر۔‘‘ جو ہماری صداقت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌۚۖ۰۰وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾(الاعراف:7؍107،108) ’’موسیٰ (u) نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ واضح طور پر سانپ بن گیا اور اس نے اپنا ہاتھ گریبان سے نکالا تو دیکھنے والوں کے سامنے سفید چمک رہا تھا۔‘‘ ﴿ وَالسَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الۡهُدٰؔى ﴾ ’’اور سلام ہے اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔‘‘ یعنی جس نے صراط مستقیم کی پیروی کی اور شرع مبین سے راہ نمائی لی، اسے دنیا و آخرت کی سلامتی حاصل ہو گئی۔
[48]﴿ اِنَّا قَدۡ اُوۡحِيَ اِلَيۡنَاۤ ﴾ ’’ہماری طرف وحی کی گئی ہے۔‘‘ یعنی ہم جو خبر دے رہے ہیں ، اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ﴿ اَنَّ الۡعَذَابَ عَلٰى مَنۡ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى ﴾ یعنی اس شخص کے لیے عذاب ہے جس نے اللہ اور انبیاء و رسل کی خبر کی تکذیب کی اور ان کی اطاعت سے منہ موڑا۔ اس میں فرعون کو ایمان و تصدیق اور دونوں نبیوں کی اطاعت و اتباع کی ترغیب دی گئی ہے اور اس کے متضاد امور سے ڈرایا گیا ہے۔ مگر اس کو کسی وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ نہ دیا اور اس نے اپنے رب کا انکار کر دیا اور ظلم و عناد کی بنا پر اس بارے میں جھگڑا کیا۔
20:48إِنَّا قَدۡ أُوحِيَ إِلَيۡنَآ أَنَّ ٱلۡعَذَابَ عَلَىٰ مَن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ
سو تم دونوں جاؤ اس کے پاس اور کہو، بے شک ہم رسول ہیں تیرے رب کے، پس تو بھیج ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کواور نہ ستا انھیں ، تحقیق ہم لائے ہیں تیرے پاس نشانی تیرے رب کی طرف سےاور سلامتی ہے اس شخص پر جس نے پیروی کی ہدایت کی (47) بے شک ہم، تحقیق وحی کی گئی ہے ہماری طرف کہ بے شک عذاب ہے اس شخص پر جس نے تکذیب کی اور منہ پھیرا (48)
[47]یعنی ان دو باتوں کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں ۔(۱)فرعون کو اسلام کی دعوت دیں ۔(۲)شرف کے حامل قبیلہء بنی اسرائیل کو فرعون کی قید اور اس کی غلامی سے نجات دلائیں تاکہ وہ آزاد ہو کر اپنے معاملات کے بارے میں خود فیصلہ کریں اور موسیٰ u ان پر اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کے دین کو نافذ کریں ۔﴿ قَدۡ جِئۡنٰكَ بِاٰيَةٍ ﴾ ’’ہم تیرے پاس آئے ہیں نشانی لے کر۔‘‘ جو ہماری صداقت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌۚۖ۰۰وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾(الاعراف:7؍107،108) ’’موسیٰ (u) نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ واضح طور پر سانپ بن گیا اور اس نے اپنا ہاتھ گریبان سے نکالا تو دیکھنے والوں کے سامنے سفید چمک رہا تھا۔‘‘ ﴿ وَالسَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الۡهُدٰؔى ﴾ ’’اور سلام ہے اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔‘‘ یعنی جس نے صراط مستقیم کی پیروی کی اور شرع مبین سے راہ نمائی لی، اسے دنیا و آخرت کی سلامتی حاصل ہو گئی۔
[48]﴿ اِنَّا قَدۡ اُوۡحِيَ اِلَيۡنَاۤ ﴾ ’’ہماری طرف وحی کی گئی ہے۔‘‘ یعنی ہم جو خبر دے رہے ہیں ، اپنی طرف سے نہیں دے رہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ﴿ اَنَّ الۡعَذَابَ عَلٰى مَنۡ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى ﴾ یعنی اس شخص کے لیے عذاب ہے جس نے اللہ اور انبیاء و رسل کی خبر کی تکذیب کی اور ان کی اطاعت سے منہ موڑا۔ اس میں فرعون کو ایمان و تصدیق اور دونوں نبیوں کی اطاعت و اتباع کی ترغیب دی گئی ہے اور اس کے متضاد امور سے ڈرایا گیا ہے۔ مگر اس کو کسی وعظ و نصیحت نے کوئی فائدہ نہ دیا اور اس نے اپنے رب کا انکار کر دیا اور ظلم و عناد کی بنا پر اس بارے میں جھگڑا کیا۔
20:49قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَٰمُوسَىٰ
فرعون نے کہا، پس کون ہے رب تم دونوں کا؟ اے موسیٰ!(49) موسیٰ نے کہا، ہمارا رب وہ ہے جس نے دی ہر چیز کو شکل و صورت اس کی، پھر سوجھ بوجھ دی (50) فرعون نے کہا، پس کیا حال ہے پہلی امتوں کا؟ (51) موسیٰ نے کہا، ان کا علم میرے رب کے پاس ہے لوح محفوظ میں ، نہیں بھٹکتا میرا رب اور نہ وہ بھولتا ہے (52) وہ ذات جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو بچھونااور اس نے بنا دیے تمھارے (چلنے کے) لیے اس میں راستےاور نازل کیا آسمان سے پانی، پھر نکالیں ہم نے اس کے ذریعے سے کئی اقسام کی نباتات مختلف (53) تم (خود بھی) کھاؤ اور چراؤ اپنے چوپایوں کو بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے (54) اسی زمین سے ہم نے پیدا کیا تمھیں اور اسی میں ہم (دوبارہ) لوٹائیں گے تمھیں اور اسی میں سے ہم نکالیں گے تمھیں ایک بار پھر (55)
[49] یعنی فرعون نے موسیٰu سے انکار کے طور پر کہا: ﴿ فَمَنۡ رَّبُّكُمَا يٰمُوۡسٰؔى﴾ ’’تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ؟‘‘
[50] موسیٰ u نے نہایت واضح اور کافی و شافی جواب دیا۔ فرمایا: ﴿رَبُّنَا الَّذِيۡۤ اَعۡطٰى كُلَّ شَيۡءٍ خَلۡقَهٗ﴾ یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور ہر مخلوق کو اپنی حسن تخلیق، حسن صنعت اور اس کی ضرورت کے مطابق وجود عطا کیا، مثلاً:کسی کو بڑا، کسی کو چھوٹا اور کسی کو متوسط جسم عطا کیا اور یہی حال تمام صفات کا ہے۔﴿ ثُمَّ هَدٰؔى ﴾ ’’پھر اس نے رہنمائی کی۔‘‘ یعنی ہر مخلوق کو جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کی طرف اس نے اس کی راہنمائی کی۔ اس ہدایت کامل کا تمام مخلوقات میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ہر مخلوق جس منفعت کے لیے تخلیق کی گئی ہے اس کے حصول اور مضرت کے دور کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو بھی عقل عطا کی جس کے ذریعے وہ ان امور کے حصول پر متمکن ہوتے ہیں اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق ہے۔ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ ﴾(السجدۃ:32؍7) ’’جس نے ہر چیز کو بہترین طریقے سے تخلیق کیا۔‘‘ وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور انھیں ایسی بہترین تخلیق عطا کی کہ عقل انسانی اس سے زیادہ خوبصورت تخلیق پیش نہیں کر سکتی اور وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات میں ان کے مصالح کی طرف راہنمائی ودیعت کی، وہی حقیقت میں رب کائنات ہے۔ اس رب کا انکار، سب سے بڑی چیز کے وجود کا انکار کرنا ہے اور یہ حقیقت کا انکار اور صریح جھوٹ ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ انسان نے بعض ایسے امور کا انکار کیا ہے جو یقینی طور پر معلوم ہیں تو ان کا رب کائنات کا انکار کرنا سب سے بڑا انکار ہے۔
[51] اس لیے جب فرعون اس قطعی دلیل کا مقابلہ نہ کر سکا تو اصل مقصد سے ہٹ کر جھگڑنے پر اتر آیا اور موسیٰ u سے کہنے لگا: ﴿ قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی پہلے زمانے کے لوگوں کا کیا معاملہ ہے اور ان کی کیا خبر اور کیا حال ہے ان لوگوں نے تو ہم سے پہلے حق کا انکار کر کے، کفر، ظلم اور عناد کا ارتکاب کیا، کیا وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں ؟
[52] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ قَالَ عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ فِيۡؔ كِتٰبٍ١ۚ لَا يَضِلُّ رَبِّيۡ وَلَا يَنۡسَى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے اچھے برے تمام اعمال کو شمار کر کے اپنی کتاب، یعنی لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ علم و خبر کے اعتبار سے اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے کوئی چیز اس کے شمار کرنے اور لکھنے سے چھوٹتی نہیں اور نہ کوئی چیز اسے بھولتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے جو بھی اعمال آگے بھیجے ہیں قیامت کے روز انھیں ان اعمال کا سامنا کرنا ہو گا اور ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا… اس لیے اے فرعون! ان کے بارے میں تیرے اس سوال اور استفہام کا کوئی معنیٰ نہیں ۔ ’’وہ ایک امت تھی جو گزر گئی ان کے اعمال ان کے لیے ہیں اور تم جو عمل کرو گے وہ تمھارے لیے ہے۔اس لیے وہ دلیل جو ہم نے تیرے سامنے پیش کی ہے اور وہ نشانیاں جو ہم تجھے دکھا چکے ہیں ، اگر تجھ پر ان کی صداقت متحقق ہو چکی ہے تو حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔ کفر، ظلم اور باطل کے ذریعے کثرت جدال کو چھوڑ دے اور اگر تجھے اس بارے میں کوئی شک ہے اور تجھے اس پر یقین نہیں ہے تو بحث کا دروازہ کھلا ہوا ہے، دلیل کا جواب دلیل سے اور برہان کا جواب برہان سے ہونا چاہیے اور جب تک دن رات باقی ہیں تو کبھی بھی ایسا نہیں کر سکے گا اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بارے میں خبر دی ہے کہ اس نے ان آیات کا ان کی صداقت کا قائل ہونے کے بعد انکار کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا ﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے ان آیات کا، ان کا قائل ہونے کے بعد، ظلم اور تکبر کی بنا پر انکار کیا۔‘‘ موسیٰ u نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ ﴾(بنی اسرائیل:17؍102) ’’تجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔‘‘ تب معلوم ہوا کہ فرعون اپنی بحث و جدال میں ظلم کا مرتکب ہوا اور اس کا مقصد محض زمین میں تغلب کا حصول تھا۔
[53] پھر موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتوں اور احسانات کا ذکر کر کے اس دلیل قاطع کو ان پر لازم کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الۡاَرۡضَ مَهۡدًا ﴾ یعنی اس نے زمین کو تمھارے لیے بچھونا بنایا، تم اس سے سکون و قرار حاصل کرتے ہو، اس پر عمارتیں تعمیر کرتے ہو، باغات لگاتے ہو، زراعت کے لیے اس میں ہل چلاتے ہو اور ان تمام کاموں کے لیے زمین کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے اور وہ تمھارے لیے تمھارے فوائد اور مصالح فراہم کرنے سے انکار نہیں کرتی ﴿ وَّسَلَكَ لَكُمۡ فِيۡهَا سُبُلًا ﴾یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ، ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچانے کے لیے تمھارے لیے زمین میں راستے بنائے یہاں تک کہ انسان تمام روئے زمین پر ہر جگہ آسانی سے پہنچنے پر قادر ہیں اور وہ اپنے گھروں میں قیام پذیر رہ کر جو فائدہ اٹھاتے ہیں اس کی نسبت اپنے سفروں میں زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں ۔﴿ وَّاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخۡرَجۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡ نَّبَاتٍ شَتّٰى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے بارش برسائی ﴿ فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾(البقرۃ:2؍164) ’’اور اس بارش سے زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کیا۔‘‘ پھر اس بارش کے ذریعے سے مختلف انواع، مختلف اشکال اور مختلف احوال کے مطابق نباتات کی بہت سی اصناف پیدا کیں ، پھر اس نباتات سے ہمارے لیے اور ہمارے مویشیوں کے لیے رزق فراہم کیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو روئے زمین کے تمام انسان اور حیوان ہلاک ہو جاتے۔
[54] اس لیے فرمایا: ﴿ كُلُوۡا وَارۡعَوۡا اَنۡعَامَكُمۡ ﴾ ’’تم کھاؤ اور اپنے چوپاؤں کو چراؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے احسان کے طور پر اس آیت کریمہ کو بیان فرمایا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ تمام نباتات مباح ہیں اور ان میں سے کوئی چیز حرام نہیں سوائے ضرر رساں نباتات کے، مثلاً:زہر وغیرہ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى ﴾ یعنی اس میں پختہ عقل اور فکر راست رکھنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اس کے احسان، اس کی رحمت، اس کے بے پایاں جود وسخا اور اس کی عنایت کامل کی نشانیاں ہیں اور یہ اس حقیقت پر دلیل ہیں کہ وہی رب معبود اور وہی مالک محمود ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ حمد، مدح اور ثنا کا اس ہستی کے سوا کوئی مستحق نہیں جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں ، نیز یہ اس امر پر بھی دلیل ہیں کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پس اس نے جس طرح زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا اسی طرح وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں عقل مندوں کو خاص طور پر مخاطب کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل مند لوگ ہی ان نشانیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کو عبرت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگر لوگ بہائم اور چوپایوں کی مانند ہیں ، وہ ان نشانیوں کو عبرت کی نظر سے نہیں دیکھتے اور نہ ان کی بصیرت کو ان نشانیوں کے مقاصد تک رسائی حاصل ہے بلکہ ان کے لیے ان نشانیوں میں اتنا ہی حصہ ہے جتنا بہائم (چوپایوں ) کا ہے۔ وہ کھاتے ہیں ، پیتے ہیں اور ان کے دل غافل اور جسم اعراض کرنے والے ہیں ۔ ﴿ وَؔكَاَيِّنۡ مِّنۡ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾(یوسف:12؍105) ’’زمین اور آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے ان کا گزر ہوتا ہے مگر یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘
[55] جب اللہ تعالیٰ نے زمین کی نفاست و فیاضی اور اللہ تعالیٰ کے اس پر بارش برسانے کے سبب اس کے حسن شکر کا ذکر کیا نیز بیان فرمایا کہ زمین اپنے رب کے حکم سے مختلف اقسام کی نباتات اگاتی ہے… تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ہمیں زمین سے پیدا کیا، ہمارے مرنے کے بعد ہمیں زمین ہی کی طرف لوٹائے گا اور ہمیں زمین میں دفن کر دے گا اور ایک مرتبہ پھر وہ ہمیں زمین سے نکال کھڑا کرے گا۔ پس جس طرح وہ ہمیں عدم سے وجود میں لایا… اور یہ حقیقت ہمیں معلوم اور ہمارے سامنے متحقق ہے… اسی طرح ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دے گا۔ اور مرنے کے بعد اعادۂ حیات پر یہ دونوں دلیلیں واضح اور عقلی دلیلیں ہیں ۔۱۔ زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس میں سے نباتات کو دوبارہ نکالنا۔۲۔ مکلفین کو زمین میں سے نکال کر دوبارہ وجود میں لانا۔
20:50قَالَ رَبُّنَا ٱلَّذِيٓ أَعۡطَىٰ كُلَّ شَيۡءٍ خَلۡقَهُۥ ثُمَّ هَدَىٰ
فرعون نے کہا، پس کون ہے رب تم دونوں کا؟ اے موسیٰ!(49) موسیٰ نے کہا، ہمارا رب وہ ہے جس نے دی ہر چیز کو شکل و صورت اس کی، پھر سوجھ بوجھ دی (50) فرعون نے کہا، پس کیا حال ہے پہلی امتوں کا؟ (51) موسیٰ نے کہا، ان کا علم میرے رب کے پاس ہے لوح محفوظ میں ، نہیں بھٹکتا میرا رب اور نہ وہ بھولتا ہے (52) وہ ذات جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو بچھونااور اس نے بنا دیے تمھارے (چلنے کے) لیے اس میں راستےاور نازل کیا آسمان سے پانی، پھر نکالیں ہم نے اس کے ذریعے سے کئی اقسام کی نباتات مختلف (53) تم (خود بھی) کھاؤ اور چراؤ اپنے چوپایوں کو بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے (54) اسی زمین سے ہم نے پیدا کیا تمھیں اور اسی میں ہم (دوبارہ) لوٹائیں گے تمھیں اور اسی میں سے ہم نکالیں گے تمھیں ایک بار پھر (55)
[49] یعنی فرعون نے موسیٰu سے انکار کے طور پر کہا: ﴿ فَمَنۡ رَّبُّكُمَا يٰمُوۡسٰؔى﴾ ’’تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ؟‘‘
[50] موسیٰ u نے نہایت واضح اور کافی و شافی جواب دیا۔ فرمایا: ﴿رَبُّنَا الَّذِيۡۤ اَعۡطٰى كُلَّ شَيۡءٍ خَلۡقَهٗ﴾ یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور ہر مخلوق کو اپنی حسن تخلیق، حسن صنعت اور اس کی ضرورت کے مطابق وجود عطا کیا، مثلاً:کسی کو بڑا، کسی کو چھوٹا اور کسی کو متوسط جسم عطا کیا اور یہی حال تمام صفات کا ہے۔﴿ ثُمَّ هَدٰؔى ﴾ ’’پھر اس نے رہنمائی کی۔‘‘ یعنی ہر مخلوق کو جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کی طرف اس نے اس کی راہنمائی کی۔ اس ہدایت کامل کا تمام مخلوقات میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ہر مخلوق جس منفعت کے لیے تخلیق کی گئی ہے اس کے حصول اور مضرت کے دور کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو بھی عقل عطا کی جس کے ذریعے وہ ان امور کے حصول پر متمکن ہوتے ہیں اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق ہے۔ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ ﴾(السجدۃ:32؍7) ’’جس نے ہر چیز کو بہترین طریقے سے تخلیق کیا۔‘‘ وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور انھیں ایسی بہترین تخلیق عطا کی کہ عقل انسانی اس سے زیادہ خوبصورت تخلیق پیش نہیں کر سکتی اور وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات میں ان کے مصالح کی طرف راہنمائی ودیعت کی، وہی حقیقت میں رب کائنات ہے۔ اس رب کا انکار، سب سے بڑی چیز کے وجود کا انکار کرنا ہے اور یہ حقیقت کا انکار اور صریح جھوٹ ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ انسان نے بعض ایسے امور کا انکار کیا ہے جو یقینی طور پر معلوم ہیں تو ان کا رب کائنات کا انکار کرنا سب سے بڑا انکار ہے۔
[51] اس لیے جب فرعون اس قطعی دلیل کا مقابلہ نہ کر سکا تو اصل مقصد سے ہٹ کر جھگڑنے پر اتر آیا اور موسیٰ u سے کہنے لگا: ﴿ قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی پہلے زمانے کے لوگوں کا کیا معاملہ ہے اور ان کی کیا خبر اور کیا حال ہے ان لوگوں نے تو ہم سے پہلے حق کا انکار کر کے، کفر، ظلم اور عناد کا ارتکاب کیا، کیا وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں ؟
[52] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ قَالَ عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ فِيۡؔ كِتٰبٍ١ۚ لَا يَضِلُّ رَبِّيۡ وَلَا يَنۡسَى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے اچھے برے تمام اعمال کو شمار کر کے اپنی کتاب، یعنی لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ علم و خبر کے اعتبار سے اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے کوئی چیز اس کے شمار کرنے اور لکھنے سے چھوٹتی نہیں اور نہ کوئی چیز اسے بھولتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے جو بھی اعمال آگے بھیجے ہیں قیامت کے روز انھیں ان اعمال کا سامنا کرنا ہو گا اور ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا… اس لیے اے فرعون! ان کے بارے میں تیرے اس سوال اور استفہام کا کوئی معنیٰ نہیں ۔ ’’وہ ایک امت تھی جو گزر گئی ان کے اعمال ان کے لیے ہیں اور تم جو عمل کرو گے وہ تمھارے لیے ہے۔اس لیے وہ دلیل جو ہم نے تیرے سامنے پیش کی ہے اور وہ نشانیاں جو ہم تجھے دکھا چکے ہیں ، اگر تجھ پر ان کی صداقت متحقق ہو چکی ہے تو حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔ کفر، ظلم اور باطل کے ذریعے کثرت جدال کو چھوڑ دے اور اگر تجھے اس بارے میں کوئی شک ہے اور تجھے اس پر یقین نہیں ہے تو بحث کا دروازہ کھلا ہوا ہے، دلیل کا جواب دلیل سے اور برہان کا جواب برہان سے ہونا چاہیے اور جب تک دن رات باقی ہیں تو کبھی بھی ایسا نہیں کر سکے گا اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بارے میں خبر دی ہے کہ اس نے ان آیات کا ان کی صداقت کا قائل ہونے کے بعد انکار کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا ﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے ان آیات کا، ان کا قائل ہونے کے بعد، ظلم اور تکبر کی بنا پر انکار کیا۔‘‘ موسیٰ u نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ ﴾(بنی اسرائیل:17؍102) ’’تجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔‘‘ تب معلوم ہوا کہ فرعون اپنی بحث و جدال میں ظلم کا مرتکب ہوا اور اس کا مقصد محض زمین میں تغلب کا حصول تھا۔
[53] پھر موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتوں اور احسانات کا ذکر کر کے اس دلیل قاطع کو ان پر لازم کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الۡاَرۡضَ مَهۡدًا ﴾ یعنی اس نے زمین کو تمھارے لیے بچھونا بنایا، تم اس سے سکون و قرار حاصل کرتے ہو، اس پر عمارتیں تعمیر کرتے ہو، باغات لگاتے ہو، زراعت کے لیے اس میں ہل چلاتے ہو اور ان تمام کاموں کے لیے زمین کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے اور وہ تمھارے لیے تمھارے فوائد اور مصالح فراہم کرنے سے انکار نہیں کرتی ﴿ وَّسَلَكَ لَكُمۡ فِيۡهَا سُبُلًا ﴾یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ، ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچانے کے لیے تمھارے لیے زمین میں راستے بنائے یہاں تک کہ انسان تمام روئے زمین پر ہر جگہ آسانی سے پہنچنے پر قادر ہیں اور وہ اپنے گھروں میں قیام پذیر رہ کر جو فائدہ اٹھاتے ہیں اس کی نسبت اپنے سفروں میں زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں ۔﴿ وَّاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخۡرَجۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡ نَّبَاتٍ شَتّٰى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے بارش برسائی ﴿ فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾(البقرۃ:2؍164) ’’اور اس بارش سے زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کیا۔‘‘ پھر اس بارش کے ذریعے سے مختلف انواع، مختلف اشکال اور مختلف احوال کے مطابق نباتات کی بہت سی اصناف پیدا کیں ، پھر اس نباتات سے ہمارے لیے اور ہمارے مویشیوں کے لیے رزق فراہم کیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو روئے زمین کے تمام انسان اور حیوان ہلاک ہو جاتے۔
[54] اس لیے فرمایا: ﴿ كُلُوۡا وَارۡعَوۡا اَنۡعَامَكُمۡ ﴾ ’’تم کھاؤ اور اپنے چوپاؤں کو چراؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے احسان کے طور پر اس آیت کریمہ کو بیان فرمایا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ تمام نباتات مباح ہیں اور ان میں سے کوئی چیز حرام نہیں سوائے ضرر رساں نباتات کے، مثلاً:زہر وغیرہ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى ﴾ یعنی اس میں پختہ عقل اور فکر راست رکھنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اس کے احسان، اس کی رحمت، اس کے بے پایاں جود وسخا اور اس کی عنایت کامل کی نشانیاں ہیں اور یہ اس حقیقت پر دلیل ہیں کہ وہی رب معبود اور وہی مالک محمود ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ حمد، مدح اور ثنا کا اس ہستی کے سوا کوئی مستحق نہیں جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں ، نیز یہ اس امر پر بھی دلیل ہیں کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پس اس نے جس طرح زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا اسی طرح وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں عقل مندوں کو خاص طور پر مخاطب کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل مند لوگ ہی ان نشانیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کو عبرت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگر لوگ بہائم اور چوپایوں کی مانند ہیں ، وہ ان نشانیوں کو عبرت کی نظر سے نہیں دیکھتے اور نہ ان کی بصیرت کو ان نشانیوں کے مقاصد تک رسائی حاصل ہے بلکہ ان کے لیے ان نشانیوں میں اتنا ہی حصہ ہے جتنا بہائم (چوپایوں ) کا ہے۔ وہ کھاتے ہیں ، پیتے ہیں اور ان کے دل غافل اور جسم اعراض کرنے والے ہیں ۔ ﴿ وَؔكَاَيِّنۡ مِّنۡ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾(یوسف:12؍105) ’’زمین اور آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے ان کا گزر ہوتا ہے مگر یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘
[55] جب اللہ تعالیٰ نے زمین کی نفاست و فیاضی اور اللہ تعالیٰ کے اس پر بارش برسانے کے سبب اس کے حسن شکر کا ذکر کیا نیز بیان فرمایا کہ زمین اپنے رب کے حکم سے مختلف اقسام کی نباتات اگاتی ہے… تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ہمیں زمین سے پیدا کیا، ہمارے مرنے کے بعد ہمیں زمین ہی کی طرف لوٹائے گا اور ہمیں زمین میں دفن کر دے گا اور ایک مرتبہ پھر وہ ہمیں زمین سے نکال کھڑا کرے گا۔ پس جس طرح وہ ہمیں عدم سے وجود میں لایا… اور یہ حقیقت ہمیں معلوم اور ہمارے سامنے متحقق ہے… اسی طرح ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دے گا۔ اور مرنے کے بعد اعادۂ حیات پر یہ دونوں دلیلیں واضح اور عقلی دلیلیں ہیں ۔۱۔ زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس میں سے نباتات کو دوبارہ نکالنا۔۲۔ مکلفین کو زمین میں سے نکال کر دوبارہ وجود میں لانا۔
20:51قَالَ فَمَا بَالُ ٱلۡقُرُونِ ٱلۡأُولَىٰ
فرعون نے کہا، پس کون ہے رب تم دونوں کا؟ اے موسیٰ!(49) موسیٰ نے کہا، ہمارا رب وہ ہے جس نے دی ہر چیز کو شکل و صورت اس کی، پھر سوجھ بوجھ دی (50) فرعون نے کہا، پس کیا حال ہے پہلی امتوں کا؟ (51) موسیٰ نے کہا، ان کا علم میرے رب کے پاس ہے لوح محفوظ میں ، نہیں بھٹکتا میرا رب اور نہ وہ بھولتا ہے (52) وہ ذات جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو بچھونااور اس نے بنا دیے تمھارے (چلنے کے) لیے اس میں راستےاور نازل کیا آسمان سے پانی، پھر نکالیں ہم نے اس کے ذریعے سے کئی اقسام کی نباتات مختلف (53) تم (خود بھی) کھاؤ اور چراؤ اپنے چوپایوں کو بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے (54) اسی زمین سے ہم نے پیدا کیا تمھیں اور اسی میں ہم (دوبارہ) لوٹائیں گے تمھیں اور اسی میں سے ہم نکالیں گے تمھیں ایک بار پھر (55)
[49] یعنی فرعون نے موسیٰu سے انکار کے طور پر کہا: ﴿ فَمَنۡ رَّبُّكُمَا يٰمُوۡسٰؔى﴾ ’’تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ؟‘‘
[50] موسیٰ u نے نہایت واضح اور کافی و شافی جواب دیا۔ فرمایا: ﴿رَبُّنَا الَّذِيۡۤ اَعۡطٰى كُلَّ شَيۡءٍ خَلۡقَهٗ﴾ یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور ہر مخلوق کو اپنی حسن تخلیق، حسن صنعت اور اس کی ضرورت کے مطابق وجود عطا کیا، مثلاً:کسی کو بڑا، کسی کو چھوٹا اور کسی کو متوسط جسم عطا کیا اور یہی حال تمام صفات کا ہے۔﴿ ثُمَّ هَدٰؔى ﴾ ’’پھر اس نے رہنمائی کی۔‘‘ یعنی ہر مخلوق کو جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کی طرف اس نے اس کی راہنمائی کی۔ اس ہدایت کامل کا تمام مخلوقات میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ہر مخلوق جس منفعت کے لیے تخلیق کی گئی ہے اس کے حصول اور مضرت کے دور کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو بھی عقل عطا کی جس کے ذریعے وہ ان امور کے حصول پر متمکن ہوتے ہیں اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق ہے۔ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ ﴾(السجدۃ:32؍7) ’’جس نے ہر چیز کو بہترین طریقے سے تخلیق کیا۔‘‘ وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور انھیں ایسی بہترین تخلیق عطا کی کہ عقل انسانی اس سے زیادہ خوبصورت تخلیق پیش نہیں کر سکتی اور وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات میں ان کے مصالح کی طرف راہنمائی ودیعت کی، وہی حقیقت میں رب کائنات ہے۔ اس رب کا انکار، سب سے بڑی چیز کے وجود کا انکار کرنا ہے اور یہ حقیقت کا انکار اور صریح جھوٹ ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ انسان نے بعض ایسے امور کا انکار کیا ہے جو یقینی طور پر معلوم ہیں تو ان کا رب کائنات کا انکار کرنا سب سے بڑا انکار ہے۔
[51] اس لیے جب فرعون اس قطعی دلیل کا مقابلہ نہ کر سکا تو اصل مقصد سے ہٹ کر جھگڑنے پر اتر آیا اور موسیٰ u سے کہنے لگا: ﴿ قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی پہلے زمانے کے لوگوں کا کیا معاملہ ہے اور ان کی کیا خبر اور کیا حال ہے ان لوگوں نے تو ہم سے پہلے حق کا انکار کر کے، کفر، ظلم اور عناد کا ارتکاب کیا، کیا وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں ؟
[52] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ قَالَ عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ فِيۡؔ كِتٰبٍ١ۚ لَا يَضِلُّ رَبِّيۡ وَلَا يَنۡسَى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے اچھے برے تمام اعمال کو شمار کر کے اپنی کتاب، یعنی لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ علم و خبر کے اعتبار سے اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے کوئی چیز اس کے شمار کرنے اور لکھنے سے چھوٹتی نہیں اور نہ کوئی چیز اسے بھولتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے جو بھی اعمال آگے بھیجے ہیں قیامت کے روز انھیں ان اعمال کا سامنا کرنا ہو گا اور ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا… اس لیے اے فرعون! ان کے بارے میں تیرے اس سوال اور استفہام کا کوئی معنیٰ نہیں ۔ ’’وہ ایک امت تھی جو گزر گئی ان کے اعمال ان کے لیے ہیں اور تم جو عمل کرو گے وہ تمھارے لیے ہے۔اس لیے وہ دلیل جو ہم نے تیرے سامنے پیش کی ہے اور وہ نشانیاں جو ہم تجھے دکھا چکے ہیں ، اگر تجھ پر ان کی صداقت متحقق ہو چکی ہے تو حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔ کفر، ظلم اور باطل کے ذریعے کثرت جدال کو چھوڑ دے اور اگر تجھے اس بارے میں کوئی شک ہے اور تجھے اس پر یقین نہیں ہے تو بحث کا دروازہ کھلا ہوا ہے، دلیل کا جواب دلیل سے اور برہان کا جواب برہان سے ہونا چاہیے اور جب تک دن رات باقی ہیں تو کبھی بھی ایسا نہیں کر سکے گا اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بارے میں خبر دی ہے کہ اس نے ان آیات کا ان کی صداقت کا قائل ہونے کے بعد انکار کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا ﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے ان آیات کا، ان کا قائل ہونے کے بعد، ظلم اور تکبر کی بنا پر انکار کیا۔‘‘ موسیٰ u نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ ﴾(بنی اسرائیل:17؍102) ’’تجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔‘‘ تب معلوم ہوا کہ فرعون اپنی بحث و جدال میں ظلم کا مرتکب ہوا اور اس کا مقصد محض زمین میں تغلب کا حصول تھا۔
[53] پھر موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتوں اور احسانات کا ذکر کر کے اس دلیل قاطع کو ان پر لازم کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الۡاَرۡضَ مَهۡدًا ﴾ یعنی اس نے زمین کو تمھارے لیے بچھونا بنایا، تم اس سے سکون و قرار حاصل کرتے ہو، اس پر عمارتیں تعمیر کرتے ہو، باغات لگاتے ہو، زراعت کے لیے اس میں ہل چلاتے ہو اور ان تمام کاموں کے لیے زمین کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے اور وہ تمھارے لیے تمھارے فوائد اور مصالح فراہم کرنے سے انکار نہیں کرتی ﴿ وَّسَلَكَ لَكُمۡ فِيۡهَا سُبُلًا ﴾یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ، ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچانے کے لیے تمھارے لیے زمین میں راستے بنائے یہاں تک کہ انسان تمام روئے زمین پر ہر جگہ آسانی سے پہنچنے پر قادر ہیں اور وہ اپنے گھروں میں قیام پذیر رہ کر جو فائدہ اٹھاتے ہیں اس کی نسبت اپنے سفروں میں زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں ۔﴿ وَّاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخۡرَجۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡ نَّبَاتٍ شَتّٰى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے بارش برسائی ﴿ فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾(البقرۃ:2؍164) ’’اور اس بارش سے زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کیا۔‘‘ پھر اس بارش کے ذریعے سے مختلف انواع، مختلف اشکال اور مختلف احوال کے مطابق نباتات کی بہت سی اصناف پیدا کیں ، پھر اس نباتات سے ہمارے لیے اور ہمارے مویشیوں کے لیے رزق فراہم کیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو روئے زمین کے تمام انسان اور حیوان ہلاک ہو جاتے۔
[54] اس لیے فرمایا: ﴿ كُلُوۡا وَارۡعَوۡا اَنۡعَامَكُمۡ ﴾ ’’تم کھاؤ اور اپنے چوپاؤں کو چراؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے احسان کے طور پر اس آیت کریمہ کو بیان فرمایا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ تمام نباتات مباح ہیں اور ان میں سے کوئی چیز حرام نہیں سوائے ضرر رساں نباتات کے، مثلاً:زہر وغیرہ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى ﴾ یعنی اس میں پختہ عقل اور فکر راست رکھنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اس کے احسان، اس کی رحمت، اس کے بے پایاں جود وسخا اور اس کی عنایت کامل کی نشانیاں ہیں اور یہ اس حقیقت پر دلیل ہیں کہ وہی رب معبود اور وہی مالک محمود ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ حمد، مدح اور ثنا کا اس ہستی کے سوا کوئی مستحق نہیں جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں ، نیز یہ اس امر پر بھی دلیل ہیں کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پس اس نے جس طرح زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا اسی طرح وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں عقل مندوں کو خاص طور پر مخاطب کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل مند لوگ ہی ان نشانیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کو عبرت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگر لوگ بہائم اور چوپایوں کی مانند ہیں ، وہ ان نشانیوں کو عبرت کی نظر سے نہیں دیکھتے اور نہ ان کی بصیرت کو ان نشانیوں کے مقاصد تک رسائی حاصل ہے بلکہ ان کے لیے ان نشانیوں میں اتنا ہی حصہ ہے جتنا بہائم (چوپایوں ) کا ہے۔ وہ کھاتے ہیں ، پیتے ہیں اور ان کے دل غافل اور جسم اعراض کرنے والے ہیں ۔ ﴿ وَؔكَاَيِّنۡ مِّنۡ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾(یوسف:12؍105) ’’زمین اور آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے ان کا گزر ہوتا ہے مگر یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘
[55] جب اللہ تعالیٰ نے زمین کی نفاست و فیاضی اور اللہ تعالیٰ کے اس پر بارش برسانے کے سبب اس کے حسن شکر کا ذکر کیا نیز بیان فرمایا کہ زمین اپنے رب کے حکم سے مختلف اقسام کی نباتات اگاتی ہے… تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ہمیں زمین سے پیدا کیا، ہمارے مرنے کے بعد ہمیں زمین ہی کی طرف لوٹائے گا اور ہمیں زمین میں دفن کر دے گا اور ایک مرتبہ پھر وہ ہمیں زمین سے نکال کھڑا کرے گا۔ پس جس طرح وہ ہمیں عدم سے وجود میں لایا… اور یہ حقیقت ہمیں معلوم اور ہمارے سامنے متحقق ہے… اسی طرح ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دے گا۔ اور مرنے کے بعد اعادۂ حیات پر یہ دونوں دلیلیں واضح اور عقلی دلیلیں ہیں ۔۱۔ زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس میں سے نباتات کو دوبارہ نکالنا۔۲۔ مکلفین کو زمین میں سے نکال کر دوبارہ وجود میں لانا۔
20:52قَالَ عِلۡمُهَا عِندَ رَبِّي فِي كِتَٰبٖۖ لَّا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنسَى
فرعون نے کہا، پس کون ہے رب تم دونوں کا؟ اے موسیٰ!(49) موسیٰ نے کہا، ہمارا رب وہ ہے جس نے دی ہر چیز کو شکل و صورت اس کی، پھر سوجھ بوجھ دی (50) فرعون نے کہا، پس کیا حال ہے پہلی امتوں کا؟ (51) موسیٰ نے کہا، ان کا علم میرے رب کے پاس ہے لوح محفوظ میں ، نہیں بھٹکتا میرا رب اور نہ وہ بھولتا ہے (52) وہ ذات جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو بچھونااور اس نے بنا دیے تمھارے (چلنے کے) لیے اس میں راستےاور نازل کیا آسمان سے پانی، پھر نکالیں ہم نے اس کے ذریعے سے کئی اقسام کی نباتات مختلف (53) تم (خود بھی) کھاؤ اور چراؤ اپنے چوپایوں کو بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے (54) اسی زمین سے ہم نے پیدا کیا تمھیں اور اسی میں ہم (دوبارہ) لوٹائیں گے تمھیں اور اسی میں سے ہم نکالیں گے تمھیں ایک بار پھر (55)
[49] یعنی فرعون نے موسیٰu سے انکار کے طور پر کہا: ﴿ فَمَنۡ رَّبُّكُمَا يٰمُوۡسٰؔى﴾ ’’تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ؟‘‘
[50] موسیٰ u نے نہایت واضح اور کافی و شافی جواب دیا۔ فرمایا: ﴿رَبُّنَا الَّذِيۡۤ اَعۡطٰى كُلَّ شَيۡءٍ خَلۡقَهٗ﴾ یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور ہر مخلوق کو اپنی حسن تخلیق، حسن صنعت اور اس کی ضرورت کے مطابق وجود عطا کیا، مثلاً:کسی کو بڑا، کسی کو چھوٹا اور کسی کو متوسط جسم عطا کیا اور یہی حال تمام صفات کا ہے۔﴿ ثُمَّ هَدٰؔى ﴾ ’’پھر اس نے رہنمائی کی۔‘‘ یعنی ہر مخلوق کو جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کی طرف اس نے اس کی راہنمائی کی۔ اس ہدایت کامل کا تمام مخلوقات میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ہر مخلوق جس منفعت کے لیے تخلیق کی گئی ہے اس کے حصول اور مضرت کے دور کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو بھی عقل عطا کی جس کے ذریعے وہ ان امور کے حصول پر متمکن ہوتے ہیں اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق ہے۔ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ ﴾(السجدۃ:32؍7) ’’جس نے ہر چیز کو بہترین طریقے سے تخلیق کیا۔‘‘ وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور انھیں ایسی بہترین تخلیق عطا کی کہ عقل انسانی اس سے زیادہ خوبصورت تخلیق پیش نہیں کر سکتی اور وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات میں ان کے مصالح کی طرف راہنمائی ودیعت کی، وہی حقیقت میں رب کائنات ہے۔ اس رب کا انکار، سب سے بڑی چیز کے وجود کا انکار کرنا ہے اور یہ حقیقت کا انکار اور صریح جھوٹ ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ انسان نے بعض ایسے امور کا انکار کیا ہے جو یقینی طور پر معلوم ہیں تو ان کا رب کائنات کا انکار کرنا سب سے بڑا انکار ہے۔
[51] اس لیے جب فرعون اس قطعی دلیل کا مقابلہ نہ کر سکا تو اصل مقصد سے ہٹ کر جھگڑنے پر اتر آیا اور موسیٰ u سے کہنے لگا: ﴿ قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی پہلے زمانے کے لوگوں کا کیا معاملہ ہے اور ان کی کیا خبر اور کیا حال ہے ان لوگوں نے تو ہم سے پہلے حق کا انکار کر کے، کفر، ظلم اور عناد کا ارتکاب کیا، کیا وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں ؟
[52] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ قَالَ عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ فِيۡؔ كِتٰبٍ١ۚ لَا يَضِلُّ رَبِّيۡ وَلَا يَنۡسَى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے اچھے برے تمام اعمال کو شمار کر کے اپنی کتاب، یعنی لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ علم و خبر کے اعتبار سے اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے کوئی چیز اس کے شمار کرنے اور لکھنے سے چھوٹتی نہیں اور نہ کوئی چیز اسے بھولتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے جو بھی اعمال آگے بھیجے ہیں قیامت کے روز انھیں ان اعمال کا سامنا کرنا ہو گا اور ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا… اس لیے اے فرعون! ان کے بارے میں تیرے اس سوال اور استفہام کا کوئی معنیٰ نہیں ۔ ’’وہ ایک امت تھی جو گزر گئی ان کے اعمال ان کے لیے ہیں اور تم جو عمل کرو گے وہ تمھارے لیے ہے۔اس لیے وہ دلیل جو ہم نے تیرے سامنے پیش کی ہے اور وہ نشانیاں جو ہم تجھے دکھا چکے ہیں ، اگر تجھ پر ان کی صداقت متحقق ہو چکی ہے تو حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔ کفر، ظلم اور باطل کے ذریعے کثرت جدال کو چھوڑ دے اور اگر تجھے اس بارے میں کوئی شک ہے اور تجھے اس پر یقین نہیں ہے تو بحث کا دروازہ کھلا ہوا ہے، دلیل کا جواب دلیل سے اور برہان کا جواب برہان سے ہونا چاہیے اور جب تک دن رات باقی ہیں تو کبھی بھی ایسا نہیں کر سکے گا اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بارے میں خبر دی ہے کہ اس نے ان آیات کا ان کی صداقت کا قائل ہونے کے بعد انکار کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا ﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے ان آیات کا، ان کا قائل ہونے کے بعد، ظلم اور تکبر کی بنا پر انکار کیا۔‘‘ موسیٰ u نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ ﴾(بنی اسرائیل:17؍102) ’’تجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔‘‘ تب معلوم ہوا کہ فرعون اپنی بحث و جدال میں ظلم کا مرتکب ہوا اور اس کا مقصد محض زمین میں تغلب کا حصول تھا۔
[53] پھر موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتوں اور احسانات کا ذکر کر کے اس دلیل قاطع کو ان پر لازم کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الۡاَرۡضَ مَهۡدًا ﴾ یعنی اس نے زمین کو تمھارے لیے بچھونا بنایا، تم اس سے سکون و قرار حاصل کرتے ہو، اس پر عمارتیں تعمیر کرتے ہو، باغات لگاتے ہو، زراعت کے لیے اس میں ہل چلاتے ہو اور ان تمام کاموں کے لیے زمین کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے اور وہ تمھارے لیے تمھارے فوائد اور مصالح فراہم کرنے سے انکار نہیں کرتی ﴿ وَّسَلَكَ لَكُمۡ فِيۡهَا سُبُلًا ﴾یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ، ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچانے کے لیے تمھارے لیے زمین میں راستے بنائے یہاں تک کہ انسان تمام روئے زمین پر ہر جگہ آسانی سے پہنچنے پر قادر ہیں اور وہ اپنے گھروں میں قیام پذیر رہ کر جو فائدہ اٹھاتے ہیں اس کی نسبت اپنے سفروں میں زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں ۔﴿ وَّاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخۡرَجۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡ نَّبَاتٍ شَتّٰى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے بارش برسائی ﴿ فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾(البقرۃ:2؍164) ’’اور اس بارش سے زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کیا۔‘‘ پھر اس بارش کے ذریعے سے مختلف انواع، مختلف اشکال اور مختلف احوال کے مطابق نباتات کی بہت سی اصناف پیدا کیں ، پھر اس نباتات سے ہمارے لیے اور ہمارے مویشیوں کے لیے رزق فراہم کیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو روئے زمین کے تمام انسان اور حیوان ہلاک ہو جاتے۔
[54] اس لیے فرمایا: ﴿ كُلُوۡا وَارۡعَوۡا اَنۡعَامَكُمۡ ﴾ ’’تم کھاؤ اور اپنے چوپاؤں کو چراؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے احسان کے طور پر اس آیت کریمہ کو بیان فرمایا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ تمام نباتات مباح ہیں اور ان میں سے کوئی چیز حرام نہیں سوائے ضرر رساں نباتات کے، مثلاً:زہر وغیرہ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى ﴾ یعنی اس میں پختہ عقل اور فکر راست رکھنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اس کے احسان، اس کی رحمت، اس کے بے پایاں جود وسخا اور اس کی عنایت کامل کی نشانیاں ہیں اور یہ اس حقیقت پر دلیل ہیں کہ وہی رب معبود اور وہی مالک محمود ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ حمد، مدح اور ثنا کا اس ہستی کے سوا کوئی مستحق نہیں جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں ، نیز یہ اس امر پر بھی دلیل ہیں کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پس اس نے جس طرح زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا اسی طرح وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں عقل مندوں کو خاص طور پر مخاطب کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل مند لوگ ہی ان نشانیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کو عبرت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگر لوگ بہائم اور چوپایوں کی مانند ہیں ، وہ ان نشانیوں کو عبرت کی نظر سے نہیں دیکھتے اور نہ ان کی بصیرت کو ان نشانیوں کے مقاصد تک رسائی حاصل ہے بلکہ ان کے لیے ان نشانیوں میں اتنا ہی حصہ ہے جتنا بہائم (چوپایوں ) کا ہے۔ وہ کھاتے ہیں ، پیتے ہیں اور ان کے دل غافل اور جسم اعراض کرنے والے ہیں ۔ ﴿ وَؔكَاَيِّنۡ مِّنۡ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾(یوسف:12؍105) ’’زمین اور آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے ان کا گزر ہوتا ہے مگر یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘
[55] جب اللہ تعالیٰ نے زمین کی نفاست و فیاضی اور اللہ تعالیٰ کے اس پر بارش برسانے کے سبب اس کے حسن شکر کا ذکر کیا نیز بیان فرمایا کہ زمین اپنے رب کے حکم سے مختلف اقسام کی نباتات اگاتی ہے… تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ہمیں زمین سے پیدا کیا، ہمارے مرنے کے بعد ہمیں زمین ہی کی طرف لوٹائے گا اور ہمیں زمین میں دفن کر دے گا اور ایک مرتبہ پھر وہ ہمیں زمین سے نکال کھڑا کرے گا۔ پس جس طرح وہ ہمیں عدم سے وجود میں لایا… اور یہ حقیقت ہمیں معلوم اور ہمارے سامنے متحقق ہے… اسی طرح ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دے گا۔ اور مرنے کے بعد اعادۂ حیات پر یہ دونوں دلیلیں واضح اور عقلی دلیلیں ہیں ۔۱۔ زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس میں سے نباتات کو دوبارہ نکالنا۔۲۔ مکلفین کو زمین میں سے نکال کر دوبارہ وجود میں لانا۔
20:53ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ مَهۡدٗا وَسَلَكَ لَكُمۡ فِيهَا سُبُلٗا وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦٓ أَزۡوَٰجٗا مِّن نَّبَاتٖ شَتَّىٰ
فرعون نے کہا، پس کون ہے رب تم دونوں کا؟ اے موسیٰ!(49) موسیٰ نے کہا، ہمارا رب وہ ہے جس نے دی ہر چیز کو شکل و صورت اس کی، پھر سوجھ بوجھ دی (50) فرعون نے کہا، پس کیا حال ہے پہلی امتوں کا؟ (51) موسیٰ نے کہا، ان کا علم میرے رب کے پاس ہے لوح محفوظ میں ، نہیں بھٹکتا میرا رب اور نہ وہ بھولتا ہے (52) وہ ذات جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو بچھونااور اس نے بنا دیے تمھارے (چلنے کے) لیے اس میں راستےاور نازل کیا آسمان سے پانی، پھر نکالیں ہم نے اس کے ذریعے سے کئی اقسام کی نباتات مختلف (53) تم (خود بھی) کھاؤ اور چراؤ اپنے چوپایوں کو بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے (54) اسی زمین سے ہم نے پیدا کیا تمھیں اور اسی میں ہم (دوبارہ) لوٹائیں گے تمھیں اور اسی میں سے ہم نکالیں گے تمھیں ایک بار پھر (55)
[49] یعنی فرعون نے موسیٰu سے انکار کے طور پر کہا: ﴿ فَمَنۡ رَّبُّكُمَا يٰمُوۡسٰؔى﴾ ’’تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ؟‘‘
[50] موسیٰ u نے نہایت واضح اور کافی و شافی جواب دیا۔ فرمایا: ﴿رَبُّنَا الَّذِيۡۤ اَعۡطٰى كُلَّ شَيۡءٍ خَلۡقَهٗ﴾ یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور ہر مخلوق کو اپنی حسن تخلیق، حسن صنعت اور اس کی ضرورت کے مطابق وجود عطا کیا، مثلاً:کسی کو بڑا، کسی کو چھوٹا اور کسی کو متوسط جسم عطا کیا اور یہی حال تمام صفات کا ہے۔﴿ ثُمَّ هَدٰؔى ﴾ ’’پھر اس نے رہنمائی کی۔‘‘ یعنی ہر مخلوق کو جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کی طرف اس نے اس کی راہنمائی کی۔ اس ہدایت کامل کا تمام مخلوقات میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ہر مخلوق جس منفعت کے لیے تخلیق کی گئی ہے اس کے حصول اور مضرت کے دور کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو بھی عقل عطا کی جس کے ذریعے وہ ان امور کے حصول پر متمکن ہوتے ہیں اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق ہے۔ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ ﴾(السجدۃ:32؍7) ’’جس نے ہر چیز کو بہترین طریقے سے تخلیق کیا۔‘‘ وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور انھیں ایسی بہترین تخلیق عطا کی کہ عقل انسانی اس سے زیادہ خوبصورت تخلیق پیش نہیں کر سکتی اور وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات میں ان کے مصالح کی طرف راہنمائی ودیعت کی، وہی حقیقت میں رب کائنات ہے۔ اس رب کا انکار، سب سے بڑی چیز کے وجود کا انکار کرنا ہے اور یہ حقیقت کا انکار اور صریح جھوٹ ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ انسان نے بعض ایسے امور کا انکار کیا ہے جو یقینی طور پر معلوم ہیں تو ان کا رب کائنات کا انکار کرنا سب سے بڑا انکار ہے۔
[51] اس لیے جب فرعون اس قطعی دلیل کا مقابلہ نہ کر سکا تو اصل مقصد سے ہٹ کر جھگڑنے پر اتر آیا اور موسیٰ u سے کہنے لگا: ﴿ قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی پہلے زمانے کے لوگوں کا کیا معاملہ ہے اور ان کی کیا خبر اور کیا حال ہے ان لوگوں نے تو ہم سے پہلے حق کا انکار کر کے، کفر، ظلم اور عناد کا ارتکاب کیا، کیا وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں ؟
[52] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ قَالَ عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ فِيۡؔ كِتٰبٍ١ۚ لَا يَضِلُّ رَبِّيۡ وَلَا يَنۡسَى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے اچھے برے تمام اعمال کو شمار کر کے اپنی کتاب، یعنی لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ علم و خبر کے اعتبار سے اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے کوئی چیز اس کے شمار کرنے اور لکھنے سے چھوٹتی نہیں اور نہ کوئی چیز اسے بھولتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے جو بھی اعمال آگے بھیجے ہیں قیامت کے روز انھیں ان اعمال کا سامنا کرنا ہو گا اور ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا… اس لیے اے فرعون! ان کے بارے میں تیرے اس سوال اور استفہام کا کوئی معنیٰ نہیں ۔ ’’وہ ایک امت تھی جو گزر گئی ان کے اعمال ان کے لیے ہیں اور تم جو عمل کرو گے وہ تمھارے لیے ہے۔اس لیے وہ دلیل جو ہم نے تیرے سامنے پیش کی ہے اور وہ نشانیاں جو ہم تجھے دکھا چکے ہیں ، اگر تجھ پر ان کی صداقت متحقق ہو چکی ہے تو حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔ کفر، ظلم اور باطل کے ذریعے کثرت جدال کو چھوڑ دے اور اگر تجھے اس بارے میں کوئی شک ہے اور تجھے اس پر یقین نہیں ہے تو بحث کا دروازہ کھلا ہوا ہے، دلیل کا جواب دلیل سے اور برہان کا جواب برہان سے ہونا چاہیے اور جب تک دن رات باقی ہیں تو کبھی بھی ایسا نہیں کر سکے گا اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بارے میں خبر دی ہے کہ اس نے ان آیات کا ان کی صداقت کا قائل ہونے کے بعد انکار کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا ﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے ان آیات کا، ان کا قائل ہونے کے بعد، ظلم اور تکبر کی بنا پر انکار کیا۔‘‘ موسیٰ u نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ ﴾(بنی اسرائیل:17؍102) ’’تجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔‘‘ تب معلوم ہوا کہ فرعون اپنی بحث و جدال میں ظلم کا مرتکب ہوا اور اس کا مقصد محض زمین میں تغلب کا حصول تھا۔
[53] پھر موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتوں اور احسانات کا ذکر کر کے اس دلیل قاطع کو ان پر لازم کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الۡاَرۡضَ مَهۡدًا ﴾ یعنی اس نے زمین کو تمھارے لیے بچھونا بنایا، تم اس سے سکون و قرار حاصل کرتے ہو، اس پر عمارتیں تعمیر کرتے ہو، باغات لگاتے ہو، زراعت کے لیے اس میں ہل چلاتے ہو اور ان تمام کاموں کے لیے زمین کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے اور وہ تمھارے لیے تمھارے فوائد اور مصالح فراہم کرنے سے انکار نہیں کرتی ﴿ وَّسَلَكَ لَكُمۡ فِيۡهَا سُبُلًا ﴾یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ، ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچانے کے لیے تمھارے لیے زمین میں راستے بنائے یہاں تک کہ انسان تمام روئے زمین پر ہر جگہ آسانی سے پہنچنے پر قادر ہیں اور وہ اپنے گھروں میں قیام پذیر رہ کر جو فائدہ اٹھاتے ہیں اس کی نسبت اپنے سفروں میں زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں ۔﴿ وَّاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخۡرَجۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡ نَّبَاتٍ شَتّٰى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے بارش برسائی ﴿ فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾(البقرۃ:2؍164) ’’اور اس بارش سے زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کیا۔‘‘ پھر اس بارش کے ذریعے سے مختلف انواع، مختلف اشکال اور مختلف احوال کے مطابق نباتات کی بہت سی اصناف پیدا کیں ، پھر اس نباتات سے ہمارے لیے اور ہمارے مویشیوں کے لیے رزق فراہم کیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو روئے زمین کے تمام انسان اور حیوان ہلاک ہو جاتے۔
[54] اس لیے فرمایا: ﴿ كُلُوۡا وَارۡعَوۡا اَنۡعَامَكُمۡ ﴾ ’’تم کھاؤ اور اپنے چوپاؤں کو چراؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے احسان کے طور پر اس آیت کریمہ کو بیان فرمایا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ تمام نباتات مباح ہیں اور ان میں سے کوئی چیز حرام نہیں سوائے ضرر رساں نباتات کے، مثلاً:زہر وغیرہ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى ﴾ یعنی اس میں پختہ عقل اور فکر راست رکھنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اس کے احسان، اس کی رحمت، اس کے بے پایاں جود وسخا اور اس کی عنایت کامل کی نشانیاں ہیں اور یہ اس حقیقت پر دلیل ہیں کہ وہی رب معبود اور وہی مالک محمود ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ حمد، مدح اور ثنا کا اس ہستی کے سوا کوئی مستحق نہیں جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں ، نیز یہ اس امر پر بھی دلیل ہیں کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پس اس نے جس طرح زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا اسی طرح وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں عقل مندوں کو خاص طور پر مخاطب کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل مند لوگ ہی ان نشانیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کو عبرت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگر لوگ بہائم اور چوپایوں کی مانند ہیں ، وہ ان نشانیوں کو عبرت کی نظر سے نہیں دیکھتے اور نہ ان کی بصیرت کو ان نشانیوں کے مقاصد تک رسائی حاصل ہے بلکہ ان کے لیے ان نشانیوں میں اتنا ہی حصہ ہے جتنا بہائم (چوپایوں ) کا ہے۔ وہ کھاتے ہیں ، پیتے ہیں اور ان کے دل غافل اور جسم اعراض کرنے والے ہیں ۔ ﴿ وَؔكَاَيِّنۡ مِّنۡ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾(یوسف:12؍105) ’’زمین اور آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے ان کا گزر ہوتا ہے مگر یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘
[55] جب اللہ تعالیٰ نے زمین کی نفاست و فیاضی اور اللہ تعالیٰ کے اس پر بارش برسانے کے سبب اس کے حسن شکر کا ذکر کیا نیز بیان فرمایا کہ زمین اپنے رب کے حکم سے مختلف اقسام کی نباتات اگاتی ہے… تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ہمیں زمین سے پیدا کیا، ہمارے مرنے کے بعد ہمیں زمین ہی کی طرف لوٹائے گا اور ہمیں زمین میں دفن کر دے گا اور ایک مرتبہ پھر وہ ہمیں زمین سے نکال کھڑا کرے گا۔ پس جس طرح وہ ہمیں عدم سے وجود میں لایا… اور یہ حقیقت ہمیں معلوم اور ہمارے سامنے متحقق ہے… اسی طرح ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دے گا۔ اور مرنے کے بعد اعادۂ حیات پر یہ دونوں دلیلیں واضح اور عقلی دلیلیں ہیں ۔۱۔ زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس میں سے نباتات کو دوبارہ نکالنا۔۲۔ مکلفین کو زمین میں سے نکال کر دوبارہ وجود میں لانا۔
20:54كُلُواْ وَٱرۡعَوۡاْ أَنۡعَٰمَكُمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّأُوْلِي ٱلنُّهَىٰ
فرعون نے کہا، پس کون ہے رب تم دونوں کا؟ اے موسیٰ!(49) موسیٰ نے کہا، ہمارا رب وہ ہے جس نے دی ہر چیز کو شکل و صورت اس کی، پھر سوجھ بوجھ دی (50) فرعون نے کہا، پس کیا حال ہے پہلی امتوں کا؟ (51) موسیٰ نے کہا، ان کا علم میرے رب کے پاس ہے لوح محفوظ میں ، نہیں بھٹکتا میرا رب اور نہ وہ بھولتا ہے (52) وہ ذات جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو بچھونااور اس نے بنا دیے تمھارے (چلنے کے) لیے اس میں راستےاور نازل کیا آسمان سے پانی، پھر نکالیں ہم نے اس کے ذریعے سے کئی اقسام کی نباتات مختلف (53) تم (خود بھی) کھاؤ اور چراؤ اپنے چوپایوں کو بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے (54) اسی زمین سے ہم نے پیدا کیا تمھیں اور اسی میں ہم (دوبارہ) لوٹائیں گے تمھیں اور اسی میں سے ہم نکالیں گے تمھیں ایک بار پھر (55)
[49] یعنی فرعون نے موسیٰu سے انکار کے طور پر کہا: ﴿ فَمَنۡ رَّبُّكُمَا يٰمُوۡسٰؔى﴾ ’’تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ؟‘‘
[50] موسیٰ u نے نہایت واضح اور کافی و شافی جواب دیا۔ فرمایا: ﴿رَبُّنَا الَّذِيۡۤ اَعۡطٰى كُلَّ شَيۡءٍ خَلۡقَهٗ﴾ یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور ہر مخلوق کو اپنی حسن تخلیق، حسن صنعت اور اس کی ضرورت کے مطابق وجود عطا کیا، مثلاً:کسی کو بڑا، کسی کو چھوٹا اور کسی کو متوسط جسم عطا کیا اور یہی حال تمام صفات کا ہے۔﴿ ثُمَّ هَدٰؔى ﴾ ’’پھر اس نے رہنمائی کی۔‘‘ یعنی ہر مخلوق کو جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کی طرف اس نے اس کی راہنمائی کی۔ اس ہدایت کامل کا تمام مخلوقات میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ہر مخلوق جس منفعت کے لیے تخلیق کی گئی ہے اس کے حصول اور مضرت کے دور کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو بھی عقل عطا کی جس کے ذریعے وہ ان امور کے حصول پر متمکن ہوتے ہیں اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق ہے۔ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ ﴾(السجدۃ:32؍7) ’’جس نے ہر چیز کو بہترین طریقے سے تخلیق کیا۔‘‘ وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور انھیں ایسی بہترین تخلیق عطا کی کہ عقل انسانی اس سے زیادہ خوبصورت تخلیق پیش نہیں کر سکتی اور وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات میں ان کے مصالح کی طرف راہنمائی ودیعت کی، وہی حقیقت میں رب کائنات ہے۔ اس رب کا انکار، سب سے بڑی چیز کے وجود کا انکار کرنا ہے اور یہ حقیقت کا انکار اور صریح جھوٹ ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ انسان نے بعض ایسے امور کا انکار کیا ہے جو یقینی طور پر معلوم ہیں تو ان کا رب کائنات کا انکار کرنا سب سے بڑا انکار ہے۔
[51] اس لیے جب فرعون اس قطعی دلیل کا مقابلہ نہ کر سکا تو اصل مقصد سے ہٹ کر جھگڑنے پر اتر آیا اور موسیٰ u سے کہنے لگا: ﴿ قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی پہلے زمانے کے لوگوں کا کیا معاملہ ہے اور ان کی کیا خبر اور کیا حال ہے ان لوگوں نے تو ہم سے پہلے حق کا انکار کر کے، کفر، ظلم اور عناد کا ارتکاب کیا، کیا وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں ؟
[52] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ قَالَ عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ فِيۡؔ كِتٰبٍ١ۚ لَا يَضِلُّ رَبِّيۡ وَلَا يَنۡسَى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے اچھے برے تمام اعمال کو شمار کر کے اپنی کتاب، یعنی لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ علم و خبر کے اعتبار سے اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے کوئی چیز اس کے شمار کرنے اور لکھنے سے چھوٹتی نہیں اور نہ کوئی چیز اسے بھولتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے جو بھی اعمال آگے بھیجے ہیں قیامت کے روز انھیں ان اعمال کا سامنا کرنا ہو گا اور ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا… اس لیے اے فرعون! ان کے بارے میں تیرے اس سوال اور استفہام کا کوئی معنیٰ نہیں ۔ ’’وہ ایک امت تھی جو گزر گئی ان کے اعمال ان کے لیے ہیں اور تم جو عمل کرو گے وہ تمھارے لیے ہے۔اس لیے وہ دلیل جو ہم نے تیرے سامنے پیش کی ہے اور وہ نشانیاں جو ہم تجھے دکھا چکے ہیں ، اگر تجھ پر ان کی صداقت متحقق ہو چکی ہے تو حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔ کفر، ظلم اور باطل کے ذریعے کثرت جدال کو چھوڑ دے اور اگر تجھے اس بارے میں کوئی شک ہے اور تجھے اس پر یقین نہیں ہے تو بحث کا دروازہ کھلا ہوا ہے، دلیل کا جواب دلیل سے اور برہان کا جواب برہان سے ہونا چاہیے اور جب تک دن رات باقی ہیں تو کبھی بھی ایسا نہیں کر سکے گا اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بارے میں خبر دی ہے کہ اس نے ان آیات کا ان کی صداقت کا قائل ہونے کے بعد انکار کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا ﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے ان آیات کا، ان کا قائل ہونے کے بعد، ظلم اور تکبر کی بنا پر انکار کیا۔‘‘ موسیٰ u نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ ﴾(بنی اسرائیل:17؍102) ’’تجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔‘‘ تب معلوم ہوا کہ فرعون اپنی بحث و جدال میں ظلم کا مرتکب ہوا اور اس کا مقصد محض زمین میں تغلب کا حصول تھا۔
[53] پھر موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتوں اور احسانات کا ذکر کر کے اس دلیل قاطع کو ان پر لازم کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الۡاَرۡضَ مَهۡدًا ﴾ یعنی اس نے زمین کو تمھارے لیے بچھونا بنایا، تم اس سے سکون و قرار حاصل کرتے ہو، اس پر عمارتیں تعمیر کرتے ہو، باغات لگاتے ہو، زراعت کے لیے اس میں ہل چلاتے ہو اور ان تمام کاموں کے لیے زمین کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے اور وہ تمھارے لیے تمھارے فوائد اور مصالح فراہم کرنے سے انکار نہیں کرتی ﴿ وَّسَلَكَ لَكُمۡ فِيۡهَا سُبُلًا ﴾یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ، ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچانے کے لیے تمھارے لیے زمین میں راستے بنائے یہاں تک کہ انسان تمام روئے زمین پر ہر جگہ آسانی سے پہنچنے پر قادر ہیں اور وہ اپنے گھروں میں قیام پذیر رہ کر جو فائدہ اٹھاتے ہیں اس کی نسبت اپنے سفروں میں زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں ۔﴿ وَّاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخۡرَجۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡ نَّبَاتٍ شَتّٰى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے بارش برسائی ﴿ فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾(البقرۃ:2؍164) ’’اور اس بارش سے زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کیا۔‘‘ پھر اس بارش کے ذریعے سے مختلف انواع، مختلف اشکال اور مختلف احوال کے مطابق نباتات کی بہت سی اصناف پیدا کیں ، پھر اس نباتات سے ہمارے لیے اور ہمارے مویشیوں کے لیے رزق فراہم کیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو روئے زمین کے تمام انسان اور حیوان ہلاک ہو جاتے۔
[54] اس لیے فرمایا: ﴿ كُلُوۡا وَارۡعَوۡا اَنۡعَامَكُمۡ ﴾ ’’تم کھاؤ اور اپنے چوپاؤں کو چراؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے احسان کے طور پر اس آیت کریمہ کو بیان فرمایا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ تمام نباتات مباح ہیں اور ان میں سے کوئی چیز حرام نہیں سوائے ضرر رساں نباتات کے، مثلاً:زہر وغیرہ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى ﴾ یعنی اس میں پختہ عقل اور فکر راست رکھنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اس کے احسان، اس کی رحمت، اس کے بے پایاں جود وسخا اور اس کی عنایت کامل کی نشانیاں ہیں اور یہ اس حقیقت پر دلیل ہیں کہ وہی رب معبود اور وہی مالک محمود ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ حمد، مدح اور ثنا کا اس ہستی کے سوا کوئی مستحق نہیں جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں ، نیز یہ اس امر پر بھی دلیل ہیں کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پس اس نے جس طرح زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا اسی طرح وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں عقل مندوں کو خاص طور پر مخاطب کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل مند لوگ ہی ان نشانیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کو عبرت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگر لوگ بہائم اور چوپایوں کی مانند ہیں ، وہ ان نشانیوں کو عبرت کی نظر سے نہیں دیکھتے اور نہ ان کی بصیرت کو ان نشانیوں کے مقاصد تک رسائی حاصل ہے بلکہ ان کے لیے ان نشانیوں میں اتنا ہی حصہ ہے جتنا بہائم (چوپایوں ) کا ہے۔ وہ کھاتے ہیں ، پیتے ہیں اور ان کے دل غافل اور جسم اعراض کرنے والے ہیں ۔ ﴿ وَؔكَاَيِّنۡ مِّنۡ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾(یوسف:12؍105) ’’زمین اور آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے ان کا گزر ہوتا ہے مگر یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘
[55] جب اللہ تعالیٰ نے زمین کی نفاست و فیاضی اور اللہ تعالیٰ کے اس پر بارش برسانے کے سبب اس کے حسن شکر کا ذکر کیا نیز بیان فرمایا کہ زمین اپنے رب کے حکم سے مختلف اقسام کی نباتات اگاتی ہے… تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ہمیں زمین سے پیدا کیا، ہمارے مرنے کے بعد ہمیں زمین ہی کی طرف لوٹائے گا اور ہمیں زمین میں دفن کر دے گا اور ایک مرتبہ پھر وہ ہمیں زمین سے نکال کھڑا کرے گا۔ پس جس طرح وہ ہمیں عدم سے وجود میں لایا… اور یہ حقیقت ہمیں معلوم اور ہمارے سامنے متحقق ہے… اسی طرح ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دے گا۔ اور مرنے کے بعد اعادۂ حیات پر یہ دونوں دلیلیں واضح اور عقلی دلیلیں ہیں ۔۱۔ زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس میں سے نباتات کو دوبارہ نکالنا۔۲۔ مکلفین کو زمین میں سے نکال کر دوبارہ وجود میں لانا۔
20:55۞مِنۡهَا خَلَقۡنَٰكُمۡ وَفِيهَا نُعِيدُكُمۡ وَمِنۡهَا نُخۡرِجُكُمۡ تَارَةً أُخۡرَىٰ
فرعون نے کہا، پس کون ہے رب تم دونوں کا؟ اے موسیٰ!(49) موسیٰ نے کہا، ہمارا رب وہ ہے جس نے دی ہر چیز کو شکل و صورت اس کی، پھر سوجھ بوجھ دی (50) فرعون نے کہا، پس کیا حال ہے پہلی امتوں کا؟ (51) موسیٰ نے کہا، ان کا علم میرے رب کے پاس ہے لوح محفوظ میں ، نہیں بھٹکتا میرا رب اور نہ وہ بھولتا ہے (52) وہ ذات جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو بچھونااور اس نے بنا دیے تمھارے (چلنے کے) لیے اس میں راستےاور نازل کیا آسمان سے پانی، پھر نکالیں ہم نے اس کے ذریعے سے کئی اقسام کی نباتات مختلف (53) تم (خود بھی) کھاؤ اور چراؤ اپنے چوپایوں کو بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے (54) اسی زمین سے ہم نے پیدا کیا تمھیں اور اسی میں ہم (دوبارہ) لوٹائیں گے تمھیں اور اسی میں سے ہم نکالیں گے تمھیں ایک بار پھر (55)
[49] یعنی فرعون نے موسیٰu سے انکار کے طور پر کہا: ﴿ فَمَنۡ رَّبُّكُمَا يٰمُوۡسٰؔى﴾ ’’تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ؟‘‘
[50] موسیٰ u نے نہایت واضح اور کافی و شافی جواب دیا۔ فرمایا: ﴿رَبُّنَا الَّذِيۡۤ اَعۡطٰى كُلَّ شَيۡءٍ خَلۡقَهٗ﴾ یعنی ہمارا رب وہ ہے جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور ہر مخلوق کو اپنی حسن تخلیق، حسن صنعت اور اس کی ضرورت کے مطابق وجود عطا کیا، مثلاً:کسی کو بڑا، کسی کو چھوٹا اور کسی کو متوسط جسم عطا کیا اور یہی حال تمام صفات کا ہے۔﴿ ثُمَّ هَدٰؔى ﴾ ’’پھر اس نے رہنمائی کی۔‘‘ یعنی ہر مخلوق کو جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کی طرف اس نے اس کی راہنمائی کی۔ اس ہدایت کامل کا تمام مخلوقات میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ ہر مخلوق جس منفعت کے لیے تخلیق کی گئی ہے اس کے حصول اور مضرت کے دور کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو بھی عقل عطا کی جس کے ذریعے وہ ان امور کے حصول پر متمکن ہوتے ہیں اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق ہے۔ ﴿ الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقَهٗ ﴾(السجدۃ:32؍7) ’’جس نے ہر چیز کو بہترین طریقے سے تخلیق کیا۔‘‘ وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور انھیں ایسی بہترین تخلیق عطا کی کہ عقل انسانی اس سے زیادہ خوبصورت تخلیق پیش نہیں کر سکتی اور وہ ہستی جس نے تمام مخلوقات میں ان کے مصالح کی طرف راہنمائی ودیعت کی، وہی حقیقت میں رب کائنات ہے۔ اس رب کا انکار، سب سے بڑی چیز کے وجود کا انکار کرنا ہے اور یہ حقیقت کا انکار اور صریح جھوٹ ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ انسان نے بعض ایسے امور کا انکار کیا ہے جو یقینی طور پر معلوم ہیں تو ان کا رب کائنات کا انکار کرنا سب سے بڑا انکار ہے۔
[51] اس لیے جب فرعون اس قطعی دلیل کا مقابلہ نہ کر سکا تو اصل مقصد سے ہٹ کر جھگڑنے پر اتر آیا اور موسیٰ u سے کہنے لگا: ﴿ قَالَ فَمَا بَالُ الۡقُرُوۡنِ الۡاُوۡلٰى ﴾ یعنی پہلے زمانے کے لوگوں کا کیا معاملہ ہے اور ان کی کیا خبر اور کیا حال ہے ان لوگوں نے تو ہم سے پہلے حق کا انکار کر کے، کفر، ظلم اور عناد کا ارتکاب کیا، کیا وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں ؟
[52] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ قَالَ عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ فِيۡؔ كِتٰبٍ١ۚ لَا يَضِلُّ رَبِّيۡ وَلَا يَنۡسَى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے اچھے برے تمام اعمال کو شمار کر کے اپنی کتاب، یعنی لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ علم و خبر کے اعتبار سے اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے کوئی چیز اس کے شمار کرنے اور لکھنے سے چھوٹتی نہیں اور نہ کوئی چیز اسے بھولتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے جو بھی اعمال آگے بھیجے ہیں قیامت کے روز انھیں ان اعمال کا سامنا کرنا ہو گا اور ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا… اس لیے اے فرعون! ان کے بارے میں تیرے اس سوال اور استفہام کا کوئی معنیٰ نہیں ۔ ’’وہ ایک امت تھی جو گزر گئی ان کے اعمال ان کے لیے ہیں اور تم جو عمل کرو گے وہ تمھارے لیے ہے۔اس لیے وہ دلیل جو ہم نے تیرے سامنے پیش کی ہے اور وہ نشانیاں جو ہم تجھے دکھا چکے ہیں ، اگر تجھ پر ان کی صداقت متحقق ہو چکی ہے تو حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔ کفر، ظلم اور باطل کے ذریعے کثرت جدال کو چھوڑ دے اور اگر تجھے اس بارے میں کوئی شک ہے اور تجھے اس پر یقین نہیں ہے تو بحث کا دروازہ کھلا ہوا ہے، دلیل کا جواب دلیل سے اور برہان کا جواب برہان سے ہونا چاہیے اور جب تک دن رات باقی ہیں تو کبھی بھی ایسا نہیں کر سکے گا اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے بارے میں خبر دی ہے کہ اس نے ان آیات کا ان کی صداقت کا قائل ہونے کے بعد انکار کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا ﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے ان آیات کا، ان کا قائل ہونے کے بعد، ظلم اور تکبر کی بنا پر انکار کیا۔‘‘ موسیٰ u نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ ﴾(بنی اسرائیل:17؍102) ’’تجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔‘‘ تب معلوم ہوا کہ فرعون اپنی بحث و جدال میں ظلم کا مرتکب ہوا اور اس کا مقصد محض زمین میں تغلب کا حصول تھا۔
[53] پھر موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتوں اور احسانات کا ذکر کر کے اس دلیل قاطع کو ان پر لازم کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الۡاَرۡضَ مَهۡدًا ﴾ یعنی اس نے زمین کو تمھارے لیے بچھونا بنایا، تم اس سے سکون و قرار حاصل کرتے ہو، اس پر عمارتیں تعمیر کرتے ہو، باغات لگاتے ہو، زراعت کے لیے اس میں ہل چلاتے ہو اور ان تمام کاموں کے لیے زمین کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے اور وہ تمھارے لیے تمھارے فوائد اور مصالح فراہم کرنے سے انکار نہیں کرتی ﴿ وَّسَلَكَ لَكُمۡ فِيۡهَا سُبُلًا ﴾یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ، ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچانے کے لیے تمھارے لیے زمین میں راستے بنائے یہاں تک کہ انسان تمام روئے زمین پر ہر جگہ آسانی سے پہنچنے پر قادر ہیں اور وہ اپنے گھروں میں قیام پذیر رہ کر جو فائدہ اٹھاتے ہیں اس کی نسبت اپنے سفروں میں زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں ۔﴿ وَّاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخۡرَجۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡ نَّبَاتٍ شَتّٰى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے بارش برسائی ﴿ فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾(البقرۃ:2؍164) ’’اور اس بارش سے زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کیا۔‘‘ پھر اس بارش کے ذریعے سے مختلف انواع، مختلف اشکال اور مختلف احوال کے مطابق نباتات کی بہت سی اصناف پیدا کیں ، پھر اس نباتات سے ہمارے لیے اور ہمارے مویشیوں کے لیے رزق فراہم کیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو روئے زمین کے تمام انسان اور حیوان ہلاک ہو جاتے۔
[54] اس لیے فرمایا: ﴿ كُلُوۡا وَارۡعَوۡا اَنۡعَامَكُمۡ ﴾ ’’تم کھاؤ اور اپنے چوپاؤں کو چراؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے احسان کے طور پر اس آیت کریمہ کو بیان فرمایا ہے تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ تمام نباتات مباح ہیں اور ان میں سے کوئی چیز حرام نہیں سوائے ضرر رساں نباتات کے، مثلاً:زہر وغیرہ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى ﴾ یعنی اس میں پختہ عقل اور فکر راست رکھنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، اس کے احسان، اس کی رحمت، اس کے بے پایاں جود وسخا اور اس کی عنایت کامل کی نشانیاں ہیں اور یہ اس حقیقت پر دلیل ہیں کہ وہی رب معبود اور وہی مالک محمود ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ حمد، مدح اور ثنا کا اس ہستی کے سوا کوئی مستحق نہیں جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں ، نیز یہ اس امر پر بھی دلیل ہیں کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پس اس نے جس طرح زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا اسی طرح وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں عقل مندوں کو خاص طور پر مخاطب کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل مند لوگ ہی ان نشانیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کو عبرت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگر لوگ بہائم اور چوپایوں کی مانند ہیں ، وہ ان نشانیوں کو عبرت کی نظر سے نہیں دیکھتے اور نہ ان کی بصیرت کو ان نشانیوں کے مقاصد تک رسائی حاصل ہے بلکہ ان کے لیے ان نشانیوں میں اتنا ہی حصہ ہے جتنا بہائم (چوپایوں ) کا ہے۔ وہ کھاتے ہیں ، پیتے ہیں اور ان کے دل غافل اور جسم اعراض کرنے والے ہیں ۔ ﴿ وَؔكَاَيِّنۡ مِّنۡ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾(یوسف:12؍105) ’’زمین اور آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے ان کا گزر ہوتا ہے مگر یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔‘‘
[55] جب اللہ تعالیٰ نے زمین کی نفاست و فیاضی اور اللہ تعالیٰ کے اس پر بارش برسانے کے سبب اس کے حسن شکر کا ذکر کیا نیز بیان فرمایا کہ زمین اپنے رب کے حکم سے مختلف اقسام کی نباتات اگاتی ہے… تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ہمیں زمین سے پیدا کیا، ہمارے مرنے کے بعد ہمیں زمین ہی کی طرف لوٹائے گا اور ہمیں زمین میں دفن کر دے گا اور ایک مرتبہ پھر وہ ہمیں زمین سے نکال کھڑا کرے گا۔ پس جس طرح وہ ہمیں عدم سے وجود میں لایا… اور یہ حقیقت ہمیں معلوم اور ہمارے سامنے متحقق ہے… اسی طرح ہمارے مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دے گا۔ اور مرنے کے بعد اعادۂ حیات پر یہ دونوں دلیلیں واضح اور عقلی دلیلیں ہیں ۔۱۔ زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد اس میں سے نباتات کو دوبارہ نکالنا۔۲۔ مکلفین کو زمین میں سے نکال کر دوبارہ وجود میں لانا۔
20:56وَلَقَدۡ أَرَيۡنَٰهُ ءَايَٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَأَبَىٰ
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:57قَالَ أَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ أَرۡضِنَا بِسِحۡرِكَ يَٰمُوسَىٰ
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:58فَلَنَأۡتِيَنَّكَ بِسِحۡرٖ مِّثۡلِهِۦ فَٱجۡعَلۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكَ مَوۡعِدٗا لَّا نُخۡلِفُهُۥ نَحۡنُ وَلَآ أَنتَ مَكَانٗا سُوٗى
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:59قَالَ مَوۡعِدُكُمۡ يَوۡمُ ٱلزِّينَةِ وَأَن يُحۡشَرَ ٱلنَّاسُ ضُحٗى
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:60فَتَوَلَّىٰ فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهُۥ ثُمَّ أَتَىٰ
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:61قَالَ لَهُم مُّوسَىٰ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُواْ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا فَيُسۡحِتَكُم بِعَذَابٖۖ وَقَدۡ خَابَ مَنِ ٱفۡتَرَىٰ
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:62فَتَنَٰزَعُوٓاْ أَمۡرَهُم بَيۡنَهُمۡ وَأَسَرُّواْ ٱلنَّجۡوَىٰ
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:63قَالُوٓاْ إِنۡ هَٰذَٰنِ لَسَٰحِرَٰنِ يُرِيدَانِ أَن يُخۡرِجَاكُم مِّنۡ أَرۡضِكُم بِسِحۡرِهِمَا وَيَذۡهَبَا بِطَرِيقَتِكُمُ ٱلۡمُثۡلَىٰ
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:64فَأَجۡمِعُواْ كَيۡدَكُمۡ ثُمَّ ٱئۡتُواْ صَفّٗاۚ وَقَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡيَوۡمَ مَنِ ٱسۡتَعۡلَىٰ
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:65قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلۡقِيَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنۡ أَلۡقَىٰ
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:66قَالَ بَلۡ أَلۡقُواْۖ فَإِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ إِلَيۡهِ مِن سِحۡرِهِمۡ أَنَّهَا تَسۡعَىٰ
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:67فَأَوۡجَسَ فِي نَفۡسِهِۦ خِيفَةٗ مُّوسَىٰ
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:68قُلۡنَا لَا تَخَفۡ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡأَعۡلَىٰ
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:69وَأَلۡقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوٓاْۖ إِنَّمَا صَنَعُواْ كَيۡدُ سَٰحِرٖۖ وَلَا يُفۡلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيۡثُ أَتَىٰ
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:70فَأُلۡقِيَ ٱلسَّحَرَةُ سُجَّدٗا قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ هَٰرُونَ وَمُوسَىٰ
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:71قَالَ ءَامَنتُمۡ لَهُۥ قَبۡلَ أَنۡ ءَاذَنَ لَكُمۡۖ إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِي عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحۡرَۖ فَلَأُقَطِّعَنَّ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَرۡجُلَكُم مِّنۡ خِلَٰفٖ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمۡ فِي جُذُوعِ ٱلنَّخۡلِ وَلَتَعۡلَمُنَّ أَيُّنَآ أَشَدُّ عَذَابٗا وَأَبۡقَىٰ
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:72قَالُواْ لَن نُّؤۡثِرَكَ عَلَىٰ مَا جَآءَنَا مِنَ ٱلۡبَيِّنَٰتِ وَٱلَّذِي فَطَرَنَاۖ فَٱقۡضِ مَآ أَنتَ قَاضٍۖ إِنَّمَا تَقۡضِي هَٰذِهِ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَآ
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:73إِنَّآ ءَامَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطَٰيَٰنَا وَمَآ أَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ ٱلسِّحۡرِۗ وَٱللَّهُ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰٓ
اور البتہ تحقیق دکھائیں ہم نے اس کو نشانیاں اپنی سب، پھر بھی اس نے جھٹلایااور انکار کیا (56)اس نے کہا، کیا آیا ہے تو ہمارے پاس تاکہ تو نکال دے ہمیں ہماری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سے؟ اے موسیٰ! (57) سو البتہ ہم ضرور لائیں گے تیرے پاس جادو اس جیسا ہی، پس مقرر کر ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت کہ نہ خلاف کریں اس کا ہم اور نہ تو، جگہ ہو ہموار (58) موسیٰ نے کہا، تمھارا وعدہ ہے دن زینت (جشن) کا اور یہ کہ اکٹھے کیے جائیں لوگ چاشت کے وقت(59) پس لوٹا فرعون اورجمع کیا اپنا مکر (و فریب کا سامان)، پھر وہ آگیا (60)کہا ان (جادو گروں ) سے موسیٰ نے، ہلاکت ہو تمھارے لیے، نہ باندھو تم اللہ پر جھوٹ، پس وہ تباہ کر دے گا تمھیں ساتھ عذاب کےاور تحقیق ناکام ہوا وہ جس نے جھوٹ باندھا (61) پس انھوں نے جھگڑا کیااپنے معاملے میں ، آپس میں اورچپکے چپکے کیا انھوں نے مشورہ (62) انھوں نے کہا، بلاشبہ یہ دونوں جادوگر ہیں ، یہ دونوں چاہتے ہیں یہ کہ نکال دیں تمھیں تمھاری زمین سے اپنے جادو کے ذریعے سےاور لے جائیں (برباد کر دیں ) تمھارا طریقہ عمدہ (63) پس پختہ کر لو تم تدبیریں اپنی، پھر آجاؤ تم صف باندھ کراور تحقیق کامیاب ٹھہرا آج کے دن جو غالب آیا (64) انھوں نے کہا، اے موسی! یا یہ کہ تو ڈالے یا پھر ہم ہی ہوں پہلے ڈالنے والے (65) موسیٰ نے کہابلکہ تم ہی ڈالو (انھوں نے ڈالیں ) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، خیال میں ڈالا گیا اس (موسیٰ) کے، ان کے جادو کی وجہ سے، کہ بے شک وہ دوڑ رہی ہیں (66) پس محسوس کیا اپنے دل میں خوف موسیٰ نے(67) ہم نے کہا، مت ڈر تو، بلاشبہ تو ہی غالب ہے (68) اور ڈال تو (اپنی لاٹھی) جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گی اس کو جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، یقینا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، فریب ہے جادو گر کا اور نہیں کامیاب ہوتا جادو گر جس جگہ بھی (حق کے مقابل) آئے (69)پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں (اور) انھوں نے کہا، ہم ایمان لائے رب پرہارون اور موسیٰ کے (70) فرعون نے کہا، (کیا) تم ایمان لائے ہو اس پر پہلے اس سے کہ میں اجازت دوں تمھیں ؟ بلاشبہ وہ موسیٰ البتہ بڑا ہے تمھارا، وہ جس نے سکھایا تمھیں جادو، پس البتہ ضرور کاٹوں گا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں ایک دوسرے کی مخالف جانب سے اور البتہ ضرور سولی دوں گا میں تمھیں تنوں پر کھجور کےاور یقینا تم جان لو گے کہ کون ہم میں سے زیادہ سخت ہے عذاب دینے میں اور زیادہ باقی رہنے والا؟ (71) انھوں نے کہا، ہرگز نہیں ترجیح دیں گے ہم تجھے ان پر، جو آئیں ہمارے پاس واضح دلیلیں اور اس ذات پر جس نے پیدا کیا ہمیں پس کر لے تو جو کچھ بھی تو کر سکتا ہے، بس تو تو حکم چلا سکتا ہے اس زندگانیٔ دنیا ہی پر (72) بلاشبہ ہم ایمان لائے ساتھ اپنے رب کے تاکہ وہ بخش دے ہمارے لیے ہماری خطائیں اور (جرم) بھی کہ مجبور کیا تھا تو نے ہمیں اس پر، (یعنی ) جادو کرنے کا اور اللہ بہت بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے (73)
[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے فرعون کو عیانی، آفاقی اور نفسی تمام اقسام کی نشانیاں دکھائیں مگر وہ درست ہوا نہ کفر سے باز آیا بلکہ اس نے ان کو جھٹلایا اور روگردانی کی۔ اس نے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے امرونہی سے اعراض کیا، اس نے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے باطل دلائل کے ذریعے سے جھگڑا کیا۔
[57] پس اس نے موسیٰu سے کہا۔ ﴿ اَجِئۡتَنَا لِتُخۡرِجَنَا مِنۡ اَرۡضِنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ تو ہم کو ہماری زمین سے نکال دے۔‘‘ فرعون سمجھتا تھا کہ موسیٰ u نے جو معجزات دکھائے ہیں ، وہ محض جادو کا کرشمہ اور شعبدہ بازی ہے اور ان کے پیچھے مقصد یہ ہے کہ فرعون کی قوم کو مصر کی سرزمین سے نکال کر خود قبضہ کیا جائے اور تاکہ موسیٰu کا کلام ان کی قوم کے دلوں کو متاثر کرے کیونکہ انسانی طبیعت اپنے وطن کی طرف مائل ہوتی ہے وطن سے نکلنا اور اس سے جدا ہونا اس کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔پس فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کو حضرت موسیٰu کے قصد سے آگاہ کیا تاکہ وہ ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کے خلاف لڑائی پر آمادہ ہو جائیں ۔
[58] فرعون نے موسیٰ u سے کہا کہ ہم بھی تمھارے جادو جیسا جادو دکھا سکتے ہیں ہمیں کچھ مہلت دو۔ ﴿مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُهٗ نَحۡنُ وَلَاۤ اَنۡتَ مَكَانًا سُوًؔى ﴾ اور طے کر دے کہ کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے یعنی اس کا ہمیں بھی علم ہو اور تمھیں بھی۔ یا کوئی ہموار میدان ہو جہاں ان کرتبوں کا مشاہدہ ممکن ہو۔
[59] موسیٰ u نے فرمایا: ﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ ﴾ ’’زینت (جشن) کے دن کا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ یہ دن ان کی عید کا دن تھا۔ جس میں وہ اپنے کام کاج سے فارغ ہوتے تھے اور تمام مشاغل منقطع کر دیتے تھے۔ ﴿ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴾ یعنی چاہشت کے وقت تمام لوگوں کو جمع کیا جائے۔ حضرت موسیٰu نے یہ مطالبہ اس لیے کیا تھا کیونکہ ان کے جشن کا وقت دن چڑھے ہوتا تھا۔ اس جشن میں لوگ کثیر تعداد میں کھٹے ہوتے تھے نیز اس وقت اشیاء کے حقائق کا صاف طور پر مشاہدہ ہوتا ہے جو کسی دوسرے وقت نہیں ہو سکتا۔
[60]﴿ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ﴾ یعنی اس نے وہ تمام وسائل جمع کر لیے جن کے ذریعے سے وہ موسیٰ u کے خلاف چال چل سکتا تھا۔ اس نے تمام شہروں میں اپنے ہرکارے دوڑا دیے تاکہ وہ ماہر جادوگروں کو اکٹھا کریں ۔ اس زمانے میں جادو بہت عام تھا اور لوگ اس کا علم حاصل کرنے میں بہت رغبت رکھتے تھے۔ فرعون نے جادو گروں کا ایک جم غفیر اکٹھا کر لیا۔ دونوں گروہ مقررہ مقام پر آ گئے اور لوگ اس مقام پر اکٹھے ہو گئے۔ اجتماع بہت بڑا تھا وہاں مرد، عورتیں ، امراء، اشراف، عوام اور چھوٹے بڑے سب لوگ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے انھوں نے لوگوں کو ترغیب دے کر جمع کیا تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا تھا:﴿ هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَۙ۰۰لَعَلَّنَا نَتَّبِـعُ السَّحَرَةَ اِنۡ كَانُوۡا هُمُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍39، 40) ’’کیا تم اجتماع میں اکھٹے ہو گے؟ تاکہ اگر جادوگر غالب رہے تو ہم ان کی پیروی کریں ۔‘‘
[61] جب جادو گر تمام شہروں سے اکٹھے ہو گئے تو موسیٰ u نے ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ﴾ یعنی اپنے جادو کے ذریعے سے اپنے باطل مسلک کی مدد کر کے حق پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو اور نہ اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کرو ورنہ عذاب الٰہی تمھیں تباہ کر دے گا۔ تمھاری کوشش اور تمھاری بہتان طرازی ناکام ہو جائے گی اور تمھیں فتح و نصرت اور فرعون اور اس کے درباریوں کے ہاں کوئی عزت و جاہ حاصل نہیں ہو گی اور تم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکو گے۔
[62] کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہو گیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ u حق پر ہیں یا نہیں ؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا… تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘ اس وقت انھوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہو جائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں ۔
[63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا:﴿وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ۠ الۡمُثۡلٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
[64] یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ u پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا:﴿فَاَجۡمِعُوۡا كَيۡدَؔكُمۡ ﴾ ’’پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا﴾ ’’پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔‘‘ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
[65] مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔‘‘ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى ﴾ ’’یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔‘‘ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ u کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
[66] موسیٰ u نے ان سے کہا: ﴿ بَلۡ اَلۡقُوۡا ﴾ ’’بلکہ تم ہی ڈالو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں ﴿ فَاِذَا حِبَالُهُمۡ وَعِصِيُّهُمۡ يُخَيَّلُ اِلَيۡهِ ﴾ یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت ) موسیٰ کو یوں محسوس ہوئیں ‘‘ ﴿ مِنۡ سِحۡرِهِمۡ ﴾ ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے ﴿ اَنَّهَا تَسۡعٰى ﴾ کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔
[67] جب موسیٰ u کو رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں ﴿ فَاَوۡجَسَ فِيۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰؔى ﴾ تو موسیٰ u اپنے دل میں ڈر گئے جیسا کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔
[68]﴿ قُلۡنَا ﴾ ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لیے ہم نے کہا: ﴿ لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’ڈر نہ تو ہی غالب ہو گا‘‘ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہار مان کر تیرے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
[69]﴿ وَاَلۡقِ مَا فِيۡ يَمِيۡنِكَ ﴾ یعنی اپنا عصا زمین پر پھینک دے ﴿ تَلۡقَفۡ مَا صَنَعُوۡا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوۡا كَيۡدُ سٰحِرٍ١ؕ وَلَا يُفۡلِحُ السَّاحِرُ حَيۡثُ اَتٰى ﴾ ’’وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے۔ ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے۔ اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی ان کی سازش اور ان کی چال ان کے لیے بارآور نہ ہو گی اور اس سے انھیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں ۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ۔
[70] پس موسیٰ u نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادو گروں کے بناوٹی سانپوں کو نگل گیا اور لوگ اس سارے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادو گروں کو یقینی طورپر معلوم ہو گیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ ﴿فَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَۙ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍46-48) ’’پس گر گئے جادوگر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔‘‘ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہو گیا اور مکروفریب اور جادو باطل ہو گیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لیے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہو گئی۔
[71]﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے جادو گروں سے کہا: ﴿ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کر لیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لیے فرعون کو ان کا ایمان لانا بڑا عجیب سا لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کر دیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ u کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ u کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰu اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لیے سازش کی ہے۔پس فرعون کی قوم نے مکروفریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کر لیا۔ ﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَ طَاعُوۡهُ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(الزخرف:43؍54) ’’اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کر دیا اور انھوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔‘‘ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰu جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر یا غیر جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لیے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ u کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کر لیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لیے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آ گئے تو وہ انھیں بہت بڑا معاوضہ اور قدرومنزلت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لیے انھوں نے موسیٰ u پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مکروفریب کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادوگروں اور موسیٰ u نے فرعون کے خلاف سازش کر لی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کر لیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿ فَلَاُقَطِّعَنَّ۠ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمھارے ہاتھ اور تمھارے پیر الٹے سیدھے‘‘ جیسے فساد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ ﴿ وَّلَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ فِيۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ﴾ یعنی تمھاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمھیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائدار ہے۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے زیادہ دیر پا ہے۔
[72] اس لیے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بناء پر انھوں نے حقائق کا ادراک کر لیا تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں ۔‘‘ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں ۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَالَّذِيۡ فَطَرَنَا فَاقۡضِ﴾ ’’پس تو جو کر سکتا ہے کر لے۔‘‘ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ ﴿ اِنَّمَا تَقۡضِيۡ هٰؔذِهِ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا﴾ تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذاب دے سکتا ہے جو ختم ہو جانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لیے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں ، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔
[73]﴿اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغۡفِرَ لَنَا خَطٰيٰؔنَا ﴾ ’’ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔‘‘ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اس لیے کہ ایمان برائیوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ﴿وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِ﴾ ’’اور اس جادو کو بھی معاف کردے جس پر تونے ہمیں مجبور کیا۔‘‘ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ u نے ان کو نصیحت کی جیسا کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے ﴿ وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ ﴾(طٰہ:20؍61) ’’ کم بختو! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمھاری جڑ کاٹ دے گا۔‘‘ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہو گئی ، اس لیے موسیٰ u کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوالیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کر دیا، اسی لیے انھوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی ﴿ اِنۡ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ يُرِيۡدٰؔنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰؔكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا ﴾ یہ کہہ کر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے دلوں میں جاگزیں ہو گئی تھی… انھوں نے جو کام سرانجام دیا وہ انھوں نے اغماض برتتے ہوئے سرانجام دیا… اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے کہا تو نے جو اجرو و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احسان باقی رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى ﴾ فرعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ u کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھااور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقوف ہے (جو موجود نہیں ) واللہ تعالٰی أعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔
20:74إِنَّهُۥ مَن يَأۡتِ رَبَّهُۥ مُجۡرِمٗا فَإِنَّ لَهُۥ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحۡيَىٰ
بے شک جو شخص آئے گا اپنے رب کے پاس مجرم بن کر تو بلاشبہ اس کے لیے جہنم (تیار) ہے، نہ مرے گاوہ اس میں اور نہ جیے گا (74) اور جو شخص آئے گا اس کے پاس مومن ہو کر، جبکہ اس نے عمل کیے ہوں نیک تو یہ لوگ، ان کے لیے ہیں درجے بلند (75)(یعنی ) باغات ہمیشگی کے، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں اور یہی ہے جزا اس شخص کی جو پاک ہوا (76)
[74] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جو کوئی مجرم کی حیثیت سے اس کے حضور حاضر ہوتا ہے یعنی وہ ہر لحاظ سے مجرمانہ صفات سے متصف ہے جو کفر کو مستلزم ہے اور وہ مرتے دم تک اس پر جما رہتا ہے، اس کی سزا جہنم ہے، جس کا عذاب بہت ہی سخت، جس کی ہتھکڑیاں بہت بڑی، جس کی گہرائی بہت زیادہ اور جس کی گرمی اور سردی بہت المناک ہو گی اور جہنم میں اس کو ایسا عذاب دیا جائے گا جو دل و جگر کو پگھلا کر رکھ دے گا۔ جہنم کے عذاب کی ایسی شدت ہو گی کہ جس کو عذاب دیا جائے گا وہ اس عذاب میں مرے گا نہ جیے گا، نہ وہ مرے گا کہ اس کی جان چھوٹ جائے اور نہ وہ جیے گا کہ وہ اس زندگی سے لذت اٹھا سکے۔ اس کی زندگی قلبی، روحانی اور جسمانی عذاب سے لبریز ہو گی، جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی اس سے دور نہ ہو گا۔ وہ مدد کے لیے پکارے گا لیکن اس کی مدد نہ کی جائے گی اور وہ دعائیں کرے گا لیکن اس کی دعا قبول نہ ہو گی۔ ہاں ! جب وہ پانی مانگے گا تو اسے پینے کے لیے ایسا پانی دیا جائے گا جو تیل کی تلچھٹ کی مانند ہو گا جو چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔ جب وہ پکارے گا تو اس کو جواب دیا جائے گا۔ ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون:23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور اسی عذاب میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔‘‘
[76,75] اور جو کوئی اپنے رب پر ایمان رکھتے، اس کے رسولوں کی تصدیق کرتے اور اس کی کتابوں کی اتباع کرتے ہوئے، اس کے حضور حاضر ہوتا ہے ﴿قَدۡ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ ﴾ اور اس نے فرض اور مستحب اعمال بھی سرانجام دیے ہوتے ہیں ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰؔتُ الۡعُلٰى ﴾ ’’تو ان کے لیے بڑے درجے ہوں گے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے آراستہ بالا خانوں میں عالیشان ضیافتیں ہوں گی، کبھی نہ ختم ہونے والی لذتیں ، بہتی ہوئی نہریں ، دائمی خلود اور ایسی عظیم مسرتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ وَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ ثواب ﴿جَزٰٓؤُا مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾اس شخص کی جزا ہے جو شرک، کفر، فسق اور معصیت سے اپنے آپ کو پاک کرتا ہے۔ وہ یا تو ان مذکورہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی نہیں یا اگر اس سے کسی گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو وہ توبہ کر لیتا ہے، نیز وہ اپنے نفس کو پاک کرتا ہے، ایمان اور عمل صالح کے ذریعے اس کی نشوونما کرتا ہے۔ ’’تزکیہ‘‘ کے دو معنیٰ ہیں ۔(۱)صاف کرنا اور گندگی کو زائل کرنا ۔(۲) بھلائی کے حصول میں اضافہ کرنا۔ زکاۃ کو انھی دو امور کی بنا پر زکاۃ کہا جاتا ہے۔
20:75وَمَن يَأۡتِهِۦ مُؤۡمِنٗا قَدۡ عَمِلَ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فَأُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلدَّرَجَٰتُ ٱلۡعُلَىٰ
بے شک جو شخص آئے گا اپنے رب کے پاس مجرم بن کر تو بلاشبہ اس کے لیے جہنم (تیار) ہے، نہ مرے گاوہ اس میں اور نہ جیے گا (74) اور جو شخص آئے گا اس کے پاس مومن ہو کر، جبکہ اس نے عمل کیے ہوں نیک تو یہ لوگ، ان کے لیے ہیں درجے بلند (75)(یعنی ) باغات ہمیشگی کے، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں اور یہی ہے جزا اس شخص کی جو پاک ہوا (76)
[74] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جو کوئی مجرم کی حیثیت سے اس کے حضور حاضر ہوتا ہے یعنی وہ ہر لحاظ سے مجرمانہ صفات سے متصف ہے جو کفر کو مستلزم ہے اور وہ مرتے دم تک اس پر جما رہتا ہے، اس کی سزا جہنم ہے، جس کا عذاب بہت ہی سخت، جس کی ہتھکڑیاں بہت بڑی، جس کی گہرائی بہت زیادہ اور جس کی گرمی اور سردی بہت المناک ہو گی اور جہنم میں اس کو ایسا عذاب دیا جائے گا جو دل و جگر کو پگھلا کر رکھ دے گا۔ جہنم کے عذاب کی ایسی شدت ہو گی کہ جس کو عذاب دیا جائے گا وہ اس عذاب میں مرے گا نہ جیے گا، نہ وہ مرے گا کہ اس کی جان چھوٹ جائے اور نہ وہ جیے گا کہ وہ اس زندگی سے لذت اٹھا سکے۔ اس کی زندگی قلبی، روحانی اور جسمانی عذاب سے لبریز ہو گی، جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی اس سے دور نہ ہو گا۔ وہ مدد کے لیے پکارے گا لیکن اس کی مدد نہ کی جائے گی اور وہ دعائیں کرے گا لیکن اس کی دعا قبول نہ ہو گی۔ ہاں ! جب وہ پانی مانگے گا تو اسے پینے کے لیے ایسا پانی دیا جائے گا جو تیل کی تلچھٹ کی مانند ہو گا جو چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔ جب وہ پکارے گا تو اس کو جواب دیا جائے گا۔ ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون:23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور اسی عذاب میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔‘‘
[76,75] اور جو کوئی اپنے رب پر ایمان رکھتے، اس کے رسولوں کی تصدیق کرتے اور اس کی کتابوں کی اتباع کرتے ہوئے، اس کے حضور حاضر ہوتا ہے ﴿قَدۡ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ ﴾ اور اس نے فرض اور مستحب اعمال بھی سرانجام دیے ہوتے ہیں ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰؔتُ الۡعُلٰى ﴾ ’’تو ان کے لیے بڑے درجے ہوں گے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے آراستہ بالا خانوں میں عالیشان ضیافتیں ہوں گی، کبھی نہ ختم ہونے والی لذتیں ، بہتی ہوئی نہریں ، دائمی خلود اور ایسی عظیم مسرتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ وَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ ثواب ﴿جَزٰٓؤُا مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾اس شخص کی جزا ہے جو شرک، کفر، فسق اور معصیت سے اپنے آپ کو پاک کرتا ہے۔ وہ یا تو ان مذکورہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی نہیں یا اگر اس سے کسی گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو وہ توبہ کر لیتا ہے، نیز وہ اپنے نفس کو پاک کرتا ہے، ایمان اور عمل صالح کے ذریعے اس کی نشوونما کرتا ہے۔ ’’تزکیہ‘‘ کے دو معنیٰ ہیں ۔(۱)صاف کرنا اور گندگی کو زائل کرنا ۔(۲) بھلائی کے حصول میں اضافہ کرنا۔ زکاۃ کو انھی دو امور کی بنا پر زکاۃ کہا جاتا ہے۔
20:76جَنَّـٰتُ عَدۡنٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ مَن تَزَكَّىٰ
بے شک جو شخص آئے گا اپنے رب کے پاس مجرم بن کر تو بلاشبہ اس کے لیے جہنم (تیار) ہے، نہ مرے گاوہ اس میں اور نہ جیے گا (74) اور جو شخص آئے گا اس کے پاس مومن ہو کر، جبکہ اس نے عمل کیے ہوں نیک تو یہ لوگ، ان کے لیے ہیں درجے بلند (75)(یعنی ) باغات ہمیشگی کے، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں اور یہی ہے جزا اس شخص کی جو پاک ہوا (76)
[74] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جو کوئی مجرم کی حیثیت سے اس کے حضور حاضر ہوتا ہے یعنی وہ ہر لحاظ سے مجرمانہ صفات سے متصف ہے جو کفر کو مستلزم ہے اور وہ مرتے دم تک اس پر جما رہتا ہے، اس کی سزا جہنم ہے، جس کا عذاب بہت ہی سخت، جس کی ہتھکڑیاں بہت بڑی، جس کی گہرائی بہت زیادہ اور جس کی گرمی اور سردی بہت المناک ہو گی اور جہنم میں اس کو ایسا عذاب دیا جائے گا جو دل و جگر کو پگھلا کر رکھ دے گا۔ جہنم کے عذاب کی ایسی شدت ہو گی کہ جس کو عذاب دیا جائے گا وہ اس عذاب میں مرے گا نہ جیے گا، نہ وہ مرے گا کہ اس کی جان چھوٹ جائے اور نہ وہ جیے گا کہ وہ اس زندگی سے لذت اٹھا سکے۔ اس کی زندگی قلبی، روحانی اور جسمانی عذاب سے لبریز ہو گی، جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی اس سے دور نہ ہو گا۔ وہ مدد کے لیے پکارے گا لیکن اس کی مدد نہ کی جائے گی اور وہ دعائیں کرے گا لیکن اس کی دعا قبول نہ ہو گی۔ ہاں ! جب وہ پانی مانگے گا تو اسے پینے کے لیے ایسا پانی دیا جائے گا جو تیل کی تلچھٹ کی مانند ہو گا جو چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔ جب وہ پکارے گا تو اس کو جواب دیا جائے گا۔ ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون:23؍108) ’’دفع ہو جاؤ اور اسی عذاب میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔‘‘
[76,75] اور جو کوئی اپنے رب پر ایمان رکھتے، اس کے رسولوں کی تصدیق کرتے اور اس کی کتابوں کی اتباع کرتے ہوئے، اس کے حضور حاضر ہوتا ہے ﴿قَدۡ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ ﴾ اور اس نے فرض اور مستحب اعمال بھی سرانجام دیے ہوتے ہیں ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰؔتُ الۡعُلٰى ﴾ ’’تو ان کے لیے بڑے درجے ہوں گے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے آراستہ بالا خانوں میں عالیشان ضیافتیں ہوں گی، کبھی نہ ختم ہونے والی لذتیں ، بہتی ہوئی نہریں ، دائمی خلود اور ایسی عظیم مسرتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ وَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ ثواب ﴿جَزٰٓؤُا مَنۡ تَزَؔكّٰى ﴾اس شخص کی جزا ہے جو شرک، کفر، فسق اور معصیت سے اپنے آپ کو پاک کرتا ہے۔ وہ یا تو ان مذکورہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی نہیں یا اگر اس سے کسی گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو وہ توبہ کر لیتا ہے، نیز وہ اپنے نفس کو پاک کرتا ہے، ایمان اور عمل صالح کے ذریعے اس کی نشوونما کرتا ہے۔ ’’تزکیہ‘‘ کے دو معنیٰ ہیں ۔(۱)صاف کرنا اور گندگی کو زائل کرنا ۔(۲) بھلائی کے حصول میں اضافہ کرنا۔ زکاۃ کو انھی دو امور کی بنا پر زکاۃ کہا جاتا ہے۔
20:77وَلَقَدۡ أَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَسۡرِ بِعِبَادِي فَٱضۡرِبۡ لَهُمۡ طَرِيقٗا فِي ٱلۡبَحۡرِ يَبَسٗا لَّا تَخَٰفُ دَرَكٗا وَلَا تَخۡشَىٰ
اور البتہ تحقیق وحی کی ہم نے موسی کی طرف یہ کہ رات کو نکال لے جا میرے بندے ، پھر بنا تو ان کے لیے راستہ سمندر میں خشک اس حال میں کہ نہ خوف ہو گا تجھے پکڑے جانے کا اور نہ ڈرے گا تو(ڈوبنے سے)(77) پس پیچھے لگا ان کے فرعون اپنے لشکروں سمیت تو ڈھانپ لیا انھیں سمندر سے جس چیز نے ڈھانپ لیا انھیں (78) اور گمراہ کیا فرعون نے اپنی قوم کواور نہ (سیدھی) راہ بتائی (79)
[79-77] جب موسیٰ u معجزات کے ذریعے سے فرعون اور اس کی قوم پر غالب آ گئے تو وہ مصر میں ٹھہر گئے اور فرعون اور قوم فرعون کو اسلام کی دعوت دینے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی اور اس کی تعذیب سے نجات دلانے میں کوشاں رہے۔ فرعون اپنی سرکشی اور روگردانی پر جما ہوا تھا اور بنی اسرائیل کے بارے میں اس کا معاملہ بہت سخت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے وہ آیات و معجزات دکھائے جن کا قرآن میں ذکر فرمایا اور بنی اسرائیل اعلانیہ اپنے ایمان کے اظہار پر قادر نہیں تھے انھوں نے اپنے گھروں کو مساجد بنا رکھا تھا اور نہایت صبر و استقامت کے ساتھ وہ فرعون کی تعذیب اور اذیتوں کا سامنا کر رہے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کو اس کے دشمن کی غلامی سے رہائی دلا کر ایک ایسی سرزمین میں آباد کرے جہاں وہ اعلانیہ اس کی عبادت کریں اور اس کے دین کو قائم کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی موسیٰ u کو وحی کے ذریعے سے حکم دیا کہ وہ خفیہ طور پر بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے منصوبے سے آگاہ کریں ، رات کے ابتدائی حصے میں مصر سے نکل کر راتوں رات بہت دور نکل جائیں اور خبردار کر دیا کہ فرعون اپنی قوم کے ساتھ ان کا تعاقب کرے گا، چنانچہ تمام بنی اسرائیل اپنے اہل و عیال سمیت، رات کے پہلے پہر، مصر سے نکل کھڑے ہوئے۔ جب صبح ہوئی تو مصریوں نے دیکھا کہ شہر میں (بنی اسرائیل میں سے) کوئی بلانے والا ہے نہ جواب دینے والا تو ان کا دشمن فرعون سخت غضبناک ہوا۔ اس نے تمام شہروں میں ہر کارے بھجوا دیے تاکہ وہ لوگوں کو اکٹھا کریں اور ان کو بنی اسرائیل کے تعاقب پر آمادہ کریں تاکہ وہ ان کو پکڑ کر ان پر اپنا غصہ نکال سکے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے امر کو نافذ کرنے پر غالب ہے۔ پس فرعونی لشکر جمع ہوگیا تو وہ اسے لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں روانہ ہوگیا۔ ﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍61) ’’جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو (حضرت) موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا لو ہم پکڑے گئے۔‘‘ ان پر خوف طاری ہو گیا، سمندر ان کے سامنے تھا اور فرعون (اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ) ان کے پیچھے تھا اور وہ غیظ و غضب سے لبریز تھا۔ حضرت موسیٰ u نہایت مطمئن اور پرسکون تھے اور انھیں اپنے رب کے وعدے پر پورا بھروسہ تھا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍62) ’’ہرگز نہیں ! میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھے ضرور کوئی راہ دکھائے گا۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی طرف وحی کی کہ وہ اپنا عصا سمندر پر ماریں ۔ انھوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا تو وہ پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور پانی بلند پہاڑ کی مانند راستوں کے دائیں بائیں کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام راستوں کو خشک کر دیا جن سے پانی دور ہٹ گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ وہ فرعون سے ڈریں نہ سمندر میں غرق ہونے سے ڈریں ۔ پس وہ سمندر میں بنے ہوئے راستوں پر چل پڑے۔ فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ساحل سمندر پر پہنچا تو وہ ان راستوں پر ان کے پیچھے سمندر میں گھس گیا۔ جب موسیٰ uکی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آ گئی اور فرعون اور اس کا لشکر پورے کا پورا سمندر میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا تو سمندر کی موجوں نے ان پر تھپیڑے مارنے شروع کر دیے (راستے کے دونوں طرف کی موجیں آپس میں مل گئیں ) اور سمندر نے ان کو ڈھانپ لیا اور تمام لشکر ڈوب گیا اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا، جبکہ بنی اسرائیل اپنے دشمنوں کو ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے دشمن کو ہلاک کر کے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔اور یہ کفر، ضلالت، بد راہی اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے عدم اعتناء کا انجام ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاَضَلَّ فِرۡعَوۡنُ قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور گمراہ کر دیا فرعون نے اپنی قوم کو۔‘‘ یعنی فرعون نے کفر کو مزین اور موسیٰu کی دعوت کا استخفاف کر کے اور اس کو برا کہہ کر اپنی قوم کو گمراہ کیا اور کبھی بھی ان کو راہ راست نہ دکھائی۔ وہ انھیں گمراہی اور بدراہی کے گھاٹ پر لے گیا، پھر انھیں عذاب اور ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیا۔
20:78فَأَتۡبَعَهُمۡ فِرۡعَوۡنُ بِجُنُودِهِۦ فَغَشِيَهُم مِّنَ ٱلۡيَمِّ مَا غَشِيَهُمۡ
اور البتہ تحقیق وحی کی ہم نے موسی کی طرف یہ کہ رات کو نکال لے جا میرے بندے ، پھر بنا تو ان کے لیے راستہ سمندر میں خشک اس حال میں کہ نہ خوف ہو گا تجھے پکڑے جانے کا اور نہ ڈرے گا تو(ڈوبنے سے)(77) پس پیچھے لگا ان کے فرعون اپنے لشکروں سمیت تو ڈھانپ لیا انھیں سمندر سے جس چیز نے ڈھانپ لیا انھیں (78) اور گمراہ کیا فرعون نے اپنی قوم کواور نہ (سیدھی) راہ بتائی (79)
[79-77] جب موسیٰ u معجزات کے ذریعے سے فرعون اور اس کی قوم پر غالب آ گئے تو وہ مصر میں ٹھہر گئے اور فرعون اور قوم فرعون کو اسلام کی دعوت دینے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی اور اس کی تعذیب سے نجات دلانے میں کوشاں رہے۔ فرعون اپنی سرکشی اور روگردانی پر جما ہوا تھا اور بنی اسرائیل کے بارے میں اس کا معاملہ بہت سخت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے وہ آیات و معجزات دکھائے جن کا قرآن میں ذکر فرمایا اور بنی اسرائیل اعلانیہ اپنے ایمان کے اظہار پر قادر نہیں تھے انھوں نے اپنے گھروں کو مساجد بنا رکھا تھا اور نہایت صبر و استقامت کے ساتھ وہ فرعون کی تعذیب اور اذیتوں کا سامنا کر رہے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کو اس کے دشمن کی غلامی سے رہائی دلا کر ایک ایسی سرزمین میں آباد کرے جہاں وہ اعلانیہ اس کی عبادت کریں اور اس کے دین کو قائم کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی موسیٰ u کو وحی کے ذریعے سے حکم دیا کہ وہ خفیہ طور پر بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے منصوبے سے آگاہ کریں ، رات کے ابتدائی حصے میں مصر سے نکل کر راتوں رات بہت دور نکل جائیں اور خبردار کر دیا کہ فرعون اپنی قوم کے ساتھ ان کا تعاقب کرے گا، چنانچہ تمام بنی اسرائیل اپنے اہل و عیال سمیت، رات کے پہلے پہر، مصر سے نکل کھڑے ہوئے۔ جب صبح ہوئی تو مصریوں نے دیکھا کہ شہر میں (بنی اسرائیل میں سے) کوئی بلانے والا ہے نہ جواب دینے والا تو ان کا دشمن فرعون سخت غضبناک ہوا۔ اس نے تمام شہروں میں ہر کارے بھجوا دیے تاکہ وہ لوگوں کو اکٹھا کریں اور ان کو بنی اسرائیل کے تعاقب پر آمادہ کریں تاکہ وہ ان کو پکڑ کر ان پر اپنا غصہ نکال سکے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے امر کو نافذ کرنے پر غالب ہے۔ پس فرعونی لشکر جمع ہوگیا تو وہ اسے لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں روانہ ہوگیا۔ ﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍61) ’’جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو (حضرت) موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا لو ہم پکڑے گئے۔‘‘ ان پر خوف طاری ہو گیا، سمندر ان کے سامنے تھا اور فرعون (اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ) ان کے پیچھے تھا اور وہ غیظ و غضب سے لبریز تھا۔ حضرت موسیٰ u نہایت مطمئن اور پرسکون تھے اور انھیں اپنے رب کے وعدے پر پورا بھروسہ تھا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍62) ’’ہرگز نہیں ! میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھے ضرور کوئی راہ دکھائے گا۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی طرف وحی کی کہ وہ اپنا عصا سمندر پر ماریں ۔ انھوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا تو وہ پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور پانی بلند پہاڑ کی مانند راستوں کے دائیں بائیں کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام راستوں کو خشک کر دیا جن سے پانی دور ہٹ گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ وہ فرعون سے ڈریں نہ سمندر میں غرق ہونے سے ڈریں ۔ پس وہ سمندر میں بنے ہوئے راستوں پر چل پڑے۔ فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ساحل سمندر پر پہنچا تو وہ ان راستوں پر ان کے پیچھے سمندر میں گھس گیا۔ جب موسیٰ uکی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آ گئی اور فرعون اور اس کا لشکر پورے کا پورا سمندر میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا تو سمندر کی موجوں نے ان پر تھپیڑے مارنے شروع کر دیے (راستے کے دونوں طرف کی موجیں آپس میں مل گئیں ) اور سمندر نے ان کو ڈھانپ لیا اور تمام لشکر ڈوب گیا اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا، جبکہ بنی اسرائیل اپنے دشمنوں کو ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے دشمن کو ہلاک کر کے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔اور یہ کفر، ضلالت، بد راہی اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے عدم اعتناء کا انجام ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاَضَلَّ فِرۡعَوۡنُ قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور گمراہ کر دیا فرعون نے اپنی قوم کو۔‘‘ یعنی فرعون نے کفر کو مزین اور موسیٰu کی دعوت کا استخفاف کر کے اور اس کو برا کہہ کر اپنی قوم کو گمراہ کیا اور کبھی بھی ان کو راہ راست نہ دکھائی۔ وہ انھیں گمراہی اور بدراہی کے گھاٹ پر لے گیا، پھر انھیں عذاب اور ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیا۔
20:79وَأَضَلَّ فِرۡعَوۡنُ قَوۡمَهُۥ وَمَا هَدَىٰ
اور البتہ تحقیق وحی کی ہم نے موسی کی طرف یہ کہ رات کو نکال لے جا میرے بندے ، پھر بنا تو ان کے لیے راستہ سمندر میں خشک اس حال میں کہ نہ خوف ہو گا تجھے پکڑے جانے کا اور نہ ڈرے گا تو(ڈوبنے سے)(77) پس پیچھے لگا ان کے فرعون اپنے لشکروں سمیت تو ڈھانپ لیا انھیں سمندر سے جس چیز نے ڈھانپ لیا انھیں (78) اور گمراہ کیا فرعون نے اپنی قوم کواور نہ (سیدھی) راہ بتائی (79)
[79-77] جب موسیٰ u معجزات کے ذریعے سے فرعون اور اس کی قوم پر غالب آ گئے تو وہ مصر میں ٹھہر گئے اور فرعون اور قوم فرعون کو اسلام کی دعوت دینے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی اور اس کی تعذیب سے نجات دلانے میں کوشاں رہے۔ فرعون اپنی سرکشی اور روگردانی پر جما ہوا تھا اور بنی اسرائیل کے بارے میں اس کا معاملہ بہت سخت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے وہ آیات و معجزات دکھائے جن کا قرآن میں ذکر فرمایا اور بنی اسرائیل اعلانیہ اپنے ایمان کے اظہار پر قادر نہیں تھے انھوں نے اپنے گھروں کو مساجد بنا رکھا تھا اور نہایت صبر و استقامت کے ساتھ وہ فرعون کی تعذیب اور اذیتوں کا سامنا کر رہے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کو اس کے دشمن کی غلامی سے رہائی دلا کر ایک ایسی سرزمین میں آباد کرے جہاں وہ اعلانیہ اس کی عبادت کریں اور اس کے دین کو قائم کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی موسیٰ u کو وحی کے ذریعے سے حکم دیا کہ وہ خفیہ طور پر بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے منصوبے سے آگاہ کریں ، رات کے ابتدائی حصے میں مصر سے نکل کر راتوں رات بہت دور نکل جائیں اور خبردار کر دیا کہ فرعون اپنی قوم کے ساتھ ان کا تعاقب کرے گا، چنانچہ تمام بنی اسرائیل اپنے اہل و عیال سمیت، رات کے پہلے پہر، مصر سے نکل کھڑے ہوئے۔ جب صبح ہوئی تو مصریوں نے دیکھا کہ شہر میں (بنی اسرائیل میں سے) کوئی بلانے والا ہے نہ جواب دینے والا تو ان کا دشمن فرعون سخت غضبناک ہوا۔ اس نے تمام شہروں میں ہر کارے بھجوا دیے تاکہ وہ لوگوں کو اکٹھا کریں اور ان کو بنی اسرائیل کے تعاقب پر آمادہ کریں تاکہ وہ ان کو پکڑ کر ان پر اپنا غصہ نکال سکے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے امر کو نافذ کرنے پر غالب ہے۔ پس فرعونی لشکر جمع ہوگیا تو وہ اسے لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں روانہ ہوگیا۔ ﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍61) ’’جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو (حضرت) موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا لو ہم پکڑے گئے۔‘‘ ان پر خوف طاری ہو گیا، سمندر ان کے سامنے تھا اور فرعون (اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ) ان کے پیچھے تھا اور وہ غیظ و غضب سے لبریز تھا۔ حضرت موسیٰ u نہایت مطمئن اور پرسکون تھے اور انھیں اپنے رب کے وعدے پر پورا بھروسہ تھا، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍62) ’’ہرگز نہیں ! میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھے ضرور کوئی راہ دکھائے گا۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کی طرف وحی کی کہ وہ اپنا عصا سمندر پر ماریں ۔ انھوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا تو وہ پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور پانی بلند پہاڑ کی مانند راستوں کے دائیں بائیں کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام راستوں کو خشک کر دیا جن سے پانی دور ہٹ گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ وہ فرعون سے ڈریں نہ سمندر میں غرق ہونے سے ڈریں ۔ پس وہ سمندر میں بنے ہوئے راستوں پر چل پڑے۔ فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ساحل سمندر پر پہنچا تو وہ ان راستوں پر ان کے پیچھے سمندر میں گھس گیا۔ جب موسیٰ uکی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آ گئی اور فرعون اور اس کا لشکر پورے کا پورا سمندر میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا تو سمندر کی موجوں نے ان پر تھپیڑے مارنے شروع کر دیے (راستے کے دونوں طرف کی موجیں آپس میں مل گئیں ) اور سمندر نے ان کو ڈھانپ لیا اور تمام لشکر ڈوب گیا اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا، جبکہ بنی اسرائیل اپنے دشمنوں کو ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے دشمن کو ہلاک کر کے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔اور یہ کفر، ضلالت، بد راہی اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے عدم اعتناء کا انجام ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَاَضَلَّ فِرۡعَوۡنُ قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور گمراہ کر دیا فرعون نے اپنی قوم کو۔‘‘ یعنی فرعون نے کفر کو مزین اور موسیٰu کی دعوت کا استخفاف کر کے اور اس کو برا کہہ کر اپنی قوم کو گمراہ کیا اور کبھی بھی ان کو راہ راست نہ دکھائی۔ وہ انھیں گمراہی اور بدراہی کے گھاٹ پر لے گیا، پھر انھیں عذاب اور ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیا۔
20:80يَٰبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ قَدۡ أَنجَيۡنَٰكُم مِّنۡ عَدُوِّكُمۡ وَوَٰعَدۡنَٰكُمۡ جَانِبَ ٱلطُّورِ ٱلۡأَيۡمَنَ وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَنَّ وَٱلسَّلۡوَىٰ
اے بنی اسرائیل! تحقیق نجات دی ہم نے تمھیں تمھارے دشمن سےاور وعدہ کیا ہم نے تم سے طور کی دائیں جانب کااور نازل کیاہم نے تم پر من اور سلوی (80) تم کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہ سرکشی کرو تم اس میں کہ (اس کی وجہ سے) اترے تم پر میرا غضب اور وہ شخص کہ اترا اس پر میرا غضب تو یقینا وہ تباہ ہو گیا (81) اور بلاشبہ میں البتہ بہت بخشنے والا ہوں اس شخص کو جس نے توبہ کی اور ایمان لایا عمل کیا نیک، پھر وہ راہ راست پر رہا (82)
[81,80] اللہ تبارک و تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا احسان عظیم یاد دلاتا ہے کہ اس نے ان کے دشمن کو ہلاک کیا اور کوہ طور کے دائیں جانب وعدہ کیا کہ وہ ان پر کتاب نازل کرے گا جس میں جلیل القدر احکام اور عالیشان خبریں ہیں ۔ اس طرح دنیاوی نعمت کی تکمیل کے بعد دینی نعمت کی تکمیل ہوئی۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ ان کو اپنا یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے بے آب و گیاہ بیابان میں ان پر من و سلویٰ نازل کیا اور ان کو بافراط رزق سے نوازا جو انھیں بلامشقت حاصل ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں تمھیں عطا کی ہیں ، ان پر اس کا شکر ادا کرو۔ ﴿ وَلَا تَطۡغَوۡا فِيۡهِ ﴾ یعنی اس کے عطا کردہ رزق میں سرکشی نہ کرو کہ اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال کرنے لگو یا اس کی نعمت پر اترانے لگو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم پر میرا غضب نازل ہو گا یعنی میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا اور تمھیں عذاب میں مبتلا کر دوں گا۔ ﴿ وَمَنۡ يَّحۡلِلۡ عَلَيۡهِ غَضَبِيۡ فَقَدۡ هَوٰى ﴾ یعنی جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک اور خائب و خاسر ہوا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور احسان سے محروم ہو گیا اور اس کی ناراضی اور خسارہ اس کے حصے میں آیا۔
[82] بایں ہمہ بندے نے خواہ کتنا ہ بڑا گناہ کیوں نہ کیا ہو، اس کے لیے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنِّيۡ لَغَفَّارٌ﴾ یعنی جو شخص کفر، بدعت اور فسق و فجور سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتا ہے اور قلب، بدن اور زبان کے ذریعے سے نیک عمل کرتا ہے تو میں بہت زیادہ بخشنے والا اور بے پایاں رحمت کا مالک ہوں ۔ ﴿ ثُمَّ اهۡتَدٰؔى ﴾ یعنی پھر وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوا،رسول کریمﷺ کی اتباع اور دین قیم کی پیروی کی۔ پس یہ وہ شخص ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ وہ اس کے گزشتہ گناہوں اور ان پر اس کے اصرار کو معاف کر دے گا کیونکہ وہ بخشش اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے بلکہ تمام اسباب انھی اشیاء پر منحصر ہیں کیونکہ توبہ گزشتہ تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے، ایمان اور اسلام گزشتہ تمام بداعمالیوں کو منہدم کر دیتے ہیں اور عمل صالح یعنی نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ۔ راہ ہدایت کی تمام اقسام پر گامزن رہنا ، مثلاً: علم حاصل کرنا، کسی آیت یا حدیث کا معنیٰ سمجھنے کے لیے ان میں تدبر کرنا، دین حق کی طرف دعوت دینا، بدعت، کفر و ضلالت کا رد کرنا، جہاد اور ہجرت وغیرہ اور ہدایت کی دیگر جزئیات۔ یہ سب گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اور منزل مطلوب کے حصول میں مدد دیتی ہیں ۔
20:81كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ وَلَا تَطۡغَوۡاْ فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيۡكُمۡ غَضَبِيۖ وَمَن يَحۡلِلۡ عَلَيۡهِ غَضَبِي فَقَدۡ هَوَىٰ
اے بنی اسرائیل! تحقیق نجات دی ہم نے تمھیں تمھارے دشمن سےاور وعدہ کیا ہم نے تم سے طور کی دائیں جانب کااور نازل کیاہم نے تم پر من اور سلوی (80) تم کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہ سرکشی کرو تم اس میں کہ (اس کی وجہ سے) اترے تم پر میرا غضب اور وہ شخص کہ اترا اس پر میرا غضب تو یقینا وہ تباہ ہو گیا (81) اور بلاشبہ میں البتہ بہت بخشنے والا ہوں اس شخص کو جس نے توبہ کی اور ایمان لایا عمل کیا نیک، پھر وہ راہ راست پر رہا (82)
[81,80] اللہ تبارک و تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا احسان عظیم یاد دلاتا ہے کہ اس نے ان کے دشمن کو ہلاک کیا اور کوہ طور کے دائیں جانب وعدہ کیا کہ وہ ان پر کتاب نازل کرے گا جس میں جلیل القدر احکام اور عالیشان خبریں ہیں ۔ اس طرح دنیاوی نعمت کی تکمیل کے بعد دینی نعمت کی تکمیل ہوئی۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ ان کو اپنا یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے بے آب و گیاہ بیابان میں ان پر من و سلویٰ نازل کیا اور ان کو بافراط رزق سے نوازا جو انھیں بلامشقت حاصل ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں تمھیں عطا کی ہیں ، ان پر اس کا شکر ادا کرو۔ ﴿ وَلَا تَطۡغَوۡا فِيۡهِ ﴾ یعنی اس کے عطا کردہ رزق میں سرکشی نہ کرو کہ اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال کرنے لگو یا اس کی نعمت پر اترانے لگو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم پر میرا غضب نازل ہو گا یعنی میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا اور تمھیں عذاب میں مبتلا کر دوں گا۔ ﴿ وَمَنۡ يَّحۡلِلۡ عَلَيۡهِ غَضَبِيۡ فَقَدۡ هَوٰى ﴾ یعنی جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک اور خائب و خاسر ہوا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور احسان سے محروم ہو گیا اور اس کی ناراضی اور خسارہ اس کے حصے میں آیا۔
[82] بایں ہمہ بندے نے خواہ کتنا ہ بڑا گناہ کیوں نہ کیا ہو، اس کے لیے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنِّيۡ لَغَفَّارٌ﴾ یعنی جو شخص کفر، بدعت اور فسق و فجور سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتا ہے اور قلب، بدن اور زبان کے ذریعے سے نیک عمل کرتا ہے تو میں بہت زیادہ بخشنے والا اور بے پایاں رحمت کا مالک ہوں ۔ ﴿ ثُمَّ اهۡتَدٰؔى ﴾ یعنی پھر وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوا،رسول کریمﷺ کی اتباع اور دین قیم کی پیروی کی۔ پس یہ وہ شخص ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ وہ اس کے گزشتہ گناہوں اور ان پر اس کے اصرار کو معاف کر دے گا کیونکہ وہ بخشش اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے بلکہ تمام اسباب انھی اشیاء پر منحصر ہیں کیونکہ توبہ گزشتہ تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے، ایمان اور اسلام گزشتہ تمام بداعمالیوں کو منہدم کر دیتے ہیں اور عمل صالح یعنی نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ۔ راہ ہدایت کی تمام اقسام پر گامزن رہنا ، مثلاً: علم حاصل کرنا، کسی آیت یا حدیث کا معنیٰ سمجھنے کے لیے ان میں تدبر کرنا، دین حق کی طرف دعوت دینا، بدعت، کفر و ضلالت کا رد کرنا، جہاد اور ہجرت وغیرہ اور ہدایت کی دیگر جزئیات۔ یہ سب گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اور منزل مطلوب کے حصول میں مدد دیتی ہیں ۔
20:82وَإِنِّي لَغَفَّارٞ لِّمَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا ثُمَّ ٱهۡتَدَىٰ
اے بنی اسرائیل! تحقیق نجات دی ہم نے تمھیں تمھارے دشمن سےاور وعدہ کیا ہم نے تم سے طور کی دائیں جانب کااور نازل کیاہم نے تم پر من اور سلوی (80) تم کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہ سرکشی کرو تم اس میں کہ (اس کی وجہ سے) اترے تم پر میرا غضب اور وہ شخص کہ اترا اس پر میرا غضب تو یقینا وہ تباہ ہو گیا (81) اور بلاشبہ میں البتہ بہت بخشنے والا ہوں اس شخص کو جس نے توبہ کی اور ایمان لایا عمل کیا نیک، پھر وہ راہ راست پر رہا (82)
[81,80] اللہ تبارک و تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا احسان عظیم یاد دلاتا ہے کہ اس نے ان کے دشمن کو ہلاک کیا اور کوہ طور کے دائیں جانب وعدہ کیا کہ وہ ان پر کتاب نازل کرے گا جس میں جلیل القدر احکام اور عالیشان خبریں ہیں ۔ اس طرح دنیاوی نعمت کی تکمیل کے بعد دینی نعمت کی تکمیل ہوئی۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ ان کو اپنا یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے بے آب و گیاہ بیابان میں ان پر من و سلویٰ نازل کیا اور ان کو بافراط رزق سے نوازا جو انھیں بلامشقت حاصل ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں تمھیں عطا کی ہیں ، ان پر اس کا شکر ادا کرو۔ ﴿ وَلَا تَطۡغَوۡا فِيۡهِ ﴾ یعنی اس کے عطا کردہ رزق میں سرکشی نہ کرو کہ اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال کرنے لگو یا اس کی نعمت پر اترانے لگو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم پر میرا غضب نازل ہو گا یعنی میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا اور تمھیں عذاب میں مبتلا کر دوں گا۔ ﴿ وَمَنۡ يَّحۡلِلۡ عَلَيۡهِ غَضَبِيۡ فَقَدۡ هَوٰى ﴾ یعنی جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک اور خائب و خاسر ہوا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور احسان سے محروم ہو گیا اور اس کی ناراضی اور خسارہ اس کے حصے میں آیا۔
[82] بایں ہمہ بندے نے خواہ کتنا ہ بڑا گناہ کیوں نہ کیا ہو، اس کے لیے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنِّيۡ لَغَفَّارٌ﴾ یعنی جو شخص کفر، بدعت اور فسق و فجور سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتا ہے اور قلب، بدن اور زبان کے ذریعے سے نیک عمل کرتا ہے تو میں بہت زیادہ بخشنے والا اور بے پایاں رحمت کا مالک ہوں ۔ ﴿ ثُمَّ اهۡتَدٰؔى ﴾ یعنی پھر وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوا،رسول کریمﷺ کی اتباع اور دین قیم کی پیروی کی۔ پس یہ وہ شخص ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ وہ اس کے گزشتہ گناہوں اور ان پر اس کے اصرار کو معاف کر دے گا کیونکہ وہ بخشش اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے بلکہ تمام اسباب انھی اشیاء پر منحصر ہیں کیونکہ توبہ گزشتہ تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے، ایمان اور اسلام گزشتہ تمام بداعمالیوں کو منہدم کر دیتے ہیں اور عمل صالح یعنی نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ۔ راہ ہدایت کی تمام اقسام پر گامزن رہنا ، مثلاً: علم حاصل کرنا، کسی آیت یا حدیث کا معنیٰ سمجھنے کے لیے ان میں تدبر کرنا، دین حق کی طرف دعوت دینا، بدعت، کفر و ضلالت کا رد کرنا، جہاد اور ہجرت وغیرہ اور ہدایت کی دیگر جزئیات۔ یہ سب گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اور منزل مطلوب کے حصول میں مدد دیتی ہیں ۔
20:83۞وَمَآ أَعۡجَلَكَ عَن قَوۡمِكَ يَٰمُوسَىٰ
اور کون سی چیز جلدی لے آئی تجھے، تیری قوم سے اے موسیٰ؟ (83) اس نے کہا، وہ لوگ میرے پیچھے (آرہے) ہیں اور میں نے جلدی کی تیری طرف، اے میرے رب! تاکہ تو راضی ہو جائے (84) اللہ نے کہا، پس بے شک ہم نے آزمایا ہے تیری قوم کو تیرے بعداور گمراہ کر دیا انھیں سامری نے (85) پس لوٹا موسی اپنی قوم کی طرف غضب ناک غمگین، اس نے کہا، اے میری قوم! کیا نہیں وعدہ کیا تھا تم سے تمھارے رب نے وعدہ اچھا؟ کیا پس لمبا ہو گیا تھا تم پر عہد یا چاہا تم نے یہ کہ اترے تم پر غضب تمھارے رب کی طرف سے؟ پس خلاف ورزی کی تم نے میرے وعدے کی (86)
[83] اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے لیے جگہ اور وقت مقرر کر دیا تاکہ ان پر تیس دن میں تورات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ u اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَعۡجَلَكَ عَنۡ قَوۡمِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا؟ تو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا ۔
[84] موسیٰ u نے عرض کیا: ﴿ هُمۡ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِيۡ ﴾ وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر ہونے پر آمادہ کیا وہ ہے تیرے قرب کی طلب، تیری رضا کے حصول میں جلدی اور تیرا شوق۔
[85] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَكَ مِنۢۡ بَعۡدِكَ ﴾ یعنی تیرے بعد تیری قوم کو بچھڑے کی پوجا کے ذریعے سے ہم نے آزمایا۔ پس انھوں نے صبر نہیں کیا اور جب ان کا امتحان ہوا تو انھوں نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ﴿وَاَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ ﴾ ’’اور سامری نے ان کو گمراہ کر دیا‘‘ ﴿فَاَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلًا جَسَدًا ﴾ وہ ان کے لیے ایک بچھڑے کا بت بنا لایا ﴿لَّهٗ خُوَارٌؔ فَقَالُوۡا ﴾ اس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ کہنے لگے۔ ﴿ هٰؔذَاۤ اِلٰهُكُمۡ وَاِلٰهُ مُوۡسٰؔى﴾ ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے‘‘ جسے موسیٰ بھول گیا ہے۔ اسی طرح بنی اسرائیل فتنے میں مبتلا ہو گئے اور انھوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا حضرت ہارونu نے ان کو روکا مگر وہ بچھڑے کی عبادت سے باز نہ آئے۔
[86] جب موسیٰ u اپنی قوم میں واپس آئے تو سخت ناراض ہوئے وہ تاسف اور غیظ و غضب سے لبریز تھے انھوں نے اس فعل پر زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ اَلَمۡ يَعِدۡكُمۡ رَبُّكُمۡ وَعۡدًا حَسَنًا ﴾ ’’اے میری قوم! کیا تم سے تمھارے رب نے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟‘‘ اور یہ تورات نازل کرنے کا وعدہ تھا۔ ﴿اَفَطَالَ عَلَيۡكُمُ الۡعَهۡدُ ﴾ کیا وعدہ پورا ہونے میں دیر لگ گئی تھی اور میری عدم موجودگی طویل ہو گئی تھی، حالانکہ یہ تو بہت ہی تھوڑی سی مدت تھی۔ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے اور اس میں ایک دوسرے معنی کا احتمال بھی ہے، وہ یہ کہ کیا عہد نبوت اور رسالت کو زیادہ عرصہ گزر گیا ہے؟ جس کی وجہ سے تمھارے پاس علم باقی نہ رہا، علم کے تمام آثار مٹ گئے اور تمھارے پاس کوئی خبر نہ پہنچی اور طول عہد کی بنا پر آثار نبوت محو ہو گئے تھے اور اس طرح تم نے آثار رسالت اور علم کے معدوم ہونے اور غلبہء جہالت کی وجہ سے غیر اللہ کی عبادت شروع کر دی…؟ مگر معاملہ یوں نہیں بلکہ نبوت تمھارے درمیان موجود اور علم قائم ہے، اس لیے تمھارا یہ عذر قابل قبول نہیں ۔ یا اس فعل کے ذریعے سے تمھارا ارادہ یہ تھا کہ تم پر تمھارے رب کا غضب نازل ہو، یعنی تم نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ ﴿ فَاَخۡلَفۡتُمۡ مَّوۡعِدِيۡ﴾ ’’پس تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا۔‘‘ جب میں نے تمھیں استقامت کا حکم دیا اور ہارونu کو تمھارے بارے میں وصیت کی تو تم نے غائب کا انتظار کیا نہ موجود کا احترام کیا۔
20:84قَالَ هُمۡ أُوْلَآءِ عَلَىٰٓ أَثَرِي وَعَجِلۡتُ إِلَيۡكَ رَبِّ لِتَرۡضَىٰ
اور کون سی چیز جلدی لے آئی تجھے، تیری قوم سے اے موسیٰ؟ (83) اس نے کہا، وہ لوگ میرے پیچھے (آرہے) ہیں اور میں نے جلدی کی تیری طرف، اے میرے رب! تاکہ تو راضی ہو جائے (84) اللہ نے کہا، پس بے شک ہم نے آزمایا ہے تیری قوم کو تیرے بعداور گمراہ کر دیا انھیں سامری نے (85) پس لوٹا موسی اپنی قوم کی طرف غضب ناک غمگین، اس نے کہا، اے میری قوم! کیا نہیں وعدہ کیا تھا تم سے تمھارے رب نے وعدہ اچھا؟ کیا پس لمبا ہو گیا تھا تم پر عہد یا چاہا تم نے یہ کہ اترے تم پر غضب تمھارے رب کی طرف سے؟ پس خلاف ورزی کی تم نے میرے وعدے کی (86)
[83] اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے لیے جگہ اور وقت مقرر کر دیا تاکہ ان پر تیس دن میں تورات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ u اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَعۡجَلَكَ عَنۡ قَوۡمِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا؟ تو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا ۔
[84] موسیٰ u نے عرض کیا: ﴿ هُمۡ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِيۡ ﴾ وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر ہونے پر آمادہ کیا وہ ہے تیرے قرب کی طلب، تیری رضا کے حصول میں جلدی اور تیرا شوق۔
[85] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَكَ مِنۢۡ بَعۡدِكَ ﴾ یعنی تیرے بعد تیری قوم کو بچھڑے کی پوجا کے ذریعے سے ہم نے آزمایا۔ پس انھوں نے صبر نہیں کیا اور جب ان کا امتحان ہوا تو انھوں نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ﴿وَاَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ ﴾ ’’اور سامری نے ان کو گمراہ کر دیا‘‘ ﴿فَاَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلًا جَسَدًا ﴾ وہ ان کے لیے ایک بچھڑے کا بت بنا لایا ﴿لَّهٗ خُوَارٌؔ فَقَالُوۡا ﴾ اس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ کہنے لگے۔ ﴿ هٰؔذَاۤ اِلٰهُكُمۡ وَاِلٰهُ مُوۡسٰؔى﴾ ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے‘‘ جسے موسیٰ بھول گیا ہے۔ اسی طرح بنی اسرائیل فتنے میں مبتلا ہو گئے اور انھوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا حضرت ہارونu نے ان کو روکا مگر وہ بچھڑے کی عبادت سے باز نہ آئے۔
[86] جب موسیٰ u اپنی قوم میں واپس آئے تو سخت ناراض ہوئے وہ تاسف اور غیظ و غضب سے لبریز تھے انھوں نے اس فعل پر زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ اَلَمۡ يَعِدۡكُمۡ رَبُّكُمۡ وَعۡدًا حَسَنًا ﴾ ’’اے میری قوم! کیا تم سے تمھارے رب نے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟‘‘ اور یہ تورات نازل کرنے کا وعدہ تھا۔ ﴿اَفَطَالَ عَلَيۡكُمُ الۡعَهۡدُ ﴾ کیا وعدہ پورا ہونے میں دیر لگ گئی تھی اور میری عدم موجودگی طویل ہو گئی تھی، حالانکہ یہ تو بہت ہی تھوڑی سی مدت تھی۔ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے اور اس میں ایک دوسرے معنی کا احتمال بھی ہے، وہ یہ کہ کیا عہد نبوت اور رسالت کو زیادہ عرصہ گزر گیا ہے؟ جس کی وجہ سے تمھارے پاس علم باقی نہ رہا، علم کے تمام آثار مٹ گئے اور تمھارے پاس کوئی خبر نہ پہنچی اور طول عہد کی بنا پر آثار نبوت محو ہو گئے تھے اور اس طرح تم نے آثار رسالت اور علم کے معدوم ہونے اور غلبہء جہالت کی وجہ سے غیر اللہ کی عبادت شروع کر دی…؟ مگر معاملہ یوں نہیں بلکہ نبوت تمھارے درمیان موجود اور علم قائم ہے، اس لیے تمھارا یہ عذر قابل قبول نہیں ۔ یا اس فعل کے ذریعے سے تمھارا ارادہ یہ تھا کہ تم پر تمھارے رب کا غضب نازل ہو، یعنی تم نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ ﴿ فَاَخۡلَفۡتُمۡ مَّوۡعِدِيۡ﴾ ’’پس تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا۔‘‘ جب میں نے تمھیں استقامت کا حکم دیا اور ہارونu کو تمھارے بارے میں وصیت کی تو تم نے غائب کا انتظار کیا نہ موجود کا احترام کیا۔
20:85قَالَ فَإِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَكَ مِنۢ بَعۡدِكَ وَأَضَلَّهُمُ ٱلسَّامِرِيُّ
اور کون سی چیز جلدی لے آئی تجھے، تیری قوم سے اے موسیٰ؟ (83) اس نے کہا، وہ لوگ میرے پیچھے (آرہے) ہیں اور میں نے جلدی کی تیری طرف، اے میرے رب! تاکہ تو راضی ہو جائے (84) اللہ نے کہا، پس بے شک ہم نے آزمایا ہے تیری قوم کو تیرے بعداور گمراہ کر دیا انھیں سامری نے (85) پس لوٹا موسی اپنی قوم کی طرف غضب ناک غمگین، اس نے کہا، اے میری قوم! کیا نہیں وعدہ کیا تھا تم سے تمھارے رب نے وعدہ اچھا؟ کیا پس لمبا ہو گیا تھا تم پر عہد یا چاہا تم نے یہ کہ اترے تم پر غضب تمھارے رب کی طرف سے؟ پس خلاف ورزی کی تم نے میرے وعدے کی (86)
[83] اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے لیے جگہ اور وقت مقرر کر دیا تاکہ ان پر تیس دن میں تورات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ u اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَعۡجَلَكَ عَنۡ قَوۡمِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا؟ تو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا ۔
[84] موسیٰ u نے عرض کیا: ﴿ هُمۡ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِيۡ ﴾ وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر ہونے پر آمادہ کیا وہ ہے تیرے قرب کی طلب، تیری رضا کے حصول میں جلدی اور تیرا شوق۔
[85] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَكَ مِنۢۡ بَعۡدِكَ ﴾ یعنی تیرے بعد تیری قوم کو بچھڑے کی پوجا کے ذریعے سے ہم نے آزمایا۔ پس انھوں نے صبر نہیں کیا اور جب ان کا امتحان ہوا تو انھوں نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ﴿وَاَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ ﴾ ’’اور سامری نے ان کو گمراہ کر دیا‘‘ ﴿فَاَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلًا جَسَدًا ﴾ وہ ان کے لیے ایک بچھڑے کا بت بنا لایا ﴿لَّهٗ خُوَارٌؔ فَقَالُوۡا ﴾ اس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ کہنے لگے۔ ﴿ هٰؔذَاۤ اِلٰهُكُمۡ وَاِلٰهُ مُوۡسٰؔى﴾ ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے‘‘ جسے موسیٰ بھول گیا ہے۔ اسی طرح بنی اسرائیل فتنے میں مبتلا ہو گئے اور انھوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا حضرت ہارونu نے ان کو روکا مگر وہ بچھڑے کی عبادت سے باز نہ آئے۔
[86] جب موسیٰ u اپنی قوم میں واپس آئے تو سخت ناراض ہوئے وہ تاسف اور غیظ و غضب سے لبریز تھے انھوں نے اس فعل پر زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ اَلَمۡ يَعِدۡكُمۡ رَبُّكُمۡ وَعۡدًا حَسَنًا ﴾ ’’اے میری قوم! کیا تم سے تمھارے رب نے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟‘‘ اور یہ تورات نازل کرنے کا وعدہ تھا۔ ﴿اَفَطَالَ عَلَيۡكُمُ الۡعَهۡدُ ﴾ کیا وعدہ پورا ہونے میں دیر لگ گئی تھی اور میری عدم موجودگی طویل ہو گئی تھی، حالانکہ یہ تو بہت ہی تھوڑی سی مدت تھی۔ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے اور اس میں ایک دوسرے معنی کا احتمال بھی ہے، وہ یہ کہ کیا عہد نبوت اور رسالت کو زیادہ عرصہ گزر گیا ہے؟ جس کی وجہ سے تمھارے پاس علم باقی نہ رہا، علم کے تمام آثار مٹ گئے اور تمھارے پاس کوئی خبر نہ پہنچی اور طول عہد کی بنا پر آثار نبوت محو ہو گئے تھے اور اس طرح تم نے آثار رسالت اور علم کے معدوم ہونے اور غلبہء جہالت کی وجہ سے غیر اللہ کی عبادت شروع کر دی…؟ مگر معاملہ یوں نہیں بلکہ نبوت تمھارے درمیان موجود اور علم قائم ہے، اس لیے تمھارا یہ عذر قابل قبول نہیں ۔ یا اس فعل کے ذریعے سے تمھارا ارادہ یہ تھا کہ تم پر تمھارے رب کا غضب نازل ہو، یعنی تم نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ ﴿ فَاَخۡلَفۡتُمۡ مَّوۡعِدِيۡ﴾ ’’پس تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا۔‘‘ جب میں نے تمھیں استقامت کا حکم دیا اور ہارونu کو تمھارے بارے میں وصیت کی تو تم نے غائب کا انتظار کیا نہ موجود کا احترام کیا۔
20:86فَرَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ غَضۡبَٰنَ أَسِفٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ أَلَمۡ يَعِدۡكُمۡ رَبُّكُمۡ وَعۡدًا حَسَنًاۚ أَفَطَالَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡعَهۡدُ أَمۡ أَرَدتُّمۡ أَن يَحِلَّ عَلَيۡكُمۡ غَضَبٞ مِّن رَّبِّكُمۡ فَأَخۡلَفۡتُم مَّوۡعِدِي
اور کون سی چیز جلدی لے آئی تجھے، تیری قوم سے اے موسیٰ؟ (83) اس نے کہا، وہ لوگ میرے پیچھے (آرہے) ہیں اور میں نے جلدی کی تیری طرف، اے میرے رب! تاکہ تو راضی ہو جائے (84) اللہ نے کہا، پس بے شک ہم نے آزمایا ہے تیری قوم کو تیرے بعداور گمراہ کر دیا انھیں سامری نے (85) پس لوٹا موسی اپنی قوم کی طرف غضب ناک غمگین، اس نے کہا، اے میری قوم! کیا نہیں وعدہ کیا تھا تم سے تمھارے رب نے وعدہ اچھا؟ کیا پس لمبا ہو گیا تھا تم پر عہد یا چاہا تم نے یہ کہ اترے تم پر غضب تمھارے رب کی طرف سے؟ پس خلاف ورزی کی تم نے میرے وعدے کی (86)
[83] اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے لیے جگہ اور وقت مقرر کر دیا تاکہ ان پر تیس دن میں تورات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ u اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَعۡجَلَكَ عَنۡ قَوۡمِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا؟ تو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا ۔
[84] موسیٰ u نے عرض کیا: ﴿ هُمۡ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِيۡ ﴾ وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر ہونے پر آمادہ کیا وہ ہے تیرے قرب کی طلب، تیری رضا کے حصول میں جلدی اور تیرا شوق۔
[85] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَكَ مِنۢۡ بَعۡدِكَ ﴾ یعنی تیرے بعد تیری قوم کو بچھڑے کی پوجا کے ذریعے سے ہم نے آزمایا۔ پس انھوں نے صبر نہیں کیا اور جب ان کا امتحان ہوا تو انھوں نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ﴿وَاَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ ﴾ ’’اور سامری نے ان کو گمراہ کر دیا‘‘ ﴿فَاَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلًا جَسَدًا ﴾ وہ ان کے لیے ایک بچھڑے کا بت بنا لایا ﴿لَّهٗ خُوَارٌؔ فَقَالُوۡا ﴾ اس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ کہنے لگے۔ ﴿ هٰؔذَاۤ اِلٰهُكُمۡ وَاِلٰهُ مُوۡسٰؔى﴾ ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے‘‘ جسے موسیٰ بھول گیا ہے۔ اسی طرح بنی اسرائیل فتنے میں مبتلا ہو گئے اور انھوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا حضرت ہارونu نے ان کو روکا مگر وہ بچھڑے کی عبادت سے باز نہ آئے۔
[86] جب موسیٰ u اپنی قوم میں واپس آئے تو سخت ناراض ہوئے وہ تاسف اور غیظ و غضب سے لبریز تھے انھوں نے اس فعل پر زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ اَلَمۡ يَعِدۡكُمۡ رَبُّكُمۡ وَعۡدًا حَسَنًا ﴾ ’’اے میری قوم! کیا تم سے تمھارے رب نے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟‘‘ اور یہ تورات نازل کرنے کا وعدہ تھا۔ ﴿اَفَطَالَ عَلَيۡكُمُ الۡعَهۡدُ ﴾ کیا وعدہ پورا ہونے میں دیر لگ گئی تھی اور میری عدم موجودگی طویل ہو گئی تھی، حالانکہ یہ تو بہت ہی تھوڑی سی مدت تھی۔ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے اور اس میں ایک دوسرے معنی کا احتمال بھی ہے، وہ یہ کہ کیا عہد نبوت اور رسالت کو زیادہ عرصہ گزر گیا ہے؟ جس کی وجہ سے تمھارے پاس علم باقی نہ رہا، علم کے تمام آثار مٹ گئے اور تمھارے پاس کوئی خبر نہ پہنچی اور طول عہد کی بنا پر آثار نبوت محو ہو گئے تھے اور اس طرح تم نے آثار رسالت اور علم کے معدوم ہونے اور غلبہء جہالت کی وجہ سے غیر اللہ کی عبادت شروع کر دی…؟ مگر معاملہ یوں نہیں بلکہ نبوت تمھارے درمیان موجود اور علم قائم ہے، اس لیے تمھارا یہ عذر قابل قبول نہیں ۔ یا اس فعل کے ذریعے سے تمھارا ارادہ یہ تھا کہ تم پر تمھارے رب کا غضب نازل ہو، یعنی تم نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ ﴿ فَاَخۡلَفۡتُمۡ مَّوۡعِدِيۡ﴾ ’’پس تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا۔‘‘ جب میں نے تمھیں استقامت کا حکم دیا اور ہارونu کو تمھارے بارے میں وصیت کی تو تم نے غائب کا انتظار کیا نہ موجود کا احترام کیا۔
20:87قَالُواْ مَآ أَخۡلَفۡنَا مَوۡعِدَكَ بِمَلۡكِنَا وَلَٰكِنَّا حُمِّلۡنَآ أَوۡزَارٗا مِّن زِينَةِ ٱلۡقَوۡمِ فَقَذَفۡنَٰهَا فَكَذَٰلِكَ أَلۡقَى ٱلسَّامِرِيُّ
انھوں نے کہا، نہیں خلاف ورزی کی ہم نے تیرے وعدے کی اپنے اختیار سے لیکن اٹھوائے گئے تھے ہم بوجھ زیورات کا (فرعون کی) قوم کے، پس پھینک دیے ہم نے وہ (آگ میں ) اور اسی طرح (کچھ) پھینکا سامری نے بھی (87) پھر اس نے نکالا ان کے لیے ایک بچھڑا (یعنی ) ایک جسم، اس کی آواز تھی گائے کی سی تو انھوں نے کہا، یہ معبود ہے موسی کا، پس وہ بھول گیا (88) کیا پس نہیں دیکھتے وہ کہ بلاشبہ وہ (بچھڑا) نہیں لوٹاتا ان کی طرف کوئی بات اور نہیں اختیار رکھتاوہ ان کے لیے نقصان کا اور نہ نفع کا (89)
[88,87] انھوں نے موسیٰ u سے کہا کہ ان سے یہ کام جان بوجھ کر اور اپنے اختیار سے سرزد نہیں ہوا بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ ہم زیورات کے گناہ سے، جو ہمارے پاس تھے، بچنا چاہتے تھے۔ اہل تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے مصر سے نکلنے سے پہلے قبطیوں سے زیورات وغیرہ مستعار لیے تھے مصر سے نکلتے وقت وہ زیورات بھی ساتھ لے آئے۔ وہاں سے نکل کر انھوں نے وہ زیورات پھینک دیے تھے جب موسیٰ u چلے گئے تو انھوں نے وہ زیورات اکٹھے کر لیے تاکہ حضرت موسیٰ کی واپسی پر اس بارے میں ان سے رجوع کریں ۔جس روز فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا اس روز سامری نے رسول کا نقش پا دیکھ لیا تھا، اس کے نفس نے اسے آمادہ کیا اور اس نے اس نقش پا سے خاک کی ایک مٹھی اٹھالی اور اس خاک میں یہ تاثیر تھی کہ جب اسے کسی چیز پر ڈالا جاتا تو وہ زندہ ہو جاتی تھی… یہ امتحان اور آزمائش تھی۔ اس نے یہ خاک بچھڑے کے اس بت پر ڈال دی، جو اس نے گھڑا تھا۔ اس سے اس میں حرکت پیدا ہو گئی اور اس سے آواز بھی نکلتی تھی۔ بنی اسرائیل نے کہا موسیٰu اپنے رب کو تلاش کرنے گیا ہے اور وہ یہاں موجود ہے، موسیٰu بھول گیا۔
[89] یہ ان کی کم عقلی اور حماقت تھی کہ انھوں نے گائے کے بچھڑے کو جو ایک دھات کا بنا ہوا تھا جس میں آواز پیدا ہو گئی تھی… زمین اور آسمانوں کا اِلٰہ سمجھ لیا تھا۔ ﴿اَفَلَا يَرَوۡنَ ﴾’’کیا وہ نہیں دیکھتے۔‘‘ کہ وہ بچھڑا ﴿ اَلَّا يَرۡجِـعُ اِلَيۡهِمۡ قَوۡلًا ﴾ ان سے کلام کر سکتا ہے نہ وہ ان کی بات کا جواب دے سکتا ہے نہ ان کو کوئی نفع دے سکتا ہے نہ نقصان؟ پس صرف وہی ہستی عبادت کی مستحق ہے جو کمال، کلام اور افعال کی مالک ہو اور ایسی ہستی عبادت کیے جانے کا استحقاق نہیں رکھتی جو اپنے عبادت گزاروں سے بھی ناقص ہو کیونکہ عبادت گزار تو کلام کر سکتے ہیں اور بعض معاملات میں ، اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی قدرت کے مطابق، نفع و نقصان کا اختیار بھی رکھتے ہیں ۔
20:88فَأَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلٗا جَسَدٗا لَّهُۥ خُوَارٞ فَقَالُواْ هَٰذَآ إِلَٰهُكُمۡ وَإِلَٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِيَ
انھوں نے کہا، نہیں خلاف ورزی کی ہم نے تیرے وعدے کی اپنے اختیار سے لیکن اٹھوائے گئے تھے ہم بوجھ زیورات کا (فرعون کی) قوم کے، پس پھینک دیے ہم نے وہ (آگ میں ) اور اسی طرح (کچھ) پھینکا سامری نے بھی (87) پھر اس نے نکالا ان کے لیے ایک بچھڑا (یعنی ) ایک جسم، اس کی آواز تھی گائے کی سی تو انھوں نے کہا، یہ معبود ہے موسی کا، پس وہ بھول گیا (88) کیا پس نہیں دیکھتے وہ کہ بلاشبہ وہ (بچھڑا) نہیں لوٹاتا ان کی طرف کوئی بات اور نہیں اختیار رکھتاوہ ان کے لیے نقصان کا اور نہ نفع کا (89)
[88,87] انھوں نے موسیٰ u سے کہا کہ ان سے یہ کام جان بوجھ کر اور اپنے اختیار سے سرزد نہیں ہوا بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ ہم زیورات کے گناہ سے، جو ہمارے پاس تھے، بچنا چاہتے تھے۔ اہل تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے مصر سے نکلنے سے پہلے قبطیوں سے زیورات وغیرہ مستعار لیے تھے مصر سے نکلتے وقت وہ زیورات بھی ساتھ لے آئے۔ وہاں سے نکل کر انھوں نے وہ زیورات پھینک دیے تھے جب موسیٰ u چلے گئے تو انھوں نے وہ زیورات اکٹھے کر لیے تاکہ حضرت موسیٰ کی واپسی پر اس بارے میں ان سے رجوع کریں ۔جس روز فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا اس روز سامری نے رسول کا نقش پا دیکھ لیا تھا، اس کے نفس نے اسے آمادہ کیا اور اس نے اس نقش پا سے خاک کی ایک مٹھی اٹھالی اور اس خاک میں یہ تاثیر تھی کہ جب اسے کسی چیز پر ڈالا جاتا تو وہ زندہ ہو جاتی تھی… یہ امتحان اور آزمائش تھی۔ اس نے یہ خاک بچھڑے کے اس بت پر ڈال دی، جو اس نے گھڑا تھا۔ اس سے اس میں حرکت پیدا ہو گئی اور اس سے آواز بھی نکلتی تھی۔ بنی اسرائیل نے کہا موسیٰu اپنے رب کو تلاش کرنے گیا ہے اور وہ یہاں موجود ہے، موسیٰu بھول گیا۔
[89] یہ ان کی کم عقلی اور حماقت تھی کہ انھوں نے گائے کے بچھڑے کو جو ایک دھات کا بنا ہوا تھا جس میں آواز پیدا ہو گئی تھی… زمین اور آسمانوں کا اِلٰہ سمجھ لیا تھا۔ ﴿اَفَلَا يَرَوۡنَ ﴾’’کیا وہ نہیں دیکھتے۔‘‘ کہ وہ بچھڑا ﴿ اَلَّا يَرۡجِـعُ اِلَيۡهِمۡ قَوۡلًا ﴾ ان سے کلام کر سکتا ہے نہ وہ ان کی بات کا جواب دے سکتا ہے نہ ان کو کوئی نفع دے سکتا ہے نہ نقصان؟ پس صرف وہی ہستی عبادت کی مستحق ہے جو کمال، کلام اور افعال کی مالک ہو اور ایسی ہستی عبادت کیے جانے کا استحقاق نہیں رکھتی جو اپنے عبادت گزاروں سے بھی ناقص ہو کیونکہ عبادت گزار تو کلام کر سکتے ہیں اور بعض معاملات میں ، اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی قدرت کے مطابق، نفع و نقصان کا اختیار بھی رکھتے ہیں ۔
20:89أَفَلَا يَرَوۡنَ أَلَّا يَرۡجِعُ إِلَيۡهِمۡ قَوۡلٗا وَلَا يَمۡلِكُ لَهُمۡ ضَرّٗا وَلَا نَفۡعٗا
انھوں نے کہا، نہیں خلاف ورزی کی ہم نے تیرے وعدے کی اپنے اختیار سے لیکن اٹھوائے گئے تھے ہم بوجھ زیورات کا (فرعون کی) قوم کے، پس پھینک دیے ہم نے وہ (آگ میں ) اور اسی طرح (کچھ) پھینکا سامری نے بھی (87) پھر اس نے نکالا ان کے لیے ایک بچھڑا (یعنی ) ایک جسم، اس کی آواز تھی گائے کی سی تو انھوں نے کہا، یہ معبود ہے موسی کا، پس وہ بھول گیا (88) کیا پس نہیں دیکھتے وہ کہ بلاشبہ وہ (بچھڑا) نہیں لوٹاتا ان کی طرف کوئی بات اور نہیں اختیار رکھتاوہ ان کے لیے نقصان کا اور نہ نفع کا (89)
[88,87] انھوں نے موسیٰ u سے کہا کہ ان سے یہ کام جان بوجھ کر اور اپنے اختیار سے سرزد نہیں ہوا بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ ہم زیورات کے گناہ سے، جو ہمارے پاس تھے، بچنا چاہتے تھے۔ اہل تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے مصر سے نکلنے سے پہلے قبطیوں سے زیورات وغیرہ مستعار لیے تھے مصر سے نکلتے وقت وہ زیورات بھی ساتھ لے آئے۔ وہاں سے نکل کر انھوں نے وہ زیورات پھینک دیے تھے جب موسیٰ u چلے گئے تو انھوں نے وہ زیورات اکٹھے کر لیے تاکہ حضرت موسیٰ کی واپسی پر اس بارے میں ان سے رجوع کریں ۔جس روز فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا اس روز سامری نے رسول کا نقش پا دیکھ لیا تھا، اس کے نفس نے اسے آمادہ کیا اور اس نے اس نقش پا سے خاک کی ایک مٹھی اٹھالی اور اس خاک میں یہ تاثیر تھی کہ جب اسے کسی چیز پر ڈالا جاتا تو وہ زندہ ہو جاتی تھی… یہ امتحان اور آزمائش تھی۔ اس نے یہ خاک بچھڑے کے اس بت پر ڈال دی، جو اس نے گھڑا تھا۔ اس سے اس میں حرکت پیدا ہو گئی اور اس سے آواز بھی نکلتی تھی۔ بنی اسرائیل نے کہا موسیٰu اپنے رب کو تلاش کرنے گیا ہے اور وہ یہاں موجود ہے، موسیٰu بھول گیا۔
[89] یہ ان کی کم عقلی اور حماقت تھی کہ انھوں نے گائے کے بچھڑے کو جو ایک دھات کا بنا ہوا تھا جس میں آواز پیدا ہو گئی تھی… زمین اور آسمانوں کا اِلٰہ سمجھ لیا تھا۔ ﴿اَفَلَا يَرَوۡنَ ﴾’’کیا وہ نہیں دیکھتے۔‘‘ کہ وہ بچھڑا ﴿ اَلَّا يَرۡجِـعُ اِلَيۡهِمۡ قَوۡلًا ﴾ ان سے کلام کر سکتا ہے نہ وہ ان کی بات کا جواب دے سکتا ہے نہ ان کو کوئی نفع دے سکتا ہے نہ نقصان؟ پس صرف وہی ہستی عبادت کی مستحق ہے جو کمال، کلام اور افعال کی مالک ہو اور ایسی ہستی عبادت کیے جانے کا استحقاق نہیں رکھتی جو اپنے عبادت گزاروں سے بھی ناقص ہو کیونکہ عبادت گزار تو کلام کر سکتے ہیں اور بعض معاملات میں ، اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی قدرت کے مطابق، نفع و نقصان کا اختیار بھی رکھتے ہیں ۔
20:90وَلَقَدۡ قَالَ لَهُمۡ هَٰرُونُ مِن قَبۡلُ يَٰقَوۡمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِۦۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ ٱلرَّحۡمَٰنُ فَٱتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوٓاْ أَمۡرِي
اور البتہ تحقیق کہا تھا ان سے ہارون نے پہلے اس سے، اے میری قوم! یقینا تم آزمائے گئے ہو بوجہ اس (بچھڑے) کے اور بلاشبہ تمھارا رب نہایت مہربان ہے، پس تم پیروی کرو میری اور اطاعت کرو میرے حکم کی (90) انھوں نے کہا، ہمیشہ رہیں گے ہم تو اس کی پرستش کرتے یہاں تک کہ لوٹ آئے ہماری طرف موسیٰ (91) موسیٰ نے کہا، اے ہارون! کس چیز نے منع کیا تھا تجھے جب دیکھا تو نے ان کو کہ وہ گمراہ ہو گئے (92) اس سے کہ نہ پیروی کرے تو میری؟ کیا پس تو نے نافرمانی کی میرے حکم کی؟ (93) ہارون نے کہا، اے میری ماں جائے! نہ پکڑ تو داڑھی میری اور نہ سر میرا، بے شک میں ڈر گیا تھا اس (بات) سے کہ تو کہے گا تفرقہ ڈال دیا تو نے درمیان بنی اسرائیل کےاور نہ انتظار کیا تو نے میری بات کا (94)
[91,90] یعنی بچھڑے کو معبود بنانے میں وہ معذور نہیں تھے۔ اگر وہ بچھڑے کی عبادت کے بارے میں کسی شبہ میں مبتلا ہو گئے تھے تو ہارون u نے ان کو بہت روکا تھا اور ان کو آگاہ کر دیا تھا کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کا رب تو رحمٰن ہے جس کی طرف سے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اور وہ تمام تکالیف کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارونu کی اتباع کریں اور بچھڑے کو چھوڑ دیں ۔ مگر انھوں نے ایسا نہ کیا اور کہنے لگے: ﴿لَنۡ نَّبۡرَحَ عَلَيۡهِ عٰكِفِيۡنَ حَتّٰى يَرۡجِـعَ اِلَيۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ کے آنے تک ہم تو اسی کی عبادت و تعظیم میں لگے رہیں گے۔‘‘
[93,92] اور حضرت موسیٰu اپنے بھائی کو ملامت کرتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: ﴿ قَالَ يٰهٰؔرُوۡنُ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤا اَلَّا تَتَّبِعَنِ﴾ ’’اے ہارون! جب تو نے ان کو دیکھا کہ گمراہ ہو گئے ہیں تو تجھے میرے پیچھے آنے سے کس چیز نے روک دیا؟‘‘ کہ آ کر تو مجھے خبر کر دیتا تاکہ میں جلدی سے ان کی طرف لوٹ آتا ﴿ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ ﴾کیا تو نے میرے اس حکم کی نافرمانی کی ہے ﴿اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍142) ’’تو میری قوم میں میری جانشینی کر، معاملات کو درست کر اور اہل فساد کے راستے کی پیروی نہ کر۔‘‘ موسیٰ u نے حضرت ہارونu کو سر اور داڑھی سے پکڑا اور غصے میں اپنی طرف کھینچا۔
[94] ہارون u نے کہا: ﴿ يَبۡنَؤُمَّ ﴾ ’’اے میرے ماں جائے‘‘ انھوں نے موسیٰ u سے رقت قلبی کی امید پر یہ فقرہ کہا تھا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ موسیٰu ماں اور باپ دونوں طرف سے ان کے بھائی تھے۔ ﴿ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ ﴾ ’’آپ میری داڑھی اور سر نہ پکڑیں ، میں تو اس بات سے ڈرا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفریق ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔‘‘ کیونکہ آپ کا حکم تھا کہ میں ان میں آپ کی جانشینی کروں اگر میں آپ کے پیچھے چلا آتا تو میں اس چیز کو چھوڑ بیٹھتا جس کے التزام کا آپ نے حکم دیا تھا اور میں آپ کی ملامت سے ڈرتا رہا۔ ﴿ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ کسی نگرانی کرنے والے اور کسی جانشین کے بغیر ان کو چھوڑ دیا اور اس سے ان میں تشتت و افتراق پیدا ہو گیا۔ اس لیے آپ مجھے ظالموں میں شریک نہ کریں اور نہ دشمنوں کو ہم پر ہنسنے کا موقع دیں ۔ اس پر موسیٰ u کو بھائی کے ساتھ اپنے طرز عمل پر ندامت ہوئی کہ وہ اس سلوک کے مستحق نہ تھے، اس لیے دعا کی۔ ﴿رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ١ۖٞ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍151) ’’اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخشش اور ہمیں اپنی رحمت کے سایہ میں داخل کر تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘
پھر سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
20:91قَالُواْ لَن نَّبۡرَحَ عَلَيۡهِ عَٰكِفِينَ حَتَّىٰ يَرۡجِعَ إِلَيۡنَا مُوسَىٰ
اور البتہ تحقیق کہا تھا ان سے ہارون نے پہلے اس سے، اے میری قوم! یقینا تم آزمائے گئے ہو بوجہ اس (بچھڑے) کے اور بلاشبہ تمھارا رب نہایت مہربان ہے، پس تم پیروی کرو میری اور اطاعت کرو میرے حکم کی (90) انھوں نے کہا، ہمیشہ رہیں گے ہم تو اس کی پرستش کرتے یہاں تک کہ لوٹ آئے ہماری طرف موسیٰ (91) موسیٰ نے کہا، اے ہارون! کس چیز نے منع کیا تھا تجھے جب دیکھا تو نے ان کو کہ وہ گمراہ ہو گئے (92) اس سے کہ نہ پیروی کرے تو میری؟ کیا پس تو نے نافرمانی کی میرے حکم کی؟ (93) ہارون نے کہا، اے میری ماں جائے! نہ پکڑ تو داڑھی میری اور نہ سر میرا، بے شک میں ڈر گیا تھا اس (بات) سے کہ تو کہے گا تفرقہ ڈال دیا تو نے درمیان بنی اسرائیل کےاور نہ انتظار کیا تو نے میری بات کا (94)
[91,90] یعنی بچھڑے کو معبود بنانے میں وہ معذور نہیں تھے۔ اگر وہ بچھڑے کی عبادت کے بارے میں کسی شبہ میں مبتلا ہو گئے تھے تو ہارون u نے ان کو بہت روکا تھا اور ان کو آگاہ کر دیا تھا کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کا رب تو رحمٰن ہے جس کی طرف سے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اور وہ تمام تکالیف کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارونu کی اتباع کریں اور بچھڑے کو چھوڑ دیں ۔ مگر انھوں نے ایسا نہ کیا اور کہنے لگے: ﴿لَنۡ نَّبۡرَحَ عَلَيۡهِ عٰكِفِيۡنَ حَتّٰى يَرۡجِـعَ اِلَيۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ کے آنے تک ہم تو اسی کی عبادت و تعظیم میں لگے رہیں گے۔‘‘
[93,92] اور حضرت موسیٰu اپنے بھائی کو ملامت کرتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: ﴿ قَالَ يٰهٰؔرُوۡنُ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤا اَلَّا تَتَّبِعَنِ﴾ ’’اے ہارون! جب تو نے ان کو دیکھا کہ گمراہ ہو گئے ہیں تو تجھے میرے پیچھے آنے سے کس چیز نے روک دیا؟‘‘ کہ آ کر تو مجھے خبر کر دیتا تاکہ میں جلدی سے ان کی طرف لوٹ آتا ﴿ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ ﴾کیا تو نے میرے اس حکم کی نافرمانی کی ہے ﴿اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍142) ’’تو میری قوم میں میری جانشینی کر، معاملات کو درست کر اور اہل فساد کے راستے کی پیروی نہ کر۔‘‘ موسیٰ u نے حضرت ہارونu کو سر اور داڑھی سے پکڑا اور غصے میں اپنی طرف کھینچا۔
[94] ہارون u نے کہا: ﴿ يَبۡنَؤُمَّ ﴾ ’’اے میرے ماں جائے‘‘ انھوں نے موسیٰ u سے رقت قلبی کی امید پر یہ فقرہ کہا تھا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ موسیٰu ماں اور باپ دونوں طرف سے ان کے بھائی تھے۔ ﴿ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ ﴾ ’’آپ میری داڑھی اور سر نہ پکڑیں ، میں تو اس بات سے ڈرا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفریق ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔‘‘ کیونکہ آپ کا حکم تھا کہ میں ان میں آپ کی جانشینی کروں اگر میں آپ کے پیچھے چلا آتا تو میں اس چیز کو چھوڑ بیٹھتا جس کے التزام کا آپ نے حکم دیا تھا اور میں آپ کی ملامت سے ڈرتا رہا۔ ﴿ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ کسی نگرانی کرنے والے اور کسی جانشین کے بغیر ان کو چھوڑ دیا اور اس سے ان میں تشتت و افتراق پیدا ہو گیا۔ اس لیے آپ مجھے ظالموں میں شریک نہ کریں اور نہ دشمنوں کو ہم پر ہنسنے کا موقع دیں ۔ اس پر موسیٰ u کو بھائی کے ساتھ اپنے طرز عمل پر ندامت ہوئی کہ وہ اس سلوک کے مستحق نہ تھے، اس لیے دعا کی۔ ﴿رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ١ۖٞ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍151) ’’اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخشش اور ہمیں اپنی رحمت کے سایہ میں داخل کر تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘
پھر سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
20:92قَالَ يَٰهَٰرُونُ مَا مَنَعَكَ إِذۡ رَأَيۡتَهُمۡ ضَلُّوٓاْ
اور البتہ تحقیق کہا تھا ان سے ہارون نے پہلے اس سے، اے میری قوم! یقینا تم آزمائے گئے ہو بوجہ اس (بچھڑے) کے اور بلاشبہ تمھارا رب نہایت مہربان ہے، پس تم پیروی کرو میری اور اطاعت کرو میرے حکم کی (90) انھوں نے کہا، ہمیشہ رہیں گے ہم تو اس کی پرستش کرتے یہاں تک کہ لوٹ آئے ہماری طرف موسیٰ (91) موسیٰ نے کہا، اے ہارون! کس چیز نے منع کیا تھا تجھے جب دیکھا تو نے ان کو کہ وہ گمراہ ہو گئے (92) اس سے کہ نہ پیروی کرے تو میری؟ کیا پس تو نے نافرمانی کی میرے حکم کی؟ (93) ہارون نے کہا، اے میری ماں جائے! نہ پکڑ تو داڑھی میری اور نہ سر میرا، بے شک میں ڈر گیا تھا اس (بات) سے کہ تو کہے گا تفرقہ ڈال دیا تو نے درمیان بنی اسرائیل کےاور نہ انتظار کیا تو نے میری بات کا (94)
[91,90] یعنی بچھڑے کو معبود بنانے میں وہ معذور نہیں تھے۔ اگر وہ بچھڑے کی عبادت کے بارے میں کسی شبہ میں مبتلا ہو گئے تھے تو ہارون u نے ان کو بہت روکا تھا اور ان کو آگاہ کر دیا تھا کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کا رب تو رحمٰن ہے جس کی طرف سے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اور وہ تمام تکالیف کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارونu کی اتباع کریں اور بچھڑے کو چھوڑ دیں ۔ مگر انھوں نے ایسا نہ کیا اور کہنے لگے: ﴿لَنۡ نَّبۡرَحَ عَلَيۡهِ عٰكِفِيۡنَ حَتّٰى يَرۡجِـعَ اِلَيۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ کے آنے تک ہم تو اسی کی عبادت و تعظیم میں لگے رہیں گے۔‘‘
[93,92] اور حضرت موسیٰu اپنے بھائی کو ملامت کرتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: ﴿ قَالَ يٰهٰؔرُوۡنُ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤا اَلَّا تَتَّبِعَنِ﴾ ’’اے ہارون! جب تو نے ان کو دیکھا کہ گمراہ ہو گئے ہیں تو تجھے میرے پیچھے آنے سے کس چیز نے روک دیا؟‘‘ کہ آ کر تو مجھے خبر کر دیتا تاکہ میں جلدی سے ان کی طرف لوٹ آتا ﴿ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ ﴾کیا تو نے میرے اس حکم کی نافرمانی کی ہے ﴿اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍142) ’’تو میری قوم میں میری جانشینی کر، معاملات کو درست کر اور اہل فساد کے راستے کی پیروی نہ کر۔‘‘ موسیٰ u نے حضرت ہارونu کو سر اور داڑھی سے پکڑا اور غصے میں اپنی طرف کھینچا۔
[94] ہارون u نے کہا: ﴿ يَبۡنَؤُمَّ ﴾ ’’اے میرے ماں جائے‘‘ انھوں نے موسیٰ u سے رقت قلبی کی امید پر یہ فقرہ کہا تھا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ موسیٰu ماں اور باپ دونوں طرف سے ان کے بھائی تھے۔ ﴿ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ ﴾ ’’آپ میری داڑھی اور سر نہ پکڑیں ، میں تو اس بات سے ڈرا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفریق ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔‘‘ کیونکہ آپ کا حکم تھا کہ میں ان میں آپ کی جانشینی کروں اگر میں آپ کے پیچھے چلا آتا تو میں اس چیز کو چھوڑ بیٹھتا جس کے التزام کا آپ نے حکم دیا تھا اور میں آپ کی ملامت سے ڈرتا رہا۔ ﴿ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ کسی نگرانی کرنے والے اور کسی جانشین کے بغیر ان کو چھوڑ دیا اور اس سے ان میں تشتت و افتراق پیدا ہو گیا۔ اس لیے آپ مجھے ظالموں میں شریک نہ کریں اور نہ دشمنوں کو ہم پر ہنسنے کا موقع دیں ۔ اس پر موسیٰ u کو بھائی کے ساتھ اپنے طرز عمل پر ندامت ہوئی کہ وہ اس سلوک کے مستحق نہ تھے، اس لیے دعا کی۔ ﴿رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ١ۖٞ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍151) ’’اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخشش اور ہمیں اپنی رحمت کے سایہ میں داخل کر تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘
پھر سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
20:93أَلَّا تَتَّبِعَنِۖ أَفَعَصَيۡتَ أَمۡرِي
اور البتہ تحقیق کہا تھا ان سے ہارون نے پہلے اس سے، اے میری قوم! یقینا تم آزمائے گئے ہو بوجہ اس (بچھڑے) کے اور بلاشبہ تمھارا رب نہایت مہربان ہے، پس تم پیروی کرو میری اور اطاعت کرو میرے حکم کی (90) انھوں نے کہا، ہمیشہ رہیں گے ہم تو اس کی پرستش کرتے یہاں تک کہ لوٹ آئے ہماری طرف موسیٰ (91) موسیٰ نے کہا، اے ہارون! کس چیز نے منع کیا تھا تجھے جب دیکھا تو نے ان کو کہ وہ گمراہ ہو گئے (92) اس سے کہ نہ پیروی کرے تو میری؟ کیا پس تو نے نافرمانی کی میرے حکم کی؟ (93) ہارون نے کہا، اے میری ماں جائے! نہ پکڑ تو داڑھی میری اور نہ سر میرا، بے شک میں ڈر گیا تھا اس (بات) سے کہ تو کہے گا تفرقہ ڈال دیا تو نے درمیان بنی اسرائیل کےاور نہ انتظار کیا تو نے میری بات کا (94)
[91,90] یعنی بچھڑے کو معبود بنانے میں وہ معذور نہیں تھے۔ اگر وہ بچھڑے کی عبادت کے بارے میں کسی شبہ میں مبتلا ہو گئے تھے تو ہارون u نے ان کو بہت روکا تھا اور ان کو آگاہ کر دیا تھا کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کا رب تو رحمٰن ہے جس کی طرف سے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اور وہ تمام تکالیف کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارونu کی اتباع کریں اور بچھڑے کو چھوڑ دیں ۔ مگر انھوں نے ایسا نہ کیا اور کہنے لگے: ﴿لَنۡ نَّبۡرَحَ عَلَيۡهِ عٰكِفِيۡنَ حَتّٰى يَرۡجِـعَ اِلَيۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ کے آنے تک ہم تو اسی کی عبادت و تعظیم میں لگے رہیں گے۔‘‘
[93,92] اور حضرت موسیٰu اپنے بھائی کو ملامت کرتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: ﴿ قَالَ يٰهٰؔرُوۡنُ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤا اَلَّا تَتَّبِعَنِ﴾ ’’اے ہارون! جب تو نے ان کو دیکھا کہ گمراہ ہو گئے ہیں تو تجھے میرے پیچھے آنے سے کس چیز نے روک دیا؟‘‘ کہ آ کر تو مجھے خبر کر دیتا تاکہ میں جلدی سے ان کی طرف لوٹ آتا ﴿ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ ﴾کیا تو نے میرے اس حکم کی نافرمانی کی ہے ﴿اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍142) ’’تو میری قوم میں میری جانشینی کر، معاملات کو درست کر اور اہل فساد کے راستے کی پیروی نہ کر۔‘‘ موسیٰ u نے حضرت ہارونu کو سر اور داڑھی سے پکڑا اور غصے میں اپنی طرف کھینچا۔
[94] ہارون u نے کہا: ﴿ يَبۡنَؤُمَّ ﴾ ’’اے میرے ماں جائے‘‘ انھوں نے موسیٰ u سے رقت قلبی کی امید پر یہ فقرہ کہا تھا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ موسیٰu ماں اور باپ دونوں طرف سے ان کے بھائی تھے۔ ﴿ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ ﴾ ’’آپ میری داڑھی اور سر نہ پکڑیں ، میں تو اس بات سے ڈرا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفریق ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔‘‘ کیونکہ آپ کا حکم تھا کہ میں ان میں آپ کی جانشینی کروں اگر میں آپ کے پیچھے چلا آتا تو میں اس چیز کو چھوڑ بیٹھتا جس کے التزام کا آپ نے حکم دیا تھا اور میں آپ کی ملامت سے ڈرتا رہا۔ ﴿ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ کسی نگرانی کرنے والے اور کسی جانشین کے بغیر ان کو چھوڑ دیا اور اس سے ان میں تشتت و افتراق پیدا ہو گیا۔ اس لیے آپ مجھے ظالموں میں شریک نہ کریں اور نہ دشمنوں کو ہم پر ہنسنے کا موقع دیں ۔ اس پر موسیٰ u کو بھائی کے ساتھ اپنے طرز عمل پر ندامت ہوئی کہ وہ اس سلوک کے مستحق نہ تھے، اس لیے دعا کی۔ ﴿رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ١ۖٞ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍151) ’’اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخشش اور ہمیں اپنی رحمت کے سایہ میں داخل کر تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘
پھر سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
20:94قَالَ يَبۡنَؤُمَّ لَا تَأۡخُذۡ بِلِحۡيَتِي وَلَا بِرَأۡسِيٓۖ إِنِّي خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِي
اور البتہ تحقیق کہا تھا ان سے ہارون نے پہلے اس سے، اے میری قوم! یقینا تم آزمائے گئے ہو بوجہ اس (بچھڑے) کے اور بلاشبہ تمھارا رب نہایت مہربان ہے، پس تم پیروی کرو میری اور اطاعت کرو میرے حکم کی (90) انھوں نے کہا، ہمیشہ رہیں گے ہم تو اس کی پرستش کرتے یہاں تک کہ لوٹ آئے ہماری طرف موسیٰ (91) موسیٰ نے کہا، اے ہارون! کس چیز نے منع کیا تھا تجھے جب دیکھا تو نے ان کو کہ وہ گمراہ ہو گئے (92) اس سے کہ نہ پیروی کرے تو میری؟ کیا پس تو نے نافرمانی کی میرے حکم کی؟ (93) ہارون نے کہا، اے میری ماں جائے! نہ پکڑ تو داڑھی میری اور نہ سر میرا، بے شک میں ڈر گیا تھا اس (بات) سے کہ تو کہے گا تفرقہ ڈال دیا تو نے درمیان بنی اسرائیل کےاور نہ انتظار کیا تو نے میری بات کا (94)
[91,90] یعنی بچھڑے کو معبود بنانے میں وہ معذور نہیں تھے۔ اگر وہ بچھڑے کی عبادت کے بارے میں کسی شبہ میں مبتلا ہو گئے تھے تو ہارون u نے ان کو بہت روکا تھا اور ان کو آگاہ کر دیا تھا کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کا رب تو رحمٰن ہے جس کی طرف سے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اور وہ تمام تکالیف کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارونu کی اتباع کریں اور بچھڑے کو چھوڑ دیں ۔ مگر انھوں نے ایسا نہ کیا اور کہنے لگے: ﴿لَنۡ نَّبۡرَحَ عَلَيۡهِ عٰكِفِيۡنَ حَتّٰى يَرۡجِـعَ اِلَيۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ کے آنے تک ہم تو اسی کی عبادت و تعظیم میں لگے رہیں گے۔‘‘
[93,92] اور حضرت موسیٰu اپنے بھائی کو ملامت کرتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: ﴿ قَالَ يٰهٰؔرُوۡنُ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤا اَلَّا تَتَّبِعَنِ﴾ ’’اے ہارون! جب تو نے ان کو دیکھا کہ گمراہ ہو گئے ہیں تو تجھے میرے پیچھے آنے سے کس چیز نے روک دیا؟‘‘ کہ آ کر تو مجھے خبر کر دیتا تاکہ میں جلدی سے ان کی طرف لوٹ آتا ﴿ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ ﴾کیا تو نے میرے اس حکم کی نافرمانی کی ہے ﴿اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍142) ’’تو میری قوم میں میری جانشینی کر، معاملات کو درست کر اور اہل فساد کے راستے کی پیروی نہ کر۔‘‘ موسیٰ u نے حضرت ہارونu کو سر اور داڑھی سے پکڑا اور غصے میں اپنی طرف کھینچا۔
[94] ہارون u نے کہا: ﴿ يَبۡنَؤُمَّ ﴾ ’’اے میرے ماں جائے‘‘ انھوں نے موسیٰ u سے رقت قلبی کی امید پر یہ فقرہ کہا تھا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ موسیٰu ماں اور باپ دونوں طرف سے ان کے بھائی تھے۔ ﴿ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ ﴾ ’’آپ میری داڑھی اور سر نہ پکڑیں ، میں تو اس بات سے ڈرا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفریق ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔‘‘ کیونکہ آپ کا حکم تھا کہ میں ان میں آپ کی جانشینی کروں اگر میں آپ کے پیچھے چلا آتا تو میں اس چیز کو چھوڑ بیٹھتا جس کے التزام کا آپ نے حکم دیا تھا اور میں آپ کی ملامت سے ڈرتا رہا۔ ﴿ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ کسی نگرانی کرنے والے اور کسی جانشین کے بغیر ان کو چھوڑ دیا اور اس سے ان میں تشتت و افتراق پیدا ہو گیا۔ اس لیے آپ مجھے ظالموں میں شریک نہ کریں اور نہ دشمنوں کو ہم پر ہنسنے کا موقع دیں ۔ اس پر موسیٰ u کو بھائی کے ساتھ اپنے طرز عمل پر ندامت ہوئی کہ وہ اس سلوک کے مستحق نہ تھے، اس لیے دعا کی۔ ﴿رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ١ۖٞ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍151) ’’اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخشش اور ہمیں اپنی رحمت کے سایہ میں داخل کر تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘
پھر سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
20:95قَالَ فَمَا خَطۡبُكَ يَٰسَٰمِرِيُّ
موسیٰ نے کہا، پس کیامعاملہ ہے تیرا اے سامری؟ (95) اس نے کہا، دیکھا تھا میں نے اس چیز کو کہ نہ دیکھا تھا ان لوگوں نے اسے، پس بھر لی میں نے ایک مٹھی رسول (جبریل) کے نشان قدم سے، پھر پھینکا میں نے اس کواور اسی طرح مزین کیا تھا میرے نفس نے (96) موسیٰ نے کہا،پس جا تو، پس بے شک تیرے لیے ہے زندگی بھر کہ تو کہتا رہے نہ ہاتھ لگانا (مجھے)اور بلاشبہ تیرے لیے وعدہ کا وقت ہے کہ ہرگز نہیں خلاف کیا جائے گا تیرے حق میں اس سے اور دیکھ تو طرف اپنے معبود کی وہ جو ہو گیا تھا تواس کی پرستش کرنے والا، البتہ ضرور جلائیں گے ہم اسے، پھر اڑائیں گے ہم (اس کی راکھ) سمندر میں (مکمل طور پر) اڑانا (97)
[96,95] یعنی یہ جو تو نے سب کچھ کیا ہے یہ کیا معاملہ ہے؟ سامری نے جواب دیا۔ ﴿ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ يَبۡصُرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’میں نے وہ چیز دیکھی جو انھوں نے نہیں دیکھی۔‘‘ یعنی وہ جبریلu تھے جن کو سامری نے سمندر سے باہر نکلتے اور فرعون کے اپنے لشکر سمیت ڈوبتے وقت گھوڑی پر سوار دیکھا۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے، یعنی میں نے گھوڑی کے سم کے نیچے سے خاک کی ایک مٹھی اٹھائی اور بچھڑے (کے بت) پر ڈال دی۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ سَوَّلَتۡ لِيۡ نَفۡسِيۡ ﴾ میرے نفس نے مجھے ایسے ہی سمجھایا تھا کہ میں (جبریل کے نقش پا سے) ایک مٹھی خاک لوں اور اسے اس بچھڑے پر ڈال دوں اور اس طرح وہ کچھ ہو جائے جو ہو گیا۔
[97] پس موسیٰ u نے سامری سے کہا: ﴿ فَاذۡهَبۡ ﴾ مجھ سے دور ہو جا ﴿ فَاِنَّ لَكَ فِي الۡحَيٰؔوةِ اَنۡ تَقُوۡلَ لَا مِسَاسَ﴾یعنی تجھے زندگی میں ایسی سزا دی جائے گی کہ کوئی شخص تیرے قریب آئے گا نہ تجھے چھوئے گا۔ اگر کوئی شخص تیرے پاس آنا چاہے گا تو خود ہی پکار کر اسے کہہ دے گا ’’مجھے مت چھونا، میرے قریب نہ آنا‘‘ یہ تمھارے اس فعل کی سزا ہو گی… کیونکہ سامری نے اس چیز کو چھوا جسے کسی دوسرے نے نہیں چھوا اس نے وہ کچھ جاری کیا جو کسی اور نے جاری نہیں کیا۔﴿ وَاِنَّ لَكَ مَوۡعِدًا لَّنۡ تُخۡلَفَهٗ﴾ ’’اور تیرے لیے ایک وعدہ ہے جو ہرگز تجھ سے نہیں ٹلے گا۔‘‘ پس اس وقت تجھے تیرے اچھے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ﴿ وَانۡظُرۡ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِيۡ ظَلۡتَ عَلَيۡهِ عَاكِفًا﴾ ’’اور دیکھ تو اپنے اس معبود کی طرف جس کی تو تعظیم و عبادت کرتا ہے۔‘‘ اس سے مراد بچھڑا ہے ﴿لَنُحَرِّؔقَنَّهٗ۠ ثُمَّ لَنَنۡسِفَنَّهٗ فِي الۡيَمِّ نَسۡفًا ﴾ ’’ہم اسے جلا کر، اس کا ریزہ ریزہ اڑا دیں گے۔‘‘ اور موسیٰ u نے ایسا ہی کیا۔ اگر وہ بچھڑا معبود ہوتا تو وہ ایذا دینے والے اور تلف کرنے والے سے بچ سکتا تھا۔ بنی اسرائیل کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ بس گئی تھی، اس لیے موسیٰ u نے بنی اسرائیل کے سامنے اس کو تلف کرنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ اس کو دوبارہ نہ بنا سکیں … اس کو جلانے اور اس کو ریزہ ریزہ کر کے سمندر میں بکھیرنے سے حضرت موسیٰu کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح بچھڑا جسمانی طور پر ختم کر دیا گیا ہے اسی طرح ان کے دلوں سے اس کی محبت بھی زائل ہو جائے، نیز اس کے باقی رکھنے میں نفوس کے لیے فتنے کا امکان تھا کیونکہ نفسوں کے اندر باطل کی طرف بڑا قوی داعیہ ہوتا ہے۔
جب ان کے سامنے اس خود ساختہ خدا کا بطلان واضح ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس ہستی کے متعلق آگاہ فرمایا جو عبادت کی مستحق ہے، جو یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ، فرمایا:
20:96قَالَ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ يَبۡصُرُواْ بِهِۦ فَقَبَضۡتُ قَبۡضَةٗ مِّنۡ أَثَرِ ٱلرَّسُولِ فَنَبَذۡتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتۡ لِي نَفۡسِي
موسیٰ نے کہا، پس کیامعاملہ ہے تیرا اے سامری؟ (95) اس نے کہا، دیکھا تھا میں نے اس چیز کو کہ نہ دیکھا تھا ان لوگوں نے اسے، پس بھر لی میں نے ایک مٹھی رسول (جبریل) کے نشان قدم سے، پھر پھینکا میں نے اس کواور اسی طرح مزین کیا تھا میرے نفس نے (96) موسیٰ نے کہا،پس جا تو، پس بے شک تیرے لیے ہے زندگی بھر کہ تو کہتا رہے نہ ہاتھ لگانا (مجھے)اور بلاشبہ تیرے لیے وعدہ کا وقت ہے کہ ہرگز نہیں خلاف کیا جائے گا تیرے حق میں اس سے اور دیکھ تو طرف اپنے معبود کی وہ جو ہو گیا تھا تواس کی پرستش کرنے والا، البتہ ضرور جلائیں گے ہم اسے، پھر اڑائیں گے ہم (اس کی راکھ) سمندر میں (مکمل طور پر) اڑانا (97)
[96,95] یعنی یہ جو تو نے سب کچھ کیا ہے یہ کیا معاملہ ہے؟ سامری نے جواب دیا۔ ﴿ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ يَبۡصُرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’میں نے وہ چیز دیکھی جو انھوں نے نہیں دیکھی۔‘‘ یعنی وہ جبریلu تھے جن کو سامری نے سمندر سے باہر نکلتے اور فرعون کے اپنے لشکر سمیت ڈوبتے وقت گھوڑی پر سوار دیکھا۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے، یعنی میں نے گھوڑی کے سم کے نیچے سے خاک کی ایک مٹھی اٹھائی اور بچھڑے (کے بت) پر ڈال دی۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ سَوَّلَتۡ لِيۡ نَفۡسِيۡ ﴾ میرے نفس نے مجھے ایسے ہی سمجھایا تھا کہ میں (جبریل کے نقش پا سے) ایک مٹھی خاک لوں اور اسے اس بچھڑے پر ڈال دوں اور اس طرح وہ کچھ ہو جائے جو ہو گیا۔
[97] پس موسیٰ u نے سامری سے کہا: ﴿ فَاذۡهَبۡ ﴾ مجھ سے دور ہو جا ﴿ فَاِنَّ لَكَ فِي الۡحَيٰؔوةِ اَنۡ تَقُوۡلَ لَا مِسَاسَ﴾یعنی تجھے زندگی میں ایسی سزا دی جائے گی کہ کوئی شخص تیرے قریب آئے گا نہ تجھے چھوئے گا۔ اگر کوئی شخص تیرے پاس آنا چاہے گا تو خود ہی پکار کر اسے کہہ دے گا ’’مجھے مت چھونا، میرے قریب نہ آنا‘‘ یہ تمھارے اس فعل کی سزا ہو گی… کیونکہ سامری نے اس چیز کو چھوا جسے کسی دوسرے نے نہیں چھوا اس نے وہ کچھ جاری کیا جو کسی اور نے جاری نہیں کیا۔﴿ وَاِنَّ لَكَ مَوۡعِدًا لَّنۡ تُخۡلَفَهٗ﴾ ’’اور تیرے لیے ایک وعدہ ہے جو ہرگز تجھ سے نہیں ٹلے گا۔‘‘ پس اس وقت تجھے تیرے اچھے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ﴿ وَانۡظُرۡ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِيۡ ظَلۡتَ عَلَيۡهِ عَاكِفًا﴾ ’’اور دیکھ تو اپنے اس معبود کی طرف جس کی تو تعظیم و عبادت کرتا ہے۔‘‘ اس سے مراد بچھڑا ہے ﴿لَنُحَرِّؔقَنَّهٗ۠ ثُمَّ لَنَنۡسِفَنَّهٗ فِي الۡيَمِّ نَسۡفًا ﴾ ’’ہم اسے جلا کر، اس کا ریزہ ریزہ اڑا دیں گے۔‘‘ اور موسیٰ u نے ایسا ہی کیا۔ اگر وہ بچھڑا معبود ہوتا تو وہ ایذا دینے والے اور تلف کرنے والے سے بچ سکتا تھا۔ بنی اسرائیل کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ بس گئی تھی، اس لیے موسیٰ u نے بنی اسرائیل کے سامنے اس کو تلف کرنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ اس کو دوبارہ نہ بنا سکیں … اس کو جلانے اور اس کو ریزہ ریزہ کر کے سمندر میں بکھیرنے سے حضرت موسیٰu کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح بچھڑا جسمانی طور پر ختم کر دیا گیا ہے اسی طرح ان کے دلوں سے اس کی محبت بھی زائل ہو جائے، نیز اس کے باقی رکھنے میں نفوس کے لیے فتنے کا امکان تھا کیونکہ نفسوں کے اندر باطل کی طرف بڑا قوی داعیہ ہوتا ہے۔
جب ان کے سامنے اس خود ساختہ خدا کا بطلان واضح ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس ہستی کے متعلق آگاہ فرمایا جو عبادت کی مستحق ہے، جو یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ، فرمایا:
20:97قَالَ فَٱذۡهَبۡ فَإِنَّ لَكَ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَۖ وَإِنَّ لَكَ مَوۡعِدٗا لَّن تُخۡلَفَهُۥۖ وَٱنظُرۡ إِلَىٰٓ إِلَٰهِكَ ٱلَّذِي ظَلۡتَ عَلَيۡهِ عَاكِفٗاۖ لَّنُحَرِّقَنَّهُۥ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُۥ فِي ٱلۡيَمِّ نَسۡفًا
موسیٰ نے کہا، پس کیامعاملہ ہے تیرا اے سامری؟ (95) اس نے کہا، دیکھا تھا میں نے اس چیز کو کہ نہ دیکھا تھا ان لوگوں نے اسے، پس بھر لی میں نے ایک مٹھی رسول (جبریل) کے نشان قدم سے، پھر پھینکا میں نے اس کواور اسی طرح مزین کیا تھا میرے نفس نے (96) موسیٰ نے کہا،پس جا تو، پس بے شک تیرے لیے ہے زندگی بھر کہ تو کہتا رہے نہ ہاتھ لگانا (مجھے)اور بلاشبہ تیرے لیے وعدہ کا وقت ہے کہ ہرگز نہیں خلاف کیا جائے گا تیرے حق میں اس سے اور دیکھ تو طرف اپنے معبود کی وہ جو ہو گیا تھا تواس کی پرستش کرنے والا، البتہ ضرور جلائیں گے ہم اسے، پھر اڑائیں گے ہم (اس کی راکھ) سمندر میں (مکمل طور پر) اڑانا (97)
[96,95] یعنی یہ جو تو نے سب کچھ کیا ہے یہ کیا معاملہ ہے؟ سامری نے جواب دیا۔ ﴿ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ يَبۡصُرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’میں نے وہ چیز دیکھی جو انھوں نے نہیں دیکھی۔‘‘ یعنی وہ جبریلu تھے جن کو سامری نے سمندر سے باہر نکلتے اور فرعون کے اپنے لشکر سمیت ڈوبتے وقت گھوڑی پر سوار دیکھا۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے، یعنی میں نے گھوڑی کے سم کے نیچے سے خاک کی ایک مٹھی اٹھائی اور بچھڑے (کے بت) پر ڈال دی۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ سَوَّلَتۡ لِيۡ نَفۡسِيۡ ﴾ میرے نفس نے مجھے ایسے ہی سمجھایا تھا کہ میں (جبریل کے نقش پا سے) ایک مٹھی خاک لوں اور اسے اس بچھڑے پر ڈال دوں اور اس طرح وہ کچھ ہو جائے جو ہو گیا۔
[97] پس موسیٰ u نے سامری سے کہا: ﴿ فَاذۡهَبۡ ﴾ مجھ سے دور ہو جا ﴿ فَاِنَّ لَكَ فِي الۡحَيٰؔوةِ اَنۡ تَقُوۡلَ لَا مِسَاسَ﴾یعنی تجھے زندگی میں ایسی سزا دی جائے گی کہ کوئی شخص تیرے قریب آئے گا نہ تجھے چھوئے گا۔ اگر کوئی شخص تیرے پاس آنا چاہے گا تو خود ہی پکار کر اسے کہہ دے گا ’’مجھے مت چھونا، میرے قریب نہ آنا‘‘ یہ تمھارے اس فعل کی سزا ہو گی… کیونکہ سامری نے اس چیز کو چھوا جسے کسی دوسرے نے نہیں چھوا اس نے وہ کچھ جاری کیا جو کسی اور نے جاری نہیں کیا۔﴿ وَاِنَّ لَكَ مَوۡعِدًا لَّنۡ تُخۡلَفَهٗ﴾ ’’اور تیرے لیے ایک وعدہ ہے جو ہرگز تجھ سے نہیں ٹلے گا۔‘‘ پس اس وقت تجھے تیرے اچھے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ﴿ وَانۡظُرۡ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِيۡ ظَلۡتَ عَلَيۡهِ عَاكِفًا﴾ ’’اور دیکھ تو اپنے اس معبود کی طرف جس کی تو تعظیم و عبادت کرتا ہے۔‘‘ اس سے مراد بچھڑا ہے ﴿لَنُحَرِّؔقَنَّهٗ۠ ثُمَّ لَنَنۡسِفَنَّهٗ فِي الۡيَمِّ نَسۡفًا ﴾ ’’ہم اسے جلا کر، اس کا ریزہ ریزہ اڑا دیں گے۔‘‘ اور موسیٰ u نے ایسا ہی کیا۔ اگر وہ بچھڑا معبود ہوتا تو وہ ایذا دینے والے اور تلف کرنے والے سے بچ سکتا تھا۔ بنی اسرائیل کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ بس گئی تھی، اس لیے موسیٰ u نے بنی اسرائیل کے سامنے اس کو تلف کرنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ اس کو دوبارہ نہ بنا سکیں … اس کو جلانے اور اس کو ریزہ ریزہ کر کے سمندر میں بکھیرنے سے حضرت موسیٰu کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح بچھڑا جسمانی طور پر ختم کر دیا گیا ہے اسی طرح ان کے دلوں سے اس کی محبت بھی زائل ہو جائے، نیز اس کے باقی رکھنے میں نفوس کے لیے فتنے کا امکان تھا کیونکہ نفسوں کے اندر باطل کی طرف بڑا قوی داعیہ ہوتا ہے۔
جب ان کے سامنے اس خود ساختہ خدا کا بطلان واضح ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس ہستی کے متعلق آگاہ فرمایا جو عبادت کی مستحق ہے، جو یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ، فرمایا:
20:98إِنَّمَآ إِلَٰهُكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ وَسِعَ كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمٗا
یقینا تمھارا معبود تو وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی اور معبود سوائے اس کے، گھیر رکھا ہے اس نے ہر چیز کو ازروئے علم کے (98)
[98] یعنی اللہ کریم کے سوا کوئی معبود نہیں ، صرف اسی کے ساتھ محبت کی جائے، اسی پر امیدیں رکھی جائیں ، اسی سے ڈرا جائے اور اسی کو پکارا جائے۔ وہی کامل ہستی ہے جو اسماء حسنیٰ اور اوصاف عالیہ کی مالک ہے۔ اس کے علم نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ بندوں پر جتنی بھی نعمتیں ہیں صرف اسی کی عطا کردہ ہیں ۔ صرف وہی ہے جو تمام تکالیف کو دور کرتا ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔
20:99كَذَٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ مَا قَدۡ سَبَقَۚ وَقَدۡ ءَاتَيۡنَٰكَ مِن لَّدُنَّا ذِكۡرٗا
اسی طرح ہم بیان کرتے ہیں آپ پر کچھ وہ خبریں جو پہلے گزر چکی ہیں اورتحقیق دیا ہم نے آپ کو اپنے پاس سے ذکر (قرآن)(99) جس شخص نے اعراض کیا اس سے تو بلاشبہ وہ اٹھائے گا دن قیامت کے ایک بوجھ (100) وہ ہمیشہ رہیں گے اس (تکلیف) میں اور برا ہوگا ان کے لیے دن قیامت کے بوجھ اٹھانا (101)
[99] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ کو گزرے ہوئے لوگوں کی خبروں سے آگاہ فرمایا… مثلاً: یہ عظیم واقعہ اور اس کے اندر مذکور تمام احکام، جن کا اہل کتاب میں سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ پس آپ نے گزری ہوئی قوموں کی تاریخ کا درس لیا ہے نہ کسی سے اس کا علم حاصل کیا ہے، لہٰذا آپ کا ان کے واقعات کے بارے میں حق الیقین کے ساتھ آگاہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ سب صداقت پر مبنی ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ مِنۡ لَّدُنَّا ﴾ ’’اور دیا ہم نے آپ کو اپنی طرف سے۔‘‘ یعنی اپنی طرف سے نفیس عطیہ اور عظیم نوازش کے طور پر ﴿ ذِكۡرًا ﴾ ’’ایک ذکر‘‘ اس سے مراد قرآن کریم ہے جس میں تمام گزرے ہوئے اور آنے والے واقعات کی خبر دی گئی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے کامل اسماء و صفات کا ذکر ہے اور اس میں احکام امرونہی اور احکام جزا کا تذکرہ ہے۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم بہترین احکام پر مشتمل ہے۔ عقل اور فطرت سلیم ان احکام کے حسن و کمال کی گواہی دیتی ہیں اور قرآن کریم آگاہ کرتا ہے کہ ان احکام میں کیا کیا مصالح پنہاں ہیں ، اس لیے جب قرآن کریم رسول اللہﷺ اور آپ کی امت کے لیے تذکرہ ہے تب اس کو قبول کرنا، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا، اس کی اطاعت کرنا، اس کی روشنی میں صراط مستقیم پر گامزن ہونا اور اس کی تعلیم و تعلم واجب ہے۔
[100] اور اس سے روگردانی کے ساتھ پیش آنا یا اس کے ساتھ ایسا سلوک کرنا جو اس سے بھی زیادہ عمومیت کا حامل ہو، جیسے اس کی باتوں کا انکار کرنا۔ تو یہ اس نعمت کی ناشکری ہے اور جو کوئی اس ناشکری کا ارتکاب کرتا ہے وہ سزا کا مستحق ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡهُ﴾ جس نے اس سے روگردانی کی اور اس پر ایمان نہ لایا یا اس کے اوامر و نواہی کو حقیر سمجھا یا اس نے اس کے معانی کے تعلم کا تمسخر اڑایا تو یہ شخص ﴿ فَاِنَّهٗ يَحۡمِلُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وِزۡرًؔا﴾ قیامت کے روز اپنے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا جس کے سبب سے اس نے قرآن سے روگردانی کی۔ سب سے بڑا گناہ تو کفر اور قرآن کو چھوڑنا ہے۔
[101]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهِ﴾ یعنی وہ اپنے گناہ کے بوجھ اٹھانے کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے کیونکہ (برے) اعمال ہی درحقیقت عذاب ہیں ۔ یہ اعمال بد صغیرہ یا کبیرہ ہونے کے مطابق، ارتکاب کرنے والوں کے لیے عذاب میں بدل جاتے ہیں ۔ ﴿ وَسَآءَؔ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ حِمۡلًا﴾ یعنی بہت برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائیں گے اور بہت برا عذاب ہے جو انھیں قیامت کے روز بھگتنا ہو گا۔
پھر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے قیامت کے دن کے احوال اور اس کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
20:100مَّنۡ أَعۡرَضَ عَنۡهُ فَإِنَّهُۥ يَحۡمِلُ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وِزۡرًا
اسی طرح ہم بیان کرتے ہیں آپ پر کچھ وہ خبریں جو پہلے گزر چکی ہیں اورتحقیق دیا ہم نے آپ کو اپنے پاس سے ذکر (قرآن)(99) جس شخص نے اعراض کیا اس سے تو بلاشبہ وہ اٹھائے گا دن قیامت کے ایک بوجھ (100) وہ ہمیشہ رہیں گے اس (تکلیف) میں اور برا ہوگا ان کے لیے دن قیامت کے بوجھ اٹھانا (101)
[99] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ کو گزرے ہوئے لوگوں کی خبروں سے آگاہ فرمایا… مثلاً: یہ عظیم واقعہ اور اس کے اندر مذکور تمام احکام، جن کا اہل کتاب میں سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ پس آپ نے گزری ہوئی قوموں کی تاریخ کا درس لیا ہے نہ کسی سے اس کا علم حاصل کیا ہے، لہٰذا آپ کا ان کے واقعات کے بارے میں حق الیقین کے ساتھ آگاہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ سب صداقت پر مبنی ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ مِنۡ لَّدُنَّا ﴾ ’’اور دیا ہم نے آپ کو اپنی طرف سے۔‘‘ یعنی اپنی طرف سے نفیس عطیہ اور عظیم نوازش کے طور پر ﴿ ذِكۡرًا ﴾ ’’ایک ذکر‘‘ اس سے مراد قرآن کریم ہے جس میں تمام گزرے ہوئے اور آنے والے واقعات کی خبر دی گئی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے کامل اسماء و صفات کا ذکر ہے اور اس میں احکام امرونہی اور احکام جزا کا تذکرہ ہے۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم بہترین احکام پر مشتمل ہے۔ عقل اور فطرت سلیم ان احکام کے حسن و کمال کی گواہی دیتی ہیں اور قرآن کریم آگاہ کرتا ہے کہ ان احکام میں کیا کیا مصالح پنہاں ہیں ، اس لیے جب قرآن کریم رسول اللہﷺ اور آپ کی امت کے لیے تذکرہ ہے تب اس کو قبول کرنا، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا، اس کی اطاعت کرنا، اس کی روشنی میں صراط مستقیم پر گامزن ہونا اور اس کی تعلیم و تعلم واجب ہے۔
[100] اور اس سے روگردانی کے ساتھ پیش آنا یا اس کے ساتھ ایسا سلوک کرنا جو اس سے بھی زیادہ عمومیت کا حامل ہو، جیسے اس کی باتوں کا انکار کرنا۔ تو یہ اس نعمت کی ناشکری ہے اور جو کوئی اس ناشکری کا ارتکاب کرتا ہے وہ سزا کا مستحق ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡهُ﴾ جس نے اس سے روگردانی کی اور اس پر ایمان نہ لایا یا اس کے اوامر و نواہی کو حقیر سمجھا یا اس نے اس کے معانی کے تعلم کا تمسخر اڑایا تو یہ شخص ﴿ فَاِنَّهٗ يَحۡمِلُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وِزۡرًؔا﴾ قیامت کے روز اپنے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا جس کے سبب سے اس نے قرآن سے روگردانی کی۔ سب سے بڑا گناہ تو کفر اور قرآن کو چھوڑنا ہے۔
[101]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهِ﴾ یعنی وہ اپنے گناہ کے بوجھ اٹھانے کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے کیونکہ (برے) اعمال ہی درحقیقت عذاب ہیں ۔ یہ اعمال بد صغیرہ یا کبیرہ ہونے کے مطابق، ارتکاب کرنے والوں کے لیے عذاب میں بدل جاتے ہیں ۔ ﴿ وَسَآءَؔ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ حِمۡلًا﴾ یعنی بہت برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائیں گے اور بہت برا عذاب ہے جو انھیں قیامت کے روز بھگتنا ہو گا۔
پھر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے قیامت کے دن کے احوال اور اس کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
20:101خَٰلِدِينَ فِيهِۖ وَسَآءَ لَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ حِمۡلٗا
اسی طرح ہم بیان کرتے ہیں آپ پر کچھ وہ خبریں جو پہلے گزر چکی ہیں اورتحقیق دیا ہم نے آپ کو اپنے پاس سے ذکر (قرآن)(99) جس شخص نے اعراض کیا اس سے تو بلاشبہ وہ اٹھائے گا دن قیامت کے ایک بوجھ (100) وہ ہمیشہ رہیں گے اس (تکلیف) میں اور برا ہوگا ان کے لیے دن قیامت کے بوجھ اٹھانا (101)
[99] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ کو گزرے ہوئے لوگوں کی خبروں سے آگاہ فرمایا… مثلاً: یہ عظیم واقعہ اور اس کے اندر مذکور تمام احکام، جن کا اہل کتاب میں سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ پس آپ نے گزری ہوئی قوموں کی تاریخ کا درس لیا ہے نہ کسی سے اس کا علم حاصل کیا ہے، لہٰذا آپ کا ان کے واقعات کے بارے میں حق الیقین کے ساتھ آگاہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ سب صداقت پر مبنی ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ مِنۡ لَّدُنَّا ﴾ ’’اور دیا ہم نے آپ کو اپنی طرف سے۔‘‘ یعنی اپنی طرف سے نفیس عطیہ اور عظیم نوازش کے طور پر ﴿ ذِكۡرًا ﴾ ’’ایک ذکر‘‘ اس سے مراد قرآن کریم ہے جس میں تمام گزرے ہوئے اور آنے والے واقعات کی خبر دی گئی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے کامل اسماء و صفات کا ذکر ہے اور اس میں احکام امرونہی اور احکام جزا کا تذکرہ ہے۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم بہترین احکام پر مشتمل ہے۔ عقل اور فطرت سلیم ان احکام کے حسن و کمال کی گواہی دیتی ہیں اور قرآن کریم آگاہ کرتا ہے کہ ان احکام میں کیا کیا مصالح پنہاں ہیں ، اس لیے جب قرآن کریم رسول اللہﷺ اور آپ کی امت کے لیے تذکرہ ہے تب اس کو قبول کرنا، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا، اس کی اطاعت کرنا، اس کی روشنی میں صراط مستقیم پر گامزن ہونا اور اس کی تعلیم و تعلم واجب ہے۔
[100] اور اس سے روگردانی کے ساتھ پیش آنا یا اس کے ساتھ ایسا سلوک کرنا جو اس سے بھی زیادہ عمومیت کا حامل ہو، جیسے اس کی باتوں کا انکار کرنا۔ تو یہ اس نعمت کی ناشکری ہے اور جو کوئی اس ناشکری کا ارتکاب کرتا ہے وہ سزا کا مستحق ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡهُ﴾ جس نے اس سے روگردانی کی اور اس پر ایمان نہ لایا یا اس کے اوامر و نواہی کو حقیر سمجھا یا اس نے اس کے معانی کے تعلم کا تمسخر اڑایا تو یہ شخص ﴿ فَاِنَّهٗ يَحۡمِلُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وِزۡرًؔا﴾ قیامت کے روز اپنے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا جس کے سبب سے اس نے قرآن سے روگردانی کی۔ سب سے بڑا گناہ تو کفر اور قرآن کو چھوڑنا ہے۔
[101]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهِ﴾ یعنی وہ اپنے گناہ کے بوجھ اٹھانے کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے کیونکہ (برے) اعمال ہی درحقیقت عذاب ہیں ۔ یہ اعمال بد صغیرہ یا کبیرہ ہونے کے مطابق، ارتکاب کرنے والوں کے لیے عذاب میں بدل جاتے ہیں ۔ ﴿ وَسَآءَؔ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ حِمۡلًا﴾ یعنی بہت برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائیں گے اور بہت برا عذاب ہے جو انھیں قیامت کے روز بھگتنا ہو گا۔
پھر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے قیامت کے دن کے احوال اور اس کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
20:102يَوۡمَ يُنفَخُ فِي ٱلصُّورِۚ وَنَحۡشُرُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ يَوۡمَئِذٖ زُرۡقٗا
جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں اورہم اکٹھا کریں گے اس دن مجرموں کو درآنحالیکہ وہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے (102) چپکے چپکے کہتے ہوں گے وہ آپس میں (یہ کہ) نہیں ٹھہرے تم (دنیا میں ) مگر صرف دس دن (103) ہم خوب جانتے ہیں اس کو جو کچھ وہ کہیں گے، جس وقت کہے گا بہترین ان کا باعتبار رائے کے کہ نہیں ٹھہرے تم مگر ایک ہی دن (104)
[104-102] یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کیے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑ گیا ہو گا تو وہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخرت کے جلد آ جانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انھیں جانتا ہو گا اور وہ جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انھیں سنتا ہو گا ﴿ اِذۡ يَقُوۡلُ اَمۡثَلُهُمۡ طَرِيۡقَةً ﴾ یعنی ان میں سے سب سے زیادہ معتدل اور اندازے کے سب سے زیادہ قریب شخص کہے گا: ﴿ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا يَوۡمًا ﴾ تم صرف ایک دن دنیا میں رہے ہو۔ اس سے ان کا مقصد بہت بڑی ندامت اور پشیمانی کا اظہار ہے کہ انھوں نے اوقات قصیرہ کیسے ضائع کر دیے اور غفلت اور لہو و لعب میں ڈوب کر فائدہ مند اعمال سے اعراض کرتے ہوئے اور نقصان دہ اعمال میں پڑ کر ان اوقات کو گزار دیا۔ اب جزا کا وقت آ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہوا اور اب ندامت ہلاکت اور موت کی دعا کے سوا کچھ باقی نہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قٰلَ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ۰۰قٰلَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾(المؤمنون:23؍112-114) ’’اللہ پوچھے گا تم زمین میں کتنے سال رہے ہو؟ وہ جواب دیں گے کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں ، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے! فرمایا تم زمین میں بہت تھوڑا ٹھہرے ہو، کاش تم نے اس وقت جانا ہوتا۔‘‘
20:103يَتَخَٰفَتُونَ بَيۡنَهُمۡ إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا عَشۡرٗا
جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں اورہم اکٹھا کریں گے اس دن مجرموں کو درآنحالیکہ وہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے (102) چپکے چپکے کہتے ہوں گے وہ آپس میں (یہ کہ) نہیں ٹھہرے تم (دنیا میں ) مگر صرف دس دن (103) ہم خوب جانتے ہیں اس کو جو کچھ وہ کہیں گے، جس وقت کہے گا بہترین ان کا باعتبار رائے کے کہ نہیں ٹھہرے تم مگر ایک ہی دن (104)
[104-102] یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کیے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑ گیا ہو گا تو وہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخرت کے جلد آ جانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انھیں جانتا ہو گا اور وہ جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انھیں سنتا ہو گا ﴿ اِذۡ يَقُوۡلُ اَمۡثَلُهُمۡ طَرِيۡقَةً ﴾ یعنی ان میں سے سب سے زیادہ معتدل اور اندازے کے سب سے زیادہ قریب شخص کہے گا: ﴿ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا يَوۡمًا ﴾ تم صرف ایک دن دنیا میں رہے ہو۔ اس سے ان کا مقصد بہت بڑی ندامت اور پشیمانی کا اظہار ہے کہ انھوں نے اوقات قصیرہ کیسے ضائع کر دیے اور غفلت اور لہو و لعب میں ڈوب کر فائدہ مند اعمال سے اعراض کرتے ہوئے اور نقصان دہ اعمال میں پڑ کر ان اوقات کو گزار دیا۔ اب جزا کا وقت آ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہوا اور اب ندامت ہلاکت اور موت کی دعا کے سوا کچھ باقی نہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قٰلَ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ۰۰قٰلَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾(المؤمنون:23؍112-114) ’’اللہ پوچھے گا تم زمین میں کتنے سال رہے ہو؟ وہ جواب دیں گے کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں ، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے! فرمایا تم زمین میں بہت تھوڑا ٹھہرے ہو، کاش تم نے اس وقت جانا ہوتا۔‘‘
20:104نَّحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذۡ يَقُولُ أَمۡثَلُهُمۡ طَرِيقَةً إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا يَوۡمٗا
جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں اورہم اکٹھا کریں گے اس دن مجرموں کو درآنحالیکہ وہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے (102) چپکے چپکے کہتے ہوں گے وہ آپس میں (یہ کہ) نہیں ٹھہرے تم (دنیا میں ) مگر صرف دس دن (103) ہم خوب جانتے ہیں اس کو جو کچھ وہ کہیں گے، جس وقت کہے گا بہترین ان کا باعتبار رائے کے کہ نہیں ٹھہرے تم مگر ایک ہی دن (104)
[104-102] یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کیے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑ گیا ہو گا تو وہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخرت کے جلد آ جانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انھیں جانتا ہو گا اور وہ جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انھیں سنتا ہو گا ﴿ اِذۡ يَقُوۡلُ اَمۡثَلُهُمۡ طَرِيۡقَةً ﴾ یعنی ان میں سے سب سے زیادہ معتدل اور اندازے کے سب سے زیادہ قریب شخص کہے گا: ﴿ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا يَوۡمًا ﴾ تم صرف ایک دن دنیا میں رہے ہو۔ اس سے ان کا مقصد بہت بڑی ندامت اور پشیمانی کا اظہار ہے کہ انھوں نے اوقات قصیرہ کیسے ضائع کر دیے اور غفلت اور لہو و لعب میں ڈوب کر فائدہ مند اعمال سے اعراض کرتے ہوئے اور نقصان دہ اعمال میں پڑ کر ان اوقات کو گزار دیا۔ اب جزا کا وقت آ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہوا اور اب ندامت ہلاکت اور موت کی دعا کے سوا کچھ باقی نہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قٰلَ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ۰۰قٰلَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾(المؤمنون:23؍112-114) ’’اللہ پوچھے گا تم زمین میں کتنے سال رہے ہو؟ وہ جواب دیں گے کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں ، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے! فرمایا تم زمین میں بہت تھوڑا ٹھہرے ہو، کاش تم نے اس وقت جانا ہوتا۔‘‘
20:105وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡجِبَالِ فَقُلۡ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسۡفٗا
اور وہ سوال کیا کرتے ہیں آپ سے پہاڑوں کی بابت، پس آپ کہہ دیجیے! اڑا دے گا ان کو میرا رب اڑا دینا (105) پس چھوڑے گا وہ اس (زمین) کو چٹیل میدان بنا کر (106) نہ دیکھیں گے آپ اس میں کوئی کجی اور نہ ٹیلہ(107) اس دن وہ (لوگ) پیچھے چلیں گے بلانے والے کے نہیں کوئی کجی ہو گی اس کے لیےاور پست ہو جائیں گی سب آوازیں (اللہ) رحمٰن کے سامنے، پس نہ سنیں گے آپ سوائے آہٹ کے (108) اس دن نہیں نفع دے گی سفارش مگر اس شخص کی کہ اجازت دے گا اسے رحمٰن اور پسند کرے گا اس کے لیے بات کرنا (109) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور نہیں احاطہ کر سکتے وہ لوگ اس کا ازروئے علم کے (110)اور جھک جائیں گے (سب) چہرے حَیّ قیّوم (اللہ) کے لیےاور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے اٹھایا بوجھ ظلم (شرک) کا (111) اور جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں ڈرے گا وہ ناانصافی سے اور نہ حق تلفی سے (112)
[107-105] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ﴾ یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ﴿ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّيۡ نَسۡفًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اون اور ریت، پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا، یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لیے کشادہ ہو گی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا بچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہو گی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا۔
[110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِيَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا هَمۡسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ﴾(الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا:﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوۡلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔
[112,111]اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔(۱)اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا ﴾ ’’پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔‘‘ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضۡمًا﴾ ’’اور نہ حق تلفی کا۔‘‘ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا:﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
20:106فَيَذَرُهَا قَاعٗا صَفۡصَفٗا
اور وہ سوال کیا کرتے ہیں آپ سے پہاڑوں کی بابت، پس آپ کہہ دیجیے! اڑا دے گا ان کو میرا رب اڑا دینا (105) پس چھوڑے گا وہ اس (زمین) کو چٹیل میدان بنا کر (106) نہ دیکھیں گے آپ اس میں کوئی کجی اور نہ ٹیلہ(107) اس دن وہ (لوگ) پیچھے چلیں گے بلانے والے کے نہیں کوئی کجی ہو گی اس کے لیےاور پست ہو جائیں گی سب آوازیں (اللہ) رحمٰن کے سامنے، پس نہ سنیں گے آپ سوائے آہٹ کے (108) اس دن نہیں نفع دے گی سفارش مگر اس شخص کی کہ اجازت دے گا اسے رحمٰن اور پسند کرے گا اس کے لیے بات کرنا (109) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور نہیں احاطہ کر سکتے وہ لوگ اس کا ازروئے علم کے (110)اور جھک جائیں گے (سب) چہرے حَیّ قیّوم (اللہ) کے لیےاور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے اٹھایا بوجھ ظلم (شرک) کا (111) اور جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں ڈرے گا وہ ناانصافی سے اور نہ حق تلفی سے (112)
[107-105] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ﴾ یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ﴿ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّيۡ نَسۡفًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اون اور ریت، پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا، یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لیے کشادہ ہو گی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا بچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہو گی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا۔
[110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِيَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا هَمۡسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ﴾(الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا:﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوۡلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔
[112,111]اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔(۱)اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا ﴾ ’’پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔‘‘ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضۡمًا﴾ ’’اور نہ حق تلفی کا۔‘‘ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا:﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
20:107لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجٗا وَلَآ أَمۡتٗا
اور وہ سوال کیا کرتے ہیں آپ سے پہاڑوں کی بابت، پس آپ کہہ دیجیے! اڑا دے گا ان کو میرا رب اڑا دینا (105) پس چھوڑے گا وہ اس (زمین) کو چٹیل میدان بنا کر (106) نہ دیکھیں گے آپ اس میں کوئی کجی اور نہ ٹیلہ(107) اس دن وہ (لوگ) پیچھے چلیں گے بلانے والے کے نہیں کوئی کجی ہو گی اس کے لیےاور پست ہو جائیں گی سب آوازیں (اللہ) رحمٰن کے سامنے، پس نہ سنیں گے آپ سوائے آہٹ کے (108) اس دن نہیں نفع دے گی سفارش مگر اس شخص کی کہ اجازت دے گا اسے رحمٰن اور پسند کرے گا اس کے لیے بات کرنا (109) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور نہیں احاطہ کر سکتے وہ لوگ اس کا ازروئے علم کے (110)اور جھک جائیں گے (سب) چہرے حَیّ قیّوم (اللہ) کے لیےاور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے اٹھایا بوجھ ظلم (شرک) کا (111) اور جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں ڈرے گا وہ ناانصافی سے اور نہ حق تلفی سے (112)
[107-105] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ﴾ یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ﴿ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّيۡ نَسۡفًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اون اور ریت، پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا، یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لیے کشادہ ہو گی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا بچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہو گی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا۔
[110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِيَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا هَمۡسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ﴾(الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا:﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوۡلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔
[112,111]اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔(۱)اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا ﴾ ’’پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔‘‘ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضۡمًا﴾ ’’اور نہ حق تلفی کا۔‘‘ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا:﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
20:108يَوۡمَئِذٖ يَتَّبِعُونَ ٱلدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُۥۖ وَخَشَعَتِ ٱلۡأَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمَٰنِ فَلَا تَسۡمَعُ إِلَّا هَمۡسٗا
اور وہ سوال کیا کرتے ہیں آپ سے پہاڑوں کی بابت، پس آپ کہہ دیجیے! اڑا دے گا ان کو میرا رب اڑا دینا (105) پس چھوڑے گا وہ اس (زمین) کو چٹیل میدان بنا کر (106) نہ دیکھیں گے آپ اس میں کوئی کجی اور نہ ٹیلہ(107) اس دن وہ (لوگ) پیچھے چلیں گے بلانے والے کے نہیں کوئی کجی ہو گی اس کے لیےاور پست ہو جائیں گی سب آوازیں (اللہ) رحمٰن کے سامنے، پس نہ سنیں گے آپ سوائے آہٹ کے (108) اس دن نہیں نفع دے گی سفارش مگر اس شخص کی کہ اجازت دے گا اسے رحمٰن اور پسند کرے گا اس کے لیے بات کرنا (109) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور نہیں احاطہ کر سکتے وہ لوگ اس کا ازروئے علم کے (110)اور جھک جائیں گے (سب) چہرے حَیّ قیّوم (اللہ) کے لیےاور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے اٹھایا بوجھ ظلم (شرک) کا (111) اور جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں ڈرے گا وہ ناانصافی سے اور نہ حق تلفی سے (112)
[107-105] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ﴾ یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ﴿ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّيۡ نَسۡفًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اون اور ریت، پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا، یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لیے کشادہ ہو گی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا بچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہو گی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا۔
[110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِيَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا هَمۡسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ﴾(الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا:﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوۡلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔
[112,111]اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔(۱)اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا ﴾ ’’پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔‘‘ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضۡمًا﴾ ’’اور نہ حق تلفی کا۔‘‘ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا:﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
20:109يَوۡمَئِذٖ لَّا تَنفَعُ ٱلشَّفَٰعَةُ إِلَّا مَنۡ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَرَضِيَ لَهُۥ قَوۡلٗا
اور وہ سوال کیا کرتے ہیں آپ سے پہاڑوں کی بابت، پس آپ کہہ دیجیے! اڑا دے گا ان کو میرا رب اڑا دینا (105) پس چھوڑے گا وہ اس (زمین) کو چٹیل میدان بنا کر (106) نہ دیکھیں گے آپ اس میں کوئی کجی اور نہ ٹیلہ(107) اس دن وہ (لوگ) پیچھے چلیں گے بلانے والے کے نہیں کوئی کجی ہو گی اس کے لیےاور پست ہو جائیں گی سب آوازیں (اللہ) رحمٰن کے سامنے، پس نہ سنیں گے آپ سوائے آہٹ کے (108) اس دن نہیں نفع دے گی سفارش مگر اس شخص کی کہ اجازت دے گا اسے رحمٰن اور پسند کرے گا اس کے لیے بات کرنا (109) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور نہیں احاطہ کر سکتے وہ لوگ اس کا ازروئے علم کے (110)اور جھک جائیں گے (سب) چہرے حَیّ قیّوم (اللہ) کے لیےاور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے اٹھایا بوجھ ظلم (شرک) کا (111) اور جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں ڈرے گا وہ ناانصافی سے اور نہ حق تلفی سے (112)
[107-105] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ﴾ یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ﴿ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّيۡ نَسۡفًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اون اور ریت، پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا، یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لیے کشادہ ہو گی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا بچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہو گی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا۔
[110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِيَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا هَمۡسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ﴾(الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا:﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوۡلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔
[112,111]اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔(۱)اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا ﴾ ’’پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔‘‘ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضۡمًا﴾ ’’اور نہ حق تلفی کا۔‘‘ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا:﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
20:110يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِۦ عِلۡمٗا
اور وہ سوال کیا کرتے ہیں آپ سے پہاڑوں کی بابت، پس آپ کہہ دیجیے! اڑا دے گا ان کو میرا رب اڑا دینا (105) پس چھوڑے گا وہ اس (زمین) کو چٹیل میدان بنا کر (106) نہ دیکھیں گے آپ اس میں کوئی کجی اور نہ ٹیلہ(107) اس دن وہ (لوگ) پیچھے چلیں گے بلانے والے کے نہیں کوئی کجی ہو گی اس کے لیےاور پست ہو جائیں گی سب آوازیں (اللہ) رحمٰن کے سامنے، پس نہ سنیں گے آپ سوائے آہٹ کے (108) اس دن نہیں نفع دے گی سفارش مگر اس شخص کی کہ اجازت دے گا اسے رحمٰن اور پسند کرے گا اس کے لیے بات کرنا (109) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور نہیں احاطہ کر سکتے وہ لوگ اس کا ازروئے علم کے (110)اور جھک جائیں گے (سب) چہرے حَیّ قیّوم (اللہ) کے لیےاور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے اٹھایا بوجھ ظلم (شرک) کا (111) اور جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں ڈرے گا وہ ناانصافی سے اور نہ حق تلفی سے (112)
[107-105] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ﴾ یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ﴿ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّيۡ نَسۡفًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اون اور ریت، پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا، یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لیے کشادہ ہو گی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا بچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہو گی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا۔
[110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِيَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا هَمۡسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ﴾(الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا:﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوۡلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔
[112,111]اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔(۱)اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا ﴾ ’’پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔‘‘ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضۡمًا﴾ ’’اور نہ حق تلفی کا۔‘‘ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا:﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
20:111۞وَعَنَتِ ٱلۡوُجُوهُ لِلۡحَيِّ ٱلۡقَيُّومِۖ وَقَدۡ خَابَ مَنۡ حَمَلَ ظُلۡمٗا
اور وہ سوال کیا کرتے ہیں آپ سے پہاڑوں کی بابت، پس آپ کہہ دیجیے! اڑا دے گا ان کو میرا رب اڑا دینا (105) پس چھوڑے گا وہ اس (زمین) کو چٹیل میدان بنا کر (106) نہ دیکھیں گے آپ اس میں کوئی کجی اور نہ ٹیلہ(107) اس دن وہ (لوگ) پیچھے چلیں گے بلانے والے کے نہیں کوئی کجی ہو گی اس کے لیےاور پست ہو جائیں گی سب آوازیں (اللہ) رحمٰن کے سامنے، پس نہ سنیں گے آپ سوائے آہٹ کے (108) اس دن نہیں نفع دے گی سفارش مگر اس شخص کی کہ اجازت دے گا اسے رحمٰن اور پسند کرے گا اس کے لیے بات کرنا (109) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور نہیں احاطہ کر سکتے وہ لوگ اس کا ازروئے علم کے (110)اور جھک جائیں گے (سب) چہرے حَیّ قیّوم (اللہ) کے لیےاور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے اٹھایا بوجھ ظلم (شرک) کا (111) اور جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں ڈرے گا وہ ناانصافی سے اور نہ حق تلفی سے (112)
[107-105] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ﴾ یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ﴿ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّيۡ نَسۡفًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اون اور ریت، پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا، یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لیے کشادہ ہو گی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا بچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہو گی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا۔
[110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِيَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا هَمۡسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ﴾(الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا:﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوۡلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔
[112,111]اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔(۱)اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا ﴾ ’’پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔‘‘ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضۡمًا﴾ ’’اور نہ حق تلفی کا۔‘‘ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا:﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
20:112وَمَن يَعۡمَلۡ مِنَ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَا يَخَافُ ظُلۡمٗا وَلَا هَضۡمٗا
اور وہ سوال کیا کرتے ہیں آپ سے پہاڑوں کی بابت، پس آپ کہہ دیجیے! اڑا دے گا ان کو میرا رب اڑا دینا (105) پس چھوڑے گا وہ اس (زمین) کو چٹیل میدان بنا کر (106) نہ دیکھیں گے آپ اس میں کوئی کجی اور نہ ٹیلہ(107) اس دن وہ (لوگ) پیچھے چلیں گے بلانے والے کے نہیں کوئی کجی ہو گی اس کے لیےاور پست ہو جائیں گی سب آوازیں (اللہ) رحمٰن کے سامنے، پس نہ سنیں گے آپ سوائے آہٹ کے (108) اس دن نہیں نفع دے گی سفارش مگر اس شخص کی کہ اجازت دے گا اسے رحمٰن اور پسند کرے گا اس کے لیے بات کرنا (109) وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہےاور نہیں احاطہ کر سکتے وہ لوگ اس کا ازروئے علم کے (110)اور جھک جائیں گے (سب) چہرے حَیّ قیّوم (اللہ) کے لیےاور تحقیق ناکام ہوا وہ شخص جس نے اٹھایا بوجھ ظلم (شرک) کا (111) اور جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں ڈرے گا وہ ناانصافی سے اور نہ حق تلفی سے (112)
[107-105] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَيَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ﴾ یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ﴿ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّيۡ نَسۡفًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اون اور ریت، پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بنا دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا، یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لیے کشادہ ہو گی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا بچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہو گی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا۔
[110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِيَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا هَمۡسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِ ِ۟ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ﴾(الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا:﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَرَضِيَ لَهٗ قَوۡلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔
[112,111]اس موقعے پر لوگ دو اقسام میں منقسم ہوں گے۔(۱)اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے، جنھیں ناکامی، حرماں نصیبی، جہنم میں دردناک عذاب اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔(۲) وہ لوگ جو ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لیے ان کو حکم دیا گیا، نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ ﴿ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا ﴾ ’’پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہو گا۔‘‘ یعنی اس کی اصل بداعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا ﴿ وَّلَا هَضۡمًا﴾ ’’اور نہ حق تلفی کا۔‘‘ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا، اس کے عیوب کو پاک کر دیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جائے گا۔ فرمایا:﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے دو گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
20:113وَكَذَٰلِكَ أَنزَلۡنَٰهُ قُرۡءَانًا عَرَبِيّٗا وَصَرَّفۡنَا فِيهِ مِنَ ٱلۡوَعِيدِ لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ أَوۡ يُحۡدِثُ لَهُمۡ ذِكۡرٗا
اور اسی طرح نازل کیاہم نے اس (قرآن) کو قرآن عربی اور پھیر پھیر کر بیان کیں ہم نے اس میں وعیدیں تاکہ وہ تقوی اختیار کریں یا پیدا کردے (قرآن) ان کے لیے نصیحت (113)
[113] یعنی اسی طرح ہم نے اس کتاب کو فضیلت والی عربی زبان میں نازل کیا ہے جس کو تم خوب سمجھتے ہو اور اس میں کامل تفقُّہ رکھتے ہو اور اس کے الفاظ و معانی تم پر مخفی نہیں ہیں ۔ ﴿ وَّصَرَّفۡنَا فِيۡهِ مِنَ الۡوَعِيۡدِ﴾ یعنی اس کتاب میں ہم نے وعید کو بہت سی انواع کے ذریعے بیان کیا ہے۔ کبھی تو ان اسماء کے ذریعے سے بیان کیا ہے جو عدل و انتقام پر دلالت کرتے ہیں ، کبھی اس عبرت ناک عذاب کے ذکر کے ذریعے سے اس وعید کو بیان کیا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا اور حکم دیا کہ آنے والی امتیں اس سے عبرت حاصل کریں اور کبھی گناہوں کے آثار اور ان سے پیدا ہونے والے عیوب کو بیان کر کے اس وعید کا ذکر کیا۔ کبھی قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے دل کو ہلا دینے والے مناظر کو بیان کر کے اس وعید کا ذکر کیا۔ کبھی جہنم کے مناظر اور اس میں دیے جانے والے مختلف انواع کے عذاب اور عقوبتوں کا ذکر کر کے اس وعید کو بیان کیا ہے۔اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت کی وجہ سے ہے، شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور گناہوں اور معاصی کو چھوڑ دیں جن سے ان کو نقصان پہنچتا ہے۔ ﴿ اَوۡ يُحۡدِثُ لَهُمۡ ذِكۡرًا ﴾ یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے نصیحت پیدا کر دے اور یہ لوگ نیک عمل کرنے لگیں جو ان کو فائدہ دیں … پس اس کتاب کا عربی زبان میں نازل ہونا اور وعید کا مختلف طریقوں سے بیان ہونا، عمل صالح کا سب سے بڑا سبب اور سب سے بڑا داعی ہے۔ اگر یہ عظیم کتاب عربی زبان میں نہ ہوتی یا اس میں وعید کو مختلف انواع میں بیان نہ کیا گیا ہوتا تو اس میں یہ تاثیر نہ ہوتی۔
20:114فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ ٱلۡمَلِكُ ٱلۡحَقُّۗ وَلَا تَعۡجَلۡ بِٱلۡقُرۡءَانِ مِن قَبۡلِ أَن يُقۡضَىٰٓ إِلَيۡكَ وَحۡيُهُۥۖ وَقُل رَّبِّ زِدۡنِي عِلۡمٗا
پس بلند تر ہے اللہ بادشاہ برحق اور نہ جلدی کریں آپ قرآن پڑھنے میں ، پہلے اس سے کہ پوری کی جائے آپ کی طرف وحی اس کی اور کہیں ، اے میرے رب! زیادہ کر مجھے علم میں (114)
[114] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حکم جزائی کا ذکر کیا جس سے اس کے بندے دوچار ہوتے ہیں اور حکم دینی و امری بیان فرمایا جو اس کتاب کریم میں نازل کیا اور یہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور اقتدار کے آثار ہیں تو فرمایا ﴿ فَتَعٰلَى اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ہر نقص اور آفت سے پاک، بلند اور جلیل تر ہے ﴿ الۡمَلِكُ﴾ اقتدار، حاکمیت جس کا وصف ہے اور تمام مخلوق اس کی مملوک (غلام) ہے۔ اس کی بادشاہی کے قدری و شرعی احکام تمام مخلوق پر نافذ ہیں ۔ ﴿ الۡحَقُّ﴾ یعنی اس کا وجود، اس کا اقتدار اور اس کا کمال سب حق ہے۔ پس صفات کمال کی مالک صرف ایسی ہستی ہو سکتی ہے جو ذی جلال ہو اور اس میں اقتدار بھی شامل ہے۔ بعض اوقات، اس کے سوا مخلوق بھی، بعض اشیاء پر اقتدار اور اختیار رکھتی ہے مگر یہ اقتدار ناقص اور باطل ہے جو زائل ہو جانے والا ہے… مگر رب تعالیٰ ہمیشہ کے لیے بادشاہ حقیقی، جلال کا مالک اور قائم و دائم رہنے والا ہے۔ ﴿ وَلَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يُّقۡضٰۤى اِلَيۡكَ وَحۡيُهٗ ﴾ یعنی جب جبریل آپﷺ کے سامنے قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو اس کو اخذ کرنے میں جلدی نہ کیجیے اس وقت تک صبر کیجیے جب تک کہ وہ تلاوت سے فارغ نہ ہو جائے۔ جب وہ تلاوت سے فارغ ہو جائے تب اس کو پڑھیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو آپﷺ کے سینے میں جمع کرنے اور آپ کے اس کی قراء ت کرنے کی ضمانت دی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لَا تُحَرِّكۡ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعۡجَلَ بِهٖؕ۰۰اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗۚۖ۰۰فَاِذَا قَرَاۡنٰهُ فَاتَّبِـعۡ قُرۡاٰنَهٗۚ۰۰ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهٗ﴾(القیامۃ:75؍16-19) ’’جلدی سے وحی پڑھنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کیجیے، اس کو جمع کرنا اور پڑھوانا ہماری ذمہ داری ہے اور جب ہم اس وحی کو پڑھیں تو آپ اسی طرح پڑھا کریں پھر اس کے معانی کی تبیین و توضیح ہمارے ذمہ ہے۔‘‘ چونکہ وحی کو اخذ کرنے کے لیے آپﷺ کی عجلت دلالت کرتی ہے کہ آپ علم کے ساتھ کامل محبت رکھتے تھے اور اس کے حصول کے بے حد خواہش مند تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ وہ اپنے لیے ازدیاد علم کی دعا کریں کیونکہ علم بھلائی ہے اور بھلائی کی کثرت مطلوب ہے اور یہ کثرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے اور اس کے حصول کا راستہ کوشش، شوق علم، اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا، اس سے مدد مانگنا اور ہر وقت اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھنا ہے۔ اس آیت کریمہ سے حصول علم کے آداب اخذ کیے جاتے ہیں ۔ علم کی سماعت کرنے والے کے لیے مناسب ہے کہ صبر سے کام لے یہاں تک کہ املا کرانے والا اور معلم اپنے کلام سے فارغ ہو جائیں جو لگاتار اور مسلسل ہے۔ اگر ذہن میں کوئی سوال ہے تو وہ اس وقت کیا جائے جب معلم فارغ ہو جائے۔ معلم کی قطع کلامی اور سوال کرنے میں عجلت سے باز رہے کیونکہ یہ حرماں نصیبی کا سبب ہے۔ اسی طرح مسؤل کے لیے مناسب ہے کہ وہ سائل کے سوال کو لکھ لے اور جواب دینے سے قبل سائل کے مقصود کو اچھی طرح سمجھ لے کیونکہ یہ صحیح جواب کا سبب ہے۔
20:115وَلَقَدۡ عَهِدۡنَآ إِلَىٰٓ ءَادَمَ مِن قَبۡلُ فَنَسِيَ وَلَمۡ نَجِدۡ لَهُۥ عَزۡمٗا
اور البتہ تحقیق عہد لیا تھا ہم نے آدم سے اس سے پہلے، پس بھول گیا وہ اور نہ پائی ہم نے اس میں ارادے کی پختگی (115)
[115] یعنی ہم نے آدمu کو وصیت کی، اسے حکم دیا اور اس سے عہد لیا کہ وہ اس پر قائم رہے۔ اس نے اس وصیت کا التزام کیا، اس کے سامنے سرتسلیم خم کیا اور اس کو قائم کرنے کا عزم کیا مگر اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی وصیت کو بھول گیا اور اس کا مضبوط عزم ٹوٹ گیا تب اس سے ایسی لغزش صادر ہوئی جسے سب جانتے ہیں ۔ پس وہ اپنی اولاد کے لیے عبرت بن گیا اور اولاد آدم کی طبیعت اور فطرت آدمu کی طرح ہو گئی، آدمu سے بھول ہو گئی، اس کی اولاد بھی نسیان کا شکار ہو گئی، آدمu سے خطا ہوئی اور اولاد بھی غلطی کا ارتکاب کرتی ہے۔ آدمu اپنے عزم پر قائم نہ رہ سکا اسی طرح اس کی اولاد اپنے عزم کو توڑ بیٹھتی ہے، آدمu نے اپنی خطا کا اعتراف اور اقرار کر کے فوراً توبہ کر لی اور اس کی خطا کو بخش دیا گیا، جو کوئی اپنے باپ کی مشابہت اختیار کرتا ہے اس پر ظلم نہیں کیا جاتا، پھر اس اجمال کی تفیصل بیان کرتے ہوئے فرمایا:
20:116وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ أَبَىٰ
اور (یاد کرو!) جب کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (116) پس ہم نے کہا، اے آدم! بلاشبہ یہ (ابلیس) دشمن ہے تیرا اور تیری بیوی کا، سو وہ نہ نکلوا دے تم دونوں کو جنت سے کہ تو مشقت میں پڑ جائے (117) بلاشبہ تیرے لیے ہے (یہ فائدہ) کہ نہ بھوکا ہو گا تو اس میں اور نہ ننگا(118) اور بے شک تو نہ پیاسا ہو گا اس میں اور نہ تجھے دھوپ لگے گی (119)پس وسوسہ ڈالا اس کی طرف شیطان نے ، اس نے کہا، اے آدم! کیا دلالت کروں میں تجھے اوپر ہمیشگی کے درخت اورایسی بادشاہی کے جو پرانی نہ ہو؟ (120) پس کھایا ان دونوں نے اس میں سے تو ظاہر ہو گئی ان پر شرم گاہ ان دونوں کی اور شروع ہوئے وہ دونوں چپکاتے تھے اپنے اوپر پتے جنت کےاور نافرمانی کی آدم نے اپنے رب کی، پس وہ بھٹک گیا (121) پھر برگزیدہ کیااسے اس کے رب نے اور توجہ کی اس پر اور ہدایت دی اسے (122)
[116] یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم u کی تخلیق کو مکمل کیا، انھیں اشیاء کے نام سکھائے، انھیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو گئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور آدمu کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا:﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ۚ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ﴾(الاعراف:7؍12) ’’میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔‘‘
[118,117] تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہو گیا جو اس عداوت کا سبب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدمu اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الۡجَنَّةِ فَتَشۡقٰى ﴾اگر تمھیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹھہرو گے کیونکہ جنت میں تمھارے لیے لا محدود رزق اور راحت کامل ہے۔﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِيۡهَا وَلَا تَعۡرٰىۙ وَاَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُا فِيۡهَا وَلَا تَضۡحٰؔى ﴾ یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات، لباس اور پانی کی فراہمی، تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہو گی، البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا:﴿وَلَا تَقۡرَبَا هٰؔذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍35) ’’تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔‘‘
[120] شیطان ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہا اور ان کے سامنے اس درخت کے پھل کے کھانے کو مزین کرتا رہا، چنانچہ وہ ان سے کہتا:﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ ﴾ یعنی جو کوئی اس کو کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ ﴿وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾ اور جب وہ اس درخت کا پھل کھا لے گا تو ایسی بادشاہت حاصل ہو گی جو کبھی منقطع نہ ہو گی۔
[121]شیطان آدمu کے پاس ایک ناصح کی صورت میں آیا بڑی نرمی اور حیلہ سازی کے ساتھ آدمu سے بات چیت کی۔ آدم u اس کے فریب میں آ گئے اور یوں آدم اور حواءi نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس پر ان کو سخت ندامت ہوئی، ان کا لباس اتر گیا اور ان کی نافرمانی ان کے سامنے واضح ہو گئی ایک دوسرے کے سامنے ان کے ستر کھل گئے، حالانکہ اس سے قبل وہ دونوں ستر پوش تھے۔ انھوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کے ذریعے سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کیا تاکہ اس طرح وہ سترپوشی کر سکیں ۔ اس پر انھیں اس قدر خجالت ہوئی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔﴿وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى﴾ ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔‘‘ پس انھوں نے فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور عرض کیا:
[122]﴿ رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍23) ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں بخش نہ دے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ پس حضرت آدمu کو ان کے رب نے چن لیا اور ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا۔ ﴿ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کی اور حضرت آدمu کا توبہ کے بعد کا حال توبہ سے پہلے کے حال سے بہتر تھا۔ دشمن کا مکروفریب اسی کی طرف پلٹ گیا اس کی چال الٹ گئی اور حضرت آدم u اور ان کی اولاد پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہوگیا اور ان پر واجب ہو گیا کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اس کا اعتراف کریں ، نیز وہ اپنے دشمن سے بچتے رہیں جو دن رات ان کی تاک میں رہتا ہے۔ فرمایا:﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ يَرٰىكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾(الاعراف:7؍27) ’’اے بنی آدم! دیکھنا کہیں شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا، یعنی ان کا لباس اتروایا تاکہ ان کے سامنے ان کا ستر کھول دے۔ وہ اور اس کے بھائی بند تمھیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔‘‘
20:117فَقُلۡنَا يَـٰٓـَٔادَمُ إِنَّ هَٰذَا عَدُوّٞ لَّكَ وَلِزَوۡجِكَ فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا مِنَ ٱلۡجَنَّةِ فَتَشۡقَىٰٓ
اور (یاد کرو!) جب کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (116) پس ہم نے کہا، اے آدم! بلاشبہ یہ (ابلیس) دشمن ہے تیرا اور تیری بیوی کا، سو وہ نہ نکلوا دے تم دونوں کو جنت سے کہ تو مشقت میں پڑ جائے (117) بلاشبہ تیرے لیے ہے (یہ فائدہ) کہ نہ بھوکا ہو گا تو اس میں اور نہ ننگا(118) اور بے شک تو نہ پیاسا ہو گا اس میں اور نہ تجھے دھوپ لگے گی (119)پس وسوسہ ڈالا اس کی طرف شیطان نے ، اس نے کہا، اے آدم! کیا دلالت کروں میں تجھے اوپر ہمیشگی کے درخت اورایسی بادشاہی کے جو پرانی نہ ہو؟ (120) پس کھایا ان دونوں نے اس میں سے تو ظاہر ہو گئی ان پر شرم گاہ ان دونوں کی اور شروع ہوئے وہ دونوں چپکاتے تھے اپنے اوپر پتے جنت کےاور نافرمانی کی آدم نے اپنے رب کی، پس وہ بھٹک گیا (121) پھر برگزیدہ کیااسے اس کے رب نے اور توجہ کی اس پر اور ہدایت دی اسے (122)
[116] یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم u کی تخلیق کو مکمل کیا، انھیں اشیاء کے نام سکھائے، انھیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو گئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور آدمu کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا:﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ۚ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ﴾(الاعراف:7؍12) ’’میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔‘‘
[118,117] تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہو گیا جو اس عداوت کا سبب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدمu اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الۡجَنَّةِ فَتَشۡقٰى ﴾اگر تمھیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹھہرو گے کیونکہ جنت میں تمھارے لیے لا محدود رزق اور راحت کامل ہے۔﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِيۡهَا وَلَا تَعۡرٰىۙ وَاَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُا فِيۡهَا وَلَا تَضۡحٰؔى ﴾ یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات، لباس اور پانی کی فراہمی، تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہو گی، البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا:﴿وَلَا تَقۡرَبَا هٰؔذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍35) ’’تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔‘‘
[120] شیطان ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہا اور ان کے سامنے اس درخت کے پھل کے کھانے کو مزین کرتا رہا، چنانچہ وہ ان سے کہتا:﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ ﴾ یعنی جو کوئی اس کو کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ ﴿وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾ اور جب وہ اس درخت کا پھل کھا لے گا تو ایسی بادشاہت حاصل ہو گی جو کبھی منقطع نہ ہو گی۔
[121]شیطان آدمu کے پاس ایک ناصح کی صورت میں آیا بڑی نرمی اور حیلہ سازی کے ساتھ آدمu سے بات چیت کی۔ آدم u اس کے فریب میں آ گئے اور یوں آدم اور حواءi نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس پر ان کو سخت ندامت ہوئی، ان کا لباس اتر گیا اور ان کی نافرمانی ان کے سامنے واضح ہو گئی ایک دوسرے کے سامنے ان کے ستر کھل گئے، حالانکہ اس سے قبل وہ دونوں ستر پوش تھے۔ انھوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کے ذریعے سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کیا تاکہ اس طرح وہ سترپوشی کر سکیں ۔ اس پر انھیں اس قدر خجالت ہوئی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔﴿وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى﴾ ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔‘‘ پس انھوں نے فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور عرض کیا:
[122]﴿ رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍23) ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں بخش نہ دے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ پس حضرت آدمu کو ان کے رب نے چن لیا اور ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا۔ ﴿ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کی اور حضرت آدمu کا توبہ کے بعد کا حال توبہ سے پہلے کے حال سے بہتر تھا۔ دشمن کا مکروفریب اسی کی طرف پلٹ گیا اس کی چال الٹ گئی اور حضرت آدم u اور ان کی اولاد پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہوگیا اور ان پر واجب ہو گیا کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اس کا اعتراف کریں ، نیز وہ اپنے دشمن سے بچتے رہیں جو دن رات ان کی تاک میں رہتا ہے۔ فرمایا:﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ يَرٰىكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾(الاعراف:7؍27) ’’اے بنی آدم! دیکھنا کہیں شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا، یعنی ان کا لباس اتروایا تاکہ ان کے سامنے ان کا ستر کھول دے۔ وہ اور اس کے بھائی بند تمھیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔‘‘
20:118إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعۡرَىٰ
اور (یاد کرو!) جب کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (116) پس ہم نے کہا، اے آدم! بلاشبہ یہ (ابلیس) دشمن ہے تیرا اور تیری بیوی کا، سو وہ نہ نکلوا دے تم دونوں کو جنت سے کہ تو مشقت میں پڑ جائے (117) بلاشبہ تیرے لیے ہے (یہ فائدہ) کہ نہ بھوکا ہو گا تو اس میں اور نہ ننگا(118) اور بے شک تو نہ پیاسا ہو گا اس میں اور نہ تجھے دھوپ لگے گی (119)پس وسوسہ ڈالا اس کی طرف شیطان نے ، اس نے کہا، اے آدم! کیا دلالت کروں میں تجھے اوپر ہمیشگی کے درخت اورایسی بادشاہی کے جو پرانی نہ ہو؟ (120) پس کھایا ان دونوں نے اس میں سے تو ظاہر ہو گئی ان پر شرم گاہ ان دونوں کی اور شروع ہوئے وہ دونوں چپکاتے تھے اپنے اوپر پتے جنت کےاور نافرمانی کی آدم نے اپنے رب کی، پس وہ بھٹک گیا (121) پھر برگزیدہ کیااسے اس کے رب نے اور توجہ کی اس پر اور ہدایت دی اسے (122)
[116] یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم u کی تخلیق کو مکمل کیا، انھیں اشیاء کے نام سکھائے، انھیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو گئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور آدمu کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا:﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ۚ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ﴾(الاعراف:7؍12) ’’میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔‘‘
[118,117] تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہو گیا جو اس عداوت کا سبب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدمu اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الۡجَنَّةِ فَتَشۡقٰى ﴾اگر تمھیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹھہرو گے کیونکہ جنت میں تمھارے لیے لا محدود رزق اور راحت کامل ہے۔﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِيۡهَا وَلَا تَعۡرٰىۙ وَاَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُا فِيۡهَا وَلَا تَضۡحٰؔى ﴾ یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات، لباس اور پانی کی فراہمی، تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہو گی، البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا:﴿وَلَا تَقۡرَبَا هٰؔذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍35) ’’تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔‘‘
[120] شیطان ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہا اور ان کے سامنے اس درخت کے پھل کے کھانے کو مزین کرتا رہا، چنانچہ وہ ان سے کہتا:﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ ﴾ یعنی جو کوئی اس کو کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ ﴿وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾ اور جب وہ اس درخت کا پھل کھا لے گا تو ایسی بادشاہت حاصل ہو گی جو کبھی منقطع نہ ہو گی۔
[121]شیطان آدمu کے پاس ایک ناصح کی صورت میں آیا بڑی نرمی اور حیلہ سازی کے ساتھ آدمu سے بات چیت کی۔ آدم u اس کے فریب میں آ گئے اور یوں آدم اور حواءi نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس پر ان کو سخت ندامت ہوئی، ان کا لباس اتر گیا اور ان کی نافرمانی ان کے سامنے واضح ہو گئی ایک دوسرے کے سامنے ان کے ستر کھل گئے، حالانکہ اس سے قبل وہ دونوں ستر پوش تھے۔ انھوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کے ذریعے سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کیا تاکہ اس طرح وہ سترپوشی کر سکیں ۔ اس پر انھیں اس قدر خجالت ہوئی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔﴿وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى﴾ ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔‘‘ پس انھوں نے فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور عرض کیا:
[122]﴿ رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍23) ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں بخش نہ دے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ پس حضرت آدمu کو ان کے رب نے چن لیا اور ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا۔ ﴿ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کی اور حضرت آدمu کا توبہ کے بعد کا حال توبہ سے پہلے کے حال سے بہتر تھا۔ دشمن کا مکروفریب اسی کی طرف پلٹ گیا اس کی چال الٹ گئی اور حضرت آدم u اور ان کی اولاد پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہوگیا اور ان پر واجب ہو گیا کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اس کا اعتراف کریں ، نیز وہ اپنے دشمن سے بچتے رہیں جو دن رات ان کی تاک میں رہتا ہے۔ فرمایا:﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ يَرٰىكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾(الاعراف:7؍27) ’’اے بنی آدم! دیکھنا کہیں شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا، یعنی ان کا لباس اتروایا تاکہ ان کے سامنے ان کا ستر کھول دے۔ وہ اور اس کے بھائی بند تمھیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔‘‘
20:119وَأَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُاْ فِيهَا وَلَا تَضۡحَىٰ
اور (یاد کرو!) جب کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (116) پس ہم نے کہا، اے آدم! بلاشبہ یہ (ابلیس) دشمن ہے تیرا اور تیری بیوی کا، سو وہ نہ نکلوا دے تم دونوں کو جنت سے کہ تو مشقت میں پڑ جائے (117) بلاشبہ تیرے لیے ہے (یہ فائدہ) کہ نہ بھوکا ہو گا تو اس میں اور نہ ننگا(118) اور بے شک تو نہ پیاسا ہو گا اس میں اور نہ تجھے دھوپ لگے گی (119)پس وسوسہ ڈالا اس کی طرف شیطان نے ، اس نے کہا، اے آدم! کیا دلالت کروں میں تجھے اوپر ہمیشگی کے درخت اورایسی بادشاہی کے جو پرانی نہ ہو؟ (120) پس کھایا ان دونوں نے اس میں سے تو ظاہر ہو گئی ان پر شرم گاہ ان دونوں کی اور شروع ہوئے وہ دونوں چپکاتے تھے اپنے اوپر پتے جنت کےاور نافرمانی کی آدم نے اپنے رب کی، پس وہ بھٹک گیا (121) پھر برگزیدہ کیااسے اس کے رب نے اور توجہ کی اس پر اور ہدایت دی اسے (122)
[116] یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم u کی تخلیق کو مکمل کیا، انھیں اشیاء کے نام سکھائے، انھیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو گئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور آدمu کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا:﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ۚ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ﴾(الاعراف:7؍12) ’’میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔‘‘
[118,117] تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہو گیا جو اس عداوت کا سبب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدمu اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الۡجَنَّةِ فَتَشۡقٰى ﴾اگر تمھیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹھہرو گے کیونکہ جنت میں تمھارے لیے لا محدود رزق اور راحت کامل ہے۔﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِيۡهَا وَلَا تَعۡرٰىۙ وَاَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُا فِيۡهَا وَلَا تَضۡحٰؔى ﴾ یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات، لباس اور پانی کی فراہمی، تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہو گی، البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا:﴿وَلَا تَقۡرَبَا هٰؔذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍35) ’’تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔‘‘
[120] شیطان ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہا اور ان کے سامنے اس درخت کے پھل کے کھانے کو مزین کرتا رہا، چنانچہ وہ ان سے کہتا:﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ ﴾ یعنی جو کوئی اس کو کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ ﴿وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾ اور جب وہ اس درخت کا پھل کھا لے گا تو ایسی بادشاہت حاصل ہو گی جو کبھی منقطع نہ ہو گی۔
[121]شیطان آدمu کے پاس ایک ناصح کی صورت میں آیا بڑی نرمی اور حیلہ سازی کے ساتھ آدمu سے بات چیت کی۔ آدم u اس کے فریب میں آ گئے اور یوں آدم اور حواءi نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس پر ان کو سخت ندامت ہوئی، ان کا لباس اتر گیا اور ان کی نافرمانی ان کے سامنے واضح ہو گئی ایک دوسرے کے سامنے ان کے ستر کھل گئے، حالانکہ اس سے قبل وہ دونوں ستر پوش تھے۔ انھوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کے ذریعے سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کیا تاکہ اس طرح وہ سترپوشی کر سکیں ۔ اس پر انھیں اس قدر خجالت ہوئی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔﴿وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى﴾ ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔‘‘ پس انھوں نے فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور عرض کیا:
[122]﴿ رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍23) ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں بخش نہ دے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ پس حضرت آدمu کو ان کے رب نے چن لیا اور ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا۔ ﴿ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کی اور حضرت آدمu کا توبہ کے بعد کا حال توبہ سے پہلے کے حال سے بہتر تھا۔ دشمن کا مکروفریب اسی کی طرف پلٹ گیا اس کی چال الٹ گئی اور حضرت آدم u اور ان کی اولاد پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہوگیا اور ان پر واجب ہو گیا کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اس کا اعتراف کریں ، نیز وہ اپنے دشمن سے بچتے رہیں جو دن رات ان کی تاک میں رہتا ہے۔ فرمایا:﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ يَرٰىكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾(الاعراف:7؍27) ’’اے بنی آدم! دیکھنا کہیں شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا، یعنی ان کا لباس اتروایا تاکہ ان کے سامنے ان کا ستر کھول دے۔ وہ اور اس کے بھائی بند تمھیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔‘‘
20:120فَوَسۡوَسَ إِلَيۡهِ ٱلشَّيۡطَٰنُ قَالَ يَـٰٓـَٔادَمُ هَلۡ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ ٱلۡخُلۡدِ وَمُلۡكٖ لَّا يَبۡلَىٰ
اور (یاد کرو!) جب کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (116) پس ہم نے کہا، اے آدم! بلاشبہ یہ (ابلیس) دشمن ہے تیرا اور تیری بیوی کا، سو وہ نہ نکلوا دے تم دونوں کو جنت سے کہ تو مشقت میں پڑ جائے (117) بلاشبہ تیرے لیے ہے (یہ فائدہ) کہ نہ بھوکا ہو گا تو اس میں اور نہ ننگا(118) اور بے شک تو نہ پیاسا ہو گا اس میں اور نہ تجھے دھوپ لگے گی (119)پس وسوسہ ڈالا اس کی طرف شیطان نے ، اس نے کہا، اے آدم! کیا دلالت کروں میں تجھے اوپر ہمیشگی کے درخت اورایسی بادشاہی کے جو پرانی نہ ہو؟ (120) پس کھایا ان دونوں نے اس میں سے تو ظاہر ہو گئی ان پر شرم گاہ ان دونوں کی اور شروع ہوئے وہ دونوں چپکاتے تھے اپنے اوپر پتے جنت کےاور نافرمانی کی آدم نے اپنے رب کی، پس وہ بھٹک گیا (121) پھر برگزیدہ کیااسے اس کے رب نے اور توجہ کی اس پر اور ہدایت دی اسے (122)
[116] یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم u کی تخلیق کو مکمل کیا، انھیں اشیاء کے نام سکھائے، انھیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو گئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور آدمu کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا:﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ۚ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ﴾(الاعراف:7؍12) ’’میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔‘‘
[118,117] تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہو گیا جو اس عداوت کا سبب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدمu اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الۡجَنَّةِ فَتَشۡقٰى ﴾اگر تمھیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹھہرو گے کیونکہ جنت میں تمھارے لیے لا محدود رزق اور راحت کامل ہے۔﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِيۡهَا وَلَا تَعۡرٰىۙ وَاَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُا فِيۡهَا وَلَا تَضۡحٰؔى ﴾ یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات، لباس اور پانی کی فراہمی، تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہو گی، البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا:﴿وَلَا تَقۡرَبَا هٰؔذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍35) ’’تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔‘‘
[120] شیطان ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہا اور ان کے سامنے اس درخت کے پھل کے کھانے کو مزین کرتا رہا، چنانچہ وہ ان سے کہتا:﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ ﴾ یعنی جو کوئی اس کو کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ ﴿وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾ اور جب وہ اس درخت کا پھل کھا لے گا تو ایسی بادشاہت حاصل ہو گی جو کبھی منقطع نہ ہو گی۔
[121]شیطان آدمu کے پاس ایک ناصح کی صورت میں آیا بڑی نرمی اور حیلہ سازی کے ساتھ آدمu سے بات چیت کی۔ آدم u اس کے فریب میں آ گئے اور یوں آدم اور حواءi نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس پر ان کو سخت ندامت ہوئی، ان کا لباس اتر گیا اور ان کی نافرمانی ان کے سامنے واضح ہو گئی ایک دوسرے کے سامنے ان کے ستر کھل گئے، حالانکہ اس سے قبل وہ دونوں ستر پوش تھے۔ انھوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کے ذریعے سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کیا تاکہ اس طرح وہ سترپوشی کر سکیں ۔ اس پر انھیں اس قدر خجالت ہوئی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔﴿وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى﴾ ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔‘‘ پس انھوں نے فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور عرض کیا:
[122]﴿ رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍23) ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں بخش نہ دے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ پس حضرت آدمu کو ان کے رب نے چن لیا اور ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا۔ ﴿ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کی اور حضرت آدمu کا توبہ کے بعد کا حال توبہ سے پہلے کے حال سے بہتر تھا۔ دشمن کا مکروفریب اسی کی طرف پلٹ گیا اس کی چال الٹ گئی اور حضرت آدم u اور ان کی اولاد پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہوگیا اور ان پر واجب ہو گیا کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اس کا اعتراف کریں ، نیز وہ اپنے دشمن سے بچتے رہیں جو دن رات ان کی تاک میں رہتا ہے۔ فرمایا:﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ يَرٰىكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾(الاعراف:7؍27) ’’اے بنی آدم! دیکھنا کہیں شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا، یعنی ان کا لباس اتروایا تاکہ ان کے سامنے ان کا ستر کھول دے۔ وہ اور اس کے بھائی بند تمھیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔‘‘
20:121فَأَكَلَا مِنۡهَا فَبَدَتۡ لَهُمَا سَوۡءَٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخۡصِفَانِ عَلَيۡهِمَا مِن وَرَقِ ٱلۡجَنَّةِۚ وَعَصَىٰٓ ءَادَمُ رَبَّهُۥ فَغَوَىٰ
اور (یاد کرو!) جب کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (116) پس ہم نے کہا، اے آدم! بلاشبہ یہ (ابلیس) دشمن ہے تیرا اور تیری بیوی کا، سو وہ نہ نکلوا دے تم دونوں کو جنت سے کہ تو مشقت میں پڑ جائے (117) بلاشبہ تیرے لیے ہے (یہ فائدہ) کہ نہ بھوکا ہو گا تو اس میں اور نہ ننگا(118) اور بے شک تو نہ پیاسا ہو گا اس میں اور نہ تجھے دھوپ لگے گی (119)پس وسوسہ ڈالا اس کی طرف شیطان نے ، اس نے کہا، اے آدم! کیا دلالت کروں میں تجھے اوپر ہمیشگی کے درخت اورایسی بادشاہی کے جو پرانی نہ ہو؟ (120) پس کھایا ان دونوں نے اس میں سے تو ظاہر ہو گئی ان پر شرم گاہ ان دونوں کی اور شروع ہوئے وہ دونوں چپکاتے تھے اپنے اوپر پتے جنت کےاور نافرمانی کی آدم نے اپنے رب کی، پس وہ بھٹک گیا (121) پھر برگزیدہ کیااسے اس کے رب نے اور توجہ کی اس پر اور ہدایت دی اسے (122)
[116] یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم u کی تخلیق کو مکمل کیا، انھیں اشیاء کے نام سکھائے، انھیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو گئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور آدمu کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا:﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ۚ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ﴾(الاعراف:7؍12) ’’میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔‘‘
[118,117] تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہو گیا جو اس عداوت کا سبب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدمu اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الۡجَنَّةِ فَتَشۡقٰى ﴾اگر تمھیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹھہرو گے کیونکہ جنت میں تمھارے لیے لا محدود رزق اور راحت کامل ہے۔﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِيۡهَا وَلَا تَعۡرٰىۙ وَاَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُا فِيۡهَا وَلَا تَضۡحٰؔى ﴾ یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات، لباس اور پانی کی فراہمی، تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہو گی، البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا:﴿وَلَا تَقۡرَبَا هٰؔذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍35) ’’تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔‘‘
[120] شیطان ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہا اور ان کے سامنے اس درخت کے پھل کے کھانے کو مزین کرتا رہا، چنانچہ وہ ان سے کہتا:﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ ﴾ یعنی جو کوئی اس کو کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ ﴿وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾ اور جب وہ اس درخت کا پھل کھا لے گا تو ایسی بادشاہت حاصل ہو گی جو کبھی منقطع نہ ہو گی۔
[121]شیطان آدمu کے پاس ایک ناصح کی صورت میں آیا بڑی نرمی اور حیلہ سازی کے ساتھ آدمu سے بات چیت کی۔ آدم u اس کے فریب میں آ گئے اور یوں آدم اور حواءi نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس پر ان کو سخت ندامت ہوئی، ان کا لباس اتر گیا اور ان کی نافرمانی ان کے سامنے واضح ہو گئی ایک دوسرے کے سامنے ان کے ستر کھل گئے، حالانکہ اس سے قبل وہ دونوں ستر پوش تھے۔ انھوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کے ذریعے سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کیا تاکہ اس طرح وہ سترپوشی کر سکیں ۔ اس پر انھیں اس قدر خجالت ہوئی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔﴿وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى﴾ ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔‘‘ پس انھوں نے فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور عرض کیا:
[122]﴿ رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍23) ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں بخش نہ دے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ پس حضرت آدمu کو ان کے رب نے چن لیا اور ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا۔ ﴿ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کی اور حضرت آدمu کا توبہ کے بعد کا حال توبہ سے پہلے کے حال سے بہتر تھا۔ دشمن کا مکروفریب اسی کی طرف پلٹ گیا اس کی چال الٹ گئی اور حضرت آدم u اور ان کی اولاد پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہوگیا اور ان پر واجب ہو گیا کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اس کا اعتراف کریں ، نیز وہ اپنے دشمن سے بچتے رہیں جو دن رات ان کی تاک میں رہتا ہے۔ فرمایا:﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ يَرٰىكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾(الاعراف:7؍27) ’’اے بنی آدم! دیکھنا کہیں شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا، یعنی ان کا لباس اتروایا تاکہ ان کے سامنے ان کا ستر کھول دے۔ وہ اور اس کے بھائی بند تمھیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔‘‘
20:122ثُمَّ ٱجۡتَبَٰهُ رَبُّهُۥ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدَىٰ
اور (یاد کرو!) جب کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا (116) پس ہم نے کہا، اے آدم! بلاشبہ یہ (ابلیس) دشمن ہے تیرا اور تیری بیوی کا، سو وہ نہ نکلوا دے تم دونوں کو جنت سے کہ تو مشقت میں پڑ جائے (117) بلاشبہ تیرے لیے ہے (یہ فائدہ) کہ نہ بھوکا ہو گا تو اس میں اور نہ ننگا(118) اور بے شک تو نہ پیاسا ہو گا اس میں اور نہ تجھے دھوپ لگے گی (119)پس وسوسہ ڈالا اس کی طرف شیطان نے ، اس نے کہا، اے آدم! کیا دلالت کروں میں تجھے اوپر ہمیشگی کے درخت اورایسی بادشاہی کے جو پرانی نہ ہو؟ (120) پس کھایا ان دونوں نے اس میں سے تو ظاہر ہو گئی ان پر شرم گاہ ان دونوں کی اور شروع ہوئے وہ دونوں چپکاتے تھے اپنے اوپر پتے جنت کےاور نافرمانی کی آدم نے اپنے رب کی، پس وہ بھٹک گیا (121) پھر برگزیدہ کیااسے اس کے رب نے اور توجہ کی اس پر اور ہدایت دی اسے (122)
[116] یعنی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے آدم u کی تخلیق کو مکمل کیا، انھیں اشیاء کے نام سکھائے، انھیں فضیلت اور تکریم بخشی اور ان کے اکرام و تعظیم اور ان کی جلالت شان کو تسلیم کروانے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور فرشتے اس حکم کو مانتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو گئے۔ ان فرشتوں کے اندر ابلیس بھی تھا اس نے تکبر کی وجہ سے اپنے رب کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور آدمu کو سجدہ نہ کیا۔ اس نے کہا:﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ۚ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ﴾(الاعراف:7؍12) ’’میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔‘‘
[118,117] تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہو گیا جو اس عداوت کا سبب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدمu اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الۡجَنَّةِ فَتَشۡقٰى ﴾اگر تمھیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹھہرو گے کیونکہ جنت میں تمھارے لیے لا محدود رزق اور راحت کامل ہے۔﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوۡعَ فِيۡهَا وَلَا تَعۡرٰىۙ وَاَنَّكَ لَا تَظۡمَؤُا فِيۡهَا وَلَا تَضۡحٰؔى ﴾ یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات، لباس اور پانی کی فراہمی، تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہو گی، البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا:﴿وَلَا تَقۡرَبَا هٰؔذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(البقرۃ:2؍35) ’’تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔‘‘
[120] شیطان ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہا اور ان کے سامنے اس درخت کے پھل کے کھانے کو مزین کرتا رہا، چنانچہ وہ ان سے کہتا:﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ ﴾ یعنی جو کوئی اس کو کھائے گا وہ ہمیشہ جنت میں رہے گا۔ ﴿وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾ اور جب وہ اس درخت کا پھل کھا لے گا تو ایسی بادشاہت حاصل ہو گی جو کبھی منقطع نہ ہو گی۔
[121]شیطان آدمu کے پاس ایک ناصح کی صورت میں آیا بڑی نرمی اور حیلہ سازی کے ساتھ آدمu سے بات چیت کی۔ آدم u اس کے فریب میں آ گئے اور یوں آدم اور حواءi نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس پر ان کو سخت ندامت ہوئی، ان کا لباس اتر گیا اور ان کی نافرمانی ان کے سامنے واضح ہو گئی ایک دوسرے کے سامنے ان کے ستر کھل گئے، حالانکہ اس سے قبل وہ دونوں ستر پوش تھے۔ انھوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کے ذریعے سے اپنے آپ کو ڈھانپنا شروع کیا تاکہ اس طرح وہ سترپوشی کر سکیں ۔ اس پر انھیں اس قدر خجالت ہوئی جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔﴿وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى﴾ ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا۔‘‘ پس انھوں نے فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور عرض کیا:
[122]﴿ رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍23) ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں بخش نہ دے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ پس حضرت آدمu کو ان کے رب نے چن لیا اور ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا۔ ﴿ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کی اور حضرت آدمu کا توبہ کے بعد کا حال توبہ سے پہلے کے حال سے بہتر تھا۔ دشمن کا مکروفریب اسی کی طرف پلٹ گیا اس کی چال الٹ گئی اور حضرت آدم u اور ان کی اولاد پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہوگیا اور ان پر واجب ہو گیا کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اس کا اعتراف کریں ، نیز وہ اپنے دشمن سے بچتے رہیں جو دن رات ان کی تاک میں رہتا ہے۔ فرمایا:﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ يَرٰىكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾(الاعراف:7؍27) ’’اے بنی آدم! دیکھنا کہیں شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا، یعنی ان کا لباس اتروایا تاکہ ان کے سامنے ان کا ستر کھول دے۔ وہ اور اس کے بھائی بند تمھیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔‘‘
20:123قَالَ ٱهۡبِطَا مِنۡهَا جَمِيعَۢاۖ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوّٞۖ فَإِمَّا يَأۡتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدٗى فَمَنِ ٱتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشۡقَىٰ
اللہ نے کہا، اتر جاؤ تم دونوں اس سے اکٹھے تمھارا ایک، دوسرے کے لیے دشمن ہے، پس اگر آئے تمھارے پاس میری طرف سے ہدایت تو جس شخص نے پیروی کی میری ہدایت کی، سو نہ گمراہ ہو گا وہ اور نہ وہ مشقت میں پڑے گا (123) اور جس نے اعراض کیا میری یاد سے تو بلاشبہ اس کے لیے گزر ان ہوگی تنگ اور ہم اٹھائیں گے اسے دن قیامت کے اندھا (کر کے)(124) وہ کہے گا، اے میرے رب! کیوں اٹھایا ہے تو نے مجھے اندھا حالانکہ تھا میں (دنیا میں ) دیکھنے والا؟ (125) اللہ کہے گا، اسی طرح آئی تھیں تیرے پاس نشانیاں ہماری، پس بھول گیا تھا تو انھیں اور اسی طرح آج کے دن بھلا دیا جائے گا تو بھی (126) اور اسی طرح سزا دیں گے ہم اس شخص کو جو حد سے بڑھ گیا اور نہ ایمان لایا وہ آیتوں پر اپنے رب کی اور البتہ عذاب آخرت کا زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے(127)
[123] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے آدم u اور ابلیس کو حکم دیا کہ وہ ز مین پر اتر جائیں ، آدم اور ان کی اولاد شیطان کو اپنا دشمن سمجھیں اور اس سے بچیں اس کا مقابلہ کرنے اور جنگ کے لیے تیار رہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر کتابیں نازل کرے گا ان کی طرف رسول بھیجے گا جو ان کے سامنے صراط مستقیم کو واضح کریں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے، نیز وہ ان کو ان کے دشمن سے متنبہ اور چوکنا کریں گے، لہٰذا ان کے پاس جس وقت بھی یہ ہدایت آ جائے… یعنی کتاب اور انبیاء و مرسلین… پس اگر کسی نے اس کتاب کی اتباع کی، ان امور پر عمل کیا جن کا اس نے حکم دیا اور ان امور سے اجتناب کیا جن سے اس نے منع کیا تو ایسا شخص دنیا میں گمراہ ہو گا نہ آخرت میں اور نہ وہ دنیا و آخرت میں تکلیف میں پڑے گا بلکہ دونوں جہاں میں ان کی سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کی جائے گی اور آخرت میں ان کو امن اور سعادت سے نوازا جائے گا۔ ایک اور آیت کریمہ میں وارد ہے کہ آخرت میں حزن و خوف ان سے دور رہے گا۔ ﴿فَمَنۡ تَبِـعَ هُدَايَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍38) ’’پس جس کسی نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کے لیے کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔‘‘ اور ’’ہدایت‘‘ کی پیروی یہ ہے کہ رسول کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی جائے، شبہات کے ذریعے سے اس کے ساتھ معارضہ نہ کیا جائے، اس کے حکم کی اس طرح تعمیل کی جائے کہ کسی قسم کی خواہش اس کی معارض نہ ہو۔
[124]﴿ وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِيۡ﴾ یعنی جس کسی نے میری کتاب کریم سے اعراض کیا جس سے تمام مطالب عالیہ حاصل کیے جاتے ہیں اور اس سے روگردانی کر کے اس کو چھوڑ دیا یا اس کے ساتھ اس سے بڑھ کر بھی برا سلوک کیا، یعنی اس کا انکار کر کے کفر کا ارتکاب کیا ﴿ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا ﴾ یعنی اس کی سزا یہ ہو گی کہ ہم اس کی معیشت کو تنگ اور نہایت پر مشقت بنا دیں گے اور یہ معیشت اس کے لیے محض ایک عذاب ہو گی۔ ’’تنگ معیشت‘‘ کی تفسیر بیان کی جاتی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے، یعنی اس کے لیے اس کی قبر کو تنگ کر دیا جائے گا وہ اس میں گھٹ کر رہ جائے گا اور اس کو عذاب دیا جائے گا یہ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کی تھی۔ یہ ان آیات میں سے ایک آیت ہے جو عذاب قبر پر دلالت کرتی ہیں ۔ دوسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ١ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(الانعام:6؍93) ’’کاش آپ ان ظالموں کو اس وقت دیکھیں ، جب یہ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے۔ (اور کہہ رہے ہوں گے) نکالو اپنی جان آج تمھیں انتہائی رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی اس کا سبب یہ ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں کے ساتھ تکبر کیا کرتے تھے۔‘‘ تیسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍21) ’’ہم ان کو قیامت کے بڑے عذاب سے کمتر عذاب کا مزا بھی چکھائیں گے، شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ چوتھی آیت کریمہ یہ ہے ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ﴾(المؤمن:40؍46)’’انھیں صبح و شام آگ کے عذاب کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور جس روز قیامت برپا ہو گی اس روز کہا جائے گا کہ آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ جو چیز سلف میں سے بعض مفسرین کے لیے، اس آیت کریمہ کو عذاب قبر پر محمول کرنے اورصرف اسی پر اقتصار کرنے کی موجب بنی… واللہ تعالیٰ اعلم… وہ ہے آیت کریمہ کا آخر۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کے آخر میں قیامت کے عذاب کا ذکر کیا ہے۔اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ ’’تنگ معیشت‘‘ عام ہے یعنی اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کرنے والوں پر دنیا میں غم و ہموم اور مصائب و آلام کے جو پہاڑ ٹوٹتے ہیں ، وہ عذاب معجل ہے۔ برزخ میں بھی ان کو عذاب میں ڈالا جائے گا اور آخرت میں بھی عذاب میں داخل ہوں گے کیونکہ ’’تنگ معیشت‘‘ کو بغیر کسی قید کے مطلق طور پر بیان کیا گیا ہے۔﴿ وَّنَحۡشُرُهٗ ﴾ ’’اور اکٹھا کریں گے ہم اس کو۔‘‘ یعنی اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے اس شخص کو ﴿ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى ﴾ قیامت کے روز اندھا اٹھائیں گے… اور صحیح تفسیر یہی ہے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ عُمۡيًا وَّبُكۡمًا وَّصُمًّا﴾(بنی اسرائیل:17؍97) ’’اور قیامت کے روز ان لوگوں کو، اندھے، گونگے اور بہرے ہونے کی حالت میں ، اوندھے منہ اکٹھا کریں گے۔‘‘
[125] وہ نہایت ذلت، الم اور اس حالت پر تنگ دلی کے ساتھ کہے گا:﴿ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِيۡۤ اَعۡمٰى وَقَدۡ كُنۡتُ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اے میرے رب! کس بنا پر میری یہ بری حالت ہے میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا؟‘‘
[126]﴿ قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتۡكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيۡتَهَا﴾ ’’اللہ کہے گا، اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں تو تو نے ان کو بھلا دیا تھا۔‘‘ یعنی تو نے روگردانی کے ذریعے سے ان کو فراموش کر دیا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ الۡيَوۡمَ تُنۡسٰى ﴾ ’’اور اسی طرح آج تجھے بھلا دیا جائے گا۔‘‘ یعنی تجھے عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ پس جواب دیا گیا کہ یہ بعینہ تیرا عمل ہے کیونکہ جزا عمل ہی کی جنس سے ہوتی ہے۔ جس طرح تو نے اپنے رب کے ذکر کے بارے میں اندھے پن کا مظاہرہ کر کے اس سے منہ موڑا، اسے فراموش کیا اور اس میں سے اپنے حصے کو بھول گیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے آخرت میں اندھا کر دیا ہے، تجھے اندھا بہرہ اور گونگا بنا کر جہنم کی طرف لے جایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جہنم میں جھونک کر تجھ سے منہ پھیر لیا۔
[127]﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جزا ﴿ نَجۡزِيۡ مَنۡ اَسۡرَفَ ﴾ اس شخص کے لیے ہے جس نے حدود سے تجاوز کیا اور جن امور کی اجازت دی گئی ہے ان سے آگے بڑھ کر محرمات کا مرتکب ہوا ﴿ وَلَمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ﴾ اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لایا جو تمام مطالب ایمان پر واضح طور پر اور صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر ہرگز ظلم نہیں کیا اور نہ غیر مستحق کو سزا دی ہے بلکہ اس کا سبب تو صرف اس کا اسراف اور عدم ایمان ہے۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَشَدُّ ﴾ دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کئی گنا زیادہ سخت ہو گا۔ ﴿ وَاَبۡقٰى ﴾ اور دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کبھی ختم نہ ہو گا کیونکہ دنیا کا عذاب تو کبھی نہ کبھی منقطع ہو جاتا ہے۔ پس آخرت کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنا واجب ہے۔
20:124وَمَنۡ أَعۡرَضَ عَن ذِكۡرِي فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةٗ ضَنكٗا وَنَحۡشُرُهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ أَعۡمَىٰ
اللہ نے کہا، اتر جاؤ تم دونوں اس سے اکٹھے تمھارا ایک، دوسرے کے لیے دشمن ہے، پس اگر آئے تمھارے پاس میری طرف سے ہدایت تو جس شخص نے پیروی کی میری ہدایت کی، سو نہ گمراہ ہو گا وہ اور نہ وہ مشقت میں پڑے گا (123) اور جس نے اعراض کیا میری یاد سے تو بلاشبہ اس کے لیے گزر ان ہوگی تنگ اور ہم اٹھائیں گے اسے دن قیامت کے اندھا (کر کے)(124) وہ کہے گا، اے میرے رب! کیوں اٹھایا ہے تو نے مجھے اندھا حالانکہ تھا میں (دنیا میں ) دیکھنے والا؟ (125) اللہ کہے گا، اسی طرح آئی تھیں تیرے پاس نشانیاں ہماری، پس بھول گیا تھا تو انھیں اور اسی طرح آج کے دن بھلا دیا جائے گا تو بھی (126) اور اسی طرح سزا دیں گے ہم اس شخص کو جو حد سے بڑھ گیا اور نہ ایمان لایا وہ آیتوں پر اپنے رب کی اور البتہ عذاب آخرت کا زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے(127)
[123] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے آدم u اور ابلیس کو حکم دیا کہ وہ ز مین پر اتر جائیں ، آدم اور ان کی اولاد شیطان کو اپنا دشمن سمجھیں اور اس سے بچیں اس کا مقابلہ کرنے اور جنگ کے لیے تیار رہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر کتابیں نازل کرے گا ان کی طرف رسول بھیجے گا جو ان کے سامنے صراط مستقیم کو واضح کریں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے، نیز وہ ان کو ان کے دشمن سے متنبہ اور چوکنا کریں گے، لہٰذا ان کے پاس جس وقت بھی یہ ہدایت آ جائے… یعنی کتاب اور انبیاء و مرسلین… پس اگر کسی نے اس کتاب کی اتباع کی، ان امور پر عمل کیا جن کا اس نے حکم دیا اور ان امور سے اجتناب کیا جن سے اس نے منع کیا تو ایسا شخص دنیا میں گمراہ ہو گا نہ آخرت میں اور نہ وہ دنیا و آخرت میں تکلیف میں پڑے گا بلکہ دونوں جہاں میں ان کی سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کی جائے گی اور آخرت میں ان کو امن اور سعادت سے نوازا جائے گا۔ ایک اور آیت کریمہ میں وارد ہے کہ آخرت میں حزن و خوف ان سے دور رہے گا۔ ﴿فَمَنۡ تَبِـعَ هُدَايَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍38) ’’پس جس کسی نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کے لیے کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔‘‘ اور ’’ہدایت‘‘ کی پیروی یہ ہے کہ رسول کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی جائے، شبہات کے ذریعے سے اس کے ساتھ معارضہ نہ کیا جائے، اس کے حکم کی اس طرح تعمیل کی جائے کہ کسی قسم کی خواہش اس کی معارض نہ ہو۔
[124]﴿ وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِيۡ﴾ یعنی جس کسی نے میری کتاب کریم سے اعراض کیا جس سے تمام مطالب عالیہ حاصل کیے جاتے ہیں اور اس سے روگردانی کر کے اس کو چھوڑ دیا یا اس کے ساتھ اس سے بڑھ کر بھی برا سلوک کیا، یعنی اس کا انکار کر کے کفر کا ارتکاب کیا ﴿ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا ﴾ یعنی اس کی سزا یہ ہو گی کہ ہم اس کی معیشت کو تنگ اور نہایت پر مشقت بنا دیں گے اور یہ معیشت اس کے لیے محض ایک عذاب ہو گی۔ ’’تنگ معیشت‘‘ کی تفسیر بیان کی جاتی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے، یعنی اس کے لیے اس کی قبر کو تنگ کر دیا جائے گا وہ اس میں گھٹ کر رہ جائے گا اور اس کو عذاب دیا جائے گا یہ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کی تھی۔ یہ ان آیات میں سے ایک آیت ہے جو عذاب قبر پر دلالت کرتی ہیں ۔ دوسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ١ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(الانعام:6؍93) ’’کاش آپ ان ظالموں کو اس وقت دیکھیں ، جب یہ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے۔ (اور کہہ رہے ہوں گے) نکالو اپنی جان آج تمھیں انتہائی رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی اس کا سبب یہ ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں کے ساتھ تکبر کیا کرتے تھے۔‘‘ تیسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍21) ’’ہم ان کو قیامت کے بڑے عذاب سے کمتر عذاب کا مزا بھی چکھائیں گے، شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ چوتھی آیت کریمہ یہ ہے ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ﴾(المؤمن:40؍46)’’انھیں صبح و شام آگ کے عذاب کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور جس روز قیامت برپا ہو گی اس روز کہا جائے گا کہ آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ جو چیز سلف میں سے بعض مفسرین کے لیے، اس آیت کریمہ کو عذاب قبر پر محمول کرنے اورصرف اسی پر اقتصار کرنے کی موجب بنی… واللہ تعالیٰ اعلم… وہ ہے آیت کریمہ کا آخر۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کے آخر میں قیامت کے عذاب کا ذکر کیا ہے۔اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ ’’تنگ معیشت‘‘ عام ہے یعنی اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کرنے والوں پر دنیا میں غم و ہموم اور مصائب و آلام کے جو پہاڑ ٹوٹتے ہیں ، وہ عذاب معجل ہے۔ برزخ میں بھی ان کو عذاب میں ڈالا جائے گا اور آخرت میں بھی عذاب میں داخل ہوں گے کیونکہ ’’تنگ معیشت‘‘ کو بغیر کسی قید کے مطلق طور پر بیان کیا گیا ہے۔﴿ وَّنَحۡشُرُهٗ ﴾ ’’اور اکٹھا کریں گے ہم اس کو۔‘‘ یعنی اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے اس شخص کو ﴿ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى ﴾ قیامت کے روز اندھا اٹھائیں گے… اور صحیح تفسیر یہی ہے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ عُمۡيًا وَّبُكۡمًا وَّصُمًّا﴾(بنی اسرائیل:17؍97) ’’اور قیامت کے روز ان لوگوں کو، اندھے، گونگے اور بہرے ہونے کی حالت میں ، اوندھے منہ اکٹھا کریں گے۔‘‘
[125] وہ نہایت ذلت، الم اور اس حالت پر تنگ دلی کے ساتھ کہے گا:﴿ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِيۡۤ اَعۡمٰى وَقَدۡ كُنۡتُ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اے میرے رب! کس بنا پر میری یہ بری حالت ہے میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا؟‘‘
[126]﴿ قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتۡكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيۡتَهَا﴾ ’’اللہ کہے گا، اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں تو تو نے ان کو بھلا دیا تھا۔‘‘ یعنی تو نے روگردانی کے ذریعے سے ان کو فراموش کر دیا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ الۡيَوۡمَ تُنۡسٰى ﴾ ’’اور اسی طرح آج تجھے بھلا دیا جائے گا۔‘‘ یعنی تجھے عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ پس جواب دیا گیا کہ یہ بعینہ تیرا عمل ہے کیونکہ جزا عمل ہی کی جنس سے ہوتی ہے۔ جس طرح تو نے اپنے رب کے ذکر کے بارے میں اندھے پن کا مظاہرہ کر کے اس سے منہ موڑا، اسے فراموش کیا اور اس میں سے اپنے حصے کو بھول گیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے آخرت میں اندھا کر دیا ہے، تجھے اندھا بہرہ اور گونگا بنا کر جہنم کی طرف لے جایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جہنم میں جھونک کر تجھ سے منہ پھیر لیا۔
[127]﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جزا ﴿ نَجۡزِيۡ مَنۡ اَسۡرَفَ ﴾ اس شخص کے لیے ہے جس نے حدود سے تجاوز کیا اور جن امور کی اجازت دی گئی ہے ان سے آگے بڑھ کر محرمات کا مرتکب ہوا ﴿ وَلَمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ﴾ اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لایا جو تمام مطالب ایمان پر واضح طور پر اور صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر ہرگز ظلم نہیں کیا اور نہ غیر مستحق کو سزا دی ہے بلکہ اس کا سبب تو صرف اس کا اسراف اور عدم ایمان ہے۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَشَدُّ ﴾ دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کئی گنا زیادہ سخت ہو گا۔ ﴿ وَاَبۡقٰى ﴾ اور دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کبھی ختم نہ ہو گا کیونکہ دنیا کا عذاب تو کبھی نہ کبھی منقطع ہو جاتا ہے۔ پس آخرت کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنا واجب ہے۔
20:125قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِيٓ أَعۡمَىٰ وَقَدۡ كُنتُ بَصِيرٗا
اللہ نے کہا، اتر جاؤ تم دونوں اس سے اکٹھے تمھارا ایک، دوسرے کے لیے دشمن ہے، پس اگر آئے تمھارے پاس میری طرف سے ہدایت تو جس شخص نے پیروی کی میری ہدایت کی، سو نہ گمراہ ہو گا وہ اور نہ وہ مشقت میں پڑے گا (123) اور جس نے اعراض کیا میری یاد سے تو بلاشبہ اس کے لیے گزر ان ہوگی تنگ اور ہم اٹھائیں گے اسے دن قیامت کے اندھا (کر کے)(124) وہ کہے گا، اے میرے رب! کیوں اٹھایا ہے تو نے مجھے اندھا حالانکہ تھا میں (دنیا میں ) دیکھنے والا؟ (125) اللہ کہے گا، اسی طرح آئی تھیں تیرے پاس نشانیاں ہماری، پس بھول گیا تھا تو انھیں اور اسی طرح آج کے دن بھلا دیا جائے گا تو بھی (126) اور اسی طرح سزا دیں گے ہم اس شخص کو جو حد سے بڑھ گیا اور نہ ایمان لایا وہ آیتوں پر اپنے رب کی اور البتہ عذاب آخرت کا زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے(127)
[123] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے آدم u اور ابلیس کو حکم دیا کہ وہ ز مین پر اتر جائیں ، آدم اور ان کی اولاد شیطان کو اپنا دشمن سمجھیں اور اس سے بچیں اس کا مقابلہ کرنے اور جنگ کے لیے تیار رہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر کتابیں نازل کرے گا ان کی طرف رسول بھیجے گا جو ان کے سامنے صراط مستقیم کو واضح کریں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے، نیز وہ ان کو ان کے دشمن سے متنبہ اور چوکنا کریں گے، لہٰذا ان کے پاس جس وقت بھی یہ ہدایت آ جائے… یعنی کتاب اور انبیاء و مرسلین… پس اگر کسی نے اس کتاب کی اتباع کی، ان امور پر عمل کیا جن کا اس نے حکم دیا اور ان امور سے اجتناب کیا جن سے اس نے منع کیا تو ایسا شخص دنیا میں گمراہ ہو گا نہ آخرت میں اور نہ وہ دنیا و آخرت میں تکلیف میں پڑے گا بلکہ دونوں جہاں میں ان کی سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کی جائے گی اور آخرت میں ان کو امن اور سعادت سے نوازا جائے گا۔ ایک اور آیت کریمہ میں وارد ہے کہ آخرت میں حزن و خوف ان سے دور رہے گا۔ ﴿فَمَنۡ تَبِـعَ هُدَايَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍38) ’’پس جس کسی نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کے لیے کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔‘‘ اور ’’ہدایت‘‘ کی پیروی یہ ہے کہ رسول کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی جائے، شبہات کے ذریعے سے اس کے ساتھ معارضہ نہ کیا جائے، اس کے حکم کی اس طرح تعمیل کی جائے کہ کسی قسم کی خواہش اس کی معارض نہ ہو۔
[124]﴿ وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِيۡ﴾ یعنی جس کسی نے میری کتاب کریم سے اعراض کیا جس سے تمام مطالب عالیہ حاصل کیے جاتے ہیں اور اس سے روگردانی کر کے اس کو چھوڑ دیا یا اس کے ساتھ اس سے بڑھ کر بھی برا سلوک کیا، یعنی اس کا انکار کر کے کفر کا ارتکاب کیا ﴿ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا ﴾ یعنی اس کی سزا یہ ہو گی کہ ہم اس کی معیشت کو تنگ اور نہایت پر مشقت بنا دیں گے اور یہ معیشت اس کے لیے محض ایک عذاب ہو گی۔ ’’تنگ معیشت‘‘ کی تفسیر بیان کی جاتی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے، یعنی اس کے لیے اس کی قبر کو تنگ کر دیا جائے گا وہ اس میں گھٹ کر رہ جائے گا اور اس کو عذاب دیا جائے گا یہ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کی تھی۔ یہ ان آیات میں سے ایک آیت ہے جو عذاب قبر پر دلالت کرتی ہیں ۔ دوسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ١ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(الانعام:6؍93) ’’کاش آپ ان ظالموں کو اس وقت دیکھیں ، جب یہ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے۔ (اور کہہ رہے ہوں گے) نکالو اپنی جان آج تمھیں انتہائی رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی اس کا سبب یہ ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں کے ساتھ تکبر کیا کرتے تھے۔‘‘ تیسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍21) ’’ہم ان کو قیامت کے بڑے عذاب سے کمتر عذاب کا مزا بھی چکھائیں گے، شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ چوتھی آیت کریمہ یہ ہے ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ﴾(المؤمن:40؍46)’’انھیں صبح و شام آگ کے عذاب کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور جس روز قیامت برپا ہو گی اس روز کہا جائے گا کہ آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ جو چیز سلف میں سے بعض مفسرین کے لیے، اس آیت کریمہ کو عذاب قبر پر محمول کرنے اورصرف اسی پر اقتصار کرنے کی موجب بنی… واللہ تعالیٰ اعلم… وہ ہے آیت کریمہ کا آخر۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کے آخر میں قیامت کے عذاب کا ذکر کیا ہے۔اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ ’’تنگ معیشت‘‘ عام ہے یعنی اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کرنے والوں پر دنیا میں غم و ہموم اور مصائب و آلام کے جو پہاڑ ٹوٹتے ہیں ، وہ عذاب معجل ہے۔ برزخ میں بھی ان کو عذاب میں ڈالا جائے گا اور آخرت میں بھی عذاب میں داخل ہوں گے کیونکہ ’’تنگ معیشت‘‘ کو بغیر کسی قید کے مطلق طور پر بیان کیا گیا ہے۔﴿ وَّنَحۡشُرُهٗ ﴾ ’’اور اکٹھا کریں گے ہم اس کو۔‘‘ یعنی اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے اس شخص کو ﴿ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى ﴾ قیامت کے روز اندھا اٹھائیں گے… اور صحیح تفسیر یہی ہے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ عُمۡيًا وَّبُكۡمًا وَّصُمًّا﴾(بنی اسرائیل:17؍97) ’’اور قیامت کے روز ان لوگوں کو، اندھے، گونگے اور بہرے ہونے کی حالت میں ، اوندھے منہ اکٹھا کریں گے۔‘‘
[125] وہ نہایت ذلت، الم اور اس حالت پر تنگ دلی کے ساتھ کہے گا:﴿ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِيۡۤ اَعۡمٰى وَقَدۡ كُنۡتُ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اے میرے رب! کس بنا پر میری یہ بری حالت ہے میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا؟‘‘
[126]﴿ قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتۡكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيۡتَهَا﴾ ’’اللہ کہے گا، اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں تو تو نے ان کو بھلا دیا تھا۔‘‘ یعنی تو نے روگردانی کے ذریعے سے ان کو فراموش کر دیا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ الۡيَوۡمَ تُنۡسٰى ﴾ ’’اور اسی طرح آج تجھے بھلا دیا جائے گا۔‘‘ یعنی تجھے عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ پس جواب دیا گیا کہ یہ بعینہ تیرا عمل ہے کیونکہ جزا عمل ہی کی جنس سے ہوتی ہے۔ جس طرح تو نے اپنے رب کے ذکر کے بارے میں اندھے پن کا مظاہرہ کر کے اس سے منہ موڑا، اسے فراموش کیا اور اس میں سے اپنے حصے کو بھول گیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے آخرت میں اندھا کر دیا ہے، تجھے اندھا بہرہ اور گونگا بنا کر جہنم کی طرف لے جایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جہنم میں جھونک کر تجھ سے منہ پھیر لیا۔
[127]﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جزا ﴿ نَجۡزِيۡ مَنۡ اَسۡرَفَ ﴾ اس شخص کے لیے ہے جس نے حدود سے تجاوز کیا اور جن امور کی اجازت دی گئی ہے ان سے آگے بڑھ کر محرمات کا مرتکب ہوا ﴿ وَلَمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ﴾ اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لایا جو تمام مطالب ایمان پر واضح طور پر اور صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر ہرگز ظلم نہیں کیا اور نہ غیر مستحق کو سزا دی ہے بلکہ اس کا سبب تو صرف اس کا اسراف اور عدم ایمان ہے۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَشَدُّ ﴾ دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کئی گنا زیادہ سخت ہو گا۔ ﴿ وَاَبۡقٰى ﴾ اور دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کبھی ختم نہ ہو گا کیونکہ دنیا کا عذاب تو کبھی نہ کبھی منقطع ہو جاتا ہے۔ پس آخرت کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنا واجب ہے۔
20:126قَالَ كَذَٰلِكَ أَتَتۡكَ ءَايَٰتُنَا فَنَسِيتَهَاۖ وَكَذَٰلِكَ ٱلۡيَوۡمَ تُنسَىٰ
اللہ نے کہا، اتر جاؤ تم دونوں اس سے اکٹھے تمھارا ایک، دوسرے کے لیے دشمن ہے، پس اگر آئے تمھارے پاس میری طرف سے ہدایت تو جس شخص نے پیروی کی میری ہدایت کی، سو نہ گمراہ ہو گا وہ اور نہ وہ مشقت میں پڑے گا (123) اور جس نے اعراض کیا میری یاد سے تو بلاشبہ اس کے لیے گزر ان ہوگی تنگ اور ہم اٹھائیں گے اسے دن قیامت کے اندھا (کر کے)(124) وہ کہے گا، اے میرے رب! کیوں اٹھایا ہے تو نے مجھے اندھا حالانکہ تھا میں (دنیا میں ) دیکھنے والا؟ (125) اللہ کہے گا، اسی طرح آئی تھیں تیرے پاس نشانیاں ہماری، پس بھول گیا تھا تو انھیں اور اسی طرح آج کے دن بھلا دیا جائے گا تو بھی (126) اور اسی طرح سزا دیں گے ہم اس شخص کو جو حد سے بڑھ گیا اور نہ ایمان لایا وہ آیتوں پر اپنے رب کی اور البتہ عذاب آخرت کا زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے(127)
[123] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے آدم u اور ابلیس کو حکم دیا کہ وہ ز مین پر اتر جائیں ، آدم اور ان کی اولاد شیطان کو اپنا دشمن سمجھیں اور اس سے بچیں اس کا مقابلہ کرنے اور جنگ کے لیے تیار رہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر کتابیں نازل کرے گا ان کی طرف رسول بھیجے گا جو ان کے سامنے صراط مستقیم کو واضح کریں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے، نیز وہ ان کو ان کے دشمن سے متنبہ اور چوکنا کریں گے، لہٰذا ان کے پاس جس وقت بھی یہ ہدایت آ جائے… یعنی کتاب اور انبیاء و مرسلین… پس اگر کسی نے اس کتاب کی اتباع کی، ان امور پر عمل کیا جن کا اس نے حکم دیا اور ان امور سے اجتناب کیا جن سے اس نے منع کیا تو ایسا شخص دنیا میں گمراہ ہو گا نہ آخرت میں اور نہ وہ دنیا و آخرت میں تکلیف میں پڑے گا بلکہ دونوں جہاں میں ان کی سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کی جائے گی اور آخرت میں ان کو امن اور سعادت سے نوازا جائے گا۔ ایک اور آیت کریمہ میں وارد ہے کہ آخرت میں حزن و خوف ان سے دور رہے گا۔ ﴿فَمَنۡ تَبِـعَ هُدَايَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍38) ’’پس جس کسی نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کے لیے کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔‘‘ اور ’’ہدایت‘‘ کی پیروی یہ ہے کہ رسول کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی جائے، شبہات کے ذریعے سے اس کے ساتھ معارضہ نہ کیا جائے، اس کے حکم کی اس طرح تعمیل کی جائے کہ کسی قسم کی خواہش اس کی معارض نہ ہو۔
[124]﴿ وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِيۡ﴾ یعنی جس کسی نے میری کتاب کریم سے اعراض کیا جس سے تمام مطالب عالیہ حاصل کیے جاتے ہیں اور اس سے روگردانی کر کے اس کو چھوڑ دیا یا اس کے ساتھ اس سے بڑھ کر بھی برا سلوک کیا، یعنی اس کا انکار کر کے کفر کا ارتکاب کیا ﴿ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا ﴾ یعنی اس کی سزا یہ ہو گی کہ ہم اس کی معیشت کو تنگ اور نہایت پر مشقت بنا دیں گے اور یہ معیشت اس کے لیے محض ایک عذاب ہو گی۔ ’’تنگ معیشت‘‘ کی تفسیر بیان کی جاتی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے، یعنی اس کے لیے اس کی قبر کو تنگ کر دیا جائے گا وہ اس میں گھٹ کر رہ جائے گا اور اس کو عذاب دیا جائے گا یہ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کی تھی۔ یہ ان آیات میں سے ایک آیت ہے جو عذاب قبر پر دلالت کرتی ہیں ۔ دوسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ١ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(الانعام:6؍93) ’’کاش آپ ان ظالموں کو اس وقت دیکھیں ، جب یہ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے۔ (اور کہہ رہے ہوں گے) نکالو اپنی جان آج تمھیں انتہائی رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی اس کا سبب یہ ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں کے ساتھ تکبر کیا کرتے تھے۔‘‘ تیسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍21) ’’ہم ان کو قیامت کے بڑے عذاب سے کمتر عذاب کا مزا بھی چکھائیں گے، شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ چوتھی آیت کریمہ یہ ہے ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ﴾(المؤمن:40؍46)’’انھیں صبح و شام آگ کے عذاب کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور جس روز قیامت برپا ہو گی اس روز کہا جائے گا کہ آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ جو چیز سلف میں سے بعض مفسرین کے لیے، اس آیت کریمہ کو عذاب قبر پر محمول کرنے اورصرف اسی پر اقتصار کرنے کی موجب بنی… واللہ تعالیٰ اعلم… وہ ہے آیت کریمہ کا آخر۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کے آخر میں قیامت کے عذاب کا ذکر کیا ہے۔اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ ’’تنگ معیشت‘‘ عام ہے یعنی اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کرنے والوں پر دنیا میں غم و ہموم اور مصائب و آلام کے جو پہاڑ ٹوٹتے ہیں ، وہ عذاب معجل ہے۔ برزخ میں بھی ان کو عذاب میں ڈالا جائے گا اور آخرت میں بھی عذاب میں داخل ہوں گے کیونکہ ’’تنگ معیشت‘‘ کو بغیر کسی قید کے مطلق طور پر بیان کیا گیا ہے۔﴿ وَّنَحۡشُرُهٗ ﴾ ’’اور اکٹھا کریں گے ہم اس کو۔‘‘ یعنی اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے اس شخص کو ﴿ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى ﴾ قیامت کے روز اندھا اٹھائیں گے… اور صحیح تفسیر یہی ہے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ عُمۡيًا وَّبُكۡمًا وَّصُمًّا﴾(بنی اسرائیل:17؍97) ’’اور قیامت کے روز ان لوگوں کو، اندھے، گونگے اور بہرے ہونے کی حالت میں ، اوندھے منہ اکٹھا کریں گے۔‘‘
[125] وہ نہایت ذلت، الم اور اس حالت پر تنگ دلی کے ساتھ کہے گا:﴿ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِيۡۤ اَعۡمٰى وَقَدۡ كُنۡتُ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اے میرے رب! کس بنا پر میری یہ بری حالت ہے میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا؟‘‘
[126]﴿ قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتۡكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيۡتَهَا﴾ ’’اللہ کہے گا، اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں تو تو نے ان کو بھلا دیا تھا۔‘‘ یعنی تو نے روگردانی کے ذریعے سے ان کو فراموش کر دیا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ الۡيَوۡمَ تُنۡسٰى ﴾ ’’اور اسی طرح آج تجھے بھلا دیا جائے گا۔‘‘ یعنی تجھے عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ پس جواب دیا گیا کہ یہ بعینہ تیرا عمل ہے کیونکہ جزا عمل ہی کی جنس سے ہوتی ہے۔ جس طرح تو نے اپنے رب کے ذکر کے بارے میں اندھے پن کا مظاہرہ کر کے اس سے منہ موڑا، اسے فراموش کیا اور اس میں سے اپنے حصے کو بھول گیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے آخرت میں اندھا کر دیا ہے، تجھے اندھا بہرہ اور گونگا بنا کر جہنم کی طرف لے جایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جہنم میں جھونک کر تجھ سے منہ پھیر لیا۔
[127]﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جزا ﴿ نَجۡزِيۡ مَنۡ اَسۡرَفَ ﴾ اس شخص کے لیے ہے جس نے حدود سے تجاوز کیا اور جن امور کی اجازت دی گئی ہے ان سے آگے بڑھ کر محرمات کا مرتکب ہوا ﴿ وَلَمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ﴾ اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لایا جو تمام مطالب ایمان پر واضح طور پر اور صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر ہرگز ظلم نہیں کیا اور نہ غیر مستحق کو سزا دی ہے بلکہ اس کا سبب تو صرف اس کا اسراف اور عدم ایمان ہے۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَشَدُّ ﴾ دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کئی گنا زیادہ سخت ہو گا۔ ﴿ وَاَبۡقٰى ﴾ اور دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کبھی ختم نہ ہو گا کیونکہ دنیا کا عذاب تو کبھی نہ کبھی منقطع ہو جاتا ہے۔ پس آخرت کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنا واجب ہے۔
20:127وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي مَنۡ أَسۡرَفَ وَلَمۡ يُؤۡمِنۢ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦۚ وَلَعَذَابُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبۡقَىٰٓ
اللہ نے کہا، اتر جاؤ تم دونوں اس سے اکٹھے تمھارا ایک، دوسرے کے لیے دشمن ہے، پس اگر آئے تمھارے پاس میری طرف سے ہدایت تو جس شخص نے پیروی کی میری ہدایت کی، سو نہ گمراہ ہو گا وہ اور نہ وہ مشقت میں پڑے گا (123) اور جس نے اعراض کیا میری یاد سے تو بلاشبہ اس کے لیے گزر ان ہوگی تنگ اور ہم اٹھائیں گے اسے دن قیامت کے اندھا (کر کے)(124) وہ کہے گا، اے میرے رب! کیوں اٹھایا ہے تو نے مجھے اندھا حالانکہ تھا میں (دنیا میں ) دیکھنے والا؟ (125) اللہ کہے گا، اسی طرح آئی تھیں تیرے پاس نشانیاں ہماری، پس بھول گیا تھا تو انھیں اور اسی طرح آج کے دن بھلا دیا جائے گا تو بھی (126) اور اسی طرح سزا دیں گے ہم اس شخص کو جو حد سے بڑھ گیا اور نہ ایمان لایا وہ آیتوں پر اپنے رب کی اور البتہ عذاب آخرت کا زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے(127)
[123] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے آدم u اور ابلیس کو حکم دیا کہ وہ ز مین پر اتر جائیں ، آدم اور ان کی اولاد شیطان کو اپنا دشمن سمجھیں اور اس سے بچیں اس کا مقابلہ کرنے اور جنگ کے لیے تیار رہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر کتابیں نازل کرے گا ان کی طرف رسول بھیجے گا جو ان کے سامنے صراط مستقیم کو واضح کریں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے، نیز وہ ان کو ان کے دشمن سے متنبہ اور چوکنا کریں گے، لہٰذا ان کے پاس جس وقت بھی یہ ہدایت آ جائے… یعنی کتاب اور انبیاء و مرسلین… پس اگر کسی نے اس کتاب کی اتباع کی، ان امور پر عمل کیا جن کا اس نے حکم دیا اور ان امور سے اجتناب کیا جن سے اس نے منع کیا تو ایسا شخص دنیا میں گمراہ ہو گا نہ آخرت میں اور نہ وہ دنیا و آخرت میں تکلیف میں پڑے گا بلکہ دونوں جہاں میں ان کی سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کی جائے گی اور آخرت میں ان کو امن اور سعادت سے نوازا جائے گا۔ ایک اور آیت کریمہ میں وارد ہے کہ آخرت میں حزن و خوف ان سے دور رہے گا۔ ﴿فَمَنۡ تَبِـعَ هُدَايَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍38) ’’پس جس کسی نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کے لیے کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔‘‘ اور ’’ہدایت‘‘ کی پیروی یہ ہے کہ رسول کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی جائے، شبہات کے ذریعے سے اس کے ساتھ معارضہ نہ کیا جائے، اس کے حکم کی اس طرح تعمیل کی جائے کہ کسی قسم کی خواہش اس کی معارض نہ ہو۔
[124]﴿ وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِيۡ﴾ یعنی جس کسی نے میری کتاب کریم سے اعراض کیا جس سے تمام مطالب عالیہ حاصل کیے جاتے ہیں اور اس سے روگردانی کر کے اس کو چھوڑ دیا یا اس کے ساتھ اس سے بڑھ کر بھی برا سلوک کیا، یعنی اس کا انکار کر کے کفر کا ارتکاب کیا ﴿ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا ﴾ یعنی اس کی سزا یہ ہو گی کہ ہم اس کی معیشت کو تنگ اور نہایت پر مشقت بنا دیں گے اور یہ معیشت اس کے لیے محض ایک عذاب ہو گی۔ ’’تنگ معیشت‘‘ کی تفسیر بیان کی جاتی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے، یعنی اس کے لیے اس کی قبر کو تنگ کر دیا جائے گا وہ اس میں گھٹ کر رہ جائے گا اور اس کو عذاب دیا جائے گا یہ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کی تھی۔ یہ ان آیات میں سے ایک آیت ہے جو عذاب قبر پر دلالت کرتی ہیں ۔ دوسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِيۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ١ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ١ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَقِّ وَؔكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(الانعام:6؍93) ’’کاش آپ ان ظالموں کو اس وقت دیکھیں ، جب یہ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے۔ (اور کہہ رہے ہوں گے) نکالو اپنی جان آج تمھیں انتہائی رسوا کن عذاب کی سزا دی جائے گی اس کا سبب یہ ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں کے ساتھ تکبر کیا کرتے تھے۔‘‘ تیسری آیت کریمہ یہ ہے۔ ﴿وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰى دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَكۡبَرِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍21) ’’ہم ان کو قیامت کے بڑے عذاب سے کمتر عذاب کا مزا بھی چکھائیں گے، شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ چوتھی آیت کریمہ یہ ہے ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ﴾(المؤمن:40؍46)’’انھیں صبح و شام آگ کے عذاب کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور جس روز قیامت برپا ہو گی اس روز کہا جائے گا کہ آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ جو چیز سلف میں سے بعض مفسرین کے لیے، اس آیت کریمہ کو عذاب قبر پر محمول کرنے اورصرف اسی پر اقتصار کرنے کی موجب بنی… واللہ تعالیٰ اعلم… وہ ہے آیت کریمہ کا آخر۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کے آخر میں قیامت کے عذاب کا ذکر کیا ہے۔اور بعض مفسرین کی رائے ہے کہ ’’تنگ معیشت‘‘ عام ہے یعنی اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کرنے والوں پر دنیا میں غم و ہموم اور مصائب و آلام کے جو پہاڑ ٹوٹتے ہیں ، وہ عذاب معجل ہے۔ برزخ میں بھی ان کو عذاب میں ڈالا جائے گا اور آخرت میں بھی عذاب میں داخل ہوں گے کیونکہ ’’تنگ معیشت‘‘ کو بغیر کسی قید کے مطلق طور پر بیان کیا گیا ہے۔﴿ وَّنَحۡشُرُهٗ ﴾ ’’اور اکٹھا کریں گے ہم اس کو۔‘‘ یعنی اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے اس شخص کو ﴿ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى ﴾ قیامت کے روز اندھا اٹھائیں گے… اور صحیح تفسیر یہی ہے… جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ عُمۡيًا وَّبُكۡمًا وَّصُمًّا﴾(بنی اسرائیل:17؍97) ’’اور قیامت کے روز ان لوگوں کو، اندھے، گونگے اور بہرے ہونے کی حالت میں ، اوندھے منہ اکٹھا کریں گے۔‘‘
[125] وہ نہایت ذلت، الم اور اس حالت پر تنگ دلی کے ساتھ کہے گا:﴿ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرۡتَنِيۡۤ اَعۡمٰى وَقَدۡ كُنۡتُ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اے میرے رب! کس بنا پر میری یہ بری حالت ہے میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا؟‘‘
[126]﴿ قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتۡكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيۡتَهَا﴾ ’’اللہ کہے گا، اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں آئی تھیں تو تو نے ان کو بھلا دیا تھا۔‘‘ یعنی تو نے روگردانی کے ذریعے سے ان کو فراموش کر دیا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ الۡيَوۡمَ تُنۡسٰى ﴾ ’’اور اسی طرح آج تجھے بھلا دیا جائے گا۔‘‘ یعنی تجھے عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ پس جواب دیا گیا کہ یہ بعینہ تیرا عمل ہے کیونکہ جزا عمل ہی کی جنس سے ہوتی ہے۔ جس طرح تو نے اپنے رب کے ذکر کے بارے میں اندھے پن کا مظاہرہ کر کے اس سے منہ موڑا، اسے فراموش کیا اور اس میں سے اپنے حصے کو بھول گیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تجھے آخرت میں اندھا کر دیا ہے، تجھے اندھا بہرہ اور گونگا بنا کر جہنم کی طرف لے جایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جہنم میں جھونک کر تجھ سے منہ پھیر لیا۔
[127]﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جزا ﴿ نَجۡزِيۡ مَنۡ اَسۡرَفَ ﴾ اس شخص کے لیے ہے جس نے حدود سے تجاوز کیا اور جن امور کی اجازت دی گئی ہے ان سے آگے بڑھ کر محرمات کا مرتکب ہوا ﴿ وَلَمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ﴾ اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لایا جو تمام مطالب ایمان پر واضح طور پر اور صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس پر ہرگز ظلم نہیں کیا اور نہ غیر مستحق کو سزا دی ہے بلکہ اس کا سبب تو صرف اس کا اسراف اور عدم ایمان ہے۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَشَدُّ ﴾ دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کئی گنا زیادہ سخت ہو گا۔ ﴿ وَاَبۡقٰى ﴾ اور دنیا کے عذاب کے برعکس آخرت کا عذاب کبھی ختم نہ ہو گا کیونکہ دنیا کا عذاب تو کبھی نہ کبھی منقطع ہو جاتا ہے۔ پس آخرت کے عذاب سے ڈرنا اور اس سے بچنا واجب ہے۔
20:128أَفَلَمۡ يَهۡدِ لَهُمۡ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّنَ ٱلۡقُرُونِ يَمۡشُونَ فِي مَسَٰكِنِهِمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّأُوْلِي ٱلنُّهَىٰ
کیا پس نہیں رہنمائی کی ان کی (اس چیز نے) کہ کتنی ہلاک کیں ہم نے ان سے پہلے قومیں ، کہ وہ لوگ چلتے ہیں ان کے مکانوں میں، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں اہل عقل کے لیے (128)
[128] ان جھٹلانے والوں اور آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والوں کو، اس عذاب نے راہ ہدایت پر گامزن ہونے، گمراہی اور فساد کی راہ سے اجتناب کرنے پر آمادہ نہیں کیا، جو گزشتہ قوموں اور ایک دوسرے کے پیچھے آنے والی امتوں پر نازل ہوا؟ یہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں ، ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آ رہے ہیں اور ان قوموں کے مسکن اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ، مثلاً:ہود، صالح اور لوط علیہ السلام کی قوموں کے اجڑے ہوئے مسکن۔ انھوں نے جب ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہماری کتابوں سے روگردانی کی تو ہم نے ان پر دردناک عذاب نازل کر دیا۔ کس چیز نے ان کو بے خوف کیا ہے کہ جو عذاب ان قوموں پر نازل ہوا تھا ان پر نازل نہیں ہو گا؟ ﴿اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِۚ۰۰اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾(القمر:54؍43-44) ’’کیا تمھارے کفار ان گزرے ہوئے لوگوں سے بہتر ہیں یا تمھارے لیے (گزشتہ) کتابوں میں براء ت لکھ دی گئی ہے یا وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم بڑے مضبوط ہیں ۔‘‘ یعنی ان میں سے کوئی چیز بھی ان پر صادق نہیں آتی۔ یہ کفار ان کافروں سے کسی لحاظ سے بھی بہتر نہیں کہ ان سے عذاب کو ٹال دیا جائے بلکہ یہ ان سے زیادہ شریر اور برے لوگ ہیں کیونکہ انھوں نے افضل ترین رسولﷺ اور بہترین کتاب کی تکذیب کی ہے اور نہ ان کے پاس کوئی تحریری براء ت نامہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عہد نامہ ہے… اور ایسا بھی نہیں ہو سکتا جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کی قوم انھیں کوئی فائدہ دے گی اور ان سے عذاب کو دور کر دے گی بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ یہ ان سے زیادہ ذلیل اور ان سے زیادہ حقیر ہیں ۔پس گزشتہ قوموں کو ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ہلاک کرنا، ہدایت کے اسباب میں سے ہے کیونکہ یہ ان رسولوں کی رسالت کی، جو ان کے پاس آئے، صداقت کی اور ان قوموں کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے۔ مگر ہر شخص آیات الٰہی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا صرف وہی لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کو عقل و دانش سے نوازا گیا ہے، یعنی عقل سلیم، فطرت مستقیم اور ذہن جو انسان کو ان امور سے روکتے ہیں جو اس کے لیے مناسب نہیں ۔
20:129وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامٗا وَأَجَلٞ مُّسَمّٗى
اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے (طے) ہو چکی ہے آپ کے رب کی طرف سے تو البتہ ہو جاتا (عذاب) چمٹنے والااور (اگر نہ ہوتی) میعاد مقرر (129) پس صبر کیجیے اوپر ان باتوں کے جو وہ (کافر) کہتے ہیں اور تسبیح کیجیے ساتھ حمد کے اپنے رب کی پہلے طلوع آفتاب سے اور پہلے اس کے غروب ہونے سےاور کچھ اوقات میں رات کے، پس تسبیح کیجیےاور (دونوں ) حصوں میں دن کے بھی تاکہ آپ راضی ہو جائیں (130)
[129] یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور صبر کی ترغیب ہے کہ وہ ان جھٹلانے اور روگردانی کرنے والوں کے لیے جلدی ہلاکت کی خواہش نہ کریں ۔ ان کا کفر اور تکذیب، ان پر عذاب نازل ہونے کے لیے ایک معقول سبب ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے سزاؤں کے لیے سبب مقرر کیا ہے جو گناہوں سے جنم لیتا ہے اور ان لوگوں نے نزول عذاب کے اسباب پیدا کر دیے ہیں مگر جس چیز نے اس عذاب کو مؤخر کر رکھا ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا حکم جو مہلت دینے اور وقت مقرر کرنے کو متضمن ہے۔ وقت کا مقرر ہونا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ، نزول عذاب کو اس وقت کے آنے تک کے لیے مؤخر کر دیتا ہے۔ شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع کریں ، اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر لے اور عذاب کو ان سے دور کر دے جب تک کہ اللہ کا کلمہ ان پر ثابت نہ ہو جائے۔
[130] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کی قولی اذیتوں پر صبر کرے اور اس کے مقابلے میں ان اوقات فاضلہ میں رب کی تسبیح و تحمید سے مدد لے… یعنی طلوع آفتاب اور غروب آفتاب، دن کے کناروں پر، یعنی اس کے اوائل اور اواخر میں … یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے… نیز رات کے اوقات اور اس کی گھڑیوں میں ۔ اگر آپﷺ اس پر عمل پیرا ہوئے تو شاید آپﷺ اپنے رب کے عطا کردہ دنیاوی اور اخروی ثواب پر راضی ہو جائیں ، آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو، اپنے رب کی عبادت سے آپ آنکھیں ٹھنڈی کریں اور ان کی اذیت رسانی پر اس عبادت کے ذریعے سے دل کو تسلی ہو تب آپﷺ کے لیے صبر بہت آسان ہو جائے گا۔
20:130فَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوعِ ٱلشَّمۡسِ وَقَبۡلَ غُرُوبِهَاۖ وَمِنۡ ءَانَآيِٕ ٱلَّيۡلِ فَسَبِّحۡ وَأَطۡرَافَ ٱلنَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرۡضَىٰ
اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے (طے) ہو چکی ہے آپ کے رب کی طرف سے تو البتہ ہو جاتا (عذاب) چمٹنے والااور (اگر نہ ہوتی) میعاد مقرر (129) پس صبر کیجیے اوپر ان باتوں کے جو وہ (کافر) کہتے ہیں اور تسبیح کیجیے ساتھ حمد کے اپنے رب کی پہلے طلوع آفتاب سے اور پہلے اس کے غروب ہونے سےاور کچھ اوقات میں رات کے، پس تسبیح کیجیےاور (دونوں ) حصوں میں دن کے بھی تاکہ آپ راضی ہو جائیں (130)
[129] یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور صبر کی ترغیب ہے کہ وہ ان جھٹلانے اور روگردانی کرنے والوں کے لیے جلدی ہلاکت کی خواہش نہ کریں ۔ ان کا کفر اور تکذیب، ان پر عذاب نازل ہونے کے لیے ایک معقول سبب ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے سزاؤں کے لیے سبب مقرر کیا ہے جو گناہوں سے جنم لیتا ہے اور ان لوگوں نے نزول عذاب کے اسباب پیدا کر دیے ہیں مگر جس چیز نے اس عذاب کو مؤخر کر رکھا ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا حکم جو مہلت دینے اور وقت مقرر کرنے کو متضمن ہے۔ وقت کا مقرر ہونا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ، نزول عذاب کو اس وقت کے آنے تک کے لیے مؤخر کر دیتا ہے۔ شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع کریں ، اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر لے اور عذاب کو ان سے دور کر دے جب تک کہ اللہ کا کلمہ ان پر ثابت نہ ہو جائے۔
[130] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کی قولی اذیتوں پر صبر کرے اور اس کے مقابلے میں ان اوقات فاضلہ میں رب کی تسبیح و تحمید سے مدد لے… یعنی طلوع آفتاب اور غروب آفتاب، دن کے کناروں پر، یعنی اس کے اوائل اور اواخر میں … یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے… نیز رات کے اوقات اور اس کی گھڑیوں میں ۔ اگر آپﷺ اس پر عمل پیرا ہوئے تو شاید آپﷺ اپنے رب کے عطا کردہ دنیاوی اور اخروی ثواب پر راضی ہو جائیں ، آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو، اپنے رب کی عبادت سے آپ آنکھیں ٹھنڈی کریں اور ان کی اذیت رسانی پر اس عبادت کے ذریعے سے دل کو تسلی ہو تب آپﷺ کے لیے صبر بہت آسان ہو جائے گا۔
20:131وَلَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعۡنَا بِهِۦٓ أَزۡوَٰجٗا مِّنۡهُمۡ زَهۡرَةَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيهِۚ وَرِزۡقُ رَبِّكَ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰ
اور نہ دراز کریں آپ اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف کہ فائدہ دیا ہم نے ان کے ساتھ کئی قسم کے لوگوں کو ان میں سے، رونق کا زندگانیٔ دنیا کی تاکہ ہم آزمائیں انھیں اس میں اور رزق آپ کے رب کا بہت بہتر اور دیرپا ہے(131)
[131] یعنی دنیا اور اس کی متاع، مثلاً:لذیذ ماکولات و مشروبات، ملبوسات فاخرہ، آراستہ کیے ہوئے گھروں اور حسین و جمیل عورتوں سے حظ اٹھانے والوں کے احوال کو استحسان اور پسندیدگی کی نظر سے دوبارہ نہ دیکھیں ، اس لیے کہ یہ سب کچھ دنیا کی خوبصورتی ہے اور اس سے صرف فریب خوردہ لوگ ہی خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے روگردانی کرنے والوں کی نظریں ہی اسے پسندیدگی سے دیکھتی ہیں ۔ آخرت سے قطع نظر کر کے، صرف ظالم لوگ ہی اس سے متمتع ہوتے ہیں ، پھر یہ دنیا سب کی سب، تیزی سے گزر جاتی ہے، اپنے چاہنے والوں اور عشاق کو بے موت مار دیتی ہے۔ پس دنیا سے محبت کرنے والے لوگ اس وقت نادم ہوں گے جب ندامت کوئی فائدہ نہیں دے گی اور قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تب انھیں اپنی بے مائیگی کا علم ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تو اس دنیا کو فتنہ اور آزمائش بنایا ہے تاکہ معلوم ہو کہ کون اس کے پاس ٹھہرتا اور اس کے فریب میں مبتلا ہوتا ہے اور کون اچھے عمل کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى الۡاَرۡضِ زِيۡنَةً لَّهَا لِنَبۡلُوَهُمۡ اَيُّهُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا۰۰وَاِنَّا لَجٰؔعِلُوۡنَ مَا عَلَيۡهَا صَعِيۡدًا جُرُزًا﴾(الکہف:18؍7-8) ’’جو کچھ زمین پر موجود ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ ان میں سے کون اچھے کام کرتا ہے، پھر جو کچھ اس زمین پر ہے ہم سب کو ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں ۔‘‘ ﴿وَرِزۡقُ رَبِّكَ ﴾ ’’اور تیرے رب کا رزق‘‘ دنیاوی رزق یعنی علم، ایمان اور اعمال صالحہ کے حقائق، اخروی رزق یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور رب رحیم کے جوار رحمت میں سلامتی سے بھرپور زندگی۔ ﴿ خَيۡرٌ ﴾ اپنی ذات و صفات میں اس زندگی سے بہتر ہے جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے ﴿وَّاَبۡقٰى﴾ ’’اور پائدار ہے‘‘ کیونکہ اس کے پھل کبھی ختم نہ ہوں گے اور اس کے سائے دائمی ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾(الاعلی:87؍16۔17) ’’مگر تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ جب دیکھے کہ اس کا نفس سرکشی اختیار کر کے دنیا کی زیب و زینت کی طرف مائل اور متوجہ ہے تو وہ اپنے رب کے اس رزق کو یاد کرے جو آئندہ زندگی میں اسے عطا ہونے والا ہے، پھر ان دونوں کے درمیان موازنہ کرے۔
20:132وَأۡمُرۡ أَهۡلَكَ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَاۖ لَا نَسۡـَٔلُكَ رِزۡقٗاۖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكَۗ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلتَّقۡوَىٰ
اور حکم دیجیے اپنے گھر والوں کو نماز (پڑھنے) کااور (خود بھی) ثابت رہیے اس پر، نہیں سوال کرتے ہم آپ سے رزق کا، ہم ہی رزق دیتے ہیں آپ کواور (بہترین) انجام تو تقوی (والوں ) ہی کا ہے (132)
[132] اپنے گھر والوں کو نماز کی ترغیب دیجیے، انھیں فرض اور نفل نماز پڑھنے کا حکم دیتے رہیے اور کسی چیز کا حکم دینا ان تمام امور کو شامل ہے جن کے بغیر اس چیز کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پس یہ حکم ، اپنے گھر والوں کو نماز کے بارے میں ان امور کی تعلیم دینا ہے جو نماز کی اصلاح کرتے ہیں ، جو نماز کو فاسد کرتے ہیں اور جو نماز کی تکمیل کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَا ﴾ ’’اور خود بھی اس پر جمے رہیے۔‘‘ یعنی نماز پر، اس کی تمام حدود، اس کے ارکان، اس کے آداب اور اس کے خشوع و خضوع کے ساتھ۔ کیونکہ اس میں نفس کے لیے مشقت ہے۔ تاہم مناسب یہی ہے کہ دائمی طور پر نفس کو نماز پڑھنے پر مجبور اور اس کے ساتھ جہاد کرتے رہنا چاہیے اور اس پر صبر کرنا چاہیے کیونکہ بندۂ مومن جب اس طریقے سے نماز قائم کرتا ہے جس طریقے سے قائم کرنے کا اسے حکم دیا گیا ہے تو نماز کے علاوہ دیگر دین کی حفاظت کرنے اور اس کو قائم کرنے کی اس سے زیادہ توقع کی جا سکتی ہے۔ اگر وہ نماز کو ضائع کرتا ہے تو دیگر دین کو زیادہ برے طریقے سے ضائع کر سکتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو رزق کی ضمانت دی اور ترغیب دی کہ آپ اقامت دین کو چھوڑ کر حصول رزق میں مشغول نہ ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَحۡنُ نَرۡزُقُكَ﴾ یعنی آپ کا رزق ہمارے ذمہ ہے ہم نے جس طرح تمام خلائق کے رزق کی کفالت اپنے ذمہ لی ہے اسی طرح آپ کے رزق کی کفالت بھی ہمارے ذمہ ہے۔ اس شخص کے رزق کی ذمہ داری ہم پر کیسے نہ ہو جو ہمارے حکم کی تعمیل کرتا ہے اور ہمارے ذکر میں مشغول رہتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا رزق متقی اور غیر متقی سب کے لیے عام ہے، اس لیے ان امور کا اہتمام کرنا چاہیے جن پر ابدی سعادت کا دارومدار ہے اور وہ ہے تقویٰ، لہٰذا فرمایا:﴿وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ یعنی دنیا و آخرت کا انجام ﴿ لِلتَّقۡوٰى ﴾ تقویٰ کے لیے ہے اور تقویٰ سے مراد ہے مامورات کی تعمیل اور منہیات سے اجتناب۔ اور جو کوئی ان کو قائم کرتا ہے، انجام اسی کا اچھا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍128) ’’اور اچھا انجام متقین کا ہے۔‘‘
20:133وَقَالُواْ لَوۡلَا يَأۡتِينَا بِـَٔايَةٖ مِّن رَّبِّهِۦٓۚ أَوَلَمۡ تَأۡتِهِم بَيِّنَةُ مَا فِي ٱلصُّحُفِ ٱلۡأُولَىٰ
اور انھوں نے کہا، کیوں نہیں لاتا وہ ہمارے پاس کوئی نشانی اپنے رب کی طرف سے؟ کیا نہیں آئی ان کے پاس دلیل اس چیز کی جوکچھ پہلے صحیفوں میں ہے؟ (133) اور اگر بے شک ہم ہلاک کر دیتے ان کو ساتھ عذاب کے پہلے اس رسول سے تو البتہ کہتے وہ لوگ، اے ہمارے رب! کیوں نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول پس ہم پیروی کرتے تیری آیتوں کی پہلے اس سے کہ ہم ذلیل اور رسوا ہوتے؟ (134) آپ کہہ دیجیے! ہر ایک انتظار کرنے والا ہے سو تم بھی انتظار کرو، پس عنقریب تم جان لو گے کہ کون ہیں حامل، راہ راست کے اور کس نے ہدایت کو اپنایا؟(135)
[133] رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ سے کہتے ہیں کہ آپ کے رب کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ نشانی سے ان کی مراد معجزات ہیں ۔ یہ بات ان کے اس قول کی مانند ہے ﴿وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًاۙ۰۰اَوۡ تَكُوۡنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡهٰرَ خِلٰلَهَا تَفۡجِيۡرًاۙ۰۰اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَؔ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا اَوۡ تَاۡتِيَ بِاللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيۡلًا﴾(بنی اسرائیل:17؍90-92) ’’انھوں نے کہا کہ ہم تم پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک تو زمین سے ہمارے لیے چشمہ جاری نہ کرے۔ یا تیرے لیے کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو اور تو اس باغ کے درمیان نہریں جاری کر دے یا تو آسمان کو… جیسا کہ تو دعویٰ کرتا ہے… ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اوپر گرا دے یا تو اللہ اور فرشتوں کو ہمارے روبرو لے آئے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے محض تعنت، عناد اور ظلم ہے۔ کیونکہ رسول اور وہ خود محض بشر اور اللہ کے بندے ہیں ۔ ان کا اپنی خواہشات کے مطابق معجزات کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں ۔ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی حکمت کے مطابق آیات و معجزات کا انتخاب کر کے نازل کرتا ہے۔ چونکہ ان کا قول ﴿ لَوۡلَا يَاۡتِيۡنَا بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ ان کے پاس رسول اللہﷺ کی صداقت پر کوئی نشانی اور آپ کے حق ہونے پر دلیل نازل نہیں ہوئی… حالانکہ یہ جھوٹ اور بہتان ہے کیونکہ آپ بڑے بڑے معجزات اور ناقابل تردید دلائل لے کر آئے کہ ان میں سے کسی ایک کے ذریعے سے مقصود حاصل ہو سکتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ تَاۡتِهِمۡ ﴾ ’’کیا ان کے پاس نہیں آئی۔‘‘ اگر وہ اپنی بات میں سچے ہیں اور دلیل کے ذریعے سے وہ حق کے متلاشی ہیں ﴿ بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ دلیل جو پہلے صحیفوں میں ہے؟‘‘ یعنی یہ قرآن عظیم ان تمام باتوں کی تصدیق کرتا ہے جو گزشتہ صحیفوں ، یعنی تورات، انجیل اور دیگر کتابوں میں نازل ہوئی ہیں اور انھی امور کے بارے میں خبر دیتا ہے جن کے بارے میں ان گزشتہ کتابوں نے خبر دی ہے۔ ان گزشتہ کتب اور صحیفوں میں اس قرآن عظیم کی تصدیق بھی موجود ہے اور اس کو لانے والے رسول کی بشارت بھی دی گئی ہے۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿اَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ اَنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ١ؕ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَرَحۡمَةً وَّذِكۡرٰى لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ﴾(العنکبوت:29؍51) ’’کیا ان کے لیے یہی کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب عظیم نازل کی جو انھیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور نصیحت ہے جو ایمان لاتے ہیں ۔‘‘ آیات الٰہی اہل ایمان کو فائدہ دیتی ہیں ، ان کی تلاوت سے ان کے ایمان و ایقان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن آیات الٰہی سے اعراض کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان پر ایمان رکھتے ہیں نہ ان سے کوئی فائدہ ہی اٹھاتے ہیں ۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ حَقَّتۡ عَلَيۡهِمۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَۙ۰۰وَلَوۡ جَآءَتۡهُمۡ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾(یونس:10؍96-97) ’’بلاشبہ وہ لوگ جن پر تیرے رب کا حکم قرار پا چکا ہے خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آ جائے، وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ۔‘‘
[134] ان آیات کو ان کی طرف بھیجنے اور ان کے ذریعے سے ان سے مخاطب ہونے کا پس ایک ہی فائدہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے تاکہ جب ان پر دردناک عذاب نازل ہو تو ان کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے: ﴿ لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّذِلَّ وَنَخۡزٰى ﴾ ’’کیوں نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول، پس ہم تیری آیات کی پیروی کرتے قبل اس کے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے۔‘‘ یعنی عقوبت کے ذریعے… لو تمھارے پاس، میری آیات و براہین کے ساتھ، میرا رسول آ گیا ہے اگر بات ایسے ہی ہے جیسے تم کہتے ہو تو اٹھو اس کی تصدیق کرو۔
[135] اے محمد! (ﷺ) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو آپ کی تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’اس کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو‘‘ ﴿ قُلۡ كُلٌّ مُّؔتَرَبِّصٌ﴾ ’’کہہ دیجیے! ہم میں سے ہر ایک منتظر ہے۔‘‘ تم میری موت کا انتظار کرو میں تم پر عذاب الٰہی کے ٹوٹ پڑنے کا انتظار کرتا ہوں ۔ ﴿قُلۡ هَلۡ تَرَبَّصُوۡنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡدَى الۡحُسۡنَيَيۡنِ﴾(التوبۃ:9؍52) ’’کہہ دیجیے کیا تم ہمارے متعلق دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی کے منتظر ہو؟‘‘ یعنی کامیابی یا شہادت ﴿وَنَحۡنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمۡ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖۤ اَوۡ بِاَيۡدِيۡنَا﴾(التوبۃ:9؍52)’’اور ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیجے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں کوئی سزا دے۔‘‘﴿ فَتَرَبَّصُوۡا١ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ۠ مَنۡ اَصۡحٰؔبُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ﴾ ’’پس تم انتظار کرو جلد ہی تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے راستے (یعنی صراط مستقیم) والے کون ہیں ؟‘‘ ﴿ وَمَنِ اهۡتَدٰؔى ﴾ ’’اور کون ہدایت یافتہ ہے؟‘‘ یعنی اپنے طرز عمل کے اعتبار سے، میں یا تم؟ کیونکہ اس راستے پر چلنے والا شخص ہی صاحب رشد و ہدایت، فوزوفلاح سے بہرہ ور اور نجات یافتہ ہے اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے وہ خائب و خاسر اور عذاب کا مستحق ہے اور یہ حقیقت واضح طور پر معلوم ہے کہ رسول اللہﷺ صراط مستقیم پر گامزن ہیں اور آپ کے دشمن اس کے برعکس راستوں پر چل رہے ہیں ۔ واللہ اعلم۔
20:134وَلَوۡ أَنَّآ أَهۡلَكۡنَٰهُم بِعَذَابٖ مِّن قَبۡلِهِۦ لَقَالُواْ رَبَّنَا لَوۡلَآ أَرۡسَلۡتَ إِلَيۡنَا رَسُولٗا فَنَتَّبِعَ ءَايَٰتِكَ مِن قَبۡلِ أَن نَّذِلَّ وَنَخۡزَىٰ
اور انھوں نے کہا، کیوں نہیں لاتا وہ ہمارے پاس کوئی نشانی اپنے رب کی طرف سے؟ کیا نہیں آئی ان کے پاس دلیل اس چیز کی جوکچھ پہلے صحیفوں میں ہے؟ (133) اور اگر بے شک ہم ہلاک کر دیتے ان کو ساتھ عذاب کے پہلے اس رسول سے تو البتہ کہتے وہ لوگ، اے ہمارے رب! کیوں نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول پس ہم پیروی کرتے تیری آیتوں کی پہلے اس سے کہ ہم ذلیل اور رسوا ہوتے؟ (134) آپ کہہ دیجیے! ہر ایک انتظار کرنے والا ہے سو تم بھی انتظار کرو، پس عنقریب تم جان لو گے کہ کون ہیں حامل، راہ راست کے اور کس نے ہدایت کو اپنایا؟(135)
[133] رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ سے کہتے ہیں کہ آپ کے رب کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ نشانی سے ان کی مراد معجزات ہیں ۔ یہ بات ان کے اس قول کی مانند ہے ﴿وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًاۙ۰۰اَوۡ تَكُوۡنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡهٰرَ خِلٰلَهَا تَفۡجِيۡرًاۙ۰۰اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَؔ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا اَوۡ تَاۡتِيَ بِاللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيۡلًا﴾(بنی اسرائیل:17؍90-92) ’’انھوں نے کہا کہ ہم تم پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک تو زمین سے ہمارے لیے چشمہ جاری نہ کرے۔ یا تیرے لیے کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو اور تو اس باغ کے درمیان نہریں جاری کر دے یا تو آسمان کو… جیسا کہ تو دعویٰ کرتا ہے… ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اوپر گرا دے یا تو اللہ اور فرشتوں کو ہمارے روبرو لے آئے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے محض تعنت، عناد اور ظلم ہے۔ کیونکہ رسول اور وہ خود محض بشر اور اللہ کے بندے ہیں ۔ ان کا اپنی خواہشات کے مطابق معجزات کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں ۔ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی حکمت کے مطابق آیات و معجزات کا انتخاب کر کے نازل کرتا ہے۔ چونکہ ان کا قول ﴿ لَوۡلَا يَاۡتِيۡنَا بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ ان کے پاس رسول اللہﷺ کی صداقت پر کوئی نشانی اور آپ کے حق ہونے پر دلیل نازل نہیں ہوئی… حالانکہ یہ جھوٹ اور بہتان ہے کیونکہ آپ بڑے بڑے معجزات اور ناقابل تردید دلائل لے کر آئے کہ ان میں سے کسی ایک کے ذریعے سے مقصود حاصل ہو سکتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ تَاۡتِهِمۡ ﴾ ’’کیا ان کے پاس نہیں آئی۔‘‘ اگر وہ اپنی بات میں سچے ہیں اور دلیل کے ذریعے سے وہ حق کے متلاشی ہیں ﴿ بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ دلیل جو پہلے صحیفوں میں ہے؟‘‘ یعنی یہ قرآن عظیم ان تمام باتوں کی تصدیق کرتا ہے جو گزشتہ صحیفوں ، یعنی تورات، انجیل اور دیگر کتابوں میں نازل ہوئی ہیں اور انھی امور کے بارے میں خبر دیتا ہے جن کے بارے میں ان گزشتہ کتابوں نے خبر دی ہے۔ ان گزشتہ کتب اور صحیفوں میں اس قرآن عظیم کی تصدیق بھی موجود ہے اور اس کو لانے والے رسول کی بشارت بھی دی گئی ہے۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿اَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ اَنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ١ؕ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَرَحۡمَةً وَّذِكۡرٰى لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ﴾(العنکبوت:29؍51) ’’کیا ان کے لیے یہی کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب عظیم نازل کی جو انھیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور نصیحت ہے جو ایمان لاتے ہیں ۔‘‘ آیات الٰہی اہل ایمان کو فائدہ دیتی ہیں ، ان کی تلاوت سے ان کے ایمان و ایقان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن آیات الٰہی سے اعراض کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان پر ایمان رکھتے ہیں نہ ان سے کوئی فائدہ ہی اٹھاتے ہیں ۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ حَقَّتۡ عَلَيۡهِمۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَۙ۰۰وَلَوۡ جَآءَتۡهُمۡ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾(یونس:10؍96-97) ’’بلاشبہ وہ لوگ جن پر تیرے رب کا حکم قرار پا چکا ہے خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آ جائے، وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ۔‘‘
[134] ان آیات کو ان کی طرف بھیجنے اور ان کے ذریعے سے ان سے مخاطب ہونے کا پس ایک ہی فائدہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے تاکہ جب ان پر دردناک عذاب نازل ہو تو ان کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے: ﴿ لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّذِلَّ وَنَخۡزٰى ﴾ ’’کیوں نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول، پس ہم تیری آیات کی پیروی کرتے قبل اس کے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے۔‘‘ یعنی عقوبت کے ذریعے… لو تمھارے پاس، میری آیات و براہین کے ساتھ، میرا رسول آ گیا ہے اگر بات ایسے ہی ہے جیسے تم کہتے ہو تو اٹھو اس کی تصدیق کرو۔
[135] اے محمد! (ﷺ) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو آپ کی تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’اس کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو‘‘ ﴿ قُلۡ كُلٌّ مُّؔتَرَبِّصٌ﴾ ’’کہہ دیجیے! ہم میں سے ہر ایک منتظر ہے۔‘‘ تم میری موت کا انتظار کرو میں تم پر عذاب الٰہی کے ٹوٹ پڑنے کا انتظار کرتا ہوں ۔ ﴿قُلۡ هَلۡ تَرَبَّصُوۡنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡدَى الۡحُسۡنَيَيۡنِ﴾(التوبۃ:9؍52) ’’کہہ دیجیے کیا تم ہمارے متعلق دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی کے منتظر ہو؟‘‘ یعنی کامیابی یا شہادت ﴿وَنَحۡنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمۡ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖۤ اَوۡ بِاَيۡدِيۡنَا﴾(التوبۃ:9؍52)’’اور ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیجے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں کوئی سزا دے۔‘‘﴿ فَتَرَبَّصُوۡا١ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ۠ مَنۡ اَصۡحٰؔبُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ﴾ ’’پس تم انتظار کرو جلد ہی تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے راستے (یعنی صراط مستقیم) والے کون ہیں ؟‘‘ ﴿ وَمَنِ اهۡتَدٰؔى ﴾ ’’اور کون ہدایت یافتہ ہے؟‘‘ یعنی اپنے طرز عمل کے اعتبار سے، میں یا تم؟ کیونکہ اس راستے پر چلنے والا شخص ہی صاحب رشد و ہدایت، فوزوفلاح سے بہرہ ور اور نجات یافتہ ہے اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے وہ خائب و خاسر اور عذاب کا مستحق ہے اور یہ حقیقت واضح طور پر معلوم ہے کہ رسول اللہﷺ صراط مستقیم پر گامزن ہیں اور آپ کے دشمن اس کے برعکس راستوں پر چل رہے ہیں ۔ واللہ اعلم۔
20:135قُلۡ كُلّٞ مُّتَرَبِّصٞ فَتَرَبَّصُواْۖ فَسَتَعۡلَمُونَ مَنۡ أَصۡحَٰبُ ٱلصِّرَٰطِ ٱلسَّوِيِّ وَمَنِ ٱهۡتَدَىٰ
اور انھوں نے کہا، کیوں نہیں لاتا وہ ہمارے پاس کوئی نشانی اپنے رب کی طرف سے؟ کیا نہیں آئی ان کے پاس دلیل اس چیز کی جوکچھ پہلے صحیفوں میں ہے؟ (133) اور اگر بے شک ہم ہلاک کر دیتے ان کو ساتھ عذاب کے پہلے اس رسول سے تو البتہ کہتے وہ لوگ، اے ہمارے رب! کیوں نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول پس ہم پیروی کرتے تیری آیتوں کی پہلے اس سے کہ ہم ذلیل اور رسوا ہوتے؟ (134) آپ کہہ دیجیے! ہر ایک انتظار کرنے والا ہے سو تم بھی انتظار کرو، پس عنقریب تم جان لو گے کہ کون ہیں حامل، راہ راست کے اور کس نے ہدایت کو اپنایا؟(135)
[133] رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ سے کہتے ہیں کہ آپ کے رب کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ نشانی سے ان کی مراد معجزات ہیں ۔ یہ بات ان کے اس قول کی مانند ہے ﴿وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًاۙ۰۰اَوۡ تَكُوۡنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡهٰرَ خِلٰلَهَا تَفۡجِيۡرًاۙ۰۰اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَؔ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا اَوۡ تَاۡتِيَ بِاللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيۡلًا﴾(بنی اسرائیل:17؍90-92) ’’انھوں نے کہا کہ ہم تم پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک تو زمین سے ہمارے لیے چشمہ جاری نہ کرے۔ یا تیرے لیے کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو اور تو اس باغ کے درمیان نہریں جاری کر دے یا تو آسمان کو… جیسا کہ تو دعویٰ کرتا ہے… ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اوپر گرا دے یا تو اللہ اور فرشتوں کو ہمارے روبرو لے آئے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے محض تعنت، عناد اور ظلم ہے۔ کیونکہ رسول اور وہ خود محض بشر اور اللہ کے بندے ہیں ۔ ان کا اپنی خواہشات کے مطابق معجزات کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں ۔ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی حکمت کے مطابق آیات و معجزات کا انتخاب کر کے نازل کرتا ہے۔ چونکہ ان کا قول ﴿ لَوۡلَا يَاۡتِيۡنَا بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ ان کے پاس رسول اللہﷺ کی صداقت پر کوئی نشانی اور آپ کے حق ہونے پر دلیل نازل نہیں ہوئی… حالانکہ یہ جھوٹ اور بہتان ہے کیونکہ آپ بڑے بڑے معجزات اور ناقابل تردید دلائل لے کر آئے کہ ان میں سے کسی ایک کے ذریعے سے مقصود حاصل ہو سکتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ تَاۡتِهِمۡ ﴾ ’’کیا ان کے پاس نہیں آئی۔‘‘ اگر وہ اپنی بات میں سچے ہیں اور دلیل کے ذریعے سے وہ حق کے متلاشی ہیں ﴿ بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ دلیل جو پہلے صحیفوں میں ہے؟‘‘ یعنی یہ قرآن عظیم ان تمام باتوں کی تصدیق کرتا ہے جو گزشتہ صحیفوں ، یعنی تورات، انجیل اور دیگر کتابوں میں نازل ہوئی ہیں اور انھی امور کے بارے میں خبر دیتا ہے جن کے بارے میں ان گزشتہ کتابوں نے خبر دی ہے۔ ان گزشتہ کتب اور صحیفوں میں اس قرآن عظیم کی تصدیق بھی موجود ہے اور اس کو لانے والے رسول کی بشارت بھی دی گئی ہے۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿اَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ اَنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ١ؕ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَرَحۡمَةً وَّذِكۡرٰى لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ﴾(العنکبوت:29؍51) ’’کیا ان کے لیے یہی کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب عظیم نازل کی جو انھیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور نصیحت ہے جو ایمان لاتے ہیں ۔‘‘ آیات الٰہی اہل ایمان کو فائدہ دیتی ہیں ، ان کی تلاوت سے ان کے ایمان و ایقان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن آیات الٰہی سے اعراض کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان پر ایمان رکھتے ہیں نہ ان سے کوئی فائدہ ہی اٹھاتے ہیں ۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ حَقَّتۡ عَلَيۡهِمۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَۙ۰۰وَلَوۡ جَآءَتۡهُمۡ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾(یونس:10؍96-97) ’’بلاشبہ وہ لوگ جن پر تیرے رب کا حکم قرار پا چکا ہے خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آ جائے، وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ۔‘‘
[134] ان آیات کو ان کی طرف بھیجنے اور ان کے ذریعے سے ان سے مخاطب ہونے کا پس ایک ہی فائدہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے تاکہ جب ان پر دردناک عذاب نازل ہو تو ان کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے: ﴿ لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّذِلَّ وَنَخۡزٰى ﴾ ’’کیوں نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول، پس ہم تیری آیات کی پیروی کرتے قبل اس کے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے۔‘‘ یعنی عقوبت کے ذریعے… لو تمھارے پاس، میری آیات و براہین کے ساتھ، میرا رسول آ گیا ہے اگر بات ایسے ہی ہے جیسے تم کہتے ہو تو اٹھو اس کی تصدیق کرو۔
[135] اے محمد! (ﷺ) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو آپ کی تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’اس کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو‘‘ ﴿ قُلۡ كُلٌّ مُّؔتَرَبِّصٌ﴾ ’’کہہ دیجیے! ہم میں سے ہر ایک منتظر ہے۔‘‘ تم میری موت کا انتظار کرو میں تم پر عذاب الٰہی کے ٹوٹ پڑنے کا انتظار کرتا ہوں ۔ ﴿قُلۡ هَلۡ تَرَبَّصُوۡنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡدَى الۡحُسۡنَيَيۡنِ﴾(التوبۃ:9؍52) ’’کہہ دیجیے کیا تم ہمارے متعلق دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی کے منتظر ہو؟‘‘ یعنی کامیابی یا شہادت ﴿وَنَحۡنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمۡ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖۤ اَوۡ بِاَيۡدِيۡنَا﴾(التوبۃ:9؍52)’’اور ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیجے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں کوئی سزا دے۔‘‘﴿ فَتَرَبَّصُوۡا١ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ۠ مَنۡ اَصۡحٰؔبُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ﴾ ’’پس تم انتظار کرو جلد ہی تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے راستے (یعنی صراط مستقیم) والے کون ہیں ؟‘‘ ﴿ وَمَنِ اهۡتَدٰؔى ﴾ ’’اور کون ہدایت یافتہ ہے؟‘‘ یعنی اپنے طرز عمل کے اعتبار سے، میں یا تم؟ کیونکہ اس راستے پر چلنے والا شخص ہی صاحب رشد و ہدایت، فوزوفلاح سے بہرہ ور اور نجات یافتہ ہے اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے وہ خائب و خاسر اور عذاب کا مستحق ہے اور یہ حقیقت واضح طور پر معلوم ہے کہ رسول اللہﷺ صراط مستقیم پر گامزن ہیں اور آپ کے دشمن اس کے برعکس راستوں پر چل رہے ہیں ۔ واللہ اعلم۔