al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 51 · 60 verses
51:1قسم ہے ہواؤ ں کی جو (گرد) بکھیرنے والی ہیں اڑا کر(1) پھر بادلوں کی جو اٹھانے والے ہیں بوجھ (پانی کا)(2) پھر کشتیوں کی جو چلنے والی ہیں آسانی سے(3) پھر( قسم ہے) ان فرشتوں کی جو تقسیم کرنے والے ہیں کام کو(4) بلاشبہ جو وعدہ دیے جاتے ہو تم (وہ) البتہ سچا ہے(5) اور بلاشبہ جزا ا لبتہ واقع ہونے والی ہے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، جو اپنے قول میں سچا ہے، ان عظیم مخلوقات کی قسم ہے، جن کے اندر اس نے بہت مصالح اور منافع مقرر کر رکھے ہیں جن کو اس امر کی دلیل بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کا دن، جزا و سزا اور اعمال کے محاسبے کا دن ہے، جو لا محالہ آنے والا ہے، جسے آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پس جب ایک عظیم سچی ہستی اس کی خبر دے، اس پر قسم کھائے اور اس پر دلائل و براہین قائم کرے تو جھٹلانے والے اسے جھٹلا سکتے ہیں نہ عمل کرنے والے اس سے روگردانی کر سکتے ہیں۔ ﴿ وَ الذّٰرِيٰتِ ﴾یہ وہ ہوائیں ہیں جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں ﴿ ذَرۡوًا﴾اپنی نرمی، اپنے لطف، اپنی قوت اور زور سے چلتی ہے۔﴿ فَالۡحٰؔمِلٰتِ وِقۡرًا﴾ اس سے مراد بادل ہے جو بہت زیادہ پانی لیے ہوتا ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ انسانوں اور زمین کو فائدہ عطا کرتا ہے۔ ﴿فَالۡجٰرِيٰؔتِ يُسۡرًا﴾ وہ ستارے جو نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ چلتے رہتے ہیں، جن سے آسمان مزین ہوتے ہیں، جن کی مدد سے بحر و بر کی تاریکیوں میں راہ تلاش کی جاتی ہے اور ان کے ذریعے سے فائدے اٹھائے جاتے ہیں۔ ﴿ فَالۡمُقَسِّمٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے اوامر و تدبیر کو نافذ کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر فرشتے کو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کے امور میں سے کسی امر کی تدبیر پر مقرر کر رکھا ہے اس لیے جو حدود مقرر کر دی گئی ہیں، وہ ان سے تجاوز کر سکتا ہے نہ ان میں کچھ کمی کر سکتا ہے۔
51:2قسم ہے ہواؤ ں کی جو (گرد) بکھیرنے والی ہیں اڑا کر(1) پھر بادلوں کی جو اٹھانے والے ہیں بوجھ (پانی کا)(2) پھر کشتیوں کی جو چلنے والی ہیں آسانی سے(3) پھر( قسم ہے) ان فرشتوں کی جو تقسیم کرنے والے ہیں کام کو(4) بلاشبہ جو وعدہ دیے جاتے ہو تم (وہ) البتہ سچا ہے(5) اور بلاشبہ جزا ا لبتہ واقع ہونے والی ہے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، جو اپنے قول میں سچا ہے، ان عظیم مخلوقات کی قسم ہے، جن کے اندر اس نے بہت مصالح اور منافع مقرر کر رکھے ہیں جن کو اس امر کی دلیل بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کا دن، جزا و سزا اور اعمال کے محاسبے کا دن ہے، جو لا محالہ آنے والا ہے، جسے آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پس جب ایک عظیم سچی ہستی اس کی خبر دے، اس پر قسم کھائے اور اس پر دلائل و براہین قائم کرے تو جھٹلانے والے اسے جھٹلا سکتے ہیں نہ عمل کرنے والے اس سے روگردانی کر سکتے ہیں۔ ﴿ وَ الذّٰرِيٰتِ ﴾یہ وہ ہوائیں ہیں جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں ﴿ ذَرۡوًا﴾اپنی نرمی، اپنے لطف، اپنی قوت اور زور سے چلتی ہے۔﴿ فَالۡحٰؔمِلٰتِ وِقۡرًا﴾ اس سے مراد بادل ہے جو بہت زیادہ پانی لیے ہوتا ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ انسانوں اور زمین کو فائدہ عطا کرتا ہے۔ ﴿فَالۡجٰرِيٰؔتِ يُسۡرًا﴾ وہ ستارے جو نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ چلتے رہتے ہیں، جن سے آسمان مزین ہوتے ہیں، جن کی مدد سے بحر و بر کی تاریکیوں میں راہ تلاش کی جاتی ہے اور ان کے ذریعے سے فائدے اٹھائے جاتے ہیں۔ ﴿ فَالۡمُقَسِّمٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے اوامر و تدبیر کو نافذ کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر فرشتے کو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کے امور میں سے کسی امر کی تدبیر پر مقرر کر رکھا ہے اس لیے جو حدود مقرر کر دی گئی ہیں، وہ ان سے تجاوز کر سکتا ہے نہ ان میں کچھ کمی کر سکتا ہے۔
51:3قسم ہے ہواؤ ں کی جو (گرد) بکھیرنے والی ہیں اڑا کر(1) پھر بادلوں کی جو اٹھانے والے ہیں بوجھ (پانی کا)(2) پھر کشتیوں کی جو چلنے والی ہیں آسانی سے(3) پھر( قسم ہے) ان فرشتوں کی جو تقسیم کرنے والے ہیں کام کو(4) بلاشبہ جو وعدہ دیے جاتے ہو تم (وہ) البتہ سچا ہے(5) اور بلاشبہ جزا ا لبتہ واقع ہونے والی ہے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، جو اپنے قول میں سچا ہے، ان عظیم مخلوقات کی قسم ہے، جن کے اندر اس نے بہت مصالح اور منافع مقرر کر رکھے ہیں جن کو اس امر کی دلیل بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کا دن، جزا و سزا اور اعمال کے محاسبے کا دن ہے، جو لا محالہ آنے والا ہے، جسے آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پس جب ایک عظیم سچی ہستی اس کی خبر دے، اس پر قسم کھائے اور اس پر دلائل و براہین قائم کرے تو جھٹلانے والے اسے جھٹلا سکتے ہیں نہ عمل کرنے والے اس سے روگردانی کر سکتے ہیں۔ ﴿ وَ الذّٰرِيٰتِ ﴾یہ وہ ہوائیں ہیں جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں ﴿ ذَرۡوًا﴾اپنی نرمی، اپنے لطف، اپنی قوت اور زور سے چلتی ہے۔﴿ فَالۡحٰؔمِلٰتِ وِقۡرًا﴾ اس سے مراد بادل ہے جو بہت زیادہ پانی لیے ہوتا ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ انسانوں اور زمین کو فائدہ عطا کرتا ہے۔ ﴿فَالۡجٰرِيٰؔتِ يُسۡرًا﴾ وہ ستارے جو نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ چلتے رہتے ہیں، جن سے آسمان مزین ہوتے ہیں، جن کی مدد سے بحر و بر کی تاریکیوں میں راہ تلاش کی جاتی ہے اور ان کے ذریعے سے فائدے اٹھائے جاتے ہیں۔ ﴿ فَالۡمُقَسِّمٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے اوامر و تدبیر کو نافذ کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر فرشتے کو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کے امور میں سے کسی امر کی تدبیر پر مقرر کر رکھا ہے اس لیے جو حدود مقرر کر دی گئی ہیں، وہ ان سے تجاوز کر سکتا ہے نہ ان میں کچھ کمی کر سکتا ہے۔
51:4فَٱلۡمُقَسِّمَٰتِ أَمۡرًا
قسم ہے ہواؤ ں کی جو (گرد) بکھیرنے والی ہیں اڑا کر(1) پھر بادلوں کی جو اٹھانے والے ہیں بوجھ (پانی کا)(2) پھر کشتیوں کی جو چلنے والی ہیں آسانی سے(3) پھر( قسم ہے) ان فرشتوں کی جو تقسیم کرنے والے ہیں کام کو(4) بلاشبہ جو وعدہ دیے جاتے ہو تم (وہ) البتہ سچا ہے(5) اور بلاشبہ جزا ا لبتہ واقع ہونے والی ہے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، جو اپنے قول میں سچا ہے، ان عظیم مخلوقات کی قسم ہے، جن کے اندر اس نے بہت مصالح اور منافع مقرر کر رکھے ہیں جن کو اس امر کی دلیل بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کا دن، جزا و سزا اور اعمال کے محاسبے کا دن ہے، جو لا محالہ آنے والا ہے، جسے آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پس جب ایک عظیم سچی ہستی اس کی خبر دے، اس پر قسم کھائے اور اس پر دلائل و براہین قائم کرے تو جھٹلانے والے اسے جھٹلا سکتے ہیں نہ عمل کرنے والے اس سے روگردانی کر سکتے ہیں۔ ﴿ وَ الذّٰرِيٰتِ ﴾یہ وہ ہوائیں ہیں جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں ﴿ ذَرۡوًا﴾اپنی نرمی، اپنے لطف، اپنی قوت اور زور سے چلتی ہے۔﴿ فَالۡحٰؔمِلٰتِ وِقۡرًا﴾ اس سے مراد بادل ہے جو بہت زیادہ پانی لیے ہوتا ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ انسانوں اور زمین کو فائدہ عطا کرتا ہے۔ ﴿فَالۡجٰرِيٰؔتِ يُسۡرًا﴾ وہ ستارے جو نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ چلتے رہتے ہیں، جن سے آسمان مزین ہوتے ہیں، جن کی مدد سے بحر و بر کی تاریکیوں میں راہ تلاش کی جاتی ہے اور ان کے ذریعے سے فائدے اٹھائے جاتے ہیں۔ ﴿ فَالۡمُقَسِّمٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے اوامر و تدبیر کو نافذ کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر فرشتے کو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کے امور میں سے کسی امر کی تدبیر پر مقرر کر رکھا ہے اس لیے جو حدود مقرر کر دی گئی ہیں، وہ ان سے تجاوز کر سکتا ہے نہ ان میں کچھ کمی کر سکتا ہے۔
51:5إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٞ
قسم ہے ہواؤ ں کی جو (گرد) بکھیرنے والی ہیں اڑا کر(1) پھر بادلوں کی جو اٹھانے والے ہیں بوجھ (پانی کا)(2) پھر کشتیوں کی جو چلنے والی ہیں آسانی سے(3) پھر( قسم ہے) ان فرشتوں کی جو تقسیم کرنے والے ہیں کام کو(4) بلاشبہ جو وعدہ دیے جاتے ہو تم (وہ) البتہ سچا ہے(5) اور بلاشبہ جزا ا لبتہ واقع ہونے والی ہے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، جو اپنے قول میں سچا ہے، ان عظیم مخلوقات کی قسم ہے، جن کے اندر اس نے بہت مصالح اور منافع مقرر کر رکھے ہیں جن کو اس امر کی دلیل بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کا دن، جزا و سزا اور اعمال کے محاسبے کا دن ہے، جو لا محالہ آنے والا ہے، جسے آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پس جب ایک عظیم سچی ہستی اس کی خبر دے، اس پر قسم کھائے اور اس پر دلائل و براہین قائم کرے تو جھٹلانے والے اسے جھٹلا سکتے ہیں نہ عمل کرنے والے اس سے روگردانی کر سکتے ہیں۔ ﴿ وَ الذّٰرِيٰتِ ﴾یہ وہ ہوائیں ہیں جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں ﴿ ذَرۡوًا﴾اپنی نرمی، اپنے لطف، اپنی قوت اور زور سے چلتی ہے۔﴿ فَالۡحٰؔمِلٰتِ وِقۡرًا﴾ اس سے مراد بادل ہے جو بہت زیادہ پانی لیے ہوتا ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ انسانوں اور زمین کو فائدہ عطا کرتا ہے۔ ﴿فَالۡجٰرِيٰؔتِ يُسۡرًا﴾ وہ ستارے جو نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ چلتے رہتے ہیں، جن سے آسمان مزین ہوتے ہیں، جن کی مدد سے بحر و بر کی تاریکیوں میں راہ تلاش کی جاتی ہے اور ان کے ذریعے سے فائدے اٹھائے جاتے ہیں۔ ﴿ فَالۡمُقَسِّمٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے اوامر و تدبیر کو نافذ کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر فرشتے کو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کے امور میں سے کسی امر کی تدبیر پر مقرر کر رکھا ہے اس لیے جو حدود مقرر کر دی گئی ہیں، وہ ان سے تجاوز کر سکتا ہے نہ ان میں کچھ کمی کر سکتا ہے۔
51:6وَإِنَّ ٱلدِّينَ لَوَٰقِعٞ
قسم ہے ہواؤ ں کی جو (گرد) بکھیرنے والی ہیں اڑا کر(1) پھر بادلوں کی جو اٹھانے والے ہیں بوجھ (پانی کا)(2) پھر کشتیوں کی جو چلنے والی ہیں آسانی سے(3) پھر( قسم ہے) ان فرشتوں کی جو تقسیم کرنے والے ہیں کام کو(4) بلاشبہ جو وعدہ دیے جاتے ہو تم (وہ) البتہ سچا ہے(5) اور بلاشبہ جزا ا لبتہ واقع ہونے والی ہے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، جو اپنے قول میں سچا ہے، ان عظیم مخلوقات کی قسم ہے، جن کے اندر اس نے بہت مصالح اور منافع مقرر کر رکھے ہیں جن کو اس امر کی دلیل بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کا دن، جزا و سزا اور اعمال کے محاسبے کا دن ہے، جو لا محالہ آنے والا ہے، جسے آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پس جب ایک عظیم سچی ہستی اس کی خبر دے، اس پر قسم کھائے اور اس پر دلائل و براہین قائم کرے تو جھٹلانے والے اسے جھٹلا سکتے ہیں نہ عمل کرنے والے اس سے روگردانی کر سکتے ہیں۔ ﴿ وَ الذّٰرِيٰتِ ﴾یہ وہ ہوائیں ہیں جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں ﴿ ذَرۡوًا﴾اپنی نرمی، اپنے لطف، اپنی قوت اور زور سے چلتی ہے۔﴿ فَالۡحٰؔمِلٰتِ وِقۡرًا﴾ اس سے مراد بادل ہے جو بہت زیادہ پانی لیے ہوتا ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ انسانوں اور زمین کو فائدہ عطا کرتا ہے۔ ﴿فَالۡجٰرِيٰؔتِ يُسۡرًا﴾ وہ ستارے جو نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ چلتے رہتے ہیں، جن سے آسمان مزین ہوتے ہیں، جن کی مدد سے بحر و بر کی تاریکیوں میں راہ تلاش کی جاتی ہے اور ان کے ذریعے سے فائدے اٹھائے جاتے ہیں۔ ﴿ فَالۡمُقَسِّمٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے اوامر و تدبیر کو نافذ کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر فرشتے کو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کے امور میں سے کسی امر کی تدبیر پر مقرر کر رکھا ہے اس لیے جو حدود مقرر کر دی گئی ہیں، وہ ان سے تجاوز کر سکتا ہے نہ ان میں کچھ کمی کر سکتا ہے۔
51:7وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلۡحُبُكِ
قسم ہے آسمان کی جو راستوں والا ہے(7) بلاشبہ تم (باہم) البتہ مختلف بات میں (پڑے) ہو (8) پھیرا جاتا ہے اس (ایمان) سے جو شخص پھیرا گیا (بھلائی سے)(9)
[7] خوبصورت راستوں والے آسمان کی قسم! یہ راستے ریگزاروں کے راستوں اور چشموں کے پانی سے، جب ان کو نسیمِ سحر نے چھیڑا ہو، مشابہت رکھتے ہیں۔
[8]﴿ اِنَّـكُمۡ﴾ محمد کریمﷺ کو جھٹلانے والو! تم ﴿ لَفِيۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ﴾ ’’مختلف قول میں ہو۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ یہ جادوگر ہے، کوئی کہتا ہے کہ یہ کاہن ہے اور کوئی کہتا ہے کہ یہ مجنون ہے اور دیگر مختلف قسم کے اقوال جو ان کی حیرت اور شک نیز اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کا موقف باطل ہے۔
[9]﴿ يُّؤۡفَكُ عَنۡهُ مَنۡ اُفِكَ﴾ پس اس سے وہی پھرتا ہے جو ایمان سے پھرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے یقینی دلائل و براہین سے منہ موڑتا ہے۔ ان کے قول میں اختلاف اس کے فاسد اور باطل ہونے پر دلالت کرتا ہے جس طرح حق، جسے رسول مصطفی محمدﷺ لے کر آئے ہیں، متفق علیہ ہے، اس کا ایک حصہ دوسرے کی تصدیق کرتا ہے، اس میں کوئی تناقض ہے نہ کسی قسم کا اختلاف۔ اور یہ چیز اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا﴾(النساء:4؍82) ’’اور اگر یہ قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔‘‘
51:8إِنَّكُمۡ لَفِي قَوۡلٖ مُّخۡتَلِفٖ
قسم ہے آسمان کی جو راستوں والا ہے(7) بلاشبہ تم (باہم) البتہ مختلف بات میں (پڑے) ہو (8) پھیرا جاتا ہے اس (ایمان) سے جو شخص پھیرا گیا (بھلائی سے)(9)
[7] خوبصورت راستوں والے آسمان کی قسم! یہ راستے ریگزاروں کے راستوں اور چشموں کے پانی سے، جب ان کو نسیمِ سحر نے چھیڑا ہو، مشابہت رکھتے ہیں۔
[8]﴿ اِنَّـكُمۡ﴾ محمد کریمﷺ کو جھٹلانے والو! تم ﴿ لَفِيۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ﴾ ’’مختلف قول میں ہو۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ یہ جادوگر ہے، کوئی کہتا ہے کہ یہ کاہن ہے اور کوئی کہتا ہے کہ یہ مجنون ہے اور دیگر مختلف قسم کے اقوال جو ان کی حیرت اور شک نیز اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کا موقف باطل ہے۔
[9]﴿ يُّؤۡفَكُ عَنۡهُ مَنۡ اُفِكَ﴾ پس اس سے وہی پھرتا ہے جو ایمان سے پھرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے یقینی دلائل و براہین سے منہ موڑتا ہے۔ ان کے قول میں اختلاف اس کے فاسد اور باطل ہونے پر دلالت کرتا ہے جس طرح حق، جسے رسول مصطفی محمدﷺ لے کر آئے ہیں، متفق علیہ ہے، اس کا ایک حصہ دوسرے کی تصدیق کرتا ہے، اس میں کوئی تناقض ہے نہ کسی قسم کا اختلاف۔ اور یہ چیز اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا﴾(النساء:4؍82) ’’اور اگر یہ قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔‘‘
51:9يُؤۡفَكُ عَنۡهُ مَنۡ أُفِكَ
قسم ہے آسمان کی جو راستوں والا ہے(7) بلاشبہ تم (باہم) البتہ مختلف بات میں (پڑے) ہو (8) پھیرا جاتا ہے اس (ایمان) سے جو شخص پھیرا گیا (بھلائی سے)(9)
[7] خوبصورت راستوں والے آسمان کی قسم! یہ راستے ریگزاروں کے راستوں اور چشموں کے پانی سے، جب ان کو نسیمِ سحر نے چھیڑا ہو، مشابہت رکھتے ہیں۔
[8]﴿ اِنَّـكُمۡ﴾ محمد کریمﷺ کو جھٹلانے والو! تم ﴿ لَفِيۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ﴾ ’’مختلف قول میں ہو۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ یہ جادوگر ہے، کوئی کہتا ہے کہ یہ کاہن ہے اور کوئی کہتا ہے کہ یہ مجنون ہے اور دیگر مختلف قسم کے اقوال جو ان کی حیرت اور شک نیز اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کا موقف باطل ہے۔
[9]﴿ يُّؤۡفَكُ عَنۡهُ مَنۡ اُفِكَ﴾ پس اس سے وہی پھرتا ہے جو ایمان سے پھرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے یقینی دلائل و براہین سے منہ موڑتا ہے۔ ان کے قول میں اختلاف اس کے فاسد اور باطل ہونے پر دلالت کرتا ہے جس طرح حق، جسے رسول مصطفی محمدﷺ لے کر آئے ہیں، متفق علیہ ہے، اس کا ایک حصہ دوسرے کی تصدیق کرتا ہے، اس میں کوئی تناقض ہے نہ کسی قسم کا اختلاف۔ اور یہ چیز اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا﴾(النساء:4؍82) ’’اور اگر یہ قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔‘‘
51:10مارے گئے اٹکل پچو کرنے والے (10) وہ لوگ کہ وہ غفلت میں بھولے پڑے ہیں (11) وہ پوچھتے ہیں کب ہو گا دن جزا کا ؟ (12) جس دن وہ آگ میں جلائے جائیں گے (13)(کہا جائے گا:) چکھو تم عذاب اپنا ، یہ وہ (عذاب) ہے کہ تھے تم اسے جلدی طلب کرتے (14)
[10] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ قُتِلَ الۡخَرّٰصُوۡنَ﴾ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہلاک کرے، جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا، اس کی آیات کا انکار کیا اور باطل میں مشغول ہوئے تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو نیچا دکھائیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جس کا وہ علم نہیں رکھتے۔
[11]﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ غَمۡرَةٍ﴾ ’’جو بے خبری میں ہیں۔‘‘ یعنی وہ کفر، جہالت اور ضلالت کی موجوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ ﴿ سَاهُوۡنَ﴾ ’’اور بھولے ہوئے ہیں۔‘‘
[12]﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَ﴾ وہ شک اور تکذیب کے طور پر پوچھتے ہیں:ان کو کب دوبارہ اٹھایا جائے گا؟ انھوں نے یہ سوال حیات بعد الموت کو بعید سمجھتے ہوئے کیا تھا۔
[14،13] ان کے حال اور برے ٹھکانے کے بارے میں مت پوچھ ﴿ يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’ہاں یہ وہ دن ہے کہ یہ آگ پر الٹے سیدھے پڑیں گے۔‘‘ یعنی جس دن انھیں ان کے خبث باطن اور خبث ظاہر کے سبب سے ان کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿ ذُوۡقُوۡا فِتۡنَتَكُمۡ﴾ آگ اور عذاب کا مزا چکھو یہ اس فتنے کے اثرات ہیں جس میں وہ مبتلا ہوئے، جس نے انھیں کفر اور گمراہی میں دھکیل دیا تھا۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یہ عذاب جس میں تم ڈال دیے گئے ہو ﴿ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠﴾ ’’وہی ہے جس کے لیے تم جلدی مچایا کرتے تھے۔‘‘ پس اب مختلف انواع کی عقوبتوں، سزاؤ ں، زنجیروں، بیڑیوں، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کا مزہ چکھو۔
51:11ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي غَمۡرَةٖ سَاهُونَ
مارے گئے اٹکل پچو کرنے والے (10) وہ لوگ کہ وہ غفلت میں بھولے پڑے ہیں (11) وہ پوچھتے ہیں کب ہو گا دن جزا کا ؟ (12) جس دن وہ آگ میں جلائے جائیں گے (13)(کہا جائے گا:) چکھو تم عذاب اپنا ، یہ وہ (عذاب) ہے کہ تھے تم اسے جلدی طلب کرتے (14)
[10] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ قُتِلَ الۡخَرّٰصُوۡنَ﴾ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہلاک کرے، جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا، اس کی آیات کا انکار کیا اور باطل میں مشغول ہوئے تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو نیچا دکھائیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جس کا وہ علم نہیں رکھتے۔
[11]﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ غَمۡرَةٍ﴾ ’’جو بے خبری میں ہیں۔‘‘ یعنی وہ کفر، جہالت اور ضلالت کی موجوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ ﴿ سَاهُوۡنَ﴾ ’’اور بھولے ہوئے ہیں۔‘‘
[12]﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَ﴾ وہ شک اور تکذیب کے طور پر پوچھتے ہیں:ان کو کب دوبارہ اٹھایا جائے گا؟ انھوں نے یہ سوال حیات بعد الموت کو بعید سمجھتے ہوئے کیا تھا۔
[14،13] ان کے حال اور برے ٹھکانے کے بارے میں مت پوچھ ﴿ يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’ہاں یہ وہ دن ہے کہ یہ آگ پر الٹے سیدھے پڑیں گے۔‘‘ یعنی جس دن انھیں ان کے خبث باطن اور خبث ظاہر کے سبب سے ان کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿ ذُوۡقُوۡا فِتۡنَتَكُمۡ﴾ آگ اور عذاب کا مزا چکھو یہ اس فتنے کے اثرات ہیں جس میں وہ مبتلا ہوئے، جس نے انھیں کفر اور گمراہی میں دھکیل دیا تھا۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یہ عذاب جس میں تم ڈال دیے گئے ہو ﴿ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠﴾ ’’وہی ہے جس کے لیے تم جلدی مچایا کرتے تھے۔‘‘ پس اب مختلف انواع کی عقوبتوں، سزاؤ ں، زنجیروں، بیڑیوں، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کا مزہ چکھو۔
51:12يَسۡـَٔلُونَ أَيَّانَ يَوۡمُ ٱلدِّينِ
مارے گئے اٹکل پچو کرنے والے (10) وہ لوگ کہ وہ غفلت میں بھولے پڑے ہیں (11) وہ پوچھتے ہیں کب ہو گا دن جزا کا ؟ (12) جس دن وہ آگ میں جلائے جائیں گے (13)(کہا جائے گا:) چکھو تم عذاب اپنا ، یہ وہ (عذاب) ہے کہ تھے تم اسے جلدی طلب کرتے (14)
[10] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ قُتِلَ الۡخَرّٰصُوۡنَ﴾ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہلاک کرے، جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا، اس کی آیات کا انکار کیا اور باطل میں مشغول ہوئے تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو نیچا دکھائیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جس کا وہ علم نہیں رکھتے۔
[11]﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ غَمۡرَةٍ﴾ ’’جو بے خبری میں ہیں۔‘‘ یعنی وہ کفر، جہالت اور ضلالت کی موجوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ ﴿ سَاهُوۡنَ﴾ ’’اور بھولے ہوئے ہیں۔‘‘
[12]﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَ﴾ وہ شک اور تکذیب کے طور پر پوچھتے ہیں:ان کو کب دوبارہ اٹھایا جائے گا؟ انھوں نے یہ سوال حیات بعد الموت کو بعید سمجھتے ہوئے کیا تھا۔
[14،13] ان کے حال اور برے ٹھکانے کے بارے میں مت پوچھ ﴿ يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’ہاں یہ وہ دن ہے کہ یہ آگ پر الٹے سیدھے پڑیں گے۔‘‘ یعنی جس دن انھیں ان کے خبث باطن اور خبث ظاہر کے سبب سے ان کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿ ذُوۡقُوۡا فِتۡنَتَكُمۡ﴾ آگ اور عذاب کا مزا چکھو یہ اس فتنے کے اثرات ہیں جس میں وہ مبتلا ہوئے، جس نے انھیں کفر اور گمراہی میں دھکیل دیا تھا۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یہ عذاب جس میں تم ڈال دیے گئے ہو ﴿ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠﴾ ’’وہی ہے جس کے لیے تم جلدی مچایا کرتے تھے۔‘‘ پس اب مختلف انواع کی عقوبتوں، سزاؤ ں، زنجیروں، بیڑیوں، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کا مزہ چکھو۔
51:13يَوۡمَ هُمۡ عَلَى ٱلنَّارِ يُفۡتَنُونَ
مارے گئے اٹکل پچو کرنے والے (10) وہ لوگ کہ وہ غفلت میں بھولے پڑے ہیں (11) وہ پوچھتے ہیں کب ہو گا دن جزا کا ؟ (12) جس دن وہ آگ میں جلائے جائیں گے (13)(کہا جائے گا:) چکھو تم عذاب اپنا ، یہ وہ (عذاب) ہے کہ تھے تم اسے جلدی طلب کرتے (14)
[10] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ قُتِلَ الۡخَرّٰصُوۡنَ﴾ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہلاک کرے، جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا، اس کی آیات کا انکار کیا اور باطل میں مشغول ہوئے تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو نیچا دکھائیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جس کا وہ علم نہیں رکھتے۔
[11]﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ غَمۡرَةٍ﴾ ’’جو بے خبری میں ہیں۔‘‘ یعنی وہ کفر، جہالت اور ضلالت کی موجوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ ﴿ سَاهُوۡنَ﴾ ’’اور بھولے ہوئے ہیں۔‘‘
[12]﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَ﴾ وہ شک اور تکذیب کے طور پر پوچھتے ہیں:ان کو کب دوبارہ اٹھایا جائے گا؟ انھوں نے یہ سوال حیات بعد الموت کو بعید سمجھتے ہوئے کیا تھا۔
[14،13] ان کے حال اور برے ٹھکانے کے بارے میں مت پوچھ ﴿ يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’ہاں یہ وہ دن ہے کہ یہ آگ پر الٹے سیدھے پڑیں گے۔‘‘ یعنی جس دن انھیں ان کے خبث باطن اور خبث ظاہر کے سبب سے ان کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿ ذُوۡقُوۡا فِتۡنَتَكُمۡ﴾ آگ اور عذاب کا مزا چکھو یہ اس فتنے کے اثرات ہیں جس میں وہ مبتلا ہوئے، جس نے انھیں کفر اور گمراہی میں دھکیل دیا تھا۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یہ عذاب جس میں تم ڈال دیے گئے ہو ﴿ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠﴾ ’’وہی ہے جس کے لیے تم جلدی مچایا کرتے تھے۔‘‘ پس اب مختلف انواع کی عقوبتوں، سزاؤ ں، زنجیروں، بیڑیوں، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کا مزہ چکھو۔
51:14ذُوقُواْ فِتۡنَتَكُمۡ هَٰذَا ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تَسۡتَعۡجِلُونَ
مارے گئے اٹکل پچو کرنے والے (10) وہ لوگ کہ وہ غفلت میں بھولے پڑے ہیں (11) وہ پوچھتے ہیں کب ہو گا دن جزا کا ؟ (12) جس دن وہ آگ میں جلائے جائیں گے (13)(کہا جائے گا:) چکھو تم عذاب اپنا ، یہ وہ (عذاب) ہے کہ تھے تم اسے جلدی طلب کرتے (14)
[10] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ قُتِلَ الۡخَرّٰصُوۡنَ﴾ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہلاک کرے، جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا، اس کی آیات کا انکار کیا اور باطل میں مشغول ہوئے تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو نیچا دکھائیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جس کا وہ علم نہیں رکھتے۔
[11]﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ غَمۡرَةٍ﴾ ’’جو بے خبری میں ہیں۔‘‘ یعنی وہ کفر، جہالت اور ضلالت کی موجوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ ﴿ سَاهُوۡنَ﴾ ’’اور بھولے ہوئے ہیں۔‘‘
[12]﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَ﴾ وہ شک اور تکذیب کے طور پر پوچھتے ہیں:ان کو کب دوبارہ اٹھایا جائے گا؟ انھوں نے یہ سوال حیات بعد الموت کو بعید سمجھتے ہوئے کیا تھا۔
[14،13] ان کے حال اور برے ٹھکانے کے بارے میں مت پوچھ ﴿ يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’ہاں یہ وہ دن ہے کہ یہ آگ پر الٹے سیدھے پڑیں گے۔‘‘ یعنی جس دن انھیں ان کے خبث باطن اور خبث ظاہر کے سبب سے ان کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿ ذُوۡقُوۡا فِتۡنَتَكُمۡ﴾ آگ اور عذاب کا مزا چکھو یہ اس فتنے کے اثرات ہیں جس میں وہ مبتلا ہوئے، جس نے انھیں کفر اور گمراہی میں دھکیل دیا تھا۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یہ عذاب جس میں تم ڈال دیے گئے ہو ﴿ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠﴾ ’’وہی ہے جس کے لیے تم جلدی مچایا کرتے تھے۔‘‘ پس اب مختلف انواع کی عقوبتوں، سزاؤ ں، زنجیروں، بیڑیوں، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کا مزہ چکھو۔
51:15إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي جَنَّـٰتٖ وَعُيُونٍ
بلاشبہ متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (15) لینے والے ہوں گے اس کو جو دے گا، انھیں ان کا رب، بلاشبہ وہ تھے پہلے اس سے نیکو کار (16) تھے وہ بہت ہی تھوڑا رات کو سوتے (17) اور سحری کے وقت وہ مغفرت طلب کرتے (18) اور ان کے مالوں میں حق (ہوتا) تھا واسطے سائل اور محروم کے(19)
[15] اللہ تبارک و تعالیٰ متقین کے ثواب اور ان کے ان اعمال کا ذکر فرماتا ہے جن کے باعث انھیں یہ ثواب حاصل ہوا۔ ﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا شعار تقویٰ اور ان کا اوڑھنا بچھونا اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ﴾ ان باغات میں ہوں گے جو مختلف انواع کے درختوں اور میووں پر مشتمل ہو گی، جن کی نظیر اس دنیا میں ملتی ہے اور ایسے بھی ہوں گے جن کی نظیر اس دنیا میں نہیں ملتی۔ ان جیسا میوہ آنکھوں نے کبھی دیکھا ہو گا نہ کانوں نے سنا ہوگا اور نہ بندوں کے تصور میں کبھی آیا ہو گا۔ ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ وہ بہتے ہوئے چشموں میں ہوں گے، ان چشموں سے ان باغات کو سیراب کیا جائے گا، اور اللہ کے بندے ان چشموں سے پانی پئیں گے اور ان سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکالیں گے۔
[16]﴿ اٰخِذِيۡنَ مَاۤ اٰتٰىهُمۡ رَبُّهُمۡ﴾ ’’ان کا رب انھیں جو کچھ دے گا وہ اسے لے لیں گے۔‘‘ اس میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ اہل جنت کا آقا، ان کی نعمتوں کے بارے میں تمام آرزوئیں پوری کرے گا اور وہ اپنے آقا سے راضی ہو کر یہ نعمتیں قبول کریں گے، اس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، ان کے نفوس خوش ہوں گے، وہ ان کو بدلنا چاہیں گے نہ اس سے منتقل ہونے کی خواہش کریں گے۔ (جنت میں) ہر شخص کو اتنی نعمتیں عطا ہوں گی کہ وہ اس سے زیادہ طلب نہیں کرے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ متقین کا یہ وصف دنیا کے اندر ہو ، یعنی اللہ تعالیٰ دنیا کے اندر جو اوامر و نواہی ان کو عطا کرتا ہے وہ نہایت خوش دلی، انشراح صدر کے ساتھ، اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اور بہترین طریقے سے ان پر عمل کرتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور جن امور سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا ہے وہ اس سے پوری طرح رک جاتے ہیں۔ پس جن کو اللہ تعالیٰ نے اوامر و نواہی عطا کیے ہیں، یہ سب سے بڑا عطیہ ہے اور اس کا حق یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، اطاعت کے جذبے کے ساتھ قبول کیا جائے۔ پہلا معنی سیاق کلام کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (آگے چل کر) ان الفاظ میں دنیاکے اندر ان کے وصف اور ان کے اعمال کا ذکر کیا ہے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ ﴾ یعنی اس وقت سے پہلے، جب انھیں جنت کی نعمتیں حاصل ہوں گی ﴿ مُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’وہ نیکوکار تھے۔‘‘یہ ان کی اپنے رب کی عبادت میں ’’احسان‘‘ کو شامل ہے یعنی وہ اپنے رب کی عبادت اس طرح کرتے تھے کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں، اگر وہ اسے دیکھنے کی کیفیت پیدا نہ کر سکتے تو یہ کیفیت لیے ہوئے ہوتے تھے کہ ان کا رب انھیں دیکھ رہا ہے۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر بھی احسان کو شامل ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اپنے مال، علم، جاہ، خیر خواہی، امر بالمعروف، نہی عن المنکر ، نیکی اور بھلائی کے مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچانا اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔ حتیٰ کہ اس میں نرم کلام ، غلاموں، بہائم، مملوکہ اور غیر مملوکہ کے ساتھ حسن سلوک بھی داخل ہے۔
[17] خالق کی عبادت میں احسان کی بہترین نوع، تہجد کی نماز ہے جو اخلاص اور قلب و لسان کی موافقت پر دلالت کرتی ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ كَانُوۡا﴾ یعنی نیکوکار ﴿ قَلِيۡلًا مِّنَ الَّيۡلِ مَا يَهۡجَعُوۡنَ﴾ ان کی راتوں کی نیند بہت کم ہوتی تھی۔ رات کے اکثر حصے میں نماز قراء ت، دعا، اور آہ و زاری کے ذریعے سے اپنے رب کے حضور جھکے رہتے تھے۔
[18]﴿ وَبِالۡاَسۡحَارِ﴾ طلوع فجر سے تھوڑا سا پہلے ﴿ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠﴾ وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں۔ وہ اپنی نماز کو طلوع سحر کے وقت تک لمبا کرتے ہیں، پھر قیام لیل کے بعد بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں۔ سحر کے وقت استغفار میں ایسی فضیلت اور خاصیت ہے جو کسی اور وقت استغفار کرنے میں نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان و اطاعت کے وصف میں فرمایا:﴿ وَالۡمُسۡتَغۡفِرِيۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ﴾(آل عمران:3؍17) ’’اوقات ِسحر میں استغفار کرنے والے۔‘‘
[19]﴿ وَفِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ﴾ ان کے اموال میں حق واجب اور حق مستحب ہے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ یعنی ان محتاجوں کے لیے جو لوگوں سے سوال کرتے ہیں اور ان محتاجوں کے لیے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتے۔
51:16ءَاخِذِينَ مَآ ءَاتَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَبۡلَ ذَٰلِكَ مُحۡسِنِينَ
بلاشبہ متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (15) لینے والے ہوں گے اس کو جو دے گا، انھیں ان کا رب، بلاشبہ وہ تھے پہلے اس سے نیکو کار (16) تھے وہ بہت ہی تھوڑا رات کو سوتے (17) اور سحری کے وقت وہ مغفرت طلب کرتے (18) اور ان کے مالوں میں حق (ہوتا) تھا واسطے سائل اور محروم کے(19)
[15] اللہ تبارک و تعالیٰ متقین کے ثواب اور ان کے ان اعمال کا ذکر فرماتا ہے جن کے باعث انھیں یہ ثواب حاصل ہوا۔ ﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا شعار تقویٰ اور ان کا اوڑھنا بچھونا اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ﴾ ان باغات میں ہوں گے جو مختلف انواع کے درختوں اور میووں پر مشتمل ہو گی، جن کی نظیر اس دنیا میں ملتی ہے اور ایسے بھی ہوں گے جن کی نظیر اس دنیا میں نہیں ملتی۔ ان جیسا میوہ آنکھوں نے کبھی دیکھا ہو گا نہ کانوں نے سنا ہوگا اور نہ بندوں کے تصور میں کبھی آیا ہو گا۔ ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ وہ بہتے ہوئے چشموں میں ہوں گے، ان چشموں سے ان باغات کو سیراب کیا جائے گا، اور اللہ کے بندے ان چشموں سے پانی پئیں گے اور ان سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکالیں گے۔
[16]﴿ اٰخِذِيۡنَ مَاۤ اٰتٰىهُمۡ رَبُّهُمۡ﴾ ’’ان کا رب انھیں جو کچھ دے گا وہ اسے لے لیں گے۔‘‘ اس میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ اہل جنت کا آقا، ان کی نعمتوں کے بارے میں تمام آرزوئیں پوری کرے گا اور وہ اپنے آقا سے راضی ہو کر یہ نعمتیں قبول کریں گے، اس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، ان کے نفوس خوش ہوں گے، وہ ان کو بدلنا چاہیں گے نہ اس سے منتقل ہونے کی خواہش کریں گے۔ (جنت میں) ہر شخص کو اتنی نعمتیں عطا ہوں گی کہ وہ اس سے زیادہ طلب نہیں کرے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ متقین کا یہ وصف دنیا کے اندر ہو ، یعنی اللہ تعالیٰ دنیا کے اندر جو اوامر و نواہی ان کو عطا کرتا ہے وہ نہایت خوش دلی، انشراح صدر کے ساتھ، اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اور بہترین طریقے سے ان پر عمل کرتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور جن امور سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا ہے وہ اس سے پوری طرح رک جاتے ہیں۔ پس جن کو اللہ تعالیٰ نے اوامر و نواہی عطا کیے ہیں، یہ سب سے بڑا عطیہ ہے اور اس کا حق یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، اطاعت کے جذبے کے ساتھ قبول کیا جائے۔ پہلا معنی سیاق کلام کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (آگے چل کر) ان الفاظ میں دنیاکے اندر ان کے وصف اور ان کے اعمال کا ذکر کیا ہے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ ﴾ یعنی اس وقت سے پہلے، جب انھیں جنت کی نعمتیں حاصل ہوں گی ﴿ مُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’وہ نیکوکار تھے۔‘‘یہ ان کی اپنے رب کی عبادت میں ’’احسان‘‘ کو شامل ہے یعنی وہ اپنے رب کی عبادت اس طرح کرتے تھے کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں، اگر وہ اسے دیکھنے کی کیفیت پیدا نہ کر سکتے تو یہ کیفیت لیے ہوئے ہوتے تھے کہ ان کا رب انھیں دیکھ رہا ہے۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر بھی احسان کو شامل ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اپنے مال، علم، جاہ، خیر خواہی، امر بالمعروف، نہی عن المنکر ، نیکی اور بھلائی کے مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچانا اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔ حتیٰ کہ اس میں نرم کلام ، غلاموں، بہائم، مملوکہ اور غیر مملوکہ کے ساتھ حسن سلوک بھی داخل ہے۔
[17] خالق کی عبادت میں احسان کی بہترین نوع، تہجد کی نماز ہے جو اخلاص اور قلب و لسان کی موافقت پر دلالت کرتی ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ كَانُوۡا﴾ یعنی نیکوکار ﴿ قَلِيۡلًا مِّنَ الَّيۡلِ مَا يَهۡجَعُوۡنَ﴾ ان کی راتوں کی نیند بہت کم ہوتی تھی۔ رات کے اکثر حصے میں نماز قراء ت، دعا، اور آہ و زاری کے ذریعے سے اپنے رب کے حضور جھکے رہتے تھے۔
[18]﴿ وَبِالۡاَسۡحَارِ﴾ طلوع فجر سے تھوڑا سا پہلے ﴿ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠﴾ وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں۔ وہ اپنی نماز کو طلوع سحر کے وقت تک لمبا کرتے ہیں، پھر قیام لیل کے بعد بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں۔ سحر کے وقت استغفار میں ایسی فضیلت اور خاصیت ہے جو کسی اور وقت استغفار کرنے میں نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان و اطاعت کے وصف میں فرمایا:﴿ وَالۡمُسۡتَغۡفِرِيۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ﴾(آل عمران:3؍17) ’’اوقات ِسحر میں استغفار کرنے والے۔‘‘
[19]﴿ وَفِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ﴾ ان کے اموال میں حق واجب اور حق مستحب ہے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ یعنی ان محتاجوں کے لیے جو لوگوں سے سوال کرتے ہیں اور ان محتاجوں کے لیے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتے۔
51:17كَانُواْ قَلِيلٗا مِّنَ ٱلَّيۡلِ مَا يَهۡجَعُونَ
بلاشبہ متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (15) لینے والے ہوں گے اس کو جو دے گا، انھیں ان کا رب، بلاشبہ وہ تھے پہلے اس سے نیکو کار (16) تھے وہ بہت ہی تھوڑا رات کو سوتے (17) اور سحری کے وقت وہ مغفرت طلب کرتے (18) اور ان کے مالوں میں حق (ہوتا) تھا واسطے سائل اور محروم کے(19)
[15] اللہ تبارک و تعالیٰ متقین کے ثواب اور ان کے ان اعمال کا ذکر فرماتا ہے جن کے باعث انھیں یہ ثواب حاصل ہوا۔ ﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا شعار تقویٰ اور ان کا اوڑھنا بچھونا اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ﴾ ان باغات میں ہوں گے جو مختلف انواع کے درختوں اور میووں پر مشتمل ہو گی، جن کی نظیر اس دنیا میں ملتی ہے اور ایسے بھی ہوں گے جن کی نظیر اس دنیا میں نہیں ملتی۔ ان جیسا میوہ آنکھوں نے کبھی دیکھا ہو گا نہ کانوں نے سنا ہوگا اور نہ بندوں کے تصور میں کبھی آیا ہو گا۔ ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ وہ بہتے ہوئے چشموں میں ہوں گے، ان چشموں سے ان باغات کو سیراب کیا جائے گا، اور اللہ کے بندے ان چشموں سے پانی پئیں گے اور ان سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکالیں گے۔
[16]﴿ اٰخِذِيۡنَ مَاۤ اٰتٰىهُمۡ رَبُّهُمۡ﴾ ’’ان کا رب انھیں جو کچھ دے گا وہ اسے لے لیں گے۔‘‘ اس میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ اہل جنت کا آقا، ان کی نعمتوں کے بارے میں تمام آرزوئیں پوری کرے گا اور وہ اپنے آقا سے راضی ہو کر یہ نعمتیں قبول کریں گے، اس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، ان کے نفوس خوش ہوں گے، وہ ان کو بدلنا چاہیں گے نہ اس سے منتقل ہونے کی خواہش کریں گے۔ (جنت میں) ہر شخص کو اتنی نعمتیں عطا ہوں گی کہ وہ اس سے زیادہ طلب نہیں کرے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ متقین کا یہ وصف دنیا کے اندر ہو ، یعنی اللہ تعالیٰ دنیا کے اندر جو اوامر و نواہی ان کو عطا کرتا ہے وہ نہایت خوش دلی، انشراح صدر کے ساتھ، اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اور بہترین طریقے سے ان پر عمل کرتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور جن امور سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا ہے وہ اس سے پوری طرح رک جاتے ہیں۔ پس جن کو اللہ تعالیٰ نے اوامر و نواہی عطا کیے ہیں، یہ سب سے بڑا عطیہ ہے اور اس کا حق یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، اطاعت کے جذبے کے ساتھ قبول کیا جائے۔ پہلا معنی سیاق کلام کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (آگے چل کر) ان الفاظ میں دنیاکے اندر ان کے وصف اور ان کے اعمال کا ذکر کیا ہے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ ﴾ یعنی اس وقت سے پہلے، جب انھیں جنت کی نعمتیں حاصل ہوں گی ﴿ مُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’وہ نیکوکار تھے۔‘‘یہ ان کی اپنے رب کی عبادت میں ’’احسان‘‘ کو شامل ہے یعنی وہ اپنے رب کی عبادت اس طرح کرتے تھے کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں، اگر وہ اسے دیکھنے کی کیفیت پیدا نہ کر سکتے تو یہ کیفیت لیے ہوئے ہوتے تھے کہ ان کا رب انھیں دیکھ رہا ہے۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر بھی احسان کو شامل ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اپنے مال، علم، جاہ، خیر خواہی، امر بالمعروف، نہی عن المنکر ، نیکی اور بھلائی کے مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچانا اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔ حتیٰ کہ اس میں نرم کلام ، غلاموں، بہائم، مملوکہ اور غیر مملوکہ کے ساتھ حسن سلوک بھی داخل ہے۔
[17] خالق کی عبادت میں احسان کی بہترین نوع، تہجد کی نماز ہے جو اخلاص اور قلب و لسان کی موافقت پر دلالت کرتی ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ كَانُوۡا﴾ یعنی نیکوکار ﴿ قَلِيۡلًا مِّنَ الَّيۡلِ مَا يَهۡجَعُوۡنَ﴾ ان کی راتوں کی نیند بہت کم ہوتی تھی۔ رات کے اکثر حصے میں نماز قراء ت، دعا، اور آہ و زاری کے ذریعے سے اپنے رب کے حضور جھکے رہتے تھے۔
[18]﴿ وَبِالۡاَسۡحَارِ﴾ طلوع فجر سے تھوڑا سا پہلے ﴿ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠﴾ وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں۔ وہ اپنی نماز کو طلوع سحر کے وقت تک لمبا کرتے ہیں، پھر قیام لیل کے بعد بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں۔ سحر کے وقت استغفار میں ایسی فضیلت اور خاصیت ہے جو کسی اور وقت استغفار کرنے میں نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان و اطاعت کے وصف میں فرمایا:﴿ وَالۡمُسۡتَغۡفِرِيۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ﴾(آل عمران:3؍17) ’’اوقات ِسحر میں استغفار کرنے والے۔‘‘
[19]﴿ وَفِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ﴾ ان کے اموال میں حق واجب اور حق مستحب ہے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ یعنی ان محتاجوں کے لیے جو لوگوں سے سوال کرتے ہیں اور ان محتاجوں کے لیے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتے۔
51:18وَبِٱلۡأَسۡحَارِ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُونَ
بلاشبہ متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (15) لینے والے ہوں گے اس کو جو دے گا، انھیں ان کا رب، بلاشبہ وہ تھے پہلے اس سے نیکو کار (16) تھے وہ بہت ہی تھوڑا رات کو سوتے (17) اور سحری کے وقت وہ مغفرت طلب کرتے (18) اور ان کے مالوں میں حق (ہوتا) تھا واسطے سائل اور محروم کے(19)
[15] اللہ تبارک و تعالیٰ متقین کے ثواب اور ان کے ان اعمال کا ذکر فرماتا ہے جن کے باعث انھیں یہ ثواب حاصل ہوا۔ ﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا شعار تقویٰ اور ان کا اوڑھنا بچھونا اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ﴾ ان باغات میں ہوں گے جو مختلف انواع کے درختوں اور میووں پر مشتمل ہو گی، جن کی نظیر اس دنیا میں ملتی ہے اور ایسے بھی ہوں گے جن کی نظیر اس دنیا میں نہیں ملتی۔ ان جیسا میوہ آنکھوں نے کبھی دیکھا ہو گا نہ کانوں نے سنا ہوگا اور نہ بندوں کے تصور میں کبھی آیا ہو گا۔ ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ وہ بہتے ہوئے چشموں میں ہوں گے، ان چشموں سے ان باغات کو سیراب کیا جائے گا، اور اللہ کے بندے ان چشموں سے پانی پئیں گے اور ان سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکالیں گے۔
[16]﴿ اٰخِذِيۡنَ مَاۤ اٰتٰىهُمۡ رَبُّهُمۡ﴾ ’’ان کا رب انھیں جو کچھ دے گا وہ اسے لے لیں گے۔‘‘ اس میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ اہل جنت کا آقا، ان کی نعمتوں کے بارے میں تمام آرزوئیں پوری کرے گا اور وہ اپنے آقا سے راضی ہو کر یہ نعمتیں قبول کریں گے، اس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، ان کے نفوس خوش ہوں گے، وہ ان کو بدلنا چاہیں گے نہ اس سے منتقل ہونے کی خواہش کریں گے۔ (جنت میں) ہر شخص کو اتنی نعمتیں عطا ہوں گی کہ وہ اس سے زیادہ طلب نہیں کرے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ متقین کا یہ وصف دنیا کے اندر ہو ، یعنی اللہ تعالیٰ دنیا کے اندر جو اوامر و نواہی ان کو عطا کرتا ہے وہ نہایت خوش دلی، انشراح صدر کے ساتھ، اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اور بہترین طریقے سے ان پر عمل کرتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور جن امور سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا ہے وہ اس سے پوری طرح رک جاتے ہیں۔ پس جن کو اللہ تعالیٰ نے اوامر و نواہی عطا کیے ہیں، یہ سب سے بڑا عطیہ ہے اور اس کا حق یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، اطاعت کے جذبے کے ساتھ قبول کیا جائے۔ پہلا معنی سیاق کلام کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (آگے چل کر) ان الفاظ میں دنیاکے اندر ان کے وصف اور ان کے اعمال کا ذکر کیا ہے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ ﴾ یعنی اس وقت سے پہلے، جب انھیں جنت کی نعمتیں حاصل ہوں گی ﴿ مُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’وہ نیکوکار تھے۔‘‘یہ ان کی اپنے رب کی عبادت میں ’’احسان‘‘ کو شامل ہے یعنی وہ اپنے رب کی عبادت اس طرح کرتے تھے کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں، اگر وہ اسے دیکھنے کی کیفیت پیدا نہ کر سکتے تو یہ کیفیت لیے ہوئے ہوتے تھے کہ ان کا رب انھیں دیکھ رہا ہے۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر بھی احسان کو شامل ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اپنے مال، علم، جاہ، خیر خواہی، امر بالمعروف، نہی عن المنکر ، نیکی اور بھلائی کے مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچانا اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔ حتیٰ کہ اس میں نرم کلام ، غلاموں، بہائم، مملوکہ اور غیر مملوکہ کے ساتھ حسن سلوک بھی داخل ہے۔
[17] خالق کی عبادت میں احسان کی بہترین نوع، تہجد کی نماز ہے جو اخلاص اور قلب و لسان کی موافقت پر دلالت کرتی ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ كَانُوۡا﴾ یعنی نیکوکار ﴿ قَلِيۡلًا مِّنَ الَّيۡلِ مَا يَهۡجَعُوۡنَ﴾ ان کی راتوں کی نیند بہت کم ہوتی تھی۔ رات کے اکثر حصے میں نماز قراء ت، دعا، اور آہ و زاری کے ذریعے سے اپنے رب کے حضور جھکے رہتے تھے۔
[18]﴿ وَبِالۡاَسۡحَارِ﴾ طلوع فجر سے تھوڑا سا پہلے ﴿ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠﴾ وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں۔ وہ اپنی نماز کو طلوع سحر کے وقت تک لمبا کرتے ہیں، پھر قیام لیل کے بعد بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں۔ سحر کے وقت استغفار میں ایسی فضیلت اور خاصیت ہے جو کسی اور وقت استغفار کرنے میں نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان و اطاعت کے وصف میں فرمایا:﴿ وَالۡمُسۡتَغۡفِرِيۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ﴾(آل عمران:3؍17) ’’اوقات ِسحر میں استغفار کرنے والے۔‘‘
[19]﴿ وَفِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ﴾ ان کے اموال میں حق واجب اور حق مستحب ہے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ یعنی ان محتاجوں کے لیے جو لوگوں سے سوال کرتے ہیں اور ان محتاجوں کے لیے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتے۔
51:19وَفِيٓ أَمۡوَٰلِهِمۡ حَقّٞ لِّلسَّآئِلِ وَٱلۡمَحۡرُومِ
بلاشبہ متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (15) لینے والے ہوں گے اس کو جو دے گا، انھیں ان کا رب، بلاشبہ وہ تھے پہلے اس سے نیکو کار (16) تھے وہ بہت ہی تھوڑا رات کو سوتے (17) اور سحری کے وقت وہ مغفرت طلب کرتے (18) اور ان کے مالوں میں حق (ہوتا) تھا واسطے سائل اور محروم کے(19)
[15] اللہ تبارک و تعالیٰ متقین کے ثواب اور ان کے ان اعمال کا ذکر فرماتا ہے جن کے باعث انھیں یہ ثواب حاصل ہوا۔ ﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا شعار تقویٰ اور ان کا اوڑھنا بچھونا اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ﴾ ان باغات میں ہوں گے جو مختلف انواع کے درختوں اور میووں پر مشتمل ہو گی، جن کی نظیر اس دنیا میں ملتی ہے اور ایسے بھی ہوں گے جن کی نظیر اس دنیا میں نہیں ملتی۔ ان جیسا میوہ آنکھوں نے کبھی دیکھا ہو گا نہ کانوں نے سنا ہوگا اور نہ بندوں کے تصور میں کبھی آیا ہو گا۔ ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ وہ بہتے ہوئے چشموں میں ہوں گے، ان چشموں سے ان باغات کو سیراب کیا جائے گا، اور اللہ کے بندے ان چشموں سے پانی پئیں گے اور ان سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکالیں گے۔
[16]﴿ اٰخِذِيۡنَ مَاۤ اٰتٰىهُمۡ رَبُّهُمۡ﴾ ’’ان کا رب انھیں جو کچھ دے گا وہ اسے لے لیں گے۔‘‘ اس میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ اہل جنت کا آقا، ان کی نعمتوں کے بارے میں تمام آرزوئیں پوری کرے گا اور وہ اپنے آقا سے راضی ہو کر یہ نعمتیں قبول کریں گے، اس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، ان کے نفوس خوش ہوں گے، وہ ان کو بدلنا چاہیں گے نہ اس سے منتقل ہونے کی خواہش کریں گے۔ (جنت میں) ہر شخص کو اتنی نعمتیں عطا ہوں گی کہ وہ اس سے زیادہ طلب نہیں کرے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ متقین کا یہ وصف دنیا کے اندر ہو ، یعنی اللہ تعالیٰ دنیا کے اندر جو اوامر و نواہی ان کو عطا کرتا ہے وہ نہایت خوش دلی، انشراح صدر کے ساتھ، اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اور بہترین طریقے سے ان پر عمل کرتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور جن امور سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا ہے وہ اس سے پوری طرح رک جاتے ہیں۔ پس جن کو اللہ تعالیٰ نے اوامر و نواہی عطا کیے ہیں، یہ سب سے بڑا عطیہ ہے اور اس کا حق یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، اطاعت کے جذبے کے ساتھ قبول کیا جائے۔ پہلا معنی سیاق کلام کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (آگے چل کر) ان الفاظ میں دنیاکے اندر ان کے وصف اور ان کے اعمال کا ذکر کیا ہے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ ﴾ یعنی اس وقت سے پہلے، جب انھیں جنت کی نعمتیں حاصل ہوں گی ﴿ مُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’وہ نیکوکار تھے۔‘‘یہ ان کی اپنے رب کی عبادت میں ’’احسان‘‘ کو شامل ہے یعنی وہ اپنے رب کی عبادت اس طرح کرتے تھے کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں، اگر وہ اسے دیکھنے کی کیفیت پیدا نہ کر سکتے تو یہ کیفیت لیے ہوئے ہوتے تھے کہ ان کا رب انھیں دیکھ رہا ہے۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر بھی احسان کو شامل ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اپنے مال، علم، جاہ، خیر خواہی، امر بالمعروف، نہی عن المنکر ، نیکی اور بھلائی کے مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچانا اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔ حتیٰ کہ اس میں نرم کلام ، غلاموں، بہائم، مملوکہ اور غیر مملوکہ کے ساتھ حسن سلوک بھی داخل ہے۔
[17] خالق کی عبادت میں احسان کی بہترین نوع، تہجد کی نماز ہے جو اخلاص اور قلب و لسان کی موافقت پر دلالت کرتی ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ كَانُوۡا﴾ یعنی نیکوکار ﴿ قَلِيۡلًا مِّنَ الَّيۡلِ مَا يَهۡجَعُوۡنَ﴾ ان کی راتوں کی نیند بہت کم ہوتی تھی۔ رات کے اکثر حصے میں نماز قراء ت، دعا، اور آہ و زاری کے ذریعے سے اپنے رب کے حضور جھکے رہتے تھے۔
[18]﴿ وَبِالۡاَسۡحَارِ﴾ طلوع فجر سے تھوڑا سا پہلے ﴿ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠﴾ وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں۔ وہ اپنی نماز کو طلوع سحر کے وقت تک لمبا کرتے ہیں، پھر قیام لیل کے بعد بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں۔ سحر کے وقت استغفار میں ایسی فضیلت اور خاصیت ہے جو کسی اور وقت استغفار کرنے میں نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان و اطاعت کے وصف میں فرمایا:﴿ وَالۡمُسۡتَغۡفِرِيۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ﴾(آل عمران:3؍17) ’’اوقات ِسحر میں استغفار کرنے والے۔‘‘
[19]﴿ وَفِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ﴾ ان کے اموال میں حق واجب اور حق مستحب ہے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ یعنی ان محتاجوں کے لیے جو لوگوں سے سوال کرتے ہیں اور ان محتاجوں کے لیے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتے۔
51:20وَفِي ٱلۡأَرۡضِ ءَايَٰتٞ لِّلۡمُوقِنِينَ
اور زمین میں (بہت سی) نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے (20) اور (خود) تمھارے نفسوں میں بھی، کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (21) اور آسمان میں ہے تمھارا رزق اور وہ جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(22) پس قسم ہے پروردگار کی آسمان اور زمین کے! بلاشبہ وہ (مذکورہ باتیں) البتہ حق ہیں مثل اس کے جو تم بولتے ہو (23)
[20] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو تفکر و تدبر اور عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَفِي الۡاَرۡضِ اٰيٰتٌ لِّلۡمُوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اور یقین کرنے والوں کے لیے زمین میں نشانیاں ہیں۔‘‘ یہ آیت کریمہ زمین اور اس کی موجودات کو شامل ہے ، مثلاً: پہاڑ، سمندر، دریا، درخت اور نباتات جو غور و فکر کرنے والے اور اس کے معانی میں تدبر کرنے والے کو اپنے خالق کی عظمت، اس کی وسیع طاقت، اس کے احسان عام اور ظاہر و باطن پر اس کے علم کے محیط ہونے کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں۔
[21] اور اسی طرح خود بندے کی ذات میں بے شمار عبرتیں ، حکمتیں اور رحمتیں پنہاں ہیں جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک اور بے نیاز ہے، اس نے مخلوق کو بے کار اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔
[22]﴿ وَفِي السَّمَآءِ رِزۡقُكُمۡ﴾ ’’اور آسمانوں میں تمھارا رزق ہے۔‘‘ یعنی تمھارے رزق کا مادہ ، مثلاً: بارش، رزق دینی اور رزق دنیاوی کی مختلف مقدار ﴿ وَمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی دنیا و آخرت میں جزا و سزا کا جو وعدہ کیا گیا ہے، یہ جزا و سزا دیگر تقدیروں کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔
[23] جب اللہ تعالیٰ نے آیات الٰہی کو بیان کر کے ان پر اس طرح متنبہ فرمایا جس سے عقل مند اور ذہین شخص تنبہ حاصل کرتا ہے تو اس نے قسم کھائی کہ اس کا وعدہ اور اس کی جزا و سزا حق ہیں۔ تب ظاہر اور واضح ترین چیز سے اس کو تشبیہ دی اور وہ نطق ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثۡلَ مَاۤ اَنَّـكُمۡ تَنۡطِقُوۡنَ﴾ ’’پس آسمانوں اور زمین کے رب کی قسم! یہ اسی طرح حق ہے جس طرح تمھیں اپنے نطق لسان میں کوئی شک نہیں اسی طرح تمھیں قیامت اور جزا و سزا میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔
51:21وَفِيٓ أَنفُسِكُمۡۚ أَفَلَا تُبۡصِرُونَ
اور زمین میں (بہت سی) نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے (20) اور (خود) تمھارے نفسوں میں بھی، کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (21) اور آسمان میں ہے تمھارا رزق اور وہ جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(22) پس قسم ہے پروردگار کی آسمان اور زمین کے! بلاشبہ وہ (مذکورہ باتیں) البتہ حق ہیں مثل اس کے جو تم بولتے ہو (23)
[20] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو تفکر و تدبر اور عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَفِي الۡاَرۡضِ اٰيٰتٌ لِّلۡمُوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اور یقین کرنے والوں کے لیے زمین میں نشانیاں ہیں۔‘‘ یہ آیت کریمہ زمین اور اس کی موجودات کو شامل ہے ، مثلاً: پہاڑ، سمندر، دریا، درخت اور نباتات جو غور و فکر کرنے والے اور اس کے معانی میں تدبر کرنے والے کو اپنے خالق کی عظمت، اس کی وسیع طاقت، اس کے احسان عام اور ظاہر و باطن پر اس کے علم کے محیط ہونے کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں۔
[21] اور اسی طرح خود بندے کی ذات میں بے شمار عبرتیں ، حکمتیں اور رحمتیں پنہاں ہیں جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک اور بے نیاز ہے، اس نے مخلوق کو بے کار اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔
[22]﴿ وَفِي السَّمَآءِ رِزۡقُكُمۡ﴾ ’’اور آسمانوں میں تمھارا رزق ہے۔‘‘ یعنی تمھارے رزق کا مادہ ، مثلاً: بارش، رزق دینی اور رزق دنیاوی کی مختلف مقدار ﴿ وَمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی دنیا و آخرت میں جزا و سزا کا جو وعدہ کیا گیا ہے، یہ جزا و سزا دیگر تقدیروں کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔
[23] جب اللہ تعالیٰ نے آیات الٰہی کو بیان کر کے ان پر اس طرح متنبہ فرمایا جس سے عقل مند اور ذہین شخص تنبہ حاصل کرتا ہے تو اس نے قسم کھائی کہ اس کا وعدہ اور اس کی جزا و سزا حق ہیں۔ تب ظاہر اور واضح ترین چیز سے اس کو تشبیہ دی اور وہ نطق ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثۡلَ مَاۤ اَنَّـكُمۡ تَنۡطِقُوۡنَ﴾ ’’پس آسمانوں اور زمین کے رب کی قسم! یہ اسی طرح حق ہے جس طرح تمھیں اپنے نطق لسان میں کوئی شک نہیں اسی طرح تمھیں قیامت اور جزا و سزا میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔
51:22وَفِي ٱلسَّمَآءِ رِزۡقُكُمۡ وَمَا تُوعَدُونَ
اور زمین میں (بہت سی) نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے (20) اور (خود) تمھارے نفسوں میں بھی، کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (21) اور آسمان میں ہے تمھارا رزق اور وہ جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(22) پس قسم ہے پروردگار کی آسمان اور زمین کے! بلاشبہ وہ (مذکورہ باتیں) البتہ حق ہیں مثل اس کے جو تم بولتے ہو (23)
[20] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو تفکر و تدبر اور عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَفِي الۡاَرۡضِ اٰيٰتٌ لِّلۡمُوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اور یقین کرنے والوں کے لیے زمین میں نشانیاں ہیں۔‘‘ یہ آیت کریمہ زمین اور اس کی موجودات کو شامل ہے ، مثلاً: پہاڑ، سمندر، دریا، درخت اور نباتات جو غور و فکر کرنے والے اور اس کے معانی میں تدبر کرنے والے کو اپنے خالق کی عظمت، اس کی وسیع طاقت، اس کے احسان عام اور ظاہر و باطن پر اس کے علم کے محیط ہونے کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں۔
[21] اور اسی طرح خود بندے کی ذات میں بے شمار عبرتیں ، حکمتیں اور رحمتیں پنہاں ہیں جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک اور بے نیاز ہے، اس نے مخلوق کو بے کار اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔
[22]﴿ وَفِي السَّمَآءِ رِزۡقُكُمۡ﴾ ’’اور آسمانوں میں تمھارا رزق ہے۔‘‘ یعنی تمھارے رزق کا مادہ ، مثلاً: بارش، رزق دینی اور رزق دنیاوی کی مختلف مقدار ﴿ وَمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی دنیا و آخرت میں جزا و سزا کا جو وعدہ کیا گیا ہے، یہ جزا و سزا دیگر تقدیروں کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔
[23] جب اللہ تعالیٰ نے آیات الٰہی کو بیان کر کے ان پر اس طرح متنبہ فرمایا جس سے عقل مند اور ذہین شخص تنبہ حاصل کرتا ہے تو اس نے قسم کھائی کہ اس کا وعدہ اور اس کی جزا و سزا حق ہیں۔ تب ظاہر اور واضح ترین چیز سے اس کو تشبیہ دی اور وہ نطق ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثۡلَ مَاۤ اَنَّـكُمۡ تَنۡطِقُوۡنَ﴾ ’’پس آسمانوں اور زمین کے رب کی قسم! یہ اسی طرح حق ہے جس طرح تمھیں اپنے نطق لسان میں کوئی شک نہیں اسی طرح تمھیں قیامت اور جزا و سزا میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔
51:23فَوَرَبِّ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ إِنَّهُۥ لَحَقّٞ مِّثۡلَ مَآ أَنَّكُمۡ تَنطِقُونَ
اور زمین میں (بہت سی) نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے (20) اور (خود) تمھارے نفسوں میں بھی، کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (21) اور آسمان میں ہے تمھارا رزق اور وہ جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(22) پس قسم ہے پروردگار کی آسمان اور زمین کے! بلاشبہ وہ (مذکورہ باتیں) البتہ حق ہیں مثل اس کے جو تم بولتے ہو (23)
[20] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو تفکر و تدبر اور عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَفِي الۡاَرۡضِ اٰيٰتٌ لِّلۡمُوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اور یقین کرنے والوں کے لیے زمین میں نشانیاں ہیں۔‘‘ یہ آیت کریمہ زمین اور اس کی موجودات کو شامل ہے ، مثلاً: پہاڑ، سمندر، دریا، درخت اور نباتات جو غور و فکر کرنے والے اور اس کے معانی میں تدبر کرنے والے کو اپنے خالق کی عظمت، اس کی وسیع طاقت، اس کے احسان عام اور ظاہر و باطن پر اس کے علم کے محیط ہونے کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں۔
[21] اور اسی طرح خود بندے کی ذات میں بے شمار عبرتیں ، حکمتیں اور رحمتیں پنہاں ہیں جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک اور بے نیاز ہے، اس نے مخلوق کو بے کار اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔
[22]﴿ وَفِي السَّمَآءِ رِزۡقُكُمۡ﴾ ’’اور آسمانوں میں تمھارا رزق ہے۔‘‘ یعنی تمھارے رزق کا مادہ ، مثلاً: بارش، رزق دینی اور رزق دنیاوی کی مختلف مقدار ﴿ وَمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی دنیا و آخرت میں جزا و سزا کا جو وعدہ کیا گیا ہے، یہ جزا و سزا دیگر تقدیروں کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔
[23] جب اللہ تعالیٰ نے آیات الٰہی کو بیان کر کے ان پر اس طرح متنبہ فرمایا جس سے عقل مند اور ذہین شخص تنبہ حاصل کرتا ہے تو اس نے قسم کھائی کہ اس کا وعدہ اور اس کی جزا و سزا حق ہیں۔ تب ظاہر اور واضح ترین چیز سے اس کو تشبیہ دی اور وہ نطق ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثۡلَ مَاۤ اَنَّـكُمۡ تَنۡطِقُوۡنَ﴾ ’’پس آسمانوں اور زمین کے رب کی قسم! یہ اسی طرح حق ہے جس طرح تمھیں اپنے نطق لسان میں کوئی شک نہیں اسی طرح تمھیں قیامت اور جزا و سزا میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔
51:24هَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ضَيۡفِ إِبۡرَٰهِيمَ ٱلۡمُكۡرَمِينَ
کیا آئی ہے آپ کے پاس خبر ابراہیم کے مہمانوں کی جو معزز تھے؟ (24) جب وہ داخل ہوئے اس پر تو انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، سلام ( تم پر) ، (یہ) لوگ تو اجنبی ہیں(25) پھر چپکے سے گیا اپنے اہل کی طرف، پس لے آیا(بھون کر)ایک بچھڑا موٹا تازہ (26) پھر قریب کیا اسے ان کی طرف، کہا: کیا نہیں کھاتے تم؟ (27) پس اس نے (دل میں) محسوس کیا ان سے خوف انھوں نے کہا: نہ ڈر تو، اور انھوں نے بشارت دی اس کوایک لڑکے بڑے علم والے کی (28) پس سامنے آئی عورت ابراہیم کی حیرت میں پس (تعجب سے) ہاتھ مارا اپنے منہ پر اور کہا: (میں) بڑھیا ہوں بانجھ (اولاد کیسے؟)(29) انھوں نے کہا: اسی طرح کہا ہے تیرے رب نے، بلاشبہ وہی خوب حکمت والا خوب علم والا ہے (30) اُس (ابراہیم) نے کہا پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے(فرشتو)؟ (31) انھوں نے کہا، بلاشبہ بھیجے گئے ہیں ہم ایک مجرم قوم کی طرف (32) تاکہ ہم بھیجیں (برسائیں) ان پر پتھر مٹی کے (33) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے (34) پس نکال لیا ہم نے اس شخص کو کہ تھا وہ اس (بستی) میں مومنوں میں سے (35) سو نہ پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے مسلمانوں میں سے (36) اور چھوڑی ہم نے اس میں ایک نشانی ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں عذاب درد ناک سے (37)
[24] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ﴾ کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی ﴿ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ﴾ ’’ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔‘‘ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں ، چنانچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
[25]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ١ؕ قَالَ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انھوں نے کہا:‘‘ حضرت ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ﴿ سَلٰمٌ﴾ یعنی تم پر بھی سلام ہو ﴿ قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾ تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ ،آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا۔
[26] اسی لیے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں ﴿ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍ﴾ اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے۔
[27]﴿ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا ﴿ قَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ حضرت ابراہیم نے کہا تم کیوں نہیں کھاتے؟
[28]﴿ فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ ﴿ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ﴾ ’’انھوں نے کہا: خوف نہ کیجیے۔‘‘ وہ جس مقصد کے ساتھ آئے تھے انھوں نے حضرت ابراہیم کو اس سے آگاہ کیا ﴿ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’اور انھیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔‘‘ اس سے مراد اسحاقu ہیں۔
[29] پس حضرت ابراہیم کی بیوی (حضرت سارہ) نے یہ خوشخبری سنی ﴿ فَاَقۡبَلَتِ﴾ تو وہ فرحاں و شاداں (ان کی طرف) متوجہ ہوئیں ﴿ فِيۡ صَرَّةٍ﴾ چیخ مار کر ﴿فَصَكَّؔتۡ وَجۡهَهَا﴾ ’’اور انھوں نے (تعجب سے) اپنا چہرے پرہاتھ مارا۔‘‘ یہ اس نوع کی کیفیت ہے جو خوشی اور مسرت کے ایسے اقوال و افعال کے وقت طاری ہو جایا کرتی ہے جو طبیعت اور عادت کے خلاف ہوا کرتے ہیں ﴿ وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ﴾ اور کہا مجھے بیٹا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں تو ایک بڑھیا ہوں اور ایسی عمر کو پہنچ گئی ہوں جس عمر میں عورتیں بچوں کو جنم نہیں دیتیں، مزید برآں میں تو بانجھ بھی ہوں اور میرا رحم بچوں کو جنم دینے کے قابل نہیں۔ پس یہاں دو اسباب ہیں، دونوں ہی بچے کی ولادت سے مانع ہیں۔ سورۂ ہود میں حضرت سارہ [ نے ایک تیسرے مانع کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا١ؕ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾(ہود:11؍72) ’’میرا یہ شوہر بھی بہت بوڑھا ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘
[30]﴿ قَالُوۡا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ﴾ ’’فرشتوں نے کہا، (ہاں) تیرے پرودگار نے اسی طرح کہا ہے۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کر کے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
[31]﴿ قَالَ﴾ حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اے رسولو! تمھارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے میں بھیجا ہے۔
[32]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ﴾’’انھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
[33، 34]﴿لِـنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ۰۰ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠﴾ ’’تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں سے نشان زدہ ہیں۔‘‘ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود کو پھلانگ گئے تھے، چنانچہ ابراہیم u، قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگڑنے لگے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے ، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ﴾(ہود:11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو، تیرے رب کا حکم آ گیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے، جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔‘‘
[35، 36]﴿ فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ۰۰ فَمَا وَجَدۡنَا فِيۡهَا غَيۡرَ بَيۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انھیں نکال لیا۔ اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔‘‘ یہ حضرت لوط u کے گھرانے کے لوگ تھے، سوائے ان کی بیوی کے، وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
[37]﴿وَتَرَؔكۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’اور ہم نے ان کے بارے میں ان لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔‘‘ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے، اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والاہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد(۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے احوال نے انھیں کہا ں پہنچا دیا۔ (۲) اس قصے میں ابراہیم خلیل اللہu کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu سے قصے کی ابتدا کی جو اس قصے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔ (۳)یہ قصہ ضیافت کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ابراہیمu کی عادت تھی، اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ اور آپ کی امت کو حکم دیا ہے کہ وہ ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس قصے کو مدح و ثنا کے سیاق میں بیان کیا ہے۔(۴)اس واقعہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قول و فعل اور اکرام و تکریم کے مختلف طریقوں سے مہمان کی عزت و تکریم کی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ قابل تکریم ہیں ،یعنی حضرت ابراہیم نے ان کی عزت و تکریم کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیمu نے قول و فعل سے کس طرح ان کی مہمان نوازی کی، نیز یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مہمان اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام و تکریم سے بہرہ مند تھے۔(۵) اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم u کا گھر، رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مہمانوں کا ٹھکانا تھا۔ کیونکہ وہ اجازت طلب کیے بغیر حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے اور سلام میں پہل کرنے میں ادب کا طریقہ استعمال کیا اور حضرت ابراہیمu نے بھی کامل ترین سلام کے ساتھ ان کو جواب دیا کیونکہ جملہ اسمیہ ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ (۶)یہ قصہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کے پاس جو کوئی آتا ہے یا اسے ملتا ہے، تو اس سے تعارف حاصل کرنا مشروع ہے کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔(۷) یہ واقعہ بات چیت میں حضرت ابراہیم uکے آداب اور آپ کے لطف و کرم پر دلالت کرتا ہے۔ آپ نے (اپنے مہمانوں سے ) فرمایا تھا : ﴿قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾(الذاریات: 25/51) ’’تم اجنبی لوگ ہو۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا کہ (انکرتکم )’’میں تمھیں نہیں پہچانتا‘‘ اور دونوں جملوں میں جو فرق ہے وہ مخفی نہیں۔(۸)یہ واقعہ مہمان نوازی میں جلدی کرنے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر جلدی سے عمل کیا جائے، اس لیے ابراہیم u نے مہمانوں کے سامنے ضیافت پیش کرنے میں عجلت کی۔(۹) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ذبیحہ (یا کھانا)جو کسی اور کے لیے تیار کیا گیا ہو، اسے مہمان کی خدمت میں پیش کرنے میں، اس کی ذرہ بھر اہانت نہیں بلکہ اس کی عزت و تکریم ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے کیا تھا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے مکرم مہمان تھے۔(۱۰)اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بکثرت رزق سے نواز رکھا تھا، اور یہ رزق ان کے پاس گھر میں ہر وقت تیار اور موجود رہتا تھا، انھیں بازار سے لانے کی ضرورت ہوتی تھی نہ پڑوسیوں سے مانگنے کی۔(۱۱)اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم u نے خود بنفس نفیس مہمانوں کی خدمت کی حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل اور مہمان نوازوں کے سردار تھے۔(۱۲)اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم u نے مہمانوں کو اسی جگہ ضیافت پیش کی جہاں وہ موجود تھے۔ کسی اور جگہ ضیافت کے لیے انھیں نہیں بلایا کہ آئیے تشریف لائیے کیونکہ مہمان کو اپنی جگہ کھانا پیش کرنے میں مہمان کے لیے زیادہ آسانی اور بہتر ہے۔(۱۳) اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ مہمان کے ساتھ نرم کلامی اور ملاطفت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر کھانا پیش کرتے وقت۔ کیونکہ حضرت ابراہیم نے نہایت نرمی سے اپنے مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا تھا۔ اور کہا تھا ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اور یہ نہیں کہا تھا: کُلُوا ’’کھانا کھا لو‘‘ بلکہ آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے جن میں ’’درخواست اور التماس‘‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے ، چنانچہ فرمایا :﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ کھانا تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ چنانچہ حضرت ابراہیم u کی پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بہترین الفاظ استعمال کرے جو مہمان کے لیے مناسب اور لائق حال ہوں، مثلاً:آپ کا مہمانوں سے کہنا ’’کیا آپ کھانا تناول نہیں کریں گے؟‘‘ ’’ہمیں شرف بخشیے اور ہم پر عنایت کیجیے‘‘ اور اس قسم کے دیگر الفاظ۔(۱۴) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص، کسی بھی سبب کی بنا پر کسی سے خوفزدہ ہو جائے تو خوفزدہ کرنے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کے خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے سامنے ایسی باتوں کا ذکر کرے جس سے اس کا خوف دور ہو اور وہ پرسکون ہو جائے۔ جیسا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم u سے کہا تھا: جب وہ ان سے خوفزدہ ہو گئے تھے: ﴿ لَا تَخَفۡ﴾’’ڈریے مت‘‘! اور انھوں نے حضرت ابراہیمu کو وہ خوش کن خبر سنائی۔(۱۵)یہ قصہ حضرت ابراہیم u کی زوجۂ محترمہ کی بے انتہا مسرت و فرحت پر دلالت کرتا ہے حتیٰ کہ انھوں نے خوشی میں چلا کر بے ساختگی سے اپنا چہرہ پیٹ ڈالا۔(۱۶) نیز اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ کو ایک علم رکھنے والے بیٹے کی بشارت سے نوازا۔
51:25إِذۡ دَخَلُواْ عَلَيۡهِ فَقَالُواْ سَلَٰمٗاۖ قَالَ سَلَٰمٞ قَوۡمٞ مُّنكَرُونَ
کیا آئی ہے آپ کے پاس خبر ابراہیم کے مہمانوں کی جو معزز تھے؟ (24) جب وہ داخل ہوئے اس پر تو انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، سلام ( تم پر) ، (یہ) لوگ تو اجنبی ہیں(25) پھر چپکے سے گیا اپنے اہل کی طرف، پس لے آیا(بھون کر)ایک بچھڑا موٹا تازہ (26) پھر قریب کیا اسے ان کی طرف، کہا: کیا نہیں کھاتے تم؟ (27) پس اس نے (دل میں) محسوس کیا ان سے خوف انھوں نے کہا: نہ ڈر تو، اور انھوں نے بشارت دی اس کوایک لڑکے بڑے علم والے کی (28) پس سامنے آئی عورت ابراہیم کی حیرت میں پس (تعجب سے) ہاتھ مارا اپنے منہ پر اور کہا: (میں) بڑھیا ہوں بانجھ (اولاد کیسے؟)(29) انھوں نے کہا: اسی طرح کہا ہے تیرے رب نے، بلاشبہ وہی خوب حکمت والا خوب علم والا ہے (30) اُس (ابراہیم) نے کہا پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے(فرشتو)؟ (31) انھوں نے کہا، بلاشبہ بھیجے گئے ہیں ہم ایک مجرم قوم کی طرف (32) تاکہ ہم بھیجیں (برسائیں) ان پر پتھر مٹی کے (33) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے (34) پس نکال لیا ہم نے اس شخص کو کہ تھا وہ اس (بستی) میں مومنوں میں سے (35) سو نہ پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے مسلمانوں میں سے (36) اور چھوڑی ہم نے اس میں ایک نشانی ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں عذاب درد ناک سے (37)
[24] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ﴾ کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی ﴿ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ﴾ ’’ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔‘‘ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں ، چنانچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
[25]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ١ؕ قَالَ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انھوں نے کہا:‘‘ حضرت ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ﴿ سَلٰمٌ﴾ یعنی تم پر بھی سلام ہو ﴿ قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾ تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ ،آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا۔
[26] اسی لیے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں ﴿ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍ﴾ اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے۔
[27]﴿ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا ﴿ قَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ حضرت ابراہیم نے کہا تم کیوں نہیں کھاتے؟
[28]﴿ فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ ﴿ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ﴾ ’’انھوں نے کہا: خوف نہ کیجیے۔‘‘ وہ جس مقصد کے ساتھ آئے تھے انھوں نے حضرت ابراہیم کو اس سے آگاہ کیا ﴿ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’اور انھیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔‘‘ اس سے مراد اسحاقu ہیں۔
[29] پس حضرت ابراہیم کی بیوی (حضرت سارہ) نے یہ خوشخبری سنی ﴿ فَاَقۡبَلَتِ﴾ تو وہ فرحاں و شاداں (ان کی طرف) متوجہ ہوئیں ﴿ فِيۡ صَرَّةٍ﴾ چیخ مار کر ﴿فَصَكَّؔتۡ وَجۡهَهَا﴾ ’’اور انھوں نے (تعجب سے) اپنا چہرے پرہاتھ مارا۔‘‘ یہ اس نوع کی کیفیت ہے جو خوشی اور مسرت کے ایسے اقوال و افعال کے وقت طاری ہو جایا کرتی ہے جو طبیعت اور عادت کے خلاف ہوا کرتے ہیں ﴿ وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ﴾ اور کہا مجھے بیٹا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں تو ایک بڑھیا ہوں اور ایسی عمر کو پہنچ گئی ہوں جس عمر میں عورتیں بچوں کو جنم نہیں دیتیں، مزید برآں میں تو بانجھ بھی ہوں اور میرا رحم بچوں کو جنم دینے کے قابل نہیں۔ پس یہاں دو اسباب ہیں، دونوں ہی بچے کی ولادت سے مانع ہیں۔ سورۂ ہود میں حضرت سارہ [ نے ایک تیسرے مانع کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا١ؕ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾(ہود:11؍72) ’’میرا یہ شوہر بھی بہت بوڑھا ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘
[30]﴿ قَالُوۡا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ﴾ ’’فرشتوں نے کہا، (ہاں) تیرے پرودگار نے اسی طرح کہا ہے۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کر کے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
[31]﴿ قَالَ﴾ حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اے رسولو! تمھارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے میں بھیجا ہے۔
[32]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ﴾’’انھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
[33، 34]﴿لِـنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ۰۰ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠﴾ ’’تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں سے نشان زدہ ہیں۔‘‘ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود کو پھلانگ گئے تھے، چنانچہ ابراہیم u، قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگڑنے لگے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے ، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ﴾(ہود:11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو، تیرے رب کا حکم آ گیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے، جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔‘‘
[35، 36]﴿ فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ۰۰ فَمَا وَجَدۡنَا فِيۡهَا غَيۡرَ بَيۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انھیں نکال لیا۔ اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔‘‘ یہ حضرت لوط u کے گھرانے کے لوگ تھے، سوائے ان کی بیوی کے، وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
[37]﴿وَتَرَؔكۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’اور ہم نے ان کے بارے میں ان لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔‘‘ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے، اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والاہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد(۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے احوال نے انھیں کہا ں پہنچا دیا۔ (۲) اس قصے میں ابراہیم خلیل اللہu کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu سے قصے کی ابتدا کی جو اس قصے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔ (۳)یہ قصہ ضیافت کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ابراہیمu کی عادت تھی، اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ اور آپ کی امت کو حکم دیا ہے کہ وہ ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس قصے کو مدح و ثنا کے سیاق میں بیان کیا ہے۔(۴)اس واقعہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قول و فعل اور اکرام و تکریم کے مختلف طریقوں سے مہمان کی عزت و تکریم کی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ قابل تکریم ہیں ،یعنی حضرت ابراہیم نے ان کی عزت و تکریم کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیمu نے قول و فعل سے کس طرح ان کی مہمان نوازی کی، نیز یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مہمان اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام و تکریم سے بہرہ مند تھے۔(۵) اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم u کا گھر، رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مہمانوں کا ٹھکانا تھا۔ کیونکہ وہ اجازت طلب کیے بغیر حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے اور سلام میں پہل کرنے میں ادب کا طریقہ استعمال کیا اور حضرت ابراہیمu نے بھی کامل ترین سلام کے ساتھ ان کو جواب دیا کیونکہ جملہ اسمیہ ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ (۶)یہ قصہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کے پاس جو کوئی آتا ہے یا اسے ملتا ہے، تو اس سے تعارف حاصل کرنا مشروع ہے کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔(۷) یہ واقعہ بات چیت میں حضرت ابراہیم uکے آداب اور آپ کے لطف و کرم پر دلالت کرتا ہے۔ آپ نے (اپنے مہمانوں سے ) فرمایا تھا : ﴿قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾(الذاریات: 25/51) ’’تم اجنبی لوگ ہو۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا کہ (انکرتکم )’’میں تمھیں نہیں پہچانتا‘‘ اور دونوں جملوں میں جو فرق ہے وہ مخفی نہیں۔(۸)یہ واقعہ مہمان نوازی میں جلدی کرنے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر جلدی سے عمل کیا جائے، اس لیے ابراہیم u نے مہمانوں کے سامنے ضیافت پیش کرنے میں عجلت کی۔(۹) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ذبیحہ (یا کھانا)جو کسی اور کے لیے تیار کیا گیا ہو، اسے مہمان کی خدمت میں پیش کرنے میں، اس کی ذرہ بھر اہانت نہیں بلکہ اس کی عزت و تکریم ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے کیا تھا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے مکرم مہمان تھے۔(۱۰)اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بکثرت رزق سے نواز رکھا تھا، اور یہ رزق ان کے پاس گھر میں ہر وقت تیار اور موجود رہتا تھا، انھیں بازار سے لانے کی ضرورت ہوتی تھی نہ پڑوسیوں سے مانگنے کی۔(۱۱)اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم u نے خود بنفس نفیس مہمانوں کی خدمت کی حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل اور مہمان نوازوں کے سردار تھے۔(۱۲)اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم u نے مہمانوں کو اسی جگہ ضیافت پیش کی جہاں وہ موجود تھے۔ کسی اور جگہ ضیافت کے لیے انھیں نہیں بلایا کہ آئیے تشریف لائیے کیونکہ مہمان کو اپنی جگہ کھانا پیش کرنے میں مہمان کے لیے زیادہ آسانی اور بہتر ہے۔(۱۳) اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ مہمان کے ساتھ نرم کلامی اور ملاطفت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر کھانا پیش کرتے وقت۔ کیونکہ حضرت ابراہیم نے نہایت نرمی سے اپنے مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا تھا۔ اور کہا تھا ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اور یہ نہیں کہا تھا: کُلُوا ’’کھانا کھا لو‘‘ بلکہ آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے جن میں ’’درخواست اور التماس‘‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے ، چنانچہ فرمایا :﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ کھانا تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ چنانچہ حضرت ابراہیم u کی پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بہترین الفاظ استعمال کرے جو مہمان کے لیے مناسب اور لائق حال ہوں، مثلاً:آپ کا مہمانوں سے کہنا ’’کیا آپ کھانا تناول نہیں کریں گے؟‘‘ ’’ہمیں شرف بخشیے اور ہم پر عنایت کیجیے‘‘ اور اس قسم کے دیگر الفاظ۔(۱۴) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص، کسی بھی سبب کی بنا پر کسی سے خوفزدہ ہو جائے تو خوفزدہ کرنے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کے خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے سامنے ایسی باتوں کا ذکر کرے جس سے اس کا خوف دور ہو اور وہ پرسکون ہو جائے۔ جیسا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم u سے کہا تھا: جب وہ ان سے خوفزدہ ہو گئے تھے: ﴿ لَا تَخَفۡ﴾’’ڈریے مت‘‘! اور انھوں نے حضرت ابراہیمu کو وہ خوش کن خبر سنائی۔(۱۵)یہ قصہ حضرت ابراہیم u کی زوجۂ محترمہ کی بے انتہا مسرت و فرحت پر دلالت کرتا ہے حتیٰ کہ انھوں نے خوشی میں چلا کر بے ساختگی سے اپنا چہرہ پیٹ ڈالا۔(۱۶) نیز اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ کو ایک علم رکھنے والے بیٹے کی بشارت سے نوازا۔
51:26فَرَاغَ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦ فَجَآءَ بِعِجۡلٖ سَمِينٖ
کیا آئی ہے آپ کے پاس خبر ابراہیم کے مہمانوں کی جو معزز تھے؟ (24) جب وہ داخل ہوئے اس پر تو انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، سلام ( تم پر) ، (یہ) لوگ تو اجنبی ہیں(25) پھر چپکے سے گیا اپنے اہل کی طرف، پس لے آیا(بھون کر)ایک بچھڑا موٹا تازہ (26) پھر قریب کیا اسے ان کی طرف، کہا: کیا نہیں کھاتے تم؟ (27) پس اس نے (دل میں) محسوس کیا ان سے خوف انھوں نے کہا: نہ ڈر تو، اور انھوں نے بشارت دی اس کوایک لڑکے بڑے علم والے کی (28) پس سامنے آئی عورت ابراہیم کی حیرت میں پس (تعجب سے) ہاتھ مارا اپنے منہ پر اور کہا: (میں) بڑھیا ہوں بانجھ (اولاد کیسے؟)(29) انھوں نے کہا: اسی طرح کہا ہے تیرے رب نے، بلاشبہ وہی خوب حکمت والا خوب علم والا ہے (30) اُس (ابراہیم) نے کہا پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے(فرشتو)؟ (31) انھوں نے کہا، بلاشبہ بھیجے گئے ہیں ہم ایک مجرم قوم کی طرف (32) تاکہ ہم بھیجیں (برسائیں) ان پر پتھر مٹی کے (33) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے (34) پس نکال لیا ہم نے اس شخص کو کہ تھا وہ اس (بستی) میں مومنوں میں سے (35) سو نہ پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے مسلمانوں میں سے (36) اور چھوڑی ہم نے اس میں ایک نشانی ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں عذاب درد ناک سے (37)
[24] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ﴾ کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی ﴿ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ﴾ ’’ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔‘‘ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں ، چنانچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
[25]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ١ؕ قَالَ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انھوں نے کہا:‘‘ حضرت ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ﴿ سَلٰمٌ﴾ یعنی تم پر بھی سلام ہو ﴿ قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾ تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ ،آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا۔
[26] اسی لیے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں ﴿ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍ﴾ اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے۔
[27]﴿ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا ﴿ قَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ حضرت ابراہیم نے کہا تم کیوں نہیں کھاتے؟
[28]﴿ فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ ﴿ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ﴾ ’’انھوں نے کہا: خوف نہ کیجیے۔‘‘ وہ جس مقصد کے ساتھ آئے تھے انھوں نے حضرت ابراہیم کو اس سے آگاہ کیا ﴿ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’اور انھیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔‘‘ اس سے مراد اسحاقu ہیں۔
[29] پس حضرت ابراہیم کی بیوی (حضرت سارہ) نے یہ خوشخبری سنی ﴿ فَاَقۡبَلَتِ﴾ تو وہ فرحاں و شاداں (ان کی طرف) متوجہ ہوئیں ﴿ فِيۡ صَرَّةٍ﴾ چیخ مار کر ﴿فَصَكَّؔتۡ وَجۡهَهَا﴾ ’’اور انھوں نے (تعجب سے) اپنا چہرے پرہاتھ مارا۔‘‘ یہ اس نوع کی کیفیت ہے جو خوشی اور مسرت کے ایسے اقوال و افعال کے وقت طاری ہو جایا کرتی ہے جو طبیعت اور عادت کے خلاف ہوا کرتے ہیں ﴿ وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ﴾ اور کہا مجھے بیٹا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں تو ایک بڑھیا ہوں اور ایسی عمر کو پہنچ گئی ہوں جس عمر میں عورتیں بچوں کو جنم نہیں دیتیں، مزید برآں میں تو بانجھ بھی ہوں اور میرا رحم بچوں کو جنم دینے کے قابل نہیں۔ پس یہاں دو اسباب ہیں، دونوں ہی بچے کی ولادت سے مانع ہیں۔ سورۂ ہود میں حضرت سارہ [ نے ایک تیسرے مانع کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا١ؕ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾(ہود:11؍72) ’’میرا یہ شوہر بھی بہت بوڑھا ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘
[30]﴿ قَالُوۡا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ﴾ ’’فرشتوں نے کہا، (ہاں) تیرے پرودگار نے اسی طرح کہا ہے۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کر کے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
[31]﴿ قَالَ﴾ حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اے رسولو! تمھارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے میں بھیجا ہے۔
[32]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ﴾’’انھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
[33، 34]﴿لِـنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ۰۰ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠﴾ ’’تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں سے نشان زدہ ہیں۔‘‘ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود کو پھلانگ گئے تھے، چنانچہ ابراہیم u، قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگڑنے لگے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے ، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ﴾(ہود:11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو، تیرے رب کا حکم آ گیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے، جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔‘‘
[35، 36]﴿ فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ۰۰ فَمَا وَجَدۡنَا فِيۡهَا غَيۡرَ بَيۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انھیں نکال لیا۔ اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔‘‘ یہ حضرت لوط u کے گھرانے کے لوگ تھے، سوائے ان کی بیوی کے، وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
[37]﴿وَتَرَؔكۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’اور ہم نے ان کے بارے میں ان لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔‘‘ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے، اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والاہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد(۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے احوال نے انھیں کہا ں پہنچا دیا۔ (۲) اس قصے میں ابراہیم خلیل اللہu کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu سے قصے کی ابتدا کی جو اس قصے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔ (۳)یہ قصہ ضیافت کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ابراہیمu کی عادت تھی، اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ اور آپ کی امت کو حکم دیا ہے کہ وہ ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس قصے کو مدح و ثنا کے سیاق میں بیان کیا ہے۔(۴)اس واقعہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قول و فعل اور اکرام و تکریم کے مختلف طریقوں سے مہمان کی عزت و تکریم کی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ قابل تکریم ہیں ،یعنی حضرت ابراہیم نے ان کی عزت و تکریم کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیمu نے قول و فعل سے کس طرح ان کی مہمان نوازی کی، نیز یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مہمان اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام و تکریم سے بہرہ مند تھے۔(۵) اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم u کا گھر، رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مہمانوں کا ٹھکانا تھا۔ کیونکہ وہ اجازت طلب کیے بغیر حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے اور سلام میں پہل کرنے میں ادب کا طریقہ استعمال کیا اور حضرت ابراہیمu نے بھی کامل ترین سلام کے ساتھ ان کو جواب دیا کیونکہ جملہ اسمیہ ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ (۶)یہ قصہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کے پاس جو کوئی آتا ہے یا اسے ملتا ہے، تو اس سے تعارف حاصل کرنا مشروع ہے کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔(۷) یہ واقعہ بات چیت میں حضرت ابراہیم uکے آداب اور آپ کے لطف و کرم پر دلالت کرتا ہے۔ آپ نے (اپنے مہمانوں سے ) فرمایا تھا : ﴿قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾(الذاریات: 25/51) ’’تم اجنبی لوگ ہو۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا کہ (انکرتکم )’’میں تمھیں نہیں پہچانتا‘‘ اور دونوں جملوں میں جو فرق ہے وہ مخفی نہیں۔(۸)یہ واقعہ مہمان نوازی میں جلدی کرنے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر جلدی سے عمل کیا جائے، اس لیے ابراہیم u نے مہمانوں کے سامنے ضیافت پیش کرنے میں عجلت کی۔(۹) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ذبیحہ (یا کھانا)جو کسی اور کے لیے تیار کیا گیا ہو، اسے مہمان کی خدمت میں پیش کرنے میں، اس کی ذرہ بھر اہانت نہیں بلکہ اس کی عزت و تکریم ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے کیا تھا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے مکرم مہمان تھے۔(۱۰)اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بکثرت رزق سے نواز رکھا تھا، اور یہ رزق ان کے پاس گھر میں ہر وقت تیار اور موجود رہتا تھا، انھیں بازار سے لانے کی ضرورت ہوتی تھی نہ پڑوسیوں سے مانگنے کی۔(۱۱)اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم u نے خود بنفس نفیس مہمانوں کی خدمت کی حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل اور مہمان نوازوں کے سردار تھے۔(۱۲)اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم u نے مہمانوں کو اسی جگہ ضیافت پیش کی جہاں وہ موجود تھے۔ کسی اور جگہ ضیافت کے لیے انھیں نہیں بلایا کہ آئیے تشریف لائیے کیونکہ مہمان کو اپنی جگہ کھانا پیش کرنے میں مہمان کے لیے زیادہ آسانی اور بہتر ہے۔(۱۳) اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ مہمان کے ساتھ نرم کلامی اور ملاطفت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر کھانا پیش کرتے وقت۔ کیونکہ حضرت ابراہیم نے نہایت نرمی سے اپنے مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا تھا۔ اور کہا تھا ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اور یہ نہیں کہا تھا: کُلُوا ’’کھانا کھا لو‘‘ بلکہ آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے جن میں ’’درخواست اور التماس‘‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے ، چنانچہ فرمایا :﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ کھانا تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ چنانچہ حضرت ابراہیم u کی پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بہترین الفاظ استعمال کرے جو مہمان کے لیے مناسب اور لائق حال ہوں، مثلاً:آپ کا مہمانوں سے کہنا ’’کیا آپ کھانا تناول نہیں کریں گے؟‘‘ ’’ہمیں شرف بخشیے اور ہم پر عنایت کیجیے‘‘ اور اس قسم کے دیگر الفاظ۔(۱۴) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص، کسی بھی سبب کی بنا پر کسی سے خوفزدہ ہو جائے تو خوفزدہ کرنے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کے خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے سامنے ایسی باتوں کا ذکر کرے جس سے اس کا خوف دور ہو اور وہ پرسکون ہو جائے۔ جیسا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم u سے کہا تھا: جب وہ ان سے خوفزدہ ہو گئے تھے: ﴿ لَا تَخَفۡ﴾’’ڈریے مت‘‘! اور انھوں نے حضرت ابراہیمu کو وہ خوش کن خبر سنائی۔(۱۵)یہ قصہ حضرت ابراہیم u کی زوجۂ محترمہ کی بے انتہا مسرت و فرحت پر دلالت کرتا ہے حتیٰ کہ انھوں نے خوشی میں چلا کر بے ساختگی سے اپنا چہرہ پیٹ ڈالا۔(۱۶) نیز اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ کو ایک علم رکھنے والے بیٹے کی بشارت سے نوازا۔
51:27فَقَرَّبَهُۥٓ إِلَيۡهِمۡ قَالَ أَلَا تَأۡكُلُونَ
کیا آئی ہے آپ کے پاس خبر ابراہیم کے مہمانوں کی جو معزز تھے؟ (24) جب وہ داخل ہوئے اس پر تو انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، سلام ( تم پر) ، (یہ) لوگ تو اجنبی ہیں(25) پھر چپکے سے گیا اپنے اہل کی طرف، پس لے آیا(بھون کر)ایک بچھڑا موٹا تازہ (26) پھر قریب کیا اسے ان کی طرف، کہا: کیا نہیں کھاتے تم؟ (27) پس اس نے (دل میں) محسوس کیا ان سے خوف انھوں نے کہا: نہ ڈر تو، اور انھوں نے بشارت دی اس کوایک لڑکے بڑے علم والے کی (28) پس سامنے آئی عورت ابراہیم کی حیرت میں پس (تعجب سے) ہاتھ مارا اپنے منہ پر اور کہا: (میں) بڑھیا ہوں بانجھ (اولاد کیسے؟)(29) انھوں نے کہا: اسی طرح کہا ہے تیرے رب نے، بلاشبہ وہی خوب حکمت والا خوب علم والا ہے (30) اُس (ابراہیم) نے کہا پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے(فرشتو)؟ (31) انھوں نے کہا، بلاشبہ بھیجے گئے ہیں ہم ایک مجرم قوم کی طرف (32) تاکہ ہم بھیجیں (برسائیں) ان پر پتھر مٹی کے (33) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے (34) پس نکال لیا ہم نے اس شخص کو کہ تھا وہ اس (بستی) میں مومنوں میں سے (35) سو نہ پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے مسلمانوں میں سے (36) اور چھوڑی ہم نے اس میں ایک نشانی ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں عذاب درد ناک سے (37)
[24] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ﴾ کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی ﴿ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ﴾ ’’ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔‘‘ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں ، چنانچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
[25]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ١ؕ قَالَ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انھوں نے کہا:‘‘ حضرت ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ﴿ سَلٰمٌ﴾ یعنی تم پر بھی سلام ہو ﴿ قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾ تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ ،آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا۔
[26] اسی لیے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں ﴿ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍ﴾ اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے۔
[27]﴿ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا ﴿ قَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ حضرت ابراہیم نے کہا تم کیوں نہیں کھاتے؟
[28]﴿ فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ ﴿ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ﴾ ’’انھوں نے کہا: خوف نہ کیجیے۔‘‘ وہ جس مقصد کے ساتھ آئے تھے انھوں نے حضرت ابراہیم کو اس سے آگاہ کیا ﴿ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’اور انھیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔‘‘ اس سے مراد اسحاقu ہیں۔
[29] پس حضرت ابراہیم کی بیوی (حضرت سارہ) نے یہ خوشخبری سنی ﴿ فَاَقۡبَلَتِ﴾ تو وہ فرحاں و شاداں (ان کی طرف) متوجہ ہوئیں ﴿ فِيۡ صَرَّةٍ﴾ چیخ مار کر ﴿فَصَكَّؔتۡ وَجۡهَهَا﴾ ’’اور انھوں نے (تعجب سے) اپنا چہرے پرہاتھ مارا۔‘‘ یہ اس نوع کی کیفیت ہے جو خوشی اور مسرت کے ایسے اقوال و افعال کے وقت طاری ہو جایا کرتی ہے جو طبیعت اور عادت کے خلاف ہوا کرتے ہیں ﴿ وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ﴾ اور کہا مجھے بیٹا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں تو ایک بڑھیا ہوں اور ایسی عمر کو پہنچ گئی ہوں جس عمر میں عورتیں بچوں کو جنم نہیں دیتیں، مزید برآں میں تو بانجھ بھی ہوں اور میرا رحم بچوں کو جنم دینے کے قابل نہیں۔ پس یہاں دو اسباب ہیں، دونوں ہی بچے کی ولادت سے مانع ہیں۔ سورۂ ہود میں حضرت سارہ [ نے ایک تیسرے مانع کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا١ؕ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾(ہود:11؍72) ’’میرا یہ شوہر بھی بہت بوڑھا ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘
[30]﴿ قَالُوۡا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ﴾ ’’فرشتوں نے کہا، (ہاں) تیرے پرودگار نے اسی طرح کہا ہے۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کر کے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
[31]﴿ قَالَ﴾ حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اے رسولو! تمھارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے میں بھیجا ہے۔
[32]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ﴾’’انھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
[33، 34]﴿لِـنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ۰۰ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠﴾ ’’تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں سے نشان زدہ ہیں۔‘‘ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود کو پھلانگ گئے تھے، چنانچہ ابراہیم u، قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگڑنے لگے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے ، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ﴾(ہود:11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو، تیرے رب کا حکم آ گیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے، جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔‘‘
[35، 36]﴿ فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ۰۰ فَمَا وَجَدۡنَا فِيۡهَا غَيۡرَ بَيۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انھیں نکال لیا۔ اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔‘‘ یہ حضرت لوط u کے گھرانے کے لوگ تھے، سوائے ان کی بیوی کے، وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
[37]﴿وَتَرَؔكۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’اور ہم نے ان کے بارے میں ان لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔‘‘ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے، اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والاہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد(۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے احوال نے انھیں کہا ں پہنچا دیا۔ (۲) اس قصے میں ابراہیم خلیل اللہu کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu سے قصے کی ابتدا کی جو اس قصے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔ (۳)یہ قصہ ضیافت کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ابراہیمu کی عادت تھی، اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ اور آپ کی امت کو حکم دیا ہے کہ وہ ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس قصے کو مدح و ثنا کے سیاق میں بیان کیا ہے۔(۴)اس واقعہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قول و فعل اور اکرام و تکریم کے مختلف طریقوں سے مہمان کی عزت و تکریم کی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ قابل تکریم ہیں ،یعنی حضرت ابراہیم نے ان کی عزت و تکریم کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیمu نے قول و فعل سے کس طرح ان کی مہمان نوازی کی، نیز یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مہمان اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام و تکریم سے بہرہ مند تھے۔(۵) اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم u کا گھر، رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مہمانوں کا ٹھکانا تھا۔ کیونکہ وہ اجازت طلب کیے بغیر حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے اور سلام میں پہل کرنے میں ادب کا طریقہ استعمال کیا اور حضرت ابراہیمu نے بھی کامل ترین سلام کے ساتھ ان کو جواب دیا کیونکہ جملہ اسمیہ ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ (۶)یہ قصہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کے پاس جو کوئی آتا ہے یا اسے ملتا ہے، تو اس سے تعارف حاصل کرنا مشروع ہے کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔(۷) یہ واقعہ بات چیت میں حضرت ابراہیم uکے آداب اور آپ کے لطف و کرم پر دلالت کرتا ہے۔ آپ نے (اپنے مہمانوں سے ) فرمایا تھا : ﴿قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾(الذاریات: 25/51) ’’تم اجنبی لوگ ہو۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا کہ (انکرتکم )’’میں تمھیں نہیں پہچانتا‘‘ اور دونوں جملوں میں جو فرق ہے وہ مخفی نہیں۔(۸)یہ واقعہ مہمان نوازی میں جلدی کرنے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر جلدی سے عمل کیا جائے، اس لیے ابراہیم u نے مہمانوں کے سامنے ضیافت پیش کرنے میں عجلت کی۔(۹) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ذبیحہ (یا کھانا)جو کسی اور کے لیے تیار کیا گیا ہو، اسے مہمان کی خدمت میں پیش کرنے میں، اس کی ذرہ بھر اہانت نہیں بلکہ اس کی عزت و تکریم ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے کیا تھا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے مکرم مہمان تھے۔(۱۰)اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بکثرت رزق سے نواز رکھا تھا، اور یہ رزق ان کے پاس گھر میں ہر وقت تیار اور موجود رہتا تھا، انھیں بازار سے لانے کی ضرورت ہوتی تھی نہ پڑوسیوں سے مانگنے کی۔(۱۱)اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم u نے خود بنفس نفیس مہمانوں کی خدمت کی حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل اور مہمان نوازوں کے سردار تھے۔(۱۲)اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم u نے مہمانوں کو اسی جگہ ضیافت پیش کی جہاں وہ موجود تھے۔ کسی اور جگہ ضیافت کے لیے انھیں نہیں بلایا کہ آئیے تشریف لائیے کیونکہ مہمان کو اپنی جگہ کھانا پیش کرنے میں مہمان کے لیے زیادہ آسانی اور بہتر ہے۔(۱۳) اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ مہمان کے ساتھ نرم کلامی اور ملاطفت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر کھانا پیش کرتے وقت۔ کیونکہ حضرت ابراہیم نے نہایت نرمی سے اپنے مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا تھا۔ اور کہا تھا ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اور یہ نہیں کہا تھا: کُلُوا ’’کھانا کھا لو‘‘ بلکہ آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے جن میں ’’درخواست اور التماس‘‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے ، چنانچہ فرمایا :﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ کھانا تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ چنانچہ حضرت ابراہیم u کی پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بہترین الفاظ استعمال کرے جو مہمان کے لیے مناسب اور لائق حال ہوں، مثلاً:آپ کا مہمانوں سے کہنا ’’کیا آپ کھانا تناول نہیں کریں گے؟‘‘ ’’ہمیں شرف بخشیے اور ہم پر عنایت کیجیے‘‘ اور اس قسم کے دیگر الفاظ۔(۱۴) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص، کسی بھی سبب کی بنا پر کسی سے خوفزدہ ہو جائے تو خوفزدہ کرنے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کے خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے سامنے ایسی باتوں کا ذکر کرے جس سے اس کا خوف دور ہو اور وہ پرسکون ہو جائے۔ جیسا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم u سے کہا تھا: جب وہ ان سے خوفزدہ ہو گئے تھے: ﴿ لَا تَخَفۡ﴾’’ڈریے مت‘‘! اور انھوں نے حضرت ابراہیمu کو وہ خوش کن خبر سنائی۔(۱۵)یہ قصہ حضرت ابراہیم u کی زوجۂ محترمہ کی بے انتہا مسرت و فرحت پر دلالت کرتا ہے حتیٰ کہ انھوں نے خوشی میں چلا کر بے ساختگی سے اپنا چہرہ پیٹ ڈالا۔(۱۶) نیز اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ کو ایک علم رکھنے والے بیٹے کی بشارت سے نوازا۔
51:28فَأَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيفَةٗۖ قَالُواْ لَا تَخَفۡۖ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَٰمٍ عَلِيمٖ
کیا آئی ہے آپ کے پاس خبر ابراہیم کے مہمانوں کی جو معزز تھے؟ (24) جب وہ داخل ہوئے اس پر تو انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، سلام ( تم پر) ، (یہ) لوگ تو اجنبی ہیں(25) پھر چپکے سے گیا اپنے اہل کی طرف، پس لے آیا(بھون کر)ایک بچھڑا موٹا تازہ (26) پھر قریب کیا اسے ان کی طرف، کہا: کیا نہیں کھاتے تم؟ (27) پس اس نے (دل میں) محسوس کیا ان سے خوف انھوں نے کہا: نہ ڈر تو، اور انھوں نے بشارت دی اس کوایک لڑکے بڑے علم والے کی (28) پس سامنے آئی عورت ابراہیم کی حیرت میں پس (تعجب سے) ہاتھ مارا اپنے منہ پر اور کہا: (میں) بڑھیا ہوں بانجھ (اولاد کیسے؟)(29) انھوں نے کہا: اسی طرح کہا ہے تیرے رب نے، بلاشبہ وہی خوب حکمت والا خوب علم والا ہے (30) اُس (ابراہیم) نے کہا پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے(فرشتو)؟ (31) انھوں نے کہا، بلاشبہ بھیجے گئے ہیں ہم ایک مجرم قوم کی طرف (32) تاکہ ہم بھیجیں (برسائیں) ان پر پتھر مٹی کے (33) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے (34) پس نکال لیا ہم نے اس شخص کو کہ تھا وہ اس (بستی) میں مومنوں میں سے (35) سو نہ پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے مسلمانوں میں سے (36) اور چھوڑی ہم نے اس میں ایک نشانی ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں عذاب درد ناک سے (37)
[24] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ﴾ کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی ﴿ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ﴾ ’’ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔‘‘ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں ، چنانچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
[25]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ١ؕ قَالَ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انھوں نے کہا:‘‘ حضرت ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ﴿ سَلٰمٌ﴾ یعنی تم پر بھی سلام ہو ﴿ قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾ تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ ،آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا۔
[26] اسی لیے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں ﴿ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍ﴾ اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے۔
[27]﴿ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا ﴿ قَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ حضرت ابراہیم نے کہا تم کیوں نہیں کھاتے؟
[28]﴿ فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ ﴿ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ﴾ ’’انھوں نے کہا: خوف نہ کیجیے۔‘‘ وہ جس مقصد کے ساتھ آئے تھے انھوں نے حضرت ابراہیم کو اس سے آگاہ کیا ﴿ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’اور انھیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔‘‘ اس سے مراد اسحاقu ہیں۔
[29] پس حضرت ابراہیم کی بیوی (حضرت سارہ) نے یہ خوشخبری سنی ﴿ فَاَقۡبَلَتِ﴾ تو وہ فرحاں و شاداں (ان کی طرف) متوجہ ہوئیں ﴿ فِيۡ صَرَّةٍ﴾ چیخ مار کر ﴿فَصَكَّؔتۡ وَجۡهَهَا﴾ ’’اور انھوں نے (تعجب سے) اپنا چہرے پرہاتھ مارا۔‘‘ یہ اس نوع کی کیفیت ہے جو خوشی اور مسرت کے ایسے اقوال و افعال کے وقت طاری ہو جایا کرتی ہے جو طبیعت اور عادت کے خلاف ہوا کرتے ہیں ﴿ وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ﴾ اور کہا مجھے بیٹا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں تو ایک بڑھیا ہوں اور ایسی عمر کو پہنچ گئی ہوں جس عمر میں عورتیں بچوں کو جنم نہیں دیتیں، مزید برآں میں تو بانجھ بھی ہوں اور میرا رحم بچوں کو جنم دینے کے قابل نہیں۔ پس یہاں دو اسباب ہیں، دونوں ہی بچے کی ولادت سے مانع ہیں۔ سورۂ ہود میں حضرت سارہ [ نے ایک تیسرے مانع کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا١ؕ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾(ہود:11؍72) ’’میرا یہ شوہر بھی بہت بوڑھا ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘
[30]﴿ قَالُوۡا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ﴾ ’’فرشتوں نے کہا، (ہاں) تیرے پرودگار نے اسی طرح کہا ہے۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کر کے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
[31]﴿ قَالَ﴾ حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اے رسولو! تمھارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے میں بھیجا ہے۔
[32]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ﴾’’انھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
[33، 34]﴿لِـنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ۰۰ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠﴾ ’’تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں سے نشان زدہ ہیں۔‘‘ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود کو پھلانگ گئے تھے، چنانچہ ابراہیم u، قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگڑنے لگے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے ، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ﴾(ہود:11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو، تیرے رب کا حکم آ گیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے، جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔‘‘
[35، 36]﴿ فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ۰۰ فَمَا وَجَدۡنَا فِيۡهَا غَيۡرَ بَيۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انھیں نکال لیا۔ اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔‘‘ یہ حضرت لوط u کے گھرانے کے لوگ تھے، سوائے ان کی بیوی کے، وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
[37]﴿وَتَرَؔكۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’اور ہم نے ان کے بارے میں ان لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔‘‘ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے، اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والاہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد(۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے احوال نے انھیں کہا ں پہنچا دیا۔ (۲) اس قصے میں ابراہیم خلیل اللہu کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu سے قصے کی ابتدا کی جو اس قصے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔ (۳)یہ قصہ ضیافت کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ابراہیمu کی عادت تھی، اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ اور آپ کی امت کو حکم دیا ہے کہ وہ ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس قصے کو مدح و ثنا کے سیاق میں بیان کیا ہے۔(۴)اس واقعہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قول و فعل اور اکرام و تکریم کے مختلف طریقوں سے مہمان کی عزت و تکریم کی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ قابل تکریم ہیں ،یعنی حضرت ابراہیم نے ان کی عزت و تکریم کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیمu نے قول و فعل سے کس طرح ان کی مہمان نوازی کی، نیز یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مہمان اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام و تکریم سے بہرہ مند تھے۔(۵) اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم u کا گھر، رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مہمانوں کا ٹھکانا تھا۔ کیونکہ وہ اجازت طلب کیے بغیر حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے اور سلام میں پہل کرنے میں ادب کا طریقہ استعمال کیا اور حضرت ابراہیمu نے بھی کامل ترین سلام کے ساتھ ان کو جواب دیا کیونکہ جملہ اسمیہ ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ (۶)یہ قصہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کے پاس جو کوئی آتا ہے یا اسے ملتا ہے، تو اس سے تعارف حاصل کرنا مشروع ہے کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔(۷) یہ واقعہ بات چیت میں حضرت ابراہیم uکے آداب اور آپ کے لطف و کرم پر دلالت کرتا ہے۔ آپ نے (اپنے مہمانوں سے ) فرمایا تھا : ﴿قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾(الذاریات: 25/51) ’’تم اجنبی لوگ ہو۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا کہ (انکرتکم )’’میں تمھیں نہیں پہچانتا‘‘ اور دونوں جملوں میں جو فرق ہے وہ مخفی نہیں۔(۸)یہ واقعہ مہمان نوازی میں جلدی کرنے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر جلدی سے عمل کیا جائے، اس لیے ابراہیم u نے مہمانوں کے سامنے ضیافت پیش کرنے میں عجلت کی۔(۹) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ذبیحہ (یا کھانا)جو کسی اور کے لیے تیار کیا گیا ہو، اسے مہمان کی خدمت میں پیش کرنے میں، اس کی ذرہ بھر اہانت نہیں بلکہ اس کی عزت و تکریم ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے کیا تھا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے مکرم مہمان تھے۔(۱۰)اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بکثرت رزق سے نواز رکھا تھا، اور یہ رزق ان کے پاس گھر میں ہر وقت تیار اور موجود رہتا تھا، انھیں بازار سے لانے کی ضرورت ہوتی تھی نہ پڑوسیوں سے مانگنے کی۔(۱۱)اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم u نے خود بنفس نفیس مہمانوں کی خدمت کی حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل اور مہمان نوازوں کے سردار تھے۔(۱۲)اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم u نے مہمانوں کو اسی جگہ ضیافت پیش کی جہاں وہ موجود تھے۔ کسی اور جگہ ضیافت کے لیے انھیں نہیں بلایا کہ آئیے تشریف لائیے کیونکہ مہمان کو اپنی جگہ کھانا پیش کرنے میں مہمان کے لیے زیادہ آسانی اور بہتر ہے۔(۱۳) اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ مہمان کے ساتھ نرم کلامی اور ملاطفت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر کھانا پیش کرتے وقت۔ کیونکہ حضرت ابراہیم نے نہایت نرمی سے اپنے مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا تھا۔ اور کہا تھا ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اور یہ نہیں کہا تھا: کُلُوا ’’کھانا کھا لو‘‘ بلکہ آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے جن میں ’’درخواست اور التماس‘‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے ، چنانچہ فرمایا :﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ کھانا تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ چنانچہ حضرت ابراہیم u کی پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بہترین الفاظ استعمال کرے جو مہمان کے لیے مناسب اور لائق حال ہوں، مثلاً:آپ کا مہمانوں سے کہنا ’’کیا آپ کھانا تناول نہیں کریں گے؟‘‘ ’’ہمیں شرف بخشیے اور ہم پر عنایت کیجیے‘‘ اور اس قسم کے دیگر الفاظ۔(۱۴) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص، کسی بھی سبب کی بنا پر کسی سے خوفزدہ ہو جائے تو خوفزدہ کرنے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کے خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے سامنے ایسی باتوں کا ذکر کرے جس سے اس کا خوف دور ہو اور وہ پرسکون ہو جائے۔ جیسا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم u سے کہا تھا: جب وہ ان سے خوفزدہ ہو گئے تھے: ﴿ لَا تَخَفۡ﴾’’ڈریے مت‘‘! اور انھوں نے حضرت ابراہیمu کو وہ خوش کن خبر سنائی۔(۱۵)یہ قصہ حضرت ابراہیم u کی زوجۂ محترمہ کی بے انتہا مسرت و فرحت پر دلالت کرتا ہے حتیٰ کہ انھوں نے خوشی میں چلا کر بے ساختگی سے اپنا چہرہ پیٹ ڈالا۔(۱۶) نیز اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ کو ایک علم رکھنے والے بیٹے کی بشارت سے نوازا۔
51:29فَأَقۡبَلَتِ ٱمۡرَأَتُهُۥ فِي صَرَّةٖ فَصَكَّتۡ وَجۡهَهَا وَقَالَتۡ عَجُوزٌ عَقِيمٞ
کیا آئی ہے آپ کے پاس خبر ابراہیم کے مہمانوں کی جو معزز تھے؟ (24) جب وہ داخل ہوئے اس پر تو انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، سلام ( تم پر) ، (یہ) لوگ تو اجنبی ہیں(25) پھر چپکے سے گیا اپنے اہل کی طرف، پس لے آیا(بھون کر)ایک بچھڑا موٹا تازہ (26) پھر قریب کیا اسے ان کی طرف، کہا: کیا نہیں کھاتے تم؟ (27) پس اس نے (دل میں) محسوس کیا ان سے خوف انھوں نے کہا: نہ ڈر تو، اور انھوں نے بشارت دی اس کوایک لڑکے بڑے علم والے کی (28) پس سامنے آئی عورت ابراہیم کی حیرت میں پس (تعجب سے) ہاتھ مارا اپنے منہ پر اور کہا: (میں) بڑھیا ہوں بانجھ (اولاد کیسے؟)(29) انھوں نے کہا: اسی طرح کہا ہے تیرے رب نے، بلاشبہ وہی خوب حکمت والا خوب علم والا ہے (30) اُس (ابراہیم) نے کہا پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے(فرشتو)؟ (31) انھوں نے کہا، بلاشبہ بھیجے گئے ہیں ہم ایک مجرم قوم کی طرف (32) تاکہ ہم بھیجیں (برسائیں) ان پر پتھر مٹی کے (33) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے (34) پس نکال لیا ہم نے اس شخص کو کہ تھا وہ اس (بستی) میں مومنوں میں سے (35) سو نہ پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے مسلمانوں میں سے (36) اور چھوڑی ہم نے اس میں ایک نشانی ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں عذاب درد ناک سے (37)
[24] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ﴾ کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی ﴿ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ﴾ ’’ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔‘‘ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں ، چنانچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
[25]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ١ؕ قَالَ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انھوں نے کہا:‘‘ حضرت ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ﴿ سَلٰمٌ﴾ یعنی تم پر بھی سلام ہو ﴿ قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾ تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ ،آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا۔
[26] اسی لیے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں ﴿ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍ﴾ اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے۔
[27]﴿ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا ﴿ قَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ حضرت ابراہیم نے کہا تم کیوں نہیں کھاتے؟
[28]﴿ فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ ﴿ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ﴾ ’’انھوں نے کہا: خوف نہ کیجیے۔‘‘ وہ جس مقصد کے ساتھ آئے تھے انھوں نے حضرت ابراہیم کو اس سے آگاہ کیا ﴿ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’اور انھیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔‘‘ اس سے مراد اسحاقu ہیں۔
[29] پس حضرت ابراہیم کی بیوی (حضرت سارہ) نے یہ خوشخبری سنی ﴿ فَاَقۡبَلَتِ﴾ تو وہ فرحاں و شاداں (ان کی طرف) متوجہ ہوئیں ﴿ فِيۡ صَرَّةٍ﴾ چیخ مار کر ﴿فَصَكَّؔتۡ وَجۡهَهَا﴾ ’’اور انھوں نے (تعجب سے) اپنا چہرے پرہاتھ مارا۔‘‘ یہ اس نوع کی کیفیت ہے جو خوشی اور مسرت کے ایسے اقوال و افعال کے وقت طاری ہو جایا کرتی ہے جو طبیعت اور عادت کے خلاف ہوا کرتے ہیں ﴿ وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ﴾ اور کہا مجھے بیٹا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں تو ایک بڑھیا ہوں اور ایسی عمر کو پہنچ گئی ہوں جس عمر میں عورتیں بچوں کو جنم نہیں دیتیں، مزید برآں میں تو بانجھ بھی ہوں اور میرا رحم بچوں کو جنم دینے کے قابل نہیں۔ پس یہاں دو اسباب ہیں، دونوں ہی بچے کی ولادت سے مانع ہیں۔ سورۂ ہود میں حضرت سارہ [ نے ایک تیسرے مانع کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا١ؕ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾(ہود:11؍72) ’’میرا یہ شوہر بھی بہت بوڑھا ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘
[30]﴿ قَالُوۡا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ﴾ ’’فرشتوں نے کہا، (ہاں) تیرے پرودگار نے اسی طرح کہا ہے۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کر کے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
[31]﴿ قَالَ﴾ حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اے رسولو! تمھارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے میں بھیجا ہے۔
[32]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ﴾’’انھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
[33، 34]﴿لِـنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ۰۰ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠﴾ ’’تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں سے نشان زدہ ہیں۔‘‘ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود کو پھلانگ گئے تھے، چنانچہ ابراہیم u، قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگڑنے لگے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے ، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ﴾(ہود:11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو، تیرے رب کا حکم آ گیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے، جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔‘‘
[35، 36]﴿ فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ۰۰ فَمَا وَجَدۡنَا فِيۡهَا غَيۡرَ بَيۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انھیں نکال لیا۔ اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔‘‘ یہ حضرت لوط u کے گھرانے کے لوگ تھے، سوائے ان کی بیوی کے، وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
[37]﴿وَتَرَؔكۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’اور ہم نے ان کے بارے میں ان لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔‘‘ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے، اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والاہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد(۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے احوال نے انھیں کہا ں پہنچا دیا۔ (۲) اس قصے میں ابراہیم خلیل اللہu کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu سے قصے کی ابتدا کی جو اس قصے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔ (۳)یہ قصہ ضیافت کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ابراہیمu کی عادت تھی، اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ اور آپ کی امت کو حکم دیا ہے کہ وہ ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس قصے کو مدح و ثنا کے سیاق میں بیان کیا ہے۔(۴)اس واقعہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قول و فعل اور اکرام و تکریم کے مختلف طریقوں سے مہمان کی عزت و تکریم کی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ قابل تکریم ہیں ،یعنی حضرت ابراہیم نے ان کی عزت و تکریم کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیمu نے قول و فعل سے کس طرح ان کی مہمان نوازی کی، نیز یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مہمان اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام و تکریم سے بہرہ مند تھے۔(۵) اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم u کا گھر، رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مہمانوں کا ٹھکانا تھا۔ کیونکہ وہ اجازت طلب کیے بغیر حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے اور سلام میں پہل کرنے میں ادب کا طریقہ استعمال کیا اور حضرت ابراہیمu نے بھی کامل ترین سلام کے ساتھ ان کو جواب دیا کیونکہ جملہ اسمیہ ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ (۶)یہ قصہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کے پاس جو کوئی آتا ہے یا اسے ملتا ہے، تو اس سے تعارف حاصل کرنا مشروع ہے کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔(۷) یہ واقعہ بات چیت میں حضرت ابراہیم uکے آداب اور آپ کے لطف و کرم پر دلالت کرتا ہے۔ آپ نے (اپنے مہمانوں سے ) فرمایا تھا : ﴿قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾(الذاریات: 25/51) ’’تم اجنبی لوگ ہو۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا کہ (انکرتکم )’’میں تمھیں نہیں پہچانتا‘‘ اور دونوں جملوں میں جو فرق ہے وہ مخفی نہیں۔(۸)یہ واقعہ مہمان نوازی میں جلدی کرنے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر جلدی سے عمل کیا جائے، اس لیے ابراہیم u نے مہمانوں کے سامنے ضیافت پیش کرنے میں عجلت کی۔(۹) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ذبیحہ (یا کھانا)جو کسی اور کے لیے تیار کیا گیا ہو، اسے مہمان کی خدمت میں پیش کرنے میں، اس کی ذرہ بھر اہانت نہیں بلکہ اس کی عزت و تکریم ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے کیا تھا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے مکرم مہمان تھے۔(۱۰)اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بکثرت رزق سے نواز رکھا تھا، اور یہ رزق ان کے پاس گھر میں ہر وقت تیار اور موجود رہتا تھا، انھیں بازار سے لانے کی ضرورت ہوتی تھی نہ پڑوسیوں سے مانگنے کی۔(۱۱)اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم u نے خود بنفس نفیس مہمانوں کی خدمت کی حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل اور مہمان نوازوں کے سردار تھے۔(۱۲)اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم u نے مہمانوں کو اسی جگہ ضیافت پیش کی جہاں وہ موجود تھے۔ کسی اور جگہ ضیافت کے لیے انھیں نہیں بلایا کہ آئیے تشریف لائیے کیونکہ مہمان کو اپنی جگہ کھانا پیش کرنے میں مہمان کے لیے زیادہ آسانی اور بہتر ہے۔(۱۳) اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ مہمان کے ساتھ نرم کلامی اور ملاطفت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر کھانا پیش کرتے وقت۔ کیونکہ حضرت ابراہیم نے نہایت نرمی سے اپنے مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا تھا۔ اور کہا تھا ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اور یہ نہیں کہا تھا: کُلُوا ’’کھانا کھا لو‘‘ بلکہ آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے جن میں ’’درخواست اور التماس‘‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے ، چنانچہ فرمایا :﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ کھانا تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ چنانچہ حضرت ابراہیم u کی پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بہترین الفاظ استعمال کرے جو مہمان کے لیے مناسب اور لائق حال ہوں، مثلاً:آپ کا مہمانوں سے کہنا ’’کیا آپ کھانا تناول نہیں کریں گے؟‘‘ ’’ہمیں شرف بخشیے اور ہم پر عنایت کیجیے‘‘ اور اس قسم کے دیگر الفاظ۔(۱۴) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص، کسی بھی سبب کی بنا پر کسی سے خوفزدہ ہو جائے تو خوفزدہ کرنے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کے خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے سامنے ایسی باتوں کا ذکر کرے جس سے اس کا خوف دور ہو اور وہ پرسکون ہو جائے۔ جیسا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم u سے کہا تھا: جب وہ ان سے خوفزدہ ہو گئے تھے: ﴿ لَا تَخَفۡ﴾’’ڈریے مت‘‘! اور انھوں نے حضرت ابراہیمu کو وہ خوش کن خبر سنائی۔(۱۵)یہ قصہ حضرت ابراہیم u کی زوجۂ محترمہ کی بے انتہا مسرت و فرحت پر دلالت کرتا ہے حتیٰ کہ انھوں نے خوشی میں چلا کر بے ساختگی سے اپنا چہرہ پیٹ ڈالا۔(۱۶) نیز اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ کو ایک علم رکھنے والے بیٹے کی بشارت سے نوازا۔
51:30قَالُواْ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡعَلِيمُ
کیا آئی ہے آپ کے پاس خبر ابراہیم کے مہمانوں کی جو معزز تھے؟ (24) جب وہ داخل ہوئے اس پر تو انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، سلام ( تم پر) ، (یہ) لوگ تو اجنبی ہیں(25) پھر چپکے سے گیا اپنے اہل کی طرف، پس لے آیا(بھون کر)ایک بچھڑا موٹا تازہ (26) پھر قریب کیا اسے ان کی طرف، کہا: کیا نہیں کھاتے تم؟ (27) پس اس نے (دل میں) محسوس کیا ان سے خوف انھوں نے کہا: نہ ڈر تو، اور انھوں نے بشارت دی اس کوایک لڑکے بڑے علم والے کی (28) پس سامنے آئی عورت ابراہیم کی حیرت میں پس (تعجب سے) ہاتھ مارا اپنے منہ پر اور کہا: (میں) بڑھیا ہوں بانجھ (اولاد کیسے؟)(29) انھوں نے کہا: اسی طرح کہا ہے تیرے رب نے، بلاشبہ وہی خوب حکمت والا خوب علم والا ہے (30) اُس (ابراہیم) نے کہا پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے(فرشتو)؟ (31) انھوں نے کہا، بلاشبہ بھیجے گئے ہیں ہم ایک مجرم قوم کی طرف (32) تاکہ ہم بھیجیں (برسائیں) ان پر پتھر مٹی کے (33) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے (34) پس نکال لیا ہم نے اس شخص کو کہ تھا وہ اس (بستی) میں مومنوں میں سے (35) سو نہ پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے مسلمانوں میں سے (36) اور چھوڑی ہم نے اس میں ایک نشانی ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں عذاب درد ناک سے (37)
[24] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ﴾ کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی ﴿ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ﴾ ’’ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔‘‘ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں ، چنانچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
[25]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ١ؕ قَالَ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انھوں نے کہا:‘‘ حضرت ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ﴿ سَلٰمٌ﴾ یعنی تم پر بھی سلام ہو ﴿ قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾ تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ ،آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا۔
[26] اسی لیے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں ﴿ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍ﴾ اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے۔
[27]﴿ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا ﴿ قَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ حضرت ابراہیم نے کہا تم کیوں نہیں کھاتے؟
[28]﴿ فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ ﴿ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ﴾ ’’انھوں نے کہا: خوف نہ کیجیے۔‘‘ وہ جس مقصد کے ساتھ آئے تھے انھوں نے حضرت ابراہیم کو اس سے آگاہ کیا ﴿ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’اور انھیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔‘‘ اس سے مراد اسحاقu ہیں۔
[29] پس حضرت ابراہیم کی بیوی (حضرت سارہ) نے یہ خوشخبری سنی ﴿ فَاَقۡبَلَتِ﴾ تو وہ فرحاں و شاداں (ان کی طرف) متوجہ ہوئیں ﴿ فِيۡ صَرَّةٍ﴾ چیخ مار کر ﴿فَصَكَّؔتۡ وَجۡهَهَا﴾ ’’اور انھوں نے (تعجب سے) اپنا چہرے پرہاتھ مارا۔‘‘ یہ اس نوع کی کیفیت ہے جو خوشی اور مسرت کے ایسے اقوال و افعال کے وقت طاری ہو جایا کرتی ہے جو طبیعت اور عادت کے خلاف ہوا کرتے ہیں ﴿ وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ﴾ اور کہا مجھے بیٹا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں تو ایک بڑھیا ہوں اور ایسی عمر کو پہنچ گئی ہوں جس عمر میں عورتیں بچوں کو جنم نہیں دیتیں، مزید برآں میں تو بانجھ بھی ہوں اور میرا رحم بچوں کو جنم دینے کے قابل نہیں۔ پس یہاں دو اسباب ہیں، دونوں ہی بچے کی ولادت سے مانع ہیں۔ سورۂ ہود میں حضرت سارہ [ نے ایک تیسرے مانع کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا١ؕ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾(ہود:11؍72) ’’میرا یہ شوہر بھی بہت بوڑھا ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘
[30]﴿ قَالُوۡا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ﴾ ’’فرشتوں نے کہا، (ہاں) تیرے پرودگار نے اسی طرح کہا ہے۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کر کے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
[31]﴿ قَالَ﴾ حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اے رسولو! تمھارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے میں بھیجا ہے۔
[32]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ﴾’’انھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
[33، 34]﴿لِـنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ۰۰ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠﴾ ’’تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں سے نشان زدہ ہیں۔‘‘ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود کو پھلانگ گئے تھے، چنانچہ ابراہیم u، قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگڑنے لگے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے ، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ﴾(ہود:11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو، تیرے رب کا حکم آ گیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے، جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔‘‘
[35، 36]﴿ فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ۰۰ فَمَا وَجَدۡنَا فِيۡهَا غَيۡرَ بَيۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انھیں نکال لیا۔ اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔‘‘ یہ حضرت لوط u کے گھرانے کے لوگ تھے، سوائے ان کی بیوی کے، وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
[37]﴿وَتَرَؔكۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’اور ہم نے ان کے بارے میں ان لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔‘‘ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے، اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والاہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد(۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے احوال نے انھیں کہا ں پہنچا دیا۔ (۲) اس قصے میں ابراہیم خلیل اللہu کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu سے قصے کی ابتدا کی جو اس قصے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔ (۳)یہ قصہ ضیافت کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ابراہیمu کی عادت تھی، اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ اور آپ کی امت کو حکم دیا ہے کہ وہ ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس قصے کو مدح و ثنا کے سیاق میں بیان کیا ہے۔(۴)اس واقعہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قول و فعل اور اکرام و تکریم کے مختلف طریقوں سے مہمان کی عزت و تکریم کی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ قابل تکریم ہیں ،یعنی حضرت ابراہیم نے ان کی عزت و تکریم کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیمu نے قول و فعل سے کس طرح ان کی مہمان نوازی کی، نیز یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مہمان اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام و تکریم سے بہرہ مند تھے۔(۵) اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم u کا گھر، رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مہمانوں کا ٹھکانا تھا۔ کیونکہ وہ اجازت طلب کیے بغیر حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے اور سلام میں پہل کرنے میں ادب کا طریقہ استعمال کیا اور حضرت ابراہیمu نے بھی کامل ترین سلام کے ساتھ ان کو جواب دیا کیونکہ جملہ اسمیہ ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ (۶)یہ قصہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کے پاس جو کوئی آتا ہے یا اسے ملتا ہے، تو اس سے تعارف حاصل کرنا مشروع ہے کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔(۷) یہ واقعہ بات چیت میں حضرت ابراہیم uکے آداب اور آپ کے لطف و کرم پر دلالت کرتا ہے۔ آپ نے (اپنے مہمانوں سے ) فرمایا تھا : ﴿قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾(الذاریات: 25/51) ’’تم اجنبی لوگ ہو۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا کہ (انکرتکم )’’میں تمھیں نہیں پہچانتا‘‘ اور دونوں جملوں میں جو فرق ہے وہ مخفی نہیں۔(۸)یہ واقعہ مہمان نوازی میں جلدی کرنے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر جلدی سے عمل کیا جائے، اس لیے ابراہیم u نے مہمانوں کے سامنے ضیافت پیش کرنے میں عجلت کی۔(۹) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ذبیحہ (یا کھانا)جو کسی اور کے لیے تیار کیا گیا ہو، اسے مہمان کی خدمت میں پیش کرنے میں، اس کی ذرہ بھر اہانت نہیں بلکہ اس کی عزت و تکریم ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے کیا تھا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے مکرم مہمان تھے۔(۱۰)اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بکثرت رزق سے نواز رکھا تھا، اور یہ رزق ان کے پاس گھر میں ہر وقت تیار اور موجود رہتا تھا، انھیں بازار سے لانے کی ضرورت ہوتی تھی نہ پڑوسیوں سے مانگنے کی۔(۱۱)اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم u نے خود بنفس نفیس مہمانوں کی خدمت کی حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل اور مہمان نوازوں کے سردار تھے۔(۱۲)اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم u نے مہمانوں کو اسی جگہ ضیافت پیش کی جہاں وہ موجود تھے۔ کسی اور جگہ ضیافت کے لیے انھیں نہیں بلایا کہ آئیے تشریف لائیے کیونکہ مہمان کو اپنی جگہ کھانا پیش کرنے میں مہمان کے لیے زیادہ آسانی اور بہتر ہے۔(۱۳) اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ مہمان کے ساتھ نرم کلامی اور ملاطفت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر کھانا پیش کرتے وقت۔ کیونکہ حضرت ابراہیم نے نہایت نرمی سے اپنے مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا تھا۔ اور کہا تھا ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اور یہ نہیں کہا تھا: کُلُوا ’’کھانا کھا لو‘‘ بلکہ آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے جن میں ’’درخواست اور التماس‘‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے ، چنانچہ فرمایا :﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ کھانا تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ چنانچہ حضرت ابراہیم u کی پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بہترین الفاظ استعمال کرے جو مہمان کے لیے مناسب اور لائق حال ہوں، مثلاً:آپ کا مہمانوں سے کہنا ’’کیا آپ کھانا تناول نہیں کریں گے؟‘‘ ’’ہمیں شرف بخشیے اور ہم پر عنایت کیجیے‘‘ اور اس قسم کے دیگر الفاظ۔(۱۴) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص، کسی بھی سبب کی بنا پر کسی سے خوفزدہ ہو جائے تو خوفزدہ کرنے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کے خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے سامنے ایسی باتوں کا ذکر کرے جس سے اس کا خوف دور ہو اور وہ پرسکون ہو جائے۔ جیسا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم u سے کہا تھا: جب وہ ان سے خوفزدہ ہو گئے تھے: ﴿ لَا تَخَفۡ﴾’’ڈریے مت‘‘! اور انھوں نے حضرت ابراہیمu کو وہ خوش کن خبر سنائی۔(۱۵)یہ قصہ حضرت ابراہیم u کی زوجۂ محترمہ کی بے انتہا مسرت و فرحت پر دلالت کرتا ہے حتیٰ کہ انھوں نے خوشی میں چلا کر بے ساختگی سے اپنا چہرہ پیٹ ڈالا۔(۱۶) نیز اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ کو ایک علم رکھنے والے بیٹے کی بشارت سے نوازا۔
51:31۞قَالَ فَمَا خَطۡبُكُمۡ أَيُّهَا ٱلۡمُرۡسَلُونَ
کیا آئی ہے آپ کے پاس خبر ابراہیم کے مہمانوں کی جو معزز تھے؟ (24) جب وہ داخل ہوئے اس پر تو انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، سلام ( تم پر) ، (یہ) لوگ تو اجنبی ہیں(25) پھر چپکے سے گیا اپنے اہل کی طرف، پس لے آیا(بھون کر)ایک بچھڑا موٹا تازہ (26) پھر قریب کیا اسے ان کی طرف، کہا: کیا نہیں کھاتے تم؟ (27) پس اس نے (دل میں) محسوس کیا ان سے خوف انھوں نے کہا: نہ ڈر تو، اور انھوں نے بشارت دی اس کوایک لڑکے بڑے علم والے کی (28) پس سامنے آئی عورت ابراہیم کی حیرت میں پس (تعجب سے) ہاتھ مارا اپنے منہ پر اور کہا: (میں) بڑھیا ہوں بانجھ (اولاد کیسے؟)(29) انھوں نے کہا: اسی طرح کہا ہے تیرے رب نے، بلاشبہ وہی خوب حکمت والا خوب علم والا ہے (30) اُس (ابراہیم) نے کہا پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے(فرشتو)؟ (31) انھوں نے کہا، بلاشبہ بھیجے گئے ہیں ہم ایک مجرم قوم کی طرف (32) تاکہ ہم بھیجیں (برسائیں) ان پر پتھر مٹی کے (33) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے (34) پس نکال لیا ہم نے اس شخص کو کہ تھا وہ اس (بستی) میں مومنوں میں سے (35) سو نہ پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے مسلمانوں میں سے (36) اور چھوڑی ہم نے اس میں ایک نشانی ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں عذاب درد ناک سے (37)
[24] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ﴾ کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی ﴿ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ﴾ ’’ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔‘‘ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں ، چنانچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
[25]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ١ؕ قَالَ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انھوں نے کہا:‘‘ حضرت ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ﴿ سَلٰمٌ﴾ یعنی تم پر بھی سلام ہو ﴿ قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾ تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ ،آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا۔
[26] اسی لیے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں ﴿ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍ﴾ اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے۔
[27]﴿ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا ﴿ قَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ حضرت ابراہیم نے کہا تم کیوں نہیں کھاتے؟
[28]﴿ فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ ﴿ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ﴾ ’’انھوں نے کہا: خوف نہ کیجیے۔‘‘ وہ جس مقصد کے ساتھ آئے تھے انھوں نے حضرت ابراہیم کو اس سے آگاہ کیا ﴿ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’اور انھیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔‘‘ اس سے مراد اسحاقu ہیں۔
[29] پس حضرت ابراہیم کی بیوی (حضرت سارہ) نے یہ خوشخبری سنی ﴿ فَاَقۡبَلَتِ﴾ تو وہ فرحاں و شاداں (ان کی طرف) متوجہ ہوئیں ﴿ فِيۡ صَرَّةٍ﴾ چیخ مار کر ﴿فَصَكَّؔتۡ وَجۡهَهَا﴾ ’’اور انھوں نے (تعجب سے) اپنا چہرے پرہاتھ مارا۔‘‘ یہ اس نوع کی کیفیت ہے جو خوشی اور مسرت کے ایسے اقوال و افعال کے وقت طاری ہو جایا کرتی ہے جو طبیعت اور عادت کے خلاف ہوا کرتے ہیں ﴿ وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ﴾ اور کہا مجھے بیٹا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں تو ایک بڑھیا ہوں اور ایسی عمر کو پہنچ گئی ہوں جس عمر میں عورتیں بچوں کو جنم نہیں دیتیں، مزید برآں میں تو بانجھ بھی ہوں اور میرا رحم بچوں کو جنم دینے کے قابل نہیں۔ پس یہاں دو اسباب ہیں، دونوں ہی بچے کی ولادت سے مانع ہیں۔ سورۂ ہود میں حضرت سارہ [ نے ایک تیسرے مانع کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا١ؕ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾(ہود:11؍72) ’’میرا یہ شوہر بھی بہت بوڑھا ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘
[30]﴿ قَالُوۡا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ﴾ ’’فرشتوں نے کہا، (ہاں) تیرے پرودگار نے اسی طرح کہا ہے۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کر کے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
[31]﴿ قَالَ﴾ حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اے رسولو! تمھارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے میں بھیجا ہے۔
[32]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ﴾’’انھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
[33، 34]﴿لِـنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ۰۰ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠﴾ ’’تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں سے نشان زدہ ہیں۔‘‘ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود کو پھلانگ گئے تھے، چنانچہ ابراہیم u، قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگڑنے لگے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے ، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ﴾(ہود:11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو، تیرے رب کا حکم آ گیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے، جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔‘‘
[35، 36]﴿ فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ۰۰ فَمَا وَجَدۡنَا فِيۡهَا غَيۡرَ بَيۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انھیں نکال لیا۔ اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔‘‘ یہ حضرت لوط u کے گھرانے کے لوگ تھے، سوائے ان کی بیوی کے، وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
[37]﴿وَتَرَؔكۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’اور ہم نے ان کے بارے میں ان لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔‘‘ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے، اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والاہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد(۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے احوال نے انھیں کہا ں پہنچا دیا۔ (۲) اس قصے میں ابراہیم خلیل اللہu کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu سے قصے کی ابتدا کی جو اس قصے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔ (۳)یہ قصہ ضیافت کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ابراہیمu کی عادت تھی، اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ اور آپ کی امت کو حکم دیا ہے کہ وہ ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس قصے کو مدح و ثنا کے سیاق میں بیان کیا ہے۔(۴)اس واقعہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قول و فعل اور اکرام و تکریم کے مختلف طریقوں سے مہمان کی عزت و تکریم کی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ قابل تکریم ہیں ،یعنی حضرت ابراہیم نے ان کی عزت و تکریم کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیمu نے قول و فعل سے کس طرح ان کی مہمان نوازی کی، نیز یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مہمان اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام و تکریم سے بہرہ مند تھے۔(۵) اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم u کا گھر، رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مہمانوں کا ٹھکانا تھا۔ کیونکہ وہ اجازت طلب کیے بغیر حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے اور سلام میں پہل کرنے میں ادب کا طریقہ استعمال کیا اور حضرت ابراہیمu نے بھی کامل ترین سلام کے ساتھ ان کو جواب دیا کیونکہ جملہ اسمیہ ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ (۶)یہ قصہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کے پاس جو کوئی آتا ہے یا اسے ملتا ہے، تو اس سے تعارف حاصل کرنا مشروع ہے کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔(۷) یہ واقعہ بات چیت میں حضرت ابراہیم uکے آداب اور آپ کے لطف و کرم پر دلالت کرتا ہے۔ آپ نے (اپنے مہمانوں سے ) فرمایا تھا : ﴿قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾(الذاریات: 25/51) ’’تم اجنبی لوگ ہو۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا کہ (انکرتکم )’’میں تمھیں نہیں پہچانتا‘‘ اور دونوں جملوں میں جو فرق ہے وہ مخفی نہیں۔(۸)یہ واقعہ مہمان نوازی میں جلدی کرنے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر جلدی سے عمل کیا جائے، اس لیے ابراہیم u نے مہمانوں کے سامنے ضیافت پیش کرنے میں عجلت کی۔(۹) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ذبیحہ (یا کھانا)جو کسی اور کے لیے تیار کیا گیا ہو، اسے مہمان کی خدمت میں پیش کرنے میں، اس کی ذرہ بھر اہانت نہیں بلکہ اس کی عزت و تکریم ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے کیا تھا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے مکرم مہمان تھے۔(۱۰)اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بکثرت رزق سے نواز رکھا تھا، اور یہ رزق ان کے پاس گھر میں ہر وقت تیار اور موجود رہتا تھا، انھیں بازار سے لانے کی ضرورت ہوتی تھی نہ پڑوسیوں سے مانگنے کی۔(۱۱)اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم u نے خود بنفس نفیس مہمانوں کی خدمت کی حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل اور مہمان نوازوں کے سردار تھے۔(۱۲)اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم u نے مہمانوں کو اسی جگہ ضیافت پیش کی جہاں وہ موجود تھے۔ کسی اور جگہ ضیافت کے لیے انھیں نہیں بلایا کہ آئیے تشریف لائیے کیونکہ مہمان کو اپنی جگہ کھانا پیش کرنے میں مہمان کے لیے زیادہ آسانی اور بہتر ہے۔(۱۳) اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ مہمان کے ساتھ نرم کلامی اور ملاطفت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر کھانا پیش کرتے وقت۔ کیونکہ حضرت ابراہیم نے نہایت نرمی سے اپنے مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا تھا۔ اور کہا تھا ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اور یہ نہیں کہا تھا: کُلُوا ’’کھانا کھا لو‘‘ بلکہ آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے جن میں ’’درخواست اور التماس‘‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے ، چنانچہ فرمایا :﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ کھانا تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ چنانچہ حضرت ابراہیم u کی پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بہترین الفاظ استعمال کرے جو مہمان کے لیے مناسب اور لائق حال ہوں، مثلاً:آپ کا مہمانوں سے کہنا ’’کیا آپ کھانا تناول نہیں کریں گے؟‘‘ ’’ہمیں شرف بخشیے اور ہم پر عنایت کیجیے‘‘ اور اس قسم کے دیگر الفاظ۔(۱۴) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص، کسی بھی سبب کی بنا پر کسی سے خوفزدہ ہو جائے تو خوفزدہ کرنے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کے خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے سامنے ایسی باتوں کا ذکر کرے جس سے اس کا خوف دور ہو اور وہ پرسکون ہو جائے۔ جیسا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم u سے کہا تھا: جب وہ ان سے خوفزدہ ہو گئے تھے: ﴿ لَا تَخَفۡ﴾’’ڈریے مت‘‘! اور انھوں نے حضرت ابراہیمu کو وہ خوش کن خبر سنائی۔(۱۵)یہ قصہ حضرت ابراہیم u کی زوجۂ محترمہ کی بے انتہا مسرت و فرحت پر دلالت کرتا ہے حتیٰ کہ انھوں نے خوشی میں چلا کر بے ساختگی سے اپنا چہرہ پیٹ ڈالا۔(۱۶) نیز اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ کو ایک علم رکھنے والے بیٹے کی بشارت سے نوازا۔
51:32قَالُوٓاْ إِنَّآ أُرۡسِلۡنَآ إِلَىٰ قَوۡمٖ مُّجۡرِمِينَ
کیا آئی ہے آپ کے پاس خبر ابراہیم کے مہمانوں کی جو معزز تھے؟ (24) جب وہ داخل ہوئے اس پر تو انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، سلام ( تم پر) ، (یہ) لوگ تو اجنبی ہیں(25) پھر چپکے سے گیا اپنے اہل کی طرف، پس لے آیا(بھون کر)ایک بچھڑا موٹا تازہ (26) پھر قریب کیا اسے ان کی طرف، کہا: کیا نہیں کھاتے تم؟ (27) پس اس نے (دل میں) محسوس کیا ان سے خوف انھوں نے کہا: نہ ڈر تو، اور انھوں نے بشارت دی اس کوایک لڑکے بڑے علم والے کی (28) پس سامنے آئی عورت ابراہیم کی حیرت میں پس (تعجب سے) ہاتھ مارا اپنے منہ پر اور کہا: (میں) بڑھیا ہوں بانجھ (اولاد کیسے؟)(29) انھوں نے کہا: اسی طرح کہا ہے تیرے رب نے، بلاشبہ وہی خوب حکمت والا خوب علم والا ہے (30) اُس (ابراہیم) نے کہا پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے(فرشتو)؟ (31) انھوں نے کہا، بلاشبہ بھیجے گئے ہیں ہم ایک مجرم قوم کی طرف (32) تاکہ ہم بھیجیں (برسائیں) ان پر پتھر مٹی کے (33) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے (34) پس نکال لیا ہم نے اس شخص کو کہ تھا وہ اس (بستی) میں مومنوں میں سے (35) سو نہ پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے مسلمانوں میں سے (36) اور چھوڑی ہم نے اس میں ایک نشانی ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں عذاب درد ناک سے (37)
[24] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ﴾ کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی ﴿ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ﴾ ’’ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔‘‘ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں ، چنانچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
[25]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ١ؕ قَالَ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انھوں نے کہا:‘‘ حضرت ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ﴿ سَلٰمٌ﴾ یعنی تم پر بھی سلام ہو ﴿ قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾ تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ ،آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا۔
[26] اسی لیے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں ﴿ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍ﴾ اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے۔
[27]﴿ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا ﴿ قَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ حضرت ابراہیم نے کہا تم کیوں نہیں کھاتے؟
[28]﴿ فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ ﴿ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ﴾ ’’انھوں نے کہا: خوف نہ کیجیے۔‘‘ وہ جس مقصد کے ساتھ آئے تھے انھوں نے حضرت ابراہیم کو اس سے آگاہ کیا ﴿ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’اور انھیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔‘‘ اس سے مراد اسحاقu ہیں۔
[29] پس حضرت ابراہیم کی بیوی (حضرت سارہ) نے یہ خوشخبری سنی ﴿ فَاَقۡبَلَتِ﴾ تو وہ فرحاں و شاداں (ان کی طرف) متوجہ ہوئیں ﴿ فِيۡ صَرَّةٍ﴾ چیخ مار کر ﴿فَصَكَّؔتۡ وَجۡهَهَا﴾ ’’اور انھوں نے (تعجب سے) اپنا چہرے پرہاتھ مارا۔‘‘ یہ اس نوع کی کیفیت ہے جو خوشی اور مسرت کے ایسے اقوال و افعال کے وقت طاری ہو جایا کرتی ہے جو طبیعت اور عادت کے خلاف ہوا کرتے ہیں ﴿ وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ﴾ اور کہا مجھے بیٹا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں تو ایک بڑھیا ہوں اور ایسی عمر کو پہنچ گئی ہوں جس عمر میں عورتیں بچوں کو جنم نہیں دیتیں، مزید برآں میں تو بانجھ بھی ہوں اور میرا رحم بچوں کو جنم دینے کے قابل نہیں۔ پس یہاں دو اسباب ہیں، دونوں ہی بچے کی ولادت سے مانع ہیں۔ سورۂ ہود میں حضرت سارہ [ نے ایک تیسرے مانع کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا١ؕ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾(ہود:11؍72) ’’میرا یہ شوہر بھی بہت بوڑھا ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘
[30]﴿ قَالُوۡا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ﴾ ’’فرشتوں نے کہا، (ہاں) تیرے پرودگار نے اسی طرح کہا ہے۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کر کے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
[31]﴿ قَالَ﴾ حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اے رسولو! تمھارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے میں بھیجا ہے۔
[32]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ﴾’’انھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
[33، 34]﴿لِـنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ۰۰ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠﴾ ’’تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں سے نشان زدہ ہیں۔‘‘ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود کو پھلانگ گئے تھے، چنانچہ ابراہیم u، قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگڑنے لگے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے ، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ﴾(ہود:11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو، تیرے رب کا حکم آ گیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے، جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔‘‘
[35، 36]﴿ فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ۰۰ فَمَا وَجَدۡنَا فِيۡهَا غَيۡرَ بَيۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انھیں نکال لیا۔ اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔‘‘ یہ حضرت لوط u کے گھرانے کے لوگ تھے، سوائے ان کی بیوی کے، وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
[37]﴿وَتَرَؔكۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’اور ہم نے ان کے بارے میں ان لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔‘‘ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے، اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والاہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد(۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے احوال نے انھیں کہا ں پہنچا دیا۔ (۲) اس قصے میں ابراہیم خلیل اللہu کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu سے قصے کی ابتدا کی جو اس قصے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔ (۳)یہ قصہ ضیافت کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ابراہیمu کی عادت تھی، اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ اور آپ کی امت کو حکم دیا ہے کہ وہ ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس قصے کو مدح و ثنا کے سیاق میں بیان کیا ہے۔(۴)اس واقعہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قول و فعل اور اکرام و تکریم کے مختلف طریقوں سے مہمان کی عزت و تکریم کی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ قابل تکریم ہیں ،یعنی حضرت ابراہیم نے ان کی عزت و تکریم کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیمu نے قول و فعل سے کس طرح ان کی مہمان نوازی کی، نیز یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مہمان اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام و تکریم سے بہرہ مند تھے۔(۵) اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم u کا گھر، رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مہمانوں کا ٹھکانا تھا۔ کیونکہ وہ اجازت طلب کیے بغیر حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے اور سلام میں پہل کرنے میں ادب کا طریقہ استعمال کیا اور حضرت ابراہیمu نے بھی کامل ترین سلام کے ساتھ ان کو جواب دیا کیونکہ جملہ اسمیہ ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ (۶)یہ قصہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کے پاس جو کوئی آتا ہے یا اسے ملتا ہے، تو اس سے تعارف حاصل کرنا مشروع ہے کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔(۷) یہ واقعہ بات چیت میں حضرت ابراہیم uکے آداب اور آپ کے لطف و کرم پر دلالت کرتا ہے۔ آپ نے (اپنے مہمانوں سے ) فرمایا تھا : ﴿قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾(الذاریات: 25/51) ’’تم اجنبی لوگ ہو۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا کہ (انکرتکم )’’میں تمھیں نہیں پہچانتا‘‘ اور دونوں جملوں میں جو فرق ہے وہ مخفی نہیں۔(۸)یہ واقعہ مہمان نوازی میں جلدی کرنے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر جلدی سے عمل کیا جائے، اس لیے ابراہیم u نے مہمانوں کے سامنے ضیافت پیش کرنے میں عجلت کی۔(۹) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ذبیحہ (یا کھانا)جو کسی اور کے لیے تیار کیا گیا ہو، اسے مہمان کی خدمت میں پیش کرنے میں، اس کی ذرہ بھر اہانت نہیں بلکہ اس کی عزت و تکریم ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے کیا تھا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے مکرم مہمان تھے۔(۱۰)اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بکثرت رزق سے نواز رکھا تھا، اور یہ رزق ان کے پاس گھر میں ہر وقت تیار اور موجود رہتا تھا، انھیں بازار سے لانے کی ضرورت ہوتی تھی نہ پڑوسیوں سے مانگنے کی۔(۱۱)اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم u نے خود بنفس نفیس مہمانوں کی خدمت کی حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل اور مہمان نوازوں کے سردار تھے۔(۱۲)اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم u نے مہمانوں کو اسی جگہ ضیافت پیش کی جہاں وہ موجود تھے۔ کسی اور جگہ ضیافت کے لیے انھیں نہیں بلایا کہ آئیے تشریف لائیے کیونکہ مہمان کو اپنی جگہ کھانا پیش کرنے میں مہمان کے لیے زیادہ آسانی اور بہتر ہے۔(۱۳) اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ مہمان کے ساتھ نرم کلامی اور ملاطفت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر کھانا پیش کرتے وقت۔ کیونکہ حضرت ابراہیم نے نہایت نرمی سے اپنے مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا تھا۔ اور کہا تھا ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اور یہ نہیں کہا تھا: کُلُوا ’’کھانا کھا لو‘‘ بلکہ آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے جن میں ’’درخواست اور التماس‘‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے ، چنانچہ فرمایا :﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ کھانا تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ چنانچہ حضرت ابراہیم u کی پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بہترین الفاظ استعمال کرے جو مہمان کے لیے مناسب اور لائق حال ہوں، مثلاً:آپ کا مہمانوں سے کہنا ’’کیا آپ کھانا تناول نہیں کریں گے؟‘‘ ’’ہمیں شرف بخشیے اور ہم پر عنایت کیجیے‘‘ اور اس قسم کے دیگر الفاظ۔(۱۴) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص، کسی بھی سبب کی بنا پر کسی سے خوفزدہ ہو جائے تو خوفزدہ کرنے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کے خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے سامنے ایسی باتوں کا ذکر کرے جس سے اس کا خوف دور ہو اور وہ پرسکون ہو جائے۔ جیسا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم u سے کہا تھا: جب وہ ان سے خوفزدہ ہو گئے تھے: ﴿ لَا تَخَفۡ﴾’’ڈریے مت‘‘! اور انھوں نے حضرت ابراہیمu کو وہ خوش کن خبر سنائی۔(۱۵)یہ قصہ حضرت ابراہیم u کی زوجۂ محترمہ کی بے انتہا مسرت و فرحت پر دلالت کرتا ہے حتیٰ کہ انھوں نے خوشی میں چلا کر بے ساختگی سے اپنا چہرہ پیٹ ڈالا۔(۱۶) نیز اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ کو ایک علم رکھنے والے بیٹے کی بشارت سے نوازا۔
51:33لِنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةٗ مِّن طِينٖ
کیا آئی ہے آپ کے پاس خبر ابراہیم کے مہمانوں کی جو معزز تھے؟ (24) جب وہ داخل ہوئے اس پر تو انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، سلام ( تم پر) ، (یہ) لوگ تو اجنبی ہیں(25) پھر چپکے سے گیا اپنے اہل کی طرف، پس لے آیا(بھون کر)ایک بچھڑا موٹا تازہ (26) پھر قریب کیا اسے ان کی طرف، کہا: کیا نہیں کھاتے تم؟ (27) پس اس نے (دل میں) محسوس کیا ان سے خوف انھوں نے کہا: نہ ڈر تو، اور انھوں نے بشارت دی اس کوایک لڑکے بڑے علم والے کی (28) پس سامنے آئی عورت ابراہیم کی حیرت میں پس (تعجب سے) ہاتھ مارا اپنے منہ پر اور کہا: (میں) بڑھیا ہوں بانجھ (اولاد کیسے؟)(29) انھوں نے کہا: اسی طرح کہا ہے تیرے رب نے، بلاشبہ وہی خوب حکمت والا خوب علم والا ہے (30) اُس (ابراہیم) نے کہا پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے(فرشتو)؟ (31) انھوں نے کہا، بلاشبہ بھیجے گئے ہیں ہم ایک مجرم قوم کی طرف (32) تاکہ ہم بھیجیں (برسائیں) ان پر پتھر مٹی کے (33) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے (34) پس نکال لیا ہم نے اس شخص کو کہ تھا وہ اس (بستی) میں مومنوں میں سے (35) سو نہ پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے مسلمانوں میں سے (36) اور چھوڑی ہم نے اس میں ایک نشانی ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں عذاب درد ناک سے (37)
[24] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ﴾ کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی ﴿ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ﴾ ’’ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔‘‘ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں ، چنانچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
[25]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ١ؕ قَالَ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انھوں نے کہا:‘‘ حضرت ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ﴿ سَلٰمٌ﴾ یعنی تم پر بھی سلام ہو ﴿ قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾ تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ ،آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا۔
[26] اسی لیے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں ﴿ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍ﴾ اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے۔
[27]﴿ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا ﴿ قَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ حضرت ابراہیم نے کہا تم کیوں نہیں کھاتے؟
[28]﴿ فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ ﴿ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ﴾ ’’انھوں نے کہا: خوف نہ کیجیے۔‘‘ وہ جس مقصد کے ساتھ آئے تھے انھوں نے حضرت ابراہیم کو اس سے آگاہ کیا ﴿ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’اور انھیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔‘‘ اس سے مراد اسحاقu ہیں۔
[29] پس حضرت ابراہیم کی بیوی (حضرت سارہ) نے یہ خوشخبری سنی ﴿ فَاَقۡبَلَتِ﴾ تو وہ فرحاں و شاداں (ان کی طرف) متوجہ ہوئیں ﴿ فِيۡ صَرَّةٍ﴾ چیخ مار کر ﴿فَصَكَّؔتۡ وَجۡهَهَا﴾ ’’اور انھوں نے (تعجب سے) اپنا چہرے پرہاتھ مارا۔‘‘ یہ اس نوع کی کیفیت ہے جو خوشی اور مسرت کے ایسے اقوال و افعال کے وقت طاری ہو جایا کرتی ہے جو طبیعت اور عادت کے خلاف ہوا کرتے ہیں ﴿ وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ﴾ اور کہا مجھے بیٹا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں تو ایک بڑھیا ہوں اور ایسی عمر کو پہنچ گئی ہوں جس عمر میں عورتیں بچوں کو جنم نہیں دیتیں، مزید برآں میں تو بانجھ بھی ہوں اور میرا رحم بچوں کو جنم دینے کے قابل نہیں۔ پس یہاں دو اسباب ہیں، دونوں ہی بچے کی ولادت سے مانع ہیں۔ سورۂ ہود میں حضرت سارہ [ نے ایک تیسرے مانع کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا١ؕ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾(ہود:11؍72) ’’میرا یہ شوہر بھی بہت بوڑھا ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘
[30]﴿ قَالُوۡا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ﴾ ’’فرشتوں نے کہا، (ہاں) تیرے پرودگار نے اسی طرح کہا ہے۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کر کے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
[31]﴿ قَالَ﴾ حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اے رسولو! تمھارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے میں بھیجا ہے۔
[32]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ﴾’’انھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
[33، 34]﴿لِـنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ۰۰ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠﴾ ’’تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں سے نشان زدہ ہیں۔‘‘ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود کو پھلانگ گئے تھے، چنانچہ ابراہیم u، قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگڑنے لگے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے ، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ﴾(ہود:11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو، تیرے رب کا حکم آ گیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے، جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔‘‘
[35، 36]﴿ فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ۰۰ فَمَا وَجَدۡنَا فِيۡهَا غَيۡرَ بَيۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انھیں نکال لیا۔ اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔‘‘ یہ حضرت لوط u کے گھرانے کے لوگ تھے، سوائے ان کی بیوی کے، وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
[37]﴿وَتَرَؔكۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’اور ہم نے ان کے بارے میں ان لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔‘‘ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے، اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والاہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد(۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے احوال نے انھیں کہا ں پہنچا دیا۔ (۲) اس قصے میں ابراہیم خلیل اللہu کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu سے قصے کی ابتدا کی جو اس قصے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔ (۳)یہ قصہ ضیافت کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ابراہیمu کی عادت تھی، اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ اور آپ کی امت کو حکم دیا ہے کہ وہ ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس قصے کو مدح و ثنا کے سیاق میں بیان کیا ہے۔(۴)اس واقعہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قول و فعل اور اکرام و تکریم کے مختلف طریقوں سے مہمان کی عزت و تکریم کی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ قابل تکریم ہیں ،یعنی حضرت ابراہیم نے ان کی عزت و تکریم کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیمu نے قول و فعل سے کس طرح ان کی مہمان نوازی کی، نیز یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مہمان اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام و تکریم سے بہرہ مند تھے۔(۵) اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم u کا گھر، رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مہمانوں کا ٹھکانا تھا۔ کیونکہ وہ اجازت طلب کیے بغیر حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے اور سلام میں پہل کرنے میں ادب کا طریقہ استعمال کیا اور حضرت ابراہیمu نے بھی کامل ترین سلام کے ساتھ ان کو جواب دیا کیونکہ جملہ اسمیہ ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ (۶)یہ قصہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کے پاس جو کوئی آتا ہے یا اسے ملتا ہے، تو اس سے تعارف حاصل کرنا مشروع ہے کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔(۷) یہ واقعہ بات چیت میں حضرت ابراہیم uکے آداب اور آپ کے لطف و کرم پر دلالت کرتا ہے۔ آپ نے (اپنے مہمانوں سے ) فرمایا تھا : ﴿قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾(الذاریات: 25/51) ’’تم اجنبی لوگ ہو۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا کہ (انکرتکم )’’میں تمھیں نہیں پہچانتا‘‘ اور دونوں جملوں میں جو فرق ہے وہ مخفی نہیں۔(۸)یہ واقعہ مہمان نوازی میں جلدی کرنے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر جلدی سے عمل کیا جائے، اس لیے ابراہیم u نے مہمانوں کے سامنے ضیافت پیش کرنے میں عجلت کی۔(۹) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ذبیحہ (یا کھانا)جو کسی اور کے لیے تیار کیا گیا ہو، اسے مہمان کی خدمت میں پیش کرنے میں، اس کی ذرہ بھر اہانت نہیں بلکہ اس کی عزت و تکریم ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے کیا تھا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے مکرم مہمان تھے۔(۱۰)اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بکثرت رزق سے نواز رکھا تھا، اور یہ رزق ان کے پاس گھر میں ہر وقت تیار اور موجود رہتا تھا، انھیں بازار سے لانے کی ضرورت ہوتی تھی نہ پڑوسیوں سے مانگنے کی۔(۱۱)اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم u نے خود بنفس نفیس مہمانوں کی خدمت کی حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل اور مہمان نوازوں کے سردار تھے۔(۱۲)اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم u نے مہمانوں کو اسی جگہ ضیافت پیش کی جہاں وہ موجود تھے۔ کسی اور جگہ ضیافت کے لیے انھیں نہیں بلایا کہ آئیے تشریف لائیے کیونکہ مہمان کو اپنی جگہ کھانا پیش کرنے میں مہمان کے لیے زیادہ آسانی اور بہتر ہے۔(۱۳) اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ مہمان کے ساتھ نرم کلامی اور ملاطفت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر کھانا پیش کرتے وقت۔ کیونکہ حضرت ابراہیم نے نہایت نرمی سے اپنے مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا تھا۔ اور کہا تھا ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اور یہ نہیں کہا تھا: کُلُوا ’’کھانا کھا لو‘‘ بلکہ آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے جن میں ’’درخواست اور التماس‘‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے ، چنانچہ فرمایا :﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ کھانا تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ چنانچہ حضرت ابراہیم u کی پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بہترین الفاظ استعمال کرے جو مہمان کے لیے مناسب اور لائق حال ہوں، مثلاً:آپ کا مہمانوں سے کہنا ’’کیا آپ کھانا تناول نہیں کریں گے؟‘‘ ’’ہمیں شرف بخشیے اور ہم پر عنایت کیجیے‘‘ اور اس قسم کے دیگر الفاظ۔(۱۴) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص، کسی بھی سبب کی بنا پر کسی سے خوفزدہ ہو جائے تو خوفزدہ کرنے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کے خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے سامنے ایسی باتوں کا ذکر کرے جس سے اس کا خوف دور ہو اور وہ پرسکون ہو جائے۔ جیسا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم u سے کہا تھا: جب وہ ان سے خوفزدہ ہو گئے تھے: ﴿ لَا تَخَفۡ﴾’’ڈریے مت‘‘! اور انھوں نے حضرت ابراہیمu کو وہ خوش کن خبر سنائی۔(۱۵)یہ قصہ حضرت ابراہیم u کی زوجۂ محترمہ کی بے انتہا مسرت و فرحت پر دلالت کرتا ہے حتیٰ کہ انھوں نے خوشی میں چلا کر بے ساختگی سے اپنا چہرہ پیٹ ڈالا۔(۱۶) نیز اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ کو ایک علم رکھنے والے بیٹے کی بشارت سے نوازا۔
51:34مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِينَ
کیا آئی ہے آپ کے پاس خبر ابراہیم کے مہمانوں کی جو معزز تھے؟ (24) جب وہ داخل ہوئے اس پر تو انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، سلام ( تم پر) ، (یہ) لوگ تو اجنبی ہیں(25) پھر چپکے سے گیا اپنے اہل کی طرف، پس لے آیا(بھون کر)ایک بچھڑا موٹا تازہ (26) پھر قریب کیا اسے ان کی طرف، کہا: کیا نہیں کھاتے تم؟ (27) پس اس نے (دل میں) محسوس کیا ان سے خوف انھوں نے کہا: نہ ڈر تو، اور انھوں نے بشارت دی اس کوایک لڑکے بڑے علم والے کی (28) پس سامنے آئی عورت ابراہیم کی حیرت میں پس (تعجب سے) ہاتھ مارا اپنے منہ پر اور کہا: (میں) بڑھیا ہوں بانجھ (اولاد کیسے؟)(29) انھوں نے کہا: اسی طرح کہا ہے تیرے رب نے، بلاشبہ وہی خوب حکمت والا خوب علم والا ہے (30) اُس (ابراہیم) نے کہا پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے(فرشتو)؟ (31) انھوں نے کہا، بلاشبہ بھیجے گئے ہیں ہم ایک مجرم قوم کی طرف (32) تاکہ ہم بھیجیں (برسائیں) ان پر پتھر مٹی کے (33) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے (34) پس نکال لیا ہم نے اس شخص کو کہ تھا وہ اس (بستی) میں مومنوں میں سے (35) سو نہ پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے مسلمانوں میں سے (36) اور چھوڑی ہم نے اس میں ایک نشانی ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں عذاب درد ناک سے (37)
[24] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ﴾ کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی ﴿ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ﴾ ’’ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔‘‘ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں ، چنانچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
[25]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ١ؕ قَالَ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انھوں نے کہا:‘‘ حضرت ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ﴿ سَلٰمٌ﴾ یعنی تم پر بھی سلام ہو ﴿ قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾ تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ ،آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا۔
[26] اسی لیے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں ﴿ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍ﴾ اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے۔
[27]﴿ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا ﴿ قَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ حضرت ابراہیم نے کہا تم کیوں نہیں کھاتے؟
[28]﴿ فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ ﴿ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ﴾ ’’انھوں نے کہا: خوف نہ کیجیے۔‘‘ وہ جس مقصد کے ساتھ آئے تھے انھوں نے حضرت ابراہیم کو اس سے آگاہ کیا ﴿ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’اور انھیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔‘‘ اس سے مراد اسحاقu ہیں۔
[29] پس حضرت ابراہیم کی بیوی (حضرت سارہ) نے یہ خوشخبری سنی ﴿ فَاَقۡبَلَتِ﴾ تو وہ فرحاں و شاداں (ان کی طرف) متوجہ ہوئیں ﴿ فِيۡ صَرَّةٍ﴾ چیخ مار کر ﴿فَصَكَّؔتۡ وَجۡهَهَا﴾ ’’اور انھوں نے (تعجب سے) اپنا چہرے پرہاتھ مارا۔‘‘ یہ اس نوع کی کیفیت ہے جو خوشی اور مسرت کے ایسے اقوال و افعال کے وقت طاری ہو جایا کرتی ہے جو طبیعت اور عادت کے خلاف ہوا کرتے ہیں ﴿ وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ﴾ اور کہا مجھے بیٹا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں تو ایک بڑھیا ہوں اور ایسی عمر کو پہنچ گئی ہوں جس عمر میں عورتیں بچوں کو جنم نہیں دیتیں، مزید برآں میں تو بانجھ بھی ہوں اور میرا رحم بچوں کو جنم دینے کے قابل نہیں۔ پس یہاں دو اسباب ہیں، دونوں ہی بچے کی ولادت سے مانع ہیں۔ سورۂ ہود میں حضرت سارہ [ نے ایک تیسرے مانع کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا١ؕ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾(ہود:11؍72) ’’میرا یہ شوہر بھی بہت بوڑھا ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘
[30]﴿ قَالُوۡا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ﴾ ’’فرشتوں نے کہا، (ہاں) تیرے پرودگار نے اسی طرح کہا ہے۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کر کے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
[31]﴿ قَالَ﴾ حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اے رسولو! تمھارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے میں بھیجا ہے۔
[32]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ﴾’’انھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
[33، 34]﴿لِـنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ۰۰ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠﴾ ’’تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں سے نشان زدہ ہیں۔‘‘ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود کو پھلانگ گئے تھے، چنانچہ ابراہیم u، قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگڑنے لگے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے ، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ﴾(ہود:11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو، تیرے رب کا حکم آ گیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے، جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔‘‘
[35، 36]﴿ فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ۰۰ فَمَا وَجَدۡنَا فِيۡهَا غَيۡرَ بَيۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انھیں نکال لیا۔ اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔‘‘ یہ حضرت لوط u کے گھرانے کے لوگ تھے، سوائے ان کی بیوی کے، وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
[37]﴿وَتَرَؔكۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’اور ہم نے ان کے بارے میں ان لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔‘‘ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے، اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والاہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد(۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے احوال نے انھیں کہا ں پہنچا دیا۔ (۲) اس قصے میں ابراہیم خلیل اللہu کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu سے قصے کی ابتدا کی جو اس قصے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔ (۳)یہ قصہ ضیافت کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ابراہیمu کی عادت تھی، اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ اور آپ کی امت کو حکم دیا ہے کہ وہ ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس قصے کو مدح و ثنا کے سیاق میں بیان کیا ہے۔(۴)اس واقعہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قول و فعل اور اکرام و تکریم کے مختلف طریقوں سے مہمان کی عزت و تکریم کی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ قابل تکریم ہیں ،یعنی حضرت ابراہیم نے ان کی عزت و تکریم کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیمu نے قول و فعل سے کس طرح ان کی مہمان نوازی کی، نیز یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مہمان اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام و تکریم سے بہرہ مند تھے۔(۵) اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم u کا گھر، رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مہمانوں کا ٹھکانا تھا۔ کیونکہ وہ اجازت طلب کیے بغیر حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے اور سلام میں پہل کرنے میں ادب کا طریقہ استعمال کیا اور حضرت ابراہیمu نے بھی کامل ترین سلام کے ساتھ ان کو جواب دیا کیونکہ جملہ اسمیہ ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ (۶)یہ قصہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کے پاس جو کوئی آتا ہے یا اسے ملتا ہے، تو اس سے تعارف حاصل کرنا مشروع ہے کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔(۷) یہ واقعہ بات چیت میں حضرت ابراہیم uکے آداب اور آپ کے لطف و کرم پر دلالت کرتا ہے۔ آپ نے (اپنے مہمانوں سے ) فرمایا تھا : ﴿قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾(الذاریات: 25/51) ’’تم اجنبی لوگ ہو۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا کہ (انکرتکم )’’میں تمھیں نہیں پہچانتا‘‘ اور دونوں جملوں میں جو فرق ہے وہ مخفی نہیں۔(۸)یہ واقعہ مہمان نوازی میں جلدی کرنے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر جلدی سے عمل کیا جائے، اس لیے ابراہیم u نے مہمانوں کے سامنے ضیافت پیش کرنے میں عجلت کی۔(۹) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ذبیحہ (یا کھانا)جو کسی اور کے لیے تیار کیا گیا ہو، اسے مہمان کی خدمت میں پیش کرنے میں، اس کی ذرہ بھر اہانت نہیں بلکہ اس کی عزت و تکریم ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے کیا تھا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے مکرم مہمان تھے۔(۱۰)اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بکثرت رزق سے نواز رکھا تھا، اور یہ رزق ان کے پاس گھر میں ہر وقت تیار اور موجود رہتا تھا، انھیں بازار سے لانے کی ضرورت ہوتی تھی نہ پڑوسیوں سے مانگنے کی۔(۱۱)اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم u نے خود بنفس نفیس مہمانوں کی خدمت کی حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل اور مہمان نوازوں کے سردار تھے۔(۱۲)اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم u نے مہمانوں کو اسی جگہ ضیافت پیش کی جہاں وہ موجود تھے۔ کسی اور جگہ ضیافت کے لیے انھیں نہیں بلایا کہ آئیے تشریف لائیے کیونکہ مہمان کو اپنی جگہ کھانا پیش کرنے میں مہمان کے لیے زیادہ آسانی اور بہتر ہے۔(۱۳) اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ مہمان کے ساتھ نرم کلامی اور ملاطفت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر کھانا پیش کرتے وقت۔ کیونکہ حضرت ابراہیم نے نہایت نرمی سے اپنے مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا تھا۔ اور کہا تھا ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اور یہ نہیں کہا تھا: کُلُوا ’’کھانا کھا لو‘‘ بلکہ آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے جن میں ’’درخواست اور التماس‘‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے ، چنانچہ فرمایا :﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ کھانا تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ چنانچہ حضرت ابراہیم u کی پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بہترین الفاظ استعمال کرے جو مہمان کے لیے مناسب اور لائق حال ہوں، مثلاً:آپ کا مہمانوں سے کہنا ’’کیا آپ کھانا تناول نہیں کریں گے؟‘‘ ’’ہمیں شرف بخشیے اور ہم پر عنایت کیجیے‘‘ اور اس قسم کے دیگر الفاظ۔(۱۴) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص، کسی بھی سبب کی بنا پر کسی سے خوفزدہ ہو جائے تو خوفزدہ کرنے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کے خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے سامنے ایسی باتوں کا ذکر کرے جس سے اس کا خوف دور ہو اور وہ پرسکون ہو جائے۔ جیسا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم u سے کہا تھا: جب وہ ان سے خوفزدہ ہو گئے تھے: ﴿ لَا تَخَفۡ﴾’’ڈریے مت‘‘! اور انھوں نے حضرت ابراہیمu کو وہ خوش کن خبر سنائی۔(۱۵)یہ قصہ حضرت ابراہیم u کی زوجۂ محترمہ کی بے انتہا مسرت و فرحت پر دلالت کرتا ہے حتیٰ کہ انھوں نے خوشی میں چلا کر بے ساختگی سے اپنا چہرہ پیٹ ڈالا۔(۱۶) نیز اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ کو ایک علم رکھنے والے بیٹے کی بشارت سے نوازا۔
51:35فَأَخۡرَجۡنَا مَن كَانَ فِيهَا مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
کیا آئی ہے آپ کے پاس خبر ابراہیم کے مہمانوں کی جو معزز تھے؟ (24) جب وہ داخل ہوئے اس پر تو انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، سلام ( تم پر) ، (یہ) لوگ تو اجنبی ہیں(25) پھر چپکے سے گیا اپنے اہل کی طرف، پس لے آیا(بھون کر)ایک بچھڑا موٹا تازہ (26) پھر قریب کیا اسے ان کی طرف، کہا: کیا نہیں کھاتے تم؟ (27) پس اس نے (دل میں) محسوس کیا ان سے خوف انھوں نے کہا: نہ ڈر تو، اور انھوں نے بشارت دی اس کوایک لڑکے بڑے علم والے کی (28) پس سامنے آئی عورت ابراہیم کی حیرت میں پس (تعجب سے) ہاتھ مارا اپنے منہ پر اور کہا: (میں) بڑھیا ہوں بانجھ (اولاد کیسے؟)(29) انھوں نے کہا: اسی طرح کہا ہے تیرے رب نے، بلاشبہ وہی خوب حکمت والا خوب علم والا ہے (30) اُس (ابراہیم) نے کہا پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے(فرشتو)؟ (31) انھوں نے کہا، بلاشبہ بھیجے گئے ہیں ہم ایک مجرم قوم کی طرف (32) تاکہ ہم بھیجیں (برسائیں) ان پر پتھر مٹی کے (33) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے (34) پس نکال لیا ہم نے اس شخص کو کہ تھا وہ اس (بستی) میں مومنوں میں سے (35) سو نہ پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے مسلمانوں میں سے (36) اور چھوڑی ہم نے اس میں ایک نشانی ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں عذاب درد ناک سے (37)
[24] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ﴾ کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی ﴿ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ﴾ ’’ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔‘‘ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں ، چنانچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
[25]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ١ؕ قَالَ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انھوں نے کہا:‘‘ حضرت ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ﴿ سَلٰمٌ﴾ یعنی تم پر بھی سلام ہو ﴿ قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾ تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ ،آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا۔
[26] اسی لیے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں ﴿ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍ﴾ اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے۔
[27]﴿ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا ﴿ قَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ حضرت ابراہیم نے کہا تم کیوں نہیں کھاتے؟
[28]﴿ فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ ﴿ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ﴾ ’’انھوں نے کہا: خوف نہ کیجیے۔‘‘ وہ جس مقصد کے ساتھ آئے تھے انھوں نے حضرت ابراہیم کو اس سے آگاہ کیا ﴿ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’اور انھیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔‘‘ اس سے مراد اسحاقu ہیں۔
[29] پس حضرت ابراہیم کی بیوی (حضرت سارہ) نے یہ خوشخبری سنی ﴿ فَاَقۡبَلَتِ﴾ تو وہ فرحاں و شاداں (ان کی طرف) متوجہ ہوئیں ﴿ فِيۡ صَرَّةٍ﴾ چیخ مار کر ﴿فَصَكَّؔتۡ وَجۡهَهَا﴾ ’’اور انھوں نے (تعجب سے) اپنا چہرے پرہاتھ مارا۔‘‘ یہ اس نوع کی کیفیت ہے جو خوشی اور مسرت کے ایسے اقوال و افعال کے وقت طاری ہو جایا کرتی ہے جو طبیعت اور عادت کے خلاف ہوا کرتے ہیں ﴿ وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ﴾ اور کہا مجھے بیٹا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں تو ایک بڑھیا ہوں اور ایسی عمر کو پہنچ گئی ہوں جس عمر میں عورتیں بچوں کو جنم نہیں دیتیں، مزید برآں میں تو بانجھ بھی ہوں اور میرا رحم بچوں کو جنم دینے کے قابل نہیں۔ پس یہاں دو اسباب ہیں، دونوں ہی بچے کی ولادت سے مانع ہیں۔ سورۂ ہود میں حضرت سارہ [ نے ایک تیسرے مانع کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا١ؕ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾(ہود:11؍72) ’’میرا یہ شوہر بھی بہت بوڑھا ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘
[30]﴿ قَالُوۡا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ﴾ ’’فرشتوں نے کہا، (ہاں) تیرے پرودگار نے اسی طرح کہا ہے۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کر کے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
[31]﴿ قَالَ﴾ حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اے رسولو! تمھارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے میں بھیجا ہے۔
[32]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ﴾’’انھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
[33، 34]﴿لِـنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ۰۰ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠﴾ ’’تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں سے نشان زدہ ہیں۔‘‘ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود کو پھلانگ گئے تھے، چنانچہ ابراہیم u، قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگڑنے لگے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے ، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ﴾(ہود:11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو، تیرے رب کا حکم آ گیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے، جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔‘‘
[35، 36]﴿ فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ۰۰ فَمَا وَجَدۡنَا فِيۡهَا غَيۡرَ بَيۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انھیں نکال لیا۔ اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔‘‘ یہ حضرت لوط u کے گھرانے کے لوگ تھے، سوائے ان کی بیوی کے، وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
[37]﴿وَتَرَؔكۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’اور ہم نے ان کے بارے میں ان لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔‘‘ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے، اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والاہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد(۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے احوال نے انھیں کہا ں پہنچا دیا۔ (۲) اس قصے میں ابراہیم خلیل اللہu کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu سے قصے کی ابتدا کی جو اس قصے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔ (۳)یہ قصہ ضیافت کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ابراہیمu کی عادت تھی، اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ اور آپ کی امت کو حکم دیا ہے کہ وہ ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس قصے کو مدح و ثنا کے سیاق میں بیان کیا ہے۔(۴)اس واقعہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قول و فعل اور اکرام و تکریم کے مختلف طریقوں سے مہمان کی عزت و تکریم کی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ قابل تکریم ہیں ،یعنی حضرت ابراہیم نے ان کی عزت و تکریم کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیمu نے قول و فعل سے کس طرح ان کی مہمان نوازی کی، نیز یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مہمان اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام و تکریم سے بہرہ مند تھے۔(۵) اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم u کا گھر، رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مہمانوں کا ٹھکانا تھا۔ کیونکہ وہ اجازت طلب کیے بغیر حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے اور سلام میں پہل کرنے میں ادب کا طریقہ استعمال کیا اور حضرت ابراہیمu نے بھی کامل ترین سلام کے ساتھ ان کو جواب دیا کیونکہ جملہ اسمیہ ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ (۶)یہ قصہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کے پاس جو کوئی آتا ہے یا اسے ملتا ہے، تو اس سے تعارف حاصل کرنا مشروع ہے کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔(۷) یہ واقعہ بات چیت میں حضرت ابراہیم uکے آداب اور آپ کے لطف و کرم پر دلالت کرتا ہے۔ آپ نے (اپنے مہمانوں سے ) فرمایا تھا : ﴿قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾(الذاریات: 25/51) ’’تم اجنبی لوگ ہو۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا کہ (انکرتکم )’’میں تمھیں نہیں پہچانتا‘‘ اور دونوں جملوں میں جو فرق ہے وہ مخفی نہیں۔(۸)یہ واقعہ مہمان نوازی میں جلدی کرنے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر جلدی سے عمل کیا جائے، اس لیے ابراہیم u نے مہمانوں کے سامنے ضیافت پیش کرنے میں عجلت کی۔(۹) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ذبیحہ (یا کھانا)جو کسی اور کے لیے تیار کیا گیا ہو، اسے مہمان کی خدمت میں پیش کرنے میں، اس کی ذرہ بھر اہانت نہیں بلکہ اس کی عزت و تکریم ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے کیا تھا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے مکرم مہمان تھے۔(۱۰)اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بکثرت رزق سے نواز رکھا تھا، اور یہ رزق ان کے پاس گھر میں ہر وقت تیار اور موجود رہتا تھا، انھیں بازار سے لانے کی ضرورت ہوتی تھی نہ پڑوسیوں سے مانگنے کی۔(۱۱)اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم u نے خود بنفس نفیس مہمانوں کی خدمت کی حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل اور مہمان نوازوں کے سردار تھے۔(۱۲)اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم u نے مہمانوں کو اسی جگہ ضیافت پیش کی جہاں وہ موجود تھے۔ کسی اور جگہ ضیافت کے لیے انھیں نہیں بلایا کہ آئیے تشریف لائیے کیونکہ مہمان کو اپنی جگہ کھانا پیش کرنے میں مہمان کے لیے زیادہ آسانی اور بہتر ہے۔(۱۳) اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ مہمان کے ساتھ نرم کلامی اور ملاطفت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر کھانا پیش کرتے وقت۔ کیونکہ حضرت ابراہیم نے نہایت نرمی سے اپنے مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا تھا۔ اور کہا تھا ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اور یہ نہیں کہا تھا: کُلُوا ’’کھانا کھا لو‘‘ بلکہ آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے جن میں ’’درخواست اور التماس‘‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے ، چنانچہ فرمایا :﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ کھانا تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ چنانچہ حضرت ابراہیم u کی پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بہترین الفاظ استعمال کرے جو مہمان کے لیے مناسب اور لائق حال ہوں، مثلاً:آپ کا مہمانوں سے کہنا ’’کیا آپ کھانا تناول نہیں کریں گے؟‘‘ ’’ہمیں شرف بخشیے اور ہم پر عنایت کیجیے‘‘ اور اس قسم کے دیگر الفاظ۔(۱۴) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص، کسی بھی سبب کی بنا پر کسی سے خوفزدہ ہو جائے تو خوفزدہ کرنے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کے خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے سامنے ایسی باتوں کا ذکر کرے جس سے اس کا خوف دور ہو اور وہ پرسکون ہو جائے۔ جیسا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم u سے کہا تھا: جب وہ ان سے خوفزدہ ہو گئے تھے: ﴿ لَا تَخَفۡ﴾’’ڈریے مت‘‘! اور انھوں نے حضرت ابراہیمu کو وہ خوش کن خبر سنائی۔(۱۵)یہ قصہ حضرت ابراہیم u کی زوجۂ محترمہ کی بے انتہا مسرت و فرحت پر دلالت کرتا ہے حتیٰ کہ انھوں نے خوشی میں چلا کر بے ساختگی سے اپنا چہرہ پیٹ ڈالا۔(۱۶) نیز اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ کو ایک علم رکھنے والے بیٹے کی بشارت سے نوازا۔
51:36فَمَا وَجَدۡنَا فِيهَا غَيۡرَ بَيۡتٖ مِّنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ
کیا آئی ہے آپ کے پاس خبر ابراہیم کے مہمانوں کی جو معزز تھے؟ (24) جب وہ داخل ہوئے اس پر تو انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، سلام ( تم پر) ، (یہ) لوگ تو اجنبی ہیں(25) پھر چپکے سے گیا اپنے اہل کی طرف، پس لے آیا(بھون کر)ایک بچھڑا موٹا تازہ (26) پھر قریب کیا اسے ان کی طرف، کہا: کیا نہیں کھاتے تم؟ (27) پس اس نے (دل میں) محسوس کیا ان سے خوف انھوں نے کہا: نہ ڈر تو، اور انھوں نے بشارت دی اس کوایک لڑکے بڑے علم والے کی (28) پس سامنے آئی عورت ابراہیم کی حیرت میں پس (تعجب سے) ہاتھ مارا اپنے منہ پر اور کہا: (میں) بڑھیا ہوں بانجھ (اولاد کیسے؟)(29) انھوں نے کہا: اسی طرح کہا ہے تیرے رب نے، بلاشبہ وہی خوب حکمت والا خوب علم والا ہے (30) اُس (ابراہیم) نے کہا پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے(فرشتو)؟ (31) انھوں نے کہا، بلاشبہ بھیجے گئے ہیں ہم ایک مجرم قوم کی طرف (32) تاکہ ہم بھیجیں (برسائیں) ان پر پتھر مٹی کے (33) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے (34) پس نکال لیا ہم نے اس شخص کو کہ تھا وہ اس (بستی) میں مومنوں میں سے (35) سو نہ پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے مسلمانوں میں سے (36) اور چھوڑی ہم نے اس میں ایک نشانی ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں عذاب درد ناک سے (37)
[24] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ﴾ کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی ﴿ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ﴾ ’’ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔‘‘ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں ، چنانچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
[25]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ١ؕ قَالَ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انھوں نے کہا:‘‘ حضرت ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ﴿ سَلٰمٌ﴾ یعنی تم پر بھی سلام ہو ﴿ قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾ تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ ،آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا۔
[26] اسی لیے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں ﴿ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍ﴾ اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے۔
[27]﴿ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا ﴿ قَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ حضرت ابراہیم نے کہا تم کیوں نہیں کھاتے؟
[28]﴿ فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ ﴿ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ﴾ ’’انھوں نے کہا: خوف نہ کیجیے۔‘‘ وہ جس مقصد کے ساتھ آئے تھے انھوں نے حضرت ابراہیم کو اس سے آگاہ کیا ﴿ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’اور انھیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔‘‘ اس سے مراد اسحاقu ہیں۔
[29] پس حضرت ابراہیم کی بیوی (حضرت سارہ) نے یہ خوشخبری سنی ﴿ فَاَقۡبَلَتِ﴾ تو وہ فرحاں و شاداں (ان کی طرف) متوجہ ہوئیں ﴿ فِيۡ صَرَّةٍ﴾ چیخ مار کر ﴿فَصَكَّؔتۡ وَجۡهَهَا﴾ ’’اور انھوں نے (تعجب سے) اپنا چہرے پرہاتھ مارا۔‘‘ یہ اس نوع کی کیفیت ہے جو خوشی اور مسرت کے ایسے اقوال و افعال کے وقت طاری ہو جایا کرتی ہے جو طبیعت اور عادت کے خلاف ہوا کرتے ہیں ﴿ وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ﴾ اور کہا مجھے بیٹا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں تو ایک بڑھیا ہوں اور ایسی عمر کو پہنچ گئی ہوں جس عمر میں عورتیں بچوں کو جنم نہیں دیتیں، مزید برآں میں تو بانجھ بھی ہوں اور میرا رحم بچوں کو جنم دینے کے قابل نہیں۔ پس یہاں دو اسباب ہیں، دونوں ہی بچے کی ولادت سے مانع ہیں۔ سورۂ ہود میں حضرت سارہ [ نے ایک تیسرے مانع کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا١ؕ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾(ہود:11؍72) ’’میرا یہ شوہر بھی بہت بوڑھا ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘
[30]﴿ قَالُوۡا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ﴾ ’’فرشتوں نے کہا، (ہاں) تیرے پرودگار نے اسی طرح کہا ہے۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کر کے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
[31]﴿ قَالَ﴾ حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اے رسولو! تمھارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے میں بھیجا ہے۔
[32]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ﴾’’انھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
[33، 34]﴿لِـنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ۰۰ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠﴾ ’’تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں سے نشان زدہ ہیں۔‘‘ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود کو پھلانگ گئے تھے، چنانچہ ابراہیم u، قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگڑنے لگے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے ، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ﴾(ہود:11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو، تیرے رب کا حکم آ گیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے، جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔‘‘
[35، 36]﴿ فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ۰۰ فَمَا وَجَدۡنَا فِيۡهَا غَيۡرَ بَيۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انھیں نکال لیا۔ اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔‘‘ یہ حضرت لوط u کے گھرانے کے لوگ تھے، سوائے ان کی بیوی کے، وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
[37]﴿وَتَرَؔكۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’اور ہم نے ان کے بارے میں ان لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔‘‘ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے، اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والاہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد(۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے احوال نے انھیں کہا ں پہنچا دیا۔ (۲) اس قصے میں ابراہیم خلیل اللہu کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu سے قصے کی ابتدا کی جو اس قصے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔ (۳)یہ قصہ ضیافت کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ابراہیمu کی عادت تھی، اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ اور آپ کی امت کو حکم دیا ہے کہ وہ ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس قصے کو مدح و ثنا کے سیاق میں بیان کیا ہے۔(۴)اس واقعہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قول و فعل اور اکرام و تکریم کے مختلف طریقوں سے مہمان کی عزت و تکریم کی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ قابل تکریم ہیں ،یعنی حضرت ابراہیم نے ان کی عزت و تکریم کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیمu نے قول و فعل سے کس طرح ان کی مہمان نوازی کی، نیز یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مہمان اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام و تکریم سے بہرہ مند تھے۔(۵) اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم u کا گھر، رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مہمانوں کا ٹھکانا تھا۔ کیونکہ وہ اجازت طلب کیے بغیر حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے اور سلام میں پہل کرنے میں ادب کا طریقہ استعمال کیا اور حضرت ابراہیمu نے بھی کامل ترین سلام کے ساتھ ان کو جواب دیا کیونکہ جملہ اسمیہ ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ (۶)یہ قصہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کے پاس جو کوئی آتا ہے یا اسے ملتا ہے، تو اس سے تعارف حاصل کرنا مشروع ہے کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔(۷) یہ واقعہ بات چیت میں حضرت ابراہیم uکے آداب اور آپ کے لطف و کرم پر دلالت کرتا ہے۔ آپ نے (اپنے مہمانوں سے ) فرمایا تھا : ﴿قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾(الذاریات: 25/51) ’’تم اجنبی لوگ ہو۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا کہ (انکرتکم )’’میں تمھیں نہیں پہچانتا‘‘ اور دونوں جملوں میں جو فرق ہے وہ مخفی نہیں۔(۸)یہ واقعہ مہمان نوازی میں جلدی کرنے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر جلدی سے عمل کیا جائے، اس لیے ابراہیم u نے مہمانوں کے سامنے ضیافت پیش کرنے میں عجلت کی۔(۹) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ذبیحہ (یا کھانا)جو کسی اور کے لیے تیار کیا گیا ہو، اسے مہمان کی خدمت میں پیش کرنے میں، اس کی ذرہ بھر اہانت نہیں بلکہ اس کی عزت و تکریم ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے کیا تھا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے مکرم مہمان تھے۔(۱۰)اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بکثرت رزق سے نواز رکھا تھا، اور یہ رزق ان کے پاس گھر میں ہر وقت تیار اور موجود رہتا تھا، انھیں بازار سے لانے کی ضرورت ہوتی تھی نہ پڑوسیوں سے مانگنے کی۔(۱۱)اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم u نے خود بنفس نفیس مہمانوں کی خدمت کی حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل اور مہمان نوازوں کے سردار تھے۔(۱۲)اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم u نے مہمانوں کو اسی جگہ ضیافت پیش کی جہاں وہ موجود تھے۔ کسی اور جگہ ضیافت کے لیے انھیں نہیں بلایا کہ آئیے تشریف لائیے کیونکہ مہمان کو اپنی جگہ کھانا پیش کرنے میں مہمان کے لیے زیادہ آسانی اور بہتر ہے۔(۱۳) اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ مہمان کے ساتھ نرم کلامی اور ملاطفت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر کھانا پیش کرتے وقت۔ کیونکہ حضرت ابراہیم نے نہایت نرمی سے اپنے مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا تھا۔ اور کہا تھا ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اور یہ نہیں کہا تھا: کُلُوا ’’کھانا کھا لو‘‘ بلکہ آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے جن میں ’’درخواست اور التماس‘‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے ، چنانچہ فرمایا :﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ کھانا تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ چنانچہ حضرت ابراہیم u کی پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بہترین الفاظ استعمال کرے جو مہمان کے لیے مناسب اور لائق حال ہوں، مثلاً:آپ کا مہمانوں سے کہنا ’’کیا آپ کھانا تناول نہیں کریں گے؟‘‘ ’’ہمیں شرف بخشیے اور ہم پر عنایت کیجیے‘‘ اور اس قسم کے دیگر الفاظ۔(۱۴) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص، کسی بھی سبب کی بنا پر کسی سے خوفزدہ ہو جائے تو خوفزدہ کرنے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کے خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے سامنے ایسی باتوں کا ذکر کرے جس سے اس کا خوف دور ہو اور وہ پرسکون ہو جائے۔ جیسا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم u سے کہا تھا: جب وہ ان سے خوفزدہ ہو گئے تھے: ﴿ لَا تَخَفۡ﴾’’ڈریے مت‘‘! اور انھوں نے حضرت ابراہیمu کو وہ خوش کن خبر سنائی۔(۱۵)یہ قصہ حضرت ابراہیم u کی زوجۂ محترمہ کی بے انتہا مسرت و فرحت پر دلالت کرتا ہے حتیٰ کہ انھوں نے خوشی میں چلا کر بے ساختگی سے اپنا چہرہ پیٹ ڈالا۔(۱۶) نیز اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ کو ایک علم رکھنے والے بیٹے کی بشارت سے نوازا۔
51:37وَتَرَكۡنَا فِيهَآ ءَايَةٗ لِّلَّذِينَ يَخَافُونَ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ
کیا آئی ہے آپ کے پاس خبر ابراہیم کے مہمانوں کی جو معزز تھے؟ (24) جب وہ داخل ہوئے اس پر تو انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، سلام ( تم پر) ، (یہ) لوگ تو اجنبی ہیں(25) پھر چپکے سے گیا اپنے اہل کی طرف، پس لے آیا(بھون کر)ایک بچھڑا موٹا تازہ (26) پھر قریب کیا اسے ان کی طرف، کہا: کیا نہیں کھاتے تم؟ (27) پس اس نے (دل میں) محسوس کیا ان سے خوف انھوں نے کہا: نہ ڈر تو، اور انھوں نے بشارت دی اس کوایک لڑکے بڑے علم والے کی (28) پس سامنے آئی عورت ابراہیم کی حیرت میں پس (تعجب سے) ہاتھ مارا اپنے منہ پر اور کہا: (میں) بڑھیا ہوں بانجھ (اولاد کیسے؟)(29) انھوں نے کہا: اسی طرح کہا ہے تیرے رب نے، بلاشبہ وہی خوب حکمت والا خوب علم والا ہے (30) اُس (ابراہیم) نے کہا پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے(فرشتو)؟ (31) انھوں نے کہا، بلاشبہ بھیجے گئے ہیں ہم ایک مجرم قوم کی طرف (32) تاکہ ہم بھیجیں (برسائیں) ان پر پتھر مٹی کے (33) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے (34) پس نکال لیا ہم نے اس شخص کو کہ تھا وہ اس (بستی) میں مومنوں میں سے (35) سو نہ پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے مسلمانوں میں سے (36) اور چھوڑی ہم نے اس میں ایک نشانی ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں عذاب درد ناک سے (37)
[24] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ﴾ کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی ﴿ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ﴾ ’’ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔‘‘ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں ، چنانچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
[25]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ١ؕ قَالَ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انھوں نے کہا:‘‘ حضرت ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ﴿ سَلٰمٌ﴾ یعنی تم پر بھی سلام ہو ﴿ قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾ تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ ،آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا۔
[26] اسی لیے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں ﴿ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍ﴾ اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے۔
[27]﴿ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا ﴿ قَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ حضرت ابراہیم نے کہا تم کیوں نہیں کھاتے؟
[28]﴿ فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ ﴿ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ﴾ ’’انھوں نے کہا: خوف نہ کیجیے۔‘‘ وہ جس مقصد کے ساتھ آئے تھے انھوں نے حضرت ابراہیم کو اس سے آگاہ کیا ﴿ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’اور انھیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔‘‘ اس سے مراد اسحاقu ہیں۔
[29] پس حضرت ابراہیم کی بیوی (حضرت سارہ) نے یہ خوشخبری سنی ﴿ فَاَقۡبَلَتِ﴾ تو وہ فرحاں و شاداں (ان کی طرف) متوجہ ہوئیں ﴿ فِيۡ صَرَّةٍ﴾ چیخ مار کر ﴿فَصَكَّؔتۡ وَجۡهَهَا﴾ ’’اور انھوں نے (تعجب سے) اپنا چہرے پرہاتھ مارا۔‘‘ یہ اس نوع کی کیفیت ہے جو خوشی اور مسرت کے ایسے اقوال و افعال کے وقت طاری ہو جایا کرتی ہے جو طبیعت اور عادت کے خلاف ہوا کرتے ہیں ﴿ وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ﴾ اور کہا مجھے بیٹا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں تو ایک بڑھیا ہوں اور ایسی عمر کو پہنچ گئی ہوں جس عمر میں عورتیں بچوں کو جنم نہیں دیتیں، مزید برآں میں تو بانجھ بھی ہوں اور میرا رحم بچوں کو جنم دینے کے قابل نہیں۔ پس یہاں دو اسباب ہیں، دونوں ہی بچے کی ولادت سے مانع ہیں۔ سورۂ ہود میں حضرت سارہ [ نے ایک تیسرے مانع کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا١ؕ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾(ہود:11؍72) ’’میرا یہ شوہر بھی بہت بوڑھا ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘
[30]﴿ قَالُوۡا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ﴾ ’’فرشتوں نے کہا، (ہاں) تیرے پرودگار نے اسی طرح کہا ہے۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کر کے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
[31]﴿ قَالَ﴾ حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اے رسولو! تمھارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے میں بھیجا ہے۔
[32]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ﴾’’انھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
[33، 34]﴿لِـنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ۰۰ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠﴾ ’’تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں سے نشان زدہ ہیں۔‘‘ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود کو پھلانگ گئے تھے، چنانچہ ابراہیم u، قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگڑنے لگے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے ، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ﴾(ہود:11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو، تیرے رب کا حکم آ گیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے، جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔‘‘
[35، 36]﴿ فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ۰۰ فَمَا وَجَدۡنَا فِيۡهَا غَيۡرَ بَيۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انھیں نکال لیا۔ اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔‘‘ یہ حضرت لوط u کے گھرانے کے لوگ تھے، سوائے ان کی بیوی کے، وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔
[37]﴿وَتَرَؔكۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’اور ہم نے ان کے بارے میں ان لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔‘‘ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے، اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والاہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد(۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے احوال نے انھیں کہا ں پہنچا دیا۔ (۲) اس قصے میں ابراہیم خلیل اللہu کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu سے قصے کی ابتدا کی جو اس قصے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔ (۳)یہ قصہ ضیافت کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ابراہیمu کی عادت تھی، اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ اور آپ کی امت کو حکم دیا ہے کہ وہ ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس قصے کو مدح و ثنا کے سیاق میں بیان کیا ہے۔(۴)اس واقعہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قول و فعل اور اکرام و تکریم کے مختلف طریقوں سے مہمان کی عزت و تکریم کی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ قابل تکریم ہیں ،یعنی حضرت ابراہیم نے ان کی عزت و تکریم کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیمu نے قول و فعل سے کس طرح ان کی مہمان نوازی کی، نیز یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مہمان اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام و تکریم سے بہرہ مند تھے۔(۵) اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم u کا گھر، رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مہمانوں کا ٹھکانا تھا۔ کیونکہ وہ اجازت طلب کیے بغیر حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے اور سلام میں پہل کرنے میں ادب کا طریقہ استعمال کیا اور حضرت ابراہیمu نے بھی کامل ترین سلام کے ساتھ ان کو جواب دیا کیونکہ جملہ اسمیہ ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ (۶)یہ قصہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کے پاس جو کوئی آتا ہے یا اسے ملتا ہے، تو اس سے تعارف حاصل کرنا مشروع ہے کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔(۷) یہ واقعہ بات چیت میں حضرت ابراہیم uکے آداب اور آپ کے لطف و کرم پر دلالت کرتا ہے۔ آپ نے (اپنے مہمانوں سے ) فرمایا تھا : ﴿قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾(الذاریات: 25/51) ’’تم اجنبی لوگ ہو۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا کہ (انکرتکم )’’میں تمھیں نہیں پہچانتا‘‘ اور دونوں جملوں میں جو فرق ہے وہ مخفی نہیں۔(۸)یہ واقعہ مہمان نوازی میں جلدی کرنے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر جلدی سے عمل کیا جائے، اس لیے ابراہیم u نے مہمانوں کے سامنے ضیافت پیش کرنے میں عجلت کی۔(۹) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ذبیحہ (یا کھانا)جو کسی اور کے لیے تیار کیا گیا ہو، اسے مہمان کی خدمت میں پیش کرنے میں، اس کی ذرہ بھر اہانت نہیں بلکہ اس کی عزت و تکریم ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے کیا تھا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے مکرم مہمان تھے۔(۱۰)اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بکثرت رزق سے نواز رکھا تھا، اور یہ رزق ان کے پاس گھر میں ہر وقت تیار اور موجود رہتا تھا، انھیں بازار سے لانے کی ضرورت ہوتی تھی نہ پڑوسیوں سے مانگنے کی۔(۱۱)اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم u نے خود بنفس نفیس مہمانوں کی خدمت کی حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل اور مہمان نوازوں کے سردار تھے۔(۱۲)اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم u نے مہمانوں کو اسی جگہ ضیافت پیش کی جہاں وہ موجود تھے۔ کسی اور جگہ ضیافت کے لیے انھیں نہیں بلایا کہ آئیے تشریف لائیے کیونکہ مہمان کو اپنی جگہ کھانا پیش کرنے میں مہمان کے لیے زیادہ آسانی اور بہتر ہے۔(۱۳) اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ مہمان کے ساتھ نرم کلامی اور ملاطفت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر کھانا پیش کرتے وقت۔ کیونکہ حضرت ابراہیم نے نہایت نرمی سے اپنے مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا تھا۔ اور کہا تھا ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اور یہ نہیں کہا تھا: کُلُوا ’’کھانا کھا لو‘‘ بلکہ آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے جن میں ’’درخواست اور التماس‘‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے ، چنانچہ فرمایا :﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ کھانا تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ چنانچہ حضرت ابراہیم u کی پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بہترین الفاظ استعمال کرے جو مہمان کے لیے مناسب اور لائق حال ہوں، مثلاً:آپ کا مہمانوں سے کہنا ’’کیا آپ کھانا تناول نہیں کریں گے؟‘‘ ’’ہمیں شرف بخشیے اور ہم پر عنایت کیجیے‘‘ اور اس قسم کے دیگر الفاظ۔(۱۴) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص، کسی بھی سبب کی بنا پر کسی سے خوفزدہ ہو جائے تو خوفزدہ کرنے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کے خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے سامنے ایسی باتوں کا ذکر کرے جس سے اس کا خوف دور ہو اور وہ پرسکون ہو جائے۔ جیسا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم u سے کہا تھا: جب وہ ان سے خوفزدہ ہو گئے تھے: ﴿ لَا تَخَفۡ﴾’’ڈریے مت‘‘! اور انھوں نے حضرت ابراہیمu کو وہ خوش کن خبر سنائی۔(۱۵)یہ قصہ حضرت ابراہیم u کی زوجۂ محترمہ کی بے انتہا مسرت و فرحت پر دلالت کرتا ہے حتیٰ کہ انھوں نے خوشی میں چلا کر بے ساختگی سے اپنا چہرہ پیٹ ڈالا۔(۱۶) نیز اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ کو ایک علم رکھنے والے بیٹے کی بشارت سے نوازا۔
51:38وَفِي مُوسَىٰٓ إِذۡ أَرۡسَلۡنَٰهُ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ
اور موسیٰ (کے قصے) میں (نشانی ہے)، جب بھیجا ہم نے اس کو فرعون کی طرف ساتھ دلیل (معجزے) ظاہر کے (38) پس اس نے رو گردانی کی بہ سبب اپنی قوت کے اور کہا: (موسیٰ) ساحر یا مجنون ہے(39) پس گرفت کی ہم نے اس کی اور اس کےلشکروں کی اور پھینک دیا ہم نے ان کو سمندر میں اس حال میں کہ وہ قابل ملامت تھا (40)
[38]﴿ وَفِيۡ مُوۡسٰۤى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو جو واضح آیات اور ظاہری معجزات کے ساتھ مبعوث فرمایا، اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔
[39] چنانچہ جب حضرت موسیٰu واضح معجزہ لے کر آئے تو فرعون نے منہ موڑ لیا ﴿ بِرُؔكۡنِهٖ﴾ ’’اپنے لشکر کے ساتھ‘‘ یعنی اس نے حق سے روگردانی کی اور حضرت موسیٰu کی طرف التفات نہ کیا بلکہ انھوں نے حضرت موسیٰu میں جرح و قدح کی اور کہنے لگے: ﴿ سٰحِرٌ اَوۡ مَجۡنُوۡنٌ﴾ یعنی موسیٰ میں ان دو چیزوں میں سے ایک چیز ضرور ہے۔جو چیز موسیٰ پیش کر رہا ہے وہ جادو اور شعبدہ بازی ہے، یہ حق نہیں ہے یا موسیٰ مجنون ہے، اس سے جو کچھ صادر ہوتا ہے، اسے، اس کے فاتر العقل ہونے کی وجہ سے، اخذ نہ کیا جائے۔ حالانکہ انھیں پوری طرح علم تھا خاص طور پر فرعون جانتا تھا کہ حضرت موسیٰ u سچے ہیں ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا ﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے ظلم اور تکبر سے آیات الٰہی کا انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل تو ان کو تسلیم کر چکے تھے۔‘‘ اور حضرت موسیٰ uنے فرعون سے فرمایا :﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ ﴾(بنی اسرائیل: 17؍102)’’تجھے علم ہو چکا ہے کہ ان بصیرت افروز نشانیوں کو آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیا ۔‘‘
[40]﴿فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ وَهُوَ مُلِيۡمٌ﴾ ’’پس ہم نے اسے اور اس کے لاؤ شکر کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا۔‘‘ اور وہ قابل ملامت کام کرنے والا تھا۔‘‘ یعنی وہ گناہ گار، حد سے تجاوز کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی کرنے والا تھا پس غالب اور مقتدر ہستی نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
51:39فَتَوَلَّىٰ بِرُكۡنِهِۦ وَقَالَ سَٰحِرٌ أَوۡ مَجۡنُونٞ
اور موسیٰ (کے قصے) میں (نشانی ہے)، جب بھیجا ہم نے اس کو فرعون کی طرف ساتھ دلیل (معجزے) ظاہر کے (38) پس اس نے رو گردانی کی بہ سبب اپنی قوت کے اور کہا: (موسیٰ) ساحر یا مجنون ہے(39) پس گرفت کی ہم نے اس کی اور اس کےلشکروں کی اور پھینک دیا ہم نے ان کو سمندر میں اس حال میں کہ وہ قابل ملامت تھا (40)
[38]﴿ وَفِيۡ مُوۡسٰۤى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو جو واضح آیات اور ظاہری معجزات کے ساتھ مبعوث فرمایا، اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔
[39] چنانچہ جب حضرت موسیٰu واضح معجزہ لے کر آئے تو فرعون نے منہ موڑ لیا ﴿ بِرُؔكۡنِهٖ﴾ ’’اپنے لشکر کے ساتھ‘‘ یعنی اس نے حق سے روگردانی کی اور حضرت موسیٰu کی طرف التفات نہ کیا بلکہ انھوں نے حضرت موسیٰu میں جرح و قدح کی اور کہنے لگے: ﴿ سٰحِرٌ اَوۡ مَجۡنُوۡنٌ﴾ یعنی موسیٰ میں ان دو چیزوں میں سے ایک چیز ضرور ہے۔جو چیز موسیٰ پیش کر رہا ہے وہ جادو اور شعبدہ بازی ہے، یہ حق نہیں ہے یا موسیٰ مجنون ہے، اس سے جو کچھ صادر ہوتا ہے، اسے، اس کے فاتر العقل ہونے کی وجہ سے، اخذ نہ کیا جائے۔ حالانکہ انھیں پوری طرح علم تھا خاص طور پر فرعون جانتا تھا کہ حضرت موسیٰ u سچے ہیں ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا ﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے ظلم اور تکبر سے آیات الٰہی کا انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل تو ان کو تسلیم کر چکے تھے۔‘‘ اور حضرت موسیٰ uنے فرعون سے فرمایا :﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ ﴾(بنی اسرائیل: 17؍102)’’تجھے علم ہو چکا ہے کہ ان بصیرت افروز نشانیوں کو آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیا ۔‘‘
[40]﴿فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ وَهُوَ مُلِيۡمٌ﴾ ’’پس ہم نے اسے اور اس کے لاؤ شکر کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا۔‘‘ اور وہ قابل ملامت کام کرنے والا تھا۔‘‘ یعنی وہ گناہ گار، حد سے تجاوز کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی کرنے والا تھا پس غالب اور مقتدر ہستی نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
51:40فَأَخَذۡنَٰهُ وَجُنُودَهُۥ فَنَبَذۡنَٰهُمۡ فِي ٱلۡيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٞ
اور موسیٰ (کے قصے) میں (نشانی ہے)، جب بھیجا ہم نے اس کو فرعون کی طرف ساتھ دلیل (معجزے) ظاہر کے (38) پس اس نے رو گردانی کی بہ سبب اپنی قوت کے اور کہا: (موسیٰ) ساحر یا مجنون ہے(39) پس گرفت کی ہم نے اس کی اور اس کےلشکروں کی اور پھینک دیا ہم نے ان کو سمندر میں اس حال میں کہ وہ قابل ملامت تھا (40)
[38]﴿ وَفِيۡ مُوۡسٰۤى﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو جو واضح آیات اور ظاہری معجزات کے ساتھ مبعوث فرمایا، اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔
[39] چنانچہ جب حضرت موسیٰu واضح معجزہ لے کر آئے تو فرعون نے منہ موڑ لیا ﴿ بِرُؔكۡنِهٖ﴾ ’’اپنے لشکر کے ساتھ‘‘ یعنی اس نے حق سے روگردانی کی اور حضرت موسیٰu کی طرف التفات نہ کیا بلکہ انھوں نے حضرت موسیٰu میں جرح و قدح کی اور کہنے لگے: ﴿ سٰحِرٌ اَوۡ مَجۡنُوۡنٌ﴾ یعنی موسیٰ میں ان دو چیزوں میں سے ایک چیز ضرور ہے۔جو چیز موسیٰ پیش کر رہا ہے وہ جادو اور شعبدہ بازی ہے، یہ حق نہیں ہے یا موسیٰ مجنون ہے، اس سے جو کچھ صادر ہوتا ہے، اسے، اس کے فاتر العقل ہونے کی وجہ سے، اخذ نہ کیا جائے۔ حالانکہ انھیں پوری طرح علم تھا خاص طور پر فرعون جانتا تھا کہ حضرت موسیٰ u سچے ہیں ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا ﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے ظلم اور تکبر سے آیات الٰہی کا انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل تو ان کو تسلیم کر چکے تھے۔‘‘ اور حضرت موسیٰ uنے فرعون سے فرمایا :﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ ﴾(بنی اسرائیل: 17؍102)’’تجھے علم ہو چکا ہے کہ ان بصیرت افروز نشانیوں کو آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کیا ۔‘‘
[40]﴿فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ وَهُوَ مُلِيۡمٌ﴾ ’’پس ہم نے اسے اور اس کے لاؤ شکر کو پکڑ لیا اور ان کو دریا میں پھینک دیا۔‘‘ اور وہ قابل ملامت کام کرنے والا تھا۔‘‘ یعنی وہ گناہ گار، حد سے تجاوز کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی کرنے والا تھا پس غالب اور مقتدر ہستی نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔
51:41وَفِي عَادٍ إِذۡ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ ٱلرِّيحَ ٱلۡعَقِيمَ
اور عاد (کے قصے) میں (نشانی ہے) جب بھیجی ہم نے ان پر ہوا بانجھ (بے برکت)(41) نہیں چھوڑتی تھی وہ کسی چیز کو کہ آتی تھی وہ اس پر، مگر کر دیتی تھی اس کو مانند بوسیدہ ہڈی کے (42)
[41]﴿ وَفِيۡ عَادٍ﴾ ’’اور عاد میں بھی ۔‘‘نشان عبرت ہے جو ایک معروف قبیلہ تھا۔ ﴿ اِذۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الرِّيۡحَ الۡعَقِيۡمَ﴾ جب انھوں نے اپنے نبی ہود u کو جھٹلایا تو ہم نے ان پر نامبارک ہوا بھیجی جو خیر سے خالی تھی۔
[42]﴿مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾ ’’وہ جس پر سے بھی گزرتی تو وہ اسے ریزہ ریزہ کیے بغیرنہ چھوڑتی۔‘‘ یعنی ریزہ ریزہ کی ہوئی بوسیدہ چیز کے مانند۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ہستی جس نے قوم عاد کو ان کی قوت اور طاقت کے باوجود ہلاک کر ڈالا، کامل قوت و اقتدار کی مالک ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی، وہ نافرمانی کرنے والوں سے انتقام لے سکتی ہے۔
51:42مَا تَذَرُ مِن شَيۡءٍ أَتَتۡ عَلَيۡهِ إِلَّا جَعَلَتۡهُ كَٱلرَّمِيمِ
اور عاد (کے قصے) میں (نشانی ہے) جب بھیجی ہم نے ان پر ہوا بانجھ (بے برکت)(41) نہیں چھوڑتی تھی وہ کسی چیز کو کہ آتی تھی وہ اس پر، مگر کر دیتی تھی اس کو مانند بوسیدہ ہڈی کے (42)
[41]﴿ وَفِيۡ عَادٍ﴾ ’’اور عاد میں بھی ۔‘‘نشان عبرت ہے جو ایک معروف قبیلہ تھا۔ ﴿ اِذۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الرِّيۡحَ الۡعَقِيۡمَ﴾ جب انھوں نے اپنے نبی ہود u کو جھٹلایا تو ہم نے ان پر نامبارک ہوا بھیجی جو خیر سے خالی تھی۔
[42]﴿مَا تَذَرُ مِنۡ شَيۡءٍ اَتَتۡ عَلَيۡهِ اِلَّا جَعَلَتۡهُ كَالرَّمِيۡمِ﴾ ’’وہ جس پر سے بھی گزرتی تو وہ اسے ریزہ ریزہ کیے بغیرنہ چھوڑتی۔‘‘ یعنی ریزہ ریزہ کی ہوئی بوسیدہ چیز کے مانند۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ہستی جس نے قوم عاد کو ان کی قوت اور طاقت کے باوجود ہلاک کر ڈالا، کامل قوت و اقتدار کی مالک ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی، وہ نافرمانی کرنے والوں سے انتقام لے سکتی ہے۔
51:43وَفِي ثَمُودَ إِذۡ قِيلَ لَهُمۡ تَمَتَّعُواْ حَتَّىٰ حِينٖ
اور ثمود(کے قصے) میں (نشانی ہے)، جب کہا گیا ان سے، تم فائدہ اٹھاؤ ایک وقت (تین دن) تک (43) پس انھوں نے سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے تو پکڑ لیا ان کوکڑک نے اس حال میں کہ وہ دیکھ رہے تھے (44) پھر نہ استطاعت رکھی انھوں نے کھڑے ہونے کی اور نہ تھے وہ بدلہ لینے والے ہی (45)
[43]﴿وَفِيۡ ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود میں بھی۔‘‘ ایک عظیم نشان عبرت ہے، جب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت صالحu کو مبعوث کیا تو انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کے ساتھ عناد کا رویہ رکھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف واضح معجزے کے طورپر اونٹنی بھیجی ۔مگر ان کی سرکشی اور نفرت اور بڑھ گئی ﴿ اِذۡ قِيۡلَ لَهُمۡ تَمَتَّعُوۡا حَتّٰى حِيۡنٍ۰۰﴾’’چنانچہ انھیں کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو۔‘‘
[44]﴿فَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ فَاَخَذَتۡهُمُ الصّٰؔعِقَةُ﴾ ’’تو انھوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کو کڑک نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ہلاک کر دینے والی ایک بہت بڑی کڑک نے آ لیا ﴿ وَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ اور وہ اپنی اس سزا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
[45]﴿ فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مِنۡ قِيَامٍ﴾ ’’پس وہ اٹھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔‘‘ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات حاصل کرتے ﴿ وَّمَا كَانُوۡا مُنۡتَصِرِيۡنَ ﴾ اور نہ وہ اپنے لیے کوئی مدد ہی حاصل کر سکے۔
51:44فَعَتَوۡاْ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهِمۡ فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلصَّـٰعِقَةُ وَهُمۡ يَنظُرُونَ
اور ثمود(کے قصے) میں (نشانی ہے)، جب کہا گیا ان سے، تم فائدہ اٹھاؤ ایک وقت (تین دن) تک (43) پس انھوں نے سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے تو پکڑ لیا ان کوکڑک نے اس حال میں کہ وہ دیکھ رہے تھے (44) پھر نہ استطاعت رکھی انھوں نے کھڑے ہونے کی اور نہ تھے وہ بدلہ لینے والے ہی (45)
[43]﴿وَفِيۡ ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود میں بھی۔‘‘ ایک عظیم نشان عبرت ہے، جب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت صالحu کو مبعوث کیا تو انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کے ساتھ عناد کا رویہ رکھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف واضح معجزے کے طورپر اونٹنی بھیجی ۔مگر ان کی سرکشی اور نفرت اور بڑھ گئی ﴿ اِذۡ قِيۡلَ لَهُمۡ تَمَتَّعُوۡا حَتّٰى حِيۡنٍ۰۰﴾’’چنانچہ انھیں کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو۔‘‘
[44]﴿فَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ فَاَخَذَتۡهُمُ الصّٰؔعِقَةُ﴾ ’’تو انھوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کو کڑک نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ہلاک کر دینے والی ایک بہت بڑی کڑک نے آ لیا ﴿ وَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ اور وہ اپنی اس سزا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
[45]﴿ فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مِنۡ قِيَامٍ﴾ ’’پس وہ اٹھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔‘‘ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات حاصل کرتے ﴿ وَّمَا كَانُوۡا مُنۡتَصِرِيۡنَ ﴾ اور نہ وہ اپنے لیے کوئی مدد ہی حاصل کر سکے۔
51:45فَمَا ٱسۡتَطَٰعُواْ مِن قِيَامٖ وَمَا كَانُواْ مُنتَصِرِينَ
اور ثمود(کے قصے) میں (نشانی ہے)، جب کہا گیا ان سے، تم فائدہ اٹھاؤ ایک وقت (تین دن) تک (43) پس انھوں نے سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے تو پکڑ لیا ان کوکڑک نے اس حال میں کہ وہ دیکھ رہے تھے (44) پھر نہ استطاعت رکھی انھوں نے کھڑے ہونے کی اور نہ تھے وہ بدلہ لینے والے ہی (45)
[43]﴿وَفِيۡ ثَمُوۡدَ﴾ ’’اور ثمود میں بھی۔‘‘ ایک عظیم نشان عبرت ہے، جب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف حضرت صالحu کو مبعوث کیا تو انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کے ساتھ عناد کا رویہ رکھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف واضح معجزے کے طورپر اونٹنی بھیجی ۔مگر ان کی سرکشی اور نفرت اور بڑھ گئی ﴿ اِذۡ قِيۡلَ لَهُمۡ تَمَتَّعُوۡا حَتّٰى حِيۡنٍ۰۰﴾’’چنانچہ انھیں کہا گیا کہ ایک وقت تک فائدہ اٹھالو۔‘‘
[44]﴿فَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ فَاَخَذَتۡهُمُ الصّٰؔعِقَةُ﴾ ’’تو انھوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کو کڑک نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ہلاک کر دینے والی ایک بہت بڑی کڑک نے آ لیا ﴿ وَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ اور وہ اپنی اس سزا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
[45]﴿ فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مِنۡ قِيَامٍ﴾ ’’پس وہ اٹھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔‘‘ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات حاصل کرتے ﴿ وَّمَا كَانُوۡا مُنۡتَصِرِيۡنَ ﴾ اور نہ وہ اپنے لیے کوئی مدد ہی حاصل کر سکے۔
51:46وَقَوۡمَ نُوحٖ مِّن قَبۡلُۖ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ
اور (ہلاک کیا ہم نے) قوم نوح کو، (اس سے) پہلے، بلاشبہ وہ تھے لوگ نافرمان (46)
[46] یعنی اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کے ساتھ بھی یہی کیا، جب انھوں نے حضرت نوح uکو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر آسمان سے اور زمین سے بے پناہ سیلاب بھیجا، جس نے ان کے آخری آدمی تک کو غرق کر دیا اور کافروں کا ایک بھی بستا ہوا گھر باقی نہ چھوڑا۔ یہ ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت اور سنت ہے جو اس کی نافرمانی کرتے ہیں۔
51:47وَٱلسَّمَآءَ بَنَيۡنَٰهَا بِأَيۡيْدٖ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ
اور آسمان، بنایا ہم نے اس کو ساتھ قوت کے، اور بلاشبہ ہم البتہ وسعت والے ہیں (47) اور زمین، بچھایا ہم نے اس کو پس اچھا بچھانے والے ہیں (ہم)(48) اور ہر چیز کو پیدا کیا ہم نے جوڑا (جوڑا) شاید کہ تم نصیحت پکڑو(49) پس دوڑو تم اللہ کی طرف بلاشبہ میں تمھیں اس سے ڈرانے والا ہوں ظاہر (50) اور نہ بناؤ تم اللہ کے ساتھ معبود دوسرا، بلاشبہ میں تمھیں اس سے ڈرانے والا ہوں ظاہر (51)
[47] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظیم قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَالسَّمَآءَ بَنَيۡنٰهَا﴾ یعنی ہم نے آسمان کو تخلیق کیا اور نہایت مہارت سے بنایا اور اسے زمین اور اس کی موجودات کے لیے چھت بنایا۔ ﴿ بِاَيۡىدٍ﴾ ’’ قوت سے۔‘‘ یعنی عظیم قدرت و قوت کے ساتھ۔ ﴿ وَّاِنَّا لَمُوۡسِعُوۡنَ﴾ اور ہم اس کو اس کے کناروں اور گوشوں تک وسعت دیتے ہیں، نیز ہم اپنے بندوں کے لیے بھی رزق کو وسیع کرتے ہیں۔ بیابانوں کے چٹیل میدانوں میں سمندروں کی سرکش موجوں میں اور عالم علوی اور عالم سفلی میں ان کے کناروں تک کوئی جاندار ایسا نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنا رزق بہم نہ پہنچایا ہو جو اس کے لیے کافی ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسے احسان سے نہ نوازا ہو جو اسے بے نیاز کرتا ہو۔ پس پاک ہے وہ ذات جس کا جود و کرم تمام مخلوقات کے لیے عام ہے اور نہایت بابرکت ہے وہ ہستی جس کی بے پایاں رحمت تمام جانداروں پر سایہ کناں ہے۔
[48]﴿ وَالۡاَرۡضَ فَرَشۡنٰهَا﴾ یعنی ہم نے زمین کو مخلوق کے لیے فرش بنایا ہے تاکہ وہ ان تمام امور پر متمکن ہوں جو ان کے مصالح سے تعلق رکھتے ہیں ، مثلاً: گھر بنانا، باغات لگانا، کھیتی باڑی کرنا، بیٹھنا اور ان راستوں پر چلنا جو ان کو ان کے مقصد تک پہنچاتے ہیں۔ اور چونکہ فرش کبھی تو ہر لحاظ سے انتفاع کے قابل ہوتا ہے اور کبھی کسی لحاظ سے قابل انتفاع نہیں ہوتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے مکمل طور پر بہترین طریقے سے ہموار کیا ہے اور اس بنا پر اپنی حمد و ثنا بیان کرتے ہو ئے فرمایا:﴿ فَنِعۡمَ الۡمٰهِدُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں۔‘‘ جس نے اپنی حکمت اور رحمت کے تقاضے کے مطابق زمین کو ہموار کیا۔
[49]﴿ وَمِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَيۡنِ ﴾ یعنی حیوانات کی ہر نوع میں نر اور مادہ دو اصناف پیدا کیں ۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی بدولت جو اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کے دوڑے بناکر تم پر کیں، غور و فکرکرو اور اس کی حکمت یہ ہے کہ اس نے جوڑوں کی تخلیق کو تمام حیوانات کی انواع کی بقا کا سبب بنایا تاکہ تم ان کی افزائش، ان کی خدمت اور ان کی تربیت کا انتظام کرو جس سے مختلف منافع حاصل ہوتے ہیں۔ ﴿ فَفِرُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ﴾ ’’لہٰذا تم اللہ کی طرف دوڑو۔‘‘
[50] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی ان آیات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے جو خشیت الٰہی اور انابت الی اللہ کی موجب ہیں، اس لیے اس چیز کا حکم دیا جو اس غور و فکر کی مقصود و مطلوب ہے، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہونا، یعنی جو چیز ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے، اسے چھوڑ کر اس چیز کی طرف فرار ہونا جو ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، جہالت سے فرار ہو کر علم کی طرف آنا، کفر سے بھاگ کر ایمان کی طرف آنا، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے فرار ہو کر اس کی اطاعت کی طرف آنا اور غفلت کو چھوڑ کر ذکر الٰہی کی طرف آنا۔پس جس نے ان امور کو مکمل کر لیا، اس نے تمام دین کی تکمیل کر لی، اس سے خوف زائل ہو گیا اور اسے اس کی منزلِ مراد اور مطلوب و مقصود حاصل ہو گیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی طرف اس رجوع کو ’’فرار‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے کیونکہ غیر اللہ کی طرف رجوع میں خوف اور ناپسندیدہ امور کی بہت سی انواع پنہاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع میں انواع و اقسام کے پسندیدہ امور، امن مسرت، سعادت اور فوز و فلاح پوشیدہ ہیں۔پس بندہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے بھاگ کر اس کی قضا و قدر کی طرف آئے اور ہر وہ ہستی جس سے آپ ڈرتے ہیں اس سے بھاگ کر اللہ تعالیٰ کی پناہ لیں۔ کیونکہ اس خوف کی مقدار کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہو گا ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ مِّؔنۡهُ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ یعنی میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔
[51]﴿ وَلَا تَجۡعَلُوۡا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’اور اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا الٰہ نہ بناؤ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرار میں شمار ہوتا ہے، بلکہ یہی اس کی طرف حقیقی فرار ہے کہ بندہ غیر اللہ کو معبود بنانے کو ترک کر کے، یعنی بتوں، اللہ تعالیٰ کے خود ساختہ ہمسروں، اور قبروں وغیرہ کو جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، چھوڑ کر اپنے رب کے لیے اپنی عبادت، اپنے خوف و رجا، دعا اور انابت کو خالص کرے۔
51:48وَٱلۡأَرۡضَ فَرَشۡنَٰهَا فَنِعۡمَ ٱلۡمَٰهِدُونَ
اور آسمان، بنایا ہم نے اس کو ساتھ قوت کے، اور بلاشبہ ہم البتہ وسعت والے ہیں (47) اور زمین، بچھایا ہم نے اس کو پس اچھا بچھانے والے ہیں (ہم)(48) اور ہر چیز کو پیدا کیا ہم نے جوڑا (جوڑا) شاید کہ تم نصیحت پکڑو(49) پس دوڑو تم اللہ کی طرف بلاشبہ میں تمھیں اس سے ڈرانے والا ہوں ظاہر (50) اور نہ بناؤ تم اللہ کے ساتھ معبود دوسرا، بلاشبہ میں تمھیں اس سے ڈرانے والا ہوں ظاہر (51)
[47] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظیم قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَالسَّمَآءَ بَنَيۡنٰهَا﴾ یعنی ہم نے آسمان کو تخلیق کیا اور نہایت مہارت سے بنایا اور اسے زمین اور اس کی موجودات کے لیے چھت بنایا۔ ﴿ بِاَيۡىدٍ﴾ ’’ قوت سے۔‘‘ یعنی عظیم قدرت و قوت کے ساتھ۔ ﴿ وَّاِنَّا لَمُوۡسِعُوۡنَ﴾ اور ہم اس کو اس کے کناروں اور گوشوں تک وسعت دیتے ہیں، نیز ہم اپنے بندوں کے لیے بھی رزق کو وسیع کرتے ہیں۔ بیابانوں کے چٹیل میدانوں میں سمندروں کی سرکش موجوں میں اور عالم علوی اور عالم سفلی میں ان کے کناروں تک کوئی جاندار ایسا نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنا رزق بہم نہ پہنچایا ہو جو اس کے لیے کافی ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسے احسان سے نہ نوازا ہو جو اسے بے نیاز کرتا ہو۔ پس پاک ہے وہ ذات جس کا جود و کرم تمام مخلوقات کے لیے عام ہے اور نہایت بابرکت ہے وہ ہستی جس کی بے پایاں رحمت تمام جانداروں پر سایہ کناں ہے۔
[48]﴿ وَالۡاَرۡضَ فَرَشۡنٰهَا﴾ یعنی ہم نے زمین کو مخلوق کے لیے فرش بنایا ہے تاکہ وہ ان تمام امور پر متمکن ہوں جو ان کے مصالح سے تعلق رکھتے ہیں ، مثلاً: گھر بنانا، باغات لگانا، کھیتی باڑی کرنا، بیٹھنا اور ان راستوں پر چلنا جو ان کو ان کے مقصد تک پہنچاتے ہیں۔ اور چونکہ فرش کبھی تو ہر لحاظ سے انتفاع کے قابل ہوتا ہے اور کبھی کسی لحاظ سے قابل انتفاع نہیں ہوتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے مکمل طور پر بہترین طریقے سے ہموار کیا ہے اور اس بنا پر اپنی حمد و ثنا بیان کرتے ہو ئے فرمایا:﴿ فَنِعۡمَ الۡمٰهِدُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں۔‘‘ جس نے اپنی حکمت اور رحمت کے تقاضے کے مطابق زمین کو ہموار کیا۔
[49]﴿ وَمِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَيۡنِ ﴾ یعنی حیوانات کی ہر نوع میں نر اور مادہ دو اصناف پیدا کیں ۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی بدولت جو اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کے دوڑے بناکر تم پر کیں، غور و فکرکرو اور اس کی حکمت یہ ہے کہ اس نے جوڑوں کی تخلیق کو تمام حیوانات کی انواع کی بقا کا سبب بنایا تاکہ تم ان کی افزائش، ان کی خدمت اور ان کی تربیت کا انتظام کرو جس سے مختلف منافع حاصل ہوتے ہیں۔ ﴿ فَفِرُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ﴾ ’’لہٰذا تم اللہ کی طرف دوڑو۔‘‘
[50] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی ان آیات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے جو خشیت الٰہی اور انابت الی اللہ کی موجب ہیں، اس لیے اس چیز کا حکم دیا جو اس غور و فکر کی مقصود و مطلوب ہے، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہونا، یعنی جو چیز ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے، اسے چھوڑ کر اس چیز کی طرف فرار ہونا جو ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، جہالت سے فرار ہو کر علم کی طرف آنا، کفر سے بھاگ کر ایمان کی طرف آنا، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے فرار ہو کر اس کی اطاعت کی طرف آنا اور غفلت کو چھوڑ کر ذکر الٰہی کی طرف آنا۔پس جس نے ان امور کو مکمل کر لیا، اس نے تمام دین کی تکمیل کر لی، اس سے خوف زائل ہو گیا اور اسے اس کی منزلِ مراد اور مطلوب و مقصود حاصل ہو گیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی طرف اس رجوع کو ’’فرار‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے کیونکہ غیر اللہ کی طرف رجوع میں خوف اور ناپسندیدہ امور کی بہت سی انواع پنہاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع میں انواع و اقسام کے پسندیدہ امور، امن مسرت، سعادت اور فوز و فلاح پوشیدہ ہیں۔پس بندہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے بھاگ کر اس کی قضا و قدر کی طرف آئے اور ہر وہ ہستی جس سے آپ ڈرتے ہیں اس سے بھاگ کر اللہ تعالیٰ کی پناہ لیں۔ کیونکہ اس خوف کی مقدار کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہو گا ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ مِّؔنۡهُ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ یعنی میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔
[51]﴿ وَلَا تَجۡعَلُوۡا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’اور اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا الٰہ نہ بناؤ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرار میں شمار ہوتا ہے، بلکہ یہی اس کی طرف حقیقی فرار ہے کہ بندہ غیر اللہ کو معبود بنانے کو ترک کر کے، یعنی بتوں، اللہ تعالیٰ کے خود ساختہ ہمسروں، اور قبروں وغیرہ کو جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، چھوڑ کر اپنے رب کے لیے اپنی عبادت، اپنے خوف و رجا، دعا اور انابت کو خالص کرے۔
51:49وَمِن كُلِّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَيۡنِ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ
اور آسمان، بنایا ہم نے اس کو ساتھ قوت کے، اور بلاشبہ ہم البتہ وسعت والے ہیں (47) اور زمین، بچھایا ہم نے اس کو پس اچھا بچھانے والے ہیں (ہم)(48) اور ہر چیز کو پیدا کیا ہم نے جوڑا (جوڑا) شاید کہ تم نصیحت پکڑو(49) پس دوڑو تم اللہ کی طرف بلاشبہ میں تمھیں اس سے ڈرانے والا ہوں ظاہر (50) اور نہ بناؤ تم اللہ کے ساتھ معبود دوسرا، بلاشبہ میں تمھیں اس سے ڈرانے والا ہوں ظاہر (51)
[47] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظیم قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَالسَّمَآءَ بَنَيۡنٰهَا﴾ یعنی ہم نے آسمان کو تخلیق کیا اور نہایت مہارت سے بنایا اور اسے زمین اور اس کی موجودات کے لیے چھت بنایا۔ ﴿ بِاَيۡىدٍ﴾ ’’ قوت سے۔‘‘ یعنی عظیم قدرت و قوت کے ساتھ۔ ﴿ وَّاِنَّا لَمُوۡسِعُوۡنَ﴾ اور ہم اس کو اس کے کناروں اور گوشوں تک وسعت دیتے ہیں، نیز ہم اپنے بندوں کے لیے بھی رزق کو وسیع کرتے ہیں۔ بیابانوں کے چٹیل میدانوں میں سمندروں کی سرکش موجوں میں اور عالم علوی اور عالم سفلی میں ان کے کناروں تک کوئی جاندار ایسا نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنا رزق بہم نہ پہنچایا ہو جو اس کے لیے کافی ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسے احسان سے نہ نوازا ہو جو اسے بے نیاز کرتا ہو۔ پس پاک ہے وہ ذات جس کا جود و کرم تمام مخلوقات کے لیے عام ہے اور نہایت بابرکت ہے وہ ہستی جس کی بے پایاں رحمت تمام جانداروں پر سایہ کناں ہے۔
[48]﴿ وَالۡاَرۡضَ فَرَشۡنٰهَا﴾ یعنی ہم نے زمین کو مخلوق کے لیے فرش بنایا ہے تاکہ وہ ان تمام امور پر متمکن ہوں جو ان کے مصالح سے تعلق رکھتے ہیں ، مثلاً: گھر بنانا، باغات لگانا، کھیتی باڑی کرنا، بیٹھنا اور ان راستوں پر چلنا جو ان کو ان کے مقصد تک پہنچاتے ہیں۔ اور چونکہ فرش کبھی تو ہر لحاظ سے انتفاع کے قابل ہوتا ہے اور کبھی کسی لحاظ سے قابل انتفاع نہیں ہوتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے مکمل طور پر بہترین طریقے سے ہموار کیا ہے اور اس بنا پر اپنی حمد و ثنا بیان کرتے ہو ئے فرمایا:﴿ فَنِعۡمَ الۡمٰهِدُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں۔‘‘ جس نے اپنی حکمت اور رحمت کے تقاضے کے مطابق زمین کو ہموار کیا۔
[49]﴿ وَمِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَيۡنِ ﴾ یعنی حیوانات کی ہر نوع میں نر اور مادہ دو اصناف پیدا کیں ۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی بدولت جو اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کے دوڑے بناکر تم پر کیں، غور و فکرکرو اور اس کی حکمت یہ ہے کہ اس نے جوڑوں کی تخلیق کو تمام حیوانات کی انواع کی بقا کا سبب بنایا تاکہ تم ان کی افزائش، ان کی خدمت اور ان کی تربیت کا انتظام کرو جس سے مختلف منافع حاصل ہوتے ہیں۔ ﴿ فَفِرُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ﴾ ’’لہٰذا تم اللہ کی طرف دوڑو۔‘‘
[50] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی ان آیات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے جو خشیت الٰہی اور انابت الی اللہ کی موجب ہیں، اس لیے اس چیز کا حکم دیا جو اس غور و فکر کی مقصود و مطلوب ہے، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہونا، یعنی جو چیز ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے، اسے چھوڑ کر اس چیز کی طرف فرار ہونا جو ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، جہالت سے فرار ہو کر علم کی طرف آنا، کفر سے بھاگ کر ایمان کی طرف آنا، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے فرار ہو کر اس کی اطاعت کی طرف آنا اور غفلت کو چھوڑ کر ذکر الٰہی کی طرف آنا۔پس جس نے ان امور کو مکمل کر لیا، اس نے تمام دین کی تکمیل کر لی، اس سے خوف زائل ہو گیا اور اسے اس کی منزلِ مراد اور مطلوب و مقصود حاصل ہو گیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی طرف اس رجوع کو ’’فرار‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے کیونکہ غیر اللہ کی طرف رجوع میں خوف اور ناپسندیدہ امور کی بہت سی انواع پنہاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع میں انواع و اقسام کے پسندیدہ امور، امن مسرت، سعادت اور فوز و فلاح پوشیدہ ہیں۔پس بندہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے بھاگ کر اس کی قضا و قدر کی طرف آئے اور ہر وہ ہستی جس سے آپ ڈرتے ہیں اس سے بھاگ کر اللہ تعالیٰ کی پناہ لیں۔ کیونکہ اس خوف کی مقدار کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہو گا ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ مِّؔنۡهُ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ یعنی میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔
[51]﴿ وَلَا تَجۡعَلُوۡا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’اور اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا الٰہ نہ بناؤ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرار میں شمار ہوتا ہے، بلکہ یہی اس کی طرف حقیقی فرار ہے کہ بندہ غیر اللہ کو معبود بنانے کو ترک کر کے، یعنی بتوں، اللہ تعالیٰ کے خود ساختہ ہمسروں، اور قبروں وغیرہ کو جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، چھوڑ کر اپنے رب کے لیے اپنی عبادت، اپنے خوف و رجا، دعا اور انابت کو خالص کرے۔
51:50فَفِرُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِۖ إِنِّي لَكُم مِّنۡهُ نَذِيرٞ مُّبِينٞ
اور آسمان، بنایا ہم نے اس کو ساتھ قوت کے، اور بلاشبہ ہم البتہ وسعت والے ہیں (47) اور زمین، بچھایا ہم نے اس کو پس اچھا بچھانے والے ہیں (ہم)(48) اور ہر چیز کو پیدا کیا ہم نے جوڑا (جوڑا) شاید کہ تم نصیحت پکڑو(49) پس دوڑو تم اللہ کی طرف بلاشبہ میں تمھیں اس سے ڈرانے والا ہوں ظاہر (50) اور نہ بناؤ تم اللہ کے ساتھ معبود دوسرا، بلاشبہ میں تمھیں اس سے ڈرانے والا ہوں ظاہر (51)
[47] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظیم قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَالسَّمَآءَ بَنَيۡنٰهَا﴾ یعنی ہم نے آسمان کو تخلیق کیا اور نہایت مہارت سے بنایا اور اسے زمین اور اس کی موجودات کے لیے چھت بنایا۔ ﴿ بِاَيۡىدٍ﴾ ’’ قوت سے۔‘‘ یعنی عظیم قدرت و قوت کے ساتھ۔ ﴿ وَّاِنَّا لَمُوۡسِعُوۡنَ﴾ اور ہم اس کو اس کے کناروں اور گوشوں تک وسعت دیتے ہیں، نیز ہم اپنے بندوں کے لیے بھی رزق کو وسیع کرتے ہیں۔ بیابانوں کے چٹیل میدانوں میں سمندروں کی سرکش موجوں میں اور عالم علوی اور عالم سفلی میں ان کے کناروں تک کوئی جاندار ایسا نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنا رزق بہم نہ پہنچایا ہو جو اس کے لیے کافی ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسے احسان سے نہ نوازا ہو جو اسے بے نیاز کرتا ہو۔ پس پاک ہے وہ ذات جس کا جود و کرم تمام مخلوقات کے لیے عام ہے اور نہایت بابرکت ہے وہ ہستی جس کی بے پایاں رحمت تمام جانداروں پر سایہ کناں ہے۔
[48]﴿ وَالۡاَرۡضَ فَرَشۡنٰهَا﴾ یعنی ہم نے زمین کو مخلوق کے لیے فرش بنایا ہے تاکہ وہ ان تمام امور پر متمکن ہوں جو ان کے مصالح سے تعلق رکھتے ہیں ، مثلاً: گھر بنانا، باغات لگانا، کھیتی باڑی کرنا، بیٹھنا اور ان راستوں پر چلنا جو ان کو ان کے مقصد تک پہنچاتے ہیں۔ اور چونکہ فرش کبھی تو ہر لحاظ سے انتفاع کے قابل ہوتا ہے اور کبھی کسی لحاظ سے قابل انتفاع نہیں ہوتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے مکمل طور پر بہترین طریقے سے ہموار کیا ہے اور اس بنا پر اپنی حمد و ثنا بیان کرتے ہو ئے فرمایا:﴿ فَنِعۡمَ الۡمٰهِدُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں۔‘‘ جس نے اپنی حکمت اور رحمت کے تقاضے کے مطابق زمین کو ہموار کیا۔
[49]﴿ وَمِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَيۡنِ ﴾ یعنی حیوانات کی ہر نوع میں نر اور مادہ دو اصناف پیدا کیں ۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی بدولت جو اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کے دوڑے بناکر تم پر کیں، غور و فکرکرو اور اس کی حکمت یہ ہے کہ اس نے جوڑوں کی تخلیق کو تمام حیوانات کی انواع کی بقا کا سبب بنایا تاکہ تم ان کی افزائش، ان کی خدمت اور ان کی تربیت کا انتظام کرو جس سے مختلف منافع حاصل ہوتے ہیں۔ ﴿ فَفِرُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ﴾ ’’لہٰذا تم اللہ کی طرف دوڑو۔‘‘
[50] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی ان آیات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے جو خشیت الٰہی اور انابت الی اللہ کی موجب ہیں، اس لیے اس چیز کا حکم دیا جو اس غور و فکر کی مقصود و مطلوب ہے، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہونا، یعنی جو چیز ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے، اسے چھوڑ کر اس چیز کی طرف فرار ہونا جو ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، جہالت سے فرار ہو کر علم کی طرف آنا، کفر سے بھاگ کر ایمان کی طرف آنا، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے فرار ہو کر اس کی اطاعت کی طرف آنا اور غفلت کو چھوڑ کر ذکر الٰہی کی طرف آنا۔پس جس نے ان امور کو مکمل کر لیا، اس نے تمام دین کی تکمیل کر لی، اس سے خوف زائل ہو گیا اور اسے اس کی منزلِ مراد اور مطلوب و مقصود حاصل ہو گیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی طرف اس رجوع کو ’’فرار‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے کیونکہ غیر اللہ کی طرف رجوع میں خوف اور ناپسندیدہ امور کی بہت سی انواع پنہاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع میں انواع و اقسام کے پسندیدہ امور، امن مسرت، سعادت اور فوز و فلاح پوشیدہ ہیں۔پس بندہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے بھاگ کر اس کی قضا و قدر کی طرف آئے اور ہر وہ ہستی جس سے آپ ڈرتے ہیں اس سے بھاگ کر اللہ تعالیٰ کی پناہ لیں۔ کیونکہ اس خوف کی مقدار کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہو گا ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ مِّؔنۡهُ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ یعنی میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔
[51]﴿ وَلَا تَجۡعَلُوۡا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’اور اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا الٰہ نہ بناؤ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرار میں شمار ہوتا ہے، بلکہ یہی اس کی طرف حقیقی فرار ہے کہ بندہ غیر اللہ کو معبود بنانے کو ترک کر کے، یعنی بتوں، اللہ تعالیٰ کے خود ساختہ ہمسروں، اور قبروں وغیرہ کو جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، چھوڑ کر اپنے رب کے لیے اپنی عبادت، اپنے خوف و رجا، دعا اور انابت کو خالص کرے۔
51:51وَلَا تَجۡعَلُواْ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَۖ إِنِّي لَكُم مِّنۡهُ نَذِيرٞ مُّبِينٞ
اور آسمان، بنایا ہم نے اس کو ساتھ قوت کے، اور بلاشبہ ہم البتہ وسعت والے ہیں (47) اور زمین، بچھایا ہم نے اس کو پس اچھا بچھانے والے ہیں (ہم)(48) اور ہر چیز کو پیدا کیا ہم نے جوڑا (جوڑا) شاید کہ تم نصیحت پکڑو(49) پس دوڑو تم اللہ کی طرف بلاشبہ میں تمھیں اس سے ڈرانے والا ہوں ظاہر (50) اور نہ بناؤ تم اللہ کے ساتھ معبود دوسرا، بلاشبہ میں تمھیں اس سے ڈرانے والا ہوں ظاہر (51)
[47] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظیم قدرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَالسَّمَآءَ بَنَيۡنٰهَا﴾ یعنی ہم نے آسمان کو تخلیق کیا اور نہایت مہارت سے بنایا اور اسے زمین اور اس کی موجودات کے لیے چھت بنایا۔ ﴿ بِاَيۡىدٍ﴾ ’’ قوت سے۔‘‘ یعنی عظیم قدرت و قوت کے ساتھ۔ ﴿ وَّاِنَّا لَمُوۡسِعُوۡنَ﴾ اور ہم اس کو اس کے کناروں اور گوشوں تک وسعت دیتے ہیں، نیز ہم اپنے بندوں کے لیے بھی رزق کو وسیع کرتے ہیں۔ بیابانوں کے چٹیل میدانوں میں سمندروں کی سرکش موجوں میں اور عالم علوی اور عالم سفلی میں ان کے کناروں تک کوئی جاندار ایسا نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنا رزق بہم نہ پہنچایا ہو جو اس کے لیے کافی ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسے احسان سے نہ نوازا ہو جو اسے بے نیاز کرتا ہو۔ پس پاک ہے وہ ذات جس کا جود و کرم تمام مخلوقات کے لیے عام ہے اور نہایت بابرکت ہے وہ ہستی جس کی بے پایاں رحمت تمام جانداروں پر سایہ کناں ہے۔
[48]﴿ وَالۡاَرۡضَ فَرَشۡنٰهَا﴾ یعنی ہم نے زمین کو مخلوق کے لیے فرش بنایا ہے تاکہ وہ ان تمام امور پر متمکن ہوں جو ان کے مصالح سے تعلق رکھتے ہیں ، مثلاً: گھر بنانا، باغات لگانا، کھیتی باڑی کرنا، بیٹھنا اور ان راستوں پر چلنا جو ان کو ان کے مقصد تک پہنچاتے ہیں۔ اور چونکہ فرش کبھی تو ہر لحاظ سے انتفاع کے قابل ہوتا ہے اور کبھی کسی لحاظ سے قابل انتفاع نہیں ہوتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے مکمل طور پر بہترین طریقے سے ہموار کیا ہے اور اس بنا پر اپنی حمد و ثنا بیان کرتے ہو ئے فرمایا:﴿ فَنِعۡمَ الۡمٰهِدُوۡنَ﴾ ’’پس ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں۔‘‘ جس نے اپنی حکمت اور رحمت کے تقاضے کے مطابق زمین کو ہموار کیا۔
[49]﴿ وَمِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَيۡنِ ﴾ یعنی حیوانات کی ہر نوع میں نر اور مادہ دو اصناف پیدا کیں ۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی بدولت جو اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کے دوڑے بناکر تم پر کیں، غور و فکرکرو اور اس کی حکمت یہ ہے کہ اس نے جوڑوں کی تخلیق کو تمام حیوانات کی انواع کی بقا کا سبب بنایا تاکہ تم ان کی افزائش، ان کی خدمت اور ان کی تربیت کا انتظام کرو جس سے مختلف منافع حاصل ہوتے ہیں۔ ﴿ فَفِرُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ﴾ ’’لہٰذا تم اللہ کی طرف دوڑو۔‘‘
[50] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی ان آیات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے جو خشیت الٰہی اور انابت الی اللہ کی موجب ہیں، اس لیے اس چیز کا حکم دیا جو اس غور و فکر کی مقصود و مطلوب ہے، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہونا، یعنی جو چیز ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے، اسے چھوڑ کر اس چیز کی طرف فرار ہونا جو ظاہری اور باطنی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، جہالت سے فرار ہو کر علم کی طرف آنا، کفر سے بھاگ کر ایمان کی طرف آنا، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے فرار ہو کر اس کی اطاعت کی طرف آنا اور غفلت کو چھوڑ کر ذکر الٰہی کی طرف آنا۔پس جس نے ان امور کو مکمل کر لیا، اس نے تمام دین کی تکمیل کر لی، اس سے خوف زائل ہو گیا اور اسے اس کی منزلِ مراد اور مطلوب و مقصود حاصل ہو گیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی طرف اس رجوع کو ’’فرار‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے کیونکہ غیر اللہ کی طرف رجوع میں خوف اور ناپسندیدہ امور کی بہت سی انواع پنہاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع میں انواع و اقسام کے پسندیدہ امور، امن مسرت، سعادت اور فوز و فلاح پوشیدہ ہیں۔پس بندہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے بھاگ کر اس کی قضا و قدر کی طرف آئے اور ہر وہ ہستی جس سے آپ ڈرتے ہیں اس سے بھاگ کر اللہ تعالیٰ کی پناہ لیں۔ کیونکہ اس خوف کی مقدار کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی طرف فرار ہو گا ﴿ اِنِّيۡ لَكُمۡ مِّؔنۡهُ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ یعنی میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔
[51]﴿ وَلَا تَجۡعَلُوۡا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ﴾ ’’اور اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا الٰہ نہ بناؤ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرار میں شمار ہوتا ہے، بلکہ یہی اس کی طرف حقیقی فرار ہے کہ بندہ غیر اللہ کو معبود بنانے کو ترک کر کے، یعنی بتوں، اللہ تعالیٰ کے خود ساختہ ہمسروں، اور قبروں وغیرہ کو جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، چھوڑ کر اپنے رب کے لیے اپنی عبادت، اپنے خوف و رجا، دعا اور انابت کو خالص کرے۔
51:52كَذَٰلِكَ مَآ أَتَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُواْ سَاحِرٌ أَوۡ مَجۡنُونٌ
اسی طرح نہیں آیا تھا ان لوگوں کے پاس جو ان سے پہلے تھے کوئی رسول مگر انھوں نے کہا، (یہ)ساحر ہے یا مجنون (52) کیا (یہ) ایک دوسرے کو وصیت کرتے آئے ہیں اس (بات) کی؟(نہیں)بلکہ وہ (سارے) لوگ ہی ہیں سرکش (53)
[52] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو مشرکین کی تکذیب کے مقابلے میں تسلی دیتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کرتے ہیں، اس کے بارے میں مختلف بری باتیں کرتے ہیں جن سے وہ منزہ اور پاک ہے۔ ایسی باتیں کہنا ہمیشہ سے ان مجرموں اور رسولوں کو جھٹلانے والوں کی عادت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا رسول مبعوث نہیں فرمایا جس پر اس کی قوم نے جادوگر اور مجنون ہونے کا بہتان نہ لگایا ہو۔
[53] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اقوال جو ان کے اولین و آخرین سے صادر ہوئے ہیں کیا یہ ایسے اقوال نہیں جن کی انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت اور ایک دوسرے کو تلقین کی ہے؟ پس اس سبب سے ان کا ان اقوال پر اتفاق کر لینا کچھ بعید نہیں۔ ﴿ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں۔‘‘ ان کے دل اور اعمال، کفر اور سرکشی کے سبب سے باہم مشابہت رکھتے ہیں۔ پس ان کی سرکشی سے جنم لینے والے ان کے اقوال بھی باہم مشابہت رکھتے ہیں۔ اور فی الواقع ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ لَوۡلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوۡ تَاۡتِيۡنَاۤ اٰيَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّثۡلَ قَوۡلِهِمۡ١ؕ تَشَابَهَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ﴾(البقرہ: 2؍118)’’اور وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے، کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے ہم کلام کیوں نہیں ہوتا، یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی اسی طرح ان سے پہلے لوگ ان جیسی باتیں کیا کرتے تھے، ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں۔‘‘ اور اسی طرح اہل ایمان کے دل، چونکہ اطاعت حق اور اس کی طلب اور کوشش میں باہم مشابہ ہیں، اس لیے وہ اپنے رسولوں پر ایمان، ان کی تعظیم و توقیر اور ان کے مرتبے کے لائق خطاب کے ذریعے سے مخاطب ہونے میں جلدی کرتے ہیں۔
51:53أَتَوَاصَوۡاْ بِهِۦۚ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٞ طَاغُونَ
اسی طرح نہیں آیا تھا ان لوگوں کے پاس جو ان سے پہلے تھے کوئی رسول مگر انھوں نے کہا، (یہ)ساحر ہے یا مجنون (52) کیا (یہ) ایک دوسرے کو وصیت کرتے آئے ہیں اس (بات) کی؟(نہیں)بلکہ وہ (سارے) لوگ ہی ہیں سرکش (53)
[52] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو مشرکین کی تکذیب کے مقابلے میں تسلی دیتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کرتے ہیں، اس کے بارے میں مختلف بری باتیں کرتے ہیں جن سے وہ منزہ اور پاک ہے۔ ایسی باتیں کہنا ہمیشہ سے ان مجرموں اور رسولوں کو جھٹلانے والوں کی عادت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا رسول مبعوث نہیں فرمایا جس پر اس کی قوم نے جادوگر اور مجنون ہونے کا بہتان نہ لگایا ہو۔
[53] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اقوال جو ان کے اولین و آخرین سے صادر ہوئے ہیں کیا یہ ایسے اقوال نہیں جن کی انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت اور ایک دوسرے کو تلقین کی ہے؟ پس اس سبب سے ان کا ان اقوال پر اتفاق کر لینا کچھ بعید نہیں۔ ﴿ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ﴾ ’’بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں۔‘‘ ان کے دل اور اعمال، کفر اور سرکشی کے سبب سے باہم مشابہت رکھتے ہیں۔ پس ان کی سرکشی سے جنم لینے والے ان کے اقوال بھی باہم مشابہت رکھتے ہیں۔ اور فی الواقع ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ لَوۡلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوۡ تَاۡتِيۡنَاۤ اٰيَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّثۡلَ قَوۡلِهِمۡ١ؕ تَشَابَهَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ﴾(البقرہ: 2؍118)’’اور وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے، کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے ہم کلام کیوں نہیں ہوتا، یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی اسی طرح ان سے پہلے لوگ ان جیسی باتیں کیا کرتے تھے، ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں۔‘‘ اور اسی طرح اہل ایمان کے دل، چونکہ اطاعت حق اور اس کی طلب اور کوشش میں باہم مشابہ ہیں، اس لیے وہ اپنے رسولوں پر ایمان، ان کی تعظیم و توقیر اور ان کے مرتبے کے لائق خطاب کے ذریعے سے مخاطب ہونے میں جلدی کرتے ہیں۔
51:54فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ فَمَآ أَنتَ بِمَلُومٖ
سو آپ منہ پھیر لیں ان سے، پس نہیں ہیں آپ قابلِ ملامت (54) اور آپ نصیحت کرتے رہیں، پس بلاشبہ نصیحت نفع دیتی ہے مومنوں کو(55)
[54] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول کو اعراض کرنے اور جھٹلانے والوں سے روگردانی کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ﴾ یعنی آپ ان کی پروا کیجیے نہ ان کا کوئی مواخذہ کیجیے، اپنے معاملات پر توجہ مرکوز رکھیے ﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِمَلُوۡمٍ﴾ ان کے گناہ پر آپ کو کوئی ملامت نہیں، آپ کے ذمہ تو صرف پہنچا دینا ہے جو ذمہ داری آپ ﷺ کے سپرد کی گئی تھی وہ آپ نے پوری کر دی ہے اور جو پیغام دے کر آپ کو بھیجا گیا تھا وہ آپ نے پہنچا دیا ہے۔
[55]﴿ وَّذَكِّرۡ فَاِنَّ الذِّكۡرٰى تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور نصیحت کیجیے، بلاشبہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔‘‘ اور تذکیر کی دو اقسام ہیں:(۱)ایسے امور کے ذریعے سے تذکیر جس کی تفصیل کی معرفت حاصل نہیں ، البتہ وہ فطرت اور عقل کے ذریعے سے مجمل طور پر معروف ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عقل میں خیر سے محبت اور خیر کو ترجیح دینا ، شر کو ناپسند کرنا اور اس سے دور بھاگنا ودیعت کر دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی شریعت اس کے موافق ہے۔ پس شریعت کا ہر امر و نہی، تذکیر ہے۔ تذکیر کامل یہ ہے کہ مامورات شریعت میں بھلائی، حسن اور انسانی مصالح پوشیدہ ہیں ان کا ذکر کیا جائے اور منہیات میں جو نقصانات پنہاں ہیں ان کا ذکر کیا جائے۔(۲) تذکیر کی دوسری قسم ان امور کے ذریعے سے تذکیر ہے جو اہل ایمان کو معلوم ہیں۔ مگر غفلت اور مدہوشی نے انھیں ڈھانپ رکھا ہے، ان کو ان امور کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے، ان کے سامنے ان باتوں کو مکرر بیان کیا جاتا ہے، تاکہ یہ باتیں ان کے ذہن میں راسخ ہو جائیں، ان کو تنبیہ ہوتی رہے اور جن باتوں کی انھیں یاد دہانی ہوئی ہے ان پر عمل پیرا ہوں۔ نیز یہ کہ ان میں نشاط اور ہمت پیدا ہو جو ان کے لیے فائدے اور بلندی کی موجب ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ نصیحت اور تذکیر مومنوں کو فائدہ دیتی ہے، کیونکہ ان کے پاس جو سرمایۂ ایمان، خشیتِ الٰہی، انابتِ الی اللہ اور اتباع رسول ہے، یہ تمام اوصاف اس بات کے موجب ہیں کہ تذکیر ان کو فائدہ دے اور نصیحت ان کے دل میں اتر جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَذَكِّرۡ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ؕ۰۰ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ۙ۰۰ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَى﴾(الاعلیٰ: 87؍9-11) ’’پس نصیحت کرتے رہیے، اگر نصیحت کوئی فائدہ دے۔ جو خشیت سے بہرہ ور ہے، وہ نصیحت پکڑے گا اور بدبختی کا مارا ہوا اس سے پہلو تہی کرے گا۔‘‘ جس میں ایمان کی رمق ہے نہ نصیحت کو قبول کرنے کی استعداد ہے، اس کو تذکیر اور نصیحت کوئی فائدہ نہیں دیتی، وہ اس شور زدہ زمین کی مانند ہے جس کو بارش سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اس قسم کے لوگوں کے پاس اگر تمام نشانیاں بھی آ جائیں تو وہ پھر بھی اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔
51:55وَذَكِّرۡ فَإِنَّ ٱلذِّكۡرَىٰ تَنفَعُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
سو آپ منہ پھیر لیں ان سے، پس نہیں ہیں آپ قابلِ ملامت (54) اور آپ نصیحت کرتے رہیں، پس بلاشبہ نصیحت نفع دیتی ہے مومنوں کو(55)
[54] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول کو اعراض کرنے اور جھٹلانے والوں سے روگردانی کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ﴾ یعنی آپ ان کی پروا کیجیے نہ ان کا کوئی مواخذہ کیجیے، اپنے معاملات پر توجہ مرکوز رکھیے ﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِمَلُوۡمٍ﴾ ان کے گناہ پر آپ کو کوئی ملامت نہیں، آپ کے ذمہ تو صرف پہنچا دینا ہے جو ذمہ داری آپ ﷺ کے سپرد کی گئی تھی وہ آپ نے پوری کر دی ہے اور جو پیغام دے کر آپ کو بھیجا گیا تھا وہ آپ نے پہنچا دیا ہے۔
[55]﴿ وَّذَكِّرۡ فَاِنَّ الذِّكۡرٰى تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور نصیحت کیجیے، بلاشبہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔‘‘ اور تذکیر کی دو اقسام ہیں:(۱)ایسے امور کے ذریعے سے تذکیر جس کی تفصیل کی معرفت حاصل نہیں ، البتہ وہ فطرت اور عقل کے ذریعے سے مجمل طور پر معروف ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عقل میں خیر سے محبت اور خیر کو ترجیح دینا ، شر کو ناپسند کرنا اور اس سے دور بھاگنا ودیعت کر دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی شریعت اس کے موافق ہے۔ پس شریعت کا ہر امر و نہی، تذکیر ہے۔ تذکیر کامل یہ ہے کہ مامورات شریعت میں بھلائی، حسن اور انسانی مصالح پوشیدہ ہیں ان کا ذکر کیا جائے اور منہیات میں جو نقصانات پنہاں ہیں ان کا ذکر کیا جائے۔(۲) تذکیر کی دوسری قسم ان امور کے ذریعے سے تذکیر ہے جو اہل ایمان کو معلوم ہیں۔ مگر غفلت اور مدہوشی نے انھیں ڈھانپ رکھا ہے، ان کو ان امور کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے، ان کے سامنے ان باتوں کو مکرر بیان کیا جاتا ہے، تاکہ یہ باتیں ان کے ذہن میں راسخ ہو جائیں، ان کو تنبیہ ہوتی رہے اور جن باتوں کی انھیں یاد دہانی ہوئی ہے ان پر عمل پیرا ہوں۔ نیز یہ کہ ان میں نشاط اور ہمت پیدا ہو جو ان کے لیے فائدے اور بلندی کی موجب ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ نصیحت اور تذکیر مومنوں کو فائدہ دیتی ہے، کیونکہ ان کے پاس جو سرمایۂ ایمان، خشیتِ الٰہی، انابتِ الی اللہ اور اتباع رسول ہے، یہ تمام اوصاف اس بات کے موجب ہیں کہ تذکیر ان کو فائدہ دے اور نصیحت ان کے دل میں اتر جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَذَكِّرۡ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ؕ۰۰ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ۙ۰۰ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَى﴾(الاعلیٰ: 87؍9-11) ’’پس نصیحت کرتے رہیے، اگر نصیحت کوئی فائدہ دے۔ جو خشیت سے بہرہ ور ہے، وہ نصیحت پکڑے گا اور بدبختی کا مارا ہوا اس سے پہلو تہی کرے گا۔‘‘ جس میں ایمان کی رمق ہے نہ نصیحت کو قبول کرنے کی استعداد ہے، اس کو تذکیر اور نصیحت کوئی فائدہ نہیں دیتی، وہ اس شور زدہ زمین کی مانند ہے جس کو بارش سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اس قسم کے لوگوں کے پاس اگر تمام نشانیاں بھی آ جائیں تو وہ پھر بھی اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔
51:56وَمَا خَلَقۡتُ ٱلۡجِنَّ وَٱلۡإِنسَ إِلَّا لِيَعۡبُدُونِ
اور نہیں پیدا کیے میں نے جن اور انسان مگر (اس لیے) تاکہ وہ عبادت کریں میری ہی (56) نہیں چاہتا میں ان سے کوئی رزق اور نہیں چاہتا میں یہ کہ وہ کھلائیں مجھے (57) بلاشبہ اللہ ہی ہے، رزاق، قوت والا، نہایت قوی (58)
[56] وہ مقصد جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانوں کو تخلیق فرمایا، تمام انبیاء و رسل کو مبعوث کیا جو لوگوں کو اس مقصد کی طرف بلاتے رہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے جو اس کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف انابت اور ماسوا سے منہ موڑ کر صرف اسی کی طرف توجہ کرنے کو متضمن ہے۔ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی معرفت سے وابستہ ہے۔ بلکہ بندے میں اپنے رب کی معرفت جتنی زیادہ ہو گی اس کی عبادت اتنی ہی کامل ہو گی۔ یہ وہ مقصد ہے جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے مکلفین کو پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ اسے ان سے کوئی ضرورت تھی۔
[57]﴿ مَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ﴾ ’’ میں ان سے كوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔‘‘ یعنی اللہ عزوجل اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کسی بھی لحاظ سے کسی کا محتاج ہو۔ تمام مخلوق اپنی حوائج و مطالب ضروریہ اور غیر ضروریہ میں اس کی محتاج ہے۔
[58] اسی لیے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ رزق کثیر کا مالک ہے۔ زمین میں نہ آسمان میں کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ نہ ہو، وہ اس کا ٹھکانا بھی جانتا ہے اور اس جگہ کو بھی جانتا ہے جہاں اس کو سونپا جانا ہے ﴿ ذُو الۡقُوَّةِ الۡمَتِيۡنُ﴾ یعنی وہ تمام قوت اور قدرت کا مالک ہے۔ جس نے اس قدرت کے ذریعے سے عالم علوی اور عالم سفلی کے اتنے بڑے بڑے اجسام کو وجود بخشا، اس قدرت کے ذریعے سے وہ ظاہر و باطن میں تصرف کرتا ہے اور اس کی مشیت تمام مخلوق پر نافذ ہے۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے، جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا ، کوئی بھاگنے والا اسے بے بس کر سکتا ہے نہ کوئی اس کے تسلط سے باہر نکل سکتا ہے۔ یہ اس کی قوت کا کرشمہ ہے کہ اس نے تمام کائنات کو رزق بہم پہنچایا۔یہ اس کی قدرت و قوت ہے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندگی بخشے گا جبکہ بوسیدگی نے ان کو ریزہ ریزہ کر دیا ہو گا، ہوائیں ان (کے ذرات) کو اڑا کر بکھیر چکی ہوں گی، پرندے اور درندے انھیں نگل چکے ہوں گے، اور وہ چٹیل بیابانوں اور سمندر میں بکھر چکے ہوں گے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔ ان کے اجساد کو جو زمین کم کر رہی ہے وہ اسے خوب جانتا ہے، پاک ہے وہ ذات جو قوت والی اور طاقت ور ہے۔
51:57مَآ أُرِيدُ مِنۡهُم مِّن رِّزۡقٖ وَمَآ أُرِيدُ أَن يُطۡعِمُونِ
اور نہیں پیدا کیے میں نے جن اور انسان مگر (اس لیے) تاکہ وہ عبادت کریں میری ہی (56) نہیں چاہتا میں ان سے کوئی رزق اور نہیں چاہتا میں یہ کہ وہ کھلائیں مجھے (57) بلاشبہ اللہ ہی ہے، رزاق، قوت والا، نہایت قوی (58)
[56] وہ مقصد جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانوں کو تخلیق فرمایا، تمام انبیاء و رسل کو مبعوث کیا جو لوگوں کو اس مقصد کی طرف بلاتے رہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے جو اس کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف انابت اور ماسوا سے منہ موڑ کر صرف اسی کی طرف توجہ کرنے کو متضمن ہے۔ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی معرفت سے وابستہ ہے۔ بلکہ بندے میں اپنے رب کی معرفت جتنی زیادہ ہو گی اس کی عبادت اتنی ہی کامل ہو گی۔ یہ وہ مقصد ہے جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے مکلفین کو پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ اسے ان سے کوئی ضرورت تھی۔
[57]﴿ مَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ﴾ ’’ میں ان سے كوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔‘‘ یعنی اللہ عزوجل اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کسی بھی لحاظ سے کسی کا محتاج ہو۔ تمام مخلوق اپنی حوائج و مطالب ضروریہ اور غیر ضروریہ میں اس کی محتاج ہے۔
[58] اسی لیے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ رزق کثیر کا مالک ہے۔ زمین میں نہ آسمان میں کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ نہ ہو، وہ اس کا ٹھکانا بھی جانتا ہے اور اس جگہ کو بھی جانتا ہے جہاں اس کو سونپا جانا ہے ﴿ ذُو الۡقُوَّةِ الۡمَتِيۡنُ﴾ یعنی وہ تمام قوت اور قدرت کا مالک ہے۔ جس نے اس قدرت کے ذریعے سے عالم علوی اور عالم سفلی کے اتنے بڑے بڑے اجسام کو وجود بخشا، اس قدرت کے ذریعے سے وہ ظاہر و باطن میں تصرف کرتا ہے اور اس کی مشیت تمام مخلوق پر نافذ ہے۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے، جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا ، کوئی بھاگنے والا اسے بے بس کر سکتا ہے نہ کوئی اس کے تسلط سے باہر نکل سکتا ہے۔ یہ اس کی قوت کا کرشمہ ہے کہ اس نے تمام کائنات کو رزق بہم پہنچایا۔یہ اس کی قدرت و قوت ہے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندگی بخشے گا جبکہ بوسیدگی نے ان کو ریزہ ریزہ کر دیا ہو گا، ہوائیں ان (کے ذرات) کو اڑا کر بکھیر چکی ہوں گی، پرندے اور درندے انھیں نگل چکے ہوں گے، اور وہ چٹیل بیابانوں اور سمندر میں بکھر چکے ہوں گے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔ ان کے اجساد کو جو زمین کم کر رہی ہے وہ اسے خوب جانتا ہے، پاک ہے وہ ذات جو قوت والی اور طاقت ور ہے۔
51:58إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلرَّزَّاقُ ذُو ٱلۡقُوَّةِ ٱلۡمَتِينُ
اور نہیں پیدا کیے میں نے جن اور انسان مگر (اس لیے) تاکہ وہ عبادت کریں میری ہی (56) نہیں چاہتا میں ان سے کوئی رزق اور نہیں چاہتا میں یہ کہ وہ کھلائیں مجھے (57) بلاشبہ اللہ ہی ہے، رزاق، قوت والا، نہایت قوی (58)
[56] وہ مقصد جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانوں کو تخلیق فرمایا، تمام انبیاء و رسل کو مبعوث کیا جو لوگوں کو اس مقصد کی طرف بلاتے رہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے جو اس کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف انابت اور ماسوا سے منہ موڑ کر صرف اسی کی طرف توجہ کرنے کو متضمن ہے۔ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی معرفت سے وابستہ ہے۔ بلکہ بندے میں اپنے رب کی معرفت جتنی زیادہ ہو گی اس کی عبادت اتنی ہی کامل ہو گی۔ یہ وہ مقصد ہے جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے مکلفین کو پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ اسے ان سے کوئی ضرورت تھی۔
[57]﴿ مَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ﴾ ’’ میں ان سے كوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔‘‘ یعنی اللہ عزوجل اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کسی بھی لحاظ سے کسی کا محتاج ہو۔ تمام مخلوق اپنی حوائج و مطالب ضروریہ اور غیر ضروریہ میں اس کی محتاج ہے۔
[58] اسی لیے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ رزق کثیر کا مالک ہے۔ زمین میں نہ آسمان میں کوئی ایسا جاندار نہیں جس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ نہ ہو، وہ اس کا ٹھکانا بھی جانتا ہے اور اس جگہ کو بھی جانتا ہے جہاں اس کو سونپا جانا ہے ﴿ ذُو الۡقُوَّةِ الۡمَتِيۡنُ﴾ یعنی وہ تمام قوت اور قدرت کا مالک ہے۔ جس نے اس قدرت کے ذریعے سے عالم علوی اور عالم سفلی کے اتنے بڑے بڑے اجسام کو وجود بخشا، اس قدرت کے ذریعے سے وہ ظاہر و باطن میں تصرف کرتا ہے اور اس کی مشیت تمام مخلوق پر نافذ ہے۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے، جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا ، کوئی بھاگنے والا اسے بے بس کر سکتا ہے نہ کوئی اس کے تسلط سے باہر نکل سکتا ہے۔ یہ اس کی قوت کا کرشمہ ہے کہ اس نے تمام کائنات کو رزق بہم پہنچایا۔یہ اس کی قدرت و قوت ہے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندگی بخشے گا جبکہ بوسیدگی نے ان کو ریزہ ریزہ کر دیا ہو گا، ہوائیں ان (کے ذرات) کو اڑا کر بکھیر چکی ہوں گی، پرندے اور درندے انھیں نگل چکے ہوں گے، اور وہ چٹیل بیابانوں اور سمندر میں بکھر چکے ہوں گے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔ ان کے اجساد کو جو زمین کم کر رہی ہے وہ اسے خوب جانتا ہے، پاک ہے وہ ذات جو قوت والی اور طاقت ور ہے۔
51:59فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ ذَنُوبٗا مِّثۡلَ ذَنُوبِ أَصۡحَٰبِهِمۡ فَلَا يَسۡتَعۡجِلُونِ
پس بے شک ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ایک ڈول(حصہ عذاب)ہے مثل ڈول(حصے)ان کے ساتھیوں کے پس نہ جلدی طلب کریں وہ مجھ سے(عذاب)(59) پس ہلاکت ہے ان کے لیے جنھوں نے کفر کیا، ان کے اس دن (کے آنے) سے جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں (60)
[59] وہ لوگ جنھوں نے محمد ﷺ کی تکذیب کر کے ظلم کا ارتکاب کیا، ان کے لیے عذاب اور سزا ہے۔ ﴿ ذَنُوۡبًا﴾ یعنی ان کے لیے بھی اسی طرح حصہ ہے جس طرح ان کے ساتھی اہل ظلم اور اہل تکذیب کے ساتھ کیا گیا۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَعۡجِلُوۡنِ۠﴾ اس لیے وہ عذاب کے لیے جلدی نہ مچائیں، کیونکہ قوموں کے بارے میں سنت الٰہی ایک ہی ہے۔ پس ہر جھٹلانے والا شخص جو اپنی تکذیب پر جما ہوا ہے جو توبہ کرتا ہے نہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے، اس پر عذاب ضرور واقع ہو گا، خواہ کچھ مدت کے لیے موخر ہو جائے۔
[60] بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کی وعید سنائی ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ يَّوۡمِهِمُ الَّذِيۡ يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’پس کافروں کے لیے اس دن ہلاکت ہے جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے ۔جس میں ان کو مختلف قسم کے عذاب، سزاؤ ں، بیڑیوں کی وعید سنائی گئی ہے، ان کا کوئی مددگار ہو گا نہ کوئی ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا ہو گا۔ ہم اس عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
51:60فَوَيۡلٞ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن يَوۡمِهِمُ ٱلَّذِي يُوعَدُونَ
پس بے شک ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ایک ڈول(حصہ عذاب)ہے مثل ڈول(حصے)ان کے ساتھیوں کے پس نہ جلدی طلب کریں وہ مجھ سے(عذاب)(59) پس ہلاکت ہے ان کے لیے جنھوں نے کفر کیا، ان کے اس دن (کے آنے) سے جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں (60)
[59] وہ لوگ جنھوں نے محمد ﷺ کی تکذیب کر کے ظلم کا ارتکاب کیا، ان کے لیے عذاب اور سزا ہے۔ ﴿ ذَنُوۡبًا﴾ یعنی ان کے لیے بھی اسی طرح حصہ ہے جس طرح ان کے ساتھی اہل ظلم اور اہل تکذیب کے ساتھ کیا گیا۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَعۡجِلُوۡنِ۠﴾ اس لیے وہ عذاب کے لیے جلدی نہ مچائیں، کیونکہ قوموں کے بارے میں سنت الٰہی ایک ہی ہے۔ پس ہر جھٹلانے والا شخص جو اپنی تکذیب پر جما ہوا ہے جو توبہ کرتا ہے نہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے، اس پر عذاب ضرور واقع ہو گا، خواہ کچھ مدت کے لیے موخر ہو جائے۔
[60] بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کی وعید سنائی ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ يَّوۡمِهِمُ الَّذِيۡ يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’پس کافروں کے لیے اس دن ہلاکت ہے جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے ۔جس میں ان کو مختلف قسم کے عذاب، سزاؤ ں، بیڑیوں کی وعید سنائی گئی ہے، ان کا کوئی مددگار ہو گا نہ کوئی ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا ہو گا۔ ہم اس عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔