al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 78 · 40 verses
78:1کس چیز کی بابت وہ باہم سوال کرتے ہیں؟(1) اس عظیم خبر کی بابت(2) کہ وہ اس میں اختلاف کرتے ہیں(3) ہرگز نہیں!عنقریب وہ جان لیں گے(4) پھر ہرگز نہیں! عنقریب وہ جان لیں گے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِيۡمِۙ۰۰ الَّذِيۡ هُمۡ فِيۡهِ مُخۡتَلِفُوۡنَؔ﴾ یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اوران کی مخالفت پھیل گئی حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہو سکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آ جائیں، یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔۙ۰۰ ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ یعنی عنقریب جب عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے تو انھیں معلوم ہو جائے گا، اس وقت انھیں جہنم کی آگ میں دھکے دے کر ڈالا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾(الطور:52؍14) ’’یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے نعمتوں اور ان دلائل کا ذکر کیا ہے جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے رسول لے کر آئے ہیں۔ فرمایا:
78:2عَنِ ٱلنَّبَإِ ٱلۡعَظِيمِ
کس چیز کی بابت وہ باہم سوال کرتے ہیں؟(1) اس عظیم خبر کی بابت(2) کہ وہ اس میں اختلاف کرتے ہیں(3) ہرگز نہیں!عنقریب وہ جان لیں گے(4) پھر ہرگز نہیں! عنقریب وہ جان لیں گے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِيۡمِۙ۰۰ الَّذِيۡ هُمۡ فِيۡهِ مُخۡتَلِفُوۡنَؔ﴾ یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اوران کی مخالفت پھیل گئی حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہو سکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آ جائیں، یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔۙ۰۰ ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ یعنی عنقریب جب عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے تو انھیں معلوم ہو جائے گا، اس وقت انھیں جہنم کی آگ میں دھکے دے کر ڈالا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾(الطور:52؍14) ’’یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے نعمتوں اور ان دلائل کا ذکر کیا ہے جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے رسول لے کر آئے ہیں۔ فرمایا:
78:3ٱلَّذِي هُمۡ فِيهِ مُخۡتَلِفُونَ
کس چیز کی بابت وہ باہم سوال کرتے ہیں؟(1) اس عظیم خبر کی بابت(2) کہ وہ اس میں اختلاف کرتے ہیں(3) ہرگز نہیں!عنقریب وہ جان لیں گے(4) پھر ہرگز نہیں! عنقریب وہ جان لیں گے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِيۡمِۙ۰۰ الَّذِيۡ هُمۡ فِيۡهِ مُخۡتَلِفُوۡنَؔ﴾ یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اوران کی مخالفت پھیل گئی حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہو سکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آ جائیں، یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔۙ۰۰ ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ یعنی عنقریب جب عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے تو انھیں معلوم ہو جائے گا، اس وقت انھیں جہنم کی آگ میں دھکے دے کر ڈالا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾(الطور:52؍14) ’’یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے نعمتوں اور ان دلائل کا ذکر کیا ہے جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے رسول لے کر آئے ہیں۔ فرمایا:
78:4کس چیز کی بابت وہ باہم سوال کرتے ہیں؟(1) اس عظیم خبر کی بابت(2) کہ وہ اس میں اختلاف کرتے ہیں(3) ہرگز نہیں!عنقریب وہ جان لیں گے(4) پھر ہرگز نہیں! عنقریب وہ جان لیں گے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِيۡمِۙ۰۰ الَّذِيۡ هُمۡ فِيۡهِ مُخۡتَلِفُوۡنَؔ﴾ یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اوران کی مخالفت پھیل گئی حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہو سکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آ جائیں، یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔۙ۰۰ ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ یعنی عنقریب جب عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے تو انھیں معلوم ہو جائے گا، اس وقت انھیں جہنم کی آگ میں دھکے دے کر ڈالا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾(الطور:52؍14) ’’یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے نعمتوں اور ان دلائل کا ذکر کیا ہے جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے رسول لے کر آئے ہیں۔ فرمایا:
78:5ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُونَ
کس چیز کی بابت وہ باہم سوال کرتے ہیں؟(1) اس عظیم خبر کی بابت(2) کہ وہ اس میں اختلاف کرتے ہیں(3) ہرگز نہیں!عنقریب وہ جان لیں گے(4) پھر ہرگز نہیں! عنقریب وہ جان لیں گے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِيۡمِۙ۰۰ الَّذِيۡ هُمۡ فِيۡهِ مُخۡتَلِفُوۡنَؔ﴾ یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اوران کی مخالفت پھیل گئی حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہو سکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آ جائیں، یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔۙ۰۰ ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ یعنی عنقریب جب عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے تو انھیں معلوم ہو جائے گا، اس وقت انھیں جہنم کی آگ میں دھکے دے کر ڈالا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾(الطور:52؍14) ’’یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے نعمتوں اور ان دلائل کا ذکر کیا ہے جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے رسول لے کر آئے ہیں۔ فرمایا:
78:6أَلَمۡ نَجۡعَلِ ٱلۡأَرۡضَ مِهَٰدٗا
کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16)
[16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟
78:7کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16)
[16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟
78:8وَخَلَقۡنَٰكُمۡ أَزۡوَٰجٗا
کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16)
[16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟
78:9وَجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتٗا
کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16)
[16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟
78:10وَجَعَلۡنَا ٱلَّيۡلَ لِبَاسٗا
کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16)
[16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟
78:11وَجَعَلۡنَا ٱلنَّهَارَ مَعَاشٗا
کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16)
[16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟
78:12وَبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعٗا شِدَادٗا
کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16)
[16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟
78:13وَجَعَلۡنَا سِرَاجٗا وَهَّاجٗا
کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16)
[16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟
78:14وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلۡمُعۡصِرَٰتِ مَآءٗ ثَجَّاجٗا
کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16)
[16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟
78:15لِّنُخۡرِجَ بِهِۦ حَبّٗا وَنَبَاتٗا
کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16)
[16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟
78:16کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو بچھونا ؟(6) اور پہاڑوں کو میخیں؟(7) اور ہم نے پیدا کیا تمھیں جوڑا جوڑا(8) اور ہم نے بنایاتمھاری نیند کو آرام کا ذریعہ(9) اور ہم نے بنایا رات کو لباس (10) اور ہم نے بنایا دن کو وقت معاش (11) اور بنائے ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط(آسمان)(12) اور ہم نے بنایاایک چراغ روشن (13) اور نازل کیا ہم نے بھرے بادلوں سے پانی خوب برسنے والا (14) تاکہ نکالیں ہم اس کے ذریعے سے دانہ (غلہ) اور سبزہ (15) اور باغات گھنے (16)
[16-6] کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الۡاَرۡضَ مِهٰدًا﴾ زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح ، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا﴾ ’’اور پہاڑوں کو میخیں۔‘‘ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقۡنٰكُمۡ اَزۡوَاجًا﴾یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا﴾ یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعًا شِدَادًا﴾ یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّجَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا﴾’’اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔‘‘ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔﴿ وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ﴾ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا﴾ بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخۡرِجَ بِهٖ حَبًّا﴾ ’’تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔‘‘ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا﴾ ’’اور سبزہ۔‘‘ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا﴾ اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟
78:17إِنَّ يَوۡمَ ٱلۡفَصۡلِ كَانَ مِيقَٰتٗا
بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30)
[25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
[30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔
78:18يَوۡمَ يُنفَخُ فِي ٱلصُّورِ فَتَأۡتُونَ أَفۡوَاجٗا
بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30)
[25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
[30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔
78:19وَفُتِحَتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتۡ أَبۡوَٰبٗا
بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30)
[25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
[30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔
78:20وَسُيِّرَتِ ٱلۡجِبَالُ فَكَانَتۡ سَرَابًا
بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30)
[25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
[30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔
78:21إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتۡ مِرۡصَادٗا
بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30)
[25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
[30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔
78:22بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30)
[25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
[30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔
78:23لَّـٰبِثِينَ فِيهَآ أَحۡقَابٗا
بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30)
[25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
[30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔
78:24لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرۡدٗا وَلَا شَرَابًا
بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30)
[25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
[30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔
78:25إِلَّا حَمِيمٗا وَغَسَّاقٗا
بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30)
[25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
[30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔
78:26بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30)
[25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
[30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔
78:27إِنَّهُمۡ كَانُواْ لَا يَرۡجُونَ حِسَابٗا
بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30)
[25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
[30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔
78:28وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا كِذَّابٗا
بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30)
[25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
[30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔
78:29وَكُلَّ شَيۡءٍ أَحۡصَيۡنَٰهُ كِتَٰبٗا
بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30)
[25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
[30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔
78:30فَذُوقُواْ فَلَن نَّزِيدَكُمۡ إِلَّا عَذَابًا
بلاشبہ دن فیصلے کا ہے وقت مقرر (17)(یعنی ) جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں، تو تم آؤ گے فوج در فوج (18) اور کھولا جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ دروازے دروازے(19) اور چلائے جائیں گے پہاڑ تو ہو جائیں گے وہ (جیسے) سراب (20) بلاشبہ جہنم ہے گھات کی جگہ (21) سرکشوں کا ٹھکانا (22) وہ ٹھہریں گے اس میں لمبی مدت (23) نہیں چکھیں گے وہ اس میں ٹھنڈک اور نہ کوئی مشروب ہی (24) سوائے کھولتے پانی اور (بہتی) پیپ کے (25)(جزا دیے جائیں گے) جزا پوری (26) بلاشبہ وہ تھے نہیں امید رکھتے حساب (کتاب) کی (27) اور وہ جھٹلاتے تھے ہماری آیات کو جھٹلانا بہت (28) اور ہر چیز کو ضبط کر رکھا ہے ہم نے ایک کتاب میں(29) سو چکھو تم،پس ہرگز نہیں زیادہ کریں گے ہم تمھیں مگر عذاب ہی میں (30)
[25-17] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِيۡقَاتًا﴾ مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا﴾ ’’جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔‘‘ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا بَرۡدًا وَّلَا شَرَابًا﴾ ’’وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔‘‘ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِيۡمًا ﴾ یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا ﴾ اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
[30-26] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا لَا يَرۡجُوۡنَ حِسَابًا﴾ یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا﴾ یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کو۔‘‘ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحۡصَيۡنٰؔهُ كِتٰبًا﴾ ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49)’’اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوۡا ﴾ ’’پس چکھو‘‘ اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَنۡ نَّزِيۡدَؔكُمۡ اِلَّا عَذَابًا﴾ ’’ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔‘‘ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔
78:31إِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ مَفَازًا
بلاشبہ متقی لوگوں کے لیے کامیابی ہے (31) باغات اور انگور ہیں (32) اور ابھری چھاتیوں والیاں ہم عمر (بیویاں)(33) اور شراب کے جام چھلکتے ہوئے (34) نہیں سنیں گے وہ اس میں لغو (باتیں) اور نہ جھوٹ (35)(دیے جائیں گے) جزا آپ کے رب کی طرف سے عطیہ کافی ہو جانے والا (36)
[36-31] جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجرموں کا حال بیان کیا، وہاں اہل تقویٰ کے انجام کا ذکر بھی فرمایا:﴿ اِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ مَفَازًا﴾ یعنی جو لوگ اپنے رب کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی اطاعت کا دامن تھام لیا اور اس کی نافرمانی سے باز آ گئے، ان کے لیے کامیابی، نجات اور جہنم سے دوری ہے۔ اس کامیابی میں ان کے لیے ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ باغ ہیں۔ ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ ان باغات کو کہا جاتا ہے جن میں خوبصورت درختوں اور پھلوں کی تمام اقسام جمع ہوں۔ ﴿ وَاَعۡنَابًا﴾ ’’اور انگور ہیں۔‘‘ ان باغات کے بیچوں بیچ ندیاں بہہ رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے انگور کے شرف اور ان باغات میں ان کی کثرت کی بنا پر ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ان باغات میں ان کی چاہت اور طلب کے مطابق بیویاں ہوں گی ﴿ وَّؔكَوَاعِبَ﴾ اس سے مراد ابھرے ہوئے پستانوں والی کنواری لڑکیاں ہیں، جن کے پستان ان کے شباب، ان کی قوت اور ان کی تازگی کے باعث ڈھیلے نہیں پڑے۔ ﴿ اَتۡرَابًا﴾’’ہم عمر عورتیں۔‘‘ ہم عمر عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باہم محبت و الفت رکھنے والی اور باہم اچھی معاشرت والی ہوتی ہیں، وہ عمر جس میں ہوں گی، وہ تینتیس سال ہے اور یہ معتدل ترین شباب کی عمر ہے۔﴿ وَّكَاۡسًا دِهَاقًا﴾ یعنی شراب کے چھلکتے ہوئے جام ہوں گے پینے والوں کی لذت کے لیے ﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا﴾ یعنی وہ ایسا کلام نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو ﴿ وَّلَا كِذّٰبًا﴾ ’’اور نہ جھوٹ۔‘‘ یعنی گناہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا وَّلَا تَاۡثِيۡمًاۙ۰۰اِلَّا قِيۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا﴾(الواقعۃ:56؍25۔26)’’وہ جنت میں کوئی بے ہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی بات سنیں گے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو یہ ثواب جزیل عطا کیا ہے۔﴿ جَزَآءًؔ مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’ان کے لیے بدلہ ہے تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ ﴿عَطَآءًؔ حِسَابًا ﴾’’یہ انعام کثیر۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے سبب سے جن کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا اور ان اعمال کو اپنی تکریم و اکرام تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔
78:32بلاشبہ متقی لوگوں کے لیے کامیابی ہے (31) باغات اور انگور ہیں (32) اور ابھری چھاتیوں والیاں ہم عمر (بیویاں)(33) اور شراب کے جام چھلکتے ہوئے (34) نہیں سنیں گے وہ اس میں لغو (باتیں) اور نہ جھوٹ (35)(دیے جائیں گے) جزا آپ کے رب کی طرف سے عطیہ کافی ہو جانے والا (36)
[36-31] جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجرموں کا حال بیان کیا، وہاں اہل تقویٰ کے انجام کا ذکر بھی فرمایا:﴿ اِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ مَفَازًا﴾ یعنی جو لوگ اپنے رب کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی اطاعت کا دامن تھام لیا اور اس کی نافرمانی سے باز آ گئے، ان کے لیے کامیابی، نجات اور جہنم سے دوری ہے۔ اس کامیابی میں ان کے لیے ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ باغ ہیں۔ ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ ان باغات کو کہا جاتا ہے جن میں خوبصورت درختوں اور پھلوں کی تمام اقسام جمع ہوں۔ ﴿ وَاَعۡنَابًا﴾ ’’اور انگور ہیں۔‘‘ ان باغات کے بیچوں بیچ ندیاں بہہ رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے انگور کے شرف اور ان باغات میں ان کی کثرت کی بنا پر ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ان باغات میں ان کی چاہت اور طلب کے مطابق بیویاں ہوں گی ﴿ وَّؔكَوَاعِبَ﴾ اس سے مراد ابھرے ہوئے پستانوں والی کنواری لڑکیاں ہیں، جن کے پستان ان کے شباب، ان کی قوت اور ان کی تازگی کے باعث ڈھیلے نہیں پڑے۔ ﴿ اَتۡرَابًا﴾’’ہم عمر عورتیں۔‘‘ ہم عمر عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باہم محبت و الفت رکھنے والی اور باہم اچھی معاشرت والی ہوتی ہیں، وہ عمر جس میں ہوں گی، وہ تینتیس سال ہے اور یہ معتدل ترین شباب کی عمر ہے۔﴿ وَّكَاۡسًا دِهَاقًا﴾ یعنی شراب کے چھلکتے ہوئے جام ہوں گے پینے والوں کی لذت کے لیے ﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا﴾ یعنی وہ ایسا کلام نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو ﴿ وَّلَا كِذّٰبًا﴾ ’’اور نہ جھوٹ۔‘‘ یعنی گناہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا وَّلَا تَاۡثِيۡمًاۙ۰۰اِلَّا قِيۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا﴾(الواقعۃ:56؍25۔26)’’وہ جنت میں کوئی بے ہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی بات سنیں گے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو یہ ثواب جزیل عطا کیا ہے۔﴿ جَزَآءًؔ مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’ان کے لیے بدلہ ہے تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ ﴿عَطَآءًؔ حِسَابًا ﴾’’یہ انعام کثیر۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے سبب سے جن کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا اور ان اعمال کو اپنی تکریم و اکرام تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔
78:33بلاشبہ متقی لوگوں کے لیے کامیابی ہے (31) باغات اور انگور ہیں (32) اور ابھری چھاتیوں والیاں ہم عمر (بیویاں)(33) اور شراب کے جام چھلکتے ہوئے (34) نہیں سنیں گے وہ اس میں لغو (باتیں) اور نہ جھوٹ (35)(دیے جائیں گے) جزا آپ کے رب کی طرف سے عطیہ کافی ہو جانے والا (36)
[36-31] جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجرموں کا حال بیان کیا، وہاں اہل تقویٰ کے انجام کا ذکر بھی فرمایا:﴿ اِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ مَفَازًا﴾ یعنی جو لوگ اپنے رب کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی اطاعت کا دامن تھام لیا اور اس کی نافرمانی سے باز آ گئے، ان کے لیے کامیابی، نجات اور جہنم سے دوری ہے۔ اس کامیابی میں ان کے لیے ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ باغ ہیں۔ ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ ان باغات کو کہا جاتا ہے جن میں خوبصورت درختوں اور پھلوں کی تمام اقسام جمع ہوں۔ ﴿ وَاَعۡنَابًا﴾ ’’اور انگور ہیں۔‘‘ ان باغات کے بیچوں بیچ ندیاں بہہ رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے انگور کے شرف اور ان باغات میں ان کی کثرت کی بنا پر ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ان باغات میں ان کی چاہت اور طلب کے مطابق بیویاں ہوں گی ﴿ وَّؔكَوَاعِبَ﴾ اس سے مراد ابھرے ہوئے پستانوں والی کنواری لڑکیاں ہیں، جن کے پستان ان کے شباب، ان کی قوت اور ان کی تازگی کے باعث ڈھیلے نہیں پڑے۔ ﴿ اَتۡرَابًا﴾’’ہم عمر عورتیں۔‘‘ ہم عمر عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باہم محبت و الفت رکھنے والی اور باہم اچھی معاشرت والی ہوتی ہیں، وہ عمر جس میں ہوں گی، وہ تینتیس سال ہے اور یہ معتدل ترین شباب کی عمر ہے۔﴿ وَّكَاۡسًا دِهَاقًا﴾ یعنی شراب کے چھلکتے ہوئے جام ہوں گے پینے والوں کی لذت کے لیے ﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا﴾ یعنی وہ ایسا کلام نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو ﴿ وَّلَا كِذّٰبًا﴾ ’’اور نہ جھوٹ۔‘‘ یعنی گناہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا وَّلَا تَاۡثِيۡمًاۙ۰۰اِلَّا قِيۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا﴾(الواقعۃ:56؍25۔26)’’وہ جنت میں کوئی بے ہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی بات سنیں گے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو یہ ثواب جزیل عطا کیا ہے۔﴿ جَزَآءًؔ مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’ان کے لیے بدلہ ہے تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ ﴿عَطَآءًؔ حِسَابًا ﴾’’یہ انعام کثیر۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے سبب سے جن کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا اور ان اعمال کو اپنی تکریم و اکرام تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔
78:34بلاشبہ متقی لوگوں کے لیے کامیابی ہے (31) باغات اور انگور ہیں (32) اور ابھری چھاتیوں والیاں ہم عمر (بیویاں)(33) اور شراب کے جام چھلکتے ہوئے (34) نہیں سنیں گے وہ اس میں لغو (باتیں) اور نہ جھوٹ (35)(دیے جائیں گے) جزا آپ کے رب کی طرف سے عطیہ کافی ہو جانے والا (36)
[36-31] جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجرموں کا حال بیان کیا، وہاں اہل تقویٰ کے انجام کا ذکر بھی فرمایا:﴿ اِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ مَفَازًا﴾ یعنی جو لوگ اپنے رب کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی اطاعت کا دامن تھام لیا اور اس کی نافرمانی سے باز آ گئے، ان کے لیے کامیابی، نجات اور جہنم سے دوری ہے۔ اس کامیابی میں ان کے لیے ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ باغ ہیں۔ ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ ان باغات کو کہا جاتا ہے جن میں خوبصورت درختوں اور پھلوں کی تمام اقسام جمع ہوں۔ ﴿ وَاَعۡنَابًا﴾ ’’اور انگور ہیں۔‘‘ ان باغات کے بیچوں بیچ ندیاں بہہ رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے انگور کے شرف اور ان باغات میں ان کی کثرت کی بنا پر ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ان باغات میں ان کی چاہت اور طلب کے مطابق بیویاں ہوں گی ﴿ وَّؔكَوَاعِبَ﴾ اس سے مراد ابھرے ہوئے پستانوں والی کنواری لڑکیاں ہیں، جن کے پستان ان کے شباب، ان کی قوت اور ان کی تازگی کے باعث ڈھیلے نہیں پڑے۔ ﴿ اَتۡرَابًا﴾’’ہم عمر عورتیں۔‘‘ ہم عمر عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باہم محبت و الفت رکھنے والی اور باہم اچھی معاشرت والی ہوتی ہیں، وہ عمر جس میں ہوں گی، وہ تینتیس سال ہے اور یہ معتدل ترین شباب کی عمر ہے۔﴿ وَّكَاۡسًا دِهَاقًا﴾ یعنی شراب کے چھلکتے ہوئے جام ہوں گے پینے والوں کی لذت کے لیے ﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا﴾ یعنی وہ ایسا کلام نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو ﴿ وَّلَا كِذّٰبًا﴾ ’’اور نہ جھوٹ۔‘‘ یعنی گناہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا وَّلَا تَاۡثِيۡمًاۙ۰۰اِلَّا قِيۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا﴾(الواقعۃ:56؍25۔26)’’وہ جنت میں کوئی بے ہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی بات سنیں گے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو یہ ثواب جزیل عطا کیا ہے۔﴿ جَزَآءًؔ مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’ان کے لیے بدلہ ہے تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ ﴿عَطَآءًؔ حِسَابًا ﴾’’یہ انعام کثیر۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے سبب سے جن کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا اور ان اعمال کو اپنی تکریم و اکرام تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔
78:35لَّا يَسۡمَعُونَ فِيهَا لَغۡوٗا وَلَا كِذَّـٰبٗا
بلاشبہ متقی لوگوں کے لیے کامیابی ہے (31) باغات اور انگور ہیں (32) اور ابھری چھاتیوں والیاں ہم عمر (بیویاں)(33) اور شراب کے جام چھلکتے ہوئے (34) نہیں سنیں گے وہ اس میں لغو (باتیں) اور نہ جھوٹ (35)(دیے جائیں گے) جزا آپ کے رب کی طرف سے عطیہ کافی ہو جانے والا (36)
[36-31] جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجرموں کا حال بیان کیا، وہاں اہل تقویٰ کے انجام کا ذکر بھی فرمایا:﴿ اِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ مَفَازًا﴾ یعنی جو لوگ اپنے رب کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی اطاعت کا دامن تھام لیا اور اس کی نافرمانی سے باز آ گئے، ان کے لیے کامیابی، نجات اور جہنم سے دوری ہے۔ اس کامیابی میں ان کے لیے ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ باغ ہیں۔ ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ ان باغات کو کہا جاتا ہے جن میں خوبصورت درختوں اور پھلوں کی تمام اقسام جمع ہوں۔ ﴿ وَاَعۡنَابًا﴾ ’’اور انگور ہیں۔‘‘ ان باغات کے بیچوں بیچ ندیاں بہہ رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے انگور کے شرف اور ان باغات میں ان کی کثرت کی بنا پر ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ان باغات میں ان کی چاہت اور طلب کے مطابق بیویاں ہوں گی ﴿ وَّؔكَوَاعِبَ﴾ اس سے مراد ابھرے ہوئے پستانوں والی کنواری لڑکیاں ہیں، جن کے پستان ان کے شباب، ان کی قوت اور ان کی تازگی کے باعث ڈھیلے نہیں پڑے۔ ﴿ اَتۡرَابًا﴾’’ہم عمر عورتیں۔‘‘ ہم عمر عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باہم محبت و الفت رکھنے والی اور باہم اچھی معاشرت والی ہوتی ہیں، وہ عمر جس میں ہوں گی، وہ تینتیس سال ہے اور یہ معتدل ترین شباب کی عمر ہے۔﴿ وَّكَاۡسًا دِهَاقًا﴾ یعنی شراب کے چھلکتے ہوئے جام ہوں گے پینے والوں کی لذت کے لیے ﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا﴾ یعنی وہ ایسا کلام نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو ﴿ وَّلَا كِذّٰبًا﴾ ’’اور نہ جھوٹ۔‘‘ یعنی گناہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا وَّلَا تَاۡثِيۡمًاۙ۰۰اِلَّا قِيۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا﴾(الواقعۃ:56؍25۔26)’’وہ جنت میں کوئی بے ہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی بات سنیں گے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو یہ ثواب جزیل عطا کیا ہے۔﴿ جَزَآءًؔ مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’ان کے لیے بدلہ ہے تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ ﴿عَطَآءًؔ حِسَابًا ﴾’’یہ انعام کثیر۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے سبب سے جن کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا اور ان اعمال کو اپنی تکریم و اکرام تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔
78:36جَزَآءٗ مِّن رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابٗا
بلاشبہ متقی لوگوں کے لیے کامیابی ہے (31) باغات اور انگور ہیں (32) اور ابھری چھاتیوں والیاں ہم عمر (بیویاں)(33) اور شراب کے جام چھلکتے ہوئے (34) نہیں سنیں گے وہ اس میں لغو (باتیں) اور نہ جھوٹ (35)(دیے جائیں گے) جزا آپ کے رب کی طرف سے عطیہ کافی ہو جانے والا (36)
[36-31] جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجرموں کا حال بیان کیا، وہاں اہل تقویٰ کے انجام کا ذکر بھی فرمایا:﴿ اِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ مَفَازًا﴾ یعنی جو لوگ اپنے رب کی ناراضی سے ڈر گئے اور اس کی اطاعت کا دامن تھام لیا اور اس کی نافرمانی سے باز آ گئے، ان کے لیے کامیابی، نجات اور جہنم سے دوری ہے۔ اس کامیابی میں ان کے لیے ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ باغ ہیں۔ ﴿ حَدَآىِٕقَ﴾ ان باغات کو کہا جاتا ہے جن میں خوبصورت درختوں اور پھلوں کی تمام اقسام جمع ہوں۔ ﴿ وَاَعۡنَابًا﴾ ’’اور انگور ہیں۔‘‘ ان باغات کے بیچوں بیچ ندیاں بہہ رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے انگور کے شرف اور ان باغات میں ان کی کثرت کی بنا پر ان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ان باغات میں ان کی چاہت اور طلب کے مطابق بیویاں ہوں گی ﴿ وَّؔكَوَاعِبَ﴾ اس سے مراد ابھرے ہوئے پستانوں والی کنواری لڑکیاں ہیں، جن کے پستان ان کے شباب، ان کی قوت اور ان کی تازگی کے باعث ڈھیلے نہیں پڑے۔ ﴿ اَتۡرَابًا﴾’’ہم عمر عورتیں۔‘‘ ہم عمر عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ باہم محبت و الفت رکھنے والی اور باہم اچھی معاشرت والی ہوتی ہیں، وہ عمر جس میں ہوں گی، وہ تینتیس سال ہے اور یہ معتدل ترین شباب کی عمر ہے۔﴿ وَّكَاۡسًا دِهَاقًا﴾ یعنی شراب کے چھلکتے ہوئے جام ہوں گے پینے والوں کی لذت کے لیے ﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا﴾ یعنی وہ ایسا کلام نہیں سنیں گے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو ﴿ وَّلَا كِذّٰبًا﴾ ’’اور نہ جھوٹ۔‘‘ یعنی گناہ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ لَا يَسۡمَعُوۡنَ فِيۡهَا لَغۡوًا وَّلَا تَاۡثِيۡمًاۙ۰۰اِلَّا قِيۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا﴾(الواقعۃ:56؍25۔26)’’وہ جنت میں کوئی بے ہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات، صرف سلام ہی سلام کی بات سنیں گے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ان کو یہ ثواب جزیل عطا کیا ہے۔﴿ جَزَآءًؔ مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’ان کے لیے بدلہ ہے تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ ﴿عَطَآءًؔ حِسَابًا ﴾’’یہ انعام کثیر۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے سبب سے جن کی توفیق سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ مند کیا اور ان اعمال کو اپنی تکریم و اکرام تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔
78:37رَّبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ٱلرَّحۡمَٰنِۖ لَا يَمۡلِكُونَ مِنۡهُ خِطَابٗا
جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، نہایت مہربان، نہیں اختیار رکھیں گے وہ اس سے بات کرنے کا (37) اس دن کھڑے ہوں گے جبریل اور (سب) فرشتے صف بستہ، نہیں کلام کر سکیں گے وہ مگر وہی کہ اجازت د ے گا اس کو رحمن، اور کہے گا وہ درست (بات)(38) یہ دن ہے برحق سو جو چاہے وہ پکڑے اپنے رب کی طرف ٹھکانا(39) بلاشبہ ہم نے ڈرا دیا ہے تمھیں قریب کے عذاب سے اس دن دیکھے گا انسان جو کچھ آگے بھیجا اس کے دونوں ہاتھوں نے اور کہے گا کافر، اے کاش! ہوتا میں مٹی (40)
[39-37] یعنی جس نے انھیں یہ عطیات عطا کیے وہ ان کا رب ہے ﴿ رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کارب ہے۔‘‘ جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کی تدبیر کی ﴿ الرَّحۡمٰنِ﴾ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، پس اس نے ان کی نشوونما کی، ان پر رحم کیا اور ان کو لطف و کرم سے نوازا حتیٰ کہ انھوں نے بہت کچھ پا لیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اپنی عظمت اور اپنی عظیم بادشاہی کا ذکر فرمایا۔ اس روز تمام مخلوق خاموش ہو گی، کوئی بات نہیں کر سکے گا ﴿ لَا يَمۡلِكُوۡنَ مِنۡهُ خِطَابًا﴾ ’’اس سے بات چیت کرنے کا انھیں اختیار نہیں ہوگا۔‘‘ ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا﴾یعنی کوئی شخص بات نہیں کر سکے گا مگر ان دو شرطوں کے ساتھ:اول: جسے اللہ تعالیٰ بات کی اجازت دے۔ثانی: اور وہ جو بات کرے وہ ٹھیک ہو۔اس لیے کہ﴿ ذٰلِكَ الۡيَوۡمُ ﴾ ’’یہ دن ۔‘‘ ﴿ الۡحَقُّ ﴾ ’’ہی سچا (دن) ہے‘‘ جس میں باطل رائج ہو سکتا ہے نہ جھوٹ فائدہ دے سکتا ہے۔ اور یہ وہ دن ہے ﴿ يَقُوۡمُ الرُّوۡحُ ﴾ ’’جس میں روح (الامین) کھڑا ہو گا۔‘‘ روح سے مراد جبریل uہیں جو تمام فرشتوں میں افضل ہیں۔ ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ اور تمام فرشتے بھی کھڑے ہوں گے ﴿ صَفًّا﴾ صف باندھے، اللہ تعالیٰ کے حضور سرافگندہ ہو کر ﴿ لَّا يَتَكَلَّمُوۡنَ﴾ ’’وہ کلام نہیں کرسکیں گے‘‘ سوائے اس بات کے جس کی اللہ تعالیٰ اجازت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ترغیب وترہیب اور تبشیر و انذار کے بعد فرمایا: ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ اتَّؔخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا﴾ ’’ پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنالے۔‘‘ یعنی عمل اور اچھی بات کرے جو قیامت کے دن اس کی طرف لوٹے گی۔
[40]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡذَرۡنٰكُمۡ عَذَابًا قَرِيۡبًا﴾ ’’بلاشبہ ہم نے تمھیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرایا ہے۔‘‘ کیونکہ وہ عذاب قریب آ گیا ہے اور جو چیز آ رہی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے ﴿ يَّوۡمَ يَنۡظُرُ الۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدٰؔهُ﴾ ’’اس دن آدمی ان (اعمال) کو د یکھ لے گا جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے۔‘‘ یعنی یہی وہ چیز ہے جو اسے ہم وفکر میں ڈالے گی اور وہ اس سے گھبرائے گا۔ پس اسے اس دنیا میں دیکھنا چاہیے کہ اس نے دائمی گھر کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ١ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾(الحشر:59/18) ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے، اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ ہر اس عمل کی خبر رکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘اگر وہ (اپنے اعمال میں) کوئی بھلائی پائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے اور اگر بھلائی کے سوا کچھ اور پائے تو وہ صرف اپنے ہی نفس کو ملامت کرے ، اسی لیے کفار شدت حسرت و ندامت کی وجہ سے موت کی تمنا کریں گے ﴿ وَيَقُوۡلُ الۡكٰفِرُ يٰلَيۡتَنِيۡؔ كُنۡتُ تُرٰبًا﴾ ’’اور کافر کہے گا، کاش! میں مٹی ہوتا۔‘‘ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں کفر اور ہر قسم کے شر سے عافیت عطا کرے۔ وہ بہت جواد اور نہایت کرم والا ہے۔
78:38يَوۡمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ صَفّٗاۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنۡ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَقَالَ صَوَابٗا
جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، نہایت مہربان، نہیں اختیار رکھیں گے وہ اس سے بات کرنے کا (37) اس دن کھڑے ہوں گے جبریل اور (سب) فرشتے صف بستہ، نہیں کلام کر سکیں گے وہ مگر وہی کہ اجازت د ے گا اس کو رحمن، اور کہے گا وہ درست (بات)(38) یہ دن ہے برحق سو جو چاہے وہ پکڑے اپنے رب کی طرف ٹھکانا(39) بلاشبہ ہم نے ڈرا دیا ہے تمھیں قریب کے عذاب سے اس دن دیکھے گا انسان جو کچھ آگے بھیجا اس کے دونوں ہاتھوں نے اور کہے گا کافر، اے کاش! ہوتا میں مٹی (40)
[39-37] یعنی جس نے انھیں یہ عطیات عطا کیے وہ ان کا رب ہے ﴿ رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کارب ہے۔‘‘ جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کی تدبیر کی ﴿ الرَّحۡمٰنِ﴾ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، پس اس نے ان کی نشوونما کی، ان پر رحم کیا اور ان کو لطف و کرم سے نوازا حتیٰ کہ انھوں نے بہت کچھ پا لیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اپنی عظمت اور اپنی عظیم بادشاہی کا ذکر فرمایا۔ اس روز تمام مخلوق خاموش ہو گی، کوئی بات نہیں کر سکے گا ﴿ لَا يَمۡلِكُوۡنَ مِنۡهُ خِطَابًا﴾ ’’اس سے بات چیت کرنے کا انھیں اختیار نہیں ہوگا۔‘‘ ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا﴾یعنی کوئی شخص بات نہیں کر سکے گا مگر ان دو شرطوں کے ساتھ:اول: جسے اللہ تعالیٰ بات کی اجازت دے۔ثانی: اور وہ جو بات کرے وہ ٹھیک ہو۔اس لیے کہ﴿ ذٰلِكَ الۡيَوۡمُ ﴾ ’’یہ دن ۔‘‘ ﴿ الۡحَقُّ ﴾ ’’ہی سچا (دن) ہے‘‘ جس میں باطل رائج ہو سکتا ہے نہ جھوٹ فائدہ دے سکتا ہے۔ اور یہ وہ دن ہے ﴿ يَقُوۡمُ الرُّوۡحُ ﴾ ’’جس میں روح (الامین) کھڑا ہو گا۔‘‘ روح سے مراد جبریل uہیں جو تمام فرشتوں میں افضل ہیں۔ ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ اور تمام فرشتے بھی کھڑے ہوں گے ﴿ صَفًّا﴾ صف باندھے، اللہ تعالیٰ کے حضور سرافگندہ ہو کر ﴿ لَّا يَتَكَلَّمُوۡنَ﴾ ’’وہ کلام نہیں کرسکیں گے‘‘ سوائے اس بات کے جس کی اللہ تعالیٰ اجازت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ترغیب وترہیب اور تبشیر و انذار کے بعد فرمایا: ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ اتَّؔخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا﴾ ’’ پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنالے۔‘‘ یعنی عمل اور اچھی بات کرے جو قیامت کے دن اس کی طرف لوٹے گی۔
[40]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡذَرۡنٰكُمۡ عَذَابًا قَرِيۡبًا﴾ ’’بلاشبہ ہم نے تمھیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرایا ہے۔‘‘ کیونکہ وہ عذاب قریب آ گیا ہے اور جو چیز آ رہی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے ﴿ يَّوۡمَ يَنۡظُرُ الۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدٰؔهُ﴾ ’’اس دن آدمی ان (اعمال) کو د یکھ لے گا جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے۔‘‘ یعنی یہی وہ چیز ہے جو اسے ہم وفکر میں ڈالے گی اور وہ اس سے گھبرائے گا۔ پس اسے اس دنیا میں دیکھنا چاہیے کہ اس نے دائمی گھر کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ١ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾(الحشر:59/18) ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے، اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ ہر اس عمل کی خبر رکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘اگر وہ (اپنے اعمال میں) کوئی بھلائی پائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے اور اگر بھلائی کے سوا کچھ اور پائے تو وہ صرف اپنے ہی نفس کو ملامت کرے ، اسی لیے کفار شدت حسرت و ندامت کی وجہ سے موت کی تمنا کریں گے ﴿ وَيَقُوۡلُ الۡكٰفِرُ يٰلَيۡتَنِيۡؔ كُنۡتُ تُرٰبًا﴾ ’’اور کافر کہے گا، کاش! میں مٹی ہوتا۔‘‘ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں کفر اور ہر قسم کے شر سے عافیت عطا کرے۔ وہ بہت جواد اور نہایت کرم والا ہے۔
78:39ذَٰلِكَ ٱلۡيَوۡمُ ٱلۡحَقُّۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ مَـَٔابًا
جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، نہایت مہربان، نہیں اختیار رکھیں گے وہ اس سے بات کرنے کا (37) اس دن کھڑے ہوں گے جبریل اور (سب) فرشتے صف بستہ، نہیں کلام کر سکیں گے وہ مگر وہی کہ اجازت د ے گا اس کو رحمن، اور کہے گا وہ درست (بات)(38) یہ دن ہے برحق سو جو چاہے وہ پکڑے اپنے رب کی طرف ٹھکانا(39) بلاشبہ ہم نے ڈرا دیا ہے تمھیں قریب کے عذاب سے اس دن دیکھے گا انسان جو کچھ آگے بھیجا اس کے دونوں ہاتھوں نے اور کہے گا کافر، اے کاش! ہوتا میں مٹی (40)
[39-37] یعنی جس نے انھیں یہ عطیات عطا کیے وہ ان کا رب ہے ﴿ رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کارب ہے۔‘‘ جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کی تدبیر کی ﴿ الرَّحۡمٰنِ﴾ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، پس اس نے ان کی نشوونما کی، ان پر رحم کیا اور ان کو لطف و کرم سے نوازا حتیٰ کہ انھوں نے بہت کچھ پا لیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اپنی عظمت اور اپنی عظیم بادشاہی کا ذکر فرمایا۔ اس روز تمام مخلوق خاموش ہو گی، کوئی بات نہیں کر سکے گا ﴿ لَا يَمۡلِكُوۡنَ مِنۡهُ خِطَابًا﴾ ’’اس سے بات چیت کرنے کا انھیں اختیار نہیں ہوگا۔‘‘ ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا﴾یعنی کوئی شخص بات نہیں کر سکے گا مگر ان دو شرطوں کے ساتھ:اول: جسے اللہ تعالیٰ بات کی اجازت دے۔ثانی: اور وہ جو بات کرے وہ ٹھیک ہو۔اس لیے کہ﴿ ذٰلِكَ الۡيَوۡمُ ﴾ ’’یہ دن ۔‘‘ ﴿ الۡحَقُّ ﴾ ’’ہی سچا (دن) ہے‘‘ جس میں باطل رائج ہو سکتا ہے نہ جھوٹ فائدہ دے سکتا ہے۔ اور یہ وہ دن ہے ﴿ يَقُوۡمُ الرُّوۡحُ ﴾ ’’جس میں روح (الامین) کھڑا ہو گا۔‘‘ روح سے مراد جبریل uہیں جو تمام فرشتوں میں افضل ہیں۔ ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ اور تمام فرشتے بھی کھڑے ہوں گے ﴿ صَفًّا﴾ صف باندھے، اللہ تعالیٰ کے حضور سرافگندہ ہو کر ﴿ لَّا يَتَكَلَّمُوۡنَ﴾ ’’وہ کلام نہیں کرسکیں گے‘‘ سوائے اس بات کے جس کی اللہ تعالیٰ اجازت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ترغیب وترہیب اور تبشیر و انذار کے بعد فرمایا: ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ اتَّؔخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا﴾ ’’ پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنالے۔‘‘ یعنی عمل اور اچھی بات کرے جو قیامت کے دن اس کی طرف لوٹے گی۔
[40]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡذَرۡنٰكُمۡ عَذَابًا قَرِيۡبًا﴾ ’’بلاشبہ ہم نے تمھیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرایا ہے۔‘‘ کیونکہ وہ عذاب قریب آ گیا ہے اور جو چیز آ رہی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے ﴿ يَّوۡمَ يَنۡظُرُ الۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدٰؔهُ﴾ ’’اس دن آدمی ان (اعمال) کو د یکھ لے گا جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے۔‘‘ یعنی یہی وہ چیز ہے جو اسے ہم وفکر میں ڈالے گی اور وہ اس سے گھبرائے گا۔ پس اسے اس دنیا میں دیکھنا چاہیے کہ اس نے دائمی گھر کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ١ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾(الحشر:59/18) ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے، اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ ہر اس عمل کی خبر رکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘اگر وہ (اپنے اعمال میں) کوئی بھلائی پائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے اور اگر بھلائی کے سوا کچھ اور پائے تو وہ صرف اپنے ہی نفس کو ملامت کرے ، اسی لیے کفار شدت حسرت و ندامت کی وجہ سے موت کی تمنا کریں گے ﴿ وَيَقُوۡلُ الۡكٰفِرُ يٰلَيۡتَنِيۡؔ كُنۡتُ تُرٰبًا﴾ ’’اور کافر کہے گا، کاش! میں مٹی ہوتا۔‘‘ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں کفر اور ہر قسم کے شر سے عافیت عطا کرے۔ وہ بہت جواد اور نہایت کرم والا ہے۔
78:40إِنَّآ أَنذَرۡنَٰكُمۡ عَذَابٗا قَرِيبٗا يَوۡمَ يَنظُرُ ٱلۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلۡكَافِرُ يَٰلَيۡتَنِي كُنتُ تُرَٰبَۢا
جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، نہایت مہربان، نہیں اختیار رکھیں گے وہ اس سے بات کرنے کا (37) اس دن کھڑے ہوں گے جبریل اور (سب) فرشتے صف بستہ، نہیں کلام کر سکیں گے وہ مگر وہی کہ اجازت د ے گا اس کو رحمن، اور کہے گا وہ درست (بات)(38) یہ دن ہے برحق سو جو چاہے وہ پکڑے اپنے رب کی طرف ٹھکانا(39) بلاشبہ ہم نے ڈرا دیا ہے تمھیں قریب کے عذاب سے اس دن دیکھے گا انسان جو کچھ آگے بھیجا اس کے دونوں ہاتھوں نے اور کہے گا کافر، اے کاش! ہوتا میں مٹی (40)
[39-37] یعنی جس نے انھیں یہ عطیات عطا کیے وہ ان کا رب ہے ﴿ رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کارب ہے۔‘‘ جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کی تدبیر کی ﴿ الرَّحۡمٰنِ﴾ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، پس اس نے ان کی نشوونما کی، ان پر رحم کیا اور ان کو لطف و کرم سے نوازا حتیٰ کہ انھوں نے بہت کچھ پا لیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اپنی عظمت اور اپنی عظیم بادشاہی کا ذکر فرمایا۔ اس روز تمام مخلوق خاموش ہو گی، کوئی بات نہیں کر سکے گا ﴿ لَا يَمۡلِكُوۡنَ مِنۡهُ خِطَابًا﴾ ’’اس سے بات چیت کرنے کا انھیں اختیار نہیں ہوگا۔‘‘ ﴿ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَهُ الرَّحۡمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا﴾یعنی کوئی شخص بات نہیں کر سکے گا مگر ان دو شرطوں کے ساتھ:اول: جسے اللہ تعالیٰ بات کی اجازت دے۔ثانی: اور وہ جو بات کرے وہ ٹھیک ہو۔اس لیے کہ﴿ ذٰلِكَ الۡيَوۡمُ ﴾ ’’یہ دن ۔‘‘ ﴿ الۡحَقُّ ﴾ ’’ہی سچا (دن) ہے‘‘ جس میں باطل رائج ہو سکتا ہے نہ جھوٹ فائدہ دے سکتا ہے۔ اور یہ وہ دن ہے ﴿ يَقُوۡمُ الرُّوۡحُ ﴾ ’’جس میں روح (الامین) کھڑا ہو گا۔‘‘ روح سے مراد جبریل uہیں جو تمام فرشتوں میں افضل ہیں۔ ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ اور تمام فرشتے بھی کھڑے ہوں گے ﴿ صَفًّا﴾ صف باندھے، اللہ تعالیٰ کے حضور سرافگندہ ہو کر ﴿ لَّا يَتَكَلَّمُوۡنَ﴾ ’’وہ کلام نہیں کرسکیں گے‘‘ سوائے اس بات کے جس کی اللہ تعالیٰ اجازت دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ترغیب وترہیب اور تبشیر و انذار کے بعد فرمایا: ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ اتَّؔخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا﴾ ’’ پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنالے۔‘‘ یعنی عمل اور اچھی بات کرے جو قیامت کے دن اس کی طرف لوٹے گی۔
[40]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡذَرۡنٰكُمۡ عَذَابًا قَرِيۡبًا﴾ ’’بلاشبہ ہم نے تمھیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرایا ہے۔‘‘ کیونکہ وہ عذاب قریب آ گیا ہے اور جو چیز آ رہی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے ﴿ يَّوۡمَ يَنۡظُرُ الۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدٰؔهُ﴾ ’’اس دن آدمی ان (اعمال) کو د یکھ لے گا جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے۔‘‘ یعنی یہی وہ چیز ہے جو اسے ہم وفکر میں ڈالے گی اور وہ اس سے گھبرائے گا۔ پس اسے اس دنیا میں دیکھنا چاہیے کہ اس نے دائمی گھر کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ جیسے اللہ نے فرمایا: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ١ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾(الحشر:59/18) ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے، اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ ہر اس عمل کی خبر رکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘اگر وہ (اپنے اعمال میں) کوئی بھلائی پائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے اور اگر بھلائی کے سوا کچھ اور پائے تو وہ صرف اپنے ہی نفس کو ملامت کرے ، اسی لیے کفار شدت حسرت و ندامت کی وجہ سے موت کی تمنا کریں گے ﴿ وَيَقُوۡلُ الۡكٰفِرُ يٰلَيۡتَنِيۡؔ كُنۡتُ تُرٰبًا﴾ ’’اور کافر کہے گا، کاش! میں مٹی ہوتا۔‘‘ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں کفر اور ہر قسم کے شر سے عافیت عطا کرے۔ وہ بہت جواد اور نہایت کرم والا ہے۔