QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

At-Tur

ٱلطُّور

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 52 · 49 verses

52:1

وَٱلطُّورِ

قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ [2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔ [3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ [4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔ [5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔ [6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔ [7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ [8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔ [10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟ [11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔ [13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔ [15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ [16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘
52:2

وَكِتَٰبٖ مَّسۡطُورٖ

قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ [2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔ [3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ [4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔ [5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔ [6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔ [7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ [8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔ [10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟ [11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔ [13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔ [15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ [16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘
52:3

فِي رَقّٖ مَّنشُورٖ

قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ [2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔ [3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ [4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔ [5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔ [6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔ [7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ [8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔ [10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟ [11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔ [13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔ [15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ [16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘
52:4

وَٱلۡبَيۡتِ ٱلۡمَعۡمُورِ

قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ [2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔ [3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ [4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔ [5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔ [6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔ [7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ [8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔ [10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟ [11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔ [13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔ [15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ [16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘
52:5

وَٱلسَّقۡفِ ٱلۡمَرۡفُوعِ

قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ [2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔ [3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ [4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔ [5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔ [6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔ [7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ [8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔ [10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟ [11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔ [13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔ [15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ [16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘
52:6

وَٱلۡبَحۡرِ ٱلۡمَسۡجُورِ

قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ [2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔ [3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ [4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔ [5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔ [6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔ [7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ [8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔ [10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟ [11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔ [13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔ [15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ [16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘
52:7

إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَٰقِعٞ

قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ [2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔ [3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ [4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔ [5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔ [6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔ [7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ [8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔ [10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟ [11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔ [13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔ [15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ [16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘
52:8

مَّا لَهُۥ مِن دَافِعٖ

قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ [2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔ [3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ [4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔ [5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔ [6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔ [7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ [8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔ [10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟ [11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔ [13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔ [15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ [16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘
52:9

يَوۡمَ تَمُورُ ٱلسَّمَآءُ مَوۡرٗا

قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ [2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔ [3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ [4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔ [5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔ [6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔ [7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ [8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔ [10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟ [11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔ [13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔ [15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ [16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘
52:10

وَتَسِيرُ ٱلۡجِبَالُ سَيۡرٗا

قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ [2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔ [3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ [4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔ [5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔ [6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔ [7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ [8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔ [10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟ [11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔ [13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔ [15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ [16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘
52:11

فَوَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ

قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ [2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔ [3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ [4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔ [5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔ [6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔ [7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ [8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔ [10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟ [11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔ [13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔ [15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ [16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘
52:12

ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي خَوۡضٖ يَلۡعَبُونَ

قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ [2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔ [3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ [4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔ [5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔ [6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔ [7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ [8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔ [10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟ [11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔ [13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔ [15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ [16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘
52:13

يَوۡمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا

قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ [2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔ [3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ [4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔ [5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔ [6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔ [7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ [8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔ [10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟ [11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔ [13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔ [15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ [16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘
52:14

هَٰذِهِ ٱلنَّارُ ٱلَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ

قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ [2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔ [3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ [4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔ [5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔ [6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔ [7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ [8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔ [10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟ [11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔ [13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔ [15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ [16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘
52:15

أَفَسِحۡرٌ هَٰذَآ أَمۡ أَنتُمۡ لَا تُبۡصِرُونَ

قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ [2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔ [3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ [4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔ [5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔ [6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔ [7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ [8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔ [10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟ [11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔ [13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔ [15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ [16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘
52:16

ٱصۡلَوۡهَا فَٱصۡبِرُوٓاْ أَوۡ لَا تَصۡبِرُواْ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡۖ إِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ

قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ [2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔ [3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ [4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔ [5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔ [6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔ [7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ [8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ [9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔ [10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟ [11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔ [12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔ [13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔ [15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ [16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘
52:17

إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي جَنَّـٰتٖ وَنَعِيمٖ

بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نعمتوں میں ہوں گے (17) لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ان چیزوں سے جو دے گا ان کو ان کا رب اور بچا لیا انھیں ان کے رب نے عذاب جہنم سے (18)کھاؤ اور پیو خوب مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے(19) تکیہ لگائے ہوں گے ایسے تختوں پر جو ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں گے اور ہم نکاح کر دیں گے ان کا بڑی آنکھوں والی حوروں سے (20) [17] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد، اہل تقویٰ کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تاکہ ترغیب و ترہیب کو اکٹھا کر دے اور دل خوف و رجا کے درمیان رہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ جنھوں نے اپنے رب کے لیے تقویٰ کو اپنا شعار بنایا جو اس کے اوامر کے تعمیل اور اس کی نواہی سے کنارہ کشی کر کے اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچتے رہے۔ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ﴾ وہ باغات میں ہوں گے ، ان باغات کی روشوں کو گھنے درختوں نے ڈھانپ رکھا ہو گا، ان میں اچھلتی کودتی ندیاں ہوں گی، چار دیواری سے گھرے ہوئے محل اور آراستہ کیے ہوئے گھر ہوں گے ﴿ وَّنَعِيۡمٍ﴾ ’’اور نعمتوں میں ہوں گے‘‘ یہ قلب کی نعمت اور روح و بدن کی نعمت کو شامل ہے۔ [18]﴿ فٰــكِهِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمۡ رَبُّهُمۡ﴾ یعنی ان کا رب ان کو جس نعمت سے نوازے گااس سے خوش ہوتے ہوئے، نہایت فرحت و سرور کے ساتھ اس سے متمتع ہوتے ہوئے اس سے لطف اندوز ہوں گے۔ ایسی نعمت جس کا وصف ممکن نہیں اور نہ کوئی نفس یہ جانتا ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی ہے۔ پس ان کو ان کی پسندیدہ چیزیں عطا کرے گا اور ناپسندیدہ چیزوں سے بچائے گا کیونکہ انھوں نے وہ کام کیے جو ان کے رب کو پسند تھے اور ان کاموں سے اجتناب کیا جن سے وہ ناراض ہوتا ہے۔ [19]﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ یعنی ہر قسم کے لذیذ کھانے اور مشروبات جو تمھارا دل چاہتا ہے کھاؤ پیو ﴿هَنِيۡٓـًٔۢا﴾ یعنی مزے سے، بہجت و سرور اور فرحت و مسرت کے ساتھ ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ یعنی تمھیں جو کچھ حاصل ہوا ہے ، تمھارے نیک اعمال اور اچھے اقوال کے باعث حاصل ہوا ہے۔ [20]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصۡفُوۡفَةٍ﴾ ’’وہ برابر بچھے ہوئے (شاندار) تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ الاتکاء سے مراد ہے راحت اور قرار کے ساتھ جم کر بیٹھنا۔ اَلسُّرُرُ سے مراد وہ تخت ہیں جو قیمتی پارچات اور خوبصورت بچھونوں سے آراستہ کیے گئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا تختوں کا وصف بیان کرنا، کہ وہ صف در صف بچھائے گئے ہوں گے، ان کی کثرت، حسن تنظیم، اہل جنت کے اجتماع، ان کی مسرت، ان کے حسن معاشرت اور باہم ملاطفت پر دلالت کرتا ہے۔ جب ان کے لیے قلب اور بدن و روح کی ایسی ایسی نعمتیں یکجا ہو جائیں گی یعنی لذیذماکولات، مشروبات اور حسین اور دلکش مجالس، جن کا گزر کبھی تصور و خیال میں بھی نہ ہوا ہو گا تو عورتوں کے ساتھ تمتع کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا، جن کے بغیر مسرت کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پس اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ان کے لیے ایسی بیویاں ہوں گی جو اپنے اوصاف، تخلیق اور اخلاق کے اعتبار سے کامل ترین عورتیں ہوں گی ۔اس لیے فرمایا:﴿وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ عِيۡنٍ﴾ ’’اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا عقد کریں گے۔‘‘ اس سے مراد وہ عورتیں ہیں، جن میں ظاہری حسن و جمال اور اخلاق فاضلہ جمع ہیں، جو اپنے حسن و جمال سے دیکھنے والوں کو متحیر کر دیتی ہیں اور لوگوں کی عقل سلب کر لیتی ہیں اور دل و صال کی چاہت میں ان کی طرف اڑ کر جاتے ہیں۔ اَلْعَیْنُ سے مراد ملیح اور خوبصورت آنکھوں والی عورتیں جن کی آنکھوں کی سفیدی اور سیاہی نہایت صاف اور واضح ہو۔
52:18

فَٰكِهِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡ وَوَقَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡ عَذَابَ ٱلۡجَحِيمِ

بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نعمتوں میں ہوں گے (17) لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ان چیزوں سے جو دے گا ان کو ان کا رب اور بچا لیا انھیں ان کے رب نے عذاب جہنم سے (18)کھاؤ اور پیو خوب مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے(19) تکیہ لگائے ہوں گے ایسے تختوں پر جو ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں گے اور ہم نکاح کر دیں گے ان کا بڑی آنکھوں والی حوروں سے (20) [17] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد، اہل تقویٰ کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تاکہ ترغیب و ترہیب کو اکٹھا کر دے اور دل خوف و رجا کے درمیان رہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ جنھوں نے اپنے رب کے لیے تقویٰ کو اپنا شعار بنایا جو اس کے اوامر کے تعمیل اور اس کی نواہی سے کنارہ کشی کر کے اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچتے رہے۔ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ﴾ وہ باغات میں ہوں گے ، ان باغات کی روشوں کو گھنے درختوں نے ڈھانپ رکھا ہو گا، ان میں اچھلتی کودتی ندیاں ہوں گی، چار دیواری سے گھرے ہوئے محل اور آراستہ کیے ہوئے گھر ہوں گے ﴿ وَّنَعِيۡمٍ﴾ ’’اور نعمتوں میں ہوں گے‘‘ یہ قلب کی نعمت اور روح و بدن کی نعمت کو شامل ہے۔ [18]﴿ فٰــكِهِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمۡ رَبُّهُمۡ﴾ یعنی ان کا رب ان کو جس نعمت سے نوازے گااس سے خوش ہوتے ہوئے، نہایت فرحت و سرور کے ساتھ اس سے متمتع ہوتے ہوئے اس سے لطف اندوز ہوں گے۔ ایسی نعمت جس کا وصف ممکن نہیں اور نہ کوئی نفس یہ جانتا ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی ہے۔ پس ان کو ان کی پسندیدہ چیزیں عطا کرے گا اور ناپسندیدہ چیزوں سے بچائے گا کیونکہ انھوں نے وہ کام کیے جو ان کے رب کو پسند تھے اور ان کاموں سے اجتناب کیا جن سے وہ ناراض ہوتا ہے۔ [19]﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ یعنی ہر قسم کے لذیذ کھانے اور مشروبات جو تمھارا دل چاہتا ہے کھاؤ پیو ﴿هَنِيۡٓـًٔۢا﴾ یعنی مزے سے، بہجت و سرور اور فرحت و مسرت کے ساتھ ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ یعنی تمھیں جو کچھ حاصل ہوا ہے ، تمھارے نیک اعمال اور اچھے اقوال کے باعث حاصل ہوا ہے۔ [20]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصۡفُوۡفَةٍ﴾ ’’وہ برابر بچھے ہوئے (شاندار) تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ الاتکاء سے مراد ہے راحت اور قرار کے ساتھ جم کر بیٹھنا۔ اَلسُّرُرُ سے مراد وہ تخت ہیں جو قیمتی پارچات اور خوبصورت بچھونوں سے آراستہ کیے گئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا تختوں کا وصف بیان کرنا، کہ وہ صف در صف بچھائے گئے ہوں گے، ان کی کثرت، حسن تنظیم، اہل جنت کے اجتماع، ان کی مسرت، ان کے حسن معاشرت اور باہم ملاطفت پر دلالت کرتا ہے۔ جب ان کے لیے قلب اور بدن و روح کی ایسی ایسی نعمتیں یکجا ہو جائیں گی یعنی لذیذماکولات، مشروبات اور حسین اور دلکش مجالس، جن کا گزر کبھی تصور و خیال میں بھی نہ ہوا ہو گا تو عورتوں کے ساتھ تمتع کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا، جن کے بغیر مسرت کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پس اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ان کے لیے ایسی بیویاں ہوں گی جو اپنے اوصاف، تخلیق اور اخلاق کے اعتبار سے کامل ترین عورتیں ہوں گی ۔اس لیے فرمایا:﴿وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ عِيۡنٍ﴾ ’’اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا عقد کریں گے۔‘‘ اس سے مراد وہ عورتیں ہیں، جن میں ظاہری حسن و جمال اور اخلاق فاضلہ جمع ہیں، جو اپنے حسن و جمال سے دیکھنے والوں کو متحیر کر دیتی ہیں اور لوگوں کی عقل سلب کر لیتی ہیں اور دل و صال کی چاہت میں ان کی طرف اڑ کر جاتے ہیں۔ اَلْعَیْنُ سے مراد ملیح اور خوبصورت آنکھوں والی عورتیں جن کی آنکھوں کی سفیدی اور سیاہی نہایت صاف اور واضح ہو۔
52:19

كُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ هَنِيٓـَٔۢا بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ

بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نعمتوں میں ہوں گے (17) لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ان چیزوں سے جو دے گا ان کو ان کا رب اور بچا لیا انھیں ان کے رب نے عذاب جہنم سے (18)کھاؤ اور پیو خوب مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے(19) تکیہ لگائے ہوں گے ایسے تختوں پر جو ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں گے اور ہم نکاح کر دیں گے ان کا بڑی آنکھوں والی حوروں سے (20) [17] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد، اہل تقویٰ کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تاکہ ترغیب و ترہیب کو اکٹھا کر دے اور دل خوف و رجا کے درمیان رہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ جنھوں نے اپنے رب کے لیے تقویٰ کو اپنا شعار بنایا جو اس کے اوامر کے تعمیل اور اس کی نواہی سے کنارہ کشی کر کے اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچتے رہے۔ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ﴾ وہ باغات میں ہوں گے ، ان باغات کی روشوں کو گھنے درختوں نے ڈھانپ رکھا ہو گا، ان میں اچھلتی کودتی ندیاں ہوں گی، چار دیواری سے گھرے ہوئے محل اور آراستہ کیے ہوئے گھر ہوں گے ﴿ وَّنَعِيۡمٍ﴾ ’’اور نعمتوں میں ہوں گے‘‘ یہ قلب کی نعمت اور روح و بدن کی نعمت کو شامل ہے۔ [18]﴿ فٰــكِهِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمۡ رَبُّهُمۡ﴾ یعنی ان کا رب ان کو جس نعمت سے نوازے گااس سے خوش ہوتے ہوئے، نہایت فرحت و سرور کے ساتھ اس سے متمتع ہوتے ہوئے اس سے لطف اندوز ہوں گے۔ ایسی نعمت جس کا وصف ممکن نہیں اور نہ کوئی نفس یہ جانتا ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی ہے۔ پس ان کو ان کی پسندیدہ چیزیں عطا کرے گا اور ناپسندیدہ چیزوں سے بچائے گا کیونکہ انھوں نے وہ کام کیے جو ان کے رب کو پسند تھے اور ان کاموں سے اجتناب کیا جن سے وہ ناراض ہوتا ہے۔ [19]﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ یعنی ہر قسم کے لذیذ کھانے اور مشروبات جو تمھارا دل چاہتا ہے کھاؤ پیو ﴿هَنِيۡٓـًٔۢا﴾ یعنی مزے سے، بہجت و سرور اور فرحت و مسرت کے ساتھ ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ یعنی تمھیں جو کچھ حاصل ہوا ہے ، تمھارے نیک اعمال اور اچھے اقوال کے باعث حاصل ہوا ہے۔ [20]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصۡفُوۡفَةٍ﴾ ’’وہ برابر بچھے ہوئے (شاندار) تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ الاتکاء سے مراد ہے راحت اور قرار کے ساتھ جم کر بیٹھنا۔ اَلسُّرُرُ سے مراد وہ تخت ہیں جو قیمتی پارچات اور خوبصورت بچھونوں سے آراستہ کیے گئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا تختوں کا وصف بیان کرنا، کہ وہ صف در صف بچھائے گئے ہوں گے، ان کی کثرت، حسن تنظیم، اہل جنت کے اجتماع، ان کی مسرت، ان کے حسن معاشرت اور باہم ملاطفت پر دلالت کرتا ہے۔ جب ان کے لیے قلب اور بدن و روح کی ایسی ایسی نعمتیں یکجا ہو جائیں گی یعنی لذیذماکولات، مشروبات اور حسین اور دلکش مجالس، جن کا گزر کبھی تصور و خیال میں بھی نہ ہوا ہو گا تو عورتوں کے ساتھ تمتع کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا، جن کے بغیر مسرت کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پس اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ان کے لیے ایسی بیویاں ہوں گی جو اپنے اوصاف، تخلیق اور اخلاق کے اعتبار سے کامل ترین عورتیں ہوں گی ۔اس لیے فرمایا:﴿وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ عِيۡنٍ﴾ ’’اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا عقد کریں گے۔‘‘ اس سے مراد وہ عورتیں ہیں، جن میں ظاہری حسن و جمال اور اخلاق فاضلہ جمع ہیں، جو اپنے حسن و جمال سے دیکھنے والوں کو متحیر کر دیتی ہیں اور لوگوں کی عقل سلب کر لیتی ہیں اور دل و صال کی چاہت میں ان کی طرف اڑ کر جاتے ہیں۔ اَلْعَیْنُ سے مراد ملیح اور خوبصورت آنکھوں والی عورتیں جن کی آنکھوں کی سفیدی اور سیاہی نہایت صاف اور واضح ہو۔
52:20

مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ سُرُرٖ مَّصۡفُوفَةٖۖ وَزَوَّجۡنَٰهُم بِحُورٍ عِينٖ

بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نعمتوں میں ہوں گے (17) لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ان چیزوں سے جو دے گا ان کو ان کا رب اور بچا لیا انھیں ان کے رب نے عذاب جہنم سے (18)کھاؤ اور پیو خوب مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے(19) تکیہ لگائے ہوں گے ایسے تختوں پر جو ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں گے اور ہم نکاح کر دیں گے ان کا بڑی آنکھوں والی حوروں سے (20) [17] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد، اہل تقویٰ کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تاکہ ترغیب و ترہیب کو اکٹھا کر دے اور دل خوف و رجا کے درمیان رہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ جنھوں نے اپنے رب کے لیے تقویٰ کو اپنا شعار بنایا جو اس کے اوامر کے تعمیل اور اس کی نواہی سے کنارہ کشی کر کے اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچتے رہے۔ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ﴾ وہ باغات میں ہوں گے ، ان باغات کی روشوں کو گھنے درختوں نے ڈھانپ رکھا ہو گا، ان میں اچھلتی کودتی ندیاں ہوں گی، چار دیواری سے گھرے ہوئے محل اور آراستہ کیے ہوئے گھر ہوں گے ﴿ وَّنَعِيۡمٍ﴾ ’’اور نعمتوں میں ہوں گے‘‘ یہ قلب کی نعمت اور روح و بدن کی نعمت کو شامل ہے۔ [18]﴿ فٰــكِهِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمۡ رَبُّهُمۡ﴾ یعنی ان کا رب ان کو جس نعمت سے نوازے گااس سے خوش ہوتے ہوئے، نہایت فرحت و سرور کے ساتھ اس سے متمتع ہوتے ہوئے اس سے لطف اندوز ہوں گے۔ ایسی نعمت جس کا وصف ممکن نہیں اور نہ کوئی نفس یہ جانتا ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی ہے۔ پس ان کو ان کی پسندیدہ چیزیں عطا کرے گا اور ناپسندیدہ چیزوں سے بچائے گا کیونکہ انھوں نے وہ کام کیے جو ان کے رب کو پسند تھے اور ان کاموں سے اجتناب کیا جن سے وہ ناراض ہوتا ہے۔ [19]﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ یعنی ہر قسم کے لذیذ کھانے اور مشروبات جو تمھارا دل چاہتا ہے کھاؤ پیو ﴿هَنِيۡٓـًٔۢا﴾ یعنی مزے سے، بہجت و سرور اور فرحت و مسرت کے ساتھ ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ یعنی تمھیں جو کچھ حاصل ہوا ہے ، تمھارے نیک اعمال اور اچھے اقوال کے باعث حاصل ہوا ہے۔ [20]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصۡفُوۡفَةٍ﴾ ’’وہ برابر بچھے ہوئے (شاندار) تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ الاتکاء سے مراد ہے راحت اور قرار کے ساتھ جم کر بیٹھنا۔ اَلسُّرُرُ سے مراد وہ تخت ہیں جو قیمتی پارچات اور خوبصورت بچھونوں سے آراستہ کیے گئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا تختوں کا وصف بیان کرنا، کہ وہ صف در صف بچھائے گئے ہوں گے، ان کی کثرت، حسن تنظیم، اہل جنت کے اجتماع، ان کی مسرت، ان کے حسن معاشرت اور باہم ملاطفت پر دلالت کرتا ہے۔ جب ان کے لیے قلب اور بدن و روح کی ایسی ایسی نعمتیں یکجا ہو جائیں گی یعنی لذیذماکولات، مشروبات اور حسین اور دلکش مجالس، جن کا گزر کبھی تصور و خیال میں بھی نہ ہوا ہو گا تو عورتوں کے ساتھ تمتع کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا، جن کے بغیر مسرت کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پس اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ان کے لیے ایسی بیویاں ہوں گی جو اپنے اوصاف، تخلیق اور اخلاق کے اعتبار سے کامل ترین عورتیں ہوں گی ۔اس لیے فرمایا:﴿وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ عِيۡنٍ﴾ ’’اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا عقد کریں گے۔‘‘ اس سے مراد وہ عورتیں ہیں، جن میں ظاہری حسن و جمال اور اخلاق فاضلہ جمع ہیں، جو اپنے حسن و جمال سے دیکھنے والوں کو متحیر کر دیتی ہیں اور لوگوں کی عقل سلب کر لیتی ہیں اور دل و صال کی چاہت میں ان کی طرف اڑ کر جاتے ہیں۔ اَلْعَیْنُ سے مراد ملیح اور خوبصورت آنکھوں والی عورتیں جن کی آنکھوں کی سفیدی اور سیاہی نہایت صاف اور واضح ہو۔
52:21

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱتَّبَعَتۡهُمۡ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَٰنٍ أَلۡحَقۡنَا بِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَمَآ أَلَتۡنَٰهُم مِّنۡ عَمَلِهِم مِّن شَيۡءٖۚ كُلُّ ٱمۡرِيِٕۭ بِمَا كَسَبَ رَهِينٞ

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور پیروی کی ان کی ان کی اولاد نے ساتھ ایمان کے تو ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو(جنت میں)، اور نہیں کم کریں گے ہم ان کے لیے ان کے عمل سے کچھ بھی ہر شخص ساتھ اس کے جو اس نے کمایا گروی ہے (21) اور ہم خوب دیں گے ان کو لذیذ میوے اور گوشت اس سے جو وہ چاہیں گے (22) ایک دوسرے سے جھپٹیں گے ایسا جام شراب کہ نہ لغو(بکواس)ہو گی اس میں اور نہ کوئی گنا ہ (23) اور پھر رہے ہوں گے ان پر نو عمر لڑکے ان (کی خدمت) کے لیے گویا کہ وہ موتی ہیں پردے میں چھپائے ہوئے (24) اور متوجہ ہوں گے بعض ان کے بعض پر، ایک دوسرے سے(حال) پوچھتے ہوئے (25) وہ کہیں گے، بلاشبہ تھے ہم پہلے (اس سے) اپنے اہل (و عیال) میں ڈرنے والے (26) پس احسان کیا اللہ نے ہم پر اور اس نے بچایا ہمیں لو (گرم ہوا) کے عذاب سے (27) بلاشبہ تھے ہم پہلے ہی اس(اللہ) کو پکارتے بے شک وہی ہے خوب احسان کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا (28) [21] یہ اہل جنت کی نعمتوں کی تکمیل ہے کہ اللہ تعالیٰ، اہل جنت کے ساتھ ان کی اس اولاد کو بھی لے جائے گا، جنھوں نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی۔ یعنی وہ اس ایمان کی بنا پر ان کے ساتھ جا ملیں گے جو ان کے آباء و اجداد سے صادر ہوا اور اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی اتباع کی۔ اگر اولاد نے اپنے ایمان کے ساتھ جو خود ان سے صادر ہوا، اپنے آباء و اجداد کی اتباع کی تو ان کے اپنے آباء کے ساتھ لاحق ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ان مذکورہ بالا لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے آباء و اجداد کے ساتھ ان کے مقامات میں ملائے گا، اگرچہ وہ ان مقامات پر نہ جا سکیں گے، یہ الحاق ان کے آباء و اجداد کے لیے جزا اور ان کے ثواب میں اضافہ کے طور پر ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ آباء اجداد کے اعمال میں کوئی کمی واقع نہیں کرے گا۔چونکہ کسی کو یہ توہم لاحق ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جہنم کے ساتھ بھی یہی کرے گا، ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جنت اور جہنم کے احکام ایک جیسے نہیں ہیں۔ جہنم دار عدل ہے اور اللہ تعالیٰ کا عدل یہ ہے کہ وہ کسی کو گناہ کے بغیر سزا نہیں دیتا، اس لیے فرمایا :﴿ كُلُّ امۡرِئٍۭؔ بِمَا كَسَبَ رَهِيۡنٌ﴾ یعنی ہر شخص اپنے عمل ہی کا گروی ہے۔ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھائے گی نہ کسی پر کسی دوسرے کا گناہ ڈالا جائے گا۔ [22]﴿وَاَمۡدَدۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی ہم اپنے بے پایاں فضل وکرم سے اہل جنت کو اور زیادہ نعمتیں عطا کریں گے اور رزق عام میں سے بہرہ مند کریں گے۔ ﴿بِفَاكِهَةٍ﴾ یعنی انگور، انار، سیب اور نہایت لذیذ میووں کی مختلف اصناف سے نوازیں گے جو اس پر مستزاد ہوں گے جسے عام خوراک کے طور پر استعمال کریں گے ﴿ وَّلَحۡمٍ مِّؔمَّا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ اور پرندوں وغیرہ کے ہر قسم کے گوشت جو وہ طلب کریں گے اور جو ان کا دل چاہے گا۔ [23]﴿ يَتَنَازَعُوۡنَ فِيۡهَا كَاۡسًا ﴾ رحیق اور شراب کے جاموں کا دور چلے گا وہ آپس میں ایک دوسرے سے جام لے رہے ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے لڑکے پیالے اور صراحیاں لیے ان کے درمیان (خدمت کے لیے) گھوم رہے ہوں گے۔ ﴿ لَّا لَغۡوٌ فِيۡهَا وَلَا تَاۡثِيۡمٌ ﴾ یعنی جنت میں کوئی لغو بات نہ ہو گی، وہ بات جس میں کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس میں کوئی گناہ کی بات ہو گی ۔ اور اس سے مراد وہ بات ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کا کوئی پہلو ہو۔جب کلام لغو اور کلام معصیت دونوں کی نفی ہو گئی تو اس سے تیسری چیز کا اثبات ہو گیا ، یعنی ان کا کلام (لغو امور سے) سلامت، اور طیب و طاہر ہو گا جو نفوس کو مسرت اور دلوں کو فرحت بخشے گا، وہ بہترین طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کی دوستی پاکیزہ ترین دوستی ہو گی، انھیں اپنے رب کی طرف سے صرف وہی باتیں سننے کو ملیں گی، جو ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں گی اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے ان پر راضی ہونے اور ان سے محبت پر دلالت کرتی ہے۔ [24]﴿ وَيَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ غِلۡمَانٌ لَّهُمۡ ﴾ یعنی نوجوان خدام ان کے آس پاس پھریں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ ﴾ اپنے حسن اور خو ب صورتی کی بنا پر گویا وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں، ان کی خدمت اور ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس آ جا رہے ہوں گے۔ یہ چیز ان کے لیے بے پایاں نعمتوں اور ان کے لیے کامل راحت پر دلالت کرتی ہے۔ [25]﴿ وَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے۔‘‘ یعنی دنیا کے معاملات اور اس کے احوال کے بارے میں۔ [26]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ یعنی وہ اس چیز کا ذکر کرتے ہوئے جس نے انھیں خوشی اور مسرت کے احوال تک پہنچایا ہے، کہیں گے:﴿ اِنَّا كُنَّا قَبۡلُ﴾ ’’بلاشبہ اس سے پہلے ہم۔‘‘ یعنی دنیا کے گھر میں ﴿ فِيۡۤ اَهۡلِنَا مُشۡفِقِيۡنَ ﴾ ’’اپنے اہل و عیال میں (اللہ سے) ڈرا کرتےتھے۔‘‘ یعنی ہم نے اس کے خوف کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس بنا پر عیوب کو درست کر لیا۔ [27]﴿ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت اور توفیق سے سرفراز فرمایا اور ہم پر احسان فرمایا۔ ﴿ وَوَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ﴾ اور گرم عذاب سے جس کی حرارت بہت سخت ہو گی، ہمیں بچایا۔ [28]﴿ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلُ نَدۡعُوۡهُ ﴾ ’’بے شک اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔‘‘ کہ وہ ہمیں عذاب سموم سے بچائے اور نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے ۔یہ جملہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ یعنی ہم مختلف عبادات کے ذریعے سے اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور تمام اوقات میں اس کو پکارتے ہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡـبَرُّ الرَّحِيۡمُ﴾ پس ہم پر اس کا احسان اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں اپنی رضا اور جنت سے بہرہ ور کیا اور اپنی ناراضی اور جہنم کے عذاب سے بچایا۔
52:22

وَأَمۡدَدۡنَٰهُم بِفَٰكِهَةٖ وَلَحۡمٖ مِّمَّا يَشۡتَهُونَ

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور پیروی کی ان کی ان کی اولاد نے ساتھ ایمان کے تو ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو(جنت میں)، اور نہیں کم کریں گے ہم ان کے لیے ان کے عمل سے کچھ بھی ہر شخص ساتھ اس کے جو اس نے کمایا گروی ہے (21) اور ہم خوب دیں گے ان کو لذیذ میوے اور گوشت اس سے جو وہ چاہیں گے (22) ایک دوسرے سے جھپٹیں گے ایسا جام شراب کہ نہ لغو(بکواس)ہو گی اس میں اور نہ کوئی گنا ہ (23) اور پھر رہے ہوں گے ان پر نو عمر لڑکے ان (کی خدمت) کے لیے گویا کہ وہ موتی ہیں پردے میں چھپائے ہوئے (24) اور متوجہ ہوں گے بعض ان کے بعض پر، ایک دوسرے سے(حال) پوچھتے ہوئے (25) وہ کہیں گے، بلاشبہ تھے ہم پہلے (اس سے) اپنے اہل (و عیال) میں ڈرنے والے (26) پس احسان کیا اللہ نے ہم پر اور اس نے بچایا ہمیں لو (گرم ہوا) کے عذاب سے (27) بلاشبہ تھے ہم پہلے ہی اس(اللہ) کو پکارتے بے شک وہی ہے خوب احسان کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا (28) [21] یہ اہل جنت کی نعمتوں کی تکمیل ہے کہ اللہ تعالیٰ، اہل جنت کے ساتھ ان کی اس اولاد کو بھی لے جائے گا، جنھوں نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی۔ یعنی وہ اس ایمان کی بنا پر ان کے ساتھ جا ملیں گے جو ان کے آباء و اجداد سے صادر ہوا اور اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی اتباع کی۔ اگر اولاد نے اپنے ایمان کے ساتھ جو خود ان سے صادر ہوا، اپنے آباء و اجداد کی اتباع کی تو ان کے اپنے آباء کے ساتھ لاحق ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ان مذکورہ بالا لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے آباء و اجداد کے ساتھ ان کے مقامات میں ملائے گا، اگرچہ وہ ان مقامات پر نہ جا سکیں گے، یہ الحاق ان کے آباء و اجداد کے لیے جزا اور ان کے ثواب میں اضافہ کے طور پر ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ آباء اجداد کے اعمال میں کوئی کمی واقع نہیں کرے گا۔چونکہ کسی کو یہ توہم لاحق ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جہنم کے ساتھ بھی یہی کرے گا، ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جنت اور جہنم کے احکام ایک جیسے نہیں ہیں۔ جہنم دار عدل ہے اور اللہ تعالیٰ کا عدل یہ ہے کہ وہ کسی کو گناہ کے بغیر سزا نہیں دیتا، اس لیے فرمایا :﴿ كُلُّ امۡرِئٍۭؔ بِمَا كَسَبَ رَهِيۡنٌ﴾ یعنی ہر شخص اپنے عمل ہی کا گروی ہے۔ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھائے گی نہ کسی پر کسی دوسرے کا گناہ ڈالا جائے گا۔ [22]﴿وَاَمۡدَدۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی ہم اپنے بے پایاں فضل وکرم سے اہل جنت کو اور زیادہ نعمتیں عطا کریں گے اور رزق عام میں سے بہرہ مند کریں گے۔ ﴿بِفَاكِهَةٍ﴾ یعنی انگور، انار، سیب اور نہایت لذیذ میووں کی مختلف اصناف سے نوازیں گے جو اس پر مستزاد ہوں گے جسے عام خوراک کے طور پر استعمال کریں گے ﴿ وَّلَحۡمٍ مِّؔمَّا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ اور پرندوں وغیرہ کے ہر قسم کے گوشت جو وہ طلب کریں گے اور جو ان کا دل چاہے گا۔ [23]﴿ يَتَنَازَعُوۡنَ فِيۡهَا كَاۡسًا ﴾ رحیق اور شراب کے جاموں کا دور چلے گا وہ آپس میں ایک دوسرے سے جام لے رہے ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے لڑکے پیالے اور صراحیاں لیے ان کے درمیان (خدمت کے لیے) گھوم رہے ہوں گے۔ ﴿ لَّا لَغۡوٌ فِيۡهَا وَلَا تَاۡثِيۡمٌ ﴾ یعنی جنت میں کوئی لغو بات نہ ہو گی، وہ بات جس میں کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس میں کوئی گناہ کی بات ہو گی ۔ اور اس سے مراد وہ بات ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کا کوئی پہلو ہو۔جب کلام لغو اور کلام معصیت دونوں کی نفی ہو گئی تو اس سے تیسری چیز کا اثبات ہو گیا ، یعنی ان کا کلام (لغو امور سے) سلامت، اور طیب و طاہر ہو گا جو نفوس کو مسرت اور دلوں کو فرحت بخشے گا، وہ بہترین طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کی دوستی پاکیزہ ترین دوستی ہو گی، انھیں اپنے رب کی طرف سے صرف وہی باتیں سننے کو ملیں گی، جو ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں گی اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے ان پر راضی ہونے اور ان سے محبت پر دلالت کرتی ہے۔ [24]﴿ وَيَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ غِلۡمَانٌ لَّهُمۡ ﴾ یعنی نوجوان خدام ان کے آس پاس پھریں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ ﴾ اپنے حسن اور خو ب صورتی کی بنا پر گویا وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں، ان کی خدمت اور ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس آ جا رہے ہوں گے۔ یہ چیز ان کے لیے بے پایاں نعمتوں اور ان کے لیے کامل راحت پر دلالت کرتی ہے۔ [25]﴿ وَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے۔‘‘ یعنی دنیا کے معاملات اور اس کے احوال کے بارے میں۔ [26]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ یعنی وہ اس چیز کا ذکر کرتے ہوئے جس نے انھیں خوشی اور مسرت کے احوال تک پہنچایا ہے، کہیں گے:﴿ اِنَّا كُنَّا قَبۡلُ﴾ ’’بلاشبہ اس سے پہلے ہم۔‘‘ یعنی دنیا کے گھر میں ﴿ فِيۡۤ اَهۡلِنَا مُشۡفِقِيۡنَ ﴾ ’’اپنے اہل و عیال میں (اللہ سے) ڈرا کرتےتھے۔‘‘ یعنی ہم نے اس کے خوف کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس بنا پر عیوب کو درست کر لیا۔ [27]﴿ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت اور توفیق سے سرفراز فرمایا اور ہم پر احسان فرمایا۔ ﴿ وَوَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ﴾ اور گرم عذاب سے جس کی حرارت بہت سخت ہو گی، ہمیں بچایا۔ [28]﴿ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلُ نَدۡعُوۡهُ ﴾ ’’بے شک اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔‘‘ کہ وہ ہمیں عذاب سموم سے بچائے اور نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے ۔یہ جملہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ یعنی ہم مختلف عبادات کے ذریعے سے اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور تمام اوقات میں اس کو پکارتے ہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡـبَرُّ الرَّحِيۡمُ﴾ پس ہم پر اس کا احسان اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں اپنی رضا اور جنت سے بہرہ ور کیا اور اپنی ناراضی اور جہنم کے عذاب سے بچایا۔
52:23

يَتَنَٰزَعُونَ فِيهَا كَأۡسٗا لَّا لَغۡوٞ فِيهَا وَلَا تَأۡثِيمٞ

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور پیروی کی ان کی ان کی اولاد نے ساتھ ایمان کے تو ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو(جنت میں)، اور نہیں کم کریں گے ہم ان کے لیے ان کے عمل سے کچھ بھی ہر شخص ساتھ اس کے جو اس نے کمایا گروی ہے (21) اور ہم خوب دیں گے ان کو لذیذ میوے اور گوشت اس سے جو وہ چاہیں گے (22) ایک دوسرے سے جھپٹیں گے ایسا جام شراب کہ نہ لغو(بکواس)ہو گی اس میں اور نہ کوئی گنا ہ (23) اور پھر رہے ہوں گے ان پر نو عمر لڑکے ان (کی خدمت) کے لیے گویا کہ وہ موتی ہیں پردے میں چھپائے ہوئے (24) اور متوجہ ہوں گے بعض ان کے بعض پر، ایک دوسرے سے(حال) پوچھتے ہوئے (25) وہ کہیں گے، بلاشبہ تھے ہم پہلے (اس سے) اپنے اہل (و عیال) میں ڈرنے والے (26) پس احسان کیا اللہ نے ہم پر اور اس نے بچایا ہمیں لو (گرم ہوا) کے عذاب سے (27) بلاشبہ تھے ہم پہلے ہی اس(اللہ) کو پکارتے بے شک وہی ہے خوب احسان کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا (28) [21] یہ اہل جنت کی نعمتوں کی تکمیل ہے کہ اللہ تعالیٰ، اہل جنت کے ساتھ ان کی اس اولاد کو بھی لے جائے گا، جنھوں نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی۔ یعنی وہ اس ایمان کی بنا پر ان کے ساتھ جا ملیں گے جو ان کے آباء و اجداد سے صادر ہوا اور اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی اتباع کی۔ اگر اولاد نے اپنے ایمان کے ساتھ جو خود ان سے صادر ہوا، اپنے آباء و اجداد کی اتباع کی تو ان کے اپنے آباء کے ساتھ لاحق ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ان مذکورہ بالا لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے آباء و اجداد کے ساتھ ان کے مقامات میں ملائے گا، اگرچہ وہ ان مقامات پر نہ جا سکیں گے، یہ الحاق ان کے آباء و اجداد کے لیے جزا اور ان کے ثواب میں اضافہ کے طور پر ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ آباء اجداد کے اعمال میں کوئی کمی واقع نہیں کرے گا۔چونکہ کسی کو یہ توہم لاحق ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جہنم کے ساتھ بھی یہی کرے گا، ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جنت اور جہنم کے احکام ایک جیسے نہیں ہیں۔ جہنم دار عدل ہے اور اللہ تعالیٰ کا عدل یہ ہے کہ وہ کسی کو گناہ کے بغیر سزا نہیں دیتا، اس لیے فرمایا :﴿ كُلُّ امۡرِئٍۭؔ بِمَا كَسَبَ رَهِيۡنٌ﴾ یعنی ہر شخص اپنے عمل ہی کا گروی ہے۔ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھائے گی نہ کسی پر کسی دوسرے کا گناہ ڈالا جائے گا۔ [22]﴿وَاَمۡدَدۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی ہم اپنے بے پایاں فضل وکرم سے اہل جنت کو اور زیادہ نعمتیں عطا کریں گے اور رزق عام میں سے بہرہ مند کریں گے۔ ﴿بِفَاكِهَةٍ﴾ یعنی انگور، انار، سیب اور نہایت لذیذ میووں کی مختلف اصناف سے نوازیں گے جو اس پر مستزاد ہوں گے جسے عام خوراک کے طور پر استعمال کریں گے ﴿ وَّلَحۡمٍ مِّؔمَّا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ اور پرندوں وغیرہ کے ہر قسم کے گوشت جو وہ طلب کریں گے اور جو ان کا دل چاہے گا۔ [23]﴿ يَتَنَازَعُوۡنَ فِيۡهَا كَاۡسًا ﴾ رحیق اور شراب کے جاموں کا دور چلے گا وہ آپس میں ایک دوسرے سے جام لے رہے ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے لڑکے پیالے اور صراحیاں لیے ان کے درمیان (خدمت کے لیے) گھوم رہے ہوں گے۔ ﴿ لَّا لَغۡوٌ فِيۡهَا وَلَا تَاۡثِيۡمٌ ﴾ یعنی جنت میں کوئی لغو بات نہ ہو گی، وہ بات جس میں کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس میں کوئی گناہ کی بات ہو گی ۔ اور اس سے مراد وہ بات ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کا کوئی پہلو ہو۔جب کلام لغو اور کلام معصیت دونوں کی نفی ہو گئی تو اس سے تیسری چیز کا اثبات ہو گیا ، یعنی ان کا کلام (لغو امور سے) سلامت، اور طیب و طاہر ہو گا جو نفوس کو مسرت اور دلوں کو فرحت بخشے گا، وہ بہترین طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کی دوستی پاکیزہ ترین دوستی ہو گی، انھیں اپنے رب کی طرف سے صرف وہی باتیں سننے کو ملیں گی، جو ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں گی اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے ان پر راضی ہونے اور ان سے محبت پر دلالت کرتی ہے۔ [24]﴿ وَيَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ غِلۡمَانٌ لَّهُمۡ ﴾ یعنی نوجوان خدام ان کے آس پاس پھریں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ ﴾ اپنے حسن اور خو ب صورتی کی بنا پر گویا وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں، ان کی خدمت اور ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس آ جا رہے ہوں گے۔ یہ چیز ان کے لیے بے پایاں نعمتوں اور ان کے لیے کامل راحت پر دلالت کرتی ہے۔ [25]﴿ وَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے۔‘‘ یعنی دنیا کے معاملات اور اس کے احوال کے بارے میں۔ [26]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ یعنی وہ اس چیز کا ذکر کرتے ہوئے جس نے انھیں خوشی اور مسرت کے احوال تک پہنچایا ہے، کہیں گے:﴿ اِنَّا كُنَّا قَبۡلُ﴾ ’’بلاشبہ اس سے پہلے ہم۔‘‘ یعنی دنیا کے گھر میں ﴿ فِيۡۤ اَهۡلِنَا مُشۡفِقِيۡنَ ﴾ ’’اپنے اہل و عیال میں (اللہ سے) ڈرا کرتےتھے۔‘‘ یعنی ہم نے اس کے خوف کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس بنا پر عیوب کو درست کر لیا۔ [27]﴿ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت اور توفیق سے سرفراز فرمایا اور ہم پر احسان فرمایا۔ ﴿ وَوَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ﴾ اور گرم عذاب سے جس کی حرارت بہت سخت ہو گی، ہمیں بچایا۔ [28]﴿ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلُ نَدۡعُوۡهُ ﴾ ’’بے شک اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔‘‘ کہ وہ ہمیں عذاب سموم سے بچائے اور نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے ۔یہ جملہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ یعنی ہم مختلف عبادات کے ذریعے سے اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور تمام اوقات میں اس کو پکارتے ہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡـبَرُّ الرَّحِيۡمُ﴾ پس ہم پر اس کا احسان اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں اپنی رضا اور جنت سے بہرہ ور کیا اور اپنی ناراضی اور جہنم کے عذاب سے بچایا۔
52:24

۞وَيَطُوفُ عَلَيۡهِمۡ غِلۡمَانٞ لَّهُمۡ كَأَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٞ مَّكۡنُونٞ

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور پیروی کی ان کی ان کی اولاد نے ساتھ ایمان کے تو ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو(جنت میں)، اور نہیں کم کریں گے ہم ان کے لیے ان کے عمل سے کچھ بھی ہر شخص ساتھ اس کے جو اس نے کمایا گروی ہے (21) اور ہم خوب دیں گے ان کو لذیذ میوے اور گوشت اس سے جو وہ چاہیں گے (22) ایک دوسرے سے جھپٹیں گے ایسا جام شراب کہ نہ لغو(بکواس)ہو گی اس میں اور نہ کوئی گنا ہ (23) اور پھر رہے ہوں گے ان پر نو عمر لڑکے ان (کی خدمت) کے لیے گویا کہ وہ موتی ہیں پردے میں چھپائے ہوئے (24) اور متوجہ ہوں گے بعض ان کے بعض پر، ایک دوسرے سے(حال) پوچھتے ہوئے (25) وہ کہیں گے، بلاشبہ تھے ہم پہلے (اس سے) اپنے اہل (و عیال) میں ڈرنے والے (26) پس احسان کیا اللہ نے ہم پر اور اس نے بچایا ہمیں لو (گرم ہوا) کے عذاب سے (27) بلاشبہ تھے ہم پہلے ہی اس(اللہ) کو پکارتے بے شک وہی ہے خوب احسان کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا (28) [21] یہ اہل جنت کی نعمتوں کی تکمیل ہے کہ اللہ تعالیٰ، اہل جنت کے ساتھ ان کی اس اولاد کو بھی لے جائے گا، جنھوں نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی۔ یعنی وہ اس ایمان کی بنا پر ان کے ساتھ جا ملیں گے جو ان کے آباء و اجداد سے صادر ہوا اور اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی اتباع کی۔ اگر اولاد نے اپنے ایمان کے ساتھ جو خود ان سے صادر ہوا، اپنے آباء و اجداد کی اتباع کی تو ان کے اپنے آباء کے ساتھ لاحق ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ان مذکورہ بالا لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے آباء و اجداد کے ساتھ ان کے مقامات میں ملائے گا، اگرچہ وہ ان مقامات پر نہ جا سکیں گے، یہ الحاق ان کے آباء و اجداد کے لیے جزا اور ان کے ثواب میں اضافہ کے طور پر ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ آباء اجداد کے اعمال میں کوئی کمی واقع نہیں کرے گا۔چونکہ کسی کو یہ توہم لاحق ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جہنم کے ساتھ بھی یہی کرے گا، ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جنت اور جہنم کے احکام ایک جیسے نہیں ہیں۔ جہنم دار عدل ہے اور اللہ تعالیٰ کا عدل یہ ہے کہ وہ کسی کو گناہ کے بغیر سزا نہیں دیتا، اس لیے فرمایا :﴿ كُلُّ امۡرِئٍۭؔ بِمَا كَسَبَ رَهِيۡنٌ﴾ یعنی ہر شخص اپنے عمل ہی کا گروی ہے۔ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھائے گی نہ کسی پر کسی دوسرے کا گناہ ڈالا جائے گا۔ [22]﴿وَاَمۡدَدۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی ہم اپنے بے پایاں فضل وکرم سے اہل جنت کو اور زیادہ نعمتیں عطا کریں گے اور رزق عام میں سے بہرہ مند کریں گے۔ ﴿بِفَاكِهَةٍ﴾ یعنی انگور، انار، سیب اور نہایت لذیذ میووں کی مختلف اصناف سے نوازیں گے جو اس پر مستزاد ہوں گے جسے عام خوراک کے طور پر استعمال کریں گے ﴿ وَّلَحۡمٍ مِّؔمَّا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ اور پرندوں وغیرہ کے ہر قسم کے گوشت جو وہ طلب کریں گے اور جو ان کا دل چاہے گا۔ [23]﴿ يَتَنَازَعُوۡنَ فِيۡهَا كَاۡسًا ﴾ رحیق اور شراب کے جاموں کا دور چلے گا وہ آپس میں ایک دوسرے سے جام لے رہے ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے لڑکے پیالے اور صراحیاں لیے ان کے درمیان (خدمت کے لیے) گھوم رہے ہوں گے۔ ﴿ لَّا لَغۡوٌ فِيۡهَا وَلَا تَاۡثِيۡمٌ ﴾ یعنی جنت میں کوئی لغو بات نہ ہو گی، وہ بات جس میں کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس میں کوئی گناہ کی بات ہو گی ۔ اور اس سے مراد وہ بات ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کا کوئی پہلو ہو۔جب کلام لغو اور کلام معصیت دونوں کی نفی ہو گئی تو اس سے تیسری چیز کا اثبات ہو گیا ، یعنی ان کا کلام (لغو امور سے) سلامت، اور طیب و طاہر ہو گا جو نفوس کو مسرت اور دلوں کو فرحت بخشے گا، وہ بہترین طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کی دوستی پاکیزہ ترین دوستی ہو گی، انھیں اپنے رب کی طرف سے صرف وہی باتیں سننے کو ملیں گی، جو ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں گی اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے ان پر راضی ہونے اور ان سے محبت پر دلالت کرتی ہے۔ [24]﴿ وَيَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ غِلۡمَانٌ لَّهُمۡ ﴾ یعنی نوجوان خدام ان کے آس پاس پھریں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ ﴾ اپنے حسن اور خو ب صورتی کی بنا پر گویا وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں، ان کی خدمت اور ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس آ جا رہے ہوں گے۔ یہ چیز ان کے لیے بے پایاں نعمتوں اور ان کے لیے کامل راحت پر دلالت کرتی ہے۔ [25]﴿ وَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے۔‘‘ یعنی دنیا کے معاملات اور اس کے احوال کے بارے میں۔ [26]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ یعنی وہ اس چیز کا ذکر کرتے ہوئے جس نے انھیں خوشی اور مسرت کے احوال تک پہنچایا ہے، کہیں گے:﴿ اِنَّا كُنَّا قَبۡلُ﴾ ’’بلاشبہ اس سے پہلے ہم۔‘‘ یعنی دنیا کے گھر میں ﴿ فِيۡۤ اَهۡلِنَا مُشۡفِقِيۡنَ ﴾ ’’اپنے اہل و عیال میں (اللہ سے) ڈرا کرتےتھے۔‘‘ یعنی ہم نے اس کے خوف کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس بنا پر عیوب کو درست کر لیا۔ [27]﴿ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت اور توفیق سے سرفراز فرمایا اور ہم پر احسان فرمایا۔ ﴿ وَوَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ﴾ اور گرم عذاب سے جس کی حرارت بہت سخت ہو گی، ہمیں بچایا۔ [28]﴿ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلُ نَدۡعُوۡهُ ﴾ ’’بے شک اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔‘‘ کہ وہ ہمیں عذاب سموم سے بچائے اور نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے ۔یہ جملہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ یعنی ہم مختلف عبادات کے ذریعے سے اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور تمام اوقات میں اس کو پکارتے ہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡـبَرُّ الرَّحِيۡمُ﴾ پس ہم پر اس کا احسان اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں اپنی رضا اور جنت سے بہرہ ور کیا اور اپنی ناراضی اور جہنم کے عذاب سے بچایا۔
52:25

وَأَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ يَتَسَآءَلُونَ

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور پیروی کی ان کی ان کی اولاد نے ساتھ ایمان کے تو ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو(جنت میں)، اور نہیں کم کریں گے ہم ان کے لیے ان کے عمل سے کچھ بھی ہر شخص ساتھ اس کے جو اس نے کمایا گروی ہے (21) اور ہم خوب دیں گے ان کو لذیذ میوے اور گوشت اس سے جو وہ چاہیں گے (22) ایک دوسرے سے جھپٹیں گے ایسا جام شراب کہ نہ لغو(بکواس)ہو گی اس میں اور نہ کوئی گنا ہ (23) اور پھر رہے ہوں گے ان پر نو عمر لڑکے ان (کی خدمت) کے لیے گویا کہ وہ موتی ہیں پردے میں چھپائے ہوئے (24) اور متوجہ ہوں گے بعض ان کے بعض پر، ایک دوسرے سے(حال) پوچھتے ہوئے (25) وہ کہیں گے، بلاشبہ تھے ہم پہلے (اس سے) اپنے اہل (و عیال) میں ڈرنے والے (26) پس احسان کیا اللہ نے ہم پر اور اس نے بچایا ہمیں لو (گرم ہوا) کے عذاب سے (27) بلاشبہ تھے ہم پہلے ہی اس(اللہ) کو پکارتے بے شک وہی ہے خوب احسان کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا (28) [21] یہ اہل جنت کی نعمتوں کی تکمیل ہے کہ اللہ تعالیٰ، اہل جنت کے ساتھ ان کی اس اولاد کو بھی لے جائے گا، جنھوں نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی۔ یعنی وہ اس ایمان کی بنا پر ان کے ساتھ جا ملیں گے جو ان کے آباء و اجداد سے صادر ہوا اور اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی اتباع کی۔ اگر اولاد نے اپنے ایمان کے ساتھ جو خود ان سے صادر ہوا، اپنے آباء و اجداد کی اتباع کی تو ان کے اپنے آباء کے ساتھ لاحق ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ان مذکورہ بالا لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے آباء و اجداد کے ساتھ ان کے مقامات میں ملائے گا، اگرچہ وہ ان مقامات پر نہ جا سکیں گے، یہ الحاق ان کے آباء و اجداد کے لیے جزا اور ان کے ثواب میں اضافہ کے طور پر ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ آباء اجداد کے اعمال میں کوئی کمی واقع نہیں کرے گا۔چونکہ کسی کو یہ توہم لاحق ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جہنم کے ساتھ بھی یہی کرے گا، ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جنت اور جہنم کے احکام ایک جیسے نہیں ہیں۔ جہنم دار عدل ہے اور اللہ تعالیٰ کا عدل یہ ہے کہ وہ کسی کو گناہ کے بغیر سزا نہیں دیتا، اس لیے فرمایا :﴿ كُلُّ امۡرِئٍۭؔ بِمَا كَسَبَ رَهِيۡنٌ﴾ یعنی ہر شخص اپنے عمل ہی کا گروی ہے۔ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھائے گی نہ کسی پر کسی دوسرے کا گناہ ڈالا جائے گا۔ [22]﴿وَاَمۡدَدۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی ہم اپنے بے پایاں فضل وکرم سے اہل جنت کو اور زیادہ نعمتیں عطا کریں گے اور رزق عام میں سے بہرہ مند کریں گے۔ ﴿بِفَاكِهَةٍ﴾ یعنی انگور، انار، سیب اور نہایت لذیذ میووں کی مختلف اصناف سے نوازیں گے جو اس پر مستزاد ہوں گے جسے عام خوراک کے طور پر استعمال کریں گے ﴿ وَّلَحۡمٍ مِّؔمَّا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ اور پرندوں وغیرہ کے ہر قسم کے گوشت جو وہ طلب کریں گے اور جو ان کا دل چاہے گا۔ [23]﴿ يَتَنَازَعُوۡنَ فِيۡهَا كَاۡسًا ﴾ رحیق اور شراب کے جاموں کا دور چلے گا وہ آپس میں ایک دوسرے سے جام لے رہے ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے لڑکے پیالے اور صراحیاں لیے ان کے درمیان (خدمت کے لیے) گھوم رہے ہوں گے۔ ﴿ لَّا لَغۡوٌ فِيۡهَا وَلَا تَاۡثِيۡمٌ ﴾ یعنی جنت میں کوئی لغو بات نہ ہو گی، وہ بات جس میں کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس میں کوئی گناہ کی بات ہو گی ۔ اور اس سے مراد وہ بات ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کا کوئی پہلو ہو۔جب کلام لغو اور کلام معصیت دونوں کی نفی ہو گئی تو اس سے تیسری چیز کا اثبات ہو گیا ، یعنی ان کا کلام (لغو امور سے) سلامت، اور طیب و طاہر ہو گا جو نفوس کو مسرت اور دلوں کو فرحت بخشے گا، وہ بہترین طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کی دوستی پاکیزہ ترین دوستی ہو گی، انھیں اپنے رب کی طرف سے صرف وہی باتیں سننے کو ملیں گی، جو ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں گی اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے ان پر راضی ہونے اور ان سے محبت پر دلالت کرتی ہے۔ [24]﴿ وَيَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ غِلۡمَانٌ لَّهُمۡ ﴾ یعنی نوجوان خدام ان کے آس پاس پھریں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ ﴾ اپنے حسن اور خو ب صورتی کی بنا پر گویا وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں، ان کی خدمت اور ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس آ جا رہے ہوں گے۔ یہ چیز ان کے لیے بے پایاں نعمتوں اور ان کے لیے کامل راحت پر دلالت کرتی ہے۔ [25]﴿ وَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے۔‘‘ یعنی دنیا کے معاملات اور اس کے احوال کے بارے میں۔ [26]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ یعنی وہ اس چیز کا ذکر کرتے ہوئے جس نے انھیں خوشی اور مسرت کے احوال تک پہنچایا ہے، کہیں گے:﴿ اِنَّا كُنَّا قَبۡلُ﴾ ’’بلاشبہ اس سے پہلے ہم۔‘‘ یعنی دنیا کے گھر میں ﴿ فِيۡۤ اَهۡلِنَا مُشۡفِقِيۡنَ ﴾ ’’اپنے اہل و عیال میں (اللہ سے) ڈرا کرتےتھے۔‘‘ یعنی ہم نے اس کے خوف کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس بنا پر عیوب کو درست کر لیا۔ [27]﴿ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت اور توفیق سے سرفراز فرمایا اور ہم پر احسان فرمایا۔ ﴿ وَوَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ﴾ اور گرم عذاب سے جس کی حرارت بہت سخت ہو گی، ہمیں بچایا۔ [28]﴿ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلُ نَدۡعُوۡهُ ﴾ ’’بے شک اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔‘‘ کہ وہ ہمیں عذاب سموم سے بچائے اور نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے ۔یہ جملہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ یعنی ہم مختلف عبادات کے ذریعے سے اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور تمام اوقات میں اس کو پکارتے ہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡـبَرُّ الرَّحِيۡمُ﴾ پس ہم پر اس کا احسان اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں اپنی رضا اور جنت سے بہرہ ور کیا اور اپنی ناراضی اور جہنم کے عذاب سے بچایا۔
52:26

قَالُوٓاْ إِنَّا كُنَّا قَبۡلُ فِيٓ أَهۡلِنَا مُشۡفِقِينَ

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور پیروی کی ان کی ان کی اولاد نے ساتھ ایمان کے تو ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو(جنت میں)، اور نہیں کم کریں گے ہم ان کے لیے ان کے عمل سے کچھ بھی ہر شخص ساتھ اس کے جو اس نے کمایا گروی ہے (21) اور ہم خوب دیں گے ان کو لذیذ میوے اور گوشت اس سے جو وہ چاہیں گے (22) ایک دوسرے سے جھپٹیں گے ایسا جام شراب کہ نہ لغو(بکواس)ہو گی اس میں اور نہ کوئی گنا ہ (23) اور پھر رہے ہوں گے ان پر نو عمر لڑکے ان (کی خدمت) کے لیے گویا کہ وہ موتی ہیں پردے میں چھپائے ہوئے (24) اور متوجہ ہوں گے بعض ان کے بعض پر، ایک دوسرے سے(حال) پوچھتے ہوئے (25) وہ کہیں گے، بلاشبہ تھے ہم پہلے (اس سے) اپنے اہل (و عیال) میں ڈرنے والے (26) پس احسان کیا اللہ نے ہم پر اور اس نے بچایا ہمیں لو (گرم ہوا) کے عذاب سے (27) بلاشبہ تھے ہم پہلے ہی اس(اللہ) کو پکارتے بے شک وہی ہے خوب احسان کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا (28) [21] یہ اہل جنت کی نعمتوں کی تکمیل ہے کہ اللہ تعالیٰ، اہل جنت کے ساتھ ان کی اس اولاد کو بھی لے جائے گا، جنھوں نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی۔ یعنی وہ اس ایمان کی بنا پر ان کے ساتھ جا ملیں گے جو ان کے آباء و اجداد سے صادر ہوا اور اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی اتباع کی۔ اگر اولاد نے اپنے ایمان کے ساتھ جو خود ان سے صادر ہوا، اپنے آباء و اجداد کی اتباع کی تو ان کے اپنے آباء کے ساتھ لاحق ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ان مذکورہ بالا لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے آباء و اجداد کے ساتھ ان کے مقامات میں ملائے گا، اگرچہ وہ ان مقامات پر نہ جا سکیں گے، یہ الحاق ان کے آباء و اجداد کے لیے جزا اور ان کے ثواب میں اضافہ کے طور پر ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ آباء اجداد کے اعمال میں کوئی کمی واقع نہیں کرے گا۔چونکہ کسی کو یہ توہم لاحق ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جہنم کے ساتھ بھی یہی کرے گا، ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جنت اور جہنم کے احکام ایک جیسے نہیں ہیں۔ جہنم دار عدل ہے اور اللہ تعالیٰ کا عدل یہ ہے کہ وہ کسی کو گناہ کے بغیر سزا نہیں دیتا، اس لیے فرمایا :﴿ كُلُّ امۡرِئٍۭؔ بِمَا كَسَبَ رَهِيۡنٌ﴾ یعنی ہر شخص اپنے عمل ہی کا گروی ہے۔ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھائے گی نہ کسی پر کسی دوسرے کا گناہ ڈالا جائے گا۔ [22]﴿وَاَمۡدَدۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی ہم اپنے بے پایاں فضل وکرم سے اہل جنت کو اور زیادہ نعمتیں عطا کریں گے اور رزق عام میں سے بہرہ مند کریں گے۔ ﴿بِفَاكِهَةٍ﴾ یعنی انگور، انار، سیب اور نہایت لذیذ میووں کی مختلف اصناف سے نوازیں گے جو اس پر مستزاد ہوں گے جسے عام خوراک کے طور پر استعمال کریں گے ﴿ وَّلَحۡمٍ مِّؔمَّا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ اور پرندوں وغیرہ کے ہر قسم کے گوشت جو وہ طلب کریں گے اور جو ان کا دل چاہے گا۔ [23]﴿ يَتَنَازَعُوۡنَ فِيۡهَا كَاۡسًا ﴾ رحیق اور شراب کے جاموں کا دور چلے گا وہ آپس میں ایک دوسرے سے جام لے رہے ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے لڑکے پیالے اور صراحیاں لیے ان کے درمیان (خدمت کے لیے) گھوم رہے ہوں گے۔ ﴿ لَّا لَغۡوٌ فِيۡهَا وَلَا تَاۡثِيۡمٌ ﴾ یعنی جنت میں کوئی لغو بات نہ ہو گی، وہ بات جس میں کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس میں کوئی گناہ کی بات ہو گی ۔ اور اس سے مراد وہ بات ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کا کوئی پہلو ہو۔جب کلام لغو اور کلام معصیت دونوں کی نفی ہو گئی تو اس سے تیسری چیز کا اثبات ہو گیا ، یعنی ان کا کلام (لغو امور سے) سلامت، اور طیب و طاہر ہو گا جو نفوس کو مسرت اور دلوں کو فرحت بخشے گا، وہ بہترین طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کی دوستی پاکیزہ ترین دوستی ہو گی، انھیں اپنے رب کی طرف سے صرف وہی باتیں سننے کو ملیں گی، جو ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں گی اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے ان پر راضی ہونے اور ان سے محبت پر دلالت کرتی ہے۔ [24]﴿ وَيَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ غِلۡمَانٌ لَّهُمۡ ﴾ یعنی نوجوان خدام ان کے آس پاس پھریں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ ﴾ اپنے حسن اور خو ب صورتی کی بنا پر گویا وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں، ان کی خدمت اور ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس آ جا رہے ہوں گے۔ یہ چیز ان کے لیے بے پایاں نعمتوں اور ان کے لیے کامل راحت پر دلالت کرتی ہے۔ [25]﴿ وَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے۔‘‘ یعنی دنیا کے معاملات اور اس کے احوال کے بارے میں۔ [26]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ یعنی وہ اس چیز کا ذکر کرتے ہوئے جس نے انھیں خوشی اور مسرت کے احوال تک پہنچایا ہے، کہیں گے:﴿ اِنَّا كُنَّا قَبۡلُ﴾ ’’بلاشبہ اس سے پہلے ہم۔‘‘ یعنی دنیا کے گھر میں ﴿ فِيۡۤ اَهۡلِنَا مُشۡفِقِيۡنَ ﴾ ’’اپنے اہل و عیال میں (اللہ سے) ڈرا کرتےتھے۔‘‘ یعنی ہم نے اس کے خوف کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس بنا پر عیوب کو درست کر لیا۔ [27]﴿ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت اور توفیق سے سرفراز فرمایا اور ہم پر احسان فرمایا۔ ﴿ وَوَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ﴾ اور گرم عذاب سے جس کی حرارت بہت سخت ہو گی، ہمیں بچایا۔ [28]﴿ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلُ نَدۡعُوۡهُ ﴾ ’’بے شک اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔‘‘ کہ وہ ہمیں عذاب سموم سے بچائے اور نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے ۔یہ جملہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ یعنی ہم مختلف عبادات کے ذریعے سے اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور تمام اوقات میں اس کو پکارتے ہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡـبَرُّ الرَّحِيۡمُ﴾ پس ہم پر اس کا احسان اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں اپنی رضا اور جنت سے بہرہ ور کیا اور اپنی ناراضی اور جہنم کے عذاب سے بچایا۔
52:27

فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡنَا وَوَقَىٰنَا عَذَابَ ٱلسَّمُومِ

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور پیروی کی ان کی ان کی اولاد نے ساتھ ایمان کے تو ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو(جنت میں)، اور نہیں کم کریں گے ہم ان کے لیے ان کے عمل سے کچھ بھی ہر شخص ساتھ اس کے جو اس نے کمایا گروی ہے (21) اور ہم خوب دیں گے ان کو لذیذ میوے اور گوشت اس سے جو وہ چاہیں گے (22) ایک دوسرے سے جھپٹیں گے ایسا جام شراب کہ نہ لغو(بکواس)ہو گی اس میں اور نہ کوئی گنا ہ (23) اور پھر رہے ہوں گے ان پر نو عمر لڑکے ان (کی خدمت) کے لیے گویا کہ وہ موتی ہیں پردے میں چھپائے ہوئے (24) اور متوجہ ہوں گے بعض ان کے بعض پر، ایک دوسرے سے(حال) پوچھتے ہوئے (25) وہ کہیں گے، بلاشبہ تھے ہم پہلے (اس سے) اپنے اہل (و عیال) میں ڈرنے والے (26) پس احسان کیا اللہ نے ہم پر اور اس نے بچایا ہمیں لو (گرم ہوا) کے عذاب سے (27) بلاشبہ تھے ہم پہلے ہی اس(اللہ) کو پکارتے بے شک وہی ہے خوب احسان کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا (28) [21] یہ اہل جنت کی نعمتوں کی تکمیل ہے کہ اللہ تعالیٰ، اہل جنت کے ساتھ ان کی اس اولاد کو بھی لے جائے گا، جنھوں نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی۔ یعنی وہ اس ایمان کی بنا پر ان کے ساتھ جا ملیں گے جو ان کے آباء و اجداد سے صادر ہوا اور اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی اتباع کی۔ اگر اولاد نے اپنے ایمان کے ساتھ جو خود ان سے صادر ہوا، اپنے آباء و اجداد کی اتباع کی تو ان کے اپنے آباء کے ساتھ لاحق ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ان مذکورہ بالا لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے آباء و اجداد کے ساتھ ان کے مقامات میں ملائے گا، اگرچہ وہ ان مقامات پر نہ جا سکیں گے، یہ الحاق ان کے آباء و اجداد کے لیے جزا اور ان کے ثواب میں اضافہ کے طور پر ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ آباء اجداد کے اعمال میں کوئی کمی واقع نہیں کرے گا۔چونکہ کسی کو یہ توہم لاحق ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جہنم کے ساتھ بھی یہی کرے گا، ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جنت اور جہنم کے احکام ایک جیسے نہیں ہیں۔ جہنم دار عدل ہے اور اللہ تعالیٰ کا عدل یہ ہے کہ وہ کسی کو گناہ کے بغیر سزا نہیں دیتا، اس لیے فرمایا :﴿ كُلُّ امۡرِئٍۭؔ بِمَا كَسَبَ رَهِيۡنٌ﴾ یعنی ہر شخص اپنے عمل ہی کا گروی ہے۔ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھائے گی نہ کسی پر کسی دوسرے کا گناہ ڈالا جائے گا۔ [22]﴿وَاَمۡدَدۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی ہم اپنے بے پایاں فضل وکرم سے اہل جنت کو اور زیادہ نعمتیں عطا کریں گے اور رزق عام میں سے بہرہ مند کریں گے۔ ﴿بِفَاكِهَةٍ﴾ یعنی انگور، انار، سیب اور نہایت لذیذ میووں کی مختلف اصناف سے نوازیں گے جو اس پر مستزاد ہوں گے جسے عام خوراک کے طور پر استعمال کریں گے ﴿ وَّلَحۡمٍ مِّؔمَّا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ اور پرندوں وغیرہ کے ہر قسم کے گوشت جو وہ طلب کریں گے اور جو ان کا دل چاہے گا۔ [23]﴿ يَتَنَازَعُوۡنَ فِيۡهَا كَاۡسًا ﴾ رحیق اور شراب کے جاموں کا دور چلے گا وہ آپس میں ایک دوسرے سے جام لے رہے ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے لڑکے پیالے اور صراحیاں لیے ان کے درمیان (خدمت کے لیے) گھوم رہے ہوں گے۔ ﴿ لَّا لَغۡوٌ فِيۡهَا وَلَا تَاۡثِيۡمٌ ﴾ یعنی جنت میں کوئی لغو بات نہ ہو گی، وہ بات جس میں کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس میں کوئی گناہ کی بات ہو گی ۔ اور اس سے مراد وہ بات ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کا کوئی پہلو ہو۔جب کلام لغو اور کلام معصیت دونوں کی نفی ہو گئی تو اس سے تیسری چیز کا اثبات ہو گیا ، یعنی ان کا کلام (لغو امور سے) سلامت، اور طیب و طاہر ہو گا جو نفوس کو مسرت اور دلوں کو فرحت بخشے گا، وہ بہترین طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کی دوستی پاکیزہ ترین دوستی ہو گی، انھیں اپنے رب کی طرف سے صرف وہی باتیں سننے کو ملیں گی، جو ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں گی اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے ان پر راضی ہونے اور ان سے محبت پر دلالت کرتی ہے۔ [24]﴿ وَيَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ غِلۡمَانٌ لَّهُمۡ ﴾ یعنی نوجوان خدام ان کے آس پاس پھریں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ ﴾ اپنے حسن اور خو ب صورتی کی بنا پر گویا وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں، ان کی خدمت اور ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس آ جا رہے ہوں گے۔ یہ چیز ان کے لیے بے پایاں نعمتوں اور ان کے لیے کامل راحت پر دلالت کرتی ہے۔ [25]﴿ وَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے۔‘‘ یعنی دنیا کے معاملات اور اس کے احوال کے بارے میں۔ [26]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ یعنی وہ اس چیز کا ذکر کرتے ہوئے جس نے انھیں خوشی اور مسرت کے احوال تک پہنچایا ہے، کہیں گے:﴿ اِنَّا كُنَّا قَبۡلُ﴾ ’’بلاشبہ اس سے پہلے ہم۔‘‘ یعنی دنیا کے گھر میں ﴿ فِيۡۤ اَهۡلِنَا مُشۡفِقِيۡنَ ﴾ ’’اپنے اہل و عیال میں (اللہ سے) ڈرا کرتےتھے۔‘‘ یعنی ہم نے اس کے خوف کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس بنا پر عیوب کو درست کر لیا۔ [27]﴿ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت اور توفیق سے سرفراز فرمایا اور ہم پر احسان فرمایا۔ ﴿ وَوَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ﴾ اور گرم عذاب سے جس کی حرارت بہت سخت ہو گی، ہمیں بچایا۔ [28]﴿ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلُ نَدۡعُوۡهُ ﴾ ’’بے شک اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔‘‘ کہ وہ ہمیں عذاب سموم سے بچائے اور نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے ۔یہ جملہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ یعنی ہم مختلف عبادات کے ذریعے سے اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور تمام اوقات میں اس کو پکارتے ہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡـبَرُّ الرَّحِيۡمُ﴾ پس ہم پر اس کا احسان اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں اپنی رضا اور جنت سے بہرہ ور کیا اور اپنی ناراضی اور جہنم کے عذاب سے بچایا۔
52:28

إِنَّا كُنَّا مِن قَبۡلُ نَدۡعُوهُۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡبَرُّ ٱلرَّحِيمُ

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور پیروی کی ان کی ان کی اولاد نے ساتھ ایمان کے تو ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو(جنت میں)، اور نہیں کم کریں گے ہم ان کے لیے ان کے عمل سے کچھ بھی ہر شخص ساتھ اس کے جو اس نے کمایا گروی ہے (21) اور ہم خوب دیں گے ان کو لذیذ میوے اور گوشت اس سے جو وہ چاہیں گے (22) ایک دوسرے سے جھپٹیں گے ایسا جام شراب کہ نہ لغو(بکواس)ہو گی اس میں اور نہ کوئی گنا ہ (23) اور پھر رہے ہوں گے ان پر نو عمر لڑکے ان (کی خدمت) کے لیے گویا کہ وہ موتی ہیں پردے میں چھپائے ہوئے (24) اور متوجہ ہوں گے بعض ان کے بعض پر، ایک دوسرے سے(حال) پوچھتے ہوئے (25) وہ کہیں گے، بلاشبہ تھے ہم پہلے (اس سے) اپنے اہل (و عیال) میں ڈرنے والے (26) پس احسان کیا اللہ نے ہم پر اور اس نے بچایا ہمیں لو (گرم ہوا) کے عذاب سے (27) بلاشبہ تھے ہم پہلے ہی اس(اللہ) کو پکارتے بے شک وہی ہے خوب احسان کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا (28) [21] یہ اہل جنت کی نعمتوں کی تکمیل ہے کہ اللہ تعالیٰ، اہل جنت کے ساتھ ان کی اس اولاد کو بھی لے جائے گا، جنھوں نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی۔ یعنی وہ اس ایمان کی بنا پر ان کے ساتھ جا ملیں گے جو ان کے آباء و اجداد سے صادر ہوا اور اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی اتباع کی۔ اگر اولاد نے اپنے ایمان کے ساتھ جو خود ان سے صادر ہوا، اپنے آباء و اجداد کی اتباع کی تو ان کے اپنے آباء کے ساتھ لاحق ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ان مذکورہ بالا لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے آباء و اجداد کے ساتھ ان کے مقامات میں ملائے گا، اگرچہ وہ ان مقامات پر نہ جا سکیں گے، یہ الحاق ان کے آباء و اجداد کے لیے جزا اور ان کے ثواب میں اضافہ کے طور پر ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ آباء اجداد کے اعمال میں کوئی کمی واقع نہیں کرے گا۔چونکہ کسی کو یہ توہم لاحق ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جہنم کے ساتھ بھی یہی کرے گا، ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جنت اور جہنم کے احکام ایک جیسے نہیں ہیں۔ جہنم دار عدل ہے اور اللہ تعالیٰ کا عدل یہ ہے کہ وہ کسی کو گناہ کے بغیر سزا نہیں دیتا، اس لیے فرمایا :﴿ كُلُّ امۡرِئٍۭؔ بِمَا كَسَبَ رَهِيۡنٌ﴾ یعنی ہر شخص اپنے عمل ہی کا گروی ہے۔ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھائے گی نہ کسی پر کسی دوسرے کا گناہ ڈالا جائے گا۔ [22]﴿وَاَمۡدَدۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی ہم اپنے بے پایاں فضل وکرم سے اہل جنت کو اور زیادہ نعمتیں عطا کریں گے اور رزق عام میں سے بہرہ مند کریں گے۔ ﴿بِفَاكِهَةٍ﴾ یعنی انگور، انار، سیب اور نہایت لذیذ میووں کی مختلف اصناف سے نوازیں گے جو اس پر مستزاد ہوں گے جسے عام خوراک کے طور پر استعمال کریں گے ﴿ وَّلَحۡمٍ مِّؔمَّا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ اور پرندوں وغیرہ کے ہر قسم کے گوشت جو وہ طلب کریں گے اور جو ان کا دل چاہے گا۔ [23]﴿ يَتَنَازَعُوۡنَ فِيۡهَا كَاۡسًا ﴾ رحیق اور شراب کے جاموں کا دور چلے گا وہ آپس میں ایک دوسرے سے جام لے رہے ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے لڑکے پیالے اور صراحیاں لیے ان کے درمیان (خدمت کے لیے) گھوم رہے ہوں گے۔ ﴿ لَّا لَغۡوٌ فِيۡهَا وَلَا تَاۡثِيۡمٌ ﴾ یعنی جنت میں کوئی لغو بات نہ ہو گی، وہ بات جس میں کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس میں کوئی گناہ کی بات ہو گی ۔ اور اس سے مراد وہ بات ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کا کوئی پہلو ہو۔جب کلام لغو اور کلام معصیت دونوں کی نفی ہو گئی تو اس سے تیسری چیز کا اثبات ہو گیا ، یعنی ان کا کلام (لغو امور سے) سلامت، اور طیب و طاہر ہو گا جو نفوس کو مسرت اور دلوں کو فرحت بخشے گا، وہ بہترین طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کی دوستی پاکیزہ ترین دوستی ہو گی، انھیں اپنے رب کی طرف سے صرف وہی باتیں سننے کو ملیں گی، جو ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں گی اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے ان پر راضی ہونے اور ان سے محبت پر دلالت کرتی ہے۔ [24]﴿ وَيَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ غِلۡمَانٌ لَّهُمۡ ﴾ یعنی نوجوان خدام ان کے آس پاس پھریں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ ﴾ اپنے حسن اور خو ب صورتی کی بنا پر گویا وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں، ان کی خدمت اور ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس آ جا رہے ہوں گے۔ یہ چیز ان کے لیے بے پایاں نعمتوں اور ان کے لیے کامل راحت پر دلالت کرتی ہے۔ [25]﴿ وَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے۔‘‘ یعنی دنیا کے معاملات اور اس کے احوال کے بارے میں۔ [26]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ یعنی وہ اس چیز کا ذکر کرتے ہوئے جس نے انھیں خوشی اور مسرت کے احوال تک پہنچایا ہے، کہیں گے:﴿ اِنَّا كُنَّا قَبۡلُ﴾ ’’بلاشبہ اس سے پہلے ہم۔‘‘ یعنی دنیا کے گھر میں ﴿ فِيۡۤ اَهۡلِنَا مُشۡفِقِيۡنَ ﴾ ’’اپنے اہل و عیال میں (اللہ سے) ڈرا کرتےتھے۔‘‘ یعنی ہم نے اس کے خوف کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس بنا پر عیوب کو درست کر لیا۔ [27]﴿ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت اور توفیق سے سرفراز فرمایا اور ہم پر احسان فرمایا۔ ﴿ وَوَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ﴾ اور گرم عذاب سے جس کی حرارت بہت سخت ہو گی، ہمیں بچایا۔ [28]﴿ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلُ نَدۡعُوۡهُ ﴾ ’’بے شک اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔‘‘ کہ وہ ہمیں عذاب سموم سے بچائے اور نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے ۔یہ جملہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ یعنی ہم مختلف عبادات کے ذریعے سے اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور تمام اوقات میں اس کو پکارتے ہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡـبَرُّ الرَّحِيۡمُ﴾ پس ہم پر اس کا احسان اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں اپنی رضا اور جنت سے بہرہ ور کیا اور اپنی ناراضی اور جہنم کے عذاب سے بچایا۔
52:29

فَذَكِّرۡ فَمَآ أَنتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٖ وَلَا مَجۡنُونٍ

سو آپ نصیحت کریں، پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور نہ دیوانے(29) کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ (وہ پیغمبر)شاعر ہے، ہم انتظار کرتے ہیں اس کی بابت حوادث زمانہ (موت) کا (30) آپ کہہ دیجیے! تم انتظار کرو، پس بلاشبہ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (31)کیا حکم دیتی ہیں ان کو ان کی عقلیں اسی (بات) کا یا وہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ (32) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟بلکہ نہیں وہ ایمان لاتے (33) پس چاہیے کہ وہ لے آئیں ایک بات مثل اس (قرآن) کے، اگر ہیں وہ سچے (34) کیا پیدا کیے گئے ہیں وہ بغیر کسی چیز (خالق) کے یا وہی ہیں (خود) پیدا کرنے والے؟ (35) کیا انھوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟بلکہ نہیں وہ یقین رکھتے (36) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کے؟ یا وہ (ان کے) داروغے ہیں؟ (37) کیا ان کے لیے کوئی سیڑھی ہے کہ وہ سن لیتے ہیں اس پر (چڑھ کر)؟ پس چاہیے کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی دلیل واضح (38) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟(39) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی معاوضہ، پس وہ (اس کے) تاوان سے بوجھل ہیں؟ (40) یا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ لکھتے ہیں؟ (41) کیا وہ ارادہ کرتے ہیں کسی فریب کا؟ پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہی ہیں فریب خوردہ (42) کیا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے سوائے اللہ کے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (43) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ﴾ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ﴾ ’’کاہن‘‘ جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍ﴾ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔ [30] اور کبھی کبھی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾ ’’شاعر ہے۔‘‘ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾(یٰسین:36؍69) ’’ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔‘‘ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيۡبَ الۡمَنُوۡنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔ [31]﴿قُلۡ﴾ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوۡا﴾ یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِيۡنَ﴾ ’’پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔ [32]﴿ اَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰؔذَاۤ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان کا آپ کو یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں، ان کی عقل و خردسے صادر ہوئی ہیں؟ کتنی بری ہے ان کی عقل و خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو کذب اور باطل قرار دیا، ایسی (فاسد) عقلوں سے تو مجانین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں، جہاں آ کر رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول و فعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ [33]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) نے خود ہی یہ (قرآن )گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلۡ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔ [34]﴿ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّؔثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد (ﷺ) نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔ [35]﴿ اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ﴾ ’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے آپ کو )پیدا کرنے والے ہیں‘‘ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہیں یا ان کا عقل و دین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہو جائے گا ۔۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء و رسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔(۱)ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے ، یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو۔ بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔(۲)انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔(۳) جب مذکورہ بالا دونوں امور باطل ہو گئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہو گیا تو تیسری بات متعین ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہو گئی تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔ [36]﴿ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟‘‘ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلۡ لَّا يُوۡقِنُوۡنَ﴾ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔ [37]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾(الزحزف:43؍32) ’’کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔‘‘ ﴿ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔ [38]﴿ اَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ﴾ ’’کیا ان کے پاس سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں۔‘‘ یعنی کیا انھیں غیب کا علم ہے اور وہ ملأاعلیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنھیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ ﴾ ’’پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔‘‘ یعنی ملأ ا علیٰ کی باتیں سننے کا دعوے دار ﴿ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کوئی صریح دلیل‘‘ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے، وہ کسی پر غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے، جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو، وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جبکہ محمد مصطفیﷺ، رسولوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں، اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی اور عناد میں مبتلا ہیں، تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جبکہ رسول اللہ ﷺ نے جن امور کی خبر دی ہے، ان پر دلائل و براہین قائم ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے۔ ان کا اپنے دعوے (انبیاء کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کر سکتے۔ [39]﴿ اَمۡ لَهُ الۡبَنٰتُ﴾ ’’یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟‘‘ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾’’اور تمھارے لیے بیٹے‘‘ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو ، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟ [40]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ﴾ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجۡرًا﴾ تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔ [41]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ﴾ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہﷺ کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفیﷺ ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ [42]﴿ اَمۡ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ کیا وہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح و قدح کر کے ﴿ كَيۡدًا﴾ کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں؟ ﴿ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هُمُ الۡمَكِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ وللہ الحمد. کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت و اختیارمیں تھی، انھوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا، اپنے دین کو غالب فرمایا، ان کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑا اور ان سے انتقام لیا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ﴾ یعنی کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے، جسے پکارا جائے اس سے کسی نفع کی امید رکھی جائے اور اس کے ضرر سے ڈرا جائے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وحدانیت اور عبودیت میں۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر کلام لایا گیا اور وہ ہے قطعی دلائل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ہستی کی عبادت کا بطلان اور اس کے فاسد ہونے کا بیان۔ جس موقف پر مشرکین قائم ہیں وہ باطل ہے۔ وہ ہستی جس کی عبادت کی جانی چاہیے، جس کے لیے نماز پڑھنی چاہیے، جس کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے، دعا ، یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو اسی کے لیے خالص کرنا چاہیے، وہ اللہ تعالیٰ معبود حقیقی کی ہستی ہے، جو اسماء و صفات میں کامل، بے شمار نعوت حسنہ اور افعال جمیلہ کا مالک، صاحب جلال و اکرام، قوت و غلبہ کا مالک، جس کو مغلوب کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو اکیلا، یکتا، متفرد، بے نیاز، بہت بڑا، قابل حمد و ثنا اور مالک مجد و جلال ہے۔
52:30

أَمۡ يَقُولُونَ شَاعِرٞ نَّتَرَبَّصُ بِهِۦ رَيۡبَ ٱلۡمَنُونِ

سو آپ نصیحت کریں، پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور نہ دیوانے(29) کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ (وہ پیغمبر)شاعر ہے، ہم انتظار کرتے ہیں اس کی بابت حوادث زمانہ (موت) کا (30) آپ کہہ دیجیے! تم انتظار کرو، پس بلاشبہ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (31)کیا حکم دیتی ہیں ان کو ان کی عقلیں اسی (بات) کا یا وہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ (32) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟بلکہ نہیں وہ ایمان لاتے (33) پس چاہیے کہ وہ لے آئیں ایک بات مثل اس (قرآن) کے، اگر ہیں وہ سچے (34) کیا پیدا کیے گئے ہیں وہ بغیر کسی چیز (خالق) کے یا وہی ہیں (خود) پیدا کرنے والے؟ (35) کیا انھوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟بلکہ نہیں وہ یقین رکھتے (36) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کے؟ یا وہ (ان کے) داروغے ہیں؟ (37) کیا ان کے لیے کوئی سیڑھی ہے کہ وہ سن لیتے ہیں اس پر (چڑھ کر)؟ پس چاہیے کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی دلیل واضح (38) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟(39) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی معاوضہ، پس وہ (اس کے) تاوان سے بوجھل ہیں؟ (40) یا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ لکھتے ہیں؟ (41) کیا وہ ارادہ کرتے ہیں کسی فریب کا؟ پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہی ہیں فریب خوردہ (42) کیا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے سوائے اللہ کے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (43) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ﴾ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ﴾ ’’کاہن‘‘ جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍ﴾ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔ [30] اور کبھی کبھی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾ ’’شاعر ہے۔‘‘ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾(یٰسین:36؍69) ’’ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔‘‘ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيۡبَ الۡمَنُوۡنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔ [31]﴿قُلۡ﴾ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوۡا﴾ یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِيۡنَ﴾ ’’پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔ [32]﴿ اَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰؔذَاۤ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان کا آپ کو یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں، ان کی عقل و خردسے صادر ہوئی ہیں؟ کتنی بری ہے ان کی عقل و خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو کذب اور باطل قرار دیا، ایسی (فاسد) عقلوں سے تو مجانین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں، جہاں آ کر رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول و فعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ [33]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) نے خود ہی یہ (قرآن )گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلۡ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔ [34]﴿ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّؔثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد (ﷺ) نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔ [35]﴿ اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ﴾ ’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے آپ کو )پیدا کرنے والے ہیں‘‘ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہیں یا ان کا عقل و دین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہو جائے گا ۔۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء و رسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔(۱)ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے ، یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو۔ بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔(۲)انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔(۳) جب مذکورہ بالا دونوں امور باطل ہو گئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہو گیا تو تیسری بات متعین ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہو گئی تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔ [36]﴿ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟‘‘ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلۡ لَّا يُوۡقِنُوۡنَ﴾ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔ [37]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾(الزحزف:43؍32) ’’کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔‘‘ ﴿ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔ [38]﴿ اَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ﴾ ’’کیا ان کے پاس سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں۔‘‘ یعنی کیا انھیں غیب کا علم ہے اور وہ ملأاعلیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنھیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ ﴾ ’’پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔‘‘ یعنی ملأ ا علیٰ کی باتیں سننے کا دعوے دار ﴿ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کوئی صریح دلیل‘‘ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے، وہ کسی پر غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے، جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو، وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جبکہ محمد مصطفیﷺ، رسولوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں، اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی اور عناد میں مبتلا ہیں، تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جبکہ رسول اللہ ﷺ نے جن امور کی خبر دی ہے، ان پر دلائل و براہین قائم ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے۔ ان کا اپنے دعوے (انبیاء کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کر سکتے۔ [39]﴿ اَمۡ لَهُ الۡبَنٰتُ﴾ ’’یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟‘‘ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾’’اور تمھارے لیے بیٹے‘‘ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو ، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟ [40]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ﴾ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجۡرًا﴾ تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔ [41]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ﴾ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہﷺ کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفیﷺ ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ [42]﴿ اَمۡ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ کیا وہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح و قدح کر کے ﴿ كَيۡدًا﴾ کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں؟ ﴿ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هُمُ الۡمَكِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ وللہ الحمد. کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت و اختیارمیں تھی، انھوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا، اپنے دین کو غالب فرمایا، ان کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑا اور ان سے انتقام لیا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ﴾ یعنی کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے، جسے پکارا جائے اس سے کسی نفع کی امید رکھی جائے اور اس کے ضرر سے ڈرا جائے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وحدانیت اور عبودیت میں۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر کلام لایا گیا اور وہ ہے قطعی دلائل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ہستی کی عبادت کا بطلان اور اس کے فاسد ہونے کا بیان۔ جس موقف پر مشرکین قائم ہیں وہ باطل ہے۔ وہ ہستی جس کی عبادت کی جانی چاہیے، جس کے لیے نماز پڑھنی چاہیے، جس کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے، دعا ، یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو اسی کے لیے خالص کرنا چاہیے، وہ اللہ تعالیٰ معبود حقیقی کی ہستی ہے، جو اسماء و صفات میں کامل، بے شمار نعوت حسنہ اور افعال جمیلہ کا مالک، صاحب جلال و اکرام، قوت و غلبہ کا مالک، جس کو مغلوب کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو اکیلا، یکتا، متفرد، بے نیاز، بہت بڑا، قابل حمد و ثنا اور مالک مجد و جلال ہے۔
52:31

قُلۡ تَرَبَّصُواْ فَإِنِّي مَعَكُم مِّنَ ٱلۡمُتَرَبِّصِينَ

سو آپ نصیحت کریں، پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور نہ دیوانے(29) کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ (وہ پیغمبر)شاعر ہے، ہم انتظار کرتے ہیں اس کی بابت حوادث زمانہ (موت) کا (30) آپ کہہ دیجیے! تم انتظار کرو، پس بلاشبہ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (31)کیا حکم دیتی ہیں ان کو ان کی عقلیں اسی (بات) کا یا وہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ (32) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟بلکہ نہیں وہ ایمان لاتے (33) پس چاہیے کہ وہ لے آئیں ایک بات مثل اس (قرآن) کے، اگر ہیں وہ سچے (34) کیا پیدا کیے گئے ہیں وہ بغیر کسی چیز (خالق) کے یا وہی ہیں (خود) پیدا کرنے والے؟ (35) کیا انھوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟بلکہ نہیں وہ یقین رکھتے (36) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کے؟ یا وہ (ان کے) داروغے ہیں؟ (37) کیا ان کے لیے کوئی سیڑھی ہے کہ وہ سن لیتے ہیں اس پر (چڑھ کر)؟ پس چاہیے کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی دلیل واضح (38) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟(39) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی معاوضہ، پس وہ (اس کے) تاوان سے بوجھل ہیں؟ (40) یا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ لکھتے ہیں؟ (41) کیا وہ ارادہ کرتے ہیں کسی فریب کا؟ پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہی ہیں فریب خوردہ (42) کیا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے سوائے اللہ کے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (43) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ﴾ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ﴾ ’’کاہن‘‘ جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍ﴾ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔ [30] اور کبھی کبھی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾ ’’شاعر ہے۔‘‘ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾(یٰسین:36؍69) ’’ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔‘‘ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيۡبَ الۡمَنُوۡنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔ [31]﴿قُلۡ﴾ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوۡا﴾ یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِيۡنَ﴾ ’’پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔ [32]﴿ اَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰؔذَاۤ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان کا آپ کو یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں، ان کی عقل و خردسے صادر ہوئی ہیں؟ کتنی بری ہے ان کی عقل و خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو کذب اور باطل قرار دیا، ایسی (فاسد) عقلوں سے تو مجانین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں، جہاں آ کر رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول و فعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ [33]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) نے خود ہی یہ (قرآن )گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلۡ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔ [34]﴿ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّؔثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد (ﷺ) نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔ [35]﴿ اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ﴾ ’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے آپ کو )پیدا کرنے والے ہیں‘‘ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہیں یا ان کا عقل و دین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہو جائے گا ۔۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء و رسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔(۱)ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے ، یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو۔ بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔(۲)انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔(۳) جب مذکورہ بالا دونوں امور باطل ہو گئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہو گیا تو تیسری بات متعین ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہو گئی تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔ [36]﴿ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟‘‘ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلۡ لَّا يُوۡقِنُوۡنَ﴾ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔ [37]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾(الزحزف:43؍32) ’’کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔‘‘ ﴿ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔ [38]﴿ اَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ﴾ ’’کیا ان کے پاس سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں۔‘‘ یعنی کیا انھیں غیب کا علم ہے اور وہ ملأاعلیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنھیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ ﴾ ’’پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔‘‘ یعنی ملأ ا علیٰ کی باتیں سننے کا دعوے دار ﴿ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کوئی صریح دلیل‘‘ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے، وہ کسی پر غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے، جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو، وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جبکہ محمد مصطفیﷺ، رسولوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں، اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی اور عناد میں مبتلا ہیں، تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جبکہ رسول اللہ ﷺ نے جن امور کی خبر دی ہے، ان پر دلائل و براہین قائم ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے۔ ان کا اپنے دعوے (انبیاء کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کر سکتے۔ [39]﴿ اَمۡ لَهُ الۡبَنٰتُ﴾ ’’یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟‘‘ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾’’اور تمھارے لیے بیٹے‘‘ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو ، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟ [40]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ﴾ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجۡرًا﴾ تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔ [41]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ﴾ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہﷺ کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفیﷺ ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ [42]﴿ اَمۡ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ کیا وہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح و قدح کر کے ﴿ كَيۡدًا﴾ کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں؟ ﴿ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هُمُ الۡمَكِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ وللہ الحمد. کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت و اختیارمیں تھی، انھوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا، اپنے دین کو غالب فرمایا، ان کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑا اور ان سے انتقام لیا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ﴾ یعنی کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے، جسے پکارا جائے اس سے کسی نفع کی امید رکھی جائے اور اس کے ضرر سے ڈرا جائے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وحدانیت اور عبودیت میں۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر کلام لایا گیا اور وہ ہے قطعی دلائل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ہستی کی عبادت کا بطلان اور اس کے فاسد ہونے کا بیان۔ جس موقف پر مشرکین قائم ہیں وہ باطل ہے۔ وہ ہستی جس کی عبادت کی جانی چاہیے، جس کے لیے نماز پڑھنی چاہیے، جس کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے، دعا ، یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو اسی کے لیے خالص کرنا چاہیے، وہ اللہ تعالیٰ معبود حقیقی کی ہستی ہے، جو اسماء و صفات میں کامل، بے شمار نعوت حسنہ اور افعال جمیلہ کا مالک، صاحب جلال و اکرام، قوت و غلبہ کا مالک، جس کو مغلوب کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو اکیلا، یکتا، متفرد، بے نیاز، بہت بڑا، قابل حمد و ثنا اور مالک مجد و جلال ہے۔
52:32

أَمۡ تَأۡمُرُهُمۡ أَحۡلَٰمُهُم بِهَٰذَآۚ أَمۡ هُمۡ قَوۡمٞ طَاغُونَ

سو آپ نصیحت کریں، پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور نہ دیوانے(29) کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ (وہ پیغمبر)شاعر ہے، ہم انتظار کرتے ہیں اس کی بابت حوادث زمانہ (موت) کا (30) آپ کہہ دیجیے! تم انتظار کرو، پس بلاشبہ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (31)کیا حکم دیتی ہیں ان کو ان کی عقلیں اسی (بات) کا یا وہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ (32) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟بلکہ نہیں وہ ایمان لاتے (33) پس چاہیے کہ وہ لے آئیں ایک بات مثل اس (قرآن) کے، اگر ہیں وہ سچے (34) کیا پیدا کیے گئے ہیں وہ بغیر کسی چیز (خالق) کے یا وہی ہیں (خود) پیدا کرنے والے؟ (35) کیا انھوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟بلکہ نہیں وہ یقین رکھتے (36) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کے؟ یا وہ (ان کے) داروغے ہیں؟ (37) کیا ان کے لیے کوئی سیڑھی ہے کہ وہ سن لیتے ہیں اس پر (چڑھ کر)؟ پس چاہیے کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی دلیل واضح (38) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟(39) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی معاوضہ، پس وہ (اس کے) تاوان سے بوجھل ہیں؟ (40) یا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ لکھتے ہیں؟ (41) کیا وہ ارادہ کرتے ہیں کسی فریب کا؟ پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہی ہیں فریب خوردہ (42) کیا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے سوائے اللہ کے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (43) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ﴾ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ﴾ ’’کاہن‘‘ جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍ﴾ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔ [30] اور کبھی کبھی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾ ’’شاعر ہے۔‘‘ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾(یٰسین:36؍69) ’’ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔‘‘ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيۡبَ الۡمَنُوۡنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔ [31]﴿قُلۡ﴾ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوۡا﴾ یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِيۡنَ﴾ ’’پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔ [32]﴿ اَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰؔذَاۤ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان کا آپ کو یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں، ان کی عقل و خردسے صادر ہوئی ہیں؟ کتنی بری ہے ان کی عقل و خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو کذب اور باطل قرار دیا، ایسی (فاسد) عقلوں سے تو مجانین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں، جہاں آ کر رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول و فعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ [33]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) نے خود ہی یہ (قرآن )گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلۡ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔ [34]﴿ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّؔثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد (ﷺ) نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔ [35]﴿ اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ﴾ ’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے آپ کو )پیدا کرنے والے ہیں‘‘ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہیں یا ان کا عقل و دین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہو جائے گا ۔۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء و رسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔(۱)ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے ، یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو۔ بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔(۲)انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔(۳) جب مذکورہ بالا دونوں امور باطل ہو گئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہو گیا تو تیسری بات متعین ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہو گئی تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔ [36]﴿ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟‘‘ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلۡ لَّا يُوۡقِنُوۡنَ﴾ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔ [37]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾(الزحزف:43؍32) ’’کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔‘‘ ﴿ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔ [38]﴿ اَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ﴾ ’’کیا ان کے پاس سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں۔‘‘ یعنی کیا انھیں غیب کا علم ہے اور وہ ملأاعلیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنھیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ ﴾ ’’پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔‘‘ یعنی ملأ ا علیٰ کی باتیں سننے کا دعوے دار ﴿ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کوئی صریح دلیل‘‘ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے، وہ کسی پر غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے، جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو، وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جبکہ محمد مصطفیﷺ، رسولوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں، اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی اور عناد میں مبتلا ہیں، تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جبکہ رسول اللہ ﷺ نے جن امور کی خبر دی ہے، ان پر دلائل و براہین قائم ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے۔ ان کا اپنے دعوے (انبیاء کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کر سکتے۔ [39]﴿ اَمۡ لَهُ الۡبَنٰتُ﴾ ’’یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟‘‘ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾’’اور تمھارے لیے بیٹے‘‘ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو ، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟ [40]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ﴾ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجۡرًا﴾ تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔ [41]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ﴾ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہﷺ کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفیﷺ ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ [42]﴿ اَمۡ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ کیا وہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح و قدح کر کے ﴿ كَيۡدًا﴾ کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں؟ ﴿ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هُمُ الۡمَكِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ وللہ الحمد. کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت و اختیارمیں تھی، انھوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا، اپنے دین کو غالب فرمایا، ان کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑا اور ان سے انتقام لیا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ﴾ یعنی کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے، جسے پکارا جائے اس سے کسی نفع کی امید رکھی جائے اور اس کے ضرر سے ڈرا جائے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وحدانیت اور عبودیت میں۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر کلام لایا گیا اور وہ ہے قطعی دلائل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ہستی کی عبادت کا بطلان اور اس کے فاسد ہونے کا بیان۔ جس موقف پر مشرکین قائم ہیں وہ باطل ہے۔ وہ ہستی جس کی عبادت کی جانی چاہیے، جس کے لیے نماز پڑھنی چاہیے، جس کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے، دعا ، یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو اسی کے لیے خالص کرنا چاہیے، وہ اللہ تعالیٰ معبود حقیقی کی ہستی ہے، جو اسماء و صفات میں کامل، بے شمار نعوت حسنہ اور افعال جمیلہ کا مالک، صاحب جلال و اکرام، قوت و غلبہ کا مالک، جس کو مغلوب کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو اکیلا، یکتا، متفرد، بے نیاز، بہت بڑا، قابل حمد و ثنا اور مالک مجد و جلال ہے۔
52:33

أَمۡ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُۥۚ بَل لَّا يُؤۡمِنُونَ

سو آپ نصیحت کریں، پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور نہ دیوانے(29) کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ (وہ پیغمبر)شاعر ہے، ہم انتظار کرتے ہیں اس کی بابت حوادث زمانہ (موت) کا (30) آپ کہہ دیجیے! تم انتظار کرو، پس بلاشبہ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (31)کیا حکم دیتی ہیں ان کو ان کی عقلیں اسی (بات) کا یا وہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ (32) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟بلکہ نہیں وہ ایمان لاتے (33) پس چاہیے کہ وہ لے آئیں ایک بات مثل اس (قرآن) کے، اگر ہیں وہ سچے (34) کیا پیدا کیے گئے ہیں وہ بغیر کسی چیز (خالق) کے یا وہی ہیں (خود) پیدا کرنے والے؟ (35) کیا انھوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟بلکہ نہیں وہ یقین رکھتے (36) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کے؟ یا وہ (ان کے) داروغے ہیں؟ (37) کیا ان کے لیے کوئی سیڑھی ہے کہ وہ سن لیتے ہیں اس پر (چڑھ کر)؟ پس چاہیے کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی دلیل واضح (38) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟(39) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی معاوضہ، پس وہ (اس کے) تاوان سے بوجھل ہیں؟ (40) یا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ لکھتے ہیں؟ (41) کیا وہ ارادہ کرتے ہیں کسی فریب کا؟ پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہی ہیں فریب خوردہ (42) کیا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے سوائے اللہ کے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (43) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ﴾ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ﴾ ’’کاہن‘‘ جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍ﴾ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔ [30] اور کبھی کبھی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾ ’’شاعر ہے۔‘‘ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾(یٰسین:36؍69) ’’ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔‘‘ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيۡبَ الۡمَنُوۡنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔ [31]﴿قُلۡ﴾ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوۡا﴾ یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِيۡنَ﴾ ’’پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔ [32]﴿ اَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰؔذَاۤ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان کا آپ کو یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں، ان کی عقل و خردسے صادر ہوئی ہیں؟ کتنی بری ہے ان کی عقل و خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو کذب اور باطل قرار دیا، ایسی (فاسد) عقلوں سے تو مجانین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں، جہاں آ کر رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول و فعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ [33]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) نے خود ہی یہ (قرآن )گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلۡ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔ [34]﴿ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّؔثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد (ﷺ) نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔ [35]﴿ اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ﴾ ’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے آپ کو )پیدا کرنے والے ہیں‘‘ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہیں یا ان کا عقل و دین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہو جائے گا ۔۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء و رسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔(۱)ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے ، یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو۔ بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔(۲)انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔(۳) جب مذکورہ بالا دونوں امور باطل ہو گئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہو گیا تو تیسری بات متعین ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہو گئی تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔ [36]﴿ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟‘‘ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلۡ لَّا يُوۡقِنُوۡنَ﴾ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔ [37]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾(الزحزف:43؍32) ’’کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔‘‘ ﴿ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔ [38]﴿ اَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ﴾ ’’کیا ان کے پاس سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں۔‘‘ یعنی کیا انھیں غیب کا علم ہے اور وہ ملأاعلیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنھیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ ﴾ ’’پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔‘‘ یعنی ملأ ا علیٰ کی باتیں سننے کا دعوے دار ﴿ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کوئی صریح دلیل‘‘ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے، وہ کسی پر غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے، جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو، وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جبکہ محمد مصطفیﷺ، رسولوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں، اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی اور عناد میں مبتلا ہیں، تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جبکہ رسول اللہ ﷺ نے جن امور کی خبر دی ہے، ان پر دلائل و براہین قائم ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے۔ ان کا اپنے دعوے (انبیاء کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کر سکتے۔ [39]﴿ اَمۡ لَهُ الۡبَنٰتُ﴾ ’’یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟‘‘ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾’’اور تمھارے لیے بیٹے‘‘ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو ، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟ [40]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ﴾ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجۡرًا﴾ تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔ [41]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ﴾ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہﷺ کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفیﷺ ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ [42]﴿ اَمۡ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ کیا وہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح و قدح کر کے ﴿ كَيۡدًا﴾ کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں؟ ﴿ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هُمُ الۡمَكِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ وللہ الحمد. کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت و اختیارمیں تھی، انھوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا، اپنے دین کو غالب فرمایا، ان کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑا اور ان سے انتقام لیا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ﴾ یعنی کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے، جسے پکارا جائے اس سے کسی نفع کی امید رکھی جائے اور اس کے ضرر سے ڈرا جائے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وحدانیت اور عبودیت میں۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر کلام لایا گیا اور وہ ہے قطعی دلائل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ہستی کی عبادت کا بطلان اور اس کے فاسد ہونے کا بیان۔ جس موقف پر مشرکین قائم ہیں وہ باطل ہے۔ وہ ہستی جس کی عبادت کی جانی چاہیے، جس کے لیے نماز پڑھنی چاہیے، جس کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے، دعا ، یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو اسی کے لیے خالص کرنا چاہیے، وہ اللہ تعالیٰ معبود حقیقی کی ہستی ہے، جو اسماء و صفات میں کامل، بے شمار نعوت حسنہ اور افعال جمیلہ کا مالک، صاحب جلال و اکرام، قوت و غلبہ کا مالک، جس کو مغلوب کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو اکیلا، یکتا، متفرد، بے نیاز، بہت بڑا، قابل حمد و ثنا اور مالک مجد و جلال ہے۔
52:34

فَلۡيَأۡتُواْ بِحَدِيثٖ مِّثۡلِهِۦٓ إِن كَانُواْ صَٰدِقِينَ

سو آپ نصیحت کریں، پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور نہ دیوانے(29) کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ (وہ پیغمبر)شاعر ہے، ہم انتظار کرتے ہیں اس کی بابت حوادث زمانہ (موت) کا (30) آپ کہہ دیجیے! تم انتظار کرو، پس بلاشبہ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (31)کیا حکم دیتی ہیں ان کو ان کی عقلیں اسی (بات) کا یا وہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ (32) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟بلکہ نہیں وہ ایمان لاتے (33) پس چاہیے کہ وہ لے آئیں ایک بات مثل اس (قرآن) کے، اگر ہیں وہ سچے (34) کیا پیدا کیے گئے ہیں وہ بغیر کسی چیز (خالق) کے یا وہی ہیں (خود) پیدا کرنے والے؟ (35) کیا انھوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟بلکہ نہیں وہ یقین رکھتے (36) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کے؟ یا وہ (ان کے) داروغے ہیں؟ (37) کیا ان کے لیے کوئی سیڑھی ہے کہ وہ سن لیتے ہیں اس پر (چڑھ کر)؟ پس چاہیے کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی دلیل واضح (38) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟(39) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی معاوضہ، پس وہ (اس کے) تاوان سے بوجھل ہیں؟ (40) یا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ لکھتے ہیں؟ (41) کیا وہ ارادہ کرتے ہیں کسی فریب کا؟ پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہی ہیں فریب خوردہ (42) کیا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے سوائے اللہ کے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (43) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ﴾ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ﴾ ’’کاہن‘‘ جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍ﴾ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔ [30] اور کبھی کبھی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾ ’’شاعر ہے۔‘‘ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾(یٰسین:36؍69) ’’ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔‘‘ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيۡبَ الۡمَنُوۡنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔ [31]﴿قُلۡ﴾ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوۡا﴾ یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِيۡنَ﴾ ’’پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔ [32]﴿ اَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰؔذَاۤ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان کا آپ کو یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں، ان کی عقل و خردسے صادر ہوئی ہیں؟ کتنی بری ہے ان کی عقل و خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو کذب اور باطل قرار دیا، ایسی (فاسد) عقلوں سے تو مجانین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں، جہاں آ کر رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول و فعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ [33]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) نے خود ہی یہ (قرآن )گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلۡ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔ [34]﴿ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّؔثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد (ﷺ) نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔ [35]﴿ اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ﴾ ’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے آپ کو )پیدا کرنے والے ہیں‘‘ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہیں یا ان کا عقل و دین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہو جائے گا ۔۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء و رسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔(۱)ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے ، یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو۔ بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔(۲)انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔(۳) جب مذکورہ بالا دونوں امور باطل ہو گئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہو گیا تو تیسری بات متعین ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہو گئی تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔ [36]﴿ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟‘‘ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلۡ لَّا يُوۡقِنُوۡنَ﴾ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔ [37]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾(الزحزف:43؍32) ’’کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔‘‘ ﴿ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔ [38]﴿ اَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ﴾ ’’کیا ان کے پاس سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں۔‘‘ یعنی کیا انھیں غیب کا علم ہے اور وہ ملأاعلیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنھیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ ﴾ ’’پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔‘‘ یعنی ملأ ا علیٰ کی باتیں سننے کا دعوے دار ﴿ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کوئی صریح دلیل‘‘ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے، وہ کسی پر غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے، جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو، وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جبکہ محمد مصطفیﷺ، رسولوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں، اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی اور عناد میں مبتلا ہیں، تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جبکہ رسول اللہ ﷺ نے جن امور کی خبر دی ہے، ان پر دلائل و براہین قائم ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے۔ ان کا اپنے دعوے (انبیاء کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کر سکتے۔ [39]﴿ اَمۡ لَهُ الۡبَنٰتُ﴾ ’’یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟‘‘ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾’’اور تمھارے لیے بیٹے‘‘ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو ، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟ [40]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ﴾ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجۡرًا﴾ تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔ [41]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ﴾ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہﷺ کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفیﷺ ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ [42]﴿ اَمۡ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ کیا وہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح و قدح کر کے ﴿ كَيۡدًا﴾ کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں؟ ﴿ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هُمُ الۡمَكِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ وللہ الحمد. کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت و اختیارمیں تھی، انھوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا، اپنے دین کو غالب فرمایا، ان کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑا اور ان سے انتقام لیا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ﴾ یعنی کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے، جسے پکارا جائے اس سے کسی نفع کی امید رکھی جائے اور اس کے ضرر سے ڈرا جائے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وحدانیت اور عبودیت میں۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر کلام لایا گیا اور وہ ہے قطعی دلائل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ہستی کی عبادت کا بطلان اور اس کے فاسد ہونے کا بیان۔ جس موقف پر مشرکین قائم ہیں وہ باطل ہے۔ وہ ہستی جس کی عبادت کی جانی چاہیے، جس کے لیے نماز پڑھنی چاہیے، جس کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے، دعا ، یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو اسی کے لیے خالص کرنا چاہیے، وہ اللہ تعالیٰ معبود حقیقی کی ہستی ہے، جو اسماء و صفات میں کامل، بے شمار نعوت حسنہ اور افعال جمیلہ کا مالک، صاحب جلال و اکرام، قوت و غلبہ کا مالک، جس کو مغلوب کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو اکیلا، یکتا، متفرد، بے نیاز، بہت بڑا، قابل حمد و ثنا اور مالک مجد و جلال ہے۔
52:35

أَمۡ خُلِقُواْ مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ أَمۡ هُمُ ٱلۡخَٰلِقُونَ

سو آپ نصیحت کریں، پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور نہ دیوانے(29) کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ (وہ پیغمبر)شاعر ہے، ہم انتظار کرتے ہیں اس کی بابت حوادث زمانہ (موت) کا (30) آپ کہہ دیجیے! تم انتظار کرو، پس بلاشبہ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (31)کیا حکم دیتی ہیں ان کو ان کی عقلیں اسی (بات) کا یا وہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ (32) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟بلکہ نہیں وہ ایمان لاتے (33) پس چاہیے کہ وہ لے آئیں ایک بات مثل اس (قرآن) کے، اگر ہیں وہ سچے (34) کیا پیدا کیے گئے ہیں وہ بغیر کسی چیز (خالق) کے یا وہی ہیں (خود) پیدا کرنے والے؟ (35) کیا انھوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟بلکہ نہیں وہ یقین رکھتے (36) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کے؟ یا وہ (ان کے) داروغے ہیں؟ (37) کیا ان کے لیے کوئی سیڑھی ہے کہ وہ سن لیتے ہیں اس پر (چڑھ کر)؟ پس چاہیے کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی دلیل واضح (38) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟(39) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی معاوضہ، پس وہ (اس کے) تاوان سے بوجھل ہیں؟ (40) یا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ لکھتے ہیں؟ (41) کیا وہ ارادہ کرتے ہیں کسی فریب کا؟ پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہی ہیں فریب خوردہ (42) کیا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے سوائے اللہ کے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (43) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ﴾ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ﴾ ’’کاہن‘‘ جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍ﴾ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔ [30] اور کبھی کبھی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾ ’’شاعر ہے۔‘‘ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾(یٰسین:36؍69) ’’ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔‘‘ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيۡبَ الۡمَنُوۡنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔ [31]﴿قُلۡ﴾ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوۡا﴾ یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِيۡنَ﴾ ’’پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔ [32]﴿ اَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰؔذَاۤ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان کا آپ کو یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں، ان کی عقل و خردسے صادر ہوئی ہیں؟ کتنی بری ہے ان کی عقل و خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو کذب اور باطل قرار دیا، ایسی (فاسد) عقلوں سے تو مجانین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں، جہاں آ کر رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول و فعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ [33]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) نے خود ہی یہ (قرآن )گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلۡ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔ [34]﴿ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّؔثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد (ﷺ) نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔ [35]﴿ اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ﴾ ’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے آپ کو )پیدا کرنے والے ہیں‘‘ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہیں یا ان کا عقل و دین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہو جائے گا ۔۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء و رسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔(۱)ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے ، یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو۔ بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔(۲)انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔(۳) جب مذکورہ بالا دونوں امور باطل ہو گئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہو گیا تو تیسری بات متعین ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہو گئی تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔ [36]﴿ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟‘‘ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلۡ لَّا يُوۡقِنُوۡنَ﴾ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔ [37]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾(الزحزف:43؍32) ’’کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔‘‘ ﴿ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔ [38]﴿ اَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ﴾ ’’کیا ان کے پاس سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں۔‘‘ یعنی کیا انھیں غیب کا علم ہے اور وہ ملأاعلیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنھیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ ﴾ ’’پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔‘‘ یعنی ملأ ا علیٰ کی باتیں سننے کا دعوے دار ﴿ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کوئی صریح دلیل‘‘ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے، وہ کسی پر غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے، جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو، وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جبکہ محمد مصطفیﷺ، رسولوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں، اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی اور عناد میں مبتلا ہیں، تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جبکہ رسول اللہ ﷺ نے جن امور کی خبر دی ہے، ان پر دلائل و براہین قائم ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے۔ ان کا اپنے دعوے (انبیاء کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کر سکتے۔ [39]﴿ اَمۡ لَهُ الۡبَنٰتُ﴾ ’’یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟‘‘ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾’’اور تمھارے لیے بیٹے‘‘ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو ، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟ [40]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ﴾ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجۡرًا﴾ تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔ [41]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ﴾ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہﷺ کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفیﷺ ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ [42]﴿ اَمۡ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ کیا وہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح و قدح کر کے ﴿ كَيۡدًا﴾ کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں؟ ﴿ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هُمُ الۡمَكِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ وللہ الحمد. کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت و اختیارمیں تھی، انھوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا، اپنے دین کو غالب فرمایا، ان کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑا اور ان سے انتقام لیا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ﴾ یعنی کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے، جسے پکارا جائے اس سے کسی نفع کی امید رکھی جائے اور اس کے ضرر سے ڈرا جائے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وحدانیت اور عبودیت میں۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر کلام لایا گیا اور وہ ہے قطعی دلائل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ہستی کی عبادت کا بطلان اور اس کے فاسد ہونے کا بیان۔ جس موقف پر مشرکین قائم ہیں وہ باطل ہے۔ وہ ہستی جس کی عبادت کی جانی چاہیے، جس کے لیے نماز پڑھنی چاہیے، جس کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے، دعا ، یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو اسی کے لیے خالص کرنا چاہیے، وہ اللہ تعالیٰ معبود حقیقی کی ہستی ہے، جو اسماء و صفات میں کامل، بے شمار نعوت حسنہ اور افعال جمیلہ کا مالک، صاحب جلال و اکرام، قوت و غلبہ کا مالک، جس کو مغلوب کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو اکیلا، یکتا، متفرد، بے نیاز، بہت بڑا، قابل حمد و ثنا اور مالک مجد و جلال ہے۔
52:36

أَمۡ خَلَقُواْ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ

سو آپ نصیحت کریں، پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور نہ دیوانے(29) کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ (وہ پیغمبر)شاعر ہے، ہم انتظار کرتے ہیں اس کی بابت حوادث زمانہ (موت) کا (30) آپ کہہ دیجیے! تم انتظار کرو، پس بلاشبہ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (31)کیا حکم دیتی ہیں ان کو ان کی عقلیں اسی (بات) کا یا وہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ (32) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟بلکہ نہیں وہ ایمان لاتے (33) پس چاہیے کہ وہ لے آئیں ایک بات مثل اس (قرآن) کے، اگر ہیں وہ سچے (34) کیا پیدا کیے گئے ہیں وہ بغیر کسی چیز (خالق) کے یا وہی ہیں (خود) پیدا کرنے والے؟ (35) کیا انھوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟بلکہ نہیں وہ یقین رکھتے (36) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کے؟ یا وہ (ان کے) داروغے ہیں؟ (37) کیا ان کے لیے کوئی سیڑھی ہے کہ وہ سن لیتے ہیں اس پر (چڑھ کر)؟ پس چاہیے کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی دلیل واضح (38) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟(39) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی معاوضہ، پس وہ (اس کے) تاوان سے بوجھل ہیں؟ (40) یا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ لکھتے ہیں؟ (41) کیا وہ ارادہ کرتے ہیں کسی فریب کا؟ پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہی ہیں فریب خوردہ (42) کیا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے سوائے اللہ کے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (43) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ﴾ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ﴾ ’’کاہن‘‘ جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍ﴾ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔ [30] اور کبھی کبھی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾ ’’شاعر ہے۔‘‘ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾(یٰسین:36؍69) ’’ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔‘‘ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيۡبَ الۡمَنُوۡنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔ [31]﴿قُلۡ﴾ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوۡا﴾ یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِيۡنَ﴾ ’’پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔ [32]﴿ اَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰؔذَاۤ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان کا آپ کو یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں، ان کی عقل و خردسے صادر ہوئی ہیں؟ کتنی بری ہے ان کی عقل و خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو کذب اور باطل قرار دیا، ایسی (فاسد) عقلوں سے تو مجانین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں، جہاں آ کر رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول و فعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ [33]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) نے خود ہی یہ (قرآن )گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلۡ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔ [34]﴿ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّؔثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد (ﷺ) نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔ [35]﴿ اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ﴾ ’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے آپ کو )پیدا کرنے والے ہیں‘‘ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہیں یا ان کا عقل و دین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہو جائے گا ۔۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء و رسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔(۱)ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے ، یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو۔ بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔(۲)انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔(۳) جب مذکورہ بالا دونوں امور باطل ہو گئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہو گیا تو تیسری بات متعین ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہو گئی تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔ [36]﴿ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟‘‘ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلۡ لَّا يُوۡقِنُوۡنَ﴾ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔ [37]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾(الزحزف:43؍32) ’’کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔‘‘ ﴿ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔ [38]﴿ اَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ﴾ ’’کیا ان کے پاس سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں۔‘‘ یعنی کیا انھیں غیب کا علم ہے اور وہ ملأاعلیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنھیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ ﴾ ’’پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔‘‘ یعنی ملأ ا علیٰ کی باتیں سننے کا دعوے دار ﴿ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کوئی صریح دلیل‘‘ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے، وہ کسی پر غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے، جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو، وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جبکہ محمد مصطفیﷺ، رسولوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں، اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی اور عناد میں مبتلا ہیں، تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جبکہ رسول اللہ ﷺ نے جن امور کی خبر دی ہے، ان پر دلائل و براہین قائم ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے۔ ان کا اپنے دعوے (انبیاء کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کر سکتے۔ [39]﴿ اَمۡ لَهُ الۡبَنٰتُ﴾ ’’یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟‘‘ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾’’اور تمھارے لیے بیٹے‘‘ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو ، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟ [40]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ﴾ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجۡرًا﴾ تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔ [41]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ﴾ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہﷺ کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفیﷺ ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ [42]﴿ اَمۡ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ کیا وہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح و قدح کر کے ﴿ كَيۡدًا﴾ کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں؟ ﴿ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هُمُ الۡمَكِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ وللہ الحمد. کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت و اختیارمیں تھی، انھوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا، اپنے دین کو غالب فرمایا، ان کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑا اور ان سے انتقام لیا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ﴾ یعنی کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے، جسے پکارا جائے اس سے کسی نفع کی امید رکھی جائے اور اس کے ضرر سے ڈرا جائے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وحدانیت اور عبودیت میں۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر کلام لایا گیا اور وہ ہے قطعی دلائل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ہستی کی عبادت کا بطلان اور اس کے فاسد ہونے کا بیان۔ جس موقف پر مشرکین قائم ہیں وہ باطل ہے۔ وہ ہستی جس کی عبادت کی جانی چاہیے، جس کے لیے نماز پڑھنی چاہیے، جس کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے، دعا ، یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو اسی کے لیے خالص کرنا چاہیے، وہ اللہ تعالیٰ معبود حقیقی کی ہستی ہے، جو اسماء و صفات میں کامل، بے شمار نعوت حسنہ اور افعال جمیلہ کا مالک، صاحب جلال و اکرام، قوت و غلبہ کا مالک، جس کو مغلوب کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو اکیلا، یکتا، متفرد، بے نیاز، بہت بڑا، قابل حمد و ثنا اور مالک مجد و جلال ہے۔
52:37

أَمۡ عِندَهُمۡ خَزَآئِنُ رَبِّكَ أَمۡ هُمُ ٱلۡمُصَۜيۡطِرُونَ

سو آپ نصیحت کریں، پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور نہ دیوانے(29) کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ (وہ پیغمبر)شاعر ہے، ہم انتظار کرتے ہیں اس کی بابت حوادث زمانہ (موت) کا (30) آپ کہہ دیجیے! تم انتظار کرو، پس بلاشبہ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (31)کیا حکم دیتی ہیں ان کو ان کی عقلیں اسی (بات) کا یا وہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ (32) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟بلکہ نہیں وہ ایمان لاتے (33) پس چاہیے کہ وہ لے آئیں ایک بات مثل اس (قرآن) کے، اگر ہیں وہ سچے (34) کیا پیدا کیے گئے ہیں وہ بغیر کسی چیز (خالق) کے یا وہی ہیں (خود) پیدا کرنے والے؟ (35) کیا انھوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟بلکہ نہیں وہ یقین رکھتے (36) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کے؟ یا وہ (ان کے) داروغے ہیں؟ (37) کیا ان کے لیے کوئی سیڑھی ہے کہ وہ سن لیتے ہیں اس پر (چڑھ کر)؟ پس چاہیے کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی دلیل واضح (38) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟(39) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی معاوضہ، پس وہ (اس کے) تاوان سے بوجھل ہیں؟ (40) یا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ لکھتے ہیں؟ (41) کیا وہ ارادہ کرتے ہیں کسی فریب کا؟ پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہی ہیں فریب خوردہ (42) کیا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے سوائے اللہ کے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (43) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ﴾ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ﴾ ’’کاہن‘‘ جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍ﴾ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔ [30] اور کبھی کبھی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾ ’’شاعر ہے۔‘‘ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾(یٰسین:36؍69) ’’ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔‘‘ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيۡبَ الۡمَنُوۡنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔ [31]﴿قُلۡ﴾ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوۡا﴾ یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِيۡنَ﴾ ’’پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔ [32]﴿ اَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰؔذَاۤ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان کا آپ کو یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں، ان کی عقل و خردسے صادر ہوئی ہیں؟ کتنی بری ہے ان کی عقل و خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو کذب اور باطل قرار دیا، ایسی (فاسد) عقلوں سے تو مجانین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں، جہاں آ کر رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول و فعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ [33]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) نے خود ہی یہ (قرآن )گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلۡ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔ [34]﴿ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّؔثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد (ﷺ) نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔ [35]﴿ اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ﴾ ’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے آپ کو )پیدا کرنے والے ہیں‘‘ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہیں یا ان کا عقل و دین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہو جائے گا ۔۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء و رسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔(۱)ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے ، یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو۔ بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔(۲)انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔(۳) جب مذکورہ بالا دونوں امور باطل ہو گئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہو گیا تو تیسری بات متعین ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہو گئی تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔ [36]﴿ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟‘‘ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلۡ لَّا يُوۡقِنُوۡنَ﴾ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔ [37]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾(الزحزف:43؍32) ’’کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔‘‘ ﴿ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔ [38]﴿ اَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ﴾ ’’کیا ان کے پاس سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں۔‘‘ یعنی کیا انھیں غیب کا علم ہے اور وہ ملأاعلیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنھیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ ﴾ ’’پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔‘‘ یعنی ملأ ا علیٰ کی باتیں سننے کا دعوے دار ﴿ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کوئی صریح دلیل‘‘ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے، وہ کسی پر غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے، جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو، وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جبکہ محمد مصطفیﷺ، رسولوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں، اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی اور عناد میں مبتلا ہیں، تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جبکہ رسول اللہ ﷺ نے جن امور کی خبر دی ہے، ان پر دلائل و براہین قائم ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے۔ ان کا اپنے دعوے (انبیاء کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کر سکتے۔ [39]﴿ اَمۡ لَهُ الۡبَنٰتُ﴾ ’’یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟‘‘ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾’’اور تمھارے لیے بیٹے‘‘ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو ، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟ [40]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ﴾ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجۡرًا﴾ تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔ [41]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ﴾ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہﷺ کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفیﷺ ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ [42]﴿ اَمۡ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ کیا وہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح و قدح کر کے ﴿ كَيۡدًا﴾ کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں؟ ﴿ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هُمُ الۡمَكِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ وللہ الحمد. کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت و اختیارمیں تھی، انھوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا، اپنے دین کو غالب فرمایا، ان کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑا اور ان سے انتقام لیا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ﴾ یعنی کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے، جسے پکارا جائے اس سے کسی نفع کی امید رکھی جائے اور اس کے ضرر سے ڈرا جائے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وحدانیت اور عبودیت میں۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر کلام لایا گیا اور وہ ہے قطعی دلائل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ہستی کی عبادت کا بطلان اور اس کے فاسد ہونے کا بیان۔ جس موقف پر مشرکین قائم ہیں وہ باطل ہے۔ وہ ہستی جس کی عبادت کی جانی چاہیے، جس کے لیے نماز پڑھنی چاہیے، جس کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے، دعا ، یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو اسی کے لیے خالص کرنا چاہیے، وہ اللہ تعالیٰ معبود حقیقی کی ہستی ہے، جو اسماء و صفات میں کامل، بے شمار نعوت حسنہ اور افعال جمیلہ کا مالک، صاحب جلال و اکرام، قوت و غلبہ کا مالک، جس کو مغلوب کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو اکیلا، یکتا، متفرد، بے نیاز، بہت بڑا، قابل حمد و ثنا اور مالک مجد و جلال ہے۔
52:38

أَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٞ يَسۡتَمِعُونَ فِيهِۖ فَلۡيَأۡتِ مُسۡتَمِعُهُم بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٍ

سو آپ نصیحت کریں، پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور نہ دیوانے(29) کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ (وہ پیغمبر)شاعر ہے، ہم انتظار کرتے ہیں اس کی بابت حوادث زمانہ (موت) کا (30) آپ کہہ دیجیے! تم انتظار کرو، پس بلاشبہ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (31)کیا حکم دیتی ہیں ان کو ان کی عقلیں اسی (بات) کا یا وہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ (32) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟بلکہ نہیں وہ ایمان لاتے (33) پس چاہیے کہ وہ لے آئیں ایک بات مثل اس (قرآن) کے، اگر ہیں وہ سچے (34) کیا پیدا کیے گئے ہیں وہ بغیر کسی چیز (خالق) کے یا وہی ہیں (خود) پیدا کرنے والے؟ (35) کیا انھوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟بلکہ نہیں وہ یقین رکھتے (36) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کے؟ یا وہ (ان کے) داروغے ہیں؟ (37) کیا ان کے لیے کوئی سیڑھی ہے کہ وہ سن لیتے ہیں اس پر (چڑھ کر)؟ پس چاہیے کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی دلیل واضح (38) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟(39) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی معاوضہ، پس وہ (اس کے) تاوان سے بوجھل ہیں؟ (40) یا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ لکھتے ہیں؟ (41) کیا وہ ارادہ کرتے ہیں کسی فریب کا؟ پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہی ہیں فریب خوردہ (42) کیا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے سوائے اللہ کے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (43) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ﴾ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ﴾ ’’کاہن‘‘ جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍ﴾ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔ [30] اور کبھی کبھی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾ ’’شاعر ہے۔‘‘ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾(یٰسین:36؍69) ’’ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔‘‘ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيۡبَ الۡمَنُوۡنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔ [31]﴿قُلۡ﴾ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوۡا﴾ یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِيۡنَ﴾ ’’پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔ [32]﴿ اَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰؔذَاۤ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان کا آپ کو یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں، ان کی عقل و خردسے صادر ہوئی ہیں؟ کتنی بری ہے ان کی عقل و خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو کذب اور باطل قرار دیا، ایسی (فاسد) عقلوں سے تو مجانین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں، جہاں آ کر رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول و فعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ [33]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) نے خود ہی یہ (قرآن )گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلۡ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔ [34]﴿ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّؔثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد (ﷺ) نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔ [35]﴿ اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ﴾ ’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے آپ کو )پیدا کرنے والے ہیں‘‘ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہیں یا ان کا عقل و دین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہو جائے گا ۔۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء و رسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔(۱)ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے ، یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو۔ بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔(۲)انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔(۳) جب مذکورہ بالا دونوں امور باطل ہو گئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہو گیا تو تیسری بات متعین ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہو گئی تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔ [36]﴿ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟‘‘ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلۡ لَّا يُوۡقِنُوۡنَ﴾ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔ [37]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾(الزحزف:43؍32) ’’کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔‘‘ ﴿ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔ [38]﴿ اَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ﴾ ’’کیا ان کے پاس سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں۔‘‘ یعنی کیا انھیں غیب کا علم ہے اور وہ ملأاعلیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنھیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ ﴾ ’’پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔‘‘ یعنی ملأ ا علیٰ کی باتیں سننے کا دعوے دار ﴿ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کوئی صریح دلیل‘‘ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے، وہ کسی پر غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے، جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو، وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جبکہ محمد مصطفیﷺ، رسولوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں، اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی اور عناد میں مبتلا ہیں، تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جبکہ رسول اللہ ﷺ نے جن امور کی خبر دی ہے، ان پر دلائل و براہین قائم ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے۔ ان کا اپنے دعوے (انبیاء کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کر سکتے۔ [39]﴿ اَمۡ لَهُ الۡبَنٰتُ﴾ ’’یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟‘‘ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾’’اور تمھارے لیے بیٹے‘‘ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو ، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟ [40]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ﴾ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجۡرًا﴾ تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔ [41]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ﴾ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہﷺ کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفیﷺ ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ [42]﴿ اَمۡ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ کیا وہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح و قدح کر کے ﴿ كَيۡدًا﴾ کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں؟ ﴿ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هُمُ الۡمَكِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ وللہ الحمد. کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت و اختیارمیں تھی، انھوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا، اپنے دین کو غالب فرمایا، ان کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑا اور ان سے انتقام لیا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ﴾ یعنی کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے، جسے پکارا جائے اس سے کسی نفع کی امید رکھی جائے اور اس کے ضرر سے ڈرا جائے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وحدانیت اور عبودیت میں۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر کلام لایا گیا اور وہ ہے قطعی دلائل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ہستی کی عبادت کا بطلان اور اس کے فاسد ہونے کا بیان۔ جس موقف پر مشرکین قائم ہیں وہ باطل ہے۔ وہ ہستی جس کی عبادت کی جانی چاہیے، جس کے لیے نماز پڑھنی چاہیے، جس کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے، دعا ، یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو اسی کے لیے خالص کرنا چاہیے، وہ اللہ تعالیٰ معبود حقیقی کی ہستی ہے، جو اسماء و صفات میں کامل، بے شمار نعوت حسنہ اور افعال جمیلہ کا مالک، صاحب جلال و اکرام، قوت و غلبہ کا مالک، جس کو مغلوب کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو اکیلا، یکتا، متفرد، بے نیاز، بہت بڑا، قابل حمد و ثنا اور مالک مجد و جلال ہے۔
52:39

أَمۡ لَهُ ٱلۡبَنَٰتُ وَلَكُمُ ٱلۡبَنُونَ

سو آپ نصیحت کریں، پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور نہ دیوانے(29) کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ (وہ پیغمبر)شاعر ہے، ہم انتظار کرتے ہیں اس کی بابت حوادث زمانہ (موت) کا (30) آپ کہہ دیجیے! تم انتظار کرو، پس بلاشبہ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (31)کیا حکم دیتی ہیں ان کو ان کی عقلیں اسی (بات) کا یا وہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ (32) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟بلکہ نہیں وہ ایمان لاتے (33) پس چاہیے کہ وہ لے آئیں ایک بات مثل اس (قرآن) کے، اگر ہیں وہ سچے (34) کیا پیدا کیے گئے ہیں وہ بغیر کسی چیز (خالق) کے یا وہی ہیں (خود) پیدا کرنے والے؟ (35) کیا انھوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟بلکہ نہیں وہ یقین رکھتے (36) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کے؟ یا وہ (ان کے) داروغے ہیں؟ (37) کیا ان کے لیے کوئی سیڑھی ہے کہ وہ سن لیتے ہیں اس پر (چڑھ کر)؟ پس چاہیے کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی دلیل واضح (38) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟(39) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی معاوضہ، پس وہ (اس کے) تاوان سے بوجھل ہیں؟ (40) یا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ لکھتے ہیں؟ (41) کیا وہ ارادہ کرتے ہیں کسی فریب کا؟ پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہی ہیں فریب خوردہ (42) کیا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے سوائے اللہ کے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (43) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ﴾ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ﴾ ’’کاہن‘‘ جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍ﴾ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔ [30] اور کبھی کبھی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾ ’’شاعر ہے۔‘‘ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾(یٰسین:36؍69) ’’ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔‘‘ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيۡبَ الۡمَنُوۡنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔ [31]﴿قُلۡ﴾ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوۡا﴾ یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِيۡنَ﴾ ’’پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔ [32]﴿ اَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰؔذَاۤ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان کا آپ کو یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں، ان کی عقل و خردسے صادر ہوئی ہیں؟ کتنی بری ہے ان کی عقل و خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو کذب اور باطل قرار دیا، ایسی (فاسد) عقلوں سے تو مجانین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں، جہاں آ کر رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول و فعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ [33]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) نے خود ہی یہ (قرآن )گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلۡ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔ [34]﴿ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّؔثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد (ﷺ) نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔ [35]﴿ اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ﴾ ’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے آپ کو )پیدا کرنے والے ہیں‘‘ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہیں یا ان کا عقل و دین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہو جائے گا ۔۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء و رسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔(۱)ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے ، یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو۔ بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔(۲)انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔(۳) جب مذکورہ بالا دونوں امور باطل ہو گئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہو گیا تو تیسری بات متعین ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہو گئی تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔ [36]﴿ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟‘‘ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلۡ لَّا يُوۡقِنُوۡنَ﴾ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔ [37]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾(الزحزف:43؍32) ’’کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔‘‘ ﴿ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔ [38]﴿ اَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ﴾ ’’کیا ان کے پاس سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں۔‘‘ یعنی کیا انھیں غیب کا علم ہے اور وہ ملأاعلیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنھیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ ﴾ ’’پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔‘‘ یعنی ملأ ا علیٰ کی باتیں سننے کا دعوے دار ﴿ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کوئی صریح دلیل‘‘ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے، وہ کسی پر غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے، جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو، وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جبکہ محمد مصطفیﷺ، رسولوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں، اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی اور عناد میں مبتلا ہیں، تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جبکہ رسول اللہ ﷺ نے جن امور کی خبر دی ہے، ان پر دلائل و براہین قائم ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے۔ ان کا اپنے دعوے (انبیاء کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کر سکتے۔ [39]﴿ اَمۡ لَهُ الۡبَنٰتُ﴾ ’’یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟‘‘ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾’’اور تمھارے لیے بیٹے‘‘ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو ، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟ [40]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ﴾ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجۡرًا﴾ تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔ [41]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ﴾ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہﷺ کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفیﷺ ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ [42]﴿ اَمۡ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ کیا وہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح و قدح کر کے ﴿ كَيۡدًا﴾ کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں؟ ﴿ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هُمُ الۡمَكِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ وللہ الحمد. کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت و اختیارمیں تھی، انھوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا، اپنے دین کو غالب فرمایا، ان کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑا اور ان سے انتقام لیا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ﴾ یعنی کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے، جسے پکارا جائے اس سے کسی نفع کی امید رکھی جائے اور اس کے ضرر سے ڈرا جائے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وحدانیت اور عبودیت میں۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر کلام لایا گیا اور وہ ہے قطعی دلائل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ہستی کی عبادت کا بطلان اور اس کے فاسد ہونے کا بیان۔ جس موقف پر مشرکین قائم ہیں وہ باطل ہے۔ وہ ہستی جس کی عبادت کی جانی چاہیے، جس کے لیے نماز پڑھنی چاہیے، جس کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے، دعا ، یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو اسی کے لیے خالص کرنا چاہیے، وہ اللہ تعالیٰ معبود حقیقی کی ہستی ہے، جو اسماء و صفات میں کامل، بے شمار نعوت حسنہ اور افعال جمیلہ کا مالک، صاحب جلال و اکرام، قوت و غلبہ کا مالک، جس کو مغلوب کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو اکیلا، یکتا، متفرد، بے نیاز، بہت بڑا، قابل حمد و ثنا اور مالک مجد و جلال ہے۔
52:40

أَمۡ تَسۡـَٔلُهُمۡ أَجۡرٗا فَهُم مِّن مَّغۡرَمٖ مُّثۡقَلُونَ

سو آپ نصیحت کریں، پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور نہ دیوانے(29) کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ (وہ پیغمبر)شاعر ہے، ہم انتظار کرتے ہیں اس کی بابت حوادث زمانہ (موت) کا (30) آپ کہہ دیجیے! تم انتظار کرو، پس بلاشبہ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (31)کیا حکم دیتی ہیں ان کو ان کی عقلیں اسی (بات) کا یا وہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ (32) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟بلکہ نہیں وہ ایمان لاتے (33) پس چاہیے کہ وہ لے آئیں ایک بات مثل اس (قرآن) کے، اگر ہیں وہ سچے (34) کیا پیدا کیے گئے ہیں وہ بغیر کسی چیز (خالق) کے یا وہی ہیں (خود) پیدا کرنے والے؟ (35) کیا انھوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟بلکہ نہیں وہ یقین رکھتے (36) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کے؟ یا وہ (ان کے) داروغے ہیں؟ (37) کیا ان کے لیے کوئی سیڑھی ہے کہ وہ سن لیتے ہیں اس پر (چڑھ کر)؟ پس چاہیے کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی دلیل واضح (38) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟(39) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی معاوضہ، پس وہ (اس کے) تاوان سے بوجھل ہیں؟ (40) یا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ لکھتے ہیں؟ (41) کیا وہ ارادہ کرتے ہیں کسی فریب کا؟ پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہی ہیں فریب خوردہ (42) کیا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے سوائے اللہ کے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (43) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ﴾ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ﴾ ’’کاہن‘‘ جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍ﴾ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔ [30] اور کبھی کبھی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾ ’’شاعر ہے۔‘‘ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾(یٰسین:36؍69) ’’ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔‘‘ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيۡبَ الۡمَنُوۡنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔ [31]﴿قُلۡ﴾ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوۡا﴾ یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِيۡنَ﴾ ’’پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔ [32]﴿ اَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰؔذَاۤ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان کا آپ کو یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں، ان کی عقل و خردسے صادر ہوئی ہیں؟ کتنی بری ہے ان کی عقل و خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو کذب اور باطل قرار دیا، ایسی (فاسد) عقلوں سے تو مجانین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں، جہاں آ کر رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول و فعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ [33]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) نے خود ہی یہ (قرآن )گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلۡ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔ [34]﴿ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّؔثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد (ﷺ) نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔ [35]﴿ اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ﴾ ’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے آپ کو )پیدا کرنے والے ہیں‘‘ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہیں یا ان کا عقل و دین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہو جائے گا ۔۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء و رسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔(۱)ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے ، یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو۔ بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔(۲)انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔(۳) جب مذکورہ بالا دونوں امور باطل ہو گئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہو گیا تو تیسری بات متعین ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہو گئی تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔ [36]﴿ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟‘‘ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلۡ لَّا يُوۡقِنُوۡنَ﴾ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔ [37]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾(الزحزف:43؍32) ’’کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔‘‘ ﴿ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔ [38]﴿ اَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ﴾ ’’کیا ان کے پاس سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں۔‘‘ یعنی کیا انھیں غیب کا علم ہے اور وہ ملأاعلیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنھیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ ﴾ ’’پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔‘‘ یعنی ملأ ا علیٰ کی باتیں سننے کا دعوے دار ﴿ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کوئی صریح دلیل‘‘ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے، وہ کسی پر غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے، جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو، وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جبکہ محمد مصطفیﷺ، رسولوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں، اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی اور عناد میں مبتلا ہیں، تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جبکہ رسول اللہ ﷺ نے جن امور کی خبر دی ہے، ان پر دلائل و براہین قائم ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے۔ ان کا اپنے دعوے (انبیاء کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کر سکتے۔ [39]﴿ اَمۡ لَهُ الۡبَنٰتُ﴾ ’’یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟‘‘ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾’’اور تمھارے لیے بیٹے‘‘ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو ، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟ [40]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ﴾ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجۡرًا﴾ تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔ [41]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ﴾ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہﷺ کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفیﷺ ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ [42]﴿ اَمۡ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ کیا وہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح و قدح کر کے ﴿ كَيۡدًا﴾ کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں؟ ﴿ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هُمُ الۡمَكِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ وللہ الحمد. کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت و اختیارمیں تھی، انھوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا، اپنے دین کو غالب فرمایا، ان کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑا اور ان سے انتقام لیا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ﴾ یعنی کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے، جسے پکارا جائے اس سے کسی نفع کی امید رکھی جائے اور اس کے ضرر سے ڈرا جائے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وحدانیت اور عبودیت میں۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر کلام لایا گیا اور وہ ہے قطعی دلائل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ہستی کی عبادت کا بطلان اور اس کے فاسد ہونے کا بیان۔ جس موقف پر مشرکین قائم ہیں وہ باطل ہے۔ وہ ہستی جس کی عبادت کی جانی چاہیے، جس کے لیے نماز پڑھنی چاہیے، جس کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے، دعا ، یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو اسی کے لیے خالص کرنا چاہیے، وہ اللہ تعالیٰ معبود حقیقی کی ہستی ہے، جو اسماء و صفات میں کامل، بے شمار نعوت حسنہ اور افعال جمیلہ کا مالک، صاحب جلال و اکرام، قوت و غلبہ کا مالک، جس کو مغلوب کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو اکیلا، یکتا، متفرد، بے نیاز، بہت بڑا، قابل حمد و ثنا اور مالک مجد و جلال ہے۔
52:41

أَمۡ عِندَهُمُ ٱلۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُونَ

سو آپ نصیحت کریں، پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور نہ دیوانے(29) کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ (وہ پیغمبر)شاعر ہے، ہم انتظار کرتے ہیں اس کی بابت حوادث زمانہ (موت) کا (30) آپ کہہ دیجیے! تم انتظار کرو، پس بلاشبہ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (31)کیا حکم دیتی ہیں ان کو ان کی عقلیں اسی (بات) کا یا وہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ (32) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟بلکہ نہیں وہ ایمان لاتے (33) پس چاہیے کہ وہ لے آئیں ایک بات مثل اس (قرآن) کے، اگر ہیں وہ سچے (34) کیا پیدا کیے گئے ہیں وہ بغیر کسی چیز (خالق) کے یا وہی ہیں (خود) پیدا کرنے والے؟ (35) کیا انھوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟بلکہ نہیں وہ یقین رکھتے (36) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کے؟ یا وہ (ان کے) داروغے ہیں؟ (37) کیا ان کے لیے کوئی سیڑھی ہے کہ وہ سن لیتے ہیں اس پر (چڑھ کر)؟ پس چاہیے کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی دلیل واضح (38) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟(39) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی معاوضہ، پس وہ (اس کے) تاوان سے بوجھل ہیں؟ (40) یا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ لکھتے ہیں؟ (41) کیا وہ ارادہ کرتے ہیں کسی فریب کا؟ پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہی ہیں فریب خوردہ (42) کیا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے سوائے اللہ کے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (43) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ﴾ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ﴾ ’’کاہن‘‘ جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍ﴾ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔ [30] اور کبھی کبھی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾ ’’شاعر ہے۔‘‘ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾(یٰسین:36؍69) ’’ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔‘‘ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيۡبَ الۡمَنُوۡنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔ [31]﴿قُلۡ﴾ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوۡا﴾ یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِيۡنَ﴾ ’’پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔ [32]﴿ اَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰؔذَاۤ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان کا آپ کو یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں، ان کی عقل و خردسے صادر ہوئی ہیں؟ کتنی بری ہے ان کی عقل و خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو کذب اور باطل قرار دیا، ایسی (فاسد) عقلوں سے تو مجانین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں، جہاں آ کر رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول و فعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ [33]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) نے خود ہی یہ (قرآن )گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلۡ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔ [34]﴿ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّؔثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد (ﷺ) نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔ [35]﴿ اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ﴾ ’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے آپ کو )پیدا کرنے والے ہیں‘‘ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہیں یا ان کا عقل و دین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہو جائے گا ۔۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء و رسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔(۱)ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے ، یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو۔ بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔(۲)انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔(۳) جب مذکورہ بالا دونوں امور باطل ہو گئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہو گیا تو تیسری بات متعین ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہو گئی تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔ [36]﴿ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟‘‘ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلۡ لَّا يُوۡقِنُوۡنَ﴾ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔ [37]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾(الزحزف:43؍32) ’’کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔‘‘ ﴿ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔ [38]﴿ اَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ﴾ ’’کیا ان کے پاس سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں۔‘‘ یعنی کیا انھیں غیب کا علم ہے اور وہ ملأاعلیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنھیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ ﴾ ’’پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔‘‘ یعنی ملأ ا علیٰ کی باتیں سننے کا دعوے دار ﴿ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کوئی صریح دلیل‘‘ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے، وہ کسی پر غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے، جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو، وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جبکہ محمد مصطفیﷺ، رسولوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں، اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی اور عناد میں مبتلا ہیں، تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جبکہ رسول اللہ ﷺ نے جن امور کی خبر دی ہے، ان پر دلائل و براہین قائم ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے۔ ان کا اپنے دعوے (انبیاء کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کر سکتے۔ [39]﴿ اَمۡ لَهُ الۡبَنٰتُ﴾ ’’یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟‘‘ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾’’اور تمھارے لیے بیٹے‘‘ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو ، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟ [40]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ﴾ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجۡرًا﴾ تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔ [41]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ﴾ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہﷺ کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفیﷺ ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ [42]﴿ اَمۡ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ کیا وہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح و قدح کر کے ﴿ كَيۡدًا﴾ کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں؟ ﴿ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هُمُ الۡمَكِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ وللہ الحمد. کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت و اختیارمیں تھی، انھوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا، اپنے دین کو غالب فرمایا، ان کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑا اور ان سے انتقام لیا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ﴾ یعنی کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے، جسے پکارا جائے اس سے کسی نفع کی امید رکھی جائے اور اس کے ضرر سے ڈرا جائے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وحدانیت اور عبودیت میں۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر کلام لایا گیا اور وہ ہے قطعی دلائل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ہستی کی عبادت کا بطلان اور اس کے فاسد ہونے کا بیان۔ جس موقف پر مشرکین قائم ہیں وہ باطل ہے۔ وہ ہستی جس کی عبادت کی جانی چاہیے، جس کے لیے نماز پڑھنی چاہیے، جس کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے، دعا ، یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو اسی کے لیے خالص کرنا چاہیے، وہ اللہ تعالیٰ معبود حقیقی کی ہستی ہے، جو اسماء و صفات میں کامل، بے شمار نعوت حسنہ اور افعال جمیلہ کا مالک، صاحب جلال و اکرام، قوت و غلبہ کا مالک، جس کو مغلوب کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو اکیلا، یکتا، متفرد، بے نیاز، بہت بڑا، قابل حمد و ثنا اور مالک مجد و جلال ہے۔
52:42

أَمۡ يُرِيدُونَ كَيۡدٗاۖ فَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ هُمُ ٱلۡمَكِيدُونَ

سو آپ نصیحت کریں، پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور نہ دیوانے(29) کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ (وہ پیغمبر)شاعر ہے، ہم انتظار کرتے ہیں اس کی بابت حوادث زمانہ (موت) کا (30) آپ کہہ دیجیے! تم انتظار کرو، پس بلاشبہ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (31)کیا حکم دیتی ہیں ان کو ان کی عقلیں اسی (بات) کا یا وہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ (32) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟بلکہ نہیں وہ ایمان لاتے (33) پس چاہیے کہ وہ لے آئیں ایک بات مثل اس (قرآن) کے، اگر ہیں وہ سچے (34) کیا پیدا کیے گئے ہیں وہ بغیر کسی چیز (خالق) کے یا وہی ہیں (خود) پیدا کرنے والے؟ (35) کیا انھوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟بلکہ نہیں وہ یقین رکھتے (36) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کے؟ یا وہ (ان کے) داروغے ہیں؟ (37) کیا ان کے لیے کوئی سیڑھی ہے کہ وہ سن لیتے ہیں اس پر (چڑھ کر)؟ پس چاہیے کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی دلیل واضح (38) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟(39) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی معاوضہ، پس وہ (اس کے) تاوان سے بوجھل ہیں؟ (40) یا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ لکھتے ہیں؟ (41) کیا وہ ارادہ کرتے ہیں کسی فریب کا؟ پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہی ہیں فریب خوردہ (42) کیا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے سوائے اللہ کے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (43) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ﴾ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ﴾ ’’کاہن‘‘ جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍ﴾ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔ [30] اور کبھی کبھی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾ ’’شاعر ہے۔‘‘ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾(یٰسین:36؍69) ’’ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔‘‘ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيۡبَ الۡمَنُوۡنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔ [31]﴿قُلۡ﴾ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوۡا﴾ یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِيۡنَ﴾ ’’پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔ [32]﴿ اَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰؔذَاۤ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان کا آپ کو یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں، ان کی عقل و خردسے صادر ہوئی ہیں؟ کتنی بری ہے ان کی عقل و خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو کذب اور باطل قرار دیا، ایسی (فاسد) عقلوں سے تو مجانین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں، جہاں آ کر رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول و فعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ [33]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) نے خود ہی یہ (قرآن )گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلۡ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔ [34]﴿ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّؔثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد (ﷺ) نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔ [35]﴿ اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ﴾ ’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے آپ کو )پیدا کرنے والے ہیں‘‘ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہیں یا ان کا عقل و دین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہو جائے گا ۔۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء و رسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔(۱)ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے ، یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو۔ بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔(۲)انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔(۳) جب مذکورہ بالا دونوں امور باطل ہو گئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہو گیا تو تیسری بات متعین ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہو گئی تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔ [36]﴿ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟‘‘ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلۡ لَّا يُوۡقِنُوۡنَ﴾ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔ [37]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾(الزحزف:43؍32) ’’کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔‘‘ ﴿ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔ [38]﴿ اَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ﴾ ’’کیا ان کے پاس سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں۔‘‘ یعنی کیا انھیں غیب کا علم ہے اور وہ ملأاعلیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنھیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ ﴾ ’’پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔‘‘ یعنی ملأ ا علیٰ کی باتیں سننے کا دعوے دار ﴿ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کوئی صریح دلیل‘‘ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے، وہ کسی پر غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے، جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو، وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جبکہ محمد مصطفیﷺ، رسولوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں، اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی اور عناد میں مبتلا ہیں، تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جبکہ رسول اللہ ﷺ نے جن امور کی خبر دی ہے، ان پر دلائل و براہین قائم ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے۔ ان کا اپنے دعوے (انبیاء کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کر سکتے۔ [39]﴿ اَمۡ لَهُ الۡبَنٰتُ﴾ ’’یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟‘‘ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾’’اور تمھارے لیے بیٹے‘‘ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو ، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟ [40]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ﴾ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجۡرًا﴾ تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔ [41]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ﴾ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہﷺ کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفیﷺ ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ [42]﴿ اَمۡ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ کیا وہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح و قدح کر کے ﴿ كَيۡدًا﴾ کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں؟ ﴿ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هُمُ الۡمَكِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ وللہ الحمد. کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت و اختیارمیں تھی، انھوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا، اپنے دین کو غالب فرمایا، ان کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑا اور ان سے انتقام لیا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ﴾ یعنی کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے، جسے پکارا جائے اس سے کسی نفع کی امید رکھی جائے اور اس کے ضرر سے ڈرا جائے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وحدانیت اور عبودیت میں۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر کلام لایا گیا اور وہ ہے قطعی دلائل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ہستی کی عبادت کا بطلان اور اس کے فاسد ہونے کا بیان۔ جس موقف پر مشرکین قائم ہیں وہ باطل ہے۔ وہ ہستی جس کی عبادت کی جانی چاہیے، جس کے لیے نماز پڑھنی چاہیے، جس کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے، دعا ، یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو اسی کے لیے خالص کرنا چاہیے، وہ اللہ تعالیٰ معبود حقیقی کی ہستی ہے، جو اسماء و صفات میں کامل، بے شمار نعوت حسنہ اور افعال جمیلہ کا مالک، صاحب جلال و اکرام، قوت و غلبہ کا مالک، جس کو مغلوب کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو اکیلا، یکتا، متفرد، بے نیاز، بہت بڑا، قابل حمد و ثنا اور مالک مجد و جلال ہے۔
52:43

أَمۡ لَهُمۡ إِلَٰهٌ غَيۡرُ ٱللَّهِۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يُشۡرِكُونَ

سو آپ نصیحت کریں، پس نہیں ہیں آپ اپنے رب کے فضل سے کاہن اور نہ دیوانے(29) کیا وہ (کافر) کہتے ہیں کہ (وہ پیغمبر)شاعر ہے، ہم انتظار کرتے ہیں اس کی بابت حوادث زمانہ (موت) کا (30) آپ کہہ دیجیے! تم انتظار کرو، پس بلاشبہ میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں (31)کیا حکم دیتی ہیں ان کو ان کی عقلیں اسی (بات) کا یا وہ لوگ ہی سرکش ہیں؟ (32) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود ہی گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟بلکہ نہیں وہ ایمان لاتے (33) پس چاہیے کہ وہ لے آئیں ایک بات مثل اس (قرآن) کے، اگر ہیں وہ سچے (34) کیا پیدا کیے گئے ہیں وہ بغیر کسی چیز (خالق) کے یا وہی ہیں (خود) پیدا کرنے والے؟ (35) کیا انھوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟بلکہ نہیں وہ یقین رکھتے (36) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کے؟ یا وہ (ان کے) داروغے ہیں؟ (37) کیا ان کے لیے کوئی سیڑھی ہے کہ وہ سن لیتے ہیں اس پر (چڑھ کر)؟ پس چاہیے کہ لے آئے ان کا سننے والا کوئی دلیل واضح (38) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمھارے لیے بیٹے؟(39) کیا آپ مانگتے ہیں ان سے کوئی معاوضہ، پس وہ (اس کے) تاوان سے بوجھل ہیں؟ (40) یا ان کے پاس (علم) غیب ہے پس وہ لکھتے ہیں؟ (41) کیا وہ ارادہ کرتے ہیں کسی فریب کا؟ پس وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہی ہیں فریب خوردہ (42) کیا ان کے لیے کوئی اور معبود ہے سوائے اللہ کے؟ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (43) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو، مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں، تاکہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے، اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پا لیں۔ نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروا نہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کر دی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ﴾ یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے ﴿ بِكَاهِنٍ﴾ ’’کاہن‘‘ جس کے پاس جنوں کا سردار آتا ہے اور اس کے پاس غیب کی خبر لاتا ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ خود اپنی طرف سے شامل کر دیتا ہے۔ ﴿ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍ﴾ اور نہ آپ فاترالعقل ہیں، بلکہ آپ عقل میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، شیاطین سے سب سے زیادہ دور، صداقت میں سب سے بڑے، تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور سب سے زیادہ کامل ہیں۔ [30] اور کبھی کبھی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ﴿ شَاعِرٌ﴾ ’’شاعر ہے۔‘‘ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾(یٰسین:36؍69) ’’ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔‘‘ ﴿نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيۡبَ الۡمَنُوۡنِ﴾ یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کر رہے ہیں، پس اس کا معاملہ ختم ہو جائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کر کے راحت پا لیں گے۔ [31]﴿قُلۡ﴾ آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ دیجیے ﴿ تَرَبَّصُوۡا﴾ یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو ﴿ فَاِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِيۡنَ﴾ ’’پس میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔‘‘ ہم تمھارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں عذاب میں مبتلا کرے۔ [32]﴿ اَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰؔذَاۤ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان کا آپ کو یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں، ان کی عقل و خردسے صادر ہوئی ہیں؟ کتنی بری ہے ان کی عقل و خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو کذب اور باطل قرار دیا، ایسی (فاسد) عقلوں سے تو مجانین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں، جہاں آ کر رک جائے۔ ایک سرکش اور حدود سے تجاوز کرنے والے شخص سے کسی بھی قول و فعل کا صدور ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ [33]﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) نے خود ہی یہ (قرآن )گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلۡ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے ۔‘‘ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔ [34]﴿ فَلۡيَاۡتُوۡا بِحَدِيۡثٍ مِّؔثۡلِهٖۤ اِنۡ كَانُوۡا صٰؔدِقِيۡنَ﴾ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ اسے محمد (ﷺ) نے تصنیف کیا ہے، تو تم نہایت فصیح عرب اور بڑے بلیغ لوگ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں مقابلے کی دعوت بھی دی ہوئی ہے کہ تم اس جیسا کلام بنا لاؤ تاکہ تمھاری مخالفت کی صداقت ثابت ہو، ورنہ تم قرآن کی صداقت کو تسلیم کر لو۔ اور اگر تم تمام انسان اور جنات اکٹھے ہو جاؤ تب بھی تم اس کا معارضہ کر سکتے ہو نہ اس جیسا کلام بنا کر لا سکتے ہو۔ تب اس وقت تمھارا معاملہ دو امور میں سے ایک ہے۔ یا تو اس کو تسلیم کرتے ہو اور اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہو یا تم عناد رکھتے ہوئے باطل کی اتباع کرتے ہو۔ [35]﴿ اَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَيۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَ﴾ ’’کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے آپ کو )پیدا کرنے والے ہیں‘‘ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ نہیں یا ان کا عقل و دین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہو جائے گا ۔۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور انبیاء و رسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔(۱)ان کو کسی چیز کے بغیر پیدا کیا گیا ہے ، یعنی ان کا کوئی خالق نہیں جس نے ان کو تخلیق کیا ہو۔ بلکہ وہ کسی ایجاد اور موجد کے بغیر وجود میں آئے ہیں اور یہ عین محال ہے۔(۲)انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے اور یہ بھی محال ہے کیونکہ اس بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اپنے آپ کو بذات خود وجود بخشے۔(۳) جب مذکورہ بالا دونوں امور باطل ہو گئے اور ان کا محال ہونا ثابت ہو گیا تو تیسری بات متعین ہو گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا۔ جب یہ بات متعین ہو گئی تو معلوم ہوا کہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے جس کے سوا اور ہستی کی عبادت مناسب ہے نہ درست۔ [36]﴿ اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟‘‘ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلۡ لَّا يُوۡقِنُوۡنَ﴾ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔ [37]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کر دیں؟ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کو، اپنے بندے اور رسول، محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے۔ اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے۔ ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ ﴿ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾(الزحزف:43؍32) ’’کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ دنیاوی زندگی میں ہم نے ان کے درمیان ان کی روزی کو تقسیم کیا ہے۔‘‘ ﴿ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے اقتدار پر قہر اور غلبہ سے مسلط ہیں؟ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ تو عاجز اور محتاج ہیں۔ [38]﴿ اَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ﴾ ’’کیا ان کے پاس سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں۔‘‘ یعنی کیا انھیں غیب کا علم ہے اور وہ ملأاعلیٰ کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنھیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ ﴾ ’’پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔‘‘ یعنی ملأ ا علیٰ کی باتیں سننے کا دعوے دار ﴿ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کوئی صریح دلیل‘‘ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے، وہ کسی پر غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے، جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو، وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آگاہ کرتا ہے۔ جبکہ محمد مصطفیﷺ، رسولوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ علم رکھنے والے اور ان کے امام ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے وعدے اور وعید وغیرہ کے بارے میں سچی خبریں دینے والے ہیں، اور آپ کی تکذیب کرنے والے جہالت، ضلالت، گمراہی اور عناد میں مبتلا ہیں، تب دونوں خبر دینے والوں میں سے کون زیادہ مستحق ہے کہ اس کی خبر قبول کی جائے، خاص طور پر جبکہ رسول اللہ ﷺ نے جن امور کی خبر دی ہے، ان پر دلائل و براہین قائم ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ یہ عین الیقین، حقیقت اور کامل ترین صداقت ہے۔ ان کا اپنے دعوے (انبیاء کے جھوٹے ہونے) پر دلیل قائم کرنا تو کجا، وہ اس میں کوئی شبہ تک نہیں پیدا کر سکتے۔ [39]﴿ اَمۡ لَهُ الۡبَنٰتُ﴾ ’’یا اس (اللہ) کے لیے کی بیٹیاں ہیں؟‘‘ جیسا کہ تم سمجھتے ہو ﴿ وَلَكُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾’’اور تمھارے لیے بیٹے‘‘ پس تم قابلِ احتراز امور کو جمع کر رہے ہو ، یعنی تمھارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا اور ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت و انتہا ہے؟ [40]﴿ اَمۡ تَسۡـَٔؔلُهُمۡ﴾ اے رسول! کیا آپ ان سے مانگتے ہیں ﴿ اَجۡرًا﴾ تبلیغ رسالت پر اجر؟ ﴿ فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ﴾ کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ مگر معاملہ ایسا نہیں، آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں، آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے، آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں۔ آپ زکاۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہو جائے۔ [41]﴿ اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ﴾ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہﷺ کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفیﷺ ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ [42]﴿ اَمۡ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ کیا وہ آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح و قدح کر کے ﴿ كَيۡدًا﴾ کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں؟ ﴿ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هُمُ الۡمَكِيۡدُوۡنَ﴾ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انھی کی طرف لوٹے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ وللہ الحمد. کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت و اختیارمیں تھی، انھوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی ﷺ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا، اپنے دین کو غالب فرمایا، ان کو بے یار و مددگار تنہا چھوڑا اور ان سے انتقام لیا۔ [43]﴿ اَمۡ لَهُمۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ﴾ یعنی کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے، جسے پکارا جائے اس سے کسی نفع کی امید رکھی جائے اور اس کے ضرر سے ڈرا جائے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اللہ پاک ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ وحدانیت اور عبودیت میں۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر کلام لایا گیا اور وہ ہے قطعی دلائل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ہستی کی عبادت کا بطلان اور اس کے فاسد ہونے کا بیان۔ جس موقف پر مشرکین قائم ہیں وہ باطل ہے۔ وہ ہستی جس کی عبادت کی جانی چاہیے، جس کے لیے نماز پڑھنی چاہیے، جس کے سامنے سجدہ ریز ہونا چاہیے، دعا ، یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو اسی کے لیے خالص کرنا چاہیے، وہ اللہ تعالیٰ معبود حقیقی کی ہستی ہے، جو اسماء و صفات میں کامل، بے شمار نعوت حسنہ اور افعال جمیلہ کا مالک، صاحب جلال و اکرام، قوت و غلبہ کا مالک، جس کو مغلوب کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا جا سکتا، جو اکیلا، یکتا، متفرد، بے نیاز، بہت بڑا، قابل حمد و ثنا اور مالک مجد و جلال ہے۔
52:44

وَإِن يَرَوۡاْ كِسۡفٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ سَاقِطٗا يَقُولُواْ سَحَابٞ مَّرۡكُومٞ

اور اگر وہ دیکھیں کوئی ٹکڑا آسمان سے گرتا ہوا تو وہ کہیں گے، (یہ) بادل ہے تہ بہ تہ (44) پس آپ چھوڑ دیجیے ان کو یہاں تک کہ وہ ملیں اپنے اس دن سے کہ جس میں وہ بے ہوش کیے جائیں گے (45) اس دن نہیں فائدہ دے گا انھیں ان کا فریب کچھ بھی اور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے (46) [44] اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات میں ذکر فرماتا ہے کہ مشرکین جو واضح حق کو جھٹلا رہے ہیں، انھوں نے حق کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور باطل پر نہایت سختی سے جم گئے ہیں، نیز بیان فرمایا کہ اگر حق کے اثبات کے لیے ہر قسم کی دلیل قائم کر دی جائے تو ، پھر بھی وہ اس کی اتباع نہیں کریں گے بلکہ اس کی مخالفت کرتے رہیں گے اور اس سے عناد رکھیں گے ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كِسۡفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا﴾ یعنی اگر وہ بہت بڑی نشانیوں میں سے آسمان کا ٹکڑا عذاب بن کر گرتا دیکھیں ﴿ يَّقُوۡلُوۡا سَحَابٌ مَّرۡؔكُوۡمٌ﴾ تو کہیں گے کہ یہ تو عام عادت کے مطابق گہرا بادل ہے۔ یعنی وہ جن آیات الٰہی کا مشاہدہ کریں گے، اس کی پروا کریں گے نہ اس سے عبرت حاصل کریں گے۔ [45] عذاب اور سخت سزا کے سوا ان لوگوں کا کوئی علاج نہیں۔اس لیے فرمایا: ﴿ فَذَرۡهُمۡ حَتّٰى يُلٰقُوۡا يَوۡمَهُمُ الَّذِيۡ فِيۡهِ يُصۡعَقُوۡنَ﴾’’ پس ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ دن جس میں وہ بے ہوش کردیے جائیں گے، سامنے آجائے۔‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے جس میں ان پر عذاب نازل ہو گا جس کی مقدار کا انداز کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان کیا جا سکتا ہے۔ [46]﴿ يَوۡمَ لَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’جس دن ان کی چالیں (کم یا زیادہ) کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ اگرچہ دنیا کے اندر انھوں نے سازشیں کیں اور ان کے ذریعے سے قلیل سے زمانے تک زندگی گزاری، قیامت کے دن ان کی سازشوں کا تار و پود بکھر جائے گا، ان کی دوڑ دھوپ رائیگاں جائے گی اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہ سکیں گے ﴿ وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ﴾ اور نہ ان کی مدد ہی کی جائے گی۔
52:45

فَذَرۡهُمۡ حَتَّىٰ يُلَٰقُواْ يَوۡمَهُمُ ٱلَّذِي فِيهِ يُصۡعَقُونَ

اور اگر وہ دیکھیں کوئی ٹکڑا آسمان سے گرتا ہوا تو وہ کہیں گے، (یہ) بادل ہے تہ بہ تہ (44) پس آپ چھوڑ دیجیے ان کو یہاں تک کہ وہ ملیں اپنے اس دن سے کہ جس میں وہ بے ہوش کیے جائیں گے (45) اس دن نہیں فائدہ دے گا انھیں ان کا فریب کچھ بھی اور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے (46) [44] اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات میں ذکر فرماتا ہے کہ مشرکین جو واضح حق کو جھٹلا رہے ہیں، انھوں نے حق کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور باطل پر نہایت سختی سے جم گئے ہیں، نیز بیان فرمایا کہ اگر حق کے اثبات کے لیے ہر قسم کی دلیل قائم کر دی جائے تو ، پھر بھی وہ اس کی اتباع نہیں کریں گے بلکہ اس کی مخالفت کرتے رہیں گے اور اس سے عناد رکھیں گے ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كِسۡفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا﴾ یعنی اگر وہ بہت بڑی نشانیوں میں سے آسمان کا ٹکڑا عذاب بن کر گرتا دیکھیں ﴿ يَّقُوۡلُوۡا سَحَابٌ مَّرۡؔكُوۡمٌ﴾ تو کہیں گے کہ یہ تو عام عادت کے مطابق گہرا بادل ہے۔ یعنی وہ جن آیات الٰہی کا مشاہدہ کریں گے، اس کی پروا کریں گے نہ اس سے عبرت حاصل کریں گے۔ [45] عذاب اور سخت سزا کے سوا ان لوگوں کا کوئی علاج نہیں۔اس لیے فرمایا: ﴿ فَذَرۡهُمۡ حَتّٰى يُلٰقُوۡا يَوۡمَهُمُ الَّذِيۡ فِيۡهِ يُصۡعَقُوۡنَ﴾’’ پس ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ دن جس میں وہ بے ہوش کردیے جائیں گے، سامنے آجائے۔‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے جس میں ان پر عذاب نازل ہو گا جس کی مقدار کا انداز کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان کیا جا سکتا ہے۔ [46]﴿ يَوۡمَ لَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’جس دن ان کی چالیں (کم یا زیادہ) کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ اگرچہ دنیا کے اندر انھوں نے سازشیں کیں اور ان کے ذریعے سے قلیل سے زمانے تک زندگی گزاری، قیامت کے دن ان کی سازشوں کا تار و پود بکھر جائے گا، ان کی دوڑ دھوپ رائیگاں جائے گی اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہ سکیں گے ﴿ وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ﴾ اور نہ ان کی مدد ہی کی جائے گی۔
52:46

يَوۡمَ لَا يُغۡنِي عَنۡهُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَا هُمۡ يُنصَرُونَ

اور اگر وہ دیکھیں کوئی ٹکڑا آسمان سے گرتا ہوا تو وہ کہیں گے، (یہ) بادل ہے تہ بہ تہ (44) پس آپ چھوڑ دیجیے ان کو یہاں تک کہ وہ ملیں اپنے اس دن سے کہ جس میں وہ بے ہوش کیے جائیں گے (45) اس دن نہیں فائدہ دے گا انھیں ان کا فریب کچھ بھی اور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے (46) [44] اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات میں ذکر فرماتا ہے کہ مشرکین جو واضح حق کو جھٹلا رہے ہیں، انھوں نے حق کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور باطل پر نہایت سختی سے جم گئے ہیں، نیز بیان فرمایا کہ اگر حق کے اثبات کے لیے ہر قسم کی دلیل قائم کر دی جائے تو ، پھر بھی وہ اس کی اتباع نہیں کریں گے بلکہ اس کی مخالفت کرتے رہیں گے اور اس سے عناد رکھیں گے ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كِسۡفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا﴾ یعنی اگر وہ بہت بڑی نشانیوں میں سے آسمان کا ٹکڑا عذاب بن کر گرتا دیکھیں ﴿ يَّقُوۡلُوۡا سَحَابٌ مَّرۡؔكُوۡمٌ﴾ تو کہیں گے کہ یہ تو عام عادت کے مطابق گہرا بادل ہے۔ یعنی وہ جن آیات الٰہی کا مشاہدہ کریں گے، اس کی پروا کریں گے نہ اس سے عبرت حاصل کریں گے۔ [45] عذاب اور سخت سزا کے سوا ان لوگوں کا کوئی علاج نہیں۔اس لیے فرمایا: ﴿ فَذَرۡهُمۡ حَتّٰى يُلٰقُوۡا يَوۡمَهُمُ الَّذِيۡ فِيۡهِ يُصۡعَقُوۡنَ﴾’’ پس ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ دن جس میں وہ بے ہوش کردیے جائیں گے، سامنے آجائے۔‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے جس میں ان پر عذاب نازل ہو گا جس کی مقدار کا انداز کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان کیا جا سکتا ہے۔ [46]﴿ يَوۡمَ لَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’جس دن ان کی چالیں (کم یا زیادہ) کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ اگرچہ دنیا کے اندر انھوں نے سازشیں کیں اور ان کے ذریعے سے قلیل سے زمانے تک زندگی گزاری، قیامت کے دن ان کی سازشوں کا تار و پود بکھر جائے گا، ان کی دوڑ دھوپ رائیگاں جائے گی اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہ سکیں گے ﴿ وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ﴾ اور نہ ان کی مدد ہی کی جائے گی۔
52:47

وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ عَذَابٗا دُونَ ذَٰلِكَ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ

اور بلاشبہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ایک عذاب ہے (دنیا میں) علاوہ اس (عذاب آخرت) کے اور لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (47) اور آپ صبر کیجیے حکم آنے تک اپنے رب کا، پس بلاشبہ آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، اور تسبیح کیجیے ساتھ حمد کے اپنے رب کی جس وقت آپ کھڑے ہوں (48) اور (کچھ حصہ) رات میں بھی، پس تسبیح کیجیے اس کی اور پیچھے (غروب ہونے) ستاروں کے بھی(49) [47] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ قیامت کے روز ظالموں کے لیے عذاب ہے، آگاہ فرمایا کہ قیامت کے روز عذاب سے پہلے بھی ان کے لیے عذاب ہے اور یہ عذاب قتل کیے جانے، قیدی بنائے جانے، اپنے گھروں سے نکالے جانے، قبر اور برزخ کے عذاب کو شامل ہے ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اسی لیے ایسے کاموں پر جمے ہوئے ہیں جو عذاب اور سخت سزا کے موجب ہیں۔ [48، 49] جب اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے اقوال کے بطلان پر دلائل وبراہین بیان کر دیے تو اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان مشرکین کی کچھ بھی پروا نہ کریں اور اپنے رب کے حکم قدری و شرعی کا استقامت کے ساتھ التزام کرتے ہوئے اس پر صبر کریں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ وعدہ فرمایا کہ وہ آپ کے لیے کافی ہے۔ فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ بِاَعۡيُنِنَا﴾ یعنی آپ ہمارے سامنے، ہماری حفاظت میں اور آپ کا معاملہ ہمارے زیر عنایت ہے اور آپ کو حکم دیا کہ صبر، ذکر الٰہی اور عبادت سے مدد لیں ، چنانچہ فرمایا :﴿ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُ﴾ ’’او ر (اے نبی!) جب آپ کھڑیں ہوں تو اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کیجیے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں رات کے قیام کا حکم ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ جب آپ ﷺ نماز پنجگانہ کے لیے کھڑے ہوں، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ وَمِنَ الَّيۡلِ فَسَبِّحۡهُ وَاِدۡبَارَؔ النُّجُوۡمِ﴾ ’’اور (کچھ حصہ) رات میں بھی، پس آپ اس کی تسبیح کیجیے اور ستاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی۔‘‘ یعنی رات کے آخری حصے میں اور اس میں فجر کی نماز بھی داخل ہے۔
52:48

وَٱصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعۡيُنِنَاۖ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ

اور بلاشبہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ایک عذاب ہے (دنیا میں) علاوہ اس (عذاب آخرت) کے اور لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (47) اور آپ صبر کیجیے حکم آنے تک اپنے رب کا، پس بلاشبہ آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، اور تسبیح کیجیے ساتھ حمد کے اپنے رب کی جس وقت آپ کھڑے ہوں (48) اور (کچھ حصہ) رات میں بھی، پس تسبیح کیجیے اس کی اور پیچھے (غروب ہونے) ستاروں کے بھی(49) [47] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ قیامت کے روز ظالموں کے لیے عذاب ہے، آگاہ فرمایا کہ قیامت کے روز عذاب سے پہلے بھی ان کے لیے عذاب ہے اور یہ عذاب قتل کیے جانے، قیدی بنائے جانے، اپنے گھروں سے نکالے جانے، قبر اور برزخ کے عذاب کو شامل ہے ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اسی لیے ایسے کاموں پر جمے ہوئے ہیں جو عذاب اور سخت سزا کے موجب ہیں۔ [48، 49] جب اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے اقوال کے بطلان پر دلائل وبراہین بیان کر دیے تو اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان مشرکین کی کچھ بھی پروا نہ کریں اور اپنے رب کے حکم قدری و شرعی کا استقامت کے ساتھ التزام کرتے ہوئے اس پر صبر کریں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ وعدہ فرمایا کہ وہ آپ کے لیے کافی ہے۔ فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ بِاَعۡيُنِنَا﴾ یعنی آپ ہمارے سامنے، ہماری حفاظت میں اور آپ کا معاملہ ہمارے زیر عنایت ہے اور آپ کو حکم دیا کہ صبر، ذکر الٰہی اور عبادت سے مدد لیں ، چنانچہ فرمایا :﴿ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُ﴾ ’’او ر (اے نبی!) جب آپ کھڑیں ہوں تو اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کیجیے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں رات کے قیام کا حکم ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ جب آپ ﷺ نماز پنجگانہ کے لیے کھڑے ہوں، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ وَمِنَ الَّيۡلِ فَسَبِّحۡهُ وَاِدۡبَارَؔ النُّجُوۡمِ﴾ ’’اور (کچھ حصہ) رات میں بھی، پس آپ اس کی تسبیح کیجیے اور ستاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی۔‘‘ یعنی رات کے آخری حصے میں اور اس میں فجر کی نماز بھی داخل ہے۔
52:49

وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَسَبِّحۡهُ وَإِدۡبَٰرَ ٱلنُّجُومِ

اور بلاشبہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ایک عذاب ہے (دنیا میں) علاوہ اس (عذاب آخرت) کے اور لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (47) اور آپ صبر کیجیے حکم آنے تک اپنے رب کا، پس بلاشبہ آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، اور تسبیح کیجیے ساتھ حمد کے اپنے رب کی جس وقت آپ کھڑے ہوں (48) اور (کچھ حصہ) رات میں بھی، پس تسبیح کیجیے اس کی اور پیچھے (غروب ہونے) ستاروں کے بھی(49) [47] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ قیامت کے روز ظالموں کے لیے عذاب ہے، آگاہ فرمایا کہ قیامت کے روز عذاب سے پہلے بھی ان کے لیے عذاب ہے اور یہ عذاب قتل کیے جانے، قیدی بنائے جانے، اپنے گھروں سے نکالے جانے، قبر اور برزخ کے عذاب کو شامل ہے ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اسی لیے ایسے کاموں پر جمے ہوئے ہیں جو عذاب اور سخت سزا کے موجب ہیں۔ [48، 49] جب اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے اقوال کے بطلان پر دلائل وبراہین بیان کر دیے تو اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان مشرکین کی کچھ بھی پروا نہ کریں اور اپنے رب کے حکم قدری و شرعی کا استقامت کے ساتھ التزام کرتے ہوئے اس پر صبر کریں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ وعدہ فرمایا کہ وہ آپ کے لیے کافی ہے۔ فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ بِاَعۡيُنِنَا﴾ یعنی آپ ہمارے سامنے، ہماری حفاظت میں اور آپ کا معاملہ ہمارے زیر عنایت ہے اور آپ کو حکم دیا کہ صبر، ذکر الٰہی اور عبادت سے مدد لیں ، چنانچہ فرمایا :﴿ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُ﴾ ’’او ر (اے نبی!) جب آپ کھڑیں ہوں تو اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کیجیے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں رات کے قیام کا حکم ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ جب آپ ﷺ نماز پنجگانہ کے لیے کھڑے ہوں، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ وَمِنَ الَّيۡلِ فَسَبِّحۡهُ وَاِدۡبَارَؔ النُّجُوۡمِ﴾ ’’اور (کچھ حصہ) رات میں بھی، پس آپ اس کی تسبیح کیجیے اور ستاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی۔‘‘ یعنی رات کے آخری حصے میں اور اس میں فجر کی نماز بھی داخل ہے۔