al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 73 · 20 verses
73:1يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡمُزَّمِّلُ
اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) قیام کیجیے رات میں مگر تھوڑا سا(2)( یعنی ) نصف (حصہ) رات کا یا کم کیجیے اس سے تھوڑا سا(3) یا زیادہ کیجیے اس پر اور پڑھیے قرآن ٹھہر ٹھہر کر(4)یقیناً عنقریب ہم ڈالیں گے آپ پر ایک بات بہت بھاری(5) بلاشبہ اٹھنا رات کا یہ زیادہ سخت ہے (نفس کے) کچلنے میں اور زیادہ درست رکھنے والا ہے بات کو(6) بلاشبہ آپ کے لیے دن میں مصروفیت ہے بہت(7) اور یاد کیجیے نام اپنے رب کا اور (سب سے کٹ کر) متوجہ ہو جایے اس کی طرف یکسو ہو کر(8)(وہ) رب ہے مشرق و مغرب کا، نہیں کوئی معبود سوائے اس کےسو بنا لیجیے اس کو (اپنا ) کار ساز(9) اورصبر کیجیے ان باتوں پر جو وہ کہتے ہیں اور چھوڑ دیجیے انھیں چھوڑ دینا اچھے طریقے سے (10) اور چھوڑ دیجیے مجھے اور تکذیب کرنے والے آسودہ حال لوگوں کو اور مہلت دیجیے انھیں تھوڑی سی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1]﴿ الۡمُزَّمِّلُ﴾ کا معنی بھی ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾ کی طرح کپڑوں میں لپٹنے والا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو اپنی رسالت کے ذریعے سے اکرام بخشا اور حضرت جبریلu کو آپ کی طرف بھیج کر وحی نازل کرنے کی ابتدا کی تو اس وقت آپ اس وصف سے موصوف تھے۔ آپ نے ایک ایسا معاملہ دیکھا کہ اس جیسا معاملہ آپ نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور اس پر رسولوں کے سوا کوئی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔آپ کے پاس جبریل آئے اور کہا ’’پڑھیے!‘‘ آپ نے فرمایا: ’’میں پڑھ نہیں سکتا‘‘ جبریل نے آپ کو خوب بھینچا جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، جبریل آپ کو بار بار پڑھنے کی مشق کرواتے رہے تو بالآخر رسول اللہ ﷺ نے پڑھا، یہ وحی و تنزیل کا پہلا موقع اور ایک نیا تجربہ تھا، اس سے آپ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی، آپ اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لائے تو آپ پر کپکپی طاری تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثبات سے بہرہ ور کیا اور آپ پر پے در پے وحی نازل ہوئی حتیٰ کہ آپ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں کوئی رسول نہیں پہنچ سکا۔ (سُبْحَانَ اللہ!) وحی کی ابتدا اور اس کی انتہا کے مابین کتنا بڑا تفاوت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وصف کے ساتھ مخاطب فرمایا جو آپ میں ابتدا کے وقت پایا گیا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں آپ کو ان عبادات کا حکم دیا جو آپ سے متعلق تھیں، پھر آپ کو اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اس کے حکم کو کھلم کھلا بیان کر دیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کا اعلان کر دیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو افضل ترین عبادت، نماز کو موکد ترین اور بہترین وقت پر ادا کرنے کا حکم دیا اور وہ ہے تہجد کی نماز۔یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو تمام رات قیام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا :﴿ قُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی رات۔‘‘پھر اس کا اندازہ مقرر کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿نِّصۡفَهٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡهُ﴾ نصف رات یا نصف میں سے ﴿قَلِيۡلًا﴾ کچھ کم کر دیجیے، ایک تہائی کے لگ بھگ ہو ﴿اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ﴾ یا نصف سے کچھ زیادہ، یعنی دو تہائی رات کے لگ بھگ ہو۔ ﴿وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا﴾ ’’اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔‘‘ کیونکہ ترتیلِ قرآن سے تدبر اور تفکر حاصل ہوتا ہے، اس سے دلوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، اس کی آیات کے ساتھ تعبُّد حاصل ہوتا ہے اور اس پر عمل کے لیے مکمل استعداد اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ فرمایا:﴿اِنَّا سَنُلۡقِيۡ عَلَيۡكَ قَوۡلًا ثَقِيۡلًا﴾ یعنی ہم آپ کی طرف یہ بھاری قرآن وحی کریں گے، یعنی وہ معانئ عظیمہ اور اوصاف جلیلہ کا حامل ہے۔ قرآن، جس کا وصف یہ ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے لیے تیاری کی جائے، اس کو ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے اور جن مضامین پر مشتمل ہے ان میں غورو فکر کیا جائے۔
[6] پھر اللہ تعالیٰ نے رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيۡلِ﴾ یعنی رات کو سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنا ﴿هِيَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّاَقۡوَمُ قِيۡلًا﴾ نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن کے مقصد کے حصول کے زیادہ قریب ہے۔ قلب و لسان اس سے مطابقت رکھتے ہیں، اس وقت مشاغل کم ہوتے ہیں اور جو کچھ وہ پڑھتا ہے اس کا فہم حاصل ہوتا ہے اور اس کا معاملہ درست ہو جاتا ہے۔
[7] یہ دن کے اوقات کے برعکس ہے کیونکہ دن کے اوقات میں یہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبۡحًا طَوِيۡلًا﴾ ’’دن کے وقت آپ کو اور بہت مشاغل ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی حوائج اور معاشی ضروریات کے لیے آپ کو بار بار آنا جانا پڑتا ہے جو قلب کے مشغول ہونے اور مکمل طور پر فارغ نہ ہونے کا موجب بنتا ہے۔
[8]﴿وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ﴾ ’’اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو۔‘‘ یہ ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے ﴿ وَتَبَتَّلۡ اِلَيۡهِ﴾ ’’اور سب سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی طرف انابت، قلب کے خلائق سے علیحدہ اور لا تعلق ہونے، اللہ تعالیٰ کی محبت اور ان اوصاف سے متصف ہونے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بناتے ہیں اور اس کی رضا کے قریب کرتے ہیں۔
[9]﴿رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ ﴾ یہ اسم جنس ہے جو تمام مشارق و مغارب کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مشارق و مغارب، ان کے اندر جو انوار اور عالم علوی اور عالم سفلی کے لیے جو مصالح ہیں، سب کا رب ،ان کا خالق اور مدبر ہے۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ اس بالا و بلند تر ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو محبت و تعظیم اور اجلال و تکریم سے مختص کیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَاتَّؔخِذۡهُ وَؔكِيۡلًا﴾ پس اسے اپنے تمام امور کی تدبیر کرنے والا اور محافظ بنا۔
[10] جب اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز اور عام طور پر ذکر الٰہی کا حکم دیا ...جس سے بندۂ مومن میں بھاری بوجھ اٹھانے اور پر مشقت اعمال بجا لانے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان باتوں پر صبر کرنے کا حکم دیا جو آپ کے معاندین آپ کو کہتے ہیں اور آپ کو اور جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں اس پر سب و شتم کرتے ہیں، نیز یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چلتے رہیں کوئی روکنے والا آپ کی راہ کھوٹی کر سکے نہ کوئی آپ کو واپس لوٹا سکے اور یہ کہ آپ بھلے طریقے سے ان سے کنارہ کش ہو جائیں اور یہ کنارہ کشی وہاں ہے جہاں مصلحت کنارہ کشی کا تقاضا کرتی ہے جس میں کوئی اذیت نہ ہو بلکہ ان کی تکلیف دہ باتوں سے اعراض کرتے ہوئے، ان سے کنارہ کشی کا معاملہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے اس طریقے سے بحث کریں جو احسن ہو۔
[11] فرمایا: ﴿وَذَرۡنِيۡ وَالۡمُكَذِّبِيۡنَ۠﴾ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجیے، میں ان سے انتقام لوں گا، میں نے اگرچہ ان کو مہلت دی ہے مگر میں ان کو مہمل نہیں چھوڑوں گا ﴿ اُولِي النَّعۡمَةِ﴾یعنی نعمتوں سے بہرہ مند اور دولت مند لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رزق سے فراخی عطا کی اور اپنے فضل سے ان کو نوازا تو انھوں نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَيَطۡغٰۤىۙ۰۰ اَنۡ رَّاٰهُ اسۡتَغۡنٰى﴾(العلق96؍6-7) ’’ہرگز نہیں، انسان جب اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے تو سرکش ہو جاتا ہے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سنائی جو اس کے پاس ہے ، چنانچہ فرمایا:
73:2قُمِ ٱلَّيۡلَ إِلَّا قَلِيلٗا
اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) قیام کیجیے رات میں مگر تھوڑا سا(2)( یعنی ) نصف (حصہ) رات کا یا کم کیجیے اس سے تھوڑا سا(3) یا زیادہ کیجیے اس پر اور پڑھیے قرآن ٹھہر ٹھہر کر(4)یقیناً عنقریب ہم ڈالیں گے آپ پر ایک بات بہت بھاری(5) بلاشبہ اٹھنا رات کا یہ زیادہ سخت ہے (نفس کے) کچلنے میں اور زیادہ درست رکھنے والا ہے بات کو(6) بلاشبہ آپ کے لیے دن میں مصروفیت ہے بہت(7) اور یاد کیجیے نام اپنے رب کا اور (سب سے کٹ کر) متوجہ ہو جایے اس کی طرف یکسو ہو کر(8)(وہ) رب ہے مشرق و مغرب کا، نہیں کوئی معبود سوائے اس کےسو بنا لیجیے اس کو (اپنا ) کار ساز(9) اورصبر کیجیے ان باتوں پر جو وہ کہتے ہیں اور چھوڑ دیجیے انھیں چھوڑ دینا اچھے طریقے سے (10) اور چھوڑ دیجیے مجھے اور تکذیب کرنے والے آسودہ حال لوگوں کو اور مہلت دیجیے انھیں تھوڑی سی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1]﴿ الۡمُزَّمِّلُ﴾ کا معنی بھی ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾ کی طرح کپڑوں میں لپٹنے والا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو اپنی رسالت کے ذریعے سے اکرام بخشا اور حضرت جبریلu کو آپ کی طرف بھیج کر وحی نازل کرنے کی ابتدا کی تو اس وقت آپ اس وصف سے موصوف تھے۔ آپ نے ایک ایسا معاملہ دیکھا کہ اس جیسا معاملہ آپ نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور اس پر رسولوں کے سوا کوئی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔آپ کے پاس جبریل آئے اور کہا ’’پڑھیے!‘‘ آپ نے فرمایا: ’’میں پڑھ نہیں سکتا‘‘ جبریل نے آپ کو خوب بھینچا جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، جبریل آپ کو بار بار پڑھنے کی مشق کرواتے رہے تو بالآخر رسول اللہ ﷺ نے پڑھا، یہ وحی و تنزیل کا پہلا موقع اور ایک نیا تجربہ تھا، اس سے آپ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی، آپ اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لائے تو آپ پر کپکپی طاری تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثبات سے بہرہ ور کیا اور آپ پر پے در پے وحی نازل ہوئی حتیٰ کہ آپ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں کوئی رسول نہیں پہنچ سکا۔ (سُبْحَانَ اللہ!) وحی کی ابتدا اور اس کی انتہا کے مابین کتنا بڑا تفاوت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وصف کے ساتھ مخاطب فرمایا جو آپ میں ابتدا کے وقت پایا گیا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں آپ کو ان عبادات کا حکم دیا جو آپ سے متعلق تھیں، پھر آپ کو اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اس کے حکم کو کھلم کھلا بیان کر دیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کا اعلان کر دیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو افضل ترین عبادت، نماز کو موکد ترین اور بہترین وقت پر ادا کرنے کا حکم دیا اور وہ ہے تہجد کی نماز۔یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو تمام رات قیام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا :﴿ قُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی رات۔‘‘پھر اس کا اندازہ مقرر کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿نِّصۡفَهٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡهُ﴾ نصف رات یا نصف میں سے ﴿قَلِيۡلًا﴾ کچھ کم کر دیجیے، ایک تہائی کے لگ بھگ ہو ﴿اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ﴾ یا نصف سے کچھ زیادہ، یعنی دو تہائی رات کے لگ بھگ ہو۔ ﴿وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا﴾ ’’اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔‘‘ کیونکہ ترتیلِ قرآن سے تدبر اور تفکر حاصل ہوتا ہے، اس سے دلوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، اس کی آیات کے ساتھ تعبُّد حاصل ہوتا ہے اور اس پر عمل کے لیے مکمل استعداد اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ فرمایا:﴿اِنَّا سَنُلۡقِيۡ عَلَيۡكَ قَوۡلًا ثَقِيۡلًا﴾ یعنی ہم آپ کی طرف یہ بھاری قرآن وحی کریں گے، یعنی وہ معانئ عظیمہ اور اوصاف جلیلہ کا حامل ہے۔ قرآن، جس کا وصف یہ ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے لیے تیاری کی جائے، اس کو ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے اور جن مضامین پر مشتمل ہے ان میں غورو فکر کیا جائے۔
[6] پھر اللہ تعالیٰ نے رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيۡلِ﴾ یعنی رات کو سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنا ﴿هِيَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّاَقۡوَمُ قِيۡلًا﴾ نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن کے مقصد کے حصول کے زیادہ قریب ہے۔ قلب و لسان اس سے مطابقت رکھتے ہیں، اس وقت مشاغل کم ہوتے ہیں اور جو کچھ وہ پڑھتا ہے اس کا فہم حاصل ہوتا ہے اور اس کا معاملہ درست ہو جاتا ہے۔
[7] یہ دن کے اوقات کے برعکس ہے کیونکہ دن کے اوقات میں یہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبۡحًا طَوِيۡلًا﴾ ’’دن کے وقت آپ کو اور بہت مشاغل ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی حوائج اور معاشی ضروریات کے لیے آپ کو بار بار آنا جانا پڑتا ہے جو قلب کے مشغول ہونے اور مکمل طور پر فارغ نہ ہونے کا موجب بنتا ہے۔
[8]﴿وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ﴾ ’’اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو۔‘‘ یہ ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے ﴿ وَتَبَتَّلۡ اِلَيۡهِ﴾ ’’اور سب سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی طرف انابت، قلب کے خلائق سے علیحدہ اور لا تعلق ہونے، اللہ تعالیٰ کی محبت اور ان اوصاف سے متصف ہونے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بناتے ہیں اور اس کی رضا کے قریب کرتے ہیں۔
[9]﴿رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ ﴾ یہ اسم جنس ہے جو تمام مشارق و مغارب کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مشارق و مغارب، ان کے اندر جو انوار اور عالم علوی اور عالم سفلی کے لیے جو مصالح ہیں، سب کا رب ،ان کا خالق اور مدبر ہے۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ اس بالا و بلند تر ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو محبت و تعظیم اور اجلال و تکریم سے مختص کیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَاتَّؔخِذۡهُ وَؔكِيۡلًا﴾ پس اسے اپنے تمام امور کی تدبیر کرنے والا اور محافظ بنا۔
[10] جب اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز اور عام طور پر ذکر الٰہی کا حکم دیا ...جس سے بندۂ مومن میں بھاری بوجھ اٹھانے اور پر مشقت اعمال بجا لانے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان باتوں پر صبر کرنے کا حکم دیا جو آپ کے معاندین آپ کو کہتے ہیں اور آپ کو اور جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں اس پر سب و شتم کرتے ہیں، نیز یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چلتے رہیں کوئی روکنے والا آپ کی راہ کھوٹی کر سکے نہ کوئی آپ کو واپس لوٹا سکے اور یہ کہ آپ بھلے طریقے سے ان سے کنارہ کش ہو جائیں اور یہ کنارہ کشی وہاں ہے جہاں مصلحت کنارہ کشی کا تقاضا کرتی ہے جس میں کوئی اذیت نہ ہو بلکہ ان کی تکلیف دہ باتوں سے اعراض کرتے ہوئے، ان سے کنارہ کشی کا معاملہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے اس طریقے سے بحث کریں جو احسن ہو۔
[11] فرمایا: ﴿وَذَرۡنِيۡ وَالۡمُكَذِّبِيۡنَ۠﴾ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجیے، میں ان سے انتقام لوں گا، میں نے اگرچہ ان کو مہلت دی ہے مگر میں ان کو مہمل نہیں چھوڑوں گا ﴿ اُولِي النَّعۡمَةِ﴾یعنی نعمتوں سے بہرہ مند اور دولت مند لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رزق سے فراخی عطا کی اور اپنے فضل سے ان کو نوازا تو انھوں نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَيَطۡغٰۤىۙ۰۰ اَنۡ رَّاٰهُ اسۡتَغۡنٰى﴾(العلق96؍6-7) ’’ہرگز نہیں، انسان جب اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے تو سرکش ہو جاتا ہے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سنائی جو اس کے پاس ہے ، چنانچہ فرمایا:
73:3نِّصۡفَهُۥٓ أَوِ ٱنقُصۡ مِنۡهُ قَلِيلًا
اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) قیام کیجیے رات میں مگر تھوڑا سا(2)( یعنی ) نصف (حصہ) رات کا یا کم کیجیے اس سے تھوڑا سا(3) یا زیادہ کیجیے اس پر اور پڑھیے قرآن ٹھہر ٹھہر کر(4)یقیناً عنقریب ہم ڈالیں گے آپ پر ایک بات بہت بھاری(5) بلاشبہ اٹھنا رات کا یہ زیادہ سخت ہے (نفس کے) کچلنے میں اور زیادہ درست رکھنے والا ہے بات کو(6) بلاشبہ آپ کے لیے دن میں مصروفیت ہے بہت(7) اور یاد کیجیے نام اپنے رب کا اور (سب سے کٹ کر) متوجہ ہو جایے اس کی طرف یکسو ہو کر(8)(وہ) رب ہے مشرق و مغرب کا، نہیں کوئی معبود سوائے اس کےسو بنا لیجیے اس کو (اپنا ) کار ساز(9) اورصبر کیجیے ان باتوں پر جو وہ کہتے ہیں اور چھوڑ دیجیے انھیں چھوڑ دینا اچھے طریقے سے (10) اور چھوڑ دیجیے مجھے اور تکذیب کرنے والے آسودہ حال لوگوں کو اور مہلت دیجیے انھیں تھوڑی سی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1]﴿ الۡمُزَّمِّلُ﴾ کا معنی بھی ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾ کی طرح کپڑوں میں لپٹنے والا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو اپنی رسالت کے ذریعے سے اکرام بخشا اور حضرت جبریلu کو آپ کی طرف بھیج کر وحی نازل کرنے کی ابتدا کی تو اس وقت آپ اس وصف سے موصوف تھے۔ آپ نے ایک ایسا معاملہ دیکھا کہ اس جیسا معاملہ آپ نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور اس پر رسولوں کے سوا کوئی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔آپ کے پاس جبریل آئے اور کہا ’’پڑھیے!‘‘ آپ نے فرمایا: ’’میں پڑھ نہیں سکتا‘‘ جبریل نے آپ کو خوب بھینچا جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، جبریل آپ کو بار بار پڑھنے کی مشق کرواتے رہے تو بالآخر رسول اللہ ﷺ نے پڑھا، یہ وحی و تنزیل کا پہلا موقع اور ایک نیا تجربہ تھا، اس سے آپ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی، آپ اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لائے تو آپ پر کپکپی طاری تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثبات سے بہرہ ور کیا اور آپ پر پے در پے وحی نازل ہوئی حتیٰ کہ آپ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں کوئی رسول نہیں پہنچ سکا۔ (سُبْحَانَ اللہ!) وحی کی ابتدا اور اس کی انتہا کے مابین کتنا بڑا تفاوت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وصف کے ساتھ مخاطب فرمایا جو آپ میں ابتدا کے وقت پایا گیا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں آپ کو ان عبادات کا حکم دیا جو آپ سے متعلق تھیں، پھر آپ کو اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اس کے حکم کو کھلم کھلا بیان کر دیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کا اعلان کر دیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو افضل ترین عبادت، نماز کو موکد ترین اور بہترین وقت پر ادا کرنے کا حکم دیا اور وہ ہے تہجد کی نماز۔یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو تمام رات قیام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا :﴿ قُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی رات۔‘‘پھر اس کا اندازہ مقرر کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿نِّصۡفَهٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡهُ﴾ نصف رات یا نصف میں سے ﴿قَلِيۡلًا﴾ کچھ کم کر دیجیے، ایک تہائی کے لگ بھگ ہو ﴿اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ﴾ یا نصف سے کچھ زیادہ، یعنی دو تہائی رات کے لگ بھگ ہو۔ ﴿وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا﴾ ’’اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔‘‘ کیونکہ ترتیلِ قرآن سے تدبر اور تفکر حاصل ہوتا ہے، اس سے دلوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، اس کی آیات کے ساتھ تعبُّد حاصل ہوتا ہے اور اس پر عمل کے لیے مکمل استعداد اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ فرمایا:﴿اِنَّا سَنُلۡقِيۡ عَلَيۡكَ قَوۡلًا ثَقِيۡلًا﴾ یعنی ہم آپ کی طرف یہ بھاری قرآن وحی کریں گے، یعنی وہ معانئ عظیمہ اور اوصاف جلیلہ کا حامل ہے۔ قرآن، جس کا وصف یہ ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے لیے تیاری کی جائے، اس کو ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے اور جن مضامین پر مشتمل ہے ان میں غورو فکر کیا جائے۔
[6] پھر اللہ تعالیٰ نے رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيۡلِ﴾ یعنی رات کو سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنا ﴿هِيَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّاَقۡوَمُ قِيۡلًا﴾ نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن کے مقصد کے حصول کے زیادہ قریب ہے۔ قلب و لسان اس سے مطابقت رکھتے ہیں، اس وقت مشاغل کم ہوتے ہیں اور جو کچھ وہ پڑھتا ہے اس کا فہم حاصل ہوتا ہے اور اس کا معاملہ درست ہو جاتا ہے۔
[7] یہ دن کے اوقات کے برعکس ہے کیونکہ دن کے اوقات میں یہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبۡحًا طَوِيۡلًا﴾ ’’دن کے وقت آپ کو اور بہت مشاغل ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی حوائج اور معاشی ضروریات کے لیے آپ کو بار بار آنا جانا پڑتا ہے جو قلب کے مشغول ہونے اور مکمل طور پر فارغ نہ ہونے کا موجب بنتا ہے۔
[8]﴿وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ﴾ ’’اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو۔‘‘ یہ ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے ﴿ وَتَبَتَّلۡ اِلَيۡهِ﴾ ’’اور سب سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی طرف انابت، قلب کے خلائق سے علیحدہ اور لا تعلق ہونے، اللہ تعالیٰ کی محبت اور ان اوصاف سے متصف ہونے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بناتے ہیں اور اس کی رضا کے قریب کرتے ہیں۔
[9]﴿رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ ﴾ یہ اسم جنس ہے جو تمام مشارق و مغارب کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مشارق و مغارب، ان کے اندر جو انوار اور عالم علوی اور عالم سفلی کے لیے جو مصالح ہیں، سب کا رب ،ان کا خالق اور مدبر ہے۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ اس بالا و بلند تر ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو محبت و تعظیم اور اجلال و تکریم سے مختص کیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَاتَّؔخِذۡهُ وَؔكِيۡلًا﴾ پس اسے اپنے تمام امور کی تدبیر کرنے والا اور محافظ بنا۔
[10] جب اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز اور عام طور پر ذکر الٰہی کا حکم دیا ...جس سے بندۂ مومن میں بھاری بوجھ اٹھانے اور پر مشقت اعمال بجا لانے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان باتوں پر صبر کرنے کا حکم دیا جو آپ کے معاندین آپ کو کہتے ہیں اور آپ کو اور جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں اس پر سب و شتم کرتے ہیں، نیز یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چلتے رہیں کوئی روکنے والا آپ کی راہ کھوٹی کر سکے نہ کوئی آپ کو واپس لوٹا سکے اور یہ کہ آپ بھلے طریقے سے ان سے کنارہ کش ہو جائیں اور یہ کنارہ کشی وہاں ہے جہاں مصلحت کنارہ کشی کا تقاضا کرتی ہے جس میں کوئی اذیت نہ ہو بلکہ ان کی تکلیف دہ باتوں سے اعراض کرتے ہوئے، ان سے کنارہ کشی کا معاملہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے اس طریقے سے بحث کریں جو احسن ہو۔
[11] فرمایا: ﴿وَذَرۡنِيۡ وَالۡمُكَذِّبِيۡنَ۠﴾ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجیے، میں ان سے انتقام لوں گا، میں نے اگرچہ ان کو مہلت دی ہے مگر میں ان کو مہمل نہیں چھوڑوں گا ﴿ اُولِي النَّعۡمَةِ﴾یعنی نعمتوں سے بہرہ مند اور دولت مند لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رزق سے فراخی عطا کی اور اپنے فضل سے ان کو نوازا تو انھوں نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَيَطۡغٰۤىۙ۰۰ اَنۡ رَّاٰهُ اسۡتَغۡنٰى﴾(العلق96؍6-7) ’’ہرگز نہیں، انسان جب اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے تو سرکش ہو جاتا ہے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سنائی جو اس کے پاس ہے ، چنانچہ فرمایا:
73:4أَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ وَرَتِّلِ ٱلۡقُرۡءَانَ تَرۡتِيلًا
اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) قیام کیجیے رات میں مگر تھوڑا سا(2)( یعنی ) نصف (حصہ) رات کا یا کم کیجیے اس سے تھوڑا سا(3) یا زیادہ کیجیے اس پر اور پڑھیے قرآن ٹھہر ٹھہر کر(4)یقیناً عنقریب ہم ڈالیں گے آپ پر ایک بات بہت بھاری(5) بلاشبہ اٹھنا رات کا یہ زیادہ سخت ہے (نفس کے) کچلنے میں اور زیادہ درست رکھنے والا ہے بات کو(6) بلاشبہ آپ کے لیے دن میں مصروفیت ہے بہت(7) اور یاد کیجیے نام اپنے رب کا اور (سب سے کٹ کر) متوجہ ہو جایے اس کی طرف یکسو ہو کر(8)(وہ) رب ہے مشرق و مغرب کا، نہیں کوئی معبود سوائے اس کےسو بنا لیجیے اس کو (اپنا ) کار ساز(9) اورصبر کیجیے ان باتوں پر جو وہ کہتے ہیں اور چھوڑ دیجیے انھیں چھوڑ دینا اچھے طریقے سے (10) اور چھوڑ دیجیے مجھے اور تکذیب کرنے والے آسودہ حال لوگوں کو اور مہلت دیجیے انھیں تھوڑی سی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1]﴿ الۡمُزَّمِّلُ﴾ کا معنی بھی ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾ کی طرح کپڑوں میں لپٹنے والا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو اپنی رسالت کے ذریعے سے اکرام بخشا اور حضرت جبریلu کو آپ کی طرف بھیج کر وحی نازل کرنے کی ابتدا کی تو اس وقت آپ اس وصف سے موصوف تھے۔ آپ نے ایک ایسا معاملہ دیکھا کہ اس جیسا معاملہ آپ نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور اس پر رسولوں کے سوا کوئی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔آپ کے پاس جبریل آئے اور کہا ’’پڑھیے!‘‘ آپ نے فرمایا: ’’میں پڑھ نہیں سکتا‘‘ جبریل نے آپ کو خوب بھینچا جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، جبریل آپ کو بار بار پڑھنے کی مشق کرواتے رہے تو بالآخر رسول اللہ ﷺ نے پڑھا، یہ وحی و تنزیل کا پہلا موقع اور ایک نیا تجربہ تھا، اس سے آپ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی، آپ اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لائے تو آپ پر کپکپی طاری تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثبات سے بہرہ ور کیا اور آپ پر پے در پے وحی نازل ہوئی حتیٰ کہ آپ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں کوئی رسول نہیں پہنچ سکا۔ (سُبْحَانَ اللہ!) وحی کی ابتدا اور اس کی انتہا کے مابین کتنا بڑا تفاوت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وصف کے ساتھ مخاطب فرمایا جو آپ میں ابتدا کے وقت پایا گیا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں آپ کو ان عبادات کا حکم دیا جو آپ سے متعلق تھیں، پھر آپ کو اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اس کے حکم کو کھلم کھلا بیان کر دیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کا اعلان کر دیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو افضل ترین عبادت، نماز کو موکد ترین اور بہترین وقت پر ادا کرنے کا حکم دیا اور وہ ہے تہجد کی نماز۔یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو تمام رات قیام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا :﴿ قُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی رات۔‘‘پھر اس کا اندازہ مقرر کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿نِّصۡفَهٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡهُ﴾ نصف رات یا نصف میں سے ﴿قَلِيۡلًا﴾ کچھ کم کر دیجیے، ایک تہائی کے لگ بھگ ہو ﴿اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ﴾ یا نصف سے کچھ زیادہ، یعنی دو تہائی رات کے لگ بھگ ہو۔ ﴿وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا﴾ ’’اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔‘‘ کیونکہ ترتیلِ قرآن سے تدبر اور تفکر حاصل ہوتا ہے، اس سے دلوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، اس کی آیات کے ساتھ تعبُّد حاصل ہوتا ہے اور اس پر عمل کے لیے مکمل استعداد اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ فرمایا:﴿اِنَّا سَنُلۡقِيۡ عَلَيۡكَ قَوۡلًا ثَقِيۡلًا﴾ یعنی ہم آپ کی طرف یہ بھاری قرآن وحی کریں گے، یعنی وہ معانئ عظیمہ اور اوصاف جلیلہ کا حامل ہے۔ قرآن، جس کا وصف یہ ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے لیے تیاری کی جائے، اس کو ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے اور جن مضامین پر مشتمل ہے ان میں غورو فکر کیا جائے۔
[6] پھر اللہ تعالیٰ نے رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيۡلِ﴾ یعنی رات کو سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنا ﴿هِيَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّاَقۡوَمُ قِيۡلًا﴾ نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن کے مقصد کے حصول کے زیادہ قریب ہے۔ قلب و لسان اس سے مطابقت رکھتے ہیں، اس وقت مشاغل کم ہوتے ہیں اور جو کچھ وہ پڑھتا ہے اس کا فہم حاصل ہوتا ہے اور اس کا معاملہ درست ہو جاتا ہے۔
[7] یہ دن کے اوقات کے برعکس ہے کیونکہ دن کے اوقات میں یہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبۡحًا طَوِيۡلًا﴾ ’’دن کے وقت آپ کو اور بہت مشاغل ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی حوائج اور معاشی ضروریات کے لیے آپ کو بار بار آنا جانا پڑتا ہے جو قلب کے مشغول ہونے اور مکمل طور پر فارغ نہ ہونے کا موجب بنتا ہے۔
[8]﴿وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ﴾ ’’اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو۔‘‘ یہ ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے ﴿ وَتَبَتَّلۡ اِلَيۡهِ﴾ ’’اور سب سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی طرف انابت، قلب کے خلائق سے علیحدہ اور لا تعلق ہونے، اللہ تعالیٰ کی محبت اور ان اوصاف سے متصف ہونے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بناتے ہیں اور اس کی رضا کے قریب کرتے ہیں۔
[9]﴿رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ ﴾ یہ اسم جنس ہے جو تمام مشارق و مغارب کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مشارق و مغارب، ان کے اندر جو انوار اور عالم علوی اور عالم سفلی کے لیے جو مصالح ہیں، سب کا رب ،ان کا خالق اور مدبر ہے۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ اس بالا و بلند تر ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو محبت و تعظیم اور اجلال و تکریم سے مختص کیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَاتَّؔخِذۡهُ وَؔكِيۡلًا﴾ پس اسے اپنے تمام امور کی تدبیر کرنے والا اور محافظ بنا۔
[10] جب اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز اور عام طور پر ذکر الٰہی کا حکم دیا ...جس سے بندۂ مومن میں بھاری بوجھ اٹھانے اور پر مشقت اعمال بجا لانے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان باتوں پر صبر کرنے کا حکم دیا جو آپ کے معاندین آپ کو کہتے ہیں اور آپ کو اور جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں اس پر سب و شتم کرتے ہیں، نیز یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چلتے رہیں کوئی روکنے والا آپ کی راہ کھوٹی کر سکے نہ کوئی آپ کو واپس لوٹا سکے اور یہ کہ آپ بھلے طریقے سے ان سے کنارہ کش ہو جائیں اور یہ کنارہ کشی وہاں ہے جہاں مصلحت کنارہ کشی کا تقاضا کرتی ہے جس میں کوئی اذیت نہ ہو بلکہ ان کی تکلیف دہ باتوں سے اعراض کرتے ہوئے، ان سے کنارہ کشی کا معاملہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے اس طریقے سے بحث کریں جو احسن ہو۔
[11] فرمایا: ﴿وَذَرۡنِيۡ وَالۡمُكَذِّبِيۡنَ۠﴾ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجیے، میں ان سے انتقام لوں گا، میں نے اگرچہ ان کو مہلت دی ہے مگر میں ان کو مہمل نہیں چھوڑوں گا ﴿ اُولِي النَّعۡمَةِ﴾یعنی نعمتوں سے بہرہ مند اور دولت مند لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رزق سے فراخی عطا کی اور اپنے فضل سے ان کو نوازا تو انھوں نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَيَطۡغٰۤىۙ۰۰ اَنۡ رَّاٰهُ اسۡتَغۡنٰى﴾(العلق96؍6-7) ’’ہرگز نہیں، انسان جب اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے تو سرکش ہو جاتا ہے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سنائی جو اس کے پاس ہے ، چنانچہ فرمایا:
73:5إِنَّا سَنُلۡقِي عَلَيۡكَ قَوۡلٗا ثَقِيلًا
اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) قیام کیجیے رات میں مگر تھوڑا سا(2)( یعنی ) نصف (حصہ) رات کا یا کم کیجیے اس سے تھوڑا سا(3) یا زیادہ کیجیے اس پر اور پڑھیے قرآن ٹھہر ٹھہر کر(4)یقیناً عنقریب ہم ڈالیں گے آپ پر ایک بات بہت بھاری(5) بلاشبہ اٹھنا رات کا یہ زیادہ سخت ہے (نفس کے) کچلنے میں اور زیادہ درست رکھنے والا ہے بات کو(6) بلاشبہ آپ کے لیے دن میں مصروفیت ہے بہت(7) اور یاد کیجیے نام اپنے رب کا اور (سب سے کٹ کر) متوجہ ہو جایے اس کی طرف یکسو ہو کر(8)(وہ) رب ہے مشرق و مغرب کا، نہیں کوئی معبود سوائے اس کےسو بنا لیجیے اس کو (اپنا ) کار ساز(9) اورصبر کیجیے ان باتوں پر جو وہ کہتے ہیں اور چھوڑ دیجیے انھیں چھوڑ دینا اچھے طریقے سے (10) اور چھوڑ دیجیے مجھے اور تکذیب کرنے والے آسودہ حال لوگوں کو اور مہلت دیجیے انھیں تھوڑی سی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1]﴿ الۡمُزَّمِّلُ﴾ کا معنی بھی ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾ کی طرح کپڑوں میں لپٹنے والا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو اپنی رسالت کے ذریعے سے اکرام بخشا اور حضرت جبریلu کو آپ کی طرف بھیج کر وحی نازل کرنے کی ابتدا کی تو اس وقت آپ اس وصف سے موصوف تھے۔ آپ نے ایک ایسا معاملہ دیکھا کہ اس جیسا معاملہ آپ نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور اس پر رسولوں کے سوا کوئی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔آپ کے پاس جبریل آئے اور کہا ’’پڑھیے!‘‘ آپ نے فرمایا: ’’میں پڑھ نہیں سکتا‘‘ جبریل نے آپ کو خوب بھینچا جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، جبریل آپ کو بار بار پڑھنے کی مشق کرواتے رہے تو بالآخر رسول اللہ ﷺ نے پڑھا، یہ وحی و تنزیل کا پہلا موقع اور ایک نیا تجربہ تھا، اس سے آپ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی، آپ اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لائے تو آپ پر کپکپی طاری تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثبات سے بہرہ ور کیا اور آپ پر پے در پے وحی نازل ہوئی حتیٰ کہ آپ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں کوئی رسول نہیں پہنچ سکا۔ (سُبْحَانَ اللہ!) وحی کی ابتدا اور اس کی انتہا کے مابین کتنا بڑا تفاوت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وصف کے ساتھ مخاطب فرمایا جو آپ میں ابتدا کے وقت پایا گیا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں آپ کو ان عبادات کا حکم دیا جو آپ سے متعلق تھیں، پھر آپ کو اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اس کے حکم کو کھلم کھلا بیان کر دیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کا اعلان کر دیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو افضل ترین عبادت، نماز کو موکد ترین اور بہترین وقت پر ادا کرنے کا حکم دیا اور وہ ہے تہجد کی نماز۔یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو تمام رات قیام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا :﴿ قُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی رات۔‘‘پھر اس کا اندازہ مقرر کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿نِّصۡفَهٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡهُ﴾ نصف رات یا نصف میں سے ﴿قَلِيۡلًا﴾ کچھ کم کر دیجیے، ایک تہائی کے لگ بھگ ہو ﴿اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ﴾ یا نصف سے کچھ زیادہ، یعنی دو تہائی رات کے لگ بھگ ہو۔ ﴿وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا﴾ ’’اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔‘‘ کیونکہ ترتیلِ قرآن سے تدبر اور تفکر حاصل ہوتا ہے، اس سے دلوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، اس کی آیات کے ساتھ تعبُّد حاصل ہوتا ہے اور اس پر عمل کے لیے مکمل استعداد اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ فرمایا:﴿اِنَّا سَنُلۡقِيۡ عَلَيۡكَ قَوۡلًا ثَقِيۡلًا﴾ یعنی ہم آپ کی طرف یہ بھاری قرآن وحی کریں گے، یعنی وہ معانئ عظیمہ اور اوصاف جلیلہ کا حامل ہے۔ قرآن، جس کا وصف یہ ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے لیے تیاری کی جائے، اس کو ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے اور جن مضامین پر مشتمل ہے ان میں غورو فکر کیا جائے۔
[6] پھر اللہ تعالیٰ نے رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيۡلِ﴾ یعنی رات کو سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنا ﴿هِيَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّاَقۡوَمُ قِيۡلًا﴾ نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن کے مقصد کے حصول کے زیادہ قریب ہے۔ قلب و لسان اس سے مطابقت رکھتے ہیں، اس وقت مشاغل کم ہوتے ہیں اور جو کچھ وہ پڑھتا ہے اس کا فہم حاصل ہوتا ہے اور اس کا معاملہ درست ہو جاتا ہے۔
[7] یہ دن کے اوقات کے برعکس ہے کیونکہ دن کے اوقات میں یہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبۡحًا طَوِيۡلًا﴾ ’’دن کے وقت آپ کو اور بہت مشاغل ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی حوائج اور معاشی ضروریات کے لیے آپ کو بار بار آنا جانا پڑتا ہے جو قلب کے مشغول ہونے اور مکمل طور پر فارغ نہ ہونے کا موجب بنتا ہے۔
[8]﴿وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ﴾ ’’اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو۔‘‘ یہ ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے ﴿ وَتَبَتَّلۡ اِلَيۡهِ﴾ ’’اور سب سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی طرف انابت، قلب کے خلائق سے علیحدہ اور لا تعلق ہونے، اللہ تعالیٰ کی محبت اور ان اوصاف سے متصف ہونے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بناتے ہیں اور اس کی رضا کے قریب کرتے ہیں۔
[9]﴿رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ ﴾ یہ اسم جنس ہے جو تمام مشارق و مغارب کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مشارق و مغارب، ان کے اندر جو انوار اور عالم علوی اور عالم سفلی کے لیے جو مصالح ہیں، سب کا رب ،ان کا خالق اور مدبر ہے۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ اس بالا و بلند تر ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو محبت و تعظیم اور اجلال و تکریم سے مختص کیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَاتَّؔخِذۡهُ وَؔكِيۡلًا﴾ پس اسے اپنے تمام امور کی تدبیر کرنے والا اور محافظ بنا۔
[10] جب اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز اور عام طور پر ذکر الٰہی کا حکم دیا ...جس سے بندۂ مومن میں بھاری بوجھ اٹھانے اور پر مشقت اعمال بجا لانے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان باتوں پر صبر کرنے کا حکم دیا جو آپ کے معاندین آپ کو کہتے ہیں اور آپ کو اور جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں اس پر سب و شتم کرتے ہیں، نیز یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چلتے رہیں کوئی روکنے والا آپ کی راہ کھوٹی کر سکے نہ کوئی آپ کو واپس لوٹا سکے اور یہ کہ آپ بھلے طریقے سے ان سے کنارہ کش ہو جائیں اور یہ کنارہ کشی وہاں ہے جہاں مصلحت کنارہ کشی کا تقاضا کرتی ہے جس میں کوئی اذیت نہ ہو بلکہ ان کی تکلیف دہ باتوں سے اعراض کرتے ہوئے، ان سے کنارہ کشی کا معاملہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے اس طریقے سے بحث کریں جو احسن ہو۔
[11] فرمایا: ﴿وَذَرۡنِيۡ وَالۡمُكَذِّبِيۡنَ۠﴾ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجیے، میں ان سے انتقام لوں گا، میں نے اگرچہ ان کو مہلت دی ہے مگر میں ان کو مہمل نہیں چھوڑوں گا ﴿ اُولِي النَّعۡمَةِ﴾یعنی نعمتوں سے بہرہ مند اور دولت مند لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رزق سے فراخی عطا کی اور اپنے فضل سے ان کو نوازا تو انھوں نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَيَطۡغٰۤىۙ۰۰ اَنۡ رَّاٰهُ اسۡتَغۡنٰى﴾(العلق96؍6-7) ’’ہرگز نہیں، انسان جب اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے تو سرکش ہو جاتا ہے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سنائی جو اس کے پاس ہے ، چنانچہ فرمایا:
73:6إِنَّ نَاشِئَةَ ٱلَّيۡلِ هِيَ أَشَدُّ وَطۡـٔٗا وَأَقۡوَمُ قِيلًا
اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) قیام کیجیے رات میں مگر تھوڑا سا(2)( یعنی ) نصف (حصہ) رات کا یا کم کیجیے اس سے تھوڑا سا(3) یا زیادہ کیجیے اس پر اور پڑھیے قرآن ٹھہر ٹھہر کر(4)یقیناً عنقریب ہم ڈالیں گے آپ پر ایک بات بہت بھاری(5) بلاشبہ اٹھنا رات کا یہ زیادہ سخت ہے (نفس کے) کچلنے میں اور زیادہ درست رکھنے والا ہے بات کو(6) بلاشبہ آپ کے لیے دن میں مصروفیت ہے بہت(7) اور یاد کیجیے نام اپنے رب کا اور (سب سے کٹ کر) متوجہ ہو جایے اس کی طرف یکسو ہو کر(8)(وہ) رب ہے مشرق و مغرب کا، نہیں کوئی معبود سوائے اس کےسو بنا لیجیے اس کو (اپنا ) کار ساز(9) اورصبر کیجیے ان باتوں پر جو وہ کہتے ہیں اور چھوڑ دیجیے انھیں چھوڑ دینا اچھے طریقے سے (10) اور چھوڑ دیجیے مجھے اور تکذیب کرنے والے آسودہ حال لوگوں کو اور مہلت دیجیے انھیں تھوڑی سی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1]﴿ الۡمُزَّمِّلُ﴾ کا معنی بھی ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾ کی طرح کپڑوں میں لپٹنے والا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو اپنی رسالت کے ذریعے سے اکرام بخشا اور حضرت جبریلu کو آپ کی طرف بھیج کر وحی نازل کرنے کی ابتدا کی تو اس وقت آپ اس وصف سے موصوف تھے۔ آپ نے ایک ایسا معاملہ دیکھا کہ اس جیسا معاملہ آپ نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور اس پر رسولوں کے سوا کوئی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔آپ کے پاس جبریل آئے اور کہا ’’پڑھیے!‘‘ آپ نے فرمایا: ’’میں پڑھ نہیں سکتا‘‘ جبریل نے آپ کو خوب بھینچا جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، جبریل آپ کو بار بار پڑھنے کی مشق کرواتے رہے تو بالآخر رسول اللہ ﷺ نے پڑھا، یہ وحی و تنزیل کا پہلا موقع اور ایک نیا تجربہ تھا، اس سے آپ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی، آپ اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لائے تو آپ پر کپکپی طاری تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثبات سے بہرہ ور کیا اور آپ پر پے در پے وحی نازل ہوئی حتیٰ کہ آپ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں کوئی رسول نہیں پہنچ سکا۔ (سُبْحَانَ اللہ!) وحی کی ابتدا اور اس کی انتہا کے مابین کتنا بڑا تفاوت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وصف کے ساتھ مخاطب فرمایا جو آپ میں ابتدا کے وقت پایا گیا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں آپ کو ان عبادات کا حکم دیا جو آپ سے متعلق تھیں، پھر آپ کو اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اس کے حکم کو کھلم کھلا بیان کر دیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کا اعلان کر دیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو افضل ترین عبادت، نماز کو موکد ترین اور بہترین وقت پر ادا کرنے کا حکم دیا اور وہ ہے تہجد کی نماز۔یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو تمام رات قیام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا :﴿ قُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی رات۔‘‘پھر اس کا اندازہ مقرر کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿نِّصۡفَهٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡهُ﴾ نصف رات یا نصف میں سے ﴿قَلِيۡلًا﴾ کچھ کم کر دیجیے، ایک تہائی کے لگ بھگ ہو ﴿اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ﴾ یا نصف سے کچھ زیادہ، یعنی دو تہائی رات کے لگ بھگ ہو۔ ﴿وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا﴾ ’’اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔‘‘ کیونکہ ترتیلِ قرآن سے تدبر اور تفکر حاصل ہوتا ہے، اس سے دلوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، اس کی آیات کے ساتھ تعبُّد حاصل ہوتا ہے اور اس پر عمل کے لیے مکمل استعداد اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ فرمایا:﴿اِنَّا سَنُلۡقِيۡ عَلَيۡكَ قَوۡلًا ثَقِيۡلًا﴾ یعنی ہم آپ کی طرف یہ بھاری قرآن وحی کریں گے، یعنی وہ معانئ عظیمہ اور اوصاف جلیلہ کا حامل ہے۔ قرآن، جس کا وصف یہ ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے لیے تیاری کی جائے، اس کو ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے اور جن مضامین پر مشتمل ہے ان میں غورو فکر کیا جائے۔
[6] پھر اللہ تعالیٰ نے رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيۡلِ﴾ یعنی رات کو سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنا ﴿هِيَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّاَقۡوَمُ قِيۡلًا﴾ نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن کے مقصد کے حصول کے زیادہ قریب ہے۔ قلب و لسان اس سے مطابقت رکھتے ہیں، اس وقت مشاغل کم ہوتے ہیں اور جو کچھ وہ پڑھتا ہے اس کا فہم حاصل ہوتا ہے اور اس کا معاملہ درست ہو جاتا ہے۔
[7] یہ دن کے اوقات کے برعکس ہے کیونکہ دن کے اوقات میں یہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبۡحًا طَوِيۡلًا﴾ ’’دن کے وقت آپ کو اور بہت مشاغل ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی حوائج اور معاشی ضروریات کے لیے آپ کو بار بار آنا جانا پڑتا ہے جو قلب کے مشغول ہونے اور مکمل طور پر فارغ نہ ہونے کا موجب بنتا ہے۔
[8]﴿وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ﴾ ’’اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو۔‘‘ یہ ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے ﴿ وَتَبَتَّلۡ اِلَيۡهِ﴾ ’’اور سب سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی طرف انابت، قلب کے خلائق سے علیحدہ اور لا تعلق ہونے، اللہ تعالیٰ کی محبت اور ان اوصاف سے متصف ہونے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بناتے ہیں اور اس کی رضا کے قریب کرتے ہیں۔
[9]﴿رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ ﴾ یہ اسم جنس ہے جو تمام مشارق و مغارب کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مشارق و مغارب، ان کے اندر جو انوار اور عالم علوی اور عالم سفلی کے لیے جو مصالح ہیں، سب کا رب ،ان کا خالق اور مدبر ہے۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ اس بالا و بلند تر ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو محبت و تعظیم اور اجلال و تکریم سے مختص کیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَاتَّؔخِذۡهُ وَؔكِيۡلًا﴾ پس اسے اپنے تمام امور کی تدبیر کرنے والا اور محافظ بنا۔
[10] جب اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز اور عام طور پر ذکر الٰہی کا حکم دیا ...جس سے بندۂ مومن میں بھاری بوجھ اٹھانے اور پر مشقت اعمال بجا لانے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان باتوں پر صبر کرنے کا حکم دیا جو آپ کے معاندین آپ کو کہتے ہیں اور آپ کو اور جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں اس پر سب و شتم کرتے ہیں، نیز یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چلتے رہیں کوئی روکنے والا آپ کی راہ کھوٹی کر سکے نہ کوئی آپ کو واپس لوٹا سکے اور یہ کہ آپ بھلے طریقے سے ان سے کنارہ کش ہو جائیں اور یہ کنارہ کشی وہاں ہے جہاں مصلحت کنارہ کشی کا تقاضا کرتی ہے جس میں کوئی اذیت نہ ہو بلکہ ان کی تکلیف دہ باتوں سے اعراض کرتے ہوئے، ان سے کنارہ کشی کا معاملہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے اس طریقے سے بحث کریں جو احسن ہو۔
[11] فرمایا: ﴿وَذَرۡنِيۡ وَالۡمُكَذِّبِيۡنَ۠﴾ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجیے، میں ان سے انتقام لوں گا، میں نے اگرچہ ان کو مہلت دی ہے مگر میں ان کو مہمل نہیں چھوڑوں گا ﴿ اُولِي النَّعۡمَةِ﴾یعنی نعمتوں سے بہرہ مند اور دولت مند لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رزق سے فراخی عطا کی اور اپنے فضل سے ان کو نوازا تو انھوں نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَيَطۡغٰۤىۙ۰۰ اَنۡ رَّاٰهُ اسۡتَغۡنٰى﴾(العلق96؍6-7) ’’ہرگز نہیں، انسان جب اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے تو سرکش ہو جاتا ہے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سنائی جو اس کے پاس ہے ، چنانچہ فرمایا:
73:7إِنَّ لَكَ فِي ٱلنَّهَارِ سَبۡحٗا طَوِيلٗا
اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) قیام کیجیے رات میں مگر تھوڑا سا(2)( یعنی ) نصف (حصہ) رات کا یا کم کیجیے اس سے تھوڑا سا(3) یا زیادہ کیجیے اس پر اور پڑھیے قرآن ٹھہر ٹھہر کر(4)یقیناً عنقریب ہم ڈالیں گے آپ پر ایک بات بہت بھاری(5) بلاشبہ اٹھنا رات کا یہ زیادہ سخت ہے (نفس کے) کچلنے میں اور زیادہ درست رکھنے والا ہے بات کو(6) بلاشبہ آپ کے لیے دن میں مصروفیت ہے بہت(7) اور یاد کیجیے نام اپنے رب کا اور (سب سے کٹ کر) متوجہ ہو جایے اس کی طرف یکسو ہو کر(8)(وہ) رب ہے مشرق و مغرب کا، نہیں کوئی معبود سوائے اس کےسو بنا لیجیے اس کو (اپنا ) کار ساز(9) اورصبر کیجیے ان باتوں پر جو وہ کہتے ہیں اور چھوڑ دیجیے انھیں چھوڑ دینا اچھے طریقے سے (10) اور چھوڑ دیجیے مجھے اور تکذیب کرنے والے آسودہ حال لوگوں کو اور مہلت دیجیے انھیں تھوڑی سی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1]﴿ الۡمُزَّمِّلُ﴾ کا معنی بھی ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾ کی طرح کپڑوں میں لپٹنے والا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو اپنی رسالت کے ذریعے سے اکرام بخشا اور حضرت جبریلu کو آپ کی طرف بھیج کر وحی نازل کرنے کی ابتدا کی تو اس وقت آپ اس وصف سے موصوف تھے۔ آپ نے ایک ایسا معاملہ دیکھا کہ اس جیسا معاملہ آپ نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور اس پر رسولوں کے سوا کوئی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔آپ کے پاس جبریل آئے اور کہا ’’پڑھیے!‘‘ آپ نے فرمایا: ’’میں پڑھ نہیں سکتا‘‘ جبریل نے آپ کو خوب بھینچا جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، جبریل آپ کو بار بار پڑھنے کی مشق کرواتے رہے تو بالآخر رسول اللہ ﷺ نے پڑھا، یہ وحی و تنزیل کا پہلا موقع اور ایک نیا تجربہ تھا، اس سے آپ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی، آپ اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لائے تو آپ پر کپکپی طاری تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثبات سے بہرہ ور کیا اور آپ پر پے در پے وحی نازل ہوئی حتیٰ کہ آپ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں کوئی رسول نہیں پہنچ سکا۔ (سُبْحَانَ اللہ!) وحی کی ابتدا اور اس کی انتہا کے مابین کتنا بڑا تفاوت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وصف کے ساتھ مخاطب فرمایا جو آپ میں ابتدا کے وقت پایا گیا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں آپ کو ان عبادات کا حکم دیا جو آپ سے متعلق تھیں، پھر آپ کو اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اس کے حکم کو کھلم کھلا بیان کر دیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کا اعلان کر دیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو افضل ترین عبادت، نماز کو موکد ترین اور بہترین وقت پر ادا کرنے کا حکم دیا اور وہ ہے تہجد کی نماز۔یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو تمام رات قیام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا :﴿ قُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی رات۔‘‘پھر اس کا اندازہ مقرر کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿نِّصۡفَهٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡهُ﴾ نصف رات یا نصف میں سے ﴿قَلِيۡلًا﴾ کچھ کم کر دیجیے، ایک تہائی کے لگ بھگ ہو ﴿اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ﴾ یا نصف سے کچھ زیادہ، یعنی دو تہائی رات کے لگ بھگ ہو۔ ﴿وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا﴾ ’’اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔‘‘ کیونکہ ترتیلِ قرآن سے تدبر اور تفکر حاصل ہوتا ہے، اس سے دلوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، اس کی آیات کے ساتھ تعبُّد حاصل ہوتا ہے اور اس پر عمل کے لیے مکمل استعداد اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ فرمایا:﴿اِنَّا سَنُلۡقِيۡ عَلَيۡكَ قَوۡلًا ثَقِيۡلًا﴾ یعنی ہم آپ کی طرف یہ بھاری قرآن وحی کریں گے، یعنی وہ معانئ عظیمہ اور اوصاف جلیلہ کا حامل ہے۔ قرآن، جس کا وصف یہ ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے لیے تیاری کی جائے، اس کو ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے اور جن مضامین پر مشتمل ہے ان میں غورو فکر کیا جائے۔
[6] پھر اللہ تعالیٰ نے رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيۡلِ﴾ یعنی رات کو سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنا ﴿هِيَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّاَقۡوَمُ قِيۡلًا﴾ نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن کے مقصد کے حصول کے زیادہ قریب ہے۔ قلب و لسان اس سے مطابقت رکھتے ہیں، اس وقت مشاغل کم ہوتے ہیں اور جو کچھ وہ پڑھتا ہے اس کا فہم حاصل ہوتا ہے اور اس کا معاملہ درست ہو جاتا ہے۔
[7] یہ دن کے اوقات کے برعکس ہے کیونکہ دن کے اوقات میں یہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبۡحًا طَوِيۡلًا﴾ ’’دن کے وقت آپ کو اور بہت مشاغل ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی حوائج اور معاشی ضروریات کے لیے آپ کو بار بار آنا جانا پڑتا ہے جو قلب کے مشغول ہونے اور مکمل طور پر فارغ نہ ہونے کا موجب بنتا ہے۔
[8]﴿وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ﴾ ’’اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو۔‘‘ یہ ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے ﴿ وَتَبَتَّلۡ اِلَيۡهِ﴾ ’’اور سب سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی طرف انابت، قلب کے خلائق سے علیحدہ اور لا تعلق ہونے، اللہ تعالیٰ کی محبت اور ان اوصاف سے متصف ہونے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بناتے ہیں اور اس کی رضا کے قریب کرتے ہیں۔
[9]﴿رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ ﴾ یہ اسم جنس ہے جو تمام مشارق و مغارب کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مشارق و مغارب، ان کے اندر جو انوار اور عالم علوی اور عالم سفلی کے لیے جو مصالح ہیں، سب کا رب ،ان کا خالق اور مدبر ہے۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ اس بالا و بلند تر ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو محبت و تعظیم اور اجلال و تکریم سے مختص کیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَاتَّؔخِذۡهُ وَؔكِيۡلًا﴾ پس اسے اپنے تمام امور کی تدبیر کرنے والا اور محافظ بنا۔
[10] جب اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز اور عام طور پر ذکر الٰہی کا حکم دیا ...جس سے بندۂ مومن میں بھاری بوجھ اٹھانے اور پر مشقت اعمال بجا لانے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان باتوں پر صبر کرنے کا حکم دیا جو آپ کے معاندین آپ کو کہتے ہیں اور آپ کو اور جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں اس پر سب و شتم کرتے ہیں، نیز یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چلتے رہیں کوئی روکنے والا آپ کی راہ کھوٹی کر سکے نہ کوئی آپ کو واپس لوٹا سکے اور یہ کہ آپ بھلے طریقے سے ان سے کنارہ کش ہو جائیں اور یہ کنارہ کشی وہاں ہے جہاں مصلحت کنارہ کشی کا تقاضا کرتی ہے جس میں کوئی اذیت نہ ہو بلکہ ان کی تکلیف دہ باتوں سے اعراض کرتے ہوئے، ان سے کنارہ کشی کا معاملہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے اس طریقے سے بحث کریں جو احسن ہو۔
[11] فرمایا: ﴿وَذَرۡنِيۡ وَالۡمُكَذِّبِيۡنَ۠﴾ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجیے، میں ان سے انتقام لوں گا، میں نے اگرچہ ان کو مہلت دی ہے مگر میں ان کو مہمل نہیں چھوڑوں گا ﴿ اُولِي النَّعۡمَةِ﴾یعنی نعمتوں سے بہرہ مند اور دولت مند لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رزق سے فراخی عطا کی اور اپنے فضل سے ان کو نوازا تو انھوں نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَيَطۡغٰۤىۙ۰۰ اَنۡ رَّاٰهُ اسۡتَغۡنٰى﴾(العلق96؍6-7) ’’ہرگز نہیں، انسان جب اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے تو سرکش ہو جاتا ہے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سنائی جو اس کے پاس ہے ، چنانچہ فرمایا:
73:8وَٱذۡكُرِ ٱسۡمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلۡ إِلَيۡهِ تَبۡتِيلٗا
اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) قیام کیجیے رات میں مگر تھوڑا سا(2)( یعنی ) نصف (حصہ) رات کا یا کم کیجیے اس سے تھوڑا سا(3) یا زیادہ کیجیے اس پر اور پڑھیے قرآن ٹھہر ٹھہر کر(4)یقیناً عنقریب ہم ڈالیں گے آپ پر ایک بات بہت بھاری(5) بلاشبہ اٹھنا رات کا یہ زیادہ سخت ہے (نفس کے) کچلنے میں اور زیادہ درست رکھنے والا ہے بات کو(6) بلاشبہ آپ کے لیے دن میں مصروفیت ہے بہت(7) اور یاد کیجیے نام اپنے رب کا اور (سب سے کٹ کر) متوجہ ہو جایے اس کی طرف یکسو ہو کر(8)(وہ) رب ہے مشرق و مغرب کا، نہیں کوئی معبود سوائے اس کےسو بنا لیجیے اس کو (اپنا ) کار ساز(9) اورصبر کیجیے ان باتوں پر جو وہ کہتے ہیں اور چھوڑ دیجیے انھیں چھوڑ دینا اچھے طریقے سے (10) اور چھوڑ دیجیے مجھے اور تکذیب کرنے والے آسودہ حال لوگوں کو اور مہلت دیجیے انھیں تھوڑی سی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1]﴿ الۡمُزَّمِّلُ﴾ کا معنی بھی ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾ کی طرح کپڑوں میں لپٹنے والا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو اپنی رسالت کے ذریعے سے اکرام بخشا اور حضرت جبریلu کو آپ کی طرف بھیج کر وحی نازل کرنے کی ابتدا کی تو اس وقت آپ اس وصف سے موصوف تھے۔ آپ نے ایک ایسا معاملہ دیکھا کہ اس جیسا معاملہ آپ نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور اس پر رسولوں کے سوا کوئی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔آپ کے پاس جبریل آئے اور کہا ’’پڑھیے!‘‘ آپ نے فرمایا: ’’میں پڑھ نہیں سکتا‘‘ جبریل نے آپ کو خوب بھینچا جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، جبریل آپ کو بار بار پڑھنے کی مشق کرواتے رہے تو بالآخر رسول اللہ ﷺ نے پڑھا، یہ وحی و تنزیل کا پہلا موقع اور ایک نیا تجربہ تھا، اس سے آپ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی، آپ اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لائے تو آپ پر کپکپی طاری تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثبات سے بہرہ ور کیا اور آپ پر پے در پے وحی نازل ہوئی حتیٰ کہ آپ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں کوئی رسول نہیں پہنچ سکا۔ (سُبْحَانَ اللہ!) وحی کی ابتدا اور اس کی انتہا کے مابین کتنا بڑا تفاوت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وصف کے ساتھ مخاطب فرمایا جو آپ میں ابتدا کے وقت پایا گیا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں آپ کو ان عبادات کا حکم دیا جو آپ سے متعلق تھیں، پھر آپ کو اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اس کے حکم کو کھلم کھلا بیان کر دیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کا اعلان کر دیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو افضل ترین عبادت، نماز کو موکد ترین اور بہترین وقت پر ادا کرنے کا حکم دیا اور وہ ہے تہجد کی نماز۔یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو تمام رات قیام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا :﴿ قُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی رات۔‘‘پھر اس کا اندازہ مقرر کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿نِّصۡفَهٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡهُ﴾ نصف رات یا نصف میں سے ﴿قَلِيۡلًا﴾ کچھ کم کر دیجیے، ایک تہائی کے لگ بھگ ہو ﴿اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ﴾ یا نصف سے کچھ زیادہ، یعنی دو تہائی رات کے لگ بھگ ہو۔ ﴿وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا﴾ ’’اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔‘‘ کیونکہ ترتیلِ قرآن سے تدبر اور تفکر حاصل ہوتا ہے، اس سے دلوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، اس کی آیات کے ساتھ تعبُّد حاصل ہوتا ہے اور اس پر عمل کے لیے مکمل استعداد اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ فرمایا:﴿اِنَّا سَنُلۡقِيۡ عَلَيۡكَ قَوۡلًا ثَقِيۡلًا﴾ یعنی ہم آپ کی طرف یہ بھاری قرآن وحی کریں گے، یعنی وہ معانئ عظیمہ اور اوصاف جلیلہ کا حامل ہے۔ قرآن، جس کا وصف یہ ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے لیے تیاری کی جائے، اس کو ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے اور جن مضامین پر مشتمل ہے ان میں غورو فکر کیا جائے۔
[6] پھر اللہ تعالیٰ نے رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيۡلِ﴾ یعنی رات کو سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنا ﴿هِيَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّاَقۡوَمُ قِيۡلًا﴾ نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن کے مقصد کے حصول کے زیادہ قریب ہے۔ قلب و لسان اس سے مطابقت رکھتے ہیں، اس وقت مشاغل کم ہوتے ہیں اور جو کچھ وہ پڑھتا ہے اس کا فہم حاصل ہوتا ہے اور اس کا معاملہ درست ہو جاتا ہے۔
[7] یہ دن کے اوقات کے برعکس ہے کیونکہ دن کے اوقات میں یہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبۡحًا طَوِيۡلًا﴾ ’’دن کے وقت آپ کو اور بہت مشاغل ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی حوائج اور معاشی ضروریات کے لیے آپ کو بار بار آنا جانا پڑتا ہے جو قلب کے مشغول ہونے اور مکمل طور پر فارغ نہ ہونے کا موجب بنتا ہے۔
[8]﴿وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ﴾ ’’اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو۔‘‘ یہ ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے ﴿ وَتَبَتَّلۡ اِلَيۡهِ﴾ ’’اور سب سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی طرف انابت، قلب کے خلائق سے علیحدہ اور لا تعلق ہونے، اللہ تعالیٰ کی محبت اور ان اوصاف سے متصف ہونے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بناتے ہیں اور اس کی رضا کے قریب کرتے ہیں۔
[9]﴿رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ ﴾ یہ اسم جنس ہے جو تمام مشارق و مغارب کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مشارق و مغارب، ان کے اندر جو انوار اور عالم علوی اور عالم سفلی کے لیے جو مصالح ہیں، سب کا رب ،ان کا خالق اور مدبر ہے۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ اس بالا و بلند تر ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو محبت و تعظیم اور اجلال و تکریم سے مختص کیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَاتَّؔخِذۡهُ وَؔكِيۡلًا﴾ پس اسے اپنے تمام امور کی تدبیر کرنے والا اور محافظ بنا۔
[10] جب اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز اور عام طور پر ذکر الٰہی کا حکم دیا ...جس سے بندۂ مومن میں بھاری بوجھ اٹھانے اور پر مشقت اعمال بجا لانے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان باتوں پر صبر کرنے کا حکم دیا جو آپ کے معاندین آپ کو کہتے ہیں اور آپ کو اور جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں اس پر سب و شتم کرتے ہیں، نیز یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چلتے رہیں کوئی روکنے والا آپ کی راہ کھوٹی کر سکے نہ کوئی آپ کو واپس لوٹا سکے اور یہ کہ آپ بھلے طریقے سے ان سے کنارہ کش ہو جائیں اور یہ کنارہ کشی وہاں ہے جہاں مصلحت کنارہ کشی کا تقاضا کرتی ہے جس میں کوئی اذیت نہ ہو بلکہ ان کی تکلیف دہ باتوں سے اعراض کرتے ہوئے، ان سے کنارہ کشی کا معاملہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے اس طریقے سے بحث کریں جو احسن ہو۔
[11] فرمایا: ﴿وَذَرۡنِيۡ وَالۡمُكَذِّبِيۡنَ۠﴾ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجیے، میں ان سے انتقام لوں گا، میں نے اگرچہ ان کو مہلت دی ہے مگر میں ان کو مہمل نہیں چھوڑوں گا ﴿ اُولِي النَّعۡمَةِ﴾یعنی نعمتوں سے بہرہ مند اور دولت مند لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رزق سے فراخی عطا کی اور اپنے فضل سے ان کو نوازا تو انھوں نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَيَطۡغٰۤىۙ۰۰ اَنۡ رَّاٰهُ اسۡتَغۡنٰى﴾(العلق96؍6-7) ’’ہرگز نہیں، انسان جب اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے تو سرکش ہو جاتا ہے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سنائی جو اس کے پاس ہے ، چنانچہ فرمایا:
73:9رَّبُّ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَٱتَّخِذۡهُ وَكِيلٗا
اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) قیام کیجیے رات میں مگر تھوڑا سا(2)( یعنی ) نصف (حصہ) رات کا یا کم کیجیے اس سے تھوڑا سا(3) یا زیادہ کیجیے اس پر اور پڑھیے قرآن ٹھہر ٹھہر کر(4)یقیناً عنقریب ہم ڈالیں گے آپ پر ایک بات بہت بھاری(5) بلاشبہ اٹھنا رات کا یہ زیادہ سخت ہے (نفس کے) کچلنے میں اور زیادہ درست رکھنے والا ہے بات کو(6) بلاشبہ آپ کے لیے دن میں مصروفیت ہے بہت(7) اور یاد کیجیے نام اپنے رب کا اور (سب سے کٹ کر) متوجہ ہو جایے اس کی طرف یکسو ہو کر(8)(وہ) رب ہے مشرق و مغرب کا، نہیں کوئی معبود سوائے اس کےسو بنا لیجیے اس کو (اپنا ) کار ساز(9) اورصبر کیجیے ان باتوں پر جو وہ کہتے ہیں اور چھوڑ دیجیے انھیں چھوڑ دینا اچھے طریقے سے (10) اور چھوڑ دیجیے مجھے اور تکذیب کرنے والے آسودہ حال لوگوں کو اور مہلت دیجیے انھیں تھوڑی سی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1]﴿ الۡمُزَّمِّلُ﴾ کا معنی بھی ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾ کی طرح کپڑوں میں لپٹنے والا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو اپنی رسالت کے ذریعے سے اکرام بخشا اور حضرت جبریلu کو آپ کی طرف بھیج کر وحی نازل کرنے کی ابتدا کی تو اس وقت آپ اس وصف سے موصوف تھے۔ آپ نے ایک ایسا معاملہ دیکھا کہ اس جیسا معاملہ آپ نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور اس پر رسولوں کے سوا کوئی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔آپ کے پاس جبریل آئے اور کہا ’’پڑھیے!‘‘ آپ نے فرمایا: ’’میں پڑھ نہیں سکتا‘‘ جبریل نے آپ کو خوب بھینچا جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، جبریل آپ کو بار بار پڑھنے کی مشق کرواتے رہے تو بالآخر رسول اللہ ﷺ نے پڑھا، یہ وحی و تنزیل کا پہلا موقع اور ایک نیا تجربہ تھا، اس سے آپ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی، آپ اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لائے تو آپ پر کپکپی طاری تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثبات سے بہرہ ور کیا اور آپ پر پے در پے وحی نازل ہوئی حتیٰ کہ آپ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں کوئی رسول نہیں پہنچ سکا۔ (سُبْحَانَ اللہ!) وحی کی ابتدا اور اس کی انتہا کے مابین کتنا بڑا تفاوت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وصف کے ساتھ مخاطب فرمایا جو آپ میں ابتدا کے وقت پایا گیا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں آپ کو ان عبادات کا حکم دیا جو آپ سے متعلق تھیں، پھر آپ کو اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اس کے حکم کو کھلم کھلا بیان کر دیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کا اعلان کر دیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو افضل ترین عبادت، نماز کو موکد ترین اور بہترین وقت پر ادا کرنے کا حکم دیا اور وہ ہے تہجد کی نماز۔یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو تمام رات قیام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا :﴿ قُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی رات۔‘‘پھر اس کا اندازہ مقرر کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿نِّصۡفَهٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡهُ﴾ نصف رات یا نصف میں سے ﴿قَلِيۡلًا﴾ کچھ کم کر دیجیے، ایک تہائی کے لگ بھگ ہو ﴿اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ﴾ یا نصف سے کچھ زیادہ، یعنی دو تہائی رات کے لگ بھگ ہو۔ ﴿وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا﴾ ’’اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔‘‘ کیونکہ ترتیلِ قرآن سے تدبر اور تفکر حاصل ہوتا ہے، اس سے دلوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، اس کی آیات کے ساتھ تعبُّد حاصل ہوتا ہے اور اس پر عمل کے لیے مکمل استعداد اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ فرمایا:﴿اِنَّا سَنُلۡقِيۡ عَلَيۡكَ قَوۡلًا ثَقِيۡلًا﴾ یعنی ہم آپ کی طرف یہ بھاری قرآن وحی کریں گے، یعنی وہ معانئ عظیمہ اور اوصاف جلیلہ کا حامل ہے۔ قرآن، جس کا وصف یہ ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے لیے تیاری کی جائے، اس کو ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے اور جن مضامین پر مشتمل ہے ان میں غورو فکر کیا جائے۔
[6] پھر اللہ تعالیٰ نے رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيۡلِ﴾ یعنی رات کو سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنا ﴿هِيَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّاَقۡوَمُ قِيۡلًا﴾ نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن کے مقصد کے حصول کے زیادہ قریب ہے۔ قلب و لسان اس سے مطابقت رکھتے ہیں، اس وقت مشاغل کم ہوتے ہیں اور جو کچھ وہ پڑھتا ہے اس کا فہم حاصل ہوتا ہے اور اس کا معاملہ درست ہو جاتا ہے۔
[7] یہ دن کے اوقات کے برعکس ہے کیونکہ دن کے اوقات میں یہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبۡحًا طَوِيۡلًا﴾ ’’دن کے وقت آپ کو اور بہت مشاغل ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی حوائج اور معاشی ضروریات کے لیے آپ کو بار بار آنا جانا پڑتا ہے جو قلب کے مشغول ہونے اور مکمل طور پر فارغ نہ ہونے کا موجب بنتا ہے۔
[8]﴿وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ﴾ ’’اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو۔‘‘ یہ ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے ﴿ وَتَبَتَّلۡ اِلَيۡهِ﴾ ’’اور سب سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی طرف انابت، قلب کے خلائق سے علیحدہ اور لا تعلق ہونے، اللہ تعالیٰ کی محبت اور ان اوصاف سے متصف ہونے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بناتے ہیں اور اس کی رضا کے قریب کرتے ہیں۔
[9]﴿رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ ﴾ یہ اسم جنس ہے جو تمام مشارق و مغارب کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مشارق و مغارب، ان کے اندر جو انوار اور عالم علوی اور عالم سفلی کے لیے جو مصالح ہیں، سب کا رب ،ان کا خالق اور مدبر ہے۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ اس بالا و بلند تر ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو محبت و تعظیم اور اجلال و تکریم سے مختص کیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَاتَّؔخِذۡهُ وَؔكِيۡلًا﴾ پس اسے اپنے تمام امور کی تدبیر کرنے والا اور محافظ بنا۔
[10] جب اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز اور عام طور پر ذکر الٰہی کا حکم دیا ...جس سے بندۂ مومن میں بھاری بوجھ اٹھانے اور پر مشقت اعمال بجا لانے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان باتوں پر صبر کرنے کا حکم دیا جو آپ کے معاندین آپ کو کہتے ہیں اور آپ کو اور جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں اس پر سب و شتم کرتے ہیں، نیز یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چلتے رہیں کوئی روکنے والا آپ کی راہ کھوٹی کر سکے نہ کوئی آپ کو واپس لوٹا سکے اور یہ کہ آپ بھلے طریقے سے ان سے کنارہ کش ہو جائیں اور یہ کنارہ کشی وہاں ہے جہاں مصلحت کنارہ کشی کا تقاضا کرتی ہے جس میں کوئی اذیت نہ ہو بلکہ ان کی تکلیف دہ باتوں سے اعراض کرتے ہوئے، ان سے کنارہ کشی کا معاملہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے اس طریقے سے بحث کریں جو احسن ہو۔
[11] فرمایا: ﴿وَذَرۡنِيۡ وَالۡمُكَذِّبِيۡنَ۠﴾ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجیے، میں ان سے انتقام لوں گا، میں نے اگرچہ ان کو مہلت دی ہے مگر میں ان کو مہمل نہیں چھوڑوں گا ﴿ اُولِي النَّعۡمَةِ﴾یعنی نعمتوں سے بہرہ مند اور دولت مند لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رزق سے فراخی عطا کی اور اپنے فضل سے ان کو نوازا تو انھوں نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَيَطۡغٰۤىۙ۰۰ اَنۡ رَّاٰهُ اسۡتَغۡنٰى﴾(العلق96؍6-7) ’’ہرگز نہیں، انسان جب اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے تو سرکش ہو جاتا ہے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سنائی جو اس کے پاس ہے ، چنانچہ فرمایا:
73:10وَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَٱهۡجُرۡهُمۡ هَجۡرٗا جَمِيلٗا
اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) قیام کیجیے رات میں مگر تھوڑا سا(2)( یعنی ) نصف (حصہ) رات کا یا کم کیجیے اس سے تھوڑا سا(3) یا زیادہ کیجیے اس پر اور پڑھیے قرآن ٹھہر ٹھہر کر(4)یقیناً عنقریب ہم ڈالیں گے آپ پر ایک بات بہت بھاری(5) بلاشبہ اٹھنا رات کا یہ زیادہ سخت ہے (نفس کے) کچلنے میں اور زیادہ درست رکھنے والا ہے بات کو(6) بلاشبہ آپ کے لیے دن میں مصروفیت ہے بہت(7) اور یاد کیجیے نام اپنے رب کا اور (سب سے کٹ کر) متوجہ ہو جایے اس کی طرف یکسو ہو کر(8)(وہ) رب ہے مشرق و مغرب کا، نہیں کوئی معبود سوائے اس کےسو بنا لیجیے اس کو (اپنا ) کار ساز(9) اورصبر کیجیے ان باتوں پر جو وہ کہتے ہیں اور چھوڑ دیجیے انھیں چھوڑ دینا اچھے طریقے سے (10) اور چھوڑ دیجیے مجھے اور تکذیب کرنے والے آسودہ حال لوگوں کو اور مہلت دیجیے انھیں تھوڑی سی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1]﴿ الۡمُزَّمِّلُ﴾ کا معنی بھی ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾ کی طرح کپڑوں میں لپٹنے والا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو اپنی رسالت کے ذریعے سے اکرام بخشا اور حضرت جبریلu کو آپ کی طرف بھیج کر وحی نازل کرنے کی ابتدا کی تو اس وقت آپ اس وصف سے موصوف تھے۔ آپ نے ایک ایسا معاملہ دیکھا کہ اس جیسا معاملہ آپ نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور اس پر رسولوں کے سوا کوئی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔آپ کے پاس جبریل آئے اور کہا ’’پڑھیے!‘‘ آپ نے فرمایا: ’’میں پڑھ نہیں سکتا‘‘ جبریل نے آپ کو خوب بھینچا جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، جبریل آپ کو بار بار پڑھنے کی مشق کرواتے رہے تو بالآخر رسول اللہ ﷺ نے پڑھا، یہ وحی و تنزیل کا پہلا موقع اور ایک نیا تجربہ تھا، اس سے آپ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی، آپ اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لائے تو آپ پر کپکپی طاری تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثبات سے بہرہ ور کیا اور آپ پر پے در پے وحی نازل ہوئی حتیٰ کہ آپ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں کوئی رسول نہیں پہنچ سکا۔ (سُبْحَانَ اللہ!) وحی کی ابتدا اور اس کی انتہا کے مابین کتنا بڑا تفاوت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وصف کے ساتھ مخاطب فرمایا جو آپ میں ابتدا کے وقت پایا گیا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں آپ کو ان عبادات کا حکم دیا جو آپ سے متعلق تھیں، پھر آپ کو اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اس کے حکم کو کھلم کھلا بیان کر دیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کا اعلان کر دیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو افضل ترین عبادت، نماز کو موکد ترین اور بہترین وقت پر ادا کرنے کا حکم دیا اور وہ ہے تہجد کی نماز۔یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو تمام رات قیام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا :﴿ قُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی رات۔‘‘پھر اس کا اندازہ مقرر کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿نِّصۡفَهٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡهُ﴾ نصف رات یا نصف میں سے ﴿قَلِيۡلًا﴾ کچھ کم کر دیجیے، ایک تہائی کے لگ بھگ ہو ﴿اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ﴾ یا نصف سے کچھ زیادہ، یعنی دو تہائی رات کے لگ بھگ ہو۔ ﴿وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا﴾ ’’اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔‘‘ کیونکہ ترتیلِ قرآن سے تدبر اور تفکر حاصل ہوتا ہے، اس سے دلوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، اس کی آیات کے ساتھ تعبُّد حاصل ہوتا ہے اور اس پر عمل کے لیے مکمل استعداد اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ فرمایا:﴿اِنَّا سَنُلۡقِيۡ عَلَيۡكَ قَوۡلًا ثَقِيۡلًا﴾ یعنی ہم آپ کی طرف یہ بھاری قرآن وحی کریں گے، یعنی وہ معانئ عظیمہ اور اوصاف جلیلہ کا حامل ہے۔ قرآن، جس کا وصف یہ ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے لیے تیاری کی جائے، اس کو ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے اور جن مضامین پر مشتمل ہے ان میں غورو فکر کیا جائے۔
[6] پھر اللہ تعالیٰ نے رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيۡلِ﴾ یعنی رات کو سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنا ﴿هِيَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّاَقۡوَمُ قِيۡلًا﴾ نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن کے مقصد کے حصول کے زیادہ قریب ہے۔ قلب و لسان اس سے مطابقت رکھتے ہیں، اس وقت مشاغل کم ہوتے ہیں اور جو کچھ وہ پڑھتا ہے اس کا فہم حاصل ہوتا ہے اور اس کا معاملہ درست ہو جاتا ہے۔
[7] یہ دن کے اوقات کے برعکس ہے کیونکہ دن کے اوقات میں یہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبۡحًا طَوِيۡلًا﴾ ’’دن کے وقت آپ کو اور بہت مشاغل ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی حوائج اور معاشی ضروریات کے لیے آپ کو بار بار آنا جانا پڑتا ہے جو قلب کے مشغول ہونے اور مکمل طور پر فارغ نہ ہونے کا موجب بنتا ہے۔
[8]﴿وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ﴾ ’’اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو۔‘‘ یہ ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے ﴿ وَتَبَتَّلۡ اِلَيۡهِ﴾ ’’اور سب سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی طرف انابت، قلب کے خلائق سے علیحدہ اور لا تعلق ہونے، اللہ تعالیٰ کی محبت اور ان اوصاف سے متصف ہونے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بناتے ہیں اور اس کی رضا کے قریب کرتے ہیں۔
[9]﴿رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ ﴾ یہ اسم جنس ہے جو تمام مشارق و مغارب کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مشارق و مغارب، ان کے اندر جو انوار اور عالم علوی اور عالم سفلی کے لیے جو مصالح ہیں، سب کا رب ،ان کا خالق اور مدبر ہے۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ اس بالا و بلند تر ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو محبت و تعظیم اور اجلال و تکریم سے مختص کیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَاتَّؔخِذۡهُ وَؔكِيۡلًا﴾ پس اسے اپنے تمام امور کی تدبیر کرنے والا اور محافظ بنا۔
[10] جب اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز اور عام طور پر ذکر الٰہی کا حکم دیا ...جس سے بندۂ مومن میں بھاری بوجھ اٹھانے اور پر مشقت اعمال بجا لانے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان باتوں پر صبر کرنے کا حکم دیا جو آپ کے معاندین آپ کو کہتے ہیں اور آپ کو اور جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں اس پر سب و شتم کرتے ہیں، نیز یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چلتے رہیں کوئی روکنے والا آپ کی راہ کھوٹی کر سکے نہ کوئی آپ کو واپس لوٹا سکے اور یہ کہ آپ بھلے طریقے سے ان سے کنارہ کش ہو جائیں اور یہ کنارہ کشی وہاں ہے جہاں مصلحت کنارہ کشی کا تقاضا کرتی ہے جس میں کوئی اذیت نہ ہو بلکہ ان کی تکلیف دہ باتوں سے اعراض کرتے ہوئے، ان سے کنارہ کشی کا معاملہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے اس طریقے سے بحث کریں جو احسن ہو۔
[11] فرمایا: ﴿وَذَرۡنِيۡ وَالۡمُكَذِّبِيۡنَ۠﴾ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجیے، میں ان سے انتقام لوں گا، میں نے اگرچہ ان کو مہلت دی ہے مگر میں ان کو مہمل نہیں چھوڑوں گا ﴿ اُولِي النَّعۡمَةِ﴾یعنی نعمتوں سے بہرہ مند اور دولت مند لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رزق سے فراخی عطا کی اور اپنے فضل سے ان کو نوازا تو انھوں نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَيَطۡغٰۤىۙ۰۰ اَنۡ رَّاٰهُ اسۡتَغۡنٰى﴾(العلق96؍6-7) ’’ہرگز نہیں، انسان جب اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے تو سرکش ہو جاتا ہے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سنائی جو اس کے پاس ہے ، چنانچہ فرمایا:
73:11وَذَرۡنِي وَٱلۡمُكَذِّبِينَ أُوْلِي ٱلنَّعۡمَةِ وَمَهِّلۡهُمۡ قَلِيلًا
اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) قیام کیجیے رات میں مگر تھوڑا سا(2)( یعنی ) نصف (حصہ) رات کا یا کم کیجیے اس سے تھوڑا سا(3) یا زیادہ کیجیے اس پر اور پڑھیے قرآن ٹھہر ٹھہر کر(4)یقیناً عنقریب ہم ڈالیں گے آپ پر ایک بات بہت بھاری(5) بلاشبہ اٹھنا رات کا یہ زیادہ سخت ہے (نفس کے) کچلنے میں اور زیادہ درست رکھنے والا ہے بات کو(6) بلاشبہ آپ کے لیے دن میں مصروفیت ہے بہت(7) اور یاد کیجیے نام اپنے رب کا اور (سب سے کٹ کر) متوجہ ہو جایے اس کی طرف یکسو ہو کر(8)(وہ) رب ہے مشرق و مغرب کا، نہیں کوئی معبود سوائے اس کےسو بنا لیجیے اس کو (اپنا ) کار ساز(9) اورصبر کیجیے ان باتوں پر جو وہ کہتے ہیں اور چھوڑ دیجیے انھیں چھوڑ دینا اچھے طریقے سے (10) اور چھوڑ دیجیے مجھے اور تکذیب کرنے والے آسودہ حال لوگوں کو اور مہلت دیجیے انھیں تھوڑی سی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1]﴿ الۡمُزَّمِّلُ﴾ کا معنی بھی ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾ کی طرح کپڑوں میں لپٹنے والا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو اپنی رسالت کے ذریعے سے اکرام بخشا اور حضرت جبریلu کو آپ کی طرف بھیج کر وحی نازل کرنے کی ابتدا کی تو اس وقت آپ اس وصف سے موصوف تھے۔ آپ نے ایک ایسا معاملہ دیکھا کہ اس جیسا معاملہ آپ نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور اس پر رسولوں کے سوا کوئی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔آپ کے پاس جبریل آئے اور کہا ’’پڑھیے!‘‘ آپ نے فرمایا: ’’میں پڑھ نہیں سکتا‘‘ جبریل نے آپ کو خوب بھینچا جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، جبریل آپ کو بار بار پڑھنے کی مشق کرواتے رہے تو بالآخر رسول اللہ ﷺ نے پڑھا، یہ وحی و تنزیل کا پہلا موقع اور ایک نیا تجربہ تھا، اس سے آپ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی، آپ اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لائے تو آپ پر کپکپی طاری تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثبات سے بہرہ ور کیا اور آپ پر پے در پے وحی نازل ہوئی حتیٰ کہ آپ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں کوئی رسول نہیں پہنچ سکا۔ (سُبْحَانَ اللہ!) وحی کی ابتدا اور اس کی انتہا کے مابین کتنا بڑا تفاوت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وصف کے ساتھ مخاطب فرمایا جو آپ میں ابتدا کے وقت پایا گیا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں آپ کو ان عبادات کا حکم دیا جو آپ سے متعلق تھیں، پھر آپ کو اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اس کے حکم کو کھلم کھلا بیان کر دیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کا اعلان کر دیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو افضل ترین عبادت، نماز کو موکد ترین اور بہترین وقت پر ادا کرنے کا حکم دیا اور وہ ہے تہجد کی نماز۔یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو تمام رات قیام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا :﴿ قُمِ الَّيۡلَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی رات۔‘‘پھر اس کا اندازہ مقرر کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿نِّصۡفَهٗۤ اَوِ انۡقُصۡ مِنۡهُ﴾ نصف رات یا نصف میں سے ﴿قَلِيۡلًا﴾ کچھ کم کر دیجیے، ایک تہائی کے لگ بھگ ہو ﴿اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ﴾ یا نصف سے کچھ زیادہ، یعنی دو تہائی رات کے لگ بھگ ہو۔ ﴿وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلًا﴾ ’’اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔‘‘ کیونکہ ترتیلِ قرآن سے تدبر اور تفکر حاصل ہوتا ہے، اس سے دلوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، اس کی آیات کے ساتھ تعبُّد حاصل ہوتا ہے اور اس پر عمل کے لیے مکمل استعداد اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ فرمایا:﴿اِنَّا سَنُلۡقِيۡ عَلَيۡكَ قَوۡلًا ثَقِيۡلًا﴾ یعنی ہم آپ کی طرف یہ بھاری قرآن وحی کریں گے، یعنی وہ معانئ عظیمہ اور اوصاف جلیلہ کا حامل ہے۔ قرآن، جس کا وصف یہ ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے لیے تیاری کی جائے، اس کو ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے اور جن مضامین پر مشتمل ہے ان میں غورو فکر کیا جائے۔
[6] پھر اللہ تعالیٰ نے رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان کی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيۡلِ﴾ یعنی رات کو سو کر اٹھنے کے بعد نماز پڑھنا ﴿هِيَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّاَقۡوَمُ قِيۡلًا﴾ نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن کے مقصد کے حصول کے زیادہ قریب ہے۔ قلب و لسان اس سے مطابقت رکھتے ہیں، اس وقت مشاغل کم ہوتے ہیں اور جو کچھ وہ پڑھتا ہے اس کا فہم حاصل ہوتا ہے اور اس کا معاملہ درست ہو جاتا ہے۔
[7] یہ دن کے اوقات کے برعکس ہے کیونکہ دن کے اوقات میں یہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبۡحًا طَوِيۡلًا﴾ ’’دن کے وقت آپ کو اور بہت مشاغل ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی حوائج اور معاشی ضروریات کے لیے آپ کو بار بار آنا جانا پڑتا ہے جو قلب کے مشغول ہونے اور مکمل طور پر فارغ نہ ہونے کا موجب بنتا ہے۔
[8]﴿وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ﴾ ’’اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو۔‘‘ یہ ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے ﴿ وَتَبَتَّلۡ اِلَيۡهِ﴾ ’’اور سب سے کٹ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اس کی طرف انابت، قلب کے خلائق سے علیحدہ اور لا تعلق ہونے، اللہ تعالیٰ کی محبت اور ان اوصاف سے متصف ہونے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بناتے ہیں اور اس کی رضا کے قریب کرتے ہیں۔
[9]﴿رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ ﴾ یہ اسم جنس ہے جو تمام مشارق و مغارب کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مشارق و مغارب، ان کے اندر جو انوار اور عالم علوی اور عالم سفلی کے لیے جو مصالح ہیں، سب کا رب ،ان کا خالق اور مدبر ہے۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ اس بالا و بلند تر ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو محبت و تعظیم اور اجلال و تکریم سے مختص کیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَاتَّؔخِذۡهُ وَؔكِيۡلًا﴾ پس اسے اپنے تمام امور کی تدبیر کرنے والا اور محافظ بنا۔
[10] جب اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نماز اور عام طور پر ذکر الٰہی کا حکم دیا ...جس سے بندۂ مومن میں بھاری بوجھ اٹھانے اور پر مشقت اعمال بجا لانے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان باتوں پر صبر کرنے کا حکم دیا جو آپ کے معاندین آپ کو کہتے ہیں اور آپ کو اور جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں اس پر سب و شتم کرتے ہیں، نیز یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چلتے رہیں کوئی روکنے والا آپ کی راہ کھوٹی کر سکے نہ کوئی آپ کو واپس لوٹا سکے اور یہ کہ آپ بھلے طریقے سے ان سے کنارہ کش ہو جائیں اور یہ کنارہ کشی وہاں ہے جہاں مصلحت کنارہ کشی کا تقاضا کرتی ہے جس میں کوئی اذیت نہ ہو بلکہ ان کی تکلیف دہ باتوں سے اعراض کرتے ہوئے، ان سے کنارہ کشی کا معاملہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے اس طریقے سے بحث کریں جو احسن ہو۔
[11] فرمایا: ﴿وَذَرۡنِيۡ وَالۡمُكَذِّبِيۡنَ۠﴾ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیجیے، میں ان سے انتقام لوں گا، میں نے اگرچہ ان کو مہلت دی ہے مگر میں ان کو مہمل نہیں چھوڑوں گا ﴿ اُولِي النَّعۡمَةِ﴾یعنی نعمتوں سے بہرہ مند اور دولت مند لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رزق سے فراخی عطا کی اور اپنے فضل سے ان کو نوازا تو انھوں نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَيَطۡغٰۤىۙ۰۰ اَنۡ رَّاٰهُ اسۡتَغۡنٰى﴾(العلق96؍6-7) ’’ہرگز نہیں، انسان جب اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے تو سرکش ہو جاتا ہے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سنائی جو اس کے پاس ہے ، چنانچہ فرمایا:
73:12إِنَّ لَدَيۡنَآ أَنكَالٗا وَجَحِيمٗا
بلاشبہ ہمارے ہاں بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ (12) اور طعام گلے میں پھنس جانے والا اور عذاب بہت درد ناک (13) جس دن کانپے گی زمین اور پہاڑ، اور ہو جائیں گے پہاڑ ریت کے ٹیلے بھربھرے (14)
[13,12] یعنی ہمارے پاس ﴿ اَنۡكَالًا﴾ سخت عذاب ہے، اسے ہم نے اس شخص کے لیے عبرتناک سزا بنایا ہے جو ان امور پر جما ہوا ہے جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ ﴿ وَّجَحِيۡمًا﴾ اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے ﴿ وَّطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ﴾ ’’ اور گلو گیر کھانا‘‘ یہ اچُّھو اس کھانے کی تلخی، بدمزگی، اس کے ذائقے کی کراہت اور اس کی بے انتہا گندی بدبو کی بنا پر لگے گا۔ ﴿ وَّعَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ اور انتہائی درد ناک اور تکلیف دہ عذاب ہے۔
[14]﴿ يَوۡمَ تَرۡجُفُ الۡاَرۡضُ وَالۡجِبَالُ﴾ جس روز زمین اور پہاڑ بہت بڑے خوف سے کانپ اٹھیں گے ﴿ وَكَانَتِ الۡجِبَالُ﴾ اور زمین پرمضبوطی سے جمے ہوئے ٹھوس اور سخت پہاڑ ﴿كَثِيۡبًا مَّهِيۡلًا﴾ ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے ، یعنی بکھری ہوئی ریت کی مانند، پھر اس کے بعد یہ ریت آہستہ آہستہ پھیل کر اڑتا ہوا غبار بن جائے گی۔
73:13وَطَعَامٗا ذَا غُصَّةٖ وَعَذَابًا أَلِيمٗا
بلاشبہ ہمارے ہاں بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ (12) اور طعام گلے میں پھنس جانے والا اور عذاب بہت درد ناک (13) جس دن کانپے گی زمین اور پہاڑ، اور ہو جائیں گے پہاڑ ریت کے ٹیلے بھربھرے (14)
[13,12] یعنی ہمارے پاس ﴿ اَنۡكَالًا﴾ سخت عذاب ہے، اسے ہم نے اس شخص کے لیے عبرتناک سزا بنایا ہے جو ان امور پر جما ہوا ہے جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ ﴿ وَّجَحِيۡمًا﴾ اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے ﴿ وَّطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ﴾ ’’ اور گلو گیر کھانا‘‘ یہ اچُّھو اس کھانے کی تلخی، بدمزگی، اس کے ذائقے کی کراہت اور اس کی بے انتہا گندی بدبو کی بنا پر لگے گا۔ ﴿ وَّعَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ اور انتہائی درد ناک اور تکلیف دہ عذاب ہے۔
[14]﴿ يَوۡمَ تَرۡجُفُ الۡاَرۡضُ وَالۡجِبَالُ﴾ جس روز زمین اور پہاڑ بہت بڑے خوف سے کانپ اٹھیں گے ﴿ وَكَانَتِ الۡجِبَالُ﴾ اور زمین پرمضبوطی سے جمے ہوئے ٹھوس اور سخت پہاڑ ﴿كَثِيۡبًا مَّهِيۡلًا﴾ ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے ، یعنی بکھری ہوئی ریت کی مانند، پھر اس کے بعد یہ ریت آہستہ آہستہ پھیل کر اڑتا ہوا غبار بن جائے گی۔
73:14يَوۡمَ تَرۡجُفُ ٱلۡأَرۡضُ وَٱلۡجِبَالُ وَكَانَتِ ٱلۡجِبَالُ كَثِيبٗا مَّهِيلًا
بلاشبہ ہمارے ہاں بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ (12) اور طعام گلے میں پھنس جانے والا اور عذاب بہت درد ناک (13) جس دن کانپے گی زمین اور پہاڑ، اور ہو جائیں گے پہاڑ ریت کے ٹیلے بھربھرے (14)
[13,12] یعنی ہمارے پاس ﴿ اَنۡكَالًا﴾ سخت عذاب ہے، اسے ہم نے اس شخص کے لیے عبرتناک سزا بنایا ہے جو ان امور پر جما ہوا ہے جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ ﴿ وَّجَحِيۡمًا﴾ اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے ﴿ وَّطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ﴾ ’’ اور گلو گیر کھانا‘‘ یہ اچُّھو اس کھانے کی تلخی، بدمزگی، اس کے ذائقے کی کراہت اور اس کی بے انتہا گندی بدبو کی بنا پر لگے گا۔ ﴿ وَّعَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ اور انتہائی درد ناک اور تکلیف دہ عذاب ہے۔
[14]﴿ يَوۡمَ تَرۡجُفُ الۡاَرۡضُ وَالۡجِبَالُ﴾ جس روز زمین اور پہاڑ بہت بڑے خوف سے کانپ اٹھیں گے ﴿ وَكَانَتِ الۡجِبَالُ﴾ اور زمین پرمضبوطی سے جمے ہوئے ٹھوس اور سخت پہاڑ ﴿كَثِيۡبًا مَّهِيۡلًا﴾ ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے ، یعنی بکھری ہوئی ریت کی مانند، پھر اس کے بعد یہ ریت آہستہ آہستہ پھیل کر اڑتا ہوا غبار بن جائے گی۔
73:15إِنَّآ أَرۡسَلۡنَآ إِلَيۡكُمۡ رَسُولٗا شَٰهِدًا عَلَيۡكُمۡ كَمَآ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ رَسُولٗا
بلاشبہ ہم نے بھیجا ہے تمھاری طرف ایک رسول شہادت دینے والا تم پر جیسے بھیجا تھا ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول (15) پس نافرمانی کی فرعون نے اس رسول کی تو پکڑ لیا ہم نے اسے پکڑنا نہایت سخت (16)
[16,15] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نبئ امی و عربی (ﷺ) کے بھیجے جانے پر... جو خوشخبری دینے والا، تنبیہ کرنے والا اور امت پر ان کے اعمال کے ذریعے سے گواہ ہے ... اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کرو، اس کا شکر ادا کرو اور اس نعمت جلیلہ کا اعتراف کرو۔ اپنے رسول کا انکار کرنے اور اس کی نافرمانی کرنے سے بچو ایسا نہ ہو کہ تم فرعون کی مانند ہو جاؤ ، جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو اس کی طرف مبعوث فرمایا تو حضرت موسیٰ uنے اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور اسے توحید کا حکم دیا مگر اس نے حضرت موسیٰ کی تصدیق نہ کی بلکہ اس کے برعکس اس نے آپ کی۔ نافرمانی کی پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بڑے وبال، یعنی انتہائی شدت کے ساتھ پکڑ لیا۔
73:16فَعَصَىٰ فِرۡعَوۡنُ ٱلرَّسُولَ فَأَخَذۡنَٰهُ أَخۡذٗا وَبِيلٗا
بلاشبہ ہم نے بھیجا ہے تمھاری طرف ایک رسول شہادت دینے والا تم پر جیسے بھیجا تھا ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول (15) پس نافرمانی کی فرعون نے اس رسول کی تو پکڑ لیا ہم نے اسے پکڑنا نہایت سخت (16)
[16,15] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نبئ امی و عربی (ﷺ) کے بھیجے جانے پر... جو خوشخبری دینے والا، تنبیہ کرنے والا اور امت پر ان کے اعمال کے ذریعے سے گواہ ہے ... اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کرو، اس کا شکر ادا کرو اور اس نعمت جلیلہ کا اعتراف کرو۔ اپنے رسول کا انکار کرنے اور اس کی نافرمانی کرنے سے بچو ایسا نہ ہو کہ تم فرعون کی مانند ہو جاؤ ، جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو اس کی طرف مبعوث فرمایا تو حضرت موسیٰ uنے اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور اسے توحید کا حکم دیا مگر اس نے حضرت موسیٰ کی تصدیق نہ کی بلکہ اس کے برعکس اس نے آپ کی۔ نافرمانی کی پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بڑے وبال، یعنی انتہائی شدت کے ساتھ پکڑ لیا۔
73:17فَكَيۡفَ تَتَّقُونَ إِن كَفَرۡتُمۡ يَوۡمٗا يَجۡعَلُ ٱلۡوِلۡدَٰنَ شِيبًا
پس کیسے بچو گے تم اگر کفر کیا تم نے، اس دن (کے عذاب سے) کہ کر دے گا وہ بچوں کو بوڑھا؟ (17) آسمان پھٹ جائے گا بوجہ اس کے اور ہے وعدہ اس کا کیاہوا (18)
[18,17] یعنی قیامت کے روز کیسے نجات حاصل ہو سکتی ہے، وہ ایسا دن ہے جس کا معاملہ نہایت ہولناک اور جس کا خطرہ بہت عظیم ہو گا۔ جو بچوں کو بوڑھا، اور بڑے بڑے جمادات کو پگھلا کر رکھ دے گا، پس (اس کے خوف سے) آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے بکھر جائیں گے۔ ﴿ كَانَ وَعۡدُهٗ مَفۡعُوۡلًا﴾یعنی اس کا وقوع لا زمی ہے، کوئی چیز اس کے سامنے حائل نہیں ہو سکتی۔
73:18ٱلسَّمَآءُ مُنفَطِرُۢ بِهِۦۚ كَانَ وَعۡدُهُۥ مَفۡعُولًا
پس کیسے بچو گے تم اگر کفر کیا تم نے، اس دن (کے عذاب سے) کہ کر دے گا وہ بچوں کو بوڑھا؟ (17) آسمان پھٹ جائے گا بوجہ اس کے اور ہے وعدہ اس کا کیاہوا (18)
[18,17] یعنی قیامت کے روز کیسے نجات حاصل ہو سکتی ہے، وہ ایسا دن ہے جس کا معاملہ نہایت ہولناک اور جس کا خطرہ بہت عظیم ہو گا۔ جو بچوں کو بوڑھا، اور بڑے بڑے جمادات کو پگھلا کر رکھ دے گا، پس (اس کے خوف سے) آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے بکھر جائیں گے۔ ﴿ كَانَ وَعۡدُهٗ مَفۡعُوۡلًا﴾یعنی اس کا وقوع لا زمی ہے، کوئی چیز اس کے سامنے حائل نہیں ہو سکتی۔
73:19إِنَّ هَٰذِهِۦ تَذۡكِرَةٞۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلًا
بلاشبہ یہ (قرآن) تو نصیحت ہے، پس جو چاہے پکڑے طرف اپنے رب کی راستہ(19)
[19] یہ وعظ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے احوال اور اس کی ہولناکیوں کی خبر دی ہے، ایک یاد دہانی ہے جس سے اہل تقویٰ نصیحت پکڑتے اور اہل ایمان (برائیوں سے) رک جاتے ہیں ﴿ فَمَنۡ شَآءَؔ اتَّؔخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيۡلًا﴾ یعنی وہ راستہ جو اسے اس کے رب تک پہنچاتا ہے۔ وہ راستہ اس کی شریعت کی اتباع کے ذریعے سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کھول کھول کر بیان کیا اور پوری طرح واضح کر دیا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ان کے افعال پر قدرت اور اختیار عطا کیا ہے۔ ایسے نہیں جیسے ’’جبریہ‘‘ کہتے ہیں کہ بندوں کے افعال ان کی مشیت کے بغیر واقع ہوتے ہیں کیونکہ یہ نقل اور عقل دونوں کے خلاف ہے۔
73:20۞إِنَّ رَبَّكَ يَعۡلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدۡنَىٰ مِن ثُلُثَيِ ٱلَّيۡلِ وَنِصۡفَهُۥ وَثُلُثَهُۥ وَطَآئِفَةٞ مِّنَ ٱلَّذِينَ مَعَكَۚ وَٱللَّهُ يُقَدِّرُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَۚ عَلِمَ أَن لَّن تُحۡصُوهُ فَتَابَ عَلَيۡكُمۡۖ فَٱقۡرَءُواْ مَا تَيَسَّرَ مِنَ ٱلۡقُرۡءَانِۚ عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرۡضَىٰ وَءَاخَرُونَ يَضۡرِبُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَبۡتَغُونَ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ وَءَاخَرُونَ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۖ فَٱقۡرَءُواْ مَا تَيَسَّرَ مِنۡهُۚ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَقۡرِضُواْ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗاۚ وَمَا تُقَدِّمُواْ لِأَنفُسِكُم مِّنۡ خَيۡرٖ تَجِدُوهُ عِندَ ٱللَّهِ هُوَ خَيۡرٗا وَأَعۡظَمَ أَجۡرٗاۚ وَٱسۡتَغۡفِرُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمُۢ
یقیناً آپ کا رب جانتا ہے کہ بے شک آپ قیام کرتے ہیں (کبھی) قریب دو تہائی رات اور (کبھی) نصف رات اور (کبھی) ایک تہائی رات کے اور ایک گروہ (بھی) ان لوگوں میں سے جو آپ کے ساتھ ہیں اور اللہ ہی (پورا) اندازہ کرتا ہے رات اور دن کا اس نے جان لیا یہ کہ ہرگز نہیں شمار کر سکو گے تم اس کو، پس اس نے توجہ کی تم پر پس تم پڑھو جو آسان ہو قرآن(میں) سے اس نے جان لیا کہ بلاشبہ عنقریب ہوں گے کچھ تم میں سے بیمار اور (کچھ) دوسرے کہ چلیں گے وہ زمین میں تلاش کریں گے فضل اللہ کا اور، (کچھ) اور کہ وہ لڑیں گے اللہ کی راہ میں، تو پڑھو تم جو آسان ہو اس (قرآن) سے اور قائم کرو تم نماز اور دو تم زکاۃ اور قرض دو تم اللہ کو قرض حسنہ اور جو کچھ آگے بھیجو گے تم اپنے نفسوں کے لیے کوئی بھلائی تو پاؤ گے اس کو اللہ کے ہاں بہت بہتر اور بہت زیادہ اجر میں اور بخشش مانگو اللہ سے، بلاشبہ اللہ غفور رحیم ہے (20)
[20] اس سورۂ مبارکہ کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ آپ نصف رات، ایک تہائی رات یا دو تہائی رات قیام کیا کریں اور اصل بات یہ ہے کہ احکام میں آپ اپنی امت کے لیے نمونہ ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر ذکر فرمایا کہ آپ نے اور آپ کے ساتھ اہل ایمان کی ایک جماعت نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی۔ چونکہ مامور بہ وقت کا تعین کرنا لوگوں کے لیے بہت مشکل تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ان کے لیے اس میں انتہائی آسانی پیدا کر دی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ يُقَدِّرُؔ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ دن اور رات کی مقدار کو جانتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کتنا وقت گزر گیا ہے اور کتنا باقی ہے۔﴿ عَلِمَ اَنۡ لَّنۡ تُحۡصُوۡهُ﴾یعنی وہ جانتا ہے کہ کسی کمی بیشی کے بغیر تم اس کی مقدار معلوم نہیں کر سکو گے کیونکہ اس کی مقدار کی معرفت کا حصول، واقفیت اور زائد مشقت کا تقاضا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے تخفیف کر دی ہے اور تمھیں صرف اسی چیز کا حکم دیا ہے جو تمھارے لیے آسان ہے، خواہ وہ مقدار سے زیادہ ہو یا کم۔﴿ فَاقۡرَءُوۡا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الۡقُرۡاٰنِ﴾ ’’لہٰذا پڑھو قرآن میں سے جو آسان ہو‘‘ یعنی اس میں سے جس کی تمھیں معرفت حاصل ہے اورجس کی قراء ت تم پر شاق نہیں گزرتی۔ بنابریں قیام لیل کرنے والا نمازی صرف اس وقت نماز پڑھنے پر مامور ہے جب تک اس میں نشاط ہے، جب وہ اکتاہٹ، کسل مندی یا اونگھ وغیرہ کا شکار ہو جائے تو اسے آرام کرنا چاہیے، اسے طمانینت اور راحت کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے۔پھر اللہ تعالیٰ نے بعض ایسے اسباب ذکر فرمائے جو تخفیف سے مناسبت رکھتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ عَلِمَ اَنۡ سَيَكُوۡنُ مِنۡكُمۡ مَّرۡضٰى﴾ ’’وہ جانتا ہے تم میں سے بیمار بھی ہوں گے۔‘‘ دو تہائی شب ، نصف شب یا ایک تہائی شب کی نماز ان پر شاق گزرے گی، پس مریض اتنی ہی نماز پڑھےجو اس کے لیے آسان ہے، نیز وہ مشقت کی صورت میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے پر بھی مامور نہیں بلکہ اگر نفل نماز پڑھنے میں اس کے لیے مشقت ہے تو وہ اسے چھوڑ دے اور اسے اس نماز کا اجر ملے گا جو وہ صحت مند ہونے کی حالت میں پڑھتا رہا ہے۔ ﴿ وَاٰخَرُوۡنَ يَضۡرِبُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ يَبۡتَغُوۡنَ مِنۡ فَضۡلِ اللّٰهِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ یہ بھی جانتا ہے کہ تم میں مسافر بھی ہیں جو تجارت کے لیے سفر کرتے ہیں تاکہ وہ مخلوق سے بے نیاز اور ان سے سوال کرنے سے باز رہیں۔ پس مسافر کے احوال سے تخفیف مناسبت رکھتی ہے، اسی لیے اس میں اس کے لیے فرض نماز میں بھی تخفیف کر دی گئی ہے اور اس کے لیے ایک وقت میں دو نمازوں کو جمع کرنا اور چار رکعتوں والی نماز میں قصر کرنا مباح کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاٰخَرُوۡنَ يُقَاتِلُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١ۖٞ فَاقۡرَءُوۡا مَا تَيَسَّرَ مِنۡهُ﴾ ’’اور کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد بھی کرتے ہیں، لہٰذا تم با آسانی جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے دو تخفیفوں کا ذکر فرمایا ہے۔اول وہ تخفیف جو صحت مند اور اپنے گھر میں مقیم شخص کے لیے ہے جو وقت کے تعین کا مکلف ہوئے بغیر اپنی راحت اور نشاط کی رعایت رکھتا ہے بلکہ وہ فضیلت والی نماز کی کوشش کرتا ہے اور یہ رات کے نصف اول کے بعد ایک تہائی رات تک قیام کرنا ہے۔ دوسری تخفیف مسافر کے لیے ہے، خواہ یہ سفر تجارت کے لیے ہو یا عبادت ، یعنی جہاد، اور حج وغیرہ کے لیے ہو، پس وہ اتنی مقدار کی رعایت رکھ سکتا ہے جو اس کو تکلیف نہ دے۔پس ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ کے لیے ہے جس نے امت کے لیے دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی بلکہ اس نے اپنی شریعت کو آسان بنایا اور اس نے اپنے بندوں کے احوال، ان کے دین، ابدان اور دنیا کے مصالح کی رعایت رکھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دو عبادتوں کا ذکر فرمایا جو ام العبادات اور ان کا ستون ہیں ، یعنی نماز قائم کرنا جس کے بغیر دین درست نہیں رہتا، اور زکاۃ ادا کرنا جو ایمان کی دلیل ہے اور اس سے حاجت مندوں اور مساکین کے لیے ہمدردی حاصل ہوتی ہے، لہٰذا فرمایا:﴿ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ﴾ یعنی نماز کو اس کے ارکان، اس کی حدود، اس کی شرائط، اور اس کی تکمیل کرنے والے تمام امور کے ساتھ قائم کرو۔﴿ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاَقۡرِضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’اور زکاۃ ادا کرتے رہو اور اللہ کو قرض حسنہ دیتے رہو۔‘‘ یعنی سچی نیت اور ثبات نفس سے، خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے پاک مال میں سے خرچ کرنا، اس میں صدقات واجبہ اور صدقات مستحبہ دونوں داخل ہیں، پھر عام بھلائی اور بھلائی کے کاموں کی ترغیب دی۔ فرمایا:﴿ وَمَا تُقَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِكُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ تَجِدُوۡهُ عِنۡدَ اللّٰهِ هُوَ خَيۡرًا وَّاَعۡظَمَ اَجۡرًا﴾ ’’اور جو نیک عمل تم اپنے لیے آگے بھیجو گے، اس کو اللہ کے ہاں بہتر اور ثواب میں بہت زیادہ پاؤ گے۔‘‘ نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ بے شمار گنا ملتا ہے۔معلوم ہونا چاہیے کہ اس دنیا میں کی ہوئی ذرہ بھر بھلائی کے مقابلے میں، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کے گھر میں دنیا کی لذتوں سے کئی گنا زیادہ لذتیں اور شہوات ہیں، اس دنیا میں کی ہوئی بھلائی اور نیکی، آخرت کے دائمی گھر میں بھلائی اور نیکی کی بنیاد، اس کا بیج، اس کی اصل اور اساس ہے۔ہائے افسوس ! ان اوقات پر جو غفلت میں گزر گئے اور حسرت ہے ان زمانوں پر جو غیر صالح اعمال میں بیت گئے، ہے کوئی مددگار اس دل کا جس پر اس کے پیدا کرنے والے کی کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی اور نہ اس ہستی کی ترغیب کوئی فائدہ دیتی ہے جو اس پر اس سے بھی زیادہ رحم کرتی ہے جتنا وہ خود اپنے پر رحم کر سکتا ہے۔ اے اللہ! ہر قسم کی حمد و ثنا صرف تیرے ہی لیے ہے، تیرے ہی پاس شکایت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ (وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِکَ)﴿ وَاسۡتَغۡفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ بھلائی اور نیکی کے کاموں کی ترغیب دینے کے بعد، استغفار کے حکم دیا جس میں بہت بڑا فائدہ ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بندہ ان کاموں میں کوتاہی سے پاک نہیں جن کا اسے حکم دیا گیا ہے۔ یا تو وہ ان کاموں کو سرے سے کرتا ہی نہیں یا انھیں ناقص طریقے سے کرتا ہے۔ پس اسے استغفار کے ذریعے سے اس کی تلافی کرنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ بندہ دن رات گناہ کرتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت اور مغفرت سے ڈھانپ نہ لے تو وہ ہلاک ہو جائے گا۔