QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Al-Mursalat

ٱلْمُرْسَلَات

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 77 · 50 verses

77:1

وَٱلۡمُرۡسَلَٰتِ عُرۡفٗا

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
77:2

فَٱلۡعَٰصِفَٰتِ عَصۡفٗا

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
77:3

وَٱلنَّـٰشِرَٰتِ نَشۡرٗا

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
77:4

فَٱلۡفَٰرِقَٰتِ فَرۡقٗا

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
77:5

فَٱلۡمُلۡقِيَٰتِ ذِكۡرًا

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
77:6

عُذۡرًا أَوۡ نُذۡرًا

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
77:7

إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَٰقِعٞ

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
77:8

فَإِذَا ٱلنُّجُومُ طُمِسَتۡ

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
77:9

وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ فُرِجَتۡ

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
77:10

وَإِذَا ٱلۡجِبَالُ نُسِفَتۡ

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
77:11

وَإِذَا ٱلرُّسُلُ أُقِّتَتۡ

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
77:12

لِأَيِّ يَوۡمٍ أُجِّلَتۡ

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
77:13

لِيَوۡمِ ٱلۡفَصۡلِ

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
77:14

وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا يَوۡمُ ٱلۡفَصۡلِ

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
77:15

وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں متواتر(1) پھر ان ہواؤں کی جو تند و تیز چلتی ہیں طوفان بن کر(2) اور ان ہواؤں کی جو پھیلاتی ہیں (بادل و بارش کو) پھیلانا(3) پھر ان (فرشتوں) کی جو جدا کرنےوالے ہیں (حق و باطل کو) جدا کرنا(4) پھر ان (فرشتوں) کی جو ڈالنے والے ہیں ذکر(5) عذر (ختم کرنے) یا ڈرانے کے لیے(6) یقیناً جس (قیامت) کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (وہ) ضرور واقع ہونے والی ہے(7) پس جب ستارے مٹا (بے نور کر) دیے جائیں گے(8) اور جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا(9) اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے (10) اور جب رسول، معین وقت پر جمع کیے جائیں گے (11)(کہا جائے گا)کس دن کے لیے (یہ) مؤخر کیے گئے تھے؟ (12) فیصلے کے دن کے لیے (13) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے دن فیصلے کا؟ (14) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کے روز اور اعمال کی جزا و سزا پر فرشتوں کی قسم کھائی ہے، وہ فرشتے جن کو اللہ تعالیٰ کونی و قدری معاملات، تدبیر کائنات، شرعی معاملات اور اپنے رسولوں پر وحی کے لیے بھیجتا ہے ﴿عُرۡفًا﴾﴿الۡمُرۡسَلٰتِ﴾ سےحال ہے، یعنی ان کو محض ناشائستہ اور بے فائدہ کام کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ ان کو عرف، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ ﴿ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا﴾ اس سے بھی مراد فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تیز ہوا کی مانند جلدی سے آگے بڑھ کر اخذ کرتے ہیں اور نہایت سرعت سے اس کے احکام کو نافذ کرتے ہیں یا اس سے مراد سخت ہوائیں ہیں جو نہایت تیز چلتی ہیں۔ ﴿ وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہوں کہ انھیں جس کے پھیلانے کے انتظام پر مقرر کیا گیا ہے، اس کو پھیلاتے ہیں یا اس سے مراد بادل ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین کو سر سبز کرتا ہے اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اس کو دوبارہ زندگی عطا کرتا ہے۔ ﴿ فَالۡمُلۡقِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو افضل ترین احکام کا القا کرتے ہیں۔ یہ وہ ذکر ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اس میں ان کے سامنے ان کے منافع اور مصالح کا ذکر کرتا ہے اور اسے انبیاء و مرسلین کی طرف بھیجتاہے۔ ﴿ عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا﴾ یعنی لوگوں کا عذر رفع کرنے اور ان کو تنبیہ کرنے کے لیے، تاکہ وہ لوگوں کو خوف کے ان مقامات سے ڈرائیں جو ان کے سامنے ہیں، ان کے عذر منقطع ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ پر ان کے لیے کوئی حجت نہ رہے۔ [7]﴿ اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی مرنے کے بعد زندگی اور اعمال کی جزا و سزا کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے ﴿ لَوَاقِعٌ﴾ اس کا وقوع کسی شک و ریب کے بغیر حتمی ہے۔ [14-8] جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ لِاَيِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡ﴾ ’’بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟‘‘ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِ﴾ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔ [15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کی تکذیب کرنے والے کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‘‘ یعنی انھیں کتنی حسرت ہو گی، ان کا عذاب کتنا سخت اور ان کا ٹھکانا کتنا برا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ کیا، ان کے لیے قسم کھائی مگر انھوں نے اسے سچ نہ جانا، اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
77:16

أَلَمۡ نُهۡلِكِ ٱلۡأَوَّلِينَ

کیا نہیں ہلاک کیا ہم نے پہلوں کو؟ (16) پھر ہم پیچھے لگائیں گے ان کے پچھلوں کو (17) اسی طرح ہم کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ (18) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے(19) [19-16] کیا ہم نے جھٹلانے والے گزشتہ لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا ، پھر ہم آخر میں آنے والے لوگوں کو ان کے بعد ہلاک کریں گے جو جھٹلائیں گے۔ ہر مجرم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سابقہ سنت بھی یہی ہے اور آئندہ سنت الٰہی بھی یہی ہو گی۔ ان کے لیے سزا حتمی ہے پس تم جو کچھ دیکھتے اور جو کچھ سنتے ہو اس سے عبرت کیوں نہیں پکڑتے؟ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لے خرابی ہے۔‘‘ جو واضح اور کھلی نشانیوں، عذاب اور عبرتناک سزاؤں کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی جھٹلاتے ہیں۔
77:17

ثُمَّ نُتۡبِعُهُمُ ٱلۡأٓخِرِينَ

کیا نہیں ہلاک کیا ہم نے پہلوں کو؟ (16) پھر ہم پیچھے لگائیں گے ان کے پچھلوں کو (17) اسی طرح ہم کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ (18) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے(19) [19-16] کیا ہم نے جھٹلانے والے گزشتہ لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا ، پھر ہم آخر میں آنے والے لوگوں کو ان کے بعد ہلاک کریں گے جو جھٹلائیں گے۔ ہر مجرم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سابقہ سنت بھی یہی ہے اور آئندہ سنت الٰہی بھی یہی ہو گی۔ ان کے لیے سزا حتمی ہے پس تم جو کچھ دیکھتے اور جو کچھ سنتے ہو اس سے عبرت کیوں نہیں پکڑتے؟ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لے خرابی ہے۔‘‘ جو واضح اور کھلی نشانیوں، عذاب اور عبرتناک سزاؤں کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی جھٹلاتے ہیں۔
77:18

كَذَٰلِكَ نَفۡعَلُ بِٱلۡمُجۡرِمِينَ

کیا نہیں ہلاک کیا ہم نے پہلوں کو؟ (16) پھر ہم پیچھے لگائیں گے ان کے پچھلوں کو (17) اسی طرح ہم کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ (18) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے(19) [19-16] کیا ہم نے جھٹلانے والے گزشتہ لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا ، پھر ہم آخر میں آنے والے لوگوں کو ان کے بعد ہلاک کریں گے جو جھٹلائیں گے۔ ہر مجرم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سابقہ سنت بھی یہی ہے اور آئندہ سنت الٰہی بھی یہی ہو گی۔ ان کے لیے سزا حتمی ہے پس تم جو کچھ دیکھتے اور جو کچھ سنتے ہو اس سے عبرت کیوں نہیں پکڑتے؟ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لے خرابی ہے۔‘‘ جو واضح اور کھلی نشانیوں، عذاب اور عبرتناک سزاؤں کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی جھٹلاتے ہیں۔
77:19

وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

کیا نہیں ہلاک کیا ہم نے پہلوں کو؟ (16) پھر ہم پیچھے لگائیں گے ان کے پچھلوں کو (17) اسی طرح ہم کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ (18) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے(19) [19-16] کیا ہم نے جھٹلانے والے گزشتہ لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا ، پھر ہم آخر میں آنے والے لوگوں کو ان کے بعد ہلاک کریں گے جو جھٹلائیں گے۔ ہر مجرم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سابقہ سنت بھی یہی ہے اور آئندہ سنت الٰہی بھی یہی ہو گی۔ ان کے لیے سزا حتمی ہے پس تم جو کچھ دیکھتے اور جو کچھ سنتے ہو اس سے عبرت کیوں نہیں پکڑتے؟ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لے خرابی ہے۔‘‘ جو واضح اور کھلی نشانیوں، عذاب اور عبرتناک سزاؤں کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی جھٹلاتے ہیں۔
77:20

أَلَمۡ نَخۡلُقكُّم مِّن مَّآءٖ مَّهِينٖ

کیا نہیں پیدا کیا ہم نے تمھیں حقیر پانی (منی) سے؟ (20) پھر ہم نے رکھااس کو ایک محفوظ ٹھکانے میں (21) ایک اندازے (وقت) مقررہ تک (22) پس ہم نے اندازہ لگایا، تو (کیا) اچھا اندازہ لگانے والے ہیں (ہم)(23) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (24) [24-20] اے انسانو! کیا ہم نے تمھیں پیدا نہیں کیا ﴿ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ اس پانی سے جو انتہائی حقیر ہے جو پشت اور سینے کے درمیان سے خارج ہوتا ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے رکھ دیا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ﴾ ایک محفوظ جگہ میں، اس سے مراد رحم ہے، یہیں نطفہ ٹھہرتا اور نشوونما پاتا ہے ﴿ اِلٰى قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ یعنی ایک مقررہ وقت تک ﴿ فَقَدَرۡنَا﴾ یعنی یہ وقت ہم نے مقرر کیا ہے، ان تاریکیوں میں اس جنین کا انتظام ہم نے کیا، ہم نے اسے نطفہ سے خون کے لوتھڑے، پھر بوٹی میں تبدیل کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بڑا کیا، اس کے اندر روح پھونکی، ان میں کچھ ایسے ہیں جو اس سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ ﴿فَنِعۡمَ الۡقٰدِرُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے مراد خود اللہ کا نفس مقدس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اندازہ اس کی حکمت کے تابع، اور حمد و ستائش کے موافق ہے۔ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے جنھوں نے آیات واضح ہوجانے اور عبرت ناک چیزیں اور کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد جھٹلایا۔
77:21

فَجَعَلۡنَٰهُ فِي قَرَارٖ مَّكِينٍ

کیا نہیں پیدا کیا ہم نے تمھیں حقیر پانی (منی) سے؟ (20) پھر ہم نے رکھااس کو ایک محفوظ ٹھکانے میں (21) ایک اندازے (وقت) مقررہ تک (22) پس ہم نے اندازہ لگایا، تو (کیا) اچھا اندازہ لگانے والے ہیں (ہم)(23) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (24) [24-20] اے انسانو! کیا ہم نے تمھیں پیدا نہیں کیا ﴿ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ اس پانی سے جو انتہائی حقیر ہے جو پشت اور سینے کے درمیان سے خارج ہوتا ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے رکھ دیا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ﴾ ایک محفوظ جگہ میں، اس سے مراد رحم ہے، یہیں نطفہ ٹھہرتا اور نشوونما پاتا ہے ﴿ اِلٰى قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ یعنی ایک مقررہ وقت تک ﴿ فَقَدَرۡنَا﴾ یعنی یہ وقت ہم نے مقرر کیا ہے، ان تاریکیوں میں اس جنین کا انتظام ہم نے کیا، ہم نے اسے نطفہ سے خون کے لوتھڑے، پھر بوٹی میں تبدیل کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بڑا کیا، اس کے اندر روح پھونکی، ان میں کچھ ایسے ہیں جو اس سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ ﴿فَنِعۡمَ الۡقٰدِرُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے مراد خود اللہ کا نفس مقدس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اندازہ اس کی حکمت کے تابع، اور حمد و ستائش کے موافق ہے۔ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے جنھوں نے آیات واضح ہوجانے اور عبرت ناک چیزیں اور کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد جھٹلایا۔
77:22

إِلَىٰ قَدَرٖ مَّعۡلُومٖ

کیا نہیں پیدا کیا ہم نے تمھیں حقیر پانی (منی) سے؟ (20) پھر ہم نے رکھااس کو ایک محفوظ ٹھکانے میں (21) ایک اندازے (وقت) مقررہ تک (22) پس ہم نے اندازہ لگایا، تو (کیا) اچھا اندازہ لگانے والے ہیں (ہم)(23) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (24) [24-20] اے انسانو! کیا ہم نے تمھیں پیدا نہیں کیا ﴿ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ اس پانی سے جو انتہائی حقیر ہے جو پشت اور سینے کے درمیان سے خارج ہوتا ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے رکھ دیا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ﴾ ایک محفوظ جگہ میں، اس سے مراد رحم ہے، یہیں نطفہ ٹھہرتا اور نشوونما پاتا ہے ﴿ اِلٰى قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ یعنی ایک مقررہ وقت تک ﴿ فَقَدَرۡنَا﴾ یعنی یہ وقت ہم نے مقرر کیا ہے، ان تاریکیوں میں اس جنین کا انتظام ہم نے کیا، ہم نے اسے نطفہ سے خون کے لوتھڑے، پھر بوٹی میں تبدیل کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بڑا کیا، اس کے اندر روح پھونکی، ان میں کچھ ایسے ہیں جو اس سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ ﴿فَنِعۡمَ الۡقٰدِرُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے مراد خود اللہ کا نفس مقدس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اندازہ اس کی حکمت کے تابع، اور حمد و ستائش کے موافق ہے۔ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے جنھوں نے آیات واضح ہوجانے اور عبرت ناک چیزیں اور کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد جھٹلایا۔
77:23

فَقَدَرۡنَا فَنِعۡمَ ٱلۡقَٰدِرُونَ

کیا نہیں پیدا کیا ہم نے تمھیں حقیر پانی (منی) سے؟ (20) پھر ہم نے رکھااس کو ایک محفوظ ٹھکانے میں (21) ایک اندازے (وقت) مقررہ تک (22) پس ہم نے اندازہ لگایا، تو (کیا) اچھا اندازہ لگانے والے ہیں (ہم)(23) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (24) [24-20] اے انسانو! کیا ہم نے تمھیں پیدا نہیں کیا ﴿ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ اس پانی سے جو انتہائی حقیر ہے جو پشت اور سینے کے درمیان سے خارج ہوتا ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے رکھ دیا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ﴾ ایک محفوظ جگہ میں، اس سے مراد رحم ہے، یہیں نطفہ ٹھہرتا اور نشوونما پاتا ہے ﴿ اِلٰى قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ یعنی ایک مقررہ وقت تک ﴿ فَقَدَرۡنَا﴾ یعنی یہ وقت ہم نے مقرر کیا ہے، ان تاریکیوں میں اس جنین کا انتظام ہم نے کیا، ہم نے اسے نطفہ سے خون کے لوتھڑے، پھر بوٹی میں تبدیل کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بڑا کیا، اس کے اندر روح پھونکی، ان میں کچھ ایسے ہیں جو اس سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ ﴿فَنِعۡمَ الۡقٰدِرُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے مراد خود اللہ کا نفس مقدس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اندازہ اس کی حکمت کے تابع، اور حمد و ستائش کے موافق ہے۔ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے جنھوں نے آیات واضح ہوجانے اور عبرت ناک چیزیں اور کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد جھٹلایا۔
77:24

وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

کیا نہیں پیدا کیا ہم نے تمھیں حقیر پانی (منی) سے؟ (20) پھر ہم نے رکھااس کو ایک محفوظ ٹھکانے میں (21) ایک اندازے (وقت) مقررہ تک (22) پس ہم نے اندازہ لگایا، تو (کیا) اچھا اندازہ لگانے والے ہیں (ہم)(23) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (24) [24-20] اے انسانو! کیا ہم نے تمھیں پیدا نہیں کیا ﴿ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ﴾ اس پانی سے جو انتہائی حقیر ہے جو پشت اور سینے کے درمیان سے خارج ہوتا ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے رکھ دیا ﴿ فِيۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ﴾ ایک محفوظ جگہ میں، اس سے مراد رحم ہے، یہیں نطفہ ٹھہرتا اور نشوونما پاتا ہے ﴿ اِلٰى قَدَرٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾ یعنی ایک مقررہ وقت تک ﴿ فَقَدَرۡنَا﴾ یعنی یہ وقت ہم نے مقرر کیا ہے، ان تاریکیوں میں اس جنین کا انتظام ہم نے کیا، ہم نے اسے نطفہ سے خون کے لوتھڑے، پھر بوٹی میں تبدیل کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بڑا کیا، اس کے اندر روح پھونکی، ان میں کچھ ایسے ہیں جو اس سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ ﴿فَنِعۡمَ الۡقٰدِرُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے مراد خود اللہ کا نفس مقدس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اندازہ اس کی حکمت کے تابع، اور حمد و ستائش کے موافق ہے۔ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے جنھوں نے آیات واضح ہوجانے اور عبرت ناک چیزیں اور کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد جھٹلایا۔
77:25

أَلَمۡ نَجۡعَلِ ٱلۡأَرۡضَ كِفَاتًا

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو سمیٹنے (جمع کرنے) والی؟ (25) زندوں اور مردوں کو؟ (26) اور ہم نے بنائے (رکھے) اس میں مضبوط (جمے ہوئے) پہاڑبلند و بالا اور ہم نے پلایا تمھیں پانی میٹھا (27) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (28) [28-25] یعنی کیا ہم نے تم پر احسان نہیں کیا اور تہارے مصالح کے لیے زمین کو مسخر کر کے تم پر انعام نہیں کیا؟ اور اس زمین کو ﴿ كِفَاتًا﴾ تمھارے لیے سمیٹنے والی نہیں بنایا ﴿ اَحۡيَآءًؔ﴾ ’’زندوں کو‘‘ گھروں میں ﴿ وَّاَمۡوَاتًا﴾’’اور مردوں‘‘ کو قبروں میں؟ پس جس طرح گھر اور محلات، بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کا احسان ہے اسی طرح قبریں بھی ان کے حق میں رحمت اور ان کے لیے ستر ہیں کہ ان کے اجساد درندوں وغیرہ کے لیے کھلے نہیں پڑے رہتے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ﴾ یعنی ہم نے ان کے اندر پہاڑ رکھ دیے جو زمین کو ٹھہرائے رکھتے ہیں تاکہ زمین اہل زمین کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے مضبوط اور بلند، یعنی طویل و عریض پہاڑوں کے ذریعے سے ٹھہرا دیا ﴿ وَّاَسۡقَيۡنٰكُمۡ مَّآءًؔ فُرَاتًا﴾ یعنی ہم نے تمھیں شیریں اور خوش ذائقہ پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَرَءَيۡتُمُ الۡمَآءَ الَّذِيۡ تَشۡرَبُوۡنَؕ۰۰ ءَاَنۡتُمۡ اَنۡزَلۡتُمُوۡهُ۠ مِنَ الۡمُزۡنِ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡزِلُوۡنَ۰۰لَوۡ نَشَآءُ جَعَلۡنٰهُ اُجَاجًا فَلَوۡلَا تَشۡكُرُوۡنَ﴾(الواقعۃ:56؍68۔69) ’’بھلا تم نے دیکھا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو، کیا تم اسے بادل سے برسایا یا ہم اسے برساتے ہیں؟ اور اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا بنا دیں، پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے۔‘‘ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔ ‘‘بایں ہمہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمتیں دکھلائیں، جن کو عطا کرنے میں وہ متفرد ہے اور ان نعمتوں سے ان کو مختص کیا، انھوں نے ان نعمتوں کے مقابلے میں تکذیب کا رویہ اختیار کیا۔
77:26

أَحۡيَآءٗ وَأَمۡوَٰتٗا

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو سمیٹنے (جمع کرنے) والی؟ (25) زندوں اور مردوں کو؟ (26) اور ہم نے بنائے (رکھے) اس میں مضبوط (جمے ہوئے) پہاڑبلند و بالا اور ہم نے پلایا تمھیں پانی میٹھا (27) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (28) [28-25] یعنی کیا ہم نے تم پر احسان نہیں کیا اور تہارے مصالح کے لیے زمین کو مسخر کر کے تم پر انعام نہیں کیا؟ اور اس زمین کو ﴿ كِفَاتًا﴾ تمھارے لیے سمیٹنے والی نہیں بنایا ﴿ اَحۡيَآءًؔ﴾ ’’زندوں کو‘‘ گھروں میں ﴿ وَّاَمۡوَاتًا﴾’’اور مردوں‘‘ کو قبروں میں؟ پس جس طرح گھر اور محلات، بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کا احسان ہے اسی طرح قبریں بھی ان کے حق میں رحمت اور ان کے لیے ستر ہیں کہ ان کے اجساد درندوں وغیرہ کے لیے کھلے نہیں پڑے رہتے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ﴾ یعنی ہم نے ان کے اندر پہاڑ رکھ دیے جو زمین کو ٹھہرائے رکھتے ہیں تاکہ زمین اہل زمین کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے مضبوط اور بلند، یعنی طویل و عریض پہاڑوں کے ذریعے سے ٹھہرا دیا ﴿ وَّاَسۡقَيۡنٰكُمۡ مَّآءًؔ فُرَاتًا﴾ یعنی ہم نے تمھیں شیریں اور خوش ذائقہ پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَرَءَيۡتُمُ الۡمَآءَ الَّذِيۡ تَشۡرَبُوۡنَؕ۰۰ ءَاَنۡتُمۡ اَنۡزَلۡتُمُوۡهُ۠ مِنَ الۡمُزۡنِ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡزِلُوۡنَ۰۰لَوۡ نَشَآءُ جَعَلۡنٰهُ اُجَاجًا فَلَوۡلَا تَشۡكُرُوۡنَ﴾(الواقعۃ:56؍68۔69) ’’بھلا تم نے دیکھا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو، کیا تم اسے بادل سے برسایا یا ہم اسے برساتے ہیں؟ اور اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا بنا دیں، پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے۔‘‘ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔ ‘‘بایں ہمہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمتیں دکھلائیں، جن کو عطا کرنے میں وہ متفرد ہے اور ان نعمتوں سے ان کو مختص کیا، انھوں نے ان نعمتوں کے مقابلے میں تکذیب کا رویہ اختیار کیا۔
77:27

وَجَعَلۡنَا فِيهَا رَوَٰسِيَ شَٰمِخَٰتٖ وَأَسۡقَيۡنَٰكُم مَّآءٗ فُرَاتٗا

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو سمیٹنے (جمع کرنے) والی؟ (25) زندوں اور مردوں کو؟ (26) اور ہم نے بنائے (رکھے) اس میں مضبوط (جمے ہوئے) پہاڑبلند و بالا اور ہم نے پلایا تمھیں پانی میٹھا (27) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (28) [28-25] یعنی کیا ہم نے تم پر احسان نہیں کیا اور تہارے مصالح کے لیے زمین کو مسخر کر کے تم پر انعام نہیں کیا؟ اور اس زمین کو ﴿ كِفَاتًا﴾ تمھارے لیے سمیٹنے والی نہیں بنایا ﴿ اَحۡيَآءًؔ﴾ ’’زندوں کو‘‘ گھروں میں ﴿ وَّاَمۡوَاتًا﴾’’اور مردوں‘‘ کو قبروں میں؟ پس جس طرح گھر اور محلات، بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کا احسان ہے اسی طرح قبریں بھی ان کے حق میں رحمت اور ان کے لیے ستر ہیں کہ ان کے اجساد درندوں وغیرہ کے لیے کھلے نہیں پڑے رہتے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ﴾ یعنی ہم نے ان کے اندر پہاڑ رکھ دیے جو زمین کو ٹھہرائے رکھتے ہیں تاکہ زمین اہل زمین کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے مضبوط اور بلند، یعنی طویل و عریض پہاڑوں کے ذریعے سے ٹھہرا دیا ﴿ وَّاَسۡقَيۡنٰكُمۡ مَّآءًؔ فُرَاتًا﴾ یعنی ہم نے تمھیں شیریں اور خوش ذائقہ پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَرَءَيۡتُمُ الۡمَآءَ الَّذِيۡ تَشۡرَبُوۡنَؕ۰۰ ءَاَنۡتُمۡ اَنۡزَلۡتُمُوۡهُ۠ مِنَ الۡمُزۡنِ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡزِلُوۡنَ۰۰لَوۡ نَشَآءُ جَعَلۡنٰهُ اُجَاجًا فَلَوۡلَا تَشۡكُرُوۡنَ﴾(الواقعۃ:56؍68۔69) ’’بھلا تم نے دیکھا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو، کیا تم اسے بادل سے برسایا یا ہم اسے برساتے ہیں؟ اور اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا بنا دیں، پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے۔‘‘ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔ ‘‘بایں ہمہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمتیں دکھلائیں، جن کو عطا کرنے میں وہ متفرد ہے اور ان نعمتوں سے ان کو مختص کیا، انھوں نے ان نعمتوں کے مقابلے میں تکذیب کا رویہ اختیار کیا۔
77:28

وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

کیا نہیں بنایا ہم نے زمین کو سمیٹنے (جمع کرنے) والی؟ (25) زندوں اور مردوں کو؟ (26) اور ہم نے بنائے (رکھے) اس میں مضبوط (جمے ہوئے) پہاڑبلند و بالا اور ہم نے پلایا تمھیں پانی میٹھا (27) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (28) [28-25] یعنی کیا ہم نے تم پر احسان نہیں کیا اور تہارے مصالح کے لیے زمین کو مسخر کر کے تم پر انعام نہیں کیا؟ اور اس زمین کو ﴿ كِفَاتًا﴾ تمھارے لیے سمیٹنے والی نہیں بنایا ﴿ اَحۡيَآءًؔ﴾ ’’زندوں کو‘‘ گھروں میں ﴿ وَّاَمۡوَاتًا﴾’’اور مردوں‘‘ کو قبروں میں؟ پس جس طرح گھر اور محلات، بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کا احسان ہے اسی طرح قبریں بھی ان کے حق میں رحمت اور ان کے لیے ستر ہیں کہ ان کے اجساد درندوں وغیرہ کے لیے کھلے نہیں پڑے رہتے۔﴿ وَّجَعَلۡنَا فِيۡهَا رَوَاسِيَ﴾ یعنی ہم نے ان کے اندر پہاڑ رکھ دیے جو زمین کو ٹھہرائے رکھتے ہیں تاکہ زمین اہل زمین کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے مضبوط اور بلند، یعنی طویل و عریض پہاڑوں کے ذریعے سے ٹھہرا دیا ﴿ وَّاَسۡقَيۡنٰكُمۡ مَّآءًؔ فُرَاتًا﴾ یعنی ہم نے تمھیں شیریں اور خوش ذائقہ پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَرَءَيۡتُمُ الۡمَآءَ الَّذِيۡ تَشۡرَبُوۡنَؕ۰۰ ءَاَنۡتُمۡ اَنۡزَلۡتُمُوۡهُ۠ مِنَ الۡمُزۡنِ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡزِلُوۡنَ۰۰لَوۡ نَشَآءُ جَعَلۡنٰهُ اُجَاجًا فَلَوۡلَا تَشۡكُرُوۡنَ﴾(الواقعۃ:56؍68۔69) ’’بھلا تم نے دیکھا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو، کیا تم اسے بادل سے برسایا یا ہم اسے برساتے ہیں؟ اور اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا بنا دیں، پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے۔‘‘ ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔ ‘‘بایں ہمہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمتیں دکھلائیں، جن کو عطا کرنے میں وہ متفرد ہے اور ان نعمتوں سے ان کو مختص کیا، انھوں نے ان نعمتوں کے مقابلے میں تکذیب کا رویہ اختیار کیا۔
77:29

ٱنطَلِقُوٓاْ إِلَىٰ مَا كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ

(کہا جائے گا) چلو تم اس چیز (عذاب) کی طرف کہ تھے تم اس کو جھٹلاتے(29) چلو تم ایک سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے (30) نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ فائدہ دے گا وہ شعلوں(کی تپش)سے (31) بلاشبہ وہ (جہنم) پھینکے گی (اتنی بڑی) چنگاریاں جیسے محل (32) گویا کہ وہ (چنگاریاں) اونٹ ہیں (زردی مائل) سیاہ (33) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (34) [34-29] یہ ہلاکت ہے جو جھٹلانے والے مجرموں کے لیے تیار کی گئی ہے، ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا:﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کی طرف چلو۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِيۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ﴾ یعنی جہنم کی آگ کے سائے کی طرف جو اپنے درمیان سے تین شاخوں میں متفرق ہو جائے گی ، یعنی آگ کے ٹکڑے جو مختلف سمتوں سے باری باری اس پر لپکیں گے اور اس پر اکٹھے ہو جائیں گے۔ ﴿لَّا ظَلِيۡلٍ﴾ اس سائے میں ٹھنڈک نہ ہو گی ، یعنی اس سائے میں راحت ہو گی نہ اطمینان۔ ﴿وَّلَا يُغۡنِيۡ﴾ ’’نہیں کام آئے گا‘‘اس سائے میں ٹھہرنا ﴿مِنَ اللَّهَبِ﴾ ’’شعلے کے مقابلے میں‘‘بلکہ آگ کا شعلہ اسے دائیں بائیں اور ہر جانب سے گھیرلے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ﴾(الزمر:39/16) ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے فرش (آگ کے) ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ١ؕ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍41) ’’ان کے نیچے جہنم کی آگ کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کی آگ ہی کا ہو گا ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عظیم انگاروں کا ذکر کیا جو جہنم کی بڑائی، اس کی برائی اور اس کے برے منظر پر دلالت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهَا تَرۡمِيۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ۰۰ كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ﴾ ’’اس سے چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل، گویا زرد اونٹ ہیں۔‘‘ یہ سیاہ رنگ کے اونٹ ہیں جن میں ایسے رنگ کی جھلک ہے جو زردی مائل ہے، یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جہنم کی آگ، اس کے شعلے، اس کے انگارے اور اس کی چنگاریاں تاریک اور سیاہ رنگ کی ہوں گی، ان کا منظر نہایت کریہہ اور ان کی حرارت انتہائی سخت ہو گی ۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جہنم اور ان اعمال سے عافیت عطا کرے جو جہنم کے قریب لے جاتے ہیں۔ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘
77:30

ٱنطَلِقُوٓاْ إِلَىٰ ظِلّٖ ذِي ثَلَٰثِ شُعَبٖ

(کہا جائے گا) چلو تم اس چیز (عذاب) کی طرف کہ تھے تم اس کو جھٹلاتے(29) چلو تم ایک سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے (30) نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ فائدہ دے گا وہ شعلوں(کی تپش)سے (31) بلاشبہ وہ (جہنم) پھینکے گی (اتنی بڑی) چنگاریاں جیسے محل (32) گویا کہ وہ (چنگاریاں) اونٹ ہیں (زردی مائل) سیاہ (33) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (34) [34-29] یہ ہلاکت ہے جو جھٹلانے والے مجرموں کے لیے تیار کی گئی ہے، ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا:﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کی طرف چلو۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِيۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ﴾ یعنی جہنم کی آگ کے سائے کی طرف جو اپنے درمیان سے تین شاخوں میں متفرق ہو جائے گی ، یعنی آگ کے ٹکڑے جو مختلف سمتوں سے باری باری اس پر لپکیں گے اور اس پر اکٹھے ہو جائیں گے۔ ﴿لَّا ظَلِيۡلٍ﴾ اس سائے میں ٹھنڈک نہ ہو گی ، یعنی اس سائے میں راحت ہو گی نہ اطمینان۔ ﴿وَّلَا يُغۡنِيۡ﴾ ’’نہیں کام آئے گا‘‘اس سائے میں ٹھہرنا ﴿مِنَ اللَّهَبِ﴾ ’’شعلے کے مقابلے میں‘‘بلکہ آگ کا شعلہ اسے دائیں بائیں اور ہر جانب سے گھیرلے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ﴾(الزمر:39/16) ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے فرش (آگ کے) ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ١ؕ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍41) ’’ان کے نیچے جہنم کی آگ کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کی آگ ہی کا ہو گا ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عظیم انگاروں کا ذکر کیا جو جہنم کی بڑائی، اس کی برائی اور اس کے برے منظر پر دلالت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهَا تَرۡمِيۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ۰۰ كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ﴾ ’’اس سے چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل، گویا زرد اونٹ ہیں۔‘‘ یہ سیاہ رنگ کے اونٹ ہیں جن میں ایسے رنگ کی جھلک ہے جو زردی مائل ہے، یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جہنم کی آگ، اس کے شعلے، اس کے انگارے اور اس کی چنگاریاں تاریک اور سیاہ رنگ کی ہوں گی، ان کا منظر نہایت کریہہ اور ان کی حرارت انتہائی سخت ہو گی ۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جہنم اور ان اعمال سے عافیت عطا کرے جو جہنم کے قریب لے جاتے ہیں۔ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘
77:31

لَّا ظَلِيلٖ وَلَا يُغۡنِي مِنَ ٱللَّهَبِ

(کہا جائے گا) چلو تم اس چیز (عذاب) کی طرف کہ تھے تم اس کو جھٹلاتے(29) چلو تم ایک سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے (30) نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ فائدہ دے گا وہ شعلوں(کی تپش)سے (31) بلاشبہ وہ (جہنم) پھینکے گی (اتنی بڑی) چنگاریاں جیسے محل (32) گویا کہ وہ (چنگاریاں) اونٹ ہیں (زردی مائل) سیاہ (33) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (34) [34-29] یہ ہلاکت ہے جو جھٹلانے والے مجرموں کے لیے تیار کی گئی ہے، ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا:﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کی طرف چلو۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِيۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ﴾ یعنی جہنم کی آگ کے سائے کی طرف جو اپنے درمیان سے تین شاخوں میں متفرق ہو جائے گی ، یعنی آگ کے ٹکڑے جو مختلف سمتوں سے باری باری اس پر لپکیں گے اور اس پر اکٹھے ہو جائیں گے۔ ﴿لَّا ظَلِيۡلٍ﴾ اس سائے میں ٹھنڈک نہ ہو گی ، یعنی اس سائے میں راحت ہو گی نہ اطمینان۔ ﴿وَّلَا يُغۡنِيۡ﴾ ’’نہیں کام آئے گا‘‘اس سائے میں ٹھہرنا ﴿مِنَ اللَّهَبِ﴾ ’’شعلے کے مقابلے میں‘‘بلکہ آگ کا شعلہ اسے دائیں بائیں اور ہر جانب سے گھیرلے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ﴾(الزمر:39/16) ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے فرش (آگ کے) ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ١ؕ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍41) ’’ان کے نیچے جہنم کی آگ کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کی آگ ہی کا ہو گا ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عظیم انگاروں کا ذکر کیا جو جہنم کی بڑائی، اس کی برائی اور اس کے برے منظر پر دلالت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهَا تَرۡمِيۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ۰۰ كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ﴾ ’’اس سے چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل، گویا زرد اونٹ ہیں۔‘‘ یہ سیاہ رنگ کے اونٹ ہیں جن میں ایسے رنگ کی جھلک ہے جو زردی مائل ہے، یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جہنم کی آگ، اس کے شعلے، اس کے انگارے اور اس کی چنگاریاں تاریک اور سیاہ رنگ کی ہوں گی، ان کا منظر نہایت کریہہ اور ان کی حرارت انتہائی سخت ہو گی ۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جہنم اور ان اعمال سے عافیت عطا کرے جو جہنم کے قریب لے جاتے ہیں۔ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘
77:32

إِنَّهَا تَرۡمِي بِشَرَرٖ كَٱلۡقَصۡرِ

(کہا جائے گا) چلو تم اس چیز (عذاب) کی طرف کہ تھے تم اس کو جھٹلاتے(29) چلو تم ایک سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے (30) نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ فائدہ دے گا وہ شعلوں(کی تپش)سے (31) بلاشبہ وہ (جہنم) پھینکے گی (اتنی بڑی) چنگاریاں جیسے محل (32) گویا کہ وہ (چنگاریاں) اونٹ ہیں (زردی مائل) سیاہ (33) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (34) [34-29] یہ ہلاکت ہے جو جھٹلانے والے مجرموں کے لیے تیار کی گئی ہے، ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا:﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کی طرف چلو۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِيۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ﴾ یعنی جہنم کی آگ کے سائے کی طرف جو اپنے درمیان سے تین شاخوں میں متفرق ہو جائے گی ، یعنی آگ کے ٹکڑے جو مختلف سمتوں سے باری باری اس پر لپکیں گے اور اس پر اکٹھے ہو جائیں گے۔ ﴿لَّا ظَلِيۡلٍ﴾ اس سائے میں ٹھنڈک نہ ہو گی ، یعنی اس سائے میں راحت ہو گی نہ اطمینان۔ ﴿وَّلَا يُغۡنِيۡ﴾ ’’نہیں کام آئے گا‘‘اس سائے میں ٹھہرنا ﴿مِنَ اللَّهَبِ﴾ ’’شعلے کے مقابلے میں‘‘بلکہ آگ کا شعلہ اسے دائیں بائیں اور ہر جانب سے گھیرلے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ﴾(الزمر:39/16) ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے فرش (آگ کے) ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ١ؕ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍41) ’’ان کے نیچے جہنم کی آگ کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کی آگ ہی کا ہو گا ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عظیم انگاروں کا ذکر کیا جو جہنم کی بڑائی، اس کی برائی اور اس کے برے منظر پر دلالت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهَا تَرۡمِيۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ۰۰ كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ﴾ ’’اس سے چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل، گویا زرد اونٹ ہیں۔‘‘ یہ سیاہ رنگ کے اونٹ ہیں جن میں ایسے رنگ کی جھلک ہے جو زردی مائل ہے، یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جہنم کی آگ، اس کے شعلے، اس کے انگارے اور اس کی چنگاریاں تاریک اور سیاہ رنگ کی ہوں گی، ان کا منظر نہایت کریہہ اور ان کی حرارت انتہائی سخت ہو گی ۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جہنم اور ان اعمال سے عافیت عطا کرے جو جہنم کے قریب لے جاتے ہیں۔ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘
77:33

كَأَنَّهُۥ جِمَٰلَتٞ صُفۡرٞ

(کہا جائے گا) چلو تم اس چیز (عذاب) کی طرف کہ تھے تم اس کو جھٹلاتے(29) چلو تم ایک سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے (30) نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ فائدہ دے گا وہ شعلوں(کی تپش)سے (31) بلاشبہ وہ (جہنم) پھینکے گی (اتنی بڑی) چنگاریاں جیسے محل (32) گویا کہ وہ (چنگاریاں) اونٹ ہیں (زردی مائل) سیاہ (33) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (34) [34-29] یہ ہلاکت ہے جو جھٹلانے والے مجرموں کے لیے تیار کی گئی ہے، ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا:﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کی طرف چلو۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِيۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ﴾ یعنی جہنم کی آگ کے سائے کی طرف جو اپنے درمیان سے تین شاخوں میں متفرق ہو جائے گی ، یعنی آگ کے ٹکڑے جو مختلف سمتوں سے باری باری اس پر لپکیں گے اور اس پر اکٹھے ہو جائیں گے۔ ﴿لَّا ظَلِيۡلٍ﴾ اس سائے میں ٹھنڈک نہ ہو گی ، یعنی اس سائے میں راحت ہو گی نہ اطمینان۔ ﴿وَّلَا يُغۡنِيۡ﴾ ’’نہیں کام آئے گا‘‘اس سائے میں ٹھہرنا ﴿مِنَ اللَّهَبِ﴾ ’’شعلے کے مقابلے میں‘‘بلکہ آگ کا شعلہ اسے دائیں بائیں اور ہر جانب سے گھیرلے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ﴾(الزمر:39/16) ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے فرش (آگ کے) ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ١ؕ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍41) ’’ان کے نیچے جہنم کی آگ کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کی آگ ہی کا ہو گا ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عظیم انگاروں کا ذکر کیا جو جہنم کی بڑائی، اس کی برائی اور اس کے برے منظر پر دلالت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهَا تَرۡمِيۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ۰۰ كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ﴾ ’’اس سے چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل، گویا زرد اونٹ ہیں۔‘‘ یہ سیاہ رنگ کے اونٹ ہیں جن میں ایسے رنگ کی جھلک ہے جو زردی مائل ہے، یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جہنم کی آگ، اس کے شعلے، اس کے انگارے اور اس کی چنگاریاں تاریک اور سیاہ رنگ کی ہوں گی، ان کا منظر نہایت کریہہ اور ان کی حرارت انتہائی سخت ہو گی ۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جہنم اور ان اعمال سے عافیت عطا کرے جو جہنم کے قریب لے جاتے ہیں۔ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘
77:34

وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

(کہا جائے گا) چلو تم اس چیز (عذاب) کی طرف کہ تھے تم اس کو جھٹلاتے(29) چلو تم ایک سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے (30) نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ فائدہ دے گا وہ شعلوں(کی تپش)سے (31) بلاشبہ وہ (جہنم) پھینکے گی (اتنی بڑی) چنگاریاں جیسے محل (32) گویا کہ وہ (چنگاریاں) اونٹ ہیں (زردی مائل) سیاہ (33) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (34) [34-29] یہ ہلاکت ہے جو جھٹلانے والے مجرموں کے لیے تیار کی گئی ہے، ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا:﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کی طرف چلو۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِيۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ﴾ یعنی جہنم کی آگ کے سائے کی طرف جو اپنے درمیان سے تین شاخوں میں متفرق ہو جائے گی ، یعنی آگ کے ٹکڑے جو مختلف سمتوں سے باری باری اس پر لپکیں گے اور اس پر اکٹھے ہو جائیں گے۔ ﴿لَّا ظَلِيۡلٍ﴾ اس سائے میں ٹھنڈک نہ ہو گی ، یعنی اس سائے میں راحت ہو گی نہ اطمینان۔ ﴿وَّلَا يُغۡنِيۡ﴾ ’’نہیں کام آئے گا‘‘اس سائے میں ٹھہرنا ﴿مِنَ اللَّهَبِ﴾ ’’شعلے کے مقابلے میں‘‘بلکہ آگ کا شعلہ اسے دائیں بائیں اور ہر جانب سے گھیرلے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ﴾(الزمر:39/16) ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے فرش (آگ کے) ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا: ﴿لَهُمۡ مِّنۡ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ١ؕ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍41) ’’ان کے نیچے جہنم کی آگ کا بچھونا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی جہنم کی آگ ہی کا ہو گا ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عظیم انگاروں کا ذکر کیا جو جہنم کی بڑائی، اس کی برائی اور اس کے برے منظر پر دلالت کرتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهَا تَرۡمِيۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ۰۰ كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ﴾ ’’اس سے چنگاریاں اڑتی ہیں جیسے محل، گویا زرد اونٹ ہیں۔‘‘ یہ سیاہ رنگ کے اونٹ ہیں جن میں ایسے رنگ کی جھلک ہے جو زردی مائل ہے، یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جہنم کی آگ، اس کے شعلے، اس کے انگارے اور اس کی چنگاریاں تاریک اور سیاہ رنگ کی ہوں گی، ان کا منظر نہایت کریہہ اور ان کی حرارت انتہائی سخت ہو گی ۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جہنم اور ان اعمال سے عافیت عطا کرے جو جہنم کے قریب لے جاتے ہیں۔ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘
77:35

هَٰذَا يَوۡمُ لَا يَنطِقُونَ

یہ (وہ) دن ہے کہ نہیں بول سکیں گے وہ (35) اور نہ اجازت دی جائے گی ان کو کہ وہ معذرت کر سکیں (36) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (37) یہ دن ہے فیصلے کا، ہم جمع کریں گے تمھیں اور پہلوں کو (38) پس اگر ہے تمھارے لیے کوئی چال تو تم چلو مجھ سے(39) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (40) [37-35] اس عظیم دن میں، جو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہے، وہ خوف اور سخت دہشت کی وجہ سے بول نہیں سکیں گے ﴿ وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَعۡتَذِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ معذرت کرسکیں۔‘‘ اگر وہ معذرت پیش کریں گے تو ان کی معذرت قبول نہیں کی جائے گی ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’پس اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘ [40-38]﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ١ۚ جَمَعۡنٰكُمۡ وَالۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہی فیصلے کا دن ہے، ہم نے تم کو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے۔‘‘ تاکہ ہم تمھارے درمیان تفریق کریں اور تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کریں۔ ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ كَيۡدٌ﴾ ’’اگر تمھارے پاس کوئی تدبیر ہو۔‘‘ جس کے ذریعے سے تم میری بادشاہت سے باہر نکلنے کی قدرت رکھتے ہو اور میرے عذاب سے بچ سکتے ہو ﴿ فَكِيۡدُوۡنِ﴾ ’’تو تم میرے خلاف تدبیر کرلو۔‘‘یعنی تمھیں ایسا کرنے کی قدرت حاصل ہے نہ طاقت جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍33) ’’اے جن و انس کے گروہ! اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل بھاگو، تم طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے۔‘‘ اس دن ظالموں کے تمام حیلے باطل ہو جائیں گے، ان کا مکر و فریب ختم ہو جائے گا، وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے حوالے کر دیں گے اور ان کی تکذیب میں ان کا جھوٹ ان کے سامنے صاف ظاہر ہو جائے گا ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘
77:36

وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَعۡتَذِرُونَ

یہ (وہ) دن ہے کہ نہیں بول سکیں گے وہ (35) اور نہ اجازت دی جائے گی ان کو کہ وہ معذرت کر سکیں (36) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (37) یہ دن ہے فیصلے کا، ہم جمع کریں گے تمھیں اور پہلوں کو (38) پس اگر ہے تمھارے لیے کوئی چال تو تم چلو مجھ سے(39) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (40) [37-35] اس عظیم دن میں، جو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہے، وہ خوف اور سخت دہشت کی وجہ سے بول نہیں سکیں گے ﴿ وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَعۡتَذِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ معذرت کرسکیں۔‘‘ اگر وہ معذرت پیش کریں گے تو ان کی معذرت قبول نہیں کی جائے گی ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’پس اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘ [40-38]﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ١ۚ جَمَعۡنٰكُمۡ وَالۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہی فیصلے کا دن ہے، ہم نے تم کو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے۔‘‘ تاکہ ہم تمھارے درمیان تفریق کریں اور تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کریں۔ ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ كَيۡدٌ﴾ ’’اگر تمھارے پاس کوئی تدبیر ہو۔‘‘ جس کے ذریعے سے تم میری بادشاہت سے باہر نکلنے کی قدرت رکھتے ہو اور میرے عذاب سے بچ سکتے ہو ﴿ فَكِيۡدُوۡنِ﴾ ’’تو تم میرے خلاف تدبیر کرلو۔‘‘یعنی تمھیں ایسا کرنے کی قدرت حاصل ہے نہ طاقت جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍33) ’’اے جن و انس کے گروہ! اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل بھاگو، تم طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے۔‘‘ اس دن ظالموں کے تمام حیلے باطل ہو جائیں گے، ان کا مکر و فریب ختم ہو جائے گا، وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے حوالے کر دیں گے اور ان کی تکذیب میں ان کا جھوٹ ان کے سامنے صاف ظاہر ہو جائے گا ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘
77:37

وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

یہ (وہ) دن ہے کہ نہیں بول سکیں گے وہ (35) اور نہ اجازت دی جائے گی ان کو کہ وہ معذرت کر سکیں (36) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (37) یہ دن ہے فیصلے کا، ہم جمع کریں گے تمھیں اور پہلوں کو (38) پس اگر ہے تمھارے لیے کوئی چال تو تم چلو مجھ سے(39) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (40) [37-35] اس عظیم دن میں، جو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہے، وہ خوف اور سخت دہشت کی وجہ سے بول نہیں سکیں گے ﴿ وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَعۡتَذِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ معذرت کرسکیں۔‘‘ اگر وہ معذرت پیش کریں گے تو ان کی معذرت قبول نہیں کی جائے گی ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’پس اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘ [40-38]﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ١ۚ جَمَعۡنٰكُمۡ وَالۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہی فیصلے کا دن ہے، ہم نے تم کو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے۔‘‘ تاکہ ہم تمھارے درمیان تفریق کریں اور تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کریں۔ ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ كَيۡدٌ﴾ ’’اگر تمھارے پاس کوئی تدبیر ہو۔‘‘ جس کے ذریعے سے تم میری بادشاہت سے باہر نکلنے کی قدرت رکھتے ہو اور میرے عذاب سے بچ سکتے ہو ﴿ فَكِيۡدُوۡنِ﴾ ’’تو تم میرے خلاف تدبیر کرلو۔‘‘یعنی تمھیں ایسا کرنے کی قدرت حاصل ہے نہ طاقت جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍33) ’’اے جن و انس کے گروہ! اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل بھاگو، تم طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے۔‘‘ اس دن ظالموں کے تمام حیلے باطل ہو جائیں گے، ان کا مکر و فریب ختم ہو جائے گا، وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے حوالے کر دیں گے اور ان کی تکذیب میں ان کا جھوٹ ان کے سامنے صاف ظاہر ہو جائے گا ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘
77:38

هَٰذَا يَوۡمُ ٱلۡفَصۡلِۖ جَمَعۡنَٰكُمۡ وَٱلۡأَوَّلِينَ

یہ (وہ) دن ہے کہ نہیں بول سکیں گے وہ (35) اور نہ اجازت دی جائے گی ان کو کہ وہ معذرت کر سکیں (36) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (37) یہ دن ہے فیصلے کا، ہم جمع کریں گے تمھیں اور پہلوں کو (38) پس اگر ہے تمھارے لیے کوئی چال تو تم چلو مجھ سے(39) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (40) [37-35] اس عظیم دن میں، جو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہے، وہ خوف اور سخت دہشت کی وجہ سے بول نہیں سکیں گے ﴿ وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَعۡتَذِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ معذرت کرسکیں۔‘‘ اگر وہ معذرت پیش کریں گے تو ان کی معذرت قبول نہیں کی جائے گی ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’پس اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘ [40-38]﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ١ۚ جَمَعۡنٰكُمۡ وَالۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہی فیصلے کا دن ہے، ہم نے تم کو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے۔‘‘ تاکہ ہم تمھارے درمیان تفریق کریں اور تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کریں۔ ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ كَيۡدٌ﴾ ’’اگر تمھارے پاس کوئی تدبیر ہو۔‘‘ جس کے ذریعے سے تم میری بادشاہت سے باہر نکلنے کی قدرت رکھتے ہو اور میرے عذاب سے بچ سکتے ہو ﴿ فَكِيۡدُوۡنِ﴾ ’’تو تم میرے خلاف تدبیر کرلو۔‘‘یعنی تمھیں ایسا کرنے کی قدرت حاصل ہے نہ طاقت جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍33) ’’اے جن و انس کے گروہ! اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل بھاگو، تم طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے۔‘‘ اس دن ظالموں کے تمام حیلے باطل ہو جائیں گے، ان کا مکر و فریب ختم ہو جائے گا، وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے حوالے کر دیں گے اور ان کی تکذیب میں ان کا جھوٹ ان کے سامنے صاف ظاہر ہو جائے گا ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘
77:39

فَإِن كَانَ لَكُمۡ كَيۡدٞ فَكِيدُونِ

یہ (وہ) دن ہے کہ نہیں بول سکیں گے وہ (35) اور نہ اجازت دی جائے گی ان کو کہ وہ معذرت کر سکیں (36) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (37) یہ دن ہے فیصلے کا، ہم جمع کریں گے تمھیں اور پہلوں کو (38) پس اگر ہے تمھارے لیے کوئی چال تو تم چلو مجھ سے(39) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (40) [37-35] اس عظیم دن میں، جو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہے، وہ خوف اور سخت دہشت کی وجہ سے بول نہیں سکیں گے ﴿ وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَعۡتَذِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ معذرت کرسکیں۔‘‘ اگر وہ معذرت پیش کریں گے تو ان کی معذرت قبول نہیں کی جائے گی ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’پس اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘ [40-38]﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ١ۚ جَمَعۡنٰكُمۡ وَالۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہی فیصلے کا دن ہے، ہم نے تم کو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے۔‘‘ تاکہ ہم تمھارے درمیان تفریق کریں اور تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کریں۔ ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ كَيۡدٌ﴾ ’’اگر تمھارے پاس کوئی تدبیر ہو۔‘‘ جس کے ذریعے سے تم میری بادشاہت سے باہر نکلنے کی قدرت رکھتے ہو اور میرے عذاب سے بچ سکتے ہو ﴿ فَكِيۡدُوۡنِ﴾ ’’تو تم میرے خلاف تدبیر کرلو۔‘‘یعنی تمھیں ایسا کرنے کی قدرت حاصل ہے نہ طاقت جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍33) ’’اے جن و انس کے گروہ! اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل بھاگو، تم طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے۔‘‘ اس دن ظالموں کے تمام حیلے باطل ہو جائیں گے، ان کا مکر و فریب ختم ہو جائے گا، وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے حوالے کر دیں گے اور ان کی تکذیب میں ان کا جھوٹ ان کے سامنے صاف ظاہر ہو جائے گا ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘
77:40

وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

یہ (وہ) دن ہے کہ نہیں بول سکیں گے وہ (35) اور نہ اجازت دی جائے گی ان کو کہ وہ معذرت کر سکیں (36) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (37) یہ دن ہے فیصلے کا، ہم جمع کریں گے تمھیں اور پہلوں کو (38) پس اگر ہے تمھارے لیے کوئی چال تو تم چلو مجھ سے(39) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (40) [37-35] اس عظیم دن میں، جو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہے، وہ خوف اور سخت دہشت کی وجہ سے بول نہیں سکیں گے ﴿ وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَعۡتَذِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ معذرت کرسکیں۔‘‘ اگر وہ معذرت پیش کریں گے تو ان کی معذرت قبول نہیں کی جائے گی ﴿ فَيَوۡمَىِٕذٍ لَّا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُوۡنَ۠﴾(الروم:30؍57) ’’پس اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔‘‘ [40-38]﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ١ۚ جَمَعۡنٰكُمۡ وَالۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’یہی فیصلے کا دن ہے، ہم نے تم کو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے۔‘‘ تاکہ ہم تمھارے درمیان تفریق کریں اور تمام خلائق کے درمیان فیصلہ کریں۔ ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ كَيۡدٌ﴾ ’’اگر تمھارے پاس کوئی تدبیر ہو۔‘‘ جس کے ذریعے سے تم میری بادشاہت سے باہر نکلنے کی قدرت رکھتے ہو اور میرے عذاب سے بچ سکتے ہو ﴿ فَكِيۡدُوۡنِ﴾ ’’تو تم میرے خلاف تدبیر کرلو۔‘‘یعنی تمھیں ایسا کرنے کی قدرت حاصل ہے نہ طاقت جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍33) ’’اے جن و انس کے گروہ! اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل بھاگو، تم طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے۔‘‘ اس دن ظالموں کے تمام حیلے باطل ہو جائیں گے، ان کا مکر و فریب ختم ہو جائے گا، وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے حوالے کر دیں گے اور ان کی تکذیب میں ان کا جھوٹ ان کے سامنے صاف ظاہر ہو جائے گا ﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔‘‘
77:41

إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي ظِلَٰلٖ وَعُيُونٖ

بلاشبہ متقی لوگ سایوں اور بہتے چشموں میں ہوں گے (41) اور (لذیذ) میووں میں، ان میں سے جو وہ چاہیں گے (42)(کہا جائے گا) تم کھاؤ اور پیو مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے (43) بلاشبہ ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (44) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (45) [45-41] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا اس لیے محسنین کے لیے ثواب کا بھی تذکرہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیز گار‘‘ یعنی اپنے اقوال، افعال اور اعمال میں، تکذیب سے بچنے والے اور تصدیق سے متصف لوگ، اور واجبات کو ادا کیے اور محرمات کو ترک کیے بغیر متقی نہیں بن سکتے ﴿ فِيۡ ظِلٰلٍ﴾ متنوع اقسام کے خوبصورت اور خوش منظر کثیر درختوں کے سائے میں ہوں گے ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ اور خوش ذائقہ پانی اور شراب کے رواں دواں چشموں میں ہوں گے۔﴿ وَّفَوَاكِهَ مِمَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾ اور بہترین اور لذیذ ترین میوہ جات، جو وہ چاہیں گے، ان میں ہوں گے۔ان سے کہا جائے گا:﴿كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾کھاؤ پیو، مزے دار مرغوب کھانے اور لذیذ مشروبات پیو﴿ هَنِيۡٓــًٔۢـا﴾ یعنی کسی روک ٹوک اور تکدر کے بغیر۔ اس کھانے کی خوشگواری کبھی ختم نہ ہو گی، حتیٰ کہ جنت کے مطعومات اور مشروبات ہر آفت اور نقص سے سلامت ہوں گے یہاں تک کہ اہل جنت کو یقین ہو گا کہ یہ طعام و شراب منقطع ہوں گے نہ ختم ہوں گے ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ پس تمھارے اعمال ہی وہ سبب ہیں جنھوں نے تمھیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں پہنچایا۔ اسی طرح ہے ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں احسان سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان کرتا ہے۔بنابریں فرمایا: ﴿ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلا کت ہے۔‘‘ اگر یہ ہلاکت اور خرابی صرف ان نعمتوں سے محرومی ہی ہوتی تب بھی یہ حزن و غم اور حرماں نصیبی کے لیے کافی ہے۔
77:42

وَفَوَٰكِهَ مِمَّا يَشۡتَهُونَ

بلاشبہ متقی لوگ سایوں اور بہتے چشموں میں ہوں گے (41) اور (لذیذ) میووں میں، ان میں سے جو وہ چاہیں گے (42)(کہا جائے گا) تم کھاؤ اور پیو مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے (43) بلاشبہ ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (44) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (45) [45-41] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا اس لیے محسنین کے لیے ثواب کا بھی تذکرہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیز گار‘‘ یعنی اپنے اقوال، افعال اور اعمال میں، تکذیب سے بچنے والے اور تصدیق سے متصف لوگ، اور واجبات کو ادا کیے اور محرمات کو ترک کیے بغیر متقی نہیں بن سکتے ﴿ فِيۡ ظِلٰلٍ﴾ متنوع اقسام کے خوبصورت اور خوش منظر کثیر درختوں کے سائے میں ہوں گے ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ اور خوش ذائقہ پانی اور شراب کے رواں دواں چشموں میں ہوں گے۔﴿ وَّفَوَاكِهَ مِمَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾ اور بہترین اور لذیذ ترین میوہ جات، جو وہ چاہیں گے، ان میں ہوں گے۔ان سے کہا جائے گا:﴿كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾کھاؤ پیو، مزے دار مرغوب کھانے اور لذیذ مشروبات پیو﴿ هَنِيۡٓــًٔۢـا﴾ یعنی کسی روک ٹوک اور تکدر کے بغیر۔ اس کھانے کی خوشگواری کبھی ختم نہ ہو گی، حتیٰ کہ جنت کے مطعومات اور مشروبات ہر آفت اور نقص سے سلامت ہوں گے یہاں تک کہ اہل جنت کو یقین ہو گا کہ یہ طعام و شراب منقطع ہوں گے نہ ختم ہوں گے ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ پس تمھارے اعمال ہی وہ سبب ہیں جنھوں نے تمھیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں پہنچایا۔ اسی طرح ہے ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں احسان سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان کرتا ہے۔بنابریں فرمایا: ﴿ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلا کت ہے۔‘‘ اگر یہ ہلاکت اور خرابی صرف ان نعمتوں سے محرومی ہی ہوتی تب بھی یہ حزن و غم اور حرماں نصیبی کے لیے کافی ہے۔
77:43

كُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ هَنِيٓـَٔۢا بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ

بلاشبہ متقی لوگ سایوں اور بہتے چشموں میں ہوں گے (41) اور (لذیذ) میووں میں، ان میں سے جو وہ چاہیں گے (42)(کہا جائے گا) تم کھاؤ اور پیو مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے (43) بلاشبہ ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (44) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (45) [45-41] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا اس لیے محسنین کے لیے ثواب کا بھی تذکرہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیز گار‘‘ یعنی اپنے اقوال، افعال اور اعمال میں، تکذیب سے بچنے والے اور تصدیق سے متصف لوگ، اور واجبات کو ادا کیے اور محرمات کو ترک کیے بغیر متقی نہیں بن سکتے ﴿ فِيۡ ظِلٰلٍ﴾ متنوع اقسام کے خوبصورت اور خوش منظر کثیر درختوں کے سائے میں ہوں گے ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ اور خوش ذائقہ پانی اور شراب کے رواں دواں چشموں میں ہوں گے۔﴿ وَّفَوَاكِهَ مِمَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾ اور بہترین اور لذیذ ترین میوہ جات، جو وہ چاہیں گے، ان میں ہوں گے۔ان سے کہا جائے گا:﴿كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾کھاؤ پیو، مزے دار مرغوب کھانے اور لذیذ مشروبات پیو﴿ هَنِيۡٓــًٔۢـا﴾ یعنی کسی روک ٹوک اور تکدر کے بغیر۔ اس کھانے کی خوشگواری کبھی ختم نہ ہو گی، حتیٰ کہ جنت کے مطعومات اور مشروبات ہر آفت اور نقص سے سلامت ہوں گے یہاں تک کہ اہل جنت کو یقین ہو گا کہ یہ طعام و شراب منقطع ہوں گے نہ ختم ہوں گے ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ پس تمھارے اعمال ہی وہ سبب ہیں جنھوں نے تمھیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں پہنچایا۔ اسی طرح ہے ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں احسان سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان کرتا ہے۔بنابریں فرمایا: ﴿ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلا کت ہے۔‘‘ اگر یہ ہلاکت اور خرابی صرف ان نعمتوں سے محرومی ہی ہوتی تب بھی یہ حزن و غم اور حرماں نصیبی کے لیے کافی ہے۔
77:44

إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ

بلاشبہ متقی لوگ سایوں اور بہتے چشموں میں ہوں گے (41) اور (لذیذ) میووں میں، ان میں سے جو وہ چاہیں گے (42)(کہا جائے گا) تم کھاؤ اور پیو مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے (43) بلاشبہ ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (44) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (45) [45-41] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا اس لیے محسنین کے لیے ثواب کا بھی تذکرہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیز گار‘‘ یعنی اپنے اقوال، افعال اور اعمال میں، تکذیب سے بچنے والے اور تصدیق سے متصف لوگ، اور واجبات کو ادا کیے اور محرمات کو ترک کیے بغیر متقی نہیں بن سکتے ﴿ فِيۡ ظِلٰلٍ﴾ متنوع اقسام کے خوبصورت اور خوش منظر کثیر درختوں کے سائے میں ہوں گے ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ اور خوش ذائقہ پانی اور شراب کے رواں دواں چشموں میں ہوں گے۔﴿ وَّفَوَاكِهَ مِمَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾ اور بہترین اور لذیذ ترین میوہ جات، جو وہ چاہیں گے، ان میں ہوں گے۔ان سے کہا جائے گا:﴿كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾کھاؤ پیو، مزے دار مرغوب کھانے اور لذیذ مشروبات پیو﴿ هَنِيۡٓــًٔۢـا﴾ یعنی کسی روک ٹوک اور تکدر کے بغیر۔ اس کھانے کی خوشگواری کبھی ختم نہ ہو گی، حتیٰ کہ جنت کے مطعومات اور مشروبات ہر آفت اور نقص سے سلامت ہوں گے یہاں تک کہ اہل جنت کو یقین ہو گا کہ یہ طعام و شراب منقطع ہوں گے نہ ختم ہوں گے ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ پس تمھارے اعمال ہی وہ سبب ہیں جنھوں نے تمھیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں پہنچایا۔ اسی طرح ہے ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں احسان سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان کرتا ہے۔بنابریں فرمایا: ﴿ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلا کت ہے۔‘‘ اگر یہ ہلاکت اور خرابی صرف ان نعمتوں سے محرومی ہی ہوتی تب بھی یہ حزن و غم اور حرماں نصیبی کے لیے کافی ہے۔
77:45

وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

بلاشبہ متقی لوگ سایوں اور بہتے چشموں میں ہوں گے (41) اور (لذیذ) میووں میں، ان میں سے جو وہ چاہیں گے (42)(کہا جائے گا) تم کھاؤ اور پیو مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے (43) بلاشبہ ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (44) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (45) [45-41] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا اس لیے محسنین کے لیے ثواب کا بھی تذکرہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک پرہیز گار‘‘ یعنی اپنے اقوال، افعال اور اعمال میں، تکذیب سے بچنے والے اور تصدیق سے متصف لوگ، اور واجبات کو ادا کیے اور محرمات کو ترک کیے بغیر متقی نہیں بن سکتے ﴿ فِيۡ ظِلٰلٍ﴾ متنوع اقسام کے خوبصورت اور خوش منظر کثیر درختوں کے سائے میں ہوں گے ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ اور خوش ذائقہ پانی اور شراب کے رواں دواں چشموں میں ہوں گے۔﴿ وَّفَوَاكِهَ مِمَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾ اور بہترین اور لذیذ ترین میوہ جات، جو وہ چاہیں گے، ان میں ہوں گے۔ان سے کہا جائے گا:﴿كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾کھاؤ پیو، مزے دار مرغوب کھانے اور لذیذ مشروبات پیو﴿ هَنِيۡٓــًٔۢـا﴾ یعنی کسی روک ٹوک اور تکدر کے بغیر۔ اس کھانے کی خوشگواری کبھی ختم نہ ہو گی، حتیٰ کہ جنت کے مطعومات اور مشروبات ہر آفت اور نقص سے سلامت ہوں گے یہاں تک کہ اہل جنت کو یقین ہو گا کہ یہ طعام و شراب منقطع ہوں گے نہ ختم ہوں گے ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ پس تمھارے اعمال ہی وہ سبب ہیں جنھوں نے تمھیں ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں پہنچایا۔ اسی طرح ہے ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں احسان سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان کرتا ہے۔بنابریں فرمایا: ﴿ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ۰۰ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلا کت ہے۔‘‘ اگر یہ ہلاکت اور خرابی صرف ان نعمتوں سے محرومی ہی ہوتی تب بھی یہ حزن و غم اور حرماں نصیبی کے لیے کافی ہے۔
77:46

كُلُواْ وَتَمَتَّعُواْ قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجۡرِمُونَ

(جھٹلانے والو!) تم کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ تھوڑا سا، یقیناً تم مجرم ہو (46) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (47) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، رکوع کرو تم تو نہیں رکوع کرتے وہ (48) تباہی ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے(49) پس کس بات پر اس (قرآن) کے بعد وہ ایمان لائیں گے؟ (50) [50-46] یہ تکذیب کرنے والوں کے لیے تہدید و وعید ہے کہ اگرچہ انھوں نے دنیا میں کھایا پیا اور لذات دنیا سے فائدہ اٹھایا اور عبادات سے غافل رہے مگر وہ مجرم ہیں اور اسی سزا کے مستحق ہیں جس کے مستحق مجرم ہوتے ہیں، لہٰذا عنقریب ان کی لذات منقطع ہو جائیں گی اور تاوان اور نقصان باقی رہ جائیں گے۔ ان کا ایک جرم یہ ہے کہ جب انھیں نماز، جو کہ سب سے زیادہ شرف کی حامل عبادت ہے، کا حکم دیا جاتا اور ان سے کہا جاتا تھا﴿ارۡكَعُوۡا﴾’’رکوع کرو‘‘ تو حکم کی تعمیل نہیں کرتے تھے۔ پس کون سا جرم اس سے بڑھ کر اور کون سی تکذیب اس سے زیادہ بڑی ہے؟ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے‘‘ ان کی ایک ہلاکت یہ بھی ہے کہ ان پر توفیق کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور وہ ہر بھلائی سے محروم ہو جائیں گے۔پس جب انھوں نے اس قرآن کو جھٹلا دیا جو علی الاطلاق صدق و یقین کے بلند ترین مرتبے پر ہے ﴿فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ کیا وہ باطل پر ایمان لائیں گے جو اپنے نام کی مانند ہے جس پر کوئی دلیل تو کجا، کوئی شبہ بھی قائم نہیں ہوتا ؟یا وہ کسی مشرک، کذاب اور کھلے بہتان طراز کے کلام پر ایمان لائیں گے؟پس نور مبین کے بعد گھٹا ٹوپ اندھیروں کے سوا کچھ نہیں رہتا، صدق کے بعد، جس پر قطعی دلائل و براہین قائم ہوں، صریح بہتان اور کھلے جھوٹ کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا جو صرف اسی شخص کے لائق ہے جس سے یہ مناسبت رکھتا ہے۔ ہلاکت ہے ان کے لیے، وہ کتنے اندھے ہو گئے ہیں! اور برا ہو ان کا، کس قدر خسارے اور بدبختی کا شکار ہو گئے ہیں !ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں وہ جوّاد اور صاحب کرم ہے۔
77:47

وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

(جھٹلانے والو!) تم کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ تھوڑا سا، یقیناً تم مجرم ہو (46) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (47) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، رکوع کرو تم تو نہیں رکوع کرتے وہ (48) تباہی ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے(49) پس کس بات پر اس (قرآن) کے بعد وہ ایمان لائیں گے؟ (50) [50-46] یہ تکذیب کرنے والوں کے لیے تہدید و وعید ہے کہ اگرچہ انھوں نے دنیا میں کھایا پیا اور لذات دنیا سے فائدہ اٹھایا اور عبادات سے غافل رہے مگر وہ مجرم ہیں اور اسی سزا کے مستحق ہیں جس کے مستحق مجرم ہوتے ہیں، لہٰذا عنقریب ان کی لذات منقطع ہو جائیں گی اور تاوان اور نقصان باقی رہ جائیں گے۔ ان کا ایک جرم یہ ہے کہ جب انھیں نماز، جو کہ سب سے زیادہ شرف کی حامل عبادت ہے، کا حکم دیا جاتا اور ان سے کہا جاتا تھا﴿ارۡكَعُوۡا﴾’’رکوع کرو‘‘ تو حکم کی تعمیل نہیں کرتے تھے۔ پس کون سا جرم اس سے بڑھ کر اور کون سی تکذیب اس سے زیادہ بڑی ہے؟ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے‘‘ ان کی ایک ہلاکت یہ بھی ہے کہ ان پر توفیق کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور وہ ہر بھلائی سے محروم ہو جائیں گے۔پس جب انھوں نے اس قرآن کو جھٹلا دیا جو علی الاطلاق صدق و یقین کے بلند ترین مرتبے پر ہے ﴿فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ کیا وہ باطل پر ایمان لائیں گے جو اپنے نام کی مانند ہے جس پر کوئی دلیل تو کجا، کوئی شبہ بھی قائم نہیں ہوتا ؟یا وہ کسی مشرک، کذاب اور کھلے بہتان طراز کے کلام پر ایمان لائیں گے؟پس نور مبین کے بعد گھٹا ٹوپ اندھیروں کے سوا کچھ نہیں رہتا، صدق کے بعد، جس پر قطعی دلائل و براہین قائم ہوں، صریح بہتان اور کھلے جھوٹ کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا جو صرف اسی شخص کے لائق ہے جس سے یہ مناسبت رکھتا ہے۔ ہلاکت ہے ان کے لیے، وہ کتنے اندھے ہو گئے ہیں! اور برا ہو ان کا، کس قدر خسارے اور بدبختی کا شکار ہو گئے ہیں !ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں وہ جوّاد اور صاحب کرم ہے۔
77:48

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱرۡكَعُواْ لَا يَرۡكَعُونَ

(جھٹلانے والو!) تم کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ تھوڑا سا، یقیناً تم مجرم ہو (46) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (47) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، رکوع کرو تم تو نہیں رکوع کرتے وہ (48) تباہی ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے(49) پس کس بات پر اس (قرآن) کے بعد وہ ایمان لائیں گے؟ (50) [50-46] یہ تکذیب کرنے والوں کے لیے تہدید و وعید ہے کہ اگرچہ انھوں نے دنیا میں کھایا پیا اور لذات دنیا سے فائدہ اٹھایا اور عبادات سے غافل رہے مگر وہ مجرم ہیں اور اسی سزا کے مستحق ہیں جس کے مستحق مجرم ہوتے ہیں، لہٰذا عنقریب ان کی لذات منقطع ہو جائیں گی اور تاوان اور نقصان باقی رہ جائیں گے۔ ان کا ایک جرم یہ ہے کہ جب انھیں نماز، جو کہ سب سے زیادہ شرف کی حامل عبادت ہے، کا حکم دیا جاتا اور ان سے کہا جاتا تھا﴿ارۡكَعُوۡا﴾’’رکوع کرو‘‘ تو حکم کی تعمیل نہیں کرتے تھے۔ پس کون سا جرم اس سے بڑھ کر اور کون سی تکذیب اس سے زیادہ بڑی ہے؟ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے‘‘ ان کی ایک ہلاکت یہ بھی ہے کہ ان پر توفیق کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور وہ ہر بھلائی سے محروم ہو جائیں گے۔پس جب انھوں نے اس قرآن کو جھٹلا دیا جو علی الاطلاق صدق و یقین کے بلند ترین مرتبے پر ہے ﴿فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ کیا وہ باطل پر ایمان لائیں گے جو اپنے نام کی مانند ہے جس پر کوئی دلیل تو کجا، کوئی شبہ بھی قائم نہیں ہوتا ؟یا وہ کسی مشرک، کذاب اور کھلے بہتان طراز کے کلام پر ایمان لائیں گے؟پس نور مبین کے بعد گھٹا ٹوپ اندھیروں کے سوا کچھ نہیں رہتا، صدق کے بعد، جس پر قطعی دلائل و براہین قائم ہوں، صریح بہتان اور کھلے جھوٹ کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا جو صرف اسی شخص کے لائق ہے جس سے یہ مناسبت رکھتا ہے۔ ہلاکت ہے ان کے لیے، وہ کتنے اندھے ہو گئے ہیں! اور برا ہو ان کا، کس قدر خسارے اور بدبختی کا شکار ہو گئے ہیں !ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں وہ جوّاد اور صاحب کرم ہے۔
77:49

وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

(جھٹلانے والو!) تم کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ تھوڑا سا، یقیناً تم مجرم ہو (46) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (47) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، رکوع کرو تم تو نہیں رکوع کرتے وہ (48) تباہی ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے(49) پس کس بات پر اس (قرآن) کے بعد وہ ایمان لائیں گے؟ (50) [50-46] یہ تکذیب کرنے والوں کے لیے تہدید و وعید ہے کہ اگرچہ انھوں نے دنیا میں کھایا پیا اور لذات دنیا سے فائدہ اٹھایا اور عبادات سے غافل رہے مگر وہ مجرم ہیں اور اسی سزا کے مستحق ہیں جس کے مستحق مجرم ہوتے ہیں، لہٰذا عنقریب ان کی لذات منقطع ہو جائیں گی اور تاوان اور نقصان باقی رہ جائیں گے۔ ان کا ایک جرم یہ ہے کہ جب انھیں نماز، جو کہ سب سے زیادہ شرف کی حامل عبادت ہے، کا حکم دیا جاتا اور ان سے کہا جاتا تھا﴿ارۡكَعُوۡا﴾’’رکوع کرو‘‘ تو حکم کی تعمیل نہیں کرتے تھے۔ پس کون سا جرم اس سے بڑھ کر اور کون سی تکذیب اس سے زیادہ بڑی ہے؟ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے‘‘ ان کی ایک ہلاکت یہ بھی ہے کہ ان پر توفیق کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور وہ ہر بھلائی سے محروم ہو جائیں گے۔پس جب انھوں نے اس قرآن کو جھٹلا دیا جو علی الاطلاق صدق و یقین کے بلند ترین مرتبے پر ہے ﴿فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ کیا وہ باطل پر ایمان لائیں گے جو اپنے نام کی مانند ہے جس پر کوئی دلیل تو کجا، کوئی شبہ بھی قائم نہیں ہوتا ؟یا وہ کسی مشرک، کذاب اور کھلے بہتان طراز کے کلام پر ایمان لائیں گے؟پس نور مبین کے بعد گھٹا ٹوپ اندھیروں کے سوا کچھ نہیں رہتا، صدق کے بعد، جس پر قطعی دلائل و براہین قائم ہوں، صریح بہتان اور کھلے جھوٹ کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا جو صرف اسی شخص کے لائق ہے جس سے یہ مناسبت رکھتا ہے۔ ہلاکت ہے ان کے لیے، وہ کتنے اندھے ہو گئے ہیں! اور برا ہو ان کا، کس قدر خسارے اور بدبختی کا شکار ہو گئے ہیں !ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں وہ جوّاد اور صاحب کرم ہے۔
77:50

فَبِأَيِّ حَدِيثِۭ بَعۡدَهُۥ يُؤۡمِنُونَ

(جھٹلانے والو!) تم کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ تھوڑا سا، یقیناً تم مجرم ہو (46) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (47) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، رکوع کرو تم تو نہیں رکوع کرتے وہ (48) تباہی ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے(49) پس کس بات پر اس (قرآن) کے بعد وہ ایمان لائیں گے؟ (50) [50-46] یہ تکذیب کرنے والوں کے لیے تہدید و وعید ہے کہ اگرچہ انھوں نے دنیا میں کھایا پیا اور لذات دنیا سے فائدہ اٹھایا اور عبادات سے غافل رہے مگر وہ مجرم ہیں اور اسی سزا کے مستحق ہیں جس کے مستحق مجرم ہوتے ہیں، لہٰذا عنقریب ان کی لذات منقطع ہو جائیں گی اور تاوان اور نقصان باقی رہ جائیں گے۔ ان کا ایک جرم یہ ہے کہ جب انھیں نماز، جو کہ سب سے زیادہ شرف کی حامل عبادت ہے، کا حکم دیا جاتا اور ان سے کہا جاتا تھا﴿ارۡكَعُوۡا﴾’’رکوع کرو‘‘ تو حکم کی تعمیل نہیں کرتے تھے۔ پس کون سا جرم اس سے بڑھ کر اور کون سی تکذیب اس سے زیادہ بڑی ہے؟ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے‘‘ ان کی ایک ہلاکت یہ بھی ہے کہ ان پر توفیق کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور وہ ہر بھلائی سے محروم ہو جائیں گے۔پس جب انھوں نے اس قرآن کو جھٹلا دیا جو علی الاطلاق صدق و یقین کے بلند ترین مرتبے پر ہے ﴿فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ کیا وہ باطل پر ایمان لائیں گے جو اپنے نام کی مانند ہے جس پر کوئی دلیل تو کجا، کوئی شبہ بھی قائم نہیں ہوتا ؟یا وہ کسی مشرک، کذاب اور کھلے بہتان طراز کے کلام پر ایمان لائیں گے؟پس نور مبین کے بعد گھٹا ٹوپ اندھیروں کے سوا کچھ نہیں رہتا، صدق کے بعد، جس پر قطعی دلائل و براہین قائم ہوں، صریح بہتان اور کھلے جھوٹ کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا جو صرف اسی شخص کے لائق ہے جس سے یہ مناسبت رکھتا ہے۔ ہلاکت ہے ان کے لیے، وہ کتنے اندھے ہو گئے ہیں! اور برا ہو ان کا، کس قدر خسارے اور بدبختی کا شکار ہو گئے ہیں !ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں وہ جوّاد اور صاحب کرم ہے۔