al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 19 · 98 verses
19:1کٓھٰیٰعٓصٓ (1)(یہ) ذکر ہے رحمت کا آپ کے رب کی، اپنے بندے زکریا پر (2) جب پکارا تھا اس نے اپنے رب کو پکارنا آہستہ (13) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بلاشبہ میں ، کمزور ہو گئی ہیں ہڈیاں میری اور بھڑک اٹھا ہے میر ا سر بڑھاپے سےاورنہیں ہوا میں (کبھی) تجھے پکار کر، اے میرے رب! محروم (4) اور بلاشبہ میں ڈرتا ہوں اپنے وارثوں سے، اپنے پیچھےاور ہے میری بیوی بانجھ، پس عطا کر تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث (5) کہ وہ وارث ہو میرااور وارث ہو آل یعقوب کااور تو بنا اسے، اے میرے رب! پسندیدہ (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2]﴿ ذِكۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّكَ عَبۡدَهٗ زَكَرِيَّا﴾ ’’یہ آپ کے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔‘‘ جو ہم آپ کے سامنے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کے نبی زکریاu کے احوال، ان کے آثار صالحہ اور مناقب جمیلہ کی معرفت حاصل ہو گی کیونکہ اس قصے میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور پیروی کرنے والوں کے لیے ایک نمونہ ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی اپنے دوستوں پر رحمت کا مفصل ذکر اور اس کے حصول کے اسباب کا بیان اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے ذکر کی کثرت، اس کی معرفت اور اس تک پہنچانے والے اسباب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت زکریاu کو اپنی رسالت کے لیے چن لیا اورانھیں اپنی وحی کے لیے مختص کر لیا۔ انھوں نے اس ذمہ داری کو اسی طرح ادا کیا جس طرح دیگر انبیاء و مرسلین نے ادا کیا۔ بندوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دی اور انھیں وہ تعلیم دی جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی تھی۔ اپنی زندگی میں اور اپنی موت کے بعد ان کی اسی طرح خیرخواہی کی جیسے ان کے برادران دیگر انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین نے کی تھی۔
[4,3] جب انھوں نے اپنے آپ کو کمزور ہوتے ہوئے دیکھا تو انھیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوا کہ وہ اس حال میں وفات پا جائیں گے کہ بندوں کو ان کے رب کی طرف دعوت دینے اور ان کے ساتھ خیرخواہی کرنے میں ان کی نیابت کرنے والا کوئی نہ ہو گا … تو انھوں نے اپنے رب کے پاس اپنی ظاہری اور باطنی کمزوری کا شکوہ کیا اور اسے چپکے چپکے پکارا تاکہ یہ دعا اخلاص کے لحاظ سے اکمل و افضل ہو۔ انھوں نے عرض کی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ وَهَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّيۡ﴾ ’’اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ‘‘ اور جب ہڈیاں ، جو کہ بدن کا سہارا ہیں ، کمزور ہو جاتی ہیں تو دیگر تمام اعضاء بھی کمزور پڑ جاتے ہیں ۔ ﴿ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَيۡبًا ﴾’’اور بھڑکا سر بڑھاپے سے‘‘ کیونکہ بڑھاپا ضعف اورکمزوری کی دلیل، موت کا ایلچی اور اس سے ڈرانے والا ہے۔ حضرت زکریاu نے اپنے ضعف اور عجز کو اللہ کی طرف وسیلہ بنایا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ محبوب ترین وسیلہ ہے کیونکہ یہ بندے کے اپنی قوت و اختیار سے براء ت اور دل کے اللہ تعالیٰ کی قوت و اختیار پر بھروسہ کرنے کے اظہار پر دلالت کرتا ہے۔﴿ وَّلَمۡ اَكُنۢۡ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا ﴾ ’’اور تجھ سے مانگ کر اے رب، میں کبھی محروم نہیں رہا‘‘ یعنی اے میرے رب! تو نے کبھی بھی میری دعا کو قبولیت سے محروم کر کے مجھے خائب و خاسر نہیں کیا بلکہ تو مجھے ہمیشہ عزت و اکرام سے نوازتا اور میری دعا کو قبول کرتا رہا ہے۔ تیرا لطف و کرم ہمیشہ مجھ پر سایہ فگن رہا اور تیرے احسانات مجھ تک پہنچتے رہے۔ یہ حضرت زکریا u نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اپنی گزشتہ دعاؤں کی قبولیت کو بارگاہ الٰہی میں بطور وسیلہ پیش کیا۔ پس حضرت زکریا uنے اس ہستی سے سوال کیا جس نے ماضی میں ان کو احسانات سے نوازا کہ وہ آئندہ بھی انھیں اپنی عنایات سے نوازے۔
[5]﴿ وَاِنِّيۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِيَ مِنۡ وَّرَآءِيۡ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں بھائی بندوں سے اپنے پیچھے‘‘ یعنی مجھے خدشہ ہے کہ میری موت کے بعد بنی اسرائیل پر کون مقرر ہو گا؟ وہ تیرے دین کو اس طرح قائم نہیں کر سکیں گے جس طرح قائم کرنے کا حق ہے اور وہ تیرے بندوں کو تیری طرف دعوت نہیں دیں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت زکریاu کو بنی اسرائیل میں کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آ رہا تھا جس میں یہ لیاقت ہو کہ وہ ان کی دینی سربراہی کی ذمہ داری اٹھا سکے۔ اس سے حضرت زکریاu کی شفقت اور خیرخواہی کا اظہار ہوتا ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے، کہ آپ کو بیٹے کی طلب عام لوگوں کے مانند نہ تھی، جس میں مجرد دنیاوی مصلحتیں مقصود ہوتی ہیں ۔ آپ کی طلب تو صرف دینی مصالح کی بنا پر تھی آپ کو خدشہ تھا کہ کہیں دین ضائع نہ ہو جائے اورآپ کسی دوسرے کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت زکریاu کا گھرانہ مشہور دینی گھرانوں میں سے تھا اور رسالت و نبوت کا گھر شمار ہوتا تھا اور اس گھرانے سے ہمیشہ بھلائی کی امید رکھی جاتی تھی، اس لیے حضرت زکریاu نے دعا کی کہ وہ انھیں بیٹا عطا کرے جو ان کے بعد دینی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا سکے۔انھوں نے شکوہ کیا کہ ان کی بیوی بانجھ ہے اور وہ بچہ جننے کے قابل نہیں اور وہ خود بھی بہت بوڑھے ہو گئے ہیں اور ایسی عمر میں داخل ہو گئے ہیں کہ جس میں شہوت اور اولاد کا وجود بہت نادر ہے۔ انھوں نے عرض کی:﴿ فَهَبۡ لِيۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ﴾ ’’سو عطا کر تو مجھ کو اپنی طرف سے ایک معاون‘‘
[6] اور یہ ولایت، دینی ولایت ہے اور نبوت، علم اور عمل کی میراث ہے، اس لیے فرمایا:﴿ يَّرِثُنِيۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ١ۖ ۗ وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا ﴾ ’’جو وارث ہو میرا اور وارث ہو یعقوب کی اولاد کا اور کر اس کو اے میرے رب پسندیدہ‘‘ یعنی اسے نیک بندہ بنا جس سے تو راضی ہو اور تو اسے اپنے بندوں کا محبوب بنا دے۔ غرضیکہ حضرت زکریاu نے اللہ تعالیٰ سے صالح بیٹے کی دعا کی جو ان کے مرنے کے بعد باقی رہے، جو ان کا ولی اور وارث بنے، اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے نزدیک نہایت پسندیدہ اور نبی ہو۔ یہ اولاد کی بہترین صفات ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر بے پایاں رحمت ہے کہ وہ اسے ایسا نیک بیٹا عطا کرے جو مکارم اخلاق اور قابل ستائش عادات کا جامع ہو۔
19:2ذِكۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّكَ عَبۡدَهُۥ زَكَرِيَّآ
کٓھٰیٰعٓصٓ (1)(یہ) ذکر ہے رحمت کا آپ کے رب کی، اپنے بندے زکریا پر (2) جب پکارا تھا اس نے اپنے رب کو پکارنا آہستہ (13) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بلاشبہ میں ، کمزور ہو گئی ہیں ہڈیاں میری اور بھڑک اٹھا ہے میر ا سر بڑھاپے سےاورنہیں ہوا میں (کبھی) تجھے پکار کر، اے میرے رب! محروم (4) اور بلاشبہ میں ڈرتا ہوں اپنے وارثوں سے، اپنے پیچھےاور ہے میری بیوی بانجھ، پس عطا کر تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث (5) کہ وہ وارث ہو میرااور وارث ہو آل یعقوب کااور تو بنا اسے، اے میرے رب! پسندیدہ (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2]﴿ ذِكۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّكَ عَبۡدَهٗ زَكَرِيَّا﴾ ’’یہ آپ کے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔‘‘ جو ہم آپ کے سامنے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کے نبی زکریاu کے احوال، ان کے آثار صالحہ اور مناقب جمیلہ کی معرفت حاصل ہو گی کیونکہ اس قصے میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور پیروی کرنے والوں کے لیے ایک نمونہ ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی اپنے دوستوں پر رحمت کا مفصل ذکر اور اس کے حصول کے اسباب کا بیان اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے ذکر کی کثرت، اس کی معرفت اور اس تک پہنچانے والے اسباب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت زکریاu کو اپنی رسالت کے لیے چن لیا اورانھیں اپنی وحی کے لیے مختص کر لیا۔ انھوں نے اس ذمہ داری کو اسی طرح ادا کیا جس طرح دیگر انبیاء و مرسلین نے ادا کیا۔ بندوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دی اور انھیں وہ تعلیم دی جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی تھی۔ اپنی زندگی میں اور اپنی موت کے بعد ان کی اسی طرح خیرخواہی کی جیسے ان کے برادران دیگر انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین نے کی تھی۔
[4,3] جب انھوں نے اپنے آپ کو کمزور ہوتے ہوئے دیکھا تو انھیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوا کہ وہ اس حال میں وفات پا جائیں گے کہ بندوں کو ان کے رب کی طرف دعوت دینے اور ان کے ساتھ خیرخواہی کرنے میں ان کی نیابت کرنے والا کوئی نہ ہو گا … تو انھوں نے اپنے رب کے پاس اپنی ظاہری اور باطنی کمزوری کا شکوہ کیا اور اسے چپکے چپکے پکارا تاکہ یہ دعا اخلاص کے لحاظ سے اکمل و افضل ہو۔ انھوں نے عرض کی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ وَهَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّيۡ﴾ ’’اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ‘‘ اور جب ہڈیاں ، جو کہ بدن کا سہارا ہیں ، کمزور ہو جاتی ہیں تو دیگر تمام اعضاء بھی کمزور پڑ جاتے ہیں ۔ ﴿ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَيۡبًا ﴾’’اور بھڑکا سر بڑھاپے سے‘‘ کیونکہ بڑھاپا ضعف اورکمزوری کی دلیل، موت کا ایلچی اور اس سے ڈرانے والا ہے۔ حضرت زکریاu نے اپنے ضعف اور عجز کو اللہ کی طرف وسیلہ بنایا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ محبوب ترین وسیلہ ہے کیونکہ یہ بندے کے اپنی قوت و اختیار سے براء ت اور دل کے اللہ تعالیٰ کی قوت و اختیار پر بھروسہ کرنے کے اظہار پر دلالت کرتا ہے۔﴿ وَّلَمۡ اَكُنۢۡ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا ﴾ ’’اور تجھ سے مانگ کر اے رب، میں کبھی محروم نہیں رہا‘‘ یعنی اے میرے رب! تو نے کبھی بھی میری دعا کو قبولیت سے محروم کر کے مجھے خائب و خاسر نہیں کیا بلکہ تو مجھے ہمیشہ عزت و اکرام سے نوازتا اور میری دعا کو قبول کرتا رہا ہے۔ تیرا لطف و کرم ہمیشہ مجھ پر سایہ فگن رہا اور تیرے احسانات مجھ تک پہنچتے رہے۔ یہ حضرت زکریا u نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اپنی گزشتہ دعاؤں کی قبولیت کو بارگاہ الٰہی میں بطور وسیلہ پیش کیا۔ پس حضرت زکریا uنے اس ہستی سے سوال کیا جس نے ماضی میں ان کو احسانات سے نوازا کہ وہ آئندہ بھی انھیں اپنی عنایات سے نوازے۔
[5]﴿ وَاِنِّيۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِيَ مِنۡ وَّرَآءِيۡ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں بھائی بندوں سے اپنے پیچھے‘‘ یعنی مجھے خدشہ ہے کہ میری موت کے بعد بنی اسرائیل پر کون مقرر ہو گا؟ وہ تیرے دین کو اس طرح قائم نہیں کر سکیں گے جس طرح قائم کرنے کا حق ہے اور وہ تیرے بندوں کو تیری طرف دعوت نہیں دیں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت زکریاu کو بنی اسرائیل میں کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آ رہا تھا جس میں یہ لیاقت ہو کہ وہ ان کی دینی سربراہی کی ذمہ داری اٹھا سکے۔ اس سے حضرت زکریاu کی شفقت اور خیرخواہی کا اظہار ہوتا ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے، کہ آپ کو بیٹے کی طلب عام لوگوں کے مانند نہ تھی، جس میں مجرد دنیاوی مصلحتیں مقصود ہوتی ہیں ۔ آپ کی طلب تو صرف دینی مصالح کی بنا پر تھی آپ کو خدشہ تھا کہ کہیں دین ضائع نہ ہو جائے اورآپ کسی دوسرے کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت زکریاu کا گھرانہ مشہور دینی گھرانوں میں سے تھا اور رسالت و نبوت کا گھر شمار ہوتا تھا اور اس گھرانے سے ہمیشہ بھلائی کی امید رکھی جاتی تھی، اس لیے حضرت زکریاu نے دعا کی کہ وہ انھیں بیٹا عطا کرے جو ان کے بعد دینی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا سکے۔انھوں نے شکوہ کیا کہ ان کی بیوی بانجھ ہے اور وہ بچہ جننے کے قابل نہیں اور وہ خود بھی بہت بوڑھے ہو گئے ہیں اور ایسی عمر میں داخل ہو گئے ہیں کہ جس میں شہوت اور اولاد کا وجود بہت نادر ہے۔ انھوں نے عرض کی:﴿ فَهَبۡ لِيۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ﴾ ’’سو عطا کر تو مجھ کو اپنی طرف سے ایک معاون‘‘
[6] اور یہ ولایت، دینی ولایت ہے اور نبوت، علم اور عمل کی میراث ہے، اس لیے فرمایا:﴿ يَّرِثُنِيۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ١ۖ ۗ وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا ﴾ ’’جو وارث ہو میرا اور وارث ہو یعقوب کی اولاد کا اور کر اس کو اے میرے رب پسندیدہ‘‘ یعنی اسے نیک بندہ بنا جس سے تو راضی ہو اور تو اسے اپنے بندوں کا محبوب بنا دے۔ غرضیکہ حضرت زکریاu نے اللہ تعالیٰ سے صالح بیٹے کی دعا کی جو ان کے مرنے کے بعد باقی رہے، جو ان کا ولی اور وارث بنے، اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے نزدیک نہایت پسندیدہ اور نبی ہو۔ یہ اولاد کی بہترین صفات ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر بے پایاں رحمت ہے کہ وہ اسے ایسا نیک بیٹا عطا کرے جو مکارم اخلاق اور قابل ستائش عادات کا جامع ہو۔
19:3إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥ نِدَآءً خَفِيّٗا
کٓھٰیٰعٓصٓ (1)(یہ) ذکر ہے رحمت کا آپ کے رب کی، اپنے بندے زکریا پر (2) جب پکارا تھا اس نے اپنے رب کو پکارنا آہستہ (13) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بلاشبہ میں ، کمزور ہو گئی ہیں ہڈیاں میری اور بھڑک اٹھا ہے میر ا سر بڑھاپے سےاورنہیں ہوا میں (کبھی) تجھے پکار کر، اے میرے رب! محروم (4) اور بلاشبہ میں ڈرتا ہوں اپنے وارثوں سے، اپنے پیچھےاور ہے میری بیوی بانجھ، پس عطا کر تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث (5) کہ وہ وارث ہو میرااور وارث ہو آل یعقوب کااور تو بنا اسے، اے میرے رب! پسندیدہ (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2]﴿ ذِكۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّكَ عَبۡدَهٗ زَكَرِيَّا﴾ ’’یہ آپ کے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔‘‘ جو ہم آپ کے سامنے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کے نبی زکریاu کے احوال، ان کے آثار صالحہ اور مناقب جمیلہ کی معرفت حاصل ہو گی کیونکہ اس قصے میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور پیروی کرنے والوں کے لیے ایک نمونہ ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی اپنے دوستوں پر رحمت کا مفصل ذکر اور اس کے حصول کے اسباب کا بیان اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے ذکر کی کثرت، اس کی معرفت اور اس تک پہنچانے والے اسباب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت زکریاu کو اپنی رسالت کے لیے چن لیا اورانھیں اپنی وحی کے لیے مختص کر لیا۔ انھوں نے اس ذمہ داری کو اسی طرح ادا کیا جس طرح دیگر انبیاء و مرسلین نے ادا کیا۔ بندوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دی اور انھیں وہ تعلیم دی جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی تھی۔ اپنی زندگی میں اور اپنی موت کے بعد ان کی اسی طرح خیرخواہی کی جیسے ان کے برادران دیگر انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین نے کی تھی۔
[4,3] جب انھوں نے اپنے آپ کو کمزور ہوتے ہوئے دیکھا تو انھیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوا کہ وہ اس حال میں وفات پا جائیں گے کہ بندوں کو ان کے رب کی طرف دعوت دینے اور ان کے ساتھ خیرخواہی کرنے میں ان کی نیابت کرنے والا کوئی نہ ہو گا … تو انھوں نے اپنے رب کے پاس اپنی ظاہری اور باطنی کمزوری کا شکوہ کیا اور اسے چپکے چپکے پکارا تاکہ یہ دعا اخلاص کے لحاظ سے اکمل و افضل ہو۔ انھوں نے عرض کی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ وَهَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّيۡ﴾ ’’اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ‘‘ اور جب ہڈیاں ، جو کہ بدن کا سہارا ہیں ، کمزور ہو جاتی ہیں تو دیگر تمام اعضاء بھی کمزور پڑ جاتے ہیں ۔ ﴿ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَيۡبًا ﴾’’اور بھڑکا سر بڑھاپے سے‘‘ کیونکہ بڑھاپا ضعف اورکمزوری کی دلیل، موت کا ایلچی اور اس سے ڈرانے والا ہے۔ حضرت زکریاu نے اپنے ضعف اور عجز کو اللہ کی طرف وسیلہ بنایا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ محبوب ترین وسیلہ ہے کیونکہ یہ بندے کے اپنی قوت و اختیار سے براء ت اور دل کے اللہ تعالیٰ کی قوت و اختیار پر بھروسہ کرنے کے اظہار پر دلالت کرتا ہے۔﴿ وَّلَمۡ اَكُنۢۡ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا ﴾ ’’اور تجھ سے مانگ کر اے رب، میں کبھی محروم نہیں رہا‘‘ یعنی اے میرے رب! تو نے کبھی بھی میری دعا کو قبولیت سے محروم کر کے مجھے خائب و خاسر نہیں کیا بلکہ تو مجھے ہمیشہ عزت و اکرام سے نوازتا اور میری دعا کو قبول کرتا رہا ہے۔ تیرا لطف و کرم ہمیشہ مجھ پر سایہ فگن رہا اور تیرے احسانات مجھ تک پہنچتے رہے۔ یہ حضرت زکریا u نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اپنی گزشتہ دعاؤں کی قبولیت کو بارگاہ الٰہی میں بطور وسیلہ پیش کیا۔ پس حضرت زکریا uنے اس ہستی سے سوال کیا جس نے ماضی میں ان کو احسانات سے نوازا کہ وہ آئندہ بھی انھیں اپنی عنایات سے نوازے۔
[5]﴿ وَاِنِّيۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِيَ مِنۡ وَّرَآءِيۡ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں بھائی بندوں سے اپنے پیچھے‘‘ یعنی مجھے خدشہ ہے کہ میری موت کے بعد بنی اسرائیل پر کون مقرر ہو گا؟ وہ تیرے دین کو اس طرح قائم نہیں کر سکیں گے جس طرح قائم کرنے کا حق ہے اور وہ تیرے بندوں کو تیری طرف دعوت نہیں دیں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت زکریاu کو بنی اسرائیل میں کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آ رہا تھا جس میں یہ لیاقت ہو کہ وہ ان کی دینی سربراہی کی ذمہ داری اٹھا سکے۔ اس سے حضرت زکریاu کی شفقت اور خیرخواہی کا اظہار ہوتا ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے، کہ آپ کو بیٹے کی طلب عام لوگوں کے مانند نہ تھی، جس میں مجرد دنیاوی مصلحتیں مقصود ہوتی ہیں ۔ آپ کی طلب تو صرف دینی مصالح کی بنا پر تھی آپ کو خدشہ تھا کہ کہیں دین ضائع نہ ہو جائے اورآپ کسی دوسرے کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت زکریاu کا گھرانہ مشہور دینی گھرانوں میں سے تھا اور رسالت و نبوت کا گھر شمار ہوتا تھا اور اس گھرانے سے ہمیشہ بھلائی کی امید رکھی جاتی تھی، اس لیے حضرت زکریاu نے دعا کی کہ وہ انھیں بیٹا عطا کرے جو ان کے بعد دینی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا سکے۔انھوں نے شکوہ کیا کہ ان کی بیوی بانجھ ہے اور وہ بچہ جننے کے قابل نہیں اور وہ خود بھی بہت بوڑھے ہو گئے ہیں اور ایسی عمر میں داخل ہو گئے ہیں کہ جس میں شہوت اور اولاد کا وجود بہت نادر ہے۔ انھوں نے عرض کی:﴿ فَهَبۡ لِيۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ﴾ ’’سو عطا کر تو مجھ کو اپنی طرف سے ایک معاون‘‘
[6] اور یہ ولایت، دینی ولایت ہے اور نبوت، علم اور عمل کی میراث ہے، اس لیے فرمایا:﴿ يَّرِثُنِيۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ١ۖ ۗ وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا ﴾ ’’جو وارث ہو میرا اور وارث ہو یعقوب کی اولاد کا اور کر اس کو اے میرے رب پسندیدہ‘‘ یعنی اسے نیک بندہ بنا جس سے تو راضی ہو اور تو اسے اپنے بندوں کا محبوب بنا دے۔ غرضیکہ حضرت زکریاu نے اللہ تعالیٰ سے صالح بیٹے کی دعا کی جو ان کے مرنے کے بعد باقی رہے، جو ان کا ولی اور وارث بنے، اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے نزدیک نہایت پسندیدہ اور نبی ہو۔ یہ اولاد کی بہترین صفات ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر بے پایاں رحمت ہے کہ وہ اسے ایسا نیک بیٹا عطا کرے جو مکارم اخلاق اور قابل ستائش عادات کا جامع ہو۔
19:4قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ ٱلۡعَظۡمُ مِنِّي وَٱشۡتَعَلَ ٱلرَّأۡسُ شَيۡبٗا وَلَمۡ أَكُنۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِيّٗا
کٓھٰیٰعٓصٓ (1)(یہ) ذکر ہے رحمت کا آپ کے رب کی، اپنے بندے زکریا پر (2) جب پکارا تھا اس نے اپنے رب کو پکارنا آہستہ (13) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بلاشبہ میں ، کمزور ہو گئی ہیں ہڈیاں میری اور بھڑک اٹھا ہے میر ا سر بڑھاپے سےاورنہیں ہوا میں (کبھی) تجھے پکار کر، اے میرے رب! محروم (4) اور بلاشبہ میں ڈرتا ہوں اپنے وارثوں سے، اپنے پیچھےاور ہے میری بیوی بانجھ، پس عطا کر تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث (5) کہ وہ وارث ہو میرااور وارث ہو آل یعقوب کااور تو بنا اسے، اے میرے رب! پسندیدہ (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2]﴿ ذِكۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّكَ عَبۡدَهٗ زَكَرِيَّا﴾ ’’یہ آپ کے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔‘‘ جو ہم آپ کے سامنے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کے نبی زکریاu کے احوال، ان کے آثار صالحہ اور مناقب جمیلہ کی معرفت حاصل ہو گی کیونکہ اس قصے میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور پیروی کرنے والوں کے لیے ایک نمونہ ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی اپنے دوستوں پر رحمت کا مفصل ذکر اور اس کے حصول کے اسباب کا بیان اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے ذکر کی کثرت، اس کی معرفت اور اس تک پہنچانے والے اسباب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت زکریاu کو اپنی رسالت کے لیے چن لیا اورانھیں اپنی وحی کے لیے مختص کر لیا۔ انھوں نے اس ذمہ داری کو اسی طرح ادا کیا جس طرح دیگر انبیاء و مرسلین نے ادا کیا۔ بندوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دی اور انھیں وہ تعلیم دی جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی تھی۔ اپنی زندگی میں اور اپنی موت کے بعد ان کی اسی طرح خیرخواہی کی جیسے ان کے برادران دیگر انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین نے کی تھی۔
[4,3] جب انھوں نے اپنے آپ کو کمزور ہوتے ہوئے دیکھا تو انھیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوا کہ وہ اس حال میں وفات پا جائیں گے کہ بندوں کو ان کے رب کی طرف دعوت دینے اور ان کے ساتھ خیرخواہی کرنے میں ان کی نیابت کرنے والا کوئی نہ ہو گا … تو انھوں نے اپنے رب کے پاس اپنی ظاہری اور باطنی کمزوری کا شکوہ کیا اور اسے چپکے چپکے پکارا تاکہ یہ دعا اخلاص کے لحاظ سے اکمل و افضل ہو۔ انھوں نے عرض کی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ وَهَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّيۡ﴾ ’’اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ‘‘ اور جب ہڈیاں ، جو کہ بدن کا سہارا ہیں ، کمزور ہو جاتی ہیں تو دیگر تمام اعضاء بھی کمزور پڑ جاتے ہیں ۔ ﴿ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَيۡبًا ﴾’’اور بھڑکا سر بڑھاپے سے‘‘ کیونکہ بڑھاپا ضعف اورکمزوری کی دلیل، موت کا ایلچی اور اس سے ڈرانے والا ہے۔ حضرت زکریاu نے اپنے ضعف اور عجز کو اللہ کی طرف وسیلہ بنایا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ محبوب ترین وسیلہ ہے کیونکہ یہ بندے کے اپنی قوت و اختیار سے براء ت اور دل کے اللہ تعالیٰ کی قوت و اختیار پر بھروسہ کرنے کے اظہار پر دلالت کرتا ہے۔﴿ وَّلَمۡ اَكُنۢۡ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا ﴾ ’’اور تجھ سے مانگ کر اے رب، میں کبھی محروم نہیں رہا‘‘ یعنی اے میرے رب! تو نے کبھی بھی میری دعا کو قبولیت سے محروم کر کے مجھے خائب و خاسر نہیں کیا بلکہ تو مجھے ہمیشہ عزت و اکرام سے نوازتا اور میری دعا کو قبول کرتا رہا ہے۔ تیرا لطف و کرم ہمیشہ مجھ پر سایہ فگن رہا اور تیرے احسانات مجھ تک پہنچتے رہے۔ یہ حضرت زکریا u نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اپنی گزشتہ دعاؤں کی قبولیت کو بارگاہ الٰہی میں بطور وسیلہ پیش کیا۔ پس حضرت زکریا uنے اس ہستی سے سوال کیا جس نے ماضی میں ان کو احسانات سے نوازا کہ وہ آئندہ بھی انھیں اپنی عنایات سے نوازے۔
[5]﴿ وَاِنِّيۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِيَ مِنۡ وَّرَآءِيۡ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں بھائی بندوں سے اپنے پیچھے‘‘ یعنی مجھے خدشہ ہے کہ میری موت کے بعد بنی اسرائیل پر کون مقرر ہو گا؟ وہ تیرے دین کو اس طرح قائم نہیں کر سکیں گے جس طرح قائم کرنے کا حق ہے اور وہ تیرے بندوں کو تیری طرف دعوت نہیں دیں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت زکریاu کو بنی اسرائیل میں کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آ رہا تھا جس میں یہ لیاقت ہو کہ وہ ان کی دینی سربراہی کی ذمہ داری اٹھا سکے۔ اس سے حضرت زکریاu کی شفقت اور خیرخواہی کا اظہار ہوتا ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے، کہ آپ کو بیٹے کی طلب عام لوگوں کے مانند نہ تھی، جس میں مجرد دنیاوی مصلحتیں مقصود ہوتی ہیں ۔ آپ کی طلب تو صرف دینی مصالح کی بنا پر تھی آپ کو خدشہ تھا کہ کہیں دین ضائع نہ ہو جائے اورآپ کسی دوسرے کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت زکریاu کا گھرانہ مشہور دینی گھرانوں میں سے تھا اور رسالت و نبوت کا گھر شمار ہوتا تھا اور اس گھرانے سے ہمیشہ بھلائی کی امید رکھی جاتی تھی، اس لیے حضرت زکریاu نے دعا کی کہ وہ انھیں بیٹا عطا کرے جو ان کے بعد دینی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا سکے۔انھوں نے شکوہ کیا کہ ان کی بیوی بانجھ ہے اور وہ بچہ جننے کے قابل نہیں اور وہ خود بھی بہت بوڑھے ہو گئے ہیں اور ایسی عمر میں داخل ہو گئے ہیں کہ جس میں شہوت اور اولاد کا وجود بہت نادر ہے۔ انھوں نے عرض کی:﴿ فَهَبۡ لِيۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ﴾ ’’سو عطا کر تو مجھ کو اپنی طرف سے ایک معاون‘‘
[6] اور یہ ولایت، دینی ولایت ہے اور نبوت، علم اور عمل کی میراث ہے، اس لیے فرمایا:﴿ يَّرِثُنِيۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ١ۖ ۗ وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا ﴾ ’’جو وارث ہو میرا اور وارث ہو یعقوب کی اولاد کا اور کر اس کو اے میرے رب پسندیدہ‘‘ یعنی اسے نیک بندہ بنا جس سے تو راضی ہو اور تو اسے اپنے بندوں کا محبوب بنا دے۔ غرضیکہ حضرت زکریاu نے اللہ تعالیٰ سے صالح بیٹے کی دعا کی جو ان کے مرنے کے بعد باقی رہے، جو ان کا ولی اور وارث بنے، اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے نزدیک نہایت پسندیدہ اور نبی ہو۔ یہ اولاد کی بہترین صفات ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر بے پایاں رحمت ہے کہ وہ اسے ایسا نیک بیٹا عطا کرے جو مکارم اخلاق اور قابل ستائش عادات کا جامع ہو۔
19:5وَإِنِّي خِفۡتُ ٱلۡمَوَٰلِيَ مِن وَرَآءِي وَكَانَتِ ٱمۡرَأَتِي عَاقِرٗا فَهَبۡ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيّٗا
کٓھٰیٰعٓصٓ (1)(یہ) ذکر ہے رحمت کا آپ کے رب کی، اپنے بندے زکریا پر (2) جب پکارا تھا اس نے اپنے رب کو پکارنا آہستہ (13) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بلاشبہ میں ، کمزور ہو گئی ہیں ہڈیاں میری اور بھڑک اٹھا ہے میر ا سر بڑھاپے سےاورنہیں ہوا میں (کبھی) تجھے پکار کر، اے میرے رب! محروم (4) اور بلاشبہ میں ڈرتا ہوں اپنے وارثوں سے، اپنے پیچھےاور ہے میری بیوی بانجھ، پس عطا کر تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث (5) کہ وہ وارث ہو میرااور وارث ہو آل یعقوب کااور تو بنا اسے، اے میرے رب! پسندیدہ (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2]﴿ ذِكۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّكَ عَبۡدَهٗ زَكَرِيَّا﴾ ’’یہ آپ کے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔‘‘ جو ہم آپ کے سامنے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کے نبی زکریاu کے احوال، ان کے آثار صالحہ اور مناقب جمیلہ کی معرفت حاصل ہو گی کیونکہ اس قصے میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور پیروی کرنے والوں کے لیے ایک نمونہ ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی اپنے دوستوں پر رحمت کا مفصل ذکر اور اس کے حصول کے اسباب کا بیان اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے ذکر کی کثرت، اس کی معرفت اور اس تک پہنچانے والے اسباب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت زکریاu کو اپنی رسالت کے لیے چن لیا اورانھیں اپنی وحی کے لیے مختص کر لیا۔ انھوں نے اس ذمہ داری کو اسی طرح ادا کیا جس طرح دیگر انبیاء و مرسلین نے ادا کیا۔ بندوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دی اور انھیں وہ تعلیم دی جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی تھی۔ اپنی زندگی میں اور اپنی موت کے بعد ان کی اسی طرح خیرخواہی کی جیسے ان کے برادران دیگر انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین نے کی تھی۔
[4,3] جب انھوں نے اپنے آپ کو کمزور ہوتے ہوئے دیکھا تو انھیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوا کہ وہ اس حال میں وفات پا جائیں گے کہ بندوں کو ان کے رب کی طرف دعوت دینے اور ان کے ساتھ خیرخواہی کرنے میں ان کی نیابت کرنے والا کوئی نہ ہو گا … تو انھوں نے اپنے رب کے پاس اپنی ظاہری اور باطنی کمزوری کا شکوہ کیا اور اسے چپکے چپکے پکارا تاکہ یہ دعا اخلاص کے لحاظ سے اکمل و افضل ہو۔ انھوں نے عرض کی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ وَهَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّيۡ﴾ ’’اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ‘‘ اور جب ہڈیاں ، جو کہ بدن کا سہارا ہیں ، کمزور ہو جاتی ہیں تو دیگر تمام اعضاء بھی کمزور پڑ جاتے ہیں ۔ ﴿ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَيۡبًا ﴾’’اور بھڑکا سر بڑھاپے سے‘‘ کیونکہ بڑھاپا ضعف اورکمزوری کی دلیل، موت کا ایلچی اور اس سے ڈرانے والا ہے۔ حضرت زکریاu نے اپنے ضعف اور عجز کو اللہ کی طرف وسیلہ بنایا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ محبوب ترین وسیلہ ہے کیونکہ یہ بندے کے اپنی قوت و اختیار سے براء ت اور دل کے اللہ تعالیٰ کی قوت و اختیار پر بھروسہ کرنے کے اظہار پر دلالت کرتا ہے۔﴿ وَّلَمۡ اَكُنۢۡ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا ﴾ ’’اور تجھ سے مانگ کر اے رب، میں کبھی محروم نہیں رہا‘‘ یعنی اے میرے رب! تو نے کبھی بھی میری دعا کو قبولیت سے محروم کر کے مجھے خائب و خاسر نہیں کیا بلکہ تو مجھے ہمیشہ عزت و اکرام سے نوازتا اور میری دعا کو قبول کرتا رہا ہے۔ تیرا لطف و کرم ہمیشہ مجھ پر سایہ فگن رہا اور تیرے احسانات مجھ تک پہنچتے رہے۔ یہ حضرت زکریا u نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اپنی گزشتہ دعاؤں کی قبولیت کو بارگاہ الٰہی میں بطور وسیلہ پیش کیا۔ پس حضرت زکریا uنے اس ہستی سے سوال کیا جس نے ماضی میں ان کو احسانات سے نوازا کہ وہ آئندہ بھی انھیں اپنی عنایات سے نوازے۔
[5]﴿ وَاِنِّيۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِيَ مِنۡ وَّرَآءِيۡ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں بھائی بندوں سے اپنے پیچھے‘‘ یعنی مجھے خدشہ ہے کہ میری موت کے بعد بنی اسرائیل پر کون مقرر ہو گا؟ وہ تیرے دین کو اس طرح قائم نہیں کر سکیں گے جس طرح قائم کرنے کا حق ہے اور وہ تیرے بندوں کو تیری طرف دعوت نہیں دیں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت زکریاu کو بنی اسرائیل میں کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آ رہا تھا جس میں یہ لیاقت ہو کہ وہ ان کی دینی سربراہی کی ذمہ داری اٹھا سکے۔ اس سے حضرت زکریاu کی شفقت اور خیرخواہی کا اظہار ہوتا ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے، کہ آپ کو بیٹے کی طلب عام لوگوں کے مانند نہ تھی، جس میں مجرد دنیاوی مصلحتیں مقصود ہوتی ہیں ۔ آپ کی طلب تو صرف دینی مصالح کی بنا پر تھی آپ کو خدشہ تھا کہ کہیں دین ضائع نہ ہو جائے اورآپ کسی دوسرے کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت زکریاu کا گھرانہ مشہور دینی گھرانوں میں سے تھا اور رسالت و نبوت کا گھر شمار ہوتا تھا اور اس گھرانے سے ہمیشہ بھلائی کی امید رکھی جاتی تھی، اس لیے حضرت زکریاu نے دعا کی کہ وہ انھیں بیٹا عطا کرے جو ان کے بعد دینی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا سکے۔انھوں نے شکوہ کیا کہ ان کی بیوی بانجھ ہے اور وہ بچہ جننے کے قابل نہیں اور وہ خود بھی بہت بوڑھے ہو گئے ہیں اور ایسی عمر میں داخل ہو گئے ہیں کہ جس میں شہوت اور اولاد کا وجود بہت نادر ہے۔ انھوں نے عرض کی:﴿ فَهَبۡ لِيۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ﴾ ’’سو عطا کر تو مجھ کو اپنی طرف سے ایک معاون‘‘
[6] اور یہ ولایت، دینی ولایت ہے اور نبوت، علم اور عمل کی میراث ہے، اس لیے فرمایا:﴿ يَّرِثُنِيۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ١ۖ ۗ وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا ﴾ ’’جو وارث ہو میرا اور وارث ہو یعقوب کی اولاد کا اور کر اس کو اے میرے رب پسندیدہ‘‘ یعنی اسے نیک بندہ بنا جس سے تو راضی ہو اور تو اسے اپنے بندوں کا محبوب بنا دے۔ غرضیکہ حضرت زکریاu نے اللہ تعالیٰ سے صالح بیٹے کی دعا کی جو ان کے مرنے کے بعد باقی رہے، جو ان کا ولی اور وارث بنے، اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے نزدیک نہایت پسندیدہ اور نبی ہو۔ یہ اولاد کی بہترین صفات ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر بے پایاں رحمت ہے کہ وہ اسے ایسا نیک بیٹا عطا کرے جو مکارم اخلاق اور قابل ستائش عادات کا جامع ہو۔
19:6يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنۡ ءَالِ يَعۡقُوبَۖ وَٱجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيّٗا
کٓھٰیٰعٓصٓ (1)(یہ) ذکر ہے رحمت کا آپ کے رب کی، اپنے بندے زکریا پر (2) جب پکارا تھا اس نے اپنے رب کو پکارنا آہستہ (13) زکریا نے کہا، اے میرے رب! بلاشبہ میں ، کمزور ہو گئی ہیں ہڈیاں میری اور بھڑک اٹھا ہے میر ا سر بڑھاپے سےاورنہیں ہوا میں (کبھی) تجھے پکار کر، اے میرے رب! محروم (4) اور بلاشبہ میں ڈرتا ہوں اپنے وارثوں سے، اپنے پیچھےاور ہے میری بیوی بانجھ، پس عطا کر تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث (5) کہ وہ وارث ہو میرااور وارث ہو آل یعقوب کااور تو بنا اسے، اے میرے رب! پسندیدہ (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2]﴿ ذِكۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّكَ عَبۡدَهٗ زَكَرِيَّا﴾ ’’یہ آپ کے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔‘‘ جو ہم آپ کے سامنے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کے نبی زکریاu کے احوال، ان کے آثار صالحہ اور مناقب جمیلہ کی معرفت حاصل ہو گی کیونکہ اس قصے میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور پیروی کرنے والوں کے لیے ایک نمونہ ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی اپنے دوستوں پر رحمت کا مفصل ذکر اور اس کے حصول کے اسباب کا بیان اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے ذکر کی کثرت، اس کی معرفت اور اس تک پہنچانے والے اسباب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت زکریاu کو اپنی رسالت کے لیے چن لیا اورانھیں اپنی وحی کے لیے مختص کر لیا۔ انھوں نے اس ذمہ داری کو اسی طرح ادا کیا جس طرح دیگر انبیاء و مرسلین نے ادا کیا۔ بندوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دی اور انھیں وہ تعلیم دی جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی تھی۔ اپنی زندگی میں اور اپنی موت کے بعد ان کی اسی طرح خیرخواہی کی جیسے ان کے برادران دیگر انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین نے کی تھی۔
[4,3] جب انھوں نے اپنے آپ کو کمزور ہوتے ہوئے دیکھا تو انھیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوا کہ وہ اس حال میں وفات پا جائیں گے کہ بندوں کو ان کے رب کی طرف دعوت دینے اور ان کے ساتھ خیرخواہی کرنے میں ان کی نیابت کرنے والا کوئی نہ ہو گا … تو انھوں نے اپنے رب کے پاس اپنی ظاہری اور باطنی کمزوری کا شکوہ کیا اور اسے چپکے چپکے پکارا تاکہ یہ دعا اخلاص کے لحاظ سے اکمل و افضل ہو۔ انھوں نے عرض کی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ وَهَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّيۡ﴾ ’’اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ‘‘ اور جب ہڈیاں ، جو کہ بدن کا سہارا ہیں ، کمزور ہو جاتی ہیں تو دیگر تمام اعضاء بھی کمزور پڑ جاتے ہیں ۔ ﴿ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَيۡبًا ﴾’’اور بھڑکا سر بڑھاپے سے‘‘ کیونکہ بڑھاپا ضعف اورکمزوری کی دلیل، موت کا ایلچی اور اس سے ڈرانے والا ہے۔ حضرت زکریاu نے اپنے ضعف اور عجز کو اللہ کی طرف وسیلہ بنایا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ محبوب ترین وسیلہ ہے کیونکہ یہ بندے کے اپنی قوت و اختیار سے براء ت اور دل کے اللہ تعالیٰ کی قوت و اختیار پر بھروسہ کرنے کے اظہار پر دلالت کرتا ہے۔﴿ وَّلَمۡ اَكُنۢۡ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا ﴾ ’’اور تجھ سے مانگ کر اے رب، میں کبھی محروم نہیں رہا‘‘ یعنی اے میرے رب! تو نے کبھی بھی میری دعا کو قبولیت سے محروم کر کے مجھے خائب و خاسر نہیں کیا بلکہ تو مجھے ہمیشہ عزت و اکرام سے نوازتا اور میری دعا کو قبول کرتا رہا ہے۔ تیرا لطف و کرم ہمیشہ مجھ پر سایہ فگن رہا اور تیرے احسانات مجھ تک پہنچتے رہے۔ یہ حضرت زکریا u نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اپنی گزشتہ دعاؤں کی قبولیت کو بارگاہ الٰہی میں بطور وسیلہ پیش کیا۔ پس حضرت زکریا uنے اس ہستی سے سوال کیا جس نے ماضی میں ان کو احسانات سے نوازا کہ وہ آئندہ بھی انھیں اپنی عنایات سے نوازے۔
[5]﴿ وَاِنِّيۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِيَ مِنۡ وَّرَآءِيۡ ﴾ ’’اور میں ڈرتا ہوں بھائی بندوں سے اپنے پیچھے‘‘ یعنی مجھے خدشہ ہے کہ میری موت کے بعد بنی اسرائیل پر کون مقرر ہو گا؟ وہ تیرے دین کو اس طرح قائم نہیں کر سکیں گے جس طرح قائم کرنے کا حق ہے اور وہ تیرے بندوں کو تیری طرف دعوت نہیں دیں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت زکریاu کو بنی اسرائیل میں کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آ رہا تھا جس میں یہ لیاقت ہو کہ وہ ان کی دینی سربراہی کی ذمہ داری اٹھا سکے۔ اس سے حضرت زکریاu کی شفقت اور خیرخواہی کا اظہار ہوتا ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے، کہ آپ کو بیٹے کی طلب عام لوگوں کے مانند نہ تھی، جس میں مجرد دنیاوی مصلحتیں مقصود ہوتی ہیں ۔ آپ کی طلب تو صرف دینی مصالح کی بنا پر تھی آپ کو خدشہ تھا کہ کہیں دین ضائع نہ ہو جائے اورآپ کسی دوسرے کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت زکریاu کا گھرانہ مشہور دینی گھرانوں میں سے تھا اور رسالت و نبوت کا گھر شمار ہوتا تھا اور اس گھرانے سے ہمیشہ بھلائی کی امید رکھی جاتی تھی، اس لیے حضرت زکریاu نے دعا کی کہ وہ انھیں بیٹا عطا کرے جو ان کے بعد دینی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا سکے۔انھوں نے شکوہ کیا کہ ان کی بیوی بانجھ ہے اور وہ بچہ جننے کے قابل نہیں اور وہ خود بھی بہت بوڑھے ہو گئے ہیں اور ایسی عمر میں داخل ہو گئے ہیں کہ جس میں شہوت اور اولاد کا وجود بہت نادر ہے۔ انھوں نے عرض کی:﴿ فَهَبۡ لِيۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ﴾ ’’سو عطا کر تو مجھ کو اپنی طرف سے ایک معاون‘‘
[6] اور یہ ولایت، دینی ولایت ہے اور نبوت، علم اور عمل کی میراث ہے، اس لیے فرمایا:﴿ يَّرِثُنِيۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ١ۖ ۗ وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا ﴾ ’’جو وارث ہو میرا اور وارث ہو یعقوب کی اولاد کا اور کر اس کو اے میرے رب پسندیدہ‘‘ یعنی اسے نیک بندہ بنا جس سے تو راضی ہو اور تو اسے اپنے بندوں کا محبوب بنا دے۔ غرضیکہ حضرت زکریاu نے اللہ تعالیٰ سے صالح بیٹے کی دعا کی جو ان کے مرنے کے بعد باقی رہے، جو ان کا ولی اور وارث بنے، اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے نزدیک نہایت پسندیدہ اور نبی ہو۔ یہ اولاد کی بہترین صفات ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر بے پایاں رحمت ہے کہ وہ اسے ایسا نیک بیٹا عطا کرے جو مکارم اخلاق اور قابل ستائش عادات کا جامع ہو۔
19:7يَٰزَكَرِيَّآ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَٰمٍ ٱسۡمُهُۥ يَحۡيَىٰ لَمۡ نَجۡعَل لَّهُۥ مِن قَبۡلُ سَمِيّٗا
اے زکریا! بے شک ہم خوشخبری دیتے ہیں تجھے ایک لڑکے کی، کہ نام اس کا ہے یحییٰ ، نہیں بنایا ہم نے اس کا، پہلے اس سے، کوئی ہم نام (7) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیسے ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ ہے میری بیوی بانجھ اور تحقیق پہنچ چکا ہوں میں بڑھاپے کی آخری حد کو؟ (8) کہا (فرشتے نے بات) اسی طرح ہے (لیکن) کہا تیرے رب نے، وہ مجھ پر آسان ہےاور تحقیق پیداکیا میں نے تجھے پہلے اس سے، درآنحالیکہ نہیں تھا تو کچھ بھی (9)زکریا نے کہا، اے میرے رب! ٹھہرا دے میرے لیے کوئی نشانی، فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہ بات کر سکے گا تو لوگوں سے تین راتیں تندرستی کے باوجود (10)پس وہ نکلا اوپر اپنی قوم کے، حجرے سے تو اس نے اشارہ کیا ان کی طرف یہ کہ تم تسبیح بیان کرو صبح اورشام (11)
[7] یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو فرشتوں کے توسط سے ’’یحییٰ‘‘ (u) کی خوشخبری سنائی اور اللہ تعالیٰ نے اس (بیٹے) کو ’’یحییٰ‘‘ کے نام سے موسوم کیا۔ اسم اپنے مسمی کے عین موافق تھا، چنانچہ یحییٰu نے حسی زندگی بسر کی جس سے اللہ تعالیٰ کی عنایت کی تکمیل ہوئی اور آپ نے معنوی زندگی بھی بسر کی، وہ ہے وحی، علم اور دین کے ذریعے سے قلب وروح کی زندگی۔ ﴿ لَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ مِنۡ قَبۡلُ سَمِيًّا ﴾ ’’نہیں کیا ہم نے پہلے اس نام کا کوئی‘‘ یعنی اس سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں حضرت یحییٰu سے پہلے آپ جیسا کوئی نہیں بنایا، تب یہ ان کی کاملیت اور اوصاف حمیدہ سے ان کے متصف ہونے کی بشارت ہے، نیز یہ کہ حضرت یحییٰu اپنے سے پہلے تمام لوگوں پر فوقیت رکھتے ہیں … مگر اس احتمال کے مطابق، اس عموم میں سے حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت نوح علیہ السلام اور ان جیسے دیگر انبیاء کرام کو مخصوص کرنا ہو گا جو قطعی طور پر حضرت یحییٰu سے افضل ہیں ۔
[8] جب ان کے پاس اس مولود کے بارے میں ، جس کے لیے انھوں نے دعا مانگی تھی، خوشخبری آ گئی تو انھوں نے اس کو عجیب و غریب سمجھا اور تعجب کرتے ہوئے عرض کی:﴿ قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ ﴾ ’’اے رب! کہاں سے ہوگا میرے لیے لڑکا؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ مجھ میں اور میری بیوی میں بعض ایسے اسباب موجود ہیں جو اولاد کے وجود سے مانع ہیں ۔ گویا آپ کی دعا کے وقت آپ کے سامنے یہ مانع مستحضر نہ تھا اور اس کا سبب قلب میں وارد ہونے والے جذبے کی قوت اور بیٹے کی شدید خواہش تھی اور اس حال میں جب آپ کی دعا قبول ہو گئی تو آپ کو تعجب ہوا۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ ﴾ ’’یوں ہی ہوگا، فرما دیا تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہے‘‘ یعنی وہ امر جو عادۃً اور مخلوق میں سنت الٰہی کے مطابق ناممکن ہے مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت تو اسے اسباب کے بغیر وجود میں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس لیے یہ اس کے لیے بہت آسان ہے۔ اس کو وجود میں لانا اس سے زیادہ مشکل نہیں جو اس سے قبل اس کو وجود میں لایا تھا، جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔
[10]﴿ قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّيۡۤ اٰيَةً﴾ ’’زکریا نے کہا: اے رب! ٹھہرا دے میرے لیے کوئی نشانی‘‘ یعنی جس سے میرا دل مطمئن ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک نہیں بلکہ یہ ویسے ہی ہے جیسے حضرت ابراہیمu نے عرض کی تھی ﴿ رَؔبِّ اَرِنِيۡؔ كَيۡفَ تُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ١ؕ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ﴾(البقرۃ:2؍260) ’’اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو کیسے مردوں کو زندہ کرے گا؟ فرمایا: کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کی کیوں نہیں مگر یہ اس لیے پوچھا ہے تاکہ اطمینان قلب حاصل ہو۔‘‘ پس ان کو اپنے علم میں اضافہ کی طلب تھی، انھیں علم الیقین کے بعد عین الیقین کے مقام پر پہنچنے کی خواہش تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی دعا قبول فرمائی۔ ﴿ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا ﴾ ’’فرمایا: تیری نشانی یہ ہے کہ تو بات نہیں کرے گا لوگوں سے تین رات تک صحیح تندرست ہوتے ہوئے۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ارشاد فرمایا: ﴿ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَ يَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ﴾(آل عمران : 3؍41) ’’تو بات نہیں کرے گا تین دن تک مگر اشارے سے‘‘ دونوں کا معنی ایک ہے کیونکہ کبھی رات سے تعبیر کیا جاتا ہے کبھی دن سے، دونوں کا مقصد ایک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تعجب خیز نشانیوں میں سے ہے کیونکہ تین دن تک، بغیر کسی بیماری اور نقص کے اور بغیر گونگا ہوئے بلکہ صحیح سلامت حالت میں بولنے سے عاجز ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دلیل ہے جو فطرت کے قوانین عادیہ کو توڑ سکتی ہے۔ بایں ہمہ حضرت زکریاu صرف اس کلام سے عاجز تھے جس کا تعلق انسانوں سے ہے۔ تسبیح اور ذکر وغیرہ سے یہ چیز مانع نہ تھی۔ بناء بریں ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاذۡكُرۡ رَّبَّكَ كَثِيۡرًا وَّسَبِّحۡ بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِبۡكَارِ﴾(آل عمران:3؍41) ’’نہایت کثرت سے صبح و شام اپنے رب کا ذکر اور تسبیح کر۔‘‘
[11] پس ان کا دل مطمئن ہو گیا اور وہ اس عظیم بشارت سے خوش ہو گئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، اس کی عبادت اور ذکر کے ذریعے سے اس کا شکر ادا کیا۔ پس وہ اپنی محراب میں معتکف ہو گئے اور وہاں سے وہ اپنی قوم کے سامنے آئے ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ ﴾ اور انھیں حکم دیا یعنی اشارے اور رمز کے ساتھ: ﴿ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾ ’’کہ صبح اور شام اللہ کی پاکیزگی بیان کرو‘‘ کیونکہ یحییٰu کی بشارت تمام لوگوں کے حق میں دینی مصلحت تھی۔
19:8قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَٰمٞ وَكَانَتِ ٱمۡرَأَتِي عَاقِرٗا وَقَدۡ بَلَغۡتُ مِنَ ٱلۡكِبَرِ عِتِيّٗا
اے زکریا! بے شک ہم خوشخبری دیتے ہیں تجھے ایک لڑکے کی، کہ نام اس کا ہے یحییٰ ، نہیں بنایا ہم نے اس کا، پہلے اس سے، کوئی ہم نام (7) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیسے ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ ہے میری بیوی بانجھ اور تحقیق پہنچ چکا ہوں میں بڑھاپے کی آخری حد کو؟ (8) کہا (فرشتے نے بات) اسی طرح ہے (لیکن) کہا تیرے رب نے، وہ مجھ پر آسان ہےاور تحقیق پیداکیا میں نے تجھے پہلے اس سے، درآنحالیکہ نہیں تھا تو کچھ بھی (9)زکریا نے کہا، اے میرے رب! ٹھہرا دے میرے لیے کوئی نشانی، فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہ بات کر سکے گا تو لوگوں سے تین راتیں تندرستی کے باوجود (10)پس وہ نکلا اوپر اپنی قوم کے، حجرے سے تو اس نے اشارہ کیا ان کی طرف یہ کہ تم تسبیح بیان کرو صبح اورشام (11)
[7] یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو فرشتوں کے توسط سے ’’یحییٰ‘‘ (u) کی خوشخبری سنائی اور اللہ تعالیٰ نے اس (بیٹے) کو ’’یحییٰ‘‘ کے نام سے موسوم کیا۔ اسم اپنے مسمی کے عین موافق تھا، چنانچہ یحییٰu نے حسی زندگی بسر کی جس سے اللہ تعالیٰ کی عنایت کی تکمیل ہوئی اور آپ نے معنوی زندگی بھی بسر کی، وہ ہے وحی، علم اور دین کے ذریعے سے قلب وروح کی زندگی۔ ﴿ لَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ مِنۡ قَبۡلُ سَمِيًّا ﴾ ’’نہیں کیا ہم نے پہلے اس نام کا کوئی‘‘ یعنی اس سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں حضرت یحییٰu سے پہلے آپ جیسا کوئی نہیں بنایا، تب یہ ان کی کاملیت اور اوصاف حمیدہ سے ان کے متصف ہونے کی بشارت ہے، نیز یہ کہ حضرت یحییٰu اپنے سے پہلے تمام لوگوں پر فوقیت رکھتے ہیں … مگر اس احتمال کے مطابق، اس عموم میں سے حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت نوح علیہ السلام اور ان جیسے دیگر انبیاء کرام کو مخصوص کرنا ہو گا جو قطعی طور پر حضرت یحییٰu سے افضل ہیں ۔
[8] جب ان کے پاس اس مولود کے بارے میں ، جس کے لیے انھوں نے دعا مانگی تھی، خوشخبری آ گئی تو انھوں نے اس کو عجیب و غریب سمجھا اور تعجب کرتے ہوئے عرض کی:﴿ قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ ﴾ ’’اے رب! کہاں سے ہوگا میرے لیے لڑکا؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ مجھ میں اور میری بیوی میں بعض ایسے اسباب موجود ہیں جو اولاد کے وجود سے مانع ہیں ۔ گویا آپ کی دعا کے وقت آپ کے سامنے یہ مانع مستحضر نہ تھا اور اس کا سبب قلب میں وارد ہونے والے جذبے کی قوت اور بیٹے کی شدید خواہش تھی اور اس حال میں جب آپ کی دعا قبول ہو گئی تو آپ کو تعجب ہوا۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ ﴾ ’’یوں ہی ہوگا، فرما دیا تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہے‘‘ یعنی وہ امر جو عادۃً اور مخلوق میں سنت الٰہی کے مطابق ناممکن ہے مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت تو اسے اسباب کے بغیر وجود میں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس لیے یہ اس کے لیے بہت آسان ہے۔ اس کو وجود میں لانا اس سے زیادہ مشکل نہیں جو اس سے قبل اس کو وجود میں لایا تھا، جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔
[10]﴿ قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّيۡۤ اٰيَةً﴾ ’’زکریا نے کہا: اے رب! ٹھہرا دے میرے لیے کوئی نشانی‘‘ یعنی جس سے میرا دل مطمئن ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک نہیں بلکہ یہ ویسے ہی ہے جیسے حضرت ابراہیمu نے عرض کی تھی ﴿ رَؔبِّ اَرِنِيۡؔ كَيۡفَ تُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ١ؕ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ﴾(البقرۃ:2؍260) ’’اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو کیسے مردوں کو زندہ کرے گا؟ فرمایا: کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کی کیوں نہیں مگر یہ اس لیے پوچھا ہے تاکہ اطمینان قلب حاصل ہو۔‘‘ پس ان کو اپنے علم میں اضافہ کی طلب تھی، انھیں علم الیقین کے بعد عین الیقین کے مقام پر پہنچنے کی خواہش تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی دعا قبول فرمائی۔ ﴿ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا ﴾ ’’فرمایا: تیری نشانی یہ ہے کہ تو بات نہیں کرے گا لوگوں سے تین رات تک صحیح تندرست ہوتے ہوئے۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ارشاد فرمایا: ﴿ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَ يَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ﴾(آل عمران : 3؍41) ’’تو بات نہیں کرے گا تین دن تک مگر اشارے سے‘‘ دونوں کا معنی ایک ہے کیونکہ کبھی رات سے تعبیر کیا جاتا ہے کبھی دن سے، دونوں کا مقصد ایک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تعجب خیز نشانیوں میں سے ہے کیونکہ تین دن تک، بغیر کسی بیماری اور نقص کے اور بغیر گونگا ہوئے بلکہ صحیح سلامت حالت میں بولنے سے عاجز ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دلیل ہے جو فطرت کے قوانین عادیہ کو توڑ سکتی ہے۔ بایں ہمہ حضرت زکریاu صرف اس کلام سے عاجز تھے جس کا تعلق انسانوں سے ہے۔ تسبیح اور ذکر وغیرہ سے یہ چیز مانع نہ تھی۔ بناء بریں ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاذۡكُرۡ رَّبَّكَ كَثِيۡرًا وَّسَبِّحۡ بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِبۡكَارِ﴾(آل عمران:3؍41) ’’نہایت کثرت سے صبح و شام اپنے رب کا ذکر اور تسبیح کر۔‘‘
[11] پس ان کا دل مطمئن ہو گیا اور وہ اس عظیم بشارت سے خوش ہو گئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، اس کی عبادت اور ذکر کے ذریعے سے اس کا شکر ادا کیا۔ پس وہ اپنی محراب میں معتکف ہو گئے اور وہاں سے وہ اپنی قوم کے سامنے آئے ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ ﴾ اور انھیں حکم دیا یعنی اشارے اور رمز کے ساتھ: ﴿ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾ ’’کہ صبح اور شام اللہ کی پاکیزگی بیان کرو‘‘ کیونکہ یحییٰu کی بشارت تمام لوگوں کے حق میں دینی مصلحت تھی۔
19:9قَالَ كَذَٰلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٞ وَقَدۡ خَلَقۡتُكَ مِن قَبۡلُ وَلَمۡ تَكُ شَيۡـٔٗا
اے زکریا! بے شک ہم خوشخبری دیتے ہیں تجھے ایک لڑکے کی، کہ نام اس کا ہے یحییٰ ، نہیں بنایا ہم نے اس کا، پہلے اس سے، کوئی ہم نام (7) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیسے ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ ہے میری بیوی بانجھ اور تحقیق پہنچ چکا ہوں میں بڑھاپے کی آخری حد کو؟ (8) کہا (فرشتے نے بات) اسی طرح ہے (لیکن) کہا تیرے رب نے، وہ مجھ پر آسان ہےاور تحقیق پیداکیا میں نے تجھے پہلے اس سے، درآنحالیکہ نہیں تھا تو کچھ بھی (9)زکریا نے کہا، اے میرے رب! ٹھہرا دے میرے لیے کوئی نشانی، فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہ بات کر سکے گا تو لوگوں سے تین راتیں تندرستی کے باوجود (10)پس وہ نکلا اوپر اپنی قوم کے، حجرے سے تو اس نے اشارہ کیا ان کی طرف یہ کہ تم تسبیح بیان کرو صبح اورشام (11)
[7] یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو فرشتوں کے توسط سے ’’یحییٰ‘‘ (u) کی خوشخبری سنائی اور اللہ تعالیٰ نے اس (بیٹے) کو ’’یحییٰ‘‘ کے نام سے موسوم کیا۔ اسم اپنے مسمی کے عین موافق تھا، چنانچہ یحییٰu نے حسی زندگی بسر کی جس سے اللہ تعالیٰ کی عنایت کی تکمیل ہوئی اور آپ نے معنوی زندگی بھی بسر کی، وہ ہے وحی، علم اور دین کے ذریعے سے قلب وروح کی زندگی۔ ﴿ لَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ مِنۡ قَبۡلُ سَمِيًّا ﴾ ’’نہیں کیا ہم نے پہلے اس نام کا کوئی‘‘ یعنی اس سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں حضرت یحییٰu سے پہلے آپ جیسا کوئی نہیں بنایا، تب یہ ان کی کاملیت اور اوصاف حمیدہ سے ان کے متصف ہونے کی بشارت ہے، نیز یہ کہ حضرت یحییٰu اپنے سے پہلے تمام لوگوں پر فوقیت رکھتے ہیں … مگر اس احتمال کے مطابق، اس عموم میں سے حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت نوح علیہ السلام اور ان جیسے دیگر انبیاء کرام کو مخصوص کرنا ہو گا جو قطعی طور پر حضرت یحییٰu سے افضل ہیں ۔
[8] جب ان کے پاس اس مولود کے بارے میں ، جس کے لیے انھوں نے دعا مانگی تھی، خوشخبری آ گئی تو انھوں نے اس کو عجیب و غریب سمجھا اور تعجب کرتے ہوئے عرض کی:﴿ قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ ﴾ ’’اے رب! کہاں سے ہوگا میرے لیے لڑکا؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ مجھ میں اور میری بیوی میں بعض ایسے اسباب موجود ہیں جو اولاد کے وجود سے مانع ہیں ۔ گویا آپ کی دعا کے وقت آپ کے سامنے یہ مانع مستحضر نہ تھا اور اس کا سبب قلب میں وارد ہونے والے جذبے کی قوت اور بیٹے کی شدید خواہش تھی اور اس حال میں جب آپ کی دعا قبول ہو گئی تو آپ کو تعجب ہوا۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ ﴾ ’’یوں ہی ہوگا، فرما دیا تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہے‘‘ یعنی وہ امر جو عادۃً اور مخلوق میں سنت الٰہی کے مطابق ناممکن ہے مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت تو اسے اسباب کے بغیر وجود میں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس لیے یہ اس کے لیے بہت آسان ہے۔ اس کو وجود میں لانا اس سے زیادہ مشکل نہیں جو اس سے قبل اس کو وجود میں لایا تھا، جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔
[10]﴿ قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّيۡۤ اٰيَةً﴾ ’’زکریا نے کہا: اے رب! ٹھہرا دے میرے لیے کوئی نشانی‘‘ یعنی جس سے میرا دل مطمئن ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک نہیں بلکہ یہ ویسے ہی ہے جیسے حضرت ابراہیمu نے عرض کی تھی ﴿ رَؔبِّ اَرِنِيۡؔ كَيۡفَ تُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ١ؕ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ﴾(البقرۃ:2؍260) ’’اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو کیسے مردوں کو زندہ کرے گا؟ فرمایا: کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کی کیوں نہیں مگر یہ اس لیے پوچھا ہے تاکہ اطمینان قلب حاصل ہو۔‘‘ پس ان کو اپنے علم میں اضافہ کی طلب تھی، انھیں علم الیقین کے بعد عین الیقین کے مقام پر پہنچنے کی خواہش تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی دعا قبول فرمائی۔ ﴿ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا ﴾ ’’فرمایا: تیری نشانی یہ ہے کہ تو بات نہیں کرے گا لوگوں سے تین رات تک صحیح تندرست ہوتے ہوئے۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ارشاد فرمایا: ﴿ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَ يَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ﴾(آل عمران : 3؍41) ’’تو بات نہیں کرے گا تین دن تک مگر اشارے سے‘‘ دونوں کا معنی ایک ہے کیونکہ کبھی رات سے تعبیر کیا جاتا ہے کبھی دن سے، دونوں کا مقصد ایک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تعجب خیز نشانیوں میں سے ہے کیونکہ تین دن تک، بغیر کسی بیماری اور نقص کے اور بغیر گونگا ہوئے بلکہ صحیح سلامت حالت میں بولنے سے عاجز ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دلیل ہے جو فطرت کے قوانین عادیہ کو توڑ سکتی ہے۔ بایں ہمہ حضرت زکریاu صرف اس کلام سے عاجز تھے جس کا تعلق انسانوں سے ہے۔ تسبیح اور ذکر وغیرہ سے یہ چیز مانع نہ تھی۔ بناء بریں ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاذۡكُرۡ رَّبَّكَ كَثِيۡرًا وَّسَبِّحۡ بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِبۡكَارِ﴾(آل عمران:3؍41) ’’نہایت کثرت سے صبح و شام اپنے رب کا ذکر اور تسبیح کر۔‘‘
[11] پس ان کا دل مطمئن ہو گیا اور وہ اس عظیم بشارت سے خوش ہو گئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، اس کی عبادت اور ذکر کے ذریعے سے اس کا شکر ادا کیا۔ پس وہ اپنی محراب میں معتکف ہو گئے اور وہاں سے وہ اپنی قوم کے سامنے آئے ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ ﴾ اور انھیں حکم دیا یعنی اشارے اور رمز کے ساتھ: ﴿ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾ ’’کہ صبح اور شام اللہ کی پاکیزگی بیان کرو‘‘ کیونکہ یحییٰu کی بشارت تمام لوگوں کے حق میں دینی مصلحت تھی۔
19:10قَالَ رَبِّ ٱجۡعَل لِّيٓ ءَايَةٗۖ قَالَ ءَايَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ ٱلنَّاسَ ثَلَٰثَ لَيَالٖ سَوِيّٗا
اے زکریا! بے شک ہم خوشخبری دیتے ہیں تجھے ایک لڑکے کی، کہ نام اس کا ہے یحییٰ ، نہیں بنایا ہم نے اس کا، پہلے اس سے، کوئی ہم نام (7) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیسے ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ ہے میری بیوی بانجھ اور تحقیق پہنچ چکا ہوں میں بڑھاپے کی آخری حد کو؟ (8) کہا (فرشتے نے بات) اسی طرح ہے (لیکن) کہا تیرے رب نے، وہ مجھ پر آسان ہےاور تحقیق پیداکیا میں نے تجھے پہلے اس سے، درآنحالیکہ نہیں تھا تو کچھ بھی (9)زکریا نے کہا، اے میرے رب! ٹھہرا دے میرے لیے کوئی نشانی، فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہ بات کر سکے گا تو لوگوں سے تین راتیں تندرستی کے باوجود (10)پس وہ نکلا اوپر اپنی قوم کے، حجرے سے تو اس نے اشارہ کیا ان کی طرف یہ کہ تم تسبیح بیان کرو صبح اورشام (11)
[7] یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو فرشتوں کے توسط سے ’’یحییٰ‘‘ (u) کی خوشخبری سنائی اور اللہ تعالیٰ نے اس (بیٹے) کو ’’یحییٰ‘‘ کے نام سے موسوم کیا۔ اسم اپنے مسمی کے عین موافق تھا، چنانچہ یحییٰu نے حسی زندگی بسر کی جس سے اللہ تعالیٰ کی عنایت کی تکمیل ہوئی اور آپ نے معنوی زندگی بھی بسر کی، وہ ہے وحی، علم اور دین کے ذریعے سے قلب وروح کی زندگی۔ ﴿ لَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ مِنۡ قَبۡلُ سَمِيًّا ﴾ ’’نہیں کیا ہم نے پہلے اس نام کا کوئی‘‘ یعنی اس سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں حضرت یحییٰu سے پہلے آپ جیسا کوئی نہیں بنایا، تب یہ ان کی کاملیت اور اوصاف حمیدہ سے ان کے متصف ہونے کی بشارت ہے، نیز یہ کہ حضرت یحییٰu اپنے سے پہلے تمام لوگوں پر فوقیت رکھتے ہیں … مگر اس احتمال کے مطابق، اس عموم میں سے حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت نوح علیہ السلام اور ان جیسے دیگر انبیاء کرام کو مخصوص کرنا ہو گا جو قطعی طور پر حضرت یحییٰu سے افضل ہیں ۔
[8] جب ان کے پاس اس مولود کے بارے میں ، جس کے لیے انھوں نے دعا مانگی تھی، خوشخبری آ گئی تو انھوں نے اس کو عجیب و غریب سمجھا اور تعجب کرتے ہوئے عرض کی:﴿ قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ ﴾ ’’اے رب! کہاں سے ہوگا میرے لیے لڑکا؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ مجھ میں اور میری بیوی میں بعض ایسے اسباب موجود ہیں جو اولاد کے وجود سے مانع ہیں ۔ گویا آپ کی دعا کے وقت آپ کے سامنے یہ مانع مستحضر نہ تھا اور اس کا سبب قلب میں وارد ہونے والے جذبے کی قوت اور بیٹے کی شدید خواہش تھی اور اس حال میں جب آپ کی دعا قبول ہو گئی تو آپ کو تعجب ہوا۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ ﴾ ’’یوں ہی ہوگا، فرما دیا تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہے‘‘ یعنی وہ امر جو عادۃً اور مخلوق میں سنت الٰہی کے مطابق ناممکن ہے مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت تو اسے اسباب کے بغیر وجود میں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس لیے یہ اس کے لیے بہت آسان ہے۔ اس کو وجود میں لانا اس سے زیادہ مشکل نہیں جو اس سے قبل اس کو وجود میں لایا تھا، جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔
[10]﴿ قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّيۡۤ اٰيَةً﴾ ’’زکریا نے کہا: اے رب! ٹھہرا دے میرے لیے کوئی نشانی‘‘ یعنی جس سے میرا دل مطمئن ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک نہیں بلکہ یہ ویسے ہی ہے جیسے حضرت ابراہیمu نے عرض کی تھی ﴿ رَؔبِّ اَرِنِيۡؔ كَيۡفَ تُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ١ؕ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ﴾(البقرۃ:2؍260) ’’اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو کیسے مردوں کو زندہ کرے گا؟ فرمایا: کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کی کیوں نہیں مگر یہ اس لیے پوچھا ہے تاکہ اطمینان قلب حاصل ہو۔‘‘ پس ان کو اپنے علم میں اضافہ کی طلب تھی، انھیں علم الیقین کے بعد عین الیقین کے مقام پر پہنچنے کی خواہش تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی دعا قبول فرمائی۔ ﴿ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا ﴾ ’’فرمایا: تیری نشانی یہ ہے کہ تو بات نہیں کرے گا لوگوں سے تین رات تک صحیح تندرست ہوتے ہوئے۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ارشاد فرمایا: ﴿ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَ يَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ﴾(آل عمران : 3؍41) ’’تو بات نہیں کرے گا تین دن تک مگر اشارے سے‘‘ دونوں کا معنی ایک ہے کیونکہ کبھی رات سے تعبیر کیا جاتا ہے کبھی دن سے، دونوں کا مقصد ایک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تعجب خیز نشانیوں میں سے ہے کیونکہ تین دن تک، بغیر کسی بیماری اور نقص کے اور بغیر گونگا ہوئے بلکہ صحیح سلامت حالت میں بولنے سے عاجز ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دلیل ہے جو فطرت کے قوانین عادیہ کو توڑ سکتی ہے۔ بایں ہمہ حضرت زکریاu صرف اس کلام سے عاجز تھے جس کا تعلق انسانوں سے ہے۔ تسبیح اور ذکر وغیرہ سے یہ چیز مانع نہ تھی۔ بناء بریں ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاذۡكُرۡ رَّبَّكَ كَثِيۡرًا وَّسَبِّحۡ بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِبۡكَارِ﴾(آل عمران:3؍41) ’’نہایت کثرت سے صبح و شام اپنے رب کا ذکر اور تسبیح کر۔‘‘
[11] پس ان کا دل مطمئن ہو گیا اور وہ اس عظیم بشارت سے خوش ہو گئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، اس کی عبادت اور ذکر کے ذریعے سے اس کا شکر ادا کیا۔ پس وہ اپنی محراب میں معتکف ہو گئے اور وہاں سے وہ اپنی قوم کے سامنے آئے ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ ﴾ اور انھیں حکم دیا یعنی اشارے اور رمز کے ساتھ: ﴿ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾ ’’کہ صبح اور شام اللہ کی پاکیزگی بیان کرو‘‘ کیونکہ یحییٰu کی بشارت تمام لوگوں کے حق میں دینی مصلحت تھی۔
19:11فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوۡمِهِۦ مِنَ ٱلۡمِحۡرَابِ فَأَوۡحَىٰٓ إِلَيۡهِمۡ أَن سَبِّحُواْ بُكۡرَةٗ وَعَشِيّٗا
اے زکریا! بے شک ہم خوشخبری دیتے ہیں تجھے ایک لڑکے کی، کہ نام اس کا ہے یحییٰ ، نہیں بنایا ہم نے اس کا، پہلے اس سے، کوئی ہم نام (7) زکریا نے کہا، اے میرے رب! کیسے ہوگا میرے لیے لڑکا جبکہ ہے میری بیوی بانجھ اور تحقیق پہنچ چکا ہوں میں بڑھاپے کی آخری حد کو؟ (8) کہا (فرشتے نے بات) اسی طرح ہے (لیکن) کہا تیرے رب نے، وہ مجھ پر آسان ہےاور تحقیق پیداکیا میں نے تجھے پہلے اس سے، درآنحالیکہ نہیں تھا تو کچھ بھی (9)زکریا نے کہا، اے میرے رب! ٹھہرا دے میرے لیے کوئی نشانی، فرمایا، نشانی تیری یہ ہے کہ نہ بات کر سکے گا تو لوگوں سے تین راتیں تندرستی کے باوجود (10)پس وہ نکلا اوپر اپنی قوم کے، حجرے سے تو اس نے اشارہ کیا ان کی طرف یہ کہ تم تسبیح بیان کرو صبح اورشام (11)
[7] یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو فرشتوں کے توسط سے ’’یحییٰ‘‘ (u) کی خوشخبری سنائی اور اللہ تعالیٰ نے اس (بیٹے) کو ’’یحییٰ‘‘ کے نام سے موسوم کیا۔ اسم اپنے مسمی کے عین موافق تھا، چنانچہ یحییٰu نے حسی زندگی بسر کی جس سے اللہ تعالیٰ کی عنایت کی تکمیل ہوئی اور آپ نے معنوی زندگی بھی بسر کی، وہ ہے وحی، علم اور دین کے ذریعے سے قلب وروح کی زندگی۔ ﴿ لَمۡ نَجۡعَلۡ لَّهٗ مِنۡ قَبۡلُ سَمِيًّا ﴾ ’’نہیں کیا ہم نے پہلے اس نام کا کوئی‘‘ یعنی اس سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں حضرت یحییٰu سے پہلے آپ جیسا کوئی نہیں بنایا، تب یہ ان کی کاملیت اور اوصاف حمیدہ سے ان کے متصف ہونے کی بشارت ہے، نیز یہ کہ حضرت یحییٰu اپنے سے پہلے تمام لوگوں پر فوقیت رکھتے ہیں … مگر اس احتمال کے مطابق، اس عموم میں سے حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت نوح علیہ السلام اور ان جیسے دیگر انبیاء کرام کو مخصوص کرنا ہو گا جو قطعی طور پر حضرت یحییٰu سے افضل ہیں ۔
[8] جب ان کے پاس اس مولود کے بارے میں ، جس کے لیے انھوں نے دعا مانگی تھی، خوشخبری آ گئی تو انھوں نے اس کو عجیب و غریب سمجھا اور تعجب کرتے ہوئے عرض کی:﴿ قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ ﴾ ’’اے رب! کہاں سے ہوگا میرے لیے لڑکا؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ مجھ میں اور میری بیوی میں بعض ایسے اسباب موجود ہیں جو اولاد کے وجود سے مانع ہیں ۔ گویا آپ کی دعا کے وقت آپ کے سامنے یہ مانع مستحضر نہ تھا اور اس کا سبب قلب میں وارد ہونے والے جذبے کی قوت اور بیٹے کی شدید خواہش تھی اور اس حال میں جب آپ کی دعا قبول ہو گئی تو آپ کو تعجب ہوا۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ ﴾ ’’یوں ہی ہوگا، فرما دیا تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہے‘‘ یعنی وہ امر جو عادۃً اور مخلوق میں سنت الٰہی کے مطابق ناممکن ہے مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت تو اسے اسباب کے بغیر وجود میں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس لیے یہ اس کے لیے بہت آسان ہے۔ اس کو وجود میں لانا اس سے زیادہ مشکل نہیں جو اس سے قبل اس کو وجود میں لایا تھا، جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔
[10]﴿ قَالَ رَبِّ اجۡعَلۡ لِّيۡۤ اٰيَةً﴾ ’’زکریا نے کہا: اے رب! ٹھہرا دے میرے لیے کوئی نشانی‘‘ یعنی جس سے میرا دل مطمئن ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک نہیں بلکہ یہ ویسے ہی ہے جیسے حضرت ابراہیمu نے عرض کی تھی ﴿ رَؔبِّ اَرِنِيۡؔ كَيۡفَ تُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ١ؕ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ﴾(البقرۃ:2؍260) ’’اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو کیسے مردوں کو زندہ کرے گا؟ فرمایا: کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کی کیوں نہیں مگر یہ اس لیے پوچھا ہے تاکہ اطمینان قلب حاصل ہو۔‘‘ پس ان کو اپنے علم میں اضافہ کی طلب تھی، انھیں علم الیقین کے بعد عین الیقین کے مقام پر پہنچنے کی خواہش تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی دعا قبول فرمائی۔ ﴿ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا ﴾ ’’فرمایا: تیری نشانی یہ ہے کہ تو بات نہیں کرے گا لوگوں سے تین رات تک صحیح تندرست ہوتے ہوئے۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ارشاد فرمایا: ﴿ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَ يَّامٍ اِلَّا رَمۡزًا ﴾(آل عمران : 3؍41) ’’تو بات نہیں کرے گا تین دن تک مگر اشارے سے‘‘ دونوں کا معنی ایک ہے کیونکہ کبھی رات سے تعبیر کیا جاتا ہے کبھی دن سے، دونوں کا مقصد ایک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تعجب خیز نشانیوں میں سے ہے کیونکہ تین دن تک، بغیر کسی بیماری اور نقص کے اور بغیر گونگا ہوئے بلکہ صحیح سلامت حالت میں بولنے سے عاجز ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دلیل ہے جو فطرت کے قوانین عادیہ کو توڑ سکتی ہے۔ بایں ہمہ حضرت زکریاu صرف اس کلام سے عاجز تھے جس کا تعلق انسانوں سے ہے۔ تسبیح اور ذکر وغیرہ سے یہ چیز مانع نہ تھی۔ بناء بریں ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاذۡكُرۡ رَّبَّكَ كَثِيۡرًا وَّسَبِّحۡ بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِبۡكَارِ﴾(آل عمران:3؍41) ’’نہایت کثرت سے صبح و شام اپنے رب کا ذکر اور تسبیح کر۔‘‘
[11] پس ان کا دل مطمئن ہو گیا اور وہ اس عظیم بشارت سے خوش ہو گئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، اس کی عبادت اور ذکر کے ذریعے سے اس کا شکر ادا کیا۔ پس وہ اپنی محراب میں معتکف ہو گئے اور وہاں سے وہ اپنی قوم کے سامنے آئے ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ ﴾ اور انھیں حکم دیا یعنی اشارے اور رمز کے ساتھ: ﴿ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾ ’’کہ صبح اور شام اللہ کی پاکیزگی بیان کرو‘‘ کیونکہ یحییٰu کی بشارت تمام لوگوں کے حق میں دینی مصلحت تھی۔
19:12يَٰيَحۡيَىٰ خُذِ ٱلۡكِتَٰبَ بِقُوَّةٖۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡحُكۡمَ صَبِيّٗا
(اللہ نے فرمایا) اے یحییٰ! پکڑ کتاب کو ساتھ قوت کے اور دیا ہم نے اسے حکم بچپن ہی میں (12) اور (دی ہم نے) شفقت اپنی طرف سے اور پاکیزگی اور تھا وہ نہایت پرہیز گار (13) اور نیکی کرنے والا ساتھ اپنے ماں باپ کےاور نہیں تھا وہ سرکش، نافرمان (14) اور اسلام ہے اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے گا اور جس دن وہ اٹھایا جائے گا زندہ کر کے (15)
[12] گزشتہ کلام، حضرت یحییٰu کی ولادت، ان کے شباب اور ان کی تربیت پر دلالت کرتا ہے۔ جب حضرت یحییٰu اس عمر کو پہنچ گئے جس عمر میں خطاب سمجھ میں آ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ قوت یعنی کوشش اور اجتہاد کے ساتھ کتاب اللہ کو پکڑے رکھیں یعنی اس کے الفاظ کی حفاظت، اسکے معانی کے فہم اور اس کے اوامرونواہی پر عمل میں پوری کوشش اور اجتہاد سے کام لیں … یہ ہے کتاب اللہ کو کامل طور پر پکڑنا۔ حضرت یحییٰu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی، انھوں نے کتاب اللہ کی طرف توجہ کی، اسے حفظ کیا اور اس کا فہم حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی ذہانت و فطانت عطا کی جو کسی اور میں نہ تھی اس لیے فرمایا:﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحُكۡمَ صَبِيًّا﴾ ہم نے اسے بچپن ہی سے احکام الٰہی اور ان کی حکمتوں کی معرفت سے نوازا۔
[13] نیز ﴿ وَّحَنَانًا مِّنۡ لَّدُنَّا ﴾ ’’اور شفقت اپنی طرف سے‘‘ یعنی رحمت اور رافت عطا کی جس کی بنا پر ان کے تمام امور آسان ہوئے، ان کے احوال کی اصلاح ہوئی اور ان کے تمام اعمال درست ہوئے۔ ﴿وَزَؔكٰوةً﴾ ’’اور ستھرائی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں گناہوں اور آفات سے پاک کیا۔ پس ان کا قلب پاک اور ان کی عقل صیقل ہو گئی اور یہ چیز تمام اوصاف مذمومہ اور اخلاق قبیحہ کے زائل ہونے اور اوصاف محمودہ اور اخلاق حسنہ میں اضافے کو متضمن ہیں۔ ﴿وَؔكَانَ تَقِيًّا ﴾ ’’اور تھے وہ پرہیز گار‘‘ یعنی مامورات کی تعمیل کرنے والے اور محظورات کو ترک کرنے والے تھے۔
[14] اور جو کوئی مومن اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی اور اہل جنت میں سے ہوتا ہے وہ جنت جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے اور مومن متقی کو دنیاوی اور اخروی ثواب حاصل ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ پر مرتب کر رکھا ہے۔﴿ وَّبَرًّۢا بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اور تھے وہ نیکی کرنے والے اپنے ماں باپ کے ساتھ‘‘ نیز یحییٰu اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے یعنی ان کی نافرمانی کرنے والے اور ان کے ساتھ برائی سے پیش آنے والے نہ تھے بلکہ وہ قول و فعل کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے تھے۔ ﴿وَلَمۡ يَكُنۡ جَبَّارًا عَصِيًّا ﴾ ’’اور نہ تھے وہ سرکش، خود سر‘‘ یعنی وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روگردانی کرنے والے نہ تھے اور وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بندوں سے بڑا سمجھتے تھے نہ اپنے والدین سے بلکہ وہ متواضع، عاجز، مطیع اور ہمیشہ اللہ کی بارگاہ میں جھکنے والے تھے۔ پس وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرنے والے تھے۔
[15] اس لیے ان کو اپنے تمام احوال میں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی حاصل تھی۔﴿ وَسَلٰمٌ عَلَيۡهِ يَوۡمَ وُلِدَ وَيَوۡمَ يَمُوۡتُ وَيَوۡمَ يُبۡعَثُ حَيًّا ﴾ ’’اور سلام ہو ان پر جس دن پیدا ہوئے اور جس دن مریں گے اور جس دن اٹھ کھڑے ہوں گے زندہ ہو کر‘‘ اور یہ ارشاد ان تینوں احوال میں شیطان، اس کے شر اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے سلامتی کا تقاضا کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ جہنم اور اس کی ہولناکیوں سے محفوظ اور اصحاب دارالسلام میں سے ہیں … اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہوں آپ پر، آپ کے والد پر اور تمام انبیاء و مرسلین پر۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے متبعین میں شامل کرے، وہ بڑا سخی اور نہایت کرم کرنے والا ہے۔
19:13وَحَنَانٗا مِّن لَّدُنَّا وَزَكَوٰةٗۖ وَكَانَ تَقِيّٗا
(اللہ نے فرمایا) اے یحییٰ! پکڑ کتاب کو ساتھ قوت کے اور دیا ہم نے اسے حکم بچپن ہی میں (12) اور (دی ہم نے) شفقت اپنی طرف سے اور پاکیزگی اور تھا وہ نہایت پرہیز گار (13) اور نیکی کرنے والا ساتھ اپنے ماں باپ کےاور نہیں تھا وہ سرکش، نافرمان (14) اور اسلام ہے اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے گا اور جس دن وہ اٹھایا جائے گا زندہ کر کے (15)
[12] گزشتہ کلام، حضرت یحییٰu کی ولادت، ان کے شباب اور ان کی تربیت پر دلالت کرتا ہے۔ جب حضرت یحییٰu اس عمر کو پہنچ گئے جس عمر میں خطاب سمجھ میں آ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ قوت یعنی کوشش اور اجتہاد کے ساتھ کتاب اللہ کو پکڑے رکھیں یعنی اس کے الفاظ کی حفاظت، اسکے معانی کے فہم اور اس کے اوامرونواہی پر عمل میں پوری کوشش اور اجتہاد سے کام لیں … یہ ہے کتاب اللہ کو کامل طور پر پکڑنا۔ حضرت یحییٰu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی، انھوں نے کتاب اللہ کی طرف توجہ کی، اسے حفظ کیا اور اس کا فہم حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی ذہانت و فطانت عطا کی جو کسی اور میں نہ تھی اس لیے فرمایا:﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحُكۡمَ صَبِيًّا﴾ ہم نے اسے بچپن ہی سے احکام الٰہی اور ان کی حکمتوں کی معرفت سے نوازا۔
[13] نیز ﴿ وَّحَنَانًا مِّنۡ لَّدُنَّا ﴾ ’’اور شفقت اپنی طرف سے‘‘ یعنی رحمت اور رافت عطا کی جس کی بنا پر ان کے تمام امور آسان ہوئے، ان کے احوال کی اصلاح ہوئی اور ان کے تمام اعمال درست ہوئے۔ ﴿وَزَؔكٰوةً﴾ ’’اور ستھرائی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں گناہوں اور آفات سے پاک کیا۔ پس ان کا قلب پاک اور ان کی عقل صیقل ہو گئی اور یہ چیز تمام اوصاف مذمومہ اور اخلاق قبیحہ کے زائل ہونے اور اوصاف محمودہ اور اخلاق حسنہ میں اضافے کو متضمن ہیں۔ ﴿وَؔكَانَ تَقِيًّا ﴾ ’’اور تھے وہ پرہیز گار‘‘ یعنی مامورات کی تعمیل کرنے والے اور محظورات کو ترک کرنے والے تھے۔
[14] اور جو کوئی مومن اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی اور اہل جنت میں سے ہوتا ہے وہ جنت جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے اور مومن متقی کو دنیاوی اور اخروی ثواب حاصل ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ پر مرتب کر رکھا ہے۔﴿ وَّبَرًّۢا بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اور تھے وہ نیکی کرنے والے اپنے ماں باپ کے ساتھ‘‘ نیز یحییٰu اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے یعنی ان کی نافرمانی کرنے والے اور ان کے ساتھ برائی سے پیش آنے والے نہ تھے بلکہ وہ قول و فعل کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے تھے۔ ﴿وَلَمۡ يَكُنۡ جَبَّارًا عَصِيًّا ﴾ ’’اور نہ تھے وہ سرکش، خود سر‘‘ یعنی وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روگردانی کرنے والے نہ تھے اور وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بندوں سے بڑا سمجھتے تھے نہ اپنے والدین سے بلکہ وہ متواضع، عاجز، مطیع اور ہمیشہ اللہ کی بارگاہ میں جھکنے والے تھے۔ پس وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرنے والے تھے۔
[15] اس لیے ان کو اپنے تمام احوال میں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی حاصل تھی۔﴿ وَسَلٰمٌ عَلَيۡهِ يَوۡمَ وُلِدَ وَيَوۡمَ يَمُوۡتُ وَيَوۡمَ يُبۡعَثُ حَيًّا ﴾ ’’اور سلام ہو ان پر جس دن پیدا ہوئے اور جس دن مریں گے اور جس دن اٹھ کھڑے ہوں گے زندہ ہو کر‘‘ اور یہ ارشاد ان تینوں احوال میں شیطان، اس کے شر اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے سلامتی کا تقاضا کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ جہنم اور اس کی ہولناکیوں سے محفوظ اور اصحاب دارالسلام میں سے ہیں … اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہوں آپ پر، آپ کے والد پر اور تمام انبیاء و مرسلین پر۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے متبعین میں شامل کرے، وہ بڑا سخی اور نہایت کرم کرنے والا ہے۔
19:14وَبَرَّۢا بِوَٰلِدَيۡهِ وَلَمۡ يَكُن جَبَّارًا عَصِيّٗا
(اللہ نے فرمایا) اے یحییٰ! پکڑ کتاب کو ساتھ قوت کے اور دیا ہم نے اسے حکم بچپن ہی میں (12) اور (دی ہم نے) شفقت اپنی طرف سے اور پاکیزگی اور تھا وہ نہایت پرہیز گار (13) اور نیکی کرنے والا ساتھ اپنے ماں باپ کےاور نہیں تھا وہ سرکش، نافرمان (14) اور اسلام ہے اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے گا اور جس دن وہ اٹھایا جائے گا زندہ کر کے (15)
[12] گزشتہ کلام، حضرت یحییٰu کی ولادت، ان کے شباب اور ان کی تربیت پر دلالت کرتا ہے۔ جب حضرت یحییٰu اس عمر کو پہنچ گئے جس عمر میں خطاب سمجھ میں آ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ قوت یعنی کوشش اور اجتہاد کے ساتھ کتاب اللہ کو پکڑے رکھیں یعنی اس کے الفاظ کی حفاظت، اسکے معانی کے فہم اور اس کے اوامرونواہی پر عمل میں پوری کوشش اور اجتہاد سے کام لیں … یہ ہے کتاب اللہ کو کامل طور پر پکڑنا۔ حضرت یحییٰu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی، انھوں نے کتاب اللہ کی طرف توجہ کی، اسے حفظ کیا اور اس کا فہم حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی ذہانت و فطانت عطا کی جو کسی اور میں نہ تھی اس لیے فرمایا:﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحُكۡمَ صَبِيًّا﴾ ہم نے اسے بچپن ہی سے احکام الٰہی اور ان کی حکمتوں کی معرفت سے نوازا۔
[13] نیز ﴿ وَّحَنَانًا مِّنۡ لَّدُنَّا ﴾ ’’اور شفقت اپنی طرف سے‘‘ یعنی رحمت اور رافت عطا کی جس کی بنا پر ان کے تمام امور آسان ہوئے، ان کے احوال کی اصلاح ہوئی اور ان کے تمام اعمال درست ہوئے۔ ﴿وَزَؔكٰوةً﴾ ’’اور ستھرائی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں گناہوں اور آفات سے پاک کیا۔ پس ان کا قلب پاک اور ان کی عقل صیقل ہو گئی اور یہ چیز تمام اوصاف مذمومہ اور اخلاق قبیحہ کے زائل ہونے اور اوصاف محمودہ اور اخلاق حسنہ میں اضافے کو متضمن ہیں۔ ﴿وَؔكَانَ تَقِيًّا ﴾ ’’اور تھے وہ پرہیز گار‘‘ یعنی مامورات کی تعمیل کرنے والے اور محظورات کو ترک کرنے والے تھے۔
[14] اور جو کوئی مومن اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی اور اہل جنت میں سے ہوتا ہے وہ جنت جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے اور مومن متقی کو دنیاوی اور اخروی ثواب حاصل ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ پر مرتب کر رکھا ہے۔﴿ وَّبَرًّۢا بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اور تھے وہ نیکی کرنے والے اپنے ماں باپ کے ساتھ‘‘ نیز یحییٰu اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے یعنی ان کی نافرمانی کرنے والے اور ان کے ساتھ برائی سے پیش آنے والے نہ تھے بلکہ وہ قول و فعل کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے تھے۔ ﴿وَلَمۡ يَكُنۡ جَبَّارًا عَصِيًّا ﴾ ’’اور نہ تھے وہ سرکش، خود سر‘‘ یعنی وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روگردانی کرنے والے نہ تھے اور وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بندوں سے بڑا سمجھتے تھے نہ اپنے والدین سے بلکہ وہ متواضع، عاجز، مطیع اور ہمیشہ اللہ کی بارگاہ میں جھکنے والے تھے۔ پس وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرنے والے تھے۔
[15] اس لیے ان کو اپنے تمام احوال میں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی حاصل تھی۔﴿ وَسَلٰمٌ عَلَيۡهِ يَوۡمَ وُلِدَ وَيَوۡمَ يَمُوۡتُ وَيَوۡمَ يُبۡعَثُ حَيًّا ﴾ ’’اور سلام ہو ان پر جس دن پیدا ہوئے اور جس دن مریں گے اور جس دن اٹھ کھڑے ہوں گے زندہ ہو کر‘‘ اور یہ ارشاد ان تینوں احوال میں شیطان، اس کے شر اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے سلامتی کا تقاضا کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ جہنم اور اس کی ہولناکیوں سے محفوظ اور اصحاب دارالسلام میں سے ہیں … اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہوں آپ پر، آپ کے والد پر اور تمام انبیاء و مرسلین پر۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے متبعین میں شامل کرے، وہ بڑا سخی اور نہایت کرم کرنے والا ہے۔
19:15وَسَلَٰمٌ عَلَيۡهِ يَوۡمَ وُلِدَ وَيَوۡمَ يَمُوتُ وَيَوۡمَ يُبۡعَثُ حَيّٗا
(اللہ نے فرمایا) اے یحییٰ! پکڑ کتاب کو ساتھ قوت کے اور دیا ہم نے اسے حکم بچپن ہی میں (12) اور (دی ہم نے) شفقت اپنی طرف سے اور پاکیزگی اور تھا وہ نہایت پرہیز گار (13) اور نیکی کرنے والا ساتھ اپنے ماں باپ کےاور نہیں تھا وہ سرکش، نافرمان (14) اور اسلام ہے اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے گا اور جس دن وہ اٹھایا جائے گا زندہ کر کے (15)
[12] گزشتہ کلام، حضرت یحییٰu کی ولادت، ان کے شباب اور ان کی تربیت پر دلالت کرتا ہے۔ جب حضرت یحییٰu اس عمر کو پہنچ گئے جس عمر میں خطاب سمجھ میں آ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ قوت یعنی کوشش اور اجتہاد کے ساتھ کتاب اللہ کو پکڑے رکھیں یعنی اس کے الفاظ کی حفاظت، اسکے معانی کے فہم اور اس کے اوامرونواہی پر عمل میں پوری کوشش اور اجتہاد سے کام لیں … یہ ہے کتاب اللہ کو کامل طور پر پکڑنا۔ حضرت یحییٰu نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی، انھوں نے کتاب اللہ کی طرف توجہ کی، اسے حفظ کیا اور اس کا فہم حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی ذہانت و فطانت عطا کی جو کسی اور میں نہ تھی اس لیے فرمایا:﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحُكۡمَ صَبِيًّا﴾ ہم نے اسے بچپن ہی سے احکام الٰہی اور ان کی حکمتوں کی معرفت سے نوازا۔
[13] نیز ﴿ وَّحَنَانًا مِّنۡ لَّدُنَّا ﴾ ’’اور شفقت اپنی طرف سے‘‘ یعنی رحمت اور رافت عطا کی جس کی بنا پر ان کے تمام امور آسان ہوئے، ان کے احوال کی اصلاح ہوئی اور ان کے تمام اعمال درست ہوئے۔ ﴿وَزَؔكٰوةً﴾ ’’اور ستھرائی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں گناہوں اور آفات سے پاک کیا۔ پس ان کا قلب پاک اور ان کی عقل صیقل ہو گئی اور یہ چیز تمام اوصاف مذمومہ اور اخلاق قبیحہ کے زائل ہونے اور اوصاف محمودہ اور اخلاق حسنہ میں اضافے کو متضمن ہیں۔ ﴿وَؔكَانَ تَقِيًّا ﴾ ’’اور تھے وہ پرہیز گار‘‘ یعنی مامورات کی تعمیل کرنے والے اور محظورات کو ترک کرنے والے تھے۔
[14] اور جو کوئی مومن اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی اور اہل جنت میں سے ہوتا ہے وہ جنت جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے اور مومن متقی کو دنیاوی اور اخروی ثواب حاصل ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ پر مرتب کر رکھا ہے۔﴿ وَّبَرًّۢا بِوَالِدَيۡهِ ﴾ ’’اور تھے وہ نیکی کرنے والے اپنے ماں باپ کے ساتھ‘‘ نیز یحییٰu اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے یعنی ان کی نافرمانی کرنے والے اور ان کے ساتھ برائی سے پیش آنے والے نہ تھے بلکہ وہ قول و فعل کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے تھے۔ ﴿وَلَمۡ يَكُنۡ جَبَّارًا عَصِيًّا ﴾ ’’اور نہ تھے وہ سرکش، خود سر‘‘ یعنی وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روگردانی کرنے والے نہ تھے اور وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بندوں سے بڑا سمجھتے تھے نہ اپنے والدین سے بلکہ وہ متواضع، عاجز، مطیع اور ہمیشہ اللہ کی بارگاہ میں جھکنے والے تھے۔ پس وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرنے والے تھے۔
[15] اس لیے ان کو اپنے تمام احوال میں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی حاصل تھی۔﴿ وَسَلٰمٌ عَلَيۡهِ يَوۡمَ وُلِدَ وَيَوۡمَ يَمُوۡتُ وَيَوۡمَ يُبۡعَثُ حَيًّا ﴾ ’’اور سلام ہو ان پر جس دن پیدا ہوئے اور جس دن مریں گے اور جس دن اٹھ کھڑے ہوں گے زندہ ہو کر‘‘ اور یہ ارشاد ان تینوں احوال میں شیطان، اس کے شر اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے سلامتی کا تقاضا کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ جہنم اور اس کی ہولناکیوں سے محفوظ اور اصحاب دارالسلام میں سے ہیں … اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہوں آپ پر، آپ کے والد پر اور تمام انبیاء و مرسلین پر۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے متبعین میں شامل کرے، وہ بڑا سخی اور نہایت کرم کرنے والا ہے۔
19:16وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ مَرۡيَمَ إِذِ ٱنتَبَذَتۡ مِنۡ أَهۡلِهَا مَكَانٗا شَرۡقِيّٗا
اور ذکر کیجیے کتاب میں مریم کا، جب علیحدہ ہوئی وہ اپنے گھر والوں سے ایسے مکان میں جو مشرقی جانب تھا(16) پھر بنا لیا مریم نے ان کے آگے سے ایک پردہ، پس بھیجا ہم نے اس کی طرف اپنی روح کو، سو شکل اختیار کی اس نے مریم کے سامنے ایک آدمی کامل کی (17) کہا مریم نے، بلاشبہ میں پناہ پکڑتی ہوں رحمٰن کے ساتھ، تجھ سے، اگر ہے تو ڈرنے والا (18) اس نے کہا، یقینا میں بھیجا ہوا ہوں تیرے رب کاتاکہ عطا کروں تجھے (اللہ کے حکم سے) ایک لڑکا پاکیزہ (19) مریم نے کہا، کیسے ہو گا میرے لیے لڑکا حالانکہ نہیں چھوا مجھے کسی بشر نے ، اور نہیں ہوں میں بدکار (20)فرشتے نے کہا، اسی طرح ہے (تو بچہ جنے گی) کہا ہے تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہےاور تاکہ بنائیں ہم اسے ایک نشانی لوگوں کے لیے اور رحمت اپنی طرف سے اور ہے (یہ) معاملہ طے شدہ (21)
[16] اللہ تبارک وتعالیٰ نے زکریا اور یحییٰi کا واقعہ بیان کرنے کے بعد … کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی عجیب نشانیوں میں سے ہے … ایک اور قصہ بیان فرمایا جو اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف تدریج ہے۔ ﴿ وَاذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور ذکر کر کتاب میں ‘‘ یعنی قرآن کریم میں ﴿ مَرۡيَمَ﴾ مریم[ کا۔ یہ مریم[ کی سب سے بڑی فضیلت ہے کہ کتاب عظیم میں ان کا نام مذکور ہے جس کی مشرق و مغرب کے تمام مسلمان تلاوت کرتے ہیں ۔ اس کتاب عظیم میں بہترین پیرائے میں ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنابیان کی گئی ہے یہ ان کے اچھے اعمال اور کوشش کامل کی جزا ہے، یعنی کتاب عظیم میں ، حضرت مریم[ کے بہترین حال کا ذکر کیجیے۔ جب ﴿ اِذِ انۡتَبَذَتۡ ﴾ ’’وہ جدا ہوئی‘‘ یعنی جب مریم[ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ﴿ مَكَانًا شَرۡقِيًّا ﴾ مشرقی جانب ایک مکان میں گوشہ نشیں ہو گئی تھیں ۔
[17]﴿ فَاتَّؔخَذَتۡ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ حِجَابًا﴾ ’’پھر پکڑ لیا ان سے ورے ایک پردہ‘‘ یعنی ایک پردہ ڈال لیا تھا جو لوگوں کی ملاقات سے مانع تھا۔حضرت مریم[ کا گوشہ نشیں ہونا، پردہ لٹکا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے الگ تھلگ ہو جانا، اخلاص، خشوع و خضوع اور اللہ تعالیٰ کے لیے تذلل کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت دراصل اس ارشاد الٰہی کی تعمیل ہے۔ ﴿ وَاِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ يٰمَرۡيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىكِ وَطَهَّرَكِ وَاصۡطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِيۡ لِرَبِّكِ وَاسۡجُدِيۡ وَارۡكَعِيۡ مَعَ الرّٰؔكِعِيۡنَ ﴾(آل عمران:3؍42-43) ’’جب فرشتوں نے (جناب مریم سے)کہا اے مریم! اللہ نے تجھے چن لیا، تجھے پاکیزگی عطا کی اور تجھے تمام جہانوں کی عورتوں پر ترجیح دے کر چن لیا۔ اے مریم! اپنے رب کی اطاعت کر، اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور جھکنے والوں کے ساتھ تو بھی جھک۔‘‘﴿ فَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهَا رُوۡحَنَا﴾ ’’پس بھیجی ہم نے ان کی طرف اپنی روح‘‘ یہاں روح سے مراد جبریلu ہیں ۔ ﴿ فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾ ’’پس وہ ان کے سامنے پورا آدمی بن کر آیا‘‘ یعنی ایک خوبصورت اور حسین و جمیل مرد کی شکل میں ظاہر ہوئے، جس میں کوئی عیب تھا نہ نقص کیونکہ حضرت مریم جبریلu کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی متحمل نہ تھیں ۔
[18] جب مریم[ نے جبریلu کو اس حال میں دیکھا، جبکہ وہ اپنے گھر سے علیحدہ اور لوگوں سے الگ ہو کر گوشہ نشیں ہو گئی تھیں اور عزیز ترین لوگوں ، یعنی اپنے گھر والوں سے بھی پردہ کر لیا تھا… تو ڈر گئیں کہ وہ مرد ہے کہیں وہ ان کے بارے میں کوئی برا ارادہ نہ رکھتا ہو اور کہیں وہ ان کے ساتھ برائی سے پیش نہ آئے تو انھوں نے اس سے اللہ کی پناہ مانگی اور اس سے کہنے لگیں :﴿ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡكَ﴾ ’’میں رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں تجھ سے‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتی ہوں اور اس کی رحمت کے سائے میں آتی ہوں کہ کہیں تو مجھے نقصان نہ پہنچائے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ تَقِيًّا ﴾ ’’اگر تم متقی ہو۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہو اور اس کے تقویٰ کے مطابق عمل کرتے ہو تو مجھ سے کوئی تعرض نہ کرو۔حضرت مریم[ نے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگی اور ساتھ ساتھ اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرایا اور اسے التزام تقویٰ کا حکم دیا اور وہ تنہائی کی حالت میں تھیں ، جوان تھیں اور لوگوں سے الگ تھلگ تھیں ۔ حضرت جبریلu بھی بشریت کے کامل روپ اور حیران کن حسن و جمال میں ظاہر ہوئے انھوں نے حضرت مریم[ سے کوئی تعرض کیا نہ کوئی ان سے بری بات کہی … یہ تو حضرت مریم[ سے خوف تھا اور یہ عفت کے بلند ترین درجے، شر اور اس کے اسباب سے بعد کی دلیل ہے۔ یہ عفت … خاص طور پر جبکہ تمام اسباب جمع ہوں اور گناہ سے کوئی مانع بھی موجود نہ ہو… بہترین عمل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی ستائش کی۔ فرمایا:﴿ وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا ﴾(التحریم:66؍12) ’’اور مریم بنت عمران، جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی،ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔‘‘ اور فرمایا:﴿وَالَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَجَعَلۡنٰهَا وَابۡنَهَاۤ اٰيَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾(الانبیاء:21؍91) ’’اور وہ (مریم[) جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی، ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، پھر اسے اور اس کے بیٹے کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت مریم[ کی عفت کے عوض انھیں ایک بیٹا عطا کیا جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کے رسولوں میں سے ایک رسول تھا۔
[19] جب جبریلu نے حضرت مریم[ کی گھبراہٹ اور ان کا خوف دیکھا تو انھوں نے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّكِ﴾ ’’میں تو آپ کے رب کا قاصد ہوں ‘‘ یعنی میرا کام اور میرا شغل تو آپ کے بارے میں اپنے رب کے حکم کو نافذ کرنا ہے۔ ﴿ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَؔكِيًّا ﴾ ’’تاکہ دے جاؤں میں آپ کو ایک لڑکا ستھرا‘‘ یہ بیٹے اور اس کی پاکیزگی کی بہت بڑی بشارت ہے کیونکہ پاکیزگی، تمام خصائل مذمومہ سے تطہیر اور اوصاف حمیدہ سے متصف ہونے کو مستلزم ہے۔
[20] پس حضرت مریم[ باپ کے بغیر بیٹے کے وجود پر بہت متعجب ہوئیں اور کہنے لگیں : ﴿ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِيۡ بَشَرٌ وَّلَمۡ اَكُ بَغِيًّا ﴾ ’’کہاں سے ہو گا میرے لیے لڑکا اور نہیں چھوا مجھ کو آدمی نے اور میں بدکار بھی نہیں ہوں ‘‘ اور بیٹے کا وجود اس کے بغیر ممکن نہیں ۔
[21]﴿ قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ١ۚ وَلِنَجۡعَلَهٗۤ اٰيَةً لِّلنَّاسِ﴾ ’’جبریل نے کہا: یوں ہی ہے، آپ کے رب نے کہا، یہ مجھ پر آسان ہے اور چاہتے ہیں ہم کہ بنائیں اس کو لوگوں کے لیے نشانی‘‘ کہ وہ نشانی اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرے، نیز اس امر پر بھی کہ اسباب کی کوئی مستقل تاثیر نہیں ، ان میں تاثیر صرف اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہے۔ پس وہ اپنے بندوں کو بعض اسباب کے خلاف خارق عادت واقعات کا مشاہدہ کراتا ہے تاکہ وہ اسباب پر نہ ٹھہر جائیں اور مسبب الاسباب اور ان کو مقدر کرنے والی ہستی کے افعال میں غوروفکر ترک نہ کریں ۔ ﴿ وَرَحۡمَةً مِّؔنَّا﴾ ’’اور اپنی طرف سے رحمت‘‘ تاکہ ہم اس کو خود اس کے لیے، اس کی والدہ کے لیے اور تمام لوگوں کے لیے رحمت بنائیں ۔ان کا خود اپنے لیے رحمت ہونا اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی وحی کے لیے مختص کیا اور آپ کو اپنی عنایات سے نوازا جس طرح اس نے اولوالعزم انبیاء و مرسلین کو نوازا۔ آپ کی والدہ کے لیے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ آپ کی وجہ سے آپ کی والدہ کو فخر، ثنائے حسن اور بڑے بڑے اخروی فوائد حاصل ہوئے۔ لوگوں کے لیے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کے اندر اپنا رسول مبعوث کیا جو ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کرتا ہے، ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت کی سعادت سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ ﴿وَؔكَانَ اَمۡرًا مَّقۡضِيًّا﴾ ’’اور ہے یہ کام مقرر ہو چکا‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا اس حالت میں وجود میں آنا، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے اور اس کی تقدیر کا نافذ ہونا ایک لابدی امر تھا۔ پس جبریلu نے حضرت مریم[ کے گریبان میں پھونک ماری۔
19:17فَٱتَّخَذَتۡ مِن دُونِهِمۡ حِجَابٗا فَأَرۡسَلۡنَآ إِلَيۡهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرٗا سَوِيّٗا
اور ذکر کیجیے کتاب میں مریم کا، جب علیحدہ ہوئی وہ اپنے گھر والوں سے ایسے مکان میں جو مشرقی جانب تھا(16) پھر بنا لیا مریم نے ان کے آگے سے ایک پردہ، پس بھیجا ہم نے اس کی طرف اپنی روح کو، سو شکل اختیار کی اس نے مریم کے سامنے ایک آدمی کامل کی (17) کہا مریم نے، بلاشبہ میں پناہ پکڑتی ہوں رحمٰن کے ساتھ، تجھ سے، اگر ہے تو ڈرنے والا (18) اس نے کہا، یقینا میں بھیجا ہوا ہوں تیرے رب کاتاکہ عطا کروں تجھے (اللہ کے حکم سے) ایک لڑکا پاکیزہ (19) مریم نے کہا، کیسے ہو گا میرے لیے لڑکا حالانکہ نہیں چھوا مجھے کسی بشر نے ، اور نہیں ہوں میں بدکار (20)فرشتے نے کہا، اسی طرح ہے (تو بچہ جنے گی) کہا ہے تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہےاور تاکہ بنائیں ہم اسے ایک نشانی لوگوں کے لیے اور رحمت اپنی طرف سے اور ہے (یہ) معاملہ طے شدہ (21)
[16] اللہ تبارک وتعالیٰ نے زکریا اور یحییٰi کا واقعہ بیان کرنے کے بعد … کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی عجیب نشانیوں میں سے ہے … ایک اور قصہ بیان فرمایا جو اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف تدریج ہے۔ ﴿ وَاذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور ذکر کر کتاب میں ‘‘ یعنی قرآن کریم میں ﴿ مَرۡيَمَ﴾ مریم[ کا۔ یہ مریم[ کی سب سے بڑی فضیلت ہے کہ کتاب عظیم میں ان کا نام مذکور ہے جس کی مشرق و مغرب کے تمام مسلمان تلاوت کرتے ہیں ۔ اس کتاب عظیم میں بہترین پیرائے میں ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنابیان کی گئی ہے یہ ان کے اچھے اعمال اور کوشش کامل کی جزا ہے، یعنی کتاب عظیم میں ، حضرت مریم[ کے بہترین حال کا ذکر کیجیے۔ جب ﴿ اِذِ انۡتَبَذَتۡ ﴾ ’’وہ جدا ہوئی‘‘ یعنی جب مریم[ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ﴿ مَكَانًا شَرۡقِيًّا ﴾ مشرقی جانب ایک مکان میں گوشہ نشیں ہو گئی تھیں ۔
[17]﴿ فَاتَّؔخَذَتۡ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ حِجَابًا﴾ ’’پھر پکڑ لیا ان سے ورے ایک پردہ‘‘ یعنی ایک پردہ ڈال لیا تھا جو لوگوں کی ملاقات سے مانع تھا۔حضرت مریم[ کا گوشہ نشیں ہونا، پردہ لٹکا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے الگ تھلگ ہو جانا، اخلاص، خشوع و خضوع اور اللہ تعالیٰ کے لیے تذلل کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت دراصل اس ارشاد الٰہی کی تعمیل ہے۔ ﴿ وَاِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ يٰمَرۡيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىكِ وَطَهَّرَكِ وَاصۡطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِيۡ لِرَبِّكِ وَاسۡجُدِيۡ وَارۡكَعِيۡ مَعَ الرّٰؔكِعِيۡنَ ﴾(آل عمران:3؍42-43) ’’جب فرشتوں نے (جناب مریم سے)کہا اے مریم! اللہ نے تجھے چن لیا، تجھے پاکیزگی عطا کی اور تجھے تمام جہانوں کی عورتوں پر ترجیح دے کر چن لیا۔ اے مریم! اپنے رب کی اطاعت کر، اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور جھکنے والوں کے ساتھ تو بھی جھک۔‘‘﴿ فَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهَا رُوۡحَنَا﴾ ’’پس بھیجی ہم نے ان کی طرف اپنی روح‘‘ یہاں روح سے مراد جبریلu ہیں ۔ ﴿ فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾ ’’پس وہ ان کے سامنے پورا آدمی بن کر آیا‘‘ یعنی ایک خوبصورت اور حسین و جمیل مرد کی شکل میں ظاہر ہوئے، جس میں کوئی عیب تھا نہ نقص کیونکہ حضرت مریم جبریلu کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی متحمل نہ تھیں ۔
[18] جب مریم[ نے جبریلu کو اس حال میں دیکھا، جبکہ وہ اپنے گھر سے علیحدہ اور لوگوں سے الگ ہو کر گوشہ نشیں ہو گئی تھیں اور عزیز ترین لوگوں ، یعنی اپنے گھر والوں سے بھی پردہ کر لیا تھا… تو ڈر گئیں کہ وہ مرد ہے کہیں وہ ان کے بارے میں کوئی برا ارادہ نہ رکھتا ہو اور کہیں وہ ان کے ساتھ برائی سے پیش نہ آئے تو انھوں نے اس سے اللہ کی پناہ مانگی اور اس سے کہنے لگیں :﴿ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡكَ﴾ ’’میں رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں تجھ سے‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتی ہوں اور اس کی رحمت کے سائے میں آتی ہوں کہ کہیں تو مجھے نقصان نہ پہنچائے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ تَقِيًّا ﴾ ’’اگر تم متقی ہو۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہو اور اس کے تقویٰ کے مطابق عمل کرتے ہو تو مجھ سے کوئی تعرض نہ کرو۔حضرت مریم[ نے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگی اور ساتھ ساتھ اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرایا اور اسے التزام تقویٰ کا حکم دیا اور وہ تنہائی کی حالت میں تھیں ، جوان تھیں اور لوگوں سے الگ تھلگ تھیں ۔ حضرت جبریلu بھی بشریت کے کامل روپ اور حیران کن حسن و جمال میں ظاہر ہوئے انھوں نے حضرت مریم[ سے کوئی تعرض کیا نہ کوئی ان سے بری بات کہی … یہ تو حضرت مریم[ سے خوف تھا اور یہ عفت کے بلند ترین درجے، شر اور اس کے اسباب سے بعد کی دلیل ہے۔ یہ عفت … خاص طور پر جبکہ تمام اسباب جمع ہوں اور گناہ سے کوئی مانع بھی موجود نہ ہو… بہترین عمل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی ستائش کی۔ فرمایا:﴿ وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا ﴾(التحریم:66؍12) ’’اور مریم بنت عمران، جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی،ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔‘‘ اور فرمایا:﴿وَالَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَجَعَلۡنٰهَا وَابۡنَهَاۤ اٰيَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾(الانبیاء:21؍91) ’’اور وہ (مریم[) جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی، ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، پھر اسے اور اس کے بیٹے کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت مریم[ کی عفت کے عوض انھیں ایک بیٹا عطا کیا جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کے رسولوں میں سے ایک رسول تھا۔
[19] جب جبریلu نے حضرت مریم[ کی گھبراہٹ اور ان کا خوف دیکھا تو انھوں نے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّكِ﴾ ’’میں تو آپ کے رب کا قاصد ہوں ‘‘ یعنی میرا کام اور میرا شغل تو آپ کے بارے میں اپنے رب کے حکم کو نافذ کرنا ہے۔ ﴿ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَؔكِيًّا ﴾ ’’تاکہ دے جاؤں میں آپ کو ایک لڑکا ستھرا‘‘ یہ بیٹے اور اس کی پاکیزگی کی بہت بڑی بشارت ہے کیونکہ پاکیزگی، تمام خصائل مذمومہ سے تطہیر اور اوصاف حمیدہ سے متصف ہونے کو مستلزم ہے۔
[20] پس حضرت مریم[ باپ کے بغیر بیٹے کے وجود پر بہت متعجب ہوئیں اور کہنے لگیں : ﴿ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِيۡ بَشَرٌ وَّلَمۡ اَكُ بَغِيًّا ﴾ ’’کہاں سے ہو گا میرے لیے لڑکا اور نہیں چھوا مجھ کو آدمی نے اور میں بدکار بھی نہیں ہوں ‘‘ اور بیٹے کا وجود اس کے بغیر ممکن نہیں ۔
[21]﴿ قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ١ۚ وَلِنَجۡعَلَهٗۤ اٰيَةً لِّلنَّاسِ﴾ ’’جبریل نے کہا: یوں ہی ہے، آپ کے رب نے کہا، یہ مجھ پر آسان ہے اور چاہتے ہیں ہم کہ بنائیں اس کو لوگوں کے لیے نشانی‘‘ کہ وہ نشانی اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرے، نیز اس امر پر بھی کہ اسباب کی کوئی مستقل تاثیر نہیں ، ان میں تاثیر صرف اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہے۔ پس وہ اپنے بندوں کو بعض اسباب کے خلاف خارق عادت واقعات کا مشاہدہ کراتا ہے تاکہ وہ اسباب پر نہ ٹھہر جائیں اور مسبب الاسباب اور ان کو مقدر کرنے والی ہستی کے افعال میں غوروفکر ترک نہ کریں ۔ ﴿ وَرَحۡمَةً مِّؔنَّا﴾ ’’اور اپنی طرف سے رحمت‘‘ تاکہ ہم اس کو خود اس کے لیے، اس کی والدہ کے لیے اور تمام لوگوں کے لیے رحمت بنائیں ۔ان کا خود اپنے لیے رحمت ہونا اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی وحی کے لیے مختص کیا اور آپ کو اپنی عنایات سے نوازا جس طرح اس نے اولوالعزم انبیاء و مرسلین کو نوازا۔ آپ کی والدہ کے لیے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ آپ کی وجہ سے آپ کی والدہ کو فخر، ثنائے حسن اور بڑے بڑے اخروی فوائد حاصل ہوئے۔ لوگوں کے لیے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کے اندر اپنا رسول مبعوث کیا جو ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کرتا ہے، ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت کی سعادت سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ ﴿وَؔكَانَ اَمۡرًا مَّقۡضِيًّا﴾ ’’اور ہے یہ کام مقرر ہو چکا‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا اس حالت میں وجود میں آنا، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے اور اس کی تقدیر کا نافذ ہونا ایک لابدی امر تھا۔ پس جبریلu نے حضرت مریم[ کے گریبان میں پھونک ماری۔
19:18قَالَتۡ إِنِّيٓ أَعُوذُ بِٱلرَّحۡمَٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيّٗا
اور ذکر کیجیے کتاب میں مریم کا، جب علیحدہ ہوئی وہ اپنے گھر والوں سے ایسے مکان میں جو مشرقی جانب تھا(16) پھر بنا لیا مریم نے ان کے آگے سے ایک پردہ، پس بھیجا ہم نے اس کی طرف اپنی روح کو، سو شکل اختیار کی اس نے مریم کے سامنے ایک آدمی کامل کی (17) کہا مریم نے، بلاشبہ میں پناہ پکڑتی ہوں رحمٰن کے ساتھ، تجھ سے، اگر ہے تو ڈرنے والا (18) اس نے کہا، یقینا میں بھیجا ہوا ہوں تیرے رب کاتاکہ عطا کروں تجھے (اللہ کے حکم سے) ایک لڑکا پاکیزہ (19) مریم نے کہا، کیسے ہو گا میرے لیے لڑکا حالانکہ نہیں چھوا مجھے کسی بشر نے ، اور نہیں ہوں میں بدکار (20)فرشتے نے کہا، اسی طرح ہے (تو بچہ جنے گی) کہا ہے تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہےاور تاکہ بنائیں ہم اسے ایک نشانی لوگوں کے لیے اور رحمت اپنی طرف سے اور ہے (یہ) معاملہ طے شدہ (21)
[16] اللہ تبارک وتعالیٰ نے زکریا اور یحییٰi کا واقعہ بیان کرنے کے بعد … کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی عجیب نشانیوں میں سے ہے … ایک اور قصہ بیان فرمایا جو اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف تدریج ہے۔ ﴿ وَاذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور ذکر کر کتاب میں ‘‘ یعنی قرآن کریم میں ﴿ مَرۡيَمَ﴾ مریم[ کا۔ یہ مریم[ کی سب سے بڑی فضیلت ہے کہ کتاب عظیم میں ان کا نام مذکور ہے جس کی مشرق و مغرب کے تمام مسلمان تلاوت کرتے ہیں ۔ اس کتاب عظیم میں بہترین پیرائے میں ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنابیان کی گئی ہے یہ ان کے اچھے اعمال اور کوشش کامل کی جزا ہے، یعنی کتاب عظیم میں ، حضرت مریم[ کے بہترین حال کا ذکر کیجیے۔ جب ﴿ اِذِ انۡتَبَذَتۡ ﴾ ’’وہ جدا ہوئی‘‘ یعنی جب مریم[ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ﴿ مَكَانًا شَرۡقِيًّا ﴾ مشرقی جانب ایک مکان میں گوشہ نشیں ہو گئی تھیں ۔
[17]﴿ فَاتَّؔخَذَتۡ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ حِجَابًا﴾ ’’پھر پکڑ لیا ان سے ورے ایک پردہ‘‘ یعنی ایک پردہ ڈال لیا تھا جو لوگوں کی ملاقات سے مانع تھا۔حضرت مریم[ کا گوشہ نشیں ہونا، پردہ لٹکا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے الگ تھلگ ہو جانا، اخلاص، خشوع و خضوع اور اللہ تعالیٰ کے لیے تذلل کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت دراصل اس ارشاد الٰہی کی تعمیل ہے۔ ﴿ وَاِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ يٰمَرۡيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىكِ وَطَهَّرَكِ وَاصۡطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِيۡ لِرَبِّكِ وَاسۡجُدِيۡ وَارۡكَعِيۡ مَعَ الرّٰؔكِعِيۡنَ ﴾(آل عمران:3؍42-43) ’’جب فرشتوں نے (جناب مریم سے)کہا اے مریم! اللہ نے تجھے چن لیا، تجھے پاکیزگی عطا کی اور تجھے تمام جہانوں کی عورتوں پر ترجیح دے کر چن لیا۔ اے مریم! اپنے رب کی اطاعت کر، اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور جھکنے والوں کے ساتھ تو بھی جھک۔‘‘﴿ فَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهَا رُوۡحَنَا﴾ ’’پس بھیجی ہم نے ان کی طرف اپنی روح‘‘ یہاں روح سے مراد جبریلu ہیں ۔ ﴿ فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾ ’’پس وہ ان کے سامنے پورا آدمی بن کر آیا‘‘ یعنی ایک خوبصورت اور حسین و جمیل مرد کی شکل میں ظاہر ہوئے، جس میں کوئی عیب تھا نہ نقص کیونکہ حضرت مریم جبریلu کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی متحمل نہ تھیں ۔
[18] جب مریم[ نے جبریلu کو اس حال میں دیکھا، جبکہ وہ اپنے گھر سے علیحدہ اور لوگوں سے الگ ہو کر گوشہ نشیں ہو گئی تھیں اور عزیز ترین لوگوں ، یعنی اپنے گھر والوں سے بھی پردہ کر لیا تھا… تو ڈر گئیں کہ وہ مرد ہے کہیں وہ ان کے بارے میں کوئی برا ارادہ نہ رکھتا ہو اور کہیں وہ ان کے ساتھ برائی سے پیش نہ آئے تو انھوں نے اس سے اللہ کی پناہ مانگی اور اس سے کہنے لگیں :﴿ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡكَ﴾ ’’میں رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں تجھ سے‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتی ہوں اور اس کی رحمت کے سائے میں آتی ہوں کہ کہیں تو مجھے نقصان نہ پہنچائے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ تَقِيًّا ﴾ ’’اگر تم متقی ہو۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہو اور اس کے تقویٰ کے مطابق عمل کرتے ہو تو مجھ سے کوئی تعرض نہ کرو۔حضرت مریم[ نے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگی اور ساتھ ساتھ اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرایا اور اسے التزام تقویٰ کا حکم دیا اور وہ تنہائی کی حالت میں تھیں ، جوان تھیں اور لوگوں سے الگ تھلگ تھیں ۔ حضرت جبریلu بھی بشریت کے کامل روپ اور حیران کن حسن و جمال میں ظاہر ہوئے انھوں نے حضرت مریم[ سے کوئی تعرض کیا نہ کوئی ان سے بری بات کہی … یہ تو حضرت مریم[ سے خوف تھا اور یہ عفت کے بلند ترین درجے، شر اور اس کے اسباب سے بعد کی دلیل ہے۔ یہ عفت … خاص طور پر جبکہ تمام اسباب جمع ہوں اور گناہ سے کوئی مانع بھی موجود نہ ہو… بہترین عمل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی ستائش کی۔ فرمایا:﴿ وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا ﴾(التحریم:66؍12) ’’اور مریم بنت عمران، جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی،ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔‘‘ اور فرمایا:﴿وَالَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَجَعَلۡنٰهَا وَابۡنَهَاۤ اٰيَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾(الانبیاء:21؍91) ’’اور وہ (مریم[) جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی، ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، پھر اسے اور اس کے بیٹے کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت مریم[ کی عفت کے عوض انھیں ایک بیٹا عطا کیا جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کے رسولوں میں سے ایک رسول تھا۔
[19] جب جبریلu نے حضرت مریم[ کی گھبراہٹ اور ان کا خوف دیکھا تو انھوں نے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّكِ﴾ ’’میں تو آپ کے رب کا قاصد ہوں ‘‘ یعنی میرا کام اور میرا شغل تو آپ کے بارے میں اپنے رب کے حکم کو نافذ کرنا ہے۔ ﴿ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَؔكِيًّا ﴾ ’’تاکہ دے جاؤں میں آپ کو ایک لڑکا ستھرا‘‘ یہ بیٹے اور اس کی پاکیزگی کی بہت بڑی بشارت ہے کیونکہ پاکیزگی، تمام خصائل مذمومہ سے تطہیر اور اوصاف حمیدہ سے متصف ہونے کو مستلزم ہے۔
[20] پس حضرت مریم[ باپ کے بغیر بیٹے کے وجود پر بہت متعجب ہوئیں اور کہنے لگیں : ﴿ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِيۡ بَشَرٌ وَّلَمۡ اَكُ بَغِيًّا ﴾ ’’کہاں سے ہو گا میرے لیے لڑکا اور نہیں چھوا مجھ کو آدمی نے اور میں بدکار بھی نہیں ہوں ‘‘ اور بیٹے کا وجود اس کے بغیر ممکن نہیں ۔
[21]﴿ قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ١ۚ وَلِنَجۡعَلَهٗۤ اٰيَةً لِّلنَّاسِ﴾ ’’جبریل نے کہا: یوں ہی ہے، آپ کے رب نے کہا، یہ مجھ پر آسان ہے اور چاہتے ہیں ہم کہ بنائیں اس کو لوگوں کے لیے نشانی‘‘ کہ وہ نشانی اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرے، نیز اس امر پر بھی کہ اسباب کی کوئی مستقل تاثیر نہیں ، ان میں تاثیر صرف اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہے۔ پس وہ اپنے بندوں کو بعض اسباب کے خلاف خارق عادت واقعات کا مشاہدہ کراتا ہے تاکہ وہ اسباب پر نہ ٹھہر جائیں اور مسبب الاسباب اور ان کو مقدر کرنے والی ہستی کے افعال میں غوروفکر ترک نہ کریں ۔ ﴿ وَرَحۡمَةً مِّؔنَّا﴾ ’’اور اپنی طرف سے رحمت‘‘ تاکہ ہم اس کو خود اس کے لیے، اس کی والدہ کے لیے اور تمام لوگوں کے لیے رحمت بنائیں ۔ان کا خود اپنے لیے رحمت ہونا اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی وحی کے لیے مختص کیا اور آپ کو اپنی عنایات سے نوازا جس طرح اس نے اولوالعزم انبیاء و مرسلین کو نوازا۔ آپ کی والدہ کے لیے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ آپ کی وجہ سے آپ کی والدہ کو فخر، ثنائے حسن اور بڑے بڑے اخروی فوائد حاصل ہوئے۔ لوگوں کے لیے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کے اندر اپنا رسول مبعوث کیا جو ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کرتا ہے، ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت کی سعادت سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ ﴿وَؔكَانَ اَمۡرًا مَّقۡضِيًّا﴾ ’’اور ہے یہ کام مقرر ہو چکا‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا اس حالت میں وجود میں آنا، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے اور اس کی تقدیر کا نافذ ہونا ایک لابدی امر تھا۔ پس جبریلu نے حضرت مریم[ کے گریبان میں پھونک ماری۔
19:19قَالَ إِنَّمَآ أَنَا۠ رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَٰمٗا زَكِيّٗا
اور ذکر کیجیے کتاب میں مریم کا، جب علیحدہ ہوئی وہ اپنے گھر والوں سے ایسے مکان میں جو مشرقی جانب تھا(16) پھر بنا لیا مریم نے ان کے آگے سے ایک پردہ، پس بھیجا ہم نے اس کی طرف اپنی روح کو، سو شکل اختیار کی اس نے مریم کے سامنے ایک آدمی کامل کی (17) کہا مریم نے، بلاشبہ میں پناہ پکڑتی ہوں رحمٰن کے ساتھ، تجھ سے، اگر ہے تو ڈرنے والا (18) اس نے کہا، یقینا میں بھیجا ہوا ہوں تیرے رب کاتاکہ عطا کروں تجھے (اللہ کے حکم سے) ایک لڑکا پاکیزہ (19) مریم نے کہا، کیسے ہو گا میرے لیے لڑکا حالانکہ نہیں چھوا مجھے کسی بشر نے ، اور نہیں ہوں میں بدکار (20)فرشتے نے کہا، اسی طرح ہے (تو بچہ جنے گی) کہا ہے تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہےاور تاکہ بنائیں ہم اسے ایک نشانی لوگوں کے لیے اور رحمت اپنی طرف سے اور ہے (یہ) معاملہ طے شدہ (21)
[16] اللہ تبارک وتعالیٰ نے زکریا اور یحییٰi کا واقعہ بیان کرنے کے بعد … کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی عجیب نشانیوں میں سے ہے … ایک اور قصہ بیان فرمایا جو اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف تدریج ہے۔ ﴿ وَاذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور ذکر کر کتاب میں ‘‘ یعنی قرآن کریم میں ﴿ مَرۡيَمَ﴾ مریم[ کا۔ یہ مریم[ کی سب سے بڑی فضیلت ہے کہ کتاب عظیم میں ان کا نام مذکور ہے جس کی مشرق و مغرب کے تمام مسلمان تلاوت کرتے ہیں ۔ اس کتاب عظیم میں بہترین پیرائے میں ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنابیان کی گئی ہے یہ ان کے اچھے اعمال اور کوشش کامل کی جزا ہے، یعنی کتاب عظیم میں ، حضرت مریم[ کے بہترین حال کا ذکر کیجیے۔ جب ﴿ اِذِ انۡتَبَذَتۡ ﴾ ’’وہ جدا ہوئی‘‘ یعنی جب مریم[ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ﴿ مَكَانًا شَرۡقِيًّا ﴾ مشرقی جانب ایک مکان میں گوشہ نشیں ہو گئی تھیں ۔
[17]﴿ فَاتَّؔخَذَتۡ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ حِجَابًا﴾ ’’پھر پکڑ لیا ان سے ورے ایک پردہ‘‘ یعنی ایک پردہ ڈال لیا تھا جو لوگوں کی ملاقات سے مانع تھا۔حضرت مریم[ کا گوشہ نشیں ہونا، پردہ لٹکا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے الگ تھلگ ہو جانا، اخلاص، خشوع و خضوع اور اللہ تعالیٰ کے لیے تذلل کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت دراصل اس ارشاد الٰہی کی تعمیل ہے۔ ﴿ وَاِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ يٰمَرۡيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىكِ وَطَهَّرَكِ وَاصۡطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِيۡ لِرَبِّكِ وَاسۡجُدِيۡ وَارۡكَعِيۡ مَعَ الرّٰؔكِعِيۡنَ ﴾(آل عمران:3؍42-43) ’’جب فرشتوں نے (جناب مریم سے)کہا اے مریم! اللہ نے تجھے چن لیا، تجھے پاکیزگی عطا کی اور تجھے تمام جہانوں کی عورتوں پر ترجیح دے کر چن لیا۔ اے مریم! اپنے رب کی اطاعت کر، اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور جھکنے والوں کے ساتھ تو بھی جھک۔‘‘﴿ فَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهَا رُوۡحَنَا﴾ ’’پس بھیجی ہم نے ان کی طرف اپنی روح‘‘ یہاں روح سے مراد جبریلu ہیں ۔ ﴿ فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾ ’’پس وہ ان کے سامنے پورا آدمی بن کر آیا‘‘ یعنی ایک خوبصورت اور حسین و جمیل مرد کی شکل میں ظاہر ہوئے، جس میں کوئی عیب تھا نہ نقص کیونکہ حضرت مریم جبریلu کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی متحمل نہ تھیں ۔
[18] جب مریم[ نے جبریلu کو اس حال میں دیکھا، جبکہ وہ اپنے گھر سے علیحدہ اور لوگوں سے الگ ہو کر گوشہ نشیں ہو گئی تھیں اور عزیز ترین لوگوں ، یعنی اپنے گھر والوں سے بھی پردہ کر لیا تھا… تو ڈر گئیں کہ وہ مرد ہے کہیں وہ ان کے بارے میں کوئی برا ارادہ نہ رکھتا ہو اور کہیں وہ ان کے ساتھ برائی سے پیش نہ آئے تو انھوں نے اس سے اللہ کی پناہ مانگی اور اس سے کہنے لگیں :﴿ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡكَ﴾ ’’میں رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں تجھ سے‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتی ہوں اور اس کی رحمت کے سائے میں آتی ہوں کہ کہیں تو مجھے نقصان نہ پہنچائے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ تَقِيًّا ﴾ ’’اگر تم متقی ہو۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہو اور اس کے تقویٰ کے مطابق عمل کرتے ہو تو مجھ سے کوئی تعرض نہ کرو۔حضرت مریم[ نے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگی اور ساتھ ساتھ اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرایا اور اسے التزام تقویٰ کا حکم دیا اور وہ تنہائی کی حالت میں تھیں ، جوان تھیں اور لوگوں سے الگ تھلگ تھیں ۔ حضرت جبریلu بھی بشریت کے کامل روپ اور حیران کن حسن و جمال میں ظاہر ہوئے انھوں نے حضرت مریم[ سے کوئی تعرض کیا نہ کوئی ان سے بری بات کہی … یہ تو حضرت مریم[ سے خوف تھا اور یہ عفت کے بلند ترین درجے، شر اور اس کے اسباب سے بعد کی دلیل ہے۔ یہ عفت … خاص طور پر جبکہ تمام اسباب جمع ہوں اور گناہ سے کوئی مانع بھی موجود نہ ہو… بہترین عمل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی ستائش کی۔ فرمایا:﴿ وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا ﴾(التحریم:66؍12) ’’اور مریم بنت عمران، جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی،ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔‘‘ اور فرمایا:﴿وَالَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَجَعَلۡنٰهَا وَابۡنَهَاۤ اٰيَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾(الانبیاء:21؍91) ’’اور وہ (مریم[) جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی، ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، پھر اسے اور اس کے بیٹے کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت مریم[ کی عفت کے عوض انھیں ایک بیٹا عطا کیا جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کے رسولوں میں سے ایک رسول تھا۔
[19] جب جبریلu نے حضرت مریم[ کی گھبراہٹ اور ان کا خوف دیکھا تو انھوں نے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّكِ﴾ ’’میں تو آپ کے رب کا قاصد ہوں ‘‘ یعنی میرا کام اور میرا شغل تو آپ کے بارے میں اپنے رب کے حکم کو نافذ کرنا ہے۔ ﴿ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَؔكِيًّا ﴾ ’’تاکہ دے جاؤں میں آپ کو ایک لڑکا ستھرا‘‘ یہ بیٹے اور اس کی پاکیزگی کی بہت بڑی بشارت ہے کیونکہ پاکیزگی، تمام خصائل مذمومہ سے تطہیر اور اوصاف حمیدہ سے متصف ہونے کو مستلزم ہے۔
[20] پس حضرت مریم[ باپ کے بغیر بیٹے کے وجود پر بہت متعجب ہوئیں اور کہنے لگیں : ﴿ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِيۡ بَشَرٌ وَّلَمۡ اَكُ بَغِيًّا ﴾ ’’کہاں سے ہو گا میرے لیے لڑکا اور نہیں چھوا مجھ کو آدمی نے اور میں بدکار بھی نہیں ہوں ‘‘ اور بیٹے کا وجود اس کے بغیر ممکن نہیں ۔
[21]﴿ قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ١ۚ وَلِنَجۡعَلَهٗۤ اٰيَةً لِّلنَّاسِ﴾ ’’جبریل نے کہا: یوں ہی ہے، آپ کے رب نے کہا، یہ مجھ پر آسان ہے اور چاہتے ہیں ہم کہ بنائیں اس کو لوگوں کے لیے نشانی‘‘ کہ وہ نشانی اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرے، نیز اس امر پر بھی کہ اسباب کی کوئی مستقل تاثیر نہیں ، ان میں تاثیر صرف اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہے۔ پس وہ اپنے بندوں کو بعض اسباب کے خلاف خارق عادت واقعات کا مشاہدہ کراتا ہے تاکہ وہ اسباب پر نہ ٹھہر جائیں اور مسبب الاسباب اور ان کو مقدر کرنے والی ہستی کے افعال میں غوروفکر ترک نہ کریں ۔ ﴿ وَرَحۡمَةً مِّؔنَّا﴾ ’’اور اپنی طرف سے رحمت‘‘ تاکہ ہم اس کو خود اس کے لیے، اس کی والدہ کے لیے اور تمام لوگوں کے لیے رحمت بنائیں ۔ان کا خود اپنے لیے رحمت ہونا اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی وحی کے لیے مختص کیا اور آپ کو اپنی عنایات سے نوازا جس طرح اس نے اولوالعزم انبیاء و مرسلین کو نوازا۔ آپ کی والدہ کے لیے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ آپ کی وجہ سے آپ کی والدہ کو فخر، ثنائے حسن اور بڑے بڑے اخروی فوائد حاصل ہوئے۔ لوگوں کے لیے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کے اندر اپنا رسول مبعوث کیا جو ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کرتا ہے، ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت کی سعادت سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ ﴿وَؔكَانَ اَمۡرًا مَّقۡضِيًّا﴾ ’’اور ہے یہ کام مقرر ہو چکا‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا اس حالت میں وجود میں آنا، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے اور اس کی تقدیر کا نافذ ہونا ایک لابدی امر تھا۔ پس جبریلu نے حضرت مریم[ کے گریبان میں پھونک ماری۔
19:20قَالَتۡ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَٰمٞ وَلَمۡ يَمۡسَسۡنِي بَشَرٞ وَلَمۡ أَكُ بَغِيّٗا
اور ذکر کیجیے کتاب میں مریم کا، جب علیحدہ ہوئی وہ اپنے گھر والوں سے ایسے مکان میں جو مشرقی جانب تھا(16) پھر بنا لیا مریم نے ان کے آگے سے ایک پردہ، پس بھیجا ہم نے اس کی طرف اپنی روح کو، سو شکل اختیار کی اس نے مریم کے سامنے ایک آدمی کامل کی (17) کہا مریم نے، بلاشبہ میں پناہ پکڑتی ہوں رحمٰن کے ساتھ، تجھ سے، اگر ہے تو ڈرنے والا (18) اس نے کہا، یقینا میں بھیجا ہوا ہوں تیرے رب کاتاکہ عطا کروں تجھے (اللہ کے حکم سے) ایک لڑکا پاکیزہ (19) مریم نے کہا، کیسے ہو گا میرے لیے لڑکا حالانکہ نہیں چھوا مجھے کسی بشر نے ، اور نہیں ہوں میں بدکار (20)فرشتے نے کہا، اسی طرح ہے (تو بچہ جنے گی) کہا ہے تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہےاور تاکہ بنائیں ہم اسے ایک نشانی لوگوں کے لیے اور رحمت اپنی طرف سے اور ہے (یہ) معاملہ طے شدہ (21)
[16] اللہ تبارک وتعالیٰ نے زکریا اور یحییٰi کا واقعہ بیان کرنے کے بعد … کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی عجیب نشانیوں میں سے ہے … ایک اور قصہ بیان فرمایا جو اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف تدریج ہے۔ ﴿ وَاذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور ذکر کر کتاب میں ‘‘ یعنی قرآن کریم میں ﴿ مَرۡيَمَ﴾ مریم[ کا۔ یہ مریم[ کی سب سے بڑی فضیلت ہے کہ کتاب عظیم میں ان کا نام مذکور ہے جس کی مشرق و مغرب کے تمام مسلمان تلاوت کرتے ہیں ۔ اس کتاب عظیم میں بہترین پیرائے میں ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنابیان کی گئی ہے یہ ان کے اچھے اعمال اور کوشش کامل کی جزا ہے، یعنی کتاب عظیم میں ، حضرت مریم[ کے بہترین حال کا ذکر کیجیے۔ جب ﴿ اِذِ انۡتَبَذَتۡ ﴾ ’’وہ جدا ہوئی‘‘ یعنی جب مریم[ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ﴿ مَكَانًا شَرۡقِيًّا ﴾ مشرقی جانب ایک مکان میں گوشہ نشیں ہو گئی تھیں ۔
[17]﴿ فَاتَّؔخَذَتۡ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ حِجَابًا﴾ ’’پھر پکڑ لیا ان سے ورے ایک پردہ‘‘ یعنی ایک پردہ ڈال لیا تھا جو لوگوں کی ملاقات سے مانع تھا۔حضرت مریم[ کا گوشہ نشیں ہونا، پردہ لٹکا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے الگ تھلگ ہو جانا، اخلاص، خشوع و خضوع اور اللہ تعالیٰ کے لیے تذلل کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت دراصل اس ارشاد الٰہی کی تعمیل ہے۔ ﴿ وَاِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ يٰمَرۡيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىكِ وَطَهَّرَكِ وَاصۡطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِيۡ لِرَبِّكِ وَاسۡجُدِيۡ وَارۡكَعِيۡ مَعَ الرّٰؔكِعِيۡنَ ﴾(آل عمران:3؍42-43) ’’جب فرشتوں نے (جناب مریم سے)کہا اے مریم! اللہ نے تجھے چن لیا، تجھے پاکیزگی عطا کی اور تجھے تمام جہانوں کی عورتوں پر ترجیح دے کر چن لیا۔ اے مریم! اپنے رب کی اطاعت کر، اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور جھکنے والوں کے ساتھ تو بھی جھک۔‘‘﴿ فَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهَا رُوۡحَنَا﴾ ’’پس بھیجی ہم نے ان کی طرف اپنی روح‘‘ یہاں روح سے مراد جبریلu ہیں ۔ ﴿ فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾ ’’پس وہ ان کے سامنے پورا آدمی بن کر آیا‘‘ یعنی ایک خوبصورت اور حسین و جمیل مرد کی شکل میں ظاہر ہوئے، جس میں کوئی عیب تھا نہ نقص کیونکہ حضرت مریم جبریلu کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی متحمل نہ تھیں ۔
[18] جب مریم[ نے جبریلu کو اس حال میں دیکھا، جبکہ وہ اپنے گھر سے علیحدہ اور لوگوں سے الگ ہو کر گوشہ نشیں ہو گئی تھیں اور عزیز ترین لوگوں ، یعنی اپنے گھر والوں سے بھی پردہ کر لیا تھا… تو ڈر گئیں کہ وہ مرد ہے کہیں وہ ان کے بارے میں کوئی برا ارادہ نہ رکھتا ہو اور کہیں وہ ان کے ساتھ برائی سے پیش نہ آئے تو انھوں نے اس سے اللہ کی پناہ مانگی اور اس سے کہنے لگیں :﴿ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡكَ﴾ ’’میں رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں تجھ سے‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتی ہوں اور اس کی رحمت کے سائے میں آتی ہوں کہ کہیں تو مجھے نقصان نہ پہنچائے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ تَقِيًّا ﴾ ’’اگر تم متقی ہو۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہو اور اس کے تقویٰ کے مطابق عمل کرتے ہو تو مجھ سے کوئی تعرض نہ کرو۔حضرت مریم[ نے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگی اور ساتھ ساتھ اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرایا اور اسے التزام تقویٰ کا حکم دیا اور وہ تنہائی کی حالت میں تھیں ، جوان تھیں اور لوگوں سے الگ تھلگ تھیں ۔ حضرت جبریلu بھی بشریت کے کامل روپ اور حیران کن حسن و جمال میں ظاہر ہوئے انھوں نے حضرت مریم[ سے کوئی تعرض کیا نہ کوئی ان سے بری بات کہی … یہ تو حضرت مریم[ سے خوف تھا اور یہ عفت کے بلند ترین درجے، شر اور اس کے اسباب سے بعد کی دلیل ہے۔ یہ عفت … خاص طور پر جبکہ تمام اسباب جمع ہوں اور گناہ سے کوئی مانع بھی موجود نہ ہو… بہترین عمل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی ستائش کی۔ فرمایا:﴿ وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا ﴾(التحریم:66؍12) ’’اور مریم بنت عمران، جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی،ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔‘‘ اور فرمایا:﴿وَالَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَجَعَلۡنٰهَا وَابۡنَهَاۤ اٰيَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾(الانبیاء:21؍91) ’’اور وہ (مریم[) جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی، ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، پھر اسے اور اس کے بیٹے کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت مریم[ کی عفت کے عوض انھیں ایک بیٹا عطا کیا جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کے رسولوں میں سے ایک رسول تھا۔
[19] جب جبریلu نے حضرت مریم[ کی گھبراہٹ اور ان کا خوف دیکھا تو انھوں نے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّكِ﴾ ’’میں تو آپ کے رب کا قاصد ہوں ‘‘ یعنی میرا کام اور میرا شغل تو آپ کے بارے میں اپنے رب کے حکم کو نافذ کرنا ہے۔ ﴿ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَؔكِيًّا ﴾ ’’تاکہ دے جاؤں میں آپ کو ایک لڑکا ستھرا‘‘ یہ بیٹے اور اس کی پاکیزگی کی بہت بڑی بشارت ہے کیونکہ پاکیزگی، تمام خصائل مذمومہ سے تطہیر اور اوصاف حمیدہ سے متصف ہونے کو مستلزم ہے۔
[20] پس حضرت مریم[ باپ کے بغیر بیٹے کے وجود پر بہت متعجب ہوئیں اور کہنے لگیں : ﴿ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِيۡ بَشَرٌ وَّلَمۡ اَكُ بَغِيًّا ﴾ ’’کہاں سے ہو گا میرے لیے لڑکا اور نہیں چھوا مجھ کو آدمی نے اور میں بدکار بھی نہیں ہوں ‘‘ اور بیٹے کا وجود اس کے بغیر ممکن نہیں ۔
[21]﴿ قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ١ۚ وَلِنَجۡعَلَهٗۤ اٰيَةً لِّلنَّاسِ﴾ ’’جبریل نے کہا: یوں ہی ہے، آپ کے رب نے کہا، یہ مجھ پر آسان ہے اور چاہتے ہیں ہم کہ بنائیں اس کو لوگوں کے لیے نشانی‘‘ کہ وہ نشانی اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرے، نیز اس امر پر بھی کہ اسباب کی کوئی مستقل تاثیر نہیں ، ان میں تاثیر صرف اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہے۔ پس وہ اپنے بندوں کو بعض اسباب کے خلاف خارق عادت واقعات کا مشاہدہ کراتا ہے تاکہ وہ اسباب پر نہ ٹھہر جائیں اور مسبب الاسباب اور ان کو مقدر کرنے والی ہستی کے افعال میں غوروفکر ترک نہ کریں ۔ ﴿ وَرَحۡمَةً مِّؔنَّا﴾ ’’اور اپنی طرف سے رحمت‘‘ تاکہ ہم اس کو خود اس کے لیے، اس کی والدہ کے لیے اور تمام لوگوں کے لیے رحمت بنائیں ۔ان کا خود اپنے لیے رحمت ہونا اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی وحی کے لیے مختص کیا اور آپ کو اپنی عنایات سے نوازا جس طرح اس نے اولوالعزم انبیاء و مرسلین کو نوازا۔ آپ کی والدہ کے لیے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ آپ کی وجہ سے آپ کی والدہ کو فخر، ثنائے حسن اور بڑے بڑے اخروی فوائد حاصل ہوئے۔ لوگوں کے لیے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کے اندر اپنا رسول مبعوث کیا جو ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کرتا ہے، ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت کی سعادت سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ ﴿وَؔكَانَ اَمۡرًا مَّقۡضِيًّا﴾ ’’اور ہے یہ کام مقرر ہو چکا‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا اس حالت میں وجود میں آنا، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے اور اس کی تقدیر کا نافذ ہونا ایک لابدی امر تھا۔ پس جبریلu نے حضرت مریم[ کے گریبان میں پھونک ماری۔
19:21قَالَ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٞۖ وَلِنَجۡعَلَهُۥٓ ءَايَةٗ لِّلنَّاسِ وَرَحۡمَةٗ مِّنَّاۚ وَكَانَ أَمۡرٗا مَّقۡضِيّٗا
اور ذکر کیجیے کتاب میں مریم کا، جب علیحدہ ہوئی وہ اپنے گھر والوں سے ایسے مکان میں جو مشرقی جانب تھا(16) پھر بنا لیا مریم نے ان کے آگے سے ایک پردہ، پس بھیجا ہم نے اس کی طرف اپنی روح کو، سو شکل اختیار کی اس نے مریم کے سامنے ایک آدمی کامل کی (17) کہا مریم نے، بلاشبہ میں پناہ پکڑتی ہوں رحمٰن کے ساتھ، تجھ سے، اگر ہے تو ڈرنے والا (18) اس نے کہا، یقینا میں بھیجا ہوا ہوں تیرے رب کاتاکہ عطا کروں تجھے (اللہ کے حکم سے) ایک لڑکا پاکیزہ (19) مریم نے کہا، کیسے ہو گا میرے لیے لڑکا حالانکہ نہیں چھوا مجھے کسی بشر نے ، اور نہیں ہوں میں بدکار (20)فرشتے نے کہا، اسی طرح ہے (تو بچہ جنے گی) کہا ہے تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہےاور تاکہ بنائیں ہم اسے ایک نشانی لوگوں کے لیے اور رحمت اپنی طرف سے اور ہے (یہ) معاملہ طے شدہ (21)
[16] اللہ تبارک وتعالیٰ نے زکریا اور یحییٰi کا واقعہ بیان کرنے کے بعد … کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی عجیب نشانیوں میں سے ہے … ایک اور قصہ بیان فرمایا جو اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف تدریج ہے۔ ﴿ وَاذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور ذکر کر کتاب میں ‘‘ یعنی قرآن کریم میں ﴿ مَرۡيَمَ﴾ مریم[ کا۔ یہ مریم[ کی سب سے بڑی فضیلت ہے کہ کتاب عظیم میں ان کا نام مذکور ہے جس کی مشرق و مغرب کے تمام مسلمان تلاوت کرتے ہیں ۔ اس کتاب عظیم میں بہترین پیرائے میں ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنابیان کی گئی ہے یہ ان کے اچھے اعمال اور کوشش کامل کی جزا ہے، یعنی کتاب عظیم میں ، حضرت مریم[ کے بہترین حال کا ذکر کیجیے۔ جب ﴿ اِذِ انۡتَبَذَتۡ ﴾ ’’وہ جدا ہوئی‘‘ یعنی جب مریم[ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ﴿ مَكَانًا شَرۡقِيًّا ﴾ مشرقی جانب ایک مکان میں گوشہ نشیں ہو گئی تھیں ۔
[17]﴿ فَاتَّؔخَذَتۡ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ حِجَابًا﴾ ’’پھر پکڑ لیا ان سے ورے ایک پردہ‘‘ یعنی ایک پردہ ڈال لیا تھا جو لوگوں کی ملاقات سے مانع تھا۔حضرت مریم[ کا گوشہ نشیں ہونا، پردہ لٹکا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے الگ تھلگ ہو جانا، اخلاص، خشوع و خضوع اور اللہ تعالیٰ کے لیے تذلل کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت دراصل اس ارشاد الٰہی کی تعمیل ہے۔ ﴿ وَاِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ يٰمَرۡيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰىكِ وَطَهَّرَكِ وَاصۡطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِيۡ لِرَبِّكِ وَاسۡجُدِيۡ وَارۡكَعِيۡ مَعَ الرّٰؔكِعِيۡنَ ﴾(آل عمران:3؍42-43) ’’جب فرشتوں نے (جناب مریم سے)کہا اے مریم! اللہ نے تجھے چن لیا، تجھے پاکیزگی عطا کی اور تجھے تمام جہانوں کی عورتوں پر ترجیح دے کر چن لیا۔ اے مریم! اپنے رب کی اطاعت کر، اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور جھکنے والوں کے ساتھ تو بھی جھک۔‘‘﴿ فَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهَا رُوۡحَنَا﴾ ’’پس بھیجی ہم نے ان کی طرف اپنی روح‘‘ یہاں روح سے مراد جبریلu ہیں ۔ ﴿ فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾ ’’پس وہ ان کے سامنے پورا آدمی بن کر آیا‘‘ یعنی ایک خوبصورت اور حسین و جمیل مرد کی شکل میں ظاہر ہوئے، جس میں کوئی عیب تھا نہ نقص کیونکہ حضرت مریم جبریلu کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی متحمل نہ تھیں ۔
[18] جب مریم[ نے جبریلu کو اس حال میں دیکھا، جبکہ وہ اپنے گھر سے علیحدہ اور لوگوں سے الگ ہو کر گوشہ نشیں ہو گئی تھیں اور عزیز ترین لوگوں ، یعنی اپنے گھر والوں سے بھی پردہ کر لیا تھا… تو ڈر گئیں کہ وہ مرد ہے کہیں وہ ان کے بارے میں کوئی برا ارادہ نہ رکھتا ہو اور کہیں وہ ان کے ساتھ برائی سے پیش نہ آئے تو انھوں نے اس سے اللہ کی پناہ مانگی اور اس سے کہنے لگیں :﴿ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡكَ﴾ ’’میں رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں تجھ سے‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتی ہوں اور اس کی رحمت کے سائے میں آتی ہوں کہ کہیں تو مجھے نقصان نہ پہنچائے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتَ تَقِيًّا ﴾ ’’اگر تم متقی ہو۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہو اور اس کے تقویٰ کے مطابق عمل کرتے ہو تو مجھ سے کوئی تعرض نہ کرو۔حضرت مریم[ نے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگی اور ساتھ ساتھ اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرایا اور اسے التزام تقویٰ کا حکم دیا اور وہ تنہائی کی حالت میں تھیں ، جوان تھیں اور لوگوں سے الگ تھلگ تھیں ۔ حضرت جبریلu بھی بشریت کے کامل روپ اور حیران کن حسن و جمال میں ظاہر ہوئے انھوں نے حضرت مریم[ سے کوئی تعرض کیا نہ کوئی ان سے بری بات کہی … یہ تو حضرت مریم[ سے خوف تھا اور یہ عفت کے بلند ترین درجے، شر اور اس کے اسباب سے بعد کی دلیل ہے۔ یہ عفت … خاص طور پر جبکہ تمام اسباب جمع ہوں اور گناہ سے کوئی مانع بھی موجود نہ ہو… بہترین عمل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی ستائش کی۔ فرمایا:﴿ وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا ﴾(التحریم:66؍12) ’’اور مریم بنت عمران، جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی،ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔‘‘ اور فرمایا:﴿وَالَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَجَعَلۡنٰهَا وَابۡنَهَاۤ اٰيَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾(الانبیاء:21؍91) ’’اور وہ (مریم[) جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی، ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، پھر اسے اور اس کے بیٹے کو تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت مریم[ کی عفت کے عوض انھیں ایک بیٹا عطا کیا جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کے رسولوں میں سے ایک رسول تھا۔
[19] جب جبریلu نے حضرت مریم[ کی گھبراہٹ اور ان کا خوف دیکھا تو انھوں نے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّكِ﴾ ’’میں تو آپ کے رب کا قاصد ہوں ‘‘ یعنی میرا کام اور میرا شغل تو آپ کے بارے میں اپنے رب کے حکم کو نافذ کرنا ہے۔ ﴿ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَؔكِيًّا ﴾ ’’تاکہ دے جاؤں میں آپ کو ایک لڑکا ستھرا‘‘ یہ بیٹے اور اس کی پاکیزگی کی بہت بڑی بشارت ہے کیونکہ پاکیزگی، تمام خصائل مذمومہ سے تطہیر اور اوصاف حمیدہ سے متصف ہونے کو مستلزم ہے۔
[20] پس حضرت مریم[ باپ کے بغیر بیٹے کے وجود پر بہت متعجب ہوئیں اور کہنے لگیں : ﴿ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِيۡ غُلٰمٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِيۡ بَشَرٌ وَّلَمۡ اَكُ بَغِيًّا ﴾ ’’کہاں سے ہو گا میرے لیے لڑکا اور نہیں چھوا مجھ کو آدمی نے اور میں بدکار بھی نہیں ہوں ‘‘ اور بیٹے کا وجود اس کے بغیر ممکن نہیں ۔
[21]﴿ قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ١ۚ وَلِنَجۡعَلَهٗۤ اٰيَةً لِّلنَّاسِ﴾ ’’جبریل نے کہا: یوں ہی ہے، آپ کے رب نے کہا، یہ مجھ پر آسان ہے اور چاہتے ہیں ہم کہ بنائیں اس کو لوگوں کے لیے نشانی‘‘ کہ وہ نشانی اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرے، نیز اس امر پر بھی کہ اسباب کی کوئی مستقل تاثیر نہیں ، ان میں تاثیر صرف اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہے۔ پس وہ اپنے بندوں کو بعض اسباب کے خلاف خارق عادت واقعات کا مشاہدہ کراتا ہے تاکہ وہ اسباب پر نہ ٹھہر جائیں اور مسبب الاسباب اور ان کو مقدر کرنے والی ہستی کے افعال میں غوروفکر ترک نہ کریں ۔ ﴿ وَرَحۡمَةً مِّؔنَّا﴾ ’’اور اپنی طرف سے رحمت‘‘ تاکہ ہم اس کو خود اس کے لیے، اس کی والدہ کے لیے اور تمام لوگوں کے لیے رحمت بنائیں ۔ان کا خود اپنے لیے رحمت ہونا اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی وحی کے لیے مختص کیا اور آپ کو اپنی عنایات سے نوازا جس طرح اس نے اولوالعزم انبیاء و مرسلین کو نوازا۔ آپ کی والدہ کے لیے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ آپ کی وجہ سے آپ کی والدہ کو فخر، ثنائے حسن اور بڑے بڑے اخروی فوائد حاصل ہوئے۔ لوگوں کے لیے آپ کا رحمت ہونا یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کے اندر اپنا رسول مبعوث کیا جو ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کرتا ہے، ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت کی سعادت سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ ﴿وَؔكَانَ اَمۡرًا مَّقۡضِيًّا﴾ ’’اور ہے یہ کام مقرر ہو چکا‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا اس حالت میں وجود میں آنا، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے اور اس کی تقدیر کا نافذ ہونا ایک لابدی امر تھا۔ پس جبریلu نے حضرت مریم[ کے گریبان میں پھونک ماری۔
19:22۞فَحَمَلَتۡهُ فَٱنتَبَذَتۡ بِهِۦ مَكَانٗا قَصِيّٗا
پس حاملہ ہو گئی وہ ساتھ اس کے، پھر الگ ہو گئی وہ ساتھ اس کے ایک مکان دور والے میں (22) پس لے آیا اس (مریم) کو دردزہ طرف تنے کی کھجور کے تو اس نے کہا، اے کاش! میں مر جاتی پہلے اس سے اور ہو جاتی بھولی بسری (23) پس آواز دی فرشتے نے اسےاور اس کے نیچے سے، یہ کہ نہ غم کھا تو، تحقیق (جاری) کر دیا ہے تیرے رب نے، تیرے نیچے سے، ایک چشمہ(24) اور تو ہلا اپنی طرف تنے کو کھجورکے، وہ گرائے گا تجھ پر کھجور (عمدہ) تازہ پکی ہوئی (25) سو تو کھا اور پی اور ٹھنڈی کر آنکھیں (اپنی)، پس اگر دیکھے تو آدمیوں میں سے کسی کو تو کہہ دینا، بے شک میں نے نذر مانی ہے رحمٰن کے لیے روزے کی، پس ہرگز نہیں کلام کروں گی میں آج کسی انسان سے (بھی)(26)
[22] جب حضرت مریم[ کو حمل ٹھہر گیا تو وہ فضیحت اور رسوائی کے خوف سے لوگوں سے دور چلی گئیں ﴿ مَكَانًا قَصِيًّا﴾ ’’دور جگہ‘‘
[23] جب بچہ جننے کا وقت قریب آیا تو زچگی کی تکلیف نے ان کو کھجور کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ جب حضرت مریمu کو زچگی کی تکلیف برداشت کرنا پڑی، کھانے پینے کی عدم موجودگی کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کی تکلیف دہ باتوں اور طعنوں سے دلی صدمہ پہنچا اور انھیں خوف ہوا کہ کہیں صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے … تو انھوں نے تمنا کی کہ کاش وہ اس حادثہ سے پہلے ہی مر گئی ہوتیں ، ان کو بھلا دیا جاتا اور ان کا کہیں تذکرہ تک نہ ہوتا۔ حضرت مریم[ کی یہ تمنا ان کی گھبراہٹ کی بنا پر تھی اور اس آرزو اور تمنا میں ان کے لیے کوئی بھلائی تھی نہ مصلحت۔ بھلائی اور مصلحت تو صرف تقدیر کے مطابق اس چیز میں تھی جو انھیں حاصل ہوئی۔
[24] اس وقت فرشتے نے ان کے دل کو تسلی دی اور اسے ثبات عطا کیا اور فرشتے نے ان کو نیچے سے پکارا۔ شاید یہ جگہ، جہاں سے فرشتے نے پکارا تھا، حضرت مریم[ کی جگہ سے زیادہ نیچے تھی۔ فرشتے نے کہا: مت گھبرا اور نہ غم کر ﴿ قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ سَرِيًّا﴾ ’’تمھارے رب نے تمھارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔‘‘ یعنی تیرے نیچے نہر جاری کر دی ہے جس سے تو پانی پيے گی۔
[25]﴿وَهُزِّيۡۤ اِلَيۡكِ بِجِذۡعِ النَّخۡلَةِ تُسٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبًا جَنِيًّا﴾ ’’اور ہلا اپنی طرف کھجور کا تنا، اس سے گریں گی تجھ پر پکی کھجوریں ‘‘ یعنی تازہ لذیذ اور فائدہ بخش کھجوریں ۔
[26]﴿ فَكُلِيۡ﴾ یعنی کھجوریں کھا ﴿ وَاشۡرَبِيۡ﴾ ’’(اور اس نہر کا) پانی پی۔‘‘ ﴿ وَقَرِّيۡ عَيۡنًا﴾ ’’(اور حضرت عیسیٰu کو دیکھ دیکھ کر) اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔‘‘ یہ زچگی کی تکلیف سے سلامتی اور لذیذ و خوشگوار ماکول و مشروب کی فراہمی کے پہلو سے، حضرت مریم[ کے لیے اطمینان تھا۔ رہی لوگوں کی باتیں اور ان کے طعنے تو فرشتے نے حضرت مریم[ کو حکم دیا کہ وہ جب کسی آدمی کو دیکھیں تو اشارے سے اسے بتائیں :﴿ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا ﴾ ’’میں نے نذر مانی ہے رحمٰن کے لیے روزے کی‘‘ یعنی خاموش رہنے کی۔ ﴿ فَلَنۡ اُكَلِّمَ الۡيَوۡمَ اِنۡسِيًّا﴾ ’’پس میں آج بات نہیں کروں گی کسی آدمی سے‘‘ یعنی ان سے بات چیت نہ کرنا تاکہ تم ان کی باتوں سے بچ سکو۔ ان کے ہاں معروف تھا کہ خاموشی ایک عبادت مشروعہ ہے۔ان کو اپنی طرف سے اس معاملے کی نفی کے سلسلے میں لوگوں سے گفتگو نہ کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ لوگ اس کو تسلیم نہیں کریں گے اور نہ اس میں کوئی فائدہ ہے، نیز یہ کہ ان کی براء ت کا اظہار پنگوڑے کے اندر حضرت عیسیٰu کے ذریعے سے ہونا ان کی براء ت کی سب سے بڑی شہادت بن جائے کیونکہ عورت کا شوہر کے بغیر کسی بچے کو جنم دینا اور پھر اس کا یہ دعویٰ کرنا کہ یہ بچہ کسی مرد کے چھوئے بغیر ہے، سب سے بڑا دعویٰ ہے۔ اگر اس دعویٰ کی تائید میں متعدد گواہ بھی موجود ہوں تب بھی اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اس خارق عادت واقعہ کی تائید کے لیے، اسی جیسا ایک اور خارق عادت واقعہ پیش آیا اور وہ ہے حضرت عیسیٰu کا اپنی انتہائی چھوٹی عمر میں کلام کرنا، بناء بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
19:23فَأَجَآءَهَا ٱلۡمَخَاضُ إِلَىٰ جِذۡعِ ٱلنَّخۡلَةِ قَالَتۡ يَٰلَيۡتَنِي مِتُّ قَبۡلَ هَٰذَا وَكُنتُ نَسۡيٗا مَّنسِيّٗا
پس حاملہ ہو گئی وہ ساتھ اس کے، پھر الگ ہو گئی وہ ساتھ اس کے ایک مکان دور والے میں (22) پس لے آیا اس (مریم) کو دردزہ طرف تنے کی کھجور کے تو اس نے کہا، اے کاش! میں مر جاتی پہلے اس سے اور ہو جاتی بھولی بسری (23) پس آواز دی فرشتے نے اسےاور اس کے نیچے سے، یہ کہ نہ غم کھا تو، تحقیق (جاری) کر دیا ہے تیرے رب نے، تیرے نیچے سے، ایک چشمہ(24) اور تو ہلا اپنی طرف تنے کو کھجورکے، وہ گرائے گا تجھ پر کھجور (عمدہ) تازہ پکی ہوئی (25) سو تو کھا اور پی اور ٹھنڈی کر آنکھیں (اپنی)، پس اگر دیکھے تو آدمیوں میں سے کسی کو تو کہہ دینا، بے شک میں نے نذر مانی ہے رحمٰن کے لیے روزے کی، پس ہرگز نہیں کلام کروں گی میں آج کسی انسان سے (بھی)(26)
[22] جب حضرت مریم[ کو حمل ٹھہر گیا تو وہ فضیحت اور رسوائی کے خوف سے لوگوں سے دور چلی گئیں ﴿ مَكَانًا قَصِيًّا﴾ ’’دور جگہ‘‘
[23] جب بچہ جننے کا وقت قریب آیا تو زچگی کی تکلیف نے ان کو کھجور کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ جب حضرت مریمu کو زچگی کی تکلیف برداشت کرنا پڑی، کھانے پینے کی عدم موجودگی کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کی تکلیف دہ باتوں اور طعنوں سے دلی صدمہ پہنچا اور انھیں خوف ہوا کہ کہیں صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے … تو انھوں نے تمنا کی کہ کاش وہ اس حادثہ سے پہلے ہی مر گئی ہوتیں ، ان کو بھلا دیا جاتا اور ان کا کہیں تذکرہ تک نہ ہوتا۔ حضرت مریم[ کی یہ تمنا ان کی گھبراہٹ کی بنا پر تھی اور اس آرزو اور تمنا میں ان کے لیے کوئی بھلائی تھی نہ مصلحت۔ بھلائی اور مصلحت تو صرف تقدیر کے مطابق اس چیز میں تھی جو انھیں حاصل ہوئی۔
[24] اس وقت فرشتے نے ان کے دل کو تسلی دی اور اسے ثبات عطا کیا اور فرشتے نے ان کو نیچے سے پکارا۔ شاید یہ جگہ، جہاں سے فرشتے نے پکارا تھا، حضرت مریم[ کی جگہ سے زیادہ نیچے تھی۔ فرشتے نے کہا: مت گھبرا اور نہ غم کر ﴿ قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ سَرِيًّا﴾ ’’تمھارے رب نے تمھارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔‘‘ یعنی تیرے نیچے نہر جاری کر دی ہے جس سے تو پانی پيے گی۔
[25]﴿وَهُزِّيۡۤ اِلَيۡكِ بِجِذۡعِ النَّخۡلَةِ تُسٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبًا جَنِيًّا﴾ ’’اور ہلا اپنی طرف کھجور کا تنا، اس سے گریں گی تجھ پر پکی کھجوریں ‘‘ یعنی تازہ لذیذ اور فائدہ بخش کھجوریں ۔
[26]﴿ فَكُلِيۡ﴾ یعنی کھجوریں کھا ﴿ وَاشۡرَبِيۡ﴾ ’’(اور اس نہر کا) پانی پی۔‘‘ ﴿ وَقَرِّيۡ عَيۡنًا﴾ ’’(اور حضرت عیسیٰu کو دیکھ دیکھ کر) اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔‘‘ یہ زچگی کی تکلیف سے سلامتی اور لذیذ و خوشگوار ماکول و مشروب کی فراہمی کے پہلو سے، حضرت مریم[ کے لیے اطمینان تھا۔ رہی لوگوں کی باتیں اور ان کے طعنے تو فرشتے نے حضرت مریم[ کو حکم دیا کہ وہ جب کسی آدمی کو دیکھیں تو اشارے سے اسے بتائیں :﴿ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا ﴾ ’’میں نے نذر مانی ہے رحمٰن کے لیے روزے کی‘‘ یعنی خاموش رہنے کی۔ ﴿ فَلَنۡ اُكَلِّمَ الۡيَوۡمَ اِنۡسِيًّا﴾ ’’پس میں آج بات نہیں کروں گی کسی آدمی سے‘‘ یعنی ان سے بات چیت نہ کرنا تاکہ تم ان کی باتوں سے بچ سکو۔ ان کے ہاں معروف تھا کہ خاموشی ایک عبادت مشروعہ ہے۔ان کو اپنی طرف سے اس معاملے کی نفی کے سلسلے میں لوگوں سے گفتگو نہ کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ لوگ اس کو تسلیم نہیں کریں گے اور نہ اس میں کوئی فائدہ ہے، نیز یہ کہ ان کی براء ت کا اظہار پنگوڑے کے اندر حضرت عیسیٰu کے ذریعے سے ہونا ان کی براء ت کی سب سے بڑی شہادت بن جائے کیونکہ عورت کا شوہر کے بغیر کسی بچے کو جنم دینا اور پھر اس کا یہ دعویٰ کرنا کہ یہ بچہ کسی مرد کے چھوئے بغیر ہے، سب سے بڑا دعویٰ ہے۔ اگر اس دعویٰ کی تائید میں متعدد گواہ بھی موجود ہوں تب بھی اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اس خارق عادت واقعہ کی تائید کے لیے، اسی جیسا ایک اور خارق عادت واقعہ پیش آیا اور وہ ہے حضرت عیسیٰu کا اپنی انتہائی چھوٹی عمر میں کلام کرنا، بناء بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
19:24فَنَادَىٰهَا مِن تَحۡتِهَآ أَلَّا تَحۡزَنِي قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ سَرِيّٗا
پس حاملہ ہو گئی وہ ساتھ اس کے، پھر الگ ہو گئی وہ ساتھ اس کے ایک مکان دور والے میں (22) پس لے آیا اس (مریم) کو دردزہ طرف تنے کی کھجور کے تو اس نے کہا، اے کاش! میں مر جاتی پہلے اس سے اور ہو جاتی بھولی بسری (23) پس آواز دی فرشتے نے اسےاور اس کے نیچے سے، یہ کہ نہ غم کھا تو، تحقیق (جاری) کر دیا ہے تیرے رب نے، تیرے نیچے سے، ایک چشمہ(24) اور تو ہلا اپنی طرف تنے کو کھجورکے، وہ گرائے گا تجھ پر کھجور (عمدہ) تازہ پکی ہوئی (25) سو تو کھا اور پی اور ٹھنڈی کر آنکھیں (اپنی)، پس اگر دیکھے تو آدمیوں میں سے کسی کو تو کہہ دینا، بے شک میں نے نذر مانی ہے رحمٰن کے لیے روزے کی، پس ہرگز نہیں کلام کروں گی میں آج کسی انسان سے (بھی)(26)
[22] جب حضرت مریم[ کو حمل ٹھہر گیا تو وہ فضیحت اور رسوائی کے خوف سے لوگوں سے دور چلی گئیں ﴿ مَكَانًا قَصِيًّا﴾ ’’دور جگہ‘‘
[23] جب بچہ جننے کا وقت قریب آیا تو زچگی کی تکلیف نے ان کو کھجور کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ جب حضرت مریمu کو زچگی کی تکلیف برداشت کرنا پڑی، کھانے پینے کی عدم موجودگی کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کی تکلیف دہ باتوں اور طعنوں سے دلی صدمہ پہنچا اور انھیں خوف ہوا کہ کہیں صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے … تو انھوں نے تمنا کی کہ کاش وہ اس حادثہ سے پہلے ہی مر گئی ہوتیں ، ان کو بھلا دیا جاتا اور ان کا کہیں تذکرہ تک نہ ہوتا۔ حضرت مریم[ کی یہ تمنا ان کی گھبراہٹ کی بنا پر تھی اور اس آرزو اور تمنا میں ان کے لیے کوئی بھلائی تھی نہ مصلحت۔ بھلائی اور مصلحت تو صرف تقدیر کے مطابق اس چیز میں تھی جو انھیں حاصل ہوئی۔
[24] اس وقت فرشتے نے ان کے دل کو تسلی دی اور اسے ثبات عطا کیا اور فرشتے نے ان کو نیچے سے پکارا۔ شاید یہ جگہ، جہاں سے فرشتے نے پکارا تھا، حضرت مریم[ کی جگہ سے زیادہ نیچے تھی۔ فرشتے نے کہا: مت گھبرا اور نہ غم کر ﴿ قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ سَرِيًّا﴾ ’’تمھارے رب نے تمھارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔‘‘ یعنی تیرے نیچے نہر جاری کر دی ہے جس سے تو پانی پيے گی۔
[25]﴿وَهُزِّيۡۤ اِلَيۡكِ بِجِذۡعِ النَّخۡلَةِ تُسٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبًا جَنِيًّا﴾ ’’اور ہلا اپنی طرف کھجور کا تنا، اس سے گریں گی تجھ پر پکی کھجوریں ‘‘ یعنی تازہ لذیذ اور فائدہ بخش کھجوریں ۔
[26]﴿ فَكُلِيۡ﴾ یعنی کھجوریں کھا ﴿ وَاشۡرَبِيۡ﴾ ’’(اور اس نہر کا) پانی پی۔‘‘ ﴿ وَقَرِّيۡ عَيۡنًا﴾ ’’(اور حضرت عیسیٰu کو دیکھ دیکھ کر) اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔‘‘ یہ زچگی کی تکلیف سے سلامتی اور لذیذ و خوشگوار ماکول و مشروب کی فراہمی کے پہلو سے، حضرت مریم[ کے لیے اطمینان تھا۔ رہی لوگوں کی باتیں اور ان کے طعنے تو فرشتے نے حضرت مریم[ کو حکم دیا کہ وہ جب کسی آدمی کو دیکھیں تو اشارے سے اسے بتائیں :﴿ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا ﴾ ’’میں نے نذر مانی ہے رحمٰن کے لیے روزے کی‘‘ یعنی خاموش رہنے کی۔ ﴿ فَلَنۡ اُكَلِّمَ الۡيَوۡمَ اِنۡسِيًّا﴾ ’’پس میں آج بات نہیں کروں گی کسی آدمی سے‘‘ یعنی ان سے بات چیت نہ کرنا تاکہ تم ان کی باتوں سے بچ سکو۔ ان کے ہاں معروف تھا کہ خاموشی ایک عبادت مشروعہ ہے۔ان کو اپنی طرف سے اس معاملے کی نفی کے سلسلے میں لوگوں سے گفتگو نہ کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ لوگ اس کو تسلیم نہیں کریں گے اور نہ اس میں کوئی فائدہ ہے، نیز یہ کہ ان کی براء ت کا اظہار پنگوڑے کے اندر حضرت عیسیٰu کے ذریعے سے ہونا ان کی براء ت کی سب سے بڑی شہادت بن جائے کیونکہ عورت کا شوہر کے بغیر کسی بچے کو جنم دینا اور پھر اس کا یہ دعویٰ کرنا کہ یہ بچہ کسی مرد کے چھوئے بغیر ہے، سب سے بڑا دعویٰ ہے۔ اگر اس دعویٰ کی تائید میں متعدد گواہ بھی موجود ہوں تب بھی اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اس خارق عادت واقعہ کی تائید کے لیے، اسی جیسا ایک اور خارق عادت واقعہ پیش آیا اور وہ ہے حضرت عیسیٰu کا اپنی انتہائی چھوٹی عمر میں کلام کرنا، بناء بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
19:25وَهُزِّيٓ إِلَيۡكِ بِجِذۡعِ ٱلنَّخۡلَةِ تُسَٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبٗا جَنِيّٗا
پس حاملہ ہو گئی وہ ساتھ اس کے، پھر الگ ہو گئی وہ ساتھ اس کے ایک مکان دور والے میں (22) پس لے آیا اس (مریم) کو دردزہ طرف تنے کی کھجور کے تو اس نے کہا، اے کاش! میں مر جاتی پہلے اس سے اور ہو جاتی بھولی بسری (23) پس آواز دی فرشتے نے اسےاور اس کے نیچے سے، یہ کہ نہ غم کھا تو، تحقیق (جاری) کر دیا ہے تیرے رب نے، تیرے نیچے سے، ایک چشمہ(24) اور تو ہلا اپنی طرف تنے کو کھجورکے، وہ گرائے گا تجھ پر کھجور (عمدہ) تازہ پکی ہوئی (25) سو تو کھا اور پی اور ٹھنڈی کر آنکھیں (اپنی)، پس اگر دیکھے تو آدمیوں میں سے کسی کو تو کہہ دینا، بے شک میں نے نذر مانی ہے رحمٰن کے لیے روزے کی، پس ہرگز نہیں کلام کروں گی میں آج کسی انسان سے (بھی)(26)
[22] جب حضرت مریم[ کو حمل ٹھہر گیا تو وہ فضیحت اور رسوائی کے خوف سے لوگوں سے دور چلی گئیں ﴿ مَكَانًا قَصِيًّا﴾ ’’دور جگہ‘‘
[23] جب بچہ جننے کا وقت قریب آیا تو زچگی کی تکلیف نے ان کو کھجور کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ جب حضرت مریمu کو زچگی کی تکلیف برداشت کرنا پڑی، کھانے پینے کی عدم موجودگی کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کی تکلیف دہ باتوں اور طعنوں سے دلی صدمہ پہنچا اور انھیں خوف ہوا کہ کہیں صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے … تو انھوں نے تمنا کی کہ کاش وہ اس حادثہ سے پہلے ہی مر گئی ہوتیں ، ان کو بھلا دیا جاتا اور ان کا کہیں تذکرہ تک نہ ہوتا۔ حضرت مریم[ کی یہ تمنا ان کی گھبراہٹ کی بنا پر تھی اور اس آرزو اور تمنا میں ان کے لیے کوئی بھلائی تھی نہ مصلحت۔ بھلائی اور مصلحت تو صرف تقدیر کے مطابق اس چیز میں تھی جو انھیں حاصل ہوئی۔
[24] اس وقت فرشتے نے ان کے دل کو تسلی دی اور اسے ثبات عطا کیا اور فرشتے نے ان کو نیچے سے پکارا۔ شاید یہ جگہ، جہاں سے فرشتے نے پکارا تھا، حضرت مریم[ کی جگہ سے زیادہ نیچے تھی۔ فرشتے نے کہا: مت گھبرا اور نہ غم کر ﴿ قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ سَرِيًّا﴾ ’’تمھارے رب نے تمھارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔‘‘ یعنی تیرے نیچے نہر جاری کر دی ہے جس سے تو پانی پيے گی۔
[25]﴿وَهُزِّيۡۤ اِلَيۡكِ بِجِذۡعِ النَّخۡلَةِ تُسٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبًا جَنِيًّا﴾ ’’اور ہلا اپنی طرف کھجور کا تنا، اس سے گریں گی تجھ پر پکی کھجوریں ‘‘ یعنی تازہ لذیذ اور فائدہ بخش کھجوریں ۔
[26]﴿ فَكُلِيۡ﴾ یعنی کھجوریں کھا ﴿ وَاشۡرَبِيۡ﴾ ’’(اور اس نہر کا) پانی پی۔‘‘ ﴿ وَقَرِّيۡ عَيۡنًا﴾ ’’(اور حضرت عیسیٰu کو دیکھ دیکھ کر) اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔‘‘ یہ زچگی کی تکلیف سے سلامتی اور لذیذ و خوشگوار ماکول و مشروب کی فراہمی کے پہلو سے، حضرت مریم[ کے لیے اطمینان تھا۔ رہی لوگوں کی باتیں اور ان کے طعنے تو فرشتے نے حضرت مریم[ کو حکم دیا کہ وہ جب کسی آدمی کو دیکھیں تو اشارے سے اسے بتائیں :﴿ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا ﴾ ’’میں نے نذر مانی ہے رحمٰن کے لیے روزے کی‘‘ یعنی خاموش رہنے کی۔ ﴿ فَلَنۡ اُكَلِّمَ الۡيَوۡمَ اِنۡسِيًّا﴾ ’’پس میں آج بات نہیں کروں گی کسی آدمی سے‘‘ یعنی ان سے بات چیت نہ کرنا تاکہ تم ان کی باتوں سے بچ سکو۔ ان کے ہاں معروف تھا کہ خاموشی ایک عبادت مشروعہ ہے۔ان کو اپنی طرف سے اس معاملے کی نفی کے سلسلے میں لوگوں سے گفتگو نہ کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ لوگ اس کو تسلیم نہیں کریں گے اور نہ اس میں کوئی فائدہ ہے، نیز یہ کہ ان کی براء ت کا اظہار پنگوڑے کے اندر حضرت عیسیٰu کے ذریعے سے ہونا ان کی براء ت کی سب سے بڑی شہادت بن جائے کیونکہ عورت کا شوہر کے بغیر کسی بچے کو جنم دینا اور پھر اس کا یہ دعویٰ کرنا کہ یہ بچہ کسی مرد کے چھوئے بغیر ہے، سب سے بڑا دعویٰ ہے۔ اگر اس دعویٰ کی تائید میں متعدد گواہ بھی موجود ہوں تب بھی اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اس خارق عادت واقعہ کی تائید کے لیے، اسی جیسا ایک اور خارق عادت واقعہ پیش آیا اور وہ ہے حضرت عیسیٰu کا اپنی انتہائی چھوٹی عمر میں کلام کرنا، بناء بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
19:26فَكُلِي وَٱشۡرَبِي وَقَرِّي عَيۡنٗاۖ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ ٱلۡبَشَرِ أَحَدٗا فَقُولِيٓ إِنِّي نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمَٰنِ صَوۡمٗا فَلَنۡ أُكَلِّمَ ٱلۡيَوۡمَ إِنسِيّٗا
پس حاملہ ہو گئی وہ ساتھ اس کے، پھر الگ ہو گئی وہ ساتھ اس کے ایک مکان دور والے میں (22) پس لے آیا اس (مریم) کو دردزہ طرف تنے کی کھجور کے تو اس نے کہا، اے کاش! میں مر جاتی پہلے اس سے اور ہو جاتی بھولی بسری (23) پس آواز دی فرشتے نے اسےاور اس کے نیچے سے، یہ کہ نہ غم کھا تو، تحقیق (جاری) کر دیا ہے تیرے رب نے، تیرے نیچے سے، ایک چشمہ(24) اور تو ہلا اپنی طرف تنے کو کھجورکے، وہ گرائے گا تجھ پر کھجور (عمدہ) تازہ پکی ہوئی (25) سو تو کھا اور پی اور ٹھنڈی کر آنکھیں (اپنی)، پس اگر دیکھے تو آدمیوں میں سے کسی کو تو کہہ دینا، بے شک میں نے نذر مانی ہے رحمٰن کے لیے روزے کی، پس ہرگز نہیں کلام کروں گی میں آج کسی انسان سے (بھی)(26)
[22] جب حضرت مریم[ کو حمل ٹھہر گیا تو وہ فضیحت اور رسوائی کے خوف سے لوگوں سے دور چلی گئیں ﴿ مَكَانًا قَصِيًّا﴾ ’’دور جگہ‘‘
[23] جب بچہ جننے کا وقت قریب آیا تو زچگی کی تکلیف نے ان کو کھجور کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ جب حضرت مریمu کو زچگی کی تکلیف برداشت کرنا پڑی، کھانے پینے کی عدم موجودگی کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کی تکلیف دہ باتوں اور طعنوں سے دلی صدمہ پہنچا اور انھیں خوف ہوا کہ کہیں صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے … تو انھوں نے تمنا کی کہ کاش وہ اس حادثہ سے پہلے ہی مر گئی ہوتیں ، ان کو بھلا دیا جاتا اور ان کا کہیں تذکرہ تک نہ ہوتا۔ حضرت مریم[ کی یہ تمنا ان کی گھبراہٹ کی بنا پر تھی اور اس آرزو اور تمنا میں ان کے لیے کوئی بھلائی تھی نہ مصلحت۔ بھلائی اور مصلحت تو صرف تقدیر کے مطابق اس چیز میں تھی جو انھیں حاصل ہوئی۔
[24] اس وقت فرشتے نے ان کے دل کو تسلی دی اور اسے ثبات عطا کیا اور فرشتے نے ان کو نیچے سے پکارا۔ شاید یہ جگہ، جہاں سے فرشتے نے پکارا تھا، حضرت مریم[ کی جگہ سے زیادہ نیچے تھی۔ فرشتے نے کہا: مت گھبرا اور نہ غم کر ﴿ قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ سَرِيًّا﴾ ’’تمھارے رب نے تمھارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔‘‘ یعنی تیرے نیچے نہر جاری کر دی ہے جس سے تو پانی پيے گی۔
[25]﴿وَهُزِّيۡۤ اِلَيۡكِ بِجِذۡعِ النَّخۡلَةِ تُسٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبًا جَنِيًّا﴾ ’’اور ہلا اپنی طرف کھجور کا تنا، اس سے گریں گی تجھ پر پکی کھجوریں ‘‘ یعنی تازہ لذیذ اور فائدہ بخش کھجوریں ۔
[26]﴿ فَكُلِيۡ﴾ یعنی کھجوریں کھا ﴿ وَاشۡرَبِيۡ﴾ ’’(اور اس نہر کا) پانی پی۔‘‘ ﴿ وَقَرِّيۡ عَيۡنًا﴾ ’’(اور حضرت عیسیٰu کو دیکھ دیکھ کر) اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔‘‘ یہ زچگی کی تکلیف سے سلامتی اور لذیذ و خوشگوار ماکول و مشروب کی فراہمی کے پہلو سے، حضرت مریم[ کے لیے اطمینان تھا۔ رہی لوگوں کی باتیں اور ان کے طعنے تو فرشتے نے حضرت مریم[ کو حکم دیا کہ وہ جب کسی آدمی کو دیکھیں تو اشارے سے اسے بتائیں :﴿ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا ﴾ ’’میں نے نذر مانی ہے رحمٰن کے لیے روزے کی‘‘ یعنی خاموش رہنے کی۔ ﴿ فَلَنۡ اُكَلِّمَ الۡيَوۡمَ اِنۡسِيًّا﴾ ’’پس میں آج بات نہیں کروں گی کسی آدمی سے‘‘ یعنی ان سے بات چیت نہ کرنا تاکہ تم ان کی باتوں سے بچ سکو۔ ان کے ہاں معروف تھا کہ خاموشی ایک عبادت مشروعہ ہے۔ان کو اپنی طرف سے اس معاملے کی نفی کے سلسلے میں لوگوں سے گفتگو نہ کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ لوگ اس کو تسلیم نہیں کریں گے اور نہ اس میں کوئی فائدہ ہے، نیز یہ کہ ان کی براء ت کا اظہار پنگوڑے کے اندر حضرت عیسیٰu کے ذریعے سے ہونا ان کی براء ت کی سب سے بڑی شہادت بن جائے کیونکہ عورت کا شوہر کے بغیر کسی بچے کو جنم دینا اور پھر اس کا یہ دعویٰ کرنا کہ یہ بچہ کسی مرد کے چھوئے بغیر ہے، سب سے بڑا دعویٰ ہے۔ اگر اس دعویٰ کی تائید میں متعدد گواہ بھی موجود ہوں تب بھی اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اس خارق عادت واقعہ کی تائید کے لیے، اسی جیسا ایک اور خارق عادت واقعہ پیش آیا اور وہ ہے حضرت عیسیٰu کا اپنی انتہائی چھوٹی عمر میں کلام کرنا، بناء بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
19:27فَأَتَتۡ بِهِۦ قَوۡمَهَا تَحۡمِلُهُۥۖ قَالُواْ يَٰمَرۡيَمُ لَقَدۡ جِئۡتِ شَيۡـٔٗا فَرِيّٗا
پس لے آئی مریم اس (بچے) کو اپنی قوم کے پاس، اسے اٹھائے ہوئے، انھوں نے کہا، اے مریم! تحقیق کیا ہے تو نے کام بہت برا (27) اے بہن ہارون کی! نہ تھا تیرا باپ برا آدمی اور نہ تھی تیری ماں بدکار (28) پس مریم نے اشارہ کیا اس (بچے) کی طرف، انھوں نے کہا، کیسے کلام کریں ہم اس سے جو ہے گود میں بچہ؟ (29) بچے نے کہا، بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے دی ہے مجھے کتاب اور اس نے بنایا ہے مجھے نبی (30) اور اس نے بنایا ہے مجھے بابرکت جہاں کہیں بھی میں ہوں اور اس نے وصیت کی ہے مجھے نماز اور زکاۃ کی، جب تک میں رہوں زندہ (31) اور (بنایا مجھے) نیکی کرنے والا ساتھ اپنی والدہ کے اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش، بدبخت (32) اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں اٹھایا جاؤں گا زندہ کر کے (33)
[27] یعنی جب حضرت مریم[ اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو حضرت عیسیٰu کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائیں چونکہ انھیں اپنی براء ت اور اپنی طہارت نفس کا علم تھا اس لیے انھوں نے کسی کی پروا نہ کی۔ لوگوں نے باتیں بناتے ہوئے کہا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتِ شَيۡـًٔؔا فَرِيًّا ﴾ ’’تو نے بڑا عجیب کام کیا‘‘ یعنی بہت نازیبا کام، اس سے ان کی مراد زنا تھا … حالانکہ وہ اس سے پاک تھیں ۔
[28]﴿ يٰۤاُخۡتَ هٰؔرُوۡنَ﴾ ’’اے ہارون کی بہن۔‘‘ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم[ کا کوئی حقیقی بھائی تھا جس کی طرف ان کو منسوب کیا گیا۔ وہ انبیاء کے نام پر نام رکھا کرتے تھے۔ یہ ہارون، موسیٰu کے بھائی ہارون بن عمرانu نہیں ہیں کیوں کہ ان دونوں کی درمیان بہت صدیوں کا فاصلہ ہے۔ ﴿مَا كَانَ اَبُوۡكِ امۡرَاَ سَوۡءٍ وَّمَا كَانَتۡ اُمُّكِ بَغِيًّا﴾ ’’تیرا باپ برا آدمی تھا نہ تیری ماں بدکار‘‘ یعنی تمھارے والدین بہت نیک اور برائی سے بچے ہوئے تھے خاص طور پر اس برائی سے، جس کی طرف وہ اشارہ کر رہے تھے، محفوظ تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ تو نے کیونکر اس فعل بد کا ارتکاب کیا جس سے تمھارے والدین محفوظ تھے اور یہ کہنے کی وجہ یہ تھی کہ غالب حالات میں ، نیکی اور بدی کے معاملے میں ، اولاد اپنے والدین سے اثر پذیر ہوتی ہے، چنانچہ لوگوں کو، ان کے دلوں میں جو بات راسخ تھی، اس کی وجہ سے تعجب ہوا کہ حضرت مریم[ سے اس فعل بد کا کیسے ارتکاب ہو گیا؟
[29] پس حضرت مریم[ نے حضرت عیسیٰu کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو اور انھوں نے اس لیے اس طرف اشارہ کیا کیونکہ حضرت مریم[ کو حکم دیا گیا تھا کہ جب لوگ ان سے مخاطب ہوں تو تم کہہ دینا: ﴿ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا فَلَنۡ اُكَلِّمَ الۡيَوۡمَ اِنۡسِيًّا ﴾ ’’میں نے اللہ تعالیٰ کے لیے روزے کی منت مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی۔‘‘ جب انھوں نے لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اس (حضرت عیسیٰu) سے کلام کریں تو لوگوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا اور انھوں نے کہا: ﴿ كَيۡفَ نُكَلِّمُ مَنۡ كَانَ فِي الۡمَهۡدِ صَبِيًّا ﴾ ’’ہم کیوں کر کلام کریں اس سے کہ ہے وہ گود میں بچہ‘‘ کیونکہ یہ عام طور پر عادت جاریہ نہیں اور نہ کسی نے اس عمر میں کلام کیا ہے۔
[30] اس وقت حضرت عیسیٰu، پنگوڑے میں سے بولے:﴿اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں ‘‘ آپu نے ان کو اپنے وصف عبودیت سے آگاہ فرمایا اور ان پر واضح کیا کہ وہ کسی ایسی صفت کے حامل نہیں جو انھیں الوہیت یا اللہ کا بیٹا ہونے کا مستحق بنا دے۔ اللہ تعالیٰ ان عیسائیوں کے قول سے بالا و برتر ہے۔ جو حضرت مسیحu کے ارشاد ﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ ﴾ ’’میں اللہ کا بندہ ہوں ۔‘‘ کی صریحاً مخالفت کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ آپu کی موافقت کرتے ہیں ۔ ﴿اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’دی اس نے مجھے کتاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ مجھے کتاب عطا کرے گا ﴿ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾ ’’اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے‘‘ حضرت عیسیٰu نے آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب کی تعلیم دی اور انھیں جملہ ا نبیاء میں شامل کیا اور یہ ان کا کمال نفس ہے۔
[31] پھر حضرت عیسیٰu کے ذریعے سے دوسروں کی تکمیل کا ذکر فرمایا: ﴿ وَّجَعَلَنِيۡ مُبٰرَؔكًا اَيۡنَ مَا كُنۡتُ﴾ ’’اور بنایا مجھ کو برکت والا، جس جگہ بھی میں ہوں ‘‘ یعنی ہر جگہ اور ہر زمانے میں ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھلائی کی تعلیم، بھلائی کی طرف دعوت، شر سے ممانعت، اپنے اقوال و افعال میں اللہ تعالیٰ کی دعوت کی توفیق عطا فرما کر بابرکت بنایا ہے، لہٰذا جو کوئی حضرت عیسیٰu کی صحبت اختیار کرتا تھا وہ آپ کی برکت اور سعادت سے بہرہ ور ہوتا تھا۔ ﴿ وَاَوۡصٰنِيۡ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَا دُمۡتُ حَيًّا ﴾ ’’اور تاکید کی مجھ کو نماز کی اور زکٰوۃ کی، جب تک ہوں میں زندہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے حقوق ادا کرنے کی وصیت کی ہے، جن میں سب سے بڑا حق نماز ہے اور بندوں کے حقوق پورا کرنے کی وصیت کی ہے جن میں سب سے زیادہ جلیل القدر حق زکٰوۃ ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں زندگی بھر یہ کام کرتا رہوں ۔ پس میں اپنے رب کا حکم مانتا، اس کی وصیت پر عمل کرتا اور اس کو نافذ کرتا رہوں گا۔
[32]نیز اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ وصیت بھی کی ہے کہ میں اپنی ماں کی اطاعت کروں ، اس کے ساتھ خوب احسان کروں اور اس کے حقوق پورے کروں کیونکہ اسے شرف اور فضیلت حاصل ہے۔ وہ ماں ہے اس لیے وہ جنم دینے کی بنا پر مجھ پر ولادت کا حق اور اس کے تابع دیگر حقوق رکھتی ہے۔﴿وَلَمۡ يَجۡعَلۡنِيۡ جَبَّارًؔا ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کے حضور تکبر کرنے والا اور بندوں سے اپنے آپ کو بڑا اور بلند سمجھنے والا نہیں ہوں ۔ ﴿ شَقِيًّا ﴾ یعنی میں دنیا و آخرت میں بدبخت نہیں ہوں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا اطاعت شعار، اپنے سامنے جھکنے والا، عاجزی اور تذلل اختیار کرنے والا، اللہ کے بندوں کے ساتھ تواضع اور انکساری سے پیش آنے والا اور دنیا و آخرت میں سعادت سے بہرہ مند ہونے والا بنایا۔ مجھے بھی اور میرے پیروکاروں کو بھی۔
[33] پس جب حضرت عیسیٰu کے کمال اور ان کے قابل ستائش خصائل کی تکمیل ہو گئی تو انھوں نے فرمایا: ﴿ وَالسَّلٰمُ عَلَيَّ يَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَيَوۡمَ اَمُوۡتُ وَيَوۡمَ اُبۡعَثُ حَيًّا ﴾ ’’اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں اور جس دن اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہو کر‘‘ یعنی میرے رب کے فضل و کرم سے، جس روز میری ولادت ہوئی، جس روز میں مروں اور جس روز مجھے اٹھایا جائے گا، مجھے ہر قسم کے شر، شیطان اور عذاب سے سلامتی حاصل ہے۔ یہ سلامتی ہر قسم کے خوف، فاجروں کے گھر سے سلامتی اور دارالسلام کے مستحق ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ پس یہ ایک عظیم معجزہ اور اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ درحقیقت اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں ۔
19:28يَـٰٓأُخۡتَ هَٰرُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ ٱمۡرَأَ سَوۡءٖ وَمَا كَانَتۡ أُمُّكِ بَغِيّٗا
پس لے آئی مریم اس (بچے) کو اپنی قوم کے پاس، اسے اٹھائے ہوئے، انھوں نے کہا، اے مریم! تحقیق کیا ہے تو نے کام بہت برا (27) اے بہن ہارون کی! نہ تھا تیرا باپ برا آدمی اور نہ تھی تیری ماں بدکار (28) پس مریم نے اشارہ کیا اس (بچے) کی طرف، انھوں نے کہا، کیسے کلام کریں ہم اس سے جو ہے گود میں بچہ؟ (29) بچے نے کہا، بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے دی ہے مجھے کتاب اور اس نے بنایا ہے مجھے نبی (30) اور اس نے بنایا ہے مجھے بابرکت جہاں کہیں بھی میں ہوں اور اس نے وصیت کی ہے مجھے نماز اور زکاۃ کی، جب تک میں رہوں زندہ (31) اور (بنایا مجھے) نیکی کرنے والا ساتھ اپنی والدہ کے اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش، بدبخت (32) اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں اٹھایا جاؤں گا زندہ کر کے (33)
[27] یعنی جب حضرت مریم[ اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو حضرت عیسیٰu کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائیں چونکہ انھیں اپنی براء ت اور اپنی طہارت نفس کا علم تھا اس لیے انھوں نے کسی کی پروا نہ کی۔ لوگوں نے باتیں بناتے ہوئے کہا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتِ شَيۡـًٔؔا فَرِيًّا ﴾ ’’تو نے بڑا عجیب کام کیا‘‘ یعنی بہت نازیبا کام، اس سے ان کی مراد زنا تھا … حالانکہ وہ اس سے پاک تھیں ۔
[28]﴿ يٰۤاُخۡتَ هٰؔرُوۡنَ﴾ ’’اے ہارون کی بہن۔‘‘ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم[ کا کوئی حقیقی بھائی تھا جس کی طرف ان کو منسوب کیا گیا۔ وہ انبیاء کے نام پر نام رکھا کرتے تھے۔ یہ ہارون، موسیٰu کے بھائی ہارون بن عمرانu نہیں ہیں کیوں کہ ان دونوں کی درمیان بہت صدیوں کا فاصلہ ہے۔ ﴿مَا كَانَ اَبُوۡكِ امۡرَاَ سَوۡءٍ وَّمَا كَانَتۡ اُمُّكِ بَغِيًّا﴾ ’’تیرا باپ برا آدمی تھا نہ تیری ماں بدکار‘‘ یعنی تمھارے والدین بہت نیک اور برائی سے بچے ہوئے تھے خاص طور پر اس برائی سے، جس کی طرف وہ اشارہ کر رہے تھے، محفوظ تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ تو نے کیونکر اس فعل بد کا ارتکاب کیا جس سے تمھارے والدین محفوظ تھے اور یہ کہنے کی وجہ یہ تھی کہ غالب حالات میں ، نیکی اور بدی کے معاملے میں ، اولاد اپنے والدین سے اثر پذیر ہوتی ہے، چنانچہ لوگوں کو، ان کے دلوں میں جو بات راسخ تھی، اس کی وجہ سے تعجب ہوا کہ حضرت مریم[ سے اس فعل بد کا کیسے ارتکاب ہو گیا؟
[29] پس حضرت مریم[ نے حضرت عیسیٰu کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو اور انھوں نے اس لیے اس طرف اشارہ کیا کیونکہ حضرت مریم[ کو حکم دیا گیا تھا کہ جب لوگ ان سے مخاطب ہوں تو تم کہہ دینا: ﴿ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا فَلَنۡ اُكَلِّمَ الۡيَوۡمَ اِنۡسِيًّا ﴾ ’’میں نے اللہ تعالیٰ کے لیے روزے کی منت مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی۔‘‘ جب انھوں نے لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اس (حضرت عیسیٰu) سے کلام کریں تو لوگوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا اور انھوں نے کہا: ﴿ كَيۡفَ نُكَلِّمُ مَنۡ كَانَ فِي الۡمَهۡدِ صَبِيًّا ﴾ ’’ہم کیوں کر کلام کریں اس سے کہ ہے وہ گود میں بچہ‘‘ کیونکہ یہ عام طور پر عادت جاریہ نہیں اور نہ کسی نے اس عمر میں کلام کیا ہے۔
[30] اس وقت حضرت عیسیٰu، پنگوڑے میں سے بولے:﴿اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں ‘‘ آپu نے ان کو اپنے وصف عبودیت سے آگاہ فرمایا اور ان پر واضح کیا کہ وہ کسی ایسی صفت کے حامل نہیں جو انھیں الوہیت یا اللہ کا بیٹا ہونے کا مستحق بنا دے۔ اللہ تعالیٰ ان عیسائیوں کے قول سے بالا و برتر ہے۔ جو حضرت مسیحu کے ارشاد ﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ ﴾ ’’میں اللہ کا بندہ ہوں ۔‘‘ کی صریحاً مخالفت کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ آپu کی موافقت کرتے ہیں ۔ ﴿اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’دی اس نے مجھے کتاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ مجھے کتاب عطا کرے گا ﴿ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾ ’’اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے‘‘ حضرت عیسیٰu نے آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب کی تعلیم دی اور انھیں جملہ ا نبیاء میں شامل کیا اور یہ ان کا کمال نفس ہے۔
[31] پھر حضرت عیسیٰu کے ذریعے سے دوسروں کی تکمیل کا ذکر فرمایا: ﴿ وَّجَعَلَنِيۡ مُبٰرَؔكًا اَيۡنَ مَا كُنۡتُ﴾ ’’اور بنایا مجھ کو برکت والا، جس جگہ بھی میں ہوں ‘‘ یعنی ہر جگہ اور ہر زمانے میں ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھلائی کی تعلیم، بھلائی کی طرف دعوت، شر سے ممانعت، اپنے اقوال و افعال میں اللہ تعالیٰ کی دعوت کی توفیق عطا فرما کر بابرکت بنایا ہے، لہٰذا جو کوئی حضرت عیسیٰu کی صحبت اختیار کرتا تھا وہ آپ کی برکت اور سعادت سے بہرہ ور ہوتا تھا۔ ﴿ وَاَوۡصٰنِيۡ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَا دُمۡتُ حَيًّا ﴾ ’’اور تاکید کی مجھ کو نماز کی اور زکٰوۃ کی، جب تک ہوں میں زندہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے حقوق ادا کرنے کی وصیت کی ہے، جن میں سب سے بڑا حق نماز ہے اور بندوں کے حقوق پورا کرنے کی وصیت کی ہے جن میں سب سے زیادہ جلیل القدر حق زکٰوۃ ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں زندگی بھر یہ کام کرتا رہوں ۔ پس میں اپنے رب کا حکم مانتا، اس کی وصیت پر عمل کرتا اور اس کو نافذ کرتا رہوں گا۔
[32]نیز اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ وصیت بھی کی ہے کہ میں اپنی ماں کی اطاعت کروں ، اس کے ساتھ خوب احسان کروں اور اس کے حقوق پورے کروں کیونکہ اسے شرف اور فضیلت حاصل ہے۔ وہ ماں ہے اس لیے وہ جنم دینے کی بنا پر مجھ پر ولادت کا حق اور اس کے تابع دیگر حقوق رکھتی ہے۔﴿وَلَمۡ يَجۡعَلۡنِيۡ جَبَّارًؔا ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کے حضور تکبر کرنے والا اور بندوں سے اپنے آپ کو بڑا اور بلند سمجھنے والا نہیں ہوں ۔ ﴿ شَقِيًّا ﴾ یعنی میں دنیا و آخرت میں بدبخت نہیں ہوں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا اطاعت شعار، اپنے سامنے جھکنے والا، عاجزی اور تذلل اختیار کرنے والا، اللہ کے بندوں کے ساتھ تواضع اور انکساری سے پیش آنے والا اور دنیا و آخرت میں سعادت سے بہرہ مند ہونے والا بنایا۔ مجھے بھی اور میرے پیروکاروں کو بھی۔
[33] پس جب حضرت عیسیٰu کے کمال اور ان کے قابل ستائش خصائل کی تکمیل ہو گئی تو انھوں نے فرمایا: ﴿ وَالسَّلٰمُ عَلَيَّ يَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَيَوۡمَ اَمُوۡتُ وَيَوۡمَ اُبۡعَثُ حَيًّا ﴾ ’’اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں اور جس دن اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہو کر‘‘ یعنی میرے رب کے فضل و کرم سے، جس روز میری ولادت ہوئی، جس روز میں مروں اور جس روز مجھے اٹھایا جائے گا، مجھے ہر قسم کے شر، شیطان اور عذاب سے سلامتی حاصل ہے۔ یہ سلامتی ہر قسم کے خوف، فاجروں کے گھر سے سلامتی اور دارالسلام کے مستحق ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ پس یہ ایک عظیم معجزہ اور اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ درحقیقت اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں ۔
19:29فَأَشَارَتۡ إِلَيۡهِۖ قَالُواْ كَيۡفَ نُكَلِّمُ مَن كَانَ فِي ٱلۡمَهۡدِ صَبِيّٗا
پس لے آئی مریم اس (بچے) کو اپنی قوم کے پاس، اسے اٹھائے ہوئے، انھوں نے کہا، اے مریم! تحقیق کیا ہے تو نے کام بہت برا (27) اے بہن ہارون کی! نہ تھا تیرا باپ برا آدمی اور نہ تھی تیری ماں بدکار (28) پس مریم نے اشارہ کیا اس (بچے) کی طرف، انھوں نے کہا، کیسے کلام کریں ہم اس سے جو ہے گود میں بچہ؟ (29) بچے نے کہا، بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے دی ہے مجھے کتاب اور اس نے بنایا ہے مجھے نبی (30) اور اس نے بنایا ہے مجھے بابرکت جہاں کہیں بھی میں ہوں اور اس نے وصیت کی ہے مجھے نماز اور زکاۃ کی، جب تک میں رہوں زندہ (31) اور (بنایا مجھے) نیکی کرنے والا ساتھ اپنی والدہ کے اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش، بدبخت (32) اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں اٹھایا جاؤں گا زندہ کر کے (33)
[27] یعنی جب حضرت مریم[ اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو حضرت عیسیٰu کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائیں چونکہ انھیں اپنی براء ت اور اپنی طہارت نفس کا علم تھا اس لیے انھوں نے کسی کی پروا نہ کی۔ لوگوں نے باتیں بناتے ہوئے کہا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتِ شَيۡـًٔؔا فَرِيًّا ﴾ ’’تو نے بڑا عجیب کام کیا‘‘ یعنی بہت نازیبا کام، اس سے ان کی مراد زنا تھا … حالانکہ وہ اس سے پاک تھیں ۔
[28]﴿ يٰۤاُخۡتَ هٰؔرُوۡنَ﴾ ’’اے ہارون کی بہن۔‘‘ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم[ کا کوئی حقیقی بھائی تھا جس کی طرف ان کو منسوب کیا گیا۔ وہ انبیاء کے نام پر نام رکھا کرتے تھے۔ یہ ہارون، موسیٰu کے بھائی ہارون بن عمرانu نہیں ہیں کیوں کہ ان دونوں کی درمیان بہت صدیوں کا فاصلہ ہے۔ ﴿مَا كَانَ اَبُوۡكِ امۡرَاَ سَوۡءٍ وَّمَا كَانَتۡ اُمُّكِ بَغِيًّا﴾ ’’تیرا باپ برا آدمی تھا نہ تیری ماں بدکار‘‘ یعنی تمھارے والدین بہت نیک اور برائی سے بچے ہوئے تھے خاص طور پر اس برائی سے، جس کی طرف وہ اشارہ کر رہے تھے، محفوظ تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ تو نے کیونکر اس فعل بد کا ارتکاب کیا جس سے تمھارے والدین محفوظ تھے اور یہ کہنے کی وجہ یہ تھی کہ غالب حالات میں ، نیکی اور بدی کے معاملے میں ، اولاد اپنے والدین سے اثر پذیر ہوتی ہے، چنانچہ لوگوں کو، ان کے دلوں میں جو بات راسخ تھی، اس کی وجہ سے تعجب ہوا کہ حضرت مریم[ سے اس فعل بد کا کیسے ارتکاب ہو گیا؟
[29] پس حضرت مریم[ نے حضرت عیسیٰu کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو اور انھوں نے اس لیے اس طرف اشارہ کیا کیونکہ حضرت مریم[ کو حکم دیا گیا تھا کہ جب لوگ ان سے مخاطب ہوں تو تم کہہ دینا: ﴿ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا فَلَنۡ اُكَلِّمَ الۡيَوۡمَ اِنۡسِيًّا ﴾ ’’میں نے اللہ تعالیٰ کے لیے روزے کی منت مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی۔‘‘ جب انھوں نے لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اس (حضرت عیسیٰu) سے کلام کریں تو لوگوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا اور انھوں نے کہا: ﴿ كَيۡفَ نُكَلِّمُ مَنۡ كَانَ فِي الۡمَهۡدِ صَبِيًّا ﴾ ’’ہم کیوں کر کلام کریں اس سے کہ ہے وہ گود میں بچہ‘‘ کیونکہ یہ عام طور پر عادت جاریہ نہیں اور نہ کسی نے اس عمر میں کلام کیا ہے۔
[30] اس وقت حضرت عیسیٰu، پنگوڑے میں سے بولے:﴿اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں ‘‘ آپu نے ان کو اپنے وصف عبودیت سے آگاہ فرمایا اور ان پر واضح کیا کہ وہ کسی ایسی صفت کے حامل نہیں جو انھیں الوہیت یا اللہ کا بیٹا ہونے کا مستحق بنا دے۔ اللہ تعالیٰ ان عیسائیوں کے قول سے بالا و برتر ہے۔ جو حضرت مسیحu کے ارشاد ﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ ﴾ ’’میں اللہ کا بندہ ہوں ۔‘‘ کی صریحاً مخالفت کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ آپu کی موافقت کرتے ہیں ۔ ﴿اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’دی اس نے مجھے کتاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ مجھے کتاب عطا کرے گا ﴿ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾ ’’اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے‘‘ حضرت عیسیٰu نے آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب کی تعلیم دی اور انھیں جملہ ا نبیاء میں شامل کیا اور یہ ان کا کمال نفس ہے۔
[31] پھر حضرت عیسیٰu کے ذریعے سے دوسروں کی تکمیل کا ذکر فرمایا: ﴿ وَّجَعَلَنِيۡ مُبٰرَؔكًا اَيۡنَ مَا كُنۡتُ﴾ ’’اور بنایا مجھ کو برکت والا، جس جگہ بھی میں ہوں ‘‘ یعنی ہر جگہ اور ہر زمانے میں ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھلائی کی تعلیم، بھلائی کی طرف دعوت، شر سے ممانعت، اپنے اقوال و افعال میں اللہ تعالیٰ کی دعوت کی توفیق عطا فرما کر بابرکت بنایا ہے، لہٰذا جو کوئی حضرت عیسیٰu کی صحبت اختیار کرتا تھا وہ آپ کی برکت اور سعادت سے بہرہ ور ہوتا تھا۔ ﴿ وَاَوۡصٰنِيۡ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَا دُمۡتُ حَيًّا ﴾ ’’اور تاکید کی مجھ کو نماز کی اور زکٰوۃ کی، جب تک ہوں میں زندہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے حقوق ادا کرنے کی وصیت کی ہے، جن میں سب سے بڑا حق نماز ہے اور بندوں کے حقوق پورا کرنے کی وصیت کی ہے جن میں سب سے زیادہ جلیل القدر حق زکٰوۃ ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں زندگی بھر یہ کام کرتا رہوں ۔ پس میں اپنے رب کا حکم مانتا، اس کی وصیت پر عمل کرتا اور اس کو نافذ کرتا رہوں گا۔
[32]نیز اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ وصیت بھی کی ہے کہ میں اپنی ماں کی اطاعت کروں ، اس کے ساتھ خوب احسان کروں اور اس کے حقوق پورے کروں کیونکہ اسے شرف اور فضیلت حاصل ہے۔ وہ ماں ہے اس لیے وہ جنم دینے کی بنا پر مجھ پر ولادت کا حق اور اس کے تابع دیگر حقوق رکھتی ہے۔﴿وَلَمۡ يَجۡعَلۡنِيۡ جَبَّارًؔا ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کے حضور تکبر کرنے والا اور بندوں سے اپنے آپ کو بڑا اور بلند سمجھنے والا نہیں ہوں ۔ ﴿ شَقِيًّا ﴾ یعنی میں دنیا و آخرت میں بدبخت نہیں ہوں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا اطاعت شعار، اپنے سامنے جھکنے والا، عاجزی اور تذلل اختیار کرنے والا، اللہ کے بندوں کے ساتھ تواضع اور انکساری سے پیش آنے والا اور دنیا و آخرت میں سعادت سے بہرہ مند ہونے والا بنایا۔ مجھے بھی اور میرے پیروکاروں کو بھی۔
[33] پس جب حضرت عیسیٰu کے کمال اور ان کے قابل ستائش خصائل کی تکمیل ہو گئی تو انھوں نے فرمایا: ﴿ وَالسَّلٰمُ عَلَيَّ يَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَيَوۡمَ اَمُوۡتُ وَيَوۡمَ اُبۡعَثُ حَيًّا ﴾ ’’اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں اور جس دن اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہو کر‘‘ یعنی میرے رب کے فضل و کرم سے، جس روز میری ولادت ہوئی، جس روز میں مروں اور جس روز مجھے اٹھایا جائے گا، مجھے ہر قسم کے شر، شیطان اور عذاب سے سلامتی حاصل ہے۔ یہ سلامتی ہر قسم کے خوف، فاجروں کے گھر سے سلامتی اور دارالسلام کے مستحق ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ پس یہ ایک عظیم معجزہ اور اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ درحقیقت اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں ۔
19:30قَالَ إِنِّي عَبۡدُ ٱللَّهِ ءَاتَىٰنِيَ ٱلۡكِتَٰبَ وَجَعَلَنِي نَبِيّٗا
پس لے آئی مریم اس (بچے) کو اپنی قوم کے پاس، اسے اٹھائے ہوئے، انھوں نے کہا، اے مریم! تحقیق کیا ہے تو نے کام بہت برا (27) اے بہن ہارون کی! نہ تھا تیرا باپ برا آدمی اور نہ تھی تیری ماں بدکار (28) پس مریم نے اشارہ کیا اس (بچے) کی طرف، انھوں نے کہا، کیسے کلام کریں ہم اس سے جو ہے گود میں بچہ؟ (29) بچے نے کہا، بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے دی ہے مجھے کتاب اور اس نے بنایا ہے مجھے نبی (30) اور اس نے بنایا ہے مجھے بابرکت جہاں کہیں بھی میں ہوں اور اس نے وصیت کی ہے مجھے نماز اور زکاۃ کی، جب تک میں رہوں زندہ (31) اور (بنایا مجھے) نیکی کرنے والا ساتھ اپنی والدہ کے اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش، بدبخت (32) اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں اٹھایا جاؤں گا زندہ کر کے (33)
[27] یعنی جب حضرت مریم[ اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو حضرت عیسیٰu کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائیں چونکہ انھیں اپنی براء ت اور اپنی طہارت نفس کا علم تھا اس لیے انھوں نے کسی کی پروا نہ کی۔ لوگوں نے باتیں بناتے ہوئے کہا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتِ شَيۡـًٔؔا فَرِيًّا ﴾ ’’تو نے بڑا عجیب کام کیا‘‘ یعنی بہت نازیبا کام، اس سے ان کی مراد زنا تھا … حالانکہ وہ اس سے پاک تھیں ۔
[28]﴿ يٰۤاُخۡتَ هٰؔرُوۡنَ﴾ ’’اے ہارون کی بہن۔‘‘ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم[ کا کوئی حقیقی بھائی تھا جس کی طرف ان کو منسوب کیا گیا۔ وہ انبیاء کے نام پر نام رکھا کرتے تھے۔ یہ ہارون، موسیٰu کے بھائی ہارون بن عمرانu نہیں ہیں کیوں کہ ان دونوں کی درمیان بہت صدیوں کا فاصلہ ہے۔ ﴿مَا كَانَ اَبُوۡكِ امۡرَاَ سَوۡءٍ وَّمَا كَانَتۡ اُمُّكِ بَغِيًّا﴾ ’’تیرا باپ برا آدمی تھا نہ تیری ماں بدکار‘‘ یعنی تمھارے والدین بہت نیک اور برائی سے بچے ہوئے تھے خاص طور پر اس برائی سے، جس کی طرف وہ اشارہ کر رہے تھے، محفوظ تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ تو نے کیونکر اس فعل بد کا ارتکاب کیا جس سے تمھارے والدین محفوظ تھے اور یہ کہنے کی وجہ یہ تھی کہ غالب حالات میں ، نیکی اور بدی کے معاملے میں ، اولاد اپنے والدین سے اثر پذیر ہوتی ہے، چنانچہ لوگوں کو، ان کے دلوں میں جو بات راسخ تھی، اس کی وجہ سے تعجب ہوا کہ حضرت مریم[ سے اس فعل بد کا کیسے ارتکاب ہو گیا؟
[29] پس حضرت مریم[ نے حضرت عیسیٰu کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو اور انھوں نے اس لیے اس طرف اشارہ کیا کیونکہ حضرت مریم[ کو حکم دیا گیا تھا کہ جب لوگ ان سے مخاطب ہوں تو تم کہہ دینا: ﴿ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا فَلَنۡ اُكَلِّمَ الۡيَوۡمَ اِنۡسِيًّا ﴾ ’’میں نے اللہ تعالیٰ کے لیے روزے کی منت مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی۔‘‘ جب انھوں نے لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اس (حضرت عیسیٰu) سے کلام کریں تو لوگوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا اور انھوں نے کہا: ﴿ كَيۡفَ نُكَلِّمُ مَنۡ كَانَ فِي الۡمَهۡدِ صَبِيًّا ﴾ ’’ہم کیوں کر کلام کریں اس سے کہ ہے وہ گود میں بچہ‘‘ کیونکہ یہ عام طور پر عادت جاریہ نہیں اور نہ کسی نے اس عمر میں کلام کیا ہے۔
[30] اس وقت حضرت عیسیٰu، پنگوڑے میں سے بولے:﴿اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں ‘‘ آپu نے ان کو اپنے وصف عبودیت سے آگاہ فرمایا اور ان پر واضح کیا کہ وہ کسی ایسی صفت کے حامل نہیں جو انھیں الوہیت یا اللہ کا بیٹا ہونے کا مستحق بنا دے۔ اللہ تعالیٰ ان عیسائیوں کے قول سے بالا و برتر ہے۔ جو حضرت مسیحu کے ارشاد ﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ ﴾ ’’میں اللہ کا بندہ ہوں ۔‘‘ کی صریحاً مخالفت کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ آپu کی موافقت کرتے ہیں ۔ ﴿اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’دی اس نے مجھے کتاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ مجھے کتاب عطا کرے گا ﴿ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾ ’’اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے‘‘ حضرت عیسیٰu نے آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب کی تعلیم دی اور انھیں جملہ ا نبیاء میں شامل کیا اور یہ ان کا کمال نفس ہے۔
[31] پھر حضرت عیسیٰu کے ذریعے سے دوسروں کی تکمیل کا ذکر فرمایا: ﴿ وَّجَعَلَنِيۡ مُبٰرَؔكًا اَيۡنَ مَا كُنۡتُ﴾ ’’اور بنایا مجھ کو برکت والا، جس جگہ بھی میں ہوں ‘‘ یعنی ہر جگہ اور ہر زمانے میں ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھلائی کی تعلیم، بھلائی کی طرف دعوت، شر سے ممانعت، اپنے اقوال و افعال میں اللہ تعالیٰ کی دعوت کی توفیق عطا فرما کر بابرکت بنایا ہے، لہٰذا جو کوئی حضرت عیسیٰu کی صحبت اختیار کرتا تھا وہ آپ کی برکت اور سعادت سے بہرہ ور ہوتا تھا۔ ﴿ وَاَوۡصٰنِيۡ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَا دُمۡتُ حَيًّا ﴾ ’’اور تاکید کی مجھ کو نماز کی اور زکٰوۃ کی، جب تک ہوں میں زندہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے حقوق ادا کرنے کی وصیت کی ہے، جن میں سب سے بڑا حق نماز ہے اور بندوں کے حقوق پورا کرنے کی وصیت کی ہے جن میں سب سے زیادہ جلیل القدر حق زکٰوۃ ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں زندگی بھر یہ کام کرتا رہوں ۔ پس میں اپنے رب کا حکم مانتا، اس کی وصیت پر عمل کرتا اور اس کو نافذ کرتا رہوں گا۔
[32]نیز اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ وصیت بھی کی ہے کہ میں اپنی ماں کی اطاعت کروں ، اس کے ساتھ خوب احسان کروں اور اس کے حقوق پورے کروں کیونکہ اسے شرف اور فضیلت حاصل ہے۔ وہ ماں ہے اس لیے وہ جنم دینے کی بنا پر مجھ پر ولادت کا حق اور اس کے تابع دیگر حقوق رکھتی ہے۔﴿وَلَمۡ يَجۡعَلۡنِيۡ جَبَّارًؔا ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کے حضور تکبر کرنے والا اور بندوں سے اپنے آپ کو بڑا اور بلند سمجھنے والا نہیں ہوں ۔ ﴿ شَقِيًّا ﴾ یعنی میں دنیا و آخرت میں بدبخت نہیں ہوں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا اطاعت شعار، اپنے سامنے جھکنے والا، عاجزی اور تذلل اختیار کرنے والا، اللہ کے بندوں کے ساتھ تواضع اور انکساری سے پیش آنے والا اور دنیا و آخرت میں سعادت سے بہرہ مند ہونے والا بنایا۔ مجھے بھی اور میرے پیروکاروں کو بھی۔
[33] پس جب حضرت عیسیٰu کے کمال اور ان کے قابل ستائش خصائل کی تکمیل ہو گئی تو انھوں نے فرمایا: ﴿ وَالسَّلٰمُ عَلَيَّ يَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَيَوۡمَ اَمُوۡتُ وَيَوۡمَ اُبۡعَثُ حَيًّا ﴾ ’’اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں اور جس دن اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہو کر‘‘ یعنی میرے رب کے فضل و کرم سے، جس روز میری ولادت ہوئی، جس روز میں مروں اور جس روز مجھے اٹھایا جائے گا، مجھے ہر قسم کے شر، شیطان اور عذاب سے سلامتی حاصل ہے۔ یہ سلامتی ہر قسم کے خوف، فاجروں کے گھر سے سلامتی اور دارالسلام کے مستحق ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ پس یہ ایک عظیم معجزہ اور اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ درحقیقت اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں ۔
19:31وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيۡنَ مَا كُنتُ وَأَوۡصَٰنِي بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّكَوٰةِ مَا دُمۡتُ حَيّٗا
پس لے آئی مریم اس (بچے) کو اپنی قوم کے پاس، اسے اٹھائے ہوئے، انھوں نے کہا، اے مریم! تحقیق کیا ہے تو نے کام بہت برا (27) اے بہن ہارون کی! نہ تھا تیرا باپ برا آدمی اور نہ تھی تیری ماں بدکار (28) پس مریم نے اشارہ کیا اس (بچے) کی طرف، انھوں نے کہا، کیسے کلام کریں ہم اس سے جو ہے گود میں بچہ؟ (29) بچے نے کہا، بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے دی ہے مجھے کتاب اور اس نے بنایا ہے مجھے نبی (30) اور اس نے بنایا ہے مجھے بابرکت جہاں کہیں بھی میں ہوں اور اس نے وصیت کی ہے مجھے نماز اور زکاۃ کی، جب تک میں رہوں زندہ (31) اور (بنایا مجھے) نیکی کرنے والا ساتھ اپنی والدہ کے اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش، بدبخت (32) اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں اٹھایا جاؤں گا زندہ کر کے (33)
[27] یعنی جب حضرت مریم[ اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو حضرت عیسیٰu کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائیں چونکہ انھیں اپنی براء ت اور اپنی طہارت نفس کا علم تھا اس لیے انھوں نے کسی کی پروا نہ کی۔ لوگوں نے باتیں بناتے ہوئے کہا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتِ شَيۡـًٔؔا فَرِيًّا ﴾ ’’تو نے بڑا عجیب کام کیا‘‘ یعنی بہت نازیبا کام، اس سے ان کی مراد زنا تھا … حالانکہ وہ اس سے پاک تھیں ۔
[28]﴿ يٰۤاُخۡتَ هٰؔرُوۡنَ﴾ ’’اے ہارون کی بہن۔‘‘ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم[ کا کوئی حقیقی بھائی تھا جس کی طرف ان کو منسوب کیا گیا۔ وہ انبیاء کے نام پر نام رکھا کرتے تھے۔ یہ ہارون، موسیٰu کے بھائی ہارون بن عمرانu نہیں ہیں کیوں کہ ان دونوں کی درمیان بہت صدیوں کا فاصلہ ہے۔ ﴿مَا كَانَ اَبُوۡكِ امۡرَاَ سَوۡءٍ وَّمَا كَانَتۡ اُمُّكِ بَغِيًّا﴾ ’’تیرا باپ برا آدمی تھا نہ تیری ماں بدکار‘‘ یعنی تمھارے والدین بہت نیک اور برائی سے بچے ہوئے تھے خاص طور پر اس برائی سے، جس کی طرف وہ اشارہ کر رہے تھے، محفوظ تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ تو نے کیونکر اس فعل بد کا ارتکاب کیا جس سے تمھارے والدین محفوظ تھے اور یہ کہنے کی وجہ یہ تھی کہ غالب حالات میں ، نیکی اور بدی کے معاملے میں ، اولاد اپنے والدین سے اثر پذیر ہوتی ہے، چنانچہ لوگوں کو، ان کے دلوں میں جو بات راسخ تھی، اس کی وجہ سے تعجب ہوا کہ حضرت مریم[ سے اس فعل بد کا کیسے ارتکاب ہو گیا؟
[29] پس حضرت مریم[ نے حضرت عیسیٰu کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو اور انھوں نے اس لیے اس طرف اشارہ کیا کیونکہ حضرت مریم[ کو حکم دیا گیا تھا کہ جب لوگ ان سے مخاطب ہوں تو تم کہہ دینا: ﴿ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا فَلَنۡ اُكَلِّمَ الۡيَوۡمَ اِنۡسِيًّا ﴾ ’’میں نے اللہ تعالیٰ کے لیے روزے کی منت مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی۔‘‘ جب انھوں نے لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اس (حضرت عیسیٰu) سے کلام کریں تو لوگوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا اور انھوں نے کہا: ﴿ كَيۡفَ نُكَلِّمُ مَنۡ كَانَ فِي الۡمَهۡدِ صَبِيًّا ﴾ ’’ہم کیوں کر کلام کریں اس سے کہ ہے وہ گود میں بچہ‘‘ کیونکہ یہ عام طور پر عادت جاریہ نہیں اور نہ کسی نے اس عمر میں کلام کیا ہے۔
[30] اس وقت حضرت عیسیٰu، پنگوڑے میں سے بولے:﴿اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں ‘‘ آپu نے ان کو اپنے وصف عبودیت سے آگاہ فرمایا اور ان پر واضح کیا کہ وہ کسی ایسی صفت کے حامل نہیں جو انھیں الوہیت یا اللہ کا بیٹا ہونے کا مستحق بنا دے۔ اللہ تعالیٰ ان عیسائیوں کے قول سے بالا و برتر ہے۔ جو حضرت مسیحu کے ارشاد ﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ ﴾ ’’میں اللہ کا بندہ ہوں ۔‘‘ کی صریحاً مخالفت کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ آپu کی موافقت کرتے ہیں ۔ ﴿اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’دی اس نے مجھے کتاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ مجھے کتاب عطا کرے گا ﴿ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾ ’’اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے‘‘ حضرت عیسیٰu نے آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب کی تعلیم دی اور انھیں جملہ ا نبیاء میں شامل کیا اور یہ ان کا کمال نفس ہے۔
[31] پھر حضرت عیسیٰu کے ذریعے سے دوسروں کی تکمیل کا ذکر فرمایا: ﴿ وَّجَعَلَنِيۡ مُبٰرَؔكًا اَيۡنَ مَا كُنۡتُ﴾ ’’اور بنایا مجھ کو برکت والا، جس جگہ بھی میں ہوں ‘‘ یعنی ہر جگہ اور ہر زمانے میں ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھلائی کی تعلیم، بھلائی کی طرف دعوت، شر سے ممانعت، اپنے اقوال و افعال میں اللہ تعالیٰ کی دعوت کی توفیق عطا فرما کر بابرکت بنایا ہے، لہٰذا جو کوئی حضرت عیسیٰu کی صحبت اختیار کرتا تھا وہ آپ کی برکت اور سعادت سے بہرہ ور ہوتا تھا۔ ﴿ وَاَوۡصٰنِيۡ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَا دُمۡتُ حَيًّا ﴾ ’’اور تاکید کی مجھ کو نماز کی اور زکٰوۃ کی، جب تک ہوں میں زندہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے حقوق ادا کرنے کی وصیت کی ہے، جن میں سب سے بڑا حق نماز ہے اور بندوں کے حقوق پورا کرنے کی وصیت کی ہے جن میں سب سے زیادہ جلیل القدر حق زکٰوۃ ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں زندگی بھر یہ کام کرتا رہوں ۔ پس میں اپنے رب کا حکم مانتا، اس کی وصیت پر عمل کرتا اور اس کو نافذ کرتا رہوں گا۔
[32]نیز اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ وصیت بھی کی ہے کہ میں اپنی ماں کی اطاعت کروں ، اس کے ساتھ خوب احسان کروں اور اس کے حقوق پورے کروں کیونکہ اسے شرف اور فضیلت حاصل ہے۔ وہ ماں ہے اس لیے وہ جنم دینے کی بنا پر مجھ پر ولادت کا حق اور اس کے تابع دیگر حقوق رکھتی ہے۔﴿وَلَمۡ يَجۡعَلۡنِيۡ جَبَّارًؔا ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کے حضور تکبر کرنے والا اور بندوں سے اپنے آپ کو بڑا اور بلند سمجھنے والا نہیں ہوں ۔ ﴿ شَقِيًّا ﴾ یعنی میں دنیا و آخرت میں بدبخت نہیں ہوں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا اطاعت شعار، اپنے سامنے جھکنے والا، عاجزی اور تذلل اختیار کرنے والا، اللہ کے بندوں کے ساتھ تواضع اور انکساری سے پیش آنے والا اور دنیا و آخرت میں سعادت سے بہرہ مند ہونے والا بنایا۔ مجھے بھی اور میرے پیروکاروں کو بھی۔
[33] پس جب حضرت عیسیٰu کے کمال اور ان کے قابل ستائش خصائل کی تکمیل ہو گئی تو انھوں نے فرمایا: ﴿ وَالسَّلٰمُ عَلَيَّ يَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَيَوۡمَ اَمُوۡتُ وَيَوۡمَ اُبۡعَثُ حَيًّا ﴾ ’’اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں اور جس دن اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہو کر‘‘ یعنی میرے رب کے فضل و کرم سے، جس روز میری ولادت ہوئی، جس روز میں مروں اور جس روز مجھے اٹھایا جائے گا، مجھے ہر قسم کے شر، شیطان اور عذاب سے سلامتی حاصل ہے۔ یہ سلامتی ہر قسم کے خوف، فاجروں کے گھر سے سلامتی اور دارالسلام کے مستحق ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ پس یہ ایک عظیم معجزہ اور اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ درحقیقت اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں ۔
19:32وَبَرَّۢا بِوَٰلِدَتِي وَلَمۡ يَجۡعَلۡنِي جَبَّارٗا شَقِيّٗا
پس لے آئی مریم اس (بچے) کو اپنی قوم کے پاس، اسے اٹھائے ہوئے، انھوں نے کہا، اے مریم! تحقیق کیا ہے تو نے کام بہت برا (27) اے بہن ہارون کی! نہ تھا تیرا باپ برا آدمی اور نہ تھی تیری ماں بدکار (28) پس مریم نے اشارہ کیا اس (بچے) کی طرف، انھوں نے کہا، کیسے کلام کریں ہم اس سے جو ہے گود میں بچہ؟ (29) بچے نے کہا، بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے دی ہے مجھے کتاب اور اس نے بنایا ہے مجھے نبی (30) اور اس نے بنایا ہے مجھے بابرکت جہاں کہیں بھی میں ہوں اور اس نے وصیت کی ہے مجھے نماز اور زکاۃ کی، جب تک میں رہوں زندہ (31) اور (بنایا مجھے) نیکی کرنے والا ساتھ اپنی والدہ کے اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش، بدبخت (32) اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں اٹھایا جاؤں گا زندہ کر کے (33)
[27] یعنی جب حضرت مریم[ اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو حضرت عیسیٰu کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائیں چونکہ انھیں اپنی براء ت اور اپنی طہارت نفس کا علم تھا اس لیے انھوں نے کسی کی پروا نہ کی۔ لوگوں نے باتیں بناتے ہوئے کہا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتِ شَيۡـًٔؔا فَرِيًّا ﴾ ’’تو نے بڑا عجیب کام کیا‘‘ یعنی بہت نازیبا کام، اس سے ان کی مراد زنا تھا … حالانکہ وہ اس سے پاک تھیں ۔
[28]﴿ يٰۤاُخۡتَ هٰؔرُوۡنَ﴾ ’’اے ہارون کی بہن۔‘‘ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم[ کا کوئی حقیقی بھائی تھا جس کی طرف ان کو منسوب کیا گیا۔ وہ انبیاء کے نام پر نام رکھا کرتے تھے۔ یہ ہارون، موسیٰu کے بھائی ہارون بن عمرانu نہیں ہیں کیوں کہ ان دونوں کی درمیان بہت صدیوں کا فاصلہ ہے۔ ﴿مَا كَانَ اَبُوۡكِ امۡرَاَ سَوۡءٍ وَّمَا كَانَتۡ اُمُّكِ بَغِيًّا﴾ ’’تیرا باپ برا آدمی تھا نہ تیری ماں بدکار‘‘ یعنی تمھارے والدین بہت نیک اور برائی سے بچے ہوئے تھے خاص طور پر اس برائی سے، جس کی طرف وہ اشارہ کر رہے تھے، محفوظ تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ تو نے کیونکر اس فعل بد کا ارتکاب کیا جس سے تمھارے والدین محفوظ تھے اور یہ کہنے کی وجہ یہ تھی کہ غالب حالات میں ، نیکی اور بدی کے معاملے میں ، اولاد اپنے والدین سے اثر پذیر ہوتی ہے، چنانچہ لوگوں کو، ان کے دلوں میں جو بات راسخ تھی، اس کی وجہ سے تعجب ہوا کہ حضرت مریم[ سے اس فعل بد کا کیسے ارتکاب ہو گیا؟
[29] پس حضرت مریم[ نے حضرت عیسیٰu کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو اور انھوں نے اس لیے اس طرف اشارہ کیا کیونکہ حضرت مریم[ کو حکم دیا گیا تھا کہ جب لوگ ان سے مخاطب ہوں تو تم کہہ دینا: ﴿ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا فَلَنۡ اُكَلِّمَ الۡيَوۡمَ اِنۡسِيًّا ﴾ ’’میں نے اللہ تعالیٰ کے لیے روزے کی منت مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی۔‘‘ جب انھوں نے لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اس (حضرت عیسیٰu) سے کلام کریں تو لوگوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا اور انھوں نے کہا: ﴿ كَيۡفَ نُكَلِّمُ مَنۡ كَانَ فِي الۡمَهۡدِ صَبِيًّا ﴾ ’’ہم کیوں کر کلام کریں اس سے کہ ہے وہ گود میں بچہ‘‘ کیونکہ یہ عام طور پر عادت جاریہ نہیں اور نہ کسی نے اس عمر میں کلام کیا ہے۔
[30] اس وقت حضرت عیسیٰu، پنگوڑے میں سے بولے:﴿اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں ‘‘ آپu نے ان کو اپنے وصف عبودیت سے آگاہ فرمایا اور ان پر واضح کیا کہ وہ کسی ایسی صفت کے حامل نہیں جو انھیں الوہیت یا اللہ کا بیٹا ہونے کا مستحق بنا دے۔ اللہ تعالیٰ ان عیسائیوں کے قول سے بالا و برتر ہے۔ جو حضرت مسیحu کے ارشاد ﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ ﴾ ’’میں اللہ کا بندہ ہوں ۔‘‘ کی صریحاً مخالفت کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ آپu کی موافقت کرتے ہیں ۔ ﴿اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’دی اس نے مجھے کتاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ مجھے کتاب عطا کرے گا ﴿ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾ ’’اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے‘‘ حضرت عیسیٰu نے آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب کی تعلیم دی اور انھیں جملہ ا نبیاء میں شامل کیا اور یہ ان کا کمال نفس ہے۔
[31] پھر حضرت عیسیٰu کے ذریعے سے دوسروں کی تکمیل کا ذکر فرمایا: ﴿ وَّجَعَلَنِيۡ مُبٰرَؔكًا اَيۡنَ مَا كُنۡتُ﴾ ’’اور بنایا مجھ کو برکت والا، جس جگہ بھی میں ہوں ‘‘ یعنی ہر جگہ اور ہر زمانے میں ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھلائی کی تعلیم، بھلائی کی طرف دعوت، شر سے ممانعت، اپنے اقوال و افعال میں اللہ تعالیٰ کی دعوت کی توفیق عطا فرما کر بابرکت بنایا ہے، لہٰذا جو کوئی حضرت عیسیٰu کی صحبت اختیار کرتا تھا وہ آپ کی برکت اور سعادت سے بہرہ ور ہوتا تھا۔ ﴿ وَاَوۡصٰنِيۡ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَا دُمۡتُ حَيًّا ﴾ ’’اور تاکید کی مجھ کو نماز کی اور زکٰوۃ کی، جب تک ہوں میں زندہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے حقوق ادا کرنے کی وصیت کی ہے، جن میں سب سے بڑا حق نماز ہے اور بندوں کے حقوق پورا کرنے کی وصیت کی ہے جن میں سب سے زیادہ جلیل القدر حق زکٰوۃ ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں زندگی بھر یہ کام کرتا رہوں ۔ پس میں اپنے رب کا حکم مانتا، اس کی وصیت پر عمل کرتا اور اس کو نافذ کرتا رہوں گا۔
[32]نیز اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ وصیت بھی کی ہے کہ میں اپنی ماں کی اطاعت کروں ، اس کے ساتھ خوب احسان کروں اور اس کے حقوق پورے کروں کیونکہ اسے شرف اور فضیلت حاصل ہے۔ وہ ماں ہے اس لیے وہ جنم دینے کی بنا پر مجھ پر ولادت کا حق اور اس کے تابع دیگر حقوق رکھتی ہے۔﴿وَلَمۡ يَجۡعَلۡنِيۡ جَبَّارًؔا ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کے حضور تکبر کرنے والا اور بندوں سے اپنے آپ کو بڑا اور بلند سمجھنے والا نہیں ہوں ۔ ﴿ شَقِيًّا ﴾ یعنی میں دنیا و آخرت میں بدبخت نہیں ہوں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا اطاعت شعار، اپنے سامنے جھکنے والا، عاجزی اور تذلل اختیار کرنے والا، اللہ کے بندوں کے ساتھ تواضع اور انکساری سے پیش آنے والا اور دنیا و آخرت میں سعادت سے بہرہ مند ہونے والا بنایا۔ مجھے بھی اور میرے پیروکاروں کو بھی۔
[33] پس جب حضرت عیسیٰu کے کمال اور ان کے قابل ستائش خصائل کی تکمیل ہو گئی تو انھوں نے فرمایا: ﴿ وَالسَّلٰمُ عَلَيَّ يَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَيَوۡمَ اَمُوۡتُ وَيَوۡمَ اُبۡعَثُ حَيًّا ﴾ ’’اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں اور جس دن اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہو کر‘‘ یعنی میرے رب کے فضل و کرم سے، جس روز میری ولادت ہوئی، جس روز میں مروں اور جس روز مجھے اٹھایا جائے گا، مجھے ہر قسم کے شر، شیطان اور عذاب سے سلامتی حاصل ہے۔ یہ سلامتی ہر قسم کے خوف، فاجروں کے گھر سے سلامتی اور دارالسلام کے مستحق ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ پس یہ ایک عظیم معجزہ اور اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ درحقیقت اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں ۔
19:33وَٱلسَّلَٰمُ عَلَيَّ يَوۡمَ وُلِدتُّ وَيَوۡمَ أَمُوتُ وَيَوۡمَ أُبۡعَثُ حَيّٗا
پس لے آئی مریم اس (بچے) کو اپنی قوم کے پاس، اسے اٹھائے ہوئے، انھوں نے کہا، اے مریم! تحقیق کیا ہے تو نے کام بہت برا (27) اے بہن ہارون کی! نہ تھا تیرا باپ برا آدمی اور نہ تھی تیری ماں بدکار (28) پس مریم نے اشارہ کیا اس (بچے) کی طرف، انھوں نے کہا، کیسے کلام کریں ہم اس سے جو ہے گود میں بچہ؟ (29) بچے نے کہا، بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے دی ہے مجھے کتاب اور اس نے بنایا ہے مجھے نبی (30) اور اس نے بنایا ہے مجھے بابرکت جہاں کہیں بھی میں ہوں اور اس نے وصیت کی ہے مجھے نماز اور زکاۃ کی، جب تک میں رہوں زندہ (31) اور (بنایا مجھے) نیکی کرنے والا ساتھ اپنی والدہ کے اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش، بدبخت (32) اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں اٹھایا جاؤں گا زندہ کر کے (33)
[27] یعنی جب حضرت مریم[ اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو حضرت عیسیٰu کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائیں چونکہ انھیں اپنی براء ت اور اپنی طہارت نفس کا علم تھا اس لیے انھوں نے کسی کی پروا نہ کی۔ لوگوں نے باتیں بناتے ہوئے کہا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتِ شَيۡـًٔؔا فَرِيًّا ﴾ ’’تو نے بڑا عجیب کام کیا‘‘ یعنی بہت نازیبا کام، اس سے ان کی مراد زنا تھا … حالانکہ وہ اس سے پاک تھیں ۔
[28]﴿ يٰۤاُخۡتَ هٰؔرُوۡنَ﴾ ’’اے ہارون کی بہن۔‘‘ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم[ کا کوئی حقیقی بھائی تھا جس کی طرف ان کو منسوب کیا گیا۔ وہ انبیاء کے نام پر نام رکھا کرتے تھے۔ یہ ہارون، موسیٰu کے بھائی ہارون بن عمرانu نہیں ہیں کیوں کہ ان دونوں کی درمیان بہت صدیوں کا فاصلہ ہے۔ ﴿مَا كَانَ اَبُوۡكِ امۡرَاَ سَوۡءٍ وَّمَا كَانَتۡ اُمُّكِ بَغِيًّا﴾ ’’تیرا باپ برا آدمی تھا نہ تیری ماں بدکار‘‘ یعنی تمھارے والدین بہت نیک اور برائی سے بچے ہوئے تھے خاص طور پر اس برائی سے، جس کی طرف وہ اشارہ کر رہے تھے، محفوظ تھے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ تو نے کیونکر اس فعل بد کا ارتکاب کیا جس سے تمھارے والدین محفوظ تھے اور یہ کہنے کی وجہ یہ تھی کہ غالب حالات میں ، نیکی اور بدی کے معاملے میں ، اولاد اپنے والدین سے اثر پذیر ہوتی ہے، چنانچہ لوگوں کو، ان کے دلوں میں جو بات راسخ تھی، اس کی وجہ سے تعجب ہوا کہ حضرت مریم[ سے اس فعل بد کا کیسے ارتکاب ہو گیا؟
[29] پس حضرت مریم[ نے حضرت عیسیٰu کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو اور انھوں نے اس لیے اس طرف اشارہ کیا کیونکہ حضرت مریم[ کو حکم دیا گیا تھا کہ جب لوگ ان سے مخاطب ہوں تو تم کہہ دینا: ﴿ اِنِّيۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا فَلَنۡ اُكَلِّمَ الۡيَوۡمَ اِنۡسِيًّا ﴾ ’’میں نے اللہ تعالیٰ کے لیے روزے کی منت مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی۔‘‘ جب انھوں نے لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اس (حضرت عیسیٰu) سے کلام کریں تو لوگوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا اور انھوں نے کہا: ﴿ كَيۡفَ نُكَلِّمُ مَنۡ كَانَ فِي الۡمَهۡدِ صَبِيًّا ﴾ ’’ہم کیوں کر کلام کریں اس سے کہ ہے وہ گود میں بچہ‘‘ کیونکہ یہ عام طور پر عادت جاریہ نہیں اور نہ کسی نے اس عمر میں کلام کیا ہے۔
[30] اس وقت حضرت عیسیٰu، پنگوڑے میں سے بولے:﴿اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں ‘‘ آپu نے ان کو اپنے وصف عبودیت سے آگاہ فرمایا اور ان پر واضح کیا کہ وہ کسی ایسی صفت کے حامل نہیں جو انھیں الوہیت یا اللہ کا بیٹا ہونے کا مستحق بنا دے۔ اللہ تعالیٰ ان عیسائیوں کے قول سے بالا و برتر ہے۔ جو حضرت مسیحu کے ارشاد ﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ ﴾ ’’میں اللہ کا بندہ ہوں ۔‘‘ کی صریحاً مخالفت کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ آپu کی موافقت کرتے ہیں ۔ ﴿اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’دی اس نے مجھے کتاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ مجھے کتاب عطا کرے گا ﴿ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّا﴾ ’’اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے‘‘ حضرت عیسیٰu نے آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب کی تعلیم دی اور انھیں جملہ ا نبیاء میں شامل کیا اور یہ ان کا کمال نفس ہے۔
[31] پھر حضرت عیسیٰu کے ذریعے سے دوسروں کی تکمیل کا ذکر فرمایا: ﴿ وَّجَعَلَنِيۡ مُبٰرَؔكًا اَيۡنَ مَا كُنۡتُ﴾ ’’اور بنایا مجھ کو برکت والا، جس جگہ بھی میں ہوں ‘‘ یعنی ہر جگہ اور ہر زمانے میں ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھلائی کی تعلیم، بھلائی کی طرف دعوت، شر سے ممانعت، اپنے اقوال و افعال میں اللہ تعالیٰ کی دعوت کی توفیق عطا فرما کر بابرکت بنایا ہے، لہٰذا جو کوئی حضرت عیسیٰu کی صحبت اختیار کرتا تھا وہ آپ کی برکت اور سعادت سے بہرہ ور ہوتا تھا۔ ﴿ وَاَوۡصٰنِيۡ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَا دُمۡتُ حَيًّا ﴾ ’’اور تاکید کی مجھ کو نماز کی اور زکٰوۃ کی، جب تک ہوں میں زندہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے حقوق ادا کرنے کی وصیت کی ہے، جن میں سب سے بڑا حق نماز ہے اور بندوں کے حقوق پورا کرنے کی وصیت کی ہے جن میں سب سے زیادہ جلیل القدر حق زکٰوۃ ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں زندگی بھر یہ کام کرتا رہوں ۔ پس میں اپنے رب کا حکم مانتا، اس کی وصیت پر عمل کرتا اور اس کو نافذ کرتا رہوں گا۔
[32]نیز اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ وصیت بھی کی ہے کہ میں اپنی ماں کی اطاعت کروں ، اس کے ساتھ خوب احسان کروں اور اس کے حقوق پورے کروں کیونکہ اسے شرف اور فضیلت حاصل ہے۔ وہ ماں ہے اس لیے وہ جنم دینے کی بنا پر مجھ پر ولادت کا حق اور اس کے تابع دیگر حقوق رکھتی ہے۔﴿وَلَمۡ يَجۡعَلۡنِيۡ جَبَّارًؔا ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کے حضور تکبر کرنے والا اور بندوں سے اپنے آپ کو بڑا اور بلند سمجھنے والا نہیں ہوں ۔ ﴿ شَقِيًّا ﴾ یعنی میں دنیا و آخرت میں بدبخت نہیں ہوں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا اطاعت شعار، اپنے سامنے جھکنے والا، عاجزی اور تذلل اختیار کرنے والا، اللہ کے بندوں کے ساتھ تواضع اور انکساری سے پیش آنے والا اور دنیا و آخرت میں سعادت سے بہرہ مند ہونے والا بنایا۔ مجھے بھی اور میرے پیروکاروں کو بھی۔
[33] پس جب حضرت عیسیٰu کے کمال اور ان کے قابل ستائش خصائل کی تکمیل ہو گئی تو انھوں نے فرمایا: ﴿ وَالسَّلٰمُ عَلَيَّ يَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَيَوۡمَ اَمُوۡتُ وَيَوۡمَ اُبۡعَثُ حَيًّا ﴾ ’’اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں اور جس دن اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہو کر‘‘ یعنی میرے رب کے فضل و کرم سے، جس روز میری ولادت ہوئی، جس روز میں مروں اور جس روز مجھے اٹھایا جائے گا، مجھے ہر قسم کے شر، شیطان اور عذاب سے سلامتی حاصل ہے۔ یہ سلامتی ہر قسم کے خوف، فاجروں کے گھر سے سلامتی اور دارالسلام کے مستحق ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ پس یہ ایک عظیم معجزہ اور اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ درحقیقت اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں ۔
19:34ذَٰلِكَ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَۖ قَوۡلَ ٱلۡحَقِّ ٱلَّذِي فِيهِ يَمۡتَرُونَ
یہ ہے عیسیٰ بن مریم، بات حق کی، وہ جس میں وہ لوگ شک کرتے ہیں (34) نہیں ہے لائق واسطے اللہ کے، یہ کہ بنائے وہ کوئی اولاد، پاک ہے وہ ، جب فیصلہ کرتا ہے وہ کسی کام کا تو صرف یہی کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے (35) اور بے شک اللہ ہی میرا رب ہے اور تمھارا رب تو تم اسی کی عبادت کرو، یہی ہے راہ سیدھی (36)
[35,34] یعنی حضرت عیسیٰu ان صفات سے متصف ہیں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں بلکہ یہ قول حق اور اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جس سے زیادہ سچی اور اچھی کسی اور کی بات نہیں ۔ پس حضرت عیسیٰu کی بابت دی ہوئی خبر، علم یقینی ہے اور اس کے خلاف جو کچھ کہا گیا ہے وہ قطعی طور پر باطل ہے۔ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ قائل کا محض شک ہے جو علم سے بے بہرہ ہے، اس لیے ارشاد فرمایا:﴿ الَّذِيۡ فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾’’جس میں لوگ جھگڑتے ہیں ‘‘ یعنی شک کرتے ہیں اور شک کی بنیاد پر جھگڑتے اور اندازوں کی بنیاد پر بحث کرتے ہیں … ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰu اللہ ہیں یا اللہ کے بیٹے ہیں یا تین میں سے ایک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی افتراء پردازی سے بہت بلند اور بالاتر ہے۔﴿ مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ مِنۡ وَّلَدٍ﴾ ’’نہیں لائق اللہ کے کہ پکڑے وہ اولاد‘‘ یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کے لائق ہی نہیں کیونکہ یہ ایک امر محال ہے۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز اور قابل ستائش ہے وہ تمام مملکتوں کا مالک ہے۔ پس وہ اپنے بندوں اور غلاموں کو کیسے اولاد بنا سکتا ہے؟ ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر نقص اور بیٹے کی حاجت سے پاک اور مقدس ہے۔ ﴿ اِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا﴾ یعنی جب بھی اللہ تعالیٰ چھوٹے یا بڑے معاملے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ معاملہ اس کے لیے مشکل اور ممتنع نہیں ہوتا۔ ﴿ فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ﴾ ’’تو وہ صرف یہی کہتا ہے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے‘‘ جب اس کی قدرت اور مشیت تمام عالم علوی اور سفلی پر نافذ ہے تو اس کی اولاد کیسے ہو سکتی ہے؟ اور جب وہ کسی چیز کے وجود کا ارادہ کرتا ہے تو صرف اتنا کہتا ہے (کُنْ) ’’ہو جا‘‘ (فَیَکُوْنُ) ’’تو وہ چیز ہو جاتی ہے۔‘‘ تب حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے وجود میں لانا کون سا مشکل کام ہے؟
[36] اس لیے حضرت عیسیٰu نے اپنے بارے میں آگاہ فرمایا کہ وہ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں جس طرح دوسری مخلوق ہے۔ فرمایا: ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ ﴾ ’’بے شک اللہ رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا‘‘ جس نے ہمیں پیدا کیا، ہماری صورت گری کی، ہم میں اس کی تدبیر نافذ ہوئی اور ہم میں اس کی تقدیر نے تصرف کیا۔ ﴿فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’پس تم اسی کی عبادت کرو‘‘ یعنی عبادت کو صرف اسی کے لیے خالص کرو اور اس کی طرف انابت اور رجوع میں جدوجہد کرو۔ اس میں توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا اقرار اور توحید ربوبیت کے ذریعے سے توحید الوہیت پر استدلال ہے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ ہے راستہ سیدھا‘‘ یعنی یہی اعتدال کا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے کیونکہ یہ انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کا راستہ ہے اس کے سوا ہر راستہ گمراہی کا راستہ ہے۔
19:35مَا كَانَ لِلَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٖۖ سُبۡحَٰنَهُۥٓۚ إِذَا قَضَىٰٓ أَمۡرٗا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ
یہ ہے عیسیٰ بن مریم، بات حق کی، وہ جس میں وہ لوگ شک کرتے ہیں (34) نہیں ہے لائق واسطے اللہ کے، یہ کہ بنائے وہ کوئی اولاد، پاک ہے وہ ، جب فیصلہ کرتا ہے وہ کسی کام کا تو صرف یہی کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے (35) اور بے شک اللہ ہی میرا رب ہے اور تمھارا رب تو تم اسی کی عبادت کرو، یہی ہے راہ سیدھی (36)
[35,34] یعنی حضرت عیسیٰu ان صفات سے متصف ہیں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں بلکہ یہ قول حق اور اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جس سے زیادہ سچی اور اچھی کسی اور کی بات نہیں ۔ پس حضرت عیسیٰu کی بابت دی ہوئی خبر، علم یقینی ہے اور اس کے خلاف جو کچھ کہا گیا ہے وہ قطعی طور پر باطل ہے۔ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ قائل کا محض شک ہے جو علم سے بے بہرہ ہے، اس لیے ارشاد فرمایا:﴿ الَّذِيۡ فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾’’جس میں لوگ جھگڑتے ہیں ‘‘ یعنی شک کرتے ہیں اور شک کی بنیاد پر جھگڑتے اور اندازوں کی بنیاد پر بحث کرتے ہیں … ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰu اللہ ہیں یا اللہ کے بیٹے ہیں یا تین میں سے ایک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی افتراء پردازی سے بہت بلند اور بالاتر ہے۔﴿ مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ مِنۡ وَّلَدٍ﴾ ’’نہیں لائق اللہ کے کہ پکڑے وہ اولاد‘‘ یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کے لائق ہی نہیں کیونکہ یہ ایک امر محال ہے۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز اور قابل ستائش ہے وہ تمام مملکتوں کا مالک ہے۔ پس وہ اپنے بندوں اور غلاموں کو کیسے اولاد بنا سکتا ہے؟ ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر نقص اور بیٹے کی حاجت سے پاک اور مقدس ہے۔ ﴿ اِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا﴾ یعنی جب بھی اللہ تعالیٰ چھوٹے یا بڑے معاملے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ معاملہ اس کے لیے مشکل اور ممتنع نہیں ہوتا۔ ﴿ فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ﴾ ’’تو وہ صرف یہی کہتا ہے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے‘‘ جب اس کی قدرت اور مشیت تمام عالم علوی اور سفلی پر نافذ ہے تو اس کی اولاد کیسے ہو سکتی ہے؟ اور جب وہ کسی چیز کے وجود کا ارادہ کرتا ہے تو صرف اتنا کہتا ہے (کُنْ) ’’ہو جا‘‘ (فَیَکُوْنُ) ’’تو وہ چیز ہو جاتی ہے۔‘‘ تب حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے وجود میں لانا کون سا مشکل کام ہے؟
[36] اس لیے حضرت عیسیٰu نے اپنے بارے میں آگاہ فرمایا کہ وہ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں جس طرح دوسری مخلوق ہے۔ فرمایا: ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ ﴾ ’’بے شک اللہ رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا‘‘ جس نے ہمیں پیدا کیا، ہماری صورت گری کی، ہم میں اس کی تدبیر نافذ ہوئی اور ہم میں اس کی تقدیر نے تصرف کیا۔ ﴿فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’پس تم اسی کی عبادت کرو‘‘ یعنی عبادت کو صرف اسی کے لیے خالص کرو اور اس کی طرف انابت اور رجوع میں جدوجہد کرو۔ اس میں توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا اقرار اور توحید ربوبیت کے ذریعے سے توحید الوہیت پر استدلال ہے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ ہے راستہ سیدھا‘‘ یعنی یہی اعتدال کا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے کیونکہ یہ انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کا راستہ ہے اس کے سوا ہر راستہ گمراہی کا راستہ ہے۔
19:36وَإِنَّ ٱللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُوهُۚ هَٰذَا صِرَٰطٞ مُّسۡتَقِيمٞ
یہ ہے عیسیٰ بن مریم، بات حق کی، وہ جس میں وہ لوگ شک کرتے ہیں (34) نہیں ہے لائق واسطے اللہ کے، یہ کہ بنائے وہ کوئی اولاد، پاک ہے وہ ، جب فیصلہ کرتا ہے وہ کسی کام کا تو صرف یہی کہتا ہے اس کے لیے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے (35) اور بے شک اللہ ہی میرا رب ہے اور تمھارا رب تو تم اسی کی عبادت کرو، یہی ہے راہ سیدھی (36)
[35,34] یعنی حضرت عیسیٰu ان صفات سے متصف ہیں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں بلکہ یہ قول حق اور اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جس سے زیادہ سچی اور اچھی کسی اور کی بات نہیں ۔ پس حضرت عیسیٰu کی بابت دی ہوئی خبر، علم یقینی ہے اور اس کے خلاف جو کچھ کہا گیا ہے وہ قطعی طور پر باطل ہے۔ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ قائل کا محض شک ہے جو علم سے بے بہرہ ہے، اس لیے ارشاد فرمایا:﴿ الَّذِيۡ فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾’’جس میں لوگ جھگڑتے ہیں ‘‘ یعنی شک کرتے ہیں اور شک کی بنیاد پر جھگڑتے اور اندازوں کی بنیاد پر بحث کرتے ہیں … ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰu اللہ ہیں یا اللہ کے بیٹے ہیں یا تین میں سے ایک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی افتراء پردازی سے بہت بلند اور بالاتر ہے۔﴿ مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ مِنۡ وَّلَدٍ﴾ ’’نہیں لائق اللہ کے کہ پکڑے وہ اولاد‘‘ یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کے لائق ہی نہیں کیونکہ یہ ایک امر محال ہے۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز اور قابل ستائش ہے وہ تمام مملکتوں کا مالک ہے۔ پس وہ اپنے بندوں اور غلاموں کو کیسے اولاد بنا سکتا ہے؟ ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر نقص اور بیٹے کی حاجت سے پاک اور مقدس ہے۔ ﴿ اِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا﴾ یعنی جب بھی اللہ تعالیٰ چھوٹے یا بڑے معاملے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ معاملہ اس کے لیے مشکل اور ممتنع نہیں ہوتا۔ ﴿ فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ﴾ ’’تو وہ صرف یہی کہتا ہے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتا ہے‘‘ جب اس کی قدرت اور مشیت تمام عالم علوی اور سفلی پر نافذ ہے تو اس کی اولاد کیسے ہو سکتی ہے؟ اور جب وہ کسی چیز کے وجود کا ارادہ کرتا ہے تو صرف اتنا کہتا ہے (کُنْ) ’’ہو جا‘‘ (فَیَکُوْنُ) ’’تو وہ چیز ہو جاتی ہے۔‘‘ تب حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے وجود میں لانا کون سا مشکل کام ہے؟
[36] اس لیے حضرت عیسیٰu نے اپنے بارے میں آگاہ فرمایا کہ وہ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں جس طرح دوسری مخلوق ہے۔ فرمایا: ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ ﴾ ’’بے شک اللہ رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا‘‘ جس نے ہمیں پیدا کیا، ہماری صورت گری کی، ہم میں اس کی تدبیر نافذ ہوئی اور ہم میں اس کی تقدیر نے تصرف کیا۔ ﴿فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’پس تم اسی کی عبادت کرو‘‘ یعنی عبادت کو صرف اسی کے لیے خالص کرو اور اس کی طرف انابت اور رجوع میں جدوجہد کرو۔ اس میں توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا اقرار اور توحید ربوبیت کے ذریعے سے توحید الوہیت پر استدلال ہے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہ ہے راستہ سیدھا‘‘ یعنی یہی اعتدال کا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے کیونکہ یہ انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین کا راستہ ہے اس کے سوا ہر راستہ گمراہی کا راستہ ہے۔
19:37فَٱخۡتَلَفَ ٱلۡأَحۡزَابُ مِنۢ بَيۡنِهِمۡۖ فَوَيۡلٞ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن مَّشۡهَدِ يَوۡمٍ عَظِيمٍ
پھر اختلاف کیا (ان) گروہوں نے آپس میں پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا حاضرى سے، بڑے دن (قیامت) کی (37) کیا ہی خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے وہ لوگ، جس دن وہ آئیں گے ہمارے پاس! لیکن (وہ) ظالم لوگ آج کے دن صریح گمراہی میں ہیں (38)
[37] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریمi کا حال بیان فرما دیا جس میں کوئی شک اور شبہ نہیں تو آگاہ فرمایا کہ یہودونصاریٰ اور دیگر فرقے اور گروہ جو گمراہی کے راستے پر گامزن ہیں ، اپنے اپنے طبقات کے اختلاف کے مطابق، حضرت عیسیٰu کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں ۔ اس بارے میں ایک گروہ افراط اور غلو میں مبتلا ہے تو دوسرا ان کی شان میں تنقیص اور تفریط کرنے والا ہے۔ پس ان میں سے کچھ لوگ حضرت عیسیٰu کو اللہ مانتے ہیں ۔ بعض ان کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں ، بعض کہتے ہیں وہ تین میں سے ایک ہیں ، بعض ان کو رسول بھی تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ بہتان طرازی کرتے ہیں کہ وہ (معاذ اللہ) ولدالزنا ہیں … مثلاً: یہودی وغیرہ۔ان تمام گروہوں کے اقوال باطل اور ان کی آراء فاسد ہیں جو شک و عناد، بے بنیاد شبہات اور انتہائی بودے دلائل پر مبنی ہیں ۔ اس قبیل کے تمام لوگ انتہائی سخت وعید کے مستحق ہیں ، اسی لیے فرمایا:﴿ فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’پس ہلاکت ہے کافروں کے لیے‘‘ جو اللہ، اس کے رسول اور اس کی کتابوں کا انکار کرتے ہیں ، ان میں یہود اور نصاریٰ دونوں شامل ہیں جو حضرت عیسیٰu کے بارے میں کفریہ کلمات کہتے ہیں :﴿ مِنۡ مَّشۡهَدِ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’بڑے دن کی حاضری سے‘‘ یعنی قیامت کے روز جب اولین و آخرین سب حاضر ہوں گے، زمین اور آسمانوں کے تمام رہنے والے، خالق اور مخلوق موجود ہوں گے اس وقت بے شمار زلزلے ہوں گے اور اعمال کی جزا پر مشتمل ہولناک عذاب ہوں گے تب ان کا وہ سب کچھ ظاہر ہو جائے گا جو کچھ وہ چھپاتے یا ظاہر کیا کرتے تھے۔
[38]﴿اَسۡمِعۡ بِهِمۡ وَاَبۡصِرۡ١ۙ يَوۡمَ يَاۡتُوۡنَنَا ﴾ ’’کیا خوب وہ سننے والے اور دیکھنے والے ہوں گے جس دن آئیں گے وہ ہمارے پاس‘‘ اس روز وہ خوب سنیں گے اور خوب دیکھیں گے۔ پس وہ اپنے کفر وشرک پر مبنی اقوال و نظریات کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَبۡصَرۡنَا وَسَمِعۡنَا فَارۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا اِنَّا مُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍12)’’اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا۔ پس ہمیں دنیا میں واپس بھیج تاکہ ہم نیک عمل کریں اب ہمیں یقین آگیا۔‘‘ پس قیامت کے روز اس حقیقت کا یقین آجائے گا جس میں وہ مبتلا ہوں گے۔﴿لٰكِنِ الظّٰلِمُوۡنَ الۡيَوۡمَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’لیکن ظالم لوگ آج صریح گمراہی میں ہیں ۔‘‘ اس گمراہی کا ان کے پاس کوئی عذر نہ ہو گا کیونکہ ان میں سے کچھ لوگ، بصیرت کے ساتھ حق کو پہچان کر عناد کی بنا پر روگردانی کرتے ہوئے گمراہ ہوئے ہیں اور کچھ لوگ حق و صواب کو پہچاننے کی قدرت رکھنے کے باوجود، راہ حق سے بھٹک گئے اور اپنی گمراہی اور بداعمالیوں پر راضی ہیں اور باطل میں سے حق کو پہچاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ غور کیجیے اللہ تعالیٰ نے ﴿فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ مِنۢۡ بَيۡنِهِمۡ﴾ کہنے کے بعد کیسے فرمایا: ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور (فَوَیْلٌ لَّھُمْ) نہیں فرمایا کیونکہ اس صورت میں ضمیر کا مرجع ’’الاحزاب‘‘ ہوتا اورایک دوسرے کے ساتھ اختلاف کرنے والے گروہوں میں سے ایک گروہ حق و صواب پر تھا جو حضرت عیسیٰu کے بارے میں کہتا تھا: ’’وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔‘‘ پس وہ عیسیٰu پر ایمان لائے اور ان کی پیروی کی۔ یہ لوگ مومن ہیں اور اس وعید میں داخل نہیں ہیں ، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے صرف کفار کو اس وعید کے ساتھ مختص فرمایا ہے۔
19:38أَسۡمِعۡ بِهِمۡ وَأَبۡصِرۡ يَوۡمَ يَأۡتُونَنَا لَٰكِنِ ٱلظَّـٰلِمُونَ ٱلۡيَوۡمَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ
پھر اختلاف کیا (ان) گروہوں نے آپس میں پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا حاضرى سے، بڑے دن (قیامت) کی (37) کیا ہی خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے وہ لوگ، جس دن وہ آئیں گے ہمارے پاس! لیکن (وہ) ظالم لوگ آج کے دن صریح گمراہی میں ہیں (38)
[37] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریمi کا حال بیان فرما دیا جس میں کوئی شک اور شبہ نہیں تو آگاہ فرمایا کہ یہودونصاریٰ اور دیگر فرقے اور گروہ جو گمراہی کے راستے پر گامزن ہیں ، اپنے اپنے طبقات کے اختلاف کے مطابق، حضرت عیسیٰu کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں ۔ اس بارے میں ایک گروہ افراط اور غلو میں مبتلا ہے تو دوسرا ان کی شان میں تنقیص اور تفریط کرنے والا ہے۔ پس ان میں سے کچھ لوگ حضرت عیسیٰu کو اللہ مانتے ہیں ۔ بعض ان کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں ، بعض کہتے ہیں وہ تین میں سے ایک ہیں ، بعض ان کو رسول بھی تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ بہتان طرازی کرتے ہیں کہ وہ (معاذ اللہ) ولدالزنا ہیں … مثلاً: یہودی وغیرہ۔ان تمام گروہوں کے اقوال باطل اور ان کی آراء فاسد ہیں جو شک و عناد، بے بنیاد شبہات اور انتہائی بودے دلائل پر مبنی ہیں ۔ اس قبیل کے تمام لوگ انتہائی سخت وعید کے مستحق ہیں ، اسی لیے فرمایا:﴿ فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’پس ہلاکت ہے کافروں کے لیے‘‘ جو اللہ، اس کے رسول اور اس کی کتابوں کا انکار کرتے ہیں ، ان میں یہود اور نصاریٰ دونوں شامل ہیں جو حضرت عیسیٰu کے بارے میں کفریہ کلمات کہتے ہیں :﴿ مِنۡ مَّشۡهَدِ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’بڑے دن کی حاضری سے‘‘ یعنی قیامت کے روز جب اولین و آخرین سب حاضر ہوں گے، زمین اور آسمانوں کے تمام رہنے والے، خالق اور مخلوق موجود ہوں گے اس وقت بے شمار زلزلے ہوں گے اور اعمال کی جزا پر مشتمل ہولناک عذاب ہوں گے تب ان کا وہ سب کچھ ظاہر ہو جائے گا جو کچھ وہ چھپاتے یا ظاہر کیا کرتے تھے۔
[38]﴿اَسۡمِعۡ بِهِمۡ وَاَبۡصِرۡ١ۙ يَوۡمَ يَاۡتُوۡنَنَا ﴾ ’’کیا خوب وہ سننے والے اور دیکھنے والے ہوں گے جس دن آئیں گے وہ ہمارے پاس‘‘ اس روز وہ خوب سنیں گے اور خوب دیکھیں گے۔ پس وہ اپنے کفر وشرک پر مبنی اقوال و نظریات کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَبۡصَرۡنَا وَسَمِعۡنَا فَارۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا اِنَّا مُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍12)’’اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا۔ پس ہمیں دنیا میں واپس بھیج تاکہ ہم نیک عمل کریں اب ہمیں یقین آگیا۔‘‘ پس قیامت کے روز اس حقیقت کا یقین آجائے گا جس میں وہ مبتلا ہوں گے۔﴿لٰكِنِ الظّٰلِمُوۡنَ الۡيَوۡمَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’لیکن ظالم لوگ آج صریح گمراہی میں ہیں ۔‘‘ اس گمراہی کا ان کے پاس کوئی عذر نہ ہو گا کیونکہ ان میں سے کچھ لوگ، بصیرت کے ساتھ حق کو پہچان کر عناد کی بنا پر روگردانی کرتے ہوئے گمراہ ہوئے ہیں اور کچھ لوگ حق و صواب کو پہچاننے کی قدرت رکھنے کے باوجود، راہ حق سے بھٹک گئے اور اپنی گمراہی اور بداعمالیوں پر راضی ہیں اور باطل میں سے حق کو پہچاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ غور کیجیے اللہ تعالیٰ نے ﴿فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ مِنۢۡ بَيۡنِهِمۡ﴾ کہنے کے بعد کیسے فرمایا: ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ اور (فَوَیْلٌ لَّھُمْ) نہیں فرمایا کیونکہ اس صورت میں ضمیر کا مرجع ’’الاحزاب‘‘ ہوتا اورایک دوسرے کے ساتھ اختلاف کرنے والے گروہوں میں سے ایک گروہ حق و صواب پر تھا جو حضرت عیسیٰu کے بارے میں کہتا تھا: ’’وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔‘‘ پس وہ عیسیٰu پر ایمان لائے اور ان کی پیروی کی۔ یہ لوگ مومن ہیں اور اس وعید میں داخل نہیں ہیں ، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے صرف کفار کو اس وعید کے ساتھ مختص فرمایا ہے۔
19:39وَأَنذِرۡهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡحَسۡرَةِ إِذۡ قُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ وَهُمۡ فِي غَفۡلَةٖ وَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ
اور آپ ڈرائیں انھیں روز حسرت سے، جب فیصلہ کیا جائے گا (ہر) معاملے کا اور وہ غفلت میں ہیں اور وہ نہیں ایمان لاتے (39)بلاشبہ ہم ہی وارث ہوں گے زمین کے اور ان کے جو اس پر (رہنے والے) ہیں اور ہماری ہی طرف وہ لوٹائے جائیں گے (40)
[40,39] کسی خوفناک معاملے میں ، ترہیب کے پہلو سے اس کی صفات بیان کر کے آگاہ کرنا ’’انذار‘‘ ہے۔ اور وہ معاملہ جس کے بارے میں بندوں کو سب سے زیادہ ڈرایا جانا چاہیے وہ ’’حسرت کا دن‘‘ ہے جب فیصلہ کیا جائے گا۔ پس اولین وآخرین ایک ہی جگہ اکٹھے کیے جائیں گے اور ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پس جو کوئی اللہ پر ایمان لایا اور اس کے رسولوں کی اتباع کرتا رہا تو وہ ابدی سعادت سے بہرہ مند ہو گا اس کے بعد کبھی اسے بدبختی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لایا اور اس کے رسولوں کی پیروی نہ کی تو وہ بدبختی میں پڑے گا اور اس کے بعد نیک بختی اس کے حصے میں نہیں آئے گی اور اس نے اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈال دیا۔ پس اس وقت حسرت اور ندامت سے دل پارہ پارہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت سے محرومی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور جہنم کے استحقاق سے بڑھ کر کون سی حسرت ہو سکتی ہے، جہاں دوبارہ عمل کرنے کے لیے واپسی ممکن نہ ہو اور دنیا میں دوبارہ آ کر اپنے احوال کے بدلنے کا کوئی راستہ نہ ہو۔یہ سب کچھ انھیں پیش آئے گا مگر ان کی حالت یہ ہے کہ وہ دنیا میں اس عظیم معاملے کے بارے میں غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ، اس کے بارے میں انھیں کبھی خیال ہی نہیں آیا اور اگر انھیں کبھی خیال آیا بھی ہے تو وہ بھی غفلت میں ۔ غفلت نے ان کو گھیر رکھا ہے اور مدہوشی ان پر غالب ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں نہ اس کے رسولوں کی اتباع کرتے ہیں ۔ ان کی دنیا نے ان کو غافل کر دیا، ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان ختم ہو جانے والی فانی شہوات حائل ہو گئیں ۔یہ دنیا اور اول سے لے کر آخر تک دنیا کی تمام چیزیں دنیا داروں کوچھوڑ جائیں گی اور وہ دنیا کو چھوڑ کر چل دیں گے اور زمین اور اس میں موجود تمام چیزوں کا وارث اللہ تعالیٰ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی طرف لوٹائے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ وہ ان اعمال میں خسارہ اٹھائیں گے یا نفع میں رہیں گے، لہٰذا جو کوئی نیک کام کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی حمدوستائش کرنی چاہیے اور جس کے اعمال اس سے مختلف ہیں اسے اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہیں کرنی چاہیے۔
تمام کتابوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے افضل اور سب سے زیادہ بلند مرتبے والی کتاب، یہ کتاب مبین اور ذکر حکیم یعنی قرآن مجید ہے۔ اگر اس میں خبریں بیان کی گئی ہیں تو یہ خبریں سب سے زیادہ سچی، سب سے زیادہ حق اور سب سے زیادہ نفع مند ہیں ۔ اگر اس میں اوامر و نواہی کا تذکرہ ہے تو یہ اوامر ونواہی سب سے زیادہ قدر و قیمت کے حامل اور سب سے زیادہ عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ اگر اس میں سزا و جزا اور وعدے وعید کا ذکر کیا گیا ہے تو وہ سب سے زیادہ سچی خبر اور سب سے زیادہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے عدل وفضل پر سب سے زیادہ دلالت کرتی ہے اور اگر اس میں انبیاء و مرسلین کا ذکر ہے تو اس میں مذکور یہ مقدس ہستیاں دیگر تمام لوگوں سے کامل اور افضل ہیں ۔ بناء بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان انبیائے کرام کے واقعات بیان کیے ہیں اور ان کا بار بار اعادہ کیا ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں پر فضیلت عطا کی اور انھیں قدرومنزلت سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی محبت، اس کی طرف انابت، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور اس راستے میں اذیتوں پر صبر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بلند درجات عطا کیے اور انھیں مقامات فاخرہ اور منازل عالیہ سے نوازا۔پس اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کا ذکر فرمایا اور اپنے رسول (ﷺ) کو حکم دیا کہ وہ بھی ان کا ذکر کریں کیونکہ ان کے تذکرے میں اللہ تعالیٰ کی بھی تعریف ہے اور ان کی مدح ستائش کا اظہار اور ان پر اس کے فضل و کرم کا بیان بھی ہے، نیز اس میں ان پر ایمان لانے، ان کے ساتھ محبت کرنے اور ان کی پیروی کرنے کی ترغیب ہے۔
19:40إِنَّا نَحۡنُ نَرِثُ ٱلۡأَرۡضَ وَمَنۡ عَلَيۡهَا وَإِلَيۡنَا يُرۡجَعُونَ
اور آپ ڈرائیں انھیں روز حسرت سے، جب فیصلہ کیا جائے گا (ہر) معاملے کا اور وہ غفلت میں ہیں اور وہ نہیں ایمان لاتے (39)بلاشبہ ہم ہی وارث ہوں گے زمین کے اور ان کے جو اس پر (رہنے والے) ہیں اور ہماری ہی طرف وہ لوٹائے جائیں گے (40)
[40,39] کسی خوفناک معاملے میں ، ترہیب کے پہلو سے اس کی صفات بیان کر کے آگاہ کرنا ’’انذار‘‘ ہے۔ اور وہ معاملہ جس کے بارے میں بندوں کو سب سے زیادہ ڈرایا جانا چاہیے وہ ’’حسرت کا دن‘‘ ہے جب فیصلہ کیا جائے گا۔ پس اولین وآخرین ایک ہی جگہ اکٹھے کیے جائیں گے اور ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پس جو کوئی اللہ پر ایمان لایا اور اس کے رسولوں کی اتباع کرتا رہا تو وہ ابدی سعادت سے بہرہ مند ہو گا اس کے بعد کبھی اسے بدبختی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لایا اور اس کے رسولوں کی پیروی نہ کی تو وہ بدبختی میں پڑے گا اور اس کے بعد نیک بختی اس کے حصے میں نہیں آئے گی اور اس نے اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈال دیا۔ پس اس وقت حسرت اور ندامت سے دل پارہ پارہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت سے محرومی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور جہنم کے استحقاق سے بڑھ کر کون سی حسرت ہو سکتی ہے، جہاں دوبارہ عمل کرنے کے لیے واپسی ممکن نہ ہو اور دنیا میں دوبارہ آ کر اپنے احوال کے بدلنے کا کوئی راستہ نہ ہو۔یہ سب کچھ انھیں پیش آئے گا مگر ان کی حالت یہ ہے کہ وہ دنیا میں اس عظیم معاملے کے بارے میں غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ، اس کے بارے میں انھیں کبھی خیال ہی نہیں آیا اور اگر انھیں کبھی خیال آیا بھی ہے تو وہ بھی غفلت میں ۔ غفلت نے ان کو گھیر رکھا ہے اور مدہوشی ان پر غالب ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں نہ اس کے رسولوں کی اتباع کرتے ہیں ۔ ان کی دنیا نے ان کو غافل کر دیا، ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان ختم ہو جانے والی فانی شہوات حائل ہو گئیں ۔یہ دنیا اور اول سے لے کر آخر تک دنیا کی تمام چیزیں دنیا داروں کوچھوڑ جائیں گی اور وہ دنیا کو چھوڑ کر چل دیں گے اور زمین اور اس میں موجود تمام چیزوں کا وارث اللہ تعالیٰ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی طرف لوٹائے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ وہ ان اعمال میں خسارہ اٹھائیں گے یا نفع میں رہیں گے، لہٰذا جو کوئی نیک کام کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی حمدوستائش کرنی چاہیے اور جس کے اعمال اس سے مختلف ہیں اسے اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہیں کرنی چاہیے۔
تمام کتابوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے افضل اور سب سے زیادہ بلند مرتبے والی کتاب، یہ کتاب مبین اور ذکر حکیم یعنی قرآن مجید ہے۔ اگر اس میں خبریں بیان کی گئی ہیں تو یہ خبریں سب سے زیادہ سچی، سب سے زیادہ حق اور سب سے زیادہ نفع مند ہیں ۔ اگر اس میں اوامر و نواہی کا تذکرہ ہے تو یہ اوامر ونواہی سب سے زیادہ قدر و قیمت کے حامل اور سب سے زیادہ عدل و انصاف پر مبنی ہیں ۔ اگر اس میں سزا و جزا اور وعدے وعید کا ذکر کیا گیا ہے تو وہ سب سے زیادہ سچی خبر اور سب سے زیادہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے عدل وفضل پر سب سے زیادہ دلالت کرتی ہے اور اگر اس میں انبیاء و مرسلین کا ذکر ہے تو اس میں مذکور یہ مقدس ہستیاں دیگر تمام لوگوں سے کامل اور افضل ہیں ۔ بناء بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان انبیائے کرام کے واقعات بیان کیے ہیں اور ان کا بار بار اعادہ کیا ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں پر فضیلت عطا کی اور انھیں قدرومنزلت سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی محبت، اس کی طرف انابت، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور اس راستے میں اذیتوں پر صبر کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بلند درجات عطا کیے اور انھیں مقامات فاخرہ اور منازل عالیہ سے نوازا۔پس اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کا ذکر فرمایا اور اپنے رسول (ﷺ) کو حکم دیا کہ وہ بھی ان کا ذکر کریں کیونکہ ان کے تذکرے میں اللہ تعالیٰ کی بھی تعریف ہے اور ان کی مدح ستائش کا اظہار اور ان پر اس کے فضل و کرم کا بیان بھی ہے، نیز اس میں ان پر ایمان لانے، ان کے ساتھ محبت کرنے اور ان کی پیروی کرنے کی ترغیب ہے۔
19:41وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ إِبۡرَٰهِيمَۚ إِنَّهُۥ كَانَ صِدِّيقٗا نَّبِيًّا
اورذکر کیجیے کتاب میں ابراہیم کا، بے شک وہ تھا نہایت سچا، نبی (41) جب اس نے کہا اپنے باپ سے، اے میرے باپ! کیوں عبادت کرتا ہے تو اس کی جو نہ سنے اور نہ دیکھے اور نہ وہ کام آئے تیرے کچھ بھی (42) اے میرے باپ! بے شک میں ، تحقیق آیا ہے میرے پاس وہ علم وہ نہیں آیا تیرے پاس، پس تو پیروی کر میری، میں بتلاؤں گا تجھے راہ سیدھی (43) اے میرے باپ! مت عبادت کر تو شیطان کی، بلاشبہ شیطان ہے رحمٰن کا بہت نافرمان (44) اے میرے باپ بے شک میں ڈرتا ہوں اس بات سے کہ پہنچے تجھے عذاب رحمٰن کی طرف سے، پس ہو جائے تو شیطان کا دوست (45) اس (آزر) نے کہا، کیا بے زغبتی کرتا ہے تو میرے معبودوں سے، اے ابراہیم؟ البتہ اگر نہ باز آیا تو اس سے تو البتہ ضرور سنگسار کر دوں گا میں تجھےاورچھوڑ جا مجھے لمبا عرصہ (46) ابراہیم نے کہا، سلام ہو تجھ پر ضرور بخشش مانگوں گا تیرے لیے، اپنے رب سے، بلاشبہ وہ ہے مجھ پر نہایت مہربان (47) میں کنارہ کش ہوتا ہوں تم سے اور ان سے جنھیں تم پکارتے ہو، سوائے اللہ کےاور میں پکارتا ہوں اپنے رب کو، امید ہے کہ نہیں ہوں گا میں پکار کر اپنے رب کو محروم (48) پس جب وہ کنارہ کش ہو گیا ان سے اوران سے بھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے تو عطا کیے ہم نے اسے اسحٰق اور یعقوب اور ہر ایک کو بنایا ہم نے نبی (49) اور نوازا ہم نے انھیں اپنی رحمت سے اور کر دیا ہم نے ان کے لیے سچائی کی زبان (ان کے ذکر خیر) کو بلند (50)
[41] فرمایا: ﴿ وَ اذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ اِبۡرٰؔهِيۡمَ١ؕ ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا ﴾ ’’اور یاد کرو کتاب میں ابراہیم کو، بے شک وہ سچے نبی تھے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بیک وقت صدیقیت اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔ صدیق، بہت راست باز شخص کو کہا جاتا ہے۔ پس وہ اپنے اقوال، افعال اور احوال میں سچا ہونے کے ساتھ ساتھ ہر اس چیز کی بھی تصدیق کرتا ہے جس کی تصدیق کا اس کو حکم دیا جاتا ہے اور یہ خوبی مستلزم ہے اس عظیم علم کو جو دل کی گہرائیوں تک پہنچتا اور اس پر اثر انداز ہوتا ہے، نیز یقین اور کامل عمل صالح کا موجب ہوتا ہے۔حضرت ابراہیمu، حضرت محمدﷺ کے بعد تمام انبیاء ومرسلین میں افضل ہیں ۔ وہ تمام اصحاب فضیلت گروہوں کے تیسرے باپ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذریت کو نبوت اور کتاب سے نوازا۔ حضرت ابراہیمu نے تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی پھر اس راستے میں پیش آنے والی اذیتوں اور بڑی بڑی تعذیب پر صبر کیا۔ انھوں نے قریب اور بعید، سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور اپنے باپ کو، جیسے بھی ممکن ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کی بھرپور جدوجہد کی۔
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کی اس بحث وتکرار کا ذکر کیا جو انھوں نے اپنے باپ سے کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں نے کہا اپنے باپ سے‘‘ یعنی بتوں کی عبادت کی قباحت بیان کرتے ہوئے اپنے باپ سے کہا: ﴿ يٰۤاَ بَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡكَ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی آپ ان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو اپنی ذات اور افعال میں ناقص ہیں ، جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں ، جو اپنے عبادت گزار کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان بلکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور نہ اپنی ذات سے کوئی چیز دور ہٹانے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ پس یہ اس حقیقت پر ایک روشن دلیل ہے کہ ایسی ہستی کی عبادت کرنا، جو اپنی ذات اور اپنے افعال میں ناقص ہے، عقل اور شرع کے اعتبار سے قبیح ہے۔ اس کی تنبیہ اور اس کا اشارہ دلالت کرتا ہے کہ عبادت صرف اسی ہستی کی واجب اور مستحسن ہے جو کمال کی مالک ہے، جس کے سوا بندے کہیں سے نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے، جس کے سوا کوئی اور ہستی ان سے کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات۔
[43]﴿ يٰۤاَ بَتِ اِنِّيۡ قَدۡ جَآءَنِيۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَاۡتِكَ ﴾ یعنی ابا جان! مجھے حقیر نہ جانیں اور یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اور یہ کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ میرے پاس نہیں بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم عطا کیا ہے جو آپ کو عطا نہیں کیا اور حضرت ابراہیمu کے اس قول کا مقصد یہ کہنا تھا کہ: ﴿ فَاتَّبِعۡنِيۡۤ اَهۡدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا﴾ ’’آپ میری پیروی کریں میں دکھلاؤں گا آپ کو سیدھا راستہ‘‘ یعنی سیدھا اور معتدل راستہ اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تمام احوال میں اس کی اطاعت کرنا۔ اس خطاب میں جو لطف و کرم اور جو نرمی ہے وہ مخفی نہیں ۔ آپu نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ابا جان میں عالم ہوں اور آپ جاہل ہیں ‘‘ یا ’’آپ کے پاس کوئی علم نہیں ‘‘ آپu نے اس پیرائے میں گفتگو فرمائی ’’میرے پاس اور آپ کے پاس علم ہے مگر جو علم مجھ تک پہنچا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچا، اس لیے آپ کے لیے مناسب یہی ہے کہ آپ دلیل کی پیروی کریں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔‘‘
[44]﴿ يٰۤاَ بَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّيۡطٰنَ﴾ ’’ابا جان! شیطان کی عبادت نہ کریں ‘‘ کیونکہ جس نے غیر اللہ کی عبادت کی اس نے شیطان کی عبادت کی جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾(یٰسٓ:36؍60) ’’اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِيًّا ﴾ ’’بے شک شیطان رحمٰن کا نافرمان ہے‘‘ پس جو کوئی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرتا ہے وہ شیطان کا دوست اور شیطان کی مانند اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ یہاں نافرمانی کو اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (رحمٰن) کی طرف مضاف کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نافرمانیاں بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر دیتی ہیں اور اس پر رحمت کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رحمت الٰہی کے حصول کا سب سے بڑا سبب ہے۔
[45] اس لیے فرمایا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ﴾ ’’ابا جان! مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو کہیں رحمٰن کی طرف سے عذاب نہ آلے‘‘ یعنی کفر پر آپ کے اصرار اور سرکشی میں آپ کے بڑھتے چلے جانے کے سبب سے۔ ﴿ فَتَكُوۡنَ لِلشَّيۡطٰنِ وَلِيًّا ﴾ ’’پس آپ شیطان کے دوست ہو جائیں ‘‘ یعنی دنیا وآخرت میں ۔ پس آپ اس کے مذموم مقام و منزلت پر اتار دیے جائیں اور شیطان کی ضرر رساں اور گندی چراگاہ میں چریں ۔اور یوں حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو آسان سے آسان تر امر کی طرف دعوت دی۔ آپ نے اسے اپنے علم کے ذریعے سے بتایا کہ یہ چیز آپ پر میری اطاعت کی موجب ہے اگر آپ میری اطاعت کریں گے تو میں سیدھے راستے کی طرف آپ کی راہنمائی کروں گا، پھر آپ نے اسے شیطان کی عبادت سے منع فرمایا اور اسے ان مضرتوں کے بارے میں خبردار کیا جو شیطان کی عبادت میں پنہاں ہیں ، پھر اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرایا کہ اگر وہ اپنے اسی حال پر قائم رہا تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ شیطان کا دوست شمار ہو گا۔
[46] مگر یہ دعوت اس بدبخت کے کسی کام نہ آئی۔ اس نے ایک جاہل کی مانند جواب دیا: ﴿ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِهَتِيۡ يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ ’’اے ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے اعراض کرتا ہے؟‘‘ اس نے اپنے معبودوں پر فخر کا اظہار کیا جو پتھر کے بنے ہوئے بت تھے۔ اور حضرت ابراہیمu کو ان معبودوں سے روگردانی کرنے پر ملامت کرنے لگا، یہ اس کی بہت بڑی جہالت اور بہت بڑا کفر تھا، وہ بتوں کی عبادت پر مدح چاہتا تھا اور اس عبادت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ ﴾ یعنی اگر تو میرے معبودوں کو سب وشتم کرنے اور مجھے اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَاَرۡجُمَنَّكَ ﴾ یعنی میں تجھے پتھر مار مار کر قتل کر دوں گا ﴿ وَاهۡجُرۡنِيۡ مَلِيًّا ﴾ ’’اور چھوڑ دے مجھ کو ایک مدت تک‘‘ یعنی طویل زمانے تک میرے ساتھ بات نہ کر۔
[47] حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو اس طرح جواب دیا جس طرح رحمٰن کے بندے جہلاء کو جواب دیتے ہیں ۔ آپ اس سے سب و شتم سے پیش نہیں آئے بلکہ صبر سے کام لیا اور کوئی ایسی بات نہیں کہی جو باپ کو ناگوار گزرتی۔ فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ ﴾ ’’سلام آپ پر‘‘ یعنی آپ میرے خطاب میں سب و شتم اور ناگوار باتوں سے محفوظ رہیں گے۔ ﴿سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ﴾ یعنی میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور مغفرت کی دعا مانگتا رہوں گا کہ وہ آپ کی اسلام کی طرف راہنمائی کرے جس کے ذریعے سے مغفرت حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾ کیونکہ وہ میرے حال پر بہت رحیم اور مہربان ہے اور مجھے اپنے سایۂ اعتناء میں رکھتا ہے۔ پس حضرت ابراہیمu اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دے دے گا، اپنے باپ کے لیے استغفار کرتے رہے، پھر جب آپ پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کے لیے استغفار کرنا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا چھوڑ دی اور اس سے برا ء ت کا اظہار کر دیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں ملت ابراہیم کی اتباع کا حکم دیا ہے اور ان کی ملت کی پیروی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں ہم آپ کی راہ پر گامزن ہوں اور علم و حکمت اور نرم رویہ اپنائیں ۔ دعوت الی اللہ میں تدریج اور ترتیب کا طریقہ اختیار کریں ، اس پر صبر کریں اور اس سے ہرگز نہ اکتائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کو، لوگوں کی طرف سے جن قولی اور فعلی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان پر صبر کرے اور عفو، درگزر، قولی اور فعلی حسن سلوک کے ساتھ ان اذیتوں کا مقابلہ کرے۔
[48] جب ابراہیمu اپنی قوم اور اپنے باپ کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو کہنے لگے: ﴿ وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ یعنی میں تم سے اور تمھارے بتوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ﴿ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ﴾’’اور میں یہ دعا کروں گا اپنے رب سے‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے سوال دونوں کو شامل ہے﴿ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا﴾ ’’امید ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں گا‘‘ یعنی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا اور اعمال کو قبول فرما کر مجھے سعادت سے نواز دے۔ یہ اس داعی حق کا وظیفہ ہے جو ایسے لوگوں سے مایوس ہو گیا تھا جن کو اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے رہے اور وعظ و نصیحت نے ان کو کوئی فائدہ نہیں دیا اور وہ اپنی سرکشی میں اصرار کے ساتھ سرگرداں رہے۔جو کوئی اس قسم کی صورت حال میں مبتلا ہو جائے تو اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح میں مشغول رہے اور اپنے رب سے امید رکھے کہ وہ اس کی کوشش کو قبول فرمائے گا اور وہ شر اور اہل شر سے دور رہے۔
[49] انسان کے لیے اپنے وطن مالوف، اپنے اہل و عیال اور اپنی قوم سے جدا ہونا سب سے مشکل اور سب سے زیادہ شاق گزرنے والا کام ہے اور اس کی کئی وجوہ ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی وجہ سے باعزت اور کثرت والا ہوتا ہے اور جو کوئی اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عوض اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم u نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا:﴿ فَلَمَّا اعۡتَزَلَهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ١ؕ وَكُلًّا﴾ ’’پس جب وہ (ابراہیمu) ان لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے، ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور سب کو۔‘‘ حضرت اسحاق اور یعقوبi دونوں کو ﴿ جَعَلۡنَا نَبِيًّا ﴾ ’’ہم نے نبی بنایا۔‘‘ پس حضرت ابراہیم u اور ان تمام صالحین و مرسلین کو یہ شرف نبوت حاصل ہوا جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجا، انھیں اپنی وحی کے لیے مختص کیا، انھیں اپنی رسالت کے لیے تمام جہانوں میں سے چن لیا۔
[50] فرمایا ﴿ وَوَهَبۡنَا لَهُمۡ﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیمu اور ان کے دونوں بیٹوں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوبi کو ﴿مِّنۡ رَّحۡمَتِنَا ﴾’’اپنی رحمت سے نوازا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے بہرہ ور کیا، علوم نافعہ اور اعمال صالحہ عطا کیے اور انھیں بے شمار ذریت عطا کی جو ساری دنیا میں پھیلی اور ان کے اندر بکثرت انبیاء اور صالحین ہوئے۔﴿ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ﴾ ’’اور ان کے ذکر جمیل کو بلند کیا۔‘‘ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے ان کو بہرہ ور کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیک کام کرنے والے ہر شخص سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کی نیکی کے مطابق اسے سچی شہرت عطا کرے گا۔ ان کا شمار تو ائمہ محسنین میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں سچی، جس میں جھوٹ کا شائبہ نہیں ، ظاہر و باہر اور غیر مخفی ثنائے حسن عطا کی۔ ان کے ذکر خیر، ان کی ثنائے حسن اور ان کے ساتھ محبت نے مشرق و مغرب کو لبریز کر دیا ہے۔ خلائق کے دلوں میں ان کی محبت سما گئی، لوگوں کی زبان پر ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا جاری ہو گئی۔ وہ پیروی کرنے والوں کے قائد اور راہنمائی حاصل کرنے والوں کے راہ نما بن گئے۔ ہر زمانے میں ان کا ذکر خیر نئے نئے اسالیب میں لوگوں کی زبانوں پر جای رہا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور اللہ تعالیٰ فضل عظیم کا مالک ہے۔
19:42إِذۡ قَالَ لِأَبِيهِ يَـٰٓأَبَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِي عَنكَ شَيۡـٔٗا
اورذکر کیجیے کتاب میں ابراہیم کا، بے شک وہ تھا نہایت سچا، نبی (41) جب اس نے کہا اپنے باپ سے، اے میرے باپ! کیوں عبادت کرتا ہے تو اس کی جو نہ سنے اور نہ دیکھے اور نہ وہ کام آئے تیرے کچھ بھی (42) اے میرے باپ! بے شک میں ، تحقیق آیا ہے میرے پاس وہ علم وہ نہیں آیا تیرے پاس، پس تو پیروی کر میری، میں بتلاؤں گا تجھے راہ سیدھی (43) اے میرے باپ! مت عبادت کر تو شیطان کی، بلاشبہ شیطان ہے رحمٰن کا بہت نافرمان (44) اے میرے باپ بے شک میں ڈرتا ہوں اس بات سے کہ پہنچے تجھے عذاب رحمٰن کی طرف سے، پس ہو جائے تو شیطان کا دوست (45) اس (آزر) نے کہا، کیا بے زغبتی کرتا ہے تو میرے معبودوں سے، اے ابراہیم؟ البتہ اگر نہ باز آیا تو اس سے تو البتہ ضرور سنگسار کر دوں گا میں تجھےاورچھوڑ جا مجھے لمبا عرصہ (46) ابراہیم نے کہا، سلام ہو تجھ پر ضرور بخشش مانگوں گا تیرے لیے، اپنے رب سے، بلاشبہ وہ ہے مجھ پر نہایت مہربان (47) میں کنارہ کش ہوتا ہوں تم سے اور ان سے جنھیں تم پکارتے ہو، سوائے اللہ کےاور میں پکارتا ہوں اپنے رب کو، امید ہے کہ نہیں ہوں گا میں پکار کر اپنے رب کو محروم (48) پس جب وہ کنارہ کش ہو گیا ان سے اوران سے بھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے تو عطا کیے ہم نے اسے اسحٰق اور یعقوب اور ہر ایک کو بنایا ہم نے نبی (49) اور نوازا ہم نے انھیں اپنی رحمت سے اور کر دیا ہم نے ان کے لیے سچائی کی زبان (ان کے ذکر خیر) کو بلند (50)
[41] فرمایا: ﴿ وَ اذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ اِبۡرٰؔهِيۡمَ١ؕ ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا ﴾ ’’اور یاد کرو کتاب میں ابراہیم کو، بے شک وہ سچے نبی تھے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بیک وقت صدیقیت اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔ صدیق، بہت راست باز شخص کو کہا جاتا ہے۔ پس وہ اپنے اقوال، افعال اور احوال میں سچا ہونے کے ساتھ ساتھ ہر اس چیز کی بھی تصدیق کرتا ہے جس کی تصدیق کا اس کو حکم دیا جاتا ہے اور یہ خوبی مستلزم ہے اس عظیم علم کو جو دل کی گہرائیوں تک پہنچتا اور اس پر اثر انداز ہوتا ہے، نیز یقین اور کامل عمل صالح کا موجب ہوتا ہے۔حضرت ابراہیمu، حضرت محمدﷺ کے بعد تمام انبیاء ومرسلین میں افضل ہیں ۔ وہ تمام اصحاب فضیلت گروہوں کے تیسرے باپ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذریت کو نبوت اور کتاب سے نوازا۔ حضرت ابراہیمu نے تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی پھر اس راستے میں پیش آنے والی اذیتوں اور بڑی بڑی تعذیب پر صبر کیا۔ انھوں نے قریب اور بعید، سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور اپنے باپ کو، جیسے بھی ممکن ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کی بھرپور جدوجہد کی۔
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کی اس بحث وتکرار کا ذکر کیا جو انھوں نے اپنے باپ سے کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں نے کہا اپنے باپ سے‘‘ یعنی بتوں کی عبادت کی قباحت بیان کرتے ہوئے اپنے باپ سے کہا: ﴿ يٰۤاَ بَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡكَ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی آپ ان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو اپنی ذات اور افعال میں ناقص ہیں ، جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں ، جو اپنے عبادت گزار کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان بلکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور نہ اپنی ذات سے کوئی چیز دور ہٹانے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ پس یہ اس حقیقت پر ایک روشن دلیل ہے کہ ایسی ہستی کی عبادت کرنا، جو اپنی ذات اور اپنے افعال میں ناقص ہے، عقل اور شرع کے اعتبار سے قبیح ہے۔ اس کی تنبیہ اور اس کا اشارہ دلالت کرتا ہے کہ عبادت صرف اسی ہستی کی واجب اور مستحسن ہے جو کمال کی مالک ہے، جس کے سوا بندے کہیں سے نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے، جس کے سوا کوئی اور ہستی ان سے کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات۔
[43]﴿ يٰۤاَ بَتِ اِنِّيۡ قَدۡ جَآءَنِيۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَاۡتِكَ ﴾ یعنی ابا جان! مجھے حقیر نہ جانیں اور یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اور یہ کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ میرے پاس نہیں بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم عطا کیا ہے جو آپ کو عطا نہیں کیا اور حضرت ابراہیمu کے اس قول کا مقصد یہ کہنا تھا کہ: ﴿ فَاتَّبِعۡنِيۡۤ اَهۡدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا﴾ ’’آپ میری پیروی کریں میں دکھلاؤں گا آپ کو سیدھا راستہ‘‘ یعنی سیدھا اور معتدل راستہ اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تمام احوال میں اس کی اطاعت کرنا۔ اس خطاب میں جو لطف و کرم اور جو نرمی ہے وہ مخفی نہیں ۔ آپu نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ابا جان میں عالم ہوں اور آپ جاہل ہیں ‘‘ یا ’’آپ کے پاس کوئی علم نہیں ‘‘ آپu نے اس پیرائے میں گفتگو فرمائی ’’میرے پاس اور آپ کے پاس علم ہے مگر جو علم مجھ تک پہنچا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچا، اس لیے آپ کے لیے مناسب یہی ہے کہ آپ دلیل کی پیروی کریں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔‘‘
[44]﴿ يٰۤاَ بَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّيۡطٰنَ﴾ ’’ابا جان! شیطان کی عبادت نہ کریں ‘‘ کیونکہ جس نے غیر اللہ کی عبادت کی اس نے شیطان کی عبادت کی جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾(یٰسٓ:36؍60) ’’اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِيًّا ﴾ ’’بے شک شیطان رحمٰن کا نافرمان ہے‘‘ پس جو کوئی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرتا ہے وہ شیطان کا دوست اور شیطان کی مانند اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ یہاں نافرمانی کو اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (رحمٰن) کی طرف مضاف کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نافرمانیاں بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر دیتی ہیں اور اس پر رحمت کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رحمت الٰہی کے حصول کا سب سے بڑا سبب ہے۔
[45] اس لیے فرمایا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ﴾ ’’ابا جان! مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو کہیں رحمٰن کی طرف سے عذاب نہ آلے‘‘ یعنی کفر پر آپ کے اصرار اور سرکشی میں آپ کے بڑھتے چلے جانے کے سبب سے۔ ﴿ فَتَكُوۡنَ لِلشَّيۡطٰنِ وَلِيًّا ﴾ ’’پس آپ شیطان کے دوست ہو جائیں ‘‘ یعنی دنیا وآخرت میں ۔ پس آپ اس کے مذموم مقام و منزلت پر اتار دیے جائیں اور شیطان کی ضرر رساں اور گندی چراگاہ میں چریں ۔اور یوں حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو آسان سے آسان تر امر کی طرف دعوت دی۔ آپ نے اسے اپنے علم کے ذریعے سے بتایا کہ یہ چیز آپ پر میری اطاعت کی موجب ہے اگر آپ میری اطاعت کریں گے تو میں سیدھے راستے کی طرف آپ کی راہنمائی کروں گا، پھر آپ نے اسے شیطان کی عبادت سے منع فرمایا اور اسے ان مضرتوں کے بارے میں خبردار کیا جو شیطان کی عبادت میں پنہاں ہیں ، پھر اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرایا کہ اگر وہ اپنے اسی حال پر قائم رہا تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ شیطان کا دوست شمار ہو گا۔
[46] مگر یہ دعوت اس بدبخت کے کسی کام نہ آئی۔ اس نے ایک جاہل کی مانند جواب دیا: ﴿ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِهَتِيۡ يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ ’’اے ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے اعراض کرتا ہے؟‘‘ اس نے اپنے معبودوں پر فخر کا اظہار کیا جو پتھر کے بنے ہوئے بت تھے۔ اور حضرت ابراہیمu کو ان معبودوں سے روگردانی کرنے پر ملامت کرنے لگا، یہ اس کی بہت بڑی جہالت اور بہت بڑا کفر تھا، وہ بتوں کی عبادت پر مدح چاہتا تھا اور اس عبادت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ ﴾ یعنی اگر تو میرے معبودوں کو سب وشتم کرنے اور مجھے اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَاَرۡجُمَنَّكَ ﴾ یعنی میں تجھے پتھر مار مار کر قتل کر دوں گا ﴿ وَاهۡجُرۡنِيۡ مَلِيًّا ﴾ ’’اور چھوڑ دے مجھ کو ایک مدت تک‘‘ یعنی طویل زمانے تک میرے ساتھ بات نہ کر۔
[47] حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو اس طرح جواب دیا جس طرح رحمٰن کے بندے جہلاء کو جواب دیتے ہیں ۔ آپ اس سے سب و شتم سے پیش نہیں آئے بلکہ صبر سے کام لیا اور کوئی ایسی بات نہیں کہی جو باپ کو ناگوار گزرتی۔ فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ ﴾ ’’سلام آپ پر‘‘ یعنی آپ میرے خطاب میں سب و شتم اور ناگوار باتوں سے محفوظ رہیں گے۔ ﴿سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ﴾ یعنی میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور مغفرت کی دعا مانگتا رہوں گا کہ وہ آپ کی اسلام کی طرف راہنمائی کرے جس کے ذریعے سے مغفرت حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾ کیونکہ وہ میرے حال پر بہت رحیم اور مہربان ہے اور مجھے اپنے سایۂ اعتناء میں رکھتا ہے۔ پس حضرت ابراہیمu اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دے دے گا، اپنے باپ کے لیے استغفار کرتے رہے، پھر جب آپ پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کے لیے استغفار کرنا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا چھوڑ دی اور اس سے برا ء ت کا اظہار کر دیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں ملت ابراہیم کی اتباع کا حکم دیا ہے اور ان کی ملت کی پیروی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں ہم آپ کی راہ پر گامزن ہوں اور علم و حکمت اور نرم رویہ اپنائیں ۔ دعوت الی اللہ میں تدریج اور ترتیب کا طریقہ اختیار کریں ، اس پر صبر کریں اور اس سے ہرگز نہ اکتائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کو، لوگوں کی طرف سے جن قولی اور فعلی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان پر صبر کرے اور عفو، درگزر، قولی اور فعلی حسن سلوک کے ساتھ ان اذیتوں کا مقابلہ کرے۔
[48] جب ابراہیمu اپنی قوم اور اپنے باپ کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو کہنے لگے: ﴿ وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ یعنی میں تم سے اور تمھارے بتوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ﴿ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ﴾’’اور میں یہ دعا کروں گا اپنے رب سے‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے سوال دونوں کو شامل ہے﴿ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا﴾ ’’امید ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں گا‘‘ یعنی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا اور اعمال کو قبول فرما کر مجھے سعادت سے نواز دے۔ یہ اس داعی حق کا وظیفہ ہے جو ایسے لوگوں سے مایوس ہو گیا تھا جن کو اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے رہے اور وعظ و نصیحت نے ان کو کوئی فائدہ نہیں دیا اور وہ اپنی سرکشی میں اصرار کے ساتھ سرگرداں رہے۔جو کوئی اس قسم کی صورت حال میں مبتلا ہو جائے تو اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح میں مشغول رہے اور اپنے رب سے امید رکھے کہ وہ اس کی کوشش کو قبول فرمائے گا اور وہ شر اور اہل شر سے دور رہے۔
[49] انسان کے لیے اپنے وطن مالوف، اپنے اہل و عیال اور اپنی قوم سے جدا ہونا سب سے مشکل اور سب سے زیادہ شاق گزرنے والا کام ہے اور اس کی کئی وجوہ ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی وجہ سے باعزت اور کثرت والا ہوتا ہے اور جو کوئی اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عوض اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم u نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا:﴿ فَلَمَّا اعۡتَزَلَهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ١ؕ وَكُلًّا﴾ ’’پس جب وہ (ابراہیمu) ان لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے، ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور سب کو۔‘‘ حضرت اسحاق اور یعقوبi دونوں کو ﴿ جَعَلۡنَا نَبِيًّا ﴾ ’’ہم نے نبی بنایا۔‘‘ پس حضرت ابراہیم u اور ان تمام صالحین و مرسلین کو یہ شرف نبوت حاصل ہوا جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجا، انھیں اپنی وحی کے لیے مختص کیا، انھیں اپنی رسالت کے لیے تمام جہانوں میں سے چن لیا۔
[50] فرمایا ﴿ وَوَهَبۡنَا لَهُمۡ﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیمu اور ان کے دونوں بیٹوں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوبi کو ﴿مِّنۡ رَّحۡمَتِنَا ﴾’’اپنی رحمت سے نوازا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے بہرہ ور کیا، علوم نافعہ اور اعمال صالحہ عطا کیے اور انھیں بے شمار ذریت عطا کی جو ساری دنیا میں پھیلی اور ان کے اندر بکثرت انبیاء اور صالحین ہوئے۔﴿ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ﴾ ’’اور ان کے ذکر جمیل کو بلند کیا۔‘‘ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے ان کو بہرہ ور کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیک کام کرنے والے ہر شخص سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کی نیکی کے مطابق اسے سچی شہرت عطا کرے گا۔ ان کا شمار تو ائمہ محسنین میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں سچی، جس میں جھوٹ کا شائبہ نہیں ، ظاہر و باہر اور غیر مخفی ثنائے حسن عطا کی۔ ان کے ذکر خیر، ان کی ثنائے حسن اور ان کے ساتھ محبت نے مشرق و مغرب کو لبریز کر دیا ہے۔ خلائق کے دلوں میں ان کی محبت سما گئی، لوگوں کی زبان پر ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا جاری ہو گئی۔ وہ پیروی کرنے والوں کے قائد اور راہنمائی حاصل کرنے والوں کے راہ نما بن گئے۔ ہر زمانے میں ان کا ذکر خیر نئے نئے اسالیب میں لوگوں کی زبانوں پر جای رہا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور اللہ تعالیٰ فضل عظیم کا مالک ہے۔
19:43يَـٰٓأَبَتِ إِنِّي قَدۡ جَآءَنِي مِنَ ٱلۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَأۡتِكَ فَٱتَّبِعۡنِيٓ أَهۡدِكَ صِرَٰطٗا سَوِيّٗا
اورذکر کیجیے کتاب میں ابراہیم کا، بے شک وہ تھا نہایت سچا، نبی (41) جب اس نے کہا اپنے باپ سے، اے میرے باپ! کیوں عبادت کرتا ہے تو اس کی جو نہ سنے اور نہ دیکھے اور نہ وہ کام آئے تیرے کچھ بھی (42) اے میرے باپ! بے شک میں ، تحقیق آیا ہے میرے پاس وہ علم وہ نہیں آیا تیرے پاس، پس تو پیروی کر میری، میں بتلاؤں گا تجھے راہ سیدھی (43) اے میرے باپ! مت عبادت کر تو شیطان کی، بلاشبہ شیطان ہے رحمٰن کا بہت نافرمان (44) اے میرے باپ بے شک میں ڈرتا ہوں اس بات سے کہ پہنچے تجھے عذاب رحمٰن کی طرف سے، پس ہو جائے تو شیطان کا دوست (45) اس (آزر) نے کہا، کیا بے زغبتی کرتا ہے تو میرے معبودوں سے، اے ابراہیم؟ البتہ اگر نہ باز آیا تو اس سے تو البتہ ضرور سنگسار کر دوں گا میں تجھےاورچھوڑ جا مجھے لمبا عرصہ (46) ابراہیم نے کہا، سلام ہو تجھ پر ضرور بخشش مانگوں گا تیرے لیے، اپنے رب سے، بلاشبہ وہ ہے مجھ پر نہایت مہربان (47) میں کنارہ کش ہوتا ہوں تم سے اور ان سے جنھیں تم پکارتے ہو، سوائے اللہ کےاور میں پکارتا ہوں اپنے رب کو، امید ہے کہ نہیں ہوں گا میں پکار کر اپنے رب کو محروم (48) پس جب وہ کنارہ کش ہو گیا ان سے اوران سے بھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے تو عطا کیے ہم نے اسے اسحٰق اور یعقوب اور ہر ایک کو بنایا ہم نے نبی (49) اور نوازا ہم نے انھیں اپنی رحمت سے اور کر دیا ہم نے ان کے لیے سچائی کی زبان (ان کے ذکر خیر) کو بلند (50)
[41] فرمایا: ﴿ وَ اذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ اِبۡرٰؔهِيۡمَ١ؕ ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا ﴾ ’’اور یاد کرو کتاب میں ابراہیم کو، بے شک وہ سچے نبی تھے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بیک وقت صدیقیت اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔ صدیق، بہت راست باز شخص کو کہا جاتا ہے۔ پس وہ اپنے اقوال، افعال اور احوال میں سچا ہونے کے ساتھ ساتھ ہر اس چیز کی بھی تصدیق کرتا ہے جس کی تصدیق کا اس کو حکم دیا جاتا ہے اور یہ خوبی مستلزم ہے اس عظیم علم کو جو دل کی گہرائیوں تک پہنچتا اور اس پر اثر انداز ہوتا ہے، نیز یقین اور کامل عمل صالح کا موجب ہوتا ہے۔حضرت ابراہیمu، حضرت محمدﷺ کے بعد تمام انبیاء ومرسلین میں افضل ہیں ۔ وہ تمام اصحاب فضیلت گروہوں کے تیسرے باپ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذریت کو نبوت اور کتاب سے نوازا۔ حضرت ابراہیمu نے تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی پھر اس راستے میں پیش آنے والی اذیتوں اور بڑی بڑی تعذیب پر صبر کیا۔ انھوں نے قریب اور بعید، سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور اپنے باپ کو، جیسے بھی ممکن ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کی بھرپور جدوجہد کی۔
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کی اس بحث وتکرار کا ذکر کیا جو انھوں نے اپنے باپ سے کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں نے کہا اپنے باپ سے‘‘ یعنی بتوں کی عبادت کی قباحت بیان کرتے ہوئے اپنے باپ سے کہا: ﴿ يٰۤاَ بَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡكَ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی آپ ان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو اپنی ذات اور افعال میں ناقص ہیں ، جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں ، جو اپنے عبادت گزار کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان بلکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور نہ اپنی ذات سے کوئی چیز دور ہٹانے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ پس یہ اس حقیقت پر ایک روشن دلیل ہے کہ ایسی ہستی کی عبادت کرنا، جو اپنی ذات اور اپنے افعال میں ناقص ہے، عقل اور شرع کے اعتبار سے قبیح ہے۔ اس کی تنبیہ اور اس کا اشارہ دلالت کرتا ہے کہ عبادت صرف اسی ہستی کی واجب اور مستحسن ہے جو کمال کی مالک ہے، جس کے سوا بندے کہیں سے نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے، جس کے سوا کوئی اور ہستی ان سے کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات۔
[43]﴿ يٰۤاَ بَتِ اِنِّيۡ قَدۡ جَآءَنِيۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَاۡتِكَ ﴾ یعنی ابا جان! مجھے حقیر نہ جانیں اور یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اور یہ کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ میرے پاس نہیں بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم عطا کیا ہے جو آپ کو عطا نہیں کیا اور حضرت ابراہیمu کے اس قول کا مقصد یہ کہنا تھا کہ: ﴿ فَاتَّبِعۡنِيۡۤ اَهۡدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا﴾ ’’آپ میری پیروی کریں میں دکھلاؤں گا آپ کو سیدھا راستہ‘‘ یعنی سیدھا اور معتدل راستہ اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تمام احوال میں اس کی اطاعت کرنا۔ اس خطاب میں جو لطف و کرم اور جو نرمی ہے وہ مخفی نہیں ۔ آپu نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ابا جان میں عالم ہوں اور آپ جاہل ہیں ‘‘ یا ’’آپ کے پاس کوئی علم نہیں ‘‘ آپu نے اس پیرائے میں گفتگو فرمائی ’’میرے پاس اور آپ کے پاس علم ہے مگر جو علم مجھ تک پہنچا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچا، اس لیے آپ کے لیے مناسب یہی ہے کہ آپ دلیل کی پیروی کریں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔‘‘
[44]﴿ يٰۤاَ بَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّيۡطٰنَ﴾ ’’ابا جان! شیطان کی عبادت نہ کریں ‘‘ کیونکہ جس نے غیر اللہ کی عبادت کی اس نے شیطان کی عبادت کی جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾(یٰسٓ:36؍60) ’’اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِيًّا ﴾ ’’بے شک شیطان رحمٰن کا نافرمان ہے‘‘ پس جو کوئی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرتا ہے وہ شیطان کا دوست اور شیطان کی مانند اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ یہاں نافرمانی کو اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (رحمٰن) کی طرف مضاف کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نافرمانیاں بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر دیتی ہیں اور اس پر رحمت کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رحمت الٰہی کے حصول کا سب سے بڑا سبب ہے۔
[45] اس لیے فرمایا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ﴾ ’’ابا جان! مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو کہیں رحمٰن کی طرف سے عذاب نہ آلے‘‘ یعنی کفر پر آپ کے اصرار اور سرکشی میں آپ کے بڑھتے چلے جانے کے سبب سے۔ ﴿ فَتَكُوۡنَ لِلشَّيۡطٰنِ وَلِيًّا ﴾ ’’پس آپ شیطان کے دوست ہو جائیں ‘‘ یعنی دنیا وآخرت میں ۔ پس آپ اس کے مذموم مقام و منزلت پر اتار دیے جائیں اور شیطان کی ضرر رساں اور گندی چراگاہ میں چریں ۔اور یوں حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو آسان سے آسان تر امر کی طرف دعوت دی۔ آپ نے اسے اپنے علم کے ذریعے سے بتایا کہ یہ چیز آپ پر میری اطاعت کی موجب ہے اگر آپ میری اطاعت کریں گے تو میں سیدھے راستے کی طرف آپ کی راہنمائی کروں گا، پھر آپ نے اسے شیطان کی عبادت سے منع فرمایا اور اسے ان مضرتوں کے بارے میں خبردار کیا جو شیطان کی عبادت میں پنہاں ہیں ، پھر اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرایا کہ اگر وہ اپنے اسی حال پر قائم رہا تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ شیطان کا دوست شمار ہو گا۔
[46] مگر یہ دعوت اس بدبخت کے کسی کام نہ آئی۔ اس نے ایک جاہل کی مانند جواب دیا: ﴿ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِهَتِيۡ يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ ’’اے ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے اعراض کرتا ہے؟‘‘ اس نے اپنے معبودوں پر فخر کا اظہار کیا جو پتھر کے بنے ہوئے بت تھے۔ اور حضرت ابراہیمu کو ان معبودوں سے روگردانی کرنے پر ملامت کرنے لگا، یہ اس کی بہت بڑی جہالت اور بہت بڑا کفر تھا، وہ بتوں کی عبادت پر مدح چاہتا تھا اور اس عبادت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ ﴾ یعنی اگر تو میرے معبودوں کو سب وشتم کرنے اور مجھے اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَاَرۡجُمَنَّكَ ﴾ یعنی میں تجھے پتھر مار مار کر قتل کر دوں گا ﴿ وَاهۡجُرۡنِيۡ مَلِيًّا ﴾ ’’اور چھوڑ دے مجھ کو ایک مدت تک‘‘ یعنی طویل زمانے تک میرے ساتھ بات نہ کر۔
[47] حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو اس طرح جواب دیا جس طرح رحمٰن کے بندے جہلاء کو جواب دیتے ہیں ۔ آپ اس سے سب و شتم سے پیش نہیں آئے بلکہ صبر سے کام لیا اور کوئی ایسی بات نہیں کہی جو باپ کو ناگوار گزرتی۔ فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ ﴾ ’’سلام آپ پر‘‘ یعنی آپ میرے خطاب میں سب و شتم اور ناگوار باتوں سے محفوظ رہیں گے۔ ﴿سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ﴾ یعنی میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور مغفرت کی دعا مانگتا رہوں گا کہ وہ آپ کی اسلام کی طرف راہنمائی کرے جس کے ذریعے سے مغفرت حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾ کیونکہ وہ میرے حال پر بہت رحیم اور مہربان ہے اور مجھے اپنے سایۂ اعتناء میں رکھتا ہے۔ پس حضرت ابراہیمu اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دے دے گا، اپنے باپ کے لیے استغفار کرتے رہے، پھر جب آپ پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کے لیے استغفار کرنا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا چھوڑ دی اور اس سے برا ء ت کا اظہار کر دیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں ملت ابراہیم کی اتباع کا حکم دیا ہے اور ان کی ملت کی پیروی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں ہم آپ کی راہ پر گامزن ہوں اور علم و حکمت اور نرم رویہ اپنائیں ۔ دعوت الی اللہ میں تدریج اور ترتیب کا طریقہ اختیار کریں ، اس پر صبر کریں اور اس سے ہرگز نہ اکتائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کو، لوگوں کی طرف سے جن قولی اور فعلی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان پر صبر کرے اور عفو، درگزر، قولی اور فعلی حسن سلوک کے ساتھ ان اذیتوں کا مقابلہ کرے۔
[48] جب ابراہیمu اپنی قوم اور اپنے باپ کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو کہنے لگے: ﴿ وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ یعنی میں تم سے اور تمھارے بتوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ﴿ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ﴾’’اور میں یہ دعا کروں گا اپنے رب سے‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے سوال دونوں کو شامل ہے﴿ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا﴾ ’’امید ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں گا‘‘ یعنی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا اور اعمال کو قبول فرما کر مجھے سعادت سے نواز دے۔ یہ اس داعی حق کا وظیفہ ہے جو ایسے لوگوں سے مایوس ہو گیا تھا جن کو اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے رہے اور وعظ و نصیحت نے ان کو کوئی فائدہ نہیں دیا اور وہ اپنی سرکشی میں اصرار کے ساتھ سرگرداں رہے۔جو کوئی اس قسم کی صورت حال میں مبتلا ہو جائے تو اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح میں مشغول رہے اور اپنے رب سے امید رکھے کہ وہ اس کی کوشش کو قبول فرمائے گا اور وہ شر اور اہل شر سے دور رہے۔
[49] انسان کے لیے اپنے وطن مالوف، اپنے اہل و عیال اور اپنی قوم سے جدا ہونا سب سے مشکل اور سب سے زیادہ شاق گزرنے والا کام ہے اور اس کی کئی وجوہ ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی وجہ سے باعزت اور کثرت والا ہوتا ہے اور جو کوئی اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عوض اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم u نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا:﴿ فَلَمَّا اعۡتَزَلَهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ١ؕ وَكُلًّا﴾ ’’پس جب وہ (ابراہیمu) ان لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے، ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور سب کو۔‘‘ حضرت اسحاق اور یعقوبi دونوں کو ﴿ جَعَلۡنَا نَبِيًّا ﴾ ’’ہم نے نبی بنایا۔‘‘ پس حضرت ابراہیم u اور ان تمام صالحین و مرسلین کو یہ شرف نبوت حاصل ہوا جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجا، انھیں اپنی وحی کے لیے مختص کیا، انھیں اپنی رسالت کے لیے تمام جہانوں میں سے چن لیا۔
[50] فرمایا ﴿ وَوَهَبۡنَا لَهُمۡ﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیمu اور ان کے دونوں بیٹوں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوبi کو ﴿مِّنۡ رَّحۡمَتِنَا ﴾’’اپنی رحمت سے نوازا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے بہرہ ور کیا، علوم نافعہ اور اعمال صالحہ عطا کیے اور انھیں بے شمار ذریت عطا کی جو ساری دنیا میں پھیلی اور ان کے اندر بکثرت انبیاء اور صالحین ہوئے۔﴿ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ﴾ ’’اور ان کے ذکر جمیل کو بلند کیا۔‘‘ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے ان کو بہرہ ور کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیک کام کرنے والے ہر شخص سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کی نیکی کے مطابق اسے سچی شہرت عطا کرے گا۔ ان کا شمار تو ائمہ محسنین میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں سچی، جس میں جھوٹ کا شائبہ نہیں ، ظاہر و باہر اور غیر مخفی ثنائے حسن عطا کی۔ ان کے ذکر خیر، ان کی ثنائے حسن اور ان کے ساتھ محبت نے مشرق و مغرب کو لبریز کر دیا ہے۔ خلائق کے دلوں میں ان کی محبت سما گئی، لوگوں کی زبان پر ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا جاری ہو گئی۔ وہ پیروی کرنے والوں کے قائد اور راہنمائی حاصل کرنے والوں کے راہ نما بن گئے۔ ہر زمانے میں ان کا ذکر خیر نئے نئے اسالیب میں لوگوں کی زبانوں پر جای رہا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور اللہ تعالیٰ فضل عظیم کا مالک ہے۔
19:44يَـٰٓأَبَتِ لَا تَعۡبُدِ ٱلشَّيۡطَٰنَۖ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمَٰنِ عَصِيّٗا
اورذکر کیجیے کتاب میں ابراہیم کا، بے شک وہ تھا نہایت سچا، نبی (41) جب اس نے کہا اپنے باپ سے، اے میرے باپ! کیوں عبادت کرتا ہے تو اس کی جو نہ سنے اور نہ دیکھے اور نہ وہ کام آئے تیرے کچھ بھی (42) اے میرے باپ! بے شک میں ، تحقیق آیا ہے میرے پاس وہ علم وہ نہیں آیا تیرے پاس، پس تو پیروی کر میری، میں بتلاؤں گا تجھے راہ سیدھی (43) اے میرے باپ! مت عبادت کر تو شیطان کی، بلاشبہ شیطان ہے رحمٰن کا بہت نافرمان (44) اے میرے باپ بے شک میں ڈرتا ہوں اس بات سے کہ پہنچے تجھے عذاب رحمٰن کی طرف سے، پس ہو جائے تو شیطان کا دوست (45) اس (آزر) نے کہا، کیا بے زغبتی کرتا ہے تو میرے معبودوں سے، اے ابراہیم؟ البتہ اگر نہ باز آیا تو اس سے تو البتہ ضرور سنگسار کر دوں گا میں تجھےاورچھوڑ جا مجھے لمبا عرصہ (46) ابراہیم نے کہا، سلام ہو تجھ پر ضرور بخشش مانگوں گا تیرے لیے، اپنے رب سے، بلاشبہ وہ ہے مجھ پر نہایت مہربان (47) میں کنارہ کش ہوتا ہوں تم سے اور ان سے جنھیں تم پکارتے ہو، سوائے اللہ کےاور میں پکارتا ہوں اپنے رب کو، امید ہے کہ نہیں ہوں گا میں پکار کر اپنے رب کو محروم (48) پس جب وہ کنارہ کش ہو گیا ان سے اوران سے بھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے تو عطا کیے ہم نے اسے اسحٰق اور یعقوب اور ہر ایک کو بنایا ہم نے نبی (49) اور نوازا ہم نے انھیں اپنی رحمت سے اور کر دیا ہم نے ان کے لیے سچائی کی زبان (ان کے ذکر خیر) کو بلند (50)
[41] فرمایا: ﴿ وَ اذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ اِبۡرٰؔهِيۡمَ١ؕ ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا ﴾ ’’اور یاد کرو کتاب میں ابراہیم کو، بے شک وہ سچے نبی تھے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بیک وقت صدیقیت اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔ صدیق، بہت راست باز شخص کو کہا جاتا ہے۔ پس وہ اپنے اقوال، افعال اور احوال میں سچا ہونے کے ساتھ ساتھ ہر اس چیز کی بھی تصدیق کرتا ہے جس کی تصدیق کا اس کو حکم دیا جاتا ہے اور یہ خوبی مستلزم ہے اس عظیم علم کو جو دل کی گہرائیوں تک پہنچتا اور اس پر اثر انداز ہوتا ہے، نیز یقین اور کامل عمل صالح کا موجب ہوتا ہے۔حضرت ابراہیمu، حضرت محمدﷺ کے بعد تمام انبیاء ومرسلین میں افضل ہیں ۔ وہ تمام اصحاب فضیلت گروہوں کے تیسرے باپ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذریت کو نبوت اور کتاب سے نوازا۔ حضرت ابراہیمu نے تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی پھر اس راستے میں پیش آنے والی اذیتوں اور بڑی بڑی تعذیب پر صبر کیا۔ انھوں نے قریب اور بعید، سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور اپنے باپ کو، جیسے بھی ممکن ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کی بھرپور جدوجہد کی۔
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کی اس بحث وتکرار کا ذکر کیا جو انھوں نے اپنے باپ سے کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں نے کہا اپنے باپ سے‘‘ یعنی بتوں کی عبادت کی قباحت بیان کرتے ہوئے اپنے باپ سے کہا: ﴿ يٰۤاَ بَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡكَ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی آپ ان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو اپنی ذات اور افعال میں ناقص ہیں ، جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں ، جو اپنے عبادت گزار کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان بلکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور نہ اپنی ذات سے کوئی چیز دور ہٹانے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ پس یہ اس حقیقت پر ایک روشن دلیل ہے کہ ایسی ہستی کی عبادت کرنا، جو اپنی ذات اور اپنے افعال میں ناقص ہے، عقل اور شرع کے اعتبار سے قبیح ہے۔ اس کی تنبیہ اور اس کا اشارہ دلالت کرتا ہے کہ عبادت صرف اسی ہستی کی واجب اور مستحسن ہے جو کمال کی مالک ہے، جس کے سوا بندے کہیں سے نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے، جس کے سوا کوئی اور ہستی ان سے کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات۔
[43]﴿ يٰۤاَ بَتِ اِنِّيۡ قَدۡ جَآءَنِيۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَاۡتِكَ ﴾ یعنی ابا جان! مجھے حقیر نہ جانیں اور یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اور یہ کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ میرے پاس نہیں بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم عطا کیا ہے جو آپ کو عطا نہیں کیا اور حضرت ابراہیمu کے اس قول کا مقصد یہ کہنا تھا کہ: ﴿ فَاتَّبِعۡنِيۡۤ اَهۡدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا﴾ ’’آپ میری پیروی کریں میں دکھلاؤں گا آپ کو سیدھا راستہ‘‘ یعنی سیدھا اور معتدل راستہ اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تمام احوال میں اس کی اطاعت کرنا۔ اس خطاب میں جو لطف و کرم اور جو نرمی ہے وہ مخفی نہیں ۔ آپu نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ابا جان میں عالم ہوں اور آپ جاہل ہیں ‘‘ یا ’’آپ کے پاس کوئی علم نہیں ‘‘ آپu نے اس پیرائے میں گفتگو فرمائی ’’میرے پاس اور آپ کے پاس علم ہے مگر جو علم مجھ تک پہنچا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچا، اس لیے آپ کے لیے مناسب یہی ہے کہ آپ دلیل کی پیروی کریں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔‘‘
[44]﴿ يٰۤاَ بَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّيۡطٰنَ﴾ ’’ابا جان! شیطان کی عبادت نہ کریں ‘‘ کیونکہ جس نے غیر اللہ کی عبادت کی اس نے شیطان کی عبادت کی جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾(یٰسٓ:36؍60) ’’اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِيًّا ﴾ ’’بے شک شیطان رحمٰن کا نافرمان ہے‘‘ پس جو کوئی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرتا ہے وہ شیطان کا دوست اور شیطان کی مانند اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ یہاں نافرمانی کو اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (رحمٰن) کی طرف مضاف کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نافرمانیاں بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر دیتی ہیں اور اس پر رحمت کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رحمت الٰہی کے حصول کا سب سے بڑا سبب ہے۔
[45] اس لیے فرمایا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ﴾ ’’ابا جان! مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو کہیں رحمٰن کی طرف سے عذاب نہ آلے‘‘ یعنی کفر پر آپ کے اصرار اور سرکشی میں آپ کے بڑھتے چلے جانے کے سبب سے۔ ﴿ فَتَكُوۡنَ لِلشَّيۡطٰنِ وَلِيًّا ﴾ ’’پس آپ شیطان کے دوست ہو جائیں ‘‘ یعنی دنیا وآخرت میں ۔ پس آپ اس کے مذموم مقام و منزلت پر اتار دیے جائیں اور شیطان کی ضرر رساں اور گندی چراگاہ میں چریں ۔اور یوں حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو آسان سے آسان تر امر کی طرف دعوت دی۔ آپ نے اسے اپنے علم کے ذریعے سے بتایا کہ یہ چیز آپ پر میری اطاعت کی موجب ہے اگر آپ میری اطاعت کریں گے تو میں سیدھے راستے کی طرف آپ کی راہنمائی کروں گا، پھر آپ نے اسے شیطان کی عبادت سے منع فرمایا اور اسے ان مضرتوں کے بارے میں خبردار کیا جو شیطان کی عبادت میں پنہاں ہیں ، پھر اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرایا کہ اگر وہ اپنے اسی حال پر قائم رہا تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ شیطان کا دوست شمار ہو گا۔
[46] مگر یہ دعوت اس بدبخت کے کسی کام نہ آئی۔ اس نے ایک جاہل کی مانند جواب دیا: ﴿ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِهَتِيۡ يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ ’’اے ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے اعراض کرتا ہے؟‘‘ اس نے اپنے معبودوں پر فخر کا اظہار کیا جو پتھر کے بنے ہوئے بت تھے۔ اور حضرت ابراہیمu کو ان معبودوں سے روگردانی کرنے پر ملامت کرنے لگا، یہ اس کی بہت بڑی جہالت اور بہت بڑا کفر تھا، وہ بتوں کی عبادت پر مدح چاہتا تھا اور اس عبادت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ ﴾ یعنی اگر تو میرے معبودوں کو سب وشتم کرنے اور مجھے اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَاَرۡجُمَنَّكَ ﴾ یعنی میں تجھے پتھر مار مار کر قتل کر دوں گا ﴿ وَاهۡجُرۡنِيۡ مَلِيًّا ﴾ ’’اور چھوڑ دے مجھ کو ایک مدت تک‘‘ یعنی طویل زمانے تک میرے ساتھ بات نہ کر۔
[47] حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو اس طرح جواب دیا جس طرح رحمٰن کے بندے جہلاء کو جواب دیتے ہیں ۔ آپ اس سے سب و شتم سے پیش نہیں آئے بلکہ صبر سے کام لیا اور کوئی ایسی بات نہیں کہی جو باپ کو ناگوار گزرتی۔ فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ ﴾ ’’سلام آپ پر‘‘ یعنی آپ میرے خطاب میں سب و شتم اور ناگوار باتوں سے محفوظ رہیں گے۔ ﴿سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ﴾ یعنی میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور مغفرت کی دعا مانگتا رہوں گا کہ وہ آپ کی اسلام کی طرف راہنمائی کرے جس کے ذریعے سے مغفرت حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾ کیونکہ وہ میرے حال پر بہت رحیم اور مہربان ہے اور مجھے اپنے سایۂ اعتناء میں رکھتا ہے۔ پس حضرت ابراہیمu اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دے دے گا، اپنے باپ کے لیے استغفار کرتے رہے، پھر جب آپ پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کے لیے استغفار کرنا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا چھوڑ دی اور اس سے برا ء ت کا اظہار کر دیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں ملت ابراہیم کی اتباع کا حکم دیا ہے اور ان کی ملت کی پیروی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں ہم آپ کی راہ پر گامزن ہوں اور علم و حکمت اور نرم رویہ اپنائیں ۔ دعوت الی اللہ میں تدریج اور ترتیب کا طریقہ اختیار کریں ، اس پر صبر کریں اور اس سے ہرگز نہ اکتائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کو، لوگوں کی طرف سے جن قولی اور فعلی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان پر صبر کرے اور عفو، درگزر، قولی اور فعلی حسن سلوک کے ساتھ ان اذیتوں کا مقابلہ کرے۔
[48] جب ابراہیمu اپنی قوم اور اپنے باپ کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو کہنے لگے: ﴿ وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ یعنی میں تم سے اور تمھارے بتوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ﴿ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ﴾’’اور میں یہ دعا کروں گا اپنے رب سے‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے سوال دونوں کو شامل ہے﴿ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا﴾ ’’امید ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں گا‘‘ یعنی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا اور اعمال کو قبول فرما کر مجھے سعادت سے نواز دے۔ یہ اس داعی حق کا وظیفہ ہے جو ایسے لوگوں سے مایوس ہو گیا تھا جن کو اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے رہے اور وعظ و نصیحت نے ان کو کوئی فائدہ نہیں دیا اور وہ اپنی سرکشی میں اصرار کے ساتھ سرگرداں رہے۔جو کوئی اس قسم کی صورت حال میں مبتلا ہو جائے تو اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح میں مشغول رہے اور اپنے رب سے امید رکھے کہ وہ اس کی کوشش کو قبول فرمائے گا اور وہ شر اور اہل شر سے دور رہے۔
[49] انسان کے لیے اپنے وطن مالوف، اپنے اہل و عیال اور اپنی قوم سے جدا ہونا سب سے مشکل اور سب سے زیادہ شاق گزرنے والا کام ہے اور اس کی کئی وجوہ ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی وجہ سے باعزت اور کثرت والا ہوتا ہے اور جو کوئی اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عوض اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم u نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا:﴿ فَلَمَّا اعۡتَزَلَهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ١ؕ وَكُلًّا﴾ ’’پس جب وہ (ابراہیمu) ان لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے، ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور سب کو۔‘‘ حضرت اسحاق اور یعقوبi دونوں کو ﴿ جَعَلۡنَا نَبِيًّا ﴾ ’’ہم نے نبی بنایا۔‘‘ پس حضرت ابراہیم u اور ان تمام صالحین و مرسلین کو یہ شرف نبوت حاصل ہوا جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجا، انھیں اپنی وحی کے لیے مختص کیا، انھیں اپنی رسالت کے لیے تمام جہانوں میں سے چن لیا۔
[50] فرمایا ﴿ وَوَهَبۡنَا لَهُمۡ﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیمu اور ان کے دونوں بیٹوں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوبi کو ﴿مِّنۡ رَّحۡمَتِنَا ﴾’’اپنی رحمت سے نوازا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے بہرہ ور کیا، علوم نافعہ اور اعمال صالحہ عطا کیے اور انھیں بے شمار ذریت عطا کی جو ساری دنیا میں پھیلی اور ان کے اندر بکثرت انبیاء اور صالحین ہوئے۔﴿ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ﴾ ’’اور ان کے ذکر جمیل کو بلند کیا۔‘‘ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے ان کو بہرہ ور کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیک کام کرنے والے ہر شخص سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کی نیکی کے مطابق اسے سچی شہرت عطا کرے گا۔ ان کا شمار تو ائمہ محسنین میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں سچی، جس میں جھوٹ کا شائبہ نہیں ، ظاہر و باہر اور غیر مخفی ثنائے حسن عطا کی۔ ان کے ذکر خیر، ان کی ثنائے حسن اور ان کے ساتھ محبت نے مشرق و مغرب کو لبریز کر دیا ہے۔ خلائق کے دلوں میں ان کی محبت سما گئی، لوگوں کی زبان پر ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا جاری ہو گئی۔ وہ پیروی کرنے والوں کے قائد اور راہنمائی حاصل کرنے والوں کے راہ نما بن گئے۔ ہر زمانے میں ان کا ذکر خیر نئے نئے اسالیب میں لوگوں کی زبانوں پر جای رہا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور اللہ تعالیٰ فضل عظیم کا مالک ہے۔
19:45يَـٰٓأَبَتِ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٞ مِّنَ ٱلرَّحۡمَٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيۡطَٰنِ وَلِيّٗا
اورذکر کیجیے کتاب میں ابراہیم کا، بے شک وہ تھا نہایت سچا، نبی (41) جب اس نے کہا اپنے باپ سے، اے میرے باپ! کیوں عبادت کرتا ہے تو اس کی جو نہ سنے اور نہ دیکھے اور نہ وہ کام آئے تیرے کچھ بھی (42) اے میرے باپ! بے شک میں ، تحقیق آیا ہے میرے پاس وہ علم وہ نہیں آیا تیرے پاس، پس تو پیروی کر میری، میں بتلاؤں گا تجھے راہ سیدھی (43) اے میرے باپ! مت عبادت کر تو شیطان کی، بلاشبہ شیطان ہے رحمٰن کا بہت نافرمان (44) اے میرے باپ بے شک میں ڈرتا ہوں اس بات سے کہ پہنچے تجھے عذاب رحمٰن کی طرف سے، پس ہو جائے تو شیطان کا دوست (45) اس (آزر) نے کہا، کیا بے زغبتی کرتا ہے تو میرے معبودوں سے، اے ابراہیم؟ البتہ اگر نہ باز آیا تو اس سے تو البتہ ضرور سنگسار کر دوں گا میں تجھےاورچھوڑ جا مجھے لمبا عرصہ (46) ابراہیم نے کہا، سلام ہو تجھ پر ضرور بخشش مانگوں گا تیرے لیے، اپنے رب سے، بلاشبہ وہ ہے مجھ پر نہایت مہربان (47) میں کنارہ کش ہوتا ہوں تم سے اور ان سے جنھیں تم پکارتے ہو، سوائے اللہ کےاور میں پکارتا ہوں اپنے رب کو، امید ہے کہ نہیں ہوں گا میں پکار کر اپنے رب کو محروم (48) پس جب وہ کنارہ کش ہو گیا ان سے اوران سے بھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے تو عطا کیے ہم نے اسے اسحٰق اور یعقوب اور ہر ایک کو بنایا ہم نے نبی (49) اور نوازا ہم نے انھیں اپنی رحمت سے اور کر دیا ہم نے ان کے لیے سچائی کی زبان (ان کے ذکر خیر) کو بلند (50)
[41] فرمایا: ﴿ وَ اذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ اِبۡرٰؔهِيۡمَ١ؕ ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا ﴾ ’’اور یاد کرو کتاب میں ابراہیم کو، بے شک وہ سچے نبی تھے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بیک وقت صدیقیت اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔ صدیق، بہت راست باز شخص کو کہا جاتا ہے۔ پس وہ اپنے اقوال، افعال اور احوال میں سچا ہونے کے ساتھ ساتھ ہر اس چیز کی بھی تصدیق کرتا ہے جس کی تصدیق کا اس کو حکم دیا جاتا ہے اور یہ خوبی مستلزم ہے اس عظیم علم کو جو دل کی گہرائیوں تک پہنچتا اور اس پر اثر انداز ہوتا ہے، نیز یقین اور کامل عمل صالح کا موجب ہوتا ہے۔حضرت ابراہیمu، حضرت محمدﷺ کے بعد تمام انبیاء ومرسلین میں افضل ہیں ۔ وہ تمام اصحاب فضیلت گروہوں کے تیسرے باپ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذریت کو نبوت اور کتاب سے نوازا۔ حضرت ابراہیمu نے تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی پھر اس راستے میں پیش آنے والی اذیتوں اور بڑی بڑی تعذیب پر صبر کیا۔ انھوں نے قریب اور بعید، سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور اپنے باپ کو، جیسے بھی ممکن ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کی بھرپور جدوجہد کی۔
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کی اس بحث وتکرار کا ذکر کیا جو انھوں نے اپنے باپ سے کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں نے کہا اپنے باپ سے‘‘ یعنی بتوں کی عبادت کی قباحت بیان کرتے ہوئے اپنے باپ سے کہا: ﴿ يٰۤاَ بَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡكَ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی آپ ان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو اپنی ذات اور افعال میں ناقص ہیں ، جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں ، جو اپنے عبادت گزار کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان بلکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور نہ اپنی ذات سے کوئی چیز دور ہٹانے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ پس یہ اس حقیقت پر ایک روشن دلیل ہے کہ ایسی ہستی کی عبادت کرنا، جو اپنی ذات اور اپنے افعال میں ناقص ہے، عقل اور شرع کے اعتبار سے قبیح ہے۔ اس کی تنبیہ اور اس کا اشارہ دلالت کرتا ہے کہ عبادت صرف اسی ہستی کی واجب اور مستحسن ہے جو کمال کی مالک ہے، جس کے سوا بندے کہیں سے نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے، جس کے سوا کوئی اور ہستی ان سے کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات۔
[43]﴿ يٰۤاَ بَتِ اِنِّيۡ قَدۡ جَآءَنِيۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَاۡتِكَ ﴾ یعنی ابا جان! مجھے حقیر نہ جانیں اور یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اور یہ کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ میرے پاس نہیں بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم عطا کیا ہے جو آپ کو عطا نہیں کیا اور حضرت ابراہیمu کے اس قول کا مقصد یہ کہنا تھا کہ: ﴿ فَاتَّبِعۡنِيۡۤ اَهۡدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا﴾ ’’آپ میری پیروی کریں میں دکھلاؤں گا آپ کو سیدھا راستہ‘‘ یعنی سیدھا اور معتدل راستہ اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تمام احوال میں اس کی اطاعت کرنا۔ اس خطاب میں جو لطف و کرم اور جو نرمی ہے وہ مخفی نہیں ۔ آپu نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ابا جان میں عالم ہوں اور آپ جاہل ہیں ‘‘ یا ’’آپ کے پاس کوئی علم نہیں ‘‘ آپu نے اس پیرائے میں گفتگو فرمائی ’’میرے پاس اور آپ کے پاس علم ہے مگر جو علم مجھ تک پہنچا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچا، اس لیے آپ کے لیے مناسب یہی ہے کہ آپ دلیل کی پیروی کریں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔‘‘
[44]﴿ يٰۤاَ بَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّيۡطٰنَ﴾ ’’ابا جان! شیطان کی عبادت نہ کریں ‘‘ کیونکہ جس نے غیر اللہ کی عبادت کی اس نے شیطان کی عبادت کی جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾(یٰسٓ:36؍60) ’’اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِيًّا ﴾ ’’بے شک شیطان رحمٰن کا نافرمان ہے‘‘ پس جو کوئی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرتا ہے وہ شیطان کا دوست اور شیطان کی مانند اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ یہاں نافرمانی کو اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (رحمٰن) کی طرف مضاف کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نافرمانیاں بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر دیتی ہیں اور اس پر رحمت کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رحمت الٰہی کے حصول کا سب سے بڑا سبب ہے۔
[45] اس لیے فرمایا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ﴾ ’’ابا جان! مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو کہیں رحمٰن کی طرف سے عذاب نہ آلے‘‘ یعنی کفر پر آپ کے اصرار اور سرکشی میں آپ کے بڑھتے چلے جانے کے سبب سے۔ ﴿ فَتَكُوۡنَ لِلشَّيۡطٰنِ وَلِيًّا ﴾ ’’پس آپ شیطان کے دوست ہو جائیں ‘‘ یعنی دنیا وآخرت میں ۔ پس آپ اس کے مذموم مقام و منزلت پر اتار دیے جائیں اور شیطان کی ضرر رساں اور گندی چراگاہ میں چریں ۔اور یوں حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو آسان سے آسان تر امر کی طرف دعوت دی۔ آپ نے اسے اپنے علم کے ذریعے سے بتایا کہ یہ چیز آپ پر میری اطاعت کی موجب ہے اگر آپ میری اطاعت کریں گے تو میں سیدھے راستے کی طرف آپ کی راہنمائی کروں گا، پھر آپ نے اسے شیطان کی عبادت سے منع فرمایا اور اسے ان مضرتوں کے بارے میں خبردار کیا جو شیطان کی عبادت میں پنہاں ہیں ، پھر اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرایا کہ اگر وہ اپنے اسی حال پر قائم رہا تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ شیطان کا دوست شمار ہو گا۔
[46] مگر یہ دعوت اس بدبخت کے کسی کام نہ آئی۔ اس نے ایک جاہل کی مانند جواب دیا: ﴿ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِهَتِيۡ يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ ’’اے ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے اعراض کرتا ہے؟‘‘ اس نے اپنے معبودوں پر فخر کا اظہار کیا جو پتھر کے بنے ہوئے بت تھے۔ اور حضرت ابراہیمu کو ان معبودوں سے روگردانی کرنے پر ملامت کرنے لگا، یہ اس کی بہت بڑی جہالت اور بہت بڑا کفر تھا، وہ بتوں کی عبادت پر مدح چاہتا تھا اور اس عبادت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ ﴾ یعنی اگر تو میرے معبودوں کو سب وشتم کرنے اور مجھے اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَاَرۡجُمَنَّكَ ﴾ یعنی میں تجھے پتھر مار مار کر قتل کر دوں گا ﴿ وَاهۡجُرۡنِيۡ مَلِيًّا ﴾ ’’اور چھوڑ دے مجھ کو ایک مدت تک‘‘ یعنی طویل زمانے تک میرے ساتھ بات نہ کر۔
[47] حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو اس طرح جواب دیا جس طرح رحمٰن کے بندے جہلاء کو جواب دیتے ہیں ۔ آپ اس سے سب و شتم سے پیش نہیں آئے بلکہ صبر سے کام لیا اور کوئی ایسی بات نہیں کہی جو باپ کو ناگوار گزرتی۔ فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ ﴾ ’’سلام آپ پر‘‘ یعنی آپ میرے خطاب میں سب و شتم اور ناگوار باتوں سے محفوظ رہیں گے۔ ﴿سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ﴾ یعنی میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور مغفرت کی دعا مانگتا رہوں گا کہ وہ آپ کی اسلام کی طرف راہنمائی کرے جس کے ذریعے سے مغفرت حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾ کیونکہ وہ میرے حال پر بہت رحیم اور مہربان ہے اور مجھے اپنے سایۂ اعتناء میں رکھتا ہے۔ پس حضرت ابراہیمu اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دے دے گا، اپنے باپ کے لیے استغفار کرتے رہے، پھر جب آپ پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کے لیے استغفار کرنا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا چھوڑ دی اور اس سے برا ء ت کا اظہار کر دیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں ملت ابراہیم کی اتباع کا حکم دیا ہے اور ان کی ملت کی پیروی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں ہم آپ کی راہ پر گامزن ہوں اور علم و حکمت اور نرم رویہ اپنائیں ۔ دعوت الی اللہ میں تدریج اور ترتیب کا طریقہ اختیار کریں ، اس پر صبر کریں اور اس سے ہرگز نہ اکتائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کو، لوگوں کی طرف سے جن قولی اور فعلی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان پر صبر کرے اور عفو، درگزر، قولی اور فعلی حسن سلوک کے ساتھ ان اذیتوں کا مقابلہ کرے۔
[48] جب ابراہیمu اپنی قوم اور اپنے باپ کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو کہنے لگے: ﴿ وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ یعنی میں تم سے اور تمھارے بتوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ﴿ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ﴾’’اور میں یہ دعا کروں گا اپنے رب سے‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے سوال دونوں کو شامل ہے﴿ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا﴾ ’’امید ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں گا‘‘ یعنی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا اور اعمال کو قبول فرما کر مجھے سعادت سے نواز دے۔ یہ اس داعی حق کا وظیفہ ہے جو ایسے لوگوں سے مایوس ہو گیا تھا جن کو اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے رہے اور وعظ و نصیحت نے ان کو کوئی فائدہ نہیں دیا اور وہ اپنی سرکشی میں اصرار کے ساتھ سرگرداں رہے۔جو کوئی اس قسم کی صورت حال میں مبتلا ہو جائے تو اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح میں مشغول رہے اور اپنے رب سے امید رکھے کہ وہ اس کی کوشش کو قبول فرمائے گا اور وہ شر اور اہل شر سے دور رہے۔
[49] انسان کے لیے اپنے وطن مالوف، اپنے اہل و عیال اور اپنی قوم سے جدا ہونا سب سے مشکل اور سب سے زیادہ شاق گزرنے والا کام ہے اور اس کی کئی وجوہ ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی وجہ سے باعزت اور کثرت والا ہوتا ہے اور جو کوئی اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عوض اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم u نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا:﴿ فَلَمَّا اعۡتَزَلَهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ١ؕ وَكُلًّا﴾ ’’پس جب وہ (ابراہیمu) ان لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے، ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور سب کو۔‘‘ حضرت اسحاق اور یعقوبi دونوں کو ﴿ جَعَلۡنَا نَبِيًّا ﴾ ’’ہم نے نبی بنایا۔‘‘ پس حضرت ابراہیم u اور ان تمام صالحین و مرسلین کو یہ شرف نبوت حاصل ہوا جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجا، انھیں اپنی وحی کے لیے مختص کیا، انھیں اپنی رسالت کے لیے تمام جہانوں میں سے چن لیا۔
[50] فرمایا ﴿ وَوَهَبۡنَا لَهُمۡ﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیمu اور ان کے دونوں بیٹوں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوبi کو ﴿مِّنۡ رَّحۡمَتِنَا ﴾’’اپنی رحمت سے نوازا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے بہرہ ور کیا، علوم نافعہ اور اعمال صالحہ عطا کیے اور انھیں بے شمار ذریت عطا کی جو ساری دنیا میں پھیلی اور ان کے اندر بکثرت انبیاء اور صالحین ہوئے۔﴿ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ﴾ ’’اور ان کے ذکر جمیل کو بلند کیا۔‘‘ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے ان کو بہرہ ور کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیک کام کرنے والے ہر شخص سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کی نیکی کے مطابق اسے سچی شہرت عطا کرے گا۔ ان کا شمار تو ائمہ محسنین میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں سچی، جس میں جھوٹ کا شائبہ نہیں ، ظاہر و باہر اور غیر مخفی ثنائے حسن عطا کی۔ ان کے ذکر خیر، ان کی ثنائے حسن اور ان کے ساتھ محبت نے مشرق و مغرب کو لبریز کر دیا ہے۔ خلائق کے دلوں میں ان کی محبت سما گئی، لوگوں کی زبان پر ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا جاری ہو گئی۔ وہ پیروی کرنے والوں کے قائد اور راہنمائی حاصل کرنے والوں کے راہ نما بن گئے۔ ہر زمانے میں ان کا ذکر خیر نئے نئے اسالیب میں لوگوں کی زبانوں پر جای رہا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور اللہ تعالیٰ فضل عظیم کا مالک ہے۔
19:46قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنۡ ءَالِهَتِي يَـٰٓإِبۡرَٰهِيمُۖ لَئِن لَّمۡ تَنتَهِ لَأَرۡجُمَنَّكَۖ وَٱهۡجُرۡنِي مَلِيّٗا
اورذکر کیجیے کتاب میں ابراہیم کا، بے شک وہ تھا نہایت سچا، نبی (41) جب اس نے کہا اپنے باپ سے، اے میرے باپ! کیوں عبادت کرتا ہے تو اس کی جو نہ سنے اور نہ دیکھے اور نہ وہ کام آئے تیرے کچھ بھی (42) اے میرے باپ! بے شک میں ، تحقیق آیا ہے میرے پاس وہ علم وہ نہیں آیا تیرے پاس، پس تو پیروی کر میری، میں بتلاؤں گا تجھے راہ سیدھی (43) اے میرے باپ! مت عبادت کر تو شیطان کی، بلاشبہ شیطان ہے رحمٰن کا بہت نافرمان (44) اے میرے باپ بے شک میں ڈرتا ہوں اس بات سے کہ پہنچے تجھے عذاب رحمٰن کی طرف سے، پس ہو جائے تو شیطان کا دوست (45) اس (آزر) نے کہا، کیا بے زغبتی کرتا ہے تو میرے معبودوں سے، اے ابراہیم؟ البتہ اگر نہ باز آیا تو اس سے تو البتہ ضرور سنگسار کر دوں گا میں تجھےاورچھوڑ جا مجھے لمبا عرصہ (46) ابراہیم نے کہا، سلام ہو تجھ پر ضرور بخشش مانگوں گا تیرے لیے، اپنے رب سے، بلاشبہ وہ ہے مجھ پر نہایت مہربان (47) میں کنارہ کش ہوتا ہوں تم سے اور ان سے جنھیں تم پکارتے ہو، سوائے اللہ کےاور میں پکارتا ہوں اپنے رب کو، امید ہے کہ نہیں ہوں گا میں پکار کر اپنے رب کو محروم (48) پس جب وہ کنارہ کش ہو گیا ان سے اوران سے بھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے تو عطا کیے ہم نے اسے اسحٰق اور یعقوب اور ہر ایک کو بنایا ہم نے نبی (49) اور نوازا ہم نے انھیں اپنی رحمت سے اور کر دیا ہم نے ان کے لیے سچائی کی زبان (ان کے ذکر خیر) کو بلند (50)
[41] فرمایا: ﴿ وَ اذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ اِبۡرٰؔهِيۡمَ١ؕ ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا ﴾ ’’اور یاد کرو کتاب میں ابراہیم کو، بے شک وہ سچے نبی تھے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بیک وقت صدیقیت اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔ صدیق، بہت راست باز شخص کو کہا جاتا ہے۔ پس وہ اپنے اقوال، افعال اور احوال میں سچا ہونے کے ساتھ ساتھ ہر اس چیز کی بھی تصدیق کرتا ہے جس کی تصدیق کا اس کو حکم دیا جاتا ہے اور یہ خوبی مستلزم ہے اس عظیم علم کو جو دل کی گہرائیوں تک پہنچتا اور اس پر اثر انداز ہوتا ہے، نیز یقین اور کامل عمل صالح کا موجب ہوتا ہے۔حضرت ابراہیمu، حضرت محمدﷺ کے بعد تمام انبیاء ومرسلین میں افضل ہیں ۔ وہ تمام اصحاب فضیلت گروہوں کے تیسرے باپ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذریت کو نبوت اور کتاب سے نوازا۔ حضرت ابراہیمu نے تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی پھر اس راستے میں پیش آنے والی اذیتوں اور بڑی بڑی تعذیب پر صبر کیا۔ انھوں نے قریب اور بعید، سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور اپنے باپ کو، جیسے بھی ممکن ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کی بھرپور جدوجہد کی۔
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کی اس بحث وتکرار کا ذکر کیا جو انھوں نے اپنے باپ سے کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں نے کہا اپنے باپ سے‘‘ یعنی بتوں کی عبادت کی قباحت بیان کرتے ہوئے اپنے باپ سے کہا: ﴿ يٰۤاَ بَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡكَ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی آپ ان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو اپنی ذات اور افعال میں ناقص ہیں ، جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں ، جو اپنے عبادت گزار کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان بلکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور نہ اپنی ذات سے کوئی چیز دور ہٹانے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ پس یہ اس حقیقت پر ایک روشن دلیل ہے کہ ایسی ہستی کی عبادت کرنا، جو اپنی ذات اور اپنے افعال میں ناقص ہے، عقل اور شرع کے اعتبار سے قبیح ہے۔ اس کی تنبیہ اور اس کا اشارہ دلالت کرتا ہے کہ عبادت صرف اسی ہستی کی واجب اور مستحسن ہے جو کمال کی مالک ہے، جس کے سوا بندے کہیں سے نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے، جس کے سوا کوئی اور ہستی ان سے کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات۔
[43]﴿ يٰۤاَ بَتِ اِنِّيۡ قَدۡ جَآءَنِيۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَاۡتِكَ ﴾ یعنی ابا جان! مجھے حقیر نہ جانیں اور یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اور یہ کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ میرے پاس نہیں بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم عطا کیا ہے جو آپ کو عطا نہیں کیا اور حضرت ابراہیمu کے اس قول کا مقصد یہ کہنا تھا کہ: ﴿ فَاتَّبِعۡنِيۡۤ اَهۡدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا﴾ ’’آپ میری پیروی کریں میں دکھلاؤں گا آپ کو سیدھا راستہ‘‘ یعنی سیدھا اور معتدل راستہ اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تمام احوال میں اس کی اطاعت کرنا۔ اس خطاب میں جو لطف و کرم اور جو نرمی ہے وہ مخفی نہیں ۔ آپu نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ابا جان میں عالم ہوں اور آپ جاہل ہیں ‘‘ یا ’’آپ کے پاس کوئی علم نہیں ‘‘ آپu نے اس پیرائے میں گفتگو فرمائی ’’میرے پاس اور آپ کے پاس علم ہے مگر جو علم مجھ تک پہنچا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچا، اس لیے آپ کے لیے مناسب یہی ہے کہ آپ دلیل کی پیروی کریں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔‘‘
[44]﴿ يٰۤاَ بَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّيۡطٰنَ﴾ ’’ابا جان! شیطان کی عبادت نہ کریں ‘‘ کیونکہ جس نے غیر اللہ کی عبادت کی اس نے شیطان کی عبادت کی جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾(یٰسٓ:36؍60) ’’اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِيًّا ﴾ ’’بے شک شیطان رحمٰن کا نافرمان ہے‘‘ پس جو کوئی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرتا ہے وہ شیطان کا دوست اور شیطان کی مانند اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ یہاں نافرمانی کو اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (رحمٰن) کی طرف مضاف کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نافرمانیاں بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر دیتی ہیں اور اس پر رحمت کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رحمت الٰہی کے حصول کا سب سے بڑا سبب ہے۔
[45] اس لیے فرمایا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ﴾ ’’ابا جان! مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو کہیں رحمٰن کی طرف سے عذاب نہ آلے‘‘ یعنی کفر پر آپ کے اصرار اور سرکشی میں آپ کے بڑھتے چلے جانے کے سبب سے۔ ﴿ فَتَكُوۡنَ لِلشَّيۡطٰنِ وَلِيًّا ﴾ ’’پس آپ شیطان کے دوست ہو جائیں ‘‘ یعنی دنیا وآخرت میں ۔ پس آپ اس کے مذموم مقام و منزلت پر اتار دیے جائیں اور شیطان کی ضرر رساں اور گندی چراگاہ میں چریں ۔اور یوں حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو آسان سے آسان تر امر کی طرف دعوت دی۔ آپ نے اسے اپنے علم کے ذریعے سے بتایا کہ یہ چیز آپ پر میری اطاعت کی موجب ہے اگر آپ میری اطاعت کریں گے تو میں سیدھے راستے کی طرف آپ کی راہنمائی کروں گا، پھر آپ نے اسے شیطان کی عبادت سے منع فرمایا اور اسے ان مضرتوں کے بارے میں خبردار کیا جو شیطان کی عبادت میں پنہاں ہیں ، پھر اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرایا کہ اگر وہ اپنے اسی حال پر قائم رہا تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ شیطان کا دوست شمار ہو گا۔
[46] مگر یہ دعوت اس بدبخت کے کسی کام نہ آئی۔ اس نے ایک جاہل کی مانند جواب دیا: ﴿ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِهَتِيۡ يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ ’’اے ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے اعراض کرتا ہے؟‘‘ اس نے اپنے معبودوں پر فخر کا اظہار کیا جو پتھر کے بنے ہوئے بت تھے۔ اور حضرت ابراہیمu کو ان معبودوں سے روگردانی کرنے پر ملامت کرنے لگا، یہ اس کی بہت بڑی جہالت اور بہت بڑا کفر تھا، وہ بتوں کی عبادت پر مدح چاہتا تھا اور اس عبادت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ ﴾ یعنی اگر تو میرے معبودوں کو سب وشتم کرنے اور مجھے اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَاَرۡجُمَنَّكَ ﴾ یعنی میں تجھے پتھر مار مار کر قتل کر دوں گا ﴿ وَاهۡجُرۡنِيۡ مَلِيًّا ﴾ ’’اور چھوڑ دے مجھ کو ایک مدت تک‘‘ یعنی طویل زمانے تک میرے ساتھ بات نہ کر۔
[47] حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو اس طرح جواب دیا جس طرح رحمٰن کے بندے جہلاء کو جواب دیتے ہیں ۔ آپ اس سے سب و شتم سے پیش نہیں آئے بلکہ صبر سے کام لیا اور کوئی ایسی بات نہیں کہی جو باپ کو ناگوار گزرتی۔ فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ ﴾ ’’سلام آپ پر‘‘ یعنی آپ میرے خطاب میں سب و شتم اور ناگوار باتوں سے محفوظ رہیں گے۔ ﴿سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ﴾ یعنی میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور مغفرت کی دعا مانگتا رہوں گا کہ وہ آپ کی اسلام کی طرف راہنمائی کرے جس کے ذریعے سے مغفرت حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾ کیونکہ وہ میرے حال پر بہت رحیم اور مہربان ہے اور مجھے اپنے سایۂ اعتناء میں رکھتا ہے۔ پس حضرت ابراہیمu اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دے دے گا، اپنے باپ کے لیے استغفار کرتے رہے، پھر جب آپ پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کے لیے استغفار کرنا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا چھوڑ دی اور اس سے برا ء ت کا اظہار کر دیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں ملت ابراہیم کی اتباع کا حکم دیا ہے اور ان کی ملت کی پیروی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں ہم آپ کی راہ پر گامزن ہوں اور علم و حکمت اور نرم رویہ اپنائیں ۔ دعوت الی اللہ میں تدریج اور ترتیب کا طریقہ اختیار کریں ، اس پر صبر کریں اور اس سے ہرگز نہ اکتائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کو، لوگوں کی طرف سے جن قولی اور فعلی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان پر صبر کرے اور عفو، درگزر، قولی اور فعلی حسن سلوک کے ساتھ ان اذیتوں کا مقابلہ کرے۔
[48] جب ابراہیمu اپنی قوم اور اپنے باپ کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو کہنے لگے: ﴿ وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ یعنی میں تم سے اور تمھارے بتوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ﴿ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ﴾’’اور میں یہ دعا کروں گا اپنے رب سے‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے سوال دونوں کو شامل ہے﴿ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا﴾ ’’امید ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں گا‘‘ یعنی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا اور اعمال کو قبول فرما کر مجھے سعادت سے نواز دے۔ یہ اس داعی حق کا وظیفہ ہے جو ایسے لوگوں سے مایوس ہو گیا تھا جن کو اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے رہے اور وعظ و نصیحت نے ان کو کوئی فائدہ نہیں دیا اور وہ اپنی سرکشی میں اصرار کے ساتھ سرگرداں رہے۔جو کوئی اس قسم کی صورت حال میں مبتلا ہو جائے تو اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح میں مشغول رہے اور اپنے رب سے امید رکھے کہ وہ اس کی کوشش کو قبول فرمائے گا اور وہ شر اور اہل شر سے دور رہے۔
[49] انسان کے لیے اپنے وطن مالوف، اپنے اہل و عیال اور اپنی قوم سے جدا ہونا سب سے مشکل اور سب سے زیادہ شاق گزرنے والا کام ہے اور اس کی کئی وجوہ ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی وجہ سے باعزت اور کثرت والا ہوتا ہے اور جو کوئی اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عوض اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم u نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا:﴿ فَلَمَّا اعۡتَزَلَهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ١ؕ وَكُلًّا﴾ ’’پس جب وہ (ابراہیمu) ان لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے، ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور سب کو۔‘‘ حضرت اسحاق اور یعقوبi دونوں کو ﴿ جَعَلۡنَا نَبِيًّا ﴾ ’’ہم نے نبی بنایا۔‘‘ پس حضرت ابراہیم u اور ان تمام صالحین و مرسلین کو یہ شرف نبوت حاصل ہوا جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجا، انھیں اپنی وحی کے لیے مختص کیا، انھیں اپنی رسالت کے لیے تمام جہانوں میں سے چن لیا۔
[50] فرمایا ﴿ وَوَهَبۡنَا لَهُمۡ﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیمu اور ان کے دونوں بیٹوں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوبi کو ﴿مِّنۡ رَّحۡمَتِنَا ﴾’’اپنی رحمت سے نوازا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے بہرہ ور کیا، علوم نافعہ اور اعمال صالحہ عطا کیے اور انھیں بے شمار ذریت عطا کی جو ساری دنیا میں پھیلی اور ان کے اندر بکثرت انبیاء اور صالحین ہوئے۔﴿ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ﴾ ’’اور ان کے ذکر جمیل کو بلند کیا۔‘‘ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے ان کو بہرہ ور کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیک کام کرنے والے ہر شخص سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کی نیکی کے مطابق اسے سچی شہرت عطا کرے گا۔ ان کا شمار تو ائمہ محسنین میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں سچی، جس میں جھوٹ کا شائبہ نہیں ، ظاہر و باہر اور غیر مخفی ثنائے حسن عطا کی۔ ان کے ذکر خیر، ان کی ثنائے حسن اور ان کے ساتھ محبت نے مشرق و مغرب کو لبریز کر دیا ہے۔ خلائق کے دلوں میں ان کی محبت سما گئی، لوگوں کی زبان پر ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا جاری ہو گئی۔ وہ پیروی کرنے والوں کے قائد اور راہنمائی حاصل کرنے والوں کے راہ نما بن گئے۔ ہر زمانے میں ان کا ذکر خیر نئے نئے اسالیب میں لوگوں کی زبانوں پر جای رہا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور اللہ تعالیٰ فضل عظیم کا مالک ہے۔
19:47قَالَ سَلَٰمٌ عَلَيۡكَۖ سَأَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيٓۖ إِنَّهُۥ كَانَ بِي حَفِيّٗا
اورذکر کیجیے کتاب میں ابراہیم کا، بے شک وہ تھا نہایت سچا، نبی (41) جب اس نے کہا اپنے باپ سے، اے میرے باپ! کیوں عبادت کرتا ہے تو اس کی جو نہ سنے اور نہ دیکھے اور نہ وہ کام آئے تیرے کچھ بھی (42) اے میرے باپ! بے شک میں ، تحقیق آیا ہے میرے پاس وہ علم وہ نہیں آیا تیرے پاس، پس تو پیروی کر میری، میں بتلاؤں گا تجھے راہ سیدھی (43) اے میرے باپ! مت عبادت کر تو شیطان کی، بلاشبہ شیطان ہے رحمٰن کا بہت نافرمان (44) اے میرے باپ بے شک میں ڈرتا ہوں اس بات سے کہ پہنچے تجھے عذاب رحمٰن کی طرف سے، پس ہو جائے تو شیطان کا دوست (45) اس (آزر) نے کہا، کیا بے زغبتی کرتا ہے تو میرے معبودوں سے، اے ابراہیم؟ البتہ اگر نہ باز آیا تو اس سے تو البتہ ضرور سنگسار کر دوں گا میں تجھےاورچھوڑ جا مجھے لمبا عرصہ (46) ابراہیم نے کہا، سلام ہو تجھ پر ضرور بخشش مانگوں گا تیرے لیے، اپنے رب سے، بلاشبہ وہ ہے مجھ پر نہایت مہربان (47) میں کنارہ کش ہوتا ہوں تم سے اور ان سے جنھیں تم پکارتے ہو، سوائے اللہ کےاور میں پکارتا ہوں اپنے رب کو، امید ہے کہ نہیں ہوں گا میں پکار کر اپنے رب کو محروم (48) پس جب وہ کنارہ کش ہو گیا ان سے اوران سے بھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے تو عطا کیے ہم نے اسے اسحٰق اور یعقوب اور ہر ایک کو بنایا ہم نے نبی (49) اور نوازا ہم نے انھیں اپنی رحمت سے اور کر دیا ہم نے ان کے لیے سچائی کی زبان (ان کے ذکر خیر) کو بلند (50)
[41] فرمایا: ﴿ وَ اذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ اِبۡرٰؔهِيۡمَ١ؕ ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا ﴾ ’’اور یاد کرو کتاب میں ابراہیم کو، بے شک وہ سچے نبی تھے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بیک وقت صدیقیت اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔ صدیق، بہت راست باز شخص کو کہا جاتا ہے۔ پس وہ اپنے اقوال، افعال اور احوال میں سچا ہونے کے ساتھ ساتھ ہر اس چیز کی بھی تصدیق کرتا ہے جس کی تصدیق کا اس کو حکم دیا جاتا ہے اور یہ خوبی مستلزم ہے اس عظیم علم کو جو دل کی گہرائیوں تک پہنچتا اور اس پر اثر انداز ہوتا ہے، نیز یقین اور کامل عمل صالح کا موجب ہوتا ہے۔حضرت ابراہیمu، حضرت محمدﷺ کے بعد تمام انبیاء ومرسلین میں افضل ہیں ۔ وہ تمام اصحاب فضیلت گروہوں کے تیسرے باپ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذریت کو نبوت اور کتاب سے نوازا۔ حضرت ابراہیمu نے تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی پھر اس راستے میں پیش آنے والی اذیتوں اور بڑی بڑی تعذیب پر صبر کیا۔ انھوں نے قریب اور بعید، سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور اپنے باپ کو، جیسے بھی ممکن ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کی بھرپور جدوجہد کی۔
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کی اس بحث وتکرار کا ذکر کیا جو انھوں نے اپنے باپ سے کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں نے کہا اپنے باپ سے‘‘ یعنی بتوں کی عبادت کی قباحت بیان کرتے ہوئے اپنے باپ سے کہا: ﴿ يٰۤاَ بَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡكَ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی آپ ان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو اپنی ذات اور افعال میں ناقص ہیں ، جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں ، جو اپنے عبادت گزار کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان بلکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور نہ اپنی ذات سے کوئی چیز دور ہٹانے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ پس یہ اس حقیقت پر ایک روشن دلیل ہے کہ ایسی ہستی کی عبادت کرنا، جو اپنی ذات اور اپنے افعال میں ناقص ہے، عقل اور شرع کے اعتبار سے قبیح ہے۔ اس کی تنبیہ اور اس کا اشارہ دلالت کرتا ہے کہ عبادت صرف اسی ہستی کی واجب اور مستحسن ہے جو کمال کی مالک ہے، جس کے سوا بندے کہیں سے نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے، جس کے سوا کوئی اور ہستی ان سے کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات۔
[43]﴿ يٰۤاَ بَتِ اِنِّيۡ قَدۡ جَآءَنِيۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَاۡتِكَ ﴾ یعنی ابا جان! مجھے حقیر نہ جانیں اور یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اور یہ کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ میرے پاس نہیں بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم عطا کیا ہے جو آپ کو عطا نہیں کیا اور حضرت ابراہیمu کے اس قول کا مقصد یہ کہنا تھا کہ: ﴿ فَاتَّبِعۡنِيۡۤ اَهۡدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا﴾ ’’آپ میری پیروی کریں میں دکھلاؤں گا آپ کو سیدھا راستہ‘‘ یعنی سیدھا اور معتدل راستہ اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تمام احوال میں اس کی اطاعت کرنا۔ اس خطاب میں جو لطف و کرم اور جو نرمی ہے وہ مخفی نہیں ۔ آپu نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ابا جان میں عالم ہوں اور آپ جاہل ہیں ‘‘ یا ’’آپ کے پاس کوئی علم نہیں ‘‘ آپu نے اس پیرائے میں گفتگو فرمائی ’’میرے پاس اور آپ کے پاس علم ہے مگر جو علم مجھ تک پہنچا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچا، اس لیے آپ کے لیے مناسب یہی ہے کہ آپ دلیل کی پیروی کریں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔‘‘
[44]﴿ يٰۤاَ بَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّيۡطٰنَ﴾ ’’ابا جان! شیطان کی عبادت نہ کریں ‘‘ کیونکہ جس نے غیر اللہ کی عبادت کی اس نے شیطان کی عبادت کی جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾(یٰسٓ:36؍60) ’’اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِيًّا ﴾ ’’بے شک شیطان رحمٰن کا نافرمان ہے‘‘ پس جو کوئی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرتا ہے وہ شیطان کا دوست اور شیطان کی مانند اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ یہاں نافرمانی کو اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (رحمٰن) کی طرف مضاف کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نافرمانیاں بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر دیتی ہیں اور اس پر رحمت کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رحمت الٰہی کے حصول کا سب سے بڑا سبب ہے۔
[45] اس لیے فرمایا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ﴾ ’’ابا جان! مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو کہیں رحمٰن کی طرف سے عذاب نہ آلے‘‘ یعنی کفر پر آپ کے اصرار اور سرکشی میں آپ کے بڑھتے چلے جانے کے سبب سے۔ ﴿ فَتَكُوۡنَ لِلشَّيۡطٰنِ وَلِيًّا ﴾ ’’پس آپ شیطان کے دوست ہو جائیں ‘‘ یعنی دنیا وآخرت میں ۔ پس آپ اس کے مذموم مقام و منزلت پر اتار دیے جائیں اور شیطان کی ضرر رساں اور گندی چراگاہ میں چریں ۔اور یوں حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو آسان سے آسان تر امر کی طرف دعوت دی۔ آپ نے اسے اپنے علم کے ذریعے سے بتایا کہ یہ چیز آپ پر میری اطاعت کی موجب ہے اگر آپ میری اطاعت کریں گے تو میں سیدھے راستے کی طرف آپ کی راہنمائی کروں گا، پھر آپ نے اسے شیطان کی عبادت سے منع فرمایا اور اسے ان مضرتوں کے بارے میں خبردار کیا جو شیطان کی عبادت میں پنہاں ہیں ، پھر اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرایا کہ اگر وہ اپنے اسی حال پر قائم رہا تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ شیطان کا دوست شمار ہو گا۔
[46] مگر یہ دعوت اس بدبخت کے کسی کام نہ آئی۔ اس نے ایک جاہل کی مانند جواب دیا: ﴿ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِهَتِيۡ يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ ’’اے ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے اعراض کرتا ہے؟‘‘ اس نے اپنے معبودوں پر فخر کا اظہار کیا جو پتھر کے بنے ہوئے بت تھے۔ اور حضرت ابراہیمu کو ان معبودوں سے روگردانی کرنے پر ملامت کرنے لگا، یہ اس کی بہت بڑی جہالت اور بہت بڑا کفر تھا، وہ بتوں کی عبادت پر مدح چاہتا تھا اور اس عبادت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ ﴾ یعنی اگر تو میرے معبودوں کو سب وشتم کرنے اور مجھے اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَاَرۡجُمَنَّكَ ﴾ یعنی میں تجھے پتھر مار مار کر قتل کر دوں گا ﴿ وَاهۡجُرۡنِيۡ مَلِيًّا ﴾ ’’اور چھوڑ دے مجھ کو ایک مدت تک‘‘ یعنی طویل زمانے تک میرے ساتھ بات نہ کر۔
[47] حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو اس طرح جواب دیا جس طرح رحمٰن کے بندے جہلاء کو جواب دیتے ہیں ۔ آپ اس سے سب و شتم سے پیش نہیں آئے بلکہ صبر سے کام لیا اور کوئی ایسی بات نہیں کہی جو باپ کو ناگوار گزرتی۔ فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ ﴾ ’’سلام آپ پر‘‘ یعنی آپ میرے خطاب میں سب و شتم اور ناگوار باتوں سے محفوظ رہیں گے۔ ﴿سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ﴾ یعنی میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور مغفرت کی دعا مانگتا رہوں گا کہ وہ آپ کی اسلام کی طرف راہنمائی کرے جس کے ذریعے سے مغفرت حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾ کیونکہ وہ میرے حال پر بہت رحیم اور مہربان ہے اور مجھے اپنے سایۂ اعتناء میں رکھتا ہے۔ پس حضرت ابراہیمu اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دے دے گا، اپنے باپ کے لیے استغفار کرتے رہے، پھر جب آپ پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کے لیے استغفار کرنا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا چھوڑ دی اور اس سے برا ء ت کا اظہار کر دیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں ملت ابراہیم کی اتباع کا حکم دیا ہے اور ان کی ملت کی پیروی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں ہم آپ کی راہ پر گامزن ہوں اور علم و حکمت اور نرم رویہ اپنائیں ۔ دعوت الی اللہ میں تدریج اور ترتیب کا طریقہ اختیار کریں ، اس پر صبر کریں اور اس سے ہرگز نہ اکتائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کو، لوگوں کی طرف سے جن قولی اور فعلی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان پر صبر کرے اور عفو، درگزر، قولی اور فعلی حسن سلوک کے ساتھ ان اذیتوں کا مقابلہ کرے۔
[48] جب ابراہیمu اپنی قوم اور اپنے باپ کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو کہنے لگے: ﴿ وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ یعنی میں تم سے اور تمھارے بتوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ﴿ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ﴾’’اور میں یہ دعا کروں گا اپنے رب سے‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے سوال دونوں کو شامل ہے﴿ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا﴾ ’’امید ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں گا‘‘ یعنی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا اور اعمال کو قبول فرما کر مجھے سعادت سے نواز دے۔ یہ اس داعی حق کا وظیفہ ہے جو ایسے لوگوں سے مایوس ہو گیا تھا جن کو اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے رہے اور وعظ و نصیحت نے ان کو کوئی فائدہ نہیں دیا اور وہ اپنی سرکشی میں اصرار کے ساتھ سرگرداں رہے۔جو کوئی اس قسم کی صورت حال میں مبتلا ہو جائے تو اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح میں مشغول رہے اور اپنے رب سے امید رکھے کہ وہ اس کی کوشش کو قبول فرمائے گا اور وہ شر اور اہل شر سے دور رہے۔
[49] انسان کے لیے اپنے وطن مالوف، اپنے اہل و عیال اور اپنی قوم سے جدا ہونا سب سے مشکل اور سب سے زیادہ شاق گزرنے والا کام ہے اور اس کی کئی وجوہ ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی وجہ سے باعزت اور کثرت والا ہوتا ہے اور جو کوئی اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عوض اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم u نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا:﴿ فَلَمَّا اعۡتَزَلَهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ١ؕ وَكُلًّا﴾ ’’پس جب وہ (ابراہیمu) ان لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے، ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور سب کو۔‘‘ حضرت اسحاق اور یعقوبi دونوں کو ﴿ جَعَلۡنَا نَبِيًّا ﴾ ’’ہم نے نبی بنایا۔‘‘ پس حضرت ابراہیم u اور ان تمام صالحین و مرسلین کو یہ شرف نبوت حاصل ہوا جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجا، انھیں اپنی وحی کے لیے مختص کیا، انھیں اپنی رسالت کے لیے تمام جہانوں میں سے چن لیا۔
[50] فرمایا ﴿ وَوَهَبۡنَا لَهُمۡ﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیمu اور ان کے دونوں بیٹوں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوبi کو ﴿مِّنۡ رَّحۡمَتِنَا ﴾’’اپنی رحمت سے نوازا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے بہرہ ور کیا، علوم نافعہ اور اعمال صالحہ عطا کیے اور انھیں بے شمار ذریت عطا کی جو ساری دنیا میں پھیلی اور ان کے اندر بکثرت انبیاء اور صالحین ہوئے۔﴿ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ﴾ ’’اور ان کے ذکر جمیل کو بلند کیا۔‘‘ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے ان کو بہرہ ور کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیک کام کرنے والے ہر شخص سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کی نیکی کے مطابق اسے سچی شہرت عطا کرے گا۔ ان کا شمار تو ائمہ محسنین میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں سچی، جس میں جھوٹ کا شائبہ نہیں ، ظاہر و باہر اور غیر مخفی ثنائے حسن عطا کی۔ ان کے ذکر خیر، ان کی ثنائے حسن اور ان کے ساتھ محبت نے مشرق و مغرب کو لبریز کر دیا ہے۔ خلائق کے دلوں میں ان کی محبت سما گئی، لوگوں کی زبان پر ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا جاری ہو گئی۔ وہ پیروی کرنے والوں کے قائد اور راہنمائی حاصل کرنے والوں کے راہ نما بن گئے۔ ہر زمانے میں ان کا ذکر خیر نئے نئے اسالیب میں لوگوں کی زبانوں پر جای رہا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور اللہ تعالیٰ فضل عظیم کا مالک ہے۔
19:48وَأَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَأَدۡعُواْ رَبِّي عَسَىٰٓ أَلَّآ أَكُونَ بِدُعَآءِ رَبِّي شَقِيّٗا
اورذکر کیجیے کتاب میں ابراہیم کا، بے شک وہ تھا نہایت سچا، نبی (41) جب اس نے کہا اپنے باپ سے، اے میرے باپ! کیوں عبادت کرتا ہے تو اس کی جو نہ سنے اور نہ دیکھے اور نہ وہ کام آئے تیرے کچھ بھی (42) اے میرے باپ! بے شک میں ، تحقیق آیا ہے میرے پاس وہ علم وہ نہیں آیا تیرے پاس، پس تو پیروی کر میری، میں بتلاؤں گا تجھے راہ سیدھی (43) اے میرے باپ! مت عبادت کر تو شیطان کی، بلاشبہ شیطان ہے رحمٰن کا بہت نافرمان (44) اے میرے باپ بے شک میں ڈرتا ہوں اس بات سے کہ پہنچے تجھے عذاب رحمٰن کی طرف سے، پس ہو جائے تو شیطان کا دوست (45) اس (آزر) نے کہا، کیا بے زغبتی کرتا ہے تو میرے معبودوں سے، اے ابراہیم؟ البتہ اگر نہ باز آیا تو اس سے تو البتہ ضرور سنگسار کر دوں گا میں تجھےاورچھوڑ جا مجھے لمبا عرصہ (46) ابراہیم نے کہا، سلام ہو تجھ پر ضرور بخشش مانگوں گا تیرے لیے، اپنے رب سے، بلاشبہ وہ ہے مجھ پر نہایت مہربان (47) میں کنارہ کش ہوتا ہوں تم سے اور ان سے جنھیں تم پکارتے ہو، سوائے اللہ کےاور میں پکارتا ہوں اپنے رب کو، امید ہے کہ نہیں ہوں گا میں پکار کر اپنے رب کو محروم (48) پس جب وہ کنارہ کش ہو گیا ان سے اوران سے بھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے تو عطا کیے ہم نے اسے اسحٰق اور یعقوب اور ہر ایک کو بنایا ہم نے نبی (49) اور نوازا ہم نے انھیں اپنی رحمت سے اور کر دیا ہم نے ان کے لیے سچائی کی زبان (ان کے ذکر خیر) کو بلند (50)
[41] فرمایا: ﴿ وَ اذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ اِبۡرٰؔهِيۡمَ١ؕ ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا ﴾ ’’اور یاد کرو کتاب میں ابراہیم کو، بے شک وہ سچے نبی تھے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بیک وقت صدیقیت اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔ صدیق، بہت راست باز شخص کو کہا جاتا ہے۔ پس وہ اپنے اقوال، افعال اور احوال میں سچا ہونے کے ساتھ ساتھ ہر اس چیز کی بھی تصدیق کرتا ہے جس کی تصدیق کا اس کو حکم دیا جاتا ہے اور یہ خوبی مستلزم ہے اس عظیم علم کو جو دل کی گہرائیوں تک پہنچتا اور اس پر اثر انداز ہوتا ہے، نیز یقین اور کامل عمل صالح کا موجب ہوتا ہے۔حضرت ابراہیمu، حضرت محمدﷺ کے بعد تمام انبیاء ومرسلین میں افضل ہیں ۔ وہ تمام اصحاب فضیلت گروہوں کے تیسرے باپ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذریت کو نبوت اور کتاب سے نوازا۔ حضرت ابراہیمu نے تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی پھر اس راستے میں پیش آنے والی اذیتوں اور بڑی بڑی تعذیب پر صبر کیا۔ انھوں نے قریب اور بعید، سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور اپنے باپ کو، جیسے بھی ممکن ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کی بھرپور جدوجہد کی۔
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کی اس بحث وتکرار کا ذکر کیا جو انھوں نے اپنے باپ سے کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں نے کہا اپنے باپ سے‘‘ یعنی بتوں کی عبادت کی قباحت بیان کرتے ہوئے اپنے باپ سے کہا: ﴿ يٰۤاَ بَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡكَ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی آپ ان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو اپنی ذات اور افعال میں ناقص ہیں ، جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں ، جو اپنے عبادت گزار کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان بلکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور نہ اپنی ذات سے کوئی چیز دور ہٹانے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ پس یہ اس حقیقت پر ایک روشن دلیل ہے کہ ایسی ہستی کی عبادت کرنا، جو اپنی ذات اور اپنے افعال میں ناقص ہے، عقل اور شرع کے اعتبار سے قبیح ہے۔ اس کی تنبیہ اور اس کا اشارہ دلالت کرتا ہے کہ عبادت صرف اسی ہستی کی واجب اور مستحسن ہے جو کمال کی مالک ہے، جس کے سوا بندے کہیں سے نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے، جس کے سوا کوئی اور ہستی ان سے کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات۔
[43]﴿ يٰۤاَ بَتِ اِنِّيۡ قَدۡ جَآءَنِيۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَاۡتِكَ ﴾ یعنی ابا جان! مجھے حقیر نہ جانیں اور یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اور یہ کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ میرے پاس نہیں بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم عطا کیا ہے جو آپ کو عطا نہیں کیا اور حضرت ابراہیمu کے اس قول کا مقصد یہ کہنا تھا کہ: ﴿ فَاتَّبِعۡنِيۡۤ اَهۡدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا﴾ ’’آپ میری پیروی کریں میں دکھلاؤں گا آپ کو سیدھا راستہ‘‘ یعنی سیدھا اور معتدل راستہ اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تمام احوال میں اس کی اطاعت کرنا۔ اس خطاب میں جو لطف و کرم اور جو نرمی ہے وہ مخفی نہیں ۔ آپu نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ابا جان میں عالم ہوں اور آپ جاہل ہیں ‘‘ یا ’’آپ کے پاس کوئی علم نہیں ‘‘ آپu نے اس پیرائے میں گفتگو فرمائی ’’میرے پاس اور آپ کے پاس علم ہے مگر جو علم مجھ تک پہنچا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچا، اس لیے آپ کے لیے مناسب یہی ہے کہ آپ دلیل کی پیروی کریں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔‘‘
[44]﴿ يٰۤاَ بَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّيۡطٰنَ﴾ ’’ابا جان! شیطان کی عبادت نہ کریں ‘‘ کیونکہ جس نے غیر اللہ کی عبادت کی اس نے شیطان کی عبادت کی جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾(یٰسٓ:36؍60) ’’اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِيًّا ﴾ ’’بے شک شیطان رحمٰن کا نافرمان ہے‘‘ پس جو کوئی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرتا ہے وہ شیطان کا دوست اور شیطان کی مانند اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ یہاں نافرمانی کو اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (رحمٰن) کی طرف مضاف کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نافرمانیاں بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر دیتی ہیں اور اس پر رحمت کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رحمت الٰہی کے حصول کا سب سے بڑا سبب ہے۔
[45] اس لیے فرمایا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ﴾ ’’ابا جان! مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو کہیں رحمٰن کی طرف سے عذاب نہ آلے‘‘ یعنی کفر پر آپ کے اصرار اور سرکشی میں آپ کے بڑھتے چلے جانے کے سبب سے۔ ﴿ فَتَكُوۡنَ لِلشَّيۡطٰنِ وَلِيًّا ﴾ ’’پس آپ شیطان کے دوست ہو جائیں ‘‘ یعنی دنیا وآخرت میں ۔ پس آپ اس کے مذموم مقام و منزلت پر اتار دیے جائیں اور شیطان کی ضرر رساں اور گندی چراگاہ میں چریں ۔اور یوں حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو آسان سے آسان تر امر کی طرف دعوت دی۔ آپ نے اسے اپنے علم کے ذریعے سے بتایا کہ یہ چیز آپ پر میری اطاعت کی موجب ہے اگر آپ میری اطاعت کریں گے تو میں سیدھے راستے کی طرف آپ کی راہنمائی کروں گا، پھر آپ نے اسے شیطان کی عبادت سے منع فرمایا اور اسے ان مضرتوں کے بارے میں خبردار کیا جو شیطان کی عبادت میں پنہاں ہیں ، پھر اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرایا کہ اگر وہ اپنے اسی حال پر قائم رہا تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ شیطان کا دوست شمار ہو گا۔
[46] مگر یہ دعوت اس بدبخت کے کسی کام نہ آئی۔ اس نے ایک جاہل کی مانند جواب دیا: ﴿ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِهَتِيۡ يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ ’’اے ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے اعراض کرتا ہے؟‘‘ اس نے اپنے معبودوں پر فخر کا اظہار کیا جو پتھر کے بنے ہوئے بت تھے۔ اور حضرت ابراہیمu کو ان معبودوں سے روگردانی کرنے پر ملامت کرنے لگا، یہ اس کی بہت بڑی جہالت اور بہت بڑا کفر تھا، وہ بتوں کی عبادت پر مدح چاہتا تھا اور اس عبادت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ ﴾ یعنی اگر تو میرے معبودوں کو سب وشتم کرنے اور مجھے اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَاَرۡجُمَنَّكَ ﴾ یعنی میں تجھے پتھر مار مار کر قتل کر دوں گا ﴿ وَاهۡجُرۡنِيۡ مَلِيًّا ﴾ ’’اور چھوڑ دے مجھ کو ایک مدت تک‘‘ یعنی طویل زمانے تک میرے ساتھ بات نہ کر۔
[47] حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو اس طرح جواب دیا جس طرح رحمٰن کے بندے جہلاء کو جواب دیتے ہیں ۔ آپ اس سے سب و شتم سے پیش نہیں آئے بلکہ صبر سے کام لیا اور کوئی ایسی بات نہیں کہی جو باپ کو ناگوار گزرتی۔ فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ ﴾ ’’سلام آپ پر‘‘ یعنی آپ میرے خطاب میں سب و شتم اور ناگوار باتوں سے محفوظ رہیں گے۔ ﴿سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ﴾ یعنی میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور مغفرت کی دعا مانگتا رہوں گا کہ وہ آپ کی اسلام کی طرف راہنمائی کرے جس کے ذریعے سے مغفرت حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾ کیونکہ وہ میرے حال پر بہت رحیم اور مہربان ہے اور مجھے اپنے سایۂ اعتناء میں رکھتا ہے۔ پس حضرت ابراہیمu اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دے دے گا، اپنے باپ کے لیے استغفار کرتے رہے، پھر جب آپ پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کے لیے استغفار کرنا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا چھوڑ دی اور اس سے برا ء ت کا اظہار کر دیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں ملت ابراہیم کی اتباع کا حکم دیا ہے اور ان کی ملت کی پیروی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں ہم آپ کی راہ پر گامزن ہوں اور علم و حکمت اور نرم رویہ اپنائیں ۔ دعوت الی اللہ میں تدریج اور ترتیب کا طریقہ اختیار کریں ، اس پر صبر کریں اور اس سے ہرگز نہ اکتائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کو، لوگوں کی طرف سے جن قولی اور فعلی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان پر صبر کرے اور عفو، درگزر، قولی اور فعلی حسن سلوک کے ساتھ ان اذیتوں کا مقابلہ کرے۔
[48] جب ابراہیمu اپنی قوم اور اپنے باپ کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو کہنے لگے: ﴿ وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ یعنی میں تم سے اور تمھارے بتوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ﴿ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ﴾’’اور میں یہ دعا کروں گا اپنے رب سے‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے سوال دونوں کو شامل ہے﴿ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا﴾ ’’امید ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں گا‘‘ یعنی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا اور اعمال کو قبول فرما کر مجھے سعادت سے نواز دے۔ یہ اس داعی حق کا وظیفہ ہے جو ایسے لوگوں سے مایوس ہو گیا تھا جن کو اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے رہے اور وعظ و نصیحت نے ان کو کوئی فائدہ نہیں دیا اور وہ اپنی سرکشی میں اصرار کے ساتھ سرگرداں رہے۔جو کوئی اس قسم کی صورت حال میں مبتلا ہو جائے تو اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح میں مشغول رہے اور اپنے رب سے امید رکھے کہ وہ اس کی کوشش کو قبول فرمائے گا اور وہ شر اور اہل شر سے دور رہے۔
[49] انسان کے لیے اپنے وطن مالوف، اپنے اہل و عیال اور اپنی قوم سے جدا ہونا سب سے مشکل اور سب سے زیادہ شاق گزرنے والا کام ہے اور اس کی کئی وجوہ ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی وجہ سے باعزت اور کثرت والا ہوتا ہے اور جو کوئی اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عوض اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم u نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا:﴿ فَلَمَّا اعۡتَزَلَهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ١ؕ وَكُلًّا﴾ ’’پس جب وہ (ابراہیمu) ان لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے، ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور سب کو۔‘‘ حضرت اسحاق اور یعقوبi دونوں کو ﴿ جَعَلۡنَا نَبِيًّا ﴾ ’’ہم نے نبی بنایا۔‘‘ پس حضرت ابراہیم u اور ان تمام صالحین و مرسلین کو یہ شرف نبوت حاصل ہوا جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجا، انھیں اپنی وحی کے لیے مختص کیا، انھیں اپنی رسالت کے لیے تمام جہانوں میں سے چن لیا۔
[50] فرمایا ﴿ وَوَهَبۡنَا لَهُمۡ﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیمu اور ان کے دونوں بیٹوں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوبi کو ﴿مِّنۡ رَّحۡمَتِنَا ﴾’’اپنی رحمت سے نوازا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے بہرہ ور کیا، علوم نافعہ اور اعمال صالحہ عطا کیے اور انھیں بے شمار ذریت عطا کی جو ساری دنیا میں پھیلی اور ان کے اندر بکثرت انبیاء اور صالحین ہوئے۔﴿ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ﴾ ’’اور ان کے ذکر جمیل کو بلند کیا۔‘‘ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے ان کو بہرہ ور کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیک کام کرنے والے ہر شخص سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کی نیکی کے مطابق اسے سچی شہرت عطا کرے گا۔ ان کا شمار تو ائمہ محسنین میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں سچی، جس میں جھوٹ کا شائبہ نہیں ، ظاہر و باہر اور غیر مخفی ثنائے حسن عطا کی۔ ان کے ذکر خیر، ان کی ثنائے حسن اور ان کے ساتھ محبت نے مشرق و مغرب کو لبریز کر دیا ہے۔ خلائق کے دلوں میں ان کی محبت سما گئی، لوگوں کی زبان پر ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا جاری ہو گئی۔ وہ پیروی کرنے والوں کے قائد اور راہنمائی حاصل کرنے والوں کے راہ نما بن گئے۔ ہر زمانے میں ان کا ذکر خیر نئے نئے اسالیب میں لوگوں کی زبانوں پر جای رہا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور اللہ تعالیٰ فضل عظیم کا مالک ہے۔
19:49فَلَمَّا ٱعۡتَزَلَهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَهَبۡنَا لَهُۥٓ إِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَۖ وَكُلّٗا جَعَلۡنَا نَبِيّٗا
اورذکر کیجیے کتاب میں ابراہیم کا، بے شک وہ تھا نہایت سچا، نبی (41) جب اس نے کہا اپنے باپ سے، اے میرے باپ! کیوں عبادت کرتا ہے تو اس کی جو نہ سنے اور نہ دیکھے اور نہ وہ کام آئے تیرے کچھ بھی (42) اے میرے باپ! بے شک میں ، تحقیق آیا ہے میرے پاس وہ علم وہ نہیں آیا تیرے پاس، پس تو پیروی کر میری، میں بتلاؤں گا تجھے راہ سیدھی (43) اے میرے باپ! مت عبادت کر تو شیطان کی، بلاشبہ شیطان ہے رحمٰن کا بہت نافرمان (44) اے میرے باپ بے شک میں ڈرتا ہوں اس بات سے کہ پہنچے تجھے عذاب رحمٰن کی طرف سے، پس ہو جائے تو شیطان کا دوست (45) اس (آزر) نے کہا، کیا بے زغبتی کرتا ہے تو میرے معبودوں سے، اے ابراہیم؟ البتہ اگر نہ باز آیا تو اس سے تو البتہ ضرور سنگسار کر دوں گا میں تجھےاورچھوڑ جا مجھے لمبا عرصہ (46) ابراہیم نے کہا، سلام ہو تجھ پر ضرور بخشش مانگوں گا تیرے لیے، اپنے رب سے، بلاشبہ وہ ہے مجھ پر نہایت مہربان (47) میں کنارہ کش ہوتا ہوں تم سے اور ان سے جنھیں تم پکارتے ہو، سوائے اللہ کےاور میں پکارتا ہوں اپنے رب کو، امید ہے کہ نہیں ہوں گا میں پکار کر اپنے رب کو محروم (48) پس جب وہ کنارہ کش ہو گیا ان سے اوران سے بھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے تو عطا کیے ہم نے اسے اسحٰق اور یعقوب اور ہر ایک کو بنایا ہم نے نبی (49) اور نوازا ہم نے انھیں اپنی رحمت سے اور کر دیا ہم نے ان کے لیے سچائی کی زبان (ان کے ذکر خیر) کو بلند (50)
[41] فرمایا: ﴿ وَ اذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ اِبۡرٰؔهِيۡمَ١ؕ ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا ﴾ ’’اور یاد کرو کتاب میں ابراہیم کو، بے شک وہ سچے نبی تھے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بیک وقت صدیقیت اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔ صدیق، بہت راست باز شخص کو کہا جاتا ہے۔ پس وہ اپنے اقوال، افعال اور احوال میں سچا ہونے کے ساتھ ساتھ ہر اس چیز کی بھی تصدیق کرتا ہے جس کی تصدیق کا اس کو حکم دیا جاتا ہے اور یہ خوبی مستلزم ہے اس عظیم علم کو جو دل کی گہرائیوں تک پہنچتا اور اس پر اثر انداز ہوتا ہے، نیز یقین اور کامل عمل صالح کا موجب ہوتا ہے۔حضرت ابراہیمu، حضرت محمدﷺ کے بعد تمام انبیاء ومرسلین میں افضل ہیں ۔ وہ تمام اصحاب فضیلت گروہوں کے تیسرے باپ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذریت کو نبوت اور کتاب سے نوازا۔ حضرت ابراہیمu نے تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی پھر اس راستے میں پیش آنے والی اذیتوں اور بڑی بڑی تعذیب پر صبر کیا۔ انھوں نے قریب اور بعید، سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور اپنے باپ کو، جیسے بھی ممکن ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کی بھرپور جدوجہد کی۔
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کی اس بحث وتکرار کا ذکر کیا جو انھوں نے اپنے باپ سے کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں نے کہا اپنے باپ سے‘‘ یعنی بتوں کی عبادت کی قباحت بیان کرتے ہوئے اپنے باپ سے کہا: ﴿ يٰۤاَ بَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡكَ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی آپ ان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو اپنی ذات اور افعال میں ناقص ہیں ، جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں ، جو اپنے عبادت گزار کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان بلکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور نہ اپنی ذات سے کوئی چیز دور ہٹانے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ پس یہ اس حقیقت پر ایک روشن دلیل ہے کہ ایسی ہستی کی عبادت کرنا، جو اپنی ذات اور اپنے افعال میں ناقص ہے، عقل اور شرع کے اعتبار سے قبیح ہے۔ اس کی تنبیہ اور اس کا اشارہ دلالت کرتا ہے کہ عبادت صرف اسی ہستی کی واجب اور مستحسن ہے جو کمال کی مالک ہے، جس کے سوا بندے کہیں سے نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے، جس کے سوا کوئی اور ہستی ان سے کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات۔
[43]﴿ يٰۤاَ بَتِ اِنِّيۡ قَدۡ جَآءَنِيۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَاۡتِكَ ﴾ یعنی ابا جان! مجھے حقیر نہ جانیں اور یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اور یہ کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ میرے پاس نہیں بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم عطا کیا ہے جو آپ کو عطا نہیں کیا اور حضرت ابراہیمu کے اس قول کا مقصد یہ کہنا تھا کہ: ﴿ فَاتَّبِعۡنِيۡۤ اَهۡدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا﴾ ’’آپ میری پیروی کریں میں دکھلاؤں گا آپ کو سیدھا راستہ‘‘ یعنی سیدھا اور معتدل راستہ اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تمام احوال میں اس کی اطاعت کرنا۔ اس خطاب میں جو لطف و کرم اور جو نرمی ہے وہ مخفی نہیں ۔ آپu نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ابا جان میں عالم ہوں اور آپ جاہل ہیں ‘‘ یا ’’آپ کے پاس کوئی علم نہیں ‘‘ آپu نے اس پیرائے میں گفتگو فرمائی ’’میرے پاس اور آپ کے پاس علم ہے مگر جو علم مجھ تک پہنچا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچا، اس لیے آپ کے لیے مناسب یہی ہے کہ آپ دلیل کی پیروی کریں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔‘‘
[44]﴿ يٰۤاَ بَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّيۡطٰنَ﴾ ’’ابا جان! شیطان کی عبادت نہ کریں ‘‘ کیونکہ جس نے غیر اللہ کی عبادت کی اس نے شیطان کی عبادت کی جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾(یٰسٓ:36؍60) ’’اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِيًّا ﴾ ’’بے شک شیطان رحمٰن کا نافرمان ہے‘‘ پس جو کوئی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرتا ہے وہ شیطان کا دوست اور شیطان کی مانند اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ یہاں نافرمانی کو اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (رحمٰن) کی طرف مضاف کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نافرمانیاں بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر دیتی ہیں اور اس پر رحمت کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رحمت الٰہی کے حصول کا سب سے بڑا سبب ہے۔
[45] اس لیے فرمایا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ﴾ ’’ابا جان! مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو کہیں رحمٰن کی طرف سے عذاب نہ آلے‘‘ یعنی کفر پر آپ کے اصرار اور سرکشی میں آپ کے بڑھتے چلے جانے کے سبب سے۔ ﴿ فَتَكُوۡنَ لِلشَّيۡطٰنِ وَلِيًّا ﴾ ’’پس آپ شیطان کے دوست ہو جائیں ‘‘ یعنی دنیا وآخرت میں ۔ پس آپ اس کے مذموم مقام و منزلت پر اتار دیے جائیں اور شیطان کی ضرر رساں اور گندی چراگاہ میں چریں ۔اور یوں حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو آسان سے آسان تر امر کی طرف دعوت دی۔ آپ نے اسے اپنے علم کے ذریعے سے بتایا کہ یہ چیز آپ پر میری اطاعت کی موجب ہے اگر آپ میری اطاعت کریں گے تو میں سیدھے راستے کی طرف آپ کی راہنمائی کروں گا، پھر آپ نے اسے شیطان کی عبادت سے منع فرمایا اور اسے ان مضرتوں کے بارے میں خبردار کیا جو شیطان کی عبادت میں پنہاں ہیں ، پھر اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرایا کہ اگر وہ اپنے اسی حال پر قائم رہا تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ شیطان کا دوست شمار ہو گا۔
[46] مگر یہ دعوت اس بدبخت کے کسی کام نہ آئی۔ اس نے ایک جاہل کی مانند جواب دیا: ﴿ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِهَتِيۡ يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ ’’اے ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے اعراض کرتا ہے؟‘‘ اس نے اپنے معبودوں پر فخر کا اظہار کیا جو پتھر کے بنے ہوئے بت تھے۔ اور حضرت ابراہیمu کو ان معبودوں سے روگردانی کرنے پر ملامت کرنے لگا، یہ اس کی بہت بڑی جہالت اور بہت بڑا کفر تھا، وہ بتوں کی عبادت پر مدح چاہتا تھا اور اس عبادت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ ﴾ یعنی اگر تو میرے معبودوں کو سب وشتم کرنے اور مجھے اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَاَرۡجُمَنَّكَ ﴾ یعنی میں تجھے پتھر مار مار کر قتل کر دوں گا ﴿ وَاهۡجُرۡنِيۡ مَلِيًّا ﴾ ’’اور چھوڑ دے مجھ کو ایک مدت تک‘‘ یعنی طویل زمانے تک میرے ساتھ بات نہ کر۔
[47] حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو اس طرح جواب دیا جس طرح رحمٰن کے بندے جہلاء کو جواب دیتے ہیں ۔ آپ اس سے سب و شتم سے پیش نہیں آئے بلکہ صبر سے کام لیا اور کوئی ایسی بات نہیں کہی جو باپ کو ناگوار گزرتی۔ فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ ﴾ ’’سلام آپ پر‘‘ یعنی آپ میرے خطاب میں سب و شتم اور ناگوار باتوں سے محفوظ رہیں گے۔ ﴿سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ﴾ یعنی میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور مغفرت کی دعا مانگتا رہوں گا کہ وہ آپ کی اسلام کی طرف راہنمائی کرے جس کے ذریعے سے مغفرت حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾ کیونکہ وہ میرے حال پر بہت رحیم اور مہربان ہے اور مجھے اپنے سایۂ اعتناء میں رکھتا ہے۔ پس حضرت ابراہیمu اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دے دے گا، اپنے باپ کے لیے استغفار کرتے رہے، پھر جب آپ پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کے لیے استغفار کرنا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا چھوڑ دی اور اس سے برا ء ت کا اظہار کر دیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں ملت ابراہیم کی اتباع کا حکم دیا ہے اور ان کی ملت کی پیروی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں ہم آپ کی راہ پر گامزن ہوں اور علم و حکمت اور نرم رویہ اپنائیں ۔ دعوت الی اللہ میں تدریج اور ترتیب کا طریقہ اختیار کریں ، اس پر صبر کریں اور اس سے ہرگز نہ اکتائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کو، لوگوں کی طرف سے جن قولی اور فعلی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان پر صبر کرے اور عفو، درگزر، قولی اور فعلی حسن سلوک کے ساتھ ان اذیتوں کا مقابلہ کرے۔
[48] جب ابراہیمu اپنی قوم اور اپنے باپ کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو کہنے لگے: ﴿ وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ یعنی میں تم سے اور تمھارے بتوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ﴿ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ﴾’’اور میں یہ دعا کروں گا اپنے رب سے‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے سوال دونوں کو شامل ہے﴿ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا﴾ ’’امید ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں گا‘‘ یعنی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا اور اعمال کو قبول فرما کر مجھے سعادت سے نواز دے۔ یہ اس داعی حق کا وظیفہ ہے جو ایسے لوگوں سے مایوس ہو گیا تھا جن کو اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے رہے اور وعظ و نصیحت نے ان کو کوئی فائدہ نہیں دیا اور وہ اپنی سرکشی میں اصرار کے ساتھ سرگرداں رہے۔جو کوئی اس قسم کی صورت حال میں مبتلا ہو جائے تو اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح میں مشغول رہے اور اپنے رب سے امید رکھے کہ وہ اس کی کوشش کو قبول فرمائے گا اور وہ شر اور اہل شر سے دور رہے۔
[49] انسان کے لیے اپنے وطن مالوف، اپنے اہل و عیال اور اپنی قوم سے جدا ہونا سب سے مشکل اور سب سے زیادہ شاق گزرنے والا کام ہے اور اس کی کئی وجوہ ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی وجہ سے باعزت اور کثرت والا ہوتا ہے اور جو کوئی اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عوض اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم u نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا:﴿ فَلَمَّا اعۡتَزَلَهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ١ؕ وَكُلًّا﴾ ’’پس جب وہ (ابراہیمu) ان لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے، ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور سب کو۔‘‘ حضرت اسحاق اور یعقوبi دونوں کو ﴿ جَعَلۡنَا نَبِيًّا ﴾ ’’ہم نے نبی بنایا۔‘‘ پس حضرت ابراہیم u اور ان تمام صالحین و مرسلین کو یہ شرف نبوت حاصل ہوا جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجا، انھیں اپنی وحی کے لیے مختص کیا، انھیں اپنی رسالت کے لیے تمام جہانوں میں سے چن لیا۔
[50] فرمایا ﴿ وَوَهَبۡنَا لَهُمۡ﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیمu اور ان کے دونوں بیٹوں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوبi کو ﴿مِّنۡ رَّحۡمَتِنَا ﴾’’اپنی رحمت سے نوازا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے بہرہ ور کیا، علوم نافعہ اور اعمال صالحہ عطا کیے اور انھیں بے شمار ذریت عطا کی جو ساری دنیا میں پھیلی اور ان کے اندر بکثرت انبیاء اور صالحین ہوئے۔﴿ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ﴾ ’’اور ان کے ذکر جمیل کو بلند کیا۔‘‘ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے ان کو بہرہ ور کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیک کام کرنے والے ہر شخص سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کی نیکی کے مطابق اسے سچی شہرت عطا کرے گا۔ ان کا شمار تو ائمہ محسنین میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں سچی، جس میں جھوٹ کا شائبہ نہیں ، ظاہر و باہر اور غیر مخفی ثنائے حسن عطا کی۔ ان کے ذکر خیر، ان کی ثنائے حسن اور ان کے ساتھ محبت نے مشرق و مغرب کو لبریز کر دیا ہے۔ خلائق کے دلوں میں ان کی محبت سما گئی، لوگوں کی زبان پر ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا جاری ہو گئی۔ وہ پیروی کرنے والوں کے قائد اور راہنمائی حاصل کرنے والوں کے راہ نما بن گئے۔ ہر زمانے میں ان کا ذکر خیر نئے نئے اسالیب میں لوگوں کی زبانوں پر جای رہا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور اللہ تعالیٰ فضل عظیم کا مالک ہے۔
19:50وَوَهَبۡنَا لَهُم مِّن رَّحۡمَتِنَا وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيّٗا
اورذکر کیجیے کتاب میں ابراہیم کا، بے شک وہ تھا نہایت سچا، نبی (41) جب اس نے کہا اپنے باپ سے، اے میرے باپ! کیوں عبادت کرتا ہے تو اس کی جو نہ سنے اور نہ دیکھے اور نہ وہ کام آئے تیرے کچھ بھی (42) اے میرے باپ! بے شک میں ، تحقیق آیا ہے میرے پاس وہ علم وہ نہیں آیا تیرے پاس، پس تو پیروی کر میری، میں بتلاؤں گا تجھے راہ سیدھی (43) اے میرے باپ! مت عبادت کر تو شیطان کی، بلاشبہ شیطان ہے رحمٰن کا بہت نافرمان (44) اے میرے باپ بے شک میں ڈرتا ہوں اس بات سے کہ پہنچے تجھے عذاب رحمٰن کی طرف سے، پس ہو جائے تو شیطان کا دوست (45) اس (آزر) نے کہا، کیا بے زغبتی کرتا ہے تو میرے معبودوں سے، اے ابراہیم؟ البتہ اگر نہ باز آیا تو اس سے تو البتہ ضرور سنگسار کر دوں گا میں تجھےاورچھوڑ جا مجھے لمبا عرصہ (46) ابراہیم نے کہا، سلام ہو تجھ پر ضرور بخشش مانگوں گا تیرے لیے، اپنے رب سے، بلاشبہ وہ ہے مجھ پر نہایت مہربان (47) میں کنارہ کش ہوتا ہوں تم سے اور ان سے جنھیں تم پکارتے ہو، سوائے اللہ کےاور میں پکارتا ہوں اپنے رب کو، امید ہے کہ نہیں ہوں گا میں پکار کر اپنے رب کو محروم (48) پس جب وہ کنارہ کش ہو گیا ان سے اوران سے بھی جن کی وہ عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے تو عطا کیے ہم نے اسے اسحٰق اور یعقوب اور ہر ایک کو بنایا ہم نے نبی (49) اور نوازا ہم نے انھیں اپنی رحمت سے اور کر دیا ہم نے ان کے لیے سچائی کی زبان (ان کے ذکر خیر) کو بلند (50)
[41] فرمایا: ﴿ وَ اذۡكُرۡ فِي الۡكِتٰبِ اِبۡرٰؔهِيۡمَ١ؕ ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا ﴾ ’’اور یاد کرو کتاب میں ابراہیم کو، بے شک وہ سچے نبی تھے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بیک وقت صدیقیت اور نبوت سے سرفراز فرمایا۔ صدیق، بہت راست باز شخص کو کہا جاتا ہے۔ پس وہ اپنے اقوال، افعال اور احوال میں سچا ہونے کے ساتھ ساتھ ہر اس چیز کی بھی تصدیق کرتا ہے جس کی تصدیق کا اس کو حکم دیا جاتا ہے اور یہ خوبی مستلزم ہے اس عظیم علم کو جو دل کی گہرائیوں تک پہنچتا اور اس پر اثر انداز ہوتا ہے، نیز یقین اور کامل عمل صالح کا موجب ہوتا ہے۔حضرت ابراہیمu، حضرت محمدﷺ کے بعد تمام انبیاء ومرسلین میں افضل ہیں ۔ وہ تمام اصحاب فضیلت گروہوں کے تیسرے باپ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ذریت کو نبوت اور کتاب سے نوازا۔ حضرت ابراہیمu نے تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی پھر اس راستے میں پیش آنے والی اذیتوں اور بڑی بڑی تعذیب پر صبر کیا۔ انھوں نے قریب اور بعید، سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور اپنے باپ کو، جیسے بھی ممکن ہوا، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کی بھرپور جدوجہد کی۔
[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کی اس بحث وتکرار کا ذکر کیا جو انھوں نے اپنے باپ سے کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ ﴾ ’’جب انھوں نے کہا اپنے باپ سے‘‘ یعنی بتوں کی عبادت کی قباحت بیان کرتے ہوئے اپنے باپ سے کہا: ﴿ يٰۤاَ بَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡكَ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی آپ ان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو اپنی ذات اور افعال میں ناقص ہیں ، جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں ، جو اپنے عبادت گزار کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان بلکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور نہ اپنی ذات سے کوئی چیز دور ہٹانے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ پس یہ اس حقیقت پر ایک روشن دلیل ہے کہ ایسی ہستی کی عبادت کرنا، جو اپنی ذات اور اپنے افعال میں ناقص ہے، عقل اور شرع کے اعتبار سے قبیح ہے۔ اس کی تنبیہ اور اس کا اشارہ دلالت کرتا ہے کہ عبادت صرف اسی ہستی کی واجب اور مستحسن ہے جو کمال کی مالک ہے، جس کے سوا بندے کہیں سے نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے، جس کے سوا کوئی اور ہستی ان سے کوئی تکلیف دور نہیں کر سکتی اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات۔
[43]﴿ يٰۤاَ بَتِ اِنِّيۡ قَدۡ جَآءَنِيۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَاۡتِكَ ﴾ یعنی ابا جان! مجھے حقیر نہ جانیں اور یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اور یہ کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ میرے پاس نہیں بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم عطا کیا ہے جو آپ کو عطا نہیں کیا اور حضرت ابراہیمu کے اس قول کا مقصد یہ کہنا تھا کہ: ﴿ فَاتَّبِعۡنِيۡۤ اَهۡدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا﴾ ’’آپ میری پیروی کریں میں دکھلاؤں گا آپ کو سیدھا راستہ‘‘ یعنی سیدھا اور معتدل راستہ اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تمام احوال میں اس کی اطاعت کرنا۔ اس خطاب میں جو لطف و کرم اور جو نرمی ہے وہ مخفی نہیں ۔ آپu نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ابا جان میں عالم ہوں اور آپ جاہل ہیں ‘‘ یا ’’آپ کے پاس کوئی علم نہیں ‘‘ آپu نے اس پیرائے میں گفتگو فرمائی ’’میرے پاس اور آپ کے پاس علم ہے مگر جو علم مجھ تک پہنچا ہے وہ آپ تک نہیں پہنچا، اس لیے آپ کے لیے مناسب یہی ہے کہ آپ دلیل کی پیروی کریں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔‘‘
[44]﴿ يٰۤاَ بَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّيۡطٰنَ﴾ ’’ابا جان! شیطان کی عبادت نہ کریں ‘‘ کیونکہ جس نے غیر اللہ کی عبادت کی اس نے شیطان کی عبادت کی جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾(یٰسٓ:36؍60) ’’اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ ﴿ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِيًّا ﴾ ’’بے شک شیطان رحمٰن کا نافرمان ہے‘‘ پس جو کوئی شیطان کے نقش قدم کی پیروی کرتا ہے وہ شیطان کا دوست اور شیطان کی مانند اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ یہاں نافرمانی کو اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (رحمٰن) کی طرف مضاف کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نافرمانیاں بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر دیتی ہیں اور اس پر رحمت کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رحمت الٰہی کے حصول کا سب سے بڑا سبب ہے۔
[45] اس لیے فرمایا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ﴾ ’’ابا جان! مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو کہیں رحمٰن کی طرف سے عذاب نہ آلے‘‘ یعنی کفر پر آپ کے اصرار اور سرکشی میں آپ کے بڑھتے چلے جانے کے سبب سے۔ ﴿ فَتَكُوۡنَ لِلشَّيۡطٰنِ وَلِيًّا ﴾ ’’پس آپ شیطان کے دوست ہو جائیں ‘‘ یعنی دنیا وآخرت میں ۔ پس آپ اس کے مذموم مقام و منزلت پر اتار دیے جائیں اور شیطان کی ضرر رساں اور گندی چراگاہ میں چریں ۔اور یوں حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو آسان سے آسان تر امر کی طرف دعوت دی۔ آپ نے اسے اپنے علم کے ذریعے سے بتایا کہ یہ چیز آپ پر میری اطاعت کی موجب ہے اگر آپ میری اطاعت کریں گے تو میں سیدھے راستے کی طرف آپ کی راہنمائی کروں گا، پھر آپ نے اسے شیطان کی عبادت سے منع فرمایا اور اسے ان مضرتوں کے بارے میں خبردار کیا جو شیطان کی عبادت میں پنہاں ہیں ، پھر اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرایا کہ اگر وہ اپنے اسی حال پر قائم رہا تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ شیطان کا دوست شمار ہو گا۔
[46] مگر یہ دعوت اس بدبخت کے کسی کام نہ آئی۔ اس نے ایک جاہل کی مانند جواب دیا: ﴿ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِهَتِيۡ يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ﴾ ’’اے ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے اعراض کرتا ہے؟‘‘ اس نے اپنے معبودوں پر فخر کا اظہار کیا جو پتھر کے بنے ہوئے بت تھے۔ اور حضرت ابراہیمu کو ان معبودوں سے روگردانی کرنے پر ملامت کرنے لگا، یہ اس کی بہت بڑی جہالت اور بہت بڑا کفر تھا، وہ بتوں کی عبادت پر مدح چاہتا تھا اور اس عبادت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ ﴾ یعنی اگر تو میرے معبودوں کو سب وشتم کرنے اور مجھے اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَاَرۡجُمَنَّكَ ﴾ یعنی میں تجھے پتھر مار مار کر قتل کر دوں گا ﴿ وَاهۡجُرۡنِيۡ مَلِيًّا ﴾ ’’اور چھوڑ دے مجھ کو ایک مدت تک‘‘ یعنی طویل زمانے تک میرے ساتھ بات نہ کر۔
[47] حضرت خلیلu نے اپنے باپ کو اس طرح جواب دیا جس طرح رحمٰن کے بندے جہلاء کو جواب دیتے ہیں ۔ آپ اس سے سب و شتم سے پیش نہیں آئے بلکہ صبر سے کام لیا اور کوئی ایسی بات نہیں کہی جو باپ کو ناگوار گزرتی۔ فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ ﴾ ’’سلام آپ پر‘‘ یعنی آپ میرے خطاب میں سب و شتم اور ناگوار باتوں سے محفوظ رہیں گے۔ ﴿سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ﴾ یعنی میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور مغفرت کی دعا مانگتا رہوں گا کہ وہ آپ کی اسلام کی طرف راہنمائی کرے جس کے ذریعے سے مغفرت حاصل ہوتی ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾ کیونکہ وہ میرے حال پر بہت رحیم اور مہربان ہے اور مجھے اپنے سایۂ اعتناء میں رکھتا ہے۔ پس حضرت ابراہیمu اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دے دے گا، اپنے باپ کے لیے استغفار کرتے رہے، پھر جب آپ پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کے لیے استغفار کرنا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا چھوڑ دی اور اس سے برا ء ت کا اظہار کر دیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں ملت ابراہیم کی اتباع کا حکم دیا ہے اور ان کی ملت کی پیروی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں ہم آپ کی راہ پر گامزن ہوں اور علم و حکمت اور نرم رویہ اپنائیں ۔ دعوت الی اللہ میں تدریج اور ترتیب کا طریقہ اختیار کریں ، اس پر صبر کریں اور اس سے ہرگز نہ اکتائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کو، لوگوں کی طرف سے جن قولی اور فعلی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان پر صبر کرے اور عفو، درگزر، قولی اور فعلی حسن سلوک کے ساتھ ان اذیتوں کا مقابلہ کرے۔
[48] جب ابراہیمu اپنی قوم اور اپنے باپ کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو کہنے لگے: ﴿ وَاَعۡتَزِلُكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ یعنی میں تم سے اور تمھارے بتوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ﴿ وَاَدۡعُوۡا رَبِّيۡ﴾’’اور میں یہ دعا کروں گا اپنے رب سے‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے سوال دونوں کو شامل ہے﴿ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّيۡ شَقِيًّا﴾ ’’امید ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں گا‘‘ یعنی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا اور اعمال کو قبول فرما کر مجھے سعادت سے نواز دے۔ یہ اس داعی حق کا وظیفہ ہے جو ایسے لوگوں سے مایوس ہو گیا تھا جن کو اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے رہے اور وعظ و نصیحت نے ان کو کوئی فائدہ نہیں دیا اور وہ اپنی سرکشی میں اصرار کے ساتھ سرگرداں رہے۔جو کوئی اس قسم کی صورت حال میں مبتلا ہو جائے تو اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح میں مشغول رہے اور اپنے رب سے امید رکھے کہ وہ اس کی کوشش کو قبول فرمائے گا اور وہ شر اور اہل شر سے دور رہے۔
[49] انسان کے لیے اپنے وطن مالوف، اپنے اہل و عیال اور اپنی قوم سے جدا ہونا سب سے مشکل اور سب سے زیادہ شاق گزرنے والا کام ہے اور اس کی کئی وجوہ ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی وجہ سے باعزت اور کثرت والا ہوتا ہے اور جو کوئی اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے عوض اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم u نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا:﴿ فَلَمَّا اعۡتَزَلَهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ١ؕ وَكُلًّا﴾ ’’پس جب وہ (ابراہیمu) ان لوگوں سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے، ان سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور سب کو۔‘‘ حضرت اسحاق اور یعقوبi دونوں کو ﴿ جَعَلۡنَا نَبِيًّا ﴾ ’’ہم نے نبی بنایا۔‘‘ پس حضرت ابراہیم u اور ان تمام صالحین و مرسلین کو یہ شرف نبوت حاصل ہوا جن کو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجا، انھیں اپنی وحی کے لیے مختص کیا، انھیں اپنی رسالت کے لیے تمام جہانوں میں سے چن لیا۔
[50] فرمایا ﴿ وَوَهَبۡنَا لَهُمۡ﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیمu اور ان کے دونوں بیٹوں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوبi کو ﴿مِّنۡ رَّحۡمَتِنَا ﴾’’اپنی رحمت سے نوازا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے بہرہ ور کیا، علوم نافعہ اور اعمال صالحہ عطا کیے اور انھیں بے شمار ذریت عطا کی جو ساری دنیا میں پھیلی اور ان کے اندر بکثرت انبیاء اور صالحین ہوئے۔﴿ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا ﴾ ’’اور ان کے ذکر جمیل کو بلند کیا۔‘‘ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے ان کو بہرہ ور کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیک کام کرنے والے ہر شخص سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کی نیکی کے مطابق اسے سچی شہرت عطا کرے گا۔ ان کا شمار تو ائمہ محسنین میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں سچی، جس میں جھوٹ کا شائبہ نہیں ، ظاہر و باہر اور غیر مخفی ثنائے حسن عطا کی۔ ان کے ذکر خیر، ان کی ثنائے حسن اور ان کے ساتھ محبت نے مشرق و مغرب کو لبریز کر دیا ہے۔ خلائق کے دلوں میں ان کی محبت سما گئی، لوگوں کی زبان پر ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا جاری ہو گئی۔ وہ پیروی کرنے والوں کے قائد اور راہنمائی حاصل کرنے والوں کے راہ نما بن گئے۔ ہر زمانے میں ان کا ذکر خیر نئے نئے اسالیب میں لوگوں کی زبانوں پر جای رہا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور اللہ تعالیٰ فضل عظیم کا مالک ہے۔
19:51وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ مُوسَىٰٓۚ إِنَّهُۥ كَانَ مُخۡلَصٗا وَكَانَ رَسُولٗا نَّبِيّٗا
اور ذکر کیجیے کتاب میں موسیٰ کا، بلاشبہ وہ تھا چنا ہوااور تھا رسول نبی (51) اور پکارا ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سےاور قریب کیا ہم نے اسے سرگوشی کرنے کے لیے (52) اور عطا کیا ہم نے اسے اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون نبی (بنا کر)(53)
[51] یعنی اس قرآن عظیم میں ، حضرت موسیٰ بن عمرانu کی تعظیم و توقیر، ان کے مقام عالی قدر اور اخلاق کاملہ کی تعریف کے طور پر، ان کا ذکر کیجیے۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ مُخۡلَصًا ﴾(مُخْلَصًا) کو لام کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اس کا معنیٰ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے پسند کر لیا اور اسے چن لیا۔ ایک دوسری قراء ت میں (مُخْلِصًا)کو لام کی زیر کے ساتھ پڑھا گیا ہے تب اس کا معنی یہ ہو گا کہ حضرت موسیٰ u اپنے تمام اعمال، اقوال اور نیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص تھے۔ ان کے تمام احوال میں اخلاص ان کا وصف تھا… دونوں معنی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کے اخلاص کی بنا پر ان کو چن لیا اور ان کا اخلاص اس بات کا موجب تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو چن لے اور بندۂ مومن کا جلیل ترین حال یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے لیے اخلاص کا حامل ہو اور اس کا رب اسے اپنے لیے چن لے۔﴿ وَّكَانَ رَسُوۡلًا نَّبِيًّا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں رسالت اور نبوت کو یکجا کر دیا۔ پس رسالت، بھیجنے والے کے کلام کی تبلیغ کا تقاضا کرتی ہے، نیز یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ شریعت کی جو بھی چھوٹی یا بڑی چیز آئی ہے اسے بندوں تک پہنچایا جائے… اور نبوت اس بات کی مقتضی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر وحی آتی ہو اور اللہ تعالیٰ نے وحی کی تنزیل کے لیے اسے مختص کر لیا ہو۔ پس نبوت کا تعلق بندے اور اس کے رب کے درمیان ہے اور رسالت کا تعلق بندے اور مخلوق کے درمیان ہے۔
[52] بلکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کو وحی کی جلیل ترین اور سب سے افضل نوع کے ساتھ خاص فرمایا اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ان سے کلام کرنا اور انھیں اپنی سرگوشی کے لیے اپنے قریب کرنا۔ انبیاء میں سے اس فضیلت کے ساتھ صرف موسیٰ uکو خاص کیا گیا کہ وہ رحمان کے کلیم ہیں ۔ اسی لیے فرمایا: ﴿وَنَادَيۡنٰهُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنِ ﴾ یعنی حضرت موسیٰ u کی دائیں جانب سے، جب وہ سفر کر رہے تھے، ہم نے ان کو ندا دی۔ یا (اَلأَیْمن) سے مراد بابرکت ہے یعنی یہ (یُمْنٌ) ’’برکت‘‘ سے ہے اور اس معنیٰ پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے۔ ﴿اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾(النمل:27؍8)’’بابرکت ہے وہ ہستی جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے۔‘‘﴿وَقَرَّبۡنٰهُ نَؔجِيًّا﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کو سرگوشی کے لیے اپنے قریب کیا۔‘‘ ندا اور مناجات میں فرق یہ ہے، کہ ندا بلند آواز میں ہوتی اور مناجات اس سے کم تر دھیمی آواز میں ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کی تمام انواع… مثلاً: ندا اور مناجات وغیرہ کا اثبات ہوتا ہے جیسا کہ اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے۔ اس کے برعکس جہمیہ، معتزلہ اور ان کے ہم مسلک گروہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتے ہیں ۔
[53]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗ مِنۡ رَّحۡمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ نَبِيًّا﴾ یہ حضرت موسیٰ u کی سب سے بڑی فضیلت ہے اور ان کا اپنے بھائی ہارونu کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خیر خواہی ہے کہ انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ ان کے بھائی حضرت ہارون u کو ان کی ذمہ داری میں شریک کر کے انھیں بھی ان کی مانند رسول بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو رسول بنا دیا… پس ہارون u کی نبوت حضرت موسیٰ u کی نبوت کے تابع ہے، حضرت ہارون u نبوت کے معاملات میں حضرت موسیٰu کی مدد اور اعانت کرتے تھے۔
19:52وَنَٰدَيۡنَٰهُ مِن جَانِبِ ٱلطُّورِ ٱلۡأَيۡمَنِ وَقَرَّبۡنَٰهُ نَجِيّٗا
اور ذکر کیجیے کتاب میں موسیٰ کا، بلاشبہ وہ تھا چنا ہوااور تھا رسول نبی (51) اور پکارا ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سےاور قریب کیا ہم نے اسے سرگوشی کرنے کے لیے (52) اور عطا کیا ہم نے اسے اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون نبی (بنا کر)(53)
[51] یعنی اس قرآن عظیم میں ، حضرت موسیٰ بن عمرانu کی تعظیم و توقیر، ان کے مقام عالی قدر اور اخلاق کاملہ کی تعریف کے طور پر، ان کا ذکر کیجیے۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ مُخۡلَصًا ﴾(مُخْلَصًا) کو لام کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اس کا معنیٰ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے پسند کر لیا اور اسے چن لیا۔ ایک دوسری قراء ت میں (مُخْلِصًا)کو لام کی زیر کے ساتھ پڑھا گیا ہے تب اس کا معنی یہ ہو گا کہ حضرت موسیٰ u اپنے تمام اعمال، اقوال اور نیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص تھے۔ ان کے تمام احوال میں اخلاص ان کا وصف تھا… دونوں معنی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کے اخلاص کی بنا پر ان کو چن لیا اور ان کا اخلاص اس بات کا موجب تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو چن لے اور بندۂ مومن کا جلیل ترین حال یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے لیے اخلاص کا حامل ہو اور اس کا رب اسے اپنے لیے چن لے۔﴿ وَّكَانَ رَسُوۡلًا نَّبِيًّا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں رسالت اور نبوت کو یکجا کر دیا۔ پس رسالت، بھیجنے والے کے کلام کی تبلیغ کا تقاضا کرتی ہے، نیز یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ شریعت کی جو بھی چھوٹی یا بڑی چیز آئی ہے اسے بندوں تک پہنچایا جائے… اور نبوت اس بات کی مقتضی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر وحی آتی ہو اور اللہ تعالیٰ نے وحی کی تنزیل کے لیے اسے مختص کر لیا ہو۔ پس نبوت کا تعلق بندے اور اس کے رب کے درمیان ہے اور رسالت کا تعلق بندے اور مخلوق کے درمیان ہے۔
[52] بلکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کو وحی کی جلیل ترین اور سب سے افضل نوع کے ساتھ خاص فرمایا اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ان سے کلام کرنا اور انھیں اپنی سرگوشی کے لیے اپنے قریب کرنا۔ انبیاء میں سے اس فضیلت کے ساتھ صرف موسیٰ uکو خاص کیا گیا کہ وہ رحمان کے کلیم ہیں ۔ اسی لیے فرمایا: ﴿وَنَادَيۡنٰهُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنِ ﴾ یعنی حضرت موسیٰ u کی دائیں جانب سے، جب وہ سفر کر رہے تھے، ہم نے ان کو ندا دی۔ یا (اَلأَیْمن) سے مراد بابرکت ہے یعنی یہ (یُمْنٌ) ’’برکت‘‘ سے ہے اور اس معنیٰ پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے۔ ﴿اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾(النمل:27؍8)’’بابرکت ہے وہ ہستی جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے۔‘‘﴿وَقَرَّبۡنٰهُ نَؔجِيًّا﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کو سرگوشی کے لیے اپنے قریب کیا۔‘‘ ندا اور مناجات میں فرق یہ ہے، کہ ندا بلند آواز میں ہوتی اور مناجات اس سے کم تر دھیمی آواز میں ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کی تمام انواع… مثلاً: ندا اور مناجات وغیرہ کا اثبات ہوتا ہے جیسا کہ اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے۔ اس کے برعکس جہمیہ، معتزلہ اور ان کے ہم مسلک گروہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتے ہیں ۔
[53]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗ مِنۡ رَّحۡمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ نَبِيًّا﴾ یہ حضرت موسیٰ u کی سب سے بڑی فضیلت ہے اور ان کا اپنے بھائی ہارونu کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خیر خواہی ہے کہ انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ ان کے بھائی حضرت ہارون u کو ان کی ذمہ داری میں شریک کر کے انھیں بھی ان کی مانند رسول بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو رسول بنا دیا… پس ہارون u کی نبوت حضرت موسیٰ u کی نبوت کے تابع ہے، حضرت ہارون u نبوت کے معاملات میں حضرت موسیٰu کی مدد اور اعانت کرتے تھے۔
19:53وَوَهَبۡنَا لَهُۥ مِن رَّحۡمَتِنَآ أَخَاهُ هَٰرُونَ نَبِيّٗا
اور ذکر کیجیے کتاب میں موسیٰ کا، بلاشبہ وہ تھا چنا ہوااور تھا رسول نبی (51) اور پکارا ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سےاور قریب کیا ہم نے اسے سرگوشی کرنے کے لیے (52) اور عطا کیا ہم نے اسے اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون نبی (بنا کر)(53)
[51] یعنی اس قرآن عظیم میں ، حضرت موسیٰ بن عمرانu کی تعظیم و توقیر، ان کے مقام عالی قدر اور اخلاق کاملہ کی تعریف کے طور پر، ان کا ذکر کیجیے۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ مُخۡلَصًا ﴾(مُخْلَصًا) کو لام کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اس کا معنیٰ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے پسند کر لیا اور اسے چن لیا۔ ایک دوسری قراء ت میں (مُخْلِصًا)کو لام کی زیر کے ساتھ پڑھا گیا ہے تب اس کا معنی یہ ہو گا کہ حضرت موسیٰ u اپنے تمام اعمال، اقوال اور نیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص تھے۔ ان کے تمام احوال میں اخلاص ان کا وصف تھا… دونوں معنی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کے اخلاص کی بنا پر ان کو چن لیا اور ان کا اخلاص اس بات کا موجب تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو چن لے اور بندۂ مومن کا جلیل ترین حال یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے لیے اخلاص کا حامل ہو اور اس کا رب اسے اپنے لیے چن لے۔﴿ وَّكَانَ رَسُوۡلًا نَّبِيًّا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں رسالت اور نبوت کو یکجا کر دیا۔ پس رسالت، بھیجنے والے کے کلام کی تبلیغ کا تقاضا کرتی ہے، نیز یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ شریعت کی جو بھی چھوٹی یا بڑی چیز آئی ہے اسے بندوں تک پہنچایا جائے… اور نبوت اس بات کی مقتضی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر وحی آتی ہو اور اللہ تعالیٰ نے وحی کی تنزیل کے لیے اسے مختص کر لیا ہو۔ پس نبوت کا تعلق بندے اور اس کے رب کے درمیان ہے اور رسالت کا تعلق بندے اور مخلوق کے درمیان ہے۔
[52] بلکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کو وحی کی جلیل ترین اور سب سے افضل نوع کے ساتھ خاص فرمایا اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ان سے کلام کرنا اور انھیں اپنی سرگوشی کے لیے اپنے قریب کرنا۔ انبیاء میں سے اس فضیلت کے ساتھ صرف موسیٰ uکو خاص کیا گیا کہ وہ رحمان کے کلیم ہیں ۔ اسی لیے فرمایا: ﴿وَنَادَيۡنٰهُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنِ ﴾ یعنی حضرت موسیٰ u کی دائیں جانب سے، جب وہ سفر کر رہے تھے، ہم نے ان کو ندا دی۔ یا (اَلأَیْمن) سے مراد بابرکت ہے یعنی یہ (یُمْنٌ) ’’برکت‘‘ سے ہے اور اس معنیٰ پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے۔ ﴿اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾(النمل:27؍8)’’بابرکت ہے وہ ہستی جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے۔‘‘﴿وَقَرَّبۡنٰهُ نَؔجِيًّا﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کو سرگوشی کے لیے اپنے قریب کیا۔‘‘ ندا اور مناجات میں فرق یہ ہے، کہ ندا بلند آواز میں ہوتی اور مناجات اس سے کم تر دھیمی آواز میں ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کی تمام انواع… مثلاً: ندا اور مناجات وغیرہ کا اثبات ہوتا ہے جیسا کہ اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے۔ اس کے برعکس جہمیہ، معتزلہ اور ان کے ہم مسلک گروہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتے ہیں ۔
[53]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗ مِنۡ رَّحۡمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ نَبِيًّا﴾ یہ حضرت موسیٰ u کی سب سے بڑی فضیلت ہے اور ان کا اپنے بھائی ہارونu کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خیر خواہی ہے کہ انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ ان کے بھائی حضرت ہارون u کو ان کی ذمہ داری میں شریک کر کے انھیں بھی ان کی مانند رسول بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو رسول بنا دیا… پس ہارون u کی نبوت حضرت موسیٰ u کی نبوت کے تابع ہے، حضرت ہارون u نبوت کے معاملات میں حضرت موسیٰu کی مدد اور اعانت کرتے تھے۔
19:54وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ إِسۡمَٰعِيلَۚ إِنَّهُۥ كَانَ صَادِقَ ٱلۡوَعۡدِ وَكَانَ رَسُولٗا نَّبِيّٗا
اور ذکر کیجیے کتاب میں اسمٰعیل کا، بلاشبہ وہ تھا سچا وعدے کااور تھا وہ رسول نبی(54) اور تھا وہ حکم کرتا اپنے گھر والوں کو نماز اور زکاۃ کااور تھا وہ نزدیک اپنے رب کے پسندیدہ (55)
[54] یعنی قرآن کریم میں اس عظیم نبی (حضرت اسماعیلu) کا ذکر کیجیے جس سے عربی قبیلے کی نسل چلی جو سب سے افضل اور جلیل قبیلہ ہے، جس سے اولاد آدم کے سردار، حضرت محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الۡوَعۡدِ ﴾ یعنی وہ جو بھی وعدہ کرتے تھے اسے پورا کرتے تھے۔ اس میں وہ تمام وعدے شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ سے کیے گئے اور جو بندوں سے کیے گئے… اسی لیے جب ان کے والد نے ان کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے اپنے آپ سے صبر کرنے کا وعدہ کیا، چنانچہ انھوں نے اپنے والد سے کہا ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾(الصافات:37؍102) ’’اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ انھوں نے یہ وعدہ پورا کر دکھایا اور اپنے والد کو پورا اختیار دیا کہ وہ ان کو ذبح کریں ، جو کہ سب سے بڑی مصیبت ہے جو انسان کو پہنچ سکتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو رسالت اور نبوت سے متصف کیا جو اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر سب سے بڑا احسان ہے… اور انھیں مخلوق کے بلند ترین طبقے میں سے کیا۔
[55]﴿وَؔكَانَ يَاۡمُرُ اَهۡلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ﴾’’اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکاۃ کا حکم دیتے تھے۔‘‘ یعنی اپنے گھر والوں پر اللہ کا حکم نافذ کرتے تھے۔ پس انھیں نماز کا حکم دیتے جو معبود کے لیے اخلاص کو متضمن ہے اور زکاۃ کا حکم دیتے جو بندوں کے ساتھ احسان کرنے کو متضمن ہے۔ یوں انھوں نے اپنے آپ کو بھی درجۂ کمال پر پہنچایا اور دوسروں کو بھی کامل بنایا، بالخصوص ان کو جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ ان کے نزدیک خاص تھے اور وہ ان کے اہل خانہ تھے کیونکہ وہ دوسروں کے مقابلے میں ان کی دعوت و تبلیغ کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔﴿وَؔكَانَ عِنۡدَ رَبِّهٖ مَرۡضِيًّا﴾ اور اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے اپنے رب کی مرضیات کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا اور ایسے امور سرانجام دینے میں کوشاں رہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے۔ اس نے ان کو اپنے خاص بندوں اور اولیائے مقربین میں سے کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگئے اور وہ اپنے رب سے راضی ہوگئے۔
19:55وَكَانَ يَأۡمُرُ أَهۡلَهُۥ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّكَوٰةِ وَكَانَ عِندَ رَبِّهِۦ مَرۡضِيّٗا
اور ذکر کیجیے کتاب میں اسمٰعیل کا، بلاشبہ وہ تھا سچا وعدے کااور تھا وہ رسول نبی(54) اور تھا وہ حکم کرتا اپنے گھر والوں کو نماز اور زکاۃ کااور تھا وہ نزدیک اپنے رب کے پسندیدہ (55)
[54] یعنی قرآن کریم میں اس عظیم نبی (حضرت اسماعیلu) کا ذکر کیجیے جس سے عربی قبیلے کی نسل چلی جو سب سے افضل اور جلیل قبیلہ ہے، جس سے اولاد آدم کے سردار، حضرت محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الۡوَعۡدِ ﴾ یعنی وہ جو بھی وعدہ کرتے تھے اسے پورا کرتے تھے۔ اس میں وہ تمام وعدے شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ سے کیے گئے اور جو بندوں سے کیے گئے… اسی لیے جب ان کے والد نے ان کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے اپنے آپ سے صبر کرنے کا وعدہ کیا، چنانچہ انھوں نے اپنے والد سے کہا ﴿سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾(الصافات:37؍102) ’’اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ انھوں نے یہ وعدہ پورا کر دکھایا اور اپنے والد کو پورا اختیار دیا کہ وہ ان کو ذبح کریں ، جو کہ سب سے بڑی مصیبت ہے جو انسان کو پہنچ سکتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو رسالت اور نبوت سے متصف کیا جو اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر سب سے بڑا احسان ہے… اور انھیں مخلوق کے بلند ترین طبقے میں سے کیا۔
[55]﴿وَؔكَانَ يَاۡمُرُ اَهۡلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ﴾’’اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکاۃ کا حکم دیتے تھے۔‘‘ یعنی اپنے گھر والوں پر اللہ کا حکم نافذ کرتے تھے۔ پس انھیں نماز کا حکم دیتے جو معبود کے لیے اخلاص کو متضمن ہے اور زکاۃ کا حکم دیتے جو بندوں کے ساتھ احسان کرنے کو متضمن ہے۔ یوں انھوں نے اپنے آپ کو بھی درجۂ کمال پر پہنچایا اور دوسروں کو بھی کامل بنایا، بالخصوص ان کو جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ ان کے نزدیک خاص تھے اور وہ ان کے اہل خانہ تھے کیونکہ وہ دوسروں کے مقابلے میں ان کی دعوت و تبلیغ کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔﴿وَؔكَانَ عِنۡدَ رَبِّهٖ مَرۡضِيًّا﴾ اور اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے اپنے رب کی مرضیات کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا اور ایسے امور سرانجام دینے میں کوشاں رہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے۔ اس نے ان کو اپنے خاص بندوں اور اولیائے مقربین میں سے کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگئے اور وہ اپنے رب سے راضی ہوگئے۔
19:56وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ إِدۡرِيسَۚ إِنَّهُۥ كَانَ صِدِّيقٗا نَّبِيّٗا
اور ذکر کیجیے کتاب میں ادریس کا، بلاشبہ وہ تھا نہایت سچا، نبی (56) اور اٹھایا ہم نے اس کو مکان بلند میں (57)
[56] یعنی اس کتاب کریم میں تعظیم و اجلال اور صفات کمال سے متصف ہونے کے اعتبار سے ادریس uکا ذکر کرو! ﴿اِنَّهٗ كَانَ صِدِّؔيۡقًا نَّبِيًّا﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کو بیک وقت صدیقیت… جو تصدیق تام، علم کامل، یقین ثابت اور عمل صالح کی جامع ہے… اور اپنی وحی اور رسالت کے لیے چن لیا۔
[57]﴿ وَّرَفَعۡنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے جہانوں میں ان کا ذکر اور مقربین کے درمیان ان کا درجہ بلند کیا۔ پس وہ ذکر کے لحاظ سے بھی بلند تھے اور مقام و مرتبہ کے اعتبار سے بھی بلند۔
19:57وَرَفَعۡنَٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا
اور ذکر کیجیے کتاب میں ادریس کا، بلاشبہ وہ تھا نہایت سچا، نبی (56) اور اٹھایا ہم نے اس کو مکان بلند میں (57)
[56] یعنی اس کتاب کریم میں تعظیم و اجلال اور صفات کمال سے متصف ہونے کے اعتبار سے ادریس uکا ذکر کرو! ﴿اِنَّهٗ كَانَ صِدِّؔيۡقًا نَّبِيًّا﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کو بیک وقت صدیقیت… جو تصدیق تام، علم کامل، یقین ثابت اور عمل صالح کی جامع ہے… اور اپنی وحی اور رسالت کے لیے چن لیا۔
[57]﴿ وَّرَفَعۡنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے جہانوں میں ان کا ذکر اور مقربین کے درمیان ان کا درجہ بلند کیا۔ پس وہ ذکر کے لحاظ سے بھی بلند تھے اور مقام و مرتبہ کے اعتبار سے بھی بلند۔
19:58أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءَادَمَ وَمِمَّنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوحٖ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡرَـٰٓءِيلَ وَمِمَّنۡ هَدَيۡنَا وَٱجۡتَبَيۡنَآۚ إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُ ٱلرَّحۡمَٰنِ خَرُّواْۤ سُجَّدٗاۤ وَبُكِيّٗا۩
یہ (مذکورہ) وہ لوگ ہیں کہ انعام کیا اللہ نے ان پر، نبیوں میں سے، اولاد آدم سے اوران لوگوں (کی نسل) میں سے جنھیں اٹھایا (سوار کیا) تھا ہم نے ساتھ نوح کےاور اولاد سے ابراہیم اور اسرائیل (یعقوب) کی اور ان لوگوں میں سے کہ جنھیں ہدایت دی ہم نےاور چن لیا ہم نے، جب تلاوت کی جاتی تھیں ان پر آیتیں رحمٰن کی تو وہ گر پڑتے تھے سجدہ کرتے ہوئے اورروتے ہوئے (58)
[58] جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے مکرمین اور خواصِ مرسلین کا ذکر فرمایا اور ان کے فضائل و مراتب کا تذکرہ کیا تو فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی نعمت عطا کی ہے جسے کوئی اور حاصل نہیں کر سکتا، نبوت اور رسالت عطا کر کے ان پر ایسا احسان کیا ہے جس میں کوئی سبقت نہیں کر سکتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان لوگوں کے راستے کی طرف ہماری راہنمائی کرے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا، نیز یہ کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا ﴿مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّؔيۡقِيۡنَ۠ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(النساء:4؍69) جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ۔ ان میں سے بعض ﴿ مِنۡ ذُرِّيَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَمِمَّنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’آدم کی اولاد میں سے ہیں اور کچھ ان میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں ) سوار کر دیا۔‘‘ یعنی نوح کی ذریت میں سے ہیں ۔ ﴿ وَّمِنۡ ذُرِّيَّةِ اِبۡرٰؔهِيۡمَ وَاِسۡرَآءِيۡلَ﴾ یہ گھرانے دنیا کے تمام گھرانوں سے بہتر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے لیے پسند کر لیا اور چن لیا۔ جب ان کے سامنے رحمٰن کی وہ آیات تلاوت کی جاتی تھیں جو غیب کی خبروں ، علام الغیوب کی صفات، روز آخرت کی خبروں اور وعدو وعید کو متضمن ہیں تو ان کا حال یہ ہوتا ہے۔ ﴿ خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّبُكِيًّا﴾ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا۔ ان آیات نے ان کے دلوں کو ایمان اور رغبت و رہبت سے لبریز کر دیا جو ان کے لیے آہ و بکا، انابت اور اپنے رب کے حضور سجدے کی موجب ہیں ۔ وہ ان لوگوں کی مانند نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سنتے ہیں تو ان پر اندھے بہرے بن کر رہ جاتے ہیں ۔ آیات کی، اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (رحمان) کی طرف اضافت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کے بندوں پر اس کی رحمت اور احسان ہے کیونکہ اس نے آیات کے ذریعے سے ان کی حق کی طرف راہنمائی کی، ان کی کورنگاہی کو دور کر کے بصیرت سے نوازا، انھیں گمراہی سے بچایا اور جہالت کی تاریکیوں میں انھیں علم کی روشنی عطا کی۔
19:59۞فَخَلَفَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ أَضَاعُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَٱتَّبَعُواْ ٱلشَّهَوَٰتِۖ فَسَوۡفَ يَلۡقَوۡنَ غَيًّا
پھر جانشین ہوئے بعد ان کے ناخلف (برے) لوگ، ضائع کر دیا انھوں نے نمازوں کو اور پیروی کی انھوں نے خواہشات کی، پس عنقریب ملیں گے وہ ہلاکت کو (59) مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اورعمل کیا اچھا تو یہی لوگ داخل ہوں گے جنت میں اور نہ ظلم کیے جائیں گے وہ کچھ بھی (60)(یعنی ) باغات ہمیشگی کے، وہ جن کا وعدہ کیا ہے (اللہ) رحمٰن نے اپنے بندوں سے بن دیکھے، بلاشبہ ہے وعدہ اس کا (ہر صورت) آنے والا (61)نہیں سنیں گے وہ اس جنت میں لغوبات مگر سلام ہی اور ان کے لیے رزق ہو گا ان کا اس میں صبح اور شام (62) یہی وہ جنت ہے جس کا وارث بنائیں گے ہم اپنے بندوں میں سے اس کو جو ہو گا پرہیز گار (63)
[59] جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو مخلص، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو ان کے بعد آئے اور انھوں نے ان امور کو بدل دیا جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا، ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین بنے جو پیچھے لوٹ گئے۔ انھوں نے نماز کو ضائع کیا جس کی حفاظت اور اس کو قائم کرنے کا انھیں حکم دیا گیا تھا، انھوں نے نماز کو حقیر سمجھا اور اسے ضائع کر دیا۔ جب انھوں نے نماز کو ضائع کر دیا جو دین کا ستون، ایمان کی میزان اور رب العالمین کے لیے اخلاص ہے، جو سب سے زیادہ مؤکد عمل اور سب سے افضل خصلت ہے تو نماز کے علاوہ باقی دین کو ضائع کرنے اور اس کو چھوڑ دینے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ شہوات نفس اور اس کے ارادوں کے پیچھے لگ گئے، اس لیے ان کی ہمتوں کا رخ ان شہوات کو طرف پھر گیا اور انھوں نے ان شہوات کو حقوق اللہ پر ترجیح دی۔ یہیں سے حقوق اللہ کو ضائع کرنے اور شہوات نفس پر توجہ دینے نے جنم لیا۔ یہ شہوات نفس جہاں کہیں بھی نظر آئیں اور جس طریقے سے بھی بَن پڑا، انھوں نے ان کو حاصل کیا۔ ﴿فَسَوۡفَ يَلۡقَوۡنَ غَيًّا﴾ ’’پس عنقریب ملیں گے وہ ہلاکت کو۔‘‘ یعنی کئی گنا سخت عذاب۔
[60] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے استثناء فرمایا ﴿ اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ یعنی جس نے شرک، بدعات اور معاصی سے توبہ کر لی، ان کو ترک کرکے ان پر نادم ہوا اور دوبارہ ان کا ارتکاب نہ کرنے کا پکا عزم کر لیا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان لایا ﴿ وَعَمِلَ صَالِحًا﴾ ’’اور نیک عمل کیے۔‘‘ اور عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر مشروع فرمایا ہے جبکہ عمل کرنے والے کی نیت رضائے الٰہی کا حصول ہو۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی جس نے توبہ، ایمان اور عمل صالح کو یکجا کر لیا ﴿ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’وہ جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘ جو ہمیشہ رہنے والی نعمتوں ، ہر قسم کے تکدر سے سلامت زندگی اور رب کریم کے قرب پر مشتمل ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی ان کے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی بلکہ ان کو ان کے اعمال کا کئی گنا زیادہ اجر ملے گا۔
[61] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ جنت جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے عام باغات کی مانند نہیں بلکہ وہ تو ﴿ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾’’ہمیشہ قیام والی جنتیں ہیں ‘‘ جہاں نازل ہونے والے کبھی کوچ کریں گے نہ کہیں اور منتقل ہوں گے اور نہ ان کی نعمتیں زائل ہوں گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ یہ جنتیں بہت وسیع ہوں گی اور ان میں بے شمار نعمتیں ، مسرتیں ، رونقیں اور خوش کن چیزیں ہوں گی۔﴿الَّتِيۡ وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ عِبَادَهٗ بِالۡغَيۡبِ ﴾ یعنی جس کا رحمان نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنت کو اپنے اسم مبارک (الرحمان) کی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ ان میں ایسی رحمتیں اور ایسا حسن سلوک ہو گا کہ ان کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور میں کبھی ان کا گزر ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنت کو اپنی رحمت سے موسوم فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ ابۡيَضَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ فَفِيۡ رَحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾(آل عمران:3؍107) ’’اور جن کے چہرے سفید اور روشن ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف ان کی اضافت، ان کی مسرتوں کے دوام پر دلالت کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بقاء کے ساتھ یہ بھی باقی رہیں گی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار اور اس کی موجبات میں شمار ہوتی ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں (عباد) سے مراد اس کی الوہیت کے معتقد وہ بندے ہیں جو اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کی شریعت کا التزام کرتے ہیں ۔ پس عبودیت ان کا وصف بن جاتی ہے، مثلاً:(عباد الرحمن) وغیرہ بخلاف ان بندوں کے جو ملک کے اعتبار سے تو اس کے بندے ہیں مگر اس کی عبادت نہیں کرتے۔ یہ بندے اگرچہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے بندے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا، وہ ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کی تدبیر کرتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے بندے نہیں اور اس کی عبودیت اختیاری کے تحت نہیں آتے جس کو اختیار کرنے والا قابل مدح ہے۔ ان کی عبودیت تو عبودیت اضطراری ہے جو قابل مدح نہیں ۔ ارشاد مقدس ﴿بِالۡغَيۡبِ﴾ میں یہ احتمال ہے کہ ﴿وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ﴾ سے متعلق ہو تب اس احتمال کی صورت میں یہ معنیٰ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ ان جنتوں کا غائبانہ وعدہ کیا ہے جن کا انھوں نے مشاہدہ کیا ہے نہ ان کو دیکھا ہے، وہ ان پر ایمان لائے، غائبانہ ان کی تصدیق کی اور ان کے حصول کے لیے کوشاں رہے، حالانکہ انھوں نے ان کو دیکھا ہی نہیں اور اگر وہ ان کو دیکھ لیتے تب ان کا کیا حال ہوتا، اس صورت میں ان کی شدید طلب رکھتے ہیں ، ان میں بہت زیادہ رغبت رکھتے اور ان کے حصول کے لیے سخت کوشش کرتے۔ اس میں ان کے ایمان بالغیب کی بنا پر ان کی مدح ہے، یہی وہ ایمان ہے جو فائدہ دیتا ہے، نیز اس امر کا احتمال بھی ہے کہ (بالغیب)(عبادہ) سے متعلق ہو یعنی وہ لوگ جنھوں نے حالت غیب میں اور اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس کی عبادت کی۔ ان کی عبادت کا یہ حال ہے حالانکہ انھوں نے اس کو دیکھا نہیں اگر وہ اس کو دیکھ لیتے تو وہ اس کی بہت زیادہ عبادت کرتے اور اس کی طرف بہت زیادہ رجوع کرتے اور اللہ تعالیٰ کے لیے ان کے اندر بہت زیادہ محبت اور اشتیاق ہوتا۔ اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ یہ جنتیں ، جن کا رحمٰن نے اپنے بندوں کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے، ان کا تعلق ایسے امور کے ساتھ ہے جو اوصاف کے دائرۂ ادراک سے باہر ہیں ۔ جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔پس اس آیت کریمہ میں جنت کے لیے شوق ابھارا گیا ہے، نیز آیت کریمہ میں بیان کردہ مجمل وصف نفوس کو اس کے حصول اور ساکن کو اس کی طلب میں متحرک کرتا ہے اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍17) ’’کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے اعمال کے صلے میں ان کے لیے آنکھوں کی کون سی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔‘‘ مذکورہ تمام معانی صحیح اور ثابت ہیں ۔ البتہ پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے اوراس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿كَانَ وَعۡدُهٗ مَاۡتِيًّا﴾ ’’بے شک اس کا وعدہ آنے والا ہے۔‘‘ یعنی یہ ضرور ہوکر رہے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ وہ سب سے زیادہ سچی ہستی ہے۔
[62]﴿ لَايَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا ﴾ یعنی وہ جنت میں کوئی ایسی لغو بات نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی کوئی ایسی بات سنیں گے جس کا سننا گناہ ہو، لہٰذا وہ جنت میں کوئی سب و شتم، کوئی عیب جوئی اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کے سننے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب ہوتا ہو اور نہ ہی تکدر پر مبنی کوئی بات ﴿اِلَّا سَلٰمًا﴾ یعنی وہ صرف ایسی باتیں سنیں گے جو ہرعیب سے پاک ہوں گی، یعنی ذکر الٰہی، سلام، پر سرور باتیں ، بشارت، دوستوں کے درمیان خوبصورت اوراچھی اچھی باتیں ، رحمٰن کا خطاب، حوروں ، فرشتوں اور غلمان کی دل ربا آوازیں ، طرب انگیز نغمات اور نرم الفاظ سننے کو ملیں گے کیونکہ یہ سلامتی کا گھر ہے جہاں ہر لحاظ سے کامل سلامتی کے سوا کچھ نہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ رِزۡقُهُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’اور ان کے لیے ان کا رزق ہو گا اس میں ‘‘ یعنی ماکولات و مشروبات اور مختلف انواع کی لذات جب بھی وہ طلب کریں گے اور جب بھی رغبت کریں گے ہمیشہ موجود پائیں گے۔ ان کی تکمیل، ان کی لذت اور ان کا حسن یہ ہے کہ یہ معلوم اوقات میں ہوں گی ﴿ بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾ ’’صبح اور شام‘‘ تاکہ ان چیزوں کا وقوع باعظمت اور ان کا فائدہ کامل ہو۔
[63] وہ جنت جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے ﴿ الَّتِيۡ نُوۡرِثُ مِنۡ عِبَادِنَا مَنۡ كَانَ تَقِيًّا ﴾ ہم اہل تقویٰ کو اس جنت کا وارث بنائیں گے، اس جنت کو ہم ان کا دائمی گھر بنائیں گے جہاں سے وہ کبھی کوچ کریں گے نہ یہاں سے کہیں اور منتقل ہونا چاہیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَسَارِعُوۡۤا اِلٰى مَغۡفِرَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(آل عمران:3؍133) ’’دوڑ کر بڑھو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے جو اہل تقویٰ کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘
19:60إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَأُوْلَـٰٓئِكَ يَدۡخُلُونَ ٱلۡجَنَّةَ وَلَا يُظۡلَمُونَ شَيۡـٔٗا
پھر جانشین ہوئے بعد ان کے ناخلف (برے) لوگ، ضائع کر دیا انھوں نے نمازوں کو اور پیروی کی انھوں نے خواہشات کی، پس عنقریب ملیں گے وہ ہلاکت کو (59) مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اورعمل کیا اچھا تو یہی لوگ داخل ہوں گے جنت میں اور نہ ظلم کیے جائیں گے وہ کچھ بھی (60)(یعنی ) باغات ہمیشگی کے، وہ جن کا وعدہ کیا ہے (اللہ) رحمٰن نے اپنے بندوں سے بن دیکھے، بلاشبہ ہے وعدہ اس کا (ہر صورت) آنے والا (61)نہیں سنیں گے وہ اس جنت میں لغوبات مگر سلام ہی اور ان کے لیے رزق ہو گا ان کا اس میں صبح اور شام (62) یہی وہ جنت ہے جس کا وارث بنائیں گے ہم اپنے بندوں میں سے اس کو جو ہو گا پرہیز گار (63)
[59] جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو مخلص، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو ان کے بعد آئے اور انھوں نے ان امور کو بدل دیا جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا، ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین بنے جو پیچھے لوٹ گئے۔ انھوں نے نماز کو ضائع کیا جس کی حفاظت اور اس کو قائم کرنے کا انھیں حکم دیا گیا تھا، انھوں نے نماز کو حقیر سمجھا اور اسے ضائع کر دیا۔ جب انھوں نے نماز کو ضائع کر دیا جو دین کا ستون، ایمان کی میزان اور رب العالمین کے لیے اخلاص ہے، جو سب سے زیادہ مؤکد عمل اور سب سے افضل خصلت ہے تو نماز کے علاوہ باقی دین کو ضائع کرنے اور اس کو چھوڑ دینے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ شہوات نفس اور اس کے ارادوں کے پیچھے لگ گئے، اس لیے ان کی ہمتوں کا رخ ان شہوات کو طرف پھر گیا اور انھوں نے ان شہوات کو حقوق اللہ پر ترجیح دی۔ یہیں سے حقوق اللہ کو ضائع کرنے اور شہوات نفس پر توجہ دینے نے جنم لیا۔ یہ شہوات نفس جہاں کہیں بھی نظر آئیں اور جس طریقے سے بھی بَن پڑا، انھوں نے ان کو حاصل کیا۔ ﴿فَسَوۡفَ يَلۡقَوۡنَ غَيًّا﴾ ’’پس عنقریب ملیں گے وہ ہلاکت کو۔‘‘ یعنی کئی گنا سخت عذاب۔
[60] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے استثناء فرمایا ﴿ اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ یعنی جس نے شرک، بدعات اور معاصی سے توبہ کر لی، ان کو ترک کرکے ان پر نادم ہوا اور دوبارہ ان کا ارتکاب نہ کرنے کا پکا عزم کر لیا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان لایا ﴿ وَعَمِلَ صَالِحًا﴾ ’’اور نیک عمل کیے۔‘‘ اور عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر مشروع فرمایا ہے جبکہ عمل کرنے والے کی نیت رضائے الٰہی کا حصول ہو۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی جس نے توبہ، ایمان اور عمل صالح کو یکجا کر لیا ﴿ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’وہ جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘ جو ہمیشہ رہنے والی نعمتوں ، ہر قسم کے تکدر سے سلامت زندگی اور رب کریم کے قرب پر مشتمل ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی ان کے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی بلکہ ان کو ان کے اعمال کا کئی گنا زیادہ اجر ملے گا۔
[61] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ جنت جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے عام باغات کی مانند نہیں بلکہ وہ تو ﴿ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾’’ہمیشہ قیام والی جنتیں ہیں ‘‘ جہاں نازل ہونے والے کبھی کوچ کریں گے نہ کہیں اور منتقل ہوں گے اور نہ ان کی نعمتیں زائل ہوں گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ یہ جنتیں بہت وسیع ہوں گی اور ان میں بے شمار نعمتیں ، مسرتیں ، رونقیں اور خوش کن چیزیں ہوں گی۔﴿الَّتِيۡ وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ عِبَادَهٗ بِالۡغَيۡبِ ﴾ یعنی جس کا رحمان نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنت کو اپنے اسم مبارک (الرحمان) کی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ ان میں ایسی رحمتیں اور ایسا حسن سلوک ہو گا کہ ان کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور میں کبھی ان کا گزر ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنت کو اپنی رحمت سے موسوم فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ ابۡيَضَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ فَفِيۡ رَحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾(آل عمران:3؍107) ’’اور جن کے چہرے سفید اور روشن ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف ان کی اضافت، ان کی مسرتوں کے دوام پر دلالت کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بقاء کے ساتھ یہ بھی باقی رہیں گی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار اور اس کی موجبات میں شمار ہوتی ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں (عباد) سے مراد اس کی الوہیت کے معتقد وہ بندے ہیں جو اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کی شریعت کا التزام کرتے ہیں ۔ پس عبودیت ان کا وصف بن جاتی ہے، مثلاً:(عباد الرحمن) وغیرہ بخلاف ان بندوں کے جو ملک کے اعتبار سے تو اس کے بندے ہیں مگر اس کی عبادت نہیں کرتے۔ یہ بندے اگرچہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے بندے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا، وہ ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کی تدبیر کرتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے بندے نہیں اور اس کی عبودیت اختیاری کے تحت نہیں آتے جس کو اختیار کرنے والا قابل مدح ہے۔ ان کی عبودیت تو عبودیت اضطراری ہے جو قابل مدح نہیں ۔ ارشاد مقدس ﴿بِالۡغَيۡبِ﴾ میں یہ احتمال ہے کہ ﴿وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ﴾ سے متعلق ہو تب اس احتمال کی صورت میں یہ معنیٰ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ ان جنتوں کا غائبانہ وعدہ کیا ہے جن کا انھوں نے مشاہدہ کیا ہے نہ ان کو دیکھا ہے، وہ ان پر ایمان لائے، غائبانہ ان کی تصدیق کی اور ان کے حصول کے لیے کوشاں رہے، حالانکہ انھوں نے ان کو دیکھا ہی نہیں اور اگر وہ ان کو دیکھ لیتے تب ان کا کیا حال ہوتا، اس صورت میں ان کی شدید طلب رکھتے ہیں ، ان میں بہت زیادہ رغبت رکھتے اور ان کے حصول کے لیے سخت کوشش کرتے۔ اس میں ان کے ایمان بالغیب کی بنا پر ان کی مدح ہے، یہی وہ ایمان ہے جو فائدہ دیتا ہے، نیز اس امر کا احتمال بھی ہے کہ (بالغیب)(عبادہ) سے متعلق ہو یعنی وہ لوگ جنھوں نے حالت غیب میں اور اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس کی عبادت کی۔ ان کی عبادت کا یہ حال ہے حالانکہ انھوں نے اس کو دیکھا نہیں اگر وہ اس کو دیکھ لیتے تو وہ اس کی بہت زیادہ عبادت کرتے اور اس کی طرف بہت زیادہ رجوع کرتے اور اللہ تعالیٰ کے لیے ان کے اندر بہت زیادہ محبت اور اشتیاق ہوتا۔ اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ یہ جنتیں ، جن کا رحمٰن نے اپنے بندوں کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے، ان کا تعلق ایسے امور کے ساتھ ہے جو اوصاف کے دائرۂ ادراک سے باہر ہیں ۔ جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔پس اس آیت کریمہ میں جنت کے لیے شوق ابھارا گیا ہے، نیز آیت کریمہ میں بیان کردہ مجمل وصف نفوس کو اس کے حصول اور ساکن کو اس کی طلب میں متحرک کرتا ہے اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍17) ’’کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے اعمال کے صلے میں ان کے لیے آنکھوں کی کون سی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔‘‘ مذکورہ تمام معانی صحیح اور ثابت ہیں ۔ البتہ پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے اوراس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿كَانَ وَعۡدُهٗ مَاۡتِيًّا﴾ ’’بے شک اس کا وعدہ آنے والا ہے۔‘‘ یعنی یہ ضرور ہوکر رہے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ وہ سب سے زیادہ سچی ہستی ہے۔
[62]﴿ لَايَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا ﴾ یعنی وہ جنت میں کوئی ایسی لغو بات نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی کوئی ایسی بات سنیں گے جس کا سننا گناہ ہو، لہٰذا وہ جنت میں کوئی سب و شتم، کوئی عیب جوئی اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کے سننے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب ہوتا ہو اور نہ ہی تکدر پر مبنی کوئی بات ﴿اِلَّا سَلٰمًا﴾ یعنی وہ صرف ایسی باتیں سنیں گے جو ہرعیب سے پاک ہوں گی، یعنی ذکر الٰہی، سلام، پر سرور باتیں ، بشارت، دوستوں کے درمیان خوبصورت اوراچھی اچھی باتیں ، رحمٰن کا خطاب، حوروں ، فرشتوں اور غلمان کی دل ربا آوازیں ، طرب انگیز نغمات اور نرم الفاظ سننے کو ملیں گے کیونکہ یہ سلامتی کا گھر ہے جہاں ہر لحاظ سے کامل سلامتی کے سوا کچھ نہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ رِزۡقُهُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’اور ان کے لیے ان کا رزق ہو گا اس میں ‘‘ یعنی ماکولات و مشروبات اور مختلف انواع کی لذات جب بھی وہ طلب کریں گے اور جب بھی رغبت کریں گے ہمیشہ موجود پائیں گے۔ ان کی تکمیل، ان کی لذت اور ان کا حسن یہ ہے کہ یہ معلوم اوقات میں ہوں گی ﴿ بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾ ’’صبح اور شام‘‘ تاکہ ان چیزوں کا وقوع باعظمت اور ان کا فائدہ کامل ہو۔
[63] وہ جنت جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے ﴿ الَّتِيۡ نُوۡرِثُ مِنۡ عِبَادِنَا مَنۡ كَانَ تَقِيًّا ﴾ ہم اہل تقویٰ کو اس جنت کا وارث بنائیں گے، اس جنت کو ہم ان کا دائمی گھر بنائیں گے جہاں سے وہ کبھی کوچ کریں گے نہ یہاں سے کہیں اور منتقل ہونا چاہیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَسَارِعُوۡۤا اِلٰى مَغۡفِرَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(آل عمران:3؍133) ’’دوڑ کر بڑھو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے جو اہل تقویٰ کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘
19:61جَنَّـٰتِ عَدۡنٍ ٱلَّتِي وَعَدَ ٱلرَّحۡمَٰنُ عِبَادَهُۥ بِٱلۡغَيۡبِۚ إِنَّهُۥ كَانَ وَعۡدُهُۥ مَأۡتِيّٗا
پھر جانشین ہوئے بعد ان کے ناخلف (برے) لوگ، ضائع کر دیا انھوں نے نمازوں کو اور پیروی کی انھوں نے خواہشات کی، پس عنقریب ملیں گے وہ ہلاکت کو (59) مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اورعمل کیا اچھا تو یہی لوگ داخل ہوں گے جنت میں اور نہ ظلم کیے جائیں گے وہ کچھ بھی (60)(یعنی ) باغات ہمیشگی کے، وہ جن کا وعدہ کیا ہے (اللہ) رحمٰن نے اپنے بندوں سے بن دیکھے، بلاشبہ ہے وعدہ اس کا (ہر صورت) آنے والا (61)نہیں سنیں گے وہ اس جنت میں لغوبات مگر سلام ہی اور ان کے لیے رزق ہو گا ان کا اس میں صبح اور شام (62) یہی وہ جنت ہے جس کا وارث بنائیں گے ہم اپنے بندوں میں سے اس کو جو ہو گا پرہیز گار (63)
[59] جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو مخلص، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو ان کے بعد آئے اور انھوں نے ان امور کو بدل دیا جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا، ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین بنے جو پیچھے لوٹ گئے۔ انھوں نے نماز کو ضائع کیا جس کی حفاظت اور اس کو قائم کرنے کا انھیں حکم دیا گیا تھا، انھوں نے نماز کو حقیر سمجھا اور اسے ضائع کر دیا۔ جب انھوں نے نماز کو ضائع کر دیا جو دین کا ستون، ایمان کی میزان اور رب العالمین کے لیے اخلاص ہے، جو سب سے زیادہ مؤکد عمل اور سب سے افضل خصلت ہے تو نماز کے علاوہ باقی دین کو ضائع کرنے اور اس کو چھوڑ دینے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ شہوات نفس اور اس کے ارادوں کے پیچھے لگ گئے، اس لیے ان کی ہمتوں کا رخ ان شہوات کو طرف پھر گیا اور انھوں نے ان شہوات کو حقوق اللہ پر ترجیح دی۔ یہیں سے حقوق اللہ کو ضائع کرنے اور شہوات نفس پر توجہ دینے نے جنم لیا۔ یہ شہوات نفس جہاں کہیں بھی نظر آئیں اور جس طریقے سے بھی بَن پڑا، انھوں نے ان کو حاصل کیا۔ ﴿فَسَوۡفَ يَلۡقَوۡنَ غَيًّا﴾ ’’پس عنقریب ملیں گے وہ ہلاکت کو۔‘‘ یعنی کئی گنا سخت عذاب۔
[60] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے استثناء فرمایا ﴿ اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ یعنی جس نے شرک، بدعات اور معاصی سے توبہ کر لی، ان کو ترک کرکے ان پر نادم ہوا اور دوبارہ ان کا ارتکاب نہ کرنے کا پکا عزم کر لیا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان لایا ﴿ وَعَمِلَ صَالِحًا﴾ ’’اور نیک عمل کیے۔‘‘ اور عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر مشروع فرمایا ہے جبکہ عمل کرنے والے کی نیت رضائے الٰہی کا حصول ہو۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی جس نے توبہ، ایمان اور عمل صالح کو یکجا کر لیا ﴿ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’وہ جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘ جو ہمیشہ رہنے والی نعمتوں ، ہر قسم کے تکدر سے سلامت زندگی اور رب کریم کے قرب پر مشتمل ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی ان کے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی بلکہ ان کو ان کے اعمال کا کئی گنا زیادہ اجر ملے گا۔
[61] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ جنت جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے عام باغات کی مانند نہیں بلکہ وہ تو ﴿ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾’’ہمیشہ قیام والی جنتیں ہیں ‘‘ جہاں نازل ہونے والے کبھی کوچ کریں گے نہ کہیں اور منتقل ہوں گے اور نہ ان کی نعمتیں زائل ہوں گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ یہ جنتیں بہت وسیع ہوں گی اور ان میں بے شمار نعمتیں ، مسرتیں ، رونقیں اور خوش کن چیزیں ہوں گی۔﴿الَّتِيۡ وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ عِبَادَهٗ بِالۡغَيۡبِ ﴾ یعنی جس کا رحمان نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنت کو اپنے اسم مبارک (الرحمان) کی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ ان میں ایسی رحمتیں اور ایسا حسن سلوک ہو گا کہ ان کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور میں کبھی ان کا گزر ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنت کو اپنی رحمت سے موسوم فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ ابۡيَضَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ فَفِيۡ رَحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾(آل عمران:3؍107) ’’اور جن کے چہرے سفید اور روشن ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف ان کی اضافت، ان کی مسرتوں کے دوام پر دلالت کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بقاء کے ساتھ یہ بھی باقی رہیں گی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار اور اس کی موجبات میں شمار ہوتی ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں (عباد) سے مراد اس کی الوہیت کے معتقد وہ بندے ہیں جو اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کی شریعت کا التزام کرتے ہیں ۔ پس عبودیت ان کا وصف بن جاتی ہے، مثلاً:(عباد الرحمن) وغیرہ بخلاف ان بندوں کے جو ملک کے اعتبار سے تو اس کے بندے ہیں مگر اس کی عبادت نہیں کرتے۔ یہ بندے اگرچہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے بندے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا، وہ ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کی تدبیر کرتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے بندے نہیں اور اس کی عبودیت اختیاری کے تحت نہیں آتے جس کو اختیار کرنے والا قابل مدح ہے۔ ان کی عبودیت تو عبودیت اضطراری ہے جو قابل مدح نہیں ۔ ارشاد مقدس ﴿بِالۡغَيۡبِ﴾ میں یہ احتمال ہے کہ ﴿وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ﴾ سے متعلق ہو تب اس احتمال کی صورت میں یہ معنیٰ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ ان جنتوں کا غائبانہ وعدہ کیا ہے جن کا انھوں نے مشاہدہ کیا ہے نہ ان کو دیکھا ہے، وہ ان پر ایمان لائے، غائبانہ ان کی تصدیق کی اور ان کے حصول کے لیے کوشاں رہے، حالانکہ انھوں نے ان کو دیکھا ہی نہیں اور اگر وہ ان کو دیکھ لیتے تب ان کا کیا حال ہوتا، اس صورت میں ان کی شدید طلب رکھتے ہیں ، ان میں بہت زیادہ رغبت رکھتے اور ان کے حصول کے لیے سخت کوشش کرتے۔ اس میں ان کے ایمان بالغیب کی بنا پر ان کی مدح ہے، یہی وہ ایمان ہے جو فائدہ دیتا ہے، نیز اس امر کا احتمال بھی ہے کہ (بالغیب)(عبادہ) سے متعلق ہو یعنی وہ لوگ جنھوں نے حالت غیب میں اور اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس کی عبادت کی۔ ان کی عبادت کا یہ حال ہے حالانکہ انھوں نے اس کو دیکھا نہیں اگر وہ اس کو دیکھ لیتے تو وہ اس کی بہت زیادہ عبادت کرتے اور اس کی طرف بہت زیادہ رجوع کرتے اور اللہ تعالیٰ کے لیے ان کے اندر بہت زیادہ محبت اور اشتیاق ہوتا۔ اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ یہ جنتیں ، جن کا رحمٰن نے اپنے بندوں کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے، ان کا تعلق ایسے امور کے ساتھ ہے جو اوصاف کے دائرۂ ادراک سے باہر ہیں ۔ جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔پس اس آیت کریمہ میں جنت کے لیے شوق ابھارا گیا ہے، نیز آیت کریمہ میں بیان کردہ مجمل وصف نفوس کو اس کے حصول اور ساکن کو اس کی طلب میں متحرک کرتا ہے اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍17) ’’کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے اعمال کے صلے میں ان کے لیے آنکھوں کی کون سی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔‘‘ مذکورہ تمام معانی صحیح اور ثابت ہیں ۔ البتہ پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے اوراس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿كَانَ وَعۡدُهٗ مَاۡتِيًّا﴾ ’’بے شک اس کا وعدہ آنے والا ہے۔‘‘ یعنی یہ ضرور ہوکر رہے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ وہ سب سے زیادہ سچی ہستی ہے۔
[62]﴿ لَايَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا ﴾ یعنی وہ جنت میں کوئی ایسی لغو بات نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی کوئی ایسی بات سنیں گے جس کا سننا گناہ ہو، لہٰذا وہ جنت میں کوئی سب و شتم، کوئی عیب جوئی اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کے سننے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب ہوتا ہو اور نہ ہی تکدر پر مبنی کوئی بات ﴿اِلَّا سَلٰمًا﴾ یعنی وہ صرف ایسی باتیں سنیں گے جو ہرعیب سے پاک ہوں گی، یعنی ذکر الٰہی، سلام، پر سرور باتیں ، بشارت، دوستوں کے درمیان خوبصورت اوراچھی اچھی باتیں ، رحمٰن کا خطاب، حوروں ، فرشتوں اور غلمان کی دل ربا آوازیں ، طرب انگیز نغمات اور نرم الفاظ سننے کو ملیں گے کیونکہ یہ سلامتی کا گھر ہے جہاں ہر لحاظ سے کامل سلامتی کے سوا کچھ نہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ رِزۡقُهُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’اور ان کے لیے ان کا رزق ہو گا اس میں ‘‘ یعنی ماکولات و مشروبات اور مختلف انواع کی لذات جب بھی وہ طلب کریں گے اور جب بھی رغبت کریں گے ہمیشہ موجود پائیں گے۔ ان کی تکمیل، ان کی لذت اور ان کا حسن یہ ہے کہ یہ معلوم اوقات میں ہوں گی ﴿ بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾ ’’صبح اور شام‘‘ تاکہ ان چیزوں کا وقوع باعظمت اور ان کا فائدہ کامل ہو۔
[63] وہ جنت جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے ﴿ الَّتِيۡ نُوۡرِثُ مِنۡ عِبَادِنَا مَنۡ كَانَ تَقِيًّا ﴾ ہم اہل تقویٰ کو اس جنت کا وارث بنائیں گے، اس جنت کو ہم ان کا دائمی گھر بنائیں گے جہاں سے وہ کبھی کوچ کریں گے نہ یہاں سے کہیں اور منتقل ہونا چاہیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَسَارِعُوۡۤا اِلٰى مَغۡفِرَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(آل عمران:3؍133) ’’دوڑ کر بڑھو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے جو اہل تقویٰ کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘
19:62لَّا يَسۡمَعُونَ فِيهَا لَغۡوًا إِلَّا سَلَٰمٗاۖ وَلَهُمۡ رِزۡقُهُمۡ فِيهَا بُكۡرَةٗ وَعَشِيّٗا
پھر جانشین ہوئے بعد ان کے ناخلف (برے) لوگ، ضائع کر دیا انھوں نے نمازوں کو اور پیروی کی انھوں نے خواہشات کی، پس عنقریب ملیں گے وہ ہلاکت کو (59) مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اورعمل کیا اچھا تو یہی لوگ داخل ہوں گے جنت میں اور نہ ظلم کیے جائیں گے وہ کچھ بھی (60)(یعنی ) باغات ہمیشگی کے، وہ جن کا وعدہ کیا ہے (اللہ) رحمٰن نے اپنے بندوں سے بن دیکھے، بلاشبہ ہے وعدہ اس کا (ہر صورت) آنے والا (61)نہیں سنیں گے وہ اس جنت میں لغوبات مگر سلام ہی اور ان کے لیے رزق ہو گا ان کا اس میں صبح اور شام (62) یہی وہ جنت ہے جس کا وارث بنائیں گے ہم اپنے بندوں میں سے اس کو جو ہو گا پرہیز گار (63)
[59] جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو مخلص، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو ان کے بعد آئے اور انھوں نے ان امور کو بدل دیا جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا، ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین بنے جو پیچھے لوٹ گئے۔ انھوں نے نماز کو ضائع کیا جس کی حفاظت اور اس کو قائم کرنے کا انھیں حکم دیا گیا تھا، انھوں نے نماز کو حقیر سمجھا اور اسے ضائع کر دیا۔ جب انھوں نے نماز کو ضائع کر دیا جو دین کا ستون، ایمان کی میزان اور رب العالمین کے لیے اخلاص ہے، جو سب سے زیادہ مؤکد عمل اور سب سے افضل خصلت ہے تو نماز کے علاوہ باقی دین کو ضائع کرنے اور اس کو چھوڑ دینے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ شہوات نفس اور اس کے ارادوں کے پیچھے لگ گئے، اس لیے ان کی ہمتوں کا رخ ان شہوات کو طرف پھر گیا اور انھوں نے ان شہوات کو حقوق اللہ پر ترجیح دی۔ یہیں سے حقوق اللہ کو ضائع کرنے اور شہوات نفس پر توجہ دینے نے جنم لیا۔ یہ شہوات نفس جہاں کہیں بھی نظر آئیں اور جس طریقے سے بھی بَن پڑا، انھوں نے ان کو حاصل کیا۔ ﴿فَسَوۡفَ يَلۡقَوۡنَ غَيًّا﴾ ’’پس عنقریب ملیں گے وہ ہلاکت کو۔‘‘ یعنی کئی گنا سخت عذاب۔
[60] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے استثناء فرمایا ﴿ اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ یعنی جس نے شرک، بدعات اور معاصی سے توبہ کر لی، ان کو ترک کرکے ان پر نادم ہوا اور دوبارہ ان کا ارتکاب نہ کرنے کا پکا عزم کر لیا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان لایا ﴿ وَعَمِلَ صَالِحًا﴾ ’’اور نیک عمل کیے۔‘‘ اور عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر مشروع فرمایا ہے جبکہ عمل کرنے والے کی نیت رضائے الٰہی کا حصول ہو۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی جس نے توبہ، ایمان اور عمل صالح کو یکجا کر لیا ﴿ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’وہ جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘ جو ہمیشہ رہنے والی نعمتوں ، ہر قسم کے تکدر سے سلامت زندگی اور رب کریم کے قرب پر مشتمل ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی ان کے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی بلکہ ان کو ان کے اعمال کا کئی گنا زیادہ اجر ملے گا۔
[61] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ جنت جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے عام باغات کی مانند نہیں بلکہ وہ تو ﴿ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾’’ہمیشہ قیام والی جنتیں ہیں ‘‘ جہاں نازل ہونے والے کبھی کوچ کریں گے نہ کہیں اور منتقل ہوں گے اور نہ ان کی نعمتیں زائل ہوں گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ یہ جنتیں بہت وسیع ہوں گی اور ان میں بے شمار نعمتیں ، مسرتیں ، رونقیں اور خوش کن چیزیں ہوں گی۔﴿الَّتِيۡ وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ عِبَادَهٗ بِالۡغَيۡبِ ﴾ یعنی جس کا رحمان نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنت کو اپنے اسم مبارک (الرحمان) کی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ ان میں ایسی رحمتیں اور ایسا حسن سلوک ہو گا کہ ان کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور میں کبھی ان کا گزر ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنت کو اپنی رحمت سے موسوم فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ ابۡيَضَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ فَفِيۡ رَحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾(آل عمران:3؍107) ’’اور جن کے چہرے سفید اور روشن ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف ان کی اضافت، ان کی مسرتوں کے دوام پر دلالت کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بقاء کے ساتھ یہ بھی باقی رہیں گی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار اور اس کی موجبات میں شمار ہوتی ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں (عباد) سے مراد اس کی الوہیت کے معتقد وہ بندے ہیں جو اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کی شریعت کا التزام کرتے ہیں ۔ پس عبودیت ان کا وصف بن جاتی ہے، مثلاً:(عباد الرحمن) وغیرہ بخلاف ان بندوں کے جو ملک کے اعتبار سے تو اس کے بندے ہیں مگر اس کی عبادت نہیں کرتے۔ یہ بندے اگرچہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے بندے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا، وہ ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کی تدبیر کرتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے بندے نہیں اور اس کی عبودیت اختیاری کے تحت نہیں آتے جس کو اختیار کرنے والا قابل مدح ہے۔ ان کی عبودیت تو عبودیت اضطراری ہے جو قابل مدح نہیں ۔ ارشاد مقدس ﴿بِالۡغَيۡبِ﴾ میں یہ احتمال ہے کہ ﴿وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ﴾ سے متعلق ہو تب اس احتمال کی صورت میں یہ معنیٰ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ ان جنتوں کا غائبانہ وعدہ کیا ہے جن کا انھوں نے مشاہدہ کیا ہے نہ ان کو دیکھا ہے، وہ ان پر ایمان لائے، غائبانہ ان کی تصدیق کی اور ان کے حصول کے لیے کوشاں رہے، حالانکہ انھوں نے ان کو دیکھا ہی نہیں اور اگر وہ ان کو دیکھ لیتے تب ان کا کیا حال ہوتا، اس صورت میں ان کی شدید طلب رکھتے ہیں ، ان میں بہت زیادہ رغبت رکھتے اور ان کے حصول کے لیے سخت کوشش کرتے۔ اس میں ان کے ایمان بالغیب کی بنا پر ان کی مدح ہے، یہی وہ ایمان ہے جو فائدہ دیتا ہے، نیز اس امر کا احتمال بھی ہے کہ (بالغیب)(عبادہ) سے متعلق ہو یعنی وہ لوگ جنھوں نے حالت غیب میں اور اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس کی عبادت کی۔ ان کی عبادت کا یہ حال ہے حالانکہ انھوں نے اس کو دیکھا نہیں اگر وہ اس کو دیکھ لیتے تو وہ اس کی بہت زیادہ عبادت کرتے اور اس کی طرف بہت زیادہ رجوع کرتے اور اللہ تعالیٰ کے لیے ان کے اندر بہت زیادہ محبت اور اشتیاق ہوتا۔ اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ یہ جنتیں ، جن کا رحمٰن نے اپنے بندوں کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے، ان کا تعلق ایسے امور کے ساتھ ہے جو اوصاف کے دائرۂ ادراک سے باہر ہیں ۔ جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔پس اس آیت کریمہ میں جنت کے لیے شوق ابھارا گیا ہے، نیز آیت کریمہ میں بیان کردہ مجمل وصف نفوس کو اس کے حصول اور ساکن کو اس کی طلب میں متحرک کرتا ہے اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍17) ’’کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے اعمال کے صلے میں ان کے لیے آنکھوں کی کون سی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔‘‘ مذکورہ تمام معانی صحیح اور ثابت ہیں ۔ البتہ پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے اوراس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿كَانَ وَعۡدُهٗ مَاۡتِيًّا﴾ ’’بے شک اس کا وعدہ آنے والا ہے۔‘‘ یعنی یہ ضرور ہوکر رہے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ وہ سب سے زیادہ سچی ہستی ہے۔
[62]﴿ لَايَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا ﴾ یعنی وہ جنت میں کوئی ایسی لغو بات نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی کوئی ایسی بات سنیں گے جس کا سننا گناہ ہو، لہٰذا وہ جنت میں کوئی سب و شتم، کوئی عیب جوئی اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کے سننے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب ہوتا ہو اور نہ ہی تکدر پر مبنی کوئی بات ﴿اِلَّا سَلٰمًا﴾ یعنی وہ صرف ایسی باتیں سنیں گے جو ہرعیب سے پاک ہوں گی، یعنی ذکر الٰہی، سلام، پر سرور باتیں ، بشارت، دوستوں کے درمیان خوبصورت اوراچھی اچھی باتیں ، رحمٰن کا خطاب، حوروں ، فرشتوں اور غلمان کی دل ربا آوازیں ، طرب انگیز نغمات اور نرم الفاظ سننے کو ملیں گے کیونکہ یہ سلامتی کا گھر ہے جہاں ہر لحاظ سے کامل سلامتی کے سوا کچھ نہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ رِزۡقُهُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’اور ان کے لیے ان کا رزق ہو گا اس میں ‘‘ یعنی ماکولات و مشروبات اور مختلف انواع کی لذات جب بھی وہ طلب کریں گے اور جب بھی رغبت کریں گے ہمیشہ موجود پائیں گے۔ ان کی تکمیل، ان کی لذت اور ان کا حسن یہ ہے کہ یہ معلوم اوقات میں ہوں گی ﴿ بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾ ’’صبح اور شام‘‘ تاکہ ان چیزوں کا وقوع باعظمت اور ان کا فائدہ کامل ہو۔
[63] وہ جنت جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے ﴿ الَّتِيۡ نُوۡرِثُ مِنۡ عِبَادِنَا مَنۡ كَانَ تَقِيًّا ﴾ ہم اہل تقویٰ کو اس جنت کا وارث بنائیں گے، اس جنت کو ہم ان کا دائمی گھر بنائیں گے جہاں سے وہ کبھی کوچ کریں گے نہ یہاں سے کہیں اور منتقل ہونا چاہیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَسَارِعُوۡۤا اِلٰى مَغۡفِرَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(آل عمران:3؍133) ’’دوڑ کر بڑھو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے جو اہل تقویٰ کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘
19:63تِلۡكَ ٱلۡجَنَّةُ ٱلَّتِي نُورِثُ مِنۡ عِبَادِنَا مَن كَانَ تَقِيّٗا
پھر جانشین ہوئے بعد ان کے ناخلف (برے) لوگ، ضائع کر دیا انھوں نے نمازوں کو اور پیروی کی انھوں نے خواہشات کی، پس عنقریب ملیں گے وہ ہلاکت کو (59) مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اورعمل کیا اچھا تو یہی لوگ داخل ہوں گے جنت میں اور نہ ظلم کیے جائیں گے وہ کچھ بھی (60)(یعنی ) باغات ہمیشگی کے، وہ جن کا وعدہ کیا ہے (اللہ) رحمٰن نے اپنے بندوں سے بن دیکھے، بلاشبہ ہے وعدہ اس کا (ہر صورت) آنے والا (61)نہیں سنیں گے وہ اس جنت میں لغوبات مگر سلام ہی اور ان کے لیے رزق ہو گا ان کا اس میں صبح اور شام (62) یہی وہ جنت ہے جس کا وارث بنائیں گے ہم اپنے بندوں میں سے اس کو جو ہو گا پرہیز گار (63)
[59] جب اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو مخلص، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو ان کے بعد آئے اور انھوں نے ان امور کو بدل دیا جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا، ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین بنے جو پیچھے لوٹ گئے۔ انھوں نے نماز کو ضائع کیا جس کی حفاظت اور اس کو قائم کرنے کا انھیں حکم دیا گیا تھا، انھوں نے نماز کو حقیر سمجھا اور اسے ضائع کر دیا۔ جب انھوں نے نماز کو ضائع کر دیا جو دین کا ستون، ایمان کی میزان اور رب العالمین کے لیے اخلاص ہے، جو سب سے زیادہ مؤکد عمل اور سب سے افضل خصلت ہے تو نماز کے علاوہ باقی دین کو ضائع کرنے اور اس کو چھوڑ دینے کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ شہوات نفس اور اس کے ارادوں کے پیچھے لگ گئے، اس لیے ان کی ہمتوں کا رخ ان شہوات کو طرف پھر گیا اور انھوں نے ان شہوات کو حقوق اللہ پر ترجیح دی۔ یہیں سے حقوق اللہ کو ضائع کرنے اور شہوات نفس پر توجہ دینے نے جنم لیا۔ یہ شہوات نفس جہاں کہیں بھی نظر آئیں اور جس طریقے سے بھی بَن پڑا، انھوں نے ان کو حاصل کیا۔ ﴿فَسَوۡفَ يَلۡقَوۡنَ غَيًّا﴾ ’’پس عنقریب ملیں گے وہ ہلاکت کو۔‘‘ یعنی کئی گنا سخت عذاب۔
[60] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے استثناء فرمایا ﴿ اِلَّا مَنۡ تَابَ ﴾ یعنی جس نے شرک، بدعات اور معاصی سے توبہ کر لی، ان کو ترک کرکے ان پر نادم ہوا اور دوبارہ ان کا ارتکاب نہ کرنے کا پکا عزم کر لیا ﴿ وَاٰمَنَ ﴾ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان لایا ﴿ وَعَمِلَ صَالِحًا﴾ ’’اور نیک عمل کیے۔‘‘ اور عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبان پر مشروع فرمایا ہے جبکہ عمل کرنے والے کی نیت رضائے الٰہی کا حصول ہو۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی جس نے توبہ، ایمان اور عمل صالح کو یکجا کر لیا ﴿ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’وہ جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘ جو ہمیشہ رہنے والی نعمتوں ، ہر قسم کے تکدر سے سلامت زندگی اور رب کریم کے قرب پر مشتمل ہو گی۔ ﴿ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی ان کے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی بلکہ ان کو ان کے اعمال کا کئی گنا زیادہ اجر ملے گا۔
[61] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ جنت جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے عام باغات کی مانند نہیں بلکہ وہ تو ﴿ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾’’ہمیشہ قیام والی جنتیں ہیں ‘‘ جہاں نازل ہونے والے کبھی کوچ کریں گے نہ کہیں اور منتقل ہوں گے اور نہ ان کی نعمتیں زائل ہوں گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ یہ جنتیں بہت وسیع ہوں گی اور ان میں بے شمار نعمتیں ، مسرتیں ، رونقیں اور خوش کن چیزیں ہوں گی۔﴿الَّتِيۡ وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ عِبَادَهٗ بِالۡغَيۡبِ ﴾ یعنی جس کا رحمان نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنت کو اپنے اسم مبارک (الرحمان) کی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ ان میں ایسی رحمتیں اور ایسا حسن سلوک ہو گا کہ ان کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور میں کبھی ان کا گزر ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنت کو اپنی رحمت سے موسوم فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ ابۡيَضَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ فَفِيۡ رَحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾(آل عمران:3؍107) ’’اور جن کے چہرے سفید اور روشن ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف ان کی اضافت، ان کی مسرتوں کے دوام پر دلالت کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بقاء کے ساتھ یہ بھی باقی رہیں گی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار اور اس کی موجبات میں شمار ہوتی ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں (عباد) سے مراد اس کی الوہیت کے معتقد وہ بندے ہیں جو اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کی شریعت کا التزام کرتے ہیں ۔ پس عبودیت ان کا وصف بن جاتی ہے، مثلاً:(عباد الرحمن) وغیرہ بخلاف ان بندوں کے جو ملک کے اعتبار سے تو اس کے بندے ہیں مگر اس کی عبادت نہیں کرتے۔ یہ بندے اگرچہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے بندے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا، وہ ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کی تدبیر کرتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے بندے نہیں اور اس کی عبودیت اختیاری کے تحت نہیں آتے جس کو اختیار کرنے والا قابل مدح ہے۔ ان کی عبودیت تو عبودیت اضطراری ہے جو قابل مدح نہیں ۔ ارشاد مقدس ﴿بِالۡغَيۡبِ﴾ میں یہ احتمال ہے کہ ﴿وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ﴾ سے متعلق ہو تب اس احتمال کی صورت میں یہ معنیٰ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ ان جنتوں کا غائبانہ وعدہ کیا ہے جن کا انھوں نے مشاہدہ کیا ہے نہ ان کو دیکھا ہے، وہ ان پر ایمان لائے، غائبانہ ان کی تصدیق کی اور ان کے حصول کے لیے کوشاں رہے، حالانکہ انھوں نے ان کو دیکھا ہی نہیں اور اگر وہ ان کو دیکھ لیتے تب ان کا کیا حال ہوتا، اس صورت میں ان کی شدید طلب رکھتے ہیں ، ان میں بہت زیادہ رغبت رکھتے اور ان کے حصول کے لیے سخت کوشش کرتے۔ اس میں ان کے ایمان بالغیب کی بنا پر ان کی مدح ہے، یہی وہ ایمان ہے جو فائدہ دیتا ہے، نیز اس امر کا احتمال بھی ہے کہ (بالغیب)(عبادہ) سے متعلق ہو یعنی وہ لوگ جنھوں نے حالت غیب میں اور اللہ تعالیٰ کو دیکھے بغیر اس کی عبادت کی۔ ان کی عبادت کا یہ حال ہے حالانکہ انھوں نے اس کو دیکھا نہیں اگر وہ اس کو دیکھ لیتے تو وہ اس کی بہت زیادہ عبادت کرتے اور اس کی طرف بہت زیادہ رجوع کرتے اور اللہ تعالیٰ کے لیے ان کے اندر بہت زیادہ محبت اور اشتیاق ہوتا۔ اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ یہ جنتیں ، جن کا رحمٰن نے اپنے بندوں کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے، ان کا تعلق ایسے امور کے ساتھ ہے جو اوصاف کے دائرۂ ادراک سے باہر ہیں ۔ جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔پس اس آیت کریمہ میں جنت کے لیے شوق ابھارا گیا ہے، نیز آیت کریمہ میں بیان کردہ مجمل وصف نفوس کو اس کے حصول اور ساکن کو اس کی طلب میں متحرک کرتا ہے اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾(السجدۃ:32؍17) ’’کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے اعمال کے صلے میں ان کے لیے آنکھوں کی کون سی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔‘‘ مذکورہ تمام معانی صحیح اور ثابت ہیں ۔ البتہ پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے اوراس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿كَانَ وَعۡدُهٗ مَاۡتِيًّا﴾ ’’بے شک اس کا وعدہ آنے والا ہے۔‘‘ یعنی یہ ضرور ہوکر رہے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ وہ سب سے زیادہ سچی ہستی ہے۔
[62]﴿ لَايَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا ﴾ یعنی وہ جنت میں کوئی ایسی لغو بات نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی کوئی ایسی بات سنیں گے جس کا سننا گناہ ہو، لہٰذا وہ جنت میں کوئی سب و شتم، کوئی عیب جوئی اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کے سننے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب ہوتا ہو اور نہ ہی تکدر پر مبنی کوئی بات ﴿اِلَّا سَلٰمًا﴾ یعنی وہ صرف ایسی باتیں سنیں گے جو ہرعیب سے پاک ہوں گی، یعنی ذکر الٰہی، سلام، پر سرور باتیں ، بشارت، دوستوں کے درمیان خوبصورت اوراچھی اچھی باتیں ، رحمٰن کا خطاب، حوروں ، فرشتوں اور غلمان کی دل ربا آوازیں ، طرب انگیز نغمات اور نرم الفاظ سننے کو ملیں گے کیونکہ یہ سلامتی کا گھر ہے جہاں ہر لحاظ سے کامل سلامتی کے سوا کچھ نہیں ۔ ﴿ وَلَهُمۡ رِزۡقُهُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’اور ان کے لیے ان کا رزق ہو گا اس میں ‘‘ یعنی ماکولات و مشروبات اور مختلف انواع کی لذات جب بھی وہ طلب کریں گے اور جب بھی رغبت کریں گے ہمیشہ موجود پائیں گے۔ ان کی تکمیل، ان کی لذت اور ان کا حسن یہ ہے کہ یہ معلوم اوقات میں ہوں گی ﴿ بُؔكۡرَةً وَّعَشِيًّا ﴾ ’’صبح اور شام‘‘ تاکہ ان چیزوں کا وقوع باعظمت اور ان کا فائدہ کامل ہو۔
[63] وہ جنت جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے ﴿ الَّتِيۡ نُوۡرِثُ مِنۡ عِبَادِنَا مَنۡ كَانَ تَقِيًّا ﴾ ہم اہل تقویٰ کو اس جنت کا وارث بنائیں گے، اس جنت کو ہم ان کا دائمی گھر بنائیں گے جہاں سے وہ کبھی کوچ کریں گے نہ یہاں سے کہیں اور منتقل ہونا چاہیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَسَارِعُوۡۤا اِلٰى مَغۡفِرَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرۡضُ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(آل عمران:3؍133) ’’دوڑ کر بڑھو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے جو اہل تقویٰ کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘
19:64وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمۡرِ رَبِّكَۖ لَهُۥ مَا بَيۡنَ أَيۡدِينَا وَمَا خَلۡفَنَا وَمَا بَيۡنَ ذَٰلِكَۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيّٗا
اور نہیں اترتے ہم مگر آپ کے رب کے حکم سے، اسی کے لیے ہے جو کچھ ہمارے آگے ہے اورجو کچھ ہمارے پیچھے ہےاور جو کچھ اس کے درمیان ہےاور نہیں ہے آپ کا رب بھولنے والا (64) رب ہے آسمانوں اور زمین کااورجو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے،پس آپ عبادت کریں اس کی اور قائم رہیں اس کی عبادت پر، کیا آپ جانتے ہیں اس کے لیے کوئی (اور اس کا)ہم نام؟ (65)
[64] ایک دفعہ جبریل u رسول اللہﷺ پر دیر سے نازل ہوئے آپﷺ نے جبریلu سے فرمایا ’’آپ جتنی بار ہمارے پاس آتے ہیں ، کاش اس سے زیادہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ آپ نے یہ بات جبریلu کی طرف اشتیاق اور اس کی جدائی سے وحشت محسوس کرتے ہوئے کہی تاکہ اس کے نزول سے اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جبریلu کی زبانی فرمایا:﴿ وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمۡرِ رَبِّكَ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کے حکم ہی سے اترتے ہیں ‘‘ یعنی اس معاملے میں ہمیں کوئی اختیار نہیں اگر ہمیں نازل ہونے کا حکم دیا جاتا ہے تو ہم اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ہم اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کر سکتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ ﴾(التحریم:66؍6)’’اللہ جو حکم ان کو دیتا ہے، وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہ وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔‘‘ ہم تو مامور و محکوم بندے ہیں ۔﴿ لَهٗ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡنَا وَمَا خَلۡفَنَا وَمَا بَيۡنَ ذٰلِكَ﴾ ’’اسی کے لیے ہے جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو اس کے درمیان میں ہے۔‘‘ یعنی وہی ہے جو ہر زمان و مکاں میں ، امور ماضی، امور حاضر اور امور مستقبل کا مالک ہے اور جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کے قبضۂ اختیار میں ہیں تو ہم محض اس کے بندے اور اس کی دست تدبیر کے تحت ہیں ، اس لیے تمام معاملہ ان دو باتوں کے مابین ہے۔ ۱۔ آیا حکمت الٰہی اس فعل کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ اسے نافذ فرمائے؟ ۲۔ یا حکمت الٰہی اس فعل کا تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اسے مؤخر کر دے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾ ’’اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب آپ کو فراموش کر کے مہمل نہیں چھوڑے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى﴾(الضحیٰ:93؍3) ’’آپ(ﷺ) کے رب نے آپﷺ کو چھوڑا ہے نہ وہ آپ سے ناراض ہے۔‘‘ بلکہ وہ اپنے بہترین قوانین جمیلہ اور تدابیر جلیلہ کے مطابق، آپ کے لیے احکام جاری کرتے ہوئے آپ کے تمام امور کو درخور اعتنا رکھتا ہے، یعنی جب ہم وقت معتاد سے تاخیر سے نازل ہوتے ہیں تو یہ چیز آپ(ﷺ) کو غمزدہ نہ کرے اور آپ(ﷺ) کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس تاخیر کا ارادہ کیا ہے کیونکہ اس میں اس کی حکمت ہے۔
[65] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے احاطۂ علم اور عدم نسیان کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾’’وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا۔‘‘ پس زمین اور آسمان میں اس کی ربوبیت اور ان کا بہترین اور کامل ترین نظام کے مطابق رواں دواں رہنا، جس میں غفلت کا کوئی شائبہ ہے نہ ان میں کوئی چیز بے فائدہ ہے اور نہ کوئی چیز باطل ہے… اس حقیقت پر قطعی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو شامل ہے، لہٰذا آپﷺ اپنے آپ کو اس میں مشغول نہ کریں بلکہ آپ ان امور میں اپنے آپ کو مشغول کریں جو آپ کو کوئی فائدہ دیتے ہیں اور جن کا فائدہ آپ کی طرف لوٹتا ہے اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت جس کا کوئی شریک نہیں ۔﴿ وَاصۡطَبِرۡ لِعِبَادَتِهٖ﴾ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی عبادت پر کاربند رکھیے اس میں کوشاں رہیے اور مقدور بھر اس کو کامل ترین طریقے سے قائم کیجیے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغولیت عبادت گزار کو تمام تعلقات اور شہوات کے ترک کرنے میں تسلی کا باعث ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ زَهۡرَةَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ۬ لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيۡهِ١ؕ وَرِزۡقُ رَبِّكَ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ۰۰وَاۡمُرۡ اَهۡلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَا ﴾(طٰہ:20؍131-132)’’ان کی اس دنیاوی شان و شوکت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیے جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو عطا کی ہے تاکہ ہم اس کے ذریعے سے انھیں آزمائیں اور آپ کے رب کا عطا کردہ رزق بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے، اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیتے رہیے اور خود بھی اس کے پابند رہیے۔‘‘﴿ هَلۡ تَعۡلَمُ لَهٗ سَمِيًّا ﴾ کیا آپ تمام مخلوق میں اس کی کوئی ہم نام، کوئی مشابہت اور مماثلت رکھنے والی ہستی جانتے ہیں ؟ یہ استفہام نفی کا معنیٰ دیتا ہے جو عقلاً معلوم ہے، یعنی آپ کسی ایسی ہستی کو نہیں جانتے جو اللہ تعالیٰ کی برابری کرنے والی اس کے مشابہ اور مماثل ہو۔ کیونکہ وہ رب ہے اور دوسرے مربوب، وہ خالق ہے اور دیگر تمام مخلوق، وہ ہر لحاظ سے بے نیاز ہے اور دیگر تمام ہر لحاظ سے بالذات محتاج ہیں ، وہ کامل ہے جو ہر لحاظ سے کمال مطلق کا مالک ہے دیگر تمام ناقص ہیں کسی میں کوئی کمال نہیں سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کر دیا۔ پس یہ اس حقیقت پر برہان قاطع ہے کہ اللہ تعالیٰ اکیلا عبودیت کا مستحق ہے۔ اس کی عبادت حق اور ماسوا کی عبادت باطل ہے، اس لیے اس نے صرف اپنی عبادت کرنے اور اس پر پابند رہنے کا حکم دیا اور اس کی علت یہ بتلائی کہ وہ اپنے کمال، اپنی عظمت اور اسمائے حسنیٰ میں منفرد ہے۔
19:65رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا فَٱعۡبُدۡهُ وَٱصۡطَبِرۡ لِعِبَٰدَتِهِۦۚ هَلۡ تَعۡلَمُ لَهُۥ سَمِيّٗا
اور نہیں اترتے ہم مگر آپ کے رب کے حکم سے، اسی کے لیے ہے جو کچھ ہمارے آگے ہے اورجو کچھ ہمارے پیچھے ہےاور جو کچھ اس کے درمیان ہےاور نہیں ہے آپ کا رب بھولنے والا (64) رب ہے آسمانوں اور زمین کااورجو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے،پس آپ عبادت کریں اس کی اور قائم رہیں اس کی عبادت پر، کیا آپ جانتے ہیں اس کے لیے کوئی (اور اس کا)ہم نام؟ (65)
[64] ایک دفعہ جبریل u رسول اللہﷺ پر دیر سے نازل ہوئے آپﷺ نے جبریلu سے فرمایا ’’آپ جتنی بار ہمارے پاس آتے ہیں ، کاش اس سے زیادہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ آپ نے یہ بات جبریلu کی طرف اشتیاق اور اس کی جدائی سے وحشت محسوس کرتے ہوئے کہی تاکہ اس کے نزول سے اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جبریلu کی زبانی فرمایا:﴿ وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمۡرِ رَبِّكَ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کے حکم ہی سے اترتے ہیں ‘‘ یعنی اس معاملے میں ہمیں کوئی اختیار نہیں اگر ہمیں نازل ہونے کا حکم دیا جاتا ہے تو ہم اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ہم اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کر سکتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ ﴾(التحریم:66؍6)’’اللہ جو حکم ان کو دیتا ہے، وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہ وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔‘‘ ہم تو مامور و محکوم بندے ہیں ۔﴿ لَهٗ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡنَا وَمَا خَلۡفَنَا وَمَا بَيۡنَ ذٰلِكَ﴾ ’’اسی کے لیے ہے جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو اس کے درمیان میں ہے۔‘‘ یعنی وہی ہے جو ہر زمان و مکاں میں ، امور ماضی، امور حاضر اور امور مستقبل کا مالک ہے اور جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کے قبضۂ اختیار میں ہیں تو ہم محض اس کے بندے اور اس کی دست تدبیر کے تحت ہیں ، اس لیے تمام معاملہ ان دو باتوں کے مابین ہے۔ ۱۔ آیا حکمت الٰہی اس فعل کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ اسے نافذ فرمائے؟ ۲۔ یا حکمت الٰہی اس فعل کا تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اسے مؤخر کر دے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾ ’’اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب آپ کو فراموش کر کے مہمل نہیں چھوڑے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى﴾(الضحیٰ:93؍3) ’’آپ(ﷺ) کے رب نے آپﷺ کو چھوڑا ہے نہ وہ آپ سے ناراض ہے۔‘‘ بلکہ وہ اپنے بہترین قوانین جمیلہ اور تدابیر جلیلہ کے مطابق، آپ کے لیے احکام جاری کرتے ہوئے آپ کے تمام امور کو درخور اعتنا رکھتا ہے، یعنی جب ہم وقت معتاد سے تاخیر سے نازل ہوتے ہیں تو یہ چیز آپ(ﷺ) کو غمزدہ نہ کرے اور آپ(ﷺ) کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس تاخیر کا ارادہ کیا ہے کیونکہ اس میں اس کی حکمت ہے۔
[65] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے احاطۂ علم اور عدم نسیان کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾’’وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا۔‘‘ پس زمین اور آسمان میں اس کی ربوبیت اور ان کا بہترین اور کامل ترین نظام کے مطابق رواں دواں رہنا، جس میں غفلت کا کوئی شائبہ ہے نہ ان میں کوئی چیز بے فائدہ ہے اور نہ کوئی چیز باطل ہے… اس حقیقت پر قطعی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو شامل ہے، لہٰذا آپﷺ اپنے آپ کو اس میں مشغول نہ کریں بلکہ آپ ان امور میں اپنے آپ کو مشغول کریں جو آپ کو کوئی فائدہ دیتے ہیں اور جن کا فائدہ آپ کی طرف لوٹتا ہے اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت جس کا کوئی شریک نہیں ۔﴿ وَاصۡطَبِرۡ لِعِبَادَتِهٖ﴾ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی عبادت پر کاربند رکھیے اس میں کوشاں رہیے اور مقدور بھر اس کو کامل ترین طریقے سے قائم کیجیے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغولیت عبادت گزار کو تمام تعلقات اور شہوات کے ترک کرنے میں تسلی کا باعث ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّؔنۡهُمۡ زَهۡرَةَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ۙ۬ لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيۡهِ١ؕ وَرِزۡقُ رَبِّكَ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ۰۰وَاۡمُرۡ اَهۡلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَا ﴾(طٰہ:20؍131-132)’’ان کی اس دنیاوی شان و شوکت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیے جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو عطا کی ہے تاکہ ہم اس کے ذریعے سے انھیں آزمائیں اور آپ کے رب کا عطا کردہ رزق بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے، اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیتے رہیے اور خود بھی اس کے پابند رہیے۔‘‘﴿ هَلۡ تَعۡلَمُ لَهٗ سَمِيًّا ﴾ کیا آپ تمام مخلوق میں اس کی کوئی ہم نام، کوئی مشابہت اور مماثلت رکھنے والی ہستی جانتے ہیں ؟ یہ استفہام نفی کا معنیٰ دیتا ہے جو عقلاً معلوم ہے، یعنی آپ کسی ایسی ہستی کو نہیں جانتے جو اللہ تعالیٰ کی برابری کرنے والی اس کے مشابہ اور مماثل ہو۔ کیونکہ وہ رب ہے اور دوسرے مربوب، وہ خالق ہے اور دیگر تمام مخلوق، وہ ہر لحاظ سے بے نیاز ہے اور دیگر تمام ہر لحاظ سے بالذات محتاج ہیں ، وہ کامل ہے جو ہر لحاظ سے کمال مطلق کا مالک ہے دیگر تمام ناقص ہیں کسی میں کوئی کمال نہیں سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کر دیا۔ پس یہ اس حقیقت پر برہان قاطع ہے کہ اللہ تعالیٰ اکیلا عبودیت کا مستحق ہے۔ اس کی عبادت حق اور ماسوا کی عبادت باطل ہے، اس لیے اس نے صرف اپنی عبادت کرنے اور اس پر پابند رہنے کا حکم دیا اور اس کی علت یہ بتلائی کہ وہ اپنے کمال، اپنی عظمت اور اسمائے حسنیٰ میں منفرد ہے۔
19:66وَيَقُولُ ٱلۡإِنسَٰنُ أَءِذَا مَا مِتُّ لَسَوۡفَ أُخۡرَجُ حَيًّا
اور کہتا ہے انسان، کیا جب میں مر جاؤں گا تو البتہ نکالا جاؤں گا (قبر سے) زندہ (کر کے)؟ (66) کیا نہیں یاد کرتا انسان کہ بے شک ہم ہی نے پیدا کیا ہے اسے پہلے اس سے اور نہ تھا وہ کچھ بھی (67)
[66] یہاں (الانسان) سے مراد ہر وہ شخص ہے جو زندگی بعد موت کا منکر ہے اور وہ مرنے کے بعد زندہ کیے جانے کو بعید سمجھتا ہے، چنانچہ وہ نفی، عناد اور کفر کی وجہ سے استفہامیہ اسلوب میں کہتا ہے:﴿ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوۡفَ اُخۡرَجُ حَيًّا ﴾ یعنی میرے مرنے کے بعد، جبکہ میں بوسیدہ ہو چکا ہوں گا، اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ کیسے زندہ کرے گا؟ ایسا نہیں ہو سکتا اور اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اس کی عقل فاسد، برے مقصد، اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور کتابوں کے ساتھ اس کے عناد کے مطابق ہے۔ اگر اس نے تھوڑا سا بھی غوروفکر کیا ہوتا تو اسے معلوم ہو جاتا کہ اس کا دوبارہ زندہ کیے جانے کو بعید سمجھنا بہت بڑی حماقت ہے۔
[67] بناء بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے زندگی بعد موت کے امکان پر ایسی قطعی برہان اور واضح دلیل بیان فرمائی ہے جسے ہر شخص جانتا ہے۔ ﴿ اَوَلَا يَذۡكُرُ الۡاِنۡسَانُ اَنَّا خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ وَلَمۡ يَكُ شَيۡـًٔؔا ﴾ کیا وہ اس طرف التفات نہیں کرتا اور اپنی پہلی حالت کو یاد نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو پہلی مرتبہ پیدا کیا جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔ پس جو ہستی اسے عدم سے وجود میں لانے کی قدرت رکھتی ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا، کیا وہ ہستی اسے اس کے ریزہ ریزہ ہو جانے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے کی اور اس کے بکھر جانے کے بعد اس کو دوبار اکٹھا کرنے کی قدرت نہیں رکھتی؟ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ ﴾(الروم:30؍27) ’’وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے اورپھر اس کا اعادہ کرتا ہے اور ایسا کرنا اس کے لیے آسان تر ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اَوَلَا يَذۡكُرُ الۡاِنۡسَانُ ﴾ میں لطیف ترین پیرائے میں عقلی دلیل کے ذریعے سے غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے اور جو کوئی اس کا انکار کرتا ہے اس کا انکار، پہلی حالت کے بارے میں اس کی غفلت پر مبنی ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ اس کو یاد کر کے اپنے ذہن میں حاضر کرنے کی کوشش کرے تو وہ ہرگز انکار نہیں کرے گا۔
19:67أَوَلَا يَذۡكُرُ ٱلۡإِنسَٰنُ أَنَّا خَلَقۡنَٰهُ مِن قَبۡلُ وَلَمۡ يَكُ شَيۡـٔٗا
اور کہتا ہے انسان، کیا جب میں مر جاؤں گا تو البتہ نکالا جاؤں گا (قبر سے) زندہ (کر کے)؟ (66) کیا نہیں یاد کرتا انسان کہ بے شک ہم ہی نے پیدا کیا ہے اسے پہلے اس سے اور نہ تھا وہ کچھ بھی (67)
[66] یہاں (الانسان) سے مراد ہر وہ شخص ہے جو زندگی بعد موت کا منکر ہے اور وہ مرنے کے بعد زندہ کیے جانے کو بعید سمجھتا ہے، چنانچہ وہ نفی، عناد اور کفر کی وجہ سے استفہامیہ اسلوب میں کہتا ہے:﴿ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوۡفَ اُخۡرَجُ حَيًّا ﴾ یعنی میرے مرنے کے بعد، جبکہ میں بوسیدہ ہو چکا ہوں گا، اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ کیسے زندہ کرے گا؟ ایسا نہیں ہو سکتا اور اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اس کی عقل فاسد، برے مقصد، اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور کتابوں کے ساتھ اس کے عناد کے مطابق ہے۔ اگر اس نے تھوڑا سا بھی غوروفکر کیا ہوتا تو اسے معلوم ہو جاتا کہ اس کا دوبارہ زندہ کیے جانے کو بعید سمجھنا بہت بڑی حماقت ہے۔
[67] بناء بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے زندگی بعد موت کے امکان پر ایسی قطعی برہان اور واضح دلیل بیان فرمائی ہے جسے ہر شخص جانتا ہے۔ ﴿ اَوَلَا يَذۡكُرُ الۡاِنۡسَانُ اَنَّا خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ وَلَمۡ يَكُ شَيۡـًٔؔا ﴾ کیا وہ اس طرف التفات نہیں کرتا اور اپنی پہلی حالت کو یاد نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو پہلی مرتبہ پیدا کیا جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔ پس جو ہستی اسے عدم سے وجود میں لانے کی قدرت رکھتی ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا، کیا وہ ہستی اسے اس کے ریزہ ریزہ ہو جانے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے کی اور اس کے بکھر جانے کے بعد اس کو دوبار اکٹھا کرنے کی قدرت نہیں رکھتی؟ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ ﴾(الروم:30؍27) ’’وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے اورپھر اس کا اعادہ کرتا ہے اور ایسا کرنا اس کے لیے آسان تر ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اَوَلَا يَذۡكُرُ الۡاِنۡسَانُ ﴾ میں لطیف ترین پیرائے میں عقلی دلیل کے ذریعے سے غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے اور جو کوئی اس کا انکار کرتا ہے اس کا انکار، پہلی حالت کے بارے میں اس کی غفلت پر مبنی ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ اس کو یاد کر کے اپنے ذہن میں حاضر کرنے کی کوشش کرے تو وہ ہرگز انکار نہیں کرے گا۔
19:68فَوَرَبِّكَ لَنَحۡشُرَنَّهُمۡ وَٱلشَّيَٰطِينَ ثُمَّ لَنُحۡضِرَنَّهُمۡ حَوۡلَ جَهَنَّمَ جِثِيّٗا
پس قسم ہے آپ کے رب کی، البتہ ہم ضرور اکٹھا کریں گے انھیں ہمراہ شیطانوں کے، پھر البتہ ہم ضرور حاضر کریں گے انھیں اردگرد جہنم کے، گھٹنوں کے بل (68) پھر البتہ ہم ضرور کھینچ لیں گے ہرگروہ میں سے جو نسا ان کا زیادہ سخت تھا، رحمٰن کے خلاف سرکشی میں (69) پھر یقینا ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو کہ وہ زیادہ لائق ہیں جہنم میں داخل ہونے کے (70)
[68] اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی قسم اٹھائی اور وہ سب سے سچی ہستی ہے کہ وہ زندگی بعد موت کا انکار کرنے والوں کو ضرور اکٹھا کرے گا، ان کو اور ان کے شیطانوں کو ایک مقررہ روز جمع کرے گا۔ ﴿ ثُمَّ لَنُحۡضِرَنَّهُمۡ حَوۡلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا ﴾ یعنی ہولناکیوں کی شدت، زلزلے کی کثرت اور احوال کی خوفناکی کی وجہ سے وہ اپنے گھٹنوں کے بل آئیں گے اور بلند و برتر اللہ کے حکم کے منتظر ہوں گے۔
[69] اس لیے ارشاد فرمایا: ﴿ثُمَّ لَنَنۡزِعَنَّ مِنۡ كُلِّ شِيۡعَةٍ اَيُّهُمۡ اَشَدُّ عَلَى الرَّحۡمٰنِ عِتِيًّا ﴾ یعنی ہم ہر گروہ اور ہر فرقے سے ظالموں کو نکال لیں گے جو ظلم، کفر اور سرکشی میں اشتراک رکھتے ہیں اور (عُتُوّ) وہ شخص ہے جو ان میں سے سب سے زیادہ سرکش، سب سے بڑا ظالم اور سب سے بڑا کافر ہے۔ پس اس کو عذاب کی طرف ان سب میں مقدم کیا جائے گا، پھر اسی طرح عذاب کی طرف اس کو مقدم کیا جائے گا جو گناہ میں اس سے کم تر ہو گا پھر اسے جو اس سے کم تر ہوگا علیٰ ہذا القیاس۔ اور وہ اس حال میں ایک دوسرے پر لعنت بھیج رہے ہوں گے۔ ان میں سے آخری گروہ اولین گروہ سے کہے گا:﴿ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوۡنَا فَاٰتِهِمۡ عَذَابًا ضِعۡفًا مِّنَ النَّارِ ﴾(الاعراف:7؍38) ’’اے ہمارے رب! یہی لوگ تھے جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا پس انھیں جہنم کا دوگنا عذاب دے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَقَالَتۡ اُوۡلٰىهُمۡ لِاُخۡرٰؔىهُمۡ فَمَا كَانَ لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍ ﴾(الاعراف:7؍39) ’’پہلا گروہ آخری گروہ سے کہے گا تمھیں ہم پر کچھ بھی فضیلت حاصل نہیں ۔‘‘
[70] اور یہ سب کچھ اس کے عدل و حکمت اور اس کے لامحدود علم کے تابع ہے۔ بناء بریں فرمایا: ﴿ ثُمَّ لَنَحۡنُ اَعۡلَمُ بِالَّذِيۡنَ هُمۡ اَوۡلٰى بِهَا صِلِيًّا ﴾ یعنی ہمارا علم ہر اس شخص کا احاطہ کیے ہوئے ہے جو آگ میں جھونکے جانے کا زیادہ مستحق ہے، ہمیں ان کے بارے میں علم ہے اور ہم ان کے اعمال، ان اعمال کے استحقاق اور ان کے عذاب کی مقدار بھی جانتے ہیں ۔
19:69ثُمَّ لَنَنزِعَنَّ مِن كُلِّ شِيعَةٍ أَيُّهُمۡ أَشَدُّ عَلَى ٱلرَّحۡمَٰنِ عِتِيّٗا
پس قسم ہے آپ کے رب کی، البتہ ہم ضرور اکٹھا کریں گے انھیں ہمراہ شیطانوں کے، پھر البتہ ہم ضرور حاضر کریں گے انھیں اردگرد جہنم کے، گھٹنوں کے بل (68) پھر البتہ ہم ضرور کھینچ لیں گے ہرگروہ میں سے جو نسا ان کا زیادہ سخت تھا، رحمٰن کے خلاف سرکشی میں (69) پھر یقینا ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو کہ وہ زیادہ لائق ہیں جہنم میں داخل ہونے کے (70)
[68] اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی قسم اٹھائی اور وہ سب سے سچی ہستی ہے کہ وہ زندگی بعد موت کا انکار کرنے والوں کو ضرور اکٹھا کرے گا، ان کو اور ان کے شیطانوں کو ایک مقررہ روز جمع کرے گا۔ ﴿ ثُمَّ لَنُحۡضِرَنَّهُمۡ حَوۡلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا ﴾ یعنی ہولناکیوں کی شدت، زلزلے کی کثرت اور احوال کی خوفناکی کی وجہ سے وہ اپنے گھٹنوں کے بل آئیں گے اور بلند و برتر اللہ کے حکم کے منتظر ہوں گے۔
[69] اس لیے ارشاد فرمایا: ﴿ثُمَّ لَنَنۡزِعَنَّ مِنۡ كُلِّ شِيۡعَةٍ اَيُّهُمۡ اَشَدُّ عَلَى الرَّحۡمٰنِ عِتِيًّا ﴾ یعنی ہم ہر گروہ اور ہر فرقے سے ظالموں کو نکال لیں گے جو ظلم، کفر اور سرکشی میں اشتراک رکھتے ہیں اور (عُتُوّ) وہ شخص ہے جو ان میں سے سب سے زیادہ سرکش، سب سے بڑا ظالم اور سب سے بڑا کافر ہے۔ پس اس کو عذاب کی طرف ان سب میں مقدم کیا جائے گا، پھر اسی طرح عذاب کی طرف اس کو مقدم کیا جائے گا جو گناہ میں اس سے کم تر ہو گا پھر اسے جو اس سے کم تر ہوگا علیٰ ہذا القیاس۔ اور وہ اس حال میں ایک دوسرے پر لعنت بھیج رہے ہوں گے۔ ان میں سے آخری گروہ اولین گروہ سے کہے گا:﴿ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوۡنَا فَاٰتِهِمۡ عَذَابًا ضِعۡفًا مِّنَ النَّارِ ﴾(الاعراف:7؍38) ’’اے ہمارے رب! یہی لوگ تھے جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا پس انھیں جہنم کا دوگنا عذاب دے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَقَالَتۡ اُوۡلٰىهُمۡ لِاُخۡرٰؔىهُمۡ فَمَا كَانَ لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍ ﴾(الاعراف:7؍39) ’’پہلا گروہ آخری گروہ سے کہے گا تمھیں ہم پر کچھ بھی فضیلت حاصل نہیں ۔‘‘
[70] اور یہ سب کچھ اس کے عدل و حکمت اور اس کے لامحدود علم کے تابع ہے۔ بناء بریں فرمایا: ﴿ ثُمَّ لَنَحۡنُ اَعۡلَمُ بِالَّذِيۡنَ هُمۡ اَوۡلٰى بِهَا صِلِيًّا ﴾ یعنی ہمارا علم ہر اس شخص کا احاطہ کیے ہوئے ہے جو آگ میں جھونکے جانے کا زیادہ مستحق ہے، ہمیں ان کے بارے میں علم ہے اور ہم ان کے اعمال، ان اعمال کے استحقاق اور ان کے عذاب کی مقدار بھی جانتے ہیں ۔
19:70ثُمَّ لَنَحۡنُ أَعۡلَمُ بِٱلَّذِينَ هُمۡ أَوۡلَىٰ بِهَا صِلِيّٗا
پس قسم ہے آپ کے رب کی، البتہ ہم ضرور اکٹھا کریں گے انھیں ہمراہ شیطانوں کے، پھر البتہ ہم ضرور حاضر کریں گے انھیں اردگرد جہنم کے، گھٹنوں کے بل (68) پھر البتہ ہم ضرور کھینچ لیں گے ہرگروہ میں سے جو نسا ان کا زیادہ سخت تھا، رحمٰن کے خلاف سرکشی میں (69) پھر یقینا ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو کہ وہ زیادہ لائق ہیں جہنم میں داخل ہونے کے (70)
[68] اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کی قسم اٹھائی اور وہ سب سے سچی ہستی ہے کہ وہ زندگی بعد موت کا انکار کرنے والوں کو ضرور اکٹھا کرے گا، ان کو اور ان کے شیطانوں کو ایک مقررہ روز جمع کرے گا۔ ﴿ ثُمَّ لَنُحۡضِرَنَّهُمۡ حَوۡلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا ﴾ یعنی ہولناکیوں کی شدت، زلزلے کی کثرت اور احوال کی خوفناکی کی وجہ سے وہ اپنے گھٹنوں کے بل آئیں گے اور بلند و برتر اللہ کے حکم کے منتظر ہوں گے۔
[69] اس لیے ارشاد فرمایا: ﴿ثُمَّ لَنَنۡزِعَنَّ مِنۡ كُلِّ شِيۡعَةٍ اَيُّهُمۡ اَشَدُّ عَلَى الرَّحۡمٰنِ عِتِيًّا ﴾ یعنی ہم ہر گروہ اور ہر فرقے سے ظالموں کو نکال لیں گے جو ظلم، کفر اور سرکشی میں اشتراک رکھتے ہیں اور (عُتُوّ) وہ شخص ہے جو ان میں سے سب سے زیادہ سرکش، سب سے بڑا ظالم اور سب سے بڑا کافر ہے۔ پس اس کو عذاب کی طرف ان سب میں مقدم کیا جائے گا، پھر اسی طرح عذاب کی طرف اس کو مقدم کیا جائے گا جو گناہ میں اس سے کم تر ہو گا پھر اسے جو اس سے کم تر ہوگا علیٰ ہذا القیاس۔ اور وہ اس حال میں ایک دوسرے پر لعنت بھیج رہے ہوں گے۔ ان میں سے آخری گروہ اولین گروہ سے کہے گا:﴿ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوۡنَا فَاٰتِهِمۡ عَذَابًا ضِعۡفًا مِّنَ النَّارِ ﴾(الاعراف:7؍38) ’’اے ہمارے رب! یہی لوگ تھے جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا پس انھیں جہنم کا دوگنا عذاب دے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَقَالَتۡ اُوۡلٰىهُمۡ لِاُخۡرٰؔىهُمۡ فَمَا كَانَ لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍ ﴾(الاعراف:7؍39) ’’پہلا گروہ آخری گروہ سے کہے گا تمھیں ہم پر کچھ بھی فضیلت حاصل نہیں ۔‘‘
[70] اور یہ سب کچھ اس کے عدل و حکمت اور اس کے لامحدود علم کے تابع ہے۔ بناء بریں فرمایا: ﴿ ثُمَّ لَنَحۡنُ اَعۡلَمُ بِالَّذِيۡنَ هُمۡ اَوۡلٰى بِهَا صِلِيًّا ﴾ یعنی ہمارا علم ہر اس شخص کا احاطہ کیے ہوئے ہے جو آگ میں جھونکے جانے کا زیادہ مستحق ہے، ہمیں ان کے بارے میں علم ہے اور ہم ان کے اعمال، ان اعمال کے استحقاق اور ان کے عذاب کی مقدار بھی جانتے ہیں ۔
19:71وَإِن مِّنكُمۡ إِلَّا وَارِدُهَاۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتۡمٗا مَّقۡضِيّٗا
اور نہیں ہے تم میں سے (کوئی بھی) مگر وہ وارد ہو گا اس میں ، ہے یہ آپ کے رب کے ذمے حتمی فیصل شدہ بات (71) پھر ہم نجات دیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے تقویٰ اختیار کیااور ہم چھوڑ دیں گے ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (72)
[71] یہ خطاب نیک و بد، مومن اور کافر، تمام خلائق کے لیے ہے، خلائق میں کوئی ایسا نہیں ہو گا جو جہنم پر وارد نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حتمی فیصلہ ہے اور اس نے اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے اس کا نفاذ لابدی اور اس کا وقوع حتمی ہے، البتہ وارد ہونے کے معنی میں اختلاف ہے۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ تمام مخلوق جہنم میں حاضر ہو گی حتیٰ کہ تمام لوگ گھبرا اٹھیں گے پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کو نجات دے دے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ وارد ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہوں گے۔ مگر اہل ایمان پر جہنم کی آگ سلامتی والی اور ٹھنڈی ہو جائے گی۔ بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ ’’وارد ہونے‘‘ سے مراد پل صراط پر سے گزرنا ہے جو جہنم کے اوپر بنا ہوا ہو گا۔ لوگ اپنے اعمال کی مقدار کے مطابق پل پر سے گزریں گے، بعض لوگ پلک جھپکتے گزر جائیں گے، بعض ہوا کی سی تیزی سے گزریں گے، بعض عمدہ گھوڑوں ، عمدہ سواریوں کی طرح اور بعض چلتے ہوئے، بعض گھسٹتے ہوئے گزریں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جن کو اچک کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ہر ایک کے ساتھ اس کے تقویٰ کے مطابق معاملہ ہو گا۔
[72] اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا ﴾ یعنی پھر ہم ان لوگوں کو نجات دے دیں گے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر مامورات کی تعمیل کرتے اور محظورات سے اجتناب کرتے رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَذَرُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور چھوڑ دیں گے ہم ظالموں کو۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا ﴿ فِيۡهَا جِثِيًّا ﴾ ’’اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے۔‘‘ یہ سب عذاب ان کے ظلم اور کفر کے سبب سے ہو گا، جہنم میں ہمیشہ رہنا ان کا مقدربن جائے گا، وہ عذاب کے مستحق ہوں گے اور نجات کے تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
19:72ثُمَّ نُنَجِّي ٱلَّذِينَ ٱتَّقَواْ وَّنَذَرُ ٱلظَّـٰلِمِينَ فِيهَا جِثِيّٗا
اور نہیں ہے تم میں سے (کوئی بھی) مگر وہ وارد ہو گا اس میں ، ہے یہ آپ کے رب کے ذمے حتمی فیصل شدہ بات (71) پھر ہم نجات دیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے تقویٰ اختیار کیااور ہم چھوڑ دیں گے ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (72)
[71] یہ خطاب نیک و بد، مومن اور کافر، تمام خلائق کے لیے ہے، خلائق میں کوئی ایسا نہیں ہو گا جو جہنم پر وارد نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حتمی فیصلہ ہے اور اس نے اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے اس کا نفاذ لابدی اور اس کا وقوع حتمی ہے، البتہ وارد ہونے کے معنی میں اختلاف ہے۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ تمام مخلوق جہنم میں حاضر ہو گی حتیٰ کہ تمام لوگ گھبرا اٹھیں گے پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کو نجات دے دے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ وارد ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہوں گے۔ مگر اہل ایمان پر جہنم کی آگ سلامتی والی اور ٹھنڈی ہو جائے گی۔ بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ ’’وارد ہونے‘‘ سے مراد پل صراط پر سے گزرنا ہے جو جہنم کے اوپر بنا ہوا ہو گا۔ لوگ اپنے اعمال کی مقدار کے مطابق پل پر سے گزریں گے، بعض لوگ پلک جھپکتے گزر جائیں گے، بعض ہوا کی سی تیزی سے گزریں گے، بعض عمدہ گھوڑوں ، عمدہ سواریوں کی طرح اور بعض چلتے ہوئے، بعض گھسٹتے ہوئے گزریں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جن کو اچک کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ہر ایک کے ساتھ اس کے تقویٰ کے مطابق معاملہ ہو گا۔
[72] اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا ﴾ یعنی پھر ہم ان لوگوں کو نجات دے دیں گے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر مامورات کی تعمیل کرتے اور محظورات سے اجتناب کرتے رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَذَرُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور چھوڑ دیں گے ہم ظالموں کو۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا ﴿ فِيۡهَا جِثِيًّا ﴾ ’’اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے۔‘‘ یہ سب عذاب ان کے ظلم اور کفر کے سبب سے ہو گا، جہنم میں ہمیشہ رہنا ان کا مقدربن جائے گا، وہ عذاب کے مستحق ہوں گے اور نجات کے تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
19:73وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَيُّ ٱلۡفَرِيقَيۡنِ خَيۡرٞ مَّقَامٗا وَأَحۡسَنُ نَدِيّٗا
اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں واضح تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان لوگوں سے جو ایمان لائے، کون سا دونوں فریقوں میں سے بہتر ہے باعتبار مقام کےاور زیادہ اچھا ہے باعتبار مجلس کے؟ (73) اور بہت سی ہلاک کیں ہم نے ان سے پہلے قومیں کہ وہ بڑھ کر تھیں (ان سے) باعتبار سازوسامان اور ظاہری ٹیپ ٹاپ کے (74)
[73] جب ان کفار کے سامنے ہماری آیات بینات کی تلاوت کی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے رسولوں کی صداقت پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں اور جو کوئی ان کو سنتا ہے اس کے لیے صدق ایمان اور شدت ایقان کا موجب بنتی ہیں … تو یہ ان آیات کا متضاد امور اور استہزا کے ساتھ سامنا کرتے ہیں اور ان پر ایمان لانے والوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور دنیا میں اپنی خوش حالی سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اہل ایمان سے بہتر ہیں ۔پس وہ حق سے معارضہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : ﴿ اَيُّ الۡفَرِيۡقَيۡنِ ﴾ ’’دونوں فریقوں میں سے کون۔‘‘ یعنی مومنین اور کفار میں سے ﴿خَيۡرٌ مَّؔقَامًا﴾ ’’زیادہ بہتر ہے مقام کے لحاظ سے‘‘ یعنی دنیا میں کثرت مال و اولاد اور تفوق شہوات کے اعتبار سے کون اچھے مقام پر ہے ﴿ وَّاَحۡسَنُ نَدِيًّا ﴾ ’’اور کس کی مجلس اچھی ہے؟‘‘ یعنی انھوں نے دنیا میں اپنے مال اور اولاد کی کثرت اکثر آسائشوں کے حصول اور مجلس آرائیوں سے یہ نتیجہ نکالا کہ ان کے احوال اچھے ہیں اور اہل ایمان کا حال اس کے برعکس ہے، اس لیے وہ اہل ایمان سے بہتر ہیں۔
[74] یہ انتہائی فاسد دلیل ہے یہ چیز تقلیب حقائق میں شمار ہوتی ہے۔ ورنہ کثرت مال و اولاد اور خوبصورت منظر میں بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو ان لوگوں کی ہلاکت، شر اور شقاوت کی باعث ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَمۡ اَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ هُمۡ اَحۡسَنُ اَثَاثًا ﴾ ’’اور ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتیں ہلاک کردیں وہ زیادہ اچھے تھے مال و متاع کے اعتبار سے۔‘‘ یعنی برتن، بچھونے، گھر اور سامان آرائش وغیرہ کے اعتبار سے اچھے تھے۔ ﴿ وَّرِءۡيًا ﴾ ’’اور نام و نمود میں ۔‘‘ یعنی آسودہ زندگی، لذتوں کے سرور اور خوبصورت چہروں کے پرکشش مناظر کے اعتبار سے۔پس جب وہ ہلاک شدگان جو بہترین اثاثے اور خوبصورت مناظر رکھتے تھے، ان چیزوں کے ذریعے عذاب سے نہ بچ سکے تو یہ لوگ کیسے بچ سکتے ہیں جو مال و متاع اور سہولتوں میں ان سے کمتر اور کمزور ہیں ۔ ارشاد فرمایا:﴿ اَ كُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾(القمر:54؍43) ’’کیا تمھارے کافر ان لوگوں سے بہتر ہیں یا پہلی کتابوں میں تمھارے لیے براء ت لکھ دی گئی ہے۔‘‘ اس سے واضح ہو گیا کہ دنیاوی بہتری سے اخروی بہتری پر استدلال کرنا سب سے فاسد دلیل ہے اور یہ کفار کا طریق استدلال ہے۔
19:74وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّن قَرۡنٍ هُمۡ أَحۡسَنُ أَثَٰثٗا وَرِءۡيٗا
اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں واضح تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان لوگوں سے جو ایمان لائے، کون سا دونوں فریقوں میں سے بہتر ہے باعتبار مقام کےاور زیادہ اچھا ہے باعتبار مجلس کے؟ (73) اور بہت سی ہلاک کیں ہم نے ان سے پہلے قومیں کہ وہ بڑھ کر تھیں (ان سے) باعتبار سازوسامان اور ظاہری ٹیپ ٹاپ کے (74)
[73] جب ان کفار کے سامنے ہماری آیات بینات کی تلاوت کی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے رسولوں کی صداقت پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں اور جو کوئی ان کو سنتا ہے اس کے لیے صدق ایمان اور شدت ایقان کا موجب بنتی ہیں … تو یہ ان آیات کا متضاد امور اور استہزا کے ساتھ سامنا کرتے ہیں اور ان پر ایمان لانے والوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور دنیا میں اپنی خوش حالی سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اہل ایمان سے بہتر ہیں ۔پس وہ حق سے معارضہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : ﴿ اَيُّ الۡفَرِيۡقَيۡنِ ﴾ ’’دونوں فریقوں میں سے کون۔‘‘ یعنی مومنین اور کفار میں سے ﴿خَيۡرٌ مَّؔقَامًا﴾ ’’زیادہ بہتر ہے مقام کے لحاظ سے‘‘ یعنی دنیا میں کثرت مال و اولاد اور تفوق شہوات کے اعتبار سے کون اچھے مقام پر ہے ﴿ وَّاَحۡسَنُ نَدِيًّا ﴾ ’’اور کس کی مجلس اچھی ہے؟‘‘ یعنی انھوں نے دنیا میں اپنے مال اور اولاد کی کثرت اکثر آسائشوں کے حصول اور مجلس آرائیوں سے یہ نتیجہ نکالا کہ ان کے احوال اچھے ہیں اور اہل ایمان کا حال اس کے برعکس ہے، اس لیے وہ اہل ایمان سے بہتر ہیں۔
[74] یہ انتہائی فاسد دلیل ہے یہ چیز تقلیب حقائق میں شمار ہوتی ہے۔ ورنہ کثرت مال و اولاد اور خوبصورت منظر میں بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو ان لوگوں کی ہلاکت، شر اور شقاوت کی باعث ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَمۡ اَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ هُمۡ اَحۡسَنُ اَثَاثًا ﴾ ’’اور ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتیں ہلاک کردیں وہ زیادہ اچھے تھے مال و متاع کے اعتبار سے۔‘‘ یعنی برتن، بچھونے، گھر اور سامان آرائش وغیرہ کے اعتبار سے اچھے تھے۔ ﴿ وَّرِءۡيًا ﴾ ’’اور نام و نمود میں ۔‘‘ یعنی آسودہ زندگی، لذتوں کے سرور اور خوبصورت چہروں کے پرکشش مناظر کے اعتبار سے۔پس جب وہ ہلاک شدگان جو بہترین اثاثے اور خوبصورت مناظر رکھتے تھے، ان چیزوں کے ذریعے عذاب سے نہ بچ سکے تو یہ لوگ کیسے بچ سکتے ہیں جو مال و متاع اور سہولتوں میں ان سے کمتر اور کمزور ہیں ۔ ارشاد فرمایا:﴿ اَ كُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾(القمر:54؍43) ’’کیا تمھارے کافر ان لوگوں سے بہتر ہیں یا پہلی کتابوں میں تمھارے لیے براء ت لکھ دی گئی ہے۔‘‘ اس سے واضح ہو گیا کہ دنیاوی بہتری سے اخروی بہتری پر استدلال کرنا سب سے فاسد دلیل ہے اور یہ کفار کا طریق استدلال ہے۔
19:75قُلۡ مَن كَانَ فِي ٱلضَّلَٰلَةِ فَلۡيَمۡدُدۡ لَهُ ٱلرَّحۡمَٰنُ مَدًّاۚ حَتَّىٰٓ إِذَا رَأَوۡاْ مَا يُوعَدُونَ إِمَّا ٱلۡعَذَابَ وَإِمَّا ٱلسَّاعَةَ فَسَيَعۡلَمُونَ مَنۡ هُوَ شَرّٞ مَّكَانٗا وَأَضۡعَفُ جُندٗا
کہہ دیجیے! جو شخص ہے گمراہی میں تو ڈھیل دیتا ہے اسے رحمٰن (لمبی) ڈھیل دینا یہاں تک کہ جب وہ دیکھ لیں گے اس چیز کو جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں وہ یا عذاب اور یا قیامت تو ضرور جان لیں گے وہ کہ کون ہے کہ وہ بدتر ہے باعتبار مکان کے اورکمزور تر ہے باعتبار لشکر کے (75)
[75] جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی باطل دلیل کا ذکر کیا جو ان کے عناد کی شدت اور گمراہی کی قوت پر دلالت کرتی ہے، وہاں اس نے یہ بھی آگاہ فرما دیا کہ جو کوئی گمراہی میں مستغرق اور اس پر راضی ہے اور گمراہی کے لیے کوشاں رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی گمراہی کو اور زیادہ کر دیتا ہے اور گمراہی کے لیے اس کی چاہت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ یہ اس کے لیے اس جرم کی سزا ہے کہ اس نے ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی کو اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام:6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر دیں گے تو جیسے یہ پہلی مرتبہ ایمان نہ لائے تھے (ویسے پھر ایمان نہ لائیں گے)اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیں گے۔‘‘﴿حَتّٰۤى اِذَا رَاَوۡا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب وہ لوگ دیکھیں گے‘‘ جو کہتے تھے: ’’دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بہتر ہے مقام کے لحاظ سے اور کس کی مجلس اچھی ہے؟‘‘ ﴿ مَا يُوۡعَدُوۡنَ اِمَّا الۡعَذَابَ ﴾ ’’جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا یا تو عذاب‘‘ یعنی قتل وغیرہ کے ذریعے ان کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ ﴿وَاِمَّا السَّاعَةَ﴾ ’’اور یا قیامت‘‘ جو اعمال کی جزا کا دروازہ ہے۔ ﴿ فَسَيَعۡلَمُوۡنَ۠ مَنۡ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضۡعَفُ جُنۡدً ﴾ ’’پس عنقریب وہ جان لیں گے کہ کون بدتر ہے مقام کے لحاظ سے اور زیادہ کمزور ہے جتھے کے اعتبار سے۔‘‘ یعنی اس وقت ان کے دعوے کا بطلان ظاہر ہو گا تب یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ ان کا دعویٰ کس قدر کمزور تھا اور انھیں یقین ہو جائے گا کہ واقعی وہ بدکار لوگ تھے۔ مگر یہ علم انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا کیونکہ اب ان کا دنیا میں واپس جانا ممکن نہیں کہ وہاں وہ پہلے اعمال کے برعکس اعمال بجا لائیں ۔
19:76وَيَزِيدُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ٱهۡتَدَوۡاْ هُدٗىۗ وَٱلۡبَٰقِيَٰتُ ٱلصَّـٰلِحَٰتُ خَيۡرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابٗا وَخَيۡرٞ مَّرَدًّا
اور زیادہ کرتا ہے اللہ، ان لوگوں کو جنھوں نے ہدایت پائی ، ہدایت میں اور باقی رہنے والی نیکیاں بہت بہتر ہیں نزدیک آپ کے رب کے باعتبار ثواب کے اور بہت بہتر ہیں باعتبار انجام کے (76)
[76] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد، کہ وہ ظالموں کی گمراہی کو اور زیادہ کر دیتا ہے یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں ، اپنے فضل و کرم اور رحمت سے مزید اضافہ کر دیتا ہے… اور ہدایت، علم نافع اور عمل صالح دونوں کو شامل ہے۔ پس ہر وہ شخص جو علم و ایمان اور عمل صالح کے راستے پرگامزن ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اور زیادہ علم و ایمان عطا کرتا ہے اور اس راستے میں اس کے لیے آسانی کر دیتا ہے اور اسے بعض ایسے امور عطا کرتا ہے جو اس کے اپنے کسب کے تحت نہیں آتے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے جیسا کہ سلف صالح کا قول ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے۔ ﴿ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا ﴾(المدثر:74؍31) ’’تاکہ جو لوگ ایمان لائے ان کے ایمان میں اضافہ ہو۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ﴿ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا ﴾(الانفال:8؍2) ’’جب ان کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔‘‘ نیز واقعات بھی اس پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ ایمان دل اور زبان کے قول اور دل، زبان اور اعضاء کے عمل کا نام ہے اور ان امور میں تمام اہل ایمان ایک دوسرے سے بہت زیادہ متفاوت ہیں ۔ پھر فرمایا:﴿ وَالۡبٰؔقِيٰؔتُ الصّٰؔلِحٰؔتُ ﴾ یعنی باقی رہنے والے وہ اعمال جو کبھی منقطع نہیں ہوتے جبکہ دیگر اعمال منقطع ہو جاتے ہیں اور جو مضمحل نہیں ہوتے، یہ نیک اعمال ہیں ، مثلاً: نماز، زکٰوۃ، روزہ، حج، عمرہ، قراء ت قرآن، تسبیح و تکبیر، تحمید و تہلیل مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور دیگر تمام اعمال قلب اور اعمال بدن وغیرہ۔ پس یہ تمام اعمال ﴿ خَيۡرٌ عِنۡدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ مَّرَدًّا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں ان اعمال کا بہتر اجروثواب ہے، اہل اعمال کے لیے ان اعمال کا فائدہ اور اجر بہت زیادہ ہے۔ یہ اسم تفضیل کو کسی اور جگہ استعمال کرنے کے باب میں ہے کیونکہ وہاں باقیات صالحات کے سوا کوئی عمل صاحب عمل کو کوئی فائدہ دے گا نہ اس کا ثواب صاحب عمل کے لیے باقی رہے گا۔ یہاں باقیات صالحات کو ذکر کرنے کی مناسبت یہ ہے (واللّٰہ اعلم) چونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ ظالم کفار اپنے مال و اولاد اور حسن مقام وغیرہ کے دنیاوی احوال کو اپنے حسن حال کی علامت قرار دیتے ہیں ، اس لیے یہاں آگاہ فرمایا کہ معاملہ اس طرح نہیں جس طرح وہ سمجھتے ہیں بلکہ عمل، جو سعادت کا عنوان اور فلاح کا منشور ہے، ان امور کی تعمیل ہے جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور ان پر راضی ہے۔
19:77أَفَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي كَفَرَ بِـَٔايَٰتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالٗا وَوَلَدًا
کیا پس آپ نے دیکھا اس شخص کو جس نے کفر کیا ساتھ ہماری آیتوں کےاور اس نے کہا، ضرور دیا جاؤں گا میں مال اور اولاد (77) کیا مطلع ہوا ہے وہ غیب پر یا لیا ہے اس نے رحمٰن کے ہاں سے کوئی عہد؟ (78) ہرگز نہیں ، ضرور لکھیں گے ہم جو کچھ وہ کہتا ہےاور بڑھا دیں گے ہم اس کے لیے عذاب (بہت) بڑھانا (79) اور ہم وارث ہوں گے ان چیزوں کے جو وہ کہتا ہےاور وہ آئے گا ہمارے پاس (روز قیامت) اکیلا ہی (80)
[77] کیا اس کافر کی حالت پر تعجب نہیں ہوتا جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار کو اپنے بہت بڑے دعوے کے ساتھ یکجا کر دیا ہے کہ اس کو آخرت میں بھی مال و اولاد سے نوازا جائے گا، یعنی وہ اہل جنت میں سے ہو گا۔ اس کا یہ دعویٰ سب سے زیادہ تعجب انگیز امور میں سے ہے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا ہوتا اور پھر یہ دعوی کرتا تو معاملہ آسان تھا۔ یہ آیت کریمہ اگرچہ کسی معین کافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے تاہم یہ ہر کافر کو شامل ہے جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ اہل جنت میں سے ہے۔
[78] اللہ تعالیٰ ان کی توبیخ و تکذیب کے طور پر فرماتا ہے: ﴿ اَطَّلَعَ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’کیا وہ غیب پر مطلع ہو گیا ہے؟‘‘ یعنی کیا اس کے علم نے غیب کا احاطہ کر رکھا ہے حتیٰ کہ اسے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ کیا کچھ ہو گا جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ قیامت کے روز اسے مال و اولاد سے نوازا جائے گا ﴿ اَمِ اتَّؔخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَهۡدًا﴾’’یا اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے‘‘ کہ وہ ان چیزوں کو حاصل کرے گا جن کا اس نے دعویٰ کیا ہے… یعنی کچھ بھی ایسے نہیں ہو گا۔ تب معلوم ہوا کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے اور ایسی بات کہتا ہے جس کے بارے میں اسے خود بھی علم نہیں ۔ اس تقسیم اور تردید کی غرض و غایت، الزامی جواب اور مخالف پر حجت قائم کرنا ہے۔ کیونکہ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے آخرت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں بھلائی حاصل ہو گی اسے مندرجہ ذیل امور میں سے ایک ضرور حاصل ہے۔(۱)یا تو اس کا یہ قول، امور مستقبل کے بارے میں علم غیب سے صادر ہوا مگر ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ وحدہ کو ہے۔ مستقبل میں پیش آنے والے امور غیب کو کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے رسولوں میں سے جسے اللہ تعالیٰ مطلع کر دے۔(۲) یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں ، اپنے ایمان باللہ اور اتباع رسل کے ذریعے سے عہد لے رکھا ہے، جن کے پیروکاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ آخرت میں نجات یافتہ اور کامیاب لوگ ہوں گے۔ جب ان دونوں امور کی نفی ہو گئی تو معلوم ہوا کہ دعویٰ باطل ہے۔
[79] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ كَلَّا١ؕ سَنَكۡتُبُ مَا يَقُوۡلُ ﴾ ’’ہرگز نہیں ، وہ جو کہتا ہے ہم لکھ رکھیں گے‘‘ یعنی اصل معاملہ یوں نہیں جس طرح وہ دعویٰ کرتا ہے کیونکہ اس کا قائل امور غیبیہ کی اطلاع نہیں رکھتا، اس لیے کہ وہ کافر ہے۔ اس کے پاس نبوت کا علم ہے نہ اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے کیونکہ وہ کافر ہے اور ایمان سے محروم ہے۔ بلکہ اس کے اس جھوٹ کے برعکس وہ جہنم کا مستحق ہے۔ اس کا یہ قول لکھ لیا گیا ہے اور اللہ کے ہاں محفوظ ہے، اسے اس کی سزا ملے گی اور اس کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَنَمُدُّ لَهٗ مِنَ الۡعَذَابِ مَدًّا﴾ ’’اور ہم اس کے لیے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔‘‘ یعنی جس طرح یہ اپنی گمراہی میں بڑھتا گیا اسی طرح ہم اس کو دیے جانے والے مختلف اقسام کے عذاب میں اضافہ کریں گے۔
[80]﴿وَّنَرِثُهٗ مَا يَقُوۡلُ﴾ ’’اور ہم وارث ہوں گے اس کے جس کی بابت وہ کہہ رہا ہے۔‘‘ یعنی ہم اس کے مال اور اولاد کے وارث ہوں گے، چنانچہ وہ مال، اہل و عیال اور اعوان و انصار کے بغیر اس دنیا سے آخرت کے گھر کی طرف منتقل ہو گا ﴿ وَيَاۡتِيۡنَا فَرۡدًا﴾ ’’اور آئے گا وہ ہمارے پاس اکیلا ہی۔‘‘ پس وہ بدترین عذاب کا سامنا کرے گا جو اس جیسے ظالم لوگوں کی سزا ہے۔
19:78أَطَّلَعَ ٱلۡغَيۡبَ أَمِ ٱتَّخَذَ عِندَ ٱلرَّحۡمَٰنِ عَهۡدٗا
کیا پس آپ نے دیکھا اس شخص کو جس نے کفر کیا ساتھ ہماری آیتوں کےاور اس نے کہا، ضرور دیا جاؤں گا میں مال اور اولاد (77) کیا مطلع ہوا ہے وہ غیب پر یا لیا ہے اس نے رحمٰن کے ہاں سے کوئی عہد؟ (78) ہرگز نہیں ، ضرور لکھیں گے ہم جو کچھ وہ کہتا ہےاور بڑھا دیں گے ہم اس کے لیے عذاب (بہت) بڑھانا (79) اور ہم وارث ہوں گے ان چیزوں کے جو وہ کہتا ہےاور وہ آئے گا ہمارے پاس (روز قیامت) اکیلا ہی (80)
[77] کیا اس کافر کی حالت پر تعجب نہیں ہوتا جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار کو اپنے بہت بڑے دعوے کے ساتھ یکجا کر دیا ہے کہ اس کو آخرت میں بھی مال و اولاد سے نوازا جائے گا، یعنی وہ اہل جنت میں سے ہو گا۔ اس کا یہ دعویٰ سب سے زیادہ تعجب انگیز امور میں سے ہے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا ہوتا اور پھر یہ دعوی کرتا تو معاملہ آسان تھا۔ یہ آیت کریمہ اگرچہ کسی معین کافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے تاہم یہ ہر کافر کو شامل ہے جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ اہل جنت میں سے ہے۔
[78] اللہ تعالیٰ ان کی توبیخ و تکذیب کے طور پر فرماتا ہے: ﴿ اَطَّلَعَ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’کیا وہ غیب پر مطلع ہو گیا ہے؟‘‘ یعنی کیا اس کے علم نے غیب کا احاطہ کر رکھا ہے حتیٰ کہ اسے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ کیا کچھ ہو گا جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ قیامت کے روز اسے مال و اولاد سے نوازا جائے گا ﴿ اَمِ اتَّؔخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَهۡدًا﴾’’یا اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے‘‘ کہ وہ ان چیزوں کو حاصل کرے گا جن کا اس نے دعویٰ کیا ہے… یعنی کچھ بھی ایسے نہیں ہو گا۔ تب معلوم ہوا کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے اور ایسی بات کہتا ہے جس کے بارے میں اسے خود بھی علم نہیں ۔ اس تقسیم اور تردید کی غرض و غایت، الزامی جواب اور مخالف پر حجت قائم کرنا ہے۔ کیونکہ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے آخرت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں بھلائی حاصل ہو گی اسے مندرجہ ذیل امور میں سے ایک ضرور حاصل ہے۔(۱)یا تو اس کا یہ قول، امور مستقبل کے بارے میں علم غیب سے صادر ہوا مگر ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ وحدہ کو ہے۔ مستقبل میں پیش آنے والے امور غیب کو کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے رسولوں میں سے جسے اللہ تعالیٰ مطلع کر دے۔(۲) یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں ، اپنے ایمان باللہ اور اتباع رسل کے ذریعے سے عہد لے رکھا ہے، جن کے پیروکاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ آخرت میں نجات یافتہ اور کامیاب لوگ ہوں گے۔ جب ان دونوں امور کی نفی ہو گئی تو معلوم ہوا کہ دعویٰ باطل ہے۔
[79] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ كَلَّا١ؕ سَنَكۡتُبُ مَا يَقُوۡلُ ﴾ ’’ہرگز نہیں ، وہ جو کہتا ہے ہم لکھ رکھیں گے‘‘ یعنی اصل معاملہ یوں نہیں جس طرح وہ دعویٰ کرتا ہے کیونکہ اس کا قائل امور غیبیہ کی اطلاع نہیں رکھتا، اس لیے کہ وہ کافر ہے۔ اس کے پاس نبوت کا علم ہے نہ اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے کیونکہ وہ کافر ہے اور ایمان سے محروم ہے۔ بلکہ اس کے اس جھوٹ کے برعکس وہ جہنم کا مستحق ہے۔ اس کا یہ قول لکھ لیا گیا ہے اور اللہ کے ہاں محفوظ ہے، اسے اس کی سزا ملے گی اور اس کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَنَمُدُّ لَهٗ مِنَ الۡعَذَابِ مَدًّا﴾ ’’اور ہم اس کے لیے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔‘‘ یعنی جس طرح یہ اپنی گمراہی میں بڑھتا گیا اسی طرح ہم اس کو دیے جانے والے مختلف اقسام کے عذاب میں اضافہ کریں گے۔
[80]﴿وَّنَرِثُهٗ مَا يَقُوۡلُ﴾ ’’اور ہم وارث ہوں گے اس کے جس کی بابت وہ کہہ رہا ہے۔‘‘ یعنی ہم اس کے مال اور اولاد کے وارث ہوں گے، چنانچہ وہ مال، اہل و عیال اور اعوان و انصار کے بغیر اس دنیا سے آخرت کے گھر کی طرف منتقل ہو گا ﴿ وَيَاۡتِيۡنَا فَرۡدًا﴾ ’’اور آئے گا وہ ہمارے پاس اکیلا ہی۔‘‘ پس وہ بدترین عذاب کا سامنا کرے گا جو اس جیسے ظالم لوگوں کی سزا ہے۔
19:79كَلَّاۚ سَنَكۡتُبُ مَا يَقُولُ وَنَمُدُّ لَهُۥ مِنَ ٱلۡعَذَابِ مَدّٗا
کیا پس آپ نے دیکھا اس شخص کو جس نے کفر کیا ساتھ ہماری آیتوں کےاور اس نے کہا، ضرور دیا جاؤں گا میں مال اور اولاد (77) کیا مطلع ہوا ہے وہ غیب پر یا لیا ہے اس نے رحمٰن کے ہاں سے کوئی عہد؟ (78) ہرگز نہیں ، ضرور لکھیں گے ہم جو کچھ وہ کہتا ہےاور بڑھا دیں گے ہم اس کے لیے عذاب (بہت) بڑھانا (79) اور ہم وارث ہوں گے ان چیزوں کے جو وہ کہتا ہےاور وہ آئے گا ہمارے پاس (روز قیامت) اکیلا ہی (80)
[77] کیا اس کافر کی حالت پر تعجب نہیں ہوتا جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار کو اپنے بہت بڑے دعوے کے ساتھ یکجا کر دیا ہے کہ اس کو آخرت میں بھی مال و اولاد سے نوازا جائے گا، یعنی وہ اہل جنت میں سے ہو گا۔ اس کا یہ دعویٰ سب سے زیادہ تعجب انگیز امور میں سے ہے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا ہوتا اور پھر یہ دعوی کرتا تو معاملہ آسان تھا۔ یہ آیت کریمہ اگرچہ کسی معین کافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے تاہم یہ ہر کافر کو شامل ہے جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ اہل جنت میں سے ہے۔
[78] اللہ تعالیٰ ان کی توبیخ و تکذیب کے طور پر فرماتا ہے: ﴿ اَطَّلَعَ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’کیا وہ غیب پر مطلع ہو گیا ہے؟‘‘ یعنی کیا اس کے علم نے غیب کا احاطہ کر رکھا ہے حتیٰ کہ اسے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ کیا کچھ ہو گا جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ قیامت کے روز اسے مال و اولاد سے نوازا جائے گا ﴿ اَمِ اتَّؔخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَهۡدًا﴾’’یا اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے‘‘ کہ وہ ان چیزوں کو حاصل کرے گا جن کا اس نے دعویٰ کیا ہے… یعنی کچھ بھی ایسے نہیں ہو گا۔ تب معلوم ہوا کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے اور ایسی بات کہتا ہے جس کے بارے میں اسے خود بھی علم نہیں ۔ اس تقسیم اور تردید کی غرض و غایت، الزامی جواب اور مخالف پر حجت قائم کرنا ہے۔ کیونکہ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے آخرت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں بھلائی حاصل ہو گی اسے مندرجہ ذیل امور میں سے ایک ضرور حاصل ہے۔(۱)یا تو اس کا یہ قول، امور مستقبل کے بارے میں علم غیب سے صادر ہوا مگر ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ وحدہ کو ہے۔ مستقبل میں پیش آنے والے امور غیب کو کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے رسولوں میں سے جسے اللہ تعالیٰ مطلع کر دے۔(۲) یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں ، اپنے ایمان باللہ اور اتباع رسل کے ذریعے سے عہد لے رکھا ہے، جن کے پیروکاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ آخرت میں نجات یافتہ اور کامیاب لوگ ہوں گے۔ جب ان دونوں امور کی نفی ہو گئی تو معلوم ہوا کہ دعویٰ باطل ہے۔
[79] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ كَلَّا١ؕ سَنَكۡتُبُ مَا يَقُوۡلُ ﴾ ’’ہرگز نہیں ، وہ جو کہتا ہے ہم لکھ رکھیں گے‘‘ یعنی اصل معاملہ یوں نہیں جس طرح وہ دعویٰ کرتا ہے کیونکہ اس کا قائل امور غیبیہ کی اطلاع نہیں رکھتا، اس لیے کہ وہ کافر ہے۔ اس کے پاس نبوت کا علم ہے نہ اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے کیونکہ وہ کافر ہے اور ایمان سے محروم ہے۔ بلکہ اس کے اس جھوٹ کے برعکس وہ جہنم کا مستحق ہے۔ اس کا یہ قول لکھ لیا گیا ہے اور اللہ کے ہاں محفوظ ہے، اسے اس کی سزا ملے گی اور اس کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَنَمُدُّ لَهٗ مِنَ الۡعَذَابِ مَدًّا﴾ ’’اور ہم اس کے لیے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔‘‘ یعنی جس طرح یہ اپنی گمراہی میں بڑھتا گیا اسی طرح ہم اس کو دیے جانے والے مختلف اقسام کے عذاب میں اضافہ کریں گے۔
[80]﴿وَّنَرِثُهٗ مَا يَقُوۡلُ﴾ ’’اور ہم وارث ہوں گے اس کے جس کی بابت وہ کہہ رہا ہے۔‘‘ یعنی ہم اس کے مال اور اولاد کے وارث ہوں گے، چنانچہ وہ مال، اہل و عیال اور اعوان و انصار کے بغیر اس دنیا سے آخرت کے گھر کی طرف منتقل ہو گا ﴿ وَيَاۡتِيۡنَا فَرۡدًا﴾ ’’اور آئے گا وہ ہمارے پاس اکیلا ہی۔‘‘ پس وہ بدترین عذاب کا سامنا کرے گا جو اس جیسے ظالم لوگوں کی سزا ہے۔
19:80وَنَرِثُهُۥ مَا يَقُولُ وَيَأۡتِينَا فَرۡدٗا
کیا پس آپ نے دیکھا اس شخص کو جس نے کفر کیا ساتھ ہماری آیتوں کےاور اس نے کہا، ضرور دیا جاؤں گا میں مال اور اولاد (77) کیا مطلع ہوا ہے وہ غیب پر یا لیا ہے اس نے رحمٰن کے ہاں سے کوئی عہد؟ (78) ہرگز نہیں ، ضرور لکھیں گے ہم جو کچھ وہ کہتا ہےاور بڑھا دیں گے ہم اس کے لیے عذاب (بہت) بڑھانا (79) اور ہم وارث ہوں گے ان چیزوں کے جو وہ کہتا ہےاور وہ آئے گا ہمارے پاس (روز قیامت) اکیلا ہی (80)
[77] کیا اس کافر کی حالت پر تعجب نہیں ہوتا جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار کو اپنے بہت بڑے دعوے کے ساتھ یکجا کر دیا ہے کہ اس کو آخرت میں بھی مال و اولاد سے نوازا جائے گا، یعنی وہ اہل جنت میں سے ہو گا۔ اس کا یہ دعویٰ سب سے زیادہ تعجب انگیز امور میں سے ہے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا ہوتا اور پھر یہ دعوی کرتا تو معاملہ آسان تھا۔ یہ آیت کریمہ اگرچہ کسی معین کافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے تاہم یہ ہر کافر کو شامل ہے جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ اہل جنت میں سے ہے۔
[78] اللہ تعالیٰ ان کی توبیخ و تکذیب کے طور پر فرماتا ہے: ﴿ اَطَّلَعَ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’کیا وہ غیب پر مطلع ہو گیا ہے؟‘‘ یعنی کیا اس کے علم نے غیب کا احاطہ کر رکھا ہے حتیٰ کہ اسے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ کیا کچھ ہو گا جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ قیامت کے روز اسے مال و اولاد سے نوازا جائے گا ﴿ اَمِ اتَّؔخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَهۡدًا﴾’’یا اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے‘‘ کہ وہ ان چیزوں کو حاصل کرے گا جن کا اس نے دعویٰ کیا ہے… یعنی کچھ بھی ایسے نہیں ہو گا۔ تب معلوم ہوا کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے اور ایسی بات کہتا ہے جس کے بارے میں اسے خود بھی علم نہیں ۔ اس تقسیم اور تردید کی غرض و غایت، الزامی جواب اور مخالف پر حجت قائم کرنا ہے۔ کیونکہ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے آخرت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں بھلائی حاصل ہو گی اسے مندرجہ ذیل امور میں سے ایک ضرور حاصل ہے۔(۱)یا تو اس کا یہ قول، امور مستقبل کے بارے میں علم غیب سے صادر ہوا مگر ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ وحدہ کو ہے۔ مستقبل میں پیش آنے والے امور غیب کو کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے رسولوں میں سے جسے اللہ تعالیٰ مطلع کر دے۔(۲) یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں ، اپنے ایمان باللہ اور اتباع رسل کے ذریعے سے عہد لے رکھا ہے، جن کے پیروکاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ آخرت میں نجات یافتہ اور کامیاب لوگ ہوں گے۔ جب ان دونوں امور کی نفی ہو گئی تو معلوم ہوا کہ دعویٰ باطل ہے۔
[79] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ كَلَّا١ؕ سَنَكۡتُبُ مَا يَقُوۡلُ ﴾ ’’ہرگز نہیں ، وہ جو کہتا ہے ہم لکھ رکھیں گے‘‘ یعنی اصل معاملہ یوں نہیں جس طرح وہ دعویٰ کرتا ہے کیونکہ اس کا قائل امور غیبیہ کی اطلاع نہیں رکھتا، اس لیے کہ وہ کافر ہے۔ اس کے پاس نبوت کا علم ہے نہ اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے کیونکہ وہ کافر ہے اور ایمان سے محروم ہے۔ بلکہ اس کے اس جھوٹ کے برعکس وہ جہنم کا مستحق ہے۔ اس کا یہ قول لکھ لیا گیا ہے اور اللہ کے ہاں محفوظ ہے، اسے اس کی سزا ملے گی اور اس کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَنَمُدُّ لَهٗ مِنَ الۡعَذَابِ مَدًّا﴾ ’’اور ہم اس کے لیے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔‘‘ یعنی جس طرح یہ اپنی گمراہی میں بڑھتا گیا اسی طرح ہم اس کو دیے جانے والے مختلف اقسام کے عذاب میں اضافہ کریں گے۔
[80]﴿وَّنَرِثُهٗ مَا يَقُوۡلُ﴾ ’’اور ہم وارث ہوں گے اس کے جس کی بابت وہ کہہ رہا ہے۔‘‘ یعنی ہم اس کے مال اور اولاد کے وارث ہوں گے، چنانچہ وہ مال، اہل و عیال اور اعوان و انصار کے بغیر اس دنیا سے آخرت کے گھر کی طرف منتقل ہو گا ﴿ وَيَاۡتِيۡنَا فَرۡدًا﴾ ’’اور آئے گا وہ ہمارے پاس اکیلا ہی۔‘‘ پس وہ بدترین عذاب کا سامنا کرے گا جو اس جیسے ظالم لوگوں کی سزا ہے۔
19:81وَٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ ءَالِهَةٗ لِّيَكُونُواْ لَهُمۡ عِزّٗا
اور بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اللہ کے اور معبود تاکہ ہوں وہ ان کے لیے مدد گار (81) ہرگز نہیں ، عنقریب وہ خود ہی انکار کریں گے ان کی عبادت کااور وہ ہوں گے ان کے مخالف (82) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بے شک ہم نے بھیجا شیطانوں کو اوپر کافروں کے کہ وہ ابھاریں انھیں (گناہوں پر) ابھارنا (83) پس نہ جلدی کریں آپ ان پر، ہم گن رہے ہیں ان کے لیے گننا (84)
[83] یہ کفار کی سزا ہے، اس لیے کہ جب انھوں نے اللہ کے حکموں کو نہیں مانا اور نہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا بلکہ اس کے برعکس انھوں نے شرک کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں یعنی شیاطین کے ساتھ موالات رکھی تو اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ان پر مسلط کر دیا اور شیاطین نے ان کو ورغلا کر گناہوں پر آمادہ کرنا شروع کر دیا۔ وہ انھیں کفر کی ترغیب دیتے ہیں ، انھیں وسوسوں میں مبتلا کرتے ہیں ، ان پر القا کرتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کو مزین کر کے اور حق کو بدنما بنا کر پیش کرتے ہیں ۔ پس باطل کی محبت ان کے دلوں میں داخل ہو کر جاگزیں ہو جاتی ہے، وہ باطل کی خاطر اسی طرح کوشش کرتا ہے جس طرح حق پرست حق کے لیے جدوجہد کرتا ہے ،وہ اپنی کوشش اورسعی سے باطل کی مدد کرتا ہے اور باطل کے راستے میں حق کے خلاف جدوجہد کرتا ہے اور یہ سب کچھ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے حقیقی دوست اور سرپرست سے منہ موڑ کر اپنے دشمن کو دوست بنا لیا اور اپنے آپ کو اس کے تسلط میں دے دیا۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آتا اور اس پر بھروسہ کرتا تو شیطان اس پر کبھی تسلط قائم نہ کر سکتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّهٗ لَيۡسَ لَهٗ سُلۡطٰنٌ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ۰۰اِنَّمَا سُلۡطٰنُهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَوَلَّوۡنَهٗ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِهٖ مُشۡرِكُوۡن ﴾(النحل:16؍99-100) ’’اسے ان لوگوں پر کوئی اختیار حاصل نہیں جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اس کا بس تو صرف انھی لوگوں پر چلتا ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں اور ان پر جو اس (کے گمراہ کرنے) کی وجہ سے شرک کرتے ہیں ۔‘‘
[84]﴿فَلَا تَعۡجَلۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی آپ ان کفار کے بارے میں عجلت نہ کیجیے جو عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمۡ عَدًّا﴾ ’’ہم تو خود ہی ان کے لیے (مدت) شمار کر رہے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے لیے دن مقرر کر دیے گئے ہیں جن میں کوئی تقدیم ہو گی نہ تاخیر۔ ہم انھیں کچھ مدت کے لیے مہلت دے کر برد باری سے کام لے رہے ہیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں ۔ جب اس مہلت کا کوئی فائدہ نہ ہوا تو ہم اسے ایک غالب اور مقتدر ہستی کی طرح اپنی گرفت میں لے لیں گے۔
19:82كَلَّاۚ سَيَكۡفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمۡ وَيَكُونُونَ عَلَيۡهِمۡ ضِدًّا
اور بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اللہ کے اور معبود تاکہ ہوں وہ ان کے لیے مدد گار (81) ہرگز نہیں ، عنقریب وہ خود ہی انکار کریں گے ان کی عبادت کااور وہ ہوں گے ان کے مخالف (82) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بے شک ہم نے بھیجا شیطانوں کو اوپر کافروں کے کہ وہ ابھاریں انھیں (گناہوں پر) ابھارنا (83) پس نہ جلدی کریں آپ ان پر، ہم گن رہے ہیں ان کے لیے گننا (84)
[83] یہ کفار کی سزا ہے، اس لیے کہ جب انھوں نے اللہ کے حکموں کو نہیں مانا اور نہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا بلکہ اس کے برعکس انھوں نے شرک کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں یعنی شیاطین کے ساتھ موالات رکھی تو اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ان پر مسلط کر دیا اور شیاطین نے ان کو ورغلا کر گناہوں پر آمادہ کرنا شروع کر دیا۔ وہ انھیں کفر کی ترغیب دیتے ہیں ، انھیں وسوسوں میں مبتلا کرتے ہیں ، ان پر القا کرتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کو مزین کر کے اور حق کو بدنما بنا کر پیش کرتے ہیں ۔ پس باطل کی محبت ان کے دلوں میں داخل ہو کر جاگزیں ہو جاتی ہے، وہ باطل کی خاطر اسی طرح کوشش کرتا ہے جس طرح حق پرست حق کے لیے جدوجہد کرتا ہے ،وہ اپنی کوشش اورسعی سے باطل کی مدد کرتا ہے اور باطل کے راستے میں حق کے خلاف جدوجہد کرتا ہے اور یہ سب کچھ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے حقیقی دوست اور سرپرست سے منہ موڑ کر اپنے دشمن کو دوست بنا لیا اور اپنے آپ کو اس کے تسلط میں دے دیا۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آتا اور اس پر بھروسہ کرتا تو شیطان اس پر کبھی تسلط قائم نہ کر سکتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّهٗ لَيۡسَ لَهٗ سُلۡطٰنٌ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ۰۰اِنَّمَا سُلۡطٰنُهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَوَلَّوۡنَهٗ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِهٖ مُشۡرِكُوۡن ﴾(النحل:16؍99-100) ’’اسے ان لوگوں پر کوئی اختیار حاصل نہیں جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اس کا بس تو صرف انھی لوگوں پر چلتا ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں اور ان پر جو اس (کے گمراہ کرنے) کی وجہ سے شرک کرتے ہیں ۔‘‘
[84]﴿فَلَا تَعۡجَلۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی آپ ان کفار کے بارے میں عجلت نہ کیجیے جو عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمۡ عَدًّا﴾ ’’ہم تو خود ہی ان کے لیے (مدت) شمار کر رہے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے لیے دن مقرر کر دیے گئے ہیں جن میں کوئی تقدیم ہو گی نہ تاخیر۔ ہم انھیں کچھ مدت کے لیے مہلت دے کر برد باری سے کام لے رہے ہیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں ۔ جب اس مہلت کا کوئی فائدہ نہ ہوا تو ہم اسے ایک غالب اور مقتدر ہستی کی طرح اپنی گرفت میں لے لیں گے۔
19:83أَلَمۡ تَرَ أَنَّآ أَرۡسَلۡنَا ٱلشَّيَٰطِينَ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ تَؤُزُّهُمۡ أَزّٗا
اور بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اللہ کے اور معبود تاکہ ہوں وہ ان کے لیے مدد گار (81) ہرگز نہیں ، عنقریب وہ خود ہی انکار کریں گے ان کی عبادت کااور وہ ہوں گے ان کے مخالف (82) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بے شک ہم نے بھیجا شیطانوں کو اوپر کافروں کے کہ وہ ابھاریں انھیں (گناہوں پر) ابھارنا (83) پس نہ جلدی کریں آپ ان پر، ہم گن رہے ہیں ان کے لیے گننا (84)
[83] یہ کفار کی سزا ہے، اس لیے کہ جب انھوں نے اللہ کے حکموں کو نہیں مانا اور نہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا بلکہ اس کے برعکس انھوں نے شرک کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں یعنی شیاطین کے ساتھ موالات رکھی تو اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ان پر مسلط کر دیا اور شیاطین نے ان کو ورغلا کر گناہوں پر آمادہ کرنا شروع کر دیا۔ وہ انھیں کفر کی ترغیب دیتے ہیں ، انھیں وسوسوں میں مبتلا کرتے ہیں ، ان پر القا کرتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کو مزین کر کے اور حق کو بدنما بنا کر پیش کرتے ہیں ۔ پس باطل کی محبت ان کے دلوں میں داخل ہو کر جاگزیں ہو جاتی ہے، وہ باطل کی خاطر اسی طرح کوشش کرتا ہے جس طرح حق پرست حق کے لیے جدوجہد کرتا ہے ،وہ اپنی کوشش اورسعی سے باطل کی مدد کرتا ہے اور باطل کے راستے میں حق کے خلاف جدوجہد کرتا ہے اور یہ سب کچھ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے حقیقی دوست اور سرپرست سے منہ موڑ کر اپنے دشمن کو دوست بنا لیا اور اپنے آپ کو اس کے تسلط میں دے دیا۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آتا اور اس پر بھروسہ کرتا تو شیطان اس پر کبھی تسلط قائم نہ کر سکتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّهٗ لَيۡسَ لَهٗ سُلۡطٰنٌ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ۰۰اِنَّمَا سُلۡطٰنُهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَوَلَّوۡنَهٗ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِهٖ مُشۡرِكُوۡن ﴾(النحل:16؍99-100) ’’اسے ان لوگوں پر کوئی اختیار حاصل نہیں جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اس کا بس تو صرف انھی لوگوں پر چلتا ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں اور ان پر جو اس (کے گمراہ کرنے) کی وجہ سے شرک کرتے ہیں ۔‘‘
[84]﴿فَلَا تَعۡجَلۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی آپ ان کفار کے بارے میں عجلت نہ کیجیے جو عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمۡ عَدًّا﴾ ’’ہم تو خود ہی ان کے لیے (مدت) شمار کر رہے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے لیے دن مقرر کر دیے گئے ہیں جن میں کوئی تقدیم ہو گی نہ تاخیر۔ ہم انھیں کچھ مدت کے لیے مہلت دے کر برد باری سے کام لے رہے ہیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں ۔ جب اس مہلت کا کوئی فائدہ نہ ہوا تو ہم اسے ایک غالب اور مقتدر ہستی کی طرح اپنی گرفت میں لے لیں گے۔
19:84فَلَا تَعۡجَلۡ عَلَيۡهِمۡۖ إِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمۡ عَدّٗا
اور بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اللہ کے اور معبود تاکہ ہوں وہ ان کے لیے مدد گار (81) ہرگز نہیں ، عنقریب وہ خود ہی انکار کریں گے ان کی عبادت کااور وہ ہوں گے ان کے مخالف (82) کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بے شک ہم نے بھیجا شیطانوں کو اوپر کافروں کے کہ وہ ابھاریں انھیں (گناہوں پر) ابھارنا (83) پس نہ جلدی کریں آپ ان پر، ہم گن رہے ہیں ان کے لیے گننا (84)
[83] یہ کفار کی سزا ہے، اس لیے کہ جب انھوں نے اللہ کے حکموں کو نہیں مانا اور نہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا بلکہ اس کے برعکس انھوں نے شرک کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں یعنی شیاطین کے ساتھ موالات رکھی تو اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو ان پر مسلط کر دیا اور شیاطین نے ان کو ورغلا کر گناہوں پر آمادہ کرنا شروع کر دیا۔ وہ انھیں کفر کی ترغیب دیتے ہیں ، انھیں وسوسوں میں مبتلا کرتے ہیں ، ان پر القا کرتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کو مزین کر کے اور حق کو بدنما بنا کر پیش کرتے ہیں ۔ پس باطل کی محبت ان کے دلوں میں داخل ہو کر جاگزیں ہو جاتی ہے، وہ باطل کی خاطر اسی طرح کوشش کرتا ہے جس طرح حق پرست حق کے لیے جدوجہد کرتا ہے ،وہ اپنی کوشش اورسعی سے باطل کی مدد کرتا ہے اور باطل کے راستے میں حق کے خلاف جدوجہد کرتا ہے اور یہ سب کچھ اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنے حقیقی دوست اور سرپرست سے منہ موڑ کر اپنے دشمن کو دوست بنا لیا اور اپنے آپ کو اس کے تسلط میں دے دیا۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آتا اور اس پر بھروسہ کرتا تو شیطان اس پر کبھی تسلط قائم نہ کر سکتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّهٗ لَيۡسَ لَهٗ سُلۡطٰنٌ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ۰۰اِنَّمَا سُلۡطٰنُهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَوَلَّوۡنَهٗ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِهٖ مُشۡرِكُوۡن ﴾(النحل:16؍99-100) ’’اسے ان لوگوں پر کوئی اختیار حاصل نہیں جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اس کا بس تو صرف انھی لوگوں پر چلتا ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں اور ان پر جو اس (کے گمراہ کرنے) کی وجہ سے شرک کرتے ہیں ۔‘‘
[84]﴿فَلَا تَعۡجَلۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی آپ ان کفار کے بارے میں عجلت نہ کیجیے جو عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمۡ عَدًّا﴾ ’’ہم تو خود ہی ان کے لیے (مدت) شمار کر رہے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے لیے دن مقرر کر دیے گئے ہیں جن میں کوئی تقدیم ہو گی نہ تاخیر۔ ہم انھیں کچھ مدت کے لیے مہلت دے کر برد باری سے کام لے رہے ہیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں ۔ جب اس مہلت کا کوئی فائدہ نہ ہوا تو ہم اسے ایک غالب اور مقتدر ہستی کی طرح اپنی گرفت میں لے لیں گے۔
19:85يَوۡمَ نَحۡشُرُ ٱلۡمُتَّقِينَ إِلَى ٱلرَّحۡمَٰنِ وَفۡدٗا
جس دن ہم اکٹھا کریں گے متقیوں کو رحمٰن کی طرف مہمان (بنا کر)(85) اور ہم ہانکیں گے مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے (86) نہیں اختیار رکھیں گے وہ سفارش کرنے کا مگر جس نے لیا رحمٰن (اللہ) کے ہاں سے عہد (87)
[85] اللہ تبارک و تعالیٰ دونوں گروہوں ، یعنی متقین و مجرمین کے درمیان تفاوت بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ متقین کو، ان کے شرک و بدعات اور دیگر گناہوں سے بچنے کے سبب سے، قیامت کے روز، اکرام و تعظیم کے ساتھ اکٹھا کرے گا اور وہ وفود کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ ان کی منزل اور ان کا مطلوب و مقصود رحمٰن و منان ہو گا اور یہ ضروری ہے کہ آنے والے کا دل امید سے لبریز ہو اور جس کے پاس آیا ہے اس پر حسن ظن ہو۔ پس اہل تقویٰ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بے پایاں احسان کی امید رکھتے ہوئے اور اس کی رضا کے گھر میں اس کی نوازشوں سے فوزیاب ہوتے ہوئے، اس کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور اس کا سبب ان کے وہ نیک اعمال ہوں گے جو انھوں نے آگے بھیجے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضاکی اتباع کی اور بے شک اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے انبیاء و رسل کی زبان پر ان کے لیے اس ثواب کا عہد کر رکھا ہے۔ پس وہ نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کی طرف رواں دواں ہوں گے۔
[86] رہے مجرم تو ان کو پیاسا ہی جہنم کی طرف ہانکا جائے گا اور یہ ان کی بدترین حالت ہو گی کہ ان کو انتہائی ذلت و رسوائی کے ساتھ سب سے بڑے قید خانے اور بدترین عذاب میں ، یعنی جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ وہ تھکے ماندے سخت پیاسے ہوں گے، وہ مدد کے لیے پکاریں گے مگر ان کی مدد نہ کی جائے گی، وہ دعائیں کریں گے مگر ان کی دعائیں قبول نہ ہوں گی اور وہ سفارش تلاش کریں گے مگر ان کی سفارش نہ کی جائے گی۔
[87] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَا يَمۡلِكُوۡنَ الشَّفَاعَةَ ﴾ یعنی وہ سفارش کے مالک ہوں گے نہ انھیں سفارش کا کوئی اختیار ہو گا۔ تمام تر سفارش کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہو گا۔ ﴿ قُلۡ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيۡعًا ﴾(الزمر:39؍44) ’’کہہ دیجیے سفارش سب اللہ کے لیے ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا ہے کہ سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لا کر اس سے کوئی عہد نہیں لیا… ورنہ وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے عہد لیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی تو وہ ان لوگوں میں شامل ہے جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے اور اس کو سفارش حاصل ہو گی، جیسا کہ فرمایا:﴿ وَلَا يَشۡفَعُوۡنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارۡتَضٰى ﴾(الانبیاء:21؍28) ’’وہ اس کے پاس کسی کی سفارش نہیں کر سکتے مگر اس شخص کی جس سے وہ (اللہ تعالیٰ) راضی ہو۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایمان باللہ اور اپنے رسولوں کی اتباع کو عہد قرار دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں میں اور اپنے انبیاء و رسل کی زبان پر عہد کیا ہے کہ وہ ان لوگوں کو جزائے جمیل عطا کرے گا جو انبیاء و رسل کی اتباع کریں گے۔
19:86وَنَسُوقُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ وِرۡدٗا
جس دن ہم اکٹھا کریں گے متقیوں کو رحمٰن کی طرف مہمان (بنا کر)(85) اور ہم ہانکیں گے مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے (86) نہیں اختیار رکھیں گے وہ سفارش کرنے کا مگر جس نے لیا رحمٰن (اللہ) کے ہاں سے عہد (87)
[85] اللہ تبارک و تعالیٰ دونوں گروہوں ، یعنی متقین و مجرمین کے درمیان تفاوت بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ متقین کو، ان کے شرک و بدعات اور دیگر گناہوں سے بچنے کے سبب سے، قیامت کے روز، اکرام و تعظیم کے ساتھ اکٹھا کرے گا اور وہ وفود کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ ان کی منزل اور ان کا مطلوب و مقصود رحمٰن و منان ہو گا اور یہ ضروری ہے کہ آنے والے کا دل امید سے لبریز ہو اور جس کے پاس آیا ہے اس پر حسن ظن ہو۔ پس اہل تقویٰ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بے پایاں احسان کی امید رکھتے ہوئے اور اس کی رضا کے گھر میں اس کی نوازشوں سے فوزیاب ہوتے ہوئے، اس کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور اس کا سبب ان کے وہ نیک اعمال ہوں گے جو انھوں نے آگے بھیجے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضاکی اتباع کی اور بے شک اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے انبیاء و رسل کی زبان پر ان کے لیے اس ثواب کا عہد کر رکھا ہے۔ پس وہ نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کی طرف رواں دواں ہوں گے۔
[86] رہے مجرم تو ان کو پیاسا ہی جہنم کی طرف ہانکا جائے گا اور یہ ان کی بدترین حالت ہو گی کہ ان کو انتہائی ذلت و رسوائی کے ساتھ سب سے بڑے قید خانے اور بدترین عذاب میں ، یعنی جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ وہ تھکے ماندے سخت پیاسے ہوں گے، وہ مدد کے لیے پکاریں گے مگر ان کی مدد نہ کی جائے گی، وہ دعائیں کریں گے مگر ان کی دعائیں قبول نہ ہوں گی اور وہ سفارش تلاش کریں گے مگر ان کی سفارش نہ کی جائے گی۔
[87] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَا يَمۡلِكُوۡنَ الشَّفَاعَةَ ﴾ یعنی وہ سفارش کے مالک ہوں گے نہ انھیں سفارش کا کوئی اختیار ہو گا۔ تمام تر سفارش کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہو گا۔ ﴿ قُلۡ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيۡعًا ﴾(الزمر:39؍44) ’’کہہ دیجیے سفارش سب اللہ کے لیے ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا ہے کہ سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لا کر اس سے کوئی عہد نہیں لیا… ورنہ وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے عہد لیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی تو وہ ان لوگوں میں شامل ہے جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے اور اس کو سفارش حاصل ہو گی، جیسا کہ فرمایا:﴿ وَلَا يَشۡفَعُوۡنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارۡتَضٰى ﴾(الانبیاء:21؍28) ’’وہ اس کے پاس کسی کی سفارش نہیں کر سکتے مگر اس شخص کی جس سے وہ (اللہ تعالیٰ) راضی ہو۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایمان باللہ اور اپنے رسولوں کی اتباع کو عہد قرار دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں میں اور اپنے انبیاء و رسل کی زبان پر عہد کیا ہے کہ وہ ان لوگوں کو جزائے جمیل عطا کرے گا جو انبیاء و رسل کی اتباع کریں گے۔
19:87لَّا يَمۡلِكُونَ ٱلشَّفَٰعَةَ إِلَّا مَنِ ٱتَّخَذَ عِندَ ٱلرَّحۡمَٰنِ عَهۡدٗا
جس دن ہم اکٹھا کریں گے متقیوں کو رحمٰن کی طرف مہمان (بنا کر)(85) اور ہم ہانکیں گے مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے (86) نہیں اختیار رکھیں گے وہ سفارش کرنے کا مگر جس نے لیا رحمٰن (اللہ) کے ہاں سے عہد (87)
[85] اللہ تبارک و تعالیٰ دونوں گروہوں ، یعنی متقین و مجرمین کے درمیان تفاوت بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ متقین کو، ان کے شرک و بدعات اور دیگر گناہوں سے بچنے کے سبب سے، قیامت کے روز، اکرام و تعظیم کے ساتھ اکٹھا کرے گا اور وہ وفود کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ ان کی منزل اور ان کا مطلوب و مقصود رحمٰن و منان ہو گا اور یہ ضروری ہے کہ آنے والے کا دل امید سے لبریز ہو اور جس کے پاس آیا ہے اس پر حسن ظن ہو۔ پس اہل تقویٰ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بے پایاں احسان کی امید رکھتے ہوئے اور اس کی رضا کے گھر میں اس کی نوازشوں سے فوزیاب ہوتے ہوئے، اس کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور اس کا سبب ان کے وہ نیک اعمال ہوں گے جو انھوں نے آگے بھیجے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضاکی اتباع کی اور بے شک اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے انبیاء و رسل کی زبان پر ان کے لیے اس ثواب کا عہد کر رکھا ہے۔ پس وہ نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کی طرف رواں دواں ہوں گے۔
[86] رہے مجرم تو ان کو پیاسا ہی جہنم کی طرف ہانکا جائے گا اور یہ ان کی بدترین حالت ہو گی کہ ان کو انتہائی ذلت و رسوائی کے ساتھ سب سے بڑے قید خانے اور بدترین عذاب میں ، یعنی جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ وہ تھکے ماندے سخت پیاسے ہوں گے، وہ مدد کے لیے پکاریں گے مگر ان کی مدد نہ کی جائے گی، وہ دعائیں کریں گے مگر ان کی دعائیں قبول نہ ہوں گی اور وہ سفارش تلاش کریں گے مگر ان کی سفارش نہ کی جائے گی۔
[87] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَا يَمۡلِكُوۡنَ الشَّفَاعَةَ ﴾ یعنی وہ سفارش کے مالک ہوں گے نہ انھیں سفارش کا کوئی اختیار ہو گا۔ تمام تر سفارش کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہو گا۔ ﴿ قُلۡ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيۡعًا ﴾(الزمر:39؍44) ’’کہہ دیجیے سفارش سب اللہ کے لیے ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا ہے کہ سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لا کر اس سے کوئی عہد نہیں لیا… ورنہ وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے عہد لیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی تو وہ ان لوگوں میں شامل ہے جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے اور اس کو سفارش حاصل ہو گی، جیسا کہ فرمایا:﴿ وَلَا يَشۡفَعُوۡنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارۡتَضٰى ﴾(الانبیاء:21؍28) ’’وہ اس کے پاس کسی کی سفارش نہیں کر سکتے مگر اس شخص کی جس سے وہ (اللہ تعالیٰ) راضی ہو۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایمان باللہ اور اپنے رسولوں کی اتباع کو عہد قرار دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں میں اور اپنے انبیاء و رسل کی زبان پر عہد کیا ہے کہ وہ ان لوگوں کو جزائے جمیل عطا کرے گا جو انبیاء و رسل کی اتباع کریں گے۔
19:88وَقَالُواْ ٱتَّخَذَ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَلَدٗا
اور کہا انھوں نے، بنائی ہے رحمٰن نے اولاد (88) البتہ تحقیق آئے ہو تم ایک بات بڑی بھاری کو (89) قریب ہیں آسمان کہ پھٹ پڑیں اس (بات) سے اورشق ہو جائے زمین اور گر پڑیں پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر (90)(اس بات سے) کہ دعوی کیا کہ انھوں نے رحمٰن کے لیے اولاد کا (91) اور نہیں لائق رحمٰن کے یہ کہ وہ بنائے اولاد (92) نہیں ہے کوئی بھی (مخلوق) آسمانوں اور زمین میں مگر آنے والی ہے وہ رحمٰن کے پاس غلام بن کر (93) البتہ تحقیق شمار کر رکھا ہے اس نے ان کواور گن رکھا ہے انھیں گننا (94) اور وہ سب آنے والے ہیں اللہ کے پاس دن قیامت کے تنہا تنہا(95)
[88] یہ ان لوگوں کے قول کی قباحت کا بیان ہے جو عناد اور انکار پر جمے ہوئے ہیں اور اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ رحمٰن نے اپنا بیٹا بنایا ہے۔ جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں ﴿ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’مسیح اللہ کا بیٹا ہے‘‘ یہودی کہتے ہیں ﴿ عُزَيۡرُ ِ۟ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’عزیر اللہ کا بیٹا ہے‘‘ اور مشرکین کہتے ہیں ’’فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند اور بڑا ہے۔
[91-89]﴿ لَقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی تم نے بدترین بات کہی ہے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ ﴿ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ ﴾ قریب تھا کہ آسمان اپنی عظمت اور صلابت کے باوصف ﴿يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ ﴾ اس قول سے پھٹ جاتے۔ ﴿وَتَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ ﴾ اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی۔ ﴿ وَتَخِرُّ الۡجِبَالُ هَدًّا ﴾ اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر برابر ہو جاتے۔ ﴿ اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا﴾ ’’اس بنا پر کہ انھوں نے رحمٰن کی اولاد ٹھہرائی۔‘‘ یعنی اس بدترین دعویٰ کی بنا پر ان تمام مخلوقات کی حالت یہ ہوتی جو ان آیات میں ذکر کی گئی ہے۔
[92] جبکہ حال یہ ہے ﴿مَا يَنۢۡبَغِيۡ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ رحمان کے یہ لائق نہیں ہے اور نہ یہ ہو ہی سکتا ہے ﴿ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ وَلَدًا﴾ ’’کہ وہ اولاد بنائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے لیے بیٹا بنانا اس میں نقص اور احتیاج پر دلالت کرتا ہے جبکہ وہ بے نیاز اور حمید ہے، نیز بیٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی شبیہ ہے نہ مثیل اور نہ اس کی نظیر ہے۔
[93]﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾ ’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، وہ سب رحمٰن کے غلام بن کر آنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی ذلیل اور مطیع ہو کر بغیر کسی نافرمانی کے رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے، فرشتے، جن و انس سب اللہ کے مملوک اور اس کے دست تصرف کے تحت ہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے… جب اس کی شان اور اس کے اقتدار کی عظمت یہ ہو، تب اس کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟
[94]﴿ لَقَدۡ اَحۡصٰىهُمۡ وَعَدَّهُمۡ عَدًّا﴾ اس کا علم زمین اور آسمانوں کی تمام خلائق کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے اعمال کو شمار کر رکھا ہے وہ گمراہ ہوتا ہے نہ بھولتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
[95]﴿ وَؔكُلُّهُمۡ اٰتِيۡهِ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَرۡدًا﴾ ’’ہر ایک اس کے پاس قیامت کے دن اکیلا ہی آئے گا۔‘‘ یعنی اولاد، مال و دولت اور اعوان و انصار اس کے ساتھ نہ ہوں گے۔ اس کے ساتھ اس کے عمل کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اس کے اعمال کا بدلہ دے گا اور اس سے پورا پورا حساب لے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے تو جزا بھی اچھی ہو گی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو ان کی جزا بھی بری ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام:6؍94) ’’تم اسی طرح ہمارے پاس تن تنہا آئے ہو جس طرح پہلی مرتبہ ہم نے تمھیں اکیلا پیدا کیا تھا۔‘‘
19:89لَّقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡـًٔا إِدّٗا
اور کہا انھوں نے، بنائی ہے رحمٰن نے اولاد (88) البتہ تحقیق آئے ہو تم ایک بات بڑی بھاری کو (89) قریب ہیں آسمان کہ پھٹ پڑیں اس (بات) سے اورشق ہو جائے زمین اور گر پڑیں پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر (90)(اس بات سے) کہ دعوی کیا کہ انھوں نے رحمٰن کے لیے اولاد کا (91) اور نہیں لائق رحمٰن کے یہ کہ وہ بنائے اولاد (92) نہیں ہے کوئی بھی (مخلوق) آسمانوں اور زمین میں مگر آنے والی ہے وہ رحمٰن کے پاس غلام بن کر (93) البتہ تحقیق شمار کر رکھا ہے اس نے ان کواور گن رکھا ہے انھیں گننا (94) اور وہ سب آنے والے ہیں اللہ کے پاس دن قیامت کے تنہا تنہا(95)
[88] یہ ان لوگوں کے قول کی قباحت کا بیان ہے جو عناد اور انکار پر جمے ہوئے ہیں اور اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ رحمٰن نے اپنا بیٹا بنایا ہے۔ جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں ﴿ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’مسیح اللہ کا بیٹا ہے‘‘ یہودی کہتے ہیں ﴿ عُزَيۡرُ ِ۟ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’عزیر اللہ کا بیٹا ہے‘‘ اور مشرکین کہتے ہیں ’’فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند اور بڑا ہے۔
[91-89]﴿ لَقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی تم نے بدترین بات کہی ہے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ ﴿ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ ﴾ قریب تھا کہ آسمان اپنی عظمت اور صلابت کے باوصف ﴿يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ ﴾ اس قول سے پھٹ جاتے۔ ﴿وَتَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ ﴾ اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی۔ ﴿ وَتَخِرُّ الۡجِبَالُ هَدًّا ﴾ اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر برابر ہو جاتے۔ ﴿ اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا﴾ ’’اس بنا پر کہ انھوں نے رحمٰن کی اولاد ٹھہرائی۔‘‘ یعنی اس بدترین دعویٰ کی بنا پر ان تمام مخلوقات کی حالت یہ ہوتی جو ان آیات میں ذکر کی گئی ہے۔
[92] جبکہ حال یہ ہے ﴿مَا يَنۢۡبَغِيۡ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ رحمان کے یہ لائق نہیں ہے اور نہ یہ ہو ہی سکتا ہے ﴿ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ وَلَدًا﴾ ’’کہ وہ اولاد بنائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے لیے بیٹا بنانا اس میں نقص اور احتیاج پر دلالت کرتا ہے جبکہ وہ بے نیاز اور حمید ہے، نیز بیٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی شبیہ ہے نہ مثیل اور نہ اس کی نظیر ہے۔
[93]﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾ ’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، وہ سب رحمٰن کے غلام بن کر آنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی ذلیل اور مطیع ہو کر بغیر کسی نافرمانی کے رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے، فرشتے، جن و انس سب اللہ کے مملوک اور اس کے دست تصرف کے تحت ہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے… جب اس کی شان اور اس کے اقتدار کی عظمت یہ ہو، تب اس کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟
[94]﴿ لَقَدۡ اَحۡصٰىهُمۡ وَعَدَّهُمۡ عَدًّا﴾ اس کا علم زمین اور آسمانوں کی تمام خلائق کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے اعمال کو شمار کر رکھا ہے وہ گمراہ ہوتا ہے نہ بھولتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
[95]﴿ وَؔكُلُّهُمۡ اٰتِيۡهِ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَرۡدًا﴾ ’’ہر ایک اس کے پاس قیامت کے دن اکیلا ہی آئے گا۔‘‘ یعنی اولاد، مال و دولت اور اعوان و انصار اس کے ساتھ نہ ہوں گے۔ اس کے ساتھ اس کے عمل کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اس کے اعمال کا بدلہ دے گا اور اس سے پورا پورا حساب لے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے تو جزا بھی اچھی ہو گی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو ان کی جزا بھی بری ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام:6؍94) ’’تم اسی طرح ہمارے پاس تن تنہا آئے ہو جس طرح پہلی مرتبہ ہم نے تمھیں اکیلا پیدا کیا تھا۔‘‘
19:90تَكَادُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ وَتَنشَقُّ ٱلۡأَرۡضُ وَتَخِرُّ ٱلۡجِبَالُ هَدًّا
اور کہا انھوں نے، بنائی ہے رحمٰن نے اولاد (88) البتہ تحقیق آئے ہو تم ایک بات بڑی بھاری کو (89) قریب ہیں آسمان کہ پھٹ پڑیں اس (بات) سے اورشق ہو جائے زمین اور گر پڑیں پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر (90)(اس بات سے) کہ دعوی کیا کہ انھوں نے رحمٰن کے لیے اولاد کا (91) اور نہیں لائق رحمٰن کے یہ کہ وہ بنائے اولاد (92) نہیں ہے کوئی بھی (مخلوق) آسمانوں اور زمین میں مگر آنے والی ہے وہ رحمٰن کے پاس غلام بن کر (93) البتہ تحقیق شمار کر رکھا ہے اس نے ان کواور گن رکھا ہے انھیں گننا (94) اور وہ سب آنے والے ہیں اللہ کے پاس دن قیامت کے تنہا تنہا(95)
[88] یہ ان لوگوں کے قول کی قباحت کا بیان ہے جو عناد اور انکار پر جمے ہوئے ہیں اور اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ رحمٰن نے اپنا بیٹا بنایا ہے۔ جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں ﴿ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’مسیح اللہ کا بیٹا ہے‘‘ یہودی کہتے ہیں ﴿ عُزَيۡرُ ِ۟ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’عزیر اللہ کا بیٹا ہے‘‘ اور مشرکین کہتے ہیں ’’فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند اور بڑا ہے۔
[91-89]﴿ لَقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی تم نے بدترین بات کہی ہے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ ﴿ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ ﴾ قریب تھا کہ آسمان اپنی عظمت اور صلابت کے باوصف ﴿يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ ﴾ اس قول سے پھٹ جاتے۔ ﴿وَتَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ ﴾ اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی۔ ﴿ وَتَخِرُّ الۡجِبَالُ هَدًّا ﴾ اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر برابر ہو جاتے۔ ﴿ اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا﴾ ’’اس بنا پر کہ انھوں نے رحمٰن کی اولاد ٹھہرائی۔‘‘ یعنی اس بدترین دعویٰ کی بنا پر ان تمام مخلوقات کی حالت یہ ہوتی جو ان آیات میں ذکر کی گئی ہے۔
[92] جبکہ حال یہ ہے ﴿مَا يَنۢۡبَغِيۡ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ رحمان کے یہ لائق نہیں ہے اور نہ یہ ہو ہی سکتا ہے ﴿ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ وَلَدًا﴾ ’’کہ وہ اولاد بنائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے لیے بیٹا بنانا اس میں نقص اور احتیاج پر دلالت کرتا ہے جبکہ وہ بے نیاز اور حمید ہے، نیز بیٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی شبیہ ہے نہ مثیل اور نہ اس کی نظیر ہے۔
[93]﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾ ’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، وہ سب رحمٰن کے غلام بن کر آنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی ذلیل اور مطیع ہو کر بغیر کسی نافرمانی کے رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے، فرشتے، جن و انس سب اللہ کے مملوک اور اس کے دست تصرف کے تحت ہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے… جب اس کی شان اور اس کے اقتدار کی عظمت یہ ہو، تب اس کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟
[94]﴿ لَقَدۡ اَحۡصٰىهُمۡ وَعَدَّهُمۡ عَدًّا﴾ اس کا علم زمین اور آسمانوں کی تمام خلائق کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے اعمال کو شمار کر رکھا ہے وہ گمراہ ہوتا ہے نہ بھولتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
[95]﴿ وَؔكُلُّهُمۡ اٰتِيۡهِ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَرۡدًا﴾ ’’ہر ایک اس کے پاس قیامت کے دن اکیلا ہی آئے گا۔‘‘ یعنی اولاد، مال و دولت اور اعوان و انصار اس کے ساتھ نہ ہوں گے۔ اس کے ساتھ اس کے عمل کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اس کے اعمال کا بدلہ دے گا اور اس سے پورا پورا حساب لے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے تو جزا بھی اچھی ہو گی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو ان کی جزا بھی بری ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام:6؍94) ’’تم اسی طرح ہمارے پاس تن تنہا آئے ہو جس طرح پہلی مرتبہ ہم نے تمھیں اکیلا پیدا کیا تھا۔‘‘
19:91أَن دَعَوۡاْ لِلرَّحۡمَٰنِ وَلَدٗا
اور کہا انھوں نے، بنائی ہے رحمٰن نے اولاد (88) البتہ تحقیق آئے ہو تم ایک بات بڑی بھاری کو (89) قریب ہیں آسمان کہ پھٹ پڑیں اس (بات) سے اورشق ہو جائے زمین اور گر پڑیں پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر (90)(اس بات سے) کہ دعوی کیا کہ انھوں نے رحمٰن کے لیے اولاد کا (91) اور نہیں لائق رحمٰن کے یہ کہ وہ بنائے اولاد (92) نہیں ہے کوئی بھی (مخلوق) آسمانوں اور زمین میں مگر آنے والی ہے وہ رحمٰن کے پاس غلام بن کر (93) البتہ تحقیق شمار کر رکھا ہے اس نے ان کواور گن رکھا ہے انھیں گننا (94) اور وہ سب آنے والے ہیں اللہ کے پاس دن قیامت کے تنہا تنہا(95)
[88] یہ ان لوگوں کے قول کی قباحت کا بیان ہے جو عناد اور انکار پر جمے ہوئے ہیں اور اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ رحمٰن نے اپنا بیٹا بنایا ہے۔ جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں ﴿ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’مسیح اللہ کا بیٹا ہے‘‘ یہودی کہتے ہیں ﴿ عُزَيۡرُ ِ۟ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’عزیر اللہ کا بیٹا ہے‘‘ اور مشرکین کہتے ہیں ’’فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند اور بڑا ہے۔
[91-89]﴿ لَقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی تم نے بدترین بات کہی ہے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ ﴿ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ ﴾ قریب تھا کہ آسمان اپنی عظمت اور صلابت کے باوصف ﴿يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ ﴾ اس قول سے پھٹ جاتے۔ ﴿وَتَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ ﴾ اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی۔ ﴿ وَتَخِرُّ الۡجِبَالُ هَدًّا ﴾ اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر برابر ہو جاتے۔ ﴿ اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا﴾ ’’اس بنا پر کہ انھوں نے رحمٰن کی اولاد ٹھہرائی۔‘‘ یعنی اس بدترین دعویٰ کی بنا پر ان تمام مخلوقات کی حالت یہ ہوتی جو ان آیات میں ذکر کی گئی ہے۔
[92] جبکہ حال یہ ہے ﴿مَا يَنۢۡبَغِيۡ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ رحمان کے یہ لائق نہیں ہے اور نہ یہ ہو ہی سکتا ہے ﴿ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ وَلَدًا﴾ ’’کہ وہ اولاد بنائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے لیے بیٹا بنانا اس میں نقص اور احتیاج پر دلالت کرتا ہے جبکہ وہ بے نیاز اور حمید ہے، نیز بیٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی شبیہ ہے نہ مثیل اور نہ اس کی نظیر ہے۔
[93]﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾ ’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، وہ سب رحمٰن کے غلام بن کر آنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی ذلیل اور مطیع ہو کر بغیر کسی نافرمانی کے رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے، فرشتے، جن و انس سب اللہ کے مملوک اور اس کے دست تصرف کے تحت ہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے… جب اس کی شان اور اس کے اقتدار کی عظمت یہ ہو، تب اس کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟
[94]﴿ لَقَدۡ اَحۡصٰىهُمۡ وَعَدَّهُمۡ عَدًّا﴾ اس کا علم زمین اور آسمانوں کی تمام خلائق کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے اعمال کو شمار کر رکھا ہے وہ گمراہ ہوتا ہے نہ بھولتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
[95]﴿ وَؔكُلُّهُمۡ اٰتِيۡهِ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَرۡدًا﴾ ’’ہر ایک اس کے پاس قیامت کے دن اکیلا ہی آئے گا۔‘‘ یعنی اولاد، مال و دولت اور اعوان و انصار اس کے ساتھ نہ ہوں گے۔ اس کے ساتھ اس کے عمل کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اس کے اعمال کا بدلہ دے گا اور اس سے پورا پورا حساب لے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے تو جزا بھی اچھی ہو گی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو ان کی جزا بھی بری ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام:6؍94) ’’تم اسی طرح ہمارے پاس تن تنہا آئے ہو جس طرح پہلی مرتبہ ہم نے تمھیں اکیلا پیدا کیا تھا۔‘‘
19:92وَمَا يَنۢبَغِي لِلرَّحۡمَٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا
اور کہا انھوں نے، بنائی ہے رحمٰن نے اولاد (88) البتہ تحقیق آئے ہو تم ایک بات بڑی بھاری کو (89) قریب ہیں آسمان کہ پھٹ پڑیں اس (بات) سے اورشق ہو جائے زمین اور گر پڑیں پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر (90)(اس بات سے) کہ دعوی کیا کہ انھوں نے رحمٰن کے لیے اولاد کا (91) اور نہیں لائق رحمٰن کے یہ کہ وہ بنائے اولاد (92) نہیں ہے کوئی بھی (مخلوق) آسمانوں اور زمین میں مگر آنے والی ہے وہ رحمٰن کے پاس غلام بن کر (93) البتہ تحقیق شمار کر رکھا ہے اس نے ان کواور گن رکھا ہے انھیں گننا (94) اور وہ سب آنے والے ہیں اللہ کے پاس دن قیامت کے تنہا تنہا(95)
[88] یہ ان لوگوں کے قول کی قباحت کا بیان ہے جو عناد اور انکار پر جمے ہوئے ہیں اور اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ رحمٰن نے اپنا بیٹا بنایا ہے۔ جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں ﴿ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’مسیح اللہ کا بیٹا ہے‘‘ یہودی کہتے ہیں ﴿ عُزَيۡرُ ِ۟ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’عزیر اللہ کا بیٹا ہے‘‘ اور مشرکین کہتے ہیں ’’فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند اور بڑا ہے۔
[91-89]﴿ لَقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی تم نے بدترین بات کہی ہے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ ﴿ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ ﴾ قریب تھا کہ آسمان اپنی عظمت اور صلابت کے باوصف ﴿يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ ﴾ اس قول سے پھٹ جاتے۔ ﴿وَتَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ ﴾ اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی۔ ﴿ وَتَخِرُّ الۡجِبَالُ هَدًّا ﴾ اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر برابر ہو جاتے۔ ﴿ اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا﴾ ’’اس بنا پر کہ انھوں نے رحمٰن کی اولاد ٹھہرائی۔‘‘ یعنی اس بدترین دعویٰ کی بنا پر ان تمام مخلوقات کی حالت یہ ہوتی جو ان آیات میں ذکر کی گئی ہے۔
[92] جبکہ حال یہ ہے ﴿مَا يَنۢۡبَغِيۡ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ رحمان کے یہ لائق نہیں ہے اور نہ یہ ہو ہی سکتا ہے ﴿ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ وَلَدًا﴾ ’’کہ وہ اولاد بنائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے لیے بیٹا بنانا اس میں نقص اور احتیاج پر دلالت کرتا ہے جبکہ وہ بے نیاز اور حمید ہے، نیز بیٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی شبیہ ہے نہ مثیل اور نہ اس کی نظیر ہے۔
[93]﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾ ’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، وہ سب رحمٰن کے غلام بن کر آنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی ذلیل اور مطیع ہو کر بغیر کسی نافرمانی کے رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے، فرشتے، جن و انس سب اللہ کے مملوک اور اس کے دست تصرف کے تحت ہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے… جب اس کی شان اور اس کے اقتدار کی عظمت یہ ہو، تب اس کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟
[94]﴿ لَقَدۡ اَحۡصٰىهُمۡ وَعَدَّهُمۡ عَدًّا﴾ اس کا علم زمین اور آسمانوں کی تمام خلائق کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے اعمال کو شمار کر رکھا ہے وہ گمراہ ہوتا ہے نہ بھولتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
[95]﴿ وَؔكُلُّهُمۡ اٰتِيۡهِ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَرۡدًا﴾ ’’ہر ایک اس کے پاس قیامت کے دن اکیلا ہی آئے گا۔‘‘ یعنی اولاد، مال و دولت اور اعوان و انصار اس کے ساتھ نہ ہوں گے۔ اس کے ساتھ اس کے عمل کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اس کے اعمال کا بدلہ دے گا اور اس سے پورا پورا حساب لے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے تو جزا بھی اچھی ہو گی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو ان کی جزا بھی بری ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام:6؍94) ’’تم اسی طرح ہمارے پاس تن تنہا آئے ہو جس طرح پہلی مرتبہ ہم نے تمھیں اکیلا پیدا کیا تھا۔‘‘
19:93إِن كُلُّ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ إِلَّآ ءَاتِي ٱلرَّحۡمَٰنِ عَبۡدٗا
اور کہا انھوں نے، بنائی ہے رحمٰن نے اولاد (88) البتہ تحقیق آئے ہو تم ایک بات بڑی بھاری کو (89) قریب ہیں آسمان کہ پھٹ پڑیں اس (بات) سے اورشق ہو جائے زمین اور گر پڑیں پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر (90)(اس بات سے) کہ دعوی کیا کہ انھوں نے رحمٰن کے لیے اولاد کا (91) اور نہیں لائق رحمٰن کے یہ کہ وہ بنائے اولاد (92) نہیں ہے کوئی بھی (مخلوق) آسمانوں اور زمین میں مگر آنے والی ہے وہ رحمٰن کے پاس غلام بن کر (93) البتہ تحقیق شمار کر رکھا ہے اس نے ان کواور گن رکھا ہے انھیں گننا (94) اور وہ سب آنے والے ہیں اللہ کے پاس دن قیامت کے تنہا تنہا(95)
[88] یہ ان لوگوں کے قول کی قباحت کا بیان ہے جو عناد اور انکار پر جمے ہوئے ہیں اور اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ رحمٰن نے اپنا بیٹا بنایا ہے۔ جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں ﴿ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’مسیح اللہ کا بیٹا ہے‘‘ یہودی کہتے ہیں ﴿ عُزَيۡرُ ِ۟ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’عزیر اللہ کا بیٹا ہے‘‘ اور مشرکین کہتے ہیں ’’فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند اور بڑا ہے۔
[91-89]﴿ لَقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی تم نے بدترین بات کہی ہے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ ﴿ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ ﴾ قریب تھا کہ آسمان اپنی عظمت اور صلابت کے باوصف ﴿يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ ﴾ اس قول سے پھٹ جاتے۔ ﴿وَتَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ ﴾ اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی۔ ﴿ وَتَخِرُّ الۡجِبَالُ هَدًّا ﴾ اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر برابر ہو جاتے۔ ﴿ اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا﴾ ’’اس بنا پر کہ انھوں نے رحمٰن کی اولاد ٹھہرائی۔‘‘ یعنی اس بدترین دعویٰ کی بنا پر ان تمام مخلوقات کی حالت یہ ہوتی جو ان آیات میں ذکر کی گئی ہے۔
[92] جبکہ حال یہ ہے ﴿مَا يَنۢۡبَغِيۡ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ رحمان کے یہ لائق نہیں ہے اور نہ یہ ہو ہی سکتا ہے ﴿ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ وَلَدًا﴾ ’’کہ وہ اولاد بنائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے لیے بیٹا بنانا اس میں نقص اور احتیاج پر دلالت کرتا ہے جبکہ وہ بے نیاز اور حمید ہے، نیز بیٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی شبیہ ہے نہ مثیل اور نہ اس کی نظیر ہے۔
[93]﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾ ’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، وہ سب رحمٰن کے غلام بن کر آنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی ذلیل اور مطیع ہو کر بغیر کسی نافرمانی کے رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے، فرشتے، جن و انس سب اللہ کے مملوک اور اس کے دست تصرف کے تحت ہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے… جب اس کی شان اور اس کے اقتدار کی عظمت یہ ہو، تب اس کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟
[94]﴿ لَقَدۡ اَحۡصٰىهُمۡ وَعَدَّهُمۡ عَدًّا﴾ اس کا علم زمین اور آسمانوں کی تمام خلائق کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے اعمال کو شمار کر رکھا ہے وہ گمراہ ہوتا ہے نہ بھولتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
[95]﴿ وَؔكُلُّهُمۡ اٰتِيۡهِ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَرۡدًا﴾ ’’ہر ایک اس کے پاس قیامت کے دن اکیلا ہی آئے گا۔‘‘ یعنی اولاد، مال و دولت اور اعوان و انصار اس کے ساتھ نہ ہوں گے۔ اس کے ساتھ اس کے عمل کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اس کے اعمال کا بدلہ دے گا اور اس سے پورا پورا حساب لے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے تو جزا بھی اچھی ہو گی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو ان کی جزا بھی بری ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام:6؍94) ’’تم اسی طرح ہمارے پاس تن تنہا آئے ہو جس طرح پہلی مرتبہ ہم نے تمھیں اکیلا پیدا کیا تھا۔‘‘
19:94لَّقَدۡ أَحۡصَىٰهُمۡ وَعَدَّهُمۡ عَدّٗا
اور کہا انھوں نے، بنائی ہے رحمٰن نے اولاد (88) البتہ تحقیق آئے ہو تم ایک بات بڑی بھاری کو (89) قریب ہیں آسمان کہ پھٹ پڑیں اس (بات) سے اورشق ہو جائے زمین اور گر پڑیں پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر (90)(اس بات سے) کہ دعوی کیا کہ انھوں نے رحمٰن کے لیے اولاد کا (91) اور نہیں لائق رحمٰن کے یہ کہ وہ بنائے اولاد (92) نہیں ہے کوئی بھی (مخلوق) آسمانوں اور زمین میں مگر آنے والی ہے وہ رحمٰن کے پاس غلام بن کر (93) البتہ تحقیق شمار کر رکھا ہے اس نے ان کواور گن رکھا ہے انھیں گننا (94) اور وہ سب آنے والے ہیں اللہ کے پاس دن قیامت کے تنہا تنہا(95)
[88] یہ ان لوگوں کے قول کی قباحت کا بیان ہے جو عناد اور انکار پر جمے ہوئے ہیں اور اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ رحمٰن نے اپنا بیٹا بنایا ہے۔ جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں ﴿ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’مسیح اللہ کا بیٹا ہے‘‘ یہودی کہتے ہیں ﴿ عُزَيۡرُ ِ۟ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’عزیر اللہ کا بیٹا ہے‘‘ اور مشرکین کہتے ہیں ’’فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند اور بڑا ہے۔
[91-89]﴿ لَقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی تم نے بدترین بات کہی ہے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ ﴿ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ ﴾ قریب تھا کہ آسمان اپنی عظمت اور صلابت کے باوصف ﴿يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ ﴾ اس قول سے پھٹ جاتے۔ ﴿وَتَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ ﴾ اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی۔ ﴿ وَتَخِرُّ الۡجِبَالُ هَدًّا ﴾ اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر برابر ہو جاتے۔ ﴿ اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا﴾ ’’اس بنا پر کہ انھوں نے رحمٰن کی اولاد ٹھہرائی۔‘‘ یعنی اس بدترین دعویٰ کی بنا پر ان تمام مخلوقات کی حالت یہ ہوتی جو ان آیات میں ذکر کی گئی ہے۔
[92] جبکہ حال یہ ہے ﴿مَا يَنۢۡبَغِيۡ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ رحمان کے یہ لائق نہیں ہے اور نہ یہ ہو ہی سکتا ہے ﴿ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ وَلَدًا﴾ ’’کہ وہ اولاد بنائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے لیے بیٹا بنانا اس میں نقص اور احتیاج پر دلالت کرتا ہے جبکہ وہ بے نیاز اور حمید ہے، نیز بیٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی شبیہ ہے نہ مثیل اور نہ اس کی نظیر ہے۔
[93]﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾ ’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، وہ سب رحمٰن کے غلام بن کر آنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی ذلیل اور مطیع ہو کر بغیر کسی نافرمانی کے رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے، فرشتے، جن و انس سب اللہ کے مملوک اور اس کے دست تصرف کے تحت ہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے… جب اس کی شان اور اس کے اقتدار کی عظمت یہ ہو، تب اس کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟
[94]﴿ لَقَدۡ اَحۡصٰىهُمۡ وَعَدَّهُمۡ عَدًّا﴾ اس کا علم زمین اور آسمانوں کی تمام خلائق کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے اعمال کو شمار کر رکھا ہے وہ گمراہ ہوتا ہے نہ بھولتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
[95]﴿ وَؔكُلُّهُمۡ اٰتِيۡهِ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَرۡدًا﴾ ’’ہر ایک اس کے پاس قیامت کے دن اکیلا ہی آئے گا۔‘‘ یعنی اولاد، مال و دولت اور اعوان و انصار اس کے ساتھ نہ ہوں گے۔ اس کے ساتھ اس کے عمل کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اس کے اعمال کا بدلہ دے گا اور اس سے پورا پورا حساب لے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے تو جزا بھی اچھی ہو گی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو ان کی جزا بھی بری ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام:6؍94) ’’تم اسی طرح ہمارے پاس تن تنہا آئے ہو جس طرح پہلی مرتبہ ہم نے تمھیں اکیلا پیدا کیا تھا۔‘‘
19:95وَكُلُّهُمۡ ءَاتِيهِ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فَرۡدًا
اور کہا انھوں نے، بنائی ہے رحمٰن نے اولاد (88) البتہ تحقیق آئے ہو تم ایک بات بڑی بھاری کو (89) قریب ہیں آسمان کہ پھٹ پڑیں اس (بات) سے اورشق ہو جائے زمین اور گر پڑیں پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر (90)(اس بات سے) کہ دعوی کیا کہ انھوں نے رحمٰن کے لیے اولاد کا (91) اور نہیں لائق رحمٰن کے یہ کہ وہ بنائے اولاد (92) نہیں ہے کوئی بھی (مخلوق) آسمانوں اور زمین میں مگر آنے والی ہے وہ رحمٰن کے پاس غلام بن کر (93) البتہ تحقیق شمار کر رکھا ہے اس نے ان کواور گن رکھا ہے انھیں گننا (94) اور وہ سب آنے والے ہیں اللہ کے پاس دن قیامت کے تنہا تنہا(95)
[88] یہ ان لوگوں کے قول کی قباحت کا بیان ہے جو عناد اور انکار پر جمے ہوئے ہیں اور اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ رحمٰن نے اپنا بیٹا بنایا ہے۔ جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں ﴿ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’مسیح اللہ کا بیٹا ہے‘‘ یہودی کہتے ہیں ﴿ عُزَيۡرُ ِ۟ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾(التوبۃ:9؍30) ’’عزیر اللہ کا بیٹا ہے‘‘ اور مشرکین کہتے ہیں ’’فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند اور بڑا ہے۔
[91-89]﴿ لَقَدۡ جِئۡتُمۡ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی تم نے بدترین بات کہی ہے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ ﴿ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ ﴾ قریب تھا کہ آسمان اپنی عظمت اور صلابت کے باوصف ﴿يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ ﴾ اس قول سے پھٹ جاتے۔ ﴿وَتَنۡشَقُّ الۡاَرۡضُ ﴾ اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی۔ ﴿ وَتَخِرُّ الۡجِبَالُ هَدًّا ﴾ اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر برابر ہو جاتے۔ ﴿ اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا﴾ ’’اس بنا پر کہ انھوں نے رحمٰن کی اولاد ٹھہرائی۔‘‘ یعنی اس بدترین دعویٰ کی بنا پر ان تمام مخلوقات کی حالت یہ ہوتی جو ان آیات میں ذکر کی گئی ہے۔
[92] جبکہ حال یہ ہے ﴿مَا يَنۢۡبَغِيۡ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾ رحمان کے یہ لائق نہیں ہے اور نہ یہ ہو ہی سکتا ہے ﴿ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ وَلَدًا﴾ ’’کہ وہ اولاد بنائے۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے لیے بیٹا بنانا اس میں نقص اور احتیاج پر دلالت کرتا ہے جبکہ وہ بے نیاز اور حمید ہے، نیز بیٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی شبیہ ہے نہ مثیل اور نہ اس کی نظیر ہے۔
[93]﴿ اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾ ’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، وہ سب رحمٰن کے غلام بن کر آنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی ذلیل اور مطیع ہو کر بغیر کسی نافرمانی کے رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے، فرشتے، جن و انس سب اللہ کے مملوک اور اس کے دست تصرف کے تحت ہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے… جب اس کی شان اور اس کے اقتدار کی عظمت یہ ہو، تب اس کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟
[94]﴿ لَقَدۡ اَحۡصٰىهُمۡ وَعَدَّهُمۡ عَدًّا﴾ اس کا علم زمین اور آسمانوں کی تمام خلائق کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے اعمال کو شمار کر رکھا ہے وہ گمراہ ہوتا ہے نہ بھولتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
[95]﴿ وَؔكُلُّهُمۡ اٰتِيۡهِ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فَرۡدًا﴾ ’’ہر ایک اس کے پاس قیامت کے دن اکیلا ہی آئے گا۔‘‘ یعنی اولاد، مال و دولت اور اعوان و انصار اس کے ساتھ نہ ہوں گے۔ اس کے ساتھ اس کے عمل کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اس کے اعمال کا بدلہ دے گا اور اس سے پورا پورا حساب لے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے تو جزا بھی اچھی ہو گی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو ان کی جزا بھی بری ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام:6؍94) ’’تم اسی طرح ہمارے پاس تن تنہا آئے ہو جس طرح پہلی مرتبہ ہم نے تمھیں اکیلا پیدا کیا تھا۔‘‘
19:96إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ سَيَجۡعَلُ لَهُمُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وُدّٗا
بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، عنقریب پیدا کر دے گا ان کے لیے رحمٰن محبت (96)
[96] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے ان بندوں پر انعام ہے جنھوں نے ایمان و عمل صالح کو جمع کیا… کہ وہ ان کے لیے اپنے اولیاء اور زمین و آسمان کے رہنے والوں کے دلوں میں محبت اور مودت ڈال دیتا ہے۔ جب ان کے بارے میں دلوں میں محبت ہوجاتی ہے تو ان کے اکثر معاملات ان کے لیے آسان ہوجاتے ہیں اور ان کو بھلائی، دعائیں ، راہنمائی اور امامت حاصل ہوجاتی ہے اس لیے ایک صحیح حدیث میں وارد ہے ’’جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریلu کو پکار کر کہتا ہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر، پھر جبریل آسمان والوں کو پکار کر کہتا ہے کہ اللہ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے، اس لیے تم بھی اسے محبوب رکھو، آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر زمین والوں میں اسے قبولیت عطا کی جاتی ہے‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب المقۃ من اللہ تعالیٰ، ح:6040 و صحیح مسلم، البرو الصلۃ، باب اذا احب اللہ عبدا…، ح:2637) اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے زمین و آسمان کے رہنے والوں کے دلوں میں محبت اس لیے پیدا کی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء اور محبوب لوگوں کے نزدیک ان کو محبوب بنا دیا۔
19:97فَإِنَّمَا يَسَّرۡنَٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ ٱلۡمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِۦ قَوۡمٗا لُّدّٗا
پس یقینا آسان کر دیا ہے ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں تاکہ آپ خوشخبری دیں اس کے ساتھ پرہیز گاروں کواور ڈرائیں اس کے ساتھ جھگڑالو قوم کو (97) اور کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے، پہلے ان سے قومیں ، کیا آپ محسوس کرتے ہیں ان میں سے کسی ایک کو (آنکھ یا ہاتھ سے)؟ یا آپ سنتے ہیں ان کی کوئی بھنک بھی؟ (98)
[97] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی نعمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے رسول اللہﷺ کی زبان اقدس پر اس قرآن کریم کو آسان کیا۔ اس کے الفاظ و معانی کو عام فہم بنایا تاکہ مقصد حاصل ہو اور اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ﴿ لِتُبَشِّرَ بِهِ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ تاکہ آپ دنیاوی اور اخروی ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے متقین کو بشارت دیں اور ان اسباب کا ذکر کریں جو بشارت کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَتُنۡذِرَ بِهٖ قَوۡمًا لُّدًّا﴾ تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جو اپنے باطل میں نہایت سخت اور اپنے کفر میں نہایت قوی ہیں ۔ اس طرح ان پر حجت قائم ہو گی اور ان کے سامنے صراط مستقیم واضح ہو جائے گی۔ تب جو کوئی ہلاک ہو گا تو دلیل کی بنیاد پر ہلاک ہو گا اور جو کوئی زندہ رہے گا تو دلیل کی طاقت سے زندہ رہے گا۔
[98] پھر ان کو پہلے لوگوں کی، جنھوں نے انبیاء و مرسلین کو جھٹلایا، ہلاکت کا ذکر کر کے ڈرایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَمۡ اَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ﴾ ’’ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہلاک کر دیا۔‘‘ یعنی قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود وغیرہ جو انبیا کے ساتھ عناد رکھتے اور ان کی تکذیب کرتے تھے۔ جب وہ اپنی سرکشی میں جمے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ ﴿هَلۡ تُحِسُّ مِنۡهُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَوۡ تَسۡمَعُ لَهُمۡ رِكۡزًا ﴾ یہاں (رکز) سے مراد خفیہ آواز ہے یعنی ان لوگوں کے آثار تک باقی نہ رہے۔ بس ان کے قصے باقی رہ گئے جو عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت ہیں اور ان کی کہانیاں باقی رہ گئیں جو نصیحت کے متلاشی لوگوں کے لیے نصیحت ہیں ۔
19:98وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّن قَرۡنٍ هَلۡ تُحِسُّ مِنۡهُم مِّنۡ أَحَدٍ أَوۡ تَسۡمَعُ لَهُمۡ رِكۡزَۢا
پس یقینا آسان کر دیا ہے ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں تاکہ آپ خوشخبری دیں اس کے ساتھ پرہیز گاروں کواور ڈرائیں اس کے ساتھ جھگڑالو قوم کو (97) اور کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے، پہلے ان سے قومیں ، کیا آپ محسوس کرتے ہیں ان میں سے کسی ایک کو (آنکھ یا ہاتھ سے)؟ یا آپ سنتے ہیں ان کی کوئی بھنک بھی؟ (98)
[97] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی نعمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے رسول اللہﷺ کی زبان اقدس پر اس قرآن کریم کو آسان کیا۔ اس کے الفاظ و معانی کو عام فہم بنایا تاکہ مقصد حاصل ہو اور اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ﴿ لِتُبَشِّرَ بِهِ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ تاکہ آپ دنیاوی اور اخروی ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے متقین کو بشارت دیں اور ان اسباب کا ذکر کریں جو بشارت کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَتُنۡذِرَ بِهٖ قَوۡمًا لُّدًّا﴾ تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جو اپنے باطل میں نہایت سخت اور اپنے کفر میں نہایت قوی ہیں ۔ اس طرح ان پر حجت قائم ہو گی اور ان کے سامنے صراط مستقیم واضح ہو جائے گی۔ تب جو کوئی ہلاک ہو گا تو دلیل کی بنیاد پر ہلاک ہو گا اور جو کوئی زندہ رہے گا تو دلیل کی طاقت سے زندہ رہے گا۔
[98] پھر ان کو پہلے لوگوں کی، جنھوں نے انبیاء و مرسلین کو جھٹلایا، ہلاکت کا ذکر کر کے ڈرایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَمۡ اَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ﴾ ’’ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہلاک کر دیا۔‘‘ یعنی قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود وغیرہ جو انبیا کے ساتھ عناد رکھتے اور ان کی تکذیب کرتے تھے۔ جب وہ اپنی سرکشی میں جمے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ ﴿هَلۡ تُحِسُّ مِنۡهُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَوۡ تَسۡمَعُ لَهُمۡ رِكۡزًا ﴾ یہاں (رکز) سے مراد خفیہ آواز ہے یعنی ان لوگوں کے آثار تک باقی نہ رہے۔ بس ان کے قصے باقی رہ گئے جو عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت ہیں اور ان کی کہانیاں باقی رہ گئیں جو نصیحت کے متلاشی لوگوں کے لیے نصیحت ہیں ۔