al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 74 · 56 verses
74:1يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمُدَّثِّرُ
اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) اٹھیے، پھر ڈرائیے(2) اور اپنے رب ہی کی پس بڑائی بیان کیجیے(3) اور اپنے کپڑے پس پاک رکھیے(4) اور پلیدی کو پس چھوڑ دیجیے(5) اور نہ احسان کیجیے زیادہ طلب کرنے کے لیے(6) اور اپنے رب کے لیے پس صبر کیجیے(7) پس جب پھونکا جائے گا صور میں(8) تو وہ اس دن، دن ہو گا سخت دشوار (9) کافروں پر، نہیں آسان (10) چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2,1] گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ ﴿الۡمُزَّمِّلُ﴾ اور ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾کا ایک ہی معنی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہﷺ کو حکم دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی عبادات قاصرہ اور متعدیہ میں پوری کوشش کریں۔ وہاں یہ بھی گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عبادات فاضلہ و قاصرہ اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کوحکم دیا کہ آپ اپنی نبوت کا اعلان فرما دیں اور کھلم کھلا لوگوں کو تنبیہ کریں، چنانچہ فرمایا:﴿قُمۡ﴾ یعنی کوشش اور نشاط کے ساتھ کھڑے ہوں ﴿ فَاَنۡذِرۡ﴾ یعنی لوگوں کو ایسے اقوال و افعال کے ذریعے سے تنبیہ کیجیے ، جن سے مقصد حاصل ہو، ان امور کا حال بیان کر کے ڈرائیے جن سے متنبہ کرنا مطلوب ہے تاکہ یہ اس کو ترک کرنے پر زیادہ آمادہ کرے۔
[3]﴿وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ﴾ یعنی توحید کے ذریعے سے اس کی عظمت بیان کیجیے، اپنے انذار و تنبیہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنائیں، نیز اس بات کو مدنظر رکھیں کہ بندے اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کی عبادت کریں۔
[4]﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ﴾ ’’اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیں۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ (ثِیَاب) ’’کپڑے‘‘ سے مراد تمام اعمال ہوں اور ان کی تطہیر سے مراد ہے ان کی تخلیص، ان کے ذریعے سے خیر خواہی، ان کو کامل ترین طریقے پر بجا لانا اور ان کو تمام مبطلات، مفسدات اور ان میں نقص پیدا کرنے والے امور ، یعنی شرک، ریا، نفاق، خود پسندی، تکبر، غفلت وغیرہ سے پاک کرنا، جن کے بارے میں بندۂ مومن کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی عبادات میں ان سے اجتناب کرے۔ اس میں کپڑوں کی نجاست سے تطہیر بھی داخل ہے کیونکہ یہ تطہیر اعمال کی تطہیر کی تکمیل ہے، خاص طور پر نماز کے اندر جس کے بارے میں بہت سے علماء کا قول ہے کہ نجاست کو زائل کرنا، نماز کا حق اور اس کی شرائط میں سے ایک شرط ہے، یعنی طہارت اس کی صحت کی شرائط میں سے ہے۔یہ بھی احتمال ہے کہ(ثِیَاب) سے مراد معروف لباس ہو اور آپ کو ان کپڑوں کی تمام اوقات میں تمام نجاستوں سے تطہیر کا حکم دیا گیا ہے، خاص طور پر نماز میں داخل ہوتے وقت۔
[5] جب آپ ظاہری طہارت پر مامور ہیں کیونکہ ظاہری طہارت، باطنی طہارت کی تکمیل کرتی ہے تو فرمایا:﴿وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡ﴾ ’’اور ناپاکی سے دور رہیں۔‘‘ ایک احتمال یہ ہے کہ (الرُّجْزَ) سے مراد بت اور مورتی ہوں، جن کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کی جاتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کو ترک کر دیں، ان سے براء ت کا اعلان کریں، نیز ان تمام اقوال و افعال سے بیزار ہوں جو ان کی طرف منسوب ہیں۔ایک احتمال یہ بھی ہے کہ (اَلرُّجْزَ)سے مراد تمام اعمال شر اور اقوال شر ہوں، تب آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ تمام چھوٹے اور بڑے، ظاہری اور باطنی گناہ چھوڑ دیں۔ اس حکم میں شرک اور اس سے کم تر تمام گناہ داخل ہیں۔
[6]﴿وَلَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَكۡثِرُ﴾ یعنی آپ نے لوگوں پر جو دینی اور دنیاوی احسانات کیے ہیں، انھیں جتلائیں نہیں کہ اس احسان کے بدلے زیادہ حاصل کریں اور ان احسانات کی وجہ سے اپنے آپ کو لوگوں سے افضل سمجھیں بلکہ جب بھی آپ کے لیے ممکن ہو آپ لوگوں پر احسان کریں ، پھر ان پر اپنے اس احسان کو بھول جایے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر طلب کیجیے۔ جس پر آپ نے احسان کیا ہے اسے اور دوسروں کو برابر سطح پر رکھیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کسی کو کوئی چیز اس لیے عطا نہ کریں کہ آپ کا ارادہ ہو کہ وہ آپ کو اس سے بڑھ کر بدلہ عطا کرے، تب یہ نبی ٔاکرمﷺ کے ساتھ مختص ہے۔
[7]﴿وَلِرَبِّكَ فَاصۡبِرۡ﴾ یعنی اپنے صبر پر اجر کی امید رکھیے اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ پس رسول اللہ ﷺنے اپنے رب کے حکم کی اطاعت کی اور اس کی تعمیل کے لیے آگے بڑھے۔ پس آپ نے لوگوں کو انجام بد سے ڈرایا اور آپ نے ان کے سامنے آیات بینات اور تمام مطالب الٰہیہ کو واضح کیا، اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کی اور مخلوق کو اس کی تعظیم کی طرف بلایا، آپ نے اپنے تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو ہر قسم کی برائی سے پاک کیا، آپ نے ہر اس ہستی سے براءت کا اظہار کیا جو اللہ تعالیٰ سے دور کرتی تھی اور اس کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کے ساتھ عبادت کی جاتی تھی، یعنی بتوں، بت پرستوں، شر اور شر پسندوں سے بیزاری کا اعلان کیا۔لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے احسان کے بعد آپ کا احسان ہے بغیر اس کے کہ آپ اس پر ان سے کسی جزا یا شکر گزاری کا مطالبہ کریں۔ آپ نے اپنے رب کی خاطر کامل ترین صبر کیا۔ پس آپ نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی نافرمانی سے اجتناب پر اور اس کی تکلیف دہ قضا و قدر پر صبر کیا، یہاں تک کہ آپ اولوالعزم انبیاء و مرسلین پر بھی فوقیت لے گئے۔ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ أَجْمَعِینَ ۔
74:2اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) اٹھیے، پھر ڈرائیے(2) اور اپنے رب ہی کی پس بڑائی بیان کیجیے(3) اور اپنے کپڑے پس پاک رکھیے(4) اور پلیدی کو پس چھوڑ دیجیے(5) اور نہ احسان کیجیے زیادہ طلب کرنے کے لیے(6) اور اپنے رب کے لیے پس صبر کیجیے(7) پس جب پھونکا جائے گا صور میں(8) تو وہ اس دن، دن ہو گا سخت دشوار (9) کافروں پر، نہیں آسان (10) چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2,1] گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ ﴿الۡمُزَّمِّلُ﴾ اور ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾کا ایک ہی معنی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہﷺ کو حکم دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی عبادات قاصرہ اور متعدیہ میں پوری کوشش کریں۔ وہاں یہ بھی گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عبادات فاضلہ و قاصرہ اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کوحکم دیا کہ آپ اپنی نبوت کا اعلان فرما دیں اور کھلم کھلا لوگوں کو تنبیہ کریں، چنانچہ فرمایا:﴿قُمۡ﴾ یعنی کوشش اور نشاط کے ساتھ کھڑے ہوں ﴿ فَاَنۡذِرۡ﴾ یعنی لوگوں کو ایسے اقوال و افعال کے ذریعے سے تنبیہ کیجیے ، جن سے مقصد حاصل ہو، ان امور کا حال بیان کر کے ڈرائیے جن سے متنبہ کرنا مطلوب ہے تاکہ یہ اس کو ترک کرنے پر زیادہ آمادہ کرے۔
[3]﴿وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ﴾ یعنی توحید کے ذریعے سے اس کی عظمت بیان کیجیے، اپنے انذار و تنبیہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنائیں، نیز اس بات کو مدنظر رکھیں کہ بندے اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کی عبادت کریں۔
[4]﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ﴾ ’’اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیں۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ (ثِیَاب) ’’کپڑے‘‘ سے مراد تمام اعمال ہوں اور ان کی تطہیر سے مراد ہے ان کی تخلیص، ان کے ذریعے سے خیر خواہی، ان کو کامل ترین طریقے پر بجا لانا اور ان کو تمام مبطلات، مفسدات اور ان میں نقص پیدا کرنے والے امور ، یعنی شرک، ریا، نفاق، خود پسندی، تکبر، غفلت وغیرہ سے پاک کرنا، جن کے بارے میں بندۂ مومن کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی عبادات میں ان سے اجتناب کرے۔ اس میں کپڑوں کی نجاست سے تطہیر بھی داخل ہے کیونکہ یہ تطہیر اعمال کی تطہیر کی تکمیل ہے، خاص طور پر نماز کے اندر جس کے بارے میں بہت سے علماء کا قول ہے کہ نجاست کو زائل کرنا، نماز کا حق اور اس کی شرائط میں سے ایک شرط ہے، یعنی طہارت اس کی صحت کی شرائط میں سے ہے۔یہ بھی احتمال ہے کہ(ثِیَاب) سے مراد معروف لباس ہو اور آپ کو ان کپڑوں کی تمام اوقات میں تمام نجاستوں سے تطہیر کا حکم دیا گیا ہے، خاص طور پر نماز میں داخل ہوتے وقت۔
[5] جب آپ ظاہری طہارت پر مامور ہیں کیونکہ ظاہری طہارت، باطنی طہارت کی تکمیل کرتی ہے تو فرمایا:﴿وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡ﴾ ’’اور ناپاکی سے دور رہیں۔‘‘ ایک احتمال یہ ہے کہ (الرُّجْزَ) سے مراد بت اور مورتی ہوں، جن کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کی جاتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کو ترک کر دیں، ان سے براء ت کا اعلان کریں، نیز ان تمام اقوال و افعال سے بیزار ہوں جو ان کی طرف منسوب ہیں۔ایک احتمال یہ بھی ہے کہ (اَلرُّجْزَ)سے مراد تمام اعمال شر اور اقوال شر ہوں، تب آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ تمام چھوٹے اور بڑے، ظاہری اور باطنی گناہ چھوڑ دیں۔ اس حکم میں شرک اور اس سے کم تر تمام گناہ داخل ہیں۔
[6]﴿وَلَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَكۡثِرُ﴾ یعنی آپ نے لوگوں پر جو دینی اور دنیاوی احسانات کیے ہیں، انھیں جتلائیں نہیں کہ اس احسان کے بدلے زیادہ حاصل کریں اور ان احسانات کی وجہ سے اپنے آپ کو لوگوں سے افضل سمجھیں بلکہ جب بھی آپ کے لیے ممکن ہو آپ لوگوں پر احسان کریں ، پھر ان پر اپنے اس احسان کو بھول جایے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر طلب کیجیے۔ جس پر آپ نے احسان کیا ہے اسے اور دوسروں کو برابر سطح پر رکھیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کسی کو کوئی چیز اس لیے عطا نہ کریں کہ آپ کا ارادہ ہو کہ وہ آپ کو اس سے بڑھ کر بدلہ عطا کرے، تب یہ نبی ٔاکرمﷺ کے ساتھ مختص ہے۔
[7]﴿وَلِرَبِّكَ فَاصۡبِرۡ﴾ یعنی اپنے صبر پر اجر کی امید رکھیے اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ پس رسول اللہ ﷺنے اپنے رب کے حکم کی اطاعت کی اور اس کی تعمیل کے لیے آگے بڑھے۔ پس آپ نے لوگوں کو انجام بد سے ڈرایا اور آپ نے ان کے سامنے آیات بینات اور تمام مطالب الٰہیہ کو واضح کیا، اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کی اور مخلوق کو اس کی تعظیم کی طرف بلایا، آپ نے اپنے تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو ہر قسم کی برائی سے پاک کیا، آپ نے ہر اس ہستی سے براءت کا اظہار کیا جو اللہ تعالیٰ سے دور کرتی تھی اور اس کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کے ساتھ عبادت کی جاتی تھی، یعنی بتوں، بت پرستوں، شر اور شر پسندوں سے بیزاری کا اعلان کیا۔لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے احسان کے بعد آپ کا احسان ہے بغیر اس کے کہ آپ اس پر ان سے کسی جزا یا شکر گزاری کا مطالبہ کریں۔ آپ نے اپنے رب کی خاطر کامل ترین صبر کیا۔ پس آپ نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی نافرمانی سے اجتناب پر اور اس کی تکلیف دہ قضا و قدر پر صبر کیا، یہاں تک کہ آپ اولوالعزم انبیاء و مرسلین پر بھی فوقیت لے گئے۔ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ أَجْمَعِینَ ۔
74:3اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) اٹھیے، پھر ڈرائیے(2) اور اپنے رب ہی کی پس بڑائی بیان کیجیے(3) اور اپنے کپڑے پس پاک رکھیے(4) اور پلیدی کو پس چھوڑ دیجیے(5) اور نہ احسان کیجیے زیادہ طلب کرنے کے لیے(6) اور اپنے رب کے لیے پس صبر کیجیے(7) پس جب پھونکا جائے گا صور میں(8) تو وہ اس دن، دن ہو گا سخت دشوار (9) کافروں پر، نہیں آسان (10) چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2,1] گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ ﴿الۡمُزَّمِّلُ﴾ اور ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾کا ایک ہی معنی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہﷺ کو حکم دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی عبادات قاصرہ اور متعدیہ میں پوری کوشش کریں۔ وہاں یہ بھی گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عبادات فاضلہ و قاصرہ اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کوحکم دیا کہ آپ اپنی نبوت کا اعلان فرما دیں اور کھلم کھلا لوگوں کو تنبیہ کریں، چنانچہ فرمایا:﴿قُمۡ﴾ یعنی کوشش اور نشاط کے ساتھ کھڑے ہوں ﴿ فَاَنۡذِرۡ﴾ یعنی لوگوں کو ایسے اقوال و افعال کے ذریعے سے تنبیہ کیجیے ، جن سے مقصد حاصل ہو، ان امور کا حال بیان کر کے ڈرائیے جن سے متنبہ کرنا مطلوب ہے تاکہ یہ اس کو ترک کرنے پر زیادہ آمادہ کرے۔
[3]﴿وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ﴾ یعنی توحید کے ذریعے سے اس کی عظمت بیان کیجیے، اپنے انذار و تنبیہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنائیں، نیز اس بات کو مدنظر رکھیں کہ بندے اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کی عبادت کریں۔
[4]﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ﴾ ’’اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیں۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ (ثِیَاب) ’’کپڑے‘‘ سے مراد تمام اعمال ہوں اور ان کی تطہیر سے مراد ہے ان کی تخلیص، ان کے ذریعے سے خیر خواہی، ان کو کامل ترین طریقے پر بجا لانا اور ان کو تمام مبطلات، مفسدات اور ان میں نقص پیدا کرنے والے امور ، یعنی شرک، ریا، نفاق، خود پسندی، تکبر، غفلت وغیرہ سے پاک کرنا، جن کے بارے میں بندۂ مومن کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی عبادات میں ان سے اجتناب کرے۔ اس میں کپڑوں کی نجاست سے تطہیر بھی داخل ہے کیونکہ یہ تطہیر اعمال کی تطہیر کی تکمیل ہے، خاص طور پر نماز کے اندر جس کے بارے میں بہت سے علماء کا قول ہے کہ نجاست کو زائل کرنا، نماز کا حق اور اس کی شرائط میں سے ایک شرط ہے، یعنی طہارت اس کی صحت کی شرائط میں سے ہے۔یہ بھی احتمال ہے کہ(ثِیَاب) سے مراد معروف لباس ہو اور آپ کو ان کپڑوں کی تمام اوقات میں تمام نجاستوں سے تطہیر کا حکم دیا گیا ہے، خاص طور پر نماز میں داخل ہوتے وقت۔
[5] جب آپ ظاہری طہارت پر مامور ہیں کیونکہ ظاہری طہارت، باطنی طہارت کی تکمیل کرتی ہے تو فرمایا:﴿وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡ﴾ ’’اور ناپاکی سے دور رہیں۔‘‘ ایک احتمال یہ ہے کہ (الرُّجْزَ) سے مراد بت اور مورتی ہوں، جن کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کی جاتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کو ترک کر دیں، ان سے براء ت کا اعلان کریں، نیز ان تمام اقوال و افعال سے بیزار ہوں جو ان کی طرف منسوب ہیں۔ایک احتمال یہ بھی ہے کہ (اَلرُّجْزَ)سے مراد تمام اعمال شر اور اقوال شر ہوں، تب آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ تمام چھوٹے اور بڑے، ظاہری اور باطنی گناہ چھوڑ دیں۔ اس حکم میں شرک اور اس سے کم تر تمام گناہ داخل ہیں۔
[6]﴿وَلَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَكۡثِرُ﴾ یعنی آپ نے لوگوں پر جو دینی اور دنیاوی احسانات کیے ہیں، انھیں جتلائیں نہیں کہ اس احسان کے بدلے زیادہ حاصل کریں اور ان احسانات کی وجہ سے اپنے آپ کو لوگوں سے افضل سمجھیں بلکہ جب بھی آپ کے لیے ممکن ہو آپ لوگوں پر احسان کریں ، پھر ان پر اپنے اس احسان کو بھول جایے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر طلب کیجیے۔ جس پر آپ نے احسان کیا ہے اسے اور دوسروں کو برابر سطح پر رکھیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کسی کو کوئی چیز اس لیے عطا نہ کریں کہ آپ کا ارادہ ہو کہ وہ آپ کو اس سے بڑھ کر بدلہ عطا کرے، تب یہ نبی ٔاکرمﷺ کے ساتھ مختص ہے۔
[7]﴿وَلِرَبِّكَ فَاصۡبِرۡ﴾ یعنی اپنے صبر پر اجر کی امید رکھیے اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ پس رسول اللہ ﷺنے اپنے رب کے حکم کی اطاعت کی اور اس کی تعمیل کے لیے آگے بڑھے۔ پس آپ نے لوگوں کو انجام بد سے ڈرایا اور آپ نے ان کے سامنے آیات بینات اور تمام مطالب الٰہیہ کو واضح کیا، اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کی اور مخلوق کو اس کی تعظیم کی طرف بلایا، آپ نے اپنے تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو ہر قسم کی برائی سے پاک کیا، آپ نے ہر اس ہستی سے براءت کا اظہار کیا جو اللہ تعالیٰ سے دور کرتی تھی اور اس کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کے ساتھ عبادت کی جاتی تھی، یعنی بتوں، بت پرستوں، شر اور شر پسندوں سے بیزاری کا اعلان کیا۔لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے احسان کے بعد آپ کا احسان ہے بغیر اس کے کہ آپ اس پر ان سے کسی جزا یا شکر گزاری کا مطالبہ کریں۔ آپ نے اپنے رب کی خاطر کامل ترین صبر کیا۔ پس آپ نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی نافرمانی سے اجتناب پر اور اس کی تکلیف دہ قضا و قدر پر صبر کیا، یہاں تک کہ آپ اولوالعزم انبیاء و مرسلین پر بھی فوقیت لے گئے۔ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ أَجْمَعِینَ ۔
74:4اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) اٹھیے، پھر ڈرائیے(2) اور اپنے رب ہی کی پس بڑائی بیان کیجیے(3) اور اپنے کپڑے پس پاک رکھیے(4) اور پلیدی کو پس چھوڑ دیجیے(5) اور نہ احسان کیجیے زیادہ طلب کرنے کے لیے(6) اور اپنے رب کے لیے پس صبر کیجیے(7) پس جب پھونکا جائے گا صور میں(8) تو وہ اس دن، دن ہو گا سخت دشوار (9) کافروں پر، نہیں آسان (10) چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2,1] گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ ﴿الۡمُزَّمِّلُ﴾ اور ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾کا ایک ہی معنی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہﷺ کو حکم دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی عبادات قاصرہ اور متعدیہ میں پوری کوشش کریں۔ وہاں یہ بھی گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عبادات فاضلہ و قاصرہ اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کوحکم دیا کہ آپ اپنی نبوت کا اعلان فرما دیں اور کھلم کھلا لوگوں کو تنبیہ کریں، چنانچہ فرمایا:﴿قُمۡ﴾ یعنی کوشش اور نشاط کے ساتھ کھڑے ہوں ﴿ فَاَنۡذِرۡ﴾ یعنی لوگوں کو ایسے اقوال و افعال کے ذریعے سے تنبیہ کیجیے ، جن سے مقصد حاصل ہو، ان امور کا حال بیان کر کے ڈرائیے جن سے متنبہ کرنا مطلوب ہے تاکہ یہ اس کو ترک کرنے پر زیادہ آمادہ کرے۔
[3]﴿وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ﴾ یعنی توحید کے ذریعے سے اس کی عظمت بیان کیجیے، اپنے انذار و تنبیہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنائیں، نیز اس بات کو مدنظر رکھیں کہ بندے اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کی عبادت کریں۔
[4]﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ﴾ ’’اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیں۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ (ثِیَاب) ’’کپڑے‘‘ سے مراد تمام اعمال ہوں اور ان کی تطہیر سے مراد ہے ان کی تخلیص، ان کے ذریعے سے خیر خواہی، ان کو کامل ترین طریقے پر بجا لانا اور ان کو تمام مبطلات، مفسدات اور ان میں نقص پیدا کرنے والے امور ، یعنی شرک، ریا، نفاق، خود پسندی، تکبر، غفلت وغیرہ سے پاک کرنا، جن کے بارے میں بندۂ مومن کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی عبادات میں ان سے اجتناب کرے۔ اس میں کپڑوں کی نجاست سے تطہیر بھی داخل ہے کیونکہ یہ تطہیر اعمال کی تطہیر کی تکمیل ہے، خاص طور پر نماز کے اندر جس کے بارے میں بہت سے علماء کا قول ہے کہ نجاست کو زائل کرنا، نماز کا حق اور اس کی شرائط میں سے ایک شرط ہے، یعنی طہارت اس کی صحت کی شرائط میں سے ہے۔یہ بھی احتمال ہے کہ(ثِیَاب) سے مراد معروف لباس ہو اور آپ کو ان کپڑوں کی تمام اوقات میں تمام نجاستوں سے تطہیر کا حکم دیا گیا ہے، خاص طور پر نماز میں داخل ہوتے وقت۔
[5] جب آپ ظاہری طہارت پر مامور ہیں کیونکہ ظاہری طہارت، باطنی طہارت کی تکمیل کرتی ہے تو فرمایا:﴿وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡ﴾ ’’اور ناپاکی سے دور رہیں۔‘‘ ایک احتمال یہ ہے کہ (الرُّجْزَ) سے مراد بت اور مورتی ہوں، جن کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کی جاتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کو ترک کر دیں، ان سے براء ت کا اعلان کریں، نیز ان تمام اقوال و افعال سے بیزار ہوں جو ان کی طرف منسوب ہیں۔ایک احتمال یہ بھی ہے کہ (اَلرُّجْزَ)سے مراد تمام اعمال شر اور اقوال شر ہوں، تب آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ تمام چھوٹے اور بڑے، ظاہری اور باطنی گناہ چھوڑ دیں۔ اس حکم میں شرک اور اس سے کم تر تمام گناہ داخل ہیں۔
[6]﴿وَلَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَكۡثِرُ﴾ یعنی آپ نے لوگوں پر جو دینی اور دنیاوی احسانات کیے ہیں، انھیں جتلائیں نہیں کہ اس احسان کے بدلے زیادہ حاصل کریں اور ان احسانات کی وجہ سے اپنے آپ کو لوگوں سے افضل سمجھیں بلکہ جب بھی آپ کے لیے ممکن ہو آپ لوگوں پر احسان کریں ، پھر ان پر اپنے اس احسان کو بھول جایے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر طلب کیجیے۔ جس پر آپ نے احسان کیا ہے اسے اور دوسروں کو برابر سطح پر رکھیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کسی کو کوئی چیز اس لیے عطا نہ کریں کہ آپ کا ارادہ ہو کہ وہ آپ کو اس سے بڑھ کر بدلہ عطا کرے، تب یہ نبی ٔاکرمﷺ کے ساتھ مختص ہے۔
[7]﴿وَلِرَبِّكَ فَاصۡبِرۡ﴾ یعنی اپنے صبر پر اجر کی امید رکھیے اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ پس رسول اللہ ﷺنے اپنے رب کے حکم کی اطاعت کی اور اس کی تعمیل کے لیے آگے بڑھے۔ پس آپ نے لوگوں کو انجام بد سے ڈرایا اور آپ نے ان کے سامنے آیات بینات اور تمام مطالب الٰہیہ کو واضح کیا، اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کی اور مخلوق کو اس کی تعظیم کی طرف بلایا، آپ نے اپنے تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو ہر قسم کی برائی سے پاک کیا، آپ نے ہر اس ہستی سے براءت کا اظہار کیا جو اللہ تعالیٰ سے دور کرتی تھی اور اس کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کے ساتھ عبادت کی جاتی تھی، یعنی بتوں، بت پرستوں، شر اور شر پسندوں سے بیزاری کا اعلان کیا۔لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے احسان کے بعد آپ کا احسان ہے بغیر اس کے کہ آپ اس پر ان سے کسی جزا یا شکر گزاری کا مطالبہ کریں۔ آپ نے اپنے رب کی خاطر کامل ترین صبر کیا۔ پس آپ نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی نافرمانی سے اجتناب پر اور اس کی تکلیف دہ قضا و قدر پر صبر کیا، یہاں تک کہ آپ اولوالعزم انبیاء و مرسلین پر بھی فوقیت لے گئے۔ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ أَجْمَعِینَ ۔
74:5اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) اٹھیے، پھر ڈرائیے(2) اور اپنے رب ہی کی پس بڑائی بیان کیجیے(3) اور اپنے کپڑے پس پاک رکھیے(4) اور پلیدی کو پس چھوڑ دیجیے(5) اور نہ احسان کیجیے زیادہ طلب کرنے کے لیے(6) اور اپنے رب کے لیے پس صبر کیجیے(7) پس جب پھونکا جائے گا صور میں(8) تو وہ اس دن، دن ہو گا سخت دشوار (9) کافروں پر، نہیں آسان (10) چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2,1] گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ ﴿الۡمُزَّمِّلُ﴾ اور ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾کا ایک ہی معنی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہﷺ کو حکم دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی عبادات قاصرہ اور متعدیہ میں پوری کوشش کریں۔ وہاں یہ بھی گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عبادات فاضلہ و قاصرہ اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کوحکم دیا کہ آپ اپنی نبوت کا اعلان فرما دیں اور کھلم کھلا لوگوں کو تنبیہ کریں، چنانچہ فرمایا:﴿قُمۡ﴾ یعنی کوشش اور نشاط کے ساتھ کھڑے ہوں ﴿ فَاَنۡذِرۡ﴾ یعنی لوگوں کو ایسے اقوال و افعال کے ذریعے سے تنبیہ کیجیے ، جن سے مقصد حاصل ہو، ان امور کا حال بیان کر کے ڈرائیے جن سے متنبہ کرنا مطلوب ہے تاکہ یہ اس کو ترک کرنے پر زیادہ آمادہ کرے۔
[3]﴿وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ﴾ یعنی توحید کے ذریعے سے اس کی عظمت بیان کیجیے، اپنے انذار و تنبیہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنائیں، نیز اس بات کو مدنظر رکھیں کہ بندے اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کی عبادت کریں۔
[4]﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ﴾ ’’اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیں۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ (ثِیَاب) ’’کپڑے‘‘ سے مراد تمام اعمال ہوں اور ان کی تطہیر سے مراد ہے ان کی تخلیص، ان کے ذریعے سے خیر خواہی، ان کو کامل ترین طریقے پر بجا لانا اور ان کو تمام مبطلات، مفسدات اور ان میں نقص پیدا کرنے والے امور ، یعنی شرک، ریا، نفاق، خود پسندی، تکبر، غفلت وغیرہ سے پاک کرنا، جن کے بارے میں بندۂ مومن کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی عبادات میں ان سے اجتناب کرے۔ اس میں کپڑوں کی نجاست سے تطہیر بھی داخل ہے کیونکہ یہ تطہیر اعمال کی تطہیر کی تکمیل ہے، خاص طور پر نماز کے اندر جس کے بارے میں بہت سے علماء کا قول ہے کہ نجاست کو زائل کرنا، نماز کا حق اور اس کی شرائط میں سے ایک شرط ہے، یعنی طہارت اس کی صحت کی شرائط میں سے ہے۔یہ بھی احتمال ہے کہ(ثِیَاب) سے مراد معروف لباس ہو اور آپ کو ان کپڑوں کی تمام اوقات میں تمام نجاستوں سے تطہیر کا حکم دیا گیا ہے، خاص طور پر نماز میں داخل ہوتے وقت۔
[5] جب آپ ظاہری طہارت پر مامور ہیں کیونکہ ظاہری طہارت، باطنی طہارت کی تکمیل کرتی ہے تو فرمایا:﴿وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡ﴾ ’’اور ناپاکی سے دور رہیں۔‘‘ ایک احتمال یہ ہے کہ (الرُّجْزَ) سے مراد بت اور مورتی ہوں، جن کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کی جاتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کو ترک کر دیں، ان سے براء ت کا اعلان کریں، نیز ان تمام اقوال و افعال سے بیزار ہوں جو ان کی طرف منسوب ہیں۔ایک احتمال یہ بھی ہے کہ (اَلرُّجْزَ)سے مراد تمام اعمال شر اور اقوال شر ہوں، تب آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ تمام چھوٹے اور بڑے، ظاہری اور باطنی گناہ چھوڑ دیں۔ اس حکم میں شرک اور اس سے کم تر تمام گناہ داخل ہیں۔
[6]﴿وَلَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَكۡثِرُ﴾ یعنی آپ نے لوگوں پر جو دینی اور دنیاوی احسانات کیے ہیں، انھیں جتلائیں نہیں کہ اس احسان کے بدلے زیادہ حاصل کریں اور ان احسانات کی وجہ سے اپنے آپ کو لوگوں سے افضل سمجھیں بلکہ جب بھی آپ کے لیے ممکن ہو آپ لوگوں پر احسان کریں ، پھر ان پر اپنے اس احسان کو بھول جایے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر طلب کیجیے۔ جس پر آپ نے احسان کیا ہے اسے اور دوسروں کو برابر سطح پر رکھیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کسی کو کوئی چیز اس لیے عطا نہ کریں کہ آپ کا ارادہ ہو کہ وہ آپ کو اس سے بڑھ کر بدلہ عطا کرے، تب یہ نبی ٔاکرمﷺ کے ساتھ مختص ہے۔
[7]﴿وَلِرَبِّكَ فَاصۡبِرۡ﴾ یعنی اپنے صبر پر اجر کی امید رکھیے اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ پس رسول اللہ ﷺنے اپنے رب کے حکم کی اطاعت کی اور اس کی تعمیل کے لیے آگے بڑھے۔ پس آپ نے لوگوں کو انجام بد سے ڈرایا اور آپ نے ان کے سامنے آیات بینات اور تمام مطالب الٰہیہ کو واضح کیا، اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کی اور مخلوق کو اس کی تعظیم کی طرف بلایا، آپ نے اپنے تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو ہر قسم کی برائی سے پاک کیا، آپ نے ہر اس ہستی سے براءت کا اظہار کیا جو اللہ تعالیٰ سے دور کرتی تھی اور اس کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کے ساتھ عبادت کی جاتی تھی، یعنی بتوں، بت پرستوں، شر اور شر پسندوں سے بیزاری کا اعلان کیا۔لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے احسان کے بعد آپ کا احسان ہے بغیر اس کے کہ آپ اس پر ان سے کسی جزا یا شکر گزاری کا مطالبہ کریں۔ آپ نے اپنے رب کی خاطر کامل ترین صبر کیا۔ پس آپ نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی نافرمانی سے اجتناب پر اور اس کی تکلیف دہ قضا و قدر پر صبر کیا، یہاں تک کہ آپ اولوالعزم انبیاء و مرسلین پر بھی فوقیت لے گئے۔ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ أَجْمَعِینَ ۔
74:6وَلَا تَمۡنُن تَسۡتَكۡثِرُ
اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) اٹھیے، پھر ڈرائیے(2) اور اپنے رب ہی کی پس بڑائی بیان کیجیے(3) اور اپنے کپڑے پس پاک رکھیے(4) اور پلیدی کو پس چھوڑ دیجیے(5) اور نہ احسان کیجیے زیادہ طلب کرنے کے لیے(6) اور اپنے رب کے لیے پس صبر کیجیے(7) پس جب پھونکا جائے گا صور میں(8) تو وہ اس دن، دن ہو گا سخت دشوار (9) کافروں پر، نہیں آسان (10) چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2,1] گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ ﴿الۡمُزَّمِّلُ﴾ اور ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾کا ایک ہی معنی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہﷺ کو حکم دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی عبادات قاصرہ اور متعدیہ میں پوری کوشش کریں۔ وہاں یہ بھی گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عبادات فاضلہ و قاصرہ اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کوحکم دیا کہ آپ اپنی نبوت کا اعلان فرما دیں اور کھلم کھلا لوگوں کو تنبیہ کریں، چنانچہ فرمایا:﴿قُمۡ﴾ یعنی کوشش اور نشاط کے ساتھ کھڑے ہوں ﴿ فَاَنۡذِرۡ﴾ یعنی لوگوں کو ایسے اقوال و افعال کے ذریعے سے تنبیہ کیجیے ، جن سے مقصد حاصل ہو، ان امور کا حال بیان کر کے ڈرائیے جن سے متنبہ کرنا مطلوب ہے تاکہ یہ اس کو ترک کرنے پر زیادہ آمادہ کرے۔
[3]﴿وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ﴾ یعنی توحید کے ذریعے سے اس کی عظمت بیان کیجیے، اپنے انذار و تنبیہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنائیں، نیز اس بات کو مدنظر رکھیں کہ بندے اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کی عبادت کریں۔
[4]﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ﴾ ’’اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیں۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ (ثِیَاب) ’’کپڑے‘‘ سے مراد تمام اعمال ہوں اور ان کی تطہیر سے مراد ہے ان کی تخلیص، ان کے ذریعے سے خیر خواہی، ان کو کامل ترین طریقے پر بجا لانا اور ان کو تمام مبطلات، مفسدات اور ان میں نقص پیدا کرنے والے امور ، یعنی شرک، ریا، نفاق، خود پسندی، تکبر، غفلت وغیرہ سے پاک کرنا، جن کے بارے میں بندۂ مومن کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی عبادات میں ان سے اجتناب کرے۔ اس میں کپڑوں کی نجاست سے تطہیر بھی داخل ہے کیونکہ یہ تطہیر اعمال کی تطہیر کی تکمیل ہے، خاص طور پر نماز کے اندر جس کے بارے میں بہت سے علماء کا قول ہے کہ نجاست کو زائل کرنا، نماز کا حق اور اس کی شرائط میں سے ایک شرط ہے، یعنی طہارت اس کی صحت کی شرائط میں سے ہے۔یہ بھی احتمال ہے کہ(ثِیَاب) سے مراد معروف لباس ہو اور آپ کو ان کپڑوں کی تمام اوقات میں تمام نجاستوں سے تطہیر کا حکم دیا گیا ہے، خاص طور پر نماز میں داخل ہوتے وقت۔
[5] جب آپ ظاہری طہارت پر مامور ہیں کیونکہ ظاہری طہارت، باطنی طہارت کی تکمیل کرتی ہے تو فرمایا:﴿وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡ﴾ ’’اور ناپاکی سے دور رہیں۔‘‘ ایک احتمال یہ ہے کہ (الرُّجْزَ) سے مراد بت اور مورتی ہوں، جن کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کی جاتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کو ترک کر دیں، ان سے براء ت کا اعلان کریں، نیز ان تمام اقوال و افعال سے بیزار ہوں جو ان کی طرف منسوب ہیں۔ایک احتمال یہ بھی ہے کہ (اَلرُّجْزَ)سے مراد تمام اعمال شر اور اقوال شر ہوں، تب آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ تمام چھوٹے اور بڑے، ظاہری اور باطنی گناہ چھوڑ دیں۔ اس حکم میں شرک اور اس سے کم تر تمام گناہ داخل ہیں۔
[6]﴿وَلَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَكۡثِرُ﴾ یعنی آپ نے لوگوں پر جو دینی اور دنیاوی احسانات کیے ہیں، انھیں جتلائیں نہیں کہ اس احسان کے بدلے زیادہ حاصل کریں اور ان احسانات کی وجہ سے اپنے آپ کو لوگوں سے افضل سمجھیں بلکہ جب بھی آپ کے لیے ممکن ہو آپ لوگوں پر احسان کریں ، پھر ان پر اپنے اس احسان کو بھول جایے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر طلب کیجیے۔ جس پر آپ نے احسان کیا ہے اسے اور دوسروں کو برابر سطح پر رکھیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کسی کو کوئی چیز اس لیے عطا نہ کریں کہ آپ کا ارادہ ہو کہ وہ آپ کو اس سے بڑھ کر بدلہ عطا کرے، تب یہ نبی ٔاکرمﷺ کے ساتھ مختص ہے۔
[7]﴿وَلِرَبِّكَ فَاصۡبِرۡ﴾ یعنی اپنے صبر پر اجر کی امید رکھیے اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ پس رسول اللہ ﷺنے اپنے رب کے حکم کی اطاعت کی اور اس کی تعمیل کے لیے آگے بڑھے۔ پس آپ نے لوگوں کو انجام بد سے ڈرایا اور آپ نے ان کے سامنے آیات بینات اور تمام مطالب الٰہیہ کو واضح کیا، اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کی اور مخلوق کو اس کی تعظیم کی طرف بلایا، آپ نے اپنے تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو ہر قسم کی برائی سے پاک کیا، آپ نے ہر اس ہستی سے براءت کا اظہار کیا جو اللہ تعالیٰ سے دور کرتی تھی اور اس کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کے ساتھ عبادت کی جاتی تھی، یعنی بتوں، بت پرستوں، شر اور شر پسندوں سے بیزاری کا اعلان کیا۔لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے احسان کے بعد آپ کا احسان ہے بغیر اس کے کہ آپ اس پر ان سے کسی جزا یا شکر گزاری کا مطالبہ کریں۔ آپ نے اپنے رب کی خاطر کامل ترین صبر کیا۔ پس آپ نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی نافرمانی سے اجتناب پر اور اس کی تکلیف دہ قضا و قدر پر صبر کیا، یہاں تک کہ آپ اولوالعزم انبیاء و مرسلین پر بھی فوقیت لے گئے۔ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ أَجْمَعِینَ ۔
74:7اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) اٹھیے، پھر ڈرائیے(2) اور اپنے رب ہی کی پس بڑائی بیان کیجیے(3) اور اپنے کپڑے پس پاک رکھیے(4) اور پلیدی کو پس چھوڑ دیجیے(5) اور نہ احسان کیجیے زیادہ طلب کرنے کے لیے(6) اور اپنے رب کے لیے پس صبر کیجیے(7) پس جب پھونکا جائے گا صور میں(8) تو وہ اس دن، دن ہو گا سخت دشوار (9) کافروں پر، نہیں آسان (10) چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2,1] گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ ﴿الۡمُزَّمِّلُ﴾ اور ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾کا ایک ہی معنی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہﷺ کو حکم دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی عبادات قاصرہ اور متعدیہ میں پوری کوشش کریں۔ وہاں یہ بھی گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عبادات فاضلہ و قاصرہ اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کوحکم دیا کہ آپ اپنی نبوت کا اعلان فرما دیں اور کھلم کھلا لوگوں کو تنبیہ کریں، چنانچہ فرمایا:﴿قُمۡ﴾ یعنی کوشش اور نشاط کے ساتھ کھڑے ہوں ﴿ فَاَنۡذِرۡ﴾ یعنی لوگوں کو ایسے اقوال و افعال کے ذریعے سے تنبیہ کیجیے ، جن سے مقصد حاصل ہو، ان امور کا حال بیان کر کے ڈرائیے جن سے متنبہ کرنا مطلوب ہے تاکہ یہ اس کو ترک کرنے پر زیادہ آمادہ کرے۔
[3]﴿وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ﴾ یعنی توحید کے ذریعے سے اس کی عظمت بیان کیجیے، اپنے انذار و تنبیہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنائیں، نیز اس بات کو مدنظر رکھیں کہ بندے اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کی عبادت کریں۔
[4]﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ﴾ ’’اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیں۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ (ثِیَاب) ’’کپڑے‘‘ سے مراد تمام اعمال ہوں اور ان کی تطہیر سے مراد ہے ان کی تخلیص، ان کے ذریعے سے خیر خواہی، ان کو کامل ترین طریقے پر بجا لانا اور ان کو تمام مبطلات، مفسدات اور ان میں نقص پیدا کرنے والے امور ، یعنی شرک، ریا، نفاق، خود پسندی، تکبر، غفلت وغیرہ سے پاک کرنا، جن کے بارے میں بندۂ مومن کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی عبادات میں ان سے اجتناب کرے۔ اس میں کپڑوں کی نجاست سے تطہیر بھی داخل ہے کیونکہ یہ تطہیر اعمال کی تطہیر کی تکمیل ہے، خاص طور پر نماز کے اندر جس کے بارے میں بہت سے علماء کا قول ہے کہ نجاست کو زائل کرنا، نماز کا حق اور اس کی شرائط میں سے ایک شرط ہے، یعنی طہارت اس کی صحت کی شرائط میں سے ہے۔یہ بھی احتمال ہے کہ(ثِیَاب) سے مراد معروف لباس ہو اور آپ کو ان کپڑوں کی تمام اوقات میں تمام نجاستوں سے تطہیر کا حکم دیا گیا ہے، خاص طور پر نماز میں داخل ہوتے وقت۔
[5] جب آپ ظاہری طہارت پر مامور ہیں کیونکہ ظاہری طہارت، باطنی طہارت کی تکمیل کرتی ہے تو فرمایا:﴿وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡ﴾ ’’اور ناپاکی سے دور رہیں۔‘‘ ایک احتمال یہ ہے کہ (الرُّجْزَ) سے مراد بت اور مورتی ہوں، جن کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کی جاتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کو ترک کر دیں، ان سے براء ت کا اعلان کریں، نیز ان تمام اقوال و افعال سے بیزار ہوں جو ان کی طرف منسوب ہیں۔ایک احتمال یہ بھی ہے کہ (اَلرُّجْزَ)سے مراد تمام اعمال شر اور اقوال شر ہوں، تب آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ تمام چھوٹے اور بڑے، ظاہری اور باطنی گناہ چھوڑ دیں۔ اس حکم میں شرک اور اس سے کم تر تمام گناہ داخل ہیں۔
[6]﴿وَلَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَكۡثِرُ﴾ یعنی آپ نے لوگوں پر جو دینی اور دنیاوی احسانات کیے ہیں، انھیں جتلائیں نہیں کہ اس احسان کے بدلے زیادہ حاصل کریں اور ان احسانات کی وجہ سے اپنے آپ کو لوگوں سے افضل سمجھیں بلکہ جب بھی آپ کے لیے ممکن ہو آپ لوگوں پر احسان کریں ، پھر ان پر اپنے اس احسان کو بھول جایے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر طلب کیجیے۔ جس پر آپ نے احسان کیا ہے اسے اور دوسروں کو برابر سطح پر رکھیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کسی کو کوئی چیز اس لیے عطا نہ کریں کہ آپ کا ارادہ ہو کہ وہ آپ کو اس سے بڑھ کر بدلہ عطا کرے، تب یہ نبی ٔاکرمﷺ کے ساتھ مختص ہے۔
[7]﴿وَلِرَبِّكَ فَاصۡبِرۡ﴾ یعنی اپنے صبر پر اجر کی امید رکھیے اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ پس رسول اللہ ﷺنے اپنے رب کے حکم کی اطاعت کی اور اس کی تعمیل کے لیے آگے بڑھے۔ پس آپ نے لوگوں کو انجام بد سے ڈرایا اور آپ نے ان کے سامنے آیات بینات اور تمام مطالب الٰہیہ کو واضح کیا، اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کی اور مخلوق کو اس کی تعظیم کی طرف بلایا، آپ نے اپنے تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو ہر قسم کی برائی سے پاک کیا، آپ نے ہر اس ہستی سے براءت کا اظہار کیا جو اللہ تعالیٰ سے دور کرتی تھی اور اس کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کے ساتھ عبادت کی جاتی تھی، یعنی بتوں، بت پرستوں، شر اور شر پسندوں سے بیزاری کا اعلان کیا۔لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے احسان کے بعد آپ کا احسان ہے بغیر اس کے کہ آپ اس پر ان سے کسی جزا یا شکر گزاری کا مطالبہ کریں۔ آپ نے اپنے رب کی خاطر کامل ترین صبر کیا۔ پس آپ نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی نافرمانی سے اجتناب پر اور اس کی تکلیف دہ قضا و قدر پر صبر کیا، یہاں تک کہ آپ اولوالعزم انبیاء و مرسلین پر بھی فوقیت لے گئے۔ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ أَجْمَعِینَ ۔
74:8فَإِذَا نُقِرَ فِي ٱلنَّاقُورِ
پس جب پھونکا جائے گا صور میں(8) تو وہ اس دن، دن ہو گا سخت دشوار (9) کافروں پر، نہیں آسان (10)
[10-8] جب مردوں کو قبروں سے کھڑا کرنے اور تمام خلائق کو دوبارہ زندہ کر کے حساب و کتاب کے لیے جمع کرنے کے لیے صور پھونکا جائے گا ﴿ فَذٰلِكَ يَوۡمَىِٕذٍ يَّوۡمٌ عَسِيۡرٌ﴾ تو ہولناکیوں اور سختیوں کی کثرت کی بنا پر وہ دن بڑا ہی سخت ہو گا۔ ﴿ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ غَيۡرُ يَسِيۡرٍ﴾’’کافروں پرآسان نہ ہوگا۔‘‘ کیونکہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو چکے ہوں گے اور انھیں اپنی ہلاکت اور تباہی کا یقین ہوجائے گا۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ وہ دن اہل ایمان پر آسان ہو گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ يَقُوۡلُ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَسِرٌ﴾(القمر:54؍8) ’’کفار کہیں گے کہ یہ دن بڑا ہی سخت ہے۔ ‘‘
74:9فَذَٰلِكَ يَوۡمَئِذٖ يَوۡمٌ عَسِيرٌ
پس جب پھونکا جائے گا صور میں(8) تو وہ اس دن، دن ہو گا سخت دشوار (9) کافروں پر، نہیں آسان (10)
[10-8] جب مردوں کو قبروں سے کھڑا کرنے اور تمام خلائق کو دوبارہ زندہ کر کے حساب و کتاب کے لیے جمع کرنے کے لیے صور پھونکا جائے گا ﴿ فَذٰلِكَ يَوۡمَىِٕذٍ يَّوۡمٌ عَسِيۡرٌ﴾ تو ہولناکیوں اور سختیوں کی کثرت کی بنا پر وہ دن بڑا ہی سخت ہو گا۔ ﴿ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ غَيۡرُ يَسِيۡرٍ﴾’’کافروں پرآسان نہ ہوگا۔‘‘ کیونکہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو چکے ہوں گے اور انھیں اپنی ہلاکت اور تباہی کا یقین ہوجائے گا۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ وہ دن اہل ایمان پر آسان ہو گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ يَقُوۡلُ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَسِرٌ﴾(القمر:54؍8) ’’کفار کہیں گے کہ یہ دن بڑا ہی سخت ہے۔ ‘‘
74:10عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ غَيۡرُ يَسِيرٖ
پس جب پھونکا جائے گا صور میں(8) تو وہ اس دن، دن ہو گا سخت دشوار (9) کافروں پر، نہیں آسان (10)
[10-8] جب مردوں کو قبروں سے کھڑا کرنے اور تمام خلائق کو دوبارہ زندہ کر کے حساب و کتاب کے لیے جمع کرنے کے لیے صور پھونکا جائے گا ﴿ فَذٰلِكَ يَوۡمَىِٕذٍ يَّوۡمٌ عَسِيۡرٌ﴾ تو ہولناکیوں اور سختیوں کی کثرت کی بنا پر وہ دن بڑا ہی سخت ہو گا۔ ﴿ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ غَيۡرُ يَسِيۡرٍ﴾’’کافروں پرآسان نہ ہوگا۔‘‘ کیونکہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو چکے ہوں گے اور انھیں اپنی ہلاکت اور تباہی کا یقین ہوجائے گا۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ وہ دن اہل ایمان پر آسان ہو گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ يَقُوۡلُ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَسِرٌ﴾(القمر:54؍8) ’’کفار کہیں گے کہ یہ دن بڑا ہی سخت ہے۔ ‘‘
74:11ذَرۡنِي وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيدٗا
چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:12وَجَعَلۡتُ لَهُۥ مَالٗا مَّمۡدُودٗا
چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:13چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:14وَمَهَّدتُّ لَهُۥ تَمۡهِيدٗا
چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:15ثُمَّ يَطۡمَعُ أَنۡ أَزِيدَ
چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:16كَلَّآۖ إِنَّهُۥ كَانَ لِأٓيَٰتِنَا عَنِيدٗا
چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:17چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:18إِنَّهُۥ فَكَّرَ وَقَدَّرَ
چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:19چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:20ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ
چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:21چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:22چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:23ثُمَّ أَدۡبَرَ وَٱسۡتَكۡبَرَ
چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:24فَقَالَ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ يُؤۡثَرُ
چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:25إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا قَوۡلُ ٱلۡبَشَرِ
چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:26چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:27وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا سَقَرُ
چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:28چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:29چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:30عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ
چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:31وَمَا جَعَلۡنَآ أَصۡحَٰبَ ٱلنَّارِ إِلَّا مَلَـٰٓئِكَةٗۖ وَمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ إِلَّا فِتۡنَةٗ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ لِيَسۡتَيۡقِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَيَزۡدَادَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِيمَٰنٗا وَلَا يَرۡتَابَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَلِيَقُولَ ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ وَٱلۡكَٰفِرُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلٗاۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَمَا يَعۡلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَۚ وَمَا هِيَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡبَشَرِ
چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
74:32ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:33ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:34وَٱلصُّبۡحِ إِذَآ أَسۡفَرَ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:35إِنَّهَا لَإِحۡدَى ٱلۡكُبَرِ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:36ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:37لِمَن شَآءَ مِنكُمۡ أَن يَتَقَدَّمَ أَوۡ يَتَأَخَّرَ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:38كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡ رَهِينَةٌ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:39إِلَّآ أَصۡحَٰبَ ٱلۡيَمِينِ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:40فِي جَنَّـٰتٖ يَتَسَآءَلُونَ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:41ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:42مَا سَلَكَكُمۡ فِي سَقَرَ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:43قَالُواْ لَمۡ نَكُ مِنَ ٱلۡمُصَلِّينَ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:44وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ ٱلۡمِسۡكِينَ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:45وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ ٱلۡخَآئِضِينَ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:46وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ ٱلدِّينِ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:47حَتَّىٰٓ أَتَىٰنَا ٱلۡيَقِينُ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:48فَمَا تَنفَعُهُمۡ شَفَٰعَةُ ٱلشَّـٰفِعِينَ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:49فَمَا لَهُمۡ عَنِ ٱلتَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِينَ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:50كَأَنَّهُمۡ حُمُرٞ مُّسۡتَنفِرَةٞ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:51ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:52بَلۡ يُرِيدُ كُلُّ ٱمۡرِيٕٖ مِّنۡهُمۡ أَن يُؤۡتَىٰ صُحُفٗا مُّنَشَّرَةٗ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:53كَلَّاۖ بَل لَّا يَخَافُونَ ٱلۡأٓخِرَةَ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:54كَلَّآ إِنَّهُۥ تَذۡكِرَةٞ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:55ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔
74:56وَمَا يَذۡكُرُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ هُوَ أَهۡلُ ٱلتَّقۡوَىٰ وَأَهۡلُ ٱلۡمَغۡفِرَةِ
ہرگز نہیں! قسم ہے چاند کی (32) اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے (33) اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے (34) بلاشبہ جہنم البتہ ایک ہے بڑی (ہولناک) چیزوں میں سے (35) ڈرانے والی بشر کے لیے (36) اس کے لیے جو چاہے تم میں سے آگے بڑھنا یا پیچھے ہٹنا (37) ہر نفس، اس کے بدلے جو اس نے کمایا، گروی ہے (38)مگر دائیں ہاتھ والے(39) باغات (بہشت) میں باہم سوال کریں گے (40) مجرموں کی بابت (41) کس چیز نے داخل کیا تمھیں جہنم میں؟ (42) تو وہ کہیں گے، نہیں تھے ہم نمازیوں میں سے (43) اور نہیں تھے ہم کھانا کھلاتے مسکینوں کو (44) اور تھے ہم مشغول ہوتے(باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ (45) اور تھے ہم تکذیب کرتے روز جزا کی (46) حتٰی کہ آ گئی ہمیں موت (47) پس نہیں نفع دے گی انھیں سفارش، سفارش کرنے والوں کی (48) پس کیا ہے انھیں کہ نصیحت سے وہ منہ موڑنے والے ہیں؟(49) گویا کہ وہ گدھے ہیں بدکنے والے (50) کہ وہ بھاگے ہیں شیر سے (51)بلکہ چاہتا ہے ہر فرد ان میں سے یہ کہ دیا جائے وہ صحیفے کھلے ہوئے (52) ہرگز نہیں!بلکہ نہیں ڈرتے وہ آخرت سے (53) ہرگز نہیں! یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے (54) سو جو چاہے وہ نصیحت حاصل کرے اس سے (55) اور نہیں وہ نصیحت حاصل کر سکتے (اس سے) مگر یہ کہ چاہے اللہ، وہی لائق ہے تقویٰ کے اور لائق ہے مغفرت کے (56)
[34-32]﴿ كَلَّا﴾ یہاں بمعنی (حَقًا) یا بمعنی (ألَا) استفتاحیہ کے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاند اور رات کی قسم کھائی جس وقت وہ پیچھے ہٹے اور دن کی قسم کھائی جس وقت وہ خوب روشن ہو کیونکہ یہ مذکورہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں پر مشتمل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت و حکمت، لا محدود قوت، بے پایاں رحمت اور اس کے احاطۂ علم پر دلالت کرتی ہیں ۔
[37-35] جس پر قسم کھائی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ اِنَّهَا لَاِحۡدَى الۡكُبَرِ﴾ ’’کہ وہ (آگ ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے۔‘‘ یعنی بے شک جہنم کی آگ ایک بہت بڑی مصیبت اور غم میں مبتلا کر دینے والا معاملہ ہے، پس جب ہم نے تمھیں اس کے بارے میں خبردار کر دیا اور تم اس کے بارے میں پوری بصیرت رکھتے ہو ، تب تم میں سے جو چاہے آگے بڑھے اور ایسے عمل کرے جو اسے اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتے اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہوں یا وہ اس مقصد سے پیچھے ہٹ جائے جس کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے اور نافرمانی کے کام کرے جو جہنم کے قریب کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف:18؍29) ’’اور کہہ دیجیے کہ یہ برحق قرآن تمھارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘
[48-38]﴿ كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ یعنی افعال شر اور اعمال بد کے بدلے ﴿ رَهِيۡنَةٌ﴾’’گروی ہے۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کا گروی اور اپنی کوشش میں بندھا ہوا، اس کی گردن جکڑی ہوئی اور اس کے گلے میں طوق ڈالا ہوا ہے اور اس سبب سے اس نے عذاب کو واجب بنا لیا۔﴿ اِلَّاۤ اَصۡحٰؔبَ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’سوائے دائیں ہاتھ والوں کے‘‘ کیونکہ وہ (اپنے اعمال کے بدلے) گروی نہیں ہیں، بلکہ وہ آزاد اور فرحاں اور شاداں ہیں ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ١ۛ ؕ ۫ يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ۙ۰۰عَنِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان ہو گا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ اپنی آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں، کیا انھوں نے وہ کچھ پا لیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا؟پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا تم انھیں جھانک کر دیکھنا چاہتے؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انھیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے کہ انھیں عذاب دیا جا رہا ہو گا تو وہ ان سے کہیں گے:﴿ مَا سَلَكَـكُمۡ فِيۡ سَقَرَ﴾ یعنی کس چیز نے تمھیں جہنم میں ڈالا ہے اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو؟ ﴿ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ۰۰وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَ﴾ ’’کہیں گے: ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے۔‘‘ یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے ﴿ وَؔكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَآىِٕضِيۡنَ۠﴾ ’’اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔‘‘ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔ ﴿ وَؔكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔‘‘ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں سے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزا و سزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے۔ ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا ﴿ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الۡيَقِيۡنُ﴾ یہاں تک کہ ہمیں موت نے آ لیا۔ پس جب وہ کفر کی حالت میں مر گئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوں گئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہو گیا۔﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾ ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں۔
[53-49] جب اللہ تعالیٰ نے مخالفین کا انجام واضح کر دیا اور یہ بھی بیان کر دیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجود کفار پر عتاب اور ملامت کی طرف توجہ دی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس انھیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔‘‘ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘ اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں ﴿ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌ﴾ بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آ گئی ہے۔ ﴿فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ﴾ جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو، یا کسی شیر وغیرہ سے ڈر کر بھاگے ہیں۔ اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے، اس نفرت اور اعراض کے باوجود بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ پس ﴿ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾ ’’ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔‘‘ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انھوں نے جھوٹ بولا ہے، اس کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آ جائے، تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ ان کے پاس واضح دلائل آئے جنھوں نے حق کو بیان کر کے واضح کر دیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔اس لیے فرمایا:﴿ كَلَّا﴾ ’’ہر گز نہیں‘‘ ہم انھیں وہ چیز عطا نہیں کریں گے جس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے، اس سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ ﴿بَلۡ لَّا يَخَافُوۡنَ الۡاٰخِرَةَ﴾ ’’حقیت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔‘‘ پس اگر انھیں آخرت کا خوف ہوتا تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
[56-54]﴿ كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔‘‘ ضمیر یا تو اس سورۂ مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورۂ مبارکہ مشتمل ہے۔ ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ ذَكَرَهٗ﴾ ’’پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کو کھول کر بیان کر دیا اور اس کے سامنے دلیل واضح کر دی ﴿ وَمَا يَذۡكُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ﴾ ’’اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے، کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے۔ نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے۔ ﴿ هُوَ اَهۡلُ التَّقۡوٰى وَاَهۡلُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقویٰ اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے، وہ اس کو بخش دے۔