al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 18 · 110 verses
18:1ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ عَلَىٰ عَبۡدِهِ ٱلۡكِتَٰبَ وَلَمۡ يَجۡعَل لَّهُۥ عِوَجَاۜ
تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب اور نہیں رکھی اس میں کوئی کجی (1) اس حال میں کہ وہ سیدھی ہے، تاکہ ڈرائے وہ عذاب سخت سے، اس (اللہ) کی طرف سےاور (تاکہ) وہ خوشخبری دے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، بے شک ان کے لیے اجر ہے اچھا (2)اس حال میں کہ وہ رہنے والے ہوں گے اس میں ہمیشہ ہی (3)اور (تاکہ) وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنھوں نے کہا، بنائی ہے اللہ نے اولاد (4) نہیں ہے ان کو ساتھ اس (دعویٰ) کے کوئی علم اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو ، بڑی ہی خطرناک بات ہے جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے، نہیں کہتے وہ مگر جھوٹ ہی (5) پس شاید کہ آپ ہلاک کرنے والے ہیں اپنے آپ کو پیچھے ان کے، اگر نہ ایمان لائیں وہ ساتھ اس بات (قرآن) کے ، غم کے مارے (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات کے ذریعے سے، جو کہ صفت کمال ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ کی ظاہری و باطنی اور دینی و دنیاوی نعمتوں کے اظہار و اعتراف کے ذریعے سے اس کی ثنا بیان کرنا… اور علی الاطلاق اللہ تعالیٰ کی جلیل ترین نعمت اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر قرآن نازل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد بیان کی اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اس امر کی طرف راہنمائی ہے کہ وہ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کریں کہ اس نے ان کی طرف اپنا رسول بھیجا اور کتاب نازل کی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی دو خوبیاں بیان فرمائیں جو اس بات پر مشتمل ہیں کہ یہ کتاب ہر لحاظ سے کامل ہے۔ یہ دو صفات مندرجہ ذیل ہیں ۔ (۱) اس کتاب عظیم سے کجی کی نفی۔ (۲) اس بات کا اثبات کہ یہ کتاب کجی دور کرنے والی اور راہ راست پر مشتمل ہے۔ کجی کی نفی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ کتاب میں کوئی جھوٹی خبر ہو نہ اس کے اوامر ونواہی میں ظلم کا کوئی پہلو ہو اور نہ کوئی عبث بات ہو۔ استقامت کا اثبات اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ کتاب جلیل ترین امور کا حکم دیتی اور جلیل ترین خبروں سے آگاہ کرتی ہے اور یہ وہ خبریں ہیں جو قلوب انسانی کو معرفت الٰہی اور ایمان و عقل سے لبریز کر دیتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال کے بارے میں خبریں ، نیز گزرے ہوئے اور آئندہ آنے والے غیبی معاملات کی خبریں ۔ اس کتاب کی استقامت کا اثبات اس امر کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اوامر و نواہی نفوس انسانی کا تزکیہ، ان کی نشوونما اور ان کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ یہ اوامر و نواہی کامل عدل و انصاف، اخلاص اور اکیلے اللہ رب العالمین کے لیے عبودیت پر مشتمل ہیں ۔ یہ کتاب، جس کے مذکورہ بالا اوصاف بیان كيے گئے ہیں ، اس بات کی مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے نازل کرنے پر اپنی حمد بیان کرے اور اپنے بندے سے اپنی حمد و ستائش کا مطالبہ کرے۔
[2]﴿ لِّيُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِيۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡهُ﴾ ’’تاکہ وہ اپنی طرف سے ڈرائے سخت عذاب سے‘‘ یعنی اس قرآن کریم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے ہاں موجود عذاب سے ڈرائے، یعنی اس شخص کو اپنی اس قضا و قدر سے ڈرائے جو اس کے احکامات کی مخالفت کرنے والوں کے لیے ہے۔ یہ دنیاوی عذاب اور اخروی عذاب دونوں کو شامل ہے، نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو خوف دلایا ہے اوران کو ان امور سے ڈرایا ہے جو ان کے لیے نقصان اور ہلاکت کا باعث ہیں ۔ جیسا کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آگ کا وصف بیان کیا تو فرمایا:﴿ ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾(الزمر : 39؍16) ’’اللہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرو۔‘‘ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان لوگوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کر رکھی ہیں جو اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، ان سزاؤں کو ان کے سامنے بیان کر دیا اور ان اسباب کو بھی واضح کر دیا جو ان سزاؤں کے موجب ہیں۔ ﴿ وَيُبَشِّرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور خوشخبری دے مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی تاکہ اس کے ذریعے سے، نیز اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے، ان لوگوں کو خوشخبری سنائے جو اس کتاب پر ایمان لا کر اپنے ایمان کی تکمیل کرتے ہیں ۔ پس اس نے اپنے بندوں پر نیک اعمال واجب كيے اور اس سے مراد واجبات و مستحبات پر مشتمل نیک اعمال ہیں ، جن میں اخلاص اور اتباع رسول جمع ہوں ۔ ﴿ اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا حَسَنًا ﴾ ’’کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے‘‘ اس سے مراد وہ ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح پر مترتب کیا ہے۔ سب سے بڑا اور جلیل ترین ثواب، اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے تصور میں اس کا گزر ہوا ہے…اور اس اجر کو ’’حسن‘‘ کے وصف کے ساتھ موصوف کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں کسی بھی لحاظ سے کوئی تکدر نہ ہو گا۔ کیونکہ اگر اس میں کسی قسم کا تکدر پایا جائے تو یہ اجر مکمل طور پر حسن نہیں ہے۔
[3] اس کے ساتھ ساتھ کہ یہ اچھا اجر ہے۔ ﴿ مَّؔاكِثِيۡنَ فِيۡهِ اَبَدًا﴾ ’’وہ اس میں ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یہ اجروثواب کبھی ان سے زائل ہو گا نہ یہ اس سے دور كيے جائیں گے بلکہ ان کی یہ نعمتیں ہر وقت بڑھتی ہی رہیں گی۔ تبشیر کا ذکر تقاضا کرتا ہے کہ ان اعمال کا ذکر کیا جائے جو بشارت کے موجب ہیں اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم تمام اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو اس اجروثواب کا سبب ہیں جس سے نفس خوش ہوں گے اور روحوں کو فرحت حاصل ہو گی۔
[5,4]﴿ وَّيُنۡذِرَ الَّذِيۡنَ قَالُوا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا﴾ ’’اور ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے کہا اللہ اولاد رکھتا ہے‘‘ یعنی یہود و نصاریٰ اور مشرکین، جن کا یہ بدترین قول ہے اور ان کا یہ قول کسی علم و یقین پر مبنی نہیں ہے۔ وہ اس کے بارے میں خود کوئی علم رکھتے ہیں نہ ان کے آباء و اجداد کے پاس کوئی علم تھا جن کی یہ تقلید کرتے ہیں بلکہ یہ تو محض ظن و گمان اور خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں ۔ ﴿ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’بڑی ہے بات جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے‘‘ یعنی ان کی اس بات کی قباحت بہت زیادہ اور اس کی سزا بہت سخت ہے اور اس شخص کے اس قول کی قباحت سے بڑھ کر اور کون سی قباحت ہو سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹا منسوب کرتا ہے حالانکہ یہ نسبت اس کی ذات میں نقص اور خصائص ربوبیت و الوہیت میں غیر اللہ کی شراکت اور اس پر بہتان طرازی کی مقتضی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾(الانعام: 6؍21) ’’اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ اِنۡ يَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا كَذِبًا﴾ ’’یہ لوگ محض جھوٹ بولتے ہیں ‘‘ جس میں صداقت کا ذرہ بھر شائبہ نہیں ۔ غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح بتدریج ان کے قول کا ابطال کیا ہے اور کم تر باطل چیز سے زیادہ باطل چیز کی طرف انتقال کیا ہے، چنانچہ پہلے مرحلے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی:﴿ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّلَا لِاٰبَآىِٕهِمۡ﴾ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرنا ممنوع اور باطل ہے پھر دوسرے مرحلے میں فرمایا کہ یہ انتہائی قبیح قول ہے، فرمایا:﴿ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ﴾ پھر قباحت کے تیسرے مرتبے میں فرمایا کہ یہ محض جھوٹ ہے جو صدق کے منافی ہے۔
[6] چونکہ نبی اکرمﷺ خلائق کی ہدایت کی بے انتہا خواہش رکھتے تھے اور ان کی ہدایت کے لیے بے حد کوشاں رہتے تھے۔ آپ دین اسلام اختیار کرنے والے کے ہدایت قبول کرنے پر بہت خوش ہوتے تھے۔ تکذیب کرنے والے گمراہ لوگوں پر رحم و شفقت کی بنا پر متاسف اور غم زدہ ہوتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے رویے پر افسوس اور تاسف میں مشغول نہ ہوں جو اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا ہے:﴿ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الشعراء : 26؍3) ’’شاید آپ اسی غم میں اپنے آپ کو ہلکان کر لیں گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿ فَلَا تَذۡهَبۡ نَفۡسُكَ عَلَيۡهِمۡ حَسَرٰتٍ﴾(فاطر : 35؍8) ’’پس ان لوگوں کے غم میں آپ کی جان نہ گھلے۔‘‘ یہاں فرمایا: ﴿فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’کیا آپ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے۔‘‘ یعنی ان کے غم میں ، حالانکہ آپ کا اجروثواب تو اللہ تعالیٰ پر واجب ہو چکا ہے اگر ان لوگوں کی کوئی بھلائی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی تو وہ ضرور ان کو ہدایت سے نواز دیتا۔ مگر اسے معلوم ہے کہ یہ لوگ آگ کے سوا، کسی چیز کے قابل نہیں ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور وہ راہ راست نہ پا سکے۔ آپ کا ان کے غم اور تاسف میں اپنے آپ کو مشغول کرنا آپ کو کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات کریمہ میں عبرت ہے۔ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے پر مامور شخص پر تبلیغ دعوت، ان تمام اسباب کے حصول میں کوشاں رہنا جو ہدایت کی منزل پر پہنچاتے ہیں ، امکان بھر گمراہی کے راستوں کو مسدود کرنا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر توکل فرض ہے۔ پس اگر وہ راہ راست پر گامزن ہو جائیں تو بہتر ہے ورنہ اس کو ان کے افسوس میں گھلنا نہیں چاہیے کیونکہ یہ چیز نفس کو کمزور اور قویٰ کو منہدم کر دیتی ہے۔ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ ایسا کرنے سے وہ مقصد فوت ہو جائے گا جس پر اسے مامور کیا گیا ہے۔ تبلیغ دعوت اور کوشش کے سوا ہر چیز اس کے اختیار سے باہر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نبی اکرمﷺ سے فرماتا ہے:﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ ﴾(القصص : 28؍56) ’’آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے جسے آپ چاہتے ہیں ۔‘‘ حضرت موسیٰu نے اعتراف کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾(المائدۃ : 5؍25) ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ تو انبیائے کرام کے علاوہ دیگر لوگ بدرجہ اولیٰ کسی کو ہدایت دینے کا اختیار نہیں رکھتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌؕ۰۰لَسۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِمُصَۜيۡطِرٍ ﴾(الغاشیۃ : 88؍21، 22) ’’آپ نصیحت کیجیے۔ آپ تو صرف نصیحت کرنے والے ہیں ، آپ ان پر کوئی داروغہ مقرر نہیں ہوئے۔‘‘
18:2قَيِّمٗا لِّيُنذِرَ بَأۡسٗا شَدِيدٗا مِّن لَّدُنۡهُ وَيُبَشِّرَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمۡ أَجۡرًا حَسَنٗا
تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب اور نہیں رکھی اس میں کوئی کجی (1) اس حال میں کہ وہ سیدھی ہے، تاکہ ڈرائے وہ عذاب سخت سے، اس (اللہ) کی طرف سےاور (تاکہ) وہ خوشخبری دے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، بے شک ان کے لیے اجر ہے اچھا (2)اس حال میں کہ وہ رہنے والے ہوں گے اس میں ہمیشہ ہی (3)اور (تاکہ) وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنھوں نے کہا، بنائی ہے اللہ نے اولاد (4) نہیں ہے ان کو ساتھ اس (دعویٰ) کے کوئی علم اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو ، بڑی ہی خطرناک بات ہے جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے، نہیں کہتے وہ مگر جھوٹ ہی (5) پس شاید کہ آپ ہلاک کرنے والے ہیں اپنے آپ کو پیچھے ان کے، اگر نہ ایمان لائیں وہ ساتھ اس بات (قرآن) کے ، غم کے مارے (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات کے ذریعے سے، جو کہ صفت کمال ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ کی ظاہری و باطنی اور دینی و دنیاوی نعمتوں کے اظہار و اعتراف کے ذریعے سے اس کی ثنا بیان کرنا… اور علی الاطلاق اللہ تعالیٰ کی جلیل ترین نعمت اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر قرآن نازل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد بیان کی اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اس امر کی طرف راہنمائی ہے کہ وہ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کریں کہ اس نے ان کی طرف اپنا رسول بھیجا اور کتاب نازل کی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی دو خوبیاں بیان فرمائیں جو اس بات پر مشتمل ہیں کہ یہ کتاب ہر لحاظ سے کامل ہے۔ یہ دو صفات مندرجہ ذیل ہیں ۔ (۱) اس کتاب عظیم سے کجی کی نفی۔ (۲) اس بات کا اثبات کہ یہ کتاب کجی دور کرنے والی اور راہ راست پر مشتمل ہے۔ کجی کی نفی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ کتاب میں کوئی جھوٹی خبر ہو نہ اس کے اوامر ونواہی میں ظلم کا کوئی پہلو ہو اور نہ کوئی عبث بات ہو۔ استقامت کا اثبات اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ کتاب جلیل ترین امور کا حکم دیتی اور جلیل ترین خبروں سے آگاہ کرتی ہے اور یہ وہ خبریں ہیں جو قلوب انسانی کو معرفت الٰہی اور ایمان و عقل سے لبریز کر دیتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال کے بارے میں خبریں ، نیز گزرے ہوئے اور آئندہ آنے والے غیبی معاملات کی خبریں ۔ اس کتاب کی استقامت کا اثبات اس امر کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اوامر و نواہی نفوس انسانی کا تزکیہ، ان کی نشوونما اور ان کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ یہ اوامر و نواہی کامل عدل و انصاف، اخلاص اور اکیلے اللہ رب العالمین کے لیے عبودیت پر مشتمل ہیں ۔ یہ کتاب، جس کے مذکورہ بالا اوصاف بیان كيے گئے ہیں ، اس بات کی مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے نازل کرنے پر اپنی حمد بیان کرے اور اپنے بندے سے اپنی حمد و ستائش کا مطالبہ کرے۔
[2]﴿ لِّيُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِيۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡهُ﴾ ’’تاکہ وہ اپنی طرف سے ڈرائے سخت عذاب سے‘‘ یعنی اس قرآن کریم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے ہاں موجود عذاب سے ڈرائے، یعنی اس شخص کو اپنی اس قضا و قدر سے ڈرائے جو اس کے احکامات کی مخالفت کرنے والوں کے لیے ہے۔ یہ دنیاوی عذاب اور اخروی عذاب دونوں کو شامل ہے، نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو خوف دلایا ہے اوران کو ان امور سے ڈرایا ہے جو ان کے لیے نقصان اور ہلاکت کا باعث ہیں ۔ جیسا کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آگ کا وصف بیان کیا تو فرمایا:﴿ ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾(الزمر : 39؍16) ’’اللہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرو۔‘‘ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان لوگوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کر رکھی ہیں جو اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، ان سزاؤں کو ان کے سامنے بیان کر دیا اور ان اسباب کو بھی واضح کر دیا جو ان سزاؤں کے موجب ہیں۔ ﴿ وَيُبَشِّرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور خوشخبری دے مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی تاکہ اس کے ذریعے سے، نیز اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے، ان لوگوں کو خوشخبری سنائے جو اس کتاب پر ایمان لا کر اپنے ایمان کی تکمیل کرتے ہیں ۔ پس اس نے اپنے بندوں پر نیک اعمال واجب كيے اور اس سے مراد واجبات و مستحبات پر مشتمل نیک اعمال ہیں ، جن میں اخلاص اور اتباع رسول جمع ہوں ۔ ﴿ اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا حَسَنًا ﴾ ’’کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے‘‘ اس سے مراد وہ ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح پر مترتب کیا ہے۔ سب سے بڑا اور جلیل ترین ثواب، اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے تصور میں اس کا گزر ہوا ہے…اور اس اجر کو ’’حسن‘‘ کے وصف کے ساتھ موصوف کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں کسی بھی لحاظ سے کوئی تکدر نہ ہو گا۔ کیونکہ اگر اس میں کسی قسم کا تکدر پایا جائے تو یہ اجر مکمل طور پر حسن نہیں ہے۔
[3] اس کے ساتھ ساتھ کہ یہ اچھا اجر ہے۔ ﴿ مَّؔاكِثِيۡنَ فِيۡهِ اَبَدًا﴾ ’’وہ اس میں ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یہ اجروثواب کبھی ان سے زائل ہو گا نہ یہ اس سے دور كيے جائیں گے بلکہ ان کی یہ نعمتیں ہر وقت بڑھتی ہی رہیں گی۔ تبشیر کا ذکر تقاضا کرتا ہے کہ ان اعمال کا ذکر کیا جائے جو بشارت کے موجب ہیں اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم تمام اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو اس اجروثواب کا سبب ہیں جس سے نفس خوش ہوں گے اور روحوں کو فرحت حاصل ہو گی۔
[5,4]﴿ وَّيُنۡذِرَ الَّذِيۡنَ قَالُوا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا﴾ ’’اور ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے کہا اللہ اولاد رکھتا ہے‘‘ یعنی یہود و نصاریٰ اور مشرکین، جن کا یہ بدترین قول ہے اور ان کا یہ قول کسی علم و یقین پر مبنی نہیں ہے۔ وہ اس کے بارے میں خود کوئی علم رکھتے ہیں نہ ان کے آباء و اجداد کے پاس کوئی علم تھا جن کی یہ تقلید کرتے ہیں بلکہ یہ تو محض ظن و گمان اور خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں ۔ ﴿ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’بڑی ہے بات جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے‘‘ یعنی ان کی اس بات کی قباحت بہت زیادہ اور اس کی سزا بہت سخت ہے اور اس شخص کے اس قول کی قباحت سے بڑھ کر اور کون سی قباحت ہو سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹا منسوب کرتا ہے حالانکہ یہ نسبت اس کی ذات میں نقص اور خصائص ربوبیت و الوہیت میں غیر اللہ کی شراکت اور اس پر بہتان طرازی کی مقتضی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾(الانعام: 6؍21) ’’اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ اِنۡ يَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا كَذِبًا﴾ ’’یہ لوگ محض جھوٹ بولتے ہیں ‘‘ جس میں صداقت کا ذرہ بھر شائبہ نہیں ۔ غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح بتدریج ان کے قول کا ابطال کیا ہے اور کم تر باطل چیز سے زیادہ باطل چیز کی طرف انتقال کیا ہے، چنانچہ پہلے مرحلے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی:﴿ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّلَا لِاٰبَآىِٕهِمۡ﴾ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرنا ممنوع اور باطل ہے پھر دوسرے مرحلے میں فرمایا کہ یہ انتہائی قبیح قول ہے، فرمایا:﴿ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ﴾ پھر قباحت کے تیسرے مرتبے میں فرمایا کہ یہ محض جھوٹ ہے جو صدق کے منافی ہے۔
[6] چونکہ نبی اکرمﷺ خلائق کی ہدایت کی بے انتہا خواہش رکھتے تھے اور ان کی ہدایت کے لیے بے حد کوشاں رہتے تھے۔ آپ دین اسلام اختیار کرنے والے کے ہدایت قبول کرنے پر بہت خوش ہوتے تھے۔ تکذیب کرنے والے گمراہ لوگوں پر رحم و شفقت کی بنا پر متاسف اور غم زدہ ہوتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے رویے پر افسوس اور تاسف میں مشغول نہ ہوں جو اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا ہے:﴿ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الشعراء : 26؍3) ’’شاید آپ اسی غم میں اپنے آپ کو ہلکان کر لیں گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿ فَلَا تَذۡهَبۡ نَفۡسُكَ عَلَيۡهِمۡ حَسَرٰتٍ﴾(فاطر : 35؍8) ’’پس ان لوگوں کے غم میں آپ کی جان نہ گھلے۔‘‘ یہاں فرمایا: ﴿فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’کیا آپ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے۔‘‘ یعنی ان کے غم میں ، حالانکہ آپ کا اجروثواب تو اللہ تعالیٰ پر واجب ہو چکا ہے اگر ان لوگوں کی کوئی بھلائی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی تو وہ ضرور ان کو ہدایت سے نواز دیتا۔ مگر اسے معلوم ہے کہ یہ لوگ آگ کے سوا، کسی چیز کے قابل نہیں ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور وہ راہ راست نہ پا سکے۔ آپ کا ان کے غم اور تاسف میں اپنے آپ کو مشغول کرنا آپ کو کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات کریمہ میں عبرت ہے۔ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے پر مامور شخص پر تبلیغ دعوت، ان تمام اسباب کے حصول میں کوشاں رہنا جو ہدایت کی منزل پر پہنچاتے ہیں ، امکان بھر گمراہی کے راستوں کو مسدود کرنا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر توکل فرض ہے۔ پس اگر وہ راہ راست پر گامزن ہو جائیں تو بہتر ہے ورنہ اس کو ان کے افسوس میں گھلنا نہیں چاہیے کیونکہ یہ چیز نفس کو کمزور اور قویٰ کو منہدم کر دیتی ہے۔ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ ایسا کرنے سے وہ مقصد فوت ہو جائے گا جس پر اسے مامور کیا گیا ہے۔ تبلیغ دعوت اور کوشش کے سوا ہر چیز اس کے اختیار سے باہر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نبی اکرمﷺ سے فرماتا ہے:﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ ﴾(القصص : 28؍56) ’’آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے جسے آپ چاہتے ہیں ۔‘‘ حضرت موسیٰu نے اعتراف کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾(المائدۃ : 5؍25) ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ تو انبیائے کرام کے علاوہ دیگر لوگ بدرجہ اولیٰ کسی کو ہدایت دینے کا اختیار نہیں رکھتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌؕ۰۰لَسۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِمُصَۜيۡطِرٍ ﴾(الغاشیۃ : 88؍21، 22) ’’آپ نصیحت کیجیے۔ آپ تو صرف نصیحت کرنے والے ہیں ، آپ ان پر کوئی داروغہ مقرر نہیں ہوئے۔‘‘
18:3مَّـٰكِثِينَ فِيهِ أَبَدٗا
تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب اور نہیں رکھی اس میں کوئی کجی (1) اس حال میں کہ وہ سیدھی ہے، تاکہ ڈرائے وہ عذاب سخت سے، اس (اللہ) کی طرف سےاور (تاکہ) وہ خوشخبری دے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، بے شک ان کے لیے اجر ہے اچھا (2)اس حال میں کہ وہ رہنے والے ہوں گے اس میں ہمیشہ ہی (3)اور (تاکہ) وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنھوں نے کہا، بنائی ہے اللہ نے اولاد (4) نہیں ہے ان کو ساتھ اس (دعویٰ) کے کوئی علم اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو ، بڑی ہی خطرناک بات ہے جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے، نہیں کہتے وہ مگر جھوٹ ہی (5) پس شاید کہ آپ ہلاک کرنے والے ہیں اپنے آپ کو پیچھے ان کے، اگر نہ ایمان لائیں وہ ساتھ اس بات (قرآن) کے ، غم کے مارے (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات کے ذریعے سے، جو کہ صفت کمال ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ کی ظاہری و باطنی اور دینی و دنیاوی نعمتوں کے اظہار و اعتراف کے ذریعے سے اس کی ثنا بیان کرنا… اور علی الاطلاق اللہ تعالیٰ کی جلیل ترین نعمت اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر قرآن نازل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد بیان کی اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اس امر کی طرف راہنمائی ہے کہ وہ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کریں کہ اس نے ان کی طرف اپنا رسول بھیجا اور کتاب نازل کی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی دو خوبیاں بیان فرمائیں جو اس بات پر مشتمل ہیں کہ یہ کتاب ہر لحاظ سے کامل ہے۔ یہ دو صفات مندرجہ ذیل ہیں ۔ (۱) اس کتاب عظیم سے کجی کی نفی۔ (۲) اس بات کا اثبات کہ یہ کتاب کجی دور کرنے والی اور راہ راست پر مشتمل ہے۔ کجی کی نفی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ کتاب میں کوئی جھوٹی خبر ہو نہ اس کے اوامر ونواہی میں ظلم کا کوئی پہلو ہو اور نہ کوئی عبث بات ہو۔ استقامت کا اثبات اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ کتاب جلیل ترین امور کا حکم دیتی اور جلیل ترین خبروں سے آگاہ کرتی ہے اور یہ وہ خبریں ہیں جو قلوب انسانی کو معرفت الٰہی اور ایمان و عقل سے لبریز کر دیتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال کے بارے میں خبریں ، نیز گزرے ہوئے اور آئندہ آنے والے غیبی معاملات کی خبریں ۔ اس کتاب کی استقامت کا اثبات اس امر کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اوامر و نواہی نفوس انسانی کا تزکیہ، ان کی نشوونما اور ان کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ یہ اوامر و نواہی کامل عدل و انصاف، اخلاص اور اکیلے اللہ رب العالمین کے لیے عبودیت پر مشتمل ہیں ۔ یہ کتاب، جس کے مذکورہ بالا اوصاف بیان كيے گئے ہیں ، اس بات کی مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے نازل کرنے پر اپنی حمد بیان کرے اور اپنے بندے سے اپنی حمد و ستائش کا مطالبہ کرے۔
[2]﴿ لِّيُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِيۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡهُ﴾ ’’تاکہ وہ اپنی طرف سے ڈرائے سخت عذاب سے‘‘ یعنی اس قرآن کریم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے ہاں موجود عذاب سے ڈرائے، یعنی اس شخص کو اپنی اس قضا و قدر سے ڈرائے جو اس کے احکامات کی مخالفت کرنے والوں کے لیے ہے۔ یہ دنیاوی عذاب اور اخروی عذاب دونوں کو شامل ہے، نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو خوف دلایا ہے اوران کو ان امور سے ڈرایا ہے جو ان کے لیے نقصان اور ہلاکت کا باعث ہیں ۔ جیسا کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آگ کا وصف بیان کیا تو فرمایا:﴿ ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾(الزمر : 39؍16) ’’اللہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرو۔‘‘ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان لوگوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کر رکھی ہیں جو اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، ان سزاؤں کو ان کے سامنے بیان کر دیا اور ان اسباب کو بھی واضح کر دیا جو ان سزاؤں کے موجب ہیں۔ ﴿ وَيُبَشِّرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور خوشخبری دے مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی تاکہ اس کے ذریعے سے، نیز اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے، ان لوگوں کو خوشخبری سنائے جو اس کتاب پر ایمان لا کر اپنے ایمان کی تکمیل کرتے ہیں ۔ پس اس نے اپنے بندوں پر نیک اعمال واجب كيے اور اس سے مراد واجبات و مستحبات پر مشتمل نیک اعمال ہیں ، جن میں اخلاص اور اتباع رسول جمع ہوں ۔ ﴿ اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا حَسَنًا ﴾ ’’کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے‘‘ اس سے مراد وہ ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح پر مترتب کیا ہے۔ سب سے بڑا اور جلیل ترین ثواب، اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے تصور میں اس کا گزر ہوا ہے…اور اس اجر کو ’’حسن‘‘ کے وصف کے ساتھ موصوف کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں کسی بھی لحاظ سے کوئی تکدر نہ ہو گا۔ کیونکہ اگر اس میں کسی قسم کا تکدر پایا جائے تو یہ اجر مکمل طور پر حسن نہیں ہے۔
[3] اس کے ساتھ ساتھ کہ یہ اچھا اجر ہے۔ ﴿ مَّؔاكِثِيۡنَ فِيۡهِ اَبَدًا﴾ ’’وہ اس میں ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یہ اجروثواب کبھی ان سے زائل ہو گا نہ یہ اس سے دور كيے جائیں گے بلکہ ان کی یہ نعمتیں ہر وقت بڑھتی ہی رہیں گی۔ تبشیر کا ذکر تقاضا کرتا ہے کہ ان اعمال کا ذکر کیا جائے جو بشارت کے موجب ہیں اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم تمام اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو اس اجروثواب کا سبب ہیں جس سے نفس خوش ہوں گے اور روحوں کو فرحت حاصل ہو گی۔
[5,4]﴿ وَّيُنۡذِرَ الَّذِيۡنَ قَالُوا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا﴾ ’’اور ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے کہا اللہ اولاد رکھتا ہے‘‘ یعنی یہود و نصاریٰ اور مشرکین، جن کا یہ بدترین قول ہے اور ان کا یہ قول کسی علم و یقین پر مبنی نہیں ہے۔ وہ اس کے بارے میں خود کوئی علم رکھتے ہیں نہ ان کے آباء و اجداد کے پاس کوئی علم تھا جن کی یہ تقلید کرتے ہیں بلکہ یہ تو محض ظن و گمان اور خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں ۔ ﴿ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’بڑی ہے بات جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے‘‘ یعنی ان کی اس بات کی قباحت بہت زیادہ اور اس کی سزا بہت سخت ہے اور اس شخص کے اس قول کی قباحت سے بڑھ کر اور کون سی قباحت ہو سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹا منسوب کرتا ہے حالانکہ یہ نسبت اس کی ذات میں نقص اور خصائص ربوبیت و الوہیت میں غیر اللہ کی شراکت اور اس پر بہتان طرازی کی مقتضی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾(الانعام: 6؍21) ’’اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ اِنۡ يَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا كَذِبًا﴾ ’’یہ لوگ محض جھوٹ بولتے ہیں ‘‘ جس میں صداقت کا ذرہ بھر شائبہ نہیں ۔ غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح بتدریج ان کے قول کا ابطال کیا ہے اور کم تر باطل چیز سے زیادہ باطل چیز کی طرف انتقال کیا ہے، چنانچہ پہلے مرحلے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی:﴿ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّلَا لِاٰبَآىِٕهِمۡ﴾ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرنا ممنوع اور باطل ہے پھر دوسرے مرحلے میں فرمایا کہ یہ انتہائی قبیح قول ہے، فرمایا:﴿ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ﴾ پھر قباحت کے تیسرے مرتبے میں فرمایا کہ یہ محض جھوٹ ہے جو صدق کے منافی ہے۔
[6] چونکہ نبی اکرمﷺ خلائق کی ہدایت کی بے انتہا خواہش رکھتے تھے اور ان کی ہدایت کے لیے بے حد کوشاں رہتے تھے۔ آپ دین اسلام اختیار کرنے والے کے ہدایت قبول کرنے پر بہت خوش ہوتے تھے۔ تکذیب کرنے والے گمراہ لوگوں پر رحم و شفقت کی بنا پر متاسف اور غم زدہ ہوتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے رویے پر افسوس اور تاسف میں مشغول نہ ہوں جو اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا ہے:﴿ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الشعراء : 26؍3) ’’شاید آپ اسی غم میں اپنے آپ کو ہلکان کر لیں گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿ فَلَا تَذۡهَبۡ نَفۡسُكَ عَلَيۡهِمۡ حَسَرٰتٍ﴾(فاطر : 35؍8) ’’پس ان لوگوں کے غم میں آپ کی جان نہ گھلے۔‘‘ یہاں فرمایا: ﴿فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’کیا آپ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے۔‘‘ یعنی ان کے غم میں ، حالانکہ آپ کا اجروثواب تو اللہ تعالیٰ پر واجب ہو چکا ہے اگر ان لوگوں کی کوئی بھلائی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی تو وہ ضرور ان کو ہدایت سے نواز دیتا۔ مگر اسے معلوم ہے کہ یہ لوگ آگ کے سوا، کسی چیز کے قابل نہیں ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور وہ راہ راست نہ پا سکے۔ آپ کا ان کے غم اور تاسف میں اپنے آپ کو مشغول کرنا آپ کو کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات کریمہ میں عبرت ہے۔ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے پر مامور شخص پر تبلیغ دعوت، ان تمام اسباب کے حصول میں کوشاں رہنا جو ہدایت کی منزل پر پہنچاتے ہیں ، امکان بھر گمراہی کے راستوں کو مسدود کرنا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر توکل فرض ہے۔ پس اگر وہ راہ راست پر گامزن ہو جائیں تو بہتر ہے ورنہ اس کو ان کے افسوس میں گھلنا نہیں چاہیے کیونکہ یہ چیز نفس کو کمزور اور قویٰ کو منہدم کر دیتی ہے۔ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ ایسا کرنے سے وہ مقصد فوت ہو جائے گا جس پر اسے مامور کیا گیا ہے۔ تبلیغ دعوت اور کوشش کے سوا ہر چیز اس کے اختیار سے باہر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نبی اکرمﷺ سے فرماتا ہے:﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ ﴾(القصص : 28؍56) ’’آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے جسے آپ چاہتے ہیں ۔‘‘ حضرت موسیٰu نے اعتراف کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾(المائدۃ : 5؍25) ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ تو انبیائے کرام کے علاوہ دیگر لوگ بدرجہ اولیٰ کسی کو ہدایت دینے کا اختیار نہیں رکھتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌؕ۰۰لَسۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِمُصَۜيۡطِرٍ ﴾(الغاشیۃ : 88؍21، 22) ’’آپ نصیحت کیجیے۔ آپ تو صرف نصیحت کرنے والے ہیں ، آپ ان پر کوئی داروغہ مقرر نہیں ہوئے۔‘‘
18:4وَيُنذِرَ ٱلَّذِينَ قَالُواْ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَدٗا
تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب اور نہیں رکھی اس میں کوئی کجی (1) اس حال میں کہ وہ سیدھی ہے، تاکہ ڈرائے وہ عذاب سخت سے، اس (اللہ) کی طرف سےاور (تاکہ) وہ خوشخبری دے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، بے شک ان کے لیے اجر ہے اچھا (2)اس حال میں کہ وہ رہنے والے ہوں گے اس میں ہمیشہ ہی (3)اور (تاکہ) وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنھوں نے کہا، بنائی ہے اللہ نے اولاد (4) نہیں ہے ان کو ساتھ اس (دعویٰ) کے کوئی علم اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو ، بڑی ہی خطرناک بات ہے جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے، نہیں کہتے وہ مگر جھوٹ ہی (5) پس شاید کہ آپ ہلاک کرنے والے ہیں اپنے آپ کو پیچھے ان کے، اگر نہ ایمان لائیں وہ ساتھ اس بات (قرآن) کے ، غم کے مارے (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات کے ذریعے سے، جو کہ صفت کمال ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ کی ظاہری و باطنی اور دینی و دنیاوی نعمتوں کے اظہار و اعتراف کے ذریعے سے اس کی ثنا بیان کرنا… اور علی الاطلاق اللہ تعالیٰ کی جلیل ترین نعمت اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر قرآن نازل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد بیان کی اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اس امر کی طرف راہنمائی ہے کہ وہ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کریں کہ اس نے ان کی طرف اپنا رسول بھیجا اور کتاب نازل کی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی دو خوبیاں بیان فرمائیں جو اس بات پر مشتمل ہیں کہ یہ کتاب ہر لحاظ سے کامل ہے۔ یہ دو صفات مندرجہ ذیل ہیں ۔ (۱) اس کتاب عظیم سے کجی کی نفی۔ (۲) اس بات کا اثبات کہ یہ کتاب کجی دور کرنے والی اور راہ راست پر مشتمل ہے۔ کجی کی نفی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ کتاب میں کوئی جھوٹی خبر ہو نہ اس کے اوامر ونواہی میں ظلم کا کوئی پہلو ہو اور نہ کوئی عبث بات ہو۔ استقامت کا اثبات اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ کتاب جلیل ترین امور کا حکم دیتی اور جلیل ترین خبروں سے آگاہ کرتی ہے اور یہ وہ خبریں ہیں جو قلوب انسانی کو معرفت الٰہی اور ایمان و عقل سے لبریز کر دیتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال کے بارے میں خبریں ، نیز گزرے ہوئے اور آئندہ آنے والے غیبی معاملات کی خبریں ۔ اس کتاب کی استقامت کا اثبات اس امر کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اوامر و نواہی نفوس انسانی کا تزکیہ، ان کی نشوونما اور ان کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ یہ اوامر و نواہی کامل عدل و انصاف، اخلاص اور اکیلے اللہ رب العالمین کے لیے عبودیت پر مشتمل ہیں ۔ یہ کتاب، جس کے مذکورہ بالا اوصاف بیان كيے گئے ہیں ، اس بات کی مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے نازل کرنے پر اپنی حمد بیان کرے اور اپنے بندے سے اپنی حمد و ستائش کا مطالبہ کرے۔
[2]﴿ لِّيُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِيۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡهُ﴾ ’’تاکہ وہ اپنی طرف سے ڈرائے سخت عذاب سے‘‘ یعنی اس قرآن کریم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے ہاں موجود عذاب سے ڈرائے، یعنی اس شخص کو اپنی اس قضا و قدر سے ڈرائے جو اس کے احکامات کی مخالفت کرنے والوں کے لیے ہے۔ یہ دنیاوی عذاب اور اخروی عذاب دونوں کو شامل ہے، نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو خوف دلایا ہے اوران کو ان امور سے ڈرایا ہے جو ان کے لیے نقصان اور ہلاکت کا باعث ہیں ۔ جیسا کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آگ کا وصف بیان کیا تو فرمایا:﴿ ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾(الزمر : 39؍16) ’’اللہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرو۔‘‘ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان لوگوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کر رکھی ہیں جو اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، ان سزاؤں کو ان کے سامنے بیان کر دیا اور ان اسباب کو بھی واضح کر دیا جو ان سزاؤں کے موجب ہیں۔ ﴿ وَيُبَشِّرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور خوشخبری دے مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی تاکہ اس کے ذریعے سے، نیز اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے، ان لوگوں کو خوشخبری سنائے جو اس کتاب پر ایمان لا کر اپنے ایمان کی تکمیل کرتے ہیں ۔ پس اس نے اپنے بندوں پر نیک اعمال واجب كيے اور اس سے مراد واجبات و مستحبات پر مشتمل نیک اعمال ہیں ، جن میں اخلاص اور اتباع رسول جمع ہوں ۔ ﴿ اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا حَسَنًا ﴾ ’’کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے‘‘ اس سے مراد وہ ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح پر مترتب کیا ہے۔ سب سے بڑا اور جلیل ترین ثواب، اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے تصور میں اس کا گزر ہوا ہے…اور اس اجر کو ’’حسن‘‘ کے وصف کے ساتھ موصوف کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں کسی بھی لحاظ سے کوئی تکدر نہ ہو گا۔ کیونکہ اگر اس میں کسی قسم کا تکدر پایا جائے تو یہ اجر مکمل طور پر حسن نہیں ہے۔
[3] اس کے ساتھ ساتھ کہ یہ اچھا اجر ہے۔ ﴿ مَّؔاكِثِيۡنَ فِيۡهِ اَبَدًا﴾ ’’وہ اس میں ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یہ اجروثواب کبھی ان سے زائل ہو گا نہ یہ اس سے دور كيے جائیں گے بلکہ ان کی یہ نعمتیں ہر وقت بڑھتی ہی رہیں گی۔ تبشیر کا ذکر تقاضا کرتا ہے کہ ان اعمال کا ذکر کیا جائے جو بشارت کے موجب ہیں اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم تمام اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو اس اجروثواب کا سبب ہیں جس سے نفس خوش ہوں گے اور روحوں کو فرحت حاصل ہو گی۔
[5,4]﴿ وَّيُنۡذِرَ الَّذِيۡنَ قَالُوا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا﴾ ’’اور ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے کہا اللہ اولاد رکھتا ہے‘‘ یعنی یہود و نصاریٰ اور مشرکین، جن کا یہ بدترین قول ہے اور ان کا یہ قول کسی علم و یقین پر مبنی نہیں ہے۔ وہ اس کے بارے میں خود کوئی علم رکھتے ہیں نہ ان کے آباء و اجداد کے پاس کوئی علم تھا جن کی یہ تقلید کرتے ہیں بلکہ یہ تو محض ظن و گمان اور خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں ۔ ﴿ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’بڑی ہے بات جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے‘‘ یعنی ان کی اس بات کی قباحت بہت زیادہ اور اس کی سزا بہت سخت ہے اور اس شخص کے اس قول کی قباحت سے بڑھ کر اور کون سی قباحت ہو سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹا منسوب کرتا ہے حالانکہ یہ نسبت اس کی ذات میں نقص اور خصائص ربوبیت و الوہیت میں غیر اللہ کی شراکت اور اس پر بہتان طرازی کی مقتضی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾(الانعام: 6؍21) ’’اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ اِنۡ يَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا كَذِبًا﴾ ’’یہ لوگ محض جھوٹ بولتے ہیں ‘‘ جس میں صداقت کا ذرہ بھر شائبہ نہیں ۔ غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح بتدریج ان کے قول کا ابطال کیا ہے اور کم تر باطل چیز سے زیادہ باطل چیز کی طرف انتقال کیا ہے، چنانچہ پہلے مرحلے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی:﴿ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّلَا لِاٰبَآىِٕهِمۡ﴾ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرنا ممنوع اور باطل ہے پھر دوسرے مرحلے میں فرمایا کہ یہ انتہائی قبیح قول ہے، فرمایا:﴿ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ﴾ پھر قباحت کے تیسرے مرتبے میں فرمایا کہ یہ محض جھوٹ ہے جو صدق کے منافی ہے۔
[6] چونکہ نبی اکرمﷺ خلائق کی ہدایت کی بے انتہا خواہش رکھتے تھے اور ان کی ہدایت کے لیے بے حد کوشاں رہتے تھے۔ آپ دین اسلام اختیار کرنے والے کے ہدایت قبول کرنے پر بہت خوش ہوتے تھے۔ تکذیب کرنے والے گمراہ لوگوں پر رحم و شفقت کی بنا پر متاسف اور غم زدہ ہوتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے رویے پر افسوس اور تاسف میں مشغول نہ ہوں جو اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا ہے:﴿ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الشعراء : 26؍3) ’’شاید آپ اسی غم میں اپنے آپ کو ہلکان کر لیں گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿ فَلَا تَذۡهَبۡ نَفۡسُكَ عَلَيۡهِمۡ حَسَرٰتٍ﴾(فاطر : 35؍8) ’’پس ان لوگوں کے غم میں آپ کی جان نہ گھلے۔‘‘ یہاں فرمایا: ﴿فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’کیا آپ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے۔‘‘ یعنی ان کے غم میں ، حالانکہ آپ کا اجروثواب تو اللہ تعالیٰ پر واجب ہو چکا ہے اگر ان لوگوں کی کوئی بھلائی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی تو وہ ضرور ان کو ہدایت سے نواز دیتا۔ مگر اسے معلوم ہے کہ یہ لوگ آگ کے سوا، کسی چیز کے قابل نہیں ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور وہ راہ راست نہ پا سکے۔ آپ کا ان کے غم اور تاسف میں اپنے آپ کو مشغول کرنا آپ کو کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات کریمہ میں عبرت ہے۔ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے پر مامور شخص پر تبلیغ دعوت، ان تمام اسباب کے حصول میں کوشاں رہنا جو ہدایت کی منزل پر پہنچاتے ہیں ، امکان بھر گمراہی کے راستوں کو مسدود کرنا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر توکل فرض ہے۔ پس اگر وہ راہ راست پر گامزن ہو جائیں تو بہتر ہے ورنہ اس کو ان کے افسوس میں گھلنا نہیں چاہیے کیونکہ یہ چیز نفس کو کمزور اور قویٰ کو منہدم کر دیتی ہے۔ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ ایسا کرنے سے وہ مقصد فوت ہو جائے گا جس پر اسے مامور کیا گیا ہے۔ تبلیغ دعوت اور کوشش کے سوا ہر چیز اس کے اختیار سے باہر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نبی اکرمﷺ سے فرماتا ہے:﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ ﴾(القصص : 28؍56) ’’آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے جسے آپ چاہتے ہیں ۔‘‘ حضرت موسیٰu نے اعتراف کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾(المائدۃ : 5؍25) ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ تو انبیائے کرام کے علاوہ دیگر لوگ بدرجہ اولیٰ کسی کو ہدایت دینے کا اختیار نہیں رکھتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌؕ۰۰لَسۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِمُصَۜيۡطِرٍ ﴾(الغاشیۃ : 88؍21، 22) ’’آپ نصیحت کیجیے۔ آپ تو صرف نصیحت کرنے والے ہیں ، آپ ان پر کوئی داروغہ مقرر نہیں ہوئے۔‘‘
18:5مَّا لَهُم بِهِۦ مِنۡ عِلۡمٖ وَلَا لِأٓبَآئِهِمۡۚ كَبُرَتۡ كَلِمَةٗ تَخۡرُجُ مِنۡ أَفۡوَٰهِهِمۡۚ إِن يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبٗا
تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب اور نہیں رکھی اس میں کوئی کجی (1) اس حال میں کہ وہ سیدھی ہے، تاکہ ڈرائے وہ عذاب سخت سے، اس (اللہ) کی طرف سےاور (تاکہ) وہ خوشخبری دے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، بے شک ان کے لیے اجر ہے اچھا (2)اس حال میں کہ وہ رہنے والے ہوں گے اس میں ہمیشہ ہی (3)اور (تاکہ) وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنھوں نے کہا، بنائی ہے اللہ نے اولاد (4) نہیں ہے ان کو ساتھ اس (دعویٰ) کے کوئی علم اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو ، بڑی ہی خطرناک بات ہے جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے، نہیں کہتے وہ مگر جھوٹ ہی (5) پس شاید کہ آپ ہلاک کرنے والے ہیں اپنے آپ کو پیچھے ان کے، اگر نہ ایمان لائیں وہ ساتھ اس بات (قرآن) کے ، غم کے مارے (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات کے ذریعے سے، جو کہ صفت کمال ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ کی ظاہری و باطنی اور دینی و دنیاوی نعمتوں کے اظہار و اعتراف کے ذریعے سے اس کی ثنا بیان کرنا… اور علی الاطلاق اللہ تعالیٰ کی جلیل ترین نعمت اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر قرآن نازل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد بیان کی اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اس امر کی طرف راہنمائی ہے کہ وہ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کریں کہ اس نے ان کی طرف اپنا رسول بھیجا اور کتاب نازل کی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی دو خوبیاں بیان فرمائیں جو اس بات پر مشتمل ہیں کہ یہ کتاب ہر لحاظ سے کامل ہے۔ یہ دو صفات مندرجہ ذیل ہیں ۔ (۱) اس کتاب عظیم سے کجی کی نفی۔ (۲) اس بات کا اثبات کہ یہ کتاب کجی دور کرنے والی اور راہ راست پر مشتمل ہے۔ کجی کی نفی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ کتاب میں کوئی جھوٹی خبر ہو نہ اس کے اوامر ونواہی میں ظلم کا کوئی پہلو ہو اور نہ کوئی عبث بات ہو۔ استقامت کا اثبات اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ کتاب جلیل ترین امور کا حکم دیتی اور جلیل ترین خبروں سے آگاہ کرتی ہے اور یہ وہ خبریں ہیں جو قلوب انسانی کو معرفت الٰہی اور ایمان و عقل سے لبریز کر دیتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال کے بارے میں خبریں ، نیز گزرے ہوئے اور آئندہ آنے والے غیبی معاملات کی خبریں ۔ اس کتاب کی استقامت کا اثبات اس امر کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اوامر و نواہی نفوس انسانی کا تزکیہ، ان کی نشوونما اور ان کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ یہ اوامر و نواہی کامل عدل و انصاف، اخلاص اور اکیلے اللہ رب العالمین کے لیے عبودیت پر مشتمل ہیں ۔ یہ کتاب، جس کے مذکورہ بالا اوصاف بیان كيے گئے ہیں ، اس بات کی مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے نازل کرنے پر اپنی حمد بیان کرے اور اپنے بندے سے اپنی حمد و ستائش کا مطالبہ کرے۔
[2]﴿ لِّيُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِيۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡهُ﴾ ’’تاکہ وہ اپنی طرف سے ڈرائے سخت عذاب سے‘‘ یعنی اس قرآن کریم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے ہاں موجود عذاب سے ڈرائے، یعنی اس شخص کو اپنی اس قضا و قدر سے ڈرائے جو اس کے احکامات کی مخالفت کرنے والوں کے لیے ہے۔ یہ دنیاوی عذاب اور اخروی عذاب دونوں کو شامل ہے، نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو خوف دلایا ہے اوران کو ان امور سے ڈرایا ہے جو ان کے لیے نقصان اور ہلاکت کا باعث ہیں ۔ جیسا کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آگ کا وصف بیان کیا تو فرمایا:﴿ ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾(الزمر : 39؍16) ’’اللہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرو۔‘‘ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان لوگوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کر رکھی ہیں جو اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، ان سزاؤں کو ان کے سامنے بیان کر دیا اور ان اسباب کو بھی واضح کر دیا جو ان سزاؤں کے موجب ہیں۔ ﴿ وَيُبَشِّرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور خوشخبری دے مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی تاکہ اس کے ذریعے سے، نیز اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے، ان لوگوں کو خوشخبری سنائے جو اس کتاب پر ایمان لا کر اپنے ایمان کی تکمیل کرتے ہیں ۔ پس اس نے اپنے بندوں پر نیک اعمال واجب كيے اور اس سے مراد واجبات و مستحبات پر مشتمل نیک اعمال ہیں ، جن میں اخلاص اور اتباع رسول جمع ہوں ۔ ﴿ اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا حَسَنًا ﴾ ’’کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے‘‘ اس سے مراد وہ ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح پر مترتب کیا ہے۔ سب سے بڑا اور جلیل ترین ثواب، اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے تصور میں اس کا گزر ہوا ہے…اور اس اجر کو ’’حسن‘‘ کے وصف کے ساتھ موصوف کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں کسی بھی لحاظ سے کوئی تکدر نہ ہو گا۔ کیونکہ اگر اس میں کسی قسم کا تکدر پایا جائے تو یہ اجر مکمل طور پر حسن نہیں ہے۔
[3] اس کے ساتھ ساتھ کہ یہ اچھا اجر ہے۔ ﴿ مَّؔاكِثِيۡنَ فِيۡهِ اَبَدًا﴾ ’’وہ اس میں ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یہ اجروثواب کبھی ان سے زائل ہو گا نہ یہ اس سے دور كيے جائیں گے بلکہ ان کی یہ نعمتیں ہر وقت بڑھتی ہی رہیں گی۔ تبشیر کا ذکر تقاضا کرتا ہے کہ ان اعمال کا ذکر کیا جائے جو بشارت کے موجب ہیں اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم تمام اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو اس اجروثواب کا سبب ہیں جس سے نفس خوش ہوں گے اور روحوں کو فرحت حاصل ہو گی۔
[5,4]﴿ وَّيُنۡذِرَ الَّذِيۡنَ قَالُوا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا﴾ ’’اور ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے کہا اللہ اولاد رکھتا ہے‘‘ یعنی یہود و نصاریٰ اور مشرکین، جن کا یہ بدترین قول ہے اور ان کا یہ قول کسی علم و یقین پر مبنی نہیں ہے۔ وہ اس کے بارے میں خود کوئی علم رکھتے ہیں نہ ان کے آباء و اجداد کے پاس کوئی علم تھا جن کی یہ تقلید کرتے ہیں بلکہ یہ تو محض ظن و گمان اور خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں ۔ ﴿ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’بڑی ہے بات جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے‘‘ یعنی ان کی اس بات کی قباحت بہت زیادہ اور اس کی سزا بہت سخت ہے اور اس شخص کے اس قول کی قباحت سے بڑھ کر اور کون سی قباحت ہو سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹا منسوب کرتا ہے حالانکہ یہ نسبت اس کی ذات میں نقص اور خصائص ربوبیت و الوہیت میں غیر اللہ کی شراکت اور اس پر بہتان طرازی کی مقتضی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾(الانعام: 6؍21) ’’اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ اِنۡ يَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا كَذِبًا﴾ ’’یہ لوگ محض جھوٹ بولتے ہیں ‘‘ جس میں صداقت کا ذرہ بھر شائبہ نہیں ۔ غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح بتدریج ان کے قول کا ابطال کیا ہے اور کم تر باطل چیز سے زیادہ باطل چیز کی طرف انتقال کیا ہے، چنانچہ پہلے مرحلے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی:﴿ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّلَا لِاٰبَآىِٕهِمۡ﴾ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرنا ممنوع اور باطل ہے پھر دوسرے مرحلے میں فرمایا کہ یہ انتہائی قبیح قول ہے، فرمایا:﴿ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ﴾ پھر قباحت کے تیسرے مرتبے میں فرمایا کہ یہ محض جھوٹ ہے جو صدق کے منافی ہے۔
[6] چونکہ نبی اکرمﷺ خلائق کی ہدایت کی بے انتہا خواہش رکھتے تھے اور ان کی ہدایت کے لیے بے حد کوشاں رہتے تھے۔ آپ دین اسلام اختیار کرنے والے کے ہدایت قبول کرنے پر بہت خوش ہوتے تھے۔ تکذیب کرنے والے گمراہ لوگوں پر رحم و شفقت کی بنا پر متاسف اور غم زدہ ہوتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے رویے پر افسوس اور تاسف میں مشغول نہ ہوں جو اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا ہے:﴿ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الشعراء : 26؍3) ’’شاید آپ اسی غم میں اپنے آپ کو ہلکان کر لیں گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿ فَلَا تَذۡهَبۡ نَفۡسُكَ عَلَيۡهِمۡ حَسَرٰتٍ﴾(فاطر : 35؍8) ’’پس ان لوگوں کے غم میں آپ کی جان نہ گھلے۔‘‘ یہاں فرمایا: ﴿فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’کیا آپ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے۔‘‘ یعنی ان کے غم میں ، حالانکہ آپ کا اجروثواب تو اللہ تعالیٰ پر واجب ہو چکا ہے اگر ان لوگوں کی کوئی بھلائی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی تو وہ ضرور ان کو ہدایت سے نواز دیتا۔ مگر اسے معلوم ہے کہ یہ لوگ آگ کے سوا، کسی چیز کے قابل نہیں ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور وہ راہ راست نہ پا سکے۔ آپ کا ان کے غم اور تاسف میں اپنے آپ کو مشغول کرنا آپ کو کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات کریمہ میں عبرت ہے۔ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے پر مامور شخص پر تبلیغ دعوت، ان تمام اسباب کے حصول میں کوشاں رہنا جو ہدایت کی منزل پر پہنچاتے ہیں ، امکان بھر گمراہی کے راستوں کو مسدود کرنا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر توکل فرض ہے۔ پس اگر وہ راہ راست پر گامزن ہو جائیں تو بہتر ہے ورنہ اس کو ان کے افسوس میں گھلنا نہیں چاہیے کیونکہ یہ چیز نفس کو کمزور اور قویٰ کو منہدم کر دیتی ہے۔ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ ایسا کرنے سے وہ مقصد فوت ہو جائے گا جس پر اسے مامور کیا گیا ہے۔ تبلیغ دعوت اور کوشش کے سوا ہر چیز اس کے اختیار سے باہر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نبی اکرمﷺ سے فرماتا ہے:﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ ﴾(القصص : 28؍56) ’’آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے جسے آپ چاہتے ہیں ۔‘‘ حضرت موسیٰu نے اعتراف کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾(المائدۃ : 5؍25) ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ تو انبیائے کرام کے علاوہ دیگر لوگ بدرجہ اولیٰ کسی کو ہدایت دینے کا اختیار نہیں رکھتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌؕ۰۰لَسۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِمُصَۜيۡطِرٍ ﴾(الغاشیۃ : 88؍21، 22) ’’آپ نصیحت کیجیے۔ آپ تو صرف نصیحت کرنے والے ہیں ، آپ ان پر کوئی داروغہ مقرر نہیں ہوئے۔‘‘
18:6فَلَعَلَّكَ بَٰخِعٞ نَّفۡسَكَ عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِمۡ إِن لَّمۡ يُؤۡمِنُواْ بِهَٰذَا ٱلۡحَدِيثِ أَسَفًا
تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے نازل کی اپنے بندے پر کتاب اور نہیں رکھی اس میں کوئی کجی (1) اس حال میں کہ وہ سیدھی ہے، تاکہ ڈرائے وہ عذاب سخت سے، اس (اللہ) کی طرف سےاور (تاکہ) وہ خوشخبری دے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، بے شک ان کے لیے اجر ہے اچھا (2)اس حال میں کہ وہ رہنے والے ہوں گے اس میں ہمیشہ ہی (3)اور (تاکہ) وہ ڈرائے ان لوگوں کو جنھوں نے کہا، بنائی ہے اللہ نے اولاد (4) نہیں ہے ان کو ساتھ اس (دعویٰ) کے کوئی علم اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو ، بڑی ہی خطرناک بات ہے جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے، نہیں کہتے وہ مگر جھوٹ ہی (5) پس شاید کہ آپ ہلاک کرنے والے ہیں اپنے آپ کو پیچھے ان کے، اگر نہ ایمان لائیں وہ ساتھ اس بات (قرآن) کے ، غم کے مارے (6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات کے ذریعے سے، جو کہ صفت کمال ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ کی ظاہری و باطنی اور دینی و دنیاوی نعمتوں کے اظہار و اعتراف کے ذریعے سے اس کی ثنا بیان کرنا… اور علی الاطلاق اللہ تعالیٰ کی جلیل ترین نعمت اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر قرآن نازل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حمد بیان کی اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اس امر کی طرف راہنمائی ہے کہ وہ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کریں کہ اس نے ان کی طرف اپنا رسول بھیجا اور کتاب نازل کی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی دو خوبیاں بیان فرمائیں جو اس بات پر مشتمل ہیں کہ یہ کتاب ہر لحاظ سے کامل ہے۔ یہ دو صفات مندرجہ ذیل ہیں ۔ (۱) اس کتاب عظیم سے کجی کی نفی۔ (۲) اس بات کا اثبات کہ یہ کتاب کجی دور کرنے والی اور راہ راست پر مشتمل ہے۔ کجی کی نفی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ کتاب میں کوئی جھوٹی خبر ہو نہ اس کے اوامر ونواہی میں ظلم کا کوئی پہلو ہو اور نہ کوئی عبث بات ہو۔ استقامت کا اثبات اس بات کا مقتضی ہے کہ یہ کتاب جلیل ترین امور کا حکم دیتی اور جلیل ترین خبروں سے آگاہ کرتی ہے اور یہ وہ خبریں ہیں جو قلوب انسانی کو معرفت الٰہی اور ایمان و عقل سے لبریز کر دیتی ہیں ، مثلاً:اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اس کے افعال کے بارے میں خبریں ، نیز گزرے ہوئے اور آئندہ آنے والے غیبی معاملات کی خبریں ۔ اس کتاب کی استقامت کا اثبات اس امر کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اوامر و نواہی نفوس انسانی کا تزکیہ، ان کی نشوونما اور ان کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ یہ اوامر و نواہی کامل عدل و انصاف، اخلاص اور اکیلے اللہ رب العالمین کے لیے عبودیت پر مشتمل ہیں ۔ یہ کتاب، جس کے مذکورہ بالا اوصاف بیان كيے گئے ہیں ، اس بات کی مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے نازل کرنے پر اپنی حمد بیان کرے اور اپنے بندے سے اپنی حمد و ستائش کا مطالبہ کرے۔
[2]﴿ لِّيُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِيۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡهُ﴾ ’’تاکہ وہ اپنی طرف سے ڈرائے سخت عذاب سے‘‘ یعنی اس قرآن کریم کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے ہاں موجود عذاب سے ڈرائے، یعنی اس شخص کو اپنی اس قضا و قدر سے ڈرائے جو اس کے احکامات کی مخالفت کرنے والوں کے لیے ہے۔ یہ دنیاوی عذاب اور اخروی عذاب دونوں کو شامل ہے، نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو خوف دلایا ہے اوران کو ان امور سے ڈرایا ہے جو ان کے لیے نقصان اور ہلاکت کا باعث ہیں ۔ جیسا کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں آگ کا وصف بیان کیا تو فرمایا:﴿ ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾(الزمر : 39؍16) ’’اللہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو! پس مجھ سے ڈرو۔‘‘ پس یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان لوگوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کر رکھی ہیں جو اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، ان سزاؤں کو ان کے سامنے بیان کر دیا اور ان اسباب کو بھی واضح کر دیا جو ان سزاؤں کے موجب ہیں۔ ﴿ وَيُبَشِّرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور خوشخبری دے مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی تاکہ اس کے ذریعے سے، نیز اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے، ان لوگوں کو خوشخبری سنائے جو اس کتاب پر ایمان لا کر اپنے ایمان کی تکمیل کرتے ہیں ۔ پس اس نے اپنے بندوں پر نیک اعمال واجب كيے اور اس سے مراد واجبات و مستحبات پر مشتمل نیک اعمال ہیں ، جن میں اخلاص اور اتباع رسول جمع ہوں ۔ ﴿ اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا حَسَنًا ﴾ ’’کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے‘‘ اس سے مراد وہ ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح پر مترتب کیا ہے۔ سب سے بڑا اور جلیل ترین ثواب، اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے تصور میں اس کا گزر ہوا ہے…اور اس اجر کو ’’حسن‘‘ کے وصف کے ساتھ موصوف کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جنت میں کسی بھی لحاظ سے کوئی تکدر نہ ہو گا۔ کیونکہ اگر اس میں کسی قسم کا تکدر پایا جائے تو یہ اجر مکمل طور پر حسن نہیں ہے۔
[3] اس کے ساتھ ساتھ کہ یہ اچھا اجر ہے۔ ﴿ مَّؔاكِثِيۡنَ فِيۡهِ اَبَدًا﴾ ’’وہ اس میں ابد الآباد تک رہیں گے۔‘‘ یہ اجروثواب کبھی ان سے زائل ہو گا نہ یہ اس سے دور كيے جائیں گے بلکہ ان کی یہ نعمتیں ہر وقت بڑھتی ہی رہیں گی۔ تبشیر کا ذکر تقاضا کرتا ہے کہ ان اعمال کا ذکر کیا جائے جو بشارت کے موجب ہیں اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم تمام اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو اس اجروثواب کا سبب ہیں جس سے نفس خوش ہوں گے اور روحوں کو فرحت حاصل ہو گی۔
[5,4]﴿ وَّيُنۡذِرَ الَّذِيۡنَ قَالُوا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا﴾ ’’اور ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے کہا اللہ اولاد رکھتا ہے‘‘ یعنی یہود و نصاریٰ اور مشرکین، جن کا یہ بدترین قول ہے اور ان کا یہ قول کسی علم و یقین پر مبنی نہیں ہے۔ وہ اس کے بارے میں خود کوئی علم رکھتے ہیں نہ ان کے آباء و اجداد کے پاس کوئی علم تھا جن کی یہ تقلید کرتے ہیں بلکہ یہ تو محض ظن و گمان اور خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں ۔ ﴿ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’بڑی ہے بات جو نکلتی ہے ان کے مونہوں سے‘‘ یعنی ان کی اس بات کی قباحت بہت زیادہ اور اس کی سزا بہت سخت ہے اور اس شخص کے اس قول کی قباحت سے بڑھ کر اور کون سی قباحت ہو سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹا منسوب کرتا ہے حالانکہ یہ نسبت اس کی ذات میں نقص اور خصائص ربوبیت و الوہیت میں غیر اللہ کی شراکت اور اس پر بہتان طرازی کی مقتضی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾(الانعام: 6؍21) ’’اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا: ﴿ اِنۡ يَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا كَذِبًا﴾ ’’یہ لوگ محض جھوٹ بولتے ہیں ‘‘ جس میں صداقت کا ذرہ بھر شائبہ نہیں ۔ غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح بتدریج ان کے قول کا ابطال کیا ہے اور کم تر باطل چیز سے زیادہ باطل چیز کی طرف انتقال کیا ہے، چنانچہ پہلے مرحلے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی:﴿ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ وَّلَا لِاٰبَآىِٕهِمۡ﴾ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرنا ممنوع اور باطل ہے پھر دوسرے مرحلے میں فرمایا کہ یہ انتہائی قبیح قول ہے، فرمایا:﴿ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ﴾ پھر قباحت کے تیسرے مرتبے میں فرمایا کہ یہ محض جھوٹ ہے جو صدق کے منافی ہے۔
[6] چونکہ نبی اکرمﷺ خلائق کی ہدایت کی بے انتہا خواہش رکھتے تھے اور ان کی ہدایت کے لیے بے حد کوشاں رہتے تھے۔ آپ دین اسلام اختیار کرنے والے کے ہدایت قبول کرنے پر بہت خوش ہوتے تھے۔ تکذیب کرنے والے گمراہ لوگوں پر رحم و شفقت کی بنا پر متاسف اور غم زدہ ہوتے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے رویے پر افسوس اور تاسف میں مشغول نہ ہوں جو اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا ہے:﴿ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الشعراء : 26؍3) ’’شاید آپ اسی غم میں اپنے آپ کو ہلکان کر لیں گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿ فَلَا تَذۡهَبۡ نَفۡسُكَ عَلَيۡهِمۡ حَسَرٰتٍ﴾(فاطر : 35؍8) ’’پس ان لوگوں کے غم میں آپ کی جان نہ گھلے۔‘‘ یہاں فرمایا: ﴿فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفۡسَكَ ﴾ ’’کیا آپ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے۔‘‘ یعنی ان کے غم میں ، حالانکہ آپ کا اجروثواب تو اللہ تعالیٰ پر واجب ہو چکا ہے اگر ان لوگوں کی کوئی بھلائی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی تو وہ ضرور ان کو ہدایت سے نواز دیتا۔ مگر اسے معلوم ہے کہ یہ لوگ آگ کے سوا، کسی چیز کے قابل نہیں ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور وہ راہ راست نہ پا سکے۔ آپ کا ان کے غم اور تاسف میں اپنے آپ کو مشغول کرنا آپ کو کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات کریمہ میں عبرت ہے۔ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے پر مامور شخص پر تبلیغ دعوت، ان تمام اسباب کے حصول میں کوشاں رہنا جو ہدایت کی منزل پر پہنچاتے ہیں ، امکان بھر گمراہی کے راستوں کو مسدود کرنا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر توکل فرض ہے۔ پس اگر وہ راہ راست پر گامزن ہو جائیں تو بہتر ہے ورنہ اس کو ان کے افسوس میں گھلنا نہیں چاہیے کیونکہ یہ چیز نفس کو کمزور اور قویٰ کو منہدم کر دیتی ہے۔ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ ایسا کرنے سے وہ مقصد فوت ہو جائے گا جس پر اسے مامور کیا گیا ہے۔ تبلیغ دعوت اور کوشش کے سوا ہر چیز اس کے اختیار سے باہر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نبی اکرمﷺ سے فرماتا ہے:﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ ﴾(القصص : 28؍56) ’’آپ اسے ہدایت نہیں دے سکتے جسے آپ چاہتے ہیں ۔‘‘ حضرت موسیٰu نے اعتراف کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾(المائدۃ : 5؍25) ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ تو انبیائے کرام کے علاوہ دیگر لوگ بدرجہ اولیٰ کسی کو ہدایت دینے کا اختیار نہیں رکھتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌؕ۰۰لَسۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِمُصَۜيۡطِرٍ ﴾(الغاشیۃ : 88؍21، 22) ’’آپ نصیحت کیجیے۔ آپ تو صرف نصیحت کرنے والے ہیں ، آپ ان پر کوئی داروغہ مقرر نہیں ہوئے۔‘‘
18:7إِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى ٱلۡأَرۡضِ زِينَةٗ لَّهَا لِنَبۡلُوَهُمۡ أَيُّهُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلٗا
بے شک ہم نے بنایا اس کو جو کچھ اوپر زمین کے ہے زینت اس کے لیےتاکہ ہم آزمائیں انھیں کہ کون ان میں سے زیادہ اچھا ہے عمل میں (7) اور بلاشبہ ہم البتہ بنا ڈالنے والے ہیں اس کو جو کچھ اوپر اس (زمین) کے ہے صاف چٹیل میدان (8)
[7] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے روئے زمین پر پائی جانے والی ہر چیز کو، لذت بھرے ماکولات و مشروبات، خوبصورت ملبوسات، اشجار و انہار، کھیتیوں ، باغات، دلفریب مناظر، خوش منظر باغیچوں ، سحر انگیز آوازوں ، خوبصورت چہروں ، سونے چاندی، اونٹوں اور گھروں ، ان سب کو دنیا کی زینت، فتنہ اور آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ ﴿ لِنَبۡلُوَهُمۡ اَيُّهُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ ’’تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ کون ان میں اچھے عمل کرتا ہے۔‘‘ یعنی کون زیادہ خالص اور زیادہ صحیح اعمال پیش کرتا ہے ۔
[8] اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تمام چیزوں کو مضمحل ہونے والی، فانی اور زائل ہو جانے والی بنایا ہے۔ عنقریب یہ زمین بے آب و گیاہ اور بنجر ہو جائے گی، اس کی تمام لذتیں ناپید ہو جائیں گی، اس کے دریا خشک ہو جائیں گے، اس کے تمام آثار مٹ جائیں گے اور اس کی نعمتیں زائل ہو جائیں گی۔ یہ ہے اس دنیا کی حقیقت، اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو ہمارے سامنے اس طرح بیان کر دیا ہے گویا کہ ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا سے دھوکہ کھانے سے بچنے کے لیے کہا ہے اور ہمیں اس گھر کے حصول کی ترغیب دی ہے جس کی نعمتیں دائمی اور جہاں کے رہنے والے بہت خوش بخت ہیں ۔ یہ سب کچھ ہم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ جن لوگوں کا باطن گناہوں کے میل کچیل سے آلودہ ہے اور وہ دنیا کی ظاہری شکل کی طرف دیکھتے ہیں تو وہ دنیا کی زیب و زینت سے فریب کھا جاتے ہیں تب وہ دنیا میں بہائم کی طرح رہتے ہیں ، مویشیوں کی طرح اس دنیا سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، اپنے رب کے حق میں غور کرتے ہیں نہ اس کی معرفت کے حصول کا اہتمام کرتے ہیں بلکہ ان کے ارادے صرف شہوات کے حصول پر مرتکز ہوتے ہیں خواہ وہ کسی بھی طریقے سے اور کسی بھی حالت میں حاصل ہوں ۔ جب ان لوگوں کی موت کا وقت آتا ہے تو انھیں اپنی ذات کے ویران ہونے اور لذتوں کے چھوٹ جانے پر بہت قلق ہوتا ہے۔ اس قلق کا سبب یہ نہیں کہ وہ کوتاہی اور گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ اور جو اس دنیا کے باطن پر نظر ڈالتا ہے اور اسے دنیا اور خود اپنے مقاصد کا علم ہوتا ہے وہ اس دنیا سے صرف اتنا سا استفادہ کرتا ہے جس سے وہ اپنے مقاصد کے حصول میں مدد لے سکے جن کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے اور اپنی عمر میں فرصت کو غنیمت جانتا ہے وہ دنیا کو راہ گزر سمجھتا ہے، آرام کی منزل نہیں ۔ وہ اسے انتہائی دشوار اور تکلیف دہ سفر سمجھتا ہے، عیش و آرام کا گھر نہیں ۔ پس وہ اپنے رب کی معرفت کے حصول اس کے احکام کے نفاذ اور اپنے اعمال کو مقام احسان پر پہنچانے کے لیے پوری جدوجہد کرتا ہے۔ یہ شخص اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین منازل میں قیام کرے گا وہ ہر قسم کے اکرام و تکریم، نعمتوں اور مسرتوں کا مستحق ہو گا۔ جب فریب خوردہ لوگ دنیا کے ظاہر کو دیکھتے تھے تو اس شخص کی نظر دنیا کے باطن پر تھی، جب لوگ حصول دنیا کے لیے کام کرتے تھے تو یہ اپنی آخرت کے لیے کام کرتا تھا۔ دونوں فریقوں میں بہت بڑا فرق اور دونوں گروہوں کے درمیان بہت بڑا تفاوت ہے۔
18:8وَإِنَّا لَجَٰعِلُونَ مَا عَلَيۡهَا صَعِيدٗا جُرُزًا
بے شک ہم نے بنایا اس کو جو کچھ اوپر زمین کے ہے زینت اس کے لیےتاکہ ہم آزمائیں انھیں کہ کون ان میں سے زیادہ اچھا ہے عمل میں (7) اور بلاشبہ ہم البتہ بنا ڈالنے والے ہیں اس کو جو کچھ اوپر اس (زمین) کے ہے صاف چٹیل میدان (8)
[7] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے روئے زمین پر پائی جانے والی ہر چیز کو، لذت بھرے ماکولات و مشروبات، خوبصورت ملبوسات، اشجار و انہار، کھیتیوں ، باغات، دلفریب مناظر، خوش منظر باغیچوں ، سحر انگیز آوازوں ، خوبصورت چہروں ، سونے چاندی، اونٹوں اور گھروں ، ان سب کو دنیا کی زینت، فتنہ اور آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ ﴿ لِنَبۡلُوَهُمۡ اَيُّهُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ ’’تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ کون ان میں اچھے عمل کرتا ہے۔‘‘ یعنی کون زیادہ خالص اور زیادہ صحیح اعمال پیش کرتا ہے ۔
[8] اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تمام چیزوں کو مضمحل ہونے والی، فانی اور زائل ہو جانے والی بنایا ہے۔ عنقریب یہ زمین بے آب و گیاہ اور بنجر ہو جائے گی، اس کی تمام لذتیں ناپید ہو جائیں گی، اس کے دریا خشک ہو جائیں گے، اس کے تمام آثار مٹ جائیں گے اور اس کی نعمتیں زائل ہو جائیں گی۔ یہ ہے اس دنیا کی حقیقت، اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو ہمارے سامنے اس طرح بیان کر دیا ہے گویا کہ ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا سے دھوکہ کھانے سے بچنے کے لیے کہا ہے اور ہمیں اس گھر کے حصول کی ترغیب دی ہے جس کی نعمتیں دائمی اور جہاں کے رہنے والے بہت خوش بخت ہیں ۔ یہ سب کچھ ہم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ جن لوگوں کا باطن گناہوں کے میل کچیل سے آلودہ ہے اور وہ دنیا کی ظاہری شکل کی طرف دیکھتے ہیں تو وہ دنیا کی زیب و زینت سے فریب کھا جاتے ہیں تب وہ دنیا میں بہائم کی طرح رہتے ہیں ، مویشیوں کی طرح اس دنیا سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، اپنے رب کے حق میں غور کرتے ہیں نہ اس کی معرفت کے حصول کا اہتمام کرتے ہیں بلکہ ان کے ارادے صرف شہوات کے حصول پر مرتکز ہوتے ہیں خواہ وہ کسی بھی طریقے سے اور کسی بھی حالت میں حاصل ہوں ۔ جب ان لوگوں کی موت کا وقت آتا ہے تو انھیں اپنی ذات کے ویران ہونے اور لذتوں کے چھوٹ جانے پر بہت قلق ہوتا ہے۔ اس قلق کا سبب یہ نہیں کہ وہ کوتاہی اور گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ اور جو اس دنیا کے باطن پر نظر ڈالتا ہے اور اسے دنیا اور خود اپنے مقاصد کا علم ہوتا ہے وہ اس دنیا سے صرف اتنا سا استفادہ کرتا ہے جس سے وہ اپنے مقاصد کے حصول میں مدد لے سکے جن کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے اور اپنی عمر میں فرصت کو غنیمت جانتا ہے وہ دنیا کو راہ گزر سمجھتا ہے، آرام کی منزل نہیں ۔ وہ اسے انتہائی دشوار اور تکلیف دہ سفر سمجھتا ہے، عیش و آرام کا گھر نہیں ۔ پس وہ اپنے رب کی معرفت کے حصول اس کے احکام کے نفاذ اور اپنے اعمال کو مقام احسان پر پہنچانے کے لیے پوری جدوجہد کرتا ہے۔ یہ شخص اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین منازل میں قیام کرے گا وہ ہر قسم کے اکرام و تکریم، نعمتوں اور مسرتوں کا مستحق ہو گا۔ جب فریب خوردہ لوگ دنیا کے ظاہر کو دیکھتے تھے تو اس شخص کی نظر دنیا کے باطن پر تھی، جب لوگ حصول دنیا کے لیے کام کرتے تھے تو یہ اپنی آخرت کے لیے کام کرتا تھا۔ دونوں فریقوں میں بہت بڑا فرق اور دونوں گروہوں کے درمیان بہت بڑا تفاوت ہے۔
18:9أَمۡ حَسِبۡتَ أَنَّ أَصۡحَٰبَ ٱلۡكَهۡفِ وَٱلرَّقِيمِ كَانُواْ مِنۡ ءَايَٰتِنَا عَجَبًا
کیا خیال کیا ہے آپ نے کہ بلاشبہ غار اور رقیم والے، تھے وہ ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب (نشانی)؟ (9)جب پناہ لی ان نوجوانوں نے غار کی طرف تو انھوں نے کہا، ہمارے رب! تو دے ہمیں اپنی طرف سے رحمت اورآسان کر دے ہمارے لیے ہمارے کام میں بھلائی کا راستہ (10) پس ڈال دیا ہم نے ان کے کانوں پر (پردہ)، غار میں کئی سال تک گنتی کے (11) پھر اٹھایا ہم نے ان کو تاکہ جان لیں ہم کہ کون دو گروہوں میں سے زیادہ یاد رکھنے والا ہے، اس کو کہ ٹھہرے رہے وہ اس مدت تک (12)
[9] یہ استفہام، نفی اور نہی کے معنیٰ میں ہے، یعنی اصحاب کہف کے قصہ اور ان کے واقعات کو اللہ تعالیٰ کی آیات کے سامنے انہونی بات، اس کی حکمت میں انوکھا واقعہ نہ سمجھو اور نہ یہ سمجھو کہ اس کی کوئی نظیر نہیں اور اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار تعجب خیز معجزات ہیں جو اصحاب کہف کے معجزے کی جنس میں سے ہیں یا اس سے بھی بڑے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے بندوں کو آفاق اور ان کے نفوس میں اپنی نشانیاں دکھاتا رہا ہے جن سے حق و باطل اور ہدایت و ضلالت واضح ہوتے ہیں ۔ نفی سے مراد یہ نہیں کہ اصحاب کہف کا قصہ عجائبات میں سے نہیں بلکہ یہ قصہ تو اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ہے اور اس سے صرف یہ مراد ہے کہ اس جنس سے اور بہت سے معجزات ہیں ، اس لیے صرف اس ایک معجزے پر تعجب کے ساتھ ٹھہر جانا علم و عقل میں نقص ہے۔ بندۂ مومن کا وظیفہ تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان تمام آیات میں غور و فکر کرے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کیونکہ غور و فکر ایمان کی کلید اور علم و ایقان کا راستہ ہے۔ اصحاب کہف کو (الکہف) اور (الرقیم) کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ کہف سے مراد پہاڑ کے اندر ایک غار ہے اور رقیم سے مراد کتبہ ہے جس پر اصحاب کہف کے نام اور ان کا واقعہ درج تھا کہ وہ طویل زمانے تک اس غار میں پڑے رہے ہیں ۔
[10] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ نہایت مجمل طور پرذکر کیااور پھر اس کی تفصیل بیان کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ اَوَى الۡفِتۡيَةُ اِلَى الۡكَهۡفِ ﴾ ’’جب جا بیٹھے وہ نوجو ان غار میں ‘‘ اور یہ نوجوان اس غار میں پناہ گزین ہو کر اپنی قوم کی تعذیب اور فتنے سے بچنا چاہتے تھے۔ ﴿ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے‘‘ یعنی اپنی رحمت کے ذریعے سے ہمیں ثابت قدمی عطا کر، شر سے محفوظ رکھ اور ہمیں نیکی کی توفیق دے۔ ﴿ وَّهَيِّئۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا ﴾ ’’اور ہمارے کام میں درستی پیدا کر۔‘‘ یعنی رشد و ہدایت تک پہنچانے والا ہر راستہ ہمارے لیے آسان فرما دے اور ہمارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کر۔ پس وہ کوشش کے ساتھ اپنی قوم کی تعذیب اور فتنہ سے فرار ہو کر ایسے محل و مقام کی طرف بھاگے جہاں ان کے لیے چھپنا ممکن تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ اور اپنے نفس اور مخلوق پر بھروسہ كيے بغیر، اپنے معاملات میں اللہ تعالیٰ سے آسانی کا سوال کرتے رہے۔
[11] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ان کے لیے ایک ایسا امر مقررکر دیا جو ان کے گمان میں بھی نہ تھا۔ فرمایا: ﴿ فَضَرَبۡنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمۡ فِي الۡكَهۡفِ ﴾ ’’پس تھپک دیے ہم نے ان کے کان اس غار میں ‘‘ یعنی ہم نے انھیں سلا دیا ﴿ سِنِيۡنَ عَدَدًا﴾ ’’چند سال گنتی کے‘‘ اور یہ تین سو نو سال کا عرصہ ہے۔ اس نیند میں ان کے دلوں کے لیے اضطراب اور خوف سے اور ان کی قوم سے حفاظت تھی۔
[12]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنٰهُمۡ ﴾ ’’پھر ہم نے ان کو اٹھایا‘‘ یعنی پھر ہم نے ان کو ان کی نیند سے بیدار کیا ﴿ لِنَعۡلَمَ اَيُّ الۡحِزۡبَيۡنِ اَحۡصٰؔى لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا ﴾ ’’تاکہ ہم جانیں کہ دونوں گروہوں میں سے کس نے یاد رکھی ہے وہ مدت، جس میں وہ ٹھہرے رہے‘‘ یعنی تاکہ ہم دیکھیں کہ ان میں سے اپنی مدت کی مقدار کو کون ٹھیک طرح سے شمار کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَذٰلِكَ بَعَثۡنٰهُمۡ لِيَتَسَآءَلُوۡا بَيۡنَهُمۡ ﴾(الکہف : 18؍19) ’’اور اس طرح ہم نے انھیں دوبارہ اٹھایا تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں ۔‘‘ یعنی اپنے سوئے رہنے کی مدت کی مقدار، ضبط حساب اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ، اس کی حکمت اور رحمت کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں … اور اگر وہ دائمی طور پر سوئے رہتے تو ان کے واقعہ کی کسی کو کوئی اطلاع نہ ہوتی۔
18:10إِذۡ أَوَى ٱلۡفِتۡيَةُ إِلَى ٱلۡكَهۡفِ فَقَالُواْ رَبَّنَآ ءَاتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحۡمَةٗ وَهَيِّئۡ لَنَا مِنۡ أَمۡرِنَا رَشَدٗا
کیا خیال کیا ہے آپ نے کہ بلاشبہ غار اور رقیم والے، تھے وہ ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب (نشانی)؟ (9)جب پناہ لی ان نوجوانوں نے غار کی طرف تو انھوں نے کہا، ہمارے رب! تو دے ہمیں اپنی طرف سے رحمت اورآسان کر دے ہمارے لیے ہمارے کام میں بھلائی کا راستہ (10) پس ڈال دیا ہم نے ان کے کانوں پر (پردہ)، غار میں کئی سال تک گنتی کے (11) پھر اٹھایا ہم نے ان کو تاکہ جان لیں ہم کہ کون دو گروہوں میں سے زیادہ یاد رکھنے والا ہے، اس کو کہ ٹھہرے رہے وہ اس مدت تک (12)
[9] یہ استفہام، نفی اور نہی کے معنیٰ میں ہے، یعنی اصحاب کہف کے قصہ اور ان کے واقعات کو اللہ تعالیٰ کی آیات کے سامنے انہونی بات، اس کی حکمت میں انوکھا واقعہ نہ سمجھو اور نہ یہ سمجھو کہ اس کی کوئی نظیر نہیں اور اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار تعجب خیز معجزات ہیں جو اصحاب کہف کے معجزے کی جنس میں سے ہیں یا اس سے بھی بڑے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے بندوں کو آفاق اور ان کے نفوس میں اپنی نشانیاں دکھاتا رہا ہے جن سے حق و باطل اور ہدایت و ضلالت واضح ہوتے ہیں ۔ نفی سے مراد یہ نہیں کہ اصحاب کہف کا قصہ عجائبات میں سے نہیں بلکہ یہ قصہ تو اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ہے اور اس سے صرف یہ مراد ہے کہ اس جنس سے اور بہت سے معجزات ہیں ، اس لیے صرف اس ایک معجزے پر تعجب کے ساتھ ٹھہر جانا علم و عقل میں نقص ہے۔ بندۂ مومن کا وظیفہ تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان تمام آیات میں غور و فکر کرے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کیونکہ غور و فکر ایمان کی کلید اور علم و ایقان کا راستہ ہے۔ اصحاب کہف کو (الکہف) اور (الرقیم) کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ کہف سے مراد پہاڑ کے اندر ایک غار ہے اور رقیم سے مراد کتبہ ہے جس پر اصحاب کہف کے نام اور ان کا واقعہ درج تھا کہ وہ طویل زمانے تک اس غار میں پڑے رہے ہیں ۔
[10] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ نہایت مجمل طور پرذکر کیااور پھر اس کی تفصیل بیان کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ اَوَى الۡفِتۡيَةُ اِلَى الۡكَهۡفِ ﴾ ’’جب جا بیٹھے وہ نوجو ان غار میں ‘‘ اور یہ نوجوان اس غار میں پناہ گزین ہو کر اپنی قوم کی تعذیب اور فتنے سے بچنا چاہتے تھے۔ ﴿ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے‘‘ یعنی اپنی رحمت کے ذریعے سے ہمیں ثابت قدمی عطا کر، شر سے محفوظ رکھ اور ہمیں نیکی کی توفیق دے۔ ﴿ وَّهَيِّئۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا ﴾ ’’اور ہمارے کام میں درستی پیدا کر۔‘‘ یعنی رشد و ہدایت تک پہنچانے والا ہر راستہ ہمارے لیے آسان فرما دے اور ہمارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کر۔ پس وہ کوشش کے ساتھ اپنی قوم کی تعذیب اور فتنہ سے فرار ہو کر ایسے محل و مقام کی طرف بھاگے جہاں ان کے لیے چھپنا ممکن تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ اور اپنے نفس اور مخلوق پر بھروسہ كيے بغیر، اپنے معاملات میں اللہ تعالیٰ سے آسانی کا سوال کرتے رہے۔
[11] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ان کے لیے ایک ایسا امر مقررکر دیا جو ان کے گمان میں بھی نہ تھا۔ فرمایا: ﴿ فَضَرَبۡنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمۡ فِي الۡكَهۡفِ ﴾ ’’پس تھپک دیے ہم نے ان کے کان اس غار میں ‘‘ یعنی ہم نے انھیں سلا دیا ﴿ سِنِيۡنَ عَدَدًا﴾ ’’چند سال گنتی کے‘‘ اور یہ تین سو نو سال کا عرصہ ہے۔ اس نیند میں ان کے دلوں کے لیے اضطراب اور خوف سے اور ان کی قوم سے حفاظت تھی۔
[12]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنٰهُمۡ ﴾ ’’پھر ہم نے ان کو اٹھایا‘‘ یعنی پھر ہم نے ان کو ان کی نیند سے بیدار کیا ﴿ لِنَعۡلَمَ اَيُّ الۡحِزۡبَيۡنِ اَحۡصٰؔى لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا ﴾ ’’تاکہ ہم جانیں کہ دونوں گروہوں میں سے کس نے یاد رکھی ہے وہ مدت، جس میں وہ ٹھہرے رہے‘‘ یعنی تاکہ ہم دیکھیں کہ ان میں سے اپنی مدت کی مقدار کو کون ٹھیک طرح سے شمار کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَذٰلِكَ بَعَثۡنٰهُمۡ لِيَتَسَآءَلُوۡا بَيۡنَهُمۡ ﴾(الکہف : 18؍19) ’’اور اس طرح ہم نے انھیں دوبارہ اٹھایا تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں ۔‘‘ یعنی اپنے سوئے رہنے کی مدت کی مقدار، ضبط حساب اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ، اس کی حکمت اور رحمت کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں … اور اگر وہ دائمی طور پر سوئے رہتے تو ان کے واقعہ کی کسی کو کوئی اطلاع نہ ہوتی۔
18:11فَضَرَبۡنَا عَلَىٰٓ ءَاذَانِهِمۡ فِي ٱلۡكَهۡفِ سِنِينَ عَدَدٗا
کیا خیال کیا ہے آپ نے کہ بلاشبہ غار اور رقیم والے، تھے وہ ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب (نشانی)؟ (9)جب پناہ لی ان نوجوانوں نے غار کی طرف تو انھوں نے کہا، ہمارے رب! تو دے ہمیں اپنی طرف سے رحمت اورآسان کر دے ہمارے لیے ہمارے کام میں بھلائی کا راستہ (10) پس ڈال دیا ہم نے ان کے کانوں پر (پردہ)، غار میں کئی سال تک گنتی کے (11) پھر اٹھایا ہم نے ان کو تاکہ جان لیں ہم کہ کون دو گروہوں میں سے زیادہ یاد رکھنے والا ہے، اس کو کہ ٹھہرے رہے وہ اس مدت تک (12)
[9] یہ استفہام، نفی اور نہی کے معنیٰ میں ہے، یعنی اصحاب کہف کے قصہ اور ان کے واقعات کو اللہ تعالیٰ کی آیات کے سامنے انہونی بات، اس کی حکمت میں انوکھا واقعہ نہ سمجھو اور نہ یہ سمجھو کہ اس کی کوئی نظیر نہیں اور اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار تعجب خیز معجزات ہیں جو اصحاب کہف کے معجزے کی جنس میں سے ہیں یا اس سے بھی بڑے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے بندوں کو آفاق اور ان کے نفوس میں اپنی نشانیاں دکھاتا رہا ہے جن سے حق و باطل اور ہدایت و ضلالت واضح ہوتے ہیں ۔ نفی سے مراد یہ نہیں کہ اصحاب کہف کا قصہ عجائبات میں سے نہیں بلکہ یہ قصہ تو اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ہے اور اس سے صرف یہ مراد ہے کہ اس جنس سے اور بہت سے معجزات ہیں ، اس لیے صرف اس ایک معجزے پر تعجب کے ساتھ ٹھہر جانا علم و عقل میں نقص ہے۔ بندۂ مومن کا وظیفہ تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان تمام آیات میں غور و فکر کرے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کیونکہ غور و فکر ایمان کی کلید اور علم و ایقان کا راستہ ہے۔ اصحاب کہف کو (الکہف) اور (الرقیم) کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ کہف سے مراد پہاڑ کے اندر ایک غار ہے اور رقیم سے مراد کتبہ ہے جس پر اصحاب کہف کے نام اور ان کا واقعہ درج تھا کہ وہ طویل زمانے تک اس غار میں پڑے رہے ہیں ۔
[10] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ نہایت مجمل طور پرذکر کیااور پھر اس کی تفصیل بیان کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ اَوَى الۡفِتۡيَةُ اِلَى الۡكَهۡفِ ﴾ ’’جب جا بیٹھے وہ نوجو ان غار میں ‘‘ اور یہ نوجوان اس غار میں پناہ گزین ہو کر اپنی قوم کی تعذیب اور فتنے سے بچنا چاہتے تھے۔ ﴿ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے‘‘ یعنی اپنی رحمت کے ذریعے سے ہمیں ثابت قدمی عطا کر، شر سے محفوظ رکھ اور ہمیں نیکی کی توفیق دے۔ ﴿ وَّهَيِّئۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا ﴾ ’’اور ہمارے کام میں درستی پیدا کر۔‘‘ یعنی رشد و ہدایت تک پہنچانے والا ہر راستہ ہمارے لیے آسان فرما دے اور ہمارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کر۔ پس وہ کوشش کے ساتھ اپنی قوم کی تعذیب اور فتنہ سے فرار ہو کر ایسے محل و مقام کی طرف بھاگے جہاں ان کے لیے چھپنا ممکن تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ اور اپنے نفس اور مخلوق پر بھروسہ كيے بغیر، اپنے معاملات میں اللہ تعالیٰ سے آسانی کا سوال کرتے رہے۔
[11] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ان کے لیے ایک ایسا امر مقررکر دیا جو ان کے گمان میں بھی نہ تھا۔ فرمایا: ﴿ فَضَرَبۡنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمۡ فِي الۡكَهۡفِ ﴾ ’’پس تھپک دیے ہم نے ان کے کان اس غار میں ‘‘ یعنی ہم نے انھیں سلا دیا ﴿ سِنِيۡنَ عَدَدًا﴾ ’’چند سال گنتی کے‘‘ اور یہ تین سو نو سال کا عرصہ ہے۔ اس نیند میں ان کے دلوں کے لیے اضطراب اور خوف سے اور ان کی قوم سے حفاظت تھی۔
[12]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنٰهُمۡ ﴾ ’’پھر ہم نے ان کو اٹھایا‘‘ یعنی پھر ہم نے ان کو ان کی نیند سے بیدار کیا ﴿ لِنَعۡلَمَ اَيُّ الۡحِزۡبَيۡنِ اَحۡصٰؔى لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا ﴾ ’’تاکہ ہم جانیں کہ دونوں گروہوں میں سے کس نے یاد رکھی ہے وہ مدت، جس میں وہ ٹھہرے رہے‘‘ یعنی تاکہ ہم دیکھیں کہ ان میں سے اپنی مدت کی مقدار کو کون ٹھیک طرح سے شمار کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَذٰلِكَ بَعَثۡنٰهُمۡ لِيَتَسَآءَلُوۡا بَيۡنَهُمۡ ﴾(الکہف : 18؍19) ’’اور اس طرح ہم نے انھیں دوبارہ اٹھایا تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں ۔‘‘ یعنی اپنے سوئے رہنے کی مدت کی مقدار، ضبط حساب اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ، اس کی حکمت اور رحمت کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں … اور اگر وہ دائمی طور پر سوئے رہتے تو ان کے واقعہ کی کسی کو کوئی اطلاع نہ ہوتی۔
18:12ثُمَّ بَعَثۡنَٰهُمۡ لِنَعۡلَمَ أَيُّ ٱلۡحِزۡبَيۡنِ أَحۡصَىٰ لِمَا لَبِثُوٓاْ أَمَدٗا
کیا خیال کیا ہے آپ نے کہ بلاشبہ غار اور رقیم والے، تھے وہ ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب (نشانی)؟ (9)جب پناہ لی ان نوجوانوں نے غار کی طرف تو انھوں نے کہا، ہمارے رب! تو دے ہمیں اپنی طرف سے رحمت اورآسان کر دے ہمارے لیے ہمارے کام میں بھلائی کا راستہ (10) پس ڈال دیا ہم نے ان کے کانوں پر (پردہ)، غار میں کئی سال تک گنتی کے (11) پھر اٹھایا ہم نے ان کو تاکہ جان لیں ہم کہ کون دو گروہوں میں سے زیادہ یاد رکھنے والا ہے، اس کو کہ ٹھہرے رہے وہ اس مدت تک (12)
[9] یہ استفہام، نفی اور نہی کے معنیٰ میں ہے، یعنی اصحاب کہف کے قصہ اور ان کے واقعات کو اللہ تعالیٰ کی آیات کے سامنے انہونی بات، اس کی حکمت میں انوکھا واقعہ نہ سمجھو اور نہ یہ سمجھو کہ اس کی کوئی نظیر نہیں اور اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار تعجب خیز معجزات ہیں جو اصحاب کہف کے معجزے کی جنس میں سے ہیں یا اس سے بھی بڑے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے بندوں کو آفاق اور ان کے نفوس میں اپنی نشانیاں دکھاتا رہا ہے جن سے حق و باطل اور ہدایت و ضلالت واضح ہوتے ہیں ۔ نفی سے مراد یہ نہیں کہ اصحاب کہف کا قصہ عجائبات میں سے نہیں بلکہ یہ قصہ تو اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ہے اور اس سے صرف یہ مراد ہے کہ اس جنس سے اور بہت سے معجزات ہیں ، اس لیے صرف اس ایک معجزے پر تعجب کے ساتھ ٹھہر جانا علم و عقل میں نقص ہے۔ بندۂ مومن کا وظیفہ تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان تمام آیات میں غور و فکر کرے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو غور و فکر کی دعوت دی ہے کیونکہ غور و فکر ایمان کی کلید اور علم و ایقان کا راستہ ہے۔ اصحاب کہف کو (الکہف) اور (الرقیم) کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ کہف سے مراد پہاڑ کے اندر ایک غار ہے اور رقیم سے مراد کتبہ ہے جس پر اصحاب کہف کے نام اور ان کا واقعہ درج تھا کہ وہ طویل زمانے تک اس غار میں پڑے رہے ہیں ۔
[10] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ نہایت مجمل طور پرذکر کیااور پھر اس کی تفصیل بیان کی، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذۡ اَوَى الۡفِتۡيَةُ اِلَى الۡكَهۡفِ ﴾ ’’جب جا بیٹھے وہ نوجو ان غار میں ‘‘ اور یہ نوجوان اس غار میں پناہ گزین ہو کر اپنی قوم کی تعذیب اور فتنے سے بچنا چاہتے تھے۔ ﴿ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً ﴾ ’’پس انھوں نے کہا، اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے‘‘ یعنی اپنی رحمت کے ذریعے سے ہمیں ثابت قدمی عطا کر، شر سے محفوظ رکھ اور ہمیں نیکی کی توفیق دے۔ ﴿ وَّهَيِّئۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا ﴾ ’’اور ہمارے کام میں درستی پیدا کر۔‘‘ یعنی رشد و ہدایت تک پہنچانے والا ہر راستہ ہمارے لیے آسان فرما دے اور ہمارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کر۔ پس وہ کوشش کے ساتھ اپنی قوم کی تعذیب اور فتنہ سے فرار ہو کر ایسے محل و مقام کی طرف بھاگے جہاں ان کے لیے چھپنا ممکن تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ اور اپنے نفس اور مخلوق پر بھروسہ كيے بغیر، اپنے معاملات میں اللہ تعالیٰ سے آسانی کا سوال کرتے رہے۔
[11] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ان کے لیے ایک ایسا امر مقررکر دیا جو ان کے گمان میں بھی نہ تھا۔ فرمایا: ﴿ فَضَرَبۡنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمۡ فِي الۡكَهۡفِ ﴾ ’’پس تھپک دیے ہم نے ان کے کان اس غار میں ‘‘ یعنی ہم نے انھیں سلا دیا ﴿ سِنِيۡنَ عَدَدًا﴾ ’’چند سال گنتی کے‘‘ اور یہ تین سو نو سال کا عرصہ ہے۔ اس نیند میں ان کے دلوں کے لیے اضطراب اور خوف سے اور ان کی قوم سے حفاظت تھی۔
[12]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنٰهُمۡ ﴾ ’’پھر ہم نے ان کو اٹھایا‘‘ یعنی پھر ہم نے ان کو ان کی نیند سے بیدار کیا ﴿ لِنَعۡلَمَ اَيُّ الۡحِزۡبَيۡنِ اَحۡصٰؔى لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا ﴾ ’’تاکہ ہم جانیں کہ دونوں گروہوں میں سے کس نے یاد رکھی ہے وہ مدت، جس میں وہ ٹھہرے رہے‘‘ یعنی تاکہ ہم دیکھیں کہ ان میں سے اپنی مدت کی مقدار کو کون ٹھیک طرح سے شمار کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَذٰلِكَ بَعَثۡنٰهُمۡ لِيَتَسَآءَلُوۡا بَيۡنَهُمۡ ﴾(الکہف : 18؍19) ’’اور اس طرح ہم نے انھیں دوبارہ اٹھایا تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں ۔‘‘ یعنی اپنے سوئے رہنے کی مدت کی مقدار، ضبط حساب اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ، اس کی حکمت اور رحمت کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں … اور اگر وہ دائمی طور پر سوئے رہتے تو ان کے واقعہ کی کسی کو کوئی اطلاع نہ ہوتی۔
18:13نَّحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ نَبَأَهُم بِٱلۡحَقِّۚ إِنَّهُمۡ فِتۡيَةٌ ءَامَنُواْ بِرَبِّهِمۡ وَزِدۡنَٰهُمۡ هُدٗى
ہم بیان کرتے ہیں آپ پر حال ان کا ساتھ حق کے، بے شک وہ چند نوجوان تھے ایمان لائے تھے وہ ساتھ اپنے رب کےاور زیادہ کیا تھا ہم نے ان کوہدایت میں (13) اور مضبوط کر دیا ہم نے ان کے دلوں کو، جب کھڑے ہوئے وہ تو کہا انھوں نے، ہمارا رب تو رب ہے آسمانوں اور زمین کا، ہرگز نہیں پکاریں گے ہم سوائے اس کے کسی اور معبود کو البتہ تحقیق کہی ہم نے اس وقت ظلم و زیادتی والی بات (14)
[13] یہاں سے اصحاب کہف کے واقعہ کی تفصیل شروع ہوتی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس قصے کو حق اور صداقت کے ساتھ اپنے نبیﷺ پر بیان کرتا ہے جس میں کسی لحاظ سے کوئی شک و شبہ نہیں ۔ ﴿ اِنَّهُمۡ فِتۡيَةٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے‘‘ (فِتْیَۃٌ)جمع قلت ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ وہ نوجوان تعداد میں دس سے کم تھے۔ وہ اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لائے مگر ان کی قوم ایمان نہ لائی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی قدر کی اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے راہ ایمان پر گامزن ہونے کے سبب سے ان کی ہدایت کو اور زیادہ کر دیا۔ ہدایت سے مراد علم نافع اور عمل صالح ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَزِيۡدُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اهۡتَدَوۡا هُدًى ﴾(مریم : 19؍76) ’’جو لوگ راہ راست اختیار کرتے ہیں اللہ ان کی راست روی اور زیادہ بڑھاتا ہے۔‘‘
[14]﴿وَّرَبَطۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور گرہ لگا دی ہم نے ان کے دلوں پر‘‘ یعنی ہم نے انھیں صبر عطا کیا اور ان کو ثابت قدم رکھا اور ان کو اس انتہائی پریشان کن حالت میں اطمینان قلب سے نوازا۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو ایمان اور ہدایت کی توفیق عطا کی اور ان کو صبر و ثبات اور طمانیت قلب سے نوازا۔ ﴿ اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’جب وہ کھڑے ہوئے، پس انھوں نے کہا ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے‘‘ یعنی جس نے ہمیں پیدا کیا، ہماری پرورش کی اور جو ہمیں رزق عطا کرتا ہے اور ہماری تدبیر کرتا ہے وہی تمام کائنات کو پیدا کرنے والا ہے۔ وہ ان عظیم مخلوقات کو پیدا کرنے میں منفرد ہے۔ یہ بت اور خود ساختہ معبود اس کائنات کے خالق نہیں ہیں جو کسی چیز کو پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں ، وہ کسی نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات کے اور نہ موت کے بعد دوبارہ اٹھانے پر قادر ہیں ۔ پس انھوں نے توحید ربوبیت سے توحید الوہیت پر استدلال کیا اور کہا:﴿ لَنۡ نَّدۡعُوَاۡ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلٰهًا ﴾ ’’ہم اس کے سوا کسی کو معبود نہ پکاریں گے۔‘‘ یعنی ہم تمام مخلوقات میں سے کسی کو الہ نہیں بنائیں گے۔ ﴿لَّقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذً ﴾ ’’تحقیق کہی ہم نے بات اس وقت‘‘ یعنی یہ جان لینے کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ ہمارا پروردگار اور معبود حقیقی ہے اس کے سوا کسی اور کے لیے عبادت جائز ہے نہ مناسب ہے ﴿ شَطَطًا ﴾ ’’عقل سے دور‘‘ یعنی حق و صواب سے دور۔ پس انھوں نے توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کے اقرار اور التزام کو جمع کیا اور واضح کر دیا کہ صرف یہی حق ہے اس کے سوا سب کچھ باطل ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انھیں اپنے رب کی مکمل معرفت حاصل تھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں ہدایت عطا کی گئی تھی۔
18:14وَرَبَطۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ إِذۡ قَامُواْ فَقَالُواْ رَبُّنَا رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ لَن نَّدۡعُوَاْ مِن دُونِهِۦٓ إِلَٰهٗاۖ لَّقَدۡ قُلۡنَآ إِذٗا شَطَطًا
ہم بیان کرتے ہیں آپ پر حال ان کا ساتھ حق کے، بے شک وہ چند نوجوان تھے ایمان لائے تھے وہ ساتھ اپنے رب کےاور زیادہ کیا تھا ہم نے ان کوہدایت میں (13) اور مضبوط کر دیا ہم نے ان کے دلوں کو، جب کھڑے ہوئے وہ تو کہا انھوں نے، ہمارا رب تو رب ہے آسمانوں اور زمین کا، ہرگز نہیں پکاریں گے ہم سوائے اس کے کسی اور معبود کو البتہ تحقیق کہی ہم نے اس وقت ظلم و زیادتی والی بات (14)
[13] یہاں سے اصحاب کہف کے واقعہ کی تفصیل شروع ہوتی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس قصے کو حق اور صداقت کے ساتھ اپنے نبیﷺ پر بیان کرتا ہے جس میں کسی لحاظ سے کوئی شک و شبہ نہیں ۔ ﴿ اِنَّهُمۡ فِتۡيَةٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے‘‘ (فِتْیَۃٌ)جمع قلت ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ وہ نوجوان تعداد میں دس سے کم تھے۔ وہ اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لائے مگر ان کی قوم ایمان نہ لائی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی قدر کی اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے راہ ایمان پر گامزن ہونے کے سبب سے ان کی ہدایت کو اور زیادہ کر دیا۔ ہدایت سے مراد علم نافع اور عمل صالح ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَزِيۡدُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اهۡتَدَوۡا هُدًى ﴾(مریم : 19؍76) ’’جو لوگ راہ راست اختیار کرتے ہیں اللہ ان کی راست روی اور زیادہ بڑھاتا ہے۔‘‘
[14]﴿وَّرَبَطۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اور گرہ لگا دی ہم نے ان کے دلوں پر‘‘ یعنی ہم نے انھیں صبر عطا کیا اور ان کو ثابت قدم رکھا اور ان کو اس انتہائی پریشان کن حالت میں اطمینان قلب سے نوازا۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو ایمان اور ہدایت کی توفیق عطا کی اور ان کو صبر و ثبات اور طمانیت قلب سے نوازا۔ ﴿ اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’جب وہ کھڑے ہوئے، پس انھوں نے کہا ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے‘‘ یعنی جس نے ہمیں پیدا کیا، ہماری پرورش کی اور جو ہمیں رزق عطا کرتا ہے اور ہماری تدبیر کرتا ہے وہی تمام کائنات کو پیدا کرنے والا ہے۔ وہ ان عظیم مخلوقات کو پیدا کرنے میں منفرد ہے۔ یہ بت اور خود ساختہ معبود اس کائنات کے خالق نہیں ہیں جو کسی چیز کو پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں ، وہ کسی نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات کے اور نہ موت کے بعد دوبارہ اٹھانے پر قادر ہیں ۔ پس انھوں نے توحید ربوبیت سے توحید الوہیت پر استدلال کیا اور کہا:﴿ لَنۡ نَّدۡعُوَاۡ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلٰهًا ﴾ ’’ہم اس کے سوا کسی کو معبود نہ پکاریں گے۔‘‘ یعنی ہم تمام مخلوقات میں سے کسی کو الہ نہیں بنائیں گے۔ ﴿لَّقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذً ﴾ ’’تحقیق کہی ہم نے بات اس وقت‘‘ یعنی یہ جان لینے کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ ہمارا پروردگار اور معبود حقیقی ہے اس کے سوا کسی اور کے لیے عبادت جائز ہے نہ مناسب ہے ﴿ شَطَطًا ﴾ ’’عقل سے دور‘‘ یعنی حق و صواب سے دور۔ پس انھوں نے توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کے اقرار اور التزام کو جمع کیا اور واضح کر دیا کہ صرف یہی حق ہے اس کے سوا سب کچھ باطل ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انھیں اپنے رب کی مکمل معرفت حاصل تھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں ہدایت عطا کی گئی تھی۔
18:15هَـٰٓؤُلَآءِ قَوۡمُنَا ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةٗۖ لَّوۡلَا يَأۡتُونَ عَلَيۡهِم بِسُلۡطَٰنِۭ بَيِّنٖۖ فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗا
یہ ہماری قوم، بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اللہ کے کئی معبود، کیوں نہیں لاتے وہ ان (کی عبادت) پر کوئی دلیل واضح؟ پس کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جس نے باندھا اوپر اللہ کے جھوٹ؟ (15)
[15] یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان، ہدایت اور تقویٰ سے نوازا، وہ اپنی قوم کے شرک کی طرف متوجہ ہوئے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری ہستیوں کو معبود بنا رکھا ہے۔ انھوں نے اپنی قوم کے نظریات پر ناراضی کا اظہار کیا اور ان پر واضح کیا کہ ان کے مشرکانہ عقائد یقین پر مبنی نہیں ہیں بلکہ اس کے برعکس وہ جہالت اور ضلالت میں مبتلا ہیں ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ لَوۡلَا يَاۡتُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ بِسُلۡطٰنٍۭؔ بَيِّنٍ﴾ ’’کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی واضح دلیل‘‘ یعنی وہ اپنے باطل عقائد پر کوئی حجت و برہان پیش نہیں کر سکتے نہ ان کے پاس اس کا کوئی چارہ ہے یہ تو ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان طرازی ہے اور یہ سب سے بڑا ظلم ہے، اس لیے فرمایا:﴿ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا﴾ ’’اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔‘‘
18:16وَإِذِ ٱعۡتَزَلۡتُمُوهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُونَ إِلَّا ٱللَّهَ فَأۡوُۥٓاْ إِلَى ٱلۡكَهۡفِ يَنشُرۡ لَكُمۡ رَبُّكُم مِّن رَّحۡمَتِهِۦ وَيُهَيِّئۡ لَكُم مِّنۡ أَمۡرِكُم مِّرۡفَقٗا
اور جب الگ ہو گئے ہو تم ان سے اور جن کی وہ عبادت کرتے ہیں سوائے اللہ کے تو پناہ لو تم اس غار کی طرف، پھیلا دے گا تم پر تمھارا رب اپنی رحمت اورمہیا کر دے گا تمھارے لیے تمھارے کام میں آسانی (16)
[16] یعنی انھوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ چونکہ تم جسمانی اور دینی طور پر اپنی قوم سے الگ ہو گئے ہو، اس لیے اب ان کے شر سے نجات پانا اور اس کے لیے اسباب اختیار کرنا باقی ہے کیونکہ وہ ان کے ساتھ جنگ کر سکتے ہیں نہ اس بنا پر ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں کہ ان کا دین ان کی قوم کے دین سے مختلف ہے۔ ﴿فَاۡوٗۤا اِلَى الۡكَهۡفِ ﴾ ’’پس جگہ پکڑ و غار کی طرف‘‘ یعنی غار میں جا کر چھپ جاؤ۔ ﴿ يَنۡشُرۡ لَكُمۡ رَبُّكُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِهٖ وَيُهَيِّئۡ لَكُمۡ مِّنۡ اَمۡرِكُمۡ مِّرۡفَقًا﴾ ’’پھیلا دے گا تم پر تمھارا رب اپنی رحمت اور مہیا کرے گا تمھیں تمھارے کام میں آسانی‘‘ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی اس دعا کے بارے میں خبر دی تھی۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً وَّهَيِّئۡ لَنَا مِنۡ اَمۡرِنَا﴾ انھوں نے اپنی قوت و اختیار سے براء ت کا اظہار کیا، اپنے معاملے کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس کے حضور ملتجی ہوئے اور اس پر بھروسہ کیا کہ وہ ان کے معاملے کی اصلاح کرے گا۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی بے پایاں رحمت سے ڈھانپ لیا اور ان کے معاملے میں آسانی پیدا کر دی۔ ان کی زندگی اور ان کے دین کی حفاظت کی اور خلائق کے لیے انھیں ایک بڑا معجزہ بنا دیا اور ان کی ثنائے حسن کو دنیا میں پھیلا دیا جو ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور ان کے لیے ہر سبب آسان کر دیا حتیٰ کہ وہ جگہ جہاں وہ سوتے رہے ممکن حد تک محفوظ تھی۔
18:17۞وَتَرَى ٱلشَّمۡسَ إِذَا طَلَعَت تَّزَٰوَرُ عَن كَهۡفِهِمۡ ذَاتَ ٱلۡيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَت تَّقۡرِضُهُمۡ ذَاتَ ٱلشِّمَالِ وَهُمۡ فِي فَجۡوَةٖ مِّنۡهُۚ ذَٰلِكَ مِنۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِۗ مَن يَهۡدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِۖ وَمَن يُضۡلِلۡ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ وَلِيّٗا مُّرۡشِدٗا
اور تو دیکھے گا سورج کو، جب طلوع ہوتا ہے وہ تو جھک (ہٹ) جاتا ہے ان کے غار سے دائیں طرف کواور جب غروب ہوتا ہے وہ تو کترا (کر نکل) جاتا ہے ان کی بائیں طرف سےاور وہ کھلی جگہ میں ہیں اس (غار) سے، یہ (واقعہ) نشانیوں میں سے ہے اللہ کی، جسے ہدایت دے اللہ تو وہی ہے ہدایت پانے والااور جسے وہ گمراہ کر دے تو ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی دوست راہ نمائی کرنے والا (17) اور آپ خیال کریں گے انھیں بیدار حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم کروٹیں بدلتے ہیں ان کی دائیں طرف اور بائیں طرف اور کتا ان کا پھیلائے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ دہلیز پر، اگر آپ جھانکیں ان پر تو آپ پیٹھ پھیر لیں ان سے بھاگتے ہوئے اور بھر جائے آپ میں ان کی دہشت (18)
[17] یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج کی تمازت سے ان کی حفاظت کی۔ انھیں ایک ایسا غار مہیا کیا کہ جب سورج طلوع ہوتا تو اس کی دائیں طرف سے گزر جاتا اور جب غروب ہوتا تو اس کی بائیں طرف سے گزر جاتا اس طرح سورج کی تمازت ان تک نہ پہنچ پاتی، جو ان کے ابدان کو خراب کرتی۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡ فَجۡوَةٍ مِّؔنۡهُ﴾ ’’اور وہ اس کے میدان میں تھے۔‘‘ یعنی وہ غار کے اندر ایک کھلی جگہ میں لیٹے ہوئے تھے تاکہ وہاں تازہ ہوا کا گزر ہو اور یوں وہ گھٹن اور بدن کے خراب ہونے سے بچے رہیں خاص طور پر جبکہ انھوں نے طویل عرصہ تک پڑے رہنا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے جو اس کی قدرت اور رحمت پر دلالت کرتی ہے، نیز ان کی دعا کے قبول ہونے اور ان کے ہدیت یافتہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ بنا بریں فرمایا :﴿ مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَهُوَ الۡمُهۡتَدِ ﴾ ’’جس کو ہدایت دے اللہ، پس وہی ہدایت پر ہے‘‘ یعنی اللہ کے سوا ہدایت کے حصول کا کوئی راستہ نہیں ، دین و دنیا کے مصالح کے لیے اللہ تعالیٰ ہی ہادی اور راہنما ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرۡشِدًا﴾ ’’اور جس کو وہ گمراہ کر دے، پس آپ اس کے لیے ہرگز رہنمائی کرنے والا رفیق نہیں پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کوئی ایسی ہستی نہیں پائیں گے جو اس کی سرپرستی کرے اور اس کے معاملے کی اس طرح تدبیر کرے جو اس کے لیے درست ہے اور نہ کوئی ایسی ہستی پائیں گے جو نیکی اور فلاح کی طرف اس کی راہ نمائی کر سکے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی گمراہی کا فیصلہ کر دیا ہے اور اس کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کر سکتا۔
[18]﴿وَتَحۡسَبُهُمۡ اَيۡقَاظًا وَّهُمۡ رُقُوۡدٌؔ﴾ ’’اور تم ان کو خیال کرو کہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سوتے ہیں ۔‘‘ یعنی اے ان کی طرف دیکھنے والے شخص! تجھے ان کے بارے میں یوں لگے گا جیسے کہ وہ جاگ رہے، حالانکہ وہ سو رہے ہیں ۔ مفسرین کہتے ہیں: اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں تاکہ خراب نہ ہوں ، اس لیے ان کو دیکھنے والا سمجھتا تھا کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ محو خواب تھے۔ ﴿ وَّنُقَلِّبُهُمۡ ذَاتَ الۡيَمِيۡنِ وَذَاتَ الشِّمَالِ﴾ ’’اور کروٹیں دلاتے ہیں ہم ان کو دائیں اور بائیں جانب۔‘‘ یہ انتظام بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے جسموں کی حفاظت کے لیے تھا کیونکہ یہ زمین کی خاصیت ہے کہ جو چیز اس کے ساتھ پیوست رہتی ہے یہ اس کو کھا جاتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تھی کہ وہ ان کو دائیں پہلو پر اور کبھی بائیں پہلو پر پلٹتا رہتا تھا تاکہ زمین ان کے جسم کو خراب نہ کرے اور اللہ تعالیٰ تو اس پر بھی قادر ہے کہ وہ ان کے پہلوؤں کو ادل بدل كيے بغیر ہی ان کے جسموں کی حفاظت کرے۔ مگر اللہ تعالیٰ حکیم ہے اس نے ارادہ فرمایا کہ وہ اس تکوینی قوانین میں اپنی سنت کو جاری و ساری کرے اور اسباب کو ان کے مسببات کے ساتھ مربوط کرے۔ ﴿ وَكَلۡبُهُمۡ بَاسِطٌ ذِرَاعَيۡهِ بِالۡوَصِيۡدِ﴾ ’’اور ان کا کتا اپنے بازو پھیلائے ہوئے تھا چوکھٹ پر‘‘ یعنی وہ کتا جو اصحاب کہف کے ساتھ تھا ان کی چوکیداری کے وقت، اس پر بھی وہی نیند طاری ہوئی جو ان پر طاری ہو گئی تھی وہ اس وقت اپنی اگلی ٹانگیں زمین پر بچھائے غار کے دہانے پر بیٹھا تھا یا وہ غار میں کھلی جگہ پر بیٹھا تھا، یہ انتظام توان کو زمین سے بچانے کے لیے تھا۔ رہا لوگوں سے ان کی حفاظت کرنا تو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ رعب کے ذریعے سے ان کی حفاظت کی جو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہیئت میں رکھ دیا تھا۔ اگر کوئی شخص غار کے اندر جھانک کر دیکھے تو اس کا دل رعب سے بھر جائے اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے۔ یہی وہ چیز تھی جو اس امر کی موجب تھی کہ وہ طویل مدت تک صحیح سلامت باقی رہیں ۔ اور شہر سے بہت قریب ہونے کے باوجود کسی کو ان کے بارے میں علم نہ ہوا اور شہر سے ان کے قرب کی دلیل یہ ہے کہ جب وہ نیند سے بیدار ہوئے تو انھوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو بھیجا کہ وہ شہر سے کھانا خرید کر لائے اور دوسرے لوگ اس کا انتظار کرتے رہے یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ شہر ان سے بہت قریب تھا۔
18:18وَتَحۡسَبُهُمۡ أَيۡقَاظٗا وَهُمۡ رُقُودٞۚ وَنُقَلِّبُهُمۡ ذَاتَ ٱلۡيَمِينِ وَذَاتَ ٱلشِّمَالِۖ وَكَلۡبُهُم بَٰسِطٞ ذِرَاعَيۡهِ بِٱلۡوَصِيدِۚ لَوِ ٱطَّلَعۡتَ عَلَيۡهِمۡ لَوَلَّيۡتَ مِنۡهُمۡ فِرَارٗا وَلَمُلِئۡتَ مِنۡهُمۡ رُعۡبٗا
اور تو دیکھے گا سورج کو، جب طلوع ہوتا ہے وہ تو جھک (ہٹ) جاتا ہے ان کے غار سے دائیں طرف کواور جب غروب ہوتا ہے وہ تو کترا (کر نکل) جاتا ہے ان کی بائیں طرف سےاور وہ کھلی جگہ میں ہیں اس (غار) سے، یہ (واقعہ) نشانیوں میں سے ہے اللہ کی، جسے ہدایت دے اللہ تو وہی ہے ہدایت پانے والااور جسے وہ گمراہ کر دے تو ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی دوست راہ نمائی کرنے والا (17) اور آپ خیال کریں گے انھیں بیدار حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم کروٹیں بدلتے ہیں ان کی دائیں طرف اور بائیں طرف اور کتا ان کا پھیلائے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ دہلیز پر، اگر آپ جھانکیں ان پر تو آپ پیٹھ پھیر لیں ان سے بھاگتے ہوئے اور بھر جائے آپ میں ان کی دہشت (18)
[17] یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج کی تمازت سے ان کی حفاظت کی۔ انھیں ایک ایسا غار مہیا کیا کہ جب سورج طلوع ہوتا تو اس کی دائیں طرف سے گزر جاتا اور جب غروب ہوتا تو اس کی بائیں طرف سے گزر جاتا اس طرح سورج کی تمازت ان تک نہ پہنچ پاتی، جو ان کے ابدان کو خراب کرتی۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡ فَجۡوَةٍ مِّؔنۡهُ﴾ ’’اور وہ اس کے میدان میں تھے۔‘‘ یعنی وہ غار کے اندر ایک کھلی جگہ میں لیٹے ہوئے تھے تاکہ وہاں تازہ ہوا کا گزر ہو اور یوں وہ گھٹن اور بدن کے خراب ہونے سے بچے رہیں خاص طور پر جبکہ انھوں نے طویل عرصہ تک پڑے رہنا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے جو اس کی قدرت اور رحمت پر دلالت کرتی ہے، نیز ان کی دعا کے قبول ہونے اور ان کے ہدیت یافتہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ بنا بریں فرمایا :﴿ مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَهُوَ الۡمُهۡتَدِ ﴾ ’’جس کو ہدایت دے اللہ، پس وہی ہدایت پر ہے‘‘ یعنی اللہ کے سوا ہدایت کے حصول کا کوئی راستہ نہیں ، دین و دنیا کے مصالح کے لیے اللہ تعالیٰ ہی ہادی اور راہنما ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرۡشِدًا﴾ ’’اور جس کو وہ گمراہ کر دے، پس آپ اس کے لیے ہرگز رہنمائی کرنے والا رفیق نہیں پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کوئی ایسی ہستی نہیں پائیں گے جو اس کی سرپرستی کرے اور اس کے معاملے کی اس طرح تدبیر کرے جو اس کے لیے درست ہے اور نہ کوئی ایسی ہستی پائیں گے جو نیکی اور فلاح کی طرف اس کی راہ نمائی کر سکے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی گمراہی کا فیصلہ کر دیا ہے اور اس کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کر سکتا۔
[18]﴿وَتَحۡسَبُهُمۡ اَيۡقَاظًا وَّهُمۡ رُقُوۡدٌؔ﴾ ’’اور تم ان کو خیال کرو کہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سوتے ہیں ۔‘‘ یعنی اے ان کی طرف دیکھنے والے شخص! تجھے ان کے بارے میں یوں لگے گا جیسے کہ وہ جاگ رہے، حالانکہ وہ سو رہے ہیں ۔ مفسرین کہتے ہیں: اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں تاکہ خراب نہ ہوں ، اس لیے ان کو دیکھنے والا سمجھتا تھا کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ محو خواب تھے۔ ﴿ وَّنُقَلِّبُهُمۡ ذَاتَ الۡيَمِيۡنِ وَذَاتَ الشِّمَالِ﴾ ’’اور کروٹیں دلاتے ہیں ہم ان کو دائیں اور بائیں جانب۔‘‘ یہ انتظام بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے جسموں کی حفاظت کے لیے تھا کیونکہ یہ زمین کی خاصیت ہے کہ جو چیز اس کے ساتھ پیوست رہتی ہے یہ اس کو کھا جاتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تھی کہ وہ ان کو دائیں پہلو پر اور کبھی بائیں پہلو پر پلٹتا رہتا تھا تاکہ زمین ان کے جسم کو خراب نہ کرے اور اللہ تعالیٰ تو اس پر بھی قادر ہے کہ وہ ان کے پہلوؤں کو ادل بدل كيے بغیر ہی ان کے جسموں کی حفاظت کرے۔ مگر اللہ تعالیٰ حکیم ہے اس نے ارادہ فرمایا کہ وہ اس تکوینی قوانین میں اپنی سنت کو جاری و ساری کرے اور اسباب کو ان کے مسببات کے ساتھ مربوط کرے۔ ﴿ وَكَلۡبُهُمۡ بَاسِطٌ ذِرَاعَيۡهِ بِالۡوَصِيۡدِ﴾ ’’اور ان کا کتا اپنے بازو پھیلائے ہوئے تھا چوکھٹ پر‘‘ یعنی وہ کتا جو اصحاب کہف کے ساتھ تھا ان کی چوکیداری کے وقت، اس پر بھی وہی نیند طاری ہوئی جو ان پر طاری ہو گئی تھی وہ اس وقت اپنی اگلی ٹانگیں زمین پر بچھائے غار کے دہانے پر بیٹھا تھا یا وہ غار میں کھلی جگہ پر بیٹھا تھا، یہ انتظام توان کو زمین سے بچانے کے لیے تھا۔ رہا لوگوں سے ان کی حفاظت کرنا تو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ رعب کے ذریعے سے ان کی حفاظت کی جو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہیئت میں رکھ دیا تھا۔ اگر کوئی شخص غار کے اندر جھانک کر دیکھے تو اس کا دل رعب سے بھر جائے اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے۔ یہی وہ چیز تھی جو اس امر کی موجب تھی کہ وہ طویل مدت تک صحیح سلامت باقی رہیں ۔ اور شہر سے بہت قریب ہونے کے باوجود کسی کو ان کے بارے میں علم نہ ہوا اور شہر سے ان کے قرب کی دلیل یہ ہے کہ جب وہ نیند سے بیدار ہوئے تو انھوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو بھیجا کہ وہ شہر سے کھانا خرید کر لائے اور دوسرے لوگ اس کا انتظار کرتے رہے یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ شہر ان سے بہت قریب تھا۔
18:19وَكَذَٰلِكَ بَعَثۡنَٰهُمۡ لِيَتَسَآءَلُواْ بَيۡنَهُمۡۚ قَالَ قَآئِلٞ مِّنۡهُمۡ كَمۡ لَبِثۡتُمۡۖ قَالُواْ لَبِثۡنَا يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٖۚ قَالُواْ رَبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ فَٱبۡعَثُوٓاْ أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمۡ هَٰذِهِۦٓ إِلَى ٱلۡمَدِينَةِ فَلۡيَنظُرۡ أَيُّهَآ أَزۡكَىٰ طَعَامٗا فَلۡيَأۡتِكُم بِرِزۡقٖ مِّنۡهُ وَلۡيَتَلَطَّفۡ وَلَا يُشۡعِرَنَّ بِكُمۡ أَحَدًا
اور اسی طرح دوبارہ اٹھایا ہم نے ان کو تاکہ وہ سوال کریں آپس میں ، کہا ایک کہنے والے نے ان میں سے، کتنا (عرصہ) ٹھہرے ہو تم؟ انھوں نے کہا، ٹھہرے ہیں ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، انھوں نے کہا، تمھارا رب خوب جانتا ہے جتنا ٹھہرے ہو تم، پس بھیجو تم اپنے ایک آدمی کو ساتھ اپنی اس چاندی کے، شہر کی طرف، پس چاہیے کہ دیکھے وہ کون سا ان میں زیادہ پاکیزہ ہے کھانا، پھر چاہیے کہ لے آئے وہ تمھارے پاس کھانا اس میں سےاور چاہیے کہ وہ نرمی (سے بات) کرےاور نہ آگاہ کر دے وہ تمھارے معاملے سے کسی کو (19) بلاشبہ وہ اگر مطلع ہو گئے تم پر تو سنگسار کر دیں وہ تمھیں یا لوٹا دیں گے تم کو اپنے دین میں اور ہرگز نہیں فلاح پاؤ گے تم اس وقت کبھی بھی (20)
[19]﴿ وَؔكَذٰلِكَ بَعَثۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی اسی طرح ہم نے ان کو ان کی طویل نیند سے بیدار کیا ﴿ لِيَتَسَآءَلُوۡا بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں ۔‘‘ یعنی سونے کی مدت کے بارے میں حقیقت معلوم کرنے کے لیے ایک دوسرے سے پوچھیں ۔ ﴿ قَالَ قَآىِٕلٌ مِّؔنۡهُمۡ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ١ؕ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’ان میں سے ایک نے کہا، تم کتنی مدت ٹھہرے؟ انھوں نے کہا، ہم ٹھہرے ایک دن یا ایک دن سے کم۔‘‘ یہ قائل کے ظن پر مبنی ہے گویا ان کواپنی مدت کی طوالت کے بارے میں اشتباہ واقع ہو گیا تھا، اس لیے ﴿ قَالُوۡا رَبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ﴾ ’’انھوں نے کہا تمھارا رب ہی خوب جانتا ہے جتنی مدت تم ٹھہرے‘‘ پس انھوں نے اپنے علم کو اس ہستی کی طرف لوٹا دیا جس کا علم اجمالاً اور تفصیلاً ہر چیز کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے سوئے رہنے کی مدت سے ان کو مطلع کر دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بیدار کردیاتھا تاکہ وہ اس مدت کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھیں پھر اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ انھوں نے ایک دوسرے سے سوال کیا اور اپنے اپنے مبلغ علم کے مطابق انھوں نے کلام کیا اور ان کی آپس میں بحث کا نتیجہ یہ رہا کہ ان کے سونے کی مدت کا معاملہ مشتبہ ہی رہا۔ یہ لازمی امر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یقینی طور پر آگاہ کیا ہو گا اور ہمیں یہ بات ان کے بیدار كيے جانے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت سے معلوم ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی فعل عبث نہیں ہوتا اور یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت ہے کہ جو کوئی ان معاملات میں حقیقت کا طلب گار ہوتا ہے جن کا جاننا مطلوب ہے اور اس کے لیے امکان بھر کوشش بھی کرتا ہے تواللہ تعالیٰ ان معاملات کو اس پر واضح کر دیتا ہے اور بعد میں مذکور اللہ تعالیٰ کے اس قول سے بھی اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ اَعۡثَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ لِيَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا﴾(الکہف:18؍21) ’’اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال سے آگاہ کر دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور بے شک قیامت کی گھڑی ضرور آئے گی۔‘‘ اگر ان کے حال کے بارے میں آگاہی نہ ہوئی ہوتی تو ان کے لیے مذکورہ واقعہ میں کوئی دلیل نہ ہوتی، پھر جب انھوں نے ایک دوسرے سے سوال کیا اور ان کے درمیان وہ سوال جواب ہوا جس کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے تو انھوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو کچھ سکے، یعنی دراہم دے کر، جو ان کے پاس تھے، کھانا خرید کر لانے کے لیے اس شہر میں بھیجا جہاں سے وہ نکل کر آئے تھے اور اس سے کہا کہ وہ اچھا اور لذیذ ترین کھانا منتخب کر کے لائے، نیز وہ اپنے شہر جانے، کھانا خریدنے اور واپس لوٹنے میں ایسا نرم رویہ اختیار کرے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ وہ اپنے آپ کو بھی چھپائے اور اپنے بھائیوں کے حال کو بھی مخفی رکھے اور کسی کو اس کے بارے میں کوئی علم نہ ہو۔
[20] ان کے سامنے یہ اندیشہ تھا کہ لوگوں کو اگر ان کی اطلاع ہوگئی تو اس کے نتیجے میں ان کے ساتھ جو سلوک ہو گا وہ ان دو امور میں سے ایک ہو گا۔ یا تو وہ ان کو سنگسار کر کے نہایت برے طریقے سے ان کو قتل کردیں گے کیونکہ انھیں ان پر اور ان کے دین پر سخت غصہ ہے۔ یا انھیں تعذیب اور آزمائش میں مبتلا کر کے ان کو اپنے دین میں واپس لانے کی کوشش کریں گے اور اس حال میں وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے بلکہ وہ اپنے دین، دنیا اور آخرت کے بارے میں سخت خسارے میں رہیں گے۔یہ دو آیات کریمہ متعدد فوائد پر دلالت کرتی ہیں :(۱) حصول علم اور علمی مباحثہ پر ترغیب کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسی کی خاطر اصحاب کہف کو دوبارہ زندہ کیا۔ (۲) جب بندے پر علم مشتبہ ہو جائے تو اس کا ادب یہ ہے کہ وہ اس علم کو اس شخص کی طرف لوٹا دے جو اس کا عالم ہے اور خود اپنی حد پر ٹھہر جائے۔ (۳) خریدوفروخت میں وکالت اور اس میں شراکت صحیح ہے۔ (۴) اچھی چیزیں اور لذیذ کھانے کھانا جائز ہے جبکہ ان میں اسراف نہ ہو جو ممنوع ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ فَلۡيَنۡظُرۡ اَيُّهَاۤ اَزۡكٰى طَعَامًا فَلۡيَاۡتِكُمۡ بِرِزۡقٍ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’پس وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں سے ملتا ہے پس وہ تمھارے لیے وہیں سے کچھ کھانے کے لیے لے کر آئے۔‘‘ خاص طور پر جبکہ انسان کو اس کے سوا کوئی اور کھانا موافق نہ آتا ہو۔ شاید یہی آیت کریمہ ان مفسرین کے قول کی بنیاد ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اصحاب کہف بادشاہوں کی اولاد تھے اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے کھانا لانے والے کو اچھا اور لذیذ کھانا لانے کا حکم دیا تھا کیونکہ خوشحال اور بڑے لوگوں کی عادت ہے کہ وہ اچھا کھانا تناول کرتے ہیں ۔ (۵) جب دین میں ابتلا اور فتنہ کا موقع ہو تو اس سے بچنے، چھپنے اور فتنوں کی جگہوں سے دور رہنے کی ترغیب دی گئی ہے، نیز یہ کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے دینی بھائیوں کو چھپائے۔ (۶) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ان نوجوانوں کو دین میں شدید رغبت تھی وہ اپنے دین کے بارے میں ہر قسم کے فتنہ سے دور بھاگتے تھے اور انھوں نے دین کی خاطر اپنے وطن کو چھوڑ دیا تھا۔ (۷) ان آیات کریمہ میں اس شر کا ذکر ہے جو ضرر اور ان مفاسد پر مشتمل ہے جو اس کی ناپسندیدگی کا باعث اور اس کو ترک کرنے کی دعوت دیتے ہیں اور یہ کہ یہ طریقہ تمام متقدمین اور متاخرین اہل ایمان کا طریقہ ہے کیونکہ اہل کہف نے کہا تھا: ﴿ وَ لَنۡ تُفۡلِحُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ﴾ اگر وہ تمھیں اپنی ملت میں واپس لوٹا دیں تو تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے۔
18:20إِنَّهُمۡ إِن يَظۡهَرُواْ عَلَيۡكُمۡ يَرۡجُمُوكُمۡ أَوۡ يُعِيدُوكُمۡ فِي مِلَّتِهِمۡ وَلَن تُفۡلِحُوٓاْ إِذًا أَبَدٗا
اور اسی طرح دوبارہ اٹھایا ہم نے ان کو تاکہ وہ سوال کریں آپس میں ، کہا ایک کہنے والے نے ان میں سے، کتنا (عرصہ) ٹھہرے ہو تم؟ انھوں نے کہا، ٹھہرے ہیں ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، انھوں نے کہا، تمھارا رب خوب جانتا ہے جتنا ٹھہرے ہو تم، پس بھیجو تم اپنے ایک آدمی کو ساتھ اپنی اس چاندی کے، شہر کی طرف، پس چاہیے کہ دیکھے وہ کون سا ان میں زیادہ پاکیزہ ہے کھانا، پھر چاہیے کہ لے آئے وہ تمھارے پاس کھانا اس میں سےاور چاہیے کہ وہ نرمی (سے بات) کرےاور نہ آگاہ کر دے وہ تمھارے معاملے سے کسی کو (19) بلاشبہ وہ اگر مطلع ہو گئے تم پر تو سنگسار کر دیں وہ تمھیں یا لوٹا دیں گے تم کو اپنے دین میں اور ہرگز نہیں فلاح پاؤ گے تم اس وقت کبھی بھی (20)
[19]﴿ وَؔكَذٰلِكَ بَعَثۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی اسی طرح ہم نے ان کو ان کی طویل نیند سے بیدار کیا ﴿ لِيَتَسَآءَلُوۡا بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں ۔‘‘ یعنی سونے کی مدت کے بارے میں حقیقت معلوم کرنے کے لیے ایک دوسرے سے پوچھیں ۔ ﴿ قَالَ قَآىِٕلٌ مِّؔنۡهُمۡ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ١ؕ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’ان میں سے ایک نے کہا، تم کتنی مدت ٹھہرے؟ انھوں نے کہا، ہم ٹھہرے ایک دن یا ایک دن سے کم۔‘‘ یہ قائل کے ظن پر مبنی ہے گویا ان کواپنی مدت کی طوالت کے بارے میں اشتباہ واقع ہو گیا تھا، اس لیے ﴿ قَالُوۡا رَبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ﴾ ’’انھوں نے کہا تمھارا رب ہی خوب جانتا ہے جتنی مدت تم ٹھہرے‘‘ پس انھوں نے اپنے علم کو اس ہستی کی طرف لوٹا دیا جس کا علم اجمالاً اور تفصیلاً ہر چیز کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے سوئے رہنے کی مدت سے ان کو مطلع کر دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بیدار کردیاتھا تاکہ وہ اس مدت کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھیں پھر اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ انھوں نے ایک دوسرے سے سوال کیا اور اپنے اپنے مبلغ علم کے مطابق انھوں نے کلام کیا اور ان کی آپس میں بحث کا نتیجہ یہ رہا کہ ان کے سونے کی مدت کا معاملہ مشتبہ ہی رہا۔ یہ لازمی امر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یقینی طور پر آگاہ کیا ہو گا اور ہمیں یہ بات ان کے بیدار كيے جانے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت سے معلوم ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی فعل عبث نہیں ہوتا اور یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت ہے کہ جو کوئی ان معاملات میں حقیقت کا طلب گار ہوتا ہے جن کا جاننا مطلوب ہے اور اس کے لیے امکان بھر کوشش بھی کرتا ہے تواللہ تعالیٰ ان معاملات کو اس پر واضح کر دیتا ہے اور بعد میں مذکور اللہ تعالیٰ کے اس قول سے بھی اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ اَعۡثَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ لِيَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا﴾(الکہف:18؍21) ’’اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال سے آگاہ کر دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور بے شک قیامت کی گھڑی ضرور آئے گی۔‘‘ اگر ان کے حال کے بارے میں آگاہی نہ ہوئی ہوتی تو ان کے لیے مذکورہ واقعہ میں کوئی دلیل نہ ہوتی، پھر جب انھوں نے ایک دوسرے سے سوال کیا اور ان کے درمیان وہ سوال جواب ہوا جس کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے تو انھوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو کچھ سکے، یعنی دراہم دے کر، جو ان کے پاس تھے، کھانا خرید کر لانے کے لیے اس شہر میں بھیجا جہاں سے وہ نکل کر آئے تھے اور اس سے کہا کہ وہ اچھا اور لذیذ ترین کھانا منتخب کر کے لائے، نیز وہ اپنے شہر جانے، کھانا خریدنے اور واپس لوٹنے میں ایسا نرم رویہ اختیار کرے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ وہ اپنے آپ کو بھی چھپائے اور اپنے بھائیوں کے حال کو بھی مخفی رکھے اور کسی کو اس کے بارے میں کوئی علم نہ ہو۔
[20] ان کے سامنے یہ اندیشہ تھا کہ لوگوں کو اگر ان کی اطلاع ہوگئی تو اس کے نتیجے میں ان کے ساتھ جو سلوک ہو گا وہ ان دو امور میں سے ایک ہو گا۔ یا تو وہ ان کو سنگسار کر کے نہایت برے طریقے سے ان کو قتل کردیں گے کیونکہ انھیں ان پر اور ان کے دین پر سخت غصہ ہے۔ یا انھیں تعذیب اور آزمائش میں مبتلا کر کے ان کو اپنے دین میں واپس لانے کی کوشش کریں گے اور اس حال میں وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے بلکہ وہ اپنے دین، دنیا اور آخرت کے بارے میں سخت خسارے میں رہیں گے۔یہ دو آیات کریمہ متعدد فوائد پر دلالت کرتی ہیں :(۱) حصول علم اور علمی مباحثہ پر ترغیب کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسی کی خاطر اصحاب کہف کو دوبارہ زندہ کیا۔ (۲) جب بندے پر علم مشتبہ ہو جائے تو اس کا ادب یہ ہے کہ وہ اس علم کو اس شخص کی طرف لوٹا دے جو اس کا عالم ہے اور خود اپنی حد پر ٹھہر جائے۔ (۳) خریدوفروخت میں وکالت اور اس میں شراکت صحیح ہے۔ (۴) اچھی چیزیں اور لذیذ کھانے کھانا جائز ہے جبکہ ان میں اسراف نہ ہو جو ممنوع ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ فَلۡيَنۡظُرۡ اَيُّهَاۤ اَزۡكٰى طَعَامًا فَلۡيَاۡتِكُمۡ بِرِزۡقٍ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’پس وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں سے ملتا ہے پس وہ تمھارے لیے وہیں سے کچھ کھانے کے لیے لے کر آئے۔‘‘ خاص طور پر جبکہ انسان کو اس کے سوا کوئی اور کھانا موافق نہ آتا ہو۔ شاید یہی آیت کریمہ ان مفسرین کے قول کی بنیاد ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اصحاب کہف بادشاہوں کی اولاد تھے اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے کھانا لانے والے کو اچھا اور لذیذ کھانا لانے کا حکم دیا تھا کیونکہ خوشحال اور بڑے لوگوں کی عادت ہے کہ وہ اچھا کھانا تناول کرتے ہیں ۔ (۵) جب دین میں ابتلا اور فتنہ کا موقع ہو تو اس سے بچنے، چھپنے اور فتنوں کی جگہوں سے دور رہنے کی ترغیب دی گئی ہے، نیز یہ کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے دینی بھائیوں کو چھپائے۔ (۶) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ان نوجوانوں کو دین میں شدید رغبت تھی وہ اپنے دین کے بارے میں ہر قسم کے فتنہ سے دور بھاگتے تھے اور انھوں نے دین کی خاطر اپنے وطن کو چھوڑ دیا تھا۔ (۷) ان آیات کریمہ میں اس شر کا ذکر ہے جو ضرر اور ان مفاسد پر مشتمل ہے جو اس کی ناپسندیدگی کا باعث اور اس کو ترک کرنے کی دعوت دیتے ہیں اور یہ کہ یہ طریقہ تمام متقدمین اور متاخرین اہل ایمان کا طریقہ ہے کیونکہ اہل کہف نے کہا تھا: ﴿ وَ لَنۡ تُفۡلِحُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ﴾ اگر وہ تمھیں اپنی ملت میں واپس لوٹا دیں تو تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے۔
18:21وَكَذَٰلِكَ أَعۡثَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ لِيَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَأَنَّ ٱلسَّاعَةَ لَا رَيۡبَ فِيهَآ إِذۡ يَتَنَٰزَعُونَ بَيۡنَهُمۡ أَمۡرَهُمۡۖ فَقَالُواْ ٱبۡنُواْ عَلَيۡهِم بُنۡيَٰنٗاۖ رَّبُّهُمۡ أَعۡلَمُ بِهِمۡۚ قَالَ ٱلَّذِينَ غَلَبُواْ عَلَىٰٓ أَمۡرِهِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيۡهِم مَّسۡجِدٗا
اور اسی طرح مطلع کر دیا ہم نے ان پر (لوگوں کو) تاکہ وہ جان لیں کہ بلاشبہ اللہ کا وعدہ حق ہےاور بلاشبہ قیامت، نہیں کوئی شک اس میں ، جب وہ ایک دوسرے سے جھگڑ رہے تھے باہم ان کے معاملے میں سو کہا انھوں نے، بناؤ ان پر ایک عمارت، ان کا رب خوب جانتا ہے ان کو، کہا ان لوگوں نے جو غالب آئے تھے اوپر ان کے معاملے کے، البتہ ضرور بنائیں گے ہم ان پر مسجد (21)
[21] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے لوگوں کو اصحاب کہف کے احوال سے مطلع کیا اور یہ اطلاع یوں ہوئی (واللہ اعلم) کہ اصحاب کہف جب اپنی نیند سے بیدار ہوئے تو انھوں نے اپنے ایک ساتھی کو کھانا لانے کے لیے شہر بھیجا اور اسے ہدایت کی کہ وہ خود اپنے آپ کو اور ان کے معاملے کو چھپائے رکھے۔ مگر اللہ تعالیٰ ایک ایسا معاملہ چاہتا تھا جس میں لوگوں کی بھلائی اور ان کے لیے زیادہ اجر تھا۔ انھوں نے اصحاب کہف میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے اس بات کی نشانی کا عینی مشاہدہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کا قیامت کا وعدہ سچا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور اس کا آنا بعید نہیں ۔ اس سے پہلے وہ اس امر میں اختلاف کیا کرتے تھے۔ بعض لوگ قیامت اور جزائے اعمال کو مانتے تھے اور بعض اس کا انکار کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے واقعہ کو اہل ایمان کے لیے ان کے یقین و بصیرت میں اضافے اور منکرین کے خلاف حجت و برہان کا باعث بنایا اور اس تمام قضیے کا اجر اصحاب کہف کو حاصل ہوا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اصحاب کہف کے واقعہ کو تشہیر بخشی، ان کی قدر و منزلت بلند کی یہاں تک کہ ان لوگوں کی بھی عظمت بیان کی جو ان کے احوال پر مطلع ہوئے۔ ﴿ فَقَالُوا ابۡنُوۡا عَلَيۡهِمۡ بُنۡيَانًا﴾ ’’پس انھوں نے کہا، بناؤ ان پر ایک عمارت۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کے حال و مآل کے بارے میں زیادہ جانتا ہے۔ وہ لوگ جو ان کے معاملے میں اختیار رکھتے تھے، یعنی اصحاب اقتدار وہ کہنے لگے:﴿ لَنَتَّؔخِذَنَّ عَلَيۡهِمۡ مَّسۡجِدًا﴾ ’’ہم بنائیں گے ان کی جگہ پر ایک مسجد‘‘ یعنی ہم اس مسجد میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے اور اس مسجد کی وجہ سے ان کے حالات و واقعات کو یاد رکھیں گے۔ مگر یہ حالت ممنوع اور حرام ہے۔ رسول اللہﷺ نے اس سے منع کیا ہے اور ایسا کرنے والوں کی مذمت فرمائی ہے۔(صحیح البخاري، کتاب الجنائز، باب ما یکرہ من اتخاذ المساجد علی القبور، حدیث: 1330) یہاں اس کا ذکر کرنا اس کے مذموم نہ ہونے پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ آیات کا سیاق اصحاب کہف کی شان اور ان کی مدح و ثنا کے بارے میں ہے، یعنی اصحاب کہف کے بارے میں اطلاع پا کر لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ یہاں تک کہنے لگے کہ ان پر ایک مسجد تعمیر کر دو۔ کہاں تو اصحاب کہف کو اپنی قوم سے شدید خوف اور اپنے بارے میں اطلاع ہونے کا ڈر تھا اور کہاں یہ حالت تھی جو آپ کے سامنے ہے۔ (۱) یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے فرار ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے فتنوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ (۲) جو کوئی عافیت کی خواہش رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطا کرتا ہے۔ (۳) جو اللہ تعالیٰ کے پاس پناہ لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو پناہ دیتا ہے اور اسے دوسروں کے لیے ذریعۂ ہدایت بنا دیتا ہے۔ (۴) جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس کی رضا کی خاطر ذلت اٹھاتا ہے انجام کار اسے بہت زیادہ عزت نصیب ہوتی ہے اور اسے اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ ﴿ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ ﴾(آل عمران: 3؍198) ’’جو اللہ کے پاس ہے وہ نیکو کار لوگوں کے لیے بہت بہتر ہے۔‘‘
18:22سَيَقُولُونَ ثَلَٰثَةٞ رَّابِعُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ وَيَقُولُونَ خَمۡسَةٞ سَادِسُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ رَجۡمَۢا بِٱلۡغَيۡبِۖ وَيَقُولُونَ سَبۡعَةٞ وَثَامِنُهُمۡ كَلۡبُهُمۡۚ قُل رَّبِّيٓ أَعۡلَمُ بِعِدَّتِهِم مَّا يَعۡلَمُهُمۡ إِلَّا قَلِيلٞۗ فَلَا تُمَارِ فِيهِمۡ إِلَّا مِرَآءٗ ظَٰهِرٗا وَلَا تَسۡتَفۡتِ فِيهِم مِّنۡهُمۡ أَحَدٗا
عنقریب کہیں گے (لوگ) وہ تین تھے، چوتھا ان کا، کتا تھا ان کا، اور کہیں گے، (وہ) پانچ تھے، چھٹا ان کا، کتا تھا ان کا، (یہ تو) رائے زنی کرنا ہے بغیر علم کے اور کہیں گے، (وہ) ساتھ تھے، آٹھواں ان کا، کتا تھا ان کا، آپ کہہ دیجیے، میرا رب خوب جانتا ہے ان کی تعداد، نہیں جانتے ان (کے حال) کو مگر بہت تھوڑے لوگ ہی، سو نہ جھگڑا کریں آپ ان کی بابت مگر جھگڑا سرسری اور نہ پوچھیے آپ ان کے بارے میں ، ان میں سے کسی سے بھی (22)
[22] اللہ تبارک و تعالیٰ اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں اہل کتاب کے اختلاف کا ذکر فرماتا ہے ان کا اختلاف محض اٹکل پچو اور بے تکی باتیں تھیں ۔ انھوں نے بغیر کسی علم کے یہ باتیں گھڑ لی تھیں ۔ ان کی تعداد کے متعلق اہل کتاب کے تین اقوال تھے: (۱) ان میں سے بعض کا خیال تھا کہ اصحاب کہف تین آدمی تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ (۲) بعض کی رائے تھی کہ وہ پانچ آدمی تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا… یہ دو قول ہیں جن کو ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو ﴿ رَجۡمًۢا بِالۡغَيۡبِ﴾ قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ان دونوں اقوال کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔ (۳) بعض کہتے ہیں کہ وہ تعداد میں سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا اور یہی قرین صواب ہے۔ (واللہ اعلم) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے دو اقوال کا ابطال کیا ہے مگر اس قول کا ابطال نہیں کیا جو اس کی صحت کی دلیل ہے۔ تاہم یہ ایسا اختلاف ہے جس کے تحت کوئی فائدہ نہیں ، نہ ان کے عدد کی معرفت سے لوگوں کو کوئی دینی یا دنیاوی مصلحت حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ رَّبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِعِدَّتِهِمۡ مَّا يَعۡلَمُهُمۡ اِلَّا قَلِيۡلٌ﴾’’کہہ دیجیے! میرا رب ہی خوب جانتا ہے ان کی تعداد کو، تھوڑے لوگ ہی ان کا علم رکھتے ہیں ۔‘‘ اور یہ وہ لوگ ہیں جو صواب تک پہنچ گئے اور انھیں اپنی اصابت کا علم بھی ہو گیا۔ ﴿ فَلَا تُمَارِ فِيۡهِمۡ﴾ ’’لہٰذا ان کے بارے میں جھگڑا نہ کیجیے‘‘ ﴿ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا﴾ ’’مگر سرسری گفتگو‘‘ یعنی ایسی بحث جو علم و یقین پر مبنی ہو اس میں فائدہ بھی ہو۔ رہی وہ بحث اور مجادلہ جو جہالت اور اٹکل پچو دلائل پر مبنی ہو یا اس بحث میں کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو یا مدمقابل عناد رکھتا ہو یا زیربحث مسئلہ کی کوئی اہمیت نہ ہو، اس کی معرفت سے کوئی دینی فائدہ حاصل نہ ہوتا ہو، مثلاً:اصحاب کہف کی تعداد وغیرہ… تو اس قسم کے امور میں کثرت سے بحث مباحثہ کرنا تضییع اوقات ہے اور یہ بحث مباحثہ باہمی مودت و محبت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ﴿ وَّلَا تَسۡتَفۡتِ فِيۡهِمۡ﴾ ’’اور نہ پوچھیے ان کے بارے میں ‘‘ یعنی اصحاب کہف کے بارے میں ﴿ مِّؔنۡهُمۡ﴾ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اَحَدًا﴾ ’’کسی سے بھی ‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا کلام محض اندازوں اور وہم و گمان پر مبنی ہے جو حق کے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جو فتویٰ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس سے استفتاء نہ کیا جائے، خواہ اس کی وجہ یہ ہو کہ جس امر کے بارے میں فتویٰ پوچھا جا رہا ہے وہ اس میں کوتاہ علم ہے یا اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ بولتے وقت اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ وہ کیا بول رہا ہے اور وہ ورع سے بھی خالی ہے جو اسے لایعنی کلام سے روک دے۔ جب اس قسم کے امور میں استفتاء ممنوع ہے تو فتویٰ دینا تو بدرجہ اولی ممنوع ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ انسان کو بسا اوقات کسی ایک امر میں استفتاء کرنے سے روکا گیا مگر کسی دوسرے معاملے میں استفتاء کی اجازت ہوتی ہے۔ پس وہ ایسے شخص سے فتویٰ طلب کرے جو فتویٰ دینے کا اہل ہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فتویٰ پوچھنے سے علی الاطلاق منع نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے صرف اصحاب کہف کے قصے میں اور اس قسم کے دیگر واقعات میں فتویٰ پوچھنے سے روکا ہے۔(صحیح البخاري، کتاب الجنائز، باب مایکرہ من اتخاذ… الخ، حدیث: 1330)
18:23وَلَا تَقُولَنَّ لِشَاْيۡءٍ إِنِّي فَاعِلٞ ذَٰلِكَ غَدًا
اور قطعاً نہ کہیں آپ کسی چیز کے متعلق کہ بے شک میں کرنے والا ہوں یہ کل (23) مگر یہ کہ چاہے اللہ اور یاد کریں اپنے رب کو جب بھول جائیں آپ اور کہیے! امید ہے کہ ہدایت دے دے مجھے میرا رب قریب تر راستے کی اس سے، بھلائی کے (24)
[23] یہ نہی دیگر نواہی کی مانند (عام) ہے اگرچہ یہ ایک خاص سبب کی بنا پر ہے اور اس کے مخاطب رسول اللہﷺ ہیں مگر اس کا خطاب عام مکلفین کے لیے بھی ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے روک دیا ہے کہ بندۂ مومن، مستقبل کے امور کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کو ملائے بغیر کہے ’’میں یہ کام کروں گا‘‘ اور یہ اس لیے کہ اس میں خطرات ہیں اور وہ ہے مستقبل کے غیبی معاملات کے بارے میں کلام کرنا، جن کے بارے میں بندہ نہیں جانتا کہ وہ ان پر عمل کر سکے گا یا نہیں یا وہ ہو گا یا نہیں ؟ اس طرح کہنے میں فعل کے کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ مستقل طورپر بندے کی طرف لوٹانا ہے، حالانکہ یہ قابل احتراز شے اور ممنوع ہے کیونکہ مشیت تمام تر اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾(التکویر:81؍29) ’’تم نہیں چاہتے مگر جو اللہ جہانوں کا رب چاہتا ہے۔‘‘ اپنے کسی امر میں اللہ کی مشیت کے ذکر کرنے میں اس امر کی آسانی، تسہیل، اس میں برکت کا حصول اور بندے کی اپنے رب سے مدد کی طلب ہے۔
[24] علاوہ ازیں بندہ ایک بشر ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ذکر کو بھول جانا ایک لابدی امر ہے اس لیے اس نے اپنے بندے کو حکم دیا کہ جب اسے یاد آئے وہ استثناء کر لیا کرے (یعنی ’’ان شاء اللہ‘‘ کہہ لیا کرے) تاکہ مطلوب و مقصود حاصل ہو اور محذور سے بچا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَاذۡكُرۡ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيۡتَ ﴾ ’’جب تو بھول جائے تو اپنے رب کو یاد کر‘‘ کے عموم سے بھی یہ حکم اخذ کیا جاتا ہے کہ نسیان کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر نسیان کو زائل کر دیتا ہے اور بندے کو وہ امر یاد دلا دیتا ہے جو اسے بھول گیا تھا۔ اسی طرح اللہ کا ذکر بھول جانے اور نسیان کا شکار ہو جانے والے کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کو یاد کرے اور اور غافلوں میں شامل نہ ہو۔ چونکہ بندہ اصابت کی توفیق اور اپنے اقوال و افعال میں عدم خطا کے لیے اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے کہ وہ کہے ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّهۡدِيَنِ رَبِّيۡ لِاَقۡرَبَ مِنۡ هٰؔذَا رَشَدًا ﴾ ’’امید ہے کہ دکھائے مجھے میرا رب اس سے زیادہ نزدیک نیکی کی راہ‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو پکارے، اسی سے امید وابستہ کرے اور اسی پر اس بارے میں بھروسہ کرے کہ وہ اس کی رشد و ہدایت کے لیے قریب ترین راستہ کی طرف اس کی راہنمائی کرے گا۔ جس بندے کا حال یہ ہو، پھر وہ رشد و ہدایت کی طلب میں اپنی کوشش اور جہد صرف کرے، وہ اس لائق ہے کہ اس کو رشد و ہدایت کی توفیق عطا ہو اس کے پاس اس کے رب کی مدد آئے اور اس کے تمام امور میں اسے درستی و راستی عطا ہو۔
18:24إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ وَٱذۡكُر رَّبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلۡ عَسَىٰٓ أَن يَهۡدِيَنِ رَبِّي لِأَقۡرَبَ مِنۡ هَٰذَا رَشَدٗا
اور قطعاً نہ کہیں آپ کسی چیز کے متعلق کہ بے شک میں کرنے والا ہوں یہ کل (23) مگر یہ کہ چاہے اللہ اور یاد کریں اپنے رب کو جب بھول جائیں آپ اور کہیے! امید ہے کہ ہدایت دے دے مجھے میرا رب قریب تر راستے کی اس سے، بھلائی کے (24)
[23] یہ نہی دیگر نواہی کی مانند (عام) ہے اگرچہ یہ ایک خاص سبب کی بنا پر ہے اور اس کے مخاطب رسول اللہﷺ ہیں مگر اس کا خطاب عام مکلفین کے لیے بھی ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے روک دیا ہے کہ بندۂ مومن، مستقبل کے امور کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کو ملائے بغیر کہے ’’میں یہ کام کروں گا‘‘ اور یہ اس لیے کہ اس میں خطرات ہیں اور وہ ہے مستقبل کے غیبی معاملات کے بارے میں کلام کرنا، جن کے بارے میں بندہ نہیں جانتا کہ وہ ان پر عمل کر سکے گا یا نہیں یا وہ ہو گا یا نہیں ؟ اس طرح کہنے میں فعل کے کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ مستقل طورپر بندے کی طرف لوٹانا ہے، حالانکہ یہ قابل احتراز شے اور ممنوع ہے کیونکہ مشیت تمام تر اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾(التکویر:81؍29) ’’تم نہیں چاہتے مگر جو اللہ جہانوں کا رب چاہتا ہے۔‘‘ اپنے کسی امر میں اللہ کی مشیت کے ذکر کرنے میں اس امر کی آسانی، تسہیل، اس میں برکت کا حصول اور بندے کی اپنے رب سے مدد کی طلب ہے۔
[24] علاوہ ازیں بندہ ایک بشر ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ذکر کو بھول جانا ایک لابدی امر ہے اس لیے اس نے اپنے بندے کو حکم دیا کہ جب اسے یاد آئے وہ استثناء کر لیا کرے (یعنی ’’ان شاء اللہ‘‘ کہہ لیا کرے) تاکہ مطلوب و مقصود حاصل ہو اور محذور سے بچا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَاذۡكُرۡ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيۡتَ ﴾ ’’جب تو بھول جائے تو اپنے رب کو یاد کر‘‘ کے عموم سے بھی یہ حکم اخذ کیا جاتا ہے کہ نسیان کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر نسیان کو زائل کر دیتا ہے اور بندے کو وہ امر یاد دلا دیتا ہے جو اسے بھول گیا تھا۔ اسی طرح اللہ کا ذکر بھول جانے اور نسیان کا شکار ہو جانے والے کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کو یاد کرے اور اور غافلوں میں شامل نہ ہو۔ چونکہ بندہ اصابت کی توفیق اور اپنے اقوال و افعال میں عدم خطا کے لیے اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے کہ وہ کہے ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّهۡدِيَنِ رَبِّيۡ لِاَقۡرَبَ مِنۡ هٰؔذَا رَشَدًا ﴾ ’’امید ہے کہ دکھائے مجھے میرا رب اس سے زیادہ نزدیک نیکی کی راہ‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو پکارے، اسی سے امید وابستہ کرے اور اسی پر اس بارے میں بھروسہ کرے کہ وہ اس کی رشد و ہدایت کے لیے قریب ترین راستہ کی طرف اس کی راہنمائی کرے گا۔ جس بندے کا حال یہ ہو، پھر وہ رشد و ہدایت کی طلب میں اپنی کوشش اور جہد صرف کرے، وہ اس لائق ہے کہ اس کو رشد و ہدایت کی توفیق عطا ہو اس کے پاس اس کے رب کی مدد آئے اور اس کے تمام امور میں اسے درستی و راستی عطا ہو۔
18:25وَلَبِثُواْ فِي كَهۡفِهِمۡ ثَلَٰثَ مِاْئَةٖ سِنِينَ وَٱزۡدَادُواْ تِسۡعٗا
اور ٹھہرے وہ اپنے غار میں تین سو سال اور زیادہ رہے (اس سے) نوسال (25) آپ کہہ دیجیے! اللہ ہی خوب جانتا ہے اس مدت کو کہ جو وہ ٹھہرے، اسی کے لیے ہے غیب آسمانوں اور زمین کا، کیا ہی خوب دیکھنے والا ہے وہ اور کیا ہی خوب سننے والا ہے، نہیں ہے ان کے لیے سوائے اس (اللہ) کے کوئی دوست اور نہیں شریک کرتا وہ اپنے حکم میں کسی کو بھی (26)
[26,25] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے بارے میں اہل کتاب سے سوال کرنے سے منع کر دیا ہے کیونکہ انھیں اس کے متعلق کچھ علم نہیں ، اللہ تعالیٰ ہی غیب اور حاضر کا علم رکھتا ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے… اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سوئے رہنے کی مدت سے آگاہ فرمایا۔ اس مدت کو وہ اکیلا ہی جانتا ہے کیونکہ اس کا تعلق آسمانوں اور زمین کے غیبی امور سے ہے اور غیبی امور کا علم اللہ تعالیٰ سے مختص ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان امور کے بارے میں اپنے رسولوں کی زبانی آگاہ فرمایا ہے وہی حق یقینی ہے جس میں کوئی شک نہیں اور وہ امور جن کے بارے میں وہ اپنے انبیاء و رسل کو مطلع نہیں کرتا مخلوق میں سے کوئی بھی ان کو نہیں جان سکتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد:﴿ اَبۡصِرۡ بِهٖ وَاَسۡمِعۡ﴾ ’’کیا ہی خوب وہ دیکھتا اور سنتا ہے۔‘‘ تمام معلومات پر اپنے علم کے احاطہ کے بارے میں آگاہ کرنے کے بعد کامل سمع و بصر، تمام مسموعات و مبصرات پر اس سمع و بصر کے محیط ہونے پر تعجب کا اظہار ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ولایت عامہ اور ولایت خاصہ میں وہی منفرد ہے وہی ولی اور مددگار ہے جو تمام کائنات کی تدبیر کرتا ہے اپنے مومن بندوں کا دوست اور مددگار ہے وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ فرمایا:﴿ مَا لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّلِيٍّ﴾ ’’نہیں ہے واسطے ان کے، اس کے سوا، کوئی دوست، کار ساز‘‘ یعنی وہی ہے جس نے اپنے لطف و کرم سے اصحاب کہف کی سرپرستی فرمائی اور ان کے معاملے کو اپنی مخلوق میں سے کسی پر نہیں چھوڑا۔ ﴿ وَّلَا يُشۡرِكُ فِيۡ حُكۡمِهٖۤ اَحَدًا﴾ ’’اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا‘‘ اور یہ حکم کونی و قدری اور حکم دینی و شرعی دونوں کو شامل ہے وہی قضا و قدر اور تخلیق و تدبیر کے ذریعے سے اور امرونہی اور ثواب و عقاب کے ذریعے سے اپنی مخلوق میں اپنا حکم نافذ کرتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ آسمانوں اور زمین کے تمام غیبی امور کو وہ جانتا ہے تو مخلوق کے لیے ان کو جاننے کا اس طریقے کے سوا کوئی اور طریقہ نہیں ، جو اس نے اپنے بندوں کو بتایا ہے۔ یہ قرآن کریم بہت سے غیبی امور پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:
18:26قُلِ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا لَبِثُواْۖ لَهُۥ غَيۡبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ أَبۡصِرۡ بِهِۦ وَأَسۡمِعۡۚ مَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِيّٖ وَلَا يُشۡرِكُ فِي حُكۡمِهِۦٓ أَحَدٗا
اور ٹھہرے وہ اپنے غار میں تین سو سال اور زیادہ رہے (اس سے) نوسال (25) آپ کہہ دیجیے! اللہ ہی خوب جانتا ہے اس مدت کو کہ جو وہ ٹھہرے، اسی کے لیے ہے غیب آسمانوں اور زمین کا، کیا ہی خوب دیکھنے والا ہے وہ اور کیا ہی خوب سننے والا ہے، نہیں ہے ان کے لیے سوائے اس (اللہ) کے کوئی دوست اور نہیں شریک کرتا وہ اپنے حکم میں کسی کو بھی (26)
[26,25] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے بارے میں اہل کتاب سے سوال کرنے سے منع کر دیا ہے کیونکہ انھیں اس کے متعلق کچھ علم نہیں ، اللہ تعالیٰ ہی غیب اور حاضر کا علم رکھتا ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے… اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سوئے رہنے کی مدت سے آگاہ فرمایا۔ اس مدت کو وہ اکیلا ہی جانتا ہے کیونکہ اس کا تعلق آسمانوں اور زمین کے غیبی امور سے ہے اور غیبی امور کا علم اللہ تعالیٰ سے مختص ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان امور کے بارے میں اپنے رسولوں کی زبانی آگاہ فرمایا ہے وہی حق یقینی ہے جس میں کوئی شک نہیں اور وہ امور جن کے بارے میں وہ اپنے انبیاء و رسل کو مطلع نہیں کرتا مخلوق میں سے کوئی بھی ان کو نہیں جان سکتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد:﴿ اَبۡصِرۡ بِهٖ وَاَسۡمِعۡ﴾ ’’کیا ہی خوب وہ دیکھتا اور سنتا ہے۔‘‘ تمام معلومات پر اپنے علم کے احاطہ کے بارے میں آگاہ کرنے کے بعد کامل سمع و بصر، تمام مسموعات و مبصرات پر اس سمع و بصر کے محیط ہونے پر تعجب کا اظہار ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ولایت عامہ اور ولایت خاصہ میں وہی منفرد ہے وہی ولی اور مددگار ہے جو تمام کائنات کی تدبیر کرتا ہے اپنے مومن بندوں کا دوست اور مددگار ہے وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ فرمایا:﴿ مَا لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّلِيٍّ﴾ ’’نہیں ہے واسطے ان کے، اس کے سوا، کوئی دوست، کار ساز‘‘ یعنی وہی ہے جس نے اپنے لطف و کرم سے اصحاب کہف کی سرپرستی فرمائی اور ان کے معاملے کو اپنی مخلوق میں سے کسی پر نہیں چھوڑا۔ ﴿ وَّلَا يُشۡرِكُ فِيۡ حُكۡمِهٖۤ اَحَدًا﴾ ’’اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا‘‘ اور یہ حکم کونی و قدری اور حکم دینی و شرعی دونوں کو شامل ہے وہی قضا و قدر اور تخلیق و تدبیر کے ذریعے سے اور امرونہی اور ثواب و عقاب کے ذریعے سے اپنی مخلوق میں اپنا حکم نافذ کرتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ آسمانوں اور زمین کے تمام غیبی امور کو وہ جانتا ہے تو مخلوق کے لیے ان کو جاننے کا اس طریقے کے سوا کوئی اور طریقہ نہیں ، جو اس نے اپنے بندوں کو بتایا ہے۔ یہ قرآن کریم بہت سے غیبی امور پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:
18:27وَٱتۡلُ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلۡتَحَدٗا
اور تلاوت کیجیے اس کی جو وحی کی گئی ہے آپ کی طرف، کتاب میں سے آپ کے رب کی، نہیں کوئی بدلنے والا اس کی باتوں کواور ہرگز نہیں پائیں گے آپ سوائے اس کے کوئی جائے پناہ (27)
[27] تلاوت سے مراد اتباع کرنا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی طرف جو وحی بھیجی ہے اس کے معانی کی معرفت اور ان کا فہم حاصل کر کے، اس کی دی ہوئی خبروں کی تصدیق اور اس کے اوامر و نواہی کی تعمیل کر کے اس کی اتباع کیجیے کیونکہ یہ بہت ہی جلیل القدر کتاب ہے جس کی باتوں کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا، ان کلمات کے صدق و عدل اور حسن میں ہر غایت و انتہا سے بڑھ جانے کی وجہ سے، ان میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا:﴿ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا﴾(الانعام:6؍115) ’’آپ کے رب کی بات صدق و عدل کے اعتبار سے کامل ہے۔‘‘ پس اپنے کمال کی وجہ سے ان باتوں میں تغیر و تبدل محال ہے اگر اللہ تعالیٰ کے کلمات ناقص ہوتے تو ان میں تغیر و تبدل واقع ہو سکتا۔ اس میں قرآن کریم کی عظمت کا اظہار ہے اور اسی ضمن میں قرآن کریم کی طرف توجہ کرنے کی ترغیب ہے۔ ﴿ وَلَنۡ تَجِدَ مِنۡ دُوۡنِهٖ مُلۡتَحَدًا﴾ ’’اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤگے۔‘‘ یعنی آپ کے رب کے سوا کہیں آپ کو کوئی ٹھکانا ملے گا جہاں آپ چھپ سکیں نہ پناہ گاہ ملے گی جہاں پناہ لے سکیں ۔ پس جب یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ تمام امور میں وہی ملجاوماوی ہے تو یہ بات بھی متعین ہو گئی کہ وہی الٰہ ہے، خوشحالی اور بدحالی میں اسی کی طرف رغبت کی جائے، لوگ اپنے تمام احوا ل میں اسی کے محتاج ہیں اور اپنے تمام مطالب میں اسی سے سوال کیا جائے۔
18:28وَٱصۡبِرۡ نَفۡسَكَ مَعَ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ رَبَّهُم بِٱلۡغَدَوٰةِ وَٱلۡعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجۡهَهُۥۖ وَلَا تَعۡدُ عَيۡنَاكَ عَنۡهُمۡ تُرِيدُ زِينَةَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَا تُطِعۡ مَنۡ أَغۡفَلۡنَا قَلۡبَهُۥ عَن ذِكۡرِنَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ وَكَانَ أَمۡرُهُۥ فُرُطٗا
اور روک رکھیے اپنے آپ کو ساتھ ان لوگوں کے جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام، وہ چاہتے ہیں چہرہ اس (اللہ) کااور نہ تجاوز کریں آپ کی آنکھیں ان سے، ارادہ کرتے ہیں آپ زینت کا زندگانیٔ دنیا کی اور مت اطاعت کریں آپ اس شخص کی کہ غافل کر دیا ہم نے اس کے دل کو اپنے ذکر سے اور پیروی کی اس نے اپنی خواہش کی اور ہے معاملہ اس کا حد سے بڑھا ہوا (28)
[28] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو اور دوسروں کو، جو اوامر و نواہی میں آپ کے نمونہ پر عمل پیرا ہیں ، حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مومنوں کے ساتھ جوڑے رکھیں جو اللہ کے بندے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے ہیں ۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَدٰؔوةِ وَالۡعَشِيِّ ﴾ ’’جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح وشام‘‘ یعنی دن کے پہلے اور آخری حصے میں ، اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی بندگی اور اس میں ان کے اخلاص کو بیان کیا ہے۔ پس اس آیت کریمہ میں حکم دیا گیا ہے کہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے، ان کی صحبت اختیار کرنے اور ان کے ساتھ اختلاط میں نفس کے ساتھ مجاہدہ کیا جائے۔ خواہ یہ نیک لوگ فقرا ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ ان کی صحبت میں اتنے فوائد ہیں جن کا شمار نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَلَا تَعۡدُ عَيۡنٰكَ عَنۡهُمۡ﴾ ’’اور تمھاری نگاہیں ان میں سے (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کی نظریں ان سے تجاوز کریں نہ آپ اپنی نظروں کو ان سے ہٹائیں۔ ﴿ تُرِيۡدُ زِيۡنَةَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کی زندگی کی رونق کی تلاش میں ‘‘ کیونکہ یہ چیز نقصان دہ ہے اس میں کوئی فائدہ نہیں یہ تمام دینی مصالح کی قاطع ہے یہ دنیا سے دل کے تعلق کی موجب بنتی ہے، دل میں اندیشے اور وسوسے جاگزیں ہو جاتے ہیں اور دل سے آخرت کی رغبت زائل ہو جاتی ہے۔ دنیا کی زیب و زینت دیکھنے والے کو بہت خوش کن نظر آتی ہے، قلب پر جادو کر دیتی ہے جس سے قلب اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہو کر لذات و شہوات میں مگن ہو جاتا ہے تب وہ اپنے وقت کو ضائع کرکے اپنے معاملے میں کوتاہی کا شکار ہوتا ہے۔ وہ دائمی خسارے میں پڑ جاتا ہے اور ابدی ندامت اس کا نصیب بن جاتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَلَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَهٗ عَنۡ ذِكۡرِنَا﴾ ’’اس شخص کا کہنا نہ مانیے جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے غافل ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو سزا دی کہ اسے اپنے ذکر سے غافل کر دیا۔ ﴿ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ﴾ ’’اور وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگ گیا‘‘ اس کے نفس نے جو چاہا وہ کیا اور اس کو پالینے کی کوشش کرنے لگا خواہ اس میں اس کی ہلاکت اور اس کے لیے خسارہ ہی کیوں نہ ہو۔ پس اس نے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لیا جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اَفَرَءَيۡتَ مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾(الجاثیۃ:45؍23) ’’کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہ کر دیا۔‘‘ ﴿ وَؔكَانَ اَمۡرُهٗ﴾ ’’اور اس کا کام ہے‘‘ یعنی اس کے دین و دنیا کے مصالح ﴿ فُرُطًا ﴾ ’’حد سے نکل جانا‘‘ یعنی ضائع اور معطل ہونے والے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کی اطاعت سے روکا ہے کیونکہ اس کی اطاعت اس کی پیروی کرنے کی دعوت دیتی ہے، نیز اس لیے کہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے وہ خود متصف ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہی شخص اطاعت کے لائق اور لوگوں کا امام بننے کے قابل ہے جس کا دل محبت الٰہی سے لبریز ہو اور اس کی زبان پر محبت الٰہی کا فیضان ہو، وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہو، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرتا ہو اور اسے اپنے نفس کی خواہشات پر مقدم رکھتا ہو۔ پس اس طرح وہ اپنے وقت کی حفاظت کرے گا، اس کے تمام احوال درست اور تمام افعال ٹھیک ہو جائیں گے۔ وہ لوگوں کو اس چیز کی طرف دعوت دے گا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان کیا ہے۔ پس یہ شخص اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے اور اس کو امام بنایا جائے۔ آیت مقدسہ میں جس صبر کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر ہے۔ یہ صبر کی بلند ترین قسم ہے اس کی تکمیل سے صبر کی باقی تمام اقسام کی تکمیل ہوتی ہے۔ آیت مبارکہ سے ذکر الٰہی، دعا اور دن کے دونوں حصوں میں عبادت کا استحباب مستفاد ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس فعل پر ان کی مدح کی ہے اور جس فعل پر اللہ تعالیٰ فاعل کی مدح کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور جب اللہ تعالیٰ اس فعل کو پسند کرتا ہے تو اس کا حکم اور اس کی ترغیب دیتا ہے۔
18:29وَقُلِ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكُمۡۖ فَمَن شَآءَ فَلۡيُؤۡمِن وَمَن شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡۚ إِنَّآ أَعۡتَدۡنَا لِلظَّـٰلِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمۡ سُرَادِقُهَاۚ وَإِن يَسۡتَغِيثُواْ يُغَاثُواْ بِمَآءٖ كَٱلۡمُهۡلِ يَشۡوِي ٱلۡوُجُوهَۚ بِئۡسَ ٱلشَّرَابُ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا
اور کہہ دیجیے! حق تو ہے تمھارے رب کی طرف سے، سو جو چاہے تو ایمان لائے وہ اور جو چاہے تو کفر کرے، بلاشبہ ہم نے تیار کی ہے ظالموں کے لیے ایسی آگ کہ گھیرا ہوا ہے ان کو اس کی قناتوں نےاور اگر وہ فریاد کریں گے تو فریاد رسی کیے جائیں گے ساتھ ایسے پانی کے جو مانند تیل کی تلچھٹ کے ہو گا، وہ بھون ڈالے گا چہرے (ان کے)، برا پینا ہے وہ اور بری آرام گاہ ہے وہ (29) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اورانھوں نے عمل کیے نیک، بلاشبہ ہم نہیں ضائع کرتے اجر اس شخص کا جس نے اچھا عمل کیا (30) یہی لوگ، انھی کے لیے ہیں باغات ہمیشگی کے، بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں ، وہ زیور پہنائے جائیں گے اس میں ، کنگن سونے کےاور وہ پہنیں گے کپڑے سبز رنگ کے، باریک اور موٹے ریشم کے اس حال میں کہ ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے وہ ان میں اوپر تختوں کے، اچھا بدلہ ہے (جنت)اور اچھی آرام گاہ ہے (31)
[29] اے محمد (ﷺ)! لوگوں سے کہہ دیجیے کہ یہ تمھارے رب کی طرف سے حق ہے، یعنی ضلالت میں سے ہدایت، گمراہی میں سے راہ راست اور اہل شقاوت واہل سعادت کی صفات واضح ہو گئی ہیں اور یہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو اپنے رسولﷺ کی زبان پر واضح کر دیا اور جب حق واضح ہو گیا تو اس میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہا۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾ ’’پھر جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے‘‘ یعنی دو راستوں میں سے ایک راستے کو اختیار کیے بغیر چارہ نہیں ۔ جس پر بندہ توفیق اور عدم توفیق کے مطابق گامزن ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندے کو ارادے کی آزادی عطا کی ہے، اس آزادی کی بنا پر بندہ ایمان لانے، کفر کرنے اور خیروشر کے ارتکاب کی قدرت رکھتا ہے۔ پس جو کوئی ایمان لے آتا ہے اسے حق و صواب کی توفیق عطا ہوتی ہے اور جو کوئی کفر کرتا ہے اس پر حجت قائم ہو جاتی ہے۔ اسے ایمان پر مجبور نہیں کیا جاتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لَاۤ اِكۡرَاهَ فِي الدِّيۡنِ١ۙ ۫ قَدۡ تَّبَيَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَيِّ ﴾(البقرۃ:2؍256) ’’دین میں کوئی جبر نہیں ، ہدایت گمراہی سے واضح ہو گئی ہے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے انجام کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم نے ظالموں کے لیے تیار کی ہے‘‘ یعنی جنھوں نے کفر، فسق اور معصیت کے ذریعے سے ظلم کا ارتکاب کیا ﴿نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمۡ سُرَادِقُهَا﴾ ’’آگ، جن کو گھیر رہی ہیں اس کی قناتیں ‘‘ یعنی آگ کی بڑی بڑی دیواریں ہیں جنھوں نے ان ظالموں کو گھیر رکھا ہے۔ وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ ہو گا نہ نجات کا کوئی ذریعہ، وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠﴾ ’’اور اگر وہ فریاد کریں گے‘‘ یعنی اگر وہ اپنی سخت پیاس بجھانے کے لیے پانی مانگیں گے ﴿ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ﴾ ’’تو ملے گا ان کو پانی، جیسے پیپ‘‘ یعنی انھیں پگھلے ہوئے سیسے یا تیل کی تلچھٹ جیسا پانی پلایا جائے گا۔ ﴿ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ﴾ ’’جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ یعنی جو شدت حرارت کی وجہ سے چہروں کو بھون کر رکھ دے گا، تب انتڑیوں اور پیٹ کا کیا حال ہو گا؟ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ يُصۡهَرُ بِهٖ مَا فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ وَالۡجُلُوۡدُؕ۰۰وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ ﴾(الحج:22؍20، 21) ’’اس گرم پانی سے ان کے پیٹ اور ان کی کھالیں گل جائیں گی اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے۔‘‘ ﴿ بِئۡسَ الشَّرَابُ﴾ ’’کیا برا پینا ہے‘‘ وہ جس سے پیاس بجھانا اور پیاس کے اس عذاب کو دور کرنا مقصود ہو گا مگر اس کے برعکس ان کے عذاب میں اضافہ اور ان کی عقوبت میں شدت ہو گی۔ ﴿ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾ ’’اور کیا بری (یہ آگ) آرام گاہ ہے‘‘ یہ آگ کے احوال کی مذمت ہے یعنی یہ آرام کی بدترین جگہ ہو گی۔ کیونکہ یہاں آرام نہیں بلکہ عذاب عظیم ہو گا جو بہت ہی تکلیف دہ ہو گا۔ گھڑی بھر کے لیے بھی یہ عذاب ان سے دور نہیں ہو گا اور وہ سخت مایوسی کے عالم میں ہوں گے۔ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے جس طرح انھوں نے مہربان اللہ کو فراموش کر دیا ،وہ بھی انھیں فراموش کر دے گا۔
[30] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فریق ثانی ،یعنی اہل ایمان کا ذکر فرماتا ہے:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں ، یوم آخرت اور اچھی، بری تقدیر پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ نیک کام یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کیا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ مَنۡ اَحۡسَنَ عَمَلًا﴾ ’’بے شک ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھے عمل کرتے ہیں ۔‘‘ عمل میں احسان یہ ہے کہ اس عمل میں بندے کے پیش نظر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو اور یہ عمل شریعت کی اتباع میں ہو۔ یہی وہ عمل ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہرگز ضائع نہیں کرے گا بلکہ اسے عمل کرنے والوں کے لیے محفوظ رکھے گا اور اپنے فضل و کرم سے ان کے عمل کے مطابق انھیں پورا پورا اجر عطا کرے گا۔
[31] اور ان الفاظ میں ان کے اجر کا ذکر فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡهٰرُ يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ وَّيَلۡبَسُوۡنَ ثِيَابًا خُضۡرًا مِّنۡ سُنۡدُسٍ وَّاِسۡتَبۡرَقٍ مُّتَّـكِــِٕيۡنَ فِيۡهَا عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ ’’ایسے لوگوں کے لے ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن میں ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنا کریں گے اور تختوں پر تکیے لگا کر بیٹھا کریں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کی صفات سے موصوف ہیں ان کے لیے بلند باغات ہوں گے جن میں بکثرت درخت ہوں گے جو جنت کے رہنے والوں پر سایہ کناں ہوں گے، ان میں بکثرت دریا ہوں گے جو ان خوبصورت درختوں اور عالیشان محلوں کے نیچے بہہ رہے ہوں گے۔ جنت میں ان کے لیے سونے کے زیورات ہوں گے، ان کے ملبوسات سبز ریشم کے بنے ہوئے ہوں گے (سندس) سے مراد دبیز ریشم اور (استبرق) سے مراد باریک ریشم جو عصفر سے رنگا ہوا ہو۔ وہ قیمتی کپڑوں سے آراستہ كيے ہوئے اور سجائے ہوئے تختوں پر براجمان ہوں گے۔ (اریکۃ) کو اس وقت تک (اریکۃ) نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ وہ مذکورہ صفات سے متصف نہ ہو۔ ان تختوں پر سہارا لگا کر بیٹھے ہوئے کی کیفیت دلالت کرتی ہے کہ وہ کامل راحت میں ہوں گے اور ہر قسم کی تکان ان سے دور ہوگی، خدام ان کی دل پسند چیزوں کے ساتھ ان کی خدمت میں مصروف ہوں گے اور ان تمام امور کی تکمیل اس طرح ہو گی کہ انھیں جنتوں میں دائمی خلود اور ابدی قیام حاصل ہو گا۔ پس یہ جلیل القدر گھر ﴿ نِعۡمَ الثَّوَابُ﴾ ’’کیا خوب بدلہ ہے‘‘ نیک عمل کرنے والوں کے لیے ﴿ وَحَسُنَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾ ’’اور کیا خوب آرام کی جگہ ہے‘‘ جس میں یہ آرام کریں گے اور اس کی چیزوں سے متمتع ہوں گے جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے، آنکھیں لذت اٹھائیں گی، یعنی خوشی، مسرت، دائمی فرحت، کبھی ختم نہ ہونے والی لذتیں اور وافر نعمتیں ۔ اس گھر سے بہتر آرام کرنے کی جگہ اور کون سی ہو سکتی ہے کہ اس کے رہنے والوں میں سے سب سے ادنیٰ شخص اپنی ملکیت اور اپنی نعمتوں میں ، اپنے محلوں اور باغوں میں دو ہزار سال چلے پھرے گا اور وہ اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں دیکھے گا۔ اس کی تمام آرزوئیں اور اس کے تمام مقاصد پورے ہوں گے۔ جہاں اس کی آرزوئیں پہنچنے سے قاصر ہوں گی وہاں ان کے مطالب میں اضافہ کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان نعمتوں کا دوام ان کے اوصاف اور حسن میں اضافے کا باعث ہے۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمارے شر، ہماری تقصیر اور ہمارے گناہوں کے سبب سے ہمیں اپنے اس احسان سے محروم نہ کرے جو اس کے پاس ہے۔ اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جنت میں مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے زیورات ہوں گے جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ يُحَلَّوۡنَ﴾ ’’زیور پہنائے جائیں گے‘‘ علی الاطلاق بیان کیا گیا ہے اور اسی طرح ریشم کے ملبوسات بھی سب کے لیے ہوں گے۔
18:30إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجۡرَ مَنۡ أَحۡسَنَ عَمَلًا
اور کہہ دیجیے! حق تو ہے تمھارے رب کی طرف سے، سو جو چاہے تو ایمان لائے وہ اور جو چاہے تو کفر کرے، بلاشبہ ہم نے تیار کی ہے ظالموں کے لیے ایسی آگ کہ گھیرا ہوا ہے ان کو اس کی قناتوں نےاور اگر وہ فریاد کریں گے تو فریاد رسی کیے جائیں گے ساتھ ایسے پانی کے جو مانند تیل کی تلچھٹ کے ہو گا، وہ بھون ڈالے گا چہرے (ان کے)، برا پینا ہے وہ اور بری آرام گاہ ہے وہ (29) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اورانھوں نے عمل کیے نیک، بلاشبہ ہم نہیں ضائع کرتے اجر اس شخص کا جس نے اچھا عمل کیا (30) یہی لوگ، انھی کے لیے ہیں باغات ہمیشگی کے، بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں ، وہ زیور پہنائے جائیں گے اس میں ، کنگن سونے کےاور وہ پہنیں گے کپڑے سبز رنگ کے، باریک اور موٹے ریشم کے اس حال میں کہ ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے وہ ان میں اوپر تختوں کے، اچھا بدلہ ہے (جنت)اور اچھی آرام گاہ ہے (31)
[29] اے محمد (ﷺ)! لوگوں سے کہہ دیجیے کہ یہ تمھارے رب کی طرف سے حق ہے، یعنی ضلالت میں سے ہدایت، گمراہی میں سے راہ راست اور اہل شقاوت واہل سعادت کی صفات واضح ہو گئی ہیں اور یہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو اپنے رسولﷺ کی زبان پر واضح کر دیا اور جب حق واضح ہو گیا تو اس میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہا۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾ ’’پھر جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے‘‘ یعنی دو راستوں میں سے ایک راستے کو اختیار کیے بغیر چارہ نہیں ۔ جس پر بندہ توفیق اور عدم توفیق کے مطابق گامزن ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندے کو ارادے کی آزادی عطا کی ہے، اس آزادی کی بنا پر بندہ ایمان لانے، کفر کرنے اور خیروشر کے ارتکاب کی قدرت رکھتا ہے۔ پس جو کوئی ایمان لے آتا ہے اسے حق و صواب کی توفیق عطا ہوتی ہے اور جو کوئی کفر کرتا ہے اس پر حجت قائم ہو جاتی ہے۔ اسے ایمان پر مجبور نہیں کیا جاتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لَاۤ اِكۡرَاهَ فِي الدِّيۡنِ١ۙ ۫ قَدۡ تَّبَيَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَيِّ ﴾(البقرۃ:2؍256) ’’دین میں کوئی جبر نہیں ، ہدایت گمراہی سے واضح ہو گئی ہے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے انجام کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم نے ظالموں کے لیے تیار کی ہے‘‘ یعنی جنھوں نے کفر، فسق اور معصیت کے ذریعے سے ظلم کا ارتکاب کیا ﴿نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمۡ سُرَادِقُهَا﴾ ’’آگ، جن کو گھیر رہی ہیں اس کی قناتیں ‘‘ یعنی آگ کی بڑی بڑی دیواریں ہیں جنھوں نے ان ظالموں کو گھیر رکھا ہے۔ وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ ہو گا نہ نجات کا کوئی ذریعہ، وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠﴾ ’’اور اگر وہ فریاد کریں گے‘‘ یعنی اگر وہ اپنی سخت پیاس بجھانے کے لیے پانی مانگیں گے ﴿ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ﴾ ’’تو ملے گا ان کو پانی، جیسے پیپ‘‘ یعنی انھیں پگھلے ہوئے سیسے یا تیل کی تلچھٹ جیسا پانی پلایا جائے گا۔ ﴿ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ﴾ ’’جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ یعنی جو شدت حرارت کی وجہ سے چہروں کو بھون کر رکھ دے گا، تب انتڑیوں اور پیٹ کا کیا حال ہو گا؟ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ يُصۡهَرُ بِهٖ مَا فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ وَالۡجُلُوۡدُؕ۰۰وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ ﴾(الحج:22؍20، 21) ’’اس گرم پانی سے ان کے پیٹ اور ان کی کھالیں گل جائیں گی اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے۔‘‘ ﴿ بِئۡسَ الشَّرَابُ﴾ ’’کیا برا پینا ہے‘‘ وہ جس سے پیاس بجھانا اور پیاس کے اس عذاب کو دور کرنا مقصود ہو گا مگر اس کے برعکس ان کے عذاب میں اضافہ اور ان کی عقوبت میں شدت ہو گی۔ ﴿ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾ ’’اور کیا بری (یہ آگ) آرام گاہ ہے‘‘ یہ آگ کے احوال کی مذمت ہے یعنی یہ آرام کی بدترین جگہ ہو گی۔ کیونکہ یہاں آرام نہیں بلکہ عذاب عظیم ہو گا جو بہت ہی تکلیف دہ ہو گا۔ گھڑی بھر کے لیے بھی یہ عذاب ان سے دور نہیں ہو گا اور وہ سخت مایوسی کے عالم میں ہوں گے۔ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے جس طرح انھوں نے مہربان اللہ کو فراموش کر دیا ،وہ بھی انھیں فراموش کر دے گا۔
[30] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فریق ثانی ،یعنی اہل ایمان کا ذکر فرماتا ہے:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں ، یوم آخرت اور اچھی، بری تقدیر پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ نیک کام یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کیا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ مَنۡ اَحۡسَنَ عَمَلًا﴾ ’’بے شک ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھے عمل کرتے ہیں ۔‘‘ عمل میں احسان یہ ہے کہ اس عمل میں بندے کے پیش نظر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو اور یہ عمل شریعت کی اتباع میں ہو۔ یہی وہ عمل ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہرگز ضائع نہیں کرے گا بلکہ اسے عمل کرنے والوں کے لیے محفوظ رکھے گا اور اپنے فضل و کرم سے ان کے عمل کے مطابق انھیں پورا پورا اجر عطا کرے گا۔
[31] اور ان الفاظ میں ان کے اجر کا ذکر فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡهٰرُ يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ وَّيَلۡبَسُوۡنَ ثِيَابًا خُضۡرًا مِّنۡ سُنۡدُسٍ وَّاِسۡتَبۡرَقٍ مُّتَّـكِــِٕيۡنَ فِيۡهَا عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ ’’ایسے لوگوں کے لے ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن میں ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنا کریں گے اور تختوں پر تکیے لگا کر بیٹھا کریں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کی صفات سے موصوف ہیں ان کے لیے بلند باغات ہوں گے جن میں بکثرت درخت ہوں گے جو جنت کے رہنے والوں پر سایہ کناں ہوں گے، ان میں بکثرت دریا ہوں گے جو ان خوبصورت درختوں اور عالیشان محلوں کے نیچے بہہ رہے ہوں گے۔ جنت میں ان کے لیے سونے کے زیورات ہوں گے، ان کے ملبوسات سبز ریشم کے بنے ہوئے ہوں گے (سندس) سے مراد دبیز ریشم اور (استبرق) سے مراد باریک ریشم جو عصفر سے رنگا ہوا ہو۔ وہ قیمتی کپڑوں سے آراستہ كيے ہوئے اور سجائے ہوئے تختوں پر براجمان ہوں گے۔ (اریکۃ) کو اس وقت تک (اریکۃ) نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ وہ مذکورہ صفات سے متصف نہ ہو۔ ان تختوں پر سہارا لگا کر بیٹھے ہوئے کی کیفیت دلالت کرتی ہے کہ وہ کامل راحت میں ہوں گے اور ہر قسم کی تکان ان سے دور ہوگی، خدام ان کی دل پسند چیزوں کے ساتھ ان کی خدمت میں مصروف ہوں گے اور ان تمام امور کی تکمیل اس طرح ہو گی کہ انھیں جنتوں میں دائمی خلود اور ابدی قیام حاصل ہو گا۔ پس یہ جلیل القدر گھر ﴿ نِعۡمَ الثَّوَابُ﴾ ’’کیا خوب بدلہ ہے‘‘ نیک عمل کرنے والوں کے لیے ﴿ وَحَسُنَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾ ’’اور کیا خوب آرام کی جگہ ہے‘‘ جس میں یہ آرام کریں گے اور اس کی چیزوں سے متمتع ہوں گے جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے، آنکھیں لذت اٹھائیں گی، یعنی خوشی، مسرت، دائمی فرحت، کبھی ختم نہ ہونے والی لذتیں اور وافر نعمتیں ۔ اس گھر سے بہتر آرام کرنے کی جگہ اور کون سی ہو سکتی ہے کہ اس کے رہنے والوں میں سے سب سے ادنیٰ شخص اپنی ملکیت اور اپنی نعمتوں میں ، اپنے محلوں اور باغوں میں دو ہزار سال چلے پھرے گا اور وہ اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں دیکھے گا۔ اس کی تمام آرزوئیں اور اس کے تمام مقاصد پورے ہوں گے۔ جہاں اس کی آرزوئیں پہنچنے سے قاصر ہوں گی وہاں ان کے مطالب میں اضافہ کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان نعمتوں کا دوام ان کے اوصاف اور حسن میں اضافے کا باعث ہے۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمارے شر، ہماری تقصیر اور ہمارے گناہوں کے سبب سے ہمیں اپنے اس احسان سے محروم نہ کرے جو اس کے پاس ہے۔ اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جنت میں مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے زیورات ہوں گے جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ يُحَلَّوۡنَ﴾ ’’زیور پہنائے جائیں گے‘‘ علی الاطلاق بیان کیا گیا ہے اور اسی طرح ریشم کے ملبوسات بھی سب کے لیے ہوں گے۔
18:31أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ جَنَّـٰتُ عَدۡنٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهِمُ ٱلۡأَنۡهَٰرُ يُحَلَّوۡنَ فِيهَا مِنۡ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٖ وَيَلۡبَسُونَ ثِيَابًا خُضۡرٗا مِّن سُندُسٖ وَإِسۡتَبۡرَقٖ مُّتَّكِـِٔينَ فِيهَا عَلَى ٱلۡأَرَآئِكِۚ نِعۡمَ ٱلثَّوَابُ وَحَسُنَتۡ مُرۡتَفَقٗا
اور کہہ دیجیے! حق تو ہے تمھارے رب کی طرف سے، سو جو چاہے تو ایمان لائے وہ اور جو چاہے تو کفر کرے، بلاشبہ ہم نے تیار کی ہے ظالموں کے لیے ایسی آگ کہ گھیرا ہوا ہے ان کو اس کی قناتوں نےاور اگر وہ فریاد کریں گے تو فریاد رسی کیے جائیں گے ساتھ ایسے پانی کے جو مانند تیل کی تلچھٹ کے ہو گا، وہ بھون ڈالے گا چہرے (ان کے)، برا پینا ہے وہ اور بری آرام گاہ ہے وہ (29) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اورانھوں نے عمل کیے نیک، بلاشبہ ہم نہیں ضائع کرتے اجر اس شخص کا جس نے اچھا عمل کیا (30) یہی لوگ، انھی کے لیے ہیں باغات ہمیشگی کے، بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں ، وہ زیور پہنائے جائیں گے اس میں ، کنگن سونے کےاور وہ پہنیں گے کپڑے سبز رنگ کے، باریک اور موٹے ریشم کے اس حال میں کہ ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے وہ ان میں اوپر تختوں کے، اچھا بدلہ ہے (جنت)اور اچھی آرام گاہ ہے (31)
[29] اے محمد (ﷺ)! لوگوں سے کہہ دیجیے کہ یہ تمھارے رب کی طرف سے حق ہے، یعنی ضلالت میں سے ہدایت، گمراہی میں سے راہ راست اور اہل شقاوت واہل سعادت کی صفات واضح ہو گئی ہیں اور یہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو اپنے رسولﷺ کی زبان پر واضح کر دیا اور جب حق واضح ہو گیا تو اس میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہا۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾ ’’پھر جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے‘‘ یعنی دو راستوں میں سے ایک راستے کو اختیار کیے بغیر چارہ نہیں ۔ جس پر بندہ توفیق اور عدم توفیق کے مطابق گامزن ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندے کو ارادے کی آزادی عطا کی ہے، اس آزادی کی بنا پر بندہ ایمان لانے، کفر کرنے اور خیروشر کے ارتکاب کی قدرت رکھتا ہے۔ پس جو کوئی ایمان لے آتا ہے اسے حق و صواب کی توفیق عطا ہوتی ہے اور جو کوئی کفر کرتا ہے اس پر حجت قائم ہو جاتی ہے۔ اسے ایمان پر مجبور نہیں کیا جاتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لَاۤ اِكۡرَاهَ فِي الدِّيۡنِ١ۙ ۫ قَدۡ تَّبَيَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَيِّ ﴾(البقرۃ:2؍256) ’’دین میں کوئی جبر نہیں ، ہدایت گمراہی سے واضح ہو گئی ہے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے انجام کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا:﴿ اِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم نے ظالموں کے لیے تیار کی ہے‘‘ یعنی جنھوں نے کفر، فسق اور معصیت کے ذریعے سے ظلم کا ارتکاب کیا ﴿نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمۡ سُرَادِقُهَا﴾ ’’آگ، جن کو گھیر رہی ہیں اس کی قناتیں ‘‘ یعنی آگ کی بڑی بڑی دیواریں ہیں جنھوں نے ان ظالموں کو گھیر رکھا ہے۔ وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ ہو گا نہ نجات کا کوئی ذریعہ، وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠﴾ ’’اور اگر وہ فریاد کریں گے‘‘ یعنی اگر وہ اپنی سخت پیاس بجھانے کے لیے پانی مانگیں گے ﴿ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ﴾ ’’تو ملے گا ان کو پانی، جیسے پیپ‘‘ یعنی انھیں پگھلے ہوئے سیسے یا تیل کی تلچھٹ جیسا پانی پلایا جائے گا۔ ﴿ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ﴾ ’’جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ یعنی جو شدت حرارت کی وجہ سے چہروں کو بھون کر رکھ دے گا، تب انتڑیوں اور پیٹ کا کیا حال ہو گا؟ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ يُصۡهَرُ بِهٖ مَا فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ وَالۡجُلُوۡدُؕ۰۰وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ ﴾(الحج:22؍20، 21) ’’اس گرم پانی سے ان کے پیٹ اور ان کی کھالیں گل جائیں گی اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے۔‘‘ ﴿ بِئۡسَ الشَّرَابُ﴾ ’’کیا برا پینا ہے‘‘ وہ جس سے پیاس بجھانا اور پیاس کے اس عذاب کو دور کرنا مقصود ہو گا مگر اس کے برعکس ان کے عذاب میں اضافہ اور ان کی عقوبت میں شدت ہو گی۔ ﴿ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾ ’’اور کیا بری (یہ آگ) آرام گاہ ہے‘‘ یہ آگ کے احوال کی مذمت ہے یعنی یہ آرام کی بدترین جگہ ہو گی۔ کیونکہ یہاں آرام نہیں بلکہ عذاب عظیم ہو گا جو بہت ہی تکلیف دہ ہو گا۔ گھڑی بھر کے لیے بھی یہ عذاب ان سے دور نہیں ہو گا اور وہ سخت مایوسی کے عالم میں ہوں گے۔ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے جس طرح انھوں نے مہربان اللہ کو فراموش کر دیا ،وہ بھی انھیں فراموش کر دے گا۔
[30] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فریق ثانی ،یعنی اہل ایمان کا ذکر فرماتا ہے:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں ، یوم آخرت اور اچھی، بری تقدیر پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ نیک کام یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کیا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ مَنۡ اَحۡسَنَ عَمَلًا﴾ ’’بے شک ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھے عمل کرتے ہیں ۔‘‘ عمل میں احسان یہ ہے کہ اس عمل میں بندے کے پیش نظر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو اور یہ عمل شریعت کی اتباع میں ہو۔ یہی وہ عمل ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہرگز ضائع نہیں کرے گا بلکہ اسے عمل کرنے والوں کے لیے محفوظ رکھے گا اور اپنے فضل و کرم سے ان کے عمل کے مطابق انھیں پورا پورا اجر عطا کرے گا۔
[31] اور ان الفاظ میں ان کے اجر کا ذکر فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡهٰرُ يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ وَّيَلۡبَسُوۡنَ ثِيَابًا خُضۡرًا مِّنۡ سُنۡدُسٍ وَّاِسۡتَبۡرَقٍ مُّتَّـكِــِٕيۡنَ فِيۡهَا عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ ’’ایسے لوگوں کے لے ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن میں ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنا کریں گے اور تختوں پر تکیے لگا کر بیٹھا کریں گے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کی صفات سے موصوف ہیں ان کے لیے بلند باغات ہوں گے جن میں بکثرت درخت ہوں گے جو جنت کے رہنے والوں پر سایہ کناں ہوں گے، ان میں بکثرت دریا ہوں گے جو ان خوبصورت درختوں اور عالیشان محلوں کے نیچے بہہ رہے ہوں گے۔ جنت میں ان کے لیے سونے کے زیورات ہوں گے، ان کے ملبوسات سبز ریشم کے بنے ہوئے ہوں گے (سندس) سے مراد دبیز ریشم اور (استبرق) سے مراد باریک ریشم جو عصفر سے رنگا ہوا ہو۔ وہ قیمتی کپڑوں سے آراستہ كيے ہوئے اور سجائے ہوئے تختوں پر براجمان ہوں گے۔ (اریکۃ) کو اس وقت تک (اریکۃ) نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ وہ مذکورہ صفات سے متصف نہ ہو۔ ان تختوں پر سہارا لگا کر بیٹھے ہوئے کی کیفیت دلالت کرتی ہے کہ وہ کامل راحت میں ہوں گے اور ہر قسم کی تکان ان سے دور ہوگی، خدام ان کی دل پسند چیزوں کے ساتھ ان کی خدمت میں مصروف ہوں گے اور ان تمام امور کی تکمیل اس طرح ہو گی کہ انھیں جنتوں میں دائمی خلود اور ابدی قیام حاصل ہو گا۔ پس یہ جلیل القدر گھر ﴿ نِعۡمَ الثَّوَابُ﴾ ’’کیا خوب بدلہ ہے‘‘ نیک عمل کرنے والوں کے لیے ﴿ وَحَسُنَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾ ’’اور کیا خوب آرام کی جگہ ہے‘‘ جس میں یہ آرام کریں گے اور اس کی چیزوں سے متمتع ہوں گے جن کی ان کے نفس خواہش کریں گے، آنکھیں لذت اٹھائیں گی، یعنی خوشی، مسرت، دائمی فرحت، کبھی ختم نہ ہونے والی لذتیں اور وافر نعمتیں ۔ اس گھر سے بہتر آرام کرنے کی جگہ اور کون سی ہو سکتی ہے کہ اس کے رہنے والوں میں سے سب سے ادنیٰ شخص اپنی ملکیت اور اپنی نعمتوں میں ، اپنے محلوں اور باغوں میں دو ہزار سال چلے پھرے گا اور وہ اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں دیکھے گا۔ اس کی تمام آرزوئیں اور اس کے تمام مقاصد پورے ہوں گے۔ جہاں اس کی آرزوئیں پہنچنے سے قاصر ہوں گی وہاں ان کے مطالب میں اضافہ کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان نعمتوں کا دوام ان کے اوصاف اور حسن میں اضافے کا باعث ہے۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمارے شر، ہماری تقصیر اور ہمارے گناہوں کے سبب سے ہمیں اپنے اس احسان سے محروم نہ کرے جو اس کے پاس ہے۔ اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جنت میں مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے زیورات ہوں گے جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ يُحَلَّوۡنَ﴾ ’’زیور پہنائے جائیں گے‘‘ علی الاطلاق بیان کیا گیا ہے اور اسی طرح ریشم کے ملبوسات بھی سب کے لیے ہوں گے۔
18:32۞وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلٗا رَّجُلَيۡنِ جَعَلۡنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيۡنِ مِنۡ أَعۡنَٰبٖ وَحَفَفۡنَٰهُمَا بِنَخۡلٖ وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمَا زَرۡعٗا
اور بیان کیجیے ان کے لیے مثال دو آدمیوں کی، کہ بنائے (تھے) ہم نے ایک کے لیے ان میں سے دو باغ انگوروں کےاور باڑ لگا دی ہم نے دونوں کے گرد کھجوروں کے درختوں کی اور کی ہم نے درمیان ان کے کھیتی (32) دونوں باغوں نے دیا اپنا پھل اور نہ کم کیا اس میں سے کچھ بھی اور جاری کر دی ہم نے درمیان ان دونوں کے ایک نہر (33) اور تھے اس کے لیے پھل،
[32] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے کہ ان کے سامنے دو آدمیوں کی مثال بیان کر دیجیے، ایک وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے دوسرا وہ جو ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا ناشکر گزار ہے اور ان دونوں سے جس قسم کے اقوال وافعال صادر ہوتے ہیں اور ان کی بنا پر انھیں جو دنیاوی اور اخروی عذاب اور ثواب حاصل ہوگا تاکہ یہ لوگ ان دونوں کے احوال سے عبرت حاصل کریں اور انھیں جو عذاب یا ثواب حاصل ہوا اس سے نصیحت پکڑیں ۔ ان دونوں آدمیوں کی متعین طور پر معرفت حاصل کرنے اور یہ معلوم کرنے میں کہ وہ کس زمانے اور کون سی جگہ کے لوگ ہیں ؟ کوئی فائدہ نہیں ۔ فائدہ اور نتیجہ صرف ان کے واقعہ کو بیان کرنے میں ہے۔ ان کے قصہ کے علاوہ دیگر امور میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ پس ان دونوں میں سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی کرنے والے شخص کو اللہ تعالیٰ نے دو باغ عطا كيے، یعنی انگوروں کے دو خوبصورت باغ ﴿ وَّحَفَفۡنٰهُمَا بِنَخۡلٍ﴾ ’’اور ان دونوں کے گرد کھجوروں کے درخت تھے‘‘ یعنی ان باغات میں ہر قسم کے پھل تھے خاص طور پر انگور اور کھجور کے درخت جو سب سے افضل درخت ہیں ۔ باغ کے وسط میں انگور کی بیلیں تھیں کھجور کے درختوں نے اس کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔ اس طرح وہ بہت خوبصورت نظر آتا تھا انگور کی بیلوں اور کھجور کے درختوں کو بکثرت ہوا اور سورج کی وافر روشنی حاصل ہوتی تھی، ہوا اور روشنی پھل کی تکمیل اور اس کے پکنے کے لیے بہت ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ درختوں کے درمیان کھیتی کاشت کی ہوئی تھی۔
[33] پس ان کے لیے اس کے سوا کچھ باقی نہ تھا کہ ان سے کہا جاتا کہ ان دونوں باغوں کے پھل کیسے ہیں ۔ کیا ان کو سیراب کرنے کے لیے کافی پانی موجود ہے؟اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ دونوں باغوں میں سے ہر باغ کا پھل اور اس کی فصل کئی گنا ہوتی تھی ﴿ وَلَمۡ تَظۡلِمۡ مِّؔنۡهُ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’اور وہ نہیں گھٹاتے تھے اس میں سے کچھ‘‘ یعنی پھل لانے میں تھوڑی سی بھی کسر نہ چھوڑی اور اس کے ساتھ ساتھ دریا پانی سے لبریز اس کے چاروں جانب بہہ رہے تھے۔
18:33كِلۡتَا ٱلۡجَنَّتَيۡنِ ءَاتَتۡ أُكُلَهَا وَلَمۡ تَظۡلِم مِّنۡهُ شَيۡـٔٗاۚ وَفَجَّرۡنَا خِلَٰلَهُمَا نَهَرٗا
اور بیان کیجیے ان کے لیے مثال دو آدمیوں کی، کہ بنائے (تھے) ہم نے ایک کے لیے ان میں سے دو باغ انگوروں کےاور باڑ لگا دی ہم نے دونوں کے گرد کھجوروں کے درختوں کی اور کی ہم نے درمیان ان کے کھیتی (32) دونوں باغوں نے دیا اپنا پھل اور نہ کم کیا اس میں سے کچھ بھی اور جاری کر دی ہم نے درمیان ان دونوں کے ایک نہر (33) اور تھے اس کے لیے پھل،
[32] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے کہ ان کے سامنے دو آدمیوں کی مثال بیان کر دیجیے، ایک وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے دوسرا وہ جو ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا ناشکر گزار ہے اور ان دونوں سے جس قسم کے اقوال وافعال صادر ہوتے ہیں اور ان کی بنا پر انھیں جو دنیاوی اور اخروی عذاب اور ثواب حاصل ہوگا تاکہ یہ لوگ ان دونوں کے احوال سے عبرت حاصل کریں اور انھیں جو عذاب یا ثواب حاصل ہوا اس سے نصیحت پکڑیں ۔ ان دونوں آدمیوں کی متعین طور پر معرفت حاصل کرنے اور یہ معلوم کرنے میں کہ وہ کس زمانے اور کون سی جگہ کے لوگ ہیں ؟ کوئی فائدہ نہیں ۔ فائدہ اور نتیجہ صرف ان کے واقعہ کو بیان کرنے میں ہے۔ ان کے قصہ کے علاوہ دیگر امور میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ پس ان دونوں میں سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی کرنے والے شخص کو اللہ تعالیٰ نے دو باغ عطا كيے، یعنی انگوروں کے دو خوبصورت باغ ﴿ وَّحَفَفۡنٰهُمَا بِنَخۡلٍ﴾ ’’اور ان دونوں کے گرد کھجوروں کے درخت تھے‘‘ یعنی ان باغات میں ہر قسم کے پھل تھے خاص طور پر انگور اور کھجور کے درخت جو سب سے افضل درخت ہیں ۔ باغ کے وسط میں انگور کی بیلیں تھیں کھجور کے درختوں نے اس کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔ اس طرح وہ بہت خوبصورت نظر آتا تھا انگور کی بیلوں اور کھجور کے درختوں کو بکثرت ہوا اور سورج کی وافر روشنی حاصل ہوتی تھی، ہوا اور روشنی پھل کی تکمیل اور اس کے پکنے کے لیے بہت ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ درختوں کے درمیان کھیتی کاشت کی ہوئی تھی۔
[33] پس ان کے لیے اس کے سوا کچھ باقی نہ تھا کہ ان سے کہا جاتا کہ ان دونوں باغوں کے پھل کیسے ہیں ۔ کیا ان کو سیراب کرنے کے لیے کافی پانی موجود ہے؟اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ دونوں باغوں میں سے ہر باغ کا پھل اور اس کی فصل کئی گنا ہوتی تھی ﴿ وَلَمۡ تَظۡلِمۡ مِّؔنۡهُ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’اور وہ نہیں گھٹاتے تھے اس میں سے کچھ‘‘ یعنی پھل لانے میں تھوڑی سی بھی کسر نہ چھوڑی اور اس کے ساتھ ساتھ دریا پانی سے لبریز اس کے چاروں جانب بہہ رہے تھے۔
18:34وَكَانَ لَهُۥ ثَمَرٞ فَقَالَ لِصَٰحِبِهِۦ وَهُوَ يُحَاوِرُهُۥٓ أَنَا۠ أَكۡثَرُ مِنكَ مَالٗا وَأَعَزُّ نَفَرٗا
پس کہا اس نے اپنے ساتھی سے جبکہ وہ گفتگو کر رہا تھا اس سے، میں زیادہ ہوں تجھ سے مال میں اور زیادہ باعزت ہوں تجھ سے باعتبار جتھے کے (34) اور وہ داخل ہوا اپنے باغ میں جبکہ وہ ظلم کرنے والا تھا اپنے آپ پر، اس نے کہا، نہیں گمان کرتا میں یہ کہ تباہ ہو گا یہ، یہ (باغ) کبھی بھی (35) اور نہیں گمان کرتا میں قیامت کو قائم ہونے والی اور البتہ اگر (بالفرض) لوٹایا گیا میں اپنے رب کی طرف تو ضرور پاؤں گا میں بہتر ان باغوں سے بھی، لوٹ کر جانے کی جگہ (36)
[34]﴿وَّكَانَ لَهٗ ثَمَرٌ﴾ اور اس شخص کا باغ بہت پھل لایا تھا جیسا کہ لفظ (ثمر) کے نکرہ ہونے سے مستفاد ہوتا ہے۔ اس کے باغوں کا پھل پوری طرح پک گیا تھا ان کے درخت پھل کے بوجھ سے جھک رہے تھے۔ ان پر کوئی آفت نازل نہیں ہوئی تھی۔ پس یہ کھیتی باڑی کے پہلو سے دنیا کی زیب و زینت کی انتہا ہے، اس وجہ سے وہ شخص دھوکے میں پڑ گیا، تکبر کرنے اور اترانے لگا اور اپنی آخرت کو فراموش کر بیٹھا۔ ان باغوں کے مالک نے اپنے صاحب ایمان ساتھی سے نہایت فخر سے کہا جبکہ وہ دونوں روز مرہ کے بعض معاملات میں ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے تھے: ﴿اَنَا اَكۡثَرُ مِنۡكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا﴾ ’’میرے پاس تجھ سے زیادہ مال ہے اور زیادہ آبرو والے لوگ‘‘ اس نے اپنے مال کی کثرت اور اپنے اعوان و انصار، یعنی اپنے غلام و خدام اور عزیز و اقارب کی طاقت پر فخر کا اظہار کیا۔ یہ اس کی جہالت تھی ورنہ ایک ایسے خارجی امر میں کون سی فخر کی بات ہے جس میں کوئی نفسی فضیلت ہے نہ معنوی صفت۔ یہ تو ایک بچے کا سا فخر ہے جو محض اپنی آرزوؤں پر فخر کرتا ہے جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
[36,35] پھر اس نے صرف اپنے ساتھی پر فخر کے اظہار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر حکم لگایا اور جب وہ اپنے باغ میں داخل ہوا تو اس نے اپنے گمان کو الفاظ کا پیرایہ دیا: ﴿قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنۡ تَبِيۡدَ هٰؔذِهٖۤ اَبَدًا﴾ ’’اس نے کہا، میں نہیں خیال کرتا کہ یہ (باغ) کبھی تباہ ہو۔‘‘ یعنی یہ باغ کبھی ختم اور مضمحل نہ ہو گا۔ وہ اس دنیا پر مطمئن ہو کر اسی پر راضی ہو گیا اور اس نے آخرت کا انکار کر دیا، کہنے لگا:﴿ وَّمَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً١ۙ وَّلَىِٕنۡ رُّدِدۡتُّ اِلٰى رَبِّيۡ﴾ ’’اور نہیں خیال کرتا میں کہ قیامت قائم ہونے والی ہے اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا‘‘ یعنی فرض کیا قیامت قائم ہوتی ہے ﴿ لَاَجِدَنَّ خَيۡرًا مِّؔنۡهَا مُنۡقَلَبًا ﴾ ’’تو پاؤں گا اس سے بہتر وہاں پہنچ کر‘‘ یعنی اللہ مجھے ان باغوں سے بہتر ٹھکانا عطا کرے گا، اس کی یہ بات دو امور سے خالی نہیں :(۱) یا تو وہ حقیقت حال کا علم رکھتا ہے تب اس کا یہ کلام ٹھٹھے اور تمسخر کے طور پر ہے یہ اس کے کفر میں اضافے کا باعث ہے۔ (۲) یا وہ حقیقت میں یہی سمجھتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا تب وہ دنیا کا جاہل ترین شخص اور عقل سے بے بہرہ ہے۔ دنیا کی عطا اور آخرت کی عطا میں کون سا تلازم ہے کہ کوئی جاہل شخص اپنی جہالت کی بنا پر یہ سمجھے کہ جسے اس دنیا میں عطا کر دیا گیا ہے اسے آخرت میں بھی عطا کیا جائے گا بلکہ غالب طور پر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء اور خاص بندوں سے دنیا کو دور ہٹا دیتا اور اپنے دشمنوں کو دنیا عطا کرتا ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کو حقیقت کا علم تھا مگر اس نے بات محض ٹھٹھے اور تمسخر کے طور پر کہی تھی اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ وَدَخَلَ جَنَّتَهٗ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ﴾ ’’اور وہ اپنے باغ میں گیا، جبکہ وہ اپنے ساتھ ظلم کر رہا تھا‘‘ پس باغ میں داخل ہوتے وقت اس سے صادر ہونے والے کلمات سے اس کے وصف ظلم کا اثبات، اس کے تمرد اور عناد پر دلالت کرتا ہے۔
18:35وَدَخَلَ جَنَّتَهُۥ وَهُوَ ظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ قَالَ مَآ أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَٰذِهِۦٓ أَبَدٗا
پس کہا اس نے اپنے ساتھی سے جبکہ وہ گفتگو کر رہا تھا اس سے، میں زیادہ ہوں تجھ سے مال میں اور زیادہ باعزت ہوں تجھ سے باعتبار جتھے کے (34) اور وہ داخل ہوا اپنے باغ میں جبکہ وہ ظلم کرنے والا تھا اپنے آپ پر، اس نے کہا، نہیں گمان کرتا میں یہ کہ تباہ ہو گا یہ، یہ (باغ) کبھی بھی (35) اور نہیں گمان کرتا میں قیامت کو قائم ہونے والی اور البتہ اگر (بالفرض) لوٹایا گیا میں اپنے رب کی طرف تو ضرور پاؤں گا میں بہتر ان باغوں سے بھی، لوٹ کر جانے کی جگہ (36)
[34]﴿وَّكَانَ لَهٗ ثَمَرٌ﴾ اور اس شخص کا باغ بہت پھل لایا تھا جیسا کہ لفظ (ثمر) کے نکرہ ہونے سے مستفاد ہوتا ہے۔ اس کے باغوں کا پھل پوری طرح پک گیا تھا ان کے درخت پھل کے بوجھ سے جھک رہے تھے۔ ان پر کوئی آفت نازل نہیں ہوئی تھی۔ پس یہ کھیتی باڑی کے پہلو سے دنیا کی زیب و زینت کی انتہا ہے، اس وجہ سے وہ شخص دھوکے میں پڑ گیا، تکبر کرنے اور اترانے لگا اور اپنی آخرت کو فراموش کر بیٹھا۔ ان باغوں کے مالک نے اپنے صاحب ایمان ساتھی سے نہایت فخر سے کہا جبکہ وہ دونوں روز مرہ کے بعض معاملات میں ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے تھے: ﴿اَنَا اَكۡثَرُ مِنۡكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا﴾ ’’میرے پاس تجھ سے زیادہ مال ہے اور زیادہ آبرو والے لوگ‘‘ اس نے اپنے مال کی کثرت اور اپنے اعوان و انصار، یعنی اپنے غلام و خدام اور عزیز و اقارب کی طاقت پر فخر کا اظہار کیا۔ یہ اس کی جہالت تھی ورنہ ایک ایسے خارجی امر میں کون سی فخر کی بات ہے جس میں کوئی نفسی فضیلت ہے نہ معنوی صفت۔ یہ تو ایک بچے کا سا فخر ہے جو محض اپنی آرزوؤں پر فخر کرتا ہے جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
[36,35] پھر اس نے صرف اپنے ساتھی پر فخر کے اظہار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر حکم لگایا اور جب وہ اپنے باغ میں داخل ہوا تو اس نے اپنے گمان کو الفاظ کا پیرایہ دیا: ﴿قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنۡ تَبِيۡدَ هٰؔذِهٖۤ اَبَدًا﴾ ’’اس نے کہا، میں نہیں خیال کرتا کہ یہ (باغ) کبھی تباہ ہو۔‘‘ یعنی یہ باغ کبھی ختم اور مضمحل نہ ہو گا۔ وہ اس دنیا پر مطمئن ہو کر اسی پر راضی ہو گیا اور اس نے آخرت کا انکار کر دیا، کہنے لگا:﴿ وَّمَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً١ۙ وَّلَىِٕنۡ رُّدِدۡتُّ اِلٰى رَبِّيۡ﴾ ’’اور نہیں خیال کرتا میں کہ قیامت قائم ہونے والی ہے اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا‘‘ یعنی فرض کیا قیامت قائم ہوتی ہے ﴿ لَاَجِدَنَّ خَيۡرًا مِّؔنۡهَا مُنۡقَلَبًا ﴾ ’’تو پاؤں گا اس سے بہتر وہاں پہنچ کر‘‘ یعنی اللہ مجھے ان باغوں سے بہتر ٹھکانا عطا کرے گا، اس کی یہ بات دو امور سے خالی نہیں :(۱) یا تو وہ حقیقت حال کا علم رکھتا ہے تب اس کا یہ کلام ٹھٹھے اور تمسخر کے طور پر ہے یہ اس کے کفر میں اضافے کا باعث ہے۔ (۲) یا وہ حقیقت میں یہی سمجھتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا تب وہ دنیا کا جاہل ترین شخص اور عقل سے بے بہرہ ہے۔ دنیا کی عطا اور آخرت کی عطا میں کون سا تلازم ہے کہ کوئی جاہل شخص اپنی جہالت کی بنا پر یہ سمجھے کہ جسے اس دنیا میں عطا کر دیا گیا ہے اسے آخرت میں بھی عطا کیا جائے گا بلکہ غالب طور پر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء اور خاص بندوں سے دنیا کو دور ہٹا دیتا اور اپنے دشمنوں کو دنیا عطا کرتا ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کو حقیقت کا علم تھا مگر اس نے بات محض ٹھٹھے اور تمسخر کے طور پر کہی تھی اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ وَدَخَلَ جَنَّتَهٗ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ﴾ ’’اور وہ اپنے باغ میں گیا، جبکہ وہ اپنے ساتھ ظلم کر رہا تھا‘‘ پس باغ میں داخل ہوتے وقت اس سے صادر ہونے والے کلمات سے اس کے وصف ظلم کا اثبات، اس کے تمرد اور عناد پر دلالت کرتا ہے۔
18:36وَمَآ أَظُنُّ ٱلسَّاعَةَ قَآئِمَةٗ وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيۡرٗا مِّنۡهَا مُنقَلَبٗا
پس کہا اس نے اپنے ساتھی سے جبکہ وہ گفتگو کر رہا تھا اس سے، میں زیادہ ہوں تجھ سے مال میں اور زیادہ باعزت ہوں تجھ سے باعتبار جتھے کے (34) اور وہ داخل ہوا اپنے باغ میں جبکہ وہ ظلم کرنے والا تھا اپنے آپ پر، اس نے کہا، نہیں گمان کرتا میں یہ کہ تباہ ہو گا یہ، یہ (باغ) کبھی بھی (35) اور نہیں گمان کرتا میں قیامت کو قائم ہونے والی اور البتہ اگر (بالفرض) لوٹایا گیا میں اپنے رب کی طرف تو ضرور پاؤں گا میں بہتر ان باغوں سے بھی، لوٹ کر جانے کی جگہ (36)
[34]﴿وَّكَانَ لَهٗ ثَمَرٌ﴾ اور اس شخص کا باغ بہت پھل لایا تھا جیسا کہ لفظ (ثمر) کے نکرہ ہونے سے مستفاد ہوتا ہے۔ اس کے باغوں کا پھل پوری طرح پک گیا تھا ان کے درخت پھل کے بوجھ سے جھک رہے تھے۔ ان پر کوئی آفت نازل نہیں ہوئی تھی۔ پس یہ کھیتی باڑی کے پہلو سے دنیا کی زیب و زینت کی انتہا ہے، اس وجہ سے وہ شخص دھوکے میں پڑ گیا، تکبر کرنے اور اترانے لگا اور اپنی آخرت کو فراموش کر بیٹھا۔ ان باغوں کے مالک نے اپنے صاحب ایمان ساتھی سے نہایت فخر سے کہا جبکہ وہ دونوں روز مرہ کے بعض معاملات میں ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے تھے: ﴿اَنَا اَكۡثَرُ مِنۡكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا﴾ ’’میرے پاس تجھ سے زیادہ مال ہے اور زیادہ آبرو والے لوگ‘‘ اس نے اپنے مال کی کثرت اور اپنے اعوان و انصار، یعنی اپنے غلام و خدام اور عزیز و اقارب کی طاقت پر فخر کا اظہار کیا۔ یہ اس کی جہالت تھی ورنہ ایک ایسے خارجی امر میں کون سی فخر کی بات ہے جس میں کوئی نفسی فضیلت ہے نہ معنوی صفت۔ یہ تو ایک بچے کا سا فخر ہے جو محض اپنی آرزوؤں پر فخر کرتا ہے جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
[36,35] پھر اس نے صرف اپنے ساتھی پر فخر کے اظہار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر حکم لگایا اور جب وہ اپنے باغ میں داخل ہوا تو اس نے اپنے گمان کو الفاظ کا پیرایہ دیا: ﴿قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنۡ تَبِيۡدَ هٰؔذِهٖۤ اَبَدًا﴾ ’’اس نے کہا، میں نہیں خیال کرتا کہ یہ (باغ) کبھی تباہ ہو۔‘‘ یعنی یہ باغ کبھی ختم اور مضمحل نہ ہو گا۔ وہ اس دنیا پر مطمئن ہو کر اسی پر راضی ہو گیا اور اس نے آخرت کا انکار کر دیا، کہنے لگا:﴿ وَّمَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً١ۙ وَّلَىِٕنۡ رُّدِدۡتُّ اِلٰى رَبِّيۡ﴾ ’’اور نہیں خیال کرتا میں کہ قیامت قائم ہونے والی ہے اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا‘‘ یعنی فرض کیا قیامت قائم ہوتی ہے ﴿ لَاَجِدَنَّ خَيۡرًا مِّؔنۡهَا مُنۡقَلَبًا ﴾ ’’تو پاؤں گا اس سے بہتر وہاں پہنچ کر‘‘ یعنی اللہ مجھے ان باغوں سے بہتر ٹھکانا عطا کرے گا، اس کی یہ بات دو امور سے خالی نہیں :(۱) یا تو وہ حقیقت حال کا علم رکھتا ہے تب اس کا یہ کلام ٹھٹھے اور تمسخر کے طور پر ہے یہ اس کے کفر میں اضافے کا باعث ہے۔ (۲) یا وہ حقیقت میں یہی سمجھتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا تب وہ دنیا کا جاہل ترین شخص اور عقل سے بے بہرہ ہے۔ دنیا کی عطا اور آخرت کی عطا میں کون سا تلازم ہے کہ کوئی جاہل شخص اپنی جہالت کی بنا پر یہ سمجھے کہ جسے اس دنیا میں عطا کر دیا گیا ہے اسے آخرت میں بھی عطا کیا جائے گا بلکہ غالب طور پر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء اور خاص بندوں سے دنیا کو دور ہٹا دیتا اور اپنے دشمنوں کو دنیا عطا کرتا ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کو حقیقت کا علم تھا مگر اس نے بات محض ٹھٹھے اور تمسخر کے طور پر کہی تھی اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ وَدَخَلَ جَنَّتَهٗ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهٖ﴾ ’’اور وہ اپنے باغ میں گیا، جبکہ وہ اپنے ساتھ ظلم کر رہا تھا‘‘ پس باغ میں داخل ہوتے وقت اس سے صادر ہونے والے کلمات سے اس کے وصف ظلم کا اثبات، اس کے تمرد اور عناد پر دلالت کرتا ہے۔
18:37قَالَ لَهُۥ صَاحِبُهُۥ وَهُوَ يُحَاوِرُهُۥٓ أَكَفَرۡتَ بِٱلَّذِي خَلَقَكَ مِن تُرَابٖ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٖ ثُمَّ سَوَّىٰكَ رَجُلٗا
کہا اس سے، اس کے (مومن) ساتھی نے، جبکہ وہ گفتگو کر رہا تھا اس سے، کیا کفر کیا ہے تو نے ساتھ اس ذات کے، جس نے پیدا کیا تجھے مٹی سے، پھر نطفے سے، پھر ٹھیک اور درست بنایا تجھے مرد؟ (37) لیکن (میں تو کہتا ہوں ) وہی اللہ میرا رب ہے اور نہیں شریک ٹھہراتا میں اپنے رب کے ساتھ، کسی کو بھی (38) اور کیوں نہیں ، جب داخل ہوا تو اپنے باغ میں ، کہا تو نے، جو چاہے اللہ (وہی ہو گا)؟ نہیں کوئی قوت مگر ساتھ اللہ ( کی توفیق) کے،
[37] یعنی اس کے صاحب ایمان ساتھی نے اس کو نصیحت کرتے ہوئے اور اس کو اس کی ابتدائی حالت یاد دلاتے ہوئے جس حالت میں اللہ تعالیٰ اسے وجود میں لایا تھا، کہا:﴿ اَكَفَرۡتَ بِالَّذِيۡ خَلَقَكَ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًا﴾ ’’کیا تو نے اس ذات کا انکار کیا جس نے تجھے پیدا کیا مٹی سے، پھر قطرے سے، پھر پورا کر دیا تجھ کو مرد۔‘‘ پس وہی ہے جس نے تجھے وجود بخشا اور تجھ تک اپنی نعمتیں پہنچائیں ، تجھے ایک ہیئت سے دوسری ہیئت میں منتقل کیا یہاں تک کہ تجھے کامل اعضائے محسوسہ و معقولہ کے ساتھ آدمی بنا کر پیدا کیا، تیرے لیے اسباب میں آسانی پیدا کی اور تجھے دنیا کی نعمتیں مہیا کیں ۔ تو اپنی قوت و اختیار سے کبھی یہ دنیا حاصل نہ کر سکتا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر فضل و کرم کیا ہے۔ تب تیرے لیے کیونکر یہ مناسب ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کا انکار کرے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے جنم دیا اور نک سک درست کر کے آدمی بنایا اور تو اس کی نعمت کو جھٹلاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ تیرے مرنے کے بعد وہ تجھ کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا اور اگر اس نے تجھے دوبارہ زندہ کیا تو تجھے تیرے اس باغ سے بہتر باغ عطا کرے گا اور یہ ایسی بات ہے جو تیرے لیے مناسب اور تیرے لائق نہیں ۔
[38] جب اس کے مومن ساتھی نے دیکھا کہ وہ اپنے کفر اور سرکشی پر جما ہوا ہے تو اس نے مجادلات و شبہات کے وارد ہونے کے وقت اپنے رب کی شکر گزاری اور اپنے دین کا اعلان کرتے ہوئے بتایا: ﴿ لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّيۡ وَلَاۤ اُشۡرِكُ بِرَبِّيۡۤ اَحَدًا ﴾ ’’میں تو یہی کہتا ہوں کہ وہ اللہ میرا رب ہے، میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔‘‘ پس اس نے اپنے رب کی ربوبیت اور اس ربوبیت میں اس کی یکتائی اور اس کی اطاعت وعبادت کے ضروری ہونے کا اقرار کیا اور یہ کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہرائے گا، پھر اس نے آگاہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان اور اسلام کی نعمت سے نوازا ہے اگرچہ اس کے پاس مال اور اولاد قلیل ہے لیکن حقیقی نعمت ایمان اور اسلام ہی ہے اور ان کے سوا ہر چیز زائل ہو جانے والی، سزا اورعقوبت کی باعث ہے، چنانچہ فرمایا:
18:38لَّـٰكِنَّا۠ هُوَ ٱللَّهُ رَبِّي وَلَآ أُشۡرِكُ بِرَبِّيٓ أَحَدٗا
کہا اس سے، اس کے (مومن) ساتھی نے، جبکہ وہ گفتگو کر رہا تھا اس سے، کیا کفر کیا ہے تو نے ساتھ اس ذات کے، جس نے پیدا کیا تجھے مٹی سے، پھر نطفے سے، پھر ٹھیک اور درست بنایا تجھے مرد؟ (37) لیکن (میں تو کہتا ہوں ) وہی اللہ میرا رب ہے اور نہیں شریک ٹھہراتا میں اپنے رب کے ساتھ، کسی کو بھی (38) اور کیوں نہیں ، جب داخل ہوا تو اپنے باغ میں ، کہا تو نے، جو چاہے اللہ (وہی ہو گا)؟ نہیں کوئی قوت مگر ساتھ اللہ ( کی توفیق) کے،
[37] یعنی اس کے صاحب ایمان ساتھی نے اس کو نصیحت کرتے ہوئے اور اس کو اس کی ابتدائی حالت یاد دلاتے ہوئے جس حالت میں اللہ تعالیٰ اسے وجود میں لایا تھا، کہا:﴿ اَكَفَرۡتَ بِالَّذِيۡ خَلَقَكَ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًا﴾ ’’کیا تو نے اس ذات کا انکار کیا جس نے تجھے پیدا کیا مٹی سے، پھر قطرے سے، پھر پورا کر دیا تجھ کو مرد۔‘‘ پس وہی ہے جس نے تجھے وجود بخشا اور تجھ تک اپنی نعمتیں پہنچائیں ، تجھے ایک ہیئت سے دوسری ہیئت میں منتقل کیا یہاں تک کہ تجھے کامل اعضائے محسوسہ و معقولہ کے ساتھ آدمی بنا کر پیدا کیا، تیرے لیے اسباب میں آسانی پیدا کی اور تجھے دنیا کی نعمتیں مہیا کیں ۔ تو اپنی قوت و اختیار سے کبھی یہ دنیا حاصل نہ کر سکتا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر فضل و کرم کیا ہے۔ تب تیرے لیے کیونکر یہ مناسب ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کا انکار کرے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے جنم دیا اور نک سک درست کر کے آدمی بنایا اور تو اس کی نعمت کو جھٹلاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ تیرے مرنے کے بعد وہ تجھ کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا اور اگر اس نے تجھے دوبارہ زندہ کیا تو تجھے تیرے اس باغ سے بہتر باغ عطا کرے گا اور یہ ایسی بات ہے جو تیرے لیے مناسب اور تیرے لائق نہیں ۔
[38] جب اس کے مومن ساتھی نے دیکھا کہ وہ اپنے کفر اور سرکشی پر جما ہوا ہے تو اس نے مجادلات و شبہات کے وارد ہونے کے وقت اپنے رب کی شکر گزاری اور اپنے دین کا اعلان کرتے ہوئے بتایا: ﴿ لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّيۡ وَلَاۤ اُشۡرِكُ بِرَبِّيۡۤ اَحَدًا ﴾ ’’میں تو یہی کہتا ہوں کہ وہ اللہ میرا رب ہے، میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔‘‘ پس اس نے اپنے رب کی ربوبیت اور اس ربوبیت میں اس کی یکتائی اور اس کی اطاعت وعبادت کے ضروری ہونے کا اقرار کیا اور یہ کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہرائے گا، پھر اس نے آگاہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان اور اسلام کی نعمت سے نوازا ہے اگرچہ اس کے پاس مال اور اولاد قلیل ہے لیکن حقیقی نعمت ایمان اور اسلام ہی ہے اور ان کے سوا ہر چیز زائل ہو جانے والی، سزا اورعقوبت کی باعث ہے، چنانچہ فرمایا:
18:39وَلَوۡلَآ إِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَكَ قُلۡتَ مَا شَآءَ ٱللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّهِۚ إِن تَرَنِ أَنَا۠ أَقَلَّ مِنكَ مَالٗا وَوَلَدٗا
اگر تو دیکھتا ہے مجھے، کہ میں کم تر ہوں تجھ سے مال میں اور اولاد میں (39) تو امید ہے کہ میرا رب، یہ کہ دے وہ مجھے زیادہ بہتر تیرے باغ سےاور بھیجے اوپر اس (تیرے باغ)کے کوئی عذاب آسمان سے، پھر ہو جائے وہ (باغ) چٹیل میدان پھسلنے والا (40) یا ہو جائے پانی اس کا گہرا، پس ہرگز نہ اسطاعت رکھے تو اسے ڈھونڈ لانے کی (41) اور گھیر لیا (تباہ کر دیا) گیا پھل اس کا، سو ہو گیا وہ ملتا تھا دونوں ہتھیلیاں اپنی (افسوس سے) اوپر اس کے جو خرچ کیا تھا اس نے اس میں ، جبکہ وہ (باغ) گرا ہوا تھا اوپر اپنی چھتریوں کے اور وہ کہتا تھا، کاش نہ شریک ٹھہراتا میں ساتھ اپنے رب کے کسی کو بھی (42) اور نہ ہوئی اس کے لیے کوئی جماعت، کہ وہ مدد کرتی اس کی سوائے اللہ کے،اور نہ ہوا وہ (خود) بدلہ لینے والا (ہم سے)(43) وہاں تو تمام اختیار اللہ سچے ہی کا ہے، وہی ہے بہتر ثواب (دینے) میں اور بہتر ہے اچھے انجام سے بہرہ ور کرنے میں (44)
[39] یعنی صاحب ایمان شخص نے اس کافر سے کہا کہ تو اگرچہ کثرت مال و اولاد کی بنا پرمجھ پر فخر جتاتا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم تر ہوں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور جو امید اللہ تعالیٰ کی نوازش اور احسان پر رکھی جا سکتی ہے وہ اس دنیا و مافیہا سے بہتر ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
[40]﴿ فَعَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يُّؤۡتِيَنِ خَيۡرًا مِّنۡ جَنَّتِكَ وَيُرۡسِلَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’پس امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے گا اور بھیجے گا اس پر‘‘ یعنی اس باغ پر جس کی بنا پر تو نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس باغ نے تجھے دھوکے میں مبتلا کر دیا، ﴿ حُسۡبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’عذاب آسمان سے‘‘ یعنی طوفانی بارش یا اور کسی قسم کا عذاب ﴿فَتُصۡبِحَ ﴾ ’’پس اس سبب سے وہ ہو جائے‘‘ ﴿ صَعِيۡدًا زَلَقًا﴾ ’’میدان صاف‘‘ کہ اس کے تمام درخت جڑوں سے اکھڑ جائیں، اس کا پھل تلف ہو جائے، اس کی کھیتی تباہ ہو جائے اور اس کا فائدہ مفقود ہو کر رہ جائے۔
[41]﴿ اَوۡ يُصۡبِحَ مَآؤُهَا ﴾ ’’یا ہو جائے پانی اس کا‘‘ یعنی باغ کے پانی کا سرچشمہ ﴿ غَوۡرًا ﴾ ’’زمین میں اور گہرا‘‘ ﴿ فَلَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ لَهٗ طَلَبًا ﴾ ’’پس ہرگز نہیں لاسکے گا تو اسے ڈھونڈ کر‘‘ یعنی اتنی گہرائی میں چلا جائے کہ تم کھدائی کے آلات کے ذریعے سے بھی وہاں تک نہ پہنچ سکو۔ اس صاحب ایمان شخص نے صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر غضبناک ہوکر اس کے باغ کے لیے بددعا کی تھی کیونکہ اس باغ نے اس کو دھوکے اور سرکشی میں مبتلا کر دیا تھا اور وہ اس باغ پر مطمئن ہوکر رہ گیا تھا۔ اس بد دعا کا مقصد یہ تھا کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس کی رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آئے اور اپنے بارے میں وہ خوب غور و فکر کرے۔
[42] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرمائی۔ ﴿ وَاُحِيۡطَ بِثَمَرِهٖ ﴾ ’’اور سمیٹ لیا گیا اس کا سارا پھل‘‘ یعنی اس کے پھل پر عذاب نازل ہو گیا، اس نے اس کا احاطہ کر کے اس کو تباہ کر دیا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھل کا احاطہ کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ اس کے باغ کے تمام درخت، ان کا تمام پھل اور زمین میں کاشت کی ہوئی تمام فصل سب کچھ تباہ ہو گیا۔ پس وہ بے حد نادم ہوا اور اسے سخت افسوس ہوا۔ ﴿ فَاَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلٰى مَاۤ اَنۡفَقَ فِيۡهَا﴾ ’’پس رہ گیا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیرتا ہوا، اس مال پر جو اس نے اس باغ میں لگایا تھا‘‘ یعنی اس نے اپنے باغ پر جو دنیاوی اخراجات كيے تھے وہ سب ضائع ہو گئے اور وہ کف افسوس ملتا رہ گیا اور اس کا کوئی عوض باقی نہ رہا، نیز وہ اپنے شرک اور اپنی بدی پر بھی پشیمان ہوا، اس لیے وہ کہنے لگا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُشۡرِكۡ بِرَبِّيۡۤ اَحَدًا﴾ ’’کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔‘‘
[43] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمۡ تَكُنۡ لَّهٗ فِئَةٌ يَّنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَمَا كَانَ مُنۡتَصِرًا﴾ ’’اور نہ ہوئی اس کی کوئی جماعت کہ وہ اس کی مدد کرے اور نہ ہوا وہ خود بدلہ لینے والا‘‘ یعنی جب اس کے باغ پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو ہر چیز اس کے ہاتھوں سے نکل گئی جس پر وہ فخر کیا کرتا تھا جس کے زعم پر کہا کرتا تھا: ﴿ اَنَا اَكۡثَرُ مِنۡكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا ﴾ یہ اعوان و انصار اس سے کچھ بھی عذاب دور نہ کر سکے جبکہ اسے ان کی سخت ضرورت تھی اور وہ خود بھی اپنی مدد نہ کر سکا اور وہ اس عذاب سے کیسے بچ سکتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر کے مقابلے میں کون اس کی مدد کر سکتا تھا جس کا فیصلہ جب اللہ تعالیٰ جاری فرما دیتا ہے تو زمین و آسمان کے تمام رہنے والے مل کر بھی اس میں سے کسی چیز کو زائل کرنا چاہیں تو وہ اس کی قدرت نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے لطف و کرم سے بعید نہیں کہ اس شخص نے جس کے باغ پر آفت نازل ہوئی تھی، اپنے احوال کی اصلاح کر لی ہو، وہ اپنے رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آیا ہوا اور اس کا تمام تکبر اور اس کی سرکشی ختم ہو گئی ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس نے اپنے شرک پر ندامت کا اظہار کیا تھا اور یہ بھی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے تمرد اور سرکشی کو دور کر کے اس کو دنیا ہی میں سزا دے دی ہو کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اسے اس دنیا ہی میں سزا دے دیتا ہے۔ عقل و وہم اللہ تعالیٰ کے فضل کا احاطہ نہیں کر سکتے اور اس کا انکار صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو ظالم اورسخت جاہل ہے۔
[44]﴿ هُنَالِكَ الۡوَلَايَةُ لِلّٰهِ الۡحَقِّ١ؕ هُوَ خَيۡرٌ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ عُقۡبًا ﴾ ’’وہاں سب اختیار اللہ برحق کا ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے‘‘ یعنی اس حال میں جس میں اللہ تعالیٰ اس شخص کو سزا دینے کا حکم جاری کرتا ہے جس نے سرکشی اختیار کی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی۔ اور عزت وتکریم اس شخص کے لیے جس نے ایمان لا کر نیک عمل كيے، اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا رہا اور دوسروں کو اس کی طرف دعوت دیتا رہا۔ اس بنا پر واضح ہو گیا کہ حقیقی ولایت کا مالک صرف اکیلا اللہ تعالیٰ ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا ولی اور دوست ہے، وہ اسے مختلف اقسام کی کرامات کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے اور اس کو شر اورتمام آفتوں سے بچاتا ہے۔ جو اپنے رب پر ایمان نہیں رکھتا اور نہ اسے اپنا والی اور سرپرست بناتا ہے، وہ دین و دنیا میں خسارہ اٹھاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ دنیاوی اور اخروی ثواب بہترین ثواب ہے جس پر امیدوں کو مرتکز ہونا چاہیے۔ اس عظیم قصے میں اس شخص کے حال میں جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیاوی نعمتیں عنایت کیں مگر ان نعمتوں نے اسے آخرت سے غافل کر کے سرکش بنا دیا اور وہ ان میں مگن ہو کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگا، لوگوں کے لیے عبرت ہے کہ ان نعمتوں کا انجام زوال اور اضمحلال ہے اگر بندہ ان نعمتوں سے تھوڑا فائدہ اٹھاتا ہے تو طویل عرصے تک محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بندۂ مومن کے لیے مناسب یہی ہے کہ جب اسے اپنے مال اور اولاد میں سے کچھ اچھا لگے تو وہ اس نعمت کو نعمت عطا کرنے والے کی طرف منسوب کرے اور یہ کہے:﴿ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ تاکہ وہ شکر گزار بنے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کی بقا کے لیے سبب بننے والا بنے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَكَ قُلۡتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’کیوں نہ، جب تو داخل ہوا اپنے باغ میں ، کہا تو نے، جو چاہے اللہ سو وہ ہو۔ طاقت نہیں مگر جو دے اللہ۔‘‘ان آیات کریمہ میں لذات دنیا اور اس کی شہوات کے بدلے میں ان بہتر چیزوں کے ذریعے تسلی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں ۔ فرمایا:﴿اِنۡ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنۡكَ مَالًا وَّوَلَدًاۚ۰۰فَعَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يُّؤۡتِيَنِ خَيۡرًا مِّنۡ جَنَّتِكَ ﴾ ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ مال اور اولاد اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مددگار نہ بنیں تو وہ کوئی فائدہ نہیں دیتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:﴿ وَمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ بِالَّتِيۡ تُقَرِّبُكُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤى اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ﴾(سبا: 34؍37) ’’تمھارا مال اور تمھاری اولاد نہیں، جو تمھیں ہم سے قریب کرتی ہو مگر وہی قریب ہوتا ہے جو ایمان لائے اور نیک کام کرے۔‘‘ اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص کا مال اس کی سرکشی، کفر اور اس کے لیے اخروی خسارے کا سبب ہو اس مال کے تلف ہونے کی دعا کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر جبکہ وہ اس مال کی بنا پر اپنے آپ کو اہل ایمان سے افضل سمجھتا ہو اور ان پر فخر کا اظہار کرتا ہو۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ولایت اور عدم ولایت، اس وقت ظاہر ہو گی جب غبار چھٹ جائے گا، جزا و سزا ثابت ہو گی اور عمل کرنے والے اپنا اجر پا لیں گے:﴿ هُنَالِكَ الۡوَلَايَةُ لِلّٰهِ الۡحَقِّ١ؕ هُوَ خَيۡرٌ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ عُقۡبًا ﴾ ’’اس وقت معلوم ہو گا کہ کار سازی تو اللہ برحق کے اختیار میں ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے۔‘‘
18:40فَعَسَىٰ رَبِّيٓ أَن يُؤۡتِيَنِ خَيۡرٗا مِّن جَنَّتِكَ وَيُرۡسِلَ عَلَيۡهَا حُسۡبَانٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَتُصۡبِحَ صَعِيدٗا زَلَقًا
اگر تو دیکھتا ہے مجھے، کہ میں کم تر ہوں تجھ سے مال میں اور اولاد میں (39) تو امید ہے کہ میرا رب، یہ کہ دے وہ مجھے زیادہ بہتر تیرے باغ سےاور بھیجے اوپر اس (تیرے باغ)کے کوئی عذاب آسمان سے، پھر ہو جائے وہ (باغ) چٹیل میدان پھسلنے والا (40) یا ہو جائے پانی اس کا گہرا، پس ہرگز نہ اسطاعت رکھے تو اسے ڈھونڈ لانے کی (41) اور گھیر لیا (تباہ کر دیا) گیا پھل اس کا، سو ہو گیا وہ ملتا تھا دونوں ہتھیلیاں اپنی (افسوس سے) اوپر اس کے جو خرچ کیا تھا اس نے اس میں ، جبکہ وہ (باغ) گرا ہوا تھا اوپر اپنی چھتریوں کے اور وہ کہتا تھا، کاش نہ شریک ٹھہراتا میں ساتھ اپنے رب کے کسی کو بھی (42) اور نہ ہوئی اس کے لیے کوئی جماعت، کہ وہ مدد کرتی اس کی سوائے اللہ کے،اور نہ ہوا وہ (خود) بدلہ لینے والا (ہم سے)(43) وہاں تو تمام اختیار اللہ سچے ہی کا ہے، وہی ہے بہتر ثواب (دینے) میں اور بہتر ہے اچھے انجام سے بہرہ ور کرنے میں (44)
[39] یعنی صاحب ایمان شخص نے اس کافر سے کہا کہ تو اگرچہ کثرت مال و اولاد کی بنا پرمجھ پر فخر جتاتا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم تر ہوں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور جو امید اللہ تعالیٰ کی نوازش اور احسان پر رکھی جا سکتی ہے وہ اس دنیا و مافیہا سے بہتر ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
[40]﴿ فَعَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يُّؤۡتِيَنِ خَيۡرًا مِّنۡ جَنَّتِكَ وَيُرۡسِلَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’پس امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے گا اور بھیجے گا اس پر‘‘ یعنی اس باغ پر جس کی بنا پر تو نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس باغ نے تجھے دھوکے میں مبتلا کر دیا، ﴿ حُسۡبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’عذاب آسمان سے‘‘ یعنی طوفانی بارش یا اور کسی قسم کا عذاب ﴿فَتُصۡبِحَ ﴾ ’’پس اس سبب سے وہ ہو جائے‘‘ ﴿ صَعِيۡدًا زَلَقًا﴾ ’’میدان صاف‘‘ کہ اس کے تمام درخت جڑوں سے اکھڑ جائیں، اس کا پھل تلف ہو جائے، اس کی کھیتی تباہ ہو جائے اور اس کا فائدہ مفقود ہو کر رہ جائے۔
[41]﴿ اَوۡ يُصۡبِحَ مَآؤُهَا ﴾ ’’یا ہو جائے پانی اس کا‘‘ یعنی باغ کے پانی کا سرچشمہ ﴿ غَوۡرًا ﴾ ’’زمین میں اور گہرا‘‘ ﴿ فَلَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ لَهٗ طَلَبًا ﴾ ’’پس ہرگز نہیں لاسکے گا تو اسے ڈھونڈ کر‘‘ یعنی اتنی گہرائی میں چلا جائے کہ تم کھدائی کے آلات کے ذریعے سے بھی وہاں تک نہ پہنچ سکو۔ اس صاحب ایمان شخص نے صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر غضبناک ہوکر اس کے باغ کے لیے بددعا کی تھی کیونکہ اس باغ نے اس کو دھوکے اور سرکشی میں مبتلا کر دیا تھا اور وہ اس باغ پر مطمئن ہوکر رہ گیا تھا۔ اس بد دعا کا مقصد یہ تھا کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس کی رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آئے اور اپنے بارے میں وہ خوب غور و فکر کرے۔
[42] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرمائی۔ ﴿ وَاُحِيۡطَ بِثَمَرِهٖ ﴾ ’’اور سمیٹ لیا گیا اس کا سارا پھل‘‘ یعنی اس کے پھل پر عذاب نازل ہو گیا، اس نے اس کا احاطہ کر کے اس کو تباہ کر دیا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھل کا احاطہ کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ اس کے باغ کے تمام درخت، ان کا تمام پھل اور زمین میں کاشت کی ہوئی تمام فصل سب کچھ تباہ ہو گیا۔ پس وہ بے حد نادم ہوا اور اسے سخت افسوس ہوا۔ ﴿ فَاَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلٰى مَاۤ اَنۡفَقَ فِيۡهَا﴾ ’’پس رہ گیا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیرتا ہوا، اس مال پر جو اس نے اس باغ میں لگایا تھا‘‘ یعنی اس نے اپنے باغ پر جو دنیاوی اخراجات كيے تھے وہ سب ضائع ہو گئے اور وہ کف افسوس ملتا رہ گیا اور اس کا کوئی عوض باقی نہ رہا، نیز وہ اپنے شرک اور اپنی بدی پر بھی پشیمان ہوا، اس لیے وہ کہنے لگا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُشۡرِكۡ بِرَبِّيۡۤ اَحَدًا﴾ ’’کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔‘‘
[43] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمۡ تَكُنۡ لَّهٗ فِئَةٌ يَّنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَمَا كَانَ مُنۡتَصِرًا﴾ ’’اور نہ ہوئی اس کی کوئی جماعت کہ وہ اس کی مدد کرے اور نہ ہوا وہ خود بدلہ لینے والا‘‘ یعنی جب اس کے باغ پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو ہر چیز اس کے ہاتھوں سے نکل گئی جس پر وہ فخر کیا کرتا تھا جس کے زعم پر کہا کرتا تھا: ﴿ اَنَا اَكۡثَرُ مِنۡكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا ﴾ یہ اعوان و انصار اس سے کچھ بھی عذاب دور نہ کر سکے جبکہ اسے ان کی سخت ضرورت تھی اور وہ خود بھی اپنی مدد نہ کر سکا اور وہ اس عذاب سے کیسے بچ سکتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر کے مقابلے میں کون اس کی مدد کر سکتا تھا جس کا فیصلہ جب اللہ تعالیٰ جاری فرما دیتا ہے تو زمین و آسمان کے تمام رہنے والے مل کر بھی اس میں سے کسی چیز کو زائل کرنا چاہیں تو وہ اس کی قدرت نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے لطف و کرم سے بعید نہیں کہ اس شخص نے جس کے باغ پر آفت نازل ہوئی تھی، اپنے احوال کی اصلاح کر لی ہو، وہ اپنے رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آیا ہوا اور اس کا تمام تکبر اور اس کی سرکشی ختم ہو گئی ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس نے اپنے شرک پر ندامت کا اظہار کیا تھا اور یہ بھی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے تمرد اور سرکشی کو دور کر کے اس کو دنیا ہی میں سزا دے دی ہو کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اسے اس دنیا ہی میں سزا دے دیتا ہے۔ عقل و وہم اللہ تعالیٰ کے فضل کا احاطہ نہیں کر سکتے اور اس کا انکار صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو ظالم اورسخت جاہل ہے۔
[44]﴿ هُنَالِكَ الۡوَلَايَةُ لِلّٰهِ الۡحَقِّ١ؕ هُوَ خَيۡرٌ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ عُقۡبًا ﴾ ’’وہاں سب اختیار اللہ برحق کا ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے‘‘ یعنی اس حال میں جس میں اللہ تعالیٰ اس شخص کو سزا دینے کا حکم جاری کرتا ہے جس نے سرکشی اختیار کی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی۔ اور عزت وتکریم اس شخص کے لیے جس نے ایمان لا کر نیک عمل كيے، اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا رہا اور دوسروں کو اس کی طرف دعوت دیتا رہا۔ اس بنا پر واضح ہو گیا کہ حقیقی ولایت کا مالک صرف اکیلا اللہ تعالیٰ ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا ولی اور دوست ہے، وہ اسے مختلف اقسام کی کرامات کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے اور اس کو شر اورتمام آفتوں سے بچاتا ہے۔ جو اپنے رب پر ایمان نہیں رکھتا اور نہ اسے اپنا والی اور سرپرست بناتا ہے، وہ دین و دنیا میں خسارہ اٹھاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ دنیاوی اور اخروی ثواب بہترین ثواب ہے جس پر امیدوں کو مرتکز ہونا چاہیے۔ اس عظیم قصے میں اس شخص کے حال میں جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیاوی نعمتیں عنایت کیں مگر ان نعمتوں نے اسے آخرت سے غافل کر کے سرکش بنا دیا اور وہ ان میں مگن ہو کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگا، لوگوں کے لیے عبرت ہے کہ ان نعمتوں کا انجام زوال اور اضمحلال ہے اگر بندہ ان نعمتوں سے تھوڑا فائدہ اٹھاتا ہے تو طویل عرصے تک محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بندۂ مومن کے لیے مناسب یہی ہے کہ جب اسے اپنے مال اور اولاد میں سے کچھ اچھا لگے تو وہ اس نعمت کو نعمت عطا کرنے والے کی طرف منسوب کرے اور یہ کہے:﴿ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ تاکہ وہ شکر گزار بنے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کی بقا کے لیے سبب بننے والا بنے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَكَ قُلۡتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’کیوں نہ، جب تو داخل ہوا اپنے باغ میں ، کہا تو نے، جو چاہے اللہ سو وہ ہو۔ طاقت نہیں مگر جو دے اللہ۔‘‘ان آیات کریمہ میں لذات دنیا اور اس کی شہوات کے بدلے میں ان بہتر چیزوں کے ذریعے تسلی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں ۔ فرمایا:﴿اِنۡ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنۡكَ مَالًا وَّوَلَدًاۚ۰۰فَعَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يُّؤۡتِيَنِ خَيۡرًا مِّنۡ جَنَّتِكَ ﴾ ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ مال اور اولاد اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مددگار نہ بنیں تو وہ کوئی فائدہ نہیں دیتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:﴿ وَمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ بِالَّتِيۡ تُقَرِّبُكُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤى اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ﴾(سبا: 34؍37) ’’تمھارا مال اور تمھاری اولاد نہیں، جو تمھیں ہم سے قریب کرتی ہو مگر وہی قریب ہوتا ہے جو ایمان لائے اور نیک کام کرے۔‘‘ اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص کا مال اس کی سرکشی، کفر اور اس کے لیے اخروی خسارے کا سبب ہو اس مال کے تلف ہونے کی دعا کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر جبکہ وہ اس مال کی بنا پر اپنے آپ کو اہل ایمان سے افضل سمجھتا ہو اور ان پر فخر کا اظہار کرتا ہو۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ولایت اور عدم ولایت، اس وقت ظاہر ہو گی جب غبار چھٹ جائے گا، جزا و سزا ثابت ہو گی اور عمل کرنے والے اپنا اجر پا لیں گے:﴿ هُنَالِكَ الۡوَلَايَةُ لِلّٰهِ الۡحَقِّ١ؕ هُوَ خَيۡرٌ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ عُقۡبًا ﴾ ’’اس وقت معلوم ہو گا کہ کار سازی تو اللہ برحق کے اختیار میں ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے۔‘‘
18:41أَوۡ يُصۡبِحَ مَآؤُهَا غَوۡرٗا فَلَن تَسۡتَطِيعَ لَهُۥ طَلَبٗا
اگر تو دیکھتا ہے مجھے، کہ میں کم تر ہوں تجھ سے مال میں اور اولاد میں (39) تو امید ہے کہ میرا رب، یہ کہ دے وہ مجھے زیادہ بہتر تیرے باغ سےاور بھیجے اوپر اس (تیرے باغ)کے کوئی عذاب آسمان سے، پھر ہو جائے وہ (باغ) چٹیل میدان پھسلنے والا (40) یا ہو جائے پانی اس کا گہرا، پس ہرگز نہ اسطاعت رکھے تو اسے ڈھونڈ لانے کی (41) اور گھیر لیا (تباہ کر دیا) گیا پھل اس کا، سو ہو گیا وہ ملتا تھا دونوں ہتھیلیاں اپنی (افسوس سے) اوپر اس کے جو خرچ کیا تھا اس نے اس میں ، جبکہ وہ (باغ) گرا ہوا تھا اوپر اپنی چھتریوں کے اور وہ کہتا تھا، کاش نہ شریک ٹھہراتا میں ساتھ اپنے رب کے کسی کو بھی (42) اور نہ ہوئی اس کے لیے کوئی جماعت، کہ وہ مدد کرتی اس کی سوائے اللہ کے،اور نہ ہوا وہ (خود) بدلہ لینے والا (ہم سے)(43) وہاں تو تمام اختیار اللہ سچے ہی کا ہے، وہی ہے بہتر ثواب (دینے) میں اور بہتر ہے اچھے انجام سے بہرہ ور کرنے میں (44)
[39] یعنی صاحب ایمان شخص نے اس کافر سے کہا کہ تو اگرچہ کثرت مال و اولاد کی بنا پرمجھ پر فخر جتاتا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم تر ہوں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور جو امید اللہ تعالیٰ کی نوازش اور احسان پر رکھی جا سکتی ہے وہ اس دنیا و مافیہا سے بہتر ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
[40]﴿ فَعَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يُّؤۡتِيَنِ خَيۡرًا مِّنۡ جَنَّتِكَ وَيُرۡسِلَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’پس امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے گا اور بھیجے گا اس پر‘‘ یعنی اس باغ پر جس کی بنا پر تو نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس باغ نے تجھے دھوکے میں مبتلا کر دیا، ﴿ حُسۡبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’عذاب آسمان سے‘‘ یعنی طوفانی بارش یا اور کسی قسم کا عذاب ﴿فَتُصۡبِحَ ﴾ ’’پس اس سبب سے وہ ہو جائے‘‘ ﴿ صَعِيۡدًا زَلَقًا﴾ ’’میدان صاف‘‘ کہ اس کے تمام درخت جڑوں سے اکھڑ جائیں، اس کا پھل تلف ہو جائے، اس کی کھیتی تباہ ہو جائے اور اس کا فائدہ مفقود ہو کر رہ جائے۔
[41]﴿ اَوۡ يُصۡبِحَ مَآؤُهَا ﴾ ’’یا ہو جائے پانی اس کا‘‘ یعنی باغ کے پانی کا سرچشمہ ﴿ غَوۡرًا ﴾ ’’زمین میں اور گہرا‘‘ ﴿ فَلَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ لَهٗ طَلَبًا ﴾ ’’پس ہرگز نہیں لاسکے گا تو اسے ڈھونڈ کر‘‘ یعنی اتنی گہرائی میں چلا جائے کہ تم کھدائی کے آلات کے ذریعے سے بھی وہاں تک نہ پہنچ سکو۔ اس صاحب ایمان شخص نے صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر غضبناک ہوکر اس کے باغ کے لیے بددعا کی تھی کیونکہ اس باغ نے اس کو دھوکے اور سرکشی میں مبتلا کر دیا تھا اور وہ اس باغ پر مطمئن ہوکر رہ گیا تھا۔ اس بد دعا کا مقصد یہ تھا کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس کی رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آئے اور اپنے بارے میں وہ خوب غور و فکر کرے۔
[42] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرمائی۔ ﴿ وَاُحِيۡطَ بِثَمَرِهٖ ﴾ ’’اور سمیٹ لیا گیا اس کا سارا پھل‘‘ یعنی اس کے پھل پر عذاب نازل ہو گیا، اس نے اس کا احاطہ کر کے اس کو تباہ کر دیا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھل کا احاطہ کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ اس کے باغ کے تمام درخت، ان کا تمام پھل اور زمین میں کاشت کی ہوئی تمام فصل سب کچھ تباہ ہو گیا۔ پس وہ بے حد نادم ہوا اور اسے سخت افسوس ہوا۔ ﴿ فَاَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلٰى مَاۤ اَنۡفَقَ فِيۡهَا﴾ ’’پس رہ گیا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیرتا ہوا، اس مال پر جو اس نے اس باغ میں لگایا تھا‘‘ یعنی اس نے اپنے باغ پر جو دنیاوی اخراجات كيے تھے وہ سب ضائع ہو گئے اور وہ کف افسوس ملتا رہ گیا اور اس کا کوئی عوض باقی نہ رہا، نیز وہ اپنے شرک اور اپنی بدی پر بھی پشیمان ہوا، اس لیے وہ کہنے لگا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُشۡرِكۡ بِرَبِّيۡۤ اَحَدًا﴾ ’’کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔‘‘
[43] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمۡ تَكُنۡ لَّهٗ فِئَةٌ يَّنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَمَا كَانَ مُنۡتَصِرًا﴾ ’’اور نہ ہوئی اس کی کوئی جماعت کہ وہ اس کی مدد کرے اور نہ ہوا وہ خود بدلہ لینے والا‘‘ یعنی جب اس کے باغ پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو ہر چیز اس کے ہاتھوں سے نکل گئی جس پر وہ فخر کیا کرتا تھا جس کے زعم پر کہا کرتا تھا: ﴿ اَنَا اَكۡثَرُ مِنۡكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا ﴾ یہ اعوان و انصار اس سے کچھ بھی عذاب دور نہ کر سکے جبکہ اسے ان کی سخت ضرورت تھی اور وہ خود بھی اپنی مدد نہ کر سکا اور وہ اس عذاب سے کیسے بچ سکتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر کے مقابلے میں کون اس کی مدد کر سکتا تھا جس کا فیصلہ جب اللہ تعالیٰ جاری فرما دیتا ہے تو زمین و آسمان کے تمام رہنے والے مل کر بھی اس میں سے کسی چیز کو زائل کرنا چاہیں تو وہ اس کی قدرت نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے لطف و کرم سے بعید نہیں کہ اس شخص نے جس کے باغ پر آفت نازل ہوئی تھی، اپنے احوال کی اصلاح کر لی ہو، وہ اپنے رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آیا ہوا اور اس کا تمام تکبر اور اس کی سرکشی ختم ہو گئی ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس نے اپنے شرک پر ندامت کا اظہار کیا تھا اور یہ بھی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے تمرد اور سرکشی کو دور کر کے اس کو دنیا ہی میں سزا دے دی ہو کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اسے اس دنیا ہی میں سزا دے دیتا ہے۔ عقل و وہم اللہ تعالیٰ کے فضل کا احاطہ نہیں کر سکتے اور اس کا انکار صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو ظالم اورسخت جاہل ہے۔
[44]﴿ هُنَالِكَ الۡوَلَايَةُ لِلّٰهِ الۡحَقِّ١ؕ هُوَ خَيۡرٌ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ عُقۡبًا ﴾ ’’وہاں سب اختیار اللہ برحق کا ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے‘‘ یعنی اس حال میں جس میں اللہ تعالیٰ اس شخص کو سزا دینے کا حکم جاری کرتا ہے جس نے سرکشی اختیار کی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی۔ اور عزت وتکریم اس شخص کے لیے جس نے ایمان لا کر نیک عمل كيے، اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا رہا اور دوسروں کو اس کی طرف دعوت دیتا رہا۔ اس بنا پر واضح ہو گیا کہ حقیقی ولایت کا مالک صرف اکیلا اللہ تعالیٰ ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا ولی اور دوست ہے، وہ اسے مختلف اقسام کی کرامات کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے اور اس کو شر اورتمام آفتوں سے بچاتا ہے۔ جو اپنے رب پر ایمان نہیں رکھتا اور نہ اسے اپنا والی اور سرپرست بناتا ہے، وہ دین و دنیا میں خسارہ اٹھاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ دنیاوی اور اخروی ثواب بہترین ثواب ہے جس پر امیدوں کو مرتکز ہونا چاہیے۔ اس عظیم قصے میں اس شخص کے حال میں جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیاوی نعمتیں عنایت کیں مگر ان نعمتوں نے اسے آخرت سے غافل کر کے سرکش بنا دیا اور وہ ان میں مگن ہو کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگا، لوگوں کے لیے عبرت ہے کہ ان نعمتوں کا انجام زوال اور اضمحلال ہے اگر بندہ ان نعمتوں سے تھوڑا فائدہ اٹھاتا ہے تو طویل عرصے تک محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بندۂ مومن کے لیے مناسب یہی ہے کہ جب اسے اپنے مال اور اولاد میں سے کچھ اچھا لگے تو وہ اس نعمت کو نعمت عطا کرنے والے کی طرف منسوب کرے اور یہ کہے:﴿ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ تاکہ وہ شکر گزار بنے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کی بقا کے لیے سبب بننے والا بنے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَكَ قُلۡتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’کیوں نہ، جب تو داخل ہوا اپنے باغ میں ، کہا تو نے، جو چاہے اللہ سو وہ ہو۔ طاقت نہیں مگر جو دے اللہ۔‘‘ان آیات کریمہ میں لذات دنیا اور اس کی شہوات کے بدلے میں ان بہتر چیزوں کے ذریعے تسلی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں ۔ فرمایا:﴿اِنۡ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنۡكَ مَالًا وَّوَلَدًاۚ۰۰فَعَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يُّؤۡتِيَنِ خَيۡرًا مِّنۡ جَنَّتِكَ ﴾ ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ مال اور اولاد اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مددگار نہ بنیں تو وہ کوئی فائدہ نہیں دیتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:﴿ وَمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ بِالَّتِيۡ تُقَرِّبُكُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤى اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ﴾(سبا: 34؍37) ’’تمھارا مال اور تمھاری اولاد نہیں، جو تمھیں ہم سے قریب کرتی ہو مگر وہی قریب ہوتا ہے جو ایمان لائے اور نیک کام کرے۔‘‘ اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص کا مال اس کی سرکشی، کفر اور اس کے لیے اخروی خسارے کا سبب ہو اس مال کے تلف ہونے کی دعا کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر جبکہ وہ اس مال کی بنا پر اپنے آپ کو اہل ایمان سے افضل سمجھتا ہو اور ان پر فخر کا اظہار کرتا ہو۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ولایت اور عدم ولایت، اس وقت ظاہر ہو گی جب غبار چھٹ جائے گا، جزا و سزا ثابت ہو گی اور عمل کرنے والے اپنا اجر پا لیں گے:﴿ هُنَالِكَ الۡوَلَايَةُ لِلّٰهِ الۡحَقِّ١ؕ هُوَ خَيۡرٌ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ عُقۡبًا ﴾ ’’اس وقت معلوم ہو گا کہ کار سازی تو اللہ برحق کے اختیار میں ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے۔‘‘
18:42وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِۦ فَأَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلَىٰ مَآ أَنفَقَ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي لَمۡ أُشۡرِكۡ بِرَبِّيٓ أَحَدٗا
اگر تو دیکھتا ہے مجھے، کہ میں کم تر ہوں تجھ سے مال میں اور اولاد میں (39) تو امید ہے کہ میرا رب، یہ کہ دے وہ مجھے زیادہ بہتر تیرے باغ سےاور بھیجے اوپر اس (تیرے باغ)کے کوئی عذاب آسمان سے، پھر ہو جائے وہ (باغ) چٹیل میدان پھسلنے والا (40) یا ہو جائے پانی اس کا گہرا، پس ہرگز نہ اسطاعت رکھے تو اسے ڈھونڈ لانے کی (41) اور گھیر لیا (تباہ کر دیا) گیا پھل اس کا، سو ہو گیا وہ ملتا تھا دونوں ہتھیلیاں اپنی (افسوس سے) اوپر اس کے جو خرچ کیا تھا اس نے اس میں ، جبکہ وہ (باغ) گرا ہوا تھا اوپر اپنی چھتریوں کے اور وہ کہتا تھا، کاش نہ شریک ٹھہراتا میں ساتھ اپنے رب کے کسی کو بھی (42) اور نہ ہوئی اس کے لیے کوئی جماعت، کہ وہ مدد کرتی اس کی سوائے اللہ کے،اور نہ ہوا وہ (خود) بدلہ لینے والا (ہم سے)(43) وہاں تو تمام اختیار اللہ سچے ہی کا ہے، وہی ہے بہتر ثواب (دینے) میں اور بہتر ہے اچھے انجام سے بہرہ ور کرنے میں (44)
[39] یعنی صاحب ایمان شخص نے اس کافر سے کہا کہ تو اگرچہ کثرت مال و اولاد کی بنا پرمجھ پر فخر جتاتا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم تر ہوں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور جو امید اللہ تعالیٰ کی نوازش اور احسان پر رکھی جا سکتی ہے وہ اس دنیا و مافیہا سے بہتر ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
[40]﴿ فَعَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يُّؤۡتِيَنِ خَيۡرًا مِّنۡ جَنَّتِكَ وَيُرۡسِلَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’پس امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے گا اور بھیجے گا اس پر‘‘ یعنی اس باغ پر جس کی بنا پر تو نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس باغ نے تجھے دھوکے میں مبتلا کر دیا، ﴿ حُسۡبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’عذاب آسمان سے‘‘ یعنی طوفانی بارش یا اور کسی قسم کا عذاب ﴿فَتُصۡبِحَ ﴾ ’’پس اس سبب سے وہ ہو جائے‘‘ ﴿ صَعِيۡدًا زَلَقًا﴾ ’’میدان صاف‘‘ کہ اس کے تمام درخت جڑوں سے اکھڑ جائیں، اس کا پھل تلف ہو جائے، اس کی کھیتی تباہ ہو جائے اور اس کا فائدہ مفقود ہو کر رہ جائے۔
[41]﴿ اَوۡ يُصۡبِحَ مَآؤُهَا ﴾ ’’یا ہو جائے پانی اس کا‘‘ یعنی باغ کے پانی کا سرچشمہ ﴿ غَوۡرًا ﴾ ’’زمین میں اور گہرا‘‘ ﴿ فَلَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ لَهٗ طَلَبًا ﴾ ’’پس ہرگز نہیں لاسکے گا تو اسے ڈھونڈ کر‘‘ یعنی اتنی گہرائی میں چلا جائے کہ تم کھدائی کے آلات کے ذریعے سے بھی وہاں تک نہ پہنچ سکو۔ اس صاحب ایمان شخص نے صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر غضبناک ہوکر اس کے باغ کے لیے بددعا کی تھی کیونکہ اس باغ نے اس کو دھوکے اور سرکشی میں مبتلا کر دیا تھا اور وہ اس باغ پر مطمئن ہوکر رہ گیا تھا۔ اس بد دعا کا مقصد یہ تھا کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس کی رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آئے اور اپنے بارے میں وہ خوب غور و فکر کرے۔
[42] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرمائی۔ ﴿ وَاُحِيۡطَ بِثَمَرِهٖ ﴾ ’’اور سمیٹ لیا گیا اس کا سارا پھل‘‘ یعنی اس کے پھل پر عذاب نازل ہو گیا، اس نے اس کا احاطہ کر کے اس کو تباہ کر دیا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھل کا احاطہ کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ اس کے باغ کے تمام درخت، ان کا تمام پھل اور زمین میں کاشت کی ہوئی تمام فصل سب کچھ تباہ ہو گیا۔ پس وہ بے حد نادم ہوا اور اسے سخت افسوس ہوا۔ ﴿ فَاَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلٰى مَاۤ اَنۡفَقَ فِيۡهَا﴾ ’’پس رہ گیا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیرتا ہوا، اس مال پر جو اس نے اس باغ میں لگایا تھا‘‘ یعنی اس نے اپنے باغ پر جو دنیاوی اخراجات كيے تھے وہ سب ضائع ہو گئے اور وہ کف افسوس ملتا رہ گیا اور اس کا کوئی عوض باقی نہ رہا، نیز وہ اپنے شرک اور اپنی بدی پر بھی پشیمان ہوا، اس لیے وہ کہنے لگا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُشۡرِكۡ بِرَبِّيۡۤ اَحَدًا﴾ ’’کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔‘‘
[43] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمۡ تَكُنۡ لَّهٗ فِئَةٌ يَّنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَمَا كَانَ مُنۡتَصِرًا﴾ ’’اور نہ ہوئی اس کی کوئی جماعت کہ وہ اس کی مدد کرے اور نہ ہوا وہ خود بدلہ لینے والا‘‘ یعنی جب اس کے باغ پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو ہر چیز اس کے ہاتھوں سے نکل گئی جس پر وہ فخر کیا کرتا تھا جس کے زعم پر کہا کرتا تھا: ﴿ اَنَا اَكۡثَرُ مِنۡكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا ﴾ یہ اعوان و انصار اس سے کچھ بھی عذاب دور نہ کر سکے جبکہ اسے ان کی سخت ضرورت تھی اور وہ خود بھی اپنی مدد نہ کر سکا اور وہ اس عذاب سے کیسے بچ سکتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر کے مقابلے میں کون اس کی مدد کر سکتا تھا جس کا فیصلہ جب اللہ تعالیٰ جاری فرما دیتا ہے تو زمین و آسمان کے تمام رہنے والے مل کر بھی اس میں سے کسی چیز کو زائل کرنا چاہیں تو وہ اس کی قدرت نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے لطف و کرم سے بعید نہیں کہ اس شخص نے جس کے باغ پر آفت نازل ہوئی تھی، اپنے احوال کی اصلاح کر لی ہو، وہ اپنے رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آیا ہوا اور اس کا تمام تکبر اور اس کی سرکشی ختم ہو گئی ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس نے اپنے شرک پر ندامت کا اظہار کیا تھا اور یہ بھی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے تمرد اور سرکشی کو دور کر کے اس کو دنیا ہی میں سزا دے دی ہو کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اسے اس دنیا ہی میں سزا دے دیتا ہے۔ عقل و وہم اللہ تعالیٰ کے فضل کا احاطہ نہیں کر سکتے اور اس کا انکار صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو ظالم اورسخت جاہل ہے۔
[44]﴿ هُنَالِكَ الۡوَلَايَةُ لِلّٰهِ الۡحَقِّ١ؕ هُوَ خَيۡرٌ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ عُقۡبًا ﴾ ’’وہاں سب اختیار اللہ برحق کا ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے‘‘ یعنی اس حال میں جس میں اللہ تعالیٰ اس شخص کو سزا دینے کا حکم جاری کرتا ہے جس نے سرکشی اختیار کی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی۔ اور عزت وتکریم اس شخص کے لیے جس نے ایمان لا کر نیک عمل كيے، اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا رہا اور دوسروں کو اس کی طرف دعوت دیتا رہا۔ اس بنا پر واضح ہو گیا کہ حقیقی ولایت کا مالک صرف اکیلا اللہ تعالیٰ ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا ولی اور دوست ہے، وہ اسے مختلف اقسام کی کرامات کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے اور اس کو شر اورتمام آفتوں سے بچاتا ہے۔ جو اپنے رب پر ایمان نہیں رکھتا اور نہ اسے اپنا والی اور سرپرست بناتا ہے، وہ دین و دنیا میں خسارہ اٹھاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ دنیاوی اور اخروی ثواب بہترین ثواب ہے جس پر امیدوں کو مرتکز ہونا چاہیے۔ اس عظیم قصے میں اس شخص کے حال میں جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیاوی نعمتیں عنایت کیں مگر ان نعمتوں نے اسے آخرت سے غافل کر کے سرکش بنا دیا اور وہ ان میں مگن ہو کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگا، لوگوں کے لیے عبرت ہے کہ ان نعمتوں کا انجام زوال اور اضمحلال ہے اگر بندہ ان نعمتوں سے تھوڑا فائدہ اٹھاتا ہے تو طویل عرصے تک محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بندۂ مومن کے لیے مناسب یہی ہے کہ جب اسے اپنے مال اور اولاد میں سے کچھ اچھا لگے تو وہ اس نعمت کو نعمت عطا کرنے والے کی طرف منسوب کرے اور یہ کہے:﴿ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ تاکہ وہ شکر گزار بنے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کی بقا کے لیے سبب بننے والا بنے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَكَ قُلۡتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’کیوں نہ، جب تو داخل ہوا اپنے باغ میں ، کہا تو نے، جو چاہے اللہ سو وہ ہو۔ طاقت نہیں مگر جو دے اللہ۔‘‘ان آیات کریمہ میں لذات دنیا اور اس کی شہوات کے بدلے میں ان بہتر چیزوں کے ذریعے تسلی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں ۔ فرمایا:﴿اِنۡ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنۡكَ مَالًا وَّوَلَدًاۚ۰۰فَعَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يُّؤۡتِيَنِ خَيۡرًا مِّنۡ جَنَّتِكَ ﴾ ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ مال اور اولاد اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مددگار نہ بنیں تو وہ کوئی فائدہ نہیں دیتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:﴿ وَمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ بِالَّتِيۡ تُقَرِّبُكُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤى اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ﴾(سبا: 34؍37) ’’تمھارا مال اور تمھاری اولاد نہیں، جو تمھیں ہم سے قریب کرتی ہو مگر وہی قریب ہوتا ہے جو ایمان لائے اور نیک کام کرے۔‘‘ اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص کا مال اس کی سرکشی، کفر اور اس کے لیے اخروی خسارے کا سبب ہو اس مال کے تلف ہونے کی دعا کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر جبکہ وہ اس مال کی بنا پر اپنے آپ کو اہل ایمان سے افضل سمجھتا ہو اور ان پر فخر کا اظہار کرتا ہو۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ولایت اور عدم ولایت، اس وقت ظاہر ہو گی جب غبار چھٹ جائے گا، جزا و سزا ثابت ہو گی اور عمل کرنے والے اپنا اجر پا لیں گے:﴿ هُنَالِكَ الۡوَلَايَةُ لِلّٰهِ الۡحَقِّ١ؕ هُوَ خَيۡرٌ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ عُقۡبًا ﴾ ’’اس وقت معلوم ہو گا کہ کار سازی تو اللہ برحق کے اختیار میں ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے۔‘‘
18:43وَلَمۡ تَكُن لَّهُۥ فِئَةٞ يَنصُرُونَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَمَا كَانَ مُنتَصِرًا
اگر تو دیکھتا ہے مجھے، کہ میں کم تر ہوں تجھ سے مال میں اور اولاد میں (39) تو امید ہے کہ میرا رب، یہ کہ دے وہ مجھے زیادہ بہتر تیرے باغ سےاور بھیجے اوپر اس (تیرے باغ)کے کوئی عذاب آسمان سے، پھر ہو جائے وہ (باغ) چٹیل میدان پھسلنے والا (40) یا ہو جائے پانی اس کا گہرا، پس ہرگز نہ اسطاعت رکھے تو اسے ڈھونڈ لانے کی (41) اور گھیر لیا (تباہ کر دیا) گیا پھل اس کا، سو ہو گیا وہ ملتا تھا دونوں ہتھیلیاں اپنی (افسوس سے) اوپر اس کے جو خرچ کیا تھا اس نے اس میں ، جبکہ وہ (باغ) گرا ہوا تھا اوپر اپنی چھتریوں کے اور وہ کہتا تھا، کاش نہ شریک ٹھہراتا میں ساتھ اپنے رب کے کسی کو بھی (42) اور نہ ہوئی اس کے لیے کوئی جماعت، کہ وہ مدد کرتی اس کی سوائے اللہ کے،اور نہ ہوا وہ (خود) بدلہ لینے والا (ہم سے)(43) وہاں تو تمام اختیار اللہ سچے ہی کا ہے، وہی ہے بہتر ثواب (دینے) میں اور بہتر ہے اچھے انجام سے بہرہ ور کرنے میں (44)
[39] یعنی صاحب ایمان شخص نے اس کافر سے کہا کہ تو اگرچہ کثرت مال و اولاد کی بنا پرمجھ پر فخر جتاتا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم تر ہوں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور جو امید اللہ تعالیٰ کی نوازش اور احسان پر رکھی جا سکتی ہے وہ اس دنیا و مافیہا سے بہتر ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
[40]﴿ فَعَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يُّؤۡتِيَنِ خَيۡرًا مِّنۡ جَنَّتِكَ وَيُرۡسِلَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’پس امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے گا اور بھیجے گا اس پر‘‘ یعنی اس باغ پر جس کی بنا پر تو نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس باغ نے تجھے دھوکے میں مبتلا کر دیا، ﴿ حُسۡبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’عذاب آسمان سے‘‘ یعنی طوفانی بارش یا اور کسی قسم کا عذاب ﴿فَتُصۡبِحَ ﴾ ’’پس اس سبب سے وہ ہو جائے‘‘ ﴿ صَعِيۡدًا زَلَقًا﴾ ’’میدان صاف‘‘ کہ اس کے تمام درخت جڑوں سے اکھڑ جائیں، اس کا پھل تلف ہو جائے، اس کی کھیتی تباہ ہو جائے اور اس کا فائدہ مفقود ہو کر رہ جائے۔
[41]﴿ اَوۡ يُصۡبِحَ مَآؤُهَا ﴾ ’’یا ہو جائے پانی اس کا‘‘ یعنی باغ کے پانی کا سرچشمہ ﴿ غَوۡرًا ﴾ ’’زمین میں اور گہرا‘‘ ﴿ فَلَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ لَهٗ طَلَبًا ﴾ ’’پس ہرگز نہیں لاسکے گا تو اسے ڈھونڈ کر‘‘ یعنی اتنی گہرائی میں چلا جائے کہ تم کھدائی کے آلات کے ذریعے سے بھی وہاں تک نہ پہنچ سکو۔ اس صاحب ایمان شخص نے صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر غضبناک ہوکر اس کے باغ کے لیے بددعا کی تھی کیونکہ اس باغ نے اس کو دھوکے اور سرکشی میں مبتلا کر دیا تھا اور وہ اس باغ پر مطمئن ہوکر رہ گیا تھا۔ اس بد دعا کا مقصد یہ تھا کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس کی رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آئے اور اپنے بارے میں وہ خوب غور و فکر کرے۔
[42] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرمائی۔ ﴿ وَاُحِيۡطَ بِثَمَرِهٖ ﴾ ’’اور سمیٹ لیا گیا اس کا سارا پھل‘‘ یعنی اس کے پھل پر عذاب نازل ہو گیا، اس نے اس کا احاطہ کر کے اس کو تباہ کر دیا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھل کا احاطہ کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ اس کے باغ کے تمام درخت، ان کا تمام پھل اور زمین میں کاشت کی ہوئی تمام فصل سب کچھ تباہ ہو گیا۔ پس وہ بے حد نادم ہوا اور اسے سخت افسوس ہوا۔ ﴿ فَاَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلٰى مَاۤ اَنۡفَقَ فِيۡهَا﴾ ’’پس رہ گیا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیرتا ہوا، اس مال پر جو اس نے اس باغ میں لگایا تھا‘‘ یعنی اس نے اپنے باغ پر جو دنیاوی اخراجات كيے تھے وہ سب ضائع ہو گئے اور وہ کف افسوس ملتا رہ گیا اور اس کا کوئی عوض باقی نہ رہا، نیز وہ اپنے شرک اور اپنی بدی پر بھی پشیمان ہوا، اس لیے وہ کہنے لگا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُشۡرِكۡ بِرَبِّيۡۤ اَحَدًا﴾ ’’کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔‘‘
[43] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمۡ تَكُنۡ لَّهٗ فِئَةٌ يَّنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَمَا كَانَ مُنۡتَصِرًا﴾ ’’اور نہ ہوئی اس کی کوئی جماعت کہ وہ اس کی مدد کرے اور نہ ہوا وہ خود بدلہ لینے والا‘‘ یعنی جب اس کے باغ پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو ہر چیز اس کے ہاتھوں سے نکل گئی جس پر وہ فخر کیا کرتا تھا جس کے زعم پر کہا کرتا تھا: ﴿ اَنَا اَكۡثَرُ مِنۡكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا ﴾ یہ اعوان و انصار اس سے کچھ بھی عذاب دور نہ کر سکے جبکہ اسے ان کی سخت ضرورت تھی اور وہ خود بھی اپنی مدد نہ کر سکا اور وہ اس عذاب سے کیسے بچ سکتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر کے مقابلے میں کون اس کی مدد کر سکتا تھا جس کا فیصلہ جب اللہ تعالیٰ جاری فرما دیتا ہے تو زمین و آسمان کے تمام رہنے والے مل کر بھی اس میں سے کسی چیز کو زائل کرنا چاہیں تو وہ اس کی قدرت نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے لطف و کرم سے بعید نہیں کہ اس شخص نے جس کے باغ پر آفت نازل ہوئی تھی، اپنے احوال کی اصلاح کر لی ہو، وہ اپنے رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آیا ہوا اور اس کا تمام تکبر اور اس کی سرکشی ختم ہو گئی ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس نے اپنے شرک پر ندامت کا اظہار کیا تھا اور یہ بھی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے تمرد اور سرکشی کو دور کر کے اس کو دنیا ہی میں سزا دے دی ہو کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اسے اس دنیا ہی میں سزا دے دیتا ہے۔ عقل و وہم اللہ تعالیٰ کے فضل کا احاطہ نہیں کر سکتے اور اس کا انکار صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو ظالم اورسخت جاہل ہے۔
[44]﴿ هُنَالِكَ الۡوَلَايَةُ لِلّٰهِ الۡحَقِّ١ؕ هُوَ خَيۡرٌ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ عُقۡبًا ﴾ ’’وہاں سب اختیار اللہ برحق کا ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے‘‘ یعنی اس حال میں جس میں اللہ تعالیٰ اس شخص کو سزا دینے کا حکم جاری کرتا ہے جس نے سرکشی اختیار کی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی۔ اور عزت وتکریم اس شخص کے لیے جس نے ایمان لا کر نیک عمل كيے، اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا رہا اور دوسروں کو اس کی طرف دعوت دیتا رہا۔ اس بنا پر واضح ہو گیا کہ حقیقی ولایت کا مالک صرف اکیلا اللہ تعالیٰ ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا ولی اور دوست ہے، وہ اسے مختلف اقسام کی کرامات کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے اور اس کو شر اورتمام آفتوں سے بچاتا ہے۔ جو اپنے رب پر ایمان نہیں رکھتا اور نہ اسے اپنا والی اور سرپرست بناتا ہے، وہ دین و دنیا میں خسارہ اٹھاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ دنیاوی اور اخروی ثواب بہترین ثواب ہے جس پر امیدوں کو مرتکز ہونا چاہیے۔ اس عظیم قصے میں اس شخص کے حال میں جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیاوی نعمتیں عنایت کیں مگر ان نعمتوں نے اسے آخرت سے غافل کر کے سرکش بنا دیا اور وہ ان میں مگن ہو کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگا، لوگوں کے لیے عبرت ہے کہ ان نعمتوں کا انجام زوال اور اضمحلال ہے اگر بندہ ان نعمتوں سے تھوڑا فائدہ اٹھاتا ہے تو طویل عرصے تک محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بندۂ مومن کے لیے مناسب یہی ہے کہ جب اسے اپنے مال اور اولاد میں سے کچھ اچھا لگے تو وہ اس نعمت کو نعمت عطا کرنے والے کی طرف منسوب کرے اور یہ کہے:﴿ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ تاکہ وہ شکر گزار بنے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کی بقا کے لیے سبب بننے والا بنے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَكَ قُلۡتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’کیوں نہ، جب تو داخل ہوا اپنے باغ میں ، کہا تو نے، جو چاہے اللہ سو وہ ہو۔ طاقت نہیں مگر جو دے اللہ۔‘‘ان آیات کریمہ میں لذات دنیا اور اس کی شہوات کے بدلے میں ان بہتر چیزوں کے ذریعے تسلی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں ۔ فرمایا:﴿اِنۡ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنۡكَ مَالًا وَّوَلَدًاۚ۰۰فَعَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يُّؤۡتِيَنِ خَيۡرًا مِّنۡ جَنَّتِكَ ﴾ ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ مال اور اولاد اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مددگار نہ بنیں تو وہ کوئی فائدہ نہیں دیتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:﴿ وَمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ بِالَّتِيۡ تُقَرِّبُكُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤى اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ﴾(سبا: 34؍37) ’’تمھارا مال اور تمھاری اولاد نہیں، جو تمھیں ہم سے قریب کرتی ہو مگر وہی قریب ہوتا ہے جو ایمان لائے اور نیک کام کرے۔‘‘ اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص کا مال اس کی سرکشی، کفر اور اس کے لیے اخروی خسارے کا سبب ہو اس مال کے تلف ہونے کی دعا کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر جبکہ وہ اس مال کی بنا پر اپنے آپ کو اہل ایمان سے افضل سمجھتا ہو اور ان پر فخر کا اظہار کرتا ہو۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ولایت اور عدم ولایت، اس وقت ظاہر ہو گی جب غبار چھٹ جائے گا، جزا و سزا ثابت ہو گی اور عمل کرنے والے اپنا اجر پا لیں گے:﴿ هُنَالِكَ الۡوَلَايَةُ لِلّٰهِ الۡحَقِّ١ؕ هُوَ خَيۡرٌ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ عُقۡبًا ﴾ ’’اس وقت معلوم ہو گا کہ کار سازی تو اللہ برحق کے اختیار میں ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے۔‘‘
18:44هُنَالِكَ ٱلۡوَلَٰيَةُ لِلَّهِ ٱلۡحَقِّۚ هُوَ خَيۡرٞ ثَوَابٗا وَخَيۡرٌ عُقۡبٗا
اگر تو دیکھتا ہے مجھے، کہ میں کم تر ہوں تجھ سے مال میں اور اولاد میں (39) تو امید ہے کہ میرا رب، یہ کہ دے وہ مجھے زیادہ بہتر تیرے باغ سےاور بھیجے اوپر اس (تیرے باغ)کے کوئی عذاب آسمان سے، پھر ہو جائے وہ (باغ) چٹیل میدان پھسلنے والا (40) یا ہو جائے پانی اس کا گہرا، پس ہرگز نہ اسطاعت رکھے تو اسے ڈھونڈ لانے کی (41) اور گھیر لیا (تباہ کر دیا) گیا پھل اس کا، سو ہو گیا وہ ملتا تھا دونوں ہتھیلیاں اپنی (افسوس سے) اوپر اس کے جو خرچ کیا تھا اس نے اس میں ، جبکہ وہ (باغ) گرا ہوا تھا اوپر اپنی چھتریوں کے اور وہ کہتا تھا، کاش نہ شریک ٹھہراتا میں ساتھ اپنے رب کے کسی کو بھی (42) اور نہ ہوئی اس کے لیے کوئی جماعت، کہ وہ مدد کرتی اس کی سوائے اللہ کے،اور نہ ہوا وہ (خود) بدلہ لینے والا (ہم سے)(43) وہاں تو تمام اختیار اللہ سچے ہی کا ہے، وہی ہے بہتر ثواب (دینے) میں اور بہتر ہے اچھے انجام سے بہرہ ور کرنے میں (44)
[39] یعنی صاحب ایمان شخص نے اس کافر سے کہا کہ تو اگرچہ کثرت مال و اولاد کی بنا پرمجھ پر فخر جتاتا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم تر ہوں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور جو امید اللہ تعالیٰ کی نوازش اور احسان پر رکھی جا سکتی ہے وہ اس دنیا و مافیہا سے بہتر ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
[40]﴿ فَعَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يُّؤۡتِيَنِ خَيۡرًا مِّنۡ جَنَّتِكَ وَيُرۡسِلَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’پس امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے گا اور بھیجے گا اس پر‘‘ یعنی اس باغ پر جس کی بنا پر تو نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس باغ نے تجھے دھوکے میں مبتلا کر دیا، ﴿ حُسۡبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’عذاب آسمان سے‘‘ یعنی طوفانی بارش یا اور کسی قسم کا عذاب ﴿فَتُصۡبِحَ ﴾ ’’پس اس سبب سے وہ ہو جائے‘‘ ﴿ صَعِيۡدًا زَلَقًا﴾ ’’میدان صاف‘‘ کہ اس کے تمام درخت جڑوں سے اکھڑ جائیں، اس کا پھل تلف ہو جائے، اس کی کھیتی تباہ ہو جائے اور اس کا فائدہ مفقود ہو کر رہ جائے۔
[41]﴿ اَوۡ يُصۡبِحَ مَآؤُهَا ﴾ ’’یا ہو جائے پانی اس کا‘‘ یعنی باغ کے پانی کا سرچشمہ ﴿ غَوۡرًا ﴾ ’’زمین میں اور گہرا‘‘ ﴿ فَلَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ لَهٗ طَلَبًا ﴾ ’’پس ہرگز نہیں لاسکے گا تو اسے ڈھونڈ کر‘‘ یعنی اتنی گہرائی میں چلا جائے کہ تم کھدائی کے آلات کے ذریعے سے بھی وہاں تک نہ پہنچ سکو۔ اس صاحب ایمان شخص نے صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر غضبناک ہوکر اس کے باغ کے لیے بددعا کی تھی کیونکہ اس باغ نے اس کو دھوکے اور سرکشی میں مبتلا کر دیا تھا اور وہ اس باغ پر مطمئن ہوکر رہ گیا تھا۔ اس بد دعا کا مقصد یہ تھا کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس کی رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آئے اور اپنے بارے میں وہ خوب غور و فکر کرے۔
[42] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرمائی۔ ﴿ وَاُحِيۡطَ بِثَمَرِهٖ ﴾ ’’اور سمیٹ لیا گیا اس کا سارا پھل‘‘ یعنی اس کے پھل پر عذاب نازل ہو گیا، اس نے اس کا احاطہ کر کے اس کو تباہ کر دیا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھل کا احاطہ کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ اس کے باغ کے تمام درخت، ان کا تمام پھل اور زمین میں کاشت کی ہوئی تمام فصل سب کچھ تباہ ہو گیا۔ پس وہ بے حد نادم ہوا اور اسے سخت افسوس ہوا۔ ﴿ فَاَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلٰى مَاۤ اَنۡفَقَ فِيۡهَا﴾ ’’پس رہ گیا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیرتا ہوا، اس مال پر جو اس نے اس باغ میں لگایا تھا‘‘ یعنی اس نے اپنے باغ پر جو دنیاوی اخراجات كيے تھے وہ سب ضائع ہو گئے اور وہ کف افسوس ملتا رہ گیا اور اس کا کوئی عوض باقی نہ رہا، نیز وہ اپنے شرک اور اپنی بدی پر بھی پشیمان ہوا، اس لیے وہ کہنے لگا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُشۡرِكۡ بِرَبِّيۡۤ اَحَدًا﴾ ’’کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔‘‘
[43] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمۡ تَكُنۡ لَّهٗ فِئَةٌ يَّنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَمَا كَانَ مُنۡتَصِرًا﴾ ’’اور نہ ہوئی اس کی کوئی جماعت کہ وہ اس کی مدد کرے اور نہ ہوا وہ خود بدلہ لینے والا‘‘ یعنی جب اس کے باغ پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو ہر چیز اس کے ہاتھوں سے نکل گئی جس پر وہ فخر کیا کرتا تھا جس کے زعم پر کہا کرتا تھا: ﴿ اَنَا اَكۡثَرُ مِنۡكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا ﴾ یہ اعوان و انصار اس سے کچھ بھی عذاب دور نہ کر سکے جبکہ اسے ان کی سخت ضرورت تھی اور وہ خود بھی اپنی مدد نہ کر سکا اور وہ اس عذاب سے کیسے بچ سکتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر کے مقابلے میں کون اس کی مدد کر سکتا تھا جس کا فیصلہ جب اللہ تعالیٰ جاری فرما دیتا ہے تو زمین و آسمان کے تمام رہنے والے مل کر بھی اس میں سے کسی چیز کو زائل کرنا چاہیں تو وہ اس کی قدرت نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے لطف و کرم سے بعید نہیں کہ اس شخص نے جس کے باغ پر آفت نازل ہوئی تھی، اپنے احوال کی اصلاح کر لی ہو، وہ اپنے رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آیا ہوا اور اس کا تمام تکبر اور اس کی سرکشی ختم ہو گئی ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس نے اپنے شرک پر ندامت کا اظہار کیا تھا اور یہ بھی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے تمرد اور سرکشی کو دور کر کے اس کو دنیا ہی میں سزا دے دی ہو کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اسے اس دنیا ہی میں سزا دے دیتا ہے۔ عقل و وہم اللہ تعالیٰ کے فضل کا احاطہ نہیں کر سکتے اور اس کا انکار صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو ظالم اورسخت جاہل ہے۔
[44]﴿ هُنَالِكَ الۡوَلَايَةُ لِلّٰهِ الۡحَقِّ١ؕ هُوَ خَيۡرٌ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ عُقۡبًا ﴾ ’’وہاں سب اختیار اللہ برحق کا ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے‘‘ یعنی اس حال میں جس میں اللہ تعالیٰ اس شخص کو سزا دینے کا حکم جاری کرتا ہے جس نے سرکشی اختیار کی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی۔ اور عزت وتکریم اس شخص کے لیے جس نے ایمان لا کر نیک عمل كيے، اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا رہا اور دوسروں کو اس کی طرف دعوت دیتا رہا۔ اس بنا پر واضح ہو گیا کہ حقیقی ولایت کا مالک صرف اکیلا اللہ تعالیٰ ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا ولی اور دوست ہے، وہ اسے مختلف اقسام کی کرامات کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے اور اس کو شر اورتمام آفتوں سے بچاتا ہے۔ جو اپنے رب پر ایمان نہیں رکھتا اور نہ اسے اپنا والی اور سرپرست بناتا ہے، وہ دین و دنیا میں خسارہ اٹھاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ دنیاوی اور اخروی ثواب بہترین ثواب ہے جس پر امیدوں کو مرتکز ہونا چاہیے۔ اس عظیم قصے میں اس شخص کے حال میں جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیاوی نعمتیں عنایت کیں مگر ان نعمتوں نے اسے آخرت سے غافل کر کے سرکش بنا دیا اور وہ ان میں مگن ہو کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگا، لوگوں کے لیے عبرت ہے کہ ان نعمتوں کا انجام زوال اور اضمحلال ہے اگر بندہ ان نعمتوں سے تھوڑا فائدہ اٹھاتا ہے تو طویل عرصے تک محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بندۂ مومن کے لیے مناسب یہی ہے کہ جب اسے اپنے مال اور اولاد میں سے کچھ اچھا لگے تو وہ اس نعمت کو نعمت عطا کرنے والے کی طرف منسوب کرے اور یہ کہے:﴿ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ تاکہ وہ شکر گزار بنے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کی بقا کے لیے سبب بننے والا بنے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡلَاۤ اِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَكَ قُلۡتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’کیوں نہ، جب تو داخل ہوا اپنے باغ میں ، کہا تو نے، جو چاہے اللہ سو وہ ہو۔ طاقت نہیں مگر جو دے اللہ۔‘‘ان آیات کریمہ میں لذات دنیا اور اس کی شہوات کے بدلے میں ان بہتر چیزوں کے ذریعے تسلی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں ۔ فرمایا:﴿اِنۡ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنۡكَ مَالًا وَّوَلَدًاۚ۰۰فَعَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يُّؤۡتِيَنِ خَيۡرًا مِّنۡ جَنَّتِكَ ﴾ ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ مال اور اولاد اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مددگار نہ بنیں تو وہ کوئی فائدہ نہیں دیتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:﴿ وَمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ بِالَّتِيۡ تُقَرِّبُكُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤى اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ﴾(سبا: 34؍37) ’’تمھارا مال اور تمھاری اولاد نہیں، جو تمھیں ہم سے قریب کرتی ہو مگر وہی قریب ہوتا ہے جو ایمان لائے اور نیک کام کرے۔‘‘ اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص کا مال اس کی سرکشی، کفر اور اس کے لیے اخروی خسارے کا سبب ہو اس مال کے تلف ہونے کی دعا کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر جبکہ وہ اس مال کی بنا پر اپنے آپ کو اہل ایمان سے افضل سمجھتا ہو اور ان پر فخر کا اظہار کرتا ہو۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ولایت اور عدم ولایت، اس وقت ظاہر ہو گی جب غبار چھٹ جائے گا، جزا و سزا ثابت ہو گی اور عمل کرنے والے اپنا اجر پا لیں گے:﴿ هُنَالِكَ الۡوَلَايَةُ لِلّٰهِ الۡحَقِّ١ؕ هُوَ خَيۡرٌ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ عُقۡبًا ﴾ ’’اس وقت معلوم ہو گا کہ کار سازی تو اللہ برحق کے اختیار میں ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے۔‘‘
18:45وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا كَمَآءٍ أَنزَلۡنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخۡتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلۡأَرۡضِ فَأَصۡبَحَ هَشِيمٗا تَذۡرُوهُ ٱلرِّيَٰحُۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ مُّقۡتَدِرًا
اور بیان کیجیے ان کے لیے مثال زندگانیٔ دنیا کی، وہ مانند اس پانی کے ہے کہ اتارا ہم نے اسے آسمان سے، پس مل جل گئی ساتھ اس کے روئیدگی زمین کی، پھر ہوگئی وہ (روئیدگی) چورا چورا، اڑا لے جاتی ہیں اس کوہوائیں اور ہے اللہ اوپر ہرچیزکے قادر (45) یہ مال اور بیٹے تو زینت ہیں زندگانیٔ دنیا کی اور باقی رہنے والی نیکیاں بہت بہتر ہیں آپ کے رب کے ہاں ثواب میں اور بہت بہتر ہیں باعتبار امید کے (46)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی سے اصلاً اور ان لوگوں سے تبعاً فرماتا ہے جو آپ کے بعد آپ کے قائم مقام ہیں کہ لوگوں کے سامنے دنیاوی زندگی کی مثال بیان کر دیجیے تاکہ وہ اس زندگی کا اچھی طرح تصور کر لیں اور اس کے ظاہر و باطن کی معرفت حاصل کر لیں ۔ پس وہ دنیاوی زندگی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے درمیان تقابل کریں اور ان میں جو ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے اسے ترجیح دیں ۔ اس دنیاوی زندگی کی مثال بارش کی سی ہے جو آسمان سے زمین پر برستی ہے جس سے زمین کی روئیدگی بہت گھنی ہو جاتی ہے اور ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگ آتی ہیں۔ پس اس وقت کہ جب اس کی خوب صورتی اور سجاوٹ دیکھنے والوں کو خوش کن لگتی ہے، لوگ اس سے فرحت حاصل کرتے ہیں اور زمین کا یہ حسن غافل لوگوں کی نظروں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے کہ اچانک نباتات بھس بن کر رہ جاتی ہیں اور ہوائیں اسے اڑائے لے جاتی ہیں ۔ پس وہ تروتازہ، خوبصورت اور خوش منظر روئیدگی ختم ہو جاتی ہے، زمین چٹیل میدان بن جاتی ہے جہاں خاک اڑتی ہے جس سے نظریں دور ہٹ جاتی ہیں اور دل وحشت محسوس کرتے ہیں ۔ دنیا کی زندگی کا بھی یہی حال ہے دنیا کی زندگی میں مگن شخص کواپنا شباب بہت اچھا لگتا ہے، وہ اس زندگی میں اپنے ساتھیوں اور ہم جولیوں سے آگے نکل جاتا ہے، اس کے درہم و دینار کے حصول میں لگا رہتا ہے، اس کی لذت سے خوب حظ اٹھاتا ہے، ہر وقت اس کی شہوات کے سمندر میں غوطہ زن رہتا ہے اور وہ یہی سمجھتا ہے کہ زندگی بھر اس دنیا کی لذتیں اور شہوتیں زائل نہ ہوں گی کہ اچانک موت اسے آ لیتی ہے یا اس کا مال تلف ہو جاتا ہے۔ خوشیاں اس سے روٹھ جاتی ہیں ، اس کی لذتیں اس سے چھن جاتی ہیں ، اس کا قلب مصائب وآلام سے وحشت کھاتا ہے، اس کی جوانی، اس کی طاقت اور اس کا مال سب اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور وہ نیک یا برے اعمال کے ساتھ اکیلا باقی رہ جاتا ہے۔ یہی وہ حال ہے کہ جب ظالم کو اس کی حقیقت کا علم ہو گا تو اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا۔ وہ تمنا کرے گا کہ اسے دنیا میں واپس بھیجا جائے، اس لیے نہیں کہ وہ ان شہوات کو پورا کرے جو نامکمل رہ گئی تھیں بلکہ اس لیے کہ اس سے غفلت میں جو کوتاہیاں صادر ہوئیں توبہ و استغفار اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے ان کی تلافی کر سکے، لہٰذا عقل مند اور پختہ ارادے والا شخص، جسے توفیق سے نوازا گیا ہو، اپنے آپ پر یہی حالت طاری کرتا ہے اور اپنے آپ سے کہتا ہے: ’’فرض کر لو کہ تم مر چکے ہو‘‘ اور موت ایک یقینی امر ہے۔ پس مذکورہ دونوں حالتوں میں سے کون سی حالت کو تو اختیار کرتا ہے؟ اس دنیا کی زیب و زینت سے دھوکہ کھانا، اس سے اس طرح فائدہ اٹھانا جس طرح چراگاہ میں مویشی چرتے ہیں یا ایسی جنت کے حصول کی خاطر عمل کرنا جس کے پھل ہمیشہ رہنے والے، اس کے سائے بہت گھنے ہیں ۔ وہاں وہ سب کچھ ہو گا جو دل چاہے گا اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔پس یہی وہ حالت ہے جس کے ذریعے سے یہ معرفت حاصل ہوتی کہ بندے کو توفیق الٰہی سے نوازا گیا ہے یا اس کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے؟ اسے نفع حاصل ہوا ہے یا خسارہ؟
[46] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زیب و زینت ہیں اور اس سے آگے کچھ نہیں ۔ انسان کے لیے جو کچھ باقی رہ جاتا اور جو اسے فائدہ اور خوشی دیتا ہے وہ باقی رہنے والی نیکیاں ہیں اور وہ واجب اور مستحب نیکی کے تمام کاموں کو شامل ہیں ، مثلاً: حقوق اللہ، حقوق العباد، نماز، زکاۃ، صدقہ، حج، عمرہ، تسبیح، تحمید، تہلیل، قراء ت قرآن، طلب علم، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، صلہ رحمی، وا لدین کے ساتھ حسن سلوک، بیویوں کے حقوق پورے کرنا، غلاموں اور جانوروں کے حقوق کا احترام کرنا اور مخلوق کے ساتھ ہر لحاظ سے اچھا سلوک کرنا، یہ تمام باقی رہنے والی نیکیاں ہیں یہی وہ نیکیاں ہیں جن کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر ہے اور انھی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں ۔ ان کا اجروثواب باقی رہتا ہے اور ابد الآباد تک بڑھتا ہے۔ ان کے اجر و ثواب اور نفع کی ضرورت کے وقت امید کی جا سکتی ہے۔ پس یہی وہ کام ہیں کہ سبقت کرنے والوں کو ان کی طرف سبقت کرنی چاہیے، عمل کرنے والوں کو انھی کے لیے آگے بڑھنا چاہیے اور جدو جہد کرنے والوں کو ان کے حصول کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ غور کیجیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کے حال اور اس کے اضمحلال کی مثال دی تو اس کی دو قسمیں بیان کیں :(۱) دنیاوی زندگی کی زیب وزینت، جس سے انسان بہت کم فائدہ اٹھاتا ہے، پھر بغیر کسی فائدے کے یہ دنیا زائل ہو جاتی ہے اور اس کا نقصان انسان کی طرف لوٹتا ہے بلکہ بسااوقات اس کا نقصان اس کے لیے لازم ہو جاتا ہے۔ یہ مال اور بیٹے ہیں ۔ (۲) دوسری قسم وہ ہے جو انسان کے لیے ہمیشہ باقی رہتی ہے اور وہ ہیں باقی رہنے والی نیکیاں ۔
18:46ٱلۡمَالُ وَٱلۡبَنُونَ زِينَةُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَٱلۡبَٰقِيَٰتُ ٱلصَّـٰلِحَٰتُ خَيۡرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابٗا وَخَيۡرٌ أَمَلٗا
اور بیان کیجیے ان کے لیے مثال زندگانیٔ دنیا کی، وہ مانند اس پانی کے ہے کہ اتارا ہم نے اسے آسمان سے، پس مل جل گئی ساتھ اس کے روئیدگی زمین کی، پھر ہوگئی وہ (روئیدگی) چورا چورا، اڑا لے جاتی ہیں اس کوہوائیں اور ہے اللہ اوپر ہرچیزکے قادر (45) یہ مال اور بیٹے تو زینت ہیں زندگانیٔ دنیا کی اور باقی رہنے والی نیکیاں بہت بہتر ہیں آپ کے رب کے ہاں ثواب میں اور بہت بہتر ہیں باعتبار امید کے (46)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی سے اصلاً اور ان لوگوں سے تبعاً فرماتا ہے جو آپ کے بعد آپ کے قائم مقام ہیں کہ لوگوں کے سامنے دنیاوی زندگی کی مثال بیان کر دیجیے تاکہ وہ اس زندگی کا اچھی طرح تصور کر لیں اور اس کے ظاہر و باطن کی معرفت حاصل کر لیں ۔ پس وہ دنیاوی زندگی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے درمیان تقابل کریں اور ان میں جو ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے اسے ترجیح دیں ۔ اس دنیاوی زندگی کی مثال بارش کی سی ہے جو آسمان سے زمین پر برستی ہے جس سے زمین کی روئیدگی بہت گھنی ہو جاتی ہے اور ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگ آتی ہیں۔ پس اس وقت کہ جب اس کی خوب صورتی اور سجاوٹ دیکھنے والوں کو خوش کن لگتی ہے، لوگ اس سے فرحت حاصل کرتے ہیں اور زمین کا یہ حسن غافل لوگوں کی نظروں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے کہ اچانک نباتات بھس بن کر رہ جاتی ہیں اور ہوائیں اسے اڑائے لے جاتی ہیں ۔ پس وہ تروتازہ، خوبصورت اور خوش منظر روئیدگی ختم ہو جاتی ہے، زمین چٹیل میدان بن جاتی ہے جہاں خاک اڑتی ہے جس سے نظریں دور ہٹ جاتی ہیں اور دل وحشت محسوس کرتے ہیں ۔ دنیا کی زندگی کا بھی یہی حال ہے دنیا کی زندگی میں مگن شخص کواپنا شباب بہت اچھا لگتا ہے، وہ اس زندگی میں اپنے ساتھیوں اور ہم جولیوں سے آگے نکل جاتا ہے، اس کے درہم و دینار کے حصول میں لگا رہتا ہے، اس کی لذت سے خوب حظ اٹھاتا ہے، ہر وقت اس کی شہوات کے سمندر میں غوطہ زن رہتا ہے اور وہ یہی سمجھتا ہے کہ زندگی بھر اس دنیا کی لذتیں اور شہوتیں زائل نہ ہوں گی کہ اچانک موت اسے آ لیتی ہے یا اس کا مال تلف ہو جاتا ہے۔ خوشیاں اس سے روٹھ جاتی ہیں ، اس کی لذتیں اس سے چھن جاتی ہیں ، اس کا قلب مصائب وآلام سے وحشت کھاتا ہے، اس کی جوانی، اس کی طاقت اور اس کا مال سب اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور وہ نیک یا برے اعمال کے ساتھ اکیلا باقی رہ جاتا ہے۔ یہی وہ حال ہے کہ جب ظالم کو اس کی حقیقت کا علم ہو گا تو اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا۔ وہ تمنا کرے گا کہ اسے دنیا میں واپس بھیجا جائے، اس لیے نہیں کہ وہ ان شہوات کو پورا کرے جو نامکمل رہ گئی تھیں بلکہ اس لیے کہ اس سے غفلت میں جو کوتاہیاں صادر ہوئیں توبہ و استغفار اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے ان کی تلافی کر سکے، لہٰذا عقل مند اور پختہ ارادے والا شخص، جسے توفیق سے نوازا گیا ہو، اپنے آپ پر یہی حالت طاری کرتا ہے اور اپنے آپ سے کہتا ہے: ’’فرض کر لو کہ تم مر چکے ہو‘‘ اور موت ایک یقینی امر ہے۔ پس مذکورہ دونوں حالتوں میں سے کون سی حالت کو تو اختیار کرتا ہے؟ اس دنیا کی زیب و زینت سے دھوکہ کھانا، اس سے اس طرح فائدہ اٹھانا جس طرح چراگاہ میں مویشی چرتے ہیں یا ایسی جنت کے حصول کی خاطر عمل کرنا جس کے پھل ہمیشہ رہنے والے، اس کے سائے بہت گھنے ہیں ۔ وہاں وہ سب کچھ ہو گا جو دل چاہے گا اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔پس یہی وہ حالت ہے جس کے ذریعے سے یہ معرفت حاصل ہوتی کہ بندے کو توفیق الٰہی سے نوازا گیا ہے یا اس کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے؟ اسے نفع حاصل ہوا ہے یا خسارہ؟
[46] اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زیب و زینت ہیں اور اس سے آگے کچھ نہیں ۔ انسان کے لیے جو کچھ باقی رہ جاتا اور جو اسے فائدہ اور خوشی دیتا ہے وہ باقی رہنے والی نیکیاں ہیں اور وہ واجب اور مستحب نیکی کے تمام کاموں کو شامل ہیں ، مثلاً: حقوق اللہ، حقوق العباد، نماز، زکاۃ، صدقہ، حج، عمرہ، تسبیح، تحمید، تہلیل، قراء ت قرآن، طلب علم، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، صلہ رحمی، وا لدین کے ساتھ حسن سلوک، بیویوں کے حقوق پورے کرنا، غلاموں اور جانوروں کے حقوق کا احترام کرنا اور مخلوق کے ساتھ ہر لحاظ سے اچھا سلوک کرنا، یہ تمام باقی رہنے والی نیکیاں ہیں یہی وہ نیکیاں ہیں جن کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر ہے اور انھی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں ۔ ان کا اجروثواب باقی رہتا ہے اور ابد الآباد تک بڑھتا ہے۔ ان کے اجر و ثواب اور نفع کی ضرورت کے وقت امید کی جا سکتی ہے۔ پس یہی وہ کام ہیں کہ سبقت کرنے والوں کو ان کی طرف سبقت کرنی چاہیے، عمل کرنے والوں کو انھی کے لیے آگے بڑھنا چاہیے اور جدو جہد کرنے والوں کو ان کے حصول کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ غور کیجیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کے حال اور اس کے اضمحلال کی مثال دی تو اس کی دو قسمیں بیان کیں :(۱) دنیاوی زندگی کی زیب وزینت، جس سے انسان بہت کم فائدہ اٹھاتا ہے، پھر بغیر کسی فائدے کے یہ دنیا زائل ہو جاتی ہے اور اس کا نقصان انسان کی طرف لوٹتا ہے بلکہ بسااوقات اس کا نقصان اس کے لیے لازم ہو جاتا ہے۔ یہ مال اور بیٹے ہیں ۔ (۲) دوسری قسم وہ ہے جو انسان کے لیے ہمیشہ باقی رہتی ہے اور وہ ہیں باقی رہنے والی نیکیاں ۔
18:47وَيَوۡمَ نُسَيِّرُ ٱلۡجِبَالَ وَتَرَى ٱلۡأَرۡضَ بَارِزَةٗ وَحَشَرۡنَٰهُمۡ فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡهُمۡ أَحَدٗا
اور جس دن چلائیں گے ہم پہاڑوں کو اور آپ دیکھیں گے زمین کو صاف کھلی ہوئی اور اکٹھا کریں گے ہم ان کو، پس نہ چھوڑیں گے ہم ان میں سے کسی کو (47) اور پیش کیے جائیں گے وہ آپ کے رب پر صفیں بنائے ہوئے (کہا جائے گا) البتہ تحقیق آئے ہو تم ہمارے پاس جیسے پیدا کیا ہم نے تمھیں پہلی باربلکہ تم تو خیال کرتے تھے کہ ہرگز نہیں مقرر کریں گے ہم تمھارے لیے وعدہ گاہ (48)اوررکھے جائیں گے نامۂ اعمال، پس دیکھیں گے آپ مجرموں کو کہ وہ ڈرنے والے ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہےاور کہیں گے، ہائے ہماری کم بختی! کیاہے اس نامۂ اعمال کو نہیں چھوڑ رہا کسی چھوٹے (عمل) کو اور نہ بڑے کو مگر اس نے شمار کر رکھا ہے اس کو،اور وہ پائیں گے ، جو عمل کیے تھے انھوں نے، حاضر۔ نہیں ظلم کرے گاآپ کا رب کسی پر بھی (49)
[48,47] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کا حال بیان کرتا ہے کہ اس میں پریشان کن ہولناکیاں اور تڑپا دینے والی سختیاں ہو گی، چنانچہ فرمایا:﴿وَيَوۡمَ نُسَيِّرُ الۡجِبَالَ ﴾ ’’اور جس دن ہم چلائیں گے پہاڑ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ان کی جگہ سے ہٹا کر ان کو ریت کے ٹیلے بنا دے گا، پھر ان کو دھنکی ہوئی اون کی مانند کر دے گا پھر وہ مضمحل ہو کر غبار کی مانند اڑ جائیں گے اور زمین ایک ہموار میدان نظر آئے گی جس میں کوئی نشیب و فراز نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اس زمین پر تمام مخلوق کو اکٹھا کرے گا کسی کو باقی نہیں چھوڑے گا۔ وہ اگلوں پچھلوں سب کو صحراؤں کے پیٹوں سے اور سمندروں کی گہرائیوں سے نکال کر ایک جگہ اکٹھا کرے گا۔ جب ان کے اجزا بکھر چکے ہوں گے اور وہ پارہ پارہ ہو چکے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو نئی زندگی عطا کرے گا۔ پس لوگ صفیں باندھے اس کے سامنے پیش ہوں گے تاکہ وہ ان سے جوابدہی کرے، ان کے اعمال دیکھ کر ان کے بارے میں عدل پر مبنی فیصلہ کرے گا جس میں کوئی ظلم وجور نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا:﴿لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’تم اسی طرح ہمارے سامنے تن تنہا حاضر ہوگئے ہو، جس طرح ہم نے تمھیں پہلی مرتبہ (اکیلا اکیلا) پیدا کیا تھا۔‘‘ یعنی لوگ مال و متاع، اہل و عیال اور قبیلے کنبے کے بغیر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے۔ ان کے ساتھ صرف وہی اعمال ہوں گے جو وہ کرتے رہے تھے اور نیکی اور بدی ساتھ ہو گی جس کا اکتساب کرتے رہے ہوں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَؔكۡتُمۡ مَّا خَوَّلۡنٰكُمۡ وَرَآءَؔ ظُهُوۡرِكُمۡ١ۚ وَمَا نَرٰى مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ اَنَّهُمۡ فِيۡكُمۡ شُرَؔكٰٓؤُا ﴾(الانعام:6؍94) ’’تم اسی طرح ہمارے سامنے تن تنہا حاضر ہو گئے ہو جس طرح ہم نے تمھیں پہلی مرتبہ (اکیلا اکیلا) پیدا کیا تھا اورجو کچھ ہم نے تمھیں عطا کیا تھا تم اسے اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو اور ہمیں تمھارے ساتھ تمھارے وہ سفارشی بھی نظر نہیں آتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ وہ اللہ کے شریک ہیں ۔‘‘ اس مقام پر اللہ تعالیٰ منکرین آخرت سے مخاطب ہو کر فرمائے گا جبکہ وہ اس کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کر لیں گے: ﴿ بَلۡ زَعَمۡتُمۡ اَلَّنۡ نَّجۡعَلَ لَكُمۡ مَّوۡعِدًا ﴾ ’’لیکن تم نے یہ خیال کررکھا تھا کہ ہم نے تمھارے لیے کوئی وقت مقرر ہی نہیں کیا۔‘‘ یعنی تم اعمال کی سزا و جزا کا انکار کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے تمھارے ساتھ اس جزا و سزا کا وعدہ کر رکھا تھا، لو! اس کا وعدہ آ گیا تم نے اسے دیکھ لیا اور اس کا مزا چکھ لیا۔
[49] اس وقت وہ ا عمال نامے حاضر كيے جائیں گے جن کو کراماً کاتبین لکھا کرتے تھے۔ ان کو دیکھ کر دل اڑنے لگیں گے ان کے وقوع سے غم اور مشقتیں بڑھ جائیں گی۔ جن کو دیکھ کر ٹھوس اور سخت چٹانیں بھی پگھل جائیں گی اور مجرم ڈریں گے۔ جب وہ دیکھیں گے کہ ان اعمال ناموں میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں اور ان کے تمام اقوال و افعال ان اعمال ناموں میں محفوظ ہیں تو بول اٹھیں گے: ﴿يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا ﴾ ’’ہائے افسوس! کیسی ہے یہ کتاب، نہیں چھوڑا اس نے چھوٹی بات کو نہ بڑی بات کو مگر اس نے ان کو شمار کر لیا۔‘‘ یعنی کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ ایسا نہیں جو اس میں لکھا ہوا اور محفوظ نہ ہو اور کوئی کھلا یا چھپا، رات کے وقت کیا ہوا یا دن کے وقت کیا ہوا گناہ ایسا نہیں جو بھولے سے لکھنے سے رہ گیا ہو۔ ﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا﴾ ’’اور پائیں گے جو کچھ انھوں نے کیا، سامنے۔‘‘ وہ اس کا انکار نہیں کر سکیں گے ﴿ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾ ’’اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس وقت ان کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی، وہ ان اعمال کا اقرار کریں گے، ان اعمال کی بنا پر رسوا ہوں گے اور ان پر عذاب واجب ہو جائے گا۔ ﴿ ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ لَيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ﴾(آل عمران:3؍182، الانفال:8؍51) ’’یہ سب کچھ ان اعمال کی جزا ہے جو تم نے آگے بھیجے تھے اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ۔‘‘ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و عدل سے باہر نہیں نکلیں گے۔
18:48وَعُرِضُواْ عَلَىٰ رَبِّكَ صَفّٗا لَّقَدۡ جِئۡتُمُونَا كَمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةِۭۚ بَلۡ زَعَمۡتُمۡ أَلَّن نَّجۡعَلَ لَكُم مَّوۡعِدٗا
اور جس دن چلائیں گے ہم پہاڑوں کو اور آپ دیکھیں گے زمین کو صاف کھلی ہوئی اور اکٹھا کریں گے ہم ان کو، پس نہ چھوڑیں گے ہم ان میں سے کسی کو (47) اور پیش کیے جائیں گے وہ آپ کے رب پر صفیں بنائے ہوئے (کہا جائے گا) البتہ تحقیق آئے ہو تم ہمارے پاس جیسے پیدا کیا ہم نے تمھیں پہلی باربلکہ تم تو خیال کرتے تھے کہ ہرگز نہیں مقرر کریں گے ہم تمھارے لیے وعدہ گاہ (48)اوررکھے جائیں گے نامۂ اعمال، پس دیکھیں گے آپ مجرموں کو کہ وہ ڈرنے والے ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہےاور کہیں گے، ہائے ہماری کم بختی! کیاہے اس نامۂ اعمال کو نہیں چھوڑ رہا کسی چھوٹے (عمل) کو اور نہ بڑے کو مگر اس نے شمار کر رکھا ہے اس کو،اور وہ پائیں گے ، جو عمل کیے تھے انھوں نے، حاضر۔ نہیں ظلم کرے گاآپ کا رب کسی پر بھی (49)
[48,47] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کا حال بیان کرتا ہے کہ اس میں پریشان کن ہولناکیاں اور تڑپا دینے والی سختیاں ہو گی، چنانچہ فرمایا:﴿وَيَوۡمَ نُسَيِّرُ الۡجِبَالَ ﴾ ’’اور جس دن ہم چلائیں گے پہاڑ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ان کی جگہ سے ہٹا کر ان کو ریت کے ٹیلے بنا دے گا، پھر ان کو دھنکی ہوئی اون کی مانند کر دے گا پھر وہ مضمحل ہو کر غبار کی مانند اڑ جائیں گے اور زمین ایک ہموار میدان نظر آئے گی جس میں کوئی نشیب و فراز نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اس زمین پر تمام مخلوق کو اکٹھا کرے گا کسی کو باقی نہیں چھوڑے گا۔ وہ اگلوں پچھلوں سب کو صحراؤں کے پیٹوں سے اور سمندروں کی گہرائیوں سے نکال کر ایک جگہ اکٹھا کرے گا۔ جب ان کے اجزا بکھر چکے ہوں گے اور وہ پارہ پارہ ہو چکے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو نئی زندگی عطا کرے گا۔ پس لوگ صفیں باندھے اس کے سامنے پیش ہوں گے تاکہ وہ ان سے جوابدہی کرے، ان کے اعمال دیکھ کر ان کے بارے میں عدل پر مبنی فیصلہ کرے گا جس میں کوئی ظلم وجور نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا:﴿لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’تم اسی طرح ہمارے سامنے تن تنہا حاضر ہوگئے ہو، جس طرح ہم نے تمھیں پہلی مرتبہ (اکیلا اکیلا) پیدا کیا تھا۔‘‘ یعنی لوگ مال و متاع، اہل و عیال اور قبیلے کنبے کے بغیر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے۔ ان کے ساتھ صرف وہی اعمال ہوں گے جو وہ کرتے رہے تھے اور نیکی اور بدی ساتھ ہو گی جس کا اکتساب کرتے رہے ہوں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَؔكۡتُمۡ مَّا خَوَّلۡنٰكُمۡ وَرَآءَؔ ظُهُوۡرِكُمۡ١ۚ وَمَا نَرٰى مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ اَنَّهُمۡ فِيۡكُمۡ شُرَؔكٰٓؤُا ﴾(الانعام:6؍94) ’’تم اسی طرح ہمارے سامنے تن تنہا حاضر ہو گئے ہو جس طرح ہم نے تمھیں پہلی مرتبہ (اکیلا اکیلا) پیدا کیا تھا اورجو کچھ ہم نے تمھیں عطا کیا تھا تم اسے اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو اور ہمیں تمھارے ساتھ تمھارے وہ سفارشی بھی نظر نہیں آتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ وہ اللہ کے شریک ہیں ۔‘‘ اس مقام پر اللہ تعالیٰ منکرین آخرت سے مخاطب ہو کر فرمائے گا جبکہ وہ اس کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کر لیں گے: ﴿ بَلۡ زَعَمۡتُمۡ اَلَّنۡ نَّجۡعَلَ لَكُمۡ مَّوۡعِدًا ﴾ ’’لیکن تم نے یہ خیال کررکھا تھا کہ ہم نے تمھارے لیے کوئی وقت مقرر ہی نہیں کیا۔‘‘ یعنی تم اعمال کی سزا و جزا کا انکار کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے تمھارے ساتھ اس جزا و سزا کا وعدہ کر رکھا تھا، لو! اس کا وعدہ آ گیا تم نے اسے دیکھ لیا اور اس کا مزا چکھ لیا۔
[49] اس وقت وہ ا عمال نامے حاضر كيے جائیں گے جن کو کراماً کاتبین لکھا کرتے تھے۔ ان کو دیکھ کر دل اڑنے لگیں گے ان کے وقوع سے غم اور مشقتیں بڑھ جائیں گی۔ جن کو دیکھ کر ٹھوس اور سخت چٹانیں بھی پگھل جائیں گی اور مجرم ڈریں گے۔ جب وہ دیکھیں گے کہ ان اعمال ناموں میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں اور ان کے تمام اقوال و افعال ان اعمال ناموں میں محفوظ ہیں تو بول اٹھیں گے: ﴿يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا ﴾ ’’ہائے افسوس! کیسی ہے یہ کتاب، نہیں چھوڑا اس نے چھوٹی بات کو نہ بڑی بات کو مگر اس نے ان کو شمار کر لیا۔‘‘ یعنی کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ ایسا نہیں جو اس میں لکھا ہوا اور محفوظ نہ ہو اور کوئی کھلا یا چھپا، رات کے وقت کیا ہوا یا دن کے وقت کیا ہوا گناہ ایسا نہیں جو بھولے سے لکھنے سے رہ گیا ہو۔ ﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا﴾ ’’اور پائیں گے جو کچھ انھوں نے کیا، سامنے۔‘‘ وہ اس کا انکار نہیں کر سکیں گے ﴿ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾ ’’اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس وقت ان کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی، وہ ان اعمال کا اقرار کریں گے، ان اعمال کی بنا پر رسوا ہوں گے اور ان پر عذاب واجب ہو جائے گا۔ ﴿ ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ لَيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ﴾(آل عمران:3؍182، الانفال:8؍51) ’’یہ سب کچھ ان اعمال کی جزا ہے جو تم نے آگے بھیجے تھے اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ۔‘‘ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و عدل سے باہر نہیں نکلیں گے۔
18:49وَوُضِعَ ٱلۡكِتَٰبُ فَتَرَى ٱلۡمُجۡرِمِينَ مُشۡفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هَٰذَا ٱلۡكِتَٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةٗ وَلَا كَبِيرَةً إِلَّآ أَحۡصَىٰهَاۚ وَوَجَدُواْ مَا عَمِلُواْ حَاضِرٗاۗ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ أَحَدٗا
اور جس دن چلائیں گے ہم پہاڑوں کو اور آپ دیکھیں گے زمین کو صاف کھلی ہوئی اور اکٹھا کریں گے ہم ان کو، پس نہ چھوڑیں گے ہم ان میں سے کسی کو (47) اور پیش کیے جائیں گے وہ آپ کے رب پر صفیں بنائے ہوئے (کہا جائے گا) البتہ تحقیق آئے ہو تم ہمارے پاس جیسے پیدا کیا ہم نے تمھیں پہلی باربلکہ تم تو خیال کرتے تھے کہ ہرگز نہیں مقرر کریں گے ہم تمھارے لیے وعدہ گاہ (48)اوررکھے جائیں گے نامۂ اعمال، پس دیکھیں گے آپ مجرموں کو کہ وہ ڈرنے والے ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہےاور کہیں گے، ہائے ہماری کم بختی! کیاہے اس نامۂ اعمال کو نہیں چھوڑ رہا کسی چھوٹے (عمل) کو اور نہ بڑے کو مگر اس نے شمار کر رکھا ہے اس کو،اور وہ پائیں گے ، جو عمل کیے تھے انھوں نے، حاضر۔ نہیں ظلم کرے گاآپ کا رب کسی پر بھی (49)
[48,47] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کا حال بیان کرتا ہے کہ اس میں پریشان کن ہولناکیاں اور تڑپا دینے والی سختیاں ہو گی، چنانچہ فرمایا:﴿وَيَوۡمَ نُسَيِّرُ الۡجِبَالَ ﴾ ’’اور جس دن ہم چلائیں گے پہاڑ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ان کی جگہ سے ہٹا کر ان کو ریت کے ٹیلے بنا دے گا، پھر ان کو دھنکی ہوئی اون کی مانند کر دے گا پھر وہ مضمحل ہو کر غبار کی مانند اڑ جائیں گے اور زمین ایک ہموار میدان نظر آئے گی جس میں کوئی نشیب و فراز نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اس زمین پر تمام مخلوق کو اکٹھا کرے گا کسی کو باقی نہیں چھوڑے گا۔ وہ اگلوں پچھلوں سب کو صحراؤں کے پیٹوں سے اور سمندروں کی گہرائیوں سے نکال کر ایک جگہ اکٹھا کرے گا۔ جب ان کے اجزا بکھر چکے ہوں گے اور وہ پارہ پارہ ہو چکے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو نئی زندگی عطا کرے گا۔ پس لوگ صفیں باندھے اس کے سامنے پیش ہوں گے تاکہ وہ ان سے جوابدہی کرے، ان کے اعمال دیکھ کر ان کے بارے میں عدل پر مبنی فیصلہ کرے گا جس میں کوئی ظلم وجور نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا:﴿لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’تم اسی طرح ہمارے سامنے تن تنہا حاضر ہوگئے ہو، جس طرح ہم نے تمھیں پہلی مرتبہ (اکیلا اکیلا) پیدا کیا تھا۔‘‘ یعنی لوگ مال و متاع، اہل و عیال اور قبیلے کنبے کے بغیر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے۔ ان کے ساتھ صرف وہی اعمال ہوں گے جو وہ کرتے رہے تھے اور نیکی اور بدی ساتھ ہو گی جس کا اکتساب کرتے رہے ہوں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَؔكۡتُمۡ مَّا خَوَّلۡنٰكُمۡ وَرَآءَؔ ظُهُوۡرِكُمۡ١ۚ وَمَا نَرٰى مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ اَنَّهُمۡ فِيۡكُمۡ شُرَؔكٰٓؤُا ﴾(الانعام:6؍94) ’’تم اسی طرح ہمارے سامنے تن تنہا حاضر ہو گئے ہو جس طرح ہم نے تمھیں پہلی مرتبہ (اکیلا اکیلا) پیدا کیا تھا اورجو کچھ ہم نے تمھیں عطا کیا تھا تم اسے اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو اور ہمیں تمھارے ساتھ تمھارے وہ سفارشی بھی نظر نہیں آتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ وہ اللہ کے شریک ہیں ۔‘‘ اس مقام پر اللہ تعالیٰ منکرین آخرت سے مخاطب ہو کر فرمائے گا جبکہ وہ اس کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کر لیں گے: ﴿ بَلۡ زَعَمۡتُمۡ اَلَّنۡ نَّجۡعَلَ لَكُمۡ مَّوۡعِدًا ﴾ ’’لیکن تم نے یہ خیال کررکھا تھا کہ ہم نے تمھارے لیے کوئی وقت مقرر ہی نہیں کیا۔‘‘ یعنی تم اعمال کی سزا و جزا کا انکار کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے تمھارے ساتھ اس جزا و سزا کا وعدہ کر رکھا تھا، لو! اس کا وعدہ آ گیا تم نے اسے دیکھ لیا اور اس کا مزا چکھ لیا۔
[49] اس وقت وہ ا عمال نامے حاضر كيے جائیں گے جن کو کراماً کاتبین لکھا کرتے تھے۔ ان کو دیکھ کر دل اڑنے لگیں گے ان کے وقوع سے غم اور مشقتیں بڑھ جائیں گی۔ جن کو دیکھ کر ٹھوس اور سخت چٹانیں بھی پگھل جائیں گی اور مجرم ڈریں گے۔ جب وہ دیکھیں گے کہ ان اعمال ناموں میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں اور ان کے تمام اقوال و افعال ان اعمال ناموں میں محفوظ ہیں تو بول اٹھیں گے: ﴿يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا ﴾ ’’ہائے افسوس! کیسی ہے یہ کتاب، نہیں چھوڑا اس نے چھوٹی بات کو نہ بڑی بات کو مگر اس نے ان کو شمار کر لیا۔‘‘ یعنی کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ ایسا نہیں جو اس میں لکھا ہوا اور محفوظ نہ ہو اور کوئی کھلا یا چھپا، رات کے وقت کیا ہوا یا دن کے وقت کیا ہوا گناہ ایسا نہیں جو بھولے سے لکھنے سے رہ گیا ہو۔ ﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا﴾ ’’اور پائیں گے جو کچھ انھوں نے کیا، سامنے۔‘‘ وہ اس کا انکار نہیں کر سکیں گے ﴿ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾ ’’اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اس وقت ان کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی، وہ ان اعمال کا اقرار کریں گے، ان اعمال کی بنا پر رسوا ہوں گے اور ان پر عذاب واجب ہو جائے گا۔ ﴿ ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ لَيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ﴾(آل عمران:3؍182، الانفال:8؍51) ’’یہ سب کچھ ان اعمال کی جزا ہے جو تم نے آگے بھیجے تھے اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ۔‘‘ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و عدل سے باہر نہیں نکلیں گے۔
18:50وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ كَانَ مِنَ ٱلۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهِۦٓۗ أَفَتَتَّخِذُونَهُۥ وَذُرِّيَّتَهُۥٓ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِي وَهُمۡ لَكُمۡ عَدُوُّۢۚ بِئۡسَ لِلظَّـٰلِمِينَ بَدَلٗا
اور (یاد کرو) جب کہا ہم نے فرشتوں سے، سجدہ کرو تم آدم کو تو سجدہ کیا انھوں نے مگر ابلیس نے (نہ کیا)، تھا وہ جنوں میں سے، پس نافرمانی کی اس نے حکم کی، اپنے رب کے، کیا پھر (بھی) بناتے ہو تم اسے اور اس کی اولاد کودوست میرے سوا؟ حالانکہ وہ تمھارے دشمن ہیں ، برا ہے ظالموں کے لیے ازروئے بدل کے (50)
[50] اللہ تبارک و تعالیٰ آدمu اوران کی اولاد کے ساتھ ابلیس کی عداوت کا ذکر کرتا ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آدمu کی تعظیم و تکریم اور اپنے حکم کی تعمیل کے لیے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں ۔ پس انھوں نے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ١ؕ كَانَ مِنَ الۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهٖ﴾ ’’سوائے ابلیس کے، وہ جنوں میں سے تھا، پس اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی‘‘ اور کہنے لگا ﴿ ءَاَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِيۡنًا﴾(بنی اسرائیل:17؍61) ’’کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پید کیا۔‘‘ اور کہا: ﴿ اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ ﴾(الاعراف:7؍12) ’’میں اس سے بہتر ہوں ۔‘‘ اس سے واضح ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور تمھارے جدامجد سے عداوت رکھتا ہے، پھر کیسے تم اس کو اور اس کی ذریت کو دوست بناتے ہو؟ ﴿ بِئۡسَ لِلظّٰلِمِيۡنَ بَدَلًا ﴾ ’’برا ہے ظالموں کے لیے بدلہ‘‘ یعنی کتنی بری ہے شیطان کی دوستی اور سرپرستی جو انھوں نے اپنے لیے چنی ہے، جو انھیں صرف فحش اور برے کاموں کا حکم دیتا ہے اور رب رحمن کی دوستی اور سرپرستی چھوڑ دی جس کی دوستی میں ہر قسم کی سعادت، فلاح اور سرور ہے۔ اس آیت کریمہ میں پرزور ترغیب ہے کہ شیطان کو دشمن سمجھا جائے اور وہ سبب بھی بیان کر دیا گیا جو اس کو دشمن قرار دینے کا موجب ہے، نیز یہ بھی واضح کر دیا کہ صرف ظالم شخص ہی اس کو اپنا دوست قرار دیتا ہے اور اس شخص کے ظلم سے بڑھ کر کون سا ظلم ہو سکتا ہے جو اپنے حقیقی دشمن کو دوست سمجھے اور اپنے حقیقی اور قابل تعریف دوست کو چھوڑ دے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا١ۙ يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوۡرِ١ؕ۬ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَوۡلِيٰٓؔــُٔـهُمُ۠ الطَّاغُوۡتُ١ۙ يُخۡرِجُوۡنَهُمۡ۠ مِّنَ النُّوۡرِ اِلَى الظُّلُمٰؔتِ﴾(البقرۃ:2؍257) ’’اللہ ان لوگوں کا دوست اور مددگار ہے جو ایمان لائے، وہ ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے اور وہ لوگ جو کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے والی اور مددگار طاغوت ہیں جو ان کو روشنی سے نکال کر تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اِنَّهُمُ اتَّؔخَذُوا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾(الاعراف:7؍30) ’’انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیاطین کو دوست اور سرپرست بنا لیا ہے۔‘‘
18:51۞مَّآ أَشۡهَدتُّهُمۡ خَلۡقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَا خَلۡقَ أَنفُسِهِمۡ وَمَا كُنتُ مُتَّخِذَ ٱلۡمُضِلِّينَ عَضُدٗا
نہیں گواہ بنایا تھا میں نے ان کو پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی اور نہ پیدائش میں ان کی اپنی ہی اور نہیں میں بنانے والا گمراہ کرنے والوں کو بازو (مددگار)(51) اور جس دن کہے گا اللہ، بلاؤ تم میرے ان شریکوں کو جن کا دعویٰ کرتے تھے تم تو وہ بلائیں گے انھیں ، سو نہیں جواب دیں گے وہ ان کواور بنا دیں گے ہم ان کے درمیان ہلاکت گاہ (52)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میں نے شیاطین (اور ان گمراہی پھیلانے والوں ) کو گواہ نہیں بنایا‘‘ ﴿ خَلۡقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلَا خَلۡقَ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’آسمانوں ، زمین اور ان کی اپنی تخلیق پر۔‘‘ یعنی میں نے ان کی پیدائش پر ان کو حاضر کیا نہ ان سے مشورہ لیا، پھر وہ ان میں سے کسی چیز کے خالق کیسے کہلا سکتے ہیں ؟ بلکہ اللہ تعالیٰ تخلیق و تدبیر اور حکمت و تقدیر میں یکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی تمام اشیاء کا خالق ہے اور وہی اپنی حکمت سے ان میں تصرف کرتا ہے پس کیسے شیاطین کو اللہ کے شریک ٹھہرایا جاتا ہے ان کو والی و مددگار بنایا جاتا ہے اور ان کی اسی طرح اطاعت کی جاتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی کی جاتی ہے، حالانکہ انھوں نے کچھ پیدا کیا ہے نہ کائنات کی پیدائش پر وہ حاضر تھے اور نہ کائنات کی پیدائش پر اللہ تعالیٰ کے معاون و مددگار تھے؟ اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَا كُنۡتُ مُتَّؔخِذَ الۡمُضِلِّيۡنَ عَضُدًا﴾ ’’اور نہیں ہوں میں کہ گمراہ کرنے والوں کو مدد گار بناؤں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے کسی کام میں معاونین کا ہونا، اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں اور نہ یہ مناسب ہے کہ وہ تدبیر کائنات کا کچھ حصہ ان کے سپرد کر دے کیونکہ وہ تو مخلوق کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اپنے رب کی عداوت پر کمربستہ رہتے ہیں ، اس لیے وہ اسی لائق ہیں کہ وہ ان کو دور رکھے اوراپنے قریب نہ آنے دے۔
[52] جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان کیا جنھوں نے دنیا میں اس کے ساتھ شرک کیا تھا اور ان کے شرک کا پوری طرح ابطال کیا اور مشرک پر جہالت اور سفاہت کا حکم لگایا تو قیامت کے روز ان کے خود ساختہ شریکوں کی معیت میں ان کا جو حال ہوگا وہ بھی بیان کر دیا، چنانچہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا:﴿ نَادُوۡا شُرَؔكَآءِيَ ﴾ ’’پکارو میرے شریکوں کو۔‘‘ یعنی تمھارے اپنے زعم باطل کے مطابق میرے جو شریک ہیں ان سب کو بلا لو۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمان میں کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں یعنی اب ان خود ساختہ شریکوں کو بلا لو تاکہ تمھیں کوئی فائدہ دے سکیں اور تمھیں ان سختیوں سے نجات دلا سکیں ۔ ﴿ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾ ’’پس یہ ان کو پکاریں گے مگر وہ ان کو جواب نہ دیں گے۔‘‘ اس لیے کہ اس روز اقتدار اور فیصلے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہو گا کسی ہستی کے پاس ذرہ بھر بھی اختیار نہیں ہو گا کہ وہ اپنے آپ کو یا کسی اور کو کوئی نفع پہنچا سکے: ﴿ وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’اور کر دیں گے ہم ان کے درمیان‘‘ یعنی مشرکین اور ان کے شریکوں کے درمیان ﴿ مَّوۡبِقًا ﴾ ’’ہلاکت کا سامان‘‘ یعنی ہلاکت کا گڑھا ان کے درمیان حائل کر دیں گے جو ان کو جدا کر دے گا اور ان کو ایک دوسرے سے دور کر دے گا۔ اس وقت ان کی ایک دوسرے کے ساتھ عداوت ظاہر ہو جائے گی، ان کے خود ساختہ شرکاء ان کا انکار کریں گے اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءًؔ وَّكَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾(الاحقاف:46؍6) ’’جب تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔‘‘
18:52وَيَوۡمَ يَقُولُ نَادُواْ شُرَكَآءِيَ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَهُمۡ وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُم مَّوۡبِقٗا
نہیں گواہ بنایا تھا میں نے ان کو پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی اور نہ پیدائش میں ان کی اپنی ہی اور نہیں میں بنانے والا گمراہ کرنے والوں کو بازو (مددگار)(51) اور جس دن کہے گا اللہ، بلاؤ تم میرے ان شریکوں کو جن کا دعویٰ کرتے تھے تم تو وہ بلائیں گے انھیں ، سو نہیں جواب دیں گے وہ ان کواور بنا دیں گے ہم ان کے درمیان ہلاکت گاہ (52)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میں نے شیاطین (اور ان گمراہی پھیلانے والوں ) کو گواہ نہیں بنایا‘‘ ﴿ خَلۡقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلَا خَلۡقَ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’آسمانوں ، زمین اور ان کی اپنی تخلیق پر۔‘‘ یعنی میں نے ان کی پیدائش پر ان کو حاضر کیا نہ ان سے مشورہ لیا، پھر وہ ان میں سے کسی چیز کے خالق کیسے کہلا سکتے ہیں ؟ بلکہ اللہ تعالیٰ تخلیق و تدبیر اور حکمت و تقدیر میں یکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی تمام اشیاء کا خالق ہے اور وہی اپنی حکمت سے ان میں تصرف کرتا ہے پس کیسے شیاطین کو اللہ کے شریک ٹھہرایا جاتا ہے ان کو والی و مددگار بنایا جاتا ہے اور ان کی اسی طرح اطاعت کی جاتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی کی جاتی ہے، حالانکہ انھوں نے کچھ پیدا کیا ہے نہ کائنات کی پیدائش پر وہ حاضر تھے اور نہ کائنات کی پیدائش پر اللہ تعالیٰ کے معاون و مددگار تھے؟ اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَا كُنۡتُ مُتَّؔخِذَ الۡمُضِلِّيۡنَ عَضُدًا﴾ ’’اور نہیں ہوں میں کہ گمراہ کرنے والوں کو مدد گار بناؤں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے کسی کام میں معاونین کا ہونا، اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں اور نہ یہ مناسب ہے کہ وہ تدبیر کائنات کا کچھ حصہ ان کے سپرد کر دے کیونکہ وہ تو مخلوق کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اپنے رب کی عداوت پر کمربستہ رہتے ہیں ، اس لیے وہ اسی لائق ہیں کہ وہ ان کو دور رکھے اوراپنے قریب نہ آنے دے۔
[52] جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان کیا جنھوں نے دنیا میں اس کے ساتھ شرک کیا تھا اور ان کے شرک کا پوری طرح ابطال کیا اور مشرک پر جہالت اور سفاہت کا حکم لگایا تو قیامت کے روز ان کے خود ساختہ شریکوں کی معیت میں ان کا جو حال ہوگا وہ بھی بیان کر دیا، چنانچہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا:﴿ نَادُوۡا شُرَؔكَآءِيَ ﴾ ’’پکارو میرے شریکوں کو۔‘‘ یعنی تمھارے اپنے زعم باطل کے مطابق میرے جو شریک ہیں ان سب کو بلا لو۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمان میں کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں یعنی اب ان خود ساختہ شریکوں کو بلا لو تاکہ تمھیں کوئی فائدہ دے سکیں اور تمھیں ان سختیوں سے نجات دلا سکیں ۔ ﴿ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾ ’’پس یہ ان کو پکاریں گے مگر وہ ان کو جواب نہ دیں گے۔‘‘ اس لیے کہ اس روز اقتدار اور فیصلے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہو گا کسی ہستی کے پاس ذرہ بھر بھی اختیار نہیں ہو گا کہ وہ اپنے آپ کو یا کسی اور کو کوئی نفع پہنچا سکے: ﴿ وَجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’اور کر دیں گے ہم ان کے درمیان‘‘ یعنی مشرکین اور ان کے شریکوں کے درمیان ﴿ مَّوۡبِقًا ﴾ ’’ہلاکت کا سامان‘‘ یعنی ہلاکت کا گڑھا ان کے درمیان حائل کر دیں گے جو ان کو جدا کر دے گا اور ان کو ایک دوسرے سے دور کر دے گا۔ اس وقت ان کی ایک دوسرے کے ساتھ عداوت ظاہر ہو جائے گی، ان کے خود ساختہ شرکاء ان کا انکار کریں گے اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءًؔ وَّكَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾(الاحقاف:46؍6) ’’جب تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔‘‘
18:53وَرَءَا ٱلۡمُجۡرِمُونَ ٱلنَّارَ فَظَنُّوٓاْ أَنَّهُم مُّوَاقِعُوهَا وَلَمۡ يَجِدُواْ عَنۡهَا مَصۡرِفٗا
اور دیکھیں گے مجرم لوگ آگ کو تو گمان کریں گے وہ کہ بے شک وہ گرنے والے ہیں اس میں اور نہیں پائیں گے وہ اس سے ، پھرنے (بچنے) کی جگہ (53)
[53] جب قیامت کے روز حساب کتاب ختم ہو جائے گا اور مخلوق میں سے ہر گروہ اپنے اعمال کی بنا پر علیحدہ ہو جائے گا اور مجرموں کے بارے میں عذاب کا وعدہ پورا ہو جائے گا۔ پس وہ جہنم میں داخل ہونے سے قبل جہنم کو دیکھیں گے اور گھبرا جائیں گے اور یہ یقین کر کے کہ ان کو اس میں پھینکا جائے گا ان کا قلق بڑھ جائے گا۔ آیت کریمہ میں مذکور (ظن) کے بارے میں اہل تفسیر کہتے ہیں کہ یہاں (ظن) سے مراد یقین ہے۔ پس انھیں یقین ہو جائے گا کہ وہ ضرور جہنم میں داخل ہوں گے۔ ﴿ وَلَمۡ يَجِدُوۡا عَنۡهَا مَصۡرِفًا ﴾ ’’اور نہیں پائیں گے وہ اس سے پھر جانے کی جگہ‘‘ یعنی کوئی جائے پناہ نہیں جہاں وہ پناہ لے سکیں اور اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی ان کی سفارش نہیں کر سکے گا۔ اس آیت کریمہ میں تخویف و ترہیب ہے جس سے دل کانپ اٹھتے ہیں ۔
18:54وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٖۚ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ أَكۡثَرَ شَيۡءٖ جَدَلٗا
اور البتہ تحقیق پھیر پھیر کر بیان کی ہے ہم نے، اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثال اور ہے انسان تمام چیزوں سے زیادہ جھگڑالو (54)
[54] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید کی عظمت وجلالت اور اس کے عموم کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں ہر قسم کی مثال بیان کی ہے یعنی ہر وہ راستہ واضح کر دیا ہے جو علوم نافعہ اور سعادت ابدیہ تک پہنچاتا ہے اور ہر اس طریق سے آگاہ فرما دیا ہے جو انسان کو شر اور ہلاکت سے بچاتا ہے۔ پس اس قرآن کریم میں حلال و حرام، جزائے اعمال، ترغیب و ترہیب کی مثالیں ہیں ، سچی خبریں ہیں جو اعتقاد، طمانینت اور روشنی کے اعتبار سے دلوں کے لیے فائدہ مند ہیں ۔ یہ چیز واجب ٹھہراتی ہے کہ قرآن کریم کو اطاعت و انقیاد اور کسی بھی امر میں عدم منازعت کے ساتھ تسلیم کیا جائے مگر اس کے باوجود اکثر لوگ، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی، باطل دلائل کے ساتھ حق کے بارے میں جھگڑتے ہیں ۔ ﴿ لِيُدۡحِضُوۡا بِهِ الۡحَقَّ ﴾(الکہف:18؍56) ’’تاکہ حق کو نیچا دکھائیں ۔‘‘ بنابریں فرمایا: ﴿ وَؔكَانَ الۡاِنۡسَانُ اَكۡثَرَ شَيۡءٍ جَدَلًا﴾ ’’اور ہے انسان سب چیز سے زیادہ جھگڑالو‘‘ یعنی بہت جھگڑالو اور بحثیں کرنے والا ہے، حالانکہ یہ اس کے لائق ہے نہ یہ قرین انصاف ہے اور اس کا اللہ پر ایمان نہ لانے کا سبب یہ نہیں کہ اس کو بیان کرنے اور اس کی حجت و برہان کو واضح کرنے میں کوئی کمی رہ گئی ہے بلکہ ظلم و عناد، ان کے اس رویے کا موجب ہے۔ ورنہ اگر ان پر عذاب اور وہ سختیاں اور مصیبتیں آ جاتیں جو پہلے لوگوں پر آئی تھیں تو ان کا یہ حال نہ ہوتا، اس لیے فرمایا:
18:55وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن يُؤۡمِنُوٓاْ إِذۡ جَآءَهُمُ ٱلۡهُدَىٰ وَيَسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّهُمۡ إِلَّآ أَن تَأۡتِيَهُمۡ سُنَّةُ ٱلۡأَوَّلِينَ أَوۡ يَأۡتِيَهُمُ ٱلۡعَذَابُ قُبُلٗا
اور نہیں منع کیا لوگوں کو (اس سے) کہ ایمان لائیں وہ، جب آگئی ان کے پاس ہدایت اور مغفرت طلب کریں اپنے رب سے مگر (اس بات نے) کہ (پیش) آئے ان کو معاملہ پہلے لوگوں کا (سا) یا آئے ان کے پاس عذاب مختلف قسم کا (55)
[55] یعنی لوگوں کو ایمان لانے سے کس چیز نے منع کیا ہے حالانکہ ہدایت… جس سے راہ راست اور گمراہی، حق اور باطل کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے… ان تک پہنچ چکی ہے اور ان پر حجت قائم ہو چکی ہے… ان کے ایمان نہ لانے کی یہ وجہ بھی نہیں کہ حق واضح نہیں ہوا بلکہ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی ہے۔ پس اب کوئی چیز باقی نہیں رہی سوائے اس کے کہ سنت الٰہی کے مطابق وہی عذاب آ جائے جو پہلی قوموں پر آیا تھا؟ جب وہ ایمان نہ لاتے تو ان پر عذاب بھیج دیا جاتا یا عذاب ان کے سامنے آ جاتا اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیتے… مطلب یہ ہے کہ پس انھیں ڈرنا چاہیے اور اپنے کفر سے توبہ کرلینی چاہیے قبل اس کے کہ ان پر عذاب ٹوٹ پڑے جسے روکا نہیں جا سکتا۔
18:56وَمَا نُرۡسِلُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَۚ وَيُجَٰدِلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِٱلۡبَٰطِلِ لِيُدۡحِضُواْ بِهِ ٱلۡحَقَّۖ وَٱتَّخَذُوٓاْ ءَايَٰتِي وَمَآ أُنذِرُواْ هُزُوٗا
اور نہیں بھیجتے ہم رسولوں کو مگر خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے (بنا کر ہی) اور جھگڑا کرتے ہیں ، وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ باطل کےتاکہ باطل کردیں ساتھ اس کے حق کواور بنا لیا انھوں نے میری آیتوں کو اور اس چیز کو ڈرائے گئے تھے وہ اس سے، ٹھٹھا مذاق (56)
[56] یعنی ہم رسولوں کو عبث اور بے فائدہ نہیں بھیجتے نہ ان کو اس لیے مبعوث کرتے ہیں کہ لوگ ان کو معبود بنا لیں اور نہ اس لیے کہ وہ خود معبود ہونے کا دعویٰ کریں بلکہ ہم نے انھیں صرف اس لیے مبعوث کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کو ہر بھلائی کی طرف بلائیں اور ہر برائی سے روکیں ، اطاعت کرنے پر ان کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنائیں اور نافرمانی کرنے پر دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرائیں ۔ پس رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر حجت قائم ہو گئی۔ بایں ہمہ ظالم کفار باطل ہتھکنڈوں کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لیے جھگڑتے ہیں ۔ پس جہاں تک ممکن ہوا کفار حق کے ابطال اور اس کے نیچا دکھانے کے لیے باطل کی مدد میں کوشاں رہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی آیات کا تمسخر اڑایا اور ان کے پاس جو کچھ علم تھا اسی پر اتراتے رہے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نور کو مکمل كيے بغیر نہیں رہتا اگرچہ کفار کو یہ بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو، وہ حق کو باطل پر غالب کرتا ہے۔ ﴿ بَلۡ نَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ عَلَى الۡبَاطِلِ فَيَدۡمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ ﴾(الانبیاء:21؍18) ’’بلکہ ہم تو باطل پر حق کے ذریعے سے چوٹ لگاتے ہیں جو اس کو نیست و نابود کر دیتی ہے اور باطل دیکھتے ہی دیکھتے مٹ جاتا ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی رحمت ہے کہ اس کا باطل ہتھکنڈوں کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑنے والے باطل پسندوں کو مقرر کرنا، حق کے ظہور اور اس کے شواہد و دلائل کی توضیح، باطل اور اس کے فساد کے ظاہر ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ کیونکہ:(بضد ھا تتبین الاشیاء) ’’اشیاء اپنی ضد ہی سے واضح ہوتی ہیں ۔‘‘
18:57وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ فَأَعۡرَضَ عَنۡهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتۡ يَدَاهُۚ إِنَّا جَعَلۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ أَكِنَّةً أَن يَفۡقَهُوهُ وَفِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٗاۖ وَإِن تَدۡعُهُمۡ إِلَى ٱلۡهُدَىٰ فَلَن يَهۡتَدُوٓاْ إِذًا أَبَدٗا
اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے کہ وہ نصیحت کیا گیا ساتھ آیات کے اپنے رب کی تو اعراض کیا اس نے ان سےاور بھول گیا وہ، جو کچھ کہ آگے بھیجا تھااس کے دونوں ہاتھوں نے، بلاشبہ ہم نے کردیے اوپر ان کے دلوں کے پردے (اس سے) کہ وہ سمجھیں اس (قرآن) کواور ان کے کانوں میں ڈاٹ اور اگر آپ بلائیں ان کو ہدایت کی طرف تو ہرگز نہ ہدایت پائیں گے وہ اس وقت کبھی بھی (57) اور آپ کا رب تو بہت بخشنے والا، رحمت والا ہے، اگر وہ پکڑے ان کو بسبب ان کے جو (عمل) کمائے انھوں نے تو یقینا جلدی لے آئے ان پر عذاب بلکہ ان کے لیے ایک مقررہ وقت ہے، ہرگز نہیں پائیں گے وہ سوائے اس کے کوئی جائے پناہ (58) اور یہ بستیاں ، ہلاک کیا ہم نے ان (کے باشندوں ) کو، جب انھوں نے ظلم کیااور کر دیا ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک مقرر وقت (59)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کر دیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو… اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کرتوتوں سے باز نہ آئے اور ان گناہوں کو فراموش نہ کرے جن کا اس نے ارتکاب کیا ہے اور علام الغیوب ہستی پر نظر نہ رکھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی… یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ پہلا شخص اس سے زیادہ بڑا ظالم ہے کیونکہ علم اور بصیرت رکھتے ہوئے گناہ کرنے والا لاعلمی سے گناہ کرنے والے سے زیادہ بڑا گناہ گار ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے، آیات الٰہی سے اس کے اعراض، اپنے گناہوں کو بھول جانے اور حالت شر پر راضی رہنے کے سبب سے اس کو سزا دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے علم ہے کہ ہدایت کے دروازے اس پر بند ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے قلب پر پردے ڈال دیے ہیں یعنی مضبوط پردوں نے اس کو آیات الٰہی کے تفقہ سے محروم کر رکھا ہے اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سنتا ہے مگر ان میں ایسا تفقہ حاصل کرنا جو قلب کی گہرائی میں اتر جائے اس کے بس کی بات نہیں ۔ ﴿ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾ ’’اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے‘‘ یعنی ان کے کانوں میں گرانی ہے جو ان کو آیات الٰہی کے فائدہ مند سماع سے محروم کر دیتی ہے اور اگر وہ اسی حالت میں رہیں تو ان کی ہدایت کا کوئی راستہ نہیں ۔ ﴿ وَاِنۡ تَدۡعُهُمۡ اِلَى الۡهُدٰؔى فَلَنۡ يَّهۡتَدُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ﴾ ’’اگر آپ ان کو ہدایت کی طرف بلائیں تو ہرگز ہدایت پر نہ آئیں اس وقت کبھی‘‘ کیونکہ داعئ ہدایت کی دعوت پر اسی شخص کے لبیک کہنے کی امید ہوتی ہے جو علم نہیں رکھتا۔ رہے وہ لوگ جنھوں نے آیات الٰہی کو خوب دیکھا، بھالا پھر اندھے پن کا مظاہرہ کیا، انھوں نے راہ حق کو پہچان لیا مگر اسے چھوڑ دیا اور گمراہی کی راہ پر گامزن ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کی یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر تالے ڈال دیے اور ان پر مہر لگا دی… تو ان لوگوں کی ہدایت کا کوئی راستہ اور کوئی حیلہ نہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے تخویف و ترہیب ہے جو حق کو پہچان لینے کے بعد اسے ترک کر دے اور یہ کہ اس کے اور حق کے درمیان رکاوٹ کھڑی کردی جائے اور اس کے بعد اس کے لیے کوئی چیز ایسی نہ رہے جو اس کے حق میں اس سے بڑھ کر ڈرانے والی اور اس غلط روی سے اسے روکنے والی ہو۔
[58] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی بے پایاں مغفرت اور رحمت کا ذکر کیا ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو کوئی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنی رحمت سے ڈھانپ لیتا ہے اور اسے اپنے احسان میں شامل کر لیتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ان کے گناہوں پر گرفت کرے تو ان پر فوراً عذاب بھیج دے مگر وہ حلم والا ہے وہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا وہ اپنے بندوں کو مہلت دیتا ہے مہمل نہیں چھوڑتا… گناہوں کے آثار کا واقع ہونا ضروری امر ہے اگرچہ اس میں طویل مدت تک تاخیر ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿بَلۡ لَّهُمۡ مَّوۡعِدٌ لَّنۡ يَّجِدُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖ مَوۡىِٕلًا﴾ ’’بلکہ ان کے لیے ایک وعدہ ہے، ہرگز نہیں پائیں گے اس سے ورے سرک جانے کو جگہ‘‘ یعنی ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے جس میں انھیں ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی۔ یہ جزا انھیں ضرور ملے گی اور اس جزا و سزا سے بچنے کی ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں ۔ اس سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ ہے نہ کوئی جائے فرار…
[59] اولین و آخرین میں یہی سنت الٰہی ہے کہ وہ عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ وہ انھیں توبہ اور انابت کی طرف بلاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر کے رجوع کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے اور ان کو اپنی رحمت کے سائے میں لے کر ان سے عذاب کو ہٹا دیتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے ظلم اور عناد پر جمے رہیں اور وقت مقررہ آ جائے تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل کر دیتا ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَتِلۡكَ الۡقُرٰۤى اَهۡلَكۡنٰهُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور یہ بستیاں ، ہم نے ان کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے ظلم کیا‘‘ یعنی ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود ان کے ظلم کی بنا پر ہم نے انھیں ہلاک کیا۔ ﴿ وَجَعَلۡنَا لِمَهۡلِكِهِمۡ مَّوۡعِدًا ﴾ ’’اور مقرر کیا تھا ہم نے ان کی ہلاکت کا ایک وعدہ‘‘ یعنی ایک وقت مقرر جس سے وہ آگے ہوئے نہ پیچھے۔
18:58وَرَبُّكَ ٱلۡغَفُورُ ذُو ٱلرَّحۡمَةِۖ لَوۡ يُؤَاخِذُهُم بِمَا كَسَبُواْ لَعَجَّلَ لَهُمُ ٱلۡعَذَابَۚ بَل لَّهُم مَّوۡعِدٞ لَّن يَجِدُواْ مِن دُونِهِۦ مَوۡئِلٗا
اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے کہ وہ نصیحت کیا گیا ساتھ آیات کے اپنے رب کی تو اعراض کیا اس نے ان سےاور بھول گیا وہ، جو کچھ کہ آگے بھیجا تھااس کے دونوں ہاتھوں نے، بلاشبہ ہم نے کردیے اوپر ان کے دلوں کے پردے (اس سے) کہ وہ سمجھیں اس (قرآن) کواور ان کے کانوں میں ڈاٹ اور اگر آپ بلائیں ان کو ہدایت کی طرف تو ہرگز نہ ہدایت پائیں گے وہ اس وقت کبھی بھی (57) اور آپ کا رب تو بہت بخشنے والا، رحمت والا ہے، اگر وہ پکڑے ان کو بسبب ان کے جو (عمل) کمائے انھوں نے تو یقینا جلدی لے آئے ان پر عذاب بلکہ ان کے لیے ایک مقررہ وقت ہے، ہرگز نہیں پائیں گے وہ سوائے اس کے کوئی جائے پناہ (58) اور یہ بستیاں ، ہلاک کیا ہم نے ان (کے باشندوں ) کو، جب انھوں نے ظلم کیااور کر دیا ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک مقرر وقت (59)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کر دیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو… اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کرتوتوں سے باز نہ آئے اور ان گناہوں کو فراموش نہ کرے جن کا اس نے ارتکاب کیا ہے اور علام الغیوب ہستی پر نظر نہ رکھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی… یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ پہلا شخص اس سے زیادہ بڑا ظالم ہے کیونکہ علم اور بصیرت رکھتے ہوئے گناہ کرنے والا لاعلمی سے گناہ کرنے والے سے زیادہ بڑا گناہ گار ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے، آیات الٰہی سے اس کے اعراض، اپنے گناہوں کو بھول جانے اور حالت شر پر راضی رہنے کے سبب سے اس کو سزا دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے علم ہے کہ ہدایت کے دروازے اس پر بند ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے قلب پر پردے ڈال دیے ہیں یعنی مضبوط پردوں نے اس کو آیات الٰہی کے تفقہ سے محروم کر رکھا ہے اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سنتا ہے مگر ان میں ایسا تفقہ حاصل کرنا جو قلب کی گہرائی میں اتر جائے اس کے بس کی بات نہیں ۔ ﴿ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾ ’’اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے‘‘ یعنی ان کے کانوں میں گرانی ہے جو ان کو آیات الٰہی کے فائدہ مند سماع سے محروم کر دیتی ہے اور اگر وہ اسی حالت میں رہیں تو ان کی ہدایت کا کوئی راستہ نہیں ۔ ﴿ وَاِنۡ تَدۡعُهُمۡ اِلَى الۡهُدٰؔى فَلَنۡ يَّهۡتَدُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ﴾ ’’اگر آپ ان کو ہدایت کی طرف بلائیں تو ہرگز ہدایت پر نہ آئیں اس وقت کبھی‘‘ کیونکہ داعئ ہدایت کی دعوت پر اسی شخص کے لبیک کہنے کی امید ہوتی ہے جو علم نہیں رکھتا۔ رہے وہ لوگ جنھوں نے آیات الٰہی کو خوب دیکھا، بھالا پھر اندھے پن کا مظاہرہ کیا، انھوں نے راہ حق کو پہچان لیا مگر اسے چھوڑ دیا اور گمراہی کی راہ پر گامزن ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کی یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر تالے ڈال دیے اور ان پر مہر لگا دی… تو ان لوگوں کی ہدایت کا کوئی راستہ اور کوئی حیلہ نہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے تخویف و ترہیب ہے جو حق کو پہچان لینے کے بعد اسے ترک کر دے اور یہ کہ اس کے اور حق کے درمیان رکاوٹ کھڑی کردی جائے اور اس کے بعد اس کے لیے کوئی چیز ایسی نہ رہے جو اس کے حق میں اس سے بڑھ کر ڈرانے والی اور اس غلط روی سے اسے روکنے والی ہو۔
[58] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی بے پایاں مغفرت اور رحمت کا ذکر کیا ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو کوئی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنی رحمت سے ڈھانپ لیتا ہے اور اسے اپنے احسان میں شامل کر لیتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ان کے گناہوں پر گرفت کرے تو ان پر فوراً عذاب بھیج دے مگر وہ حلم والا ہے وہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا وہ اپنے بندوں کو مہلت دیتا ہے مہمل نہیں چھوڑتا… گناہوں کے آثار کا واقع ہونا ضروری امر ہے اگرچہ اس میں طویل مدت تک تاخیر ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿بَلۡ لَّهُمۡ مَّوۡعِدٌ لَّنۡ يَّجِدُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖ مَوۡىِٕلًا﴾ ’’بلکہ ان کے لیے ایک وعدہ ہے، ہرگز نہیں پائیں گے اس سے ورے سرک جانے کو جگہ‘‘ یعنی ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے جس میں انھیں ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی۔ یہ جزا انھیں ضرور ملے گی اور اس جزا و سزا سے بچنے کی ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں ۔ اس سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ ہے نہ کوئی جائے فرار…
[59] اولین و آخرین میں یہی سنت الٰہی ہے کہ وہ عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ وہ انھیں توبہ اور انابت کی طرف بلاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر کے رجوع کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے اور ان کو اپنی رحمت کے سائے میں لے کر ان سے عذاب کو ہٹا دیتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے ظلم اور عناد پر جمے رہیں اور وقت مقررہ آ جائے تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل کر دیتا ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَتِلۡكَ الۡقُرٰۤى اَهۡلَكۡنٰهُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور یہ بستیاں ، ہم نے ان کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے ظلم کیا‘‘ یعنی ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود ان کے ظلم کی بنا پر ہم نے انھیں ہلاک کیا۔ ﴿ وَجَعَلۡنَا لِمَهۡلِكِهِمۡ مَّوۡعِدًا ﴾ ’’اور مقرر کیا تھا ہم نے ان کی ہلاکت کا ایک وعدہ‘‘ یعنی ایک وقت مقرر جس سے وہ آگے ہوئے نہ پیچھے۔
18:59وَتِلۡكَ ٱلۡقُرَىٰٓ أَهۡلَكۡنَٰهُمۡ لَمَّا ظَلَمُواْ وَجَعَلۡنَا لِمَهۡلِكِهِم مَّوۡعِدٗا
اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے کہ وہ نصیحت کیا گیا ساتھ آیات کے اپنے رب کی تو اعراض کیا اس نے ان سےاور بھول گیا وہ، جو کچھ کہ آگے بھیجا تھااس کے دونوں ہاتھوں نے، بلاشبہ ہم نے کردیے اوپر ان کے دلوں کے پردے (اس سے) کہ وہ سمجھیں اس (قرآن) کواور ان کے کانوں میں ڈاٹ اور اگر آپ بلائیں ان کو ہدایت کی طرف تو ہرگز نہ ہدایت پائیں گے وہ اس وقت کبھی بھی (57) اور آپ کا رب تو بہت بخشنے والا، رحمت والا ہے، اگر وہ پکڑے ان کو بسبب ان کے جو (عمل) کمائے انھوں نے تو یقینا جلدی لے آئے ان پر عذاب بلکہ ان کے لیے ایک مقررہ وقت ہے، ہرگز نہیں پائیں گے وہ سوائے اس کے کوئی جائے پناہ (58) اور یہ بستیاں ، ہلاک کیا ہم نے ان (کے باشندوں ) کو، جب انھوں نے ظلم کیااور کر دیا ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک مقرر وقت (59)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کر دیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو… اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کرتوتوں سے باز نہ آئے اور ان گناہوں کو فراموش نہ کرے جن کا اس نے ارتکاب کیا ہے اور علام الغیوب ہستی پر نظر نہ رکھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی… یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ پہلا شخص اس سے زیادہ بڑا ظالم ہے کیونکہ علم اور بصیرت رکھتے ہوئے گناہ کرنے والا لاعلمی سے گناہ کرنے والے سے زیادہ بڑا گناہ گار ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے، آیات الٰہی سے اس کے اعراض، اپنے گناہوں کو بھول جانے اور حالت شر پر راضی رہنے کے سبب سے اس کو سزا دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے علم ہے کہ ہدایت کے دروازے اس پر بند ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے قلب پر پردے ڈال دیے ہیں یعنی مضبوط پردوں نے اس کو آیات الٰہی کے تفقہ سے محروم کر رکھا ہے اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سنتا ہے مگر ان میں ایسا تفقہ حاصل کرنا جو قلب کی گہرائی میں اتر جائے اس کے بس کی بات نہیں ۔ ﴿ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا﴾ ’’اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے‘‘ یعنی ان کے کانوں میں گرانی ہے جو ان کو آیات الٰہی کے فائدہ مند سماع سے محروم کر دیتی ہے اور اگر وہ اسی حالت میں رہیں تو ان کی ہدایت کا کوئی راستہ نہیں ۔ ﴿ وَاِنۡ تَدۡعُهُمۡ اِلَى الۡهُدٰؔى فَلَنۡ يَّهۡتَدُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ﴾ ’’اگر آپ ان کو ہدایت کی طرف بلائیں تو ہرگز ہدایت پر نہ آئیں اس وقت کبھی‘‘ کیونکہ داعئ ہدایت کی دعوت پر اسی شخص کے لبیک کہنے کی امید ہوتی ہے جو علم نہیں رکھتا۔ رہے وہ لوگ جنھوں نے آیات الٰہی کو خوب دیکھا، بھالا پھر اندھے پن کا مظاہرہ کیا، انھوں نے راہ حق کو پہچان لیا مگر اسے چھوڑ دیا اور گمراہی کی راہ پر گامزن ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کی یہ سزا دی کہ ان کے دلوں پر تالے ڈال دیے اور ان پر مہر لگا دی… تو ان لوگوں کی ہدایت کا کوئی راستہ اور کوئی حیلہ نہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے تخویف و ترہیب ہے جو حق کو پہچان لینے کے بعد اسے ترک کر دے اور یہ کہ اس کے اور حق کے درمیان رکاوٹ کھڑی کردی جائے اور اس کے بعد اس کے لیے کوئی چیز ایسی نہ رہے جو اس کے حق میں اس سے بڑھ کر ڈرانے والی اور اس غلط روی سے اسے روکنے والی ہو۔
[58] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی بے پایاں مغفرت اور رحمت کا ذکر کیا ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو کوئی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنی رحمت سے ڈھانپ لیتا ہے اور اسے اپنے احسان میں شامل کر لیتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ان کے گناہوں پر گرفت کرے تو ان پر فوراً عذاب بھیج دے مگر وہ حلم والا ہے وہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا وہ اپنے بندوں کو مہلت دیتا ہے مہمل نہیں چھوڑتا… گناہوں کے آثار کا واقع ہونا ضروری امر ہے اگرچہ اس میں طویل مدت تک تاخیر ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿بَلۡ لَّهُمۡ مَّوۡعِدٌ لَّنۡ يَّجِدُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖ مَوۡىِٕلًا﴾ ’’بلکہ ان کے لیے ایک وعدہ ہے، ہرگز نہیں پائیں گے اس سے ورے سرک جانے کو جگہ‘‘ یعنی ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے جس میں انھیں ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی۔ یہ جزا انھیں ضرور ملے گی اور اس جزا و سزا سے بچنے کی ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں ۔ اس سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ ہے نہ کوئی جائے فرار…
[59] اولین و آخرین میں یہی سنت الٰہی ہے کہ وہ عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ وہ انھیں توبہ اور انابت کی طرف بلاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کر کے رجوع کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے اور ان کو اپنی رحمت کے سائے میں لے کر ان سے عذاب کو ہٹا دیتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے ظلم اور عناد پر جمے رہیں اور وقت مقررہ آ جائے تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب نازل کر دیتا ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَتِلۡكَ الۡقُرٰۤى اَهۡلَكۡنٰهُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور یہ بستیاں ، ہم نے ان کو ہلاک کر دیا جب انھوں نے ظلم کیا‘‘ یعنی ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود ان کے ظلم کی بنا پر ہم نے انھیں ہلاک کیا۔ ﴿ وَجَعَلۡنَا لِمَهۡلِكِهِمۡ مَّوۡعِدًا ﴾ ’’اور مقرر کیا تھا ہم نے ان کی ہلاکت کا ایک وعدہ‘‘ یعنی ایک وقت مقرر جس سے وہ آگے ہوئے نہ پیچھے۔
18:60وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِفَتَىٰهُ لَآ أَبۡرَحُ حَتَّىٰٓ أَبۡلُغَ مَجۡمَعَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ أَوۡ أَمۡضِيَ حُقُبٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:61فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِي ٱلۡبَحۡرِ سَرَبٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:62فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَىٰهُ ءَاتِنَا غَدَآءَنَا لَقَدۡ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَٰذَا نَصَبٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:63قَالَ أَرَءَيۡتَ إِذۡ أَوَيۡنَآ إِلَى ٱلصَّخۡرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ ٱلۡحُوتَ وَمَآ أَنسَىٰنِيهُ إِلَّا ٱلشَّيۡطَٰنُ أَنۡ أَذۡكُرَهُۥۚ وَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِي ٱلۡبَحۡرِ عَجَبٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:64قَالَ ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِۚ فَٱرۡتَدَّا عَلَىٰٓ ءَاثَارِهِمَا قَصَصٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:65فَوَجَدَا عَبۡدٗا مِّنۡ عِبَادِنَآ ءَاتَيۡنَٰهُ رَحۡمَةٗ مِّنۡ عِندِنَا وَعَلَّمۡنَٰهُ مِن لَّدُنَّا عِلۡمٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:66قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰ هَلۡ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰٓ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:67قَالَ إِنَّكَ لَن تَسۡتَطِيعَ مَعِيَ صَبۡرٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:68وَكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلَىٰ مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهِۦ خُبۡرٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:69قَالَ سَتَجِدُنِيٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ صَابِرٗا وَلَآ أَعۡصِي لَكَ أَمۡرٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:70قَالَ فَإِنِ ٱتَّبَعۡتَنِي فَلَا تَسۡـَٔلۡنِي عَن شَيۡءٍ حَتَّىٰٓ أُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:71فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا رَكِبَا فِي ٱلسَّفِينَةِ خَرَقَهَاۖ قَالَ أَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ أَهۡلَهَا لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔا إِمۡرٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:72قَالَ أَلَمۡ أَقُلۡ إِنَّكَ لَن تَسۡتَطِيعَ مَعِيَ صَبۡرٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:73قَالَ لَا تُؤَاخِذۡنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِي مِنۡ أَمۡرِي عُسۡرٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:74فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا لَقِيَا غُلَٰمٗا فَقَتَلَهُۥ قَالَ أَقَتَلۡتَ نَفۡسٗا زَكِيَّةَۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٖ لَّقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـٔٗا نُّكۡرٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:75۞قَالَ أَلَمۡ أَقُل لَّكَ إِنَّكَ لَن تَسۡتَطِيعَ مَعِيَ صَبۡرٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:76قَالَ إِن سَأَلۡتُكَ عَن شَيۡءِۭ بَعۡدَهَا فَلَا تُصَٰحِبۡنِيۖ قَدۡ بَلَغۡتَ مِن لَّدُنِّي عُذۡرٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:77فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَيَآ أَهۡلَ قَرۡيَةٍ ٱسۡتَطۡعَمَآ أَهۡلَهَا فَأَبَوۡاْ أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارٗا يُرِيدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقَامَهُۥۖ قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّخَذۡتَ عَلَيۡهِ أَجۡرٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:78قَالَ هَٰذَا فِرَاقُ بَيۡنِي وَبَيۡنِكَۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأۡوِيلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِع عَّلَيۡهِ صَبۡرًا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:79أَمَّا ٱلسَّفِينَةُ فَكَانَتۡ لِمَسَٰكِينَ يَعۡمَلُونَ فِي ٱلۡبَحۡرِ فَأَرَدتُّ أَنۡ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَآءَهُم مَّلِكٞ يَأۡخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصۡبٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:80وَأَمَّا ٱلۡغُلَٰمُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِينَآ أَن يُرۡهِقَهُمَا طُغۡيَٰنٗا وَكُفۡرٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:81فَأَرَدۡنَآ أَن يُبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرٗا مِّنۡهُ زَكَوٰةٗ وَأَقۡرَبَ رُحۡمٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:82وَأَمَّا ٱلۡجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَٰمَيۡنِ يَتِيمَيۡنِ فِي ٱلۡمَدِينَةِ وَكَانَ تَحۡتَهُۥ كَنزٞ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَٰلِحٗا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَن يَبۡلُغَآ أَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنزَهُمَا رَحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَۚ وَمَا فَعَلۡتُهُۥ عَنۡ أَمۡرِيۚ ذَٰلِكَ تَأۡوِيلُ مَا لَمۡ تَسۡطِع عَّلَيۡهِ صَبۡرٗا
اور (یاد کرو!) جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (یوشع) سے، میں ہمیشہ (چلتا ہی) رہوں گا یہاں تک کہ پہنچ جاؤں میں مجمع البحرین پر یا چلتا رہوں گا میں مدت ہائے دراز تک (60) پس جب وہ دونوں پہنچے ملنے کی جگہ پر دونوں (سمندروں ) کی تو وہ دونوں بھول گئے مچھلی اپنی سو بنا لیا اس نے اپنا راستہ سمندر میں سرنگ (کی مثل) lپس جب آگے گزر گئے وہ دونوں تو موسیٰ نے کہا اپنے جوان سے، دے ہمیں ہمارا ناشتہ، البتہ تحقیق دوچار ہوئے ہیں ہم اپنے اس سفر میں تھکاوٹ سے (62) اس نے کہا، بھلا دیکھا تو نے؟ جب ٹھہرے تھے ہم چٹان کے پاس تو بلاشبہ بھول گیا میں (وہ)مچھلی اور نہیں بھلوایا مجھے اس کو مگر شیطان ہی نے، یہ کہ یاد کروں میں اسےاور بنایا اس نے راستہ اپنا سمندر میں عجیب طرح (63) موسیٰ نے کہا، یہی تو ہے وہ جو کچھ تھے ہم چاہتے، پس واپس لوٹے وہ اپنے نشانات پر، ان کا اتباع کرتے ہوئے (64) پس پایا ان دونوں نے ایک بندے (خضر) کو ہمارے بندوں میں سے، دی تھی ہم نے اسے رحمت اپنی طرف سےاور سکھایا تھا ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک (خاص) علم (65)کہااس (خضر) سے موسیٰ نے، کیا میں پیروی کر سکتا ہوں تیری اس (شرط) پر کہ تو سکھائے مجھے اس سے جو سکھائی گئی ہے تجھے بھلائی؟(66) اس نے کہا، بلاشبہ تو نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی (67) اور کس طرح تو صبر کرے گا اس چیز پر کہ نہیں احاطہ کیا تو نے اس کا باعتبار علم کے؟ (68) موسیٰ نے کہا، یقینا تو پائے گا مجھے، اگر چاہا اللہ نے ، صبر کرنے والااور نہیں نافرمانی کروں گا میں تیری کسی حکم کی بھی (69) خضر نے کہا، پس اگر تو پیروی کرنا چاہتا ہے میری تو مت سوال کرنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، یہاں تک کہ میں (خود ہی) کروں تیرے لیے اس کا ذکر (70)پس چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب سوار ہوئے وہ دونوں کشتی میں تو اس (خضر) نے شگاف کر دیا اس میں ، موسیٰ نے کہا، کیا تو نے شگاف کیا ہے اس میں تاکہ غرق کر دے اس کشتی والوں کو؟ تحقیق آیا ہے تو بہت ہولناک کام کو (71) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے، کہ بے شک تو ہرگز نہیں استطاعت رکھے گا میرے ساتھ صبر کی؟ (72) موسیٰ نے کہا، نہ مؤاخذہ کر تو میرا اس پر جو بھول گیا میں اور نہ ڈال تو مجھ پر میرے (اس) معاملے میں تنگی (73) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب وہ ملے ایک لڑکے کو تو قتل کر دیا اسے اس (خضر) نے، موسیٰ نے کہا، کیا قتل کر دیا تو نے ایک نفس پاک (بے گناہ) کو؟ تحقیق آیا ہے تو نہایت ہی برے کام کو (74) خضر نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تجھ سے کہ بلاشبہ تو ہرگز نہیں کر سکے گا میرے ساتھ صبر (75) موسیٰ نے کہا، اگر سوال کروں میں تجھ سے کسی چیز کی بابت اس کے بعد تو نہ ساتھ رکھنا مجھے، تحقیق پہنچ گیا تو میری طرف سے عذر کو (76) پھر چلے وہ دونوں ، یہاں تک کہ جب آئے وہ دونوں ایک بستی والوں کے پاس تو انھوں نے کھانا مانگا اس بستی والوں سے، پس انھوں نے انکار کر دیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے، پھر پائی ان دونوں نے اس میں ایک دیوار، وہ چاہتی (قریب) تھی کہ گر جائے تو اس (خضر) نے سیدھا کر دیا اسے، موسی نے کہا، اگر چاہتا تو، تو البتہ لیتا اس پر اجرت (77) خضر نے کہا، یہ جدائی ہے میرے درمیان اور تیرے درمیان، اب بتاؤں گا میں تجھے حقیقت ان باتوں کی، کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (78) لیکن کشتی، سو تھی وہ (چند) مسکینوں کی، وہ کام کرتے تھے سمندر میں ، پس چاہا میں نے یہ کہ عیب دار کر دوں میں اسے، جبکہ تھا ان کے آگے ایک بادشاہ، لے لیتا تھا وہ ہر کشتی کو زبردستی (79) اور لیکن (وہ) لڑکا تو تھے ماں باپ اس کے مومن، پس ڈرے ہم اس سے کہ وہ آمادہ کر دے گا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں (80) پس چاہا ہم نے یہ کہ بدلے میں دے ان دونوں کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور لیکن (وہ) دیوار، سوتھی وہ واسطے (ان) دو لڑکوں کے کہ یتیم تھے وہ (اس) شہر میں اور تھا نیچے اس کے خزانہ ان دونوں کے لیےاور تھا باپ ان دونوں کا صالح تو چاہا تیرے رب نے یہ کہ پہنچیں وہ دونوں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا خزانہ مہربانی سے تیرے رب کی اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی رائے سے، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی کہ نہیں استطاعت رکھی تو نے ان پر صبر کرنے کی (82)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰu اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انھوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نونu تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا: ﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ ﴾ ’’جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں ۔‘‘ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں ۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’خواہ برسوں چلتا رہوں ۔‘‘ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ موسیٰu نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جازم تھا جس کی بنا پر انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔
[61]﴿ فَلَمَّا بَلَغَا ﴾ ’’پھر جب دونوں پہنچے‘‘ یعنی حضرت موسیٰu اور ان کا خادم ﴿ مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوۡتَهُمَا ﴾ ’’دونوں دریاؤں کے ملاپ تک تو بھول گئے اپنی مچھلی‘‘ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لیے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہو جائے گی وہیں وہ بندہ رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں ۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انھوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، وہ جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہو گئی۔
[62] جب موسیٰu اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا١ٞ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف‘‘ یعنی ہم اس سفر سے، جواس سنگم سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انھوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰu کے لیے دلیل تھی کہ انھوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لیے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انھوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔
[63] جب موسیٰu نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا: ﴿ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّيۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ١ٞ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔‘‘ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ ﴿ وَاتَّؔخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِي الۡبَحۡرِ ١ۖ ۗ عَجَبًا ﴾ ’’اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح‘‘ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔مفسرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا پانی میں چلے جانا موسیٰu اور ان کے خادم کے لیے بڑا تعجب خیز تھا۔
[64] جب موسیٰu کے خادم نے یہ بات کہی… اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہو جائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے… تو موسیٰu نے کہا:﴿ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ﴾ ’’یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔‘‘ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ ﴿ فَارۡتَدَّا ﴾ ’’پھر الٹے پھرے وہ دونوں ‘‘ یعنی واپس لوٹے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ ’’اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔
[65] جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضرu تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔﴿ اٰتَيۡنٰهُ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔‘‘ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰu کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰu بہت سے امور میں ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔
[66] جب موسیٰu حضرت خضر سے ملے تو ازراہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾ یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدایت کی راہ پاسکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں ؟ خضرu کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کرامت سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انھیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتیٰ کہ موسیٰu پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہو جاتی تھی۔
[67] خضرu نے موسیٰu سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن ﴿ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہو گا۔
[68] بنا بریں خضرu نے فرمایا: ﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾ ’’اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں ۔‘‘ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔
[69] موسیٰu نے کہا: ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّلَاۤ اَعۡصِيۡ لَكَ اَمۡرًا ﴾ ’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘ جس چیز کے بارے میں امتحان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰu کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لیے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے۔
[70] اس وقت خضرu نے حضرت موسیٰu سے کہا: ﴿ فَاِنِ اتَّبَعۡتَنِيۡ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِيۡ عَنۡ شَيۡءٍ حَتّٰۤى اُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرًا ﴾ ’’پس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھ سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر‘‘ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود ہی آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالآخر حقیقت حال سے انھیں آگاہ کریں گے۔
[71]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَؔكِبَا فِي السَّفِيۡنَةِ خَرَقَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس کو پھاڑ ڈالا‘‘ یعنی حضرت خضرu نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰu اس پر صبر نہ کر سکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضرu نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہو سکتا تھا۔ اس لیے موسیٰu نے کہا:﴿ اَخَرَقۡتَهَا لِتُغۡرِقَ اَهۡلَهَا١ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا اِمۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی‘‘ یعنی آپ نے بہت برا کام سرانجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰu کا عدم صبر تھا۔
[72] خضرu نے ان سے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے‘‘ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔
[73] یہ موسیٰu سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِيۡ مِنۡ اَمۡرِيۡ عُسۡرًا ﴾ ’’میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈالیں مجھ پر میرا کام مشکل‘‘ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالیے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انھوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کر دیا۔ اے خضر! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں ، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔
[74]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا ﴾ ’’پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے‘‘ یعنی چھوٹا سا بچہ ﴿ فَقَتَلَهٗ﴾ ’’پس (حضرت خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا‘‘اس پر موسیٰu سخت ناراض ہوئے۔ جب خضرu نے اس چھوٹے سے بچے کو قتل کر دیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو جناب موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے: ﴿ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَؔكِيَّةًۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ١ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔‘‘ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہو سکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔پہلی مرتبہ حضرت موسیٰu کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراص نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا۔
[75] اس لیے حضرت خضرu نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا: ﴿قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِيَ صَبۡرًا ﴾ ’’کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے‘‘
[76] موسیٰu نے کہا: ﴿ قَالَ اِنۡ سَاَلۡتُكَ عَنۡ شَيۡءٍۭؔ بَعۡدَهَا ﴾ ’’اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا‘‘ یعنی اس مرتبہ کے بعد ﴿ فَلَا تُصٰحِبۡنِيۡ﴾ ’’تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ‘‘ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں ۔ ﴿ قَدۡ بَلَغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّيۡ عُذۡرًؔا﴾ ’’آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے‘‘ یعنی آپ میری طرف سے معذور ہیں اور آپ نے کوتاہی نہیں کی۔
[77]﴿ فَانۡطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهۡلَ قَرۡيَةِنِ اسۡتَطۡعَمَاۤ اَهۡلَهَا﴾ ’’پس وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب آئے وہ ایک بستی کے لوگوں تک تو کھانا مانگا بستی کے لوگوں سے‘‘ یعنی بستی والوں سے مہمان کے طور پر ٹھہرانے کی استدعا کی۔ ﴿فَاَ بَوۡا اَنۡ يُّضَيِّفُوۡهُمَا فَوَجَدَا فِيۡهَا جِدَارًؔا يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّنۡقَضَّ ﴾ ’’پس انھوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا جو گرا چاہتی تھی‘‘ یعنی وہ منہدم ہوا چاہتی تھی: ﴿ فَاَقَامَهٗ ﴾ ’’پس اس کو سیدھا کر دیا‘‘ یعنی حضرت خضر نے اسے تعمیر کر کے دوبارہ نیا بنا دیا۔ جناب موسیٰu نے ان سے کہا: ﴿قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّؔخَذۡتَ عَلَيۡهِ اَجۡرًا﴾ ’’اگر آپ چاہتے تو اس بستی والوں سے اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔‘‘ بستی والوں نے ہمیں مہمان نہیں ٹھہرایا تھا اور آپ ہیں کہ بغیر کسی اجرت کے ان کی دیوار تعمیر کر رہے ہیں ، حالانکہ آپ ان سے اجرت طلب کر سکتے ہیں ۔
[78] اس وقت موسیٰu وہ شرط پوری نہ کر سکے جس کا انھوں نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر حضرت خضر نے ان کی رفاقت سے معذرت کر لی اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا فِرَاقُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنِكَ﴾ ’’اب جدائی ہے میرے اور آپ کے درمیان‘‘ کیونکہ جو شرائط آپ نے خود اپنے آپ پر عائد کی تھیں (ان کو آپ پورا نہ کر سکے) اب کوئی عذر باقی نہیں رہا اور نہ مصاحبت کی کوئی وجہ۔ ﴿ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاۡوِيۡلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِعۡ عَّؔلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’اب میں آپ کو بتاؤں گا ان چیزوں کی حقیقت، جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘ یعنی میں ان امور کے بارے میں آپ کو بتاؤں گا جن کے بارے میں آپ نے مجھ پر نکیر کی اور آپ کو بتاؤں گا کہ ان تمام کاموں کے پیچھے کچھ مقاصد تھے جن پر معاملہ مبنی تھا۔
[79]﴿ اَمَّا السَّفِيۡنَةُ ﴾ یعنی وہ کشتی جس میں میں نے سوراخ کر دیا تھا ﴿ فَكَانَتۡ لِمَسٰكِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہ مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کرتے تھے‘‘ ان پر ترس اور ان کے ساتھ مہربانی اس فعل کی مقتضی تھی۔ ﴿ فَاَرَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا وَؔكَانَ وَرَآءَؔهُمۡ مَّؔلِكٌ يَّاۡخُذُ كُلَّ سَفِيۡنَةٍ غَصۡبًا ﴾ ’’تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور ان کے ورے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو لے لیتا تھا چھین کر‘‘ یعنی ان کا راستہ اس ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرتا تھا، لہذا اگر کشتی صحیح سالم ہوتی اور اس میں کوئی عیب نہ ہوتا تو ظلم کی بنا پر اسے پکڑ لیتا اور غصب کر لیتا۔ میں نے اس کشتی میں اس لیے سوراخ کر دیا تھا تاکہ یہ کشتی عیب دار ہو جائے اور اس ظالم کی دست برد سے بچ جائے۔
[80]﴿ وَاَمَّا الۡغُلٰمُ ﴾ ’’رہا وہ لڑکا‘‘ یعنی وہ لڑکا جس کو میں نے قتل کیا تھا: ﴿ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾ ’’پس اس کے ماں باپ مومن تھے، پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ وہ ان کو مجبور کر دے گا سرکشی اور کفر اختیار کرنے پر۔‘‘ یعنی اس لڑکے کے بارے میں یہ مقدر تھا کہ اگر وہ بالغ ہوجاتا تو اپنے والدین کو کفر اور سرکشی پر مجبور کرتا۔ یا تو ان دونوں کی اس سے محبت کی بنا پر یا اس سبب سے کہ دونوں اس کے ضرورت مند ہوں گے اور ضرورت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر دے گی، یعنی میں اس بچے کے بارے میں مطلع تھا اس لیے میں نے اس کے والدین کے دین کی حفاظت کے لیے اس کو قتل کر دیا۔ اس جلیل القدر فائدے سے بڑھ کر اور کون سا فائدہ ہو سکتا ہے۔
[81] اگرچہ اس بچے کے قتل کرنے میں ان کے لیے تکلیف اور ان کی نسل کا انقطاع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو اور اولاد عطا کرے گا جو اس سے بہتر ہو گی بناء بریں فرمایا: ﴿ فَاَ رَدۡنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيۡرًا مِّؔنۡهُ زَؔكٰوةً وَّاَقۡرَبَ رُحۡمًا﴾ ’’پس ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب اس سے بہتر پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایسا بیٹا عطا کرے گا جو نیک، پاک اور صلہ رحمی کرنے والا ہو گا کیونکہ وہ بچہ جس کو قتل کردیا گیا تھا اگر بالغ ہو جاتا تو وہ والدین کا سخت نافرمان ہوتا اور وہ ان کو کفر اور سرکشی پر مجبور کر دیتا۔
[82]﴿ وَاَمَّا الۡجِدَارُ ﴾ ’’وہ دیوار‘‘ جس کو میں نے سیدھا کر دیا تھا ﴿ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِي الۡمَدِيۡنَةِ وَؔكَانَ تَحۡتَهٗؔ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَؔكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًا﴾ ’’تو وہ دو یتیموں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا‘‘ یعنی ان کا حال ان پر رافت و رحمت کا تقاضا کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں بہت چھوٹے تھے اور باپ سے محروم تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی نیکی کی بنا پر ان دونوں کی حفاظت فرمائی۔ ﴿ فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا﴾ ’’پس آپ کے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا مدفون خزانہ نکالیں ‘‘ یعنی اس لیے میں نے دیوار منہدم کر دی اور اس کے نیچے سے ان کا خزانہ نکال لیا اور خزانے کو دوبارہ دفن کر کے دیوار کو بغیر کسی اجرت کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے افعال سرانجام دیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے اس نے اپنے بندے خضر کو نوازا ہے۔ ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ ’’اور میں نے اسے اپنی طرف سے نہیں کیا‘‘ یعنی میں نے ان میں سے کوئی کام اپنی طرف سے مجرد اپنے ارادے سے نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ جو میں نے آپ کے سامنے وضاحت کی ہے ﴿ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعۡ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا ﴾ ’’یہ حقیقت ہے ان تمام واقعات کی جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔‘‘ اس تعجب خیز اور جلیل القدر قصے میں بہت سے فوائد، احکام اور قواعد ذکر کیے گئے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں :(۱) اس قصے سے علم اور طلب علم کے لیے رحلت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز یہ کہ طلب علم اہم ترین معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰu نے طلب علم کے لیے طویل سفر کیا اور تکالیف برداشت کیں ۔ بنی اسرائیل کو تعلیم دینے اور ان کی راہ نمائی کے لیے ان کے پاس بیٹھنا ترک کرکے علم میں اضافے کے لیے سفر اختیار کیا۔ (۲) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہم کام سے ابتداء کی جائے۔ انسان کا علم اور اس علم میں اضافہ کرنا اس کو ترک کرنے اور علم حاصل کیے بغیر تعلیم میں مشغول رہنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مگر دونوں امور کا یکجا ہونا زیادہ کامل اور افضل ہے۔ (۳) سفر و حضر میں ، کام کاج اور راحت کے حصول کے لیے خادم رکھنا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کیا تھا۔ (۴) اگر کوئی شخص طلب علم یا جہاد وغیرہ کے لیے سفر کرتا ہے اور مصلحت کے تقاضے کے مطابق اگر وہ اپنے مقصد اور منزل کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ اس کو چھپانے سے بہتر ہے کیونکہ اس کو ظاہر کرنے میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً:اس سفر کی تیاری، سامان مہیا کرنے، اس کام کو دیکھ بھال کر احسن طریقے سے سرانجام دینے کا اہتمام اور اس جلیل القدر عبادت کے لیے شوق کا اظہار وغیرہ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِيَ حُقُبًا ﴾ ’’میں اس وقت تک سفر کرتا رہوں گا جب تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں ، ورنہ میں برسوں چلتا رہوں گا۔‘‘ اور جیسے نبی اکرمﷺ نے جب غزوہ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کرام y کو اس کے بارے میں آگاہ فرما دیا تھا حالانکہ ایسے امور میں توریہ کرنا آپ کی عادت مبارکہ تھی۔ یہ چیز مصلحت کے تابع ہے۔ (۵) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شر اور اس کے اسباب کو اس لحاظ سے شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ بہکاتا ہے اور شر کو مزین کرتا ہے اگرچہ خیروشر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدرسے واقع ہوتی ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰu کے خادم نے کہا: ﴿ وَمَاۤ اَنۡسٰىنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ﴾ ’’شیطان نے مجھے بھلا دیا اس کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔‘‘ (۶) انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی طبیعت کے تقاضوں ، مثلاً:تھکاوٹ، بھوک اور پیاس وغیرہ کے بارے میں اطلاع دے، جبکہ اس میں صداقت ہو اور اس میں (اللہ تعالیٰ اور تقدیر پر) ناراضی کے اظہار کا کوئی پہلو نہ ہو۔ موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا﴾ ’’ہمیں اپنے اس سفر میں بہت تھکاوٹ لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۷) خادم کا ذہین و فطین اور سمجھ دار ہونا پسندیدہ ہے تاکہ انسان اپنے مطلوبہ ارادوں کی بہتر طریقے سے تکمیل کر سکے۔ (۸) انسان کا اپنے خادم کو اپنے کھانے سے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا مستحب ہے۔ حضرت موسیٰu کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے فرمایا: ﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’لاؤ ہمارے پاس ہمارا کھانا‘‘ یہ اضافت سب کی طرف ہے، کہ حضرت موسیٰu اور ان کے خادم نے اکٹھے کھانا کھایا۔ (۹) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندے پر، اللہ تعالیٰ کے احکام کو قائم کرنے کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی مدد نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرنے والے کی جو مدد کی جاتی ہے وہ کسی اور کی نہیں کی جاتی۔ موسیٰu نے فرمایا:﴿ لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰؔذَا نَصَبًا ﴾ ’’اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی۔‘‘ یہ دریاؤں کے سنگم سے متجاوز سفر کی طرف اشارہ ہے۔ دریاؤں کے سنگم سے ماقبل سفر کے بارے میں حضرت موسیٰu نے تھکاوٹ کی شکایت نہیں کی، حالانکہ وہ بہت طویل سفر تھا کیونکہ یہی حقیقی سفر تھا۔ (لیکن اللہ کی مدد کی وجہ سے وہ محسوس نہیں ہوا) رہا دریاؤں کے سنگم کے بعد والا سفر تو ظاہر ہے کہ وہ سفر کا کچھ حصہ یعنی دن کا ایک حصہ تھا کیونکہ جب انھوں نے چٹان پر بیٹھ کر آرام کیا تھا وہاں مچھلی غائب ہوئی تھی، ظاہر ہے وہاں چٹان کے پاس ہی انھوں نے رات بسر کی پھر اگلی صبح سفر پر روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ جب صبح کے کھانے کا وقت ہوا تو حضرت موسیٰu نے اپنے خادم سے کہا:﴿ اٰتِنَا غَدَآءَؔنَا ﴾ ’’ہمارے لیے کھانا لاؤ۔‘‘ یہاں آ کر خادم کو یاد آیا کہ اسے اس مقام پر مچھلی کے غائب ہونے کے بارے میں ذکر کرنا بھول گیا جو ان کی منزل اور مقصود سفر تھا۔(لیکن اس تھوڑے سے سفر میں انھیں تھکاوٹ ہو گئی تھی)(۱۰) اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ جس سے ان دونوں نے ملاقات کی تھی، نبی نہیں تھا بلکہ ایک صالح بندہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عبودیت کی صفت سے موصوف کیا ہے اور یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رحمت اور علم سے نوازا تھا مگر رسالت اور نبوت کا ذکر نہیں فرمایا۔ اگر جناب خضر نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی نبوت کا ضرور ذکر کرتا جیسا کہ دوسرے انبیاء و مرسلین کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ جہاں تک قصے کے آخر میں ان کے اس قول ﴿ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِيۡ﴾ کا تعلق ہے تو یہ ان کے نبی ہونے کی دلیل نہیں ۔ یہ تو الہام اور تحدیث کی طرف اشارہ ہے۔ جیسا کہ غیر انبیا کو الہام سے نوازا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوۡسٰۤى اَنۡ اَرۡضِعِيۡهِ﴾(القصص :28؍ 7) ’’ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف الہام کیا کہ اس کو دودھ پلا۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے : ﴿ وَاَوۡحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحۡلِ اَنِ اتَّؔخِذِيۡ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا ﴾(النحل:16؍68) ’’آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں میں اپنے چھتے بنائے۔‘‘ (۱۱) وہ علم جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں :(ا) علم اکتسابی: جسے بندہ اپنی جدوجہد اور اجتہاد سے حاصل کرتا ہے۔ (ب) علم لدنی: اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر کرم نوازی کرتا ہے اسے یہ علم عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا ﴾ ’’ہم نے انھیں اپنی طرف سے ایک خاص علم سے نوازا تھا۔‘‘ (۱۲) ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ معلم کے ساتھ ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے اور متعلم کو چاہیے کہ وہ نہایت لطیف طریقے سے معلم سے مخاطب ہو۔ حضرت موسیٰu نے حضرت خضر سے اس طرح عرض کی تھی: ﴿ هَلۡ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا﴾(الکہف: 66/18) ’’کیا میں آپ کے پیچھے آ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم و دانش سکھائیں جو آپ کو عطا کی گئی ہے۔‘‘ چنانچہ موسیٰu نے ملاطفت اور مشاورت کے اسلوب میں بات کی گویا عرض کی کہ کیا آپ مجھے اجازت عنایت فرمائیں گے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ وہ متعلم ہیں ۔ بے ادب اور متکبر لوگوں کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے جو معلم پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ اس کے علم کے محتاج ہیں بلکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حصول علم میں وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں بلکہ بسااوقات ان میں سے بعض تو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معلم کو تعلیم دے رہے ہیں ۔ ایسا شخص سخت جاہل ہے۔ معلم کے سامنے تذلل اور انکساری اور معلم کے علم کا محتاج ہونے کا اظہار متعلم کے لیے بہت فائدہ مند چیز ہے۔ (۱۳) اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایک عالم اور صاحب فضیلت شخص کو بھی علم حاصل کرتے وقت تواضع اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے، چاہے اس کا استاذ اس سے درجے میں کمتر ہی ہو کیونکہ حضرت موسیٰu بلاشبہ حضرت خضرu سے افضل تھے۔ (۱۴) اس واقعے سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے کہ عالم فاضل شخص کسی علم میں مہارت حاصل کرنے کے لیے جس میں وہ ماہر نہیں ، اس شخص سے علم حاصل کرے جو اس علم میں مہارت رکھتا ہے اگرچہ وہ علم و فضل میں اس سے بدرجہا کمتر کیوں نہ ہو۔ حضرت موسیٰu اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہ علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا مگر یہ خاص علم جو حضرت خضر کے پاس تھا، آپ اس سے محروم تھے اس لیے اس علم کو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ بناء بریں ایک محدث و فقیہ کے لیے مناسب نہیں … جبکہ وہ علم صرف و نحو وغیرہ میں کم مایہ ہو… کہ وہ اس شخص سے یہ علم سیکھنے کی کوشش نہ کرے جو اس میں ماہر ہے اگرچہ وہ محدث اور فقیہ نہ ہو۔ (۱۵) ان آیات کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علم اوردیگر فضائل کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیے، اس کا اقرار کرنا چاہیے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ ﴾(الکہف: 66/18) ’’آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو آپ کو سکھایا گیا ہے‘‘ یعنی اس علم سے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے۔ (۱۶) علم نافع وہ علم ہے جو خیر کی طرف راہنمائی کرے، ہر وہ علم جس میں رشدوہدایت اور خیر کے راستے کی طرف راہنمائی ہو، شر کے راستے سے ڈرایا گیا یا ان مقاصد کے حصول کا وسیلہ ہو، وہ علم نافع ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم، وہ یا تو نقصان دہ ہوتے ہیں یا ان میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جیسے فرمایا:﴿ اَنۡ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدًا ﴾(الکہف: 68/18)(۱۷) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص میں عالم اور علم کی صحبت کے لیے قوت صبر اور حسن ثبات نہیں وہ علم حاصل کرنے کا اہل نہیں ۔ جو صبر سے محروم ہے وہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص صبر کو کام میں لاتا اور اس کا التزام کرتا ہے وہ جس امر میں بھی کوشش کرے گا اس کو حاصل کر لے گا۔ حضرت خضرu نے حضرت موسیٰu سے معذرت کرتے ہوئے اس مانع کا ذکر کیا تھا جو ان کے لیے حصول علم سے مانع تھا اور وہ تھا جناب خضر کی معیت میں ان کا عدم صبر۔ (۱۸) اس قصے سے ثابت ہوا کہ حصول صبر کا سب سے بڑا سبب، اس امر میں اس کا علم و آگہی ہے جس میں صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس وہ شخص جو اس بارے میں کچھ نہیں جانتا، نہ اس کے غرض و غایت، اس کے نتیجہ، اس کے فوائد و ثمرات کا اسے علم ہے وہ صبر کے اسباب سے بے بہرہ ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَؔكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلٰى مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهٖ خُبۡرًا ﴾(الکہف: 68/18)’’جس چیز کے بارے میں آپ کو کوئی خبر نہ ہو آپ اس بارے میں کیسے صبر کر سکتے ہیں ۔‘‘ پس جناب خضر نے اس چیز کے بارے میں عدم علم کو بے صبری کا سبب قرار دیا۔ (۱۹) اس قصے سے مستنبط ہوتا ہے کہ جب تک کسی چیز کے مقصد اور اس بات کی معرفت حاصل نہ ہو جائے کہ اس سے کیا مراد ہے تو اس وقت تک اس پر خوب غوروفکر کیا جائے اور اس پر حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے۔ (۲۰) اس قصے سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستقبل میں واقع ہونے والے بندوں کے افعال کو مشیت الٰہی سے معلق کیا جائے۔ جب بندہ کسی چیز کے بارے میں کہے کہ وہ مستقبل میں یہ کرے گا تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘ ضرور کہے۔ (۲۱) کسی چیز کے فعل کا عزم، اس فعل کے قائم مقام نہیں ۔ حضرت موسیٰu نے کہا تھا:﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا ﴾(الکہف: 69/18)’’اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے نفس کو صبر پر مجبور کیا مگر صبر نہ کر سکے۔ (۲۲) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اگر معلم اس امر میں مصلحت سمجھتا ہو کہ متعلم بعض چیزوں کے متعلق سوال میں ابتدا نہ کرے جب تک کہ معلم خود اسے ان چیزوں سے واقف نہ کرائے … تو مصلحت ہی کی پیروی جائے، مثلاً: اگر معلم سمجھے کہ متعلم کم فہم ہے یا معلم متعلم کو زیادہ باریک سوال کرنے سے روک دے جبکہ اس کے علاوہ دیگر امور زیادہ اہم ہوں یا متعلم کا ذہن اس کا ادراک نہ کر سکتا ہو یا وہ کوئی ایسا سوال کرے جو زیر بحث موضوع سے متعلق نہ ہو۔ (۲۳) اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں سمندر میں سفر کرنا جائز ہے جبکہ خوف نہ ہو۔ (۲۴) اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بھول جانے والے شخص کا اس کے نسیان کی بنا پر حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوئی مواخذہ نہیں اور اس کی دلیل موسیٰu کا یہ قول ہے: ﴿ لَا تُؤَاخِذۡنِيۡ بِمَا نَسِيۡتُ ﴾ ’’میری بھول پر مجھے نہ پکڑيے۔‘‘ (۲۵) انسان کوچاہیے کہ وہ لوگوں کے اخلاق اور معاملات میں عفو سے کام لے۔ ان کے ساتھ رویہ نرم رکھے ان کو ایسے امور کا مکلف نہ کرے جن کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں یا ان پر شاق گزرتے ہوں یا ایسا کرنا ان پر ظلم کا باعث ہو کیونکہ یہ چیز نفرت اور اکتاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ وہ طریقہ اختیار کرے جو آسان ہو تاکہ اس کا کام آسان ہو جائے۔ (۲۶) تمام معاملات میں ان کے ظاہر پر حکم لگایا جاتا ہے، مال اور خون وغیرہ کے دنیاوی معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اس لیے کہ جناب موسیٰu نے خضرu کے کشتی میں سوراخ کرنے اور بچے کے قتل کرنے پر نکیر فرمائی کیونکہ یہ دونوں ایسے امور ہیں جو بظاہر منکر ہیں ۔ جناب خضر کی مصاحبت کے علاوہ کوئی اور صورت حال ہوتی تو موسیٰu خاموش نہ رہ سکتے تھے۔ اس لیے آنجناب نے اس پر عام معاملات کے مطابق حکم لگانے میں جلدی کی اور اس عارض کی طرف التفات نہ کیا جو آپ پر صبر اور انکار میں عدم عجلت کو واجب کرتا ہے۔ (۲۷) اس قصے سے ایک نہایت جلیل القدر قاعدہ مستنبط ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’چھوٹی برائی کے ارتکاب کے ذریعے سے بڑی برائی کا سدباب کیا جائے‘‘ اور چھوٹی مصلحت کو ضائع کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی جائی۔ معصوم بچے کا قتل یقینا بہت بڑی برائی ہے مگر اس کے زندہ رہنے سے ماں باپ کا دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا ہونا اس سے زیادہ بڑی برائی ہے، بچے کا قتل نہ ہونا اور اس کا باقی رہنا اگرچہ بظاہر نیکی ہے مگر اس کے والدین کے دین و ایمان کا باقی رہنا زیادہ بڑی نیکی ہے اسی وجہ سے خضرu نے اس بچے کو قتل کیا تھا۔ اس قاعدے کے بہت سے فوائد اور بہت سی فروع ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ پس تمام مصالح اور مفاسد جو ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ (۲۸) اس واقعے سے ایک اور جلیل القدر قاعدہ مستفاد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ’’کسی شخص کے مال میں کسی دوسرے شخص کا ایسا عمل جو کسی مصلحت یا ازالہ مفسدہ کی خاطر ہو وہ جائز ہے، خواہ وہ بغیر اجازت ہی کیوں نہ ہو، خواہ اس سے کسی کے مال میں کچھ اتلاف ہی کیوں نہ واقع ہو۔‘‘ جیسے جناب خضرu نے کشتی میں سوراخ کر کے اس میں عیب ڈال دیا تھا اور اس طرح وہ اس ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ گئی۔ اسی طرح کسی شخص کے گھر یا مال کے ڈوبنے یا آگ لگنے کی صورت میں اگر کچھ مال کو تلف کر کے باقی مال یا گھر کے کچھ حصہ کو منہدم کر کے باقی گھر کو بچایا جا سکتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے بلکہ دوسرے کے مال کو بچانے کے لیے ایسا کرنا مشروع ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ظالم شخص کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا چاہتا ہے، کوئی دوسرا شخص جو مال کا مالک نہیں ، اصل مالک کی اجازت کے بغیر، مال کا کچھ حصہ ظالم اور غاصب شخص کو دے کر باقی مال کو بچا لے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ (۲۹) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سمندر میں کام کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح خشکی میں ۔ ارشاد فرمایا: ﴿ يَعۡمَلُوۡنَ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ اور یہ فرمانے کے بعد ان کے عمل پر نکیر نہیں فرمائی۔ (۳۰) کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مسکین کچھ مال رکھتا ہے مگر وہ اس کے لیے کافی نہیں ہوتا اس لیے وہ ’’مسکین‘‘ کے نام کے اطلاق سے خارج نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان مساکین کے پاس ایک کشتی تھی۔ (۳۱) اس واقعے سے مستفاد ہوتا ہے کہ قتل بہت بڑا گناہ ہے۔ اس بچے کے قتل کے بارے میں حضرت موسیٰu نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔؔا نُّكۡرًا﴾ ’’آپ نے ایک بہت برا کام کیا‘‘ (۳۲) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قصاص کے طورپر قتل کرنا برائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ ﴾(۳۳) ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی جان اور اولاد کی حفاظت کرتا ہے۔ (۳۴) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ صالحین یا ان کے متعلقین کی خدمت کرنا کسی اور کی خدمت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیموں کے مدفون خزانہ کو باہر نکالنے اور پھر ان کی دیوار تعمیر کر دینے میں یہ علت بیان فرمائی ہے کہ ان کا باپ ایک صالح شخص تھا۔ (۳۵) اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں الفاظ استعمال کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے، چنانچہ جناب خضرu نے کشتی کو عیب دار کرنے کے فعل کی اضافت اپنی طرف کی:﴿ فَاَ رَدۡتُّ اَنۡ اَعِيۡبَهَا﴾ ’’میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ‘‘ اور خیر کی اضافت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف کی۔ فرمایا: ﴿فَاَ رَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا١ۖۗ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ اور جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے فرمایا: ﴿ وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ﴾(الشعراء:26؍80) ’’جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا عطا کرتا ہے۔‘‘ اور جنات نے کہا تھا: ﴿ وَّاَنَّا لَا نَدۡرِيۡۤ اَشَرٌّ اُرِيۡدَ بِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اَمۡ اَرَادَ بِهِمۡ رَبُّهُمۡ رَشَدًا﴾(الجن:72؍10) ’’اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لیے کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے بارے میں ان کے رب نے اچھا ارادہ کیا ہے۔‘‘ حالانکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قضاء وتقدیر سے ہوتا ہے۔ (۳۶) کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی حال میں اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی صحبت کو ترک کر دے جب تک کہ اس کی سرزنش نہ کرے اور اس کا عذر نہ سن لے جیسا کہ خضرu نے حضرت موسیٰu کے ساتھ کیا تھا۔ (۳۷) ان امور میں جو ناجائز نہیں ، ایک ساتھی کی دوسرے ساتھی سے موافقت کرنا مطلوب اور دوستی کی بقا کا سبب ہے۔ اسی طرح عدم موافقت رشتۂ دوستی کے منقطع ہونے کا سبب ہے۔
18:83وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَن ذِي ٱلۡقَرۡنَيۡنِۖ قُلۡ سَأَتۡلُواْ عَلَيۡكُم مِّنۡهُ ذِكۡرًا
اور وہ (یہودی) پوچھتے ہیں آپ سے ذوالقرنین کی بابت، کہہ دیجیے! عنقریب پڑھوں گا میں تم پر اس کا کچھ ذکر (83) بلاشبہ ہم نے قدرت دی تھی اسے زمین میں اوردیا تھاہم نے اسے ہر چیز (قسم) سے سازوسامان (84) پس پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (85) یہاں تک کہ جب پہنچا وہ جائے غروب پر سورج کی تواس نے پایا اس کو کہ وہ غروب ہو رہا ہے ایک چشمے میں سیاہ کیچڑ کے اور پائی اس نے نزدیک اس (چشمے) کے ایک قوم، کہا ہم نے، اے ذوالقرنین! یا تو یہ کہ تو سزا دے اور یا یہ کہ اختیار کرے تو ان کی بابت اچھائی (86) اس نے کہا لیکن جو شخص ظالم ہے تو عنقریب ہم سزا دیں گے اس، پھر وہ لوٹا دیا جائے گا اپنے رب کی طرف، پس و ہ عذاب دے گا اسے عذاب سخت (87) اور لیکن وہ شخص جو ایمان لایا اور عمل کیے نیک تو اس کے لیے ہے بدلہ اچھااور عنقریب ہم کہیں گے (حکم دیں گے) اسے اپنے کام سے آسانی والا (88)
[83] اہل کتاب تھے یا مشرکین انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : ﴿ سَاَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ مِّؔنۡهُ ذِكۡرًا﴾ ’’میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال‘‘ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے، یعنی میں تمھیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔
[85,84]﴿ اِنَّا مَكَّـنَّا لَهٗ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کے گوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ سَبَبًاۙ فَاَتۡبَعَ سَبَبًا﴾ ’’اور دیا ہم نے اس کو ہر چیز کا سامان پھر پیچھے پڑا وہ ایک سامان کے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے وہ تمام اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے وہ ہر اس جگہ پہنچا جہاں وہ پہنچنا چاہتا تھا، جن کے ذریعے سے اس نے شہروں پر غلبہ حاصل کیا اور نہایت سہولت کے ساتھ دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا۔ اس نے وہ تمام اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے بہتر طریقے سے استعمال کیے۔ پس ہر شخص کو اسباب مہیا نہیں ہوتے اور نہ ہر شخص اسباب مہیا کرنے کی قدرت ہی رکھتا ہے۔ پس جب سبب حقیقی اور اس کو عمل میں لانے کی قدرت یکجا ہو جائے تو مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور اگر دونوں یا کوئی ایک معدوم ہو تو مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اور وہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ فرمایا نہ اس کے رسولﷺ نے اور نہ اس بارے میں کوئی ایسی اخبار منقول ہیں جو افادہ علم کی موجب ہوں ، اس لیے اس بارے میں سکوت اور ان اسرائیلیات کی طرف عدم التفات کے سوا کوئی چارہ نہیں جن کو ناقلین روایت کرتے ہیں ۔ مگر ہم اجمالی طور پر یہ ضرور جانتے ہیں کہ داخلی اور خارجی طور پر یہ اسباب نہایت قوی تھے جن کی بنا پر اس کے پاس ایک عظیم فوج تیار ہو گئی تھی جو اپنی عددی قوت، سامان حرب اور نظم کے اعتبار سے ایک بہت بڑی فوج تھی۔ اس فوج کی مدد سے اس نے اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کیا اور زمین کے مشرق و مغرب اور اس کے دور دراز گوشوں تک پہنچنے کی سہولت حاصل ہوئی۔
[86] پس اللہ تعالیٰ نے اسے وہ اسباب عطا کیے جن کے ذریعے سے وہ غروب آفتاب کی حد تک پہنچ گیا جہاں اس نے چشمے میں سورج کا عکس دیکھا گویا کہ وہ گدلے یعنی سیاہ پانی میں ڈوب رہا تھا۔ یہ منظر اس شخص کے لیے عام ہے، جس کے اور مغربی افق کے درمیان پانی ہو۔ اسے ایسے نظر آئے گا گویا سورج پانی کے اندر غروب ہو رہا ہے۔ اگرچہ وہ بہت بلندی پر ہو۔ اور مغرب کی سمت میں ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔ ﴿ قُلۡنَا يٰذَا الۡقَرۡنَيۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَاِمَّاۤ اَنۡ تَتَّؔخِذَ فِيۡهِمۡ حُسۡنًا ﴾ ’’ہم نے کہا: اے ذوالقرنین! یا تو لوگوں کو تکلیف دے یا ان میں (اپنی بابت) خوبی رکھ‘‘ یعنی خواہ تو ان کو قتل و ضرب یا قیدی بنا کر عذاب میں مبتلا کر یا ان پر احسان کر۔ ذوالقرنین کو ان دو امور میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تھا کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ کفار یا فساق کی قوم تھی یا ان میں کچھ کفر اور فسق موجود تھا کیونکہ اگر وہ غیر فاسق مومن ہوتے تو ان کو عذاب دینے کی اجازت نہ دی جاتی۔
[87] پس ذوالقرنین کو سیاست شرعیہ کا کچھ حصہ ملا تھا، جس کے ذریعے سے اس نے اللہ کی توفیق سے ایسے کام کیے جن پر وہ مدح وستائش کا مستحق ٹھہرا، چنانچہ اس نے کہا: ان کو دو قسموں میں تقسیم کر دوں گا۔ ﴿ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ ﴾ ’’جس نے ظلم کیا‘‘ یعنی کفر کیا۔ ﴿ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَيُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكۡرًا ﴾ ’’سو ہم اس کو سزا دیں گے، پھر لوٹ جائے گا وہ رب کے پاس، پس وہ عذاب دے گا اس کو برا عذاب‘‘ یعنی اسے دو سزائیں ملیں گی، ایک سزا اس دنیا میں اور ایک سزا آخرت میں ۔
[88]﴿ وَاَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَؔ اِ۟ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور جو کوئی ایمان لایا اور کیا اس نے بھلا کام، سو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔‘‘ یعنی اس کو جزا کے طور پر قیامت کے دن جنت عطا ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے احوال سے نوازا جائے گا۔ ﴿ وَسَنَقُوۡلُ لَهٗ مِنۡ اَمۡرِنَا يُسۡرًا﴾ ’’اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی کا‘‘ یعنی ہم اس سے اچھا سلوک کریں گے، ہم اس سے نرم بات اور آسان معاملہ کریں گے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذوالقرنین نیک بادشاہوں ، اولیائے صالحین اور عدل کرنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی موافقت کرتے ہوئے ہر شخص کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کے وہ لائق تھا۔
18:84إِنَّا مَكَّنَّا لَهُۥ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَءَاتَيۡنَٰهُ مِن كُلِّ شَيۡءٖ سَبَبٗا
اور وہ (یہودی) پوچھتے ہیں آپ سے ذوالقرنین کی بابت، کہہ دیجیے! عنقریب پڑھوں گا میں تم پر اس کا کچھ ذکر (83) بلاشبہ ہم نے قدرت دی تھی اسے زمین میں اوردیا تھاہم نے اسے ہر چیز (قسم) سے سازوسامان (84) پس پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (85) یہاں تک کہ جب پہنچا وہ جائے غروب پر سورج کی تواس نے پایا اس کو کہ وہ غروب ہو رہا ہے ایک چشمے میں سیاہ کیچڑ کے اور پائی اس نے نزدیک اس (چشمے) کے ایک قوم، کہا ہم نے، اے ذوالقرنین! یا تو یہ کہ تو سزا دے اور یا یہ کہ اختیار کرے تو ان کی بابت اچھائی (86) اس نے کہا لیکن جو شخص ظالم ہے تو عنقریب ہم سزا دیں گے اس، پھر وہ لوٹا دیا جائے گا اپنے رب کی طرف، پس و ہ عذاب دے گا اسے عذاب سخت (87) اور لیکن وہ شخص جو ایمان لایا اور عمل کیے نیک تو اس کے لیے ہے بدلہ اچھااور عنقریب ہم کہیں گے (حکم دیں گے) اسے اپنے کام سے آسانی والا (88)
[83] اہل کتاب تھے یا مشرکین انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : ﴿ سَاَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ مِّؔنۡهُ ذِكۡرًا﴾ ’’میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال‘‘ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے، یعنی میں تمھیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔
[85,84]﴿ اِنَّا مَكَّـنَّا لَهٗ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کے گوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ سَبَبًاۙ فَاَتۡبَعَ سَبَبًا﴾ ’’اور دیا ہم نے اس کو ہر چیز کا سامان پھر پیچھے پڑا وہ ایک سامان کے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے وہ تمام اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے وہ ہر اس جگہ پہنچا جہاں وہ پہنچنا چاہتا تھا، جن کے ذریعے سے اس نے شہروں پر غلبہ حاصل کیا اور نہایت سہولت کے ساتھ دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا۔ اس نے وہ تمام اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے بہتر طریقے سے استعمال کیے۔ پس ہر شخص کو اسباب مہیا نہیں ہوتے اور نہ ہر شخص اسباب مہیا کرنے کی قدرت ہی رکھتا ہے۔ پس جب سبب حقیقی اور اس کو عمل میں لانے کی قدرت یکجا ہو جائے تو مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور اگر دونوں یا کوئی ایک معدوم ہو تو مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اور وہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ فرمایا نہ اس کے رسولﷺ نے اور نہ اس بارے میں کوئی ایسی اخبار منقول ہیں جو افادہ علم کی موجب ہوں ، اس لیے اس بارے میں سکوت اور ان اسرائیلیات کی طرف عدم التفات کے سوا کوئی چارہ نہیں جن کو ناقلین روایت کرتے ہیں ۔ مگر ہم اجمالی طور پر یہ ضرور جانتے ہیں کہ داخلی اور خارجی طور پر یہ اسباب نہایت قوی تھے جن کی بنا پر اس کے پاس ایک عظیم فوج تیار ہو گئی تھی جو اپنی عددی قوت، سامان حرب اور نظم کے اعتبار سے ایک بہت بڑی فوج تھی۔ اس فوج کی مدد سے اس نے اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کیا اور زمین کے مشرق و مغرب اور اس کے دور دراز گوشوں تک پہنچنے کی سہولت حاصل ہوئی۔
[86] پس اللہ تعالیٰ نے اسے وہ اسباب عطا کیے جن کے ذریعے سے وہ غروب آفتاب کی حد تک پہنچ گیا جہاں اس نے چشمے میں سورج کا عکس دیکھا گویا کہ وہ گدلے یعنی سیاہ پانی میں ڈوب رہا تھا۔ یہ منظر اس شخص کے لیے عام ہے، جس کے اور مغربی افق کے درمیان پانی ہو۔ اسے ایسے نظر آئے گا گویا سورج پانی کے اندر غروب ہو رہا ہے۔ اگرچہ وہ بہت بلندی پر ہو۔ اور مغرب کی سمت میں ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔ ﴿ قُلۡنَا يٰذَا الۡقَرۡنَيۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَاِمَّاۤ اَنۡ تَتَّؔخِذَ فِيۡهِمۡ حُسۡنًا ﴾ ’’ہم نے کہا: اے ذوالقرنین! یا تو لوگوں کو تکلیف دے یا ان میں (اپنی بابت) خوبی رکھ‘‘ یعنی خواہ تو ان کو قتل و ضرب یا قیدی بنا کر عذاب میں مبتلا کر یا ان پر احسان کر۔ ذوالقرنین کو ان دو امور میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تھا کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ کفار یا فساق کی قوم تھی یا ان میں کچھ کفر اور فسق موجود تھا کیونکہ اگر وہ غیر فاسق مومن ہوتے تو ان کو عذاب دینے کی اجازت نہ دی جاتی۔
[87] پس ذوالقرنین کو سیاست شرعیہ کا کچھ حصہ ملا تھا، جس کے ذریعے سے اس نے اللہ کی توفیق سے ایسے کام کیے جن پر وہ مدح وستائش کا مستحق ٹھہرا، چنانچہ اس نے کہا: ان کو دو قسموں میں تقسیم کر دوں گا۔ ﴿ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ ﴾ ’’جس نے ظلم کیا‘‘ یعنی کفر کیا۔ ﴿ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَيُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكۡرًا ﴾ ’’سو ہم اس کو سزا دیں گے، پھر لوٹ جائے گا وہ رب کے پاس، پس وہ عذاب دے گا اس کو برا عذاب‘‘ یعنی اسے دو سزائیں ملیں گی، ایک سزا اس دنیا میں اور ایک سزا آخرت میں ۔
[88]﴿ وَاَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَؔ اِ۟ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور جو کوئی ایمان لایا اور کیا اس نے بھلا کام، سو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔‘‘ یعنی اس کو جزا کے طور پر قیامت کے دن جنت عطا ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے احوال سے نوازا جائے گا۔ ﴿ وَسَنَقُوۡلُ لَهٗ مِنۡ اَمۡرِنَا يُسۡرًا﴾ ’’اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی کا‘‘ یعنی ہم اس سے اچھا سلوک کریں گے، ہم اس سے نرم بات اور آسان معاملہ کریں گے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذوالقرنین نیک بادشاہوں ، اولیائے صالحین اور عدل کرنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی موافقت کرتے ہوئے ہر شخص کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کے وہ لائق تھا۔
18:85اور وہ (یہودی) پوچھتے ہیں آپ سے ذوالقرنین کی بابت، کہہ دیجیے! عنقریب پڑھوں گا میں تم پر اس کا کچھ ذکر (83) بلاشبہ ہم نے قدرت دی تھی اسے زمین میں اوردیا تھاہم نے اسے ہر چیز (قسم) سے سازوسامان (84) پس پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (85) یہاں تک کہ جب پہنچا وہ جائے غروب پر سورج کی تواس نے پایا اس کو کہ وہ غروب ہو رہا ہے ایک چشمے میں سیاہ کیچڑ کے اور پائی اس نے نزدیک اس (چشمے) کے ایک قوم، کہا ہم نے، اے ذوالقرنین! یا تو یہ کہ تو سزا دے اور یا یہ کہ اختیار کرے تو ان کی بابت اچھائی (86) اس نے کہا لیکن جو شخص ظالم ہے تو عنقریب ہم سزا دیں گے اس، پھر وہ لوٹا دیا جائے گا اپنے رب کی طرف، پس و ہ عذاب دے گا اسے عذاب سخت (87) اور لیکن وہ شخص جو ایمان لایا اور عمل کیے نیک تو اس کے لیے ہے بدلہ اچھااور عنقریب ہم کہیں گے (حکم دیں گے) اسے اپنے کام سے آسانی والا (88)
[83] اہل کتاب تھے یا مشرکین انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : ﴿ سَاَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ مِّؔنۡهُ ذِكۡرًا﴾ ’’میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال‘‘ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے، یعنی میں تمھیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔
[85,84]﴿ اِنَّا مَكَّـنَّا لَهٗ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کے گوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ سَبَبًاۙ فَاَتۡبَعَ سَبَبًا﴾ ’’اور دیا ہم نے اس کو ہر چیز کا سامان پھر پیچھے پڑا وہ ایک سامان کے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے وہ تمام اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے وہ ہر اس جگہ پہنچا جہاں وہ پہنچنا چاہتا تھا، جن کے ذریعے سے اس نے شہروں پر غلبہ حاصل کیا اور نہایت سہولت کے ساتھ دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا۔ اس نے وہ تمام اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے بہتر طریقے سے استعمال کیے۔ پس ہر شخص کو اسباب مہیا نہیں ہوتے اور نہ ہر شخص اسباب مہیا کرنے کی قدرت ہی رکھتا ہے۔ پس جب سبب حقیقی اور اس کو عمل میں لانے کی قدرت یکجا ہو جائے تو مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور اگر دونوں یا کوئی ایک معدوم ہو تو مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اور وہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ فرمایا نہ اس کے رسولﷺ نے اور نہ اس بارے میں کوئی ایسی اخبار منقول ہیں جو افادہ علم کی موجب ہوں ، اس لیے اس بارے میں سکوت اور ان اسرائیلیات کی طرف عدم التفات کے سوا کوئی چارہ نہیں جن کو ناقلین روایت کرتے ہیں ۔ مگر ہم اجمالی طور پر یہ ضرور جانتے ہیں کہ داخلی اور خارجی طور پر یہ اسباب نہایت قوی تھے جن کی بنا پر اس کے پاس ایک عظیم فوج تیار ہو گئی تھی جو اپنی عددی قوت، سامان حرب اور نظم کے اعتبار سے ایک بہت بڑی فوج تھی۔ اس فوج کی مدد سے اس نے اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کیا اور زمین کے مشرق و مغرب اور اس کے دور دراز گوشوں تک پہنچنے کی سہولت حاصل ہوئی۔
[86] پس اللہ تعالیٰ نے اسے وہ اسباب عطا کیے جن کے ذریعے سے وہ غروب آفتاب کی حد تک پہنچ گیا جہاں اس نے چشمے میں سورج کا عکس دیکھا گویا کہ وہ گدلے یعنی سیاہ پانی میں ڈوب رہا تھا۔ یہ منظر اس شخص کے لیے عام ہے، جس کے اور مغربی افق کے درمیان پانی ہو۔ اسے ایسے نظر آئے گا گویا سورج پانی کے اندر غروب ہو رہا ہے۔ اگرچہ وہ بہت بلندی پر ہو۔ اور مغرب کی سمت میں ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔ ﴿ قُلۡنَا يٰذَا الۡقَرۡنَيۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَاِمَّاۤ اَنۡ تَتَّؔخِذَ فِيۡهِمۡ حُسۡنًا ﴾ ’’ہم نے کہا: اے ذوالقرنین! یا تو لوگوں کو تکلیف دے یا ان میں (اپنی بابت) خوبی رکھ‘‘ یعنی خواہ تو ان کو قتل و ضرب یا قیدی بنا کر عذاب میں مبتلا کر یا ان پر احسان کر۔ ذوالقرنین کو ان دو امور میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تھا کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ کفار یا فساق کی قوم تھی یا ان میں کچھ کفر اور فسق موجود تھا کیونکہ اگر وہ غیر فاسق مومن ہوتے تو ان کو عذاب دینے کی اجازت نہ دی جاتی۔
[87] پس ذوالقرنین کو سیاست شرعیہ کا کچھ حصہ ملا تھا، جس کے ذریعے سے اس نے اللہ کی توفیق سے ایسے کام کیے جن پر وہ مدح وستائش کا مستحق ٹھہرا، چنانچہ اس نے کہا: ان کو دو قسموں میں تقسیم کر دوں گا۔ ﴿ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ ﴾ ’’جس نے ظلم کیا‘‘ یعنی کفر کیا۔ ﴿ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَيُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكۡرًا ﴾ ’’سو ہم اس کو سزا دیں گے، پھر لوٹ جائے گا وہ رب کے پاس، پس وہ عذاب دے گا اس کو برا عذاب‘‘ یعنی اسے دو سزائیں ملیں گی، ایک سزا اس دنیا میں اور ایک سزا آخرت میں ۔
[88]﴿ وَاَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَؔ اِ۟ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور جو کوئی ایمان لایا اور کیا اس نے بھلا کام، سو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔‘‘ یعنی اس کو جزا کے طور پر قیامت کے دن جنت عطا ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے احوال سے نوازا جائے گا۔ ﴿ وَسَنَقُوۡلُ لَهٗ مِنۡ اَمۡرِنَا يُسۡرًا﴾ ’’اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی کا‘‘ یعنی ہم اس سے اچھا سلوک کریں گے، ہم اس سے نرم بات اور آسان معاملہ کریں گے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذوالقرنین نیک بادشاہوں ، اولیائے صالحین اور عدل کرنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی موافقت کرتے ہوئے ہر شخص کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کے وہ لائق تھا۔
18:86حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ مَغۡرِبَ ٱلشَّمۡسِ وَجَدَهَا تَغۡرُبُ فِي عَيۡنٍ حَمِئَةٖ وَوَجَدَ عِندَهَا قَوۡمٗاۖ قُلۡنَا يَٰذَا ٱلۡقَرۡنَيۡنِ إِمَّآ أَن تُعَذِّبَ وَإِمَّآ أَن تَتَّخِذَ فِيهِمۡ حُسۡنٗا
اور وہ (یہودی) پوچھتے ہیں آپ سے ذوالقرنین کی بابت، کہہ دیجیے! عنقریب پڑھوں گا میں تم پر اس کا کچھ ذکر (83) بلاشبہ ہم نے قدرت دی تھی اسے زمین میں اوردیا تھاہم نے اسے ہر چیز (قسم) سے سازوسامان (84) پس پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (85) یہاں تک کہ جب پہنچا وہ جائے غروب پر سورج کی تواس نے پایا اس کو کہ وہ غروب ہو رہا ہے ایک چشمے میں سیاہ کیچڑ کے اور پائی اس نے نزدیک اس (چشمے) کے ایک قوم، کہا ہم نے، اے ذوالقرنین! یا تو یہ کہ تو سزا دے اور یا یہ کہ اختیار کرے تو ان کی بابت اچھائی (86) اس نے کہا لیکن جو شخص ظالم ہے تو عنقریب ہم سزا دیں گے اس، پھر وہ لوٹا دیا جائے گا اپنے رب کی طرف، پس و ہ عذاب دے گا اسے عذاب سخت (87) اور لیکن وہ شخص جو ایمان لایا اور عمل کیے نیک تو اس کے لیے ہے بدلہ اچھااور عنقریب ہم کہیں گے (حکم دیں گے) اسے اپنے کام سے آسانی والا (88)
[83] اہل کتاب تھے یا مشرکین انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : ﴿ سَاَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ مِّؔنۡهُ ذِكۡرًا﴾ ’’میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال‘‘ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے، یعنی میں تمھیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔
[85,84]﴿ اِنَّا مَكَّـنَّا لَهٗ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کے گوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ سَبَبًاۙ فَاَتۡبَعَ سَبَبًا﴾ ’’اور دیا ہم نے اس کو ہر چیز کا سامان پھر پیچھے پڑا وہ ایک سامان کے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے وہ تمام اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے وہ ہر اس جگہ پہنچا جہاں وہ پہنچنا چاہتا تھا، جن کے ذریعے سے اس نے شہروں پر غلبہ حاصل کیا اور نہایت سہولت کے ساتھ دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا۔ اس نے وہ تمام اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے بہتر طریقے سے استعمال کیے۔ پس ہر شخص کو اسباب مہیا نہیں ہوتے اور نہ ہر شخص اسباب مہیا کرنے کی قدرت ہی رکھتا ہے۔ پس جب سبب حقیقی اور اس کو عمل میں لانے کی قدرت یکجا ہو جائے تو مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور اگر دونوں یا کوئی ایک معدوم ہو تو مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اور وہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ فرمایا نہ اس کے رسولﷺ نے اور نہ اس بارے میں کوئی ایسی اخبار منقول ہیں جو افادہ علم کی موجب ہوں ، اس لیے اس بارے میں سکوت اور ان اسرائیلیات کی طرف عدم التفات کے سوا کوئی چارہ نہیں جن کو ناقلین روایت کرتے ہیں ۔ مگر ہم اجمالی طور پر یہ ضرور جانتے ہیں کہ داخلی اور خارجی طور پر یہ اسباب نہایت قوی تھے جن کی بنا پر اس کے پاس ایک عظیم فوج تیار ہو گئی تھی جو اپنی عددی قوت، سامان حرب اور نظم کے اعتبار سے ایک بہت بڑی فوج تھی۔ اس فوج کی مدد سے اس نے اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کیا اور زمین کے مشرق و مغرب اور اس کے دور دراز گوشوں تک پہنچنے کی سہولت حاصل ہوئی۔
[86] پس اللہ تعالیٰ نے اسے وہ اسباب عطا کیے جن کے ذریعے سے وہ غروب آفتاب کی حد تک پہنچ گیا جہاں اس نے چشمے میں سورج کا عکس دیکھا گویا کہ وہ گدلے یعنی سیاہ پانی میں ڈوب رہا تھا۔ یہ منظر اس شخص کے لیے عام ہے، جس کے اور مغربی افق کے درمیان پانی ہو۔ اسے ایسے نظر آئے گا گویا سورج پانی کے اندر غروب ہو رہا ہے۔ اگرچہ وہ بہت بلندی پر ہو۔ اور مغرب کی سمت میں ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔ ﴿ قُلۡنَا يٰذَا الۡقَرۡنَيۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَاِمَّاۤ اَنۡ تَتَّؔخِذَ فِيۡهِمۡ حُسۡنًا ﴾ ’’ہم نے کہا: اے ذوالقرنین! یا تو لوگوں کو تکلیف دے یا ان میں (اپنی بابت) خوبی رکھ‘‘ یعنی خواہ تو ان کو قتل و ضرب یا قیدی بنا کر عذاب میں مبتلا کر یا ان پر احسان کر۔ ذوالقرنین کو ان دو امور میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تھا کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ کفار یا فساق کی قوم تھی یا ان میں کچھ کفر اور فسق موجود تھا کیونکہ اگر وہ غیر فاسق مومن ہوتے تو ان کو عذاب دینے کی اجازت نہ دی جاتی۔
[87] پس ذوالقرنین کو سیاست شرعیہ کا کچھ حصہ ملا تھا، جس کے ذریعے سے اس نے اللہ کی توفیق سے ایسے کام کیے جن پر وہ مدح وستائش کا مستحق ٹھہرا، چنانچہ اس نے کہا: ان کو دو قسموں میں تقسیم کر دوں گا۔ ﴿ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ ﴾ ’’جس نے ظلم کیا‘‘ یعنی کفر کیا۔ ﴿ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَيُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكۡرًا ﴾ ’’سو ہم اس کو سزا دیں گے، پھر لوٹ جائے گا وہ رب کے پاس، پس وہ عذاب دے گا اس کو برا عذاب‘‘ یعنی اسے دو سزائیں ملیں گی، ایک سزا اس دنیا میں اور ایک سزا آخرت میں ۔
[88]﴿ وَاَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَؔ اِ۟ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور جو کوئی ایمان لایا اور کیا اس نے بھلا کام، سو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔‘‘ یعنی اس کو جزا کے طور پر قیامت کے دن جنت عطا ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے احوال سے نوازا جائے گا۔ ﴿ وَسَنَقُوۡلُ لَهٗ مِنۡ اَمۡرِنَا يُسۡرًا﴾ ’’اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی کا‘‘ یعنی ہم اس سے اچھا سلوک کریں گے، ہم اس سے نرم بات اور آسان معاملہ کریں گے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذوالقرنین نیک بادشاہوں ، اولیائے صالحین اور عدل کرنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی موافقت کرتے ہوئے ہر شخص کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کے وہ لائق تھا۔
18:87قَالَ أَمَّا مَن ظَلَمَ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهُۥ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَىٰ رَبِّهِۦ فَيُعَذِّبُهُۥ عَذَابٗا نُّكۡرٗا
اور وہ (یہودی) پوچھتے ہیں آپ سے ذوالقرنین کی بابت، کہہ دیجیے! عنقریب پڑھوں گا میں تم پر اس کا کچھ ذکر (83) بلاشبہ ہم نے قدرت دی تھی اسے زمین میں اوردیا تھاہم نے اسے ہر چیز (قسم) سے سازوسامان (84) پس پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (85) یہاں تک کہ جب پہنچا وہ جائے غروب پر سورج کی تواس نے پایا اس کو کہ وہ غروب ہو رہا ہے ایک چشمے میں سیاہ کیچڑ کے اور پائی اس نے نزدیک اس (چشمے) کے ایک قوم، کہا ہم نے، اے ذوالقرنین! یا تو یہ کہ تو سزا دے اور یا یہ کہ اختیار کرے تو ان کی بابت اچھائی (86) اس نے کہا لیکن جو شخص ظالم ہے تو عنقریب ہم سزا دیں گے اس، پھر وہ لوٹا دیا جائے گا اپنے رب کی طرف، پس و ہ عذاب دے گا اسے عذاب سخت (87) اور لیکن وہ شخص جو ایمان لایا اور عمل کیے نیک تو اس کے لیے ہے بدلہ اچھااور عنقریب ہم کہیں گے (حکم دیں گے) اسے اپنے کام سے آسانی والا (88)
[83] اہل کتاب تھے یا مشرکین انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : ﴿ سَاَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ مِّؔنۡهُ ذِكۡرًا﴾ ’’میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال‘‘ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے، یعنی میں تمھیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔
[85,84]﴿ اِنَّا مَكَّـنَّا لَهٗ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کے گوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ سَبَبًاۙ فَاَتۡبَعَ سَبَبًا﴾ ’’اور دیا ہم نے اس کو ہر چیز کا سامان پھر پیچھے پڑا وہ ایک سامان کے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے وہ تمام اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے وہ ہر اس جگہ پہنچا جہاں وہ پہنچنا چاہتا تھا، جن کے ذریعے سے اس نے شہروں پر غلبہ حاصل کیا اور نہایت سہولت کے ساتھ دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا۔ اس نے وہ تمام اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے بہتر طریقے سے استعمال کیے۔ پس ہر شخص کو اسباب مہیا نہیں ہوتے اور نہ ہر شخص اسباب مہیا کرنے کی قدرت ہی رکھتا ہے۔ پس جب سبب حقیقی اور اس کو عمل میں لانے کی قدرت یکجا ہو جائے تو مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور اگر دونوں یا کوئی ایک معدوم ہو تو مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اور وہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ فرمایا نہ اس کے رسولﷺ نے اور نہ اس بارے میں کوئی ایسی اخبار منقول ہیں جو افادہ علم کی موجب ہوں ، اس لیے اس بارے میں سکوت اور ان اسرائیلیات کی طرف عدم التفات کے سوا کوئی چارہ نہیں جن کو ناقلین روایت کرتے ہیں ۔ مگر ہم اجمالی طور پر یہ ضرور جانتے ہیں کہ داخلی اور خارجی طور پر یہ اسباب نہایت قوی تھے جن کی بنا پر اس کے پاس ایک عظیم فوج تیار ہو گئی تھی جو اپنی عددی قوت، سامان حرب اور نظم کے اعتبار سے ایک بہت بڑی فوج تھی۔ اس فوج کی مدد سے اس نے اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کیا اور زمین کے مشرق و مغرب اور اس کے دور دراز گوشوں تک پہنچنے کی سہولت حاصل ہوئی۔
[86] پس اللہ تعالیٰ نے اسے وہ اسباب عطا کیے جن کے ذریعے سے وہ غروب آفتاب کی حد تک پہنچ گیا جہاں اس نے چشمے میں سورج کا عکس دیکھا گویا کہ وہ گدلے یعنی سیاہ پانی میں ڈوب رہا تھا۔ یہ منظر اس شخص کے لیے عام ہے، جس کے اور مغربی افق کے درمیان پانی ہو۔ اسے ایسے نظر آئے گا گویا سورج پانی کے اندر غروب ہو رہا ہے۔ اگرچہ وہ بہت بلندی پر ہو۔ اور مغرب کی سمت میں ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔ ﴿ قُلۡنَا يٰذَا الۡقَرۡنَيۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَاِمَّاۤ اَنۡ تَتَّؔخِذَ فِيۡهِمۡ حُسۡنًا ﴾ ’’ہم نے کہا: اے ذوالقرنین! یا تو لوگوں کو تکلیف دے یا ان میں (اپنی بابت) خوبی رکھ‘‘ یعنی خواہ تو ان کو قتل و ضرب یا قیدی بنا کر عذاب میں مبتلا کر یا ان پر احسان کر۔ ذوالقرنین کو ان دو امور میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تھا کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ کفار یا فساق کی قوم تھی یا ان میں کچھ کفر اور فسق موجود تھا کیونکہ اگر وہ غیر فاسق مومن ہوتے تو ان کو عذاب دینے کی اجازت نہ دی جاتی۔
[87] پس ذوالقرنین کو سیاست شرعیہ کا کچھ حصہ ملا تھا، جس کے ذریعے سے اس نے اللہ کی توفیق سے ایسے کام کیے جن پر وہ مدح وستائش کا مستحق ٹھہرا، چنانچہ اس نے کہا: ان کو دو قسموں میں تقسیم کر دوں گا۔ ﴿ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ ﴾ ’’جس نے ظلم کیا‘‘ یعنی کفر کیا۔ ﴿ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَيُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكۡرًا ﴾ ’’سو ہم اس کو سزا دیں گے، پھر لوٹ جائے گا وہ رب کے پاس، پس وہ عذاب دے گا اس کو برا عذاب‘‘ یعنی اسے دو سزائیں ملیں گی، ایک سزا اس دنیا میں اور ایک سزا آخرت میں ۔
[88]﴿ وَاَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَؔ اِ۟ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور جو کوئی ایمان لایا اور کیا اس نے بھلا کام، سو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔‘‘ یعنی اس کو جزا کے طور پر قیامت کے دن جنت عطا ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے احوال سے نوازا جائے گا۔ ﴿ وَسَنَقُوۡلُ لَهٗ مِنۡ اَمۡرِنَا يُسۡرًا﴾ ’’اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی کا‘‘ یعنی ہم اس سے اچھا سلوک کریں گے، ہم اس سے نرم بات اور آسان معاملہ کریں گے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذوالقرنین نیک بادشاہوں ، اولیائے صالحین اور عدل کرنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی موافقت کرتے ہوئے ہر شخص کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کے وہ لائق تھا۔
18:88وَأَمَّا مَنۡ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَلَهُۥ جَزَآءً ٱلۡحُسۡنَىٰۖ وَسَنَقُولُ لَهُۥ مِنۡ أَمۡرِنَا يُسۡرٗا
اور وہ (یہودی) پوچھتے ہیں آپ سے ذوالقرنین کی بابت، کہہ دیجیے! عنقریب پڑھوں گا میں تم پر اس کا کچھ ذکر (83) بلاشبہ ہم نے قدرت دی تھی اسے زمین میں اوردیا تھاہم نے اسے ہر چیز (قسم) سے سازوسامان (84) پس پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (85) یہاں تک کہ جب پہنچا وہ جائے غروب پر سورج کی تواس نے پایا اس کو کہ وہ غروب ہو رہا ہے ایک چشمے میں سیاہ کیچڑ کے اور پائی اس نے نزدیک اس (چشمے) کے ایک قوم، کہا ہم نے، اے ذوالقرنین! یا تو یہ کہ تو سزا دے اور یا یہ کہ اختیار کرے تو ان کی بابت اچھائی (86) اس نے کہا لیکن جو شخص ظالم ہے تو عنقریب ہم سزا دیں گے اس، پھر وہ لوٹا دیا جائے گا اپنے رب کی طرف، پس و ہ عذاب دے گا اسے عذاب سخت (87) اور لیکن وہ شخص جو ایمان لایا اور عمل کیے نیک تو اس کے لیے ہے بدلہ اچھااور عنقریب ہم کہیں گے (حکم دیں گے) اسے اپنے کام سے آسانی والا (88)
[83] اہل کتاب تھے یا مشرکین انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : ﴿ سَاَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ مِّؔنۡهُ ذِكۡرًا﴾ ’’میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال‘‘ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے، یعنی میں تمھیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔
[85,84]﴿ اِنَّا مَكَّـنَّا لَهٗ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کے گوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ ﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ سَبَبًاۙ فَاَتۡبَعَ سَبَبًا﴾ ’’اور دیا ہم نے اس کو ہر چیز کا سامان پھر پیچھے پڑا وہ ایک سامان کے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے وہ تمام اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے وہ ہر اس جگہ پہنچا جہاں وہ پہنچنا چاہتا تھا، جن کے ذریعے سے اس نے شہروں پر غلبہ حاصل کیا اور نہایت سہولت کے ساتھ دور دراز علاقوں تک پہنچ گیا۔ اس نے وہ تمام اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے بہتر طریقے سے استعمال کیے۔ پس ہر شخص کو اسباب مہیا نہیں ہوتے اور نہ ہر شخص اسباب مہیا کرنے کی قدرت ہی رکھتا ہے۔ پس جب سبب حقیقی اور اس کو عمل میں لانے کی قدرت یکجا ہو جائے تو مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور اگر دونوں یا کوئی ایک معدوم ہو تو مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اور وہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیے تھے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ فرمایا نہ اس کے رسولﷺ نے اور نہ اس بارے میں کوئی ایسی اخبار منقول ہیں جو افادہ علم کی موجب ہوں ، اس لیے اس بارے میں سکوت اور ان اسرائیلیات کی طرف عدم التفات کے سوا کوئی چارہ نہیں جن کو ناقلین روایت کرتے ہیں ۔ مگر ہم اجمالی طور پر یہ ضرور جانتے ہیں کہ داخلی اور خارجی طور پر یہ اسباب نہایت قوی تھے جن کی بنا پر اس کے پاس ایک عظیم فوج تیار ہو گئی تھی جو اپنی عددی قوت، سامان حرب اور نظم کے اعتبار سے ایک بہت بڑی فوج تھی۔ اس فوج کی مدد سے اس نے اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کیا اور زمین کے مشرق و مغرب اور اس کے دور دراز گوشوں تک پہنچنے کی سہولت حاصل ہوئی۔
[86] پس اللہ تعالیٰ نے اسے وہ اسباب عطا کیے جن کے ذریعے سے وہ غروب آفتاب کی حد تک پہنچ گیا جہاں اس نے چشمے میں سورج کا عکس دیکھا گویا کہ وہ گدلے یعنی سیاہ پانی میں ڈوب رہا تھا۔ یہ منظر اس شخص کے لیے عام ہے، جس کے اور مغربی افق کے درمیان پانی ہو۔ اسے ایسے نظر آئے گا گویا سورج پانی کے اندر غروب ہو رہا ہے۔ اگرچہ وہ بہت بلندی پر ہو۔ اور مغرب کی سمت میں ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔ ﴿ قُلۡنَا يٰذَا الۡقَرۡنَيۡنِ اِمَّاۤ اَنۡ تُعَذِّبَ وَاِمَّاۤ اَنۡ تَتَّؔخِذَ فِيۡهِمۡ حُسۡنًا ﴾ ’’ہم نے کہا: اے ذوالقرنین! یا تو لوگوں کو تکلیف دے یا ان میں (اپنی بابت) خوبی رکھ‘‘ یعنی خواہ تو ان کو قتل و ضرب یا قیدی بنا کر عذاب میں مبتلا کر یا ان پر احسان کر۔ ذوالقرنین کو ان دو امور میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا تھا کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ کفار یا فساق کی قوم تھی یا ان میں کچھ کفر اور فسق موجود تھا کیونکہ اگر وہ غیر فاسق مومن ہوتے تو ان کو عذاب دینے کی اجازت نہ دی جاتی۔
[87] پس ذوالقرنین کو سیاست شرعیہ کا کچھ حصہ ملا تھا، جس کے ذریعے سے اس نے اللہ کی توفیق سے ایسے کام کیے جن پر وہ مدح وستائش کا مستحق ٹھہرا، چنانچہ اس نے کہا: ان کو دو قسموں میں تقسیم کر دوں گا۔ ﴿ اَمَّا مَنۡ ظَلَمَ ﴾ ’’جس نے ظلم کیا‘‘ یعنی کفر کیا۔ ﴿ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَيُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكۡرًا ﴾ ’’سو ہم اس کو سزا دیں گے، پھر لوٹ جائے گا وہ رب کے پاس، پس وہ عذاب دے گا اس کو برا عذاب‘‘ یعنی اسے دو سزائیں ملیں گی، ایک سزا اس دنیا میں اور ایک سزا آخرت میں ۔
[88]﴿ وَاَمَّا مَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَؔ اِ۟ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور جو کوئی ایمان لایا اور کیا اس نے بھلا کام، سو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔‘‘ یعنی اس کو جزا کے طور پر قیامت کے دن جنت عطا ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے احوال سے نوازا جائے گا۔ ﴿ وَسَنَقُوۡلُ لَهٗ مِنۡ اَمۡرِنَا يُسۡرًا﴾ ’’اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی کا‘‘ یعنی ہم اس سے اچھا سلوک کریں گے، ہم اس سے نرم بات اور آسان معاملہ کریں گے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذوالقرنین نیک بادشاہوں ، اولیائے صالحین اور عدل کرنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی موافقت کرتے ہوئے ہر شخص کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کے وہ لائق تھا۔
18:89پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
18:90حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ مَطۡلِعَ ٱلشَّمۡسِ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلَىٰ قَوۡمٖ لَّمۡ نَجۡعَل لَّهُم مِّن دُونِهَا سِتۡرٗا
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
18:91كَذَٰلِكَۖ وَقَدۡ أَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرٗا
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
18:92پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
18:93حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ بَيۡنَ ٱلسَّدَّيۡنِ وَجَدَ مِن دُونِهِمَا قَوۡمٗا لَّا يَكَادُونَ يَفۡقَهُونَ قَوۡلٗا
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
18:94قَالُواْ يَٰذَا ٱلۡقَرۡنَيۡنِ إِنَّ يَأۡجُوجَ وَمَأۡجُوجَ مُفۡسِدُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا عَلَىٰٓ أَن تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدّٗا
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
18:95قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيۡرٞ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
18:96ءَاتُونِي زُبَرَ ٱلۡحَدِيدِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا سَاوَىٰ بَيۡنَ ٱلصَّدَفَيۡنِ قَالَ ٱنفُخُواْۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَعَلَهُۥ نَارٗا قَالَ ءَاتُونِيٓ أُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرٗا
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
18:97فَمَا ٱسۡطَٰعُوٓاْ أَن يَظۡهَرُوهُ وَمَا ٱسۡتَطَٰعُواْ لَهُۥ نَقۡبٗا
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
18:98قَالَ هَٰذَا رَحۡمَةٞ مِّن رَّبِّيۖ فَإِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّي جَعَلَهُۥ دَكَّآءَۖ وَكَانَ وَعۡدُ رَبِّي حَقّٗا
پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)
[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔
[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …
[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔
[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔
[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔
[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔
[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔
[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘
18:99۞وَتَرَكۡنَا بَعۡضَهُمۡ يَوۡمَئِذٖ يَمُوجُ فِي بَعۡضٖۖ وَنُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَجَمَعۡنَٰهُمۡ جَمۡعٗا
اور چھوڑیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن، وہ گھس جائیں گے بعض میں اور پھونکا جائے گا صور میں ، پھر جمع کریں گے ہم ان سب کو (99) اور سامنے لے آئیں گے ہم جہنم کو اس دن، کافروں کے روبرو (100)وہ لوگ کہ تھیں آنکھیں ان کی پردے میں میری یاد سےاور تھے وہ نہیں استطاعت رکھتے سننے کی (101)
[99]﴿ وَتَرَؔكۡنَا بَعۡضَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ يَّمُوۡجُ فِيۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’اور چھوڑ دیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن ایک دوسرے میں گھستے‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ ضمیر یاجوج وماجوج کی طرف لوٹتی ہو۔ جب وہ اپنے علاقوں سے نکل کر لوگوں پر حملہ آور ہوں گے تو اپنی کثرت اور تمام زمین پر پھیل جانے اور اس کو بھر دینے کی وجہ سے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتۡ يَاۡجُوۡجُ وَمَاۡجُوۡجُ وَهُمۡ مِّنۡ كُلِّ حَدَبٍ يَّنۡسِلُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍96) ’’یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ ہر بلند جگہ سے اتر پڑیں گے۔‘‘ اور یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر خلائق کی طرف لوٹتی ہو یہ کہ لوگ قیامت کے روز اکٹھے ہوں گے وہ بہت زیادہ ہوں گے اور اضطراب، ہول اور زلزلوں کی وجہ سے ایک دوسرے کو دھکم پیل کر رہے ہوں گے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ:﴿ وَّنُفِخَ فِي الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰهُمۡ جَمۡعًاۙ وَّعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ عَرۡضَا ِ۟ ۰۰الَّذِيۡنَ كَانَتۡ اَعۡيُنُهُمۡ فِيۡ غِطَآءٍ عَنۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكَانُوۡا لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَمۡعًا ﴾ یعنی جب اسرافیلu صور پھونکیں گے تو اللہ تعالیٰ تمام ارواح کو جسموں میں واپس لوٹا دے گا، پھر تمام اولین و آخرین، کفار اور مومنین کو اکٹھا کر کے میدان قیامت میں جمع کرے گا تاکہ ان سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے، ان کا محاسبہ کیا جائے اور ان کے اعمال کی جزا دی جائے۔
[100] پس کفار کو، ان کے کفر کے مطابق، جہنم میں ڈالا جائے گا جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَّعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ عَرۡضًا﴾ ’’اور دکھلا دیں گے ہم جہنم اس دن کافروں کو سامنے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ لِلۡغٰوِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍91) ’’اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لایا جائے گا۔‘‘ یعنی کفار کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ یہ ان کا ٹھکانا بنے اور تاکہ کفار جہنم کی بیڑیوں اس کی بھڑکتی ہوئی آگ، اس کے ابلتے ہوئے پانی اور اس کی ناقابل برداشت سردی سے متمتع ہوں اور اس کے عذاب کا مزا چکھیں جس سے دل گونگے اور کان بہرے ہو جائیں گے۔
[101] یہ ان کے اعمال کا نتیجہ اور ان کے افعال کی جزا ہے۔یہ لوگ دنیا میں اس حال میں تھے: ﴿ كَانَتۡ اَعۡيُنُهُمۡ فِيۡ غِطَآءٍ عَنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا میری یاد سے‘‘ یعنی یہ لوگ ذکر حکیم اور قرآن کریم سے روگردانی کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَ كِنَّةٍ مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾(حمٓ السجدۃ:41؍5) ’’جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں ۔‘‘ اور ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کی فائدہ مند نشانیوں کو دیکھنے سے روکتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلٰۤى اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ ﴾(البقرۃ:2؍7) ’’اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔‘‘ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَمۡعًا ﴾ ’’اور وہ نہیں طاقت رکھتے تھے سننے کی‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو، جو ایمان تک پہنچاتی ہیں ، قرآن اور رسول (ﷺ) کے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے سن نہیں سکتے کیونکہ بغض رکھنے والا شخص جس کے خلاف بغض رکھتا ہے اس کی بات کو غور سے سن نہیں سکتا۔ جب وہ علم اور بھلائی کے راستوں سے محجوب ہو جاتے ہیں تب ان کے پاس سننے کے لیے کان ہوتے ہیں نہ دیکھنے کے لیے آنکھیں اور نہ سمجھنے کے لیے عقل نافع۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کفر کیا، اس کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا، اس لیے وہ جہنم کے مستحق ٹھہرے جو بہت برا ٹھکانا ہے۔
18:100وَعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡكَٰفِرِينَ عَرۡضًا
اور چھوڑیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن، وہ گھس جائیں گے بعض میں اور پھونکا جائے گا صور میں ، پھر جمع کریں گے ہم ان سب کو (99) اور سامنے لے آئیں گے ہم جہنم کو اس دن، کافروں کے روبرو (100)وہ لوگ کہ تھیں آنکھیں ان کی پردے میں میری یاد سےاور تھے وہ نہیں استطاعت رکھتے سننے کی (101)
[99]﴿ وَتَرَؔكۡنَا بَعۡضَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ يَّمُوۡجُ فِيۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’اور چھوڑ دیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن ایک دوسرے میں گھستے‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ ضمیر یاجوج وماجوج کی طرف لوٹتی ہو۔ جب وہ اپنے علاقوں سے نکل کر لوگوں پر حملہ آور ہوں گے تو اپنی کثرت اور تمام زمین پر پھیل جانے اور اس کو بھر دینے کی وجہ سے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتۡ يَاۡجُوۡجُ وَمَاۡجُوۡجُ وَهُمۡ مِّنۡ كُلِّ حَدَبٍ يَّنۡسِلُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍96) ’’یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ ہر بلند جگہ سے اتر پڑیں گے۔‘‘ اور یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر خلائق کی طرف لوٹتی ہو یہ کہ لوگ قیامت کے روز اکٹھے ہوں گے وہ بہت زیادہ ہوں گے اور اضطراب، ہول اور زلزلوں کی وجہ سے ایک دوسرے کو دھکم پیل کر رہے ہوں گے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ:﴿ وَّنُفِخَ فِي الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰهُمۡ جَمۡعًاۙ وَّعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ عَرۡضَا ِ۟ ۰۰الَّذِيۡنَ كَانَتۡ اَعۡيُنُهُمۡ فِيۡ غِطَآءٍ عَنۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكَانُوۡا لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَمۡعًا ﴾ یعنی جب اسرافیلu صور پھونکیں گے تو اللہ تعالیٰ تمام ارواح کو جسموں میں واپس لوٹا دے گا، پھر تمام اولین و آخرین، کفار اور مومنین کو اکٹھا کر کے میدان قیامت میں جمع کرے گا تاکہ ان سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے، ان کا محاسبہ کیا جائے اور ان کے اعمال کی جزا دی جائے۔
[100] پس کفار کو، ان کے کفر کے مطابق، جہنم میں ڈالا جائے گا جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَّعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ عَرۡضًا﴾ ’’اور دکھلا دیں گے ہم جہنم اس دن کافروں کو سامنے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ لِلۡغٰوِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍91) ’’اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لایا جائے گا۔‘‘ یعنی کفار کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ یہ ان کا ٹھکانا بنے اور تاکہ کفار جہنم کی بیڑیوں اس کی بھڑکتی ہوئی آگ، اس کے ابلتے ہوئے پانی اور اس کی ناقابل برداشت سردی سے متمتع ہوں اور اس کے عذاب کا مزا چکھیں جس سے دل گونگے اور کان بہرے ہو جائیں گے۔
[101] یہ ان کے اعمال کا نتیجہ اور ان کے افعال کی جزا ہے۔یہ لوگ دنیا میں اس حال میں تھے: ﴿ كَانَتۡ اَعۡيُنُهُمۡ فِيۡ غِطَآءٍ عَنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا میری یاد سے‘‘ یعنی یہ لوگ ذکر حکیم اور قرآن کریم سے روگردانی کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَ كِنَّةٍ مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾(حمٓ السجدۃ:41؍5) ’’جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں ۔‘‘ اور ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کی فائدہ مند نشانیوں کو دیکھنے سے روکتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلٰۤى اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ ﴾(البقرۃ:2؍7) ’’اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔‘‘ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَمۡعًا ﴾ ’’اور وہ نہیں طاقت رکھتے تھے سننے کی‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو، جو ایمان تک پہنچاتی ہیں ، قرآن اور رسول (ﷺ) کے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے سن نہیں سکتے کیونکہ بغض رکھنے والا شخص جس کے خلاف بغض رکھتا ہے اس کی بات کو غور سے سن نہیں سکتا۔ جب وہ علم اور بھلائی کے راستوں سے محجوب ہو جاتے ہیں تب ان کے پاس سننے کے لیے کان ہوتے ہیں نہ دیکھنے کے لیے آنکھیں اور نہ سمجھنے کے لیے عقل نافع۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کفر کیا، اس کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا، اس لیے وہ جہنم کے مستحق ٹھہرے جو بہت برا ٹھکانا ہے۔
18:101ٱلَّذِينَ كَانَتۡ أَعۡيُنُهُمۡ فِي غِطَآءٍ عَن ذِكۡرِي وَكَانُواْ لَا يَسۡتَطِيعُونَ سَمۡعًا
اور چھوڑیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن، وہ گھس جائیں گے بعض میں اور پھونکا جائے گا صور میں ، پھر جمع کریں گے ہم ان سب کو (99) اور سامنے لے آئیں گے ہم جہنم کو اس دن، کافروں کے روبرو (100)وہ لوگ کہ تھیں آنکھیں ان کی پردے میں میری یاد سےاور تھے وہ نہیں استطاعت رکھتے سننے کی (101)
[99]﴿ وَتَرَؔكۡنَا بَعۡضَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ يَّمُوۡجُ فِيۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’اور چھوڑ دیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن ایک دوسرے میں گھستے‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ ضمیر یاجوج وماجوج کی طرف لوٹتی ہو۔ جب وہ اپنے علاقوں سے نکل کر لوگوں پر حملہ آور ہوں گے تو اپنی کثرت اور تمام زمین پر پھیل جانے اور اس کو بھر دینے کی وجہ سے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتۡ يَاۡجُوۡجُ وَمَاۡجُوۡجُ وَهُمۡ مِّنۡ كُلِّ حَدَبٍ يَّنۡسِلُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍96) ’’یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ ہر بلند جگہ سے اتر پڑیں گے۔‘‘ اور یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر خلائق کی طرف لوٹتی ہو یہ کہ لوگ قیامت کے روز اکٹھے ہوں گے وہ بہت زیادہ ہوں گے اور اضطراب، ہول اور زلزلوں کی وجہ سے ایک دوسرے کو دھکم پیل کر رہے ہوں گے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ:﴿ وَّنُفِخَ فِي الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰهُمۡ جَمۡعًاۙ وَّعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ عَرۡضَا ِ۟ ۰۰الَّذِيۡنَ كَانَتۡ اَعۡيُنُهُمۡ فِيۡ غِطَآءٍ عَنۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكَانُوۡا لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَمۡعًا ﴾ یعنی جب اسرافیلu صور پھونکیں گے تو اللہ تعالیٰ تمام ارواح کو جسموں میں واپس لوٹا دے گا، پھر تمام اولین و آخرین، کفار اور مومنین کو اکٹھا کر کے میدان قیامت میں جمع کرے گا تاکہ ان سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے، ان کا محاسبہ کیا جائے اور ان کے اعمال کی جزا دی جائے۔
[100] پس کفار کو، ان کے کفر کے مطابق، جہنم میں ڈالا جائے گا جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَّعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ عَرۡضًا﴾ ’’اور دکھلا دیں گے ہم جہنم اس دن کافروں کو سامنے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ لِلۡغٰوِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍91) ’’اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لایا جائے گا۔‘‘ یعنی کفار کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ یہ ان کا ٹھکانا بنے اور تاکہ کفار جہنم کی بیڑیوں اس کی بھڑکتی ہوئی آگ، اس کے ابلتے ہوئے پانی اور اس کی ناقابل برداشت سردی سے متمتع ہوں اور اس کے عذاب کا مزا چکھیں جس سے دل گونگے اور کان بہرے ہو جائیں گے۔
[101] یہ ان کے اعمال کا نتیجہ اور ان کے افعال کی جزا ہے۔یہ لوگ دنیا میں اس حال میں تھے: ﴿ كَانَتۡ اَعۡيُنُهُمۡ فِيۡ غِطَآءٍ عَنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا میری یاد سے‘‘ یعنی یہ لوگ ذکر حکیم اور قرآن کریم سے روگردانی کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَ كِنَّةٍ مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾(حمٓ السجدۃ:41؍5) ’’جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں ۔‘‘ اور ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کی فائدہ مند نشانیوں کو دیکھنے سے روکتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلٰۤى اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ ﴾(البقرۃ:2؍7) ’’اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔‘‘ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَمۡعًا ﴾ ’’اور وہ نہیں طاقت رکھتے تھے سننے کی‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو، جو ایمان تک پہنچاتی ہیں ، قرآن اور رسول (ﷺ) کے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے سن نہیں سکتے کیونکہ بغض رکھنے والا شخص جس کے خلاف بغض رکھتا ہے اس کی بات کو غور سے سن نہیں سکتا۔ جب وہ علم اور بھلائی کے راستوں سے محجوب ہو جاتے ہیں تب ان کے پاس سننے کے لیے کان ہوتے ہیں نہ دیکھنے کے لیے آنکھیں اور نہ سمجھنے کے لیے عقل نافع۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کفر کیا، اس کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا، اس لیے وہ جہنم کے مستحق ٹھہرے جو بہت برا ٹھکانا ہے۔
18:102أَفَحَسِبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَن يَتَّخِذُواْ عِبَادِي مِن دُونِيٓ أَوۡلِيَآءَۚ إِنَّآ أَعۡتَدۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكَٰفِرِينَ نُزُلٗا
کیا پس گمان کیا ہے ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، یہ کہ ٹھہرائیں وہ میرے بندوں کو، سوائے میرے، کارساز؟ بلاشبہ ہم نے تیار کیا ہے جہنم کو کافروں کے لیے بطور مہمانی (102)
[102] یہ مشرکین اور کافروں کے دعوے کے بطلان کی دلیل ہے جنھوں نے بعض انبیائے کرام اور اولیاء اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیا، وہ ان کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ اولیائے کرام ان کے مددگار ہوں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلائیں گے اور ثواب عطا کریں گے، حالانکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں سے کفر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ استفہام اور انکار کے پیرائے میں ، جس سے ان کے اس عقیدے کا عقلی طور پر بطلان متحقق ہوتا ہے… فرماتا ہے:﴿ اَفَحَسِبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنۡ يَّؔتَّؔخِذُوۡا عِبَادِيۡ مِنۡ دُوۡنِيۡۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’کیا سمجھتے ہیں کافر لوگ کہ ٹھہرائیں میرے بندوں کو میرے سوا دوست‘‘ یعنی ایسا نہیں ہو سکتا اور کوئی ولی اللہ، اللہ تعالیٰ کے کسی دشمن کو اپنا دوست نہیں بنا سکتا کیونکہ تمام اولیاء اللہ، اللہ تعالیٰ سے محبت، اس کی رضا، اس کی ناراضی اور اس کے بغض کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی موافقت کرتے ہیں ۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، اس کے اس ارشاد کے مشابہہ ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ۰۰ قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ ﴾(سبا:34؍40-41) ’’جس روز اللہ تمام لوگوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے (ان مشرکین کے متعلق) پوچھے گا کیا یہی وہ لوگ ہیں جو تمھاری عبادت کیا کرتے تھے؟ تو وہ جواب میں عرض کریں گے تو پاک ہے ان کی بجائے تو ہمارا ولی (دوست) ہے۔‘‘ پس جو کوئی اس زعم میں مبتلا ہے کہ اس نے ولی اللہ کو اپنا دوست بنا لیا ہے جبکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے۔ تو وہ سخت جھوٹا ہے … ظاہر میں اس آیت میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ کیا کفار نے، جو اللہ تعالیٰ کے منکر اور اس کے رسولوں کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں یہ گمان کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا ولی و مددگار بنا لیں گے جو ان کی مدد کریں گے، ان کو فائدہ پہنچائیں گے اور ان سے تکلیفوں کو دور کریں گے؟ یہ ان کا باطل خیال اور فاسد گمان ہے کیونکہ مخلوق میں سے کسی کے قبضہء قدرت میں نفع ونقصان نہیں ۔ یہ معنیٰ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے مشابہت رکھتا ہے۔ ﴿ قُلِ ادۡعُوا الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ فَلَا يَمۡلِكُوۡنَ كَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡكُمۡ وَلَا تَحۡوِيۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍56) ’’کہہ دیجیے کہ تم پکار دیکھو اپنے ان خود ساختہ معبودوں کو جن کو تم اللہ کے سوا کارساز سمجھتے ہو تو (یاد رکھو) وہ تمھاری تکلیف دور کرنے کی قدرت رکھتے ہیں نہ بدلنے کی۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مشابہہ ہے۔ ﴿ وَلَا يَمۡلِكُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الشَّفَاعَةَ ﴾(الزخرف:43؍86) ’’وہ لوگ جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ، سفارش کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔‘‘ اور اس قسم کی دیگر آیات جن میں اللہ تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی کو ولی و مددگار بناتا ہے تاکہ وہ اس کی مدد کرے اور اس سے موالات رکھے وہ گمراہ ہے، وہ خائب و خاسر ہے اس کی امید پوری نہیں ہو گی اور نہ وہ اپنے مقصد کو پا سکے گا۔ ﴿ اِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ نُزُلًا ﴾ ’’بے شک ہم نے تیار کیا ہے جہنم کو کافروں کی مہمانی کے لیے۔‘‘ یعنی ہم نے کفار کی ضیافت اور مہمانی کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ پس کیا بدترین قیام گاہ ان کا مسکن ہے اور کیا بدترین جہنم ان کی مہمانی ہے!
18:103قُلۡ هَلۡ نُنَبِّئُكُم بِٱلۡأَخۡسَرِينَ أَعۡمَٰلًا
کہہ دیجیے! کیا ہم خبردیں تمھیں زیادہ خسارہ پانے والوں کی عملوں کے اعتبار سے؟ (103) وہ لوگ ضائع ہوگئی کوشش ان کی زندگانیٔ دنیا میں ، جبکہ وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ اچھا کر رہے ہیں کام (104) یہی لوگ ہیں جنھوں نے انکار کیا آیات کا اپنے رب کی اور اس کی ملاقات کا، پس برباد ہو گئے عمل ان کے، سو نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے دن قیامت کے کوئی وزن (105) یہ، سزا ان کی جہنم ہے بوجہ اس کے کفر کیا انھوں نےاور بنایا انھوں نے میری آیتوں کو اور میرے رسولوں کو ٹھٹھا (106)
[103] اے محمد!(ﷺ) لوگوں کو ڈرانے کے لیے کہہ دیجیے ! کیا میں تمھیں اس شخص کے بارے میں آگاہ کروں جو علی الاطلاق، اپنے اعمال میں سب سے زیادہ خائب و خاسر ہے؟
[104]﴿اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’وہ لوگ جن کی کوششیں رائیگاں گئیں دنیا کی زندگی میں ۔‘‘ یعنی انھوں نے جو بھی عمل کیا سب باطل ہو کر رائیگاں گیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں ۔ تب ان اعمال کا کیا حال ہو گا جن کے بارے میں وہ خود بھی جانتے ہیں کہ یہ باطل ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت ہے؟
[105] پس یہ کون لوگ ہیں جن کے اعمال رائیگاں گئے، جو قیامت کے روز خود اور ان کے اہل و عیال سب خائب و خاسر ہوئے۔ آگاہ رہو، یہ تو کھلا خسارہ ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ وَلِقَآىِٕهٖ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا‘‘ یعنی جنھوں نے آیات قرآنی اور آیات عیانی، جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں اور یوم آخرت پر ایمان کی موجب ہیں … کا انکار کیا ﴿ فَحَبِطَتۡ ﴾ ’’پس برباد ہو گئے‘‘ اس انکار کے باعث ﴿ اَعۡمَالُهُمۡ فَلَا نُقِيۡمُ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَزۡنًا ﴾ ’’ان کے عمل، پس نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے قیامت کے روز کوئی تول۔‘‘ وزن کا فائدہ تو نیکیوں اور برائیوں کے مقابلے کے وقت ہوتا ہے تاکہ راجح اور مرجوح کو دیکھا جا سکے اور ان لوگوں کے پاس تو نیکیاں سرے سے ہیں ہی نہیں کیونکہ ان میں نیکیوں کے معتبر ہونے کی شرط معدوم ہے اور وہ ہے ایمان۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا وَّلَا هَضۡمًا﴾(طٰہ:20؍112) ’’جو کوئی نیک عمل کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو اسے کسی ظلم اور حق تلفی کا خوف نہ ہو گا۔‘‘ لیکن ان کے اعمال کو شمار کیا جائے گا اور وہ اپنے اعمال کا اقرار کریں گے اور وہ گواہوں کے سامنے ذلیل و رسوا ہوں گے اور پھر ان اعمال کی پاداش میں انھیں عذاب دیا جائے گا۔
[106] اس لیے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمۡ﴾ ’’یہ بدلہ ہے ان کا‘‘ یعنی ان کے اعمال کا ضائع جانا ان کے کرتوتوں کا بدلہ ہے، قیامت کے روز ان کی حقارت اور خساست کی وجہ سے ان کے اعمال کا کوئی وزن ہی نہیں ہو گا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ استہزا کیا اور ان کا تمسخر اڑایا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں پر کامل طور پر ایمان لانا، ان آیات کی تعظیم کرنا اور انھیں پوری طرح قائم کرنا فرض ہے۔ مگر اس قضیے میں ان کا عمل اس کے برعکس ہے اس لیے وہ ہلاک ہوئے اور اوندھے منہ جہنم میں جا گرے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار اور ان کے اعمال کا انجام کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان اور ان کے اعمال کا انجام ذکر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:
18:104ٱلَّذِينَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُمۡ يَحۡسَبُونَ أَنَّهُمۡ يُحۡسِنُونَ صُنۡعًا
کہہ دیجیے! کیا ہم خبردیں تمھیں زیادہ خسارہ پانے والوں کی عملوں کے اعتبار سے؟ (103) وہ لوگ ضائع ہوگئی کوشش ان کی زندگانیٔ دنیا میں ، جبکہ وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ اچھا کر رہے ہیں کام (104) یہی لوگ ہیں جنھوں نے انکار کیا آیات کا اپنے رب کی اور اس کی ملاقات کا، پس برباد ہو گئے عمل ان کے، سو نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے دن قیامت کے کوئی وزن (105) یہ، سزا ان کی جہنم ہے بوجہ اس کے کفر کیا انھوں نےاور بنایا انھوں نے میری آیتوں کو اور میرے رسولوں کو ٹھٹھا (106)
[103] اے محمد!(ﷺ) لوگوں کو ڈرانے کے لیے کہہ دیجیے ! کیا میں تمھیں اس شخص کے بارے میں آگاہ کروں جو علی الاطلاق، اپنے اعمال میں سب سے زیادہ خائب و خاسر ہے؟
[104]﴿اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’وہ لوگ جن کی کوششیں رائیگاں گئیں دنیا کی زندگی میں ۔‘‘ یعنی انھوں نے جو بھی عمل کیا سب باطل ہو کر رائیگاں گیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں ۔ تب ان اعمال کا کیا حال ہو گا جن کے بارے میں وہ خود بھی جانتے ہیں کہ یہ باطل ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت ہے؟
[105] پس یہ کون لوگ ہیں جن کے اعمال رائیگاں گئے، جو قیامت کے روز خود اور ان کے اہل و عیال سب خائب و خاسر ہوئے۔ آگاہ رہو، یہ تو کھلا خسارہ ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ وَلِقَآىِٕهٖ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا‘‘ یعنی جنھوں نے آیات قرآنی اور آیات عیانی، جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں اور یوم آخرت پر ایمان کی موجب ہیں … کا انکار کیا ﴿ فَحَبِطَتۡ ﴾ ’’پس برباد ہو گئے‘‘ اس انکار کے باعث ﴿ اَعۡمَالُهُمۡ فَلَا نُقِيۡمُ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَزۡنًا ﴾ ’’ان کے عمل، پس نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے قیامت کے روز کوئی تول۔‘‘ وزن کا فائدہ تو نیکیوں اور برائیوں کے مقابلے کے وقت ہوتا ہے تاکہ راجح اور مرجوح کو دیکھا جا سکے اور ان لوگوں کے پاس تو نیکیاں سرے سے ہیں ہی نہیں کیونکہ ان میں نیکیوں کے معتبر ہونے کی شرط معدوم ہے اور وہ ہے ایمان۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا وَّلَا هَضۡمًا﴾(طٰہ:20؍112) ’’جو کوئی نیک عمل کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو اسے کسی ظلم اور حق تلفی کا خوف نہ ہو گا۔‘‘ لیکن ان کے اعمال کو شمار کیا جائے گا اور وہ اپنے اعمال کا اقرار کریں گے اور وہ گواہوں کے سامنے ذلیل و رسوا ہوں گے اور پھر ان اعمال کی پاداش میں انھیں عذاب دیا جائے گا۔
[106] اس لیے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمۡ﴾ ’’یہ بدلہ ہے ان کا‘‘ یعنی ان کے اعمال کا ضائع جانا ان کے کرتوتوں کا بدلہ ہے، قیامت کے روز ان کی حقارت اور خساست کی وجہ سے ان کے اعمال کا کوئی وزن ہی نہیں ہو گا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ استہزا کیا اور ان کا تمسخر اڑایا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں پر کامل طور پر ایمان لانا، ان آیات کی تعظیم کرنا اور انھیں پوری طرح قائم کرنا فرض ہے۔ مگر اس قضیے میں ان کا عمل اس کے برعکس ہے اس لیے وہ ہلاک ہوئے اور اوندھے منہ جہنم میں جا گرے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار اور ان کے اعمال کا انجام کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان اور ان کے اعمال کا انجام ذکر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:
18:105أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ وَلِقَآئِهِۦ فَحَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ فَلَا نُقِيمُ لَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَزۡنٗا
کہہ دیجیے! کیا ہم خبردیں تمھیں زیادہ خسارہ پانے والوں کی عملوں کے اعتبار سے؟ (103) وہ لوگ ضائع ہوگئی کوشش ان کی زندگانیٔ دنیا میں ، جبکہ وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ اچھا کر رہے ہیں کام (104) یہی لوگ ہیں جنھوں نے انکار کیا آیات کا اپنے رب کی اور اس کی ملاقات کا، پس برباد ہو گئے عمل ان کے، سو نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے دن قیامت کے کوئی وزن (105) یہ، سزا ان کی جہنم ہے بوجہ اس کے کفر کیا انھوں نےاور بنایا انھوں نے میری آیتوں کو اور میرے رسولوں کو ٹھٹھا (106)
[103] اے محمد!(ﷺ) لوگوں کو ڈرانے کے لیے کہہ دیجیے ! کیا میں تمھیں اس شخص کے بارے میں آگاہ کروں جو علی الاطلاق، اپنے اعمال میں سب سے زیادہ خائب و خاسر ہے؟
[104]﴿اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’وہ لوگ جن کی کوششیں رائیگاں گئیں دنیا کی زندگی میں ۔‘‘ یعنی انھوں نے جو بھی عمل کیا سب باطل ہو کر رائیگاں گیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں ۔ تب ان اعمال کا کیا حال ہو گا جن کے بارے میں وہ خود بھی جانتے ہیں کہ یہ باطل ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت ہے؟
[105] پس یہ کون لوگ ہیں جن کے اعمال رائیگاں گئے، جو قیامت کے روز خود اور ان کے اہل و عیال سب خائب و خاسر ہوئے۔ آگاہ رہو، یہ تو کھلا خسارہ ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ وَلِقَآىِٕهٖ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا‘‘ یعنی جنھوں نے آیات قرآنی اور آیات عیانی، جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں اور یوم آخرت پر ایمان کی موجب ہیں … کا انکار کیا ﴿ فَحَبِطَتۡ ﴾ ’’پس برباد ہو گئے‘‘ اس انکار کے باعث ﴿ اَعۡمَالُهُمۡ فَلَا نُقِيۡمُ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَزۡنًا ﴾ ’’ان کے عمل، پس نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے قیامت کے روز کوئی تول۔‘‘ وزن کا فائدہ تو نیکیوں اور برائیوں کے مقابلے کے وقت ہوتا ہے تاکہ راجح اور مرجوح کو دیکھا جا سکے اور ان لوگوں کے پاس تو نیکیاں سرے سے ہیں ہی نہیں کیونکہ ان میں نیکیوں کے معتبر ہونے کی شرط معدوم ہے اور وہ ہے ایمان۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا وَّلَا هَضۡمًا﴾(طٰہ:20؍112) ’’جو کوئی نیک عمل کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو اسے کسی ظلم اور حق تلفی کا خوف نہ ہو گا۔‘‘ لیکن ان کے اعمال کو شمار کیا جائے گا اور وہ اپنے اعمال کا اقرار کریں گے اور وہ گواہوں کے سامنے ذلیل و رسوا ہوں گے اور پھر ان اعمال کی پاداش میں انھیں عذاب دیا جائے گا۔
[106] اس لیے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمۡ﴾ ’’یہ بدلہ ہے ان کا‘‘ یعنی ان کے اعمال کا ضائع جانا ان کے کرتوتوں کا بدلہ ہے، قیامت کے روز ان کی حقارت اور خساست کی وجہ سے ان کے اعمال کا کوئی وزن ہی نہیں ہو گا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ استہزا کیا اور ان کا تمسخر اڑایا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں پر کامل طور پر ایمان لانا، ان آیات کی تعظیم کرنا اور انھیں پوری طرح قائم کرنا فرض ہے۔ مگر اس قضیے میں ان کا عمل اس کے برعکس ہے اس لیے وہ ہلاک ہوئے اور اوندھے منہ جہنم میں جا گرے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار اور ان کے اعمال کا انجام کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان اور ان کے اعمال کا انجام ذکر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:
18:106ذَٰلِكَ جَزَآؤُهُمۡ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُواْ وَٱتَّخَذُوٓاْ ءَايَٰتِي وَرُسُلِي هُزُوًا
کہہ دیجیے! کیا ہم خبردیں تمھیں زیادہ خسارہ پانے والوں کی عملوں کے اعتبار سے؟ (103) وہ لوگ ضائع ہوگئی کوشش ان کی زندگانیٔ دنیا میں ، جبکہ وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ اچھا کر رہے ہیں کام (104) یہی لوگ ہیں جنھوں نے انکار کیا آیات کا اپنے رب کی اور اس کی ملاقات کا، پس برباد ہو گئے عمل ان کے، سو نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے دن قیامت کے کوئی وزن (105) یہ، سزا ان کی جہنم ہے بوجہ اس کے کفر کیا انھوں نےاور بنایا انھوں نے میری آیتوں کو اور میرے رسولوں کو ٹھٹھا (106)
[103] اے محمد!(ﷺ) لوگوں کو ڈرانے کے لیے کہہ دیجیے ! کیا میں تمھیں اس شخص کے بارے میں آگاہ کروں جو علی الاطلاق، اپنے اعمال میں سب سے زیادہ خائب و خاسر ہے؟
[104]﴿اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’وہ لوگ جن کی کوششیں رائیگاں گئیں دنیا کی زندگی میں ۔‘‘ یعنی انھوں نے جو بھی عمل کیا سب باطل ہو کر رائیگاں گیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں ۔ تب ان اعمال کا کیا حال ہو گا جن کے بارے میں وہ خود بھی جانتے ہیں کہ یہ باطل ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت ہے؟
[105] پس یہ کون لوگ ہیں جن کے اعمال رائیگاں گئے، جو قیامت کے روز خود اور ان کے اہل و عیال سب خائب و خاسر ہوئے۔ آگاہ رہو، یہ تو کھلا خسارہ ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ وَلِقَآىِٕهٖ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا‘‘ یعنی جنھوں نے آیات قرآنی اور آیات عیانی، جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں اور یوم آخرت پر ایمان کی موجب ہیں … کا انکار کیا ﴿ فَحَبِطَتۡ ﴾ ’’پس برباد ہو گئے‘‘ اس انکار کے باعث ﴿ اَعۡمَالُهُمۡ فَلَا نُقِيۡمُ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَزۡنًا ﴾ ’’ان کے عمل، پس نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے قیامت کے روز کوئی تول۔‘‘ وزن کا فائدہ تو نیکیوں اور برائیوں کے مقابلے کے وقت ہوتا ہے تاکہ راجح اور مرجوح کو دیکھا جا سکے اور ان لوگوں کے پاس تو نیکیاں سرے سے ہیں ہی نہیں کیونکہ ان میں نیکیوں کے معتبر ہونے کی شرط معدوم ہے اور وہ ہے ایمان۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا وَّلَا هَضۡمًا﴾(طٰہ:20؍112) ’’جو کوئی نیک عمل کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو اسے کسی ظلم اور حق تلفی کا خوف نہ ہو گا۔‘‘ لیکن ان کے اعمال کو شمار کیا جائے گا اور وہ اپنے اعمال کا اقرار کریں گے اور وہ گواہوں کے سامنے ذلیل و رسوا ہوں گے اور پھر ان اعمال کی پاداش میں انھیں عذاب دیا جائے گا۔
[106] اس لیے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمۡ﴾ ’’یہ بدلہ ہے ان کا‘‘ یعنی ان کے اعمال کا ضائع جانا ان کے کرتوتوں کا بدلہ ہے، قیامت کے روز ان کی حقارت اور خساست کی وجہ سے ان کے اعمال کا کوئی وزن ہی نہیں ہو گا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ استہزا کیا اور ان کا تمسخر اڑایا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں پر کامل طور پر ایمان لانا، ان آیات کی تعظیم کرنا اور انھیں پوری طرح قائم کرنا فرض ہے۔ مگر اس قضیے میں ان کا عمل اس کے برعکس ہے اس لیے وہ ہلاک ہوئے اور اوندھے منہ جہنم میں جا گرے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار اور ان کے اعمال کا انجام کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان اور ان کے اعمال کا انجام ذکر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:
18:107إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنَّـٰتُ ٱلۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًا
بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ہوں گے ان کے لیے باغات فردوس کے بطور مہمانی کے (107) اس حال میں کہ وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ، نہیں چاہیں گے وہ اس سے جگہ بدلنا (108)
[107] یعنی جو اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے جوارح سے نیک عمل کیے اور یہ وصف تمام دین، یعنی اس کے عقائد و اعمال اور اس کے ظاہری اور باطنی اصول و فروع سب کو شامل ہے۔ تمام اہل ایمان کو، ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے مراتب کے مطابق، جنت فردوس کے مختلف طبقات عطا ہوں گے۔ ’’جنات الفرودس‘‘ میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ اس سے مراد جنت کا بلند ترین ، بہترین اور افضل درجہ ہو اور یہ ثواب ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کی تکمیل کی اور وہ ہیں انبیائے کرام اور مقربین۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے جنت کی تمام منازل اور اس کے تمام درجے مراد ہوں اور یہ ثواب جنت کے تمام طبقات، یعنی مقربین، ابرار اور متوسطین ان کے حسب حال سب کوشامل ہو اور یہی معنیٰ زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ معنی عام ہے، نیز اس لیے کہ جنت کو جمع کے لفظ کے ساتھ ’’فردوس‘‘ کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں فردوس کا اطلاق اس باغ پر ہوتا ہے جو انگور کی بیلوں اور گنجان درختوں پر مشتمل ہو تب یہ لفظ تمام جنت پر صادق آتا ہے۔ پس جنت فردوس ان لوگوں کے لیے مہمانی اور ضیافت کی جگہ ہے جنھوں نے ایمان لانے کے بعد نیک عمل کیے۔ اس ضیافت سے بڑی، زیادہ عظیم اور زیادہ جلیل القدر کون سی ضیافت ہو سکتی ہے جو قلب و روح اور بدن کے لیے ہر نعمت پر مشتمل ہے۔ اس میں ہر وہ نعمت موجود ہے جس کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، مثلاً:خوبصورت گھر، سرسبز باغات، پھل دار درخت، سحرانگیز گیت، گاتے ہوئے پرندے، لذید ماکولات و مشروبات، خوبصورت بیویاں ، خدمت گزار لڑکے، بہتی ہوئی نہریں ، دلکش مناظر، حسی اور معنوی حسن و جمال اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ۔ اس سے بھی افضل اور جلیل القدر نعمت، رحمٰن کا تقرب، اس کی رضا کا حصول جو کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار اور رؤف و رحیم کے کلام سے لطف اندوز ہونا … اللہ کی قسم! یہ ضیافت کتنی جلیل القدر کتنی خوبصورت، ہمیشہ رہنے والی اور کتنی کامل ہو گی۔ یہ ضیافت اس سے بہت بڑی ہے کہ مخلوق میں سے کوئی شخص اس کا وصف بیان کر سکے یا دلوں میں اس کے تصور کا گزر ہو سکے۔ اگر بندوں کو ان میں سے کچھ نعمتوں کا حقیقی علم حاصل ہو کر ان کے دلوں میں جاگزیں ہو جائے تو دل شوق سے اڑنے لگیں گے، جدائی کے درد سے روح لخت لخت ہو جائے گی اور بندے اکیلے اکیلے اور گروہ در گروہ اس کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔ وہ اس کے مقابلے میں دنیائے فانی اور اس کی ختم ہو جانے والی لذات کو کبھی بھی ترجیح نہیں دیں گے۔ وہ اپنے اوقات کو ضائع نہیں کریں گے کہ یہ اوقات خسارے اور ناکامی کا باعت بنیں کیونکہ اس جنت کا ایک لمحہ دنیا کی ہزاروں سال کی نعمتوں کے برابر ہے۔ مگر حقیقت حال یہ ہے کہ غفلت نے گھیر رکھا ہے، ایمان کمزور پڑ گیا اور ارادہ اضمحلال کا شکار ہو گیا ہے، پس اس کا نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا چاہیے تھا، فلاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم.
[108] اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ یہ تکمیل نعمت ہے۔ جنت میں کامل نعمتیں عطا ہوں گی اور ان نعمتوں کی تکمیل یہ ہے کہ وہ کبھی منقطع نہیں ہوں گی۔ ﴿ لَا يَبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا ﴾ ’’نہیں چاہیں گے وہ وہاں سے جگہ بدلنی‘‘ یعنی وہ ان نعمتوں سے منتقل ہونا نہیں چاہیں گے کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دیکھیں گے جو انھیں پسند آئے اور اچھی لگے، جس سے وہ خوش ہوں اور فرحت حاصل کریں اور اس سے بڑھ کر انھیں کوئی نعمت نظر نہیں آئے گی جس سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔
18:108خَٰلِدِينَ فِيهَا لَا يَبۡغُونَ عَنۡهَا حِوَلٗا
بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ہوں گے ان کے لیے باغات فردوس کے بطور مہمانی کے (107) اس حال میں کہ وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ، نہیں چاہیں گے وہ اس سے جگہ بدلنا (108)
[107] یعنی جو اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے جوارح سے نیک عمل کیے اور یہ وصف تمام دین، یعنی اس کے عقائد و اعمال اور اس کے ظاہری اور باطنی اصول و فروع سب کو شامل ہے۔ تمام اہل ایمان کو، ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے مراتب کے مطابق، جنت فردوس کے مختلف طبقات عطا ہوں گے۔ ’’جنات الفرودس‘‘ میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ اس سے مراد جنت کا بلند ترین ، بہترین اور افضل درجہ ہو اور یہ ثواب ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کی تکمیل کی اور وہ ہیں انبیائے کرام اور مقربین۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے جنت کی تمام منازل اور اس کے تمام درجے مراد ہوں اور یہ ثواب جنت کے تمام طبقات، یعنی مقربین، ابرار اور متوسطین ان کے حسب حال سب کوشامل ہو اور یہی معنیٰ زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ معنی عام ہے، نیز اس لیے کہ جنت کو جمع کے لفظ کے ساتھ ’’فردوس‘‘ کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں فردوس کا اطلاق اس باغ پر ہوتا ہے جو انگور کی بیلوں اور گنجان درختوں پر مشتمل ہو تب یہ لفظ تمام جنت پر صادق آتا ہے۔ پس جنت فردوس ان لوگوں کے لیے مہمانی اور ضیافت کی جگہ ہے جنھوں نے ایمان لانے کے بعد نیک عمل کیے۔ اس ضیافت سے بڑی، زیادہ عظیم اور زیادہ جلیل القدر کون سی ضیافت ہو سکتی ہے جو قلب و روح اور بدن کے لیے ہر نعمت پر مشتمل ہے۔ اس میں ہر وہ نعمت موجود ہے جس کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، مثلاً:خوبصورت گھر، سرسبز باغات، پھل دار درخت، سحرانگیز گیت، گاتے ہوئے پرندے، لذید ماکولات و مشروبات، خوبصورت بیویاں ، خدمت گزار لڑکے، بہتی ہوئی نہریں ، دلکش مناظر، حسی اور معنوی حسن و جمال اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ۔ اس سے بھی افضل اور جلیل القدر نعمت، رحمٰن کا تقرب، اس کی رضا کا حصول جو کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار اور رؤف و رحیم کے کلام سے لطف اندوز ہونا … اللہ کی قسم! یہ ضیافت کتنی جلیل القدر کتنی خوبصورت، ہمیشہ رہنے والی اور کتنی کامل ہو گی۔ یہ ضیافت اس سے بہت بڑی ہے کہ مخلوق میں سے کوئی شخص اس کا وصف بیان کر سکے یا دلوں میں اس کے تصور کا گزر ہو سکے۔ اگر بندوں کو ان میں سے کچھ نعمتوں کا حقیقی علم حاصل ہو کر ان کے دلوں میں جاگزیں ہو جائے تو دل شوق سے اڑنے لگیں گے، جدائی کے درد سے روح لخت لخت ہو جائے گی اور بندے اکیلے اکیلے اور گروہ در گروہ اس کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔ وہ اس کے مقابلے میں دنیائے فانی اور اس کی ختم ہو جانے والی لذات کو کبھی بھی ترجیح نہیں دیں گے۔ وہ اپنے اوقات کو ضائع نہیں کریں گے کہ یہ اوقات خسارے اور ناکامی کا باعت بنیں کیونکہ اس جنت کا ایک لمحہ دنیا کی ہزاروں سال کی نعمتوں کے برابر ہے۔ مگر حقیقت حال یہ ہے کہ غفلت نے گھیر رکھا ہے، ایمان کمزور پڑ گیا اور ارادہ اضمحلال کا شکار ہو گیا ہے، پس اس کا نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا چاہیے تھا، فلاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم.
[108] اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ یہ تکمیل نعمت ہے۔ جنت میں کامل نعمتیں عطا ہوں گی اور ان نعمتوں کی تکمیل یہ ہے کہ وہ کبھی منقطع نہیں ہوں گی۔ ﴿ لَا يَبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا ﴾ ’’نہیں چاہیں گے وہ وہاں سے جگہ بدلنی‘‘ یعنی وہ ان نعمتوں سے منتقل ہونا نہیں چاہیں گے کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دیکھیں گے جو انھیں پسند آئے اور اچھی لگے، جس سے وہ خوش ہوں اور فرحت حاصل کریں اور اس سے بڑھ کر انھیں کوئی نعمت نظر نہیں آئے گی جس سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔
18:109قُل لَّوۡ كَانَ ٱلۡبَحۡرُ مِدَادٗا لِّكَلِمَٰتِ رَبِّي لَنَفِدَ ٱلۡبَحۡرُ قَبۡلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَٰتُ رَبِّي وَلَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِهِۦ مَدَدٗا
کہہ دیجیے، اگر ہو جائے سمندر (کا پانی) سیاہی، باتیں لکھنے کے لیے میرے رب کی تو ا لبتہ ختم ہو جائے سمندر پہلے اس سے کہ ختم ہوں باتیں میرے رب کی، اگر چہ لے آئیں ہم مثل اس کے (اور) بطور مدد کے (109)
[109] یعنی انھیں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی لامحدود صفات کے متعلق آگاہ کر دیجیے، نیز ان سے یہ بھی کہہ دیجیے کہ بندے ان صفات کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتے۔ ﴿ لَّوۡ كَانَ الۡبَحۡرُ ﴾ ’’اگر ہوں سمندر‘‘ یعنی اس دنیا میں موجود تمام سمندر ﴿ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيۡ ﴾ ’’میرے رب کے کلمات لکھنے کے لیے روشنائی‘‘ یعنی روز اول سے لے کر آخرتک شہروں اور صحراؤں کے تمام درختوں کی قلمیں بن جائیں اور سمندر روشنائی میں تبدیل ہو جائیں ۔ ﴿ لَنَفِدَ الۡبَحۡرُ ﴾ تو سمندر ختم ہو جائیں گے اور قلم (لکھتے لکھتے گھس کر) ٹوٹ جائیں گے۔ ﴿ قَبۡلَ اَنۡ تَنۡفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پہلے اس کے کہ ختم ہوں میرے رب کی باتیں ‘‘ اور یہ بہت بڑی چیز ہے۔ مخلوق میں سے کوئی ہستی اس کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡ اَنَّ مَا فِي الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَةٍ اَقۡلَامٌؔ وَّالۡبَحۡرُ يَمُدُّهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ سَبۡعَةُ اَبۡحُرٍ مَّا نَفِدَتۡ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾(لقمان:31؍27) ’’زمین پر جتنے بھی درخت ہیں ، اگر وہ سب قلم بن جائیں ، سمندر، جیسے سات سمندر روشنائی مہیا کریں ، دوات بن جائیں تب بھی اللہ کی باتیں لکھتے لکھتے ختم نہ ہوں گی، بے شک اللہ غالب، حکمت والا ہے۔‘‘ یہ معانی کو ذہن کے قریب تر کرنے کا ایک اسلوب ہے کیونکہ یہ تمام اشیاء مخلوق ہیں اور تمام مخلوقات ختم ہونے والی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام اس کی جملہ صفات میں شمار ہوتا ہے اور اس کی صفات غیر مخلوق ہیں جن کی کوئی حدو انتہا نہیں ۔ پس جتنی بھی عظمتیں اور وسعتیں ہیں ، جن کا تصور دلوں میں آ سکتا ہے، اللہ تعالیٰ ان سب سے بڑھ کر ہے۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کی باقی صفات کامعاملہ ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ کا علم، اس کی حکمت، اس کی قدرت اور اس کی رحمت … اگر زمین اور آسمان کی مخلوق میں سے تمام اولین و آخرین کے علم کو اکٹھا کر لیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم کے مقابلے میں اتنا ہی قلیل ہے جتنا ایک چڑیا کی چونچ میں وہ پانی جو وہ ایک سمندر سے لیتی ہے۔ اس قطرہ آب کو جو نسبت عظیم سمندر سے ہے، وہی نسبت عام انسانوں کی صفت کو اللہ کی عظیم صفات سے ہے۔ یہ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ عظیم، لامحدود اور کامل صفات کا مالک ہے اور ہر چیز کی انتہا اللہ ہی کے پاس ہے۔
18:110قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡ يُوحَىٰٓ إِلَيَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۖ فَمَن كَانَ يَرۡجُواْ لِقَآءَ رَبِّهِۦ فَلۡيَعۡمَلۡ عَمَلٗا صَٰلِحٗا وَلَا يُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهِۦٓ أَحَدَۢا
(اے پیغمبر!) کہہ دیجیے، یقینا میں تو بشر ہوں تمھاری ہی طرح، وحی کی جاتی ہے میری طرف یہ کہ بلاشبہ تمھارا معبود، معبود ہے ایک ہی پس جو شخص ہے امید رکھتا ملاقات کی اپنے رب سے تو چاہیے کہ وہ عمل کرے عمل صالح اور نہ شریک ٹھہرائے اپنے رب کی عبادت میں کسی کو بھی (110)
[110]﴿ قُلۡ ﴾ اے محمد (ﷺ) ان کفار سے کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ ﴾ ’’میں بھی ایک آدمی ہوں جیسے تم‘‘ یعنی میں معبود نہیں ، اقتدار الٰہی میں میرا کوئی حصہ ہے نہ میرے پاس کوئی علم عیب ہے اور نہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہی ہیں :﴿ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ ﴾ میں اپنے رب کے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں ۔ ﴿ يُوۡحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ﴾ ’’وحی آتی ہے مجھ پر کہ تمھارا معبود ایک معبود ہے‘‘ یعنی مجھے تم پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ میری طرف وحی کرتا ہے اور جلیل ترین وحی یہ ہے کہ اس نے تمھیں آگاہ کیا ہے کہ تمھارا معبود ایک ہے، یعنی اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ کوئی ذرہ بھر عبادت کا مستحق ہے اور میں تمھیں ان اعمال کی دعوت دیتا ہوں جو تمھیں اللہ تعالیٰ کے قریب اور اس کے ثواب سے بہرہ ور کرتے ہیں اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کرتے ہیں ۔ اسی لیے فرمایا:﴿ فَمَنۡ كَانَ يَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلۡيَعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًا ﴾ ’’پس جس کو امید ہو اپنے رب سے ملاقات کی، سو وہ کرے نیک عمل۔‘‘ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو واجب اور مستحب ہیں ۔ ﴿ وَّلَا يُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا ﴾ ’’اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے‘‘ یعنی اپنے اعمال میں ریا سے کام نہ لے بلکہ اس کے اعمال خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوں ۔ یہی وہ چیز ہے جو اخلاص اور اتباع کی جامع ہے اور اسی سے مطلوب ثواب حاصل ہو سکتا ہے۔ اس طریقے کے سوا دیگر طریقوں کو اختیار کرنے والے لوگ اپنی دنیا و آخرت میں خائب و خاسر لوگ ہیں ۔ جو اپنے آقا و مولا کے قرب اور اس کی رضا کے حصول سے محروم ہوں گے۔