al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 5 · 120 verses
5:1يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوۡفُواْ بِٱلۡعُقُودِۚ أُحِلَّتۡ لَكُم بَهِيمَةُ ٱلۡأَنۡعَٰمِ إِلَّا مَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ غَيۡرَ مُحِلِّي ٱلصَّيۡدِ وَأَنتُمۡ حُرُمٌۗ إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ مَا يُرِيدُ
اے ایمان والو! پورا کرو تم عہدوں کو، حلال کر دیے گئے ہیں تمھارے لیے چارپائے مویشی، سوائے ان کے جن کی تلاوت کی جائے گی (ابھی) تم پر، اس حال میں کہ نہ حلال جاننے والے ہو تم شکار کو جبکہ تم حالت احرام میں ہو، بے شک اللہ فیصلہ کرتا ہے جو چاہتا ہے(1)
[1] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کو اس بات کا حکم ہے جس کا ایمان تقاضا کرتا ہے اور وہ یہ کہ معاہدوں کو پورا کیا جائے۔ ان میں کمی کی جائے نہ ان کو توڑا جائے۔ یہ آیت کریمہ ان تمام معاہدوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے اس کی عبودیت کا التزام، اسے پوری طرح قائم رکھنا اور اس کے حقوق میں سے کچھ کمی نہ کرنا۔ اور یہ ان معاہدوں کو بھی شامل ہے جو بندے اور رسول اللہﷺ کے مابین آپ کی اتباع اور اطاعت کے بارے میں ہیں ۔ اور اسی طرح اس میں وہ معاہدے بھی شامل ہیں جو بندے اور اس کے والدین اور اس کے عزیز و اقارب کے درمیان ان کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی اور عدم قطع رحمی کے بارے میں ہیں ۔ نیز اس آیت کریمہ کے حکم میں وہ معاہدے بھی شامل ہیں جو فراخی اور تنگ دستی، آسانی اور تنگی میں صحبت اور دوستی کے حقوق کے بارے میں ہیں ۔ اس کے تحت وہ معاہدے بھی آتے ہیں جو معاملات، مثلاً: خرید و فروخت اور اجارہ وغیرہ کے ضمن میں بندے اور لوگوں کے درمیان ہیں ۔ اس میں صدقات اور ہبہ وغیرہ کے معاہدے کی پابندی، مسلمانوں کے حقوق کی ادائیگی وغیرہ بھی شامل ہے جن کی پابندی کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں عائد کیا ہے۔ ﴿اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ ﴾(الحجرات: 49؍10) ’’تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔‘‘بلکہ حق کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کرنا، مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ پیار اور محبت سے مل جل کر رہنا اور قطع تعلقات سے اجتناب وغیرہ تک شامل ہے۔پس اس حکم میں دین کے تمام اصول و فروع شامل ہیں اور دین کے تمام اصول و فروع ان معاہدوں میں داخل ہیں جن کی پابندی کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿اُحِلَّتۡ لَكُمۡ ﴾ ’’تمھارے لیے حلال کردیے گئے۔‘‘ یعنی تمھاری خاطر اور تم پر رحمت کی بنا پر حلال کر دیے گئے ہیں ﴿بَهِيۡمَةُ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’چوپائے مویشی‘‘ یعنی اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری وغیرہ بلکہ بسا اوقات اس میں جنگلی جانور ، مثلاً: ہرن اور گورخر اور اس قسم کے دیگر شکار کیے جانے والے جانور بھی شامل ہیں ۔ بعض صحابہ کرامy اس آیت کریمہ سے اس بچے کی حلت پر بھی استدلال کرتے ہیں جو ذبح کرتے وقت مذبوحہ کے پیٹ میں ہوتا ہے اور ذبح کرنے کے بعد وہ مذبوحہ کے پیٹ میں مر جاتا ہے۔( حدیث میں بھی ایسے بچے کو یہ کہہ کر حلال قرار دیا گیا ہے ذَکوٰۃُ الْجَنِیْنِ ذَکَاۃُ اُمِّہِ (سنن أبي داود، و جامع الترمذي، بحوالہ صحیح الجامع) ’’بچے کا ذبح کرنا یہی ہے کہ اس کی ماں کو ذبح کر لیا جائے۔‘‘ یعنی ماں کا ذبح کر لینا‘ بچے کی حلت کیلیے کافی ہے۔ (ص ۔ ی)﴿اِلَّا مَا يُتۡلٰى ﴾ ’’سوائے ان چیزوں (کی تحریم) کے جو تمھیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں ۔‘‘ جیسے فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ۠ وَالنَّطِيۡحَةُ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّـيۡتُمۡ ﴾ الآیۃ (المائدۃ: 5؍3) ’’تم پر حرام کر دیا گیا مردار، خون، سور کا گوشت، جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، وہ جانور جو گلا گھٹ کر مر جائے، جو چوٹ لگ کر مر جائے، جو گر کر مر جائے، جو سینگ لگ کر مر جائے اور وہ جانور جسے درندے پھاڑ کھائیں سوائے اس کے جس کو تم ذبح کر لو اور وہ جانور جو آستانوں پر ذبح کیے جائیں …‘‘ مذکورہ بالا تمام جانور اگرچہ ﴿بَهِيۡمَةُ الۡاَنۡعَامِ ﴾ مویشیوں میں شامل ہیں تاہم یہ مردار ہونے کی وجہ سے حرام ہیں ۔یہ چوپائے مویشی عام طور پر تمام احوال و اوقات میں مباح ہیں البتہ احرام کی حالت میں ان کے شکار کو مستثنی قرار دیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ غَيۡرَ مُحِلِّي الصَّيۡدِ وَاَنۡتُمۡ حُرُمٌ﴾ ’’مگر حلال نہ جانو شکار کو احرام کی حالت میں ‘‘ یعنی یہ جانور تمھارے لیے تمام احوال میں حلال ہیں سوائے اس حالت میں جبکہ تم احرام حج کی حالت میں ہو تب اس حالت میں شکار نہ کرو، یعنی احرام میں ان کو مارنے کی جرأت نہ کرو۔ کیونکہ حالت احرام میں ان کا شکار کرنا ، مثلاً:ہرن وغیرہ کو مارنا تمھارے لیے جائز نہیں ۔ شکار سے مراد وہ جنگلی جانور ہے جس کا گوشت کھایا جاتا ہے۔﴿اِنَّ اللّٰهَ يَحۡكُمُ مَا يُرِيۡدُ﴾ ’’بے شک اللہ جو چاہے، فیصلہ کرتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جو بھی ارادہ کرتا ہے اس امر کے مطابق فیصلہ کرتا ہے جو اس کی حکمت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ جس طرح اس نے تمھارے مصالح کے حصول اور مضرت کو دور کرنے کے لیے تمھیں معاہدوں کو پورا کرنے کا حکم دیا اور تم پر رحمت کی بنا پر اس نے تمھارے لیے مویشیوں کو حلال قرار دیا اور بعض موانع کی وجہ سے جو جانور ان میں سے مستثنی ہیں ان کو حرام قرار دیا ، مثلاً: مردار وغیرہ اس کا مقصد تمھاری حفاظت اور احترام ہے۔ احرام کی حالت میں شکار کو حرام قرار دیا اور اس کا مقصد احرام کا احترام اور تعظیم ہے۔
5:2يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُحِلُّواْ شَعَـٰٓئِرَ ٱللَّهِ وَلَا ٱلشَّهۡرَ ٱلۡحَرَامَ وَلَا ٱلۡهَدۡيَ وَلَا ٱلۡقَلَـٰٓئِدَ وَلَآ ءَآمِّينَ ٱلۡبَيۡتَ ٱلۡحَرَامَ يَبۡتَغُونَ فَضۡلٗا مِّن رَّبِّهِمۡ وَرِضۡوَٰنٗاۚ وَإِذَا حَلَلۡتُمۡ فَٱصۡطَادُواْۚ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ أَن صَدُّوكُمۡ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ أَن تَعۡتَدُواْۘ وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بے حرمتی کرو اللہ کی نشانیوں کی اور نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ حرم والی قربانی کی اور نہ پٹوں (والے جانوروں ) کی اور نہ قصد کرنے والوں کی بیت الحرام کی طرف، وہ تلاش کرتے ہیں فضل اپنے رب کا اور رضامندی اور جب تم احرام کھول دو تو (اب) تم شکار کر سکتے ہو اور نہ آمادہ کرے تمھیں دشمنی کسی قوم کی اس وجہ سے کہ اس نے روک دیا تھا تم کو مسجد حرام سے، یہ کہ تم زیادتی کرو اور تم ایک دوسرے کی مدد کرو نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں اور نہ ایک دوسرے کی مدد کرو گناہ اور زیادتی پر اور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے(2)
[2]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ ﴾ ’’اے ایمان والو! اللہ کی نشانیوں کو حلال نہ سمجھو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی ان محرمات کو حلال نہ ٹھہرا لو جن کی تعظیم کا اور ان کے عدم فعل کا اس نے تمھیں حکم دیا ہے۔ پس یہ ممانعت، ان کے فعل کی ممانعت اور ان کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھنے کی ممانعت پر مشتمل ہے، یعنی یہ ممانعت فعل قبیح اور اس کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھنے کو شامل ہے اس ممانعت میں محرمات احرام اور محرمات حرم بھی داخل ہیں ۔ اس میں وہ امور بھی داخل ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آتا ہے ﴿وَلَا الشَّهۡرَ الۡحَرَامَ ﴾ ’’اور نہ ادب کے مہینے کی۔‘‘ یعنی حرمت کے مہینے میں لڑائی اور دیگر مظالم کا ارتکاب کر کے اس کی ہتک حرمت نہ کرو۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰهِ اثۡنَا عَشَرَ شَهۡرًا فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ مِنۡهَاۤ اَرۡبَعَةٌ حُرُمٌؔ١ؕ ذٰلِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِيۡهِنَّ اَنۡفُسَكُمۡ ﴾(التوبۃ: 9؍36) ’’بے شک اللہ کے نزدیک اس کی کتاب میں مہینے گنتی میں بارہ ہیں ، اس روز سے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ ان میں سے چار مہینے حرمت کے ہیں ۔ یہی مضبوط دین ہے۔ تم ان مہینوں میں ناحق لڑائی کر کے اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔‘‘جمہور اہل علم کہتے ہیں کہ حرام مہینوں میں لڑائی کی تحریم منسوخ ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشۡهُرُ الۡحُرُمُ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَيۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡهُمۡ ﴾(التوبۃ: 9؍5)’’جب حرمت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ ان کو قتل کرو۔‘‘اور اس کے علاوہ دیگر آیات جو عموم پر دلالت کرتی ہیں جن میں کفار کے ساتھ مطلق قتال کا حکم دیا گیا ہے اور اس قتال سے پیچھے رہ جانے پر وعید سنائی ہے۔ نیز نبی اکرمﷺ نے ذیقعد کے مہینے میں اہل طائف کے خلاف جنگ کی اور ذی قعد حرام مہینوں میں سے ہے۔دیگر اہل علم کہتے ہیں کہ حرمت کے مہینوں میں لڑائی کی ممانعت منسوخ نہیں ہے اس کی دلیل یہی مذکورہ آیت کریمہ ہے۔ جس میں خاص طور پر لڑائی کی ممانعت کی گئی ہے اور انھوں نے اس بارے میں وارد مطلق نصوص کو مقید پر محمول کیا ہے۔اور بعض علماء نے اس میں یہ تفصیل بیان کی ہے کہ حرمت والے مہینوں میں جنگ کی ابتدا کرنا جائز نہیں ، البتہ اگر جنگ پہلے سے جاری ہو جبکہ اس کی ابتدا حلال مہینوں میں ہوئی ہو تو حرمت کے مہینوں میں اس کی تکمیل جائز ہے اور انھوں نے اہل طائف کے خلاف رسول اللہﷺ کی جنگ کو اسی پر محمول کیا ہے۔ کیونکہ ان کے ساتھ جنگ کی ابتدا حنین میں ہوئی جو شوال کے مہینے میں ہوئی تھی۔ یہ سب اس جنگ کے بارے میں ہے جس میں مدافعت مقصود نہ ہو۔ جہاں تک دفاعی جنگ کا معاملہ ہے جبکہ وہ کفار کی طرف سے شروع کی گئی ہو تو مسلمانوں کو اپنے دفاع میں حرمت والے مہینوں میں بھی جنگ لڑنا جائز ہے۔ اور اس پر تمام اہل علم کا اجماع ہے۔﴿وَلَا الۡهَدۡيَ ﴾ ’’اور نہ قربانی کے جانوروں کی۔‘‘ یعنی تم اس ﴿الۡهَدۡيَ ﴾’’قربانی‘‘ کو جو حج یا عمرہ یا دیگر ایام میں بیت اللہ کو بھیجی جا رہی ہو، حلال نہ ٹھہرا لو۔ اس کو قربان گاہ تک پہنچنے سے مت روکو۔ نہ اسے چوری وغیرہ کے ذریعے سے حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ نہ اس کے بارے میں کوتاہی کرو اور نہ اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ لادو۔ مبادا کہ وہ قربان گاہ تک پہنچنے سے پہلے ہی تلف ہو جائے بلکہ اس ہدی کی اور اس کو لانے والے کی تعظیم کرو۔﴿وَلَا الۡقَلَآىِٕدَ ﴾ ’’اور نہ ان جانوروں کی (جو اللہ کی راہ میں نذر کردیے گئے ہوں اور)جن کے گلوں میں پٹے بندھے ہوں ۔‘‘ یہ ہدی کی ایک خاص قسم ہے یہ ہدی کا وہ جانور ہے جس کے لیے قلادے وغیرہ تیار کر کے صرف اس لیے اس کی گردن میں ڈالے گئے ہوں تاکہ اس سے ظاہر ہو کہ یہ اللہ کے شعائر ہیں، نیز اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ لوگ اس کی پیروی کریں اور اس سے سنت کی تعلیم بھی مقصود ہے۔ تاکہ لوگ پہچان لیں کہ یہ ہدی کا جانور ہے ، لہٰذا حرمت کا حامل ہے۔ بنا بریں ہدی کو علامت کے طور پر قلادے وغیرہ پہنانا سنت ہے اور شعائر مسنونہ میں اس کا شمار ہوتا ہے۔﴿وَلَاۤ آٰمِّيۡنَ الۡبَيۡتَ الۡحَرَامَ ﴾ ’’اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت اللہ) کو جارہے ہوں ۔‘‘ یعنی جو بیت اللہ کا قصد رکھتے ہیں ﴿يَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَرِضۡوَانًا﴾ ’’اور اپنے رب کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہوں ۔‘‘ یعنی جو بیت اللہ پہنچنے کا قصد رکھتا ہے اور وہ تجارت اور جائز ذرائع اکتساب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کا ارادہ لیے ہوئے ہے یا وہ حج، عمرہ، طواف بیت اللہ، نماز اور مختلف انواع کی دیگر عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ارادہ رکھتا ہے، اس کے ساتھ برائی سے پیش آؤ نہ اس کی اہانت کرو بلکہ اس کی تکریم کرو اور تمھارے رب کے گھر کی زیارت کے لیے جانے والوں کی تعظیم کرو۔ اس حکم میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ بیت اللہ کی طرف جانے والے تمام راستوں کو پرامن بنایا جائے تاکہ بیت اللہ کو جانے والے بڑے اطمینان سے اللہ کے گھر کو جا سکیں ، انھیں راستے میں قتل و غارت اور اپنے اموال کے بارے میں کسی چوری ڈاکے اور کسی ظلم کا خوف نہ ہو۔اس آیت کریمہ کے عموم کو اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد خاص کرتا ہے ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِكُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا ﴾(التوبہ: 9؍28) ’’اے ایمان لانے والے لوگو! مشرک تو ناپاک ہیں وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں۔ ‘‘ لہٰذا مشرک حرم میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اس آیت کریمہ میں بیت اللہ کی طرف جانے والے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رضا کا قصد رکھنے والے سے تعرض کرنے کی ممانعت کی تخصیص اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اس نیت سے بیت اللہ کا قصد کرتا ہے کہ گناہوں کے ذریعے سے اس کی ہتک حرمت کا ارتکاب کرے، اس کو اللہ تعالیٰ کے گھر میں فساد پھیلانے سے روکا جائے کیونکہ اسے اس فعل سے روکنا حرم کے احترام کی تکمیل ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَمَنۡ يُّرِدۡ فِيۡهِ بِـاِلۡحَادٍۭؔ بِظُلۡمٍ نُّذِقۡهُ مِنۡ عَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾(الحج: 22؍25) ’’اور جو کوئی اس میں ظلم سے کج روی کرنا چاہے ہم اسے دردناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔‘‘چونکہ اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع کیا ہے اس لیے فرمایا: ﴿وَاِذَا حَلَلۡتُمۡ فَاصۡطَادُوۡا﴾ ’’اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ)شکار کرو۔‘‘ یعنی جب تم حج اور عمرہ کا احرام کھول دو تو تمھارے لیے شکار کرنا جائز ہے اور اب اس کی تحریم ختم ہو گئی ہے۔ تحریم کے بعد کا حکم محرمہ اشیاء کو ان کی اس حالت کی طرف لوٹا دیتا ہے جو تحریم کے حکم سے پہلے تھی۔﴿وَلَا يَجۡرِمَنَّـكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ اَنۡ صَدُّوۡؔكُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اَنۡ تَعۡتَدُوۡا ﴾’’اور لوگوں کی دشمنی، اس وجہ سے کہ انھوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا، تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کرے۔‘‘ یعنی کسی قوم کا بغض، عداوت اور تم پر ان کا ظلم و تعدی کہ انھوں نے تمھیں مسجد حرام تک جانے سے روکا تھا تمھیں ان پر ظلم و تعدی کرنے پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان سے بدلہ لے کر اپنے غصے کو ٹھنڈا کرو۔ کیونکہ بندے پر ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا التزام کرنا اور عدل و انصاف کا راستہ اختیار کرنا فرض ہے۔ خواہ اس کے خلاف جرم، ظلم یا زیادتی کا ارتکاب ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔ جس نے اس پر جھوٹا الزام لگایا، اس پر جھوٹا الزام لگانا اور جس نے اس کے ساتھ خیانت کی، اس کے ساتھ خیانت کرنا کسی حالت میں جائز نہیں ۔﴿وَتَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡـبِرِّ وَالتَّقۡوٰى ﴾ ’’نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔‘‘ یعنی تم نیکیوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔ یہاں ﴿ الۡـبِرِّ ﴾’’نیکی‘‘ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ضمن میں ان تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں اور وہ ان پر راضی ہے۔ اس مقام پر تقویٰ ان تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو ترک کرنے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو ناپسند ہیں ۔ بھلائی کی ہر خصلت جس کے فعل کا حکم یا برائی کی ہر خصلت جسے ترک کرنے کا حکم ہے بندہ خود بھی اس کے فعل پر مامور ہے اور اسے اپنے مومن بھائیوں کے ساتھ، اپنے قول و فعل کے ذریعے سے جو ان کو اس بھلائی پر آمادہ کرے یا اس میں نشاط پیدا کرے، تعاون کرنے کا حکم ہے۔﴿ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡاِثۡمِ ﴾ ’’اور گناہ پر ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو‘‘ اور یہ ان گناہوں پر جسارت ہے جن کے ارتکاب سے انسان گناہ گار اور ناقابل اعتبار ہو جاتا ہے ﴿ وَالۡعُدۡوَانِ ﴾ ’’اور نہ زیادتی پر‘‘ یہ مخلوق کے ساتھ ان کی جان و مال اور ان کی عزت و ناموس کے بارے میں ظلم اور زیادتی ہے۔ پس بندے پر واجب ہے کہ وہ ہر گناہ اور ظلم و تعدی سے اپنے آپ کو بھی روکے اور دوسروں کے ساتھ بھی اس ظلم و تعدی کو ترک کرنے پر تعاون کرے۔ ﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو، کچھ شک نہیں کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو سزا دے گا جو اس کی نافرمانی کرے گا اور محارم کے ارتکاب کی جسارت کرے گا۔ پس ہتک محارم سے بچو مبادا (ایسا نہ ہو) کہ تم اس کی دنیاوی یا اخروی سزا کے مستحق بن جاؤ۔
5:3حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحۡمُ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦ وَٱلۡمُنۡخَنِقَةُ وَٱلۡمَوۡقُوذَةُ وَٱلۡمُتَرَدِّيَةُ وَٱلنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيۡتُمۡ وَمَا ذُبِحَ عَلَى ٱلنُّصُبِ وَأَن تَسۡتَقۡسِمُواْ بِٱلۡأَزۡلَٰمِۚ ذَٰلِكُمۡ فِسۡقٌۗ ٱلۡيَوۡمَ يَئِسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن دِينِكُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَٱخۡشَوۡنِۚ ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗاۚ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ فِي مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٖ لِّإِثۡمٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
حرام کیا گیا تم پر مردہ جانور اور خون اور گوشت سور کا اور وہ جانور کہ پکارا جائے نام غیراللہ کا اس پر اور گلا گھٹنے سے مر جانے والا اور جو مر جائے چوٹ لگنے سے اور گر کر مرنے والا اور جو کسی کے سینگ سے مر جائے اور جس کو کھا جائیں درندے مگر جس کو تم ذبح کر لو اور جو جانور ذبح کیا جائے تھانوں پراور یہ کہ قسمت معلوم کرو فال کے تیروں کے ساتھ، یہ سب گناہ (کے کام) ہیں ۔
[3] یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ ارشاد جس کا اس نے اس آیت کریمہ ﴿ اِلَّا مَا يُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ میں حوالہ دیا ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز حرام ٹھہرائی ہے وہ اپنے بندوں کی حفاظت اور ان کو اس ضرر سے بچانے کے لیے حرام قرار دی ہے جو ان محرمات میں ہوتا ہے۔ کبھی تو اللہ تعالیٰ یہ ضرر اپنے بندوں کے سامنے بیان کر دیتا ہے اور کبھی (اپنی حکمت کے تحت) اس ضرر کو بیان نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ’’مردار‘‘ کو حرام قرار دیا ہے۔ مردار سے مراد وہ مرا ہوا جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح ہوئے بغیر زندگی سے محروم ہو گیا ہو، پس اس جانور کا گوشت ضرر رساں ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور وہ ضرر ہے اس کے اندر گوشت میں خون کا رک جانا، جس کے کھانے سے نقصان پہنچتا ہے اور اکثر جانور، جو کسی بیماری کی وجہ سے جو ان کی ہلاکت کا باعث ہوتی ہے، مر جاتے ہیں ، وہ کھانے والے کے لیے نقصان کا باعث ہیں ، البتہ مری ہوئی ٹڈی اور مچھلی اس حکم سے مستثنی ہے۔ کیونکہ ان کا کھانا حلال ہے۔( یہ استثناء حدیث سے ثابت ہے، (سنن ابن ماجہ، حدیث: 3218) اسی لیے صحیح ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ حدیث کے ساتھ ہی قرآن کی تفہیم اور اس کے احکامات کی تعمیل کی تکمیل ہوتی ہے۔ (ص ۔ ی)﴿وَالدَّمُ ﴾ ’’اور خون‘‘ یعنی بہتا ہوا خون۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اس کو اس صفت سے مقید بیان کیا گیا ہے ﴿ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ ﴾’’اور سور کا گوشت‘‘ اس حرمت میں اس کے تمام اجزا شامل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام ناپاک درندوں میں سے خنزیر کو خاص طور پر منصوص کیا ہے کیونکہ اہل کتاب میں سے نصاریٰ دعویٰ کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے خنزیر کو حلال قرار دیا ہے...، یعنی نصاریٰ سے دھوکہ نہ کھانا کیونکہ یہ خنزیر بھی حرام اور من جملہ خبائث کے ہے۔﴿ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ ﴾ ’’اور وہ جس پر غیراللہ کا نام پکارا جائے‘‘ یعنی اس پر بتوں ، اولیاء، کواکب اور دیگر مخلوق کا نام لیا گیا ہو۔ جس طرح ذبیحہ پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا، اسے پاک کر دیتا ہے اسی طرح غیر اللہ کا نام، ذبیحہ کو معنوی طور پر ناپاک کر دیتا ہے۔ کیونکہ یہ شرک ہے ﴿ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ ﴾ ’’جو جانور گلا گھٹ کر مرجائے۔‘‘ یہ وہ مرا ہوا جانور ہے جس کو ہاتھ سے، رسی سے یا کسی تنگ چیز میں اس کا سر داخل کر کے جہاں سے نکلنا ممکن نہ ہو اس کا گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا ہو۔ ﴿ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ ﴾ ’’جو چوٹ لگ کر مرجائے۔‘‘ اس مرے ہوئے جانور کو کہا جاتا ہے جو لاٹھی، پتھر یا لکڑی وغیرہ کی ضرب سے مرا ہو یا اس پر قصداً یا بغیر قصد کے دیوار وغیرہ گر گئی ہو ﴿ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ۠ ﴾ ’’جو گر کر مرجائے۔‘‘ یعنی جو بلند جگہ ، مثلاً: پہاڑ، دیوار یا چھت وغیرہ سے گر کر مر گیا ہو ﴿وَالنَّطِيۡحَةُ ﴾ اس مرے ہوئے جانور کو کہتے ہیں جسے کسی دوسرے جانور نے سینگ مار کر ہلاک کر دیا ہو ﴿ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ ﴾ جسے بھیڑیے، شیر، چیتے یا کسی شکاری پرندے وغیرہ نے پھاڑ کھایا ہو۔ اگر درندے کے پھاڑ کھانے سے جانور مر جائے تو یہ حلال نہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اِلَّا مَا ذَكَّـيۡتُمۡ ﴾ ’’مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے)ذبح کرلو۔‘‘ گلا گھٹ کر مرنے والے، چوٹ لگ کر مرنے والے، بلندی سے گر کر مرنے والے اور درندے کے پھاڑ کھانے سے مرنے والے جانور کی طرف راجع ہے۔ اگر اس جانور میں پوری طرح زندگی موجود ہو اور اسے ذبح کر لیا جائے تو یہ جانور شرعی طور پر مذبوح ہے۔ بنابریں فقہاء کہتے ہیں ’’اگر کسی درندے وغیرہ نے کسی جانور کو چیر پھاڑ کر اس کی آنتیں اور دیگر اندرونی اعضا کو باہر نکال کر علیحدہ علیحدہ کر دیا ہو یا اس کا حلقوم کاٹ دیا ہو تو اس میں زندگی کا وجود اور عدم وجود مساوی ہیں ۔ کیونکہ اب اس کو ذبح کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘بعض فقہاء اس میں صرف زندگی کے وجود کا اعتبار کرتے ہیں ۔ اگر اس جانور میں بھی زندگی کا وجود ہو اور اس حالت میں اس کو ذبح کر لیا جائے تو وہ حلال ہے خواہ اس کا اندرونی حصہ بکھیر ہی کیوں نہ دیا گیا ہو۔ آیت کریمہ کا ظاہر اسی پر دلالت کرتا ہے۔﴿ وَاَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ ﴾ ’’اور یہ کہ پانسوں کے ذریعے سے قسمت معلوم کرو۔‘‘ یعنی تمھیں تیروں کے ذریعے سے قسمت کا حال معلوم کرنے سے منع کر دیا گیا۔ استسقام کے معنی یہ ہیں کہ جو تمھارے مقسوم اور مقدر میں ہے اسے طلب کرنا۔ جاہلیت کے زمانے میں تین تیر ہوتے تھے جن کو اس کام کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جن میں سے ایک پر لکھا ہوتا تھا کہ ’’یہ کام کر‘‘ دوسرے پر لکھا ہوتا تھا ’’یہ کام نہ کر‘‘ اور تیسرا تیر خالی ہوتا تھا۔ جب کوئی شخص کسی سفر پر روانہ ہونے لگتا یا شادی وغیرہ کرتا تو تینوں تیر کسی ڈونگی وغیرہ میں رکھ کر گھماتے پھر ان میں سے ایک تیر نکال لیتے اگر اس پر لکھا ہوتا ’’یہ کام کر‘‘ تو وہ یہ کام کر لیتا اور اگر لکھا ہوتا ’’یہ کام نہ کر‘‘ تو وہ اس کام میں ہاتھ نہ ڈالتا۔ اگر وہ تیر نکل آتا جس پر کچھ بھی نہ لکھا ہوتا تو وہ اس عمل کا اعادہ کرتا یہاں تک کہ لکھا ہوا تیر نکل آتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اس عمل کو اس صورت میں یا اس سے مشابہ صورت میں حرام قرار دے دیا اور اس کے عوض ان کو تمام امور میں اپنے رب سے استخارہ کرنے کا حکم دیا (جیسا کہ حدیث نبوی سے استخارے کی تاکید ہے۔ جامع الترمذي، حدیث: ۴۸۰)﴿ ذٰلِكُمۡ فِسۡقٌ ﴾ ’’یہ سب گناہ (کے کام) ہیں ۔‘‘ یہ ان تمام محرمات کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے حرام قرار دیا ہے۔ یہ تمام محرمات فسق ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل کر شیطان کی اطاعت میں داخل ہونا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر احسان جتلاتے ہوئے فرماتا ہے: آج ناامید ہوگئے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تمھارے دین سے پس نہ ڈرو تم ان سے اور ڈرو مجھ ہی سے۔ آج مکمل کر دیا میں نے تمھارے لیے تمھارا دین اور پوری کر دی تم پر اپنی نعمت اور پسند کر لیا تمھارے لیے اسلام کو بطور دین کے۔ پس جو لاچار ہو جائے بھوک میں نہ مائل ہونے والا ہو گناہ پر تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے(3)[3] وہ دن جس کی طرف آیت کریمہ میں اشارہ کیا گیا ہے وہ عرفہ کا دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو مکمل فرمایا، اپنے بندے اور رسولﷺ کی مدد کی اور اہل شرک پوری طرح بے یارو مددگار ہو گئے، حالانکہ وہ اس سے پہلے اہل ایمان کو ان کے دین سے پھیرنے کی بہت خواہش رکھتے تھے۔ جب انھوں نے اسلام کا غلبہ، اس کی فتح اور بالادستی دیکھی تو اہل ایمان کو دین سے پھیرنے سے پوری طرح مایوس ہو گئے اور اب ان کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ وہ اہل ایمان سے خوف کھانے لگے۔ بنابریں ، اس سال یعنی ۱۰ ھ میں جب رسول اللہﷺ نے آخری حج کیا تو اس حج میں کسی مشرک نے حج نہیں کیا اور نہ کسی نے عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَاخۡشَوۡنِ ﴾’’تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی مشرکین سے نہ ڈرو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس نے مشرکین کے مقابلے میں تمھاری مدد فرمائی اور ان کو تنہا چھوڑ دیا اور ان کے مکرو فریب اور ان کی سازشیں ان کے سینوں ہی میں لوٹا دیں ۔﴿ اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِيۡنَؔكُمۡ ﴾ ’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو مکمل کر دیا‘‘ یعنی اپنی نصرت کا اتمام کر کے اور ظاہری و باطنی طور پر اور اصول و فروع میں شریعت کی تکمیل فرما کر۔ اسی لیے احکام دین، یعنی اس کے تمام اصول و فروع میں کتاب و سنت کافی ہیں ۔ اگر تکلف کا شکار کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لوگ عقائد اور احکام دین کی معرفت کے لیے کتاب و سنت کے علم کے علاوہ دیگر علوم ، مثلاً:علم کلام وغیرہ کے محتاج ہیں تو وہ جاہل اور اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے گویا وہ اس زعم میں مبتلا ہے کہ دین کی تکمیل اس کے اقوال اور ان نظریات کے ذریعے سے ہوئی ہے جس کی طرف وہ دعوت دیتا ہے اور یہ سب سے بڑا ظلم اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو جاہل قرار دینا ہے۔﴿ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِيۡ ﴾ ’’میں نے تم پر اپنی (ظاہری اور باطنی) نعمت پوری کر دی ﴿ وَرَضِيۡتُ لَكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا ﴾’’اور میں نے تمھارے لیے اسلام کو دین کے طورپر پسند کرلیا۔‘‘ یعنی میں نے اسلام کو تمھارے لیے دین کے طور پر اور تمھیں اسلام کے لیے چن لیا ہے۔ اب اپنے رب کی شکر گزاری کے لیے اس دین کو قائم کرو اور اس ہستی کی حمد و ستائش کرو جس نے تمھیں بہترین، عالی شان اور کامل ترین دین سے نواز کر تم پر احسان فرمایا۔﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ ﴾ ’’پس جو شخص ناچار ہوجائے۔‘‘ یعنی جسے ضرورت ان محرمات میں سے کچھ کھانے پر مجبور کر دے جن کا ذکر ﴿ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ﴾کے تحت گزر چکا ہے ﴿ فِيۡ مَخۡمَصَةٍ ﴾ ’’بھوک کی وجہ سے‘‘ یعنی اگر وہ سخت بھوکا ہو ﴿ غَيۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ ﴾ ’’ گناہ کی طرف مائل نہ ہو۔‘‘ بایں طور کہ وہ ان محرمات کو اس وقت تک نہ کھائے جب تک کہ وہ اضطراری حالت میں نہ ہو اور ضرورت سے بڑھ کر نہ کھائے ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے کہ اس نے بندے کے لیے اس اضطراری حال میں محرمات کو کھانا جائز قرار دے دیا۔ اور اس کی نیت کے مطابق اور دین میں کوئی نقص لاحق کیے بغیر اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم فرمایا۔
5:4يَسۡـَٔلُونَكَ مَاذَآ أُحِلَّ لَهُمۡۖ قُلۡ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُ وَمَا عَلَّمۡتُم مِّنَ ٱلۡجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ ٱللَّهُۖ فَكُلُواْ مِمَّآ أَمۡسَكۡنَ عَلَيۡكُمۡ وَٱذۡكُرُواْ ٱسۡمَ ٱللَّهِ عَلَيۡهِۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ
پوچھتے ہیں آپ سے کہ کیا کیا چیزیں حلال کی گئی ہیں ان کے لیے؟ کہہ دیجیے حلال کر دی گئی ہیں تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں اور (شکار ان کا) جو سدھائے تم نے شکاری جانور، جب سدھانے والے ہو، سکھاتے ہو تم ان کو ان میں سے جو سکھلائیں تمھیں اللہ نے، پس کھاؤ تم ان میں سے جو وہ روک رکھیں تمھاری خاطر اور ذکر کرو نام اللہ کا اس پر اور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے(4)
[4] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَهُمۡ﴾ ’’آپ سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لیے حلال ہیں۔‘‘ یعنی ان کے لیے کون کون سے کھانے حلال ہیں۔ ﴿ قُلۡ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰؔتُ ﴾ ’’کہہ دیجیے! تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں‘‘ ﴿الطَّيِّبٰؔتُ ﴾ سے مراد ہر وہ چیز ہے جس میں کوئی فائدہ ہے اور بدن اور عقل میں نقصان پہنچے بغیر ان سے لذت حاصل ہوتی ہے۔ پس طیبات میں وہ تمام غلہ جات اور پھل وغیرہ شامل ہیں جو بستیوں اور صحراؤں میں پیدا ہوتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ کے مضمون میں وہ تمام حیوانات بھی شامل ہیں جو خشک زمین پر پائے جاتے ہیں سوائے ان حیوانات کے جن کو شارع نے مستثنی قرار دیا ہے، مثلاً: درندے اور ناپاک جانور اور ناپاک اشیاء وغیرہ۔ اسی لیے یہ آیت کریمہ اپنے مفہوم میں ناپاک چیزوں کی تحریم پر دلالت کرتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں صراحت کے ساتھ اس تحریم کو بیان کیا گیا ہے:﴿وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾(الاعراف: 7؍157)’’وہ پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو ان کے لیے حرام ٹھہراتا ہے۔‘‘﴿وَمَا عَلَّمۡتُمۡ مِّنَ الۡجَوَارِحِ ﴾’’اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو۔‘‘ یعنی جو تم شکاری جانوروں کو شکار کرنا سکھاتے ہو وہ شکار بھی تمھارے لیے حلال ہے۔ یہ آیت کریمہ شکار کے متعلق متعدد امور پر دلالت کرتی ہے۔(۱)یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے ان کے لیے رزق حلال کی راہیں کشادہ کر دی ہیں اور ان کے لیے شکاری جانوروں کے شکار کیے ہوئے اس شکار کو حلال کر دیا جس کو ذبح نہیں کر سکتے… شکاری جانور سے مراد کتے، چیتے اور باز وغیرہ ہیں ، جو اپنے دانتوں سے یا پنجے سے شکار کو پکڑتے ہیں ۔(۲) شکاری جانور کے لیے شرط یہ ہے کہ اس کو شکار کے لیے سکھایا گیا ہو۔ ایسا سکھانا جس کو عرف عام میں سکھانا کہتے ہیں ، یعنی اگر اسے شکار پر چھوڑا جائے تو وہ شکار پر جھپٹے اور اگر اس کو روک دیا جائے تو فوراً رک جائے۔ اور جب شکار کو پکڑ لے تو اس کو نہ کھائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿تُعَلِّمُوۡنَهُنَّ مِمَّؔا عَلَّمَؔكُمُ اللّٰهُ١ٞ فَكُلُوۡا مِمَّؔاۤ اَمۡسَكۡنَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور جس (طریق) سے اللہ نے تمھیں (شکار کرنا) سکھایا ہے (اس طریق سے)تم نے ان کو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمھارے لیے پکڑ رکھیں اس کو کھالیا کرو۔‘‘ یعنی وہ شکار کو تمھارے لیے روک رکھیں اور جس شکار میں سے شکاری جانور نے کچھ کھا لیا ہو تو اس کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ آیا اس نے شکار کو اپنے مالک کے لیے پکڑا ہے اور شاید یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے شکار خود اپنے لیے پکڑا ہو۔(۳) شکاری جانور کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ کتا ہو یا باز وغیرہ، شکار کو زخمی کرتا ہو (اس کا گلا نہ گھونٹتا ہو) جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿مِّنَ الۡجَوَارِحِ ﴾سے واضح ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گلا گھٹ کر مر جانے والے جانور کی حرمت گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔ اگر کتے وغیرہ نے شکار کا گلا گھونٹ دیا ہو یا اسے اپنے بوجھ تلے دبا کر اسے ہلاک کر دیا ہو تو اس کا کھانا جائز نہیں ۔ یہ اس اصول پر مبنی ہے کہ شکاری جانور وہ ہیں جو شکار کو اپنے دانتوں یا پنجوں سے زخمی کرتے ہیں ۔﴿جَوَارِحِ ﴾ ’’شکاری جانور‘‘ کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ اس سے مراد شکار کو حاصل کر لینے اور اس کو پا لینے والا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس معنی پر دلالت نہیں کرتی۔ واللہ اعلم۔ (اس لیے ’’جوارح‘‘ کا وہی مفہوم صحیح ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے کی جاچکی ہے)(۴) شکار کے لیے کتا پالنا جائز ہے جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے۔ (صحیح البخاري، کتاب الحرث والمزارعۃ، باب اقتناء الکلب للحرث، حدیث: 2322)اس کے ساتھ ساتھ عام کتا پالنا حرام ہے ... کیونکہ کتے کے شکار اور اس کو شکار کے لیے سکھانے کے جواز سے لازم آتا ہے کہ اس کو پالنا بھی جائز ہے۔(۵)شکار کو اگر کتے کے منہ سے نکلا ہوا لعاب وغیرہ لگ جائے تو وہ پاک ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کتے کے مارے ہوئے شکار کو مباح قرار دیا ہے اور شکار کو دھونے کا حکم نہیں ہے۔ یہ چیز شکار کو لگے ہوئے کتے کے لعاب کی طہارت پر دلالت کرتی ہے۔(۶)اس میں علم کی فضیلت کی دلیل ہے کیونکہ سدھائے ہوئے شکاری جانور کا مارا یا پکڑا ہوا شکار علم کی وجہ سے ہی مباح ہوتا ہے۔ اگر اسے تعلیم نہ دی گئی ہو تو اس کا مارا ہوا شکار جائز نہیں ہوتا۔(۷)شکاری کتے اور شکاری پرندے وغیرہ کو سکھانے میں مشغول ہونا مذموم، عبث اور باطل نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو امر مقصود ہے کیونکہ شکاری جانور کو سکھانا اس کے مارے ہوئے شکار کی حلت اور اس سے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ ہے۔(۸)اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے دلیل ہے جو کتے کی فروخت کو جائز قرار دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ خریدے بغیر کتے کا حصول ممکن نہیں ۔(۹)شکاری جانور کو شکار پر چھوڑتے وقت تکبیر پڑھنا شرط ہے۔ اگر شکاری جانور کو شکار پر چھوڑتے وقت عمداً تکبیر نہ پڑھی گئی ہو تو اس کا مارا ہوا شکار جائز نہیں ۔(۱۰) شکاری جانور کے مارے ہوئے شکار کو کھانا جائز ہے خواہ شکار مر گیا ہو یا زندہ ہو۔ اگر مالک شکار کو اس حالت میں پا لے کہ ابھی وہ زندہ ہو تو ذبح کیے بغیر اس کا کھانا جائز نہیں ۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تقویٰ اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے اور قیامت کے روز حساب سے ڈرایا ہے۔ اور یہ ایسا معاملہ ہے کہ بہت قریب آن لگا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ سے ڈرو بے شک وہ جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘
5:5ٱلۡيَوۡمَ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُۖ وَطَعَامُ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ حِلّٞ لَّكُمۡ وَطَعَامُكُمۡ حِلّٞ لَّهُمۡۖ وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ إِذَآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحۡصِنِينَ غَيۡرَ مُسَٰفِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِيٓ أَخۡدَانٖۗ وَمَن يَكۡفُرۡ بِٱلۡإِيمَٰنِ فَقَدۡ حَبِطَ عَمَلُهُۥ وَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ
آج حلال کر دی گئیں تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں اور کھانا ان لوگوں کا، جن کو دی گئی کتاب، حلال ہے تمھارے لیے۔ اور کھانا تمھارا حلال ہے، ان کے لیے۔ اور (حلال ہیں تمھارے لیے) پاک دامن مسلمان عورتیں اور پاک دامن عورتیں اُن کی جن کو دی گئی کتاب تم سے پہلے، جب دو تم ان کو مہر ان کے، (نیز) قید نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ بدکاری کرنے والے اور نہ بنانے والے خفیہ آشنا۔ اور جو انکار کرے گا ایمان سے تو یقینا برباد ہوگئے اس کے عمل اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا(5)
[5]اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے طیبات کی حلت کو مکرر بیان فرمایا۔ اس میں بندوں کو اس کا شکر ادا کرنے اور کثرت سے ذکر کرنے کی ترغیب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ان چیزوں کو مباح فرمایا جن کے وہ سخت محتاج تھے اور وہ ان طیبات سے فائدے حاصل کرتے ہیں ۔﴿وَطَعَامُ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ حِلٌّ لَّـكُمۡ ﴾ ’’اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے۔‘‘ یعنی اے مسلمانو! تمھارے لیے یہودیوں اور عیسائیوں کے ذبیحے حلال ہیں اور باقی کفار کے ذبیحے حلال نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام اہل کتاب انبیائے کرام اور کتابوں سے منسوب ہیں اور تمام انبیائے کرام غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے کی تحریم پر متفق ہیں کیونکہ یہ شرک ہے۔ پس یہود و نصاریٰ بھی غیر اللہ کے نام پر ذبیحے کی حرمت کے قائل ہیں ۔ اس لیے دیگر کفار کو چھوڑ کر یہود و نصاریٰ کا ذبیحہ حلال قرار دیا گیا ہے۔ اور یہاں ان کے طعام سے مراد ان کا ذبیحہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ طعام جو ذبیحہ کے زمرے میں نہیں آتا ، مثلاً:غلہ اور پھل وغیرہ تو اس میں اہل کتاب کی کوئی خصوصیت نہیں ۔ غلہ اور پھل تو حلال ہیں ، اگرچہ وہ اہل کتاب کے علاوہ کسی اور کا طعام ہوں ۔ نیز طعام کو ان کی طرف مضاف کیا گیا ہے جو اس امر کی دلیل ہے کہ وہ ان کا ذبیحہ ہونے کے سبب سے ’’ان کا کھانا‘‘ ہے۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ اضافت تملیک کے لیے ہے اور یہ کہ اس سے مراد وہ کھانا ہے، جس کے وہ مالک ہیں ۔ کیونکہ غصب کے پہلو سے یہ بھی حلال نہیں خواہ مسلمانوں ہی کا ہو۔﴿ وَطَعَامُكُمۡ حِلٌّ لَّهُمۡ﴾ ’’اور تمھارا کھانا ان کو حلال ہے۔‘‘ اے مسلمانو! اگر تم اپنا کھانا اہل کتاب کو کھلاؤ تو یہ ان کے لیے حلال ہے ۔﴿وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’آزاد اور عفت ماب مومن عورتیں (تمھارے لیے حلال ہیں )‘‘ ﴿وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ ﴾ ’’اور آزاد پاک دامن اہل کتاب کی عورتیں ۔‘‘ یعنی یہود و نصاریٰ کی آزاد عفت ماب عورتیں بھی تمھارے لیے حلال ہیں ۔ اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تخصیص کرتی ہے ﴿وَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّ ﴾(البقرہ: 2؍221) ’’اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں ۔‘‘آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ مومن لونڈیوں کا آزاد مردوں کے ساتھ نکاح جائز نہیں ۔ لیکن اہل کتاب لونڈیوں کا نکاح، آزاد مومن مردوں کے ساتھ مطلقا حرام ہے۔ اور اس کی دلیل اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿مِنۡ فَتَيٰتِكُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾(النساء: 4؍25)’’اور ان لونڈیوں سے نکاح کر لو جو مومن ہیں ۔‘‘اگر مسلمان عورتیں لونڈیاں ہوں تو آزاد مردوں کے ساتھ ان کے نکاح کے لیے دو شرائط ہیں ۔(۱)مرد آزاد عورت کے ساتھ نکاح کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو۔(۲) عدم نکاح کی صورت میں اسے حرام میں پڑنے کا خدشہ ہو۔رہی فاجر عورتیں ، جو زنا سے نہیں بچتیں ، ان کے ساتھ نکاح جائز نہیں خواہ وہ مسلمان ہوں یا اہل کتاب سے تعلق رکھتی ہوں جب تک کہ وہ حرام کاری سے تائب نہ ہو جائیں ۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿اَلزَّانِيۡ لَا يَنۡكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوۡ مُشۡرِكَةً﴾(النور: 24؍3)’’زانی مرد نکاح نہیں کرتا مگر زانی عورت یا مشرک عورت کے ساتھ ہی۔‘‘﴿اِذَاۤ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ ﴾ ’’جبکہ ان کا مہر دے دو۔‘‘ یعنی جب تم ان کے مہر ادا کر دو تو ہم نے ان کے ساتھ تمھارا نکاح جائز قرار دے دیا ہے۔ اور جس کا یہ ارادہ ہو کہ وہ مہر ادا نہیں کرے گا تو وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں ہے۔ اگر عورت سمجھ دار ہے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ خود اسے مہر ادا کیا جائے ورنہ شوہر اس کے سرپرست کو مہر ادا کرے۔ حق مہر کی عورتوں کی طرف اضافت دلالت کرتی ہے کہ عورت اپنے تمام حق مہر کی خود مالک ہوتی ہے اس میں کسی کا کوئی حصہ نہیں ۔ سوائے اس کے کہ عورت خود اپنے شوہر کو یا اپنے ولی (سرپرست) وغیرہ کو یہ مہر عطا کر دے۔ ﴿مُحۡصِنِيۡنَ ﴾ ’’اور عفت قائم رکھنی مقصود ہو۔‘‘ یعنی اے شوہرو! اس حال میں کہ تم اپنی بیویوں کی عفت کی حفاظت کر کے ان کو پاک باز رکھو ﴿غَيۡرَ مُسٰفِحِيۡنَ ﴾ ’’نہ کہ اس حال میں کہ تم ہر ایک کے ساتھ زنا کرتے پھرو۔‘‘ ﴿وَلَا مُتَّؔخِذِيۡۤ اَخۡدَانٍ﴾ اور نہ اس حالت میں کہ تم اپنی معشوقاؤں کے ساتھ بدکاری کرو (اخدان)سے مراد ہے معشوقاؤں کے ساتھ زنا کرنا۔ زمانۂ جاہلیت میں زناکاروں کی دو اقسام تھیں :(۱) کسی بھی عورت کے ساتھ زنا کرنے والے ۔ ان کو ﴿مُسٰفِحِيۡنَ ﴾کہاجاتا ہے۔(۲) صرف اپنی محبوبہ کے ساتھ زنا کرنے والے۔ یہ ﴿اَخۡدَانٍ﴾ہیں ۔پس اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ یہ دونوں صورتیں پاک دامنی کے منافی ہیں اور یہ کہ نکاح کی شرط یہ ہے کہ مرد زناکاری سے دامن بچانے والا ہو۔﴿وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِالۡاِيۡمَانِ فَقَدۡ حَبِطَ عَمَلُهٗ ﴾ ’’اور جو منکر ہوا ایمان سے تو ضائع ہو گئے عمل اس کے‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ اور ان چیزوں کے ساتھ کفر کرتا ہے جن پر ایمان لانا فرض ہے ، مثلاً: اللہ تعالیٰ کی کتابیں اور اس کے انبیاء و رسل علیہ السلام اور شریعت کے بعض امور... اور وہ اسی کفر کی حالت میں مر جاتا ہے تو اس کے تمام اعمال اکارت چلے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَنۡ يَّرۡتَدِدۡ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡنِهٖ فَيَمُتۡ وَهُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾(البقرۃ: 2؍217) ’’تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر کر کافر ہو جائے اور وہ کفر کی حالت میں مر جائے تو دنیا اور آخرت میں اس کے تمام اعمال اکارت جائیں گے۔‘‘ ﴿وَ هُوَ فِي الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘ یعنی ان کا شمار ان لوگوں میں ہو گا جو قیامت کے روز، اپنی جان، مال اور اپنے اہل و عیال کے بارے میں سخت خسارے میں ہوں گے۔ اور ابدی بدبختی ان کا نصیب بنے گی۔
5:6يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا قُمۡتُمۡ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ فَٱغۡسِلُواْ وُجُوهَكُمۡ وَأَيۡدِيَكُمۡ إِلَى ٱلۡمَرَافِقِ وَٱمۡسَحُواْ بِرُءُوسِكُمۡ وَأَرۡجُلَكُمۡ إِلَى ٱلۡكَعۡبَيۡنِۚ وَإِن كُنتُمۡ جُنُبٗا فَٱطَّهَّرُواْۚ وَإِن كُنتُم مَّرۡضَىٰٓ أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوۡ جَآءَ أَحَدٞ مِّنكُم مِّنَ ٱلۡغَآئِطِ أَوۡ لَٰمَسۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُواْ مَآءٗ فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدٗا طَيِّبٗا فَٱمۡسَحُواْ بِوُجُوهِكُمۡ وَأَيۡدِيكُم مِّنۡهُۚ مَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيَجۡعَلَ عَلَيۡكُم مِّنۡ حَرَجٖ وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمۡ وَلِيُتِمَّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب اٹھو تم نماز کے لیے تو دھوؤ اپنے چہرے اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک اور مسح کرو اپنے سروں کا اور (دھوؤ) اپنے پاؤں ٹخنوں تک اور اگر ہو تم جنبی تو غسل کرو اور اگر ہو تم (شدید) بیمار یا سفر میں یا آئے کوئی تم میں سے قضائے حاجت سے یا ہم بستری کی ہو تم نے عورتوں سے، پھر نہ پاؤ تم پانی تو تیمم کر لو مٹی پاک سے پس مسح کرو اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کا اس (مٹی) سے، نہیں ارادہ کرتا اللہ کہ کرے تم پر کوئی تنگی لیکن ارادہ کرتا ہے وہ کہ پاک کر دے تم کو اور تاکہ پوری کرے اپنی نعمت تم پر تاکہ تم شکر کرو(6)
[6]یہ آیت عظیمہ بہت سے احکام پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق سے ان کو بیان کرنے کی جتنی آسانی عطا فرمائی ہم ان کو بیان کریں گے۔(۱) جو کچھ اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے ان پر عمل کرنا لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم اس طرح صادر ہوتا ہے ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا …﴾یعنی اے ایمان والے لوگو! اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق ان امور پر عمل کرو جو ہم نے تمھارے لیے مشروع کیے ہیں ۔(۲) اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿اِذَا قُمۡتُمۡ اِلَى الصَّلٰوةِ ﴾’’جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو۔‘‘ سے نماز کو قائم کرنے کا حکم ثابت ہوتا ہے۔(۳) اس میں نماز کے لیے نیت کے حکم کا اثبات ہے فرمایا: ﴿اِذَا قُمۡتُمۡ اِلَى الصَّلٰوةِ ﴾یعنی جب تم نماز کی نیت اور ارادے سے اٹھو۔(۴) نماز کی صحت کے لیے طہارت شرط ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز کے لیے اٹھتے وقت طہارت کا حکم دیا ہے اور اصولی طور پر حکم (امر)وجوب کے لیے ہوتا ہے۔(۵)طہارت نماز کا وقت داخل ہونے پر واجب نہیں ہوتی بلکہ یہ تو صرف اس وقت واجب ہوتی ہے جب نماز پڑھنے کا ارادہ کیا جائے۔(۶) ہر وہ نماز جس پر (الصلوۃ) کا اطلاق کیا جائے، مثلاً: فرض، نفل، فرض کفایہ اور نماز جنازہ وغیرہ ہر قسم کی نماز کے لیے طہارت فرض ہے حتیٰ کہ بہت سے اہل علم کے نزدیک مجرد سجدہ ، مثلاً:سجدۂ تلاوت اور سجدہ شکر کے لیے بھی طہارت ضروری ہے۔(۷) اس میں چہرے کے دھونے کا حکم ہے اور چہرے میں چہرے کا صرف سامنے کا حصہ شامل ہے یعنی سر کے بالوں کی حدود سے لے کر طول میں جبڑوں کے نیچے اور ٹھوڑی تک۔ اور عرض میں ایک کان سے دوسرے کان تک۔ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا چہرے کے دھونے میں شامل ہے۔ اور یہ سنت ہے۔ چہرے پہ اگے ہوئے بال بھی چہرے میں داخل ہیں ۔ اگر یہ زیادہ گھنے نہیں تو تمام جلد تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔ اگر داڑھی گھنی ہو تو اوپر سے دھونا کافی ہے۔ (داڑھی کے بالوں میں خلال کرنا نبیﷺ کے عمل سے ثابت ہے، جامع الترمذي، الطہارۃ، باب ما جاء فی تخلیل اللحیۃ، حدیث: 31، اس لیے گھنی داڑھی میں بالخصوص خلال بھی کیا جائے۔ (ص۔ی)(۸) اس میں ہاتھوں کو دھونے کا حکم ہے اور ہاتھوں کی حد کہنیوں تک ہے۔ جمہور مفسرین کے مطابق (اِلٰی)(مع) کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَهُمۡ اِلٰۤى اَمۡوَالِكُمۡ﴾(النساء: 4؍2) ’’ان کے مال اپنے مالوں کے ساتھ (ملا کر)نہ کھاؤ۔‘‘نیز ہاتھ دھونے کا وجوب اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ کہنیوں کو پوری طرح نہ دھویا جائے۔(۹)سر پر مسح کرنے کا حکم ہے۔(۱۰)پورے سر کا مسح کرنا فرض ہے۔ کیونکہ (با)تَبْعِیض کے لیے نہیں بلکہ اِلْصَاق کے لیے ہے۔ اور یہ تمام تر سر کے مسح کو شامل ہے۔(۱۱)سر کا مسح دونوں ہاتھوں سے کیا جائے یا ایک ہاتھ سے، کسی کپڑے سے کیا جائے یا لکڑی وغیرہ سے، جیسے بھی کیا جائے اکتفا کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسح کا علی الاطلاق حکم دیا ہے کسی وصف سے مقید نہیں کیا۔ پس یہ چیز مسح کے اطلاق پر دلالت کرتی ہے۔(۱۲)وضو میں سر پر مسح کرنا فرض ہے۔ اگر ہاتھوں کے ساتھ سر پر مسح کرنے کی بجائے سر کو دھو لیا جائے۔ تو یہ کفایت نہیں کرے گا کیونکہ اس نے وہ کام نہیں کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔(۱۳)(وضو میں )دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھونے کا حکم دیا گیا ہے، اس کا حکم بھی وہی ہے جو ہاتھوں کے بارے میں ہے۔(۱۴)اس میں ، نَصَب کے ساتھ جمہور کی قراء ت کے مطابق، روافض کا رد ہے۔ اور جب تک پاؤں ننگے ہیں ، ان پر مسح کرنا جائز نہیں ۔(۱۵)’’وَاَرْجُلِکُمْ‘‘ میں جر کے ساتھ قراء ت کے مطابق موزوں پر مسح کی طرف اشارہ ہے۔ دونوں قراء توں کو اپنے اپنے معنی پر محمول کیا جائے گا۔ اگر پاؤں میں موزے نہ پہنے ہوں تو نصب کے ساتھ قراء ت کے مطابق پاؤں دھوئے جائیں ۔ اور اگر پاؤں میں موزے پہنے ہوئے ہیں تو جر کے ساتھ قراء ت کے مطابق پاؤں پر مسح کیا جائے گا۔(۱۶)وضو کے اندر اعضا کو ترتیب کے ساتھ دھونے کا حکم ہے کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو ترتیب کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ نیز جب دو دھوئے جانے والے اعضا کے درمیان مسح والے عضو کا ذکر کیا جائے تو اس کا ترتیب کے سوا کوئی اور فائدہ نہیں ۔(۱۷)ترتیب صرف ان چار اعضا کے ساتھ مخصوص ہے جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ رہا کلی کرنے، ناک میں پانی ڈالنے، منہ دھونے، دایاں بازو اور بایاں بازو، دایاں پاؤں اور بایاں پاؤں دھونے میں ترتیب کا اعتبار تو یہ واجب نہیں ، البتہ منہ دھونے سے پہلے کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا مستحب ہے۔ دایاں ہاتھ پہلے دھونا مستحب ہے۔ اسی طرح دایاں پاؤں پہلے دھونا مستحب ہے۔ کانوں کے مسح سے پہلے سر کا مسح کرنا مستحب ہے۔(۱۸)ہر نماز کے وقت تجدید وضو کا حکم ہے تاکہ مامور بہ پر عمل کیا جا سکے۔(یہ بہتر صورت ہے، ورنہ ایک وضو سے متعدد نمازیں پڑھنا جائز ہے‘ بشرطیکہ وضو برقرار ہو۔فتح مکہ کے دن رسول اللہﷺ نے ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھیں اور فرمایا کہ یہ میں نے عمداً کیاہے، تاکہ لوگوں کو اس کا جواز معلوم ہوجائے ،صحیح مسلم، الطہارۃ، باب جواز الصلوات کلہا بوضوء واحد، حدیث: 277۔ (ص۔ى)(۱۹)جنابت کی حالت میں غسل کا حکم دیا گیا ہے۔(۲۰)غسل جنابت میں تمام بدن کا دھونا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے طہارت حاصل کرنے کو بدن کے کسی ایک حصے کے ساتھ مخصوص کرنے کی بجائے تمام بدن کی طرف مضاف کیا ہے۔(۲۱)جنابت کی حالت میں بالوں کو اندر اور باہر سے دھونے کا حکم ہے۔(۲۲)طہارت کے حصول کے وقت حدث اصغر حدث اکبر کے اندر شامل ہوتا ہے۔ حدث اکبر سے طہارت کے حصول کے لیے غسل کرنے سے حدث اصغر سے بھی طہارت حاصل ہو جاتی ہے اس کے لیے اس کی نیت کر لینا کافی ہے، پھر وہ تمام بدن پر پانی بہائے کیونکہ اللہ نے صرف پاکیزگی حاصل کرنے کا ذکر کیا ہے اور وضو لوٹانے کا ذکر نہیں فرمایا۔(لیکن یہ بات اس وقت صحیح ہوگی جب سنت کے مطابق غسل جنابت کیا جائے۔ اور وہ مسنون طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ہاتھ دھوئے جائیں، پھر شرم گاہ کو بائیں ہاتھ سے دھو کر اس ہاتھ کو مٹی یا صابن وغیرہ سے دھویا جائے۔ پھر وضو کیا جائے اور سر پر مسح کرنے کے بجائے تین بار سر پر پانی ڈالا جائے۔ پھر سارے بدن پر پانی ڈال کر غسل کیا جائے۔ پھر آخر میں جگہ بدل کر پیر دھوئے۔ اس طرح غسل جنابت کے بعد دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں ، بشرطیکہ دوران غسل شرم گاہ کو ہاتھ نہ لگے۔ (ص۔ي)(۲۳)جنبی کا اطلاق اس شخص پر ہوتا ہے جس سے جاگتے یا سوتے منی خارج ہوئی ہو یا اس نے مجامعت کی ہو خواہ منی کا انزال نہ ہوا ہو۔(۲۴)جسے یاد آ جائے کہ اسے احتلام ہوا ہے مگر کپڑوں پر منی کے نشانات موجود نہ ہوں تو اس پر غسل واجب نہیں کیونکہ جنابت متحقق نہیں ہوئی۔(۲۵)اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس احسان کا ذکر ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے لیے تیمم مشروع فرمایا۔(۲۶)تیمم کے جواز کے اسباب میں سے ایک سبب ایسا مرض ہے جس میں پانی کے استعمال سے ضرر پہنچتا ہو۔ اس صورت میں تیمم جائز ہے۔ نیز تیمم کے جواز کے جملہ اسباب میں سفر، وضو کا ٹوٹنا اور پانی کا موجود نہ ہونا شامل ہیں ۔ پس پانی موجود ہونے کے باوجود مرض بھی تیمم کو جائز کر دیتا ہے کیونکہ وضو سے ضرر کا اندیشہ ہے... اور باقی صورتوں میں پانی کا معدوم ہونا تیمم کا جواز فراہم کرتا ہے۔ خواہ انسان اپنے گھر میں ہی ہو۔(۲۷)پیشاب اور پاخانہ کے راستوں میں سے کوئی چیز باہر نکلے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔(۲۸)وہ اہل علم جو اس بات کے قائل ہیں کہ ان دو امور کے سوا کسی چیز سے وضو نہیں ٹوٹتا، وہ یہیں سے استدلال کرتے ہیں ان کے نزدیک فرج وغیرہ کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔(۲۹)جس فعل کے لیے صریح لفظ برا اور نامناسب لگتا ہو اس کے لیے کنایہ استعمال کرنا مستحب ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَوۡ جَآءَؔ اَحَدٌ مِّؔنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآىِٕطِ ﴾’’یا تم میں سے کوئی بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو۔‘‘(۳۰) لذت اور شہوت سے عورت کے بدن کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔(فاضل مفسر رحمہ اللہ نے غالباً لمس کو لغوی معنی ہاتھ سے چھونے کے مفہوم میں لے کر یہ بات کہی ہے، جیسا کہ لمس کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے۔ اور دوسری تفسیر لمس کی۔ جماع۔ کی گئی ہے۔ اس تفسیر کی رو سے محض عورت کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹے گا، ہاں اگر چھونے سے مذی یا منی کا اخراج ہوگیا تو مذی کی صورت میں ذکر (آلۂ تناسل) کو دھو کر وضو کرنا اور منی کی صورت میں غسل کرنا ضروری ہوگا۔ بصورت دیگر چاہے لذت و شہوت سے چھوئے، حتیٰ کہ بوسہ بھی لے لے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ (دیکھیے، الاحادیث الضعیفۃ للالباني، رقم: 1000)(ص۔ي)(۳۱)تیمم کی صحت پانی کے عدم وجود سے مشروط ہے۔(۳۲) پانی کے وجود کے ساتھ ہی، خواہ انسان نماز کے اندر ہی کیوں نہ ہو، تیمم باطل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے پانی کی عدم موجودگی میں تیمم کو مباح فرمایا ہے۔ (یہ بھی بعض ائمہ کی رائے ہے۔ ایک دوسری رائے یہ ہے کہ نماز شروع کردینے کے بعد نماز کے توڑنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ نماز پوری پڑھ لے۔ اس لیے کہ جس وقت اس نے نماز شروع کی تھی تو وہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے تیمم کرکے شروع کی تھی اور اس کا ایسا کرنا شریعت کے مطابق تھا، اس لیے اس کی نماز صحیح ہوگی۔ کیونکہ یہ تیمم نماز کے ختم ہونے تک باطل نہیں ہوگا۔ (ص۔ي)(۳۳)جب نماز کا وقت داخل ہو جائے اور انسان کے پاس پانی موجود نہ ہو تو اس پر اپنے پڑاؤ اور ارد گرد نزدیک کے علاقہ میں پانی تلاش کرنا لازم ہے۔ کیونکہ جس کسی نے پانی کو تلاش ہی نہ کیا ہو تو اس کے لیے (لَمْ یَجِدْ)’’اس نے پانی نہ پایا‘‘ کا لفظ نہیں بولا جاتا۔(۳۴)اگر تلاش کے بعد اسے اتنا پانی ملے جو پورے وضو کے لیے کافی نہ ہو تو اس پر اس پانی کا استعمال لازم ہے۔ اس کے بعد تیمم کر لے۔(۳۵) پاک اشیا ءکی وجہ سے متغیر پانی، تیمم پر مقدم ہے، یعنی یہ پانی طاہر پانی شمار ہو گا کیونکہ متغیر پانی بھی پانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءًؔ ﴾کے حکم میں آئے گا۔(۳۶) تیمم میں نیت بہت ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَتَيَمَّمُوۡا ﴾ یعنی قصد کرو۔ (۳۷) تیمم کے لیے سطح زمین پر پڑی ہوئی گرد وغیرہ کافی ہوتی ہے تب اس صورت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ ﴾ یا تو تغلیب کے باب سے ہے اور غالب طور پر اس کے لیے غبار کا ہونا ضروری ہے جس سے مسح کیا جائے اور جو چہرے اور ہاتھوں کے ساتھ لگ جائے یا یہ افضل کی طرف راہنمائی ہے، یعنی جب ایسی مٹی کا حصول ممکن ہو جس میں غبار شامل ہو تو وہ افضل ہے۔ (۳۸) نجس مٹی سے تیمم نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ پاک نہیں بلکہ ناپاک ہے۔ (۳۹) تیمم میں تمام اعضا کی بجائے صرف چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرنا کافی ہے۔ (۴۰) اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿بِوُجُوۡهِكُمۡ ﴾ تمام چہرے کو شامل ہے اور تمام چہرے کا مسح واجب ہے، البتہ اس سے منہ اور ناک کے اندر مٹی داخل کرنا اور بالوں کی جڑوں تک مسح کرنا مستثنی ہے۔ (۴۱) ہاتھوں کا مسح صرف ہاتھ اور کلائی کے جوڑ تک ہے کیونکہ ہاتھ کا اطلاق صرف گٹے تک ہے۔ اگر کہنیوں تک ہاتھوں پر مسح تیمم کے لیے شرط ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس شرط سے مقید فرما دیتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وضو میں مقید فرمایا ہے۔ (۴۲) حدث (ناپاکی) خواہ اکبر ہو یا اصغر، ہر قسم کی ناپاکی میں تیمم جائز ہے بلکہ اگر جسم پر نجاست بھی لگی ہو، تب بھی تیمم جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تیمم کے ذریعے سے طہارت کو پانی کے ذریعے سے طہارت کا بدل بنایا ہے اور آیت کریمہ کے اطلاق کو کسی چیز سے مقید نہیں فرمایا۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ بدن کی نجاست، تیمم کے حکم میں داخل نہیں ۔ کیونکہ آیت کریمہ کا سیاق حدث اکبر اور حدث اصغر کے بارے میں ہے اور یہ جمہور علماء کا مذہب ہے۔ (۴۳)حدث اکبر اور حدث اصغر دونوں میں تیمم کا محل ایک ہی ہے یعنی چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرنا۔ (۴۴) وہ شخص جسے حدث اصغر اور حدث اکبر دونوں لاحق ہیں اگر تیمم کرتے وقت دونوں سے طہارت کی نیت کر لے تو تیمم ہو جائے گا۔ آیت کریمہ کا عموم اور اطلاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ (۴۵) تیمم میں مسح ہاتھ سے یا کسی اور چیز سے جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد (فَامْسَحُوا) میں صرف مسح کا حکم دیا ہے اور یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس چیز کے ساتھ مسح کیا جائے۔ اس لیے ہر چیز کے ساتھ مسح جائز ہے۔ (۴۶) تیمم میں بھی ترتیب اسی طرح شرط ہے جس طرح وضو میں شرط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھوں کے مسح سے قبل چہرے کا مسح کرنے سے ابتدا کی ہے۔ (۴۷) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمارے لیے جو احکام مشروع فرمائے ہیں ان میں ہمارے لیے کوئی حرج، کوئی مشقت اور کوئی تنگی نہیں رکھی۔ یہ اس کی اپنے بندوں پر بے پایاں رحمت ہے تاکہ وہ ان کو پاک کرے اور ان پر اپنی نعمت کا اتمام کرے۔ (۴۸) پانی اور مٹی کے ذریعے سے ظاہری بدن کی طہارت توحید اور خالص توبہ کے ذریعے سے حاصل ہونے والی باطنی طہارت کی تکمیل ہے۔ (۴۹) تیمم کی طہارت میں اگرچہ وہ نظافت اور طہارت نہیں ہوتی جس کا حس اور مشاہدہ کے ذریعے سے ادراک ہو سکتا ہو ،تاہم اس میں معنوی طہارت ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے پیدا ہوتی ہے۔ (۵۰) بندے کے لیے مناسب ہے کہ وہ طہارت اور دیگر شرعی احکام میں پوشیدہ اسرار و حکمت میں تدبر کرے تاکہ اس کے علم و معرفت میں اضافہ ہو۔ اور اس کی شکر گزاری اور محبت زیادہ ہو۔ ان احکام پر جو اللہ تعالیٰ نے مشروع کیے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر بندہ بلند مقامات تک پہنچ سکتا ہے۔
5:7وَٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ وَمِيثَٰقَهُ ٱلَّذِي وَاثَقَكُم بِهِۦٓ إِذۡ قُلۡتُمۡ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
اور یاد کرو اللہ کی نعمت کو (جو ہوئی) تم پر اور اس عہد کو جو معاہدہ کیا اس نے تم سے ساتھ اس کے، جب کہا تم نے، سنا ہم نے اور اطاعت کی ہم نےاور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(7)
[7]اللہ تبارک و تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اس کی عطا کردہ دینی اور دنیاوی نعمتوں کا قلب اور زبان سے ذکر کیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے دائمی ذکر میں اس کے لیے شکر اور محبت کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور بندے کا دل اس کے احسان کی معرفت سے لبریز ہو جاتا ہے، دینی نعمتوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کے بارے میں نفس کی خود پسندی زائل ہوتی ہے۔﴿وَمِيۡثَاقَهُ ﴾ ’’(اور یاد کرو) اس عہد کو بھی۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے میثاق کو یاد کرو ﴿الَّذِيۡ وَاثَقَكُمۡ ﴾ ’’جس کا تم سے قول لیا تھا۔‘‘ یعنی وہ عہد جو اس نے تم سے لیا۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ بندوں نے اپنے نطق زبان سے اس عہد و میثاق کا اقرار کیا تھا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر اللہ اور رسول کی اطاعت کا التزام کیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿اِذۡ قُلۡتُمۡ سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا﴾ ’’جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے (اللہ کا حکم) سن لیا اور قبول کرلیا۔‘‘ یعنی تو نے اپنی آیات قرآنیہ اور کونیہ کے ذریعے سے ہمیں جو دعوت دی، ہم نے اسے فہم، اطاعت اور فرماں برداری کے ساتھ سنا۔ تو نے جن امور پر عمل پیرا ہونے اور جن سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہم نے اس کی اطاعت کی۔ یہ ظاہری اور باطنی تمام شرعی احکام کو شامل ہے۔اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے اس عہد کو یاد رکھتے ہیں اور یہ عہد ہر وقت انھیں ذہن نشیں رہتا ہے اور جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے اسے کامل طریقے سے ادا کرنے کے حریص ہیں ۔ ﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ﴾ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے۔‘‘ یعنی دل میں جو افکار، اسرار اور خیالات چھپے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی جانتا ہے ، لہٰذا اس بات سے ڈرو کہ تمھارے دلوں میں موجود کسی ایسی بات کی اسے اطلاع ہو جس سے وہ راضی نہیں یا تم سے کوئی ایسا فعل صادر ہو جسے وہ ناپسند کرتا ہے اور اپنے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اللہ کے بندوں کی خیر خواہی سے آباد کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو وہ تمھارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمھاری نیکیوں کو کئی گنا زیادہ کر دے گا کیونکہ اسے علم ہے کہ تمھارے دل درست ہیں ۔
5:8يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّـٰمِينَ لِلَّهِ شُهَدَآءَ بِٱلۡقِسۡطِۖ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعۡدِلُواْۚ ٱعۡدِلُواْ هُوَ أَقۡرَبُ لِلتَّقۡوَىٰۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ہو جاؤ تم قائم رہنے والے (حق پر) اللہ کے لیے، گواہی دینے والے ساتھ انصاف کے اور نہ آمادہ کرے تمھیں دشمنی کسی قوم کی اس بات پر کہ نہ عدل کرو تم، عدل کرو یہی بات زیادہ قریب ہے تقویٰ کےاور ڈرو اللہ سے بے شک اللہ خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو(8)
[8]﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘یعنی اے وہ لوگو جو ان امور پر ایمان لائے ہو جن پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اپنے ایمان کے لوازم کو قائم کرو ﴿كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَؔ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اللہ کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔‘‘ یعنی انصاف کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی دینے کے لیے کھڑے ہونے والے بن جاؤ۔ تمھاری ظاہری اور باطنی حرکات قیام انصاف میں نشاط محسوس کریں ۔ اور یہ قیام عدل دنیاوی اغراض کی خاطر نہ ہو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو اور صرف (قسط)یعنی عدل تمھارا مقصد ہو۔ تمھارے اقوال و افعال میں کسی قسم کی افراط و تفریط نہ ہو اور تم قریب اور بعید، دوست اور دشمن سب کے ساتھ عدل و انصاف کرو۔﴿وَلَا يَجۡرِمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’تمھیں ہرگز آمادہ نہ کرے‘‘ ﴿شَنَاٰنُ قَوۡمٍ ﴾ ’’لوگوں کی دشمنی۔‘‘ یعنی کسی قوم کے ساتھ کینہ و بغض ﴿عَلٰۤى اَلَّا تَعۡدِلُوۡا﴾ ’’اس بات پر کہ تم عدل نہ کرو‘‘ جیسا کہ وہ لوگ کرتے ہیں جن کے پاس عدل و انصاف کا کوئی تصور نہیں ۔ بلکہ ہونا یہ چاہیے کہ جیسے تم اپنے دوست کے حق میں گواہی دیتے ہو، اس کے خلاف بھی گواہی دو اور جیسے تم اپنے دشمن کے خلاف گواہی دیتے ہو تو اس کے حق میں بھی گواہی دو۔ خواہ تمھارا دشمن کافر یا بدعتی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے بارے میں عدل کرنا اور اگر وہ حق بات کہتا ہے تو اسے قبول کرنا فرض ہے اور محض اس وجہ سے اس کا قول قبول نہ کیا جائے کہ وہ دوست کا قول ہے اور نہ دشمن کے قول کو محض اس وجہ سے رد کیا جائے کہ وہ دشمن کا قول ہے کیونکہ یہ حق پر ظلم ہے۔ ﴿اِعۡدِلُوۡا١۫ هُوَ اَ قۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى ﴾ ’’انصاف کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے‘‘ یعنی جب بھی تم عدل کرنے کی خواہش کرو گے اور اس خواہش پر عمل کرنے کی کوشش کرو گے تو یہ چیز تمھارے دلوں کے تقویٰ کے بہت قریب ہے۔ اگر عدل کی تکمیل ہو گئی تو تقویٰ بھی مکمل ہو گیا ﴿اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’یقینا اللہ اس سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو‘‘ اس لیے وہ تمھارے اچھے اور برے، چھوٹے اور بڑے تمام اعمال کی دنیا اور آخرت میں جزا دے گا۔
5:9وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٌ عَظِيمٞ
وعدہ کیا اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا(9) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہی لوگ ہیں دوزخی(10)
[9]﴿وَعَدَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ نے وعدہ کیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جو وعدہ خلافی نہیں کرتا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے جو اس پر، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’اور جنھوں نے نیک عمل کیے‘‘ جو واجبات و مستحبات پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کو بخش دینے، ان کے گناہوں کی سزا کو معاف کر دینے اور ان کو اجر عظیم کے عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے جس کی بڑائی کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍17) ’’کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لیے ان کے اعمال کے صلہ کے طورپر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپارکھی گئی۔‘‘
[10]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کی تکذیب کی جو حق مبین پر دلالت کرتی ہیں حالانکہ ان آیات نے حقائق کو بیان کر دیا تھا ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’وہ جہنمی ہیں ۔‘‘ وہ جہنم کے ساتھ اس طرح لازم رہیں گے جس طرح دوست دوست کے ساتھ لازم رہتا ہے۔
5:10وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَآ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَحِيمِ
وعدہ کیا اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا(9) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہی لوگ ہیں دوزخی(10)
[9]﴿وَعَدَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ نے وعدہ کیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جو وعدہ خلافی نہیں کرتا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے جو اس پر، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’اور جنھوں نے نیک عمل کیے‘‘ جو واجبات و مستحبات پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کو بخش دینے، ان کے گناہوں کی سزا کو معاف کر دینے اور ان کو اجر عظیم کے عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے جس کی بڑائی کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍17) ’’کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لیے ان کے اعمال کے صلہ کے طورپر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپارکھی گئی۔‘‘
[10]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کی تکذیب کی جو حق مبین پر دلالت کرتی ہیں حالانکہ ان آیات نے حقائق کو بیان کر دیا تھا ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’وہ جہنمی ہیں ۔‘‘ وہ جہنم کے ساتھ اس طرح لازم رہیں گے جس طرح دوست دوست کے ساتھ لازم رہتا ہے۔
5:11يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ هَمَّ قَوۡمٌ أَن يَبۡسُطُوٓاْ إِلَيۡكُمۡ أَيۡدِيَهُمۡ فَكَفَّ أَيۡدِيَهُمۡ عَنكُمۡۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب ارادہ کیا تھا ایک قوم نے کہ دراز کریں تمھاری طرف اپنے ہاتھ تو روک دیے اس نے ان کے ہاتھ تم سےاور ڈرو اللہ سے اور اوپر اللہ ہی کے پس چاہیے کہ توکل کریں ایمان والے(11)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے اپنی عظیم نعمتوں کا ذکر کرتا ہے اور انھیں ترغیب دیتا ہے کہ وہ بھی دل و زبان سے ان نعمتوں کا ذکر کیا کریں ۔ جس طرح وہ اپنے دشمنوں کے قتل، ان کے مال کو مال غنیمت بنانے، ان کے شہروں کو فتح کرنے اور ان کے غلام بنانے کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دیتے ہیں اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا بھی اعتراف کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھارے ساتھ لڑنے سے روکا اور ان کی سازشوں اور چالوں کو جو ان کے سینوں میں تھیں ، انھی پر لوٹا دیا۔ اس لیے کہ دشمنوں نے ایک سازش تیار کی اور ان کا گمان تھا کہ وہ اسے بروئے کار لانے میں کامیاب ہوں گے۔ لیکن جب وہ مومنوں کے خلاف اس سازش میں کامیاب نہیں ہوئے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی مدد ہے۔ اس لیے ان کو چاہیے کہ وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ، اس کی عبادت اور اس کا ذکر کریں ۔ کافر، منافقین اور باغیوں میں سے جن لوگوں نے بھی اہل ایمان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا، یہ آیت کریمہ ان سب کو شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کرنے اور دیگر تمام امور میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں ، اس لیے فرمایا:﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔‘‘ یعنی وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے حصول میں اللہ تعالیٰ ہی پر توکل اور اعتماد کریں ، اپنی قوت اور طاقت پر بھروسہ نہ کریں اور اپنے محبوب امور کے حصول میں صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور بندے کے ایمان کے مطابق ہی، اس کا اللہ پر توکل ہوتا ہے اور یہ دل کے ان واجبات میں سے ہے جن پر اتفاق ہے۔
5:12۞وَلَقَدۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ ٱثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيبٗاۖ وَقَالَ ٱللَّهُ إِنِّي مَعَكُمۡۖ لَئِنۡ أَقَمۡتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَيۡتُمُ ٱلزَّكَوٰةَ وَءَامَنتُم بِرُسُلِي وَعَزَّرۡتُمُوهُمۡ وَأَقۡرَضۡتُمُ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا لَّأُكَفِّرَنَّ عَنكُمۡ سَيِّـَٔاتِكُمۡ وَلَأُدۡخِلَنَّكُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۚ فَمَن كَفَرَ بَعۡدَ ذَٰلِكَ مِنكُمۡ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ
اور البتہ تحقیق لیا اللہ نے عہد بنی اسرائیل سے اور مقرر کیے ہم نے ان میں سے بارہ سردار اور کہا اللہ نے، بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں ، ، البتہ اگر قائم رکھو گے تم نماز اور ادا کرو گے زکاۃ اور ایمان لاؤ گے ساتھ میرے رسولوں کے اور تقویت پہنچاؤ گے ان کو اور قرض دو گے تم اللہ کو قرض حسن تو ضرور دور کر دوں گا میں تم سے تمھاری برائیاں اور ضرور داخل کروں گا تمھیں ایسے باغوں میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، پس جس نے کفر کیا بعد اس کے تم میں سے تو تحقیق بھٹک گیا وہ سیدھی راہ سے(12) پس بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو، لعنت کی ہم نے ان پر اور کر دیا ہم نے ان کے دلوں کو سخت، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو ان کی جگہوں سے اور بھول گئے وہ ایک حصہ اس چیز سے کہ نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے اور ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں آپ خیانت پر ان کی مگر تھوڑے لوگ ان میں سے، پس معاف کر دیں آپ ان کو اور درگزر کریں ، بے شک اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(13)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل سے بہت موکد اور بھاری عہد لیا، پھر اس میثاق اور عہد کا وصف بیان فرمایا اور بتایا کہ اگر وہ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کو کیا اجر ملے گا اور اگر وہ اس عہد کو پورا نہیں کریں گے تو ان کو کیا سزا ملے گی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انھوں نے اس عہد کو پورا نہیں کیا اور یہ بھی بتایا کہ ان کو اس کی پاداش میں کیا سزا ملی۔ ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور اللہ نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا۔‘‘ یعنی اللہ نے بنی اسرائیل سے مضبوط اور موکد عہد لیا ﴿وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ اثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيۡبًا﴾ ہم نے ان کے بارہ سردار مقرر کر دیے جو ان کے معاملات کی دیکھ بھال کرتے تھے اور جن باتوں کا انھیں حکم دیا جاتا تھا اس کی تعمیل کرنے پر انھیں آمادہ کرتے تھے۔ ﴿وَقَالَ اللّٰهُ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان نقیبوں (سرداروں ) سے فرمایا جنھوں نے ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھایا تھا ﴿ااِنِّيۡ مَعَكُمۡ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ یعنی میری اعانت و نصرت تمھارے ساتھ ہے۔ کیونکہ مدد ہمیشہ ذمہ داری کے بوجھ کے مطابق ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جن پر عہد لیا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ اَقَمۡتُمُ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اگر تم نماز پڑھتے رہو گے۔‘‘ یعنی اگر تم نماز کو اس کے ظاہری اور باطنی لوازم کے ساتھ قائم کرو اور پھر اس پر دوام اختیار کرو گے ﴿وَاٰتَيۡتُمُ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور زکاۃ دیتے رہو گے۔‘‘ یعنی مستحق لوگوں کو زکٰوۃ دو گے ﴿وَاٰمَنۡتُمۡ بِرُسُلِيۡ ﴾ ’’اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے۔‘‘ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لاؤ گے، جن میں سب سے افضل اور سب سے اکمل جناب محمد مصطفیﷺ ہیں ﴿وَعَزَّرۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی مدد کروگے۔‘‘ یعنی اگر تم انبیاء کی تعظیم اور ان کی اطاعت اور ان کا احترام کرو گے جو تم پر واجب ہے ﴿وَاَقۡرَضۡتُمُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾ ’’اور تم اللہ کو قرض حسن دو گے‘‘ یعنی صدقہ دو گے اور بھلائی کرو گے جس کا مصدر صدق و اخلاص اور کسب حلال ہو۔جب تم مذکورہ بالا تمام امور قائم کر لو گے ﴿لَّاُكَفِّرَنَّ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَلَاُدۡخِلَنَّـكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾’’تو میں تم سے تمھاری برائیاں دور کر دوں گا اور تمھیں ان باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی‘‘ اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت میں اپنی نعمتوں اور محبوب امور کے حصول اور گناہوں کی تکفیر اور اس پر مرتب ہونے والی سزا کو دور کر کے ناپسندیدہ امور کے دور ہٹنے کو یکجا بیان فرمایا۔﴿فَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر جس نے اس کے بعد کفر کیا۔‘‘ یعنی جو کوئی اس عہد و میثاق کے بعد جسے ایمان اور ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے موکد کیا گیا ہے۔ کفر کا رویہ اختیار کرتا ہے ﴿فَقَدۡ ضَلَّ سَوَؔآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ یعنی وہ جان بوجھ کر سیدھے راستے سے بھٹکتا ہے تو وہ اسی سزا کا مستحق ہو گا، جس کے مستحق گمراہ لوگ ہوں گے، جیسے ثواب سے محرومی اور عذاب سے دوچار ہونا۔
[13] گویا یوں کہا گیا ہے کہ ’’ کاش ہمیں بھی معلوم ہو تا کہ انھوں نے کیا کیا؟ کیا انھوں نے اس عہد کو پورا کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا یا اس عہد کو توڑ دیا؟‘‘ پس اللہ نے واضح کر دیا کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ کیے گئے اس عہد کو توڑ دیا، چنانچہ فرمایا:﴿فَبِمَا نَقۡضِهِمۡ مِّؔيۡثَاقَهُمۡ ﴾’’تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب۔‘‘ یعنی ان کے نقض عہد کے سبب سے ہم نے ان کو متعدد سزائیں دیں ۔(۱)﴿لَعَنّٰهُمۡ ﴾’’ہم نے ان پر لعنت کی۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو دھتکار کر اپنی رحمت سے دور کر دیا کیونکہ انھوں نے اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے بند کر لیے اور انھوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے۔(۲)﴿وَجَعَلۡنَا قُلُوۡبَهُمۡ قٰسِيَةً﴾’’اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو پتھر دل بنا دیا، پس وعظ و نصیحت ان کے کسی کام آ سکتے ہیں نہ آیات اور نہ ہی برے انجام سے ڈرانے والے انھیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ کوئی شوق انھیں ترغیب دے سکتا ہے نہ کوئی خوف ان کو یہ عہد پورا کرنے کے لیے بے قرار کر سکتا ہے۔ بندے کے لیے یہ سب سے بڑی سزا ہے کہ اس کے دل کی یہ کیفیت ہو جائے کہ ہدایت اور بھلائی بھی اس پر برا اثر کریں ۔(۳)﴿يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ﴾ ’’یہ لوگ کلمات (کتاب)کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ کلام اللہ میں تغیر و تبدل کے بھی مرتکب ہوئے، چنانچہ انھوں نے کلام الٰہی کے اس معنی کو، جو اللہ تعالیٰ کی مراد تھا، بدل کر وہ معنی بنا دیا جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہ تھا۔(۴)﴿وَنَسُوۡا حَظًّا مِّؔمَّؔا ذُكِّرُوۡا بِهٖ﴾’’اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔‘‘ انھیں تورات اور ان تعلیمات کے ذریعے سے نصیحت کی گئی جو موسیٰu پر نازل کی گئی تھیں مگر انھوں نے ان کو فراموش کر دیا۔ یہ اس بات کو بھی شامل ہے کہ انھوں نے جناب موسیٰu کے علم کو فراموش کر دیا بنابریں علم ان سے ضائع ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ بہت سا علم ناپید ہو گیا۔ یہ آیت کریمہ نسیان عمل کو بھی شامل ہے جو ترک عمل کا نتیجہ ہے، پس جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا تھا اس پر عمل کرنے کی ان کو توفیق نہ ہوئی۔اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انھوں نے بعض ان امور کا جو انکار کیا جن کا ذکر ان کی کتابوں میں ہے یا ان کے زمانے میں واقع ہوئے، یہ بھی ان باتوں میں سے ہے جن کو انھوں نے فراموش کیا۔(۵) دائمی خیانت، جس کے بارے میں فرمایا:﴿وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآىِٕنَةٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور آپ ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں ان کی خیانت پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے بندوں کے ساتھ خیانت۔ اور ان کی سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ انھوں نے ان لوگوں سے حق کو چھپایا جو ان کو نصیحت کرتے تھے اور ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے تھے ۔ اور ان کو ان کے کفر پر باقی رکھنا۔ پس یہ بہت بڑی خیانت ہے۔ اور جو کوئی ان صفات سے متصف ہوتا ہے اس میں یہ مذموم خصائل پائے جاتے ہیں ۔پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور ان کا التزام نہیں کرتا تو اس لعنت، قساوت قلبی اور کلام الٰہی کی تحریف میں وہ بھی حصہ دار ہوتا ہے۔ اس کو بھی حق اور صواب کی توفیق نہیں ملتی وہ بھی ان امور کو فراموش کرنے کا مرتکب ہوتا ہے جن کی اسے یاد دہانی کروائی گئی تھی اور ایسے شخص کا خیانت میں مبتلا ہونا بھی یقینی ہے۔ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طلب گار ہیں ۔جس امر کی انھیں یاد دہانی کروائی گئی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو﴿حَظًّا ﴾ ’’حصہ، نصیبہ‘‘ کے نام سے اس لیے موسوم کیا ہے کیونکہ یہ سب سے بڑا حظ ہے اس کے علاوہ دیگر تمام حظوظ دنیاوی حظوظ ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَخَرَ جَ عَلٰى قَوۡمِهٖ فِيۡ زِيۡنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(القصص: 28؍79) ’’قارون بڑی سج دھج کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے طالب تھے، کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ دیا گیا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ وہ تو بہت بڑے نصیبے والا ہے۔‘‘ اور حظ نافع کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(حم السجدۃ: 41؍35)’’یہ بات صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور اس سے وہی لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں جو بہت بڑے نصیبے والے ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’تھوڑے آدمیوں کے سوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ بہت کم تھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا اسے پورا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق سے نوازا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی راہنمائی کی ﴿فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاصۡفَحۡ﴾ ’’پس آپ ان کی خطائیں معاف کردیں اور ان سے درگزر فرمائیں ۔‘‘ ان کی طرف سے آپ کو جو بھی کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو معاف کر دینے کے قابل ہو اسے معاف کر دیا کریں ۔ اور ان سے درگزر کیجیے کیونکہ یہ بھلائی ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔‘‘ اور احسان یہ ہے کہ تو اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اپنے آپ میں یہ کیفیت پیدا نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ تو تجھے دیکھ رہا ہے اور مخلوق کے حق میں احسان یہ ہے کہ تو انھیں دینی اور دنیاوی فائدے سے نوازے۔
5:13فَبِمَا نَقۡضِهِم مِّيثَٰقَهُمۡ لَعَنَّـٰهُمۡ وَجَعَلۡنَا قُلُوبَهُمۡ قَٰسِيَةٗۖ يُحَرِّفُونَ ٱلۡكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ وَنَسُواْ حَظّٗا مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِۦۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَآئِنَةٖ مِّنۡهُمۡ إِلَّا قَلِيلٗا مِّنۡهُمۡۖ فَٱعۡفُ عَنۡهُمۡ وَٱصۡفَحۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
اور البتہ تحقیق لیا اللہ نے عہد بنی اسرائیل سے اور مقرر کیے ہم نے ان میں سے بارہ سردار اور کہا اللہ نے، بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں ، ، البتہ اگر قائم رکھو گے تم نماز اور ادا کرو گے زکاۃ اور ایمان لاؤ گے ساتھ میرے رسولوں کے اور تقویت پہنچاؤ گے ان کو اور قرض دو گے تم اللہ کو قرض حسن تو ضرور دور کر دوں گا میں تم سے تمھاری برائیاں اور ضرور داخل کروں گا تمھیں ایسے باغوں میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، پس جس نے کفر کیا بعد اس کے تم میں سے تو تحقیق بھٹک گیا وہ سیدھی راہ سے(12) پس بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو، لعنت کی ہم نے ان پر اور کر دیا ہم نے ان کے دلوں کو سخت، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو ان کی جگہوں سے اور بھول گئے وہ ایک حصہ اس چیز سے کہ نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے اور ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں آپ خیانت پر ان کی مگر تھوڑے لوگ ان میں سے، پس معاف کر دیں آپ ان کو اور درگزر کریں ، بے شک اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(13)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل سے بہت موکد اور بھاری عہد لیا، پھر اس میثاق اور عہد کا وصف بیان فرمایا اور بتایا کہ اگر وہ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کو کیا اجر ملے گا اور اگر وہ اس عہد کو پورا نہیں کریں گے تو ان کو کیا سزا ملے گی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انھوں نے اس عہد کو پورا نہیں کیا اور یہ بھی بتایا کہ ان کو اس کی پاداش میں کیا سزا ملی۔ ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور اللہ نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا۔‘‘ یعنی اللہ نے بنی اسرائیل سے مضبوط اور موکد عہد لیا ﴿وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ اثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيۡبًا﴾ ہم نے ان کے بارہ سردار مقرر کر دیے جو ان کے معاملات کی دیکھ بھال کرتے تھے اور جن باتوں کا انھیں حکم دیا جاتا تھا اس کی تعمیل کرنے پر انھیں آمادہ کرتے تھے۔ ﴿وَقَالَ اللّٰهُ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان نقیبوں (سرداروں ) سے فرمایا جنھوں نے ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھایا تھا ﴿ااِنِّيۡ مَعَكُمۡ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ یعنی میری اعانت و نصرت تمھارے ساتھ ہے۔ کیونکہ مدد ہمیشہ ذمہ داری کے بوجھ کے مطابق ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جن پر عہد لیا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ اَقَمۡتُمُ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اگر تم نماز پڑھتے رہو گے۔‘‘ یعنی اگر تم نماز کو اس کے ظاہری اور باطنی لوازم کے ساتھ قائم کرو اور پھر اس پر دوام اختیار کرو گے ﴿وَاٰتَيۡتُمُ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور زکاۃ دیتے رہو گے۔‘‘ یعنی مستحق لوگوں کو زکٰوۃ دو گے ﴿وَاٰمَنۡتُمۡ بِرُسُلِيۡ ﴾ ’’اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے۔‘‘ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لاؤ گے، جن میں سب سے افضل اور سب سے اکمل جناب محمد مصطفیﷺ ہیں ﴿وَعَزَّرۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی مدد کروگے۔‘‘ یعنی اگر تم انبیاء کی تعظیم اور ان کی اطاعت اور ان کا احترام کرو گے جو تم پر واجب ہے ﴿وَاَقۡرَضۡتُمُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾ ’’اور تم اللہ کو قرض حسن دو گے‘‘ یعنی صدقہ دو گے اور بھلائی کرو گے جس کا مصدر صدق و اخلاص اور کسب حلال ہو۔جب تم مذکورہ بالا تمام امور قائم کر لو گے ﴿لَّاُكَفِّرَنَّ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَلَاُدۡخِلَنَّـكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾’’تو میں تم سے تمھاری برائیاں دور کر دوں گا اور تمھیں ان باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی‘‘ اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت میں اپنی نعمتوں اور محبوب امور کے حصول اور گناہوں کی تکفیر اور اس پر مرتب ہونے والی سزا کو دور کر کے ناپسندیدہ امور کے دور ہٹنے کو یکجا بیان فرمایا۔﴿فَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر جس نے اس کے بعد کفر کیا۔‘‘ یعنی جو کوئی اس عہد و میثاق کے بعد جسے ایمان اور ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے موکد کیا گیا ہے۔ کفر کا رویہ اختیار کرتا ہے ﴿فَقَدۡ ضَلَّ سَوَؔآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ یعنی وہ جان بوجھ کر سیدھے راستے سے بھٹکتا ہے تو وہ اسی سزا کا مستحق ہو گا، جس کے مستحق گمراہ لوگ ہوں گے، جیسے ثواب سے محرومی اور عذاب سے دوچار ہونا۔
[13] گویا یوں کہا گیا ہے کہ ’’ کاش ہمیں بھی معلوم ہو تا کہ انھوں نے کیا کیا؟ کیا انھوں نے اس عہد کو پورا کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا یا اس عہد کو توڑ دیا؟‘‘ پس اللہ نے واضح کر دیا کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ کیے گئے اس عہد کو توڑ دیا، چنانچہ فرمایا:﴿فَبِمَا نَقۡضِهِمۡ مِّؔيۡثَاقَهُمۡ ﴾’’تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب۔‘‘ یعنی ان کے نقض عہد کے سبب سے ہم نے ان کو متعدد سزائیں دیں ۔(۱)﴿لَعَنّٰهُمۡ ﴾’’ہم نے ان پر لعنت کی۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو دھتکار کر اپنی رحمت سے دور کر دیا کیونکہ انھوں نے اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے بند کر لیے اور انھوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے۔(۲)﴿وَجَعَلۡنَا قُلُوۡبَهُمۡ قٰسِيَةً﴾’’اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو پتھر دل بنا دیا، پس وعظ و نصیحت ان کے کسی کام آ سکتے ہیں نہ آیات اور نہ ہی برے انجام سے ڈرانے والے انھیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ کوئی شوق انھیں ترغیب دے سکتا ہے نہ کوئی خوف ان کو یہ عہد پورا کرنے کے لیے بے قرار کر سکتا ہے۔ بندے کے لیے یہ سب سے بڑی سزا ہے کہ اس کے دل کی یہ کیفیت ہو جائے کہ ہدایت اور بھلائی بھی اس پر برا اثر کریں ۔(۳)﴿يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ﴾ ’’یہ لوگ کلمات (کتاب)کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ کلام اللہ میں تغیر و تبدل کے بھی مرتکب ہوئے، چنانچہ انھوں نے کلام الٰہی کے اس معنی کو، جو اللہ تعالیٰ کی مراد تھا، بدل کر وہ معنی بنا دیا جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہ تھا۔(۴)﴿وَنَسُوۡا حَظًّا مِّؔمَّؔا ذُكِّرُوۡا بِهٖ﴾’’اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔‘‘ انھیں تورات اور ان تعلیمات کے ذریعے سے نصیحت کی گئی جو موسیٰu پر نازل کی گئی تھیں مگر انھوں نے ان کو فراموش کر دیا۔ یہ اس بات کو بھی شامل ہے کہ انھوں نے جناب موسیٰu کے علم کو فراموش کر دیا بنابریں علم ان سے ضائع ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ بہت سا علم ناپید ہو گیا۔ یہ آیت کریمہ نسیان عمل کو بھی شامل ہے جو ترک عمل کا نتیجہ ہے، پس جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا تھا اس پر عمل کرنے کی ان کو توفیق نہ ہوئی۔اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انھوں نے بعض ان امور کا جو انکار کیا جن کا ذکر ان کی کتابوں میں ہے یا ان کے زمانے میں واقع ہوئے، یہ بھی ان باتوں میں سے ہے جن کو انھوں نے فراموش کیا۔(۵) دائمی خیانت، جس کے بارے میں فرمایا:﴿وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآىِٕنَةٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور آپ ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں ان کی خیانت پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے بندوں کے ساتھ خیانت۔ اور ان کی سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ انھوں نے ان لوگوں سے حق کو چھپایا جو ان کو نصیحت کرتے تھے اور ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے تھے ۔ اور ان کو ان کے کفر پر باقی رکھنا۔ پس یہ بہت بڑی خیانت ہے۔ اور جو کوئی ان صفات سے متصف ہوتا ہے اس میں یہ مذموم خصائل پائے جاتے ہیں ۔پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور ان کا التزام نہیں کرتا تو اس لعنت، قساوت قلبی اور کلام الٰہی کی تحریف میں وہ بھی حصہ دار ہوتا ہے۔ اس کو بھی حق اور صواب کی توفیق نہیں ملتی وہ بھی ان امور کو فراموش کرنے کا مرتکب ہوتا ہے جن کی اسے یاد دہانی کروائی گئی تھی اور ایسے شخص کا خیانت میں مبتلا ہونا بھی یقینی ہے۔ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طلب گار ہیں ۔جس امر کی انھیں یاد دہانی کروائی گئی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو﴿حَظًّا ﴾ ’’حصہ، نصیبہ‘‘ کے نام سے اس لیے موسوم کیا ہے کیونکہ یہ سب سے بڑا حظ ہے اس کے علاوہ دیگر تمام حظوظ دنیاوی حظوظ ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَخَرَ جَ عَلٰى قَوۡمِهٖ فِيۡ زِيۡنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(القصص: 28؍79) ’’قارون بڑی سج دھج کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے طالب تھے، کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ دیا گیا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ وہ تو بہت بڑے نصیبے والا ہے۔‘‘ اور حظ نافع کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(حم السجدۃ: 41؍35)’’یہ بات صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور اس سے وہی لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں جو بہت بڑے نصیبے والے ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’تھوڑے آدمیوں کے سوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ بہت کم تھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا اسے پورا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق سے نوازا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی راہنمائی کی ﴿فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاصۡفَحۡ﴾ ’’پس آپ ان کی خطائیں معاف کردیں اور ان سے درگزر فرمائیں ۔‘‘ ان کی طرف سے آپ کو جو بھی کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو معاف کر دینے کے قابل ہو اسے معاف کر دیا کریں ۔ اور ان سے درگزر کیجیے کیونکہ یہ بھلائی ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔‘‘ اور احسان یہ ہے کہ تو اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اپنے آپ میں یہ کیفیت پیدا نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ تو تجھے دیکھ رہا ہے اور مخلوق کے حق میں احسان یہ ہے کہ تو انھیں دینی اور دنیاوی فائدے سے نوازے۔
5:14وَمِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّا نَصَٰرَىٰٓ أَخَذۡنَا مِيثَٰقَهُمۡ فَنَسُواْ حَظّٗا مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِۦ فَأَغۡرَيۡنَا بَيۡنَهُمُ ٱلۡعَدَاوَةَ وَٱلۡبَغۡضَآءَ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ وَسَوۡفَ يُنَبِّئُهُمُ ٱللَّهُ بِمَا كَانُواْ يَصۡنَعُونَ
اور ان لوگوں سے جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں ، لیا ہم نے عہد ان سے، پس بھول گئے وہ ایک حصہ اس چیز سے کہ نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو ڈال دی ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور بغض روز قیامت تک اور عنقریب خبر دے گا ان کو اللہ ساتھ اس چیز کے جو تھے وہ کرتے(14)
[14] یعنی جس طرح ہم نے یہود سے عہد لیا اسی طرح ہم نے نصاریٰ سے بھی عہد لیا ﴿وَمِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى ﴾ ’’اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصاری ہیں ۔‘‘ یعنی جو کہتے ہیں کہ ہم حضرت عیسیٰu کے مددگار ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے انبیاء و رسل اور ان پر نازل شدہ کتابوں پر ایمان لا کر اپنے آپ کو پاک کیا اور پھر عہد کو توڑ دیا ﴿فَنَسُوۡا حَظًّا مِّؔمَّؔا ذُكِّرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’پھر بھول گئے وہ نفع اٹھانا اس نصیحت سے جو ان کو کی گئی تھی‘‘ یعنی وہ نسیان علمی اور نسیان عملی کا شکار ہو گئے ﴿ فَاَغۡرَيۡنَا بَيۡنَهُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَؔ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’پس ہم نے لگا دی آپس میں ان کی دشمنی اور کینہ، قیامت کے دن تک‘‘ یعنی ہم نے انھیں ایک دوسرے پر مسلط کر دیا، ان کے درمیان شر و فساد اور کینہ نے جنم لیا جو قیامت تک کے لیے ایک دوسرے کے خلاف بغض اور عداوت کا باعث ہے اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا مشاہدہ کیاجا سکتا ہے کیونکہ نصاریٰ ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ بغض، مخالفت اور عداوت رکھتے چلے آ رہے ہیں ﴿وَسَوۡفَ يُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ﴾ ’’اور عنقریب اللہ ان کو خبر دے گا، جو کچھ وہ کرتے تھے‘‘ اور انھیں ان کی کارستانیوں پر عذاب دے گا۔
5:15يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ قَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمۡ كَثِيرٗا مِّمَّا كُنتُمۡ تُخۡفُونَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖۚ قَدۡ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٞ وَكِتَٰبٞ مُّبِينٞ
اے اہل کتاب! تحقیق آیا ہے تمھارے پاس ہمارا رسول، وہ بیان کرتا ہے تمھارے لیے بہ کثرت ان چیزوں سے کہ تھے تم چھپاتے کتاب میں سے اور درگزر کرتا ہے بہت سی باتوں سے۔ تحقیق آگئی تمھارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی اور کتاب واضح(15) دکھاتا ہے ساتھ اس کے اللہ اس شخص کو کہ پیروی کرتا ہے وہ اس کی رضامندی کی، راہیں سلامتی کی اور نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے طرف روشنی کی اپنے حکم سے اور راہنمائی کرتا ہے ان کی، طرف سیدھی راہ کی(16)
[15] جب اللہ تعالیٰ نے اس عہد اور میثاق کا ذکر کیا جو اس نے اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ سے لیا تھا مگر تھوڑے سے لوگوں کے سوا سب نے اس عہد کو توڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو حکم دیا کہ وہ محمد مصطفیﷺ پر ایمان لائیں اور آپ کی نبوت پر ایک قطعی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا۔ اور وہ یہ کہ آپﷺ ان کے سامنے وہ چیزیں بیان کرتے ہیں جو وہ عام لوگوں سے چھپاتے ہیں حتیٰ کہ خود اپنے عوام سے بھی چھپاتے ہیں ، پس جب یہی لوگ علم کے بارے میں عوام کا مرجع تھے اور علم کے خواہش مند کے لیے ان کے بغیر علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا تو ان حالات میں رسول اللہﷺ کا قرآن کریم کے ساتھ مبعوث ہونا اور ان تمام امورکو کھول کھول کر بیان کر دینا جو وہ چھپاتے تھے، دراں حالیکہ آپ ان پڑھ تھے اور لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، آپﷺ کی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے، مثلاً: ان کی کتابوں میں جناب محمدﷺ کی صفات اور بشارتیں موجود تھیں ۔ اسی طرح آیت رجم کو، (جسے وہ چھپاتے تھے)رسول اللہﷺ نے بیان فرمایا۔﴿وَيَعۡفُوۡا عَنۡ كَثِيۡرٍ﴾ ’’اور درگزر کرتا ہے وہ بہت سی چیزوں سے‘‘ یعنی آپﷺ نے بہت سی ایسی باتوں کو بیان نہیں فرمایا جن کو بیان کرنا حکمت کا تقاضا نہیں تھا ﴿قَدۡ جَآءَؔكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ نُوۡرٌؔ ﴾ ’’تحقیق آ گیا تمھارے پاس اللہ کی طرف سے نور‘‘ اس نور سے مراد قرآن کریم ہے جس سے جہالت کی تاریکیوں اور گمراہی کے اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے ﴿وَّكِتٰبٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اور روشن کتاب۔‘‘ مخلوق اپنے دین و دنیا کے جن امور کی محتاج ہے اس کتاب نے ان کو واضح کر دیا ہے ، مثلاً: اللہ تعالیٰ، اس کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعی اور احکام جزائی کا علم۔
[16] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کون ہے جو اس قرآن سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور وہ کون سا سبب ہے جو بندہ اس راہنمائی کے حصول کے لیے اختیار کرتا ہے۔ ﴿يَّهۡدِيۡ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ﴾’’اللہ اس کے ذریعے سے ہدایت دیتا ہے، اس کو جو اس کی رضامندی کی پیروی کرتا ہے، سلامتی کے راستوں کی‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا حریص ہوتا ہے اور پھر اس کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور اس کا قصد و ارادہ بھی صحیح ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سلامتی کے راستوں کی طرف اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ جو اسے عذاب سے بچا کر سلامتی کے گھر پہنچا دیتا ہے۔ یہاں سلامتی کے گھر سے مراد حق کا اجمالی اور تفصیلی علم اور اس پر عمل کرنا ہے۔﴿وَيُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ ﴾ ’’اور ان کو تاریکیوں سے نکالتا ہے‘‘ یعنی کفر، بدعت، معصیت، جہالت اور غفلت کی تاریکیوں سے ﴿اِلَى النُّوۡرِ ﴾ ’’روشنی کی طرف‘‘ ایمان، سنت، اطاعت، علم اور ذکر الٰہی کی روشنی۔ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیت سے راہ ہدایت ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا نہیں ہوتا ﴿وَيَهۡدِيۡهِمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔‘‘
5:16يَهۡدِي بِهِ ٱللَّهُ مَنِ ٱتَّبَعَ رِضۡوَٰنَهُۥ سُبُلَ ٱلسَّلَٰمِ وَيُخۡرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذۡنِهِۦ وَيَهۡدِيهِمۡ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
اے اہل کتاب! تحقیق آیا ہے تمھارے پاس ہمارا رسول، وہ بیان کرتا ہے تمھارے لیے بہ کثرت ان چیزوں سے کہ تھے تم چھپاتے کتاب میں سے اور درگزر کرتا ہے بہت سی باتوں سے۔ تحقیق آگئی تمھارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی اور کتاب واضح(15) دکھاتا ہے ساتھ اس کے اللہ اس شخص کو کہ پیروی کرتا ہے وہ اس کی رضامندی کی، راہیں سلامتی کی اور نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے طرف روشنی کی اپنے حکم سے اور راہنمائی کرتا ہے ان کی، طرف سیدھی راہ کی(16)
[15] جب اللہ تعالیٰ نے اس عہد اور میثاق کا ذکر کیا جو اس نے اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ سے لیا تھا مگر تھوڑے سے لوگوں کے سوا سب نے اس عہد کو توڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو حکم دیا کہ وہ محمد مصطفیﷺ پر ایمان لائیں اور آپ کی نبوت پر ایک قطعی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا۔ اور وہ یہ کہ آپﷺ ان کے سامنے وہ چیزیں بیان کرتے ہیں جو وہ عام لوگوں سے چھپاتے ہیں حتیٰ کہ خود اپنے عوام سے بھی چھپاتے ہیں ، پس جب یہی لوگ علم کے بارے میں عوام کا مرجع تھے اور علم کے خواہش مند کے لیے ان کے بغیر علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا تو ان حالات میں رسول اللہﷺ کا قرآن کریم کے ساتھ مبعوث ہونا اور ان تمام امورکو کھول کھول کر بیان کر دینا جو وہ چھپاتے تھے، دراں حالیکہ آپ ان پڑھ تھے اور لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، آپﷺ کی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے، مثلاً: ان کی کتابوں میں جناب محمدﷺ کی صفات اور بشارتیں موجود تھیں ۔ اسی طرح آیت رجم کو، (جسے وہ چھپاتے تھے)رسول اللہﷺ نے بیان فرمایا۔﴿وَيَعۡفُوۡا عَنۡ كَثِيۡرٍ﴾ ’’اور درگزر کرتا ہے وہ بہت سی چیزوں سے‘‘ یعنی آپﷺ نے بہت سی ایسی باتوں کو بیان نہیں فرمایا جن کو بیان کرنا حکمت کا تقاضا نہیں تھا ﴿قَدۡ جَآءَؔكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ نُوۡرٌؔ ﴾ ’’تحقیق آ گیا تمھارے پاس اللہ کی طرف سے نور‘‘ اس نور سے مراد قرآن کریم ہے جس سے جہالت کی تاریکیوں اور گمراہی کے اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے ﴿وَّكِتٰبٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اور روشن کتاب۔‘‘ مخلوق اپنے دین و دنیا کے جن امور کی محتاج ہے اس کتاب نے ان کو واضح کر دیا ہے ، مثلاً: اللہ تعالیٰ، اس کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعی اور احکام جزائی کا علم۔
[16] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کون ہے جو اس قرآن سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور وہ کون سا سبب ہے جو بندہ اس راہنمائی کے حصول کے لیے اختیار کرتا ہے۔ ﴿يَّهۡدِيۡ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ﴾’’اللہ اس کے ذریعے سے ہدایت دیتا ہے، اس کو جو اس کی رضامندی کی پیروی کرتا ہے، سلامتی کے راستوں کی‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا حریص ہوتا ہے اور پھر اس کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور اس کا قصد و ارادہ بھی صحیح ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سلامتی کے راستوں کی طرف اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ جو اسے عذاب سے بچا کر سلامتی کے گھر پہنچا دیتا ہے۔ یہاں سلامتی کے گھر سے مراد حق کا اجمالی اور تفصیلی علم اور اس پر عمل کرنا ہے۔﴿وَيُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ ﴾ ’’اور ان کو تاریکیوں سے نکالتا ہے‘‘ یعنی کفر، بدعت، معصیت، جہالت اور غفلت کی تاریکیوں سے ﴿اِلَى النُّوۡرِ ﴾ ’’روشنی کی طرف‘‘ ایمان، سنت، اطاعت، علم اور ذکر الٰہی کی روشنی۔ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیت سے راہ ہدایت ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا نہیں ہوتا ﴿وَيَهۡدِيۡهِمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔‘‘
5:17لَّقَدۡ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ مَرۡيَمَۚ قُلۡ فَمَن يَمۡلِكُ مِنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔا إِنۡ أَرَادَ أَن يُهۡلِكَ ٱلۡمَسِيحَ ٱبۡنَ مَرۡيَمَ وَأُمَّهُۥ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗاۗ وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَاۚ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا: بے شک اللہ تو وہی مسیح ابن مریم ہے۔ کہہ دیجیے: پس کون اختیار رکھتا ہے اللہ کے آگے کچھ بھی، اگر وہ ارادہ کر لے ہلاک کرنے کا مسیح ابن مریم اور ان کی ماں کو اور ان کو جو زمین میں ہیں سارے؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(17) اور کہا یہود نے اور نصاریٰ نے ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے، کہہ دیجیے: پس کیوں عذاب کرتا ہے وہ تمھیں تمھارے گناہوں کی وجہ سےبلکہ تم بھی انسان ہی ہو ان میں سے جن کو اس نے پیدا کیا وہ بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور عذاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہےاور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف ہے پھر کر جانا(18)
[17] اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے عہد لینے اور ان کے نقض عہد کا ذکر کرنے کے بعد ان کے اقوال قبیحہ کا ذکر فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے قول کا ذکر فرمایا اور یہ بات نصاریٰ سے پہلے کسی نے نہیں کہی۔ وہ کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے۔ اور ان کے شبہ کا سبب یہ ہے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، بنابریں یہ اعتقاد باطل ان کے اندر در آیا۔ حالانکہ جناب حوا کی تخلیق اس کی نظیر ہے جن کو بغیر ماں کے پیدا کیا گیا اور اس لحاظ سے جناب آدم تو الوہیت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں جو باپ اور ماں دونوں کے بغیر پیدا ہوئے۔ کیا انھوں نے آدمu اور جناب حوا کے بارے میں اسی طرح الوہیت کا دعویٰ کیا ہے جس طرح انھوں نے مسیحu کے بارے میں کیا؟ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا حضرت مسیح کی الوہیت کا دعوی بغیر کسی برہان کے خواہش نفس کی پیروی ہے۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح عقلی دلائل سے ان کے اس قول باطل کا رد کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ فَمَنۡ يَّمۡلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـا اِنۡ اَرَادَ اَنۡ يُّهۡلِكَ الۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا﴾ ’’فرما دیجیے، پس کس کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آگے کچھ بھی، اگر وہ چاہے کہ ہلاک کر دے مسیح ابن مریم کو، اس کی ماں کو اور تمام اہل زمین کو‘‘ چونکہ اگر اللہ تعالیٰ ان مذکور لوگوں کو ہلاک کرنا چاہے تو ان کے پاس اپنے آپ کو بچانے کی قدرت اور طاقت نہیں۔ اس لیے یہ اس ہستی کی الوہیت کے بطلان کی دلیل ہے جو اپنے آپ کو ہلاکت سے نہیں بچا سکتی اور نہ چھڑا سکتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے ﴿لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’ کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے۔‘‘ پس وہ ان میں تکوینی ، شرعی اور جزائی احکام کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے وہ سب مملوک ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی تدبیر کرتا ہے۔ کیا مملوک اور بندۂ محتاج کے لائق ہے کہ وہ الٰہ بن جائے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہو؟.... یہ سب سے بڑا محال ہے۔عیسیٰu کا بغیر باپ کے متولد ہونا کوئی انہونی اور تعجب خیز بات نہیں ﴿ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ﴾ ’’وہ (اللہ) جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔‘‘ چاہے تو ماں اور باپ کے ذریعے سے پیدا کرے، جیسا کہ تمام بنی آدم کی تخلیق ہوئی ہے۔ چاہے تو بغیر ماں کے، صرف باپ سے پیدا کرے جیسے حضرت حوا کا معاملہ ہے۔ چاہے تو کسی کو بغیر باپ کے، ماں سے پیدا کرے، جیسے حضرت عیسیٰu کی تخلیق ہوئی اور چاہے تو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کرے، جیسے حضرت آدم کی پیدائش ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت نافذہ سے اپنی مخلوق کو الگ الگ انداز سے پیدا فرمایا جس کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں ۔ بنابریں فرمایا :﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
[18] یہود و نصاریٰ کے دعاوی میں سے۔ جبکہ ان کے تمام دعوے باطل ہیں ۔ ایک دعویٰ یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہوئے اپنے آپ کو پاک گردانتے ہیں ﴿ نَحۡنُ اَبۡنٰٓؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّآؤُهٗ﴾ ’’ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ‘‘ ان کی لغت میں بیٹے سے مراد محبوب ہے وہ اس سے حقیقی ابنیت (بیٹا ہونا) مراد نہیں لیتے۔ کیونکہ یہ ان کا مذہب نہیں ہے سوائے حضرت مسیح کے بارے میں کہ عیسائی ان کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں ۔ چونکہ ان کا دعویٰ دلیل و برہان سے محروم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلۡ فَلِمَ يُعَذِّبُؔكُمۡ بِذُنُوۡبِكُمۡ﴾’’کہہ دیجیے، پھر وہ کیوں تمھیں تمھارے گناہوں کی پاداش میں عذاب دے گا؟‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے تو وہ تمھیں کبھی عذاب نہ دیتا کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اسی کو محبوب بناتا ہے جو اس کی مرضی کو پورا کرتا ہے۔﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ مِّمَّنۡ خَلَقَ﴾ ’’بلکہ تم بھی ایک آدمی ہو، اس کی مخلوق میں سے‘‘ تم پر بھی اللہ تعالیٰ کے عدل و فضل کے تمام احکام جاری ہوتے ہیں ﴿يَغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے۔‘‘ یعنی جب وہ مغفرت یا عذاب کے اسباب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو اللہ ان اسباب کے مطابق ان کو بخش دیتا ہے یا عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ ﴿ وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا١ٞ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘ یعنی کس چیز نے تمھارے لیے اس فضیلت کو مختص کیا ہے جبکہ تم بھی اللہ تعالیٰ کے جملہ مملوکات میں شامل ہو اور تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جنھیں قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ وہاں وہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
5:18وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ وَٱلنَّصَٰرَىٰ نَحۡنُ أَبۡنَـٰٓؤُاْ ٱللَّهِ وَأَحِبَّـٰٓؤُهُۥۚ قُلۡ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُمۖ بَلۡ أَنتُم بَشَرٞ مِّمَّنۡ خَلَقَۚ يَغۡفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُۚ وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَاۖ وَإِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ
البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا: بے شک اللہ تو وہی مسیح ابن مریم ہے۔ کہہ دیجیے: پس کون اختیار رکھتا ہے اللہ کے آگے کچھ بھی، اگر وہ ارادہ کر لے ہلاک کرنے کا مسیح ابن مریم اور ان کی ماں کو اور ان کو جو زمین میں ہیں سارے؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(17) اور کہا یہود نے اور نصاریٰ نے ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے، کہہ دیجیے: پس کیوں عذاب کرتا ہے وہ تمھیں تمھارے گناہوں کی وجہ سےبلکہ تم بھی انسان ہی ہو ان میں سے جن کو اس نے پیدا کیا وہ بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور عذاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہےاور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف ہے پھر کر جانا(18)
[17] اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے عہد لینے اور ان کے نقض عہد کا ذکر کرنے کے بعد ان کے اقوال قبیحہ کا ذکر فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے قول کا ذکر فرمایا اور یہ بات نصاریٰ سے پہلے کسی نے نہیں کہی۔ وہ کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے۔ اور ان کے شبہ کا سبب یہ ہے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، بنابریں یہ اعتقاد باطل ان کے اندر در آیا۔ حالانکہ جناب حوا کی تخلیق اس کی نظیر ہے جن کو بغیر ماں کے پیدا کیا گیا اور اس لحاظ سے جناب آدم تو الوہیت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں جو باپ اور ماں دونوں کے بغیر پیدا ہوئے۔ کیا انھوں نے آدمu اور جناب حوا کے بارے میں اسی طرح الوہیت کا دعویٰ کیا ہے جس طرح انھوں نے مسیحu کے بارے میں کیا؟ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا حضرت مسیح کی الوہیت کا دعوی بغیر کسی برہان کے خواہش نفس کی پیروی ہے۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح عقلی دلائل سے ان کے اس قول باطل کا رد کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ فَمَنۡ يَّمۡلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـا اِنۡ اَرَادَ اَنۡ يُّهۡلِكَ الۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا﴾ ’’فرما دیجیے، پس کس کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آگے کچھ بھی، اگر وہ چاہے کہ ہلاک کر دے مسیح ابن مریم کو، اس کی ماں کو اور تمام اہل زمین کو‘‘ چونکہ اگر اللہ تعالیٰ ان مذکور لوگوں کو ہلاک کرنا چاہے تو ان کے پاس اپنے آپ کو بچانے کی قدرت اور طاقت نہیں۔ اس لیے یہ اس ہستی کی الوہیت کے بطلان کی دلیل ہے جو اپنے آپ کو ہلاکت سے نہیں بچا سکتی اور نہ چھڑا سکتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے ﴿لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’ کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے۔‘‘ پس وہ ان میں تکوینی ، شرعی اور جزائی احکام کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے وہ سب مملوک ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی تدبیر کرتا ہے۔ کیا مملوک اور بندۂ محتاج کے لائق ہے کہ وہ الٰہ بن جائے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہو؟.... یہ سب سے بڑا محال ہے۔عیسیٰu کا بغیر باپ کے متولد ہونا کوئی انہونی اور تعجب خیز بات نہیں ﴿ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ﴾ ’’وہ (اللہ) جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔‘‘ چاہے تو ماں اور باپ کے ذریعے سے پیدا کرے، جیسا کہ تمام بنی آدم کی تخلیق ہوئی ہے۔ چاہے تو بغیر ماں کے، صرف باپ سے پیدا کرے جیسے حضرت حوا کا معاملہ ہے۔ چاہے تو کسی کو بغیر باپ کے، ماں سے پیدا کرے، جیسے حضرت عیسیٰu کی تخلیق ہوئی اور چاہے تو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کرے، جیسے حضرت آدم کی پیدائش ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت نافذہ سے اپنی مخلوق کو الگ الگ انداز سے پیدا فرمایا جس کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں ۔ بنابریں فرمایا :﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
[18] یہود و نصاریٰ کے دعاوی میں سے۔ جبکہ ان کے تمام دعوے باطل ہیں ۔ ایک دعویٰ یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہوئے اپنے آپ کو پاک گردانتے ہیں ﴿ نَحۡنُ اَبۡنٰٓؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّآؤُهٗ﴾ ’’ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ‘‘ ان کی لغت میں بیٹے سے مراد محبوب ہے وہ اس سے حقیقی ابنیت (بیٹا ہونا) مراد نہیں لیتے۔ کیونکہ یہ ان کا مذہب نہیں ہے سوائے حضرت مسیح کے بارے میں کہ عیسائی ان کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں ۔ چونکہ ان کا دعویٰ دلیل و برہان سے محروم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلۡ فَلِمَ يُعَذِّبُؔكُمۡ بِذُنُوۡبِكُمۡ﴾’’کہہ دیجیے، پھر وہ کیوں تمھیں تمھارے گناہوں کی پاداش میں عذاب دے گا؟‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے تو وہ تمھیں کبھی عذاب نہ دیتا کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اسی کو محبوب بناتا ہے جو اس کی مرضی کو پورا کرتا ہے۔﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ مِّمَّنۡ خَلَقَ﴾ ’’بلکہ تم بھی ایک آدمی ہو، اس کی مخلوق میں سے‘‘ تم پر بھی اللہ تعالیٰ کے عدل و فضل کے تمام احکام جاری ہوتے ہیں ﴿يَغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے۔‘‘ یعنی جب وہ مغفرت یا عذاب کے اسباب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو اللہ ان اسباب کے مطابق ان کو بخش دیتا ہے یا عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ ﴿ وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا١ٞ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘ یعنی کس چیز نے تمھارے لیے اس فضیلت کو مختص کیا ہے جبکہ تم بھی اللہ تعالیٰ کے جملہ مملوکات میں شامل ہو اور تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جنھیں قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ وہاں وہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
5:19يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ قَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمۡ عَلَىٰ فَتۡرَةٖ مِّنَ ٱلرُّسُلِ أَن تَقُولُواْ مَا جَآءَنَا مِنۢ بَشِيرٖ وَلَا نَذِيرٖۖ فَقَدۡ جَآءَكُم بَشِيرٞ وَنَذِيرٞۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
اے اہل کتاب! تحقیق آیا تمھارے پاس ہمارا رسول، بیان کرتا ہے وہ تمھارے لیے، پیچھے موقوف ہو جانے رسولوں کے کہیں تم نہ کہو کہ نہیں آیا ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور نہ ڈرانے والا، پس تحقیق آگیا تمھارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے(19)
[19] اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو کتاب عطا کر کے ان پر احسان فرمایا اور اس سبب سے انھیں دعوت دی کہ وہ اس کے رسول محمد مصطفیﷺ پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ان کی طرف رسول بھیجا ﴿عَلٰى فَتۡرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ ﴾ ’’رسولوں کے مبعوث ہونے کا سلسلہ منقطع رہنے کے بعد‘‘ اور ان کی شدید احتیاج کی بنا پر۔ یہ چیز اس بات کی داعی ہے کہ آپﷺ پر ایمان لایا جائے اور ان کے سامنے تمام مطالب الہیہ اور احکام شرعیہ بیان کیے جائیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس طرح ان پر حجت پوری کر دی تاکہ وہ یہ نہ کہیں ﴿مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ﴾ ’’کہ ہمارے پاس کوئی خوش خبری دینے والا آیا نہ کوئی ڈرانے والا‘‘ ﴿فَقَدۡ جَآءَؔكُمۡ بَشِيۡرٌ وَّنَذِيۡرٌ﴾’’پس تحقیق تمھارے پاس خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا آگیا‘‘ جو دنیوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری دیتا ہے اور ان اعمال سے آگاہ کرتا ہے جو اس ثواب کے حصول کے موجب ہیں ، نیز ان اعمال کو بجا لانے والوں کی صفات بیان کرتا ہے اور دنیوی اور اخروی عذاب اور ان اعمال سے ڈراتا ہے جو اس عذاب کا باعث بنتے ہیں اور ان اعمال کا ارتکاب کرنے والوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہے۔﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ تمام اشیاء نے اس کی قدرت کاملہ کے سامنے اطاعت سے سرتسلیم خم کر رکھا ہے کسی کو اس کی نافرمانی کی مجال نہیں ۔ یہ اس کی قدرت کاملہ ہی ہے کہ اس نے رسول مبعوث فرمائے، کتابیں نازل کیں جو ان رسولوں کی اطاعت کرتا ہے، اسے ثواب عطا کرتا ہے اور جو ان کی نافرمانی کرتا ہے انھیں عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔
5:20وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِۦ يَٰقَوۡمِ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ جَعَلَ فِيكُمۡ أَنۢبِيَآءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكٗا وَءَاتَىٰكُم مَّا لَمۡ يُؤۡتِ أَحَدٗا مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)
[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔
[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے ﴿وَلَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ لوٹو اپنی پیٹھوں کی طرف‘‘ یعنی واپس نہ لوٹو ﴿فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’پھر جا پڑو گے نقصان میں ‘‘ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کر سکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔
[22] انھوں نے (اس کے جواب میں ) موسیٰu کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعیف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ فِيۡهَا قَوۡمًا جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! اس میں ایک زبردست قوم ہے‘‘ یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں ، یعنی اس لیے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں ﴿وَاِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَا حَتّٰى يَخۡرُجُوۡا مِنۡهَا١ۚ فَاِنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا فَاِنَّا دٰخِلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں ۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے‘‘ اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انھیں معلوم ہوتاکہ وہ بھی سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے۔ کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ نیز انھیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح و نصرت سے نوازا جائے گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح و نصرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔
[23]﴿قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ ﴾ ’’دو آدمیوں نے کہا: جو ڈرنے والوں میں سے تھے‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انھوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لیے کہا ﴿اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمَا ﴾ ’’جن پر اللہ نے انعام کیا تھا‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انھیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی ﴿ادۡخُلُوۡا عَلَيۡهِمُ الۡبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلۡتُمُوۡهُ فَاِنَّـكُمۡ غٰلِبُوۡنَ﴾ ’’تم دروازے میں داخل ہو جاؤ، جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم غالب ہو گے‘‘ یعنی تمھارے اور تمھاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کر لو اور شہر کے دروازے میں گھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں ، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ نیز یہ کہ توکل بندۂ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔
[24] مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انھوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِيۡهَا فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! جب تک وہ اس میں ہیں ، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں ‘‘ اس مشکل صورت حال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفیﷺ کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہو جاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرمﷺ نے صحابہ کرامy سے مشورہ کیا جبکہ آپﷺ نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا۔ تو صحابہy نے عرض کی: ’’یارسول اللہ! اگر آپ ہمیں لے کر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی ﴿ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴾ ’’جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں‘‘... بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جائیں لڑائی کریں ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر (آپ کے دشمنوں کے خلاف) جنگ کریں گے ہم آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔‘‘(سیرت ابن ہشام: 2؍227)
[25] جب موسیٰu نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے‘‘ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں ۔ اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کر سکتا ﴿ فَافۡرُقۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں ‘‘ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں ۔
[26]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً١ۚ يَتِيۡهُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کردیا گیا ہے اور وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی ان کی سزا یہ ہے کہ اس بستی میں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دی ہے، داخل ہونا چالیس برس تک ان پر حرام کر دیا گیا۔ نیز وہ اس مدت کے دوران زمین میں مارے مارے اور سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ وہ کسی طرف جانے کی راہ پائیں گے نہ کسی جگہ اطمینان سے ٹھہر سکیں گے۔ یہ دنیوی سزا تھی۔ شاید اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا اور ان سے وہ سزا دور کر دی جو اس سے بڑی سزا تھی۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گناہ کی سزا کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ موجودہ نعمت زائل ہو جاتی ہے یا کسی عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جس کے وجود کا سبب مہیا ہو۔ یا اس کو کسی دوسرے وقت کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے۔چالیس سال کی مدت مقرر کرنے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس مدت کے دوران میں یہ بات کہنے والے اکثر لوگ مر چکے ہوں گے جو صبر و ثبات سے محروم تھے بلکہ ان کے دل دشمن کی غلامی سے مالوف ہو گئے تھے بلکہ وہ ان بلند ارادوں ہی سے محروم تھے جو انھیں بلندیوں پر فائز کرتے تاکہ اس دوران میں نئی نسل کی عقل اور شعور تربیت پا لے، پھر وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے، غلامی سے آزاد ہونے اور اس ذلت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سعادت سے مانع ہوتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا بندہ موسیٰ مخلوق پر بے حد رحیم ہے خاص طور پر اپنی قوم پر۔ بسا اوقات ان کے لیے ان کا دل بہت نرم پڑ جاتا تھا، ان کی یہ شفقت اس سزا پر ان کو مغموم کر دیتی یا اس مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرنے پر آمادہ کر دیتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر فرمایا:﴿ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’پس تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کر۔‘‘ یعنی ان پر افسوس کر نہ ان کے بارے غمزدہ ہو۔ یقینا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی نافرمانی اسی سزا کا تقاضا کرتی تھی جو انھیں ملی ہے۔ یہ سزا ہماری طرف سے ظلم نہیں ہے۔
5:21يَٰقَوۡمِ ٱدۡخُلُواْ ٱلۡأَرۡضَ ٱلۡمُقَدَّسَةَ ٱلَّتِي كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمۡ وَلَا تَرۡتَدُّواْ عَلَىٰٓ أَدۡبَارِكُمۡ فَتَنقَلِبُواْ خَٰسِرِينَ
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)
[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔
[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے ﴿وَلَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ لوٹو اپنی پیٹھوں کی طرف‘‘ یعنی واپس نہ لوٹو ﴿فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’پھر جا پڑو گے نقصان میں ‘‘ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کر سکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔
[22] انھوں نے (اس کے جواب میں ) موسیٰu کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعیف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ فِيۡهَا قَوۡمًا جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! اس میں ایک زبردست قوم ہے‘‘ یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں ، یعنی اس لیے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں ﴿وَاِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَا حَتّٰى يَخۡرُجُوۡا مِنۡهَا١ۚ فَاِنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا فَاِنَّا دٰخِلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں ۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے‘‘ اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انھیں معلوم ہوتاکہ وہ بھی سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے۔ کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ نیز انھیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح و نصرت سے نوازا جائے گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح و نصرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔
[23]﴿قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ ﴾ ’’دو آدمیوں نے کہا: جو ڈرنے والوں میں سے تھے‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انھوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لیے کہا ﴿اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمَا ﴾ ’’جن پر اللہ نے انعام کیا تھا‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انھیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی ﴿ادۡخُلُوۡا عَلَيۡهِمُ الۡبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلۡتُمُوۡهُ فَاِنَّـكُمۡ غٰلِبُوۡنَ﴾ ’’تم دروازے میں داخل ہو جاؤ، جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم غالب ہو گے‘‘ یعنی تمھارے اور تمھاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کر لو اور شہر کے دروازے میں گھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں ، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ نیز یہ کہ توکل بندۂ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔
[24] مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انھوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِيۡهَا فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! جب تک وہ اس میں ہیں ، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں ‘‘ اس مشکل صورت حال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفیﷺ کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہو جاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرمﷺ نے صحابہ کرامy سے مشورہ کیا جبکہ آپﷺ نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا۔ تو صحابہy نے عرض کی: ’’یارسول اللہ! اگر آپ ہمیں لے کر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی ﴿ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴾ ’’جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں‘‘... بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جائیں لڑائی کریں ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر (آپ کے دشمنوں کے خلاف) جنگ کریں گے ہم آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔‘‘(سیرت ابن ہشام: 2؍227)
[25] جب موسیٰu نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے‘‘ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں ۔ اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کر سکتا ﴿ فَافۡرُقۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں ‘‘ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں ۔
[26]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً١ۚ يَتِيۡهُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کردیا گیا ہے اور وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی ان کی سزا یہ ہے کہ اس بستی میں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دی ہے، داخل ہونا چالیس برس تک ان پر حرام کر دیا گیا۔ نیز وہ اس مدت کے دوران زمین میں مارے مارے اور سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ وہ کسی طرف جانے کی راہ پائیں گے نہ کسی جگہ اطمینان سے ٹھہر سکیں گے۔ یہ دنیوی سزا تھی۔ شاید اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا اور ان سے وہ سزا دور کر دی جو اس سے بڑی سزا تھی۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گناہ کی سزا کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ موجودہ نعمت زائل ہو جاتی ہے یا کسی عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جس کے وجود کا سبب مہیا ہو۔ یا اس کو کسی دوسرے وقت کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے۔چالیس سال کی مدت مقرر کرنے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس مدت کے دوران میں یہ بات کہنے والے اکثر لوگ مر چکے ہوں گے جو صبر و ثبات سے محروم تھے بلکہ ان کے دل دشمن کی غلامی سے مالوف ہو گئے تھے بلکہ وہ ان بلند ارادوں ہی سے محروم تھے جو انھیں بلندیوں پر فائز کرتے تاکہ اس دوران میں نئی نسل کی عقل اور شعور تربیت پا لے، پھر وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے، غلامی سے آزاد ہونے اور اس ذلت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سعادت سے مانع ہوتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا بندہ موسیٰ مخلوق پر بے حد رحیم ہے خاص طور پر اپنی قوم پر۔ بسا اوقات ان کے لیے ان کا دل بہت نرم پڑ جاتا تھا، ان کی یہ شفقت اس سزا پر ان کو مغموم کر دیتی یا اس مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرنے پر آمادہ کر دیتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر فرمایا:﴿ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’پس تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کر۔‘‘ یعنی ان پر افسوس کر نہ ان کے بارے غمزدہ ہو۔ یقینا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی نافرمانی اسی سزا کا تقاضا کرتی تھی جو انھیں ملی ہے۔ یہ سزا ہماری طرف سے ظلم نہیں ہے۔
5:22قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّ فِيهَا قَوۡمٗا جَبَّارِينَ وَإِنَّا لَن نَّدۡخُلَهَا حَتَّىٰ يَخۡرُجُواْ مِنۡهَا فَإِن يَخۡرُجُواْ مِنۡهَا فَإِنَّا دَٰخِلُونَ
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)
[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔
[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے ﴿وَلَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ لوٹو اپنی پیٹھوں کی طرف‘‘ یعنی واپس نہ لوٹو ﴿فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’پھر جا پڑو گے نقصان میں ‘‘ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کر سکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔
[22] انھوں نے (اس کے جواب میں ) موسیٰu کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعیف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ فِيۡهَا قَوۡمًا جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! اس میں ایک زبردست قوم ہے‘‘ یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں ، یعنی اس لیے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں ﴿وَاِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَا حَتّٰى يَخۡرُجُوۡا مِنۡهَا١ۚ فَاِنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا فَاِنَّا دٰخِلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں ۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے‘‘ اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انھیں معلوم ہوتاکہ وہ بھی سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے۔ کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ نیز انھیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح و نصرت سے نوازا جائے گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح و نصرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔
[23]﴿قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ ﴾ ’’دو آدمیوں نے کہا: جو ڈرنے والوں میں سے تھے‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انھوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لیے کہا ﴿اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمَا ﴾ ’’جن پر اللہ نے انعام کیا تھا‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انھیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی ﴿ادۡخُلُوۡا عَلَيۡهِمُ الۡبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلۡتُمُوۡهُ فَاِنَّـكُمۡ غٰلِبُوۡنَ﴾ ’’تم دروازے میں داخل ہو جاؤ، جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم غالب ہو گے‘‘ یعنی تمھارے اور تمھاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کر لو اور شہر کے دروازے میں گھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں ، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ نیز یہ کہ توکل بندۂ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔
[24] مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انھوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِيۡهَا فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! جب تک وہ اس میں ہیں ، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں ‘‘ اس مشکل صورت حال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفیﷺ کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہو جاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرمﷺ نے صحابہ کرامy سے مشورہ کیا جبکہ آپﷺ نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا۔ تو صحابہy نے عرض کی: ’’یارسول اللہ! اگر آپ ہمیں لے کر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی ﴿ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴾ ’’جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں‘‘... بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جائیں لڑائی کریں ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر (آپ کے دشمنوں کے خلاف) جنگ کریں گے ہم آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔‘‘(سیرت ابن ہشام: 2؍227)
[25] جب موسیٰu نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے‘‘ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں ۔ اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کر سکتا ﴿ فَافۡرُقۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں ‘‘ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں ۔
[26]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً١ۚ يَتِيۡهُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کردیا گیا ہے اور وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی ان کی سزا یہ ہے کہ اس بستی میں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دی ہے، داخل ہونا چالیس برس تک ان پر حرام کر دیا گیا۔ نیز وہ اس مدت کے دوران زمین میں مارے مارے اور سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ وہ کسی طرف جانے کی راہ پائیں گے نہ کسی جگہ اطمینان سے ٹھہر سکیں گے۔ یہ دنیوی سزا تھی۔ شاید اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا اور ان سے وہ سزا دور کر دی جو اس سے بڑی سزا تھی۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گناہ کی سزا کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ موجودہ نعمت زائل ہو جاتی ہے یا کسی عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جس کے وجود کا سبب مہیا ہو۔ یا اس کو کسی دوسرے وقت کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے۔چالیس سال کی مدت مقرر کرنے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس مدت کے دوران میں یہ بات کہنے والے اکثر لوگ مر چکے ہوں گے جو صبر و ثبات سے محروم تھے بلکہ ان کے دل دشمن کی غلامی سے مالوف ہو گئے تھے بلکہ وہ ان بلند ارادوں ہی سے محروم تھے جو انھیں بلندیوں پر فائز کرتے تاکہ اس دوران میں نئی نسل کی عقل اور شعور تربیت پا لے، پھر وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے، غلامی سے آزاد ہونے اور اس ذلت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سعادت سے مانع ہوتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا بندہ موسیٰ مخلوق پر بے حد رحیم ہے خاص طور پر اپنی قوم پر۔ بسا اوقات ان کے لیے ان کا دل بہت نرم پڑ جاتا تھا، ان کی یہ شفقت اس سزا پر ان کو مغموم کر دیتی یا اس مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرنے پر آمادہ کر دیتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر فرمایا:﴿ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’پس تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کر۔‘‘ یعنی ان پر افسوس کر نہ ان کے بارے غمزدہ ہو۔ یقینا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی نافرمانی اسی سزا کا تقاضا کرتی تھی جو انھیں ملی ہے۔ یہ سزا ہماری طرف سے ظلم نہیں ہے۔
5:23قَالَ رَجُلَانِ مِنَ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمَا ٱدۡخُلُواْ عَلَيۡهِمُ ٱلۡبَابَ فَإِذَا دَخَلۡتُمُوهُ فَإِنَّكُمۡ غَٰلِبُونَۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَتَوَكَّلُوٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)
[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔
[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے ﴿وَلَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ لوٹو اپنی پیٹھوں کی طرف‘‘ یعنی واپس نہ لوٹو ﴿فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’پھر جا پڑو گے نقصان میں ‘‘ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کر سکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔
[22] انھوں نے (اس کے جواب میں ) موسیٰu کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعیف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ فِيۡهَا قَوۡمًا جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! اس میں ایک زبردست قوم ہے‘‘ یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں ، یعنی اس لیے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں ﴿وَاِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَا حَتّٰى يَخۡرُجُوۡا مِنۡهَا١ۚ فَاِنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا فَاِنَّا دٰخِلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں ۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے‘‘ اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انھیں معلوم ہوتاکہ وہ بھی سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے۔ کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ نیز انھیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح و نصرت سے نوازا جائے گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح و نصرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔
[23]﴿قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ ﴾ ’’دو آدمیوں نے کہا: جو ڈرنے والوں میں سے تھے‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انھوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لیے کہا ﴿اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمَا ﴾ ’’جن پر اللہ نے انعام کیا تھا‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انھیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی ﴿ادۡخُلُوۡا عَلَيۡهِمُ الۡبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلۡتُمُوۡهُ فَاِنَّـكُمۡ غٰلِبُوۡنَ﴾ ’’تم دروازے میں داخل ہو جاؤ، جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم غالب ہو گے‘‘ یعنی تمھارے اور تمھاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کر لو اور شہر کے دروازے میں گھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں ، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ نیز یہ کہ توکل بندۂ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔
[24] مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انھوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِيۡهَا فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! جب تک وہ اس میں ہیں ، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں ‘‘ اس مشکل صورت حال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفیﷺ کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہو جاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرمﷺ نے صحابہ کرامy سے مشورہ کیا جبکہ آپﷺ نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا۔ تو صحابہy نے عرض کی: ’’یارسول اللہ! اگر آپ ہمیں لے کر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی ﴿ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴾ ’’جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں‘‘... بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جائیں لڑائی کریں ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر (آپ کے دشمنوں کے خلاف) جنگ کریں گے ہم آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔‘‘(سیرت ابن ہشام: 2؍227)
[25] جب موسیٰu نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے‘‘ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں ۔ اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کر سکتا ﴿ فَافۡرُقۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں ‘‘ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں ۔
[26]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً١ۚ يَتِيۡهُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کردیا گیا ہے اور وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی ان کی سزا یہ ہے کہ اس بستی میں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دی ہے، داخل ہونا چالیس برس تک ان پر حرام کر دیا گیا۔ نیز وہ اس مدت کے دوران زمین میں مارے مارے اور سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ وہ کسی طرف جانے کی راہ پائیں گے نہ کسی جگہ اطمینان سے ٹھہر سکیں گے۔ یہ دنیوی سزا تھی۔ شاید اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا اور ان سے وہ سزا دور کر دی جو اس سے بڑی سزا تھی۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گناہ کی سزا کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ موجودہ نعمت زائل ہو جاتی ہے یا کسی عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جس کے وجود کا سبب مہیا ہو۔ یا اس کو کسی دوسرے وقت کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے۔چالیس سال کی مدت مقرر کرنے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس مدت کے دوران میں یہ بات کہنے والے اکثر لوگ مر چکے ہوں گے جو صبر و ثبات سے محروم تھے بلکہ ان کے دل دشمن کی غلامی سے مالوف ہو گئے تھے بلکہ وہ ان بلند ارادوں ہی سے محروم تھے جو انھیں بلندیوں پر فائز کرتے تاکہ اس دوران میں نئی نسل کی عقل اور شعور تربیت پا لے، پھر وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے، غلامی سے آزاد ہونے اور اس ذلت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سعادت سے مانع ہوتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا بندہ موسیٰ مخلوق پر بے حد رحیم ہے خاص طور پر اپنی قوم پر۔ بسا اوقات ان کے لیے ان کا دل بہت نرم پڑ جاتا تھا، ان کی یہ شفقت اس سزا پر ان کو مغموم کر دیتی یا اس مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرنے پر آمادہ کر دیتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر فرمایا:﴿ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’پس تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کر۔‘‘ یعنی ان پر افسوس کر نہ ان کے بارے غمزدہ ہو۔ یقینا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی نافرمانی اسی سزا کا تقاضا کرتی تھی جو انھیں ملی ہے۔ یہ سزا ہماری طرف سے ظلم نہیں ہے۔
5:24قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّا لَن نَّدۡخُلَهَآ أَبَدٗا مَّا دَامُواْ فِيهَا فَٱذۡهَبۡ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَٰتِلَآ إِنَّا هَٰهُنَا قَٰعِدُونَ
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)
[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔
[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے ﴿وَلَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ لوٹو اپنی پیٹھوں کی طرف‘‘ یعنی واپس نہ لوٹو ﴿فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’پھر جا پڑو گے نقصان میں ‘‘ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کر سکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔
[22] انھوں نے (اس کے جواب میں ) موسیٰu کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعیف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ فِيۡهَا قَوۡمًا جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! اس میں ایک زبردست قوم ہے‘‘ یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں ، یعنی اس لیے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں ﴿وَاِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَا حَتّٰى يَخۡرُجُوۡا مِنۡهَا١ۚ فَاِنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا فَاِنَّا دٰخِلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں ۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے‘‘ اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انھیں معلوم ہوتاکہ وہ بھی سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے۔ کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ نیز انھیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح و نصرت سے نوازا جائے گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح و نصرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔
[23]﴿قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ ﴾ ’’دو آدمیوں نے کہا: جو ڈرنے والوں میں سے تھے‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انھوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لیے کہا ﴿اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمَا ﴾ ’’جن پر اللہ نے انعام کیا تھا‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انھیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی ﴿ادۡخُلُوۡا عَلَيۡهِمُ الۡبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلۡتُمُوۡهُ فَاِنَّـكُمۡ غٰلِبُوۡنَ﴾ ’’تم دروازے میں داخل ہو جاؤ، جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم غالب ہو گے‘‘ یعنی تمھارے اور تمھاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کر لو اور شہر کے دروازے میں گھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں ، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ نیز یہ کہ توکل بندۂ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔
[24] مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انھوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِيۡهَا فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! جب تک وہ اس میں ہیں ، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں ‘‘ اس مشکل صورت حال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفیﷺ کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہو جاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرمﷺ نے صحابہ کرامy سے مشورہ کیا جبکہ آپﷺ نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا۔ تو صحابہy نے عرض کی: ’’یارسول اللہ! اگر آپ ہمیں لے کر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی ﴿ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴾ ’’جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں‘‘... بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جائیں لڑائی کریں ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر (آپ کے دشمنوں کے خلاف) جنگ کریں گے ہم آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔‘‘(سیرت ابن ہشام: 2؍227)
[25] جب موسیٰu نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے‘‘ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں ۔ اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کر سکتا ﴿ فَافۡرُقۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں ‘‘ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں ۔
[26]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً١ۚ يَتِيۡهُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کردیا گیا ہے اور وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی ان کی سزا یہ ہے کہ اس بستی میں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دی ہے، داخل ہونا چالیس برس تک ان پر حرام کر دیا گیا۔ نیز وہ اس مدت کے دوران زمین میں مارے مارے اور سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ وہ کسی طرف جانے کی راہ پائیں گے نہ کسی جگہ اطمینان سے ٹھہر سکیں گے۔ یہ دنیوی سزا تھی۔ شاید اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا اور ان سے وہ سزا دور کر دی جو اس سے بڑی سزا تھی۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گناہ کی سزا کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ موجودہ نعمت زائل ہو جاتی ہے یا کسی عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جس کے وجود کا سبب مہیا ہو۔ یا اس کو کسی دوسرے وقت کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے۔چالیس سال کی مدت مقرر کرنے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس مدت کے دوران میں یہ بات کہنے والے اکثر لوگ مر چکے ہوں گے جو صبر و ثبات سے محروم تھے بلکہ ان کے دل دشمن کی غلامی سے مالوف ہو گئے تھے بلکہ وہ ان بلند ارادوں ہی سے محروم تھے جو انھیں بلندیوں پر فائز کرتے تاکہ اس دوران میں نئی نسل کی عقل اور شعور تربیت پا لے، پھر وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے، غلامی سے آزاد ہونے اور اس ذلت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سعادت سے مانع ہوتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا بندہ موسیٰ مخلوق پر بے حد رحیم ہے خاص طور پر اپنی قوم پر۔ بسا اوقات ان کے لیے ان کا دل بہت نرم پڑ جاتا تھا، ان کی یہ شفقت اس سزا پر ان کو مغموم کر دیتی یا اس مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرنے پر آمادہ کر دیتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر فرمایا:﴿ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’پس تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کر۔‘‘ یعنی ان پر افسوس کر نہ ان کے بارے غمزدہ ہو۔ یقینا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی نافرمانی اسی سزا کا تقاضا کرتی تھی جو انھیں ملی ہے۔ یہ سزا ہماری طرف سے ظلم نہیں ہے۔
5:25قَالَ رَبِّ إِنِّي لَآ أَمۡلِكُ إِلَّا نَفۡسِي وَأَخِيۖ فَٱفۡرُقۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡفَٰسِقِينَ
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)
[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔
[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے ﴿وَلَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ لوٹو اپنی پیٹھوں کی طرف‘‘ یعنی واپس نہ لوٹو ﴿فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’پھر جا پڑو گے نقصان میں ‘‘ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کر سکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔
[22] انھوں نے (اس کے جواب میں ) موسیٰu کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعیف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ فِيۡهَا قَوۡمًا جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! اس میں ایک زبردست قوم ہے‘‘ یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں ، یعنی اس لیے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں ﴿وَاِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَا حَتّٰى يَخۡرُجُوۡا مِنۡهَا١ۚ فَاِنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا فَاِنَّا دٰخِلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں ۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے‘‘ اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انھیں معلوم ہوتاکہ وہ بھی سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے۔ کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ نیز انھیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح و نصرت سے نوازا جائے گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح و نصرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔
[23]﴿قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ ﴾ ’’دو آدمیوں نے کہا: جو ڈرنے والوں میں سے تھے‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انھوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لیے کہا ﴿اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمَا ﴾ ’’جن پر اللہ نے انعام کیا تھا‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انھیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی ﴿ادۡخُلُوۡا عَلَيۡهِمُ الۡبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلۡتُمُوۡهُ فَاِنَّـكُمۡ غٰلِبُوۡنَ﴾ ’’تم دروازے میں داخل ہو جاؤ، جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم غالب ہو گے‘‘ یعنی تمھارے اور تمھاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کر لو اور شہر کے دروازے میں گھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں ، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ نیز یہ کہ توکل بندۂ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔
[24] مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انھوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِيۡهَا فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! جب تک وہ اس میں ہیں ، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں ‘‘ اس مشکل صورت حال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفیﷺ کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہو جاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرمﷺ نے صحابہ کرامy سے مشورہ کیا جبکہ آپﷺ نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا۔ تو صحابہy نے عرض کی: ’’یارسول اللہ! اگر آپ ہمیں لے کر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی ﴿ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴾ ’’جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں‘‘... بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جائیں لڑائی کریں ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر (آپ کے دشمنوں کے خلاف) جنگ کریں گے ہم آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔‘‘(سیرت ابن ہشام: 2؍227)
[25] جب موسیٰu نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے‘‘ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں ۔ اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کر سکتا ﴿ فَافۡرُقۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں ‘‘ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں ۔
[26]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً١ۚ يَتِيۡهُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کردیا گیا ہے اور وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی ان کی سزا یہ ہے کہ اس بستی میں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دی ہے، داخل ہونا چالیس برس تک ان پر حرام کر دیا گیا۔ نیز وہ اس مدت کے دوران زمین میں مارے مارے اور سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ وہ کسی طرف جانے کی راہ پائیں گے نہ کسی جگہ اطمینان سے ٹھہر سکیں گے۔ یہ دنیوی سزا تھی۔ شاید اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا اور ان سے وہ سزا دور کر دی جو اس سے بڑی سزا تھی۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گناہ کی سزا کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ موجودہ نعمت زائل ہو جاتی ہے یا کسی عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جس کے وجود کا سبب مہیا ہو۔ یا اس کو کسی دوسرے وقت کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے۔چالیس سال کی مدت مقرر کرنے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس مدت کے دوران میں یہ بات کہنے والے اکثر لوگ مر چکے ہوں گے جو صبر و ثبات سے محروم تھے بلکہ ان کے دل دشمن کی غلامی سے مالوف ہو گئے تھے بلکہ وہ ان بلند ارادوں ہی سے محروم تھے جو انھیں بلندیوں پر فائز کرتے تاکہ اس دوران میں نئی نسل کی عقل اور شعور تربیت پا لے، پھر وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے، غلامی سے آزاد ہونے اور اس ذلت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سعادت سے مانع ہوتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا بندہ موسیٰ مخلوق پر بے حد رحیم ہے خاص طور پر اپنی قوم پر۔ بسا اوقات ان کے لیے ان کا دل بہت نرم پڑ جاتا تھا، ان کی یہ شفقت اس سزا پر ان کو مغموم کر دیتی یا اس مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرنے پر آمادہ کر دیتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر فرمایا:﴿ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’پس تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کر۔‘‘ یعنی ان پر افسوس کر نہ ان کے بارے غمزدہ ہو۔ یقینا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی نافرمانی اسی سزا کا تقاضا کرتی تھی جو انھیں ملی ہے۔ یہ سزا ہماری طرف سے ظلم نہیں ہے۔
5:26قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡۛ أَرۡبَعِينَ سَنَةٗۛ يَتِيهُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ فَلَا تَأۡسَ عَلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡفَٰسِقِينَ
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)
[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔
[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے ﴿وَلَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰۤى اَدۡبَارِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ لوٹو اپنی پیٹھوں کی طرف‘‘ یعنی واپس نہ لوٹو ﴿فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’پھر جا پڑو گے نقصان میں ‘‘ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کر سکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔
[22] انھوں نے (اس کے جواب میں ) موسیٰu کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعیف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ فِيۡهَا قَوۡمًا جَبَّارِيۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! اس میں ایک زبردست قوم ہے‘‘ یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں ، یعنی اس لیے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں ﴿وَاِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَا حَتّٰى يَخۡرُجُوۡا مِنۡهَا١ۚ فَاِنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا فَاِنَّا دٰخِلُوۡنَ﴾ ’’اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں ۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے‘‘ اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انھیں معلوم ہوتاکہ وہ بھی سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے۔ کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ نیز انھیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح و نصرت سے نوازا جائے گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح و نصرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔
[23]﴿قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ ﴾ ’’دو آدمیوں نے کہا: جو ڈرنے والوں میں سے تھے‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انھوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لیے کہا ﴿اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمَا ﴾ ’’جن پر اللہ نے انعام کیا تھا‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انھیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی ﴿ادۡخُلُوۡا عَلَيۡهِمُ الۡبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلۡتُمُوۡهُ فَاِنَّـكُمۡ غٰلِبُوۡنَ﴾ ’’تم دروازے میں داخل ہو جاؤ، جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم غالب ہو گے‘‘ یعنی تمھارے اور تمھاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کر لو اور شہر کے دروازے میں گھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں ، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ نیز یہ کہ توکل بندۂ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔
[24] مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انھوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی ﴿يٰمُوۡسٰۤى اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِيۡهَا فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ﴾ ’’اے موسیٰ! جب تک وہ اس میں ہیں ، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں ‘‘ اس مشکل صورت حال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفیﷺ کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہو جاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرمﷺ نے صحابہ کرامy سے مشورہ کیا جبکہ آپﷺ نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا۔ تو صحابہy نے عرض کی: ’’یارسول اللہ! اگر آپ ہمیں لے کر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی ﴿ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴾ ’’جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں‘‘... بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جائیں لڑائی کریں ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر (آپ کے دشمنوں کے خلاف) جنگ کریں گے ہم آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔‘‘(سیرت ابن ہشام: 2؍227)
[25] جب موسیٰu نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِيۡ وَاَخِيۡ ﴾ ’’اے میرے رب! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے‘‘ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں ۔ اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کر سکتا ﴿ فَافۡرُقۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں ‘‘ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں ۔
[26]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيۡهِمۡ اَرۡبَعِيۡنَ سَنَةً١ۚ يَتِيۡهُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کردیا گیا ہے اور وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی ان کی سزا یہ ہے کہ اس بستی میں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لکھ دی ہے، داخل ہونا چالیس برس تک ان پر حرام کر دیا گیا۔ نیز وہ اس مدت کے دوران زمین میں مارے مارے اور سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ وہ کسی طرف جانے کی راہ پائیں گے نہ کسی جگہ اطمینان سے ٹھہر سکیں گے۔ یہ دنیوی سزا تھی۔ شاید اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا اور ان سے وہ سزا دور کر دی جو اس سے بڑی سزا تھی۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گناہ کی سزا کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ موجودہ نعمت زائل ہو جاتی ہے یا کسی عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جس کے وجود کا سبب مہیا ہو۔ یا اس کو کسی دوسرے وقت کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے۔چالیس سال کی مدت مقرر کرنے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس مدت کے دوران میں یہ بات کہنے والے اکثر لوگ مر چکے ہوں گے جو صبر و ثبات سے محروم تھے بلکہ ان کے دل دشمن کی غلامی سے مالوف ہو گئے تھے بلکہ وہ ان بلند ارادوں ہی سے محروم تھے جو انھیں بلندیوں پر فائز کرتے تاکہ اس دوران میں نئی نسل کی عقل اور شعور تربیت پا لے، پھر وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے، غلامی سے آزاد ہونے اور اس ذلت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سعادت سے مانع ہوتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا بندہ موسیٰ مخلوق پر بے حد رحیم ہے خاص طور پر اپنی قوم پر۔ بسا اوقات ان کے لیے ان کا دل بہت نرم پڑ جاتا تھا، ان کی یہ شفقت اس سزا پر ان کو مغموم کر دیتی یا اس مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرنے پر آمادہ کر دیتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر فرمایا:﴿ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’پس تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کر۔‘‘ یعنی ان پر افسوس کر نہ ان کے بارے غمزدہ ہو۔ یقینا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی نافرمانی اسی سزا کا تقاضا کرتی تھی جو انھیں ملی ہے۔ یہ سزا ہماری طرف سے ظلم نہیں ہے۔
5:27۞وَٱتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَأَ ٱبۡنَيۡ ءَادَمَ بِٱلۡحَقِّ إِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانٗا فَتُقُبِّلَ مِنۡ أَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ ٱلۡأٓخَرِ قَالَ لَأَقۡتُلَنَّكَۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلۡمُتَّقِينَ
اور تلاوت کریں آپ ان پر خبرآدم کے دو بیٹوں کی ساتھ حق کے، جب دونوں نے قربانی کی (ایک) ایک قربانی تو مقبول ہوئی ان میں سے ایک کی اور نہ مقبول ہوئی دوسرے کی، اس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کردوں گا، (پہلے نے) کہا، بس قبول کرتا ہے اللہ پرہیزگاروں ہی سے(27) ، البتہ اگر دراز کرے گا تو میری طرف اپنا ہاتھ تاکہ قتل کرے تو مجھے تو میں نہیں دراز کروں گا اپنا ہاتھ تیری طرف کہ قتل کروں میں تجھے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے(28) بے شک میں ارادہ کرتا ہوں کہ لوٹے تو ساتھ میرے گناہ اور اپنے گناہ کے، پس ہو جائے تو دوزخیوں سےاور یہی بدلہ ہے ظالموں کا(29) پس آسان کر دیا اس کے لیے اس کے نفس نے قتل کرنے کو اپنے بھائی کے تو اس نے قتل کر دیا اسے اور ہوگیا وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے(30) پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا، وہ کھودتا تھا زمین کوتاکہ دکھلائے وہ اسے کہ کیسے چھپائے وہ لاش اپنے بھائی کی، اس نے کہا، ہائے افسوس! کیا میں عاجز ہوں اس سے بھی کہ ہوں مثل اس کوے کی کہ چھپا دیتا لاش اپنے بھائی کی، پس ہو گیا وہ پچھتانے والوں میں سے(31)
[27] یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدمu کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشہ نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں ۔ اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ’’دو بیٹوں ‘‘ سے مراد صلبی بیٹے ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انھوں نے تقرب کے لیے قربانی کی جس نے انھیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ ﴿ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا ﴾ ’’جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔‘‘ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر کچھ قربانی پیش کی ﴿ فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ﴾’’پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی نامقبول‘‘ ان میں سے جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اسے آسمان سے کسی خبر کے ذریعے سے معلوم ہوا یا سابقہ امتوں میں عادت الٰہی کے مطابق قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا ڈالتی تھی۔﴿ قَالَ ﴾ وہ بیٹا جس کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی حسد اور تعدی کی بنا پر دوسرے بیٹے سے بولا: ﴿ لَاَقۡتُلَنَّكَ ﴾ ’’میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔‘‘ دوسرے بیٹے نے نہایت نرمی سے اس سے کہا: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے‘‘ اس میں میرا کون سا گناہ اور کون سا جرم ہے جو تجھ پر میرے قتل کو واجب کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جس سے ڈرنا مجھ پر، تجھ پر اور ہر ایک پر فرض ہے۔ اس آیت کریمہ میں ’’متقین‘‘ کی تفسیر میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ہے عمل میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والے یعنی ان کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے اور رسول اللہﷺ کی اتباع میں ہو۔
[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ دوسرا بیٹا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ نہ ابتدا میں اور نہ اپنی مدافعت میں ۔ اس لیے اس نے کہا ﴿ لَىِٕنۢۡ بَسَطۡتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقۡتُلَنِيۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيۡكَ لِاَقۡتُلَكَ ﴾ ’’اگر تو ہاتھ چلائے گا مجھ پر تاکہ تو مجھے مارے تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں چلاؤں گا کہ تجھے ماروں ‘‘ اور میرا یہ رویہ میری بزدلی یا میرے عجز کی وجہ سے نہیں یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ ﴿ اِنِّي ۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا گناہ کا اقدام نہیں کر سکتا، خاص طور پر کبیرہ گناہ کا۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت تخویف ہے جو قتل کا ارادہ کرتا ہے اور تیرے لیے مناسب یہی ہے کہ تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس سے ڈرے۔
[29]﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓءَاۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ تو لوٹے۔‘‘ ﴿ بِـاِثۡمِيۡ وَاِثۡمِكَ ﴾ ’’میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ‘‘ یعنی جب معاملے کا دار و مدار دو امور پر ہے، ایک یہ کہ میں قاتل بنوں (دوسرا یہ کہ) تو مجھے قتل کرے۔ تو میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ تو مجھے قتل کرے تاکہ تو دونوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر واپس لوٹے ﴿ فَتَكُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ النَّارِ١ۚ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہو جائے تو دوزخیوں میں سے اور یہی سزا ہے ظالموں کی۔‘‘یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قتل کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے اور یہ جہنم میں داخل ہونے کا موجب ہے۔
[30] وہ مجرم اس جرم سے پیچھے ہٹا نہ گھبرایا اور قتل کے عزم جازم پر قائم رہا حتیٰ کہ اس کے نفس نے اس کے بھائی کے قتل کی ترغیب دی جس کے احترام کا تقاضا شریعت اور فطرت دونوں کرتے ہیں ﴿ فَقَتَلَهٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’پس اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا‘‘ یعنی وہ دنیا و آخرت میں خسارہ پانے والوں میں شامل ہو گیا اور اس نے ہر قاتل کے لیے ایک سنت رائج کر دی۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس کسی نے کوئی بری سنت رائج کی تو اس پر اس برائی کے گناہ کا بوجھ اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی پڑے گا جو قیامت تک اس بری سنت پر عمل کریں گے‘‘(دیکھیے: صحیح مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ… الخ، حدیث: 1017) بنابریں ایک صحیح حدیث میں وارد ہے ’’دنیا میں جو بھی قتل کرتا ہے تو اس خون کے گناہ کا کچھ حصہ آدم کے پہلے بیٹے کے حصہ میں بھی جاتا ہے کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کے جرم کی ابتدا کی۔‘‘ (دیکھیے: جامع الترمذي، العلم، باب ماجاء أن الدال علی الخیر کفاعلہ، حدیث: 2673)
[31] جب اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کرے کیونکہ آدم کے بیٹوں میں وہ پہلا شخص تھا جو مرا تھا ﴿ فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبۡحَثُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تو اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدتا تھا‘‘ یعنی وہ زمین کھودتا ہے تاکہ دوسرے مردہ کوے کو دفن کرے ﴿ لِيُرِيَهٗ ﴾ ’’تاکہ اسے دکھائے‘‘ یعنی وہ اس کے ذریعے سے آدم کے قاتل بیٹے کو دکھائے ﴿ كَيۡفَ يُوَارِيۡ سَوۡءَةَ اَخِيۡهِ ﴾ ’’ کہ وہ اپنے بھائی کے بدن کو کیسے چھپائے۔‘‘ کیونکہ میت کا بدن ستر ہوتا ہے ﴿ فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہ نادم ہونے والوں میں سے ہو گیا‘‘ اسی طرح تمام گناہوں کا انجام ندامت اور خسارہ ہے۔
5:28لَئِنۢ بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقۡتُلَنِي مَآ أَنَا۠ بِبَاسِطٖ يَدِيَ إِلَيۡكَ لِأَقۡتُلَكَۖ إِنِّيٓ أَخَافُ ٱللَّهَ رَبَّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور تلاوت کریں آپ ان پر خبرآدم کے دو بیٹوں کی ساتھ حق کے، جب دونوں نے قربانی کی (ایک) ایک قربانی تو مقبول ہوئی ان میں سے ایک کی اور نہ مقبول ہوئی دوسرے کی، اس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کردوں گا، (پہلے نے) کہا، بس قبول کرتا ہے اللہ پرہیزگاروں ہی سے(27) ، البتہ اگر دراز کرے گا تو میری طرف اپنا ہاتھ تاکہ قتل کرے تو مجھے تو میں نہیں دراز کروں گا اپنا ہاتھ تیری طرف کہ قتل کروں میں تجھے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے(28) بے شک میں ارادہ کرتا ہوں کہ لوٹے تو ساتھ میرے گناہ اور اپنے گناہ کے، پس ہو جائے تو دوزخیوں سےاور یہی بدلہ ہے ظالموں کا(29) پس آسان کر دیا اس کے لیے اس کے نفس نے قتل کرنے کو اپنے بھائی کے تو اس نے قتل کر دیا اسے اور ہوگیا وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے(30) پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا، وہ کھودتا تھا زمین کوتاکہ دکھلائے وہ اسے کہ کیسے چھپائے وہ لاش اپنے بھائی کی، اس نے کہا، ہائے افسوس! کیا میں عاجز ہوں اس سے بھی کہ ہوں مثل اس کوے کی کہ چھپا دیتا لاش اپنے بھائی کی، پس ہو گیا وہ پچھتانے والوں میں سے(31)
[27] یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدمu کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشہ نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں ۔ اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ’’دو بیٹوں ‘‘ سے مراد صلبی بیٹے ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انھوں نے تقرب کے لیے قربانی کی جس نے انھیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ ﴿ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا ﴾ ’’جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔‘‘ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر کچھ قربانی پیش کی ﴿ فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ﴾’’پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی نامقبول‘‘ ان میں سے جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اسے آسمان سے کسی خبر کے ذریعے سے معلوم ہوا یا سابقہ امتوں میں عادت الٰہی کے مطابق قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا ڈالتی تھی۔﴿ قَالَ ﴾ وہ بیٹا جس کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی حسد اور تعدی کی بنا پر دوسرے بیٹے سے بولا: ﴿ لَاَقۡتُلَنَّكَ ﴾ ’’میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔‘‘ دوسرے بیٹے نے نہایت نرمی سے اس سے کہا: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے‘‘ اس میں میرا کون سا گناہ اور کون سا جرم ہے جو تجھ پر میرے قتل کو واجب کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جس سے ڈرنا مجھ پر، تجھ پر اور ہر ایک پر فرض ہے۔ اس آیت کریمہ میں ’’متقین‘‘ کی تفسیر میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ہے عمل میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والے یعنی ان کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے اور رسول اللہﷺ کی اتباع میں ہو۔
[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ دوسرا بیٹا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ نہ ابتدا میں اور نہ اپنی مدافعت میں ۔ اس لیے اس نے کہا ﴿ لَىِٕنۢۡ بَسَطۡتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقۡتُلَنِيۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيۡكَ لِاَقۡتُلَكَ ﴾ ’’اگر تو ہاتھ چلائے گا مجھ پر تاکہ تو مجھے مارے تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں چلاؤں گا کہ تجھے ماروں ‘‘ اور میرا یہ رویہ میری بزدلی یا میرے عجز کی وجہ سے نہیں یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ ﴿ اِنِّي ۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا گناہ کا اقدام نہیں کر سکتا، خاص طور پر کبیرہ گناہ کا۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت تخویف ہے جو قتل کا ارادہ کرتا ہے اور تیرے لیے مناسب یہی ہے کہ تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس سے ڈرے۔
[29]﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓءَاۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ تو لوٹے۔‘‘ ﴿ بِـاِثۡمِيۡ وَاِثۡمِكَ ﴾ ’’میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ‘‘ یعنی جب معاملے کا دار و مدار دو امور پر ہے، ایک یہ کہ میں قاتل بنوں (دوسرا یہ کہ) تو مجھے قتل کرے۔ تو میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ تو مجھے قتل کرے تاکہ تو دونوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر واپس لوٹے ﴿ فَتَكُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ النَّارِ١ۚ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہو جائے تو دوزخیوں میں سے اور یہی سزا ہے ظالموں کی۔‘‘یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قتل کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے اور یہ جہنم میں داخل ہونے کا موجب ہے۔
[30] وہ مجرم اس جرم سے پیچھے ہٹا نہ گھبرایا اور قتل کے عزم جازم پر قائم رہا حتیٰ کہ اس کے نفس نے اس کے بھائی کے قتل کی ترغیب دی جس کے احترام کا تقاضا شریعت اور فطرت دونوں کرتے ہیں ﴿ فَقَتَلَهٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’پس اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا‘‘ یعنی وہ دنیا و آخرت میں خسارہ پانے والوں میں شامل ہو گیا اور اس نے ہر قاتل کے لیے ایک سنت رائج کر دی۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس کسی نے کوئی بری سنت رائج کی تو اس پر اس برائی کے گناہ کا بوجھ اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی پڑے گا جو قیامت تک اس بری سنت پر عمل کریں گے‘‘(دیکھیے: صحیح مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ… الخ، حدیث: 1017) بنابریں ایک صحیح حدیث میں وارد ہے ’’دنیا میں جو بھی قتل کرتا ہے تو اس خون کے گناہ کا کچھ حصہ آدم کے پہلے بیٹے کے حصہ میں بھی جاتا ہے کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کے جرم کی ابتدا کی۔‘‘ (دیکھیے: جامع الترمذي، العلم، باب ماجاء أن الدال علی الخیر کفاعلہ، حدیث: 2673)
[31] جب اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کرے کیونکہ آدم کے بیٹوں میں وہ پہلا شخص تھا جو مرا تھا ﴿ فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبۡحَثُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تو اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدتا تھا‘‘ یعنی وہ زمین کھودتا ہے تاکہ دوسرے مردہ کوے کو دفن کرے ﴿ لِيُرِيَهٗ ﴾ ’’تاکہ اسے دکھائے‘‘ یعنی وہ اس کے ذریعے سے آدم کے قاتل بیٹے کو دکھائے ﴿ كَيۡفَ يُوَارِيۡ سَوۡءَةَ اَخِيۡهِ ﴾ ’’ کہ وہ اپنے بھائی کے بدن کو کیسے چھپائے۔‘‘ کیونکہ میت کا بدن ستر ہوتا ہے ﴿ فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہ نادم ہونے والوں میں سے ہو گیا‘‘ اسی طرح تمام گناہوں کا انجام ندامت اور خسارہ ہے۔
5:29إِنِّيٓ أُرِيدُ أَن تَبُوٓأَ بِإِثۡمِي وَإِثۡمِكَ فَتَكُونَ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلنَّارِۚ وَذَٰلِكَ جَزَـٰٓؤُاْ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور تلاوت کریں آپ ان پر خبرآدم کے دو بیٹوں کی ساتھ حق کے، جب دونوں نے قربانی کی (ایک) ایک قربانی تو مقبول ہوئی ان میں سے ایک کی اور نہ مقبول ہوئی دوسرے کی، اس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کردوں گا، (پہلے نے) کہا، بس قبول کرتا ہے اللہ پرہیزگاروں ہی سے(27) ، البتہ اگر دراز کرے گا تو میری طرف اپنا ہاتھ تاکہ قتل کرے تو مجھے تو میں نہیں دراز کروں گا اپنا ہاتھ تیری طرف کہ قتل کروں میں تجھے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے(28) بے شک میں ارادہ کرتا ہوں کہ لوٹے تو ساتھ میرے گناہ اور اپنے گناہ کے، پس ہو جائے تو دوزخیوں سےاور یہی بدلہ ہے ظالموں کا(29) پس آسان کر دیا اس کے لیے اس کے نفس نے قتل کرنے کو اپنے بھائی کے تو اس نے قتل کر دیا اسے اور ہوگیا وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے(30) پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا، وہ کھودتا تھا زمین کوتاکہ دکھلائے وہ اسے کہ کیسے چھپائے وہ لاش اپنے بھائی کی، اس نے کہا، ہائے افسوس! کیا میں عاجز ہوں اس سے بھی کہ ہوں مثل اس کوے کی کہ چھپا دیتا لاش اپنے بھائی کی، پس ہو گیا وہ پچھتانے والوں میں سے(31)
[27] یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدمu کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشہ نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں ۔ اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ’’دو بیٹوں ‘‘ سے مراد صلبی بیٹے ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انھوں نے تقرب کے لیے قربانی کی جس نے انھیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ ﴿ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا ﴾ ’’جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔‘‘ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر کچھ قربانی پیش کی ﴿ فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ﴾’’پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی نامقبول‘‘ ان میں سے جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اسے آسمان سے کسی خبر کے ذریعے سے معلوم ہوا یا سابقہ امتوں میں عادت الٰہی کے مطابق قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا ڈالتی تھی۔﴿ قَالَ ﴾ وہ بیٹا جس کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی حسد اور تعدی کی بنا پر دوسرے بیٹے سے بولا: ﴿ لَاَقۡتُلَنَّكَ ﴾ ’’میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔‘‘ دوسرے بیٹے نے نہایت نرمی سے اس سے کہا: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے‘‘ اس میں میرا کون سا گناہ اور کون سا جرم ہے جو تجھ پر میرے قتل کو واجب کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جس سے ڈرنا مجھ پر، تجھ پر اور ہر ایک پر فرض ہے۔ اس آیت کریمہ میں ’’متقین‘‘ کی تفسیر میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ہے عمل میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والے یعنی ان کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے اور رسول اللہﷺ کی اتباع میں ہو۔
[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ دوسرا بیٹا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ نہ ابتدا میں اور نہ اپنی مدافعت میں ۔ اس لیے اس نے کہا ﴿ لَىِٕنۢۡ بَسَطۡتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقۡتُلَنِيۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيۡكَ لِاَقۡتُلَكَ ﴾ ’’اگر تو ہاتھ چلائے گا مجھ پر تاکہ تو مجھے مارے تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں چلاؤں گا کہ تجھے ماروں ‘‘ اور میرا یہ رویہ میری بزدلی یا میرے عجز کی وجہ سے نہیں یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ ﴿ اِنِّي ۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا گناہ کا اقدام نہیں کر سکتا، خاص طور پر کبیرہ گناہ کا۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت تخویف ہے جو قتل کا ارادہ کرتا ہے اور تیرے لیے مناسب یہی ہے کہ تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس سے ڈرے۔
[29]﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓءَاۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ تو لوٹے۔‘‘ ﴿ بِـاِثۡمِيۡ وَاِثۡمِكَ ﴾ ’’میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ‘‘ یعنی جب معاملے کا دار و مدار دو امور پر ہے، ایک یہ کہ میں قاتل بنوں (دوسرا یہ کہ) تو مجھے قتل کرے۔ تو میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ تو مجھے قتل کرے تاکہ تو دونوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر واپس لوٹے ﴿ فَتَكُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ النَّارِ١ۚ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہو جائے تو دوزخیوں میں سے اور یہی سزا ہے ظالموں کی۔‘‘یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قتل کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے اور یہ جہنم میں داخل ہونے کا موجب ہے۔
[30] وہ مجرم اس جرم سے پیچھے ہٹا نہ گھبرایا اور قتل کے عزم جازم پر قائم رہا حتیٰ کہ اس کے نفس نے اس کے بھائی کے قتل کی ترغیب دی جس کے احترام کا تقاضا شریعت اور فطرت دونوں کرتے ہیں ﴿ فَقَتَلَهٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’پس اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا‘‘ یعنی وہ دنیا و آخرت میں خسارہ پانے والوں میں شامل ہو گیا اور اس نے ہر قاتل کے لیے ایک سنت رائج کر دی۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس کسی نے کوئی بری سنت رائج کی تو اس پر اس برائی کے گناہ کا بوجھ اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی پڑے گا جو قیامت تک اس بری سنت پر عمل کریں گے‘‘(دیکھیے: صحیح مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ… الخ، حدیث: 1017) بنابریں ایک صحیح حدیث میں وارد ہے ’’دنیا میں جو بھی قتل کرتا ہے تو اس خون کے گناہ کا کچھ حصہ آدم کے پہلے بیٹے کے حصہ میں بھی جاتا ہے کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کے جرم کی ابتدا کی۔‘‘ (دیکھیے: جامع الترمذي، العلم، باب ماجاء أن الدال علی الخیر کفاعلہ، حدیث: 2673)
[31] جب اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کرے کیونکہ آدم کے بیٹوں میں وہ پہلا شخص تھا جو مرا تھا ﴿ فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبۡحَثُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تو اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدتا تھا‘‘ یعنی وہ زمین کھودتا ہے تاکہ دوسرے مردہ کوے کو دفن کرے ﴿ لِيُرِيَهٗ ﴾ ’’تاکہ اسے دکھائے‘‘ یعنی وہ اس کے ذریعے سے آدم کے قاتل بیٹے کو دکھائے ﴿ كَيۡفَ يُوَارِيۡ سَوۡءَةَ اَخِيۡهِ ﴾ ’’ کہ وہ اپنے بھائی کے بدن کو کیسے چھپائے۔‘‘ کیونکہ میت کا بدن ستر ہوتا ہے ﴿ فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہ نادم ہونے والوں میں سے ہو گیا‘‘ اسی طرح تمام گناہوں کا انجام ندامت اور خسارہ ہے۔
5:30فَطَوَّعَتۡ لَهُۥ نَفۡسُهُۥ قَتۡلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُۥ فَأَصۡبَحَ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ
اور تلاوت کریں آپ ان پر خبرآدم کے دو بیٹوں کی ساتھ حق کے، جب دونوں نے قربانی کی (ایک) ایک قربانی تو مقبول ہوئی ان میں سے ایک کی اور نہ مقبول ہوئی دوسرے کی، اس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کردوں گا، (پہلے نے) کہا، بس قبول کرتا ہے اللہ پرہیزگاروں ہی سے(27) ، البتہ اگر دراز کرے گا تو میری طرف اپنا ہاتھ تاکہ قتل کرے تو مجھے تو میں نہیں دراز کروں گا اپنا ہاتھ تیری طرف کہ قتل کروں میں تجھے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے(28) بے شک میں ارادہ کرتا ہوں کہ لوٹے تو ساتھ میرے گناہ اور اپنے گناہ کے، پس ہو جائے تو دوزخیوں سےاور یہی بدلہ ہے ظالموں کا(29) پس آسان کر دیا اس کے لیے اس کے نفس نے قتل کرنے کو اپنے بھائی کے تو اس نے قتل کر دیا اسے اور ہوگیا وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے(30) پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا، وہ کھودتا تھا زمین کوتاکہ دکھلائے وہ اسے کہ کیسے چھپائے وہ لاش اپنے بھائی کی، اس نے کہا، ہائے افسوس! کیا میں عاجز ہوں اس سے بھی کہ ہوں مثل اس کوے کی کہ چھپا دیتا لاش اپنے بھائی کی، پس ہو گیا وہ پچھتانے والوں میں سے(31)
[27] یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدمu کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشہ نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں ۔ اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ’’دو بیٹوں ‘‘ سے مراد صلبی بیٹے ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انھوں نے تقرب کے لیے قربانی کی جس نے انھیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ ﴿ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا ﴾ ’’جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔‘‘ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر کچھ قربانی پیش کی ﴿ فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ﴾’’پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی نامقبول‘‘ ان میں سے جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اسے آسمان سے کسی خبر کے ذریعے سے معلوم ہوا یا سابقہ امتوں میں عادت الٰہی کے مطابق قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا ڈالتی تھی۔﴿ قَالَ ﴾ وہ بیٹا جس کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی حسد اور تعدی کی بنا پر دوسرے بیٹے سے بولا: ﴿ لَاَقۡتُلَنَّكَ ﴾ ’’میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔‘‘ دوسرے بیٹے نے نہایت نرمی سے اس سے کہا: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے‘‘ اس میں میرا کون سا گناہ اور کون سا جرم ہے جو تجھ پر میرے قتل کو واجب کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جس سے ڈرنا مجھ پر، تجھ پر اور ہر ایک پر فرض ہے۔ اس آیت کریمہ میں ’’متقین‘‘ کی تفسیر میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ہے عمل میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والے یعنی ان کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے اور رسول اللہﷺ کی اتباع میں ہو۔
[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ دوسرا بیٹا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ نہ ابتدا میں اور نہ اپنی مدافعت میں ۔ اس لیے اس نے کہا ﴿ لَىِٕنۢۡ بَسَطۡتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقۡتُلَنِيۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيۡكَ لِاَقۡتُلَكَ ﴾ ’’اگر تو ہاتھ چلائے گا مجھ پر تاکہ تو مجھے مارے تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں چلاؤں گا کہ تجھے ماروں ‘‘ اور میرا یہ رویہ میری بزدلی یا میرے عجز کی وجہ سے نہیں یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ ﴿ اِنِّي ۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا گناہ کا اقدام نہیں کر سکتا، خاص طور پر کبیرہ گناہ کا۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت تخویف ہے جو قتل کا ارادہ کرتا ہے اور تیرے لیے مناسب یہی ہے کہ تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس سے ڈرے۔
[29]﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓءَاۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ تو لوٹے۔‘‘ ﴿ بِـاِثۡمِيۡ وَاِثۡمِكَ ﴾ ’’میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ‘‘ یعنی جب معاملے کا دار و مدار دو امور پر ہے، ایک یہ کہ میں قاتل بنوں (دوسرا یہ کہ) تو مجھے قتل کرے۔ تو میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ تو مجھے قتل کرے تاکہ تو دونوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر واپس لوٹے ﴿ فَتَكُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ النَّارِ١ۚ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہو جائے تو دوزخیوں میں سے اور یہی سزا ہے ظالموں کی۔‘‘یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قتل کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے اور یہ جہنم میں داخل ہونے کا موجب ہے۔
[30] وہ مجرم اس جرم سے پیچھے ہٹا نہ گھبرایا اور قتل کے عزم جازم پر قائم رہا حتیٰ کہ اس کے نفس نے اس کے بھائی کے قتل کی ترغیب دی جس کے احترام کا تقاضا شریعت اور فطرت دونوں کرتے ہیں ﴿ فَقَتَلَهٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’پس اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا‘‘ یعنی وہ دنیا و آخرت میں خسارہ پانے والوں میں شامل ہو گیا اور اس نے ہر قاتل کے لیے ایک سنت رائج کر دی۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس کسی نے کوئی بری سنت رائج کی تو اس پر اس برائی کے گناہ کا بوجھ اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی پڑے گا جو قیامت تک اس بری سنت پر عمل کریں گے‘‘(دیکھیے: صحیح مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ… الخ، حدیث: 1017) بنابریں ایک صحیح حدیث میں وارد ہے ’’دنیا میں جو بھی قتل کرتا ہے تو اس خون کے گناہ کا کچھ حصہ آدم کے پہلے بیٹے کے حصہ میں بھی جاتا ہے کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کے جرم کی ابتدا کی۔‘‘ (دیکھیے: جامع الترمذي، العلم، باب ماجاء أن الدال علی الخیر کفاعلہ، حدیث: 2673)
[31] جب اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کرے کیونکہ آدم کے بیٹوں میں وہ پہلا شخص تھا جو مرا تھا ﴿ فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبۡحَثُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تو اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدتا تھا‘‘ یعنی وہ زمین کھودتا ہے تاکہ دوسرے مردہ کوے کو دفن کرے ﴿ لِيُرِيَهٗ ﴾ ’’تاکہ اسے دکھائے‘‘ یعنی وہ اس کے ذریعے سے آدم کے قاتل بیٹے کو دکھائے ﴿ كَيۡفَ يُوَارِيۡ سَوۡءَةَ اَخِيۡهِ ﴾ ’’ کہ وہ اپنے بھائی کے بدن کو کیسے چھپائے۔‘‘ کیونکہ میت کا بدن ستر ہوتا ہے ﴿ فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہ نادم ہونے والوں میں سے ہو گیا‘‘ اسی طرح تمام گناہوں کا انجام ندامت اور خسارہ ہے۔
5:31فَبَعَثَ ٱللَّهُ غُرَابٗا يَبۡحَثُ فِي ٱلۡأَرۡضِ لِيُرِيَهُۥ كَيۡفَ يُوَٰرِي سَوۡءَةَ أَخِيهِۚ قَالَ يَٰوَيۡلَتَىٰٓ أَعَجَزۡتُ أَنۡ أَكُونَ مِثۡلَ هَٰذَا ٱلۡغُرَابِ فَأُوَٰرِيَ سَوۡءَةَ أَخِيۖ فَأَصۡبَحَ مِنَ ٱلنَّـٰدِمِينَ
اور تلاوت کریں آپ ان پر خبرآدم کے دو بیٹوں کی ساتھ حق کے، جب دونوں نے قربانی کی (ایک) ایک قربانی تو مقبول ہوئی ان میں سے ایک کی اور نہ مقبول ہوئی دوسرے کی، اس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کردوں گا، (پہلے نے) کہا، بس قبول کرتا ہے اللہ پرہیزگاروں ہی سے(27) ، البتہ اگر دراز کرے گا تو میری طرف اپنا ہاتھ تاکہ قتل کرے تو مجھے تو میں نہیں دراز کروں گا اپنا ہاتھ تیری طرف کہ قتل کروں میں تجھے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے(28) بے شک میں ارادہ کرتا ہوں کہ لوٹے تو ساتھ میرے گناہ اور اپنے گناہ کے، پس ہو جائے تو دوزخیوں سےاور یہی بدلہ ہے ظالموں کا(29) پس آسان کر دیا اس کے لیے اس کے نفس نے قتل کرنے کو اپنے بھائی کے تو اس نے قتل کر دیا اسے اور ہوگیا وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے(30) پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا، وہ کھودتا تھا زمین کوتاکہ دکھلائے وہ اسے کہ کیسے چھپائے وہ لاش اپنے بھائی کی، اس نے کہا، ہائے افسوس! کیا میں عاجز ہوں اس سے بھی کہ ہوں مثل اس کوے کی کہ چھپا دیتا لاش اپنے بھائی کی، پس ہو گیا وہ پچھتانے والوں میں سے(31)
[27] یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدمu کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشہ نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں ۔ اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ’’دو بیٹوں ‘‘ سے مراد صلبی بیٹے ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انھوں نے تقرب کے لیے قربانی کی جس نے انھیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ ﴿ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا ﴾ ’’جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔‘‘ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر کچھ قربانی پیش کی ﴿ فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ﴾’’پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی نامقبول‘‘ ان میں سے جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اسے آسمان سے کسی خبر کے ذریعے سے معلوم ہوا یا سابقہ امتوں میں عادت الٰہی کے مطابق قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا ڈالتی تھی۔﴿ قَالَ ﴾ وہ بیٹا جس کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی حسد اور تعدی کی بنا پر دوسرے بیٹے سے بولا: ﴿ لَاَقۡتُلَنَّكَ ﴾ ’’میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔‘‘ دوسرے بیٹے نے نہایت نرمی سے اس سے کہا: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے‘‘ اس میں میرا کون سا گناہ اور کون سا جرم ہے جو تجھ پر میرے قتل کو واجب کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جس سے ڈرنا مجھ پر، تجھ پر اور ہر ایک پر فرض ہے۔ اس آیت کریمہ میں ’’متقین‘‘ کی تفسیر میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ہے عمل میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والے یعنی ان کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے اور رسول اللہﷺ کی اتباع میں ہو۔
[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ دوسرا بیٹا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ نہ ابتدا میں اور نہ اپنی مدافعت میں ۔ اس لیے اس نے کہا ﴿ لَىِٕنۢۡ بَسَطۡتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقۡتُلَنِيۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيۡكَ لِاَقۡتُلَكَ ﴾ ’’اگر تو ہاتھ چلائے گا مجھ پر تاکہ تو مجھے مارے تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں چلاؤں گا کہ تجھے ماروں ‘‘ اور میرا یہ رویہ میری بزدلی یا میرے عجز کی وجہ سے نہیں یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ ﴿ اِنِّي ۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا گناہ کا اقدام نہیں کر سکتا، خاص طور پر کبیرہ گناہ کا۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت تخویف ہے جو قتل کا ارادہ کرتا ہے اور تیرے لیے مناسب یہی ہے کہ تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس سے ڈرے۔
[29]﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓءَاۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ تو لوٹے۔‘‘ ﴿ بِـاِثۡمِيۡ وَاِثۡمِكَ ﴾ ’’میرے اور اپنے گناہ کے ساتھ‘‘ یعنی جب معاملے کا دار و مدار دو امور پر ہے، ایک یہ کہ میں قاتل بنوں (دوسرا یہ کہ) تو مجھے قتل کرے۔ تو میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ تو مجھے قتل کرے تاکہ تو دونوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر واپس لوٹے ﴿ فَتَكُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ النَّارِ١ۚ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہو جائے تو دوزخیوں میں سے اور یہی سزا ہے ظالموں کی۔‘‘یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قتل کا ارتکاب کبیرہ گناہ ہے اور یہ جہنم میں داخل ہونے کا موجب ہے۔
[30] وہ مجرم اس جرم سے پیچھے ہٹا نہ گھبرایا اور قتل کے عزم جازم پر قائم رہا حتیٰ کہ اس کے نفس نے اس کے بھائی کے قتل کی ترغیب دی جس کے احترام کا تقاضا شریعت اور فطرت دونوں کرتے ہیں ﴿ فَقَتَلَهٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’پس اس نے اسے قتل کر دیا اور وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا‘‘ یعنی وہ دنیا و آخرت میں خسارہ پانے والوں میں شامل ہو گیا اور اس نے ہر قاتل کے لیے ایک سنت رائج کر دی۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جس کسی نے کوئی بری سنت رائج کی تو اس پر اس برائی کے گناہ کا بوجھ اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی پڑے گا جو قیامت تک اس بری سنت پر عمل کریں گے‘‘(دیکھیے: صحیح مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ… الخ، حدیث: 1017) بنابریں ایک صحیح حدیث میں وارد ہے ’’دنیا میں جو بھی قتل کرتا ہے تو اس خون کے گناہ کا کچھ حصہ آدم کے پہلے بیٹے کے حصہ میں بھی جاتا ہے کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کے جرم کی ابتدا کی۔‘‘ (دیکھیے: جامع الترمذي، العلم، باب ماجاء أن الدال علی الخیر کفاعلہ، حدیث: 2673)
[31] جب اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کرے کیونکہ آدم کے بیٹوں میں وہ پہلا شخص تھا جو مرا تھا ﴿ فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبۡحَثُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تو اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کریدتا تھا‘‘ یعنی وہ زمین کھودتا ہے تاکہ دوسرے مردہ کوے کو دفن کرے ﴿ لِيُرِيَهٗ ﴾ ’’تاکہ اسے دکھائے‘‘ یعنی وہ اس کے ذریعے سے آدم کے قاتل بیٹے کو دکھائے ﴿ كَيۡفَ يُوَارِيۡ سَوۡءَةَ اَخِيۡهِ ﴾ ’’ کہ وہ اپنے بھائی کے بدن کو کیسے چھپائے۔‘‘ کیونکہ میت کا بدن ستر ہوتا ہے ﴿ فَاَصۡبَحَ مِنَ النّٰدِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہ نادم ہونے والوں میں سے ہو گیا‘‘ اسی طرح تمام گناہوں کا انجام ندامت اور خسارہ ہے۔
5:32مِنۡ أَجۡلِ ذَٰلِكَ كَتَبۡنَا عَلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ أَنَّهُۥ مَن قَتَلَ نَفۡسَۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ أَوۡ فَسَادٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ ٱلنَّاسَ جَمِيعٗا وَمَنۡ أَحۡيَاهَا فَكَأَنَّمَآ أَحۡيَا ٱلنَّاسَ جَمِيعٗاۚ وَلَقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُنَا بِٱلۡبَيِّنَٰتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرٗا مِّنۡهُم بَعۡدَ ذَٰلِكَ فِي ٱلۡأَرۡضِ لَمُسۡرِفُونَ
اسی وجہ سے لکھا (فرض کر دیا) ہم نے بنی اسرائیل پر کہ جو کوئی قتل کرے کسی جان کو بغیر عوض جان کے یا بغیر فساد کے زمین میں تو گویا اس نے قتل کر دیا لوگوں کو سب کو اور جو بچائے کسی ایک جان کو تو گویا اس نے بچایا لوگوں کو سب کو اور البتہ تحقیق آئے ان کے پاس ہمارے رسول ساتھ واضح دلائل کے، پھر بے شک بہت سے لوگ ان میں سے، بعد اس کے زمین میں حد سے نکل جانے والے ہیں (32)
[32] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ مِنۡ اَجۡلِ ذٰلِكَ ﴾ ’’اسی سبب سے‘‘ یعنی آدم کے بیٹوں کے اس واقعہ کے بعد جس کا ہم نے ذکر کیا ہے جس میں ان میں سے ایک نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا اور اپنے مابعد قتل کا طریقہ جاری کر دیا اور یہ کہ قتل کا انجام دنیا و آخرت میں انتہائی مضر اور خسارے والا ہے ﴿ كَتَبۡنَا عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا‘‘ یعنی ان لوگوں پر جنھیں کتب سماویہ سے نوازا گیا ﴿ اَنَّهٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جس نے کسی جان کو بغیر جان کے یا بغیر فساد کرنے کے قتل کر دیا‘‘ یعنی ناحق ﴿ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيۡعًا ﴾’’گویا کہ اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس کوئی داعیہ نہیں جو اسے تبیین پر آمادہ کرتا اور قتل ناحق کے اقدام سے روکتا۔ پس جب اس نے اس جان کو قتل کرنے کی جسارت کی جو قتل ہونے کی مستحق نہ تھی، تب معلوم ہوا کہ اس مقتول ناحق اور دیگر مقتولین کے درمیان کوئی فرق نہیں ۔ یہ تو نفس امارہ کے داعیے کے مطابق ہے۔ پس اس کا اس نفس کو قتل کرنے کی جسارت کرنا تمام نفوس انسانی کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح جس نے کسی نفس انسانی کو زندگی بخشی، یعنی نفس امارہ کے داعیے کے باوجود کسی نفس کو باقی رکھا اور اسے قتل نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ کے خوف نے اسے قتل ناحق سے روک دیا تو اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔ کیونکہ اس کے ہمراہ جو خوف الٰہی ہے، وہ اسے ایسے نفس کے قتل سے روکتا ہے جو قتل کا مستحق نہیں ۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دو امور کی بنا پر قتل جائز ہے۔(۱) اگر کسی نے جان بوجھ کر ناحق قتل کیا ہو اگر قاتل مکلف اور بدلہ لیے جانے کے قابل ہو، وہ مقتول کا باپ نہ ہو تو اسے (قصاص میں )قتل کرنا جائز ہے۔(۲) وہ لوگ جو لوگوں کے دین، جان اور اموال کو ہلاک کر کے زمین میں فساد برپا کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں ، مثلاً: مرتدین اہل کفر، محاربین اور بدعات کی طرف دعوت دینے والے وہ لوگ جن کو قتل کیے بغیر ان کے شر و فساد کا سدباب نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح وہ راہزن وغیرہ ہیں جو لوگوں کا مال لوٹنے یا ان کو قتل کرنے کے لیے شاہراہوں میں لوگوں پر حملہ کر دیتے ہیں ۔فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ جَآءَؔتۡهُمۡ رُسُلُنَا بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’ان کے پاس ہمارے رسول دلائل لے کر آئے‘‘ ان دلائل نے کسی کے پاس کوئی حجت باقی نہیں رہنے دی ﴿ ثُمَّؔ اِنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بھی ان میں سے بہت سے لوگ۔‘‘ یعنی لوگوں میں سے ﴿ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اس کے بعد‘‘ یعنی حجت کی کاٹ کرنے والے اس بیان کے بعد، جو کہ زمین میں راست روی اور استقامت کا موجب ہوتاہے ﴿ لَمُسۡرِفُوۡنَ ﴾ ’’حد اعتدال سے نکل جاتے ہیں ۔‘‘ گناہوں کے اعمال اور انبیاء و رسل کی مخالفت میں ، جو کہ واضح دلائل اور براہین کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ، حد سے بڑھنے والے ہیں ۔
5:33إِنَّمَا جَزَـٰٓؤُاْ ٱلَّذِينَ يُحَارِبُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَسۡعَوۡنَ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوٓاْ أَوۡ يُصَلَّبُوٓاْ أَوۡ تُقَطَّعَ أَيۡدِيهِمۡ وَأَرۡجُلُهُم مِّنۡ خِلَٰفٍ أَوۡ يُنفَوۡاْ مِنَ ٱلۡأَرۡضِۚ ذَٰلِكَ لَهُمۡ خِزۡيٞ فِي ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
یقینا بدلہ ان لوگوں کا، جو لڑتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے اور کوشش کرتے ہیں زمین میں فساد کرنے کی، (یہی ہے) کہ قتل کر دیے جائیں یا سولی دیے جائیں یا کاٹ دیے جائیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف جانب سے یا نکال دیے جائیں اس علاقے سے، یہ ان کے لیے ذلت ہے دنیا میں اور ان کے لیے آخرت میں عذاب ہے بہت بڑا(33) مگر وہ لوگ کہ توبہ کر لی انھوں نے پہلے اس کے کہ قابو پاؤ تم ان پر تو جان لو بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(34)
[33]اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ محاربت کے مرتکب وہ لوگ ہیں جو اس کے ساتھ عداوت ظاہر کرتے ہیں اور قتل و غارت، کفر، لوٹ مار اور شاہراہوں کو غیر محفوظ بنانے کا ارتکاب کرتے ہیں ۔مشہور یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ ان راہزنوں اور ڈاکوؤں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بستیوں اور دیہات میں لوگوں پر حملے کر کے ان کا مال لوٹتے ہیں ، ان کو قتل کرتے ہیں اور دہشت پھیلاتے ہیں ۔ بنابریں لوگ ان شاہراہوں پر سفر کرنا بند کر دیتے ہیں پس اس وجہ سے راستے منقطع ہو جاتے ہیں ۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ حد نافذ کرتے وقت ان لوگوں کی سزا، ان سزاؤں میں سے ایک ہے جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں ۔ اصحاب تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا ان سزاؤں میں اختیار ہے اور امام یا اس کا نائب ہر راہزن کو اپنی صواب دید اور مصلحت کے مطابق ان مذکورہ سزاؤں میں سے کوئی سزا دے سکتا ہے۔ آیت کریمہ کے الفاظ سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ یا ان کی سزا ان کے جرم کے مطابق دی جائے گی اور ہر جرم کے مقابلے میں ایک سزا ہے جیسا کہ آیت کریمہ اس پر دلالت کرتی ہے اور اس آیت کریمہ کا حکم اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ہے، یعنی اگر وہ قتل اور لوٹ مار کا ارتکاب کریں تو ان کو قتل کرنے اور سولی دینے کی سزا حتمی ہے۔ یہاں تک کہ ان کا سولی دیا جانا مشہور ہو جائے اور دوسرے لوگ لوٹ مار اور راہزنی سے باز آجائیں ۔ اگر وہ لوگوں کو قتل کریں اور مال نہ لوٹیں تو ان کو صرف قتل کیا جائے۔ اگر وہ صرف مال لوٹیں اور لوگوں کو قتل کرنے سے باز رہیں تو مخالف سمت سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔ اگر صرف لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور دہشت پھیلانے کے مرتکب ہوئے ہوں اور انھوں نے کسی کا مال لوٹا ہو نہ کسی کو قتل کیا ہو تو ان کو جلاوطن کیا جائے گا اور ان کو کسی شہر میں پناہ نہیں لینے دی جائے گی یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں ۔ یہ حضرت عبداللہ بن عباسw کا قول ہے اور بعض تفاصیل میں اختلاف کے باوجود بہت سے ائمہ نے اس قول کو اختیا رکیا ہے۔﴿ ذٰلِكَ ﴾ یہ سزا ﴿ لَهُمۡ خِزۡيٌ فِي الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کے لیے دنیا میں فضیحت اور عار ہے‘‘ ﴿ وَلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ راہزنی بڑے گناہوں میں شمار ہوتی ہے جو دنیا و آخرت کی رسوائی اور فضیحت کی موجب ہے اور راہزنی کا مرتکب اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرتا ہے۔ جب یہ جرم اتنا بڑا ہے تو معلوم ہوا کہ مفسدین سے روئے زمین کی تطہیر کرنا، شاہراہوں کو قتل و غارت، لوٹ مار اور خوف و دہشت سے محفوظ کرنا، سب سے بڑی بھلائی اور سب سے بڑی نیکی ہے۔ نیز یہ زمین کے اندر اصلاح ہے جیسا کہ اس کی ضد فساد فی الارض ہے۔
[34]﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہاں جن لوگوں نے، اس سے پیشترکہ تمھارے قابو آجائیں توبہ کرلی۔‘‘ یعنی ان محاربین میں سے جو لوگ توبہ کر لیں پہلے اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔ ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ یعنی اس سے جرم اور گناہ ساقط ہو جائے گا جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ضمن میں تھا، یعنی قتل، سولی، ہاتھ پاؤں کاٹنا اور جلاوطنی وغیرہ سزائیں معاف ہو جائیں گی۔ اگر محارب کافر تھا اور اس نے گرفتار ہونے سے پہلے اسلام قبول کر لیا تو آدمی کا حق بھی ساقط ہو جائے گا۔ اگر محارب مسلمان ہے تو لوٹ مار اور قتل و غارت وغیرہ انسانی حقوق ساقط نہیں ہوں گے۔ آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ محارب پر قابو پا لینے کے بعد اس کی توبہ معتبر نہیں ، اس سے کوئی سزا ساقط نہیں ہو گی۔ اس میں جو حکمت ہے وہ واضح ہے۔ اور جب قابو پانے سے پہلے کی ہوئی توبہ محاربت کی حد کے نفاذ سے مانع ہے تو قابو پانے سے پہلے دیگر جرائم سے توبہ کا ان جرائم کی حدود کے نفاذ سے مانع ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔
5:34إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُواْ مِن قَبۡلِ أَن تَقۡدِرُواْ عَلَيۡهِمۡۖ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
یقینا بدلہ ان لوگوں کا، جو لڑتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے اور کوشش کرتے ہیں زمین میں فساد کرنے کی، (یہی ہے) کہ قتل کر دیے جائیں یا سولی دیے جائیں یا کاٹ دیے جائیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف جانب سے یا نکال دیے جائیں اس علاقے سے، یہ ان کے لیے ذلت ہے دنیا میں اور ان کے لیے آخرت میں عذاب ہے بہت بڑا(33) مگر وہ لوگ کہ توبہ کر لی انھوں نے پہلے اس کے کہ قابو پاؤ تم ان پر تو جان لو بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(34)
[33]اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ محاربت کے مرتکب وہ لوگ ہیں جو اس کے ساتھ عداوت ظاہر کرتے ہیں اور قتل و غارت، کفر، لوٹ مار اور شاہراہوں کو غیر محفوظ بنانے کا ارتکاب کرتے ہیں ۔مشہور یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ ان راہزنوں اور ڈاکوؤں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بستیوں اور دیہات میں لوگوں پر حملے کر کے ان کا مال لوٹتے ہیں ، ان کو قتل کرتے ہیں اور دہشت پھیلاتے ہیں ۔ بنابریں لوگ ان شاہراہوں پر سفر کرنا بند کر دیتے ہیں پس اس وجہ سے راستے منقطع ہو جاتے ہیں ۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ حد نافذ کرتے وقت ان لوگوں کی سزا، ان سزاؤں میں سے ایک ہے جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں ۔ اصحاب تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا ان سزاؤں میں اختیار ہے اور امام یا اس کا نائب ہر راہزن کو اپنی صواب دید اور مصلحت کے مطابق ان مذکورہ سزاؤں میں سے کوئی سزا دے سکتا ہے۔ آیت کریمہ کے الفاظ سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ یا ان کی سزا ان کے جرم کے مطابق دی جائے گی اور ہر جرم کے مقابلے میں ایک سزا ہے جیسا کہ آیت کریمہ اس پر دلالت کرتی ہے اور اس آیت کریمہ کا حکم اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ہے، یعنی اگر وہ قتل اور لوٹ مار کا ارتکاب کریں تو ان کو قتل کرنے اور سولی دینے کی سزا حتمی ہے۔ یہاں تک کہ ان کا سولی دیا جانا مشہور ہو جائے اور دوسرے لوگ لوٹ مار اور راہزنی سے باز آجائیں ۔ اگر وہ لوگوں کو قتل کریں اور مال نہ لوٹیں تو ان کو صرف قتل کیا جائے۔ اگر وہ صرف مال لوٹیں اور لوگوں کو قتل کرنے سے باز رہیں تو مخالف سمت سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔ اگر صرف لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور دہشت پھیلانے کے مرتکب ہوئے ہوں اور انھوں نے کسی کا مال لوٹا ہو نہ کسی کو قتل کیا ہو تو ان کو جلاوطن کیا جائے گا اور ان کو کسی شہر میں پناہ نہیں لینے دی جائے گی یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں ۔ یہ حضرت عبداللہ بن عباسw کا قول ہے اور بعض تفاصیل میں اختلاف کے باوجود بہت سے ائمہ نے اس قول کو اختیا رکیا ہے۔﴿ ذٰلِكَ ﴾ یہ سزا ﴿ لَهُمۡ خِزۡيٌ فِي الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کے لیے دنیا میں فضیحت اور عار ہے‘‘ ﴿ وَلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ راہزنی بڑے گناہوں میں شمار ہوتی ہے جو دنیا و آخرت کی رسوائی اور فضیحت کی موجب ہے اور راہزنی کا مرتکب اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرتا ہے۔ جب یہ جرم اتنا بڑا ہے تو معلوم ہوا کہ مفسدین سے روئے زمین کی تطہیر کرنا، شاہراہوں کو قتل و غارت، لوٹ مار اور خوف و دہشت سے محفوظ کرنا، سب سے بڑی بھلائی اور سب سے بڑی نیکی ہے۔ نیز یہ زمین کے اندر اصلاح ہے جیسا کہ اس کی ضد فساد فی الارض ہے۔
[34]﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہاں جن لوگوں نے، اس سے پیشترکہ تمھارے قابو آجائیں توبہ کرلی۔‘‘ یعنی ان محاربین میں سے جو لوگ توبہ کر لیں پہلے اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔ ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ یعنی اس سے جرم اور گناہ ساقط ہو جائے گا جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ضمن میں تھا، یعنی قتل، سولی، ہاتھ پاؤں کاٹنا اور جلاوطنی وغیرہ سزائیں معاف ہو جائیں گی۔ اگر محارب کافر تھا اور اس نے گرفتار ہونے سے پہلے اسلام قبول کر لیا تو آدمی کا حق بھی ساقط ہو جائے گا۔ اگر محارب مسلمان ہے تو لوٹ مار اور قتل و غارت وغیرہ انسانی حقوق ساقط نہیں ہوں گے۔ آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ محارب پر قابو پا لینے کے بعد اس کی توبہ معتبر نہیں ، اس سے کوئی سزا ساقط نہیں ہو گی۔ اس میں جو حکمت ہے وہ واضح ہے۔ اور جب قابو پانے سے پہلے کی ہوئی توبہ محاربت کی حد کے نفاذ سے مانع ہے تو قابو پانے سے پہلے دیگر جرائم سے توبہ کا ان جرائم کی حدود کے نفاذ سے مانع ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔
5:35يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱبۡتَغُوٓاْ إِلَيۡهِ ٱلۡوَسِيلَةَ وَجَٰهِدُواْ فِي سَبِيلِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو اللہ سے اور تلاش کرو اس کی طرف ذریعۂ قرب اور جہاد کرو اس کی راہ میں تاکہ تم فلاح پاؤ(35)
[35]اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایمان کے تقاضے کے مطابق تقویٰ اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے غضب سے بچیں اور وہ اس طرح کہ بندۂ مومن مقدور بھر ان امور سے اجتناب کرے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں قلب، زبان اور جوارح کے ظاہری اور باطنی گناہوں سے بچے اور ان گناہوں سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے تاکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات حاصل کر سکے۔﴿و َابۡتَغُوۡۤا اِلَيۡهِ الۡوَسِيۡلَةَ ﴾ ’’اور ڈھونڈو اس کی طرف وسیلہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب، اس کے پاس مرتبہ اور اس کی محبت طلب کرو۔ یہ چیز فرائض قلبی، مثلاً: محبت الٰہی، اس کے خوف، اس پر امید، اس کی طرف انابت اور اس پر توکل، فرائض بدنی ، مثلاً: زکٰوۃ اور حج وغیرہ اور قلب و بدن سے مرکب فرائض ، مثلاً: نماز، ذکر اور تلاوت اور لوگوں سے اپنے اخلاق، مال، علم، جاہ اور بدن کے ذریعے سے بھلائی سے پیش آنے اور ان کی خیر خواہی کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ پس یہ تمام اعمال تقرب الٰہی کا ذریعہ ہیں ۔ بندہ اعمال کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرنے لگتا ہے تو اللہ اس کے کان بن جاتا ہے جن کے ذریعے سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پاؤں بن جاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی دعائیں قبول کرتا ہے۔( مطلب یہ ہے کہ اللہ کا محبوب انسان اپنے تمام اعضاء کو اس طرح استعمال کرتا ہے جس طرح اللہ پسند کرتا ہے، یہ مطلب نہیں کہ وہ اللہ کا جز بن جاتا یا اللہ اس میں حلول کر جاتا ہے‘ جیسا کہ بعض مشرکین میں اس قسم کے عقیدے پائے جاتے ہیں ۔ )(ص ۔ ی)پھر اللہ کے قریب کرنے والی عبادات میں سے جہاد فی سبیل اللہ کا خصوصی طور پر بیان کیا اور یہ جہاد نام ہے، کافروں کے ساتھ لڑائی میں اپنی پوری طاقت صرف کرنے کا، مال، جان، رائے، زبان کے ذریعے سے اور اللہ کے دین کی مدد میں اپنی مقدور بھر سعی و کوشش کرنے کا۔ اس لیے کہ عبادت کی یہ قسم تمام طاعات میں سب سے زیادہ جلیل القدر اور قربات میں سب سے افضل ہے، نیز یہ کہ جو اس کی ادائیگی کا اہتمام کر لیتا ہے، وہ دیگر فرائض و عبادات بہ طریق اولیٰ بجا لاتا ہے۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ اگر تم نے گناہوں کو ترک کر کے تقویٰ اختیار کیا، نیکیوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کا وسیلہ تلاش کر لیا اور اس کی رضا کی خاطر اس کے راستے میں جہاد کیا تو امید کی جا سکتی ہے کہ تم فلاح پا لو گے۔ فلاح اپنے ہر مطلوب و مرغوب کے حصول میں کامیابی اور مرہوب سے نجات کا نام ہے۔ پس اس کی حقیقت ابدی سعادت اور دائمی نعمت ہے۔
5:36إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡ أَنَّ لَهُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا وَمِثۡلَهُۥ مَعَهُۥ لِيَفۡتَدُواْ بِهِۦ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنۡهُمۡۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اگر ہو ان کے لیے جو کچھ زمین میں ہے سارا اور اتنا ہی اور اس کے ساتھ تاکہ معاوضے میں دے دیں وہ اس کو عذاب کے روز قیامت کے تو نہیں قبول کیا جائے گا ان سےاور ان کے لیے عذاب ہے بہت دردناک(36) وہ ارادہ کریں گے کہ نکل جائیں آگ سے اور نہیں ہوں گے نکلنے والے اس سے اور ان کے لیے عذاب ہے ہمیشہ رہنے والا(37)
[37,36] قیامت کے روز کفار کا جو بدترین حال ہو گا اور وہ جس قبیح ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس روز اگر وہ زمین بھر سونا اور اتنا ہی اور، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کے لیے فدیہ کے طور پر ادا کریں تو ان سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور نہ یہ فدیہ کوئی فائدہ ہی دے گا۔ کیونکہ فدیہ دینے کا موقع تو وہ گنوا بیٹھے، اب تو دردناک دائمی عذاب کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔ اس عذاب سے وہ کبھی نہ نکل سکیں گے بلکہ وہ اس عذاب میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔
5:37يُرِيدُونَ أَن يَخۡرُجُواْ مِنَ ٱلنَّارِ وَمَا هُم بِخَٰرِجِينَ مِنۡهَاۖ وَلَهُمۡ عَذَابٞ مُّقِيمٞ
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اگر ہو ان کے لیے جو کچھ زمین میں ہے سارا اور اتنا ہی اور اس کے ساتھ تاکہ معاوضے میں دے دیں وہ اس کو عذاب کے روز قیامت کے تو نہیں قبول کیا جائے گا ان سےاور ان کے لیے عذاب ہے بہت دردناک(36) وہ ارادہ کریں گے کہ نکل جائیں آگ سے اور نہیں ہوں گے نکلنے والے اس سے اور ان کے لیے عذاب ہے ہمیشہ رہنے والا(37)
[37,36] قیامت کے روز کفار کا جو بدترین حال ہو گا اور وہ جس قبیح ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس روز اگر وہ زمین بھر سونا اور اتنا ہی اور، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کے لیے فدیہ کے طور پر ادا کریں تو ان سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور نہ یہ فدیہ کوئی فائدہ ہی دے گا۔ کیونکہ فدیہ دینے کا موقع تو وہ گنوا بیٹھے، اب تو دردناک دائمی عذاب کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔ اس عذاب سے وہ کبھی نہ نکل سکیں گے بلکہ وہ اس عذاب میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔
5:38وَٱلسَّارِقُ وَٱلسَّارِقَةُ فَٱقۡطَعُوٓاْ أَيۡدِيَهُمَا جَزَآءَۢ بِمَا كَسَبَا نَكَٰلٗا مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٞ
چور مرد اور چور عورت پس کاٹ دو ہاتھ ان دونوں کے، بدلے میں اس کے جو انھوں نے کمایا، عبرت ناک سزا ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ غالب حکمت والا ہے(38) پھر جس نے توبہ کر لی بعد اپنے ظلم کے اور اصلاح کر لی تو اللہ توجہ فرماتا ہے اس پر بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(39) کیا نہیں علم ہوا آپ کو کہ اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، وہ عذاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور مغفرت کرتا ہے جس کی چاہتا ہےاور اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے(40)
[38]چور اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی دوسرے کا قابل احترام مال، اس کی رضامندی کے بغیر خفیہ طور پر ہتھیاتا ہے۔ چوری کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے جو بدترین سزا کا موجب ہے یعنی دایاں ہاتھ کاٹنا۔ جیسا کہ بعض صحابہy کی قراء ت میں آتا ہے۔ ہاتھ کا اطلاق کلائی کے جوڑ تک ہتھیلی پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی چوری کرتا ہے تو ہاتھ کلائی سے کاٹ دیا جائے اور اس کے بعد اسے تیل میں داغ دیا جائے تاکہ رگیں مسدود ہو جائیں اور خون رک جائے۔سنت نبوی نے اس آیت کریمہ کے عموم کو متعدد پہلوؤں سے مقید کیا ہے۔(۱)حفاظت: چوری کے اطلاق کے لیے ضروری ہے کہ مال محفوظ جگہ سے اٹھایا گیا ہو، یہاں مال کی حفاظت سے مراد وہ حفاظت ہے جو عادتاً کی جاتی ہے۔ چور نے اگر کسی ایسے مال کی چوری کی ہو جو حفاظت میں نہ ہو تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔(۲) نصاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کے لیے مال مسروقہ کا نصاب ضروری ہے۔ یہ نصاب کم از کم ایک چوتھائی دینار یا تین درہم یا ان میں سے کسی ایک کے برابر۔ مال مسروقہ اگر اس نصاب سے کم ہو تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ شاید یہ لفظ سرقہ اور اس کے معنی سے ماخوذ ہے کیونکہ لفظ ’’سرقہ‘‘ سے مراد ہے کوئی چیز اس طریقے سے لینا جس سے احتراز ممکن نہ ہو اور یہ اسی وقت ہی ہوگا کہ مال کو حفاظت کے ساتھ رکھا گیا ہو۔ اگر مال کو حفاظت کے ساتھ نہ رکھا گیا تو اس مال کا لینا شرعی سرقہ کے زمرے میں نہیں آئے گا۔یہ بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت ہے کہ تھوڑی اور حقیر سی شے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ چونکہ قطع ید کے لیے کم ترین نصاب مقرر کرنا ضروری ہے، اس لیے نصاب شرعی ہی کتاب اللہ کی تخصیص کرنے والا ہو گا۔ چوری میں ہاتھ کاٹنے میں حکمت یہ ہے کہ اس سے مال محفوظ ہو جاتے ہیں اور اس عضو کو بھی کٹ جانا چاہیے جس سے جرم صادر ہوا ہے۔ دایاں ہاتھ کاٹ دیے جانے کے بعد اگر چور دوبارہ چوری کا ارتکاب کرے تو اس کا بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔ اگر پھر چوری کرے تو بعض کہتے ہیں کہ اس کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا اور اگر پھر بھی باز نہ آئے تو دایاں پاؤں کاٹ دیا جائے اور بعض فقہاء کہتے ہیں کہ اس کو قید کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ قید ہی میں مر جائے۔ ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا ﴾ ’’یہ بدلہ ہے اس کا جو انھوں نے کمایا‘‘ یعنی یہ قطع ید، چور کو اس بات کی سزا دی گئی ہے کہ اس نے لوگوں کا مال چرایا ہے ﴿ نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ تنبیہ ہے اللہ کی طرف سے‘‘ یعنی یہ سزا چور اور دیگر لوگوں کو ڈرانے کے لیے ہے کیونکہ چوروں کو جب معلوم ہو گا کہ چوری کے ارتکاب پر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا تو وہ چوری سے باز آ جائیں گے ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ زبردست، صاحب حکمت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے اس لیے اس نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے۔
[39]﴿ فَمَنۡ تَابَ مِنۢۡ بَعۡدِ ظُلۡمِهٖ وَاَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوۡبُ عَلَيۡهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’پس جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے بعد اور اصلاح کی تو اللہ قبول کرتا ہے توبہ اس کی، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ پس جو کوئی توبہ کرتا ہے، گناہوں کو ترک کر کے اپنے اعمال اور اپنے عیوب کی اصلاح کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے۔
[40] اور یہ اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے وہ جیسے چاہتا ہے زمین اور آسمان میں تکوینی اور شرعی تصرف کرتا ہے اور اپنی حکمت، بے پایاں رحمت اور مغفرت کے تقاضے کے مطابق وہ بخشتا ہے یا سزا دیتا ہے۔
5:39فَمَن تَابَ مِنۢ بَعۡدِ ظُلۡمِهِۦ وَأَصۡلَحَ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَتُوبُ عَلَيۡهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ
چور مرد اور چور عورت پس کاٹ دو ہاتھ ان دونوں کے، بدلے میں اس کے جو انھوں نے کمایا، عبرت ناک سزا ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ غالب حکمت والا ہے(38) پھر جس نے توبہ کر لی بعد اپنے ظلم کے اور اصلاح کر لی تو اللہ توجہ فرماتا ہے اس پر بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(39) کیا نہیں علم ہوا آپ کو کہ اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، وہ عذاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور مغفرت کرتا ہے جس کی چاہتا ہےاور اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے(40)
[38]چور اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی دوسرے کا قابل احترام مال، اس کی رضامندی کے بغیر خفیہ طور پر ہتھیاتا ہے۔ چوری کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے جو بدترین سزا کا موجب ہے یعنی دایاں ہاتھ کاٹنا۔ جیسا کہ بعض صحابہy کی قراء ت میں آتا ہے۔ ہاتھ کا اطلاق کلائی کے جوڑ تک ہتھیلی پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی چوری کرتا ہے تو ہاتھ کلائی سے کاٹ دیا جائے اور اس کے بعد اسے تیل میں داغ دیا جائے تاکہ رگیں مسدود ہو جائیں اور خون رک جائے۔سنت نبوی نے اس آیت کریمہ کے عموم کو متعدد پہلوؤں سے مقید کیا ہے۔(۱)حفاظت: چوری کے اطلاق کے لیے ضروری ہے کہ مال محفوظ جگہ سے اٹھایا گیا ہو، یہاں مال کی حفاظت سے مراد وہ حفاظت ہے جو عادتاً کی جاتی ہے۔ چور نے اگر کسی ایسے مال کی چوری کی ہو جو حفاظت میں نہ ہو تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔(۲) نصاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کے لیے مال مسروقہ کا نصاب ضروری ہے۔ یہ نصاب کم از کم ایک چوتھائی دینار یا تین درہم یا ان میں سے کسی ایک کے برابر۔ مال مسروقہ اگر اس نصاب سے کم ہو تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ شاید یہ لفظ سرقہ اور اس کے معنی سے ماخوذ ہے کیونکہ لفظ ’’سرقہ‘‘ سے مراد ہے کوئی چیز اس طریقے سے لینا جس سے احتراز ممکن نہ ہو اور یہ اسی وقت ہی ہوگا کہ مال کو حفاظت کے ساتھ رکھا گیا ہو۔ اگر مال کو حفاظت کے ساتھ نہ رکھا گیا تو اس مال کا لینا شرعی سرقہ کے زمرے میں نہیں آئے گا۔یہ بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت ہے کہ تھوڑی اور حقیر سی شے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ چونکہ قطع ید کے لیے کم ترین نصاب مقرر کرنا ضروری ہے، اس لیے نصاب شرعی ہی کتاب اللہ کی تخصیص کرنے والا ہو گا۔ چوری میں ہاتھ کاٹنے میں حکمت یہ ہے کہ اس سے مال محفوظ ہو جاتے ہیں اور اس عضو کو بھی کٹ جانا چاہیے جس سے جرم صادر ہوا ہے۔ دایاں ہاتھ کاٹ دیے جانے کے بعد اگر چور دوبارہ چوری کا ارتکاب کرے تو اس کا بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔ اگر پھر چوری کرے تو بعض کہتے ہیں کہ اس کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا اور اگر پھر بھی باز نہ آئے تو دایاں پاؤں کاٹ دیا جائے اور بعض فقہاء کہتے ہیں کہ اس کو قید کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ قید ہی میں مر جائے۔ ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا ﴾ ’’یہ بدلہ ہے اس کا جو انھوں نے کمایا‘‘ یعنی یہ قطع ید، چور کو اس بات کی سزا دی گئی ہے کہ اس نے لوگوں کا مال چرایا ہے ﴿ نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ تنبیہ ہے اللہ کی طرف سے‘‘ یعنی یہ سزا چور اور دیگر لوگوں کو ڈرانے کے لیے ہے کیونکہ چوروں کو جب معلوم ہو گا کہ چوری کے ارتکاب پر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا تو وہ چوری سے باز آ جائیں گے ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ زبردست، صاحب حکمت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے اس لیے اس نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے۔
[39]﴿ فَمَنۡ تَابَ مِنۢۡ بَعۡدِ ظُلۡمِهٖ وَاَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوۡبُ عَلَيۡهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’پس جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے بعد اور اصلاح کی تو اللہ قبول کرتا ہے توبہ اس کی، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ پس جو کوئی توبہ کرتا ہے، گناہوں کو ترک کر کے اپنے اعمال اور اپنے عیوب کی اصلاح کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے۔
[40] اور یہ اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے وہ جیسے چاہتا ہے زمین اور آسمان میں تکوینی اور شرعی تصرف کرتا ہے اور اپنی حکمت، بے پایاں رحمت اور مغفرت کے تقاضے کے مطابق وہ بخشتا ہے یا سزا دیتا ہے۔
5:40أَلَمۡ تَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَغۡفِرُ لِمَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
چور مرد اور چور عورت پس کاٹ دو ہاتھ ان دونوں کے، بدلے میں اس کے جو انھوں نے کمایا، عبرت ناک سزا ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ غالب حکمت والا ہے(38) پھر جس نے توبہ کر لی بعد اپنے ظلم کے اور اصلاح کر لی تو اللہ توجہ فرماتا ہے اس پر بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(39) کیا نہیں علم ہوا آپ کو کہ اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، وہ عذاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور مغفرت کرتا ہے جس کی چاہتا ہےاور اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے(40)
[38]چور اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی دوسرے کا قابل احترام مال، اس کی رضامندی کے بغیر خفیہ طور پر ہتھیاتا ہے۔ چوری کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے جو بدترین سزا کا موجب ہے یعنی دایاں ہاتھ کاٹنا۔ جیسا کہ بعض صحابہy کی قراء ت میں آتا ہے۔ ہاتھ کا اطلاق کلائی کے جوڑ تک ہتھیلی پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی چوری کرتا ہے تو ہاتھ کلائی سے کاٹ دیا جائے اور اس کے بعد اسے تیل میں داغ دیا جائے تاکہ رگیں مسدود ہو جائیں اور خون رک جائے۔سنت نبوی نے اس آیت کریمہ کے عموم کو متعدد پہلوؤں سے مقید کیا ہے۔(۱)حفاظت: چوری کے اطلاق کے لیے ضروری ہے کہ مال محفوظ جگہ سے اٹھایا گیا ہو، یہاں مال کی حفاظت سے مراد وہ حفاظت ہے جو عادتاً کی جاتی ہے۔ چور نے اگر کسی ایسے مال کی چوری کی ہو جو حفاظت میں نہ ہو تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔(۲) نصاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کے لیے مال مسروقہ کا نصاب ضروری ہے۔ یہ نصاب کم از کم ایک چوتھائی دینار یا تین درہم یا ان میں سے کسی ایک کے برابر۔ مال مسروقہ اگر اس نصاب سے کم ہو تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ شاید یہ لفظ سرقہ اور اس کے معنی سے ماخوذ ہے کیونکہ لفظ ’’سرقہ‘‘ سے مراد ہے کوئی چیز اس طریقے سے لینا جس سے احتراز ممکن نہ ہو اور یہ اسی وقت ہی ہوگا کہ مال کو حفاظت کے ساتھ رکھا گیا ہو۔ اگر مال کو حفاظت کے ساتھ نہ رکھا گیا تو اس مال کا لینا شرعی سرقہ کے زمرے میں نہیں آئے گا۔یہ بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت ہے کہ تھوڑی اور حقیر سی شے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ چونکہ قطع ید کے لیے کم ترین نصاب مقرر کرنا ضروری ہے، اس لیے نصاب شرعی ہی کتاب اللہ کی تخصیص کرنے والا ہو گا۔ چوری میں ہاتھ کاٹنے میں حکمت یہ ہے کہ اس سے مال محفوظ ہو جاتے ہیں اور اس عضو کو بھی کٹ جانا چاہیے جس سے جرم صادر ہوا ہے۔ دایاں ہاتھ کاٹ دیے جانے کے بعد اگر چور دوبارہ چوری کا ارتکاب کرے تو اس کا بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔ اگر پھر چوری کرے تو بعض کہتے ہیں کہ اس کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا اور اگر پھر بھی باز نہ آئے تو دایاں پاؤں کاٹ دیا جائے اور بعض فقہاء کہتے ہیں کہ اس کو قید کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ قید ہی میں مر جائے۔ ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا ﴾ ’’یہ بدلہ ہے اس کا جو انھوں نے کمایا‘‘ یعنی یہ قطع ید، چور کو اس بات کی سزا دی گئی ہے کہ اس نے لوگوں کا مال چرایا ہے ﴿ نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ تنبیہ ہے اللہ کی طرف سے‘‘ یعنی یہ سزا چور اور دیگر لوگوں کو ڈرانے کے لیے ہے کیونکہ چوروں کو جب معلوم ہو گا کہ چوری کے ارتکاب پر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا تو وہ چوری سے باز آ جائیں گے ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ زبردست، صاحب حکمت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے اس لیے اس نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے۔
[39]﴿ فَمَنۡ تَابَ مِنۢۡ بَعۡدِ ظُلۡمِهٖ وَاَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوۡبُ عَلَيۡهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’پس جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے بعد اور اصلاح کی تو اللہ قبول کرتا ہے توبہ اس کی، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ پس جو کوئی توبہ کرتا ہے، گناہوں کو ترک کر کے اپنے اعمال اور اپنے عیوب کی اصلاح کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے۔
[40] اور یہ اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے وہ جیسے چاہتا ہے زمین اور آسمان میں تکوینی اور شرعی تصرف کرتا ہے اور اپنی حکمت، بے پایاں رحمت اور مغفرت کے تقاضے کے مطابق وہ بخشتا ہے یا سزا دیتا ہے۔
5:41۞يَـٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ لَا يَحۡزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡكُفۡرِ مِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِأَفۡوَٰهِهِمۡ وَلَمۡ تُؤۡمِن قُلُوبُهُمۡۛ وَمِنَ ٱلَّذِينَ هَادُواْۛ سَمَّـٰعُونَ لِلۡكَذِبِ سَمَّـٰعُونَ لِقَوۡمٍ ءَاخَرِينَ لَمۡ يَأۡتُوكَۖ يُحَرِّفُونَ ٱلۡكَلِمَ مِنۢ بَعۡدِ مَوَاضِعِهِۦۖ يَقُولُونَ إِنۡ أُوتِيتُمۡ هَٰذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمۡ تُؤۡتَوۡهُ فَٱحۡذَرُواْۚ وَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ فِتۡنَتَهُۥ فَلَن تَمۡلِكَ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَمۡ يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمۡۚ لَهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا خِزۡيٞۖ وَلَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٞ
اے رسول! نہ غمگین کریں آپ کو وہ لوگ جو جلدی کرتے ہیں کفر میں ، ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ساتھ اپنے مونہوں کے اور نہیں ایمان لائے دل ان کے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے، وہ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت سننے والے ہیں واسطے دوسری قوم کے کہ نہیں آئی وہ (ابھی) آپ کے پاس، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو بعد (ثابت ہونے ان کے) ان کی جگہوں سے وہ کہتے ہیں ، اگر دیے جاؤ تم یہ (حکم) تو اسے لے لو اور اگر نہ دیے جاؤ تم یہ تو بچواور جو شخص کہ ارادہ کرے اللہ اسے گمراہ کرنے کا تو ہرگز نہیں اختیار رکھتے آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ بھی۔ یہی لوگ ہیں کہ نہیں ارادہ کیا اللہ نے یہ کہ پاک کر دے ان کے دلوں کو، ان کے لیے ہے دنیا میں رسوائی اور ان کے لیے آخرت میں ہے عذاب عظیم(41) بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت کھانے والے ہیں حرام کے، پس اگر آئیں وہ آپ کے پاس تو آپ فیصلہ کر دیں ان کے درمیان یا منہ پھیر لیں ان سےاور اگر منہ پھیریں گے آپ ان سے تو ہرگز نہ بگاڑ سکیں گے آپ کا کچھ بھی اور اگر فیصلہ کریں آپ تو فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ انصاف کے، بے شک اللہ پسند فرماتا ہے انصاف کرنے والوں کو(42) اور کیوں کر منصف بنائیں وہ آپ کو جبکہ ان کے پاس تورات ہے، اس میں حکم ہے اللہ کا، پھر پھر جاتے ہیں وہ بعد اس کےاور نہیں ہیں وہ ایمان لانے والے(43) بے شک نازل کیا ہم نے تورات کو، اس میں ہدایت اور روشنی ہے فیصلہ کرتے تھے ساتھ اس کے پیغمبر، جو مطیع تھے (اللہ کے) واسطے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے اور (فیصلہ کرتے تھے) اللہ والے اور علماء ، اس لیے کہ وہ نگران بنائے گئے تھے کتاب اللہ کےاور تھے وہ اوپر اس کے گواہ پس نہ ڈرو تم لوگوں سے اور ڈرو مجھ سے اور نہ بیچو تم میری آیتوں کو مول پر تھوڑے سےاور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں کافر(44)
[41] رسول اللہﷺ مخلوق پر بے حد شفقت فرماتے تھے اس لیے اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاتا تو آپﷺ کو بہت دکھ پہنچتا اور آپ بہت زیادہ مغموم ہو جاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی کارستانیوں پر غمزدہ نہ ہوا کریں کیونکہ وہ کسی شمار میں نہیں ۔ اگر وہ موجود ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بنابریں ان کے بارے میں عدم حزن و غم کے موجب سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَلَمۡ تُؤۡمِنۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے مونہوں سے اور ان کے دل مسلمان نہیں ‘‘ کیونکہ صرف ان لوگوں کے بارے میں افسوس کیا جاتا ہے اور صرف ان کے بارے میں غم کھایا جاتا ہے جو ظاہر اور باطن میں مومن شمار ہوتے ہیں ۔ حاشاللہ اہل ایمان کبھی اپنے دین سے نہیں پھرتے کیونکہ جب بشاشت ایمان دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو صاحب ایمان کسی چیز کو ایمان کے برابر نہیں سمجھتا اور ایمان کے بدلے کوئی چیز قبول نہیں کرتا۔﴿ وَمِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا ﴾ ’’اور ان میں سے جو یہودی ہیں ۔‘‘ ﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ سَمّٰؔعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ١ۙ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے، وہ جاسوس ہیں دوسرے لوگوں کے جو آپ تک نہیں آئے‘‘ یعنی اپنے سرداروں کی آواز پر لبیک کہنے والے، ان کے مقلد، جن کا تمام تر معاملہ جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے۔ اور یہ سردار جن کی پیروی کی جاتی ہے ﴿ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’آپ کے پاس کبھی نہیں آئے‘‘ بلکہ وہ آپ سے روگردانی کرتے ہیں اور اسی باطل پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے ﴿ يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَوَاضِعِهٖ ﴾ ’’وہ بدل ڈالتے ہیں بات کو، اس کا ٹھکانا چھوڑ کر‘‘ یعنی وہ اللہ کی مخلوق کو گمراہ کرنے اور حق کو روکنے کے لیے الفاظ کو ایسے معانی پہناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہے پس لوگ گمراہی کی طرف دعوت دینے والوں کے پیچھے چلتے ہیں اور محال کی پیروی کرتے ہیں جو تمام تر جھوٹ ہی لے کر آتے ہیں جو عقل سے محروم اور عزم و ہمت سے تہی دست ہیں ۔ اگر وہ آپ کی اتباع نہیں کرتے تو پروا نہ کیجیے کیونکہ وہ انتہائی ناقص ہیں اور ناقص کی پروا نہیں کی جاتی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ اِنۡ اُوۡتِيۡتُمۡ هٰؔذَا فَخُذُوۡهُ وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡتَوۡهُ فَاحۡذَرُوۡا ﴾ ’’کہتے ہیں اگر تم کو یہ حکم ملے تو قبول کر لینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا‘‘ یعنی یہ بات وہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ فیصلہ کروانے کے لیے آپ کے پاس آتے ہیں ۔ خواہشات نفس کی پیروی کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں ’’اگر محمد (ﷺ)تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ کرے تو اسے قبول کر لو اور اگر وہ تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو اس فیصلے میں اس کی پیروی سے بچو۔‘‘ یہ نقطہ نظر فتنہ اور خواہشات نفس کی پیروی ہے۔﴿ وَمَنۡ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتۡنَتَهٗ فَلَنۡ تَمۡلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اور جس کو اللہ گمراہ کرنے کا ارادہ کر لے، آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ نہیں کر سکتے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد اس قول کی مانند ہے ﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾(القصص: 28؍56) ’’آپ جسے پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہے ہدایت دے سکتا ہے۔‘‘﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُرِدِ اللّٰهُ اَنۡ يُّطَهِّرَ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾’’یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے نہیں چاہا کہ ان کے دل پاک کرے‘‘ یعنی پس ان سے جو کچھ صادر ہو رہا ہے وہ اسی وجہ سے صادر ہو رہا ہے۔ ان کا یہ رویہ اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی خواہش نفس کی اتباع کی خاطر شریعت کے مطابق فیصلہ کرواتا ہے اگر فیصلہ اس کے حق میں ہو تو راضی ہو جاتا ہے اور اگر فیصلہ اس کے خلاف ہو تو ناراض ہو جاتا ہے۔ تو یہ چیز اس کے قلب کی عدم طہارت میں سے ہے۔ جیسے وہ شخص ہے جو اپنا فیصلہ شریعت کی طرف لے جاتا ہے اور اس پر راضی ہوتا ہے، چاہے وہ فیصلہ اس کی خواہش کے مطابق ہو یا مخالف تو یہ اس کی طہارت قلب میں سے ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ طہارت قلب ہر بھلائی کا سبب ہے اور طہارت قلب رشد و ہدایت اور عمل سدید کا سب سے بڑا داعی ہے۔﴿ لَهُمۡ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ ﴾ ’’ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے۔‘‘ یعنی دنیا میں ان کے لیے فضیحت اور عار ہے ﴿ وَّلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور آخرت میں عذاب عظیم ہے‘‘ عذاب عظیم سے مراد جہنم اور اللہ جبار کی ناراضی ہے۔
[42]﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ ﴾ ’’جاسوسی کرنے والے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے‘‘ یہاں سننے سے مراد اطاعت کے لیے سننا ہے یعنی وہ قلت دین اور قلت عقل کی بنا پر ہر اس شخص کی بات پر لبیک کہتے ہیں جو انھیں جھوٹ کی طرف دعوت دیتاہے ﴿ اَكّٰلُوۡنَ لِلسُّحۡتِ ﴾ ’’کھانے والے ہیں حرام کے‘‘ یعنی اپنے عوام اور گھٹیا لوگوں سے ناحق وظائف لے کر حرام مال کھاتے ہیں ۔ پس انھوں نے اپنے اندر جھوٹ کی پیروی اور اکل حرام کو یکجا کر لیا ﴿ فَاِنۡ جَآءُوۡكَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اگر یہ آپ کے پاس (کوئی فیصلہ کرانے کو) آئیں تو آپ ان میں فیصلہ کردیں یا اعراض کریں ۔‘‘ یعنی آپ کو اس بارے میں اختیار ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے اعراض فرما لیں ۔یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں ہے بلکہ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں ، جو فیصلہ کروانے کے لیے آپﷺ کے پاس آئیں آپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا فیصلہ کرنے سے گریز کریں ۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ صرف اسی وقت شریعت کے مطابق فیصلہ کروانے کا قصد کرتے ہیں جب فیصلہ ان کی خواہشات نفس کے مطابق ہو۔ بنابریں فتویٰ طلب کرنے والے اور کسی عالم کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے جانے والے کے احوال کی تحقیق کی جائے اگر یہ معلوم ہو جائے کہ وہ اپنے خلاف فیصلے پر راضی نہ ہو گا تو اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا واجب ہے نہ فتویٰ دینا۔ تاہم اگر وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا واجب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تُعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ فَلَنۡ يَّضُرُّوۡكَ شَيۡـًٔـا١ؕ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ﴾ ’’اگر آپ ان سے منہ پھیر لیں تو وہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں ، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘ حتی کہ... خواہ لوگ ظالم اور دشمن ہی کیوں نہ ہوں تب بھی ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو۔یہ آیت کریمہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔
[43] پھر ان پر تعجب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَؔكَيۡفَ يُحَكِّمُوۡنَكَ وَعِنۡدَهُمُ التَّوۡرٰىةُ … بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور وہ کس طرح آپ کو منصف بنائیں گے، جبکہ ان کے پاس تورات ہے، جس میں اللہ کا حکم ہے، پھر اس کے بعد وہ پھر جاتے ہیں اور وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ‘‘ اس لیے کہ اگر وہ مومن ہوتے اور ایمان کے تقاضے اور اس کے موجبات پر عمل کرتے تو اللہ کے اس حکم سے اعراض نہ کرتے جو تورات میں موجود ہے اور جو ان کے سامنے ہے۔ (لیکن اس سے اعراض کر کے جو آپ کے پاس آئے ہیں تو اس امید پر کہ) شاید جو کچھ آپ کے پاس ہے ان کی خواہشات کے مطابق ہو۔ اور جب آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق فیصلہ کر دیا جو ان کے پاس ہے۔ تو وہ نہ صرف اس بات پر راضی نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے اس سے روگردانی کی اور اس کو ناپسند کیا۔ ﴿ وَمَاۤ اُولٰٓىِٕكَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کے یہ اعمال ہیں وہ مومن نہیں ، یعنی یہ اہل ایمان کا رویہ نہیں اور نہ یہ لوگ مومن کہلانے کے مستحق ہیں کیونکہ انھوں نے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور احکام ایمان کو اپنی خواہشات کے تابع کر رکھا ہے۔
[44]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىةَ ﴾ ’’بے شک ہم نے تورات نازل فرمائی۔‘‘ یعنی ہم نے موسیٰ بن عمرانu پر تورات نازل کی ﴿ فِيۡهَا هُدًى ﴾ ’’جس میں ہدایت ہے۔‘‘ یعنی تورات ایمان اور حق کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور گمراہی سے بچاتی ہے ﴿ وَّنُوۡرٌ ﴾ ’’اور روشنی ہے۔‘‘ یعنی ظلم و جہالت، شک و حیرت اور شبہات و شہوات کی تاریکیوں میں اس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ الۡفُرۡقَانَ وَضِيَآءً وَّذِكۡرًا لِّلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍48) ’’اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل میں فرق کرنے والی، روشنی عطا کرنے والی اور اہل تقویٰ کو نصیحت کرنے والی کتاب عطا کی۔‘‘ ﴿يَحۡكُمُ بِهَا ﴾ ’’فیصلہ کرتے تھے اس کے ساتھ‘‘ یعنی یہودیوں کے جھگڑوں اور ان کے فتاویٰ میں ﴿ النَّبِيُّوۡنَ الَّذِيۡنَ اَسۡلَمُوۡا ﴾’’پیغمبر جو فرماں بردار تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیا، اس کے احکامات کی اطاعت کی اور ان کا اسلام دیگر لوگوں کے اسلام سے زیادہ عظیم تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندے تھے۔جب یہ انبیائے کرام جو مخلوق کے سردار ہیں تورات کو اپنا امام بناتے ہیں ، اس کی پیروی کرتے ہیں اور اس کے پیچھے چلتے ہیں تو یہودیوں کے ان رذیل لوگوں کو اس کی پیروی کرنے سے کس چیز نے روکا ہے؟ اور ان پر کس چیز نے واجب کیا ہے کہ وہ تورات کے بہترین حصے کو نظر انداز کر دیں جس میں حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لانے کا حکم ہے اور اس عقیدے کو قبول کیے بغیر کوئی ظاہری اور باطنی عمل قابل قبول نہیں ۔ کیا اس بارے میں ان کے پاس کوئی راہنمائی ہے؟ ہاں ! ان کی راہنمائی کرنے والے راہنما موجود ہیں جو تحریف کرنے، لوگوں کے درمیان اپنی سرداری اور مناصب قائم رکھنے، کتمان حق کے ذریعے سے حرام مال کھانے اور اظہار باطل کے عادی ہیں ۔ یہ لوگ ائمہ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔﴿ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ ﴾ ’’درویش اور عالم‘‘ یعنی اسی طرح یہودیوں کے ائمہ دین میں ربانی تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے۔ (رَبَّانِیُّون) سے مراد باعمل علماء ہیں جو لوگوں کی بہترین تربیت کرتے تھے اور لوگوں کے ساتھ ان کا وہی مشفقانہ رویہ تھا جو انبیاء کرام کا ہوتا ہے (اَحْبَار) سے مراد وہ علمائے کبار ہیں جن کے قول کی اتباع کی جاتی ہے اور جن کے آثار کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور وہ اپنی قوم میں اچھی شہرت رکھتے ہیں ۔ان کی طرف سے صادر ہونے والا یہ فیصلہ حق کے مطابق ہے ﴿ بِمَا اسۡتُحۡفِظُوۡا مِنۡ كِتٰبِ اللّٰهِ وَؔكَانُوۡا عَلَيۡهِ شُهَدَآءَؔ ﴾ ’’اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھہرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر اور وہ اس کی خبر گیری پر مقرر تھے‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری ڈالی تھی، ان کو اپنی کتاب کا امین بنایا تھا اور یہ کتاب ان کے پاس امانت تھی اور اس میں کمی بیشی اور کتمان سے اس کی حفاظت کو اور بے علم لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کو ان پر واجب قرار دیا تھا... وہ اس کتاب پر گواہ ہیں کیونکہ وہی اس کتاب میں مندرج احکام کے بارے میں اور اس کی بابت لوگوں کے درمیان مشتبہ امور میں ان کے لیے مرجع ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل علم پر وہ ذمہ داری ڈالی ہے جو جہلا پر نہیں ڈالی اس لیے جس ذمہ داری کا بوجھ ان پر ڈالا گیا ہے، احسن طریقے سے اس کو نبھانا ان پر واجب ہے اور یہ کہ بیکاری اور کسل مندی کو عادت بناتے ہوئے جہال کی پیروی نہ کریں ۔ نیز وہ مختلف انواع کے اذکار، نماز، زکٰوۃ ، حج ، روزہ وغیرہ مجرد عبادات ہی پر اقتصار نہ کریں جن کو قائم کر کے غیر اہل علم نجات پاتے ہیں ۔ اہل علم سے تو مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو تعلیم دیں اور انھیں ان دینی امور سے آگاہ کریں جن کے وہ محتاج ہیں ۔ خاص طور پر اصولی امور اور ایسے معاملات جو کثرت سے واقع ہوتے ہیں نیز یہ کہ وہ لوگوں سے نہ ڈریں بلکہ صرف اپنے رب سے ڈریں ۔ بنابریں فرمایا ﴿ فَلَا تَخۡشَوُا النَّاسَ وَاخۡشَوۡنِ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰيٰتِيۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾’’پس تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو! اور میری آیات کے بدلے تھوڑا سا فائدہ حاصل نہ کرو‘‘ یعنی دنیا کی متاع قلیل کی خاطر حق کو چھپا کر باطل کا اظہار نہ کرو۔اگر صاحب علم ان آفات سے محفوظ ہو جاتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے۔ اس کی سعادت اس امر میں ہے کہ علم و تعلیم میں جدوجہد اس کا مقصد رہے۔ یہ چیز ہمیشہ اس کے علم میں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے علم کی امانت اس کے سپرد کر کے اس کی حفاظت اس کے ذمہ عائد کی ہے اور اس کو اس علم پر گواہ بنایا ہے۔ وہ صرف اپنے رب سے ڈرے، لوگوں کا ڈر اور خوف اسے لوازم علم کو قائم کرنے سے مانع نہ ہو۔ دین پر دنیا کو ترجیح نہ دے۔ اسی طرح کسی عالم کی بدبختی یہ ہے کہ وہ بے کاری کو اپنی عادت بنا لے اور جن چیزوں کا اسے حکم دیا گیا ہے ان کو قائم نہ کرے اور جس چیز کی حفاظت کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے اسے پورا نہ کرے۔ ایسے شخص نے علم کو بے کار اور ضائع کر دیا، دنیا کے بدلے دین کو فروخت کر ڈالا، اس کے فیصلوں میں رشوت لی اس کے فتووں میں مال سمیٹا اور اللہ کے بندوں کو اجرت لے کر علم سکھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر بہت بڑا احسان کیا تھا جس کی اس نے ناشکری کی، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک عظیم نعمت عطا کی تھی، اس نے اس نعمت سے دوسروں کو محروم کر دیا۔ اے اللہ! ہم تجھ سے علم نافع اور عمل مقبول کا سوال کرتے ہیں ۔ اے الٰہ کریم ہمیں ہر مصیبت سے عفو اور عافیت عطا کر۔﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جو اللہ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے۔‘‘ یعنی جو کوئی واضح حق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا بلکہ اپنی فاسد اغراض کی خاطر جان بوجھ کر باطل کے مطابق فیصلہ کرتا ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا اہل کفر کا شیوہ ہے۔ اور بسا اوقات یہ ایسا کفر بن جاتا ہے جو اپنے مرتکب کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کتاب اللہ کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا جائز اور صحیح سمجھتا ہے۔
5:42سَمَّـٰعُونَ لِلۡكَذِبِ أَكَّـٰلُونَ لِلسُّحۡتِۚ فَإِن جَآءُوكَ فَٱحۡكُم بَيۡنَهُمۡ أَوۡ أَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡۖ وَإِن تُعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ فَلَن يَضُرُّوكَ شَيۡـٔٗاۖ وَإِنۡ حَكَمۡتَ فَٱحۡكُم بَيۡنَهُم بِٱلۡقِسۡطِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُقۡسِطِينَ
اے رسول! نہ غمگین کریں آپ کو وہ لوگ جو جلدی کرتے ہیں کفر میں ، ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ساتھ اپنے مونہوں کے اور نہیں ایمان لائے دل ان کے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے، وہ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت سننے والے ہیں واسطے دوسری قوم کے کہ نہیں آئی وہ (ابھی) آپ کے پاس، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو بعد (ثابت ہونے ان کے) ان کی جگہوں سے وہ کہتے ہیں ، اگر دیے جاؤ تم یہ (حکم) تو اسے لے لو اور اگر نہ دیے جاؤ تم یہ تو بچواور جو شخص کہ ارادہ کرے اللہ اسے گمراہ کرنے کا تو ہرگز نہیں اختیار رکھتے آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ بھی۔ یہی لوگ ہیں کہ نہیں ارادہ کیا اللہ نے یہ کہ پاک کر دے ان کے دلوں کو، ان کے لیے ہے دنیا میں رسوائی اور ان کے لیے آخرت میں ہے عذاب عظیم(41) بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت کھانے والے ہیں حرام کے، پس اگر آئیں وہ آپ کے پاس تو آپ فیصلہ کر دیں ان کے درمیان یا منہ پھیر لیں ان سےاور اگر منہ پھیریں گے آپ ان سے تو ہرگز نہ بگاڑ سکیں گے آپ کا کچھ بھی اور اگر فیصلہ کریں آپ تو فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ انصاف کے، بے شک اللہ پسند فرماتا ہے انصاف کرنے والوں کو(42) اور کیوں کر منصف بنائیں وہ آپ کو جبکہ ان کے پاس تورات ہے، اس میں حکم ہے اللہ کا، پھر پھر جاتے ہیں وہ بعد اس کےاور نہیں ہیں وہ ایمان لانے والے(43) بے شک نازل کیا ہم نے تورات کو، اس میں ہدایت اور روشنی ہے فیصلہ کرتے تھے ساتھ اس کے پیغمبر، جو مطیع تھے (اللہ کے) واسطے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے اور (فیصلہ کرتے تھے) اللہ والے اور علماء ، اس لیے کہ وہ نگران بنائے گئے تھے کتاب اللہ کےاور تھے وہ اوپر اس کے گواہ پس نہ ڈرو تم لوگوں سے اور ڈرو مجھ سے اور نہ بیچو تم میری آیتوں کو مول پر تھوڑے سےاور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں کافر(44)
[41] رسول اللہﷺ مخلوق پر بے حد شفقت فرماتے تھے اس لیے اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاتا تو آپﷺ کو بہت دکھ پہنچتا اور آپ بہت زیادہ مغموم ہو جاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی کارستانیوں پر غمزدہ نہ ہوا کریں کیونکہ وہ کسی شمار میں نہیں ۔ اگر وہ موجود ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بنابریں ان کے بارے میں عدم حزن و غم کے موجب سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَلَمۡ تُؤۡمِنۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے مونہوں سے اور ان کے دل مسلمان نہیں ‘‘ کیونکہ صرف ان لوگوں کے بارے میں افسوس کیا جاتا ہے اور صرف ان کے بارے میں غم کھایا جاتا ہے جو ظاہر اور باطن میں مومن شمار ہوتے ہیں ۔ حاشاللہ اہل ایمان کبھی اپنے دین سے نہیں پھرتے کیونکہ جب بشاشت ایمان دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو صاحب ایمان کسی چیز کو ایمان کے برابر نہیں سمجھتا اور ایمان کے بدلے کوئی چیز قبول نہیں کرتا۔﴿ وَمِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا ﴾ ’’اور ان میں سے جو یہودی ہیں ۔‘‘ ﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ سَمّٰؔعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ١ۙ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے، وہ جاسوس ہیں دوسرے لوگوں کے جو آپ تک نہیں آئے‘‘ یعنی اپنے سرداروں کی آواز پر لبیک کہنے والے، ان کے مقلد، جن کا تمام تر معاملہ جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے۔ اور یہ سردار جن کی پیروی کی جاتی ہے ﴿ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’آپ کے پاس کبھی نہیں آئے‘‘ بلکہ وہ آپ سے روگردانی کرتے ہیں اور اسی باطل پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے ﴿ يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَوَاضِعِهٖ ﴾ ’’وہ بدل ڈالتے ہیں بات کو، اس کا ٹھکانا چھوڑ کر‘‘ یعنی وہ اللہ کی مخلوق کو گمراہ کرنے اور حق کو روکنے کے لیے الفاظ کو ایسے معانی پہناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہے پس لوگ گمراہی کی طرف دعوت دینے والوں کے پیچھے چلتے ہیں اور محال کی پیروی کرتے ہیں جو تمام تر جھوٹ ہی لے کر آتے ہیں جو عقل سے محروم اور عزم و ہمت سے تہی دست ہیں ۔ اگر وہ آپ کی اتباع نہیں کرتے تو پروا نہ کیجیے کیونکہ وہ انتہائی ناقص ہیں اور ناقص کی پروا نہیں کی جاتی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ اِنۡ اُوۡتِيۡتُمۡ هٰؔذَا فَخُذُوۡهُ وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡتَوۡهُ فَاحۡذَرُوۡا ﴾ ’’کہتے ہیں اگر تم کو یہ حکم ملے تو قبول کر لینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا‘‘ یعنی یہ بات وہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ فیصلہ کروانے کے لیے آپ کے پاس آتے ہیں ۔ خواہشات نفس کی پیروی کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں ’’اگر محمد (ﷺ)تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ کرے تو اسے قبول کر لو اور اگر وہ تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو اس فیصلے میں اس کی پیروی سے بچو۔‘‘ یہ نقطہ نظر فتنہ اور خواہشات نفس کی پیروی ہے۔﴿ وَمَنۡ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتۡنَتَهٗ فَلَنۡ تَمۡلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اور جس کو اللہ گمراہ کرنے کا ارادہ کر لے، آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ نہیں کر سکتے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد اس قول کی مانند ہے ﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾(القصص: 28؍56) ’’آپ جسے پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہے ہدایت دے سکتا ہے۔‘‘﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُرِدِ اللّٰهُ اَنۡ يُّطَهِّرَ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾’’یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے نہیں چاہا کہ ان کے دل پاک کرے‘‘ یعنی پس ان سے جو کچھ صادر ہو رہا ہے وہ اسی وجہ سے صادر ہو رہا ہے۔ ان کا یہ رویہ اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی خواہش نفس کی اتباع کی خاطر شریعت کے مطابق فیصلہ کرواتا ہے اگر فیصلہ اس کے حق میں ہو تو راضی ہو جاتا ہے اور اگر فیصلہ اس کے خلاف ہو تو ناراض ہو جاتا ہے۔ تو یہ چیز اس کے قلب کی عدم طہارت میں سے ہے۔ جیسے وہ شخص ہے جو اپنا فیصلہ شریعت کی طرف لے جاتا ہے اور اس پر راضی ہوتا ہے، چاہے وہ فیصلہ اس کی خواہش کے مطابق ہو یا مخالف تو یہ اس کی طہارت قلب میں سے ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ طہارت قلب ہر بھلائی کا سبب ہے اور طہارت قلب رشد و ہدایت اور عمل سدید کا سب سے بڑا داعی ہے۔﴿ لَهُمۡ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ ﴾ ’’ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے۔‘‘ یعنی دنیا میں ان کے لیے فضیحت اور عار ہے ﴿ وَّلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور آخرت میں عذاب عظیم ہے‘‘ عذاب عظیم سے مراد جہنم اور اللہ جبار کی ناراضی ہے۔
[42]﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ ﴾ ’’جاسوسی کرنے والے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے‘‘ یہاں سننے سے مراد اطاعت کے لیے سننا ہے یعنی وہ قلت دین اور قلت عقل کی بنا پر ہر اس شخص کی بات پر لبیک کہتے ہیں جو انھیں جھوٹ کی طرف دعوت دیتاہے ﴿ اَكّٰلُوۡنَ لِلسُّحۡتِ ﴾ ’’کھانے والے ہیں حرام کے‘‘ یعنی اپنے عوام اور گھٹیا لوگوں سے ناحق وظائف لے کر حرام مال کھاتے ہیں ۔ پس انھوں نے اپنے اندر جھوٹ کی پیروی اور اکل حرام کو یکجا کر لیا ﴿ فَاِنۡ جَآءُوۡكَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اگر یہ آپ کے پاس (کوئی فیصلہ کرانے کو) آئیں تو آپ ان میں فیصلہ کردیں یا اعراض کریں ۔‘‘ یعنی آپ کو اس بارے میں اختیار ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے اعراض فرما لیں ۔یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں ہے بلکہ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں ، جو فیصلہ کروانے کے لیے آپﷺ کے پاس آئیں آپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا فیصلہ کرنے سے گریز کریں ۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ صرف اسی وقت شریعت کے مطابق فیصلہ کروانے کا قصد کرتے ہیں جب فیصلہ ان کی خواہشات نفس کے مطابق ہو۔ بنابریں فتویٰ طلب کرنے والے اور کسی عالم کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے جانے والے کے احوال کی تحقیق کی جائے اگر یہ معلوم ہو جائے کہ وہ اپنے خلاف فیصلے پر راضی نہ ہو گا تو اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا واجب ہے نہ فتویٰ دینا۔ تاہم اگر وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا واجب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تُعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ فَلَنۡ يَّضُرُّوۡكَ شَيۡـًٔـا١ؕ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ﴾ ’’اگر آپ ان سے منہ پھیر لیں تو وہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں ، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘ حتی کہ... خواہ لوگ ظالم اور دشمن ہی کیوں نہ ہوں تب بھی ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو۔یہ آیت کریمہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔
[43] پھر ان پر تعجب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَؔكَيۡفَ يُحَكِّمُوۡنَكَ وَعِنۡدَهُمُ التَّوۡرٰىةُ … بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور وہ کس طرح آپ کو منصف بنائیں گے، جبکہ ان کے پاس تورات ہے، جس میں اللہ کا حکم ہے، پھر اس کے بعد وہ پھر جاتے ہیں اور وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ‘‘ اس لیے کہ اگر وہ مومن ہوتے اور ایمان کے تقاضے اور اس کے موجبات پر عمل کرتے تو اللہ کے اس حکم سے اعراض نہ کرتے جو تورات میں موجود ہے اور جو ان کے سامنے ہے۔ (لیکن اس سے اعراض کر کے جو آپ کے پاس آئے ہیں تو اس امید پر کہ) شاید جو کچھ آپ کے پاس ہے ان کی خواہشات کے مطابق ہو۔ اور جب آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق فیصلہ کر دیا جو ان کے پاس ہے۔ تو وہ نہ صرف اس بات پر راضی نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے اس سے روگردانی کی اور اس کو ناپسند کیا۔ ﴿ وَمَاۤ اُولٰٓىِٕكَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کے یہ اعمال ہیں وہ مومن نہیں ، یعنی یہ اہل ایمان کا رویہ نہیں اور نہ یہ لوگ مومن کہلانے کے مستحق ہیں کیونکہ انھوں نے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور احکام ایمان کو اپنی خواہشات کے تابع کر رکھا ہے۔
[44]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىةَ ﴾ ’’بے شک ہم نے تورات نازل فرمائی۔‘‘ یعنی ہم نے موسیٰ بن عمرانu پر تورات نازل کی ﴿ فِيۡهَا هُدًى ﴾ ’’جس میں ہدایت ہے۔‘‘ یعنی تورات ایمان اور حق کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور گمراہی سے بچاتی ہے ﴿ وَّنُوۡرٌ ﴾ ’’اور روشنی ہے۔‘‘ یعنی ظلم و جہالت، شک و حیرت اور شبہات و شہوات کی تاریکیوں میں اس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ الۡفُرۡقَانَ وَضِيَآءً وَّذِكۡرًا لِّلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍48) ’’اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل میں فرق کرنے والی، روشنی عطا کرنے والی اور اہل تقویٰ کو نصیحت کرنے والی کتاب عطا کی۔‘‘ ﴿يَحۡكُمُ بِهَا ﴾ ’’فیصلہ کرتے تھے اس کے ساتھ‘‘ یعنی یہودیوں کے جھگڑوں اور ان کے فتاویٰ میں ﴿ النَّبِيُّوۡنَ الَّذِيۡنَ اَسۡلَمُوۡا ﴾’’پیغمبر جو فرماں بردار تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیا، اس کے احکامات کی اطاعت کی اور ان کا اسلام دیگر لوگوں کے اسلام سے زیادہ عظیم تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندے تھے۔جب یہ انبیائے کرام جو مخلوق کے سردار ہیں تورات کو اپنا امام بناتے ہیں ، اس کی پیروی کرتے ہیں اور اس کے پیچھے چلتے ہیں تو یہودیوں کے ان رذیل لوگوں کو اس کی پیروی کرنے سے کس چیز نے روکا ہے؟ اور ان پر کس چیز نے واجب کیا ہے کہ وہ تورات کے بہترین حصے کو نظر انداز کر دیں جس میں حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لانے کا حکم ہے اور اس عقیدے کو قبول کیے بغیر کوئی ظاہری اور باطنی عمل قابل قبول نہیں ۔ کیا اس بارے میں ان کے پاس کوئی راہنمائی ہے؟ ہاں ! ان کی راہنمائی کرنے والے راہنما موجود ہیں جو تحریف کرنے، لوگوں کے درمیان اپنی سرداری اور مناصب قائم رکھنے، کتمان حق کے ذریعے سے حرام مال کھانے اور اظہار باطل کے عادی ہیں ۔ یہ لوگ ائمہ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔﴿ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ ﴾ ’’درویش اور عالم‘‘ یعنی اسی طرح یہودیوں کے ائمہ دین میں ربانی تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے۔ (رَبَّانِیُّون) سے مراد باعمل علماء ہیں جو لوگوں کی بہترین تربیت کرتے تھے اور لوگوں کے ساتھ ان کا وہی مشفقانہ رویہ تھا جو انبیاء کرام کا ہوتا ہے (اَحْبَار) سے مراد وہ علمائے کبار ہیں جن کے قول کی اتباع کی جاتی ہے اور جن کے آثار کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور وہ اپنی قوم میں اچھی شہرت رکھتے ہیں ۔ان کی طرف سے صادر ہونے والا یہ فیصلہ حق کے مطابق ہے ﴿ بِمَا اسۡتُحۡفِظُوۡا مِنۡ كِتٰبِ اللّٰهِ وَؔكَانُوۡا عَلَيۡهِ شُهَدَآءَؔ ﴾ ’’اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھہرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر اور وہ اس کی خبر گیری پر مقرر تھے‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری ڈالی تھی، ان کو اپنی کتاب کا امین بنایا تھا اور یہ کتاب ان کے پاس امانت تھی اور اس میں کمی بیشی اور کتمان سے اس کی حفاظت کو اور بے علم لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کو ان پر واجب قرار دیا تھا... وہ اس کتاب پر گواہ ہیں کیونکہ وہی اس کتاب میں مندرج احکام کے بارے میں اور اس کی بابت لوگوں کے درمیان مشتبہ امور میں ان کے لیے مرجع ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل علم پر وہ ذمہ داری ڈالی ہے جو جہلا پر نہیں ڈالی اس لیے جس ذمہ داری کا بوجھ ان پر ڈالا گیا ہے، احسن طریقے سے اس کو نبھانا ان پر واجب ہے اور یہ کہ بیکاری اور کسل مندی کو عادت بناتے ہوئے جہال کی پیروی نہ کریں ۔ نیز وہ مختلف انواع کے اذکار، نماز، زکٰوۃ ، حج ، روزہ وغیرہ مجرد عبادات ہی پر اقتصار نہ کریں جن کو قائم کر کے غیر اہل علم نجات پاتے ہیں ۔ اہل علم سے تو مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو تعلیم دیں اور انھیں ان دینی امور سے آگاہ کریں جن کے وہ محتاج ہیں ۔ خاص طور پر اصولی امور اور ایسے معاملات جو کثرت سے واقع ہوتے ہیں نیز یہ کہ وہ لوگوں سے نہ ڈریں بلکہ صرف اپنے رب سے ڈریں ۔ بنابریں فرمایا ﴿ فَلَا تَخۡشَوُا النَّاسَ وَاخۡشَوۡنِ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰيٰتِيۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾’’پس تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو! اور میری آیات کے بدلے تھوڑا سا فائدہ حاصل نہ کرو‘‘ یعنی دنیا کی متاع قلیل کی خاطر حق کو چھپا کر باطل کا اظہار نہ کرو۔اگر صاحب علم ان آفات سے محفوظ ہو جاتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے۔ اس کی سعادت اس امر میں ہے کہ علم و تعلیم میں جدوجہد اس کا مقصد رہے۔ یہ چیز ہمیشہ اس کے علم میں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے علم کی امانت اس کے سپرد کر کے اس کی حفاظت اس کے ذمہ عائد کی ہے اور اس کو اس علم پر گواہ بنایا ہے۔ وہ صرف اپنے رب سے ڈرے، لوگوں کا ڈر اور خوف اسے لوازم علم کو قائم کرنے سے مانع نہ ہو۔ دین پر دنیا کو ترجیح نہ دے۔ اسی طرح کسی عالم کی بدبختی یہ ہے کہ وہ بے کاری کو اپنی عادت بنا لے اور جن چیزوں کا اسے حکم دیا گیا ہے ان کو قائم نہ کرے اور جس چیز کی حفاظت کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے اسے پورا نہ کرے۔ ایسے شخص نے علم کو بے کار اور ضائع کر دیا، دنیا کے بدلے دین کو فروخت کر ڈالا، اس کے فیصلوں میں رشوت لی اس کے فتووں میں مال سمیٹا اور اللہ کے بندوں کو اجرت لے کر علم سکھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر بہت بڑا احسان کیا تھا جس کی اس نے ناشکری کی، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک عظیم نعمت عطا کی تھی، اس نے اس نعمت سے دوسروں کو محروم کر دیا۔ اے اللہ! ہم تجھ سے علم نافع اور عمل مقبول کا سوال کرتے ہیں ۔ اے الٰہ کریم ہمیں ہر مصیبت سے عفو اور عافیت عطا کر۔﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جو اللہ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے۔‘‘ یعنی جو کوئی واضح حق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا بلکہ اپنی فاسد اغراض کی خاطر جان بوجھ کر باطل کے مطابق فیصلہ کرتا ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا اہل کفر کا شیوہ ہے۔ اور بسا اوقات یہ ایسا کفر بن جاتا ہے جو اپنے مرتکب کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کتاب اللہ کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا جائز اور صحیح سمجھتا ہے۔
5:43وَكَيۡفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِندَهُمُ ٱلتَّوۡرَىٰةُ فِيهَا حُكۡمُ ٱللَّهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوۡنَ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَۚ وَمَآ أُوْلَـٰٓئِكَ بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اے رسول! نہ غمگین کریں آپ کو وہ لوگ جو جلدی کرتے ہیں کفر میں ، ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ساتھ اپنے مونہوں کے اور نہیں ایمان لائے دل ان کے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے، وہ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت سننے والے ہیں واسطے دوسری قوم کے کہ نہیں آئی وہ (ابھی) آپ کے پاس، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو بعد (ثابت ہونے ان کے) ان کی جگہوں سے وہ کہتے ہیں ، اگر دیے جاؤ تم یہ (حکم) تو اسے لے لو اور اگر نہ دیے جاؤ تم یہ تو بچواور جو شخص کہ ارادہ کرے اللہ اسے گمراہ کرنے کا تو ہرگز نہیں اختیار رکھتے آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ بھی۔ یہی لوگ ہیں کہ نہیں ارادہ کیا اللہ نے یہ کہ پاک کر دے ان کے دلوں کو، ان کے لیے ہے دنیا میں رسوائی اور ان کے لیے آخرت میں ہے عذاب عظیم(41) بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت کھانے والے ہیں حرام کے، پس اگر آئیں وہ آپ کے پاس تو آپ فیصلہ کر دیں ان کے درمیان یا منہ پھیر لیں ان سےاور اگر منہ پھیریں گے آپ ان سے تو ہرگز نہ بگاڑ سکیں گے آپ کا کچھ بھی اور اگر فیصلہ کریں آپ تو فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ انصاف کے، بے شک اللہ پسند فرماتا ہے انصاف کرنے والوں کو(42) اور کیوں کر منصف بنائیں وہ آپ کو جبکہ ان کے پاس تورات ہے، اس میں حکم ہے اللہ کا، پھر پھر جاتے ہیں وہ بعد اس کےاور نہیں ہیں وہ ایمان لانے والے(43) بے شک نازل کیا ہم نے تورات کو، اس میں ہدایت اور روشنی ہے فیصلہ کرتے تھے ساتھ اس کے پیغمبر، جو مطیع تھے (اللہ کے) واسطے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے اور (فیصلہ کرتے تھے) اللہ والے اور علماء ، اس لیے کہ وہ نگران بنائے گئے تھے کتاب اللہ کےاور تھے وہ اوپر اس کے گواہ پس نہ ڈرو تم لوگوں سے اور ڈرو مجھ سے اور نہ بیچو تم میری آیتوں کو مول پر تھوڑے سےاور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں کافر(44)
[41] رسول اللہﷺ مخلوق پر بے حد شفقت فرماتے تھے اس لیے اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاتا تو آپﷺ کو بہت دکھ پہنچتا اور آپ بہت زیادہ مغموم ہو جاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی کارستانیوں پر غمزدہ نہ ہوا کریں کیونکہ وہ کسی شمار میں نہیں ۔ اگر وہ موجود ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بنابریں ان کے بارے میں عدم حزن و غم کے موجب سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَلَمۡ تُؤۡمِنۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے مونہوں سے اور ان کے دل مسلمان نہیں ‘‘ کیونکہ صرف ان لوگوں کے بارے میں افسوس کیا جاتا ہے اور صرف ان کے بارے میں غم کھایا جاتا ہے جو ظاہر اور باطن میں مومن شمار ہوتے ہیں ۔ حاشاللہ اہل ایمان کبھی اپنے دین سے نہیں پھرتے کیونکہ جب بشاشت ایمان دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو صاحب ایمان کسی چیز کو ایمان کے برابر نہیں سمجھتا اور ایمان کے بدلے کوئی چیز قبول نہیں کرتا۔﴿ وَمِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا ﴾ ’’اور ان میں سے جو یہودی ہیں ۔‘‘ ﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ سَمّٰؔعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ١ۙ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے، وہ جاسوس ہیں دوسرے لوگوں کے جو آپ تک نہیں آئے‘‘ یعنی اپنے سرداروں کی آواز پر لبیک کہنے والے، ان کے مقلد، جن کا تمام تر معاملہ جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے۔ اور یہ سردار جن کی پیروی کی جاتی ہے ﴿ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’آپ کے پاس کبھی نہیں آئے‘‘ بلکہ وہ آپ سے روگردانی کرتے ہیں اور اسی باطل پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے ﴿ يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَوَاضِعِهٖ ﴾ ’’وہ بدل ڈالتے ہیں بات کو، اس کا ٹھکانا چھوڑ کر‘‘ یعنی وہ اللہ کی مخلوق کو گمراہ کرنے اور حق کو روکنے کے لیے الفاظ کو ایسے معانی پہناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہے پس لوگ گمراہی کی طرف دعوت دینے والوں کے پیچھے چلتے ہیں اور محال کی پیروی کرتے ہیں جو تمام تر جھوٹ ہی لے کر آتے ہیں جو عقل سے محروم اور عزم و ہمت سے تہی دست ہیں ۔ اگر وہ آپ کی اتباع نہیں کرتے تو پروا نہ کیجیے کیونکہ وہ انتہائی ناقص ہیں اور ناقص کی پروا نہیں کی جاتی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ اِنۡ اُوۡتِيۡتُمۡ هٰؔذَا فَخُذُوۡهُ وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡتَوۡهُ فَاحۡذَرُوۡا ﴾ ’’کہتے ہیں اگر تم کو یہ حکم ملے تو قبول کر لینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا‘‘ یعنی یہ بات وہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ فیصلہ کروانے کے لیے آپ کے پاس آتے ہیں ۔ خواہشات نفس کی پیروی کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں ’’اگر محمد (ﷺ)تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ کرے تو اسے قبول کر لو اور اگر وہ تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو اس فیصلے میں اس کی پیروی سے بچو۔‘‘ یہ نقطہ نظر فتنہ اور خواہشات نفس کی پیروی ہے۔﴿ وَمَنۡ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتۡنَتَهٗ فَلَنۡ تَمۡلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اور جس کو اللہ گمراہ کرنے کا ارادہ کر لے، آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ نہیں کر سکتے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد اس قول کی مانند ہے ﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾(القصص: 28؍56) ’’آپ جسے پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہے ہدایت دے سکتا ہے۔‘‘﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُرِدِ اللّٰهُ اَنۡ يُّطَهِّرَ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾’’یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے نہیں چاہا کہ ان کے دل پاک کرے‘‘ یعنی پس ان سے جو کچھ صادر ہو رہا ہے وہ اسی وجہ سے صادر ہو رہا ہے۔ ان کا یہ رویہ اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی خواہش نفس کی اتباع کی خاطر شریعت کے مطابق فیصلہ کرواتا ہے اگر فیصلہ اس کے حق میں ہو تو راضی ہو جاتا ہے اور اگر فیصلہ اس کے خلاف ہو تو ناراض ہو جاتا ہے۔ تو یہ چیز اس کے قلب کی عدم طہارت میں سے ہے۔ جیسے وہ شخص ہے جو اپنا فیصلہ شریعت کی طرف لے جاتا ہے اور اس پر راضی ہوتا ہے، چاہے وہ فیصلہ اس کی خواہش کے مطابق ہو یا مخالف تو یہ اس کی طہارت قلب میں سے ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ طہارت قلب ہر بھلائی کا سبب ہے اور طہارت قلب رشد و ہدایت اور عمل سدید کا سب سے بڑا داعی ہے۔﴿ لَهُمۡ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ ﴾ ’’ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے۔‘‘ یعنی دنیا میں ان کے لیے فضیحت اور عار ہے ﴿ وَّلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور آخرت میں عذاب عظیم ہے‘‘ عذاب عظیم سے مراد جہنم اور اللہ جبار کی ناراضی ہے۔
[42]﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ ﴾ ’’جاسوسی کرنے والے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے‘‘ یہاں سننے سے مراد اطاعت کے لیے سننا ہے یعنی وہ قلت دین اور قلت عقل کی بنا پر ہر اس شخص کی بات پر لبیک کہتے ہیں جو انھیں جھوٹ کی طرف دعوت دیتاہے ﴿ اَكّٰلُوۡنَ لِلسُّحۡتِ ﴾ ’’کھانے والے ہیں حرام کے‘‘ یعنی اپنے عوام اور گھٹیا لوگوں سے ناحق وظائف لے کر حرام مال کھاتے ہیں ۔ پس انھوں نے اپنے اندر جھوٹ کی پیروی اور اکل حرام کو یکجا کر لیا ﴿ فَاِنۡ جَآءُوۡكَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اگر یہ آپ کے پاس (کوئی فیصلہ کرانے کو) آئیں تو آپ ان میں فیصلہ کردیں یا اعراض کریں ۔‘‘ یعنی آپ کو اس بارے میں اختیار ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے اعراض فرما لیں ۔یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں ہے بلکہ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں ، جو فیصلہ کروانے کے لیے آپﷺ کے پاس آئیں آپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا فیصلہ کرنے سے گریز کریں ۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ صرف اسی وقت شریعت کے مطابق فیصلہ کروانے کا قصد کرتے ہیں جب فیصلہ ان کی خواہشات نفس کے مطابق ہو۔ بنابریں فتویٰ طلب کرنے والے اور کسی عالم کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے جانے والے کے احوال کی تحقیق کی جائے اگر یہ معلوم ہو جائے کہ وہ اپنے خلاف فیصلے پر راضی نہ ہو گا تو اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا واجب ہے نہ فتویٰ دینا۔ تاہم اگر وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا واجب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تُعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ فَلَنۡ يَّضُرُّوۡكَ شَيۡـًٔـا١ؕ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ﴾ ’’اگر آپ ان سے منہ پھیر لیں تو وہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں ، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘ حتی کہ... خواہ لوگ ظالم اور دشمن ہی کیوں نہ ہوں تب بھی ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو۔یہ آیت کریمہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔
[43] پھر ان پر تعجب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَؔكَيۡفَ يُحَكِّمُوۡنَكَ وَعِنۡدَهُمُ التَّوۡرٰىةُ … بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور وہ کس طرح آپ کو منصف بنائیں گے، جبکہ ان کے پاس تورات ہے، جس میں اللہ کا حکم ہے، پھر اس کے بعد وہ پھر جاتے ہیں اور وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ‘‘ اس لیے کہ اگر وہ مومن ہوتے اور ایمان کے تقاضے اور اس کے موجبات پر عمل کرتے تو اللہ کے اس حکم سے اعراض نہ کرتے جو تورات میں موجود ہے اور جو ان کے سامنے ہے۔ (لیکن اس سے اعراض کر کے جو آپ کے پاس آئے ہیں تو اس امید پر کہ) شاید جو کچھ آپ کے پاس ہے ان کی خواہشات کے مطابق ہو۔ اور جب آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق فیصلہ کر دیا جو ان کے پاس ہے۔ تو وہ نہ صرف اس بات پر راضی نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے اس سے روگردانی کی اور اس کو ناپسند کیا۔ ﴿ وَمَاۤ اُولٰٓىِٕكَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کے یہ اعمال ہیں وہ مومن نہیں ، یعنی یہ اہل ایمان کا رویہ نہیں اور نہ یہ لوگ مومن کہلانے کے مستحق ہیں کیونکہ انھوں نے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور احکام ایمان کو اپنی خواہشات کے تابع کر رکھا ہے۔
[44]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىةَ ﴾ ’’بے شک ہم نے تورات نازل فرمائی۔‘‘ یعنی ہم نے موسیٰ بن عمرانu پر تورات نازل کی ﴿ فِيۡهَا هُدًى ﴾ ’’جس میں ہدایت ہے۔‘‘ یعنی تورات ایمان اور حق کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور گمراہی سے بچاتی ہے ﴿ وَّنُوۡرٌ ﴾ ’’اور روشنی ہے۔‘‘ یعنی ظلم و جہالت، شک و حیرت اور شبہات و شہوات کی تاریکیوں میں اس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ الۡفُرۡقَانَ وَضِيَآءً وَّذِكۡرًا لِّلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍48) ’’اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل میں فرق کرنے والی، روشنی عطا کرنے والی اور اہل تقویٰ کو نصیحت کرنے والی کتاب عطا کی۔‘‘ ﴿يَحۡكُمُ بِهَا ﴾ ’’فیصلہ کرتے تھے اس کے ساتھ‘‘ یعنی یہودیوں کے جھگڑوں اور ان کے فتاویٰ میں ﴿ النَّبِيُّوۡنَ الَّذِيۡنَ اَسۡلَمُوۡا ﴾’’پیغمبر جو فرماں بردار تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیا، اس کے احکامات کی اطاعت کی اور ان کا اسلام دیگر لوگوں کے اسلام سے زیادہ عظیم تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندے تھے۔جب یہ انبیائے کرام جو مخلوق کے سردار ہیں تورات کو اپنا امام بناتے ہیں ، اس کی پیروی کرتے ہیں اور اس کے پیچھے چلتے ہیں تو یہودیوں کے ان رذیل لوگوں کو اس کی پیروی کرنے سے کس چیز نے روکا ہے؟ اور ان پر کس چیز نے واجب کیا ہے کہ وہ تورات کے بہترین حصے کو نظر انداز کر دیں جس میں حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لانے کا حکم ہے اور اس عقیدے کو قبول کیے بغیر کوئی ظاہری اور باطنی عمل قابل قبول نہیں ۔ کیا اس بارے میں ان کے پاس کوئی راہنمائی ہے؟ ہاں ! ان کی راہنمائی کرنے والے راہنما موجود ہیں جو تحریف کرنے، لوگوں کے درمیان اپنی سرداری اور مناصب قائم رکھنے، کتمان حق کے ذریعے سے حرام مال کھانے اور اظہار باطل کے عادی ہیں ۔ یہ لوگ ائمہ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔﴿ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ ﴾ ’’درویش اور عالم‘‘ یعنی اسی طرح یہودیوں کے ائمہ دین میں ربانی تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے۔ (رَبَّانِیُّون) سے مراد باعمل علماء ہیں جو لوگوں کی بہترین تربیت کرتے تھے اور لوگوں کے ساتھ ان کا وہی مشفقانہ رویہ تھا جو انبیاء کرام کا ہوتا ہے (اَحْبَار) سے مراد وہ علمائے کبار ہیں جن کے قول کی اتباع کی جاتی ہے اور جن کے آثار کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور وہ اپنی قوم میں اچھی شہرت رکھتے ہیں ۔ان کی طرف سے صادر ہونے والا یہ فیصلہ حق کے مطابق ہے ﴿ بِمَا اسۡتُحۡفِظُوۡا مِنۡ كِتٰبِ اللّٰهِ وَؔكَانُوۡا عَلَيۡهِ شُهَدَآءَؔ ﴾ ’’اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھہرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر اور وہ اس کی خبر گیری پر مقرر تھے‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری ڈالی تھی، ان کو اپنی کتاب کا امین بنایا تھا اور یہ کتاب ان کے پاس امانت تھی اور اس میں کمی بیشی اور کتمان سے اس کی حفاظت کو اور بے علم لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کو ان پر واجب قرار دیا تھا... وہ اس کتاب پر گواہ ہیں کیونکہ وہی اس کتاب میں مندرج احکام کے بارے میں اور اس کی بابت لوگوں کے درمیان مشتبہ امور میں ان کے لیے مرجع ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل علم پر وہ ذمہ داری ڈالی ہے جو جہلا پر نہیں ڈالی اس لیے جس ذمہ داری کا بوجھ ان پر ڈالا گیا ہے، احسن طریقے سے اس کو نبھانا ان پر واجب ہے اور یہ کہ بیکاری اور کسل مندی کو عادت بناتے ہوئے جہال کی پیروی نہ کریں ۔ نیز وہ مختلف انواع کے اذکار، نماز، زکٰوۃ ، حج ، روزہ وغیرہ مجرد عبادات ہی پر اقتصار نہ کریں جن کو قائم کر کے غیر اہل علم نجات پاتے ہیں ۔ اہل علم سے تو مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو تعلیم دیں اور انھیں ان دینی امور سے آگاہ کریں جن کے وہ محتاج ہیں ۔ خاص طور پر اصولی امور اور ایسے معاملات جو کثرت سے واقع ہوتے ہیں نیز یہ کہ وہ لوگوں سے نہ ڈریں بلکہ صرف اپنے رب سے ڈریں ۔ بنابریں فرمایا ﴿ فَلَا تَخۡشَوُا النَّاسَ وَاخۡشَوۡنِ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰيٰتِيۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾’’پس تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو! اور میری آیات کے بدلے تھوڑا سا فائدہ حاصل نہ کرو‘‘ یعنی دنیا کی متاع قلیل کی خاطر حق کو چھپا کر باطل کا اظہار نہ کرو۔اگر صاحب علم ان آفات سے محفوظ ہو جاتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے۔ اس کی سعادت اس امر میں ہے کہ علم و تعلیم میں جدوجہد اس کا مقصد رہے۔ یہ چیز ہمیشہ اس کے علم میں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے علم کی امانت اس کے سپرد کر کے اس کی حفاظت اس کے ذمہ عائد کی ہے اور اس کو اس علم پر گواہ بنایا ہے۔ وہ صرف اپنے رب سے ڈرے، لوگوں کا ڈر اور خوف اسے لوازم علم کو قائم کرنے سے مانع نہ ہو۔ دین پر دنیا کو ترجیح نہ دے۔ اسی طرح کسی عالم کی بدبختی یہ ہے کہ وہ بے کاری کو اپنی عادت بنا لے اور جن چیزوں کا اسے حکم دیا گیا ہے ان کو قائم نہ کرے اور جس چیز کی حفاظت کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے اسے پورا نہ کرے۔ ایسے شخص نے علم کو بے کار اور ضائع کر دیا، دنیا کے بدلے دین کو فروخت کر ڈالا، اس کے فیصلوں میں رشوت لی اس کے فتووں میں مال سمیٹا اور اللہ کے بندوں کو اجرت لے کر علم سکھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر بہت بڑا احسان کیا تھا جس کی اس نے ناشکری کی، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک عظیم نعمت عطا کی تھی، اس نے اس نعمت سے دوسروں کو محروم کر دیا۔ اے اللہ! ہم تجھ سے علم نافع اور عمل مقبول کا سوال کرتے ہیں ۔ اے الٰہ کریم ہمیں ہر مصیبت سے عفو اور عافیت عطا کر۔﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جو اللہ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے۔‘‘ یعنی جو کوئی واضح حق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا بلکہ اپنی فاسد اغراض کی خاطر جان بوجھ کر باطل کے مطابق فیصلہ کرتا ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا اہل کفر کا شیوہ ہے۔ اور بسا اوقات یہ ایسا کفر بن جاتا ہے جو اپنے مرتکب کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کتاب اللہ کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا جائز اور صحیح سمجھتا ہے۔
5:44إِنَّآ أَنزَلۡنَا ٱلتَّوۡرَىٰةَ فِيهَا هُدٗى وَنُورٞۚ يَحۡكُمُ بِهَا ٱلنَّبِيُّونَ ٱلَّذِينَ أَسۡلَمُواْ لِلَّذِينَ هَادُواْ وَٱلرَّبَّـٰنِيُّونَ وَٱلۡأَحۡبَارُ بِمَا ٱسۡتُحۡفِظُواْ مِن كِتَٰبِ ٱللَّهِ وَكَانُواْ عَلَيۡهِ شُهَدَآءَۚ فَلَا تَخۡشَوُاْ ٱلنَّاسَ وَٱخۡشَوۡنِ وَلَا تَشۡتَرُواْ بِـَٔايَٰتِي ثَمَنٗا قَلِيلٗاۚ وَمَن لَّمۡ يَحۡكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ
اے رسول! نہ غمگین کریں آپ کو وہ لوگ جو جلدی کرتے ہیں کفر میں ، ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ساتھ اپنے مونہوں کے اور نہیں ایمان لائے دل ان کے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے، وہ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت سننے والے ہیں واسطے دوسری قوم کے کہ نہیں آئی وہ (ابھی) آپ کے پاس، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو بعد (ثابت ہونے ان کے) ان کی جگہوں سے وہ کہتے ہیں ، اگر دیے جاؤ تم یہ (حکم) تو اسے لے لو اور اگر نہ دیے جاؤ تم یہ تو بچواور جو شخص کہ ارادہ کرے اللہ اسے گمراہ کرنے کا تو ہرگز نہیں اختیار رکھتے آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ بھی۔ یہی لوگ ہیں کہ نہیں ارادہ کیا اللہ نے یہ کہ پاک کر دے ان کے دلوں کو، ان کے لیے ہے دنیا میں رسوائی اور ان کے لیے آخرت میں ہے عذاب عظیم(41) بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت کھانے والے ہیں حرام کے، پس اگر آئیں وہ آپ کے پاس تو آپ فیصلہ کر دیں ان کے درمیان یا منہ پھیر لیں ان سےاور اگر منہ پھیریں گے آپ ان سے تو ہرگز نہ بگاڑ سکیں گے آپ کا کچھ بھی اور اگر فیصلہ کریں آپ تو فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ انصاف کے، بے شک اللہ پسند فرماتا ہے انصاف کرنے والوں کو(42) اور کیوں کر منصف بنائیں وہ آپ کو جبکہ ان کے پاس تورات ہے، اس میں حکم ہے اللہ کا، پھر پھر جاتے ہیں وہ بعد اس کےاور نہیں ہیں وہ ایمان لانے والے(43) بے شک نازل کیا ہم نے تورات کو، اس میں ہدایت اور روشنی ہے فیصلہ کرتے تھے ساتھ اس کے پیغمبر، جو مطیع تھے (اللہ کے) واسطے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے اور (فیصلہ کرتے تھے) اللہ والے اور علماء ، اس لیے کہ وہ نگران بنائے گئے تھے کتاب اللہ کےاور تھے وہ اوپر اس کے گواہ پس نہ ڈرو تم لوگوں سے اور ڈرو مجھ سے اور نہ بیچو تم میری آیتوں کو مول پر تھوڑے سےاور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں کافر(44)
[41] رسول اللہﷺ مخلوق پر بے حد شفقت فرماتے تھے اس لیے اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاتا تو آپﷺ کو بہت دکھ پہنچتا اور آپ بہت زیادہ مغموم ہو جاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی کارستانیوں پر غمزدہ نہ ہوا کریں کیونکہ وہ کسی شمار میں نہیں ۔ اگر وہ موجود ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بنابریں ان کے بارے میں عدم حزن و غم کے موجب سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَلَمۡ تُؤۡمِنۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے مونہوں سے اور ان کے دل مسلمان نہیں ‘‘ کیونکہ صرف ان لوگوں کے بارے میں افسوس کیا جاتا ہے اور صرف ان کے بارے میں غم کھایا جاتا ہے جو ظاہر اور باطن میں مومن شمار ہوتے ہیں ۔ حاشاللہ اہل ایمان کبھی اپنے دین سے نہیں پھرتے کیونکہ جب بشاشت ایمان دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو صاحب ایمان کسی چیز کو ایمان کے برابر نہیں سمجھتا اور ایمان کے بدلے کوئی چیز قبول نہیں کرتا۔﴿ وَمِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا ﴾ ’’اور ان میں سے جو یہودی ہیں ۔‘‘ ﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ سَمّٰؔعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ١ۙ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے، وہ جاسوس ہیں دوسرے لوگوں کے جو آپ تک نہیں آئے‘‘ یعنی اپنے سرداروں کی آواز پر لبیک کہنے والے، ان کے مقلد، جن کا تمام تر معاملہ جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے۔ اور یہ سردار جن کی پیروی کی جاتی ہے ﴿ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’آپ کے پاس کبھی نہیں آئے‘‘ بلکہ وہ آپ سے روگردانی کرتے ہیں اور اسی باطل پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے ﴿ يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَوَاضِعِهٖ ﴾ ’’وہ بدل ڈالتے ہیں بات کو، اس کا ٹھکانا چھوڑ کر‘‘ یعنی وہ اللہ کی مخلوق کو گمراہ کرنے اور حق کو روکنے کے لیے الفاظ کو ایسے معانی پہناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہے پس لوگ گمراہی کی طرف دعوت دینے والوں کے پیچھے چلتے ہیں اور محال کی پیروی کرتے ہیں جو تمام تر جھوٹ ہی لے کر آتے ہیں جو عقل سے محروم اور عزم و ہمت سے تہی دست ہیں ۔ اگر وہ آپ کی اتباع نہیں کرتے تو پروا نہ کیجیے کیونکہ وہ انتہائی ناقص ہیں اور ناقص کی پروا نہیں کی جاتی ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ اِنۡ اُوۡتِيۡتُمۡ هٰؔذَا فَخُذُوۡهُ وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡتَوۡهُ فَاحۡذَرُوۡا ﴾ ’’کہتے ہیں اگر تم کو یہ حکم ملے تو قبول کر لینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا‘‘ یعنی یہ بات وہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ فیصلہ کروانے کے لیے آپ کے پاس آتے ہیں ۔ خواہشات نفس کی پیروی کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں ’’اگر محمد (ﷺ)تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ کرے تو اسے قبول کر لو اور اگر وہ تمھاری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو اس فیصلے میں اس کی پیروی سے بچو۔‘‘ یہ نقطہ نظر فتنہ اور خواہشات نفس کی پیروی ہے۔﴿ وَمَنۡ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتۡنَتَهٗ فَلَنۡ تَمۡلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اور جس کو اللہ گمراہ کرنے کا ارادہ کر لے، آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ نہیں کر سکتے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد اس قول کی مانند ہے ﴿ اِنَّكَ لَا تَهۡدِيۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾(القصص: 28؍56) ’’آپ جسے پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہے ہدایت دے سکتا ہے۔‘‘﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُرِدِ اللّٰهُ اَنۡ يُّطَهِّرَ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾’’یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے نہیں چاہا کہ ان کے دل پاک کرے‘‘ یعنی پس ان سے جو کچھ صادر ہو رہا ہے وہ اسی وجہ سے صادر ہو رہا ہے۔ ان کا یہ رویہ اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی خواہش نفس کی اتباع کی خاطر شریعت کے مطابق فیصلہ کرواتا ہے اگر فیصلہ اس کے حق میں ہو تو راضی ہو جاتا ہے اور اگر فیصلہ اس کے خلاف ہو تو ناراض ہو جاتا ہے۔ تو یہ چیز اس کے قلب کی عدم طہارت میں سے ہے۔ جیسے وہ شخص ہے جو اپنا فیصلہ شریعت کی طرف لے جاتا ہے اور اس پر راضی ہوتا ہے، چاہے وہ فیصلہ اس کی خواہش کے مطابق ہو یا مخالف تو یہ اس کی طہارت قلب میں سے ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ طہارت قلب ہر بھلائی کا سبب ہے اور طہارت قلب رشد و ہدایت اور عمل سدید کا سب سے بڑا داعی ہے۔﴿ لَهُمۡ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ ﴾ ’’ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے۔‘‘ یعنی دنیا میں ان کے لیے فضیحت اور عار ہے ﴿ وَّلَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اور آخرت میں عذاب عظیم ہے‘‘ عذاب عظیم سے مراد جہنم اور اللہ جبار کی ناراضی ہے۔
[42]﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ ﴾ ’’جاسوسی کرنے والے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے‘‘ یہاں سننے سے مراد اطاعت کے لیے سننا ہے یعنی وہ قلت دین اور قلت عقل کی بنا پر ہر اس شخص کی بات پر لبیک کہتے ہیں جو انھیں جھوٹ کی طرف دعوت دیتاہے ﴿ اَكّٰلُوۡنَ لِلسُّحۡتِ ﴾ ’’کھانے والے ہیں حرام کے‘‘ یعنی اپنے عوام اور گھٹیا لوگوں سے ناحق وظائف لے کر حرام مال کھاتے ہیں ۔ پس انھوں نے اپنے اندر جھوٹ کی پیروی اور اکل حرام کو یکجا کر لیا ﴿ فَاِنۡ جَآءُوۡكَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اگر یہ آپ کے پاس (کوئی فیصلہ کرانے کو) آئیں تو آپ ان میں فیصلہ کردیں یا اعراض کریں ۔‘‘ یعنی آپ کو اس بارے میں اختیار ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کریں یا ان سے اعراض فرما لیں ۔یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں ہے بلکہ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں ، جو فیصلہ کروانے کے لیے آپﷺ کے پاس آئیں آپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا فیصلہ کرنے سے گریز کریں ۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ صرف اسی وقت شریعت کے مطابق فیصلہ کروانے کا قصد کرتے ہیں جب فیصلہ ان کی خواہشات نفس کے مطابق ہو۔ بنابریں فتویٰ طلب کرنے والے اور کسی عالم کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے جانے والے کے احوال کی تحقیق کی جائے اگر یہ معلوم ہو جائے کہ وہ اپنے خلاف فیصلے پر راضی نہ ہو گا تو اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا واجب ہے نہ فتویٰ دینا۔ تاہم اگر وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا واجب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تُعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ فَلَنۡ يَّضُرُّوۡكَ شَيۡـًٔـا١ؕ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ﴾ ’’اگر آپ ان سے منہ پھیر لیں تو وہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں ، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘ حتی کہ... خواہ لوگ ظالم اور دشمن ہی کیوں نہ ہوں تب بھی ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو۔یہ آیت کریمہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اور عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔
[43] پھر ان پر تعجب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَؔكَيۡفَ يُحَكِّمُوۡنَكَ وَعِنۡدَهُمُ التَّوۡرٰىةُ … بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور وہ کس طرح آپ کو منصف بنائیں گے، جبکہ ان کے پاس تورات ہے، جس میں اللہ کا حکم ہے، پھر اس کے بعد وہ پھر جاتے ہیں اور وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ‘‘ اس لیے کہ اگر وہ مومن ہوتے اور ایمان کے تقاضے اور اس کے موجبات پر عمل کرتے تو اللہ کے اس حکم سے اعراض نہ کرتے جو تورات میں موجود ہے اور جو ان کے سامنے ہے۔ (لیکن اس سے اعراض کر کے جو آپ کے پاس آئے ہیں تو اس امید پر کہ) شاید جو کچھ آپ کے پاس ہے ان کی خواہشات کے مطابق ہو۔ اور جب آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق فیصلہ کر دیا جو ان کے پاس ہے۔ تو وہ نہ صرف اس بات پر راضی نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے اس سے روگردانی کی اور اس کو ناپسند کیا۔ ﴿ وَمَاۤ اُولٰٓىِٕكَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کے یہ اعمال ہیں وہ مومن نہیں ، یعنی یہ اہل ایمان کا رویہ نہیں اور نہ یہ لوگ مومن کہلانے کے مستحق ہیں کیونکہ انھوں نے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور احکام ایمان کو اپنی خواہشات کے تابع کر رکھا ہے۔
[44]﴿ اِنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا التَّوۡرٰىةَ ﴾ ’’بے شک ہم نے تورات نازل فرمائی۔‘‘ یعنی ہم نے موسیٰ بن عمرانu پر تورات نازل کی ﴿ فِيۡهَا هُدًى ﴾ ’’جس میں ہدایت ہے۔‘‘ یعنی تورات ایمان اور حق کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور گمراہی سے بچاتی ہے ﴿ وَّنُوۡرٌ ﴾ ’’اور روشنی ہے۔‘‘ یعنی ظلم و جہالت، شک و حیرت اور شبہات و شہوات کی تاریکیوں میں اس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ الۡفُرۡقَانَ وَضِيَآءً وَّذِكۡرًا لِّلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍48) ’’اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل میں فرق کرنے والی، روشنی عطا کرنے والی اور اہل تقویٰ کو نصیحت کرنے والی کتاب عطا کی۔‘‘ ﴿يَحۡكُمُ بِهَا ﴾ ’’فیصلہ کرتے تھے اس کے ساتھ‘‘ یعنی یہودیوں کے جھگڑوں اور ان کے فتاویٰ میں ﴿ النَّبِيُّوۡنَ الَّذِيۡنَ اَسۡلَمُوۡا ﴾’’پیغمبر جو فرماں بردار تھے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیا، اس کے احکامات کی اطاعت کی اور ان کا اسلام دیگر لوگوں کے اسلام سے زیادہ عظیم تھا اور وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندے تھے۔جب یہ انبیائے کرام جو مخلوق کے سردار ہیں تورات کو اپنا امام بناتے ہیں ، اس کی پیروی کرتے ہیں اور اس کے پیچھے چلتے ہیں تو یہودیوں کے ان رذیل لوگوں کو اس کی پیروی کرنے سے کس چیز نے روکا ہے؟ اور ان پر کس چیز نے واجب کیا ہے کہ وہ تورات کے بہترین حصے کو نظر انداز کر دیں جس میں حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لانے کا حکم ہے اور اس عقیدے کو قبول کیے بغیر کوئی ظاہری اور باطنی عمل قابل قبول نہیں ۔ کیا اس بارے میں ان کے پاس کوئی راہنمائی ہے؟ ہاں ! ان کی راہنمائی کرنے والے راہنما موجود ہیں جو تحریف کرنے، لوگوں کے درمیان اپنی سرداری اور مناصب قائم رکھنے، کتمان حق کے ذریعے سے حرام مال کھانے اور اظہار باطل کے عادی ہیں ۔ یہ لوگ ائمہ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔﴿ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ ﴾ ’’درویش اور عالم‘‘ یعنی اسی طرح یہودیوں کے ائمہ دین میں ربانی تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے۔ (رَبَّانِیُّون) سے مراد باعمل علماء ہیں جو لوگوں کی بہترین تربیت کرتے تھے اور لوگوں کے ساتھ ان کا وہی مشفقانہ رویہ تھا جو انبیاء کرام کا ہوتا ہے (اَحْبَار) سے مراد وہ علمائے کبار ہیں جن کے قول کی اتباع کی جاتی ہے اور جن کے آثار کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور وہ اپنی قوم میں اچھی شہرت رکھتے ہیں ۔ان کی طرف سے صادر ہونے والا یہ فیصلہ حق کے مطابق ہے ﴿ بِمَا اسۡتُحۡفِظُوۡا مِنۡ كِتٰبِ اللّٰهِ وَؔكَانُوۡا عَلَيۡهِ شُهَدَآءَؔ ﴾ ’’اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھہرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر اور وہ اس کی خبر گیری پر مقرر تھے‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری ڈالی تھی، ان کو اپنی کتاب کا امین بنایا تھا اور یہ کتاب ان کے پاس امانت تھی اور اس میں کمی بیشی اور کتمان سے اس کی حفاظت کو اور بے علم لوگوں کو اس کی تعلیم دینے کو ان پر واجب قرار دیا تھا... وہ اس کتاب پر گواہ ہیں کیونکہ وہی اس کتاب میں مندرج احکام کے بارے میں اور اس کی بابت لوگوں کے درمیان مشتبہ امور میں ان کے لیے مرجع ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل علم پر وہ ذمہ داری ڈالی ہے جو جہلا پر نہیں ڈالی اس لیے جس ذمہ داری کا بوجھ ان پر ڈالا گیا ہے، احسن طریقے سے اس کو نبھانا ان پر واجب ہے اور یہ کہ بیکاری اور کسل مندی کو عادت بناتے ہوئے جہال کی پیروی نہ کریں ۔ نیز وہ مختلف انواع کے اذکار، نماز، زکٰوۃ ، حج ، روزہ وغیرہ مجرد عبادات ہی پر اقتصار نہ کریں جن کو قائم کر کے غیر اہل علم نجات پاتے ہیں ۔ اہل علم سے تو مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو تعلیم دیں اور انھیں ان دینی امور سے آگاہ کریں جن کے وہ محتاج ہیں ۔ خاص طور پر اصولی امور اور ایسے معاملات جو کثرت سے واقع ہوتے ہیں نیز یہ کہ وہ لوگوں سے نہ ڈریں بلکہ صرف اپنے رب سے ڈریں ۔ بنابریں فرمایا ﴿ فَلَا تَخۡشَوُا النَّاسَ وَاخۡشَوۡنِ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰيٰتِيۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾’’پس تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو! اور میری آیات کے بدلے تھوڑا سا فائدہ حاصل نہ کرو‘‘ یعنی دنیا کی متاع قلیل کی خاطر حق کو چھپا کر باطل کا اظہار نہ کرو۔اگر صاحب علم ان آفات سے محفوظ ہو جاتا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے۔ اس کی سعادت اس امر میں ہے کہ علم و تعلیم میں جدوجہد اس کا مقصد رہے۔ یہ چیز ہمیشہ اس کے علم میں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے علم کی امانت اس کے سپرد کر کے اس کی حفاظت اس کے ذمہ عائد کی ہے اور اس کو اس علم پر گواہ بنایا ہے۔ وہ صرف اپنے رب سے ڈرے، لوگوں کا ڈر اور خوف اسے لوازم علم کو قائم کرنے سے مانع نہ ہو۔ دین پر دنیا کو ترجیح نہ دے۔ اسی طرح کسی عالم کی بدبختی یہ ہے کہ وہ بے کاری کو اپنی عادت بنا لے اور جن چیزوں کا اسے حکم دیا گیا ہے ان کو قائم نہ کرے اور جس چیز کی حفاظت کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے اسے پورا نہ کرے۔ ایسے شخص نے علم کو بے کار اور ضائع کر دیا، دنیا کے بدلے دین کو فروخت کر ڈالا، اس کے فیصلوں میں رشوت لی اس کے فتووں میں مال سمیٹا اور اللہ کے بندوں کو اجرت لے کر علم سکھایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر بہت بڑا احسان کیا تھا جس کی اس نے ناشکری کی، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک عظیم نعمت عطا کی تھی، اس نے اس نعمت سے دوسروں کو محروم کر دیا۔ اے اللہ! ہم تجھ سے علم نافع اور عمل مقبول کا سوال کرتے ہیں ۔ اے الٰہ کریم ہمیں ہر مصیبت سے عفو اور عافیت عطا کر۔﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جو اللہ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے۔‘‘ یعنی جو کوئی واضح حق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا بلکہ اپنی فاسد اغراض کی خاطر جان بوجھ کر باطل کے مطابق فیصلہ کرتا ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا اہل کفر کا شیوہ ہے۔ اور بسا اوقات یہ ایسا کفر بن جاتا ہے جو اپنے مرتکب کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کتاب اللہ کو چھوڑ کر کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا جائز اور صحیح سمجھتا ہے۔
5:45وَكَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ فِيهَآ أَنَّ ٱلنَّفۡسَ بِٱلنَّفۡسِ وَٱلۡعَيۡنَ بِٱلۡعَيۡنِ وَٱلۡأَنفَ بِٱلۡأَنفِ وَٱلۡأُذُنَ بِٱلۡأُذُنِ وَٱلسِّنَّ بِٱلسِّنِّ وَٱلۡجُرُوحَ قِصَاصٞۚ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِۦ فَهُوَ كَفَّارَةٞ لَّهُۥۚ وَمَن لَّمۡ يَحۡكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
اور لکھا ہم نے اوپر ان کے اس (تورات) میں کہ جان بدلے جان کے ہے اور آنکھ بدلے آنکھ کے اور ناک بدلے ناک کے اور کان بدلے کان کے اور دانت بدلے دانت کے اور زخموں کا قصاص ہے پس جو شخص معاف کر دے اس زخم کو تو وہ کفارہ ہوگا اس کے لیے اور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں ظالم(45)
[45] یہ احکام تورات کے اندر موجود ان جملہ احکام میں شمار ہوتے ہیں جن کے مطابق انبیائے کرام، ربانیون اور علمائے یہود، یہودیوں کے درمیان فیصلے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض قرار دیا کہ اگر کوئی جان بوجھ کر کسی کو قتل کرے تو اس کو قصاص میں قتل کر دیا جائے۔آنکھ کے بدلے آنکھ پھوڑ دی جائے، کان کے بدلے کان کاٹ دیا جائے اور دانت کے بدلے دانت نکال دیا جائے۔ اسی طرح بغیر کسی ظلم کے جن اعضا کا قصاص لیا جاسکتا ہے ان کا قصاص لیا جائے۔ ﴿ وَالۡجُرُوۡحَ قِصَاصٌ ﴾ ’’اور زخموں کا بدلہ، ان کے برابر ہے‘‘ اور قصاص سے مراد ہے کہ فاعل کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے جو اس نے کیا تھا جو کوئی کسی کو جان بوجھ کر زخمی کرتا ہے۔ تو جارح سے زخموں کا قصاص لیا جائے گا اور اسے حد، مقام، زخم کی لمبائی چوڑائی اور گہرائی کے مطابق اتنا ہی زخم لگایا جائے گا۔ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ہم سے پہلے کی شریعت کی پیروی ہمارے لیے بھی اس وقت تک لازم ہے جب تک کہ ہماری شریعت میں کوئی ایسی چیز وارد نہ ہو جو اس شریعت کے خلاف ہو۔ ﴿ فَمَنۡ تَصَدَّقَ بِهٖ ﴾ ’’پھر جس نے معاف کر دیا‘‘ یعنی جو کوئی جان، اعضا اور زخموں کے قصاص میں مجرم کو معاف کر دیتا ہے۔ دراں حالیکہ قصاص کا حق ثابت تھا ﴿ فَهُوَؔ كَفَّارَةٌ لَّهٗ ﴾ ’’تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے‘‘ یعنی مجرم کے لیے کفارہ ہے کیونکہ آدمی نے تو اس کو اپنا حق معاف کر دیا اور اللہ تعالیٰ تو اپنے حق کو زیادہ معاف کر دینے والا ہے۔ نیز یہ معاف کر دینے والے کے حق میں بھی کفارہ ہے۔ کیونکہ جس طرح اس نے اپنے حق میں جرم کا ارتکاب کرنے والے کو معاف یا اس کو معاف کر دیا جو اس سے متعلق ہے اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی لغزشوں اور ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کوئی اس کے مطابق حکم نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا تو یہی لوگ ظالم ہیں ‘‘ حضرت عبداللہ بن عباسw فرماتے ہیں ’’کفر سے کم تر کفر، ظلم سے کم تر ظلم اور فسق سے کم تر فسق ہوتا ہے‘‘.... پس اگر اس فعل کو حلال سمجھتے ہوئے اس کو کیا جائے تو یہ سب سے بڑا ظلم ہے اور اگر اس کو حلال نہ سمجھتے ہوئے کیا جائے تو یہ گناہ کبیرہ ہے۔
5:46وَقَفَّيۡنَا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم بِعِيسَى ٱبۡنِ مَرۡيَمَ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ ٱلتَّوۡرَىٰةِۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡإِنجِيلَ فِيهِ هُدٗى وَنُورٞ وَمُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَهُدٗى وَمَوۡعِظَةٗ لِّلۡمُتَّقِينَ
اور پیچھے بھیجا ہم نے ان کے قدم بہ قدم عیسیٰ ابن مریم کو، تصدیق کرنے والا اس کی جو اس سے پہلے تھی تورات اور دی ہم نے اس کو انجیل، اس میں ہدایت اور روشنی تھی اور تصدیق کرنے والی اس کی جو اس سے پہلے تھی تورات اور ہدایت اور نصیحت متقیوں کے لیے(46) اور چاہیے کہ فیصلہ کریں اہل انجیل ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے اس میں اور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں فاسق(47)
[46] یعنی ان انبیا و مرسلین کے پیچھے جو تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے، ہم نے اپنے بندے اور رسول عیسیٰ ابن مریم، روح اللہ اور اللہ کے کلمہ کو جو اس نے حضرت مریم[ کی طرف ڈالا، مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان سے پہلے گزری ہوئی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا نبی بنا کر بھیجا، وہ موسیٰu اور تورات کی حق و صداقت کے ساتھ گواہی دینے والے، ان کی دعوت کی تائید کرنے والے اور ان کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والے تھے اور اکثر امور شرعیہ میں موسیٰu کی موافقت کرتے تھے۔بسااوقات عیسیٰu بعض احکام میں تخفیف فرما دیتے تھے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کا قول نقل فرمایا کہ انھوں نے بنی اسرائیل سے فرمایا:﴿ وَلِاُحِلَّ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ ﴾(ال عمران: 3؍50) ’’تاکہ بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو حلال ٹھہراؤں ۔‘‘﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں کتاب عظیم عطا کی جو تورات کی تکمیل کرتی ہے ﴿ فِيۡهِ هُدًى وَّنُوۡرٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور روشنی ہے‘‘ یہ کتاب صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور باطل میں سے حق کو واضح کرتی ہے ﴿ وَّمُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ التَّوۡرٰىةِ ﴾ ’’اور تورات کی جو اس سے پہلے (کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے۔‘‘ یعنی تورات کی صداقت کو ثابت کر کے، اس کی شہادت دے کر اور اس کی موافقت کر کے اس کی تصدیق کرتی ہے ﴿وَهُدًى وَّمَوۡعِظَةً لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور متقین کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے‘‘ کیونکہ اہل تقویٰ ہی ہیں جو ہدایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، مواعظ سے نصیحت پکڑتے ہیں اور غیر مناسب امور سے باز رہتے ہیں ۔
[47]﴿ وَلۡيَحۡكُمۡ اَهۡلُ الۡاِنۡجِيۡلِ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ ﴾ ’’اور چاہیے کہ اہل انجیل اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا۔‘‘ یعنی ان پر اپنی کتاب کا التزام کرنا لازم ہے، اس کتاب سے روگردانی کرنا ان کے لیے جائز نہیں ﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’جو اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے پس یہی لوگ فاسق ہیں ۔‘‘
5:47وَلۡيَحۡكُمۡ أَهۡلُ ٱلۡإِنجِيلِ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فِيهِۚ وَمَن لَّمۡ يَحۡكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ
اور پیچھے بھیجا ہم نے ان کے قدم بہ قدم عیسیٰ ابن مریم کو، تصدیق کرنے والا اس کی جو اس سے پہلے تھی تورات اور دی ہم نے اس کو انجیل، اس میں ہدایت اور روشنی تھی اور تصدیق کرنے والی اس کی جو اس سے پہلے تھی تورات اور ہدایت اور نصیحت متقیوں کے لیے(46) اور چاہیے کہ فیصلہ کریں اہل انجیل ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے اس میں اور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں فاسق(47)
[46] یعنی ان انبیا و مرسلین کے پیچھے جو تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے، ہم نے اپنے بندے اور رسول عیسیٰ ابن مریم، روح اللہ اور اللہ کے کلمہ کو جو اس نے حضرت مریم[ کی طرف ڈالا، مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان سے پہلے گزری ہوئی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا نبی بنا کر بھیجا، وہ موسیٰu اور تورات کی حق و صداقت کے ساتھ گواہی دینے والے، ان کی دعوت کی تائید کرنے والے اور ان کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والے تھے اور اکثر امور شرعیہ میں موسیٰu کی موافقت کرتے تھے۔بسااوقات عیسیٰu بعض احکام میں تخفیف فرما دیتے تھے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کا قول نقل فرمایا کہ انھوں نے بنی اسرائیل سے فرمایا:﴿ وَلِاُحِلَّ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ ﴾(ال عمران: 3؍50) ’’تاکہ بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو حلال ٹھہراؤں ۔‘‘﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں کتاب عظیم عطا کی جو تورات کی تکمیل کرتی ہے ﴿ فِيۡهِ هُدًى وَّنُوۡرٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور روشنی ہے‘‘ یہ کتاب صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور باطل میں سے حق کو واضح کرتی ہے ﴿ وَّمُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ التَّوۡرٰىةِ ﴾ ’’اور تورات کی جو اس سے پہلے (کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے۔‘‘ یعنی تورات کی صداقت کو ثابت کر کے، اس کی شہادت دے کر اور اس کی موافقت کر کے اس کی تصدیق کرتی ہے ﴿وَهُدًى وَّمَوۡعِظَةً لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور متقین کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے‘‘ کیونکہ اہل تقویٰ ہی ہیں جو ہدایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، مواعظ سے نصیحت پکڑتے ہیں اور غیر مناسب امور سے باز رہتے ہیں ۔
[47]﴿ وَلۡيَحۡكُمۡ اَهۡلُ الۡاِنۡجِيۡلِ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ ﴾ ’’اور چاہیے کہ اہل انجیل اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا۔‘‘ یعنی ان پر اپنی کتاب کا التزام کرنا لازم ہے، اس کتاب سے روگردانی کرنا ان کے لیے جائز نہیں ﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’جو اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے پس یہی لوگ فاسق ہیں ۔‘‘
5:48وَأَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَمُهَيۡمِنًا عَلَيۡهِۖ فَٱحۡكُم بَيۡنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُۖ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَهُمۡ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ ٱلۡحَقِّۚ لِكُلّٖ جَعَلۡنَا مِنكُمۡ شِرۡعَةٗ وَمِنۡهَاجٗاۚ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَلَٰكِن لِّيَبۡلُوَكُمۡ فِي مَآ ءَاتَىٰكُمۡۖ فَٱسۡتَبِقُواْ ٱلۡخَيۡرَٰتِۚ إِلَى ٱللَّهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيعٗا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ
اور نازل کی ہم نے طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی اس کی جو اس سے پہلے تھی کتاب اور نگہبان اوپر اس کے، پس آپ فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے اور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی، نظر انداز کرکے اس کو جو آیا آپ کے پاس حق، ہر ایک کے لیے کیا ہم نے تم میں سے ایک دستور اور طریقہ اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ کر دیتا تم کو امت ایک لیکن تاکہ آزمائے تمھیں اس (کتاب) میں جو دی اس نے تمھیں ، پس سبقت کرو تم نیکیوں میں ، طرف اللہ ہی کی لوٹنا ہے تم سب کا، پھر وہ خبر دے گا تمھیں اس کی بابت کہ تھے تم اس میں اختلاف کرتے(48) اور یہ کہ فیصلہ کریں آپ ان کے درمیان ساتھ اس چیز کے جو نازل کی اللہ نےاور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی اور ڈریں ان سے کہ وہ بہکانہ دیں آپ کو کسی ایسی بات سے جو نازل کی اللہ نے آپ کی طرف۔ پس اگر وہ روگردانی کریں تو جان لیں کہ بے شک اللہ یہی ارادہ کرتا ہے کہ پہنچائے ان کو سزا بہ سبب ان کے بعض گناہوں کے اور بے شک اکثر لوگوں میں سے ، البتہ نافرمان ہیں (49) کیا پس جاہلیت کا فیصلہ وہ چاہتے ہیں ؟ اور کون زیادہ اچھا ہے اللہ سے فیصلہ کرنے میں ، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے(50)
[48]﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور اتاری ہم نے آپ کی طرف کتاب‘‘ یعنی قرآن عظیم جو سب سے افضل اور جلیل ترین کتاب ہے ﴿ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’حق کے ساتھ‘‘ یعنی ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے یہ کتاب اپنی اخبار اور اوامر و نواہی میں حق پر مشتمل ہے ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ کیونکہ یہ کتب سابقہ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے، ان کی موافقت کرتی ہے، اس کی خبریں ان کی خبروں کے مطابق، اس کے بڑے بڑے قوانین ان کے بڑے بڑے قوانین کے مطابق ہیں ان کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں خبر دی ہے پس اس کا وجود ان کتب سابقہ کی خبر کا مصداق ہے ﴿ وَمُهَيۡمِنًا عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور ان کے مضامین پر نگہبان ہے‘‘ یعنی یہ کتاب ان امور پر مشتمل ہے جن امور پر سابقہ کتب مشتمل تھیں ۔ نیز مطالب الہٰیہ اور اخلاق نفسیہ میں بعض اضافے ہیں ۔یہ کتاب ہر اس حق بات کی پیروی کرتی ہے جو ان کتابوں میں آ چکی ہے اور اس کی پیروی کا حکم اور اس کی ترغیب دیتی ہے اور حق تک پہنچانے کے بہت سے راستوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں حکمت ، دانائی اور احکام ہیں جس پر کتب سابقہ کو پیش کیا جاتا ہے، لہٰذا جس کی صداقت کی یہ گواہی دے وہ مقبول ہے جس کو یہ رد کر دے وہ مردود ہے کیونکہ وہ تحریف اور تبدیلی کا شکار ہو چکی ہے۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو یہ اس کی مخالفت نہ کرتی۔ ﴿ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’پس ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپﷺ پر جو حکم شرعی نازل فرمایا ہے اس کے مطابق فیصلہ کیجیے ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ عَمَّؔا جَآءَكَ مِنَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور آپ کے پاس جو حق آیا، اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں ‘‘ یعنی ان کی حق کے خلاف خواہشات فاسدہ کی اتباع کو اس حق کا بدل نہ بنائیں جو آپﷺ کے پاس آچکا ہے، ورنہ آپ اعلیٰ کے بدلے ادنیٰ کو لیں گے۔ ﴿ لِكُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے ہر ایک کو دیا ہم نے‘‘ یعنی اے قومو! ﴿ شِرۡعَةً وَّمِنۡهَاجًا ﴾’’ایک دستور اور راہ‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور طریقہ مقرر کر دیا ہے۔ یہ شریعتیں جو امتوں کے اختلاف کے ساتھ بدل جاتی رہی ہیں ، زمان و مکان اور احوال کے تغیر و تبدل کے مطابق ان شرائع میں تغیر و تبدل واقع ہوتا رہا ہے اور ہر شریعت اپنے تشریع کے وقت عدل کی طرف راجع ہے۔ مگر بڑے بڑے اصول جو ہر زمان و مکان میں مصلحت اور حکمت پر مبنی ہوتے ہیں کبھی نہیں بدلتے، وہ تمام شرائع میں مشروع ہوتے ہیں ۔﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا‘‘ یعنی ایک شریعت کی پیروی میں ایک امت بنا دیتا کسی متقدم اور متاخر امت میں کوئی اختلاف نہ ہوتا ﴿ وَّلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَؔكُمۡ فِيۡ مَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’لیکن وہ تمھیں آزمانا چاہتا ہے اپنے دیے ہوئے حکموں میں ‘‘ پس وہ تمھیں آزمائے اور دیکھے کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہر قوم کو آزماتا ہے اور ہر قوم کو اس کے احوال اور شان کے لائق عطا کرتا ہے تاکہ قوموں کے درمیان مقابلہ رہے۔ پس ہر قوم دوسری قوم سے آگے بڑھنے کی خواہش مند ہوتی ہے اس لیے فرمایا: ﴿ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’نیک کاموں میں جلدی کرو۔‘‘ یعنی نیکیوں کے حصول کے لیے جلدی سے آگے بڑھو اور ان کی تکمیل کرو۔ کیونکہ وہ نیکیاں جو فرائض و مستحبات، حقوق اللہ اور حقوق العباد پر مشتمل ہوتی ہیں ، ان کا فاعل ان دو امور کو مدنظر رکھے بغیر کسی سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ (۱) جب نیکی کرنے کا وقت آ جائے اور اس کا سبب ظاہر ہو جائے تو فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے جلدی سے اس کی طرف بڑھنا۔ (۲)اور حکم کے مطابق اسے کامل طور پر ادا کرنے کی کوشش کرنا۔اس آیت کریمہ سے اس امر پر استدلال کیا جاتا ہے کہ نماز کو اول وقت پڑھنے کی کوشش کی جائے۔ نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ بندے کو صرف نماز وغیرہ اور دیگر امور واجبہ کی ادائیگی پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ مقدور بھر مستحبات پر بھی عمل کرے تاکہ واجبات کی تکمیل ہو اور ان کے ذریعے سے سبقت حاصل ہو۔﴿ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’تم سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے‘‘ تمام امم سابقہ ولاحقہ نے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’پس وہ تمھیں ان امور کی بابت خبر دے گا جن میں تم آپس میں اختلاف کرتے تھے‘‘ یعنی جن شرائع اور اعمال کے بارے میں تمھارے درمیان اختلاف تھا، چنانچہ وہ اہل حق اور نیک عمل کرنے والوں کو ثواب سے نوازے گا اور اہل باطل اور بدکاروں کو سزا دے گا۔
[49]﴿ وَاَنِ احۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ فرمائیں جو اللہ نے اتارا‘‘ کہا جاتا ہے کہ یہی وہ آیت کریمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ﴾ ’’ان کے درمیان فیصلہ کریں یا اس سے روگردانی کریں ‘‘ کو منسوخ کرتی ہے۔ صحیح رائے یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ اس مذکورہ آیت کو منسوخ نہیں کرتی، پہلی آیت دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہﷺ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ حق کی خاطر فیصلہ کروانے کا قصد نہیں رکھتے تھے۔ اور یہ (دوسری) آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جب آپﷺ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت یعنی قرآن اور سنت کے مطابق فیصلہ کریں ۔ یہی وہ انصاف ہے جس کے بارے میں گزشتہ صفحات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔ ‘‘یہ آیت کریمہ عدل کی توضیح و تبیین پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ کہ عدل کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے احکام ہیں جو انتہائی عدل و انصاف پر مبنی اصولوں پر مشتمل ہیں اور جو کچھ ان احکام کے خلاف ہے، وہ سراسر ظلم و جور ہے۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ ‘‘ شدت تحذیر کی خاطر اللہ تعالیٰ نے بتکرار آپﷺ کو ان کی خواہشات کی پیروی کرنے سے روکا ہے۔ نیز وہ آیت حکم اور فتویٰ کے مقام پر ہے اور اس میں زیادہ وسعت ہے اور یہ صرف حکم کے مقام پر ہے۔ دونوں آیات کا مفاد یہ ہے کہ ضروری ہے کہ ان کی خلاف حق خواہشات کی پیروی نہ کی جائے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَاحۡذَرۡهُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنُوۡكَ عَنۢۡ بَعۡضِ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ ﴾’’اور بچتے رہیں ان سے، اس بات سے کہ وہ کہیں آپ کو بہکا نہ دیں کسی ایسے حکم سے جو اللہ نے آپ کی طرف اتارا‘‘ یعنی ان کی فریب کاریوں سے بچیے، نیز ان سے بچیے کہ وہ آپ کو فتنے میں ڈال کر آپﷺ کو کسی ایسی چیز سے نہ روک دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف نازل فرمائی ہے۔ پس ان کی خواہشات کی پیروی، حق واجب کو ترک کرنے کا باعث بنتی ہے جبکہ اتباع حق فرض ہے۔﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ نہ مانیں ‘‘ یعنی اگر وہ آپ کی اتباع اور حق کی پیروی سے روگردانی کریں ﴿ فَاعۡلَمۡ ﴾ ’’تو جان لیجیے‘‘ کہ یہ روگردانی ان کے لیے سزا ہے ﴿ اَنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّصِيۡبَهُمۡ بِبَعۡضِ ذُنُوۡبِهِمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان کو ان کے گناہوں کے سبب کوئی سزا پہنچائے‘‘ کیونکہ گناہوں کے لیے دنیا و آخرت میں سزائیں مقرر ہیں اور سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو آزمائش میں مبتلا کر دے اور اتباع رسول کے ترک کو اس کے لیے مزین کر دے اور اس کا باعث اس کا فسق ہوتا ہے ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوۡنَ﴾ ’’اور اکثر لوگ نافرمان ہیں ‘‘ یعنی ان کی فطرت اور طبیعت میں فسق، نیز اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و اتباع سے خروج ہے۔
[50]﴿ اَفَحُكۡمَ الۡجَاهِلِيَّةِ يَبۡغُوۡنَ﴾ ’’اب کیا وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی کیا وہ کفار کی دوستی طلب کر کے اور آپ سے اعراض کر کے جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں ؟ ہر وہ فیصلہ جو اس چیز کے خلاف ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا وہ جاہلیت کا فیصلہ ہے۔ تب اس طرح صرف دو قسم کے فیصلے ہیں ۔ (۱) اللہ اور اس کے رسولﷺ کا فیصلہ۔ (۲)جاہلیت کا فیصلہ۔ پس جو کوئی اللہ اور رسولﷺ کے فیصلوں سے منہ موڑتا ہے تو وہ دوسری قسم کے فیصلوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جو جہالت، ظلم اور گمراہی پر مبنی ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان فیصلوں کو جاہلیت کی طرف مضاف کیا ہے۔ رہے اللہ تعالیٰ کے فیصلے تو وہ علم، عدل و انصاف، نور اور ہدایت پر مبنی ہوتے ہیں ۔﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سے بہتر کون ہے حکم کرنے والا، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے‘‘ صاحب ایقان وہ ہے جو اپنے یقین کی بنیاد پر دونوں قسم کے فیصلوں کے درمیان فرق کو پہچانتا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں میں موجود حسن اور خوبصورتی میں امتیاز کر سکتا ہو اور عقلاً اور شرعاً ان کی اتباع کو لازم قرار دیتا ہو اور یقین سے مراد وہ علم کامل و تام ہے جو عمل کا موجب ہوتا ہے۔
5:49وَأَنِ ٱحۡكُم بَيۡنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَهُمۡ وَٱحۡذَرۡهُمۡ أَن يَفۡتِنُوكَ عَنۢ بَعۡضِ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ إِلَيۡكَۖ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَٱعۡلَمۡ أَنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُصِيبَهُم بِبَعۡضِ ذُنُوبِهِمۡۗ وَإِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلنَّاسِ لَفَٰسِقُونَ
اور نازل کی ہم نے طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی اس کی جو اس سے پہلے تھی کتاب اور نگہبان اوپر اس کے، پس آپ فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے اور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی، نظر انداز کرکے اس کو جو آیا آپ کے پاس حق، ہر ایک کے لیے کیا ہم نے تم میں سے ایک دستور اور طریقہ اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ کر دیتا تم کو امت ایک لیکن تاکہ آزمائے تمھیں اس (کتاب) میں جو دی اس نے تمھیں ، پس سبقت کرو تم نیکیوں میں ، طرف اللہ ہی کی لوٹنا ہے تم سب کا، پھر وہ خبر دے گا تمھیں اس کی بابت کہ تھے تم اس میں اختلاف کرتے(48) اور یہ کہ فیصلہ کریں آپ ان کے درمیان ساتھ اس چیز کے جو نازل کی اللہ نےاور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی اور ڈریں ان سے کہ وہ بہکانہ دیں آپ کو کسی ایسی بات سے جو نازل کی اللہ نے آپ کی طرف۔ پس اگر وہ روگردانی کریں تو جان لیں کہ بے شک اللہ یہی ارادہ کرتا ہے کہ پہنچائے ان کو سزا بہ سبب ان کے بعض گناہوں کے اور بے شک اکثر لوگوں میں سے ، البتہ نافرمان ہیں (49) کیا پس جاہلیت کا فیصلہ وہ چاہتے ہیں ؟ اور کون زیادہ اچھا ہے اللہ سے فیصلہ کرنے میں ، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے(50)
[48]﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور اتاری ہم نے آپ کی طرف کتاب‘‘ یعنی قرآن عظیم جو سب سے افضل اور جلیل ترین کتاب ہے ﴿ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’حق کے ساتھ‘‘ یعنی ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے یہ کتاب اپنی اخبار اور اوامر و نواہی میں حق پر مشتمل ہے ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ کیونکہ یہ کتب سابقہ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے، ان کی موافقت کرتی ہے، اس کی خبریں ان کی خبروں کے مطابق، اس کے بڑے بڑے قوانین ان کے بڑے بڑے قوانین کے مطابق ہیں ان کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں خبر دی ہے پس اس کا وجود ان کتب سابقہ کی خبر کا مصداق ہے ﴿ وَمُهَيۡمِنًا عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور ان کے مضامین پر نگہبان ہے‘‘ یعنی یہ کتاب ان امور پر مشتمل ہے جن امور پر سابقہ کتب مشتمل تھیں ۔ نیز مطالب الہٰیہ اور اخلاق نفسیہ میں بعض اضافے ہیں ۔یہ کتاب ہر اس حق بات کی پیروی کرتی ہے جو ان کتابوں میں آ چکی ہے اور اس کی پیروی کا حکم اور اس کی ترغیب دیتی ہے اور حق تک پہنچانے کے بہت سے راستوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں حکمت ، دانائی اور احکام ہیں جس پر کتب سابقہ کو پیش کیا جاتا ہے، لہٰذا جس کی صداقت کی یہ گواہی دے وہ مقبول ہے جس کو یہ رد کر دے وہ مردود ہے کیونکہ وہ تحریف اور تبدیلی کا شکار ہو چکی ہے۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو یہ اس کی مخالفت نہ کرتی۔ ﴿ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’پس ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپﷺ پر جو حکم شرعی نازل فرمایا ہے اس کے مطابق فیصلہ کیجیے ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ عَمَّؔا جَآءَكَ مِنَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور آپ کے پاس جو حق آیا، اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں ‘‘ یعنی ان کی حق کے خلاف خواہشات فاسدہ کی اتباع کو اس حق کا بدل نہ بنائیں جو آپﷺ کے پاس آچکا ہے، ورنہ آپ اعلیٰ کے بدلے ادنیٰ کو لیں گے۔ ﴿ لِكُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے ہر ایک کو دیا ہم نے‘‘ یعنی اے قومو! ﴿ شِرۡعَةً وَّمِنۡهَاجًا ﴾’’ایک دستور اور راہ‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور طریقہ مقرر کر دیا ہے۔ یہ شریعتیں جو امتوں کے اختلاف کے ساتھ بدل جاتی رہی ہیں ، زمان و مکان اور احوال کے تغیر و تبدل کے مطابق ان شرائع میں تغیر و تبدل واقع ہوتا رہا ہے اور ہر شریعت اپنے تشریع کے وقت عدل کی طرف راجع ہے۔ مگر بڑے بڑے اصول جو ہر زمان و مکان میں مصلحت اور حکمت پر مبنی ہوتے ہیں کبھی نہیں بدلتے، وہ تمام شرائع میں مشروع ہوتے ہیں ۔﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا‘‘ یعنی ایک شریعت کی پیروی میں ایک امت بنا دیتا کسی متقدم اور متاخر امت میں کوئی اختلاف نہ ہوتا ﴿ وَّلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَؔكُمۡ فِيۡ مَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’لیکن وہ تمھیں آزمانا چاہتا ہے اپنے دیے ہوئے حکموں میں ‘‘ پس وہ تمھیں آزمائے اور دیکھے کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہر قوم کو آزماتا ہے اور ہر قوم کو اس کے احوال اور شان کے لائق عطا کرتا ہے تاکہ قوموں کے درمیان مقابلہ رہے۔ پس ہر قوم دوسری قوم سے آگے بڑھنے کی خواہش مند ہوتی ہے اس لیے فرمایا: ﴿ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’نیک کاموں میں جلدی کرو۔‘‘ یعنی نیکیوں کے حصول کے لیے جلدی سے آگے بڑھو اور ان کی تکمیل کرو۔ کیونکہ وہ نیکیاں جو فرائض و مستحبات، حقوق اللہ اور حقوق العباد پر مشتمل ہوتی ہیں ، ان کا فاعل ان دو امور کو مدنظر رکھے بغیر کسی سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ (۱) جب نیکی کرنے کا وقت آ جائے اور اس کا سبب ظاہر ہو جائے تو فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے جلدی سے اس کی طرف بڑھنا۔ (۲)اور حکم کے مطابق اسے کامل طور پر ادا کرنے کی کوشش کرنا۔اس آیت کریمہ سے اس امر پر استدلال کیا جاتا ہے کہ نماز کو اول وقت پڑھنے کی کوشش کی جائے۔ نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ بندے کو صرف نماز وغیرہ اور دیگر امور واجبہ کی ادائیگی پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ مقدور بھر مستحبات پر بھی عمل کرے تاکہ واجبات کی تکمیل ہو اور ان کے ذریعے سے سبقت حاصل ہو۔﴿ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’تم سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے‘‘ تمام امم سابقہ ولاحقہ نے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’پس وہ تمھیں ان امور کی بابت خبر دے گا جن میں تم آپس میں اختلاف کرتے تھے‘‘ یعنی جن شرائع اور اعمال کے بارے میں تمھارے درمیان اختلاف تھا، چنانچہ وہ اہل حق اور نیک عمل کرنے والوں کو ثواب سے نوازے گا اور اہل باطل اور بدکاروں کو سزا دے گا۔
[49]﴿ وَاَنِ احۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ فرمائیں جو اللہ نے اتارا‘‘ کہا جاتا ہے کہ یہی وہ آیت کریمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ﴾ ’’ان کے درمیان فیصلہ کریں یا اس سے روگردانی کریں ‘‘ کو منسوخ کرتی ہے۔ صحیح رائے یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ اس مذکورہ آیت کو منسوخ نہیں کرتی، پہلی آیت دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہﷺ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ حق کی خاطر فیصلہ کروانے کا قصد نہیں رکھتے تھے۔ اور یہ (دوسری) آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جب آپﷺ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت یعنی قرآن اور سنت کے مطابق فیصلہ کریں ۔ یہی وہ انصاف ہے جس کے بارے میں گزشتہ صفحات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔ ‘‘یہ آیت کریمہ عدل کی توضیح و تبیین پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ کہ عدل کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے احکام ہیں جو انتہائی عدل و انصاف پر مبنی اصولوں پر مشتمل ہیں اور جو کچھ ان احکام کے خلاف ہے، وہ سراسر ظلم و جور ہے۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ ‘‘ شدت تحذیر کی خاطر اللہ تعالیٰ نے بتکرار آپﷺ کو ان کی خواہشات کی پیروی کرنے سے روکا ہے۔ نیز وہ آیت حکم اور فتویٰ کے مقام پر ہے اور اس میں زیادہ وسعت ہے اور یہ صرف حکم کے مقام پر ہے۔ دونوں آیات کا مفاد یہ ہے کہ ضروری ہے کہ ان کی خلاف حق خواہشات کی پیروی نہ کی جائے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَاحۡذَرۡهُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنُوۡكَ عَنۢۡ بَعۡضِ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ ﴾’’اور بچتے رہیں ان سے، اس بات سے کہ وہ کہیں آپ کو بہکا نہ دیں کسی ایسے حکم سے جو اللہ نے آپ کی طرف اتارا‘‘ یعنی ان کی فریب کاریوں سے بچیے، نیز ان سے بچیے کہ وہ آپ کو فتنے میں ڈال کر آپﷺ کو کسی ایسی چیز سے نہ روک دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف نازل فرمائی ہے۔ پس ان کی خواہشات کی پیروی، حق واجب کو ترک کرنے کا باعث بنتی ہے جبکہ اتباع حق فرض ہے۔﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ نہ مانیں ‘‘ یعنی اگر وہ آپ کی اتباع اور حق کی پیروی سے روگردانی کریں ﴿ فَاعۡلَمۡ ﴾ ’’تو جان لیجیے‘‘ کہ یہ روگردانی ان کے لیے سزا ہے ﴿ اَنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّصِيۡبَهُمۡ بِبَعۡضِ ذُنُوۡبِهِمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان کو ان کے گناہوں کے سبب کوئی سزا پہنچائے‘‘ کیونکہ گناہوں کے لیے دنیا و آخرت میں سزائیں مقرر ہیں اور سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو آزمائش میں مبتلا کر دے اور اتباع رسول کے ترک کو اس کے لیے مزین کر دے اور اس کا باعث اس کا فسق ہوتا ہے ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوۡنَ﴾ ’’اور اکثر لوگ نافرمان ہیں ‘‘ یعنی ان کی فطرت اور طبیعت میں فسق، نیز اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و اتباع سے خروج ہے۔
[50]﴿ اَفَحُكۡمَ الۡجَاهِلِيَّةِ يَبۡغُوۡنَ﴾ ’’اب کیا وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی کیا وہ کفار کی دوستی طلب کر کے اور آپ سے اعراض کر کے جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں ؟ ہر وہ فیصلہ جو اس چیز کے خلاف ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا وہ جاہلیت کا فیصلہ ہے۔ تب اس طرح صرف دو قسم کے فیصلے ہیں ۔ (۱) اللہ اور اس کے رسولﷺ کا فیصلہ۔ (۲)جاہلیت کا فیصلہ۔ پس جو کوئی اللہ اور رسولﷺ کے فیصلوں سے منہ موڑتا ہے تو وہ دوسری قسم کے فیصلوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جو جہالت، ظلم اور گمراہی پر مبنی ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان فیصلوں کو جاہلیت کی طرف مضاف کیا ہے۔ رہے اللہ تعالیٰ کے فیصلے تو وہ علم، عدل و انصاف، نور اور ہدایت پر مبنی ہوتے ہیں ۔﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سے بہتر کون ہے حکم کرنے والا، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے‘‘ صاحب ایقان وہ ہے جو اپنے یقین کی بنیاد پر دونوں قسم کے فیصلوں کے درمیان فرق کو پہچانتا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں میں موجود حسن اور خوبصورتی میں امتیاز کر سکتا ہو اور عقلاً اور شرعاً ان کی اتباع کو لازم قرار دیتا ہو اور یقین سے مراد وہ علم کامل و تام ہے جو عمل کا موجب ہوتا ہے۔
5:50أَفَحُكۡمَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ يَبۡغُونَۚ وَمَنۡ أَحۡسَنُ مِنَ ٱللَّهِ حُكۡمٗا لِّقَوۡمٖ يُوقِنُونَ
اور نازل کی ہم نے طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی اس کی جو اس سے پہلے تھی کتاب اور نگہبان اوپر اس کے، پس آپ فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے اور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی، نظر انداز کرکے اس کو جو آیا آپ کے پاس حق، ہر ایک کے لیے کیا ہم نے تم میں سے ایک دستور اور طریقہ اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ کر دیتا تم کو امت ایک لیکن تاکہ آزمائے تمھیں اس (کتاب) میں جو دی اس نے تمھیں ، پس سبقت کرو تم نیکیوں میں ، طرف اللہ ہی کی لوٹنا ہے تم سب کا، پھر وہ خبر دے گا تمھیں اس کی بابت کہ تھے تم اس میں اختلاف کرتے(48) اور یہ کہ فیصلہ کریں آپ ان کے درمیان ساتھ اس چیز کے جو نازل کی اللہ نےاور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی اور ڈریں ان سے کہ وہ بہکانہ دیں آپ کو کسی ایسی بات سے جو نازل کی اللہ نے آپ کی طرف۔ پس اگر وہ روگردانی کریں تو جان لیں کہ بے شک اللہ یہی ارادہ کرتا ہے کہ پہنچائے ان کو سزا بہ سبب ان کے بعض گناہوں کے اور بے شک اکثر لوگوں میں سے ، البتہ نافرمان ہیں (49) کیا پس جاہلیت کا فیصلہ وہ چاہتے ہیں ؟ اور کون زیادہ اچھا ہے اللہ سے فیصلہ کرنے میں ، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے(50)
[48]﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور اتاری ہم نے آپ کی طرف کتاب‘‘ یعنی قرآن عظیم جو سب سے افضل اور جلیل ترین کتاب ہے ﴿ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’حق کے ساتھ‘‘ یعنی ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے یہ کتاب اپنی اخبار اور اوامر و نواہی میں حق پر مشتمل ہے ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ کیونکہ یہ کتب سابقہ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے، ان کی موافقت کرتی ہے، اس کی خبریں ان کی خبروں کے مطابق، اس کے بڑے بڑے قوانین ان کے بڑے بڑے قوانین کے مطابق ہیں ان کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں خبر دی ہے پس اس کا وجود ان کتب سابقہ کی خبر کا مصداق ہے ﴿ وَمُهَيۡمِنًا عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور ان کے مضامین پر نگہبان ہے‘‘ یعنی یہ کتاب ان امور پر مشتمل ہے جن امور پر سابقہ کتب مشتمل تھیں ۔ نیز مطالب الہٰیہ اور اخلاق نفسیہ میں بعض اضافے ہیں ۔یہ کتاب ہر اس حق بات کی پیروی کرتی ہے جو ان کتابوں میں آ چکی ہے اور اس کی پیروی کا حکم اور اس کی ترغیب دیتی ہے اور حق تک پہنچانے کے بہت سے راستوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں حکمت ، دانائی اور احکام ہیں جس پر کتب سابقہ کو پیش کیا جاتا ہے، لہٰذا جس کی صداقت کی یہ گواہی دے وہ مقبول ہے جس کو یہ رد کر دے وہ مردود ہے کیونکہ وہ تحریف اور تبدیلی کا شکار ہو چکی ہے۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو یہ اس کی مخالفت نہ کرتی۔ ﴿ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’پس ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپﷺ پر جو حکم شرعی نازل فرمایا ہے اس کے مطابق فیصلہ کیجیے ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ عَمَّؔا جَآءَكَ مِنَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور آپ کے پاس جو حق آیا، اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں ‘‘ یعنی ان کی حق کے خلاف خواہشات فاسدہ کی اتباع کو اس حق کا بدل نہ بنائیں جو آپﷺ کے پاس آچکا ہے، ورنہ آپ اعلیٰ کے بدلے ادنیٰ کو لیں گے۔ ﴿ لِكُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے ہر ایک کو دیا ہم نے‘‘ یعنی اے قومو! ﴿ شِرۡعَةً وَّمِنۡهَاجًا ﴾’’ایک دستور اور راہ‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور طریقہ مقرر کر دیا ہے۔ یہ شریعتیں جو امتوں کے اختلاف کے ساتھ بدل جاتی رہی ہیں ، زمان و مکان اور احوال کے تغیر و تبدل کے مطابق ان شرائع میں تغیر و تبدل واقع ہوتا رہا ہے اور ہر شریعت اپنے تشریع کے وقت عدل کی طرف راجع ہے۔ مگر بڑے بڑے اصول جو ہر زمان و مکان میں مصلحت اور حکمت پر مبنی ہوتے ہیں کبھی نہیں بدلتے، وہ تمام شرائع میں مشروع ہوتے ہیں ۔﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا‘‘ یعنی ایک شریعت کی پیروی میں ایک امت بنا دیتا کسی متقدم اور متاخر امت میں کوئی اختلاف نہ ہوتا ﴿ وَّلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَؔكُمۡ فِيۡ مَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’لیکن وہ تمھیں آزمانا چاہتا ہے اپنے دیے ہوئے حکموں میں ‘‘ پس وہ تمھیں آزمائے اور دیکھے کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہر قوم کو آزماتا ہے اور ہر قوم کو اس کے احوال اور شان کے لائق عطا کرتا ہے تاکہ قوموں کے درمیان مقابلہ رہے۔ پس ہر قوم دوسری قوم سے آگے بڑھنے کی خواہش مند ہوتی ہے اس لیے فرمایا: ﴿ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’نیک کاموں میں جلدی کرو۔‘‘ یعنی نیکیوں کے حصول کے لیے جلدی سے آگے بڑھو اور ان کی تکمیل کرو۔ کیونکہ وہ نیکیاں جو فرائض و مستحبات، حقوق اللہ اور حقوق العباد پر مشتمل ہوتی ہیں ، ان کا فاعل ان دو امور کو مدنظر رکھے بغیر کسی سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ (۱) جب نیکی کرنے کا وقت آ جائے اور اس کا سبب ظاہر ہو جائے تو فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے جلدی سے اس کی طرف بڑھنا۔ (۲)اور حکم کے مطابق اسے کامل طور پر ادا کرنے کی کوشش کرنا۔اس آیت کریمہ سے اس امر پر استدلال کیا جاتا ہے کہ نماز کو اول وقت پڑھنے کی کوشش کی جائے۔ نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ بندے کو صرف نماز وغیرہ اور دیگر امور واجبہ کی ادائیگی پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ مقدور بھر مستحبات پر بھی عمل کرے تاکہ واجبات کی تکمیل ہو اور ان کے ذریعے سے سبقت حاصل ہو۔﴿ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’تم سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے‘‘ تمام امم سابقہ ولاحقہ نے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’پس وہ تمھیں ان امور کی بابت خبر دے گا جن میں تم آپس میں اختلاف کرتے تھے‘‘ یعنی جن شرائع اور اعمال کے بارے میں تمھارے درمیان اختلاف تھا، چنانچہ وہ اہل حق اور نیک عمل کرنے والوں کو ثواب سے نوازے گا اور اہل باطل اور بدکاروں کو سزا دے گا۔
[49]﴿ وَاَنِ احۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ فرمائیں جو اللہ نے اتارا‘‘ کہا جاتا ہے کہ یہی وہ آیت کریمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ﴾ ’’ان کے درمیان فیصلہ کریں یا اس سے روگردانی کریں ‘‘ کو منسوخ کرتی ہے۔ صحیح رائے یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ اس مذکورہ آیت کو منسوخ نہیں کرتی، پہلی آیت دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہﷺ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ حق کی خاطر فیصلہ کروانے کا قصد نہیں رکھتے تھے۔ اور یہ (دوسری) آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جب آپﷺ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت یعنی قرآن اور سنت کے مطابق فیصلہ کریں ۔ یہی وہ انصاف ہے جس کے بارے میں گزشتہ صفحات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔ ‘‘یہ آیت کریمہ عدل کی توضیح و تبیین پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ کہ عدل کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے احکام ہیں جو انتہائی عدل و انصاف پر مبنی اصولوں پر مشتمل ہیں اور جو کچھ ان احکام کے خلاف ہے، وہ سراسر ظلم و جور ہے۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ ‘‘ شدت تحذیر کی خاطر اللہ تعالیٰ نے بتکرار آپﷺ کو ان کی خواہشات کی پیروی کرنے سے روکا ہے۔ نیز وہ آیت حکم اور فتویٰ کے مقام پر ہے اور اس میں زیادہ وسعت ہے اور یہ صرف حکم کے مقام پر ہے۔ دونوں آیات کا مفاد یہ ہے کہ ضروری ہے کہ ان کی خلاف حق خواہشات کی پیروی نہ کی جائے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَاحۡذَرۡهُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنُوۡكَ عَنۢۡ بَعۡضِ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ ﴾’’اور بچتے رہیں ان سے، اس بات سے کہ وہ کہیں آپ کو بہکا نہ دیں کسی ایسے حکم سے جو اللہ نے آپ کی طرف اتارا‘‘ یعنی ان کی فریب کاریوں سے بچیے، نیز ان سے بچیے کہ وہ آپ کو فتنے میں ڈال کر آپﷺ کو کسی ایسی چیز سے نہ روک دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف نازل فرمائی ہے۔ پس ان کی خواہشات کی پیروی، حق واجب کو ترک کرنے کا باعث بنتی ہے جبکہ اتباع حق فرض ہے۔﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ نہ مانیں ‘‘ یعنی اگر وہ آپ کی اتباع اور حق کی پیروی سے روگردانی کریں ﴿ فَاعۡلَمۡ ﴾ ’’تو جان لیجیے‘‘ کہ یہ روگردانی ان کے لیے سزا ہے ﴿ اَنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّصِيۡبَهُمۡ بِبَعۡضِ ذُنُوۡبِهِمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان کو ان کے گناہوں کے سبب کوئی سزا پہنچائے‘‘ کیونکہ گناہوں کے لیے دنیا و آخرت میں سزائیں مقرر ہیں اور سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو آزمائش میں مبتلا کر دے اور اتباع رسول کے ترک کو اس کے لیے مزین کر دے اور اس کا باعث اس کا فسق ہوتا ہے ﴿ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوۡنَ﴾ ’’اور اکثر لوگ نافرمان ہیں ‘‘ یعنی ان کی فطرت اور طبیعت میں فسق، نیز اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و اتباع سے خروج ہے۔
[50]﴿ اَفَحُكۡمَ الۡجَاهِلِيَّةِ يَبۡغُوۡنَ﴾ ’’اب کیا وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں ‘‘ یعنی کیا وہ کفار کی دوستی طلب کر کے اور آپ سے اعراض کر کے جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں ؟ ہر وہ فیصلہ جو اس چیز کے خلاف ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا وہ جاہلیت کا فیصلہ ہے۔ تب اس طرح صرف دو قسم کے فیصلے ہیں ۔ (۱) اللہ اور اس کے رسولﷺ کا فیصلہ۔ (۲)جاہلیت کا فیصلہ۔ پس جو کوئی اللہ اور رسولﷺ کے فیصلوں سے منہ موڑتا ہے تو وہ دوسری قسم کے فیصلوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جو جہالت، ظلم اور گمراہی پر مبنی ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان فیصلوں کو جاہلیت کی طرف مضاف کیا ہے۔ رہے اللہ تعالیٰ کے فیصلے تو وہ علم، عدل و انصاف، نور اور ہدایت پر مبنی ہوتے ہیں ۔﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ سے بہتر کون ہے حکم کرنے والا، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے‘‘ صاحب ایقان وہ ہے جو اپنے یقین کی بنیاد پر دونوں قسم کے فیصلوں کے درمیان فرق کو پہچانتا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں میں موجود حسن اور خوبصورتی میں امتیاز کر سکتا ہو اور عقلاً اور شرعاً ان کی اتباع کو لازم قرار دیتا ہو اور یقین سے مراد وہ علم کامل و تام ہے جو عمل کا موجب ہوتا ہے۔
5:51۞يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلنَّصَٰرَىٰٓ أَوۡلِيَآءَۘ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَإِنَّهُۥ مِنۡهُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست، بعض ان کے دوست ہیں بعض کے اور جو کوئی دوستی رکھے گا ان سے تم میں سے تو بے شک وہ انھی میں سے ہے، بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو(51) پس آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے، دوڑ کر جاتے ہیں ان میں ، کہتے ہیں وہ ہم ڈرتے ہیں اس سے کہ پہنچے ہمیں کوئی مصیبت، سو قریب ہے اللہ یہ کہ (جلد ہی) لے آئے فتح یا کوئی اور حکم اپنی طرف سے، پس ہو جائیں وہ اس پر، جو چھپاتے تھے وہ اپنے نفسوں میں ، پچھتانے والے(52) اور کہیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے، کیا یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے قسمیں کھائی تھیں اللہ کی بڑی تاکید سے کہ بے شک وہ تمھارے ساتھ ہیں ، برباد ہوگئے عمل ان کے اور ہو گئے وہ خسارہ اٹھانے والے(53)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ یہود و نصاریٰ کے احوال اور غیر مستحسن صفات بیان کرتے ہوئے اپنے مومن بندوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ انھیں اپنا دوست نہ بنائیں ﴿بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ﴾ ’’کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں ‘‘ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک ہیں ۔ پس تم ان کو دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ درحقیقت تمھارے دشمن ہیں ۔ انھیں تمھارے نقصان کی کوئی پروا نہیں بلکہ وہ تمھیں گمراہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ انھیں وہی شخص دوست بنائے گا جو ان جیسا ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّؔنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ﴾ ’’اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے گا، وہ انھی میں سے ہے‘‘ کیونکہ کامل دوستی ان کے دین میں منتقل ہونے کی موجب بنتی ہے۔ تھوڑی دوستی زیادہ دوستی کی طرف دعوت دیتی ہے پھر وہ آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہے حتیٰ کہ بندہ انھی میں سے ہو جاتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم ہے۔ ظلم ان کا مرجع اور ظلم ہی پر ان کا اعتماد ہے۔ اس لیے آپ ان کے پاس کوئی بھی آیت اور معجزہ لے کر آئیں ، وہ کبھی آپ کی اطاعت نہیں کریں گے۔
[52] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو اہل کتاب سے دوستی رکھنے سے منع کیا تو آگاہ فرمایا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں میں سے ایک گروہ ان کے ساتھ دوستی رکھتا ہے۔ ﴿ فَتَرَى الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’پس آپ ان لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں روگ ہے‘‘ یعنی ان کے دلوں میں شک، نفاق اور ضعف ایمان ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم نے ضرورت کے تحت ان کو دوست بنایا ہے اس لیے کہ ﴿ نَخۡشٰۤى اَنۡ تُصِيۡبَنَا دَآىِٕرَةٌ﴾ ’’ہم ڈرتے ہیں کہ ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے‘‘ یعنی ہمیں ڈر ہے کہ کہیں گردش ایام یہود و نصاریٰ کے حق میں نہ ہو جائے اور اگر زمانے کی گردش ان کے حق میں ہو تو ہمارا ان پر یہ احسان انھیں اس بدلے میں ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر آمادہ کرے گا۔ یہ اسلام کے بارے میں ان کی انتہائی بدظنی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی بدظنی کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ فَعَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّاۡتِيَ بِالۡفَتۡحِ ﴾ ’’ہو سکتا ہے اللہ فتح عطا کرے‘‘ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ پر غالب کر دے ﴿ اَوۡ اَمۡرٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’یا کوئی حکم اپنے پاس سے‘‘ جس سے منافقین، یہود وغیرہ کفار کے کامیاب ہونے سے مایوس ہو جائیں ۔ ﴿ فَيُصۡبِحُوۡا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوۡا ﴾ ’’پس ہوجائیں وہ اس پر جو کچھ وہ چھپاتے ہیں ‘‘ ﴿ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ نٰدِمِيۡنَ﴾ ’’اپنے نفسوں میں نادم ہوں ‘‘ یعنی اس رویے پر جس کا اظہار ان کی طرف سے ہوا اور جس نے انھیں نقصان پہنچایا اور کوئی نفع انھیں حاصل نہ ہوا۔ پس مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کو نصرت سے نوازا اور کفر اور کفار کو ذلیل کیا۔ پس ان کو ندامت اٹھانی پڑی اور انھیں ایسے غم کا سامنا کرنا پڑا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
[53]﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے‘‘ یعنی جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے ان کے حال پر اہل ایمان تعجب کرتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ١ۙ اِنَّهُمۡ لَمَعَكُمۡ﴾ ’’کیا یہ وہی لوگ ہیں جو بڑی تاکید سے اللہ کی قسمیں کھاتے تھے کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انھوں نے نہایت تاکید کے ساتھ حلف اٹھایا اور مختلف انواع کی تاکیدات کے ذریعے سے پکا کر کے کہا کہ وہ ایمان لانے میں ، نیز ایمان کے لوازم یعنی نصرت، محبت اور موالات میں ان کے ساتھ ہیں ۔مگر جو کچھ وہ چھپاتے رہے ہیں وہ ظاہر ہو گیا ، ان کے تمام بھید عیاں ہو گئے۔ ان کی سازشوں کے وہ تمام تانے بانے جو وہ بنا کرتے تھے اور ان کے وہ تمام ظن و گمان جو وہ اسلام کے بارے میں رکھا کرتے تھے، باطل ہو گئے اور ان کی سب چالیں ناکام ہو گئیں ﴿ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ ﴾ ’’پس (دنیا میں ) ان کے تمام اعمال اکارت گئے‘‘ ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ خائب و خاسر ہو کر رہ گئے‘‘ کیونکہ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور بدبختی اور عذاب نے انھیں گھیر لیا۔
5:52فَتَرَى ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ يُسَٰرِعُونَ فِيهِمۡ يَقُولُونَ نَخۡشَىٰٓ أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٞۚ فَعَسَى ٱللَّهُ أَن يَأۡتِيَ بِٱلۡفَتۡحِ أَوۡ أَمۡرٖ مِّنۡ عِندِهِۦ فَيُصۡبِحُواْ عَلَىٰ مَآ أَسَرُّواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ نَٰدِمِينَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست، بعض ان کے دوست ہیں بعض کے اور جو کوئی دوستی رکھے گا ان سے تم میں سے تو بے شک وہ انھی میں سے ہے، بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو(51) پس آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے، دوڑ کر جاتے ہیں ان میں ، کہتے ہیں وہ ہم ڈرتے ہیں اس سے کہ پہنچے ہمیں کوئی مصیبت، سو قریب ہے اللہ یہ کہ (جلد ہی) لے آئے فتح یا کوئی اور حکم اپنی طرف سے، پس ہو جائیں وہ اس پر، جو چھپاتے تھے وہ اپنے نفسوں میں ، پچھتانے والے(52) اور کہیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے، کیا یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے قسمیں کھائی تھیں اللہ کی بڑی تاکید سے کہ بے شک وہ تمھارے ساتھ ہیں ، برباد ہوگئے عمل ان کے اور ہو گئے وہ خسارہ اٹھانے والے(53)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ یہود و نصاریٰ کے احوال اور غیر مستحسن صفات بیان کرتے ہوئے اپنے مومن بندوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ انھیں اپنا دوست نہ بنائیں ﴿بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ﴾ ’’کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں ‘‘ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک ہیں ۔ پس تم ان کو دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ درحقیقت تمھارے دشمن ہیں ۔ انھیں تمھارے نقصان کی کوئی پروا نہیں بلکہ وہ تمھیں گمراہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ انھیں وہی شخص دوست بنائے گا جو ان جیسا ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّؔنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ﴾ ’’اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے گا، وہ انھی میں سے ہے‘‘ کیونکہ کامل دوستی ان کے دین میں منتقل ہونے کی موجب بنتی ہے۔ تھوڑی دوستی زیادہ دوستی کی طرف دعوت دیتی ہے پھر وہ آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہے حتیٰ کہ بندہ انھی میں سے ہو جاتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم ہے۔ ظلم ان کا مرجع اور ظلم ہی پر ان کا اعتماد ہے۔ اس لیے آپ ان کے پاس کوئی بھی آیت اور معجزہ لے کر آئیں ، وہ کبھی آپ کی اطاعت نہیں کریں گے۔
[52] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو اہل کتاب سے دوستی رکھنے سے منع کیا تو آگاہ فرمایا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں میں سے ایک گروہ ان کے ساتھ دوستی رکھتا ہے۔ ﴿ فَتَرَى الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’پس آپ ان لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں روگ ہے‘‘ یعنی ان کے دلوں میں شک، نفاق اور ضعف ایمان ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم نے ضرورت کے تحت ان کو دوست بنایا ہے اس لیے کہ ﴿ نَخۡشٰۤى اَنۡ تُصِيۡبَنَا دَآىِٕرَةٌ﴾ ’’ہم ڈرتے ہیں کہ ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے‘‘ یعنی ہمیں ڈر ہے کہ کہیں گردش ایام یہود و نصاریٰ کے حق میں نہ ہو جائے اور اگر زمانے کی گردش ان کے حق میں ہو تو ہمارا ان پر یہ احسان انھیں اس بدلے میں ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر آمادہ کرے گا۔ یہ اسلام کے بارے میں ان کی انتہائی بدظنی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی بدظنی کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ فَعَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّاۡتِيَ بِالۡفَتۡحِ ﴾ ’’ہو سکتا ہے اللہ فتح عطا کرے‘‘ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ پر غالب کر دے ﴿ اَوۡ اَمۡرٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’یا کوئی حکم اپنے پاس سے‘‘ جس سے منافقین، یہود وغیرہ کفار کے کامیاب ہونے سے مایوس ہو جائیں ۔ ﴿ فَيُصۡبِحُوۡا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوۡا ﴾ ’’پس ہوجائیں وہ اس پر جو کچھ وہ چھپاتے ہیں ‘‘ ﴿ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ نٰدِمِيۡنَ﴾ ’’اپنے نفسوں میں نادم ہوں ‘‘ یعنی اس رویے پر جس کا اظہار ان کی طرف سے ہوا اور جس نے انھیں نقصان پہنچایا اور کوئی نفع انھیں حاصل نہ ہوا۔ پس مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کو نصرت سے نوازا اور کفر اور کفار کو ذلیل کیا۔ پس ان کو ندامت اٹھانی پڑی اور انھیں ایسے غم کا سامنا کرنا پڑا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
[53]﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے‘‘ یعنی جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے ان کے حال پر اہل ایمان تعجب کرتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ١ۙ اِنَّهُمۡ لَمَعَكُمۡ﴾ ’’کیا یہ وہی لوگ ہیں جو بڑی تاکید سے اللہ کی قسمیں کھاتے تھے کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انھوں نے نہایت تاکید کے ساتھ حلف اٹھایا اور مختلف انواع کی تاکیدات کے ذریعے سے پکا کر کے کہا کہ وہ ایمان لانے میں ، نیز ایمان کے لوازم یعنی نصرت، محبت اور موالات میں ان کے ساتھ ہیں ۔مگر جو کچھ وہ چھپاتے رہے ہیں وہ ظاہر ہو گیا ، ان کے تمام بھید عیاں ہو گئے۔ ان کی سازشوں کے وہ تمام تانے بانے جو وہ بنا کرتے تھے اور ان کے وہ تمام ظن و گمان جو وہ اسلام کے بارے میں رکھا کرتے تھے، باطل ہو گئے اور ان کی سب چالیں ناکام ہو گئیں ﴿ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ ﴾ ’’پس (دنیا میں ) ان کے تمام اعمال اکارت گئے‘‘ ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ خائب و خاسر ہو کر رہ گئے‘‘ کیونکہ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور بدبختی اور عذاب نے انھیں گھیر لیا۔
5:53وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَهَـٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ إِنَّهُمۡ لَمَعَكُمۡۚ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ فَأَصۡبَحُواْ خَٰسِرِينَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست، بعض ان کے دوست ہیں بعض کے اور جو کوئی دوستی رکھے گا ان سے تم میں سے تو بے شک وہ انھی میں سے ہے، بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو(51) پس آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے، دوڑ کر جاتے ہیں ان میں ، کہتے ہیں وہ ہم ڈرتے ہیں اس سے کہ پہنچے ہمیں کوئی مصیبت، سو قریب ہے اللہ یہ کہ (جلد ہی) لے آئے فتح یا کوئی اور حکم اپنی طرف سے، پس ہو جائیں وہ اس پر، جو چھپاتے تھے وہ اپنے نفسوں میں ، پچھتانے والے(52) اور کہیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے، کیا یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے قسمیں کھائی تھیں اللہ کی بڑی تاکید سے کہ بے شک وہ تمھارے ساتھ ہیں ، برباد ہوگئے عمل ان کے اور ہو گئے وہ خسارہ اٹھانے والے(53)
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ یہود و نصاریٰ کے احوال اور غیر مستحسن صفات بیان کرتے ہوئے اپنے مومن بندوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ انھیں اپنا دوست نہ بنائیں ﴿بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ﴾ ’’کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں ‘‘ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک ہیں ۔ پس تم ان کو دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ درحقیقت تمھارے دشمن ہیں ۔ انھیں تمھارے نقصان کی کوئی پروا نہیں بلکہ وہ تمھیں گمراہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ انھیں وہی شخص دوست بنائے گا جو ان جیسا ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّؔنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ﴾ ’’اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے گا، وہ انھی میں سے ہے‘‘ کیونکہ کامل دوستی ان کے دین میں منتقل ہونے کی موجب بنتی ہے۔ تھوڑی دوستی زیادہ دوستی کی طرف دعوت دیتی ہے پھر وہ آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہے حتیٰ کہ بندہ انھی میں سے ہو جاتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم ہے۔ ظلم ان کا مرجع اور ظلم ہی پر ان کا اعتماد ہے۔ اس لیے آپ ان کے پاس کوئی بھی آیت اور معجزہ لے کر آئیں ، وہ کبھی آپ کی اطاعت نہیں کریں گے۔
[52] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو اہل کتاب سے دوستی رکھنے سے منع کیا تو آگاہ فرمایا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں میں سے ایک گروہ ان کے ساتھ دوستی رکھتا ہے۔ ﴿ فَتَرَى الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’پس آپ ان لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں روگ ہے‘‘ یعنی ان کے دلوں میں شک، نفاق اور ضعف ایمان ہے۔ کہتے ہیں کہ ہم نے ضرورت کے تحت ان کو دوست بنایا ہے اس لیے کہ ﴿ نَخۡشٰۤى اَنۡ تُصِيۡبَنَا دَآىِٕرَةٌ﴾ ’’ہم ڈرتے ہیں کہ ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے‘‘ یعنی ہمیں ڈر ہے کہ کہیں گردش ایام یہود و نصاریٰ کے حق میں نہ ہو جائے اور اگر زمانے کی گردش ان کے حق میں ہو تو ہمارا ان پر یہ احسان انھیں اس بدلے میں ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر آمادہ کرے گا۔ یہ اسلام کے بارے میں ان کی انتہائی بدظنی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی بدظنی کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ فَعَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّاۡتِيَ بِالۡفَتۡحِ ﴾ ’’ہو سکتا ہے اللہ فتح عطا کرے‘‘ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ پر غالب کر دے ﴿ اَوۡ اَمۡرٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’یا کوئی حکم اپنے پاس سے‘‘ جس سے منافقین، یہود وغیرہ کفار کے کامیاب ہونے سے مایوس ہو جائیں ۔ ﴿ فَيُصۡبِحُوۡا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوۡا ﴾ ’’پس ہوجائیں وہ اس پر جو کچھ وہ چھپاتے ہیں ‘‘ ﴿ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ نٰدِمِيۡنَ﴾ ’’اپنے نفسوں میں نادم ہوں ‘‘ یعنی اس رویے پر جس کا اظہار ان کی طرف سے ہوا اور جس نے انھیں نقصان پہنچایا اور کوئی نفع انھیں حاصل نہ ہوا۔ پس مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اسلام اور مسلمانوں کو نصرت سے نوازا اور کفر اور کفار کو ذلیل کیا۔ پس ان کو ندامت اٹھانی پڑی اور انھیں ایسے غم کا سامنا کرنا پڑا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
[53]﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے‘‘ یعنی جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے ان کے حال پر اہل ایمان تعجب کرتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ١ۙ اِنَّهُمۡ لَمَعَكُمۡ﴾ ’’کیا یہ وہی لوگ ہیں جو بڑی تاکید سے اللہ کی قسمیں کھاتے تھے کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انھوں نے نہایت تاکید کے ساتھ حلف اٹھایا اور مختلف انواع کی تاکیدات کے ذریعے سے پکا کر کے کہا کہ وہ ایمان لانے میں ، نیز ایمان کے لوازم یعنی نصرت، محبت اور موالات میں ان کے ساتھ ہیں ۔مگر جو کچھ وہ چھپاتے رہے ہیں وہ ظاہر ہو گیا ، ان کے تمام بھید عیاں ہو گئے۔ ان کی سازشوں کے وہ تمام تانے بانے جو وہ بنا کرتے تھے اور ان کے وہ تمام ظن و گمان جو وہ اسلام کے بارے میں رکھا کرتے تھے، باطل ہو گئے اور ان کی سب چالیں ناکام ہو گئیں ﴿ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ ﴾ ’’پس (دنیا میں ) ان کے تمام اعمال اکارت گئے‘‘ ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا خٰسِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ خائب و خاسر ہو کر رہ گئے‘‘ کیونکہ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور بدبختی اور عذاب نے انھیں گھیر لیا۔
5:54يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَن يَرۡتَدَّ مِنكُمۡ عَن دِينِهِۦ فَسَوۡفَ يَأۡتِي ٱللَّهُ بِقَوۡمٖ يُحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّونَهُۥٓ أَذِلَّةٍ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ يُجَٰهِدُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوۡمَةَ لَآئِمٖۚ ذَٰلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جو پھر جائے تم میں سے اپنے دین سے تو عنقریب لائے گا اللہ ایسے لوگ کہ محبت کرتا ہوگا وہ ان سے اور وہ محبت کرتے ہوں گے اس سے، نرم ہوں گے مومنوں پر، سختی کرنے والے کافروں پر وہ جہاد کریں گے اللہ کی راہ میں اور نہ ڈریں گے وہ کسی ملامت گر کی ملامت سے، یہ فضل ہے اللہ کا دیتا ہے وہ یہ جسے چاہتا ہے اور اللہ کشائش والا خوب جاننے والا ہے(54)
[54] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے جو کوئی اس کے دین سے پھرجاتا ہے وہ اللہ کا کوئی نقصان نہیں کر سکتا بلکہ وہ اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ مخلص اور سچے بندے ہیں اللہ رحمان و رحیم ان کی ہدایت کا ضامن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لانے کا وعدہ کیا ہے۔ وہ اپنے اوصاف میں سب سے کامل، اپنے جسم میں سب سے طاقتور اور اپنے اخلاق میں سب سے اچھے ہیں ۔ان کی سب سے بڑی صفت یہ ہے ﴿ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾ ’’اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘ بندے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت جلیل ترین نعمت ہے جس کے ساتھ اس نے اپنے بندے کو نوازا ہے اور سب سے بڑی فضیلت ہے جس سے اللہ نے اپنے بندے کو مشرف فرمایا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے تو وہ اس کے لیے تمام اسباب مہیا کر دیتا ہے، ہر قسم کی مشکل اس پر آسان کر دیتا ہے، نیک کام کرنے اور برائیوں کو ترک کرنے کی توفیق عطا کرتا ہے اور بندوں کے دلوں کو محبت اور مودت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔اپنے رب کے ساتھ بندے کی محبت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے اقوال و افعال اور تمام احوال میں ظاہری اور باطنی طور پر رسول اللہﷺ کی متابعت کی صفت سے متصف ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ قُلۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ يُحۡبِبۡكُمُ اللّٰهُ ﴾(آل عمران: 3؍31) ’’کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘ جیسے بندے کے ساتھ رب کی محبت کے لوازم میں سے یہ ہے کہ بندہ کثرت سے فرائض اور نوافل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے ایک صحیح حدیث میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے نقل فرمایا ہے: ’’میرا بندہ جس چیز کے ذریعے سے میرا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، ان میں فرائض سے بڑھ کر کوئی چیز مجھے محبوب نہیں ۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے میرا تقرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے وہ سنتا ہے، میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے وہ دیکھتا ہے، میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے پکڑتا ہے اور میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن کے ذریعے سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے عطا کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں ‘‘ (صحیح البخاري، کتاب الرقاق، باب التواضع، حدیث: 6502)اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے لوازم میں سے اس کی معرفت اور کثرت کے ساتھ اس کا ذکر کرنا بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے بغیر اس کے ساتھ محبت ناقص ہے بلکہ اس محبت کا وجود ہی نہیں اگرچہ اس کا دعویٰ کیا جائے۔جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے وہ کثرت سے اس کا ذکر کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کے تھوڑے سے عمل کو قبول فرما لیتا ہے اور اس کی بہت سی لغزشوں کو معاف کر دیتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے محبوب لوگوں کی صفات میں سے یہ ہے ﴿ اَذِلَّةٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’نرم ہیں مومنوں پر، سخت ہیں کافروں پر‘‘ پس وہ اہل ایمان کے ساتھ محبت، ان کے لیے خیر خواہی، ان کے لیے نرمی اور مہربانی، ان کے لیے رحمت و رافت اور ان کے ساتھ شفقت بھرے رویے کی بنا پر ان کے لیے نرم خو ہوتے ہیں ۔ نیز کسی ایسی چیز کے قرب کی بنا پر جو اس سے مطلوب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والوں ، اس کی آیت سے عناد رکھنے والوں اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہوتے ہیں ۔ ان کی عداوت پر ان کی ہمت اور عزائم مجتمع ہوتے ہیں اور وہ ان پر فتح حاصل کرنے کے لیے ہر سبب میں پوری کوشش کرتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّؔكُمۡ ﴾(الانفال: 8؍60) ’’جہاں تک ہو سکے قوت و طاقت کے ساتھ اور گھوڑوں کو تیار رکھ کر ان کے مقابلے کے لیے مستعد رہو، اس کے ذریعے سے تم اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو ڈرائے رکھو۔‘‘اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ ﴾(الفتح: 48؍29)’’وہ کافروں کے لیے نہایت سخت اور آپس میں بہت مہربان ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے بارے میں سخت رویہ رکھنا، ان ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جس سے بندہ اپنے رب کا قرب حاصل کرتا ہے اور ان کے ساتھ سختی اور ناراضی میں بندہ اپنے رب کی موافقت کرتا ہے اور ان کے بارے میں سخت رویہ ان کو دین اسلام کی طرف ایسے طریقے سے دعوت دینے سے مانع نہیں جو بہتر ہو۔ ان کے بارے میں سخت رویہ اور دعوت دین میں نرمی دونوں یکجا ہوں ۔ دونوں امور میں ان کے لیے مصلحت ہے جس کا فائدہ انھی کی طرف لوٹتا ہے۔﴿ يُجَاهِدُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ (اپنی جان، مال، اقوال اور افعال کے ذریعے سے) اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں ‘‘ ﴿ وَلَا يَخَافُوۡنَ لَوۡمَةَ لَآىِٕمٍ﴾ ’’وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے‘‘ بلکہ وہ اپنے رب کی رضا کو مقدم رکھتے ہیں اور مخلوق کی ملامت کی بجائے اپنے رب کی ملامت سے ڈرتے ہیں ۔ اور یہ رویہ ان کے ارادوں اور عزائم کی پختگی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ کمزور دل والا، ارادے کا بھی کمزور ہوتا ہے۔ ملامت گروں کی ملامت پر اس کی عزیمت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے اور نکتہ چینوں کی نکتہ چینی پر اس کی قوت کمزور ہو جاتی ہے۔ مخلوق کی رعایت، ان کی رضا اور ناراضی کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر ترجیح کے مطابق بندوں کے دلوں میں غیر اللہ کا تعبد جنم لیتا ہے۔ قلب، غیر اللہ کی عبادت سے اس وقت تک محفوظ نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ملامت کرنے والوں کی ملامت سے ڈرنا چھوڑ نہ دے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان صفات جمیلہ اور مناقب عالیہ سے نواز کر ان کی مدح کی ہے جو ایسے افعال خیر کو مستلزم ہیں جن کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ ان پر محض اس کا فضل و احسان ہے۔ تاکہ وہ خود پسندی کا شکار نہ ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں جس نے ان پر احسان کیا تاکہ وہ ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ نوازے اور دوسرے لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم محجوب نہیں ۔ بنابریں فرمایا ﴿ ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ١ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے اس سے نوازتا ہے اور اللہ کشائش والا جاننے والا ہے‘‘ یعنی وہ وسیع فضل و کرم اور بے پایاں احسان کا مالک ہے۔ اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اولیا ءکو وسیع فضل و کرم سے نوازتا ہے جس سے وہ اوروں کو نہیں نوازتا۔ مگر وہ علم رکھتا ہے کہ کون اس کے فضل کا مستحق ہے پس وہ اسی کو عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ اصولی اور فروعی طور پر رسالت سے کسے نوازنا ہے۔
5:55إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُمۡ رَٰكِعُونَ
تمھارے دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، جو قائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃ اور وہ رکوع کرنے والے ہیں (55) اور جو کوئی دوستی رکھے گا اللہ اور اس کے رسول سے اور ان لوگوں سے جو ایمان لائے تو یقینا گروہ اللہ کا، وہی ہے غالب آنے والا(56)
[55] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب یہود و نصاریٰ وغیرہ کفار کی دوستی سے روکا اور ذکر فرمایا کہ ان کی دوستی کا انجام واضح خسارہ ہے۔ جس کی دوستی متعین اور واجب ہے، اب اس کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اس کے فائدے اور مصلحت کا ذکر کیا ہے ﴿ اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ ﴾ ’’تمھارا دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول ہی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کی ولایت (دوستی) ایمان اور تقویٰ کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے۔ جو کوئی صاحب ایمان اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی یعنی دوست ہے اور جو اللہ کا دوست ہے وہ اس کے رسولﷺ کا دوست ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو دوست بناتا ہے تو اس دوستی کی تکمیل یہ ہے کہ اللہ جن کو دوست بناتا ہے یہ بھی انھی کو دوست بنائے۔ اور وہ ہیں اہل ایمان جو ایمان کے ظاہری اور باطنی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اور معبود کے لیے دین کو خالص کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کی تمام شرائط و فرائض اور اس کو مکمل کرنے والے امور کے ساتھ قائم کرتے ہیں ، مخلوق کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آتے ہیں اور اپنے اموال میں سے اپنے میں سے مستحق لوگوں کو زکٰوۃ دیتے ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ رٰؔكِعُوۡنَ﴾ ’’اور (اللہ کے آگے) جھکتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے خضوع اور تذلل اختیار کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا ﴾ میں حصر کا اسلوب دلالت کرتا ہے کہ ان مذکور لوگوں کی دوستی پر اقتصار کرنااور ان کے علاوہ دیگر لوگوں سے براء ت کا اظہار کرنا ضروری ہے۔
[56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس دوستی کا فائدہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ﴾ ’’اور جو اللہ سے، اس کے رسول سے اور ایمان والوں سے دوستی رکھتا ہے تو بے شک اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے‘‘ یعنی وہ اس گروہ میں شمار ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عبودیت اور ولایت کی اضافت رکھتے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کا حزب غالب ان لوگوں پر مشتمل ہے جن کا انجام دنیا و آخرت میں اچھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنَّ جُنۡدَنَا لَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(الصافات: 36؍173) ’’بے شک ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔‘‘ یہ اس شخص کے لیے بہت بڑی بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کر کے اس کے گروہ اور لشکر میں شامل ہو جاتا ہے کہ غلبہ اسی کے لیے ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت وہ مغلوب بھی ہو جاتا ہے مگر انجام کار فتح و غلبہ سے وہی بہرہ ور ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا کون ہے۔
5:56وَمَن يَتَوَلَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ فَإِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡغَٰلِبُونَ
تمھارے دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، جو قائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃ اور وہ رکوع کرنے والے ہیں (55) اور جو کوئی دوستی رکھے گا اللہ اور اس کے رسول سے اور ان لوگوں سے جو ایمان لائے تو یقینا گروہ اللہ کا، وہی ہے غالب آنے والا(56)
[55] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب یہود و نصاریٰ وغیرہ کفار کی دوستی سے روکا اور ذکر فرمایا کہ ان کی دوستی کا انجام واضح خسارہ ہے۔ جس کی دوستی متعین اور واجب ہے، اب اس کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اس کے فائدے اور مصلحت کا ذکر کیا ہے ﴿ اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ ﴾ ’’تمھارا دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول ہی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کی ولایت (دوستی) ایمان اور تقویٰ کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے۔ جو کوئی صاحب ایمان اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی یعنی دوست ہے اور جو اللہ کا دوست ہے وہ اس کے رسولﷺ کا دوست ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو دوست بناتا ہے تو اس دوستی کی تکمیل یہ ہے کہ اللہ جن کو دوست بناتا ہے یہ بھی انھی کو دوست بنائے۔ اور وہ ہیں اہل ایمان جو ایمان کے ظاہری اور باطنی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اور معبود کے لیے دین کو خالص کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کی تمام شرائط و فرائض اور اس کو مکمل کرنے والے امور کے ساتھ قائم کرتے ہیں ، مخلوق کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آتے ہیں اور اپنے اموال میں سے اپنے میں سے مستحق لوگوں کو زکٰوۃ دیتے ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ رٰؔكِعُوۡنَ﴾ ’’اور (اللہ کے آگے) جھکتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے خضوع اور تذلل اختیار کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا ﴾ میں حصر کا اسلوب دلالت کرتا ہے کہ ان مذکور لوگوں کی دوستی پر اقتصار کرنااور ان کے علاوہ دیگر لوگوں سے براء ت کا اظہار کرنا ضروری ہے۔
[56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس دوستی کا فائدہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ﴾ ’’اور جو اللہ سے، اس کے رسول سے اور ایمان والوں سے دوستی رکھتا ہے تو بے شک اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے‘‘ یعنی وہ اس گروہ میں شمار ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عبودیت اور ولایت کی اضافت رکھتے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کا حزب غالب ان لوگوں پر مشتمل ہے جن کا انجام دنیا و آخرت میں اچھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنَّ جُنۡدَنَا لَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(الصافات: 36؍173) ’’بے شک ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔‘‘ یہ اس شخص کے لیے بہت بڑی بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کر کے اس کے گروہ اور لشکر میں شامل ہو جاتا ہے کہ غلبہ اسی کے لیے ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت وہ مغلوب بھی ہو جاتا ہے مگر انجام کار فتح و غلبہ سے وہی بہرہ ور ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا کون ہے۔
5:57يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ دِينَكُمۡ هُزُوٗا وَلَعِبٗا مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَٱلۡكُفَّارَ أَوۡلِيَآءَۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم ان لوگوں کو، جنھوں نے بنا لیا تمھارے دین کو ہنسی اور کھیل، ان لوگوں میں سے کہ دیے گئے وہ کتاب پہلے تم سےاور نہ کافروں کو، (اپنا) دوست۔ اور ڈرو اللہ سے اگر ہو تم مومن(57) اور جب تم پکارتے ہو طرف نماز کی تو بنا لیتے ہیں وہ اسے ہنسی اور کھیل یہ اس سبب سے کہ ہیں وہ لوگ نہیں عقل رکھتے(58)
[58,57] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو یہود و نصاریٰ اور دیگر تمام کفار کے ساتھ موالات رکھنے سے منع کرتا ہے۔ وہ ان سے محبت نہ کریں ان کو دوست نہ بنائیں ، ان پر اہل ایمان کے بھید نہ کھولیں اور بعض ایسے امور پر ان کی معاونت نہ کریں جن سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو۔ ان کا ایمان کفار کے ساتھ ترک موالات کا موجب ہے اور ان کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی طرح ان کا تقویٰ کا التزام ... جو کہ نام ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت اور اس کی نواہی سے اجتناب کا .... کفار کے ساتھ عداوت کی دعوت دیتا ہے۔ اسی طرح مشرکین، کفار اور مسلمانوں کے دیگر مخالفین کا رویہ بھی اسی بات کا متقاضی ہے کہ مسلمان ان سے دوستی کی بجائے دشمنی رکھیں ۔ یہ لوگ دین اسلام میں نکتہ چینیاں کرتے ہیں ۔ اسلام کے ساتھ استہزا کرتے اور تمسخر اڑاتے ہیں اور دین کی تحقیر کرتے ہیں خصوصاً نماز کے بارے میں جو کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا شعار اور سب سے بڑی عبادت ہے۔ جب مسلمان نماز کے لیے اذان دیتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس کا سبب ان کی کم عقلی اور جہالت ہے۔ ورنہ اگر ان میں عقل ہوتی تو وہ نماز کی افادیت کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے اور انھیں معلوم ہو جاتا کہ نماز ہی ان فضائل میں سب سے بڑی فضیلت ہے جس سے نفوس انسانی متصف ہوتے ہیں ۔پس اے مومنو! جب تمھیں کفار کا حال معلوم ہے اور تمھیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ تمھارے اور تمھارے دین کے ساتھ کتنی شدید عداوت رکھتے ہیں جو کوئی اس صورتحال کے بعد بھی انھیں اپنا دشمن نہیں سمجھتا تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اسلام اس کے نزدیک بہت سستی چیز ہے اور اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ کوئی اس میں طعن و تشنیع کرتا ہے یا اسے کفر اور ضلالت قرار دیتا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس شخص کے اندر مروت اور انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ آپ اپنے لیے دین قیم کا کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں اور کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام دین حق ہے اور اس کے سوا تمام ادیان باطل ہیں جبکہ حال یہ ہے کہ آپ ان جاہل اور احمق لوگوں کی موالات پر راضی ہیں جو آپ کے دین کے ساتھ استہزا کرتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں ؟ اس آیت کریمہ میں کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب ہے اور یہ بات ہر اس شخص کو معلوم ہے جو ادنیٰ سا بھی فہم رکھتا ہے۔
5:58وَإِذَا نَادَيۡتُمۡ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ ٱتَّخَذُوهَا هُزُوٗا وَلَعِبٗاۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَعۡقِلُونَ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم ان لوگوں کو، جنھوں نے بنا لیا تمھارے دین کو ہنسی اور کھیل، ان لوگوں میں سے کہ دیے گئے وہ کتاب پہلے تم سےاور نہ کافروں کو، (اپنا) دوست۔ اور ڈرو اللہ سے اگر ہو تم مومن(57) اور جب تم پکارتے ہو طرف نماز کی تو بنا لیتے ہیں وہ اسے ہنسی اور کھیل یہ اس سبب سے کہ ہیں وہ لوگ نہیں عقل رکھتے(58)
[58,57] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو یہود و نصاریٰ اور دیگر تمام کفار کے ساتھ موالات رکھنے سے منع کرتا ہے۔ وہ ان سے محبت نہ کریں ان کو دوست نہ بنائیں ، ان پر اہل ایمان کے بھید نہ کھولیں اور بعض ایسے امور پر ان کی معاونت نہ کریں جن سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو۔ ان کا ایمان کفار کے ساتھ ترک موالات کا موجب ہے اور ان کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی طرح ان کا تقویٰ کا التزام ... جو کہ نام ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت اور اس کی نواہی سے اجتناب کا .... کفار کے ساتھ عداوت کی دعوت دیتا ہے۔ اسی طرح مشرکین، کفار اور مسلمانوں کے دیگر مخالفین کا رویہ بھی اسی بات کا متقاضی ہے کہ مسلمان ان سے دوستی کی بجائے دشمنی رکھیں ۔ یہ لوگ دین اسلام میں نکتہ چینیاں کرتے ہیں ۔ اسلام کے ساتھ استہزا کرتے اور تمسخر اڑاتے ہیں اور دین کی تحقیر کرتے ہیں خصوصاً نماز کے بارے میں جو کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا شعار اور سب سے بڑی عبادت ہے۔ جب مسلمان نماز کے لیے اذان دیتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس کا سبب ان کی کم عقلی اور جہالت ہے۔ ورنہ اگر ان میں عقل ہوتی تو وہ نماز کی افادیت کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے اور انھیں معلوم ہو جاتا کہ نماز ہی ان فضائل میں سب سے بڑی فضیلت ہے جس سے نفوس انسانی متصف ہوتے ہیں ۔پس اے مومنو! جب تمھیں کفار کا حال معلوم ہے اور تمھیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ تمھارے اور تمھارے دین کے ساتھ کتنی شدید عداوت رکھتے ہیں جو کوئی اس صورتحال کے بعد بھی انھیں اپنا دشمن نہیں سمجھتا تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اسلام اس کے نزدیک بہت سستی چیز ہے اور اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ کوئی اس میں طعن و تشنیع کرتا ہے یا اسے کفر اور ضلالت قرار دیتا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس شخص کے اندر مروت اور انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ آپ اپنے لیے دین قیم کا کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں اور کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام دین حق ہے اور اس کے سوا تمام ادیان باطل ہیں جبکہ حال یہ ہے کہ آپ ان جاہل اور احمق لوگوں کی موالات پر راضی ہیں جو آپ کے دین کے ساتھ استہزا کرتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں ؟ اس آیت کریمہ میں کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب ہے اور یہ بات ہر اس شخص کو معلوم ہے جو ادنیٰ سا بھی فہم رکھتا ہے۔
5:59قُلۡ يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ هَلۡ تَنقِمُونَ مِنَّآ إِلَّآ أَنۡ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡنَا وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبۡلُ وَأَنَّ أَكۡثَرَكُمۡ فَٰسِقُونَ
کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہیں کد (ضد) رکھتے تم ہم سے مگر اس وجہ سے کہ ایمان لائے ہم ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس چیز کے جو نازل کی گئی ہماری طرف اور جو نازل کی گئی اس سے پہلےاور یہ کہ اکثر تم میں فاسق ہیں (59) کہہ دیجیے! کیا خبر دوں میں تم کو بدتر کی اس سے، جزا کے اعتبار سے، نزدیک اللہ کے؟ وہ شخص کہ لعنت کی اس پر اللہ نے اور غصے ہوا اوپر اس کے اور کیے ان میں سے بندر اور سور اور پوجا کی اس نے شیطان کی، وہی لوگ ہیں بدتر درجے میں اور زیادہ گمراہ ہیں سیدھی راہ سے(60) اور جب آتے ہیں وہ تمھارے پاس تو کہتے ہیں ، ہم ایمان لائے اور حال یہ ہے کہ وہ داخل ہوئے تھے ساتھ کفر کے اور نکل گئے ساتھ اسی کے۔ اور اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو کہ تھے وہ چھپاتے(61)اور آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، جلدی کرتے ہیں گناہ میں اور زیادتی میں اور اپنے حرام کھانے میں ، البتہ بہت برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(62) کیوں نہیں روکتے ان کو رب والے اور علماء ان کے گناہ کی بات کہنے سے اور ان کے حرام کھانے سے، البتہ برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(63)
[59]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی اے رسول کہہ دیجیے ﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اے اہل کتاب!‘‘ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن و تشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن و تشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ ﴿ هَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ١ۙ وَاَنَّ اَكۡثَرَؔكُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں ) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں ۔‘‘ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں ، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا ایمان نہیں رکھتا وہ کافر اور فاسق ہے۔ کیا تم صرف اس امر کی بنا پر ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو جو تمام مکلفین پر سب سے زیادہ فرض ہے۔ اور بایں ہمہ کہ ان میں سے اکثر فاسق ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر اور اس کی نافرمانی کی جسارت کرنے والے ہیں تو اے فاسقو! تمھارے لیے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ پس اگر تم میں یہی عیب ہوتا جبکہ تم فسق سے پاک ہوتے، حالانکہ یہ بہت بعید ہے... تو یہ برائی تمھارے فسق کی معیت میں تمھارے ہماری بابت طعن و تشنیع سے خفیف تر ہوتی۔
[60] اہل ایمان پر ان کا طعن و تشنیع کرنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اہل ایمان میں برائی ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿قُلۡ﴾ یعنی ان کی برائی اور قباحت کے بارے میں ان کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں خبر دوں اس سے بھی بری بات کی‘‘ جس کے بارے میں تم ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو اس کو صحیح فرض کرتے ہوئے ﴿ مَنۡ لَّعَنَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’جس پر اللہ نے لعنت کی۔‘‘ یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ﴿ وَغَضِبَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اس پر غضب نازل کیا‘‘ یعنی اسے دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا کیا ﴿ وَجَعَلَ مِنۡهُمُ الۡقِرَدَةَ وَالۡخَنَازِيۡرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوۡتَ﴾’’اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سور بنا دیا اور جنھوں نے طاغوت کی بندگی کی‘‘ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے، وہ طاغوت ہے۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا ان قبیح خصائل کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے ﴿ شَرٌّ مَّكَانًا ﴾ ’’ان کا ٹھکانا (اہل ایمان سے) برا ہے۔‘‘ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ان کی نسبت زیادہ قریب ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اس نے ان کو دنیا و آخرت میں ثواب سے نواز دیا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا۔یہ (اَفْعَلْ التَّفْضِیل)کو ایک دوسرے اسلوب میں استعمال کرنے کی نوع ہے۔ اور اسی طرح یہ قول ہے۔﴿ وَّاَضَلُّ عَنۡ سَوَؔآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور بہت بہکے ہوئے ہیں سیدھی راہ سے‘‘ یعنی وہ اعتدال کی راہ سے بہت دور ہیں ۔
[61]﴿ وَاِذَا جَآءُوۡؔكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ﴾ ’’اور جب وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے‘‘ یعنی وہ مکرو فریب اور نفاق کی بنا پر کہتے ہیں ﴿ وَقَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡكُفۡرِ وَهُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِهٖ﴾ ’’حالانکہ وہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لے کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس حال میں داخل ہوئے کہ وہ کفر میں گھرے ہوئے تھے اور اسی کے ساتھ وہ نکلے۔ پس ان کا داخل ہونا اور ان کا نکلنا کفر کے ساتھ ہے۔ بایں ہمہ وہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں ۔ ان سے زیادہ برا اور ان سے زیادہ بدحال کوئی اور ہو سکتا ہے؟ ﴿وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا كَانُوۡا يَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں ‘‘ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے، برے اعمال کا بدلہ دے گا۔
[62] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی مدد اور تائید کی خاطر بتکرار ان یہود و کفار کے معایب بیان کرتا ہے ﴿ وَتَرٰؔى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور تو ان میں سے اکثر کو دیکھے گا‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿ يُسَارِعُوۡنَ فِي الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ ﴾ ’’وہ گناہ اور زیادتی میں دوڑ کر حصہ لیتے ہیں ‘‘ یعنی وہ ان گناہوں کی طرف سبقت کرتے ہیں جو خالق کے حقوق سے متعلق ہیں اور مخلوق پر ظلم اور تعدی کے زمرے میں آتے ہیں ﴿ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’اور ان کے حرام کھانے پر‘‘ جو کہ حرام ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے صرف یہ خبر دینے پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ ان افعال کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ یہ بھی خبر دی کہ وہ ان افعال بد میں سبقت کرتے ہیں اور یہ چیز ان کی خباثت اور برائی پر دلالت کرتی ہے۔ گناہ اور ظلم ان کے نفس کی فطرت کا حصہ بن گئے۔ یہ ہے ان کا حال اور وہ ہیں کہ اپنے لیے مقامات بلند کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’بہت برے کام ہیں جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یہ ان کی مذمت اور ان کی تشنیع کی انتہا ہے۔
[63]﴿ لَوۡلَا يَنۡهٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِهِمُ الۡاِثۡمَ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’کیوں نہیں روکتے ان کو درویش اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے‘‘ یعنی علماء جو عوام الناس کے نفع کے درپے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و دانش سے نوازا ہے، انھوں نے لوگوں کو ان گناہوں سے کیوں نہ روکا جو ان سے صادر ہوتے ہیں تاکہ ان سے جہالت دور ہو جاتی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی۔ کیونکہ یہ علماء ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے منع کریں اور ان کے سامنے دین کا راستہ واضح کریں ، انھیں بھلائیوں کی ترغیب دیں اور برائیوں کے انجام سے ڈرائیں ﴿لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ﴾ ’’بلاشبہ وہ بہت برا کرتے ہیں ۔‘‘
5:60قُلۡ هَلۡ أُنَبِّئُكُم بِشَرّٖ مِّن ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِندَ ٱللَّهِۚ مَن لَّعَنَهُ ٱللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيۡهِ وَجَعَلَ مِنۡهُمُ ٱلۡقِرَدَةَ وَٱلۡخَنَازِيرَ وَعَبَدَ ٱلطَّـٰغُوتَۚ أُوْلَـٰٓئِكَ شَرّٞ مَّكَانٗا وَأَضَلُّ عَن سَوَآءِ ٱلسَّبِيلِ
کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہیں کد (ضد) رکھتے تم ہم سے مگر اس وجہ سے کہ ایمان لائے ہم ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس چیز کے جو نازل کی گئی ہماری طرف اور جو نازل کی گئی اس سے پہلےاور یہ کہ اکثر تم میں فاسق ہیں (59) کہہ دیجیے! کیا خبر دوں میں تم کو بدتر کی اس سے، جزا کے اعتبار سے، نزدیک اللہ کے؟ وہ شخص کہ لعنت کی اس پر اللہ نے اور غصے ہوا اوپر اس کے اور کیے ان میں سے بندر اور سور اور پوجا کی اس نے شیطان کی، وہی لوگ ہیں بدتر درجے میں اور زیادہ گمراہ ہیں سیدھی راہ سے(60) اور جب آتے ہیں وہ تمھارے پاس تو کہتے ہیں ، ہم ایمان لائے اور حال یہ ہے کہ وہ داخل ہوئے تھے ساتھ کفر کے اور نکل گئے ساتھ اسی کے۔ اور اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو کہ تھے وہ چھپاتے(61)اور آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، جلدی کرتے ہیں گناہ میں اور زیادتی میں اور اپنے حرام کھانے میں ، البتہ بہت برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(62) کیوں نہیں روکتے ان کو رب والے اور علماء ان کے گناہ کی بات کہنے سے اور ان کے حرام کھانے سے، البتہ برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(63)
[59]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی اے رسول کہہ دیجیے ﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اے اہل کتاب!‘‘ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن و تشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن و تشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ ﴿ هَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ١ۙ وَاَنَّ اَكۡثَرَؔكُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں ) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں ۔‘‘ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں ، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا ایمان نہیں رکھتا وہ کافر اور فاسق ہے۔ کیا تم صرف اس امر کی بنا پر ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو جو تمام مکلفین پر سب سے زیادہ فرض ہے۔ اور بایں ہمہ کہ ان میں سے اکثر فاسق ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر اور اس کی نافرمانی کی جسارت کرنے والے ہیں تو اے فاسقو! تمھارے لیے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ پس اگر تم میں یہی عیب ہوتا جبکہ تم فسق سے پاک ہوتے، حالانکہ یہ بہت بعید ہے... تو یہ برائی تمھارے فسق کی معیت میں تمھارے ہماری بابت طعن و تشنیع سے خفیف تر ہوتی۔
[60] اہل ایمان پر ان کا طعن و تشنیع کرنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اہل ایمان میں برائی ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿قُلۡ﴾ یعنی ان کی برائی اور قباحت کے بارے میں ان کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں خبر دوں اس سے بھی بری بات کی‘‘ جس کے بارے میں تم ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو اس کو صحیح فرض کرتے ہوئے ﴿ مَنۡ لَّعَنَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’جس پر اللہ نے لعنت کی۔‘‘ یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ﴿ وَغَضِبَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اس پر غضب نازل کیا‘‘ یعنی اسے دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا کیا ﴿ وَجَعَلَ مِنۡهُمُ الۡقِرَدَةَ وَالۡخَنَازِيۡرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوۡتَ﴾’’اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سور بنا دیا اور جنھوں نے طاغوت کی بندگی کی‘‘ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے، وہ طاغوت ہے۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا ان قبیح خصائل کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے ﴿ شَرٌّ مَّكَانًا ﴾ ’’ان کا ٹھکانا (اہل ایمان سے) برا ہے۔‘‘ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ان کی نسبت زیادہ قریب ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اس نے ان کو دنیا و آخرت میں ثواب سے نواز دیا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا۔یہ (اَفْعَلْ التَّفْضِیل)کو ایک دوسرے اسلوب میں استعمال کرنے کی نوع ہے۔ اور اسی طرح یہ قول ہے۔﴿ وَّاَضَلُّ عَنۡ سَوَؔآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور بہت بہکے ہوئے ہیں سیدھی راہ سے‘‘ یعنی وہ اعتدال کی راہ سے بہت دور ہیں ۔
[61]﴿ وَاِذَا جَآءُوۡؔكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ﴾ ’’اور جب وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے‘‘ یعنی وہ مکرو فریب اور نفاق کی بنا پر کہتے ہیں ﴿ وَقَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡكُفۡرِ وَهُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِهٖ﴾ ’’حالانکہ وہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لے کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس حال میں داخل ہوئے کہ وہ کفر میں گھرے ہوئے تھے اور اسی کے ساتھ وہ نکلے۔ پس ان کا داخل ہونا اور ان کا نکلنا کفر کے ساتھ ہے۔ بایں ہمہ وہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں ۔ ان سے زیادہ برا اور ان سے زیادہ بدحال کوئی اور ہو سکتا ہے؟ ﴿وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا كَانُوۡا يَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں ‘‘ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے، برے اعمال کا بدلہ دے گا۔
[62] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی مدد اور تائید کی خاطر بتکرار ان یہود و کفار کے معایب بیان کرتا ہے ﴿ وَتَرٰؔى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور تو ان میں سے اکثر کو دیکھے گا‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿ يُسَارِعُوۡنَ فِي الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ ﴾ ’’وہ گناہ اور زیادتی میں دوڑ کر حصہ لیتے ہیں ‘‘ یعنی وہ ان گناہوں کی طرف سبقت کرتے ہیں جو خالق کے حقوق سے متعلق ہیں اور مخلوق پر ظلم اور تعدی کے زمرے میں آتے ہیں ﴿ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’اور ان کے حرام کھانے پر‘‘ جو کہ حرام ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے صرف یہ خبر دینے پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ ان افعال کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ یہ بھی خبر دی کہ وہ ان افعال بد میں سبقت کرتے ہیں اور یہ چیز ان کی خباثت اور برائی پر دلالت کرتی ہے۔ گناہ اور ظلم ان کے نفس کی فطرت کا حصہ بن گئے۔ یہ ہے ان کا حال اور وہ ہیں کہ اپنے لیے مقامات بلند کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’بہت برے کام ہیں جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یہ ان کی مذمت اور ان کی تشنیع کی انتہا ہے۔
[63]﴿ لَوۡلَا يَنۡهٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِهِمُ الۡاِثۡمَ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’کیوں نہیں روکتے ان کو درویش اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے‘‘ یعنی علماء جو عوام الناس کے نفع کے درپے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و دانش سے نوازا ہے، انھوں نے لوگوں کو ان گناہوں سے کیوں نہ روکا جو ان سے صادر ہوتے ہیں تاکہ ان سے جہالت دور ہو جاتی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی۔ کیونکہ یہ علماء ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے منع کریں اور ان کے سامنے دین کا راستہ واضح کریں ، انھیں بھلائیوں کی ترغیب دیں اور برائیوں کے انجام سے ڈرائیں ﴿لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ﴾ ’’بلاشبہ وہ بہت برا کرتے ہیں ۔‘‘
5:61وَإِذَا جَآءُوكُمۡ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَقَد دَّخَلُواْ بِٱلۡكُفۡرِ وَهُمۡ قَدۡ خَرَجُواْ بِهِۦۚ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا كَانُواْ يَكۡتُمُونَ
کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہیں کد (ضد) رکھتے تم ہم سے مگر اس وجہ سے کہ ایمان لائے ہم ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس چیز کے جو نازل کی گئی ہماری طرف اور جو نازل کی گئی اس سے پہلےاور یہ کہ اکثر تم میں فاسق ہیں (59) کہہ دیجیے! کیا خبر دوں میں تم کو بدتر کی اس سے، جزا کے اعتبار سے، نزدیک اللہ کے؟ وہ شخص کہ لعنت کی اس پر اللہ نے اور غصے ہوا اوپر اس کے اور کیے ان میں سے بندر اور سور اور پوجا کی اس نے شیطان کی، وہی لوگ ہیں بدتر درجے میں اور زیادہ گمراہ ہیں سیدھی راہ سے(60) اور جب آتے ہیں وہ تمھارے پاس تو کہتے ہیں ، ہم ایمان لائے اور حال یہ ہے کہ وہ داخل ہوئے تھے ساتھ کفر کے اور نکل گئے ساتھ اسی کے۔ اور اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو کہ تھے وہ چھپاتے(61)اور آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، جلدی کرتے ہیں گناہ میں اور زیادتی میں اور اپنے حرام کھانے میں ، البتہ بہت برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(62) کیوں نہیں روکتے ان کو رب والے اور علماء ان کے گناہ کی بات کہنے سے اور ان کے حرام کھانے سے، البتہ برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(63)
[59]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی اے رسول کہہ دیجیے ﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اے اہل کتاب!‘‘ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن و تشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن و تشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ ﴿ هَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ١ۙ وَاَنَّ اَكۡثَرَؔكُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں ) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں ۔‘‘ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں ، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا ایمان نہیں رکھتا وہ کافر اور فاسق ہے۔ کیا تم صرف اس امر کی بنا پر ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو جو تمام مکلفین پر سب سے زیادہ فرض ہے۔ اور بایں ہمہ کہ ان میں سے اکثر فاسق ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر اور اس کی نافرمانی کی جسارت کرنے والے ہیں تو اے فاسقو! تمھارے لیے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ پس اگر تم میں یہی عیب ہوتا جبکہ تم فسق سے پاک ہوتے، حالانکہ یہ بہت بعید ہے... تو یہ برائی تمھارے فسق کی معیت میں تمھارے ہماری بابت طعن و تشنیع سے خفیف تر ہوتی۔
[60] اہل ایمان پر ان کا طعن و تشنیع کرنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اہل ایمان میں برائی ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿قُلۡ﴾ یعنی ان کی برائی اور قباحت کے بارے میں ان کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں خبر دوں اس سے بھی بری بات کی‘‘ جس کے بارے میں تم ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو اس کو صحیح فرض کرتے ہوئے ﴿ مَنۡ لَّعَنَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’جس پر اللہ نے لعنت کی۔‘‘ یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ﴿ وَغَضِبَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اس پر غضب نازل کیا‘‘ یعنی اسے دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا کیا ﴿ وَجَعَلَ مِنۡهُمُ الۡقِرَدَةَ وَالۡخَنَازِيۡرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوۡتَ﴾’’اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سور بنا دیا اور جنھوں نے طاغوت کی بندگی کی‘‘ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے، وہ طاغوت ہے۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا ان قبیح خصائل کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے ﴿ شَرٌّ مَّكَانًا ﴾ ’’ان کا ٹھکانا (اہل ایمان سے) برا ہے۔‘‘ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ان کی نسبت زیادہ قریب ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اس نے ان کو دنیا و آخرت میں ثواب سے نواز دیا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا۔یہ (اَفْعَلْ التَّفْضِیل)کو ایک دوسرے اسلوب میں استعمال کرنے کی نوع ہے۔ اور اسی طرح یہ قول ہے۔﴿ وَّاَضَلُّ عَنۡ سَوَؔآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور بہت بہکے ہوئے ہیں سیدھی راہ سے‘‘ یعنی وہ اعتدال کی راہ سے بہت دور ہیں ۔
[61]﴿ وَاِذَا جَآءُوۡؔكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ﴾ ’’اور جب وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے‘‘ یعنی وہ مکرو فریب اور نفاق کی بنا پر کہتے ہیں ﴿ وَقَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡكُفۡرِ وَهُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِهٖ﴾ ’’حالانکہ وہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لے کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس حال میں داخل ہوئے کہ وہ کفر میں گھرے ہوئے تھے اور اسی کے ساتھ وہ نکلے۔ پس ان کا داخل ہونا اور ان کا نکلنا کفر کے ساتھ ہے۔ بایں ہمہ وہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں ۔ ان سے زیادہ برا اور ان سے زیادہ بدحال کوئی اور ہو سکتا ہے؟ ﴿وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا كَانُوۡا يَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں ‘‘ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے، برے اعمال کا بدلہ دے گا۔
[62] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی مدد اور تائید کی خاطر بتکرار ان یہود و کفار کے معایب بیان کرتا ہے ﴿ وَتَرٰؔى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور تو ان میں سے اکثر کو دیکھے گا‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿ يُسَارِعُوۡنَ فِي الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ ﴾ ’’وہ گناہ اور زیادتی میں دوڑ کر حصہ لیتے ہیں ‘‘ یعنی وہ ان گناہوں کی طرف سبقت کرتے ہیں جو خالق کے حقوق سے متعلق ہیں اور مخلوق پر ظلم اور تعدی کے زمرے میں آتے ہیں ﴿ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’اور ان کے حرام کھانے پر‘‘ جو کہ حرام ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے صرف یہ خبر دینے پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ ان افعال کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ یہ بھی خبر دی کہ وہ ان افعال بد میں سبقت کرتے ہیں اور یہ چیز ان کی خباثت اور برائی پر دلالت کرتی ہے۔ گناہ اور ظلم ان کے نفس کی فطرت کا حصہ بن گئے۔ یہ ہے ان کا حال اور وہ ہیں کہ اپنے لیے مقامات بلند کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’بہت برے کام ہیں جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یہ ان کی مذمت اور ان کی تشنیع کی انتہا ہے۔
[63]﴿ لَوۡلَا يَنۡهٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِهِمُ الۡاِثۡمَ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’کیوں نہیں روکتے ان کو درویش اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے‘‘ یعنی علماء جو عوام الناس کے نفع کے درپے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و دانش سے نوازا ہے، انھوں نے لوگوں کو ان گناہوں سے کیوں نہ روکا جو ان سے صادر ہوتے ہیں تاکہ ان سے جہالت دور ہو جاتی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی۔ کیونکہ یہ علماء ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے منع کریں اور ان کے سامنے دین کا راستہ واضح کریں ، انھیں بھلائیوں کی ترغیب دیں اور برائیوں کے انجام سے ڈرائیں ﴿لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ﴾ ’’بلاشبہ وہ بہت برا کرتے ہیں ۔‘‘
5:62وَتَرَىٰ كَثِيرٗا مِّنۡهُمۡ يُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِ وَأَكۡلِهِمُ ٱلسُّحۡتَۚ لَبِئۡسَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہیں کد (ضد) رکھتے تم ہم سے مگر اس وجہ سے کہ ایمان لائے ہم ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس چیز کے جو نازل کی گئی ہماری طرف اور جو نازل کی گئی اس سے پہلےاور یہ کہ اکثر تم میں فاسق ہیں (59) کہہ دیجیے! کیا خبر دوں میں تم کو بدتر کی اس سے، جزا کے اعتبار سے، نزدیک اللہ کے؟ وہ شخص کہ لعنت کی اس پر اللہ نے اور غصے ہوا اوپر اس کے اور کیے ان میں سے بندر اور سور اور پوجا کی اس نے شیطان کی، وہی لوگ ہیں بدتر درجے میں اور زیادہ گمراہ ہیں سیدھی راہ سے(60) اور جب آتے ہیں وہ تمھارے پاس تو کہتے ہیں ، ہم ایمان لائے اور حال یہ ہے کہ وہ داخل ہوئے تھے ساتھ کفر کے اور نکل گئے ساتھ اسی کے۔ اور اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو کہ تھے وہ چھپاتے(61)اور آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، جلدی کرتے ہیں گناہ میں اور زیادتی میں اور اپنے حرام کھانے میں ، البتہ بہت برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(62) کیوں نہیں روکتے ان کو رب والے اور علماء ان کے گناہ کی بات کہنے سے اور ان کے حرام کھانے سے، البتہ برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(63)
[59]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی اے رسول کہہ دیجیے ﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اے اہل کتاب!‘‘ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن و تشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن و تشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ ﴿ هَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ١ۙ وَاَنَّ اَكۡثَرَؔكُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں ) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں ۔‘‘ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں ، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا ایمان نہیں رکھتا وہ کافر اور فاسق ہے۔ کیا تم صرف اس امر کی بنا پر ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو جو تمام مکلفین پر سب سے زیادہ فرض ہے۔ اور بایں ہمہ کہ ان میں سے اکثر فاسق ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر اور اس کی نافرمانی کی جسارت کرنے والے ہیں تو اے فاسقو! تمھارے لیے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ پس اگر تم میں یہی عیب ہوتا جبکہ تم فسق سے پاک ہوتے، حالانکہ یہ بہت بعید ہے... تو یہ برائی تمھارے فسق کی معیت میں تمھارے ہماری بابت طعن و تشنیع سے خفیف تر ہوتی۔
[60] اہل ایمان پر ان کا طعن و تشنیع کرنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اہل ایمان میں برائی ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿قُلۡ﴾ یعنی ان کی برائی اور قباحت کے بارے میں ان کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں خبر دوں اس سے بھی بری بات کی‘‘ جس کے بارے میں تم ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو اس کو صحیح فرض کرتے ہوئے ﴿ مَنۡ لَّعَنَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’جس پر اللہ نے لعنت کی۔‘‘ یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ﴿ وَغَضِبَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اس پر غضب نازل کیا‘‘ یعنی اسے دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا کیا ﴿ وَجَعَلَ مِنۡهُمُ الۡقِرَدَةَ وَالۡخَنَازِيۡرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوۡتَ﴾’’اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سور بنا دیا اور جنھوں نے طاغوت کی بندگی کی‘‘ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے، وہ طاغوت ہے۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا ان قبیح خصائل کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے ﴿ شَرٌّ مَّكَانًا ﴾ ’’ان کا ٹھکانا (اہل ایمان سے) برا ہے۔‘‘ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ان کی نسبت زیادہ قریب ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اس نے ان کو دنیا و آخرت میں ثواب سے نواز دیا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا۔یہ (اَفْعَلْ التَّفْضِیل)کو ایک دوسرے اسلوب میں استعمال کرنے کی نوع ہے۔ اور اسی طرح یہ قول ہے۔﴿ وَّاَضَلُّ عَنۡ سَوَؔآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور بہت بہکے ہوئے ہیں سیدھی راہ سے‘‘ یعنی وہ اعتدال کی راہ سے بہت دور ہیں ۔
[61]﴿ وَاِذَا جَآءُوۡؔكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ﴾ ’’اور جب وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے‘‘ یعنی وہ مکرو فریب اور نفاق کی بنا پر کہتے ہیں ﴿ وَقَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡكُفۡرِ وَهُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِهٖ﴾ ’’حالانکہ وہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لے کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس حال میں داخل ہوئے کہ وہ کفر میں گھرے ہوئے تھے اور اسی کے ساتھ وہ نکلے۔ پس ان کا داخل ہونا اور ان کا نکلنا کفر کے ساتھ ہے۔ بایں ہمہ وہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں ۔ ان سے زیادہ برا اور ان سے زیادہ بدحال کوئی اور ہو سکتا ہے؟ ﴿وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا كَانُوۡا يَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں ‘‘ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے، برے اعمال کا بدلہ دے گا۔
[62] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی مدد اور تائید کی خاطر بتکرار ان یہود و کفار کے معایب بیان کرتا ہے ﴿ وَتَرٰؔى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور تو ان میں سے اکثر کو دیکھے گا‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿ يُسَارِعُوۡنَ فِي الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ ﴾ ’’وہ گناہ اور زیادتی میں دوڑ کر حصہ لیتے ہیں ‘‘ یعنی وہ ان گناہوں کی طرف سبقت کرتے ہیں جو خالق کے حقوق سے متعلق ہیں اور مخلوق پر ظلم اور تعدی کے زمرے میں آتے ہیں ﴿ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’اور ان کے حرام کھانے پر‘‘ جو کہ حرام ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے صرف یہ خبر دینے پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ ان افعال کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ یہ بھی خبر دی کہ وہ ان افعال بد میں سبقت کرتے ہیں اور یہ چیز ان کی خباثت اور برائی پر دلالت کرتی ہے۔ گناہ اور ظلم ان کے نفس کی فطرت کا حصہ بن گئے۔ یہ ہے ان کا حال اور وہ ہیں کہ اپنے لیے مقامات بلند کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’بہت برے کام ہیں جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یہ ان کی مذمت اور ان کی تشنیع کی انتہا ہے۔
[63]﴿ لَوۡلَا يَنۡهٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِهِمُ الۡاِثۡمَ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’کیوں نہیں روکتے ان کو درویش اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے‘‘ یعنی علماء جو عوام الناس کے نفع کے درپے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و دانش سے نوازا ہے، انھوں نے لوگوں کو ان گناہوں سے کیوں نہ روکا جو ان سے صادر ہوتے ہیں تاکہ ان سے جہالت دور ہو جاتی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی۔ کیونکہ یہ علماء ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے منع کریں اور ان کے سامنے دین کا راستہ واضح کریں ، انھیں بھلائیوں کی ترغیب دیں اور برائیوں کے انجام سے ڈرائیں ﴿لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ﴾ ’’بلاشبہ وہ بہت برا کرتے ہیں ۔‘‘
5:63لَوۡلَا يَنۡهَىٰهُمُ ٱلرَّبَّـٰنِيُّونَ وَٱلۡأَحۡبَارُ عَن قَوۡلِهِمُ ٱلۡإِثۡمَ وَأَكۡلِهِمُ ٱلسُّحۡتَۚ لَبِئۡسَ مَا كَانُواْ يَصۡنَعُونَ
کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہیں کد (ضد) رکھتے تم ہم سے مگر اس وجہ سے کہ ایمان لائے ہم ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس چیز کے جو نازل کی گئی ہماری طرف اور جو نازل کی گئی اس سے پہلےاور یہ کہ اکثر تم میں فاسق ہیں (59) کہہ دیجیے! کیا خبر دوں میں تم کو بدتر کی اس سے، جزا کے اعتبار سے، نزدیک اللہ کے؟ وہ شخص کہ لعنت کی اس پر اللہ نے اور غصے ہوا اوپر اس کے اور کیے ان میں سے بندر اور سور اور پوجا کی اس نے شیطان کی، وہی لوگ ہیں بدتر درجے میں اور زیادہ گمراہ ہیں سیدھی راہ سے(60) اور جب آتے ہیں وہ تمھارے پاس تو کہتے ہیں ، ہم ایمان لائے اور حال یہ ہے کہ وہ داخل ہوئے تھے ساتھ کفر کے اور نکل گئے ساتھ اسی کے۔ اور اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو کہ تھے وہ چھپاتے(61)اور آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، جلدی کرتے ہیں گناہ میں اور زیادتی میں اور اپنے حرام کھانے میں ، البتہ بہت برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(62) کیوں نہیں روکتے ان کو رب والے اور علماء ان کے گناہ کی بات کہنے سے اور ان کے حرام کھانے سے، البتہ برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(63)
[59]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی اے رسول کہہ دیجیے ﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اے اہل کتاب!‘‘ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن و تشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن و تشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ ﴿ هَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ١ۙ وَاَنَّ اَكۡثَرَؔكُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں ) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں ۔‘‘ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں ، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا ایمان نہیں رکھتا وہ کافر اور فاسق ہے۔ کیا تم صرف اس امر کی بنا پر ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو جو تمام مکلفین پر سب سے زیادہ فرض ہے۔ اور بایں ہمہ کہ ان میں سے اکثر فاسق ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر اور اس کی نافرمانی کی جسارت کرنے والے ہیں تو اے فاسقو! تمھارے لیے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ پس اگر تم میں یہی عیب ہوتا جبکہ تم فسق سے پاک ہوتے، حالانکہ یہ بہت بعید ہے... تو یہ برائی تمھارے فسق کی معیت میں تمھارے ہماری بابت طعن و تشنیع سے خفیف تر ہوتی۔
[60] اہل ایمان پر ان کا طعن و تشنیع کرنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اہل ایمان میں برائی ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿قُلۡ﴾ یعنی ان کی برائی اور قباحت کے بارے میں ان کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں خبر دوں اس سے بھی بری بات کی‘‘ جس کے بارے میں تم ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو اس کو صحیح فرض کرتے ہوئے ﴿ مَنۡ لَّعَنَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’جس پر اللہ نے لعنت کی۔‘‘ یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ﴿ وَغَضِبَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اس پر غضب نازل کیا‘‘ یعنی اسے دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا کیا ﴿ وَجَعَلَ مِنۡهُمُ الۡقِرَدَةَ وَالۡخَنَازِيۡرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوۡتَ﴾’’اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سور بنا دیا اور جنھوں نے طاغوت کی بندگی کی‘‘ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے، وہ طاغوت ہے۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا ان قبیح خصائل کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے ﴿ شَرٌّ مَّكَانًا ﴾ ’’ان کا ٹھکانا (اہل ایمان سے) برا ہے۔‘‘ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ان کی نسبت زیادہ قریب ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اس نے ان کو دنیا و آخرت میں ثواب سے نواز دیا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا۔یہ (اَفْعَلْ التَّفْضِیل)کو ایک دوسرے اسلوب میں استعمال کرنے کی نوع ہے۔ اور اسی طرح یہ قول ہے۔﴿ وَّاَضَلُّ عَنۡ سَوَؔآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور بہت بہکے ہوئے ہیں سیدھی راہ سے‘‘ یعنی وہ اعتدال کی راہ سے بہت دور ہیں ۔
[61]﴿ وَاِذَا جَآءُوۡؔكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ﴾ ’’اور جب وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے‘‘ یعنی وہ مکرو فریب اور نفاق کی بنا پر کہتے ہیں ﴿ وَقَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡكُفۡرِ وَهُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِهٖ﴾ ’’حالانکہ وہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لے کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اس حال میں داخل ہوئے کہ وہ کفر میں گھرے ہوئے تھے اور اسی کے ساتھ وہ نکلے۔ پس ان کا داخل ہونا اور ان کا نکلنا کفر کے ساتھ ہے۔ بایں ہمہ وہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں ۔ ان سے زیادہ برا اور ان سے زیادہ بدحال کوئی اور ہو سکتا ہے؟ ﴿وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا كَانُوۡا يَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں ‘‘ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے، برے اعمال کا بدلہ دے گا۔
[62] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی مدد اور تائید کی خاطر بتکرار ان یہود و کفار کے معایب بیان کرتا ہے ﴿ وَتَرٰؔى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور تو ان میں سے اکثر کو دیکھے گا‘‘ یعنی یہودیوں میں سے ﴿ يُسَارِعُوۡنَ فِي الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ ﴾ ’’وہ گناہ اور زیادتی میں دوڑ کر حصہ لیتے ہیں ‘‘ یعنی وہ ان گناہوں کی طرف سبقت کرتے ہیں جو خالق کے حقوق سے متعلق ہیں اور مخلوق پر ظلم اور تعدی کے زمرے میں آتے ہیں ﴿ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’اور ان کے حرام کھانے پر‘‘ جو کہ حرام ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے صرف یہ خبر دینے پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ ان افعال کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ یہ بھی خبر دی کہ وہ ان افعال بد میں سبقت کرتے ہیں اور یہ چیز ان کی خباثت اور برائی پر دلالت کرتی ہے۔ گناہ اور ظلم ان کے نفس کی فطرت کا حصہ بن گئے۔ یہ ہے ان کا حال اور وہ ہیں کہ اپنے لیے مقامات بلند کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’بہت برے کام ہیں جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یہ ان کی مذمت اور ان کی تشنیع کی انتہا ہے۔
[63]﴿ لَوۡلَا يَنۡهٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِهِمُ الۡاِثۡمَ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ﴾ ’’کیوں نہیں روکتے ان کو درویش اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے‘‘ یعنی علماء جو عوام الناس کے نفع کے درپے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و دانش سے نوازا ہے، انھوں نے لوگوں کو ان گناہوں سے کیوں نہ روکا جو ان سے صادر ہوتے ہیں تاکہ ان سے جہالت دور ہو جاتی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی۔ کیونکہ یہ علماء ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے منع کریں اور ان کے سامنے دین کا راستہ واضح کریں ، انھیں بھلائیوں کی ترغیب دیں اور برائیوں کے انجام سے ڈرائیں ﴿لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ﴾ ’’بلاشبہ وہ بہت برا کرتے ہیں ۔‘‘
5:64وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ يَدُ ٱللَّهِ مَغۡلُولَةٌۚ غُلَّتۡ أَيۡدِيهِمۡ وَلُعِنُواْ بِمَا قَالُواْۘ بَلۡ يَدَاهُ مَبۡسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيۡفَ يَشَآءُۚ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرٗا مِّنۡهُم مَّآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَ طُغۡيَٰنٗا وَكُفۡرٗاۚ وَأَلۡقَيۡنَا بَيۡنَهُمُ ٱلۡعَدَٰوَةَ وَٱلۡبَغۡضَآءَ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ كُلَّمَآ أَوۡقَدُواْ نَارٗا لِّلۡحَرۡبِ أَطۡفَأَهَا ٱللَّهُۚ وَيَسۡعَوۡنَ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَسَادٗاۚ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُفۡسِدِينَ
اور کہا یہود نے، ہاتھ اللہ کے بندھے ہوئے ہیں ۔ بند ہو جائیں ہاتھ انھی کے اور لعنت کیے جائیں بسبب ان کے قول کےبلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہیں ، وہ خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے اور یقینا زیادہ کرے گا بہتوں کو ان میں سے (وہ قرآن) جو اُتارا گیا آپ کی جانب، طرف سے آپ کے رب کی، سرکشی اور کفر میں ۔ اور ڈال دی ہم نے ان کے درمیان عداوت اور بغض قیامت کے دن تک جب کبھی جلاتے ہیں وہ آگ لڑائی کے لیے تو بجھا دیتا ہے اسے اللہ اور دوڑتے پھرتے ہیں وہ زمین میں فساد کرنے کو اور اللہ نہیں پسند کرتا فسادیوں کو(64) اور اگر بے شک اہل کتاب ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کر لیں تو یقینا دور کر دیں گے ہم ان سے ان کی برائیاں اور ضرور داخل کریں گے ان کو نعمت والے باغوں میں (65) اور اگر بے شک وہ قائم رکھتے تورات اور انجیل کو اور جو کچھ نازل کیا گیا ہے ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے تو یقینا کھاتے وہ اپنے اوپر سے اور اپنے پیروں کے نیچے سے ان میں سے ایک گروہ ہے درمیانی راہ چلنے والااور زیادہ لوگ ان میں سے، برا ہے جو وہ کررہے ہیں (66)
[64] اللہ تبارک و تعالیٰ یہود کے انتہائی خبیث قول اور ان کے قبیح ترین عقیدے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ يَدُ اللّٰهِ مَغۡلُوۡلَةٌ﴾ ’’یہود نے کہا، اللہ کا ہاتھ بند ہو گیا ہے‘‘ یعنی بھلائی احسان اور نیکی سے ﴿ غُلَّتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ وَلُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا﴾ ’’انھی کے ہاتھ بند ہو جائیں اور لعنت ہے ان کے اس کہنے پر‘‘ یہ انھی کی گفتگو کی جنس کے ساتھ ان کے لیے بددعا ہے چونکہ ان کی یہ بدگوئی اللہ کریم کو بخل اور عدم احسان کی صفات سے متصف کرنے کی متضمن ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی وصف کو منطبق کرکے ان کو اس بدگوئی کا بدلہ دیا ہے۔ پس یہود بخیل ترین، نیکی کے اعتبار سے قلیل ترین، اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوء ظنی میں بدترین اور اللہ تعالیٰ کی اس رحمت سے بعید ترین لوگ ہیں جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس سے تمام عالم علوی اور سفلی لبریز ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلۡ يَدٰهُ مَبۡسُوۡطَتٰنِ١ۙ يُنۡفِقُ كَيۡفَ يَشَآءُ﴾’’بلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں ، وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے‘‘ اس پر کوئی پابندی عائد نہیں اور کوئی روکنے والا نہیں جو اسے اپنے ارادے سے روک سکے۔ اس کا فضل و کرم اور دینی اور دنیاوی احسان بہت وسیع ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جود و کرم کے جھونکوں سے مستفید ہوں ۔ وہ اپنی نافرمانیوں کے ذریعے سے اپنے آپ پر اس کے فضل و احسان کے دروازے بند نہ کریں ۔ اس کی داد و دہش دن رات جاری ہے، اس کی عطا و بخشش ہر وقت موسلا دھار بارش کی مانند ہے۔وہ دکھوں کو دور کرتا ہے، غموں کا ازالہ کرتا ہے، محتاج کو بے نیاز کرتا ہے، قیدی کو آزاد کرتا ہے، ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے، مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہے۔ محتاج کو عطا کرتا ہے، مجبوروں کو ان کی پکار کا جواب دیتا ہے، سوال کرنے والوں کے سوال کو پورا کرتا ہے۔ جو اس سے سوال نہیں کرتا اسے بھی نعمتیں عطا کرتا ہے، جو اس سے عافیت طلب کرتا ہے اسے عافیت عطا کرتا ہے، وہ کسی نافرمان کو اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرتا بلکہ نیک اور بد سب اس کی بھلائی سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے اولیا کو نیک اعمال کی توفیق سے نوازتا ہے جو اس کا جود و کرم ہے، پھر وہ ان اعمال پر ان کی تعریف کرتا اور ان کی اضافت ان کی طرف کرتا ہے اور یہ بھی اس کے جودوکرم کا نتیجہ ہے اور ان کو دنیا و آخرت میں ایسا ثواب عطا کرتا ہے کہ زبان اس کے بیان سے قاصر ہے اور بندے کے طائر خیال کی اس تک رسائی ممکن نہیں ۔ وہ تمام امور میں ان کو لطف و کرم سے نوازتا ہے۔ وہ اپنا احسان ان تک پہنچاتا رہتا ہے۔ وہ اپنے طور پر ہی ان سے بہت سی مصیبتیں دور کر دیتا ہے کہ ان کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا۔پاک ہے وہ ذات کہ بندوں کے پاس جو نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور تکالیف کو دور کرنے کے لیے اسی کے سامنے گڑگڑاتے ہیں اور برکت والی ہے وہ ذات جس کی مدح و ثنا کو کوئی شمار نہیں کر سکتا، بس وہ ایسے ہے جیسے اس نے خود اپنی مدح و ثنا بیان کی۔ بالا و بلند ہے وہ ہستی کہ بندے ایک لمحے کے لیے بھی اس کے فضل و کرم سے علیحدہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا وجود اور ان کی بقا اسی کے جود و کرم کی مرہون ہے۔اللہ تعالیٰ برا کرے ان لوگوں کا جو اپنی جہالت کی بنا پر اپنے آپ کو اپنے رب سے بے نیاز سمجھتے ہیں اور اس کی طرف ایسے امور منسوب کرتے ہیں جو اس کی جلالت کے لائق نہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ ان یہود کے ساتھ، جنھوں نے یہ بدگوئی کی ہے اور ان جیسے دیگر لوگوں کے ساتھ ان کے کسی قول پر معاملہ کرتا تو وہ ہلاک ہو جاتے اور دنیا میں بدبختی کا شکار ہو جاتے۔ مگر وہ اس قسم کی گستاخانہ باتیں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بردباری سے پیش آتا ہے اور ان سے درگزر فرماتا ہے، ان کو ڈھیل دیتا ہے مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑتا۔﴿ وَلَيَزِيۡدَنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾’’اور یقینا ان میں سے بہتوں کو، وہ کلام جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے، سرکشی اور کفر میں ہی بڑھائے گا‘‘ یہ بندے کے لیے سب سے بڑی سزا ہے کہ وہ ذکر، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر نازل کیا ہے جس میں قلب و روح کی زندگی، دنیا و آخرت کی سعادت اور فلاح ہے جو اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سعادت کے ذریعے سے اپنے بندوں پر احسان فرمایا ہے جو ان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اسے قبول کرنے کے لیے آگے بڑھیں ، اس کے سبب سے اللہ کے سامنے سر جھکا دیں ، اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ... وہی ذکر اس کی گمراہی، سرکشی اور کفر میں اضافے کا باعث بن جائے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اس سے روگردانی کی اور اسے ٹھکرا دیا اس سے عناد رکھا اور شبہات باطلہ کی بنا پر اس کی مخالفت کی۔﴿ وَاَلۡقَيۡنَا بَيۡنَهُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَؔ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور ہم نے ڈال دی ہے ان کے درمیان دشمنی اور بغض قیامت کے دن تک‘‘ پس وہ ایک دوسرے سے محبت نہیں کریں گے، ایک دوسرے کی مدد نہیں کریں گے اور وہ کسی ایسی بات پر متفق نہیں ہوں گے جس میں ان کی کوئی مصلحت ہو۔ بلکہ وہ ہمیشہ اپنے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کینہ اور بغض رکھیں گے اور قیامت تک ایک دوسرے پر ظلم اور تعدی کا ارتکاب کرتے رہیں گے۔ ﴿ كُلَّمَاۤ اَوۡقَدُوۡا نَارًا لِّلۡحَرۡبِ ﴾ ’’جب کبھی آگ سلگاتے ہیں لڑائی کے لیے‘‘ تاکہ اس طرح وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کریں ، ان کے خلاف چالیں چلیں اور ان پر سوار اور پیادے چڑھا لائیں ﴿ اَطۡفَاَهَا اللّٰهُ﴾ ’’اللہ اس کو بجھا دیتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کے لشکروں کو منتشر کر کے، ان کے خلاف مسلمانوں کی نصرت فرما کر اس آگ کو بجھا دیتا ہے۔ ﴿ وَيَسۡعَوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ فَسَادًا﴾ ’’اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑے پھرتے ہیں ۔‘‘ یعنی زمین میں فساد پھیلانے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ، اپنے باطل دین کی طرف دعوت دیتے ہیں اور لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ بلکہ ان کے ساتھ سخت ناراض ہوتا ہے وہ عنقریب انھیں اس کی سزا دے گا۔
[65] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡكِتٰبِ اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَكَـفَّرۡنَا عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ وَلَاَدۡخَلۡنٰهُمۡ۠ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان سے ان کی برائیاں دور کر دیتے اور ان کو نعمت والے باغوں میں داخل کرتے‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کا جود و کرم ہے کہ جہاں اس نے اہل کتاب کی برائیوں اور ان کے معایب اور ان کے اقوال باطلہ کا ذکر فرمایا ہے، وہاں ان کو توبہ کی طرف بھی بلایا ہے اور یہ کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اس کے فرشتوں ، اس کی تمام کتابوں اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لے آئیں اور گناہوں سے پرہیز کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی تمام برائیاں ، خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہوں ، مٹا دے گا اور ان کو نعمتوں سے بھری ہوئی جنت میں داخل کرے گا جس میں وہ کچھ ہے کہ نفس اس کی چاہت رکھتے ہیں اور آنکھیں اس سے لذت اٹھاتی ہیں ۔
[66]﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اَقَامُوا التَّوۡرٰىةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اگر وہ قائم کرتے تورات، انجیل اور اس کو جو نازل کیا گیا ان پر، ان کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی اگر وہ تورات و انجیل کے احکام کو قائم کرتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو توجہ دلائی اور ان کو ترغیب دی ہے۔ تورات و انجیل کو قائم کرنے سے مراد ان امور پر ایمان لانا ہے جن کی طرف یہ دونوں کتابیں دعوت دیتی ہیں ، یعنی محمد مصطفیﷺ اور قرآن پر ایمان لانا۔اگر وہ اس عظیم نعمت کو قائم کرتے جس کو ان کے رب نے ان کی طرف نازل فرمایا ہے یعنی ان کی خاطر اور ان کے ساتھ اعتنا کی بنا پر اس نعمت کو ان کی طرف نازل کیا ہے ﴿ لَاَكَلُوۡا مِنۡ فَوۡقِهِمۡ وَ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِهِمۡ﴾ ’’تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر رزق کے دروازے کھول دیتا، آسمان سے ان پر بارش برساتا اور زمین ان کے لیے فصلیں اگاتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰۤى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَؔكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ﴾(الاعراف: 7؍96)’’اگر بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر زمین اور آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔‘‘﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے‘‘ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اُمَّةٌ مُّقۡتَصِدَةٌ﴾ ’’ایک گروہ ہے سیدھی راہ پر‘‘ یعنی ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تورات و انجیل پر عامل ہے مگر اس کا عمل قوی اور نشاط انگیز نہیں ہے ﴿ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ سَآءَؔ مَا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں ۔‘‘ یعنی ان میں برائیوں کا ارتکاب کرنے والے بہت زیادہ ہیں اور نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے بہت کم ہیں ۔
5:65وَلَوۡ أَنَّ أَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ ءَامَنُواْ وَٱتَّقَوۡاْ لَكَفَّرۡنَا عَنۡهُمۡ سَيِّـَٔاتِهِمۡ وَلَأَدۡخَلۡنَٰهُمۡ جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ
اور کہا یہود نے، ہاتھ اللہ کے بندھے ہوئے ہیں ۔ بند ہو جائیں ہاتھ انھی کے اور لعنت کیے جائیں بسبب ان کے قول کےبلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہیں ، وہ خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے اور یقینا زیادہ کرے گا بہتوں کو ان میں سے (وہ قرآن) جو اُتارا گیا آپ کی جانب، طرف سے آپ کے رب کی، سرکشی اور کفر میں ۔ اور ڈال دی ہم نے ان کے درمیان عداوت اور بغض قیامت کے دن تک جب کبھی جلاتے ہیں وہ آگ لڑائی کے لیے تو بجھا دیتا ہے اسے اللہ اور دوڑتے پھرتے ہیں وہ زمین میں فساد کرنے کو اور اللہ نہیں پسند کرتا فسادیوں کو(64) اور اگر بے شک اہل کتاب ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کر لیں تو یقینا دور کر دیں گے ہم ان سے ان کی برائیاں اور ضرور داخل کریں گے ان کو نعمت والے باغوں میں (65) اور اگر بے شک وہ قائم رکھتے تورات اور انجیل کو اور جو کچھ نازل کیا گیا ہے ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے تو یقینا کھاتے وہ اپنے اوپر سے اور اپنے پیروں کے نیچے سے ان میں سے ایک گروہ ہے درمیانی راہ چلنے والااور زیادہ لوگ ان میں سے، برا ہے جو وہ کررہے ہیں (66)
[64] اللہ تبارک و تعالیٰ یہود کے انتہائی خبیث قول اور ان کے قبیح ترین عقیدے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ يَدُ اللّٰهِ مَغۡلُوۡلَةٌ﴾ ’’یہود نے کہا، اللہ کا ہاتھ بند ہو گیا ہے‘‘ یعنی بھلائی احسان اور نیکی سے ﴿ غُلَّتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ وَلُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا﴾ ’’انھی کے ہاتھ بند ہو جائیں اور لعنت ہے ان کے اس کہنے پر‘‘ یہ انھی کی گفتگو کی جنس کے ساتھ ان کے لیے بددعا ہے چونکہ ان کی یہ بدگوئی اللہ کریم کو بخل اور عدم احسان کی صفات سے متصف کرنے کی متضمن ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی وصف کو منطبق کرکے ان کو اس بدگوئی کا بدلہ دیا ہے۔ پس یہود بخیل ترین، نیکی کے اعتبار سے قلیل ترین، اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوء ظنی میں بدترین اور اللہ تعالیٰ کی اس رحمت سے بعید ترین لوگ ہیں جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس سے تمام عالم علوی اور سفلی لبریز ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلۡ يَدٰهُ مَبۡسُوۡطَتٰنِ١ۙ يُنۡفِقُ كَيۡفَ يَشَآءُ﴾’’بلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں ، وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے‘‘ اس پر کوئی پابندی عائد نہیں اور کوئی روکنے والا نہیں جو اسے اپنے ارادے سے روک سکے۔ اس کا فضل و کرم اور دینی اور دنیاوی احسان بہت وسیع ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جود و کرم کے جھونکوں سے مستفید ہوں ۔ وہ اپنی نافرمانیوں کے ذریعے سے اپنے آپ پر اس کے فضل و احسان کے دروازے بند نہ کریں ۔ اس کی داد و دہش دن رات جاری ہے، اس کی عطا و بخشش ہر وقت موسلا دھار بارش کی مانند ہے۔وہ دکھوں کو دور کرتا ہے، غموں کا ازالہ کرتا ہے، محتاج کو بے نیاز کرتا ہے، قیدی کو آزاد کرتا ہے، ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے، مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہے۔ محتاج کو عطا کرتا ہے، مجبوروں کو ان کی پکار کا جواب دیتا ہے، سوال کرنے والوں کے سوال کو پورا کرتا ہے۔ جو اس سے سوال نہیں کرتا اسے بھی نعمتیں عطا کرتا ہے، جو اس سے عافیت طلب کرتا ہے اسے عافیت عطا کرتا ہے، وہ کسی نافرمان کو اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرتا بلکہ نیک اور بد سب اس کی بھلائی سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے اولیا کو نیک اعمال کی توفیق سے نوازتا ہے جو اس کا جود و کرم ہے، پھر وہ ان اعمال پر ان کی تعریف کرتا اور ان کی اضافت ان کی طرف کرتا ہے اور یہ بھی اس کے جودوکرم کا نتیجہ ہے اور ان کو دنیا و آخرت میں ایسا ثواب عطا کرتا ہے کہ زبان اس کے بیان سے قاصر ہے اور بندے کے طائر خیال کی اس تک رسائی ممکن نہیں ۔ وہ تمام امور میں ان کو لطف و کرم سے نوازتا ہے۔ وہ اپنا احسان ان تک پہنچاتا رہتا ہے۔ وہ اپنے طور پر ہی ان سے بہت سی مصیبتیں دور کر دیتا ہے کہ ان کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا۔پاک ہے وہ ذات کہ بندوں کے پاس جو نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور تکالیف کو دور کرنے کے لیے اسی کے سامنے گڑگڑاتے ہیں اور برکت والی ہے وہ ذات جس کی مدح و ثنا کو کوئی شمار نہیں کر سکتا، بس وہ ایسے ہے جیسے اس نے خود اپنی مدح و ثنا بیان کی۔ بالا و بلند ہے وہ ہستی کہ بندے ایک لمحے کے لیے بھی اس کے فضل و کرم سے علیحدہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا وجود اور ان کی بقا اسی کے جود و کرم کی مرہون ہے۔اللہ تعالیٰ برا کرے ان لوگوں کا جو اپنی جہالت کی بنا پر اپنے آپ کو اپنے رب سے بے نیاز سمجھتے ہیں اور اس کی طرف ایسے امور منسوب کرتے ہیں جو اس کی جلالت کے لائق نہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ ان یہود کے ساتھ، جنھوں نے یہ بدگوئی کی ہے اور ان جیسے دیگر لوگوں کے ساتھ ان کے کسی قول پر معاملہ کرتا تو وہ ہلاک ہو جاتے اور دنیا میں بدبختی کا شکار ہو جاتے۔ مگر وہ اس قسم کی گستاخانہ باتیں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بردباری سے پیش آتا ہے اور ان سے درگزر فرماتا ہے، ان کو ڈھیل دیتا ہے مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑتا۔﴿ وَلَيَزِيۡدَنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾’’اور یقینا ان میں سے بہتوں کو، وہ کلام جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے، سرکشی اور کفر میں ہی بڑھائے گا‘‘ یہ بندے کے لیے سب سے بڑی سزا ہے کہ وہ ذکر، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر نازل کیا ہے جس میں قلب و روح کی زندگی، دنیا و آخرت کی سعادت اور فلاح ہے جو اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سعادت کے ذریعے سے اپنے بندوں پر احسان فرمایا ہے جو ان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اسے قبول کرنے کے لیے آگے بڑھیں ، اس کے سبب سے اللہ کے سامنے سر جھکا دیں ، اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ... وہی ذکر اس کی گمراہی، سرکشی اور کفر میں اضافے کا باعث بن جائے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اس سے روگردانی کی اور اسے ٹھکرا دیا اس سے عناد رکھا اور شبہات باطلہ کی بنا پر اس کی مخالفت کی۔﴿ وَاَلۡقَيۡنَا بَيۡنَهُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَؔ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور ہم نے ڈال دی ہے ان کے درمیان دشمنی اور بغض قیامت کے دن تک‘‘ پس وہ ایک دوسرے سے محبت نہیں کریں گے، ایک دوسرے کی مدد نہیں کریں گے اور وہ کسی ایسی بات پر متفق نہیں ہوں گے جس میں ان کی کوئی مصلحت ہو۔ بلکہ وہ ہمیشہ اپنے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کینہ اور بغض رکھیں گے اور قیامت تک ایک دوسرے پر ظلم اور تعدی کا ارتکاب کرتے رہیں گے۔ ﴿ كُلَّمَاۤ اَوۡقَدُوۡا نَارًا لِّلۡحَرۡبِ ﴾ ’’جب کبھی آگ سلگاتے ہیں لڑائی کے لیے‘‘ تاکہ اس طرح وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کریں ، ان کے خلاف چالیں چلیں اور ان پر سوار اور پیادے چڑھا لائیں ﴿ اَطۡفَاَهَا اللّٰهُ﴾ ’’اللہ اس کو بجھا دیتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کے لشکروں کو منتشر کر کے، ان کے خلاف مسلمانوں کی نصرت فرما کر اس آگ کو بجھا دیتا ہے۔ ﴿ وَيَسۡعَوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ فَسَادًا﴾ ’’اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑے پھرتے ہیں ۔‘‘ یعنی زمین میں فساد پھیلانے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ، اپنے باطل دین کی طرف دعوت دیتے ہیں اور لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ بلکہ ان کے ساتھ سخت ناراض ہوتا ہے وہ عنقریب انھیں اس کی سزا دے گا۔
[65] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡكِتٰبِ اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَكَـفَّرۡنَا عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ وَلَاَدۡخَلۡنٰهُمۡ۠ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان سے ان کی برائیاں دور کر دیتے اور ان کو نعمت والے باغوں میں داخل کرتے‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کا جود و کرم ہے کہ جہاں اس نے اہل کتاب کی برائیوں اور ان کے معایب اور ان کے اقوال باطلہ کا ذکر فرمایا ہے، وہاں ان کو توبہ کی طرف بھی بلایا ہے اور یہ کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اس کے فرشتوں ، اس کی تمام کتابوں اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لے آئیں اور گناہوں سے پرہیز کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی تمام برائیاں ، خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہوں ، مٹا دے گا اور ان کو نعمتوں سے بھری ہوئی جنت میں داخل کرے گا جس میں وہ کچھ ہے کہ نفس اس کی چاہت رکھتے ہیں اور آنکھیں اس سے لذت اٹھاتی ہیں ۔
[66]﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اَقَامُوا التَّوۡرٰىةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اگر وہ قائم کرتے تورات، انجیل اور اس کو جو نازل کیا گیا ان پر، ان کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی اگر وہ تورات و انجیل کے احکام کو قائم کرتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو توجہ دلائی اور ان کو ترغیب دی ہے۔ تورات و انجیل کو قائم کرنے سے مراد ان امور پر ایمان لانا ہے جن کی طرف یہ دونوں کتابیں دعوت دیتی ہیں ، یعنی محمد مصطفیﷺ اور قرآن پر ایمان لانا۔اگر وہ اس عظیم نعمت کو قائم کرتے جس کو ان کے رب نے ان کی طرف نازل فرمایا ہے یعنی ان کی خاطر اور ان کے ساتھ اعتنا کی بنا پر اس نعمت کو ان کی طرف نازل کیا ہے ﴿ لَاَكَلُوۡا مِنۡ فَوۡقِهِمۡ وَ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِهِمۡ﴾ ’’تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر رزق کے دروازے کھول دیتا، آسمان سے ان پر بارش برساتا اور زمین ان کے لیے فصلیں اگاتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰۤى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَؔكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ﴾(الاعراف: 7؍96)’’اگر بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر زمین اور آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔‘‘﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے‘‘ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اُمَّةٌ مُّقۡتَصِدَةٌ﴾ ’’ایک گروہ ہے سیدھی راہ پر‘‘ یعنی ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تورات و انجیل پر عامل ہے مگر اس کا عمل قوی اور نشاط انگیز نہیں ہے ﴿ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ سَآءَؔ مَا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں ۔‘‘ یعنی ان میں برائیوں کا ارتکاب کرنے والے بہت زیادہ ہیں اور نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے بہت کم ہیں ۔
5:66وَلَوۡ أَنَّهُمۡ أَقَامُواْ ٱلتَّوۡرَىٰةَ وَٱلۡإِنجِيلَ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِم مِّن رَّبِّهِمۡ لَأَكَلُواْ مِن فَوۡقِهِمۡ وَمِن تَحۡتِ أَرۡجُلِهِمۚ مِّنۡهُمۡ أُمَّةٞ مُّقۡتَصِدَةٞۖ وَكَثِيرٞ مِّنۡهُمۡ سَآءَ مَا يَعۡمَلُونَ
اور کہا یہود نے، ہاتھ اللہ کے بندھے ہوئے ہیں ۔ بند ہو جائیں ہاتھ انھی کے اور لعنت کیے جائیں بسبب ان کے قول کےبلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہیں ، وہ خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے اور یقینا زیادہ کرے گا بہتوں کو ان میں سے (وہ قرآن) جو اُتارا گیا آپ کی جانب، طرف سے آپ کے رب کی، سرکشی اور کفر میں ۔ اور ڈال دی ہم نے ان کے درمیان عداوت اور بغض قیامت کے دن تک جب کبھی جلاتے ہیں وہ آگ لڑائی کے لیے تو بجھا دیتا ہے اسے اللہ اور دوڑتے پھرتے ہیں وہ زمین میں فساد کرنے کو اور اللہ نہیں پسند کرتا فسادیوں کو(64) اور اگر بے شک اہل کتاب ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کر لیں تو یقینا دور کر دیں گے ہم ان سے ان کی برائیاں اور ضرور داخل کریں گے ان کو نعمت والے باغوں میں (65) اور اگر بے شک وہ قائم رکھتے تورات اور انجیل کو اور جو کچھ نازل کیا گیا ہے ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے تو یقینا کھاتے وہ اپنے اوپر سے اور اپنے پیروں کے نیچے سے ان میں سے ایک گروہ ہے درمیانی راہ چلنے والااور زیادہ لوگ ان میں سے، برا ہے جو وہ کررہے ہیں (66)
[64] اللہ تبارک و تعالیٰ یہود کے انتہائی خبیث قول اور ان کے قبیح ترین عقیدے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ يَدُ اللّٰهِ مَغۡلُوۡلَةٌ﴾ ’’یہود نے کہا، اللہ کا ہاتھ بند ہو گیا ہے‘‘ یعنی بھلائی احسان اور نیکی سے ﴿ غُلَّتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ وَلُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا﴾ ’’انھی کے ہاتھ بند ہو جائیں اور لعنت ہے ان کے اس کہنے پر‘‘ یہ انھی کی گفتگو کی جنس کے ساتھ ان کے لیے بددعا ہے چونکہ ان کی یہ بدگوئی اللہ کریم کو بخل اور عدم احسان کی صفات سے متصف کرنے کی متضمن ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی وصف کو منطبق کرکے ان کو اس بدگوئی کا بدلہ دیا ہے۔ پس یہود بخیل ترین، نیکی کے اعتبار سے قلیل ترین، اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوء ظنی میں بدترین اور اللہ تعالیٰ کی اس رحمت سے بعید ترین لوگ ہیں جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس سے تمام عالم علوی اور سفلی لبریز ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلۡ يَدٰهُ مَبۡسُوۡطَتٰنِ١ۙ يُنۡفِقُ كَيۡفَ يَشَآءُ﴾’’بلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں ، وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے‘‘ اس پر کوئی پابندی عائد نہیں اور کوئی روکنے والا نہیں جو اسے اپنے ارادے سے روک سکے۔ اس کا فضل و کرم اور دینی اور دنیاوی احسان بہت وسیع ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جود و کرم کے جھونکوں سے مستفید ہوں ۔ وہ اپنی نافرمانیوں کے ذریعے سے اپنے آپ پر اس کے فضل و احسان کے دروازے بند نہ کریں ۔ اس کی داد و دہش دن رات جاری ہے، اس کی عطا و بخشش ہر وقت موسلا دھار بارش کی مانند ہے۔وہ دکھوں کو دور کرتا ہے، غموں کا ازالہ کرتا ہے، محتاج کو بے نیاز کرتا ہے، قیدی کو آزاد کرتا ہے، ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے، مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہے۔ محتاج کو عطا کرتا ہے، مجبوروں کو ان کی پکار کا جواب دیتا ہے، سوال کرنے والوں کے سوال کو پورا کرتا ہے۔ جو اس سے سوال نہیں کرتا اسے بھی نعمتیں عطا کرتا ہے، جو اس سے عافیت طلب کرتا ہے اسے عافیت عطا کرتا ہے، وہ کسی نافرمان کو اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرتا بلکہ نیک اور بد سب اس کی بھلائی سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے اولیا کو نیک اعمال کی توفیق سے نوازتا ہے جو اس کا جود و کرم ہے، پھر وہ ان اعمال پر ان کی تعریف کرتا اور ان کی اضافت ان کی طرف کرتا ہے اور یہ بھی اس کے جودوکرم کا نتیجہ ہے اور ان کو دنیا و آخرت میں ایسا ثواب عطا کرتا ہے کہ زبان اس کے بیان سے قاصر ہے اور بندے کے طائر خیال کی اس تک رسائی ممکن نہیں ۔ وہ تمام امور میں ان کو لطف و کرم سے نوازتا ہے۔ وہ اپنا احسان ان تک پہنچاتا رہتا ہے۔ وہ اپنے طور پر ہی ان سے بہت سی مصیبتیں دور کر دیتا ہے کہ ان کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا۔پاک ہے وہ ذات کہ بندوں کے پاس جو نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور تکالیف کو دور کرنے کے لیے اسی کے سامنے گڑگڑاتے ہیں اور برکت والی ہے وہ ذات جس کی مدح و ثنا کو کوئی شمار نہیں کر سکتا، بس وہ ایسے ہے جیسے اس نے خود اپنی مدح و ثنا بیان کی۔ بالا و بلند ہے وہ ہستی کہ بندے ایک لمحے کے لیے بھی اس کے فضل و کرم سے علیحدہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا وجود اور ان کی بقا اسی کے جود و کرم کی مرہون ہے۔اللہ تعالیٰ برا کرے ان لوگوں کا جو اپنی جہالت کی بنا پر اپنے آپ کو اپنے رب سے بے نیاز سمجھتے ہیں اور اس کی طرف ایسے امور منسوب کرتے ہیں جو اس کی جلالت کے لائق نہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ ان یہود کے ساتھ، جنھوں نے یہ بدگوئی کی ہے اور ان جیسے دیگر لوگوں کے ساتھ ان کے کسی قول پر معاملہ کرتا تو وہ ہلاک ہو جاتے اور دنیا میں بدبختی کا شکار ہو جاتے۔ مگر وہ اس قسم کی گستاخانہ باتیں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بردباری سے پیش آتا ہے اور ان سے درگزر فرماتا ہے، ان کو ڈھیل دیتا ہے مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑتا۔﴿ وَلَيَزِيۡدَنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾’’اور یقینا ان میں سے بہتوں کو، وہ کلام جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے، سرکشی اور کفر میں ہی بڑھائے گا‘‘ یہ بندے کے لیے سب سے بڑی سزا ہے کہ وہ ذکر، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر نازل کیا ہے جس میں قلب و روح کی زندگی، دنیا و آخرت کی سعادت اور فلاح ہے جو اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سعادت کے ذریعے سے اپنے بندوں پر احسان فرمایا ہے جو ان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اسے قبول کرنے کے لیے آگے بڑھیں ، اس کے سبب سے اللہ کے سامنے سر جھکا دیں ، اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ... وہی ذکر اس کی گمراہی، سرکشی اور کفر میں اضافے کا باعث بن جائے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اس سے روگردانی کی اور اسے ٹھکرا دیا اس سے عناد رکھا اور شبہات باطلہ کی بنا پر اس کی مخالفت کی۔﴿ وَاَلۡقَيۡنَا بَيۡنَهُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَؔ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور ہم نے ڈال دی ہے ان کے درمیان دشمنی اور بغض قیامت کے دن تک‘‘ پس وہ ایک دوسرے سے محبت نہیں کریں گے، ایک دوسرے کی مدد نہیں کریں گے اور وہ کسی ایسی بات پر متفق نہیں ہوں گے جس میں ان کی کوئی مصلحت ہو۔ بلکہ وہ ہمیشہ اپنے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کینہ اور بغض رکھیں گے اور قیامت تک ایک دوسرے پر ظلم اور تعدی کا ارتکاب کرتے رہیں گے۔ ﴿ كُلَّمَاۤ اَوۡقَدُوۡا نَارًا لِّلۡحَرۡبِ ﴾ ’’جب کبھی آگ سلگاتے ہیں لڑائی کے لیے‘‘ تاکہ اس طرح وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کریں ، ان کے خلاف چالیں چلیں اور ان پر سوار اور پیادے چڑھا لائیں ﴿ اَطۡفَاَهَا اللّٰهُ﴾ ’’اللہ اس کو بجھا دیتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کے لشکروں کو منتشر کر کے، ان کے خلاف مسلمانوں کی نصرت فرما کر اس آگ کو بجھا دیتا ہے۔ ﴿ وَيَسۡعَوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ فَسَادًا﴾ ’’اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑے پھرتے ہیں ۔‘‘ یعنی زمین میں فساد پھیلانے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ، اپنے باطل دین کی طرف دعوت دیتے ہیں اور لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ بلکہ ان کے ساتھ سخت ناراض ہوتا ہے وہ عنقریب انھیں اس کی سزا دے گا۔
[65] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡكِتٰبِ اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَكَـفَّرۡنَا عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ وَلَاَدۡخَلۡنٰهُمۡ۠ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان سے ان کی برائیاں دور کر دیتے اور ان کو نعمت والے باغوں میں داخل کرتے‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کا جود و کرم ہے کہ جہاں اس نے اہل کتاب کی برائیوں اور ان کے معایب اور ان کے اقوال باطلہ کا ذکر فرمایا ہے، وہاں ان کو توبہ کی طرف بھی بلایا ہے اور یہ کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اس کے فرشتوں ، اس کی تمام کتابوں اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لے آئیں اور گناہوں سے پرہیز کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی تمام برائیاں ، خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہوں ، مٹا دے گا اور ان کو نعمتوں سے بھری ہوئی جنت میں داخل کرے گا جس میں وہ کچھ ہے کہ نفس اس کی چاہت رکھتے ہیں اور آنکھیں اس سے لذت اٹھاتی ہیں ۔
[66]﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اَقَامُوا التَّوۡرٰىةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اگر وہ قائم کرتے تورات، انجیل اور اس کو جو نازل کیا گیا ان پر، ان کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی اگر وہ تورات و انجیل کے احکام کو قائم کرتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو توجہ دلائی اور ان کو ترغیب دی ہے۔ تورات و انجیل کو قائم کرنے سے مراد ان امور پر ایمان لانا ہے جن کی طرف یہ دونوں کتابیں دعوت دیتی ہیں ، یعنی محمد مصطفیﷺ اور قرآن پر ایمان لانا۔اگر وہ اس عظیم نعمت کو قائم کرتے جس کو ان کے رب نے ان کی طرف نازل فرمایا ہے یعنی ان کی خاطر اور ان کے ساتھ اعتنا کی بنا پر اس نعمت کو ان کی طرف نازل کیا ہے ﴿ لَاَكَلُوۡا مِنۡ فَوۡقِهِمۡ وَ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِهِمۡ﴾ ’’تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر رزق کے دروازے کھول دیتا، آسمان سے ان پر بارش برساتا اور زمین ان کے لیے فصلیں اگاتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰۤى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَؔكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ﴾(الاعراف: 7؍96)’’اگر بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر زمین اور آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔‘‘﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے‘‘ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اُمَّةٌ مُّقۡتَصِدَةٌ﴾ ’’ایک گروہ ہے سیدھی راہ پر‘‘ یعنی ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تورات و انجیل پر عامل ہے مگر اس کا عمل قوی اور نشاط انگیز نہیں ہے ﴿ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ سَآءَؔ مَا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں ۔‘‘ یعنی ان میں برائیوں کا ارتکاب کرنے والے بہت زیادہ ہیں اور نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے بہت کم ہیں ۔
5:67۞يَـٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ بَلِّغۡ مَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَۖ وَإِن لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَهُۥۚ وَٱللَّهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ ٱلنَّاسِۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
اے رسول! پہنچا دیجیے جو نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے اور اگر ایسا نہ کیا تو نہیں پہنچایا آپ نے اس کا پیغام اور اللہ حفاظت کرے گا آپ کی لوگوں سے۔ بے شک اللہ نہیں ہدایت کرتا کافر لوگوں کو(67)
[67] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کو حکم ہے اور یہ سب سے بڑا اور جلیل ترین حکم ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نازل فرمایا ہے اسے اس کے بندوں تک پہنچایا جائے ... اس میں وہ تمام امور شامل ہیں جو امت نے آپ سے حاصل کیے ، مثلاً:عقائد، اعمال، اقوال، احکام شرعیہ اور مطالب الہٰیہ وغیرہ۔ رسول اللہﷺ نے بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کو پوری طرح پہنچا دیا، آپﷺ نے لوگوں کو دعوت دی، ان کو برے انجام سے ڈرایا، ان کو ایمان لانے پر اچھے انجام کی خوشخبری سنائی ، ان کے لیے آسانیاں پیدا کیں ، ان پڑھ جاہلوں کو علم سکھایا حتیٰ کہ وہ علمائے ربانی بن گئے۔ آپﷺ نے اپنے قول و فعل، اپنے مراسلات اور ایلچیوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے دین کو پہنچا دیا۔ کوئی ایسی بھلائی نہیں جس کی طرف آپ نے امت کی راہنمائی نہ کی ہو اور کوئی ایسی برائی نہیں جس سے آپ نے امت کو ڈرایا نہ ہو۔ آپ کی اس تبلیغ کی گواہی افاضل امت یعنی صحابہ کرام y نے دی اور ان کے بعد ائمہ دین اور مسلمانوں نے دی۔﴿ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ ﴾ ’’اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا۔‘‘ یعنی جو چیز آپﷺ کے رب کی طرف سے آپ پر اتاری گئی ہے اگر آپ نے اسے لوگوں تک نہ پہنچایا ﴿ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَهٗ﴾ ’’تو نہیں پہنچایا آپ نے اس کا پیغام‘‘ یعنی آپﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی فرماں برداری نہیں کی ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾ ’’اور اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺ کی حمایت اور لوگوں سے آپ کی حفاظت کا وعدہ ہے۔ آپ کے لیے مناسب یہی ہے کہ آپ تعلیم و تبلیغ پر توجہ مرکوز رکھیں ، مخلوق کا خوف آپ کو اس مقصد سے نہ ہٹا دے۔ کیونکہ مخلوق کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ، اس نے آپ کی حفاظت کا ذمہ لے رکھا ہے۔ اور آپ کی ذمہ داری پہنچا دینا ہے جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو وہ اپنے لیے ہے۔رہے کفار جن کا خواہشات نفس کی پیروی کے سوا کوئی مقصد نہیں تو ان کے کفر کے سبب سے اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت دے گا، نہ انھیں بھلائی کی توفیق عطا کرے گا۔
5:68قُلۡ يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لَسۡتُمۡ عَلَىٰ شَيۡءٍ حَتَّىٰ تُقِيمُواْ ٱلتَّوۡرَىٰةَ وَٱلۡإِنجِيلَ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُم مِّن رَّبِّكُمۡۗ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرٗا مِّنۡهُم مَّآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَ طُغۡيَٰنٗا وَكُفۡرٗاۖ فَلَا تَأۡسَ عَلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡكَٰفِرِينَ
کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہیں ہو تم اوپر کسی چیز کے، یہاں تک کہ قائم کرو تم تورات اور انجیل کو اور جو کچھ نازل کیا گیا تمھاری طرف تمھارے رب کی طرف سےاور یقینا زیادہ کرے گا بہتوں کو ان میں سے (وہ قرآن) جو نازل کیا گیا ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے، سرکشی اور کفر میں ۔ پس نہ غم کھائیں آپ کافر لوگوں پر(68)
[68] یعنی اہل کتاب کی گمراہی کی منادی اور ان کے باطل کا اعلان کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ لَسۡتُمۡ عَلٰى شَيۡءٍ ﴾ ’’تم کسی چیز پر نہیں ہو‘‘ یعنی تم کسی بھی دینی اصول پر قائم نہیں ہو۔ تم قرآن اور محمدﷺ پر ایمان لائے ہو نہ تم نے اپنے نبی اور اپنی کتاب کی تصدیق کی ہے، تم نے حق کو تھاما ہے نہ کسی اصول پر تمھارا اعتماد ہے ﴿ حَتّٰى تُقِيۡمُوا التَّوۡرٰىةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ ﴾ ’’جب تک تم تورات اور انجیل کو قائم نہ رکھو گے۔‘‘ یعنی جب تک کہ تم تورات اور انجیل پر ایمان لا کر ان کو قائم نہ کرو، ان کی اتباع نہ کرو اور جن امور کی طرف یہ دعوت دیتی ہیں ان میں سے ہر چیز کو مضبوطی سے تھام نہ لو۔ اور جب تک کہ تم اس چیز کو قائم نہ کرو ﴿ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ﴾’’جو تم پر تمھارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے‘‘ جس نے تمھاری تربیت کی اور تمھیں نعمتوں سے نوازا۔ تم پر اس کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ تمھاری طرف کتابیں نازل فرمائیں ۔ پس تم پر فرض ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہو، اس کے احکام کا التزام کرو اور اللہ تعالیٰ کی امانت اور اس کے عہد کی جو ذمہ داری، تم پر ڈالی گئی ہے، اسے پورا کرو۔﴿ وَلَيَزِيۡدَنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا١ۚ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے، اس سے ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی اور کفر میں اضافہ ہو گا اس لیے آپ کافروں کے گروہ پر متاسف نہ ہوں ۔‘‘
5:69إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱلَّذِينَ هَادُواْ وَٱلصَّـٰبِـُٔونَ وَٱلنَّصَٰرَىٰ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور صابی اور نصاریٰ (ان میں سے) جو بھی ایمان لائے ساتھی اللہ کے اور دن آخرت کےاور عمل کرے نیک تو نہیں خوف ہوگا اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(69)
[69] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل قرآن، اہل تورات اور اہل انجیل کے بارے میں بیان فرماتا ہے کہ ان سب کی سعادت اور نجات ایک ہی طریقے اور ایک ہی اصول میں ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانا اور نیک عمل کرنا..، لہٰذا ان میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اسی کے لیے نجات ہے ان کو کوئی خوف نہ ہو گا، انھیں خوف زدہ کرنے والے امور کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اور وہ امور جو وہ پیچھے چھوڑ چکے ہیں ان کے بارے میں غمگین نہ ہوں گے... یہ حکم مذکور تمام زمانوں کو شامل ہے۔
5:70لَقَدۡ أَخَذۡنَا مِيثَٰقَ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ وَأَرۡسَلۡنَآ إِلَيۡهِمۡ رُسُلٗاۖ كُلَّمَا جَآءَهُمۡ رَسُولُۢ بِمَا لَا تَهۡوَىٰٓ أَنفُسُهُمۡ فَرِيقٗا كَذَّبُواْ وَفَرِيقٗا يَقۡتُلُونَ
البتہ تحقیق لیا تھا ہم نے عہد بنی اسرائیل سے اور بھیجے ہم نے ان کی طرف کئی رسول، جب آیا ان کے پاس رسول، ساتھ ایسی چیز کے کہ نہیں چاہتے تھے ان کے نفس تو کچھ کو انھوں نے جھٹلایا اور کچھ کو وہ قتل ہی کر ڈالتے(70) اور گمان کیا انھوں نے کہ نہ ہوگی کوئی آزمائش ، پس وہ اندھے ہوگئے اور بہرے ہوگئے، پھر متوجہ ہوا اللہ اوپر ان کے، پھر اندھے ہوگئے اور بہرے ہوگئے زیادہ لوگ ان میں سےاور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں (71)
[70]﴿ لَقَدۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کے واجبات کو قائم کرنے کے بارے میں ان سے بھاری عہد لیا جن کے بارے میں گزشتہ صفحات میں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۚ وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ اثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيۡبًا…الآيۃ﴾(المائدۃ: 5؍12) کی تفسیر کے ضمن میں بحث گزر چکی ہے۔ ﴿ وَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ رُسُلًا﴾ ’’اور ان کی طرف رسول بھیجے‘‘ جو پے در پے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے اور ان کو رشد و ہدایت کی طرف بلاتے رہتے تھے مگر یہ چیز ان کے کسی کام آئی نہ اس نے کوئی فائدہ دیا ﴿ كُلَّمَا جَآءَؔهُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَهۡوٰۤى اَنۡفُسُهُمۡ﴾ ’’جب لایا کوئی رسول وہ حکم جس کو ان کے نفس نہیں چاہتے تھے‘‘ یعنی حق کو ان کے نفس پسند نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے حق کو جھٹلایا، اس سے عناد رکھا اور اس کے ساتھ بدترین معاملہ کیا ﴿ فَرِيۡقًا كَذَّبُوۡا وَفَرِيۡقًا يَّقۡتُلُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے رسولوں کے ایک گروہ کی تکذیب کی اور ایک گروہ کو قتل کیا۔‘‘
[71]﴿ وَحَسِبُوۡۤا اَلَّا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’اور یہ خیال کرتے تھے کہ کوئی آفت نہیں آنے کی۔‘‘ یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی نافرمانی اور ان کی تکذیب کی وجہ سے ان پر عذاب نہیں آئے گا۔ نہ ان کو سزا دی جائے گی اور وہ اپنے باطل پر ہمیشہ قائم رہیں گے ﴿ فَعَمُوۡا وَصَمُّوۡا ﴾ ’’پس وہ (حق دیکھنے سے) اندھے اور (حق بولنے سے) گونگے ہو گئے‘‘ ﴿ ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر اللہ نے ان پر مہربانی فرمائی‘‘ یعنی پھر اللہ تعالیٰ نے ان لغزشوں کو نظر انداز کر دیا جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کی اور اس کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی ﴿ ثُمَّ ﴾ پھر انھوں نے اس توبہ پر دوام نہ کیا یہاں تک کہ ان کے اکثر لوگ بدترین احوال کی طرف پلٹ گئے ﴿ عَمُوۡا وَصَمُّوۡا كَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ﴾ ’’ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے۔‘‘ یعنی انھی اوصاف کے ساتھ وہ پھر اندھے اور گونگے ہو گئے۔ ان میں سے بہت کم لوگ اپنی توبہ اور ایمان پر قائم رہے ﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ، وہ جو کچھ کرتے ہیں ، اس کو دیکھتا ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اگر اچھا عمل ہوا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہوا تو بری جزاہو گی۔
5:71وَحَسِبُوٓاْ أَلَّا تَكُونَ فِتۡنَةٞ فَعَمُواْ وَصَمُّواْ ثُمَّ تَابَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡ ثُمَّ عَمُواْ وَصَمُّواْ كَثِيرٞ مِّنۡهُمۡۚ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ
البتہ تحقیق لیا تھا ہم نے عہد بنی اسرائیل سے اور بھیجے ہم نے ان کی طرف کئی رسول، جب آیا ان کے پاس رسول، ساتھ ایسی چیز کے کہ نہیں چاہتے تھے ان کے نفس تو کچھ کو انھوں نے جھٹلایا اور کچھ کو وہ قتل ہی کر ڈالتے(70) اور گمان کیا انھوں نے کہ نہ ہوگی کوئی آزمائش ، پس وہ اندھے ہوگئے اور بہرے ہوگئے، پھر متوجہ ہوا اللہ اوپر ان کے، پھر اندھے ہوگئے اور بہرے ہوگئے زیادہ لوگ ان میں سےاور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں (71)
[70]﴿ لَقَدۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کے واجبات کو قائم کرنے کے بارے میں ان سے بھاری عہد لیا جن کے بارے میں گزشتہ صفحات میں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۚ وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ اثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيۡبًا…الآيۃ﴾(المائدۃ: 5؍12) کی تفسیر کے ضمن میں بحث گزر چکی ہے۔ ﴿ وَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ رُسُلًا﴾ ’’اور ان کی طرف رسول بھیجے‘‘ جو پے در پے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے اور ان کو رشد و ہدایت کی طرف بلاتے رہتے تھے مگر یہ چیز ان کے کسی کام آئی نہ اس نے کوئی فائدہ دیا ﴿ كُلَّمَا جَآءَؔهُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَهۡوٰۤى اَنۡفُسُهُمۡ﴾ ’’جب لایا کوئی رسول وہ حکم جس کو ان کے نفس نہیں چاہتے تھے‘‘ یعنی حق کو ان کے نفس پسند نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے حق کو جھٹلایا، اس سے عناد رکھا اور اس کے ساتھ بدترین معاملہ کیا ﴿ فَرِيۡقًا كَذَّبُوۡا وَفَرِيۡقًا يَّقۡتُلُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے رسولوں کے ایک گروہ کی تکذیب کی اور ایک گروہ کو قتل کیا۔‘‘
[71]﴿ وَحَسِبُوۡۤا اَلَّا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’اور یہ خیال کرتے تھے کہ کوئی آفت نہیں آنے کی۔‘‘ یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی نافرمانی اور ان کی تکذیب کی وجہ سے ان پر عذاب نہیں آئے گا۔ نہ ان کو سزا دی جائے گی اور وہ اپنے باطل پر ہمیشہ قائم رہیں گے ﴿ فَعَمُوۡا وَصَمُّوۡا ﴾ ’’پس وہ (حق دیکھنے سے) اندھے اور (حق بولنے سے) گونگے ہو گئے‘‘ ﴿ ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر اللہ نے ان پر مہربانی فرمائی‘‘ یعنی پھر اللہ تعالیٰ نے ان لغزشوں کو نظر انداز کر دیا جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کی اور اس کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی ﴿ ثُمَّ ﴾ پھر انھوں نے اس توبہ پر دوام نہ کیا یہاں تک کہ ان کے اکثر لوگ بدترین احوال کی طرف پلٹ گئے ﴿ عَمُوۡا وَصَمُّوۡا كَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ﴾ ’’ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے۔‘‘ یعنی انھی اوصاف کے ساتھ وہ پھر اندھے اور گونگے ہو گئے۔ ان میں سے بہت کم لوگ اپنی توبہ اور ایمان پر قائم رہے ﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ، وہ جو کچھ کرتے ہیں ، اس کو دیکھتا ہے‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اگر اچھا عمل ہوا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہوا تو بری جزاہو گی۔
5:72لَقَدۡ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ مَرۡيَمَۖ وَقَالَ ٱلۡمَسِيحُ يَٰبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمۡۖ إِنَّهُۥ مَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ ٱلۡجَنَّةَ وَمَأۡوَىٰهُ ٱلنَّارُۖ وَمَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٖ
البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا، بے شک اللہ وہی مسیح ابن مریم ہے۔ اور کہا مسیح نے اے بنی اسرائیل! عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی۔ تحقیق جو شریک ٹھہراتا ہے ساتھ اللہ کے تو یقینا حرام کر دی اللہ نے اوپر اس کے جنت اور اس کا ٹھکانا آگ ہےاور نہیں ہے ظالموں کے لیے کوئی مددگار(72) البتہ تحقیق کافر ہوئے وہ لوگ جنھوں نے کہا، بے شک اللہ تیسرا ہے تین میں سے اور نہیں کوئی معبود مگر معبود ایک۔ اور اگر وہ باز نہ آئے اس سے جو کہتے ہیں تو ضرور پہنچے گا، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب دردناک(73) کیا پس نہیں توبہ کرتے طرف اللہ کی اور بخشش مانگتے اس سےاور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(74) نہیں ہیں مسیح ابن مریم مگر ایک رسول ہی، گزر چکے ہیں ان سے پہلے بہت سے رسول اور ان کی ماں صدیقہ تھی، تھے وہ دونوں کھاتے کھانا۔ دیکھیے! کیسے ہم بیان کرتے ہیں ان کے لیے نشانیاں ، پھر دیکھیے! کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(75)
[72] اللہ تبارک و تعالیٰ نصاریٰ کے کفر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان کے اس قول کو نقل فرماتا ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ﴾ ’’بے شک اللہ، وہی مسیح ابن مریم ہے‘‘ اس شبہہ کی وجہ سے کہ ان کو ان کی ماں نے بغیر باپ کے جنم دیا اور وہ تخلیق میں عادت الٰہی کے خلاف متولد ہوئے... دراں حالیکہ عیسیٰu نے خود ان کے اس دعوے کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ﴾ ’’اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ مسیحu نے اپنے لیے کامل عبودیت اور اپنے رب کے لیے کامل ربوبیت کا اثبات کیا ہے جو تمام مخلوق کو شامل ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’جو کوئی مخلوق میں سے کسی کو بھی، (خواہ وہ عیسیٰu ہوں یا کوئی اور...) اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے۔‘‘﴿ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ﴾ ’’تحقیق اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ کیونکہ اس نے مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرا دیا اور اس چیز کو جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے تخلیق فرمایا۔۔، یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت.... اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھیر کر غیر اللہ کی طرف کر دیا... اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہمیشہ جہنم میں رہے ﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ﴾ ’’اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہو گا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں یا ان سے اس مصیبت کو دور کر سکیں جو ان پر نازل ہوئی ہے۔
[73]﴿ لَقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ﴾ ’’یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے‘‘ یہ نصاریٰ کا قول ہے جو ان کے ہاں متفق علیہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے یعنی اللہ تعالیٰ، عیسیٰ اور مریم... اللہ ان کے قول باطل سے بالا و بلند تر ہے ... یہ نصاریٰ کی کم عقلی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ انھوں نے اس بدترین قول اور قبیح ترین عقیدے کو کیسے قبول کر لیا؟ ان پر خالق اور مخلوق کیسے مشتبہ ہو گئے؟ جہانوں کا رب ان پر کیسے مخفی رہ گیا؟اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان جیسے دیگر لوگوں کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’اور نہیں ہے کوئی معبود مگر ایک ہی معبود‘‘ جو ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک ہے، وہ تخلیق و تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ پس اس کے ساتھ غیر اللہ کو کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت بلند ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ لَّمۡ يَنۡتَهُوۡا عَمَّؔا يَقُوۡلُوۡنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اگر وہ اپنے اس عقیدے سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کافر ہیں انھیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گا‘‘
[74] پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں اس گناہ سے توبہ کرنے کی دعوت دی جو ان سے صادر ہوا اور بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے‘‘ یعنی وہ اپنی بات کو چھوڑ کر اس چیز کی طرف کیوں نہیں لوٹتے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور اس حقیقت کا اعتراف کہ عیسیٰu اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔﴿ وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَهٗ﴾ اور ان گناہوں کی بخشش کیوں نہیں مانگتے جو ان سے صادر ہوئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تو بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے گناہ بخش دیتا ہے خواہ وہ آسمان کی بلندیوں تک کیوں نہ پہنچے ہوئے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے اور ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر کے ان پر رحم فرماتا ہے۔ ان کو توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے صادر ہوتی ہے جو لطف و کرم اور مہربانی کی انتہا ہے ﴿اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے۔‘‘
[75] پھر اللہ تعالیٰ نے جناب مسیحu اور ان کی والدہ ماجدہ کی حقیقت بیان فرمائی جو کہ حق ہے۔ فرمایا: ﴿ مَا الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ١ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ﴾ ’’نہیں ہیں مسیح بن مریم مگر ایک رسول ہی، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزرے‘‘ یعنی جناب مسیح کے معاملے کی غایت و انتہا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں اور رسولوں میں سے ایک ہیں جن کو کسی معاملے میں کوئی اختیار نہیں اور نہ وہ تشریع کا کوئی اختیار رکھتے ہیں سوائے اس چیز کے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو مبعوث فرمایا ہے۔ جناب مسیح بھی ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کو دوسرے رسولوں پر کوئی ایسی فضیلت حاصل نہیں جو انھیں بشریت سے نکال کر ربوبیت کے مرتبے پر فائز کر دے ﴿ وَاُمُّهٗ ﴾ ’’اور ان کی ماں ‘‘ یعنی مریم[ ﴿ صِدِّيۡقَةٌ﴾ ’’صدیقہ ہیں۔‘‘ یعنی جناب مریم[ کی بھی غایت و انتہا یہ ہے کہ صدیقین میں ان کا شمار ہوتا ہے جو انبیا و مرسلین کے بعد مخلوق میں سب سے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں ۔صدیقیت وہ علم نافع ہے جس کا ثمرہ یقین اور عمل صالح ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب مریم نبی نہ تھیں ۔ ان کا بلند ترین حال صدیقیت ہے اور فضیلت اور شرف کے لیے یہی کافی ہے۔اسی طرح عورتوں میں سے کوئی عورت نبی مبعوث نہیں ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کامل تر صنف یعنی مردوں ہی میں رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِمۡ ﴾(یوسف:12؍109) ’’اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔‘‘جب حضرت عیسیٰu انبیا و مرسلین کی جنس میں سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی والدہ ماجدہ صدیقہ تھیں تو نصاریٰ نے کس بنا پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان دونوں کو بھی الٰہ قرار دے دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ كَانَا يَاۡكُلٰنِ الطَّعَامَ﴾ ’’وہ دونوں کھانا کھاتے تھے‘‘ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے فقیر اور محتاج بندے تھے جیسا کہ انسان کھانے پینے کے محتاج ہوتے ہیں ۔ پس اگر جناب عیسیٰ اور مریمi الٰہ ہوتے تو وہ کھانے پینے سے بے نیاز ہوتے اور کسی چیز کے بھی محتاج نہ ہوتے۔ کیونکہ معبود بے نیاز اور قابل تعریف ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دلیل اور برہان واضح کر دی تو فرمایا: ﴿اُنۡظُرۡ كَيۡفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’دیکھو ہم کیسے ان کے لیے آیات بیان کرتے ہیں ‘‘ جو حق کو واضح کرتی ہیں اور یقین کو منکشف کرتی ہیں بایں ہمہ انھیں کوئی چیز فائدہ نہیں دیتی بلکہ وہ اپنی بہتان طرازیوں ، جھوٹ اور افترا پردازی پر بضد ہیں اور یہ ان کا ظلم اور عناد ہے۔
5:73لَّقَدۡ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ ثَالِثُ ثَلَٰثَةٖۘ وَمَا مِنۡ إِلَٰهٍ إِلَّآ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۚ وَإِن لَّمۡ يَنتَهُواْ عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ
البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا، بے شک اللہ وہی مسیح ابن مریم ہے۔ اور کہا مسیح نے اے بنی اسرائیل! عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی۔ تحقیق جو شریک ٹھہراتا ہے ساتھ اللہ کے تو یقینا حرام کر دی اللہ نے اوپر اس کے جنت اور اس کا ٹھکانا آگ ہےاور نہیں ہے ظالموں کے لیے کوئی مددگار(72) البتہ تحقیق کافر ہوئے وہ لوگ جنھوں نے کہا، بے شک اللہ تیسرا ہے تین میں سے اور نہیں کوئی معبود مگر معبود ایک۔ اور اگر وہ باز نہ آئے اس سے جو کہتے ہیں تو ضرور پہنچے گا، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب دردناک(73) کیا پس نہیں توبہ کرتے طرف اللہ کی اور بخشش مانگتے اس سےاور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(74) نہیں ہیں مسیح ابن مریم مگر ایک رسول ہی، گزر چکے ہیں ان سے پہلے بہت سے رسول اور ان کی ماں صدیقہ تھی، تھے وہ دونوں کھاتے کھانا۔ دیکھیے! کیسے ہم بیان کرتے ہیں ان کے لیے نشانیاں ، پھر دیکھیے! کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(75)
[72] اللہ تبارک و تعالیٰ نصاریٰ کے کفر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان کے اس قول کو نقل فرماتا ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ﴾ ’’بے شک اللہ، وہی مسیح ابن مریم ہے‘‘ اس شبہہ کی وجہ سے کہ ان کو ان کی ماں نے بغیر باپ کے جنم دیا اور وہ تخلیق میں عادت الٰہی کے خلاف متولد ہوئے... دراں حالیکہ عیسیٰu نے خود ان کے اس دعوے کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ﴾ ’’اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ مسیحu نے اپنے لیے کامل عبودیت اور اپنے رب کے لیے کامل ربوبیت کا اثبات کیا ہے جو تمام مخلوق کو شامل ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’جو کوئی مخلوق میں سے کسی کو بھی، (خواہ وہ عیسیٰu ہوں یا کوئی اور...) اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے۔‘‘﴿ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ﴾ ’’تحقیق اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ کیونکہ اس نے مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرا دیا اور اس چیز کو جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے تخلیق فرمایا۔۔، یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت.... اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھیر کر غیر اللہ کی طرف کر دیا... اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہمیشہ جہنم میں رہے ﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ﴾ ’’اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہو گا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں یا ان سے اس مصیبت کو دور کر سکیں جو ان پر نازل ہوئی ہے۔
[73]﴿ لَقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ﴾ ’’یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے‘‘ یہ نصاریٰ کا قول ہے جو ان کے ہاں متفق علیہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے یعنی اللہ تعالیٰ، عیسیٰ اور مریم... اللہ ان کے قول باطل سے بالا و بلند تر ہے ... یہ نصاریٰ کی کم عقلی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ انھوں نے اس بدترین قول اور قبیح ترین عقیدے کو کیسے قبول کر لیا؟ ان پر خالق اور مخلوق کیسے مشتبہ ہو گئے؟ جہانوں کا رب ان پر کیسے مخفی رہ گیا؟اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان جیسے دیگر لوگوں کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’اور نہیں ہے کوئی معبود مگر ایک ہی معبود‘‘ جو ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک ہے، وہ تخلیق و تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ پس اس کے ساتھ غیر اللہ کو کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت بلند ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ لَّمۡ يَنۡتَهُوۡا عَمَّؔا يَقُوۡلُوۡنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اگر وہ اپنے اس عقیدے سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کافر ہیں انھیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گا‘‘
[74] پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں اس گناہ سے توبہ کرنے کی دعوت دی جو ان سے صادر ہوا اور بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے‘‘ یعنی وہ اپنی بات کو چھوڑ کر اس چیز کی طرف کیوں نہیں لوٹتے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور اس حقیقت کا اعتراف کہ عیسیٰu اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔﴿ وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَهٗ﴾ اور ان گناہوں کی بخشش کیوں نہیں مانگتے جو ان سے صادر ہوئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تو بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے گناہ بخش دیتا ہے خواہ وہ آسمان کی بلندیوں تک کیوں نہ پہنچے ہوئے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے اور ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر کے ان پر رحم فرماتا ہے۔ ان کو توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے صادر ہوتی ہے جو لطف و کرم اور مہربانی کی انتہا ہے ﴿اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے۔‘‘
[75] پھر اللہ تعالیٰ نے جناب مسیحu اور ان کی والدہ ماجدہ کی حقیقت بیان فرمائی جو کہ حق ہے۔ فرمایا: ﴿ مَا الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ١ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ﴾ ’’نہیں ہیں مسیح بن مریم مگر ایک رسول ہی، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزرے‘‘ یعنی جناب مسیح کے معاملے کی غایت و انتہا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں اور رسولوں میں سے ایک ہیں جن کو کسی معاملے میں کوئی اختیار نہیں اور نہ وہ تشریع کا کوئی اختیار رکھتے ہیں سوائے اس چیز کے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو مبعوث فرمایا ہے۔ جناب مسیح بھی ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کو دوسرے رسولوں پر کوئی ایسی فضیلت حاصل نہیں جو انھیں بشریت سے نکال کر ربوبیت کے مرتبے پر فائز کر دے ﴿ وَاُمُّهٗ ﴾ ’’اور ان کی ماں ‘‘ یعنی مریم[ ﴿ صِدِّيۡقَةٌ﴾ ’’صدیقہ ہیں۔‘‘ یعنی جناب مریم[ کی بھی غایت و انتہا یہ ہے کہ صدیقین میں ان کا شمار ہوتا ہے جو انبیا و مرسلین کے بعد مخلوق میں سب سے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں ۔صدیقیت وہ علم نافع ہے جس کا ثمرہ یقین اور عمل صالح ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب مریم نبی نہ تھیں ۔ ان کا بلند ترین حال صدیقیت ہے اور فضیلت اور شرف کے لیے یہی کافی ہے۔اسی طرح عورتوں میں سے کوئی عورت نبی مبعوث نہیں ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کامل تر صنف یعنی مردوں ہی میں رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِمۡ ﴾(یوسف:12؍109) ’’اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔‘‘جب حضرت عیسیٰu انبیا و مرسلین کی جنس میں سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی والدہ ماجدہ صدیقہ تھیں تو نصاریٰ نے کس بنا پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان دونوں کو بھی الٰہ قرار دے دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ كَانَا يَاۡكُلٰنِ الطَّعَامَ﴾ ’’وہ دونوں کھانا کھاتے تھے‘‘ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے فقیر اور محتاج بندے تھے جیسا کہ انسان کھانے پینے کے محتاج ہوتے ہیں ۔ پس اگر جناب عیسیٰ اور مریمi الٰہ ہوتے تو وہ کھانے پینے سے بے نیاز ہوتے اور کسی چیز کے بھی محتاج نہ ہوتے۔ کیونکہ معبود بے نیاز اور قابل تعریف ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دلیل اور برہان واضح کر دی تو فرمایا: ﴿اُنۡظُرۡ كَيۡفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’دیکھو ہم کیسے ان کے لیے آیات بیان کرتے ہیں ‘‘ جو حق کو واضح کرتی ہیں اور یقین کو منکشف کرتی ہیں بایں ہمہ انھیں کوئی چیز فائدہ نہیں دیتی بلکہ وہ اپنی بہتان طرازیوں ، جھوٹ اور افترا پردازی پر بضد ہیں اور یہ ان کا ظلم اور عناد ہے۔
5:74أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى ٱللَّهِ وَيَسۡتَغۡفِرُونَهُۥۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا، بے شک اللہ وہی مسیح ابن مریم ہے۔ اور کہا مسیح نے اے بنی اسرائیل! عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی۔ تحقیق جو شریک ٹھہراتا ہے ساتھ اللہ کے تو یقینا حرام کر دی اللہ نے اوپر اس کے جنت اور اس کا ٹھکانا آگ ہےاور نہیں ہے ظالموں کے لیے کوئی مددگار(72) البتہ تحقیق کافر ہوئے وہ لوگ جنھوں نے کہا، بے شک اللہ تیسرا ہے تین میں سے اور نہیں کوئی معبود مگر معبود ایک۔ اور اگر وہ باز نہ آئے اس سے جو کہتے ہیں تو ضرور پہنچے گا، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب دردناک(73) کیا پس نہیں توبہ کرتے طرف اللہ کی اور بخشش مانگتے اس سےاور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(74) نہیں ہیں مسیح ابن مریم مگر ایک رسول ہی، گزر چکے ہیں ان سے پہلے بہت سے رسول اور ان کی ماں صدیقہ تھی، تھے وہ دونوں کھاتے کھانا۔ دیکھیے! کیسے ہم بیان کرتے ہیں ان کے لیے نشانیاں ، پھر دیکھیے! کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(75)
[72] اللہ تبارک و تعالیٰ نصاریٰ کے کفر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان کے اس قول کو نقل فرماتا ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ﴾ ’’بے شک اللہ، وہی مسیح ابن مریم ہے‘‘ اس شبہہ کی وجہ سے کہ ان کو ان کی ماں نے بغیر باپ کے جنم دیا اور وہ تخلیق میں عادت الٰہی کے خلاف متولد ہوئے... دراں حالیکہ عیسیٰu نے خود ان کے اس دعوے کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ﴾ ’’اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ مسیحu نے اپنے لیے کامل عبودیت اور اپنے رب کے لیے کامل ربوبیت کا اثبات کیا ہے جو تمام مخلوق کو شامل ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’جو کوئی مخلوق میں سے کسی کو بھی، (خواہ وہ عیسیٰu ہوں یا کوئی اور...) اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے۔‘‘﴿ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ﴾ ’’تحقیق اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ کیونکہ اس نے مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرا دیا اور اس چیز کو جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے تخلیق فرمایا۔۔، یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت.... اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھیر کر غیر اللہ کی طرف کر دیا... اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہمیشہ جہنم میں رہے ﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ﴾ ’’اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہو گا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں یا ان سے اس مصیبت کو دور کر سکیں جو ان پر نازل ہوئی ہے۔
[73]﴿ لَقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ﴾ ’’یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے‘‘ یہ نصاریٰ کا قول ہے جو ان کے ہاں متفق علیہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے یعنی اللہ تعالیٰ، عیسیٰ اور مریم... اللہ ان کے قول باطل سے بالا و بلند تر ہے ... یہ نصاریٰ کی کم عقلی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ انھوں نے اس بدترین قول اور قبیح ترین عقیدے کو کیسے قبول کر لیا؟ ان پر خالق اور مخلوق کیسے مشتبہ ہو گئے؟ جہانوں کا رب ان پر کیسے مخفی رہ گیا؟اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان جیسے دیگر لوگوں کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’اور نہیں ہے کوئی معبود مگر ایک ہی معبود‘‘ جو ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک ہے، وہ تخلیق و تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ پس اس کے ساتھ غیر اللہ کو کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت بلند ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ لَّمۡ يَنۡتَهُوۡا عَمَّؔا يَقُوۡلُوۡنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اگر وہ اپنے اس عقیدے سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کافر ہیں انھیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گا‘‘
[74] پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں اس گناہ سے توبہ کرنے کی دعوت دی جو ان سے صادر ہوا اور بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے‘‘ یعنی وہ اپنی بات کو چھوڑ کر اس چیز کی طرف کیوں نہیں لوٹتے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور اس حقیقت کا اعتراف کہ عیسیٰu اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔﴿ وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَهٗ﴾ اور ان گناہوں کی بخشش کیوں نہیں مانگتے جو ان سے صادر ہوئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تو بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے گناہ بخش دیتا ہے خواہ وہ آسمان کی بلندیوں تک کیوں نہ پہنچے ہوئے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے اور ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر کے ان پر رحم فرماتا ہے۔ ان کو توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے صادر ہوتی ہے جو لطف و کرم اور مہربانی کی انتہا ہے ﴿اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے۔‘‘
[75] پھر اللہ تعالیٰ نے جناب مسیحu اور ان کی والدہ ماجدہ کی حقیقت بیان فرمائی جو کہ حق ہے۔ فرمایا: ﴿ مَا الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ١ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ﴾ ’’نہیں ہیں مسیح بن مریم مگر ایک رسول ہی، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزرے‘‘ یعنی جناب مسیح کے معاملے کی غایت و انتہا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں اور رسولوں میں سے ایک ہیں جن کو کسی معاملے میں کوئی اختیار نہیں اور نہ وہ تشریع کا کوئی اختیار رکھتے ہیں سوائے اس چیز کے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو مبعوث فرمایا ہے۔ جناب مسیح بھی ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کو دوسرے رسولوں پر کوئی ایسی فضیلت حاصل نہیں جو انھیں بشریت سے نکال کر ربوبیت کے مرتبے پر فائز کر دے ﴿ وَاُمُّهٗ ﴾ ’’اور ان کی ماں ‘‘ یعنی مریم[ ﴿ صِدِّيۡقَةٌ﴾ ’’صدیقہ ہیں۔‘‘ یعنی جناب مریم[ کی بھی غایت و انتہا یہ ہے کہ صدیقین میں ان کا شمار ہوتا ہے جو انبیا و مرسلین کے بعد مخلوق میں سب سے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں ۔صدیقیت وہ علم نافع ہے جس کا ثمرہ یقین اور عمل صالح ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب مریم نبی نہ تھیں ۔ ان کا بلند ترین حال صدیقیت ہے اور فضیلت اور شرف کے لیے یہی کافی ہے۔اسی طرح عورتوں میں سے کوئی عورت نبی مبعوث نہیں ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کامل تر صنف یعنی مردوں ہی میں رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِمۡ ﴾(یوسف:12؍109) ’’اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔‘‘جب حضرت عیسیٰu انبیا و مرسلین کی جنس میں سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی والدہ ماجدہ صدیقہ تھیں تو نصاریٰ نے کس بنا پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان دونوں کو بھی الٰہ قرار دے دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ كَانَا يَاۡكُلٰنِ الطَّعَامَ﴾ ’’وہ دونوں کھانا کھاتے تھے‘‘ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے فقیر اور محتاج بندے تھے جیسا کہ انسان کھانے پینے کے محتاج ہوتے ہیں ۔ پس اگر جناب عیسیٰ اور مریمi الٰہ ہوتے تو وہ کھانے پینے سے بے نیاز ہوتے اور کسی چیز کے بھی محتاج نہ ہوتے۔ کیونکہ معبود بے نیاز اور قابل تعریف ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دلیل اور برہان واضح کر دی تو فرمایا: ﴿اُنۡظُرۡ كَيۡفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’دیکھو ہم کیسے ان کے لیے آیات بیان کرتے ہیں ‘‘ جو حق کو واضح کرتی ہیں اور یقین کو منکشف کرتی ہیں بایں ہمہ انھیں کوئی چیز فائدہ نہیں دیتی بلکہ وہ اپنی بہتان طرازیوں ، جھوٹ اور افترا پردازی پر بضد ہیں اور یہ ان کا ظلم اور عناد ہے۔
5:75مَّا ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ مَرۡيَمَ إِلَّا رَسُولٞ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِ ٱلرُّسُلُ وَأُمُّهُۥ صِدِّيقَةٞۖ كَانَا يَأۡكُلَانِ ٱلطَّعَامَۗ ٱنظُرۡ كَيۡفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ ثُمَّ ٱنظُرۡ أَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ
البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا، بے شک اللہ وہی مسیح ابن مریم ہے۔ اور کہا مسیح نے اے بنی اسرائیل! عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی۔ تحقیق جو شریک ٹھہراتا ہے ساتھ اللہ کے تو یقینا حرام کر دی اللہ نے اوپر اس کے جنت اور اس کا ٹھکانا آگ ہےاور نہیں ہے ظالموں کے لیے کوئی مددگار(72) البتہ تحقیق کافر ہوئے وہ لوگ جنھوں نے کہا، بے شک اللہ تیسرا ہے تین میں سے اور نہیں کوئی معبود مگر معبود ایک۔ اور اگر وہ باز نہ آئے اس سے جو کہتے ہیں تو ضرور پہنچے گا، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب دردناک(73) کیا پس نہیں توبہ کرتے طرف اللہ کی اور بخشش مانگتے اس سےاور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(74) نہیں ہیں مسیح ابن مریم مگر ایک رسول ہی، گزر چکے ہیں ان سے پہلے بہت سے رسول اور ان کی ماں صدیقہ تھی، تھے وہ دونوں کھاتے کھانا۔ دیکھیے! کیسے ہم بیان کرتے ہیں ان کے لیے نشانیاں ، پھر دیکھیے! کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(75)
[72] اللہ تبارک و تعالیٰ نصاریٰ کے کفر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان کے اس قول کو نقل فرماتا ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ﴾ ’’بے شک اللہ، وہی مسیح ابن مریم ہے‘‘ اس شبہہ کی وجہ سے کہ ان کو ان کی ماں نے بغیر باپ کے جنم دیا اور وہ تخلیق میں عادت الٰہی کے خلاف متولد ہوئے... دراں حالیکہ عیسیٰu نے خود ان کے اس دعوے کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ﴾ ’’اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ مسیحu نے اپنے لیے کامل عبودیت اور اپنے رب کے لیے کامل ربوبیت کا اثبات کیا ہے جو تمام مخلوق کو شامل ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’جو کوئی مخلوق میں سے کسی کو بھی، (خواہ وہ عیسیٰu ہوں یا کوئی اور...) اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے۔‘‘﴿ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ﴾ ’’تحقیق اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ کیونکہ اس نے مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرا دیا اور اس چیز کو جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے تخلیق فرمایا۔۔، یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت.... اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھیر کر غیر اللہ کی طرف کر دیا... اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہمیشہ جہنم میں رہے ﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ﴾ ’’اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہو گا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں یا ان سے اس مصیبت کو دور کر سکیں جو ان پر نازل ہوئی ہے۔
[73]﴿ لَقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ﴾ ’’یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے‘‘ یہ نصاریٰ کا قول ہے جو ان کے ہاں متفق علیہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے یعنی اللہ تعالیٰ، عیسیٰ اور مریم... اللہ ان کے قول باطل سے بالا و بلند تر ہے ... یہ نصاریٰ کی کم عقلی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ انھوں نے اس بدترین قول اور قبیح ترین عقیدے کو کیسے قبول کر لیا؟ ان پر خالق اور مخلوق کیسے مشتبہ ہو گئے؟ جہانوں کا رب ان پر کیسے مخفی رہ گیا؟اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان جیسے دیگر لوگوں کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’اور نہیں ہے کوئی معبود مگر ایک ہی معبود‘‘ جو ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک ہے، وہ تخلیق و تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ پس اس کے ساتھ غیر اللہ کو کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت بلند ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ لَّمۡ يَنۡتَهُوۡا عَمَّؔا يَقُوۡلُوۡنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اگر وہ اپنے اس عقیدے سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کافر ہیں انھیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گا‘‘
[74] پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں اس گناہ سے توبہ کرنے کی دعوت دی جو ان سے صادر ہوا اور بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے‘‘ یعنی وہ اپنی بات کو چھوڑ کر اس چیز کی طرف کیوں نہیں لوٹتے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور اس حقیقت کا اعتراف کہ عیسیٰu اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔﴿ وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَهٗ﴾ اور ان گناہوں کی بخشش کیوں نہیں مانگتے جو ان سے صادر ہوئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تو بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے گناہ بخش دیتا ہے خواہ وہ آسمان کی بلندیوں تک کیوں نہ پہنچے ہوئے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے اور ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر کے ان پر رحم فرماتا ہے۔ ان کو توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے صادر ہوتی ہے جو لطف و کرم اور مہربانی کی انتہا ہے ﴿اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے۔‘‘
[75] پھر اللہ تعالیٰ نے جناب مسیحu اور ان کی والدہ ماجدہ کی حقیقت بیان فرمائی جو کہ حق ہے۔ فرمایا: ﴿ مَا الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ١ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ﴾ ’’نہیں ہیں مسیح بن مریم مگر ایک رسول ہی، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزرے‘‘ یعنی جناب مسیح کے معاملے کی غایت و انتہا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں اور رسولوں میں سے ایک ہیں جن کو کسی معاملے میں کوئی اختیار نہیں اور نہ وہ تشریع کا کوئی اختیار رکھتے ہیں سوائے اس چیز کے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو مبعوث فرمایا ہے۔ جناب مسیح بھی ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کو دوسرے رسولوں پر کوئی ایسی فضیلت حاصل نہیں جو انھیں بشریت سے نکال کر ربوبیت کے مرتبے پر فائز کر دے ﴿ وَاُمُّهٗ ﴾ ’’اور ان کی ماں ‘‘ یعنی مریم[ ﴿ صِدِّيۡقَةٌ﴾ ’’صدیقہ ہیں۔‘‘ یعنی جناب مریم[ کی بھی غایت و انتہا یہ ہے کہ صدیقین میں ان کا شمار ہوتا ہے جو انبیا و مرسلین کے بعد مخلوق میں سب سے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں ۔صدیقیت وہ علم نافع ہے جس کا ثمرہ یقین اور عمل صالح ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب مریم نبی نہ تھیں ۔ ان کا بلند ترین حال صدیقیت ہے اور فضیلت اور شرف کے لیے یہی کافی ہے۔اسی طرح عورتوں میں سے کوئی عورت نبی مبعوث نہیں ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کامل تر صنف یعنی مردوں ہی میں رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِمۡ ﴾(یوسف:12؍109) ’’اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔‘‘جب حضرت عیسیٰu انبیا و مرسلین کی جنس میں سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی والدہ ماجدہ صدیقہ تھیں تو نصاریٰ نے کس بنا پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان دونوں کو بھی الٰہ قرار دے دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ كَانَا يَاۡكُلٰنِ الطَّعَامَ﴾ ’’وہ دونوں کھانا کھاتے تھے‘‘ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے فقیر اور محتاج بندے تھے جیسا کہ انسان کھانے پینے کے محتاج ہوتے ہیں ۔ پس اگر جناب عیسیٰ اور مریمi الٰہ ہوتے تو وہ کھانے پینے سے بے نیاز ہوتے اور کسی چیز کے بھی محتاج نہ ہوتے۔ کیونکہ معبود بے نیاز اور قابل تعریف ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دلیل اور برہان واضح کر دی تو فرمایا: ﴿اُنۡظُرۡ كَيۡفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’دیکھو ہم کیسے ان کے لیے آیات بیان کرتے ہیں ‘‘ جو حق کو واضح کرتی ہیں اور یقین کو منکشف کرتی ہیں بایں ہمہ انھیں کوئی چیز فائدہ نہیں دیتی بلکہ وہ اپنی بہتان طرازیوں ، جھوٹ اور افترا پردازی پر بضد ہیں اور یہ ان کا ظلم اور عناد ہے۔
5:76قُلۡ أَتَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَمۡلِكُ لَكُمۡ ضَرّٗا وَلَا نَفۡعٗاۚ وَٱللَّهُ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
کہہ دیجیے! کیا تم عبادت کرتے ہو، اللہ کو چھوڑ کر، ایسی چیز کی جو نہیں اختیار رکھتی تمھارے لیے نقصان کا اور نہ نفع کااور اللہ وہی ہے خوب سننے والا خوب جاننے والا(76)
[76]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی اے رسولﷺ ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَتَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ کیا تم اللہ کے سوا مخلوق کی عبادت کرتے ہو جو محتاج اور فقیر ہیں ﴿ مَا لَا يَمۡلِكُ لَكُمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا﴾ ’’جو تمھارے لیے نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے‘‘ اور تم اس ہستی کو چھوڑ دیتے ہو جس اکیلی کے قبضۂ قدرت میں نفع و نقصان ہے اور صرف وہی ہستی ہے جو عطا کرتی اور محروم کرتی ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ هُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ ’’اور اللہ، وہی سننے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ مخلوق کے اختلافات زبان اور تنوع حاجات کے باوجود سب آوازیں سنتا ہے ﴿ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ وہ ظاہر و باطن، غیب و شہادت اور ماضی اور مستقبل کے امور کو جانتا ہے۔ پس صاحب کمال ہستی جو ان اوصاف کی مالک ہے، وہی عبادت کی تمام انواع اور خالص اطاعت کی مستحق ہے۔
5:77قُلۡ يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لَا تَغۡلُواْ فِي دِينِكُمۡ غَيۡرَ ٱلۡحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوٓاْ أَهۡوَآءَ قَوۡمٖ قَدۡ ضَلُّواْ مِن قَبۡلُ وَأَضَلُّواْ كَثِيرٗا وَضَلُّواْ عَن سَوَآءِ ٱلسَّبِيلِ
کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہ غلو کرو تم اپنے دین میں ناحق اور نہ پیروی کرو ان لوگوں کی خواہشات کی جو گمراہ ہو چکے اس سے پہلے اور گمراہ کیا انھوں نے بہت سوں کو اور بہک گئے وہ سیدھی راہ سے(77) لعنت کیے گئے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں سے، بہ زبان داود اور عیسیٰ ابن مریم کے یہ بہ سبب اس کے جو نافرمانی کی انھوں نے اور تھے وہ حد سے گزر جاتے(78) نہیں تھے وہ ایک دوسرے کو منع کرتے برے کام سے کہ کیا ہوتا انھوں نے وہ ، البتہ برا تھا جو تھے وہ کرتے(79) آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، وہ دوستی کرتے ہیں ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ البتہ برا ہے جو آگے بھیجا ان کے لیے ان کے نفسوں نے، یہ کہ ناراض ہوا اللہ اوپر ان کے اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں (80)اور اگر ہوتے وہ ایمان لاتے اللہ پر اور نبی پر اور (اس پر) جو نازل کیا گیا اس کی طرف تو نہ بناتے ان (کافروں )کو دوست لیکن زیادہ لوگ ان میں سے فاسق ہیں (81)
[77] اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ہے ﴿ قُلۡ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ غَيۡرَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو‘‘ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انھوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا ﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡۤا اَهۡوَؔآءَؔ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔‘‘ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ ﴿وَاَضَلُّوۡا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور (دوسرے) بہت سوں کو گمراہ کیا۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس کی طرف دعوت دے کر بہت سے لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں ﴿وَّضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔‘‘ یعنی راہ اعتدال سے بھٹک گئے پس گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے، دونوں برائیوں کو انھوں نے جمع کر لیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ائمہ ضلالت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے اور ان کی مہلک خواہشات اور گمراہ کن آراء سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
[78]﴿ لُعِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی گئی‘‘ یعنی ان کو دھتکار دیا گیا اور اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ﴿ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’داؤد اورعیسیٰ ابن مریم کی زبان پر‘‘ یعنی ان دونوں کی گواہی اور ان کے اقرار پر، بایں طور پر کہ ان پر حجت قائم ہو گئی اور انھوں نے اس حجت و دلیل سے عناد رکھا ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ کفر اور لعنت ﴿ بِمَا عَصَوۡا وَّكَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔‘‘ یعنی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ظلم کرتے تھے۔ یہ چیز ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب بن گئی کیونکہ گناہوں اور ظلم کی سزا ملتی ہے۔
[79] ان کے وہ گناہ جن کی وجہ سے ان پر سزا ضروری ٹھہری اور جن کی بنا پر ان پر عقوبات واقع ہوئیں ، یہ تھے کہ وہ ﴿ كَانُوۡا لَا يَتَنَاهَوۡنَ عَنۡ مُّنۡؔكَرٍ فَعَلُوۡهُ﴾ ’’برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔‘‘ یعنی وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ پس وہ لوگ جو برائی کرتے تھے اور وہ جو برائی نہیں کرتے تھے مگر قدرت رکھنے کے باوجود برائی سے روکتے نہیں تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اسی مشترک سزا کے مستحق قرار پائے۔یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھتے تھے اور گناہ کا ارتکاب ان کے لیے بہت معمولی بات تھی۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے تو اس کے محارم کی ہتک پر انھیں غیرت آتی اور اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے پر وہ بھی ناراض ہوتے۔ اور قدرت ہونے کے باوجود برائی پر خاموش رہنا اور اس پر نکیر نہ کرنا، سزا کا موجب ہے کیونکہ اس میں بہت بڑے مفاسد پنہاں ہیں : ، مثلاً:(۱) برائی پر سکوت اختیار کرنا بذات خود برائی ہے خواہ سکوت اختیار کرنے والا خود برائی میں ملوث نہ ہو۔ اس لیے کہ جس طرح معصیت سے اجتناب فرض ہے اسی طرح برائی کے مرتکب پر نکیر کرنا ضروری ہے۔ (۲) جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ یہ چیز گناہوں کو معمولی سمجھنے اور ان کو زیادہ اہمیت نہ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ (۳) اس طرح فساق و فجار میں کثرت سے گناہ کرنے کی جرأ ت بڑھ جاتی ہے۔ جب ان کو گناہوں سے روکا نہ جائے تو شر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دینی اور دنیاوی مصائب بڑھ جاتے ہیں اور شوکت و غلبہ شریر لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ اہل خیر کمزور پڑ جاتے ہیں اور وہ اہل شر کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ انھیں اتنی سی قدرت بھی حاصل نہیں رہتی جتنی ابتدا میں تھی۔ (۴) منکر پر نکیر ترک کرنے سے علم مٹ جاتا ہے اور جہالت بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جب معصیت بہت سے لوگوں سے بتکرار صادر ہوتی ہے اور اس پر اہل علم اور اہل دین لوگوں کی طرف سے نکیر نہیں ہوتی تو اس کے بارے میں گمان گزرتا ہے کہ یہ معصیت نہیں ، بسا اوقات جاہل لوگ اسے مستحسن عبادت سمجھ لیتے ہیں ۔اس سے بڑی کونسی برائی ہو سکتی ہے کہ کسی ایسی چیز کو حلال قرار دے دیا جائے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ نفوس پر حقائق بدل جائیں اور انھیں باطل حق نظر آنے لگے۔ (۵) نافرمان لوگوں کی معصیت پر سکوت سے بسا اوقات معصیت لوگوں کے دلوں میں مزین ہو جاتی ہے اور برائی میں لوگ ایک دوسرے کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں ۔ اس لیے کہ انسان اپنے گروہ اور ابنائے جنس کی پیروی کا شیفتہ ہوتا ہے۔چونکہ یہ برائیوں پر سکوت کی جزا ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے منصوص فرمایا کہ کفار بنی اسرائیل انھی لوگوں میں سے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانی اور تعدی کی بنا پر ان پر لعنت کی اور ان برائیوں میں سے اس برائی کو مخصوص کیا ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’البتہ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔‘‘
[80]﴿ تَرٰى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ يَتَوَلَّوۡنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر کافروں کو دوست رکھتے ہیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ محبت اور موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’برا ہے وہ جو ان کے نفسوں نے ان کے لیے آگے بھیجا‘‘ یعنی انھوں نے گھٹیا مال پیش کیا اور خسارے کا سودا کیا... اور یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ناراضی جس کے ناراض ہونے سے کائنات کی ہر چیز ناراض ہو جاتی ہے اور جس کی ناراضی کا نتیجہ عذاب عظیم میں خلود اور دوام ہے۔ پس ان کے نفسوں نے ان پر ظلم کیا کہ انھوں نے یہ بری مہمانی آگے بھیجی اور انھوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انھوں نے انھیں ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم کر دیا۔
[81]﴿ وَلَوۡ كَانُوۡا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَا اتَّؔخَذُوۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اگر وہ اللہ پر، پیغمبر پر اور اس کتاب پر جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے، ایمان رکھتے تو ان کو دوست نہ بناتے۔‘‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ، نبیﷺ اور کتاب اللہ پر ایمان بندے پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنے رب اور اس کے اولیا کے ساتھ موالات رکھے اور ان لوگوں سے عداوت رکھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس سے عداوت رکھی اور اس کی نافرمانیوں میں پڑ گئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت اور موالات اور اس پر ایمان کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو دوست نہ بنایا جائے۔چونکہ ان میں مطلوبہ شرط موجود نہیں اس لیے یہ چیز مشروط کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا ﴿ وَلٰكِنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اس پر اور اس کے نبیﷺ پر ایمان کے دائرے سے خارج ہیں اور ان کے فسق میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے موالات رکھتے ہیں ۔
5:78لُعِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۢ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُۥدَ وَعِيسَى ٱبۡنِ مَرۡيَمَۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَواْ وَّكَانُواْ يَعۡتَدُونَ
کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہ غلو کرو تم اپنے دین میں ناحق اور نہ پیروی کرو ان لوگوں کی خواہشات کی جو گمراہ ہو چکے اس سے پہلے اور گمراہ کیا انھوں نے بہت سوں کو اور بہک گئے وہ سیدھی راہ سے(77) لعنت کیے گئے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں سے، بہ زبان داود اور عیسیٰ ابن مریم کے یہ بہ سبب اس کے جو نافرمانی کی انھوں نے اور تھے وہ حد سے گزر جاتے(78) نہیں تھے وہ ایک دوسرے کو منع کرتے برے کام سے کہ کیا ہوتا انھوں نے وہ ، البتہ برا تھا جو تھے وہ کرتے(79) آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، وہ دوستی کرتے ہیں ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ البتہ برا ہے جو آگے بھیجا ان کے لیے ان کے نفسوں نے، یہ کہ ناراض ہوا اللہ اوپر ان کے اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں (80)اور اگر ہوتے وہ ایمان لاتے اللہ پر اور نبی پر اور (اس پر) جو نازل کیا گیا اس کی طرف تو نہ بناتے ان (کافروں )کو دوست لیکن زیادہ لوگ ان میں سے فاسق ہیں (81)
[77] اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ہے ﴿ قُلۡ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ غَيۡرَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو‘‘ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انھوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا ﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡۤا اَهۡوَؔآءَؔ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔‘‘ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ ﴿وَاَضَلُّوۡا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور (دوسرے) بہت سوں کو گمراہ کیا۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس کی طرف دعوت دے کر بہت سے لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں ﴿وَّضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔‘‘ یعنی راہ اعتدال سے بھٹک گئے پس گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے، دونوں برائیوں کو انھوں نے جمع کر لیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ائمہ ضلالت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے اور ان کی مہلک خواہشات اور گمراہ کن آراء سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
[78]﴿ لُعِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی گئی‘‘ یعنی ان کو دھتکار دیا گیا اور اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ﴿ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’داؤد اورعیسیٰ ابن مریم کی زبان پر‘‘ یعنی ان دونوں کی گواہی اور ان کے اقرار پر، بایں طور پر کہ ان پر حجت قائم ہو گئی اور انھوں نے اس حجت و دلیل سے عناد رکھا ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ کفر اور لعنت ﴿ بِمَا عَصَوۡا وَّكَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔‘‘ یعنی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ظلم کرتے تھے۔ یہ چیز ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب بن گئی کیونکہ گناہوں اور ظلم کی سزا ملتی ہے۔
[79] ان کے وہ گناہ جن کی وجہ سے ان پر سزا ضروری ٹھہری اور جن کی بنا پر ان پر عقوبات واقع ہوئیں ، یہ تھے کہ وہ ﴿ كَانُوۡا لَا يَتَنَاهَوۡنَ عَنۡ مُّنۡؔكَرٍ فَعَلُوۡهُ﴾ ’’برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔‘‘ یعنی وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ پس وہ لوگ جو برائی کرتے تھے اور وہ جو برائی نہیں کرتے تھے مگر قدرت رکھنے کے باوجود برائی سے روکتے نہیں تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اسی مشترک سزا کے مستحق قرار پائے۔یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھتے تھے اور گناہ کا ارتکاب ان کے لیے بہت معمولی بات تھی۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے تو اس کے محارم کی ہتک پر انھیں غیرت آتی اور اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے پر وہ بھی ناراض ہوتے۔ اور قدرت ہونے کے باوجود برائی پر خاموش رہنا اور اس پر نکیر نہ کرنا، سزا کا موجب ہے کیونکہ اس میں بہت بڑے مفاسد پنہاں ہیں : ، مثلاً:(۱) برائی پر سکوت اختیار کرنا بذات خود برائی ہے خواہ سکوت اختیار کرنے والا خود برائی میں ملوث نہ ہو۔ اس لیے کہ جس طرح معصیت سے اجتناب فرض ہے اسی طرح برائی کے مرتکب پر نکیر کرنا ضروری ہے۔ (۲) جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ یہ چیز گناہوں کو معمولی سمجھنے اور ان کو زیادہ اہمیت نہ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ (۳) اس طرح فساق و فجار میں کثرت سے گناہ کرنے کی جرأ ت بڑھ جاتی ہے۔ جب ان کو گناہوں سے روکا نہ جائے تو شر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دینی اور دنیاوی مصائب بڑھ جاتے ہیں اور شوکت و غلبہ شریر لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ اہل خیر کمزور پڑ جاتے ہیں اور وہ اہل شر کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ انھیں اتنی سی قدرت بھی حاصل نہیں رہتی جتنی ابتدا میں تھی۔ (۴) منکر پر نکیر ترک کرنے سے علم مٹ جاتا ہے اور جہالت بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جب معصیت بہت سے لوگوں سے بتکرار صادر ہوتی ہے اور اس پر اہل علم اور اہل دین لوگوں کی طرف سے نکیر نہیں ہوتی تو اس کے بارے میں گمان گزرتا ہے کہ یہ معصیت نہیں ، بسا اوقات جاہل لوگ اسے مستحسن عبادت سمجھ لیتے ہیں ۔اس سے بڑی کونسی برائی ہو سکتی ہے کہ کسی ایسی چیز کو حلال قرار دے دیا جائے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ نفوس پر حقائق بدل جائیں اور انھیں باطل حق نظر آنے لگے۔ (۵) نافرمان لوگوں کی معصیت پر سکوت سے بسا اوقات معصیت لوگوں کے دلوں میں مزین ہو جاتی ہے اور برائی میں لوگ ایک دوسرے کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں ۔ اس لیے کہ انسان اپنے گروہ اور ابنائے جنس کی پیروی کا شیفتہ ہوتا ہے۔چونکہ یہ برائیوں پر سکوت کی جزا ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے منصوص فرمایا کہ کفار بنی اسرائیل انھی لوگوں میں سے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانی اور تعدی کی بنا پر ان پر لعنت کی اور ان برائیوں میں سے اس برائی کو مخصوص کیا ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’البتہ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔‘‘
[80]﴿ تَرٰى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ يَتَوَلَّوۡنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر کافروں کو دوست رکھتے ہیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ محبت اور موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’برا ہے وہ جو ان کے نفسوں نے ان کے لیے آگے بھیجا‘‘ یعنی انھوں نے گھٹیا مال پیش کیا اور خسارے کا سودا کیا... اور یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ناراضی جس کے ناراض ہونے سے کائنات کی ہر چیز ناراض ہو جاتی ہے اور جس کی ناراضی کا نتیجہ عذاب عظیم میں خلود اور دوام ہے۔ پس ان کے نفسوں نے ان پر ظلم کیا کہ انھوں نے یہ بری مہمانی آگے بھیجی اور انھوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انھوں نے انھیں ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم کر دیا۔
[81]﴿ وَلَوۡ كَانُوۡا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَا اتَّؔخَذُوۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اگر وہ اللہ پر، پیغمبر پر اور اس کتاب پر جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے، ایمان رکھتے تو ان کو دوست نہ بناتے۔‘‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ، نبیﷺ اور کتاب اللہ پر ایمان بندے پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنے رب اور اس کے اولیا کے ساتھ موالات رکھے اور ان لوگوں سے عداوت رکھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس سے عداوت رکھی اور اس کی نافرمانیوں میں پڑ گئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت اور موالات اور اس پر ایمان کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو دوست نہ بنایا جائے۔چونکہ ان میں مطلوبہ شرط موجود نہیں اس لیے یہ چیز مشروط کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا ﴿ وَلٰكِنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اس پر اور اس کے نبیﷺ پر ایمان کے دائرے سے خارج ہیں اور ان کے فسق میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے موالات رکھتے ہیں ۔
5:79كَانُواْ لَا يَتَنَاهَوۡنَ عَن مُّنكَرٖ فَعَلُوهُۚ لَبِئۡسَ مَا كَانُواْ يَفۡعَلُونَ
کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہ غلو کرو تم اپنے دین میں ناحق اور نہ پیروی کرو ان لوگوں کی خواہشات کی جو گمراہ ہو چکے اس سے پہلے اور گمراہ کیا انھوں نے بہت سوں کو اور بہک گئے وہ سیدھی راہ سے(77) لعنت کیے گئے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں سے، بہ زبان داود اور عیسیٰ ابن مریم کے یہ بہ سبب اس کے جو نافرمانی کی انھوں نے اور تھے وہ حد سے گزر جاتے(78) نہیں تھے وہ ایک دوسرے کو منع کرتے برے کام سے کہ کیا ہوتا انھوں نے وہ ، البتہ برا تھا جو تھے وہ کرتے(79) آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، وہ دوستی کرتے ہیں ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ البتہ برا ہے جو آگے بھیجا ان کے لیے ان کے نفسوں نے، یہ کہ ناراض ہوا اللہ اوپر ان کے اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں (80)اور اگر ہوتے وہ ایمان لاتے اللہ پر اور نبی پر اور (اس پر) جو نازل کیا گیا اس کی طرف تو نہ بناتے ان (کافروں )کو دوست لیکن زیادہ لوگ ان میں سے فاسق ہیں (81)
[77] اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ہے ﴿ قُلۡ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ غَيۡرَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو‘‘ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انھوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا ﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡۤا اَهۡوَؔآءَؔ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔‘‘ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ ﴿وَاَضَلُّوۡا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور (دوسرے) بہت سوں کو گمراہ کیا۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس کی طرف دعوت دے کر بہت سے لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں ﴿وَّضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔‘‘ یعنی راہ اعتدال سے بھٹک گئے پس گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے، دونوں برائیوں کو انھوں نے جمع کر لیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ائمہ ضلالت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے اور ان کی مہلک خواہشات اور گمراہ کن آراء سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
[78]﴿ لُعِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی گئی‘‘ یعنی ان کو دھتکار دیا گیا اور اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ﴿ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’داؤد اورعیسیٰ ابن مریم کی زبان پر‘‘ یعنی ان دونوں کی گواہی اور ان کے اقرار پر، بایں طور پر کہ ان پر حجت قائم ہو گئی اور انھوں نے اس حجت و دلیل سے عناد رکھا ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ کفر اور لعنت ﴿ بِمَا عَصَوۡا وَّكَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔‘‘ یعنی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ظلم کرتے تھے۔ یہ چیز ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب بن گئی کیونکہ گناہوں اور ظلم کی سزا ملتی ہے۔
[79] ان کے وہ گناہ جن کی وجہ سے ان پر سزا ضروری ٹھہری اور جن کی بنا پر ان پر عقوبات واقع ہوئیں ، یہ تھے کہ وہ ﴿ كَانُوۡا لَا يَتَنَاهَوۡنَ عَنۡ مُّنۡؔكَرٍ فَعَلُوۡهُ﴾ ’’برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔‘‘ یعنی وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ پس وہ لوگ جو برائی کرتے تھے اور وہ جو برائی نہیں کرتے تھے مگر قدرت رکھنے کے باوجود برائی سے روکتے نہیں تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اسی مشترک سزا کے مستحق قرار پائے۔یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھتے تھے اور گناہ کا ارتکاب ان کے لیے بہت معمولی بات تھی۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے تو اس کے محارم کی ہتک پر انھیں غیرت آتی اور اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے پر وہ بھی ناراض ہوتے۔ اور قدرت ہونے کے باوجود برائی پر خاموش رہنا اور اس پر نکیر نہ کرنا، سزا کا موجب ہے کیونکہ اس میں بہت بڑے مفاسد پنہاں ہیں : ، مثلاً:(۱) برائی پر سکوت اختیار کرنا بذات خود برائی ہے خواہ سکوت اختیار کرنے والا خود برائی میں ملوث نہ ہو۔ اس لیے کہ جس طرح معصیت سے اجتناب فرض ہے اسی طرح برائی کے مرتکب پر نکیر کرنا ضروری ہے۔ (۲) جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ یہ چیز گناہوں کو معمولی سمجھنے اور ان کو زیادہ اہمیت نہ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ (۳) اس طرح فساق و فجار میں کثرت سے گناہ کرنے کی جرأ ت بڑھ جاتی ہے۔ جب ان کو گناہوں سے روکا نہ جائے تو شر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دینی اور دنیاوی مصائب بڑھ جاتے ہیں اور شوکت و غلبہ شریر لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ اہل خیر کمزور پڑ جاتے ہیں اور وہ اہل شر کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ انھیں اتنی سی قدرت بھی حاصل نہیں رہتی جتنی ابتدا میں تھی۔ (۴) منکر پر نکیر ترک کرنے سے علم مٹ جاتا ہے اور جہالت بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جب معصیت بہت سے لوگوں سے بتکرار صادر ہوتی ہے اور اس پر اہل علم اور اہل دین لوگوں کی طرف سے نکیر نہیں ہوتی تو اس کے بارے میں گمان گزرتا ہے کہ یہ معصیت نہیں ، بسا اوقات جاہل لوگ اسے مستحسن عبادت سمجھ لیتے ہیں ۔اس سے بڑی کونسی برائی ہو سکتی ہے کہ کسی ایسی چیز کو حلال قرار دے دیا جائے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ نفوس پر حقائق بدل جائیں اور انھیں باطل حق نظر آنے لگے۔ (۵) نافرمان لوگوں کی معصیت پر سکوت سے بسا اوقات معصیت لوگوں کے دلوں میں مزین ہو جاتی ہے اور برائی میں لوگ ایک دوسرے کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں ۔ اس لیے کہ انسان اپنے گروہ اور ابنائے جنس کی پیروی کا شیفتہ ہوتا ہے۔چونکہ یہ برائیوں پر سکوت کی جزا ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے منصوص فرمایا کہ کفار بنی اسرائیل انھی لوگوں میں سے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانی اور تعدی کی بنا پر ان پر لعنت کی اور ان برائیوں میں سے اس برائی کو مخصوص کیا ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’البتہ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔‘‘
[80]﴿ تَرٰى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ يَتَوَلَّوۡنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر کافروں کو دوست رکھتے ہیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ محبت اور موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’برا ہے وہ جو ان کے نفسوں نے ان کے لیے آگے بھیجا‘‘ یعنی انھوں نے گھٹیا مال پیش کیا اور خسارے کا سودا کیا... اور یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ناراضی جس کے ناراض ہونے سے کائنات کی ہر چیز ناراض ہو جاتی ہے اور جس کی ناراضی کا نتیجہ عذاب عظیم میں خلود اور دوام ہے۔ پس ان کے نفسوں نے ان پر ظلم کیا کہ انھوں نے یہ بری مہمانی آگے بھیجی اور انھوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انھوں نے انھیں ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم کر دیا۔
[81]﴿ وَلَوۡ كَانُوۡا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَا اتَّؔخَذُوۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اگر وہ اللہ پر، پیغمبر پر اور اس کتاب پر جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے، ایمان رکھتے تو ان کو دوست نہ بناتے۔‘‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ، نبیﷺ اور کتاب اللہ پر ایمان بندے پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنے رب اور اس کے اولیا کے ساتھ موالات رکھے اور ان لوگوں سے عداوت رکھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس سے عداوت رکھی اور اس کی نافرمانیوں میں پڑ گئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت اور موالات اور اس پر ایمان کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو دوست نہ بنایا جائے۔چونکہ ان میں مطلوبہ شرط موجود نہیں اس لیے یہ چیز مشروط کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا ﴿ وَلٰكِنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اس پر اور اس کے نبیﷺ پر ایمان کے دائرے سے خارج ہیں اور ان کے فسق میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے موالات رکھتے ہیں ۔
5:80تَرَىٰ كَثِيرٗا مِّنۡهُمۡ يَتَوَلَّوۡنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَهُمۡ أَنفُسُهُمۡ أَن سَخِطَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡ وَفِي ٱلۡعَذَابِ هُمۡ خَٰلِدُونَ
کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہ غلو کرو تم اپنے دین میں ناحق اور نہ پیروی کرو ان لوگوں کی خواہشات کی جو گمراہ ہو چکے اس سے پہلے اور گمراہ کیا انھوں نے بہت سوں کو اور بہک گئے وہ سیدھی راہ سے(77) لعنت کیے گئے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں سے، بہ زبان داود اور عیسیٰ ابن مریم کے یہ بہ سبب اس کے جو نافرمانی کی انھوں نے اور تھے وہ حد سے گزر جاتے(78) نہیں تھے وہ ایک دوسرے کو منع کرتے برے کام سے کہ کیا ہوتا انھوں نے وہ ، البتہ برا تھا جو تھے وہ کرتے(79) آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، وہ دوستی کرتے ہیں ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ البتہ برا ہے جو آگے بھیجا ان کے لیے ان کے نفسوں نے، یہ کہ ناراض ہوا اللہ اوپر ان کے اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں (80)اور اگر ہوتے وہ ایمان لاتے اللہ پر اور نبی پر اور (اس پر) جو نازل کیا گیا اس کی طرف تو نہ بناتے ان (کافروں )کو دوست لیکن زیادہ لوگ ان میں سے فاسق ہیں (81)
[77] اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ہے ﴿ قُلۡ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ غَيۡرَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو‘‘ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انھوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا ﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡۤا اَهۡوَؔآءَؔ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔‘‘ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ ﴿وَاَضَلُّوۡا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور (دوسرے) بہت سوں کو گمراہ کیا۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس کی طرف دعوت دے کر بہت سے لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں ﴿وَّضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔‘‘ یعنی راہ اعتدال سے بھٹک گئے پس گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے، دونوں برائیوں کو انھوں نے جمع کر لیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ائمہ ضلالت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے اور ان کی مہلک خواہشات اور گمراہ کن آراء سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
[78]﴿ لُعِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی گئی‘‘ یعنی ان کو دھتکار دیا گیا اور اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ﴿ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’داؤد اورعیسیٰ ابن مریم کی زبان پر‘‘ یعنی ان دونوں کی گواہی اور ان کے اقرار پر، بایں طور پر کہ ان پر حجت قائم ہو گئی اور انھوں نے اس حجت و دلیل سے عناد رکھا ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ کفر اور لعنت ﴿ بِمَا عَصَوۡا وَّكَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔‘‘ یعنی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ظلم کرتے تھے۔ یہ چیز ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب بن گئی کیونکہ گناہوں اور ظلم کی سزا ملتی ہے۔
[79] ان کے وہ گناہ جن کی وجہ سے ان پر سزا ضروری ٹھہری اور جن کی بنا پر ان پر عقوبات واقع ہوئیں ، یہ تھے کہ وہ ﴿ كَانُوۡا لَا يَتَنَاهَوۡنَ عَنۡ مُّنۡؔكَرٍ فَعَلُوۡهُ﴾ ’’برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔‘‘ یعنی وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ پس وہ لوگ جو برائی کرتے تھے اور وہ جو برائی نہیں کرتے تھے مگر قدرت رکھنے کے باوجود برائی سے روکتے نہیں تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اسی مشترک سزا کے مستحق قرار پائے۔یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھتے تھے اور گناہ کا ارتکاب ان کے لیے بہت معمولی بات تھی۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے تو اس کے محارم کی ہتک پر انھیں غیرت آتی اور اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے پر وہ بھی ناراض ہوتے۔ اور قدرت ہونے کے باوجود برائی پر خاموش رہنا اور اس پر نکیر نہ کرنا، سزا کا موجب ہے کیونکہ اس میں بہت بڑے مفاسد پنہاں ہیں : ، مثلاً:(۱) برائی پر سکوت اختیار کرنا بذات خود برائی ہے خواہ سکوت اختیار کرنے والا خود برائی میں ملوث نہ ہو۔ اس لیے کہ جس طرح معصیت سے اجتناب فرض ہے اسی طرح برائی کے مرتکب پر نکیر کرنا ضروری ہے۔ (۲) جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ یہ چیز گناہوں کو معمولی سمجھنے اور ان کو زیادہ اہمیت نہ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ (۳) اس طرح فساق و فجار میں کثرت سے گناہ کرنے کی جرأ ت بڑھ جاتی ہے۔ جب ان کو گناہوں سے روکا نہ جائے تو شر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دینی اور دنیاوی مصائب بڑھ جاتے ہیں اور شوکت و غلبہ شریر لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ اہل خیر کمزور پڑ جاتے ہیں اور وہ اہل شر کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ انھیں اتنی سی قدرت بھی حاصل نہیں رہتی جتنی ابتدا میں تھی۔ (۴) منکر پر نکیر ترک کرنے سے علم مٹ جاتا ہے اور جہالت بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جب معصیت بہت سے لوگوں سے بتکرار صادر ہوتی ہے اور اس پر اہل علم اور اہل دین لوگوں کی طرف سے نکیر نہیں ہوتی تو اس کے بارے میں گمان گزرتا ہے کہ یہ معصیت نہیں ، بسا اوقات جاہل لوگ اسے مستحسن عبادت سمجھ لیتے ہیں ۔اس سے بڑی کونسی برائی ہو سکتی ہے کہ کسی ایسی چیز کو حلال قرار دے دیا جائے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ نفوس پر حقائق بدل جائیں اور انھیں باطل حق نظر آنے لگے۔ (۵) نافرمان لوگوں کی معصیت پر سکوت سے بسا اوقات معصیت لوگوں کے دلوں میں مزین ہو جاتی ہے اور برائی میں لوگ ایک دوسرے کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں ۔ اس لیے کہ انسان اپنے گروہ اور ابنائے جنس کی پیروی کا شیفتہ ہوتا ہے۔چونکہ یہ برائیوں پر سکوت کی جزا ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے منصوص فرمایا کہ کفار بنی اسرائیل انھی لوگوں میں سے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانی اور تعدی کی بنا پر ان پر لعنت کی اور ان برائیوں میں سے اس برائی کو مخصوص کیا ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’البتہ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔‘‘
[80]﴿ تَرٰى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ يَتَوَلَّوۡنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر کافروں کو دوست رکھتے ہیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ محبت اور موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’برا ہے وہ جو ان کے نفسوں نے ان کے لیے آگے بھیجا‘‘ یعنی انھوں نے گھٹیا مال پیش کیا اور خسارے کا سودا کیا... اور یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ناراضی جس کے ناراض ہونے سے کائنات کی ہر چیز ناراض ہو جاتی ہے اور جس کی ناراضی کا نتیجہ عذاب عظیم میں خلود اور دوام ہے۔ پس ان کے نفسوں نے ان پر ظلم کیا کہ انھوں نے یہ بری مہمانی آگے بھیجی اور انھوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انھوں نے انھیں ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم کر دیا۔
[81]﴿ وَلَوۡ كَانُوۡا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَا اتَّؔخَذُوۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اگر وہ اللہ پر، پیغمبر پر اور اس کتاب پر جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے، ایمان رکھتے تو ان کو دوست نہ بناتے۔‘‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ، نبیﷺ اور کتاب اللہ پر ایمان بندے پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنے رب اور اس کے اولیا کے ساتھ موالات رکھے اور ان لوگوں سے عداوت رکھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس سے عداوت رکھی اور اس کی نافرمانیوں میں پڑ گئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت اور موالات اور اس پر ایمان کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو دوست نہ بنایا جائے۔چونکہ ان میں مطلوبہ شرط موجود نہیں اس لیے یہ چیز مشروط کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا ﴿ وَلٰكِنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اس پر اور اس کے نبیﷺ پر ایمان کے دائرے سے خارج ہیں اور ان کے فسق میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے موالات رکھتے ہیں ۔
5:81وَلَوۡ كَانُواْ يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلنَّبِيِّ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مَا ٱتَّخَذُوهُمۡ أَوۡلِيَآءَ وَلَٰكِنَّ كَثِيرٗا مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ
کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہ غلو کرو تم اپنے دین میں ناحق اور نہ پیروی کرو ان لوگوں کی خواہشات کی جو گمراہ ہو چکے اس سے پہلے اور گمراہ کیا انھوں نے بہت سوں کو اور بہک گئے وہ سیدھی راہ سے(77) لعنت کیے گئے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں سے، بہ زبان داود اور عیسیٰ ابن مریم کے یہ بہ سبب اس کے جو نافرمانی کی انھوں نے اور تھے وہ حد سے گزر جاتے(78) نہیں تھے وہ ایک دوسرے کو منع کرتے برے کام سے کہ کیا ہوتا انھوں نے وہ ، البتہ برا تھا جو تھے وہ کرتے(79) آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، وہ دوستی کرتے ہیں ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ البتہ برا ہے جو آگے بھیجا ان کے لیے ان کے نفسوں نے، یہ کہ ناراض ہوا اللہ اوپر ان کے اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں (80)اور اگر ہوتے وہ ایمان لاتے اللہ پر اور نبی پر اور (اس پر) جو نازل کیا گیا اس کی طرف تو نہ بناتے ان (کافروں )کو دوست لیکن زیادہ لوگ ان میں سے فاسق ہیں (81)
[77] اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ہے ﴿ قُلۡ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ غَيۡرَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو‘‘ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انھوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا ﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡۤا اَهۡوَؔآءَؔ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔‘‘ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ ﴿وَاَضَلُّوۡا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور (دوسرے) بہت سوں کو گمراہ کیا۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس کی طرف دعوت دے کر بہت سے لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں ﴿وَّضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔‘‘ یعنی راہ اعتدال سے بھٹک گئے پس گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے، دونوں برائیوں کو انھوں نے جمع کر لیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ائمہ ضلالت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے اور ان کی مہلک خواہشات اور گمراہ کن آراء سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
[78]﴿ لُعِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی گئی‘‘ یعنی ان کو دھتکار دیا گیا اور اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ﴿ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’داؤد اورعیسیٰ ابن مریم کی زبان پر‘‘ یعنی ان دونوں کی گواہی اور ان کے اقرار پر، بایں طور پر کہ ان پر حجت قائم ہو گئی اور انھوں نے اس حجت و دلیل سے عناد رکھا ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ کفر اور لعنت ﴿ بِمَا عَصَوۡا وَّكَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔‘‘ یعنی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ظلم کرتے تھے۔ یہ چیز ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب بن گئی کیونکہ گناہوں اور ظلم کی سزا ملتی ہے۔
[79] ان کے وہ گناہ جن کی وجہ سے ان پر سزا ضروری ٹھہری اور جن کی بنا پر ان پر عقوبات واقع ہوئیں ، یہ تھے کہ وہ ﴿ كَانُوۡا لَا يَتَنَاهَوۡنَ عَنۡ مُّنۡؔكَرٍ فَعَلُوۡهُ﴾ ’’برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔‘‘ یعنی وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ پس وہ لوگ جو برائی کرتے تھے اور وہ جو برائی نہیں کرتے تھے مگر قدرت رکھنے کے باوجود برائی سے روکتے نہیں تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اسی مشترک سزا کے مستحق قرار پائے۔یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھتے تھے اور گناہ کا ارتکاب ان کے لیے بہت معمولی بات تھی۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرتے تو اس کے محارم کی ہتک پر انھیں غیرت آتی اور اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے پر وہ بھی ناراض ہوتے۔ اور قدرت ہونے کے باوجود برائی پر خاموش رہنا اور اس پر نکیر نہ کرنا، سزا کا موجب ہے کیونکہ اس میں بہت بڑے مفاسد پنہاں ہیں : ، مثلاً:(۱) برائی پر سکوت اختیار کرنا بذات خود برائی ہے خواہ سکوت اختیار کرنے والا خود برائی میں ملوث نہ ہو۔ اس لیے کہ جس طرح معصیت سے اجتناب فرض ہے اسی طرح برائی کے مرتکب پر نکیر کرنا ضروری ہے۔ (۲) جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ یہ چیز گناہوں کو معمولی سمجھنے اور ان کو زیادہ اہمیت نہ دینے پر دلالت کرتی ہے۔ (۳) اس طرح فساق و فجار میں کثرت سے گناہ کرنے کی جرأ ت بڑھ جاتی ہے۔ جب ان کو گناہوں سے روکا نہ جائے تو شر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دینی اور دنیاوی مصائب بڑھ جاتے ہیں اور شوکت و غلبہ شریر لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ اہل خیر کمزور پڑ جاتے ہیں اور وہ اہل شر کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ انھیں اتنی سی قدرت بھی حاصل نہیں رہتی جتنی ابتدا میں تھی۔ (۴) منکر پر نکیر ترک کرنے سے علم مٹ جاتا ہے اور جہالت بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جب معصیت بہت سے لوگوں سے بتکرار صادر ہوتی ہے اور اس پر اہل علم اور اہل دین لوگوں کی طرف سے نکیر نہیں ہوتی تو اس کے بارے میں گمان گزرتا ہے کہ یہ معصیت نہیں ، بسا اوقات جاہل لوگ اسے مستحسن عبادت سمجھ لیتے ہیں ۔اس سے بڑی کونسی برائی ہو سکتی ہے کہ کسی ایسی چیز کو حلال قرار دے دیا جائے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ نفوس پر حقائق بدل جائیں اور انھیں باطل حق نظر آنے لگے۔ (۵) نافرمان لوگوں کی معصیت پر سکوت سے بسا اوقات معصیت لوگوں کے دلوں میں مزین ہو جاتی ہے اور برائی میں لوگ ایک دوسرے کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں ۔ اس لیے کہ انسان اپنے گروہ اور ابنائے جنس کی پیروی کا شیفتہ ہوتا ہے۔چونکہ یہ برائیوں پر سکوت کی جزا ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے منصوص فرمایا کہ کفار بنی اسرائیل انھی لوگوں میں سے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانی اور تعدی کی بنا پر ان پر لعنت کی اور ان برائیوں میں سے اس برائی کو مخصوص کیا ﴿ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’البتہ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔‘‘
[80]﴿ تَرٰى كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ يَتَوَلَّوۡنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر کافروں کو دوست رکھتے ہیں ‘‘ یعنی ان کے ساتھ محبت اور موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں ﴿ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’برا ہے وہ جو ان کے نفسوں نے ان کے لیے آگے بھیجا‘‘ یعنی انھوں نے گھٹیا مال پیش کیا اور خسارے کا سودا کیا... اور یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ناراضی جس کے ناراض ہونے سے کائنات کی ہر چیز ناراض ہو جاتی ہے اور جس کی ناراضی کا نتیجہ عذاب عظیم میں خلود اور دوام ہے۔ پس ان کے نفسوں نے ان پر ظلم کیا کہ انھوں نے یہ بری مہمانی آگے بھیجی اور انھوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انھوں نے انھیں ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم کر دیا۔
[81]﴿ وَلَوۡ كَانُوۡا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَا اتَّؔخَذُوۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’اگر وہ اللہ پر، پیغمبر پر اور اس کتاب پر جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے، ایمان رکھتے تو ان کو دوست نہ بناتے۔‘‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ، نبیﷺ اور کتاب اللہ پر ایمان بندے پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنے رب اور اس کے اولیا کے ساتھ موالات رکھے اور ان لوگوں سے عداوت رکھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور اس سے عداوت رکھی اور اس کی نافرمانیوں میں پڑ گئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت اور موالات اور اس پر ایمان کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو دوست نہ بنایا جائے۔چونکہ ان میں مطلوبہ شرط موجود نہیں اس لیے یہ چیز مشروط کی نفی پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا ﴿ وَلٰكِنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اس پر اور اس کے نبیﷺ پر ایمان کے دائرے سے خارج ہیں اور ان کے فسق میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے موالات رکھتے ہیں ۔
5:82۞لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَٰوَةٗ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقۡرَبَهُم مَّوَدَّةٗ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّا نَصَٰرَىٰۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيسِينَ وَرُهۡبَانٗا وَأَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ
یقینا پائیں گے آپ سخت ترین سب لوگوں سے، عداوت میں ، واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان کو جنھوں نے شرک کیا اور یقینا پائیں گے آپ قریب ترین ان (سب) سے دوستی میں ، واسطے ان کے جو ایمان لائے، ان کو جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں یہ اس سبب سے کہ بے شک ان میں کچھ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ زاہد اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے(82) اور جب سنا انھوں نے جو نازل کیا گیا رسول کی طرف تو دیکھتے ہیں آپ ان کی آنکھوں کو، بہتی ہیں آنسوؤں سے، اس وجہ سے کہ پہچان لیا انھوں نے حق کو، کہتے ہیں وہ، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ شہادت دینے والوں کے(83) اور کیا ہے ہمیں کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پراور (اس پر) جو آیا ہمارے پاس حق؟ اور ہم توقع رکھتے ہیں یہ کہ داخل کرے گا ہمیں ہمارا رب ساتھ قوم صالحین کے(84) پس بدلے میں دے گا ان کو اللہ بوجہ اس کے جو انھوں نے کہا، ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ جزا ہے نیکی کرنے والوں کی(85) اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخ والے(86)
[82] اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا﴾ ’’آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو‘‘ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى﴾ ’’اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں :(۱)﴿ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا ﴾ ’’یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔‘‘ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں ۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (۲)﴿ وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔
[83] اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل کی گئی‘‘ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں ، آنسو جاری ہو جاتے ہیں ، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا:﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘اور یہ محمدﷺ کی امت کے لوگ ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں ۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا﴾(البقرۃ: 2؍143) ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔‘‘
[84] گویا انھیں جب ان کے ایمان لانے اور ایمان میں ان کی سبقت پر ملامت کی گئی تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا: ﴿ وَمَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَآءَؔنَا مِنَ الۡحَقِّ١ۙ وَنَطۡمَعُ اَنۡ يُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور ہمیں کیا ہے کہ اللہ پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں ) داخل کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے ہمیں کون سی چیز مانع ہے۔ دراں حالیکہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طرف سے حق آ گیا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ جب ہم ایمان لے آئیں گے اور حق کی اتباع کریں گے، تب ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے زمرے میں شامل کرے گا۔ تب کونسی چیز ہمیں ایمان لانے سے روک سکتی ہے۔ کیا یہ چیز ایمان لانے میں جلدی کرنے اور ایمان لانے سے پیچھے نہ رہنے کی موجب نہیں ؟
[85] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے ان کو ان کے کہنے پر بدلہ دیا‘‘ یعنی انھوں نے ایمان لانے کی بات کی، نطق زبان سے ایمان کا اقرار کیا اور حق کی تصدیق کی ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے نیکو کاروں کا۔‘‘یہ آیات کریمہ ان عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ ، مثلاً: نجاشی اور دیگر ایمان لانے والے عیسائی۔ اسی طرح ان کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے رہیں گے جو دین اسلام کو اختیار کریں گے اور ان پر اپنے دین کا بطلان واضح ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ یہودیوں اور مشرکین سے اسلام کے زیادہ قریب ہیں ۔
[86] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لیے ثواب کا ذکر فرمایا تو برائی کرنے والوں کے لیے عذاب کا ذکر کیا۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، یہی لوگ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے کفر کیا اور حق کو واضح کرنے والی آیات کی تکذیب کی۔
5:83وَإِذَا سَمِعُواْ مَآ أُنزِلَ إِلَى ٱلرَّسُولِ تَرَىٰٓ أَعۡيُنَهُمۡ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمۡعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ ٱلۡحَقِّۖ يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱكۡتُبۡنَا مَعَ ٱلشَّـٰهِدِينَ
یقینا پائیں گے آپ سخت ترین سب لوگوں سے، عداوت میں ، واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان کو جنھوں نے شرک کیا اور یقینا پائیں گے آپ قریب ترین ان (سب) سے دوستی میں ، واسطے ان کے جو ایمان لائے، ان کو جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں یہ اس سبب سے کہ بے شک ان میں کچھ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ زاہد اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے(82) اور جب سنا انھوں نے جو نازل کیا گیا رسول کی طرف تو دیکھتے ہیں آپ ان کی آنکھوں کو، بہتی ہیں آنسوؤں سے، اس وجہ سے کہ پہچان لیا انھوں نے حق کو، کہتے ہیں وہ، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ شہادت دینے والوں کے(83) اور کیا ہے ہمیں کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پراور (اس پر) جو آیا ہمارے پاس حق؟ اور ہم توقع رکھتے ہیں یہ کہ داخل کرے گا ہمیں ہمارا رب ساتھ قوم صالحین کے(84) پس بدلے میں دے گا ان کو اللہ بوجہ اس کے جو انھوں نے کہا، ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ جزا ہے نیکی کرنے والوں کی(85) اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخ والے(86)
[82] اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا﴾ ’’آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو‘‘ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى﴾ ’’اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں :(۱)﴿ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا ﴾ ’’یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔‘‘ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں ۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (۲)﴿ وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔
[83] اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل کی گئی‘‘ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں ، آنسو جاری ہو جاتے ہیں ، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا:﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘اور یہ محمدﷺ کی امت کے لوگ ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں ۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا﴾(البقرۃ: 2؍143) ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔‘‘
[84] گویا انھیں جب ان کے ایمان لانے اور ایمان میں ان کی سبقت پر ملامت کی گئی تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا: ﴿ وَمَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَآءَؔنَا مِنَ الۡحَقِّ١ۙ وَنَطۡمَعُ اَنۡ يُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور ہمیں کیا ہے کہ اللہ پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں ) داخل کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے ہمیں کون سی چیز مانع ہے۔ دراں حالیکہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طرف سے حق آ گیا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ جب ہم ایمان لے آئیں گے اور حق کی اتباع کریں گے، تب ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے زمرے میں شامل کرے گا۔ تب کونسی چیز ہمیں ایمان لانے سے روک سکتی ہے۔ کیا یہ چیز ایمان لانے میں جلدی کرنے اور ایمان لانے سے پیچھے نہ رہنے کی موجب نہیں ؟
[85] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے ان کو ان کے کہنے پر بدلہ دیا‘‘ یعنی انھوں نے ایمان لانے کی بات کی، نطق زبان سے ایمان کا اقرار کیا اور حق کی تصدیق کی ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے نیکو کاروں کا۔‘‘یہ آیات کریمہ ان عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ ، مثلاً: نجاشی اور دیگر ایمان لانے والے عیسائی۔ اسی طرح ان کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے رہیں گے جو دین اسلام کو اختیار کریں گے اور ان پر اپنے دین کا بطلان واضح ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ یہودیوں اور مشرکین سے اسلام کے زیادہ قریب ہیں ۔
[86] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لیے ثواب کا ذکر فرمایا تو برائی کرنے والوں کے لیے عذاب کا ذکر کیا۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، یہی لوگ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے کفر کیا اور حق کو واضح کرنے والی آیات کی تکذیب کی۔
5:84وَمَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ ٱلۡحَقِّ وَنَطۡمَعُ أَن يُدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلصَّـٰلِحِينَ
یقینا پائیں گے آپ سخت ترین سب لوگوں سے، عداوت میں ، واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان کو جنھوں نے شرک کیا اور یقینا پائیں گے آپ قریب ترین ان (سب) سے دوستی میں ، واسطے ان کے جو ایمان لائے، ان کو جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں یہ اس سبب سے کہ بے شک ان میں کچھ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ زاہد اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے(82) اور جب سنا انھوں نے جو نازل کیا گیا رسول کی طرف تو دیکھتے ہیں آپ ان کی آنکھوں کو، بہتی ہیں آنسوؤں سے، اس وجہ سے کہ پہچان لیا انھوں نے حق کو، کہتے ہیں وہ، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ شہادت دینے والوں کے(83) اور کیا ہے ہمیں کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پراور (اس پر) جو آیا ہمارے پاس حق؟ اور ہم توقع رکھتے ہیں یہ کہ داخل کرے گا ہمیں ہمارا رب ساتھ قوم صالحین کے(84) پس بدلے میں دے گا ان کو اللہ بوجہ اس کے جو انھوں نے کہا، ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ جزا ہے نیکی کرنے والوں کی(85) اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخ والے(86)
[82] اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا﴾ ’’آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو‘‘ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى﴾ ’’اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں :(۱)﴿ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا ﴾ ’’یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔‘‘ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں ۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (۲)﴿ وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔
[83] اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل کی گئی‘‘ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں ، آنسو جاری ہو جاتے ہیں ، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا:﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘اور یہ محمدﷺ کی امت کے لوگ ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں ۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا﴾(البقرۃ: 2؍143) ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔‘‘
[84] گویا انھیں جب ان کے ایمان لانے اور ایمان میں ان کی سبقت پر ملامت کی گئی تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا: ﴿ وَمَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَآءَؔنَا مِنَ الۡحَقِّ١ۙ وَنَطۡمَعُ اَنۡ يُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور ہمیں کیا ہے کہ اللہ پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں ) داخل کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے ہمیں کون سی چیز مانع ہے۔ دراں حالیکہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طرف سے حق آ گیا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ جب ہم ایمان لے آئیں گے اور حق کی اتباع کریں گے، تب ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے زمرے میں شامل کرے گا۔ تب کونسی چیز ہمیں ایمان لانے سے روک سکتی ہے۔ کیا یہ چیز ایمان لانے میں جلدی کرنے اور ایمان لانے سے پیچھے نہ رہنے کی موجب نہیں ؟
[85] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے ان کو ان کے کہنے پر بدلہ دیا‘‘ یعنی انھوں نے ایمان لانے کی بات کی، نطق زبان سے ایمان کا اقرار کیا اور حق کی تصدیق کی ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے نیکو کاروں کا۔‘‘یہ آیات کریمہ ان عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ ، مثلاً: نجاشی اور دیگر ایمان لانے والے عیسائی۔ اسی طرح ان کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے رہیں گے جو دین اسلام کو اختیار کریں گے اور ان پر اپنے دین کا بطلان واضح ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ یہودیوں اور مشرکین سے اسلام کے زیادہ قریب ہیں ۔
[86] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لیے ثواب کا ذکر فرمایا تو برائی کرنے والوں کے لیے عذاب کا ذکر کیا۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، یہی لوگ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے کفر کیا اور حق کو واضح کرنے والی آیات کی تکذیب کی۔
5:85فَأَثَٰبَهُمُ ٱللَّهُ بِمَا قَالُواْ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
یقینا پائیں گے آپ سخت ترین سب لوگوں سے، عداوت میں ، واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان کو جنھوں نے شرک کیا اور یقینا پائیں گے آپ قریب ترین ان (سب) سے دوستی میں ، واسطے ان کے جو ایمان لائے، ان کو جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں یہ اس سبب سے کہ بے شک ان میں کچھ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ زاہد اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے(82) اور جب سنا انھوں نے جو نازل کیا گیا رسول کی طرف تو دیکھتے ہیں آپ ان کی آنکھوں کو، بہتی ہیں آنسوؤں سے، اس وجہ سے کہ پہچان لیا انھوں نے حق کو، کہتے ہیں وہ، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ شہادت دینے والوں کے(83) اور کیا ہے ہمیں کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پراور (اس پر) جو آیا ہمارے پاس حق؟ اور ہم توقع رکھتے ہیں یہ کہ داخل کرے گا ہمیں ہمارا رب ساتھ قوم صالحین کے(84) پس بدلے میں دے گا ان کو اللہ بوجہ اس کے جو انھوں نے کہا، ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ جزا ہے نیکی کرنے والوں کی(85) اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخ والے(86)
[82] اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا﴾ ’’آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو‘‘ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى﴾ ’’اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں :(۱)﴿ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا ﴾ ’’یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔‘‘ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں ۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (۲)﴿ وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔
[83] اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل کی گئی‘‘ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں ، آنسو جاری ہو جاتے ہیں ، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا:﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘اور یہ محمدﷺ کی امت کے لوگ ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں ۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا﴾(البقرۃ: 2؍143) ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔‘‘
[84] گویا انھیں جب ان کے ایمان لانے اور ایمان میں ان کی سبقت پر ملامت کی گئی تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا: ﴿ وَمَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَآءَؔنَا مِنَ الۡحَقِّ١ۙ وَنَطۡمَعُ اَنۡ يُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور ہمیں کیا ہے کہ اللہ پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں ) داخل کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے ہمیں کون سی چیز مانع ہے۔ دراں حالیکہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طرف سے حق آ گیا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ جب ہم ایمان لے آئیں گے اور حق کی اتباع کریں گے، تب ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے زمرے میں شامل کرے گا۔ تب کونسی چیز ہمیں ایمان لانے سے روک سکتی ہے۔ کیا یہ چیز ایمان لانے میں جلدی کرنے اور ایمان لانے سے پیچھے نہ رہنے کی موجب نہیں ؟
[85] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے ان کو ان کے کہنے پر بدلہ دیا‘‘ یعنی انھوں نے ایمان لانے کی بات کی، نطق زبان سے ایمان کا اقرار کیا اور حق کی تصدیق کی ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے نیکو کاروں کا۔‘‘یہ آیات کریمہ ان عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ ، مثلاً: نجاشی اور دیگر ایمان لانے والے عیسائی۔ اسی طرح ان کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے رہیں گے جو دین اسلام کو اختیار کریں گے اور ان پر اپنے دین کا بطلان واضح ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ یہودیوں اور مشرکین سے اسلام کے زیادہ قریب ہیں ۔
[86] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لیے ثواب کا ذکر فرمایا تو برائی کرنے والوں کے لیے عذاب کا ذکر کیا۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، یہی لوگ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے کفر کیا اور حق کو واضح کرنے والی آیات کی تکذیب کی۔
5:86وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَآ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَحِيمِ
یقینا پائیں گے آپ سخت ترین سب لوگوں سے، عداوت میں ، واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان کو جنھوں نے شرک کیا اور یقینا پائیں گے آپ قریب ترین ان (سب) سے دوستی میں ، واسطے ان کے جو ایمان لائے، ان کو جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں یہ اس سبب سے کہ بے شک ان میں کچھ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ زاہد اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے(82) اور جب سنا انھوں نے جو نازل کیا گیا رسول کی طرف تو دیکھتے ہیں آپ ان کی آنکھوں کو، بہتی ہیں آنسوؤں سے، اس وجہ سے کہ پہچان لیا انھوں نے حق کو، کہتے ہیں وہ، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ شہادت دینے والوں کے(83) اور کیا ہے ہمیں کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پراور (اس پر) جو آیا ہمارے پاس حق؟ اور ہم توقع رکھتے ہیں یہ کہ داخل کرے گا ہمیں ہمارا رب ساتھ قوم صالحین کے(84) پس بدلے میں دے گا ان کو اللہ بوجہ اس کے جو انھوں نے کہا، ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ جزا ہے نیکی کرنے والوں کی(85) اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخ والے(86)
[82] اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا﴾ ’’آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو‘‘ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى﴾ ’’اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں :(۱)﴿ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا ﴾ ’’یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔‘‘ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں ۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (۲)﴿ وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔
[83] اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل کی گئی‘‘ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں ، آنسو جاری ہو جاتے ہیں ، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا:﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘اور یہ محمدﷺ کی امت کے لوگ ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں ۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا﴾(البقرۃ: 2؍143) ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔‘‘
[84] گویا انھیں جب ان کے ایمان لانے اور ایمان میں ان کی سبقت پر ملامت کی گئی تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا: ﴿ وَمَا لَنَا لَا نُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَا جَآءَؔنَا مِنَ الۡحَقِّ١ۙ وَنَطۡمَعُ اَنۡ يُّدۡخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور ہمیں کیا ہے کہ اللہ پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں ) داخل کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے ہمیں کون سی چیز مانع ہے۔ دراں حالیکہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طرف سے حق آ گیا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ جب ہم ایمان لے آئیں گے اور حق کی اتباع کریں گے، تب ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے زمرے میں شامل کرے گا۔ تب کونسی چیز ہمیں ایمان لانے سے روک سکتی ہے۔ کیا یہ چیز ایمان لانے میں جلدی کرنے اور ایمان لانے سے پیچھے نہ رہنے کی موجب نہیں ؟
[85] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے ان کو ان کے کہنے پر بدلہ دیا‘‘ یعنی انھوں نے ایمان لانے کی بات کی، نطق زبان سے ایمان کا اقرار کیا اور حق کی تصدیق کی ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے نیکو کاروں کا۔‘‘یہ آیات کریمہ ان عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو حضرت محمد مصطفیﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ ، مثلاً: نجاشی اور دیگر ایمان لانے والے عیسائی۔ اسی طرح ان کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے رہیں گے جو دین اسلام کو اختیار کریں گے اور ان پر اپنے دین کا بطلان واضح ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ یہودیوں اور مشرکین سے اسلام کے زیادہ قریب ہیں ۔
[86] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لیے ثواب کا ذکر فرمایا تو برائی کرنے والوں کے لیے عذاب کا ذکر کیا۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، یہی لوگ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے کفر کیا اور حق کو واضح کرنے والی آیات کی تکذیب کی۔
5:87يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُحَرِّمُواْ طَيِّبَٰتِ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت حرام ٹھہراؤ وہ پاکیزہ چیزیں جن کو حلال کیا اللہ نے تمھارے لیےاور نہ حد سے گزرو یقینا اللہ نہیں پسند کرتا حد سے گزرنے والوں کو(87) اور کھاؤ اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے، جس پر تم ایمان رکھتے ہو(88)
[87]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ ﴾ ’’اے ایمان والو! جن پاکیزہ چیزوں کو اللہ نے تمھارے لیے حلال کیا ہے، تم انھیں حرام مت کرو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ماکولات و مشروبات میں جو چیزیں حلال ٹھہرا رکھی ہیں ، انھیں حرام نہ ٹھہراؤ۔ کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو اس نے تمھیں عطا کی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو کیونکہ اس نے تمھارے لیے ان نعمتوں کو حلال ٹھہرایا اور اس کا شکر ادا کرو۔ کفران نعمت، عدم قبول اور ان کی تحریم کا اعتقاد رکھتے ہوئے ان نعمتوں کو نہ ٹھکراؤ۔ ورنہ تم اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی، کفران نعمت اور حلال کو حرام اور ناپاک قرار دینے کے مرتکب ٹھہرو گے… اور یہ حد سے تجاوز ہے اور اللہ تعالیٰ نے حد سے بڑھنے سے منع فرمایا ہے ﴿ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ﴾ ’’اور حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا‘‘ بلکہ ان سے ناراض ہو تا ہے اور اس پر ان کو سزا دے گا۔
[88] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل شرک کے طریقے کے برعکس جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا، حکم دیا ﴿ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا﴾’’اور جو حلال طیب روزی اللہ نے تمھیں دی ہے اسے کھاؤ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس رزق میں سے کھاؤ جو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری طرف بھیجا ہے جو تمھیں میسر ہیں ۔ بشرطیکہ یہ رزق حلال ہو اور چوری یا غصب شدہ وغیرہ مال میں سے نہ ہو جو ناحق حاصل کیا گیا ہوتا ہے۔ نیز وہ پاک بھی ہو، یعنی اس میں کوئی ناپاکی نہ ہو۔ اس طرح درندے اور دیگر ناپاک چیزیں اس دائرے سے نکل جاتی ہیں ۔﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی منہیات کے اجتناب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’وہ اللہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان تم پر تقویٰ اور حقوق اللہ کی رعایت و حفاظت واجب کرتا ہے کیونکہ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی حلال چیز ، مثلاً: ماکولات، مشروبات یا لونڈی وغیرہ کو حرام ٹھہرا لیتا ہے تو یہ چیز اس کے حرام ٹھہرا لینے سے حرام نہیں ہو جاتی، البتہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو قسم کا کفارہ واجب ہو جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾(التحریم: 66؍1) ’’اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دی ہے۔‘‘مگر بیوی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہرانے سے ظہار کا کفارہ لازم آئے گا۔( اس مسئلے میں کافی اختلاف ہے‘ ایک رائے یہ بھی ہے جس کا اظہارفاضل مفسر رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہے‘ دوسری رائے یہ ہے کہ اس میں کفارۂ یمین ہے (اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے‘ واللہ اعلم) اور تیسری رائے ہے کہ اس میں سرے سے کوئی کفارہ ہی نہیں ہے۔ امام ابن قیم اور امام ابن کثیر کا رجحان دوسری رائے کی طرف اور امام شوکانی کا تیسری رائے کی طرف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے تفسیر فتح القدیر‘ آیت زیر بحث۔ زاد المعاد، ج : 5؍ 302۔312، فتح الباري، کتاب الطلاق، والروضۃ الندیۃ، ج : 2، کتاب الطلاق وغیرھا من الکتب ( ص ۔ ی) اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ پاک چیزوں سے اجتناب کرے اور انھیں اپنے آپ پر حرام ٹھہرا لے بلکہ وہ انھیں استعمال کرے اور اس طرح اطاعت الٰہی پر ان سے مدد لے۔
5:88وَكُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلٗا طَيِّبٗاۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِيٓ أَنتُم بِهِۦ مُؤۡمِنُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت حرام ٹھہراؤ وہ پاکیزہ چیزیں جن کو حلال کیا اللہ نے تمھارے لیےاور نہ حد سے گزرو یقینا اللہ نہیں پسند کرتا حد سے گزرنے والوں کو(87) اور کھاؤ اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے، جس پر تم ایمان رکھتے ہو(88)
[87]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ ﴾ ’’اے ایمان والو! جن پاکیزہ چیزوں کو اللہ نے تمھارے لیے حلال کیا ہے، تم انھیں حرام مت کرو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ماکولات و مشروبات میں جو چیزیں حلال ٹھہرا رکھی ہیں ، انھیں حرام نہ ٹھہراؤ۔ کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو اس نے تمھیں عطا کی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو کیونکہ اس نے تمھارے لیے ان نعمتوں کو حلال ٹھہرایا اور اس کا شکر ادا کرو۔ کفران نعمت، عدم قبول اور ان کی تحریم کا اعتقاد رکھتے ہوئے ان نعمتوں کو نہ ٹھکراؤ۔ ورنہ تم اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی، کفران نعمت اور حلال کو حرام اور ناپاک قرار دینے کے مرتکب ٹھہرو گے… اور یہ حد سے تجاوز ہے اور اللہ تعالیٰ نے حد سے بڑھنے سے منع فرمایا ہے ﴿ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ﴾ ’’اور حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا‘‘ بلکہ ان سے ناراض ہو تا ہے اور اس پر ان کو سزا دے گا۔
[88] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل شرک کے طریقے کے برعکس جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا، حکم دیا ﴿ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا﴾’’اور جو حلال طیب روزی اللہ نے تمھیں دی ہے اسے کھاؤ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس رزق میں سے کھاؤ جو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری طرف بھیجا ہے جو تمھیں میسر ہیں ۔ بشرطیکہ یہ رزق حلال ہو اور چوری یا غصب شدہ وغیرہ مال میں سے نہ ہو جو ناحق حاصل کیا گیا ہوتا ہے۔ نیز وہ پاک بھی ہو، یعنی اس میں کوئی ناپاکی نہ ہو۔ اس طرح درندے اور دیگر ناپاک چیزیں اس دائرے سے نکل جاتی ہیں ۔﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی منہیات کے اجتناب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’وہ اللہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان تم پر تقویٰ اور حقوق اللہ کی رعایت و حفاظت واجب کرتا ہے کیونکہ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی حلال چیز ، مثلاً: ماکولات، مشروبات یا لونڈی وغیرہ کو حرام ٹھہرا لیتا ہے تو یہ چیز اس کے حرام ٹھہرا لینے سے حرام نہیں ہو جاتی، البتہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو قسم کا کفارہ واجب ہو جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾(التحریم: 66؍1) ’’اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دی ہے۔‘‘مگر بیوی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہرانے سے ظہار کا کفارہ لازم آئے گا۔( اس مسئلے میں کافی اختلاف ہے‘ ایک رائے یہ بھی ہے جس کا اظہارفاضل مفسر رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہے‘ دوسری رائے یہ ہے کہ اس میں کفارۂ یمین ہے (اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے‘ واللہ اعلم) اور تیسری رائے ہے کہ اس میں سرے سے کوئی کفارہ ہی نہیں ہے۔ امام ابن قیم اور امام ابن کثیر کا رجحان دوسری رائے کی طرف اور امام شوکانی کا تیسری رائے کی طرف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے تفسیر فتح القدیر‘ آیت زیر بحث۔ زاد المعاد، ج : 5؍ 302۔312، فتح الباري، کتاب الطلاق، والروضۃ الندیۃ، ج : 2، کتاب الطلاق وغیرھا من الکتب ( ص ۔ ی) اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ پاک چیزوں سے اجتناب کرے اور انھیں اپنے آپ پر حرام ٹھہرا لے بلکہ وہ انھیں استعمال کرے اور اس طرح اطاعت الٰہی پر ان سے مدد لے۔
5:89لَا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغۡوِ فِيٓ أَيۡمَٰنِكُمۡ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ ٱلۡأَيۡمَٰنَۖ فَكَفَّـٰرَتُهُۥٓ إِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسَٰكِينَ مِنۡ أَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُونَ أَهۡلِيكُمۡ أَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ أَوۡ تَحۡرِيرُ رَقَبَةٖۖ فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٖۚ ذَٰلِكَ كَفَّـٰرَةُ أَيۡمَٰنِكُمۡ إِذَا حَلَفۡتُمۡۚ وَٱحۡفَظُوٓاْ أَيۡمَٰنَكُمۡۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ
نہیں مؤاخذہ کرے گا تمھارا اللہ تمھاری لغو قسموں پر لیکن وہ مؤاخذہ کرے گا تمھارا ان پر جو مضبوط باندھیں تم نے قسمیں ، پس کفارہ اس کا، کھانا کھلانا ہے دس مسکینوں کو اوسط درجے کا، جو کھلاتے ہو تم اپنے اہل و عیال کو یا کپڑے پہنانا ہے انھیں یا آزاد کرنا ایک گردن کا، پس جو نہ پائے تو روزے رکھنے ہیں تین دن کے۔ یہ کفارہ ہے تمھاری قسموں کا، جب قسم کھا بیٹھو تم اور حفاظت کرو تم اپنی قسموں کی۔ اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں تاکہ تم شکر کرو(89)
[89] یعنی تمھاری ان قسموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ تمھارا مواخذہ نہیں کرے گا جو تم سے لغو صادر ہوتی ہیں ۔ اس سے مراد وہ قسمیں ہیں جو انسان بغیر کسی نیت اور ارادے کے کھا لیتا ہے یا یہ سمجھتے ہوئے اٹھاتا ہے کہ وہ سچا ہے مگر معاملہ اس کے برعکس نکلتا ہے ﴿ وَلٰكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَيۡمَانَ﴾ ’’لیکن پکڑتا ہے ان قسموں پر جن کو تم نے مضبوط باندھا‘‘ یعنی جس کا تم عزم کر لیتے ہو اور تمھارے دل جس پر جم جاتے ہیں ۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلٰكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا كَسَبَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ﴾(البقرۃ: 2؍225)’’مگر وہ قسمیں جو تم دلی ارادے سے کھاتے ہو، ان پر تمھارا مواخذہ کرے گا۔‘‘﴿ فَؔكَـفَّارَتُهٗۤ ﴾ ’’تو اس کا کفارہ‘‘ یعنی ان قسموں کا کفارہ جو تم قصد اور ارادے سے کھاتے ہو ﴿ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ ﴾ ’’دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے‘‘ اور یہ کھانا ﴿ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ ﴾ ’’اوسط درجے کا کھانا جو تم کھلاتے ہو اپنے گھر والوں کو‘‘ ﴿ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ ﴾ ’’یا ان دس مسکینوں کو لباس پہنانا ہے‘‘ اور یہاں لباس سے مراد کم از کم اتنا لباس ہے جس سے نماز ہو جاتی ہے ﴿ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ﴾ ’’یا ایک گردن آزاد کرنی ہے‘‘ یعنی مومن غلام جیسا کہ بعض دیگر مقام پر اسے ایمان کے ساتھ مقید کیا گیا ہے۔جب ان مذکورہ تینوں صورتوں میں سے کسی ایک پر عمل کر لے تو اس کی قسم کا کفارہ ادا ہو جائے گا ﴿ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ ﴾ ’’اور جس کو یہ میسر نہ ہو۔‘‘ یعنی جب کوئی ان تینوں صورتوں میں سے کسی پر بھی عمل کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ﴿ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ﴾ ’’تو تین دن کے روزے رکھنے ہیں ‘‘ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ مذکورہ صورت ﴿ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ﴾’’تمھاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھالو۔‘‘ یہ ان کو مٹا دیتا ہے اور گناہ کو ختم کر دیتا ہے۔﴿ وَاحۡفَظُوۡۤا اَيۡمَانَكُمۡ﴾ ’’اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے نام پر جھوٹے اور کثرت سے حلف اٹھانے سے اپنی قسموں کی حفاظت کرو اور جب تم حلف اٹھا ہی لو پھر ٹوٹنے سے اس کو بچاؤ۔ سوائے اس کے کہ قسم توڑنے میں کوئی بھلائی ہو۔ پس قسم کی کامل حفاظت یہ ہے کہ انسان بھلائی پر عمل کرے اور اس کی قسم بھلائی کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے۔ ﴿ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اٰيٰتِهٖ ﴾ ’’اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے اپنی آیات‘‘ جو حلال و حرام کو بیان کرنے والی اور احکام کو واضح کرنے والی ہیں ﴿ لَعَلَّـكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾ ’’شاید تم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بنو‘‘ کہ اس نے تمھیں وہ کچھ سکھایا جو تم نہیں جانتے تھے۔ پس بندۂ مومن پر اللہ تعالیٰ کا شکر واجب ہے کہ اس نے احکام شریعت کی معرفت اور ان کی توضیحات سے نوازا۔
5:90يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡخَمۡرُ وَٱلۡمَيۡسِرُ وَٱلۡأَنصَابُ وَٱلۡأَزۡلَٰمُ رِجۡسٞ مِّنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَٱجۡتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یقینا شراب اور جوا اور بت اور فال نکالنے کے تیر ناپاک ہیں عمل سے ہیں شیطان کے، پس بچو تم اس سے تاکہ تم فلاح پاؤ(90) یقینا چاہتا ہے شیطان کہ ڈال دے تمھارے درمیان عداوت اور بغض شراب اور جوئے کے ذریعے سےاور روک دے تمھیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے، پس کیا تم باز آتے ہو (ان شیطانی کاموں سے)؟ (91)
[91,90] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مذکورہ قبیح اشیا کی مذمت کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ یہ شیطانی اور گندے کام ہیں ۔ ﴿ فَاجۡتَنِبُوۡهُ ﴾ ’’پس بچو ان سے‘‘ یعنی ان گندے کاموں کو چھوڑ دو ﴿ لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾’’تاکہ تم فلاح پاؤ‘‘ کیونکہ فلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کہ ان چیزوں سے اجتناب نہ کیا جائے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ خاص طور پر مذکورہ فواحش :(الف)خمر : ہر وہ چیز خمر ہے جو عقل کو ڈھانپ لے، یعنی عقل پر نشے کا پردہ ڈال دے۔(ب) جوا : وہ تمام مقابلے جن میں جانبین کی طرف سے جیتنے والے کے لیے عوض مقرر کیا گیا ہو ، مثلاً:گھوڑ دوڑ وغیرہ کی شرط۔(ج)انصاب : اس سے مراد وہ بت وغیرہ ہیں جن کو نصب کر دیا جاتا ہے اور اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کی جاتی ہے۔(د)پانسے : جن کے ذریعے سے لوگ اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے ہیں ۔یہ وہ چار چیزیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے اور ان کے ارتکاب پر زجر و توبیخ کی ہے اور ان کے مفاسد سے آگاہ فرمایا جو ان کو ترک کرنے اور ان سے اجتناب کے داعی ہیں ۔(۱) یہ تمام امور (رجس)یعنی ناپاک ہیں ۔ اگرچہ حسی طور پر یہ ناپاک نہیں مگر معنوی طور پر ناپاک ہیں اور ناپاک امور سے بچنا اور ان کی گندگی میں ملوث ہونے سے اجتناب کرنا ہی مناسب ہے۔(۲)یہ تمام امور شیطانی اعمال ہیں اور شیطان انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ دشمن سے ہمیشہ دور رہا جاتا ہے اور اس کی گھاتوں اور سازشوں سے بچا جاتا ہے، خاص طور پر ان اعمال سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے جن میں دشمن ملوث کر کے ہلاک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور سب سے بڑی احتیاط یہ ہے کہ اپنے کھلے دشمن کے اعمال سے دور رہ کر اس سے بچنا چاہیے اور ان اعمال میں پڑنے سے ڈرنا چاہیے۔(۳)ان مذکورہ امور سے اجتناب کیے بغیر بندے کی فلاح ممکن نہیں ۔ فلاح، امر مطلوب کے حصول میں کامیابی اور امر مرہوب سے نجات کا نام ہے اور یہ تمام امور فلاح سے مانع اور اس کے لیے رکاوٹ ہیں ۔(۴)یہ مذکورہ اعمال لوگوں کے درمیان بغض اور عداوت کے موجب ہیں ۔ شیطان ان اعمال کو لوگوں کے درمیان پھیلانے کا بڑا حریص ہے، خاص طور پر شراب اور جوا۔ تاکہ وہ اہل ایمان کے درمیان بغض اور عداوت کا بیج بو سکے۔ کیونکہ شراب پینا، عقل میں فتور آنے کا، ہوش و حواس کے چلے جانے کا اور مومن بھائیوں کے درمیان بغض اور عداوت کا سبب بنتا ہے خاص طور پر جبکہ اس کے ساتھ وہ اسباب بھی مقرون ہوں جو شراب پینے والے کے لوازم میں شمار ہوتے ہیں ۔ تب یہ شراب نوشی بسا اوقات قتل کے اقدام تک پہنچا دیتی ہے۔ جوئے میں ایک شخص کو جو دوسرے شخص پر جیت حاصل ہوتی ہے اور وہ بغیر کسی مقابلہ کے بہت سا مال حاصل کر لیتا ہے تو یہ چیز بغض اور عداوت کا سب سے بڑا سبب ہے۔(۵) یہ مذکورہ اعمال قلب کو ذکر الٰہی سے روکتے ہیں اور بدن کو ذکر اور نماز سے دور کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ یہی وہ دو چیزیں ہیں جن کے لیے بندے کو تخلیق کیا گیا ہے اور انھی دو امور میں بندے کی سعادت ہے۔شراب اور جوا تو ذکر الٰہی اور نماز کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ قلب مشغول ہو جاتا ہے اور ذہن شراب اور جوئے میں مشغول ہو کر غافل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ طویل مدت اس پر گزر جاتی ہے اور انسان کو ہوش تک نہیں رہتا کہ وہ کہاں ہے۔ پس کون سا گناہ اس گناہ سے بڑھ کر قبیح ہے جو انسان کو ناپاک کر کے ناپاک لوگوں میں شامل کر دے اور وہ اسے شیطان کے اعمال، اس کے مکر و فریب کے جال میں پھنسا دے ۔اور وہ شیطان کا اس طرح مطیع ہو جائے جس طرح مویشی چرواہے کے مطیع ہوتے ہیں ۔ شیطان بندے اور اس کی فلاح کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ اہل ایمان کے درمیان بغض اور عداوت کا بیج بوتا ہے اور انھیں ذکر الٰہی اور نماز سے روکتا ہے۔ (کیا یہ مفاسد جو مذکور ہوئے، کم ہیں ) اور کیا ان مفاسد سے بڑھ کر بھی کوئی چیز ہے جو ان سے بڑی ہو؟بنابریں اللہ تعالیٰ نے عقل سلیم کو ان چیزوں سے روکتے ہوئے فرمایا ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَهُوۡنَ﴾ ’’کیا تم باز آتے ہو؟‘‘ کیونکہ ایک عقل مند شخص جب ان مفاسد میں سے کسی ایک پر نظر ڈالتا ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور اپنے آپ کو ان برائیوں کے ارتکاب سے باز رکھتا ہے۔ اسے کسی لمبے چوڑے وعظ اور بہت زیادہ زجر و توبیخ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
5:91إِنَّمَا يُرِيدُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَن يُوقِعَ بَيۡنَكُمُ ٱلۡعَدَٰوَةَ وَٱلۡبَغۡضَآءَ فِي ٱلۡخَمۡرِ وَٱلۡمَيۡسِرِ وَيَصُدَّكُمۡ عَن ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَعَنِ ٱلصَّلَوٰةِۖ فَهَلۡ أَنتُم مُّنتَهُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یقینا شراب اور جوا اور بت اور فال نکالنے کے تیر ناپاک ہیں عمل سے ہیں شیطان کے، پس بچو تم اس سے تاکہ تم فلاح پاؤ(90) یقینا چاہتا ہے شیطان کہ ڈال دے تمھارے درمیان عداوت اور بغض شراب اور جوئے کے ذریعے سےاور روک دے تمھیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے، پس کیا تم باز آتے ہو (ان شیطانی کاموں سے)؟ (91)
[91,90] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مذکورہ قبیح اشیا کی مذمت کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ یہ شیطانی اور گندے کام ہیں ۔ ﴿ فَاجۡتَنِبُوۡهُ ﴾ ’’پس بچو ان سے‘‘ یعنی ان گندے کاموں کو چھوڑ دو ﴿ لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾’’تاکہ تم فلاح پاؤ‘‘ کیونکہ فلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کہ ان چیزوں سے اجتناب نہ کیا جائے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ خاص طور پر مذکورہ فواحش :(الف)خمر : ہر وہ چیز خمر ہے جو عقل کو ڈھانپ لے، یعنی عقل پر نشے کا پردہ ڈال دے۔(ب) جوا : وہ تمام مقابلے جن میں جانبین کی طرف سے جیتنے والے کے لیے عوض مقرر کیا گیا ہو ، مثلاً:گھوڑ دوڑ وغیرہ کی شرط۔(ج)انصاب : اس سے مراد وہ بت وغیرہ ہیں جن کو نصب کر دیا جاتا ہے اور اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کی جاتی ہے۔(د)پانسے : جن کے ذریعے سے لوگ اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے ہیں ۔یہ وہ چار چیزیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے اور ان کے ارتکاب پر زجر و توبیخ کی ہے اور ان کے مفاسد سے آگاہ فرمایا جو ان کو ترک کرنے اور ان سے اجتناب کے داعی ہیں ۔(۱) یہ تمام امور (رجس)یعنی ناپاک ہیں ۔ اگرچہ حسی طور پر یہ ناپاک نہیں مگر معنوی طور پر ناپاک ہیں اور ناپاک امور سے بچنا اور ان کی گندگی میں ملوث ہونے سے اجتناب کرنا ہی مناسب ہے۔(۲)یہ تمام امور شیطانی اعمال ہیں اور شیطان انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ دشمن سے ہمیشہ دور رہا جاتا ہے اور اس کی گھاتوں اور سازشوں سے بچا جاتا ہے، خاص طور پر ان اعمال سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے جن میں دشمن ملوث کر کے ہلاک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور سب سے بڑی احتیاط یہ ہے کہ اپنے کھلے دشمن کے اعمال سے دور رہ کر اس سے بچنا چاہیے اور ان اعمال میں پڑنے سے ڈرنا چاہیے۔(۳)ان مذکورہ امور سے اجتناب کیے بغیر بندے کی فلاح ممکن نہیں ۔ فلاح، امر مطلوب کے حصول میں کامیابی اور امر مرہوب سے نجات کا نام ہے اور یہ تمام امور فلاح سے مانع اور اس کے لیے رکاوٹ ہیں ۔(۴)یہ مذکورہ اعمال لوگوں کے درمیان بغض اور عداوت کے موجب ہیں ۔ شیطان ان اعمال کو لوگوں کے درمیان پھیلانے کا بڑا حریص ہے، خاص طور پر شراب اور جوا۔ تاکہ وہ اہل ایمان کے درمیان بغض اور عداوت کا بیج بو سکے۔ کیونکہ شراب پینا، عقل میں فتور آنے کا، ہوش و حواس کے چلے جانے کا اور مومن بھائیوں کے درمیان بغض اور عداوت کا سبب بنتا ہے خاص طور پر جبکہ اس کے ساتھ وہ اسباب بھی مقرون ہوں جو شراب پینے والے کے لوازم میں شمار ہوتے ہیں ۔ تب یہ شراب نوشی بسا اوقات قتل کے اقدام تک پہنچا دیتی ہے۔ جوئے میں ایک شخص کو جو دوسرے شخص پر جیت حاصل ہوتی ہے اور وہ بغیر کسی مقابلہ کے بہت سا مال حاصل کر لیتا ہے تو یہ چیز بغض اور عداوت کا سب سے بڑا سبب ہے۔(۵) یہ مذکورہ اعمال قلب کو ذکر الٰہی سے روکتے ہیں اور بدن کو ذکر اور نماز سے دور کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ یہی وہ دو چیزیں ہیں جن کے لیے بندے کو تخلیق کیا گیا ہے اور انھی دو امور میں بندے کی سعادت ہے۔شراب اور جوا تو ذکر الٰہی اور نماز کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ قلب مشغول ہو جاتا ہے اور ذہن شراب اور جوئے میں مشغول ہو کر غافل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ طویل مدت اس پر گزر جاتی ہے اور انسان کو ہوش تک نہیں رہتا کہ وہ کہاں ہے۔ پس کون سا گناہ اس گناہ سے بڑھ کر قبیح ہے جو انسان کو ناپاک کر کے ناپاک لوگوں میں شامل کر دے اور وہ اسے شیطان کے اعمال، اس کے مکر و فریب کے جال میں پھنسا دے ۔اور وہ شیطان کا اس طرح مطیع ہو جائے جس طرح مویشی چرواہے کے مطیع ہوتے ہیں ۔ شیطان بندے اور اس کی فلاح کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ اہل ایمان کے درمیان بغض اور عداوت کا بیج بوتا ہے اور انھیں ذکر الٰہی اور نماز سے روکتا ہے۔ (کیا یہ مفاسد جو مذکور ہوئے، کم ہیں ) اور کیا ان مفاسد سے بڑھ کر بھی کوئی چیز ہے جو ان سے بڑی ہو؟بنابریں اللہ تعالیٰ نے عقل سلیم کو ان چیزوں سے روکتے ہوئے فرمایا ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَهُوۡنَ﴾ ’’کیا تم باز آتے ہو؟‘‘ کیونکہ ایک عقل مند شخص جب ان مفاسد میں سے کسی ایک پر نظر ڈالتا ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور اپنے آپ کو ان برائیوں کے ارتکاب سے باز رکھتا ہے۔ اسے کسی لمبے چوڑے وعظ اور بہت زیادہ زجر و توبیخ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
5:92وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَٱحۡذَرُواْۚ فَإِن تَوَلَّيۡتُمۡ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ
اور اطاعت کرو تم اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ڈرو تم، پس اگر پھر جاؤ تم تو جان لو کہ ہمارے رسول پر تو صرف پہنچا دینا ہے کھول کر(92)
[92] اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت ایک ہی چیز کا نام ہے جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ رسولﷺ کی اطاعت کرتا ہے اور جو کوئی رسولﷺ کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ یہ اطاعت اس بات کو متضمن ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے احکام کی تعمیل کی جائے، یعنی ظاہری و باطنی اعمال و اقوال، حقوق اللہ اور حقوق مخلوق سے متعلق واجب اور مستحب اعمال بجا لائے جائیں ۔ اور اس امر کو متضمن ہے کہ ان امور سے اجتناب کیا جائے جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کا حکم ایک عام حکم ہے جو تمام احکام کو شامل ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس میں تمام اوامر و نواہی اور ظاہر و باطن شامل ہیں ۔ فرمایا:﴿ وَاحۡذَرُوۡا﴾ ’’اور ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی سے بچو کیونکہ یہ نافرمانی شر اور واضح خسارے کی موجب ہے ﴿ فَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ﴾ ’’پس اگر تم اعراض کرو‘‘ یعنی جس چیز کا تمھیں حکم دیا گیا اور جس چیز سے تمھیں روکا گیا ہے اگر تم اس کی تعمیل کرنے سے گریز کرو ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’تو جان لو کہ ہمارے رسول(ﷺ) کے ذمہ تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے‘‘ اور اس نے یہ فریضہ ادا کر دیا ہے۔ اگر تم راہ راست اختیار کرتے ہو تو اس کا فائدہ تمھارے لیے ہے اور اگر تم برائیوں کا ارتکاب کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمھارا محاسبہ کرے گا۔ رسولﷺ کے ذمہ جو کچھ تھا وہ انھوں نے پہنچا دیا۔
5:93لَيۡسَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ جُنَاحٞ فِيمَا طَعِمُوٓاْ إِذَا مَا ٱتَّقَواْ وَّءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ ثُمَّ ٱتَّقَواْ وَّءَامَنُواْ ثُمَّ ٱتَّقَواْ وَّأَحۡسَنُواْۚ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
نہیں ہے اوپر ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، کوئی گناہ اس چیز میں جو کھا چکے وہ، جب ڈر جائیں وہ اور ایمان لے آئیں اور عمل کریں نیک ، پھر تقویٰ اختیار کریں وہ اور ایمان لائیں ، پھر تقویٰ اختیار کریں وہ اور نیکی کریں اور اللہ محبت کرتا ہے نیکی کرنے والوں سے(93)
[93] جب شراب کی تحریم، ممانعت کی تاکید اور اس کی بابت سخت حکم نازل ہوا تو بہت سے اہل ایمان کی خواہش تھی کہ انھیں اپنے ان مومن بھائیوں کے بارے میں معلوم ہو جو حالت اسلام میں فوت ہوئے اور شراب کی تحریم سے قبل وہ شراب پیا کرتے تھے، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿لَيۡسَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جُنَاحٌ ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں ۔‘‘ یعنی ان پر گناہ اور حرج نہیں ہے ﴿ فِيۡمَا طَعِمُوۡۤا﴾ ’’اس میں جو کچھ پہلے کھا چکے‘‘ یعنی شراب اور جوئے کی تحریم سے قبل وہ شراب پیا کرتے تھے۔ چونکہ نفی حرج مذکورہ اشیا وغیرہ کو شامل ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کو مقید فرمایا ﴿ اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّاٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’جبکہ وہ آئندہ کو ڈر گئے اور ایمان لائے اور نیک عمل کیے‘‘ یعنی اس شرط کے ساتھ کہ وہ گناہوں کو ترک کریں اللہ تعالیٰ پر ایسا صحیح ایمان رکھیں جو عمل صالح کا موجب ہوتا ہے، پھر اس پر ہمیشہ قائم رہیں .... ورنہ بندہ کبھی اس صفت سے متصف ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا۔ یہ ایمان اس وقت تک کافی نہیں جب تک کہ اس پر دوام نہ ہو اور اسی حالت میں اس کو موت نہ آئے۔ نیز نیک اعمال پر اس کا دوام ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ اچھے طریقے سے اپنے خالق کی عبادت کرنے والے نیکوکاروں کو پسند کرتا ہے اور وہ بندوں کو نفع پہنچانے کو پسند کرتا ہے۔اس آیت کریمہ میں وہ شخص بھی شامل ہے جو تحریم کے نازل ہونے کے بعد کوئی حرام کردہ چیز کھاتا ہے یا کسی حرام فعل کا ارتکاب کرتا ہے، پھر اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے توبہ کرلیتا، تقویٰ اختیار کرلیتا ہے اور نیک کام کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا اور اس بارے میں اس کے گناہ کا بوجھ ہٹا دے گا۔
5:94يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَيَبۡلُوَنَّكُمُ ٱللَّهُ بِشَيۡءٖ مِّنَ ٱلصَّيۡدِ تَنَالُهُۥٓ أَيۡدِيكُمۡ وَرِمَاحُكُمۡ لِيَعۡلَمَ ٱللَّهُ مَن يَخَافُهُۥ بِٱلۡغَيۡبِۚ فَمَنِ ٱعۡتَدَىٰ بَعۡدَ ذَٰلِكَ فَلَهُۥ عَذَابٌ أَلِيمٞ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ، البتہ ضرور آزمائے گا تمھیں اللہ کچھ شکار سے کہ پہنچ سکتے ہیں اس تک تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے تاکہ معلوم کر لے اللہ کہ کون ڈرتا ہے اس سے بن دیکھے؟ پس جو حد سے گزرے بعد اس کے، سو اس کے لیے عذاب ہے بہت دردناک(94) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ مارو تم شکار کو جبکہ تم احرام میں ہو اور جو کوئی مارے گا تم میں سے اس کو جان بوجھ کر تو بدلہ ہے (اس پر) مثل اس کے جو مارا اس نے، چوپاؤں سے، فیصلہ کریں گے اس کا دو انصاف والے تم میں سے، بطور قربانی کے پہنچنے والی کعبہ میں یا کفارہ ہے کھانا کھلانا کچھ مسکینوں کو یا برابر اس کے روزے رکھنے ہیں تاکہ چکھے وہ سزا اپنے کام کی۔ معاف کیا اللہ نے اس سے جو گزر چکااور جو کوئی پھر کرے تو انتقام لے گا اللہ اس سےاور اللہ غالب ہے انتقام لینے والا(95) حلال کیا گیا ہے تمھارے لیے شکار سمندر کا اور کھانا اس کا فائدے کے لیے تمھارے اور مسافروں کےاور حرام کیا گیا ہے تم پر شکار خشکی کا جب تک ہو تم احرام میں اور ڈرو تم اللہ سے، وہ جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے(96)
[94] اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو خبر دی ہے کہ وہ قضا و قدر کے اعتبار سے یہ فعل سرانجام دے گا۔ تاکہ وہ اس کی اطاعت کریں اور بصیرت کے ساتھ آگے آئیں اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان کا امتحان لے ﴿ لَيَبۡلُوَنَّـــكُمُ اللّٰهُ بِشَيۡءٍ مِّنَ الصَّيۡدِ ﴾ ’’البتہ ضرور آزمائے گا تم کو اللہ ایک بات سے ایک شکار میں ‘‘ یعنی کسی زیادہ بڑی چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں نہیں آزمائے گا بلکہ اپنے لطف و کرم کی بنا پر تخفیف کرتے ہوئے بہت معمولی سی چیز کے ذریعے سے تمھارا امتحان لے گا۔ یہ شکار ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمھیں آزمائے گا ﴿ تَنَالُهٗۤ اَيۡدِيۡكُمۡ وَرِمَاحُكُمۡ ﴾ ’’جس پر پہنچتے ہیں تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے‘‘ یعنی تم اس کے شکار پر متمکن ہوتے ہو تاکہ اس طرح آزمائش مکمل ہو جائے اگر ہاتھ یا نیزے کے ذریعے سے شکار قدرت و اختیار میں نہ ہو تو آزمائش کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آزمائش کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿لِيَعۡلَمَ اللّٰهُ ﴾ ’’تاکہ جان لے اللہ‘‘ یعنی ایسا جاننا جو مخلوق پر ظاہر ہو اور اس پر ثواب و عذاب مترتب ہوتا ہو ﴿مَنۡ يَّخَافُهٗ بِالۡغَيۡبِ ﴾’’کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے۔‘‘ پس جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، اس پر قدرت و اختیار ہونے کے باوجود وہ اس سے رک جاتا ہے تو وہ اسے بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے، اس کے برعکس وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے غائبانہ طور پر ڈرتا نہیں اور اس کی نافرمانی سے باز نہیں آتا، اس کے سامنے شکار آجاتا ہے، اگر اس پر قابو پا سکتا ہے تو اس کو شکار کر لیتا ہے۔۔۔۔﴿فَمَنِ اعۡتَدٰؔى ﴾ ’’تو جو زیادتی کرے۔‘‘ یعنی تم میں سے جو کوئی حد سے تجاوز کرے گا ﴿ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اس کے بعد‘‘ یعنی اس بیان کے بعد جس نے ہر قسم کی حجت کو باطل کر کے راستے کو واضح کر دیا ہے ﴿ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پس اس کے لیے انتہائی دردناک عذاب ہے‘‘ جس کا وصف اللہ کے سوا کوئی بیان نہیں کر سکتا۔ کیونکہ حد سے تجاوز کرنے والے اس شخص کے لیے کوئی عذر نہیں ۔ اعتبار اس شخص کا ہے جو لوگوں کی عدم موجودگی میں غائبانہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ رہا لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے خوف کا اظہار کرنا تو یہ کبھی کبھی لوگوں کے خوف کی وجہ سے بھی ہوتا ہے تب اس پر کوئی ثواب نہیں ۔
[95] پھر اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع کر کے شکار کرنے کو حرام قرار دے دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡتُلُوا الصَّيۡدَ وَاَنۡتُمۡ حُرُمٌؔ ﴾ ’’اے ایمان دارو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا۔‘‘ یعنی جب تم نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا ہوا ہو۔ شکار مارنے کی ممانعت، شکار مارنے کے مقدمات کی ممانعت کو بھی شامل ہے۔ جیسے شکار مارنے میں اشتراک، شکار کی نشاندہی کرنا اور شکار کرنے میں اعانت کرنا، احرام کی حالت میں سب ممنوع ہے۔ حتی کہ محرم کو وہ شکار کھانا بھی ممنوع ہے جو اس کی خاطر شکار کیا گیا ہو۔ یہ سب کچھ اس عظیم عبادت کی تعظیم کے لیے ہے کہ محرم کے لیے اس شکار کو مارنا حرام ہے جو احرام باندھنے سے پہلے تک اس کے لیے حلال تھا۔ ﴿ وَمَنۡ قَتَلَهٗ مِنۡكُمۡ مُّتَعَمِّدًا ﴾ ’’اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے۔‘‘ یعنی اس نے جان بوجھ کر شکار مارا ﴿ فَجَزَآءٌ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ ﴾ ’’تو اس پر بدلہ ہے اس مارے ہوئے کے برابر مویشی میں سے‘‘ یعنی اس پر لازم ہے کہ اونٹ، گائے اور بکری کا فدیہ دے۔ شکار کے بارے میں دیکھا جائے گا کہ وہ کس سے مشابہت رکھتا ہے تو اس جیسا مویشی ذبح کر کے صدقہ کیا جائے گا۔ اور مماثلت کی تعیین میں کس کا فیصلہ معتبر ہو گا؟ ﴿ يَحۡكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدۡلٍ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے دو عادل شخص اس کا فیصلہ کریں گے‘‘ یعنی دو عادل اشخاص جو فیصلہ کرنا جانتے ہوں اور وجہ مشابہت کی بھی معرفت رکھتے ہوں جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا۔ انھوں نے کبوتر کا شکار کرنے پر بکری، شتر مرغ کا شکار کرنے پر اونٹنی اور نیل گائے کی تمام اقسام پر گائے ذبح کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی طرح تمام جنگلی جانور جو مویشیوں میں کسی کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں تو فدیہ کے لیے وہی اس کے مماثل ہیں ۔ اگر کوئی مشابہت نہ ہو تو اس میں قیمت ہے۔ جیسا کہ تلف شدہ چیزوں میں قاعدہ ہے۔یہ بھی لازم ہے کہ یہ ہدی بیت اللہ پہنچے ﴿ هَدۡيًۢا بٰلِغَ الۡكَعۡبَةِ ﴾ ’’وہ جانور بطور قربانی پہنچایا جائے کعبے تک‘‘ یعنی اس کو حرم کے اندر ذبح کیا جائے ﴿ اَوۡ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِيۡنَ ﴾ ’’یا اس جزا کا کفارہ چند مساکین کو کھانا کھلانا ہے‘‘ یعنی مویشیوں میں سے مماثل کے مقابلے میں مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔ بہت سے علماء کہتے ہیں کہ جزا یوں پوری ہو گی کہ مماثل مویشی کی قیمت کے برابر غلہ وغیرہ خریدا جائے اور ہر مسکین کو ایک مد گیہوں یا گیہوں کے علاوہ کسی دوسری جنس میں سے نصف صاع دیا جائے ﴿ اَوۡ عَدۡلُ ذٰلِكَ ﴾ ’’یا اس کھانے کے بدل میں ‘‘ ﴿ صِيَامًا ﴾ ’’روزے رکھے۔‘‘ یعنی ایک مسکین کو کھانا کھلانے کے بدلے میں ایک روزہ رکھے ﴿ لِّيَذُوۡقَ ﴾ ’’تاکہ چکھے وہ‘‘ اس مذکورہ جزا کے وجوب کے ذریعے سے ﴿ وَبَالَ اَمۡرِهٖ ﴾ ’’سزا اپنے کام کی‘‘ ﴿وَمَنۡ عَادَ ﴾ ’’اور پھر جو کرے گا‘‘ یعنی اس کے بعد ﴿ فَيَنۡتَقِمُ اللّٰهُ مِنۡهُ١ؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا اور اللہ تعالیٰ غالب اور انتقام لینے والا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے جان بوجھ کر شکار مارنے پر اس کی سزا کی صراحت کی ہے باوجود اس بات کے کہ بدلہ تو ہر غلطی کا ضروری ہوتا ہے، چاہے اس کا مرتکب جان بوجھ کر کرے یا غلطی سے۔ جیسا کہ شرعی قاعدہ ہے کہ جان اور مال کو تلف کرنے والے پر ضمان لازم ہے خواہ کسی بھی حال میں اس سے یہ اتلاف صادر ہوا ہو۔ جبکہ یہ اتلاف ناحق ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر بدلہ اور انتقام مترتب کیا ہے اور یہ سب جان بوجھ کر کرنے والے کے لیے ہے۔ لیکن غلطی سے کرنے والے کے لیے سزا نہیں ہے، صرف بدلہ ہے۔ یہی جمہور علماء کی رائے ہے مگر صحیح وہی ہے جس کی آیت کریمہ نے تصریح کی ہے کہ جس طرح بغیر جانے بوجھے اور بغیر ارادے کے شکار مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں اسی طرح اس پر جزا بھی لازم نہیں ہے۔
[96] چونکہ شکار کا اطلاق بری اور بحری دونوں قسم کے شکار پر ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سمندری شکار کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ اُحِلَّ لَكُمۡ صَيۡدُ الۡبَحۡرِ وَطَعَامُهٗ ﴾ ’’احرام کی حالت میں تمھارے لیے سمندر کا شکار کرنا اور اس کا کھانا حلال ہے‘‘ اور ’’سمندر کے شکار‘‘ سے مراد سمندر کے زندہ جانور ہیں اور (طعام) ’’اس کے کھانے‘‘ سے مراد سمندر میں مرنے والے سمندری جانور ہیں ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرے ہوئے بحری جانور بھی حلال ہیں ۔ ﴿ مَتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِلسَّيَّارَةِ ﴾ ’’تمھارے فائدے کے لیے اور مسافروں کے لیے‘‘ یعنی اس کی اباحت میں تمھارے لیے فائدہ ہے تاکہ تم اور تمھارے وہ ساتھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں جو تمھارے ساتھ سفر کرتے ہیں ﴿ وَحُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ صَيۡدُ الۡـبَرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمًا ﴾ ’’اور جب تک تم احرام کی حالت میں ہو، تم پر خشکی (جنگل)کا شکار حرام ہے‘‘ یہاں لفظ ’’شکار‘‘ سے یہ مسئلہ اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ شکار کیا ہوا جانور جنگلی ہو۔ کیونکہ پالتو اور گھریلو جانور پر شکار کا اطلاق نہیں ہوتا۔ نیز یہ ایسا جانور ہو جس کا گوشت کھایا جاتا ہو کیونکہ جس جانور کا گوشت کھایا نہ جاتا ہو اس کو شکار نہیں کیا جاتا اور نہ اس پر ’’شکار‘‘ کا اطلاق ہی کیا جاتا ہے۔﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ﴾ ’’اور اس اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے اس پر عمل کر کے اور جس چیز سے روکا ہے اس کو ترک کر کے تقویٰ اختیار کرو۔ اور اپنے اس علم سے حصول تقویٰ میں مدد لو کہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے پاس اکٹھا کیا جائے گا اور وہ تمھیں اس بات کی جزا دے گا کہ آیا تم نے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کیا تھا۔ تب وہ تمھیں بہت زیادہ ثواب سے نوازے گا یا اگر تقویٰ کو اختیار نہیں کیا تب اس صورت میں وہ تمھیں سخت سزا دے گا۔
5:95يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقۡتُلُواْ ٱلصَّيۡدَ وَأَنتُمۡ حُرُمٞۚ وَمَن قَتَلَهُۥ مِنكُم مُّتَعَمِّدٗا فَجَزَآءٞ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ ٱلنَّعَمِ يَحۡكُمُ بِهِۦ ذَوَا عَدۡلٖ مِّنكُمۡ هَدۡيَۢا بَٰلِغَ ٱلۡكَعۡبَةِ أَوۡ كَفَّـٰرَةٞ طَعَامُ مَسَٰكِينَ أَوۡ عَدۡلُ ذَٰلِكَ صِيَامٗا لِّيَذُوقَ وَبَالَ أَمۡرِهِۦۗ عَفَا ٱللَّهُ عَمَّا سَلَفَۚ وَمَنۡ عَادَ فَيَنتَقِمُ ٱللَّهُ مِنۡهُۚ وَٱللَّهُ عَزِيزٞ ذُو ٱنتِقَامٍ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ، البتہ ضرور آزمائے گا تمھیں اللہ کچھ شکار سے کہ پہنچ سکتے ہیں اس تک تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے تاکہ معلوم کر لے اللہ کہ کون ڈرتا ہے اس سے بن دیکھے؟ پس جو حد سے گزرے بعد اس کے، سو اس کے لیے عذاب ہے بہت دردناک(94) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ مارو تم شکار کو جبکہ تم احرام میں ہو اور جو کوئی مارے گا تم میں سے اس کو جان بوجھ کر تو بدلہ ہے (اس پر) مثل اس کے جو مارا اس نے، چوپاؤں سے، فیصلہ کریں گے اس کا دو انصاف والے تم میں سے، بطور قربانی کے پہنچنے والی کعبہ میں یا کفارہ ہے کھانا کھلانا کچھ مسکینوں کو یا برابر اس کے روزے رکھنے ہیں تاکہ چکھے وہ سزا اپنے کام کی۔ معاف کیا اللہ نے اس سے جو گزر چکااور جو کوئی پھر کرے تو انتقام لے گا اللہ اس سےاور اللہ غالب ہے انتقام لینے والا(95) حلال کیا گیا ہے تمھارے لیے شکار سمندر کا اور کھانا اس کا فائدے کے لیے تمھارے اور مسافروں کےاور حرام کیا گیا ہے تم پر شکار خشکی کا جب تک ہو تم احرام میں اور ڈرو تم اللہ سے، وہ جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے(96)
[94] اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو خبر دی ہے کہ وہ قضا و قدر کے اعتبار سے یہ فعل سرانجام دے گا۔ تاکہ وہ اس کی اطاعت کریں اور بصیرت کے ساتھ آگے آئیں اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان کا امتحان لے ﴿ لَيَبۡلُوَنَّـــكُمُ اللّٰهُ بِشَيۡءٍ مِّنَ الصَّيۡدِ ﴾ ’’البتہ ضرور آزمائے گا تم کو اللہ ایک بات سے ایک شکار میں ‘‘ یعنی کسی زیادہ بڑی چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں نہیں آزمائے گا بلکہ اپنے لطف و کرم کی بنا پر تخفیف کرتے ہوئے بہت معمولی سی چیز کے ذریعے سے تمھارا امتحان لے گا۔ یہ شکار ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمھیں آزمائے گا ﴿ تَنَالُهٗۤ اَيۡدِيۡكُمۡ وَرِمَاحُكُمۡ ﴾ ’’جس پر پہنچتے ہیں تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے‘‘ یعنی تم اس کے شکار پر متمکن ہوتے ہو تاکہ اس طرح آزمائش مکمل ہو جائے اگر ہاتھ یا نیزے کے ذریعے سے شکار قدرت و اختیار میں نہ ہو تو آزمائش کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آزمائش کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿لِيَعۡلَمَ اللّٰهُ ﴾ ’’تاکہ جان لے اللہ‘‘ یعنی ایسا جاننا جو مخلوق پر ظاہر ہو اور اس پر ثواب و عذاب مترتب ہوتا ہو ﴿مَنۡ يَّخَافُهٗ بِالۡغَيۡبِ ﴾’’کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے۔‘‘ پس جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، اس پر قدرت و اختیار ہونے کے باوجود وہ اس سے رک جاتا ہے تو وہ اسے بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے، اس کے برعکس وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے غائبانہ طور پر ڈرتا نہیں اور اس کی نافرمانی سے باز نہیں آتا، اس کے سامنے شکار آجاتا ہے، اگر اس پر قابو پا سکتا ہے تو اس کو شکار کر لیتا ہے۔۔۔۔﴿فَمَنِ اعۡتَدٰؔى ﴾ ’’تو جو زیادتی کرے۔‘‘ یعنی تم میں سے جو کوئی حد سے تجاوز کرے گا ﴿ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اس کے بعد‘‘ یعنی اس بیان کے بعد جس نے ہر قسم کی حجت کو باطل کر کے راستے کو واضح کر دیا ہے ﴿ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پس اس کے لیے انتہائی دردناک عذاب ہے‘‘ جس کا وصف اللہ کے سوا کوئی بیان نہیں کر سکتا۔ کیونکہ حد سے تجاوز کرنے والے اس شخص کے لیے کوئی عذر نہیں ۔ اعتبار اس شخص کا ہے جو لوگوں کی عدم موجودگی میں غائبانہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ رہا لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے خوف کا اظہار کرنا تو یہ کبھی کبھی لوگوں کے خوف کی وجہ سے بھی ہوتا ہے تب اس پر کوئی ثواب نہیں ۔
[95] پھر اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع کر کے شکار کرنے کو حرام قرار دے دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡتُلُوا الصَّيۡدَ وَاَنۡتُمۡ حُرُمٌؔ ﴾ ’’اے ایمان دارو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا۔‘‘ یعنی جب تم نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا ہوا ہو۔ شکار مارنے کی ممانعت، شکار مارنے کے مقدمات کی ممانعت کو بھی شامل ہے۔ جیسے شکار مارنے میں اشتراک، شکار کی نشاندہی کرنا اور شکار کرنے میں اعانت کرنا، احرام کی حالت میں سب ممنوع ہے۔ حتی کہ محرم کو وہ شکار کھانا بھی ممنوع ہے جو اس کی خاطر شکار کیا گیا ہو۔ یہ سب کچھ اس عظیم عبادت کی تعظیم کے لیے ہے کہ محرم کے لیے اس شکار کو مارنا حرام ہے جو احرام باندھنے سے پہلے تک اس کے لیے حلال تھا۔ ﴿ وَمَنۡ قَتَلَهٗ مِنۡكُمۡ مُّتَعَمِّدًا ﴾ ’’اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے۔‘‘ یعنی اس نے جان بوجھ کر شکار مارا ﴿ فَجَزَآءٌ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ ﴾ ’’تو اس پر بدلہ ہے اس مارے ہوئے کے برابر مویشی میں سے‘‘ یعنی اس پر لازم ہے کہ اونٹ، گائے اور بکری کا فدیہ دے۔ شکار کے بارے میں دیکھا جائے گا کہ وہ کس سے مشابہت رکھتا ہے تو اس جیسا مویشی ذبح کر کے صدقہ کیا جائے گا۔ اور مماثلت کی تعیین میں کس کا فیصلہ معتبر ہو گا؟ ﴿ يَحۡكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدۡلٍ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے دو عادل شخص اس کا فیصلہ کریں گے‘‘ یعنی دو عادل اشخاص جو فیصلہ کرنا جانتے ہوں اور وجہ مشابہت کی بھی معرفت رکھتے ہوں جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا۔ انھوں نے کبوتر کا شکار کرنے پر بکری، شتر مرغ کا شکار کرنے پر اونٹنی اور نیل گائے کی تمام اقسام پر گائے ذبح کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی طرح تمام جنگلی جانور جو مویشیوں میں کسی کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں تو فدیہ کے لیے وہی اس کے مماثل ہیں ۔ اگر کوئی مشابہت نہ ہو تو اس میں قیمت ہے۔ جیسا کہ تلف شدہ چیزوں میں قاعدہ ہے۔یہ بھی لازم ہے کہ یہ ہدی بیت اللہ پہنچے ﴿ هَدۡيًۢا بٰلِغَ الۡكَعۡبَةِ ﴾ ’’وہ جانور بطور قربانی پہنچایا جائے کعبے تک‘‘ یعنی اس کو حرم کے اندر ذبح کیا جائے ﴿ اَوۡ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِيۡنَ ﴾ ’’یا اس جزا کا کفارہ چند مساکین کو کھانا کھلانا ہے‘‘ یعنی مویشیوں میں سے مماثل کے مقابلے میں مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔ بہت سے علماء کہتے ہیں کہ جزا یوں پوری ہو گی کہ مماثل مویشی کی قیمت کے برابر غلہ وغیرہ خریدا جائے اور ہر مسکین کو ایک مد گیہوں یا گیہوں کے علاوہ کسی دوسری جنس میں سے نصف صاع دیا جائے ﴿ اَوۡ عَدۡلُ ذٰلِكَ ﴾ ’’یا اس کھانے کے بدل میں ‘‘ ﴿ صِيَامًا ﴾ ’’روزے رکھے۔‘‘ یعنی ایک مسکین کو کھانا کھلانے کے بدلے میں ایک روزہ رکھے ﴿ لِّيَذُوۡقَ ﴾ ’’تاکہ چکھے وہ‘‘ اس مذکورہ جزا کے وجوب کے ذریعے سے ﴿ وَبَالَ اَمۡرِهٖ ﴾ ’’سزا اپنے کام کی‘‘ ﴿وَمَنۡ عَادَ ﴾ ’’اور پھر جو کرے گا‘‘ یعنی اس کے بعد ﴿ فَيَنۡتَقِمُ اللّٰهُ مِنۡهُ١ؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا اور اللہ تعالیٰ غالب اور انتقام لینے والا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے جان بوجھ کر شکار مارنے پر اس کی سزا کی صراحت کی ہے باوجود اس بات کے کہ بدلہ تو ہر غلطی کا ضروری ہوتا ہے، چاہے اس کا مرتکب جان بوجھ کر کرے یا غلطی سے۔ جیسا کہ شرعی قاعدہ ہے کہ جان اور مال کو تلف کرنے والے پر ضمان لازم ہے خواہ کسی بھی حال میں اس سے یہ اتلاف صادر ہوا ہو۔ جبکہ یہ اتلاف ناحق ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر بدلہ اور انتقام مترتب کیا ہے اور یہ سب جان بوجھ کر کرنے والے کے لیے ہے۔ لیکن غلطی سے کرنے والے کے لیے سزا نہیں ہے، صرف بدلہ ہے۔ یہی جمہور علماء کی رائے ہے مگر صحیح وہی ہے جس کی آیت کریمہ نے تصریح کی ہے کہ جس طرح بغیر جانے بوجھے اور بغیر ارادے کے شکار مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں اسی طرح اس پر جزا بھی لازم نہیں ہے۔
[96] چونکہ شکار کا اطلاق بری اور بحری دونوں قسم کے شکار پر ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سمندری شکار کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ اُحِلَّ لَكُمۡ صَيۡدُ الۡبَحۡرِ وَطَعَامُهٗ ﴾ ’’احرام کی حالت میں تمھارے لیے سمندر کا شکار کرنا اور اس کا کھانا حلال ہے‘‘ اور ’’سمندر کے شکار‘‘ سے مراد سمندر کے زندہ جانور ہیں اور (طعام) ’’اس کے کھانے‘‘ سے مراد سمندر میں مرنے والے سمندری جانور ہیں ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرے ہوئے بحری جانور بھی حلال ہیں ۔ ﴿ مَتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِلسَّيَّارَةِ ﴾ ’’تمھارے فائدے کے لیے اور مسافروں کے لیے‘‘ یعنی اس کی اباحت میں تمھارے لیے فائدہ ہے تاکہ تم اور تمھارے وہ ساتھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں جو تمھارے ساتھ سفر کرتے ہیں ﴿ وَحُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ صَيۡدُ الۡـبَرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمًا ﴾ ’’اور جب تک تم احرام کی حالت میں ہو، تم پر خشکی (جنگل)کا شکار حرام ہے‘‘ یہاں لفظ ’’شکار‘‘ سے یہ مسئلہ اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ شکار کیا ہوا جانور جنگلی ہو۔ کیونکہ پالتو اور گھریلو جانور پر شکار کا اطلاق نہیں ہوتا۔ نیز یہ ایسا جانور ہو جس کا گوشت کھایا جاتا ہو کیونکہ جس جانور کا گوشت کھایا نہ جاتا ہو اس کو شکار نہیں کیا جاتا اور نہ اس پر ’’شکار‘‘ کا اطلاق ہی کیا جاتا ہے۔﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ﴾ ’’اور اس اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے اس پر عمل کر کے اور جس چیز سے روکا ہے اس کو ترک کر کے تقویٰ اختیار کرو۔ اور اپنے اس علم سے حصول تقویٰ میں مدد لو کہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے پاس اکٹھا کیا جائے گا اور وہ تمھیں اس بات کی جزا دے گا کہ آیا تم نے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کیا تھا۔ تب وہ تمھیں بہت زیادہ ثواب سے نوازے گا یا اگر تقویٰ کو اختیار نہیں کیا تب اس صورت میں وہ تمھیں سخت سزا دے گا۔
5:96أُحِلَّ لَكُمۡ صَيۡدُ ٱلۡبَحۡرِ وَطَعَامُهُۥ مَتَٰعٗا لَّكُمۡ وَلِلسَّيَّارَةِۖ وَحُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ صَيۡدُ ٱلۡبَرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمٗاۗ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِيٓ إِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ، البتہ ضرور آزمائے گا تمھیں اللہ کچھ شکار سے کہ پہنچ سکتے ہیں اس تک تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے تاکہ معلوم کر لے اللہ کہ کون ڈرتا ہے اس سے بن دیکھے؟ پس جو حد سے گزرے بعد اس کے، سو اس کے لیے عذاب ہے بہت دردناک(94) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ مارو تم شکار کو جبکہ تم احرام میں ہو اور جو کوئی مارے گا تم میں سے اس کو جان بوجھ کر تو بدلہ ہے (اس پر) مثل اس کے جو مارا اس نے، چوپاؤں سے، فیصلہ کریں گے اس کا دو انصاف والے تم میں سے، بطور قربانی کے پہنچنے والی کعبہ میں یا کفارہ ہے کھانا کھلانا کچھ مسکینوں کو یا برابر اس کے روزے رکھنے ہیں تاکہ چکھے وہ سزا اپنے کام کی۔ معاف کیا اللہ نے اس سے جو گزر چکااور جو کوئی پھر کرے تو انتقام لے گا اللہ اس سےاور اللہ غالب ہے انتقام لینے والا(95) حلال کیا گیا ہے تمھارے لیے شکار سمندر کا اور کھانا اس کا فائدے کے لیے تمھارے اور مسافروں کےاور حرام کیا گیا ہے تم پر شکار خشکی کا جب تک ہو تم احرام میں اور ڈرو تم اللہ سے، وہ جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے(96)
[94] اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو خبر دی ہے کہ وہ قضا و قدر کے اعتبار سے یہ فعل سرانجام دے گا۔ تاکہ وہ اس کی اطاعت کریں اور بصیرت کے ساتھ آگے آئیں اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان کا امتحان لے ﴿ لَيَبۡلُوَنَّـــكُمُ اللّٰهُ بِشَيۡءٍ مِّنَ الصَّيۡدِ ﴾ ’’البتہ ضرور آزمائے گا تم کو اللہ ایک بات سے ایک شکار میں ‘‘ یعنی کسی زیادہ بڑی چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں نہیں آزمائے گا بلکہ اپنے لطف و کرم کی بنا پر تخفیف کرتے ہوئے بہت معمولی سی چیز کے ذریعے سے تمھارا امتحان لے گا۔ یہ شکار ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمھیں آزمائے گا ﴿ تَنَالُهٗۤ اَيۡدِيۡكُمۡ وَرِمَاحُكُمۡ ﴾ ’’جس پر پہنچتے ہیں تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے‘‘ یعنی تم اس کے شکار پر متمکن ہوتے ہو تاکہ اس طرح آزمائش مکمل ہو جائے اگر ہاتھ یا نیزے کے ذریعے سے شکار قدرت و اختیار میں نہ ہو تو آزمائش کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آزمائش کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿لِيَعۡلَمَ اللّٰهُ ﴾ ’’تاکہ جان لے اللہ‘‘ یعنی ایسا جاننا جو مخلوق پر ظاہر ہو اور اس پر ثواب و عذاب مترتب ہوتا ہو ﴿مَنۡ يَّخَافُهٗ بِالۡغَيۡبِ ﴾’’کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے۔‘‘ پس جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، اس پر قدرت و اختیار ہونے کے باوجود وہ اس سے رک جاتا ہے تو وہ اسے بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے، اس کے برعکس وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے غائبانہ طور پر ڈرتا نہیں اور اس کی نافرمانی سے باز نہیں آتا، اس کے سامنے شکار آجاتا ہے، اگر اس پر قابو پا سکتا ہے تو اس کو شکار کر لیتا ہے۔۔۔۔﴿فَمَنِ اعۡتَدٰؔى ﴾ ’’تو جو زیادتی کرے۔‘‘ یعنی تم میں سے جو کوئی حد سے تجاوز کرے گا ﴿ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اس کے بعد‘‘ یعنی اس بیان کے بعد جس نے ہر قسم کی حجت کو باطل کر کے راستے کو واضح کر دیا ہے ﴿ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پس اس کے لیے انتہائی دردناک عذاب ہے‘‘ جس کا وصف اللہ کے سوا کوئی بیان نہیں کر سکتا۔ کیونکہ حد سے تجاوز کرنے والے اس شخص کے لیے کوئی عذر نہیں ۔ اعتبار اس شخص کا ہے جو لوگوں کی عدم موجودگی میں غائبانہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ رہا لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے خوف کا اظہار کرنا تو یہ کبھی کبھی لوگوں کے خوف کی وجہ سے بھی ہوتا ہے تب اس پر کوئی ثواب نہیں ۔
[95] پھر اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع کر کے شکار کرنے کو حرام قرار دے دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡتُلُوا الصَّيۡدَ وَاَنۡتُمۡ حُرُمٌؔ ﴾ ’’اے ایمان دارو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا۔‘‘ یعنی جب تم نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا ہوا ہو۔ شکار مارنے کی ممانعت، شکار مارنے کے مقدمات کی ممانعت کو بھی شامل ہے۔ جیسے شکار مارنے میں اشتراک، شکار کی نشاندہی کرنا اور شکار کرنے میں اعانت کرنا، احرام کی حالت میں سب ممنوع ہے۔ حتی کہ محرم کو وہ شکار کھانا بھی ممنوع ہے جو اس کی خاطر شکار کیا گیا ہو۔ یہ سب کچھ اس عظیم عبادت کی تعظیم کے لیے ہے کہ محرم کے لیے اس شکار کو مارنا حرام ہے جو احرام باندھنے سے پہلے تک اس کے لیے حلال تھا۔ ﴿ وَمَنۡ قَتَلَهٗ مِنۡكُمۡ مُّتَعَمِّدًا ﴾ ’’اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے۔‘‘ یعنی اس نے جان بوجھ کر شکار مارا ﴿ فَجَزَآءٌ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ ﴾ ’’تو اس پر بدلہ ہے اس مارے ہوئے کے برابر مویشی میں سے‘‘ یعنی اس پر لازم ہے کہ اونٹ، گائے اور بکری کا فدیہ دے۔ شکار کے بارے میں دیکھا جائے گا کہ وہ کس سے مشابہت رکھتا ہے تو اس جیسا مویشی ذبح کر کے صدقہ کیا جائے گا۔ اور مماثلت کی تعیین میں کس کا فیصلہ معتبر ہو گا؟ ﴿ يَحۡكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدۡلٍ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے دو عادل شخص اس کا فیصلہ کریں گے‘‘ یعنی دو عادل اشخاص جو فیصلہ کرنا جانتے ہوں اور وجہ مشابہت کی بھی معرفت رکھتے ہوں جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا۔ انھوں نے کبوتر کا شکار کرنے پر بکری، شتر مرغ کا شکار کرنے پر اونٹنی اور نیل گائے کی تمام اقسام پر گائے ذبح کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی طرح تمام جنگلی جانور جو مویشیوں میں کسی کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں تو فدیہ کے لیے وہی اس کے مماثل ہیں ۔ اگر کوئی مشابہت نہ ہو تو اس میں قیمت ہے۔ جیسا کہ تلف شدہ چیزوں میں قاعدہ ہے۔یہ بھی لازم ہے کہ یہ ہدی بیت اللہ پہنچے ﴿ هَدۡيًۢا بٰلِغَ الۡكَعۡبَةِ ﴾ ’’وہ جانور بطور قربانی پہنچایا جائے کعبے تک‘‘ یعنی اس کو حرم کے اندر ذبح کیا جائے ﴿ اَوۡ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِيۡنَ ﴾ ’’یا اس جزا کا کفارہ چند مساکین کو کھانا کھلانا ہے‘‘ یعنی مویشیوں میں سے مماثل کے مقابلے میں مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔ بہت سے علماء کہتے ہیں کہ جزا یوں پوری ہو گی کہ مماثل مویشی کی قیمت کے برابر غلہ وغیرہ خریدا جائے اور ہر مسکین کو ایک مد گیہوں یا گیہوں کے علاوہ کسی دوسری جنس میں سے نصف صاع دیا جائے ﴿ اَوۡ عَدۡلُ ذٰلِكَ ﴾ ’’یا اس کھانے کے بدل میں ‘‘ ﴿ صِيَامًا ﴾ ’’روزے رکھے۔‘‘ یعنی ایک مسکین کو کھانا کھلانے کے بدلے میں ایک روزہ رکھے ﴿ لِّيَذُوۡقَ ﴾ ’’تاکہ چکھے وہ‘‘ اس مذکورہ جزا کے وجوب کے ذریعے سے ﴿ وَبَالَ اَمۡرِهٖ ﴾ ’’سزا اپنے کام کی‘‘ ﴿وَمَنۡ عَادَ ﴾ ’’اور پھر جو کرے گا‘‘ یعنی اس کے بعد ﴿ فَيَنۡتَقِمُ اللّٰهُ مِنۡهُ١ؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا اور اللہ تعالیٰ غالب اور انتقام لینے والا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے جان بوجھ کر شکار مارنے پر اس کی سزا کی صراحت کی ہے باوجود اس بات کے کہ بدلہ تو ہر غلطی کا ضروری ہوتا ہے، چاہے اس کا مرتکب جان بوجھ کر کرے یا غلطی سے۔ جیسا کہ شرعی قاعدہ ہے کہ جان اور مال کو تلف کرنے والے پر ضمان لازم ہے خواہ کسی بھی حال میں اس سے یہ اتلاف صادر ہوا ہو۔ جبکہ یہ اتلاف ناحق ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر بدلہ اور انتقام مترتب کیا ہے اور یہ سب جان بوجھ کر کرنے والے کے لیے ہے۔ لیکن غلطی سے کرنے والے کے لیے سزا نہیں ہے، صرف بدلہ ہے۔ یہی جمہور علماء کی رائے ہے مگر صحیح وہی ہے جس کی آیت کریمہ نے تصریح کی ہے کہ جس طرح بغیر جانے بوجھے اور بغیر ارادے کے شکار مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں اسی طرح اس پر جزا بھی لازم نہیں ہے۔
[96] چونکہ شکار کا اطلاق بری اور بحری دونوں قسم کے شکار پر ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سمندری شکار کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ اُحِلَّ لَكُمۡ صَيۡدُ الۡبَحۡرِ وَطَعَامُهٗ ﴾ ’’احرام کی حالت میں تمھارے لیے سمندر کا شکار کرنا اور اس کا کھانا حلال ہے‘‘ اور ’’سمندر کے شکار‘‘ سے مراد سمندر کے زندہ جانور ہیں اور (طعام) ’’اس کے کھانے‘‘ سے مراد سمندر میں مرنے والے سمندری جانور ہیں ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرے ہوئے بحری جانور بھی حلال ہیں ۔ ﴿ مَتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِلسَّيَّارَةِ ﴾ ’’تمھارے فائدے کے لیے اور مسافروں کے لیے‘‘ یعنی اس کی اباحت میں تمھارے لیے فائدہ ہے تاکہ تم اور تمھارے وہ ساتھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں جو تمھارے ساتھ سفر کرتے ہیں ﴿ وَحُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ صَيۡدُ الۡـبَرِّ مَا دُمۡتُمۡ حُرُمًا ﴾ ’’اور جب تک تم احرام کی حالت میں ہو، تم پر خشکی (جنگل)کا شکار حرام ہے‘‘ یہاں لفظ ’’شکار‘‘ سے یہ مسئلہ اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ شکار کیا ہوا جانور جنگلی ہو۔ کیونکہ پالتو اور گھریلو جانور پر شکار کا اطلاق نہیں ہوتا۔ نیز یہ ایسا جانور ہو جس کا گوشت کھایا جاتا ہو کیونکہ جس جانور کا گوشت کھایا نہ جاتا ہو اس کو شکار نہیں کیا جاتا اور نہ اس پر ’’شکار‘‘ کا اطلاق ہی کیا جاتا ہے۔﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ﴾ ’’اور اس اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے اس پر عمل کر کے اور جس چیز سے روکا ہے اس کو ترک کر کے تقویٰ اختیار کرو۔ اور اپنے اس علم سے حصول تقویٰ میں مدد لو کہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے پاس اکٹھا کیا جائے گا اور وہ تمھیں اس بات کی جزا دے گا کہ آیا تم نے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کیا تھا۔ تب وہ تمھیں بہت زیادہ ثواب سے نوازے گا یا اگر تقویٰ کو اختیار نہیں کیا تب اس صورت میں وہ تمھیں سخت سزا دے گا۔
5:97۞جَعَلَ ٱللَّهُ ٱلۡكَعۡبَةَ ٱلۡبَيۡتَ ٱلۡحَرَامَ قِيَٰمٗا لِّلنَّاسِ وَٱلشَّهۡرَ ٱلۡحَرَامَ وَٱلۡهَدۡيَ وَٱلۡقَلَـٰٓئِدَۚ ذَٰلِكَ لِتَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَأَنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ
بنایا ہے اللہ نے کعبے کو، جو گھر ہے حرمت والا، قیام کا سبب لوگوں کے لیے اور حرمت والے مہینوں کواور حرم والی قربانی کو اور پٹوں (والے جانوروں ) کو یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ یقینا اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(97) جان لو! بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہےاور بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(98) نہیں ہے رسول پر مگر پہنچا دینااور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو(99)
[97] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ﴿ جَعَلَ اللّٰهُ الۡكَعۡبَةَ الۡبَيۡتَ الۡحَرَامَ قِيٰمًا لِّلنَّاسِ ﴾ ’’اس نے کعبہ، یعنی محترم گھر کو لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا۔‘‘ یعنی اس کی تعظیم کے قیام کے ساتھ ان کا دین اور دنیا قائم ہیں ۔ کعبہ کے ساتھ ان کے اسلام کی تکمیل ہوتی ہے۔ ان کے بوجھ ہلکے ہوتے ہیں ۔ اس گھر کا قصد کرنے سے بہت زیادہ نوازشیں اور بہت زیادہ احسانات حاصل ہوتے ہیں ۔ اسی کعبہ کے سبب سے اموال خرچ کیے جاتے ہیں اور اسی کی خاطر بڑے بڑے اہوال میں گھسا جاتا ہے۔ اس محترم گھر میں دور دور سے مختلف رنگ و نسل کے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں ، ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے مدد لیتے ہیں ، مصالح عامہ میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں ، ان کے درمیان ان کے دینی اور دنیاوی مفادات کے ضمن میں روابط استوار ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِيۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ﴾(الحج: 22؍28)’’تاکہ وہ اپنے فائدے کے کاموں میں حاضر ہوں اور قربانی کے چند معلوم دنوں میں ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیے ہیں ‘‘۔اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس محترم گھر کو لوگوں کے لیے اجتماعی زندگی کے قیام کا ذریعہ بنایا، بعض علماء کہتے ہیں کہ ہر سال بیت اللہ کا حج کرنا فرض کفایہ ہے اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو تمام وہ لوگ گناہ گار ٹھہریں گے جو حج کرنے کی قدرت رکھتے ہیں بلکہ اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو ان کی اجتماعی زندگی کا سہارا ختم ہو جائے گا اور قیامت قائم ہو جائے گی۔﴿ وَالۡهَدۡيَ وَالۡقَلَآىِٕدَ ﴾ ’’اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں ۔‘‘ یعنی اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قربانی کے جانوروں اور پٹے والے جانوروں کو جو کہ قربانی کی بہترین قسم ہے، لوگوں کے گزارے کا ذریعہ بنایا۔ لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ثواب حاصل کرتے ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کہ آسمان و زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے‘‘ پس یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے یہ محترم گھر بنایا کیونکہ وہ تمھارے دینی اور دنیاوی مصالح کا علم رکھتا ہے۔
[98]﴿اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘ یعنی ان دونوں امور کے بارے میں جزم و یقین کے ساتھ تمھارے دلوں میں علم موجود ہے۔ یہ حقیقت ہمیشہ تمھیں معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو دنیا میں اور آخرت میں سخت عذاب دینے والا ہے اور وہ ان لوگوں کو بخش دینے والا اور ان پر بہت رحم کرنے والا ہے جو توبہ کر کے اس کی اطاعت کرتے ہیں ۔ پس اس کے عذاب کا خوف اور اس کی بخشش اور ثواب کی امید اس علم کے ثمرات ہیں اور تم خوف اور امید کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہو۔
[99] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿مَا عَلَى الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ﴾ ’’رسول کے ذمے صرف پہنچا دینا ہے‘‘ اور آپﷺ کو جیسے حکم دیا گیا، آپ نے پہنچا دیا۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور اس کے سوا دیگر معاملات میں آپ کو کوئی اختیار نہیں ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا تَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو‘‘ اور اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال کی اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔
5:98ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ وَأَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
بنایا ہے اللہ نے کعبے کو، جو گھر ہے حرمت والا، قیام کا سبب لوگوں کے لیے اور حرمت والے مہینوں کواور حرم والی قربانی کو اور پٹوں (والے جانوروں ) کو یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ یقینا اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(97) جان لو! بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہےاور بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(98) نہیں ہے رسول پر مگر پہنچا دینااور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو(99)
[97] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ﴿ جَعَلَ اللّٰهُ الۡكَعۡبَةَ الۡبَيۡتَ الۡحَرَامَ قِيٰمًا لِّلنَّاسِ ﴾ ’’اس نے کعبہ، یعنی محترم گھر کو لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا۔‘‘ یعنی اس کی تعظیم کے قیام کے ساتھ ان کا دین اور دنیا قائم ہیں ۔ کعبہ کے ساتھ ان کے اسلام کی تکمیل ہوتی ہے۔ ان کے بوجھ ہلکے ہوتے ہیں ۔ اس گھر کا قصد کرنے سے بہت زیادہ نوازشیں اور بہت زیادہ احسانات حاصل ہوتے ہیں ۔ اسی کعبہ کے سبب سے اموال خرچ کیے جاتے ہیں اور اسی کی خاطر بڑے بڑے اہوال میں گھسا جاتا ہے۔ اس محترم گھر میں دور دور سے مختلف رنگ و نسل کے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں ، ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے مدد لیتے ہیں ، مصالح عامہ میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں ، ان کے درمیان ان کے دینی اور دنیاوی مفادات کے ضمن میں روابط استوار ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِيۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ﴾(الحج: 22؍28)’’تاکہ وہ اپنے فائدے کے کاموں میں حاضر ہوں اور قربانی کے چند معلوم دنوں میں ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیے ہیں ‘‘۔اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس محترم گھر کو لوگوں کے لیے اجتماعی زندگی کے قیام کا ذریعہ بنایا، بعض علماء کہتے ہیں کہ ہر سال بیت اللہ کا حج کرنا فرض کفایہ ہے اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو تمام وہ لوگ گناہ گار ٹھہریں گے جو حج کرنے کی قدرت رکھتے ہیں بلکہ اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو ان کی اجتماعی زندگی کا سہارا ختم ہو جائے گا اور قیامت قائم ہو جائے گی۔﴿ وَالۡهَدۡيَ وَالۡقَلَآىِٕدَ ﴾ ’’اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں ۔‘‘ یعنی اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قربانی کے جانوروں اور پٹے والے جانوروں کو جو کہ قربانی کی بہترین قسم ہے، لوگوں کے گزارے کا ذریعہ بنایا۔ لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ثواب حاصل کرتے ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کہ آسمان و زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے‘‘ پس یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے یہ محترم گھر بنایا کیونکہ وہ تمھارے دینی اور دنیاوی مصالح کا علم رکھتا ہے۔
[98]﴿اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘ یعنی ان دونوں امور کے بارے میں جزم و یقین کے ساتھ تمھارے دلوں میں علم موجود ہے۔ یہ حقیقت ہمیشہ تمھیں معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو دنیا میں اور آخرت میں سخت عذاب دینے والا ہے اور وہ ان لوگوں کو بخش دینے والا اور ان پر بہت رحم کرنے والا ہے جو توبہ کر کے اس کی اطاعت کرتے ہیں ۔ پس اس کے عذاب کا خوف اور اس کی بخشش اور ثواب کی امید اس علم کے ثمرات ہیں اور تم خوف اور امید کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہو۔
[99] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿مَا عَلَى الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ﴾ ’’رسول کے ذمے صرف پہنچا دینا ہے‘‘ اور آپﷺ کو جیسے حکم دیا گیا، آپ نے پہنچا دیا۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور اس کے سوا دیگر معاملات میں آپ کو کوئی اختیار نہیں ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا تَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو‘‘ اور اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال کی اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔
5:99مَّا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُونَ وَمَا تَكۡتُمُونَ
بنایا ہے اللہ نے کعبے کو، جو گھر ہے حرمت والا، قیام کا سبب لوگوں کے لیے اور حرمت والے مہینوں کواور حرم والی قربانی کو اور پٹوں (والے جانوروں ) کو یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ یقینا اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(97) جان لو! بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہےاور بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(98) نہیں ہے رسول پر مگر پہنچا دینااور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو(99)
[97] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ﴿ جَعَلَ اللّٰهُ الۡكَعۡبَةَ الۡبَيۡتَ الۡحَرَامَ قِيٰمًا لِّلنَّاسِ ﴾ ’’اس نے کعبہ، یعنی محترم گھر کو لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا۔‘‘ یعنی اس کی تعظیم کے قیام کے ساتھ ان کا دین اور دنیا قائم ہیں ۔ کعبہ کے ساتھ ان کے اسلام کی تکمیل ہوتی ہے۔ ان کے بوجھ ہلکے ہوتے ہیں ۔ اس گھر کا قصد کرنے سے بہت زیادہ نوازشیں اور بہت زیادہ احسانات حاصل ہوتے ہیں ۔ اسی کعبہ کے سبب سے اموال خرچ کیے جاتے ہیں اور اسی کی خاطر بڑے بڑے اہوال میں گھسا جاتا ہے۔ اس محترم گھر میں دور دور سے مختلف رنگ و نسل کے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں ، ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے مدد لیتے ہیں ، مصالح عامہ میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں ، ان کے درمیان ان کے دینی اور دنیاوی مفادات کے ضمن میں روابط استوار ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِيۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ﴾(الحج: 22؍28)’’تاکہ وہ اپنے فائدے کے کاموں میں حاضر ہوں اور قربانی کے چند معلوم دنوں میں ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیے ہیں ‘‘۔اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس محترم گھر کو لوگوں کے لیے اجتماعی زندگی کے قیام کا ذریعہ بنایا، بعض علماء کہتے ہیں کہ ہر سال بیت اللہ کا حج کرنا فرض کفایہ ہے اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو تمام وہ لوگ گناہ گار ٹھہریں گے جو حج کرنے کی قدرت رکھتے ہیں بلکہ اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو ان کی اجتماعی زندگی کا سہارا ختم ہو جائے گا اور قیامت قائم ہو جائے گی۔﴿ وَالۡهَدۡيَ وَالۡقَلَآىِٕدَ ﴾ ’’اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں ۔‘‘ یعنی اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قربانی کے جانوروں اور پٹے والے جانوروں کو جو کہ قربانی کی بہترین قسم ہے، لوگوں کے گزارے کا ذریعہ بنایا۔ لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ثواب حاصل کرتے ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کہ آسمان و زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے‘‘ پس یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے یہ محترم گھر بنایا کیونکہ وہ تمھارے دینی اور دنیاوی مصالح کا علم رکھتا ہے۔
[98]﴿اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘ یعنی ان دونوں امور کے بارے میں جزم و یقین کے ساتھ تمھارے دلوں میں علم موجود ہے۔ یہ حقیقت ہمیشہ تمھیں معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو دنیا میں اور آخرت میں سخت عذاب دینے والا ہے اور وہ ان لوگوں کو بخش دینے والا اور ان پر بہت رحم کرنے والا ہے جو توبہ کر کے اس کی اطاعت کرتے ہیں ۔ پس اس کے عذاب کا خوف اور اس کی بخشش اور ثواب کی امید اس علم کے ثمرات ہیں اور تم خوف اور امید کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہو۔
[99] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿مَا عَلَى الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ﴾ ’’رسول کے ذمے صرف پہنچا دینا ہے‘‘ اور آپﷺ کو جیسے حکم دیا گیا، آپ نے پہنچا دیا۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور اس کے سوا دیگر معاملات میں آپ کو کوئی اختیار نہیں ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا تَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو‘‘ اور اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال کی اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔
5:100قُل لَّا يَسۡتَوِي ٱلۡخَبِيثُ وَٱلطَّيِّبُ وَلَوۡ أَعۡجَبَكَ كَثۡرَةُ ٱلۡخَبِيثِۚ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ يَـٰٓأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ
کہہ دیجیے! نہیں برابر ہو سکتے ناپاک اور پاک اگرچہ تعجب میں ڈالے آپ کو کثرت ناپاک کی، پس ڈرو تم اللہ سے اے عقل والو! تاکہ تم فلاح پاؤ(100)
[100]﴿ قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ یعنی لوگوں کو شر سے ڈراتے ہوئے اور ان کو بھلائی کی ترغیب دیتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ لَّا يَسۡتَوِي الۡخَبِيۡثُ وَالطَّيِّبُ ﴾ ’’ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں ۔‘‘ یعنی ہر چیز میں اچھے اور برے برابر نہیں ہو سکتے۔ ایمان اور کفر، اطاعت اور معصیت، اہل جنت اور اہل جہنم، اعمال خبیثہ اور اعمال صالحہ برابر نہیں ہو سکتے، اسی طرح حرام مال اور حلال مال کے درمیان کوئی مساوات نہیں ۔ ﴿ وَلَوۡ اَعۡجَبَكَ كَثۡرَةُ الۡخَبِيۡثِ﴾ ’’اگرچہ ناپاک کی کثرت آپ کو بھلی لگے‘‘ کیونکہ ناپاک چیز کی کثرت اپنے مالک کو کوئی فائدہ نہیں دیتی بلکہ دین و دنیا میں اسے نقصان دیتی ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِي الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’پس اے عقل مندو! اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے عقل مندوں ، یعنی پوری عقل اور کامل رائے کے حامل لوگوں کو حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خطاب کا رخ انھی لوگوں کی طرف ہے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی پروا کی جاتی ہے اور انھی میں خیر کی امید ہوتی ہے اور ان کو آگاہ فرمایا ہے کہ فلاح تقویٰ پر موقوف ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی میں اس کی موافقت کا نام ہے۔ پس جس نے تقویٰ اختیار کیا، اس نے پوری فلاح پا لی۔ جس نے تقویٰ کو ترک کر دیا، اس کے نصیب میں خسارہ آیا اور نفع سے محروم رہ گیا۔
5:101يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَسۡـَٔلُواْ عَنۡ أَشۡيَآءَ إِن تُبۡدَ لَكُمۡ تَسُؤۡكُمۡ وَإِن تَسۡـَٔلُواْ عَنۡهَا حِينَ يُنَزَّلُ ٱلۡقُرۡءَانُ تُبۡدَ لَكُمۡ عَفَا ٱللَّهُ عَنۡهَاۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٞ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ سوال کرو ایسی چیزوں کی بابت کہ اگر ظاہر کر دی جائیں وہ تمھارے لیے تو ناگوار گزریں تمھیں اور اگر پوچھو گے تم ان کی بابت جبکہ اتارا جا رہا ہے قرآن تو ظاہر کر دی جائیں گی وہ تم پر، درگزر کیا اللہ نے ان سےاور اللہ بہت بخشنے والا نہایت بردبار ہے(101) تحقیق پوچھا تھا ان کی بابت ایک قوم نے تم سے پہلے، پھر ہو گئے وہ ان کے ساتھ کفر کرنے والے(102)
[101] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کرنے سے منع کرتا ہے جن کو اگر ان کے سامنے بیان کر دیا جائے تو ان کو بری لگیں گی اور ان کو غمزدہ کر دیں گی ، مثلاً: بعض مسلمانوں نے اپنے آباء و اجداد کے بارے میں سوال کیا تھا کہ آیا وہ جنت میں ہیں یا جہنم میں ۔ اگر اس قسم کے سوال پر سائل کو واضح جواب دیا جائے تو بسا اوقات اس میں بھلائی نہیں ہوتی ، مثلاً: غیر واقع امور کے بارے میں ان کا سوال کرنا۔ یا ایسا سوال کرنا جس کی بنا پر کوئی شرعی شدت مترتب ہو اور بسا اوقات اس سوال کی وجہ سے امت حرج میں مبتلا ہو جاتی ہے یا کوئی اور لایعنی سوال کرنا۔ یہ سوالات اور اس قسم کے دیگر سوالات ممنوع ہیں ۔ رہا وہ سوال جس کے ساتھ مذکورہ بالا چیزوں کا تعلق نہ ہو۔ تو وہ مامور بہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾(النحل: 16؍43)’’اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔‘‘﴿وَاِنۡ تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡهَا حِيۡنَ يُنَزَّلُ الۡقُرۡاٰنُ تُبۡدَ لَكُمۡ﴾ ’’اور اگر پوچھو گے یہ باتیں ، ایسے وقت میں کہ قرآن نازل ہو رہا ہے تو تم پر ظاہر کر دی جائیں گی‘‘ یعنی جب تمھارا سوال اس کے محلِ نظر سے موافقت کرے اور تم اس وقت سوال کرو جب تم پر قرآن نازل کیاجا رہا ہو اور تم کسی آیت میں اشکال کے بارے میں سوال کرو یا کسی ایسے حکم کے بارے میں سوال کرو جو تم پر مخفی رہ گیا ہو اور یہ سوال کسی ایسے وقت پر ہو جب آسمان سے وحی کے نزول کا امکان ہو تو تم پر ظاہر کر دیا جائے گا، یعنی اس کو تمھارے سامنے واضح کر دیا جائے گا ورنہ جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ خاموش ہے تم بھی خاموش رہو۔ ﴿عَفَا اللّٰهُ عَنۡهَا﴾ ’’اللہ نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معاف کرتے ہوئے سکوت سے کام لیا۔ پس ہر وہ معاملہ جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے سکوت اختیار کیا ہو وہ معاف ہے اور مباحات کے زمرے میں آتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا بردبار ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ سے مغفرت کی صفت سے موصوف، حلم اور احسان میں معروف ہے۔ پس اس سے اس کی مغفرت اور احسان کا سوال کرو اور اس سے اس کی رحمت اور رضا طلب کرو۔
[102] یہ سوالات جن سے تمھیں منع کیا گیا ہے ﴿ قَدۡ سَاَلَهَا قَوۡمٌ مِّنۡ قَبۡلِكُمۡ ﴾ ’’تحقیق پوچھ چکی ہے یہ باتیں ایک جماعت تم سے پہلے‘‘ یعنی اس جنس کے اور اسی قسم کے سوالات تھے۔ ان کا سوال طلب رشد کے لیے نہ تھا بلکہ تلبیس کی خاطر تھا۔ جب ان کے سوال کا جواب واضح ہو کر ان کے سامنے آ گیا ﴿ثُمَّ اَصۡبَحُوۡا بِهَا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان کے ساتھ کفر کرنے والے ہو گئے‘‘ جیسا کہ رسول اللہﷺ نے صحیح حدیث میں فرمایا ’’جب میں تمھیں کسی چیز سے روک دوں تو اس سے اجتناب کرو اور جب کسی کام کے کرنے کا حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اس حکم کی تعمیل کرو کیونکہ تم سے پہلے قومیں کثرت سوال اور اپنے نبیوں سے اختلاف کرنے کی بنا پر ہلاک ہوئیں ‘‘(صحیح مسلم، الحج ، حدیث: 1337)
5:102قَدۡ سَأَلَهَا قَوۡمٞ مِّن قَبۡلِكُمۡ ثُمَّ أَصۡبَحُواْ بِهَا كَٰفِرِينَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ سوال کرو ایسی چیزوں کی بابت کہ اگر ظاہر کر دی جائیں وہ تمھارے لیے تو ناگوار گزریں تمھیں اور اگر پوچھو گے تم ان کی بابت جبکہ اتارا جا رہا ہے قرآن تو ظاہر کر دی جائیں گی وہ تم پر، درگزر کیا اللہ نے ان سےاور اللہ بہت بخشنے والا نہایت بردبار ہے(101) تحقیق پوچھا تھا ان کی بابت ایک قوم نے تم سے پہلے، پھر ہو گئے وہ ان کے ساتھ کفر کرنے والے(102)
[101] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کرنے سے منع کرتا ہے جن کو اگر ان کے سامنے بیان کر دیا جائے تو ان کو بری لگیں گی اور ان کو غمزدہ کر دیں گی ، مثلاً: بعض مسلمانوں نے اپنے آباء و اجداد کے بارے میں سوال کیا تھا کہ آیا وہ جنت میں ہیں یا جہنم میں ۔ اگر اس قسم کے سوال پر سائل کو واضح جواب دیا جائے تو بسا اوقات اس میں بھلائی نہیں ہوتی ، مثلاً: غیر واقع امور کے بارے میں ان کا سوال کرنا۔ یا ایسا سوال کرنا جس کی بنا پر کوئی شرعی شدت مترتب ہو اور بسا اوقات اس سوال کی وجہ سے امت حرج میں مبتلا ہو جاتی ہے یا کوئی اور لایعنی سوال کرنا۔ یہ سوالات اور اس قسم کے دیگر سوالات ممنوع ہیں ۔ رہا وہ سوال جس کے ساتھ مذکورہ بالا چیزوں کا تعلق نہ ہو۔ تو وہ مامور بہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾(النحل: 16؍43)’’اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔‘‘﴿وَاِنۡ تَسۡـَٔلُوۡا عَنۡهَا حِيۡنَ يُنَزَّلُ الۡقُرۡاٰنُ تُبۡدَ لَكُمۡ﴾ ’’اور اگر پوچھو گے یہ باتیں ، ایسے وقت میں کہ قرآن نازل ہو رہا ہے تو تم پر ظاہر کر دی جائیں گی‘‘ یعنی جب تمھارا سوال اس کے محلِ نظر سے موافقت کرے اور تم اس وقت سوال کرو جب تم پر قرآن نازل کیاجا رہا ہو اور تم کسی آیت میں اشکال کے بارے میں سوال کرو یا کسی ایسے حکم کے بارے میں سوال کرو جو تم پر مخفی رہ گیا ہو اور یہ سوال کسی ایسے وقت پر ہو جب آسمان سے وحی کے نزول کا امکان ہو تو تم پر ظاہر کر دیا جائے گا، یعنی اس کو تمھارے سامنے واضح کر دیا جائے گا ورنہ جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ خاموش ہے تم بھی خاموش رہو۔ ﴿عَفَا اللّٰهُ عَنۡهَا﴾ ’’اللہ نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو معاف کرتے ہوئے سکوت سے کام لیا۔ پس ہر وہ معاملہ جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے سکوت اختیار کیا ہو وہ معاف ہے اور مباحات کے زمرے میں آتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا بردبار ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ سے مغفرت کی صفت سے موصوف، حلم اور احسان میں معروف ہے۔ پس اس سے اس کی مغفرت اور احسان کا سوال کرو اور اس سے اس کی رحمت اور رضا طلب کرو۔
[102] یہ سوالات جن سے تمھیں منع کیا گیا ہے ﴿ قَدۡ سَاَلَهَا قَوۡمٌ مِّنۡ قَبۡلِكُمۡ ﴾ ’’تحقیق پوچھ چکی ہے یہ باتیں ایک جماعت تم سے پہلے‘‘ یعنی اس جنس کے اور اسی قسم کے سوالات تھے۔ ان کا سوال طلب رشد کے لیے نہ تھا بلکہ تلبیس کی خاطر تھا۔ جب ان کے سوال کا جواب واضح ہو کر ان کے سامنے آ گیا ﴿ثُمَّ اَصۡبَحُوۡا بِهَا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’تو وہ ان کے ساتھ کفر کرنے والے ہو گئے‘‘ جیسا کہ رسول اللہﷺ نے صحیح حدیث میں فرمایا ’’جب میں تمھیں کسی چیز سے روک دوں تو اس سے اجتناب کرو اور جب کسی کام کے کرنے کا حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اس حکم کی تعمیل کرو کیونکہ تم سے پہلے قومیں کثرت سوال اور اپنے نبیوں سے اختلاف کرنے کی بنا پر ہلاک ہوئیں ‘‘(صحیح مسلم، الحج ، حدیث: 1337)
5:103مَا جَعَلَ ٱللَّهُ مِنۢ بَحِيرَةٖ وَلَا سَآئِبَةٖ وَلَا وَصِيلَةٖ وَلَا حَامٖ وَلَٰكِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَۖ وَأَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُونَ
نہیں مقرر کیا اللہ نے کوئی بحیرہ اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ اور اکثر ان کے نہیں عقل رکھتے(103) اور جب کہا جاتا ہے ان سے آؤ تم اس چیز کی طرف جو نازل کی اللہ نے اور (آؤ) رسول کی طرف تو کہتے ہیں کافی ہے ہمیں وہ کہ پایا ہم نے اسی پر اپنے آباؤ اجداد کو، کیا اگرچہ ہوں آباؤ اجداد ان کے نہ جانتے ہوں کچھ اور نہ ہوں وہ ہدایت یافتہ(104)
[103] یہ مشرکین کی مذمت ہے جنھوں نے دین میں ایسی چیزیں گھڑ لی تھیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا تھا اور وہ چیزیں حرام قرار دے لی تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا تھا، چنانچہ انھوں نے اپنی فاسد آراء کی بنا پر اپنی ان اصطلاحات کے مطابق کچھ مویشی حرام قرار دے دیے جو کتاب اللہ کے مخالف تھیں ۔ بنابریں فرمایا:﴿مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَحِيۡرَةٍ ﴾ ’’نہیں مقرر کیا اللہ نے بحیرہ‘‘ (بَحِیرَہ) اس اونٹنی کو کہا جاتا تھا جس کے کان پھاڑ دیا کرتے، اس پر سواری کرنے کو حرام کر لیتے اور اس کو مقدس خیال کرتے تھے۔ ﴿وَّلَا سَآىِٕبَةٍ ﴾ ’’اور نہ سائبہ‘‘ اونٹنی، گائے یا بکری جب سن رسیدہ ہو جاتی تو اسے سائبہ کہا جاتا تھا اور اسے آزاد چھوڑ دیتے تھے، اس پر سواری کی جاتی تھی نہ اس پر بوجھ لادا جاتا تھا۔ اور نہ اس کا گوشت کھایا جاتا تھا۔ بعض لوگ اپنے مال میں سے کچھ نذر مان کر اس کو ’’سائبہ‘‘ بنا کر چھوڑ دیتے تھے۔ ﴿ وَّلَا حَامٍ ﴾ ’’اور نہ حام‘‘ یعنی اونٹ جب ایک خاص حالت کو پہنچ جاتا جو ان کے ہاں معروف تھی تو اس اونٹ پر سواری کی جاتی تھی نہ اس پر سامان لادا جاتا تھا۔ ان تمام چیزوں کو مشرکین نے بغیر کسی دلیل اور برہان کے حرام قرار دے رکھا تھا یہ اللہ تعالیٰ پر افترا اور بہتان تھا جو ان کی جہالت اور بے عقلی سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَّلٰكِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ١ؕ وَاَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’لیکن کافر اللہ پر افترا باندھتے تھے اور ان کے اکثر عقل نہیں رکھتے تھے‘‘ ان مذکورہ امور میں کوئی نقلی دلیل تھی نہ عقلی۔
[104] بایں ہمہ انھیں اپنی آراء بہت پسند تھیں جو ظلم اور جہالت پر مبنی تھیں ۔ جب انھیں دعوت دی جاتی ﴿ اِلٰى مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’اس کی طرف جو اللہ نے نازل کیا اور رسول کی طرف‘‘ تو اس سے روگردانی کرتے اور اسے قبول نہ کرتے ﴿ قَالُوۡا حَسۡبُنَا مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰ بَآءَنَا﴾ ’’اور کہتے کہ جس دین پر ہم نے اپنے آبا و اجداد کو پایا ہے وہ ہمارے لیے کافی ہے‘‘ اگرچہ یہ دین نادرست ہی کیوں نہ ہو۔ اور یہ دین اللہ کے عذاب سے نجات نہ دلا سکتا ہو۔ اگر ان کے آبا و اجداد کافی ہوتے، ان میں معرفت اور درایت ہوتی تو معاملہ آسان ہوتا۔ مگر ان کے آبا و اجداد میں تو کچھ بھی عقل نہ تھی۔ ان کے پاس کوئی معقول شے تھی، نہ علم و ہدایت کا کوئی حصہ۔ ہلاکت ہے اس کے لیے جو کسی ایسے شخص کی تقلید کرتا ہے جس کے پاس علم صحیح ہے نہ عقل راجح اور وہ اللہ کی نازل کردہ کتاب اور اس کے انبیا و مرسلین کی اتباع کو چھوڑ دیتا ہے جو قلب کو علم وایمان اور ہدایت و ایقان سے لبریز کرتی ہے۔
5:104وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّسُولِ قَالُواْ حَسۡبُنَا مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ ءَابَآءَنَآۚ أَوَلَوۡ كَانَ ءَابَآؤُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ شَيۡـٔٗا وَلَا يَهۡتَدُونَ
نہیں مقرر کیا اللہ نے کوئی بحیرہ اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ اور اکثر ان کے نہیں عقل رکھتے(103) اور جب کہا جاتا ہے ان سے آؤ تم اس چیز کی طرف جو نازل کی اللہ نے اور (آؤ) رسول کی طرف تو کہتے ہیں کافی ہے ہمیں وہ کہ پایا ہم نے اسی پر اپنے آباؤ اجداد کو، کیا اگرچہ ہوں آباؤ اجداد ان کے نہ جانتے ہوں کچھ اور نہ ہوں وہ ہدایت یافتہ(104)
[103] یہ مشرکین کی مذمت ہے جنھوں نے دین میں ایسی چیزیں گھڑ لی تھیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا تھا اور وہ چیزیں حرام قرار دے لی تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا تھا، چنانچہ انھوں نے اپنی فاسد آراء کی بنا پر اپنی ان اصطلاحات کے مطابق کچھ مویشی حرام قرار دے دیے جو کتاب اللہ کے مخالف تھیں ۔ بنابریں فرمایا:﴿مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَحِيۡرَةٍ ﴾ ’’نہیں مقرر کیا اللہ نے بحیرہ‘‘ (بَحِیرَہ) اس اونٹنی کو کہا جاتا تھا جس کے کان پھاڑ دیا کرتے، اس پر سواری کرنے کو حرام کر لیتے اور اس کو مقدس خیال کرتے تھے۔ ﴿وَّلَا سَآىِٕبَةٍ ﴾ ’’اور نہ سائبہ‘‘ اونٹنی، گائے یا بکری جب سن رسیدہ ہو جاتی تو اسے سائبہ کہا جاتا تھا اور اسے آزاد چھوڑ دیتے تھے، اس پر سواری کی جاتی تھی نہ اس پر بوجھ لادا جاتا تھا۔ اور نہ اس کا گوشت کھایا جاتا تھا۔ بعض لوگ اپنے مال میں سے کچھ نذر مان کر اس کو ’’سائبہ‘‘ بنا کر چھوڑ دیتے تھے۔ ﴿ وَّلَا حَامٍ ﴾ ’’اور نہ حام‘‘ یعنی اونٹ جب ایک خاص حالت کو پہنچ جاتا جو ان کے ہاں معروف تھی تو اس اونٹ پر سواری کی جاتی تھی نہ اس پر سامان لادا جاتا تھا۔ ان تمام چیزوں کو مشرکین نے بغیر کسی دلیل اور برہان کے حرام قرار دے رکھا تھا یہ اللہ تعالیٰ پر افترا اور بہتان تھا جو ان کی جہالت اور بے عقلی سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَّلٰكِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ١ؕ وَاَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’لیکن کافر اللہ پر افترا باندھتے تھے اور ان کے اکثر عقل نہیں رکھتے تھے‘‘ ان مذکورہ امور میں کوئی نقلی دلیل تھی نہ عقلی۔
[104] بایں ہمہ انھیں اپنی آراء بہت پسند تھیں جو ظلم اور جہالت پر مبنی تھیں ۔ جب انھیں دعوت دی جاتی ﴿ اِلٰى مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’اس کی طرف جو اللہ نے نازل کیا اور رسول کی طرف‘‘ تو اس سے روگردانی کرتے اور اسے قبول نہ کرتے ﴿ قَالُوۡا حَسۡبُنَا مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ اٰ بَآءَنَا﴾ ’’اور کہتے کہ جس دین پر ہم نے اپنے آبا و اجداد کو پایا ہے وہ ہمارے لیے کافی ہے‘‘ اگرچہ یہ دین نادرست ہی کیوں نہ ہو۔ اور یہ دین اللہ کے عذاب سے نجات نہ دلا سکتا ہو۔ اگر ان کے آبا و اجداد کافی ہوتے، ان میں معرفت اور درایت ہوتی تو معاملہ آسان ہوتا۔ مگر ان کے آبا و اجداد میں تو کچھ بھی عقل نہ تھی۔ ان کے پاس کوئی معقول شے تھی، نہ علم و ہدایت کا کوئی حصہ۔ ہلاکت ہے اس کے لیے جو کسی ایسے شخص کی تقلید کرتا ہے جس کے پاس علم صحیح ہے نہ عقل راجح اور وہ اللہ کی نازل کردہ کتاب اور اس کے انبیا و مرسلین کی اتباع کو چھوڑ دیتا ہے جو قلب کو علم وایمان اور ہدایت و ایقان سے لبریز کرتی ہے۔
5:105يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ عَلَيۡكُمۡ أَنفُسَكُمۡۖ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا ٱهۡتَدَيۡتُمۡۚ إِلَى ٱللَّهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيعٗا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! لازم ہے تم پر فکر اپنی جانوں کی، نہیں نقصان پہنچا سکے گا تمھیں جو گمراہ ہوگا جبکہ تم خود ہدایت پر ہو اللہ ہی کی طرف واپسی ہے تمھاری سب کی، پھر وہ خبر دے گا تمھیں جو تھے تم عمل کرتے(105)
[105] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَيۡكُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ ﴾’’اے ایمان والو، تم پر لازم ہے فکر اپنی جان کا‘‘ یعنی اپنے نفوس کی اصلاح، ان کو منزل کمال تک پہنچانے اور ان کو صراط مستقیم پر گامزن کرنے کی کوشش کرو۔ کیونکہ اگر تم نے اپنی اصلاح کر لی تو وہ شخص تمھارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا جو راہ راست سے بھٹک گیا ہے اور دین قیم کے راستے کو اختیار نہیں کرتا۔ وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت نہیں کرتی کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ چھوڑ دینے سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ کیونکہ خود بندے کی ہدایت بھی اس وقت تک تکمیل نہیں پاتی جب تک کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی جو ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے اسے ادا نہیں کرتا۔ ہاں ! اگر وہ اپنے ہاتھ اور زبان سے برائی کا انکار کرنے پر قادر نہیں تو اپنے دل میں اس برائی کو برا سمجھے۔ تب کسی دوسرے کی گمراہی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔﴿اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’تم سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹو گے اور اس کے سامنے اکٹھے ہو گے ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’وہ تم کو تمھارے سب کاموں سے آگاہ کرے گا۔‘‘ یعنی اچھے اور برے جو عمل بھی کرتے رہے ہو، اللہ تعالیٰ تمھیں ان کے بارے میں آگاہ کرے گا۔
5:106يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ شَهَٰدَةُ بَيۡنِكُمۡ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ حِينَ ٱلۡوَصِيَّةِ ٱثۡنَانِ ذَوَا عَدۡلٖ مِّنكُمۡ أَوۡ ءَاخَرَانِ مِنۡ غَيۡرِكُمۡ إِنۡ أَنتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَأَصَٰبَتۡكُم مُّصِيبَةُ ٱلۡمَوۡتِۚ تَحۡبِسُونَهُمَا مِنۢ بَعۡدِ ٱلصَّلَوٰةِ فَيُقۡسِمَانِ بِٱللَّهِ إِنِ ٱرۡتَبۡتُمۡ لَا نَشۡتَرِي بِهِۦ ثَمَنٗا وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰ وَلَا نَكۡتُمُ شَهَٰدَةَ ٱللَّهِ إِنَّآ إِذٗا لَّمِنَ ٱلۡأٓثِمِينَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! شہادت ہونی چاہیے تمھارے درمیان جب آپہنچے کسی کو تم میں سے موت، وقت وصیت کے دو عادل شخصوں کی تم میں سے یا دو اور ہوں تم مسلمانوں کے سوا، اگر تم سفر کر رہے ہو زمین میں ، پھر پہنچے تمھیں مصیبت موت کی، روک لو ان دونوں کو بعد نماز کے، پس قسمیں کھائیں وہ اللہ کی اگر تم شک کرو (وہ کہیں ) ہم نہیں لیتے اس (قسم) کے بدلے کوئی قیمت، اگرچہ ہو وہ رشتے داراور نہیں چھپاتے ہم گواہی اللہ کی، یقینا ہم اس وقت گناہ گاروں میں سے ہوں گے(106) پھر اگر اطلاع ہو جائے اس پر کہ وہ دونوں مرتکب ہوئے ہیں گناہ کے تو دو اور گواہ کھڑے ہوں ان کی جگہ ان لوگوں میں سے جن کی حق تلفی ہوئی ہے، قریب تر (میت کے) ، پھر قسمیں کھائیں دونوں اللہ کی کہ ہماری شہادت زیادہ سچی ہے ان کی شہادت سے اور نہیں زیادتی کی ہم نے، بے شک ہم اس وقت ظالموں میں سے ہوں گے(107) یہ (طریقہ) قریب تر ہے اس کے کہ دیں وہ شہادت ٹھیک طریقے پر یا ڈریں اس سے کہ رد کر دی جائیں گی قسمیں (ان کی) بعد ان (ورثاء) کی قسموں کےاور ڈرو تم اللہ سے اور سنواور اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق لوگوں کو(108)
[106] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے جو کہ اس حکم کو متضمن ہے کہ جب انسان کی موت کی علامات اور اس کے مقدمات سامنے آ جائیں تو اپنی وصیت پر دو گواہ بنا لے۔ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی وصیت کو تحریر کروائے اور اس پر دو عادل اور معتبر گواہوں کی گواہی ثبت کروائے۔ ﴿ اَوۡ اٰخَرٰنِ مِنۡ غَيۡرِكُمۡ ﴾ ’’یا دوسرے دو گواہ تمھارے سوا‘‘ یعنی مسلمانوں کے علاوہ کوئی اور یعنی یہود و نصاریٰ وغیرہ۔ یہ سخت ضرورت اور حاجت کے وقت ہے جب یہود و نصاریٰ کے سوا مسلمانوں میں سے گواہ موجود نہ ہوں ﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جب تم زمین میں سفر کر رہے ہو‘‘ ﴿ فَاَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةُ الۡمَوۡتِ﴾ ’’اور پہنچے تمھیں مصیبت موت کی‘‘ یعنی تم ان دونوں کو گواہ بنا لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گواہ بنانے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ اس صورتحال میں ان کی گواہی مقبول ہے اور ان کے بارے میں مزید تاکید فرمائی کہ ان کو روک لیا جائے ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ الصَّلٰوةِ ﴾ ’’نماز کے بعد‘‘ جس نماز کی یہ تعظیم کرتے ہیں ﴿فَيُقۡسِمٰنِ بِاللّٰهِ ﴾ ’’پس وہ اللہ کی قسم اٹھائیں ‘‘ کہ انھوں نے سچ کہا ہے اور انھوں نے کوئی تغیر و تبدل نہیں کیا ﴿ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ ﴾ ’’اگر تمھیں (ان کی گواہی میں ) شک ہو‘‘ اور اگر تم انھیں سچا سمجھتے ہو تو پھر ان سے قسم اٹھوانے کی ضرورت نہیں اور وہ قسم اٹھاتے وقت یہ الفاظ ادا کریں ﴿ لَا نَشۡتَرِيۡ بِهٖ ﴾ ’’نہیں حاصل کرتے ہم اس کے بدلے‘‘ یعنی اپنی قسموں کے بدلے ﴿ ثَمَنًا ﴾ ’’کوئی مال‘‘ یعنی دنیاوی فائدے کی خاطر ہم جھوٹی قسم نہیں اٹھائیں گے ﴿ وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى ﴾ ’’اگرچہ ہم کو کسی سے قرابت بھی ہو‘‘ یعنی اس کے ساتھ اپنی قرابت داری کی وجہ سے اس سے کوئی رعایت نہیں کریں گے ﴿وَلَا نَؔكۡتُمُ شَهَادَةَ اللّٰهِ﴾ ’’اور نہ ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے‘‘ بلکہ ہم اسی طرح شہادت کو ادا کریں گے جس طرح ہم نے سنی ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک تب ہم‘‘ یعنی اگر ہم گواہی کو چھپائیں ﴿لَّمِنَ الۡاٰثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو یقینا گناہ گاروں میں سے ہوں گے‘‘۔
[107]﴿ فَاِنۡ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا ﴾ ’’پھر اگر خبر ہوجائے کہ یہ دونوں ‘‘ یعنی دونوں گواہ ﴿ اسۡتَحَقَّـاۤ اِثۡمًا ﴾ ’’حق بات دبا گئے ہیں ‘‘ یعنی اگر ایسے قرائن پائے جائیں جو ان کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں اور جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ انھوں نے خیانت کی ہے تو جن لوگوں کا انھوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ دو اور گواہ کھڑے ہوں جو میت کے زیادہ قریبی ہوں ، یعنی میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور وہ دونوں میت کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں۔ ﴿ فَيُقۡسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنۡ شَهَادَتِهِمَا ﴾’’پس وہ دونوں قسم کھائیں اللہ کی، کہ ہماری گواہی زیادہ صحیح ہے پہلوں کی گواہی سے‘‘ یعنی انھوں نے جھوٹ بولا ہے اور وہ وصیت میں تغیر و تبدل کر کے خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں ﴿ وَمَا اعۡتَدَيۡنَاۤ١ۖٞ اِنَّـاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے زیادتی نہیں کی، نہیں تو بے شک ہم ظالموں میں سے ہوں گے‘‘ یعنی اگر ہم نے ظلم اور زیادتی کی اور ناحق گواہی دی۔
[108] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس گواہی، اس کی تاکید اور دونوں گواہوں سے خیانت ظاہر ہونے پر گواہی کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹانے کی حکمت بیان کی ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ اَدۡنٰۤى ﴾ ’’اس طریق سے بہت قریب ہے۔‘‘ یعنی یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے ﴿ اَنۡ يَّاۡتُوۡا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجۡهِهَاۤ ﴾ ’’کہ وہ ادا کریں گواہی کو ٹھیک طریقے پر‘‘ یعنی جب ان گواہوں کو مذکورہ تاکیدات کے ذریعے سے تاکید کی جائے گی ﴿ اَوۡ يَخَافُوۡۤا اَنۡ تُرَدَّ اَيۡمَانٌۢ بَعۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ ﴾ ’’اس بات سے خوف کریں کہ ہماری قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کردی جائیں گی۔‘‘ یعنی ان کو خوف ہو گا کہ ان کی قسمیں قبول نہیں کی جائیں گی اور ان قسموں کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹا دیا جائے گا ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف فسق ہے جو ہدایت چاہتے ہیں، نہ راہ راست پر چلنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں ۔ ان آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ سفر وغیرہ میں جب میت کی موت کا وقت آ جائے اور وہ ایسی جگہ پر ہو جہاں گمان یہ ہو کہ معتبر گواہ بہت کم ہوں گے تو میت کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ دو مسلمان عادل گواہوں کے سامنے وصیت کرے اور اگر صرف دو کافر گواہ مہیا ہو سکیں تو ان کے پاس بھی وصیت کرنا جائز ہے۔اگر ان گواہوں کے کفر کی وجہ سے میت کے اولیاء ان کے بارے میں شک کریں تو نماز کے بعد ان سے حلف لیں کہ انھوں نے خیانت کا ارتکاب کیا ہے نہ جھوٹ بولا ہے اور نہ انھوں نے وصیت میں کوئی تغیر و تبدل کیا ہے۔ اس طرح وہ اس حق کی ذمہ داری سے بری ہو جائیں گے جو ان پر ڈال دی گئی تھی۔ اگر میت کے اولیاء ان کی گواہی کو تسلیم نہ کریں اور وہ کوئی ایسا قرینہ پائیں جو گواہوں کے جھوٹ پر دلالت کرتا ہو۔ پس اگر میت کے اولیاء میں سے دو گواہ کھڑے ہو کر قسم اٹھائیں کہ ان کی گواہی پہلے گواہوں کی گواہی سے صحیح ہے اور یہ کہ پہلے گواہ خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں اور انھوں نے جھوٹ بولا ہے تو وہ ان پہلے گواہوں کے مقابلے میں اپنے دعوے میں مستحق قرار پائیں گے۔یہ آیات کریمہ تمیم داریt اور عدی بن بداء کے قصہ میں نازل ہوئی ہیں جو بہت مشہور ہے اور قصہ یوں ہے کہ عدوی(مفسر موصوف سے سہوہوا ہے۔ صحیح بخاری، ترمذی، ابن کثیر اور دیگر مفسرین کے نزدیک عدوی کی جگہ سہمی وارد ہوا ہے یعنی بنو سہم کا ایک آدمی) نے ان دونوں حضرات کے پاس وصیت کی تھی۔ واللہ اعلم(یہ قصہ اصل میں اس طرح ہے کہ حضرت تمیم داری (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) اور عدی بن بداء، یہ دونوں نصرانی تھے اور تجارت کے لیے شام گئے ہوئے تھے۔ ایک مسلمان بدیل بن ابی مریم بھی وہاں گئے ہوئے تھے، وہاں بدیل سخت بیمار ہوگئے حتیٰ کہ زندگی سے مایوس ہوگئے۔ انہوں نے ان دونوں کو وصیت کی اور اپنا سامان بھی ان کے سپرد کردیا کہ وہ اسے ان کے گھر پہنچادیں ۔ ان دونوں نے اس سامان میں سے چاندی کا ایک پیالہ نکال کر بیچ دیا اور اس کی رقم آپس میں بانٹ لی۔ بعد میں ورثاء کو اس کا علم ہوا، تو رسول اللہﷺ نے ان سے حلف اٹھوایا۔ (صحیح البخاري، الوصایا، حدیث:2780۔ جامع الترمذي، التفسیر، حدیث: 3059)(ص۔ی)ان آیات کریمہ سے متعدد احکام پر استدلال کیا جاتا ہے۔(۱)وصیت کرنا مشروع ہے جس کی موت کا وقت قریب آ جائے تو اسے چاہیے کہ وصیت کرے۔(۲) جب موت کے مقدمات و آثار نمودار ہو جائیں تو مرنے والے کی وصیت اس وقت تک معتبر ہے جب تک اس کے ہوش و حواس قائم ہیں ۔ (۳) وصیت میں دو عادل گواہوں کی گواہی ضروری ہے۔ (۴) وصیت اور اس قسم کے دیگر مواقع پر، بوقت ضرورت کفار کی گواہی مقبول ہے۔ یہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ بہت سے اہل علم دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے۔ مگر نسخ کے اس دعویٰ پر کوئی دلیل نہیں ۔ (۵) اس حکم کے اشارہ اور اس کے معنی سے مستفاد ہوتا ہے کہ مسلمان گواہوں کی عدم موجودگی میں وصیت کے علاوہ دیگر مسائل میں بھی کفار کی گواہی قابل قبول ہے۔ جیسا کہ یہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ (۶) اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر خوف کی بات نہ ہو تو کفار کی معیت میں سفر جائز ہے۔ (۷) تجارت کے لیے سفرکرنا جائز ہے۔ (۸) اگر دونوں گواہوں کی گواہی کے بارے میں شک ہو مگر ایسا کوئی قرینہ موجود نہ ہو جو ان کی خیانت پر دلالت کرتا ہو اور وصیت کرنے والے کے اولیاء ان گواہوں سے قسم لینا چاہتے ہوں تو وہ انھیں نماز کے بعد روک لیں اور ان سے اس طریقے سے قسم لیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ (۹) اگر ان دونوں کی گواہی میں کوئی شک اور تہمت نہ ہو تو ان کو روکنے اور ان سے قسم لینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ (۱۰) یہ آیت کریمہ شہادت کے معاملے کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شہادت کو اپنی طرف مضاف کیا ہے، نیز یہ کہ اس کو درخور اعتنا سمجھنا اور انصاف کے مطابق اس کو قائم کرنا واجب ہے۔ (۱۱) گواہوں کے بارے میں اگر شک ہو تو گواہوں کا امتحان اور ان کو علیحدہ علیحدہ کر کے گواہی لینا جائز ہے۔ تاکہ سچ اور جھوٹ کے اعتبار سے گواہی کی قدر و قیمت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ (۱۲) جب ایسے قرائن پائے جائیں جو اس مسئلہ میں دونوں وصیّوں (گواہوں ) کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں تو میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری قسم ان کی قسم سے زیادہ سچی ہے۔ انھوں نے خیانت کی ہے اور جھوٹ کہا ہے پھر جس چیز کا وہ دعویٰ کرتے ہیں ان کے حوالے کر دی جائے گی۔ ان کی قسموں کے ساتھ، قرینہ، ثبوت کے قائم مقام ہے۔
5:107فَإِنۡ عُثِرَ عَلَىٰٓ أَنَّهُمَا ٱسۡتَحَقَّآ إِثۡمٗا فَـَٔاخَرَانِ يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَحَقَّ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَوۡلَيَٰنِ فَيُقۡسِمَانِ بِٱللَّهِ لَشَهَٰدَتُنَآ أَحَقُّ مِن شَهَٰدَتِهِمَا وَمَا ٱعۡتَدَيۡنَآ إِنَّآ إِذٗا لَّمِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! شہادت ہونی چاہیے تمھارے درمیان جب آپہنچے کسی کو تم میں سے موت، وقت وصیت کے دو عادل شخصوں کی تم میں سے یا دو اور ہوں تم مسلمانوں کے سوا، اگر تم سفر کر رہے ہو زمین میں ، پھر پہنچے تمھیں مصیبت موت کی، روک لو ان دونوں کو بعد نماز کے، پس قسمیں کھائیں وہ اللہ کی اگر تم شک کرو (وہ کہیں ) ہم نہیں لیتے اس (قسم) کے بدلے کوئی قیمت، اگرچہ ہو وہ رشتے داراور نہیں چھپاتے ہم گواہی اللہ کی، یقینا ہم اس وقت گناہ گاروں میں سے ہوں گے(106) پھر اگر اطلاع ہو جائے اس پر کہ وہ دونوں مرتکب ہوئے ہیں گناہ کے تو دو اور گواہ کھڑے ہوں ان کی جگہ ان لوگوں میں سے جن کی حق تلفی ہوئی ہے، قریب تر (میت کے) ، پھر قسمیں کھائیں دونوں اللہ کی کہ ہماری شہادت زیادہ سچی ہے ان کی شہادت سے اور نہیں زیادتی کی ہم نے، بے شک ہم اس وقت ظالموں میں سے ہوں گے(107) یہ (طریقہ) قریب تر ہے اس کے کہ دیں وہ شہادت ٹھیک طریقے پر یا ڈریں اس سے کہ رد کر دی جائیں گی قسمیں (ان کی) بعد ان (ورثاء) کی قسموں کےاور ڈرو تم اللہ سے اور سنواور اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق لوگوں کو(108)
[106] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے جو کہ اس حکم کو متضمن ہے کہ جب انسان کی موت کی علامات اور اس کے مقدمات سامنے آ جائیں تو اپنی وصیت پر دو گواہ بنا لے۔ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی وصیت کو تحریر کروائے اور اس پر دو عادل اور معتبر گواہوں کی گواہی ثبت کروائے۔ ﴿ اَوۡ اٰخَرٰنِ مِنۡ غَيۡرِكُمۡ ﴾ ’’یا دوسرے دو گواہ تمھارے سوا‘‘ یعنی مسلمانوں کے علاوہ کوئی اور یعنی یہود و نصاریٰ وغیرہ۔ یہ سخت ضرورت اور حاجت کے وقت ہے جب یہود و نصاریٰ کے سوا مسلمانوں میں سے گواہ موجود نہ ہوں ﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جب تم زمین میں سفر کر رہے ہو‘‘ ﴿ فَاَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةُ الۡمَوۡتِ﴾ ’’اور پہنچے تمھیں مصیبت موت کی‘‘ یعنی تم ان دونوں کو گواہ بنا لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گواہ بنانے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ اس صورتحال میں ان کی گواہی مقبول ہے اور ان کے بارے میں مزید تاکید فرمائی کہ ان کو روک لیا جائے ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ الصَّلٰوةِ ﴾ ’’نماز کے بعد‘‘ جس نماز کی یہ تعظیم کرتے ہیں ﴿فَيُقۡسِمٰنِ بِاللّٰهِ ﴾ ’’پس وہ اللہ کی قسم اٹھائیں ‘‘ کہ انھوں نے سچ کہا ہے اور انھوں نے کوئی تغیر و تبدل نہیں کیا ﴿ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ ﴾ ’’اگر تمھیں (ان کی گواہی میں ) شک ہو‘‘ اور اگر تم انھیں سچا سمجھتے ہو تو پھر ان سے قسم اٹھوانے کی ضرورت نہیں اور وہ قسم اٹھاتے وقت یہ الفاظ ادا کریں ﴿ لَا نَشۡتَرِيۡ بِهٖ ﴾ ’’نہیں حاصل کرتے ہم اس کے بدلے‘‘ یعنی اپنی قسموں کے بدلے ﴿ ثَمَنًا ﴾ ’’کوئی مال‘‘ یعنی دنیاوی فائدے کی خاطر ہم جھوٹی قسم نہیں اٹھائیں گے ﴿ وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى ﴾ ’’اگرچہ ہم کو کسی سے قرابت بھی ہو‘‘ یعنی اس کے ساتھ اپنی قرابت داری کی وجہ سے اس سے کوئی رعایت نہیں کریں گے ﴿وَلَا نَؔكۡتُمُ شَهَادَةَ اللّٰهِ﴾ ’’اور نہ ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے‘‘ بلکہ ہم اسی طرح شہادت کو ادا کریں گے جس طرح ہم نے سنی ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک تب ہم‘‘ یعنی اگر ہم گواہی کو چھپائیں ﴿لَّمِنَ الۡاٰثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو یقینا گناہ گاروں میں سے ہوں گے‘‘۔
[107]﴿ فَاِنۡ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا ﴾ ’’پھر اگر خبر ہوجائے کہ یہ دونوں ‘‘ یعنی دونوں گواہ ﴿ اسۡتَحَقَّـاۤ اِثۡمًا ﴾ ’’حق بات دبا گئے ہیں ‘‘ یعنی اگر ایسے قرائن پائے جائیں جو ان کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں اور جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ انھوں نے خیانت کی ہے تو جن لوگوں کا انھوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ دو اور گواہ کھڑے ہوں جو میت کے زیادہ قریبی ہوں ، یعنی میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور وہ دونوں میت کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں۔ ﴿ فَيُقۡسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنۡ شَهَادَتِهِمَا ﴾’’پس وہ دونوں قسم کھائیں اللہ کی، کہ ہماری گواہی زیادہ صحیح ہے پہلوں کی گواہی سے‘‘ یعنی انھوں نے جھوٹ بولا ہے اور وہ وصیت میں تغیر و تبدل کر کے خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں ﴿ وَمَا اعۡتَدَيۡنَاۤ١ۖٞ اِنَّـاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے زیادتی نہیں کی، نہیں تو بے شک ہم ظالموں میں سے ہوں گے‘‘ یعنی اگر ہم نے ظلم اور زیادتی کی اور ناحق گواہی دی۔
[108] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس گواہی، اس کی تاکید اور دونوں گواہوں سے خیانت ظاہر ہونے پر گواہی کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹانے کی حکمت بیان کی ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ اَدۡنٰۤى ﴾ ’’اس طریق سے بہت قریب ہے۔‘‘ یعنی یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے ﴿ اَنۡ يَّاۡتُوۡا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجۡهِهَاۤ ﴾ ’’کہ وہ ادا کریں گواہی کو ٹھیک طریقے پر‘‘ یعنی جب ان گواہوں کو مذکورہ تاکیدات کے ذریعے سے تاکید کی جائے گی ﴿ اَوۡ يَخَافُوۡۤا اَنۡ تُرَدَّ اَيۡمَانٌۢ بَعۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ ﴾ ’’اس بات سے خوف کریں کہ ہماری قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کردی جائیں گی۔‘‘ یعنی ان کو خوف ہو گا کہ ان کی قسمیں قبول نہیں کی جائیں گی اور ان قسموں کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹا دیا جائے گا ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف فسق ہے جو ہدایت چاہتے ہیں، نہ راہ راست پر چلنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں ۔ ان آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ سفر وغیرہ میں جب میت کی موت کا وقت آ جائے اور وہ ایسی جگہ پر ہو جہاں گمان یہ ہو کہ معتبر گواہ بہت کم ہوں گے تو میت کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ دو مسلمان عادل گواہوں کے سامنے وصیت کرے اور اگر صرف دو کافر گواہ مہیا ہو سکیں تو ان کے پاس بھی وصیت کرنا جائز ہے۔اگر ان گواہوں کے کفر کی وجہ سے میت کے اولیاء ان کے بارے میں شک کریں تو نماز کے بعد ان سے حلف لیں کہ انھوں نے خیانت کا ارتکاب کیا ہے نہ جھوٹ بولا ہے اور نہ انھوں نے وصیت میں کوئی تغیر و تبدل کیا ہے۔ اس طرح وہ اس حق کی ذمہ داری سے بری ہو جائیں گے جو ان پر ڈال دی گئی تھی۔ اگر میت کے اولیاء ان کی گواہی کو تسلیم نہ کریں اور وہ کوئی ایسا قرینہ پائیں جو گواہوں کے جھوٹ پر دلالت کرتا ہو۔ پس اگر میت کے اولیاء میں سے دو گواہ کھڑے ہو کر قسم اٹھائیں کہ ان کی گواہی پہلے گواہوں کی گواہی سے صحیح ہے اور یہ کہ پہلے گواہ خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں اور انھوں نے جھوٹ بولا ہے تو وہ ان پہلے گواہوں کے مقابلے میں اپنے دعوے میں مستحق قرار پائیں گے۔یہ آیات کریمہ تمیم داریt اور عدی بن بداء کے قصہ میں نازل ہوئی ہیں جو بہت مشہور ہے اور قصہ یوں ہے کہ عدوی(مفسر موصوف سے سہوہوا ہے۔ صحیح بخاری، ترمذی، ابن کثیر اور دیگر مفسرین کے نزدیک عدوی کی جگہ سہمی وارد ہوا ہے یعنی بنو سہم کا ایک آدمی) نے ان دونوں حضرات کے پاس وصیت کی تھی۔ واللہ اعلم(یہ قصہ اصل میں اس طرح ہے کہ حضرت تمیم داری (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) اور عدی بن بداء، یہ دونوں نصرانی تھے اور تجارت کے لیے شام گئے ہوئے تھے۔ ایک مسلمان بدیل بن ابی مریم بھی وہاں گئے ہوئے تھے، وہاں بدیل سخت بیمار ہوگئے حتیٰ کہ زندگی سے مایوس ہوگئے۔ انہوں نے ان دونوں کو وصیت کی اور اپنا سامان بھی ان کے سپرد کردیا کہ وہ اسے ان کے گھر پہنچادیں ۔ ان دونوں نے اس سامان میں سے چاندی کا ایک پیالہ نکال کر بیچ دیا اور اس کی رقم آپس میں بانٹ لی۔ بعد میں ورثاء کو اس کا علم ہوا، تو رسول اللہﷺ نے ان سے حلف اٹھوایا۔ (صحیح البخاري، الوصایا، حدیث:2780۔ جامع الترمذي، التفسیر، حدیث: 3059)(ص۔ی)ان آیات کریمہ سے متعدد احکام پر استدلال کیا جاتا ہے۔(۱)وصیت کرنا مشروع ہے جس کی موت کا وقت قریب آ جائے تو اسے چاہیے کہ وصیت کرے۔(۲) جب موت کے مقدمات و آثار نمودار ہو جائیں تو مرنے والے کی وصیت اس وقت تک معتبر ہے جب تک اس کے ہوش و حواس قائم ہیں ۔ (۳) وصیت میں دو عادل گواہوں کی گواہی ضروری ہے۔ (۴) وصیت اور اس قسم کے دیگر مواقع پر، بوقت ضرورت کفار کی گواہی مقبول ہے۔ یہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ بہت سے اہل علم دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے۔ مگر نسخ کے اس دعویٰ پر کوئی دلیل نہیں ۔ (۵) اس حکم کے اشارہ اور اس کے معنی سے مستفاد ہوتا ہے کہ مسلمان گواہوں کی عدم موجودگی میں وصیت کے علاوہ دیگر مسائل میں بھی کفار کی گواہی قابل قبول ہے۔ جیسا کہ یہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ (۶) اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر خوف کی بات نہ ہو تو کفار کی معیت میں سفر جائز ہے۔ (۷) تجارت کے لیے سفرکرنا جائز ہے۔ (۸) اگر دونوں گواہوں کی گواہی کے بارے میں شک ہو مگر ایسا کوئی قرینہ موجود نہ ہو جو ان کی خیانت پر دلالت کرتا ہو اور وصیت کرنے والے کے اولیاء ان گواہوں سے قسم لینا چاہتے ہوں تو وہ انھیں نماز کے بعد روک لیں اور ان سے اس طریقے سے قسم لیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ (۹) اگر ان دونوں کی گواہی میں کوئی شک اور تہمت نہ ہو تو ان کو روکنے اور ان سے قسم لینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ (۱۰) یہ آیت کریمہ شہادت کے معاملے کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شہادت کو اپنی طرف مضاف کیا ہے، نیز یہ کہ اس کو درخور اعتنا سمجھنا اور انصاف کے مطابق اس کو قائم کرنا واجب ہے۔ (۱۱) گواہوں کے بارے میں اگر شک ہو تو گواہوں کا امتحان اور ان کو علیحدہ علیحدہ کر کے گواہی لینا جائز ہے۔ تاکہ سچ اور جھوٹ کے اعتبار سے گواہی کی قدر و قیمت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ (۱۲) جب ایسے قرائن پائے جائیں جو اس مسئلہ میں دونوں وصیّوں (گواہوں ) کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں تو میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری قسم ان کی قسم سے زیادہ سچی ہے۔ انھوں نے خیانت کی ہے اور جھوٹ کہا ہے پھر جس چیز کا وہ دعویٰ کرتے ہیں ان کے حوالے کر دی جائے گی۔ ان کی قسموں کے ساتھ، قرینہ، ثبوت کے قائم مقام ہے۔
5:108ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن يَأۡتُواْ بِٱلشَّهَٰدَةِ عَلَىٰ وَجۡهِهَآ أَوۡ يَخَافُوٓاْ أَن تُرَدَّ أَيۡمَٰنُۢ بَعۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡۗ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱسۡمَعُواْۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! شہادت ہونی چاہیے تمھارے درمیان جب آپہنچے کسی کو تم میں سے موت، وقت وصیت کے دو عادل شخصوں کی تم میں سے یا دو اور ہوں تم مسلمانوں کے سوا، اگر تم سفر کر رہے ہو زمین میں ، پھر پہنچے تمھیں مصیبت موت کی، روک لو ان دونوں کو بعد نماز کے، پس قسمیں کھائیں وہ اللہ کی اگر تم شک کرو (وہ کہیں ) ہم نہیں لیتے اس (قسم) کے بدلے کوئی قیمت، اگرچہ ہو وہ رشتے داراور نہیں چھپاتے ہم گواہی اللہ کی، یقینا ہم اس وقت گناہ گاروں میں سے ہوں گے(106) پھر اگر اطلاع ہو جائے اس پر کہ وہ دونوں مرتکب ہوئے ہیں گناہ کے تو دو اور گواہ کھڑے ہوں ان کی جگہ ان لوگوں میں سے جن کی حق تلفی ہوئی ہے، قریب تر (میت کے) ، پھر قسمیں کھائیں دونوں اللہ کی کہ ہماری شہادت زیادہ سچی ہے ان کی شہادت سے اور نہیں زیادتی کی ہم نے، بے شک ہم اس وقت ظالموں میں سے ہوں گے(107) یہ (طریقہ) قریب تر ہے اس کے کہ دیں وہ شہادت ٹھیک طریقے پر یا ڈریں اس سے کہ رد کر دی جائیں گی قسمیں (ان کی) بعد ان (ورثاء) کی قسموں کےاور ڈرو تم اللہ سے اور سنواور اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق لوگوں کو(108)
[106] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے جو کہ اس حکم کو متضمن ہے کہ جب انسان کی موت کی علامات اور اس کے مقدمات سامنے آ جائیں تو اپنی وصیت پر دو گواہ بنا لے۔ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی وصیت کو تحریر کروائے اور اس پر دو عادل اور معتبر گواہوں کی گواہی ثبت کروائے۔ ﴿ اَوۡ اٰخَرٰنِ مِنۡ غَيۡرِكُمۡ ﴾ ’’یا دوسرے دو گواہ تمھارے سوا‘‘ یعنی مسلمانوں کے علاوہ کوئی اور یعنی یہود و نصاریٰ وغیرہ۔ یہ سخت ضرورت اور حاجت کے وقت ہے جب یہود و نصاریٰ کے سوا مسلمانوں میں سے گواہ موجود نہ ہوں ﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جب تم زمین میں سفر کر رہے ہو‘‘ ﴿ فَاَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةُ الۡمَوۡتِ﴾ ’’اور پہنچے تمھیں مصیبت موت کی‘‘ یعنی تم ان دونوں کو گواہ بنا لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گواہ بنانے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ اس صورتحال میں ان کی گواہی مقبول ہے اور ان کے بارے میں مزید تاکید فرمائی کہ ان کو روک لیا جائے ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ الصَّلٰوةِ ﴾ ’’نماز کے بعد‘‘ جس نماز کی یہ تعظیم کرتے ہیں ﴿فَيُقۡسِمٰنِ بِاللّٰهِ ﴾ ’’پس وہ اللہ کی قسم اٹھائیں ‘‘ کہ انھوں نے سچ کہا ہے اور انھوں نے کوئی تغیر و تبدل نہیں کیا ﴿ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ ﴾ ’’اگر تمھیں (ان کی گواہی میں ) شک ہو‘‘ اور اگر تم انھیں سچا سمجھتے ہو تو پھر ان سے قسم اٹھوانے کی ضرورت نہیں اور وہ قسم اٹھاتے وقت یہ الفاظ ادا کریں ﴿ لَا نَشۡتَرِيۡ بِهٖ ﴾ ’’نہیں حاصل کرتے ہم اس کے بدلے‘‘ یعنی اپنی قسموں کے بدلے ﴿ ثَمَنًا ﴾ ’’کوئی مال‘‘ یعنی دنیاوی فائدے کی خاطر ہم جھوٹی قسم نہیں اٹھائیں گے ﴿ وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى ﴾ ’’اگرچہ ہم کو کسی سے قرابت بھی ہو‘‘ یعنی اس کے ساتھ اپنی قرابت داری کی وجہ سے اس سے کوئی رعایت نہیں کریں گے ﴿وَلَا نَؔكۡتُمُ شَهَادَةَ اللّٰهِ﴾ ’’اور نہ ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے‘‘ بلکہ ہم اسی طرح شہادت کو ادا کریں گے جس طرح ہم نے سنی ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک تب ہم‘‘ یعنی اگر ہم گواہی کو چھپائیں ﴿لَّمِنَ الۡاٰثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو یقینا گناہ گاروں میں سے ہوں گے‘‘۔
[107]﴿ فَاِنۡ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا ﴾ ’’پھر اگر خبر ہوجائے کہ یہ دونوں ‘‘ یعنی دونوں گواہ ﴿ اسۡتَحَقَّـاۤ اِثۡمًا ﴾ ’’حق بات دبا گئے ہیں ‘‘ یعنی اگر ایسے قرائن پائے جائیں جو ان کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں اور جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ انھوں نے خیانت کی ہے تو جن لوگوں کا انھوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ دو اور گواہ کھڑے ہوں جو میت کے زیادہ قریبی ہوں ، یعنی میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور وہ دونوں میت کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں۔ ﴿ فَيُقۡسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنۡ شَهَادَتِهِمَا ﴾’’پس وہ دونوں قسم کھائیں اللہ کی، کہ ہماری گواہی زیادہ صحیح ہے پہلوں کی گواہی سے‘‘ یعنی انھوں نے جھوٹ بولا ہے اور وہ وصیت میں تغیر و تبدل کر کے خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں ﴿ وَمَا اعۡتَدَيۡنَاۤ١ۖٞ اِنَّـاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے زیادتی نہیں کی، نہیں تو بے شک ہم ظالموں میں سے ہوں گے‘‘ یعنی اگر ہم نے ظلم اور زیادتی کی اور ناحق گواہی دی۔
[108] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس گواہی، اس کی تاکید اور دونوں گواہوں سے خیانت ظاہر ہونے پر گواہی کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹانے کی حکمت بیان کی ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ اَدۡنٰۤى ﴾ ’’اس طریق سے بہت قریب ہے۔‘‘ یعنی یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے ﴿ اَنۡ يَّاۡتُوۡا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجۡهِهَاۤ ﴾ ’’کہ وہ ادا کریں گواہی کو ٹھیک طریقے پر‘‘ یعنی جب ان گواہوں کو مذکورہ تاکیدات کے ذریعے سے تاکید کی جائے گی ﴿ اَوۡ يَخَافُوۡۤا اَنۡ تُرَدَّ اَيۡمَانٌۢ بَعۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ ﴾ ’’اس بات سے خوف کریں کہ ہماری قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کردی جائیں گی۔‘‘ یعنی ان کو خوف ہو گا کہ ان کی قسمیں قبول نہیں کی جائیں گی اور ان قسموں کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹا دیا جائے گا ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف فسق ہے جو ہدایت چاہتے ہیں، نہ راہ راست پر چلنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں ۔ ان آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ سفر وغیرہ میں جب میت کی موت کا وقت آ جائے اور وہ ایسی جگہ پر ہو جہاں گمان یہ ہو کہ معتبر گواہ بہت کم ہوں گے تو میت کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ دو مسلمان عادل گواہوں کے سامنے وصیت کرے اور اگر صرف دو کافر گواہ مہیا ہو سکیں تو ان کے پاس بھی وصیت کرنا جائز ہے۔اگر ان گواہوں کے کفر کی وجہ سے میت کے اولیاء ان کے بارے میں شک کریں تو نماز کے بعد ان سے حلف لیں کہ انھوں نے خیانت کا ارتکاب کیا ہے نہ جھوٹ بولا ہے اور نہ انھوں نے وصیت میں کوئی تغیر و تبدل کیا ہے۔ اس طرح وہ اس حق کی ذمہ داری سے بری ہو جائیں گے جو ان پر ڈال دی گئی تھی۔ اگر میت کے اولیاء ان کی گواہی کو تسلیم نہ کریں اور وہ کوئی ایسا قرینہ پائیں جو گواہوں کے جھوٹ پر دلالت کرتا ہو۔ پس اگر میت کے اولیاء میں سے دو گواہ کھڑے ہو کر قسم اٹھائیں کہ ان کی گواہی پہلے گواہوں کی گواہی سے صحیح ہے اور یہ کہ پہلے گواہ خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں اور انھوں نے جھوٹ بولا ہے تو وہ ان پہلے گواہوں کے مقابلے میں اپنے دعوے میں مستحق قرار پائیں گے۔یہ آیات کریمہ تمیم داریt اور عدی بن بداء کے قصہ میں نازل ہوئی ہیں جو بہت مشہور ہے اور قصہ یوں ہے کہ عدوی(مفسر موصوف سے سہوہوا ہے۔ صحیح بخاری، ترمذی، ابن کثیر اور دیگر مفسرین کے نزدیک عدوی کی جگہ سہمی وارد ہوا ہے یعنی بنو سہم کا ایک آدمی) نے ان دونوں حضرات کے پاس وصیت کی تھی۔ واللہ اعلم(یہ قصہ اصل میں اس طرح ہے کہ حضرت تمیم داری (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) اور عدی بن بداء، یہ دونوں نصرانی تھے اور تجارت کے لیے شام گئے ہوئے تھے۔ ایک مسلمان بدیل بن ابی مریم بھی وہاں گئے ہوئے تھے، وہاں بدیل سخت بیمار ہوگئے حتیٰ کہ زندگی سے مایوس ہوگئے۔ انہوں نے ان دونوں کو وصیت کی اور اپنا سامان بھی ان کے سپرد کردیا کہ وہ اسے ان کے گھر پہنچادیں ۔ ان دونوں نے اس سامان میں سے چاندی کا ایک پیالہ نکال کر بیچ دیا اور اس کی رقم آپس میں بانٹ لی۔ بعد میں ورثاء کو اس کا علم ہوا، تو رسول اللہﷺ نے ان سے حلف اٹھوایا۔ (صحیح البخاري، الوصایا، حدیث:2780۔ جامع الترمذي، التفسیر، حدیث: 3059)(ص۔ی)ان آیات کریمہ سے متعدد احکام پر استدلال کیا جاتا ہے۔(۱)وصیت کرنا مشروع ہے جس کی موت کا وقت قریب آ جائے تو اسے چاہیے کہ وصیت کرے۔(۲) جب موت کے مقدمات و آثار نمودار ہو جائیں تو مرنے والے کی وصیت اس وقت تک معتبر ہے جب تک اس کے ہوش و حواس قائم ہیں ۔ (۳) وصیت میں دو عادل گواہوں کی گواہی ضروری ہے۔ (۴) وصیت اور اس قسم کے دیگر مواقع پر، بوقت ضرورت کفار کی گواہی مقبول ہے۔ یہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ بہت سے اہل علم دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے۔ مگر نسخ کے اس دعویٰ پر کوئی دلیل نہیں ۔ (۵) اس حکم کے اشارہ اور اس کے معنی سے مستفاد ہوتا ہے کہ مسلمان گواہوں کی عدم موجودگی میں وصیت کے علاوہ دیگر مسائل میں بھی کفار کی گواہی قابل قبول ہے۔ جیسا کہ یہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ (۶) اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر خوف کی بات نہ ہو تو کفار کی معیت میں سفر جائز ہے۔ (۷) تجارت کے لیے سفرکرنا جائز ہے۔ (۸) اگر دونوں گواہوں کی گواہی کے بارے میں شک ہو مگر ایسا کوئی قرینہ موجود نہ ہو جو ان کی خیانت پر دلالت کرتا ہو اور وصیت کرنے والے کے اولیاء ان گواہوں سے قسم لینا چاہتے ہوں تو وہ انھیں نماز کے بعد روک لیں اور ان سے اس طریقے سے قسم لیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ (۹) اگر ان دونوں کی گواہی میں کوئی شک اور تہمت نہ ہو تو ان کو روکنے اور ان سے قسم لینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ (۱۰) یہ آیت کریمہ شہادت کے معاملے کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شہادت کو اپنی طرف مضاف کیا ہے، نیز یہ کہ اس کو درخور اعتنا سمجھنا اور انصاف کے مطابق اس کو قائم کرنا واجب ہے۔ (۱۱) گواہوں کے بارے میں اگر شک ہو تو گواہوں کا امتحان اور ان کو علیحدہ علیحدہ کر کے گواہی لینا جائز ہے۔ تاکہ سچ اور جھوٹ کے اعتبار سے گواہی کی قدر و قیمت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ (۱۲) جب ایسے قرائن پائے جائیں جو اس مسئلہ میں دونوں وصیّوں (گواہوں ) کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں تو میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری قسم ان کی قسم سے زیادہ سچی ہے۔ انھوں نے خیانت کی ہے اور جھوٹ کہا ہے پھر جس چیز کا وہ دعویٰ کرتے ہیں ان کے حوالے کر دی جائے گی۔ ان کی قسموں کے ساتھ، قرینہ، ثبوت کے قائم مقام ہے۔
5:109۞يَوۡمَ يَجۡمَعُ ٱللَّهُ ٱلرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَآ أُجِبۡتُمۡۖ قَالُواْ لَا عِلۡمَ لَنَآۖ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّـٰمُ ٱلۡغُيُوبِ
جس دن جمع کرے گا اللہ رسولوں کو، پس کہے گا کیا جواب دیے گئے تھے تم؟ وہ کہیں گے نہیں علم ہمیں ، بے شک تو ہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(109)جس وقت کہے گا اللہ، اے عیسیٰ ابن مریم! یاد کر تو میری نعمت (جو ہوئی) تجھ پر اور تیری والدہ پر، جب قوت دی میں نے تجھے ساتھ روح القدس کے، کلام کرتا تھا تو لوگوں سے گود میں اور پختہ عمر میں اور جب تعلیم دی میں نے تجھے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی اور جب بناتا تھا تو گارے سے مانند شکل پرندے کی میرے حکم سے، پھر پھونک مارتا اس میں تو ہو جاتا وہ پرندہ، میرے حکم سےاور تندرست کرتا تھا تو پیدائشی نابینے کو اور برص والے کو میرے حکم سےاور جب (زندہ) نکالتا تھا تو مردوں کو میرے حکم سے اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب لایا تھا تو ان کے پاس واضح دلیلیں تو کہا تھا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، نہیں ہے یہ مگر جادو ظاہر(110)
[109] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن اور اس کی ہولناکیوں کے بارے میں خبر دیتا ہے نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع کر کے ان سے پوچھے گا ﴿مَاذَاۤ اُجِبۡتُمۡ ﴾ ’’تمھیں کیا جواب ملا تھا۔‘‘ یعنی اس بارے میں تمھاری امتوں نے کیا جواب دیا ﴿ قَالُوۡا لَا عِلۡمَ لَنَا ﴾ ’’وہ جواب دیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں ۔‘‘ تجھے ہی علم ہے۔ اے ہمارے رب! تو ہم سے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’تو ہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔‘‘ یعنی تو حاضر و غائب تمام امور کو جانتا ہے۔
[110]﴿ اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ اذۡكُرۡ نِعۡمَتِيۡ عَلَيۡكَ وَعَلٰى وَالِدَتِكَ ﴾ ’’جبکہ ا اللہ نے، اے عیسیٰ بن مریم! یاد کر میری نعمت جو تجھ پر اور تیری ماں پر ہوئی‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان سے یاد کیجیے اور اس کے واجبات کو ادا کر کے اپنے رب کا شکر کیجیے۔ کیونکہ اس نے آپ کو اتنی نعمتیں عطا کی ہیں جو کسی دوسرے کو عطا نہیں کیں ۔ ﴿ اِذۡ اَيَّدۡتُّكَ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ﴾ ’’جب میں نے روح القدس سے تیری مدد کی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تجھ کو روح اور وحی کے ذریعے سے تقویت دی، جس نے تجھ کو پاک کیا اور تجھ کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی طرف دعوت دینے کی قوت حاصل ہوئی اور بعض نے کہا کہ روح القدس سے مراد جبریل ہیں ۔ بڑے بڑے سخت مقامات پر اللہ تعالیٰ نے جبریل کی ملازمت (ساتھ رہنے)اور ان کے ذریعے سے ثبات عطا کر کے جناب عیسیٰu کی مدد فرمائی۔﴿ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الۡمَهۡدِ وَؔكَهۡلًا ﴾ ’’تو کلام کرتا تھا لوگوں سے گود میں اور بڑی عمر میں ‘‘ یہاں کلام کرنے سے مراد مجرد کلام کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ کلام ہے جس سے متکلم اور مخاطب دونوں مستفید ہوں ۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا۔ جناب عیسیٰ کو اس عمر میں رسالت، بھلائیوں کی طرف دعوت اور برائیوں سے روکنے کی ذمہ داری عطا کر دی گئی اور دیگر اولو العزم انبیا و مرسلین کو بڑی عمر میں یہ ذمہ داری عطا کی گئی تھی۔ حضرت عیسیٰ تمام انبیائے کرام میں اس بنا پر ممتاز ہیں کہ انھوں نے پنگھوڑے میں کلام فرمایا ﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّاۙ۰۰وَّجَعَلَنِيۡ مُبٰرَؔكًا اَيۡنَ مَا كُنۡتُ١۪ وَاَوۡصٰنِيۡ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَا دُمۡتُ حَيًّا﴾(مریم: 19؍30،31)’’میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا کی اور مجھے نبی بنایا اور میں جہاں کہیں بھی ہوں مجھے بابرکت بنایا۔ جب تک میں زندہ رہوں مجھے نماز اور زکٰوۃ کی وصیت فرمائی‘‘۔﴿وَاِذۡ عَلَّمۡتُكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور جب سکھلائی میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت‘‘ یہ کتاب تمام کتب سابقہ خصوصاً تورات کو شامل ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰu جناب موسیٰ کے بعد تورات کے سب سے بڑے عالم تھے۔۔۔ اور انجیل کو بھی شامل ہے جو ان پر نازل کی گئی.... حکمت سے اسرار شریعت، اس کے فوائد اور اس کی حکمتوں کی معرفت، دعوت و تعلیم کی خوبی اور تمام امور کا ان کی اہمیت اور مناسبت کے مطابق خیال رکھنا مراد ہے۔ ﴿وَاِذۡ تَخۡلُقُ مِنَ الطِّيۡنِ كَهَيۡـَٔةِ الطَّيۡرِ ﴾ ’’اور جب تو بناتا تھا گارے سے جانور کی سی صورت‘‘ یعنی پرندوں کی تصویر جس میں روح نہیں ہوتی ﴿بِـاِذۡنِيۡ فَتَنۡفُخُ فِيۡهَا فَتَكُوۡنُ طَيۡرًۢا بِـاِذۡنِيۡ وَتُبۡرِئُ الۡاَكۡمَهَ ﴾ ’’پھر تو اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اڑنے والا ہو جاتا اور اچھا کرتا تھا تو مادر زاد اندھے کو‘‘ (اَ لْاَکْمَہَ) اس شخص کو کہتے ہیں جس کی بینائی ہو نہ آنکھ ﴿وَالۡاَبۡرَصَ بِـاِذۡنِيۡ١ۚ وَاِذۡ تُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰى بِـاِذۡنِيۡ ﴾’’اور کوڑھی کو، میرے حکم سے اور جب نکال کھڑا کرتا تھا تو مردوں کو میرے حکم سے‘‘ یہ واضح نشانیاں اور نمایاں معجزات ہیں جن سے بڑے بڑے اطباء وغیرہ بھی عاجز ہیں ۔ ان معجزات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰu کی مدد فرمائی اور اس کے ذریعے سے ان کی دعوت کو تقویت بخشی۔﴿وَاِذۡ كَفَفۡتُ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَنۡكَ اِذۡ جِئۡتَهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب تو لے کر آیا ان کے پاس نشانیاں تو کہا ان لوگوں نے جو ان میں سے کافر تھے‘‘ یعنی جب ان کے پاس حق آ گیا جس کی ایسے دلائل کے ساتھ تائید کی گئی تھی جن پر ایمان لانا واجب ہے تو انھوں نے کہا ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اور انھوں نے جناب عیسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کی مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ روک دیے اور حضرت عیسیٰ کی ان سے حفاظت کی اور ان کو ان کے شر سے بچا لیا۔ پس یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے احسانات جن سے اس نے اپنے بندے اور رسول عیسیٰ ابن مریم کو نوازا اور ان کو ان احسانات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور ان کو قائم کرنے کا حکم دیا۔۔۔ حضرت عیسیٰ نے ان احسانات کے تقاضوں کو پوری طرح ادا کیا اور اس راہ کی سختیوں پر اسی طرح صبر کیا جس طرح دیگر اولو العزم انبیا و رسل نے صبر کیا تھا۔
5:110إِذۡ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ ٱذۡكُرۡ نِعۡمَتِي عَلَيۡكَ وَعَلَىٰ وَٰلِدَتِكَ إِذۡ أَيَّدتُّكَ بِرُوحِ ٱلۡقُدُسِ تُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِي ٱلۡمَهۡدِ وَكَهۡلٗاۖ وَإِذۡ عَلَّمۡتُكَ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَٱلتَّوۡرَىٰةَ وَٱلۡإِنجِيلَۖ وَإِذۡ تَخۡلُقُ مِنَ ٱلطِّينِ كَهَيۡـَٔةِ ٱلطَّيۡرِ بِإِذۡنِي فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيۡرَۢا بِإِذۡنِيۖ وَتُبۡرِئُ ٱلۡأَكۡمَهَ وَٱلۡأَبۡرَصَ بِإِذۡنِيۖ وَإِذۡ تُخۡرِجُ ٱلۡمَوۡتَىٰ بِإِذۡنِيۖ وَإِذۡ كَفَفۡتُ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ عَنكَ إِذۡ جِئۡتَهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡهُمۡ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ
جس دن جمع کرے گا اللہ رسولوں کو، پس کہے گا کیا جواب دیے گئے تھے تم؟ وہ کہیں گے نہیں علم ہمیں ، بے شک تو ہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(109)جس وقت کہے گا اللہ، اے عیسیٰ ابن مریم! یاد کر تو میری نعمت (جو ہوئی) تجھ پر اور تیری والدہ پر، جب قوت دی میں نے تجھے ساتھ روح القدس کے، کلام کرتا تھا تو لوگوں سے گود میں اور پختہ عمر میں اور جب تعلیم دی میں نے تجھے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی اور جب بناتا تھا تو گارے سے مانند شکل پرندے کی میرے حکم سے، پھر پھونک مارتا اس میں تو ہو جاتا وہ پرندہ، میرے حکم سےاور تندرست کرتا تھا تو پیدائشی نابینے کو اور برص والے کو میرے حکم سےاور جب (زندہ) نکالتا تھا تو مردوں کو میرے حکم سے اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب لایا تھا تو ان کے پاس واضح دلیلیں تو کہا تھا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، نہیں ہے یہ مگر جادو ظاہر(110)
[109] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن اور اس کی ہولناکیوں کے بارے میں خبر دیتا ہے نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع کر کے ان سے پوچھے گا ﴿مَاذَاۤ اُجِبۡتُمۡ ﴾ ’’تمھیں کیا جواب ملا تھا۔‘‘ یعنی اس بارے میں تمھاری امتوں نے کیا جواب دیا ﴿ قَالُوۡا لَا عِلۡمَ لَنَا ﴾ ’’وہ جواب دیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں ۔‘‘ تجھے ہی علم ہے۔ اے ہمارے رب! تو ہم سے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’تو ہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔‘‘ یعنی تو حاضر و غائب تمام امور کو جانتا ہے۔
[110]﴿ اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ اذۡكُرۡ نِعۡمَتِيۡ عَلَيۡكَ وَعَلٰى وَالِدَتِكَ ﴾ ’’جبکہ ا اللہ نے، اے عیسیٰ بن مریم! یاد کر میری نعمت جو تجھ پر اور تیری ماں پر ہوئی‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان سے یاد کیجیے اور اس کے واجبات کو ادا کر کے اپنے رب کا شکر کیجیے۔ کیونکہ اس نے آپ کو اتنی نعمتیں عطا کی ہیں جو کسی دوسرے کو عطا نہیں کیں ۔ ﴿ اِذۡ اَيَّدۡتُّكَ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ﴾ ’’جب میں نے روح القدس سے تیری مدد کی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تجھ کو روح اور وحی کے ذریعے سے تقویت دی، جس نے تجھ کو پاک کیا اور تجھ کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی طرف دعوت دینے کی قوت حاصل ہوئی اور بعض نے کہا کہ روح القدس سے مراد جبریل ہیں ۔ بڑے بڑے سخت مقامات پر اللہ تعالیٰ نے جبریل کی ملازمت (ساتھ رہنے)اور ان کے ذریعے سے ثبات عطا کر کے جناب عیسیٰu کی مدد فرمائی۔﴿ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الۡمَهۡدِ وَؔكَهۡلًا ﴾ ’’تو کلام کرتا تھا لوگوں سے گود میں اور بڑی عمر میں ‘‘ یہاں کلام کرنے سے مراد مجرد کلام کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ کلام ہے جس سے متکلم اور مخاطب دونوں مستفید ہوں ۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا۔ جناب عیسیٰ کو اس عمر میں رسالت، بھلائیوں کی طرف دعوت اور برائیوں سے روکنے کی ذمہ داری عطا کر دی گئی اور دیگر اولو العزم انبیا و مرسلین کو بڑی عمر میں یہ ذمہ داری عطا کی گئی تھی۔ حضرت عیسیٰ تمام انبیائے کرام میں اس بنا پر ممتاز ہیں کہ انھوں نے پنگھوڑے میں کلام فرمایا ﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّاۙ۰۰وَّجَعَلَنِيۡ مُبٰرَؔكًا اَيۡنَ مَا كُنۡتُ١۪ وَاَوۡصٰنِيۡ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَا دُمۡتُ حَيًّا﴾(مریم: 19؍30،31)’’میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا کی اور مجھے نبی بنایا اور میں جہاں کہیں بھی ہوں مجھے بابرکت بنایا۔ جب تک میں زندہ رہوں مجھے نماز اور زکٰوۃ کی وصیت فرمائی‘‘۔﴿وَاِذۡ عَلَّمۡتُكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور جب سکھلائی میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت‘‘ یہ کتاب تمام کتب سابقہ خصوصاً تورات کو شامل ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰu جناب موسیٰ کے بعد تورات کے سب سے بڑے عالم تھے۔۔۔ اور انجیل کو بھی شامل ہے جو ان پر نازل کی گئی.... حکمت سے اسرار شریعت، اس کے فوائد اور اس کی حکمتوں کی معرفت، دعوت و تعلیم کی خوبی اور تمام امور کا ان کی اہمیت اور مناسبت کے مطابق خیال رکھنا مراد ہے۔ ﴿وَاِذۡ تَخۡلُقُ مِنَ الطِّيۡنِ كَهَيۡـَٔةِ الطَّيۡرِ ﴾ ’’اور جب تو بناتا تھا گارے سے جانور کی سی صورت‘‘ یعنی پرندوں کی تصویر جس میں روح نہیں ہوتی ﴿بِـاِذۡنِيۡ فَتَنۡفُخُ فِيۡهَا فَتَكُوۡنُ طَيۡرًۢا بِـاِذۡنِيۡ وَتُبۡرِئُ الۡاَكۡمَهَ ﴾ ’’پھر تو اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اڑنے والا ہو جاتا اور اچھا کرتا تھا تو مادر زاد اندھے کو‘‘ (اَ لْاَکْمَہَ) اس شخص کو کہتے ہیں جس کی بینائی ہو نہ آنکھ ﴿وَالۡاَبۡرَصَ بِـاِذۡنِيۡ١ۚ وَاِذۡ تُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰى بِـاِذۡنِيۡ ﴾’’اور کوڑھی کو، میرے حکم سے اور جب نکال کھڑا کرتا تھا تو مردوں کو میرے حکم سے‘‘ یہ واضح نشانیاں اور نمایاں معجزات ہیں جن سے بڑے بڑے اطباء وغیرہ بھی عاجز ہیں ۔ ان معجزات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰu کی مدد فرمائی اور اس کے ذریعے سے ان کی دعوت کو تقویت بخشی۔﴿وَاِذۡ كَفَفۡتُ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَنۡكَ اِذۡ جِئۡتَهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب تو لے کر آیا ان کے پاس نشانیاں تو کہا ان لوگوں نے جو ان میں سے کافر تھے‘‘ یعنی جب ان کے پاس حق آ گیا جس کی ایسے دلائل کے ساتھ تائید کی گئی تھی جن پر ایمان لانا واجب ہے تو انھوں نے کہا ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اور انھوں نے جناب عیسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کی مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ روک دیے اور حضرت عیسیٰ کی ان سے حفاظت کی اور ان کو ان کے شر سے بچا لیا۔ پس یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے احسانات جن سے اس نے اپنے بندے اور رسول عیسیٰ ابن مریم کو نوازا اور ان کو ان احسانات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور ان کو قائم کرنے کا حکم دیا۔۔۔ حضرت عیسیٰ نے ان احسانات کے تقاضوں کو پوری طرح ادا کیا اور اس راہ کی سختیوں پر اسی طرح صبر کیا جس طرح دیگر اولو العزم انبیا و رسل نے صبر کیا تھا۔
5:111وَإِذۡ أَوۡحَيۡتُ إِلَى ٱلۡحَوَارِيِّـۧنَ أَنۡ ءَامِنُواْ بِي وَبِرَسُولِي قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَٱشۡهَدۡ بِأَنَّنَا مُسۡلِمُونَ
اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)
[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔
5:112إِذۡ قَالَ ٱلۡحَوَارِيُّونَ يَٰعِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآئِدَةٗ مِّنَ ٱلسَّمَآءِۖ قَالَ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)
[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔
5:113قَالُواْ نُرِيدُ أَن نَّأۡكُلَ مِنۡهَا وَتَطۡمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعۡلَمَ أَن قَدۡ صَدَقۡتَنَا وَنَكُونَ عَلَيۡهَا مِنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ
اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)
[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔
5:114قَالَ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ ٱللَّهُمَّ رَبَّنَآ أَنزِلۡ عَلَيۡنَا مَآئِدَةٗ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ تَكُونُ لَنَا عِيدٗا لِّأَوَّلِنَا وَءَاخِرِنَا وَءَايَةٗ مِّنكَۖ وَٱرۡزُقۡنَا وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلرَّـٰزِقِينَ
اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)
[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔
5:115قَالَ ٱللَّهُ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡۖ فَمَن يَكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنكُمۡ فَإِنِّيٓ أُعَذِّبُهُۥ عَذَابٗا لَّآ أُعَذِّبُهُۥٓ أَحَدٗا مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)
[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔
5:116وَإِذۡ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ ءَأَنتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ ٱتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَٰهَيۡنِ مِن دُونِ ٱللَّهِۖ قَالَ سُبۡحَٰنَكَ مَا يَكُونُ لِيٓ أَنۡ أَقُولَ مَا لَيۡسَ لِي بِحَقٍّۚ إِن كُنتُ قُلۡتُهُۥ فَقَدۡ عَلِمۡتَهُۥۚ تَعۡلَمُ مَا فِي نَفۡسِي وَلَآ أَعۡلَمُ مَا فِي نَفۡسِكَۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّـٰمُ ٱلۡغُيُوبِ
اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)
[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔
5:117مَا قُلۡتُ لَهُمۡ إِلَّا مَآ أَمَرۡتَنِي بِهِۦٓ أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمۡۚ وَكُنتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيدٗا مَّا دُمۡتُ فِيهِمۡۖ فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِي كُنتَ أَنتَ ٱلرَّقِيبَ عَلَيۡهِمۡۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ
اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)
[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔
5:118إِن تُعَذِّبۡهُمۡ فَإِنَّهُمۡ عِبَادُكَۖ وَإِن تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَإِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)
[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔
5:119قَالَ ٱللَّهُ هَٰذَا يَوۡمُ يَنفَعُ ٱلصَّـٰدِقِينَ صِدۡقُهُمۡۚ لَهُمۡ جَنَّـٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)
[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔
5:120لِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا فِيهِنَّۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرُۢ
اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)
[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے پیرائے میں تھی۔ چونکہ من مانے معجزات کا مطالبہ اطاعت حق کے منافی ہوتا ہے اور یہ کلام حواریوں سے صادر ہوا تھا۔ اور یہ چیز ان کو وہم میں ڈال سکتی تھی اس لیے حضرت عیسیٰu نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:﴿اتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ مومن کا سرمایۂ ایمان اسے تقویٰ کے التزام اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ بغیر جانے بوجھے معجزات کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ حواریوں نے عرض کیا کہ ان کا مطالبہ اس معنی میں نہیں ہے بلکہ وہ تو نیک مقاصد رکھتے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ضرورت کے تحت ہے ﴿ قَالُوۡا نُرِيۡدُ اَنۡ نَّاۡكُلَ مِنۡهَا ﴾ ’’ہم اس سے کھانا چاہتے ہیں ‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس کھانے کے محتاج تھے ﴿ وَتَطۡمَىِٕنَّ قُلُوۡبُنَا ﴾ ’’اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں ‘‘ جب ہم عیاں طور پر معجزات کا مشاہدہ کریں گے تو دل ایمان پر مطمئن ہوں گے حتیٰ کہ ایمان عین الیقین کے درجہ پر پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ جناب خلیلu نے اپنے رب سے عرض کیا کہ وہ انھیں اس امر کا مشاہدہ کروائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ﴿ قَالَ اَوَ لَمۡ تُـؤۡمِنۡ١ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنۡ لِّيَطۡمَىِٕنَّ قَلۡبِيۡ ﴾(البقرۃ: 2؍260) ’’فرمایا : کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟ عرض کیا کیوں نہیں ۔ یہ عرض تو محض اس لیے کہ کہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔‘‘پس بندہ ہمیشہ اپنے علم، ایمان اور یقین میں اضافے کا محتاج اور متمنی رہتا ہے ﴿ وَنَعۡلَمَ اَنۡ قَدۡ صَدَقۡتَنَا ﴾ ’’اور ہم جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا ہے۔‘‘ یعنی جو چیز آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں ہم اس کی صداقت کو جان لیں کہ یہ حق اور سچ ہے ﴿ وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اس پر گواہوں میں سے ہو جائیں ‘‘ اور یہ چیز ہمارے بعد آنے والوں کے لیے مصلحت کی حامل ہو گی۔ ہم آپ کے حق میں گواہی دیں گے، تب حجت قائم ہو جائے گی اور دلیل و برہان کی قوت میں اضافہ ہو گا۔جب عیسیٰu نے ان کی یہ بات سنی اور ان کا مقصود انھیں معلوم ہو گیا تو انھوں نے ان کی درخواست قبول فرما کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّؔنۡكَ ﴾ ’’اے اللہ! ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتار، یہ ہمارے پہلے اور پچھلے لوگوں کے لیے خوشی کا باعث اور تیری طرف سے نشانی ہو‘‘ یعنی اس کھانے کے نازل ہونے کا وقت ہمارے لیے عید اور یادگار بن جائے تاکہ اس عظیم معجزے کو یاد رکھا جائے اور مرور ایام کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے اور ہم اس کو بھول نہ جائیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عیدیں اور عبادت کے دن مقرر فرمائے ہیں جو اس کی آیات کی یاد دلاتے ہیں اور انبیا و مرسلین کی سنن اور ان کی سیدھی راہ اور ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں ﴿وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں روزی دے اور تو ہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘ یعنی اسے ہمارے لیے رزق بنا۔ پس حضرت عیسیٰu نے ان دو مصلحتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ سے دسترخوان کے اترنے کی دعا کی تھی۔ دینی مصلحت، یعنی یہ نشانی کے طور پر باقی رہے اور دنیاوی مصلحت، یعنی یہ رزق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ مُنَزِّلُهَا عَلَيۡكُمۡ١ۚ فَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بَعۡدُ مِنۡكُمۡ فَاِنِّيۡۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک میں اسے تم پر اتاروں گا، پس اس کے بعد تم میں سے جو کفر کرے گا تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دوں گا‘‘ کیونکہ اس نے واضح معجزے کا مشاہدہ کر کے ظلم اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کر دیا اور یوں وہ دردناک عذاب اور سخت سزا کا مستحق ٹھہرا۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ دستر خوان نازل کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو ان کے کفر کی صورت میں مذکورہ بالا وعید بھی سنائی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے نازل کرنے کا ذکر نہیں فرمایا۔ احتمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وجہ سے اسے نازل نہیں فرمایا ہو گا کہ انھوں نے اس کو اختیار نہیں کیا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کا ذکر انجیل کے اس نسخے میں نہیں ہے جو اس وقت عیسائیوں کے پاس ہے۔اس میں اس امر کا بھی احتمال ہے کہ دستر خوان نازل ہوا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ اور انجیل میں اس کا ذکر نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہ اسے بھول گئے ہوں گے جس کو یاد رکھنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ سرے سے انجیل میں موجود ہی نہ ہو اور نسل در نسل زبانی منتقل ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ نے انجیل میں اس کا ذکر کیے بغیر اس کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَنَكُوۡنَ عَلَيۡهَا مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾’’اور ہم اس پر گواہ رہیں ۔‘‘ بھی اس معنی پر دلالت کرتا ہے۔ حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔﴿ وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّؔخِذُوۡنِيۡ وَاُمِّيَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جب اللہ کہے گا، اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود بنا لینا، اللہ کے سوا۔‘‘یہ نصاریٰ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ خطاب حضرت عیسیٰ کے لیے ہے۔ جناب عیسیٰu اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے فرمائیں گے ﴿ قَالَ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’پاک ہے تو‘‘ یعنی میں اس قبیح کلام اور جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو، اس سے اللہ کی پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں ﴿ مَا يَكُوۡنُ لِيۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَيۡسَ لِيۡ١ۗ بِحَقٍّ ﴾’’مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب نہیں ہے اور نہ میری شان کے لائق ہے کہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میرے اوصاف میں شامل ہے نہ میرے حقوق میں ۔ کیونکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں ، اللہ کے مقرب فرشتوں ، انبیا و مرسلین اور دیگر مخلوق میں سے کوئی بھی مقام الوہیت کا حق اور استحقاق نہیں رکھتا۔ یہ تمام ہستیاں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کی تدبیر کے تحت ہیں ، اللہ تعالیٰ کی مسخر کی ہوئی مخلوق، عاجز اور محتاج ہیں ۔﴿ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ١ؕ تَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِيۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِيۡ نَفۡسِكَ ﴾ ’’اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے‘‘ یعنی جو کچھ مجھ سے صادر ہو چکا ہے تو اسے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’بے شک تو علام الغیوب ہے۔‘‘ یہ عیسیٰu کی طرف سے اپنے رب سے مخاطب ہوتے وقت کمال ادب کا مظاہرہ ہے، چنانچہ آپ نے یہ نہیں کہا (لَمْ أَقُلْ شَیْئًا مِّنْ ذٰلِکَ) ’’میں نے تو اس میں سے کچھ بھی نہیں کہا‘‘ بلکہ آپ نے ایک ایسی بات کی خبر دی ہے جو آپ کی طرف سے ہر ایسی بات کہی جانے کی نفی کرتی ہے جو آپ کے منصب شریف کے منافی ہو نیز یہ کہ ایسا کہنا امر محال ہے۔ آپ نے اپنے رب کی تنزیہ بیان فرمائی اور علم کو غائب اور موجود کے جاننے والے اللہ کی طرف لوٹا دیا۔پھر مسیحu نے تصریح فرمائی کہ انھوں نے بنی اسرائیل کے سامنے صرف وہی چیز بیان کی تھی کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا ﴿مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِيۡ بِهٖۤ ﴾ ’’میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تونے مجھے حکم د یا۔‘‘ پس میں تو تیرا تابع بندہ ہوں مجھے تیری عظمت کے سامنے دم مارنے کی جراء ت نہیں ﴿اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ میں نے تو صرف الٰہ واحد کی عبادت اور اخلاص دین کا حکم دیا تھا جو کہ اس بات کا متضمن ہے کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنانے سے باز رہیں اور اس بیان کا متضمن ہے کہ میں تو اپنے رب کی ربوبیت کا محتاج ہوں۔ وہ جیسے تمھارا رب ہے ویسے ہی میرا بھی رب ہے۔ ﴿ وَؔكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان میں موجود رہا‘‘ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کون اس بات پر قائم رہا اور کون اس پر قائم نہ رہ سکا ﴿فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِيۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس جب تو نے مجھ کو (آسمان پر) اٹھا لیا تو تو ہی ان کی خبر رکھنے والا تھا‘‘ یعنی ان کے بھیدوں اور ضمائر کو جاننے والا ﴿ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾’’اور تو ہر چیز سے خبردار ہے‘‘ یعنی تو چونکہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے تو سننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اس لیے تو ہر چیز پر شاہد ہے۔ تیرا علم تمام معلومات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ تیری سماعت مسموعات کو سن رہی ہے اور تیری بصر تمام مرئیات کو دیکھ رہی ہے۔ پس تو ہی اپنے بندوں کو اپنے علم کے مطابق خیر و شر کی جزا دے گا۔﴿ اِنۡ تُعَذِّبۡهُمۡ فَاِنَّهُمۡ عِبَادُكَ ﴾ ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ‘‘ یعنی تو اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جس قدر وہ اپنے آپ پر رحم کر سکتے ہیں ۔ تو ان کے احوال زیادہ جانتا ہے اگر وہ متکبر اور سرکش بندے نہ ہوتے تو تو انھیں کبھی عذاب نہ دیتا ﴿وَاِنۡ تَغۡفِرۡ لَهُمۡ فَاِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے‘‘ تیری مغفرت تیری کامل قدرت اور غلبہ سے صادر ہوتی ہے۔ تیری مغفرت اور تیرا معاف کر دینا اس شخص کی مانند نہیں جو عاجزی اور عدم قدرت کی بنا پر معاف کر دیتا ہے تو حکمت والا ہے جہاں کہیں تیری حکمت تقاضا کرتی ہے تو اس شخص کو بخش دیتا ہے جو تیری مغفرت کے اسباب لے کر تیری خدمت میں آتا ہے۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ ﴾ قیامت کے روز بندوں کا جو حال ہو گا اللہ تعالیٰ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ کہ قیامت کے روز کون کامیابی سے بہرہ ور ہو گا اور کون ہلاک ہو گا، کسے سعادت نصیب ہو گی اور کس کے حصے میں بدبختی آئے گی ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾ ’’یہ دن ہے کہ کام آئے گا سچوں کے ان کا سچ‘‘ اصحاب صدق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال، اقوال اور نیات درست، صراط مستقیم پر قائم اور صحیح نہج پر ہیں ۔ قیامت کے روز وہ اپنے صدق کا پھل پائیں گے جب اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں پاک مقام میں ہر طرح کی کامل قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ٹھہرائے گا۔بنابریں فرمایا:﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ ہے کامیابی بڑی۔‘‘جھوٹوں کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ ہو گا۔ ان کو ان کے جھوٹ اور بہتان سے ضرر پہنچے گا اور وہ اپنے فاسد اعمال کا پھل چکھیں گے۔﴿ لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا فِيۡهِنَّ﴾ ’’اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور وہی اپنے حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کے ذریعے سے ان کی تدبیر کر رہا ہے اس لیے فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘پس کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی بلکہ تمام اشیا اس کی مشیت کی مطیع اور اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں ۔