QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Al-Ghashiyah

ٱلْغَاشِيَة

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 88 · 26 verses

88:1

هَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلۡغَٰشِيَةِ

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔
88:2

وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٍ خَٰشِعَةٌ

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔
88:3

عَامِلَةٞ نَّاصِبَةٞ

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔
88:4

تَصۡلَىٰ نَارًا حَامِيَةٗ

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔
88:5

تُسۡقَىٰ مِنۡ عَيۡنٍ ءَانِيَةٖ

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔
88:6

لَّيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٖ

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔
88:7

لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِي مِن جُوعٖ

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔
88:8

وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٖ نَّاعِمَةٞ

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔
88:9

لِّسَعۡيِهَا رَاضِيَةٞ

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔
88:10

فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٖ

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔
88:11

لَّا تَسۡمَعُ فِيهَا لَٰغِيَةٗ

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔
88:12

فِيهَا عَيۡنٞ جَارِيَةٞ

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔
88:13

فِيهَا سُرُرٞ مَّرۡفُوعَةٞ

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔
88:14

وَأَكۡوَابٞ مَّوۡضُوعَةٞ

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔
88:15

وَنَمَارِقُ مَصۡفُوفَةٞ

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔
88:16

وَزَرَابِيُّ مَبۡثُوثَةٌ

تحقیق آ گئی ہے آپ کے پاس بات چھا جانے والی (قیامت) کی(1)کئی چہرے اس دن ذلیل ہوں گے(2)عمل کرنے والے، تھک جا نے والے(3) وہ داخل ہوں گے بھڑکتی آگ میں(4) پلائے جائیں گے وہ گرم کھولتے ہوئے چشمے سے(5) نہیں ہو گا ان کے لیے کھانا سوائے خار دار جھاڑی کے(6) نہ وہ موٹا کرے گا اور نہ فائدہ دے گا بھوک سے(7)کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے(8) اپنی کوشش پر خوش ہوں گے(9) بہشت بریں میں ہوں گے (10) نہیں سنیں گے اس میں کوئی لغو بات (11) اس میں ایک چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت ہوں گے اونچے اونچے (13) اور (سامنے) ساغر رکھے ہوں گے (14) اور گاؤ تکیے برابر قطار میں لگے ہوں گے(15) اور نفیس غالیچے بچھے ہوں گے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی، لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔ [7-2] جہنمیوں کے وصف میں فرمایا: ﴿وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ ﴾ اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے ﴿ خَاشِعَةٌ ﴾ ذلت، فضیحت اور رسوائی کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ ’’سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔‘‘ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے، ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے، اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بن جائے گا۔یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ پہلے معنیٰ ہی قطعی طور پر صحیح ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ظرف کے ساتھ مقید کیا ہے اور وہ ہے قیامت کا دن، کیونکہ یہاں عمومی طور پر اہل جہنم کا ذکر کرنا مقصود ہے اور یہ احتمال اہل جہنم کی نسبت سے بہت ہی چھوٹا سا جز ہے۔ کیونکہ یہ کلام قیامت کی سختی کے لوگوں کو ڈھانپ لینے کے حال میں ہے اور اس میں دنیا کے اندر ان کے احوال سے کوئی تعرض نہیں۔﴿ تَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً﴾ ’’دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہو گی جو ان کو ہر جگہ سے گھیرلے گی ﴿ تُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍ﴾ ’’ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا۔‘‘یعنی انتہائی گرم ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی، جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہو گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔‘‘ پس یہ ہو گا ان کا مشروب۔ رہا ان کا طعام تو ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ۰۰لَّا يُسۡمِنُ وَلَا يُغۡنِيۡ مِنۡ جُوۡعٍ﴾ ’’خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔‘‘ یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنایا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ یہ کھانا کڑواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [16-8] رہے نیکو کار تو قیامت کے روز ان کے چہرے ﴿ نَّاعِمَةٌ﴾ ’’تروتازہ ہوں گے۔‘‘ یعنی ان پر نعمتوں کی تازگی عیاں ہو گی، ان کے بدن تر و تازہ ہوں گے اور ان کے چہرے نور سے دمک رہے ہوں گے اور وہ انتہائی خوش ہوں گے۔ ﴿ لِّسَعۡيِهَا ﴾ ’’اپنے اعمال سے۔‘‘ جو اس نے دنیا میں رہتے ہوئے نیک اعمال اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کو آگے بھیجا ﴿ رَاضِيَةٌ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ کیونکہ ان کو ان کی کوشش کا ثواب کئی گنا جمع کیا ہوا ملا، پس انھوں نے اپنے انجام کی تعریف کی اور انھیں ہر وہ چیز حاصل ہو گئی جس کی وہ تمنا کرتے تھے۔ اور یہ سب کچھ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ ﴾ ایسی جنت میں ملے گا جس میں نعمتوں کی تمام انواع جمع ہیں ﴿ عَالِيَةٍ ﴾جو اپنے محل و منازل میں بہت بلند ہے، پس اس کا محل و مقام اعلیٰ علیین میں ہے، اس کی منازل بہت بلند مسکن ہیں، اس میں بالا خانے ہیں اور بالا خانوں پر بنائے گئے بالا خانے ہیں جہاں سے وہ اکرام و تکریم کی نعمتوں کا نظارہ کر سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کی ہیں۔﴿قُطُوۡفُهَا دَانِيَۃٌ﴾(الحآقۃ: 23/69)’’جس کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘ جس میں نہایت لذیذ میوے بکثرت ہوں گے، وہ بہت زیادہ اچھے اچھے پھل ہوں گے جن کا حصول بہت آسان ہوگا، جس حال میں بھی وہ ہوں گے وہ ان پھلوں کو حاصل کرسکیں گے، انھیں کسی درخت پر چڑھنے کی حاجت ہوگی نہ کوئی ایسا پھل ہوگا جس کا حصول ان کے لیے دشوار ہو۔ ﴿ لَّا تَسۡمَعُ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں نہیں سنیں گے۔‘‘یعنی جنت کے اندر ﴿ لَاغِيَةً﴾ کوئی حرام بات تو کجا کوئی لغو اور باطل کلمہ بھی (نہیں سنیں گے) بلکہ ان کا تمام تر کلام اچھا اور نفع بخش ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، ان پر اللہ تعالیٰ کی لگاتار نعمتوں کے ذکر اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والوں میں باہم آداب حسنہ پر مشتمل ہو گا جو دلوں کو مسرت اور شرح صدر عطا کرے گا۔ ﴿ فِيۡهَا عَيۡنٌ جَارِيَةٌ﴾ یہ اسم جنس ہے یعنی اس کے اندر چشمے جاری ہوں گے، اہلِ جنت جیسے چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے، ان چشموں کا رخ موڑ کر ان سے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ ﴿ فِيۡهَا سُرُرٌ مَّرۡفُوۡعَةٌ﴾ اَلسُّرُرُ: سَرِیرٌ کی جمع ہے اور بیٹھنے کی ان جگہوں کو کہتے ہیں جو بذات خود بلند ہوں اور ان کو ملائم اور نرم بچھونوں کے ذریعے سے بلند کیا گیا ہو۔ ﴿ وَّاَكۡوَابٌ مَّوۡضُوۡعَةٌ﴾ یعنی مختلف انواع کے لذیذ مشروبات سے لبریز آبخورے ان کے سامنے رکھے ہوئے ہوں گے جو ان کے لیے تیار کیے گئے ہوں گے اور ان کی طلب اور اختیار کے تحت ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے کم عمر لڑکے (خدمت کے لیے) ان کے پاس گھوم پھر رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَمَارِقُ مَصۡفُوۡفَةٌ﴾ یعنی حریر اور دبیز ریشم وغیرہ کے تکیے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ان کو بیٹھنے اور ان پر آرام کرنے کے لیے صف در صف بچھایا گیا ہو گا، وہ ان کو خود بنانے یا خود بچھانے کی فکر سے آزاد اور آرام میں ہوں گے۔ ﴿ وَّزَرَابِيُّ مَبۡثُوۡثَةٌ﴾ اَلزَّرَابِیُّ سے مراد خوبصورت بچھونے ہیں، یعنی ان کی مجالس ہر جانب سے ان بچھونوں سے بھری ہوئی ہوں گی۔
88:17

أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى ٱلۡإِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔
88:18

وَإِلَى ٱلسَّمَآءِ كَيۡفَ رُفِعَتۡ

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔
88:19

وَإِلَى ٱلۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔
88:20

وَإِلَى ٱلۡأَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔
88:21

فَذَكِّرۡ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٞ

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔
88:22

لَّسۡتَ عَلَيۡهِم بِمُصَيۡطِرٍ

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔
88:23

إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔
88:24

فَيُعَذِّبُهُ ٱللَّهُ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَكۡبَرَ

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔
88:25

إِنَّ إِلَيۡنَآ إِيَابَهُمۡ

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔
88:26

ثُمَّ إِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُم

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26) [20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔ [21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘ [23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔ [25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔