al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 89 · 30 verses
89:1قسم ہے فجر کی(1) اور دس راتوں کی(2) اور جفت کی اور طاق کی(3) اور رات کی جب وہ گزر جاتی ہے(4) یقیناً اس میں بہت بڑی قسم ہے صاحب عقل کے لیے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] ظاہر ہے کہ مقسم بہ ہی مقسم علیہ ہے۔ جب معاملہ ظاہر اور اہم ہو تو یہ جائز اور مستعمل ہے، اس مقام پر بھی اسی طرح ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھائی ہے جو رات کا آخر اور دن کا مقدمہ ہے، کیونکہ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں، نیز یہ کہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔فجر کے وقت ایک نہایت فضیلت اور عظمت والی نماز واقع ہوتی ہے اور وہ اس کی اہل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے، اس لیے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ رمضان المبارک یا ذوالحج کی دس راتیں ہیں۔ کیونکہ یہ راتیں فضیلت والے ایام پر مشتمل ہیں۔ ان راتوں میں ایسی عبادت و قربات واقع ہوتی ہیں جو دوسرے ایام میں نہیں ہوتیں، رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کسی ایک طاق رات میں لیلۃ القدر واقع ہوتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ان کے دنوں میں رمضان کے آخری عشرے کے روزے رکھے جاتے ہیں، جو ارکان اسلام میں سے ایک بہت بڑا رکن ہے۔ اور ذوالحج کے پہلے عشرے میں عرفہ میں وقوف ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مغفرت سے نوازتا ہے جس سے شیطان غمگین ہوتا ہے، شیطان جس قدر حقیر اور دھتکارا ہوا عرفہ کے دن ہوتا ہے، اتنا حقیر اور دھتکارا ہوا کبھی نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ اس روز وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر فرشتوں اور اس کی طرف سے رحمت کو اترتے دیکھتا ہے۔ ان دنوں میں حج اور عمرے کے بہت سے افعال واقع ہوتے ہیں اور یہ اشیاء قابل تعظیم اور اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی قسم کھائی جائے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِ﴾ ’’اور رات کی (قسم) جب جانے لگے۔‘‘ یعنی اس کے گزرنے اور بندوں پر اپنی تاریکی کی چادر تان دینے کے وقت، پس بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت کی بنا پر آرام اور استراحت کرتے ہیں اور مطمئن ہوتے ہیں۔ ﴿هَلۡ فِيۡ ذٰلِكَ﴾ ان مذکورہ چیزوں میں ﴿قَسَمٌ لِّذِيۡ حِجۡرٍ﴾ عقل مند کے لیے قسم ہے؟ ہاں! اس میں سے کچھ چیزیں ہی اس شخص کے لیے کافی ہیں جو دل بیدار رکھتا ہے اور متوجہ ہو کر کان لگا کر سنتا ہے۔
89:2قسم ہے فجر کی(1) اور دس راتوں کی(2) اور جفت کی اور طاق کی(3) اور رات کی جب وہ گزر جاتی ہے(4) یقیناً اس میں بہت بڑی قسم ہے صاحب عقل کے لیے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] ظاہر ہے کہ مقسم بہ ہی مقسم علیہ ہے۔ جب معاملہ ظاہر اور اہم ہو تو یہ جائز اور مستعمل ہے، اس مقام پر بھی اسی طرح ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھائی ہے جو رات کا آخر اور دن کا مقدمہ ہے، کیونکہ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں، نیز یہ کہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔فجر کے وقت ایک نہایت فضیلت اور عظمت والی نماز واقع ہوتی ہے اور وہ اس کی اہل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے، اس لیے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ رمضان المبارک یا ذوالحج کی دس راتیں ہیں۔ کیونکہ یہ راتیں فضیلت والے ایام پر مشتمل ہیں۔ ان راتوں میں ایسی عبادت و قربات واقع ہوتی ہیں جو دوسرے ایام میں نہیں ہوتیں، رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کسی ایک طاق رات میں لیلۃ القدر واقع ہوتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ان کے دنوں میں رمضان کے آخری عشرے کے روزے رکھے جاتے ہیں، جو ارکان اسلام میں سے ایک بہت بڑا رکن ہے۔ اور ذوالحج کے پہلے عشرے میں عرفہ میں وقوف ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مغفرت سے نوازتا ہے جس سے شیطان غمگین ہوتا ہے، شیطان جس قدر حقیر اور دھتکارا ہوا عرفہ کے دن ہوتا ہے، اتنا حقیر اور دھتکارا ہوا کبھی نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ اس روز وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر فرشتوں اور اس کی طرف سے رحمت کو اترتے دیکھتا ہے۔ ان دنوں میں حج اور عمرے کے بہت سے افعال واقع ہوتے ہیں اور یہ اشیاء قابل تعظیم اور اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی قسم کھائی جائے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِ﴾ ’’اور رات کی (قسم) جب جانے لگے۔‘‘ یعنی اس کے گزرنے اور بندوں پر اپنی تاریکی کی چادر تان دینے کے وقت، پس بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت کی بنا پر آرام اور استراحت کرتے ہیں اور مطمئن ہوتے ہیں۔ ﴿هَلۡ فِيۡ ذٰلِكَ﴾ ان مذکورہ چیزوں میں ﴿قَسَمٌ لِّذِيۡ حِجۡرٍ﴾ عقل مند کے لیے قسم ہے؟ ہاں! اس میں سے کچھ چیزیں ہی اس شخص کے لیے کافی ہیں جو دل بیدار رکھتا ہے اور متوجہ ہو کر کان لگا کر سنتا ہے۔
89:3قسم ہے فجر کی(1) اور دس راتوں کی(2) اور جفت کی اور طاق کی(3) اور رات کی جب وہ گزر جاتی ہے(4) یقیناً اس میں بہت بڑی قسم ہے صاحب عقل کے لیے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] ظاہر ہے کہ مقسم بہ ہی مقسم علیہ ہے۔ جب معاملہ ظاہر اور اہم ہو تو یہ جائز اور مستعمل ہے، اس مقام پر بھی اسی طرح ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھائی ہے جو رات کا آخر اور دن کا مقدمہ ہے، کیونکہ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں، نیز یہ کہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔فجر کے وقت ایک نہایت فضیلت اور عظمت والی نماز واقع ہوتی ہے اور وہ اس کی اہل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے، اس لیے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ رمضان المبارک یا ذوالحج کی دس راتیں ہیں۔ کیونکہ یہ راتیں فضیلت والے ایام پر مشتمل ہیں۔ ان راتوں میں ایسی عبادت و قربات واقع ہوتی ہیں جو دوسرے ایام میں نہیں ہوتیں، رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کسی ایک طاق رات میں لیلۃ القدر واقع ہوتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ان کے دنوں میں رمضان کے آخری عشرے کے روزے رکھے جاتے ہیں، جو ارکان اسلام میں سے ایک بہت بڑا رکن ہے۔ اور ذوالحج کے پہلے عشرے میں عرفہ میں وقوف ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مغفرت سے نوازتا ہے جس سے شیطان غمگین ہوتا ہے، شیطان جس قدر حقیر اور دھتکارا ہوا عرفہ کے دن ہوتا ہے، اتنا حقیر اور دھتکارا ہوا کبھی نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ اس روز وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر فرشتوں اور اس کی طرف سے رحمت کو اترتے دیکھتا ہے۔ ان دنوں میں حج اور عمرے کے بہت سے افعال واقع ہوتے ہیں اور یہ اشیاء قابل تعظیم اور اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی قسم کھائی جائے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِ﴾ ’’اور رات کی (قسم) جب جانے لگے۔‘‘ یعنی اس کے گزرنے اور بندوں پر اپنی تاریکی کی چادر تان دینے کے وقت، پس بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت کی بنا پر آرام اور استراحت کرتے ہیں اور مطمئن ہوتے ہیں۔ ﴿هَلۡ فِيۡ ذٰلِكَ﴾ ان مذکورہ چیزوں میں ﴿قَسَمٌ لِّذِيۡ حِجۡرٍ﴾ عقل مند کے لیے قسم ہے؟ ہاں! اس میں سے کچھ چیزیں ہی اس شخص کے لیے کافی ہیں جو دل بیدار رکھتا ہے اور متوجہ ہو کر کان لگا کر سنتا ہے۔
89:4قسم ہے فجر کی(1) اور دس راتوں کی(2) اور جفت کی اور طاق کی(3) اور رات کی جب وہ گزر جاتی ہے(4) یقیناً اس میں بہت بڑی قسم ہے صاحب عقل کے لیے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] ظاہر ہے کہ مقسم بہ ہی مقسم علیہ ہے۔ جب معاملہ ظاہر اور اہم ہو تو یہ جائز اور مستعمل ہے، اس مقام پر بھی اسی طرح ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھائی ہے جو رات کا آخر اور دن کا مقدمہ ہے، کیونکہ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں، نیز یہ کہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔فجر کے وقت ایک نہایت فضیلت اور عظمت والی نماز واقع ہوتی ہے اور وہ اس کی اہل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے، اس لیے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ رمضان المبارک یا ذوالحج کی دس راتیں ہیں۔ کیونکہ یہ راتیں فضیلت والے ایام پر مشتمل ہیں۔ ان راتوں میں ایسی عبادت و قربات واقع ہوتی ہیں جو دوسرے ایام میں نہیں ہوتیں، رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کسی ایک طاق رات میں لیلۃ القدر واقع ہوتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ان کے دنوں میں رمضان کے آخری عشرے کے روزے رکھے جاتے ہیں، جو ارکان اسلام میں سے ایک بہت بڑا رکن ہے۔ اور ذوالحج کے پہلے عشرے میں عرفہ میں وقوف ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مغفرت سے نوازتا ہے جس سے شیطان غمگین ہوتا ہے، شیطان جس قدر حقیر اور دھتکارا ہوا عرفہ کے دن ہوتا ہے، اتنا حقیر اور دھتکارا ہوا کبھی نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ اس روز وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر فرشتوں اور اس کی طرف سے رحمت کو اترتے دیکھتا ہے۔ ان دنوں میں حج اور عمرے کے بہت سے افعال واقع ہوتے ہیں اور یہ اشیاء قابل تعظیم اور اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی قسم کھائی جائے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِ﴾ ’’اور رات کی (قسم) جب جانے لگے۔‘‘ یعنی اس کے گزرنے اور بندوں پر اپنی تاریکی کی چادر تان دینے کے وقت، پس بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت کی بنا پر آرام اور استراحت کرتے ہیں اور مطمئن ہوتے ہیں۔ ﴿هَلۡ فِيۡ ذٰلِكَ﴾ ان مذکورہ چیزوں میں ﴿قَسَمٌ لِّذِيۡ حِجۡرٍ﴾ عقل مند کے لیے قسم ہے؟ ہاں! اس میں سے کچھ چیزیں ہی اس شخص کے لیے کافی ہیں جو دل بیدار رکھتا ہے اور متوجہ ہو کر کان لگا کر سنتا ہے۔
89:5هَلۡ فِي ذَٰلِكَ قَسَمٞ لِّذِي حِجۡرٍ
قسم ہے فجر کی(1) اور دس راتوں کی(2) اور جفت کی اور طاق کی(3) اور رات کی جب وہ گزر جاتی ہے(4) یقیناً اس میں بہت بڑی قسم ہے صاحب عقل کے لیے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] ظاہر ہے کہ مقسم بہ ہی مقسم علیہ ہے۔ جب معاملہ ظاہر اور اہم ہو تو یہ جائز اور مستعمل ہے، اس مقام پر بھی اسی طرح ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھائی ہے جو رات کا آخر اور دن کا مقدمہ ہے، کیونکہ رات کے لوٹنے اور دن کے آنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں، نیز یہ کہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔فجر کے وقت ایک نہایت فضیلت اور عظمت والی نماز واقع ہوتی ہے اور وہ اس کی اہل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے، اس لیے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ رمضان المبارک یا ذوالحج کی دس راتیں ہیں۔ کیونکہ یہ راتیں فضیلت والے ایام پر مشتمل ہیں۔ ان راتوں میں ایسی عبادت و قربات واقع ہوتی ہیں جو دوسرے ایام میں نہیں ہوتیں، رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کسی ایک طاق رات میں لیلۃ القدر واقع ہوتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ ان کے دنوں میں رمضان کے آخری عشرے کے روزے رکھے جاتے ہیں، جو ارکان اسلام میں سے ایک بہت بڑا رکن ہے۔ اور ذوالحج کے پہلے عشرے میں عرفہ میں وقوف ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مغفرت سے نوازتا ہے جس سے شیطان غمگین ہوتا ہے، شیطان جس قدر حقیر اور دھتکارا ہوا عرفہ کے دن ہوتا ہے، اتنا حقیر اور دھتکارا ہوا کبھی نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ اس روز وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر فرشتوں اور اس کی طرف سے رحمت کو اترتے دیکھتا ہے۔ ان دنوں میں حج اور عمرے کے بہت سے افعال واقع ہوتے ہیں اور یہ اشیاء قابل تعظیم اور اس بات کی مستحق ہیں کہ ان کی قسم کھائی جائے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَسۡرِ﴾ ’’اور رات کی (قسم) جب جانے لگے۔‘‘ یعنی اس کے گزرنے اور بندوں پر اپنی تاریکی کی چادر تان دینے کے وقت، پس بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت کی بنا پر آرام اور استراحت کرتے ہیں اور مطمئن ہوتے ہیں۔ ﴿هَلۡ فِيۡ ذٰلِكَ﴾ ان مذکورہ چیزوں میں ﴿قَسَمٌ لِّذِيۡ حِجۡرٍ﴾ عقل مند کے لیے قسم ہے؟ ہاں! اس میں سے کچھ چیزیں ہی اس شخص کے لیے کافی ہیں جو دل بیدار رکھتا ہے اور متوجہ ہو کر کان لگا کر سنتا ہے۔
89:6أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
89:7کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
89:8ٱلَّتِي لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي ٱلۡبِلَٰدِ
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
89:9وَثَمُودَ ٱلَّذِينَ جَابُواْ ٱلصَّخۡرَ بِٱلۡوَادِ
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
89:10وَفِرۡعَوۡنَ ذِي ٱلۡأَوۡتَادِ
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
89:11ٱلَّذِينَ طَغَوۡاْ فِي ٱلۡبِلَٰدِ
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
89:12فَأَكۡثَرُواْ فِيهَا ٱلۡفَسَادَ
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
89:13فَصَبَّ عَلَيۡهِمۡ رَبُّكَ سَوۡطَ عَذَابٍ
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
89:14إِنَّ رَبَّكَ لَبِٱلۡمِرۡصَادِ
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسا سلوک کیا آپ کے رب نے عاد کے ساتھ(6)(یعنی ) ارم جو ستونوں والے تھے(7) وہ کہ نہیں پیدا کیا گیا (کوئی) ان جیسا شہروں میں(8) اور (قوم) ثمود کے ساتھ وہ جو تراشتے تھے چٹانوں کو وادی میں(9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ؟ (10) وہ جنھوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس زیادہ کیا انھوں نے ان (شہروں) میں فساد (12) تو برسایا ان پر آپ کے رب نے کوڑا عذاب کا (13) بلاشبہ آپ کا رب گھات (تاک) میں ہے (14)
[14-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَلَمۡ تَرَؔ﴾ یعنی کیا آپ نے اپنے قلب اور اپنی بصیرت سے دیکھا نہیں کہ اس سرکش قوم کے ساتھ کیا کیا گیا؟ اور وہ ﴿اِرَمَ﴾ ’’ارم۔‘‘ یمن کا ایک معروف قبیلہ تھا ﴿ ذَاتِ الۡعِمَادِ﴾ ’’ستونوںوالے۔‘‘ یعنی بہت زیادہ قوت، سرکشی اور ظلم و جبر والے لوگ تھے۔ ﴿ الَّتِيۡ لَمۡ يُخۡلَقۡ مِثۡلُهَا فِي الۡبِلَادِ﴾ یعنی تمام شہروں میں طاقت اور سختی میں قوم عاد جیسا کوئی نہ تھا۔ جیسا کہ ان کے نبی حضرت ہودu نے ان سے فرمایا: ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۡطَةً١ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الأعراف:7؍69) ’’اور یاد کرو جب اللہ نے تمھیں، قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا اور ڈیل ڈول میں تمھیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ ۔‘‘ ﴿ وَثَمُوۡدَ الَّذِيۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ﴾ ’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے تھے۔‘‘ یعنی وادی القریٰ میں انھوں نے اپنی قوت اور طاقت سے چٹانوں کو تراشا اور وہاں گھر بنائے۔ ﴿ وَفِرۡعَوۡنَ ذِي الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔‘‘ یعنی لشکروں والا تھا جنھوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہی جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’جنھوں نے شہروں میں سرکشی کی۔‘‘ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ انھوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کا رویہ اختیار کیا، اللہ کے بندوں کو ان کے دین و دنیا میں ستایا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَاَكۡثَرُوۡا فِيۡهَا الۡفَسَادَ﴾ ’’اور بہت فساد مچا رکھا تھا۔‘‘ یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا۔ انبیاء و مرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۠﴾ ’’بے شک آپ کا رب میں گھات ہے۔‘‘ اس شخص کی گھات میں ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے، اسے تھوڑا سا عرصہ مہلت دیتا ہے، پھر وہ اسے غالب اور قدرت والے کی طرح پکڑتا ہے۔
89:15فَأَمَّا ٱلۡإِنسَٰنُ إِذَا مَا ٱبۡتَلَىٰهُ رَبُّهُۥ فَأَكۡرَمَهُۥ وَنَعَّمَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّيٓ أَكۡرَمَنِ
پس لیکن انسان! جب آزماتا ہے اس کو اس کا رب،پھر وہ عزت دیتا ہے اس کو اور نعمت دیتا ہے اس کو تو وہ کہتا ہے، میرے رب نے مجھے عزت بخشی (15) اور لیکن جب وہ آزماتا ہے اسے ، پھر تنگ کرتا ہے اس پر اس کا رزق تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری توہین کی (16) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں قدر کرتے تم یتیم کی (17) اور نہیں ترغیب دیتے تم کھانا کھلانے کی مسکین کو (18) اور تم کھا جاتے ہو میراث کا مال خوب سمیٹ سمیٹ کر(19) اور تم محبت کرتے ہو مال سے محبت بہت زیادہ (20)
[20-15] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ ہے، نیز یہ کہ وہ جاہل اور ظالم ہے، اسے اپنے انجام کا کوئی علم نہیں، وہ جس حالت میں ہوتا ہے، اس کے بارے میں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور کبھی زائل نہ ہو گی وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ کا اس کو اکرام بخشنا اور اسے نعمتوں سے نوازنا (آخرت میں) اس کی تکریم اور اس کے قرب پر دلالت کرتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ ﴿ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهٗ﴾ اس کا رزق تنگ کر دے اور اس کا رزق نپا تلا ہو جائے اور وافر نہ ہو، تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اہانت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اس خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ یعنی ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جس کو میں نے نعمتوں سے نوازا ہے، میرے ہاں قابل اکرام و تکریم ہے اور جس کا رزق میں نے تنگ کر دیا ہے وہ میرے ہاں حقیر ہے۔ دولت مندی اور محتاجی، رزق کی کشادگی اور تنگی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے جس کے ذریعے سے وہ بندوں کا امتحان لیتا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس پر شکر اور صبر کرتا ہے تاکہ وہ اسے ثواب جزیل سے نوازے، جو ایسا نہ کرے اسے سخت عذاب میں ڈال دے۔ نیز بندے کے ارادے کا فقط اپنے نفس کی مراد پر ٹھہرنا ارادے کی کمزوری ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے محتاج مخلوق کے بارے میں ان کے عدم اہتمام پر ان کو ملامت کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَ﴾ ’’ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔‘‘ جو اپنے باپ اور کمانے والے سے محروم ہے اور وہ اس چیز کا محتاج ہے کہ اس کے دل کو جوڑا جائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ تم اس کا اکرام نہیں کرتے، بلکہ تم اس کی اہانت کرتے ہو اور یہ چیز تمھارے دلوں میں رحم کے معدوم ہونے اور بھلائی میں عدم رغبت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ یعنی تم حاجت مندوں، فقراء اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا (کے مال و دولت) پر بہت بخیل ہو۔ تم دنیا سے بہت محبت کرتے ہو اور اس کی شدید محبت تمھارے دلوں میں سما گئی ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَتَاۡكُلُوۡنَ الـتُّرَاثَ﴾ ’’اور تم کھا جاتے ہو وراثت۔‘‘ یعنی چھوڑا ہوا مال ﴿ اَكۡلًا لَّمًّا﴾ ’’سمیٹ کر ۔‘‘ اور اس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتے۔ ﴿ وَّتُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا﴾ یعنی تم مال سے سخت محبت کرتے ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الأعلی:87؍16-17) ’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَۙ۰۰ وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾(القیامۃ: 75؍20-21) ’’ہرگز نہیں، بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو ترک کیے دیتے ہو۔‘‘
89:16وَأَمَّآ إِذَا مَا ٱبۡتَلَىٰهُ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّيٓ أَهَٰنَنِ
پس لیکن انسان! جب آزماتا ہے اس کو اس کا رب،پھر وہ عزت دیتا ہے اس کو اور نعمت دیتا ہے اس کو تو وہ کہتا ہے، میرے رب نے مجھے عزت بخشی (15) اور لیکن جب وہ آزماتا ہے اسے ، پھر تنگ کرتا ہے اس پر اس کا رزق تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری توہین کی (16) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں قدر کرتے تم یتیم کی (17) اور نہیں ترغیب دیتے تم کھانا کھلانے کی مسکین کو (18) اور تم کھا جاتے ہو میراث کا مال خوب سمیٹ سمیٹ کر(19) اور تم محبت کرتے ہو مال سے محبت بہت زیادہ (20)
[20-15] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ ہے، نیز یہ کہ وہ جاہل اور ظالم ہے، اسے اپنے انجام کا کوئی علم نہیں، وہ جس حالت میں ہوتا ہے، اس کے بارے میں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور کبھی زائل نہ ہو گی وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ کا اس کو اکرام بخشنا اور اسے نعمتوں سے نوازنا (آخرت میں) اس کی تکریم اور اس کے قرب پر دلالت کرتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ ﴿ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهٗ﴾ اس کا رزق تنگ کر دے اور اس کا رزق نپا تلا ہو جائے اور وافر نہ ہو، تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اہانت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اس خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ یعنی ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جس کو میں نے نعمتوں سے نوازا ہے، میرے ہاں قابل اکرام و تکریم ہے اور جس کا رزق میں نے تنگ کر دیا ہے وہ میرے ہاں حقیر ہے۔ دولت مندی اور محتاجی، رزق کی کشادگی اور تنگی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے جس کے ذریعے سے وہ بندوں کا امتحان لیتا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس پر شکر اور صبر کرتا ہے تاکہ وہ اسے ثواب جزیل سے نوازے، جو ایسا نہ کرے اسے سخت عذاب میں ڈال دے۔ نیز بندے کے ارادے کا فقط اپنے نفس کی مراد پر ٹھہرنا ارادے کی کمزوری ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے محتاج مخلوق کے بارے میں ان کے عدم اہتمام پر ان کو ملامت کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَ﴾ ’’ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔‘‘ جو اپنے باپ اور کمانے والے سے محروم ہے اور وہ اس چیز کا محتاج ہے کہ اس کے دل کو جوڑا جائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ تم اس کا اکرام نہیں کرتے، بلکہ تم اس کی اہانت کرتے ہو اور یہ چیز تمھارے دلوں میں رحم کے معدوم ہونے اور بھلائی میں عدم رغبت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ یعنی تم حاجت مندوں، فقراء اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا (کے مال و دولت) پر بہت بخیل ہو۔ تم دنیا سے بہت محبت کرتے ہو اور اس کی شدید محبت تمھارے دلوں میں سما گئی ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَتَاۡكُلُوۡنَ الـتُّرَاثَ﴾ ’’اور تم کھا جاتے ہو وراثت۔‘‘ یعنی چھوڑا ہوا مال ﴿ اَكۡلًا لَّمًّا﴾ ’’سمیٹ کر ۔‘‘ اور اس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتے۔ ﴿ وَّتُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا﴾ یعنی تم مال سے سخت محبت کرتے ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الأعلی:87؍16-17) ’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَۙ۰۰ وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾(القیامۃ: 75؍20-21) ’’ہرگز نہیں، بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو ترک کیے دیتے ہو۔‘‘
89:17كَلَّاۖ بَل لَّا تُكۡرِمُونَ ٱلۡيَتِيمَ
پس لیکن انسان! جب آزماتا ہے اس کو اس کا رب،پھر وہ عزت دیتا ہے اس کو اور نعمت دیتا ہے اس کو تو وہ کہتا ہے، میرے رب نے مجھے عزت بخشی (15) اور لیکن جب وہ آزماتا ہے اسے ، پھر تنگ کرتا ہے اس پر اس کا رزق تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری توہین کی (16) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں قدر کرتے تم یتیم کی (17) اور نہیں ترغیب دیتے تم کھانا کھلانے کی مسکین کو (18) اور تم کھا جاتے ہو میراث کا مال خوب سمیٹ سمیٹ کر(19) اور تم محبت کرتے ہو مال سے محبت بہت زیادہ (20)
[20-15] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ ہے، نیز یہ کہ وہ جاہل اور ظالم ہے، اسے اپنے انجام کا کوئی علم نہیں، وہ جس حالت میں ہوتا ہے، اس کے بارے میں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور کبھی زائل نہ ہو گی وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ کا اس کو اکرام بخشنا اور اسے نعمتوں سے نوازنا (آخرت میں) اس کی تکریم اور اس کے قرب پر دلالت کرتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ ﴿ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهٗ﴾ اس کا رزق تنگ کر دے اور اس کا رزق نپا تلا ہو جائے اور وافر نہ ہو، تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اہانت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اس خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ یعنی ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جس کو میں نے نعمتوں سے نوازا ہے، میرے ہاں قابل اکرام و تکریم ہے اور جس کا رزق میں نے تنگ کر دیا ہے وہ میرے ہاں حقیر ہے۔ دولت مندی اور محتاجی، رزق کی کشادگی اور تنگی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے جس کے ذریعے سے وہ بندوں کا امتحان لیتا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس پر شکر اور صبر کرتا ہے تاکہ وہ اسے ثواب جزیل سے نوازے، جو ایسا نہ کرے اسے سخت عذاب میں ڈال دے۔ نیز بندے کے ارادے کا فقط اپنے نفس کی مراد پر ٹھہرنا ارادے کی کمزوری ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے محتاج مخلوق کے بارے میں ان کے عدم اہتمام پر ان کو ملامت کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَ﴾ ’’ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔‘‘ جو اپنے باپ اور کمانے والے سے محروم ہے اور وہ اس چیز کا محتاج ہے کہ اس کے دل کو جوڑا جائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ تم اس کا اکرام نہیں کرتے، بلکہ تم اس کی اہانت کرتے ہو اور یہ چیز تمھارے دلوں میں رحم کے معدوم ہونے اور بھلائی میں عدم رغبت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ یعنی تم حاجت مندوں، فقراء اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا (کے مال و دولت) پر بہت بخیل ہو۔ تم دنیا سے بہت محبت کرتے ہو اور اس کی شدید محبت تمھارے دلوں میں سما گئی ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَتَاۡكُلُوۡنَ الـتُّرَاثَ﴾ ’’اور تم کھا جاتے ہو وراثت۔‘‘ یعنی چھوڑا ہوا مال ﴿ اَكۡلًا لَّمًّا﴾ ’’سمیٹ کر ۔‘‘ اور اس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتے۔ ﴿ وَّتُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا﴾ یعنی تم مال سے سخت محبت کرتے ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الأعلی:87؍16-17) ’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَۙ۰۰ وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾(القیامۃ: 75؍20-21) ’’ہرگز نہیں، بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو ترک کیے دیتے ہو۔‘‘
89:18وَلَا تَحَـٰٓضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ
پس لیکن انسان! جب آزماتا ہے اس کو اس کا رب،پھر وہ عزت دیتا ہے اس کو اور نعمت دیتا ہے اس کو تو وہ کہتا ہے، میرے رب نے مجھے عزت بخشی (15) اور لیکن جب وہ آزماتا ہے اسے ، پھر تنگ کرتا ہے اس پر اس کا رزق تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری توہین کی (16) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں قدر کرتے تم یتیم کی (17) اور نہیں ترغیب دیتے تم کھانا کھلانے کی مسکین کو (18) اور تم کھا جاتے ہو میراث کا مال خوب سمیٹ سمیٹ کر(19) اور تم محبت کرتے ہو مال سے محبت بہت زیادہ (20)
[20-15] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ ہے، نیز یہ کہ وہ جاہل اور ظالم ہے، اسے اپنے انجام کا کوئی علم نہیں، وہ جس حالت میں ہوتا ہے، اس کے بارے میں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور کبھی زائل نہ ہو گی وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ کا اس کو اکرام بخشنا اور اسے نعمتوں سے نوازنا (آخرت میں) اس کی تکریم اور اس کے قرب پر دلالت کرتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ ﴿ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهٗ﴾ اس کا رزق تنگ کر دے اور اس کا رزق نپا تلا ہو جائے اور وافر نہ ہو، تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اہانت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اس خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ یعنی ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جس کو میں نے نعمتوں سے نوازا ہے، میرے ہاں قابل اکرام و تکریم ہے اور جس کا رزق میں نے تنگ کر دیا ہے وہ میرے ہاں حقیر ہے۔ دولت مندی اور محتاجی، رزق کی کشادگی اور تنگی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے جس کے ذریعے سے وہ بندوں کا امتحان لیتا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس پر شکر اور صبر کرتا ہے تاکہ وہ اسے ثواب جزیل سے نوازے، جو ایسا نہ کرے اسے سخت عذاب میں ڈال دے۔ نیز بندے کے ارادے کا فقط اپنے نفس کی مراد پر ٹھہرنا ارادے کی کمزوری ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے محتاج مخلوق کے بارے میں ان کے عدم اہتمام پر ان کو ملامت کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَ﴾ ’’ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔‘‘ جو اپنے باپ اور کمانے والے سے محروم ہے اور وہ اس چیز کا محتاج ہے کہ اس کے دل کو جوڑا جائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ تم اس کا اکرام نہیں کرتے، بلکہ تم اس کی اہانت کرتے ہو اور یہ چیز تمھارے دلوں میں رحم کے معدوم ہونے اور بھلائی میں عدم رغبت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ یعنی تم حاجت مندوں، فقراء اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا (کے مال و دولت) پر بہت بخیل ہو۔ تم دنیا سے بہت محبت کرتے ہو اور اس کی شدید محبت تمھارے دلوں میں سما گئی ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَتَاۡكُلُوۡنَ الـتُّرَاثَ﴾ ’’اور تم کھا جاتے ہو وراثت۔‘‘ یعنی چھوڑا ہوا مال ﴿ اَكۡلًا لَّمًّا﴾ ’’سمیٹ کر ۔‘‘ اور اس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتے۔ ﴿ وَّتُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا﴾ یعنی تم مال سے سخت محبت کرتے ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الأعلی:87؍16-17) ’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَۙ۰۰ وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾(القیامۃ: 75؍20-21) ’’ہرگز نہیں، بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو ترک کیے دیتے ہو۔‘‘
89:19وَتَأۡكُلُونَ ٱلتُّرَاثَ أَكۡلٗا لَّمّٗا
پس لیکن انسان! جب آزماتا ہے اس کو اس کا رب،پھر وہ عزت دیتا ہے اس کو اور نعمت دیتا ہے اس کو تو وہ کہتا ہے، میرے رب نے مجھے عزت بخشی (15) اور لیکن جب وہ آزماتا ہے اسے ، پھر تنگ کرتا ہے اس پر اس کا رزق تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری توہین کی (16) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں قدر کرتے تم یتیم کی (17) اور نہیں ترغیب دیتے تم کھانا کھلانے کی مسکین کو (18) اور تم کھا جاتے ہو میراث کا مال خوب سمیٹ سمیٹ کر(19) اور تم محبت کرتے ہو مال سے محبت بہت زیادہ (20)
[20-15] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ ہے، نیز یہ کہ وہ جاہل اور ظالم ہے، اسے اپنے انجام کا کوئی علم نہیں، وہ جس حالت میں ہوتا ہے، اس کے بارے میں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور کبھی زائل نہ ہو گی وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ کا اس کو اکرام بخشنا اور اسے نعمتوں سے نوازنا (آخرت میں) اس کی تکریم اور اس کے قرب پر دلالت کرتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ ﴿ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهٗ﴾ اس کا رزق تنگ کر دے اور اس کا رزق نپا تلا ہو جائے اور وافر نہ ہو، تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اہانت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اس خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ یعنی ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جس کو میں نے نعمتوں سے نوازا ہے، میرے ہاں قابل اکرام و تکریم ہے اور جس کا رزق میں نے تنگ کر دیا ہے وہ میرے ہاں حقیر ہے۔ دولت مندی اور محتاجی، رزق کی کشادگی اور تنگی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے جس کے ذریعے سے وہ بندوں کا امتحان لیتا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس پر شکر اور صبر کرتا ہے تاکہ وہ اسے ثواب جزیل سے نوازے، جو ایسا نہ کرے اسے سخت عذاب میں ڈال دے۔ نیز بندے کے ارادے کا فقط اپنے نفس کی مراد پر ٹھہرنا ارادے کی کمزوری ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے محتاج مخلوق کے بارے میں ان کے عدم اہتمام پر ان کو ملامت کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَ﴾ ’’ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔‘‘ جو اپنے باپ اور کمانے والے سے محروم ہے اور وہ اس چیز کا محتاج ہے کہ اس کے دل کو جوڑا جائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ تم اس کا اکرام نہیں کرتے، بلکہ تم اس کی اہانت کرتے ہو اور یہ چیز تمھارے دلوں میں رحم کے معدوم ہونے اور بھلائی میں عدم رغبت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ یعنی تم حاجت مندوں، فقراء اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا (کے مال و دولت) پر بہت بخیل ہو۔ تم دنیا سے بہت محبت کرتے ہو اور اس کی شدید محبت تمھارے دلوں میں سما گئی ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَتَاۡكُلُوۡنَ الـتُّرَاثَ﴾ ’’اور تم کھا جاتے ہو وراثت۔‘‘ یعنی چھوڑا ہوا مال ﴿ اَكۡلًا لَّمًّا﴾ ’’سمیٹ کر ۔‘‘ اور اس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتے۔ ﴿ وَّتُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا﴾ یعنی تم مال سے سخت محبت کرتے ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الأعلی:87؍16-17) ’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَۙ۰۰ وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾(القیامۃ: 75؍20-21) ’’ہرگز نہیں، بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو ترک کیے دیتے ہو۔‘‘
89:20وَتُحِبُّونَ ٱلۡمَالَ حُبّٗا جَمّٗا
پس لیکن انسان! جب آزماتا ہے اس کو اس کا رب،پھر وہ عزت دیتا ہے اس کو اور نعمت دیتا ہے اس کو تو وہ کہتا ہے، میرے رب نے مجھے عزت بخشی (15) اور لیکن جب وہ آزماتا ہے اسے ، پھر تنگ کرتا ہے اس پر اس کا رزق تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری توہین کی (16) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں قدر کرتے تم یتیم کی (17) اور نہیں ترغیب دیتے تم کھانا کھلانے کی مسکین کو (18) اور تم کھا جاتے ہو میراث کا مال خوب سمیٹ سمیٹ کر(19) اور تم محبت کرتے ہو مال سے محبت بہت زیادہ (20)
[20-15] اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ ہے، نیز یہ کہ وہ جاہل اور ظالم ہے، اسے اپنے انجام کا کوئی علم نہیں، وہ جس حالت میں ہوتا ہے، اس کے بارے میں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور کبھی زائل نہ ہو گی وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ کا اس کو اکرام بخشنا اور اسے نعمتوں سے نوازنا (آخرت میں) اس کی تکریم اور اس کے قرب پر دلالت کرتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ ﴿ فَقَدَرَ عَلَيۡهِ رِزۡقَهٗ﴾ اس کا رزق تنگ کر دے اور اس کا رزق نپا تلا ہو جائے اور وافر نہ ہو، تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اہانت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے اس خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿كَلَّا﴾ یعنی ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جس کو میں نے نعمتوں سے نوازا ہے، میرے ہاں قابل اکرام و تکریم ہے اور جس کا رزق میں نے تنگ کر دیا ہے وہ میرے ہاں حقیر ہے۔ دولت مندی اور محتاجی، رزق کی کشادگی اور تنگی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے جس کے ذریعے سے وہ بندوں کا امتحان لیتا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس پر شکر اور صبر کرتا ہے تاکہ وہ اسے ثواب جزیل سے نوازے، جو ایسا نہ کرے اسے سخت عذاب میں ڈال دے۔ نیز بندے کے ارادے کا فقط اپنے نفس کی مراد پر ٹھہرنا ارادے کی کمزوری ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے محتاج مخلوق کے بارے میں ان کے عدم اہتمام پر ان کو ملامت کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ كَلَّا بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَ﴾ ’’ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔‘‘ جو اپنے باپ اور کمانے والے سے محروم ہے اور وہ اس چیز کا محتاج ہے کہ اس کے دل کو جوڑا جائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ تم اس کا اکرام نہیں کرتے، بلکہ تم اس کی اہانت کرتے ہو اور یہ چیز تمھارے دلوں میں رحم کے معدوم ہونے اور بھلائی میں عدم رغبت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ یعنی تم حاجت مندوں، فقراء اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا (کے مال و دولت) پر بہت بخیل ہو۔ تم دنیا سے بہت محبت کرتے ہو اور اس کی شدید محبت تمھارے دلوں میں سما گئی ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَتَاۡكُلُوۡنَ الـتُّرَاثَ﴾ ’’اور تم کھا جاتے ہو وراثت۔‘‘ یعنی چھوڑا ہوا مال ﴿ اَكۡلًا لَّمًّا﴾ ’’سمیٹ کر ۔‘‘ اور اس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتے۔ ﴿ وَّتُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا﴾ یعنی تم مال سے سخت محبت کرتے ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الأعلی:87؍16-17) ’’بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَۙ۰۰ وَتَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾(القیامۃ: 75؍20-21) ’’ہرگز نہیں، بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو ترک کیے دیتے ہو۔‘‘
89:21كَلَّآۖ إِذَا دُكَّتِ ٱلۡأَرۡضُ دَكّٗا دَكّٗا
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
89:22وَجَآءَ رَبُّكَ وَٱلۡمَلَكُ صَفّٗا صَفّٗا
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
89:23وَجِاْيٓءَ يَوۡمَئِذِۭ بِجَهَنَّمَۚ يَوۡمَئِذٖ يَتَذَكَّرُ ٱلۡإِنسَٰنُ وَأَنَّىٰ لَهُ ٱلذِّكۡرَىٰ
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
89:24يَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِي
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
89:25فَيَوۡمَئِذٖ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُۥٓ أَحَدٞ
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
89:26وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُۥٓ أَحَدٞ
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
89:27يَـٰٓأَيَّتُهَا ٱلنَّفۡسُ ٱلۡمُطۡمَئِنَّةُ
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
89:28ٱرۡجِعِيٓ إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةٗ مَّرۡضِيَّةٗ
ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
89:29ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
89:30ہرگز نہیں! جب کوٹ کر ہموار کر دی جائے گی زمین ریزہ ریزہ کر کے (21) اور آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف در صف (22) اور لائی جائے گی اس دن جہنم اس دن یاد کرے گا انسان (اپنے کرتوت) اور کیونکر (مفید) ہو گا اس کے لیے یاد کرنا؟ (23) وہ کہے گا اے کاش! آگے بھیجا ہوتا میں نے اپنی (اس) زندگی کے لیے (24) پس اس دن نہیں عذاب دے گا اس جیسا عذاب کوئی بھی (25) اور نہ جکڑے گا اس جیسا جکڑنا کوئی بھی (26) اے روح اطمینان والی! (27) تو لوٹ اپنے رب کی طرف راضی ہونے والی پسندیدہ (28) پس تو داخل ہو میرے بندوں میں(29) اور داخل ہو میری جنت میں (30)
[24-21]﴿ كَلَّاۤ ﴾ یعنی ہرگز ایسا نہیں، تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو ، تمھارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ تمھارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے۔ اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنا دیا جائے گا، اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا، تمام اہل آسمان مکرم فرشتے﴿صَفًّا صَفًّا﴾ صف در صف آئیں گے، ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے۔ یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی صفیں ہوں گی۔ ﴿ وَجِايۡٓءَ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ بِجَهَنَّمَ﴾ ’’اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔‘‘ فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے، پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّـرُ الۡاِنۡسَانُ﴾ اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ﴿ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكۡرٰى ﴾ ’’مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا؟‘‘ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔ ﴿ يَقُوۡلُ﴾ اس نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گا:﴿يٰلَيۡتَنِيۡ قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِيۡ﴾ کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا﴾(الفرقان:25؍27-28) ’’کہے گا، کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا، ہائے میری شامت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذات کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے، کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقاء ہے۔
[25، 26]﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔‘‘ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿ وَّلَا يُوۡثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌ﴾ ’’اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔‘‘ پس انھیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا، پس یہی مجرموں کی سزا ہے۔
[30-27] وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارۡجِعِيۡۤ اِلٰى رَبِّكِ﴾ ’’اپنے رب کی طرف لوٹ چل‘‘ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادۡخُلِيۡ فِيۡ عِبٰؔدِيۡۙ۰۰ وَادۡخُلِيۡ جَنَّتِيۡ﴾ ’’پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔‘‘ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔