QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

An-Nisa

ٱلنِّسَاء

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 4 · 176 verses

4:1

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمُ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ وَخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالٗا كَثِيرٗا وَنِسَآءٗۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِي تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلۡأَرۡحَامَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ رَقِيبٗا

اے لوگو! ڈرو اپنے رب سے، وہ جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے اور پیدا کیا اسی سے اس کا جوڑا اور پھیلائے ان دونوں سے مرد کثرت سے اور عورتیں۔ اور ڈرو اللہ سے، وہ کہ سوال کرتے ہو تم آپس میں اس کے واسطے سےاور (ڈرو) رشتوں (کے توڑنے) سے۔ بلاشبہ اللہ ہے اوپر تمھارے نگہبان(1) [1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورت کا افتتاح تقویٰ کے حکم، اپنی عبادت کی تاکید اور صلہ رحمی کے حکم اور اس کی تاکید سے کیا ہے۔ اور ان اسباب کو بیان کیا ہے جو ان تمام امور کے موجب ہیں اور تقویٰ کا موجب یہ ہے ﴿ رَبَّكُمُ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے جس نے تمھیں پیدا کیا‘‘ تمھیں رزق عطا کیا اور بڑی بڑی نعمتوں کے ذریعے سے تمھاری تربیت کی اور ان جملہ نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اس نے تمھیں پیدا کیا ﴿ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾ ’’ایک ہی جان سے اور اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا‘‘ تاکہ وہ اس کے مشابہ اور مناسب ہو اور اسے اس کے پاس سکون حاصل ہو، اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی تکمیل ہو اور اس سے فرحت و سرور حاصل ہو۔ اسی طرح تقویٰ کا موجب اور اس کا داعی اس کے نام پر تمھارا ایک دوسرے سے سوال کرنا اور تمھارا تعظیم کرنا ہے۔ حتیٰ کہ جب تم اپنی کوئی ضرورت پوری کرنا چاہتے ہو تو تم اپنے سوال میں اس کا وسیلہ اختیار کرتے ہو۔پس جو کوئی دوسرے کے لیے یہ چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے ’’میں اللہ کے نام پر تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو فلاں کام کر‘‘ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت جاگزیں ہے جو اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو رد نہ کرے جو اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرتا ہے جیسا کہ تم نے اس کی اس ذریعے سے تعظیم کی ہے پس تمھیں چاہیے کہ تم اس کی عبادت اور تقویٰ کے ذریعے سے اس کی تعظیم کرو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ بھی آگاہ فرمایا ہے کہ وہ نگہبان ہے وہ بندوں کی حرکات و سکنات، ان کے کھلے چھپے تمام احوال میں ان کی خبر رکھتا ہے اور ان احوال میں ان کا نگہبان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نگہبان ہونا جن امور کا موجب بنتا ہے ان میں تقویٰ کے التزام کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے حیا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس خبر میں کہ اس نے انھیں ایک جان سے تخلیق کیا ہے اور اس نے ان کو روئے زمین کے کناروں تک پھیلایا جبکہ وہ ایک ہی اصل کی طرف لوٹتے ہیں۔۔۔ مقصد یہ ہے کہ بندے ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور نرمی کے ساتھ پیش آیا کریں۔اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم، صلہ رحمی کے حکم اور قطع رحمی کی ممانعت کے ساتھ ملا کر بیان فرمایا تاکہ یہ حق موکد ہو جائے۔ یعنی جس طرح حقوق اللہ کو قائم کرنا لازم ہے اسی طرح حقوق العباد کو قائم کرنا بھی لازم ہے۔ خاص طور پر رشتہ داروں کے حقوق کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ بلکہ رشتہ داروں کے حقوق کو قائم کرنا تو حقوق اللہ میں شمار ہوتا ہے جن کو قائم کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ غور کیجیے کہ اللہ نے کیسے اس سورت کا افتتاح تقویٰ کے اختیار کرنے، صلہ رحمی اور عمومی طور پر بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے حکم کے ساتھ کیا، پھر اس کے بعد اس سورت میں اس کی ابتدا سے لے کر انتہا تک ان تمام امور کی پوری تفصیلات بیان ہوئی ہیں گویا یہ سورۂ مبارکہ مذکورہ امور کی ان تفصیلات کو بیان کرتی ہے جن کو مجمل رکھا گیا تھا اور ان امور کو واضح کرتی ہے جو مبہم تھے۔اللہ تبارک کے ارشاد ﴿ وَّخَلَقَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾ ’’اور پیدا کیا اس سے اس کا جوڑا‘‘ میں شوہروں اور بیویوں کے حقوق کی مراعات پر تنبیہ ہے اور ان کو قائم کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ بیویاں بھی شوہروں ہی کی صلب سے پیدا کی گئی ہیں۔ پس شوہروں اور بیویوں کے درمیان قریب ترین نسب، مضبوط ترین اتصال اور نہایت قوی رشتہ ہے۔
4:2

وَءَاتُواْ ٱلۡيَتَٰمَىٰٓ أَمۡوَٰلَهُمۡۖ وَلَا تَتَبَدَّلُواْ ٱلۡخَبِيثَ بِٱلطَّيِّبِۖ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَهُمۡ إِلَىٰٓ أَمۡوَٰلِكُمۡۚ إِنَّهُۥ كَانَ حُوبٗا كَبِيرٗا

اور دو تم یتیموں کو ان کے مال اور نہ بدل کر لو تم ناپاک کو پاک کے عوض اور نہ کھاؤ تم ان کے مال ساتھ (ملا کر) اپنے مالوں کے، بلاشبہ یہ ہے گناہ بہت بڑا(2) [2] اس سورۂ مبارکہ میں جن حقوق العباد کی تاکید کی گئی ہے، یہ ان میں سے پہلا حکم ہے اور وہ یتیم بچے ہیں جن کے باپ فوت ہو گئے ہیں جو ان کی کفالت کیا کرتے تھے۔ وہ بہت چھوٹے اور نہایت کمزور ہیں اپنے مصالح کی خود دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔ بنابریں اللہ رؤف و رحیم نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ ان کے مال کے قریب نہ جائیں مگر بھلے طریقے سے۔ اور جب یہ بالغ اور سمجھ دار ہو جائیں تو ان کا پورے کا پورا مال ان کے حوالے کر دیں۔ ﴿ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الۡخَبِيۡثَ ﴾ ’’اور بدل نہ لو خبیث مال کو‘‘ خبیث سے مراد ناحق یتیم کا مال کھانا ہے ﴿ بِالطَّيِّبِ ﴾ طیب مال سے مراد حلال مال ہے جس میں کوئی حرج ہے نہ تاوان ﴿ وَلَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَهُمۡ اِلٰۤى اَمۡوَالِكُمۡ ﴾ یعنی ’’تم اپنے اموال کے ساتھ ان کے اموال نہ کھاؤ۔‘‘اس آیت کریمہ میں یتیموں کا مال کھانے کی قباحت پر دلیل ہے۔ اس حال میں جبکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے خود اس کے مال میں رزق عطا کیا ہوتا ہے اور وہ اپنے مال کی وجہ سے یتیم کے مال سے مستغنی ہوتا ہے اور جو کوئی اس حال میں یتیم کا مال کھانے کی جرأت کرتا ہے تو وہ بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ﴿حُوۡبًا كَبِيۡرًا ﴾ یعنی گناہ عظیم اور بہت بڑا بوجھ۔خبیث کو طیب سے بدلنا یہ ہے کہ یتیم کا سرپرست یتیم کا نفیس مال خود رکھ لے اور اس کے بدلے میں اپنا گھٹیا مال یتیم کو دے دے۔ اس آیت کریمہ میں یتیم کی سرپرستی کی دلیل ہے۔ کیونکہ یتیم کو اس کا مال حوالے کرنے والے کی سرپرستی ثابت ہوتی ہے۔ اس میں اس بات کا بھی حکم ہے کہ یتیم کے مال کی اصلاح کی جائے کیونکہ یتیم کو اس کا پورا مال حوالے کرنے کے حکم میں ازخود یہ بات آ جاتی ہے کہ اس مال کی حفاظت کی جائے، اس کی اصلاح اور نشوونما کا انتظام کیا جائے اور اس کو تلف ہونے کے خطرات سے بچایا جائے۔
4:3

وَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تُقۡسِطُواْ فِي ٱلۡيَتَٰمَىٰ فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُواْ فَوَٰحِدَةً أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَلَّا تَعُولُواْ

اور اگر ڈرو تم یہ کہ نہ انصاف کر سکو گے تم یتیم عورتوں کے بارے میں تو (ان کی بجائے) نکاح کرو تم (ان سے) جو اچھی لگیں تمھیں عورتوں سے، دو دواور تین تین اور چار چار۔ پس اگر ڈرو تم اس بات سے کہ نہ انصاف کر سکو گے تم تو (نکاح کرو) ایک ہی سے یا جس کے مالک ہوئے تمھارے دائیں ہاتھ۔ یہ زیادہ قریب ہے اس کے کہ نہ ناانصافی کرو تم(3) اور دو تم عورتوں کو مہر ان کے خوش دلی سے، پس اگر وہ خوشی سے دیں تم کو کچھ اس میں سے دل سے تو کھا لو تم اسے رچتا بچتا(4) [3] یعنی اگر تمھیں اس بات کا خدشہ ہے کہ تم ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے جو تمھاری پرورش اور سرپرستی میں ہیں اور تمھیں ڈر ہے کہ ان کے ساتھ تمھاری محبت نہ ہونے کی وجہ سے تم ان کے حقوق ادا نہ کر سکو گے۔ تو تم ان کے علاوہ دوسری عورتوں کے ساتھ نکاح کر لو ﴿ مَا طَابَ لَكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ ﴾ ’’اور عورتوں میں سے جو تمھیں اچھی لگیں‘‘ یعنی، دین، مال، حسب و نسب اور حسن و جمال جیسی دیگر صفات جو نکاح کی ترغیب دیتی ہیں ، ان صفات کی حامل عورتوں میں جس کے ساتھ نکاح کرنے کا اختیار حاصل ہو، اپنی خواہش اور صوابدید کے مطابق نکاح کر لو۔ نکاح کے انتخاب کے لیے بہترین صفت دین ہے جیسا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’’عورت سے چار صفات کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے، اس کے مال، اس کے حسن و جمال، اس کے حسب و نسب اور اس کے دین کی وجہ سے، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، تو دین دار عورت سے نکاح کرنے کی کوشش کر۔‘‘اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ نکاح سے قبل عورت کو منتخب کر لے۔ بلکہ شارع نے تو یہاں تک مباح کیا ہے کہ انسان جس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے اسے ایک نظر دیکھ لے تاکہ یہ نکاح بصیرت کی بنیاد پر ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی تعداد کا ذکر کیا ہے جن کے ساتھ نکاح کرنا مباح ہے چنانچہ فرمایا:﴿ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ﴾’’دو دو اور تین تین اور چار چار‘‘ یعنی جو کوئی دو بیویاں رکھنا چاہتا ہے وہ دو بیویاں رکھ لے اگر تین بیویوں سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو تین سے نکاح کر لے اور اگر چار سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو چار سے نکاح کر لے۔ البتہ چار سے زیادہ عورتوں سے نکاح نہ کرے۔ کیونکہ آیت کریمہ کا سیاق اللہ تعالیٰ کے احسان کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو عدد مقرر کر دیا ہے بالاتفاق اس سے زیادہ بیویاں جائز نہیں۔ ایک سے زیادہ بیوی کی اجازت کی وجہ یہ ہے کہ بسا اوقات مرد کی شہوت ایک بیوی سے پوری نہیں ہوتی اس لیے یکے بعد دیگرے چار بیویاں جائز ہیں کیونکہ شاذ اور نادر صورت کے سوا، چار بیویاں کافی ہوتی ہیں۔ یہ چار بیویاں بھی مرد کے لیے صرف اس وقت جائز ہیں جب وہ ظلم و جور کرنے سے محفوظ ہو اور اسے یقین ہو کہ وہ چار بیویوں کے حقوق پورے کر سکے گا اور اگر اسے ظلم و زیادتی اور حقوق کی عدم ادائیگی کا خدشہ ہو تو اسے صرف ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنا چاہیے۔ یا اس کے ساتھ لونڈیوں پر اکتفا کرے۔ لونڈیوں میں وظیفہ زن و شو کی مساوی تقسیم واجب نہیں۔﴿ ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘یعنی ایک بیوی یا لونڈیوں پر اکتفا کرنا ﴿ اَدۡنٰۤى اَلَّا تَعُوۡلُوۡا﴾ ’’اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تم ظلم نہ کرو۔‘‘ اس آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر بندے کو کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جہاں اس سے ظلم و جور کے ارتکاب کا خدشہ ہو اور اسے اس بات کا خوف ہو کہ وہ اس معاملے کے حقوق پورے نہیں کر سکے گا۔ خواہ یہ معاملہ مباحات کے زمرے میں کیوں نہ آتا ہو تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اس معاملے میں کوئی تعرض کرے۔ بلکہ وہ اس میں بچاؤ اور عافیت کا التزام کرے۔ کیونکہ عافیت بہترین چیز ہے جو بندے کو عطا کی گئی ہے۔ [4] چونکہ اکثر لوگ اپنی بیویوں پر ظلم کرتے ہیں اور ان کے حقوق غصب کر لیتے ہیں۔ خاص طور پر حق مہر (اکثر) بہت زیادہ ہوتا ہے یہ مہر ایک ہی بار پورے کا پورا ادا کرنا باعث مشقت ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا اور ان کو تاکید کی کہ وہ اپنی بیویوں کو مہر ادا کریں ﴿ صَدُقٰتِهِنَّ ﴾ یعنی ان کے مہر ﴿ نِحۡلَةً ﴾ یعنی ان کا مہر خوش دلی اور اطمینان قلب کے ساتھ ادا کرو۔ مہر ادا کرنے میں ٹال مٹول نہ کرو اور اسے ادا کرتے وقت اس میں کچھ کم نہ کرو۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر عورت مکلف (یعنی بالغ اور عاقل) ہو تو مہر اس کو ادا کر دیا جائے گا اور عقد کے موقع پر عورت مہر کی مالک بن جاتی ہے۔ کیونکہ حق مہر کی اضافت اس کی طرف جاتی ہے اور اضافت تملیک کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ فَاِنۡ طِبۡنَ لَكُمۡ عَنۡ شَيۡءٍ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اگر وہ خود اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ چھوڑ دیں‘‘ یعنی حق مہر سے ﴿ نَفۡسًا﴾ یعنی اگر بیویاں برضا و رغبت مہر کا کچھ حصہ چھوڑ کر یا ادائیگی میں مہلت دے کر یا مہر کا کوئی عوض قبول کر کے شوہروں کے ساتھ نرمی کرتی ہیں ﴿ فَكُلُوۡهُ هَنِيۡٓـــًٔا مَّرِيۡٓــــًٔا ﴾ ’’تو کھاؤ تم اس کو ذوق شوق سے‘‘ یعنی اس صورت میں تمھارے لیے کوئی حرج اور کوئی نقصان نہیں۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورت بالغ اور عاقل ہے تو اپنے مال میں تصرف کا پورا اختیار رکھتی ہے۔ خواہ وہ صدقہ ہی کیوں نہ کر دے۔ لیکن اگر بالغ اور عاقل نہیں ہے تو اس کے عطیہ کا حکم معتبر نہیں نیز عورت کا سرپرست اس مہر میں سے کچھ حصہ لینے کا حق دار نہیں سوائے اس کے، کہ عورت برضا و رغبت خود اسے کچھ عطا کر دے۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ مَا طَابَ لَكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ خبیث یعنی ناپاک عورت سے نکاح مامور نہیں، بلکہ خبیث عورتوں سے نکاح کرنا منع ہے مثلاً مشرک اور فاسق و فاجر عورت سے۔۔۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّ ﴾(البقرۃ : 2؍221) ’’مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اَلزَّانِيۡ لَا يَنۡكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوۡ مُشۡرِكَةً ﴾(النور:24؍3) ’’بدکار عورت کے ساتھ ایک زانی اور مشرک مرد کے سوا کوئی نکاح نہیں کرتا۔‘‘
4:4

وَءَاتُواْ ٱلنِّسَآءَ صَدُقَٰتِهِنَّ نِحۡلَةٗۚ فَإِن طِبۡنَ لَكُمۡ عَن شَيۡءٖ مِّنۡهُ نَفۡسٗا فَكُلُوهُ هَنِيٓـٔٗا مَّرِيٓـٔٗا

اور اگر ڈرو تم یہ کہ نہ انصاف کر سکو گے تم یتیم عورتوں کے بارے میں تو (ان کی بجائے) نکاح کرو تم (ان سے) جو اچھی لگیں تمھیں عورتوں سے، دو دواور تین تین اور چار چار۔ پس اگر ڈرو تم اس بات سے کہ نہ انصاف کر سکو گے تم تو (نکاح کرو) ایک ہی سے یا جس کے مالک ہوئے تمھارے دائیں ہاتھ۔ یہ زیادہ قریب ہے اس کے کہ نہ ناانصافی کرو تم(3) اور دو تم عورتوں کو مہر ان کے خوش دلی سے، پس اگر وہ خوشی سے دیں تم کو کچھ اس میں سے دل سے تو کھا لو تم اسے رچتا بچتا(4) [3] یعنی اگر تمھیں اس بات کا خدشہ ہے کہ تم ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے جو تمھاری پرورش اور سرپرستی میں ہیں اور تمھیں ڈر ہے کہ ان کے ساتھ تمھاری محبت نہ ہونے کی وجہ سے تم ان کے حقوق ادا نہ کر سکو گے۔ تو تم ان کے علاوہ دوسری عورتوں کے ساتھ نکاح کر لو ﴿ مَا طَابَ لَكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ ﴾ ’’اور عورتوں میں سے جو تمھیں اچھی لگیں‘‘ یعنی، دین، مال، حسب و نسب اور حسن و جمال جیسی دیگر صفات جو نکاح کی ترغیب دیتی ہیں ، ان صفات کی حامل عورتوں میں جس کے ساتھ نکاح کرنے کا اختیار حاصل ہو، اپنی خواہش اور صوابدید کے مطابق نکاح کر لو۔ نکاح کے انتخاب کے لیے بہترین صفت دین ہے جیسا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’’عورت سے چار صفات کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے، اس کے مال، اس کے حسن و جمال، اس کے حسب و نسب اور اس کے دین کی وجہ سے، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، تو دین دار عورت سے نکاح کرنے کی کوشش کر۔‘‘اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ نکاح سے قبل عورت کو منتخب کر لے۔ بلکہ شارع نے تو یہاں تک مباح کیا ہے کہ انسان جس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے اسے ایک نظر دیکھ لے تاکہ یہ نکاح بصیرت کی بنیاد پر ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی تعداد کا ذکر کیا ہے جن کے ساتھ نکاح کرنا مباح ہے چنانچہ فرمایا:﴿ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ﴾’’دو دو اور تین تین اور چار چار‘‘ یعنی جو کوئی دو بیویاں رکھنا چاہتا ہے وہ دو بیویاں رکھ لے اگر تین بیویوں سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو تین سے نکاح کر لے اور اگر چار سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو چار سے نکاح کر لے۔ البتہ چار سے زیادہ عورتوں سے نکاح نہ کرے۔ کیونکہ آیت کریمہ کا سیاق اللہ تعالیٰ کے احسان کو بیان کرنے کے لیے ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو عدد مقرر کر دیا ہے بالاتفاق اس سے زیادہ بیویاں جائز نہیں۔ ایک سے زیادہ بیوی کی اجازت کی وجہ یہ ہے کہ بسا اوقات مرد کی شہوت ایک بیوی سے پوری نہیں ہوتی اس لیے یکے بعد دیگرے چار بیویاں جائز ہیں کیونکہ شاذ اور نادر صورت کے سوا، چار بیویاں کافی ہوتی ہیں۔ یہ چار بیویاں بھی مرد کے لیے صرف اس وقت جائز ہیں جب وہ ظلم و جور کرنے سے محفوظ ہو اور اسے یقین ہو کہ وہ چار بیویوں کے حقوق پورے کر سکے گا اور اگر اسے ظلم و زیادتی اور حقوق کی عدم ادائیگی کا خدشہ ہو تو اسے صرف ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنا چاہیے۔ یا اس کے ساتھ لونڈیوں پر اکتفا کرے۔ لونڈیوں میں وظیفہ زن و شو کی مساوی تقسیم واجب نہیں۔﴿ ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘یعنی ایک بیوی یا لونڈیوں پر اکتفا کرنا ﴿ اَدۡنٰۤى اَلَّا تَعُوۡلُوۡا﴾ ’’اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تم ظلم نہ کرو۔‘‘ اس آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر بندے کو کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جہاں اس سے ظلم و جور کے ارتکاب کا خدشہ ہو اور اسے اس بات کا خوف ہو کہ وہ اس معاملے کے حقوق پورے نہیں کر سکے گا۔ خواہ یہ معاملہ مباحات کے زمرے میں کیوں نہ آتا ہو تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اس معاملے میں کوئی تعرض کرے۔ بلکہ وہ اس میں بچاؤ اور عافیت کا التزام کرے۔ کیونکہ عافیت بہترین چیز ہے جو بندے کو عطا کی گئی ہے۔ [4] چونکہ اکثر لوگ اپنی بیویوں پر ظلم کرتے ہیں اور ان کے حقوق غصب کر لیتے ہیں۔ خاص طور پر حق مہر (اکثر) بہت زیادہ ہوتا ہے یہ مہر ایک ہی بار پورے کا پورا ادا کرنا باعث مشقت ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا اور ان کو تاکید کی کہ وہ اپنی بیویوں کو مہر ادا کریں ﴿ صَدُقٰتِهِنَّ ﴾ یعنی ان کے مہر ﴿ نِحۡلَةً ﴾ یعنی ان کا مہر خوش دلی اور اطمینان قلب کے ساتھ ادا کرو۔ مہر ادا کرنے میں ٹال مٹول نہ کرو اور اسے ادا کرتے وقت اس میں کچھ کم نہ کرو۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر عورت مکلف (یعنی بالغ اور عاقل) ہو تو مہر اس کو ادا کر دیا جائے گا اور عقد کے موقع پر عورت مہر کی مالک بن جاتی ہے۔ کیونکہ حق مہر کی اضافت اس کی طرف جاتی ہے اور اضافت تملیک کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ فَاِنۡ طِبۡنَ لَكُمۡ عَنۡ شَيۡءٍ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اگر وہ خود اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ چھوڑ دیں‘‘ یعنی حق مہر سے ﴿ نَفۡسًا﴾ یعنی اگر بیویاں برضا و رغبت مہر کا کچھ حصہ چھوڑ کر یا ادائیگی میں مہلت دے کر یا مہر کا کوئی عوض قبول کر کے شوہروں کے ساتھ نرمی کرتی ہیں ﴿ فَكُلُوۡهُ هَنِيۡٓـــًٔا مَّرِيۡٓــــًٔا ﴾ ’’تو کھاؤ تم اس کو ذوق شوق سے‘‘ یعنی اس صورت میں تمھارے لیے کوئی حرج اور کوئی نقصان نہیں۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ عورت بالغ اور عاقل ہے تو اپنے مال میں تصرف کا پورا اختیار رکھتی ہے۔ خواہ وہ صدقہ ہی کیوں نہ کر دے۔ لیکن اگر بالغ اور عاقل نہیں ہے تو اس کے عطیہ کا حکم معتبر نہیں نیز عورت کا سرپرست اس مہر میں سے کچھ حصہ لینے کا حق دار نہیں سوائے اس کے، کہ عورت برضا و رغبت خود اسے کچھ عطا کر دے۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ مَا طَابَ لَكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ خبیث یعنی ناپاک عورت سے نکاح مامور نہیں، بلکہ خبیث عورتوں سے نکاح کرنا منع ہے مثلاً مشرک اور فاسق و فاجر عورت سے۔۔۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّ ﴾(البقرۃ : 2؍221) ’’مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ اَلزَّانِيۡ لَا يَنۡكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوۡ مُشۡرِكَةً ﴾(النور:24؍3) ’’بدکار عورت کے ساتھ ایک زانی اور مشرک مرد کے سوا کوئی نکاح نہیں کرتا۔‘‘
4:5

وَلَا تُؤۡتُواْ ٱلسُّفَهَآءَ أَمۡوَٰلَكُمُ ٱلَّتِي جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمۡ قِيَٰمٗا وَٱرۡزُقُوهُمۡ فِيهَا وَٱكۡسُوهُمۡ وَقُولُواْ لَهُمۡ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا

اور نہ دو تم بے وقوفوں کو اپنے مال، وہ جن کو بنایا ہے اللہ نے تمھارے لیے گزران کا سبب اور کھلاؤ تم ان کو اس میں سے اور پہناؤ ان کو اور کہو ان سے بات معقول(5) [5]﴿ السُّفَهَآءَؔ ﴾(سَفِیہٌ) کی جمع ہے اور (سفیہ) ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو بے عقل ہونے مثلاً پاگل وغیرہ یا عدم بلوغت جیسے چھوٹا بچہ اور بے سمجھ وغیرہ ہونے کی وجہ سے اپنے مال میں تصرف اور دیکھ بھال کی اہلیت سے محروم ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے ایسے بے عقل لوگوں کے سرپرستوں کو اس ڈر سے ان کا مال ان کے حوالے کرنے سے روک دیا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کو خراب یا تلف کر دیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مال کو اپنے بندوں کے دینی اور دنیاوی مفادات و مصالح کی دیکھ بھال کے لیے بنایا ہے اور یہ بے سمجھ لوگ اس مال کی دیکھ بھال اور اس کی حفاظت سے قاصر ہیں۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے سرپرست کو حکم دیا ہے کہ وہ مال ان بے سمجھ لوگوں کے حوالے نہ کرے بلکہ وہ اس مال میں سے ان کے کھانے پینے اور کپڑے لتے کا انتظام کرے اور جو ان کی دینی اور دنیاوی ضروریات ہیں ان میں خرچ کرے اور ان سے اچھی بات ہی کہے۔ یعنی جب وہ اپنے مال کا مطالبہ کریں تو وہ ان سے وعدہ کرے کہ وہ ان کے بالغ اور عاقل ہو جانے کے بعد ان کا مال ان کو لوٹا دے گا اور ان کی دل جوئی کی خاطر ان سے نرم مقالی سے پیش آئے۔اللہ تعالیٰ کا ان اموال کو سرپرستوں کی طرف مضاف کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان بے سمجھ لوگوں کے مال کا اس طرح انتظام کرنا ان پر فرض ہے جس طرح وہ اپنے مال کا انتظام کرتے ہیں مثلاً مال کی حفاظت، اس میں تصرف اور اس مال کو خطرات سے بچانا وغیرہ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ پاگل، نابالغ اور بے عقل جب مال کے مالک ہوں تو ان پر انھی کے مال میں سے اخراجات کیے جائیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ وَّارۡزُقُوۡهُمۡ فِيۡهَا وَاكۡسُوۡهُمۡ ﴾ ’’اس مال میں سے ان کو کھلاتے پہناتے رہو۔‘‘ نیز اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ کھانے پینے اور لباس وغیرہ کے، ممکن حد تک اخراجات میں سرپرست کا قول اور اس کا دعویٰ قابل قبول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان بے سمجھ لوگوں کے مال پر امین مقرر کیا ہے اور امین کا قول قابل قبول ہے۔
4:6

وَٱبۡتَلُواْ ٱلۡيَتَٰمَىٰ حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغُواْ ٱلنِّكَاحَ فَإِنۡ ءَانَسۡتُم مِّنۡهُمۡ رُشۡدٗا فَٱدۡفَعُوٓاْ إِلَيۡهِمۡ أَمۡوَٰلَهُمۡۖ وَلَا تَأۡكُلُوهَآ إِسۡرَافٗا وَبِدَارًا أَن يَكۡبَرُواْۚ وَمَن كَانَ غَنِيّٗا فَلۡيَسۡتَعۡفِفۡۖ وَمَن كَانَ فَقِيرٗا فَلۡيَأۡكُلۡ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ فَإِذَا دَفَعۡتُمۡ إِلَيۡهِمۡ أَمۡوَٰلَهُمۡ فَأَشۡهِدُواْ عَلَيۡهِمۡۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ حَسِيبٗا

اور جانچ پرکھ کرو تم یتیموں کی یہاں تک کہ جب پہنچ جائیں وہ نکاح (کی عمر) کو، پھر اگر پاؤ تم ان میں سمجھ داری تو سونپ دو طرف ان کی ان کے مال اور نہ کھاؤ تم ان کو حد سے بڑھ کر اور جلدی کرتے ہوئے اس سے کہ وہ (یتیم) بڑے ہو جائیں گےاور جو ہو مال دار تو چاہیے کہ بچے اور جو ہو فقیر تو چاہیے کہ کھا لے وہ موافق دستور کے۔ پس جب سونپو تم ان کو ان کے مال تو گواہ ٹھہرا لو ان پراور کافی ہے اللہ خوب حساب لینے والا(6) [6] یہاں (ابتلا) سے مراد آزمائش و امتحان ہے۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس قریبی یتیم کو جس کے بارے میں توقع ہے کہ وہ اب سمجھ دار ہو گیا ہے، اس کے مال میں سے کچھ مال دے دیا جائے وہ اپنے لائق حال اس میں تصرف کرے اس طرح اس کی سمجھ داری واضح ہو جائے گی۔ اگر وہ اپنے تصرف میں مسلسل ناسمجھی کا ثبوت دے رہا ہو تو مال اس کے حوالے نہ کیا جائے اور اسے ناسمجھ ہی سمجھا جائے، خواہ وہ بہت بڑی عمر کو کیوں نہ پہنچ جائے۔ پھر جب اس کی سمجھ داری اور صلاحیت واضح ہوجائے اور وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے ﴿ فَادۡفَعُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ اَمۡوَالَهُمۡ ﴾ ’’تو ان کا مال (پورے کا پورا) ان کے حوالے کر دو‘‘ ﴿ وَلَا تَاۡكُلُوۡهَاۤ اِسۡرَافًا ﴾ ’’اور اس (مال) کو فضول خرچی سے نہ کھاؤ‘‘ یعنی اس حد سے تجاوز کر کے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے مال میں سے حلال ٹھہرایا ہے ان کے مال میں نہ جاؤ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے حرام ٹھہرایا ہے ﴿ وَّبِدَارًا اَنۡ يَّؔكۡبَرُوۡا ﴾ ’’اور ان کے بڑے ہو جانے کے ڈر سے‘‘ یعنی ان کی صغر سنی میں ان کا مال نہ کھاؤ جس عمر میں وہ تم سے اپنا مال واپس لینے پر قادر نہیں ہیں اور نہ تمھیں مال کھانے سے منع کر سکتے ہیں۔ تم جلدی جلدی مال کھاتے رہو کہ وہ بڑے ہو کر تم سے مال لے لیں گے اور ناحق مال کھانے سے منع کر دیں گے۔یہ امور فی الواقع بہت سے سرپرستوں سے پیش آتے رہتے ہیں جن کے دل اللہ تعالیٰ کے خوف اور زیرسرپرستی بے سمجھ لوگوں کی محبت اور ان پر رحم سے خالی ہوتے ہیں، چنانچہ اس مال کو وہ غنیمت سمجھتے ہیں اور جلدی جلدی وہ مال کھانے کی کوشش کرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حرام ٹھہرایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس حال میں مال کھانے سے روکا ہے۔
4:7

لِّلرِّجَالِ نَصِيبٞ مِّمَّا تَرَكَ ٱلۡوَٰلِدَانِ وَٱلۡأَقۡرَبُونَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٞ مِّمَّا تَرَكَ ٱلۡوَٰلِدَانِ وَٱلۡأَقۡرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنۡهُ أَوۡ كَثُرَۚ نَصِيبٗا مَّفۡرُوضٗا

مردوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت دار اور عورتوں کے لیے بھی حصہ ہے اس سے جو چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت دار، اس (متروکہ) سے کہ تھوڑا ہو یا زیادہ، اس حال میں کہ وہ حصہ ہے مقرر کیا ہوا(7) [7] زمانہ جاہلیت میں عرب، اپنی جابریت اور قساوت قلبی کی وجہ سے کمزوروں یعنی عورتوں اور بچوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے تھے۔ وہ صرف طاقتور مردوں کو میراث دیا کرتے تھے ان کے زعم کے مطابق یہ لوگ جنگ و جدل اور لوٹ مار میں حصہ لینے کے قابل تھے۔ پس حکمت والے رب رحیم نے ارادہ فرمایا کہ اپنے بندوں کے لیے وراثت کا ایسا قانون بنا دے جس میں ان کے مرد اور عورتیں، طاقتور اور کمزور سب مساوی ہوں۔ اللہ تبارک و تعالی نے اس قانون کو بیان کرنے سے پہلے ایک مجمل حکم بیان کیا تاکہ نفوس اس قانون میراث کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ جب نفوس اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو گئے اور وہ وحشت زائل ہو گئی جس کا سبب بری عادات تھیں تو اس اجمال کی تفصیل آ گئی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لِلرِّجَالِ نَصِيۡبٌ ﴾ یعنی مردوں کے لیے حصہ ہے ﴿ مِّؔمَّؔا تَرَكَ الۡوَالِدٰؔنِ ﴾ یعنی ان میں سے جو کچھ ماں اور باپ پیچھے (ترکہ میں) چھوڑ جاتے ہیں ﴿ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ ﴾ ’’اور رشتہ دار‘‘ یعنی خاص کے بعد عام کا ذکر کیا ہے ﴿ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيۡبٌ مِّؔمَّؔا تَرَكَ الۡوَالِدٰؔنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ ﴾ ’’اور عورتوں کے لیے بھی اس ترکے میں سے حصہ ہے جو والدین اور دیگر اقارب چھوڑ کر فوت ہوتے ہیں‘‘ گویا کہ سوال کیا گیا کہ یہ حصہ عرف عام اور عادت کی طرف راجع ہے اور لوگ جو چاہیں ورثاء کو دے دیں؟ یا میراث کے حصے مقرر شدہ ہیں؟ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے، جو علم اور حکمت والا ہے ہر ایک کا حصہ مقرر کر دیا ہے۔ ان مقرر کردہ حصوں کا ان شاء اللہ عنقریب ذکر آئے گا۔یہاں ایک اور وہم کا خدشہ ہے، شاید کوئی سمجھے کہ عورتوں اور بچوں کو صرف مال کثیر کی صورت میں حصہ ملے گا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس وہم کا ازالہ کر دیا ﴿ مِمَّؔا قَلَّ مِنۡهُ اَوۡ كَثُرَ ﴾ ’’خواہ یہ ترکہ تھوڑا ہو یا بہت۔‘‘ نہایت ہی بابرکت ہے اللہ تعالیٰ، جو سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔
4:8

وَإِذَا حَضَرَ ٱلۡقِسۡمَةَ أُوْلُواْ ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينُ فَٱرۡزُقُوهُم مِّنۡهُ وَقُولُواْ لَهُمۡ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا

اور جب حاضر ہوں تقسیم کے وقت رشتے دار اور یتیم اور مساکین تو دو تم ان کو کچھ اس (مقسوم) میں سے اور کہو تم ان سے بات معقول(8) [8] یہ اللہ تعالیٰ کے بہترین اور جلیل ترین احکام میں سے ہے جو ٹوٹے دلوں کو جوڑتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِذَا حَضَرَ الۡقِسۡمَةَ ﴾ یعنی میراث کی تقسیم کے وقت ﴿ اُولُوا الۡقُرۡبٰى ﴾ یعنی وہ رشتہ دار جو میت کے وارث نہیں ہیں اور اس کا قرینہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ الۡقِسۡمَةَ ﴾ ہے کیونکہ ورثاء تو وہ لوگ ہیں جن میں وراثت تقسیم ہو گی ﴿ وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنُ ﴾ ’’یتیم اور مساکین‘‘ یعنی فقراء میں سے مستحق لوگ ﴿ فَارۡزُقُوۡهُمۡ مِّؔنۡهُ ﴾ یعنی اس مال میں سے جو تمھیں بغیر کسی کدو کاوش اور بغیر کسی محنت کے حاصل ہوا۔ ان کو بھی جتنا ہو سکے عطا کردو۔ کیونکہ ان کا نفس بھی اس کا اشتیاق رکھتا ہے اور ان کے دل بھی منتظر ہیں۔ پس تم ان کی دل جوئی کی خاطر اتنا مال ان کو دے دو جس سے تمھیں نقصان نہ ہو اور ان کے لیے فائدہ مند ہو۔اس معنیٰ سے یہ بات اخذ کی جاتی ہے کہ اگر انسان کے سامنے کوئی چیز رکھی جائے اور وہاں کوئی ایسا فرد موجود ہو جو کسی آس میں اس پر نظر رکھتا ہو تو اس شخص کے لیے مناسب ہے کہ جتنا بھی ہو سکے اس کو عطا کر دے۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے سامنے کھانا پیش کرے تو وہ اسے اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو اسے ایک یا دو لقمے عطا کر دے۔‘‘صحابہ کرامy کا طریقہ یہ تھا کہ جب ان کے سامنے موسم کا پہلا پھل آتا تو وہ اسے رسول اللہﷺکی خدمت میں پیش کرتے، آپ اس میں برکت کی دعا فرماتے اور پھر وہاں موجود سب سے چھوٹے بچے کو عطا کر دیتے، یہ جانتے ہوئے کہ یہ ننھا بچہ نہایت شدت سے اس کی خواہش رکھتا ہو گا۔ یہ سب کچھ اس وقت ہے جب عطا کرنا ممکن ہو اگر عطا کرنا ممکن نہ ہو ۔۔۔ مثلاً یہ بے سمجھ لوگوں کا حق ہے یا اس سے بھی اہم کوئی اور وجہ ہو تو ایسی صورت میں ﴿ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ﴾ ان کو اچھی اور غیر قبیح بات کہہ کر بھلے طریقے سے لوٹا دو۔
4:9

وَلۡيَخۡشَ ٱلَّذِينَ لَوۡ تَرَكُواْ مِنۡ خَلۡفِهِمۡ ذُرِّيَّةٗ ضِعَٰفًا خَافُواْ عَلَيۡهِمۡ فَلۡيَتَّقُواْ ٱللَّهَ وَلۡيَقُولُواْ قَوۡلٗا سَدِيدًا

اور چاہیے کہ ڈریں وہ لوگ کہ اگر چھوڑ جائیں وہ اپنے پیچھے اولاد کمزور تو (کیسے) خوف کھاتے ہیں وہ اوپر ان کے۔ پس چاہیے کہ ڈریں وہ اللہ سے اور چاہیے کہ کہیں بات سیدھی(9) بلاشبہ وہ لوگ جو کھاتے ہیں مال یتیموں کے ظلم سے تو بلاشبہ کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ۔ اور عنقریب داخل ہوں گے وہ دہکتی آگ میں(10) [9] کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس شخص کے لیے ہے جو کسی قریب المرگ شخص کے پاس موجود ہو اور مرنے والا اپنی وصیت میں ظلم اور گناہ کا مرتکب ہو رہا ہو۔ تو وہ اس شخص کو اس کی وصیت میں عدل و انصاف اور مساوات کی تلقین کرے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَلۡيَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِيۡدًا ﴾ یعنی ان سے درست بات کہو جو انصاف اور معروف کے موافق ہو۔ وہ ان لوگوں کو، جو اپنی اولاد کے بارے میں وصیت کرنا چاہتے ہیں، ان کی اولاد کے بارے میں ایسی تلقین کریں جو وہ خود اپنے بعد اپنی اولاد کے بارے میں پسند کرتے ہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد بے سمجھ، یعنی پاگل، کم سن اور کمزور لوگوں کے سرپرست ہیں۔ ان کو حکم ہے کہ وہ ان بے سمجھ لوگوں کے دینی اور دنیاوی مفادات کا ایسا انتظام کریں جو وہ اپنے مرنے کے بعد اپنی کمزور اور بے سمجھ اولاد کے بارے میں پسند کرتے ہیں۔ ﴿ فَلۡيَتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ وہ دوسروں کی سرپرستی کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈریں یعنی وہ ان کے ساتھ ایسا معاملہ کریں جو تقویٰ پر مبنی ہو جس میں ان لوگوں کی اہانت نہ ہو جو ان کی سرپرستی میں ہیں، ان کی دیکھ بھال کریں اور ان سے تقویٰ کا التزام کروائیں۔ [10] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یتیموں کے مال کی دیکھ بھال کا حکم دیا تو اب ان کو یتیموں کا مال کھانے پر زجر و توبیخ کی ہے اور اس پر سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَاۡكُلُوۡنَ اَمۡوَالَ الۡيَتٰمٰى ظُلۡمًا ﴾ ’’جو لوگ ناحق یتیموں کا مال کھاتے ہیں۔‘‘ اس ’’ناحق‘‘ کی قید سے وہ نادار سرپرست نکل گئے جن کو معروف طریقے سے بقدر ضرورت ان کے مال میں سے کھانے کی اجازت ہے، اسی طرح وہ بھی اس سے خارج ہو گئے جو آسانی اور اصلاح کی نیت سے اپنا کھانا یتیموں کے کھانے کے ساتھ ملا لیتے ہیں، کیونکہ یہ بھی جائز ہے۔پس جو کوئی ظلم سے یتیموں کا مال کھاتا ہے ﴿ يَاۡكُلُوۡنَ فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ نَارًا ﴾ ’’وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔‘‘ یعنی انھوں نے یتیموں کا جو مال کھایا ہے وہ آگ ہے جو ان کے پیٹ میں بھڑکے گی، یہ آگ خود انھوں نے اپنے پیٹ میں داخل کی ہے ﴿ وَسَيَصۡلَوۡنَ سَعِيۡرًا﴾ یعنی وہ عنقریب جلانے والی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے۔یہ سب سے بڑی وعید ہے جو گناہوں کے بارے میں سنائی گئی ہے جو یتیموں کا مال کھانے کی برائی اور قباحت پر دلالت کرتی ہے نیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یتیموں کا مال کھانا جہنم میں جانے کا موجب ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ وراثت کے احکام اور اصحاب وراثت:یہ آیات اور اس سورت کی آخری آیت وراثت کی آیات ہیں اور وراثت کے احکام پر مشتمل ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباسwسے صحیح بخاری میں مروی ہے ’’میراث کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو جو بچ جائے وہ اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے‘‘ (صحیح البخاری، الفرائض، حديث:6732، وصحیح مسلم، الفرائض، حديث:1615)ان آیات کو اس حدیث سے ملایا جائے تو یہ دونوں وراثت کے بڑے بڑے، بلکہ تمام احکام پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ ابھی تفصیل سے واضح ہو گا، سوائے نانی کی وراثت کے، کیونکہ اس کا ذکر ان میں نہیں ہے، مگر سنن میں حضرت مغیرہ بن شعبہ اور محمد بن مسلمہwسے ثابت ہے کہ رسول اللہﷺنے میت کی نانی کو وراثت کا چھٹا حصہ عطا کیا، اس پر علماء کا بھی اجماع ہے۔وراثت میں میت کی اولاد کا حصہ
4:10

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ أَمۡوَٰلَ ٱلۡيَتَٰمَىٰ ظُلۡمًا إِنَّمَا يَأۡكُلُونَ فِي بُطُونِهِمۡ نَارٗاۖ وَسَيَصۡلَوۡنَ سَعِيرٗا

اور چاہیے کہ ڈریں وہ لوگ کہ اگر چھوڑ جائیں وہ اپنے پیچھے اولاد کمزور تو (کیسے) خوف کھاتے ہیں وہ اوپر ان کے۔ پس چاہیے کہ ڈریں وہ اللہ سے اور چاہیے کہ کہیں بات سیدھی(9) بلاشبہ وہ لوگ جو کھاتے ہیں مال یتیموں کے ظلم سے تو بلاشبہ کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ۔ اور عنقریب داخل ہوں گے وہ دہکتی آگ میں(10) [9] کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس شخص کے لیے ہے جو کسی قریب المرگ شخص کے پاس موجود ہو اور مرنے والا اپنی وصیت میں ظلم اور گناہ کا مرتکب ہو رہا ہو۔ تو وہ اس شخص کو اس کی وصیت میں عدل و انصاف اور مساوات کی تلقین کرے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَلۡيَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِيۡدًا ﴾ یعنی ان سے درست بات کہو جو انصاف اور معروف کے موافق ہو۔ وہ ان لوگوں کو، جو اپنی اولاد کے بارے میں وصیت کرنا چاہتے ہیں، ان کی اولاد کے بارے میں ایسی تلقین کریں جو وہ خود اپنے بعد اپنی اولاد کے بارے میں پسند کرتے ہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد بے سمجھ، یعنی پاگل، کم سن اور کمزور لوگوں کے سرپرست ہیں۔ ان کو حکم ہے کہ وہ ان بے سمجھ لوگوں کے دینی اور دنیاوی مفادات کا ایسا انتظام کریں جو وہ اپنے مرنے کے بعد اپنی کمزور اور بے سمجھ اولاد کے بارے میں پسند کرتے ہیں۔ ﴿ فَلۡيَتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ وہ دوسروں کی سرپرستی کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈریں یعنی وہ ان کے ساتھ ایسا معاملہ کریں جو تقویٰ پر مبنی ہو جس میں ان لوگوں کی اہانت نہ ہو جو ان کی سرپرستی میں ہیں، ان کی دیکھ بھال کریں اور ان سے تقویٰ کا التزام کروائیں۔ [10] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یتیموں کے مال کی دیکھ بھال کا حکم دیا تو اب ان کو یتیموں کا مال کھانے پر زجر و توبیخ کی ہے اور اس پر سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَاۡكُلُوۡنَ اَمۡوَالَ الۡيَتٰمٰى ظُلۡمًا ﴾ ’’جو لوگ ناحق یتیموں کا مال کھاتے ہیں۔‘‘ اس ’’ناحق‘‘ کی قید سے وہ نادار سرپرست نکل گئے جن کو معروف طریقے سے بقدر ضرورت ان کے مال میں سے کھانے کی اجازت ہے، اسی طرح وہ بھی اس سے خارج ہو گئے جو آسانی اور اصلاح کی نیت سے اپنا کھانا یتیموں کے کھانے کے ساتھ ملا لیتے ہیں، کیونکہ یہ بھی جائز ہے۔پس جو کوئی ظلم سے یتیموں کا مال کھاتا ہے ﴿ يَاۡكُلُوۡنَ فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ نَارًا ﴾ ’’وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔‘‘ یعنی انھوں نے یتیموں کا جو مال کھایا ہے وہ آگ ہے جو ان کے پیٹ میں بھڑکے گی، یہ آگ خود انھوں نے اپنے پیٹ میں داخل کی ہے ﴿ وَسَيَصۡلَوۡنَ سَعِيۡرًا﴾ یعنی وہ عنقریب جلانے والی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے۔یہ سب سے بڑی وعید ہے جو گناہوں کے بارے میں سنائی گئی ہے جو یتیموں کا مال کھانے کی برائی اور قباحت پر دلالت کرتی ہے نیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یتیموں کا مال کھانا جہنم میں جانے کا موجب ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ وراثت کے احکام اور اصحاب وراثت:یہ آیات اور اس سورت کی آخری آیت وراثت کی آیات ہیں اور وراثت کے احکام پر مشتمل ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباسwسے صحیح بخاری میں مروی ہے ’’میراث کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو جو بچ جائے وہ اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے‘‘ (صحیح البخاری، الفرائض، حديث:6732، وصحیح مسلم، الفرائض، حديث:1615)ان آیات کو اس حدیث سے ملایا جائے تو یہ دونوں وراثت کے بڑے بڑے، بلکہ تمام احکام پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ ابھی تفصیل سے واضح ہو گا، سوائے نانی کی وراثت کے، کیونکہ اس کا ذکر ان میں نہیں ہے، مگر سنن میں حضرت مغیرہ بن شعبہ اور محمد بن مسلمہwسے ثابت ہے کہ رسول اللہﷺنے میت کی نانی کو وراثت کا چھٹا حصہ عطا کیا، اس پر علماء کا بھی اجماع ہے۔وراثت میں میت کی اولاد کا حصہ
4:11

يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءٗ فَوۡقَ ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۖ وَإِن كَانَتۡ وَٰحِدَةٗ فَلَهَا ٱلنِّصۡفُۚ وَلِأَبَوَيۡهِ لِكُلِّ وَٰحِدٖ مِّنۡهُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُۥ وَلَدٞۚ فَإِن لَّمۡ يَكُن لَّهُۥ وَلَدٞ وَوَرِثَهُۥٓ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ ٱلثُّلُثُۚ فَإِن كَانَ لَهُۥٓ إِخۡوَةٞ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِي بِهَآ أَوۡ دَيۡنٍۗ ءَابَآؤُكُمۡ وَأَبۡنَآؤُكُمۡ لَا تَدۡرُونَ أَيُّهُمۡ أَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعٗاۚ فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمٗا

وصیت کرتا ہے تمھیں اللہ تمھاری اولاد کی بابت، واسطے مرد کے ہے مثل حصے دو عورتوں کے۔ پھر اگر ہوں (صرف) عورتیں (ہی، دو یا) زیادہ دو سے تو ان کے لیے ہے دو تہائی اس میں سے جو چھوڑ گیا وہ اور اگر ہو ایک ہی (لڑکی) تو اس کے لیے ہے آدھااور واسطے اس کے ماں باپ کے، ہر ایک کے لیے ان میں سے چھٹا حصہ ہے اس سے جو وہ چھوڑ گیا، اگر ہے اس کی اولاد۔ پس اگر نہ ہو اس کی اولاد اور وارث ہوں اس کے ماں باپ ہی تو اس کی ماں کے لیے ہے تیسرا حصہ۔ پس اگر ہوں اس کے (ایک سے زیادہ) بھائی (بہن) تو اس کی ماں کا ہے چھٹا حصہ۔ بعد وصیت کے کہ وصیت کر جائے وہ اس کی یا (بعد) قرض کے۔ تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے، نہیں تم جانتے کون ان میں سے زیادہ قریب ہے تمھارے لیے بہ اعتبار نفع کے۔ (یہ) مقرر ہے اللہ کی طرف سے، بلاشبہ اللہ ہے خوب جاننے والا بڑا حکمت والا(11) اور تمھارے لیے آدھا ہے اس کا جو چھوڑ گئیں تمھاری بیویاں اگر نہ ہو ان کی اولاد۔ پس اگر ہو واسطے ان کے اولاد تو تمھارے لیے ہے چوتھا حصہ اس سے جو وہ چھوڑ گئیں، بعد وصیت کے کہ وصیت کر جائیں وہ اس کی یا (بعد) قرض کے۔ اور ان (بیویوں) کے لیے ہے چوتھا حصہ اس سے جو چھوڑ جاؤ تم، اگر نہ ہو تمھاری اولاد، پس اگر ہو تمھاری اولاد تو ان (بیویوں) کے لیے ہے آٹھواں حصہ، اس سے جو چھوڑ جاؤ تم، بعد وصیت کے کہ وصیت کر جاؤ تم اس کی یا (بعد) قرض کے۔ اور اگر ہو وہ مرد کہ وراثت لی جارہی ہے (اس کی) کلالہ یا عورت ہو(ایسی ہی) اور واسطے اس کے ایک بھائی ہے یا ایک بہن تو ہر ایک کے لیے ان دونوں میں سے چھٹا حصہ ہے۔ پس اگر ہوں وہ زیادہ اس سے تو وہ شریک ہوں گے تہائی حصے میں۔ بعد وصیت کے کہ وصیت کر دی جائے اس کی یا (بعد) قرض کے۔ بشرطیکہ نہ نقصان پہنچانے والا ہو وہ، (یہ) وصیت ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ جاننے والا بردبار ہے(12) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يُوۡصِيۡكُمُ اللّٰهُ فِيۡۤ اَوۡلَادِكُمۡ ﴾ ’’اللہ تمھاری اولاد کے بارے میں تمھیں وصیت (حکم) فرماتا ہے۔‘‘ یعنی اے والدین کے گروہ! تمھاری اولاد تمھارے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمھیں وصیت کی ہے تاکہ تم ان کے دینی اور دنیاوی مصالح کی دیکھ بھال کرو۔ تم ان کو تعلیم دو ادب سکھاؤ، انھیں برائیوں سے بچاؤ، انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور تقویٰ کے دائمی التزام کا حکم دو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا وَّقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ ﴾(التحریم:66؍6) ’’اے ایمان دارو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔‘‘پس اولاد کے بارے میں والدین کو وصیت کی گئی ہے۔ اس لیے چاہیں تو وہ اس وصیت پر عمل کریں تب ان کے لیے بہت زیادہ ثواب ہے اور چاہیں تو اس وصیت کو ضائع کر دیں تب وہ سخت وعید اور عذاب کے مستحق ہیں۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ان کے والدین سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے کیونکہ اس نے والدین کو ان کی اولاد کے بارے میں وصیت کی درآں حالیکہ والدین اپنی اولاد کے لیے کمال شفقت کے حامل ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے اولاد کے لیے وراثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾ یعنی اگر اصحاب الفروض نہ ہوں یا اصحاب الفروض کو دینے کے بعد ترکہ بچ جائے تو صلبی اولاد اور بیٹے کی اولاد کے لیے وراثت کا حکم یہ ہے کہ دو لڑکیوں کا حصہ ایک لڑکے کے برابر ہے۔ اس پر تمام اہل علم کا اجماع ہے نیز اگر میت کی صلبی اولاد موجود ہو تو وراثت انھی میں تقسیم ہوگی۔ اگر میت کے بیٹے بیٹیاں ہیں تو پوتے پوتیوں کو وراثت نہیں ملے گی۔ یہ اس صورت میں ہے جبکہ میت کے بیٹے اور بیٹیاں دونوں موجود ہیں، یہاں دو صورتیں ہیں۔ پہلی صورت کہ صرف بیٹے ہوں، اس کا ذکر آگے آئے گا۔ دوسری صورت کہ صرف بیٹیاں ہوں، اس کا ذکر ذیل میں ہے۔بیٹیوں کے لیے وراثت کے احکام:اگر صرف بیٹیاں وارث ہوں تو ان کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ كُنَّ نِسَآءًؔ فَوۡقَ اثۡنَتَيۡنِ ﴾ یعنی اگر صلبی بیٹیوں یا پوتیوں کی تعداد تین یا تین سے زیادہ ہے ﴿ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ﴾ ’’تو ان سب کے لیے دو تہائی ترکہ ہے۔‘‘ ﴿ فَلَهَا النِّصۡفُ ﴾ ’’اگر ایک بیٹی یا پوتی ہے تو اس کے لیے نصف ترکہ ہے‘‘ اور اس پر علماء کا اجماع ہے۔باقی رہی یہ بات کہ اس پر اجماع کے بعد یہ اصول کہاں سے مستفاد ہوا کہ دو بیٹیوں کے لیے ترکہ میں سے دو تہائی حصہ ہے؟۔۔۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اصول اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنۡ كَانَتۡ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصۡفُ ﴾ سے ماخوذ ہے، کیونکہ اس کا مفہوم مخالف یہ ہے اگر بیٹی ایک سے زائد ہو تو وراثت کا حصہ بھی نصف سے منتقل ہو کر آگے بڑھے گا اور نصف کے بعد دو تہائی حصہ ہی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾ جب میت نے ایک بیٹا اور ایک بیٹی چھوڑی ہو تو ترکہ میں سے بیٹے کے لیے دو تہائی حصہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کا یہ حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دو بیٹیوں کے لیے دو تہائی حصہ ہے۔ نیز اگر بیٹی اپنے بھائی کی معیت میں وراثت میں سے ایک تہائی حصہ لیتی ہے درآں حالیکہ بھائی بہن کی نسبت وراثت میں اس کے لیے زیادہ نقصان کا باعث ہے تو بہن کی معیت میں بیٹی کا وراثت سے حصہ لینا زیادہ اولیٰ ہے۔نیز بہنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ كَانَتَا اثۡنَتَيۡنِ فَلَهُمَا الثُّلُـثٰنِ مِمَّؔا تَرَكَ ﴾(النساء:4؍176) ’’اگر دو بہنیں ہوں تو ان دونوں کے لیے ترکے میں سے دو تہائی حصہ ہے۔‘‘ دو بہنوں کے لیے دو تہائی ترکہ کے بارے میں یہ واضح نص ہے۔ جب دو بہنیں میت سے رشتہ میں بعد کے باوجود اس کے ترکہ میں سے دو تہائی حصہ لیتی ہیں تو دو بیٹیاں میت سے رشتہ میں قرب کی بنا پر دو تہائی ترکہ لینے کی زیادہ مستحق ہیں۔ نیز صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺنے سعدtکی دو بیٹیوں کو دو تہائی ترکہ عطا کیا۔باقی رہا یہ اعتراض کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَوۡقَ اثۡنَتَيۡنِ ﴾ ’’اگر بیٹیاں دو سے زیادہ ہوں‘‘ کا کیا فائدہ؟ کہا جاتا ہے کہ اس کا فائدہ یہ ہے۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔ کہ یہ معلوم ہو جائے کہ زیادہ سے زیادہ حصہ دو تہائی ہی ہے۔ وارث بیٹیوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ وراثت کا حصہ دو تہائی سے زیادہ نہیں ہو گا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب میت کی صلب میں سے ایک بیٹی ہو اور ایک یا ایک سے زائد پوتیاں ہوں تو بیٹی کے لیے نصف ترکہ ہے اور اس دو تہائی میں سے جو اللہ تعالیٰ نے ایک سے زائد بیٹیوں یا پوتیوں کے لیے مقرر کیا ہے، چھٹا حصہ باقی بچ جاتا ہے تو یہ چھٹا حصہ پوتی یا پوتیوں کو دیا جائے گا۔ اسی وجہ سے اس چھٹے حصے کو ’’دو تہائی کا تکملہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اور اس کی مثال پوتی کی معیت میں وہ پوتیاں ہیں جو اس سے زیادہ نیچے ہیں۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر بیٹیاں یا پوتیاں پورے کا پورا دو تہائی حصہ لے لیں تو وہ پوتیاں جو زیادہ نیچے ہیں ان کا حصہ ساقط ہو جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے صرف دو تہائی کا حصہ مقرر کیا ہے جو کہ پورا ہو چکا ہے۔ اگر ان کا حصہ ساقط نہ ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ ان کے لیے دو تہائی سے زیادہ حصہ مقرر ہو اور یہ بات نص کے خلاف ہے اور ان تمام احکام پر علماء کا اجماع ہے۔ وللہ الحمد.اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ مِمَّؔا تَرَكَ ﴾ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ میت ترکہ میں جو کچھ بھی چھوڑتی ہے خواہ وہ زمین کی صورت میں جائیداد ہو، گھر کا اثاثہ یا سونا چاندی وغیرہ ہو حتیٰ کہ دیت بھی جو اس کے مرنے کے بعد ہی واجب ہوتی ہے اور وہ قرضے جو میت کے ذمہ واجب الادا ہیں۔ ورثاء ان سب چیزوں کے وارث ہوں گے۔ماں باپ کے لیے وراثت کے احکام:پھر اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کے لیے وراثت کے احکام بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَلِاَبَوَيۡهِ ﴾ اس سے مراد ماں اور باپ دونوں ہیں ﴿ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡهُمَا السُّدُسُ مِمَّؔا تَرَكَ اِنۡ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ ﴾ یعنی اگر میت کا ایک یا ایک سے زائد صلبی بیٹا یا بیٹی، پوتا یا پوتی موجود ہوں۔ تو پس ماں اولاد (بیٹے یا پوتے)کی معیت میں چھٹے حصے سے زیادہ نہیں لے گی۔باپ کے لیے وراثت کے احکام:اگر میت کی نرینہ اولاد موجود ہے تو ان کی معیت میں باپ چھٹے حصے سے زیادہ نہیں لے گا۔ اگر اولاد بیٹی یا بیٹیاں ہیں اور مقررہ حصے ادا کرنے کے بعد کچھ نہ بچے، جیسے ماں باپ اور دو بیٹیاں ہوں، تو باپ کا استحقاق عصبہ باقی نہیں رہے گا۔اور اگر بیٹی یا بیٹیوں کے حصے کے بعد کچھ بچ جائے تو باپ چھٹا حصہ مقررہ حصے کے طور پر اور باقی مال عصبہ ہونے کے اعتبار سے لے گا۔ اس لیے کہ اصحاب الفروض کو ان کے حصے دینے کے بعد جو بچ جائے تو اس کا وہ مرد زیادہ مستحق ہوتا ہے جو میت کے زیادہ قریب ہو، اس لیے اس صورت میں باپ بھائی اور چچا وغیرہ سے زیادہ قریب ہے۔﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهٗ وَلَدٌ وَّوَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ ﴾ ’’اور اگر اولاد نہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے‘‘ یعنی باقی ترکہ باپ کے لیے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مال کی اضافت بیک وقت ماں اور باپ کی طرف کی ہے پھر ماں کا حصہ مقرر کر دیا، تو یہ بات اس امر کی دلیل ہے کہ باقی مال باپ کے لیے ہے۔اس سے یہ بات بھی معلوم ہو گئی کہ میت کی اولاد کی عدم موجودگی میں میت کا باپ اصحاب فروض میں شمار نہیں ہوتا بلکہ وہ عصبہ کی حیثیت سے تمام مال یا مقرر کردہ حصوں (فروض) سے بچے ہوئے باقی مال کا حق دار ہو گا۔اگر ماں باپ کی موجودگی میں میت کا خاوند یا بیوی بھی موجود ہو۔ جن کو (عمریتین) سے تعبیر کیا جاتا ہے… تو خاوند یا بیوی اپنا حصہ لیں گے، ماں باقی میں سے ایک تہائی لے گی اور جو بچ رہے گا اس کا مالک میت کا باپ ہو گا۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَّوَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ ﴾یعنی جس مال کے وارث ماں باپ ہوں اس کا ایک تہائی حصہ ماں کے لیے ہے اور وہ ان دو صورتوں میں یعنی میت کے خاوند، ماں اور باپ کے وارث ہونے کی صورت میں چھٹا حصہ، اور میت کی بیوی، ماں اور باپ کے وارث ہونے کی صورت میں چوتھا حصہ ہے۔ پس یہ آیت اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ میت کی ماں، میت کی اولاد کی عدم موجودگی میں تمام مال کی ایک تہائی کی وارث ہے۔ جب تک یہ نہ کہا جائے کہ یہ مذکورہ دو صورتیں مستثنیٰ ہیں۔ اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ خاوند یا بیوی جو حصہ لیتی ہے، وہ اس حصے کی طرح ہے جو قرض خواہ لیتے ہیں، اس لیے وہ سارے مال سے ہو گا اور باقی مال کے وارث ماں باپ ہوں گے۔ کیونکہ اگر ہم کل مال کا تیسرا حصہ ماں کو عطا کر دیں تو اس سے میت کے خاوند کی معیت میں ماں کا حصہ باپ کے حصے سے بڑھ جائے گا یا میت کی بیوی کی معیت میں باپ کا حصہ ماں کی نسبت چھٹے حصے کے نصف سے زیادہ ہو جائے گا جس کی کوئی نظیر نہیں، کیونکہ اصول یہ ہے کہ ماں، باپ کے مساوی حصہ لے گی یا باپ اس سے دگنا لے گا جو ماں کے حصہ میں آتا ہے۔﴿ فَاِنۡ كَانَ لَهٗۤ اِخۡوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ ﴾ ’’اگر مرنے والے کے بھائی ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے‘‘ یعنی حقیقی بھائی ہوں یا باپ کی طرف سے (علاتی بھائی) ہوں یا ماں کی طرف سے (اخیافی بھائی) ہوں خواہ وہ مرد ہو یا عورتیں۔۔۔ وارث بنتے ہوں یا وہ باپ یا دادا کی موجودگی میں محجوب ہوں۔مگر کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَهٗۤ اِخۡوَةٌ ﴾ کا ظاہر غیر ورثاء کو شامل نہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ محجوب کو نصف حصہ نہیں پہنچتا۔۔۔ تب اس صورت میں میت کے وارث بننے والے بھائیوں کے سوا ماں کو ایک تہائی حصہ سے کوئی بھائی محجوب نہیں کر سکتا۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ میت کے بھائیوں کی ماں کو ایک تہائی حصے سے محجوب کر دینے میں حکمت یہ ہے کہ کہیں ان کے لیے مال میں کچھ بڑھ نہ جائے حالانکہ وہ معدوم ہے۔ مگر یہاں ایک شرط عائد کی گئی ہے کہ بھائی دو یا دو سے زائد ہوں۔ البتہ اس میں اشکال یہ ہے کہ یہاں ﴿ اِخۡوَةٌ ﴾ جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں جمع مقصود نہیں بلکہ مجرد تعدد (متعدد ہونا) مقصود ہے۔ اور یہ تعدد دو کے عدد پر بھی صادق آتا ہے۔ کبھی جمع کا صیغہ تو بول لیا جاتا ہے، مگر اس سے مراد دو ہوتے ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور سلیمانiکے بارے میں فرمایا:﴿ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَ﴾(الانبیاء:21؍78) ’’اور ہم ان کے فیصلے کو دیکھ رہے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اخیافی بھائیوں کے بارے میں فرمایا ﴿ وَاِنۡ كَانَ رَجُلٌ يُّوۡرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امۡرَاَةٌ وَّلَهٗۤ اَخٌ اَوۡ اُخۡتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّؔنۡهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنۡ كَانُوۡۤا اَ كۡثَرَ مِنۡ ذٰلِكَ فَهُمۡ شُرَؔكَآءُ فِي الثُّلُثِ ﴾(النساء:4؍12) ’’اگر ایسے مرد یا عورت کی وراثت ہو جو کلالہ ہو یعنی جس کی اولاد ہو نہ باپ، مگر اس کے بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے۔‘‘ پس یہاں بھی جمع کے لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے مگر بالاجماع اس سے مراد دو اور دو سے زائد افراد ہیں۔اس صورت میں اگر میت اپنے پیچھے ماں، باپ اور کچھ بھائی وارث چھوڑتا ہے تو ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے اور باقی ترکے کا وارث باپ ہے پس انھوں نے ماں کو ایک تہائی حصے سے محجوب کر دیا اور اس کے ساتھ ساتھ باپ نے ان کو بھی محجوب کر دیا۔ البتہ اس میں ایک دوسرا احتمال موجود ہے، جس کی رو سے ماں کے لیے ایک تہائی اور باقی ترکہ باپ کے لیے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصِيۡ بِهَاۤ اَوۡ دَيۡنٍ ﴾ یعنی میت کے ذمے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے قرض کی ادائیگی اور وصیت کے نفاذ کے بعد جو کچھ باقی بچتا ہے وہ میت کا ترکہ ہے جس کے مستحق ورثاء ہیں اور یہ وراثت قرض کی ادائیگی اور وصیت کے نفاذ کے بعد فروض اور ورثاء کے حصوں میں تقسیم ہو گی اور آیت میں وصیت کو مقدم رکھا گیا ہے، باوجود اس بات کے کہ اس کا نفاذ قرض کی ادائیگی کے بعد ہو گا، اس کی وجہ وصیت کی اہمیت کو واضح کرنا ہے (تاکہ ورثاء اس کو نظرانداز نہ کریں) علاوہ ازیں وصیت کا نفاذ ورثاء پر شاق گزرتا ہے (اور وہ اس پر عمل کرنے سے بالعموم گریز کرتے ہیں) وگرنہ قرض کی ادائیگی، وصیت پر مقدم ہے اور وصیت اصل مال میں سے ہو گی۔ جہاں تک وصیت کا معاملہ ہے تو وہ صرف ایک تہائی مال یا اس سے کم میں، نیز صرف غیروارث اجنبیوں کے لیے جائز ہے اس کے علاوہ اگر وصیت کی گئی ہے تو وہ نافذ نہیں ہو گی البتہ اگر ورثاء اجازت دے دیں تو نافذ ہو سکتی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اٰبَآؤُكُمۡ وَاَبۡنَآؤُكُمۡ لَا تَدۡرُوۡنَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعًا ﴾’’تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے، تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون نفع کے اعتبار سے تمھارے زیادہ قریب ہے‘‘ یعنی اگر وراثت کے حصے تمھاری عقل اور تمھارے اختیار کے مطابق بنائے جاتے تو اس قدر نقصان پہنچتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کیونکہ عقل ناقص ہے اور ہر زمان و مکان کے مطابق جو چیز زیادہ اچھی اور زیادہ لائق ہے اس کی معرفت حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ پس انسان نہیں جانتا کہ اس کی اولاد یا والدین میں سے دینی اور دنیاوی مقاصد کے حصول میں کون اس کے لیے زیادہ فائدہ مند اور اس کے زیادہ قریب ہے۔﴿ فَرِيۡضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا ہے بے شک اللہ پورے علم اور کامل حکمتوں والا ہے‘‘ یعنی وراثت کے ان حصوں کو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اس نے جو شریعت بنائی ہے اسے محکم کیا ہے اور اس نے جو چیز مقدر کی ہے اسے بہترین اندازے کے ساتھ مقدر کیا ہے۔ عقل ان جیسے احکام وضع کرنے سے قاصر ہے جو ہر حال اور ہر زمان و مکان کے موافق اور نفاذ کی صلاحیت رکھتے ہوں۔شوہر اور بیویوں کے لیے وراثت کے احکام: [12] پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَكُمۡ ﴾ یعنی اے شوہرو! ﴿ نِصۡفُ مَا تَرَكَ اَزۡوَاجُكُمۡ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنۡ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّؔا تَرَؔكۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصِيۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَيۡنٍ١ؕ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّؔا تَرَؔكۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ يَؔكُنۡ لَّـكُمۡ وَلَدٌ١ۚ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّؔا تَرَؔكۡتُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ تُوۡصُوۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَيۡنٍ ﴾ ’’اور جو کچھ تمھاری بیویاں (ترکے میں) چھوڑ جائیں اس میں سے نصف کے تم حق دار ہو بشرطیکہ ان سے اولاد نہ ہو۔ اگر ان کے اولاد ہے تو تمھیں جو کچھ وہ چھوڑ جائیں اس کا چوتھائی ملے گا (یہ تقسیم) مرنے والی کی وصیت کی تعمیل اور اس کے قرضے کی (ادائیگی) کے بعد (عمل میں لائی جائے) اور ان کے لیے جو کچھ تم چھوڑ جاؤ اس کا چوتھائی حصہ ہے بشرطیکہ تمھاری اولاد نہ ہو اور اگر تمھاری اولاد ہو تو ان کے لیے تمھارے ترکے کا آٹھواں حصہ ہوگا (یہ تقسیم) تمھاری وصیت کی تکمیل یا قرضے (کی ادائیگی) کے بعد (عمل میں لائی جائے)‘‘ اولاد کے مسمیٰ کے زمرے میں جس کے وجود اور عدم وجود کو میاں بیوی کی وراثت میں شرط بنایا گیا ہے، صلبی اولاد یا بیٹے کی اولاد لڑکے یا لڑکیاں خواہ ایک ہو یا متعدد جو اس شوہر یا بیوی سے ہوں یا کسی اور سے، شمار ہوتی ہیں اس میں بیٹیوں کی اولاد شامل نہیں اور اس پر اجماع ہے۔(کلالہ)کا معنی اور اس کے احکام:﴿ وَاِنۡ كَانَ رَجُلٌ يُّوۡرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امۡرَاَةٌ وَّلَهٗۤ اَخٌ اَوۡ اُخۡتٌ ﴾ ’’اور اگر کوئی مرد یا عورت ہو (جو ترکہ چھوڑ جائے) اور اس کا نہ باپ ہو نہ بیٹا اور بھائی یا بہن ہو‘‘ اس سے مراد اخیافی (ماں شریک)بہن بھائی ہیں جیسا کہ بعض قراء ت میں بھی وارد ہے۔ اور فقہاء کا اجماع ہے کہ یہاں بہن بھائی سے مراد اخیافی بہن بھائی ہیں۔ اگر میت کلالہ ہے۔ یعنی میت کا باپ ہے نہ بیٹا، یعنی باپ ہے نہ دادا، بیٹا ہے نہ پوتا، بیٹی ہے نہ پوتی۔۔۔۔ خواہ نیچے تک چلے جائیں۔۔۔۔ ایسی میت کو کلالہ کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقtنے اس کی تفسیر بیان کی ہے اور اسی مفہوم پر اجماع واقع ہو گیا۔ وَلِلہِ الْحَمْدُ!﴿ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّؔنۡهُمَا ﴾ یعنی بھائی اور بہن دونوں میں سے ہر ایک کے لیے ﴿ السُّدُسُ ﴾ چھٹا حصہ ہے ﴿ فَاِنۡ كَانُوۡۤا اَكۡثَرَ مِنۡ ذٰلِكَ ﴾ یعنی اگر وہ ایک سے زائد ہوں ﴿ فَهُمۡ شُرَؔكَآءُ فِي الثُّلُثِ ﴾ یعنی ایک تہائی میں سب شریک ہیں اور ایک تہائی سے زیادہ نہیں ملے گا خواہ ان کی تعداد دو سے بڑھ جائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَهُمۡ شُرَؔكَآءُ فِي الثُّلُثِ ﴾ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اس میں مرد اور عورتیں سب برابر ہیں کیونکہ لفظ ’’شریک‘‘ مساوات کا تقاضا کرتا ہے۔ (یعنی اس صورت میں مرد کو عورت سے دگنا حصہ نہیں، بلکہ برابر کا حصہ ملے گا)لفظ ’’کلالہ‘‘ دلالت کرتا ہے کہ فروع نیچے تک اور اصول مرد اوپر تک خواہ کتنی ہی دور کیوں نہ جائیں، وہ ماں کی اولاد کو ساقط کر دیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اخیافی بہن بھائیوں کو صرف کلالہ کی صورت میں وارث بنایا ہے اور اگر وہ کلالہ کی صورت میں وارث نہیں بنتے تو وہ کسی اور صورت میں میت کے وارث نہیں بن سکتے۔ اس پر اہل علم کا اتفاق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَهُمۡ شُرَؔكَآءُ فِي الثُّلُثِ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ ’’مسئلہ حماریہ‘‘ کے مطابق حقیقی بھائی ساقط ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ یعنی اگر میت کا شوہر، ماں اور حقیقی بھائی بھی ہوں تو شوہر کے لیے نصف ترکہ، ماں کے لیے چھٹا حصہ اور اخیافی بھائیوں کے لیے ایک تہائی حصہ ہے اور حقیقی بھائی ساقط ہو جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک تہائی ترکہ کو اخیافی بھائیوں کی طرف مضاف کیا ہے اگر اس ترکہ میں حقیقی بھائیوں کو شریک کر لیا جائے تو یہ اس چیز کو جمع کرنا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے تفریق کی ہے۔ نیز اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اخیافی بھائی اصحاب فروض ہیں اور حقیقی بھائی عصبہ ہیں۔ چنانچہ رسول اللہﷺنے فرمایا ’’میراث کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو جو بچ جائے وہ اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے۔‘‘(صحیح البخاری، الفرائض، حديث:6732، وصحیح مسلم، الفرائض، حديث:1615) اور اصحاب فروض وہ لوگ ہیں جن کا حصہ اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دیا ہے۔زیر بحث کلالہ کے مسئلہ میں اصحاب فروض کو دینے کے بعد کچھ باقی نہیں بچتا اس لیے حقیقی بھائی ساقط ہو جائیں گے اور یہی صحیح موقف ہے۔ رہی حقیقی بھائیوں اور بہنوں کی وراثت یا باپ کی طرف سے بھائیوں اور بہنوں کی وراثت، تو یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ يَسۡتَفۡتُوۡنَكَ۠١ؕ قُلِ اللّٰهُ يُفۡتِيۡكُمۡ فِي الۡكَلٰلَةِ ﴾(النساء:4؍176) میں مذکور ہے۔ پس ایک حقیقی یا باپ کی طرف سے بہن کے لیے نصف ترکہ ہے۔ اگر دو ہوں تو ان کے لیے دو تہائی ترکہ ہے۔اگر کلالہ کی ایک حقیقی بہن، ایک یا زائد باپ کی طرف سے بہنیں ہوں تو ترکہ کا نصف حصہ حقیقی بہن کو ملے گا اور دو تہائی میں سے باقی جو کہ چھٹا حصہ بنتا ہے دو تہائی کی تکمیل کے لیے باپ کی طرف سے بہن یا بہنوں کو ملے گا۔ اگر حقیقی بہنیں دو تہائی حصہ لے لیں تو باپ کی طرف سے بہنیں ساقط ہو جائیں گی جیسا کہ بیٹیوں اور پوتیوں کے بارے میں گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ اگر بھائی اور بہنیں وارث ہوں تو ایک بھائی کو دو بہنوں کے مساوی حصہ ملے گا۔قاتل اور مختلف دین رکھنے والے کے لیے وراثت:اگر یہ کہا جائے کہ آیا قرآن کریم سے قاتل، غلام، غیر مسلم، جزوی غلام، مخنث، باپ کی طرف سے بھائیوں کی معیت میں دادا، عول، رد، ذوالارحام، بقیہ عصبہ، بیٹیوں کی معیت میں باپ شریک بہنوں یا پوتیوں کی وراثت مستفاد ہوتی ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں اس بارے میں بعض دقیق اشارے اور تنبیہات موجود ہیں، گہرے غور و فکر کے بغیر ان اشارات کو سمجھنا مشکل ہے۔رہا قاتل اور مخالف دین یعنی غیر مسلم، تو یہ بات معروف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مال کو ورثاء میں ان کے میت سے قرب اور دینی اور دنیاوی فوائد کے اعتبار سے تقسیم کرنے کی جو حکمت بیان کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ وارث نہیں بن سکتے… اللہ تعالیٰ نے اپنی اس حکمت بالغہ کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے ﴿ لَا تَدۡرُوۡنَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعًا ﴾(النساء : 4؍11) ’’تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون نفع کے اعتبار سے تمھارے زیادہ قریب ہے۔‘‘یہ بات معلوم اور واضح ہے کہ قاتل نے اپنے مورث کو سب سے بڑا نقصان پہنچایا ہے لہٰذا وہ امر جو اس کے لیے وراثت کا موجب ہے، قتل کے ضرر کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ قتل اس نفع کی ضد ہے جس پر وراثت مرتب ہوتی ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ قتل سب سے بڑا مانع ہے جو میراث کے حصول سے روکتا ہے اور قطع رحمی کا باعث بنتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾(الانفال:8؍75) ’’اور رشتہ دار اللہ کے حکم کے مطابق ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔‘‘ نیز ایک شرعی قاعدہ مشہور ہے کہ ’’جو کوئی وقت سے پہلے کوئی چیز حاصل کرنے میں جلدی کرتا ہے اسے اس چیز سے محرومی کی سزا دی جاتی ہے۔‘‘مندرجہ بالا توضیح سے واضح ہوتا ہے کہ اگر وارث، مورث کے دین سے مختلف دین رکھتا ہے تو وہ وراثت سے محروم ہے۔ وراثت کا موجب، جو کہ نسب کا اتصال ہے اور وراثت کا مانع جو کہ اختلاف دین ہے اور اختلاف دین ہر لحاظ سے وارث کو مورث سے علیحدہ کر دیتا ہے۔ پس موجب اور مانع میں تعارض ہے۔ مانع زیادہ قوی ہے اور موجب وراثت کو روک دیتا ہے۔ بنا بریں مانع کے ہوتے ہوئے موجب پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ اس اصول کی وضاحت اس امر سے ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے حقوق کو کفار رشتہ داروں کے حقوق پر اولیت دی ہے۔ اس لیے جب مسلمان وفات پا جاتا ہے تو اس کا مال اس شخص کی طرف منتقل ہو گا جو اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ﴿ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾ تو اسی صورت میں صادق آئے گا جب وارث اور مورث کا دین ایک ہو۔وارث اور مورث کے دین میں تباین اور اختلاف کی صورت میں دینی اخوت مجرد نسبی اخوت پر مقدم ہے۔ علامہ ابن القیمa جلاء الافھام میں رقمطراز ہیں ’’اس لفظ کے معنیٰ پر مواریث کی آیت میں غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان توارث کو ’’عورت‘‘ کی بجائے ’’زوجہ‘‘ کے لفظ کے ساتھ معلق کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آیا ہے ﴿ وَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ اَزۡوَاجُكُمۡ ﴾ اس میں اس بات کی تعلیم ہے کہ یہ توارث اس زوجیت کی بنا پر واقع ہوا ہے جو کامل مشابہت اور تناسب کا تقاضا کرتی ہے۔ مومن اور کافر کے مابین کوئی مشابہت اور کوئی تناسب نہیں ہوتا اس لیے ان کے مابین توارث واقع نہیں ہو سکتا قرآن کریم کے مفردات اور مرکبات کے اسرار نہاں اس سے بہت بلند ہیں کہ عقل مندوں کی عقل اس کا احاطہ کر سکے۔۔۔‘‘غلاموں کے لیے وراثت کے احکام:جہاں تک غلام کا معاملہ ہے تو نہ وہ خودکسی کا وارث بن سکتا ہے اور نہ کوئی اس کا وارث بن سکتا ہے۔۔۔ رہا یہ معاملہ کہ کوئی اس کا وارث نہیں بن سکتا تو یہ بالکل واضح ہے کیونکہ اس کا کوئی مال ہی نہیں جس کا کوئی وارث ٹھہرے، بلکہ اس کے برعکس اس کا تمام مال اس کے آقا کی ملکیت ہے رہی یہ بات کہ وہ وارث بھی نہیں ہو سکتا، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا، اگر اس کے ہاتھ میں کوئی چیز آتی بھی ہے تو وہ اس کے مالک کی ملکیت ہوتی ہے۔ پس وہ میت کے لیے اجنبی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے اس قسم کے ارشادات:﴿ وَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ اَزۡوَاجُكُمۡ ﴾ ، ﴿ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾اور ﴿لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡهُمَا السُّدُسُ ﴾ وغیرہ اس کے لیے ہے جو ملکیت کا اثبات کر سکتا ہو اور غلام کے لیے چونکہ ملکیت کا اثبات ممکن نہیں، اس لیے معلوم ہوا کہ وہ میراث کا حق دار نہیں۔رہا وہ شخص جو جزوی طور پر آزاد اور جزوی طور پر غلام ہو تو اس کے احکام میں بھی تبعیض ہوگی۔ پس اس میں جو آزادی کا حصہ ہے، اس کی وجہ سے اللہ نے وراثت کا جو حق مترتب کیا ہے، اس کا وہ مستحق ہو گا، کیونکہ آزادی کی وجہ سے وہ مالک بننے کے قابل ہے اور اس میں جو غلامی کا حصہ ہے، اس کی وجہ سے وہ اس کے قابل نہیں۔ تب اس صورت میں یہ جزوی طور پر آزاد ہے۔ وراثت میں حصہ لے گا اور خود اس کی میراث بھی اس کے ورثاء میں تقسیم ہوگی اور اپنی آزادی کی مقدار کے مطابق دوسروں کو وراثت سے محجوب کرے گا اور جب غلام، قابل تعریف اور قابل مذمت، ثواب کا حق دار اور عذاب کا حق دار، ان موجبات کی مقدار کے مطابق ہو سکتا ہے جو اسے ان امور کا مستحق بناتی ہیں تو یہ معاملہ بھی اسی طرح ہے۔مخنث کے لیے وراثت کے احکام:مخنث کا معاملہ تین امور سے خالی نہیں ہوتا:مخنث کی ذکوریت واضح ہوتی ہے (یعنی اس میں مرد کی علامتیں پائی جاتی ہیں) یا اس کی انوثیت واضح ہوتی ہے۔ (اس میں عورت کی علامتیں غالب ہوتی ہیں) یا اس کا مذکر ہونا یا مونث ہونا واضح نہیں ہوتا تب اس کو ’’مشکل‘‘ کہتے ہیں۔اگر مخنث کا معاملہ واضح ہے تو اس کی وراثت کا مسئلہ بھی واضح ہے۔ چنانچہ اگر اس میں مرد کی علامتیں غالب ہیں تو اس پر اس نص کا اطلاق ہو گا جو مردوں کے بارے میں وارد ہوئی ہے اور اگر اس میں عورت کی علامتیں غالب ہیں تو اس پر عورتوں کے احکام کا اطلاق ہو گا۔ اگر وہ مشکل ہے تو اگر وہ مرد اور عورت ہیں جن کا حصہ وراثت مختلف نہیں۔ (بلکہ یکساں ہے) جیسے اخیافی بہن بھائیوں کا معاملہ ہے تو اس میں معاملہ بالکل واضح ہے۔اور اگر اس کو مرد مقدر کرتے ہوئے یا عورت مقدر کرتے ہوئے اس کا حصہ وراثت مختلف ہو اور ہمارے پاس اس کے بارے میں تیقن کا کوئی ذریعہ نہ ہو۔ تو ہم اسے وہ حصہ نہ دیں گے جو دونوں صورتوں میں سب سے زیادہ بنتا ہے کیونکہ اس میں ان لوگوں پر ظلم کا احتمال ہے جو اس کی معیت میں وراثت کے حق دار ہیں اور نہ ہم اسے کم ترین حصہ دیں گے کیونکہ اس صورت میں خود اس پر ظلم کا احتمال ہے۔ پس ان کے درمیان اعتدال کی راہ اختیار کرنا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اِعۡدِلُوۡا١۫ هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى ﴾(المائدہ : 5؍8) ’’عدل کیا کرو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔‘‘اس قسم کی صورتحال میں ہمارے پاس اس سے زیادہ کوئی عدل کا راستہ نہیں جس کا گزشتہ سطور میں ہم ذکر کر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴾(البقرۃ : 2؍286) ’’اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت کے مطابق۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ ﴾(التغابن:64؍16) ’’پس جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرو۔‘‘دادا کے لیے وراثت کے احکامرہا حقیقی بھائیوں یا باپ شریک (علاتی) بھائیوں کی موجودگی میں میت کے دادا کے لیے وراثت کا مسئلہ کہ آیا مذکورہ بھائی دادا کی معیت میں وراثت میں سے حصہ لیں گے یا نہیں ۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب حضرت ابوبکر صدیقtکے اس فتویٰ کی تائید کرتی ہے کہ دادا بھائیوں کو محجوب کر دے گا، چاہے وہ حقیقی بھائی ہوں یا علاتی (باپ شریک) یا اخیافی (ماں شریک) ہوں۔ جیسے باپ ان سب کو محجوب کر دیتا ہے۔اس کی توضیح یہ ہے کہ قرآن مجید میں ایک سے زائد مقامات پر دادا کو باپ کہا گیا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوۡبَ الۡمَوۡتُ١ۙ اِذۡ قَالَ لِبَنِيۡهِ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ١ؕ قَالُوۡا نَعۡبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبـَآىِٕكَ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰؔقَ ﴾(البقرۃ:2؍133) ’’جب یعقوب وفات پانے لگے تو انھوں نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انھوں نے جواب دیا تیرے معبود اور تیرے آباء ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفuکا قول نقل فرمایا:﴿ وَاتَّبَعۡتُ مِلَّةَ اٰبَآءِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾(یوسف:12؍38) ’’میں نے اپنے آباء ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کی ملت کی پیروی کی ہے۔‘‘پس اللہ تعالیٰ نے دادا اور باپ کے دادا کو ’’باپ‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ دادا باپ کے مقام پر ہوتا ہے اور وراثت میں اس کا وہی حصہ ہے جو باپ کا حصہ ہے جس کو باپ محجوب کرتا ہے اس کو دادا بھی محجوب کرے گا(یعنی باپ کی عدم موجودگی میں)اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ میت کے باپ کی عدم موجودگی میں میت کی میراث میں میت کی اولاد وغیرہ کی معیت میں اس کے بھائیوں، چچاؤں اور چچاؤں کے بیٹوں کے ہوتے ہوئے دادا کا وہی حکم ہے جو باپ کا حکم ہے۔۔۔۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ اخیافی بھائیوں کے علاوہ دوسرے بھائیوں کو محجوب کرنے میں بھی دادا کا وہی حکم ہو جو باپ کا حکم ہے اور جب بیٹے کا بیٹا صلبی بیٹے کی مانند ہے تو دادا باپ کے مقام پر کیوں نہیں ہو سکتا اور جب باپ کا دادا میت کے بھتیجے کی موجودگی میں، اہل علم کے اجماع کے مطابق، بھتیجے کو محجوب کر دے گا۔ تو پھر میت کا دادا میت کے بھائی کو کیوں محجوب نہیں کر سکتا؟ لہٰذا جو دادا کی معیت میں بھائیوں کو وارث قرار دیتا ہے اس کے پاس کوئی نص ہے نہ اشارہ نہ تنبیہ اور نہ قیاس صحیح۔عول اور اس کے احکامعول کے مسائل کے احکام قرآن مجید سے مستفاد ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب مواریث کے لیے حصے مقرر کر دیے ہیں اور ان کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔وہ ایک دوسرے کو محجوب کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔ اگر وہ ایک دوسرے کو محجوب کرتے ہیں تو وراثت میں محجوب ساقط ہو جاتا ہے اور وہ کسی چیز کا مستحق نہیں رہتا۔ اگر وہ ایک دوسرے کو محجوب نہیں کرتے تو وہ مندرجہ ذیل دو صورتوں سے خالی نہیں۔ یا تو وہ ترکہ کے تمام حصے کے وارث نہیں بنتے۔ (یعنی ورثاء کو ان کے شرعی حصے دینے کے بعد بھی ترکہ بچ جاتا ہے)یا وہ ترکہ کے تمام حصوں کے وارث اس طرح بنتے ہیں کہ یہ مقرر کردہ حصے مجموعی طور پر نہ تو ترکہ سے کم ہوتے ہیں اور نہ زیادہ۔ یا مقرر کردہ حصے ترکہ سے بڑھ جاتے ہیں۔پہلی دو صورتوں میں ہر وارث اپنا پورا حصہ حاصل کرتا ہے مگر آخری صورت میں جب حصے ترکہ سے بڑھ جائیں تویہ بھی دو حالتوں سے خالی نہیں۔ یا تو ہم بعض ورثاء کا وہ حصہ کم کر دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کیا ہے اور ان میں سے باقی ورثاء کا حصہ پورا پورا عطا کرتے ہیں۔ یہ ترجیح بلادلیل ہے ان میں سے کوئی ایک نقصان اٹھانے کا کسی دوسرے سے زیادہ مستحق نہیں۔پس دوسری صورت کا یوں تعین ہوتا ہے کہ ہم امکانی حد تک ہر وارث کو اس کا پورا حصہ ادا کرتے ہیں اور موجود ترکہ کو ان کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کر دیتے ہیں جیسے مقروض کے اس مال کو قرض خواہوں کے مابین تقسیم کیا جاتا ہے جو قرض خواہوں کے مطالبے سے کم ہوتا ہے۔ اب اس مال کو عول کے اصول کو استعمال کیے بغیر تقسیم کرنے کا کوئی راستہ نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ علم فرائض (وراثت) میں عول کا مسئلہ بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرما دیا ہے۔رد اور اس کے احکامعول کے اس طریقے کے بالکل برعکس رد کا اصول معلوم ہوا، اس لیے کہ جب اصحاب فروض میں ترکہ کو تقسیم کرنے کے بعد ترکہ میں سے کچھ بچ جائے۔ اور اس کا کوئی حق دار نہ ہو اور قریب یا دور میت کا عصبہ بھی نہ ہو۔ اگر یہ بچا ہوا ترکہ کسی ایک کو عطا کر دیں تو یہ بلادلیل ترجیح ہے۔ اور یہ بچا ہوا کسی ایسے شخص کو دے دینا جو میت کا قریبی نہیں ہے تو یہ گناہ، کج روی اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مخالفت ہے ﴿ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾(الانفال:8؍75) ’’اور رشتہ دار اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔‘‘ پس یہ بات متحقق ہو گئی کہ بچا ہوا ترکہ اصحاب فروض کو ان کے حصے کے مطابق واپس لوٹا دینا چاہیے۔زوجین کی طرف رد کے احکامان فقہاء کے نزدیک جو بچے ہوئے ترکے کو زوجین کی طرف لوٹانے کے قائل نہیں، ان کے مسلک کے مطابق زوجین اپنے مقررہ حصے سے زیادہ لینے کے مستحق نہیں، کیونکہ ان کے درمیان نسبی قرابت نہیں ہوتی۔ مگر صحیح مسلک یہ ہے کہ رد کے ضمن میں زوجین کا حکم بھی وہی ہے جو باقی ورثاء کا ہے۔ مذکورہ بالا دلیل سب کو اسی طرح شامل ہے جس طرح اصول عول میں سب شامل ہیں۔میراث میں ذوی الارحام کا حکماس کے ذریعے سے ذوی الارحام کی وراثت بھی معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اگر میت کے پیچھے کوئی ایسا شخص نہ بچے جو اصحاب فروض (جن کے حصے اللہ کی طرف سے مقرر ہیں) یا عصبہ (میت کا قریب ترین رشتے دار) میں شمار ہوتا ہو تو میراث کا معاملہ دو امور کے مابین گھومتا ہے۔ ترکہ کا مال بیت المال میں جمع ہو جس سے اجنبی لوگ استفادہ کریں یا ترکہ میت کے ان اقارب کی طرف لوٹ جائے جو ورثاء کے متفق علیہ قریبی ہیں۔ ان دونوں میں سے دوسرا مسلک متعین ہے اور اس کی صحت پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے ﴿ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾(الانفال:8؍75)اس لیے میراث کو اولو الارحام کے علاوہ کسی اور طرف پھیرنا اس شخص کو محروم کرنا ہے جو دوسروں سے زیادہ اس کا مستحق ہے۔ پس ذوی الارحام کو وارث بنانا متعین ہو گیا اور جب ان کو وارث بنانا متعین ہو گیا تو یہ معلوم ہو گیا کہ کتاب اللہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے حصے مقرر نہیں فرمائے۔ نیز یہ کہ ان کے اور میت کے درمیان کچھ واسطے ہیں جن کے سبب سے وہ میت کے رشتہ دار بنے پس ان کو اسی مقام پر رکھا جائے گا جس کے ذریعے سے وہ میت کے قریبی بنتے ہیں۔ واللہ اعلم۔میت کا عصبہ کون ہے؟ اور میراث میں اس کا حکمرہی باقی عصبہ کی وراثت جیسے بیٹے، بھائی، بھتیجے، چچا اور چچاؤں کے بیٹے، تو ان کے بارے میں رسول اللہﷺنے فرمایا: ’الحقوا الفرائض باھلھا، فمابقی فلاولیٰ رجل ذکر‘ (صحیح البخاری، الفرائض، باب میراث ابن الابن اذا لم يکن ابن، حديث: 6735 و صحیح مسلم، الفرائض، باب الحقوا الفرائض بأھلھا......، حديث: 1615)’’وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دے دو جو بچ جائے اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے۔‘‘اور فرمایا: ﴿ وَلِكُلٍّ جَعَلۡنَا مَوَالِيَ مِمَّؔا تَرَكَ الۡوَالِدٰؔنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ ﴾(النساء : 4؍33) ’’جو مال ماں باپ اور قریبی رشتہ دار چھوڑ کر مر جاتے ہیں ہم نے ہر ایک کے حق دار مقرر کر دیے ہیں۔‘‘ جب ہم اصحاب فروض کو ان کے مقررہ حصے عطا کر دیں اور کچھ باقی نہ بچے تو عصبہ کسی چیز کا حق دار نہیں ہوتا اور اگر ترکہ میں سے کچھ باقی بچ جائے تو عصبہ میں سے جو سب سے زیادہ مستحق ہیں وہ اپنی جہات اور درجات کے مطابق حصہ لیں گے۔عصبہ کی جہاتعصبہ کی پانچ جہات ہیں: بیٹے، باپ، بھائی اور بھتیجے، چچا اور چچاؤں کے بیٹے، پھر ولاء۔ ان میں سے اس کو مقدم رکھا جائے گا جو جہت کے اعتبار سے سب سے قریب ہے۔ اگر تمام ایک ہی جہت میں واقع ہوں تو ان میں وہ زیادہ مستحق ہے جو منزلت کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے۔ اگر منزلت کے اعتبار سے سب برابر ہوں تو جو سب سے زیادہ قوی ہے وہ زیادہ مستحق ہے اور وہ حقیقی بھائی ہے۔ اگر ہر پہلو سے برابر ہوں تو سب عصبہ میں شریک ہوں گے، اللہ اعلم۔رہا باپ شریک بہنوں کا بیٹیوں کی معیت یا بھتیجیوں کی معیت میں عصبہ ہونا اور ان کا ترکہ میں سے اپنے حصوں سے زائد لینا ۔۔۔۔ تو قرآن مجید میں ایسی کوئی چیز نہیں جو یہ دلالت کرتی ہو کہ بہنیں بیٹیوں کی وجہ سے ساقط ہو جائیں گی۔ جب صورتحال یہ ہو اور بیٹیوں کے اپنا حصہ لینے کے بعد کچھ بچ جائے تو وہ بہنوں کو دیا جائے گا اور ان کو چھوڑ کر اس عصبہ کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی جو ان سے بعید تر ہے۔ مثلاً بھتیجا اور چچا اور وہ لوگ جو ان سے بھی بعید تر ہیں۔ واللہ اعلم۔
4:12

۞وَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ أَزۡوَٰجُكُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٞ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِينَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّكُمۡ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ وَإِن كَانَ رَجُلٞ يُورَثُ كَلَٰلَةً أَوِ ٱمۡرَأَةٞ وَلَهُۥٓ أَخٌ أَوۡ أُخۡتٞ فَلِكُلِّ وَٰحِدٖ مِّنۡهُمَا ٱلسُّدُسُۚ فَإِن كَانُوٓاْ أَكۡثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمۡ شُرَكَآءُ فِي ٱلثُّلُثِۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصَىٰ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٍ غَيۡرَ مُضَآرّٖۚ وَصِيَّةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٞ

وصیت کرتا ہے تمھیں اللہ تمھاری اولاد کی بابت، واسطے مرد کے ہے مثل حصے دو عورتوں کے۔ پھر اگر ہوں (صرف) عورتیں (ہی، دو یا) زیادہ دو سے تو ان کے لیے ہے دو تہائی اس میں سے جو چھوڑ گیا وہ اور اگر ہو ایک ہی (لڑکی) تو اس کے لیے ہے آدھااور واسطے اس کے ماں باپ کے، ہر ایک کے لیے ان میں سے چھٹا حصہ ہے اس سے جو وہ چھوڑ گیا، اگر ہے اس کی اولاد۔ پس اگر نہ ہو اس کی اولاد اور وارث ہوں اس کے ماں باپ ہی تو اس کی ماں کے لیے ہے تیسرا حصہ۔ پس اگر ہوں اس کے (ایک سے زیادہ) بھائی (بہن) تو اس کی ماں کا ہے چھٹا حصہ۔ بعد وصیت کے کہ وصیت کر جائے وہ اس کی یا (بعد) قرض کے۔ تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے، نہیں تم جانتے کون ان میں سے زیادہ قریب ہے تمھارے لیے بہ اعتبار نفع کے۔ (یہ) مقرر ہے اللہ کی طرف سے، بلاشبہ اللہ ہے خوب جاننے والا بڑا حکمت والا(11) اور تمھارے لیے آدھا ہے اس کا جو چھوڑ گئیں تمھاری بیویاں اگر نہ ہو ان کی اولاد۔ پس اگر ہو واسطے ان کے اولاد تو تمھارے لیے ہے چوتھا حصہ اس سے جو وہ چھوڑ گئیں، بعد وصیت کے کہ وصیت کر جائیں وہ اس کی یا (بعد) قرض کے۔ اور ان (بیویوں) کے لیے ہے چوتھا حصہ اس سے جو چھوڑ جاؤ تم، اگر نہ ہو تمھاری اولاد، پس اگر ہو تمھاری اولاد تو ان (بیویوں) کے لیے ہے آٹھواں حصہ، اس سے جو چھوڑ جاؤ تم، بعد وصیت کے کہ وصیت کر جاؤ تم اس کی یا (بعد) قرض کے۔ اور اگر ہو وہ مرد کہ وراثت لی جارہی ہے (اس کی) کلالہ یا عورت ہو(ایسی ہی) اور واسطے اس کے ایک بھائی ہے یا ایک بہن تو ہر ایک کے لیے ان دونوں میں سے چھٹا حصہ ہے۔ پس اگر ہوں وہ زیادہ اس سے تو وہ شریک ہوں گے تہائی حصے میں۔ بعد وصیت کے کہ وصیت کر دی جائے اس کی یا (بعد) قرض کے۔ بشرطیکہ نہ نقصان پہنچانے والا ہو وہ، (یہ) وصیت ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ جاننے والا بردبار ہے(12) [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يُوۡصِيۡكُمُ اللّٰهُ فِيۡۤ اَوۡلَادِكُمۡ ﴾ ’’اللہ تمھاری اولاد کے بارے میں تمھیں وصیت (حکم) فرماتا ہے۔‘‘ یعنی اے والدین کے گروہ! تمھاری اولاد تمھارے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمھیں وصیت کی ہے تاکہ تم ان کے دینی اور دنیاوی مصالح کی دیکھ بھال کرو۔ تم ان کو تعلیم دو ادب سکھاؤ، انھیں برائیوں سے بچاؤ، انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور تقویٰ کے دائمی التزام کا حکم دو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا وَّقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ ﴾(التحریم:66؍6) ’’اے ایمان دارو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔‘‘پس اولاد کے بارے میں والدین کو وصیت کی گئی ہے۔ اس لیے چاہیں تو وہ اس وصیت پر عمل کریں تب ان کے لیے بہت زیادہ ثواب ہے اور چاہیں تو اس وصیت کو ضائع کر دیں تب وہ سخت وعید اور عذاب کے مستحق ہیں۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ان کے والدین سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے کیونکہ اس نے والدین کو ان کی اولاد کے بارے میں وصیت کی درآں حالیکہ والدین اپنی اولاد کے لیے کمال شفقت کے حامل ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے اولاد کے لیے وراثت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾ یعنی اگر اصحاب الفروض نہ ہوں یا اصحاب الفروض کو دینے کے بعد ترکہ بچ جائے تو صلبی اولاد اور بیٹے کی اولاد کے لیے وراثت کا حکم یہ ہے کہ دو لڑکیوں کا حصہ ایک لڑکے کے برابر ہے۔ اس پر تمام اہل علم کا اجماع ہے نیز اگر میت کی صلبی اولاد موجود ہو تو وراثت انھی میں تقسیم ہوگی۔ اگر میت کے بیٹے بیٹیاں ہیں تو پوتے پوتیوں کو وراثت نہیں ملے گی۔ یہ اس صورت میں ہے جبکہ میت کے بیٹے اور بیٹیاں دونوں موجود ہیں، یہاں دو صورتیں ہیں۔ پہلی صورت کہ صرف بیٹے ہوں، اس کا ذکر آگے آئے گا۔ دوسری صورت کہ صرف بیٹیاں ہوں، اس کا ذکر ذیل میں ہے۔بیٹیوں کے لیے وراثت کے احکام:اگر صرف بیٹیاں وارث ہوں تو ان کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ كُنَّ نِسَآءًؔ فَوۡقَ اثۡنَتَيۡنِ ﴾ یعنی اگر صلبی بیٹیوں یا پوتیوں کی تعداد تین یا تین سے زیادہ ہے ﴿ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ﴾ ’’تو ان سب کے لیے دو تہائی ترکہ ہے۔‘‘ ﴿ فَلَهَا النِّصۡفُ ﴾ ’’اگر ایک بیٹی یا پوتی ہے تو اس کے لیے نصف ترکہ ہے‘‘ اور اس پر علماء کا اجماع ہے۔باقی رہی یہ بات کہ اس پر اجماع کے بعد یہ اصول کہاں سے مستفاد ہوا کہ دو بیٹیوں کے لیے ترکہ میں سے دو تہائی حصہ ہے؟۔۔۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اصول اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنۡ كَانَتۡ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصۡفُ ﴾ سے ماخوذ ہے، کیونکہ اس کا مفہوم مخالف یہ ہے اگر بیٹی ایک سے زائد ہو تو وراثت کا حصہ بھی نصف سے منتقل ہو کر آگے بڑھے گا اور نصف کے بعد دو تہائی حصہ ہی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾ جب میت نے ایک بیٹا اور ایک بیٹی چھوڑی ہو تو ترکہ میں سے بیٹے کے لیے دو تہائی حصہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس کا یہ حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دو بیٹیوں کے لیے دو تہائی حصہ ہے۔ نیز اگر بیٹی اپنے بھائی کی معیت میں وراثت میں سے ایک تہائی حصہ لیتی ہے درآں حالیکہ بھائی بہن کی نسبت وراثت میں اس کے لیے زیادہ نقصان کا باعث ہے تو بہن کی معیت میں بیٹی کا وراثت سے حصہ لینا زیادہ اولیٰ ہے۔نیز بہنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ كَانَتَا اثۡنَتَيۡنِ فَلَهُمَا الثُّلُـثٰنِ مِمَّؔا تَرَكَ ﴾(النساء:4؍176) ’’اگر دو بہنیں ہوں تو ان دونوں کے لیے ترکے میں سے دو تہائی حصہ ہے۔‘‘ دو بہنوں کے لیے دو تہائی ترکہ کے بارے میں یہ واضح نص ہے۔ جب دو بہنیں میت سے رشتہ میں بعد کے باوجود اس کے ترکہ میں سے دو تہائی حصہ لیتی ہیں تو دو بیٹیاں میت سے رشتہ میں قرب کی بنا پر دو تہائی ترکہ لینے کی زیادہ مستحق ہیں۔ نیز صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺنے سعدtکی دو بیٹیوں کو دو تہائی ترکہ عطا کیا۔باقی رہا یہ اعتراض کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَوۡقَ اثۡنَتَيۡنِ ﴾ ’’اگر بیٹیاں دو سے زیادہ ہوں‘‘ کا کیا فائدہ؟ کہا جاتا ہے کہ اس کا فائدہ یہ ہے۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔ کہ یہ معلوم ہو جائے کہ زیادہ سے زیادہ حصہ دو تہائی ہی ہے۔ وارث بیٹیوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ وراثت کا حصہ دو تہائی سے زیادہ نہیں ہو گا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب میت کی صلب میں سے ایک بیٹی ہو اور ایک یا ایک سے زائد پوتیاں ہوں تو بیٹی کے لیے نصف ترکہ ہے اور اس دو تہائی میں سے جو اللہ تعالیٰ نے ایک سے زائد بیٹیوں یا پوتیوں کے لیے مقرر کیا ہے، چھٹا حصہ باقی بچ جاتا ہے تو یہ چھٹا حصہ پوتی یا پوتیوں کو دیا جائے گا۔ اسی وجہ سے اس چھٹے حصے کو ’’دو تہائی کا تکملہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اور اس کی مثال پوتی کی معیت میں وہ پوتیاں ہیں جو اس سے زیادہ نیچے ہیں۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر بیٹیاں یا پوتیاں پورے کا پورا دو تہائی حصہ لے لیں تو وہ پوتیاں جو زیادہ نیچے ہیں ان کا حصہ ساقط ہو جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے صرف دو تہائی کا حصہ مقرر کیا ہے جو کہ پورا ہو چکا ہے۔ اگر ان کا حصہ ساقط نہ ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ ان کے لیے دو تہائی سے زیادہ حصہ مقرر ہو اور یہ بات نص کے خلاف ہے اور ان تمام احکام پر علماء کا اجماع ہے۔ وللہ الحمد.اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ مِمَّؔا تَرَكَ ﴾ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ میت ترکہ میں جو کچھ بھی چھوڑتی ہے خواہ وہ زمین کی صورت میں جائیداد ہو، گھر کا اثاثہ یا سونا چاندی وغیرہ ہو حتیٰ کہ دیت بھی جو اس کے مرنے کے بعد ہی واجب ہوتی ہے اور وہ قرضے جو میت کے ذمہ واجب الادا ہیں۔ ورثاء ان سب چیزوں کے وارث ہوں گے۔ماں باپ کے لیے وراثت کے احکام:پھر اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کے لیے وراثت کے احکام بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَلِاَبَوَيۡهِ ﴾ اس سے مراد ماں اور باپ دونوں ہیں ﴿ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡهُمَا السُّدُسُ مِمَّؔا تَرَكَ اِنۡ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ ﴾ یعنی اگر میت کا ایک یا ایک سے زائد صلبی بیٹا یا بیٹی، پوتا یا پوتی موجود ہوں۔ تو پس ماں اولاد (بیٹے یا پوتے)کی معیت میں چھٹے حصے سے زیادہ نہیں لے گی۔باپ کے لیے وراثت کے احکام:اگر میت کی نرینہ اولاد موجود ہے تو ان کی معیت میں باپ چھٹے حصے سے زیادہ نہیں لے گا۔ اگر اولاد بیٹی یا بیٹیاں ہیں اور مقررہ حصے ادا کرنے کے بعد کچھ نہ بچے، جیسے ماں باپ اور دو بیٹیاں ہوں، تو باپ کا استحقاق عصبہ باقی نہیں رہے گا۔اور اگر بیٹی یا بیٹیوں کے حصے کے بعد کچھ بچ جائے تو باپ چھٹا حصہ مقررہ حصے کے طور پر اور باقی مال عصبہ ہونے کے اعتبار سے لے گا۔ اس لیے کہ اصحاب الفروض کو ان کے حصے دینے کے بعد جو بچ جائے تو اس کا وہ مرد زیادہ مستحق ہوتا ہے جو میت کے زیادہ قریب ہو، اس لیے اس صورت میں باپ بھائی اور چچا وغیرہ سے زیادہ قریب ہے۔﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهٗ وَلَدٌ وَّوَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ ﴾ ’’اور اگر اولاد نہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہے‘‘ یعنی باقی ترکہ باپ کے لیے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مال کی اضافت بیک وقت ماں اور باپ کی طرف کی ہے پھر ماں کا حصہ مقرر کر دیا، تو یہ بات اس امر کی دلیل ہے کہ باقی مال باپ کے لیے ہے۔اس سے یہ بات بھی معلوم ہو گئی کہ میت کی اولاد کی عدم موجودگی میں میت کا باپ اصحاب فروض میں شمار نہیں ہوتا بلکہ وہ عصبہ کی حیثیت سے تمام مال یا مقرر کردہ حصوں (فروض) سے بچے ہوئے باقی مال کا حق دار ہو گا۔اگر ماں باپ کی موجودگی میں میت کا خاوند یا بیوی بھی موجود ہو۔ جن کو (عمریتین) سے تعبیر کیا جاتا ہے… تو خاوند یا بیوی اپنا حصہ لیں گے، ماں باقی میں سے ایک تہائی لے گی اور جو بچ رہے گا اس کا مالک میت کا باپ ہو گا۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَّوَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ ﴾یعنی جس مال کے وارث ماں باپ ہوں اس کا ایک تہائی حصہ ماں کے لیے ہے اور وہ ان دو صورتوں میں یعنی میت کے خاوند، ماں اور باپ کے وارث ہونے کی صورت میں چھٹا حصہ، اور میت کی بیوی، ماں اور باپ کے وارث ہونے کی صورت میں چوتھا حصہ ہے۔ پس یہ آیت اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ میت کی ماں، میت کی اولاد کی عدم موجودگی میں تمام مال کی ایک تہائی کی وارث ہے۔ جب تک یہ نہ کہا جائے کہ یہ مذکورہ دو صورتیں مستثنیٰ ہیں۔ اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ خاوند یا بیوی جو حصہ لیتی ہے، وہ اس حصے کی طرح ہے جو قرض خواہ لیتے ہیں، اس لیے وہ سارے مال سے ہو گا اور باقی مال کے وارث ماں باپ ہوں گے۔ کیونکہ اگر ہم کل مال کا تیسرا حصہ ماں کو عطا کر دیں تو اس سے میت کے خاوند کی معیت میں ماں کا حصہ باپ کے حصے سے بڑھ جائے گا یا میت کی بیوی کی معیت میں باپ کا حصہ ماں کی نسبت چھٹے حصے کے نصف سے زیادہ ہو جائے گا جس کی کوئی نظیر نہیں، کیونکہ اصول یہ ہے کہ ماں، باپ کے مساوی حصہ لے گی یا باپ اس سے دگنا لے گا جو ماں کے حصہ میں آتا ہے۔﴿ فَاِنۡ كَانَ لَهٗۤ اِخۡوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ ﴾ ’’اگر مرنے والے کے بھائی ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے‘‘ یعنی حقیقی بھائی ہوں یا باپ کی طرف سے (علاتی بھائی) ہوں یا ماں کی طرف سے (اخیافی بھائی) ہوں خواہ وہ مرد ہو یا عورتیں۔۔۔ وارث بنتے ہوں یا وہ باپ یا دادا کی موجودگی میں محجوب ہوں۔مگر کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَهٗۤ اِخۡوَةٌ ﴾ کا ظاہر غیر ورثاء کو شامل نہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ محجوب کو نصف حصہ نہیں پہنچتا۔۔۔ تب اس صورت میں میت کے وارث بننے والے بھائیوں کے سوا ماں کو ایک تہائی حصہ سے کوئی بھائی محجوب نہیں کر سکتا۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ میت کے بھائیوں کی ماں کو ایک تہائی حصے سے محجوب کر دینے میں حکمت یہ ہے کہ کہیں ان کے لیے مال میں کچھ بڑھ نہ جائے حالانکہ وہ معدوم ہے۔ مگر یہاں ایک شرط عائد کی گئی ہے کہ بھائی دو یا دو سے زائد ہوں۔ البتہ اس میں اشکال یہ ہے کہ یہاں ﴿ اِخۡوَةٌ ﴾ جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں جمع مقصود نہیں بلکہ مجرد تعدد (متعدد ہونا) مقصود ہے۔ اور یہ تعدد دو کے عدد پر بھی صادق آتا ہے۔ کبھی جمع کا صیغہ تو بول لیا جاتا ہے، مگر اس سے مراد دو ہوتے ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد اور سلیمانiکے بارے میں فرمایا:﴿ وَؔكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شٰهِدِيۡنَ﴾(الانبیاء:21؍78) ’’اور ہم ان کے فیصلے کو دیکھ رہے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اخیافی بھائیوں کے بارے میں فرمایا ﴿ وَاِنۡ كَانَ رَجُلٌ يُّوۡرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امۡرَاَةٌ وَّلَهٗۤ اَخٌ اَوۡ اُخۡتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّؔنۡهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنۡ كَانُوۡۤا اَ كۡثَرَ مِنۡ ذٰلِكَ فَهُمۡ شُرَؔكَآءُ فِي الثُّلُثِ ﴾(النساء:4؍12) ’’اگر ایسے مرد یا عورت کی وراثت ہو جو کلالہ ہو یعنی جس کی اولاد ہو نہ باپ، مگر اس کے بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے۔‘‘ پس یہاں بھی جمع کے لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے مگر بالاجماع اس سے مراد دو اور دو سے زائد افراد ہیں۔اس صورت میں اگر میت اپنے پیچھے ماں، باپ اور کچھ بھائی وارث چھوڑتا ہے تو ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے اور باقی ترکے کا وارث باپ ہے پس انھوں نے ماں کو ایک تہائی حصے سے محجوب کر دیا اور اس کے ساتھ ساتھ باپ نے ان کو بھی محجوب کر دیا۔ البتہ اس میں ایک دوسرا احتمال موجود ہے، جس کی رو سے ماں کے لیے ایک تہائی اور باقی ترکہ باپ کے لیے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصِيۡ بِهَاۤ اَوۡ دَيۡنٍ ﴾ یعنی میت کے ذمے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے قرض کی ادائیگی اور وصیت کے نفاذ کے بعد جو کچھ باقی بچتا ہے وہ میت کا ترکہ ہے جس کے مستحق ورثاء ہیں اور یہ وراثت قرض کی ادائیگی اور وصیت کے نفاذ کے بعد فروض اور ورثاء کے حصوں میں تقسیم ہو گی اور آیت میں وصیت کو مقدم رکھا گیا ہے، باوجود اس بات کے کہ اس کا نفاذ قرض کی ادائیگی کے بعد ہو گا، اس کی وجہ وصیت کی اہمیت کو واضح کرنا ہے (تاکہ ورثاء اس کو نظرانداز نہ کریں) علاوہ ازیں وصیت کا نفاذ ورثاء پر شاق گزرتا ہے (اور وہ اس پر عمل کرنے سے بالعموم گریز کرتے ہیں) وگرنہ قرض کی ادائیگی، وصیت پر مقدم ہے اور وصیت اصل مال میں سے ہو گی۔ جہاں تک وصیت کا معاملہ ہے تو وہ صرف ایک تہائی مال یا اس سے کم میں، نیز صرف غیروارث اجنبیوں کے لیے جائز ہے اس کے علاوہ اگر وصیت کی گئی ہے تو وہ نافذ نہیں ہو گی البتہ اگر ورثاء اجازت دے دیں تو نافذ ہو سکتی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اٰبَآؤُكُمۡ وَاَبۡنَآؤُكُمۡ لَا تَدۡرُوۡنَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعًا ﴾’’تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے، تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون نفع کے اعتبار سے تمھارے زیادہ قریب ہے‘‘ یعنی اگر وراثت کے حصے تمھاری عقل اور تمھارے اختیار کے مطابق بنائے جاتے تو اس قدر نقصان پہنچتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کیونکہ عقل ناقص ہے اور ہر زمان و مکان کے مطابق جو چیز زیادہ اچھی اور زیادہ لائق ہے اس کی معرفت حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ پس انسان نہیں جانتا کہ اس کی اولاد یا والدین میں سے دینی اور دنیاوی مقاصد کے حصول میں کون اس کے لیے زیادہ فائدہ مند اور اس کے زیادہ قریب ہے۔﴿ فَرِيۡضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا ہے بے شک اللہ پورے علم اور کامل حکمتوں والا ہے‘‘ یعنی وراثت کے ان حصوں کو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اس نے جو شریعت بنائی ہے اسے محکم کیا ہے اور اس نے جو چیز مقدر کی ہے اسے بہترین اندازے کے ساتھ مقدر کیا ہے۔ عقل ان جیسے احکام وضع کرنے سے قاصر ہے جو ہر حال اور ہر زمان و مکان کے موافق اور نفاذ کی صلاحیت رکھتے ہوں۔شوہر اور بیویوں کے لیے وراثت کے احکام: [12] پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَكُمۡ ﴾ یعنی اے شوہرو! ﴿ نِصۡفُ مَا تَرَكَ اَزۡوَاجُكُمۡ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنۡ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّؔا تَرَؔكۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصِيۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَيۡنٍ١ؕ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّؔا تَرَؔكۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ يَؔكُنۡ لَّـكُمۡ وَلَدٌ١ۚ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّؔا تَرَؔكۡتُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ تُوۡصُوۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَيۡنٍ ﴾ ’’اور جو کچھ تمھاری بیویاں (ترکے میں) چھوڑ جائیں اس میں سے نصف کے تم حق دار ہو بشرطیکہ ان سے اولاد نہ ہو۔ اگر ان کے اولاد ہے تو تمھیں جو کچھ وہ چھوڑ جائیں اس کا چوتھائی ملے گا (یہ تقسیم) مرنے والی کی وصیت کی تعمیل اور اس کے قرضے کی (ادائیگی) کے بعد (عمل میں لائی جائے) اور ان کے لیے جو کچھ تم چھوڑ جاؤ اس کا چوتھائی حصہ ہے بشرطیکہ تمھاری اولاد نہ ہو اور اگر تمھاری اولاد ہو تو ان کے لیے تمھارے ترکے کا آٹھواں حصہ ہوگا (یہ تقسیم) تمھاری وصیت کی تکمیل یا قرضے (کی ادائیگی) کے بعد (عمل میں لائی جائے)‘‘ اولاد کے مسمیٰ کے زمرے میں جس کے وجود اور عدم وجود کو میاں بیوی کی وراثت میں شرط بنایا گیا ہے، صلبی اولاد یا بیٹے کی اولاد لڑکے یا لڑکیاں خواہ ایک ہو یا متعدد جو اس شوہر یا بیوی سے ہوں یا کسی اور سے، شمار ہوتی ہیں اس میں بیٹیوں کی اولاد شامل نہیں اور اس پر اجماع ہے۔(کلالہ)کا معنی اور اس کے احکام:﴿ وَاِنۡ كَانَ رَجُلٌ يُّوۡرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امۡرَاَةٌ وَّلَهٗۤ اَخٌ اَوۡ اُخۡتٌ ﴾ ’’اور اگر کوئی مرد یا عورت ہو (جو ترکہ چھوڑ جائے) اور اس کا نہ باپ ہو نہ بیٹا اور بھائی یا بہن ہو‘‘ اس سے مراد اخیافی (ماں شریک)بہن بھائی ہیں جیسا کہ بعض قراء ت میں بھی وارد ہے۔ اور فقہاء کا اجماع ہے کہ یہاں بہن بھائی سے مراد اخیافی بہن بھائی ہیں۔ اگر میت کلالہ ہے۔ یعنی میت کا باپ ہے نہ بیٹا، یعنی باپ ہے نہ دادا، بیٹا ہے نہ پوتا، بیٹی ہے نہ پوتی۔۔۔۔ خواہ نیچے تک چلے جائیں۔۔۔۔ ایسی میت کو کلالہ کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقtنے اس کی تفسیر بیان کی ہے اور اسی مفہوم پر اجماع واقع ہو گیا۔ وَلِلہِ الْحَمْدُ!﴿ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّؔنۡهُمَا ﴾ یعنی بھائی اور بہن دونوں میں سے ہر ایک کے لیے ﴿ السُّدُسُ ﴾ چھٹا حصہ ہے ﴿ فَاِنۡ كَانُوۡۤا اَكۡثَرَ مِنۡ ذٰلِكَ ﴾ یعنی اگر وہ ایک سے زائد ہوں ﴿ فَهُمۡ شُرَؔكَآءُ فِي الثُّلُثِ ﴾ یعنی ایک تہائی میں سب شریک ہیں اور ایک تہائی سے زیادہ نہیں ملے گا خواہ ان کی تعداد دو سے بڑھ جائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَهُمۡ شُرَؔكَآءُ فِي الثُّلُثِ ﴾ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اس میں مرد اور عورتیں سب برابر ہیں کیونکہ لفظ ’’شریک‘‘ مساوات کا تقاضا کرتا ہے۔ (یعنی اس صورت میں مرد کو عورت سے دگنا حصہ نہیں، بلکہ برابر کا حصہ ملے گا)لفظ ’’کلالہ‘‘ دلالت کرتا ہے کہ فروع نیچے تک اور اصول مرد اوپر تک خواہ کتنی ہی دور کیوں نہ جائیں، وہ ماں کی اولاد کو ساقط کر دیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اخیافی بہن بھائیوں کو صرف کلالہ کی صورت میں وارث بنایا ہے اور اگر وہ کلالہ کی صورت میں وارث نہیں بنتے تو وہ کسی اور صورت میں میت کے وارث نہیں بن سکتے۔ اس پر اہل علم کا اتفاق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَهُمۡ شُرَؔكَآءُ فِي الثُّلُثِ ﴾ دلالت کرتا ہے کہ ’’مسئلہ حماریہ‘‘ کے مطابق حقیقی بھائی ساقط ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ یعنی اگر میت کا شوہر، ماں اور حقیقی بھائی بھی ہوں تو شوہر کے لیے نصف ترکہ، ماں کے لیے چھٹا حصہ اور اخیافی بھائیوں کے لیے ایک تہائی حصہ ہے اور حقیقی بھائی ساقط ہو جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک تہائی ترکہ کو اخیافی بھائیوں کی طرف مضاف کیا ہے اگر اس ترکہ میں حقیقی بھائیوں کو شریک کر لیا جائے تو یہ اس چیز کو جمع کرنا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے تفریق کی ہے۔ نیز اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اخیافی بھائی اصحاب فروض ہیں اور حقیقی بھائی عصبہ ہیں۔ چنانچہ رسول اللہﷺنے فرمایا ’’میراث کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو جو بچ جائے وہ اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے۔‘‘(صحیح البخاری، الفرائض، حديث:6732، وصحیح مسلم، الفرائض، حديث:1615) اور اصحاب فروض وہ لوگ ہیں جن کا حصہ اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دیا ہے۔زیر بحث کلالہ کے مسئلہ میں اصحاب فروض کو دینے کے بعد کچھ باقی نہیں بچتا اس لیے حقیقی بھائی ساقط ہو جائیں گے اور یہی صحیح موقف ہے۔ رہی حقیقی بھائیوں اور بہنوں کی وراثت یا باپ کی طرف سے بھائیوں اور بہنوں کی وراثت، تو یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ يَسۡتَفۡتُوۡنَكَ۠١ؕ قُلِ اللّٰهُ يُفۡتِيۡكُمۡ فِي الۡكَلٰلَةِ ﴾(النساء:4؍176) میں مذکور ہے۔ پس ایک حقیقی یا باپ کی طرف سے بہن کے لیے نصف ترکہ ہے۔ اگر دو ہوں تو ان کے لیے دو تہائی ترکہ ہے۔اگر کلالہ کی ایک حقیقی بہن، ایک یا زائد باپ کی طرف سے بہنیں ہوں تو ترکہ کا نصف حصہ حقیقی بہن کو ملے گا اور دو تہائی میں سے باقی جو کہ چھٹا حصہ بنتا ہے دو تہائی کی تکمیل کے لیے باپ کی طرف سے بہن یا بہنوں کو ملے گا۔ اگر حقیقی بہنیں دو تہائی حصہ لے لیں تو باپ کی طرف سے بہنیں ساقط ہو جائیں گی جیسا کہ بیٹیوں اور پوتیوں کے بارے میں گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ اگر بھائی اور بہنیں وارث ہوں تو ایک بھائی کو دو بہنوں کے مساوی حصہ ملے گا۔قاتل اور مختلف دین رکھنے والے کے لیے وراثت:اگر یہ کہا جائے کہ آیا قرآن کریم سے قاتل، غلام، غیر مسلم، جزوی غلام، مخنث، باپ کی طرف سے بھائیوں کی معیت میں دادا، عول، رد، ذوالارحام، بقیہ عصبہ، بیٹیوں کی معیت میں باپ شریک بہنوں یا پوتیوں کی وراثت مستفاد ہوتی ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں اس بارے میں بعض دقیق اشارے اور تنبیہات موجود ہیں، گہرے غور و فکر کے بغیر ان اشارات کو سمجھنا مشکل ہے۔رہا قاتل اور مخالف دین یعنی غیر مسلم، تو یہ بات معروف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مال کو ورثاء میں ان کے میت سے قرب اور دینی اور دنیاوی فوائد کے اعتبار سے تقسیم کرنے کی جو حکمت بیان کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ وارث نہیں بن سکتے… اللہ تعالیٰ نے اپنی اس حکمت بالغہ کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے ﴿ لَا تَدۡرُوۡنَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعًا ﴾(النساء : 4؍11) ’’تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون نفع کے اعتبار سے تمھارے زیادہ قریب ہے۔‘‘یہ بات معلوم اور واضح ہے کہ قاتل نے اپنے مورث کو سب سے بڑا نقصان پہنچایا ہے لہٰذا وہ امر جو اس کے لیے وراثت کا موجب ہے، قتل کے ضرر کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ قتل اس نفع کی ضد ہے جس پر وراثت مرتب ہوتی ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ قتل سب سے بڑا مانع ہے جو میراث کے حصول سے روکتا ہے اور قطع رحمی کا باعث بنتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾(الانفال:8؍75) ’’اور رشتہ دار اللہ کے حکم کے مطابق ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔‘‘ نیز ایک شرعی قاعدہ مشہور ہے کہ ’’جو کوئی وقت سے پہلے کوئی چیز حاصل کرنے میں جلدی کرتا ہے اسے اس چیز سے محرومی کی سزا دی جاتی ہے۔‘‘مندرجہ بالا توضیح سے واضح ہوتا ہے کہ اگر وارث، مورث کے دین سے مختلف دین رکھتا ہے تو وہ وراثت سے محروم ہے۔ وراثت کا موجب، جو کہ نسب کا اتصال ہے اور وراثت کا مانع جو کہ اختلاف دین ہے اور اختلاف دین ہر لحاظ سے وارث کو مورث سے علیحدہ کر دیتا ہے۔ پس موجب اور مانع میں تعارض ہے۔ مانع زیادہ قوی ہے اور موجب وراثت کو روک دیتا ہے۔ بنا بریں مانع کے ہوتے ہوئے موجب پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ اس اصول کی وضاحت اس امر سے ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے حقوق کو کفار رشتہ داروں کے حقوق پر اولیت دی ہے۔ اس لیے جب مسلمان وفات پا جاتا ہے تو اس کا مال اس شخص کی طرف منتقل ہو گا جو اس کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ﴿ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾ تو اسی صورت میں صادق آئے گا جب وارث اور مورث کا دین ایک ہو۔وارث اور مورث کے دین میں تباین اور اختلاف کی صورت میں دینی اخوت مجرد نسبی اخوت پر مقدم ہے۔ علامہ ابن القیمa جلاء الافھام میں رقمطراز ہیں ’’اس لفظ کے معنیٰ پر مواریث کی آیت میں غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان توارث کو ’’عورت‘‘ کی بجائے ’’زوجہ‘‘ کے لفظ کے ساتھ معلق کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آیا ہے ﴿ وَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ اَزۡوَاجُكُمۡ ﴾ اس میں اس بات کی تعلیم ہے کہ یہ توارث اس زوجیت کی بنا پر واقع ہوا ہے جو کامل مشابہت اور تناسب کا تقاضا کرتی ہے۔ مومن اور کافر کے مابین کوئی مشابہت اور کوئی تناسب نہیں ہوتا اس لیے ان کے مابین توارث واقع نہیں ہو سکتا قرآن کریم کے مفردات اور مرکبات کے اسرار نہاں اس سے بہت بلند ہیں کہ عقل مندوں کی عقل اس کا احاطہ کر سکے۔۔۔‘‘غلاموں کے لیے وراثت کے احکام:جہاں تک غلام کا معاملہ ہے تو نہ وہ خودکسی کا وارث بن سکتا ہے اور نہ کوئی اس کا وارث بن سکتا ہے۔۔۔ رہا یہ معاملہ کہ کوئی اس کا وارث نہیں بن سکتا تو یہ بالکل واضح ہے کیونکہ اس کا کوئی مال ہی نہیں جس کا کوئی وارث ٹھہرے، بلکہ اس کے برعکس اس کا تمام مال اس کے آقا کی ملکیت ہے رہی یہ بات کہ وہ وارث بھی نہیں ہو سکتا، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا، اگر اس کے ہاتھ میں کوئی چیز آتی بھی ہے تو وہ اس کے مالک کی ملکیت ہوتی ہے۔ پس وہ میت کے لیے اجنبی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے اس قسم کے ارشادات:﴿ وَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ اَزۡوَاجُكُمۡ ﴾ ، ﴿ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾اور ﴿لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡهُمَا السُّدُسُ ﴾ وغیرہ اس کے لیے ہے جو ملکیت کا اثبات کر سکتا ہو اور غلام کے لیے چونکہ ملکیت کا اثبات ممکن نہیں، اس لیے معلوم ہوا کہ وہ میراث کا حق دار نہیں۔رہا وہ شخص جو جزوی طور پر آزاد اور جزوی طور پر غلام ہو تو اس کے احکام میں بھی تبعیض ہوگی۔ پس اس میں جو آزادی کا حصہ ہے، اس کی وجہ سے اللہ نے وراثت کا جو حق مترتب کیا ہے، اس کا وہ مستحق ہو گا، کیونکہ آزادی کی وجہ سے وہ مالک بننے کے قابل ہے اور اس میں جو غلامی کا حصہ ہے، اس کی وجہ سے وہ اس کے قابل نہیں۔ تب اس صورت میں یہ جزوی طور پر آزاد ہے۔ وراثت میں حصہ لے گا اور خود اس کی میراث بھی اس کے ورثاء میں تقسیم ہوگی اور اپنی آزادی کی مقدار کے مطابق دوسروں کو وراثت سے محجوب کرے گا اور جب غلام، قابل تعریف اور قابل مذمت، ثواب کا حق دار اور عذاب کا حق دار، ان موجبات کی مقدار کے مطابق ہو سکتا ہے جو اسے ان امور کا مستحق بناتی ہیں تو یہ معاملہ بھی اسی طرح ہے۔مخنث کے لیے وراثت کے احکام:مخنث کا معاملہ تین امور سے خالی نہیں ہوتا:مخنث کی ذکوریت واضح ہوتی ہے (یعنی اس میں مرد کی علامتیں پائی جاتی ہیں) یا اس کی انوثیت واضح ہوتی ہے۔ (اس میں عورت کی علامتیں غالب ہوتی ہیں) یا اس کا مذکر ہونا یا مونث ہونا واضح نہیں ہوتا تب اس کو ’’مشکل‘‘ کہتے ہیں۔اگر مخنث کا معاملہ واضح ہے تو اس کی وراثت کا مسئلہ بھی واضح ہے۔ چنانچہ اگر اس میں مرد کی علامتیں غالب ہیں تو اس پر اس نص کا اطلاق ہو گا جو مردوں کے بارے میں وارد ہوئی ہے اور اگر اس میں عورت کی علامتیں غالب ہیں تو اس پر عورتوں کے احکام کا اطلاق ہو گا۔ اگر وہ مشکل ہے تو اگر وہ مرد اور عورت ہیں جن کا حصہ وراثت مختلف نہیں۔ (بلکہ یکساں ہے) جیسے اخیافی بہن بھائیوں کا معاملہ ہے تو اس میں معاملہ بالکل واضح ہے۔اور اگر اس کو مرد مقدر کرتے ہوئے یا عورت مقدر کرتے ہوئے اس کا حصہ وراثت مختلف ہو اور ہمارے پاس اس کے بارے میں تیقن کا کوئی ذریعہ نہ ہو۔ تو ہم اسے وہ حصہ نہ دیں گے جو دونوں صورتوں میں سب سے زیادہ بنتا ہے کیونکہ اس میں ان لوگوں پر ظلم کا احتمال ہے جو اس کی معیت میں وراثت کے حق دار ہیں اور نہ ہم اسے کم ترین حصہ دیں گے کیونکہ اس صورت میں خود اس پر ظلم کا احتمال ہے۔ پس ان کے درمیان اعتدال کی راہ اختیار کرنا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اِعۡدِلُوۡا١۫ هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى ﴾(المائدہ : 5؍8) ’’عدل کیا کرو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔‘‘اس قسم کی صورتحال میں ہمارے پاس اس سے زیادہ کوئی عدل کا راستہ نہیں جس کا گزشتہ سطور میں ہم ذکر کر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴾(البقرۃ : 2؍286) ’’اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت کے مطابق۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ ﴾(التغابن:64؍16) ’’پس جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرو۔‘‘دادا کے لیے وراثت کے احکامرہا حقیقی بھائیوں یا باپ شریک (علاتی) بھائیوں کی موجودگی میں میت کے دادا کے لیے وراثت کا مسئلہ کہ آیا مذکورہ بھائی دادا کی معیت میں وراثت میں سے حصہ لیں گے یا نہیں ۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب حضرت ابوبکر صدیقtکے اس فتویٰ کی تائید کرتی ہے کہ دادا بھائیوں کو محجوب کر دے گا، چاہے وہ حقیقی بھائی ہوں یا علاتی (باپ شریک) یا اخیافی (ماں شریک) ہوں۔ جیسے باپ ان سب کو محجوب کر دیتا ہے۔اس کی توضیح یہ ہے کہ قرآن مجید میں ایک سے زائد مقامات پر دادا کو باپ کہا گیا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوۡبَ الۡمَوۡتُ١ۙ اِذۡ قَالَ لِبَنِيۡهِ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ١ؕ قَالُوۡا نَعۡبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبـَآىِٕكَ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰؔقَ ﴾(البقرۃ:2؍133) ’’جب یعقوب وفات پانے لگے تو انھوں نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انھوں نے جواب دیا تیرے معبود اور تیرے آباء ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفuکا قول نقل فرمایا:﴿ وَاتَّبَعۡتُ مِلَّةَ اٰبَآءِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾(یوسف:12؍38) ’’میں نے اپنے آباء ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کی ملت کی پیروی کی ہے۔‘‘پس اللہ تعالیٰ نے دادا اور باپ کے دادا کو ’’باپ‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ دادا باپ کے مقام پر ہوتا ہے اور وراثت میں اس کا وہی حصہ ہے جو باپ کا حصہ ہے جس کو باپ محجوب کرتا ہے اس کو دادا بھی محجوب کرے گا(یعنی باپ کی عدم موجودگی میں)اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ میت کے باپ کی عدم موجودگی میں میت کی میراث میں میت کی اولاد وغیرہ کی معیت میں اس کے بھائیوں، چچاؤں اور چچاؤں کے بیٹوں کے ہوتے ہوئے دادا کا وہی حکم ہے جو باپ کا حکم ہے۔۔۔۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ اخیافی بھائیوں کے علاوہ دوسرے بھائیوں کو محجوب کرنے میں بھی دادا کا وہی حکم ہو جو باپ کا حکم ہے اور جب بیٹے کا بیٹا صلبی بیٹے کی مانند ہے تو دادا باپ کے مقام پر کیوں نہیں ہو سکتا اور جب باپ کا دادا میت کے بھتیجے کی موجودگی میں، اہل علم کے اجماع کے مطابق، بھتیجے کو محجوب کر دے گا۔ تو پھر میت کا دادا میت کے بھائی کو کیوں محجوب نہیں کر سکتا؟ لہٰذا جو دادا کی معیت میں بھائیوں کو وارث قرار دیتا ہے اس کے پاس کوئی نص ہے نہ اشارہ نہ تنبیہ اور نہ قیاس صحیح۔عول اور اس کے احکامعول کے مسائل کے احکام قرآن مجید سے مستفاد ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب مواریث کے لیے حصے مقرر کر دیے ہیں اور ان کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔وہ ایک دوسرے کو محجوب کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔ اگر وہ ایک دوسرے کو محجوب کرتے ہیں تو وراثت میں محجوب ساقط ہو جاتا ہے اور وہ کسی چیز کا مستحق نہیں رہتا۔ اگر وہ ایک دوسرے کو محجوب نہیں کرتے تو وہ مندرجہ ذیل دو صورتوں سے خالی نہیں۔ یا تو وہ ترکہ کے تمام حصے کے وارث نہیں بنتے۔ (یعنی ورثاء کو ان کے شرعی حصے دینے کے بعد بھی ترکہ بچ جاتا ہے)یا وہ ترکہ کے تمام حصوں کے وارث اس طرح بنتے ہیں کہ یہ مقرر کردہ حصے مجموعی طور پر نہ تو ترکہ سے کم ہوتے ہیں اور نہ زیادہ۔ یا مقرر کردہ حصے ترکہ سے بڑھ جاتے ہیں۔پہلی دو صورتوں میں ہر وارث اپنا پورا حصہ حاصل کرتا ہے مگر آخری صورت میں جب حصے ترکہ سے بڑھ جائیں تویہ بھی دو حالتوں سے خالی نہیں۔ یا تو ہم بعض ورثاء کا وہ حصہ کم کر دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کیا ہے اور ان میں سے باقی ورثاء کا حصہ پورا پورا عطا کرتے ہیں۔ یہ ترجیح بلادلیل ہے ان میں سے کوئی ایک نقصان اٹھانے کا کسی دوسرے سے زیادہ مستحق نہیں۔پس دوسری صورت کا یوں تعین ہوتا ہے کہ ہم امکانی حد تک ہر وارث کو اس کا پورا حصہ ادا کرتے ہیں اور موجود ترکہ کو ان کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کر دیتے ہیں جیسے مقروض کے اس مال کو قرض خواہوں کے مابین تقسیم کیا جاتا ہے جو قرض خواہوں کے مطالبے سے کم ہوتا ہے۔ اب اس مال کو عول کے اصول کو استعمال کیے بغیر تقسیم کرنے کا کوئی راستہ نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ علم فرائض (وراثت) میں عول کا مسئلہ بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرما دیا ہے۔رد اور اس کے احکامعول کے اس طریقے کے بالکل برعکس رد کا اصول معلوم ہوا، اس لیے کہ جب اصحاب فروض میں ترکہ کو تقسیم کرنے کے بعد ترکہ میں سے کچھ بچ جائے۔ اور اس کا کوئی حق دار نہ ہو اور قریب یا دور میت کا عصبہ بھی نہ ہو۔ اگر یہ بچا ہوا ترکہ کسی ایک کو عطا کر دیں تو یہ بلادلیل ترجیح ہے۔ اور یہ بچا ہوا کسی ایسے شخص کو دے دینا جو میت کا قریبی نہیں ہے تو یہ گناہ، کج روی اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مخالفت ہے ﴿ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾(الانفال:8؍75) ’’اور رشتہ دار اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔‘‘ پس یہ بات متحقق ہو گئی کہ بچا ہوا ترکہ اصحاب فروض کو ان کے حصے کے مطابق واپس لوٹا دینا چاہیے۔زوجین کی طرف رد کے احکامان فقہاء کے نزدیک جو بچے ہوئے ترکے کو زوجین کی طرف لوٹانے کے قائل نہیں، ان کے مسلک کے مطابق زوجین اپنے مقررہ حصے سے زیادہ لینے کے مستحق نہیں، کیونکہ ان کے درمیان نسبی قرابت نہیں ہوتی۔ مگر صحیح مسلک یہ ہے کہ رد کے ضمن میں زوجین کا حکم بھی وہی ہے جو باقی ورثاء کا ہے۔ مذکورہ بالا دلیل سب کو اسی طرح شامل ہے جس طرح اصول عول میں سب شامل ہیں۔میراث میں ذوی الارحام کا حکماس کے ذریعے سے ذوی الارحام کی وراثت بھی معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اگر میت کے پیچھے کوئی ایسا شخص نہ بچے جو اصحاب فروض (جن کے حصے اللہ کی طرف سے مقرر ہیں) یا عصبہ (میت کا قریب ترین رشتے دار) میں شمار ہوتا ہو تو میراث کا معاملہ دو امور کے مابین گھومتا ہے۔ ترکہ کا مال بیت المال میں جمع ہو جس سے اجنبی لوگ استفادہ کریں یا ترکہ میت کے ان اقارب کی طرف لوٹ جائے جو ورثاء کے متفق علیہ قریبی ہیں۔ ان دونوں میں سے دوسرا مسلک متعین ہے اور اس کی صحت پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے ﴿ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾(الانفال:8؍75)اس لیے میراث کو اولو الارحام کے علاوہ کسی اور طرف پھیرنا اس شخص کو محروم کرنا ہے جو دوسروں سے زیادہ اس کا مستحق ہے۔ پس ذوی الارحام کو وارث بنانا متعین ہو گیا اور جب ان کو وارث بنانا متعین ہو گیا تو یہ معلوم ہو گیا کہ کتاب اللہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے حصے مقرر نہیں فرمائے۔ نیز یہ کہ ان کے اور میت کے درمیان کچھ واسطے ہیں جن کے سبب سے وہ میت کے رشتہ دار بنے پس ان کو اسی مقام پر رکھا جائے گا جس کے ذریعے سے وہ میت کے قریبی بنتے ہیں۔ واللہ اعلم۔میت کا عصبہ کون ہے؟ اور میراث میں اس کا حکمرہی باقی عصبہ کی وراثت جیسے بیٹے، بھائی، بھتیجے، چچا اور چچاؤں کے بیٹے، تو ان کے بارے میں رسول اللہﷺنے فرمایا: ’الحقوا الفرائض باھلھا، فمابقی فلاولیٰ رجل ذکر‘ (صحیح البخاری، الفرائض، باب میراث ابن الابن اذا لم يکن ابن، حديث: 6735 و صحیح مسلم، الفرائض، باب الحقوا الفرائض بأھلھا......، حديث: 1615)’’وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دے دو جو بچ جائے اس مرد کو دے دو جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہے۔‘‘اور فرمایا: ﴿ وَلِكُلٍّ جَعَلۡنَا مَوَالِيَ مِمَّؔا تَرَكَ الۡوَالِدٰؔنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ ﴾(النساء : 4؍33) ’’جو مال ماں باپ اور قریبی رشتہ دار چھوڑ کر مر جاتے ہیں ہم نے ہر ایک کے حق دار مقرر کر دیے ہیں۔‘‘ جب ہم اصحاب فروض کو ان کے مقررہ حصے عطا کر دیں اور کچھ باقی نہ بچے تو عصبہ کسی چیز کا حق دار نہیں ہوتا اور اگر ترکہ میں سے کچھ باقی بچ جائے تو عصبہ میں سے جو سب سے زیادہ مستحق ہیں وہ اپنی جہات اور درجات کے مطابق حصہ لیں گے۔عصبہ کی جہاتعصبہ کی پانچ جہات ہیں: بیٹے، باپ، بھائی اور بھتیجے، چچا اور چچاؤں کے بیٹے، پھر ولاء۔ ان میں سے اس کو مقدم رکھا جائے گا جو جہت کے اعتبار سے سب سے قریب ہے۔ اگر تمام ایک ہی جہت میں واقع ہوں تو ان میں وہ زیادہ مستحق ہے جو منزلت کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے۔ اگر منزلت کے اعتبار سے سب برابر ہوں تو جو سب سے زیادہ قوی ہے وہ زیادہ مستحق ہے اور وہ حقیقی بھائی ہے۔ اگر ہر پہلو سے برابر ہوں تو سب عصبہ میں شریک ہوں گے، اللہ اعلم۔رہا باپ شریک بہنوں کا بیٹیوں کی معیت یا بھتیجیوں کی معیت میں عصبہ ہونا اور ان کا ترکہ میں سے اپنے حصوں سے زائد لینا ۔۔۔۔ تو قرآن مجید میں ایسی کوئی چیز نہیں جو یہ دلالت کرتی ہو کہ بہنیں بیٹیوں کی وجہ سے ساقط ہو جائیں گی۔ جب صورتحال یہ ہو اور بیٹیوں کے اپنا حصہ لینے کے بعد کچھ بچ جائے تو وہ بہنوں کو دیا جائے گا اور ان کو چھوڑ کر اس عصبہ کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی جو ان سے بعید تر ہے۔ مثلاً بھتیجا اور چچا اور وہ لوگ جو ان سے بھی بعید تر ہیں۔ واللہ اعلم۔
4:13

تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِۚ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدۡخِلۡهُ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ

یہ حدیں ہیں اللہ کی اور جو اطاعت کرے گا اللہ اور اس کے رسول کی تو داخل کرے گا وہ اس کو ایسے باغوں میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ ہے کامیابی بہت بڑی(13) اور جونافرمانی کرے گا اللہ اور اس کے رسول کی اور تجاوز کرے گا اس کی حدوں سے تو داخل کرے گا وہ اس کو آگ میں، ہمیشہ رہے گا وہ اس میں اور اس کے لیے عذاب ہے رسوا کن(14) [13] یہ تفاصیل جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے میراث کے ضمن میں کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں جن پر رکنا، ان سے تجاوز نہ کرنا اور ان میں کوتاہی سے بچنا فرض ہے اور اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ وارث کے لیے وصیت منسوخ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام ورثاء کے حصے مقرر کر دیے ہیں اور اس کے بعد فرمایا:﴿تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ اللہ کی حدیں ہیں‘‘ بنابریں وارث کے لیے اس کے حق سے زیادہ وصیت کرنا اس تعدی میں داخل ہے۔ نیز رسول اللہﷺنے فرمایا ہے: ’لَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ‘ (جامع الترمذی، الوصایا، باب ماجاء لا وصیۃ لوارث، حديث:2120، 2121)’’کسی وارث کے حق میں وصیت کرنا جائز نہیں۔‘‘پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے عمومی طور پر اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا اور نافرمانی سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ تاکہ اس عمومی اطاعت کے حکم میں فرائض (وراثت) کی حدود کا التزام اور اس سے تجاوز نہ کرنا بھی شامل ہو جائے۔ فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کو بجا لاکر، جس میں سب سے بڑی چیز توحید میں ان کی اطاعت کرنا ہے، پھر اوامر میں ان کے درجات کے مطابق اطاعت کرنا اور ان کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کرنا ہے، جن میں سب سے بڑا ممنوع اللہ کے ساتھ شرک ہے، پھر دوسری معاصی ہیں، ان کی درجہ بندی کے ساتھ۔ ﴿ يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’اسے اللہ باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتا ہے اور منہیات سے بچتا ہے وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا اور اسے جہنم سے نجات ملے گی۔ ﴿وَذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’یہی وہ بڑی کامیابی ہے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات کے حصول کی ضمانت ہے اور اسی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کے ثواب اور اس کی دائمی نعمتوں سے بہرہ ور ہوا جا سکتا ہے جن کا کوئی وصف بیان نہیں کر سکتا۔ [14]﴿ وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا‘‘ اور نافرمانی میں کفر اور اس سے کم تر گناہ سب شامل ہیں۔ یہاں خوارج کے لیے کوئی شبہ کی گنجائش نہیں جو گناہ گاروں کے کفر کے قائل ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت اور اپنے رسول کی اطاعت پر دخول جنت کو مترتب کیا ہے اور اپنی نافرمانی اور اپنے رسول کی نافرمانی پر دخول جہنم کو مترتب کیا ہے۔ پس جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی کامل اطاعت کرتا ہے وہ بلاعذاب جنت میں داخل ہو گا، اسی طرح جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مکمل نافرمانی کرتا ہے، جس میں شرک اور دیگر گناہ بھی شامل ہیں وہ جہنم میں داخل ہو گا اور ہمیشہ وہاں رہے گا اور جس میں اطاعت اور نافرمانی دونوں مجتمع ہیں تو گویا اس میں اس کی اطاعت اور نافرمانی کی مقدار کے مطابق ثواب اور عذاب کی موجبات موجود ہیں اور نصوص متواترہ دلالت کرتی ہیں کہ موحدین جن کے ساتھ اطاعت توحید ہے، جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ پس جن کے ساتھ توحید ہے، وہ توحید ان کے جہنم میں ہمیشہ رہنے سے مانع ہے (یعنی ایسے لوگ اپنی نافرمانیوں کی سزا بھگت کر بالآخر جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دیے جائیں گے)
4:14

وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَٰلِدٗا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَابٞ مُّهِينٞ

یہ حدیں ہیں اللہ کی اور جو اطاعت کرے گا اللہ اور اس کے رسول کی تو داخل کرے گا وہ اس کو ایسے باغوں میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ ہے کامیابی بہت بڑی(13) اور جونافرمانی کرے گا اللہ اور اس کے رسول کی اور تجاوز کرے گا اس کی حدوں سے تو داخل کرے گا وہ اس کو آگ میں، ہمیشہ رہے گا وہ اس میں اور اس کے لیے عذاب ہے رسوا کن(14) [13] یہ تفاصیل جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے میراث کے ضمن میں کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں جن پر رکنا، ان سے تجاوز نہ کرنا اور ان میں کوتاہی سے بچنا فرض ہے اور اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ وارث کے لیے وصیت منسوخ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام ورثاء کے حصے مقرر کر دیے ہیں اور اس کے بعد فرمایا:﴿تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ اللہ کی حدیں ہیں‘‘ بنابریں وارث کے لیے اس کے حق سے زیادہ وصیت کرنا اس تعدی میں داخل ہے۔ نیز رسول اللہﷺنے فرمایا ہے: ’لَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ‘ (جامع الترمذی، الوصایا، باب ماجاء لا وصیۃ لوارث، حديث:2120، 2121)’’کسی وارث کے حق میں وصیت کرنا جائز نہیں۔‘‘پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے عمومی طور پر اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا اور نافرمانی سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ تاکہ اس عمومی اطاعت کے حکم میں فرائض (وراثت) کی حدود کا التزام اور اس سے تجاوز نہ کرنا بھی شامل ہو جائے۔ فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کو بجا لاکر، جس میں سب سے بڑی چیز توحید میں ان کی اطاعت کرنا ہے، پھر اوامر میں ان کے درجات کے مطابق اطاعت کرنا اور ان کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کرنا ہے، جن میں سب سے بڑا ممنوع اللہ کے ساتھ شرک ہے، پھر دوسری معاصی ہیں، ان کی درجہ بندی کے ساتھ۔ ﴿ يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’اسے اللہ باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتا ہے اور منہیات سے بچتا ہے وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا اور اسے جہنم سے نجات ملے گی۔ ﴿وَذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’یہی وہ بڑی کامیابی ہے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے نجات کے حصول کی ضمانت ہے اور اسی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کے ثواب اور اس کی دائمی نعمتوں سے بہرہ ور ہوا جا سکتا ہے جن کا کوئی وصف بیان نہیں کر سکتا۔ [14]﴿ وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا‘‘ اور نافرمانی میں کفر اور اس سے کم تر گناہ سب شامل ہیں۔ یہاں خوارج کے لیے کوئی شبہ کی گنجائش نہیں جو گناہ گاروں کے کفر کے قائل ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت اور اپنے رسول کی اطاعت پر دخول جنت کو مترتب کیا ہے اور اپنی نافرمانی اور اپنے رسول کی نافرمانی پر دخول جہنم کو مترتب کیا ہے۔ پس جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی کامل اطاعت کرتا ہے وہ بلاعذاب جنت میں داخل ہو گا، اسی طرح جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مکمل نافرمانی کرتا ہے، جس میں شرک اور دیگر گناہ بھی شامل ہیں وہ جہنم میں داخل ہو گا اور ہمیشہ وہاں رہے گا اور جس میں اطاعت اور نافرمانی دونوں مجتمع ہیں تو گویا اس میں اس کی اطاعت اور نافرمانی کی مقدار کے مطابق ثواب اور عذاب کی موجبات موجود ہیں اور نصوص متواترہ دلالت کرتی ہیں کہ موحدین جن کے ساتھ اطاعت توحید ہے، جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ پس جن کے ساتھ توحید ہے، وہ توحید ان کے جہنم میں ہمیشہ رہنے سے مانع ہے (یعنی ایسے لوگ اپنی نافرمانیوں کی سزا بھگت کر بالآخر جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دیے جائیں گے)
4:15

وَٱلَّـٰتِي يَأۡتِينَ ٱلۡفَٰحِشَةَ مِن نِّسَآئِكُمۡ فَٱسۡتَشۡهِدُواْ عَلَيۡهِنَّ أَرۡبَعَةٗ مِّنكُمۡۖ فَإِن شَهِدُواْ فَأَمۡسِكُوهُنَّ فِي ٱلۡبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّىٰهُنَّ ٱلۡمَوۡتُ أَوۡ يَجۡعَلَ ٱللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلٗا

اور وہ جو کریں بے حیائی کا کام تمھاری عورتوں میں سے تو گواہ ٹھہرا لو تم ان پر چار مرد اپنے میں سے۔ پس اگر وہ گواہی دیں تو بند رکھو ان کو گھروں میں یہاں تک کہ ختم کر دے ان کو موت یا بنا دے اللہ ان کے لیے کوئی راستہ(15) اور وہ دو مردجو کریں یہی بے حیائی کا کام تم میں سے تو ایذا دو ان کو، پس اگر وہ توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں تو درگزر کرو ان سے، بلاشبہ اللہ ہے بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان(16) [15] یعنی عورتیں ﴿ وَالّٰتِيۡ يَاۡتِيۡنَ الۡفَاحِشَةَ ﴾ ’’جو زنا کا ارتکاب کرتی ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ نے زنا کو اس کی قباحت اور برائی کی وجہ سے فاحشہ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ ﴿ فَاسۡتَشۡهِدُوۡا۠ عَلَيۡهِنَّ اَرۡبَعَةً مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’اپنے میں سے چار اہل ایمان عادل مردوں کو گواہ بنا لو‘‘ ﴿ فَاِنۡ شَهِدُوۡا فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ فِي الۡبُيُوۡتِ ﴾ ’’اگر وہ گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں محبوس کر دو‘‘ اور باہر جانے سے روک دو جو شک و شبہ کا موجب ہے۔ نیز گھر میں محبوس کر دینا ایک قسم کی سزا بھی ہے ﴿حَتّٰى يَتَوَفّٰهُنَّ الۡمَوۡتُ ﴾ ’’یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کر دے‘‘ یعنی یہ محبوس رکھنے کی انتہا ہے ﴿ اَوۡ يَجۡعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِيۡلًا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں گھروں میں محبوس کرنے کے علاوہ کوئی اور طریقہ مقرر فرما دے۔یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں بلکہ یہ تو اس وقت تک کے لیے غایت مقرر ہے (جب تک اللہ تعالیٰ اس کے لیے کوئی اور راستہ نہیں نکال دیتا) اسلام کی ابتدا میں یہی طریقہ رائج رہا جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا متبادل حکم نازل نہیں فرما دیا۔ اور وہ ہے شادی شدہ زانی اور زانیہ کو رجم کرنا اور غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگانا۔ [16] اور اسی طرح ﴿ وَالَّذٰنِ يَاۡتِيٰؔنِهَا مِنۡكُمۡ ﴾ تمھارے مردوں اور عورتوں میں سے جو کوئی اس فحش کام کا ارتکاب کرتا ہے ﴿ فَاٰذُوۡهُمَا ﴾ پس انھیں زبانی طور پر زجر و توبیخ اور ملامت کرو اور اس برے کام پر عار دلاؤ اور ان کو عبرت ناک مارپیٹ کی سزا دو، جس سے یہ اس فحش کام سے رک جائیں۔ تب اس صورت میں مردوں کو اس فحش کام کے ارتکاب پر مار پیٹ کی سزا دی جائے اور عورتوں کو گھروں میں محبوس رکھ کر سزا دی جائے۔پس حبس (گھر میں بند کر دینا) کی انتہا، موت ہے اور مار پیٹ کی اذیت کی انتہا، توبہ اور اصلاح ہے بنا بریں فرمایا ﴿ فَاِنۡ تَابَا ﴾ یعنی اگر وہ اپنے اس گناہ سے رجوع کر لیں جس کا انھوں نے ارتکاب کیا اس فعل پر نادم ہوں اور دوبارہ نہ کرنے کا عزم کریں ﴿ وَاَصۡلَحَا ﴾ یعنی اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں جو ان کی سچی توبہ پر دلالت کرے ﴿ فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡهُمَا ﴾ تو ان کو اذیت پہنچانے سے گریز کرو ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِيۡمًا ﴾ یعنی وہ خطاکار گناہ گاروں کی توبہ کو بہت کثرت سے قبول کرتا ہے، وہ عظیم رحمت و احسان کا مالک ہے۔ یہ اس کا احسان ہے کہ اس نے انھیں توبہ کی توفیق سے نوازا پھر ان کی توبہ کو قبول فرمایا اور ان سے صادر ہونے والے گناہوں کے بارے میں ان سے نرمی اختیار کی۔ان دو آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ زنا کی شہادت میں چار مومن مردوں کی گواہی ضروری ہے اور ان کی عدالت کی شرط عائد کرنا بطریق اولیٰ ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس فحش کام کے بارے میں بہت سختی کی ہے تاکہ اس سے بندوں کی پردہ پوشی رہے۔ یہاں تک کہ اس بارے میں عورتوں کی شہادت، خواہ وہ اکیلی ہو یا مردوں کی معیت میں، ناقابل قبول ٹھہرایا ہے اور چار مردوں سے کم کی گواہی بھی قبول نہیں کی نیز اس میں صراحت کے ساتھ شہادت کو لازم قرار دیا ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں اور یہ آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے ﴿ فَاسۡتَشۡهِدُوۡا۠ عَلَيۡهِنَّ اَرۡبَعَةً مِّؔنۡكُمۡ ﴾ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فرمایا: ﴿ فَاِنۡ شَهِدُوۡا ﴾ یعنی ایک ایسے معاملے میں اشارہ کنایہ کے بغیر صریح شہادت لازم ہے جسے آنکھوں سے مشاہدہ کیا گیا ہو۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ قول و فعل سے اذیت پہنچانا اور قید کر دینا، اس کو اللہ نے معصیت کاری کے لیے تعزیر بنایا جس سے زجروتوبیخ کا مقصد حاصل ہوتا ہے۔
4:16

وَٱلَّذَانِ يَأۡتِيَٰنِهَا مِنكُمۡ فَـَٔاذُوهُمَاۖ فَإِن تَابَا وَأَصۡلَحَا فَأَعۡرِضُواْ عَنۡهُمَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ تَوَّابٗا رَّحِيمًا

اور وہ جو کریں بے حیائی کا کام تمھاری عورتوں میں سے تو گواہ ٹھہرا لو تم ان پر چار مرد اپنے میں سے۔ پس اگر وہ گواہی دیں تو بند رکھو ان کو گھروں میں یہاں تک کہ ختم کر دے ان کو موت یا بنا دے اللہ ان کے لیے کوئی راستہ(15) اور وہ دو مردجو کریں یہی بے حیائی کا کام تم میں سے تو ایذا دو ان کو، پس اگر وہ توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں تو درگزر کرو ان سے، بلاشبہ اللہ ہے بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان(16) [15] یعنی عورتیں ﴿ وَالّٰتِيۡ يَاۡتِيۡنَ الۡفَاحِشَةَ ﴾ ’’جو زنا کا ارتکاب کرتی ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ نے زنا کو اس کی قباحت اور برائی کی وجہ سے فاحشہ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ ﴿ فَاسۡتَشۡهِدُوۡا۠ عَلَيۡهِنَّ اَرۡبَعَةً مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’اپنے میں سے چار اہل ایمان عادل مردوں کو گواہ بنا لو‘‘ ﴿ فَاِنۡ شَهِدُوۡا فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ فِي الۡبُيُوۡتِ ﴾ ’’اگر وہ گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں محبوس کر دو‘‘ اور باہر جانے سے روک دو جو شک و شبہ کا موجب ہے۔ نیز گھر میں محبوس کر دینا ایک قسم کی سزا بھی ہے ﴿حَتّٰى يَتَوَفّٰهُنَّ الۡمَوۡتُ ﴾ ’’یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کر دے‘‘ یعنی یہ محبوس رکھنے کی انتہا ہے ﴿ اَوۡ يَجۡعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِيۡلًا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں گھروں میں محبوس کرنے کے علاوہ کوئی اور طریقہ مقرر فرما دے۔یہ آیت کریمہ منسوخ نہیں بلکہ یہ تو اس وقت تک کے لیے غایت مقرر ہے (جب تک اللہ تعالیٰ اس کے لیے کوئی اور راستہ نہیں نکال دیتا) اسلام کی ابتدا میں یہی طریقہ رائج رہا جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا متبادل حکم نازل نہیں فرما دیا۔ اور وہ ہے شادی شدہ زانی اور زانیہ کو رجم کرنا اور غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگانا۔ [16] اور اسی طرح ﴿ وَالَّذٰنِ يَاۡتِيٰؔنِهَا مِنۡكُمۡ ﴾ تمھارے مردوں اور عورتوں میں سے جو کوئی اس فحش کام کا ارتکاب کرتا ہے ﴿ فَاٰذُوۡهُمَا ﴾ پس انھیں زبانی طور پر زجر و توبیخ اور ملامت کرو اور اس برے کام پر عار دلاؤ اور ان کو عبرت ناک مارپیٹ کی سزا دو، جس سے یہ اس فحش کام سے رک جائیں۔ تب اس صورت میں مردوں کو اس فحش کام کے ارتکاب پر مار پیٹ کی سزا دی جائے اور عورتوں کو گھروں میں محبوس رکھ کر سزا دی جائے۔پس حبس (گھر میں بند کر دینا) کی انتہا، موت ہے اور مار پیٹ کی اذیت کی انتہا، توبہ اور اصلاح ہے بنا بریں فرمایا ﴿ فَاِنۡ تَابَا ﴾ یعنی اگر وہ اپنے اس گناہ سے رجوع کر لیں جس کا انھوں نے ارتکاب کیا اس فعل پر نادم ہوں اور دوبارہ نہ کرنے کا عزم کریں ﴿ وَاَصۡلَحَا ﴾ یعنی اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں جو ان کی سچی توبہ پر دلالت کرے ﴿ فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡهُمَا ﴾ تو ان کو اذیت پہنچانے سے گریز کرو ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِيۡمًا ﴾ یعنی وہ خطاکار گناہ گاروں کی توبہ کو بہت کثرت سے قبول کرتا ہے، وہ عظیم رحمت و احسان کا مالک ہے۔ یہ اس کا احسان ہے کہ اس نے انھیں توبہ کی توفیق سے نوازا پھر ان کی توبہ کو قبول فرمایا اور ان سے صادر ہونے والے گناہوں کے بارے میں ان سے نرمی اختیار کی۔ان دو آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ زنا کی شہادت میں چار مومن مردوں کی گواہی ضروری ہے اور ان کی عدالت کی شرط عائد کرنا بطریق اولیٰ ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس فحش کام کے بارے میں بہت سختی کی ہے تاکہ اس سے بندوں کی پردہ پوشی رہے۔ یہاں تک کہ اس بارے میں عورتوں کی شہادت، خواہ وہ اکیلی ہو یا مردوں کی معیت میں، ناقابل قبول ٹھہرایا ہے اور چار مردوں سے کم کی گواہی بھی قبول نہیں کی نیز اس میں صراحت کے ساتھ شہادت کو لازم قرار دیا ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں اور یہ آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے ﴿ فَاسۡتَشۡهِدُوۡا۠ عَلَيۡهِنَّ اَرۡبَعَةً مِّؔنۡكُمۡ ﴾ پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فرمایا: ﴿ فَاِنۡ شَهِدُوۡا ﴾ یعنی ایک ایسے معاملے میں اشارہ کنایہ کے بغیر صریح شہادت لازم ہے جسے آنکھوں سے مشاہدہ کیا گیا ہو۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ قول و فعل سے اذیت پہنچانا اور قید کر دینا، اس کو اللہ نے معصیت کاری کے لیے تعزیر بنایا جس سے زجروتوبیخ کا مقصد حاصل ہوتا ہے۔
4:17

إِنَّمَا ٱلتَّوۡبَةُ عَلَى ٱللَّهِ لِلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٖ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٖ فَأُوْلَـٰٓئِكَ يَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمٗا

یقینا توبہ (کا قبول کرنا) تو اللہ کے ذمے انھی لوگوں کے لیے ہے جو کرتے ہیں برا کام جہالت سے، پھر توبہ کر لیتے ہیں جلد ہی۔ پس یہی لوگ ہیں کہ متوجہ ہوتا ہے اللہ ان پر (یعنی توبہ قبول کر لیتا ہے) اور ہے اللہ بہت جاننے والا بڑا حکمت والا(17) اور نہیں توبہ (قبول ہوتی) ان لوگوں کی جو کرتے (رہتے) ہیں برے کام، یہاں تک کہ جب آتی ہے ایک کو ان میں سے موت تو کہتا ہے، بے شک میں نے توبہ کی اب اور نہ ان لوگوں کی جو مرتے ہیں اس حال میں کہ وہ کافر ہی ہوتے ہیں۔ یہ لوگ، تیار کیا ہے ہم نے ان کے لیے عذاب بہت دردناک(18) [18,17] اللہ تعالیٰ کا بندوں کی طرف رجوع کرنے کی دو قسمیں ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ کا بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرنا۔ (۲) بندے کے توبہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا اس کو قبول کر لینا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ توبہ اللہ تعالیٰ پر استحقاق ہے، قبولیت توبہ ایک ایسا حق ہے جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے جود و کرم کی بنا پر اپنے آپ پر اس بندے کے لیے لازم فرمایا ہے جو برا کام کر بیٹھتا ہے ﴿ بِجَهَالَةٍ ﴾یعنی وہ اس برائی کے انجام، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے، جس کی یہ برائی موجب ہوتی ہے۔۔۔ لاعلمی کی وجہ سے برائی کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ برائی کرتے وقت اس بات سے بھی جاہل ہوتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے نیز وہ اس سے بھی لاعلم ہوتا ہے کہ برائی کا ارتکاب ایمان میں کمی یا اسے معدوم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا ہر نافرمان شخص اس اعتبار سے جاہل ہوتا ہے خواہ وہ اس برائی کی تحریم کا علم رکھتا ہو۔ بلکہ برائی کی تحریم کا علم، اس کے معصیت ہونے اور اس کے مرتکب کی سزا کے لیے شرط ہے۔﴿ ثُمَّ يَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِيۡبٍ ﴾ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ موت کو دیکھ لینے سے قبل توبہ کر لیتے ہیں۔ یہ بات قطعی ہے کہ جب بندہ موت کے معائنہ سے قبل توبہ کر لیتاہے تو اللہ بندے کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ موت کو دیکھ لینے کے بعد گناہ گاروں کی توبہ قابل قبول نہیں ہوتی اور نہ کفار کے لیے رجوع کی کوئی گنجائش رہتی ہے۔ فرعون کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدۡرَؔكَهُ الۡغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾(یونس : 10؍90) ’’یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ﴿ فَلَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗ وَؔكَفَرۡنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشۡرِكِيۡنَ۰۰ فَلَمۡ يَكُ يَنۡفَعُهُمۡ اِيۡمَانُهُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيۡ قَدۡ خَلَتۡ فِيۡ عِبَادِهٖ١ۚ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾(المومن:40؍84،85) ’’جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو انھوں نے کہا ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور ہم نے ان خداؤں کا انکار کیا جنھیں ہم اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے۔ مگر جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہے۔‘‘یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَيۡسَتِ التَّوۡبَةُ لِلَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ السَّؔيِّاٰتِ ﴾ ’’ان کی توبہ نہیں جو برائیاں کرتے چلے جائیں‘‘ یہاں برائیوں سے مراد کفر سے کم تر گناہ ہیں ﴿ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ اِنِّيۡ تُبۡتُ الۡـٰٔنَ وَلَا الَّذِيۡنَ يَمُوۡتُوۡنَ وَهُمۡ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے تو کہہ دے کہ میں نے اب توبہ کی، ان کی توبہ قبول نہیں جو کفر پر ہی مر جائیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہم نے الم ناک عذاب تیار کر رکھے ہیں‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حالت میں توبہ اضطراری توبہ ہے جو توبہ کرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ صرف اختیاری توبہ فائدہ دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ مِنۡ قَرِيۡبٍ ﴾ میں اس معنیٰ کا بھی احتمال ہے کہ توبہ کے موجب، گناہ کے ارتکاب کے ساتھ ہی توبہ کی جائے ۔۔۔ تب آیت کا معنیٰ یہ ہو گا ’’جس کسی نے برائی کا ارتکاب کرتے ہی برائی کو چھوڑنے میں جلدی کی اور نادم ہو کر اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔‘‘ اس کے برعکس وہ شخص جو اپنے گناہ پر قائم اور اپنے عیوب پر مصر رہتا ہے یہاں تک کہ یہ گناہ اس کی عادت راسخہ بن جاتا ہے تب اس کے لیے پوری طرح توبہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ غالب طور پر اسے توبہ کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ اور اس کے لیے توبہ کے اسباب مہیا نہیں کیے جاتے۔ مثلاً وہ شخص جو جانتے بوجھتے اور اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے اور استہزا کے ساتھ برے اعمال کا ارتکاب کرتا ہے وہ اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوئے عمداً گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے اور ان گناہوں پر مصر رہتا ہے مگر اللہ اسے توبہ نافعہ کی توفیق عطا کر دیتا ہے یہ توبہ اس کے گزشتہ گناہ اور جرائم کو دھو ڈالتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی توفیق پہلے شخص کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت اس طرح ختم فرمائی:﴿ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’اللہ علم اور حکمت والا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے جاننے میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ جانتا ہے کہ کون سچی توبہ کرتا ہے اور کون اپنی توبہ میں جھوٹا ہے، ان میں سے ہر ایک کو اپنی حکمت کے مطابق، جس کا وہ مستحق ہو گا، جزا دیتا ہے اور یہ بھی اس کی حکمت کا حصہ ہے کہ وہ اسے توبہ کی توفیق عطا کر دیتا ہے جس کے لیے اس کی حکمت، رحمت اور توفیق تقاضا کرتی ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ کر علیحدہ ہو جاتا ہے جس کو چھوڑنا اس کا عدل و حکمت اور عدم توفیق تقاضا کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
4:18

وَلَيۡسَتِ ٱلتَّوۡبَةُ لِلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ حَتَّىٰٓ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ ٱلۡمَوۡتُ قَالَ إِنِّي تُبۡتُ ٱلۡـَٰٔنَ وَلَا ٱلَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمۡ كُفَّارٌۚ أُوْلَـٰٓئِكَ أَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا

یقینا توبہ (کا قبول کرنا) تو اللہ کے ذمے انھی لوگوں کے لیے ہے جو کرتے ہیں برا کام جہالت سے، پھر توبہ کر لیتے ہیں جلد ہی۔ پس یہی لوگ ہیں کہ متوجہ ہوتا ہے اللہ ان پر (یعنی توبہ قبول کر لیتا ہے) اور ہے اللہ بہت جاننے والا بڑا حکمت والا(17) اور نہیں توبہ (قبول ہوتی) ان لوگوں کی جو کرتے (رہتے) ہیں برے کام، یہاں تک کہ جب آتی ہے ایک کو ان میں سے موت تو کہتا ہے، بے شک میں نے توبہ کی اب اور نہ ان لوگوں کی جو مرتے ہیں اس حال میں کہ وہ کافر ہی ہوتے ہیں۔ یہ لوگ، تیار کیا ہے ہم نے ان کے لیے عذاب بہت دردناک(18) [18,17] اللہ تعالیٰ کا بندوں کی طرف رجوع کرنے کی دو قسمیں ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ کا بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرنا۔ (۲) بندے کے توبہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا اس کو قبول کر لینا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ توبہ اللہ تعالیٰ پر استحقاق ہے، قبولیت توبہ ایک ایسا حق ہے جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے جود و کرم کی بنا پر اپنے آپ پر اس بندے کے لیے لازم فرمایا ہے جو برا کام کر بیٹھتا ہے ﴿ بِجَهَالَةٍ ﴾یعنی وہ اس برائی کے انجام، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے، جس کی یہ برائی موجب ہوتی ہے۔۔۔ لاعلمی کی وجہ سے برائی کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ برائی کرتے وقت اس بات سے بھی جاہل ہوتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے نیز وہ اس سے بھی لاعلم ہوتا ہے کہ برائی کا ارتکاب ایمان میں کمی یا اسے معدوم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا ہر نافرمان شخص اس اعتبار سے جاہل ہوتا ہے خواہ وہ اس برائی کی تحریم کا علم رکھتا ہو۔ بلکہ برائی کی تحریم کا علم، اس کے معصیت ہونے اور اس کے مرتکب کی سزا کے لیے شرط ہے۔﴿ ثُمَّ يَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِيۡبٍ ﴾ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ موت کو دیکھ لینے سے قبل توبہ کر لیتے ہیں۔ یہ بات قطعی ہے کہ جب بندہ موت کے معائنہ سے قبل توبہ کر لیتاہے تو اللہ بندے کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ موت کو دیکھ لینے کے بعد گناہ گاروں کی توبہ قابل قبول نہیں ہوتی اور نہ کفار کے لیے رجوع کی کوئی گنجائش رہتی ہے۔ فرعون کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدۡرَؔكَهُ الۡغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾(یونس : 10؍90) ’’یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ﴿ فَلَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗ وَؔكَفَرۡنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشۡرِكِيۡنَ۰۰ فَلَمۡ يَكُ يَنۡفَعُهُمۡ اِيۡمَانُهُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيۡ قَدۡ خَلَتۡ فِيۡ عِبَادِهٖ١ۚ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾(المومن:40؍84،85) ’’جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو انھوں نے کہا ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور ہم نے ان خداؤں کا انکار کیا جنھیں ہم اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے۔ مگر جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہے۔‘‘یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَيۡسَتِ التَّوۡبَةُ لِلَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ السَّؔيِّاٰتِ ﴾ ’’ان کی توبہ نہیں جو برائیاں کرتے چلے جائیں‘‘ یہاں برائیوں سے مراد کفر سے کم تر گناہ ہیں ﴿ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ اِنِّيۡ تُبۡتُ الۡـٰٔنَ وَلَا الَّذِيۡنَ يَمُوۡتُوۡنَ وَهُمۡ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے تو کہہ دے کہ میں نے اب توبہ کی، ان کی توبہ قبول نہیں جو کفر پر ہی مر جائیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہم نے الم ناک عذاب تیار کر رکھے ہیں‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حالت میں توبہ اضطراری توبہ ہے جو توبہ کرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ صرف اختیاری توبہ فائدہ دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ مِنۡ قَرِيۡبٍ ﴾ میں اس معنیٰ کا بھی احتمال ہے کہ توبہ کے موجب، گناہ کے ارتکاب کے ساتھ ہی توبہ کی جائے ۔۔۔ تب آیت کا معنیٰ یہ ہو گا ’’جس کسی نے برائی کا ارتکاب کرتے ہی برائی کو چھوڑنے میں جلدی کی اور نادم ہو کر اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔‘‘ اس کے برعکس وہ شخص جو اپنے گناہ پر قائم اور اپنے عیوب پر مصر رہتا ہے یہاں تک کہ یہ گناہ اس کی عادت راسخہ بن جاتا ہے تب اس کے لیے پوری طرح توبہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ غالب طور پر اسے توبہ کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ اور اس کے لیے توبہ کے اسباب مہیا نہیں کیے جاتے۔ مثلاً وہ شخص جو جانتے بوجھتے اور اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے اور استہزا کے ساتھ برے اعمال کا ارتکاب کرتا ہے وہ اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوئے عمداً گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے اور ان گناہوں پر مصر رہتا ہے مگر اللہ اسے توبہ نافعہ کی توفیق عطا کر دیتا ہے یہ توبہ اس کے گزشتہ گناہ اور جرائم کو دھو ڈالتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی توفیق پہلے شخص کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت اس طرح ختم فرمائی:﴿ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’اللہ علم اور حکمت والا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے جاننے میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ جانتا ہے کہ کون سچی توبہ کرتا ہے اور کون اپنی توبہ میں جھوٹا ہے، ان میں سے ہر ایک کو اپنی حکمت کے مطابق، جس کا وہ مستحق ہو گا، جزا دیتا ہے اور یہ بھی اس کی حکمت کا حصہ ہے کہ وہ اسے توبہ کی توفیق عطا کر دیتا ہے جس کے لیے اس کی حکمت، رحمت اور توفیق تقاضا کرتی ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ کر علیحدہ ہو جاتا ہے جس کو چھوڑنا اس کا عدل و حکمت اور عدم توفیق تقاضا کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
4:19

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَرِثُواْ ٱلنِّسَآءَ كَرۡهٗاۖ وَلَا تَعۡضُلُوهُنَّ لِتَذۡهَبُواْ بِبَعۡضِ مَآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ إِلَّآ أَن يَأۡتِينَ بِفَٰحِشَةٖ مُّبَيِّنَةٖۚ وَعَاشِرُوهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ فَإِن كَرِهۡتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰٓ أَن تَكۡرَهُواْ شَيۡـٔٗا وَيَجۡعَلَ ٱللَّهُ فِيهِ خَيۡرٗا كَثِيرٗا

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہیں ہے حلال تمھارے لیے یہ کہ وارث ہو جاؤ تم عورتوں کے زبردستی اور نہ روکو تم انھیں تاکہ لے لو تم کچھ (حصہ) اس (حق مہر) کا جو دیا تم نے ان کو۔ مگر یہ کہ کریں وہ بے حیائی کھلی کا کام۔ اور گزر بسر کرو تم ان کے ساتھ خوش اسلوبی سے۔ پس اگر ناپسند کرو تم ان کو تو شاید کہ ناپسند کرو تم کسی چیز کو اور کر دے اللہ اس میں بھلائی بہت (19) اور اگر چاہو تم بدلنا ایک بیوی کا ایک بیوی کی جگہ اور دیا ہو تم نے ایک کو ان میں سے بہت سا مال، پس نہ (واپس) لو تم اس میں سے کچھ بھی۔ کیا لو گے تم اسے بہتان باندھ کر اور گناہ صریح سے؟(20) اور کیسے لو گے تم اسے، جبکہ ملاپ کر چکا ہے ایک تمھارا دوسرے سےاور لیا ہے ان عورتوں نے تم سے عہد پختہ(21) [19] زمانہ جاہلیت میں اگر کوئی شخص مر جاتا اور اپنے پیچھے بیوی چھوڑتا تو مرنے والے کا کوئی قریبی مثلاً بھائی یا چچا زاد بھائی وغیرہ سمجھتا تھا کہ وہ اس عورت کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔ چنانچہ عورت خواہ پسند کرتی یا ناپسند کرتی وہ اس عورت پر قبضہ کر لیتا تھا اور اسے کسی اور کے ساتھ نکاح نہ کرنے دیتا۔ اگر وہ چاہتا تو وہ اس کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق حق مہر پر اس سے نکاح کر لیتا۔ اور اگر وہ اسے پسند نہ کرتا تو اسے نکاح کرنے سے روک دیتا اور صرف اسی کے ساتھ اس کا نکاح کرتا جسے وہ خود منتخب کرتا اور بسااوقات وہ اس کا نکاح اس وقت تک نہ ہونے دیتا جب تک وہ مرنے والے شوہر کی میراث یا مہر میں سے اسے کچھ نہ دے دیتی۔ نیز وہ اپنی ناپسندیدہ بیوی کو بھی روک رکھتا اور دوسری جگہ نکاح نہ کرنے دیتا تاکہ وہ اپنا حق مہر اور وہ سامان ساتھ نہ لے جائے جو اس نے اسے عطا کیا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان تمام امور سے اہل ایمان کو منع کیا ہے۔ سوائے مندرجہ ذیل دو حالتوں کے۔۱۔ جب عورت برضا و رغبت اپنے سابقہ شوہر کے کسی قریبی رشتہ دار کے ساتھ نکاح کر لے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ كَرۡهًا ﴾ کا مفہوم مخالف ہے۔۲۔ جب واضح بدکاری مثلاً زنا وغیرہ کا ارتکاب کرے اور فحش گوئی کے ذریعے سے اپنے شوہر کو اذیت دے، تو اس صورت میں خاوند کا اس کو اس کے کرتوتوں کی سزا کے طور پر، دوسری جگہ شادی کرنے سے روکنا جائز ہے، تاکہ وہ خاوند سے وصول کردہ مال واپس کرنے پر آمادہ ہو جائے۔ (یہ گویا خلع کی صورت ہے جس میں خاوند حق مہر وغیرہ واپس لے سکتا ہے)لیکن شرط یہی ہے کہ یہ روکنا عدل و انصاف کے مطابق ہو۔﴿ وَعَاشِرُوۡهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’اور ان سے اچھے طریقے سے گزران کرو‘‘ یہ حکم قولی اور فعلی دونوں قسم کی معاشرت (گزران)کو شامل ہے، پس شوہر پر فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھے طریقے سے رہے، اسے کوئی اذیت نہ دے اس کے ساتھ بھلائی اور حسن معاملہ سے پیش آئے۔ اس میں نان و نفقہ، اور لباس وغیرہ سب شامل ہے۔ پس زمان و مکان کے احوال کے مطابق شوہر کا بیوی سے معروف طریقے سے پیش آنا فرض ہے اور اسی طرح بیوی پر بھی فرض ہے۔ یہ چیز احوال کے تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتی ہے۔﴿ فَاِنۡ كَرِهۡتُمُوۡهُنَّ فَعَسٰۤى اَنۡ تَؔكۡرَهُوۡا شَيۡـًٔـا وَّيَجۡعَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ خَيۡرًا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اگر تم انھیں ناپسند کرو، لیکن بہت ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو برا جانو اور اللہ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے‘‘ یعنی اے شوہرو تم اپنی بیویوں کو ناپسند کرنے کے باوجود اپنے پاس رکھو کیونکہ ایسا کرنے میں خیر کثیر ہے۔ مثلاً، اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کی وصیت کو قبول کرنا ہے، جس کے اندر دنیا و آخرت کی سعادت ہے۔۳۔ شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ عدم محبت کے باوجود اپنے آپ کو اس کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا، اس میں مجاہدۂ نفس بھی ہے اور خلق جمیل سے آراستہ ہونا بھی۔۴۔ بسااوقات ناپسندیدگی زائل ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ محبت لے لیتی ہے جیسا کہ فی الواقع ہوتا ہے۔۵۔ اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں کو صالح اولاد عطا کر دیتا ہے جو دنیا و آخرت میں اپنے والدین کو نفع دیتی ہے۔ [20] بیوی کو اپنے ساتھ رکھنے میں ان تمام امور کے امکانات موجود ہیں، البتہ جب بیوی سے مفارقت ناگزیر ہو جائے اور اس کو ساتھ رکھنے کی کوئی صورت بنتی نظر نہ آئے، تب اسے روک رکھنا لازم نہیں ﴿وَ اِنۡ اَرَدۡتُّمُ اسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٍ مَّكَانَ زَوۡجٍ ﴾ یعنی جب تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانا چاہو یعنی ایک بیوی کو طلاق دے کر دوسری بیوی سے نکاح کرنا چاہو تو اس میں کوئی گناہ اور حرج کی بات نہیں ﴿ وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰؔىهُنَّ ﴾ البتہ اگر تم نے جدا ہونے والی بیوی کو یا اس کو جس سے نکاح کیا ہے ﴿ قِنۡطَارًا ﴾ مال کثیر عطا کر رکھا ہو ﴿ فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡهُ شَيۡـًٔا ﴾ تو اس سے کوئی چیز واپس نہ لو بلکہ اس میں اور زیادتی کرو اور ان کے ساتھ ٹال مٹول نہ کرو۔یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کثرت مہر حرام نہیں۔ مگر بایں ہمہ تخفیف مہر میں رسول اللہﷺکی اقتدا افضل اور زیادہ لائق اعتنا ہے اور استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک معاملے کی خبر دی ہے جو ان سے واقع ہوا، مگر اس پر نکیر نہیں فرمائی، جس سے معلوم ہوا کہ یہ فعل حرام نہیں ہے، مگر کبھی زیادہ حق مہر مقرر کرنے سے روکا بھی گیا ہے جبکہ اس میں دینی مفاسد ہوں اور اس کے مقابلے میں کوئی مصلحت نہ ہو۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اَتَاۡخُذُوۡنَهٗ۠ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّؔبِيۡنًا ﴾ ’’کیا تم اسے ناحق اور کھلا گناہ ہوتے ہوئے بھی لے لو گے‘‘ کیونکہ ایسا کرنا جائز نہیں خواہ تم بیوی کو عطا کی ہوئی چیز واپس لینے کے لیے کوئی بھی حیلہ کر لو، بہرحال یہ واضح گناہ ہے۔ [21] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی حکمت بیان فرمائی ہے ﴿ وَؔ كَيۡفَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ وَقَدۡ اَفۡضٰى بَعۡضُكُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ وَّاَخَذۡنَ مِنۡكُمۡ مِّؔيۡثَاقًا غَلِيۡظًا ﴾ ’’تم اسے کیسے لے لو گے؟ حالانکہ تم ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور ان عورتوں سے تم نے مضبوط عہدوپیمان لے رکھا ہے‘‘ اور اس کی توضیح یوں ہے کہ بیوی شوہر کے لیے نکاح سے قبل حرام ہوتی ہے اس نے بیوی کے طور پر حلال ہونے کے لیے صرف حق مہر کے عوض رضامندی کا اظہار کیا تھا جو وہ بیوی کو ادا کرے گا۔ جب اس نے اپنی بیوی کے ساتھ خلوت صحیحہ میں صحبت اور مباشرت کی جو اس سے قبل حرام تھی اور وہ بیوی اس کے لیے اس عوض کے بغیر راضی نہ تھی، پس شوہر نے مہر کا معوض پوری طرح وصول کر لیا، تو اس پر عوض (مہر) کی ادائیگی واجب ہو گئی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ شوہر معوض (یعنی صحبت و مباشرت) تو پورا پورا وصول کرے پھر اس کے بعد حق مہر ادا نہ کرے۔ یہ بہت بڑا ظلم اور جور ہے۔ (اس لیے ایسا نہ کرو) اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عقد میں بیوی کے حقوق کے قیام کے لیے شوہروں سے پکا عہد لیا ہے۔ (اس کا بھی تقاضا عدل و کرم ہے نہ کہ ظلم و جبر)پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
4:20

وَإِنۡ أَرَدتُّمُ ٱسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٖ مَّكَانَ زَوۡجٖ وَءَاتَيۡتُمۡ إِحۡدَىٰهُنَّ قِنطَارٗا فَلَا تَأۡخُذُواْ مِنۡهُ شَيۡـًٔاۚ أَتَأۡخُذُونَهُۥ بُهۡتَٰنٗا وَإِثۡمٗا مُّبِينٗا

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہیں ہے حلال تمھارے لیے یہ کہ وارث ہو جاؤ تم عورتوں کے زبردستی اور نہ روکو تم انھیں تاکہ لے لو تم کچھ (حصہ) اس (حق مہر) کا جو دیا تم نے ان کو۔ مگر یہ کہ کریں وہ بے حیائی کھلی کا کام۔ اور گزر بسر کرو تم ان کے ساتھ خوش اسلوبی سے۔ پس اگر ناپسند کرو تم ان کو تو شاید کہ ناپسند کرو تم کسی چیز کو اور کر دے اللہ اس میں بھلائی بہت (19) اور اگر چاہو تم بدلنا ایک بیوی کا ایک بیوی کی جگہ اور دیا ہو تم نے ایک کو ان میں سے بہت سا مال، پس نہ (واپس) لو تم اس میں سے کچھ بھی۔ کیا لو گے تم اسے بہتان باندھ کر اور گناہ صریح سے؟(20) اور کیسے لو گے تم اسے، جبکہ ملاپ کر چکا ہے ایک تمھارا دوسرے سےاور لیا ہے ان عورتوں نے تم سے عہد پختہ(21) [19] زمانہ جاہلیت میں اگر کوئی شخص مر جاتا اور اپنے پیچھے بیوی چھوڑتا تو مرنے والے کا کوئی قریبی مثلاً بھائی یا چچا زاد بھائی وغیرہ سمجھتا تھا کہ وہ اس عورت کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔ چنانچہ عورت خواہ پسند کرتی یا ناپسند کرتی وہ اس عورت پر قبضہ کر لیتا تھا اور اسے کسی اور کے ساتھ نکاح نہ کرنے دیتا۔ اگر وہ چاہتا تو وہ اس کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق حق مہر پر اس سے نکاح کر لیتا۔ اور اگر وہ اسے پسند نہ کرتا تو اسے نکاح کرنے سے روک دیتا اور صرف اسی کے ساتھ اس کا نکاح کرتا جسے وہ خود منتخب کرتا اور بسااوقات وہ اس کا نکاح اس وقت تک نہ ہونے دیتا جب تک وہ مرنے والے شوہر کی میراث یا مہر میں سے اسے کچھ نہ دے دیتی۔ نیز وہ اپنی ناپسندیدہ بیوی کو بھی روک رکھتا اور دوسری جگہ نکاح نہ کرنے دیتا تاکہ وہ اپنا حق مہر اور وہ سامان ساتھ نہ لے جائے جو اس نے اسے عطا کیا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان تمام امور سے اہل ایمان کو منع کیا ہے۔ سوائے مندرجہ ذیل دو حالتوں کے۔۱۔ جب عورت برضا و رغبت اپنے سابقہ شوہر کے کسی قریبی رشتہ دار کے ساتھ نکاح کر لے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ كَرۡهًا ﴾ کا مفہوم مخالف ہے۔۲۔ جب واضح بدکاری مثلاً زنا وغیرہ کا ارتکاب کرے اور فحش گوئی کے ذریعے سے اپنے شوہر کو اذیت دے، تو اس صورت میں خاوند کا اس کو اس کے کرتوتوں کی سزا کے طور پر، دوسری جگہ شادی کرنے سے روکنا جائز ہے، تاکہ وہ خاوند سے وصول کردہ مال واپس کرنے پر آمادہ ہو جائے۔ (یہ گویا خلع کی صورت ہے جس میں خاوند حق مہر وغیرہ واپس لے سکتا ہے)لیکن شرط یہی ہے کہ یہ روکنا عدل و انصاف کے مطابق ہو۔﴿ وَعَاشِرُوۡهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’اور ان سے اچھے طریقے سے گزران کرو‘‘ یہ حکم قولی اور فعلی دونوں قسم کی معاشرت (گزران)کو شامل ہے، پس شوہر پر فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھے طریقے سے رہے، اسے کوئی اذیت نہ دے اس کے ساتھ بھلائی اور حسن معاملہ سے پیش آئے۔ اس میں نان و نفقہ، اور لباس وغیرہ سب شامل ہے۔ پس زمان و مکان کے احوال کے مطابق شوہر کا بیوی سے معروف طریقے سے پیش آنا فرض ہے اور اسی طرح بیوی پر بھی فرض ہے۔ یہ چیز احوال کے تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتی ہے۔﴿ فَاِنۡ كَرِهۡتُمُوۡهُنَّ فَعَسٰۤى اَنۡ تَؔكۡرَهُوۡا شَيۡـًٔـا وَّيَجۡعَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ خَيۡرًا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اگر تم انھیں ناپسند کرو، لیکن بہت ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو برا جانو اور اللہ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے‘‘ یعنی اے شوہرو تم اپنی بیویوں کو ناپسند کرنے کے باوجود اپنے پاس رکھو کیونکہ ایسا کرنے میں خیر کثیر ہے۔ مثلاً، اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کی وصیت کو قبول کرنا ہے، جس کے اندر دنیا و آخرت کی سعادت ہے۔۳۔ شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ عدم محبت کے باوجود اپنے آپ کو اس کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا، اس میں مجاہدۂ نفس بھی ہے اور خلق جمیل سے آراستہ ہونا بھی۔۴۔ بسااوقات ناپسندیدگی زائل ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ محبت لے لیتی ہے جیسا کہ فی الواقع ہوتا ہے۔۵۔ اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں کو صالح اولاد عطا کر دیتا ہے جو دنیا و آخرت میں اپنے والدین کو نفع دیتی ہے۔ [20] بیوی کو اپنے ساتھ رکھنے میں ان تمام امور کے امکانات موجود ہیں، البتہ جب بیوی سے مفارقت ناگزیر ہو جائے اور اس کو ساتھ رکھنے کی کوئی صورت بنتی نظر نہ آئے، تب اسے روک رکھنا لازم نہیں ﴿وَ اِنۡ اَرَدۡتُّمُ اسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٍ مَّكَانَ زَوۡجٍ ﴾ یعنی جب تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانا چاہو یعنی ایک بیوی کو طلاق دے کر دوسری بیوی سے نکاح کرنا چاہو تو اس میں کوئی گناہ اور حرج کی بات نہیں ﴿ وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰؔىهُنَّ ﴾ البتہ اگر تم نے جدا ہونے والی بیوی کو یا اس کو جس سے نکاح کیا ہے ﴿ قِنۡطَارًا ﴾ مال کثیر عطا کر رکھا ہو ﴿ فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡهُ شَيۡـًٔا ﴾ تو اس سے کوئی چیز واپس نہ لو بلکہ اس میں اور زیادتی کرو اور ان کے ساتھ ٹال مٹول نہ کرو۔یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کثرت مہر حرام نہیں۔ مگر بایں ہمہ تخفیف مہر میں رسول اللہﷺکی اقتدا افضل اور زیادہ لائق اعتنا ہے اور استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک معاملے کی خبر دی ہے جو ان سے واقع ہوا، مگر اس پر نکیر نہیں فرمائی، جس سے معلوم ہوا کہ یہ فعل حرام نہیں ہے، مگر کبھی زیادہ حق مہر مقرر کرنے سے روکا بھی گیا ہے جبکہ اس میں دینی مفاسد ہوں اور اس کے مقابلے میں کوئی مصلحت نہ ہو۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اَتَاۡخُذُوۡنَهٗ۠ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّؔبِيۡنًا ﴾ ’’کیا تم اسے ناحق اور کھلا گناہ ہوتے ہوئے بھی لے لو گے‘‘ کیونکہ ایسا کرنا جائز نہیں خواہ تم بیوی کو عطا کی ہوئی چیز واپس لینے کے لیے کوئی بھی حیلہ کر لو، بہرحال یہ واضح گناہ ہے۔ [21] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی حکمت بیان فرمائی ہے ﴿ وَؔ كَيۡفَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ وَقَدۡ اَفۡضٰى بَعۡضُكُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ وَّاَخَذۡنَ مِنۡكُمۡ مِّؔيۡثَاقًا غَلِيۡظًا ﴾ ’’تم اسے کیسے لے لو گے؟ حالانکہ تم ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور ان عورتوں سے تم نے مضبوط عہدوپیمان لے رکھا ہے‘‘ اور اس کی توضیح یوں ہے کہ بیوی شوہر کے لیے نکاح سے قبل حرام ہوتی ہے اس نے بیوی کے طور پر حلال ہونے کے لیے صرف حق مہر کے عوض رضامندی کا اظہار کیا تھا جو وہ بیوی کو ادا کرے گا۔ جب اس نے اپنی بیوی کے ساتھ خلوت صحیحہ میں صحبت اور مباشرت کی جو اس سے قبل حرام تھی اور وہ بیوی اس کے لیے اس عوض کے بغیر راضی نہ تھی، پس شوہر نے مہر کا معوض پوری طرح وصول کر لیا، تو اس پر عوض (مہر) کی ادائیگی واجب ہو گئی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ شوہر معوض (یعنی صحبت و مباشرت) تو پورا پورا وصول کرے پھر اس کے بعد حق مہر ادا نہ کرے۔ یہ بہت بڑا ظلم اور جور ہے۔ (اس لیے ایسا نہ کرو) اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عقد میں بیوی کے حقوق کے قیام کے لیے شوہروں سے پکا عہد لیا ہے۔ (اس کا بھی تقاضا عدل و کرم ہے نہ کہ ظلم و جبر)پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
4:21

وَكَيۡفَ تَأۡخُذُونَهُۥ وَقَدۡ أَفۡضَىٰ بَعۡضُكُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٖ وَأَخَذۡنَ مِنكُم مِّيثَٰقًا غَلِيظٗا

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہیں ہے حلال تمھارے لیے یہ کہ وارث ہو جاؤ تم عورتوں کے زبردستی اور نہ روکو تم انھیں تاکہ لے لو تم کچھ (حصہ) اس (حق مہر) کا جو دیا تم نے ان کو۔ مگر یہ کہ کریں وہ بے حیائی کھلی کا کام۔ اور گزر بسر کرو تم ان کے ساتھ خوش اسلوبی سے۔ پس اگر ناپسند کرو تم ان کو تو شاید کہ ناپسند کرو تم کسی چیز کو اور کر دے اللہ اس میں بھلائی بہت (19) اور اگر چاہو تم بدلنا ایک بیوی کا ایک بیوی کی جگہ اور دیا ہو تم نے ایک کو ان میں سے بہت سا مال، پس نہ (واپس) لو تم اس میں سے کچھ بھی۔ کیا لو گے تم اسے بہتان باندھ کر اور گناہ صریح سے؟(20) اور کیسے لو گے تم اسے، جبکہ ملاپ کر چکا ہے ایک تمھارا دوسرے سےاور لیا ہے ان عورتوں نے تم سے عہد پختہ(21) [19] زمانہ جاہلیت میں اگر کوئی شخص مر جاتا اور اپنے پیچھے بیوی چھوڑتا تو مرنے والے کا کوئی قریبی مثلاً بھائی یا چچا زاد بھائی وغیرہ سمجھتا تھا کہ وہ اس عورت کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔ چنانچہ عورت خواہ پسند کرتی یا ناپسند کرتی وہ اس عورت پر قبضہ کر لیتا تھا اور اسے کسی اور کے ساتھ نکاح نہ کرنے دیتا۔ اگر وہ چاہتا تو وہ اس کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق حق مہر پر اس سے نکاح کر لیتا۔ اور اگر وہ اسے پسند نہ کرتا تو اسے نکاح کرنے سے روک دیتا اور صرف اسی کے ساتھ اس کا نکاح کرتا جسے وہ خود منتخب کرتا اور بسااوقات وہ اس کا نکاح اس وقت تک نہ ہونے دیتا جب تک وہ مرنے والے شوہر کی میراث یا مہر میں سے اسے کچھ نہ دے دیتی۔ نیز وہ اپنی ناپسندیدہ بیوی کو بھی روک رکھتا اور دوسری جگہ نکاح نہ کرنے دیتا تاکہ وہ اپنا حق مہر اور وہ سامان ساتھ نہ لے جائے جو اس نے اسے عطا کیا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان تمام امور سے اہل ایمان کو منع کیا ہے۔ سوائے مندرجہ ذیل دو حالتوں کے۔۱۔ جب عورت برضا و رغبت اپنے سابقہ شوہر کے کسی قریبی رشتہ دار کے ساتھ نکاح کر لے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ كَرۡهًا ﴾ کا مفہوم مخالف ہے۔۲۔ جب واضح بدکاری مثلاً زنا وغیرہ کا ارتکاب کرے اور فحش گوئی کے ذریعے سے اپنے شوہر کو اذیت دے، تو اس صورت میں خاوند کا اس کو اس کے کرتوتوں کی سزا کے طور پر، دوسری جگہ شادی کرنے سے روکنا جائز ہے، تاکہ وہ خاوند سے وصول کردہ مال واپس کرنے پر آمادہ ہو جائے۔ (یہ گویا خلع کی صورت ہے جس میں خاوند حق مہر وغیرہ واپس لے سکتا ہے)لیکن شرط یہی ہے کہ یہ روکنا عدل و انصاف کے مطابق ہو۔﴿ وَعَاشِرُوۡهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’اور ان سے اچھے طریقے سے گزران کرو‘‘ یہ حکم قولی اور فعلی دونوں قسم کی معاشرت (گزران)کو شامل ہے، پس شوہر پر فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھے طریقے سے رہے، اسے کوئی اذیت نہ دے اس کے ساتھ بھلائی اور حسن معاملہ سے پیش آئے۔ اس میں نان و نفقہ، اور لباس وغیرہ سب شامل ہے۔ پس زمان و مکان کے احوال کے مطابق شوہر کا بیوی سے معروف طریقے سے پیش آنا فرض ہے اور اسی طرح بیوی پر بھی فرض ہے۔ یہ چیز احوال کے تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتی ہے۔﴿ فَاِنۡ كَرِهۡتُمُوۡهُنَّ فَعَسٰۤى اَنۡ تَؔكۡرَهُوۡا شَيۡـًٔـا وَّيَجۡعَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ خَيۡرًا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اگر تم انھیں ناپسند کرو، لیکن بہت ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو برا جانو اور اللہ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے‘‘ یعنی اے شوہرو تم اپنی بیویوں کو ناپسند کرنے کے باوجود اپنے پاس رکھو کیونکہ ایسا کرنے میں خیر کثیر ہے۔ مثلاً، اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کی وصیت کو قبول کرنا ہے، جس کے اندر دنیا و آخرت کی سعادت ہے۔۳۔ شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ عدم محبت کے باوجود اپنے آپ کو اس کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا، اس میں مجاہدۂ نفس بھی ہے اور خلق جمیل سے آراستہ ہونا بھی۔۴۔ بسااوقات ناپسندیدگی زائل ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ محبت لے لیتی ہے جیسا کہ فی الواقع ہوتا ہے۔۵۔ اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں کو صالح اولاد عطا کر دیتا ہے جو دنیا و آخرت میں اپنے والدین کو نفع دیتی ہے۔ [20] بیوی کو اپنے ساتھ رکھنے میں ان تمام امور کے امکانات موجود ہیں، البتہ جب بیوی سے مفارقت ناگزیر ہو جائے اور اس کو ساتھ رکھنے کی کوئی صورت بنتی نظر نہ آئے، تب اسے روک رکھنا لازم نہیں ﴿وَ اِنۡ اَرَدۡتُّمُ اسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٍ مَّكَانَ زَوۡجٍ ﴾ یعنی جب تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانا چاہو یعنی ایک بیوی کو طلاق دے کر دوسری بیوی سے نکاح کرنا چاہو تو اس میں کوئی گناہ اور حرج کی بات نہیں ﴿ وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰؔىهُنَّ ﴾ البتہ اگر تم نے جدا ہونے والی بیوی کو یا اس کو جس سے نکاح کیا ہے ﴿ قِنۡطَارًا ﴾ مال کثیر عطا کر رکھا ہو ﴿ فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡهُ شَيۡـًٔا ﴾ تو اس سے کوئی چیز واپس نہ لو بلکہ اس میں اور زیادتی کرو اور ان کے ساتھ ٹال مٹول نہ کرو۔یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کثرت مہر حرام نہیں۔ مگر بایں ہمہ تخفیف مہر میں رسول اللہﷺکی اقتدا افضل اور زیادہ لائق اعتنا ہے اور استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک معاملے کی خبر دی ہے جو ان سے واقع ہوا، مگر اس پر نکیر نہیں فرمائی، جس سے معلوم ہوا کہ یہ فعل حرام نہیں ہے، مگر کبھی زیادہ حق مہر مقرر کرنے سے روکا بھی گیا ہے جبکہ اس میں دینی مفاسد ہوں اور اس کے مقابلے میں کوئی مصلحت نہ ہو۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اَتَاۡخُذُوۡنَهٗ۠ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّؔبِيۡنًا ﴾ ’’کیا تم اسے ناحق اور کھلا گناہ ہوتے ہوئے بھی لے لو گے‘‘ کیونکہ ایسا کرنا جائز نہیں خواہ تم بیوی کو عطا کی ہوئی چیز واپس لینے کے لیے کوئی بھی حیلہ کر لو، بہرحال یہ واضح گناہ ہے۔ [21] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی حکمت بیان فرمائی ہے ﴿ وَؔ كَيۡفَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ وَقَدۡ اَفۡضٰى بَعۡضُكُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ وَّاَخَذۡنَ مِنۡكُمۡ مِّؔيۡثَاقًا غَلِيۡظًا ﴾ ’’تم اسے کیسے لے لو گے؟ حالانکہ تم ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور ان عورتوں سے تم نے مضبوط عہدوپیمان لے رکھا ہے‘‘ اور اس کی توضیح یوں ہے کہ بیوی شوہر کے لیے نکاح سے قبل حرام ہوتی ہے اس نے بیوی کے طور پر حلال ہونے کے لیے صرف حق مہر کے عوض رضامندی کا اظہار کیا تھا جو وہ بیوی کو ادا کرے گا۔ جب اس نے اپنی بیوی کے ساتھ خلوت صحیحہ میں صحبت اور مباشرت کی جو اس سے قبل حرام تھی اور وہ بیوی اس کے لیے اس عوض کے بغیر راضی نہ تھی، پس شوہر نے مہر کا معوض پوری طرح وصول کر لیا، تو اس پر عوض (مہر) کی ادائیگی واجب ہو گئی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ شوہر معوض (یعنی صحبت و مباشرت) تو پورا پورا وصول کرے پھر اس کے بعد حق مہر ادا نہ کرے۔ یہ بہت بڑا ظلم اور جور ہے۔ (اس لیے ایسا نہ کرو) اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عقد میں بیوی کے حقوق کے قیام کے لیے شوہروں سے پکا عہد لیا ہے۔ (اس کا بھی تقاضا عدل و کرم ہے نہ کہ ظلم و جبر)پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
4:22

وَلَا تَنكِحُواْ مَا نَكَحَ ءَابَآؤُكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۚ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةٗ وَمَقۡتٗا وَسَآءَ سَبِيلًا

اور نہ نکاح کرو تم ان سے کہ نکاح کیا تمھارے باپوں نے جن عورتوں سے مگر جو پہلے گزر گیا، بلاشبہ یہ ہے بے حیائی کا کام اور ناراضی کی بات اور برا ہے طریقہ(22) [22] یعنی ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمھارے باپ اور دادا نکاح کر چکے ہوں ﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ﴾ ’’یہ بہت قبیح کام ہے‘‘ اور اس کی قباحت بہت بڑھی ہوئی ہے ﴿ وَّمَقۡتًا ﴾ تمھارے لیے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کی ناراضی کا باعث ہے۔ بلکہ اس کے سبب سے بیٹا باپ سے اور باپ بیٹے سے ناراض ہو جاتا ہے، حالانکہ بیٹے کو باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا حکم ہے ﴿ وَسَآءَؔ سَبِيۡلًا﴾(اس راستے پر) چلنے والے کے لیے یہ برا راستہ ہے۔ کیونکہ یہ جاہلیت کی قبیح رسم و عادات ہیں جن سے (معاشرے کو) پاک کرنے کے لیے اسلام آیا ہے۔ یہ آیات کریمہ نسبی محرمات، رضاعی محرمات اور سسرالی قرابت کی بنا پر محرمات، جمع کرنے کی بنا پر محرمات اور حلال عورتوں کے احکام پر مشتمل ہے۔
4:23

حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُمۡ وَعَمَّـٰتُكُمۡ وَخَٰلَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُ ٱلۡأَخِ وَبَنَاتُ ٱلۡأُخۡتِ وَأُمَّهَٰتُكُمُ ٱلَّـٰتِيٓ أَرۡضَعۡنَكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُم مِّنَ ٱلرَّضَٰعَةِ وَأُمَّهَٰتُ نِسَآئِكُمۡ وَرَبَـٰٓئِبُكُمُ ٱلَّـٰتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّـٰتِي دَخَلۡتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمۡ تَكُونُواْ دَخَلۡتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ وَحَلَـٰٓئِلُ أَبۡنَآئِكُمُ ٱلَّذِينَ مِنۡ أَصۡلَٰبِكُمۡ وَأَن تَجۡمَعُواْ بَيۡنَ ٱلۡأُخۡتَيۡنِ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا

حرام کی گئی ہیں تم پر تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں اور تمھاری بہنیں اور تمھاری پھوپھیاں اور تمھاری خالائیں اور (بھتیجیاں) بیٹیاں بھائیوں کی اور (بھانجیاں) بیٹیاں بہنوں کی اور تمھاری مائیں وہ جنھوں نے دودھ پلایا تمھیں اور تمھاری بہنیں رضاعی اور (ساسیں) مائیں تمھاری بیویوں کی اور تمھاری سوتیلی بیٹیاں وہ جو (پرورش پائیں) تمھاری گودوں میں، ان عورتوں (کے بطن) سے کہ صحبت کی تم نے ان سے، پس اگر نہیں صحبت کی تم نے ان سے تو نہیں گناہ تم پراور (بہوئیں) بیویاں تمھارے بیٹوں کی، جو تمھاری پشتوں سے ہیں۔ اور (حرام ہے تم پر) جمع کرنا تمھارا درمیان دو بہنوں کے مگر جو پہلے گزر گیا، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا بڑا مہربان(23) اور (حرام ہیں) شادی شدہ عورتیں (بھی) مگر جن کے مالک ہوں تمھارے دائیں ہاتھ (یہ) لکھ دیا ہے اللہ نے تم پراور حلال کر دی گئی ہیں تمھارے لیے جو علاوہ ہیں ان کے (بشرطیکہ) تلاش کرو تم اپنے مالوں کے بدلے، نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ بدکاری کرنے والے، پس جو فائدہ اٹھایا تم نے اس کے بدلے ان سے تو دو تم ان کو مہر ان کے مقرر شدہ اور نہیں گناہ تم پر اس (کمی بیشی) میں کہ باہم راضی ہو جاؤ تم ساتھ اس کے، بعد مقرر کر لینے کے، بلاشبہ اللہ ہے خوب جاننے والا بڑا حکمت والا(24) [23] نسب کے اعتبار سے حرام عورتیں سات ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے:(۱)ماں : اس میں ہر وہ عورت داخل ہے جس سے آپ پیدا ہوئے ہیں خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر چلی جائیں۔(۲)بیٹی : بیٹی کے رشتے میں ہر وہ عورت داخل ہے جس کو آپ نے جنم دیا ہے۔(۳) بہن : اس رشتے میں تمام حقیقی، اخیافی (ماں شریک) اور علاتی (باپ شریک)بہنیں شامل ہیں۔(۴)پھوپھی : ہر وہ عورت جو آپ کے باپ یا دادا کی بہن ہے خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر تک چلی جائیں۔(۵)خالہ : ہر وہ عورت جو آپ کی ماں یا آپ کی نانی کی بہن ہے خواہ کتنی ہی دور اوپر تک چلی جائیں، خواہ وہ وارث ہے یا نہیں ہے۔(۷،۶) اسی طرح بھائی کی بیٹیاں (بھتیجیاں) اور بہن کی بیٹیاں (بھانجیاں) خواہ کتنی ہی دور تک نیچے چلی جائیں۔یہ وہ سات محرمات ہیں جو نسب کے اعتبار سے حرام ہیں اور ان کی حرمت پر علماء کا اجماع ہے جیسا کہ آیت کریمہ کی نص سے ظاہر ہے۔ ان مذکورہ عورتوں کے علاوہ دیگر عورتیں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہیں ﴿ وَاُحِلَّ لَكُمۡ مَّؔا وَرَآءَؔ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’ان محرمات عورتوں کے سوا دیگر تمام عورتیں تمھارے لیے حلال کر دی گئیں‘‘ مثلاً: پھوپھی کی بیٹی، چچا کی بیٹی، ماموں کی بیٹی اور خالہ کی بیٹی۔جہاں تک رضاعت کے اعتبار سے محرمات کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں رضاعی ماں اور رضاعی بہن کا ذکر فرمایا ہے۔ مگر اس تحریم میں رضاعی ماں کی ماں بھی شامل ہے حالانکہ حرمت کا باعث دودھ اس کا نہیں بلکہ وہ تو دودھ کے مالک یعنی رضاعی ماں کے شوہر کا ہے۔ یہ تنبیہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رضاعی ماں کا شوہر (یعنی دودھ کا مالک) دودھ پینے والے کا (رضاعی) باپ ہے۔ جب رضاعی باپ ہونا اور ماں ہونا ثابت ہو گیا تو ان کی بہنوں وغیرہ اور ان کے اصول و فروع کی حرمت ثابت ہوگئی۔ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’یَحْرُمُ مِنَ الرِّضَاعِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ‘ (صحیح مسلم، الرضاع، باب يحرم من الرضاعۃ.....، حديث: 1444 و سنن النسائی، النکاح، يحرم من الرضاع، حديث: 3304)’’جو رشتہ نسب کے اعتبار سے حرام ہے وہ رشتہ رضاعت کے اعتبار سے بھی حرام ہے۔‘‘ پس یہ تحریم دودھ پلانے والی کی جہت سے اور اس کے خاوند کی جہت سے پھیلے گی۔ جیسا کہ وہ تحریم نسبی اقارب میں پھیلتی ہے اور یہ تحریم دودھ پینے والے بچے میں صرف اس کی اولاد تک پھیلے گی۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ بچے نے اپنے دو سال کی عمر میں کم از کم پانچ بار دودھ پیا ہو۔ جیسا کہ سنت نے واضح کیا ہے۔سسرالی قرابت کے اعتبار سے حرام رشتے چار ہیں۔باپ دادا کی بیویاں ۔ خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر تک چلے جائیں۔بیٹوں کی بیویاں : خواہ کتنی ہی دور نیچے تک چلے جائیں، خواہ وہ وارث ہوں یا محجوب۔بیوی کی ماں : خواہ کتنی ہی دور اوپر تک چلی جائیں۔یہ تین رشتے مجرد نکاح سے حرام ہو جاتے ہیں۔چوتھا رشتہ سوتیلی بیٹی کا ہے۔ سوتیلی بیٹی بیوی کے پچھلے شوہر کی بیٹی ہے۔ خواہ کتنی ہی دور نیچے چلی جائیں۔ یہ سوتیلی بیٹی اس وقت تک حرام نہیں ہوتی جب تک کہ اس کی ماں سے خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَبَآىِٕبُكُمُ الّٰتِيۡ فِيۡ حُجُوۡرِكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕكُمُ الّٰتِيۡ دَخَلۡتُمۡ بِهِنَّ ﴾ ’’اور تمھاری پرورش کردہ وہ لڑکیاں جو تمھاری گود میں ہیں، تمھاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول (خلوت صحیحہ) کر چکے ہو۔‘‘جمہور اہل علم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ الّٰتِيۡ فِيۡ حُجُوۡرِكُمۡ ﴾ ’’جو تمھاری پرورش میں ہیں‘‘ کی قید ہے جس میں غالب احوال کا اعتبار کیا گیا ہے اس کا مفہوم مخالف معتبر نہیں۔ بنا بریں سوتیلی بیٹی خواہ سوتیلے باپ کے گھر میں نہ ہو تب بھی حرام ہے۔ البتہ اس تقیید کے دو فائدے ہیں۔ (اول) اس میں سوتیلی بیٹی کی تحریم کی حکمت کی طرف اشارہ ہے گویا وہ بھی صلبی بیٹی کی طرح ہے۔ لہٰذا اس کی اباحت بہت ہی قبیح بات ہے۔ (ثانی) اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ سوتیلی بیٹی کے ساتھ تنہائی اور خلوت جائز ہے کیونکہ وہ صلبی اور نسبی بیٹیوں کی مانند ہے۔ واللہ اعلم۔رہا ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے ممنوع اور حرام رشتے تو اللہ تعالیٰ نے دو بہنوں کو جمع کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے جمع کرنے کو حرام ٹھہرایا ہے اور رسول اللہﷺنے بیوی اور اس کی پھوپھی، بیوی اور اس کی خالہ کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کو حرام ٹھہرایا ہے۔ پس ہر وہ دو عورتیں جن کے مابین رحم کا رشتہ ہے، اگر ان دونوں عورتوں میں سے ایک کو مرد اور دوسری کو عورت مان لیا جائے تو وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے حرام ہوں، تو ان دونوں کو جمع کرنا حرام ہو گا اور یہ اس لیے کہ اس صورت میں باہم قطع رحمی کے اسباب ہیں۔ [24] نیز ان عورتوں سے بھی نکاح حرام ہے جو اس آیت میں مذکور ہیں ﴿ وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ﴾ ’’اور شوہر والی عورتیں بھی‘‘ (تم پر حرام ہیں) یعنی جو پہلے سے شادی شدہ اور خاوند والی ہیں۔ جب تک یہ عورتیں پہلے شوہر کی زوجیت میں ہیں اور جب تک پہلا خاوند طلاق نہ دے دے اور یہ اپنی عدت پوری نہ کر لیں، اس وقت تک دوسرے خاوند کے لیے حرام ہیں۔ ﴿ اِلَّا مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ﴾ البتہ تمھارے لیے تمھاری لونڈیاں حلال ہیں اگر جنگ کے دوران خاوند والی عورت کو قیدی بنا لیا جائے تو وہ استبرائے رحم (ایک حیض) کے بعد مسلمانوں کے لیے حلال ہے۔ اگر منکوحہ لونڈی کو فروخت کر دیا جائے یا کسی کو ہبہ میں دے دی جائے تو اس سے لونڈی کا نکاح فسخ نہیں ہو گا۔ دوسرا مالک پہلے مالک کے مقام پر تصور کیا جائے گا اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں رسول اللہﷺنے بریرہrکو اپنے خاوند کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار عطا فرمایا تھا۔(سنن أبی داود، الطلاق، باب فی المملوکۃتعتق وھی تحت حراً وعبد، حديث:2231)﴿ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’(یہ حکم) اللہ نے تم پر فرض کر دیا ہے۔‘‘ اس کا التزام کرو اور اس کو راہنما بناؤ۔ کیونکہ اس کے اندر تمھارے لیے شفا اور روشنی ہے اور اس کے اندر حلال و حرام کی تفصیلات ہیں۔ ﴿ وَاُحِلَّ لَكُمۡ مَّؔا وَرَآءَؔ ذٰلِكُمۡ﴾ہر وہ عورت جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں نہیں ہے، وہ حلال ہے۔ حرام محدود ہے اور حلال لامحدود اور غیر محصور ہے یہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر لطف و کرم، اس کی رحمت اور ان کے لیے اس کی عطا کردہ آسانی ہے۔﴿ اَنۡ تَبۡتَغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ﴾ ’’اس طرح سے کہ مال خرچ کرکے ان سے نکاح کرلو۔‘‘ یعنی ان عورتوں میں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے مباح قرار دیاہے، جن کو تمھاری نظر نے منتخب کیا (ان کو حق مہر کے عوض) اپنے نکاح میں لاؤ ﴿ مُّحۡصِنِيۡنَ﴾ ’’نکاح کرنے والے ہو‘‘ یعنی خود بھی زنا سے محفوظ رہتے ہوئے اور اپنی عورتوں کو بھی زنا سے بچاتے ہوئے ﴿ غَيۡرَ مُسٰفِحِيۡنَ﴾ ’’نہ کہ بدکاری کرنے والے‘‘ (اَلسَّفْحُ) سے مراد ہے حرام یا حلال جگہ پانی بہانا (یعنی مباشرت کرنا) کیونکہ زنا کا ارتکاب کرنے والا اپنی بیوی کو محفوظ نہیں رکھ سکتا کیونکہ وہ اپنی شہوت حرام طریقے سے پوری کرتا رہا، پس اس میں حلال طریقے سے شہوت پوری کرنے کا داعیہ کمزور پڑ گیا بنا بریں اپنی بیوی کو پاکباز رکھنے کے لیے اس کے پاس کچھ بھی باقی نہ بچا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ صرف پاک دامنوں سے نکاح کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اَلزَّانِيۡ لَا يَنۡكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوۡ مُشۡرِكَةً١ٞ وَّالزَّانِيَةُ لَا يَنۡكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوۡ مُشۡرِكٌ﴾(النور : 24؍3)’’بدکار مرد بدکار عورت یا مشرک عورت کے ساتھ نکاح کرتا ہے اور بدکار عورت کے ساتھ بھی بدکار مرد یا مشرک ہی نکاح کرتا ہے۔‘‘﴿ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ﴾ ’’تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو۔‘‘ یعنی جن کے ساتھ تم نے نکاح کیا ہے ﴿ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ﴾ ’’تو ان کو ان کا مہر ادا کردو۔‘‘ یعنی تم ان کے جسم سے فائدہ اٹھانے کے بدلے میں ان کو ان کا اجر یعنی حق مہر ادا کرو۔ بنا بریں جب شوہر اپنی بیوی کے ساتھ خلوت کرے سب سے پہلے مہر مقرر کرے ﴿ فَرِيۡضَةً﴾ ’’جو مقرر کیا ہو۔‘‘ یعنی تمھاری اپنی بیویوں کو مہر عطا کرنا تم پر فرض ہے جسے اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے یہ کوئی عطیہ اور بخشش نہیں ہے کہ دل چاہا تو دے دیا اور دل چاہا تو واپس لے لیا۔ یا ’’فریضۃ‘‘ کے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں۔ کہ مہر ایک مقرر کردہ حق ہے جسے تم نے خود مقرر کیا ہے جس کی ادائیگی تم پر واجب ہے، پس تم اس میں سے کچھ کم نہ کرو۔ ﴿ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰؔضَيۡتُمۡ بِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِالۡفَرِيۡضَةِ﴾ ’’اور تم پر گناہ نہیں اس میں جس پر تم مہر مقرر کرنے کے بعد باہم رضامند ہو جاؤ‘‘ یعنی اگر شوہر مقرر کردہ مہر سے زیادہ ادا کر دیتا ہے یا بیوی برضا و رغبت مہر میں سے کچھ حصہ ساقط کر دیتی ہے (تو ایسا کرنا جائز ہے)اکثر مفسرین کا قول یہی ہے۔ بعض دیگر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ آیت کریمہ متعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں حلال اور جائز تھا اس کے بعد رسول اللہﷺنے حرام قرار دے دیا۔ متعہ کی صورت یہ تھی کہ وقت اور معاوضہ مقرر کر دیا جاتا تھا۔ پھر جب ان دونوں کے درمیان معینہ مدت پوری ہو جائے اور مہر مقرر کرنے کے بعد باہم رضامند ہو جائیں تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔واللہ اعلم﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ وسیع اور کامل علم اور کامل حکمت والا ہے۔ یہ اس کا علم اور حکمت ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے یہ قوانین بنائے اور تمھارے لیے یہ حدود مقرر کیں جو حلال و حرام کے درمیان فاصلہ رکھتی ہیں۔
4:24

۞وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡۖ كِتَٰبَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمۡ أَن تَبۡتَغُواْ بِأَمۡوَٰلِكُم مُّحۡصِنِينَ غَيۡرَ مُسَٰفِحِينَۚ فَمَا ٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِهِۦ مِنۡهُنَّ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةٗۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيمَا تَرَٰضَيۡتُم بِهِۦ مِنۢ بَعۡدِ ٱلۡفَرِيضَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمٗا

حرام کی گئی ہیں تم پر تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں اور تمھاری بہنیں اور تمھاری پھوپھیاں اور تمھاری خالائیں اور (بھتیجیاں) بیٹیاں بھائیوں کی اور (بھانجیاں) بیٹیاں بہنوں کی اور تمھاری مائیں وہ جنھوں نے دودھ پلایا تمھیں اور تمھاری بہنیں رضاعی اور (ساسیں) مائیں تمھاری بیویوں کی اور تمھاری سوتیلی بیٹیاں وہ جو (پرورش پائیں) تمھاری گودوں میں، ان عورتوں (کے بطن) سے کہ صحبت کی تم نے ان سے، پس اگر نہیں صحبت کی تم نے ان سے تو نہیں گناہ تم پراور (بہوئیں) بیویاں تمھارے بیٹوں کی، جو تمھاری پشتوں سے ہیں۔ اور (حرام ہے تم پر) جمع کرنا تمھارا درمیان دو بہنوں کے مگر جو پہلے گزر گیا، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا بڑا مہربان(23) اور (حرام ہیں) شادی شدہ عورتیں (بھی) مگر جن کے مالک ہوں تمھارے دائیں ہاتھ (یہ) لکھ دیا ہے اللہ نے تم پراور حلال کر دی گئی ہیں تمھارے لیے جو علاوہ ہیں ان کے (بشرطیکہ) تلاش کرو تم اپنے مالوں کے بدلے، نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ بدکاری کرنے والے، پس جو فائدہ اٹھایا تم نے اس کے بدلے ان سے تو دو تم ان کو مہر ان کے مقرر شدہ اور نہیں گناہ تم پر اس (کمی بیشی) میں کہ باہم راضی ہو جاؤ تم ساتھ اس کے، بعد مقرر کر لینے کے، بلاشبہ اللہ ہے خوب جاننے والا بڑا حکمت والا(24) [23] نسب کے اعتبار سے حرام عورتیں سات ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے:(۱)ماں : اس میں ہر وہ عورت داخل ہے جس سے آپ پیدا ہوئے ہیں خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر چلی جائیں۔(۲)بیٹی : بیٹی کے رشتے میں ہر وہ عورت داخل ہے جس کو آپ نے جنم دیا ہے۔(۳) بہن : اس رشتے میں تمام حقیقی، اخیافی (ماں شریک) اور علاتی (باپ شریک)بہنیں شامل ہیں۔(۴)پھوپھی : ہر وہ عورت جو آپ کے باپ یا دادا کی بہن ہے خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر تک چلی جائیں۔(۵)خالہ : ہر وہ عورت جو آپ کی ماں یا آپ کی نانی کی بہن ہے خواہ کتنی ہی دور اوپر تک چلی جائیں، خواہ وہ وارث ہے یا نہیں ہے۔(۷،۶) اسی طرح بھائی کی بیٹیاں (بھتیجیاں) اور بہن کی بیٹیاں (بھانجیاں) خواہ کتنی ہی دور تک نیچے چلی جائیں۔یہ وہ سات محرمات ہیں جو نسب کے اعتبار سے حرام ہیں اور ان کی حرمت پر علماء کا اجماع ہے جیسا کہ آیت کریمہ کی نص سے ظاہر ہے۔ ان مذکورہ عورتوں کے علاوہ دیگر عورتیں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہیں ﴿ وَاُحِلَّ لَكُمۡ مَّؔا وَرَآءَؔ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’ان محرمات عورتوں کے سوا دیگر تمام عورتیں تمھارے لیے حلال کر دی گئیں‘‘ مثلاً: پھوپھی کی بیٹی، چچا کی بیٹی، ماموں کی بیٹی اور خالہ کی بیٹی۔جہاں تک رضاعت کے اعتبار سے محرمات کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں رضاعی ماں اور رضاعی بہن کا ذکر فرمایا ہے۔ مگر اس تحریم میں رضاعی ماں کی ماں بھی شامل ہے حالانکہ حرمت کا باعث دودھ اس کا نہیں بلکہ وہ تو دودھ کے مالک یعنی رضاعی ماں کے شوہر کا ہے۔ یہ تنبیہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رضاعی ماں کا شوہر (یعنی دودھ کا مالک) دودھ پینے والے کا (رضاعی) باپ ہے۔ جب رضاعی باپ ہونا اور ماں ہونا ثابت ہو گیا تو ان کی بہنوں وغیرہ اور ان کے اصول و فروع کی حرمت ثابت ہوگئی۔ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’یَحْرُمُ مِنَ الرِّضَاعِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ‘ (صحیح مسلم، الرضاع، باب يحرم من الرضاعۃ.....، حديث: 1444 و سنن النسائی، النکاح، يحرم من الرضاع، حديث: 3304)’’جو رشتہ نسب کے اعتبار سے حرام ہے وہ رشتہ رضاعت کے اعتبار سے بھی حرام ہے۔‘‘ پس یہ تحریم دودھ پلانے والی کی جہت سے اور اس کے خاوند کی جہت سے پھیلے گی۔ جیسا کہ وہ تحریم نسبی اقارب میں پھیلتی ہے اور یہ تحریم دودھ پینے والے بچے میں صرف اس کی اولاد تک پھیلے گی۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ بچے نے اپنے دو سال کی عمر میں کم از کم پانچ بار دودھ پیا ہو۔ جیسا کہ سنت نے واضح کیا ہے۔سسرالی قرابت کے اعتبار سے حرام رشتے چار ہیں۔باپ دادا کی بیویاں ۔ خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر تک چلے جائیں۔بیٹوں کی بیویاں : خواہ کتنی ہی دور نیچے تک چلے جائیں، خواہ وہ وارث ہوں یا محجوب۔بیوی کی ماں : خواہ کتنی ہی دور اوپر تک چلی جائیں۔یہ تین رشتے مجرد نکاح سے حرام ہو جاتے ہیں۔چوتھا رشتہ سوتیلی بیٹی کا ہے۔ سوتیلی بیٹی بیوی کے پچھلے شوہر کی بیٹی ہے۔ خواہ کتنی ہی دور نیچے چلی جائیں۔ یہ سوتیلی بیٹی اس وقت تک حرام نہیں ہوتی جب تک کہ اس کی ماں سے خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَبَآىِٕبُكُمُ الّٰتِيۡ فِيۡ حُجُوۡرِكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕكُمُ الّٰتِيۡ دَخَلۡتُمۡ بِهِنَّ ﴾ ’’اور تمھاری پرورش کردہ وہ لڑکیاں جو تمھاری گود میں ہیں، تمھاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول (خلوت صحیحہ) کر چکے ہو۔‘‘جمہور اہل علم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ الّٰتِيۡ فِيۡ حُجُوۡرِكُمۡ ﴾ ’’جو تمھاری پرورش میں ہیں‘‘ کی قید ہے جس میں غالب احوال کا اعتبار کیا گیا ہے اس کا مفہوم مخالف معتبر نہیں۔ بنا بریں سوتیلی بیٹی خواہ سوتیلے باپ کے گھر میں نہ ہو تب بھی حرام ہے۔ البتہ اس تقیید کے دو فائدے ہیں۔ (اول) اس میں سوتیلی بیٹی کی تحریم کی حکمت کی طرف اشارہ ہے گویا وہ بھی صلبی بیٹی کی طرح ہے۔ لہٰذا اس کی اباحت بہت ہی قبیح بات ہے۔ (ثانی) اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ سوتیلی بیٹی کے ساتھ تنہائی اور خلوت جائز ہے کیونکہ وہ صلبی اور نسبی بیٹیوں کی مانند ہے۔ واللہ اعلم۔رہا ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے ممنوع اور حرام رشتے تو اللہ تعالیٰ نے دو بہنوں کو جمع کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے جمع کرنے کو حرام ٹھہرایا ہے اور رسول اللہﷺنے بیوی اور اس کی پھوپھی، بیوی اور اس کی خالہ کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کو حرام ٹھہرایا ہے۔ پس ہر وہ دو عورتیں جن کے مابین رحم کا رشتہ ہے، اگر ان دونوں عورتوں میں سے ایک کو مرد اور دوسری کو عورت مان لیا جائے تو وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے حرام ہوں، تو ان دونوں کو جمع کرنا حرام ہو گا اور یہ اس لیے کہ اس صورت میں باہم قطع رحمی کے اسباب ہیں۔ [24] نیز ان عورتوں سے بھی نکاح حرام ہے جو اس آیت میں مذکور ہیں ﴿ وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ﴾ ’’اور شوہر والی عورتیں بھی‘‘ (تم پر حرام ہیں) یعنی جو پہلے سے شادی شدہ اور خاوند والی ہیں۔ جب تک یہ عورتیں پہلے شوہر کی زوجیت میں ہیں اور جب تک پہلا خاوند طلاق نہ دے دے اور یہ اپنی عدت پوری نہ کر لیں، اس وقت تک دوسرے خاوند کے لیے حرام ہیں۔ ﴿ اِلَّا مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ﴾ البتہ تمھارے لیے تمھاری لونڈیاں حلال ہیں اگر جنگ کے دوران خاوند والی عورت کو قیدی بنا لیا جائے تو وہ استبرائے رحم (ایک حیض) کے بعد مسلمانوں کے لیے حلال ہے۔ اگر منکوحہ لونڈی کو فروخت کر دیا جائے یا کسی کو ہبہ میں دے دی جائے تو اس سے لونڈی کا نکاح فسخ نہیں ہو گا۔ دوسرا مالک پہلے مالک کے مقام پر تصور کیا جائے گا اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں رسول اللہﷺنے بریرہrکو اپنے خاوند کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار عطا فرمایا تھا۔(سنن أبی داود، الطلاق، باب فی المملوکۃتعتق وھی تحت حراً وعبد، حديث:2231)﴿ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’(یہ حکم) اللہ نے تم پر فرض کر دیا ہے۔‘‘ اس کا التزام کرو اور اس کو راہنما بناؤ۔ کیونکہ اس کے اندر تمھارے لیے شفا اور روشنی ہے اور اس کے اندر حلال و حرام کی تفصیلات ہیں۔ ﴿ وَاُحِلَّ لَكُمۡ مَّؔا وَرَآءَؔ ذٰلِكُمۡ﴾ہر وہ عورت جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں نہیں ہے، وہ حلال ہے۔ حرام محدود ہے اور حلال لامحدود اور غیر محصور ہے یہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر لطف و کرم، اس کی رحمت اور ان کے لیے اس کی عطا کردہ آسانی ہے۔﴿ اَنۡ تَبۡتَغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ﴾ ’’اس طرح سے کہ مال خرچ کرکے ان سے نکاح کرلو۔‘‘ یعنی ان عورتوں میں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے مباح قرار دیاہے، جن کو تمھاری نظر نے منتخب کیا (ان کو حق مہر کے عوض) اپنے نکاح میں لاؤ ﴿ مُّحۡصِنِيۡنَ﴾ ’’نکاح کرنے والے ہو‘‘ یعنی خود بھی زنا سے محفوظ رہتے ہوئے اور اپنی عورتوں کو بھی زنا سے بچاتے ہوئے ﴿ غَيۡرَ مُسٰفِحِيۡنَ﴾ ’’نہ کہ بدکاری کرنے والے‘‘ (اَلسَّفْحُ) سے مراد ہے حرام یا حلال جگہ پانی بہانا (یعنی مباشرت کرنا) کیونکہ زنا کا ارتکاب کرنے والا اپنی بیوی کو محفوظ نہیں رکھ سکتا کیونکہ وہ اپنی شہوت حرام طریقے سے پوری کرتا رہا، پس اس میں حلال طریقے سے شہوت پوری کرنے کا داعیہ کمزور پڑ گیا بنا بریں اپنی بیوی کو پاکباز رکھنے کے لیے اس کے پاس کچھ بھی باقی نہ بچا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ صرف پاک دامنوں سے نکاح کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اَلزَّانِيۡ لَا يَنۡكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوۡ مُشۡرِكَةً١ٞ وَّالزَّانِيَةُ لَا يَنۡكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوۡ مُشۡرِكٌ﴾(النور : 24؍3)’’بدکار مرد بدکار عورت یا مشرک عورت کے ساتھ نکاح کرتا ہے اور بدکار عورت کے ساتھ بھی بدکار مرد یا مشرک ہی نکاح کرتا ہے۔‘‘﴿ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ﴾ ’’تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو۔‘‘ یعنی جن کے ساتھ تم نے نکاح کیا ہے ﴿ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ﴾ ’’تو ان کو ان کا مہر ادا کردو۔‘‘ یعنی تم ان کے جسم سے فائدہ اٹھانے کے بدلے میں ان کو ان کا اجر یعنی حق مہر ادا کرو۔ بنا بریں جب شوہر اپنی بیوی کے ساتھ خلوت کرے سب سے پہلے مہر مقرر کرے ﴿ فَرِيۡضَةً﴾ ’’جو مقرر کیا ہو۔‘‘ یعنی تمھاری اپنی بیویوں کو مہر عطا کرنا تم پر فرض ہے جسے اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے یہ کوئی عطیہ اور بخشش نہیں ہے کہ دل چاہا تو دے دیا اور دل چاہا تو واپس لے لیا۔ یا ’’فریضۃ‘‘ کے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں۔ کہ مہر ایک مقرر کردہ حق ہے جسے تم نے خود مقرر کیا ہے جس کی ادائیگی تم پر واجب ہے، پس تم اس میں سے کچھ کم نہ کرو۔ ﴿ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰؔضَيۡتُمۡ بِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِالۡفَرِيۡضَةِ﴾ ’’اور تم پر گناہ نہیں اس میں جس پر تم مہر مقرر کرنے کے بعد باہم رضامند ہو جاؤ‘‘ یعنی اگر شوہر مقرر کردہ مہر سے زیادہ ادا کر دیتا ہے یا بیوی برضا و رغبت مہر میں سے کچھ حصہ ساقط کر دیتی ہے (تو ایسا کرنا جائز ہے)اکثر مفسرین کا قول یہی ہے۔ بعض دیگر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ آیت کریمہ متعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں حلال اور جائز تھا اس کے بعد رسول اللہﷺنے حرام قرار دے دیا۔ متعہ کی صورت یہ تھی کہ وقت اور معاوضہ مقرر کر دیا جاتا تھا۔ پھر جب ان دونوں کے درمیان معینہ مدت پوری ہو جائے اور مہر مقرر کرنے کے بعد باہم رضامند ہو جائیں تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔واللہ اعلم﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ وسیع اور کامل علم اور کامل حکمت والا ہے۔ یہ اس کا علم اور حکمت ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے یہ قوانین بنائے اور تمھارے لیے یہ حدود مقرر کیں جو حلال و حرام کے درمیان فاصلہ رکھتی ہیں۔
4:25

وَمَن لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ مِنكُمۡ طَوۡلًا أَن يَنكِحَ ٱلۡمُحۡصَنَٰتِ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ فَمِن مَّا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُم مِّن فَتَيَٰتِكُمُ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۚ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِإِيمَٰنِكُمۚ بَعۡضُكُم مِّنۢ بَعۡضٖۚ فَٱنكِحُوهُنَّ بِإِذۡنِ أَهۡلِهِنَّ وَءَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِ مُحۡصَنَٰتٍ غَيۡرَ مُسَٰفِحَٰتٖ وَلَا مُتَّخِذَٰتِ أَخۡدَانٖۚ فَإِذَآ أُحۡصِنَّ فَإِنۡ أَتَيۡنَ بِفَٰحِشَةٖ فَعَلَيۡهِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَى ٱلۡمُحۡصَنَٰتِ مِنَ ٱلۡعَذَابِۚ ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ ٱلۡعَنَتَ مِنكُمۡۚ وَأَن تَصۡبِرُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡۗ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ

اور جو شخص نہ رکھے تم میں سے طاقت یہ کہ نکاح کرے وہ آزاد مومن عورتوں سے تو (نکاح کر لے) اس سے کہ مالک ہوئے دائیں ہاتھ تمھارے،تمھاری مومن لونڈیوں سےاور اللہ خوب جانتا ہے تمھارے ایمان کو۔ ایک تمھارا، دوسرے سے ہے، پس نکاح کر لو تم ان سے، اجازت سے ان کے مالکوں کی اور دو تم ان کو مہر ان کے موافق دستور کے، جبکہ وہ نکاح میں لائی گئی ہوں، نہ ہوں بدکاری کرنے والیں ا ور نہ بنانے والیں چھپے یار۔ پس جب وہ نکاح میں لے آئی جائیں، پھر اگر کریں وہ بے حیائی کا کام تو ان پر آدھی ہے وہ جو کہ اوپر آزاد عورتوں کے ہے سزا سے۔ یہ (اجازت) اس کے لیے ہے جو ڈرے تکلیف میں پڑنے سے تم میں سےاور یہ کہ صبر کرو تم (تو) بہتر ہے تمھارے لیے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے(25) [25]یعنی تم میں سے جو کوئی آزاد اور مومن عورتوں کو حق مہر ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور اس کے ساتھ ساتھ اسے اپنے آپ پر بدکاری اور مشقت کا خطرہ ہو، تو اس کے لیے مومن لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے یہ تو ظاہری احوال کے مطابق ہے ورنہ اللہ تعالیٰ مومن صادق کو خوب جانتا ہے۔ دنیاوی امور ان کے ظاہر پر مبنی ہیں اور آخرت کے احکام کا تعلق انسان کے باطن میں چھپی نیتوں کے ساتھ ہے۔﴿ فَانۡؔكِحُوۡهُنَّ۠ بِـاِذۡنِ اَهۡلِهِنَّ﴾ ’’پس تم لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں کی اجازت لے کر نکاح کرلو‘‘ خواہ مالک ایک ہو یا متعدد ہوں ﴿ وَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ﴾ ’’اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو۔‘‘ یعنی اگرچہ جن کے ساتھ نکاح کیا جا رہا ہے وہ لونڈیاں ہیں تاہم ان کو مہر ادا کرنا اسی طرح فرض ہے جس طرح آزاد کو ادا کرنا فرض ہے۔ مگر لونڈیوں سے نکاح کرنا صرف اسی صورت میں جائز ہے کہ وہ ﴿ مُحۡصَنٰتٍ﴾ ہوں یعنی زنا سے پاک ہوں ﴿ غَيۡرَ مُسٰفِحٰؔتٍ﴾ علانیہ بدکاری سے بچی ہوئی ہوں ﴿ وَّلَا مُتَّؔخِذٰتِ اَخۡدَانٍ﴾نہ انھوں نے خفیہ یار دوست بنا رکھے ہوں۔حاصل کلام یہ ہے کہ آزاد مسلمان کے لیے لونڈی کے ساتھ ان چار شرائط کے بغیر نکاح کرنا جائز نہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔(۱) لونڈیاں مومن ہوں۔ (۲) ظاہر اور باطن میں پاکباز ہوں۔ (۳) آزاد عورت کے ساتھ نکاح کی استطاعت نہ ہو۔ (۴) عدم نکاح کی صورت میں بدکاری کا خوف ہو۔جب یہ شرائط پوری ہوں تو لونڈی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے۔ بایں ہمہ لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے باز رہنا افضل ہے کیونکہ لونڈیوں سے نکاح کرنے والے کی اولاد کو غلامی کا طعنہ دیا جاتا ہے نیزیہ گھٹیا بات ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ انسان صبر کر سکتا ہواگر وہ حرام میں پڑنے سے باز نہ رہ سکتا ہو تب اس پر لونڈی سے نکاح کرنا واجب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاَنۡ تَصۡبِرُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌؒ﴾’’اور تمھارا صبر کرنا تمھارے لیے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘﴿ فَاِذَاۤ اُحۡصِنَّ﴾ یعنی جب وہ نکاح کر لیں یا مسلمان ہو جائیں ﴿ فَاِنۡ اَتَيۡنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيۡهِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَى الۡمُحۡصَنٰتِ مِنَ الۡعَذَابِ﴾ ’’پھر اگر ان سے بے حیائی کا کام سرزد ہو تو انھیں آزاد عورتوں سے آدھی سزا دی جائے گی‘‘ یعنی جو آزاد عورتوں کی سزا ہے اس سے نصف لونڈیوں کی سزا ہے۔ وہ سزا جس کا نصف ممکن ہے کوڑوں کی سزا ہے تب ان کے لیے پچاس کوڑوں کی سزا ہے۔ رہی رجم کی بات تو لونڈیوں کے لیے رجم نہیں ہے کیونکہ رجم کا نصف ممکن نہیں۔ لہٰذا اس میں پہلا قول یہ ہے کہ اگر انھوں نے نکاح نہ کیا ہو تو ان پر کوئی حد نہیں۔ البتہ ان کو تعزیری سزا دی جائے تاکہ وہ فواحش کے ارتکاب سے باز رہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ اگر غیر مسلم لونڈیاں فواحش کا ارتکاب کریں تو ان کو بھی تعزیر کی جائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کا اختتام اپنے دو اسمائے مبارک ﴿ غَفُوۡرٌؔ﴾ ’’بخشنے والا‘‘ ﴿ رَّحِيۡمٌ﴾’’نہایت رحم کرنے والا‘‘ پر کیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہ احکام بندوں پر رحمت اور اس کا کرم و احسان ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو تنگی میں مبتلا نہیں کیا بلکہ ان کو کشادگی اور وسعت عطا کی۔ شاید حد کا ذکر کرنے کے بعد مغفرت کا ذکر کرنا، اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ حد کفارہ ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہ بخشتا ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔مذکورہ بالا حد میں غلام کا بھی وہی حکم ہے جو لونڈی کا حکم ہے کیونکہ دونوں میں امتیاز اور فرق کرنے والا سبب معدوم ہے۔
4:26

يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمۡ وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَيَتُوبَ عَلَيۡكُمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ

ارادہ کرتا ہے اللہ کہ بیان کرے تمھارے لیے اور ہدایت کرے تمھیں طریقوں کی ان لوگوں کے جو تم سے پہلے ہوئے اور متوجہ ہو تم پراور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے(26) اور اللہ ارادہ کرتا ہے کہ متوجہ ہو وہ تم پر اور ارادہ کرتے ہیں وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں خواہشات کی یہ کہ پھر جاؤ تم (حق سے) ، پھر جانا بہت زیادہ(27) ارادہ کرتا ہے اللہ یہ کہ آسانی کرے تم سے اور پیدا کیا گیا ہے انسان بہت کمزور(28) [26] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی عظیم نوازش، بہت بڑے فضل و کرم اور اپنے مومن بندوں کی حسن تربیت اور دین کی سہولت سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمۡ﴾ ’’اللہ چاہتا ہے کہ تمھارے واسطے بیان کرے‘‘ یعنی حق و باطل اور حلال و حرام میں سے جس جس چیز کی توضیح کے تم محتاج ہو اللہ تعالیٰ اسے کھول کھول کر بیان کرتا ہے ﴿وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ تمھیں ان لوگوں کا راستہ دکھاتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا یعنی انبیائے کرام اور ان کے متبعین کی سیرت حمیدہ، ان کے افعال صالحہ، ان کی عادات کاملہ اور ان کی توفیق تام کا راستہ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا اسے نافذ کیا، تمھارے سامنے اسے پوری طرح واضح کر دیا جیسے تم سے پہلے لوگوں پر اسے پوری طرح واضح کر دیا تھا اور تمھیں علم و عمل میں عظیم ہدایت سے نوازا ﴿وَيَتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور رجوع کرے تم پر‘‘ یعنی اللہ تم پر تمھارے تمام احوال میں اور تمھارے لیے بنائی ہوئی شریعت میں اپنے لطف و کرم کا فیضان کرتا ہے۔ یہاں تک کہ تمھارے لیے ان حدود پر ٹھہرنا ممکن ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں اور تم اسی پر اکتفاء کرتے ہو جو اس نے تمھارے لیے حلال ٹھہرایا ہے، پس اس آسانی کے باعث جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے پیدا کی ہے، تمھارے گناہ کم ہو جاتے ہیں، پس یہ اللہ کا اپنے بندے کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا ہے۔ نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا یہ بھی ہے کہ جب ان سے گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں میں انابت اور تذلل الہام کر دیتا ہے، پھر وہ توبہ کو قبول کرتا ہے جس کی توفیق اس نے خود عطا کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی حمد و ثنا ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ کامل حکمت والا ہے یہ اس کے علم ہی کا حصہ ہے کہ اس نے تمھیں اس چیز کی تعلیم دی جس کا تمھیں علم نہیں تھا۔ یہ اشیاء اور یہ حدود اسی زمرے میں آتی ہیں اور اس کی حکمت کے حصے سے یہ ہے کہ وہ اس بندے کی توبہ قبول کرتا ہے جس کی توبہ قبول کرنے کا تقاضا اس کی حکمت اور رحمت کرتی ہے اور اس بندے کو چھوڑ کر اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے جس کو اپنے حال پر چھوڑ دینا اس کی حکمت اور عدل تقاضا کرتا ہے اور جو توبہ کی قبولیت کا اہل نہیں ہوتا۔ [27]﴿وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور اللہ تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسی توبہ (رجوع) کے ساتھ تمھاری طرف توجہ کرنا چاہتا ہے جو تمھاری پراگندگی کو درست کرے، تمھارے تفرقہ کو جمعیت قلبی میں اور تمھارے بعد کو قرب میں بدل دے۔ ﴿وَيُرِيۡدُ الَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الشَّهَوٰتِ﴾ ’’اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اپنی شہوات کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں وہ اپنے محبوب کی رضا پر ان شہوات کو ترجیح دیتے ہیں یہ لوگ اپنی خواہشات نفس کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ لوگ کفار اور نافرمانوں کی اصناف میں سے ہیں جو اپنی خواہشات کو اپنے رب کی اطاعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ پس یہ لوگ چاہتے ہیں ﴿اَنۡ تَمِيۡلُوۡا مَيۡلًا عَظِيۡمًا﴾ ’’کہ تم (کجی کی طرف) بہت زیادہ جھک جاؤ‘‘ یعنی تم صراط مستقیم سے انحراف کر کے ان لوگوں کی راہ پر چل نکلو جو مغضوب اور گمراہ ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمھیں اللہ رحمان کی اطاعت سے ہٹا کر شیطان کی اطاعت کی طرف پھیر دیں اور ہر قسم کی سعادت کی حدود سے نکال کر جو کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل میں پنہاں ہے، شقاوت اور بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دیں جو کہ شیطان کی پیروی کا نتیجہ ہے۔جب تم نے یہ پہچان لیا کہ اللہ تعالیٰ تمھیں صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں تمھاری اصلاح، تمھاری فلاح اور تمھاری سعادت ہے اور یہ کفار جو اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں تمھیں ان امور کا حکم دیتے ہیں جس میں تمھارے لیے انتہائی خسارہ اور بدبختی ہے۔ پس تم ان دونوں داعیوں میں سے صرف اسے منتخب کرو جو چنے جانے کا زیادہ مستحق ہے اور دونوں راستوں میں سے وہ راستہ اختیار کرو جو زیادہ بہتر ہے۔ [28]﴿يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّخَفِّفَ عَنۡكُمۡ﴾ ’’اللہ چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اوامر و نواہی کی آسانی کے ذریعے سے تمھارے لیے تخفیف پیدا کرنا چاہتا ہے۔ پھر بعض شرعی احکام میں مشقت کے باوجود اگر حاجت تقاضا کرتی ہے تو اضطراری حالت میں مجبور شخص کے لیے انھیں مباح کر دیا ہے مثلاً مردار اور خون وغیرہ کا تناول کرنا مجبور شخص کے لیے مباح ہے۔ اسی طرح مذکورہ شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے لونڈی سے نکاح کرنا جائز ہے۔ یہ اس کی رحمت کاملہ اور اس احسان کے سبب سے ہے جو سب کو شامل ہے اور یہ اس کی حکمت اور علم پر مبنی ہے وہ جانتا ہے کہ انسان ہر لحاظ سے کمزور ہے اس کی بنیاد ہی کمزوری پر رکھی گئی ہے، اس کا عزم و ارادہ کمزور ہے اور ایمان و صبر کمزور ہے۔ پس ان احوال میں مناسب یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ ان احکام میں تخفیف کر دے جن کی بندہ اپنی کمزوری کی وجہ سے تعمیل سے قاصر ہے اس کا ایمان، صبر اور قوت جن کا بوجھ اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔
4:27

وَٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيۡكُمۡ وَيُرِيدُ ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلشَّهَوَٰتِ أَن تَمِيلُواْ مَيۡلًا عَظِيمٗا

ارادہ کرتا ہے اللہ کہ بیان کرے تمھارے لیے اور ہدایت کرے تمھیں طریقوں کی ان لوگوں کے جو تم سے پہلے ہوئے اور متوجہ ہو تم پراور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے(26) اور اللہ ارادہ کرتا ہے کہ متوجہ ہو وہ تم پر اور ارادہ کرتے ہیں وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں خواہشات کی یہ کہ پھر جاؤ تم (حق سے) ، پھر جانا بہت زیادہ(27) ارادہ کرتا ہے اللہ یہ کہ آسانی کرے تم سے اور پیدا کیا گیا ہے انسان بہت کمزور(28) [26] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی عظیم نوازش، بہت بڑے فضل و کرم اور اپنے مومن بندوں کی حسن تربیت اور دین کی سہولت سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمۡ﴾ ’’اللہ چاہتا ہے کہ تمھارے واسطے بیان کرے‘‘ یعنی حق و باطل اور حلال و حرام میں سے جس جس چیز کی توضیح کے تم محتاج ہو اللہ تعالیٰ اسے کھول کھول کر بیان کرتا ہے ﴿وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ تمھیں ان لوگوں کا راستہ دکھاتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا یعنی انبیائے کرام اور ان کے متبعین کی سیرت حمیدہ، ان کے افعال صالحہ، ان کی عادات کاملہ اور ان کی توفیق تام کا راستہ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا اسے نافذ کیا، تمھارے سامنے اسے پوری طرح واضح کر دیا جیسے تم سے پہلے لوگوں پر اسے پوری طرح واضح کر دیا تھا اور تمھیں علم و عمل میں عظیم ہدایت سے نوازا ﴿وَيَتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور رجوع کرے تم پر‘‘ یعنی اللہ تم پر تمھارے تمام احوال میں اور تمھارے لیے بنائی ہوئی شریعت میں اپنے لطف و کرم کا فیضان کرتا ہے۔ یہاں تک کہ تمھارے لیے ان حدود پر ٹھہرنا ممکن ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں اور تم اسی پر اکتفاء کرتے ہو جو اس نے تمھارے لیے حلال ٹھہرایا ہے، پس اس آسانی کے باعث جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے پیدا کی ہے، تمھارے گناہ کم ہو جاتے ہیں، پس یہ اللہ کا اپنے بندے کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا ہے۔ نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا یہ بھی ہے کہ جب ان سے گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں میں انابت اور تذلل الہام کر دیتا ہے، پھر وہ توبہ کو قبول کرتا ہے جس کی توفیق اس نے خود عطا کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی حمد و ثنا ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ کامل حکمت والا ہے یہ اس کے علم ہی کا حصہ ہے کہ اس نے تمھیں اس چیز کی تعلیم دی جس کا تمھیں علم نہیں تھا۔ یہ اشیاء اور یہ حدود اسی زمرے میں آتی ہیں اور اس کی حکمت کے حصے سے یہ ہے کہ وہ اس بندے کی توبہ قبول کرتا ہے جس کی توبہ قبول کرنے کا تقاضا اس کی حکمت اور رحمت کرتی ہے اور اس بندے کو چھوڑ کر اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے جس کو اپنے حال پر چھوڑ دینا اس کی حکمت اور عدل تقاضا کرتا ہے اور جو توبہ کی قبولیت کا اہل نہیں ہوتا۔ [27]﴿وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور اللہ تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسی توبہ (رجوع) کے ساتھ تمھاری طرف توجہ کرنا چاہتا ہے جو تمھاری پراگندگی کو درست کرے، تمھارے تفرقہ کو جمعیت قلبی میں اور تمھارے بعد کو قرب میں بدل دے۔ ﴿وَيُرِيۡدُ الَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الشَّهَوٰتِ﴾ ’’اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اپنی شہوات کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں وہ اپنے محبوب کی رضا پر ان شہوات کو ترجیح دیتے ہیں یہ لوگ اپنی خواہشات نفس کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ لوگ کفار اور نافرمانوں کی اصناف میں سے ہیں جو اپنی خواہشات کو اپنے رب کی اطاعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ پس یہ لوگ چاہتے ہیں ﴿اَنۡ تَمِيۡلُوۡا مَيۡلًا عَظِيۡمًا﴾ ’’کہ تم (کجی کی طرف) بہت زیادہ جھک جاؤ‘‘ یعنی تم صراط مستقیم سے انحراف کر کے ان لوگوں کی راہ پر چل نکلو جو مغضوب اور گمراہ ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمھیں اللہ رحمان کی اطاعت سے ہٹا کر شیطان کی اطاعت کی طرف پھیر دیں اور ہر قسم کی سعادت کی حدود سے نکال کر جو کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل میں پنہاں ہے، شقاوت اور بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دیں جو کہ شیطان کی پیروی کا نتیجہ ہے۔جب تم نے یہ پہچان لیا کہ اللہ تعالیٰ تمھیں صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں تمھاری اصلاح، تمھاری فلاح اور تمھاری سعادت ہے اور یہ کفار جو اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں تمھیں ان امور کا حکم دیتے ہیں جس میں تمھارے لیے انتہائی خسارہ اور بدبختی ہے۔ پس تم ان دونوں داعیوں میں سے صرف اسے منتخب کرو جو چنے جانے کا زیادہ مستحق ہے اور دونوں راستوں میں سے وہ راستہ اختیار کرو جو زیادہ بہتر ہے۔ [28]﴿يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّخَفِّفَ عَنۡكُمۡ﴾ ’’اللہ چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اوامر و نواہی کی آسانی کے ذریعے سے تمھارے لیے تخفیف پیدا کرنا چاہتا ہے۔ پھر بعض شرعی احکام میں مشقت کے باوجود اگر حاجت تقاضا کرتی ہے تو اضطراری حالت میں مجبور شخص کے لیے انھیں مباح کر دیا ہے مثلاً مردار اور خون وغیرہ کا تناول کرنا مجبور شخص کے لیے مباح ہے۔ اسی طرح مذکورہ شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے لونڈی سے نکاح کرنا جائز ہے۔ یہ اس کی رحمت کاملہ اور اس احسان کے سبب سے ہے جو سب کو شامل ہے اور یہ اس کی حکمت اور علم پر مبنی ہے وہ جانتا ہے کہ انسان ہر لحاظ سے کمزور ہے اس کی بنیاد ہی کمزوری پر رکھی گئی ہے، اس کا عزم و ارادہ کمزور ہے اور ایمان و صبر کمزور ہے۔ پس ان احوال میں مناسب یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ ان احکام میں تخفیف کر دے جن کی بندہ اپنی کمزوری کی وجہ سے تعمیل سے قاصر ہے اس کا ایمان، صبر اور قوت جن کا بوجھ اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔
4:28

يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمۡۚ وَخُلِقَ ٱلۡإِنسَٰنُ ضَعِيفٗا

ارادہ کرتا ہے اللہ کہ بیان کرے تمھارے لیے اور ہدایت کرے تمھیں طریقوں کی ان لوگوں کے جو تم سے پہلے ہوئے اور متوجہ ہو تم پراور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے(26) اور اللہ ارادہ کرتا ہے کہ متوجہ ہو وہ تم پر اور ارادہ کرتے ہیں وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں خواہشات کی یہ کہ پھر جاؤ تم (حق سے) ، پھر جانا بہت زیادہ(27) ارادہ کرتا ہے اللہ یہ کہ آسانی کرے تم سے اور پیدا کیا گیا ہے انسان بہت کمزور(28) [26] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی عظیم نوازش، بہت بڑے فضل و کرم اور اپنے مومن بندوں کی حسن تربیت اور دین کی سہولت سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمۡ﴾ ’’اللہ چاہتا ہے کہ تمھارے واسطے بیان کرے‘‘ یعنی حق و باطل اور حلال و حرام میں سے جس جس چیز کی توضیح کے تم محتاج ہو اللہ تعالیٰ اسے کھول کھول کر بیان کرتا ہے ﴿وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ تمھیں ان لوگوں کا راستہ دکھاتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا یعنی انبیائے کرام اور ان کے متبعین کی سیرت حمیدہ، ان کے افعال صالحہ، ان کی عادات کاملہ اور ان کی توفیق تام کا راستہ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا اسے نافذ کیا، تمھارے سامنے اسے پوری طرح واضح کر دیا جیسے تم سے پہلے لوگوں پر اسے پوری طرح واضح کر دیا تھا اور تمھیں علم و عمل میں عظیم ہدایت سے نوازا ﴿وَيَتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور رجوع کرے تم پر‘‘ یعنی اللہ تم پر تمھارے تمام احوال میں اور تمھارے لیے بنائی ہوئی شریعت میں اپنے لطف و کرم کا فیضان کرتا ہے۔ یہاں تک کہ تمھارے لیے ان حدود پر ٹھہرنا ممکن ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں اور تم اسی پر اکتفاء کرتے ہو جو اس نے تمھارے لیے حلال ٹھہرایا ہے، پس اس آسانی کے باعث جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے پیدا کی ہے، تمھارے گناہ کم ہو جاتے ہیں، پس یہ اللہ کا اپنے بندے کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا ہے۔ نیز اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں کی طرف توبہ کے ساتھ پلٹنا یہ بھی ہے کہ جب ان سے گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کے دلوں میں انابت اور تذلل الہام کر دیتا ہے، پھر وہ توبہ کو قبول کرتا ہے جس کی توفیق اس نے خود عطا کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی حمد و ثنا ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ کامل حکمت والا ہے یہ اس کے علم ہی کا حصہ ہے کہ اس نے تمھیں اس چیز کی تعلیم دی جس کا تمھیں علم نہیں تھا۔ یہ اشیاء اور یہ حدود اسی زمرے میں آتی ہیں اور اس کی حکمت کے حصے سے یہ ہے کہ وہ اس بندے کی توبہ قبول کرتا ہے جس کی توبہ قبول کرنے کا تقاضا اس کی حکمت اور رحمت کرتی ہے اور اس بندے کو چھوڑ کر اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے جس کو اپنے حال پر چھوڑ دینا اس کی حکمت اور عدل تقاضا کرتا ہے اور جو توبہ کی قبولیت کا اہل نہیں ہوتا۔ [27]﴿وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور اللہ تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسی توبہ (رجوع) کے ساتھ تمھاری طرف توجہ کرنا چاہتا ہے جو تمھاری پراگندگی کو درست کرے، تمھارے تفرقہ کو جمعیت قلبی میں اور تمھارے بعد کو قرب میں بدل دے۔ ﴿وَيُرِيۡدُ الَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الشَّهَوٰتِ﴾ ’’اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اپنی شہوات کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں وہ اپنے محبوب کی رضا پر ان شہوات کو ترجیح دیتے ہیں یہ لوگ اپنی خواہشات نفس کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ لوگ کفار اور نافرمانوں کی اصناف میں سے ہیں جو اپنی خواہشات کو اپنے رب کی اطاعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ پس یہ لوگ چاہتے ہیں ﴿اَنۡ تَمِيۡلُوۡا مَيۡلًا عَظِيۡمًا﴾ ’’کہ تم (کجی کی طرف) بہت زیادہ جھک جاؤ‘‘ یعنی تم صراط مستقیم سے انحراف کر کے ان لوگوں کی راہ پر چل نکلو جو مغضوب اور گمراہ ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمھیں اللہ رحمان کی اطاعت سے ہٹا کر شیطان کی اطاعت کی طرف پھیر دیں اور ہر قسم کی سعادت کی حدود سے نکال کر جو کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل میں پنہاں ہے، شقاوت اور بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دیں جو کہ شیطان کی پیروی کا نتیجہ ہے۔جب تم نے یہ پہچان لیا کہ اللہ تعالیٰ تمھیں صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں تمھاری اصلاح، تمھاری فلاح اور تمھاری سعادت ہے اور یہ کفار جو اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں تمھیں ان امور کا حکم دیتے ہیں جس میں تمھارے لیے انتہائی خسارہ اور بدبختی ہے۔ پس تم ان دونوں داعیوں میں سے صرف اسے منتخب کرو جو چنے جانے کا زیادہ مستحق ہے اور دونوں راستوں میں سے وہ راستہ اختیار کرو جو زیادہ بہتر ہے۔ [28]﴿يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّخَفِّفَ عَنۡكُمۡ﴾ ’’اللہ چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اوامر و نواہی کی آسانی کے ذریعے سے تمھارے لیے تخفیف پیدا کرنا چاہتا ہے۔ پھر بعض شرعی احکام میں مشقت کے باوجود اگر حاجت تقاضا کرتی ہے تو اضطراری حالت میں مجبور شخص کے لیے انھیں مباح کر دیا ہے مثلاً مردار اور خون وغیرہ کا تناول کرنا مجبور شخص کے لیے مباح ہے۔ اسی طرح مذکورہ شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے لونڈی سے نکاح کرنا جائز ہے۔ یہ اس کی رحمت کاملہ اور اس احسان کے سبب سے ہے جو سب کو شامل ہے اور یہ اس کی حکمت اور علم پر مبنی ہے وہ جانتا ہے کہ انسان ہر لحاظ سے کمزور ہے اس کی بنیاد ہی کمزوری پر رکھی گئی ہے، اس کا عزم و ارادہ کمزور ہے اور ایمان و صبر کمزور ہے۔ پس ان احوال میں مناسب یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ ان احکام میں تخفیف کر دے جن کی بندہ اپنی کمزوری کی وجہ سے تعمیل سے قاصر ہے اس کا ایمان، صبر اور قوت جن کا بوجھ اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔
4:29

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيمٗا

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ کھاؤ تم اپنے مال آپس میں ناحق طریقے سے مگر یہ کہ ہو تجارت رضامندی سے آپس کی اور نہ قتل کرو تم اپنے نفسوں کو، بلاشبہ اللہ ہے تمھارے ساتھ بڑا مہربان(29) اور جو کرے گا یہ (کام) زیادتی اور ظلم سے تو عنقریب داخل کریں گے ہم اس کو آگ میں اور ہے یہ اوپر اللہ کے آسان(30) [29] اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو باہم ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھانے سے منع کیا ہے اور اس میں غصب کر کے مال کھانا، چوری کے ذریعے سے مال کھانا، جوئے کے ذریعے سے مال ہتھیانا اور دیگر ناجائز اور گھٹیا طریقوں سے مال حاصل کرنا، سب شامل ہے۔ بلکہ شاید اس میں آپ کا اپنا وہ مال کھانا بھی آجاتا ہے جو آپ تکبر اور اسراف سے کھاتے ہیں کیونکہ یہ بھی باطل ہے، طریق حق نہیں ہے۔ پھر چونکہ اس نے باطل طریقے سے مال کھانے سے روک دیا ہے اس لیے اس نے تجارت اور ایسے پیشوں کے ذریعے سے، جس میں کوئی شرعی ممانعت نہ ہو، اور جو باہم رضامندی اور جائز شرائط پر مشتمل ہوں، مال کمانا مباح قرار دے دیا۔ ﴿وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾’’اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔‘‘ یعنی ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور نہ کوئی شخص اپنے آپ کو قتل کرے۔ اس میں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا اور ایسے خطرات مول لینا شامل ہیں جن کا نتیجہ ہلاکت اور اتلاف کے سوا کچھ نہیں۔﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيۡمًا﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ تم پر مہربان ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے تمھاری جان اور مال کو محفوظ کیا اور ان کو ضائع کرنے اور تلف کرنے سے منع کیا ہے اور اس کے لیے اسی طرح کی سزا تجویز کی جیسے دیگر جرائم پر حدود ہیں۔ذرا اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَكُمۡ﴾ اور ﴿وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾ کے اختصار و ایجاز اور اس کی جامعیت پر غور فرمایئے کہ یہ ارشاد دوسروں کے مال اور خود اپنے مال، دوسروں کی جان اور خود اپنی جان کو شامل ہے اور ایسی عبارت کے ذریعے بیان کیا ہے جو (لَا یَاْکُلْ بَعْضُکُمْ مَالَ بَعْضٍ ) اور (لَا یَقْتُلْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا) سے زیادہ مختصر ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ مؤخر الذکر عبارت دوسروں کے مال اور دوسروں کے نفس کو شامل کرنے سے قاصر ہے۔ نیز جان اور مال کی عمومیت کے ساتھ تمام اہل ایمان کی طرف اضافت کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ تمام اہل ایمان باہم محبت کرنے، باہم رحم کرنے، باہم شفقت و عاطفت سے پیش آنے میں اور اپنے مشترک مصالح میں جسد واحد کی مانند ہیں۔ کیونکہ ان کے ایمان نے ان کو دینی اور دنیاوی مصالح پر جمع کر دیا ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے باطل طریقے سے مال کھانے سے روک دیا کیونکہ دوسروں کا مال ہتھیانا اور کھانا ان کے لیے نقصان دہ تھا۔ تب مختلف قسم کے پیشوں کو، جن میں ان کی مصلحت تھی مثلاً تجارت، صنعت و حرفت اور اجارات وغیرہ کو، ان کے لیے مباح کر دیا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَةً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡكُمۡ﴾ ’’اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہوجائے تو وہ جائز ہے۔‘‘ یعنی تجارت تمھارے لیے مباح ہے۔ تجارت ہونے کے ساتھ ساتھ باہمی رضامندی کی شرط اس امر کی دلیل ہے کہ یہ تجارتی عقد سود پر مبنی نہ ہو۔ کیونکہ سود تجارت نہیں ہے بلکہ سود تجارت کے مقاصد کے خلاف ہے۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ اس تجارتی عقد کے دونوں فریق برضا و رغبت اسے قبول کریں اور کامل رضا و رغبت یہ ہے کہ جس معاملے پر معاہدہ کیا گیا ہے وہ پوری طرح معلوم ہو کیونکہ اگر وہ چیز جس پر معاہدہ کیا گیا ہے پوری طرح معلوم نہ ہو گی۔ تو یہ معاہدہ تسلیم و رضامندی پر مبنی متصور نہ ہو گا کیونکہ جس چیز کا حصول انسان کی طاقت اور اختیار میں نہ ہو، جوا بازی ہے۔ اسی طرح دھوکے کی بیع اپنی تمام انواع سمیت باہمی رضامندی سے خالی ہوتی ہے اس لیے ایسا معاہدہ منعقد نہیں ہوتا۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ معاہدے قول و فعل کے ذریعے سے اظہار رضامندی سے منعقد ہو جاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عقد کے انعقاد کے لیے رضامندی کی شرط عائد کی ہے اور رضامندی کا اظہار جس طریقے سے بھی کیا جائے اس سے معاہدہ منعقد ہو جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد کا اختتام اس جملے پر کیا ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيۡمًا﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ تم پر مہربان ہے۔‘‘ یہ اس کی رحمت ہی ہے کہ اس نے تمھاری جان اور مال کو محفوظ و مامون کیا اورتمھیں جان و مال کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا۔ [30]﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ﴾ ’’اور جو ایسا کرے گا‘‘ یعنی باطل طریقے سے لوگوں کے مال کھانا اور انسان کو ناحق قتل کرنا ﴿عُدۡوَانًا وَّ ظُلۡمًا﴾ ’’تعدی اور ظلم سے۔‘‘ یعنی لاعلمی اور بھول کر نہیں بلکہ ظلم اور تعدی سے ﴿فَسَوۡفَ نُصۡلِيۡهِ نَارًا﴾ ’’تو ہم اسے آگ میں داخل کریں گے‘‘ یہ بہت بڑی آگ ہو گی جیسا کہ یہ (نَارًا) کے نکرہ ہونے سے مستفاد ہو رہا ہے ﴿ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘
4:30

وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ عُدۡوَٰنٗا وَظُلۡمٗا فَسَوۡفَ نُصۡلِيهِ نَارٗاۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًا

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ کھاؤ تم اپنے مال آپس میں ناحق طریقے سے مگر یہ کہ ہو تجارت رضامندی سے آپس کی اور نہ قتل کرو تم اپنے نفسوں کو، بلاشبہ اللہ ہے تمھارے ساتھ بڑا مہربان(29) اور جو کرے گا یہ (کام) زیادتی اور ظلم سے تو عنقریب داخل کریں گے ہم اس کو آگ میں اور ہے یہ اوپر اللہ کے آسان(30) [29] اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو باہم ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھانے سے منع کیا ہے اور اس میں غصب کر کے مال کھانا، چوری کے ذریعے سے مال کھانا، جوئے کے ذریعے سے مال ہتھیانا اور دیگر ناجائز اور گھٹیا طریقوں سے مال حاصل کرنا، سب شامل ہے۔ بلکہ شاید اس میں آپ کا اپنا وہ مال کھانا بھی آجاتا ہے جو آپ تکبر اور اسراف سے کھاتے ہیں کیونکہ یہ بھی باطل ہے، طریق حق نہیں ہے۔ پھر چونکہ اس نے باطل طریقے سے مال کھانے سے روک دیا ہے اس لیے اس نے تجارت اور ایسے پیشوں کے ذریعے سے، جس میں کوئی شرعی ممانعت نہ ہو، اور جو باہم رضامندی اور جائز شرائط پر مشتمل ہوں، مال کمانا مباح قرار دے دیا۔ ﴿وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾’’اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔‘‘ یعنی ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور نہ کوئی شخص اپنے آپ کو قتل کرے۔ اس میں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا اور ایسے خطرات مول لینا شامل ہیں جن کا نتیجہ ہلاکت اور اتلاف کے سوا کچھ نہیں۔﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيۡمًا﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ تم پر مہربان ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے تمھاری جان اور مال کو محفوظ کیا اور ان کو ضائع کرنے اور تلف کرنے سے منع کیا ہے اور اس کے لیے اسی طرح کی سزا تجویز کی جیسے دیگر جرائم پر حدود ہیں۔ذرا اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَكُمۡ﴾ اور ﴿وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾ کے اختصار و ایجاز اور اس کی جامعیت پر غور فرمایئے کہ یہ ارشاد دوسروں کے مال اور خود اپنے مال، دوسروں کی جان اور خود اپنی جان کو شامل ہے اور ایسی عبارت کے ذریعے بیان کیا ہے جو (لَا یَاْکُلْ بَعْضُکُمْ مَالَ بَعْضٍ ) اور (لَا یَقْتُلْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا) سے زیادہ مختصر ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ مؤخر الذکر عبارت دوسروں کے مال اور دوسروں کے نفس کو شامل کرنے سے قاصر ہے۔ نیز جان اور مال کی عمومیت کے ساتھ تمام اہل ایمان کی طرف اضافت کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ تمام اہل ایمان باہم محبت کرنے، باہم رحم کرنے، باہم شفقت و عاطفت سے پیش آنے میں اور اپنے مشترک مصالح میں جسد واحد کی مانند ہیں۔ کیونکہ ان کے ایمان نے ان کو دینی اور دنیاوی مصالح پر جمع کر دیا ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے باطل طریقے سے مال کھانے سے روک دیا کیونکہ دوسروں کا مال ہتھیانا اور کھانا ان کے لیے نقصان دہ تھا۔ تب مختلف قسم کے پیشوں کو، جن میں ان کی مصلحت تھی مثلاً تجارت، صنعت و حرفت اور اجارات وغیرہ کو، ان کے لیے مباح کر دیا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَةً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡكُمۡ﴾ ’’اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہوجائے تو وہ جائز ہے۔‘‘ یعنی تجارت تمھارے لیے مباح ہے۔ تجارت ہونے کے ساتھ ساتھ باہمی رضامندی کی شرط اس امر کی دلیل ہے کہ یہ تجارتی عقد سود پر مبنی نہ ہو۔ کیونکہ سود تجارت نہیں ہے بلکہ سود تجارت کے مقاصد کے خلاف ہے۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ اس تجارتی عقد کے دونوں فریق برضا و رغبت اسے قبول کریں اور کامل رضا و رغبت یہ ہے کہ جس معاملے پر معاہدہ کیا گیا ہے وہ پوری طرح معلوم ہو کیونکہ اگر وہ چیز جس پر معاہدہ کیا گیا ہے پوری طرح معلوم نہ ہو گی۔ تو یہ معاہدہ تسلیم و رضامندی پر مبنی متصور نہ ہو گا کیونکہ جس چیز کا حصول انسان کی طاقت اور اختیار میں نہ ہو، جوا بازی ہے۔ اسی طرح دھوکے کی بیع اپنی تمام انواع سمیت باہمی رضامندی سے خالی ہوتی ہے اس لیے ایسا معاہدہ منعقد نہیں ہوتا۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ معاہدے قول و فعل کے ذریعے سے اظہار رضامندی سے منعقد ہو جاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عقد کے انعقاد کے لیے رضامندی کی شرط عائد کی ہے اور رضامندی کا اظہار جس طریقے سے بھی کیا جائے اس سے معاہدہ منعقد ہو جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد کا اختتام اس جملے پر کیا ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيۡمًا﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ تم پر مہربان ہے۔‘‘ یہ اس کی رحمت ہی ہے کہ اس نے تمھاری جان اور مال کو محفوظ و مامون کیا اورتمھیں جان و مال کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا۔ [30]﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ﴾ ’’اور جو ایسا کرے گا‘‘ یعنی باطل طریقے سے لوگوں کے مال کھانا اور انسان کو ناحق قتل کرنا ﴿عُدۡوَانًا وَّ ظُلۡمًا﴾ ’’تعدی اور ظلم سے۔‘‘ یعنی لاعلمی اور بھول کر نہیں بلکہ ظلم اور تعدی سے ﴿فَسَوۡفَ نُصۡلِيۡهِ نَارًا﴾ ’’تو ہم اسے آگ میں داخل کریں گے‘‘ یہ بہت بڑی آگ ہو گی جیسا کہ یہ (نَارًا) کے نکرہ ہونے سے مستفاد ہو رہا ہے ﴿ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا ﴾ ’’اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘
4:31

إِن تَجۡتَنِبُواْ كَبَآئِرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنكُمۡ سَيِّـَٔاتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡكُم مُّدۡخَلٗا كَرِيمٗا

اگر بچو گے تم ان بڑے گناہوں سے کہ روکے جاتے ہو تم ان سے تو دور کر دیں گے ہم تم سے تمھاری برائیاں اور داخل کریں گے تمھیں جگہ میں عزت کی(31) [31] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ فرمایا ہے کہ اگر وہ بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کریں گے تو وہ ان کے تمام گناہ اور برائیاں بخش دے گا اور انھیں اچھا ٹھکانا عطا کرے گا جہاں خیر کثیر ہو گا اور وہ ہے جنت جو ایسی نعمتوں پر مشتمل ہے جو کسی آنکھ نے کبھی دیکھی نہ کسی کان نے سنی اور نہ کسی بشر کے حاشیہ خیال میں ان کا گزر ہوا ہے۔ بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب میں ان فرائض کا بجا لانا بھی شامل ہے جن کو ترک کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ نماز پنجگانہ، نماز جمعہ، رمضان کے روزے رکھنا وغیرہ۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا ’’نماز پنجگانہ، اور جمعہ سے جمعہ اور رمضان سے رمضان کے مابین جو گناہ سرزد ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو مٹا دیتا ہے بشرطیکہ کبائر سے بچتے رہیں۔‘‘(صحیح مسلم، الصلوٰۃ، باب الصلوات الخمس ......الخ، حديث:552)گناہ کبیرہ کی بہترین تعریف یہ ہے : گناہ کبیرہ وہ گناہ ہے جو دنیا میں حد کا موجب ہو یا آخرت میں اس پر سخت وعید آئی ہو یا اس کے مرتکب کے ایمان کی نفی یا اس پر لعنت کی گئی ہو یا اس گناہ پر سخت غصے کا اظہار کیا گیا ہو۔
4:32

وَلَا تَتَمَنَّوۡاْ مَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعۡضَكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٞ مِّمَّا ٱكۡتَسَبُواْۖ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٞ مِّمَّا ٱكۡتَسَبۡنَۚ وَسۡـَٔلُواْ ٱللَّهَ مِن فَضۡلِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٗا

اور نہ تمنا کرو تم اس چیز کی کہ فضیلت دی اللہ نے اس کے ساتھ بعض تمھارے کو بعض پر، مردوں کے لیے حصہ ہے اس سے جو کمایا انھوں نے اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس سے جو کمایا انھوں نےاور سوال کرو تم اللہ سے اس کے فضل کا بلاشبہ اللہ ہے ساتھ ہر چیز کے خوب جاننے والا(32) [32]اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان سے فرمایا ہے کہ وہ اس چیز کی تمنا نہ کریں جو اس نے اپنے فضل و کرم سے دوسروں کو عطا کی ہے۔ خواہ یہ ممکن امور ہوں یا غیر ممکن۔ چنانچہ عورتیں مردوں کے خصائص کی تمنا نہ کریں جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت عطا کی ہے۔ نہ صاحب فقر اور صاحب نقص، مالداری اور کاملیت کی مجرد تمنا کریں کیونکہ ایسی مجرد تمنا حسد کے زمرے میں شمار ہوتی ہے یعنی دوسروں پر اللہ تعالیٰ کی نعمت دیکھ کر اس سے اس کے سلب ہونے اور خود کو حاصل ہونے کی تمنا کرنا۔ نیز یہ تمنا اس امر کی مقتضی ہے کہ تمنا کرنے والا اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر ناراض ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ کاہلی اور جھوٹی تمناؤں میں گرفتار ہے جو عمل اور محنت سے عاری ہوتی ہیں۔ البتہ صرف دو امور محمود ہیں۔(۱)بندہ اپنی استطاعت اور مقدرت بھر اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے حصول کے لیے کوشش اور جدوجہد کرے۔(۲) اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل و کرم کا سوال کرے، اپنے نفس پر بھروسہ کرے نہ اپنے رب کے سوا کسی اور پر۔بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لِلرِّؔجَالِ نَصِيۡبٌ مِّؔمَّؔا اكۡتَسَبُوۡا ﴾ ’’مردوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انھوں نے کیے۔‘‘ یعنی مردوں کے نتیجہ خیز اعمال میں ان کا حصہ ہے ﴿ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيۡبٌ مِّؔمَّؔا اكۡتَسَبۡنَ ﴾ ’’اور عورتوں کے لیے اس میں سے حصہ ہے جو وہ کمائیں‘‘ پس ان میں سے تمام لوگ وہی کچھ حاصل کرتے ہیں جو انھوں نے کمایا اور جس میں انھوں نے محنت کی ﴿ وَسۡـَٔؔلُوا اللّٰهَ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اور اللہ سے اس کا فضل مانگتے رہو۔‘‘ یعنی اپنے دین و دنیا کے تمام مصالح میں صرف اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو۔یہ بندۂ مؤمن کا کمال اور اس کی سعادت کا عنوان ہے۔ وہ شخص اس سے محروم ہے جو عمل کو چھوڑ دیتا ہے، اپنے نفس پر بھروسہ کرتا ہے اور اپنے آپ کو اپنے رب کا محتاج نہیں سمجھتا۔ یا اس میں دونوں چیزیں جمع ہیں۔ (عمل کرتا ہے نہ رب کی طرف رجوع اور اس پر اعتماد) یہ شخص خائب و خاسر اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمًا ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ پس وہ صرف اسے عطا کرتا ہے جو اس کے علم میں اس کا اہل ہوتا ہے اور اسے محروم کر دیتا ہے جو اس کے علم میں غیرمستحق ہوتا ہے۔
4:33

وَلِكُلّٖ جَعَلۡنَا مَوَٰلِيَ مِمَّا تَرَكَ ٱلۡوَٰلِدَانِ وَٱلۡأَقۡرَبُونَۚ وَٱلَّذِينَ عَقَدَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡ فَـَٔاتُوهُمۡ نَصِيبَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدًا

اور ہر ایک کے لیے بنائے ہم نے وارث اس (مال) کے جو چھوڑا ماں باپ نے اور قریب تر رشتے داروں نےاور وہ لوگ کہ (جن سے) گرہ باندھی (عہد کیا) تمھارے دائیں ہاتھوں نے تو دو تم ان کو حصہ ان کا۔ بلاشبہ اللہ ہے اوپر ہر چیز کے گواہ(33) [33]﴿ وَلِكُلٍّ ﴾ ’’اور واسطے ہر ایک کے‘‘ یعنی تمام لوگوں میں سے ﴿ جَعَلۡنَا مَوَالِيَ ﴾ ’’ہم نے وارث بنائے‘‘ وہ اس کی سرپرستی کرتے ہیں اور وہ بھی نصرت و حمایت اور دیگر معاملات میں معاونت کے ذریعے سے ان کی سرپرستی کرتا ہے ﴿ مِمَّؔا تَرَكَ الۡوَالِدٰؔنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ ﴾ ’’اس مال کے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت دار‘‘ اس میں اصول و فروع اور حواشی کے تعلق سے تمام رشتہ دار شامل ہیں۔ یہ تمام لوگ قرابت کے اعتبار سے وارث (موالی) ہیں۔ پھر سرپرستوں (موالی) کی ایک اور قسم کا ذکر کیا۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ عَقَدَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ ﴾ ’’جن سے تمھارا معاہدہ ہوا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کے ساتھ تم باہم نصرت و حمایت کر کے، اور مال میں اشتراک کا معاہدہ کر کے ایک دوسرے کے حلیف بنے ہو۔یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر انعام ہے۔ سرپرست ایک دوسرے کی وہاں مدد کرتے ہیں جہاں ان میں سے تنہا آدمی کسی چیز پر قادر نہیں ہوتا۔ ﴿ فَاٰتُوۡهُمۡ نَصِيۡبَهُمۡ ﴾ ’’پس ان کو ان کا حصہ دو‘‘ یعنی غیر معصیت کے امور میں اپنے سرپرستوں اور رشتہ داروں کو نصرت و معاونت اور اپنی مدد سے حصہ دو۔ مگر میراث ان لوگوں کا حق ہے جو رشتہ داروں میں سب سے زیادہ قریب ہیں ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدًا﴾ ’’بے شک ہر چیز اللہ کے روبرو ہے‘‘ یعنی وہ ہر چیز کی اطلاع رکھتا ہے اپنے علم کے ذریعے سے تمام امور کی، اپنی بصر کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تمام حرکات کی اور اپنی سمع کے ذریعے سے ان کی تمام آوازوں کی خبر رکھتا ہے۔
4:34

ٱلرِّجَالُ قَوَّـٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ وَبِمَآ أَنفَقُواْ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡۚ فَٱلصَّـٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٞ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُۚ وَٱلَّـٰتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهۡجُرُوهُنَّ فِي ٱلۡمَضَاجِعِ وَٱضۡرِبُوهُنَّۖ فَإِنۡ أَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُواْ عَلَيۡهِنَّ سَبِيلًاۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيّٗا كَبِيرٗا

مرد حاکم ہیں اوپر عورتوں کے بہ سبب اس کے جو فضیلت دی اللہ نے ان میں سے بعض کو اوپر بعض کےاور بہ سبب اس کے جو خرچ کرتے ہیں وہ اپنے مالوں سے۔ پس نیک عورتیں فرماں بردار ہوتی ہیں، حفاظت کرنے والیاں پیٹھ پیچھے ساتھ حفاظت کرنے اللہ کے۔ اور وہ عورتیں کہ ڈرتے ہو تم ان کی سرکشی سے تو نصیحت کرو تم ان کو اور الگ کر دو ان کو خواب گاہوں میں اور مارو انھیں، پھر اگر اطاعت کریں وہ تمھاری تو نہ تلاش کرو ان پر کوئی راہ (ستانے کی)۔ بلاشبہ اللہ ہے بہت بلند نہایت بڑا(34) [34] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے ﴿ اَلرِّؔجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَى النِّسَآءِ ﴾ ’’مرد عورتوں کے نگران، محافظ ہیں‘‘ یعنی مرد عورتوں سے اللہ تعالیٰ کے حقوق کا التزام کروانے والے، ان سے ان کے فرائض کی حفاظت کروانے والے اور ان کو مفاسد سے روکنے والے ہیں۔ اور اس اعتبار سے وہ عورتوں پر قوام ہیں۔ اور مردوں پر فرض ہے کہ وہ عورتوں سے ان امور کا التزام کروائیں۔ وہ عورتوں پر اس اعتبار سے بھی قوام ہیں کہ وہ ان پر خرچ کرتے ہیں اور انھیں لباس اور مسکن مہیا کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کیا ہے جو عورتوں پر مردوں کے قوام ہونے کا موجب ہے، فرمایا ﴿ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ ﴾’’اس لیے کہ اللہ نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لیے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یعنی اس سبب سے کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے نیز اس سبب سے کہ وہ ان پر خرچ کرتے ہیں۔ پس مردوں کی عورتوں پر فضیلت کی متعدد وجوہات ہیں۔(۱)تمام بڑے بڑے منصب مردوں کے ساتھ مخصوص ہیں، نبوت، رسالت، اور بہت سی عبادات مثلاً جہاد، عیدین اور جمعات وغیرہ میں مردوں کو اختصاص حاصل ہے۔(۲)اللہ تعالیٰ نے مردوں کو وافر عقل، وقار، صبر اور وہ جفاکشی عطا کی ہے جو عورتوں میں نہیں پائی جاتی۔(۳) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مردوں کو اپنی بیویوں پر خرچ کرنے کی ذمہ داری عطا کی ہے بلکہ بہت سے اخراجات ایسے ہیں جو صرف مردوں سے مختص ہیں اور اس اعتبار سے عورتوں سے ممتاز ہیں۔ شاید اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا ﴾ ’’اور اس لیے بھی کہ وہ (مرد) خرچ کرتے ہیں۔‘‘ کا یہی سر نہاں ہے یہاں جملے میں مفعول کو حذف کرنا، عمومی نان و نفقہ اور اخراجات کی دلیل ہے۔ان تمام توضیحات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد عورت کے آقا اور والی کی حیثیت رکھتا ہے اور عورت اپنے شوہر کے پاس ایک اسیر کی مانند ہے۔ پس مرد کی ذمہ داری اور اس کا کام یہ ہے کہ وہ ان امور کا انتظام کرے جن کی رعایت رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور عورت کی ذمہ داری اور اس کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے رب اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَالصّٰؔلِحٰؔتُ قٰنِتٰؔتٌ ﴾ ’’تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مطیع ہوتی ہیں۔‘‘ یعنی وہ اللہ کی اطاعت کرنے والی ہیں ﴿ حٰؔفِظٰتٌ لِّلۡغَيۡبِ ﴾ یعنی وہ اپنے شوہروں کی اطاعت کرنے والی ہیں حتیٰ کہ وہ ان کی عدم موجودگی میں بھی ان کی اطاعت کرتی ہیں۔ اپنی عفت کی حفاظت کے ذریعے سے اپنے شوہر کی اور اس کے مال کی حفاظت کرتی ہیں اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور اس کی توفیق سے ہے ان کی طرف سے کچھ بھی نہیں، کیونکہ نفس تو ہمیشہ برائی کا حکم دیتا ہے مگر جو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو رنج میں ڈالنے والے دینی اور دنیاوی امور میں اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔پھر فرمایا ﴿ وَالّٰتِيۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَهُنَّ ﴾ ’’اور وہ عورتیں، جن کی نافرمانی سے تم ڈرتے ہو‘‘ یعنی ان کا اطاعت سے باہر نکلنا، قول و فعل کے ذریعے سے اپنے شوہر کی نافرمانی کرنا۔ اس صورت میں شوہر آسان سے آسان طریقے سے اس کی تادیب کرے ﴿ فَعِظُوۡهُنَّ ﴾ ’’ان کو نصیحت کرو۔‘‘ یعنی شوہر کی اطاعت، اور اس کی نافرمانی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے احکام بیان کر کے ان کو نصیحت کرو۔ شوہر کی اطاعت کی ترغیب دو اور اس کی نافرمانی سے ڈراؤ۔ اگر وہ نافرمانی سے باز آ جائیں تو یہی چیز مطلوب ہے اور اگر وہ اپنا رویہ نہ بدلیں تو شوہر اسے اس کے بستر پر تنہا چھوڑ دے، اس کے بستر پر سوئے نہ اس کے ساتھ مجامعت کرے۔ یہ سزا بس اسی قدر ہو جس سے مقصد حاصل ہو جائے۔ اگر پھر بھی نافرمانی ترک نہ کرے تو شوہر اس کو ایسی مار مارے جو نقصان دہ نہ ہو۔ اگر ان مذکورہ طریقوں میں سے کسی طریقے سے مقصد حاصل ہو جائے اور وہ تمھاری اطاعت کرنے لگ جائیں ﴿ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَيۡهِنَّ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ڈھونڈو ان پر کوئی راہ‘‘ پس جو مقصد تم حاصل کرنا چاہتے تھے تمھیں حاصل ہو گیا، اس لیے اب تم گزشتہ معاملات میں ان پر عتاب کرنا اور ان کو کریدنا چھوڑ دو جن کے ذکر سے نقصان پہنچتا ہے اور اس کی وجہ سے شر پیدا ہوتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّؔا كَبِيۡرًا ﴾ ’’بے شک اللہ سب سے اعلیٰ، جلیل القدر ہے۔‘‘ ہر پہلو اور ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ علو مطلق (مطلق بلندی) کا مالک ہے۔ اس کی ذات بلند ہے، وہ قدرت کے اعتبار سے بلند ہے اور وہ قہر اور غلبہ کے اعتبار سے بھی بلند ہے۔ وہ بڑا ہے جس سے کوئی بڑا نہیں اس سے زیادہ جلیل اور اس سے زیادہ عظیم کوئی ہستی نہیں، وہ اپنی ذات میں اور صفات میں بڑا ہے۔
4:35

وَإِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَٱبۡعَثُواْ حَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهِۦ وَحَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصۡلَٰحٗا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيۡنَهُمَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرٗا

اور اگر ڈرو تم اختلاف سے درمیان ان دونوں کے تو مقرر کر دو ایک منصف مرد کے کنبے سے اور ایک منصف عورت کے کنبے سے۔ اگر چاہیں گے یہ دونوں (منصف) صلح کروانا تو موافقت پیدا کر دے گا اللہ ان دونوں کے درمیان، بے شک اللہ ہے جاننے والا خبردار(35) [35] یعنی اگر تمھیں میاں بیوی کے مابین مخالفت، دوری اور ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہنے کا خوف ہو، حتی کہ ان میں سے ہر ایک، ایک کنارے پر ہو (یعنی اختلاف و نفرت کی انتہا پر ہو)﴿ فَابۡعَثُوۡا حَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهٖ وَحَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’تو ایک منصف مرد والوں میں سے اورایک عورت کے گھر والوں میں سے مقرر کرو‘‘ یعنی دو مکلف، مسلمان، عادل اور عاقل مردوں کو ثالث بنا لو جو میاں بیوی کے مابین تمام معاملات کو جانتے ہوں اور وہ جمع اور تفرقہ کو بھی جانتے ہوں۔ مذکورہ تمام صفات لفظ حَکَم سے مستفاد ہیں کیونکہ کوئی شخص اس وقت تک حَکَم (منصف) بننے کی صلاحیت سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ ان صفات کا حامل نہ ہو۔ وہ دونوں حَکَم (منصف) ان شکایات پر غور کریں جو وہ ایک دوسرے کے خلاف رکھتے ہوں، پھر دونوں حکم، میاں بیوی کی جو ذمہ داری بنتی ہے دونوں سے اس کا التزام کروائیں۔ اگر دونوں میں سے کوئی ایک اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر رہے تو دونوں حکم دوسرے فریق کو، رزق اور خلق میں جو کچھ میسر ہے، اس پر راضی رہنے پر آمادہ کریں۔ میاں بیوی کے درمیان معاملات کی اصلاح کرنے اور ان کو اکٹھا رکھنے کے لیے جو طریقہ بھی ممکن ہو، ثالث اس کے استعمال سے گریز نہ کریں۔اگر صورتحال یہاں تک پہنچ جائے کہ ان دونوں کے درمیان اصلاح اور ان کا اکٹھا رہنا ممکن نہ ہو بلکہ اس سے دشمنی، قطع تعلق اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں اضافہ ہوتا ہو اور دونوں حکم یہ رائے رکھتے ہوں کہ ان میں علیحدگی دونوں کے لیے بہتر ہے، تو دونوں میں تفریق کروا دیں۔ دونوں کے درمیان علیحدگی کا فیصلہ شوہر کی رضامندی سے مشروط نہیں ہے جیسا کہ یہ معنی دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں ثالثوں کو ’’حکم‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے اور حکم وہ ہوتا ہے جو فیصلہ کرے خواہ اس کے فیصلے پر محکوم علیہ راضی نہ ہو۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنۡ يُّرِيۡدَاۤ اِصۡلَاحًا يُّوَؔفِّقِ اللّٰهُ بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اگر یہ دونوں چاہیں گے کہ صلح کرا دیں تو اللہ ان کے درمیان موافقت کر دے گا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ مبارک رائے اور فریقین کے درمیان محبت اور الفت پیدا کرنے والے دلکش کلام کے ذریعے سے ان میں موافقت پیدا کر دے گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا خَبِيۡرًا ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے باخبر ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمام ظاہر و باطن کو جاننے والا اور تمام خفیہ امور اور تمام بھیدوں کی اطلاع رکھنے والا ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی خبر ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے یہ جلیل القدر احکام اور خوبصورت قوانین مشروع فرمائے۔
4:36

۞وَٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَلَا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيۡـٔٗاۖ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنٗا وَبِذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱلۡجَارِ ذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡجَارِ ٱلۡجُنُبِ وَٱلصَّاحِبِ بِٱلۡجَنۢبِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخۡتَالٗا فَخُورًا

اور عبادت کرو تم اللہ کی اور نہ شریک ٹھہراؤ اس کے ساتھ کسی چیز کو اور (کرو) ماں باپ کے ساتھ احسان اور رشتے داروں کے ساتھ اور یتیموں (کے ساتھ) اور مسکینوں (کے ساتھ) اور پڑوسی قرابت دار اور پڑوسی اجنبی (کے ساتھ) اور ہم نشیں (کے ساتھ) اور مسافر کے ساتھ اور (ان کے ساتھ) جن کے مالک ہوئے تمھارے دائیں ہاتھ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہے اترانے والا فخر کرنے والا(36) وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بخل کرنے کا اور چھپاتے ہیں وہ جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور تیار کیا ہم نے کافروں کے لیے عذاب رسوا کرنے والا(37) اور وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں مال اپنے دکھلاوے کے لیے لوگوں کو اور نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ اللہ کے اور نہ ساتھ یوم آخرت کے اور جو شخص کہ ہو شیطان اس کا ہم نشیں تو برا ہے وہ ہم نشیں(38) [37,36] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ وہ واحد اور لا شریک ہے۔ یہ درحقیقت اس کی عبودیت کے دائرے میں داخل ہونے، محبت، تذلل اور ظاہری اور باطنی تمام عبادات میں اخلاص کے ساتھ اس کے تمام اوامر و نواہی کی تعمیل کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک اصغر اور شرک اکبر ہر قسم کے شرک سے روکتا ہے۔ کسی فرشتہ، کسی نبی، ولی یا دیگر مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے سے منع کرتا ہے جو خود اپنی ذات کے لیے بھی کسی نفع و نقصان، موت وحیات اور دوبارہ اٹھانے پر قدرت نہیں رکھتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص واجب ہے۔ جو ہر لحاظ سے کمال مطلق کا مالک ہے۔ وہ کائنات کی پوری تدبیر کر رہا ہے جس میں اس کا کوئی شریک ہے نہ معاون اور مددگار۔اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور اپنے حقوق کے قیام کا حکم دینے کے بعد حقوق العباد کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے (حقوق العباد کے مراتب میں اصول یہ قائم فرمایا ہے) جو سب سے زیادہ قریب ہے اس کے سب سے زیادہ حقوق ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾ ’’ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو‘‘ یعنی ان کے ساتھ احسان کرو ان سے اچھی گفتگو، ان کے ساتھ تخاطب میں نرمی اور فعل جمیل کر کے ان کے حکم کی اطاعت اور ان کے ممنوعہ امور سے اجتناب اور ان کی ضروریات پر خرچ کر کے، ان کے دوستوں اور دیگر متعلقین کے ساتھ عزت و تکریم کا معاملہ کر کے اور ان رشتے داریوں کو قائم اور ان کے حقوق ادا کر کے، جن سے صرف والدین کی وجہ سے رشتے داری ہے۔احسان (یعنی حسن سلوک) کی دو اضداد ہیں، برا سلوک اور عدم احسان (حسن سلوک نہ کرنا) اور ان دونوں سے روکا گیا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَّبِذِي الۡقُرۡبٰى ﴾ ’’او رقرابت والوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی دیگر اقرباء کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آؤ۔یہ آیت کریمہ تمام اقارب کو شامل ہے۔ خواہ وہ زیادہ قریبی ہوں یا قدرے دور کے رشتہ دار ہوں۔ ان کے ساتھ قول و فعل کے ذریعے سے حسن سلوک سے پیش آئے اور اپنے قول و فعل سے ان کے ساتھ قطع رحمی نہ کرے۔ ﴿ وَالۡيَتٰمٰى ﴾ ’’اور یتیموں کے ساتھ‘‘ یعنی وہ چھوٹے بچے جو اپنے باپ سے محروم ہو گئے ہوں تمام مسلمانوں پر ان کا حق ہے۔۔۔ خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں۔۔۔ کہ وہ ان کی کفالت کریں ان کے ساتھ نیک سلوک کریں، ان کی دلجوئی کریں، ان کو ادب سکھائیں اور ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی بہترین تربیت کریں۔ ﴿ وَالۡمَسٰكِيۡنِ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کو فقر و حاجت نے بے حرکت اور عاجز کر دیا ہو ،جنھیں اتنی ضروریات زندگی حاصل نہ ہوں جو ان کو کفایت کر سکیں اور نہ ان کو جن کے یہ کفیل ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو ضروریات زندگی مہیا کی جائیں ان کا فقر و فاقہ دور کیا جائے اور لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دی جائے اور حتی الامکان ان امور کا انتظام کیا جائے۔ ﴿ وَالۡجَارِ ذِي الۡقُرۡبٰى ﴾ ’’اور رشتہ دار ہمسایوں کے ساتھ‘‘ یعنی رشتہ دار پڑوسی، اس کے دو حقوق ہیں۔ پڑوس کا حق اور قرابت کا حق۔ پس وہ اپنے پڑوسی پر حق رکھتا ہے اور اس کے حسن سلوک کا مستحق ہے۔ یہ سب عرف کی طرف راجع ہے۔اسی طرح ﴿ وَالۡجَارِ الۡجُنُبِ ﴾’’اور اجنبی ہمسایوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی وہ پڑوسی جو قریبی نہ ہو۔ پڑوسی کا دروازہ جتنا زیادہ قریب ہو گا اس کا حق اتنا ہی زیادہ مؤکد ہو گا۔ پڑوسی کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ہدیہ اور صدقہ دیتا رہے، اس کو دعوت پر بلاتا رہے اور اقوال و افعال میں نرمی اور ملاطفت سے پیش آیا کرے اور قول و فعل سے اس کو اذیت دینے سے باز رہے۔﴿ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَنۢۡبِ ﴾’’پہلو کے ساتھی سے حسن سلوک کرو‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد شریک سفر ہے۔ بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد بیوی ہے اور بعض اہل علم اس کا اطلاق مطلق ساتھی پر کرتے ہیں اور یہی زیادہ قرین صحت ہے۔ کیونکہ یہ لفظ اس کو شامل ہے جو سفر و حضر میں ساتھ رہے اور یہ لفظ بیوی کو بھی شامل ہے۔ ساتھی پر ساتھی کا حق ہے جو اس کے مجرد اسلام سے زائد ہے یعنی دینی اور دنیاوی امور میں اس کی مدد کرنا، اس کی خیر خواہی کرنا، آسانی اور تنگی، خوشی اور غمی میں اس کے ساتھ وفا کرنا۔ جو اپنے لیے پسند کرنا اس کے لیے بھی وہی پسند کرنا، اور جو اپنے لیے ناپسند کرنا وہ اس کے لیے بھی ناپسند کرنا، صحبت جتنی زیادہ ہو گی، یہ حق اتنا ہی زیادہ، اور مؤکد ہو گا۔﴿ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ﴾ وہ غریب الوطن شخص جو دور اجنبی شہر میں ہو، وہ خواہ محتاج ہویا نہ ہو، اس کی شدت احتیاج اور وطن سے دور ہونے کی وجہ سے مسلمانوں پر اس کا حق ہے کہ وہ اسے نہایت انس و اکرام کے ساتھ اس کے مقصد تک پہنچائیں۔ ﴿ وَمَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ ﴾ ’’اور جن کے تمھارے دائیں ہاتھ مالک ہوئے‘‘ یعنی آپ کی ملکیت میں آدمی ہوں یا بہائم ان کی ضروریات کا انتظام رکھنا، ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنا، بوجھ اٹھانے میں ان کی مدد کرنا ان کی مصلحت اور بھلائی کی خاطر ان کی تادیب کرنا ان کا آپ پر حق ہے۔ پس جو ان احکامات کی تعمیل کرتا ہے وہ اپنے رب کے سامنے جھکنے والا اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ انکساری سے پیش آنے والا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اوامر اور اس کی شریعت کی پیروی کرتا ہے۔ یہی شخص ثواب جزیل (بہت زیادہ ثواب) اور ثنائے جمیل کا مستحق ہے اور جو ان احکامات پر عمل نہیں کرتا وہ اپنے رب سے روگردان، اس کے اوامر کا نافرمان اور مخلوق کے لیے غیر متواضع ہے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنے والا ، خود پسند اور بے حد فخر کرنے والا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا ﴾ ’’یقینا اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ یعنی وہ خود پسند ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ تکبر سے پیش آتا ہے ﴿ فَخُوۡرَاِۨ ﴾ ’’اپنی بڑائی بیان کرنے والا ہے‘‘ وہ لوگوں کے سامنے فخر اور گھمنڈ کے ساتھ اپنی تعریفیں کرتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا فخر اور تکبر ان حقوق کو ادا کرنے سے مانع رہتا ہے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ يَبۡخَلُوۡنَ ﴾ ’’جو لوگ بخل کرتے ہیں‘‘ یعنی جو حقوق واجب ہیں ان کو ادا نہیں کرتے ﴿ وَيَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ﴾ ’’اور وہ لوگوں کو بخیلی کا حکم دیتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اپنے قول و فعل سے لوگوں کو بخل کرنے کا حکم دیتے ہیں ﴿وَيَكۡتُمُوۡنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اور جو (مال) اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کر رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو علم عطا کیا جس کے ذریعے سے گمراہ راہ پاتے ہیں اور جاہل رشد و ہدایت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس علم کو ان لوگوں سے چھپاتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کا اظہار کرتے ہیں، اس طرح وہ مخلوق اور حق کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں۔ پس انھوں نے مالی بخل اور علمی بخل کو یکجا کر دیا اور اپنے خسارے کے لیے بھاگ دوڑ اور دوسروں کے خسارے کے لیے بھاگ دوڑ کو جمع کر دیا۔ یہ کفار کی صفات ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا﴾ ’’اور ہم نے کفار کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘ چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر کے ساتھ پیش آئے، اللہ تعالیٰ کے حقوق کو ادا کرنے سے انکار کیا اور اپنے بخل اور بے راہ روی کی وجہ سے دوسروں کو محروم کرنے کا باعث بنے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو دردناک عذاب اور دائمی رسوائی کے ذریعے سے رسوا کیا۔ اے اللہ! ہر برائی سے ہم تیری پناہ کے طلبگار ہیں۔ [38] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مال کے بارے میں خبر دی ہے جو محض دکھاوے اور شہرت کی خاطر اور اللہ تعالیٰ پر عدم ایمان کی بنا پر خرچ کیا جاتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ رِئَآءَؔ النَّاسِ ﴾ ’’جو لوگوں کو دکھانے کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ لوگ انھیں دیکھیں، ان کی مدح و ثنا کریں اور ان کی تعظیم کریں ﴿ وَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے‘‘ یعنی ان کا مال، اخلاص اللہ تعالیٰ پر ایمان اور ثواب کی امید پر خرچ نہیں ہوتا۔ یعنی یہ سب کچھ درحقیقت شیطان کا نقش قدم اور اس کے اعمال ہیں جن کی طرف وہ اپنے گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ جہنمیوں میں شامل ہو جائیں۔ یہ اعمال شیطان کی دوستی اور شیطان کی انگیخت پر ان سے سرزد ہوتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّؔكُنِ الشَّيۡطٰنُ لَهٗ قَرِيۡنًا فَسَآءَؔ قَرِيۡنًا ﴾ ’’اور جس کا ہم نشین اور ساتھی شیطان ہو وہ بدترین ساتھی ہے‘‘ بدترین ہے وہ مصاحب اور ساتھی جو اپنے ساتھی کی ہلاکت چاہتا ہے اور اسے ہلاک کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔جس طرح کوئی شخص اس نعمت میں بخل کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر کیا ہے۔ وہ نافرمان، گناہ گار اور اللہ تعالیٰ کی مخالفت کا مرتکب ہے، اسی طرح وہ شخص بھی گناہ گار، اپنے رب کا نافرمان اور سزا کا مستحق ہے جو غیر اللہ کی عبادت کے لیے خرچ کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو حکم دیا ہے کہ نہایت اخلاص کے ساتھ اس کی اطاعت کی جائے اور اس کے حکم پر عمل کیا جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾(البینۃ 98؍5) ’’ان کو یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ دین کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے اس کی عبادت کریں۔‘‘ یہی وہ عمل ہے جو اللہ کے ہاں قابل قبول ہے اور اس عمل کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرنے والا مدح و ثواب کا مستحق ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ایسے عمل کی ترغیب دینے کے لیے فرمایا:
4:37

ٱلَّذِينَ يَبۡخَلُونَ وَيَأۡمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلۡبُخۡلِ وَيَكۡتُمُونَ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦۗ وَأَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٗا مُّهِينٗا

اور عبادت کرو تم اللہ کی اور نہ شریک ٹھہراؤ اس کے ساتھ کسی چیز کو اور (کرو) ماں باپ کے ساتھ احسان اور رشتے داروں کے ساتھ اور یتیموں (کے ساتھ) اور مسکینوں (کے ساتھ) اور پڑوسی قرابت دار اور پڑوسی اجنبی (کے ساتھ) اور ہم نشیں (کے ساتھ) اور مسافر کے ساتھ اور (ان کے ساتھ) جن کے مالک ہوئے تمھارے دائیں ہاتھ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہے اترانے والا فخر کرنے والا(36) وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بخل کرنے کا اور چھپاتے ہیں وہ جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور تیار کیا ہم نے کافروں کے لیے عذاب رسوا کرنے والا(37) اور وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں مال اپنے دکھلاوے کے لیے لوگوں کو اور نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ اللہ کے اور نہ ساتھ یوم آخرت کے اور جو شخص کہ ہو شیطان اس کا ہم نشیں تو برا ہے وہ ہم نشیں(38) [37,36] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ وہ واحد اور لا شریک ہے۔ یہ درحقیقت اس کی عبودیت کے دائرے میں داخل ہونے، محبت، تذلل اور ظاہری اور باطنی تمام عبادات میں اخلاص کے ساتھ اس کے تمام اوامر و نواہی کی تعمیل کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک اصغر اور شرک اکبر ہر قسم کے شرک سے روکتا ہے۔ کسی فرشتہ، کسی نبی، ولی یا دیگر مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے سے منع کرتا ہے جو خود اپنی ذات کے لیے بھی کسی نفع و نقصان، موت وحیات اور دوبارہ اٹھانے پر قدرت نہیں رکھتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص واجب ہے۔ جو ہر لحاظ سے کمال مطلق کا مالک ہے۔ وہ کائنات کی پوری تدبیر کر رہا ہے جس میں اس کا کوئی شریک ہے نہ معاون اور مددگار۔اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور اپنے حقوق کے قیام کا حکم دینے کے بعد حقوق العباد کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے (حقوق العباد کے مراتب میں اصول یہ قائم فرمایا ہے) جو سب سے زیادہ قریب ہے اس کے سب سے زیادہ حقوق ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾ ’’ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو‘‘ یعنی ان کے ساتھ احسان کرو ان سے اچھی گفتگو، ان کے ساتھ تخاطب میں نرمی اور فعل جمیل کر کے ان کے حکم کی اطاعت اور ان کے ممنوعہ امور سے اجتناب اور ان کی ضروریات پر خرچ کر کے، ان کے دوستوں اور دیگر متعلقین کے ساتھ عزت و تکریم کا معاملہ کر کے اور ان رشتے داریوں کو قائم اور ان کے حقوق ادا کر کے، جن سے صرف والدین کی وجہ سے رشتے داری ہے۔احسان (یعنی حسن سلوک) کی دو اضداد ہیں، برا سلوک اور عدم احسان (حسن سلوک نہ کرنا) اور ان دونوں سے روکا گیا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَّبِذِي الۡقُرۡبٰى ﴾ ’’او رقرابت والوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی دیگر اقرباء کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آؤ۔یہ آیت کریمہ تمام اقارب کو شامل ہے۔ خواہ وہ زیادہ قریبی ہوں یا قدرے دور کے رشتہ دار ہوں۔ ان کے ساتھ قول و فعل کے ذریعے سے حسن سلوک سے پیش آئے اور اپنے قول و فعل سے ان کے ساتھ قطع رحمی نہ کرے۔ ﴿ وَالۡيَتٰمٰى ﴾ ’’اور یتیموں کے ساتھ‘‘ یعنی وہ چھوٹے بچے جو اپنے باپ سے محروم ہو گئے ہوں تمام مسلمانوں پر ان کا حق ہے۔۔۔ خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں۔۔۔ کہ وہ ان کی کفالت کریں ان کے ساتھ نیک سلوک کریں، ان کی دلجوئی کریں، ان کو ادب سکھائیں اور ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی بہترین تربیت کریں۔ ﴿ وَالۡمَسٰكِيۡنِ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کو فقر و حاجت نے بے حرکت اور عاجز کر دیا ہو ،جنھیں اتنی ضروریات زندگی حاصل نہ ہوں جو ان کو کفایت کر سکیں اور نہ ان کو جن کے یہ کفیل ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو ضروریات زندگی مہیا کی جائیں ان کا فقر و فاقہ دور کیا جائے اور لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دی جائے اور حتی الامکان ان امور کا انتظام کیا جائے۔ ﴿ وَالۡجَارِ ذِي الۡقُرۡبٰى ﴾ ’’اور رشتہ دار ہمسایوں کے ساتھ‘‘ یعنی رشتہ دار پڑوسی، اس کے دو حقوق ہیں۔ پڑوس کا حق اور قرابت کا حق۔ پس وہ اپنے پڑوسی پر حق رکھتا ہے اور اس کے حسن سلوک کا مستحق ہے۔ یہ سب عرف کی طرف راجع ہے۔اسی طرح ﴿ وَالۡجَارِ الۡجُنُبِ ﴾’’اور اجنبی ہمسایوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی وہ پڑوسی جو قریبی نہ ہو۔ پڑوسی کا دروازہ جتنا زیادہ قریب ہو گا اس کا حق اتنا ہی زیادہ مؤکد ہو گا۔ پڑوسی کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ہدیہ اور صدقہ دیتا رہے، اس کو دعوت پر بلاتا رہے اور اقوال و افعال میں نرمی اور ملاطفت سے پیش آیا کرے اور قول و فعل سے اس کو اذیت دینے سے باز رہے۔﴿ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَنۢۡبِ ﴾’’پہلو کے ساتھی سے حسن سلوک کرو‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد شریک سفر ہے۔ بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد بیوی ہے اور بعض اہل علم اس کا اطلاق مطلق ساتھی پر کرتے ہیں اور یہی زیادہ قرین صحت ہے۔ کیونکہ یہ لفظ اس کو شامل ہے جو سفر و حضر میں ساتھ رہے اور یہ لفظ بیوی کو بھی شامل ہے۔ ساتھی پر ساتھی کا حق ہے جو اس کے مجرد اسلام سے زائد ہے یعنی دینی اور دنیاوی امور میں اس کی مدد کرنا، اس کی خیر خواہی کرنا، آسانی اور تنگی، خوشی اور غمی میں اس کے ساتھ وفا کرنا۔ جو اپنے لیے پسند کرنا اس کے لیے بھی وہی پسند کرنا، اور جو اپنے لیے ناپسند کرنا وہ اس کے لیے بھی ناپسند کرنا، صحبت جتنی زیادہ ہو گی، یہ حق اتنا ہی زیادہ، اور مؤکد ہو گا۔﴿ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ﴾ وہ غریب الوطن شخص جو دور اجنبی شہر میں ہو، وہ خواہ محتاج ہویا نہ ہو، اس کی شدت احتیاج اور وطن سے دور ہونے کی وجہ سے مسلمانوں پر اس کا حق ہے کہ وہ اسے نہایت انس و اکرام کے ساتھ اس کے مقصد تک پہنچائیں۔ ﴿ وَمَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ ﴾ ’’اور جن کے تمھارے دائیں ہاتھ مالک ہوئے‘‘ یعنی آپ کی ملکیت میں آدمی ہوں یا بہائم ان کی ضروریات کا انتظام رکھنا، ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنا، بوجھ اٹھانے میں ان کی مدد کرنا ان کی مصلحت اور بھلائی کی خاطر ان کی تادیب کرنا ان کا آپ پر حق ہے۔ پس جو ان احکامات کی تعمیل کرتا ہے وہ اپنے رب کے سامنے جھکنے والا اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ انکساری سے پیش آنے والا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اوامر اور اس کی شریعت کی پیروی کرتا ہے۔ یہی شخص ثواب جزیل (بہت زیادہ ثواب) اور ثنائے جمیل کا مستحق ہے اور جو ان احکامات پر عمل نہیں کرتا وہ اپنے رب سے روگردان، اس کے اوامر کا نافرمان اور مخلوق کے لیے غیر متواضع ہے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنے والا ، خود پسند اور بے حد فخر کرنے والا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا ﴾ ’’یقینا اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ یعنی وہ خود پسند ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ تکبر سے پیش آتا ہے ﴿ فَخُوۡرَاِۨ ﴾ ’’اپنی بڑائی بیان کرنے والا ہے‘‘ وہ لوگوں کے سامنے فخر اور گھمنڈ کے ساتھ اپنی تعریفیں کرتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا فخر اور تکبر ان حقوق کو ادا کرنے سے مانع رہتا ہے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ يَبۡخَلُوۡنَ ﴾ ’’جو لوگ بخل کرتے ہیں‘‘ یعنی جو حقوق واجب ہیں ان کو ادا نہیں کرتے ﴿ وَيَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ﴾ ’’اور وہ لوگوں کو بخیلی کا حکم دیتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اپنے قول و فعل سے لوگوں کو بخل کرنے کا حکم دیتے ہیں ﴿وَيَكۡتُمُوۡنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اور جو (مال) اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کر رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو علم عطا کیا جس کے ذریعے سے گمراہ راہ پاتے ہیں اور جاہل رشد و ہدایت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس علم کو ان لوگوں سے چھپاتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کا اظہار کرتے ہیں، اس طرح وہ مخلوق اور حق کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں۔ پس انھوں نے مالی بخل اور علمی بخل کو یکجا کر دیا اور اپنے خسارے کے لیے بھاگ دوڑ اور دوسروں کے خسارے کے لیے بھاگ دوڑ کو جمع کر دیا۔ یہ کفار کی صفات ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا﴾ ’’اور ہم نے کفار کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘ چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر کے ساتھ پیش آئے، اللہ تعالیٰ کے حقوق کو ادا کرنے سے انکار کیا اور اپنے بخل اور بے راہ روی کی وجہ سے دوسروں کو محروم کرنے کا باعث بنے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو دردناک عذاب اور دائمی رسوائی کے ذریعے سے رسوا کیا۔ اے اللہ! ہر برائی سے ہم تیری پناہ کے طلبگار ہیں۔ [38] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مال کے بارے میں خبر دی ہے جو محض دکھاوے اور شہرت کی خاطر اور اللہ تعالیٰ پر عدم ایمان کی بنا پر خرچ کیا جاتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ رِئَآءَؔ النَّاسِ ﴾ ’’جو لوگوں کو دکھانے کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ لوگ انھیں دیکھیں، ان کی مدح و ثنا کریں اور ان کی تعظیم کریں ﴿ وَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے‘‘ یعنی ان کا مال، اخلاص اللہ تعالیٰ پر ایمان اور ثواب کی امید پر خرچ نہیں ہوتا۔ یعنی یہ سب کچھ درحقیقت شیطان کا نقش قدم اور اس کے اعمال ہیں جن کی طرف وہ اپنے گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ جہنمیوں میں شامل ہو جائیں۔ یہ اعمال شیطان کی دوستی اور شیطان کی انگیخت پر ان سے سرزد ہوتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّؔكُنِ الشَّيۡطٰنُ لَهٗ قَرِيۡنًا فَسَآءَؔ قَرِيۡنًا ﴾ ’’اور جس کا ہم نشین اور ساتھی شیطان ہو وہ بدترین ساتھی ہے‘‘ بدترین ہے وہ مصاحب اور ساتھی جو اپنے ساتھی کی ہلاکت چاہتا ہے اور اسے ہلاک کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔جس طرح کوئی شخص اس نعمت میں بخل کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر کیا ہے۔ وہ نافرمان، گناہ گار اور اللہ تعالیٰ کی مخالفت کا مرتکب ہے، اسی طرح وہ شخص بھی گناہ گار، اپنے رب کا نافرمان اور سزا کا مستحق ہے جو غیر اللہ کی عبادت کے لیے خرچ کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو حکم دیا ہے کہ نہایت اخلاص کے ساتھ اس کی اطاعت کی جائے اور اس کے حکم پر عمل کیا جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾(البینۃ 98؍5) ’’ان کو یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ دین کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے اس کی عبادت کریں۔‘‘ یہی وہ عمل ہے جو اللہ کے ہاں قابل قبول ہے اور اس عمل کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرنے والا مدح و ثواب کا مستحق ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ایسے عمل کی ترغیب دینے کے لیے فرمایا:
4:38

وَٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمۡ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۗ وَمَن يَكُنِ ٱلشَّيۡطَٰنُ لَهُۥ قَرِينٗا فَسَآءَ قَرِينٗا

اور عبادت کرو تم اللہ کی اور نہ شریک ٹھہراؤ اس کے ساتھ کسی چیز کو اور (کرو) ماں باپ کے ساتھ احسان اور رشتے داروں کے ساتھ اور یتیموں (کے ساتھ) اور مسکینوں (کے ساتھ) اور پڑوسی قرابت دار اور پڑوسی اجنبی (کے ساتھ) اور ہم نشیں (کے ساتھ) اور مسافر کے ساتھ اور (ان کے ساتھ) جن کے مالک ہوئے تمھارے دائیں ہاتھ، بلاشبہ اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہے اترانے والا فخر کرنے والا(36) وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بخل کرنے کا اور چھپاتے ہیں وہ جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور تیار کیا ہم نے کافروں کے لیے عذاب رسوا کرنے والا(37) اور وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں مال اپنے دکھلاوے کے لیے لوگوں کو اور نہیں ایمان لاتے وہ ساتھ اللہ کے اور نہ ساتھ یوم آخرت کے اور جو شخص کہ ہو شیطان اس کا ہم نشیں تو برا ہے وہ ہم نشیں(38) [37,36] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ وہ واحد اور لا شریک ہے۔ یہ درحقیقت اس کی عبودیت کے دائرے میں داخل ہونے، محبت، تذلل اور ظاہری اور باطنی تمام عبادات میں اخلاص کے ساتھ اس کے تمام اوامر و نواہی کی تعمیل کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک اصغر اور شرک اکبر ہر قسم کے شرک سے روکتا ہے۔ کسی فرشتہ، کسی نبی، ولی یا دیگر مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے سے منع کرتا ہے جو خود اپنی ذات کے لیے بھی کسی نفع و نقصان، موت وحیات اور دوبارہ اٹھانے پر قدرت نہیں رکھتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص واجب ہے۔ جو ہر لحاظ سے کمال مطلق کا مالک ہے۔ وہ کائنات کی پوری تدبیر کر رہا ہے جس میں اس کا کوئی شریک ہے نہ معاون اور مددگار۔اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور اپنے حقوق کے قیام کا حکم دینے کے بعد حقوق العباد کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے (حقوق العباد کے مراتب میں اصول یہ قائم فرمایا ہے) جو سب سے زیادہ قریب ہے اس کے سب سے زیادہ حقوق ہیں۔ فرمایا: ﴿ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾ ’’ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو‘‘ یعنی ان کے ساتھ احسان کرو ان سے اچھی گفتگو، ان کے ساتھ تخاطب میں نرمی اور فعل جمیل کر کے ان کے حکم کی اطاعت اور ان کے ممنوعہ امور سے اجتناب اور ان کی ضروریات پر خرچ کر کے، ان کے دوستوں اور دیگر متعلقین کے ساتھ عزت و تکریم کا معاملہ کر کے اور ان رشتے داریوں کو قائم اور ان کے حقوق ادا کر کے، جن سے صرف والدین کی وجہ سے رشتے داری ہے۔احسان (یعنی حسن سلوک) کی دو اضداد ہیں، برا سلوک اور عدم احسان (حسن سلوک نہ کرنا) اور ان دونوں سے روکا گیا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَّبِذِي الۡقُرۡبٰى ﴾ ’’او رقرابت والوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی دیگر اقرباء کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آؤ۔یہ آیت کریمہ تمام اقارب کو شامل ہے۔ خواہ وہ زیادہ قریبی ہوں یا قدرے دور کے رشتہ دار ہوں۔ ان کے ساتھ قول و فعل کے ذریعے سے حسن سلوک سے پیش آئے اور اپنے قول و فعل سے ان کے ساتھ قطع رحمی نہ کرے۔ ﴿ وَالۡيَتٰمٰى ﴾ ’’اور یتیموں کے ساتھ‘‘ یعنی وہ چھوٹے بچے جو اپنے باپ سے محروم ہو گئے ہوں تمام مسلمانوں پر ان کا حق ہے۔۔۔ خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں۔۔۔ کہ وہ ان کی کفالت کریں ان کے ساتھ نیک سلوک کریں، ان کی دلجوئی کریں، ان کو ادب سکھائیں اور ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی بہترین تربیت کریں۔ ﴿ وَالۡمَسٰكِيۡنِ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کو فقر و حاجت نے بے حرکت اور عاجز کر دیا ہو ،جنھیں اتنی ضروریات زندگی حاصل نہ ہوں جو ان کو کفایت کر سکیں اور نہ ان کو جن کے یہ کفیل ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو ضروریات زندگی مہیا کی جائیں ان کا فقر و فاقہ دور کیا جائے اور لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دی جائے اور حتی الامکان ان امور کا انتظام کیا جائے۔ ﴿ وَالۡجَارِ ذِي الۡقُرۡبٰى ﴾ ’’اور رشتہ دار ہمسایوں کے ساتھ‘‘ یعنی رشتہ دار پڑوسی، اس کے دو حقوق ہیں۔ پڑوس کا حق اور قرابت کا حق۔ پس وہ اپنے پڑوسی پر حق رکھتا ہے اور اس کے حسن سلوک کا مستحق ہے۔ یہ سب عرف کی طرف راجع ہے۔اسی طرح ﴿ وَالۡجَارِ الۡجُنُبِ ﴾’’اور اجنبی ہمسایوں کے ساتھ۔‘‘ یعنی وہ پڑوسی جو قریبی نہ ہو۔ پڑوسی کا دروازہ جتنا زیادہ قریب ہو گا اس کا حق اتنا ہی زیادہ مؤکد ہو گا۔ پڑوسی کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ہدیہ اور صدقہ دیتا رہے، اس کو دعوت پر بلاتا رہے اور اقوال و افعال میں نرمی اور ملاطفت سے پیش آیا کرے اور قول و فعل سے اس کو اذیت دینے سے باز رہے۔﴿ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَنۢۡبِ ﴾’’پہلو کے ساتھی سے حسن سلوک کرو‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد شریک سفر ہے۔ بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد بیوی ہے اور بعض اہل علم اس کا اطلاق مطلق ساتھی پر کرتے ہیں اور یہی زیادہ قرین صحت ہے۔ کیونکہ یہ لفظ اس کو شامل ہے جو سفر و حضر میں ساتھ رہے اور یہ لفظ بیوی کو بھی شامل ہے۔ ساتھی پر ساتھی کا حق ہے جو اس کے مجرد اسلام سے زائد ہے یعنی دینی اور دنیاوی امور میں اس کی مدد کرنا، اس کی خیر خواہی کرنا، آسانی اور تنگی، خوشی اور غمی میں اس کے ساتھ وفا کرنا۔ جو اپنے لیے پسند کرنا اس کے لیے بھی وہی پسند کرنا، اور جو اپنے لیے ناپسند کرنا وہ اس کے لیے بھی ناپسند کرنا، صحبت جتنی زیادہ ہو گی، یہ حق اتنا ہی زیادہ، اور مؤکد ہو گا۔﴿ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ﴾ وہ غریب الوطن شخص جو دور اجنبی شہر میں ہو، وہ خواہ محتاج ہویا نہ ہو، اس کی شدت احتیاج اور وطن سے دور ہونے کی وجہ سے مسلمانوں پر اس کا حق ہے کہ وہ اسے نہایت انس و اکرام کے ساتھ اس کے مقصد تک پہنچائیں۔ ﴿ وَمَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ ﴾ ’’اور جن کے تمھارے دائیں ہاتھ مالک ہوئے‘‘ یعنی آپ کی ملکیت میں آدمی ہوں یا بہائم ان کی ضروریات کا انتظام رکھنا، ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنا، بوجھ اٹھانے میں ان کی مدد کرنا ان کی مصلحت اور بھلائی کی خاطر ان کی تادیب کرنا ان کا آپ پر حق ہے۔ پس جو ان احکامات کی تعمیل کرتا ہے وہ اپنے رب کے سامنے جھکنے والا اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ انکساری سے پیش آنے والا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اوامر اور اس کی شریعت کی پیروی کرتا ہے۔ یہی شخص ثواب جزیل (بہت زیادہ ثواب) اور ثنائے جمیل کا مستحق ہے اور جو ان احکامات پر عمل نہیں کرتا وہ اپنے رب سے روگردان، اس کے اوامر کا نافرمان اور مخلوق کے لیے غیر متواضع ہے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنے والا ، خود پسند اور بے حد فخر کرنے والا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا ﴾ ’’یقینا اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ یعنی وہ خود پسند ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ تکبر سے پیش آتا ہے ﴿ فَخُوۡرَاِۨ ﴾ ’’اپنی بڑائی بیان کرنے والا ہے‘‘ وہ لوگوں کے سامنے فخر اور گھمنڈ کے ساتھ اپنی تعریفیں کرتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا فخر اور تکبر ان حقوق کو ادا کرنے سے مانع رہتا ہے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ يَبۡخَلُوۡنَ ﴾ ’’جو لوگ بخل کرتے ہیں‘‘ یعنی جو حقوق واجب ہیں ان کو ادا نہیں کرتے ﴿ وَيَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ﴾ ’’اور وہ لوگوں کو بخیلی کا حکم دیتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اپنے قول و فعل سے لوگوں کو بخل کرنے کا حکم دیتے ہیں ﴿وَيَكۡتُمُوۡنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اور جو (مال) اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کر رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو علم عطا کیا جس کے ذریعے سے گمراہ راہ پاتے ہیں اور جاہل رشد و ہدایت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس علم کو ان لوگوں سے چھپاتے ہیں اور ان کے سامنے باطل کا اظہار کرتے ہیں، اس طرح وہ مخلوق اور حق کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں۔ پس انھوں نے مالی بخل اور علمی بخل کو یکجا کر دیا اور اپنے خسارے کے لیے بھاگ دوڑ اور دوسروں کے خسارے کے لیے بھاگ دوڑ کو جمع کر دیا۔ یہ کفار کی صفات ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا﴾ ’’اور ہم نے کفار کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘ چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر کے ساتھ پیش آئے، اللہ تعالیٰ کے حقوق کو ادا کرنے سے انکار کیا اور اپنے بخل اور بے راہ روی کی وجہ سے دوسروں کو محروم کرنے کا باعث بنے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو دردناک عذاب اور دائمی رسوائی کے ذریعے سے رسوا کیا۔ اے اللہ! ہر برائی سے ہم تیری پناہ کے طلبگار ہیں۔ [38] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مال کے بارے میں خبر دی ہے جو محض دکھاوے اور شہرت کی خاطر اور اللہ تعالیٰ پر عدم ایمان کی بنا پر خرچ کیا جاتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ رِئَآءَؔ النَّاسِ ﴾ ’’جو لوگوں کو دکھانے کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔‘‘ تاکہ لوگ انھیں دیکھیں، ان کی مدح و ثنا کریں اور ان کی تعظیم کریں ﴿ وَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے‘‘ یعنی ان کا مال، اخلاص اللہ تعالیٰ پر ایمان اور ثواب کی امید پر خرچ نہیں ہوتا۔ یعنی یہ سب کچھ درحقیقت شیطان کا نقش قدم اور اس کے اعمال ہیں جن کی طرف وہ اپنے گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ جہنمیوں میں شامل ہو جائیں۔ یہ اعمال شیطان کی دوستی اور شیطان کی انگیخت پر ان سے سرزد ہوتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّؔكُنِ الشَّيۡطٰنُ لَهٗ قَرِيۡنًا فَسَآءَؔ قَرِيۡنًا ﴾ ’’اور جس کا ہم نشین اور ساتھی شیطان ہو وہ بدترین ساتھی ہے‘‘ بدترین ہے وہ مصاحب اور ساتھی جو اپنے ساتھی کی ہلاکت چاہتا ہے اور اسے ہلاک کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔جس طرح کوئی شخص اس نعمت میں بخل کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر کیا ہے۔ وہ نافرمان، گناہ گار اور اللہ تعالیٰ کی مخالفت کا مرتکب ہے، اسی طرح وہ شخص بھی گناہ گار، اپنے رب کا نافرمان اور سزا کا مستحق ہے جو غیر اللہ کی عبادت کے لیے خرچ کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو حکم دیا ہے کہ نہایت اخلاص کے ساتھ اس کی اطاعت کی جائے اور اس کے حکم پر عمل کیا جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾(البینۃ 98؍5) ’’ان کو یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ دین کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر کے اس کی عبادت کریں۔‘‘ یہی وہ عمل ہے جو اللہ کے ہاں قابل قبول ہے اور اس عمل کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرنے والا مدح و ثواب کا مستحق ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ایسے عمل کی ترغیب دینے کے لیے فرمایا:
4:39

وَمَاذَا عَلَيۡهِمۡ لَوۡ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَأَنفَقُواْ مِمَّا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِهِمۡ عَلِيمًا

اور کیا ہوتا (نقصان) ان کا، اگر ایمان لے آتے وہ ساتھ اللہ اور یوم آخرت کے اور خرچ کرتے وہ اس (مال) سے جو دیا ان کو اللہ نے؟ اور ہے اللہ ساتھ ان کے خوب جاننے والا(39) [39] یعنی ان کے لیے کون سا حرج اور ان پر کون سی مشقت ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں، جو کہ سراسر اخلاص ہے، پھر اللہ تعالیٰ کے راستے میں وہ مال خرچ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے اور جس مال سے ان کو نوازا ہے۔ تب اس صورت میں وہ اخلاص اور انفاق کو جمع کریں گے۔ چونکہ اخلاص ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک سر نہاں ہے جس کی اطلاع صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ بندے کے تمام احوال کو جانتا ہے چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ بِهِمۡ عَلِيۡمًا ﴾ ’’اللہ ان سب کو خوب جانتا ہے۔‘‘
4:40

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةٗ يُضَٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِن لَّدُنۡهُ أَجۡرًا عَظِيمٗا

بلاشبہ اللہ نہیں ظلم کرتا برابر ایک ذرے کےاور اگر ہو کوئی نیکی تو دگنا کر دے گا اس کو اور دے گا اپنی طرف سے اجر بہت بڑا(40) پس کیا حال ہوگا جب لائیں گے ہم ہر امت سے ایک گواہ اور لائیں گے ہم آپ کو (اے رسول!) ان پر گواہ(41) اس دن چاہیں گے وہ لوگ، جنھوں نے کفر کیا اور نافرمانی کی انھوں نے رسول کی کاش کہ برابر کر دی جائے ساتھ ان کے زمین اور نہ چھپا سکیں گے وہ اللہ سے کوئی بات(42) [40] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کامل عدل و فضل کے بارے میں خبر دیتا اور آگاہ فرماتا ہے کہ وہ عدل کے متضاد صفات، یعنی ظلم سے۔ خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر۔ پاک ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ ﴾ ’’اللہ کسی کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہیں کرتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی نیکیوں میں ذرہ بھر کمی کرے گا نہ اس کی برائیوں میں ذرہ بھر اضافہ کرے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗؕ۰۰۷ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾(الزلزال : 99؍7۔8)’’جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہو گی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔‘‘﴿ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا ﴾ ’’اور اگر نیکی ہو تو اسے دوگنا کر دیتا ہے‘‘ یعنی وہ اس نیکی کو دس گنا یا اس کے حسب حال، اس کے نفع کے مطابق اور نیکی کرنے والے کے اخلاص، محبت اور کمال کے مطابق اس سے بھی کئی گنا زیادہ کر دے گا ﴿ وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’اور خاص اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب دیتا ہے‘‘ یعنی وہ عمل کے ثواب سے زیادہ عطا کرے گا۔ مثلاً وہ اسے دیگر اعمال کی توفیق سے نوازے گا، بہت سی نیکی اور خیر کثیر عطا کرے گا۔ [41] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَكَـيۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّؔةٍۭ بِشَهِيۡدٍ وَّجِئۡنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيۡدًا﴾ ’’پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے‘‘ وہ کیسے حالات ہوں گے اور وہ عظیم فیصلہ کیسا ہو گا۔ جو اس حقیقت پر مشتمل ہو گا کہ فیصلہ کرنے والا کامل علم، کامل عدل اور کامل حکمت کا مالک ہے اور وہ مخلوق میں سب سے زیادہ سچی شہادت کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا۔ یہ شہادت انبیاء ومرسلین کی شہادت ہے جو وہ اپنی امتوں کے خلاف دیں گے اور جن کے خلاف فیصلہ ہو گا وہ بھی اس کا اقرار کریں گے۔ اللہ کی قسم یہ وہ فیصلہ ہے جو تمام فیصلوں میں سب سے زیادہ عام، سب سے زیادہ عادل اور سب سے عظیم ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں جن کے خلاف فیصلہ ہو گا وہ بھی اللہ تعالیٰ کے کمال فضل، عدل و انصاف اور حمدوثناء کا اقرار کرتے رہ جائیں گے۔ وہاں کچھ لوگ فوز و فلاح، عزت اور کامیابی کی سعادت سے بہرہ ور ہوں گے اور کچھ فضیحت و رسوائی اور عذاب مہین کی بدبختی میں گرفتار ہوں گے۔ [42] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَعَصَوُا الرَّسُوۡلَ ﴾ ’’جس روز کافر اور رسول کے نافرمان آرزو کریں گے‘‘ یعنی ان میں اللہ اور اس کے رسول کا انکار اور رسول کی نافرمانی اکٹھے ہو گئے ہیں ﴿ لَوۡ تُسَوّٰى بِهِمُ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’کہ کاش انھیں زمین کے ساتھ ہموار کر دیا جاتا‘‘ یعنی وہ خواہش کریں گے کہ کاش زمین انھیں نگل لے اور وہ مٹی ہو کر معدوم ہو جائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَيَقُوۡلُ الۡكٰفِرُ يٰلَيۡتَنِيۡؔ كُنۡتُ تُرٰبًا﴾(النباء : 78؍40)’’اور کافر کہے گا کاش میں مٹی ہوتا۔‘‘﴿ وَلَا يَكۡتُمُوۡنَ اللّٰهَ حَدِيۡثًا﴾ ’’اور وہ نہیں چھپا سکیں گے اللہ سے کوئی بات‘‘ بلکہ وہ اپنی بداعمالیوں کا اعتراف کریں گے ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے۔ اس روز اللہ تعالیٰ انھیں پوری پوری جزا دے گا۔ یعنی ان کی جزائے حق۔ اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق اور کھلا کھلا بیان کر دینے والا ہے اور کفار کے بارے میں یہ جو وارد ہوا ہے کہ وہ اپنے کفر و انکار کو چھپائیں گے تو قیامت کے بعض مواقع پر ایسا کریں گے جبکہ وہ یہ سمجھیں گے کہ ان کا کفر سے انکار اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں کسی کام آ سکے گا۔ لیکن جب وہ حقائق کو پہچان لیں گے اور خود ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے تب تمام معاملہ روشن ہو کر سامنے آجائے گا۔ پھر ان کے لیے چھپانے کی کوئی گنجائش باقی رہے گی نہ چھپانے کا کوئی فائدہ ہی ہوگا۔
4:41

فَكَيۡفَ إِذَا جِئۡنَا مِن كُلِّ أُمَّةِۭ بِشَهِيدٖ وَجِئۡنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰٓؤُلَآءِ شَهِيدٗا

بلاشبہ اللہ نہیں ظلم کرتا برابر ایک ذرے کےاور اگر ہو کوئی نیکی تو دگنا کر دے گا اس کو اور دے گا اپنی طرف سے اجر بہت بڑا(40) پس کیا حال ہوگا جب لائیں گے ہم ہر امت سے ایک گواہ اور لائیں گے ہم آپ کو (اے رسول!) ان پر گواہ(41) اس دن چاہیں گے وہ لوگ، جنھوں نے کفر کیا اور نافرمانی کی انھوں نے رسول کی کاش کہ برابر کر دی جائے ساتھ ان کے زمین اور نہ چھپا سکیں گے وہ اللہ سے کوئی بات(42) [40] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کامل عدل و فضل کے بارے میں خبر دیتا اور آگاہ فرماتا ہے کہ وہ عدل کے متضاد صفات، یعنی ظلم سے۔ خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر۔ پاک ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ ﴾ ’’اللہ کسی کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہیں کرتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی نیکیوں میں ذرہ بھر کمی کرے گا نہ اس کی برائیوں میں ذرہ بھر اضافہ کرے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗؕ۰۰۷ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾(الزلزال : 99؍7۔8)’’جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہو گی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔‘‘﴿ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا ﴾ ’’اور اگر نیکی ہو تو اسے دوگنا کر دیتا ہے‘‘ یعنی وہ اس نیکی کو دس گنا یا اس کے حسب حال، اس کے نفع کے مطابق اور نیکی کرنے والے کے اخلاص، محبت اور کمال کے مطابق اس سے بھی کئی گنا زیادہ کر دے گا ﴿ وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’اور خاص اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب دیتا ہے‘‘ یعنی وہ عمل کے ثواب سے زیادہ عطا کرے گا۔ مثلاً وہ اسے دیگر اعمال کی توفیق سے نوازے گا، بہت سی نیکی اور خیر کثیر عطا کرے گا۔ [41] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَكَـيۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّؔةٍۭ بِشَهِيۡدٍ وَّجِئۡنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيۡدًا﴾ ’’پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے‘‘ وہ کیسے حالات ہوں گے اور وہ عظیم فیصلہ کیسا ہو گا۔ جو اس حقیقت پر مشتمل ہو گا کہ فیصلہ کرنے والا کامل علم، کامل عدل اور کامل حکمت کا مالک ہے اور وہ مخلوق میں سب سے زیادہ سچی شہادت کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا۔ یہ شہادت انبیاء ومرسلین کی شہادت ہے جو وہ اپنی امتوں کے خلاف دیں گے اور جن کے خلاف فیصلہ ہو گا وہ بھی اس کا اقرار کریں گے۔ اللہ کی قسم یہ وہ فیصلہ ہے جو تمام فیصلوں میں سب سے زیادہ عام، سب سے زیادہ عادل اور سب سے عظیم ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں جن کے خلاف فیصلہ ہو گا وہ بھی اللہ تعالیٰ کے کمال فضل، عدل و انصاف اور حمدوثناء کا اقرار کرتے رہ جائیں گے۔ وہاں کچھ لوگ فوز و فلاح، عزت اور کامیابی کی سعادت سے بہرہ ور ہوں گے اور کچھ فضیحت و رسوائی اور عذاب مہین کی بدبختی میں گرفتار ہوں گے۔ [42] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَعَصَوُا الرَّسُوۡلَ ﴾ ’’جس روز کافر اور رسول کے نافرمان آرزو کریں گے‘‘ یعنی ان میں اللہ اور اس کے رسول کا انکار اور رسول کی نافرمانی اکٹھے ہو گئے ہیں ﴿ لَوۡ تُسَوّٰى بِهِمُ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’کہ کاش انھیں زمین کے ساتھ ہموار کر دیا جاتا‘‘ یعنی وہ خواہش کریں گے کہ کاش زمین انھیں نگل لے اور وہ مٹی ہو کر معدوم ہو جائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَيَقُوۡلُ الۡكٰفِرُ يٰلَيۡتَنِيۡؔ كُنۡتُ تُرٰبًا﴾(النباء : 78؍40)’’اور کافر کہے گا کاش میں مٹی ہوتا۔‘‘﴿ وَلَا يَكۡتُمُوۡنَ اللّٰهَ حَدِيۡثًا﴾ ’’اور وہ نہیں چھپا سکیں گے اللہ سے کوئی بات‘‘ بلکہ وہ اپنی بداعمالیوں کا اعتراف کریں گے ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے۔ اس روز اللہ تعالیٰ انھیں پوری پوری جزا دے گا۔ یعنی ان کی جزائے حق۔ اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق اور کھلا کھلا بیان کر دینے والا ہے اور کفار کے بارے میں یہ جو وارد ہوا ہے کہ وہ اپنے کفر و انکار کو چھپائیں گے تو قیامت کے بعض مواقع پر ایسا کریں گے جبکہ وہ یہ سمجھیں گے کہ ان کا کفر سے انکار اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں کسی کام آ سکے گا۔ لیکن جب وہ حقائق کو پہچان لیں گے اور خود ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے تب تمام معاملہ روشن ہو کر سامنے آجائے گا۔ پھر ان کے لیے چھپانے کی کوئی گنجائش باقی رہے گی نہ چھپانے کا کوئی فائدہ ہی ہوگا۔
4:42

يَوۡمَئِذٖ يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَعَصَوُاْ ٱلرَّسُولَ لَوۡ تُسَوَّىٰ بِهِمُ ٱلۡأَرۡضُ وَلَا يَكۡتُمُونَ ٱللَّهَ حَدِيثٗا

بلاشبہ اللہ نہیں ظلم کرتا برابر ایک ذرے کےاور اگر ہو کوئی نیکی تو دگنا کر دے گا اس کو اور دے گا اپنی طرف سے اجر بہت بڑا(40) پس کیا حال ہوگا جب لائیں گے ہم ہر امت سے ایک گواہ اور لائیں گے ہم آپ کو (اے رسول!) ان پر گواہ(41) اس دن چاہیں گے وہ لوگ، جنھوں نے کفر کیا اور نافرمانی کی انھوں نے رسول کی کاش کہ برابر کر دی جائے ساتھ ان کے زمین اور نہ چھپا سکیں گے وہ اللہ سے کوئی بات(42) [40] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کامل عدل و فضل کے بارے میں خبر دیتا اور آگاہ فرماتا ہے کہ وہ عدل کے متضاد صفات، یعنی ظلم سے۔ خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر۔ پاک ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ ﴾ ’’اللہ کسی کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہیں کرتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی نیکیوں میں ذرہ بھر کمی کرے گا نہ اس کی برائیوں میں ذرہ بھر اضافہ کرے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗؕ۰۰۷ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾(الزلزال : 99؍7۔8)’’جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہو گی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔‘‘﴿ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا ﴾ ’’اور اگر نیکی ہو تو اسے دوگنا کر دیتا ہے‘‘ یعنی وہ اس نیکی کو دس گنا یا اس کے حسب حال، اس کے نفع کے مطابق اور نیکی کرنے والے کے اخلاص، محبت اور کمال کے مطابق اس سے بھی کئی گنا زیادہ کر دے گا ﴿ وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’اور خاص اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب دیتا ہے‘‘ یعنی وہ عمل کے ثواب سے زیادہ عطا کرے گا۔ مثلاً وہ اسے دیگر اعمال کی توفیق سے نوازے گا، بہت سی نیکی اور خیر کثیر عطا کرے گا۔ [41] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَكَـيۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّؔةٍۭ بِشَهِيۡدٍ وَّجِئۡنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِيۡدًا﴾ ’’پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے‘‘ وہ کیسے حالات ہوں گے اور وہ عظیم فیصلہ کیسا ہو گا۔ جو اس حقیقت پر مشتمل ہو گا کہ فیصلہ کرنے والا کامل علم، کامل عدل اور کامل حکمت کا مالک ہے اور وہ مخلوق میں سب سے زیادہ سچی شہادت کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا۔ یہ شہادت انبیاء ومرسلین کی شہادت ہے جو وہ اپنی امتوں کے خلاف دیں گے اور جن کے خلاف فیصلہ ہو گا وہ بھی اس کا اقرار کریں گے۔ اللہ کی قسم یہ وہ فیصلہ ہے جو تمام فیصلوں میں سب سے زیادہ عام، سب سے زیادہ عادل اور سب سے عظیم ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں جن کے خلاف فیصلہ ہو گا وہ بھی اللہ تعالیٰ کے کمال فضل، عدل و انصاف اور حمدوثناء کا اقرار کرتے رہ جائیں گے۔ وہاں کچھ لوگ فوز و فلاح، عزت اور کامیابی کی سعادت سے بہرہ ور ہوں گے اور کچھ فضیحت و رسوائی اور عذاب مہین کی بدبختی میں گرفتار ہوں گے۔ [42] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَعَصَوُا الرَّسُوۡلَ ﴾ ’’جس روز کافر اور رسول کے نافرمان آرزو کریں گے‘‘ یعنی ان میں اللہ اور اس کے رسول کا انکار اور رسول کی نافرمانی اکٹھے ہو گئے ہیں ﴿ لَوۡ تُسَوّٰى بِهِمُ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’کہ کاش انھیں زمین کے ساتھ ہموار کر دیا جاتا‘‘ یعنی وہ خواہش کریں گے کہ کاش زمین انھیں نگل لے اور وہ مٹی ہو کر معدوم ہو جائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَيَقُوۡلُ الۡكٰفِرُ يٰلَيۡتَنِيۡؔ كُنۡتُ تُرٰبًا﴾(النباء : 78؍40)’’اور کافر کہے گا کاش میں مٹی ہوتا۔‘‘﴿ وَلَا يَكۡتُمُوۡنَ اللّٰهَ حَدِيۡثًا﴾ ’’اور وہ نہیں چھپا سکیں گے اللہ سے کوئی بات‘‘ بلکہ وہ اپنی بداعمالیوں کا اعتراف کریں گے ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے۔ اس روز اللہ تعالیٰ انھیں پوری پوری جزا دے گا۔ یعنی ان کی جزائے حق۔ اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی حق اور کھلا کھلا بیان کر دینے والا ہے اور کفار کے بارے میں یہ جو وارد ہوا ہے کہ وہ اپنے کفر و انکار کو چھپائیں گے تو قیامت کے بعض مواقع پر ایسا کریں گے جبکہ وہ یہ سمجھیں گے کہ ان کا کفر سے انکار اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں کسی کام آ سکے گا۔ لیکن جب وہ حقائق کو پہچان لیں گے اور خود ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے تب تمام معاملہ روشن ہو کر سامنے آجائے گا۔ پھر ان کے لیے چھپانے کی کوئی گنجائش باقی رہے گی نہ چھپانے کا کوئی فائدہ ہی ہوگا۔
4:43

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقۡرَبُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنتُمۡ سُكَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَعۡلَمُواْ مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغۡتَسِلُواْۚ وَإِن كُنتُم مَّرۡضَىٰٓ أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوۡ جَآءَ أَحَدٞ مِّنكُم مِّنَ ٱلۡغَآئِطِ أَوۡ لَٰمَسۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُواْ مَآءٗ فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدٗا طَيِّبٗا فَٱمۡسَحُواْ بِوُجُوهِكُمۡ وَأَيۡدِيكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ قریب جاؤ تم نماز کے جبکہ تم نشے میں ہو، یہاں تک کہ تمھیں علم ہو جو تم کہتے ہواور نہ حالت جنابت میں مگر عبور کرنے والے ہو راستے کو، یہاں تک کہ غسل کر لو۔ اور اگر ہو تم بیمار یا سفر پر یا آئے کوئی تم میں سے قضائے حاجت سے یا صحبت کی ہو تم نے عورتوں سے، پس نہ پاؤ تم پانی توتیمم کر لو پاک مٹی سے، پس مسح کرو تم اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کا، بلاشبہ اللہ ہے بہت معاف کرنے والا بڑا بخشنے والا(43) [43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو نشے کی حالت میں نماز پڑھنے سے روک دیا ہے جب تک کہ انھیں معلوم نہ ہو جائے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اس ممانعت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ نشے کی حالت میں نماز کی جگہوں یعنی مساجد وغیرہ کے بھی قریب نہ جائیں کیونکہ نشے کی حالت میں مسجد میں داخل ہونا ممکن نہیں۔ اس ممانعت میں نفس نماز بھی شامل ہے نشے والے شخص کی عقل کے مختل ہونے اور یہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اس کی نماز اور دیگر عبادات جائز نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نماز پڑھنے کے لیے اس چیز کو شرط بنایا کہ نشے والا شخص جو کچھ کہہ رہا ہو اسے اس کا علم ہو۔ یہ آیت کریمہ تحریم خمر والی آیت کے ذریعے سے منسوخ ہو گئی۔ اسلام کے ابتدائی ایام میں شراب حرام نہ تھی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں شراب کی حرمت کی طرف اشارہ فرمایا: ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ١ؕ قُلۡ فِيۡهِمَاۤ اِثۡمٌ كَبِيۡرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ١ٞ وَاِثۡمُهُمَاۤ اَكۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِهِمَا ﴾(البقرۃ : 2؍219) ’تم سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دو کہ ان میں بہت بڑا گناہ ہے اور ان میں لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں البتہ ان کا گناہ ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے نماز کے اوقات میں شراب پینے سے منع کر دیا۔ جیسا کہ اس آیت میں مذکور ہے۔ اس کے بعد (تیسرے مرحلے میں) اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام اوقات میں شراب کو علی الاطلاق حرام قرار دیا۔ فرمایا: ﴿ اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَالۡمَيۡسِرُ وَالۡاَنۡصَابُ وَالۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡهُ لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾(المائدہ : 5؍90)’’بے شک شراب، جوا، بت اور پانسے سب شیطان کے ناپاک کام ہیں اس لیے ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘نماز کے اوقات میں تو شراب کی حرمت اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ ان اوقات میں نماز کے مقصد کے حصول کے بعد، جو کہ نماز کی روح اور لب لباب ہے اور وہ ہے خشوع اور حضور قلب، شراب بڑے مفاسد کو متضمن ہے۔ شراب قلب کو بھی مدہوش کر دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز سے روکتی ہے۔ آیت کریمہ کے معنیٰ سے یہ بات بھی اخذ کی جاتی ہے کہ سخت اونگھ کی حالت میں جب انسان کو یہ عقل و شعور نہ رہے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے نماز پڑھنا ممنوع ہے۔ بلکہ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جب کوئی شخص نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ ہر اس شغل کو منقطع کر دے جو نماز کے اندر اس کی توجہ کو مشغول رکھتا ہو مثلاً بول و براز کی سخت حاجت، اور کھانے کی سخت خواہش وغیرہ۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہے۔﴿ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيۡ سَبِيۡلٍ ﴾ ’’اور جنابت کی حالت میں بھی (نماز کے قریب نہ جاؤ) ہاں اگر عبور کرنے والے ہو راستے کو۔‘‘ یعنی اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ سوائے اس حالت میں کہ تم مسجد میں سے گزر رہے ہو اور تم بغیر رکے گزر جاؤ ﴿ حَتّٰى تَغۡتَسِلُوۡا ﴾’’حتی کہ تم غسل کر لو۔‘‘ یہ جنبی کے لیے نماز کے قریب جانے سے ممانعت کی حد اور انتہا ہے۔ پس جنبی کے لیے مسجد میں سے صرف گزرنا جائز ہے۔﴿ وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ اَوۡ جَآءَؔ اَحَدٌ مِّؔنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآىِٕطِ اَوۡ لٰـمَسۡتُمُ النِّسَآءَؔ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءًؔ فَتَيَمَّمُوۡا ﴾’’اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمھیں پانی نہ ملے تو تیمم کرلو‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے مریض کے لیے تیمم کو پانی کی موجودگی اور عدم موجودگی، دونوں حالتوں میں علی الاطلاق جائز قرار دیا ہے اور اس اباحت کی علت ایسا مرض ہے جس میں پانی کا استعمال سخت تکلیف دہ ہو۔ اسی طرح سفر میں بھی تیمم کو مباح قرار دیا کیونکہ سفر میں پانی کے عدم وجود کا امکان ہو سکتا ہے۔ اس لیے جب مسافر کے پاس پینے اور دیگر ضروریات سے زائد پانی نہ ہو تو اس کے لیے تیمم جائز ہے۔ اسی طرح جب کوئی شخص بول و براز یا عورتوں کے لمس کی وجہ سے وضو توڑ بیٹھے خواہ وہ سفر میں ہو یا حضر میں، اگر پانی موجود نہ ہو تو اس کے لیے تیمم جائز ہے۔ جیسا کہ آیت کریمہ کا عموم دلالت کرتا ہے۔ حاصل بحث یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو حالتوں میں تیمم مباح فرمایا ہے۔(۱)سفر و حضر میں علی الاطلاق پانی کی عدم موجودگی کی صورت میں(۲) کسی مرض میں پانی کے استعمال میں مشقت کی صورت میںمفسرین میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اَوۡ لٰـمَسۡتُمُ النِّسَآءَؔ ﴾ کا معنیٰ بیان کرنے میں اختلاف ہے کہ آیا لمس سے مراد جماع ہے۔ تب یہ آیت کریمہ جنبی کے لیے تیمم کے جواز میں نص ہے۔ جیسا کہ اس بارے میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔یا اس سے مراد صرف ہاتھوں سے چھونا ہے؟ البتہ یہ چھونا اس قید سے مقید ہے کہ جب چھونے سے مذی کے خارج ہونے کا امکان ہو۔ یہ چھونا شہوت کے ساتھ ہو گا اور تب یہ آیت لمس سے وضو کے ٹوٹنے پر نص ہے۔فقہاء ﴿ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءًؔ ﴾ سے استدلال کرتے ہیں کہ نماز کا وقت داخل ہونے پر پانی کی تلاش فرض ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس شخص کے لیے (لَمْ یَجِدْ) ’’اس نے نہ پایا‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا جاتا جس نے تلاش نہ کیا ہو۔ بلکہ یہ لفظ استعمال ہی تلاش کے بعد کیا جاتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے فقہاء نے یہ استدلال بھی کیا ہے کہ اگر پانی کسی پاک چیز کے اختلاط سے متغیر ہو جائے تو اس سے وضو وغیرہ جائز ہے بلکہ اس کے ذریعہ سے طہارت حاصل کرنا متعین ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءًؔ ﴾ میں داخل ہے۔ اور متغیر پانی بھی تو پانی ہی ہے۔اور اس میں یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ غیر مطلق پانی ہے اور یہ محل نظر ہے۔اس آیت کریمہ میں اس عظیم حکم کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس امت کو نوازا ہے۔ اور وہ ہے تیمم کی مشروعیت۔ تیمم کی مشروعیت پر تمام اہل علم کا اجماع ہے۔ وللہ الحمد!تیمم پاک مٹی سے کیا جاتا ہے ﴿ صَعِيۡدًا ﴾ سطح زمین کی پاک مٹی کو کہتے ہیں خواہ اس میں غبار ہو یا نہ ہو۔ اس میں اس معنیٰ کا احتمال بھی ہے کہ ’’صعید‘‘ ہر غبار والی چیز کو کہا جائے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۂ مائدہ میں وضو والی آیت میں فرمایا ہے ﴿ فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ مِّؔنۡهُ ﴾(المائدہ : 5؍6) ’’پس اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کر لو۔‘‘ اور جس کا غبار نہ ہو تو اس سے مسح نہیں کیا جاتا۔ فرمایا ﴿ فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ ﴾ ’’اس (مٹی) سے اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کر لو۔‘‘ جیسا کہ سورۂ مائدہ میں زیادہ واضح ہے۔آیت کریمہ میں بیان کیا گیا ہے کہ تیمم کے اندر مسح کا محل یہ ہے، تمام چہرہ اور دونوں ہاتھ کلائی تک جیسا کہ اس پر احادیث صحیحہ دلالت کرتی ہیں اور اس میں مستحب یہ ہے کہ صرف ایک ہی ضرب سے تیمم کیا جائے۔ جیسا کہ حضرت عمار بن یاسرwکی حدیث سے ظاہر ہوتا ہے۔ جنبی کے تیمم میں بھی صرف چہرے اور ہاتھوں پر مسح کیا جائے گا، جیسے کسی دیگر شخص کے تیمم میں ہے۔فائدہ : معلوم ہونا چاہیے کہ طب کا دارو مدار تین قواعد پر ہے۔ (۱) موذی امراض وغیرہ سے حفظان صحت۔ (۲)موذی مرض سے نجات حاصل کرنا۔(۳) ان امراض سے بچاؤ۔رہا مرض سے بچاؤ اور حفظان صحت تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں کھانے پینے اور عدم اسراف کا حکم دیا ہے۔مسافر اور مریض کی صحت کی حفاظت کی خاطر رمضان میں روزہ چھوڑنا اور اس مقصد کے لیے ایسی چیزیں اعتدال کے ساتھ استعمال کرنا مباح ہے جو بدن کی صحت کے لیے درست اور مریض کو ضرر سے بچانے کے لیے ضروری ہیں۔ رہا بیماری کی تکلیف سے نجات حاصل کرنا تو اللہ تعالیٰ نے سر میں تکلیف محسوس کرنے والے مُحْرِم شخص کے لیے سر منڈوانا مباح قرار دیا ہے تاکہ وہ سر میں جمع شدہ میل کچیل اور گندگی سے نجات حاصل کر سکے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان چیزوں مثلاً بول و براز، قے، منی اور خون وغیرہ سے فارغ ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ان مذکورہ امور کی طرف علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے توجہ دلائی ہے۔آیت کریمہ چہرے اور ہاتھوں کے مسح کے وجوب کے عموم پر دلالت کرتی ہے نیز یہ آیت اس طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ خواہ وقت تنگ نہ ہو تیمم کرنا جائز ہے نیز یہ آیت کریمہ اس طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ وجوب کے سبب کے موجود ہونے کے بعد ہی پانی کی تلاش کے لیے کہا جائے گا۔ واللہ اعلم۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد پر آیت کریمہ کا اختتام کیا ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوۡرًؔا ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا نہایت بخشنے والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے احکامات میں انتہائی آسانیاں پیدا فرما کر اپنے مومن بندوں کے ساتھ بہت زیادہ عفو اور مغفرت کا معاملہ کرتا ہے۔ تاکہ بندے پر اس کے احکام کی تعمیل شاق نہ گزرے اور اسے ان کی تعمیل میں کوئی حرج محسوس نہ ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا عفو اور اس کی مغفرت ہے کہ اس نے پانی کے عدم استعمال کے عذر کے موقع پر، مٹی کے ذریعے سے طہارت کو مشروع فرما کر اس امت پر رحم فرمایا اور یہ بھی اس کا عفو اور اس کی مغفرت ہے کہ اس نے گناہ گاروں کے لیے توبہ اور انابت کا دروازہ کھولا اور انھیں اس دروازے کی طرف بلایا اور ان کے گناہ بخش دینے کا وعدہ فرمایا نیز یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کا عفو ہے کہ اگر بندۂ مومن زمین بھر گناہوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہو اور اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو، تو اللہ تعالیٰ بھی اسے زمین بھر مغفرت سے نوازے گا۔
4:44

أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُواْ نَصِيبٗا مِّنَ ٱلۡكِتَٰبِ يَشۡتَرُونَ ٱلضَّلَٰلَةَ وَيُرِيدُونَ أَن تَضِلُّواْ ٱلسَّبِيلَ

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دیے گئے کچھ حصہ کتاب سے؟ خریدتے ہیں وہ گمراہی کو اور چاہتے ہیں یہ کہ گمراہ ہو جاؤ تم راستے سے(44) اور اللہ خوب جانتا ہے تمھارے دشمنوں کو اور کافی ہے اللہ دوست اور کافی ہے اللہ مددگار(45) کچھ ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے، بدل ڈالتے ہیں باتوں کو ان کی جگہوں سے اور کہتے ہیں، سنا ہم نے اور نافرمانی کی ہم نے اور سُن! نہ سنایا جائے تواور (کہتے ہیں) رَاعِنَا، موڑتے ہوئے اپنی زبانیں اور طعن کرتے ہوئے دین میں اور اگر بلاشبہ وہ کہتے ہیں، سنا ہم نے اور اطاعت کی ہم نے اور سنیے! اور دیکھیے ہمیں تو یقیناً ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور درست تراور لیکن لعنت کی ان پر اللہ نے بہ سبب ان کے کفر کے، پس نہیں ایمان لاتے وہ مگر تھوڑے ہی(46) [44] اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کی مذمت ہے جنھیں کتاب عطا کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے کہ وہ ان کی وجہ سے دھوکے میں نہ پڑیں اور ان کا ساتھی بننے سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بابت آگاہ فرمایا کہ وہ اپنے بارے میں ﴿ يَشۡتَرُوۡنَ الضَّلٰلَةَ ﴾ گمراہی خریدتے ہیں یعنی گمراہی سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور اسے ترجیح دیتے ہیں جیسے کوئی شخص اپنی محبوب چیز کی طلب میں مال کثیر خرچ کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ پس یہ لوگ ہدایت پر گمراہی کو، ایمان پر کفر کو اور سعادت پر شقاوت کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ وَيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَضِلُّوا السَّبِيۡلَ﴾ ’’وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی راستہ گم کر لو۔‘‘ پس وہ تمھیں گمراہ کرنے کے بے حد خواہش مند ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا ولی اور مددگار ہے اس لیے ان کے سامنے ان کفار کی گمراہی اور ان کی دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کو کھول کھول کر بیان کیا ہے۔ [45] اس لیے فرمایا ﴿ وَؔ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اللہ ہی کافی کارساز ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمام امور میں اپنے لطف و کرم کی وجہ سے اپنے بندوں کے تمام احوال میں ان کی سرپرستی فرماتا ہے اور ان کے لیے سعادت اور فلاح کی راہوں کو آسان کرتا ہے ﴿ وَّكَفٰى بِاللّٰهِ نَصِيۡرًا ﴾ ’’اللہ ہی کافی مددگار ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ان کے دشمنوں کے خلاف مدد عطا کرتا ہے اور ان کے سامنے واضح کرتا ہے کہ انھیں کن لوگوں سے بچنا چاہیے وہ ان کے خلاف ان کی مدد کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کی ولایت اور سرپرستی میں خیر کا حصول اور اس کی نصرت میں شر کا زوال ہے۔ [46] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی گمراہی، عناد اور ان کے حق پر باطل کو ترجیح دینے کی کیفیت بیان فرمائی ہے۔ ﴿ مِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا ﴾ ’’اور جو یہودی ہیں۔‘‘ یعنی یہودی، اور اس سے مراد یہودیوں کے گمراہ علماء ہیں ﴿ يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ ﴾ ’’ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ وہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ کلمات الٰہی میں تحریف کے مرتکب ہوتے تھے۔ یہ تحریف یا تو لفظ میں ہوتی تھی یا معنی میں یا دونوں میں۔ یہ ان کی تحریف تھی کہ آنے والے نبی کی وہ صفات جو ان کی کتابوں میں بیان کی گئی تھیں وہ محمد رسول اللہﷺکے سوا کسی پر منطبق اور صادق نہ آتی تھیں۔ (یہودی کہتے تھے) کہ یہ صفات رسول اللہﷺکی نہیں کسی اور کی بیان ہوئی ہیں ان صفات سے مراد رسول اللہﷺنہیں ہیں وہ ان صفات کو چھپاتے تھے۔ پس علم کے بارے میں یہ ان کا بدترین حال ہے۔ انھوں نے حقائق کو بدل ڈالا حق کو باطل بنا دیا اور پھر انھوں نے اس کی وجہ سے اس حق کا انکار کر دیا۔رہا عمل اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ان کا حال تو کہا کرتے تھے ﴿ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا ﴾ ’’ہم نے سن لیا اور نہیں مانا۔‘‘ یعنی ہم نے تیری بات سنی اور تیرے حکم کی نافرمانی کی۔ یہ کفر و عناد اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل بھاگنے کی انتہا ہے۔ اسی طرح وہ رسول اللہﷺکو انتہائی سوء ادبی، اور بدترین خطابات کے ساتھ مخاطب کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے ﴿ وَاسۡمَعۡ غَيۡرَ مُسۡمَعٍ ﴾ ’’سنیے نہ سنوائے جاؤ۔‘‘ اور ان الفاظ سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہماری بات سن اور تجھے وہ بات نہ سنوائی جائے جو تجھے پسند ہے بلکہ وہ بات سنوائی جائے جو تجھے ناپسند ہے ﴿ وَّرَؔاعِنَا ﴾ اس رعونت سے ان کی مراد تھی قبیح عیب۔ وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ لفظ میں ان معنوں کا احتمال ہے جو ان کے معنی مراد کے علاوہ ہیں، اس لیے یہ اللہ اور اس کے رسولﷺکے بارے میں رائج ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ اس لفظ کو، جس کا وہ اپنی زبانوں کو مروڑ کر تلفظ کرتے تھے، دین میں طعن اور رسول اللہﷺکی عیب چینی کا ذریعہ بناتے تھے۔ اور باہم ایک دوسرے کو نہایت صراحت سے بتاتے تھے اسی لیے فرمایا:﴿ لَيًّـۢا بِاَلۡسِنَتِهِمۡ۠ وَطَعۡنًا فِي الدِّيۡنِ ﴾ ’’زبانوں کو مروڑ کر اور دین میں عیب لگانے کو‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سے بہتر چیز کی طرف ان کی راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا وَاسۡمَعۡ وَانۡظُرۡنَا لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَقۡوَمَ ﴾ ’’اور اگر یہ لوگ کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے فرماں برداری کی اور آپ سنیے اور ہمیں دیکھیے تو یہ ان کے لیے بہت بہتر اور نہایت ہی مناسب تھا‘‘ چونکہ یہ کلام رسول اللہﷺکو مخاطب ہونے کے بارے میں حسن خطاب، ادب لائق، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے اوامر کی تعمیل کو متضمن ہے نیز یہ کلام ان کے طلب علم، ان کے سوال کو سننے اور ان کے معاملے کو درخور اعتنا سمجھنے کے بارے میں حسن ملاطفت کا حامل ہے۔ اس لیے یہ وہ راستہ ہے جس پر انھیں گامزن ہونا چاہیے، مگر چونکہ ان کی طبائع پاکیزگی سے محروم ہیں اس لیے انھوں نے اس سے اعراض کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر و عناد کے باعث انھیں دھتکار دیا۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب سے ان پر لعنت کی، پس اب وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر بہت تھوڑے۔‘‘
4:45

وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِأَعۡدَآئِكُمۡۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَلِيّٗا وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ نَصِيرٗا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دیے گئے کچھ حصہ کتاب سے؟ خریدتے ہیں وہ گمراہی کو اور چاہتے ہیں یہ کہ گمراہ ہو جاؤ تم راستے سے(44) اور اللہ خوب جانتا ہے تمھارے دشمنوں کو اور کافی ہے اللہ دوست اور کافی ہے اللہ مددگار(45) کچھ ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے، بدل ڈالتے ہیں باتوں کو ان کی جگہوں سے اور کہتے ہیں، سنا ہم نے اور نافرمانی کی ہم نے اور سُن! نہ سنایا جائے تواور (کہتے ہیں) رَاعِنَا، موڑتے ہوئے اپنی زبانیں اور طعن کرتے ہوئے دین میں اور اگر بلاشبہ وہ کہتے ہیں، سنا ہم نے اور اطاعت کی ہم نے اور سنیے! اور دیکھیے ہمیں تو یقیناً ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور درست تراور لیکن لعنت کی ان پر اللہ نے بہ سبب ان کے کفر کے، پس نہیں ایمان لاتے وہ مگر تھوڑے ہی(46) [44] اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کی مذمت ہے جنھیں کتاب عطا کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے کہ وہ ان کی وجہ سے دھوکے میں نہ پڑیں اور ان کا ساتھی بننے سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بابت آگاہ فرمایا کہ وہ اپنے بارے میں ﴿ يَشۡتَرُوۡنَ الضَّلٰلَةَ ﴾ گمراہی خریدتے ہیں یعنی گمراہی سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور اسے ترجیح دیتے ہیں جیسے کوئی شخص اپنی محبوب چیز کی طلب میں مال کثیر خرچ کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ پس یہ لوگ ہدایت پر گمراہی کو، ایمان پر کفر کو اور سعادت پر شقاوت کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ وَيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَضِلُّوا السَّبِيۡلَ﴾ ’’وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی راستہ گم کر لو۔‘‘ پس وہ تمھیں گمراہ کرنے کے بے حد خواہش مند ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا ولی اور مددگار ہے اس لیے ان کے سامنے ان کفار کی گمراہی اور ان کی دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کو کھول کھول کر بیان کیا ہے۔ [45] اس لیے فرمایا ﴿ وَؔ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اللہ ہی کافی کارساز ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمام امور میں اپنے لطف و کرم کی وجہ سے اپنے بندوں کے تمام احوال میں ان کی سرپرستی فرماتا ہے اور ان کے لیے سعادت اور فلاح کی راہوں کو آسان کرتا ہے ﴿ وَّكَفٰى بِاللّٰهِ نَصِيۡرًا ﴾ ’’اللہ ہی کافی مددگار ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ان کے دشمنوں کے خلاف مدد عطا کرتا ہے اور ان کے سامنے واضح کرتا ہے کہ انھیں کن لوگوں سے بچنا چاہیے وہ ان کے خلاف ان کی مدد کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کی ولایت اور سرپرستی میں خیر کا حصول اور اس کی نصرت میں شر کا زوال ہے۔ [46] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی گمراہی، عناد اور ان کے حق پر باطل کو ترجیح دینے کی کیفیت بیان فرمائی ہے۔ ﴿ مِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا ﴾ ’’اور جو یہودی ہیں۔‘‘ یعنی یہودی، اور اس سے مراد یہودیوں کے گمراہ علماء ہیں ﴿ يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ ﴾ ’’ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ وہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ کلمات الٰہی میں تحریف کے مرتکب ہوتے تھے۔ یہ تحریف یا تو لفظ میں ہوتی تھی یا معنی میں یا دونوں میں۔ یہ ان کی تحریف تھی کہ آنے والے نبی کی وہ صفات جو ان کی کتابوں میں بیان کی گئی تھیں وہ محمد رسول اللہﷺکے سوا کسی پر منطبق اور صادق نہ آتی تھیں۔ (یہودی کہتے تھے) کہ یہ صفات رسول اللہﷺکی نہیں کسی اور کی بیان ہوئی ہیں ان صفات سے مراد رسول اللہﷺنہیں ہیں وہ ان صفات کو چھپاتے تھے۔ پس علم کے بارے میں یہ ان کا بدترین حال ہے۔ انھوں نے حقائق کو بدل ڈالا حق کو باطل بنا دیا اور پھر انھوں نے اس کی وجہ سے اس حق کا انکار کر دیا۔رہا عمل اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ان کا حال تو کہا کرتے تھے ﴿ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا ﴾ ’’ہم نے سن لیا اور نہیں مانا۔‘‘ یعنی ہم نے تیری بات سنی اور تیرے حکم کی نافرمانی کی۔ یہ کفر و عناد اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل بھاگنے کی انتہا ہے۔ اسی طرح وہ رسول اللہﷺکو انتہائی سوء ادبی، اور بدترین خطابات کے ساتھ مخاطب کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے ﴿ وَاسۡمَعۡ غَيۡرَ مُسۡمَعٍ ﴾ ’’سنیے نہ سنوائے جاؤ۔‘‘ اور ان الفاظ سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہماری بات سن اور تجھے وہ بات نہ سنوائی جائے جو تجھے پسند ہے بلکہ وہ بات سنوائی جائے جو تجھے ناپسند ہے ﴿ وَّرَؔاعِنَا ﴾ اس رعونت سے ان کی مراد تھی قبیح عیب۔ وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ لفظ میں ان معنوں کا احتمال ہے جو ان کے معنی مراد کے علاوہ ہیں، اس لیے یہ اللہ اور اس کے رسولﷺکے بارے میں رائج ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ اس لفظ کو، جس کا وہ اپنی زبانوں کو مروڑ کر تلفظ کرتے تھے، دین میں طعن اور رسول اللہﷺکی عیب چینی کا ذریعہ بناتے تھے۔ اور باہم ایک دوسرے کو نہایت صراحت سے بتاتے تھے اسی لیے فرمایا:﴿ لَيًّـۢا بِاَلۡسِنَتِهِمۡ۠ وَطَعۡنًا فِي الدِّيۡنِ ﴾ ’’زبانوں کو مروڑ کر اور دین میں عیب لگانے کو‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سے بہتر چیز کی طرف ان کی راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا وَاسۡمَعۡ وَانۡظُرۡنَا لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَقۡوَمَ ﴾ ’’اور اگر یہ لوگ کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے فرماں برداری کی اور آپ سنیے اور ہمیں دیکھیے تو یہ ان کے لیے بہت بہتر اور نہایت ہی مناسب تھا‘‘ چونکہ یہ کلام رسول اللہﷺکو مخاطب ہونے کے بارے میں حسن خطاب، ادب لائق، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے اوامر کی تعمیل کو متضمن ہے نیز یہ کلام ان کے طلب علم، ان کے سوال کو سننے اور ان کے معاملے کو درخور اعتنا سمجھنے کے بارے میں حسن ملاطفت کا حامل ہے۔ اس لیے یہ وہ راستہ ہے جس پر انھیں گامزن ہونا چاہیے، مگر چونکہ ان کی طبائع پاکیزگی سے محروم ہیں اس لیے انھوں نے اس سے اعراض کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر و عناد کے باعث انھیں دھتکار دیا۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب سے ان پر لعنت کی، پس اب وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر بہت تھوڑے۔‘‘
4:46

مِّنَ ٱلَّذِينَ هَادُواْ يُحَرِّفُونَ ٱلۡكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ وَيَقُولُونَ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا وَٱسۡمَعۡ غَيۡرَ مُسۡمَعٖ وَرَٰعِنَا لَيَّۢا بِأَلۡسِنَتِهِمۡ وَطَعۡنٗا فِي ٱلدِّينِۚ وَلَوۡ أَنَّهُمۡ قَالُواْ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَا وَٱسۡمَعۡ وَٱنظُرۡنَا لَكَانَ خَيۡرٗا لَّهُمۡ وَأَقۡوَمَ وَلَٰكِن لَّعَنَهُمُ ٱللَّهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُونَ إِلَّا قَلِيلٗا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دیے گئے کچھ حصہ کتاب سے؟ خریدتے ہیں وہ گمراہی کو اور چاہتے ہیں یہ کہ گمراہ ہو جاؤ تم راستے سے(44) اور اللہ خوب جانتا ہے تمھارے دشمنوں کو اور کافی ہے اللہ دوست اور کافی ہے اللہ مددگار(45) کچھ ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے، بدل ڈالتے ہیں باتوں کو ان کی جگہوں سے اور کہتے ہیں، سنا ہم نے اور نافرمانی کی ہم نے اور سُن! نہ سنایا جائے تواور (کہتے ہیں) رَاعِنَا، موڑتے ہوئے اپنی زبانیں اور طعن کرتے ہوئے دین میں اور اگر بلاشبہ وہ کہتے ہیں، سنا ہم نے اور اطاعت کی ہم نے اور سنیے! اور دیکھیے ہمیں تو یقیناً ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور درست تراور لیکن لعنت کی ان پر اللہ نے بہ سبب ان کے کفر کے، پس نہیں ایمان لاتے وہ مگر تھوڑے ہی(46) [44] اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کی مذمت ہے جنھیں کتاب عطا کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے کہ وہ ان کی وجہ سے دھوکے میں نہ پڑیں اور ان کا ساتھی بننے سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بابت آگاہ فرمایا کہ وہ اپنے بارے میں ﴿ يَشۡتَرُوۡنَ الضَّلٰلَةَ ﴾ گمراہی خریدتے ہیں یعنی گمراہی سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور اسے ترجیح دیتے ہیں جیسے کوئی شخص اپنی محبوب چیز کی طلب میں مال کثیر خرچ کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ پس یہ لوگ ہدایت پر گمراہی کو، ایمان پر کفر کو اور سعادت پر شقاوت کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ وَيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَضِلُّوا السَّبِيۡلَ﴾ ’’وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی راستہ گم کر لو۔‘‘ پس وہ تمھیں گمراہ کرنے کے بے حد خواہش مند ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا ولی اور مددگار ہے اس لیے ان کے سامنے ان کفار کی گمراہی اور ان کی دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کو کھول کھول کر بیان کیا ہے۔ [45] اس لیے فرمایا ﴿ وَؔ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِيًّا ﴾ ’’اللہ ہی کافی کارساز ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمام امور میں اپنے لطف و کرم کی وجہ سے اپنے بندوں کے تمام احوال میں ان کی سرپرستی فرماتا ہے اور ان کے لیے سعادت اور فلاح کی راہوں کو آسان کرتا ہے ﴿ وَّكَفٰى بِاللّٰهِ نَصِيۡرًا ﴾ ’’اللہ ہی کافی مددگار ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ان کے دشمنوں کے خلاف مدد عطا کرتا ہے اور ان کے سامنے واضح کرتا ہے کہ انھیں کن لوگوں سے بچنا چاہیے وہ ان کے خلاف ان کی مدد کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کی ولایت اور سرپرستی میں خیر کا حصول اور اس کی نصرت میں شر کا زوال ہے۔ [46] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی گمراہی، عناد اور ان کے حق پر باطل کو ترجیح دینے کی کیفیت بیان فرمائی ہے۔ ﴿ مِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا ﴾ ’’اور جو یہودی ہیں۔‘‘ یعنی یہودی، اور اس سے مراد یہودیوں کے گمراہ علماء ہیں ﴿ يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ ﴾ ’’ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ وہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ کلمات الٰہی میں تحریف کے مرتکب ہوتے تھے۔ یہ تحریف یا تو لفظ میں ہوتی تھی یا معنی میں یا دونوں میں۔ یہ ان کی تحریف تھی کہ آنے والے نبی کی وہ صفات جو ان کی کتابوں میں بیان کی گئی تھیں وہ محمد رسول اللہﷺکے سوا کسی پر منطبق اور صادق نہ آتی تھیں۔ (یہودی کہتے تھے) کہ یہ صفات رسول اللہﷺکی نہیں کسی اور کی بیان ہوئی ہیں ان صفات سے مراد رسول اللہﷺنہیں ہیں وہ ان صفات کو چھپاتے تھے۔ پس علم کے بارے میں یہ ان کا بدترین حال ہے۔ انھوں نے حقائق کو بدل ڈالا حق کو باطل بنا دیا اور پھر انھوں نے اس کی وجہ سے اس حق کا انکار کر دیا۔رہا عمل اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ان کا حال تو کہا کرتے تھے ﴿ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا ﴾ ’’ہم نے سن لیا اور نہیں مانا۔‘‘ یعنی ہم نے تیری بات سنی اور تیرے حکم کی نافرمانی کی۔ یہ کفر و عناد اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل بھاگنے کی انتہا ہے۔ اسی طرح وہ رسول اللہﷺکو انتہائی سوء ادبی، اور بدترین خطابات کے ساتھ مخاطب کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے ﴿ وَاسۡمَعۡ غَيۡرَ مُسۡمَعٍ ﴾ ’’سنیے نہ سنوائے جاؤ۔‘‘ اور ان الفاظ سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہماری بات سن اور تجھے وہ بات نہ سنوائی جائے جو تجھے پسند ہے بلکہ وہ بات سنوائی جائے جو تجھے ناپسند ہے ﴿ وَّرَؔاعِنَا ﴾ اس رعونت سے ان کی مراد تھی قبیح عیب۔ وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ لفظ میں ان معنوں کا احتمال ہے جو ان کے معنی مراد کے علاوہ ہیں، اس لیے یہ اللہ اور اس کے رسولﷺکے بارے میں رائج ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ اس لفظ کو، جس کا وہ اپنی زبانوں کو مروڑ کر تلفظ کرتے تھے، دین میں طعن اور رسول اللہﷺکی عیب چینی کا ذریعہ بناتے تھے۔ اور باہم ایک دوسرے کو نہایت صراحت سے بتاتے تھے اسی لیے فرمایا:﴿ لَيًّـۢا بِاَلۡسِنَتِهِمۡ۠ وَطَعۡنًا فِي الدِّيۡنِ ﴾ ’’زبانوں کو مروڑ کر اور دین میں عیب لگانے کو‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سے بہتر چیز کی طرف ان کی راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا وَاسۡمَعۡ وَانۡظُرۡنَا لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَقۡوَمَ ﴾ ’’اور اگر یہ لوگ کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے فرماں برداری کی اور آپ سنیے اور ہمیں دیکھیے تو یہ ان کے لیے بہت بہتر اور نہایت ہی مناسب تھا‘‘ چونکہ یہ کلام رسول اللہﷺکو مخاطب ہونے کے بارے میں حسن خطاب، ادب لائق، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے اوامر کی تعمیل کو متضمن ہے نیز یہ کلام ان کے طلب علم، ان کے سوال کو سننے اور ان کے معاملے کو درخور اعتنا سمجھنے کے بارے میں حسن ملاطفت کا حامل ہے۔ اس لیے یہ وہ راستہ ہے جس پر انھیں گامزن ہونا چاہیے، مگر چونکہ ان کی طبائع پاکیزگی سے محروم ہیں اس لیے انھوں نے اس سے اعراض کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر و عناد کے باعث انھیں دھتکار دیا۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب سے ان پر لعنت کی، پس اب وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر بہت تھوڑے۔‘‘
4:47

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ ءَامِنُواْ بِمَا نَزَّلۡنَا مُصَدِّقٗا لِّمَا مَعَكُم مِّن قَبۡلِ أَن نَّطۡمِسَ وُجُوهٗا فَنَرُدَّهَا عَلَىٰٓ أَدۡبَارِهَآ أَوۡ نَلۡعَنَهُمۡ كَمَا لَعَنَّآ أَصۡحَٰبَ ٱلسَّبۡتِۚ وَكَانَ أَمۡرُ ٱللَّهِ مَفۡعُولًا

اے وہ لوگو جو دیے گئے کتاب! ایمان لاؤ ساتھ اس کے جو اُتارا ہم نے، وہ تصدیق کرنے والا ہے اس کی جو تمھارے ساتھ ہے، پہلے اس کے کہ مٹا دیں ہم چہروں کو، پھر لوٹا دیں ان کو اوپر ان کی پیٹھوں کے یا لعنت کریں ہم ان پر، جس طرح لعنت کی ہم نے سبت والوں پراور ہے حکم اللہ کا کیا ہوا (یعنی اٹل)(47) [47] اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو حکم دیتا ہے کہ وہ رسول اللہﷺاور اس قرآن عظیم پر ایمان لائیں جو آپﷺپر نازل کیا گیا ہے جو دوسری کتابوں کا نگہبان ہے جن کی یہ تصدیق کرتا ہے ان کتابوں نے اس رسول کی خبر دی ہے۔ جب وہ امر واقع ہو گیا جس کے بارے میں خبر دی گئی تھی تو یہ چیز اس خبر کی تصدیق ہے۔ نیز اگر وہ اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے تو گویا ان کا اپنی کتابوں پر بھی ایمان نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کتابیں ایک دوسری کی تصدیق اور ایک دوسری کی تائید کرتی ہیں اس لیے بعض کتابوں پر ایمان کا دعویٰ اور بعض پر ایمان نہ رکھنا ، محض باطل دعویٰ ہے جس کی صداقت کا ہرگز امکان نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اٰمِنُوۡا بِمَا نَزَّلۡنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ ﴾ ’’ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر جو تمھاری کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے ایمان لے آؤ۔‘‘ میں اہل کتاب کو ایمان لانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نیز ان کے لیے مناسب یہ تھا، چونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو علم اور کتاب عطا کی اس لیے وہ اس سبب سے دوسرے لوگوں سے آگے بڑھ کر اس کی طرف سبقت کرتے یہ علم اور کتاب دوسروں کی نسبت ان کے لیے زیادہ اس بات کے موجب ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر ایمان لاتے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے عدم ایمان کی وجہ سے ان کو وعید سنائی ہے ﴿ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّطۡمِسَ وُجُوۡهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدۡبَارِهَاۤ ﴾ ’’اس پر اس سے پہلے (ایمان لے آؤ)کہ ہم چہرے بگاڑ دیں اور انھیں لوٹا کر پیٹھ کی طرف کر دیں‘‘ یہ جزا ان کے عمل ہی کی جنس میں سے ہے۔ چونکہ انھوں نے حق کو چھوڑ دیا، باطل کو ترجیح دی اور حقائق کو بدل ڈالا، باطل کو حق اور حق کو باطل بنا دیا، اس لیے ان کو ان کے اعمال ہی کی جنس سے سزا دی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں کو بگاڑ کر ان کی پیٹھ کی طرف پھیر دیا۔ جس طرح انھوں نے حق کو بگاڑا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں کو ان کی گدی کی طرف کر دیا اور یہ بدترین حال ہے۔﴿ اَوۡ نَلۡعَنَهُمۡ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصۡحٰؔبَ السَّبۡتِ ﴾ ’’یا ان پر لعنت بھیجیں جیسے ہم نے ہفتے والوں پر لعنت کی‘‘ بایں طور کہ اللہ تعالیٰ انھیں اپنی رحمت سے دور کر دے گا اور انھیں سزا کے طور پر بندر بنا دے گا جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان بھائی بند لوگوں کو سزا دی تھی جنھوں نے ظلم و تعدی کے ساتھ سبت کے اصولوں سے تجاوز کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَقُلۡنَا لَهُمۡ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِـِٕيۡنَ﴾(البقرۃ : 2؍65)’’پس ہم نے ان سے کہا بندر بن جاؤ دھتکارے ہوئے۔‘‘﴿ وَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ مَفۡعُوۡلًا﴾ ’’اور ہے اللہ تعالیٰ کا کام کیا ہوا‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے :﴿ اِنَّمَاۤ اَمۡرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيۡـًٔؔا اَنۡ يَّقُوۡلَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ﴾(یٰسین : 36؍82) ’’اللہ تعالیٰ کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے۔‘‘
4:48

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفۡتَرَىٰٓ إِثۡمًا عَظِيمًا

بلاشبہ اللہ نہیں بخشے گا یہ کہ شرک کیا جائے اس کے ساتھ اور بخش دے گا جو علاوہ ہے اس کے جس کے لیے چاہے گا اور جو شریک کرتا ہے اللہ کے ساتھ تو تحقیق گھڑا اس نے گناہ بہت بڑا(48) [48] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اس شخص کو کبھی نہیں بخشے گا جس نے مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک ٹھہرایا۔ اس کے علاوہ اگر اس نے چاہا اور اس کی حکمت مقتضی ہوئی تو وہ تمام چھوٹے بڑے گناہ بخش دے گا۔ شرک سے کمتر گناہوں کی مغفرت کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت سے اسباب مقرر فرمائے ہیں مثلاً برائیوں کو مٹانے والی نیکیاں، دنیا اور برزخ میں نیز قیامت کے روز گناہوں کا کفارہ بننے والے مصائب، اہل ایمان کی ایک دوسرے کے لیے مغفرت کی دعائیں اور شفاعت اور اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت جس کے سب سے زیادہ مستحق اہل ایمان و توحید ہیں۔ جبکہ شرک کا معاملہ اس کے برعکس ہے مشرک نے خود اپنے لیے مغفرت کا دروازہ بند کر لیا اس نے خود اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی راہیں مسدود کر لیں۔ توحید کے بغیر نیکیاں اسے کوئی نفع نہ دیں گی اور توحید کے بغیر مصائب اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ فَمَا لَنَا مِنۡ شَافِعِيۡنَۙ۰۰ وَلَا صَدِيۡقٍ حَمِيۡمٍ ﴾(الشعراء : 26؍100،101) ’’کافر قیامت کے دن کہیں گے پس آج نہ کوئی ہمارا سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔‘‘بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدِ افۡتَرٰۤى اِثۡمًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’اور جو اللہ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا‘‘ یعنی اس نے بہت بڑے جرم کا بہتان باندھا۔ اس سے بڑا کون سا ظلم ہو سکتا ہے کہ کوئی اس مخلوق کو جو مٹی سے تخلیق کی گئی، جو ہر پہلو سے ناقص ہے اور ہر لحاظ سے بذاتہ محتاج ہے۔ جس کا بندے کو کوئی نفع و نقصان پہنچانا، اس کو زندہ کرنا، مارنا اور پھر اسے دوبارہ زندہ کرنا تو کجا وہ تو اپنے آپ کی بھی مالک نہیں، اس ہستی کے برابر ٹھہرائے جو ہر چیز کی خالق ہے، جو ہر لحاظ سے کامل ہے جو بذاتہ اپنی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ جس کے قبضہ قدرت میں نفع و نقصان، عطا کرنا اور محروم کرنا سب کچھ ہے۔ مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی عطا و بخشش ہے۔تب کیا اس ظلم سے بڑی کوئی اور چیز ہے؟ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر مشرک کو دائمی عذاب اور ثواب سے محرومی کی وعید سنائی ﴿ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ ﴾(المائدۃ : 5؍72) ’’بے شک جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ غیر تائب کے بارے میں ہے۔ رہا تائب تو اللہ تعالیٰ توبہ کرنے پر شرک اور دیگر تمام گناہ بخش دیتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا ﴿ قُلۡ يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا ﴾(الزمر : 39؍53) ’’کہہ دو اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ بے شک اللہ تمام گناہ بخش دیتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ بخش دیتا ہے جو توبہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر لیتاہے۔
4:49

أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُمۚ بَلِ ٱللَّهُ يُزَكِّي مَن يَشَآءُ وَلَا يُظۡلَمُونَ فَتِيلًا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو پاک کہتے ہیں اپنے آپ کو؟بلکہ اللہ ہی پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور نہیں ظلم کیے جائیں گے وہ تاگے برابر (بھی)(49) دیکھیے! کیسے گھڑتے ہیں وہ اوپر اللہ کے جھوٹ؟ اور کافی ہے یہ (افترا باندھنا) گناہ ظاہر(50) [49] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار اور ان یہودو نصاریٰ وغیرہ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو اپنے آپ کو پاک گردانتے ہیں یہ زجر و توبیخ ہر اس شخص کے لیے ہے جو کسی ایسے امر کا دعویٰ کر کے اپنے آپ کو پاک گردانتا ہے جو اس میں نہیں ہے۔ یہود و نصاریٰ یہ دعویٰ کیا کرتے تھے :﴿ نَحۡنُ اَبۡنٰٓؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّآؤُهٗ ﴾(المائدۃ : 5؍18) ’’ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔‘‘ وہ کہا کرتے تھے :﴿ لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰؔى ﴾(البقرۃ : 2؍111) ’’جنت میں صرف وہی داخل ہو گا جو یہودی یا نصرانی ہو گا۔‘‘ یہ ان کا مجرد دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔دلیل تو وہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمائی ہے ﴿ بَلٰى ١ۗ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡهَهٗ لِلّٰهِ وَهُوَ مُحۡسِنٌ فَلَهٗۤ اَجۡرُهٗ عِنۡدَ رَبِّهٖ١۪ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَؔ﴾(البقرۃ : 2؍112) ’’کیوں نہیں جو شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور نیکوکار بھی ہو۔ تو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے۔ ان کو نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ کوئی غم۔‘‘یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ بَلِ اللّٰهُ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے پاک کرتا ہے‘‘ یعنی ایمان و عمل صالح کے ساتھ، اخلاق رذیلہ ترک کرنے اور اخلاق حسنہ کو اختیار کرنے کی بنا پر اللہ تعالیٰ ان کو پاک کرتا ہے۔رہے یہ لوگ تو اگرچہ بزعم خود انھوں نے اپنے آپ کو پاک کیا ہوا ہے، اور سمجھتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور صرف وہی ثواب کے مستحق ہیں مگر وہ جھوٹے ہیں اور وہ اپنے ظلم اور کفر کے سبب سے پاک لوگوں کی خصوصیات اور خصائل سے بے بہرہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان خصوصیات سے محروم کرکے ظلم نہیں کیا، اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا﴾ ’’ان پر ذرہ بھر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یہ عموم کے تحقق کے لیے ہے یعنی ان کے ساتھ اس باریک دھاگے جتنا بھی ظلم نہیں ہو گا جو کھجور کی گٹھلی کے ساتھ لگا ہوتا ہے یا ہاتھ رگڑنے سے جو میل کی باریک بتی سی بنتی ہے اس مقدار میں بھی ان پر ظلم نہ ہو گا۔ [50] اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ ﴾ ’’دیکھو یہ لوگ کس طرح اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں‘‘ یعنی انھوں نے اپنے نفوس کی پاکیزگی کا دعویٰ کر کے اللہ تعالی پر افتراء پردازی کی ہے۔ کیونکہ یہ اللہ تعالی پر سب سے بڑا بہتان ہے اور ان کے تزکیہ نفوس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالی کے ہاں ان کا موقف حق اور مسلمانوں کا موقف باطل ہے۔ اور یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ حق کو باطل اور باطل کو حق بنانا حقائق کو بدلنے کے مترادف ہے۔ بنابریں اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ وَكَفٰى بِهٖۤ اِثۡمًا مُّبِيۡنًا﴾ ’’اور یہ (حرکت) صریح گناہ ہونے کے لیے کافی ہے‘‘ یعنی یہ ظاہر اور کھلا گناہ ہے جو سخت عقوبت اور دردناک عذاب کا موجب ہے۔
4:50

ٱنظُرۡ كَيۡفَ يَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَۖ وَكَفَىٰ بِهِۦٓ إِثۡمٗا مُّبِينًا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو پاک کہتے ہیں اپنے آپ کو؟بلکہ اللہ ہی پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور نہیں ظلم کیے جائیں گے وہ تاگے برابر (بھی)(49) دیکھیے! کیسے گھڑتے ہیں وہ اوپر اللہ کے جھوٹ؟ اور کافی ہے یہ (افترا باندھنا) گناہ ظاہر(50) [49] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار اور ان یہودو نصاریٰ وغیرہ کے لیے زجر و توبیخ ہے جو اپنے آپ کو پاک گردانتے ہیں یہ زجر و توبیخ ہر اس شخص کے لیے ہے جو کسی ایسے امر کا دعویٰ کر کے اپنے آپ کو پاک گردانتا ہے جو اس میں نہیں ہے۔ یہود و نصاریٰ یہ دعویٰ کیا کرتے تھے :﴿ نَحۡنُ اَبۡنٰٓؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّآؤُهٗ ﴾(المائدۃ : 5؍18) ’’ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔‘‘ وہ کہا کرتے تھے :﴿ لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰؔى ﴾(البقرۃ : 2؍111) ’’جنت میں صرف وہی داخل ہو گا جو یہودی یا نصرانی ہو گا۔‘‘ یہ ان کا مجرد دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔دلیل تو وہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمائی ہے ﴿ بَلٰى ١ۗ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡهَهٗ لِلّٰهِ وَهُوَ مُحۡسِنٌ فَلَهٗۤ اَجۡرُهٗ عِنۡدَ رَبِّهٖ١۪ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَؔ﴾(البقرۃ : 2؍112) ’’کیوں نہیں جو شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور نیکوکار بھی ہو۔ تو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے۔ ان کو نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ کوئی غم۔‘‘یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ بَلِ اللّٰهُ يُزَؔكِّيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے پاک کرتا ہے‘‘ یعنی ایمان و عمل صالح کے ساتھ، اخلاق رذیلہ ترک کرنے اور اخلاق حسنہ کو اختیار کرنے کی بنا پر اللہ تعالیٰ ان کو پاک کرتا ہے۔رہے یہ لوگ تو اگرچہ بزعم خود انھوں نے اپنے آپ کو پاک کیا ہوا ہے، اور سمجھتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور صرف وہی ثواب کے مستحق ہیں مگر وہ جھوٹے ہیں اور وہ اپنے ظلم اور کفر کے سبب سے پاک لوگوں کی خصوصیات اور خصائل سے بے بہرہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان خصوصیات سے محروم کرکے ظلم نہیں کیا، اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا﴾ ’’ان پر ذرہ بھر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یہ عموم کے تحقق کے لیے ہے یعنی ان کے ساتھ اس باریک دھاگے جتنا بھی ظلم نہیں ہو گا جو کھجور کی گٹھلی کے ساتھ لگا ہوتا ہے یا ہاتھ رگڑنے سے جو میل کی باریک بتی سی بنتی ہے اس مقدار میں بھی ان پر ظلم نہ ہو گا۔ [50] اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ ﴾ ’’دیکھو یہ لوگ کس طرح اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں‘‘ یعنی انھوں نے اپنے نفوس کی پاکیزگی کا دعویٰ کر کے اللہ تعالی پر افتراء پردازی کی ہے۔ کیونکہ یہ اللہ تعالی پر سب سے بڑا بہتان ہے اور ان کے تزکیہ نفوس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالی کے ہاں ان کا موقف حق اور مسلمانوں کا موقف باطل ہے۔ اور یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ حق کو باطل اور باطل کو حق بنانا حقائق کو بدلنے کے مترادف ہے۔ بنابریں اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ وَكَفٰى بِهٖۤ اِثۡمًا مُّبِيۡنًا﴾ ’’اور یہ (حرکت) صریح گناہ ہونے کے لیے کافی ہے‘‘ یعنی یہ ظاہر اور کھلا گناہ ہے جو سخت عقوبت اور دردناک عذاب کا موجب ہے۔
4:51

أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُواْ نَصِيبٗا مِّنَ ٱلۡكِتَٰبِ يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡجِبۡتِ وَٱلطَّـٰغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ هَـٰٓؤُلَآءِ أَهۡدَىٰ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ سَبِيلًا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دیے گئے کچھ حصہ کتاب سے؟ ایمان لاتے ہیں وہ ساتھ بتوں اور شیطان کے اور کہتے ہیں واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، یہ لوگ زیادہ ہدایت والے ہیں، ان لوگوں سے جو ایمان لائے، راستے کے لحاظ سے(51) یہ لوگ وہ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نےاور جس پر لعنت کرے اللہ تو ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی مددگار(52) کیا ان کے لیے کچھ حصہ ہے بادشاہی سے؟ تب تو نہیں دیں گے وہ لوگوں کو تل برابر (بھی)(53) کیا حسد کرتے ہیں وہ لوگوں سے اوپر اس کے جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے؟ پس تحقیق دی ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت اور دی ہم نے ان کو بادشاہی بہت بڑی(54) پس بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو رکے رہے اس سےاور کافی ہے جہنم دہکتی ہوئی(55) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ ہماری آیتوں کے عنقریب داخل کریں گے ہم ان کو آگ میں۔ جب جل جائیں گی کھالیں ان کی تو بدل دیں گے ہم ان کو کھا لیں علاوہ ان کے تاکہ چکھیں وہ عذاب، یقیناً اللہ ہے بہت زبردست بڑا حکمت والا(56) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھو ں نے نیک، عنقریب داخل کریں گے ہم ان کو ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، ان کے لیے ان میں بیویاں ہیں پاک صاف اور داخل کریں گے ہم ان کو چھاؤں میں (جو) بہت گھنی ہوگی(57) [51] یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہﷺاور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انھیں اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں۔‘‘ یعنی کفار کی خوشامد اور مداہنت کی خاطر اور ایمان سے بغض کی وجہ سے کہتے تھے ﴿ هٰۤؤُلَآءِ اَهۡدٰؔى مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِيۡلًا﴾ ’’طریقے کے اعتبار سے یہ کفار اہل ایمان سے زیادہ راہ ہدایت پر ہیں۔‘‘ وہ کتنے قبیح ہیں، ان کا عناد کتنا شدید، اور ان کی عقل کتنی کم ہے؟ وہ مذمت کی وادی میں، ہلاکت کے راستے پر کیسے گامزن ہیں؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات کسی عقلمند کو قائل کر لے گی یا کسی جاہل کی عقل میں آجائے گی؟کیا اس دین کو جو بتوں اور پتھروں کی عبادت کی بنیاد پر قائم ہے، جو طیبات کو حرام ٹھہرانے، خبائث کو حلال ٹھہرانے، بہت سی محرمات کو جائز قرار دینے، اللہ تعالی کی مخلوق پر ظلم کے ضابطوں کو قائم کرنے، خالق کو مخلوق کے برابر قرار دینے، اللہ، اس کے رسول اور اس کی کتابوں کے ساتھ کفر کرنے کو درست گردانتا ہے ۔۔۔ اس دین پر فضیلت دی جا سکتی ہے جو اللہ رحمن کی عبادت، کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، بتوں اور جھوٹے خداؤں کے انکار، صلہ رحمی، تمام مخلوق حتیٰ کہ جانوروں کے ساتھ حسن سلوک، لوگوں کے درمیان عدل کا قیام، ہر خبیث چیز اور ظلم کی تحریم اور تمام اقوال و اعمال میں صدق پر مبنی ہے؟.... کیا یہ تفضیل محض ہذیان نہیں؟ایسا کہنے والا شخص یا تو سب سے زیادہ جاہل یا سب سے کم عقل یا حق کے ساتھ سب سے زیادہ عناد رکھنے والا اور تکبر کا اظہار کرنے والا ہے۔ یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔ [52] اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے دور کر دیا اور انھیں اپنی سزا کا مستحق ٹھہرایا ﴿ وَمَنۡ يَّلۡعَنِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ نَصِيۡرًا﴾ ’’اور جس پر اللہ لعنت کردے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہیں پاؤگے۔‘‘ جسے اللہ تعالی دھتکار دے تو اس کے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا جو اس کی سرپرستی کرے، اس کے مصالح کی نگرانی کرے اور ناپسندیدہ امور میں اس کی حفاظت کرے۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے کسی کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کی انتہا ہے۔ [53]﴿ اَمۡ لَهُمۡ نَصِيۡبٌ مِّنَ الۡمُلۡكِ ﴾ ’’کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے۔‘‘ کہ وہ محض اپنی خواہشات نفس کی بنا پر جس کو چاہیں اور جس پر چاہیں فضیلت دیں اور تدبیر مملکت میں اللہ تعالی کے شریک بن جائیں؟ اگر وہ ایسے ہوتے تو وہ بہت زیادہ بخل سے کام لیتے۔ اسی لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاِذًا ﴾ یعنی اگر اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہوتا، تب ﴿ لَّا يُؤۡتُوۡنَ النَّاسَ نَقِيۡرًا﴾ ’’وہ لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیتے۔‘‘ یعنی وہ لوگوں کو تھوڑی سی چیز بھی نہ دیتے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ (کائنات کی) بادشاہی اور اقتدار میں ان کا حصہ ہے انتہائی شدید بخل ان کا وصف بیان کیا ہے۔یہ ہر ایک کے نزدیک تسلیم شدہ اور متحقق استفہام انکاری ہے۔ [54]﴿ اَمۡ يَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے‘‘ یعنی یہ کہنے پر ان کو بزعم خود ان کے اللہ تعالی کے شریک ہونے نے آمادہ کیا ہے کہ جس کو چاہیں فضیلت دیں یارسول اللہﷺاور اہل ایمان کے ساتھ حسد اس کا باعث تھا کہ اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺاور اہل ایمان کو اپنے فضل سے نوازا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل کے لیے یہ کوئی انوکھی اور نئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ ﴿ فَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’پس ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بڑی سلطنت عطا فرمائی ہے‘‘ یہ ان نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جن سے اللہ تعالی نے حضرت ابراہیمuاور انکی اولاد کو نوازا۔ یعنی نبوت، کتاب اور حکومت جو اس نے اپنے بعض انبیاء کو عطا کی جیسے داؤد اور سلیمانu۔اللہ تعالی کے مومن بندوں پر یہ نعمتیں ہمیشہ سے چلی آ رہی ہیں۔ پس وہ محمدﷺکی نبوت، آپ کے لیے اللہ تعالی کی فتح و نصرت اور آپ کے اقتدار کا کیسے انکار کر سکتے ہیں۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے افضل، سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے زیادہ اللہ تعالی کی معرفت رکھنے والے اور سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والے ہیں۔ [55]﴿ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ بِهٖ ﴾ ’’پھر ان میں سے بعض اس پر ایمان لائے۔‘‘ یعنی ان میں سے بعض لوگ محمدﷺپر ایمان لائے۔ اس لیے وہ دنیاوی خوش بختی اور اخروی فلاح سے بہرہ ور ہوئے ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ صَدَّ عَنۡهُ ﴾ اور ان میں سے بعض نے محض عناد، بغاوت اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کے لیے اس سے اعراض کیا اس لیے وہ دنیا میں بدبختی اور مصائب کا شکار ہو گئے۔ جو ان کے گناہوں کے اثرات ہیں۔ ﴿ وَكَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِيۡرًا﴾ ’’اور (ان کے لیے) دہکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے‘‘ یہ آگ یہود و نصاریٰ اور دیگر اقسام کے کفار پر بھڑکائی جائے گی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے انبیاء علیہ السلام کا انکار کیا۔ [56] بنابریں اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيۡهِمۡ نَارًا ﴾ ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا انھیں ہم یقینا آگ میں ڈال دیں گے‘‘ یعنی ہم ان کو ایسی آگ میں جھونکیں گے جو ایندھن کے لحاظ سے بہت بڑی اور حرارت کے لحاظ سے بہت شدید ہو گی ﴿ كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ ﴾ ’’جب ان کی جلد جل جائے گی۔‘‘ ﴿ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ﴾ ’’ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں‘‘ تاکہ عذاب ان کے جسم کے ہر مقام تک پہنچ جائے۔چونکہ وہ کفر اور عناد کا بار بار مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ کفر اور عناد ان کا وصف اور عادت بن گیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالی ان کو بار بار عذاب کا مزا چکھائے گا تاکہ ان کو پورا پورا بدلہ مل جائے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’یقینا اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالی عظیم غلبے کا مالک ہے، اس کی تخلیق، اس کے امر اور اس کے ثواب و عقاب میں اس کی حکمت جاری و ساری ہے۔ [57]﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالی پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانا واجب ہے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کرتے رہے۔‘‘ یعنی وہ واجبات اور مستحبات پر عمل کرتے ہیں ﴿ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمۡ فِيۡهَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ﴾ ’’ہم عنقریب انھیں ان جنتوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کے لیے وہاں صاف ستھری بیویاں ہوں گی‘‘ یعنی یہ بیویاں ان رذیل عادات اور گندے اخلاق اور ہر میل اور عیب سے پاک ہوں گی جن میں دنیا کی عورتیں ملوث ہوتی ہیں ﴿ وَّنُدۡخِلُهُمۡ ظِلًّا ظَلِيۡلًا ﴾ ’’اور ہم انھیں گھنے سائے میں داخل کریں گے۔‘‘ یعنی ہم انھیں ہمیشہ رہنے والے سائے میں داخل کریں گے ۔
4:52

أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُۖ وَمَن يَلۡعَنِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ نَصِيرًا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دیے گئے کچھ حصہ کتاب سے؟ ایمان لاتے ہیں وہ ساتھ بتوں اور شیطان کے اور کہتے ہیں واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، یہ لوگ زیادہ ہدایت والے ہیں، ان لوگوں سے جو ایمان لائے، راستے کے لحاظ سے(51) یہ لوگ وہ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نےاور جس پر لعنت کرے اللہ تو ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی مددگار(52) کیا ان کے لیے کچھ حصہ ہے بادشاہی سے؟ تب تو نہیں دیں گے وہ لوگوں کو تل برابر (بھی)(53) کیا حسد کرتے ہیں وہ لوگوں سے اوپر اس کے جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے؟ پس تحقیق دی ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت اور دی ہم نے ان کو بادشاہی بہت بڑی(54) پس بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو رکے رہے اس سےاور کافی ہے جہنم دہکتی ہوئی(55) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ ہماری آیتوں کے عنقریب داخل کریں گے ہم ان کو آگ میں۔ جب جل جائیں گی کھالیں ان کی تو بدل دیں گے ہم ان کو کھا لیں علاوہ ان کے تاکہ چکھیں وہ عذاب، یقیناً اللہ ہے بہت زبردست بڑا حکمت والا(56) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھو ں نے نیک، عنقریب داخل کریں گے ہم ان کو ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، ان کے لیے ان میں بیویاں ہیں پاک صاف اور داخل کریں گے ہم ان کو چھاؤں میں (جو) بہت گھنی ہوگی(57) [51] یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہﷺاور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انھیں اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں۔‘‘ یعنی کفار کی خوشامد اور مداہنت کی خاطر اور ایمان سے بغض کی وجہ سے کہتے تھے ﴿ هٰۤؤُلَآءِ اَهۡدٰؔى مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِيۡلًا﴾ ’’طریقے کے اعتبار سے یہ کفار اہل ایمان سے زیادہ راہ ہدایت پر ہیں۔‘‘ وہ کتنے قبیح ہیں، ان کا عناد کتنا شدید، اور ان کی عقل کتنی کم ہے؟ وہ مذمت کی وادی میں، ہلاکت کے راستے پر کیسے گامزن ہیں؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات کسی عقلمند کو قائل کر لے گی یا کسی جاہل کی عقل میں آجائے گی؟کیا اس دین کو جو بتوں اور پتھروں کی عبادت کی بنیاد پر قائم ہے، جو طیبات کو حرام ٹھہرانے، خبائث کو حلال ٹھہرانے، بہت سی محرمات کو جائز قرار دینے، اللہ تعالی کی مخلوق پر ظلم کے ضابطوں کو قائم کرنے، خالق کو مخلوق کے برابر قرار دینے، اللہ، اس کے رسول اور اس کی کتابوں کے ساتھ کفر کرنے کو درست گردانتا ہے ۔۔۔ اس دین پر فضیلت دی جا سکتی ہے جو اللہ رحمن کی عبادت، کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، بتوں اور جھوٹے خداؤں کے انکار، صلہ رحمی، تمام مخلوق حتیٰ کہ جانوروں کے ساتھ حسن سلوک، لوگوں کے درمیان عدل کا قیام، ہر خبیث چیز اور ظلم کی تحریم اور تمام اقوال و اعمال میں صدق پر مبنی ہے؟.... کیا یہ تفضیل محض ہذیان نہیں؟ایسا کہنے والا شخص یا تو سب سے زیادہ جاہل یا سب سے کم عقل یا حق کے ساتھ سب سے زیادہ عناد رکھنے والا اور تکبر کا اظہار کرنے والا ہے۔ یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔ [52] اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے دور کر دیا اور انھیں اپنی سزا کا مستحق ٹھہرایا ﴿ وَمَنۡ يَّلۡعَنِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ نَصِيۡرًا﴾ ’’اور جس پر اللہ لعنت کردے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہیں پاؤگے۔‘‘ جسے اللہ تعالی دھتکار دے تو اس کے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا جو اس کی سرپرستی کرے، اس کے مصالح کی نگرانی کرے اور ناپسندیدہ امور میں اس کی حفاظت کرے۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے کسی کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کی انتہا ہے۔ [53]﴿ اَمۡ لَهُمۡ نَصِيۡبٌ مِّنَ الۡمُلۡكِ ﴾ ’’کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے۔‘‘ کہ وہ محض اپنی خواہشات نفس کی بنا پر جس کو چاہیں اور جس پر چاہیں فضیلت دیں اور تدبیر مملکت میں اللہ تعالی کے شریک بن جائیں؟ اگر وہ ایسے ہوتے تو وہ بہت زیادہ بخل سے کام لیتے۔ اسی لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاِذًا ﴾ یعنی اگر اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہوتا، تب ﴿ لَّا يُؤۡتُوۡنَ النَّاسَ نَقِيۡرًا﴾ ’’وہ لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیتے۔‘‘ یعنی وہ لوگوں کو تھوڑی سی چیز بھی نہ دیتے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ (کائنات کی) بادشاہی اور اقتدار میں ان کا حصہ ہے انتہائی شدید بخل ان کا وصف بیان کیا ہے۔یہ ہر ایک کے نزدیک تسلیم شدہ اور متحقق استفہام انکاری ہے۔ [54]﴿ اَمۡ يَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے‘‘ یعنی یہ کہنے پر ان کو بزعم خود ان کے اللہ تعالی کے شریک ہونے نے آمادہ کیا ہے کہ جس کو چاہیں فضیلت دیں یارسول اللہﷺاور اہل ایمان کے ساتھ حسد اس کا باعث تھا کہ اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺاور اہل ایمان کو اپنے فضل سے نوازا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل کے لیے یہ کوئی انوکھی اور نئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ ﴿ فَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’پس ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بڑی سلطنت عطا فرمائی ہے‘‘ یہ ان نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جن سے اللہ تعالی نے حضرت ابراہیمuاور انکی اولاد کو نوازا۔ یعنی نبوت، کتاب اور حکومت جو اس نے اپنے بعض انبیاء کو عطا کی جیسے داؤد اور سلیمانu۔اللہ تعالی کے مومن بندوں پر یہ نعمتیں ہمیشہ سے چلی آ رہی ہیں۔ پس وہ محمدﷺکی نبوت، آپ کے لیے اللہ تعالی کی فتح و نصرت اور آپ کے اقتدار کا کیسے انکار کر سکتے ہیں۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے افضل، سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے زیادہ اللہ تعالی کی معرفت رکھنے والے اور سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والے ہیں۔ [55]﴿ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ بِهٖ ﴾ ’’پھر ان میں سے بعض اس پر ایمان لائے۔‘‘ یعنی ان میں سے بعض لوگ محمدﷺپر ایمان لائے۔ اس لیے وہ دنیاوی خوش بختی اور اخروی فلاح سے بہرہ ور ہوئے ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ صَدَّ عَنۡهُ ﴾ اور ان میں سے بعض نے محض عناد، بغاوت اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کے لیے اس سے اعراض کیا اس لیے وہ دنیا میں بدبختی اور مصائب کا شکار ہو گئے۔ جو ان کے گناہوں کے اثرات ہیں۔ ﴿ وَكَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِيۡرًا﴾ ’’اور (ان کے لیے) دہکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے‘‘ یہ آگ یہود و نصاریٰ اور دیگر اقسام کے کفار پر بھڑکائی جائے گی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے انبیاء علیہ السلام کا انکار کیا۔ [56] بنابریں اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيۡهِمۡ نَارًا ﴾ ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا انھیں ہم یقینا آگ میں ڈال دیں گے‘‘ یعنی ہم ان کو ایسی آگ میں جھونکیں گے جو ایندھن کے لحاظ سے بہت بڑی اور حرارت کے لحاظ سے بہت شدید ہو گی ﴿ كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ ﴾ ’’جب ان کی جلد جل جائے گی۔‘‘ ﴿ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ﴾ ’’ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں‘‘ تاکہ عذاب ان کے جسم کے ہر مقام تک پہنچ جائے۔چونکہ وہ کفر اور عناد کا بار بار مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ کفر اور عناد ان کا وصف اور عادت بن گیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالی ان کو بار بار عذاب کا مزا چکھائے گا تاکہ ان کو پورا پورا بدلہ مل جائے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’یقینا اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالی عظیم غلبے کا مالک ہے، اس کی تخلیق، اس کے امر اور اس کے ثواب و عقاب میں اس کی حکمت جاری و ساری ہے۔ [57]﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالی پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانا واجب ہے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کرتے رہے۔‘‘ یعنی وہ واجبات اور مستحبات پر عمل کرتے ہیں ﴿ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمۡ فِيۡهَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ﴾ ’’ہم عنقریب انھیں ان جنتوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کے لیے وہاں صاف ستھری بیویاں ہوں گی‘‘ یعنی یہ بیویاں ان رذیل عادات اور گندے اخلاق اور ہر میل اور عیب سے پاک ہوں گی جن میں دنیا کی عورتیں ملوث ہوتی ہیں ﴿ وَّنُدۡخِلُهُمۡ ظِلًّا ظَلِيۡلًا ﴾ ’’اور ہم انھیں گھنے سائے میں داخل کریں گے۔‘‘ یعنی ہم انھیں ہمیشہ رہنے والے سائے میں داخل کریں گے ۔
4:53

أَمۡ لَهُمۡ نَصِيبٞ مِّنَ ٱلۡمُلۡكِ فَإِذٗا لَّا يُؤۡتُونَ ٱلنَّاسَ نَقِيرًا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دیے گئے کچھ حصہ کتاب سے؟ ایمان لاتے ہیں وہ ساتھ بتوں اور شیطان کے اور کہتے ہیں واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، یہ لوگ زیادہ ہدایت والے ہیں، ان لوگوں سے جو ایمان لائے، راستے کے لحاظ سے(51) یہ لوگ وہ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نےاور جس پر لعنت کرے اللہ تو ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی مددگار(52) کیا ان کے لیے کچھ حصہ ہے بادشاہی سے؟ تب تو نہیں دیں گے وہ لوگوں کو تل برابر (بھی)(53) کیا حسد کرتے ہیں وہ لوگوں سے اوپر اس کے جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے؟ پس تحقیق دی ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت اور دی ہم نے ان کو بادشاہی بہت بڑی(54) پس بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو رکے رہے اس سےاور کافی ہے جہنم دہکتی ہوئی(55) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ ہماری آیتوں کے عنقریب داخل کریں گے ہم ان کو آگ میں۔ جب جل جائیں گی کھالیں ان کی تو بدل دیں گے ہم ان کو کھا لیں علاوہ ان کے تاکہ چکھیں وہ عذاب، یقیناً اللہ ہے بہت زبردست بڑا حکمت والا(56) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھو ں نے نیک، عنقریب داخل کریں گے ہم ان کو ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، ان کے لیے ان میں بیویاں ہیں پاک صاف اور داخل کریں گے ہم ان کو چھاؤں میں (جو) بہت گھنی ہوگی(57) [51] یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہﷺاور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انھیں اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں۔‘‘ یعنی کفار کی خوشامد اور مداہنت کی خاطر اور ایمان سے بغض کی وجہ سے کہتے تھے ﴿ هٰۤؤُلَآءِ اَهۡدٰؔى مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِيۡلًا﴾ ’’طریقے کے اعتبار سے یہ کفار اہل ایمان سے زیادہ راہ ہدایت پر ہیں۔‘‘ وہ کتنے قبیح ہیں، ان کا عناد کتنا شدید، اور ان کی عقل کتنی کم ہے؟ وہ مذمت کی وادی میں، ہلاکت کے راستے پر کیسے گامزن ہیں؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات کسی عقلمند کو قائل کر لے گی یا کسی جاہل کی عقل میں آجائے گی؟کیا اس دین کو جو بتوں اور پتھروں کی عبادت کی بنیاد پر قائم ہے، جو طیبات کو حرام ٹھہرانے، خبائث کو حلال ٹھہرانے، بہت سی محرمات کو جائز قرار دینے، اللہ تعالی کی مخلوق پر ظلم کے ضابطوں کو قائم کرنے، خالق کو مخلوق کے برابر قرار دینے، اللہ، اس کے رسول اور اس کی کتابوں کے ساتھ کفر کرنے کو درست گردانتا ہے ۔۔۔ اس دین پر فضیلت دی جا سکتی ہے جو اللہ رحمن کی عبادت، کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، بتوں اور جھوٹے خداؤں کے انکار، صلہ رحمی، تمام مخلوق حتیٰ کہ جانوروں کے ساتھ حسن سلوک، لوگوں کے درمیان عدل کا قیام، ہر خبیث چیز اور ظلم کی تحریم اور تمام اقوال و اعمال میں صدق پر مبنی ہے؟.... کیا یہ تفضیل محض ہذیان نہیں؟ایسا کہنے والا شخص یا تو سب سے زیادہ جاہل یا سب سے کم عقل یا حق کے ساتھ سب سے زیادہ عناد رکھنے والا اور تکبر کا اظہار کرنے والا ہے۔ یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔ [52] اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے دور کر دیا اور انھیں اپنی سزا کا مستحق ٹھہرایا ﴿ وَمَنۡ يَّلۡعَنِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ نَصِيۡرًا﴾ ’’اور جس پر اللہ لعنت کردے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہیں پاؤگے۔‘‘ جسے اللہ تعالی دھتکار دے تو اس کے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا جو اس کی سرپرستی کرے، اس کے مصالح کی نگرانی کرے اور ناپسندیدہ امور میں اس کی حفاظت کرے۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے کسی کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کی انتہا ہے۔ [53]﴿ اَمۡ لَهُمۡ نَصِيۡبٌ مِّنَ الۡمُلۡكِ ﴾ ’’کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے۔‘‘ کہ وہ محض اپنی خواہشات نفس کی بنا پر جس کو چاہیں اور جس پر چاہیں فضیلت دیں اور تدبیر مملکت میں اللہ تعالی کے شریک بن جائیں؟ اگر وہ ایسے ہوتے تو وہ بہت زیادہ بخل سے کام لیتے۔ اسی لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاِذًا ﴾ یعنی اگر اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہوتا، تب ﴿ لَّا يُؤۡتُوۡنَ النَّاسَ نَقِيۡرًا﴾ ’’وہ لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیتے۔‘‘ یعنی وہ لوگوں کو تھوڑی سی چیز بھی نہ دیتے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ (کائنات کی) بادشاہی اور اقتدار میں ان کا حصہ ہے انتہائی شدید بخل ان کا وصف بیان کیا ہے۔یہ ہر ایک کے نزدیک تسلیم شدہ اور متحقق استفہام انکاری ہے۔ [54]﴿ اَمۡ يَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے‘‘ یعنی یہ کہنے پر ان کو بزعم خود ان کے اللہ تعالی کے شریک ہونے نے آمادہ کیا ہے کہ جس کو چاہیں فضیلت دیں یارسول اللہﷺاور اہل ایمان کے ساتھ حسد اس کا باعث تھا کہ اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺاور اہل ایمان کو اپنے فضل سے نوازا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل کے لیے یہ کوئی انوکھی اور نئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ ﴿ فَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’پس ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بڑی سلطنت عطا فرمائی ہے‘‘ یہ ان نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جن سے اللہ تعالی نے حضرت ابراہیمuاور انکی اولاد کو نوازا۔ یعنی نبوت، کتاب اور حکومت جو اس نے اپنے بعض انبیاء کو عطا کی جیسے داؤد اور سلیمانu۔اللہ تعالی کے مومن بندوں پر یہ نعمتیں ہمیشہ سے چلی آ رہی ہیں۔ پس وہ محمدﷺکی نبوت، آپ کے لیے اللہ تعالی کی فتح و نصرت اور آپ کے اقتدار کا کیسے انکار کر سکتے ہیں۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے افضل، سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے زیادہ اللہ تعالی کی معرفت رکھنے والے اور سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والے ہیں۔ [55]﴿ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ بِهٖ ﴾ ’’پھر ان میں سے بعض اس پر ایمان لائے۔‘‘ یعنی ان میں سے بعض لوگ محمدﷺپر ایمان لائے۔ اس لیے وہ دنیاوی خوش بختی اور اخروی فلاح سے بہرہ ور ہوئے ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ صَدَّ عَنۡهُ ﴾ اور ان میں سے بعض نے محض عناد، بغاوت اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کے لیے اس سے اعراض کیا اس لیے وہ دنیا میں بدبختی اور مصائب کا شکار ہو گئے۔ جو ان کے گناہوں کے اثرات ہیں۔ ﴿ وَكَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِيۡرًا﴾ ’’اور (ان کے لیے) دہکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے‘‘ یہ آگ یہود و نصاریٰ اور دیگر اقسام کے کفار پر بھڑکائی جائے گی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے انبیاء علیہ السلام کا انکار کیا۔ [56] بنابریں اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيۡهِمۡ نَارًا ﴾ ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا انھیں ہم یقینا آگ میں ڈال دیں گے‘‘ یعنی ہم ان کو ایسی آگ میں جھونکیں گے جو ایندھن کے لحاظ سے بہت بڑی اور حرارت کے لحاظ سے بہت شدید ہو گی ﴿ كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ ﴾ ’’جب ان کی جلد جل جائے گی۔‘‘ ﴿ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ﴾ ’’ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں‘‘ تاکہ عذاب ان کے جسم کے ہر مقام تک پہنچ جائے۔چونکہ وہ کفر اور عناد کا بار بار مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ کفر اور عناد ان کا وصف اور عادت بن گیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالی ان کو بار بار عذاب کا مزا چکھائے گا تاکہ ان کو پورا پورا بدلہ مل جائے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’یقینا اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالی عظیم غلبے کا مالک ہے، اس کی تخلیق، اس کے امر اور اس کے ثواب و عقاب میں اس کی حکمت جاری و ساری ہے۔ [57]﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالی پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانا واجب ہے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کرتے رہے۔‘‘ یعنی وہ واجبات اور مستحبات پر عمل کرتے ہیں ﴿ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمۡ فِيۡهَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ﴾ ’’ہم عنقریب انھیں ان جنتوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کے لیے وہاں صاف ستھری بیویاں ہوں گی‘‘ یعنی یہ بیویاں ان رذیل عادات اور گندے اخلاق اور ہر میل اور عیب سے پاک ہوں گی جن میں دنیا کی عورتیں ملوث ہوتی ہیں ﴿ وَّنُدۡخِلُهُمۡ ظِلًّا ظَلِيۡلًا ﴾ ’’اور ہم انھیں گھنے سائے میں داخل کریں گے۔‘‘ یعنی ہم انھیں ہمیشہ رہنے والے سائے میں داخل کریں گے ۔
4:54

أَمۡ يَحۡسُدُونَ ٱلنَّاسَ عَلَىٰ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦۖ فَقَدۡ ءَاتَيۡنَآ ءَالَ إِبۡرَٰهِيمَ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَءَاتَيۡنَٰهُم مُّلۡكًا عَظِيمٗا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دیے گئے کچھ حصہ کتاب سے؟ ایمان لاتے ہیں وہ ساتھ بتوں اور شیطان کے اور کہتے ہیں واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، یہ لوگ زیادہ ہدایت والے ہیں، ان لوگوں سے جو ایمان لائے، راستے کے لحاظ سے(51) یہ لوگ وہ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نےاور جس پر لعنت کرے اللہ تو ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی مددگار(52) کیا ان کے لیے کچھ حصہ ہے بادشاہی سے؟ تب تو نہیں دیں گے وہ لوگوں کو تل برابر (بھی)(53) کیا حسد کرتے ہیں وہ لوگوں سے اوپر اس کے جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے؟ پس تحقیق دی ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت اور دی ہم نے ان کو بادشاہی بہت بڑی(54) پس بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو رکے رہے اس سےاور کافی ہے جہنم دہکتی ہوئی(55) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ ہماری آیتوں کے عنقریب داخل کریں گے ہم ان کو آگ میں۔ جب جل جائیں گی کھالیں ان کی تو بدل دیں گے ہم ان کو کھا لیں علاوہ ان کے تاکہ چکھیں وہ عذاب، یقیناً اللہ ہے بہت زبردست بڑا حکمت والا(56) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھو ں نے نیک، عنقریب داخل کریں گے ہم ان کو ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، ان کے لیے ان میں بیویاں ہیں پاک صاف اور داخل کریں گے ہم ان کو چھاؤں میں (جو) بہت گھنی ہوگی(57) [51] یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہﷺاور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انھیں اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں۔‘‘ یعنی کفار کی خوشامد اور مداہنت کی خاطر اور ایمان سے بغض کی وجہ سے کہتے تھے ﴿ هٰۤؤُلَآءِ اَهۡدٰؔى مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِيۡلًا﴾ ’’طریقے کے اعتبار سے یہ کفار اہل ایمان سے زیادہ راہ ہدایت پر ہیں۔‘‘ وہ کتنے قبیح ہیں، ان کا عناد کتنا شدید، اور ان کی عقل کتنی کم ہے؟ وہ مذمت کی وادی میں، ہلاکت کے راستے پر کیسے گامزن ہیں؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات کسی عقلمند کو قائل کر لے گی یا کسی جاہل کی عقل میں آجائے گی؟کیا اس دین کو جو بتوں اور پتھروں کی عبادت کی بنیاد پر قائم ہے، جو طیبات کو حرام ٹھہرانے، خبائث کو حلال ٹھہرانے، بہت سی محرمات کو جائز قرار دینے، اللہ تعالی کی مخلوق پر ظلم کے ضابطوں کو قائم کرنے، خالق کو مخلوق کے برابر قرار دینے، اللہ، اس کے رسول اور اس کی کتابوں کے ساتھ کفر کرنے کو درست گردانتا ہے ۔۔۔ اس دین پر فضیلت دی جا سکتی ہے جو اللہ رحمن کی عبادت، کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، بتوں اور جھوٹے خداؤں کے انکار، صلہ رحمی، تمام مخلوق حتیٰ کہ جانوروں کے ساتھ حسن سلوک، لوگوں کے درمیان عدل کا قیام، ہر خبیث چیز اور ظلم کی تحریم اور تمام اقوال و اعمال میں صدق پر مبنی ہے؟.... کیا یہ تفضیل محض ہذیان نہیں؟ایسا کہنے والا شخص یا تو سب سے زیادہ جاہل یا سب سے کم عقل یا حق کے ساتھ سب سے زیادہ عناد رکھنے والا اور تکبر کا اظہار کرنے والا ہے۔ یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔ [52] اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے دور کر دیا اور انھیں اپنی سزا کا مستحق ٹھہرایا ﴿ وَمَنۡ يَّلۡعَنِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ نَصِيۡرًا﴾ ’’اور جس پر اللہ لعنت کردے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہیں پاؤگے۔‘‘ جسے اللہ تعالی دھتکار دے تو اس کے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا جو اس کی سرپرستی کرے، اس کے مصالح کی نگرانی کرے اور ناپسندیدہ امور میں اس کی حفاظت کرے۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے کسی کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کی انتہا ہے۔ [53]﴿ اَمۡ لَهُمۡ نَصِيۡبٌ مِّنَ الۡمُلۡكِ ﴾ ’’کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے۔‘‘ کہ وہ محض اپنی خواہشات نفس کی بنا پر جس کو چاہیں اور جس پر چاہیں فضیلت دیں اور تدبیر مملکت میں اللہ تعالی کے شریک بن جائیں؟ اگر وہ ایسے ہوتے تو وہ بہت زیادہ بخل سے کام لیتے۔ اسی لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاِذًا ﴾ یعنی اگر اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہوتا، تب ﴿ لَّا يُؤۡتُوۡنَ النَّاسَ نَقِيۡرًا﴾ ’’وہ لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیتے۔‘‘ یعنی وہ لوگوں کو تھوڑی سی چیز بھی نہ دیتے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ (کائنات کی) بادشاہی اور اقتدار میں ان کا حصہ ہے انتہائی شدید بخل ان کا وصف بیان کیا ہے۔یہ ہر ایک کے نزدیک تسلیم شدہ اور متحقق استفہام انکاری ہے۔ [54]﴿ اَمۡ يَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے‘‘ یعنی یہ کہنے پر ان کو بزعم خود ان کے اللہ تعالی کے شریک ہونے نے آمادہ کیا ہے کہ جس کو چاہیں فضیلت دیں یارسول اللہﷺاور اہل ایمان کے ساتھ حسد اس کا باعث تھا کہ اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺاور اہل ایمان کو اپنے فضل سے نوازا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل کے لیے یہ کوئی انوکھی اور نئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ ﴿ فَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’پس ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بڑی سلطنت عطا فرمائی ہے‘‘ یہ ان نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جن سے اللہ تعالی نے حضرت ابراہیمuاور انکی اولاد کو نوازا۔ یعنی نبوت، کتاب اور حکومت جو اس نے اپنے بعض انبیاء کو عطا کی جیسے داؤد اور سلیمانu۔اللہ تعالی کے مومن بندوں پر یہ نعمتیں ہمیشہ سے چلی آ رہی ہیں۔ پس وہ محمدﷺکی نبوت، آپ کے لیے اللہ تعالی کی فتح و نصرت اور آپ کے اقتدار کا کیسے انکار کر سکتے ہیں۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے افضل، سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے زیادہ اللہ تعالی کی معرفت رکھنے والے اور سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والے ہیں۔ [55]﴿ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ بِهٖ ﴾ ’’پھر ان میں سے بعض اس پر ایمان لائے۔‘‘ یعنی ان میں سے بعض لوگ محمدﷺپر ایمان لائے۔ اس لیے وہ دنیاوی خوش بختی اور اخروی فلاح سے بہرہ ور ہوئے ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ صَدَّ عَنۡهُ ﴾ اور ان میں سے بعض نے محض عناد، بغاوت اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کے لیے اس سے اعراض کیا اس لیے وہ دنیا میں بدبختی اور مصائب کا شکار ہو گئے۔ جو ان کے گناہوں کے اثرات ہیں۔ ﴿ وَكَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِيۡرًا﴾ ’’اور (ان کے لیے) دہکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے‘‘ یہ آگ یہود و نصاریٰ اور دیگر اقسام کے کفار پر بھڑکائی جائے گی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے انبیاء علیہ السلام کا انکار کیا۔ [56] بنابریں اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيۡهِمۡ نَارًا ﴾ ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا انھیں ہم یقینا آگ میں ڈال دیں گے‘‘ یعنی ہم ان کو ایسی آگ میں جھونکیں گے جو ایندھن کے لحاظ سے بہت بڑی اور حرارت کے لحاظ سے بہت شدید ہو گی ﴿ كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ ﴾ ’’جب ان کی جلد جل جائے گی۔‘‘ ﴿ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ﴾ ’’ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں‘‘ تاکہ عذاب ان کے جسم کے ہر مقام تک پہنچ جائے۔چونکہ وہ کفر اور عناد کا بار بار مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ کفر اور عناد ان کا وصف اور عادت بن گیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالی ان کو بار بار عذاب کا مزا چکھائے گا تاکہ ان کو پورا پورا بدلہ مل جائے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’یقینا اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالی عظیم غلبے کا مالک ہے، اس کی تخلیق، اس کے امر اور اس کے ثواب و عقاب میں اس کی حکمت جاری و ساری ہے۔ [57]﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالی پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانا واجب ہے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کرتے رہے۔‘‘ یعنی وہ واجبات اور مستحبات پر عمل کرتے ہیں ﴿ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمۡ فِيۡهَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ﴾ ’’ہم عنقریب انھیں ان جنتوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کے لیے وہاں صاف ستھری بیویاں ہوں گی‘‘ یعنی یہ بیویاں ان رذیل عادات اور گندے اخلاق اور ہر میل اور عیب سے پاک ہوں گی جن میں دنیا کی عورتیں ملوث ہوتی ہیں ﴿ وَّنُدۡخِلُهُمۡ ظِلًّا ظَلِيۡلًا ﴾ ’’اور ہم انھیں گھنے سائے میں داخل کریں گے۔‘‘ یعنی ہم انھیں ہمیشہ رہنے والے سائے میں داخل کریں گے ۔
4:55

فَمِنۡهُم مَّنۡ ءَامَنَ بِهِۦ وَمِنۡهُم مَّن صَدَّ عَنۡهُۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دیے گئے کچھ حصہ کتاب سے؟ ایمان لاتے ہیں وہ ساتھ بتوں اور شیطان کے اور کہتے ہیں واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، یہ لوگ زیادہ ہدایت والے ہیں، ان لوگوں سے جو ایمان لائے، راستے کے لحاظ سے(51) یہ لوگ وہ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نےاور جس پر لعنت کرے اللہ تو ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی مددگار(52) کیا ان کے لیے کچھ حصہ ہے بادشاہی سے؟ تب تو نہیں دیں گے وہ لوگوں کو تل برابر (بھی)(53) کیا حسد کرتے ہیں وہ لوگوں سے اوپر اس کے جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے؟ پس تحقیق دی ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت اور دی ہم نے ان کو بادشاہی بہت بڑی(54) پس بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو رکے رہے اس سےاور کافی ہے جہنم دہکتی ہوئی(55) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ ہماری آیتوں کے عنقریب داخل کریں گے ہم ان کو آگ میں۔ جب جل جائیں گی کھالیں ان کی تو بدل دیں گے ہم ان کو کھا لیں علاوہ ان کے تاکہ چکھیں وہ عذاب، یقیناً اللہ ہے بہت زبردست بڑا حکمت والا(56) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھو ں نے نیک، عنقریب داخل کریں گے ہم ان کو ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، ان کے لیے ان میں بیویاں ہیں پاک صاف اور داخل کریں گے ہم ان کو چھاؤں میں (جو) بہت گھنی ہوگی(57) [51] یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہﷺاور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انھیں اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں۔‘‘ یعنی کفار کی خوشامد اور مداہنت کی خاطر اور ایمان سے بغض کی وجہ سے کہتے تھے ﴿ هٰۤؤُلَآءِ اَهۡدٰؔى مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِيۡلًا﴾ ’’طریقے کے اعتبار سے یہ کفار اہل ایمان سے زیادہ راہ ہدایت پر ہیں۔‘‘ وہ کتنے قبیح ہیں، ان کا عناد کتنا شدید، اور ان کی عقل کتنی کم ہے؟ وہ مذمت کی وادی میں، ہلاکت کے راستے پر کیسے گامزن ہیں؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات کسی عقلمند کو قائل کر لے گی یا کسی جاہل کی عقل میں آجائے گی؟کیا اس دین کو جو بتوں اور پتھروں کی عبادت کی بنیاد پر قائم ہے، جو طیبات کو حرام ٹھہرانے، خبائث کو حلال ٹھہرانے، بہت سی محرمات کو جائز قرار دینے، اللہ تعالی کی مخلوق پر ظلم کے ضابطوں کو قائم کرنے، خالق کو مخلوق کے برابر قرار دینے، اللہ، اس کے رسول اور اس کی کتابوں کے ساتھ کفر کرنے کو درست گردانتا ہے ۔۔۔ اس دین پر فضیلت دی جا سکتی ہے جو اللہ رحمن کی عبادت، کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، بتوں اور جھوٹے خداؤں کے انکار، صلہ رحمی، تمام مخلوق حتیٰ کہ جانوروں کے ساتھ حسن سلوک، لوگوں کے درمیان عدل کا قیام، ہر خبیث چیز اور ظلم کی تحریم اور تمام اقوال و اعمال میں صدق پر مبنی ہے؟.... کیا یہ تفضیل محض ہذیان نہیں؟ایسا کہنے والا شخص یا تو سب سے زیادہ جاہل یا سب سے کم عقل یا حق کے ساتھ سب سے زیادہ عناد رکھنے والا اور تکبر کا اظہار کرنے والا ہے۔ یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔ [52] اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے دور کر دیا اور انھیں اپنی سزا کا مستحق ٹھہرایا ﴿ وَمَنۡ يَّلۡعَنِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ نَصِيۡرًا﴾ ’’اور جس پر اللہ لعنت کردے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہیں پاؤگے۔‘‘ جسے اللہ تعالی دھتکار دے تو اس کے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا جو اس کی سرپرستی کرے، اس کے مصالح کی نگرانی کرے اور ناپسندیدہ امور میں اس کی حفاظت کرے۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے کسی کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کی انتہا ہے۔ [53]﴿ اَمۡ لَهُمۡ نَصِيۡبٌ مِّنَ الۡمُلۡكِ ﴾ ’’کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے۔‘‘ کہ وہ محض اپنی خواہشات نفس کی بنا پر جس کو چاہیں اور جس پر چاہیں فضیلت دیں اور تدبیر مملکت میں اللہ تعالی کے شریک بن جائیں؟ اگر وہ ایسے ہوتے تو وہ بہت زیادہ بخل سے کام لیتے۔ اسی لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاِذًا ﴾ یعنی اگر اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہوتا، تب ﴿ لَّا يُؤۡتُوۡنَ النَّاسَ نَقِيۡرًا﴾ ’’وہ لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیتے۔‘‘ یعنی وہ لوگوں کو تھوڑی سی چیز بھی نہ دیتے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ (کائنات کی) بادشاہی اور اقتدار میں ان کا حصہ ہے انتہائی شدید بخل ان کا وصف بیان کیا ہے۔یہ ہر ایک کے نزدیک تسلیم شدہ اور متحقق استفہام انکاری ہے۔ [54]﴿ اَمۡ يَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے‘‘ یعنی یہ کہنے پر ان کو بزعم خود ان کے اللہ تعالی کے شریک ہونے نے آمادہ کیا ہے کہ جس کو چاہیں فضیلت دیں یارسول اللہﷺاور اہل ایمان کے ساتھ حسد اس کا باعث تھا کہ اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺاور اہل ایمان کو اپنے فضل سے نوازا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل کے لیے یہ کوئی انوکھی اور نئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ ﴿ فَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’پس ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بڑی سلطنت عطا فرمائی ہے‘‘ یہ ان نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جن سے اللہ تعالی نے حضرت ابراہیمuاور انکی اولاد کو نوازا۔ یعنی نبوت، کتاب اور حکومت جو اس نے اپنے بعض انبیاء کو عطا کی جیسے داؤد اور سلیمانu۔اللہ تعالی کے مومن بندوں پر یہ نعمتیں ہمیشہ سے چلی آ رہی ہیں۔ پس وہ محمدﷺکی نبوت، آپ کے لیے اللہ تعالی کی فتح و نصرت اور آپ کے اقتدار کا کیسے انکار کر سکتے ہیں۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے افضل، سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے زیادہ اللہ تعالی کی معرفت رکھنے والے اور سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والے ہیں۔ [55]﴿ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ بِهٖ ﴾ ’’پھر ان میں سے بعض اس پر ایمان لائے۔‘‘ یعنی ان میں سے بعض لوگ محمدﷺپر ایمان لائے۔ اس لیے وہ دنیاوی خوش بختی اور اخروی فلاح سے بہرہ ور ہوئے ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ صَدَّ عَنۡهُ ﴾ اور ان میں سے بعض نے محض عناد، بغاوت اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کے لیے اس سے اعراض کیا اس لیے وہ دنیا میں بدبختی اور مصائب کا شکار ہو گئے۔ جو ان کے گناہوں کے اثرات ہیں۔ ﴿ وَكَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِيۡرًا﴾ ’’اور (ان کے لیے) دہکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے‘‘ یہ آگ یہود و نصاریٰ اور دیگر اقسام کے کفار پر بھڑکائی جائے گی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے انبیاء علیہ السلام کا انکار کیا۔ [56] بنابریں اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيۡهِمۡ نَارًا ﴾ ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا انھیں ہم یقینا آگ میں ڈال دیں گے‘‘ یعنی ہم ان کو ایسی آگ میں جھونکیں گے جو ایندھن کے لحاظ سے بہت بڑی اور حرارت کے لحاظ سے بہت شدید ہو گی ﴿ كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ ﴾ ’’جب ان کی جلد جل جائے گی۔‘‘ ﴿ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ﴾ ’’ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں‘‘ تاکہ عذاب ان کے جسم کے ہر مقام تک پہنچ جائے۔چونکہ وہ کفر اور عناد کا بار بار مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ کفر اور عناد ان کا وصف اور عادت بن گیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالی ان کو بار بار عذاب کا مزا چکھائے گا تاکہ ان کو پورا پورا بدلہ مل جائے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’یقینا اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالی عظیم غلبے کا مالک ہے، اس کی تخلیق، اس کے امر اور اس کے ثواب و عقاب میں اس کی حکمت جاری و ساری ہے۔ [57]﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالی پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانا واجب ہے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کرتے رہے۔‘‘ یعنی وہ واجبات اور مستحبات پر عمل کرتے ہیں ﴿ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمۡ فِيۡهَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ﴾ ’’ہم عنقریب انھیں ان جنتوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کے لیے وہاں صاف ستھری بیویاں ہوں گی‘‘ یعنی یہ بیویاں ان رذیل عادات اور گندے اخلاق اور ہر میل اور عیب سے پاک ہوں گی جن میں دنیا کی عورتیں ملوث ہوتی ہیں ﴿ وَّنُدۡخِلُهُمۡ ظِلًّا ظَلِيۡلًا ﴾ ’’اور ہم انھیں گھنے سائے میں داخل کریں گے۔‘‘ یعنی ہم انھیں ہمیشہ رہنے والے سائے میں داخل کریں گے ۔
4:56

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيهِمۡ نَارٗا كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُودُهُم بَدَّلۡنَٰهُمۡ جُلُودًا غَيۡرَهَا لِيَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمٗا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دیے گئے کچھ حصہ کتاب سے؟ ایمان لاتے ہیں وہ ساتھ بتوں اور شیطان کے اور کہتے ہیں واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، یہ لوگ زیادہ ہدایت والے ہیں، ان لوگوں سے جو ایمان لائے، راستے کے لحاظ سے(51) یہ لوگ وہ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نےاور جس پر لعنت کرے اللہ تو ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی مددگار(52) کیا ان کے لیے کچھ حصہ ہے بادشاہی سے؟ تب تو نہیں دیں گے وہ لوگوں کو تل برابر (بھی)(53) کیا حسد کرتے ہیں وہ لوگوں سے اوپر اس کے جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے؟ پس تحقیق دی ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت اور دی ہم نے ان کو بادشاہی بہت بڑی(54) پس بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو رکے رہے اس سےاور کافی ہے جہنم دہکتی ہوئی(55) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ ہماری آیتوں کے عنقریب داخل کریں گے ہم ان کو آگ میں۔ جب جل جائیں گی کھالیں ان کی تو بدل دیں گے ہم ان کو کھا لیں علاوہ ان کے تاکہ چکھیں وہ عذاب، یقیناً اللہ ہے بہت زبردست بڑا حکمت والا(56) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھو ں نے نیک، عنقریب داخل کریں گے ہم ان کو ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، ان کے لیے ان میں بیویاں ہیں پاک صاف اور داخل کریں گے ہم ان کو چھاؤں میں (جو) بہت گھنی ہوگی(57) [51] یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہﷺاور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انھیں اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں۔‘‘ یعنی کفار کی خوشامد اور مداہنت کی خاطر اور ایمان سے بغض کی وجہ سے کہتے تھے ﴿ هٰۤؤُلَآءِ اَهۡدٰؔى مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِيۡلًا﴾ ’’طریقے کے اعتبار سے یہ کفار اہل ایمان سے زیادہ راہ ہدایت پر ہیں۔‘‘ وہ کتنے قبیح ہیں، ان کا عناد کتنا شدید، اور ان کی عقل کتنی کم ہے؟ وہ مذمت کی وادی میں، ہلاکت کے راستے پر کیسے گامزن ہیں؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات کسی عقلمند کو قائل کر لے گی یا کسی جاہل کی عقل میں آجائے گی؟کیا اس دین کو جو بتوں اور پتھروں کی عبادت کی بنیاد پر قائم ہے، جو طیبات کو حرام ٹھہرانے، خبائث کو حلال ٹھہرانے، بہت سی محرمات کو جائز قرار دینے، اللہ تعالی کی مخلوق پر ظلم کے ضابطوں کو قائم کرنے، خالق کو مخلوق کے برابر قرار دینے، اللہ، اس کے رسول اور اس کی کتابوں کے ساتھ کفر کرنے کو درست گردانتا ہے ۔۔۔ اس دین پر فضیلت دی جا سکتی ہے جو اللہ رحمن کی عبادت، کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، بتوں اور جھوٹے خداؤں کے انکار، صلہ رحمی، تمام مخلوق حتیٰ کہ جانوروں کے ساتھ حسن سلوک، لوگوں کے درمیان عدل کا قیام، ہر خبیث چیز اور ظلم کی تحریم اور تمام اقوال و اعمال میں صدق پر مبنی ہے؟.... کیا یہ تفضیل محض ہذیان نہیں؟ایسا کہنے والا شخص یا تو سب سے زیادہ جاہل یا سب سے کم عقل یا حق کے ساتھ سب سے زیادہ عناد رکھنے والا اور تکبر کا اظہار کرنے والا ہے۔ یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔ [52] اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے دور کر دیا اور انھیں اپنی سزا کا مستحق ٹھہرایا ﴿ وَمَنۡ يَّلۡعَنِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ نَصِيۡرًا﴾ ’’اور جس پر اللہ لعنت کردے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہیں پاؤگے۔‘‘ جسے اللہ تعالی دھتکار دے تو اس کے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا جو اس کی سرپرستی کرے، اس کے مصالح کی نگرانی کرے اور ناپسندیدہ امور میں اس کی حفاظت کرے۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے کسی کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کی انتہا ہے۔ [53]﴿ اَمۡ لَهُمۡ نَصِيۡبٌ مِّنَ الۡمُلۡكِ ﴾ ’’کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے۔‘‘ کہ وہ محض اپنی خواہشات نفس کی بنا پر جس کو چاہیں اور جس پر چاہیں فضیلت دیں اور تدبیر مملکت میں اللہ تعالی کے شریک بن جائیں؟ اگر وہ ایسے ہوتے تو وہ بہت زیادہ بخل سے کام لیتے۔ اسی لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاِذًا ﴾ یعنی اگر اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہوتا، تب ﴿ لَّا يُؤۡتُوۡنَ النَّاسَ نَقِيۡرًا﴾ ’’وہ لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیتے۔‘‘ یعنی وہ لوگوں کو تھوڑی سی چیز بھی نہ دیتے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ (کائنات کی) بادشاہی اور اقتدار میں ان کا حصہ ہے انتہائی شدید بخل ان کا وصف بیان کیا ہے۔یہ ہر ایک کے نزدیک تسلیم شدہ اور متحقق استفہام انکاری ہے۔ [54]﴿ اَمۡ يَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے‘‘ یعنی یہ کہنے پر ان کو بزعم خود ان کے اللہ تعالی کے شریک ہونے نے آمادہ کیا ہے کہ جس کو چاہیں فضیلت دیں یارسول اللہﷺاور اہل ایمان کے ساتھ حسد اس کا باعث تھا کہ اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺاور اہل ایمان کو اپنے فضل سے نوازا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل کے لیے یہ کوئی انوکھی اور نئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ ﴿ فَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’پس ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بڑی سلطنت عطا فرمائی ہے‘‘ یہ ان نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جن سے اللہ تعالی نے حضرت ابراہیمuاور انکی اولاد کو نوازا۔ یعنی نبوت، کتاب اور حکومت جو اس نے اپنے بعض انبیاء کو عطا کی جیسے داؤد اور سلیمانu۔اللہ تعالی کے مومن بندوں پر یہ نعمتیں ہمیشہ سے چلی آ رہی ہیں۔ پس وہ محمدﷺکی نبوت، آپ کے لیے اللہ تعالی کی فتح و نصرت اور آپ کے اقتدار کا کیسے انکار کر سکتے ہیں۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے افضل، سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے زیادہ اللہ تعالی کی معرفت رکھنے والے اور سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والے ہیں۔ [55]﴿ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ بِهٖ ﴾ ’’پھر ان میں سے بعض اس پر ایمان لائے۔‘‘ یعنی ان میں سے بعض لوگ محمدﷺپر ایمان لائے۔ اس لیے وہ دنیاوی خوش بختی اور اخروی فلاح سے بہرہ ور ہوئے ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ صَدَّ عَنۡهُ ﴾ اور ان میں سے بعض نے محض عناد، بغاوت اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کے لیے اس سے اعراض کیا اس لیے وہ دنیا میں بدبختی اور مصائب کا شکار ہو گئے۔ جو ان کے گناہوں کے اثرات ہیں۔ ﴿ وَكَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِيۡرًا﴾ ’’اور (ان کے لیے) دہکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے‘‘ یہ آگ یہود و نصاریٰ اور دیگر اقسام کے کفار پر بھڑکائی جائے گی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے انبیاء علیہ السلام کا انکار کیا۔ [56] بنابریں اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيۡهِمۡ نَارًا ﴾ ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا انھیں ہم یقینا آگ میں ڈال دیں گے‘‘ یعنی ہم ان کو ایسی آگ میں جھونکیں گے جو ایندھن کے لحاظ سے بہت بڑی اور حرارت کے لحاظ سے بہت شدید ہو گی ﴿ كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ ﴾ ’’جب ان کی جلد جل جائے گی۔‘‘ ﴿ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ﴾ ’’ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں‘‘ تاکہ عذاب ان کے جسم کے ہر مقام تک پہنچ جائے۔چونکہ وہ کفر اور عناد کا بار بار مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ کفر اور عناد ان کا وصف اور عادت بن گیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالی ان کو بار بار عذاب کا مزا چکھائے گا تاکہ ان کو پورا پورا بدلہ مل جائے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’یقینا اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالی عظیم غلبے کا مالک ہے، اس کی تخلیق، اس کے امر اور اس کے ثواب و عقاب میں اس کی حکمت جاری و ساری ہے۔ [57]﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالی پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانا واجب ہے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کرتے رہے۔‘‘ یعنی وہ واجبات اور مستحبات پر عمل کرتے ہیں ﴿ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمۡ فِيۡهَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ﴾ ’’ہم عنقریب انھیں ان جنتوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کے لیے وہاں صاف ستھری بیویاں ہوں گی‘‘ یعنی یہ بیویاں ان رذیل عادات اور گندے اخلاق اور ہر میل اور عیب سے پاک ہوں گی جن میں دنیا کی عورتیں ملوث ہوتی ہیں ﴿ وَّنُدۡخِلُهُمۡ ظِلًّا ظَلِيۡلًا ﴾ ’’اور ہم انھیں گھنے سائے میں داخل کریں گے۔‘‘ یعنی ہم انھیں ہمیشہ رہنے والے سائے میں داخل کریں گے ۔
4:57

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ لَّهُمۡ فِيهَآ أَزۡوَٰجٞ مُّطَهَّرَةٞۖ وَنُدۡخِلُهُمۡ ظِلّٗا ظَلِيلًا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دیے گئے کچھ حصہ کتاب سے؟ ایمان لاتے ہیں وہ ساتھ بتوں اور شیطان کے اور کہتے ہیں واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، یہ لوگ زیادہ ہدایت والے ہیں، ان لوگوں سے جو ایمان لائے، راستے کے لحاظ سے(51) یہ لوگ وہ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نےاور جس پر لعنت کرے اللہ تو ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی مددگار(52) کیا ان کے لیے کچھ حصہ ہے بادشاہی سے؟ تب تو نہیں دیں گے وہ لوگوں کو تل برابر (بھی)(53) کیا حسد کرتے ہیں وہ لوگوں سے اوپر اس کے جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے؟ پس تحقیق دی ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت اور دی ہم نے ان کو بادشاہی بہت بڑی(54) پس بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو رکے رہے اس سےاور کافی ہے جہنم دہکتی ہوئی(55) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ ہماری آیتوں کے عنقریب داخل کریں گے ہم ان کو آگ میں۔ جب جل جائیں گی کھالیں ان کی تو بدل دیں گے ہم ان کو کھا لیں علاوہ ان کے تاکہ چکھیں وہ عذاب، یقیناً اللہ ہے بہت زبردست بڑا حکمت والا(56) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھو ں نے نیک، عنقریب داخل کریں گے ہم ان کو ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، ان کے لیے ان میں بیویاں ہیں پاک صاف اور داخل کریں گے ہم ان کو چھاؤں میں (جو) بہت گھنی ہوگی(57) [51] یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہﷺاور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انھیں اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں۔‘‘ یعنی کفار کی خوشامد اور مداہنت کی خاطر اور ایمان سے بغض کی وجہ سے کہتے تھے ﴿ هٰۤؤُلَآءِ اَهۡدٰؔى مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِيۡلًا﴾ ’’طریقے کے اعتبار سے یہ کفار اہل ایمان سے زیادہ راہ ہدایت پر ہیں۔‘‘ وہ کتنے قبیح ہیں، ان کا عناد کتنا شدید، اور ان کی عقل کتنی کم ہے؟ وہ مذمت کی وادی میں، ہلاکت کے راستے پر کیسے گامزن ہیں؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات کسی عقلمند کو قائل کر لے گی یا کسی جاہل کی عقل میں آجائے گی؟کیا اس دین کو جو بتوں اور پتھروں کی عبادت کی بنیاد پر قائم ہے، جو طیبات کو حرام ٹھہرانے، خبائث کو حلال ٹھہرانے، بہت سی محرمات کو جائز قرار دینے، اللہ تعالی کی مخلوق پر ظلم کے ضابطوں کو قائم کرنے، خالق کو مخلوق کے برابر قرار دینے، اللہ، اس کے رسول اور اس کی کتابوں کے ساتھ کفر کرنے کو درست گردانتا ہے ۔۔۔ اس دین پر فضیلت دی جا سکتی ہے جو اللہ رحمن کی عبادت، کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، بتوں اور جھوٹے خداؤں کے انکار، صلہ رحمی، تمام مخلوق حتیٰ کہ جانوروں کے ساتھ حسن سلوک، لوگوں کے درمیان عدل کا قیام، ہر خبیث چیز اور ظلم کی تحریم اور تمام اقوال و اعمال میں صدق پر مبنی ہے؟.... کیا یہ تفضیل محض ہذیان نہیں؟ایسا کہنے والا شخص یا تو سب سے زیادہ جاہل یا سب سے کم عقل یا حق کے ساتھ سب سے زیادہ عناد رکھنے والا اور تکبر کا اظہار کرنے والا ہے۔ یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔ [52] اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے دور کر دیا اور انھیں اپنی سزا کا مستحق ٹھہرایا ﴿ وَمَنۡ يَّلۡعَنِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ نَصِيۡرًا﴾ ’’اور جس پر اللہ لعنت کردے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہیں پاؤگے۔‘‘ جسے اللہ تعالی دھتکار دے تو اس کے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا جو اس کی سرپرستی کرے، اس کے مصالح کی نگرانی کرے اور ناپسندیدہ امور میں اس کی حفاظت کرے۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے کسی کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کی انتہا ہے۔ [53]﴿ اَمۡ لَهُمۡ نَصِيۡبٌ مِّنَ الۡمُلۡكِ ﴾ ’’کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے۔‘‘ کہ وہ محض اپنی خواہشات نفس کی بنا پر جس کو چاہیں اور جس پر چاہیں فضیلت دیں اور تدبیر مملکت میں اللہ تعالی کے شریک بن جائیں؟ اگر وہ ایسے ہوتے تو وہ بہت زیادہ بخل سے کام لیتے۔ اسی لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاِذًا ﴾ یعنی اگر اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہوتا، تب ﴿ لَّا يُؤۡتُوۡنَ النَّاسَ نَقِيۡرًا﴾ ’’وہ لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیتے۔‘‘ یعنی وہ لوگوں کو تھوڑی سی چیز بھی نہ دیتے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ (کائنات کی) بادشاہی اور اقتدار میں ان کا حصہ ہے انتہائی شدید بخل ان کا وصف بیان کیا ہے۔یہ ہر ایک کے نزدیک تسلیم شدہ اور متحقق استفہام انکاری ہے۔ [54]﴿ اَمۡ يَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے‘‘ یعنی یہ کہنے پر ان کو بزعم خود ان کے اللہ تعالی کے شریک ہونے نے آمادہ کیا ہے کہ جس کو چاہیں فضیلت دیں یارسول اللہﷺاور اہل ایمان کے ساتھ حسد اس کا باعث تھا کہ اللہ تعالی نے اپنے رسولﷺاور اہل ایمان کو اپنے فضل سے نوازا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل کے لیے یہ کوئی انوکھی اور نئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ ﴿ فَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’پس ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور بڑی سلطنت عطا فرمائی ہے‘‘ یہ ان نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جن سے اللہ تعالی نے حضرت ابراہیمuاور انکی اولاد کو نوازا۔ یعنی نبوت، کتاب اور حکومت جو اس نے اپنے بعض انبیاء کو عطا کی جیسے داؤد اور سلیمانu۔اللہ تعالی کے مومن بندوں پر یہ نعمتیں ہمیشہ سے چلی آ رہی ہیں۔ پس وہ محمدﷺکی نبوت، آپ کے لیے اللہ تعالی کی فتح و نصرت اور آپ کے اقتدار کا کیسے انکار کر سکتے ہیں۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے افضل، سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے زیادہ اللہ تعالی کی معرفت رکھنے والے اور سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والے ہیں۔ [55]﴿ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اٰمَنَ بِهٖ ﴾ ’’پھر ان میں سے بعض اس پر ایمان لائے۔‘‘ یعنی ان میں سے بعض لوگ محمدﷺپر ایمان لائے۔ اس لیے وہ دنیاوی خوش بختی اور اخروی فلاح سے بہرہ ور ہوئے ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ صَدَّ عَنۡهُ ﴾ اور ان میں سے بعض نے محض عناد، بغاوت اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کے لیے اس سے اعراض کیا اس لیے وہ دنیا میں بدبختی اور مصائب کا شکار ہو گئے۔ جو ان کے گناہوں کے اثرات ہیں۔ ﴿ وَكَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِيۡرًا﴾ ’’اور (ان کے لیے) دہکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے‘‘ یہ آگ یہود و نصاریٰ اور دیگر اقسام کے کفار پر بھڑکائی جائے گی، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے انبیاء علیہ السلام کا انکار کیا۔ [56] بنابریں اللہ تعالی نے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيۡهِمۡ نَارًا ﴾ ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا انھیں ہم یقینا آگ میں ڈال دیں گے‘‘ یعنی ہم ان کو ایسی آگ میں جھونکیں گے جو ایندھن کے لحاظ سے بہت بڑی اور حرارت کے لحاظ سے بہت شدید ہو گی ﴿ كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ ﴾ ’’جب ان کی جلد جل جائے گی۔‘‘ ﴿ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ ﴾ ’’ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں‘‘ تاکہ عذاب ان کے جسم کے ہر مقام تک پہنچ جائے۔چونکہ وہ کفر اور عناد کا بار بار مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ کفر اور عناد ان کا وصف اور عادت بن گیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالی ان کو بار بار عذاب کا مزا چکھائے گا تاکہ ان کو پورا پورا بدلہ مل جائے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’یقینا اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالی عظیم غلبے کا مالک ہے، اس کی تخلیق، اس کے امر اور اس کے ثواب و عقاب میں اس کی حکمت جاری و ساری ہے۔ [57]﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالی پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانا واجب ہے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کرتے رہے۔‘‘ یعنی وہ واجبات اور مستحبات پر عمل کرتے ہیں ﴿ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمۡ فِيۡهَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ﴾ ’’ہم عنقریب انھیں ان جنتوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کے لیے وہاں صاف ستھری بیویاں ہوں گی‘‘ یعنی یہ بیویاں ان رذیل عادات اور گندے اخلاق اور ہر میل اور عیب سے پاک ہوں گی جن میں دنیا کی عورتیں ملوث ہوتی ہیں ﴿ وَّنُدۡخِلُهُمۡ ظِلًّا ظَلِيۡلًا ﴾ ’’اور ہم انھیں گھنے سائے میں داخل کریں گے۔‘‘ یعنی ہم انھیں ہمیشہ رہنے والے سائے میں داخل کریں گے ۔
4:58

۞إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّواْ ٱلۡأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهۡلِهَا وَإِذَا حَكَمۡتُم بَيۡنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحۡكُمُواْ بِٱلۡعَدۡلِۚ إِنَّ ٱللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِۦٓۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ سَمِيعَۢا بَصِيرٗا

بلاشبہ اللہ حکم دیتا ہے تمھیں یہ کہ ادا کرو تم امانتیں ان کے اہل کواور جب فیصلہ کرو تم درمیان لوگوں کے تو فیصلہ کرو ساتھ انصاف کے۔ بلاشبہ اللہ، بہت ہی اچھی بات ہے وہ کہ نصیحت کرتا ہے تمھیں ساتھ اس کے۔ بے شک اللہ ہے سننے والا دیکھنے والا(58) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو تم اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اصحاب امر کی اپنے میں سے، پھر اگر تم باہم اختلاف کرو کسی چیز میں تو لوٹا دو اس کو اللہ اور رسول کی طرف، اگر ہو تم ایمان رکھتے ساتھ اللہ اور دن آخرت کے۔ یہ بہتر اور بہت اچھا ہے انجام میں(59) [58] ہر وہ چیز جس پر انسان کو امین بنایا جائے اور اس کے انتظام کی ذمہ داری اس کے سپرد کی جائے، امانت کہلاتی ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ امانتیں بغیر کسی کمی اور بغیر کسی ٹال مٹول کے پوری کی پوری ادا کر دیں۔اس میں عہدوں کی امانت، اموال کی امانت، بھید اور رازوں کی امانت اور ان مامورات کی امانت جنھیں اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا، سب شامل ہیں۔فقہاء کہتے ہیں کہ جس کسی کے پاس کوئی امانت رکھی جائے اس پر اس کی حفاظت کرنا واجب ہے۔ چونکہ امانت کی حفاظت کیے بغیر اس کو واپس ادا کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے حفاظت واجب ہے۔ اللہ تعالی کے ارشاد ﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهَا ﴾’’اس کے مالک کی طرف‘‘ میں اس بات کی دلیل ہے کہ امانت صرف اسی شخص کو لوٹائی جائے اور ادا کی جائے جو اس کا مالک ہے۔ اور وکیل مالک ہی کے قائم مقام ہے۔ اگر وہ امانت مالک کے سوا کسی اور شخص کے حوالے کر دے تو اس نے امانت ادا نہیں کی۔﴿ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ ﴾ ’’اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے مطابق کرو‘‘ یہ حکم ان کے درمیان قتل کے مقدمات ، مالی مقدمات اور عزت و آبرو کے مقدمات، خواہ یہ چھوٹے ہوں یا بڑے، سب کو شامل ہے اور اس کا اطلاق قریب، بعید، صالح، فاجر، دوست اور دشمن سب پر ہوتا ہے۔ وہ عدل جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں حکم دیا ہے اس سے مراد حدود و احکام میں عدل کے وہ ضابطے ہیں جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکی زبان پر مشروع فرمایا ہے۔ یہ حکم معرفت عدل کو مستلزم ہے تاکہ اس کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔چونکہ یہ احکام بہت اچھے اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا ﴾ ’’اللہ تم کو اچھی نصیحت کرتا ہے، بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے‘‘ یہ اللہ تعالی کی طرف سے اپنے اوامر و نواہی کی مدح و تعریف ہے کیونکہ یہ اوامر و نواہی دنیا و آخرت کے مصالح کے حصول اور دنیا و آخرت کی مضرتوں کو دور کرنے پر مشتمل ہیں کیونکہ ان اوامر و نواہی کو مشروع کرنے والی ہستی سمیع و بصیر ہے۔ جس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے وہ اپنے بندوں کے ان مصالح کو جانتا ہے جو وہ خود نہیں جانتے۔ [59] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور یہ اطاعت اللہ اور اس کے رسول کے مشروع کردہ واجبات و مستحبات پر عمل اور ان کی منہیات سے اجتناب ہی کے ذریعے سے ہو سکتی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے اولو الامر کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ اولو الامر سے مراد لوگوں پر مقرر کردہ حکام، امراء اور اصحاب فتویٰ ہیں کیونکہ لوگوں کے دینی اور دنیاوی معاملات اس وقت تک درست نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکی فرماں برداری کرتے ہوئے اولو الامر کی اطاعت نہیں کرتے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اولو الامر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہ دیں اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیں تو خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی فرماں برداری ہرگز جائز نہیں۔ شاید یہی سر نہاں ہے کہ اولو الامر کی اطاعت کے حکم کے وقت فعل کو حذف کر دیا گیا ہے اور اولو الامر کی اطاعت کو رسول کی اطاعت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے کیونکہ رسول اللہﷺصرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں لہٰذا جو کوئی رسولﷺکی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ رہے اولو الامر تو ان کی اطاعت کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ ان کا حکم معصیت نہ ہو۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ لوگ اپنے تمام تنازعات کو، خواہ یہ اصول دین میں ہوں یا فروع دین میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹائیں۔ یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف ۔ کیونکہ تمام اختلافی مسائل کا حل قرآن و سنت میں موجود ہے یا تو ان اختلافات کا حل صراحت کے ساتھ قرآن اور سنت میں موجود ہوتا ہے یا ان کے عموم، ایماء، تنبیہ، مفہوم مخالف اور عموم معنی میں ان اختلافات کا حل موجود ہوتا ہے اور عموم معنی میں اس کے مشابہہ مسائل میں قیاس کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ کتاب اللہ اور رسول اللہﷺکی سنت پر دین کی بنیاد قائم ہے ان دونوں کو حجت تسلیم کیے بغیر ایمان درست نہیں۔ اپنے تنازعات کو قرآن و سنت کی طرف لوٹانا شرط ایمان ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾’’اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی نزاعی مسائل کو قرآن و سنت پر پیش نہیں کرتا وہ حقیقی مومن نہیں بلکہ وہ طاغوت پر ایمان رکھتا ہے۔ جیسا کہ بعد والی آیت میں ذکر فرمایا ہے۔﴿ ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی تنازعات کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانا ﴿ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا﴾ ’’یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکا فیصلہ سب سے بہتر اور سب سے زیادہ عدل و انصاف کا حامل اور لوگوں کے دین و دنیا اور ان کی عاقبت کی بھلائی کے لیے سب سے اچھا فیصلہ ہے۔
4:59

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ فَإِن تَنَٰزَعۡتُمۡ فِي شَيۡءٖ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِيلًا

بلاشبہ اللہ حکم دیتا ہے تمھیں یہ کہ ادا کرو تم امانتیں ان کے اہل کواور جب فیصلہ کرو تم درمیان لوگوں کے تو فیصلہ کرو ساتھ انصاف کے۔ بلاشبہ اللہ، بہت ہی اچھی بات ہے وہ کہ نصیحت کرتا ہے تمھیں ساتھ اس کے۔ بے شک اللہ ہے سننے والا دیکھنے والا(58) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو تم اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اصحاب امر کی اپنے میں سے، پھر اگر تم باہم اختلاف کرو کسی چیز میں تو لوٹا دو اس کو اللہ اور رسول کی طرف، اگر ہو تم ایمان رکھتے ساتھ اللہ اور دن آخرت کے۔ یہ بہتر اور بہت اچھا ہے انجام میں(59) [58] ہر وہ چیز جس پر انسان کو امین بنایا جائے اور اس کے انتظام کی ذمہ داری اس کے سپرد کی جائے، امانت کہلاتی ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ امانتیں بغیر کسی کمی اور بغیر کسی ٹال مٹول کے پوری کی پوری ادا کر دیں۔اس میں عہدوں کی امانت، اموال کی امانت، بھید اور رازوں کی امانت اور ان مامورات کی امانت جنھیں اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا، سب شامل ہیں۔فقہاء کہتے ہیں کہ جس کسی کے پاس کوئی امانت رکھی جائے اس پر اس کی حفاظت کرنا واجب ہے۔ چونکہ امانت کی حفاظت کیے بغیر اس کو واپس ادا کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے حفاظت واجب ہے۔ اللہ تعالی کے ارشاد ﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهَا ﴾’’اس کے مالک کی طرف‘‘ میں اس بات کی دلیل ہے کہ امانت صرف اسی شخص کو لوٹائی جائے اور ادا کی جائے جو اس کا مالک ہے۔ اور وکیل مالک ہی کے قائم مقام ہے۔ اگر وہ امانت مالک کے سوا کسی اور شخص کے حوالے کر دے تو اس نے امانت ادا نہیں کی۔﴿ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ ﴾ ’’اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے مطابق کرو‘‘ یہ حکم ان کے درمیان قتل کے مقدمات ، مالی مقدمات اور عزت و آبرو کے مقدمات، خواہ یہ چھوٹے ہوں یا بڑے، سب کو شامل ہے اور اس کا اطلاق قریب، بعید، صالح، فاجر، دوست اور دشمن سب پر ہوتا ہے۔ وہ عدل جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں حکم دیا ہے اس سے مراد حدود و احکام میں عدل کے وہ ضابطے ہیں جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکی زبان پر مشروع فرمایا ہے۔ یہ حکم معرفت عدل کو مستلزم ہے تاکہ اس کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔چونکہ یہ احکام بہت اچھے اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا ﴾ ’’اللہ تم کو اچھی نصیحت کرتا ہے، بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے‘‘ یہ اللہ تعالی کی طرف سے اپنے اوامر و نواہی کی مدح و تعریف ہے کیونکہ یہ اوامر و نواہی دنیا و آخرت کے مصالح کے حصول اور دنیا و آخرت کی مضرتوں کو دور کرنے پر مشتمل ہیں کیونکہ ان اوامر و نواہی کو مشروع کرنے والی ہستی سمیع و بصیر ہے۔ جس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے وہ اپنے بندوں کے ان مصالح کو جانتا ہے جو وہ خود نہیں جانتے۔ [59] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور یہ اطاعت اللہ اور اس کے رسول کے مشروع کردہ واجبات و مستحبات پر عمل اور ان کی منہیات سے اجتناب ہی کے ذریعے سے ہو سکتی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے اولو الامر کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ اولو الامر سے مراد لوگوں پر مقرر کردہ حکام، امراء اور اصحاب فتویٰ ہیں کیونکہ لوگوں کے دینی اور دنیاوی معاملات اس وقت تک درست نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکی فرماں برداری کرتے ہوئے اولو الامر کی اطاعت نہیں کرتے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اولو الامر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہ دیں اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیں تو خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی فرماں برداری ہرگز جائز نہیں۔ شاید یہی سر نہاں ہے کہ اولو الامر کی اطاعت کے حکم کے وقت فعل کو حذف کر دیا گیا ہے اور اولو الامر کی اطاعت کو رسول کی اطاعت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے کیونکہ رسول اللہﷺصرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں لہٰذا جو کوئی رسولﷺکی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ رہے اولو الامر تو ان کی اطاعت کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ ان کا حکم معصیت نہ ہو۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ لوگ اپنے تمام تنازعات کو، خواہ یہ اصول دین میں ہوں یا فروع دین میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹائیں۔ یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف ۔ کیونکہ تمام اختلافی مسائل کا حل قرآن و سنت میں موجود ہے یا تو ان اختلافات کا حل صراحت کے ساتھ قرآن اور سنت میں موجود ہوتا ہے یا ان کے عموم، ایماء، تنبیہ، مفہوم مخالف اور عموم معنی میں ان اختلافات کا حل موجود ہوتا ہے اور عموم معنی میں اس کے مشابہہ مسائل میں قیاس کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ کتاب اللہ اور رسول اللہﷺکی سنت پر دین کی بنیاد قائم ہے ان دونوں کو حجت تسلیم کیے بغیر ایمان درست نہیں۔ اپنے تنازعات کو قرآن و سنت کی طرف لوٹانا شرط ایمان ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾’’اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی نزاعی مسائل کو قرآن و سنت پر پیش نہیں کرتا وہ حقیقی مومن نہیں بلکہ وہ طاغوت پر ایمان رکھتا ہے۔ جیسا کہ بعد والی آیت میں ذکر فرمایا ہے۔﴿ ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی تنازعات کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانا ﴿ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا﴾ ’’یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکا فیصلہ سب سے بہتر اور سب سے زیادہ عدل و انصاف کا حامل اور لوگوں کے دین و دنیا اور ان کی عاقبت کی بھلائی کے لیے سب سے اچھا فیصلہ ہے۔
4:60

أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يَزۡعُمُونَ أَنَّهُمۡ ءَامَنُواْ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبۡلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوٓاْ إِلَى ٱلطَّـٰغُوتِ وَقَدۡ أُمِرُوٓاْ أَن يَكۡفُرُواْ بِهِۦۖ وَيُرِيدُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَن يُضِلَّهُمۡ ضَلَٰلَۢا بَعِيدٗا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دعویٰ کرتے ہیں اس بات کا کہ وہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے جو اُتارا گیا طرف آپ کی اور جو نازل کیا گیا پہلے آپ سے، وہ ارادہ کرتے ہیں یہ کہ فیصلہ لے جائیں طرف طاغوت کی، حالانکہ حکم دیے گئے تھے وہ یہ کہ کفر کریں ساتھ اس کے۔ اور ارادہ کرتا ہے شیطان یہ کہ گمراہ کر دے ان کو گمراہ کرنا دور کا(60) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ تم طرف اس کی جو نازل کیا اللہ نے اور (آؤ) طرف رسول کی تو دیکھیں گے آپ منافقوں کو، رکتے ہیں وہ آپ سے اعراض کرتے ہوئے(61) پس کیا حال ہوتا ہے جب پہنچتی ہے ان کو مصیبت، بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے، پھر آتے ہیں وہ آپ کے پاس، قسمیں کھاتے ہیں وہ اللہ کی، نہیں ارادہ کیا تھا ہم نے مگر بھلائی اور موافقت کا(62) یہ وہ لوگ ہیں کہ جانتا ہے اللہ جو ان کے دلوں میں ہے، پس اعراض کریں آپ ان سے اور نصیحت کریں انھیں اور کہیں ان سے ان کے دلوں میں بات اثر کرنے والی(63) [61,60] اللہ تعالیٰ منافقین کی حالت کے بارے میں اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار کرتا ہے ﴿ الَّذِيۡنَ يَزۡعُمُوۡنَ اَنَّهُمۡ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس چیز پر ایمان لائے جو رسول اللہﷺلے کر آئے اور جو کچھ آپﷺسے پہلے تھا۔ بایں ہمہ ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّتَحَاكَمُوۡۤا۠ اِلَى الطَّاغُوۡتِ ﴾ ’’وہ چاہتے ہیں کہ وہ فیصلے طاغوت کی طرف لے جائیں۔‘‘ ہر وہ شخص جو شریعت الٰہی کے بغیر فیصلے کرتا ہے طاغوت ہے۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ ﴿ وَقَدۡ اُمِرُوۡۤا اَنۡ يَّكۡفُرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’انھیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کریں۔‘‘ ان کا یہ رویہ اور ایمان کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ایمان اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی پیروی کی جائے اور اس کی تحکیم کو قبول کیا جائے۔ پس جو کوئی مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو چھوڑ کر طاغوت کے فیصلے کو قبول کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ شیطان نے ان کو گمراہ کر دیا ہے ﴿ وَيُرِيۡدُ الشَّيۡطٰنُ اَنۡ يُّضِلَّهُمۡ ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا ﴾ ’’اور شیطان تو چاہتا ہے کہ انھیں بہکا کر راستے سے دور کردے۔‘‘ یعنی شیطان چاہتا ہے کہ وہ انھیں حق سے دور کر دے۔ [62] فرمایا ﴿ فَكَـيۡفَ ﴾ یعنی ان گمراہوں کا کیا حال ہوتا ہے ﴿ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’جب ان پر ان کے کرتوتوں کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے‘‘ یعنی گناہ معاصی اور طاغوت کی تحکیم بھی اس میں شامل ہے ﴿ ثُمَّ جَآءُوۡكَ ﴾ ’’پھر آپ کے پاس آتے ہیں۔‘‘ یعنی جو کچھ ان سے صادر ہوا اس پر معذرت کرتے ہوئے آپﷺکے پاس آتے ہیں ﴿ يَحۡلِفُوۡنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًا وَّتَوۡفِيۡقًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا۔‘‘ یعنی ہمارا مقصد تو صرف جھگڑے کے فریقین کے ساتھ بھلائی کرنا اور ان کے درمیان صلح کروانا ہے۔ حالانکہ وہ اس بارے میں سخت جھوٹے ہیں۔ بھلائی تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکی تحکیم میں ہے ﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾(المائدۃ : 5؍50) ’’جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اچھا فیصلہ کس کا ہے؟‘‘ [63] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُ اللّٰهُ مَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے دلوں کا بھید اللہ تعالیٰ پر بخوبی روشن ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے نفاق اور برے مقاصد کو جانتا ہے ﴿ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان کا کچھ خیال نہ کریں۔‘‘ یعنی ان کی پروا نہ کیجیے اور جو کچھ انھوں نے کیا ہے اس پر دھیان نہ دیجیے ﴿ وَعِظۡهُمۡ﴾ ’’اور انھیں نصیحت کریں۔‘‘ یعنی انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ترغیب دیتے ہوئے اور ترک اطاعت پر انھیں ڈراتے ہوئے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا حکم بیان کیجیے ﴿ وَقُلۡ لَّهُمۡ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًۢا بَلِيۡغًا ﴾ ’’اور ان سے وہ بات کیجیے جو ان کے دلوں میں گھر کرنے والی ہو‘‘ یعنی اپنے درمیان اور ان کے درمیان معاملے کو راز رکھتے ہوئے انھیں نصیحت کیجیے۔ حصول مقصد کے لیے یہ طریقہ زیادہ مفید ہے اور ان کو برائیوں سے روکنے اور زجر و توبیخ میں پوری کوشش سے کام لیجیے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ گناہ گار کے ساتھ اگر اعراض کیا جائے تو پوشیدہ طور پر اس کے لیے خیر خواہی کا اہتمام ضرور کیا جائے اور اس کو نصیحت کرنے میں پوری کوشش سے کام لیا جائے جس سے وہ اپنا مقصد حاصل کر سکے۔
4:61

وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّسُولِ رَأَيۡتَ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودٗا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دعویٰ کرتے ہیں اس بات کا کہ وہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے جو اُتارا گیا طرف آپ کی اور جو نازل کیا گیا پہلے آپ سے، وہ ارادہ کرتے ہیں یہ کہ فیصلہ لے جائیں طرف طاغوت کی، حالانکہ حکم دیے گئے تھے وہ یہ کہ کفر کریں ساتھ اس کے۔ اور ارادہ کرتا ہے شیطان یہ کہ گمراہ کر دے ان کو گمراہ کرنا دور کا(60) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ تم طرف اس کی جو نازل کیا اللہ نے اور (آؤ) طرف رسول کی تو دیکھیں گے آپ منافقوں کو، رکتے ہیں وہ آپ سے اعراض کرتے ہوئے(61) پس کیا حال ہوتا ہے جب پہنچتی ہے ان کو مصیبت، بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے، پھر آتے ہیں وہ آپ کے پاس، قسمیں کھاتے ہیں وہ اللہ کی، نہیں ارادہ کیا تھا ہم نے مگر بھلائی اور موافقت کا(62) یہ وہ لوگ ہیں کہ جانتا ہے اللہ جو ان کے دلوں میں ہے، پس اعراض کریں آپ ان سے اور نصیحت کریں انھیں اور کہیں ان سے ان کے دلوں میں بات اثر کرنے والی(63) [61,60] اللہ تعالیٰ منافقین کی حالت کے بارے میں اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار کرتا ہے ﴿ الَّذِيۡنَ يَزۡعُمُوۡنَ اَنَّهُمۡ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس چیز پر ایمان لائے جو رسول اللہﷺلے کر آئے اور جو کچھ آپﷺسے پہلے تھا۔ بایں ہمہ ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّتَحَاكَمُوۡۤا۠ اِلَى الطَّاغُوۡتِ ﴾ ’’وہ چاہتے ہیں کہ وہ فیصلے طاغوت کی طرف لے جائیں۔‘‘ ہر وہ شخص جو شریعت الٰہی کے بغیر فیصلے کرتا ہے طاغوت ہے۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ ﴿ وَقَدۡ اُمِرُوۡۤا اَنۡ يَّكۡفُرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’انھیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کریں۔‘‘ ان کا یہ رویہ اور ایمان کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ایمان اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی پیروی کی جائے اور اس کی تحکیم کو قبول کیا جائے۔ پس جو کوئی مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو چھوڑ کر طاغوت کے فیصلے کو قبول کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ شیطان نے ان کو گمراہ کر دیا ہے ﴿ وَيُرِيۡدُ الشَّيۡطٰنُ اَنۡ يُّضِلَّهُمۡ ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا ﴾ ’’اور شیطان تو چاہتا ہے کہ انھیں بہکا کر راستے سے دور کردے۔‘‘ یعنی شیطان چاہتا ہے کہ وہ انھیں حق سے دور کر دے۔ [62] فرمایا ﴿ فَكَـيۡفَ ﴾ یعنی ان گمراہوں کا کیا حال ہوتا ہے ﴿ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’جب ان پر ان کے کرتوتوں کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے‘‘ یعنی گناہ معاصی اور طاغوت کی تحکیم بھی اس میں شامل ہے ﴿ ثُمَّ جَآءُوۡكَ ﴾ ’’پھر آپ کے پاس آتے ہیں۔‘‘ یعنی جو کچھ ان سے صادر ہوا اس پر معذرت کرتے ہوئے آپﷺکے پاس آتے ہیں ﴿ يَحۡلِفُوۡنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًا وَّتَوۡفِيۡقًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا۔‘‘ یعنی ہمارا مقصد تو صرف جھگڑے کے فریقین کے ساتھ بھلائی کرنا اور ان کے درمیان صلح کروانا ہے۔ حالانکہ وہ اس بارے میں سخت جھوٹے ہیں۔ بھلائی تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکی تحکیم میں ہے ﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾(المائدۃ : 5؍50) ’’جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اچھا فیصلہ کس کا ہے؟‘‘ [63] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُ اللّٰهُ مَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے دلوں کا بھید اللہ تعالیٰ پر بخوبی روشن ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے نفاق اور برے مقاصد کو جانتا ہے ﴿ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان کا کچھ خیال نہ کریں۔‘‘ یعنی ان کی پروا نہ کیجیے اور جو کچھ انھوں نے کیا ہے اس پر دھیان نہ دیجیے ﴿ وَعِظۡهُمۡ﴾ ’’اور انھیں نصیحت کریں۔‘‘ یعنی انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ترغیب دیتے ہوئے اور ترک اطاعت پر انھیں ڈراتے ہوئے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا حکم بیان کیجیے ﴿ وَقُلۡ لَّهُمۡ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًۢا بَلِيۡغًا ﴾ ’’اور ان سے وہ بات کیجیے جو ان کے دلوں میں گھر کرنے والی ہو‘‘ یعنی اپنے درمیان اور ان کے درمیان معاملے کو راز رکھتے ہوئے انھیں نصیحت کیجیے۔ حصول مقصد کے لیے یہ طریقہ زیادہ مفید ہے اور ان کو برائیوں سے روکنے اور زجر و توبیخ میں پوری کوشش سے کام لیجیے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ گناہ گار کے ساتھ اگر اعراض کیا جائے تو پوشیدہ طور پر اس کے لیے خیر خواہی کا اہتمام ضرور کیا جائے اور اس کو نصیحت کرنے میں پوری کوشش سے کام لیا جائے جس سے وہ اپنا مقصد حاصل کر سکے۔
4:62

فَكَيۡفَ إِذَآ أَصَٰبَتۡهُم مُّصِيبَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ ثُمَّ جَآءُوكَ يَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنۡ أَرَدۡنَآ إِلَّآ إِحۡسَٰنٗا وَتَوۡفِيقًا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دعویٰ کرتے ہیں اس بات کا کہ وہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے جو اُتارا گیا طرف آپ کی اور جو نازل کیا گیا پہلے آپ سے، وہ ارادہ کرتے ہیں یہ کہ فیصلہ لے جائیں طرف طاغوت کی، حالانکہ حکم دیے گئے تھے وہ یہ کہ کفر کریں ساتھ اس کے۔ اور ارادہ کرتا ہے شیطان یہ کہ گمراہ کر دے ان کو گمراہ کرنا دور کا(60) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ تم طرف اس کی جو نازل کیا اللہ نے اور (آؤ) طرف رسول کی تو دیکھیں گے آپ منافقوں کو، رکتے ہیں وہ آپ سے اعراض کرتے ہوئے(61) پس کیا حال ہوتا ہے جب پہنچتی ہے ان کو مصیبت، بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے، پھر آتے ہیں وہ آپ کے پاس، قسمیں کھاتے ہیں وہ اللہ کی، نہیں ارادہ کیا تھا ہم نے مگر بھلائی اور موافقت کا(62) یہ وہ لوگ ہیں کہ جانتا ہے اللہ جو ان کے دلوں میں ہے، پس اعراض کریں آپ ان سے اور نصیحت کریں انھیں اور کہیں ان سے ان کے دلوں میں بات اثر کرنے والی(63) [61,60] اللہ تعالیٰ منافقین کی حالت کے بارے میں اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار کرتا ہے ﴿ الَّذِيۡنَ يَزۡعُمُوۡنَ اَنَّهُمۡ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس چیز پر ایمان لائے جو رسول اللہﷺلے کر آئے اور جو کچھ آپﷺسے پہلے تھا۔ بایں ہمہ ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّتَحَاكَمُوۡۤا۠ اِلَى الطَّاغُوۡتِ ﴾ ’’وہ چاہتے ہیں کہ وہ فیصلے طاغوت کی طرف لے جائیں۔‘‘ ہر وہ شخص جو شریعت الٰہی کے بغیر فیصلے کرتا ہے طاغوت ہے۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ ﴿ وَقَدۡ اُمِرُوۡۤا اَنۡ يَّكۡفُرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’انھیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کریں۔‘‘ ان کا یہ رویہ اور ایمان کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ایمان اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی پیروی کی جائے اور اس کی تحکیم کو قبول کیا جائے۔ پس جو کوئی مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو چھوڑ کر طاغوت کے فیصلے کو قبول کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ شیطان نے ان کو گمراہ کر دیا ہے ﴿ وَيُرِيۡدُ الشَّيۡطٰنُ اَنۡ يُّضِلَّهُمۡ ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا ﴾ ’’اور شیطان تو چاہتا ہے کہ انھیں بہکا کر راستے سے دور کردے۔‘‘ یعنی شیطان چاہتا ہے کہ وہ انھیں حق سے دور کر دے۔ [62] فرمایا ﴿ فَكَـيۡفَ ﴾ یعنی ان گمراہوں کا کیا حال ہوتا ہے ﴿ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’جب ان پر ان کے کرتوتوں کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے‘‘ یعنی گناہ معاصی اور طاغوت کی تحکیم بھی اس میں شامل ہے ﴿ ثُمَّ جَآءُوۡكَ ﴾ ’’پھر آپ کے پاس آتے ہیں۔‘‘ یعنی جو کچھ ان سے صادر ہوا اس پر معذرت کرتے ہوئے آپﷺکے پاس آتے ہیں ﴿ يَحۡلِفُوۡنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًا وَّتَوۡفِيۡقًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا۔‘‘ یعنی ہمارا مقصد تو صرف جھگڑے کے فریقین کے ساتھ بھلائی کرنا اور ان کے درمیان صلح کروانا ہے۔ حالانکہ وہ اس بارے میں سخت جھوٹے ہیں۔ بھلائی تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکی تحکیم میں ہے ﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾(المائدۃ : 5؍50) ’’جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اچھا فیصلہ کس کا ہے؟‘‘ [63] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُ اللّٰهُ مَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے دلوں کا بھید اللہ تعالیٰ پر بخوبی روشن ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے نفاق اور برے مقاصد کو جانتا ہے ﴿ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان کا کچھ خیال نہ کریں۔‘‘ یعنی ان کی پروا نہ کیجیے اور جو کچھ انھوں نے کیا ہے اس پر دھیان نہ دیجیے ﴿ وَعِظۡهُمۡ﴾ ’’اور انھیں نصیحت کریں۔‘‘ یعنی انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ترغیب دیتے ہوئے اور ترک اطاعت پر انھیں ڈراتے ہوئے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا حکم بیان کیجیے ﴿ وَقُلۡ لَّهُمۡ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًۢا بَلِيۡغًا ﴾ ’’اور ان سے وہ بات کیجیے جو ان کے دلوں میں گھر کرنے والی ہو‘‘ یعنی اپنے درمیان اور ان کے درمیان معاملے کو راز رکھتے ہوئے انھیں نصیحت کیجیے۔ حصول مقصد کے لیے یہ طریقہ زیادہ مفید ہے اور ان کو برائیوں سے روکنے اور زجر و توبیخ میں پوری کوشش سے کام لیجیے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ گناہ گار کے ساتھ اگر اعراض کیا جائے تو پوشیدہ طور پر اس کے لیے خیر خواہی کا اہتمام ضرور کیا جائے اور اس کو نصیحت کرنے میں پوری کوشش سے کام لیا جائے جس سے وہ اپنا مقصد حاصل کر سکے۔
4:63

أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يَعۡلَمُ ٱللَّهُ مَا فِي قُلُوبِهِمۡ فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَعِظۡهُمۡ وَقُل لَّهُمۡ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ قَوۡلَۢا بَلِيغٗا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دعویٰ کرتے ہیں اس بات کا کہ وہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے جو اُتارا گیا طرف آپ کی اور جو نازل کیا گیا پہلے آپ سے، وہ ارادہ کرتے ہیں یہ کہ فیصلہ لے جائیں طرف طاغوت کی، حالانکہ حکم دیے گئے تھے وہ یہ کہ کفر کریں ساتھ اس کے۔ اور ارادہ کرتا ہے شیطان یہ کہ گمراہ کر دے ان کو گمراہ کرنا دور کا(60) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ تم طرف اس کی جو نازل کیا اللہ نے اور (آؤ) طرف رسول کی تو دیکھیں گے آپ منافقوں کو، رکتے ہیں وہ آپ سے اعراض کرتے ہوئے(61) پس کیا حال ہوتا ہے جب پہنچتی ہے ان کو مصیبت، بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے، پھر آتے ہیں وہ آپ کے پاس، قسمیں کھاتے ہیں وہ اللہ کی، نہیں ارادہ کیا تھا ہم نے مگر بھلائی اور موافقت کا(62) یہ وہ لوگ ہیں کہ جانتا ہے اللہ جو ان کے دلوں میں ہے، پس اعراض کریں آپ ان سے اور نصیحت کریں انھیں اور کہیں ان سے ان کے دلوں میں بات اثر کرنے والی(63) [61,60] اللہ تعالیٰ منافقین کی حالت کے بارے میں اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار کرتا ہے ﴿ الَّذِيۡنَ يَزۡعُمُوۡنَ اَنَّهُمۡ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس چیز پر ایمان لائے جو رسول اللہﷺلے کر آئے اور جو کچھ آپﷺسے پہلے تھا۔ بایں ہمہ ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّتَحَاكَمُوۡۤا۠ اِلَى الطَّاغُوۡتِ ﴾ ’’وہ چاہتے ہیں کہ وہ فیصلے طاغوت کی طرف لے جائیں۔‘‘ ہر وہ شخص جو شریعت الٰہی کے بغیر فیصلے کرتا ہے طاغوت ہے۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ ﴿ وَقَدۡ اُمِرُوۡۤا اَنۡ يَّكۡفُرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’انھیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کریں۔‘‘ ان کا یہ رویہ اور ایمان کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ایمان اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی پیروی کی جائے اور اس کی تحکیم کو قبول کیا جائے۔ پس جو کوئی مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو چھوڑ کر طاغوت کے فیصلے کو قبول کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ شیطان نے ان کو گمراہ کر دیا ہے ﴿ وَيُرِيۡدُ الشَّيۡطٰنُ اَنۡ يُّضِلَّهُمۡ ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا ﴾ ’’اور شیطان تو چاہتا ہے کہ انھیں بہکا کر راستے سے دور کردے۔‘‘ یعنی شیطان چاہتا ہے کہ وہ انھیں حق سے دور کر دے۔ [62] فرمایا ﴿ فَكَـيۡفَ ﴾ یعنی ان گمراہوں کا کیا حال ہوتا ہے ﴿ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’جب ان پر ان کے کرتوتوں کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے‘‘ یعنی گناہ معاصی اور طاغوت کی تحکیم بھی اس میں شامل ہے ﴿ ثُمَّ جَآءُوۡكَ ﴾ ’’پھر آپ کے پاس آتے ہیں۔‘‘ یعنی جو کچھ ان سے صادر ہوا اس پر معذرت کرتے ہوئے آپﷺکے پاس آتے ہیں ﴿ يَحۡلِفُوۡنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًا وَّتَوۡفِيۡقًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا۔‘‘ یعنی ہمارا مقصد تو صرف جھگڑے کے فریقین کے ساتھ بھلائی کرنا اور ان کے درمیان صلح کروانا ہے۔ حالانکہ وہ اس بارے میں سخت جھوٹے ہیں۔ بھلائی تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکی تحکیم میں ہے ﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾(المائدۃ : 5؍50) ’’جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اچھا فیصلہ کس کا ہے؟‘‘ [63] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُ اللّٰهُ مَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے دلوں کا بھید اللہ تعالیٰ پر بخوبی روشن ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے نفاق اور برے مقاصد کو جانتا ہے ﴿ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان کا کچھ خیال نہ کریں۔‘‘ یعنی ان کی پروا نہ کیجیے اور جو کچھ انھوں نے کیا ہے اس پر دھیان نہ دیجیے ﴿ وَعِظۡهُمۡ﴾ ’’اور انھیں نصیحت کریں۔‘‘ یعنی انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ترغیب دیتے ہوئے اور ترک اطاعت پر انھیں ڈراتے ہوئے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا حکم بیان کیجیے ﴿ وَقُلۡ لَّهُمۡ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًۢا بَلِيۡغًا ﴾ ’’اور ان سے وہ بات کیجیے جو ان کے دلوں میں گھر کرنے والی ہو‘‘ یعنی اپنے درمیان اور ان کے درمیان معاملے کو راز رکھتے ہوئے انھیں نصیحت کیجیے۔ حصول مقصد کے لیے یہ طریقہ زیادہ مفید ہے اور ان کو برائیوں سے روکنے اور زجر و توبیخ میں پوری کوشش سے کام لیجیے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ گناہ گار کے ساتھ اگر اعراض کیا جائے تو پوشیدہ طور پر اس کے لیے خیر خواہی کا اہتمام ضرور کیا جائے اور اس کو نصیحت کرنے میں پوری کوشش سے کام لیا جائے جس سے وہ اپنا مقصد حاصل کر سکے۔
4:64

وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَلَوۡ أَنَّهُمۡ إِذ ظَّلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ جَآءُوكَ فَٱسۡتَغۡفَرُواْ ٱللَّهَ وَٱسۡتَغۡفَرَ لَهُمُ ٱلرَّسُولُ لَوَجَدُواْ ٱللَّهَ تَوَّابٗا رَّحِيمٗا

اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر یہ کہ اطاعت کیا جائے وہ، اللہ کے حکم سے۔ اور اگر وہ لوگ، جب ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر آتے وہ آپ کے پاس، پھر معافی مانگتے وہ اللہ سے اور معافی مانگتا ان کے لیے رسول تو یقینا پاتے وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان(64) قسم ہے آپ کے رب کی، نہیں مومن ہو سکتے وہ یہاں تک کہ حاکم مانیں آپ کو اس چیز میں کہ اختلاف ہو جائے درمیان ان کے، پھر نہ پائیں وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی اس سے جو آپ فیصلہ کر دیں اور تسلیم کر لیں وہ اسے (دل و جان سے) تسلیم کرنا(65) [64]اللہ تبارک و تعالیٰ اوامر کے ضمن میں اور رسول اللہﷺکی اطاعت اور فرماں برداری کی ترغیب دیتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ انبیاء و رسل کو مبعوث کرنے کی غرض و غایت صرف یہی ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے اور جن کی طرف رسول بھیجا گیا ہے وہ اس کے تمام احکام کی تعمیل کریں اور اس کے نواہی سے اجتناب کریں اور وہ اس کی ویسے ہی تعظیم کریں جیسے اطاعت کرنے والا مطاع کی تعظیم کرتا ہے۔ اس آیت میں عصمت انبیاء کا اثبات ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے، حکم دینے اور منع کرنے میں ہر لغزش سے پاک ہیں۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو انبیاء کرام کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے اگر وہ منصب تشریع میں خطا سے پاک نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی مطلق اطاعت کا حکم نہ دیتا۔﴿ بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے فرمان کے مطابق۔‘‘ یعنی اطاعت کرنے والے کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے صادر ہوتی ہے۔ پس اس آیت میں قضا و قدر کا اثبات ہے نیز اس میں اس امر کی ترغیب ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے نیز اس میں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان اس وقت تک رسول کی اطاعت نہیں کر سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال نہ ہو۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم جود و کرم کا ذکر فرمایا ہے اور ان لوگوں کو دعوت دی ہے جن سے گناہ سرزد ہوئے کہ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں، توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ جَآءُوۡكَ ﴾ ’’اگر یہ لوگ جب انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا آپ کے پاس آجاتے‘‘ یعنی اپنے گناہوں کا اعتراف اور اقرار کرتے ہوئے آپﷺکے پاس آتے۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰهَ وَاسۡتَغۡفَرَ لَهُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ سے استغفار کرتے اور رسول ان کے لیے استغفار کرتا تو یقینا یہ لوگ اللہ کو معاف کرنے والا مہربان پاتے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کا ظلم بخش کر ان کی طرف پلٹ آتا۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے ، توبہ کی توفیق اور اس پر ثواب عطا کر کے ان پر رحم فرماتا۔ رسول اللہﷺکی خدمت میں اس حاضری کا تعلق آپ کی زندگی کے ساتھ مختص تھا۔ کیونکہ سیاق دلالت کرتا ہے کہ رسول(ﷺ)کی طرف سے استغفار آپ کی زندگی ہی میں ہو سکتا ہے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ سے کچھ نہ مانگا جائے، بلکہ یہ شرک ہے۔ [65] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اقدس کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے جھگڑوں میں اس کے رسول کو حَکَم تسلیم نہ کریں۔ یعنی ہر اس معاملے میں رسول اللہﷺکو حکم اور فیصل تسلیم کریں جس میں اجماعی مسائل کے برعکس ان کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف واقع ہو۔ کیونکہ اجماعی مسائل کتاب و سنت کی دلیل پر مبنی ہوتے ہیں۔ پھر اس تحکیم کو تسلیم کرنا ہی کافی قرار نہیں دیا بلکہ یہ شرط بھی عائد کی کہ آپ کو حکم تسلیم کرنا محض اغماض کے پہلو سے نہ ہو بلکہ ان کے دلوں میں کسی قسم کی تنگی اور حرج نہ ہو۔ اور اس تحکیم کو ہی کافی قرار نہیں دیا جب تک کہ وہ شرح صدر، اطمینان نفس، ظاہری اور باطنی اطاعت کے ساتھ آپ کے فیصلے کو تسلیم نہ کر لیں۔ پس آپ کو حکم تسلیم کرنا اسلام کے مقام میں ہے۔ اس تحکیم میں تنگی محسوس نہ کرنا، ایمان کے مقام میں ہے۔ اور آپ کے فیصلے پر تسلیم و رضا احسان کے مقام میں ہے۔جس کسی نے ان مراتب کو مکمل کر لیا اس نے دین کے تمام مراتب کی تکمیل کر لی۔ اور جس نے اس کا التزام کیے بغیر اس تحکیم کو ترک کر دیا وہ کافر ہے اور جس نے التزام کرنے کے باوجود اس تحکیم کو ترک کر دیا وہ دیگر گناہ گاروں کی مانند ہے۔
4:65

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ لَا يَجِدُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ حَرَجٗا مِّمَّا قَضَيۡتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسۡلِيمٗا

اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر یہ کہ اطاعت کیا جائے وہ، اللہ کے حکم سے۔ اور اگر وہ لوگ، جب ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر آتے وہ آپ کے پاس، پھر معافی مانگتے وہ اللہ سے اور معافی مانگتا ان کے لیے رسول تو یقینا پاتے وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان(64) قسم ہے آپ کے رب کی، نہیں مومن ہو سکتے وہ یہاں تک کہ حاکم مانیں آپ کو اس چیز میں کہ اختلاف ہو جائے درمیان ان کے، پھر نہ پائیں وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی اس سے جو آپ فیصلہ کر دیں اور تسلیم کر لیں وہ اسے (دل و جان سے) تسلیم کرنا(65) [64]اللہ تبارک و تعالیٰ اوامر کے ضمن میں اور رسول اللہﷺکی اطاعت اور فرماں برداری کی ترغیب دیتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ انبیاء و رسل کو مبعوث کرنے کی غرض و غایت صرف یہی ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے اور جن کی طرف رسول بھیجا گیا ہے وہ اس کے تمام احکام کی تعمیل کریں اور اس کے نواہی سے اجتناب کریں اور وہ اس کی ویسے ہی تعظیم کریں جیسے اطاعت کرنے والا مطاع کی تعظیم کرتا ہے۔ اس آیت میں عصمت انبیاء کا اثبات ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے، حکم دینے اور منع کرنے میں ہر لغزش سے پاک ہیں۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو انبیاء کرام کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے اگر وہ منصب تشریع میں خطا سے پاک نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی مطلق اطاعت کا حکم نہ دیتا۔﴿ بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے فرمان کے مطابق۔‘‘ یعنی اطاعت کرنے والے کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے صادر ہوتی ہے۔ پس اس آیت میں قضا و قدر کا اثبات ہے نیز اس میں اس امر کی ترغیب ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے نیز اس میں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان اس وقت تک رسول کی اطاعت نہیں کر سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال نہ ہو۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم جود و کرم کا ذکر فرمایا ہے اور ان لوگوں کو دعوت دی ہے جن سے گناہ سرزد ہوئے کہ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں، توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ جَآءُوۡكَ ﴾ ’’اگر یہ لوگ جب انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا آپ کے پاس آجاتے‘‘ یعنی اپنے گناہوں کا اعتراف اور اقرار کرتے ہوئے آپﷺکے پاس آتے۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰهَ وَاسۡتَغۡفَرَ لَهُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ سے استغفار کرتے اور رسول ان کے لیے استغفار کرتا تو یقینا یہ لوگ اللہ کو معاف کرنے والا مہربان پاتے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کا ظلم بخش کر ان کی طرف پلٹ آتا۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے ، توبہ کی توفیق اور اس پر ثواب عطا کر کے ان پر رحم فرماتا۔ رسول اللہﷺکی خدمت میں اس حاضری کا تعلق آپ کی زندگی کے ساتھ مختص تھا۔ کیونکہ سیاق دلالت کرتا ہے کہ رسول(ﷺ)کی طرف سے استغفار آپ کی زندگی ہی میں ہو سکتا ہے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ سے کچھ نہ مانگا جائے، بلکہ یہ شرک ہے۔ [65] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اقدس کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے جھگڑوں میں اس کے رسول کو حَکَم تسلیم نہ کریں۔ یعنی ہر اس معاملے میں رسول اللہﷺکو حکم اور فیصل تسلیم کریں جس میں اجماعی مسائل کے برعکس ان کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف واقع ہو۔ کیونکہ اجماعی مسائل کتاب و سنت کی دلیل پر مبنی ہوتے ہیں۔ پھر اس تحکیم کو تسلیم کرنا ہی کافی قرار نہیں دیا بلکہ یہ شرط بھی عائد کی کہ آپ کو حکم تسلیم کرنا محض اغماض کے پہلو سے نہ ہو بلکہ ان کے دلوں میں کسی قسم کی تنگی اور حرج نہ ہو۔ اور اس تحکیم کو ہی کافی قرار نہیں دیا جب تک کہ وہ شرح صدر، اطمینان نفس، ظاہری اور باطنی اطاعت کے ساتھ آپ کے فیصلے کو تسلیم نہ کر لیں۔ پس آپ کو حکم تسلیم کرنا اسلام کے مقام میں ہے۔ اس تحکیم میں تنگی محسوس نہ کرنا، ایمان کے مقام میں ہے۔ اور آپ کے فیصلے پر تسلیم و رضا احسان کے مقام میں ہے۔جس کسی نے ان مراتب کو مکمل کر لیا اس نے دین کے تمام مراتب کی تکمیل کر لی۔ اور جس نے اس کا التزام کیے بغیر اس تحکیم کو ترک کر دیا وہ کافر ہے اور جس نے التزام کرنے کے باوجود اس تحکیم کو ترک کر دیا وہ دیگر گناہ گاروں کی مانند ہے۔
4:66

وَلَوۡ أَنَّا كَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ أَنِ ٱقۡتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ أَوِ ٱخۡرُجُواْ مِن دِيَٰرِكُم مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٞ مِّنۡهُمۡۖ وَلَوۡ أَنَّهُمۡ فَعَلُواْ مَا يُوعَظُونَ بِهِۦ لَكَانَ خَيۡرٗا لَّهُمۡ وَأَشَدَّ تَثۡبِيتٗا

اور اگر بے شک فرض کر دیتے ہم ان پر یہ کہ قتل کرو تم اپنی جانوں کو یا نکلو تم اپنے گھروں سے تو نہ کرتے وہ یہ کام مگر تھوڑے ان میں سےاور اگر بلاشبہ کر لیتے وہ (وہ کام) کہ نصیحت کیے جاتے ہیں وہ اس کی تو ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور زیادہ ثابت قدم رکھنے والا (دین میں)(66) اور تب ، البتہ دیتے ہم انھیں اپنی طرف سے اجر بہت بڑا(67) اور ضرور چلاتے ہم انھیں راستے سیدھے پر(68) [66] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اس نے اپنے بندوں پر شاق گزرنے والے احکام فرض کیے ہوتے مثلاً، اپنے آپ کو قتل کرنا اور گھروں سے نکلنا وغیرہ تو اس پر بہت کم لوگ عمل کر سکتے، پس انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے آسان احکام نافذ کیے ہیں جن پر عمل کرنا ہر ایک کے لیے آسان ہے اور ان میں کسی کے لیے مشقت نہیں۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندۂ مومن کو چاہیے کہ اسے جو امور گراں گزرتے ہیں، وہ ان کی ضد کو ملاحظہ کرے تاکہ اس پر عبادات آسان ہو جائیں۔ تاکہ اپنے رب کے لیے اس کی حمد و ثنا اور شکر میں اضافہ ہو۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انھوں نے اس چیز پر عمل کیا ہوتا جس کی انھیں نصیحت کی گئی ہے، یعنی تمام اوقات کے مطابق ان کے لیے جو اعمال مقرر کیے گئے ہیں، ان کے لیے اپنی ہمتیں صرف کرتے ان کے انتظام اور ان کی تکمیل کے لیے ان کے نفوس پوری کوشش کرتے اور جو چیز انھیں حاصل نہ ہو سکتی اس کے لیے کوشش نہ کرتے اور اس کے درپے نہ ہوتے اور بندے کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ اپنے حال پر غور کرے جس کو قائم کرنا لازم ہے اس کی تکمیل میں جدوجہد کرے۔ پھر بتدریج تھوڑا تھوڑا آگے بڑھتا رہے یہاں تک کہ جو دینی اور دنیاوی علم و عمل اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے اسے حاصل کر لے۔ یہ اس شخص کے برعکس ہے جو اس معاملے پر ہی نظریں جمائے رکھتا ہے جہاں تک وہ نہ پہنچ سکا اور نہ اس کو اس کا حکم دیا گیا تھا۔ کیونکہ وہ تفریق ہمت، سستی اور عدم نشاط کی بنا پر اس منزل تک نہیں پہنچ سکا۔پھر ان کو جو نصیحت کی گئی ہے اس پر عمل کرنے سے جو نتائج حاصل ہوتے ہیں ان کے چار مراتب ہیں:اول: بھلائی کا حصول۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ذکر کیا گیا ہے ﴿ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ ﴾ ’’البتہ ان کے لیے بہتر ہوتا‘‘ یعنی ان کا شمار نیک لوگوں میں ہوتا جو ان افعال خیر سے متصف ہیں جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا اور ان سے شریر لوگوں کی صفات زائل ہو جاتیں کیونکہ کسی چیز کے ثابت ہونے سے اس کی ضد کی نفی لازم آتی ہے۔ثانی: ثابت قدمی اور اس میں اضافے کا حصول ۔ کیونکہ اہل ایمان کے ایمان کو قائم رکھنے کے سبب سے، جسے قائم رکھنے کی انھیں نصیحت کی گئی تھی، اللہ تعالیٰ انھیں ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ دنیا کی زندگی میں، اوامر و نواہی میں فتنوں کے وارد ہونے اور مصائب کے نازل ہونے کے وقت انھیں ثابت قدمی عطا کرتا ہے، تب انھیں ثبات حاصل ہوتا ہے اوامر پر عمل کرنے اور ان نواہی سے اجتناب کی توفیق عطا ہوتی ہے نفس جن کے فعل کا تقاضا کرتا ہے اور ان مصائب کے نازل ہونے پر ثابت قدمی اور استقامت عطا ہوتی ہے جن کو بندہ ناپسند کرتا ہے۔ بندے کو صبر و رضا اور شکر کی توفیق کے ذریعے سے ثابت قدمی عطا ہوتی ہے پس بندے پر اس کی ثابت قدمی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نازل ہوتی ہے اور اسے نزع کے وقت اور قبر میں ثابت قدمی سے نواز دیا جاتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کے اوامر کو قائم رکھنے والا بندۂ مومن شرعی احکام کا عادی بن جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان احکام سے مانوس ہو جاتا ہے اور ان احکام کا مشتاق بن جاتا ہے اور یہ الفت اور اشتیاق نیکیوں پر ثبات کے لیے اس کے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ [67] ثالث: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّاِذًا لَّاٰتَيۡنٰهُمۡ مِّنۡ لَّدُنَّـاۤ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾ ’’اور تب تو انھیں ہم اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ہم اسے اجر عظیم سے نوازتے جو قلب و روح اور بدن کے لیے ہے اور ایسی ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے طائر خیال کا وہاں سے گزر ہوا ہے۔ [68] رابع: صراط مستقیم کی طرف راہنمائی ۔ یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے کیونکہ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی شرف کی حامل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہدایت حق کے علم کو، حق کے ساتھ محبت اور حق کو ترجیح دینے اور اس پر عمل کرنے کو اور اس پر فلاح و سعادت کے موقوف ہونے کو متضمن ہوتی ہے۔ پس جس کسی کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کر دی گئی اسے گویا ہر بھلائی کی توفیق عطا کر دی گئی اور اس سے ہر برائی اور ہر ضرر کو دور کر دیا گیا۔
4:67

وَإِذٗا لَّأٓتَيۡنَٰهُم مِّن لَّدُنَّآ أَجۡرًا عَظِيمٗا

اور اگر بے شک فرض کر دیتے ہم ان پر یہ کہ قتل کرو تم اپنی جانوں کو یا نکلو تم اپنے گھروں سے تو نہ کرتے وہ یہ کام مگر تھوڑے ان میں سےاور اگر بلاشبہ کر لیتے وہ (وہ کام) کہ نصیحت کیے جاتے ہیں وہ اس کی تو ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور زیادہ ثابت قدم رکھنے والا (دین میں)(66) اور تب ، البتہ دیتے ہم انھیں اپنی طرف سے اجر بہت بڑا(67) اور ضرور چلاتے ہم انھیں راستے سیدھے پر(68) [66] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اس نے اپنے بندوں پر شاق گزرنے والے احکام فرض کیے ہوتے مثلاً، اپنے آپ کو قتل کرنا اور گھروں سے نکلنا وغیرہ تو اس پر بہت کم لوگ عمل کر سکتے، پس انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے آسان احکام نافذ کیے ہیں جن پر عمل کرنا ہر ایک کے لیے آسان ہے اور ان میں کسی کے لیے مشقت نہیں۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندۂ مومن کو چاہیے کہ اسے جو امور گراں گزرتے ہیں، وہ ان کی ضد کو ملاحظہ کرے تاکہ اس پر عبادات آسان ہو جائیں۔ تاکہ اپنے رب کے لیے اس کی حمد و ثنا اور شکر میں اضافہ ہو۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انھوں نے اس چیز پر عمل کیا ہوتا جس کی انھیں نصیحت کی گئی ہے، یعنی تمام اوقات کے مطابق ان کے لیے جو اعمال مقرر کیے گئے ہیں، ان کے لیے اپنی ہمتیں صرف کرتے ان کے انتظام اور ان کی تکمیل کے لیے ان کے نفوس پوری کوشش کرتے اور جو چیز انھیں حاصل نہ ہو سکتی اس کے لیے کوشش نہ کرتے اور اس کے درپے نہ ہوتے اور بندے کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ اپنے حال پر غور کرے جس کو قائم کرنا لازم ہے اس کی تکمیل میں جدوجہد کرے۔ پھر بتدریج تھوڑا تھوڑا آگے بڑھتا رہے یہاں تک کہ جو دینی اور دنیاوی علم و عمل اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے اسے حاصل کر لے۔ یہ اس شخص کے برعکس ہے جو اس معاملے پر ہی نظریں جمائے رکھتا ہے جہاں تک وہ نہ پہنچ سکا اور نہ اس کو اس کا حکم دیا گیا تھا۔ کیونکہ وہ تفریق ہمت، سستی اور عدم نشاط کی بنا پر اس منزل تک نہیں پہنچ سکا۔پھر ان کو جو نصیحت کی گئی ہے اس پر عمل کرنے سے جو نتائج حاصل ہوتے ہیں ان کے چار مراتب ہیں:اول: بھلائی کا حصول۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ذکر کیا گیا ہے ﴿ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ ﴾ ’’البتہ ان کے لیے بہتر ہوتا‘‘ یعنی ان کا شمار نیک لوگوں میں ہوتا جو ان افعال خیر سے متصف ہیں جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا اور ان سے شریر لوگوں کی صفات زائل ہو جاتیں کیونکہ کسی چیز کے ثابت ہونے سے اس کی ضد کی نفی لازم آتی ہے۔ثانی: ثابت قدمی اور اس میں اضافے کا حصول ۔ کیونکہ اہل ایمان کے ایمان کو قائم رکھنے کے سبب سے، جسے قائم رکھنے کی انھیں نصیحت کی گئی تھی، اللہ تعالیٰ انھیں ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ دنیا کی زندگی میں، اوامر و نواہی میں فتنوں کے وارد ہونے اور مصائب کے نازل ہونے کے وقت انھیں ثابت قدمی عطا کرتا ہے، تب انھیں ثبات حاصل ہوتا ہے اوامر پر عمل کرنے اور ان نواہی سے اجتناب کی توفیق عطا ہوتی ہے نفس جن کے فعل کا تقاضا کرتا ہے اور ان مصائب کے نازل ہونے پر ثابت قدمی اور استقامت عطا ہوتی ہے جن کو بندہ ناپسند کرتا ہے۔ بندے کو صبر و رضا اور شکر کی توفیق کے ذریعے سے ثابت قدمی عطا ہوتی ہے پس بندے پر اس کی ثابت قدمی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نازل ہوتی ہے اور اسے نزع کے وقت اور قبر میں ثابت قدمی سے نواز دیا جاتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کے اوامر کو قائم رکھنے والا بندۂ مومن شرعی احکام کا عادی بن جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان احکام سے مانوس ہو جاتا ہے اور ان احکام کا مشتاق بن جاتا ہے اور یہ الفت اور اشتیاق نیکیوں پر ثبات کے لیے اس کے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ [67] ثالث: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّاِذًا لَّاٰتَيۡنٰهُمۡ مِّنۡ لَّدُنَّـاۤ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾ ’’اور تب تو انھیں ہم اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ہم اسے اجر عظیم سے نوازتے جو قلب و روح اور بدن کے لیے ہے اور ایسی ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے طائر خیال کا وہاں سے گزر ہوا ہے۔ [68] رابع: صراط مستقیم کی طرف راہنمائی ۔ یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے کیونکہ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی شرف کی حامل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہدایت حق کے علم کو، حق کے ساتھ محبت اور حق کو ترجیح دینے اور اس پر عمل کرنے کو اور اس پر فلاح و سعادت کے موقوف ہونے کو متضمن ہوتی ہے۔ پس جس کسی کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کر دی گئی اسے گویا ہر بھلائی کی توفیق عطا کر دی گئی اور اس سے ہر برائی اور ہر ضرر کو دور کر دیا گیا۔
4:68

وَلَهَدَيۡنَٰهُمۡ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا

اور اگر بے شک فرض کر دیتے ہم ان پر یہ کہ قتل کرو تم اپنی جانوں کو یا نکلو تم اپنے گھروں سے تو نہ کرتے وہ یہ کام مگر تھوڑے ان میں سےاور اگر بلاشبہ کر لیتے وہ (وہ کام) کہ نصیحت کیے جاتے ہیں وہ اس کی تو ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور زیادہ ثابت قدم رکھنے والا (دین میں)(66) اور تب ، البتہ دیتے ہم انھیں اپنی طرف سے اجر بہت بڑا(67) اور ضرور چلاتے ہم انھیں راستے سیدھے پر(68) [66] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اس نے اپنے بندوں پر شاق گزرنے والے احکام فرض کیے ہوتے مثلاً، اپنے آپ کو قتل کرنا اور گھروں سے نکلنا وغیرہ تو اس پر بہت کم لوگ عمل کر سکتے، پس انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے آسان احکام نافذ کیے ہیں جن پر عمل کرنا ہر ایک کے لیے آسان ہے اور ان میں کسی کے لیے مشقت نہیں۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندۂ مومن کو چاہیے کہ اسے جو امور گراں گزرتے ہیں، وہ ان کی ضد کو ملاحظہ کرے تاکہ اس پر عبادات آسان ہو جائیں۔ تاکہ اپنے رب کے لیے اس کی حمد و ثنا اور شکر میں اضافہ ہو۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انھوں نے اس چیز پر عمل کیا ہوتا جس کی انھیں نصیحت کی گئی ہے، یعنی تمام اوقات کے مطابق ان کے لیے جو اعمال مقرر کیے گئے ہیں، ان کے لیے اپنی ہمتیں صرف کرتے ان کے انتظام اور ان کی تکمیل کے لیے ان کے نفوس پوری کوشش کرتے اور جو چیز انھیں حاصل نہ ہو سکتی اس کے لیے کوشش نہ کرتے اور اس کے درپے نہ ہوتے اور بندے کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ اپنے حال پر غور کرے جس کو قائم کرنا لازم ہے اس کی تکمیل میں جدوجہد کرے۔ پھر بتدریج تھوڑا تھوڑا آگے بڑھتا رہے یہاں تک کہ جو دینی اور دنیاوی علم و عمل اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے اسے حاصل کر لے۔ یہ اس شخص کے برعکس ہے جو اس معاملے پر ہی نظریں جمائے رکھتا ہے جہاں تک وہ نہ پہنچ سکا اور نہ اس کو اس کا حکم دیا گیا تھا۔ کیونکہ وہ تفریق ہمت، سستی اور عدم نشاط کی بنا پر اس منزل تک نہیں پہنچ سکا۔پھر ان کو جو نصیحت کی گئی ہے اس پر عمل کرنے سے جو نتائج حاصل ہوتے ہیں ان کے چار مراتب ہیں:اول: بھلائی کا حصول۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ذکر کیا گیا ہے ﴿ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ ﴾ ’’البتہ ان کے لیے بہتر ہوتا‘‘ یعنی ان کا شمار نیک لوگوں میں ہوتا جو ان افعال خیر سے متصف ہیں جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا اور ان سے شریر لوگوں کی صفات زائل ہو جاتیں کیونکہ کسی چیز کے ثابت ہونے سے اس کی ضد کی نفی لازم آتی ہے۔ثانی: ثابت قدمی اور اس میں اضافے کا حصول ۔ کیونکہ اہل ایمان کے ایمان کو قائم رکھنے کے سبب سے، جسے قائم رکھنے کی انھیں نصیحت کی گئی تھی، اللہ تعالیٰ انھیں ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ دنیا کی زندگی میں، اوامر و نواہی میں فتنوں کے وارد ہونے اور مصائب کے نازل ہونے کے وقت انھیں ثابت قدمی عطا کرتا ہے، تب انھیں ثبات حاصل ہوتا ہے اوامر پر عمل کرنے اور ان نواہی سے اجتناب کی توفیق عطا ہوتی ہے نفس جن کے فعل کا تقاضا کرتا ہے اور ان مصائب کے نازل ہونے پر ثابت قدمی اور استقامت عطا ہوتی ہے جن کو بندہ ناپسند کرتا ہے۔ بندے کو صبر و رضا اور شکر کی توفیق کے ذریعے سے ثابت قدمی عطا ہوتی ہے پس بندے پر اس کی ثابت قدمی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نازل ہوتی ہے اور اسے نزع کے وقت اور قبر میں ثابت قدمی سے نواز دیا جاتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کے اوامر کو قائم رکھنے والا بندۂ مومن شرعی احکام کا عادی بن جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان احکام سے مانوس ہو جاتا ہے اور ان احکام کا مشتاق بن جاتا ہے اور یہ الفت اور اشتیاق نیکیوں پر ثبات کے لیے اس کے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ [67] ثالث: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّاِذًا لَّاٰتَيۡنٰهُمۡ مِّنۡ لَّدُنَّـاۤ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾ ’’اور تب تو انھیں ہم اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ہم اسے اجر عظیم سے نوازتے جو قلب و روح اور بدن کے لیے ہے اور ایسی ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے طائر خیال کا وہاں سے گزر ہوا ہے۔ [68] رابع: صراط مستقیم کی طرف راہنمائی ۔ یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے کیونکہ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی شرف کی حامل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہدایت حق کے علم کو، حق کے ساتھ محبت اور حق کو ترجیح دینے اور اس پر عمل کرنے کو اور اس پر فلاح و سعادت کے موقوف ہونے کو متضمن ہوتی ہے۔ پس جس کسی کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کر دی گئی اسے گویا ہر بھلائی کی توفیق عطا کر دی گئی اور اس سے ہر برائی اور ہر ضرر کو دور کر دیا گیا۔
4:69

وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَأُوْلَـٰٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّـٰلِحِينَۚ وَحَسُنَ أُوْلَـٰٓئِكَ رَفِيقٗا

اور جو کوئی اطاعت کرے اللہ اور رسول کی تو یہ لوگ ساتھ ہوں گے ان لوگوں کے کہ انعام کیا اللہ نے ان پر، یعنی نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحین (کے ساتھ) اور اچھے ہیں یہ لوگ رفیق (ساتھی) کے طور پر(69) یہ فضل ہے اللہ کی طرف سےاور کافی ہے اللہ جاننے والا(70) [69] یعنی ہر وہ شخص جو اپنے حسب حال، قدر واجب کے مطابق، خواہ مرد ہو یا عورت اور بچہ ہو یا بوڑھا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ﴾’’پس یہی وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے فضل کیا‘‘ یعنی ان کو عظیم نعمت سے نوازا، جو کمال ، فلاح اور سعادت کی مقتضی ہے۔﴿ مِّنَ النَّبِيّٖنَ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے وحی عطا کر کے فضیلت بخشی اور انھیں خصوصی فضیلت عطا کی کہ ان کو لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور انھوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی ﴿ وَالصِّدِّؔيۡقِيۡنَ۠ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس وحی کی کامل تصدیق کی جو رسول لے کر آئے تھے۔ انھوں نے حق کو جان لیا اور یقین کامل کے ساتھ اس کی تصدیق کی اور پھر اپنے قول و فعل، حال اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے کر اس حق کو قائم کیا ﴿ وَالشُّهَدَآءِ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو اور قتل کر دیے گئے ﴿ وَالصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ظاہر و باطن درست ہے اور اس کے نتیجے میں ان کے اعمال درست ہیں۔ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ ان لوگوں کی صحبت سے بہرہ ور ہو گا ﴿ وَحَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيۡقًا﴾ ان مذکورہ اصحاب فضیلت کے ساتھ نعمت والے باغوں میں اکٹھے ہونا اور اللہ رب العالمین کے جوار میں ان اصحاب کی قربت کا انس، ایک اچھی رفاقت ہے۔ [70]﴿ ذٰلِكَ الۡفَضۡلُ ﴾ یہ فضیلت جو انھوں نے حاصل کی ہے ﴿ مِنَ اللّٰهِ ﴾ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے انھیں اس کی توفیق سے نوازا، اس کے حصول میں ان کی مدد کی اور انھیں اتنا زیادہ ثواب عطا کیا کہ ان کے اعمال وہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے ﴿ وَؔ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِيۡمًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے احوال کا علم رکھتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ان میں سے کون ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے، جن پر ان کا دل اور اعضاء متفق ہوں، ثواب جزیل (زیادہ اجر) کا مستحق ہے۔
4:70

ذَٰلِكَ ٱلۡفَضۡلُ مِنَ ٱللَّهِۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ عَلِيمٗا

اور جو کوئی اطاعت کرے اللہ اور رسول کی تو یہ لوگ ساتھ ہوں گے ان لوگوں کے کہ انعام کیا اللہ نے ان پر، یعنی نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحین (کے ساتھ) اور اچھے ہیں یہ لوگ رفیق (ساتھی) کے طور پر(69) یہ فضل ہے اللہ کی طرف سےاور کافی ہے اللہ جاننے والا(70) [69] یعنی ہر وہ شخص جو اپنے حسب حال، قدر واجب کے مطابق، خواہ مرد ہو یا عورت اور بچہ ہو یا بوڑھا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ﴾’’پس یہی وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے فضل کیا‘‘ یعنی ان کو عظیم نعمت سے نوازا، جو کمال ، فلاح اور سعادت کی مقتضی ہے۔﴿ مِّنَ النَّبِيّٖنَ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے وحی عطا کر کے فضیلت بخشی اور انھیں خصوصی فضیلت عطا کی کہ ان کو لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور انھوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی ﴿ وَالصِّدِّؔيۡقِيۡنَ۠ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس وحی کی کامل تصدیق کی جو رسول لے کر آئے تھے۔ انھوں نے حق کو جان لیا اور یقین کامل کے ساتھ اس کی تصدیق کی اور پھر اپنے قول و فعل، حال اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے کر اس حق کو قائم کیا ﴿ وَالشُّهَدَآءِ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو اور قتل کر دیے گئے ﴿ وَالصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ظاہر و باطن درست ہے اور اس کے نتیجے میں ان کے اعمال درست ہیں۔ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ ان لوگوں کی صحبت سے بہرہ ور ہو گا ﴿ وَحَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيۡقًا﴾ ان مذکورہ اصحاب فضیلت کے ساتھ نعمت والے باغوں میں اکٹھے ہونا اور اللہ رب العالمین کے جوار میں ان اصحاب کی قربت کا انس، ایک اچھی رفاقت ہے۔ [70]﴿ ذٰلِكَ الۡفَضۡلُ ﴾ یہ فضیلت جو انھوں نے حاصل کی ہے ﴿ مِنَ اللّٰهِ ﴾ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے انھیں اس کی توفیق سے نوازا، اس کے حصول میں ان کی مدد کی اور انھیں اتنا زیادہ ثواب عطا کیا کہ ان کے اعمال وہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے ﴿ وَؔ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِيۡمًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے احوال کا علم رکھتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ان میں سے کون ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے، جن پر ان کا دل اور اعضاء متفق ہوں، ثواب جزیل (زیادہ اجر) کا مستحق ہے۔
4:71

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ خُذُواْ حِذۡرَكُمۡ فَٱنفِرُواْ ثُبَاتٍ أَوِ ٱنفِرُواْ جَمِيعٗا

اے ایمان والو! لے لو تم اپنے بچاؤ کا سامان، پس نکلو تم گروہ گروہ یا نکلو تم اکٹھے(71) اور بلاشبہ بعض تم میں سے وہ ہیں جو یقیناً دیر کرتے ہیں (نکلنے میں) پس اگر پہنچے تمھیں کوئی مصیبت تو کہتا ہے، تحقیق انعام کیا اللہ نے مجھ پر کہ نہیں تھا میں ان کے ساتھ حاضر(72) اور البتہ اگر پہنچے تمھیں فضل اللہ کا تو وہ ضرور کہے گا، گویا کہ نہ تھی تمھارے درمیان اور اس کے درمیان کوئی دوستی، کاش کہ ہوتا میں ساتھ ان کے تو حاصل کرتا میں کامیابی بہت بڑی(73) پس چاہیے کہ لڑیں راستے میں اللہ کے، پھر وہ قتل کر دیا جائے یا غالب آجائے تو عنقریب دیں گے ہم اس کو اجر بہت بڑا(74) [71] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے کفار دشمنوں سے چوکنے رہو۔ یہ حکم ان تمام اسباب کو شامل ہے جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتے ہیں۔ جن کے ذریعے سے دشمن کی چالوں اور سازشوں کو ناکام بنایا جاتا اور اس کی قوت کو توڑا جاتا ہے۔ مثلاً قلعہ بندیوں اور خندقوں کا استعمال، تیر اندازی اور گھوڑ سواری سیکھنا اور ان تمام صنعتوں کا علم حاصل کرنا جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتا ہے، وہ علوم سیکھنا جن کے ذریعے سے دشمن کے داخلی اور خارجی حالات اور ان کی سازشوں سے باخبر رہا جا سکے۔ اور اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَانۡفِرُوۡا ثُبَاتٍ ﴾ ’’جماعت جماعت ہوکر نکلا کرو۔‘‘ یعنی متفرق ہو کر جہاد کے لیے نکلو اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک جماعت یا لشکر جہاد کے لیے نکلے اور دیگر لوگ مقیم رہیں ﴿ اَوِ انۡفِرُوۡا جَمِيۡعًا ﴾ ’’یا تمام کے تمام جہاد کے لیے نکلو۔‘‘ یہ سب کچھ مصلحت، دشمن پر غلبہ حاصل کرنے اور دین میں مسلمانوں کی راحت کے تابع ہے۔ اس آیت کریمہ کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ ﴾(الانفال : 8؍60) ’’جہاں تک ہو سکے دشمن کے مقابلہ کے لیے فوجی قوت تیار کرو۔‘‘ [72] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کمزور ایمان مسلمانوں کے بارے میں آگاہ فرمایا جو کاہلی کی بنا پر جہاد سے جی چراتے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّ مِنۡكُمۡ لَمَنۡ لَّيُبَطِّئَنَّ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ عمداً دیر لگاتا ہے۔‘‘ یعنی اے اہل ایمان! تم میں سے بعض لوگ کمزوری، سستی اور بزدلی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نہیں نکلتے۔ یہی تفسیر صحیح ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس کے معنی ہیں، کہ وہ دوسروں کو جہاد کے لیے نکلنے سے روکتے ہیں۔ ایسا کرنے والے منافق تھے لیکن پہلے معنی دو لحاظ سے زیادہ صحیح ہیں۔اول: اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے‘‘ اس پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ثانی: آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ كَاَنۡ لَّمۡ تَكُنۢۡ بَيۡنَؔكُمۡ وَبَيۡنَهٗ مَوَدَّةٌ ﴾ ’’گویا کہ تمھارے اور اس کے درمیان کوئی دوستی نہ تھی‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفار، مشرکین، منافقین اور اہل ایمان کے مابین محبت اور مودت کو منقطع کر دیا۔ نیز یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔ اس لیے کہ اہل ایمان کی دو قسمیں ہیں:(۱) وہ لوگ جو اپنے ایمان میں سچے ہیں، یہ صدق ایمان ان کے لیے کامل تصدیق اور جہاد کا موجب ہوتا ہے۔ (۲) وہ کمزور لوگ جو اسلام میں داخل ہوتے ہیں مگر وہ کمزور ایمان کے مالک ہوتے ہیں جہاد پر نکلنے کے لیے قوت سے محروم ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا …﴾(الحجرات : 49؍14) ’’عرب دیہاتی کہتے ہیں : ہم ایمان لائے۔ کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لائے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد میں نہ نکلنے والوں کی غرض و غایت اور ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ ان کا سب سے بڑا مقصد دنیا اور اس کے چند ٹکڑے ہیں۔ ﴿ فَاِنۡ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ﴾ ’’پھر اگر تمھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے‘‘ یعنی اگر تمھیں ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے، اہل ایمان قتل ہوتے ہیں اور بعض حالات میں دشمن ظفریاب ہوتا ہے کیونکہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی کچھ حکمت ہوتی ہے ﴿ قَالَ ﴾ یعنی جہاد سے جی چرا کر بیٹھ رہنے والا کہتا ہے ﴿ قَدۡ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيَّ اِذۡ لَمۡ اَكُنۡ مَّعَهُمۡ شَهِيۡدًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہیں تھا‘‘ وہ اپنی ضعف عقل اور ضعف ایمان کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا نعمت ہے حالانکہ یہی تو مصیبت ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ حقیقی نعمت تو اس بڑی نیکی کی توفیق ہے جس کے ذریعے سے ایمان قوی ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے بندہ عذاب اور خسران سے محفوظ ہوتا ہے اور اس جہاد میں ثواب اور رب کریم و وہاب کی رضا حاصل ہوتی ہے۔رہا جہاد چھوڑ کر بیٹھ رہنا تو اگرچہ پیچھے بیٹھ رہنے والا تھوڑا سا آرام تو کر لیتا ہے مگر اس آرام کے بعد طویل دکھ اور بہت بڑی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور وہ اس عظیم اجر و ثواب سے بھی محروم ہو جاتا ہے جو مجاہدین کو حاصل ہوتا ہے۔ [73] پھر فرمایا ﴿ وَلَىِٕنۡ اَصَابَكُمۡ فَضۡلٌ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اگر تمھیں اللہ کا کوئی فضل مل جائے‘‘ یعنی فتح و نصرت اور مال غنیمت ﴿ لَيَقُوۡلَنَّ كَاَنۡ لَّمۡ تَكُنۢۡ بَيۡنَؔكُمۡ وَبَيۡنَهٗ مَوَدَّةٌ يّٰلَيۡتَنِيۡ كُنۡتُ مَعَهُمۡ فَاَفُوۡزَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’تو اس طرح ہے کہ گویا تم میں، اس میں دوستی تھی ہی نہیں، (افسوس کرتا اور) کہتا ہے کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو مقصد عظیم حاصل کرلیتا۔‘‘ یعنی وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ بھی جہاد میں شریک ہوتا تاکہ وہ بھی مال غنیمت حاصل کر سکتا۔ مال غنیمت کے سوا اس کا کوئی مقصد ہے نہ اس کے سوا کسی اور چیز میں رغبت ہے۔ اے مسلمانوں کے گروہ! وہ گویا تم میں سے نہیں ہیں اور نہ ان کے درمیان اور تمھارے درمیان رشتہء ایمان کی مودت و محبت ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ تمام مومنین اپنے مفادات و مصالح اور دفع ضرر میں مشترک ہیں۔ وہ اس کے حصول پر خوش ہوتے ہیں خواہ یہ مفاد و مصلحت مومن بھائیوں میں سے کسی کے ذریعے سے حاصل ہوئے ہوں۔ اس سے محرومی پر دکھ محسوس کرتے ہیں اور جس میں ان کے دین اور دنیا کی اصلاح ہو، اس کے حصول کے لیے سب مل کر کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ فقط دنیا کی تمنا کرتا ہے اور مذکورہ روح ایمانی سے تہی دست ہوتا ہے ۔ [74] یہ بندوں پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ ان پر اپنی رحمت کا سلسلہ منقطع کرتا ہے، نہ اپنی رحمت کے دروازے ان پر بند کرتا ہے بلکہ اگر کوئی ایسا کام کر بیٹھتا ہے جو اس کے حکم کے مطابق نہیں ہوتا تو وہ اسے اپنے نقصان کی تلافی کرنے اور اپنے نفس کی تکمیل کی دعوت دیتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اخلاص اور اللہ کی راہ میں نکلنے کا حکم دیا ہے۔فرمایا ﴿ فَلۡيُقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ ﴾’’پس چاہیے کہ وہ لوگ اللہ کے راستے میں لڑیں جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچتے ہیں‘‘ یہ اس آیت کی تفسیر کے بارے میں چند اقوال میں سے ایک قول ہے اور سب سے زیادہ صحیح ہے۔ ایک اور قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ ان مومنوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا چاہیے جو اپنے ایمان میں کامل اور صدق کے حامل ہیں۔﴿ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ یعنی آخرت میں رغبت رکھتے ہیں دنیا کو آخرت کے بدلے بیچ دیتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ کے خطاب کا رخ ہے کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے کے لیے تیار کر کے عادی بنا لیا ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ ایمان کامل کے حامل ہیں جو جہاد کا تقاضا کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو جہاد کے لیے نہیں اٹھتے تو یہ لوگ جہاد کے لیے نکلیں یا گھر بیٹھے رہیں اللہ تعالیٰ کو ان کی پروا نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے ﴿ قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل : 17؍107) ’’کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔‘‘ آیات کے آخر تک۔ نیز اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ ﴿ فَاِنۡ يَّكۡفُرۡ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدۡ وَؔكَّؔلۡنَا بِهَا قَوۡمًا لَّيۡسُوۡا بِهَا بِكٰفِرِيۡنَ﴾(الانعام : 6؍89) ’’اگر یہ کفار اس کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے اس پر ایمان لانے کے لیے کچھ ایسے لوگوں کومقرر کر دیا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں۔‘‘بعض کہتے ہیں کہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ لڑائی کرنے والے مجاہد کو کفار کے خلاف لڑنا چاہیے جنھوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی ہے۔ تب اس صورت میں آیت کریمہ میں موجود لفظ (اَلَّذِیْنَ) مفعول ہونے کی بنا پر نصب کے مقام پر ہے۔فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يُّقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو لڑتا ہے اللہ کے راستے میں‘‘ یعنی یہ جہاد ہو جس کا اللہ اور اس کے رسولﷺنے حکم دیا ہے اور بندہ اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص اور اس کی رضا کا قصد رکھتا ہو ﴿ فَيُقۡتَلۡ اَوۡ يَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’پس وہ قتل کر دیا جائے یا غالب آجائے، ہم اسے اجر عظیم عطا کریں گے‘‘ یعنی یہ اجر ان کے دین و ایمان میں اضافہ، مال غنیمت اور ثنائے حسن کی صورت میں عطا ہو گا۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت میں وہ ثواب تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں اس کا کبھی گزر ہوا۔
4:72

وَإِنَّ مِنكُمۡ لَمَن لَّيُبَطِّئَنَّ فَإِنۡ أَصَٰبَتۡكُم مُّصِيبَةٞ قَالَ قَدۡ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيَّ إِذۡ لَمۡ أَكُن مَّعَهُمۡ شَهِيدٗا

اے ایمان والو! لے لو تم اپنے بچاؤ کا سامان، پس نکلو تم گروہ گروہ یا نکلو تم اکٹھے(71) اور بلاشبہ بعض تم میں سے وہ ہیں جو یقیناً دیر کرتے ہیں (نکلنے میں) پس اگر پہنچے تمھیں کوئی مصیبت تو کہتا ہے، تحقیق انعام کیا اللہ نے مجھ پر کہ نہیں تھا میں ان کے ساتھ حاضر(72) اور البتہ اگر پہنچے تمھیں فضل اللہ کا تو وہ ضرور کہے گا، گویا کہ نہ تھی تمھارے درمیان اور اس کے درمیان کوئی دوستی، کاش کہ ہوتا میں ساتھ ان کے تو حاصل کرتا میں کامیابی بہت بڑی(73) پس چاہیے کہ لڑیں راستے میں اللہ کے، پھر وہ قتل کر دیا جائے یا غالب آجائے تو عنقریب دیں گے ہم اس کو اجر بہت بڑا(74) [71] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے کفار دشمنوں سے چوکنے رہو۔ یہ حکم ان تمام اسباب کو شامل ہے جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتے ہیں۔ جن کے ذریعے سے دشمن کی چالوں اور سازشوں کو ناکام بنایا جاتا اور اس کی قوت کو توڑا جاتا ہے۔ مثلاً قلعہ بندیوں اور خندقوں کا استعمال، تیر اندازی اور گھوڑ سواری سیکھنا اور ان تمام صنعتوں کا علم حاصل کرنا جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتا ہے، وہ علوم سیکھنا جن کے ذریعے سے دشمن کے داخلی اور خارجی حالات اور ان کی سازشوں سے باخبر رہا جا سکے۔ اور اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَانۡفِرُوۡا ثُبَاتٍ ﴾ ’’جماعت جماعت ہوکر نکلا کرو۔‘‘ یعنی متفرق ہو کر جہاد کے لیے نکلو اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک جماعت یا لشکر جہاد کے لیے نکلے اور دیگر لوگ مقیم رہیں ﴿ اَوِ انۡفِرُوۡا جَمِيۡعًا ﴾ ’’یا تمام کے تمام جہاد کے لیے نکلو۔‘‘ یہ سب کچھ مصلحت، دشمن پر غلبہ حاصل کرنے اور دین میں مسلمانوں کی راحت کے تابع ہے۔ اس آیت کریمہ کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ ﴾(الانفال : 8؍60) ’’جہاں تک ہو سکے دشمن کے مقابلہ کے لیے فوجی قوت تیار کرو۔‘‘ [72] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کمزور ایمان مسلمانوں کے بارے میں آگاہ فرمایا جو کاہلی کی بنا پر جہاد سے جی چراتے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّ مِنۡكُمۡ لَمَنۡ لَّيُبَطِّئَنَّ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ عمداً دیر لگاتا ہے۔‘‘ یعنی اے اہل ایمان! تم میں سے بعض لوگ کمزوری، سستی اور بزدلی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نہیں نکلتے۔ یہی تفسیر صحیح ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس کے معنی ہیں، کہ وہ دوسروں کو جہاد کے لیے نکلنے سے روکتے ہیں۔ ایسا کرنے والے منافق تھے لیکن پہلے معنی دو لحاظ سے زیادہ صحیح ہیں۔اول: اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے‘‘ اس پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ثانی: آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ كَاَنۡ لَّمۡ تَكُنۢۡ بَيۡنَؔكُمۡ وَبَيۡنَهٗ مَوَدَّةٌ ﴾ ’’گویا کہ تمھارے اور اس کے درمیان کوئی دوستی نہ تھی‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفار، مشرکین، منافقین اور اہل ایمان کے مابین محبت اور مودت کو منقطع کر دیا۔ نیز یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔ اس لیے کہ اہل ایمان کی دو قسمیں ہیں:(۱) وہ لوگ جو اپنے ایمان میں سچے ہیں، یہ صدق ایمان ان کے لیے کامل تصدیق اور جہاد کا موجب ہوتا ہے۔ (۲) وہ کمزور لوگ جو اسلام میں داخل ہوتے ہیں مگر وہ کمزور ایمان کے مالک ہوتے ہیں جہاد پر نکلنے کے لیے قوت سے محروم ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا …﴾(الحجرات : 49؍14) ’’عرب دیہاتی کہتے ہیں : ہم ایمان لائے۔ کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لائے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد میں نہ نکلنے والوں کی غرض و غایت اور ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ ان کا سب سے بڑا مقصد دنیا اور اس کے چند ٹکڑے ہیں۔ ﴿ فَاِنۡ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ﴾ ’’پھر اگر تمھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے‘‘ یعنی اگر تمھیں ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے، اہل ایمان قتل ہوتے ہیں اور بعض حالات میں دشمن ظفریاب ہوتا ہے کیونکہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی کچھ حکمت ہوتی ہے ﴿ قَالَ ﴾ یعنی جہاد سے جی چرا کر بیٹھ رہنے والا کہتا ہے ﴿ قَدۡ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيَّ اِذۡ لَمۡ اَكُنۡ مَّعَهُمۡ شَهِيۡدًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہیں تھا‘‘ وہ اپنی ضعف عقل اور ضعف ایمان کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا نعمت ہے حالانکہ یہی تو مصیبت ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ حقیقی نعمت تو اس بڑی نیکی کی توفیق ہے جس کے ذریعے سے ایمان قوی ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے بندہ عذاب اور خسران سے محفوظ ہوتا ہے اور اس جہاد میں ثواب اور رب کریم و وہاب کی رضا حاصل ہوتی ہے۔رہا جہاد چھوڑ کر بیٹھ رہنا تو اگرچہ پیچھے بیٹھ رہنے والا تھوڑا سا آرام تو کر لیتا ہے مگر اس آرام کے بعد طویل دکھ اور بہت بڑی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور وہ اس عظیم اجر و ثواب سے بھی محروم ہو جاتا ہے جو مجاہدین کو حاصل ہوتا ہے۔ [73] پھر فرمایا ﴿ وَلَىِٕنۡ اَصَابَكُمۡ فَضۡلٌ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اگر تمھیں اللہ کا کوئی فضل مل جائے‘‘ یعنی فتح و نصرت اور مال غنیمت ﴿ لَيَقُوۡلَنَّ كَاَنۡ لَّمۡ تَكُنۢۡ بَيۡنَؔكُمۡ وَبَيۡنَهٗ مَوَدَّةٌ يّٰلَيۡتَنِيۡ كُنۡتُ مَعَهُمۡ فَاَفُوۡزَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’تو اس طرح ہے کہ گویا تم میں، اس میں دوستی تھی ہی نہیں، (افسوس کرتا اور) کہتا ہے کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو مقصد عظیم حاصل کرلیتا۔‘‘ یعنی وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ بھی جہاد میں شریک ہوتا تاکہ وہ بھی مال غنیمت حاصل کر سکتا۔ مال غنیمت کے سوا اس کا کوئی مقصد ہے نہ اس کے سوا کسی اور چیز میں رغبت ہے۔ اے مسلمانوں کے گروہ! وہ گویا تم میں سے نہیں ہیں اور نہ ان کے درمیان اور تمھارے درمیان رشتہء ایمان کی مودت و محبت ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ تمام مومنین اپنے مفادات و مصالح اور دفع ضرر میں مشترک ہیں۔ وہ اس کے حصول پر خوش ہوتے ہیں خواہ یہ مفاد و مصلحت مومن بھائیوں میں سے کسی کے ذریعے سے حاصل ہوئے ہوں۔ اس سے محرومی پر دکھ محسوس کرتے ہیں اور جس میں ان کے دین اور دنیا کی اصلاح ہو، اس کے حصول کے لیے سب مل کر کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ فقط دنیا کی تمنا کرتا ہے اور مذکورہ روح ایمانی سے تہی دست ہوتا ہے ۔ [74] یہ بندوں پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ ان پر اپنی رحمت کا سلسلہ منقطع کرتا ہے، نہ اپنی رحمت کے دروازے ان پر بند کرتا ہے بلکہ اگر کوئی ایسا کام کر بیٹھتا ہے جو اس کے حکم کے مطابق نہیں ہوتا تو وہ اسے اپنے نقصان کی تلافی کرنے اور اپنے نفس کی تکمیل کی دعوت دیتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اخلاص اور اللہ کی راہ میں نکلنے کا حکم دیا ہے۔فرمایا ﴿ فَلۡيُقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ ﴾’’پس چاہیے کہ وہ لوگ اللہ کے راستے میں لڑیں جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچتے ہیں‘‘ یہ اس آیت کی تفسیر کے بارے میں چند اقوال میں سے ایک قول ہے اور سب سے زیادہ صحیح ہے۔ ایک اور قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ ان مومنوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا چاہیے جو اپنے ایمان میں کامل اور صدق کے حامل ہیں۔﴿ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ یعنی آخرت میں رغبت رکھتے ہیں دنیا کو آخرت کے بدلے بیچ دیتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ کے خطاب کا رخ ہے کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے کے لیے تیار کر کے عادی بنا لیا ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ ایمان کامل کے حامل ہیں جو جہاد کا تقاضا کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو جہاد کے لیے نہیں اٹھتے تو یہ لوگ جہاد کے لیے نکلیں یا گھر بیٹھے رہیں اللہ تعالیٰ کو ان کی پروا نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے ﴿ قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل : 17؍107) ’’کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔‘‘ آیات کے آخر تک۔ نیز اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ ﴿ فَاِنۡ يَّكۡفُرۡ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدۡ وَؔكَّؔلۡنَا بِهَا قَوۡمًا لَّيۡسُوۡا بِهَا بِكٰفِرِيۡنَ﴾(الانعام : 6؍89) ’’اگر یہ کفار اس کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے اس پر ایمان لانے کے لیے کچھ ایسے لوگوں کومقرر کر دیا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں۔‘‘بعض کہتے ہیں کہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ لڑائی کرنے والے مجاہد کو کفار کے خلاف لڑنا چاہیے جنھوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی ہے۔ تب اس صورت میں آیت کریمہ میں موجود لفظ (اَلَّذِیْنَ) مفعول ہونے کی بنا پر نصب کے مقام پر ہے۔فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يُّقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو لڑتا ہے اللہ کے راستے میں‘‘ یعنی یہ جہاد ہو جس کا اللہ اور اس کے رسولﷺنے حکم دیا ہے اور بندہ اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص اور اس کی رضا کا قصد رکھتا ہو ﴿ فَيُقۡتَلۡ اَوۡ يَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’پس وہ قتل کر دیا جائے یا غالب آجائے، ہم اسے اجر عظیم عطا کریں گے‘‘ یعنی یہ اجر ان کے دین و ایمان میں اضافہ، مال غنیمت اور ثنائے حسن کی صورت میں عطا ہو گا۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت میں وہ ثواب تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں اس کا کبھی گزر ہوا۔
4:73

وَلَئِنۡ أَصَٰبَكُمۡ فَضۡلٞ مِّنَ ٱللَّهِ لَيَقُولَنَّ كَأَن لَّمۡ تَكُنۢ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُۥ مَوَدَّةٞ يَٰلَيۡتَنِي كُنتُ مَعَهُمۡ فَأَفُوزَ فَوۡزًا عَظِيمٗا

اے ایمان والو! لے لو تم اپنے بچاؤ کا سامان، پس نکلو تم گروہ گروہ یا نکلو تم اکٹھے(71) اور بلاشبہ بعض تم میں سے وہ ہیں جو یقیناً دیر کرتے ہیں (نکلنے میں) پس اگر پہنچے تمھیں کوئی مصیبت تو کہتا ہے، تحقیق انعام کیا اللہ نے مجھ پر کہ نہیں تھا میں ان کے ساتھ حاضر(72) اور البتہ اگر پہنچے تمھیں فضل اللہ کا تو وہ ضرور کہے گا، گویا کہ نہ تھی تمھارے درمیان اور اس کے درمیان کوئی دوستی، کاش کہ ہوتا میں ساتھ ان کے تو حاصل کرتا میں کامیابی بہت بڑی(73) پس چاہیے کہ لڑیں راستے میں اللہ کے، پھر وہ قتل کر دیا جائے یا غالب آجائے تو عنقریب دیں گے ہم اس کو اجر بہت بڑا(74) [71] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے کفار دشمنوں سے چوکنے رہو۔ یہ حکم ان تمام اسباب کو شامل ہے جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتے ہیں۔ جن کے ذریعے سے دشمن کی چالوں اور سازشوں کو ناکام بنایا جاتا اور اس کی قوت کو توڑا جاتا ہے۔ مثلاً قلعہ بندیوں اور خندقوں کا استعمال، تیر اندازی اور گھوڑ سواری سیکھنا اور ان تمام صنعتوں کا علم حاصل کرنا جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتا ہے، وہ علوم سیکھنا جن کے ذریعے سے دشمن کے داخلی اور خارجی حالات اور ان کی سازشوں سے باخبر رہا جا سکے۔ اور اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَانۡفِرُوۡا ثُبَاتٍ ﴾ ’’جماعت جماعت ہوکر نکلا کرو۔‘‘ یعنی متفرق ہو کر جہاد کے لیے نکلو اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک جماعت یا لشکر جہاد کے لیے نکلے اور دیگر لوگ مقیم رہیں ﴿ اَوِ انۡفِرُوۡا جَمِيۡعًا ﴾ ’’یا تمام کے تمام جہاد کے لیے نکلو۔‘‘ یہ سب کچھ مصلحت، دشمن پر غلبہ حاصل کرنے اور دین میں مسلمانوں کی راحت کے تابع ہے۔ اس آیت کریمہ کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ ﴾(الانفال : 8؍60) ’’جہاں تک ہو سکے دشمن کے مقابلہ کے لیے فوجی قوت تیار کرو۔‘‘ [72] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کمزور ایمان مسلمانوں کے بارے میں آگاہ فرمایا جو کاہلی کی بنا پر جہاد سے جی چراتے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّ مِنۡكُمۡ لَمَنۡ لَّيُبَطِّئَنَّ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ عمداً دیر لگاتا ہے۔‘‘ یعنی اے اہل ایمان! تم میں سے بعض لوگ کمزوری، سستی اور بزدلی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نہیں نکلتے۔ یہی تفسیر صحیح ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس کے معنی ہیں، کہ وہ دوسروں کو جہاد کے لیے نکلنے سے روکتے ہیں۔ ایسا کرنے والے منافق تھے لیکن پہلے معنی دو لحاظ سے زیادہ صحیح ہیں۔اول: اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے‘‘ اس پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ثانی: آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ كَاَنۡ لَّمۡ تَكُنۢۡ بَيۡنَؔكُمۡ وَبَيۡنَهٗ مَوَدَّةٌ ﴾ ’’گویا کہ تمھارے اور اس کے درمیان کوئی دوستی نہ تھی‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفار، مشرکین، منافقین اور اہل ایمان کے مابین محبت اور مودت کو منقطع کر دیا۔ نیز یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔ اس لیے کہ اہل ایمان کی دو قسمیں ہیں:(۱) وہ لوگ جو اپنے ایمان میں سچے ہیں، یہ صدق ایمان ان کے لیے کامل تصدیق اور جہاد کا موجب ہوتا ہے۔ (۲) وہ کمزور لوگ جو اسلام میں داخل ہوتے ہیں مگر وہ کمزور ایمان کے مالک ہوتے ہیں جہاد پر نکلنے کے لیے قوت سے محروم ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا …﴾(الحجرات : 49؍14) ’’عرب دیہاتی کہتے ہیں : ہم ایمان لائے۔ کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لائے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد میں نہ نکلنے والوں کی غرض و غایت اور ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ ان کا سب سے بڑا مقصد دنیا اور اس کے چند ٹکڑے ہیں۔ ﴿ فَاِنۡ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ﴾ ’’پھر اگر تمھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے‘‘ یعنی اگر تمھیں ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے، اہل ایمان قتل ہوتے ہیں اور بعض حالات میں دشمن ظفریاب ہوتا ہے کیونکہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی کچھ حکمت ہوتی ہے ﴿ قَالَ ﴾ یعنی جہاد سے جی چرا کر بیٹھ رہنے والا کہتا ہے ﴿ قَدۡ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيَّ اِذۡ لَمۡ اَكُنۡ مَّعَهُمۡ شَهِيۡدًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہیں تھا‘‘ وہ اپنی ضعف عقل اور ضعف ایمان کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا نعمت ہے حالانکہ یہی تو مصیبت ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ حقیقی نعمت تو اس بڑی نیکی کی توفیق ہے جس کے ذریعے سے ایمان قوی ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے بندہ عذاب اور خسران سے محفوظ ہوتا ہے اور اس جہاد میں ثواب اور رب کریم و وہاب کی رضا حاصل ہوتی ہے۔رہا جہاد چھوڑ کر بیٹھ رہنا تو اگرچہ پیچھے بیٹھ رہنے والا تھوڑا سا آرام تو کر لیتا ہے مگر اس آرام کے بعد طویل دکھ اور بہت بڑی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور وہ اس عظیم اجر و ثواب سے بھی محروم ہو جاتا ہے جو مجاہدین کو حاصل ہوتا ہے۔ [73] پھر فرمایا ﴿ وَلَىِٕنۡ اَصَابَكُمۡ فَضۡلٌ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اگر تمھیں اللہ کا کوئی فضل مل جائے‘‘ یعنی فتح و نصرت اور مال غنیمت ﴿ لَيَقُوۡلَنَّ كَاَنۡ لَّمۡ تَكُنۢۡ بَيۡنَؔكُمۡ وَبَيۡنَهٗ مَوَدَّةٌ يّٰلَيۡتَنِيۡ كُنۡتُ مَعَهُمۡ فَاَفُوۡزَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’تو اس طرح ہے کہ گویا تم میں، اس میں دوستی تھی ہی نہیں، (افسوس کرتا اور) کہتا ہے کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو مقصد عظیم حاصل کرلیتا۔‘‘ یعنی وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ بھی جہاد میں شریک ہوتا تاکہ وہ بھی مال غنیمت حاصل کر سکتا۔ مال غنیمت کے سوا اس کا کوئی مقصد ہے نہ اس کے سوا کسی اور چیز میں رغبت ہے۔ اے مسلمانوں کے گروہ! وہ گویا تم میں سے نہیں ہیں اور نہ ان کے درمیان اور تمھارے درمیان رشتہء ایمان کی مودت و محبت ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ تمام مومنین اپنے مفادات و مصالح اور دفع ضرر میں مشترک ہیں۔ وہ اس کے حصول پر خوش ہوتے ہیں خواہ یہ مفاد و مصلحت مومن بھائیوں میں سے کسی کے ذریعے سے حاصل ہوئے ہوں۔ اس سے محرومی پر دکھ محسوس کرتے ہیں اور جس میں ان کے دین اور دنیا کی اصلاح ہو، اس کے حصول کے لیے سب مل کر کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ فقط دنیا کی تمنا کرتا ہے اور مذکورہ روح ایمانی سے تہی دست ہوتا ہے ۔ [74] یہ بندوں پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ ان پر اپنی رحمت کا سلسلہ منقطع کرتا ہے، نہ اپنی رحمت کے دروازے ان پر بند کرتا ہے بلکہ اگر کوئی ایسا کام کر بیٹھتا ہے جو اس کے حکم کے مطابق نہیں ہوتا تو وہ اسے اپنے نقصان کی تلافی کرنے اور اپنے نفس کی تکمیل کی دعوت دیتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اخلاص اور اللہ کی راہ میں نکلنے کا حکم دیا ہے۔فرمایا ﴿ فَلۡيُقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ ﴾’’پس چاہیے کہ وہ لوگ اللہ کے راستے میں لڑیں جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچتے ہیں‘‘ یہ اس آیت کی تفسیر کے بارے میں چند اقوال میں سے ایک قول ہے اور سب سے زیادہ صحیح ہے۔ ایک اور قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ ان مومنوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا چاہیے جو اپنے ایمان میں کامل اور صدق کے حامل ہیں۔﴿ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ یعنی آخرت میں رغبت رکھتے ہیں دنیا کو آخرت کے بدلے بیچ دیتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ کے خطاب کا رخ ہے کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے کے لیے تیار کر کے عادی بنا لیا ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ ایمان کامل کے حامل ہیں جو جہاد کا تقاضا کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو جہاد کے لیے نہیں اٹھتے تو یہ لوگ جہاد کے لیے نکلیں یا گھر بیٹھے رہیں اللہ تعالیٰ کو ان کی پروا نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے ﴿ قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل : 17؍107) ’’کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔‘‘ آیات کے آخر تک۔ نیز اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ ﴿ فَاِنۡ يَّكۡفُرۡ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدۡ وَؔكَّؔلۡنَا بِهَا قَوۡمًا لَّيۡسُوۡا بِهَا بِكٰفِرِيۡنَ﴾(الانعام : 6؍89) ’’اگر یہ کفار اس کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے اس پر ایمان لانے کے لیے کچھ ایسے لوگوں کومقرر کر دیا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں۔‘‘بعض کہتے ہیں کہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ لڑائی کرنے والے مجاہد کو کفار کے خلاف لڑنا چاہیے جنھوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی ہے۔ تب اس صورت میں آیت کریمہ میں موجود لفظ (اَلَّذِیْنَ) مفعول ہونے کی بنا پر نصب کے مقام پر ہے۔فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يُّقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو لڑتا ہے اللہ کے راستے میں‘‘ یعنی یہ جہاد ہو جس کا اللہ اور اس کے رسولﷺنے حکم دیا ہے اور بندہ اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص اور اس کی رضا کا قصد رکھتا ہو ﴿ فَيُقۡتَلۡ اَوۡ يَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’پس وہ قتل کر دیا جائے یا غالب آجائے، ہم اسے اجر عظیم عطا کریں گے‘‘ یعنی یہ اجر ان کے دین و ایمان میں اضافہ، مال غنیمت اور ثنائے حسن کی صورت میں عطا ہو گا۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت میں وہ ثواب تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں اس کا کبھی گزر ہوا۔
4:74

۞فَلۡيُقَٰتِلۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يَشۡرُونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا بِٱلۡأٓخِرَةِۚ وَمَن يُقَٰتِلۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيُقۡتَلۡ أَوۡ يَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُؤۡتِيهِ أَجۡرًا عَظِيمٗا

اے ایمان والو! لے لو تم اپنے بچاؤ کا سامان، پس نکلو تم گروہ گروہ یا نکلو تم اکٹھے(71) اور بلاشبہ بعض تم میں سے وہ ہیں جو یقیناً دیر کرتے ہیں (نکلنے میں) پس اگر پہنچے تمھیں کوئی مصیبت تو کہتا ہے، تحقیق انعام کیا اللہ نے مجھ پر کہ نہیں تھا میں ان کے ساتھ حاضر(72) اور البتہ اگر پہنچے تمھیں فضل اللہ کا تو وہ ضرور کہے گا، گویا کہ نہ تھی تمھارے درمیان اور اس کے درمیان کوئی دوستی، کاش کہ ہوتا میں ساتھ ان کے تو حاصل کرتا میں کامیابی بہت بڑی(73) پس چاہیے کہ لڑیں راستے میں اللہ کے، پھر وہ قتل کر دیا جائے یا غالب آجائے تو عنقریب دیں گے ہم اس کو اجر بہت بڑا(74) [71] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے کفار دشمنوں سے چوکنے رہو۔ یہ حکم ان تمام اسباب کو شامل ہے جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتے ہیں۔ جن کے ذریعے سے دشمن کی چالوں اور سازشوں کو ناکام بنایا جاتا اور اس کی قوت کو توڑا جاتا ہے۔ مثلاً قلعہ بندیوں اور خندقوں کا استعمال، تیر اندازی اور گھوڑ سواری سیکھنا اور ان تمام صنعتوں کا علم حاصل کرنا جو دشمن کے خلاف جنگ میں مدد دیتا ہے، وہ علوم سیکھنا جن کے ذریعے سے دشمن کے داخلی اور خارجی حالات اور ان کی سازشوں سے باخبر رہا جا سکے۔ اور اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَانۡفِرُوۡا ثُبَاتٍ ﴾ ’’جماعت جماعت ہوکر نکلا کرو۔‘‘ یعنی متفرق ہو کر جہاد کے لیے نکلو اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک جماعت یا لشکر جہاد کے لیے نکلے اور دیگر لوگ مقیم رہیں ﴿ اَوِ انۡفِرُوۡا جَمِيۡعًا ﴾ ’’یا تمام کے تمام جہاد کے لیے نکلو۔‘‘ یہ سب کچھ مصلحت، دشمن پر غلبہ حاصل کرنے اور دین میں مسلمانوں کی راحت کے تابع ہے۔ اس آیت کریمہ کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ ﴾(الانفال : 8؍60) ’’جہاں تک ہو سکے دشمن کے مقابلہ کے لیے فوجی قوت تیار کرو۔‘‘ [72] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کمزور ایمان مسلمانوں کے بارے میں آگاہ فرمایا جو کاہلی کی بنا پر جہاد سے جی چراتے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّ مِنۡكُمۡ لَمَنۡ لَّيُبَطِّئَنَّ ﴾ ’’اور تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ عمداً دیر لگاتا ہے۔‘‘ یعنی اے اہل ایمان! تم میں سے بعض لوگ کمزوری، سستی اور بزدلی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نہیں نکلتے۔ یہی تفسیر صحیح ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس کے معنی ہیں، کہ وہ دوسروں کو جہاد کے لیے نکلنے سے روکتے ہیں۔ ایسا کرنے والے منافق تھے لیکن پہلے معنی دو لحاظ سے زیادہ صحیح ہیں۔اول: اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے‘‘ اس پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ثانی: آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ كَاَنۡ لَّمۡ تَكُنۢۡ بَيۡنَؔكُمۡ وَبَيۡنَهٗ مَوَدَّةٌ ﴾ ’’گویا کہ تمھارے اور اس کے درمیان کوئی دوستی نہ تھی‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفار، مشرکین، منافقین اور اہل ایمان کے مابین محبت اور مودت کو منقطع کر دیا۔ نیز یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔ اس لیے کہ اہل ایمان کی دو قسمیں ہیں:(۱) وہ لوگ جو اپنے ایمان میں سچے ہیں، یہ صدق ایمان ان کے لیے کامل تصدیق اور جہاد کا موجب ہوتا ہے۔ (۲) وہ کمزور لوگ جو اسلام میں داخل ہوتے ہیں مگر وہ کمزور ایمان کے مالک ہوتے ہیں جہاد پر نکلنے کے لیے قوت سے محروم ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا …﴾(الحجرات : 49؍14) ’’عرب دیہاتی کہتے ہیں : ہم ایمان لائے۔ کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لائے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد میں نہ نکلنے والوں کی غرض و غایت اور ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ ان کا سب سے بڑا مقصد دنیا اور اس کے چند ٹکڑے ہیں۔ ﴿ فَاِنۡ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ﴾ ’’پھر اگر تمھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے‘‘ یعنی اگر تمھیں ہزیمت اٹھانا پڑتی ہے، اہل ایمان قتل ہوتے ہیں اور بعض حالات میں دشمن ظفریاب ہوتا ہے کیونکہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی کچھ حکمت ہوتی ہے ﴿ قَالَ ﴾ یعنی جہاد سے جی چرا کر بیٹھ رہنے والا کہتا ہے ﴿ قَدۡ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيَّ اِذۡ لَمۡ اَكُنۡ مَّعَهُمۡ شَهِيۡدًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہیں تھا‘‘ وہ اپنی ضعف عقل اور ضعف ایمان کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا نعمت ہے حالانکہ یہی تو مصیبت ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ حقیقی نعمت تو اس بڑی نیکی کی توفیق ہے جس کے ذریعے سے ایمان قوی ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے بندہ عذاب اور خسران سے محفوظ ہوتا ہے اور اس جہاد میں ثواب اور رب کریم و وہاب کی رضا حاصل ہوتی ہے۔رہا جہاد چھوڑ کر بیٹھ رہنا تو اگرچہ پیچھے بیٹھ رہنے والا تھوڑا سا آرام تو کر لیتا ہے مگر اس آرام کے بعد طویل دکھ اور بہت بڑی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور وہ اس عظیم اجر و ثواب سے بھی محروم ہو جاتا ہے جو مجاہدین کو حاصل ہوتا ہے۔ [73] پھر فرمایا ﴿ وَلَىِٕنۡ اَصَابَكُمۡ فَضۡلٌ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اگر تمھیں اللہ کا کوئی فضل مل جائے‘‘ یعنی فتح و نصرت اور مال غنیمت ﴿ لَيَقُوۡلَنَّ كَاَنۡ لَّمۡ تَكُنۢۡ بَيۡنَؔكُمۡ وَبَيۡنَهٗ مَوَدَّةٌ يّٰلَيۡتَنِيۡ كُنۡتُ مَعَهُمۡ فَاَفُوۡزَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’تو اس طرح ہے کہ گویا تم میں، اس میں دوستی تھی ہی نہیں، (افسوس کرتا اور) کہتا ہے کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو مقصد عظیم حاصل کرلیتا۔‘‘ یعنی وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ بھی جہاد میں شریک ہوتا تاکہ وہ بھی مال غنیمت حاصل کر سکتا۔ مال غنیمت کے سوا اس کا کوئی مقصد ہے نہ اس کے سوا کسی اور چیز میں رغبت ہے۔ اے مسلمانوں کے گروہ! وہ گویا تم میں سے نہیں ہیں اور نہ ان کے درمیان اور تمھارے درمیان رشتہء ایمان کی مودت و محبت ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ تمام مومنین اپنے مفادات و مصالح اور دفع ضرر میں مشترک ہیں۔ وہ اس کے حصول پر خوش ہوتے ہیں خواہ یہ مفاد و مصلحت مومن بھائیوں میں سے کسی کے ذریعے سے حاصل ہوئے ہوں۔ اس سے محرومی پر دکھ محسوس کرتے ہیں اور جس میں ان کے دین اور دنیا کی اصلاح ہو، اس کے حصول کے لیے سب مل کر کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ فقط دنیا کی تمنا کرتا ہے اور مذکورہ روح ایمانی سے تہی دست ہوتا ہے ۔ [74] یہ بندوں پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ ان پر اپنی رحمت کا سلسلہ منقطع کرتا ہے، نہ اپنی رحمت کے دروازے ان پر بند کرتا ہے بلکہ اگر کوئی ایسا کام کر بیٹھتا ہے جو اس کے حکم کے مطابق نہیں ہوتا تو وہ اسے اپنے نقصان کی تلافی کرنے اور اپنے نفس کی تکمیل کی دعوت دیتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اخلاص اور اللہ کی راہ میں نکلنے کا حکم دیا ہے۔فرمایا ﴿ فَلۡيُقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ ﴾’’پس چاہیے کہ وہ لوگ اللہ کے راستے میں لڑیں جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچتے ہیں‘‘ یہ اس آیت کی تفسیر کے بارے میں چند اقوال میں سے ایک قول ہے اور سب سے زیادہ صحیح ہے۔ ایک اور قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ ان مومنوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا چاہیے جو اپنے ایمان میں کامل اور صدق کے حامل ہیں۔﴿ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ یعنی آخرت میں رغبت رکھتے ہیں دنیا کو آخرت کے بدلے بیچ دیتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ کے خطاب کا رخ ہے کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے کے لیے تیار کر کے عادی بنا لیا ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ ایمان کامل کے حامل ہیں جو جہاد کا تقاضا کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو جہاد کے لیے نہیں اٹھتے تو یہ لوگ جہاد کے لیے نکلیں یا گھر بیٹھے رہیں اللہ تعالیٰ کو ان کی پروا نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے ﴿ قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل : 17؍107) ’’کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ اپنی ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔‘‘ آیات کے آخر تک۔ نیز اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ ﴿ فَاِنۡ يَّكۡفُرۡ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدۡ وَؔكَّؔلۡنَا بِهَا قَوۡمًا لَّيۡسُوۡا بِهَا بِكٰفِرِيۡنَ﴾(الانعام : 6؍89) ’’اگر یہ کفار اس کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے اس پر ایمان لانے کے لیے کچھ ایسے لوگوں کومقرر کر دیا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں۔‘‘بعض کہتے ہیں کہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ لڑائی کرنے والے مجاہد کو کفار کے خلاف لڑنا چاہیے جنھوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی ہے۔ تب اس صورت میں آیت کریمہ میں موجود لفظ (اَلَّذِیْنَ) مفعول ہونے کی بنا پر نصب کے مقام پر ہے۔فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يُّقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو لڑتا ہے اللہ کے راستے میں‘‘ یعنی یہ جہاد ہو جس کا اللہ اور اس کے رسولﷺنے حکم دیا ہے اور بندہ اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص اور اس کی رضا کا قصد رکھتا ہو ﴿ فَيُقۡتَلۡ اَوۡ يَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’پس وہ قتل کر دیا جائے یا غالب آجائے، ہم اسے اجر عظیم عطا کریں گے‘‘ یعنی یہ اجر ان کے دین و ایمان میں اضافہ، مال غنیمت اور ثنائے حسن کی صورت میں عطا ہو گا۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت میں وہ ثواب تیار کر رکھا ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں اس کا کبھی گزر ہوا۔
4:75

وَمَا لَكُمۡ لَا تُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلۡمُسۡتَضۡعَفِينَ مِنَ ٱلرِّجَالِ وَٱلنِّسَآءِ وَٱلۡوِلۡدَٰنِ ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَخۡرِجۡنَا مِنۡ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةِ ٱلظَّالِمِ أَهۡلُهَا وَٱجۡعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيّٗا وَٱجۡعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا

اور کیا ہے تمھیں کہ نہیں لڑتے تم راستے میں اللہ کے اور ان لوگوں کی خاطر جو کمزور ہیں مردوں اور عورتوں اور بچوں میں سے؟ وہ جو کہتے ہیں، اے ہمارے رب! نکال ہمیں اس بستی سے کہ ظالم ہیں اس کے باشندے اور کر دے ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حمایتی اور کر دے ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار(75) [75] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے اس کی راہ میں جہاد کی ترغیب ہے نیز یہ کہ جہاد ان پر فرض کر دیا گیا ہے اور ترک جہاد ان کے لیے بہت بڑی ملامت کا باعث ہو گا۔ ﴿ وَمَا لَكُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں لڑتے نہیں؟‘‘ اور حال یہ ہے کہ مستضعفین مرد، عورتیں اور بچے جن کے پاس کوئی چارہ ہے نہ ان کے پاس آزادی حاصل کرنے کا کوئی راستہ اور اس کے ساتھ ساتھ انھیں دشمنوں کے ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ وہ ان کو اس بستی سے نکالے جس کے باشندے کفر و شرک کے ارتکاب کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں اہل ایمان کو اذیتیں دے کر، ان کو اللہ کے راستے سے روک کر اور انھیں دعوت دین اور ہجرت سے منع کر کے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ان کا کوئی ولی اور مددگار مقرر فرما دے جو انھیں اس ظالم بستی سے نکال لے جائے۔ تب اس صورت میں جہاد تمھارے بچوں، عورتوں اور تمھاری عزت و ناموس کے دفاع کے زمرے میں شمار ہو گا۔ کیونکہ جہاد تو وہ ہے جس میں کفار کے مقابلے کی خواہش ہو۔ جہاد کی اگرچہ بہت بڑی فضیلت ہے اور جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اس سے بڑھ کر ملامت ہے۔ تاہم وہ جہاد جس کے ذریعے سے اہل ایمان مستضعفین کو کفار سے نجات دلائی جاتی ہے اجر و ثواب کے اعتبار سے سب سے عظیم اور فائدے کے لحاظ سے سب سے بڑا جہاد ہے کیونکہ یہ دشمنوں سے دفاع کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔
4:76

ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱلطَّـٰغُوتِ فَقَٰتِلُوٓاْ أَوۡلِيَآءَ ٱلشَّيۡطَٰنِۖ إِنَّ كَيۡدَ ٱلشَّيۡطَٰنِ كَانَ ضَعِيفًا

وہ لوگ جو ایمان لائے، وہ لڑتے ہیں راستے میں اللہ کےاور وہ جنھوں نے کفر کیا، وہ لڑتے ہیں راستے میں شیطان کے، پس لڑو تم دوستوں سے شیطان کے، بلاشبہ مکر شیطان کا ہے نہایت کمزور(76) [76]یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے کہ اہل ایمان اس کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ ﴾’’اور کافر طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں‘‘ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے۔ اس آیت سے متعدد فوائد حاصل ہوتے ہیں۔(۱)بندۂ مومن کے ایمان، اس کے اخلاص اور اس کی اتباع رسولﷺکے مطابق، اس کا جہاد اللہ کے راستے میں جہاد شمار ہوتا ہے۔ پس جہاد فی سبیل اللہ ایمان کے آثار، اس کے مقتضیات اور اس کے لوازم میں سے ہے۔ جیسے طاغوت کی راہ میں لڑنا کفر اور اس کے مقتضیات میں سے ہے۔(۲) جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اس کے لیے مناسب اور بہتر یہ ہے کہ وہ ایسے صبر و استقلال سے کام لے جس کا مظاہرہ دیگر لوگ نہیں کر سکتے۔ جب اولیائے شیطان لڑائی کرتے ہیں اور لڑائی میں صبر سے کام لیتے ہیں حالانکہ وہ اہل باطل ہیں۔ تب اہل حق کو تو صبر و استقلال سے زیادہ کام لینا چاہیے جیسا کہ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اِنۡ تَكُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ يَاۡلَمُوۡنَ كَمَا تَاۡلَمُوۡنَ١ۚ وَتَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرۡجُوۡنَ ﴾(النساء : 4؍104)’’اگر تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو جس طرح تمھیں تکلیف پہنچتی ہے اسی طرح ان کفار کو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔ البتہ تم اللہ تعالیٰ سے ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔‘‘(۳) وہ بندۂ مومن جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اس کے پاس ایک مضبوط سہارا ہوتا ہے اور وہ ہے حق اور اللہ تعالیٰ پر توکل۔ اس مضبوط اور صاحب قوت ہستی سے صبر و ثبات اور نشاط طلب کیے جاتے ہیں۔ جبکہ باطل کے راستے میں لڑنے والے، جس کی کوئی حقیقت نہیں اور نہ اس کا کوئی قابل تعریف انجام ہے یہ صبر و ثبات کہیں سے طلب نہیں کر سکتے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِيَآءَؔ الشَّيۡطٰنِ١ۚ اِنَّ كَيۡدَ الشَّيۡطٰنِ كَانَ ضَعِيۡفًا﴾ ’’تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو یقینا شیطان کا داؤ کمزور ہوتا ہے۔‘‘ (کید) سے مراد وہ خفیہ چال ہے جس کے ذریعے سے دشمن کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ شیطان کی چال خواہ کتنی ہی خطرناک کیوں نہ ہو، بہرحال وہ انتہائی کمزور ہوتی ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ حق کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ نہ وہ اس چال کے سامنے کھڑی رہ سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے لیے چلتا ہے۔
4:77

أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ قِيلَ لَهُمۡ كُفُّوٓاْ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقِتَالُ إِذَا فَرِيقٞ مِّنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ ٱلنَّاسَ كَخَشۡيَةِ ٱللَّهِ أَوۡ أَشَدَّ خَشۡيَةٗۚ وَقَالُواْ رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا ٱلۡقِتَالَ لَوۡلَآ أَخَّرۡتَنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٖ قَرِيبٖۗ قُلۡ مَتَٰعُ ٱلدُّنۡيَا قَلِيلٞ وَٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لِّمَنِ ٱتَّقَىٰ وَلَا تُظۡلَمُونَ فَتِيلًا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی کہ کہا گیا ان سے، روکے رکھو تم اپنے ہاتھ اور قائم کرو نماز اور دو تم زکاۃ، پھر جب لکھ دیا (فرض کر دیا) گیا ان پر لڑنا، تب ایک فریق ان میں سے ڈرتا تھا وہ لوگوں سے، مانند ڈرنے کے اللہ سے یا اس سے بھی زیادہ سخت ڈرنااور کہا انھوں نے، اے ہمارے رب! کیوں لکھا (فرض کیا) تونے ہم پر لڑنا؟ کیوں نہ مہلت دی تونے ہمیں ایک مدت قریب تک؟ کہہ دیجیے! فائدہ دنیا کا تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے اس کے لیے جس نے تقویٰ اختیار کیا اور نہ ظلم کیے جاؤ گے تم تاگے برابر(77) جہاں کہیں بھی ہوگے تم! پا لے گی تمھیں موت خواہ ہو تم قلعہ ہائے مضبوط میں اور اگر پہنچے ان کو کوئی بھلائی تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر پہنچے ان کو کوئی برائی (تکلیف) تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے، کہہ دیجیے! سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے، پس کیا حال ہے ان لوگوں کا؟ نہیں قریب کہ سمجھیں بات کو(78) جو پہنچے (اے انسان!) تجھ کو کوئی بھلائی تو (وہ) اللہ کی طرف سے ہے اور جو پہنچے تجھ کو برائی (تکلیف) تو (وہ) تیری اپنی طرف سے ہےاور بھیجا ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے رسول بنا کراور کافی ہے اللہ گواہ(79) [77]جب مسلمان مکہ مکرمہ میں تھے تو انھیں نماز اور زکٰوۃ کا حکم دیا گیا تھا۔ یعنی محتاجوں کی غمگساری کرنا۔ اور اس سے مراد وہ معروف زکٰوۃ نہیں جو ایک مخصوص نصاب کے مطابق اور مخصوص شرائط کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ یہ زکٰوۃ مدینہ منورہ میں فرض ہوئی تھی اسی طرح اس وقت تک متعدد فوائد کی بنا پر جہاد کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ مثلاً:(۱)اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں پر شریعت کے احکام اس طرح فرض کرے کہ وہ ان پر شاق نہ گزریں۔ سب سے پہلے اہم ترین امر کا حکم دے، پھر آسان امور سے ابتدا کر کے بتدریج مشکل امور کا حکم دے۔(۲) اگر اہل ایمان پر ان کی قلت تعداد و قلت سامان اور کثرت اعداء کے باوجود قتال فرض کر دیا جاتا تو یہ چیز اسلام کو مضمحل کر دیتی۔ اس لیے چھوٹی مصلحت کو نظر انداز کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی گئی اور اس میں اس قسم کی دیگر حکمتیں تھیں۔بعض اہل ایمان چاہتے تھے کہ اس حال میں بھی ان پر قتال فرض کر دیا جاتا۔ مگر ان حالات میں ان پر جہاد فرض کیا جانا مناسب نہ تھا۔ اس وقت ان لوگوں کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ توحید، نماز، زکٰوۃ اور اس نوع کے دیگر احکام پر عمل کرتے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ فَعَلُوۡا مَا يُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَشَدَّ تَثۡبِيۡتًا﴾(النساء : 4؍66) ’’اگر یہ اس نصیحت پر عمل کرتے جو ان کو کی جاتی ہے تو ان کے لیے بہتر ہوتا اور دین میں زیادہ ثابت قدمی اور استقامت کا باعث ہوتا۔‘‘جب مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور اسلام قوی ہو گیا تو مناسب وقت پر ان پر قتال فرض کر دیا گیا۔وہ لوگ جو اس سے قبل قتال فرض ہونے کے لیے جلدی مچاتے تھے ان میں سے ایک گروہ نے لوگوں کے خوف، کمزوری اور بزدلی کی وجہ سے کہا۔ ﴿ رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا الۡقِتَالَ ﴾ ’’اے ہمارے رب تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا؟‘‘ ان الفاظ سے ان کی تنگ دلی اور اللہ تعالیٰ پر اعتراض کا اظہار ہوتا ہے حالانکہ ان کے لیے مناسب حال یہ تھا کہ وہ اس سے متضاد رویہ کا اظہار کرتے یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور اس کے اوامر پر صبر کرنا، مگر جو کچھ ان سے مطلوب تھا انھوں نے اس کے برعکس کیا۔ پس انھوں نے کہا ﴿ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ ﴾ ’’تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی۔‘‘ یعنی تو نے قتال کی فرضیت کچھ عرصہ اور متاخر کیوں نہ کر دی۔ غالب طور پر اس قسم کی صورت ان لوگوں کو پیش آتی ہے جو غیر سنجیدہ ہوتے ہیں اور تمام امور میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا غالب رویہ یہ ہوتا ہے کہ ان امور کے نازل ہونے پر یہ لوگ صبر نہیں کر سکتے۔ یہ امور ان کے لیے بوجھل تو نہیں مگر یہ لوگ بہت ہی کم صبر سے بہرہ ور ہیں۔جن حالات میں وہ جہاد سے جی چرا کر بیٹھ رہے ان سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو نصیحت کی چنانچہ فرمایا: ﴿ قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡيَا قَلِيۡلٌ١ۚ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے دنیا کا فائدہ تو بہت ہی کم ہے اور آخرت اس شخص کے لیے بہتر ہے جو متقی ہے‘‘ یعنی دنیا کی لذت اور راحت سے فائدہ اٹھانا بہت ہی کم عرصہ کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں تھوڑی سی مدت کے لیے بھاری بوجھ اٹھانا نفوس انسانی کے لیے آسان اور ہلکا ہوتا ہے۔ کیونکہ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مشقت جو وہ برداشت کر رہا ہے طویل عرصے کے لیے نہیں ہے تو اس کے لیے اس کو برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ تب کیا کیفیت ہو گی جب تو دنیا اور آخرت کا موازنہ کرے اور معلوم ہو کہ آخرت اپنی ذات اور لذات میں اور زمان کے اعتبار سے دنیا سے کہیں بہتر ہے جنت کی ذات کے بارے میں ایک صحیح حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’’جنت میں ایک کوڑے کے برابر جگہ دنیا اور اس کی موجودات سے کہیں بہتر ہے۔‘‘(جامع ترمذی، تفسير، باب ومن سورۃ آل عمران، حديث:3513)جنت کی لذتیں ہر قسم کی کدورتوں سے پاک ہیں بلکہ لذت کا جو تصور بھی فکر و خیال کی گرفت میں آ سکتا ہے۔ جنت کی لذتیں اس پر فوقیت رکھتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ ﴾(السجدۃ : 32؍17) ’’کوئی انسان نہیں جانتا کہ ان کے لیے (جنت میں) کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبیﷺکی زبان پر فرمایا: ’’میں نے (جنت میں) اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں ان کا کبھی گزر ہوا ہے۔‘‘(مسند أحمد:2؍438)رہی دنیا کی لذتیں تو یہ مختلف قسم کی کدورتوں کے شائبے سے پاک نہیں ہوتیں۔ اگر ان لذات کا ان آلام و مصائب اور غم و ہموم سے مقابلہ کیاجائے جو ان لذات کے ساتھ ملے ہوتے ہیں تو جنت کی لذتوں کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے ان کی کوئی نسبت ہی نہیں۔ رہا ان لذتوں کا زمانہ، تو دنیا آخر کار ختم ہو جائے گی اور انسان کی عمر، دنیا کی نسبت سے نہایت ہی معمولی سا عرصہ ہے۔ آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں اور وہاں کے رہنے والوں کے لیے ہمیشہ کی زندگی ہے۔ جب عقلمند شخص ان دو گھروں کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے اور ان کی حقیقت کا تصور کرتا ہے جیسا کہ تصور کرنے کا حق ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کون سا گھر ترجیح کا مستحق ہے؟ کس کے لیے کوشش کرنی چاہیے اور کس کی طلب میں اسے جدوجہد کرنی چاہیے؟ ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى ﴾ ’’اور پرہیز گار کے لیے آخرت تو بہت اچھی چیز ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور دیگر تمام محرمات سے بچتا ہے اس کے لیے آخرت بہتر ہے۔ ﴿ وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ﴾’’اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا‘‘ تم آخرت کے گھر کے لیے جو دوڑ دھوپ کرو گے تو اس کا کامل اور وافر اجر پاؤ گے جس میں کچھ بھی کمی نہ ہو گی۔[78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ بچاؤ کی تدبیر تقدیر کے مقابلے میں کوئی کام نہیں آسکتی اور گھر میں بیٹھ رہنے والے کا بیٹھنا، اللہ کی تقدیر کو ہٹا نہیں سکتا۔ ﴿ اَيۡنَ مَا تَكُوۡنُوۡا يُدۡرِكۡكُّمُ الۡمَوۡتُ ﴾ ’’تم جہاں کہیں بھی رہو موت تمھیں آ پکڑے گی‘‘ یعنی تم کسی زمانے میں اور کسی بھی جگہ پر ہو ﴿ وَلَوۡؔ كُنۡتُمۡ فِيۡ بُرُوۡجٍ مُّشَيَّدَةٍ ﴾ ’’خواہ تم مضبوط قلعوں اور اونچے محلوں میں ہی پناہ کیوں نہ لے لو (موت تمھیں پا لے گی)۔‘‘یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کی ترغیب کے لیے ہے اللہ تعالیٰ کبھی تو جہاد کی فضیلت اور اس کا ثواب بیان کر کے اس کی ترغیب دیتا ہے اور کبھی جہاد کو ترک کرنے کی سزا سے ڈرا کر جہاد پر آمادہ کرتا ہے۔ کبھی اس بارے میں آگاہ کر کے جہاد کے لیے ابھارتا ہے کہ جہاد سے جی چرا کر گھروں میں بیٹھ رہنے والوں کا بیٹھنا کسی کام نہیں آتا۔ اور کبھی کبھی اللہ تعالیٰ جہاد کے راستے کو ان کے لیے آسان کر دیتا ہے۔﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ حَسَنَةٌ ﴾ ’’اور اگر انھیں کوئی بھلائی ملتی ہے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو علم نہیں رکھتے، انبیاء و رسل علیہ السلام کی تعلیمات سے روگردانی اور ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ جب انھیں کوئی بھلائی مثلاً شادابی، کثرت مال، کثرت اولاد اور صحت وغیرہ حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں ﴿ هٰؔذِهٖ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘ جب انھیں کسی تکلیف مثلاً قحط، فقر و فاقہ، احباب و اولاد کی موت اور مرض وغیرہ کا سامنا ہوتا ہے تو پکار اٹھتے ہیں:﴿ هٰؔذِهٖ مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ’’یہ (تکلیف) آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچی) ہے۔‘‘ یعنی اے محمدﷺ!یہ تمام مصیبت اس کے سبب سے آن پڑی ہے جو آپ لے کر آئے ہیں۔ انھوں نے رسول اللہﷺکی ذات اقدس سے بدشگونی لی، جیسا کہ ان سے پہلے کفار اللہ تعالیٰ کے رسولوں سے برا شگون لیتے رہے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی قوم کے بارے میں خبر دی ہے:﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ١ۚ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾(الاعراف : 7؍131) ’’جب ان کو کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے تو موسیٰ اور ان کے اصحاب کی بدشگونی قرار دیتے ہیں۔‘‘ اور جیسا کہ حضرت صالحuکی قوم نے کہا: ﴿ اطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَنۡ مَّعَكَ ﴾(النمل : 27؍47) ’’تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے بدشگونی کا باعث ہیں۔‘‘ اور جیسے یاسین کی قوم نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿ اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ١ۚ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ﴾(یٰسین : 36؍18) ’’ہم تمھیں بدشگون سمجھتے ہیں اگر تم باز نہیں آؤ گے تو ہم تمھیں سنگسار کر دیں گے۔‘‘چونکہ کفر کی وجہ سے ان کے دل باہم مشابہ ہیں اس لیے ان کے اقوال و افعال میں بھی مشابہت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو برائی کے حصول اور بھلائی کے زوال کو انبیائے کرام کی تعلیمات یا بعض تعلیمات سے منسوب کرتے ہیں وہ اس مذمت میں داخل ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے: ﴿ قُلۡ كُلٌّ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ سب‘‘ یعنی نیکی اور برائی خیر اور شر ﴿ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ ہی کی طرف سے ہے۔‘‘ یعنی سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے اور اسی کی تخلیق ہے ﴿ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الۡقَوۡمِ ﴾ ’’انھیں کیا ہو گیا ہے؟‘‘ یعنی جن لوگوں سے یہ باطل قول صادر ہوا ہے ﴿ لَا يَكَادُوۡنَ يَفۡقَهُوۡنَ حَدِيۡثًا ﴾’’کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے۔‘‘ یعنی یہ لوگ بات کو بالکل ہی نہیں سمجھ پاتے اور نہ یہ لوگ سمجھنے کے قریب جاتے ہیں۔ یا یہ لوگ بات کو بہت ہی کم سمجھتے ہیں۔ مذکورہ تمام معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ ان کے عدم فہم اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام میں عدم تفقہ پر زجر و توبیخ ہے۔ اور اس کا سبب ان کا کفر اور روگردانی ہے۔اس آیت کریمہ میں ضمناً ان لوگوں کی مدح کا پہلو نکلتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکے احکام کا فہم رکھتے ہیں۔ نیز اس میں فہم اور اس کے اسباب کے حصول کی ترغیب ہے۔ یہ فہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے کلام میں تدبر و تفکر اور اس منزل تک پہنچانے والے راستوں پر گامزن ہونے ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو سمجھا ہوتا تو معلوم ہو جاتا کہ نیکی اور برائی اور خیر و شر سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے کوئی چیز باہر نہیں۔ نیز انبیاء و رسل اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کبھی بھی شر کا باعث نہیں ہوتیں کیونکہ وہ تو دین و دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لیے مبعوث کیے جاتے ہیں۔[79] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَاۤ اَصَابَكَ مِنۡ حَسَنَةٍ ﴾ ’’تجھ کو جو فائدہ پہنچے۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں تجھے جو بھلائی حاصل ہوتی ہے ﴿ فَمِنَ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘ وہی ہے جس نے اس بھلائی سے نوازا اور اس کے اسباب پیدا کر کے اس کے حصول کو آسان بنایا ﴿ وَمَاۤ اَصَابَكَ مِنۡ سَيِّئَةٍ﴾ ’’تجھے جو نقصان پہنچے۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں تجھے جو برائی پہنچتی ہے ﴿ فَمِنۡ نَّفۡسِكَ ﴾ ’’وہ تیری طرف سے ہے۔‘‘ یعنی تیرے اپنے گناہوں کی وجہ سے اور تیری اپنی کمائی ہے اور جو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے فضل و احسان کے دروازے کھول دیے ہیں اس نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے فضل و کرم سے بہرہ مند ہونے کے لیے ان دروازوں میں داخل ہوں اور انھیں آگاہ فرمایا ہے کہ گناہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حصول سے مانع ہیں۔ اس لیے جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اسے صرف اپنے نفس کو ملامت کرنی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حصول سے تو وہ خود مانع ہوا۔پھر اللہ تعالیٰ نے جناب محمدﷺکی رسالت کی عمومیت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا ﴿ وَاَرۡسَلۡنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوۡلًا١ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًا ﴾ ’’اور اے محمد(ﷺ)ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اور (اس بات کا) اللہ ہی گواہ کافی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی شہادت اس بات پر کافی ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی فتح و نصرت، بڑے بڑے معجزات اور روشن براہین و دلائل کے ساتھ آپ کی تائید فرمائی۔ اور یہ علی الاطلاق سب سے بڑی شہادت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ قُلۡ اَيُّ شَيۡءٍ اَكۡبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِيۡدٌۢ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَؔكُمۡ ﴾(الانعام : 6؍19) ’’ان سے پوچھو کہ سب سے بڑی شہادت کس چیز کی ہے۔ کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ ہی میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے۔‘‘جب اسے یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کا علم کامل، اس کی قدرت تام اور اس کی حکمت عظیم ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اپنی تائید سے نوازا اور نصرت عظیم کے ذریعے سے اس کی مدد فرمائی۔ تو اسے یقین ہو جائے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ ورنہ اگر آپ نے جھوٹ گھڑا ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ کو دائیں ہاتھ سے پکڑتا اور آپﷺکی رگ جاں کاٹ دیتا۔
4:78

أَيۡنَمَا تَكُونُواْ يُدۡرِككُّمُ ٱلۡمَوۡتُ وَلَوۡ كُنتُمۡ فِي بُرُوجٖ مُّشَيَّدَةٖۗ وَإِن تُصِبۡهُمۡ حَسَنَةٞ يَقُولُواْ هَٰذِهِۦ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِۖ وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٞ يَقُولُواْ هَٰذِهِۦ مِنۡ عِندِكَۚ قُلۡ كُلّٞ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِۖ فَمَالِ هَـٰٓؤُلَآءِ ٱلۡقَوۡمِ لَا يَكَادُونَ يَفۡقَهُونَ حَدِيثٗا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی کہ کہا گیا ان سے، روکے رکھو تم اپنے ہاتھ اور قائم کرو نماز اور دو تم زکاۃ، پھر جب لکھ دیا (فرض کر دیا) گیا ان پر لڑنا، تب ایک فریق ان میں سے ڈرتا تھا وہ لوگوں سے، مانند ڈرنے کے اللہ سے یا اس سے بھی زیادہ سخت ڈرنااور کہا انھوں نے، اے ہمارے رب! کیوں لکھا (فرض کیا) تونے ہم پر لڑنا؟ کیوں نہ مہلت دی تونے ہمیں ایک مدت قریب تک؟ کہہ دیجیے! فائدہ دنیا کا تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے اس کے لیے جس نے تقویٰ اختیار کیا اور نہ ظلم کیے جاؤ گے تم تاگے برابر(77) جہاں کہیں بھی ہوگے تم! پا لے گی تمھیں موت خواہ ہو تم قلعہ ہائے مضبوط میں اور اگر پہنچے ان کو کوئی بھلائی تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر پہنچے ان کو کوئی برائی (تکلیف) تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے، کہہ دیجیے! سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے، پس کیا حال ہے ان لوگوں کا؟ نہیں قریب کہ سمجھیں بات کو(78) جو پہنچے (اے انسان!) تجھ کو کوئی بھلائی تو (وہ) اللہ کی طرف سے ہے اور جو پہنچے تجھ کو برائی (تکلیف) تو (وہ) تیری اپنی طرف سے ہےاور بھیجا ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے رسول بنا کراور کافی ہے اللہ گواہ(79) [77]جب مسلمان مکہ مکرمہ میں تھے تو انھیں نماز اور زکٰوۃ کا حکم دیا گیا تھا۔ یعنی محتاجوں کی غمگساری کرنا۔ اور اس سے مراد وہ معروف زکٰوۃ نہیں جو ایک مخصوص نصاب کے مطابق اور مخصوص شرائط کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ یہ زکٰوۃ مدینہ منورہ میں فرض ہوئی تھی اسی طرح اس وقت تک متعدد فوائد کی بنا پر جہاد کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ مثلاً:(۱)اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں پر شریعت کے احکام اس طرح فرض کرے کہ وہ ان پر شاق نہ گزریں۔ سب سے پہلے اہم ترین امر کا حکم دے، پھر آسان امور سے ابتدا کر کے بتدریج مشکل امور کا حکم دے۔(۲) اگر اہل ایمان پر ان کی قلت تعداد و قلت سامان اور کثرت اعداء کے باوجود قتال فرض کر دیا جاتا تو یہ چیز اسلام کو مضمحل کر دیتی۔ اس لیے چھوٹی مصلحت کو نظر انداز کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی گئی اور اس میں اس قسم کی دیگر حکمتیں تھیں۔بعض اہل ایمان چاہتے تھے کہ اس حال میں بھی ان پر قتال فرض کر دیا جاتا۔ مگر ان حالات میں ان پر جہاد فرض کیا جانا مناسب نہ تھا۔ اس وقت ان لوگوں کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ توحید، نماز، زکٰوۃ اور اس نوع کے دیگر احکام پر عمل کرتے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ فَعَلُوۡا مَا يُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَشَدَّ تَثۡبِيۡتًا﴾(النساء : 4؍66) ’’اگر یہ اس نصیحت پر عمل کرتے جو ان کو کی جاتی ہے تو ان کے لیے بہتر ہوتا اور دین میں زیادہ ثابت قدمی اور استقامت کا باعث ہوتا۔‘‘جب مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور اسلام قوی ہو گیا تو مناسب وقت پر ان پر قتال فرض کر دیا گیا۔وہ لوگ جو اس سے قبل قتال فرض ہونے کے لیے جلدی مچاتے تھے ان میں سے ایک گروہ نے لوگوں کے خوف، کمزوری اور بزدلی کی وجہ سے کہا۔ ﴿ رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا الۡقِتَالَ ﴾ ’’اے ہمارے رب تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا؟‘‘ ان الفاظ سے ان کی تنگ دلی اور اللہ تعالیٰ پر اعتراض کا اظہار ہوتا ہے حالانکہ ان کے لیے مناسب حال یہ تھا کہ وہ اس سے متضاد رویہ کا اظہار کرتے یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور اس کے اوامر پر صبر کرنا، مگر جو کچھ ان سے مطلوب تھا انھوں نے اس کے برعکس کیا۔ پس انھوں نے کہا ﴿ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ ﴾ ’’تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی۔‘‘ یعنی تو نے قتال کی فرضیت کچھ عرصہ اور متاخر کیوں نہ کر دی۔ غالب طور پر اس قسم کی صورت ان لوگوں کو پیش آتی ہے جو غیر سنجیدہ ہوتے ہیں اور تمام امور میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا غالب رویہ یہ ہوتا ہے کہ ان امور کے نازل ہونے پر یہ لوگ صبر نہیں کر سکتے۔ یہ امور ان کے لیے بوجھل تو نہیں مگر یہ لوگ بہت ہی کم صبر سے بہرہ ور ہیں۔جن حالات میں وہ جہاد سے جی چرا کر بیٹھ رہے ان سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو نصیحت کی چنانچہ فرمایا: ﴿ قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡيَا قَلِيۡلٌ١ۚ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے دنیا کا فائدہ تو بہت ہی کم ہے اور آخرت اس شخص کے لیے بہتر ہے جو متقی ہے‘‘ یعنی دنیا کی لذت اور راحت سے فائدہ اٹھانا بہت ہی کم عرصہ کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں تھوڑی سی مدت کے لیے بھاری بوجھ اٹھانا نفوس انسانی کے لیے آسان اور ہلکا ہوتا ہے۔ کیونکہ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مشقت جو وہ برداشت کر رہا ہے طویل عرصے کے لیے نہیں ہے تو اس کے لیے اس کو برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ تب کیا کیفیت ہو گی جب تو دنیا اور آخرت کا موازنہ کرے اور معلوم ہو کہ آخرت اپنی ذات اور لذات میں اور زمان کے اعتبار سے دنیا سے کہیں بہتر ہے جنت کی ذات کے بارے میں ایک صحیح حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’’جنت میں ایک کوڑے کے برابر جگہ دنیا اور اس کی موجودات سے کہیں بہتر ہے۔‘‘(جامع ترمذی، تفسير، باب ومن سورۃ آل عمران، حديث:3513)جنت کی لذتیں ہر قسم کی کدورتوں سے پاک ہیں بلکہ لذت کا جو تصور بھی فکر و خیال کی گرفت میں آ سکتا ہے۔ جنت کی لذتیں اس پر فوقیت رکھتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ ﴾(السجدۃ : 32؍17) ’’کوئی انسان نہیں جانتا کہ ان کے لیے (جنت میں) کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبیﷺکی زبان پر فرمایا: ’’میں نے (جنت میں) اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں ان کا کبھی گزر ہوا ہے۔‘‘(مسند أحمد:2؍438)رہی دنیا کی لذتیں تو یہ مختلف قسم کی کدورتوں کے شائبے سے پاک نہیں ہوتیں۔ اگر ان لذات کا ان آلام و مصائب اور غم و ہموم سے مقابلہ کیاجائے جو ان لذات کے ساتھ ملے ہوتے ہیں تو جنت کی لذتوں کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے ان کی کوئی نسبت ہی نہیں۔ رہا ان لذتوں کا زمانہ، تو دنیا آخر کار ختم ہو جائے گی اور انسان کی عمر، دنیا کی نسبت سے نہایت ہی معمولی سا عرصہ ہے۔ آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں اور وہاں کے رہنے والوں کے لیے ہمیشہ کی زندگی ہے۔ جب عقلمند شخص ان دو گھروں کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے اور ان کی حقیقت کا تصور کرتا ہے جیسا کہ تصور کرنے کا حق ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کون سا گھر ترجیح کا مستحق ہے؟ کس کے لیے کوشش کرنی چاہیے اور کس کی طلب میں اسے جدوجہد کرنی چاہیے؟ ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى ﴾ ’’اور پرہیز گار کے لیے آخرت تو بہت اچھی چیز ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور دیگر تمام محرمات سے بچتا ہے اس کے لیے آخرت بہتر ہے۔ ﴿ وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ﴾’’اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا‘‘ تم آخرت کے گھر کے لیے جو دوڑ دھوپ کرو گے تو اس کا کامل اور وافر اجر پاؤ گے جس میں کچھ بھی کمی نہ ہو گی۔[78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ بچاؤ کی تدبیر تقدیر کے مقابلے میں کوئی کام نہیں آسکتی اور گھر میں بیٹھ رہنے والے کا بیٹھنا، اللہ کی تقدیر کو ہٹا نہیں سکتا۔ ﴿ اَيۡنَ مَا تَكُوۡنُوۡا يُدۡرِكۡكُّمُ الۡمَوۡتُ ﴾ ’’تم جہاں کہیں بھی رہو موت تمھیں آ پکڑے گی‘‘ یعنی تم کسی زمانے میں اور کسی بھی جگہ پر ہو ﴿ وَلَوۡؔ كُنۡتُمۡ فِيۡ بُرُوۡجٍ مُّشَيَّدَةٍ ﴾ ’’خواہ تم مضبوط قلعوں اور اونچے محلوں میں ہی پناہ کیوں نہ لے لو (موت تمھیں پا لے گی)۔‘‘یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کی ترغیب کے لیے ہے اللہ تعالیٰ کبھی تو جہاد کی فضیلت اور اس کا ثواب بیان کر کے اس کی ترغیب دیتا ہے اور کبھی جہاد کو ترک کرنے کی سزا سے ڈرا کر جہاد پر آمادہ کرتا ہے۔ کبھی اس بارے میں آگاہ کر کے جہاد کے لیے ابھارتا ہے کہ جہاد سے جی چرا کر گھروں میں بیٹھ رہنے والوں کا بیٹھنا کسی کام نہیں آتا۔ اور کبھی کبھی اللہ تعالیٰ جہاد کے راستے کو ان کے لیے آسان کر دیتا ہے۔﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ حَسَنَةٌ ﴾ ’’اور اگر انھیں کوئی بھلائی ملتی ہے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو علم نہیں رکھتے، انبیاء و رسل علیہ السلام کی تعلیمات سے روگردانی اور ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ جب انھیں کوئی بھلائی مثلاً شادابی، کثرت مال، کثرت اولاد اور صحت وغیرہ حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں ﴿ هٰؔذِهٖ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘ جب انھیں کسی تکلیف مثلاً قحط، فقر و فاقہ، احباب و اولاد کی موت اور مرض وغیرہ کا سامنا ہوتا ہے تو پکار اٹھتے ہیں:﴿ هٰؔذِهٖ مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ’’یہ (تکلیف) آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچی) ہے۔‘‘ یعنی اے محمدﷺ!یہ تمام مصیبت اس کے سبب سے آن پڑی ہے جو آپ لے کر آئے ہیں۔ انھوں نے رسول اللہﷺکی ذات اقدس سے بدشگونی لی، جیسا کہ ان سے پہلے کفار اللہ تعالیٰ کے رسولوں سے برا شگون لیتے رہے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی قوم کے بارے میں خبر دی ہے:﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ١ۚ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾(الاعراف : 7؍131) ’’جب ان کو کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے تو موسیٰ اور ان کے اصحاب کی بدشگونی قرار دیتے ہیں۔‘‘ اور جیسا کہ حضرت صالحuکی قوم نے کہا: ﴿ اطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَنۡ مَّعَكَ ﴾(النمل : 27؍47) ’’تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے بدشگونی کا باعث ہیں۔‘‘ اور جیسے یاسین کی قوم نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿ اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ١ۚ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ﴾(یٰسین : 36؍18) ’’ہم تمھیں بدشگون سمجھتے ہیں اگر تم باز نہیں آؤ گے تو ہم تمھیں سنگسار کر دیں گے۔‘‘چونکہ کفر کی وجہ سے ان کے دل باہم مشابہ ہیں اس لیے ان کے اقوال و افعال میں بھی مشابہت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو برائی کے حصول اور بھلائی کے زوال کو انبیائے کرام کی تعلیمات یا بعض تعلیمات سے منسوب کرتے ہیں وہ اس مذمت میں داخل ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے: ﴿ قُلۡ كُلٌّ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ سب‘‘ یعنی نیکی اور برائی خیر اور شر ﴿ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ ہی کی طرف سے ہے۔‘‘ یعنی سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے اور اسی کی تخلیق ہے ﴿ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الۡقَوۡمِ ﴾ ’’انھیں کیا ہو گیا ہے؟‘‘ یعنی جن لوگوں سے یہ باطل قول صادر ہوا ہے ﴿ لَا يَكَادُوۡنَ يَفۡقَهُوۡنَ حَدِيۡثًا ﴾’’کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے۔‘‘ یعنی یہ لوگ بات کو بالکل ہی نہیں سمجھ پاتے اور نہ یہ لوگ سمجھنے کے قریب جاتے ہیں۔ یا یہ لوگ بات کو بہت ہی کم سمجھتے ہیں۔ مذکورہ تمام معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ ان کے عدم فہم اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام میں عدم تفقہ پر زجر و توبیخ ہے۔ اور اس کا سبب ان کا کفر اور روگردانی ہے۔اس آیت کریمہ میں ضمناً ان لوگوں کی مدح کا پہلو نکلتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکے احکام کا فہم رکھتے ہیں۔ نیز اس میں فہم اور اس کے اسباب کے حصول کی ترغیب ہے۔ یہ فہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے کلام میں تدبر و تفکر اور اس منزل تک پہنچانے والے راستوں پر گامزن ہونے ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو سمجھا ہوتا تو معلوم ہو جاتا کہ نیکی اور برائی اور خیر و شر سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے کوئی چیز باہر نہیں۔ نیز انبیاء و رسل اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کبھی بھی شر کا باعث نہیں ہوتیں کیونکہ وہ تو دین و دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لیے مبعوث کیے جاتے ہیں۔[79] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَاۤ اَصَابَكَ مِنۡ حَسَنَةٍ ﴾ ’’تجھ کو جو فائدہ پہنچے۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں تجھے جو بھلائی حاصل ہوتی ہے ﴿ فَمِنَ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘ وہی ہے جس نے اس بھلائی سے نوازا اور اس کے اسباب پیدا کر کے اس کے حصول کو آسان بنایا ﴿ وَمَاۤ اَصَابَكَ مِنۡ سَيِّئَةٍ﴾ ’’تجھے جو نقصان پہنچے۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں تجھے جو برائی پہنچتی ہے ﴿ فَمِنۡ نَّفۡسِكَ ﴾ ’’وہ تیری طرف سے ہے۔‘‘ یعنی تیرے اپنے گناہوں کی وجہ سے اور تیری اپنی کمائی ہے اور جو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے فضل و احسان کے دروازے کھول دیے ہیں اس نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے فضل و کرم سے بہرہ مند ہونے کے لیے ان دروازوں میں داخل ہوں اور انھیں آگاہ فرمایا ہے کہ گناہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حصول سے مانع ہیں۔ اس لیے جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اسے صرف اپنے نفس کو ملامت کرنی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حصول سے تو وہ خود مانع ہوا۔پھر اللہ تعالیٰ نے جناب محمدﷺکی رسالت کی عمومیت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا ﴿ وَاَرۡسَلۡنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوۡلًا١ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًا ﴾ ’’اور اے محمد(ﷺ)ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اور (اس بات کا) اللہ ہی گواہ کافی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی شہادت اس بات پر کافی ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی فتح و نصرت، بڑے بڑے معجزات اور روشن براہین و دلائل کے ساتھ آپ کی تائید فرمائی۔ اور یہ علی الاطلاق سب سے بڑی شہادت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ قُلۡ اَيُّ شَيۡءٍ اَكۡبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِيۡدٌۢ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَؔكُمۡ ﴾(الانعام : 6؍19) ’’ان سے پوچھو کہ سب سے بڑی شہادت کس چیز کی ہے۔ کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ ہی میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے۔‘‘جب اسے یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کا علم کامل، اس کی قدرت تام اور اس کی حکمت عظیم ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اپنی تائید سے نوازا اور نصرت عظیم کے ذریعے سے اس کی مدد فرمائی۔ تو اسے یقین ہو جائے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ ورنہ اگر آپ نے جھوٹ گھڑا ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ کو دائیں ہاتھ سے پکڑتا اور آپﷺکی رگ جاں کاٹ دیتا۔
4:79

مَّآ أَصَابَكَ مِنۡ حَسَنَةٖ فَمِنَ ٱللَّهِۖ وَمَآ أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٖ فَمِن نَّفۡسِكَۚ وَأَرۡسَلۡنَٰكَ لِلنَّاسِ رَسُولٗاۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدٗا

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی کہ کہا گیا ان سے، روکے رکھو تم اپنے ہاتھ اور قائم کرو نماز اور دو تم زکاۃ، پھر جب لکھ دیا (فرض کر دیا) گیا ان پر لڑنا، تب ایک فریق ان میں سے ڈرتا تھا وہ لوگوں سے، مانند ڈرنے کے اللہ سے یا اس سے بھی زیادہ سخت ڈرنااور کہا انھوں نے، اے ہمارے رب! کیوں لکھا (فرض کیا) تونے ہم پر لڑنا؟ کیوں نہ مہلت دی تونے ہمیں ایک مدت قریب تک؟ کہہ دیجیے! فائدہ دنیا کا تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے اس کے لیے جس نے تقویٰ اختیار کیا اور نہ ظلم کیے جاؤ گے تم تاگے برابر(77) جہاں کہیں بھی ہوگے تم! پا لے گی تمھیں موت خواہ ہو تم قلعہ ہائے مضبوط میں اور اگر پہنچے ان کو کوئی بھلائی تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر پہنچے ان کو کوئی برائی (تکلیف) تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے، کہہ دیجیے! سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے، پس کیا حال ہے ان لوگوں کا؟ نہیں قریب کہ سمجھیں بات کو(78) جو پہنچے (اے انسان!) تجھ کو کوئی بھلائی تو (وہ) اللہ کی طرف سے ہے اور جو پہنچے تجھ کو برائی (تکلیف) تو (وہ) تیری اپنی طرف سے ہےاور بھیجا ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے رسول بنا کراور کافی ہے اللہ گواہ(79) [77]جب مسلمان مکہ مکرمہ میں تھے تو انھیں نماز اور زکٰوۃ کا حکم دیا گیا تھا۔ یعنی محتاجوں کی غمگساری کرنا۔ اور اس سے مراد وہ معروف زکٰوۃ نہیں جو ایک مخصوص نصاب کے مطابق اور مخصوص شرائط کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ یہ زکٰوۃ مدینہ منورہ میں فرض ہوئی تھی اسی طرح اس وقت تک متعدد فوائد کی بنا پر جہاد کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ مثلاً:(۱)اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں پر شریعت کے احکام اس طرح فرض کرے کہ وہ ان پر شاق نہ گزریں۔ سب سے پہلے اہم ترین امر کا حکم دے، پھر آسان امور سے ابتدا کر کے بتدریج مشکل امور کا حکم دے۔(۲) اگر اہل ایمان پر ان کی قلت تعداد و قلت سامان اور کثرت اعداء کے باوجود قتال فرض کر دیا جاتا تو یہ چیز اسلام کو مضمحل کر دیتی۔ اس لیے چھوٹی مصلحت کو نظر انداز کر کے بڑی مصلحت کی رعایت رکھی گئی اور اس میں اس قسم کی دیگر حکمتیں تھیں۔بعض اہل ایمان چاہتے تھے کہ اس حال میں بھی ان پر قتال فرض کر دیا جاتا۔ مگر ان حالات میں ان پر جہاد فرض کیا جانا مناسب نہ تھا۔ اس وقت ان لوگوں کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ توحید، نماز، زکٰوۃ اور اس نوع کے دیگر احکام پر عمل کرتے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ فَعَلُوۡا مَا يُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَشَدَّ تَثۡبِيۡتًا﴾(النساء : 4؍66) ’’اگر یہ اس نصیحت پر عمل کرتے جو ان کو کی جاتی ہے تو ان کے لیے بہتر ہوتا اور دین میں زیادہ ثابت قدمی اور استقامت کا باعث ہوتا۔‘‘جب مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور اسلام قوی ہو گیا تو مناسب وقت پر ان پر قتال فرض کر دیا گیا۔وہ لوگ جو اس سے قبل قتال فرض ہونے کے لیے جلدی مچاتے تھے ان میں سے ایک گروہ نے لوگوں کے خوف، کمزوری اور بزدلی کی وجہ سے کہا۔ ﴿ رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا الۡقِتَالَ ﴾ ’’اے ہمارے رب تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا؟‘‘ ان الفاظ سے ان کی تنگ دلی اور اللہ تعالیٰ پر اعتراض کا اظہار ہوتا ہے حالانکہ ان کے لیے مناسب حال یہ تھا کہ وہ اس سے متضاد رویہ کا اظہار کرتے یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور اس کے اوامر پر صبر کرنا، مگر جو کچھ ان سے مطلوب تھا انھوں نے اس کے برعکس کیا۔ پس انھوں نے کہا ﴿ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ ﴾ ’’تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی۔‘‘ یعنی تو نے قتال کی فرضیت کچھ عرصہ اور متاخر کیوں نہ کر دی۔ غالب طور پر اس قسم کی صورت ان لوگوں کو پیش آتی ہے جو غیر سنجیدہ ہوتے ہیں اور تمام امور میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا غالب رویہ یہ ہوتا ہے کہ ان امور کے نازل ہونے پر یہ لوگ صبر نہیں کر سکتے۔ یہ امور ان کے لیے بوجھل تو نہیں مگر یہ لوگ بہت ہی کم صبر سے بہرہ ور ہیں۔جن حالات میں وہ جہاد سے جی چرا کر بیٹھ رہے ان سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو نصیحت کی چنانچہ فرمایا: ﴿ قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡيَا قَلِيۡلٌ١ۚ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے دنیا کا فائدہ تو بہت ہی کم ہے اور آخرت اس شخص کے لیے بہتر ہے جو متقی ہے‘‘ یعنی دنیا کی لذت اور راحت سے فائدہ اٹھانا بہت ہی کم عرصہ کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں تھوڑی سی مدت کے لیے بھاری بوجھ اٹھانا نفوس انسانی کے لیے آسان اور ہلکا ہوتا ہے۔ کیونکہ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مشقت جو وہ برداشت کر رہا ہے طویل عرصے کے لیے نہیں ہے تو اس کے لیے اس کو برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ تب کیا کیفیت ہو گی جب تو دنیا اور آخرت کا موازنہ کرے اور معلوم ہو کہ آخرت اپنی ذات اور لذات میں اور زمان کے اعتبار سے دنیا سے کہیں بہتر ہے جنت کی ذات کے بارے میں ایک صحیح حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’’جنت میں ایک کوڑے کے برابر جگہ دنیا اور اس کی موجودات سے کہیں بہتر ہے۔‘‘(جامع ترمذی، تفسير، باب ومن سورۃ آل عمران، حديث:3513)جنت کی لذتیں ہر قسم کی کدورتوں سے پاک ہیں بلکہ لذت کا جو تصور بھی فکر و خیال کی گرفت میں آ سکتا ہے۔ جنت کی لذتیں اس پر فوقیت رکھتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ ﴾(السجدۃ : 32؍17) ’’کوئی انسان نہیں جانتا کہ ان کے لیے (جنت میں) کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبیﷺکی زبان پر فرمایا: ’’میں نے (جنت میں) اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں ان کا کبھی گزر ہوا ہے۔‘‘(مسند أحمد:2؍438)رہی دنیا کی لذتیں تو یہ مختلف قسم کی کدورتوں کے شائبے سے پاک نہیں ہوتیں۔ اگر ان لذات کا ان آلام و مصائب اور غم و ہموم سے مقابلہ کیاجائے جو ان لذات کے ساتھ ملے ہوتے ہیں تو جنت کی لذتوں کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے ان کی کوئی نسبت ہی نہیں۔ رہا ان لذتوں کا زمانہ، تو دنیا آخر کار ختم ہو جائے گی اور انسان کی عمر، دنیا کی نسبت سے نہایت ہی معمولی سا عرصہ ہے۔ آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں اور وہاں کے رہنے والوں کے لیے ہمیشہ کی زندگی ہے۔ جب عقلمند شخص ان دو گھروں کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے اور ان کی حقیقت کا تصور کرتا ہے جیسا کہ تصور کرنے کا حق ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کون سا گھر ترجیح کا مستحق ہے؟ کس کے لیے کوشش کرنی چاہیے اور کس کی طلب میں اسے جدوجہد کرنی چاہیے؟ ﴿ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى ﴾ ’’اور پرہیز گار کے لیے آخرت تو بہت اچھی چیز ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی شرک اور دیگر تمام محرمات سے بچتا ہے اس کے لیے آخرت بہتر ہے۔ ﴿ وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ﴾’’اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا‘‘ تم آخرت کے گھر کے لیے جو دوڑ دھوپ کرو گے تو اس کا کامل اور وافر اجر پاؤ گے جس میں کچھ بھی کمی نہ ہو گی۔[78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ بچاؤ کی تدبیر تقدیر کے مقابلے میں کوئی کام نہیں آسکتی اور گھر میں بیٹھ رہنے والے کا بیٹھنا، اللہ کی تقدیر کو ہٹا نہیں سکتا۔ ﴿ اَيۡنَ مَا تَكُوۡنُوۡا يُدۡرِكۡكُّمُ الۡمَوۡتُ ﴾ ’’تم جہاں کہیں بھی رہو موت تمھیں آ پکڑے گی‘‘ یعنی تم کسی زمانے میں اور کسی بھی جگہ پر ہو ﴿ وَلَوۡؔ كُنۡتُمۡ فِيۡ بُرُوۡجٍ مُّشَيَّدَةٍ ﴾ ’’خواہ تم مضبوط قلعوں اور اونچے محلوں میں ہی پناہ کیوں نہ لے لو (موت تمھیں پا لے گی)۔‘‘یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کی ترغیب کے لیے ہے اللہ تعالیٰ کبھی تو جہاد کی فضیلت اور اس کا ثواب بیان کر کے اس کی ترغیب دیتا ہے اور کبھی جہاد کو ترک کرنے کی سزا سے ڈرا کر جہاد پر آمادہ کرتا ہے۔ کبھی اس بارے میں آگاہ کر کے جہاد کے لیے ابھارتا ہے کہ جہاد سے جی چرا کر گھروں میں بیٹھ رہنے والوں کا بیٹھنا کسی کام نہیں آتا۔ اور کبھی کبھی اللہ تعالیٰ جہاد کے راستے کو ان کے لیے آسان کر دیتا ہے۔﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ حَسَنَةٌ ﴾ ’’اور اگر انھیں کوئی بھلائی ملتی ہے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو علم نہیں رکھتے، انبیاء و رسل علیہ السلام کی تعلیمات سے روگردانی اور ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ جب انھیں کوئی بھلائی مثلاً شادابی، کثرت مال، کثرت اولاد اور صحت وغیرہ حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں ﴿ هٰؔذِهٖ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘ جب انھیں کسی تکلیف مثلاً قحط، فقر و فاقہ، احباب و اولاد کی موت اور مرض وغیرہ کا سامنا ہوتا ہے تو پکار اٹھتے ہیں:﴿ هٰؔذِهٖ مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ’’یہ (تکلیف) آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچی) ہے۔‘‘ یعنی اے محمدﷺ!یہ تمام مصیبت اس کے سبب سے آن پڑی ہے جو آپ لے کر آئے ہیں۔ انھوں نے رسول اللہﷺکی ذات اقدس سے بدشگونی لی، جیسا کہ ان سے پہلے کفار اللہ تعالیٰ کے رسولوں سے برا شگون لیتے رہے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی قوم کے بارے میں خبر دی ہے:﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ١ۚ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾(الاعراف : 7؍131) ’’جب ان کو کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے تو موسیٰ اور ان کے اصحاب کی بدشگونی قرار دیتے ہیں۔‘‘ اور جیسا کہ حضرت صالحuکی قوم نے کہا: ﴿ اطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَنۡ مَّعَكَ ﴾(النمل : 27؍47) ’’تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے بدشگونی کا باعث ہیں۔‘‘ اور جیسے یاسین کی قوم نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿ اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ١ۚ لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ﴾(یٰسین : 36؍18) ’’ہم تمھیں بدشگون سمجھتے ہیں اگر تم باز نہیں آؤ گے تو ہم تمھیں سنگسار کر دیں گے۔‘‘چونکہ کفر کی وجہ سے ان کے دل باہم مشابہ ہیں اس لیے ان کے اقوال و افعال میں بھی مشابہت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو برائی کے حصول اور بھلائی کے زوال کو انبیائے کرام کی تعلیمات یا بعض تعلیمات سے منسوب کرتے ہیں وہ اس مذمت میں داخل ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے: ﴿ قُلۡ كُلٌّ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ سب‘‘ یعنی نیکی اور برائی خیر اور شر ﴿ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ ہی کی طرف سے ہے۔‘‘ یعنی سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے اور اسی کی تخلیق ہے ﴿ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الۡقَوۡمِ ﴾ ’’انھیں کیا ہو گیا ہے؟‘‘ یعنی جن لوگوں سے یہ باطل قول صادر ہوا ہے ﴿ لَا يَكَادُوۡنَ يَفۡقَهُوۡنَ حَدِيۡثًا ﴾’’کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے۔‘‘ یعنی یہ لوگ بات کو بالکل ہی نہیں سمجھ پاتے اور نہ یہ لوگ سمجھنے کے قریب جاتے ہیں۔ یا یہ لوگ بات کو بہت ہی کم سمجھتے ہیں۔ مذکورہ تمام معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ ان کے عدم فہم اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام میں عدم تفقہ پر زجر و توبیخ ہے۔ اور اس کا سبب ان کا کفر اور روگردانی ہے۔اس آیت کریمہ میں ضمناً ان لوگوں کی مدح کا پہلو نکلتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکے احکام کا فہم رکھتے ہیں۔ نیز اس میں فہم اور اس کے اسباب کے حصول کی ترغیب ہے۔ یہ فہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے کلام میں تدبر و تفکر اور اس منزل تک پہنچانے والے راستوں پر گامزن ہونے ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو سمجھا ہوتا تو معلوم ہو جاتا کہ نیکی اور برائی اور خیر و شر سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے کوئی چیز باہر نہیں۔ نیز انبیاء و رسل اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات کبھی بھی شر کا باعث نہیں ہوتیں کیونکہ وہ تو دین و دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لیے مبعوث کیے جاتے ہیں۔[79] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَاۤ اَصَابَكَ مِنۡ حَسَنَةٍ ﴾ ’’تجھ کو جو فائدہ پہنچے۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں تجھے جو بھلائی حاصل ہوتی ہے ﴿ فَمِنَ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘ وہی ہے جس نے اس بھلائی سے نوازا اور اس کے اسباب پیدا کر کے اس کے حصول کو آسان بنایا ﴿ وَمَاۤ اَصَابَكَ مِنۡ سَيِّئَةٍ﴾ ’’تجھے جو نقصان پہنچے۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں تجھے جو برائی پہنچتی ہے ﴿ فَمِنۡ نَّفۡسِكَ ﴾ ’’وہ تیری طرف سے ہے۔‘‘ یعنی تیرے اپنے گناہوں کی وجہ سے اور تیری اپنی کمائی ہے اور جو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے فضل و احسان کے دروازے کھول دیے ہیں اس نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے فضل و کرم سے بہرہ مند ہونے کے لیے ان دروازوں میں داخل ہوں اور انھیں آگاہ فرمایا ہے کہ گناہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حصول سے مانع ہیں۔ اس لیے جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اسے صرف اپنے نفس کو ملامت کرنی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حصول سے تو وہ خود مانع ہوا۔پھر اللہ تعالیٰ نے جناب محمدﷺکی رسالت کی عمومیت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا ﴿ وَاَرۡسَلۡنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوۡلًا١ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًا ﴾ ’’اور اے محمد(ﷺ)ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اور (اس بات کا) اللہ ہی گواہ کافی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی شہادت اس بات پر کافی ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی فتح و نصرت، بڑے بڑے معجزات اور روشن براہین و دلائل کے ساتھ آپ کی تائید فرمائی۔ اور یہ علی الاطلاق سب سے بڑی شہادت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ قُلۡ اَيُّ شَيۡءٍ اَكۡبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِيۡدٌۢ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَؔكُمۡ ﴾(الانعام : 6؍19) ’’ان سے پوچھو کہ سب سے بڑی شہادت کس چیز کی ہے۔ کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ ہی میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے۔‘‘جب اسے یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کا علم کامل، اس کی قدرت تام اور اس کی حکمت عظیم ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اپنی تائید سے نوازا اور نصرت عظیم کے ذریعے سے اس کی مدد فرمائی۔ تو اسے یقین ہو جائے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ ورنہ اگر آپ نے جھوٹ گھڑا ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ کو دائیں ہاتھ سے پکڑتا اور آپﷺکی رگ جاں کاٹ دیتا۔
4:80

مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدۡ أَطَاعَ ٱللَّهَۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيظٗا

جس نے اطاعت کی رسول کی پس تحقیق اطاعت کی اس نے اللہ کی اور جس نے روگردانی کی تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان پر نگہبان(80) اور (منافق) کہتے ہیں (ہمارا کام تو) فرماں برداری ہے، پھر جب نکلتے ہیں وہ آپ کے پاس سے تورات کو مشورہ کرتا ہے ایک گروہ ان میں سے خلاف اس (بات) کے جو کہتے ہیں آپ، اور اللہ لکھتا ہے جو وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں، پس اعراض کریں آپ ان سے اور توکل کریں اللہ پر اور کافی ہے اللہ کارساز(81) [80] یعنی ہر وہ شخص جس نے اوامر و نواہی میں رسول اللہﷺکی اطاعت کی ﴿ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ ﴾ ’’اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘ کیونکہ اگر آپ کسی چیز کا حکم دیتے ہیں یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت، اس کی وحی اور تنزیل ہے۔ یہ آیت کریمہ رسول اللہﷺکی عصمت کی دلیل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا اگر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچانے کے بارے میں معصوم نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مطلق اطاعت کا حکم نہ دیتا اور اطاعت کرنے والوں کی مدح نہ فرماتا۔اور اس کا شمار مشترکہ حقوق میں ہوتا ہے۔ یہ حقوق تین اقسام میں منقسم ہوتے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ کا حق۔ یہ حق مخلوق میں سے کسی کے لیے نہیں ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی طرف رغبت ہے اور ان کے توابع ہیں۔(۲)رسول اللہﷺکا حق، جو صرف آپ کے ساتھ مختص ہے وہ ہے آپ کی توقیر اور آپ کا احترام اور آپ کی مدد کرنا۔(۳) حقوق کی تیسری قسم اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺکے درمیان مشترکہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، ان سے محبت کرنا اور ان کی اطاعت کرنا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان حقوق کو اس آیت کریمہ میں جمع کر دیا ہے ﴿ لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ١ؕ وَتُسَبِّحُوۡهُ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا ﴾(الفتح : 48؍9) ’’تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اس کی مدد اور اس کی توقیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔‘‘پس جس نے رسول اللہﷺکی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اس کے لیے وہی ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مترتب ہوتا ہے ﴿ وَمَنۡ تَوَلّٰى ﴾ ’’جس نے (اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے) منہ موڑا‘‘ وہ صرف اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نقصان نہیں کر سکتا ﴿ فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا﴾ ’’ہم نے آپ کو ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے آپ کو اس لیے مبعوث نہیں کیا کہ آپ ان کے اعمال و احوال کی نگہبانی کریں، بلکہ ہم نے تو آپ کو مبلغ، کھول کھول کر بیان کرنے والا اور ناصح بنا کر بھیجا ہے اور آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے آپ کے لیے آپ کا اجر واجب ہو گیا۔ خواہ وہ راہ راست اختیار کریں یا نہ کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌؕ۰۰۲۱ لَسۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِمُصَۜيۡطِرٍ﴾(الغاشیہ : 88؍21۔22) ’’تم ان کو نصیحت کرتے رہو اور تم صرف نصیحت کرنے والے ہی ہو۔ تم ان پر نگہبان نہیں۔‘‘ [81] نیز یہ بھی لازم ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ظاہر و باطن اور جلوت و خلوت میں ہو۔ رہا وہ شخص جو لوگوں کے سامنے اطاعت اور التزام کا اظہار کرتا ہے اور جب تنہا ہوتا ہے یا اپنے ہم مشرب ٹولے کے ساتھ ہوتا ہے تو اطاعت ترک کر دیتا ہے اور ایسے کام کرتا ہے جو اطاعت کی ضد ہوتے ہیں تو ایسی اطاعت جس کا اس نے اظہار کیا ہے اس کے لیے نفع مند اور مفید نہیں ہے۔ اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ طَاعَةٌ ﴾ ’’وہ کہتے ہیں مان لیا۔‘‘ یعنی جب وہ آپﷺکے پاس ہوتے ہیں تو اطاعت کا اظہار کرتے ہیں ﴿ فَاِذَا بَرَزُوۡا مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ’’جب وہ آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں‘‘ یعنی تنہا ہوتے ہیں اور ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ کوئی ان کی اس حالت سے مطلع نہیں ہوتا ﴿ بَيَّتَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡهُمۡ غَيۡرَ الَّذِيۡ تَقُوۡلُ ﴾ ’’مشورہ کرتے ہیں رات کو کچھ لوگ ان میں سے اس کے خلاف جو آپ کہتے ہیں۔‘‘ تو رات کے وقت آپﷺکی اطاعت کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں اور وہاں ان کے پاس نافرمانی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ بَيَّتَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡهُمۡ غَيۡرَ الَّذِيۡ تَقُوۡلُ ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ وہ معاملہ جس کو انھوں نے دائمی وتیرہ بنایا ہوا تھا وہ عدم اطاعت کا رویہ تھا۔ کیونکہ (تَبْیِیْت) سے مراد رات کے وقت اس طرح معاملات کی تدبیر کرنا ہے کہ اس پر رائے کا استقرار ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل پر وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاللّٰهُ يَكۡتُبُ مَا يُبَيِّتُوۡنَ ﴾ ’’اللہ لکھتا ہے جو وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی ان کارستانیوں کو محفوظ کر رہا ہے وہ عنقریب ان کو ان کارستانیوں کی پوری پوری جزا دے گا یہ ان کے لیے وعید ہے۔ان کی ان کارستانیوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو اعراض اور سختی کا حکم دیا ہے۔ اگر آپﷺنے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا، اس کے دین کی نصرت اور اس کی شریعت کے نفاذ میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی تو وہ آپﷺکو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ﴿ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’پس آپ ان سے منہ پھیر لیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اللہ تعالیٰ کافی کارساز ہے۔‘‘
4:81

وَيَقُولُونَ طَاعَةٞ فَإِذَا بَرَزُواْ مِنۡ عِندِكَ بَيَّتَ طَآئِفَةٞ مِّنۡهُمۡ غَيۡرَ ٱلَّذِي تَقُولُۖ وَٱللَّهُ يَكۡتُبُ مَا يُبَيِّتُونَۖ فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا

جس نے اطاعت کی رسول کی پس تحقیق اطاعت کی اس نے اللہ کی اور جس نے روگردانی کی تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان پر نگہبان(80) اور (منافق) کہتے ہیں (ہمارا کام تو) فرماں برداری ہے، پھر جب نکلتے ہیں وہ آپ کے پاس سے تورات کو مشورہ کرتا ہے ایک گروہ ان میں سے خلاف اس (بات) کے جو کہتے ہیں آپ، اور اللہ لکھتا ہے جو وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں، پس اعراض کریں آپ ان سے اور توکل کریں اللہ پر اور کافی ہے اللہ کارساز(81) [80] یعنی ہر وہ شخص جس نے اوامر و نواہی میں رسول اللہﷺکی اطاعت کی ﴿ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ ﴾ ’’اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘ کیونکہ اگر آپ کسی چیز کا حکم دیتے ہیں یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت، اس کی وحی اور تنزیل ہے۔ یہ آیت کریمہ رسول اللہﷺکی عصمت کی دلیل ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا اگر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچانے کے بارے میں معصوم نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مطلق اطاعت کا حکم نہ دیتا اور اطاعت کرنے والوں کی مدح نہ فرماتا۔اور اس کا شمار مشترکہ حقوق میں ہوتا ہے۔ یہ حقوق تین اقسام میں منقسم ہوتے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ کا حق۔ یہ حق مخلوق میں سے کسی کے لیے نہیں ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی طرف رغبت ہے اور ان کے توابع ہیں۔(۲)رسول اللہﷺکا حق، جو صرف آپ کے ساتھ مختص ہے وہ ہے آپ کی توقیر اور آپ کا احترام اور آپ کی مدد کرنا۔(۳) حقوق کی تیسری قسم اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺکے درمیان مشترکہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، ان سے محبت کرنا اور ان کی اطاعت کرنا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان حقوق کو اس آیت کریمہ میں جمع کر دیا ہے ﴿ لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ١ؕ وَتُسَبِّحُوۡهُ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا ﴾(الفتح : 48؍9) ’’تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اس کی مدد اور اس کی توقیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔‘‘پس جس نے رسول اللہﷺکی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اس کے لیے وہی ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مترتب ہوتا ہے ﴿ وَمَنۡ تَوَلّٰى ﴾ ’’جس نے (اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے) منہ موڑا‘‘ وہ صرف اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نقصان نہیں کر سکتا ﴿ فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا﴾ ’’ہم نے آپ کو ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے آپ کو اس لیے مبعوث نہیں کیا کہ آپ ان کے اعمال و احوال کی نگہبانی کریں، بلکہ ہم نے تو آپ کو مبلغ، کھول کھول کر بیان کرنے والا اور ناصح بنا کر بھیجا ہے اور آپ نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے آپ کے لیے آپ کا اجر واجب ہو گیا۔ خواہ وہ راہ راست اختیار کریں یا نہ کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌؕ۰۰۲۱ لَسۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِمُصَۜيۡطِرٍ﴾(الغاشیہ : 88؍21۔22) ’’تم ان کو نصیحت کرتے رہو اور تم صرف نصیحت کرنے والے ہی ہو۔ تم ان پر نگہبان نہیں۔‘‘ [81] نیز یہ بھی لازم ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ظاہر و باطن اور جلوت و خلوت میں ہو۔ رہا وہ شخص جو لوگوں کے سامنے اطاعت اور التزام کا اظہار کرتا ہے اور جب تنہا ہوتا ہے یا اپنے ہم مشرب ٹولے کے ساتھ ہوتا ہے تو اطاعت ترک کر دیتا ہے اور ایسے کام کرتا ہے جو اطاعت کی ضد ہوتے ہیں تو ایسی اطاعت جس کا اس نے اظہار کیا ہے اس کے لیے نفع مند اور مفید نہیں ہے۔ اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ طَاعَةٌ ﴾ ’’وہ کہتے ہیں مان لیا۔‘‘ یعنی جب وہ آپﷺکے پاس ہوتے ہیں تو اطاعت کا اظہار کرتے ہیں ﴿ فَاِذَا بَرَزُوۡا مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ’’جب وہ آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں‘‘ یعنی تنہا ہوتے ہیں اور ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ کوئی ان کی اس حالت سے مطلع نہیں ہوتا ﴿ بَيَّتَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡهُمۡ غَيۡرَ الَّذِيۡ تَقُوۡلُ ﴾ ’’مشورہ کرتے ہیں رات کو کچھ لوگ ان میں سے اس کے خلاف جو آپ کہتے ہیں۔‘‘ تو رات کے وقت آپﷺکی اطاعت کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں اور وہاں ان کے پاس نافرمانی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ بَيَّتَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡهُمۡ غَيۡرَ الَّذِيۡ تَقُوۡلُ ﴾ میں اس امر کی دلیل ہے کہ وہ معاملہ جس کو انھوں نے دائمی وتیرہ بنایا ہوا تھا وہ عدم اطاعت کا رویہ تھا۔ کیونکہ (تَبْیِیْت) سے مراد رات کے وقت اس طرح معاملات کی تدبیر کرنا ہے کہ اس پر رائے کا استقرار ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل پر وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاللّٰهُ يَكۡتُبُ مَا يُبَيِّتُوۡنَ ﴾ ’’اللہ لکھتا ہے جو وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی ان کارستانیوں کو محفوظ کر رہا ہے وہ عنقریب ان کو ان کارستانیوں کی پوری پوری جزا دے گا یہ ان کے لیے وعید ہے۔ان کی ان کارستانیوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو اعراض اور سختی کا حکم دیا ہے۔ اگر آپﷺنے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا، اس کے دین کی نصرت اور اس کی شریعت کے نفاذ میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی تو وہ آپﷺکو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ﴿ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’پس آپ ان سے منہ پھیر لیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اللہ تعالیٰ کافی کارساز ہے۔‘‘
4:82

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَۚ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِندِ غَيۡرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ ٱخۡتِلَٰفٗا كَثِيرٗا

کیا پس نہیں تدبر (غور و فکر) کرتے وہ قرآن میں؟ اور اگر ہوتا یہ غیر اللہ کی طرف سے تو پاتے وہ اس میں اختلاف بہت(82) [82] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تدبر کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہاں تدبر سے مراد ہے کتاب اللہ کے معانی میں غور و فکر اس کے مبادی، نتائج و عواقب اور اس کے لوازم میں گہری نظر سے سوچنا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں تدبر تمام علوم و معارف کی کنجی ہے۔ ہر بھلائی اسی کے ذریعے سے حاصل کی جاتی ہے اور تمام علوم کا استخراج اسی سے کیا جاتا ہے۔ کتاب اللہ ہی سے قلب میں ایمان کا اضافہ ہوتا ہے اور شجرۂ ایمان جڑ پکڑتا ہے۔ کتاب اللہ ہی رب معبود کی معرفت عطا کرتی ہے، اس معرفت سے نوازتی ہے کہ رب معبود کی صفات کمال کیا ہیں اور وہ کون سی صفات نقص سے منزہ ہے۔ کتاب اللہ اس راستے کی معرفت عطا کرتی ہے جو رب معبود تک پہنچاتا ہے نیز اس راستے پر چلنے والے لوگوں کی معرفت سے نوازتی ہے اور ان نعمتوں کا ذکر کرتی ہے جو رب رحیم کی خدمت میں حاضر ہونے پر عطا ہوں گی۔کتاب اللہ بندے کو اس کے دشمن کی معرفت عطا کرتی ہے، ایسا دشمن جو حقیقی دشمن ہے۔ ان راہوں کی نشاندہی کرتی ہے جو انسان کو عذاب کی منزل تک پہنچاتی ہیں۔ ان راہوں پر چلنے والے لوگوں کی معرفت عطا کرتی ہے نیز آگاہ کرتی ہے کہ اسباب عقاب کے وجود پر ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ بندۂ مومن کتاب اللہ میں جتنا زیادہ غور و فکر کرے گا اتنا ہی زیادہ اس کے علم و عمل اور بصیرت میں اضافہ ہو گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے کتاب اللہ میں تدبر و تفکر کا حکم اور اس کی ترغیب دی ہے۔ اور آگاہ فرمایا کہ قرآن عظیم کو نازل کرنے کا مقصد بھی یہی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوۡۤا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّـرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾(ص:38؍29) ’’یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف نازل کی جو بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں تدبر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت پکڑیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ اَمۡ عَلٰى قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُهَا ﴾(محمد : 47؍24) ’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔‘‘کتاب اللہ میں تدبر کا فائدہ یہ ہے کہ بندۂ مومن اس کے ذریعے سے درجہ یقین تک پہنچ جاتا ہے اور اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے کیونکہ اسے صاف نظر آتا ہے کہ یہ کلام ایک دوسرے کی تصدیق اور موافقت کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر، احکام، اور اخبار کا اعادہ کیا جاتا ہے مگر ہر مقام پر وہ ایک دوسرے کی تصدیق اور موافقت کرتے ہیں ایک دوسرے کی مخالفت نہیں کرتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کامل ہے اور ایک ایسی ہستی کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جس کے علم نے تمام امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اگر یہ (قرآن) اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقینا اس میں بہت اختلاف پاتے‘‘ چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس لیے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
4:83

وَإِذَا جَآءَهُمۡ أَمۡرٞ مِّنَ ٱلۡأَمۡنِ أَوِ ٱلۡخَوۡفِ أَذَاعُواْ بِهِۦۖ وَلَوۡ رَدُّوهُ إِلَى ٱلرَّسُولِ وَإِلَىٰٓ أُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ ٱلَّذِينَ يَسۡتَنۢبِطُونَهُۥ مِنۡهُمۡۗ وَلَوۡلَا فَضۡلُ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهُۥ لَٱتَّبَعۡتُمُ ٱلشَّيۡطَٰنَ إِلَّا قَلِيلٗا

اور جب آتی ہے ان کے پاس کوئی بات امن کی یا خوف کی تو مشہور کر دیتے ہیں اس کواور اگر لوٹاتے وہ اس کو طرف رسول کی یا طرف اصحاب امر کی ان میں سے تو جان لیتے اس (کی حقیقت) کو وہ لوگ جو تحقیق کرتے ہیں اس کی ان میں سےاور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور اس کی رحمت تو ضرور پیچھے لگ جاتے تو شیطان کے مگر تھوڑے ہی(83) [83] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے ایک غیر مناسب فعل پر تادیب ہے۔ اہل ایمان کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب ان کے سامنے کوئی اہم معاملہ آئے جس کا تعلق مصالح عامہ، امن اور اہل ایمان کی خوشی کے ساتھ ہو یا اس کا تعلق کسی خوف سے ہو جس کے اندر کوئی مصیبت پوشیدہ ہو تو اس کو اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیں اور اس خبر کی اشاعت میں عجلت سے کام نہ لیں۔ بلکہ وہ اس خبر کو رسول اللہﷺ، اصحاب امر، اہل رائے، اہل علم، خیر خواہی کرنے والوں، عقلمندوں، سنجیدہ اور باوقار لوگوں کی طرف لوٹائیں جو ان تمام امور کی معرفت رکھتے ہیں جو مسلمانوں کے مصالح اور ان کے اضداد کی پہچان رکھتے ہیں۔ اگر وہ اس خبر کی اشاعت میں کوئی مصلحت، اہل ایمان کے لیے سرور و نشاط کا کوئی پہلو اور ان کے دشمنوں سے بچاؤ کی کوئی بات دیکھیں تو وہ ضرور ایسا کریں۔ اگر وہ یہ دیکھیں کہ اس میں مسلمانوں کی کوئی مصلحت نہیں ہے یا اس میں مصلحت تو ہے مگر اس کی مضرت اس مصلحت پر حاوی ہے تو وہ اس خبر کو نہ پھیلائیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۢۡبِطُوۡنَهٗ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کرلیتے۔‘‘ یعنی وہ اپنے غور و فکر ، درست آراء اور صحیح راہنمائی کرنے والے علوم کے ذریعے سے درست نتائج کا استخراج کر لیں گے۔ اس آیت کریمہ میں ادب و احترام کے ایک قاعدہ پر دلیل ہے کہ جب کسی معاملے میں بحث اور تحقیق مطلوب ہو تو مناسب یہ ہے کہ معاملہ اس شخص کے سپرد کر دیا جائے جو ذمے دار ہے اور وہ اس معاملے کو تحقیق کے لیے ایسے شخص کے حوالے کر دے جو اس کی اہلیت رکھتا ہے اور ان ذمہ دار اصحاب کی تحقیق سے پہلے کسی رائے کا اظہار نہ کریں۔ یہ طریق کار زیادہ قرین صواب اور خطا سے زیادہ محفوظ ہے۔ اس میں کسی معاملے کو سنتے ہی اس کو پھیلانے میں عجلت اور جلدی کرنے کی ممانعت کی بھی دلیل ہے نیز حکم ہے کہ بولنے سے پہلے اس معاملے میں خوب غور و فکر کر لیا جائے کہ آیا اس میں کوئی مصلحت ہے کہ انسان آگے بڑھ کر کوئی اقدام کرے یا کوئی مصلحت نہیں ہے کہ انسان پیچھے ہٹ جائے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ ﴾ ’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی۔‘‘ یعنی تمھیں توفیق عطا کرنے، ادب سکھانے اور ان امور کی تعلیم دینے میں جو تم نہ جانتے تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی ﴿ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّيۡطٰنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’تو چند لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے‘‘ کیونکہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ظالم اور جاہل ہے، پس اس کا نفس اسے شر کے سوا کوئی حکم نہیں دیتا۔ بندہ جب اپنے رب کے پاس پناہ لیتا ہے اور اس کی پناہ میں آ کر گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنے لطف و کرم کے دروازے کھول دیتا ہے اسے ہر بھلائی کی توفیق عطا کرتا ہے اور اسے شیطان مردود سے بچاتا ہے۔
4:84

فَقَٰتِلۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفۡسَكَۚ وَحَرِّضِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَكُفَّ بَأۡسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ وَٱللَّهُ أَشَدُّ بَأۡسٗا وَأَشَدُّ تَنكِيلٗا

پس لڑیں آپ راستے میں اللہ کے، نہیں ذمے دار بنائے گئے آپ مگر اپنی ہی ذات کے اور رغبت دلائیں مومنوں کو، امید ہے کہ اللہ روک دے لڑائی ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیااور اللہ بہت سخت ہے لڑائی میں اور بہت سخت ہے سزا (دینے) میں(84) [84] بندۂ مومن کے احوال میں سے بہترین حال یہ ہے کہ جہاد وغیرہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں خود بھی کوشش کرے اور دوسروں کو بھی ترغیب دے۔ کبھی کبھی بندے میں کوئی ایک امر یا دونوں امور معدوم ہوتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺسے فرمایا: ﴿ فَقَاتِلۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفۡسَكَ ﴾ ’’آپ اللہ کی راہ میں لڑیں۔ آپ اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں۔‘‘ یعنی چونکہ آپ کو اپنی ذات کے سوا کسی دوسرے پر قدرت حاصل نہیں اس لیے آپ کو کسی دوسرے کے فعل کا مکلف نہیں ٹھہرایا گیا۔ ﴿ وَحَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾’’اور مومنوں کو بھی ترغیب دیں۔‘‘ یعنی اہل ا یمان کو قتال کی ترغیب دیں اور یہ ترغیب ان تمام امور کو بھی شامل ہے جس سے اہل ایمان کو نشاط، ان کے دلوں کو قوت اور ان کو طاقت حاصل ہوتی ہو۔ نیز یہ ترغیب اس بات کو بھی شامل ہے کہ دشمنوں کے ضعف اور کمزوری سے مومنوں کو آگاہ کیا جائے اور یہ ترغیب اس بات کو شامل ہے کہ مومنوں کو اس امر سے آگاہ کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والوں کے لیے کیا ثواب تیار کر رکھا ہے اور جہاد چھوڑ کر گھر بیٹھ رہنے والوں کے لیے کیا عذاب ہے۔مذکورہ بالا اور اس قسم کے تمام امور جہاد اور قتال کی ترغیب کے زمرے میں آتے ہیں۔﴿ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّؔكُفَّ بَاۡسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’قریب ہے کہ اللہ کافروں کی لڑائی کو بند کردے۔‘‘ یعنی ہو سکتا ہے کہ اللہ کے راستے میں تمھارے جہاد اور جہاد کے لیے ایک دوسرے کو ترغیب دینے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کفار کو روک دے۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاۡسًا ﴾ ’’اور اللہ لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ زیادہ قوت اور غلبہ والا ہے ﴿ وَّاَشَدُّ تَنۡكِيۡلًا﴾ ’’اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے۔‘‘ گناہ گار کو فی نفسہ سخت سزا دیتا ہے۔ جس سے دوسرے کو بھی عبرت ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اپنی قوت کے ذریعے سے ہی کفار پر غالب آجائے اور ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑے، مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزمائے تاکہ جہاد کا بازار گرم رہے اور نفع مند ایمان حاصل ہو، یعنی اختیاری ایمان۔ نہ کہ جبری اضطراری ایمان، جو کچھ بھی فائدہ نہیں دیتا۔
4:85

مَّن يَشۡفَعۡ شَفَٰعَةً حَسَنَةٗ يَكُن لَّهُۥ نَصِيبٞ مِّنۡهَاۖ وَمَن يَشۡفَعۡ شَفَٰعَةٗ سَيِّئَةٗ يَكُن لَّهُۥ كِفۡلٞ مِّنۡهَاۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ مُّقِيتٗا

جو کوئی سفارش کرے سفارش اچھی، ہوگا اس کے لیے حصہ اس میں سے اور جو کوئی سفارش کرے سفارش بری، ہوگا اس کے لیے حصہ اس میں سےاور ہے اللہ اوپر ہر چیز کے نگہبان(85) [85] یہاں شفاعت سے مراد کسی معاملے میں معاونت ہے۔ جو کوئی کسی دوسرے کی بھلائی کے کسی کام میں سفارش کرتا ہے اور اس کام میں اس کی مدد کرتا ہے۔ مثلاً مظلوموں کے بارے میں ظالم کے پاس سفارش کرنا اسے اس کی کوشش اور عمل کے مطابق اس نیک سفارش سے حصہ نصیب ہو گا۔ اور اصل کام کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی اور جو کوئی برائی کے کسی کام میں کسی کی مدد کرتا ہے تو اس کے تعاون اور مدد کے مطابق عذاب میں سے اس کو حصہ ملے گا۔ اس آیت کریمہ میں نیکی اور تقویٰ میں تعاون کے لیے بہت بڑی ترغیب ہے۔ اسی طرح گناہ اور زیادتی کے کاموں میں معاونت پر زجر و توبیخ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے متحقق کیا ہے ﴿ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ مُّؔقِيۡتًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ہر چیز کا گواہ اور حفاظت کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ان اعمال کا حساب لے گا اور ہر شخص کو اس کے استحقاق کے مطابق جزا دے گا۔
4:86

وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٖ فَحَيُّواْ بِأَحۡسَنَ مِنۡهَآ أَوۡ رُدُّوهَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ حَسِيبًا

اور جب دعا دیے جاؤ تم ساتھ دعا کے تو دعا دو تم ساتھ زیادہ بہتر کے اس سے یا لوٹا دو اسی (دعا) ہی کو تحقیق اللہ ہے ہر چیز کا حساب لینے والا(86) [86](تَحِیَّۃ)کا لفظ دو ملاقاتیوں میں سے کسی ایک سے عزت و احترام نیز دعا اور بشاشت وغیرہ کے طور پر صادر ہوتا ہے۔ سلام و دعا کا بہترین طریقہ وہ ہے جو سلام کرنے اور اس کا جواب دینے کے بارے میں شریعت میں وارد ہوا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ جب انھیں کسی بھی طریقے سے سلام کیا جائے تو وہ الفاظ اور بشاشت کے اعتبار سے اس سے بہتر یا اسی طریقے سے سلام کا جواب دیں۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سلام کا بالکل جواب نہ دینے یا کمتر طریقے سے جواب دینے سے روکا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی ترغیب ہے کہ سلام کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ اس کے دو پہلو ہیں۔(۱)اللہ تعالیٰ نے سلام کا بہتر طریقے سے یا ویسا ہی جواب دینے کا حکم دیا ہے اور اس سے یہ امر لازم آتا ہے کہ سلام درحقیقت شرعاً مطلوب ہے۔(۲) لفظ (اَحَسَنَ) سے جو کہ ’’اَفْعَلُ التَّفْضِیْل‘‘ ہے، جو چیز مستفاد ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ سلام اور اس کا جواب لفظ ’’حسن‘‘ میں دونوں شریک ہیں جیسا کہ اس بارے میں یہ چیز اصل ہے۔آیت کریمہ کے عموم سے وہ شخص مستثنیٰ ہے جو کسی کو ایسے حال میں سلام کرتا ہے جس میں اسے سلام کرنے کا حکم نہ تھا۔ مثلاً کسی ایسے شخص کو سلام کرنا جو قراء ت قرآن میں مشغول ہو، خطبہ سن رہا ہو یا نماز پڑھ رہا ہو۔( لیکن شریعت نے ان حالتوں میں سلام کرنے سے کہاں منع کیا ہے؟ اس لیے فاضل مفسر کا ان مقامات کو مستثنیٰ کرنا بلا دلیل ہے۔ بلکہ یہ مقامات بھی سلام کرنے کے عموم میں داخل ہیں اور نماز کی حالت میں سلام کرنے کی اور اشارے کے ساتھ جواب دینے کی صراحت ترمذی کی حدیث میں موجود ہے)(ص۔ی) کیونکہ وہ اپنے سلام کے جواب کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ اسی طرح وہ شخص بھی آیت کریمہ کے عموم سے مستثنیٰ ہے جس سے قطع کلامی اور سلام نہ کرنے کا حکم شارع نے دیا ہو۔ یہ وہ نافرمان شخص ہے جس نے توبہ نہ کی ہو جو بول چال اور سلام کی بندش کی وجہ سے نافرمانیوں سے باز آ جاتا ہے۔ پس ایسے شخص سے بول چال بند کر دی جائے اسے سلام کیا جائے نہ سلام کا جواب دیا جائے۔ یہ سب کچھ بڑی مصلحت کے قیام کی خاطر ہے۔ سلام کا جواب دینے میں ہر قسم کے سلام کا جواب دینا شامل ہے جس کے لوگ عام طور پر عادی ہیں۔ ایسا کرنا شرعاً ممنوع نہیں، کیونکہ بندہ سلام کا جواب دینے اور اس سے بہتر جواب دینے پر مامور ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے نیکی کے کاموں پر ثواب کا وعدہ اور برائی کے کاموں پر وعید سنائی ہے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ حَسِيۡبًا ﴾ پس وہ اپنے بندوں کے اچھے برے اور چھوٹے بڑے تمام اعمال کا حساب رکھتا ہے پھر وہ اپنے فضل و عدل اور قابل تعریف فیصلے کے تقاضے کے مطابق ان کو جزا و سزا دے گا۔
4:87

ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيهِۗ وَمَنۡ أَصۡدَقُ مِنَ ٱللَّهِ حَدِيثٗا

اللہ، نہیں کوئی معبود (برحق) مگر وہی، البتہ ضرور جمع کرے گا وہ تم کو دن قیامت کے نہیں ہے شک اس میں اور کون زیادہ سچا ہے اللہ سے، بات میں؟(87) [87] اللہ تعالیٰ وحدانیت میں اپنی انفرادیت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے نیز یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود اور الٰہ نہیں۔ کیونکہ وہ اپنی ذات اور اوصاف میں کامل ہے نیز اس لیے کہ وہ تخلیق و تدبیر کائنات میں اور ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے میں متفرد ہے اور یہ امر اس کی عبادت اور عبودیت کی تمام انواع کے ذریعے سے اس کے تقرب کو مستلزم ہے۔ اس لیے اس نے محل جزا کے وقوع یعنی روز قیامت پر قسم کھائی ہے فرمایا: ﴿ لَيَجۡمَعَنَّـكُمۡ ﴾ ’’وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے اولین و آخرین کو ایک ہی جگہ پر جمع کرے گا ﴿ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ ’’قیامت کے دن‘‘ یعنی عقلی اور سمعی دلیل کے اعتبار سے کسی بھی پہلو سے قیامت میں کوئی شک نہیں۔ رہی عقلی دلیل تو ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ زمین کے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اسے زندگی عطا کرتا ہے۔ امکان کے اعتبار سے پہلی دفعہ پیدا کرنے سے دوسری دفعہ پیدا کرنا زیادہ آسان ہے۔حکمت الٰہی انسان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ قطعی طور پر جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو عبث پیدا نہیں کیا۔ کہ وہ زندگی حاصل کریں گے اور بس مر جائیں گے۔ (اور اس کے بعد کچھ نہیں ہو گا، ایسا نہیں ہو گا، بلکہ روز قیامت حساب ہو گا) رہی سمعی اور نقلی دلیل تو سب سے زیادہ سچی ہستی نے اس کے وقوع کے بارے میں خبر دی ہے بلکہ اس پر قسم کھائی ہے۔ ﴿ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيۡثًا﴾ ’’اللہ سے زیادہ سچی بات والا اور کون ہوگا‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر رسول اللہﷺکو اس حقیقت پر قسم کھانے کا حکم دیا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ زَعَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنۡ لَّنۡ يُّبۡعَثُوۡا١ؕ قُلۡ بَلٰى وَرَبِّيۡ لَتُبۡعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلۡتُمۡ١ؕ وَذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ ﴾(التغابن : 64؍7) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، سمجھتے ہیں کہ انھیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا نہیں جائے گا کہہ دو ہاں میرے رب کی قسم! تمھیں ضرور اٹھایا جائے گا اور جو اعمال تم نے کیے ہیں ان کے بارے میں تمھیں ضرور بتایا جائے گا اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيۡثًا﴾ اور ﴿وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيۡلًا ﴾ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بات اس کی خبریں اور اس کے اقوال صداقت کے اعلیٰ مراتب بلکہ اعلیٰ ترین مراتب پر ہیں۔لہٰذا ہر وہ بات جو عقائد، علوم اور اعمال کے بارے میں کہی گئی ہو اگر وہ اللہ تعالیٰ کی خبر کے خلاف ہے تو وہ باطل ہے کیونکہ یہ امور یقینی طور پر سچی خبر کے متناقض ہیں ان کا حق ہونا ممکن ہی نہیں۔
4:88

۞فَمَا لَكُمۡ فِي ٱلۡمُنَٰفِقِينَ فِئَتَيۡنِ وَٱللَّهُ أَرۡكَسَهُم بِمَا كَسَبُوٓاْۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَهۡدُواْ مَنۡ أَضَلَّ ٱللَّهُۖ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلٗا

پس کیا ہے تمھیں کہ منافقوں (کے بارے) میں دو گروہ ہوگئے؟ اور اللہ نے الٹ دیا ان کو بہ سبب ان (اعمال) کے جو انھوں نے کمائے، کیا چاہتے ہو تم کہ ہدایت دو ان کو جنھیں گمراہ کیا اللہ نے؟ اور جسے گمراہ کرے اللہ پس ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی راہ(88) چاہتے ہیں یہ لوگ کاش کہ کفر کرو تم جس طرح کفر کیا انھوں نے، پس ہو جاؤ تم (اور وہ) برابر، پس نہ بناؤ تم ان میں سے (کسی کو) دوست یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں راستے میں اللہ کے ، پھر اگر پھر جائیں وہ تو پکڑو ان کو اور قتل کرو ان کو جہاں کہیں پاؤ تم ان کو اور نہ بناؤ تم ان میں سے (کسی کو) دوست اور نہ مددگار(89) سوائے ان لوگوں کے جو جا ملتے ہیں اس قوم سے کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان عہد ہے یا آتے ہیں تمھارے پاس (اس حال میں) کہ تنگ ہیں ان کے سینے اس بات سے کہ لڑیں وہ تم سے یا لڑیں وہ اپنی قوم سےاور اگر چاہتا اللہ تو مسلط کر دیتا ان کو تم پر پس لڑتے وہ تم سے ، پھر اگر کناہ کش رہیں وہ تم سےاور نہ لڑیں تم سے اور پیش کریں تمھاری طرف صلح تو نہیں بنائی اللہ نے تمھارے لیے ان پر کوئی راہ (ان سے لڑنے کی)(90) عنقریب تم پاؤ گے کچھ اور لوگوں کو جو چاہتے ہیں کہ امن میں رہیں وہ تم سے اور امن میں رہیں اپنی قوم سے (بھی) جب بھی لوٹائے جاتے ہیں وہ طرف فتنے کی تو الٹا دیے جاتے ہیں اس میں، پس اگر وہ نہ کنارہ کش رہیں تم سے اور نہ پیش کریں تمھاری طرف صلح اور نہ روکیں تم سے اپنے ہاتھ تو پکڑو تم ان کو اور قتل کرو تم ان کو جہاں کہیں پاؤ تم ان کواور یہی لوگ ہیں کہ کیا ہم نے تمھارے لیے ان پر غلبہ ظاہر(91) [89,88] ان آیات کریمہ(یعنی ایک دوسرے نسخے کے حاشیے میں) میں یہ عبارت مذکور ہے کہ: ’’صحیحین میں حضرت زید بن ارقمt سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جنگ احد کے لیے نکلے تو آپ کے ساتھ جانے والوں میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے۔ ان کے بارے میں صحابہ کرامy کے دو گروہ بن گئے۔ ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان کو قتل کریں گے جبکہ دوسرا گروہ کہتا تھا کہ نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :﴿ فَمَا لَكُمۡ فِى الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِئَتَيۡنِ﴾ ’’پس تمہیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہورہے ہو؟‘‘ (اس موقع پر) نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’بے شک مدینہ پاک ہے اور بلاشبہ مدینہ بدطینت افراد کو اس طرح نکال باہر کرتا ہے جس طرح آگ لوہے کی میل کو دور کردیتی ہے۔‘‘اس اضافے کی جگہ پر دلالت کرنے والی کوئی علامت یہاں موجود نہیں۔ (محقق) پتہ نہیں اس سے فاضل محقق کا مطلب کیا ہے؟ ورنہ اس حدیث کی مناسبت تو آیت :﴿ فَمَا لَكُمۡ فِى الۡمُنٰفِقِيۡنَ …﴾ کے ساتھ بالکل واضح ہے کیونکہ اس سے شان نزول کی وضاحت ہورہی ہے) (ص۔ي) میں مذکور منافقین سے مراد وہ منافقین ہیں جو اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے اور اپنے کفر کے ساتھ ساتھ انھوں نے ہجرت بھی نہیں کی۔ ان کے بارے میں صحابہ کرامyمیں اشتباہ واقع ہو گیا۔ چنانچہ بعض صحابہyان منافقین کے اظہار اسلام کے باعث ان کے ساتھ قتال اور قطع موالات میں حرج سمجھتے تھے۔ اور بعض صحابہyکو چونکہ ان کے افعال کے قرینے سے ان کے احوال کا علم تھا اس لیے انھوں نے ان پر کفر کا حکم لگایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ تمھارے لیے مناسب نہیں کہ تم ان کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو۔ بلکہ ان کا معاملہ بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں کہ وہ منافق ہیں۔ وہ اپنے کفر کا بار بار اظہار کر چکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر بن کر انھی کی مانند ہو جاؤ۔ پس جب تمھارے سامنے یہ حقیقت واضح ہو گئی ﴿ فَلَا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ ﴾ ’’تو تم ان کو دوست نہ بناؤ۔‘‘ یہ ممانعت ان کے ساتھ عدم محبت کو لازم ٹھہراتی ہے کیونکہ موالات اور دوستی محبت ہی کی ایک شاخ ہے۔ نیز یہ ممانعت ان کے ساتھ بغض اور عداوت کو لازم ٹھہراتی ہے کیونکہ کسی چیز سے ممانعت درحقیقت اس کی ضد کا حکم ہے اور اس حکم کی مدت ان کی ہجرت تک ہے۔ اگر وہ ہجرت کر کے آجاتے ہیں تو ان پر وہی احکام جاری ہوں گے جو دیگر مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺہر اس شخص پر اسلام کے احکام جاری فرماتے تھے جو آپﷺکے ساتھ تھا اور ہجرت کر کے آپ کی خدمت میں پہنچ گیا تھا۔ خواہ وہ حقیقی مومن تھا یا محض ایمان کا اظہار کرتا تھا۔اگر وہ ہجرت نہیں کرتے اور اس سے روگردانی کرتے ہیں ﴿ فَخُذُوۡهُمۡ وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡهُمۡ ﴾ ’’تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ ان کو قتل کردو۔‘‘ یعنی جب بھی اور جس جگہ تم ان کو پاؤ ان کو قتل کر دو۔ یہ آیت کریمہ ان جملہ دلائل میں شامل ہے جو حرام مہینوں میں قتال کی حرمت کے منسوخ ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسا کہ یہ جمہور اہل علم کا قول ہے۔ دیگر اہل علم کہتے ہیں کہ یہ تمام نصوص مطلق ہیں، حرام مہینوں میں قتال کی تحریم کی تخصیص پر محمول ہوں گی۔ [90] پھر اللہ تعالیٰ نے ان منافقین میں سے تین گروہوں کو قتال سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ ان میں سے دو گروہوں کو ترک کرنے کا حتمی حکم دیا ہے۔ ان میں پہلا گروہ وہ ہے جو کسی ایسی قوم کے ساتھ مل جاتا ہے جن کے ساتھ مسلمانوں کا جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے۔ پس ان منافقین کو اس قوم میں شامل قرار دیا جائے گا اور جان و مال کے بارے میں ان کا بھی وہی حکم ہو گا جو اس قوم کا ہو گا۔ دوسرے گروہ میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ حَصِرَتۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَنۡ يُّقَاتِلُوۡؔكُمۡ۠ اَوۡ يُقَاتِلُوۡا قَوۡمَهُمۡ ﴾ ’’ان کے دل تمھارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم کے ساتھ۔ وہ دونوں فریقوں کے ساتھ قتال ترک کرنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کے ساتھ قتال نہ کیا جائے اور اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمۡ عَلَيۡكُمۡ فَلَقٰتَلُوۡؔكُمۡ۠ ﴾ ’’اگر اللہ چاہتا تو وہ ان کو تم پر مسلط کر دیتا، پس وہ تم سے لڑتے‘‘ اس معاملے میں تین صورتیں ممکن ہو سکتی ہیں: وہ یا تو تمھارے ساتھ ہوتے اور تمھارے دشمنوں کے ساتھ جنگ کرتے، ان سے ایسا ہونا مشکل ہے۔اب معاملہ صرف اس بات پر مبنی ہے کہ جنگ تمھارے اور ان کی قوم کے درمیان ہو یا دونوں فریقوں کے درمیان جنگ نہ ہو اور یہ صورت تمھارے لیے زیادہ آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو تم پر مسلط کرنے پر قادر ہے۔پس تم عافیت کو قبول کرو اور اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو جس نے ان کو تمھارے خلاف لڑنے سے روکا حالانکہ وہ تمھارے خلاف لڑنے کی طاقت رکھتے تھے ﴿ فَاِنِ اعۡتَزَلُوۡؔكُمۡ فَلَمۡ يُقَاتِلُوۡؔكُمۡ وَاَلۡقَوۡا اِلَيۡكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمۡ عَلَيۡهِمۡ سَبِيۡلًا ﴾ ’’اگر وہ تمھارے ساتھ جنگ کرنے سے کنارہ کشی کر لیں اور تمھاری طرف صلح اور سلامتی کا پیغام بھیجیں تو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے ان پر زیادتی کرنے کی کوئی راہ نہیں رکھی۔‘‘ [91] تیسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو تمھارے احترام سے قطع نظر صرف اپنی بھلائی چاہتے ہیں۔ اور یہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ سَتَجِدُوۡنَ اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’تم کچھ اور لوگوں کو ایسا بھی پاؤ گے‘‘ یعنی ان منافقین میں سے ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّاۡمَنُوۡؔكُمۡ ﴾ ’’وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں۔‘‘ یعنی وہ تم سے ڈرتے ہوئے تمھارے ساتھ پرامن رہنا چاہتے ہیں ﴿ وَ يَاۡمَنُوۡا قَوۡمَهُمۡ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوۡۤا اِلَى الۡفِتۡنَةِ اُرۡكِسُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں (لیکن) جب کبھی فتنہ انگیزی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جاتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اپنے کفر اور نفاق پر قائم ہیں اور جب کبھی وہ کسی فتنہ سے دوچار ہوتے ہیں، یہ فتنہ انھیں اندھا کر دیتا ہے اور وہ پہلی حالت پر لوٹ جاتے ہیں اور ان کا کفر و نفاق بڑھ جاتا ہے یہ لوگ بھی اس صورت میں دوسرے گروہ کی مانند ہیں حالانکہ درحقیقت یہ اس گروہ کے مخالف ہیں۔ کیونکہ دوسرے گروہ نے مسلمانوں کے خلاف اپنے نفس پر خوف کی وجہ سے قتال ترک نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کے احترام کی بنا پر ترک کیا ہے۔ جبکہ اس گروہ نے تمھارے خلاف قتال، احترام کی وجہ سے نہیں بلکہ خوف کی وجہ سے ترک کیا ہے بلکہ اگر وہ اہل ایمان کے خلاف لڑنے کا کوئی موقع پائیں تو اس کو غنیمت سمجھتے ہوئے تمھارے خلاف لڑیں۔ لہٰذا اگر یہ لوگ واضح طور پر اہل ایمان کے ساتھ لڑنے سے کنارہ کشی نہ کریں۔ تو وہ گویا تمھارے خلاف جنگ کرتے ہیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَعۡتَزِلُوۡؔكُمۡ۠ وَيُلۡقُوۡۤا اِلَيۡكُمُ السَّلَمَ ﴾ ’’اگر وہ تم سے کنارہ کشی کریں نہ تمھاری طرف پیغام صلح بھیجیں۔‘‘ یعنی اگر وہ تمھارے ساتھ امن اور صلح نہیں چاہتے ﴿ وَيَكُفُّوۡۤا اَيۡدِيَهُمۡ فَخُذُوۡهُمۡ وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡهُمۡ۠١ؕ وَاُولٰٓىِٕكُمۡ جَعَلۡنَا لَكُمۡ عَلَيۡهِمۡ سُلۡؔطٰنًا مُّبِيۡنًا﴾ ’’اور اپنے ہاتھ نہ روک لیں تو انھیں پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ۔ یہی ہیں جن پر ہم نے تمھیں ظاہر حجت عنایت فرمائی ہے‘‘ تب ہم نے تمھیں ان کے خلاف ایک واضح حجت عطا کر دی ہے کیونکہ وہ تمھارے خلاف ظلم اور تعدی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ صلح اور امن کے رویے کو ترک کر رہے ہیں۔ پس انھیں چاہیے کہ وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کریں۔
4:89

وَدُّواْ لَوۡ تَكۡفُرُونَ كَمَا كَفَرُواْ فَتَكُونُونَ سَوَآءٗۖ فَلَا تَتَّخِذُواْ مِنۡهُمۡ أَوۡلِيَآءَ حَتَّىٰ يُهَاجِرُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۚ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَخُذُوهُمۡ وَٱقۡتُلُوهُمۡ حَيۡثُ وَجَدتُّمُوهُمۡۖ وَلَا تَتَّخِذُواْ مِنۡهُمۡ وَلِيّٗا وَلَا نَصِيرًا

پس کیا ہے تمھیں کہ منافقوں (کے بارے) میں دو گروہ ہوگئے؟ اور اللہ نے الٹ دیا ان کو بہ سبب ان (اعمال) کے جو انھوں نے کمائے، کیا چاہتے ہو تم کہ ہدایت دو ان کو جنھیں گمراہ کیا اللہ نے؟ اور جسے گمراہ کرے اللہ پس ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی راہ(88) چاہتے ہیں یہ لوگ کاش کہ کفر کرو تم جس طرح کفر کیا انھوں نے، پس ہو جاؤ تم (اور وہ) برابر، پس نہ بناؤ تم ان میں سے (کسی کو) دوست یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں راستے میں اللہ کے ، پھر اگر پھر جائیں وہ تو پکڑو ان کو اور قتل کرو ان کو جہاں کہیں پاؤ تم ان کو اور نہ بناؤ تم ان میں سے (کسی کو) دوست اور نہ مددگار(89) سوائے ان لوگوں کے جو جا ملتے ہیں اس قوم سے کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان عہد ہے یا آتے ہیں تمھارے پاس (اس حال میں) کہ تنگ ہیں ان کے سینے اس بات سے کہ لڑیں وہ تم سے یا لڑیں وہ اپنی قوم سےاور اگر چاہتا اللہ تو مسلط کر دیتا ان کو تم پر پس لڑتے وہ تم سے ، پھر اگر کناہ کش رہیں وہ تم سےاور نہ لڑیں تم سے اور پیش کریں تمھاری طرف صلح تو نہیں بنائی اللہ نے تمھارے لیے ان پر کوئی راہ (ان سے لڑنے کی)(90) عنقریب تم پاؤ گے کچھ اور لوگوں کو جو چاہتے ہیں کہ امن میں رہیں وہ تم سے اور امن میں رہیں اپنی قوم سے (بھی) جب بھی لوٹائے جاتے ہیں وہ طرف فتنے کی تو الٹا دیے جاتے ہیں اس میں، پس اگر وہ نہ کنارہ کش رہیں تم سے اور نہ پیش کریں تمھاری طرف صلح اور نہ روکیں تم سے اپنے ہاتھ تو پکڑو تم ان کو اور قتل کرو تم ان کو جہاں کہیں پاؤ تم ان کواور یہی لوگ ہیں کہ کیا ہم نے تمھارے لیے ان پر غلبہ ظاہر(91) [89,88] ان آیات کریمہ(یعنی ایک دوسرے نسخے کے حاشیے میں) میں یہ عبارت مذکور ہے کہ: ’’صحیحین میں حضرت زید بن ارقمt سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جنگ احد کے لیے نکلے تو آپ کے ساتھ جانے والوں میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے۔ ان کے بارے میں صحابہ کرامy کے دو گروہ بن گئے۔ ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان کو قتل کریں گے جبکہ دوسرا گروہ کہتا تھا کہ نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :﴿ فَمَا لَكُمۡ فِى الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِئَتَيۡنِ﴾ ’’پس تمہیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہورہے ہو؟‘‘ (اس موقع پر) نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’بے شک مدینہ پاک ہے اور بلاشبہ مدینہ بدطینت افراد کو اس طرح نکال باہر کرتا ہے جس طرح آگ لوہے کی میل کو دور کردیتی ہے۔‘‘اس اضافے کی جگہ پر دلالت کرنے والی کوئی علامت یہاں موجود نہیں۔ (محقق) پتہ نہیں اس سے فاضل محقق کا مطلب کیا ہے؟ ورنہ اس حدیث کی مناسبت تو آیت :﴿ فَمَا لَكُمۡ فِى الۡمُنٰفِقِيۡنَ …﴾ کے ساتھ بالکل واضح ہے کیونکہ اس سے شان نزول کی وضاحت ہورہی ہے) (ص۔ي) میں مذکور منافقین سے مراد وہ منافقین ہیں جو اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے اور اپنے کفر کے ساتھ ساتھ انھوں نے ہجرت بھی نہیں کی۔ ان کے بارے میں صحابہ کرامyمیں اشتباہ واقع ہو گیا۔ چنانچہ بعض صحابہyان منافقین کے اظہار اسلام کے باعث ان کے ساتھ قتال اور قطع موالات میں حرج سمجھتے تھے۔ اور بعض صحابہyکو چونکہ ان کے افعال کے قرینے سے ان کے احوال کا علم تھا اس لیے انھوں نے ان پر کفر کا حکم لگایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ تمھارے لیے مناسب نہیں کہ تم ان کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو۔ بلکہ ان کا معاملہ بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں کہ وہ منافق ہیں۔ وہ اپنے کفر کا بار بار اظہار کر چکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر بن کر انھی کی مانند ہو جاؤ۔ پس جب تمھارے سامنے یہ حقیقت واضح ہو گئی ﴿ فَلَا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ ﴾ ’’تو تم ان کو دوست نہ بناؤ۔‘‘ یہ ممانعت ان کے ساتھ عدم محبت کو لازم ٹھہراتی ہے کیونکہ موالات اور دوستی محبت ہی کی ایک شاخ ہے۔ نیز یہ ممانعت ان کے ساتھ بغض اور عداوت کو لازم ٹھہراتی ہے کیونکہ کسی چیز سے ممانعت درحقیقت اس کی ضد کا حکم ہے اور اس حکم کی مدت ان کی ہجرت تک ہے۔ اگر وہ ہجرت کر کے آجاتے ہیں تو ان پر وہی احکام جاری ہوں گے جو دیگر مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺہر اس شخص پر اسلام کے احکام جاری فرماتے تھے جو آپﷺکے ساتھ تھا اور ہجرت کر کے آپ کی خدمت میں پہنچ گیا تھا۔ خواہ وہ حقیقی مومن تھا یا محض ایمان کا اظہار کرتا تھا۔اگر وہ ہجرت نہیں کرتے اور اس سے روگردانی کرتے ہیں ﴿ فَخُذُوۡهُمۡ وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡهُمۡ ﴾ ’’تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ ان کو قتل کردو۔‘‘ یعنی جب بھی اور جس جگہ تم ان کو پاؤ ان کو قتل کر دو۔ یہ آیت کریمہ ان جملہ دلائل میں شامل ہے جو حرام مہینوں میں قتال کی حرمت کے منسوخ ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسا کہ یہ جمہور اہل علم کا قول ہے۔ دیگر اہل علم کہتے ہیں کہ یہ تمام نصوص مطلق ہیں، حرام مہینوں میں قتال کی تحریم کی تخصیص پر محمول ہوں گی۔ [90] پھر اللہ تعالیٰ نے ان منافقین میں سے تین گروہوں کو قتال سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ ان میں سے دو گروہوں کو ترک کرنے کا حتمی حکم دیا ہے۔ ان میں پہلا گروہ وہ ہے جو کسی ایسی قوم کے ساتھ مل جاتا ہے جن کے ساتھ مسلمانوں کا جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے۔ پس ان منافقین کو اس قوم میں شامل قرار دیا جائے گا اور جان و مال کے بارے میں ان کا بھی وہی حکم ہو گا جو اس قوم کا ہو گا۔ دوسرے گروہ میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ حَصِرَتۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَنۡ يُّقَاتِلُوۡؔكُمۡ۠ اَوۡ يُقَاتِلُوۡا قَوۡمَهُمۡ ﴾ ’’ان کے دل تمھارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم کے ساتھ۔ وہ دونوں فریقوں کے ساتھ قتال ترک کرنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کے ساتھ قتال نہ کیا جائے اور اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمۡ عَلَيۡكُمۡ فَلَقٰتَلُوۡؔكُمۡ۠ ﴾ ’’اگر اللہ چاہتا تو وہ ان کو تم پر مسلط کر دیتا، پس وہ تم سے لڑتے‘‘ اس معاملے میں تین صورتیں ممکن ہو سکتی ہیں: وہ یا تو تمھارے ساتھ ہوتے اور تمھارے دشمنوں کے ساتھ جنگ کرتے، ان سے ایسا ہونا مشکل ہے۔اب معاملہ صرف اس بات پر مبنی ہے کہ جنگ تمھارے اور ان کی قوم کے درمیان ہو یا دونوں فریقوں کے درمیان جنگ نہ ہو اور یہ صورت تمھارے لیے زیادہ آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو تم پر مسلط کرنے پر قادر ہے۔پس تم عافیت کو قبول کرو اور اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو جس نے ان کو تمھارے خلاف لڑنے سے روکا حالانکہ وہ تمھارے خلاف لڑنے کی طاقت رکھتے تھے ﴿ فَاِنِ اعۡتَزَلُوۡؔكُمۡ فَلَمۡ يُقَاتِلُوۡؔكُمۡ وَاَلۡقَوۡا اِلَيۡكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمۡ عَلَيۡهِمۡ سَبِيۡلًا ﴾ ’’اگر وہ تمھارے ساتھ جنگ کرنے سے کنارہ کشی کر لیں اور تمھاری طرف صلح اور سلامتی کا پیغام بھیجیں تو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے ان پر زیادتی کرنے کی کوئی راہ نہیں رکھی۔‘‘ [91] تیسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو تمھارے احترام سے قطع نظر صرف اپنی بھلائی چاہتے ہیں۔ اور یہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ سَتَجِدُوۡنَ اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’تم کچھ اور لوگوں کو ایسا بھی پاؤ گے‘‘ یعنی ان منافقین میں سے ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّاۡمَنُوۡؔكُمۡ ﴾ ’’وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں۔‘‘ یعنی وہ تم سے ڈرتے ہوئے تمھارے ساتھ پرامن رہنا چاہتے ہیں ﴿ وَ يَاۡمَنُوۡا قَوۡمَهُمۡ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوۡۤا اِلَى الۡفِتۡنَةِ اُرۡكِسُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں (لیکن) جب کبھی فتنہ انگیزی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جاتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اپنے کفر اور نفاق پر قائم ہیں اور جب کبھی وہ کسی فتنہ سے دوچار ہوتے ہیں، یہ فتنہ انھیں اندھا کر دیتا ہے اور وہ پہلی حالت پر لوٹ جاتے ہیں اور ان کا کفر و نفاق بڑھ جاتا ہے یہ لوگ بھی اس صورت میں دوسرے گروہ کی مانند ہیں حالانکہ درحقیقت یہ اس گروہ کے مخالف ہیں۔ کیونکہ دوسرے گروہ نے مسلمانوں کے خلاف اپنے نفس پر خوف کی وجہ سے قتال ترک نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کے احترام کی بنا پر ترک کیا ہے۔ جبکہ اس گروہ نے تمھارے خلاف قتال، احترام کی وجہ سے نہیں بلکہ خوف کی وجہ سے ترک کیا ہے بلکہ اگر وہ اہل ایمان کے خلاف لڑنے کا کوئی موقع پائیں تو اس کو غنیمت سمجھتے ہوئے تمھارے خلاف لڑیں۔ لہٰذا اگر یہ لوگ واضح طور پر اہل ایمان کے ساتھ لڑنے سے کنارہ کشی نہ کریں۔ تو وہ گویا تمھارے خلاف جنگ کرتے ہیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَعۡتَزِلُوۡؔكُمۡ۠ وَيُلۡقُوۡۤا اِلَيۡكُمُ السَّلَمَ ﴾ ’’اگر وہ تم سے کنارہ کشی کریں نہ تمھاری طرف پیغام صلح بھیجیں۔‘‘ یعنی اگر وہ تمھارے ساتھ امن اور صلح نہیں چاہتے ﴿ وَيَكُفُّوۡۤا اَيۡدِيَهُمۡ فَخُذُوۡهُمۡ وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡهُمۡ۠١ؕ وَاُولٰٓىِٕكُمۡ جَعَلۡنَا لَكُمۡ عَلَيۡهِمۡ سُلۡؔطٰنًا مُّبِيۡنًا﴾ ’’اور اپنے ہاتھ نہ روک لیں تو انھیں پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ۔ یہی ہیں جن پر ہم نے تمھیں ظاہر حجت عنایت فرمائی ہے‘‘ تب ہم نے تمھیں ان کے خلاف ایک واضح حجت عطا کر دی ہے کیونکہ وہ تمھارے خلاف ظلم اور تعدی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ صلح اور امن کے رویے کو ترک کر رہے ہیں۔ پس انھیں چاہیے کہ وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کریں۔
4:90

إِلَّا ٱلَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَىٰ قَوۡمِۭ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُم مِّيثَٰقٌ أَوۡ جَآءُوكُمۡ حَصِرَتۡ صُدُورُهُمۡ أَن يُقَٰتِلُوكُمۡ أَوۡ يُقَٰتِلُواْ قَوۡمَهُمۡۚ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَسَلَّطَهُمۡ عَلَيۡكُمۡ فَلَقَٰتَلُوكُمۡۚ فَإِنِ ٱعۡتَزَلُوكُمۡ فَلَمۡ يُقَٰتِلُوكُمۡ وَأَلۡقَوۡاْ إِلَيۡكُمُ ٱلسَّلَمَ فَمَا جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمۡ عَلَيۡهِمۡ سَبِيلٗا

پس کیا ہے تمھیں کہ منافقوں (کے بارے) میں دو گروہ ہوگئے؟ اور اللہ نے الٹ دیا ان کو بہ سبب ان (اعمال) کے جو انھوں نے کمائے، کیا چاہتے ہو تم کہ ہدایت دو ان کو جنھیں گمراہ کیا اللہ نے؟ اور جسے گمراہ کرے اللہ پس ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی راہ(88) چاہتے ہیں یہ لوگ کاش کہ کفر کرو تم جس طرح کفر کیا انھوں نے، پس ہو جاؤ تم (اور وہ) برابر، پس نہ بناؤ تم ان میں سے (کسی کو) دوست یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں راستے میں اللہ کے ، پھر اگر پھر جائیں وہ تو پکڑو ان کو اور قتل کرو ان کو جہاں کہیں پاؤ تم ان کو اور نہ بناؤ تم ان میں سے (کسی کو) دوست اور نہ مددگار(89) سوائے ان لوگوں کے جو جا ملتے ہیں اس قوم سے کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان عہد ہے یا آتے ہیں تمھارے پاس (اس حال میں) کہ تنگ ہیں ان کے سینے اس بات سے کہ لڑیں وہ تم سے یا لڑیں وہ اپنی قوم سےاور اگر چاہتا اللہ تو مسلط کر دیتا ان کو تم پر پس لڑتے وہ تم سے ، پھر اگر کناہ کش رہیں وہ تم سےاور نہ لڑیں تم سے اور پیش کریں تمھاری طرف صلح تو نہیں بنائی اللہ نے تمھارے لیے ان پر کوئی راہ (ان سے لڑنے کی)(90) عنقریب تم پاؤ گے کچھ اور لوگوں کو جو چاہتے ہیں کہ امن میں رہیں وہ تم سے اور امن میں رہیں اپنی قوم سے (بھی) جب بھی لوٹائے جاتے ہیں وہ طرف فتنے کی تو الٹا دیے جاتے ہیں اس میں، پس اگر وہ نہ کنارہ کش رہیں تم سے اور نہ پیش کریں تمھاری طرف صلح اور نہ روکیں تم سے اپنے ہاتھ تو پکڑو تم ان کو اور قتل کرو تم ان کو جہاں کہیں پاؤ تم ان کواور یہی لوگ ہیں کہ کیا ہم نے تمھارے لیے ان پر غلبہ ظاہر(91) [89,88] ان آیات کریمہ(یعنی ایک دوسرے نسخے کے حاشیے میں) میں یہ عبارت مذکور ہے کہ: ’’صحیحین میں حضرت زید بن ارقمt سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جنگ احد کے لیے نکلے تو آپ کے ساتھ جانے والوں میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے۔ ان کے بارے میں صحابہ کرامy کے دو گروہ بن گئے۔ ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان کو قتل کریں گے جبکہ دوسرا گروہ کہتا تھا کہ نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :﴿ فَمَا لَكُمۡ فِى الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِئَتَيۡنِ﴾ ’’پس تمہیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہورہے ہو؟‘‘ (اس موقع پر) نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’بے شک مدینہ پاک ہے اور بلاشبہ مدینہ بدطینت افراد کو اس طرح نکال باہر کرتا ہے جس طرح آگ لوہے کی میل کو دور کردیتی ہے۔‘‘اس اضافے کی جگہ پر دلالت کرنے والی کوئی علامت یہاں موجود نہیں۔ (محقق) پتہ نہیں اس سے فاضل محقق کا مطلب کیا ہے؟ ورنہ اس حدیث کی مناسبت تو آیت :﴿ فَمَا لَكُمۡ فِى الۡمُنٰفِقِيۡنَ …﴾ کے ساتھ بالکل واضح ہے کیونکہ اس سے شان نزول کی وضاحت ہورہی ہے) (ص۔ي) میں مذکور منافقین سے مراد وہ منافقین ہیں جو اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے اور اپنے کفر کے ساتھ ساتھ انھوں نے ہجرت بھی نہیں کی۔ ان کے بارے میں صحابہ کرامyمیں اشتباہ واقع ہو گیا۔ چنانچہ بعض صحابہyان منافقین کے اظہار اسلام کے باعث ان کے ساتھ قتال اور قطع موالات میں حرج سمجھتے تھے۔ اور بعض صحابہyکو چونکہ ان کے افعال کے قرینے سے ان کے احوال کا علم تھا اس لیے انھوں نے ان پر کفر کا حکم لگایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ تمھارے لیے مناسب نہیں کہ تم ان کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو۔ بلکہ ان کا معاملہ بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں کہ وہ منافق ہیں۔ وہ اپنے کفر کا بار بار اظہار کر چکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر بن کر انھی کی مانند ہو جاؤ۔ پس جب تمھارے سامنے یہ حقیقت واضح ہو گئی ﴿ فَلَا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ ﴾ ’’تو تم ان کو دوست نہ بناؤ۔‘‘ یہ ممانعت ان کے ساتھ عدم محبت کو لازم ٹھہراتی ہے کیونکہ موالات اور دوستی محبت ہی کی ایک شاخ ہے۔ نیز یہ ممانعت ان کے ساتھ بغض اور عداوت کو لازم ٹھہراتی ہے کیونکہ کسی چیز سے ممانعت درحقیقت اس کی ضد کا حکم ہے اور اس حکم کی مدت ان کی ہجرت تک ہے۔ اگر وہ ہجرت کر کے آجاتے ہیں تو ان پر وہی احکام جاری ہوں گے جو دیگر مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺہر اس شخص پر اسلام کے احکام جاری فرماتے تھے جو آپﷺکے ساتھ تھا اور ہجرت کر کے آپ کی خدمت میں پہنچ گیا تھا۔ خواہ وہ حقیقی مومن تھا یا محض ایمان کا اظہار کرتا تھا۔اگر وہ ہجرت نہیں کرتے اور اس سے روگردانی کرتے ہیں ﴿ فَخُذُوۡهُمۡ وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡهُمۡ ﴾ ’’تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ ان کو قتل کردو۔‘‘ یعنی جب بھی اور جس جگہ تم ان کو پاؤ ان کو قتل کر دو۔ یہ آیت کریمہ ان جملہ دلائل میں شامل ہے جو حرام مہینوں میں قتال کی حرمت کے منسوخ ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسا کہ یہ جمہور اہل علم کا قول ہے۔ دیگر اہل علم کہتے ہیں کہ یہ تمام نصوص مطلق ہیں، حرام مہینوں میں قتال کی تحریم کی تخصیص پر محمول ہوں گی۔ [90] پھر اللہ تعالیٰ نے ان منافقین میں سے تین گروہوں کو قتال سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ ان میں سے دو گروہوں کو ترک کرنے کا حتمی حکم دیا ہے۔ ان میں پہلا گروہ وہ ہے جو کسی ایسی قوم کے ساتھ مل جاتا ہے جن کے ساتھ مسلمانوں کا جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے۔ پس ان منافقین کو اس قوم میں شامل قرار دیا جائے گا اور جان و مال کے بارے میں ان کا بھی وہی حکم ہو گا جو اس قوم کا ہو گا۔ دوسرے گروہ میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ حَصِرَتۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَنۡ يُّقَاتِلُوۡؔكُمۡ۠ اَوۡ يُقَاتِلُوۡا قَوۡمَهُمۡ ﴾ ’’ان کے دل تمھارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم کے ساتھ۔ وہ دونوں فریقوں کے ساتھ قتال ترک کرنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کے ساتھ قتال نہ کیا جائے اور اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمۡ عَلَيۡكُمۡ فَلَقٰتَلُوۡؔكُمۡ۠ ﴾ ’’اگر اللہ چاہتا تو وہ ان کو تم پر مسلط کر دیتا، پس وہ تم سے لڑتے‘‘ اس معاملے میں تین صورتیں ممکن ہو سکتی ہیں: وہ یا تو تمھارے ساتھ ہوتے اور تمھارے دشمنوں کے ساتھ جنگ کرتے، ان سے ایسا ہونا مشکل ہے۔اب معاملہ صرف اس بات پر مبنی ہے کہ جنگ تمھارے اور ان کی قوم کے درمیان ہو یا دونوں فریقوں کے درمیان جنگ نہ ہو اور یہ صورت تمھارے لیے زیادہ آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو تم پر مسلط کرنے پر قادر ہے۔پس تم عافیت کو قبول کرو اور اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو جس نے ان کو تمھارے خلاف لڑنے سے روکا حالانکہ وہ تمھارے خلاف لڑنے کی طاقت رکھتے تھے ﴿ فَاِنِ اعۡتَزَلُوۡؔكُمۡ فَلَمۡ يُقَاتِلُوۡؔكُمۡ وَاَلۡقَوۡا اِلَيۡكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمۡ عَلَيۡهِمۡ سَبِيۡلًا ﴾ ’’اگر وہ تمھارے ساتھ جنگ کرنے سے کنارہ کشی کر لیں اور تمھاری طرف صلح اور سلامتی کا پیغام بھیجیں تو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے ان پر زیادتی کرنے کی کوئی راہ نہیں رکھی۔‘‘ [91] تیسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو تمھارے احترام سے قطع نظر صرف اپنی بھلائی چاہتے ہیں۔ اور یہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ سَتَجِدُوۡنَ اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’تم کچھ اور لوگوں کو ایسا بھی پاؤ گے‘‘ یعنی ان منافقین میں سے ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّاۡمَنُوۡؔكُمۡ ﴾ ’’وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں۔‘‘ یعنی وہ تم سے ڈرتے ہوئے تمھارے ساتھ پرامن رہنا چاہتے ہیں ﴿ وَ يَاۡمَنُوۡا قَوۡمَهُمۡ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوۡۤا اِلَى الۡفِتۡنَةِ اُرۡكِسُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں (لیکن) جب کبھی فتنہ انگیزی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جاتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اپنے کفر اور نفاق پر قائم ہیں اور جب کبھی وہ کسی فتنہ سے دوچار ہوتے ہیں، یہ فتنہ انھیں اندھا کر دیتا ہے اور وہ پہلی حالت پر لوٹ جاتے ہیں اور ان کا کفر و نفاق بڑھ جاتا ہے یہ لوگ بھی اس صورت میں دوسرے گروہ کی مانند ہیں حالانکہ درحقیقت یہ اس گروہ کے مخالف ہیں۔ کیونکہ دوسرے گروہ نے مسلمانوں کے خلاف اپنے نفس پر خوف کی وجہ سے قتال ترک نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کے احترام کی بنا پر ترک کیا ہے۔ جبکہ اس گروہ نے تمھارے خلاف قتال، احترام کی وجہ سے نہیں بلکہ خوف کی وجہ سے ترک کیا ہے بلکہ اگر وہ اہل ایمان کے خلاف لڑنے کا کوئی موقع پائیں تو اس کو غنیمت سمجھتے ہوئے تمھارے خلاف لڑیں۔ لہٰذا اگر یہ لوگ واضح طور پر اہل ایمان کے ساتھ لڑنے سے کنارہ کشی نہ کریں۔ تو وہ گویا تمھارے خلاف جنگ کرتے ہیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَعۡتَزِلُوۡؔكُمۡ۠ وَيُلۡقُوۡۤا اِلَيۡكُمُ السَّلَمَ ﴾ ’’اگر وہ تم سے کنارہ کشی کریں نہ تمھاری طرف پیغام صلح بھیجیں۔‘‘ یعنی اگر وہ تمھارے ساتھ امن اور صلح نہیں چاہتے ﴿ وَيَكُفُّوۡۤا اَيۡدِيَهُمۡ فَخُذُوۡهُمۡ وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡهُمۡ۠١ؕ وَاُولٰٓىِٕكُمۡ جَعَلۡنَا لَكُمۡ عَلَيۡهِمۡ سُلۡؔطٰنًا مُّبِيۡنًا﴾ ’’اور اپنے ہاتھ نہ روک لیں تو انھیں پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ۔ یہی ہیں جن پر ہم نے تمھیں ظاہر حجت عنایت فرمائی ہے‘‘ تب ہم نے تمھیں ان کے خلاف ایک واضح حجت عطا کر دی ہے کیونکہ وہ تمھارے خلاف ظلم اور تعدی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ صلح اور امن کے رویے کو ترک کر رہے ہیں۔ پس انھیں چاہیے کہ وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کریں۔
4:91

سَتَجِدُونَ ءَاخَرِينَ يُرِيدُونَ أَن يَأۡمَنُوكُمۡ وَيَأۡمَنُواْ قَوۡمَهُمۡ كُلَّ مَا رُدُّوٓاْ إِلَى ٱلۡفِتۡنَةِ أُرۡكِسُواْ فِيهَاۚ فَإِن لَّمۡ يَعۡتَزِلُوكُمۡ وَيُلۡقُوٓاْ إِلَيۡكُمُ ٱلسَّلَمَ وَيَكُفُّوٓاْ أَيۡدِيَهُمۡ فَخُذُوهُمۡ وَٱقۡتُلُوهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوهُمۡۚ وَأُوْلَـٰٓئِكُمۡ جَعَلۡنَا لَكُمۡ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطَٰنٗا مُّبِينٗا

پس کیا ہے تمھیں کہ منافقوں (کے بارے) میں دو گروہ ہوگئے؟ اور اللہ نے الٹ دیا ان کو بہ سبب ان (اعمال) کے جو انھوں نے کمائے، کیا چاہتے ہو تم کہ ہدایت دو ان کو جنھیں گمراہ کیا اللہ نے؟ اور جسے گمراہ کرے اللہ پس ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی راہ(88) چاہتے ہیں یہ لوگ کاش کہ کفر کرو تم جس طرح کفر کیا انھوں نے، پس ہو جاؤ تم (اور وہ) برابر، پس نہ بناؤ تم ان میں سے (کسی کو) دوست یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں راستے میں اللہ کے ، پھر اگر پھر جائیں وہ تو پکڑو ان کو اور قتل کرو ان کو جہاں کہیں پاؤ تم ان کو اور نہ بناؤ تم ان میں سے (کسی کو) دوست اور نہ مددگار(89) سوائے ان لوگوں کے جو جا ملتے ہیں اس قوم سے کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان عہد ہے یا آتے ہیں تمھارے پاس (اس حال میں) کہ تنگ ہیں ان کے سینے اس بات سے کہ لڑیں وہ تم سے یا لڑیں وہ اپنی قوم سےاور اگر چاہتا اللہ تو مسلط کر دیتا ان کو تم پر پس لڑتے وہ تم سے ، پھر اگر کناہ کش رہیں وہ تم سےاور نہ لڑیں تم سے اور پیش کریں تمھاری طرف صلح تو نہیں بنائی اللہ نے تمھارے لیے ان پر کوئی راہ (ان سے لڑنے کی)(90) عنقریب تم پاؤ گے کچھ اور لوگوں کو جو چاہتے ہیں کہ امن میں رہیں وہ تم سے اور امن میں رہیں اپنی قوم سے (بھی) جب بھی لوٹائے جاتے ہیں وہ طرف فتنے کی تو الٹا دیے جاتے ہیں اس میں، پس اگر وہ نہ کنارہ کش رہیں تم سے اور نہ پیش کریں تمھاری طرف صلح اور نہ روکیں تم سے اپنے ہاتھ تو پکڑو تم ان کو اور قتل کرو تم ان کو جہاں کہیں پاؤ تم ان کواور یہی لوگ ہیں کہ کیا ہم نے تمھارے لیے ان پر غلبہ ظاہر(91) [89,88] ان آیات کریمہ(یعنی ایک دوسرے نسخے کے حاشیے میں) میں یہ عبارت مذکور ہے کہ: ’’صحیحین میں حضرت زید بن ارقمt سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جنگ احد کے لیے نکلے تو آپ کے ساتھ جانے والوں میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے۔ ان کے بارے میں صحابہ کرامy کے دو گروہ بن گئے۔ ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان کو قتل کریں گے جبکہ دوسرا گروہ کہتا تھا کہ نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :﴿ فَمَا لَكُمۡ فِى الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِئَتَيۡنِ﴾ ’’پس تمہیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہورہے ہو؟‘‘ (اس موقع پر) نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’بے شک مدینہ پاک ہے اور بلاشبہ مدینہ بدطینت افراد کو اس طرح نکال باہر کرتا ہے جس طرح آگ لوہے کی میل کو دور کردیتی ہے۔‘‘اس اضافے کی جگہ پر دلالت کرنے والی کوئی علامت یہاں موجود نہیں۔ (محقق) پتہ نہیں اس سے فاضل محقق کا مطلب کیا ہے؟ ورنہ اس حدیث کی مناسبت تو آیت :﴿ فَمَا لَكُمۡ فِى الۡمُنٰفِقِيۡنَ …﴾ کے ساتھ بالکل واضح ہے کیونکہ اس سے شان نزول کی وضاحت ہورہی ہے) (ص۔ي) میں مذکور منافقین سے مراد وہ منافقین ہیں جو اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے اور اپنے کفر کے ساتھ ساتھ انھوں نے ہجرت بھی نہیں کی۔ ان کے بارے میں صحابہ کرامyمیں اشتباہ واقع ہو گیا۔ چنانچہ بعض صحابہyان منافقین کے اظہار اسلام کے باعث ان کے ساتھ قتال اور قطع موالات میں حرج سمجھتے تھے۔ اور بعض صحابہyکو چونکہ ان کے افعال کے قرینے سے ان کے احوال کا علم تھا اس لیے انھوں نے ان پر کفر کا حکم لگایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ تمھارے لیے مناسب نہیں کہ تم ان کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو۔ بلکہ ان کا معاملہ بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں کہ وہ منافق ہیں۔ وہ اپنے کفر کا بار بار اظہار کر چکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر بن کر انھی کی مانند ہو جاؤ۔ پس جب تمھارے سامنے یہ حقیقت واضح ہو گئی ﴿ فَلَا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡهُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ ﴾ ’’تو تم ان کو دوست نہ بناؤ۔‘‘ یہ ممانعت ان کے ساتھ عدم محبت کو لازم ٹھہراتی ہے کیونکہ موالات اور دوستی محبت ہی کی ایک شاخ ہے۔ نیز یہ ممانعت ان کے ساتھ بغض اور عداوت کو لازم ٹھہراتی ہے کیونکہ کسی چیز سے ممانعت درحقیقت اس کی ضد کا حکم ہے اور اس حکم کی مدت ان کی ہجرت تک ہے۔ اگر وہ ہجرت کر کے آجاتے ہیں تو ان پر وہی احکام جاری ہوں گے جو دیگر مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺہر اس شخص پر اسلام کے احکام جاری فرماتے تھے جو آپﷺکے ساتھ تھا اور ہجرت کر کے آپ کی خدمت میں پہنچ گیا تھا۔ خواہ وہ حقیقی مومن تھا یا محض ایمان کا اظہار کرتا تھا۔اگر وہ ہجرت نہیں کرتے اور اس سے روگردانی کرتے ہیں ﴿ فَخُذُوۡهُمۡ وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡهُمۡ ﴾ ’’تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ ان کو قتل کردو۔‘‘ یعنی جب بھی اور جس جگہ تم ان کو پاؤ ان کو قتل کر دو۔ یہ آیت کریمہ ان جملہ دلائل میں شامل ہے جو حرام مہینوں میں قتال کی حرمت کے منسوخ ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسا کہ یہ جمہور اہل علم کا قول ہے۔ دیگر اہل علم کہتے ہیں کہ یہ تمام نصوص مطلق ہیں، حرام مہینوں میں قتال کی تحریم کی تخصیص پر محمول ہوں گی۔ [90] پھر اللہ تعالیٰ نے ان منافقین میں سے تین گروہوں کو قتال سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ ان میں سے دو گروہوں کو ترک کرنے کا حتمی حکم دیا ہے۔ ان میں پہلا گروہ وہ ہے جو کسی ایسی قوم کے ساتھ مل جاتا ہے جن کے ساتھ مسلمانوں کا جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے۔ پس ان منافقین کو اس قوم میں شامل قرار دیا جائے گا اور جان و مال کے بارے میں ان کا بھی وہی حکم ہو گا جو اس قوم کا ہو گا۔ دوسرے گروہ میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ حَصِرَتۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَنۡ يُّقَاتِلُوۡؔكُمۡ۠ اَوۡ يُقَاتِلُوۡا قَوۡمَهُمۡ ﴾ ’’ان کے دل تمھارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم کے ساتھ۔ وہ دونوں فریقوں کے ساتھ قتال ترک کرنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کے ساتھ قتال نہ کیا جائے اور اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمۡ عَلَيۡكُمۡ فَلَقٰتَلُوۡؔكُمۡ۠ ﴾ ’’اگر اللہ چاہتا تو وہ ان کو تم پر مسلط کر دیتا، پس وہ تم سے لڑتے‘‘ اس معاملے میں تین صورتیں ممکن ہو سکتی ہیں: وہ یا تو تمھارے ساتھ ہوتے اور تمھارے دشمنوں کے ساتھ جنگ کرتے، ان سے ایسا ہونا مشکل ہے۔اب معاملہ صرف اس بات پر مبنی ہے کہ جنگ تمھارے اور ان کی قوم کے درمیان ہو یا دونوں فریقوں کے درمیان جنگ نہ ہو اور یہ صورت تمھارے لیے زیادہ آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو تم پر مسلط کرنے پر قادر ہے۔پس تم عافیت کو قبول کرو اور اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو جس نے ان کو تمھارے خلاف لڑنے سے روکا حالانکہ وہ تمھارے خلاف لڑنے کی طاقت رکھتے تھے ﴿ فَاِنِ اعۡتَزَلُوۡؔكُمۡ فَلَمۡ يُقَاتِلُوۡؔكُمۡ وَاَلۡقَوۡا اِلَيۡكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمۡ عَلَيۡهِمۡ سَبِيۡلًا ﴾ ’’اگر وہ تمھارے ساتھ جنگ کرنے سے کنارہ کشی کر لیں اور تمھاری طرف صلح اور سلامتی کا پیغام بھیجیں تو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے ان پر زیادتی کرنے کی کوئی راہ نہیں رکھی۔‘‘ [91] تیسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو تمھارے احترام سے قطع نظر صرف اپنی بھلائی چاہتے ہیں۔ اور یہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ سَتَجِدُوۡنَ اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’تم کچھ اور لوگوں کو ایسا بھی پاؤ گے‘‘ یعنی ان منافقین میں سے ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّاۡمَنُوۡؔكُمۡ ﴾ ’’وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں۔‘‘ یعنی وہ تم سے ڈرتے ہوئے تمھارے ساتھ پرامن رہنا چاہتے ہیں ﴿ وَ يَاۡمَنُوۡا قَوۡمَهُمۡ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوۡۤا اِلَى الۡفِتۡنَةِ اُرۡكِسُوۡا فِيۡهَا ﴾ ’’اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں (لیکن) جب کبھی فتنہ انگیزی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جاتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اپنے کفر اور نفاق پر قائم ہیں اور جب کبھی وہ کسی فتنہ سے دوچار ہوتے ہیں، یہ فتنہ انھیں اندھا کر دیتا ہے اور وہ پہلی حالت پر لوٹ جاتے ہیں اور ان کا کفر و نفاق بڑھ جاتا ہے یہ لوگ بھی اس صورت میں دوسرے گروہ کی مانند ہیں حالانکہ درحقیقت یہ اس گروہ کے مخالف ہیں۔ کیونکہ دوسرے گروہ نے مسلمانوں کے خلاف اپنے نفس پر خوف کی وجہ سے قتال ترک نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کے احترام کی بنا پر ترک کیا ہے۔ جبکہ اس گروہ نے تمھارے خلاف قتال، احترام کی وجہ سے نہیں بلکہ خوف کی وجہ سے ترک کیا ہے بلکہ اگر وہ اہل ایمان کے خلاف لڑنے کا کوئی موقع پائیں تو اس کو غنیمت سمجھتے ہوئے تمھارے خلاف لڑیں۔ لہٰذا اگر یہ لوگ واضح طور پر اہل ایمان کے ساتھ لڑنے سے کنارہ کشی نہ کریں۔ تو وہ گویا تمھارے خلاف جنگ کرتے ہیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَعۡتَزِلُوۡؔكُمۡ۠ وَيُلۡقُوۡۤا اِلَيۡكُمُ السَّلَمَ ﴾ ’’اگر وہ تم سے کنارہ کشی کریں نہ تمھاری طرف پیغام صلح بھیجیں۔‘‘ یعنی اگر وہ تمھارے ساتھ امن اور صلح نہیں چاہتے ﴿ وَيَكُفُّوۡۤا اَيۡدِيَهُمۡ فَخُذُوۡهُمۡ وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡهُمۡ۠١ؕ وَاُولٰٓىِٕكُمۡ جَعَلۡنَا لَكُمۡ عَلَيۡهِمۡ سُلۡؔطٰنًا مُّبِيۡنًا﴾ ’’اور اپنے ہاتھ نہ روک لیں تو انھیں پکڑو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پاؤ۔ یہی ہیں جن پر ہم نے تمھیں ظاہر حجت عنایت فرمائی ہے‘‘ تب ہم نے تمھیں ان کے خلاف ایک واضح حجت عطا کر دی ہے کیونکہ وہ تمھارے خلاف ظلم اور تعدی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ صلح اور امن کے رویے کو ترک کر رہے ہیں۔ پس انھیں چاہیے کہ وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کریں۔
4:92

وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٍ أَن يَقۡتُلَ مُؤۡمِنًا إِلَّا خَطَـٔٗاۚ وَمَن قَتَلَ مُؤۡمِنًا خَطَـٔٗا فَتَحۡرِيرُ رَقَبَةٖ مُّؤۡمِنَةٖ وَدِيَةٞ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦٓ إِلَّآ أَن يَصَّدَّقُواْۚ فَإِن كَانَ مِن قَوۡمٍ عَدُوّٖ لَّكُمۡ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَتَحۡرِيرُ رَقَبَةٖ مُّؤۡمِنَةٖۖ وَإِن كَانَ مِن قَوۡمِۭ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُم مِّيثَٰقٞ فَدِيَةٞ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦ وَتَحۡرِيرُ رَقَبَةٖ مُّؤۡمِنَةٖۖ فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ تَوۡبَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمٗا

اور نہیں لائق کسی مومن کے یہ (بات) کہ قتل کرے وہ کسی مومن کو مگر غلطی سےاور جو کوئی قتل کرے کسی مومن کو غلطی سے تو آزاد کرنا ہے ایک مسلمان گردن کا اور دیت سونپی جائے گی اس کے وارثوں کی طرف مگر یہ کہ معاف کر دیں وہ پس اگر ہو وہ (مقتول) ایسی قوم میں سے جو دشمن ہے تمھاری جبکہ وہ (خود) مسلمان تھا تو آزاد کرنا ہے ایک مسلمان گردن کا اور اگر ہو وہ ایسی قوم سے کہ تمھارے اور ان کے درمیان عہد ہے تو دیت سونپی جائے گی اس کے وارثوں کی طرف اور آزاد کرنا ہے ایک مسلمان گردن کا، پھر جو شخص نہ پائے (غلام) تو روزے رکھنے ہیں دو مہینے لگاتار۔ (یہ کفارہ) توبہ (کا قبول کرنا) ہے اللہ کی طرف سےاور ہے اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا(92) [92] آیت کریمہ کا یہ اسلوب ، امتناع یعنی ناممکن ہونے کے اظہار کے اسالیب میں سے ہے یعنی یہ ممتنع اور محال ہے کہ ایک مومن سے دوسرے مومن کا جان بوجھ کر قتل صادر ہو۔ اس آیت کریمہ میں قتل مومن کی تحریم کو نہایت شدت سے بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مومن کا قتل ایمان کے سخت منافی ہے۔ مومن کا قتل یا تو کافر سے صادر ہوتا ہے یا ایسے فاسق و فاجر سے صادر ہوتا ہے جس کے ایمان میں بہت زیادہ کمی ہو۔ ایسے فاسق و فاجر سے اس سے بھی بڑے اقدام کا ڈر ہے۔ اس لیے کہ ایمان صحیح مومن کو اپنے مومن بھائی کے قتل سے باز رکھتا ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اخوت ایمانی کا رشتہ جوڑا ہے جس کا تقاضا محبت و موالات اور اپنے بھائی سے اذیتوں کو دور کرنا ہے اور قتل سے بڑھ کر کون سی اذیت ہے؟ یہ چیز رسول اللہﷺکے اس ارشاد کی مصداق ہے :’لَا تَرْجِعُوا بَعْدِی کُفَّارًا یَّضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ‘ ’’میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو‘‘(صحیح البخاری، الدیات، باب ﴿ومن أحيا ……﴾، حديث:6868) پس معلوم ہوا کہ قتل مومن عملی کفر ہے اور شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٍ اَنۡ يَّقۡتُلَ مُؤۡمِنًا ﴾ ’’اور کسی مومن کو شایاں نہیں کے مومن کو مار ڈالے۔‘‘ تمام احوال کے لیے عام ہے اور مومن کسی بھی اعتبار سے اپنے مومن بھائی کے قتل کا ارتکاب نہیں کر سکتا، اس لیے اللہ تعالیٰ قتل خطا کو مستثنی کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اِلَّا خَطَــًٔؔا ﴾ ’’مگر غلطی سے‘‘ اس لیے کہ قتل خطا کا مرتکب شخص قتل اور گناہ کا قصد نہیں رکھتا، نہ وہ اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتا ہے۔ مگر چونکہ اس نے ایک بہت ہی قبیح فعل کا ارتکاب کیا ہے اور اس کی ظاہری شکل اس کی قباحت کے لیے کافی ہے، اگرچہ اس کا مقصد اس کو قتل کرنا ہرگز نہیں تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے کفارہ اور دیت ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا ﴿ وَمَنۡ قَتَلَ مُؤۡمِنًا خَطَــًٔؔا ﴾ ’’جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے‘‘ قاتل خواہ مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا، عاقل ہو یا پاگل اور مسلمان ہو یا کافر جیسا کہ لفظ (مَنْ) عموم کا فائدہ دے رہا ہے۔ یہاں لفظ (مَنْ) کو لانے کا یہی سرنہاں ہے کیونکہ سیاق کلام تو تقاضا کرتا ہے کہ یہاں لفظ (فَاِنْ قَتَلَہٗ) استعمال ہوتا مگر یہ لفظ وہ معنی ادا نہیں کرتا جو (مَنْ) ادا کرتا ہے۔ اسی طرح مقتول خواہ مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا (آیت کریمہ تمام صورتوں کو شامل ہے)جیسا کہ سیاق شرط میں نکرہ عموم کا فائدہ دے رہا ہے۔﴿ فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ مُّؤۡمِنَةٍ ﴾ قاتل پر کفارہ کے طور پر مومن غلام کا آزاد کرنا واجب ہے۔ یہ غلام قاتل کے مال سے آزاد کیا جائے گا۔ بعض علماء کے نزدیک یہ آیت کریمہ چھوٹے بڑے، مرد عورت، بے عیب اور عیب دار، ہر قسم کے غلام کو شامل ہے۔ مگر حکمت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ عیب زدہ غلام کو کفارہ میں آزاد نہ کیا جائے، اس لیے کہ آزادی عطا کرنے کا مقصد آزاد کیے جانے والے کو نفع پہنچانا ہے اور اس کو ملکیت میں رکھنا خود اپنے آپ کو نفع پہنچانا ہے۔ پس جب آزادی عطا کرنے سے یہ نفع ضائع ہو جاتا ہے اور غلامی میں اسے باقی رکھنا اس کے لیے زیادہ نفع مند ہے تو اس کو آزاد کرنا کافی نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ) کا معنی اس پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ یہاں آزادی عطا کرنے سے مراد کسی ایسے شخص کے منافع کا استحقاق خود اس کے لیے خالص کرنا ہے جس کے منافع کا استحقاق کسی دوسرے کے پاس ہو۔ پس اگر اس میں (عیب زدہ ہونے کی وجہ سے) کوئی منفعت نہیں تو آزادی کے وجود کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں غور کیجیے یہ بالکل واضح ہے۔رہی دیت، تو یہ قاتل کی برادری اور اس کے رشتہ داروں پر واجب ہے۔ دیت قتل خطا اور قتل شبہ عمد میں واجب ہوتی ہے ﴿ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’مقتول کے وارثوں کو ادا کرے۔‘‘ یعنی مقتول کے وارثوں کی دل جوئی کی خاطر ان کے حوالے کرے۔ یہاں (اَھْلِہٖ) سے مراد مقتول کے ورثاء ہیں کیونکہ یہی لوگ میت کے ترکہ کے وارث ہوتے ہیں۔ نیز دیت بھی ترکہ میں داخل ہے۔ اور دیت بہت سی تفاصیل ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ يَّصَّدَّقُوۡا﴾ ’’ہاں اگر وہ معاف کردیں۔‘‘ یعنی مقتول کے ورثاء قاتل کو معاف کر کے دیت اس کو بخش دیں۔ تب یہ دیت بھی ساقط ہو جائے گی۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے معاف کر دینے کی ترغیب دی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس معافی کو صدقہ کے نام سے موسوم کیا ہے اور صدقہ ہر وقت مطلوب ہے۔ ﴿فَاِنۡ كَانَ﴾ ’’پس اگر وہ ہو‘‘ یعنی مقتول ﴿ مِنۡ قَوۡمٍ عَدُوٍّ لَّـكُمۡ﴾ ’’ایسی قوم سے جو تمھاری دشمن ہے‘‘ یعنی اگر مقتول حربی کفار میں سے ہو ﴿ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ مُّؤۡمِنَةٍ﴾ ’’اور وہ مومن ہو تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی لازمی ہے‘‘ یعنی تب اس صورت میں تم پر مقتول کے (کافر)ورثاء کو دیت ادا کرنا واجب نہیں۔ کیونکہ ان کی جان اور مال کا احترام واجب نہیں۔﴿ وَاِنۡ كَانَ مِنۡ قَوۡمٍۭ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ مِّؔيۡثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ وَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ مُّؤۡمِنَةٍ﴾ ’’اور اگر وہ (مقتول) اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہدوپیمان ہو تو خون بہا لازمی ہے جو اس کے کنبے والے کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی ضروری ہے‘‘ یہ ان کے ساتھ عہد و میثاق کی بنا پر مقتول کے ورثاء کے احترام کی وجہ سے ہے۔ ﴿ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ﴾ ’’اور جس کو یہ میسر نہ ہو۔‘‘ یعنی جس کے پاس تنگ دستی کی وجہ سے آزاد کرنے کے لیے غلام یا اس کی قیمت نہیں ہے اور بنیادی ضروریات و حوائج کے اخراجات کے بعد اتنی رقم نہیں بچتی جس سے غلام کو آزاد کیا جا سکے ﴿ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَـتَابِعَيۡنِ﴾ ’’تب دو مہینے مسلسل روزے رکھے‘‘ اور ان کے دوران بغیر کسی عذر کے روزہ نہ چھوڑے۔ اگر کسی عذر کی بنا پر روزہ چھوٹ جائے مثلاًمرض اور حیض وغیرہ تو اس سے تسلسل نہیں ٹوٹتا اگر اس نے بغیر کسی عذر کے روزہ چھوڑ دیا ہے تو اس سے تسلسل منقطع ہو جائے گا اور اسے نئے سرے سے روزے شروع کرنے پڑیں گے۔ ﴿ تَوۡبَةً مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’یہ (کفارہ) اللہ کی طرف سے (قبول) توبہ کے ليے ہے۔‘‘ یعنی یہ کفارات جو اللہ تعالیٰ نے قاتل پر واجب کیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت توبہ، ان پر رحمت اور ان کے گناہوں کی تکفیر ہے جو ممکن ہے کسی کوتاہی اور عدم احتیاط کی وجہ سے ان سے سرزد ہوئے ہوں جیسا کہ قتل خطا کے مرتکب سے اکثر واقع ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ سب کچھ جانتا اور بڑی حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم اور کامل حکمت والا ہے۔ زمین و آسمان میں، کسی جگہ اور کسی وقت چھوٹی یا بڑی ذرہ بھر چیز اس سے پوشیدہ نہیں۔تمام مخلوقات اور تمام شرائع اس کی حکمت سے خالی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تخلیق، اور جو کچھ مشروع کیا ہے وہ حکمت پر مبنی ہے۔ یہ اس کا علم و حکمت ہے کہ اس نے قاتل پر کفارہ واجب کیا جو اس سے صادر ہونے والے گناہ سے مناسبت رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ ایک قابل احترام جان کو معدوم کرنے کا سبب بنا اور اسے وجود سے نکال کر عدم میں لے گیا۔ اس جرم سے یہ چیز مناسبت رکھتی ہے کہ وہ غلام آزاد کرے، اس کو مخلوق کی غلامی سے نکال کر مکمل آزادی عطا کرے۔ اگر وہ غلام آزاد کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھے۔ یوں وہ اپنے آپ کو شہوات، اور ان لذات حسیہ کی غلامی سے آزاد کر کے جو بندے کو ابدی سعادت سے محروم کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف لائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے روزے رکھنے کے لیے شاق گزرنے والی طویل مدت مقرر کی ہے اور اس میں روزوں کے تسلسل کو واجب قرار دیا ہے اور ان تمام مقامات پر عدم مناسبت کی بنا پر، روزے رکھنے کی بجائے مسکینوں کو کھانا کھلانا مشروع قرار نہیں دیا۔ اس کے برعکس ظہار میں روزوں کی بجائے مسکینوں کو کھانا کھلانا مشروع ہے۔ اس کا ذکر ان شاء اللہ آئے گا۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت ہے کہ قتل خواہ خطا ہی سے کیوں نہ ہو، اس نے اس میں دیت واجب ٹھہرائی ہے تاکہ دیت اور دیگر اسباب کے ذریعے سے قتل کے جرائم کا سدباب ہو سکے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے قتل خطا میں دیت قاتل کے پدری (باپ کی طرف سے) رشتہ داروں (یعنی عاقلہ) پر فرض کی ہے۔ اس پر فقہاء کا اجماع ہے۔ کیونکہ گناہ کی نیت سے قاتل نے قتل کا ارتکاب نہیں کیا تھا کہ اس دیت کا سارا بوجھ اس پر ڈال دیا جائے جو اس کے لیے سخت مشقت کا باعث ہو۔ اس لیے یہ امر مناسبت رکھتا ہے کہ حصول مصالح اور سدمفاسد کی خاطر اس کے اور اس کے رشتہ داروں کے درمیان تعاون، اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ ہو۔ شاید یہ چیز اس شخص کو قتل سے روکنے کا سبب بن جائے جس کی طرف سے وہ دیت ادا کرتے ہیں تاکہ انھیں دیت کا بوجھ نہ اٹھانا پڑے۔ نیز ان کی طاقت اور ان کے احوال کے مطابق ان پر دیت کو تقسیم کرنے سے دیت کے بوجھ میں تخفیف ہو جائے گی۔ نیز دیت کی ادائیگی کی مدت تین سال مقرر کر کے اس میں مزید تخفیف پیدا کر دی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کا علم ہے کہ اس نے اس دیت کے ذریعے سے جو اس نے قاتل کے اولیاء پر واجب کی ہے، مقتول کے ورثاء کی مصیبت میں ان کے نقصان کی تلافی کی ہے۔
4:93

وَمَن يَقۡتُلۡ مُؤۡمِنٗا مُّتَعَمِّدٗا فَجَزَآؤُهُۥ جَهَنَّمُ خَٰلِدٗا فِيهَا وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ وَلَعَنَهُۥ وَأَعَدَّ لَهُۥ عَذَابًا عَظِيمٗا

اور جو کوئی قتل کرے کسی مومن کو جان بوجھ کر تو اس کی سزا جہنم ہے، ہمیشہ رہے گا وہ اس میں اور غضب ناک ہوا اللہ اس پر اور لعنت کی اس پر اور تیار کیا ہے اس کے لیے عذاب بہت بڑا(93) [93] گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ مومن سے مومن کا قتل صادر نہیں ہو سکتا نیز یہ کہ قتل کفر عملی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے جان بوجھ کر قتل کرنے والے کے لیے وعید کا ذکر فرمایا ہے جس سے دل کانپ جاتے ہیں، کلیجے پھٹ جاتے ہیں اور عقلمند لوگ گھبرا جاتے ہیں۔ کبیرہ گناہوں میں سے کسی اور گناہ کے لیے اس سے بڑی بلکہ اس جیسی وعید بھی وارد نہیں ہوئی۔ آگاہ رہو کہ یہ اس امر کی خبر دینا ہے کہ مومن کے قتل کے مرتکب کے لیے جہنم ہے۔ یعنی یہ گناہ عظیم اکیلا ہی کافی ہے کہ اپنے مرتکب کو جہنم، عذاب عظیم، رسوائی، اللہ جبار کی ناراضی، فوز و فلاح سے محرومی و ناکامی اور خسارے جیسی سزا کا مستحق بنائے۔ ہم ہر اس سبب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کرے۔ اس وعید کا حکم، کبیرہ گناہوں کے بارے میں وارد اس جیسی دیگر نصوص وعید کی مانند ہے جن میں جہنم میں خلود اور جنت سے محرومی کا ذکر کیا گیا ہے۔ ائمہ کرام، خوارج اور معتزلہ کے اس قول کے بطلان پر متفق ہونے کے باوجود، کہ موحد گناہ گار ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اس آیت کریمہ کی تاویل میں اختلاف رکھتے ہیں۔ اس آیت کریمہ کی تاویل و تفسیر میں حق و صواب وہ ہے جو امام محقق شمس الدین ابن القیم a نے اپنی مشہور کتاب ’’مدارج السالکین‘‘ میں ذکر فرمایا ہے۔ انھوں نے ائمہ کی تاویلات ذکر کرنے کے بعد نقد کرتے ہوئے فرمایا:’’کچھ دیگر لوگوں کی رائے ہے کہ یہ نصوص اور اس قسم کی دیگر نصوص، جن میں سزا کی اقتضا کا ذکر آتا ہے مقتضائے حکم کے وجود سے اس کا وجود لازم نہیں آتا کیونکہ حکم اپنے مقتضی کے وجود اور انتفائے مانع سے پورا ہوتا ہے اور ان نصوص کی غرض و غایت محض اس امر کی اطلاع دینا ہے کہ اس قسم کے جرائم عقوبت کا سبب ہیں اور اس کا تقاضا کرتے ہیں اور موانع کے ذکر پر دلیل قائم ہو چکی ہے کچھ تو اجماع کی بنا پر اور کچھ نصوص کی بنا پر چنانچہ توبہ بالاجماع عقوبت اور سزا کومانع ہے اور نصوص متواترہ دلالت کرتی ہیں کہ توحید بھی مانع عقوبت ہے اسی طرح برائیوں کو مٹانے والی نیکیاں بھی مانع عقاب ہیں۔ بڑے بڑے مصائب جو گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں مانع عقاب ہیں۔ دنیا میں ان جرائم پر حد قائم ہونا بھی مانع عقوبت ہے ان امور پر نصوص دلالت کرتی ہیں اور ان نصوص کو معطل کرنے کی کوئی وجہ نہیں لہٰذا جانبین کی طرف سے نصوص کے عمل کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ یہ ہے وہ مقام جہاں اقتضائے عقاب اور اس کے مانع کے لیے، نیکیوں اور برائیوں کے درمیان موازنہ کیا جاتا ہے تاکہ دونوں میں سے جو راجح ہو، اس کے مطابق عمل کیا جائے (اقتضائے عذاب راجح ہو تو عذاب کا اور مانع راجح ہو تو عدم عذاب کا فیصلہ ہو گا)وہ کہتے ہیں کہ اسی اصول پر دنیا و آخرت کے مصالح اور مفاسد کی بنا ہے اور یہی اصول احکام شرعیہ اور احکام قدریہ کی بنیاد ہیں اور یہی اس حکمت کا تقاضا ہے جو وجود کائنات میں جاری و ساری ہے۔ خلق و امر کے لحاظ سے اسی اصول کے ذریعے سے اسباب اور مسببات ایک دوسرے سے مرتب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شے کی ضد پیدا کی ہے تاکہ یہ ضد اس شے کو دفع کرے اور ضدین میں سے اغلب کے مطابق حکم لگایا جائے گا۔ قوت صحت و عافیت کا تقاضا کرتی ہے اور اخلاط فاسدہ کا غلبہ، عمل طبعی اور فعل قوت کو مانع ہے، ان دونوں میں سے اغلب کے مطابق حکم لگایا جائے گا۔ یہی اصول ادویہ اور امراض کے قویٰ میں عمل کرتا ہے انسان کے اندر ایسی چیزیں بھی ہیں جو اس کی صحت کی متقاضی ہیں اور کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو اس کی ہلاکت کا تقاضا کرتی ہیں۔ (ان کے درمیان کشمکش رہتی ہے) اور ایک چیز دوسری چیز کے کمال تاثیر کو روکتی اور اس کا مقابلہ کرتی ہے پس اگر وہ اس پر غالب آ جاتی ہے تو اس کی تاثیر اس میں کارفرما ہوتی ہے۔یہاں پہنچ کر انسانوں کی تقسیم کا علم ہوتا ہے۔ کوئی سیدھا جنت میں جائے گا کسی کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ کچھ لوگوں کو جہنم میں داخل کر کے پھر نکال لیا جائے گا اور وہ لوگ جہنم میں بس اسی قدر ٹھہریں گے جس قدر ان کے اعمال ان کے ٹھہرنے کا تقاضا کریں گے۔ جس شخص کی چشم بصیرت روشن ہے اس اصول کے مطابق اسے معاد کے متعلق وہ تمام امور جن کی قرآن خبر دیتا ہے یوں نظر آتے ہیں گویا کہ وہ انھیں اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت، ربوبیت اور عزت و حکمت کا تقاضا ہے اور اس کی خلاف ورزی اللہ تعالیٰ سے محال ہے۔ اس کی خلاف ورزی کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا ایک ایسے امر کی نسبت ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں۔ ان امور کو وہ اپنی چشم بصیرت سے یوں دیکھتا ہے جیسے وہ اپنی آنکھ سے سورج اور ستاروں کو دیکھتا ہے اور یہ ایمان کا یقین ہے اور یہ وہ یقین ہے جو برائیوں کو اس طرح جلا دیتا ہے جیسے خشک ایندھن کو آگ جلا دیتی ہے۔ وہ شخص جو ایمان کے اس مقام پر فائز ہو جاتا ہے اس کے لیے برائیوں پر مصر رہنا محال ہے۔ برائیاں اگرچہ اس سے بکثرت واقع ہو جاتی ہیں مگر اس کا نور ایمان اسے ہر وقت تجدید توبہ کا حکم دیتا رہتا ہے اور ہر سانس کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے ایسا شخص اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ ابن القیم قدس اللہ روحہ کا کلام ختم ہوا، اللہ تعالیٰ انھیں اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر عطا کرے۔ (اس موضوع پر مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے مدارج السالکین 1؍396۔ مترجم)
4:94

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَتَبَيَّنُواْ وَلَا تَقُولُواْ لِمَنۡ أَلۡقَىٰٓ إِلَيۡكُمُ ٱلسَّلَٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنٗا تَبۡتَغُونَ عَرَضَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا فَعِندَ ٱللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٞۚ كَذَٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبۡلُ فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ فَتَبَيَّنُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٗا

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب سفر کرو تم راستے میں اللہ کے تو تحقیق کر لیا کرواور نہ کہو تم اس شخص کو جو عرض کرے تمھیں سلام، نہیں ہے تو مسلمان، طلب کرتے ہو تم سامان زندگانیٔ دنیا کا؟ پس اللہ کے ہاں غنیمتیں ہیں بہت، اسی طرح تھے تم پہلے (اس سے)، پس احسان کیا اللہ نے تم پر پس تحقیق کر لیا کرو، یقینا اللہ ہے، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار(94) [94] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے جہاد پر نکلیں تو تمام مشتبہ امور میں اچھی طرح تحقیق کر لیا کریں اور جلدی نہ کیا کریں۔ کیونکہ تمام معاملات دو قسم کے ہوتے ہیں۔ واضح اور غیر واضح۔ جو امور واضح ہوتے ہیں ان میں تحقیق اور جانچ پڑتال کی کچھ زیادہ ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ چیز تحصیل حاصل کے زمرے میں آتی ہے۔ رہے مشکل اور غیر واضح امور تو انسان ان میں جانچ پڑتال اور تحقیق کا محتاج ہوتا ہے۔ کہ آیا وہ اس میں اقدام کرے یا نہ کرے؟ کیونکہ ان امور میں تحقیق اور جانچ پڑتال سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ بڑی بڑی برائیوں کا سدباب ہو جاتا ہے۔ اس کے ذریعے سے بندے کے دین، عقل اور وقار کے بارے میں معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس وہ شخص جو معاملات کی ابتدا ہی میں ان کی جانچ پڑتال سے پہلے فیصلہ کرنے میں عجلت سے کام لیتا ہے۔ اسے اس عجلت سے ایسے نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے جو نہایت غیر مناسب ہوں۔ جیسا کہ ان مسلمانوں کے ساتھ ہوا جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ جنھوں نے بغیر کسی تحقیق اور جانچ پڑتال کے ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا جس نے ان کو سلام کیا تھا۔ اس کے پاس کچھ بکریاں یا کوئی اور مال تھا اس کا خیال تھا کہ اس طرح (سلام کرنے سے) قتل ہونے سے بچ جائے گا اور ان کا یہ فعل (قتل)درحقیقت خطا تھا، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا۔﴿ وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ اَلۡقٰۤى اِلَيۡكُمُ السَّلٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنًا١ۚ تَبۡتَغُوۡنَ عَرَضَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١ٞ فَعِنۡدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِيۡرَةٌ﴾ ’’جو تمھیں سلام کرے تم اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں تم دنیاوی زندگی کے اسباب کی تلاش میں ہو تو اللہ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں‘‘ یعنی فانی دنیا کا یہ قلیل اور فانی مال و متاع تمھیں کسی ایسے کام کے ارتکاب پر آمادہ نہ کرے جو مناسب نہ ہو اور اس کے نتیجے میں تم اس بے پایاں ثواب سے محروم ہو جاؤ جو ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ پس جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندے کو چاہیے کہ جب وہ دیکھے کہ اس کے نفس کے داعیے کسی ایسے حال کی طرف مائل ہیں جس میں خواہشات نفس کا شائبہ ہے اور یہ اس کے لیے ضرر رساں ہے تو وہ اس ثواب اور نعمتوں کو یاد کرے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے تیار کر رکھی ہیں جنھوں نے خواہشات نفس کو روکا ہوا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنے نفس کی خواہش پر مقدم رکھا کیونکہ اس میں نفس کے لیے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی ترغیب ہے خواہ اس میں اس کے لیے مشقت ہی کیوں نہ ہو۔پھر اللہ تعالیٰ ان کو اسلام سے قبل ان کی حالت یاد دلاتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ كَذٰلِكَ كُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پہلے تم بھی ایسے ہی تھے پھر اللہ نے تم پر احسان کیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس طرح تمھیں تمھاری گمراہی کے بعد ہدایت سے نوازا ہے۔ اسی طرح وہ دوسروں کو بھی راہ ہدایت دکھاتا ہے اور جس طرح تمھیں بتدریج آہستہ آہستہ ہدایت حاصل ہوئی ہے اسی طرح تمھارے علاوہ بھی آہستہ آہستہ راہ ہدایت پر گامزن ہو جائیں گے۔ پس کامل شخص کا اپنے پہلے اور ناقص حال پر نظر رکھنا، اور اس ناقص شخص کے ساتھ، جس کی مانند کبھی وہ بھی ناقص تھا، اس کے مقتضائے حال کے مطابق معاملہ کرنا اور اس کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بھلائی کی طرف دعوت دینا اس کے لیے فائدہ پہنچانے اور فائدہ حاصل کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے تحقیق حال کے حکم کا ان الفاظ میں اعادہ کیا ﴿ فَتَبَيَّنُوۡا﴾ ’’تحقیق کرلیا کرو۔‘‘ یعنی خوب تحقیق کر لیا کرو۔ جب کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتا ہے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف قسم کی تیاری کرتا ہے، تو وہ اس بات پر مامور ہے کہ جو کوئی اس کو سلام کرے، اس کی تحقیق کر لے حالانکہ بہت ہی قوی قرینہ موجود تھا کہ اس نے جان کے خوف سے اور جان بچانے کے لیے سلام کیا ہو۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان تمام احوال کے بارے میں، جن میں کسی قسم کا اشتباہ واقع ہو گیا ہو تحقیق اور جانچ پڑتال کی جائے پس بندہ حقیقت حال معلوم کرنے کی کوشش کرے حتیٰ کہ اس کے سامنے معاملہ واضح ہو جائے اور رشد و صواب متحقق ہو کر سامنے آجائے۔ فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرًا﴾ ’’اور جو عمل تم کرتے ہو، اللہ کو سب کی خبر ہے۔‘‘ اللہ اپنے بندوں کے احوال اور ان کی نیتوں کو جانتا ہے اس لیے وہ ہر ایک کو اس کے عمل اور نیت کے مطابق جزا دے گا۔
4:95

لَّا يَسۡتَوِي ٱلۡقَٰعِدُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ غَيۡرُ أُوْلِي ٱلضَّرَرِ وَٱلۡمُجَٰهِدُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡۚ فَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلۡمُجَٰهِدِينَ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ عَلَى ٱلۡقَٰعِدِينَ دَرَجَةٗۚ وَكُلّٗا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَفَضَّلَ ٱللَّهُ ٱلۡمُجَٰهِدِينَ عَلَى ٱلۡقَٰعِدِينَ أَجۡرًا عَظِيمٗا

نہیں برابر ہو سکتے (وہ جو ہیں)، بیٹھ رہنے والے مومنوں میں سے، نہیں ہیں وہ تکلیف (عذر رکھنے) والےاور جو جہاد کرنے والے ہیں راستے میں اللہ کے، ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے، فضیلت دی ہے اللہ نے جہاد کرنے والوں کو، ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے، بیٹھ رہنے والوں پر مرتبے میں اور سب سے وعدہ کیا ہے اللہ نے بھلائی کااور فضیلت دی ہے اللہ نے مجاہدین کو اوپر بیٹھ رہنے والوں کے بہ لحاظ اجر عظیم کے(95)(یعنی ) درجے ہیں اس کی طرف سے اور بخشش اور رحمت اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان(96) [96,95] یعنی اہل ایمان میں سے وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ذریعے سے جہاد کرتا ہے اور وہ شخص جو جہاد کے لیے نہیں نکلتا اور اللہ کے دشمنوں کے ساتھ قتال نہیں کرتا، دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے کی ترغیب ہے اور سستی اور کسی عذر کے بغیر جہاد چھوڑ کر گھر بیٹھ رہنے سے ڈرایا گیا ہے۔ رہے وہ لوگ جو کسی تکلیف میں مبتلا ہیں مثلاً مریض، اندھا اور لنگڑا وغیرہ اور وہ شخص جس کے پاس جہاد پر جانے کے لیے سامان وغیرہ نہیں، تو یہ لوگ بغیر عذر گھر بیٹھ رہنے والوں میں شمار نہیں ہوں گے۔ ہاں! وہ شخص جو کسی تکلیف میں مبتلا ہے اور وہ اپنے گھر بیٹھ رہنے پر خوش اور راضی ہے اور وہ یہ نیت بھی نہیں رکھتا کہ اگر یہ مانع موجود نہ ہوتا تو وہ جہاد میں ضرور شریک ہوتا۔ اور اس کے دل میں کبھی جہاد کی خواہش بھی نہیں ہوئی تو ایسا شخص بغیر عذر گھر بیٹھ رہنے والوں میں شمار ہو گا۔جو کوئی یہ عزم رکھتا ہے کہ اگر یہ مانع موجود نہ ہوتا تو وہ اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا، وہ جہاد کی تمنا اور آرزو کرتا ہے اور اس کے دل میں جہاد کی خواہش پیدا ہوئی ہے تو ایسا شخص جہاد کرنے والوں میں شمار ہو گا۔ کیونکہ نیت جازم کے ساتھ جب وہ عمل مقرون ہوتا ہے جو قولاً یا فعلاً نیت کرنے والے کے اختیار میں ہے تو وہ اس صاحب نیت کو فاعل کے مقام پر فائز کر دیتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نہایت صراحت کے ساتھ مجاہدین کو گھر بیٹھ رہنے والوں پر بلندئ درجات کی فضیلت سے نوازا ہے۔ یہ فضیلت اجمالاً بیان فرمائی ہے۔ اس کے بعد صراحت کے ساتھ اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے رب کی طرف سے مغفرت اور رحمت کا وعدہ فرمایا جو ہر بھلائی کے حصول اور ہر برائی کے سدباب پر مشتمل ہے۔صحیحین میں مروی ایک حدیث کے مطابق رسول اللہﷺنے ان درجات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا ’’جنت کے اندر سو درجے ہیں اور ان ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان۔ اس جنت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔‘‘(صحیح البخاری، الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین في سبيل اللہ، حديث:2790)یہ ثواب جو اللہ تعالیٰ نے جہاد پر مرتب کیا ہے اس کی نظیر سورۂ صف کی یہ آیات ہیں : ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنۡجِيۡكُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِيۡمٍ۰۰تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتُجَاهِدُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ١ؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾(الصف : 61؍10-12) ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو کیا میں تمھیں ایسی تجارت نہ بتاؤں جو تمھیں دردناک عذاب سے نجات دے، تم اللہ کی راہ میں اپنی جان اور اپنے مال سے جہاد کرو۔ اگر تم علم رکھتے ہو تو یہی تمھارے لیے بہتر ہے۔ وہ تمھارے گناہ بخش دے گا اور تمھیں جنت میں داخل کرے گا۔ جن میں نہریں بہہ رہی ہیں اور جنت جاوداں میں پاکیزہ آرام گاہوں میں داخل کرے گا، یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘ذرا حسن انتقال پر غور فرمائيے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک حالت سے دوسری بلند تر حالت کی طرف منتقل ہونے کا کیسے ذکر فرمایا ہے۔ سب سے پہلے مجاہد اور غیر مجاہد کے درمیان مساوات (برابر ہونے) کی نفی فرمائی۔ پھر تصریح فرمائی کہ مجاہد کو گھر بیٹھ رہنے والے پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے پھر مغفرت، رحمت اور بلند درجات کے ذریعے سے مجاہد کو فضیلت عطا کرنے کی طرف انتقال فرمایا۔ فضیلت اور مدح کے موقع پر فروتر سے بلند تر حالت کی طرف اور مذمت اور برائی کے موقع پر بلند تر حالت سے فروتر حالت کی طرف یہ انتقال، لفظوں کے اعتبار سے حسین تر اور نفوس انسانی میں کارگر ہونے کے اعتبار سے مؤثر تر ہے۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ ایک چیز کو دوسری چیز پر فضیلت دیتا ہے جبکہ دونوں ہی کو فضیلت حاصل ہو تو وہ ایسے لفظ کے ساتھ فضیلت بیان کرنے سے احتراز کرتا ہے جو دونوں کا جامع ہو۔ تاکہ کسی کو یہ وہم لاحق نہ ہو کہ کم تر فضیلت کی حامل چیز کی مذمت بیان کی ہے۔ جیسا کہ یہاں بیان فرمایا ﴿ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اللہ نے سب کے ساتھ اچھا وعدہ کیا ہے۔‘‘ اور جیسا کہ محولہ بالا سورۂ صف کی آیات میں فرمایا ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’مومنوں کو خوش خبری دے دیجیے‘‘ فرمایا: ﴿ لَا يَسۡتَوِيۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقٰتَلَ﴾(الحدید : 57؍10) ’’تم میں سے جس شخص نے فتح مکہ سے قبل خرچ کیا اور جہاد کیا (اور جس نے فتح مکہ کے بعد یہ کام کیے) برابر نہیں۔‘‘ پھر فرمایا: ﴿ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى﴾(الحدید : 57؍10) ’’اور اللہ نے سب کے ساتھ اچھا وعدہ کیا ہے۔‘‘ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾(الانبیاء : 21؍79) ’’پس فیصلہ کرنے کا طریقہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے دونوں کو علم و حکمت عطا کی تھی۔‘‘پس جو کوئی شخصیات کے درمیان، گروہوں کے درمیان اور اعمال کے درمیان فضیلت کی تحقیق کرتا ہے تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ اس نکتہ کو خوب سمجھ لے۔ اسی طرح اگر وہ بعض شخصیات اور مقالات کی مذمت بیان کرتا ہے تو ان کو ایک دوسرے پر فضیلت دینے کے لیے ایسا اسلوب استعمال کرے جو دونوں کو جامع ہو۔ تاکہ جس کو فضیلت دی گئی ہے وہ اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ اسے کمال حاصل ہے۔ مثلاً جب یہ کہا جائے کہ نصاریٰ مجوسیوں سے بہتر ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا چاہیے کہ دونوں ہی کافر ہیں۔ جب یہ کہا جائے قتل زنا سے زیادہ بڑا جرم ہے تو ساتھ یہ بھی بتانا چاہیے کہ دونوں گناہ کبیرہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺنے حرام قرار دیا ہے اور ان گناہوں پر زجر و توبیخ کی ہے۔چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجاہدین کے ساتھ مغفرت اور رحمت کا وعدہ کیا ہے جو اس کے اسمائے کریمہ (اَلْغَفُوْرُ) اور (اَلرَّحِیْمُ) سے صادر ہوتی ہیں اس لیے اس آیت کریمہ کے اختتام پر فرمایا ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’اللہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘
4:96

دَرَجَٰتٖ مِّنۡهُ وَمَغۡفِرَةٗ وَرَحۡمَةٗۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمًا

نہیں برابر ہو سکتے (وہ جو ہیں)، بیٹھ رہنے والے مومنوں میں سے، نہیں ہیں وہ تکلیف (عذر رکھنے) والےاور جو جہاد کرنے والے ہیں راستے میں اللہ کے، ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے، فضیلت دی ہے اللہ نے جہاد کرنے والوں کو، ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے، بیٹھ رہنے والوں پر مرتبے میں اور سب سے وعدہ کیا ہے اللہ نے بھلائی کااور فضیلت دی ہے اللہ نے مجاہدین کو اوپر بیٹھ رہنے والوں کے بہ لحاظ اجر عظیم کے(95)(یعنی ) درجے ہیں اس کی طرف سے اور بخشش اور رحمت اور ہے اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان(96) [96,95] یعنی اہل ایمان میں سے وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ذریعے سے جہاد کرتا ہے اور وہ شخص جو جہاد کے لیے نہیں نکلتا اور اللہ کے دشمنوں کے ساتھ قتال نہیں کرتا، دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے کی ترغیب ہے اور سستی اور کسی عذر کے بغیر جہاد چھوڑ کر گھر بیٹھ رہنے سے ڈرایا گیا ہے۔ رہے وہ لوگ جو کسی تکلیف میں مبتلا ہیں مثلاً مریض، اندھا اور لنگڑا وغیرہ اور وہ شخص جس کے پاس جہاد پر جانے کے لیے سامان وغیرہ نہیں، تو یہ لوگ بغیر عذر گھر بیٹھ رہنے والوں میں شمار نہیں ہوں گے۔ ہاں! وہ شخص جو کسی تکلیف میں مبتلا ہے اور وہ اپنے گھر بیٹھ رہنے پر خوش اور راضی ہے اور وہ یہ نیت بھی نہیں رکھتا کہ اگر یہ مانع موجود نہ ہوتا تو وہ جہاد میں ضرور شریک ہوتا۔ اور اس کے دل میں کبھی جہاد کی خواہش بھی نہیں ہوئی تو ایسا شخص بغیر عذر گھر بیٹھ رہنے والوں میں شمار ہو گا۔جو کوئی یہ عزم رکھتا ہے کہ اگر یہ مانع موجود نہ ہوتا تو وہ اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا، وہ جہاد کی تمنا اور آرزو کرتا ہے اور اس کے دل میں جہاد کی خواہش پیدا ہوئی ہے تو ایسا شخص جہاد کرنے والوں میں شمار ہو گا۔ کیونکہ نیت جازم کے ساتھ جب وہ عمل مقرون ہوتا ہے جو قولاً یا فعلاً نیت کرنے والے کے اختیار میں ہے تو وہ اس صاحب نیت کو فاعل کے مقام پر فائز کر دیتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نہایت صراحت کے ساتھ مجاہدین کو گھر بیٹھ رہنے والوں پر بلندئ درجات کی فضیلت سے نوازا ہے۔ یہ فضیلت اجمالاً بیان فرمائی ہے۔ اس کے بعد صراحت کے ساتھ اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے رب کی طرف سے مغفرت اور رحمت کا وعدہ فرمایا جو ہر بھلائی کے حصول اور ہر برائی کے سدباب پر مشتمل ہے۔صحیحین میں مروی ایک حدیث کے مطابق رسول اللہﷺنے ان درجات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا ’’جنت کے اندر سو درجے ہیں اور ان ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان۔ اس جنت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔‘‘(صحیح البخاری، الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین في سبيل اللہ، حديث:2790)یہ ثواب جو اللہ تعالیٰ نے جہاد پر مرتب کیا ہے اس کی نظیر سورۂ صف کی یہ آیات ہیں : ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنۡجِيۡكُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِيۡمٍ۰۰تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتُجَاهِدُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ١ؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾(الصف : 61؍10-12) ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو کیا میں تمھیں ایسی تجارت نہ بتاؤں جو تمھیں دردناک عذاب سے نجات دے، تم اللہ کی راہ میں اپنی جان اور اپنے مال سے جہاد کرو۔ اگر تم علم رکھتے ہو تو یہی تمھارے لیے بہتر ہے۔ وہ تمھارے گناہ بخش دے گا اور تمھیں جنت میں داخل کرے گا۔ جن میں نہریں بہہ رہی ہیں اور جنت جاوداں میں پاکیزہ آرام گاہوں میں داخل کرے گا، یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘ذرا حسن انتقال پر غور فرمائيے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک حالت سے دوسری بلند تر حالت کی طرف منتقل ہونے کا کیسے ذکر فرمایا ہے۔ سب سے پہلے مجاہد اور غیر مجاہد کے درمیان مساوات (برابر ہونے) کی نفی فرمائی۔ پھر تصریح فرمائی کہ مجاہد کو گھر بیٹھ رہنے والے پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے پھر مغفرت، رحمت اور بلند درجات کے ذریعے سے مجاہد کو فضیلت عطا کرنے کی طرف انتقال فرمایا۔ فضیلت اور مدح کے موقع پر فروتر سے بلند تر حالت کی طرف اور مذمت اور برائی کے موقع پر بلند تر حالت سے فروتر حالت کی طرف یہ انتقال، لفظوں کے اعتبار سے حسین تر اور نفوس انسانی میں کارگر ہونے کے اعتبار سے مؤثر تر ہے۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ ایک چیز کو دوسری چیز پر فضیلت دیتا ہے جبکہ دونوں ہی کو فضیلت حاصل ہو تو وہ ایسے لفظ کے ساتھ فضیلت بیان کرنے سے احتراز کرتا ہے جو دونوں کا جامع ہو۔ تاکہ کسی کو یہ وہم لاحق نہ ہو کہ کم تر فضیلت کی حامل چیز کی مذمت بیان کی ہے۔ جیسا کہ یہاں بیان فرمایا ﴿ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اللہ نے سب کے ساتھ اچھا وعدہ کیا ہے۔‘‘ اور جیسا کہ محولہ بالا سورۂ صف کی آیات میں فرمایا ﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’مومنوں کو خوش خبری دے دیجیے‘‘ فرمایا: ﴿ لَا يَسۡتَوِيۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقٰتَلَ﴾(الحدید : 57؍10) ’’تم میں سے جس شخص نے فتح مکہ سے قبل خرچ کیا اور جہاد کیا (اور جس نے فتح مکہ کے بعد یہ کام کیے) برابر نہیں۔‘‘ پھر فرمایا: ﴿ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى﴾(الحدید : 57؍10) ’’اور اللہ نے سب کے ساتھ اچھا وعدہ کیا ہے۔‘‘ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ١ۚ وَؔكُلًّا اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾(الانبیاء : 21؍79) ’’پس فیصلہ کرنے کا طریقہ ہم نے سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے دونوں کو علم و حکمت عطا کی تھی۔‘‘پس جو کوئی شخصیات کے درمیان، گروہوں کے درمیان اور اعمال کے درمیان فضیلت کی تحقیق کرتا ہے تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ اس نکتہ کو خوب سمجھ لے۔ اسی طرح اگر وہ بعض شخصیات اور مقالات کی مذمت بیان کرتا ہے تو ان کو ایک دوسرے پر فضیلت دینے کے لیے ایسا اسلوب استعمال کرے جو دونوں کو جامع ہو۔ تاکہ جس کو فضیلت دی گئی ہے وہ اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ اسے کمال حاصل ہے۔ مثلاً جب یہ کہا جائے کہ نصاریٰ مجوسیوں سے بہتر ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا چاہیے کہ دونوں ہی کافر ہیں۔ جب یہ کہا جائے قتل زنا سے زیادہ بڑا جرم ہے تو ساتھ یہ بھی بتانا چاہیے کہ دونوں گناہ کبیرہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺنے حرام قرار دیا ہے اور ان گناہوں پر زجر و توبیخ کی ہے۔چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجاہدین کے ساتھ مغفرت اور رحمت کا وعدہ کیا ہے جو اس کے اسمائے کریمہ (اَلْغَفُوْرُ) اور (اَلرَّحِیْمُ) سے صادر ہوتی ہیں اس لیے اس آیت کریمہ کے اختتام پر فرمایا ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’اللہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘
4:97

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ ظَالِمِيٓ أَنفُسِهِمۡ قَالُواْ فِيمَ كُنتُمۡۖ قَالُواْ كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ قَالُوٓاْ أَلَمۡ تَكُنۡ أَرۡضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةٗ فَتُهَاجِرُواْ فِيهَاۚ فَأُوْلَـٰٓئِكَ مَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَسَآءَتۡ مَصِيرًا

تحقیق جو لوگ کہ فوت کرتے ہیں ان کو فرشتے دراں حالیکہ وہ ظلم کرنے والے ہیں اپنی جانوں پر تو کہتے ہیں کس حال میں تھے تم؟ کہتے ہیں وہ، تھے ہم کمزور زمین میں، کہتے ہیں وہ(فرشتے) کیا نہ تھی زمین اللہ کی فراخ؟ پس ہجرت کرتے تم اس میں، پس یہ لوگ ان کا ٹھکانا جہنم ہےاور بہت بری جگہ ہے وہ ، پھرنے کی(97) مگر وہ جو کمزور ہیں مردوں اور عورتوں اور بچوں سے، نہیں (اختیار) کر سکتے وہ کوئی تدبیر اور نہ پاتے ہیں کوئی راہ(98) پس یہ لوگ، امید ہے کہ اللہ معاف فرما دے انھیں اور ہے اللہ نہایت معاف کرنے والا بہت بخشنے والا(99) [97] اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت وعید آئی ہے جو ہجرت کی قدرت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتا اور دارالکفر ہی میں مر جاتا ہے۔ کیونکہ جب فرشتے اس کی روح قبض کریں گے تو اس کو سخت زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ فِيۡمَ كُنۡتُمۡ﴾’’تم کس حال میں تھے‘‘ اور کیسے تم نے اپنے تشخص کو مشرکین کے درمیان ممیز رکھا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم ان کی تعداد میں اضافے کا باعث بنے اور بسا اوقات اہل ایمان کے خلاف تم نے کفار کی مدد کی، تم خیر کثیر، اللہ کے رسول کی معیت میں جہاد، مسلمانوں کی رفاقت اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی معاونت کی سعادت سے محروم رہے۔﴿ قَالُوۡا كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِيۡنَ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ وہ کہیں گے کہ ہم کمزور مجبوراور مظلوم تھے اور ہجرت کی قدرت نہ رکھتے تھے۔ حالانکہ وہ اپنے اس قول میں سچے نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کی ہے اور ان کو وعید سنائی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ اس نے حقیقی مستضعفین کو مستثنی قرار دیا ہے اس لیے فرشتے ان سے کہیں گے ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’کیا اللہ کی زمین وسیع و فراخ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر کے چلے جاتے‘‘ یہ استفہام تقریری ہے یعنی ہر ایک کے ہاں یہ چیز متحقق ہے کہ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ بندۂ مومن جہاں کہیں بھی ہو اگر وہاں اپنے دین کا اظہار نہیں کر سکتا تو زمین اس کے لیے بہت وسیع ہے جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يٰعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ اَرۡضِيۡ وَاسِعَةٌ فَاِيَّايَ فَاعۡبُدُوۡنِ﴾(العنکبوت : 29؍56) ’’اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو بے شک میری زمین بہت وسیع ہے پس میری ہی عبادت کرو۔‘‘اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں جن کے پاس کوئی عذر نہیں، فرمایا:﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ١ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہو گا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے‘‘ جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے کہ اس میں سبب موجب کا بیان ہے جس پر ، اس کی شرائط کے جمع ہونے اور موانع کے نہ ہونے کے ساتھ، مقتضا مرتب ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کوئی مانع اس مقتضا کو روک دیتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ ہجرت سب سے بڑا فرض ہے اور اس کو ترک کرنا حرام بلکہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جس شخص نے وفات پائی اس نے اپنا وہ رزق، عمر اور عمل پورا کر لیا جو اس کے لیے مقدر کیا گیا تھا۔ یہ دلیل لفظ ’’تَوَفّٰی‘‘ سے ماخوذ ہے۔ کیونکہ اگر اس نے وہ سب کچھ پورا نہیں کیا جو اس کے لیے مقدر کیا گیا تھا تو لفظ ’’ تَوَفّٰی ‘‘ کا اطلاق صحیح نہیں۔ اس آیت میں فرشتوں پر ایمان لانے اور ان کی مدح کی دلیل بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اثبات، ان کی تحسین اور اپنی موافقت کے انداز میں فرشتوں سے خطاب کیا ہے۔ [99,98] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حقیقی مستضعفین کو مستثنیٰ قرار دیا جو کسی وجہ سے ہجرت کرنے پر قادر نہیں۔ فرمایا: ﴿ وَّلَا يَهۡتَدُوۡنَ سَبِيۡلًا﴾ ’’نہ وہ کوئی راستہ جانتے ہیں۔‘‘ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّعۡفُوَ عَنۡهُمۡ١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوۡرًا ﴾ ’’امید ہے کہ ان لوگوں کو اللہ بخش دے اور اللہ بہت درگزر کرنے والا اور نہایت بخشنے والا ہے‘‘ )عَسَی( اور اس کا ہم معنی کلمہ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور احسان کے تقاضے کے مطابق اس کو لازم کرتا ہے۔جو کوئی کچھ نیک اعمال بجا لاتا ہے اس کو ثواب کی امید دلانے میں فائدہ ہے اور وہ یہ کہ ایک شخص ہے جو پوری طرح عمل نہیں کرتا اور نہ وہ اس عمل کو اس طریقے سے بجا لاتا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے بلکہ وہ کوتاہی کا مرتکب ہوتا ہے لہٰذا وہ اس ثواب کا مستحق قرار نہیں پاتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی کسی امر واجب کی تعمیل کرنے سے عاجز ہو وہ معذور ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد سے عاجز رہنے والوں کے بارے میں فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَى الۡاَعۡمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡمَرِيۡضِ حَرَجٌ ﴾(الفتح : 48؍17) ’’نہ تو اندھے کے لیے کوئی گناہ ہے نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر۔‘‘ اور تمام احکام کی عمومی اطاعت کے بارے میں فرمایا: ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ ﴾(التغابن : 64؍16) ’’اپنی استطاعت بھر اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔‘‘ نبی اکرمﷺنے فرمایا: ’اِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَيْءٍ فَاْتُوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ‘ ’’جس چیز کا میں تمھیں حکم دوں مقدور بھر اس پر عمل کرو‘‘ (صحیح مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ في العمر، حديث:1337) جب انسان پوری کوشش کرتا ہے مگر اس پر ہر قسم کے حیلے کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں تب اس صورت میں وہ گناہ گار نہیں ہوتا کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ حِيۡلَةً ﴾ ’’وہ کوئی تدبیر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے‘‘ یعنی وہ لاچار ہیں۔ آیت میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ حج و عمرہ اور اس قسم کی دیگر عبادات میں جن میں سفر کی ضرورت پیش آتی ہے، رہنمائی کرنے والے کا ہونا بھی ’’استطاعت‘‘ کی شرطوں میں سے ہے۔
4:98

إِلَّا ٱلۡمُسۡتَضۡعَفِينَ مِنَ ٱلرِّجَالِ وَٱلنِّسَآءِ وَٱلۡوِلۡدَٰنِ لَا يَسۡتَطِيعُونَ حِيلَةٗ وَلَا يَهۡتَدُونَ سَبِيلٗا

تحقیق جو لوگ کہ فوت کرتے ہیں ان کو فرشتے دراں حالیکہ وہ ظلم کرنے والے ہیں اپنی جانوں پر تو کہتے ہیں کس حال میں تھے تم؟ کہتے ہیں وہ، تھے ہم کمزور زمین میں، کہتے ہیں وہ(فرشتے) کیا نہ تھی زمین اللہ کی فراخ؟ پس ہجرت کرتے تم اس میں، پس یہ لوگ ان کا ٹھکانا جہنم ہےاور بہت بری جگہ ہے وہ ، پھرنے کی(97) مگر وہ جو کمزور ہیں مردوں اور عورتوں اور بچوں سے، نہیں (اختیار) کر سکتے وہ کوئی تدبیر اور نہ پاتے ہیں کوئی راہ(98) پس یہ لوگ، امید ہے کہ اللہ معاف فرما دے انھیں اور ہے اللہ نہایت معاف کرنے والا بہت بخشنے والا(99) [97] اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت وعید آئی ہے جو ہجرت کی قدرت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتا اور دارالکفر ہی میں مر جاتا ہے۔ کیونکہ جب فرشتے اس کی روح قبض کریں گے تو اس کو سخت زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ فِيۡمَ كُنۡتُمۡ﴾’’تم کس حال میں تھے‘‘ اور کیسے تم نے اپنے تشخص کو مشرکین کے درمیان ممیز رکھا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم ان کی تعداد میں اضافے کا باعث بنے اور بسا اوقات اہل ایمان کے خلاف تم نے کفار کی مدد کی، تم خیر کثیر، اللہ کے رسول کی معیت میں جہاد، مسلمانوں کی رفاقت اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی معاونت کی سعادت سے محروم رہے۔﴿ قَالُوۡا كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِيۡنَ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ وہ کہیں گے کہ ہم کمزور مجبوراور مظلوم تھے اور ہجرت کی قدرت نہ رکھتے تھے۔ حالانکہ وہ اپنے اس قول میں سچے نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کی ہے اور ان کو وعید سنائی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ اس نے حقیقی مستضعفین کو مستثنی قرار دیا ہے اس لیے فرشتے ان سے کہیں گے ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’کیا اللہ کی زمین وسیع و فراخ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر کے چلے جاتے‘‘ یہ استفہام تقریری ہے یعنی ہر ایک کے ہاں یہ چیز متحقق ہے کہ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ بندۂ مومن جہاں کہیں بھی ہو اگر وہاں اپنے دین کا اظہار نہیں کر سکتا تو زمین اس کے لیے بہت وسیع ہے جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يٰعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ اَرۡضِيۡ وَاسِعَةٌ فَاِيَّايَ فَاعۡبُدُوۡنِ﴾(العنکبوت : 29؍56) ’’اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو بے شک میری زمین بہت وسیع ہے پس میری ہی عبادت کرو۔‘‘اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں جن کے پاس کوئی عذر نہیں، فرمایا:﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ١ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہو گا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے‘‘ جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے کہ اس میں سبب موجب کا بیان ہے جس پر ، اس کی شرائط کے جمع ہونے اور موانع کے نہ ہونے کے ساتھ، مقتضا مرتب ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کوئی مانع اس مقتضا کو روک دیتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ ہجرت سب سے بڑا فرض ہے اور اس کو ترک کرنا حرام بلکہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جس شخص نے وفات پائی اس نے اپنا وہ رزق، عمر اور عمل پورا کر لیا جو اس کے لیے مقدر کیا گیا تھا۔ یہ دلیل لفظ ’’تَوَفّٰی‘‘ سے ماخوذ ہے۔ کیونکہ اگر اس نے وہ سب کچھ پورا نہیں کیا جو اس کے لیے مقدر کیا گیا تھا تو لفظ ’’ تَوَفّٰی ‘‘ کا اطلاق صحیح نہیں۔ اس آیت میں فرشتوں پر ایمان لانے اور ان کی مدح کی دلیل بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اثبات، ان کی تحسین اور اپنی موافقت کے انداز میں فرشتوں سے خطاب کیا ہے۔ [99,98] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حقیقی مستضعفین کو مستثنیٰ قرار دیا جو کسی وجہ سے ہجرت کرنے پر قادر نہیں۔ فرمایا: ﴿ وَّلَا يَهۡتَدُوۡنَ سَبِيۡلًا﴾ ’’نہ وہ کوئی راستہ جانتے ہیں۔‘‘ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّعۡفُوَ عَنۡهُمۡ١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوۡرًا ﴾ ’’امید ہے کہ ان لوگوں کو اللہ بخش دے اور اللہ بہت درگزر کرنے والا اور نہایت بخشنے والا ہے‘‘ )عَسَی( اور اس کا ہم معنی کلمہ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور احسان کے تقاضے کے مطابق اس کو لازم کرتا ہے۔جو کوئی کچھ نیک اعمال بجا لاتا ہے اس کو ثواب کی امید دلانے میں فائدہ ہے اور وہ یہ کہ ایک شخص ہے جو پوری طرح عمل نہیں کرتا اور نہ وہ اس عمل کو اس طریقے سے بجا لاتا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے بلکہ وہ کوتاہی کا مرتکب ہوتا ہے لہٰذا وہ اس ثواب کا مستحق قرار نہیں پاتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی کسی امر واجب کی تعمیل کرنے سے عاجز ہو وہ معذور ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد سے عاجز رہنے والوں کے بارے میں فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَى الۡاَعۡمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡمَرِيۡضِ حَرَجٌ ﴾(الفتح : 48؍17) ’’نہ تو اندھے کے لیے کوئی گناہ ہے نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر۔‘‘ اور تمام احکام کی عمومی اطاعت کے بارے میں فرمایا: ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ ﴾(التغابن : 64؍16) ’’اپنی استطاعت بھر اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔‘‘ نبی اکرمﷺنے فرمایا: ’اِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَيْءٍ فَاْتُوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ‘ ’’جس چیز کا میں تمھیں حکم دوں مقدور بھر اس پر عمل کرو‘‘ (صحیح مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ في العمر، حديث:1337) جب انسان پوری کوشش کرتا ہے مگر اس پر ہر قسم کے حیلے کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں تب اس صورت میں وہ گناہ گار نہیں ہوتا کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ حِيۡلَةً ﴾ ’’وہ کوئی تدبیر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے‘‘ یعنی وہ لاچار ہیں۔ آیت میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ حج و عمرہ اور اس قسم کی دیگر عبادات میں جن میں سفر کی ضرورت پیش آتی ہے، رہنمائی کرنے والے کا ہونا بھی ’’استطاعت‘‘ کی شرطوں میں سے ہے۔
4:99

فَأُوْلَـٰٓئِكَ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَعۡفُوَ عَنۡهُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَفُوًّا غَفُورٗا

تحقیق جو لوگ کہ فوت کرتے ہیں ان کو فرشتے دراں حالیکہ وہ ظلم کرنے والے ہیں اپنی جانوں پر تو کہتے ہیں کس حال میں تھے تم؟ کہتے ہیں وہ، تھے ہم کمزور زمین میں، کہتے ہیں وہ(فرشتے) کیا نہ تھی زمین اللہ کی فراخ؟ پس ہجرت کرتے تم اس میں، پس یہ لوگ ان کا ٹھکانا جہنم ہےاور بہت بری جگہ ہے وہ ، پھرنے کی(97) مگر وہ جو کمزور ہیں مردوں اور عورتوں اور بچوں سے، نہیں (اختیار) کر سکتے وہ کوئی تدبیر اور نہ پاتے ہیں کوئی راہ(98) پس یہ لوگ، امید ہے کہ اللہ معاف فرما دے انھیں اور ہے اللہ نہایت معاف کرنے والا بہت بخشنے والا(99) [97] اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت وعید آئی ہے جو ہجرت کی قدرت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتا اور دارالکفر ہی میں مر جاتا ہے۔ کیونکہ جب فرشتے اس کی روح قبض کریں گے تو اس کو سخت زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ فِيۡمَ كُنۡتُمۡ﴾’’تم کس حال میں تھے‘‘ اور کیسے تم نے اپنے تشخص کو مشرکین کے درمیان ممیز رکھا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم ان کی تعداد میں اضافے کا باعث بنے اور بسا اوقات اہل ایمان کے خلاف تم نے کفار کی مدد کی، تم خیر کثیر، اللہ کے رسول کی معیت میں جہاد، مسلمانوں کی رفاقت اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی معاونت کی سعادت سے محروم رہے۔﴿ قَالُوۡا كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِيۡنَ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ وہ کہیں گے کہ ہم کمزور مجبوراور مظلوم تھے اور ہجرت کی قدرت نہ رکھتے تھے۔ حالانکہ وہ اپنے اس قول میں سچے نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کی ہے اور ان کو وعید سنائی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ اس نے حقیقی مستضعفین کو مستثنی قرار دیا ہے اس لیے فرشتے ان سے کہیں گے ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’کیا اللہ کی زمین وسیع و فراخ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر کے چلے جاتے‘‘ یہ استفہام تقریری ہے یعنی ہر ایک کے ہاں یہ چیز متحقق ہے کہ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ بندۂ مومن جہاں کہیں بھی ہو اگر وہاں اپنے دین کا اظہار نہیں کر سکتا تو زمین اس کے لیے بہت وسیع ہے جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يٰعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ اَرۡضِيۡ وَاسِعَةٌ فَاِيَّايَ فَاعۡبُدُوۡنِ﴾(العنکبوت : 29؍56) ’’اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو بے شک میری زمین بہت وسیع ہے پس میری ہی عبادت کرو۔‘‘اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں جن کے پاس کوئی عذر نہیں، فرمایا:﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ١ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہو گا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے‘‘ جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے کہ اس میں سبب موجب کا بیان ہے جس پر ، اس کی شرائط کے جمع ہونے اور موانع کے نہ ہونے کے ساتھ، مقتضا مرتب ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کوئی مانع اس مقتضا کو روک دیتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ ہجرت سب سے بڑا فرض ہے اور اس کو ترک کرنا حرام بلکہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جس شخص نے وفات پائی اس نے اپنا وہ رزق، عمر اور عمل پورا کر لیا جو اس کے لیے مقدر کیا گیا تھا۔ یہ دلیل لفظ ’’تَوَفّٰی‘‘ سے ماخوذ ہے۔ کیونکہ اگر اس نے وہ سب کچھ پورا نہیں کیا جو اس کے لیے مقدر کیا گیا تھا تو لفظ ’’ تَوَفّٰی ‘‘ کا اطلاق صحیح نہیں۔ اس آیت میں فرشتوں پر ایمان لانے اور ان کی مدح کی دلیل بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اثبات، ان کی تحسین اور اپنی موافقت کے انداز میں فرشتوں سے خطاب کیا ہے۔ [99,98] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حقیقی مستضعفین کو مستثنیٰ قرار دیا جو کسی وجہ سے ہجرت کرنے پر قادر نہیں۔ فرمایا: ﴿ وَّلَا يَهۡتَدُوۡنَ سَبِيۡلًا﴾ ’’نہ وہ کوئی راستہ جانتے ہیں۔‘‘ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّعۡفُوَ عَنۡهُمۡ١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوۡرًا ﴾ ’’امید ہے کہ ان لوگوں کو اللہ بخش دے اور اللہ بہت درگزر کرنے والا اور نہایت بخشنے والا ہے‘‘ )عَسَی( اور اس کا ہم معنی کلمہ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور احسان کے تقاضے کے مطابق اس کو لازم کرتا ہے۔جو کوئی کچھ نیک اعمال بجا لاتا ہے اس کو ثواب کی امید دلانے میں فائدہ ہے اور وہ یہ کہ ایک شخص ہے جو پوری طرح عمل نہیں کرتا اور نہ وہ اس عمل کو اس طریقے سے بجا لاتا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے بلکہ وہ کوتاہی کا مرتکب ہوتا ہے لہٰذا وہ اس ثواب کا مستحق قرار نہیں پاتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی کسی امر واجب کی تعمیل کرنے سے عاجز ہو وہ معذور ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد سے عاجز رہنے والوں کے بارے میں فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَى الۡاَعۡمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡمَرِيۡضِ حَرَجٌ ﴾(الفتح : 48؍17) ’’نہ تو اندھے کے لیے کوئی گناہ ہے نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر۔‘‘ اور تمام احکام کی عمومی اطاعت کے بارے میں فرمایا: ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ ﴾(التغابن : 64؍16) ’’اپنی استطاعت بھر اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔‘‘ نبی اکرمﷺنے فرمایا: ’اِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَيْءٍ فَاْتُوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ‘ ’’جس چیز کا میں تمھیں حکم دوں مقدور بھر اس پر عمل کرو‘‘ (صحیح مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ في العمر، حديث:1337) جب انسان پوری کوشش کرتا ہے مگر اس پر ہر قسم کے حیلے کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں تب اس صورت میں وہ گناہ گار نہیں ہوتا کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ حِيۡلَةً ﴾ ’’وہ کوئی تدبیر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے‘‘ یعنی وہ لاچار ہیں۔ آیت میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ حج و عمرہ اور اس قسم کی دیگر عبادات میں جن میں سفر کی ضرورت پیش آتی ہے، رہنمائی کرنے والے کا ہونا بھی ’’استطاعت‘‘ کی شرطوں میں سے ہے۔
4:100

۞وَمَن يُهَاجِرۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ يَجِدۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُرَٰغَمٗا كَثِيرٗا وَسَعَةٗۚ وَمَن يَخۡرُجۡ مِنۢ بَيۡتِهِۦ مُهَاجِرًا إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ يُدۡرِكۡهُ ٱلۡمَوۡتُ فَقَدۡ وَقَعَ أَجۡرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا

اور جو شخص ہجرت کرے راستے میں اللہ کے، پائے گا وہ زمین میں جگہ بہت اور فراوانی اور جو شخص نکلے اپنے گھر سے ہجرت کرتے ہوئے طرف اللہ اور اس کے رسول کی، پھر آپکڑے اس کو موت پس تحقیق ثابت ہو گیا اس کا اجر اللہ پراور ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(100) [100] اس آیت کریمہ میں ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے اور ان مصالح اور فوائد کا بیان ہے جو ہجرت میں پنہاں ہیں۔ اس سچی ہستی نے وعدہ کیا ہے کہ جو کوئی اس کی رضا کی خاطر اس کی راہ میں ہجرت کرتا ہے وہ زمین میں بہت سے راستے اور کشادگی پائے گا۔ پس یہ راستے دینی مصالح، زمین کی وسعت اور دنیاوی مصالح پر مشتمل ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہجرت، وصال کے بعد فراق، غنا کے بعد فقر، عزت کے بعد ذلت اور فراخی کے بعد تنگدستی میں پڑنے کا نام ہے۔ معاملہ دراصل یہ نہیں کیونکہ بندۂ مومن جب تک کفار کے درمیان رہ رہا ہے اس کا دین انتہائی ناقص ہے اس کی وہ عبادات بھی ناقص ہیں جن کا تعلق صرف اسی کی ذات سے ہے جیسے نماز وغیرہ۔ اور اس کی وہ عبادات بھی ناقص ہیں جن کا تعلق دوسروں سے ہے، مثلاً: قولی و فعلی جہاد اور اس کے دیگر توابع۔ کیونکہ یہ اس کے بس کی بات نہیں۔ اور وہ اپنے دین کے بارے میں ہمیشہ فتنے اور آزمائش میں مبتلا رہے گا۔ خاص طور پر جبکہ وہ مستضعفین ’’کمزوروں‘‘ میں شمار ہوتا ہو۔ پس جب وہ دارالکفر سے ہجرت کر جاتا ہے تو اقامت دین کی کوشش اور اللہ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کر سکتا ہے۔ کیونکہ (اَلْمُرَاغَمَۃ) ایک جامع نام ہے اور اس سے مراد ہر وہ قول و فعل ہے جس سے اللہ کے دشمنوں کے خلاف غیظ و غضب پیدا ہو۔ اسی طرح (مُرَاغَمٌ) سے مراد رزق وغیرہ کی فراخی ہے اور یہ چیز اسی طرح واقع ہوئی جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔چونکہ صحابہ کرامyنے اللہ کے راستے میں ہجرت کی، اللہ کی رضا کے لیے اپنا گھر بار، اپنا مال اور اپنی اولاد کو چھوڑ دیا اس لیے ہجرت کے ذریعے سے ان کے ایمان کی تکمیل ہوئی، انھیں ایمان کامل، جہاد عظیم اور اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت حاصل ہوئی۔ بنابریں وہ بعد میں آنے والوں کے لیے امام بن گئے۔ اس ایمان کی تکمیل پر انھیں فتوحات اور غنائم حاصل ہوئیں اور وہ سب سے زیادہ بے نیاز ہو گئے۔ اسی طرح، قیامت تک ہر وہ شخص جو ان کی سیرت کو اختیار کرے گا اس کو بھی انھی انعامات سے نوازا جائے گا جن انعامات سے ان کو نوازا گیا تھا۔پھر فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّخۡرُجۡ مِنۢۡ بَيۡتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرکے گھر سے نکل جائے۔‘‘ یعنی جو شخص صرف اپنے رب کی رضا اور اس کے رسولﷺکی محبت اور اللہ کے دین کی نصرت کی خاطر ہجرت کے لیے اپنے گھر سے نکلتا ہے اور اس کے سوا اس کا کوئی اور مقصد نہیں ﴿ ثُمَّ يُدۡرِكۡهُ الۡمَوۡتُ ﴾ ’’پھر اس کو موت آپکڑے۔‘‘ یعنی پھر قتل یا کسی اور سبب سے اسے موت آ جاتی ہے ﴿ فَقَدۡ وَ قَعَ اَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’تو اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہوچکا۔‘‘ یعنی اسے اس مہاجر کا اجر حاصل ہو گیا جسے اللہ تعالیٰ کی ضمانت سے اپنی منزل مقصود مل گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے عزم جازم کے ساتھ ہجرت کی نیت کی تھی اور اس پر عملدرآمد کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس پر، اور اس جیسے دوسرے لوگوں پر یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اگرچہ انھوں نے اپنے عمل کو مکمل نہیں کیا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو کامل عمل عطا کر دیا۔ اور ہجرت وغیرہ کے معاملے میں ان سے جو کوتاہی ہوئی اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو ان دو اسمائے حسنی پر ختم کیا ہے ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ان تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے جس کا وہ ارتکاب کرتے ہیں خاص طور پر، وہ اہل ایمان جو توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا﴾ یعنی وہ تمام مخلوق پر رحم کرنے والا ہے، اس کی رحمت ہی انھیں وجود میں لائی، اس کی رحمت ہی نے انھیں عافیت عطا کی اور اس کی رحمت ہی نے انھیں مال، بیٹوں اور قوت وغیرہ سے نوازا۔ وہ اہل ایمان پر رحم کرنے والا ہے، کیونکہ اسی نے اہل ایمان کو ایمان کی توفیق عطا کی، انھیں ایسے علم سے نوازا جس سے ایقان حاصل ہوتا ہے۔ ان کے لیے سعادت اور فلاح کی راہیں آسان کر دیں، جن کے ذریعے سے وہ بے انتہا فائدہ اٹھاتے ہیں وہ عنقریب اس کی رحمت اور فضل و کرم کے وہ نظارے دیکھیں گے جو کسی آنکھ نے دیکھے ہوں گے نہ کسی کان نے سنے ہوں گے اور نہ کسی بشر کے قلب سے ان کا گزر ہوا ہو گا۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہماری برائیوں کی وجہ سے اپنی بھلائیوں سے محروم نہ کرے۔
4:101

وَإِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَقۡصُرُواْ مِنَ ٱلصَّلَوٰةِ إِنۡ خِفۡتُمۡ أَن يَفۡتِنَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْۚ إِنَّ ٱلۡكَٰفِرِينَ كَانُواْ لَكُمۡ عَدُوّٗا مُّبِينٗا

اور جب سفر کرو تم زمین میں، پس نہیں تم پر گناہ یہ کہ قصر کرو تم نماز اگر ڈرو تم اس بات سے کہ فتنے میں ڈال دیں گے تمھیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، یقیناً کافر ہیں تمھارے دشمن ظاہر(101) اور جب ہوں آپ ان میں، پھر قائم کریں ان کے لیے نماز تو چاہیے کہ کھڑی ہو ایک جماعت ان میں سے آپ کے ساتھ اور چاہیے کہ (ساتھ) لے لے وہ اپنے ہتھیار، پھر جب سجدہ کر لے وہ تو ہو جائے تمھارے پیچھے اور چاہیے کہ آئے جماعت دوسری کہ نہیں نماز پڑھی اس نے، کہ نماز پڑھے وہ آپ کے ساتھ اور چاہیے کہ لے لے وہ اپنا بچاؤ اور اپنے ہتھیار، چاہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش کہ غافل ہو تم اپنے اسلحے اور اپنے سامان سے، پس ٹوٹ پڑیں وہ تم پر ٹوٹ پڑنا، یک بارگی اور نہیں گناہ تم پر اگر ہو تمھیں تکلیف بارش سے یا ہو تم بیمار یہ کہ رکھ دو تم اپنے ہتھیاراور (ساتھ) لے لو تم اپنا بچاؤ، تحقیق اللہ نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے عذاب رسواکن(102) [101] یہ دو آیات کریمہ سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت اور نماز خوف کے لیے اصل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جب چلو تم زمین میں‘‘ یعنی سفر کے دوران۔ آیت کریمہ کا ظاہر سفر کے دوران نمازمیں قصر کی رخصت کا تقاضا کرتا ہے سفر خواہ کیسا ہی ہو، خواہ معصیت کا سفر ہی کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ جمہور فقہاء یعنی ائمہ ثلاثہ اور دیگر اہل علم آیت کے معنی اور مناسبت کے اعتبار سے آیت کے عموم کی تخصیص کرتے ہوئے معصیت کے سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت کو جائز قرار نہیں دیتے۔ کیونکہ رخصت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سہولت ہے کہ جب وہ سفر کریں تو نماز میں قصر کر لیا کریں اور روزہ چھوڑ دیا کریں۔ یہ تخفیف گناہ کا سفر کرنے والے شخص کے حال سے مناسبت نہیں رکھتی۔ ﴿ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَقۡصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوةِ ﴾ ’’تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں‘‘ یعنی تم پر کوئی حرج اور گناہ نہیں۔ یہ چیز قصر کے افضل ہونے کے منافی نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ میں مذکورہ نفئ حرج اس وہم کا ازالہ کرتی ہے جو بہت سے نفوس میں واقع ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تو نماز قصر کے واجب ہونے کے بھی منافی نہیں جیسا کہ اس کی نظیر سورۂ البقرۃ کی اس آیت میں گزر چکی ہے ﴿ اِنَّ الصَّفَا وَالۡمَرۡوَةَ مِنۡ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ...الي آخر الآيۃ ﴾(البقرۃ : 2؍158) ’’صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں… آیت کے آخر تک۔‘‘اس مقام پر وہم کا ازالہ ظاہر ہے کیونکہ مسلمانوں کے ہاں نماز کا وجوب اس کی اس کامل صفت کے ساتھ متحقق ہے۔ اور یہ وہم اکثر نفوس سے اس وقت تک زائل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس امر کا ذکر نہ کیا جائے جو اس کے منافی ہے۔ اتمام پر قصر کی افضلیت کو دو امور ثابت کرتے ہیں:اول: رسول اللہﷺکا اپنے تمام سفروں کے دوران میں قصر کا التزام کرنا۔ثانی: قصر، بندوں کے لیے وسعت، رخصت اور رحمت کا دروازہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ اس کی رخصتوں سے استفادہ کیا جائے۔ جس طرح وہ یہ بات ناپسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی کا کوئی کام کیا جائے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَنۡ تَقۡصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوةِ ﴾ ’’نماز میں سے کچھ کم کر دو‘‘ اور یہ نہیں فرمایا (اَنْ تَقْصُرُوا الصَّلٰوۃَ) ’’نماز کو کم کر دو‘‘ اس میں دو فائدے ہیں:اول: اگر یہ کہا ہوتا کہ ’’نماز کو کم کر دو‘‘ تو قصر غیر منضبط اور غیر محدود ہوتی۔ اور بسا اوقات یہ بھی سمجھا جا سکتا تھا کہ اگر نماز کا بڑا حصہ کم کر دیا جائے اور صرف ایک رکعت پڑھ لی جائے، تو کافی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے (مِنَ الصَّلٰوۃِ) کا لفظ استعمال فرمایا۔ تاکہ وہ اس امر پر دلالت کرے کہ قصر محدود اور منضبط ہے اور اس بارے میں اصل مرجع وہ نماز قصر ہے جو رسول اللہﷺاور آپ کے اصحاب کرامyکے فعل سے ثابت ہے۔ثانی: حرف جار (مِنْ) تبعیض کا فائدہ دیتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ صرف بعض فرض نمازوں میں قصر ہے تمام نمازوں میں جائز نہیں۔ کیونکہ فجر اور مغرب کی نماز میں قصر نہیں۔ صرف ان نمازوں میں قصر کر کے دو رکعت پڑھی جاتی ہیں جن میں چار رکعتیں فرض کی گئی ہیں۔جب یہ بات متحقق ہو گئی کہ سفر میں نماز قصر ایک رخصت ہے تو معلوم ہونا چاہیے کہ مفسرین میں اس قید کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں وارد ہوئی ہے ﴿ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَكُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اگر تم اس بات سے ڈرو کہ کافر تمھیں فتنے میں ڈال دیں گے‘‘ جس کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ نماز قصر اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ یہ دو امور ایک ساتھ موجود نہ ہوں سفر اور خوف۔ ان کے اختلاف کا حاصل یہ ہے کہ (اَنْ تَقْصُرُوْا) سے مراد صرف عدد رکعات میں کمی ہے یا عدد رکعات اور صفت نماز دونوں میں کمی ہے؟اشکال صرف پہلی صورت میں ہے اور یہ اشکال امیر المومنین جناب عمر بن خطابtکو لاحق ہوا تھا۔ حتیٰ کہ انھوں نے رسول اللہﷺسے پوچھا ’’یارسول اللہ! ہم نماز میں قصر کیوں کرتے ہیں حالانکہ ہم مامون ہوتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے ﴿ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَكُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اگر تمھیں کافروں کا خوف ہو کہ وہ تمھیں فتنے میں ڈال دیں گے‘‘ رسول اللہﷺنے جواب میں فرمایا: ’’یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر صدقہ ہے پس تم اللہ تعالیٰ کے صدقہ کو قبول کرو‘‘(اَوْ کَمَا قَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ)(صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ المسافرین وقصرہا، حديث:1573)اس صورت میں یہ قید ان غالب حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عائد کی گئی تھی جن سے رسول اللہﷺاور صحابہ کرام دو چار تھے۔ کیونکہ رسول اللہﷺکے اکثر سفر جہاد کے لیے ہوتے تھے۔اس میں دوسرا فائدہ یہ ہے کہ قصر کی رخصت کی مشروعیت میں حکمت اور مصلحت بیان کی گئی ہے۔ اس آیت کریمہ میں وہ انتہائی مشقت بیان کی گئی ہے، جس کا قصر کی رخصت کے بارے میں تصور کیا جا سکتا ہے اور وہ ہے سفر اور خوف کا اجتماع اور اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ اکیلے سفر میں قصر نہ کی جائے جو کہ مشقت کا باعث ہے۔ رہی قصر کی دوسری صورت یعنی عدد رکعات اور نماز کی صفت میں قصر تو یہ قید اپنے اپنے باب کے مطابق ہو گی۔ یعنی انسان کو اگر سفر اور خوف دونوں کا سامنا ہو تو عدد اور صفت دونوں میں قصر کی رخصت ہے۔ اگر وہ بلا خوف کسی سفر پر ہے تو صرف عدد رکعات میں قصر ہے اور اگر صرف دشمن کا خوف لاحق ہے تو صرف وصف نماز میں قصر ہے۔ [102] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ میں نماز خوف کی صفت بیان فرمائی ہے۔ ﴿ وَاِذَا كُنۡتَ فِيۡهِمۡ فَاَقَمۡتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اور (اے پیغمبر!) جب آپ ان (مجاہدین کے لشکر میں ہوں) اور ان کو نماز پڑھانے لگو۔‘‘ یعنی جب آپ ان کے ساتھ نماز پڑھیں اور اس کے ان واجبات کو پورا کریں جن کا پورا کرنا آپ پر اور آپ کے اصحاب پر لازم ہے۔پھر اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر بیان فرمائی ﴿ فَلۡتَقُمۡ طَآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ مَّعَكَ ﴾ ’’تو ان میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ نماز کے لیے کھڑا ہو‘‘ اور دوسری جماعت دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو جیسا کہ آیت کا ٹکڑا ﴿ فَاِذَا سَجَدُوۡا ﴾’’جب وہ سجدہ کرچکیں۔‘‘ اس پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو آپﷺکے ساتھ نماز میں شریک ہیں اپنی نماز مکمل کر لیں۔ یہاں نماز کو سجدے سے تعبیر کیا ہے تاکہ سجدے کی فضیلت ظاہر ہو۔ نیز یہ کہ سجدہ نماز کا رکن بلکہ سب سے بڑا رکن ہے۔﴿ فَلۡيَكُوۡنُوۡا مِنۡ وَّرَؔآىِٕكُمۡ١۪ وَلۡتَاۡتِ طَآىِٕفَةٌ اُخۡرٰى لَمۡ يُصَلُّوۡا ﴾ ’’تو یہ تمھارے پیچھے آجائیں اور وہ دوسری جماعت آجائے جس نے نماز نہیں پڑھی‘‘ اور یہ وہ گروہ ہے جو دشمن کے مقابلے میں کھڑا تھا ﴿ فَلۡيُصَلُّوۡا مَعَكَ ﴾ ’’اب یہ گروہ آپ کے ساتھ نماز پڑھے۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پہلے گروہ کے نماز سے چلے جانے کے بعد امام نماز میں باقی رہے اور دوسرے گروہ کا انتظار کرے جب دوسرا گروہ آجائے تو ان کے ساتھ اپنی باقی نماز پڑھے پھر بیٹھ جائے اور ان کا انتظار کرے جب وہ اپنی نماز مکمل کر لیں تو ان کے ساتھ سلام پھیرے۔یہ نماز خوف اد اکرنے کے متعدد طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔ رسول اللہﷺسے نماز خوف کے متعدد طریقے مروی ہیں۔ ان تمام طریقوں سے نماز پڑھنا جائز ہے۔یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ نماز باجماعت دو وجوہ سے فرض عین ہے۔اول: اللہ تعالیٰ نے خوف کی اس شدید حالت میں یعنی دشمن کے حملہ کے خوف کی حالت میں بھی جماعت کے ساتھ نماز کا حکم دیا ہے۔ جب اس شدید حالت میں بھی جماعت کو واجب قرار دیا ہے تو امن و اطمینان کی حالت میں اس کا واجب ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ثانی: نماز خوف ادا کرنے والے نمازی نماز کی بہت سی شرائط اور لوازم کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس نماز میں نماز کو باطل کرنے والے بہت سے افعال کو نظرانداز کر کے ان کو معاف کر دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ صرف جماعت کے وجوب کی تاکید کی بنا پر ہے۔ کیونکہ فرض اور مستحب میں کوئی تعارض نہیں۔ اگر جماعت کے ساتھ نماز کا پڑھنا فرض نہ ہوتا، تو اس کی خاطر نماز کے ان واجبات کو ترک کرنے کی کبھی اجازت نہ دی جاتی۔آیت کریمہ یہ بھی دلالت کرتی ہے کہ افضل یہ ہے کہ ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھی جائے۔ اگر ایسا کرنا کسی خلل کا باعث ہو تو متعدد ائمہ کے پیچھے نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔ یہ سب کچھ مسلمانوں کے اجتماع و اتفاق اور ان کے عدم افتراق کی خاطر ہے تاکہ یہ اتفاق ان کے دشمنوں کے دلوں میں رعب اور ہیبت ڈال دے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز خوف کے اندر مسلح اور ہوشیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ نماز خوف میں اگرچہ کچھ زائد حرکات ہوتی ہیں اور نماز کے بعض احوال چھوٹ جاتے ہیں تاہم اس میں ایک راجح مصلحت ہے اور وہ ہے نماز اور جہاد کا اجتماع اور ان دشمنوں سے ہوشیار رہنا جو مسلمانوں پر حملہ کرنے اور ان کے مال و متاع لوٹنے کے سخت حریص ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَدَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡ تَغۡفُلُوۡنَ عَنۡ اَسۡلِحَتِكُمۡ وَاَمۡتِعَتِكُمۡ فَيَمِيۡلُوۡنَ عَلَيۡكُمۡ مَّيۡلَةً وَّاحِدَةً﴾ ’’کافر چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے بے خبر ہو جاؤ تو وہ تم پر اچانک دھاوا بول دیں۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے عذر کو قبول فرمایا جو کسی مرض یا بارش کی وجہ سے اپنا اسلحہ اتار دیتا ہے مگر بایں ہمہ وہ دشمن سے چوکنا ہے۔ ﴿ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِنۡ كَانَ بِكُمۡ اَذًى مِّنۡ مَّطَرٍ اَوۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَنۡ تَضَعُوۡۤا اَسۡلِحَتَكُمۡ١ۚ وَخُذُوۡا حِذۡرَؔكُمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا ﴾ ’’ہاں! اپنے ہتھیار اتار رکھنے میں اس وقت تم پر کوئی گناہ نہیں جبکہ تمھیں تکلیف ہو بوجہ بارش کے یا تم بیمار ہو۔ اور بچاؤ کی چیزیں ساتھ رکھو۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘ اور اس کا رسوا کن عذاب یہ ہے کہ اس نے اہل ایمان اور اپنے دین کے موحدین انصار کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کو جہاں کہیں پائیں ان کو پکڑیں اور ان کو قتل کریں، ان کے ساتھ جنگ کریں، ان کا محاصرہ کریں، ہر جگہ ان کے لیے گھات لگائیں اور ہر حال میں ان سے چوکنا رہیں۔ ان کی طرف سے کبھی غافل نہ ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ کفار اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حمد و ثنا ہے کہ اس نے اہل ایمان پر احسان فرمایا اور اس نے اپنی مدد اور تعلیم کے ذریعے سے ان کی تائید فرمائی اگر وہ اس تعلیم پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہوں تو ان کاپرچم کبھی سرنگوں نہیں ہو سکتا اور کسی زمانے میں بھی دشمن ان پر غالب نہیں آ سکتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَاِذَا سَجَدُوۡا فَلۡيَكُوۡنُوۡا مِنۡ وَّرَؔآىِٕكُمۡ ﴾ ’’جب وہ سجدہ کرچکیں تو پرے ہوجائیں۔‘‘ دلالت کرتا ہے کہ اس گروہ نے دشمن کے مقابلے میں جانے سے پہلے اپنی نماز مکمل کر لی تھی۔ اور یہ کہ رسول اللہﷺسلام پھیرنے سے پہلے دوسرے گروہ کے منتظر تھے۔ کیونکہ پہلے ذکر فرمایا کہ وہ گروہ نماز میں آپﷺکے ساتھ کھڑا ہو پس آپﷺسے ان کی مصاحبت کی خبر دی۔ پھر رسولﷺکو چھوڑ کر فعل کو ان کی طرف مضاف کیا یہ چیز ہمارے اس موقف پر دلالت کرتی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَلۡتَاۡتِ طَآىِٕفَةٌ اُخۡرٰى لَمۡ يُصَلُّوۡا فَلۡيُصَلُّوۡا مَعَكَ ﴾ ’’پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی جگہ) آئے‘‘ اس امر پر دلیل ہے کہ پہلا گروہ نماز پڑھ چکا تھا۔ اور دوسرے گروہ کی تمام نماز امام کی معیت میں پڑھی گئی۔ ان کی پہلی رکعت حقیقی طور پر امام کے ساتھ تھی اور دوسری حکمی طور پر۔ اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ امام ان کا انتظار کرے یہاں تک کہ وہ اپنی نماز مکمل کر لیں پھر ان کے ساتھ سلام پھیرے۔ یہ چیز غور کرنے والے پر صاف واضح ہے۔
4:102

وَإِذَا كُنتَ فِيهِمۡ فَأَقَمۡتَ لَهُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَلۡتَقُمۡ طَآئِفَةٞ مِّنۡهُم مَّعَكَ وَلۡيَأۡخُذُوٓاْ أَسۡلِحَتَهُمۡۖ فَإِذَا سَجَدُواْ فَلۡيَكُونُواْ مِن وَرَآئِكُمۡ وَلۡتَأۡتِ طَآئِفَةٌ أُخۡرَىٰ لَمۡ يُصَلُّواْ فَلۡيُصَلُّواْ مَعَكَ وَلۡيَأۡخُذُواْ حِذۡرَهُمۡ وَأَسۡلِحَتَهُمۡۗ وَدَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡ تَغۡفُلُونَ عَنۡ أَسۡلِحَتِكُمۡ وَأَمۡتِعَتِكُمۡ فَيَمِيلُونَ عَلَيۡكُم مَّيۡلَةٗ وَٰحِدَةٗۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ إِن كَانَ بِكُمۡ أَذٗى مِّن مَّطَرٍ أَوۡ كُنتُم مَّرۡضَىٰٓ أَن تَضَعُوٓاْ أَسۡلِحَتَكُمۡۖ وَخُذُواْ حِذۡرَكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٗا مُّهِينٗا

اور جب سفر کرو تم زمین میں، پس نہیں تم پر گناہ یہ کہ قصر کرو تم نماز اگر ڈرو تم اس بات سے کہ فتنے میں ڈال دیں گے تمھیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، یقیناً کافر ہیں تمھارے دشمن ظاہر(101) اور جب ہوں آپ ان میں، پھر قائم کریں ان کے لیے نماز تو چاہیے کہ کھڑی ہو ایک جماعت ان میں سے آپ کے ساتھ اور چاہیے کہ (ساتھ) لے لے وہ اپنے ہتھیار، پھر جب سجدہ کر لے وہ تو ہو جائے تمھارے پیچھے اور چاہیے کہ آئے جماعت دوسری کہ نہیں نماز پڑھی اس نے، کہ نماز پڑھے وہ آپ کے ساتھ اور چاہیے کہ لے لے وہ اپنا بچاؤ اور اپنے ہتھیار، چاہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش کہ غافل ہو تم اپنے اسلحے اور اپنے سامان سے، پس ٹوٹ پڑیں وہ تم پر ٹوٹ پڑنا، یک بارگی اور نہیں گناہ تم پر اگر ہو تمھیں تکلیف بارش سے یا ہو تم بیمار یہ کہ رکھ دو تم اپنے ہتھیاراور (ساتھ) لے لو تم اپنا بچاؤ، تحقیق اللہ نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے عذاب رسواکن(102) [101] یہ دو آیات کریمہ سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت اور نماز خوف کے لیے اصل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جب چلو تم زمین میں‘‘ یعنی سفر کے دوران۔ آیت کریمہ کا ظاہر سفر کے دوران نمازمیں قصر کی رخصت کا تقاضا کرتا ہے سفر خواہ کیسا ہی ہو، خواہ معصیت کا سفر ہی کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ جمہور فقہاء یعنی ائمہ ثلاثہ اور دیگر اہل علم آیت کے معنی اور مناسبت کے اعتبار سے آیت کے عموم کی تخصیص کرتے ہوئے معصیت کے سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت کو جائز قرار نہیں دیتے۔ کیونکہ رخصت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سہولت ہے کہ جب وہ سفر کریں تو نماز میں قصر کر لیا کریں اور روزہ چھوڑ دیا کریں۔ یہ تخفیف گناہ کا سفر کرنے والے شخص کے حال سے مناسبت نہیں رکھتی۔ ﴿ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَقۡصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوةِ ﴾ ’’تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں‘‘ یعنی تم پر کوئی حرج اور گناہ نہیں۔ یہ چیز قصر کے افضل ہونے کے منافی نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ میں مذکورہ نفئ حرج اس وہم کا ازالہ کرتی ہے جو بہت سے نفوس میں واقع ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تو نماز قصر کے واجب ہونے کے بھی منافی نہیں جیسا کہ اس کی نظیر سورۂ البقرۃ کی اس آیت میں گزر چکی ہے ﴿ اِنَّ الصَّفَا وَالۡمَرۡوَةَ مِنۡ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ...الي آخر الآيۃ ﴾(البقرۃ : 2؍158) ’’صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں… آیت کے آخر تک۔‘‘اس مقام پر وہم کا ازالہ ظاہر ہے کیونکہ مسلمانوں کے ہاں نماز کا وجوب اس کی اس کامل صفت کے ساتھ متحقق ہے۔ اور یہ وہم اکثر نفوس سے اس وقت تک زائل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس امر کا ذکر نہ کیا جائے جو اس کے منافی ہے۔ اتمام پر قصر کی افضلیت کو دو امور ثابت کرتے ہیں:اول: رسول اللہﷺکا اپنے تمام سفروں کے دوران میں قصر کا التزام کرنا۔ثانی: قصر، بندوں کے لیے وسعت، رخصت اور رحمت کا دروازہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ اس کی رخصتوں سے استفادہ کیا جائے۔ جس طرح وہ یہ بات ناپسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی کا کوئی کام کیا جائے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَنۡ تَقۡصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوةِ ﴾ ’’نماز میں سے کچھ کم کر دو‘‘ اور یہ نہیں فرمایا (اَنْ تَقْصُرُوا الصَّلٰوۃَ) ’’نماز کو کم کر دو‘‘ اس میں دو فائدے ہیں:اول: اگر یہ کہا ہوتا کہ ’’نماز کو کم کر دو‘‘ تو قصر غیر منضبط اور غیر محدود ہوتی۔ اور بسا اوقات یہ بھی سمجھا جا سکتا تھا کہ اگر نماز کا بڑا حصہ کم کر دیا جائے اور صرف ایک رکعت پڑھ لی جائے، تو کافی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے (مِنَ الصَّلٰوۃِ) کا لفظ استعمال فرمایا۔ تاکہ وہ اس امر پر دلالت کرے کہ قصر محدود اور منضبط ہے اور اس بارے میں اصل مرجع وہ نماز قصر ہے جو رسول اللہﷺاور آپ کے اصحاب کرامyکے فعل سے ثابت ہے۔ثانی: حرف جار (مِنْ) تبعیض کا فائدہ دیتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ صرف بعض فرض نمازوں میں قصر ہے تمام نمازوں میں جائز نہیں۔ کیونکہ فجر اور مغرب کی نماز میں قصر نہیں۔ صرف ان نمازوں میں قصر کر کے دو رکعت پڑھی جاتی ہیں جن میں چار رکعتیں فرض کی گئی ہیں۔جب یہ بات متحقق ہو گئی کہ سفر میں نماز قصر ایک رخصت ہے تو معلوم ہونا چاہیے کہ مفسرین میں اس قید کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں وارد ہوئی ہے ﴿ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَكُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اگر تم اس بات سے ڈرو کہ کافر تمھیں فتنے میں ڈال دیں گے‘‘ جس کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ نماز قصر اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ یہ دو امور ایک ساتھ موجود نہ ہوں سفر اور خوف۔ ان کے اختلاف کا حاصل یہ ہے کہ (اَنْ تَقْصُرُوْا) سے مراد صرف عدد رکعات میں کمی ہے یا عدد رکعات اور صفت نماز دونوں میں کمی ہے؟اشکال صرف پہلی صورت میں ہے اور یہ اشکال امیر المومنین جناب عمر بن خطابtکو لاحق ہوا تھا۔ حتیٰ کہ انھوں نے رسول اللہﷺسے پوچھا ’’یارسول اللہ! ہم نماز میں قصر کیوں کرتے ہیں حالانکہ ہم مامون ہوتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے ﴿ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَكُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اگر تمھیں کافروں کا خوف ہو کہ وہ تمھیں فتنے میں ڈال دیں گے‘‘ رسول اللہﷺنے جواب میں فرمایا: ’’یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر صدقہ ہے پس تم اللہ تعالیٰ کے صدقہ کو قبول کرو‘‘(اَوْ کَمَا قَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ)(صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ المسافرین وقصرہا، حديث:1573)اس صورت میں یہ قید ان غالب حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عائد کی گئی تھی جن سے رسول اللہﷺاور صحابہ کرام دو چار تھے۔ کیونکہ رسول اللہﷺکے اکثر سفر جہاد کے لیے ہوتے تھے۔اس میں دوسرا فائدہ یہ ہے کہ قصر کی رخصت کی مشروعیت میں حکمت اور مصلحت بیان کی گئی ہے۔ اس آیت کریمہ میں وہ انتہائی مشقت بیان کی گئی ہے، جس کا قصر کی رخصت کے بارے میں تصور کیا جا سکتا ہے اور وہ ہے سفر اور خوف کا اجتماع اور اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ اکیلے سفر میں قصر نہ کی جائے جو کہ مشقت کا باعث ہے۔ رہی قصر کی دوسری صورت یعنی عدد رکعات اور نماز کی صفت میں قصر تو یہ قید اپنے اپنے باب کے مطابق ہو گی۔ یعنی انسان کو اگر سفر اور خوف دونوں کا سامنا ہو تو عدد اور صفت دونوں میں قصر کی رخصت ہے۔ اگر وہ بلا خوف کسی سفر پر ہے تو صرف عدد رکعات میں قصر ہے اور اگر صرف دشمن کا خوف لاحق ہے تو صرف وصف نماز میں قصر ہے۔ [102] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ میں نماز خوف کی صفت بیان فرمائی ہے۔ ﴿ وَاِذَا كُنۡتَ فِيۡهِمۡ فَاَقَمۡتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اور (اے پیغمبر!) جب آپ ان (مجاہدین کے لشکر میں ہوں) اور ان کو نماز پڑھانے لگو۔‘‘ یعنی جب آپ ان کے ساتھ نماز پڑھیں اور اس کے ان واجبات کو پورا کریں جن کا پورا کرنا آپ پر اور آپ کے اصحاب پر لازم ہے۔پھر اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر بیان فرمائی ﴿ فَلۡتَقُمۡ طَآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ مَّعَكَ ﴾ ’’تو ان میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ نماز کے لیے کھڑا ہو‘‘ اور دوسری جماعت دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو جیسا کہ آیت کا ٹکڑا ﴿ فَاِذَا سَجَدُوۡا ﴾’’جب وہ سجدہ کرچکیں۔‘‘ اس پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو آپﷺکے ساتھ نماز میں شریک ہیں اپنی نماز مکمل کر لیں۔ یہاں نماز کو سجدے سے تعبیر کیا ہے تاکہ سجدے کی فضیلت ظاہر ہو۔ نیز یہ کہ سجدہ نماز کا رکن بلکہ سب سے بڑا رکن ہے۔﴿ فَلۡيَكُوۡنُوۡا مِنۡ وَّرَؔآىِٕكُمۡ١۪ وَلۡتَاۡتِ طَآىِٕفَةٌ اُخۡرٰى لَمۡ يُصَلُّوۡا ﴾ ’’تو یہ تمھارے پیچھے آجائیں اور وہ دوسری جماعت آجائے جس نے نماز نہیں پڑھی‘‘ اور یہ وہ گروہ ہے جو دشمن کے مقابلے میں کھڑا تھا ﴿ فَلۡيُصَلُّوۡا مَعَكَ ﴾ ’’اب یہ گروہ آپ کے ساتھ نماز پڑھے۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پہلے گروہ کے نماز سے چلے جانے کے بعد امام نماز میں باقی رہے اور دوسرے گروہ کا انتظار کرے جب دوسرا گروہ آجائے تو ان کے ساتھ اپنی باقی نماز پڑھے پھر بیٹھ جائے اور ان کا انتظار کرے جب وہ اپنی نماز مکمل کر لیں تو ان کے ساتھ سلام پھیرے۔یہ نماز خوف اد اکرنے کے متعدد طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔ رسول اللہﷺسے نماز خوف کے متعدد طریقے مروی ہیں۔ ان تمام طریقوں سے نماز پڑھنا جائز ہے۔یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ نماز باجماعت دو وجوہ سے فرض عین ہے۔اول: اللہ تعالیٰ نے خوف کی اس شدید حالت میں یعنی دشمن کے حملہ کے خوف کی حالت میں بھی جماعت کے ساتھ نماز کا حکم دیا ہے۔ جب اس شدید حالت میں بھی جماعت کو واجب قرار دیا ہے تو امن و اطمینان کی حالت میں اس کا واجب ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ثانی: نماز خوف ادا کرنے والے نمازی نماز کی بہت سی شرائط اور لوازم کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس نماز میں نماز کو باطل کرنے والے بہت سے افعال کو نظرانداز کر کے ان کو معاف کر دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ صرف جماعت کے وجوب کی تاکید کی بنا پر ہے۔ کیونکہ فرض اور مستحب میں کوئی تعارض نہیں۔ اگر جماعت کے ساتھ نماز کا پڑھنا فرض نہ ہوتا، تو اس کی خاطر نماز کے ان واجبات کو ترک کرنے کی کبھی اجازت نہ دی جاتی۔آیت کریمہ یہ بھی دلالت کرتی ہے کہ افضل یہ ہے کہ ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھی جائے۔ اگر ایسا کرنا کسی خلل کا باعث ہو تو متعدد ائمہ کے پیچھے نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔ یہ سب کچھ مسلمانوں کے اجتماع و اتفاق اور ان کے عدم افتراق کی خاطر ہے تاکہ یہ اتفاق ان کے دشمنوں کے دلوں میں رعب اور ہیبت ڈال دے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز خوف کے اندر مسلح اور ہوشیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ نماز خوف میں اگرچہ کچھ زائد حرکات ہوتی ہیں اور نماز کے بعض احوال چھوٹ جاتے ہیں تاہم اس میں ایک راجح مصلحت ہے اور وہ ہے نماز اور جہاد کا اجتماع اور ان دشمنوں سے ہوشیار رہنا جو مسلمانوں پر حملہ کرنے اور ان کے مال و متاع لوٹنے کے سخت حریص ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَدَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡ تَغۡفُلُوۡنَ عَنۡ اَسۡلِحَتِكُمۡ وَاَمۡتِعَتِكُمۡ فَيَمِيۡلُوۡنَ عَلَيۡكُمۡ مَّيۡلَةً وَّاحِدَةً﴾ ’’کافر چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے بے خبر ہو جاؤ تو وہ تم پر اچانک دھاوا بول دیں۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے عذر کو قبول فرمایا جو کسی مرض یا بارش کی وجہ سے اپنا اسلحہ اتار دیتا ہے مگر بایں ہمہ وہ دشمن سے چوکنا ہے۔ ﴿ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِنۡ كَانَ بِكُمۡ اَذًى مِّنۡ مَّطَرٍ اَوۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَنۡ تَضَعُوۡۤا اَسۡلِحَتَكُمۡ١ۚ وَخُذُوۡا حِذۡرَؔكُمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا ﴾ ’’ہاں! اپنے ہتھیار اتار رکھنے میں اس وقت تم پر کوئی گناہ نہیں جبکہ تمھیں تکلیف ہو بوجہ بارش کے یا تم بیمار ہو۔ اور بچاؤ کی چیزیں ساتھ رکھو۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘ اور اس کا رسوا کن عذاب یہ ہے کہ اس نے اہل ایمان اور اپنے دین کے موحدین انصار کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کو جہاں کہیں پائیں ان کو پکڑیں اور ان کو قتل کریں، ان کے ساتھ جنگ کریں، ان کا محاصرہ کریں، ہر جگہ ان کے لیے گھات لگائیں اور ہر حال میں ان سے چوکنا رہیں۔ ان کی طرف سے کبھی غافل نہ ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ کفار اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حمد و ثنا ہے کہ اس نے اہل ایمان پر احسان فرمایا اور اس نے اپنی مدد اور تعلیم کے ذریعے سے ان کی تائید فرمائی اگر وہ اس تعلیم پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہوں تو ان کاپرچم کبھی سرنگوں نہیں ہو سکتا اور کسی زمانے میں بھی دشمن ان پر غالب نہیں آ سکتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَاِذَا سَجَدُوۡا فَلۡيَكُوۡنُوۡا مِنۡ وَّرَؔآىِٕكُمۡ ﴾ ’’جب وہ سجدہ کرچکیں تو پرے ہوجائیں۔‘‘ دلالت کرتا ہے کہ اس گروہ نے دشمن کے مقابلے میں جانے سے پہلے اپنی نماز مکمل کر لی تھی۔ اور یہ کہ رسول اللہﷺسلام پھیرنے سے پہلے دوسرے گروہ کے منتظر تھے۔ کیونکہ پہلے ذکر فرمایا کہ وہ گروہ نماز میں آپﷺکے ساتھ کھڑا ہو پس آپﷺسے ان کی مصاحبت کی خبر دی۔ پھر رسولﷺکو چھوڑ کر فعل کو ان کی طرف مضاف کیا یہ چیز ہمارے اس موقف پر دلالت کرتی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَلۡتَاۡتِ طَآىِٕفَةٌ اُخۡرٰى لَمۡ يُصَلُّوۡا فَلۡيُصَلُّوۡا مَعَكَ ﴾ ’’پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی جگہ) آئے‘‘ اس امر پر دلیل ہے کہ پہلا گروہ نماز پڑھ چکا تھا۔ اور دوسرے گروہ کی تمام نماز امام کی معیت میں پڑھی گئی۔ ان کی پہلی رکعت حقیقی طور پر امام کے ساتھ تھی اور دوسری حکمی طور پر۔ اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ امام ان کا انتظار کرے یہاں تک کہ وہ اپنی نماز مکمل کر لیں پھر ان کے ساتھ سلام پھیرے۔ یہ چیز غور کرنے والے پر صاف واضح ہے۔
4:103

فَإِذَا قَضَيۡتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ قِيَٰمٗا وَقُعُودٗا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمۡۚ فَإِذَا ٱطۡمَأۡنَنتُمۡ فَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَۚ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتۡ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ كِتَٰبٗا مَّوۡقُوتٗا

پھر جب پوری کر لو تم نماز تو ذکر کرو اللہ کا کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور اپنی کروٹوں پر، پس جب بے خوف ہو جاؤ تم تو، پھر قائم کرو نماز کو (باقاعدہ)، تحقیق نماز ہے مسلمانوں پر فرض مقررہ وقتوں میں(103) [103] جب تم اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ، یعنی نماز خوف وغیرہ سے تو اپنے تمام احوال اور تمام ہیئات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ یہاں یہ حکم خاص طور پر نماز خوف کے بارے میں دیا گیا ہے، جس کے چند فائدے ہیں:(۱)قلب کی صلاح و فلاح اور اس کی سعادت اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی انابت اور اس کے ساتھ محبت میں پنہاں ہے نیز اس بات میں ہے کہ قلب اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی حمد و ثنا سے لبریز رہے۔ سب سے بڑا ذریعہ جس سے یہ مقصد حاصل ہوتا ہے نماز ہے جو درحقیقت بندے اور اس کے رب کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔(۲)نماز حقائق ایمان اور معارف ایقان پر مشتمل ہے جو اس امر کے موجب ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر دن اور رات کے اوقات میں نماز فرض قرار دے دے اور معلوم ہے کہ نماز خوف کے ذریعے سے یہ مقاصد حمیدہ حاصل نہیں ہو سکتے، کیونکہ قلب و بدن خوف میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی تلافی کے لیے نماز خوف کے بعد ذکر کا حکم دیا ہے۔(۳)خوف قلب میں قلق کا موجب بنتا ہے جو کہ کمزوری کا باعث ہے۔ جب دل کمزور ہو جاتا ہے تو بدن بھی دشمن کے مقابلے میں کمزور پڑ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی کثرت سب سے بڑی مقویات قلب سے ہے۔(۴) صبر و استقامت کی معیت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر فوز و فلاح اور دشمنوں کے خلاف فتح و ظفر کا سبب بنتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً فَاثۡبُتُوۡا وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الانفال : 8؍45)’’اے مومنو! اگر تمھارا کفار کی کسی جماعت کے ساتھ مقابلہ ہو جائے تو ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو شاید کہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس حال میں کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں اللہ تعالیٰ کی دیگر حکمتیں پوشیدہ ہیں۔﴿ فَاِذَا اطۡمَاۡنَنۡتُمۡ فَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’پھر جب خوف جاتا رہے تو نماز قائم کرو۔‘‘ یعنی جب تم خوف سے مامون ہو جاؤ، تمھارے دلوں اور تمھارے ابدان کو اطمینان میسر آجائے تو نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے تمام ارکان و شرائط اور نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ کامل طریقے سے ادا کرو۔ ﴿اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتۡ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ كِتٰبًا مَّوۡقُوۡتًا ﴾ ’’نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض ہے‘‘ یعنی اپنے وقت میں فرض کی گئی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نماز فرض ہے اور اس کو ادا کرنے کا ایک وقت مقرر کیا گیا ہے اور نماز مقررہ وقت پر پڑھے بغیر قبول نہیں ہوتی۔ نماز کے اوقات وہی ہیں جو تمام مسلمانوں کے ہاں معروف اور متحقق ہیں نماز کے اوقات کو چھوٹے بڑے، عالم اور جاہل سب جانتے ہیں انھوں نے یہ اوقات اپنے نبیﷺسے اخذ کیے ہیں آپﷺنے فرمایا ﴿صَلُّوۡا كَمَا رَاَيۡتُمُوۡنِيۡ اُصَلِّيۡ﴾ ’’ویسے ہی نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الأذان، باب الأذان ……الخ، حديث:631)اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں پر‘‘ دلالت کرتا ہے کہ نماز ایمان کی میزان ہے اور بندۂ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق نماز کی تکمیل ہوتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کفار، جو اگرچہ اہل ذمہ کی طرح مسلمانوں کے احکام و قوانین پر عمل کرنے کے پابند ہیں، تاہم وہ فروع دین میں مخاطب نہیں مثلاً نماز وغیرہ اس لیے ان کو نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔ بلکہ جب تک وہ اپنے کفر پر قائم ہیں ان کی نماز صحیح نہیں البتہ ان کو نماز اور دیگر تمام احکام کو ترک کرنے پر آخرت میں سزا دی جائے گی۔
4:104

وَلَا تَهِنُواْ فِي ٱبۡتِغَآءِ ٱلۡقَوۡمِۖ إِن تَكُونُواْ تَأۡلَمُونَ فَإِنَّهُمۡ يَأۡلَمُونَ كَمَا تَأۡلَمُونَۖ وَتَرۡجُونَ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا يَرۡجُونَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا

اور نہ ہمت ہارو تم تلاش میں (دشمن) قوم کی، اگر ہو تم دکھ اٹھاتے تو بلاشبہ وہ بھی دکھ اٹھاتے ہیں، جیسے تم دکھ اٹھاتے ہو۔ اور تم امید رکھتے ہو اللہ سے جس کی وہ نہیں امید رکھتے اور ہے اللہ جاننے والا حکمت والا(104) [104] یعنی اپنے دشمن کفار کو طلب کرنے ان کے خلاف جہاد اور ان کے مقابلے میں تیار رہنے میں کمزوری اور سستی کا مظاہرہ نہ کرو۔ کیونکہ دل کی کمزوری بدن کی کمزوری کو دعوت دیتی ہے۔ اور یہ کمزوری دشمن کے مقابلے میں کمزوری کا باعث بنتی ہے بلکہ دشمن کے خلاف جنگ میں چست و چالاک اور طاقتور بنو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا ہے جو اہل ایمان کے دل کو قوت بخشتے ہیں اور وہ دو چیزیں ہیں:اول: جس درد و الم، مشقت اور تھکاوٹ اور زخموں وغیرہ کا تمھیں سامنا کرنا پڑتا ہے انھی چیزوں کا سامنا تمھارے دشمن کو بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے انسانی مروت اور اسلامی شجاعت و شہامت کے شایاں نہیں کہ تم ان کے مقابلے میں زیادہ کمزوری کا مظاہرہ کرو جبکہ تمھیں اور ان کو برابر کی تکالیف کا سامنا ہے۔ عادت جاریہ یہ ہے کہ صرف وہی شخص کمزور ہوتا ہے جو نہایت تسلسل کے ساتھ رنج و آلام کا شکار رہا ہو اور دشمن دائمی طور پر اس پر غالب ہو۔ نہ کہ وہ شخص جو کبھی غالب رہا ہو اور کبھی مغلوب۔ثانی: اللہ تعالیٰ پر جو امید تم رکھتے ہو وہ امید کفار نہیں رکھتے۔ تم اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عذاب سے نجات کی امید رکھتے ہو بلکہ خواص اہل ایمان تو اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت، اس کی شریعت کے نفاذ، گمراہوں کی راہ نمائی اور دین کے دشمنوں کے قلع قمع جیسے بلند مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہیں۔پس یہ تمام امور صاحب تصدیق مومن کی قوت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں، ان سے ان کی چستی اور بہادری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جو دنیاوی عزت و جاہ کے حصول کی خاطر جنگ کرتا ہے اور اس میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ اس شخص کی مانند تو نہیں ہو سکتا جو دنیاوی اور اخروی سعادت، اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کے حصول کی خاطر لڑتا ہے۔پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں کے درمیان تفاوت رکھا ہے اور اپنے علم اور حکمت کے ذریعے سے ان کے مابین تفریق کی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ سب کچھ جانتا، بڑی حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ علم کامل اور حکمت کامل کا مالک ہے۔
4:105

إِنَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ لِتَحۡكُمَ بَيۡنَ ٱلنَّاسِ بِمَآ أَرَىٰكَ ٱللَّهُۚ وَلَا تَكُن لِّلۡخَآئِنِينَ خَصِيمٗا

تحقیق ہم نے نازل کی طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے تاکہ فیصلہ کریں درمیان لوگوں کے، ساتھ اس کے جو سکھلایا آپ کو اللہ نےاور نہ ہوں آپ، خیانت کرنے والوں کی خاطر، جھگڑنے والے(105) اور بخشش مانگیں اللہ سے، بے شک ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(106) اور نہ جھگڑا کریں آپ ان لوگوں کی طرف سے جو خیانت کرتے ہیں اپنے آپ سے، تحقیق اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہو خائن گناہ گار(107) چھپتے ہیں وہ لوگوں سے اور نہیں چھپ سکتے وہ اللہ سےاور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں ایسی چیز کا کہ نہیں راضی ہوتا وہ اس بات سےاور ہے اللہ اس کو جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا(108) ہاں! تم وہی لوگ ہو کہ جھگڑا کیا تم نے ان کی طرف سے زندگانیٔ دنیا میں، پس کون جھگڑا کرے گا اللہ سے ان کی طرف سے دن قیامت کے یا کون ہوگا ان کی طرف سے وکیل؟(109) اور جو کوئی عمل کرے برا یا ظلم کرے اپنی جان پر ، پھر وہ بخشش مانگے اللہ سے تو پائے گا اللہ کو بہت بخشنے والا نہایت مہربان(110) اور جو شخص کماتا ہے کوئی گناہ تو بلاشبہ کماتا ہے وہ اس کو اپنے ہی خلاف اور ہے اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا(111) اور جو شخص کرتا ہے کوئی خطا یا کوئی گناہ، پھر الزام لگاتا ہے اس کا (کسی) بے گناہ پر تو تحقیق اپنے ذمے لیا اس نے بہتان اور گناہ ظاہر(112)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا آپ پر اور اس کی رحمت تو یقیناً ارادہ کر لیا تھا ایک گروہ نے ان میں سے یہ کہ بہکاوے وہ آپ کو اور نہیں بہکاتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں نقصان پہنچا سکتے وہ آپ کو کچھ بھی اور نازل کی اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت اور سکھایا آپ کو وہ کچھ کہ نہیں تھے آپ جانتے اور ہے فضل اللہ کا آپ پر بہت بڑا(113) [105] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا۔ بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی ہیں ﴿وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا ﴾(الانعام : 6؍115) ’’تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔‘‘اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لیے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾(النحل : 16؍44) ’’ہم نے آپ(ﷺ)کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کر دیں۔‘‘ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبیین کے بار ے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔فرمایا:﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰى ؕ۰۰ اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡيٌ يُّوۡحٰؔى﴾(النجم : 53؍3۔4) ’’ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہﷺان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپﷺنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے۔ نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ اور یہ نہیں فرمایا: (بِمَا رَایْتَ) ’’جو آپ نے دیکھا یا جو آپ کی اپنی رائے ہے‘‘ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو کتاب اللہ کی معرفت پر مترتب فرمایا ہے۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے مابین ایسے فیصلے کا حکم دیا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اس لیے ظلم وجور سے منع کیا ہے جو عدل و انصاف کی عین ضد ہے۔ پس فرمایا ﴿ وَلَا تَكُنۡ لِّلۡخَآىِٕنِيۡنَ خَصِيۡمًا﴾ ’’اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو‘‘ یعنی جس کی خیانت کے بارے میں آپﷺکو علم ہے کہ اس کا دعویٰ ناحق ہے یا وہ کسی کے حق کا انکار کر رہا ہے، اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کریں۔ خواہ وہ علم رکھتے ہوئے اس خیانت کا ارتکاب کر رہا ہو یا محض ظن و گمان کی بنا پر۔آیت کریمہ کے اس حصے میں کسی باطل معاملے میں جھگڑنے اور دینی خصومات اور دنیاوی حقوق میں کسی باطل پسند کی نیابت کی تحریم کی دلیل ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ کسی ایسے شخص کے جھگڑے کی نیابت کرنا جائز ہے جو کسی ظلم میں معروف نہ ہو۔ [106]﴿ وَّاسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔‘‘ اگر آپ سے کوئی کوتاہی صادر ہوئی ہے تو اس کی بخشش طلب کیجیے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے اور توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے بعد اس کو عمل صالح کی توفیق سے نوازتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عقاب کے زوال کا موجب بنتا ہے۔ [107] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَلَا تُجَادِلۡ عَنِ الَّذِيۡنَ يَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’اور آپ ان لوگوں کی طرف سے مت جھگڑیں جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں‘‘ (الاخْتِیَانُ) اور (اَلْخِیَانَۃُ) جرم، ظلم اور گناہ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس میں اس شخص کی طرف سے جھگڑنا بھی شامل ہے جو کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہے جس میں کوئی حد یا تعزیر لازم آتی ہو۔ اس شخص سے جو خیانت وغیرہ صادر ہوئی ہے اس کی مدافعت میں یا اس کو شرعی عقوبت سے بچانے کے لیے اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کیا جائے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ خَوَّانًا اَثِيۡمًا﴾ ’’کیونکہ اللہ خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو نہایت کثرت سے خیانت اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ جب محبت کی نفی ہو جائے تو اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے اور محبت کی ضد بغض ہے۔ آیت کریمہ کی ابتدا میں مذکور ممانعت کے لیے یہ چیز تعلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ [108] پھر ان خائن لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا: ﴿ يَّسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ وَهُوَ مَعَهُمۡ اِذۡ يُبَيِّتُوۡنَ مَا لَا يَرۡضٰى مِنَ الۡقَوۡلِ ﴾ ’’وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں (لیکن) اللہ سے نہیں چھپ سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ راتوں کے وقت وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں‘‘ یہ ایمان کی کمزوری اور یقین کی کمی ہے کہ ان کے نزدیک مخلوق کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف سے بڑھ کر ہے۔ وہ مباح اور حرام ہر طریقے سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کی فضیحت نہ ہو ...بایں ہمہ...ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے علم کے ذریعے سے ان کے تمام احوال میں ان کے ساتھ ہے خاص طور پر جب وہ رات کے وقت مجرم کی براء ت اور بے گناہ پر جرم کے الزام کے بارے میں باتیں اور سازشیں کرتے ہیں، پھر رسول اللہﷺسے اپنی ان سازشوں پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے متعدد جرائم کا ارتکاب کیا مگر انھیں اللہ کا خوف نہ آیا جو زمین و آسمان کا رب ہے، جو ان کے بھیدوں اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطًا ﴾ ’’اور اللہ ان کے تمام کاموں پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ذریعے سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی بلکہ ان کو مہلت دی ان کو توبہ کا موقع دیا اور ان کو ان گناہوں پر اصرار کرنے پر ڈرایا جو بہت بڑی سزا کے موجب ہیں۔ [109]﴿ هٰۤاَنۡتُمۡ هٰۤؤُلَآءِ جٰؔدَلۡتُمۡ عَنۡهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١۫ فَمَنۡ يُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنۡهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَمۡ مَّنۡ يَّكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’ہاں تو یہ ہو تم لوگ کہ دنیا میں تم نے ان کی حمایت کی لیکن اللہ کے سامنے قیامت کے دن ان کی حمایت کون کرے گا اور کون ہے جو ان کا وکیل بن کر کھڑا ہو سکے گا‘‘ یعنی فرض کیا اس دنیا کی زندگی میں تم نے ان کی طرف سے جھگڑ لیا، تمھاری اس حمایت نے مخلوق کے سامنے ان کو عار اور فضیحت سے بچا لیا۔ تب قیامت کے روز کون سی چیز انھیں بچائے گی اور وہ اسے کیا فائدہ دے گی؟ اور قیامت کے روز جب حجت اس کے خلاف ہو گی، ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں پر گواہی دیں گے، کون ان کی حمایت میں بولے گا؟ ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ الۡمُبِيۡنُ ﴾(النور : 24؍25) ’’اس روز اللہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی برحق اور حق کو ظاہر کرنے والا ہے۔‘‘ پس ان کی حمایت میں اس ہستی سے کون جھگڑے گا جو مخفی رازوں کو جانتی ہے جو ان کے خلاف ایسے گواہوں کو کھڑا کرے گی جن کے ہوتے ہوئے کسی کو انکار کی مجال نہ ہو گی؟اس آیت کریمہ میں اس امر کے مقابلہ کی طرف راہنمائی فرمائی ہے جو ان موہوم دنیاوی مصالح کے مابین، جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کرنے اور اس کی منہیات کے ارتکاب پر مترتب ہوتے ہیں اور اس اخروی ثواب کے مابین ہوتا ہے جس سے انسان محروم یا وہاں کے عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔ پس جس شخص کو اس کے نفس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے وہ اپنے آپ سے پوچھے ’’تو نے سستی اور کوتاہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کر دیا تو اس کے عوض تو نے کون سا منافع کمایا؟ اور کتنا اخروی ثواب ہے جو تجھے حاصل ہونے سے رہ گیا؟ اور اللہ کے حکم کو ترک کرنے کے نتیجے میں کتنی بدبختی، محرومی، ناکامی اور خسارے کا سامنا کرنا پڑا؟‘‘ اسی طرح جب اس کا نفس شہوات محرمہ کی طرف بلائے تو وہ اس سے مخاطب ہو کر کہے ’’فرض کیا جس چیز کی تو نے خواہش کی میں نے پوری کر دی، اس کی لذت تو ختم ہو جائے گی مگر یہ لذت اپنے پیچھے اتنے غم و ہموم، حسرتیں، ثواب سے محرومیاں اور عذاب چھوڑ جائے گی کہ ان کا کچھ حصہ بھی عقلمند شخص کو ان لذتوں کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔‘‘یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جس میں تدبر بندے کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہی حقیقی عقل مندی کی خصوصیت ہے، اس شخص کے برعکس جو عقل مندی کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہ عقلمند ہوتا نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے دنیا کی لذت و راحت کو ترجیح دیتا ہے خواہ اس پر کیسے ہی نتائج مرتب کیوں نہ ہوں۔۔۔ واللہ المستعان! [110] پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهٗ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے ایسی مغفرت طلب کرتا ہے جو گناہ کے اقرار، اس پر پشیمانی، اس گناہ سے رک جانے اور اس گناہ کو دوبارہ نہ کرنے کے عزم کو مستلزم ہے تو ایسے ہی شخص کے ساتھ اس ہستی نے مغفرت اور رحمت کا وعدہ کیا ہے جو وعدہ خلافی نہیں کرتی۔پس اس سے جو گناہ صادر ہو چکا ہوتا ہے وہ اس کو معاف کر دیتا ہے نیز اس عیب اور نقص کو اس سے زائل کر دیتا ہے جو اس گناہ پر مترتب ہوتا ہے اور اس کے سابقہ اعمال صالحہ اس کو لوٹا دیتا ہے اور مستقبل میں اسے مزید اعمال صالحہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اس کے اور اپنی توفیق کے درمیان اس کے گزشتہ گناہ کو حائل نہیں ہونے دیتا۔ کیونکہ اس نے اس گناہ کو بخش دیا ہے اور جب وہ گناہ کو بخش دیتا ہے تو وہ ہر اس چیز کو بخش دیتا ہے جو اس گناہ کے نتیجے میں مرتب ہوتی ہے۔آپ کومعلوم ہونا چاہیے کہ ’’برا عمل‘‘ علی الاطلاق تمام گناہوں کو، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں، شامل ہے اور (سوء) ’’برائی‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ برے عمل کے مرتکب کو اس پر مترتب ہونے والا عذاب برا لگتا ہے۔ نیز برا عمل فی نفسہ برا ہے، اچھا نہیں ہے۔ اسی طرح نفس کا ظلم علی الاطلاق شرک اور اس سے کم تر ظلم وغیرہ سب کو شامل ہے۔ مگر ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ مقرون کیا جائے تو ہر ایک کی اس کے مناسب حال تفسیر کی جائے گی۔یہاں برے عمل کی تفسیر ’’ظلم‘‘ کی جائے گی جو لوگوں کو برا لگتا ہے اور وہ ہے خون، مال اور عزت و ناموس میں ان کا ایک دوسرے پر ظلم۔ اور نفس کے ظلم کی تفسیر ’’ظلم اور گناہ‘‘ بیان کی جائے گی جس کا تعلق اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ہے۔ نفس کے ظلم کو ظلم اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ انسان اپنے نفس کا مالک نہیں کہ وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے۔ انسان کے نفس کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، اس نے یہ نفس اپنے بندے کو امانت کے طور پر عطا کر کے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اسے انصاف و عدل کی راہ پر گامزن کرے اور علم و عمل کے اعتبار سے اس سے صراط مستقیم کا التزام کروائے۔ جس چیز کا اسے حکم دیا گیا ہے وہ اسے سکھائے اور جو اس پر واجب ہے اس سے اس پر عمل کروائے۔ اس کے علاوہ کسی اور راستے میں اس کی سعی اور کوشش اپنے نفس پر ظلم، خیانت اس عدل کے راستے سے انحراف ہے جس کی ضد ظلم و جور ہے۔ [111] پھر فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ اِثۡمًا فَاِنَّمَا يَكۡسِبُهٗ عَلٰى نَفۡسِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص گناہ کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہے‘‘ اس میں ہر قسم کا چھوٹا بڑا گناہ شامل ہے۔ جو کوئی کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی دنیاوی اور اخروی سزا صرف اسی کے لیے ہے یہ سزا کسی اور کی طرف منتقل نہ ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام : 6؍164) ’’کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ مگر جب برائیاں غالب آ جائیں اور ان پر نکیر نہ کی جائے تو ان کا عذاب عام ہو جاتا ہے اور ان کے گناہ میں سب شامل ہو جاتے ہیں اور کوئی شخص اس آیت کے حکم سے خارج نہیں۔ کیونکہ جو کوئی برائیوں پر نکیر نہیں کرتا جبکہ ایسا کرنا واجب ہے، تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عدل و حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کسی دوسرے کے گناہ کی سزا نہیں دیتا اور نہ کسی کو اس کے جرم سے بڑھ کر سزا دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ بخوبی جاننے والا، بہت حکمت والا ہے‘‘ یعنی وہ علم کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا علم و حکمت ہے۔ کہ اسے گناہ کا علم ہے اسے یہ بھی علم ہے کہ گناہ کس سے صادر ہوا۔ اس گناہ کا داعیہ کیا تھا۔ اور اس گناہ پر کیا سزا مترتب ہوگی۔ وہ گناہ کے مرتکب کے احوال کو بھی خوب جانتا ہے کہ اگر اس سے یہ گناہ نفس امارہ کے داعیہ کے غلبہ سے صادر ہوا اور وہ اپنے اکثر اوقات میں توبہ و انابت کے ذریعے سے اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ اسے بخش دے گا اور اسے توبہ کی توفیق عطا کرے گا اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کی نظر کا استخفاف اور اس کے عذاب کی تحقیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی ہے تو یہ شخص اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور توبہ کی توفیق سے بہت دور ہے۔ [112] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ خَطِيۡٓئَةً اَوۡ اِثۡمًا ﴾ ’’جو شخص کبیرہ یا صغیرہ گناہ تو خود کرے‘‘ ﴿ ثُمَّ يَرۡمِ بِهٖ ﴾ ’’پھر اس سے کسی (بے گناہ) کو متہم کرے۔‘‘ یعنی اپنے گناہ کو کسی اور کے سر تھوپ دے ﴿ بَرِيۡؔـٓـــًٔا ﴾ ’’جو اس گناہ سے بری ہے۔‘‘ خواہ اس نے کسی اور گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو ﴿ فَقَدِ احۡتَمَلَ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا﴾’’تو اس نے بہت بڑا بہتان باندھا اور کھلا گناہ کیا‘‘ یعنی اس نے بے گناہ پر لگائے گئے بہتان کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھا لیا اور اس ظاہری گناہ کا بوجھ بھی جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بہتان ہلاک کرنے والے کبائر میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں متعدد مفاسد جمع ہیں:(۱) گناہ کبیرہ کا ارتکاب۔ (۲) پھر اس گناہ کا بہتان اس شخص پر لگا دینا جو بے گناہ ہے۔ (۳) پھر اپنے آپ کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہ گار ثابت کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔ (۴) پھر اس گناہ پر جو دنیاوی عقوبت مترتب ہوتی ہے وہ عقوبت ایک بے گناہ پر نافذ کر دینا اور اس شخص کو اس سزا سے بچا لینا جو حقیقی مجرم ہے۔ (۵) پھر بے گناہ شخص کے بارے میں لوگوں کی باتیں اور دیگر مفاسد۔ان تمام مفاسد اور ہر شر سے ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [113] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول پر اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو ان لوگوں کے ارادوں سے محفوظ رکھا جو آپ کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔ ﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ وَرَحۡمَتُهٗ لَهَمَّؔتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّضِلُّوۡكَ ﴾’’اگر اللہ کا فضل و رحم آپ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے آپ کو بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا‘‘ ان آیات کریمہ کے بارے میں اصحاب تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ ان کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک گھرانے نے مدینہ میں چوری کا ارتکاب کیا۔ جب چوری کی اطلاع لوگوں کو ہوئی تو انھوں نے فضیحت اور رسوائی سے ڈرتے ہوئے چوری کا سامان کسی بے گناہ شخص کے گھر پھینک دیا۔ پھر چور نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے مدد طلب کی کہ وہ رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر لوگوں کے سامنے اسے بری کروائیں۔ اس کے قبیلہ والوں نے رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ان کے آدمی نے چوری نہیں کی۔ چوری تو اس شخص نے کی ہے جس کے گھر سے مسروقہ سامان برآمد ہوا ہے۔ رسول اللہﷺنے ان کے آدمی کو بری قرار دینے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے حقیقت حال بیان کرنے اور رسول اللہﷺکو خیانت کاروں کی حمایت کرنے سے بچانے کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں کیونکہ باطل پسندوں کی حمایت کرنا گمراہی ہے۔ گمراہی کی دو اقسام ہیں:(۱)علم میں گمراہی، یہ حق سے لاعلمی اور جہالت کا نام ہے۔(۲) عمل میں گمراہی، عمل واجب کے خلاف عمل کرنا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو اس نوع کی گمراہی سے اسی طرح محفوظ رکھا جس طرح اس نے آپﷺکو عمل کی گمراہی سے محفوظ و مصون رکھا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان کا مکر و فریب انھی کی طرف لوٹے گا جیسا کہ ہر فریبی کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ﴿ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں‘‘ کیونکہ اس فریب اور حیلہ سازی سے انھیں اپنا مقصد حاصل نہ ہو سکا اور انھیں سوائے ناکامی، محرومی، گناہ اور خسارے کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺپر بہت بڑی نعمت ہے جو نعمت عمل کو متضمن ہے اور یہ اس فعل کی توفیق ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور ہر قسم کے محرمات سے آپﷺکی حفاظت ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر اپنی نعمت علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل فرمائی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر قرآن عظیم اور ذکر حکیم نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان اور اولین و آخرین کا علم ہے۔حکمت سے مراد یا تو سنت ہے جس کے بارے میں سلف میں سے کسی کا قول ہے کہ سنت بھی رسول اللہﷺپر وحی کے ذریعے سے نازل ہوتی ہے جیسے قرآن نازل ہوتا ہے یا اس سے مراد اسرار شریعت کی معرفت ہے جو احکام شریعت کی معرفت سے زائد چیز ہے۔ نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور ہر شے کو اس کے مطابق ترتیب دینا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَعَلَّمَكَ مَا لَمۡ تَكُنۡ تَعۡلَمُ ﴾ ’’اور آپ کو وہ (کچھ) سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے‘‘ یہ ان تمام امور کو شامل ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو عطا فرمایا۔ ورنہ نبوت سے قبل آپﷺکے جو احوال تھے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كُنۡتَ تَدۡرِيۡ مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ ﴾(الشوری : 42؍52) ’’آپ نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟‘‘ اور فرمایا ﴿وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰؔى ﴾(الضحی : 93؍7) ’’اس نے آپ کو رستے سے ناواقف پایا تو سیدھا راستہ دکھایا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ آپﷺکی طرف وحی بھیجتا رہا، آپ کو علم سکھاتا رہا اور آپ کے علم کی تکمیل کرتا رہا یہاں تک کہ آپﷺعلم کے ایسے مقام پر فائز ہو گئے کہ اولین و آخرین وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ پس رسول اللہﷺعلی الاطلاق مخلوق میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے، صفات کمال کے سب سے زیادہ جامع اور ان صفات میں سب سے زیادہ کامل تھے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ عَظِيۡمًا ﴾ ’’اللہ کا آپ پر بڑا بھاری فضل ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کا فضل مخلوق میں سب سے زیادہ محمد رسول اللہﷺپر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کی ہر جنس سے آپﷺکو نوازا ہے جن کی تہہ تک پہنچنانا ممکن اور ان کو شمار کرنا آسان نہیں۔
4:106

وَٱسۡتَغۡفِرِ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا

تحقیق ہم نے نازل کی طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے تاکہ فیصلہ کریں درمیان لوگوں کے، ساتھ اس کے جو سکھلایا آپ کو اللہ نےاور نہ ہوں آپ، خیانت کرنے والوں کی خاطر، جھگڑنے والے(105) اور بخشش مانگیں اللہ سے، بے شک ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(106) اور نہ جھگڑا کریں آپ ان لوگوں کی طرف سے جو خیانت کرتے ہیں اپنے آپ سے، تحقیق اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہو خائن گناہ گار(107) چھپتے ہیں وہ لوگوں سے اور نہیں چھپ سکتے وہ اللہ سےاور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں ایسی چیز کا کہ نہیں راضی ہوتا وہ اس بات سےاور ہے اللہ اس کو جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا(108) ہاں! تم وہی لوگ ہو کہ جھگڑا کیا تم نے ان کی طرف سے زندگانیٔ دنیا میں، پس کون جھگڑا کرے گا اللہ سے ان کی طرف سے دن قیامت کے یا کون ہوگا ان کی طرف سے وکیل؟(109) اور جو کوئی عمل کرے برا یا ظلم کرے اپنی جان پر ، پھر وہ بخشش مانگے اللہ سے تو پائے گا اللہ کو بہت بخشنے والا نہایت مہربان(110) اور جو شخص کماتا ہے کوئی گناہ تو بلاشبہ کماتا ہے وہ اس کو اپنے ہی خلاف اور ہے اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا(111) اور جو شخص کرتا ہے کوئی خطا یا کوئی گناہ، پھر الزام لگاتا ہے اس کا (کسی) بے گناہ پر تو تحقیق اپنے ذمے لیا اس نے بہتان اور گناہ ظاہر(112)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا آپ پر اور اس کی رحمت تو یقیناً ارادہ کر لیا تھا ایک گروہ نے ان میں سے یہ کہ بہکاوے وہ آپ کو اور نہیں بہکاتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں نقصان پہنچا سکتے وہ آپ کو کچھ بھی اور نازل کی اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت اور سکھایا آپ کو وہ کچھ کہ نہیں تھے آپ جانتے اور ہے فضل اللہ کا آپ پر بہت بڑا(113) [105] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا۔ بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی ہیں ﴿وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا ﴾(الانعام : 6؍115) ’’تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔‘‘اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لیے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾(النحل : 16؍44) ’’ہم نے آپ(ﷺ)کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کر دیں۔‘‘ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبیین کے بار ے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔فرمایا:﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰى ؕ۰۰ اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡيٌ يُّوۡحٰؔى﴾(النجم : 53؍3۔4) ’’ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہﷺان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپﷺنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے۔ نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ اور یہ نہیں فرمایا: (بِمَا رَایْتَ) ’’جو آپ نے دیکھا یا جو آپ کی اپنی رائے ہے‘‘ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو کتاب اللہ کی معرفت پر مترتب فرمایا ہے۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے مابین ایسے فیصلے کا حکم دیا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اس لیے ظلم وجور سے منع کیا ہے جو عدل و انصاف کی عین ضد ہے۔ پس فرمایا ﴿ وَلَا تَكُنۡ لِّلۡخَآىِٕنِيۡنَ خَصِيۡمًا﴾ ’’اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو‘‘ یعنی جس کی خیانت کے بارے میں آپﷺکو علم ہے کہ اس کا دعویٰ ناحق ہے یا وہ کسی کے حق کا انکار کر رہا ہے، اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کریں۔ خواہ وہ علم رکھتے ہوئے اس خیانت کا ارتکاب کر رہا ہو یا محض ظن و گمان کی بنا پر۔آیت کریمہ کے اس حصے میں کسی باطل معاملے میں جھگڑنے اور دینی خصومات اور دنیاوی حقوق میں کسی باطل پسند کی نیابت کی تحریم کی دلیل ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ کسی ایسے شخص کے جھگڑے کی نیابت کرنا جائز ہے جو کسی ظلم میں معروف نہ ہو۔ [106]﴿ وَّاسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔‘‘ اگر آپ سے کوئی کوتاہی صادر ہوئی ہے تو اس کی بخشش طلب کیجیے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے اور توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے بعد اس کو عمل صالح کی توفیق سے نوازتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عقاب کے زوال کا موجب بنتا ہے۔ [107] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَلَا تُجَادِلۡ عَنِ الَّذِيۡنَ يَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’اور آپ ان لوگوں کی طرف سے مت جھگڑیں جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں‘‘ (الاخْتِیَانُ) اور (اَلْخِیَانَۃُ) جرم، ظلم اور گناہ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس میں اس شخص کی طرف سے جھگڑنا بھی شامل ہے جو کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہے جس میں کوئی حد یا تعزیر لازم آتی ہو۔ اس شخص سے جو خیانت وغیرہ صادر ہوئی ہے اس کی مدافعت میں یا اس کو شرعی عقوبت سے بچانے کے لیے اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کیا جائے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ خَوَّانًا اَثِيۡمًا﴾ ’’کیونکہ اللہ خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو نہایت کثرت سے خیانت اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ جب محبت کی نفی ہو جائے تو اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے اور محبت کی ضد بغض ہے۔ آیت کریمہ کی ابتدا میں مذکور ممانعت کے لیے یہ چیز تعلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ [108] پھر ان خائن لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا: ﴿ يَّسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ وَهُوَ مَعَهُمۡ اِذۡ يُبَيِّتُوۡنَ مَا لَا يَرۡضٰى مِنَ الۡقَوۡلِ ﴾ ’’وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں (لیکن) اللہ سے نہیں چھپ سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ راتوں کے وقت وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں‘‘ یہ ایمان کی کمزوری اور یقین کی کمی ہے کہ ان کے نزدیک مخلوق کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف سے بڑھ کر ہے۔ وہ مباح اور حرام ہر طریقے سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کی فضیحت نہ ہو ...بایں ہمہ...ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے علم کے ذریعے سے ان کے تمام احوال میں ان کے ساتھ ہے خاص طور پر جب وہ رات کے وقت مجرم کی براء ت اور بے گناہ پر جرم کے الزام کے بارے میں باتیں اور سازشیں کرتے ہیں، پھر رسول اللہﷺسے اپنی ان سازشوں پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے متعدد جرائم کا ارتکاب کیا مگر انھیں اللہ کا خوف نہ آیا جو زمین و آسمان کا رب ہے، جو ان کے بھیدوں اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطًا ﴾ ’’اور اللہ ان کے تمام کاموں پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ذریعے سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی بلکہ ان کو مہلت دی ان کو توبہ کا موقع دیا اور ان کو ان گناہوں پر اصرار کرنے پر ڈرایا جو بہت بڑی سزا کے موجب ہیں۔ [109]﴿ هٰۤاَنۡتُمۡ هٰۤؤُلَآءِ جٰؔدَلۡتُمۡ عَنۡهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١۫ فَمَنۡ يُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنۡهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَمۡ مَّنۡ يَّكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’ہاں تو یہ ہو تم لوگ کہ دنیا میں تم نے ان کی حمایت کی لیکن اللہ کے سامنے قیامت کے دن ان کی حمایت کون کرے گا اور کون ہے جو ان کا وکیل بن کر کھڑا ہو سکے گا‘‘ یعنی فرض کیا اس دنیا کی زندگی میں تم نے ان کی طرف سے جھگڑ لیا، تمھاری اس حمایت نے مخلوق کے سامنے ان کو عار اور فضیحت سے بچا لیا۔ تب قیامت کے روز کون سی چیز انھیں بچائے گی اور وہ اسے کیا فائدہ دے گی؟ اور قیامت کے روز جب حجت اس کے خلاف ہو گی، ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں پر گواہی دیں گے، کون ان کی حمایت میں بولے گا؟ ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ الۡمُبِيۡنُ ﴾(النور : 24؍25) ’’اس روز اللہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی برحق اور حق کو ظاہر کرنے والا ہے۔‘‘ پس ان کی حمایت میں اس ہستی سے کون جھگڑے گا جو مخفی رازوں کو جانتی ہے جو ان کے خلاف ایسے گواہوں کو کھڑا کرے گی جن کے ہوتے ہوئے کسی کو انکار کی مجال نہ ہو گی؟اس آیت کریمہ میں اس امر کے مقابلہ کی طرف راہنمائی فرمائی ہے جو ان موہوم دنیاوی مصالح کے مابین، جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کرنے اور اس کی منہیات کے ارتکاب پر مترتب ہوتے ہیں اور اس اخروی ثواب کے مابین ہوتا ہے جس سے انسان محروم یا وہاں کے عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔ پس جس شخص کو اس کے نفس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے وہ اپنے آپ سے پوچھے ’’تو نے سستی اور کوتاہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کر دیا تو اس کے عوض تو نے کون سا منافع کمایا؟ اور کتنا اخروی ثواب ہے جو تجھے حاصل ہونے سے رہ گیا؟ اور اللہ کے حکم کو ترک کرنے کے نتیجے میں کتنی بدبختی، محرومی، ناکامی اور خسارے کا سامنا کرنا پڑا؟‘‘ اسی طرح جب اس کا نفس شہوات محرمہ کی طرف بلائے تو وہ اس سے مخاطب ہو کر کہے ’’فرض کیا جس چیز کی تو نے خواہش کی میں نے پوری کر دی، اس کی لذت تو ختم ہو جائے گی مگر یہ لذت اپنے پیچھے اتنے غم و ہموم، حسرتیں، ثواب سے محرومیاں اور عذاب چھوڑ جائے گی کہ ان کا کچھ حصہ بھی عقلمند شخص کو ان لذتوں کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔‘‘یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جس میں تدبر بندے کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہی حقیقی عقل مندی کی خصوصیت ہے، اس شخص کے برعکس جو عقل مندی کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہ عقلمند ہوتا نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے دنیا کی لذت و راحت کو ترجیح دیتا ہے خواہ اس پر کیسے ہی نتائج مرتب کیوں نہ ہوں۔۔۔ واللہ المستعان! [110] پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهٗ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے ایسی مغفرت طلب کرتا ہے جو گناہ کے اقرار، اس پر پشیمانی، اس گناہ سے رک جانے اور اس گناہ کو دوبارہ نہ کرنے کے عزم کو مستلزم ہے تو ایسے ہی شخص کے ساتھ اس ہستی نے مغفرت اور رحمت کا وعدہ کیا ہے جو وعدہ خلافی نہیں کرتی۔پس اس سے جو گناہ صادر ہو چکا ہوتا ہے وہ اس کو معاف کر دیتا ہے نیز اس عیب اور نقص کو اس سے زائل کر دیتا ہے جو اس گناہ پر مترتب ہوتا ہے اور اس کے سابقہ اعمال صالحہ اس کو لوٹا دیتا ہے اور مستقبل میں اسے مزید اعمال صالحہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اس کے اور اپنی توفیق کے درمیان اس کے گزشتہ گناہ کو حائل نہیں ہونے دیتا۔ کیونکہ اس نے اس گناہ کو بخش دیا ہے اور جب وہ گناہ کو بخش دیتا ہے تو وہ ہر اس چیز کو بخش دیتا ہے جو اس گناہ کے نتیجے میں مرتب ہوتی ہے۔آپ کومعلوم ہونا چاہیے کہ ’’برا عمل‘‘ علی الاطلاق تمام گناہوں کو، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں، شامل ہے اور (سوء) ’’برائی‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ برے عمل کے مرتکب کو اس پر مترتب ہونے والا عذاب برا لگتا ہے۔ نیز برا عمل فی نفسہ برا ہے، اچھا نہیں ہے۔ اسی طرح نفس کا ظلم علی الاطلاق شرک اور اس سے کم تر ظلم وغیرہ سب کو شامل ہے۔ مگر ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ مقرون کیا جائے تو ہر ایک کی اس کے مناسب حال تفسیر کی جائے گی۔یہاں برے عمل کی تفسیر ’’ظلم‘‘ کی جائے گی جو لوگوں کو برا لگتا ہے اور وہ ہے خون، مال اور عزت و ناموس میں ان کا ایک دوسرے پر ظلم۔ اور نفس کے ظلم کی تفسیر ’’ظلم اور گناہ‘‘ بیان کی جائے گی جس کا تعلق اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ہے۔ نفس کے ظلم کو ظلم اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ انسان اپنے نفس کا مالک نہیں کہ وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے۔ انسان کے نفس کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، اس نے یہ نفس اپنے بندے کو امانت کے طور پر عطا کر کے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اسے انصاف و عدل کی راہ پر گامزن کرے اور علم و عمل کے اعتبار سے اس سے صراط مستقیم کا التزام کروائے۔ جس چیز کا اسے حکم دیا گیا ہے وہ اسے سکھائے اور جو اس پر واجب ہے اس سے اس پر عمل کروائے۔ اس کے علاوہ کسی اور راستے میں اس کی سعی اور کوشش اپنے نفس پر ظلم، خیانت اس عدل کے راستے سے انحراف ہے جس کی ضد ظلم و جور ہے۔ [111] پھر فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ اِثۡمًا فَاِنَّمَا يَكۡسِبُهٗ عَلٰى نَفۡسِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص گناہ کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہے‘‘ اس میں ہر قسم کا چھوٹا بڑا گناہ شامل ہے۔ جو کوئی کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی دنیاوی اور اخروی سزا صرف اسی کے لیے ہے یہ سزا کسی اور کی طرف منتقل نہ ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام : 6؍164) ’’کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ مگر جب برائیاں غالب آ جائیں اور ان پر نکیر نہ کی جائے تو ان کا عذاب عام ہو جاتا ہے اور ان کے گناہ میں سب شامل ہو جاتے ہیں اور کوئی شخص اس آیت کے حکم سے خارج نہیں۔ کیونکہ جو کوئی برائیوں پر نکیر نہیں کرتا جبکہ ایسا کرنا واجب ہے، تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عدل و حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کسی دوسرے کے گناہ کی سزا نہیں دیتا اور نہ کسی کو اس کے جرم سے بڑھ کر سزا دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ بخوبی جاننے والا، بہت حکمت والا ہے‘‘ یعنی وہ علم کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا علم و حکمت ہے۔ کہ اسے گناہ کا علم ہے اسے یہ بھی علم ہے کہ گناہ کس سے صادر ہوا۔ اس گناہ کا داعیہ کیا تھا۔ اور اس گناہ پر کیا سزا مترتب ہوگی۔ وہ گناہ کے مرتکب کے احوال کو بھی خوب جانتا ہے کہ اگر اس سے یہ گناہ نفس امارہ کے داعیہ کے غلبہ سے صادر ہوا اور وہ اپنے اکثر اوقات میں توبہ و انابت کے ذریعے سے اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ اسے بخش دے گا اور اسے توبہ کی توفیق عطا کرے گا اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کی نظر کا استخفاف اور اس کے عذاب کی تحقیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی ہے تو یہ شخص اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور توبہ کی توفیق سے بہت دور ہے۔ [112] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ خَطِيۡٓئَةً اَوۡ اِثۡمًا ﴾ ’’جو شخص کبیرہ یا صغیرہ گناہ تو خود کرے‘‘ ﴿ ثُمَّ يَرۡمِ بِهٖ ﴾ ’’پھر اس سے کسی (بے گناہ) کو متہم کرے۔‘‘ یعنی اپنے گناہ کو کسی اور کے سر تھوپ دے ﴿ بَرِيۡؔـٓـــًٔا ﴾ ’’جو اس گناہ سے بری ہے۔‘‘ خواہ اس نے کسی اور گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو ﴿ فَقَدِ احۡتَمَلَ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا﴾’’تو اس نے بہت بڑا بہتان باندھا اور کھلا گناہ کیا‘‘ یعنی اس نے بے گناہ پر لگائے گئے بہتان کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھا لیا اور اس ظاہری گناہ کا بوجھ بھی جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بہتان ہلاک کرنے والے کبائر میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں متعدد مفاسد جمع ہیں:(۱) گناہ کبیرہ کا ارتکاب۔ (۲) پھر اس گناہ کا بہتان اس شخص پر لگا دینا جو بے گناہ ہے۔ (۳) پھر اپنے آپ کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہ گار ثابت کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔ (۴) پھر اس گناہ پر جو دنیاوی عقوبت مترتب ہوتی ہے وہ عقوبت ایک بے گناہ پر نافذ کر دینا اور اس شخص کو اس سزا سے بچا لینا جو حقیقی مجرم ہے۔ (۵) پھر بے گناہ شخص کے بارے میں لوگوں کی باتیں اور دیگر مفاسد۔ان تمام مفاسد اور ہر شر سے ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [113] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول پر اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو ان لوگوں کے ارادوں سے محفوظ رکھا جو آپ کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔ ﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ وَرَحۡمَتُهٗ لَهَمَّؔتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّضِلُّوۡكَ ﴾’’اگر اللہ کا فضل و رحم آپ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے آپ کو بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا‘‘ ان آیات کریمہ کے بارے میں اصحاب تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ ان کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک گھرانے نے مدینہ میں چوری کا ارتکاب کیا۔ جب چوری کی اطلاع لوگوں کو ہوئی تو انھوں نے فضیحت اور رسوائی سے ڈرتے ہوئے چوری کا سامان کسی بے گناہ شخص کے گھر پھینک دیا۔ پھر چور نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے مدد طلب کی کہ وہ رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر لوگوں کے سامنے اسے بری کروائیں۔ اس کے قبیلہ والوں نے رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ان کے آدمی نے چوری نہیں کی۔ چوری تو اس شخص نے کی ہے جس کے گھر سے مسروقہ سامان برآمد ہوا ہے۔ رسول اللہﷺنے ان کے آدمی کو بری قرار دینے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے حقیقت حال بیان کرنے اور رسول اللہﷺکو خیانت کاروں کی حمایت کرنے سے بچانے کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں کیونکہ باطل پسندوں کی حمایت کرنا گمراہی ہے۔ گمراہی کی دو اقسام ہیں:(۱)علم میں گمراہی، یہ حق سے لاعلمی اور جہالت کا نام ہے۔(۲) عمل میں گمراہی، عمل واجب کے خلاف عمل کرنا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو اس نوع کی گمراہی سے اسی طرح محفوظ رکھا جس طرح اس نے آپﷺکو عمل کی گمراہی سے محفوظ و مصون رکھا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان کا مکر و فریب انھی کی طرف لوٹے گا جیسا کہ ہر فریبی کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ﴿ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں‘‘ کیونکہ اس فریب اور حیلہ سازی سے انھیں اپنا مقصد حاصل نہ ہو سکا اور انھیں سوائے ناکامی، محرومی، گناہ اور خسارے کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺپر بہت بڑی نعمت ہے جو نعمت عمل کو متضمن ہے اور یہ اس فعل کی توفیق ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور ہر قسم کے محرمات سے آپﷺکی حفاظت ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر اپنی نعمت علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل فرمائی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر قرآن عظیم اور ذکر حکیم نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان اور اولین و آخرین کا علم ہے۔حکمت سے مراد یا تو سنت ہے جس کے بارے میں سلف میں سے کسی کا قول ہے کہ سنت بھی رسول اللہﷺپر وحی کے ذریعے سے نازل ہوتی ہے جیسے قرآن نازل ہوتا ہے یا اس سے مراد اسرار شریعت کی معرفت ہے جو احکام شریعت کی معرفت سے زائد چیز ہے۔ نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور ہر شے کو اس کے مطابق ترتیب دینا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَعَلَّمَكَ مَا لَمۡ تَكُنۡ تَعۡلَمُ ﴾ ’’اور آپ کو وہ (کچھ) سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے‘‘ یہ ان تمام امور کو شامل ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو عطا فرمایا۔ ورنہ نبوت سے قبل آپﷺکے جو احوال تھے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كُنۡتَ تَدۡرِيۡ مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ ﴾(الشوری : 42؍52) ’’آپ نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟‘‘ اور فرمایا ﴿وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰؔى ﴾(الضحی : 93؍7) ’’اس نے آپ کو رستے سے ناواقف پایا تو سیدھا راستہ دکھایا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ آپﷺکی طرف وحی بھیجتا رہا، آپ کو علم سکھاتا رہا اور آپ کے علم کی تکمیل کرتا رہا یہاں تک کہ آپﷺعلم کے ایسے مقام پر فائز ہو گئے کہ اولین و آخرین وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ پس رسول اللہﷺعلی الاطلاق مخلوق میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے، صفات کمال کے سب سے زیادہ جامع اور ان صفات میں سب سے زیادہ کامل تھے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ عَظِيۡمًا ﴾ ’’اللہ کا آپ پر بڑا بھاری فضل ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کا فضل مخلوق میں سب سے زیادہ محمد رسول اللہﷺپر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کی ہر جنس سے آپﷺکو نوازا ہے جن کی تہہ تک پہنچنانا ممکن اور ان کو شمار کرنا آسان نہیں۔
4:107

وَلَا تُجَٰدِلۡ عَنِ ٱلَّذِينَ يَخۡتَانُونَ أَنفُسَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ خَوَّانًا أَثِيمٗا

تحقیق ہم نے نازل کی طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے تاکہ فیصلہ کریں درمیان لوگوں کے، ساتھ اس کے جو سکھلایا آپ کو اللہ نےاور نہ ہوں آپ، خیانت کرنے والوں کی خاطر، جھگڑنے والے(105) اور بخشش مانگیں اللہ سے، بے شک ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(106) اور نہ جھگڑا کریں آپ ان لوگوں کی طرف سے جو خیانت کرتے ہیں اپنے آپ سے، تحقیق اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہو خائن گناہ گار(107) چھپتے ہیں وہ لوگوں سے اور نہیں چھپ سکتے وہ اللہ سےاور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں ایسی چیز کا کہ نہیں راضی ہوتا وہ اس بات سےاور ہے اللہ اس کو جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا(108) ہاں! تم وہی لوگ ہو کہ جھگڑا کیا تم نے ان کی طرف سے زندگانیٔ دنیا میں، پس کون جھگڑا کرے گا اللہ سے ان کی طرف سے دن قیامت کے یا کون ہوگا ان کی طرف سے وکیل؟(109) اور جو کوئی عمل کرے برا یا ظلم کرے اپنی جان پر ، پھر وہ بخشش مانگے اللہ سے تو پائے گا اللہ کو بہت بخشنے والا نہایت مہربان(110) اور جو شخص کماتا ہے کوئی گناہ تو بلاشبہ کماتا ہے وہ اس کو اپنے ہی خلاف اور ہے اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا(111) اور جو شخص کرتا ہے کوئی خطا یا کوئی گناہ، پھر الزام لگاتا ہے اس کا (کسی) بے گناہ پر تو تحقیق اپنے ذمے لیا اس نے بہتان اور گناہ ظاہر(112)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا آپ پر اور اس کی رحمت تو یقیناً ارادہ کر لیا تھا ایک گروہ نے ان میں سے یہ کہ بہکاوے وہ آپ کو اور نہیں بہکاتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں نقصان پہنچا سکتے وہ آپ کو کچھ بھی اور نازل کی اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت اور سکھایا آپ کو وہ کچھ کہ نہیں تھے آپ جانتے اور ہے فضل اللہ کا آپ پر بہت بڑا(113) [105] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا۔ بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی ہیں ﴿وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا ﴾(الانعام : 6؍115) ’’تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔‘‘اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لیے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾(النحل : 16؍44) ’’ہم نے آپ(ﷺ)کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کر دیں۔‘‘ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبیین کے بار ے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔فرمایا:﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰى ؕ۰۰ اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡيٌ يُّوۡحٰؔى﴾(النجم : 53؍3۔4) ’’ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہﷺان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپﷺنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے۔ نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ اور یہ نہیں فرمایا: (بِمَا رَایْتَ) ’’جو آپ نے دیکھا یا جو آپ کی اپنی رائے ہے‘‘ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو کتاب اللہ کی معرفت پر مترتب فرمایا ہے۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے مابین ایسے فیصلے کا حکم دیا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اس لیے ظلم وجور سے منع کیا ہے جو عدل و انصاف کی عین ضد ہے۔ پس فرمایا ﴿ وَلَا تَكُنۡ لِّلۡخَآىِٕنِيۡنَ خَصِيۡمًا﴾ ’’اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو‘‘ یعنی جس کی خیانت کے بارے میں آپﷺکو علم ہے کہ اس کا دعویٰ ناحق ہے یا وہ کسی کے حق کا انکار کر رہا ہے، اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کریں۔ خواہ وہ علم رکھتے ہوئے اس خیانت کا ارتکاب کر رہا ہو یا محض ظن و گمان کی بنا پر۔آیت کریمہ کے اس حصے میں کسی باطل معاملے میں جھگڑنے اور دینی خصومات اور دنیاوی حقوق میں کسی باطل پسند کی نیابت کی تحریم کی دلیل ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ کسی ایسے شخص کے جھگڑے کی نیابت کرنا جائز ہے جو کسی ظلم میں معروف نہ ہو۔ [106]﴿ وَّاسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔‘‘ اگر آپ سے کوئی کوتاہی صادر ہوئی ہے تو اس کی بخشش طلب کیجیے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے اور توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے بعد اس کو عمل صالح کی توفیق سے نوازتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عقاب کے زوال کا موجب بنتا ہے۔ [107] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَلَا تُجَادِلۡ عَنِ الَّذِيۡنَ يَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’اور آپ ان لوگوں کی طرف سے مت جھگڑیں جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں‘‘ (الاخْتِیَانُ) اور (اَلْخِیَانَۃُ) جرم، ظلم اور گناہ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس میں اس شخص کی طرف سے جھگڑنا بھی شامل ہے جو کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہے جس میں کوئی حد یا تعزیر لازم آتی ہو۔ اس شخص سے جو خیانت وغیرہ صادر ہوئی ہے اس کی مدافعت میں یا اس کو شرعی عقوبت سے بچانے کے لیے اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کیا جائے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ خَوَّانًا اَثِيۡمًا﴾ ’’کیونکہ اللہ خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو نہایت کثرت سے خیانت اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ جب محبت کی نفی ہو جائے تو اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے اور محبت کی ضد بغض ہے۔ آیت کریمہ کی ابتدا میں مذکور ممانعت کے لیے یہ چیز تعلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ [108] پھر ان خائن لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا: ﴿ يَّسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ وَهُوَ مَعَهُمۡ اِذۡ يُبَيِّتُوۡنَ مَا لَا يَرۡضٰى مِنَ الۡقَوۡلِ ﴾ ’’وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں (لیکن) اللہ سے نہیں چھپ سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ راتوں کے وقت وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں‘‘ یہ ایمان کی کمزوری اور یقین کی کمی ہے کہ ان کے نزدیک مخلوق کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف سے بڑھ کر ہے۔ وہ مباح اور حرام ہر طریقے سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کی فضیحت نہ ہو ...بایں ہمہ...ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے علم کے ذریعے سے ان کے تمام احوال میں ان کے ساتھ ہے خاص طور پر جب وہ رات کے وقت مجرم کی براء ت اور بے گناہ پر جرم کے الزام کے بارے میں باتیں اور سازشیں کرتے ہیں، پھر رسول اللہﷺسے اپنی ان سازشوں پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے متعدد جرائم کا ارتکاب کیا مگر انھیں اللہ کا خوف نہ آیا جو زمین و آسمان کا رب ہے، جو ان کے بھیدوں اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطًا ﴾ ’’اور اللہ ان کے تمام کاموں پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ذریعے سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی بلکہ ان کو مہلت دی ان کو توبہ کا موقع دیا اور ان کو ان گناہوں پر اصرار کرنے پر ڈرایا جو بہت بڑی سزا کے موجب ہیں۔ [109]﴿ هٰۤاَنۡتُمۡ هٰۤؤُلَآءِ جٰؔدَلۡتُمۡ عَنۡهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١۫ فَمَنۡ يُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنۡهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَمۡ مَّنۡ يَّكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’ہاں تو یہ ہو تم لوگ کہ دنیا میں تم نے ان کی حمایت کی لیکن اللہ کے سامنے قیامت کے دن ان کی حمایت کون کرے گا اور کون ہے جو ان کا وکیل بن کر کھڑا ہو سکے گا‘‘ یعنی فرض کیا اس دنیا کی زندگی میں تم نے ان کی طرف سے جھگڑ لیا، تمھاری اس حمایت نے مخلوق کے سامنے ان کو عار اور فضیحت سے بچا لیا۔ تب قیامت کے روز کون سی چیز انھیں بچائے گی اور وہ اسے کیا فائدہ دے گی؟ اور قیامت کے روز جب حجت اس کے خلاف ہو گی، ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں پر گواہی دیں گے، کون ان کی حمایت میں بولے گا؟ ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ الۡمُبِيۡنُ ﴾(النور : 24؍25) ’’اس روز اللہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی برحق اور حق کو ظاہر کرنے والا ہے۔‘‘ پس ان کی حمایت میں اس ہستی سے کون جھگڑے گا جو مخفی رازوں کو جانتی ہے جو ان کے خلاف ایسے گواہوں کو کھڑا کرے گی جن کے ہوتے ہوئے کسی کو انکار کی مجال نہ ہو گی؟اس آیت کریمہ میں اس امر کے مقابلہ کی طرف راہنمائی فرمائی ہے جو ان موہوم دنیاوی مصالح کے مابین، جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کرنے اور اس کی منہیات کے ارتکاب پر مترتب ہوتے ہیں اور اس اخروی ثواب کے مابین ہوتا ہے جس سے انسان محروم یا وہاں کے عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔ پس جس شخص کو اس کے نفس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے وہ اپنے آپ سے پوچھے ’’تو نے سستی اور کوتاہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کر دیا تو اس کے عوض تو نے کون سا منافع کمایا؟ اور کتنا اخروی ثواب ہے جو تجھے حاصل ہونے سے رہ گیا؟ اور اللہ کے حکم کو ترک کرنے کے نتیجے میں کتنی بدبختی، محرومی، ناکامی اور خسارے کا سامنا کرنا پڑا؟‘‘ اسی طرح جب اس کا نفس شہوات محرمہ کی طرف بلائے تو وہ اس سے مخاطب ہو کر کہے ’’فرض کیا جس چیز کی تو نے خواہش کی میں نے پوری کر دی، اس کی لذت تو ختم ہو جائے گی مگر یہ لذت اپنے پیچھے اتنے غم و ہموم، حسرتیں، ثواب سے محرومیاں اور عذاب چھوڑ جائے گی کہ ان کا کچھ حصہ بھی عقلمند شخص کو ان لذتوں کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔‘‘یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جس میں تدبر بندے کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہی حقیقی عقل مندی کی خصوصیت ہے، اس شخص کے برعکس جو عقل مندی کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہ عقلمند ہوتا نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے دنیا کی لذت و راحت کو ترجیح دیتا ہے خواہ اس پر کیسے ہی نتائج مرتب کیوں نہ ہوں۔۔۔ واللہ المستعان! [110] پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهٗ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے ایسی مغفرت طلب کرتا ہے جو گناہ کے اقرار، اس پر پشیمانی، اس گناہ سے رک جانے اور اس گناہ کو دوبارہ نہ کرنے کے عزم کو مستلزم ہے تو ایسے ہی شخص کے ساتھ اس ہستی نے مغفرت اور رحمت کا وعدہ کیا ہے جو وعدہ خلافی نہیں کرتی۔پس اس سے جو گناہ صادر ہو چکا ہوتا ہے وہ اس کو معاف کر دیتا ہے نیز اس عیب اور نقص کو اس سے زائل کر دیتا ہے جو اس گناہ پر مترتب ہوتا ہے اور اس کے سابقہ اعمال صالحہ اس کو لوٹا دیتا ہے اور مستقبل میں اسے مزید اعمال صالحہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اس کے اور اپنی توفیق کے درمیان اس کے گزشتہ گناہ کو حائل نہیں ہونے دیتا۔ کیونکہ اس نے اس گناہ کو بخش دیا ہے اور جب وہ گناہ کو بخش دیتا ہے تو وہ ہر اس چیز کو بخش دیتا ہے جو اس گناہ کے نتیجے میں مرتب ہوتی ہے۔آپ کومعلوم ہونا چاہیے کہ ’’برا عمل‘‘ علی الاطلاق تمام گناہوں کو، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں، شامل ہے اور (سوء) ’’برائی‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ برے عمل کے مرتکب کو اس پر مترتب ہونے والا عذاب برا لگتا ہے۔ نیز برا عمل فی نفسہ برا ہے، اچھا نہیں ہے۔ اسی طرح نفس کا ظلم علی الاطلاق شرک اور اس سے کم تر ظلم وغیرہ سب کو شامل ہے۔ مگر ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ مقرون کیا جائے تو ہر ایک کی اس کے مناسب حال تفسیر کی جائے گی۔یہاں برے عمل کی تفسیر ’’ظلم‘‘ کی جائے گی جو لوگوں کو برا لگتا ہے اور وہ ہے خون، مال اور عزت و ناموس میں ان کا ایک دوسرے پر ظلم۔ اور نفس کے ظلم کی تفسیر ’’ظلم اور گناہ‘‘ بیان کی جائے گی جس کا تعلق اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ہے۔ نفس کے ظلم کو ظلم اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ انسان اپنے نفس کا مالک نہیں کہ وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے۔ انسان کے نفس کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، اس نے یہ نفس اپنے بندے کو امانت کے طور پر عطا کر کے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اسے انصاف و عدل کی راہ پر گامزن کرے اور علم و عمل کے اعتبار سے اس سے صراط مستقیم کا التزام کروائے۔ جس چیز کا اسے حکم دیا گیا ہے وہ اسے سکھائے اور جو اس پر واجب ہے اس سے اس پر عمل کروائے۔ اس کے علاوہ کسی اور راستے میں اس کی سعی اور کوشش اپنے نفس پر ظلم، خیانت اس عدل کے راستے سے انحراف ہے جس کی ضد ظلم و جور ہے۔ [111] پھر فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ اِثۡمًا فَاِنَّمَا يَكۡسِبُهٗ عَلٰى نَفۡسِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص گناہ کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہے‘‘ اس میں ہر قسم کا چھوٹا بڑا گناہ شامل ہے۔ جو کوئی کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی دنیاوی اور اخروی سزا صرف اسی کے لیے ہے یہ سزا کسی اور کی طرف منتقل نہ ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام : 6؍164) ’’کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ مگر جب برائیاں غالب آ جائیں اور ان پر نکیر نہ کی جائے تو ان کا عذاب عام ہو جاتا ہے اور ان کے گناہ میں سب شامل ہو جاتے ہیں اور کوئی شخص اس آیت کے حکم سے خارج نہیں۔ کیونکہ جو کوئی برائیوں پر نکیر نہیں کرتا جبکہ ایسا کرنا واجب ہے، تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عدل و حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کسی دوسرے کے گناہ کی سزا نہیں دیتا اور نہ کسی کو اس کے جرم سے بڑھ کر سزا دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ بخوبی جاننے والا، بہت حکمت والا ہے‘‘ یعنی وہ علم کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا علم و حکمت ہے۔ کہ اسے گناہ کا علم ہے اسے یہ بھی علم ہے کہ گناہ کس سے صادر ہوا۔ اس گناہ کا داعیہ کیا تھا۔ اور اس گناہ پر کیا سزا مترتب ہوگی۔ وہ گناہ کے مرتکب کے احوال کو بھی خوب جانتا ہے کہ اگر اس سے یہ گناہ نفس امارہ کے داعیہ کے غلبہ سے صادر ہوا اور وہ اپنے اکثر اوقات میں توبہ و انابت کے ذریعے سے اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ اسے بخش دے گا اور اسے توبہ کی توفیق عطا کرے گا اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کی نظر کا استخفاف اور اس کے عذاب کی تحقیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی ہے تو یہ شخص اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور توبہ کی توفیق سے بہت دور ہے۔ [112] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ خَطِيۡٓئَةً اَوۡ اِثۡمًا ﴾ ’’جو شخص کبیرہ یا صغیرہ گناہ تو خود کرے‘‘ ﴿ ثُمَّ يَرۡمِ بِهٖ ﴾ ’’پھر اس سے کسی (بے گناہ) کو متہم کرے۔‘‘ یعنی اپنے گناہ کو کسی اور کے سر تھوپ دے ﴿ بَرِيۡؔـٓـــًٔا ﴾ ’’جو اس گناہ سے بری ہے۔‘‘ خواہ اس نے کسی اور گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو ﴿ فَقَدِ احۡتَمَلَ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا﴾’’تو اس نے بہت بڑا بہتان باندھا اور کھلا گناہ کیا‘‘ یعنی اس نے بے گناہ پر لگائے گئے بہتان کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھا لیا اور اس ظاہری گناہ کا بوجھ بھی جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بہتان ہلاک کرنے والے کبائر میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں متعدد مفاسد جمع ہیں:(۱) گناہ کبیرہ کا ارتکاب۔ (۲) پھر اس گناہ کا بہتان اس شخص پر لگا دینا جو بے گناہ ہے۔ (۳) پھر اپنے آپ کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہ گار ثابت کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔ (۴) پھر اس گناہ پر جو دنیاوی عقوبت مترتب ہوتی ہے وہ عقوبت ایک بے گناہ پر نافذ کر دینا اور اس شخص کو اس سزا سے بچا لینا جو حقیقی مجرم ہے۔ (۵) پھر بے گناہ شخص کے بارے میں لوگوں کی باتیں اور دیگر مفاسد۔ان تمام مفاسد اور ہر شر سے ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [113] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول پر اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو ان لوگوں کے ارادوں سے محفوظ رکھا جو آپ کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔ ﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ وَرَحۡمَتُهٗ لَهَمَّؔتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّضِلُّوۡكَ ﴾’’اگر اللہ کا فضل و رحم آپ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے آپ کو بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا‘‘ ان آیات کریمہ کے بارے میں اصحاب تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ ان کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک گھرانے نے مدینہ میں چوری کا ارتکاب کیا۔ جب چوری کی اطلاع لوگوں کو ہوئی تو انھوں نے فضیحت اور رسوائی سے ڈرتے ہوئے چوری کا سامان کسی بے گناہ شخص کے گھر پھینک دیا۔ پھر چور نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے مدد طلب کی کہ وہ رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر لوگوں کے سامنے اسے بری کروائیں۔ اس کے قبیلہ والوں نے رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ان کے آدمی نے چوری نہیں کی۔ چوری تو اس شخص نے کی ہے جس کے گھر سے مسروقہ سامان برآمد ہوا ہے۔ رسول اللہﷺنے ان کے آدمی کو بری قرار دینے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے حقیقت حال بیان کرنے اور رسول اللہﷺکو خیانت کاروں کی حمایت کرنے سے بچانے کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں کیونکہ باطل پسندوں کی حمایت کرنا گمراہی ہے۔ گمراہی کی دو اقسام ہیں:(۱)علم میں گمراہی، یہ حق سے لاعلمی اور جہالت کا نام ہے۔(۲) عمل میں گمراہی، عمل واجب کے خلاف عمل کرنا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو اس نوع کی گمراہی سے اسی طرح محفوظ رکھا جس طرح اس نے آپﷺکو عمل کی گمراہی سے محفوظ و مصون رکھا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان کا مکر و فریب انھی کی طرف لوٹے گا جیسا کہ ہر فریبی کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ﴿ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں‘‘ کیونکہ اس فریب اور حیلہ سازی سے انھیں اپنا مقصد حاصل نہ ہو سکا اور انھیں سوائے ناکامی، محرومی، گناہ اور خسارے کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺپر بہت بڑی نعمت ہے جو نعمت عمل کو متضمن ہے اور یہ اس فعل کی توفیق ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور ہر قسم کے محرمات سے آپﷺکی حفاظت ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر اپنی نعمت علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل فرمائی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر قرآن عظیم اور ذکر حکیم نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان اور اولین و آخرین کا علم ہے۔حکمت سے مراد یا تو سنت ہے جس کے بارے میں سلف میں سے کسی کا قول ہے کہ سنت بھی رسول اللہﷺپر وحی کے ذریعے سے نازل ہوتی ہے جیسے قرآن نازل ہوتا ہے یا اس سے مراد اسرار شریعت کی معرفت ہے جو احکام شریعت کی معرفت سے زائد چیز ہے۔ نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور ہر شے کو اس کے مطابق ترتیب دینا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَعَلَّمَكَ مَا لَمۡ تَكُنۡ تَعۡلَمُ ﴾ ’’اور آپ کو وہ (کچھ) سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے‘‘ یہ ان تمام امور کو شامل ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو عطا فرمایا۔ ورنہ نبوت سے قبل آپﷺکے جو احوال تھے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كُنۡتَ تَدۡرِيۡ مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ ﴾(الشوری : 42؍52) ’’آپ نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟‘‘ اور فرمایا ﴿وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰؔى ﴾(الضحی : 93؍7) ’’اس نے آپ کو رستے سے ناواقف پایا تو سیدھا راستہ دکھایا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ آپﷺکی طرف وحی بھیجتا رہا، آپ کو علم سکھاتا رہا اور آپ کے علم کی تکمیل کرتا رہا یہاں تک کہ آپﷺعلم کے ایسے مقام پر فائز ہو گئے کہ اولین و آخرین وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ پس رسول اللہﷺعلی الاطلاق مخلوق میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے، صفات کمال کے سب سے زیادہ جامع اور ان صفات میں سب سے زیادہ کامل تھے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ عَظِيۡمًا ﴾ ’’اللہ کا آپ پر بڑا بھاری فضل ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کا فضل مخلوق میں سب سے زیادہ محمد رسول اللہﷺپر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کی ہر جنس سے آپﷺکو نوازا ہے جن کی تہہ تک پہنچنانا ممکن اور ان کو شمار کرنا آسان نہیں۔
4:108

يَسۡتَخۡفُونَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَلَا يَسۡتَخۡفُونَ مِنَ ٱللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمۡ إِذۡ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرۡضَىٰ مِنَ ٱلۡقَوۡلِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا يَعۡمَلُونَ مُحِيطًا

تحقیق ہم نے نازل کی طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے تاکہ فیصلہ کریں درمیان لوگوں کے، ساتھ اس کے جو سکھلایا آپ کو اللہ نےاور نہ ہوں آپ، خیانت کرنے والوں کی خاطر، جھگڑنے والے(105) اور بخشش مانگیں اللہ سے، بے شک ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(106) اور نہ جھگڑا کریں آپ ان لوگوں کی طرف سے جو خیانت کرتے ہیں اپنے آپ سے، تحقیق اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہو خائن گناہ گار(107) چھپتے ہیں وہ لوگوں سے اور نہیں چھپ سکتے وہ اللہ سےاور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں ایسی چیز کا کہ نہیں راضی ہوتا وہ اس بات سےاور ہے اللہ اس کو جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا(108) ہاں! تم وہی لوگ ہو کہ جھگڑا کیا تم نے ان کی طرف سے زندگانیٔ دنیا میں، پس کون جھگڑا کرے گا اللہ سے ان کی طرف سے دن قیامت کے یا کون ہوگا ان کی طرف سے وکیل؟(109) اور جو کوئی عمل کرے برا یا ظلم کرے اپنی جان پر ، پھر وہ بخشش مانگے اللہ سے تو پائے گا اللہ کو بہت بخشنے والا نہایت مہربان(110) اور جو شخص کماتا ہے کوئی گناہ تو بلاشبہ کماتا ہے وہ اس کو اپنے ہی خلاف اور ہے اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا(111) اور جو شخص کرتا ہے کوئی خطا یا کوئی گناہ، پھر الزام لگاتا ہے اس کا (کسی) بے گناہ پر تو تحقیق اپنے ذمے لیا اس نے بہتان اور گناہ ظاہر(112)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا آپ پر اور اس کی رحمت تو یقیناً ارادہ کر لیا تھا ایک گروہ نے ان میں سے یہ کہ بہکاوے وہ آپ کو اور نہیں بہکاتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں نقصان پہنچا سکتے وہ آپ کو کچھ بھی اور نازل کی اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت اور سکھایا آپ کو وہ کچھ کہ نہیں تھے آپ جانتے اور ہے فضل اللہ کا آپ پر بہت بڑا(113) [105] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا۔ بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی ہیں ﴿وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا ﴾(الانعام : 6؍115) ’’تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔‘‘اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لیے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾(النحل : 16؍44) ’’ہم نے آپ(ﷺ)کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کر دیں۔‘‘ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبیین کے بار ے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔فرمایا:﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰى ؕ۰۰ اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡيٌ يُّوۡحٰؔى﴾(النجم : 53؍3۔4) ’’ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہﷺان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپﷺنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے۔ نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ اور یہ نہیں فرمایا: (بِمَا رَایْتَ) ’’جو آپ نے دیکھا یا جو آپ کی اپنی رائے ہے‘‘ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو کتاب اللہ کی معرفت پر مترتب فرمایا ہے۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے مابین ایسے فیصلے کا حکم دیا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اس لیے ظلم وجور سے منع کیا ہے جو عدل و انصاف کی عین ضد ہے۔ پس فرمایا ﴿ وَلَا تَكُنۡ لِّلۡخَآىِٕنِيۡنَ خَصِيۡمًا﴾ ’’اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو‘‘ یعنی جس کی خیانت کے بارے میں آپﷺکو علم ہے کہ اس کا دعویٰ ناحق ہے یا وہ کسی کے حق کا انکار کر رہا ہے، اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کریں۔ خواہ وہ علم رکھتے ہوئے اس خیانت کا ارتکاب کر رہا ہو یا محض ظن و گمان کی بنا پر۔آیت کریمہ کے اس حصے میں کسی باطل معاملے میں جھگڑنے اور دینی خصومات اور دنیاوی حقوق میں کسی باطل پسند کی نیابت کی تحریم کی دلیل ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ کسی ایسے شخص کے جھگڑے کی نیابت کرنا جائز ہے جو کسی ظلم میں معروف نہ ہو۔ [106]﴿ وَّاسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔‘‘ اگر آپ سے کوئی کوتاہی صادر ہوئی ہے تو اس کی بخشش طلب کیجیے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے اور توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے بعد اس کو عمل صالح کی توفیق سے نوازتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عقاب کے زوال کا موجب بنتا ہے۔ [107] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَلَا تُجَادِلۡ عَنِ الَّذِيۡنَ يَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’اور آپ ان لوگوں کی طرف سے مت جھگڑیں جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں‘‘ (الاخْتِیَانُ) اور (اَلْخِیَانَۃُ) جرم، ظلم اور گناہ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس میں اس شخص کی طرف سے جھگڑنا بھی شامل ہے جو کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہے جس میں کوئی حد یا تعزیر لازم آتی ہو۔ اس شخص سے جو خیانت وغیرہ صادر ہوئی ہے اس کی مدافعت میں یا اس کو شرعی عقوبت سے بچانے کے لیے اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کیا جائے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ خَوَّانًا اَثِيۡمًا﴾ ’’کیونکہ اللہ خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو نہایت کثرت سے خیانت اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ جب محبت کی نفی ہو جائے تو اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے اور محبت کی ضد بغض ہے۔ آیت کریمہ کی ابتدا میں مذکور ممانعت کے لیے یہ چیز تعلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ [108] پھر ان خائن لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا: ﴿ يَّسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ وَهُوَ مَعَهُمۡ اِذۡ يُبَيِّتُوۡنَ مَا لَا يَرۡضٰى مِنَ الۡقَوۡلِ ﴾ ’’وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں (لیکن) اللہ سے نہیں چھپ سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ راتوں کے وقت وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں‘‘ یہ ایمان کی کمزوری اور یقین کی کمی ہے کہ ان کے نزدیک مخلوق کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف سے بڑھ کر ہے۔ وہ مباح اور حرام ہر طریقے سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کی فضیحت نہ ہو ...بایں ہمہ...ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے علم کے ذریعے سے ان کے تمام احوال میں ان کے ساتھ ہے خاص طور پر جب وہ رات کے وقت مجرم کی براء ت اور بے گناہ پر جرم کے الزام کے بارے میں باتیں اور سازشیں کرتے ہیں، پھر رسول اللہﷺسے اپنی ان سازشوں پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے متعدد جرائم کا ارتکاب کیا مگر انھیں اللہ کا خوف نہ آیا جو زمین و آسمان کا رب ہے، جو ان کے بھیدوں اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطًا ﴾ ’’اور اللہ ان کے تمام کاموں پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ذریعے سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی بلکہ ان کو مہلت دی ان کو توبہ کا موقع دیا اور ان کو ان گناہوں پر اصرار کرنے پر ڈرایا جو بہت بڑی سزا کے موجب ہیں۔ [109]﴿ هٰۤاَنۡتُمۡ هٰۤؤُلَآءِ جٰؔدَلۡتُمۡ عَنۡهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١۫ فَمَنۡ يُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنۡهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَمۡ مَّنۡ يَّكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’ہاں تو یہ ہو تم لوگ کہ دنیا میں تم نے ان کی حمایت کی لیکن اللہ کے سامنے قیامت کے دن ان کی حمایت کون کرے گا اور کون ہے جو ان کا وکیل بن کر کھڑا ہو سکے گا‘‘ یعنی فرض کیا اس دنیا کی زندگی میں تم نے ان کی طرف سے جھگڑ لیا، تمھاری اس حمایت نے مخلوق کے سامنے ان کو عار اور فضیحت سے بچا لیا۔ تب قیامت کے روز کون سی چیز انھیں بچائے گی اور وہ اسے کیا فائدہ دے گی؟ اور قیامت کے روز جب حجت اس کے خلاف ہو گی، ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں پر گواہی دیں گے، کون ان کی حمایت میں بولے گا؟ ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ الۡمُبِيۡنُ ﴾(النور : 24؍25) ’’اس روز اللہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی برحق اور حق کو ظاہر کرنے والا ہے۔‘‘ پس ان کی حمایت میں اس ہستی سے کون جھگڑے گا جو مخفی رازوں کو جانتی ہے جو ان کے خلاف ایسے گواہوں کو کھڑا کرے گی جن کے ہوتے ہوئے کسی کو انکار کی مجال نہ ہو گی؟اس آیت کریمہ میں اس امر کے مقابلہ کی طرف راہنمائی فرمائی ہے جو ان موہوم دنیاوی مصالح کے مابین، جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کرنے اور اس کی منہیات کے ارتکاب پر مترتب ہوتے ہیں اور اس اخروی ثواب کے مابین ہوتا ہے جس سے انسان محروم یا وہاں کے عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔ پس جس شخص کو اس کے نفس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے وہ اپنے آپ سے پوچھے ’’تو نے سستی اور کوتاہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کر دیا تو اس کے عوض تو نے کون سا منافع کمایا؟ اور کتنا اخروی ثواب ہے جو تجھے حاصل ہونے سے رہ گیا؟ اور اللہ کے حکم کو ترک کرنے کے نتیجے میں کتنی بدبختی، محرومی، ناکامی اور خسارے کا سامنا کرنا پڑا؟‘‘ اسی طرح جب اس کا نفس شہوات محرمہ کی طرف بلائے تو وہ اس سے مخاطب ہو کر کہے ’’فرض کیا جس چیز کی تو نے خواہش کی میں نے پوری کر دی، اس کی لذت تو ختم ہو جائے گی مگر یہ لذت اپنے پیچھے اتنے غم و ہموم، حسرتیں، ثواب سے محرومیاں اور عذاب چھوڑ جائے گی کہ ان کا کچھ حصہ بھی عقلمند شخص کو ان لذتوں کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔‘‘یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جس میں تدبر بندے کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہی حقیقی عقل مندی کی خصوصیت ہے، اس شخص کے برعکس جو عقل مندی کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہ عقلمند ہوتا نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے دنیا کی لذت و راحت کو ترجیح دیتا ہے خواہ اس پر کیسے ہی نتائج مرتب کیوں نہ ہوں۔۔۔ واللہ المستعان! [110] پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهٗ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے ایسی مغفرت طلب کرتا ہے جو گناہ کے اقرار، اس پر پشیمانی، اس گناہ سے رک جانے اور اس گناہ کو دوبارہ نہ کرنے کے عزم کو مستلزم ہے تو ایسے ہی شخص کے ساتھ اس ہستی نے مغفرت اور رحمت کا وعدہ کیا ہے جو وعدہ خلافی نہیں کرتی۔پس اس سے جو گناہ صادر ہو چکا ہوتا ہے وہ اس کو معاف کر دیتا ہے نیز اس عیب اور نقص کو اس سے زائل کر دیتا ہے جو اس گناہ پر مترتب ہوتا ہے اور اس کے سابقہ اعمال صالحہ اس کو لوٹا دیتا ہے اور مستقبل میں اسے مزید اعمال صالحہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اس کے اور اپنی توفیق کے درمیان اس کے گزشتہ گناہ کو حائل نہیں ہونے دیتا۔ کیونکہ اس نے اس گناہ کو بخش دیا ہے اور جب وہ گناہ کو بخش دیتا ہے تو وہ ہر اس چیز کو بخش دیتا ہے جو اس گناہ کے نتیجے میں مرتب ہوتی ہے۔آپ کومعلوم ہونا چاہیے کہ ’’برا عمل‘‘ علی الاطلاق تمام گناہوں کو، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں، شامل ہے اور (سوء) ’’برائی‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ برے عمل کے مرتکب کو اس پر مترتب ہونے والا عذاب برا لگتا ہے۔ نیز برا عمل فی نفسہ برا ہے، اچھا نہیں ہے۔ اسی طرح نفس کا ظلم علی الاطلاق شرک اور اس سے کم تر ظلم وغیرہ سب کو شامل ہے۔ مگر ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ مقرون کیا جائے تو ہر ایک کی اس کے مناسب حال تفسیر کی جائے گی۔یہاں برے عمل کی تفسیر ’’ظلم‘‘ کی جائے گی جو لوگوں کو برا لگتا ہے اور وہ ہے خون، مال اور عزت و ناموس میں ان کا ایک دوسرے پر ظلم۔ اور نفس کے ظلم کی تفسیر ’’ظلم اور گناہ‘‘ بیان کی جائے گی جس کا تعلق اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ہے۔ نفس کے ظلم کو ظلم اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ انسان اپنے نفس کا مالک نہیں کہ وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے۔ انسان کے نفس کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، اس نے یہ نفس اپنے بندے کو امانت کے طور پر عطا کر کے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اسے انصاف و عدل کی راہ پر گامزن کرے اور علم و عمل کے اعتبار سے اس سے صراط مستقیم کا التزام کروائے۔ جس چیز کا اسے حکم دیا گیا ہے وہ اسے سکھائے اور جو اس پر واجب ہے اس سے اس پر عمل کروائے۔ اس کے علاوہ کسی اور راستے میں اس کی سعی اور کوشش اپنے نفس پر ظلم، خیانت اس عدل کے راستے سے انحراف ہے جس کی ضد ظلم و جور ہے۔ [111] پھر فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ اِثۡمًا فَاِنَّمَا يَكۡسِبُهٗ عَلٰى نَفۡسِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص گناہ کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہے‘‘ اس میں ہر قسم کا چھوٹا بڑا گناہ شامل ہے۔ جو کوئی کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی دنیاوی اور اخروی سزا صرف اسی کے لیے ہے یہ سزا کسی اور کی طرف منتقل نہ ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام : 6؍164) ’’کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ مگر جب برائیاں غالب آ جائیں اور ان پر نکیر نہ کی جائے تو ان کا عذاب عام ہو جاتا ہے اور ان کے گناہ میں سب شامل ہو جاتے ہیں اور کوئی شخص اس آیت کے حکم سے خارج نہیں۔ کیونکہ جو کوئی برائیوں پر نکیر نہیں کرتا جبکہ ایسا کرنا واجب ہے، تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عدل و حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کسی دوسرے کے گناہ کی سزا نہیں دیتا اور نہ کسی کو اس کے جرم سے بڑھ کر سزا دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ بخوبی جاننے والا، بہت حکمت والا ہے‘‘ یعنی وہ علم کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا علم و حکمت ہے۔ کہ اسے گناہ کا علم ہے اسے یہ بھی علم ہے کہ گناہ کس سے صادر ہوا۔ اس گناہ کا داعیہ کیا تھا۔ اور اس گناہ پر کیا سزا مترتب ہوگی۔ وہ گناہ کے مرتکب کے احوال کو بھی خوب جانتا ہے کہ اگر اس سے یہ گناہ نفس امارہ کے داعیہ کے غلبہ سے صادر ہوا اور وہ اپنے اکثر اوقات میں توبہ و انابت کے ذریعے سے اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ اسے بخش دے گا اور اسے توبہ کی توفیق عطا کرے گا اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کی نظر کا استخفاف اور اس کے عذاب کی تحقیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی ہے تو یہ شخص اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور توبہ کی توفیق سے بہت دور ہے۔ [112] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ خَطِيۡٓئَةً اَوۡ اِثۡمًا ﴾ ’’جو شخص کبیرہ یا صغیرہ گناہ تو خود کرے‘‘ ﴿ ثُمَّ يَرۡمِ بِهٖ ﴾ ’’پھر اس سے کسی (بے گناہ) کو متہم کرے۔‘‘ یعنی اپنے گناہ کو کسی اور کے سر تھوپ دے ﴿ بَرِيۡؔـٓـــًٔا ﴾ ’’جو اس گناہ سے بری ہے۔‘‘ خواہ اس نے کسی اور گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو ﴿ فَقَدِ احۡتَمَلَ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا﴾’’تو اس نے بہت بڑا بہتان باندھا اور کھلا گناہ کیا‘‘ یعنی اس نے بے گناہ پر لگائے گئے بہتان کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھا لیا اور اس ظاہری گناہ کا بوجھ بھی جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بہتان ہلاک کرنے والے کبائر میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں متعدد مفاسد جمع ہیں:(۱) گناہ کبیرہ کا ارتکاب۔ (۲) پھر اس گناہ کا بہتان اس شخص پر لگا دینا جو بے گناہ ہے۔ (۳) پھر اپنے آپ کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہ گار ثابت کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔ (۴) پھر اس گناہ پر جو دنیاوی عقوبت مترتب ہوتی ہے وہ عقوبت ایک بے گناہ پر نافذ کر دینا اور اس شخص کو اس سزا سے بچا لینا جو حقیقی مجرم ہے۔ (۵) پھر بے گناہ شخص کے بارے میں لوگوں کی باتیں اور دیگر مفاسد۔ان تمام مفاسد اور ہر شر سے ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [113] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول پر اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو ان لوگوں کے ارادوں سے محفوظ رکھا جو آپ کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔ ﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ وَرَحۡمَتُهٗ لَهَمَّؔتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّضِلُّوۡكَ ﴾’’اگر اللہ کا فضل و رحم آپ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے آپ کو بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا‘‘ ان آیات کریمہ کے بارے میں اصحاب تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ ان کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک گھرانے نے مدینہ میں چوری کا ارتکاب کیا۔ جب چوری کی اطلاع لوگوں کو ہوئی تو انھوں نے فضیحت اور رسوائی سے ڈرتے ہوئے چوری کا سامان کسی بے گناہ شخص کے گھر پھینک دیا۔ پھر چور نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے مدد طلب کی کہ وہ رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر لوگوں کے سامنے اسے بری کروائیں۔ اس کے قبیلہ والوں نے رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ان کے آدمی نے چوری نہیں کی۔ چوری تو اس شخص نے کی ہے جس کے گھر سے مسروقہ سامان برآمد ہوا ہے۔ رسول اللہﷺنے ان کے آدمی کو بری قرار دینے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے حقیقت حال بیان کرنے اور رسول اللہﷺکو خیانت کاروں کی حمایت کرنے سے بچانے کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں کیونکہ باطل پسندوں کی حمایت کرنا گمراہی ہے۔ گمراہی کی دو اقسام ہیں:(۱)علم میں گمراہی، یہ حق سے لاعلمی اور جہالت کا نام ہے۔(۲) عمل میں گمراہی، عمل واجب کے خلاف عمل کرنا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو اس نوع کی گمراہی سے اسی طرح محفوظ رکھا جس طرح اس نے آپﷺکو عمل کی گمراہی سے محفوظ و مصون رکھا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان کا مکر و فریب انھی کی طرف لوٹے گا جیسا کہ ہر فریبی کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ﴿ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں‘‘ کیونکہ اس فریب اور حیلہ سازی سے انھیں اپنا مقصد حاصل نہ ہو سکا اور انھیں سوائے ناکامی، محرومی، گناہ اور خسارے کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺپر بہت بڑی نعمت ہے جو نعمت عمل کو متضمن ہے اور یہ اس فعل کی توفیق ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور ہر قسم کے محرمات سے آپﷺکی حفاظت ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر اپنی نعمت علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل فرمائی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر قرآن عظیم اور ذکر حکیم نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان اور اولین و آخرین کا علم ہے۔حکمت سے مراد یا تو سنت ہے جس کے بارے میں سلف میں سے کسی کا قول ہے کہ سنت بھی رسول اللہﷺپر وحی کے ذریعے سے نازل ہوتی ہے جیسے قرآن نازل ہوتا ہے یا اس سے مراد اسرار شریعت کی معرفت ہے جو احکام شریعت کی معرفت سے زائد چیز ہے۔ نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور ہر شے کو اس کے مطابق ترتیب دینا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَعَلَّمَكَ مَا لَمۡ تَكُنۡ تَعۡلَمُ ﴾ ’’اور آپ کو وہ (کچھ) سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے‘‘ یہ ان تمام امور کو شامل ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو عطا فرمایا۔ ورنہ نبوت سے قبل آپﷺکے جو احوال تھے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كُنۡتَ تَدۡرِيۡ مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ ﴾(الشوری : 42؍52) ’’آپ نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟‘‘ اور فرمایا ﴿وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰؔى ﴾(الضحی : 93؍7) ’’اس نے آپ کو رستے سے ناواقف پایا تو سیدھا راستہ دکھایا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ آپﷺکی طرف وحی بھیجتا رہا، آپ کو علم سکھاتا رہا اور آپ کے علم کی تکمیل کرتا رہا یہاں تک کہ آپﷺعلم کے ایسے مقام پر فائز ہو گئے کہ اولین و آخرین وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ پس رسول اللہﷺعلی الاطلاق مخلوق میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے، صفات کمال کے سب سے زیادہ جامع اور ان صفات میں سب سے زیادہ کامل تھے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ عَظِيۡمًا ﴾ ’’اللہ کا آپ پر بڑا بھاری فضل ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کا فضل مخلوق میں سب سے زیادہ محمد رسول اللہﷺپر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کی ہر جنس سے آپﷺکو نوازا ہے جن کی تہہ تک پہنچنانا ممکن اور ان کو شمار کرنا آسان نہیں۔
4:109

هَـٰٓأَنتُمۡ هَـٰٓؤُلَآءِ جَٰدَلۡتُمۡ عَنۡهُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا فَمَن يُجَٰدِلُ ٱللَّهَ عَنۡهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ أَم مَّن يَكُونُ عَلَيۡهِمۡ وَكِيلٗا

تحقیق ہم نے نازل کی طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے تاکہ فیصلہ کریں درمیان لوگوں کے، ساتھ اس کے جو سکھلایا آپ کو اللہ نےاور نہ ہوں آپ، خیانت کرنے والوں کی خاطر، جھگڑنے والے(105) اور بخشش مانگیں اللہ سے، بے شک ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(106) اور نہ جھگڑا کریں آپ ان لوگوں کی طرف سے جو خیانت کرتے ہیں اپنے آپ سے، تحقیق اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہو خائن گناہ گار(107) چھپتے ہیں وہ لوگوں سے اور نہیں چھپ سکتے وہ اللہ سےاور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں ایسی چیز کا کہ نہیں راضی ہوتا وہ اس بات سےاور ہے اللہ اس کو جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا(108) ہاں! تم وہی لوگ ہو کہ جھگڑا کیا تم نے ان کی طرف سے زندگانیٔ دنیا میں، پس کون جھگڑا کرے گا اللہ سے ان کی طرف سے دن قیامت کے یا کون ہوگا ان کی طرف سے وکیل؟(109) اور جو کوئی عمل کرے برا یا ظلم کرے اپنی جان پر ، پھر وہ بخشش مانگے اللہ سے تو پائے گا اللہ کو بہت بخشنے والا نہایت مہربان(110) اور جو شخص کماتا ہے کوئی گناہ تو بلاشبہ کماتا ہے وہ اس کو اپنے ہی خلاف اور ہے اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا(111) اور جو شخص کرتا ہے کوئی خطا یا کوئی گناہ، پھر الزام لگاتا ہے اس کا (کسی) بے گناہ پر تو تحقیق اپنے ذمے لیا اس نے بہتان اور گناہ ظاہر(112)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا آپ پر اور اس کی رحمت تو یقیناً ارادہ کر لیا تھا ایک گروہ نے ان میں سے یہ کہ بہکاوے وہ آپ کو اور نہیں بہکاتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں نقصان پہنچا سکتے وہ آپ کو کچھ بھی اور نازل کی اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت اور سکھایا آپ کو وہ کچھ کہ نہیں تھے آپ جانتے اور ہے فضل اللہ کا آپ پر بہت بڑا(113) [105] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا۔ بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی ہیں ﴿وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا ﴾(الانعام : 6؍115) ’’تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔‘‘اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لیے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾(النحل : 16؍44) ’’ہم نے آپ(ﷺ)کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کر دیں۔‘‘ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبیین کے بار ے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔فرمایا:﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰى ؕ۰۰ اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡيٌ يُّوۡحٰؔى﴾(النجم : 53؍3۔4) ’’ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہﷺان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپﷺنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے۔ نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ اور یہ نہیں فرمایا: (بِمَا رَایْتَ) ’’جو آپ نے دیکھا یا جو آپ کی اپنی رائے ہے‘‘ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو کتاب اللہ کی معرفت پر مترتب فرمایا ہے۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے مابین ایسے فیصلے کا حکم دیا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اس لیے ظلم وجور سے منع کیا ہے جو عدل و انصاف کی عین ضد ہے۔ پس فرمایا ﴿ وَلَا تَكُنۡ لِّلۡخَآىِٕنِيۡنَ خَصِيۡمًا﴾ ’’اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو‘‘ یعنی جس کی خیانت کے بارے میں آپﷺکو علم ہے کہ اس کا دعویٰ ناحق ہے یا وہ کسی کے حق کا انکار کر رہا ہے، اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کریں۔ خواہ وہ علم رکھتے ہوئے اس خیانت کا ارتکاب کر رہا ہو یا محض ظن و گمان کی بنا پر۔آیت کریمہ کے اس حصے میں کسی باطل معاملے میں جھگڑنے اور دینی خصومات اور دنیاوی حقوق میں کسی باطل پسند کی نیابت کی تحریم کی دلیل ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ کسی ایسے شخص کے جھگڑے کی نیابت کرنا جائز ہے جو کسی ظلم میں معروف نہ ہو۔ [106]﴿ وَّاسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔‘‘ اگر آپ سے کوئی کوتاہی صادر ہوئی ہے تو اس کی بخشش طلب کیجیے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے اور توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے بعد اس کو عمل صالح کی توفیق سے نوازتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عقاب کے زوال کا موجب بنتا ہے۔ [107] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَلَا تُجَادِلۡ عَنِ الَّذِيۡنَ يَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’اور آپ ان لوگوں کی طرف سے مت جھگڑیں جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں‘‘ (الاخْتِیَانُ) اور (اَلْخِیَانَۃُ) جرم، ظلم اور گناہ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس میں اس شخص کی طرف سے جھگڑنا بھی شامل ہے جو کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہے جس میں کوئی حد یا تعزیر لازم آتی ہو۔ اس شخص سے جو خیانت وغیرہ صادر ہوئی ہے اس کی مدافعت میں یا اس کو شرعی عقوبت سے بچانے کے لیے اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کیا جائے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ خَوَّانًا اَثِيۡمًا﴾ ’’کیونکہ اللہ خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو نہایت کثرت سے خیانت اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ جب محبت کی نفی ہو جائے تو اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے اور محبت کی ضد بغض ہے۔ آیت کریمہ کی ابتدا میں مذکور ممانعت کے لیے یہ چیز تعلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ [108] پھر ان خائن لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا: ﴿ يَّسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ وَهُوَ مَعَهُمۡ اِذۡ يُبَيِّتُوۡنَ مَا لَا يَرۡضٰى مِنَ الۡقَوۡلِ ﴾ ’’وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں (لیکن) اللہ سے نہیں چھپ سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ راتوں کے وقت وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں‘‘ یہ ایمان کی کمزوری اور یقین کی کمی ہے کہ ان کے نزدیک مخلوق کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف سے بڑھ کر ہے۔ وہ مباح اور حرام ہر طریقے سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کی فضیحت نہ ہو ...بایں ہمہ...ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے علم کے ذریعے سے ان کے تمام احوال میں ان کے ساتھ ہے خاص طور پر جب وہ رات کے وقت مجرم کی براء ت اور بے گناہ پر جرم کے الزام کے بارے میں باتیں اور سازشیں کرتے ہیں، پھر رسول اللہﷺسے اپنی ان سازشوں پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے متعدد جرائم کا ارتکاب کیا مگر انھیں اللہ کا خوف نہ آیا جو زمین و آسمان کا رب ہے، جو ان کے بھیدوں اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطًا ﴾ ’’اور اللہ ان کے تمام کاموں پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ذریعے سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی بلکہ ان کو مہلت دی ان کو توبہ کا موقع دیا اور ان کو ان گناہوں پر اصرار کرنے پر ڈرایا جو بہت بڑی سزا کے موجب ہیں۔ [109]﴿ هٰۤاَنۡتُمۡ هٰۤؤُلَآءِ جٰؔدَلۡتُمۡ عَنۡهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١۫ فَمَنۡ يُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنۡهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَمۡ مَّنۡ يَّكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’ہاں تو یہ ہو تم لوگ کہ دنیا میں تم نے ان کی حمایت کی لیکن اللہ کے سامنے قیامت کے دن ان کی حمایت کون کرے گا اور کون ہے جو ان کا وکیل بن کر کھڑا ہو سکے گا‘‘ یعنی فرض کیا اس دنیا کی زندگی میں تم نے ان کی طرف سے جھگڑ لیا، تمھاری اس حمایت نے مخلوق کے سامنے ان کو عار اور فضیحت سے بچا لیا۔ تب قیامت کے روز کون سی چیز انھیں بچائے گی اور وہ اسے کیا فائدہ دے گی؟ اور قیامت کے روز جب حجت اس کے خلاف ہو گی، ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں پر گواہی دیں گے، کون ان کی حمایت میں بولے گا؟ ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ الۡمُبِيۡنُ ﴾(النور : 24؍25) ’’اس روز اللہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی برحق اور حق کو ظاہر کرنے والا ہے۔‘‘ پس ان کی حمایت میں اس ہستی سے کون جھگڑے گا جو مخفی رازوں کو جانتی ہے جو ان کے خلاف ایسے گواہوں کو کھڑا کرے گی جن کے ہوتے ہوئے کسی کو انکار کی مجال نہ ہو گی؟اس آیت کریمہ میں اس امر کے مقابلہ کی طرف راہنمائی فرمائی ہے جو ان موہوم دنیاوی مصالح کے مابین، جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کرنے اور اس کی منہیات کے ارتکاب پر مترتب ہوتے ہیں اور اس اخروی ثواب کے مابین ہوتا ہے جس سے انسان محروم یا وہاں کے عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔ پس جس شخص کو اس کے نفس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے وہ اپنے آپ سے پوچھے ’’تو نے سستی اور کوتاہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کر دیا تو اس کے عوض تو نے کون سا منافع کمایا؟ اور کتنا اخروی ثواب ہے جو تجھے حاصل ہونے سے رہ گیا؟ اور اللہ کے حکم کو ترک کرنے کے نتیجے میں کتنی بدبختی، محرومی، ناکامی اور خسارے کا سامنا کرنا پڑا؟‘‘ اسی طرح جب اس کا نفس شہوات محرمہ کی طرف بلائے تو وہ اس سے مخاطب ہو کر کہے ’’فرض کیا جس چیز کی تو نے خواہش کی میں نے پوری کر دی، اس کی لذت تو ختم ہو جائے گی مگر یہ لذت اپنے پیچھے اتنے غم و ہموم، حسرتیں، ثواب سے محرومیاں اور عذاب چھوڑ جائے گی کہ ان کا کچھ حصہ بھی عقلمند شخص کو ان لذتوں کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔‘‘یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جس میں تدبر بندے کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہی حقیقی عقل مندی کی خصوصیت ہے، اس شخص کے برعکس جو عقل مندی کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہ عقلمند ہوتا نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے دنیا کی لذت و راحت کو ترجیح دیتا ہے خواہ اس پر کیسے ہی نتائج مرتب کیوں نہ ہوں۔۔۔ واللہ المستعان! [110] پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهٗ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے ایسی مغفرت طلب کرتا ہے جو گناہ کے اقرار، اس پر پشیمانی، اس گناہ سے رک جانے اور اس گناہ کو دوبارہ نہ کرنے کے عزم کو مستلزم ہے تو ایسے ہی شخص کے ساتھ اس ہستی نے مغفرت اور رحمت کا وعدہ کیا ہے جو وعدہ خلافی نہیں کرتی۔پس اس سے جو گناہ صادر ہو چکا ہوتا ہے وہ اس کو معاف کر دیتا ہے نیز اس عیب اور نقص کو اس سے زائل کر دیتا ہے جو اس گناہ پر مترتب ہوتا ہے اور اس کے سابقہ اعمال صالحہ اس کو لوٹا دیتا ہے اور مستقبل میں اسے مزید اعمال صالحہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اس کے اور اپنی توفیق کے درمیان اس کے گزشتہ گناہ کو حائل نہیں ہونے دیتا۔ کیونکہ اس نے اس گناہ کو بخش دیا ہے اور جب وہ گناہ کو بخش دیتا ہے تو وہ ہر اس چیز کو بخش دیتا ہے جو اس گناہ کے نتیجے میں مرتب ہوتی ہے۔آپ کومعلوم ہونا چاہیے کہ ’’برا عمل‘‘ علی الاطلاق تمام گناہوں کو، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں، شامل ہے اور (سوء) ’’برائی‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ برے عمل کے مرتکب کو اس پر مترتب ہونے والا عذاب برا لگتا ہے۔ نیز برا عمل فی نفسہ برا ہے، اچھا نہیں ہے۔ اسی طرح نفس کا ظلم علی الاطلاق شرک اور اس سے کم تر ظلم وغیرہ سب کو شامل ہے۔ مگر ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ مقرون کیا جائے تو ہر ایک کی اس کے مناسب حال تفسیر کی جائے گی۔یہاں برے عمل کی تفسیر ’’ظلم‘‘ کی جائے گی جو لوگوں کو برا لگتا ہے اور وہ ہے خون، مال اور عزت و ناموس میں ان کا ایک دوسرے پر ظلم۔ اور نفس کے ظلم کی تفسیر ’’ظلم اور گناہ‘‘ بیان کی جائے گی جس کا تعلق اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ہے۔ نفس کے ظلم کو ظلم اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ انسان اپنے نفس کا مالک نہیں کہ وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے۔ انسان کے نفس کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، اس نے یہ نفس اپنے بندے کو امانت کے طور پر عطا کر کے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اسے انصاف و عدل کی راہ پر گامزن کرے اور علم و عمل کے اعتبار سے اس سے صراط مستقیم کا التزام کروائے۔ جس چیز کا اسے حکم دیا گیا ہے وہ اسے سکھائے اور جو اس پر واجب ہے اس سے اس پر عمل کروائے۔ اس کے علاوہ کسی اور راستے میں اس کی سعی اور کوشش اپنے نفس پر ظلم، خیانت اس عدل کے راستے سے انحراف ہے جس کی ضد ظلم و جور ہے۔ [111] پھر فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ اِثۡمًا فَاِنَّمَا يَكۡسِبُهٗ عَلٰى نَفۡسِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص گناہ کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہے‘‘ اس میں ہر قسم کا چھوٹا بڑا گناہ شامل ہے۔ جو کوئی کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی دنیاوی اور اخروی سزا صرف اسی کے لیے ہے یہ سزا کسی اور کی طرف منتقل نہ ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام : 6؍164) ’’کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ مگر جب برائیاں غالب آ جائیں اور ان پر نکیر نہ کی جائے تو ان کا عذاب عام ہو جاتا ہے اور ان کے گناہ میں سب شامل ہو جاتے ہیں اور کوئی شخص اس آیت کے حکم سے خارج نہیں۔ کیونکہ جو کوئی برائیوں پر نکیر نہیں کرتا جبکہ ایسا کرنا واجب ہے، تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عدل و حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کسی دوسرے کے گناہ کی سزا نہیں دیتا اور نہ کسی کو اس کے جرم سے بڑھ کر سزا دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ بخوبی جاننے والا، بہت حکمت والا ہے‘‘ یعنی وہ علم کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا علم و حکمت ہے۔ کہ اسے گناہ کا علم ہے اسے یہ بھی علم ہے کہ گناہ کس سے صادر ہوا۔ اس گناہ کا داعیہ کیا تھا۔ اور اس گناہ پر کیا سزا مترتب ہوگی۔ وہ گناہ کے مرتکب کے احوال کو بھی خوب جانتا ہے کہ اگر اس سے یہ گناہ نفس امارہ کے داعیہ کے غلبہ سے صادر ہوا اور وہ اپنے اکثر اوقات میں توبہ و انابت کے ذریعے سے اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ اسے بخش دے گا اور اسے توبہ کی توفیق عطا کرے گا اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کی نظر کا استخفاف اور اس کے عذاب کی تحقیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی ہے تو یہ شخص اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور توبہ کی توفیق سے بہت دور ہے۔ [112] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ خَطِيۡٓئَةً اَوۡ اِثۡمًا ﴾ ’’جو شخص کبیرہ یا صغیرہ گناہ تو خود کرے‘‘ ﴿ ثُمَّ يَرۡمِ بِهٖ ﴾ ’’پھر اس سے کسی (بے گناہ) کو متہم کرے۔‘‘ یعنی اپنے گناہ کو کسی اور کے سر تھوپ دے ﴿ بَرِيۡؔـٓـــًٔا ﴾ ’’جو اس گناہ سے بری ہے۔‘‘ خواہ اس نے کسی اور گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو ﴿ فَقَدِ احۡتَمَلَ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا﴾’’تو اس نے بہت بڑا بہتان باندھا اور کھلا گناہ کیا‘‘ یعنی اس نے بے گناہ پر لگائے گئے بہتان کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھا لیا اور اس ظاہری گناہ کا بوجھ بھی جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بہتان ہلاک کرنے والے کبائر میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں متعدد مفاسد جمع ہیں:(۱) گناہ کبیرہ کا ارتکاب۔ (۲) پھر اس گناہ کا بہتان اس شخص پر لگا دینا جو بے گناہ ہے۔ (۳) پھر اپنے آپ کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہ گار ثابت کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔ (۴) پھر اس گناہ پر جو دنیاوی عقوبت مترتب ہوتی ہے وہ عقوبت ایک بے گناہ پر نافذ کر دینا اور اس شخص کو اس سزا سے بچا لینا جو حقیقی مجرم ہے۔ (۵) پھر بے گناہ شخص کے بارے میں لوگوں کی باتیں اور دیگر مفاسد۔ان تمام مفاسد اور ہر شر سے ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [113] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول پر اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو ان لوگوں کے ارادوں سے محفوظ رکھا جو آپ کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔ ﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ وَرَحۡمَتُهٗ لَهَمَّؔتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّضِلُّوۡكَ ﴾’’اگر اللہ کا فضل و رحم آپ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے آپ کو بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا‘‘ ان آیات کریمہ کے بارے میں اصحاب تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ ان کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک گھرانے نے مدینہ میں چوری کا ارتکاب کیا۔ جب چوری کی اطلاع لوگوں کو ہوئی تو انھوں نے فضیحت اور رسوائی سے ڈرتے ہوئے چوری کا سامان کسی بے گناہ شخص کے گھر پھینک دیا۔ پھر چور نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے مدد طلب کی کہ وہ رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر لوگوں کے سامنے اسے بری کروائیں۔ اس کے قبیلہ والوں نے رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ان کے آدمی نے چوری نہیں کی۔ چوری تو اس شخص نے کی ہے جس کے گھر سے مسروقہ سامان برآمد ہوا ہے۔ رسول اللہﷺنے ان کے آدمی کو بری قرار دینے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے حقیقت حال بیان کرنے اور رسول اللہﷺکو خیانت کاروں کی حمایت کرنے سے بچانے کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں کیونکہ باطل پسندوں کی حمایت کرنا گمراہی ہے۔ گمراہی کی دو اقسام ہیں:(۱)علم میں گمراہی، یہ حق سے لاعلمی اور جہالت کا نام ہے۔(۲) عمل میں گمراہی، عمل واجب کے خلاف عمل کرنا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو اس نوع کی گمراہی سے اسی طرح محفوظ رکھا جس طرح اس نے آپﷺکو عمل کی گمراہی سے محفوظ و مصون رکھا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان کا مکر و فریب انھی کی طرف لوٹے گا جیسا کہ ہر فریبی کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ﴿ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں‘‘ کیونکہ اس فریب اور حیلہ سازی سے انھیں اپنا مقصد حاصل نہ ہو سکا اور انھیں سوائے ناکامی، محرومی، گناہ اور خسارے کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺپر بہت بڑی نعمت ہے جو نعمت عمل کو متضمن ہے اور یہ اس فعل کی توفیق ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور ہر قسم کے محرمات سے آپﷺکی حفاظت ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر اپنی نعمت علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل فرمائی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر قرآن عظیم اور ذکر حکیم نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان اور اولین و آخرین کا علم ہے۔حکمت سے مراد یا تو سنت ہے جس کے بارے میں سلف میں سے کسی کا قول ہے کہ سنت بھی رسول اللہﷺپر وحی کے ذریعے سے نازل ہوتی ہے جیسے قرآن نازل ہوتا ہے یا اس سے مراد اسرار شریعت کی معرفت ہے جو احکام شریعت کی معرفت سے زائد چیز ہے۔ نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور ہر شے کو اس کے مطابق ترتیب دینا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَعَلَّمَكَ مَا لَمۡ تَكُنۡ تَعۡلَمُ ﴾ ’’اور آپ کو وہ (کچھ) سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے‘‘ یہ ان تمام امور کو شامل ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو عطا فرمایا۔ ورنہ نبوت سے قبل آپﷺکے جو احوال تھے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كُنۡتَ تَدۡرِيۡ مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ ﴾(الشوری : 42؍52) ’’آپ نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟‘‘ اور فرمایا ﴿وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰؔى ﴾(الضحی : 93؍7) ’’اس نے آپ کو رستے سے ناواقف پایا تو سیدھا راستہ دکھایا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ آپﷺکی طرف وحی بھیجتا رہا، آپ کو علم سکھاتا رہا اور آپ کے علم کی تکمیل کرتا رہا یہاں تک کہ آپﷺعلم کے ایسے مقام پر فائز ہو گئے کہ اولین و آخرین وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ پس رسول اللہﷺعلی الاطلاق مخلوق میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے، صفات کمال کے سب سے زیادہ جامع اور ان صفات میں سب سے زیادہ کامل تھے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ عَظِيۡمًا ﴾ ’’اللہ کا آپ پر بڑا بھاری فضل ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کا فضل مخلوق میں سب سے زیادہ محمد رسول اللہﷺپر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کی ہر جنس سے آپﷺکو نوازا ہے جن کی تہہ تک پہنچنانا ممکن اور ان کو شمار کرنا آسان نہیں۔
4:110

وَمَن يَعۡمَلۡ سُوٓءًا أَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهُۥ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ ٱللَّهَ يَجِدِ ٱللَّهَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا

تحقیق ہم نے نازل کی طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے تاکہ فیصلہ کریں درمیان لوگوں کے، ساتھ اس کے جو سکھلایا آپ کو اللہ نےاور نہ ہوں آپ، خیانت کرنے والوں کی خاطر، جھگڑنے والے(105) اور بخشش مانگیں اللہ سے، بے شک ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(106) اور نہ جھگڑا کریں آپ ان لوگوں کی طرف سے جو خیانت کرتے ہیں اپنے آپ سے، تحقیق اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہو خائن گناہ گار(107) چھپتے ہیں وہ لوگوں سے اور نہیں چھپ سکتے وہ اللہ سےاور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں ایسی چیز کا کہ نہیں راضی ہوتا وہ اس بات سےاور ہے اللہ اس کو جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا(108) ہاں! تم وہی لوگ ہو کہ جھگڑا کیا تم نے ان کی طرف سے زندگانیٔ دنیا میں، پس کون جھگڑا کرے گا اللہ سے ان کی طرف سے دن قیامت کے یا کون ہوگا ان کی طرف سے وکیل؟(109) اور جو کوئی عمل کرے برا یا ظلم کرے اپنی جان پر ، پھر وہ بخشش مانگے اللہ سے تو پائے گا اللہ کو بہت بخشنے والا نہایت مہربان(110) اور جو شخص کماتا ہے کوئی گناہ تو بلاشبہ کماتا ہے وہ اس کو اپنے ہی خلاف اور ہے اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا(111) اور جو شخص کرتا ہے کوئی خطا یا کوئی گناہ، پھر الزام لگاتا ہے اس کا (کسی) بے گناہ پر تو تحقیق اپنے ذمے لیا اس نے بہتان اور گناہ ظاہر(112)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا آپ پر اور اس کی رحمت تو یقیناً ارادہ کر لیا تھا ایک گروہ نے ان میں سے یہ کہ بہکاوے وہ آپ کو اور نہیں بہکاتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں نقصان پہنچا سکتے وہ آپ کو کچھ بھی اور نازل کی اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت اور سکھایا آپ کو وہ کچھ کہ نہیں تھے آپ جانتے اور ہے فضل اللہ کا آپ پر بہت بڑا(113) [105] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا۔ بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی ہیں ﴿وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا ﴾(الانعام : 6؍115) ’’تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔‘‘اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لیے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾(النحل : 16؍44) ’’ہم نے آپ(ﷺ)کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کر دیں۔‘‘ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبیین کے بار ے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔فرمایا:﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰى ؕ۰۰ اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡيٌ يُّوۡحٰؔى﴾(النجم : 53؍3۔4) ’’ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہﷺان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپﷺنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے۔ نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ اور یہ نہیں فرمایا: (بِمَا رَایْتَ) ’’جو آپ نے دیکھا یا جو آپ کی اپنی رائے ہے‘‘ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو کتاب اللہ کی معرفت پر مترتب فرمایا ہے۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے مابین ایسے فیصلے کا حکم دیا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اس لیے ظلم وجور سے منع کیا ہے جو عدل و انصاف کی عین ضد ہے۔ پس فرمایا ﴿ وَلَا تَكُنۡ لِّلۡخَآىِٕنِيۡنَ خَصِيۡمًا﴾ ’’اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو‘‘ یعنی جس کی خیانت کے بارے میں آپﷺکو علم ہے کہ اس کا دعویٰ ناحق ہے یا وہ کسی کے حق کا انکار کر رہا ہے، اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کریں۔ خواہ وہ علم رکھتے ہوئے اس خیانت کا ارتکاب کر رہا ہو یا محض ظن و گمان کی بنا پر۔آیت کریمہ کے اس حصے میں کسی باطل معاملے میں جھگڑنے اور دینی خصومات اور دنیاوی حقوق میں کسی باطل پسند کی نیابت کی تحریم کی دلیل ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ کسی ایسے شخص کے جھگڑے کی نیابت کرنا جائز ہے جو کسی ظلم میں معروف نہ ہو۔ [106]﴿ وَّاسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔‘‘ اگر آپ سے کوئی کوتاہی صادر ہوئی ہے تو اس کی بخشش طلب کیجیے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے اور توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے بعد اس کو عمل صالح کی توفیق سے نوازتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عقاب کے زوال کا موجب بنتا ہے۔ [107] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَلَا تُجَادِلۡ عَنِ الَّذِيۡنَ يَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’اور آپ ان لوگوں کی طرف سے مت جھگڑیں جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں‘‘ (الاخْتِیَانُ) اور (اَلْخِیَانَۃُ) جرم، ظلم اور گناہ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس میں اس شخص کی طرف سے جھگڑنا بھی شامل ہے جو کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہے جس میں کوئی حد یا تعزیر لازم آتی ہو۔ اس شخص سے جو خیانت وغیرہ صادر ہوئی ہے اس کی مدافعت میں یا اس کو شرعی عقوبت سے بچانے کے لیے اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کیا جائے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ خَوَّانًا اَثِيۡمًا﴾ ’’کیونکہ اللہ خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو نہایت کثرت سے خیانت اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ جب محبت کی نفی ہو جائے تو اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے اور محبت کی ضد بغض ہے۔ آیت کریمہ کی ابتدا میں مذکور ممانعت کے لیے یہ چیز تعلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ [108] پھر ان خائن لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا: ﴿ يَّسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ وَهُوَ مَعَهُمۡ اِذۡ يُبَيِّتُوۡنَ مَا لَا يَرۡضٰى مِنَ الۡقَوۡلِ ﴾ ’’وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں (لیکن) اللہ سے نہیں چھپ سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ راتوں کے وقت وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں‘‘ یہ ایمان کی کمزوری اور یقین کی کمی ہے کہ ان کے نزدیک مخلوق کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف سے بڑھ کر ہے۔ وہ مباح اور حرام ہر طریقے سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کی فضیحت نہ ہو ...بایں ہمہ...ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے علم کے ذریعے سے ان کے تمام احوال میں ان کے ساتھ ہے خاص طور پر جب وہ رات کے وقت مجرم کی براء ت اور بے گناہ پر جرم کے الزام کے بارے میں باتیں اور سازشیں کرتے ہیں، پھر رسول اللہﷺسے اپنی ان سازشوں پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے متعدد جرائم کا ارتکاب کیا مگر انھیں اللہ کا خوف نہ آیا جو زمین و آسمان کا رب ہے، جو ان کے بھیدوں اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطًا ﴾ ’’اور اللہ ان کے تمام کاموں پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ذریعے سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی بلکہ ان کو مہلت دی ان کو توبہ کا موقع دیا اور ان کو ان گناہوں پر اصرار کرنے پر ڈرایا جو بہت بڑی سزا کے موجب ہیں۔ [109]﴿ هٰۤاَنۡتُمۡ هٰۤؤُلَآءِ جٰؔدَلۡتُمۡ عَنۡهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١۫ فَمَنۡ يُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنۡهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَمۡ مَّنۡ يَّكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’ہاں تو یہ ہو تم لوگ کہ دنیا میں تم نے ان کی حمایت کی لیکن اللہ کے سامنے قیامت کے دن ان کی حمایت کون کرے گا اور کون ہے جو ان کا وکیل بن کر کھڑا ہو سکے گا‘‘ یعنی فرض کیا اس دنیا کی زندگی میں تم نے ان کی طرف سے جھگڑ لیا، تمھاری اس حمایت نے مخلوق کے سامنے ان کو عار اور فضیحت سے بچا لیا۔ تب قیامت کے روز کون سی چیز انھیں بچائے گی اور وہ اسے کیا فائدہ دے گی؟ اور قیامت کے روز جب حجت اس کے خلاف ہو گی، ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں پر گواہی دیں گے، کون ان کی حمایت میں بولے گا؟ ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ الۡمُبِيۡنُ ﴾(النور : 24؍25) ’’اس روز اللہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی برحق اور حق کو ظاہر کرنے والا ہے۔‘‘ پس ان کی حمایت میں اس ہستی سے کون جھگڑے گا جو مخفی رازوں کو جانتی ہے جو ان کے خلاف ایسے گواہوں کو کھڑا کرے گی جن کے ہوتے ہوئے کسی کو انکار کی مجال نہ ہو گی؟اس آیت کریمہ میں اس امر کے مقابلہ کی طرف راہنمائی فرمائی ہے جو ان موہوم دنیاوی مصالح کے مابین، جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کرنے اور اس کی منہیات کے ارتکاب پر مترتب ہوتے ہیں اور اس اخروی ثواب کے مابین ہوتا ہے جس سے انسان محروم یا وہاں کے عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔ پس جس شخص کو اس کے نفس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے وہ اپنے آپ سے پوچھے ’’تو نے سستی اور کوتاہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کر دیا تو اس کے عوض تو نے کون سا منافع کمایا؟ اور کتنا اخروی ثواب ہے جو تجھے حاصل ہونے سے رہ گیا؟ اور اللہ کے حکم کو ترک کرنے کے نتیجے میں کتنی بدبختی، محرومی، ناکامی اور خسارے کا سامنا کرنا پڑا؟‘‘ اسی طرح جب اس کا نفس شہوات محرمہ کی طرف بلائے تو وہ اس سے مخاطب ہو کر کہے ’’فرض کیا جس چیز کی تو نے خواہش کی میں نے پوری کر دی، اس کی لذت تو ختم ہو جائے گی مگر یہ لذت اپنے پیچھے اتنے غم و ہموم، حسرتیں، ثواب سے محرومیاں اور عذاب چھوڑ جائے گی کہ ان کا کچھ حصہ بھی عقلمند شخص کو ان لذتوں کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔‘‘یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جس میں تدبر بندے کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہی حقیقی عقل مندی کی خصوصیت ہے، اس شخص کے برعکس جو عقل مندی کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہ عقلمند ہوتا نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے دنیا کی لذت و راحت کو ترجیح دیتا ہے خواہ اس پر کیسے ہی نتائج مرتب کیوں نہ ہوں۔۔۔ واللہ المستعان! [110] پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهٗ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے ایسی مغفرت طلب کرتا ہے جو گناہ کے اقرار، اس پر پشیمانی، اس گناہ سے رک جانے اور اس گناہ کو دوبارہ نہ کرنے کے عزم کو مستلزم ہے تو ایسے ہی شخص کے ساتھ اس ہستی نے مغفرت اور رحمت کا وعدہ کیا ہے جو وعدہ خلافی نہیں کرتی۔پس اس سے جو گناہ صادر ہو چکا ہوتا ہے وہ اس کو معاف کر دیتا ہے نیز اس عیب اور نقص کو اس سے زائل کر دیتا ہے جو اس گناہ پر مترتب ہوتا ہے اور اس کے سابقہ اعمال صالحہ اس کو لوٹا دیتا ہے اور مستقبل میں اسے مزید اعمال صالحہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اس کے اور اپنی توفیق کے درمیان اس کے گزشتہ گناہ کو حائل نہیں ہونے دیتا۔ کیونکہ اس نے اس گناہ کو بخش دیا ہے اور جب وہ گناہ کو بخش دیتا ہے تو وہ ہر اس چیز کو بخش دیتا ہے جو اس گناہ کے نتیجے میں مرتب ہوتی ہے۔آپ کومعلوم ہونا چاہیے کہ ’’برا عمل‘‘ علی الاطلاق تمام گناہوں کو، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں، شامل ہے اور (سوء) ’’برائی‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ برے عمل کے مرتکب کو اس پر مترتب ہونے والا عذاب برا لگتا ہے۔ نیز برا عمل فی نفسہ برا ہے، اچھا نہیں ہے۔ اسی طرح نفس کا ظلم علی الاطلاق شرک اور اس سے کم تر ظلم وغیرہ سب کو شامل ہے۔ مگر ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ مقرون کیا جائے تو ہر ایک کی اس کے مناسب حال تفسیر کی جائے گی۔یہاں برے عمل کی تفسیر ’’ظلم‘‘ کی جائے گی جو لوگوں کو برا لگتا ہے اور وہ ہے خون، مال اور عزت و ناموس میں ان کا ایک دوسرے پر ظلم۔ اور نفس کے ظلم کی تفسیر ’’ظلم اور گناہ‘‘ بیان کی جائے گی جس کا تعلق اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ہے۔ نفس کے ظلم کو ظلم اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ انسان اپنے نفس کا مالک نہیں کہ وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے۔ انسان کے نفس کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، اس نے یہ نفس اپنے بندے کو امانت کے طور پر عطا کر کے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اسے انصاف و عدل کی راہ پر گامزن کرے اور علم و عمل کے اعتبار سے اس سے صراط مستقیم کا التزام کروائے۔ جس چیز کا اسے حکم دیا گیا ہے وہ اسے سکھائے اور جو اس پر واجب ہے اس سے اس پر عمل کروائے۔ اس کے علاوہ کسی اور راستے میں اس کی سعی اور کوشش اپنے نفس پر ظلم، خیانت اس عدل کے راستے سے انحراف ہے جس کی ضد ظلم و جور ہے۔ [111] پھر فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ اِثۡمًا فَاِنَّمَا يَكۡسِبُهٗ عَلٰى نَفۡسِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص گناہ کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہے‘‘ اس میں ہر قسم کا چھوٹا بڑا گناہ شامل ہے۔ جو کوئی کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی دنیاوی اور اخروی سزا صرف اسی کے لیے ہے یہ سزا کسی اور کی طرف منتقل نہ ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام : 6؍164) ’’کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ مگر جب برائیاں غالب آ جائیں اور ان پر نکیر نہ کی جائے تو ان کا عذاب عام ہو جاتا ہے اور ان کے گناہ میں سب شامل ہو جاتے ہیں اور کوئی شخص اس آیت کے حکم سے خارج نہیں۔ کیونکہ جو کوئی برائیوں پر نکیر نہیں کرتا جبکہ ایسا کرنا واجب ہے، تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عدل و حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کسی دوسرے کے گناہ کی سزا نہیں دیتا اور نہ کسی کو اس کے جرم سے بڑھ کر سزا دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ بخوبی جاننے والا، بہت حکمت والا ہے‘‘ یعنی وہ علم کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا علم و حکمت ہے۔ کہ اسے گناہ کا علم ہے اسے یہ بھی علم ہے کہ گناہ کس سے صادر ہوا۔ اس گناہ کا داعیہ کیا تھا۔ اور اس گناہ پر کیا سزا مترتب ہوگی۔ وہ گناہ کے مرتکب کے احوال کو بھی خوب جانتا ہے کہ اگر اس سے یہ گناہ نفس امارہ کے داعیہ کے غلبہ سے صادر ہوا اور وہ اپنے اکثر اوقات میں توبہ و انابت کے ذریعے سے اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ اسے بخش دے گا اور اسے توبہ کی توفیق عطا کرے گا اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کی نظر کا استخفاف اور اس کے عذاب کی تحقیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی ہے تو یہ شخص اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور توبہ کی توفیق سے بہت دور ہے۔ [112] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ خَطِيۡٓئَةً اَوۡ اِثۡمًا ﴾ ’’جو شخص کبیرہ یا صغیرہ گناہ تو خود کرے‘‘ ﴿ ثُمَّ يَرۡمِ بِهٖ ﴾ ’’پھر اس سے کسی (بے گناہ) کو متہم کرے۔‘‘ یعنی اپنے گناہ کو کسی اور کے سر تھوپ دے ﴿ بَرِيۡؔـٓـــًٔا ﴾ ’’جو اس گناہ سے بری ہے۔‘‘ خواہ اس نے کسی اور گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو ﴿ فَقَدِ احۡتَمَلَ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا﴾’’تو اس نے بہت بڑا بہتان باندھا اور کھلا گناہ کیا‘‘ یعنی اس نے بے گناہ پر لگائے گئے بہتان کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھا لیا اور اس ظاہری گناہ کا بوجھ بھی جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بہتان ہلاک کرنے والے کبائر میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں متعدد مفاسد جمع ہیں:(۱) گناہ کبیرہ کا ارتکاب۔ (۲) پھر اس گناہ کا بہتان اس شخص پر لگا دینا جو بے گناہ ہے۔ (۳) پھر اپنے آپ کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہ گار ثابت کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔ (۴) پھر اس گناہ پر جو دنیاوی عقوبت مترتب ہوتی ہے وہ عقوبت ایک بے گناہ پر نافذ کر دینا اور اس شخص کو اس سزا سے بچا لینا جو حقیقی مجرم ہے۔ (۵) پھر بے گناہ شخص کے بارے میں لوگوں کی باتیں اور دیگر مفاسد۔ان تمام مفاسد اور ہر شر سے ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [113] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول پر اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو ان لوگوں کے ارادوں سے محفوظ رکھا جو آپ کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔ ﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ وَرَحۡمَتُهٗ لَهَمَّؔتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّضِلُّوۡكَ ﴾’’اگر اللہ کا فضل و رحم آپ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے آپ کو بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا‘‘ ان آیات کریمہ کے بارے میں اصحاب تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ ان کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک گھرانے نے مدینہ میں چوری کا ارتکاب کیا۔ جب چوری کی اطلاع لوگوں کو ہوئی تو انھوں نے فضیحت اور رسوائی سے ڈرتے ہوئے چوری کا سامان کسی بے گناہ شخص کے گھر پھینک دیا۔ پھر چور نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے مدد طلب کی کہ وہ رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر لوگوں کے سامنے اسے بری کروائیں۔ اس کے قبیلہ والوں نے رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ان کے آدمی نے چوری نہیں کی۔ چوری تو اس شخص نے کی ہے جس کے گھر سے مسروقہ سامان برآمد ہوا ہے۔ رسول اللہﷺنے ان کے آدمی کو بری قرار دینے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے حقیقت حال بیان کرنے اور رسول اللہﷺکو خیانت کاروں کی حمایت کرنے سے بچانے کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں کیونکہ باطل پسندوں کی حمایت کرنا گمراہی ہے۔ گمراہی کی دو اقسام ہیں:(۱)علم میں گمراہی، یہ حق سے لاعلمی اور جہالت کا نام ہے۔(۲) عمل میں گمراہی، عمل واجب کے خلاف عمل کرنا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو اس نوع کی گمراہی سے اسی طرح محفوظ رکھا جس طرح اس نے آپﷺکو عمل کی گمراہی سے محفوظ و مصون رکھا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان کا مکر و فریب انھی کی طرف لوٹے گا جیسا کہ ہر فریبی کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ﴿ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں‘‘ کیونکہ اس فریب اور حیلہ سازی سے انھیں اپنا مقصد حاصل نہ ہو سکا اور انھیں سوائے ناکامی، محرومی، گناہ اور خسارے کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺپر بہت بڑی نعمت ہے جو نعمت عمل کو متضمن ہے اور یہ اس فعل کی توفیق ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور ہر قسم کے محرمات سے آپﷺکی حفاظت ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر اپنی نعمت علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل فرمائی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر قرآن عظیم اور ذکر حکیم نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان اور اولین و آخرین کا علم ہے۔حکمت سے مراد یا تو سنت ہے جس کے بارے میں سلف میں سے کسی کا قول ہے کہ سنت بھی رسول اللہﷺپر وحی کے ذریعے سے نازل ہوتی ہے جیسے قرآن نازل ہوتا ہے یا اس سے مراد اسرار شریعت کی معرفت ہے جو احکام شریعت کی معرفت سے زائد چیز ہے۔ نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور ہر شے کو اس کے مطابق ترتیب دینا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَعَلَّمَكَ مَا لَمۡ تَكُنۡ تَعۡلَمُ ﴾ ’’اور آپ کو وہ (کچھ) سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے‘‘ یہ ان تمام امور کو شامل ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو عطا فرمایا۔ ورنہ نبوت سے قبل آپﷺکے جو احوال تھے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كُنۡتَ تَدۡرِيۡ مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ ﴾(الشوری : 42؍52) ’’آپ نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟‘‘ اور فرمایا ﴿وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰؔى ﴾(الضحی : 93؍7) ’’اس نے آپ کو رستے سے ناواقف پایا تو سیدھا راستہ دکھایا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ آپﷺکی طرف وحی بھیجتا رہا، آپ کو علم سکھاتا رہا اور آپ کے علم کی تکمیل کرتا رہا یہاں تک کہ آپﷺعلم کے ایسے مقام پر فائز ہو گئے کہ اولین و آخرین وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ پس رسول اللہﷺعلی الاطلاق مخلوق میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے، صفات کمال کے سب سے زیادہ جامع اور ان صفات میں سب سے زیادہ کامل تھے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ عَظِيۡمًا ﴾ ’’اللہ کا آپ پر بڑا بھاری فضل ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کا فضل مخلوق میں سب سے زیادہ محمد رسول اللہﷺپر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کی ہر جنس سے آپﷺکو نوازا ہے جن کی تہہ تک پہنچنانا ممکن اور ان کو شمار کرنا آسان نہیں۔
4:111

وَمَن يَكۡسِبۡ إِثۡمٗا فَإِنَّمَا يَكۡسِبُهُۥ عَلَىٰ نَفۡسِهِۦۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمٗا

تحقیق ہم نے نازل کی طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے تاکہ فیصلہ کریں درمیان لوگوں کے، ساتھ اس کے جو سکھلایا آپ کو اللہ نےاور نہ ہوں آپ، خیانت کرنے والوں کی خاطر، جھگڑنے والے(105) اور بخشش مانگیں اللہ سے، بے شک ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(106) اور نہ جھگڑا کریں آپ ان لوگوں کی طرف سے جو خیانت کرتے ہیں اپنے آپ سے، تحقیق اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہو خائن گناہ گار(107) چھپتے ہیں وہ لوگوں سے اور نہیں چھپ سکتے وہ اللہ سےاور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں ایسی چیز کا کہ نہیں راضی ہوتا وہ اس بات سےاور ہے اللہ اس کو جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا(108) ہاں! تم وہی لوگ ہو کہ جھگڑا کیا تم نے ان کی طرف سے زندگانیٔ دنیا میں، پس کون جھگڑا کرے گا اللہ سے ان کی طرف سے دن قیامت کے یا کون ہوگا ان کی طرف سے وکیل؟(109) اور جو کوئی عمل کرے برا یا ظلم کرے اپنی جان پر ، پھر وہ بخشش مانگے اللہ سے تو پائے گا اللہ کو بہت بخشنے والا نہایت مہربان(110) اور جو شخص کماتا ہے کوئی گناہ تو بلاشبہ کماتا ہے وہ اس کو اپنے ہی خلاف اور ہے اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا(111) اور جو شخص کرتا ہے کوئی خطا یا کوئی گناہ، پھر الزام لگاتا ہے اس کا (کسی) بے گناہ پر تو تحقیق اپنے ذمے لیا اس نے بہتان اور گناہ ظاہر(112)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا آپ پر اور اس کی رحمت تو یقیناً ارادہ کر لیا تھا ایک گروہ نے ان میں سے یہ کہ بہکاوے وہ آپ کو اور نہیں بہکاتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں نقصان پہنچا سکتے وہ آپ کو کچھ بھی اور نازل کی اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت اور سکھایا آپ کو وہ کچھ کہ نہیں تھے آپ جانتے اور ہے فضل اللہ کا آپ پر بہت بڑا(113) [105] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا۔ بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی ہیں ﴿وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا ﴾(الانعام : 6؍115) ’’تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔‘‘اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لیے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾(النحل : 16؍44) ’’ہم نے آپ(ﷺ)کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کر دیں۔‘‘ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبیین کے بار ے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔فرمایا:﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰى ؕ۰۰ اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡيٌ يُّوۡحٰؔى﴾(النجم : 53؍3۔4) ’’ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہﷺان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپﷺنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے۔ نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ اور یہ نہیں فرمایا: (بِمَا رَایْتَ) ’’جو آپ نے دیکھا یا جو آپ کی اپنی رائے ہے‘‘ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو کتاب اللہ کی معرفت پر مترتب فرمایا ہے۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے مابین ایسے فیصلے کا حکم دیا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اس لیے ظلم وجور سے منع کیا ہے جو عدل و انصاف کی عین ضد ہے۔ پس فرمایا ﴿ وَلَا تَكُنۡ لِّلۡخَآىِٕنِيۡنَ خَصِيۡمًا﴾ ’’اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو‘‘ یعنی جس کی خیانت کے بارے میں آپﷺکو علم ہے کہ اس کا دعویٰ ناحق ہے یا وہ کسی کے حق کا انکار کر رہا ہے، اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کریں۔ خواہ وہ علم رکھتے ہوئے اس خیانت کا ارتکاب کر رہا ہو یا محض ظن و گمان کی بنا پر۔آیت کریمہ کے اس حصے میں کسی باطل معاملے میں جھگڑنے اور دینی خصومات اور دنیاوی حقوق میں کسی باطل پسند کی نیابت کی تحریم کی دلیل ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ کسی ایسے شخص کے جھگڑے کی نیابت کرنا جائز ہے جو کسی ظلم میں معروف نہ ہو۔ [106]﴿ وَّاسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔‘‘ اگر آپ سے کوئی کوتاہی صادر ہوئی ہے تو اس کی بخشش طلب کیجیے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے اور توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے بعد اس کو عمل صالح کی توفیق سے نوازتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عقاب کے زوال کا موجب بنتا ہے۔ [107] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَلَا تُجَادِلۡ عَنِ الَّذِيۡنَ يَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’اور آپ ان لوگوں کی طرف سے مت جھگڑیں جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں‘‘ (الاخْتِیَانُ) اور (اَلْخِیَانَۃُ) جرم، ظلم اور گناہ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس میں اس شخص کی طرف سے جھگڑنا بھی شامل ہے جو کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہے جس میں کوئی حد یا تعزیر لازم آتی ہو۔ اس شخص سے جو خیانت وغیرہ صادر ہوئی ہے اس کی مدافعت میں یا اس کو شرعی عقوبت سے بچانے کے لیے اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کیا جائے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ خَوَّانًا اَثِيۡمًا﴾ ’’کیونکہ اللہ خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو نہایت کثرت سے خیانت اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ جب محبت کی نفی ہو جائے تو اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے اور محبت کی ضد بغض ہے۔ آیت کریمہ کی ابتدا میں مذکور ممانعت کے لیے یہ چیز تعلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ [108] پھر ان خائن لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا: ﴿ يَّسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ وَهُوَ مَعَهُمۡ اِذۡ يُبَيِّتُوۡنَ مَا لَا يَرۡضٰى مِنَ الۡقَوۡلِ ﴾ ’’وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں (لیکن) اللہ سے نہیں چھپ سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ راتوں کے وقت وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں‘‘ یہ ایمان کی کمزوری اور یقین کی کمی ہے کہ ان کے نزدیک مخلوق کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف سے بڑھ کر ہے۔ وہ مباح اور حرام ہر طریقے سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کی فضیحت نہ ہو ...بایں ہمہ...ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے علم کے ذریعے سے ان کے تمام احوال میں ان کے ساتھ ہے خاص طور پر جب وہ رات کے وقت مجرم کی براء ت اور بے گناہ پر جرم کے الزام کے بارے میں باتیں اور سازشیں کرتے ہیں، پھر رسول اللہﷺسے اپنی ان سازشوں پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے متعدد جرائم کا ارتکاب کیا مگر انھیں اللہ کا خوف نہ آیا جو زمین و آسمان کا رب ہے، جو ان کے بھیدوں اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطًا ﴾ ’’اور اللہ ان کے تمام کاموں پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ذریعے سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی بلکہ ان کو مہلت دی ان کو توبہ کا موقع دیا اور ان کو ان گناہوں پر اصرار کرنے پر ڈرایا جو بہت بڑی سزا کے موجب ہیں۔ [109]﴿ هٰۤاَنۡتُمۡ هٰۤؤُلَآءِ جٰؔدَلۡتُمۡ عَنۡهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١۫ فَمَنۡ يُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنۡهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَمۡ مَّنۡ يَّكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’ہاں تو یہ ہو تم لوگ کہ دنیا میں تم نے ان کی حمایت کی لیکن اللہ کے سامنے قیامت کے دن ان کی حمایت کون کرے گا اور کون ہے جو ان کا وکیل بن کر کھڑا ہو سکے گا‘‘ یعنی فرض کیا اس دنیا کی زندگی میں تم نے ان کی طرف سے جھگڑ لیا، تمھاری اس حمایت نے مخلوق کے سامنے ان کو عار اور فضیحت سے بچا لیا۔ تب قیامت کے روز کون سی چیز انھیں بچائے گی اور وہ اسے کیا فائدہ دے گی؟ اور قیامت کے روز جب حجت اس کے خلاف ہو گی، ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں پر گواہی دیں گے، کون ان کی حمایت میں بولے گا؟ ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ الۡمُبِيۡنُ ﴾(النور : 24؍25) ’’اس روز اللہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی برحق اور حق کو ظاہر کرنے والا ہے۔‘‘ پس ان کی حمایت میں اس ہستی سے کون جھگڑے گا جو مخفی رازوں کو جانتی ہے جو ان کے خلاف ایسے گواہوں کو کھڑا کرے گی جن کے ہوتے ہوئے کسی کو انکار کی مجال نہ ہو گی؟اس آیت کریمہ میں اس امر کے مقابلہ کی طرف راہنمائی فرمائی ہے جو ان موہوم دنیاوی مصالح کے مابین، جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کرنے اور اس کی منہیات کے ارتکاب پر مترتب ہوتے ہیں اور اس اخروی ثواب کے مابین ہوتا ہے جس سے انسان محروم یا وہاں کے عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔ پس جس شخص کو اس کے نفس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے وہ اپنے آپ سے پوچھے ’’تو نے سستی اور کوتاہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کر دیا تو اس کے عوض تو نے کون سا منافع کمایا؟ اور کتنا اخروی ثواب ہے جو تجھے حاصل ہونے سے رہ گیا؟ اور اللہ کے حکم کو ترک کرنے کے نتیجے میں کتنی بدبختی، محرومی، ناکامی اور خسارے کا سامنا کرنا پڑا؟‘‘ اسی طرح جب اس کا نفس شہوات محرمہ کی طرف بلائے تو وہ اس سے مخاطب ہو کر کہے ’’فرض کیا جس چیز کی تو نے خواہش کی میں نے پوری کر دی، اس کی لذت تو ختم ہو جائے گی مگر یہ لذت اپنے پیچھے اتنے غم و ہموم، حسرتیں، ثواب سے محرومیاں اور عذاب چھوڑ جائے گی کہ ان کا کچھ حصہ بھی عقلمند شخص کو ان لذتوں کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔‘‘یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جس میں تدبر بندے کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہی حقیقی عقل مندی کی خصوصیت ہے، اس شخص کے برعکس جو عقل مندی کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہ عقلمند ہوتا نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے دنیا کی لذت و راحت کو ترجیح دیتا ہے خواہ اس پر کیسے ہی نتائج مرتب کیوں نہ ہوں۔۔۔ واللہ المستعان! [110] پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهٗ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے ایسی مغفرت طلب کرتا ہے جو گناہ کے اقرار، اس پر پشیمانی، اس گناہ سے رک جانے اور اس گناہ کو دوبارہ نہ کرنے کے عزم کو مستلزم ہے تو ایسے ہی شخص کے ساتھ اس ہستی نے مغفرت اور رحمت کا وعدہ کیا ہے جو وعدہ خلافی نہیں کرتی۔پس اس سے جو گناہ صادر ہو چکا ہوتا ہے وہ اس کو معاف کر دیتا ہے نیز اس عیب اور نقص کو اس سے زائل کر دیتا ہے جو اس گناہ پر مترتب ہوتا ہے اور اس کے سابقہ اعمال صالحہ اس کو لوٹا دیتا ہے اور مستقبل میں اسے مزید اعمال صالحہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اس کے اور اپنی توفیق کے درمیان اس کے گزشتہ گناہ کو حائل نہیں ہونے دیتا۔ کیونکہ اس نے اس گناہ کو بخش دیا ہے اور جب وہ گناہ کو بخش دیتا ہے تو وہ ہر اس چیز کو بخش دیتا ہے جو اس گناہ کے نتیجے میں مرتب ہوتی ہے۔آپ کومعلوم ہونا چاہیے کہ ’’برا عمل‘‘ علی الاطلاق تمام گناہوں کو، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں، شامل ہے اور (سوء) ’’برائی‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ برے عمل کے مرتکب کو اس پر مترتب ہونے والا عذاب برا لگتا ہے۔ نیز برا عمل فی نفسہ برا ہے، اچھا نہیں ہے۔ اسی طرح نفس کا ظلم علی الاطلاق شرک اور اس سے کم تر ظلم وغیرہ سب کو شامل ہے۔ مگر ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ مقرون کیا جائے تو ہر ایک کی اس کے مناسب حال تفسیر کی جائے گی۔یہاں برے عمل کی تفسیر ’’ظلم‘‘ کی جائے گی جو لوگوں کو برا لگتا ہے اور وہ ہے خون، مال اور عزت و ناموس میں ان کا ایک دوسرے پر ظلم۔ اور نفس کے ظلم کی تفسیر ’’ظلم اور گناہ‘‘ بیان کی جائے گی جس کا تعلق اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ہے۔ نفس کے ظلم کو ظلم اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ انسان اپنے نفس کا مالک نہیں کہ وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے۔ انسان کے نفس کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، اس نے یہ نفس اپنے بندے کو امانت کے طور پر عطا کر کے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اسے انصاف و عدل کی راہ پر گامزن کرے اور علم و عمل کے اعتبار سے اس سے صراط مستقیم کا التزام کروائے۔ جس چیز کا اسے حکم دیا گیا ہے وہ اسے سکھائے اور جو اس پر واجب ہے اس سے اس پر عمل کروائے۔ اس کے علاوہ کسی اور راستے میں اس کی سعی اور کوشش اپنے نفس پر ظلم، خیانت اس عدل کے راستے سے انحراف ہے جس کی ضد ظلم و جور ہے۔ [111] پھر فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ اِثۡمًا فَاِنَّمَا يَكۡسِبُهٗ عَلٰى نَفۡسِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص گناہ کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہے‘‘ اس میں ہر قسم کا چھوٹا بڑا گناہ شامل ہے۔ جو کوئی کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی دنیاوی اور اخروی سزا صرف اسی کے لیے ہے یہ سزا کسی اور کی طرف منتقل نہ ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام : 6؍164) ’’کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ مگر جب برائیاں غالب آ جائیں اور ان پر نکیر نہ کی جائے تو ان کا عذاب عام ہو جاتا ہے اور ان کے گناہ میں سب شامل ہو جاتے ہیں اور کوئی شخص اس آیت کے حکم سے خارج نہیں۔ کیونکہ جو کوئی برائیوں پر نکیر نہیں کرتا جبکہ ایسا کرنا واجب ہے، تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عدل و حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کسی دوسرے کے گناہ کی سزا نہیں دیتا اور نہ کسی کو اس کے جرم سے بڑھ کر سزا دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ بخوبی جاننے والا، بہت حکمت والا ہے‘‘ یعنی وہ علم کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا علم و حکمت ہے۔ کہ اسے گناہ کا علم ہے اسے یہ بھی علم ہے کہ گناہ کس سے صادر ہوا۔ اس گناہ کا داعیہ کیا تھا۔ اور اس گناہ پر کیا سزا مترتب ہوگی۔ وہ گناہ کے مرتکب کے احوال کو بھی خوب جانتا ہے کہ اگر اس سے یہ گناہ نفس امارہ کے داعیہ کے غلبہ سے صادر ہوا اور وہ اپنے اکثر اوقات میں توبہ و انابت کے ذریعے سے اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ اسے بخش دے گا اور اسے توبہ کی توفیق عطا کرے گا اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کی نظر کا استخفاف اور اس کے عذاب کی تحقیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی ہے تو یہ شخص اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور توبہ کی توفیق سے بہت دور ہے۔ [112] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ خَطِيۡٓئَةً اَوۡ اِثۡمًا ﴾ ’’جو شخص کبیرہ یا صغیرہ گناہ تو خود کرے‘‘ ﴿ ثُمَّ يَرۡمِ بِهٖ ﴾ ’’پھر اس سے کسی (بے گناہ) کو متہم کرے۔‘‘ یعنی اپنے گناہ کو کسی اور کے سر تھوپ دے ﴿ بَرِيۡؔـٓـــًٔا ﴾ ’’جو اس گناہ سے بری ہے۔‘‘ خواہ اس نے کسی اور گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو ﴿ فَقَدِ احۡتَمَلَ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا﴾’’تو اس نے بہت بڑا بہتان باندھا اور کھلا گناہ کیا‘‘ یعنی اس نے بے گناہ پر لگائے گئے بہتان کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھا لیا اور اس ظاہری گناہ کا بوجھ بھی جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بہتان ہلاک کرنے والے کبائر میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں متعدد مفاسد جمع ہیں:(۱) گناہ کبیرہ کا ارتکاب۔ (۲) پھر اس گناہ کا بہتان اس شخص پر لگا دینا جو بے گناہ ہے۔ (۳) پھر اپنے آپ کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہ گار ثابت کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔ (۴) پھر اس گناہ پر جو دنیاوی عقوبت مترتب ہوتی ہے وہ عقوبت ایک بے گناہ پر نافذ کر دینا اور اس شخص کو اس سزا سے بچا لینا جو حقیقی مجرم ہے۔ (۵) پھر بے گناہ شخص کے بارے میں لوگوں کی باتیں اور دیگر مفاسد۔ان تمام مفاسد اور ہر شر سے ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [113] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول پر اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو ان لوگوں کے ارادوں سے محفوظ رکھا جو آپ کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔ ﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ وَرَحۡمَتُهٗ لَهَمَّؔتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّضِلُّوۡكَ ﴾’’اگر اللہ کا فضل و رحم آپ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے آپ کو بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا‘‘ ان آیات کریمہ کے بارے میں اصحاب تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ ان کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک گھرانے نے مدینہ میں چوری کا ارتکاب کیا۔ جب چوری کی اطلاع لوگوں کو ہوئی تو انھوں نے فضیحت اور رسوائی سے ڈرتے ہوئے چوری کا سامان کسی بے گناہ شخص کے گھر پھینک دیا۔ پھر چور نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے مدد طلب کی کہ وہ رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر لوگوں کے سامنے اسے بری کروائیں۔ اس کے قبیلہ والوں نے رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ان کے آدمی نے چوری نہیں کی۔ چوری تو اس شخص نے کی ہے جس کے گھر سے مسروقہ سامان برآمد ہوا ہے۔ رسول اللہﷺنے ان کے آدمی کو بری قرار دینے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے حقیقت حال بیان کرنے اور رسول اللہﷺکو خیانت کاروں کی حمایت کرنے سے بچانے کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں کیونکہ باطل پسندوں کی حمایت کرنا گمراہی ہے۔ گمراہی کی دو اقسام ہیں:(۱)علم میں گمراہی، یہ حق سے لاعلمی اور جہالت کا نام ہے۔(۲) عمل میں گمراہی، عمل واجب کے خلاف عمل کرنا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو اس نوع کی گمراہی سے اسی طرح محفوظ رکھا جس طرح اس نے آپﷺکو عمل کی گمراہی سے محفوظ و مصون رکھا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان کا مکر و فریب انھی کی طرف لوٹے گا جیسا کہ ہر فریبی کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ﴿ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں‘‘ کیونکہ اس فریب اور حیلہ سازی سے انھیں اپنا مقصد حاصل نہ ہو سکا اور انھیں سوائے ناکامی، محرومی، گناہ اور خسارے کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺپر بہت بڑی نعمت ہے جو نعمت عمل کو متضمن ہے اور یہ اس فعل کی توفیق ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور ہر قسم کے محرمات سے آپﷺکی حفاظت ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر اپنی نعمت علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل فرمائی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر قرآن عظیم اور ذکر حکیم نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان اور اولین و آخرین کا علم ہے۔حکمت سے مراد یا تو سنت ہے جس کے بارے میں سلف میں سے کسی کا قول ہے کہ سنت بھی رسول اللہﷺپر وحی کے ذریعے سے نازل ہوتی ہے جیسے قرآن نازل ہوتا ہے یا اس سے مراد اسرار شریعت کی معرفت ہے جو احکام شریعت کی معرفت سے زائد چیز ہے۔ نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور ہر شے کو اس کے مطابق ترتیب دینا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَعَلَّمَكَ مَا لَمۡ تَكُنۡ تَعۡلَمُ ﴾ ’’اور آپ کو وہ (کچھ) سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے‘‘ یہ ان تمام امور کو شامل ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو عطا فرمایا۔ ورنہ نبوت سے قبل آپﷺکے جو احوال تھے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كُنۡتَ تَدۡرِيۡ مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ ﴾(الشوری : 42؍52) ’’آپ نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟‘‘ اور فرمایا ﴿وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰؔى ﴾(الضحی : 93؍7) ’’اس نے آپ کو رستے سے ناواقف پایا تو سیدھا راستہ دکھایا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ آپﷺکی طرف وحی بھیجتا رہا، آپ کو علم سکھاتا رہا اور آپ کے علم کی تکمیل کرتا رہا یہاں تک کہ آپﷺعلم کے ایسے مقام پر فائز ہو گئے کہ اولین و آخرین وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ پس رسول اللہﷺعلی الاطلاق مخلوق میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے، صفات کمال کے سب سے زیادہ جامع اور ان صفات میں سب سے زیادہ کامل تھے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ عَظِيۡمًا ﴾ ’’اللہ کا آپ پر بڑا بھاری فضل ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کا فضل مخلوق میں سب سے زیادہ محمد رسول اللہﷺپر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کی ہر جنس سے آپﷺکو نوازا ہے جن کی تہہ تک پہنچنانا ممکن اور ان کو شمار کرنا آسان نہیں۔
4:112

وَمَن يَكۡسِبۡ خَطِيٓـَٔةً أَوۡ إِثۡمٗا ثُمَّ يَرۡمِ بِهِۦ بَرِيٓـٔٗا فَقَدِ ٱحۡتَمَلَ بُهۡتَٰنٗا وَإِثۡمٗا مُّبِينٗا

تحقیق ہم نے نازل کی طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے تاکہ فیصلہ کریں درمیان لوگوں کے، ساتھ اس کے جو سکھلایا آپ کو اللہ نےاور نہ ہوں آپ، خیانت کرنے والوں کی خاطر، جھگڑنے والے(105) اور بخشش مانگیں اللہ سے، بے شک ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(106) اور نہ جھگڑا کریں آپ ان لوگوں کی طرف سے جو خیانت کرتے ہیں اپنے آپ سے، تحقیق اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہو خائن گناہ گار(107) چھپتے ہیں وہ لوگوں سے اور نہیں چھپ سکتے وہ اللہ سےاور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں ایسی چیز کا کہ نہیں راضی ہوتا وہ اس بات سےاور ہے اللہ اس کو جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا(108) ہاں! تم وہی لوگ ہو کہ جھگڑا کیا تم نے ان کی طرف سے زندگانیٔ دنیا میں، پس کون جھگڑا کرے گا اللہ سے ان کی طرف سے دن قیامت کے یا کون ہوگا ان کی طرف سے وکیل؟(109) اور جو کوئی عمل کرے برا یا ظلم کرے اپنی جان پر ، پھر وہ بخشش مانگے اللہ سے تو پائے گا اللہ کو بہت بخشنے والا نہایت مہربان(110) اور جو شخص کماتا ہے کوئی گناہ تو بلاشبہ کماتا ہے وہ اس کو اپنے ہی خلاف اور ہے اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا(111) اور جو شخص کرتا ہے کوئی خطا یا کوئی گناہ، پھر الزام لگاتا ہے اس کا (کسی) بے گناہ پر تو تحقیق اپنے ذمے لیا اس نے بہتان اور گناہ ظاہر(112)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا آپ پر اور اس کی رحمت تو یقیناً ارادہ کر لیا تھا ایک گروہ نے ان میں سے یہ کہ بہکاوے وہ آپ کو اور نہیں بہکاتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں نقصان پہنچا سکتے وہ آپ کو کچھ بھی اور نازل کی اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت اور سکھایا آپ کو وہ کچھ کہ نہیں تھے آپ جانتے اور ہے فضل اللہ کا آپ پر بہت بڑا(113) [105] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا۔ بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی ہیں ﴿وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا ﴾(الانعام : 6؍115) ’’تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔‘‘اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لیے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾(النحل : 16؍44) ’’ہم نے آپ(ﷺ)کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کر دیں۔‘‘ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبیین کے بار ے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔فرمایا:﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰى ؕ۰۰ اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡيٌ يُّوۡحٰؔى﴾(النجم : 53؍3۔4) ’’ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہﷺان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپﷺنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے۔ نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ اور یہ نہیں فرمایا: (بِمَا رَایْتَ) ’’جو آپ نے دیکھا یا جو آپ کی اپنی رائے ہے‘‘ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو کتاب اللہ کی معرفت پر مترتب فرمایا ہے۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے مابین ایسے فیصلے کا حکم دیا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اس لیے ظلم وجور سے منع کیا ہے جو عدل و انصاف کی عین ضد ہے۔ پس فرمایا ﴿ وَلَا تَكُنۡ لِّلۡخَآىِٕنِيۡنَ خَصِيۡمًا﴾ ’’اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو‘‘ یعنی جس کی خیانت کے بارے میں آپﷺکو علم ہے کہ اس کا دعویٰ ناحق ہے یا وہ کسی کے حق کا انکار کر رہا ہے، اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کریں۔ خواہ وہ علم رکھتے ہوئے اس خیانت کا ارتکاب کر رہا ہو یا محض ظن و گمان کی بنا پر۔آیت کریمہ کے اس حصے میں کسی باطل معاملے میں جھگڑنے اور دینی خصومات اور دنیاوی حقوق میں کسی باطل پسند کی نیابت کی تحریم کی دلیل ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ کسی ایسے شخص کے جھگڑے کی نیابت کرنا جائز ہے جو کسی ظلم میں معروف نہ ہو۔ [106]﴿ وَّاسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔‘‘ اگر آپ سے کوئی کوتاہی صادر ہوئی ہے تو اس کی بخشش طلب کیجیے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے اور توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے بعد اس کو عمل صالح کی توفیق سے نوازتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عقاب کے زوال کا موجب بنتا ہے۔ [107] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَلَا تُجَادِلۡ عَنِ الَّذِيۡنَ يَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’اور آپ ان لوگوں کی طرف سے مت جھگڑیں جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں‘‘ (الاخْتِیَانُ) اور (اَلْخِیَانَۃُ) جرم، ظلم اور گناہ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس میں اس شخص کی طرف سے جھگڑنا بھی شامل ہے جو کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہے جس میں کوئی حد یا تعزیر لازم آتی ہو۔ اس شخص سے جو خیانت وغیرہ صادر ہوئی ہے اس کی مدافعت میں یا اس کو شرعی عقوبت سے بچانے کے لیے اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کیا جائے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ خَوَّانًا اَثِيۡمًا﴾ ’’کیونکہ اللہ خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو نہایت کثرت سے خیانت اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ جب محبت کی نفی ہو جائے تو اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے اور محبت کی ضد بغض ہے۔ آیت کریمہ کی ابتدا میں مذکور ممانعت کے لیے یہ چیز تعلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ [108] پھر ان خائن لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا: ﴿ يَّسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ وَهُوَ مَعَهُمۡ اِذۡ يُبَيِّتُوۡنَ مَا لَا يَرۡضٰى مِنَ الۡقَوۡلِ ﴾ ’’وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں (لیکن) اللہ سے نہیں چھپ سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ راتوں کے وقت وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں‘‘ یہ ایمان کی کمزوری اور یقین کی کمی ہے کہ ان کے نزدیک مخلوق کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف سے بڑھ کر ہے۔ وہ مباح اور حرام ہر طریقے سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کی فضیحت نہ ہو ...بایں ہمہ...ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے علم کے ذریعے سے ان کے تمام احوال میں ان کے ساتھ ہے خاص طور پر جب وہ رات کے وقت مجرم کی براء ت اور بے گناہ پر جرم کے الزام کے بارے میں باتیں اور سازشیں کرتے ہیں، پھر رسول اللہﷺسے اپنی ان سازشوں پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے متعدد جرائم کا ارتکاب کیا مگر انھیں اللہ کا خوف نہ آیا جو زمین و آسمان کا رب ہے، جو ان کے بھیدوں اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطًا ﴾ ’’اور اللہ ان کے تمام کاموں پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ذریعے سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی بلکہ ان کو مہلت دی ان کو توبہ کا موقع دیا اور ان کو ان گناہوں پر اصرار کرنے پر ڈرایا جو بہت بڑی سزا کے موجب ہیں۔ [109]﴿ هٰۤاَنۡتُمۡ هٰۤؤُلَآءِ جٰؔدَلۡتُمۡ عَنۡهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١۫ فَمَنۡ يُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنۡهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَمۡ مَّنۡ يَّكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’ہاں تو یہ ہو تم لوگ کہ دنیا میں تم نے ان کی حمایت کی لیکن اللہ کے سامنے قیامت کے دن ان کی حمایت کون کرے گا اور کون ہے جو ان کا وکیل بن کر کھڑا ہو سکے گا‘‘ یعنی فرض کیا اس دنیا کی زندگی میں تم نے ان کی طرف سے جھگڑ لیا، تمھاری اس حمایت نے مخلوق کے سامنے ان کو عار اور فضیحت سے بچا لیا۔ تب قیامت کے روز کون سی چیز انھیں بچائے گی اور وہ اسے کیا فائدہ دے گی؟ اور قیامت کے روز جب حجت اس کے خلاف ہو گی، ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں پر گواہی دیں گے، کون ان کی حمایت میں بولے گا؟ ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ الۡمُبِيۡنُ ﴾(النور : 24؍25) ’’اس روز اللہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی برحق اور حق کو ظاہر کرنے والا ہے۔‘‘ پس ان کی حمایت میں اس ہستی سے کون جھگڑے گا جو مخفی رازوں کو جانتی ہے جو ان کے خلاف ایسے گواہوں کو کھڑا کرے گی جن کے ہوتے ہوئے کسی کو انکار کی مجال نہ ہو گی؟اس آیت کریمہ میں اس امر کے مقابلہ کی طرف راہنمائی فرمائی ہے جو ان موہوم دنیاوی مصالح کے مابین، جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کرنے اور اس کی منہیات کے ارتکاب پر مترتب ہوتے ہیں اور اس اخروی ثواب کے مابین ہوتا ہے جس سے انسان محروم یا وہاں کے عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔ پس جس شخص کو اس کے نفس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے وہ اپنے آپ سے پوچھے ’’تو نے سستی اور کوتاہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کر دیا تو اس کے عوض تو نے کون سا منافع کمایا؟ اور کتنا اخروی ثواب ہے جو تجھے حاصل ہونے سے رہ گیا؟ اور اللہ کے حکم کو ترک کرنے کے نتیجے میں کتنی بدبختی، محرومی، ناکامی اور خسارے کا سامنا کرنا پڑا؟‘‘ اسی طرح جب اس کا نفس شہوات محرمہ کی طرف بلائے تو وہ اس سے مخاطب ہو کر کہے ’’فرض کیا جس چیز کی تو نے خواہش کی میں نے پوری کر دی، اس کی لذت تو ختم ہو جائے گی مگر یہ لذت اپنے پیچھے اتنے غم و ہموم، حسرتیں، ثواب سے محرومیاں اور عذاب چھوڑ جائے گی کہ ان کا کچھ حصہ بھی عقلمند شخص کو ان لذتوں کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔‘‘یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جس میں تدبر بندے کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہی حقیقی عقل مندی کی خصوصیت ہے، اس شخص کے برعکس جو عقل مندی کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہ عقلمند ہوتا نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے دنیا کی لذت و راحت کو ترجیح دیتا ہے خواہ اس پر کیسے ہی نتائج مرتب کیوں نہ ہوں۔۔۔ واللہ المستعان! [110] پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهٗ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے ایسی مغفرت طلب کرتا ہے جو گناہ کے اقرار، اس پر پشیمانی، اس گناہ سے رک جانے اور اس گناہ کو دوبارہ نہ کرنے کے عزم کو مستلزم ہے تو ایسے ہی شخص کے ساتھ اس ہستی نے مغفرت اور رحمت کا وعدہ کیا ہے جو وعدہ خلافی نہیں کرتی۔پس اس سے جو گناہ صادر ہو چکا ہوتا ہے وہ اس کو معاف کر دیتا ہے نیز اس عیب اور نقص کو اس سے زائل کر دیتا ہے جو اس گناہ پر مترتب ہوتا ہے اور اس کے سابقہ اعمال صالحہ اس کو لوٹا دیتا ہے اور مستقبل میں اسے مزید اعمال صالحہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اس کے اور اپنی توفیق کے درمیان اس کے گزشتہ گناہ کو حائل نہیں ہونے دیتا۔ کیونکہ اس نے اس گناہ کو بخش دیا ہے اور جب وہ گناہ کو بخش دیتا ہے تو وہ ہر اس چیز کو بخش دیتا ہے جو اس گناہ کے نتیجے میں مرتب ہوتی ہے۔آپ کومعلوم ہونا چاہیے کہ ’’برا عمل‘‘ علی الاطلاق تمام گناہوں کو، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں، شامل ہے اور (سوء) ’’برائی‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ برے عمل کے مرتکب کو اس پر مترتب ہونے والا عذاب برا لگتا ہے۔ نیز برا عمل فی نفسہ برا ہے، اچھا نہیں ہے۔ اسی طرح نفس کا ظلم علی الاطلاق شرک اور اس سے کم تر ظلم وغیرہ سب کو شامل ہے۔ مگر ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ مقرون کیا جائے تو ہر ایک کی اس کے مناسب حال تفسیر کی جائے گی۔یہاں برے عمل کی تفسیر ’’ظلم‘‘ کی جائے گی جو لوگوں کو برا لگتا ہے اور وہ ہے خون، مال اور عزت و ناموس میں ان کا ایک دوسرے پر ظلم۔ اور نفس کے ظلم کی تفسیر ’’ظلم اور گناہ‘‘ بیان کی جائے گی جس کا تعلق اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ہے۔ نفس کے ظلم کو ظلم اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ انسان اپنے نفس کا مالک نہیں کہ وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے۔ انسان کے نفس کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، اس نے یہ نفس اپنے بندے کو امانت کے طور پر عطا کر کے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اسے انصاف و عدل کی راہ پر گامزن کرے اور علم و عمل کے اعتبار سے اس سے صراط مستقیم کا التزام کروائے۔ جس چیز کا اسے حکم دیا گیا ہے وہ اسے سکھائے اور جو اس پر واجب ہے اس سے اس پر عمل کروائے۔ اس کے علاوہ کسی اور راستے میں اس کی سعی اور کوشش اپنے نفس پر ظلم، خیانت اس عدل کے راستے سے انحراف ہے جس کی ضد ظلم و جور ہے۔ [111] پھر فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ اِثۡمًا فَاِنَّمَا يَكۡسِبُهٗ عَلٰى نَفۡسِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص گناہ کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہے‘‘ اس میں ہر قسم کا چھوٹا بڑا گناہ شامل ہے۔ جو کوئی کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی دنیاوی اور اخروی سزا صرف اسی کے لیے ہے یہ سزا کسی اور کی طرف منتقل نہ ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام : 6؍164) ’’کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ مگر جب برائیاں غالب آ جائیں اور ان پر نکیر نہ کی جائے تو ان کا عذاب عام ہو جاتا ہے اور ان کے گناہ میں سب شامل ہو جاتے ہیں اور کوئی شخص اس آیت کے حکم سے خارج نہیں۔ کیونکہ جو کوئی برائیوں پر نکیر نہیں کرتا جبکہ ایسا کرنا واجب ہے، تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عدل و حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کسی دوسرے کے گناہ کی سزا نہیں دیتا اور نہ کسی کو اس کے جرم سے بڑھ کر سزا دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ بخوبی جاننے والا، بہت حکمت والا ہے‘‘ یعنی وہ علم کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا علم و حکمت ہے۔ کہ اسے گناہ کا علم ہے اسے یہ بھی علم ہے کہ گناہ کس سے صادر ہوا۔ اس گناہ کا داعیہ کیا تھا۔ اور اس گناہ پر کیا سزا مترتب ہوگی۔ وہ گناہ کے مرتکب کے احوال کو بھی خوب جانتا ہے کہ اگر اس سے یہ گناہ نفس امارہ کے داعیہ کے غلبہ سے صادر ہوا اور وہ اپنے اکثر اوقات میں توبہ و انابت کے ذریعے سے اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ اسے بخش دے گا اور اسے توبہ کی توفیق عطا کرے گا اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کی نظر کا استخفاف اور اس کے عذاب کی تحقیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی ہے تو یہ شخص اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور توبہ کی توفیق سے بہت دور ہے۔ [112] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ خَطِيۡٓئَةً اَوۡ اِثۡمًا ﴾ ’’جو شخص کبیرہ یا صغیرہ گناہ تو خود کرے‘‘ ﴿ ثُمَّ يَرۡمِ بِهٖ ﴾ ’’پھر اس سے کسی (بے گناہ) کو متہم کرے۔‘‘ یعنی اپنے گناہ کو کسی اور کے سر تھوپ دے ﴿ بَرِيۡؔـٓـــًٔا ﴾ ’’جو اس گناہ سے بری ہے۔‘‘ خواہ اس نے کسی اور گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو ﴿ فَقَدِ احۡتَمَلَ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا﴾’’تو اس نے بہت بڑا بہتان باندھا اور کھلا گناہ کیا‘‘ یعنی اس نے بے گناہ پر لگائے گئے بہتان کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھا لیا اور اس ظاہری گناہ کا بوجھ بھی جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بہتان ہلاک کرنے والے کبائر میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں متعدد مفاسد جمع ہیں:(۱) گناہ کبیرہ کا ارتکاب۔ (۲) پھر اس گناہ کا بہتان اس شخص پر لگا دینا جو بے گناہ ہے۔ (۳) پھر اپنے آپ کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہ گار ثابت کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔ (۴) پھر اس گناہ پر جو دنیاوی عقوبت مترتب ہوتی ہے وہ عقوبت ایک بے گناہ پر نافذ کر دینا اور اس شخص کو اس سزا سے بچا لینا جو حقیقی مجرم ہے۔ (۵) پھر بے گناہ شخص کے بارے میں لوگوں کی باتیں اور دیگر مفاسد۔ان تمام مفاسد اور ہر شر سے ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [113] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول پر اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو ان لوگوں کے ارادوں سے محفوظ رکھا جو آپ کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔ ﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ وَرَحۡمَتُهٗ لَهَمَّؔتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّضِلُّوۡكَ ﴾’’اگر اللہ کا فضل و رحم آپ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے آپ کو بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا‘‘ ان آیات کریمہ کے بارے میں اصحاب تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ ان کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک گھرانے نے مدینہ میں چوری کا ارتکاب کیا۔ جب چوری کی اطلاع لوگوں کو ہوئی تو انھوں نے فضیحت اور رسوائی سے ڈرتے ہوئے چوری کا سامان کسی بے گناہ شخص کے گھر پھینک دیا۔ پھر چور نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے مدد طلب کی کہ وہ رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر لوگوں کے سامنے اسے بری کروائیں۔ اس کے قبیلہ والوں نے رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ان کے آدمی نے چوری نہیں کی۔ چوری تو اس شخص نے کی ہے جس کے گھر سے مسروقہ سامان برآمد ہوا ہے۔ رسول اللہﷺنے ان کے آدمی کو بری قرار دینے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے حقیقت حال بیان کرنے اور رسول اللہﷺکو خیانت کاروں کی حمایت کرنے سے بچانے کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں کیونکہ باطل پسندوں کی حمایت کرنا گمراہی ہے۔ گمراہی کی دو اقسام ہیں:(۱)علم میں گمراہی، یہ حق سے لاعلمی اور جہالت کا نام ہے۔(۲) عمل میں گمراہی، عمل واجب کے خلاف عمل کرنا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو اس نوع کی گمراہی سے اسی طرح محفوظ رکھا جس طرح اس نے آپﷺکو عمل کی گمراہی سے محفوظ و مصون رکھا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان کا مکر و فریب انھی کی طرف لوٹے گا جیسا کہ ہر فریبی کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ﴿ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں‘‘ کیونکہ اس فریب اور حیلہ سازی سے انھیں اپنا مقصد حاصل نہ ہو سکا اور انھیں سوائے ناکامی، محرومی، گناہ اور خسارے کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺپر بہت بڑی نعمت ہے جو نعمت عمل کو متضمن ہے اور یہ اس فعل کی توفیق ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور ہر قسم کے محرمات سے آپﷺکی حفاظت ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر اپنی نعمت علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل فرمائی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر قرآن عظیم اور ذکر حکیم نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان اور اولین و آخرین کا علم ہے۔حکمت سے مراد یا تو سنت ہے جس کے بارے میں سلف میں سے کسی کا قول ہے کہ سنت بھی رسول اللہﷺپر وحی کے ذریعے سے نازل ہوتی ہے جیسے قرآن نازل ہوتا ہے یا اس سے مراد اسرار شریعت کی معرفت ہے جو احکام شریعت کی معرفت سے زائد چیز ہے۔ نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور ہر شے کو اس کے مطابق ترتیب دینا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَعَلَّمَكَ مَا لَمۡ تَكُنۡ تَعۡلَمُ ﴾ ’’اور آپ کو وہ (کچھ) سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے‘‘ یہ ان تمام امور کو شامل ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو عطا فرمایا۔ ورنہ نبوت سے قبل آپﷺکے جو احوال تھے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كُنۡتَ تَدۡرِيۡ مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ ﴾(الشوری : 42؍52) ’’آپ نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟‘‘ اور فرمایا ﴿وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰؔى ﴾(الضحی : 93؍7) ’’اس نے آپ کو رستے سے ناواقف پایا تو سیدھا راستہ دکھایا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ آپﷺکی طرف وحی بھیجتا رہا، آپ کو علم سکھاتا رہا اور آپ کے علم کی تکمیل کرتا رہا یہاں تک کہ آپﷺعلم کے ایسے مقام پر فائز ہو گئے کہ اولین و آخرین وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ پس رسول اللہﷺعلی الاطلاق مخلوق میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے، صفات کمال کے سب سے زیادہ جامع اور ان صفات میں سب سے زیادہ کامل تھے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ عَظِيۡمًا ﴾ ’’اللہ کا آپ پر بڑا بھاری فضل ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کا فضل مخلوق میں سب سے زیادہ محمد رسول اللہﷺپر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کی ہر جنس سے آپﷺکو نوازا ہے جن کی تہہ تک پہنچنانا ممکن اور ان کو شمار کرنا آسان نہیں۔
4:113

وَلَوۡلَا فَضۡلُ ٱللَّهِ عَلَيۡكَ وَرَحۡمَتُهُۥ لَهَمَّت طَّآئِفَةٞ مِّنۡهُمۡ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمۡۖ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِن شَيۡءٖۚ وَأَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمۡ تَكُن تَعۡلَمُۚ وَكَانَ فَضۡلُ ٱللَّهِ عَلَيۡكَ عَظِيمٗا

تحقیق ہم نے نازل کی طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے تاکہ فیصلہ کریں درمیان لوگوں کے، ساتھ اس کے جو سکھلایا آپ کو اللہ نےاور نہ ہوں آپ، خیانت کرنے والوں کی خاطر، جھگڑنے والے(105) اور بخشش مانگیں اللہ سے، بے شک ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(106) اور نہ جھگڑا کریں آپ ان لوگوں کی طرف سے جو خیانت کرتے ہیں اپنے آپ سے، تحقیق اللہ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو ہو خائن گناہ گار(107) چھپتے ہیں وہ لوگوں سے اور نہیں چھپ سکتے وہ اللہ سےاور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں ایسی چیز کا کہ نہیں راضی ہوتا وہ اس بات سےاور ہے اللہ اس کو جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا(108) ہاں! تم وہی لوگ ہو کہ جھگڑا کیا تم نے ان کی طرف سے زندگانیٔ دنیا میں، پس کون جھگڑا کرے گا اللہ سے ان کی طرف سے دن قیامت کے یا کون ہوگا ان کی طرف سے وکیل؟(109) اور جو کوئی عمل کرے برا یا ظلم کرے اپنی جان پر ، پھر وہ بخشش مانگے اللہ سے تو پائے گا اللہ کو بہت بخشنے والا نہایت مہربان(110) اور جو شخص کماتا ہے کوئی گناہ تو بلاشبہ کماتا ہے وہ اس کو اپنے ہی خلاف اور ہے اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا(111) اور جو شخص کرتا ہے کوئی خطا یا کوئی گناہ، پھر الزام لگاتا ہے اس کا (کسی) بے گناہ پر تو تحقیق اپنے ذمے لیا اس نے بہتان اور گناہ ظاہر(112)اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا آپ پر اور اس کی رحمت تو یقیناً ارادہ کر لیا تھا ایک گروہ نے ان میں سے یہ کہ بہکاوے وہ آپ کو اور نہیں بہکاتے وہ مگر اپنے آپ ہی کو اور نہیں نقصان پہنچا سکتے وہ آپ کو کچھ بھی اور نازل کی اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت اور سکھایا آپ کو وہ کچھ کہ نہیں تھے آپ جانتے اور ہے فضل اللہ کا آپ پر بہت بڑا(113) [105] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یعنی بوقت نزول اس کتاب کو شیاطین کے باطل وسوسوں سے محفوظ و مامون رکھا۔ بلکہ یہ کتاب عظیم حق کے ساتھ نازل ہوئی اور حق پر ہی مشتمل ہے۔ اس کی خبریں سچی اور اس کے اوامر و نواہی عدل پر مبنی ہیں ﴿وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا ﴾(الانعام : 6؍115) ’’تیرے رب کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہوئیں۔‘‘اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اس کتاب کو اس لیے نازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾(النحل : 16؍44) ’’ہم نے آپ(ﷺ)کی طرف قرآن نازل کیا تاکہ جو کچھ ان کی طرف نازل کیا گیا ہے آپ لوگوں پر واضح کر دیں۔‘‘ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ آیت کریمہ لوگوں کے آپس کے اختلافات اور نزاعی مسائل کے فیصلے کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور سورۃ النحل کی آیت کریمہ تمام دین، اس کے اصول و فروع کی تبیین کے بار ے میں نازل ہوئی ہو۔ نیز یہ احتمال بھی ہے کہ دونوں آیات کے معنی ایک ہی ہوں۔ تب اس صورت میں لوگوں کے درمیان یہ فیصلہ کرنا، ان کے خون، اموال، عزت و آبرو، حقوق، عقائد اور تمام مسائل و احکام کے فیصلوں کو شامل ہے۔فرمایا:﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ یعنی آپ اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کریں بلکہ اس الہام اور علم کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰى ؕ۰۰ اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡيٌ يُّوۡحٰؔى﴾(النجم : 53؍3۔4) ’’ہمارا رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ یہ تو وحی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔‘‘یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہﷺان تمام احکام میں معصوم اور محفوظ ہیں جو آپﷺنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچائے۔ نیز اس امر کی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے کے لیے علم اور عدل شرط ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ کی ہدایات کے مطابق‘‘ اور یہ نہیں فرمایا: (بِمَا رَایْتَ) ’’جو آپ نے دیکھا یا جو آپ کی اپنی رائے ہے‘‘ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کو کتاب اللہ کی معرفت پر مترتب فرمایا ہے۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے مابین ایسے فیصلے کا حکم دیا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اس لیے ظلم وجور سے منع کیا ہے جو عدل و انصاف کی عین ضد ہے۔ پس فرمایا ﴿ وَلَا تَكُنۡ لِّلۡخَآىِٕنِيۡنَ خَصِيۡمًا﴾ ’’اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو‘‘ یعنی جس کی خیانت کے بارے میں آپﷺکو علم ہے کہ اس کا دعویٰ ناحق ہے یا وہ کسی کے حق کا انکار کر رہا ہے، اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کریں۔ خواہ وہ علم رکھتے ہوئے اس خیانت کا ارتکاب کر رہا ہو یا محض ظن و گمان کی بنا پر۔آیت کریمہ کے اس حصے میں کسی باطل معاملے میں جھگڑنے اور دینی خصومات اور دنیاوی حقوق میں کسی باطل پسند کی نیابت کی تحریم کی دلیل ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ کسی ایسے شخص کے جھگڑے کی نیابت کرنا جائز ہے جو کسی ظلم میں معروف نہ ہو۔ [106]﴿ وَّاسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔‘‘ اگر آپ سے کوئی کوتاہی صادر ہوئی ہے تو اس کی بخشش طلب کیجیے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے اور توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کے بعد اس کو عمل صالح کی توفیق سے نوازتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عقاب کے زوال کا موجب بنتا ہے۔ [107] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَلَا تُجَادِلۡ عَنِ الَّذِيۡنَ يَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’اور آپ ان لوگوں کی طرف سے مت جھگڑیں جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں‘‘ (الاخْتِیَانُ) اور (اَلْخِیَانَۃُ) جرم، ظلم اور گناہ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس میں اس شخص کی طرف سے جھگڑنا بھی شامل ہے جو کسی ایسے گناہ کا مرتکب ہے جس میں کوئی حد یا تعزیر لازم آتی ہو۔ اس شخص سے جو خیانت وغیرہ صادر ہوئی ہے اس کی مدافعت میں یا اس کو شرعی عقوبت سے بچانے کے لیے اس کی حمایت میں جھگڑا نہ کیا جائے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ خَوَّانًا اَثِيۡمًا﴾ ’’کیونکہ اللہ خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو نہایت کثرت سے خیانت اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ جب محبت کی نفی ہو جائے تو اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے اور محبت کی ضد بغض ہے۔ آیت کریمہ کی ابتدا میں مذکور ممانعت کے لیے یہ چیز تعلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ [108] پھر ان خائن لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا: ﴿ يَّسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ وَهُوَ مَعَهُمۡ اِذۡ يُبَيِّتُوۡنَ مَا لَا يَرۡضٰى مِنَ الۡقَوۡلِ ﴾ ’’وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں (لیکن) اللہ سے نہیں چھپ سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ راتوں کے وقت وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں‘‘ یہ ایمان کی کمزوری اور یقین کی کمی ہے کہ ان کے نزدیک مخلوق کا خوف اللہ تعالیٰ کے خوف سے بڑھ کر ہے۔ وہ مباح اور حرام ہر طریقے سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کی فضیحت نہ ہو ...بایں ہمہ...ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے علم کے ذریعے سے ان کے تمام احوال میں ان کے ساتھ ہے خاص طور پر جب وہ رات کے وقت مجرم کی براء ت اور بے گناہ پر جرم کے الزام کے بارے میں باتیں اور سازشیں کرتے ہیں، پھر رسول اللہﷺسے اپنی ان سازشوں پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے متعدد جرائم کا ارتکاب کیا مگر انھیں اللہ کا خوف نہ آیا جو زمین و آسمان کا رب ہے، جو ان کے بھیدوں اور سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطًا ﴾ ’’اور اللہ ان کے تمام کاموں پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ذریعے سے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دینے میں جلدی نہیں کی بلکہ ان کو مہلت دی ان کو توبہ کا موقع دیا اور ان کو ان گناہوں پر اصرار کرنے پر ڈرایا جو بہت بڑی سزا کے موجب ہیں۔ [109]﴿ هٰۤاَنۡتُمۡ هٰۤؤُلَآءِ جٰؔدَلۡتُمۡ عَنۡهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا١۫ فَمَنۡ يُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنۡهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَمۡ مَّنۡ يَّكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ وَؔكِيۡلًا ﴾ ’’ہاں تو یہ ہو تم لوگ کہ دنیا میں تم نے ان کی حمایت کی لیکن اللہ کے سامنے قیامت کے دن ان کی حمایت کون کرے گا اور کون ہے جو ان کا وکیل بن کر کھڑا ہو سکے گا‘‘ یعنی فرض کیا اس دنیا کی زندگی میں تم نے ان کی طرف سے جھگڑ لیا، تمھاری اس حمایت نے مخلوق کے سامنے ان کو عار اور فضیحت سے بچا لیا۔ تب قیامت کے روز کون سی چیز انھیں بچائے گی اور وہ اسے کیا فائدہ دے گی؟ اور قیامت کے روز جب حجت اس کے خلاف ہو گی، ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کرتوتوں پر گواہی دیں گے، کون ان کی حمایت میں بولے گا؟ ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يُّوَفِّيۡهِمُ اللّٰهُ دِيۡنَهُمُ الۡحَقَّ وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ الۡمُبِيۡنُ ﴾(النور : 24؍25) ’’اس روز اللہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی برحق اور حق کو ظاہر کرنے والا ہے۔‘‘ پس ان کی حمایت میں اس ہستی سے کون جھگڑے گا جو مخفی رازوں کو جانتی ہے جو ان کے خلاف ایسے گواہوں کو کھڑا کرے گی جن کے ہوتے ہوئے کسی کو انکار کی مجال نہ ہو گی؟اس آیت کریمہ میں اس امر کے مقابلہ کی طرف راہنمائی فرمائی ہے جو ان موہوم دنیاوی مصالح کے مابین، جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کرنے اور اس کی منہیات کے ارتکاب پر مترتب ہوتے ہیں اور اس اخروی ثواب کے مابین ہوتا ہے جس سے انسان محروم یا وہاں کے عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔ پس جس شخص کو اس کے نفس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے وہ اپنے آپ سے پوچھے ’’تو نے سستی اور کوتاہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک کر دیا تو اس کے عوض تو نے کون سا منافع کمایا؟ اور کتنا اخروی ثواب ہے جو تجھے حاصل ہونے سے رہ گیا؟ اور اللہ کے حکم کو ترک کرنے کے نتیجے میں کتنی بدبختی، محرومی، ناکامی اور خسارے کا سامنا کرنا پڑا؟‘‘ اسی طرح جب اس کا نفس شہوات محرمہ کی طرف بلائے تو وہ اس سے مخاطب ہو کر کہے ’’فرض کیا جس چیز کی تو نے خواہش کی میں نے پوری کر دی، اس کی لذت تو ختم ہو جائے گی مگر یہ لذت اپنے پیچھے اتنے غم و ہموم، حسرتیں، ثواب سے محرومیاں اور عذاب چھوڑ جائے گی کہ ان کا کچھ حصہ بھی عقلمند شخص کو ان لذتوں کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔‘‘یہی وہ سب سے بڑی چیز ہے جس میں تدبر بندے کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہی حقیقی عقل مندی کی خصوصیت ہے، اس شخص کے برعکس جو عقل مندی کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہ عقلمند ہوتا نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے دنیا کی لذت و راحت کو ترجیح دیتا ہے خواہ اس پر کیسے ہی نتائج مرتب کیوں نہ ہوں۔۔۔ واللہ المستعان! [110] پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهٗ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے، پھر اللہ سے بخشش مانگے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے ایسی مغفرت طلب کرتا ہے جو گناہ کے اقرار، اس پر پشیمانی، اس گناہ سے رک جانے اور اس گناہ کو دوبارہ نہ کرنے کے عزم کو مستلزم ہے تو ایسے ہی شخص کے ساتھ اس ہستی نے مغفرت اور رحمت کا وعدہ کیا ہے جو وعدہ خلافی نہیں کرتی۔پس اس سے جو گناہ صادر ہو چکا ہوتا ہے وہ اس کو معاف کر دیتا ہے نیز اس عیب اور نقص کو اس سے زائل کر دیتا ہے جو اس گناہ پر مترتب ہوتا ہے اور اس کے سابقہ اعمال صالحہ اس کو لوٹا دیتا ہے اور مستقبل میں اسے مزید اعمال صالحہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اس کے اور اپنی توفیق کے درمیان اس کے گزشتہ گناہ کو حائل نہیں ہونے دیتا۔ کیونکہ اس نے اس گناہ کو بخش دیا ہے اور جب وہ گناہ کو بخش دیتا ہے تو وہ ہر اس چیز کو بخش دیتا ہے جو اس گناہ کے نتیجے میں مرتب ہوتی ہے۔آپ کومعلوم ہونا چاہیے کہ ’’برا عمل‘‘ علی الاطلاق تمام گناہوں کو، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں، شامل ہے اور (سوء) ’’برائی‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ برے عمل کے مرتکب کو اس پر مترتب ہونے والا عذاب برا لگتا ہے۔ نیز برا عمل فی نفسہ برا ہے، اچھا نہیں ہے۔ اسی طرح نفس کا ظلم علی الاطلاق شرک اور اس سے کم تر ظلم وغیرہ سب کو شامل ہے۔ مگر ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ مقرون کیا جائے تو ہر ایک کی اس کے مناسب حال تفسیر کی جائے گی۔یہاں برے عمل کی تفسیر ’’ظلم‘‘ کی جائے گی جو لوگوں کو برا لگتا ہے اور وہ ہے خون، مال اور عزت و ناموس میں ان کا ایک دوسرے پر ظلم۔ اور نفس کے ظلم کی تفسیر ’’ظلم اور گناہ‘‘ بیان کی جائے گی جس کا تعلق اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ہے۔ نفس کے ظلم کو ظلم اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ انسان اپنے نفس کا مالک نہیں کہ وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے۔ انسان کے نفس کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، اس نے یہ نفس اپنے بندے کو امانت کے طور پر عطا کر کے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اسے انصاف و عدل کی راہ پر گامزن کرے اور علم و عمل کے اعتبار سے اس سے صراط مستقیم کا التزام کروائے۔ جس چیز کا اسے حکم دیا گیا ہے وہ اسے سکھائے اور جو اس پر واجب ہے اس سے اس پر عمل کروائے۔ اس کے علاوہ کسی اور راستے میں اس کی سعی اور کوشش اپنے نفس پر ظلم، خیانت اس عدل کے راستے سے انحراف ہے جس کی ضد ظلم و جور ہے۔ [111] پھر فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ اِثۡمًا فَاِنَّمَا يَكۡسِبُهٗ عَلٰى نَفۡسِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص گناہ کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہے‘‘ اس میں ہر قسم کا چھوٹا بڑا گناہ شامل ہے۔ جو کوئی کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی دنیاوی اور اخروی سزا صرف اسی کے لیے ہے یہ سزا کسی اور کی طرف منتقل نہ ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام : 6؍164) ’’کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ مگر جب برائیاں غالب آ جائیں اور ان پر نکیر نہ کی جائے تو ان کا عذاب عام ہو جاتا ہے اور ان کے گناہ میں سب شامل ہو جاتے ہیں اور کوئی شخص اس آیت کے حکم سے خارج نہیں۔ کیونکہ جو کوئی برائیوں پر نکیر نہیں کرتا جبکہ ایسا کرنا واجب ہے، تو وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عدل و حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کسی دوسرے کے گناہ کی سزا نہیں دیتا اور نہ کسی کو اس کے جرم سے بڑھ کر سزا دیتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ بخوبی جاننے والا، بہت حکمت والا ہے‘‘ یعنی وہ علم کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا علم و حکمت ہے۔ کہ اسے گناہ کا علم ہے اسے یہ بھی علم ہے کہ گناہ کس سے صادر ہوا۔ اس گناہ کا داعیہ کیا تھا۔ اور اس گناہ پر کیا سزا مترتب ہوگی۔ وہ گناہ کے مرتکب کے احوال کو بھی خوب جانتا ہے کہ اگر اس سے یہ گناہ نفس امارہ کے داعیہ کے غلبہ سے صادر ہوا اور وہ اپنے اکثر اوقات میں توبہ و انابت کے ذریعے سے اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ اسے بخش دے گا اور اسے توبہ کی توفیق عطا کرے گا اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کی نظر کا استخفاف اور اس کے عذاب کی تحقیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی ہے تو یہ شخص اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور توبہ کی توفیق سے بہت دور ہے۔ [112] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّؔكۡسِبۡ خَطِيۡٓئَةً اَوۡ اِثۡمًا ﴾ ’’جو شخص کبیرہ یا صغیرہ گناہ تو خود کرے‘‘ ﴿ ثُمَّ يَرۡمِ بِهٖ ﴾ ’’پھر اس سے کسی (بے گناہ) کو متہم کرے۔‘‘ یعنی اپنے گناہ کو کسی اور کے سر تھوپ دے ﴿ بَرِيۡؔـٓـــًٔا ﴾ ’’جو اس گناہ سے بری ہے۔‘‘ خواہ اس نے کسی اور گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو ﴿ فَقَدِ احۡتَمَلَ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا﴾’’تو اس نے بہت بڑا بہتان باندھا اور کھلا گناہ کیا‘‘ یعنی اس نے بے گناہ پر لگائے گئے بہتان کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھا لیا اور اس ظاہری گناہ کا بوجھ بھی جس کا اس نے ارتکاب کیا۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بہتان ہلاک کرنے والے کبائر میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں متعدد مفاسد جمع ہیں:(۱) گناہ کبیرہ کا ارتکاب۔ (۲) پھر اس گناہ کا بہتان اس شخص پر لگا دینا جو بے گناہ ہے۔ (۳) پھر اپنے آپ کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہ گار ثابت کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔ (۴) پھر اس گناہ پر جو دنیاوی عقوبت مترتب ہوتی ہے وہ عقوبت ایک بے گناہ پر نافذ کر دینا اور اس شخص کو اس سزا سے بچا لینا جو حقیقی مجرم ہے۔ (۵) پھر بے گناہ شخص کے بارے میں لوگوں کی باتیں اور دیگر مفاسد۔ان تمام مفاسد اور ہر شر سے ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [113] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول پر اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو ان لوگوں کے ارادوں سے محفوظ رکھا جو آپ کو گمراہ کرنا چاہتے تھے۔ ﴿ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ وَرَحۡمَتُهٗ لَهَمَّؔتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ يُّضِلُّوۡكَ ﴾’’اگر اللہ کا فضل و رحم آپ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے آپ کو بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا‘‘ ان آیات کریمہ کے بارے میں اصحاب تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ ان کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک گھرانے نے مدینہ میں چوری کا ارتکاب کیا۔ جب چوری کی اطلاع لوگوں کو ہوئی تو انھوں نے فضیحت اور رسوائی سے ڈرتے ہوئے چوری کا سامان کسی بے گناہ شخص کے گھر پھینک دیا۔ پھر چور نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے مدد طلب کی کہ وہ رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر لوگوں کے سامنے اسے بری کروائیں۔ اس کے قبیلہ والوں نے رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ان کے آدمی نے چوری نہیں کی۔ چوری تو اس شخص نے کی ہے جس کے گھر سے مسروقہ سامان برآمد ہوا ہے۔ رسول اللہﷺنے ان کے آدمی کو بری قرار دینے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے حقیقت حال بیان کرنے اور رسول اللہﷺکو خیانت کاروں کی حمایت کرنے سے بچانے کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں کیونکہ باطل پسندوں کی حمایت کرنا گمراہی ہے۔ گمراہی کی دو اقسام ہیں:(۱)علم میں گمراہی، یہ حق سے لاعلمی اور جہالت کا نام ہے۔(۲) عمل میں گمراہی، عمل واجب کے خلاف عمل کرنا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو اس نوع کی گمراہی سے اسی طرح محفوظ رکھا جس طرح اس نے آپﷺکو عمل کی گمراہی سے محفوظ و مصون رکھا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان کا مکر و فریب انھی کی طرف لوٹے گا جیسا کہ ہر فریبی کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا ﴿ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں‘‘ کیونکہ اس فریب اور حیلہ سازی سے انھیں اپنا مقصد حاصل نہ ہو سکا اور انھیں سوائے ناکامی، محرومی، گناہ اور خسارے کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺپر بہت بڑی نعمت ہے جو نعمت عمل کو متضمن ہے اور یہ اس فعل کی توفیق ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور ہر قسم کے محرمات سے آپﷺکی حفاظت ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر اپنی نعمت علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور اللہ نے آپ پر کتاب و حکمت نازل فرمائی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر قرآن عظیم اور ذکر حکیم نازل فرمایا جس میں ہر چیز کا بیان اور اولین و آخرین کا علم ہے۔حکمت سے مراد یا تو سنت ہے جس کے بارے میں سلف میں سے کسی کا قول ہے کہ سنت بھی رسول اللہﷺپر وحی کے ذریعے سے نازل ہوتی ہے جیسے قرآن نازل ہوتا ہے یا اس سے مراد اسرار شریعت کی معرفت ہے جو احکام شریعت کی معرفت سے زائد چیز ہے۔ نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور ہر شے کو اس کے مطابق ترتیب دینا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَعَلَّمَكَ مَا لَمۡ تَكُنۡ تَعۡلَمُ ﴾ ’’اور آپ کو وہ (کچھ) سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے‘‘ یہ ان تمام امور کو شامل ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو عطا فرمایا۔ ورنہ نبوت سے قبل آپﷺکے جو احوال تھے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كُنۡتَ تَدۡرِيۡ مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ ﴾(الشوری : 42؍52) ’’آپ نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟‘‘ اور فرمایا ﴿وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰؔى ﴾(الضحی : 93؍7) ’’اس نے آپ کو رستے سے ناواقف پایا تو سیدھا راستہ دکھایا۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ آپﷺکی طرف وحی بھیجتا رہا، آپ کو علم سکھاتا رہا اور آپ کے علم کی تکمیل کرتا رہا یہاں تک کہ آپﷺعلم کے ایسے مقام پر فائز ہو گئے کہ اولین و آخرین وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ پس رسول اللہﷺعلی الاطلاق مخلوق میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے، صفات کمال کے سب سے زیادہ جامع اور ان صفات میں سب سے زیادہ کامل تھے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكَ عَظِيۡمًا ﴾ ’’اللہ کا آپ پر بڑا بھاری فضل ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کا فضل مخلوق میں سب سے زیادہ محمد رسول اللہﷺپر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کی ہر جنس سے آپﷺکو نوازا ہے جن کی تہہ تک پہنچنانا ممکن اور ان کو شمار کرنا آسان نہیں۔
4:114

۞لَّا خَيۡرَ فِي كَثِيرٖ مِّن نَّجۡوَىٰهُمۡ إِلَّا مَنۡ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوۡ مَعۡرُوفٍ أَوۡ إِصۡلَٰحِۭ بَيۡنَ ٱلنَّاسِۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ ٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ ٱللَّهِ فَسَوۡفَ نُؤۡتِيهِ أَجۡرًا عَظِيمٗا

نہیں ہے کوئی بھلائی اکثر میں ان کی سرگوشیوں سے مگر جو شخص حکم دے صدقے کا یا نیکی کا یا صلح کرانے کا درمیان لوگوں کےاور جو شخص کرے یہ تلاش کرنے کے لیے رضامندی اللہ کی تو عنقریب ہم دیں گے اس کو اجر بہت بڑا(114) [114] یعنی بہت سی ایسی سرگوشیاں جو لوگ آپس میں کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہیں ان میں کوئی بھلائی نہیں۔ اور جس کلام میں کوئی بھلائی نہ ہو تو وہ یا تو بے فائدہ کلام ہوتا ہے مثلاً فضول مگر مباح بات چیت۔ یا وہ محض شر ہوتا ہے مثلاً محرم کلام کی تمام اقسام۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے استثناء بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ اِلَّا مَنۡ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ ﴾ ’’ہاں وہ شخص جو صدقہ کا حکم دے۔‘‘ یعنی اس میں سے وہ شخص مستثنی ہے جو مال، علم یا کسی اور منفعت میں صدقہ کا حکم دیتا ہے۔ بلکہ شاید بعض چھوٹی عبادات بھی اس زمرے میں شمار ہوتی ہیں۔ مثلاً تسبیح و تحمید وغیرہ۔ جیسا کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا: ’’ہر تسبیح صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، ہر تہلیل صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے اور تم میں سے کسی کا اپنی بیوی کے پاس جانا بھی صدقہ ہے۔‘‘ الحدیث۔ (صحیح مسلم، الزکاۃ، حدیث:1006 ،صحیح مسلم، الزکاۃ، باب بیان ان اسم الصدقۃ یقع علی کل نوع من المعروف، ح: 1006)﴿ اَوۡ مَعۡرُوۡفٍ ﴾’’یا نیک بات‘‘ معروف سے مراد بھلائی اور نیکی ہے اور ہر وہ کام، جسے شریعت نے نیکی قرار دیا اور عقل نے اس کی تحسین کی، معروف کے زمرے میں آتا ہے جب ’’اَمَر بِالْمَعْرُوف‘‘ کا لفظ ’’نَہْیِ عَنِ الْمُنْکَر‘‘ کے ساتھ ملائے بغیر استعمال کیا جائے تو برائی سے روکنا اس میں شامل ہوتا ہے کیونکہ منہیات کو ترک کرنا بھی نیکی ہے، نیز بھلائی اس وقت تک تکمیل نہیں پاتی جب تک کہ برائی کو ترک نہ کر دیا جائے اور جب ’’امر بالمعروف‘‘ اور ’’نہی عن المنکر‘‘ کا ایک ساتھ ذکر ہو تو، ’’معروف‘‘ سے مراد ہر وہ کام ہے جس کا شریعت میں حکم دیا گیا ہو ’’منکر‘‘ سے مراد ہر وہ کام ہے جس سے شریعت میں روکا گیا ہو۔﴿ اَوۡ اِصۡلَاحٍ ۭ بَيۡنَ النَّاسِ ﴾ ’’یا لوگوں کے مابین صلح کرانے کا حکم کرے‘‘ اور اصلاح صرف دو جھگڑنے والوں کے درمیان ہی ہوتی ہے۔ نزاع، جھگڑا، مخاصمت اور آپس میں ناراضی اس قدر شر اور تفرقہ کا باعث بنتے ہیں جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ پس اسی لیے شارع نے لوگوں کو ان کے قتل، مال، اور عزت ناموس کے جھگڑوں میں اصلاح کی ترغیب دی ہے بلکہ تمام ادیان میں اس کی ترغیب دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا ﴾(آل عمران : 3؍103) ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔‘‘ فرمایا ﴿ وَاِنۡ طَآىِٕفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا١ۚ فَاِنۢۡ بَغَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا عَلَى الۡاُخۡرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيۡ تَبۡغِيۡ حَتّٰى تَفِيۡٓءَ اِلٰۤى اَمۡرِ اللّٰهِ ﴾(الحجرات : 49؍9) ’’اگر مومنوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو اگر ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَالصُّلۡحُ خَيۡرٌ ﴾(النساء: 4؍128) ’’اور صلح اچھی چیز ہے۔‘‘لوگوں کے درمیان صلح کروانے والا اس شخص سے بہتر ہے جو کثرت سے (نفلی) نماز روزے اور صدقہ کا اہتمام کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اصلاح کرنے والے کے عمل اور کوشش کی اصلاح کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے والے کے عمل اور کوشش کی اصلاح نہیں کرتا اور نہ اس کا مقصد پورا کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾(یونس : 10؍81) ’’اللہ فساد کرنے والوں کے کام کی اصلاح نہیں کرتا۔‘‘یہ تمام افعال جہاں کہیں بھی بجا لائے جائیں گے۔ بھلائی کے زمرے میں آئیں گے، جیسا کہ یہ استثناء دلالت کرتا ہے۔ مگر پورا اور کامل اجر بندے کی نیت پر منحصر ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ ابۡتِغَآءَؔ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ فَسَوۡفَ نُؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’اور جو شخص اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کے ارادہ سے یہ کام کرے اسے ہم یقینا بہت بڑا ثواب دیں گے‘‘ بنابریں بندے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھے اور ہر وقت چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے تاکہ اسے اجر عظیم حاصل ہو، تاکہ اس میں اخلاص کی عادت راسخ ہو اور وہ اہل اخلاص کے زمرے میں شمار ہو اور اس کے اجر کی تکمیل ہو خواہ اس کے مقصد کی تکمیل ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو کیونکہ اس نے اس نیک مقصد کی نیت کی تھی اور امکان بھر اس پر عمل بھی کیا تھا۔
4:115

وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلۡهُدَىٰ وَيَتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيلِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصۡلِهِۦ جَهَنَّمَۖ وَسَآءَتۡ مَصِيرًا

اور جو شخص مخالفت کرے رسول کی، بعد اس کے کہ واضح ہو گئی اس کے لیے ہدایت اور پیروی کرے سوائے راستے کے مسلمانوں کے تو پھیر دیں گے ہم اسے جدھر ، پھرتا ہے اور داخل کریں گے اس کو جہنم میں اور بری جگہ ہے وہ ، پھرنے کی(115) یقیناً اللہ نہیں بخشے گا یہ کہ شرک کیا جائے اس کے ساتھ اور بخش دے گا جو علاوہ ہے اس کے، جس کے لیے چاہے گا اور جو شخص شریک ٹھہرائے اللہ کے ساتھ پس تحقیق گمراہ ہوگیا وہ گمراہ ہونا دور کا(116) [115] یعنی جو کوئی رسول اللہﷺکی مخالفت کرتا ہے اور آپ کی لائی ہوئی شریعت میں آپ سے عناد رکھتا ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الۡهُدٰؔى ﴾ ’’سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد‘‘ یعنی دلائل قرآنی اور براہین نبوی کے ذریعے سے ہدایت کا راستہ واضح ہو جانے کے بعد ﴿ وَيَتَّبِـعۡ غَيۡرَ سَبِيۡلِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کے راستے کے خلاف چلے‘‘ اہل ایمان کے راستے سے مراد ان کے عقائد و اعمال ہیں ﴿ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى ﴾ ’’ہم اس کو پھیر دیتے ہیں اسی طرف جس طرف وہ پھرتا ہے‘‘ یعنی ہم اسے اور اس چیز کو جو اس نے اپنے لیے اختیار کی ہے چھوڑ کر اس سے الگ ہو جاتے ہیں اور ہم اسے بھلائی کی توفیق سے محروم کر دیتے ہیں۔ کیونکہ اس نے حق کو جان بوجھ کر ترک کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی جزا عدل و انصاف پر مبنی ہے کہ وہ اسے اس کی گمراہی میں حیران و پریشان چھوڑ دیتا ہے۔ اور وہ اپنی گمراہی میں بڑھتا ہی چلا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ﴾(الصف : 61؍5) ’’جب انھوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام : 6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہ لائے تھے (اب بھی ایمان نہ لائیں گے)۔‘‘اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی رسول اللہﷺکی مخالفت نہیں کرتا اور مومنین کے راستے کی اتباع کرتا ہے۔ اس کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا، رسول اللہﷺکی اتباع، اور مسلمانوں کی جماعت کی معیت کا التزام کرنا ہے۔ تب اگر اس سے کوئی گناہ صادر ہوتا ہے یا نفس کے تقاضے اور طبیعت کے غلبے کی بنا پر گناہ کا ارادہ کر بیٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ اپنے لطف و کرم سے اس کا تدارک کر دیتا ہے اور اسے برائی سے بچا کر اس پر احسان کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جناب یوسفuکے بارے میں فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ لِنَصۡرِفَ عَنۡهُ السُّوۡٓءَ وَالۡفَحۡشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾(یوسف : 12؍24)’’تاکہ ہم اس طرح اس سے برائی اور بے حیائی کو روک دیں بلاشبہ وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔‘‘ یعنی یوسفuکے اخلاص کے سبب سے ان سے برائی کو دور کر دیا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے ہر چنے ہوئے بندے کے ساتھ یونہی کرتا ہے۔ جیسا کہ علت کی عمومیت اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ وَنُصۡلِهٖ جَهَنَّمَ ﴾ ’’اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے۔‘‘ یعنی ہم جہنم میں اسے بہت بڑے عذاب سے دوچار کریں گے ﴿ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’اور وہ بری جگہ ہے۔‘‘ یعنی انجام کار یہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ [116] یہ وعید، جو رسول اللہﷺاور مومنین کی مخالفت پر مرتب ہوتی ہے گناہ کے چھوٹا بڑا ہونے کے اعتبار سے اس کے بہت سے مراتب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا۔ ان میں سے بعض مراتب ایسے ہیں جو جہنم میں خلود کا باعث ہوں گے۔ باقی تمام اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور دوری کا موجب ہیں۔بعض گناہوں کا مرتبہ کمتر ہے۔ شاید دوسری آیت اس آیت کریمہ کے اطلاق کی تفصیل کی طرح ہے۔ یعنی شرک کو اللہ تعالیٰ کبھی نہیں بخشے گا کیونکہ شرک اللہ رب العالمین، اور اس کی توحید میں نقص اور مخلوق کو، جو خود اپنے نفع و نقصان کی مالک نہیں، اس اللہ کے برابر قرار دینا ہے جو نفع و نقصان کا مالک ہے، ہر قسم کی نعمت صرف اسی کی طرف سے ہے، تمام تکلیفوں کو صرف وہی دور کرنے والا ہے ہر اعتبار سے کمال مطلق اور تمام وجوہ سے غنائے تام کا وہی مالک ہے۔ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی گمراہی یہ ہے کہ جس ہستی کی یہ عظمت و شان ہو، اس کی عبادت کے لیے اخلاص نہ ہو اور جو صفات کمال اور صفات غنا میں سے کسی چیز کی بھی مالک نہ ہو۔ بلکہ وہ عدم کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کا وجود نیست ہے، کمال نیست ہے، بے نیازی نیست ہے اور ہر لحاظ سے محتاجی ہی محتاجی ہے۔وہ گناہ جو شرک سے کمتر ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اپنی رحمت اور حکمت سے ان گناہوں کو بخش دے گا اور اگر چاہے گا تو اپنے عدل و حکمت سے ان کو عذاب دے گا۔اس آیت کریمہ سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ اجماع امت حجت ہے نیز یہ کہ وہ خطا سے محفوظ ہے۔ اس استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کے راستے کی مخالفت کرنے پر جہنم اور خذلان کی وعید سنائی ہے اور مومنین کا راستہ مفرد اور مضاف ہے جو ان عقائد و اعمال پر مشتمل ہے جن پر تمام اہل ایمان عمل پیرا ہیں۔ جب تمام اہل ایمان کسی چیز کے وجوب، استحباب، تحریم، کراہت یا جواز پر متفق ہیں تو یہی ان کا راستہ ہے۔ اور جو کوئی اہل ایمان کے کسی چیز پر انعقاد اجماع کے بعد ان کی مخالفت کرتا ہے تو وہ اہل ایمان کے راستے کے علاوہ کسی اور راستے پر گامزن ہے۔ اجماع امت کے حجت ہونے پر یہ آیت کریمہ بھی دلالت کرتی ہے ﴿ كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾(آل عمران : 3؍110) ’’تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی ہدایت کے لیے پیدا کی گئی ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔‘‘ اس آیت کریمہ میں استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اس امت کے اہل ایمان صرف نیکی ہی کا حکم دیتے ہیں، لہٰذا جب وہ کسی چیز کے وجوب یا استحباب پر متفق ہو جاتے ہیں تو یہ گویا وہ چیز ہے جس کا انھیں حکم دیا گیا۔ پس آیت کریمہ کی نص سے متعین ہو گیا کہ وہ معاملہ معروف ہی ہو گا اور معروف کے علاوہ جو کچھ ہے وہ منکر ہے۔ اسی طرح جب وہ کسی چیز سے منع کرنے پر متفق ہو جاتے ہیں تو وہ انھی باتوں میں سے ہے جن سے انھیں روکا گیا ہے، پس وہ یقینا منکر ہے۔ اسی کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ ﴾(البقرۃ : 2؍143) ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں ’’امت وسط‘‘ بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اس امت کو معتدل اور بہترین امت بنایا ہے تاکہ وہ ہر چیز کے بارے میں لوگوں پر گواہ بنیں۔ جب وہ کسی حکم کے بارے میں یہ گواہی دیں کہ یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کیا ہے یا اس نے اس کو مباح قرار دیا ہے۔ تو ان کی شہادت معتبر اور معصوم ہے کیونکہ وہ جس چیز کی شہادت دے رہے تھے اس کا علم رکھتے ہیں اور اپنی شہادت میں عادل ہیں۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو وہ اپنی شہادت میں عادل اور اس کا علم رکھنے والے نہ ہوتے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول بھی اس کی نظیر ہے ﴿ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِيۡ شَيۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ ﴾(النساء : 4؍59) ’’اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو جائے تو معاملے کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو۔‘‘اس آیت کریمہ سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جس معاملہ میں انکے درمیان کوئی اختلاف نہیں بلکہ اتفاق ہے، اسے وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانے پر مامور نہیں ہیں۔ ایسا معاملہ قرآن اور سنت کے موافق ہی ہوگا، مخالف نہیں ہوسکتا۔ ان دلائل سے قطعی طور پر یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اس امت کا اجماع حجت ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی گمراہی کی برائی بیان کرتے ہوئے فرمایا:
4:116

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلَۢا بَعِيدًا

اور جو شخص مخالفت کرے رسول کی، بعد اس کے کہ واضح ہو گئی اس کے لیے ہدایت اور پیروی کرے سوائے راستے کے مسلمانوں کے تو پھیر دیں گے ہم اسے جدھر ، پھرتا ہے اور داخل کریں گے اس کو جہنم میں اور بری جگہ ہے وہ ، پھرنے کی(115) یقیناً اللہ نہیں بخشے گا یہ کہ شرک کیا جائے اس کے ساتھ اور بخش دے گا جو علاوہ ہے اس کے، جس کے لیے چاہے گا اور جو شخص شریک ٹھہرائے اللہ کے ساتھ پس تحقیق گمراہ ہوگیا وہ گمراہ ہونا دور کا(116) [115] یعنی جو کوئی رسول اللہﷺکی مخالفت کرتا ہے اور آپ کی لائی ہوئی شریعت میں آپ سے عناد رکھتا ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الۡهُدٰؔى ﴾ ’’سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد‘‘ یعنی دلائل قرآنی اور براہین نبوی کے ذریعے سے ہدایت کا راستہ واضح ہو جانے کے بعد ﴿ وَيَتَّبِـعۡ غَيۡرَ سَبِيۡلِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کے راستے کے خلاف چلے‘‘ اہل ایمان کے راستے سے مراد ان کے عقائد و اعمال ہیں ﴿ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى ﴾ ’’ہم اس کو پھیر دیتے ہیں اسی طرف جس طرف وہ پھرتا ہے‘‘ یعنی ہم اسے اور اس چیز کو جو اس نے اپنے لیے اختیار کی ہے چھوڑ کر اس سے الگ ہو جاتے ہیں اور ہم اسے بھلائی کی توفیق سے محروم کر دیتے ہیں۔ کیونکہ اس نے حق کو جان بوجھ کر ترک کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی جزا عدل و انصاف پر مبنی ہے کہ وہ اسے اس کی گمراہی میں حیران و پریشان چھوڑ دیتا ہے۔ اور وہ اپنی گمراہی میں بڑھتا ہی چلا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ﴾(الصف : 61؍5) ’’جب انھوں نے کج روی اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ﴾(الانعام : 6؍110) ’’اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہ لائے تھے (اب بھی ایمان نہ لائیں گے)۔‘‘اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ جو کوئی رسول اللہﷺکی مخالفت نہیں کرتا اور مومنین کے راستے کی اتباع کرتا ہے۔ اس کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا، رسول اللہﷺکی اتباع، اور مسلمانوں کی جماعت کی معیت کا التزام کرنا ہے۔ تب اگر اس سے کوئی گناہ صادر ہوتا ہے یا نفس کے تقاضے اور طبیعت کے غلبے کی بنا پر گناہ کا ارادہ کر بیٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ اپنے لطف و کرم سے اس کا تدارک کر دیتا ہے اور اسے برائی سے بچا کر اس پر احسان کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جناب یوسفuکے بارے میں فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ لِنَصۡرِفَ عَنۡهُ السُّوۡٓءَ وَالۡفَحۡشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾(یوسف : 12؍24)’’تاکہ ہم اس طرح اس سے برائی اور بے حیائی کو روک دیں بلاشبہ وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔‘‘ یعنی یوسفuکے اخلاص کے سبب سے ان سے برائی کو دور کر دیا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے ہر چنے ہوئے بندے کے ساتھ یونہی کرتا ہے۔ جیسا کہ علت کی عمومیت اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ وَنُصۡلِهٖ جَهَنَّمَ ﴾ ’’اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے۔‘‘ یعنی ہم جہنم میں اسے بہت بڑے عذاب سے دوچار کریں گے ﴿ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’اور وہ بری جگہ ہے۔‘‘ یعنی انجام کار یہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ [116] یہ وعید، جو رسول اللہﷺاور مومنین کی مخالفت پر مرتب ہوتی ہے گناہ کے چھوٹا بڑا ہونے کے اعتبار سے اس کے بہت سے مراتب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا۔ ان میں سے بعض مراتب ایسے ہیں جو جہنم میں خلود کا باعث ہوں گے۔ باقی تمام اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور دوری کا موجب ہیں۔بعض گناہوں کا مرتبہ کمتر ہے۔ شاید دوسری آیت اس آیت کریمہ کے اطلاق کی تفصیل کی طرح ہے۔ یعنی شرک کو اللہ تعالیٰ کبھی نہیں بخشے گا کیونکہ شرک اللہ رب العالمین، اور اس کی توحید میں نقص اور مخلوق کو، جو خود اپنے نفع و نقصان کی مالک نہیں، اس اللہ کے برابر قرار دینا ہے جو نفع و نقصان کا مالک ہے، ہر قسم کی نعمت صرف اسی کی طرف سے ہے، تمام تکلیفوں کو صرف وہی دور کرنے والا ہے ہر اعتبار سے کمال مطلق اور تمام وجوہ سے غنائے تام کا وہی مالک ہے۔ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی گمراہی یہ ہے کہ جس ہستی کی یہ عظمت و شان ہو، اس کی عبادت کے لیے اخلاص نہ ہو اور جو صفات کمال اور صفات غنا میں سے کسی چیز کی بھی مالک نہ ہو۔ بلکہ وہ عدم کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کا وجود نیست ہے، کمال نیست ہے، بے نیازی نیست ہے اور ہر لحاظ سے محتاجی ہی محتاجی ہے۔وہ گناہ جو شرک سے کمتر ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اپنی رحمت اور حکمت سے ان گناہوں کو بخش دے گا اور اگر چاہے گا تو اپنے عدل و حکمت سے ان کو عذاب دے گا۔اس آیت کریمہ سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ اجماع امت حجت ہے نیز یہ کہ وہ خطا سے محفوظ ہے۔ اس استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کے راستے کی مخالفت کرنے پر جہنم اور خذلان کی وعید سنائی ہے اور مومنین کا راستہ مفرد اور مضاف ہے جو ان عقائد و اعمال پر مشتمل ہے جن پر تمام اہل ایمان عمل پیرا ہیں۔ جب تمام اہل ایمان کسی چیز کے وجوب، استحباب، تحریم، کراہت یا جواز پر متفق ہیں تو یہی ان کا راستہ ہے۔ اور جو کوئی اہل ایمان کے کسی چیز پر انعقاد اجماع کے بعد ان کی مخالفت کرتا ہے تو وہ اہل ایمان کے راستے کے علاوہ کسی اور راستے پر گامزن ہے۔ اجماع امت کے حجت ہونے پر یہ آیت کریمہ بھی دلالت کرتی ہے ﴿ كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾(آل عمران : 3؍110) ’’تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی ہدایت کے لیے پیدا کی گئی ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔‘‘ اس آیت کریمہ میں استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اس امت کے اہل ایمان صرف نیکی ہی کا حکم دیتے ہیں، لہٰذا جب وہ کسی چیز کے وجوب یا استحباب پر متفق ہو جاتے ہیں تو یہ گویا وہ چیز ہے جس کا انھیں حکم دیا گیا۔ پس آیت کریمہ کی نص سے متعین ہو گیا کہ وہ معاملہ معروف ہی ہو گا اور معروف کے علاوہ جو کچھ ہے وہ منکر ہے۔ اسی طرح جب وہ کسی چیز سے منع کرنے پر متفق ہو جاتے ہیں تو وہ انھی باتوں میں سے ہے جن سے انھیں روکا گیا ہے، پس وہ یقینا منکر ہے۔ اسی کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ ﴾(البقرۃ : 2؍143) ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں ’’امت وسط‘‘ بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اس امت کو معتدل اور بہترین امت بنایا ہے تاکہ وہ ہر چیز کے بارے میں لوگوں پر گواہ بنیں۔ جب وہ کسی حکم کے بارے میں یہ گواہی دیں کہ یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کیا ہے یا اس نے اس کو مباح قرار دیا ہے۔ تو ان کی شہادت معتبر اور معصوم ہے کیونکہ وہ جس چیز کی شہادت دے رہے تھے اس کا علم رکھتے ہیں اور اپنی شہادت میں عادل ہیں۔ اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا تو وہ اپنی شہادت میں عادل اور اس کا علم رکھنے والے نہ ہوتے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول بھی اس کی نظیر ہے ﴿ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِيۡ شَيۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ ﴾(النساء : 4؍59) ’’اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو جائے تو معاملے کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو۔‘‘اس آیت کریمہ سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جس معاملہ میں انکے درمیان کوئی اختلاف نہیں بلکہ اتفاق ہے، اسے وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانے پر مامور نہیں ہیں۔ ایسا معاملہ قرآن اور سنت کے موافق ہی ہوگا، مخالف نہیں ہوسکتا۔ ان دلائل سے قطعی طور پر یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اس امت کا اجماع حجت ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی گمراہی کی برائی بیان کرتے ہوئے فرمایا:
4:117

إِن يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ إِنَٰثٗا وَإِن يَدۡعُونَ إِلَّا شَيۡطَٰنٗا مَّرِيدٗا

نہیں پکارتے وہ اس (اللہ) کے سوا مگر عورتوں کو اور نہیں پکارتے وہ مگر شیطان سرکش کو(117) لعنت کی اس پر اللہ نےاور کہا اس (شیطان) نے ، البتہ ضرور لوں گا میں تیرے بندوں میں سے ایک حصہ مقرر(118) اور ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو اور امیدیں دلاؤں گا ان کو اور ضرور حکم دوں گا میں ان کو پس چیریں گے وہ کان چوپایوں کے اور یقینا حکم دوں گا میں ان کو پس ضرور تبدیل کر لیں گے وہ بناوٹ اللہ کی اور جو بناتا ہے شیطان کو دوست سوائے اللہ کے، پس تحقیق خسارہ اٹھایا اس نے خسارہ ظاہر(119) وعدہ دیتا ہے وہ (شیطان) ان کو اور امیدیں دلاتا ہے انھیں اور نہیں وعدہ دیتا انھیں شیطان مگر دھوکے کا(120) یہ لوگ ہیں ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور نہیں پائیں گے وہ اس (جہنم) سے کوئی بھاگنے کی جگہ(121) [118,117] یعنی یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہیں سب مؤنث ہیں یعنی لوگ جن بتوں کو پوجتے ہیں وہ عورتوں جیسے ناموں سے موسوم ہیں۔ مثلاً ’’عزی‘‘ اور ’’مناۃ‘‘ وغیرہ۔ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ اسم اپنے مسمی پر دلالت کرتا ہے اور جب ان بتوں کے نام مؤنث اور ناقص ہیں تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان اسماء کے مسمیات بھی ناقص اور صفات کمال سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے کہ یہ بت کوئی چیز تخلیق کر سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں بلکہ وہ تو اپنی ذات تک کے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ اور اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ اپنی مدد کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ ان میں سماعت ہے نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت۔ جس کے یہ اوصاف ہوں وہ کیسے عبادت کا مستحق ہو سکتا ہے اور اس ہستی کے لیے اخلاص کو کیسے ترک کیا جا سکتا ہے جو اسمائے حسنی، صفات علیا، حمد و کمال، مجد و جلال، غلبہ و جمال، رحمت و احسان، تخلیق و تدبیر میں منفرد اور امر و تقدیر میں عظیم حکمت کی مالک ہے۔کیا یہ بدترین قباحت نہیں ہے جو ان ہستیوں کے نقص پر دلالت کرتی ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کی پرستش خساست و دناء ت کے اس انتہائی نچلے درجے پر پہنچی ہوئی ہے جس کا کوئی تصورکر سکتا ہے یا کوئی بیان کرنے والا بیان کر سکتا ہے؟ بایں ہمہ یہ لوگ جو ان ناقص بتوں کی عبادت کرتے ہیں محض ان کی شکل و صورت کی عبادت کرتے ہیں ورنہ درحقیقت وہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں جو ان کا دشمن ہے اور وہ ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت دور ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ملعون قرار دے کر اپنی رحمت سے بہت دور کر دیا ہے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کی رحمت سے دور کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر : 35؍6) ’’وہ تو اپنے پیروکاروں کے گروہ کو محض اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔‘‘اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو گمراہ کرنے، شر اور فساد کو ان کے لیے مزین کرنے کی شیطانی کوششوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان نے قسم کھا کر اپنے رب سے کہا ہے ﴿ لَاَتَّؔخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِكَ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا﴾ ’’میں ضرور لوں گا تیرے بندوں سے حصہ مقررہ‘‘ یعنی مقدر کیا ہوا حصہ۔ شیطان لعین کو علم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں کو گمراہ نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر اس کا کوئی زور نہیں چلتا۔ اس کا بس تو صرف اسی پر چلتا ہے جو اسے اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ترجیح دیتا ہے ایک اور مقام پر وہ قسم کھا کر کہتا ہے کہ وہ ضرور ان کو گمراہ کرے گا ﴿ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾(ص : 38؍82۔83) ’’میں ضرور ان سب کو بہکاتا رہوں گا سوائے ان کے جو تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔‘‘یہ شیطان خبیث کا خیال تھا جس کو اس نے نہایت جزم کے ساتھ ظاہر کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں اس کے وقوع کی خبر دی ہے ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ اِبۡلِيۡسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوۡهٗ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُوۡمِنِيۡنَ﴾(سبا : 34؍20) ’’اور ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا قول سچ کر دکھایا کہ اہل ایمان کے ایک گروہ کے سوا سب نے اس کی پیروی کی۔‘‘ [119] یہی وہ مقررہ حصہ ہے جس کے بارے میں شیطان نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ان سے ضرور حاصل کر کے رہے گا۔ اس نے بتا دیا ہے کہ وہ ان سے کیا چاہتا ہے اور ان کے بارے میں اس کے کیا مقاصد ہیں ﴿ وَّلَاُضِلَّنَّهُمۡ۠ ﴾ ’’اور میں انھیں گمراہ کرتا رہوں گا۔‘‘ یعنی میں انھیں صراط مستقیم سے بھٹکاؤں گا اور علم و عمل میں انھیں گمراہ کر کے رہوں گا۔ ﴿ وَلَاُمَنِّيَنَّهُمۡ ﴾ ’’اور انھیں امیدیں دلاتا رہوں گا۔‘‘ یعنی میں ان کو گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ امیدیں بھی دلاتا رہوں گا کہ انھیں وہ سب کچھ حاصل ہوگا جو ہدایت یافتہ لوگوں کو حاصل ہوتا ہے اور یہ عین فریب ہے۔ پس اس نے ان کو مجرد گمراہ کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے اس گمراہی کو ان کے سامنے آراستہ کیا جس میں وہ مبتلا ہوئے اور یہ ان کی برائی میں مزید اضافہ ہے کہ انھوں نے اہل جہنم کے اعمال کیے جو عذاب کے موجب ہیں اور سمجھتے رہے کہ یہ اعمال انھیں جنت میں لے جائیں گے۔ذرا یہود و نصاریٰ وغیرہ کا حال دیکھو، ان کا وہی رویہ ہے جس کی بابت اللہ نے خبر دی، انھوں نے کہا۔ ﴿ لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰؔى١ؕ تِلۡكَ اَمَانِيُّهُمۡ ﴾(البقرۃ : 2؍111) ’’کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا یہ ان کی محض باطل آرزوئیں ہیں۔‘‘ فرمایا: ﴿ كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمۡ﴾(الانعام : 6؍108) ’’اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے عمل کو ان کے سامنے آراستہ کر دیا ہے۔‘‘ اور فرمایا ﴿ قُلۡ هَلۡ نُنَبِّئُكُمۡ بِالۡاَخۡسَرِيۡنَ اَعۡمَالًاؕ۰۰ اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَهُمۡ يَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ يُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا ﴾(الکہف : 18؍103۔104) ’’کہہ دو کہ کیا ہم تمھیں بتائیں کہ اعمال کے لحاظ سے خسارے میں کون ہیں؟ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ منافقین کے بارے میں فرماتا ہے کہ قیامت کے روز وہ اہل ایمان سے کہیں گے ﴿ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ١ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَلٰكِنَّكُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ ﴾(الحدید : 57؍14) ’’کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟ اہل ایمان جواب دیں گے کیوں نہیں مگر تم نے اپنے تئیں فتنے میں ڈال لیا تھا اور ہمارے بارے میں حوادث زمانہ کے منتظر تھے اور تم شک میں مبتلا ہوئے۔ تمھیں آرزوؤں نے فریب میں مبتلا کیے رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا۔ اور دھوکے باز (شیطان)تمھیں اللہ کے بارے میں فریب دیتا رہا۔‘‘﴿ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُبَتِّكُنَّ۠ اٰذَانَ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’اور یہ حکم دیتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں۔‘‘ یعنی میں ان کو مویشیوں کے کان کاٹنے کا حکم دوں گا (تاکہ علامت بن جائے کہ یہ غیر اللہ کے نام پر چھوڑا ہوا جانور ہے)مثلاً ’’بَحِیرَہ‘‘ ’’سَائِبَہ‘‘ ’’وَصِیلَہ‘‘ اور ’’حَام‘‘ وغیرہ پس ایک کی طرف اشارہ کر کے تمام مراد لیے ہیں۔ گمراہی کی یہ قسم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال ٹھہرانے کی مقتضی ہے اور اسی میں فاسد اعتقادات اور ظلم و جور پر مبنی احکام بھی شامل ہیں جو بڑی گمراہیوں میں سے ہیں۔﴿ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُغَيِّرُنَّ۠ خَلۡقَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں انھیں حکم دوں گا پس وہ اللہ کی بنائی ہوئی صورتیں بدلیں گے‘‘ اس کا اطلاق ظاہری تخلیق پر ہوتا ہے یعنی گودنا، دانتوں کو باریک کرنا، چہرے سے بال اکھیڑنا اور دانتوں کے درمیان فاصلہ بنانا ان تمام چیزوں کے ذریعے سے شیطان نے لوگوں کو گمراہ کیا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدل ڈالا۔ لوگوں کی یہ حرکتیں اس بات کو متضمن ہیں کہ یہ لوگ اللہ کی پیدائش پر ناراض اور اس کی حکمت پر نکتہ چین ہیں۔ نیز ان کا اعتقاد ہے کہ وہ کام جو وہ اپنے ہاتھوں سے سرانجام دیتے ہیں وہ اللہ کی تخلیق سے بہتر ہے۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور تدبیر پر بھی راضی نہیں ہیں۔ شیطان کا یہ کام باطنی تخلیق کی تبدیلی کو بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حنیف بنا کر اچھی فطرت پر پیدا کیا ہے، ان میں قبول حق اور حق کو ترجیح دینے والوں کی فطرت تخلیق کی۔ شیاطین آئے اور انھوں نے ان کو اس خوبصورت تخلیق سے ہٹا دیا اور شر، شرک، کفر، فسق اور معصیت کو ان کے سامنے آراستہ کر دیا، اس لیے کہ پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ مگر اس کے والدین اسے یہودی نصرانی یا مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی محبت اور اس کی معرفت، وہ اس فطرت کو بدل ڈالتے ہیں۔ اس مقام پر شیاطین بندوں کا اسی طرح شکار کرتے ہیں جس طرح درندے اور بھیڑیئے ریوڑ سے الگ ہونے والی بھیڑ بکریوں کو پھاڑ کھاتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر فضل و کرم نہ ہوتا تو ان کا بھی وہی حشر ہوتا جو ان فتنہ زدہ لوگوں کا ہوا ہے۔ پس وہ بھی دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ جاتے اور انھیں ناکامی اور گھاٹے کا منہ دیکھنا پڑتا۔ان فتنہ زدہ لوگوں کا یہ حشر اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے اپنے رب اور اپنے پیدا کرنے والے سے منہ موڑ کر ایسے دشمن کو اپنا سرپرست بنا لیا جو ہر لحاظ سے ان سے برائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّؔتَّؔخِذِ الشَّيۡطٰنَ وَلِيًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّؔبِيۡنًا﴾ ’’جو شخص اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنائے گا وہ صریح نقصان میں ڈوبے گا۔‘‘ جو دین و دنیا کے خسارے میں پڑ جائے اور جسے اس کے گناہ اور نافرمانیاں ہلاک کر ڈالیں اس سے زیادہ واضح اور بڑا خسارہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ وہ ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم ہو کر ابدی بدبختی میں مبتلا ہو گئے۔اسی طرح جو کوئی اپنے آقا اور مولا ہی کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی رضا کو ترجیح دیتا ہے، وہ ہر لحاظ سے فائدے میں رہتا ہے، ہر طرح سے فلاح پاتا ہے دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرتا ہے اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ اے اللہ! جو چیز تو عطا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس چیز سے تو محروم کر دے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا۔ اے اللہ! جن لوگوں کی تو نے سرپرستی فرمائی ان لوگوں کی معیت میں ہماری بھی سرپرستی فرما۔ اور جن لوگوں کو تو نے عافیت سے نوازا ان کے ساتھ ہمیں بھی عافیت سے نواز۔ [120]﴿ يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ ﴾ ’’وہ ان کو وعدے دیتا ہے اور امیدیں دلاتا ہے۔‘‘ یعنی شیطان ان لوگوں سے وعدہ کرتا ہے اور ان کو امیدیں دلاتا ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ یہاں وعدہ میں وعید بھی شامل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلشَّيۡطٰنُ يَعِدُؔكُمُ الۡفَقۡرَ ﴾(البقرۃ : 2؍268) ’’شیطان تمھیں محتاجی سے ڈراتا ہے۔‘‘ وہ بندوں کو یہ وعید سناتا ہے کہ اگر وہ اللہ کے راستے میں خرچ کریں گے تو محتاج اور تنگ دست ہو جائیں گے۔ وہ انھیں خوف دلاتا ہے کہ انھوں نے اللہ کے راستے میں جہاد میں حصہ لیا تو وہ قتل ہو جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيۡطٰنُ يُخَوِّفُ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾(آل عمران : 3؍175) ’’یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے خوف دلاتا ہے۔‘‘جب بندے اللہ تعالیٰ کی مرضی کو ترجیح دیتے ہیں تو وہ انھیں ہر ممکن طریقے سے جو اس کی عقل میں آ سکے، ڈراتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بھلائی کا کام کرنے میں سست پڑ جاتے ہیں۔۔۔ اسی طرح شیطان انھیں جھوٹی اور باطل تمناؤں میں مبتلا کرتا ہے اور تحقیق کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ تمنائیں تو محض سراب تھیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [121]﴿ اُولٰٓىِٕكَ مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ ﴾ ’’ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘ یعنی جس نے شیطان کی اطاعت کی اور اپنے رب سے روگردانی کی وہ شیطان کے پیروکاروں اور اس کے گروہ میں شامل ہو گیا، ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ﴿ وَلَا يَجِدُوۡنَ عَنۡهَا مَحِيۡصًا ﴾ ’’اور وہاں سے بھاگنے اور گلوخلاصی کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔‘‘ بلکہ وہ جہنم میں ابد الآباد تک رہیں گے۔ بدبخت لوگوں یعنی اولیائے شیطان کا انجام کار بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خوش بخت لوگوں یعنی اولیائے رحمان کے انجام کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا:
4:118

لَّعَنَهُ ٱللَّهُۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِكَ نَصِيبٗا مَّفۡرُوضٗا

نہیں پکارتے وہ اس (اللہ) کے سوا مگر عورتوں کو اور نہیں پکارتے وہ مگر شیطان سرکش کو(117) لعنت کی اس پر اللہ نےاور کہا اس (شیطان) نے ، البتہ ضرور لوں گا میں تیرے بندوں میں سے ایک حصہ مقرر(118) اور ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو اور امیدیں دلاؤں گا ان کو اور ضرور حکم دوں گا میں ان کو پس چیریں گے وہ کان چوپایوں کے اور یقینا حکم دوں گا میں ان کو پس ضرور تبدیل کر لیں گے وہ بناوٹ اللہ کی اور جو بناتا ہے شیطان کو دوست سوائے اللہ کے، پس تحقیق خسارہ اٹھایا اس نے خسارہ ظاہر(119) وعدہ دیتا ہے وہ (شیطان) ان کو اور امیدیں دلاتا ہے انھیں اور نہیں وعدہ دیتا انھیں شیطان مگر دھوکے کا(120) یہ لوگ ہیں ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور نہیں پائیں گے وہ اس (جہنم) سے کوئی بھاگنے کی جگہ(121) [118,117] یعنی یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہیں سب مؤنث ہیں یعنی لوگ جن بتوں کو پوجتے ہیں وہ عورتوں جیسے ناموں سے موسوم ہیں۔ مثلاً ’’عزی‘‘ اور ’’مناۃ‘‘ وغیرہ۔ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ اسم اپنے مسمی پر دلالت کرتا ہے اور جب ان بتوں کے نام مؤنث اور ناقص ہیں تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان اسماء کے مسمیات بھی ناقص اور صفات کمال سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے کہ یہ بت کوئی چیز تخلیق کر سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں بلکہ وہ تو اپنی ذات تک کے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ اور اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ اپنی مدد کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ ان میں سماعت ہے نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت۔ جس کے یہ اوصاف ہوں وہ کیسے عبادت کا مستحق ہو سکتا ہے اور اس ہستی کے لیے اخلاص کو کیسے ترک کیا جا سکتا ہے جو اسمائے حسنی، صفات علیا، حمد و کمال، مجد و جلال، غلبہ و جمال، رحمت و احسان، تخلیق و تدبیر میں منفرد اور امر و تقدیر میں عظیم حکمت کی مالک ہے۔کیا یہ بدترین قباحت نہیں ہے جو ان ہستیوں کے نقص پر دلالت کرتی ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کی پرستش خساست و دناء ت کے اس انتہائی نچلے درجے پر پہنچی ہوئی ہے جس کا کوئی تصورکر سکتا ہے یا کوئی بیان کرنے والا بیان کر سکتا ہے؟ بایں ہمہ یہ لوگ جو ان ناقص بتوں کی عبادت کرتے ہیں محض ان کی شکل و صورت کی عبادت کرتے ہیں ورنہ درحقیقت وہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں جو ان کا دشمن ہے اور وہ ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت دور ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ملعون قرار دے کر اپنی رحمت سے بہت دور کر دیا ہے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کی رحمت سے دور کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر : 35؍6) ’’وہ تو اپنے پیروکاروں کے گروہ کو محض اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔‘‘اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو گمراہ کرنے، شر اور فساد کو ان کے لیے مزین کرنے کی شیطانی کوششوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان نے قسم کھا کر اپنے رب سے کہا ہے ﴿ لَاَتَّؔخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِكَ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا﴾ ’’میں ضرور لوں گا تیرے بندوں سے حصہ مقررہ‘‘ یعنی مقدر کیا ہوا حصہ۔ شیطان لعین کو علم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں کو گمراہ نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر اس کا کوئی زور نہیں چلتا۔ اس کا بس تو صرف اسی پر چلتا ہے جو اسے اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ترجیح دیتا ہے ایک اور مقام پر وہ قسم کھا کر کہتا ہے کہ وہ ضرور ان کو گمراہ کرے گا ﴿ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾(ص : 38؍82۔83) ’’میں ضرور ان سب کو بہکاتا رہوں گا سوائے ان کے جو تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔‘‘یہ شیطان خبیث کا خیال تھا جس کو اس نے نہایت جزم کے ساتھ ظاہر کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں اس کے وقوع کی خبر دی ہے ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ اِبۡلِيۡسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوۡهٗ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُوۡمِنِيۡنَ﴾(سبا : 34؍20) ’’اور ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا قول سچ کر دکھایا کہ اہل ایمان کے ایک گروہ کے سوا سب نے اس کی پیروی کی۔‘‘ [119] یہی وہ مقررہ حصہ ہے جس کے بارے میں شیطان نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ان سے ضرور حاصل کر کے رہے گا۔ اس نے بتا دیا ہے کہ وہ ان سے کیا چاہتا ہے اور ان کے بارے میں اس کے کیا مقاصد ہیں ﴿ وَّلَاُضِلَّنَّهُمۡ۠ ﴾ ’’اور میں انھیں گمراہ کرتا رہوں گا۔‘‘ یعنی میں انھیں صراط مستقیم سے بھٹکاؤں گا اور علم و عمل میں انھیں گمراہ کر کے رہوں گا۔ ﴿ وَلَاُمَنِّيَنَّهُمۡ ﴾ ’’اور انھیں امیدیں دلاتا رہوں گا۔‘‘ یعنی میں ان کو گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ امیدیں بھی دلاتا رہوں گا کہ انھیں وہ سب کچھ حاصل ہوگا جو ہدایت یافتہ لوگوں کو حاصل ہوتا ہے اور یہ عین فریب ہے۔ پس اس نے ان کو مجرد گمراہ کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے اس گمراہی کو ان کے سامنے آراستہ کیا جس میں وہ مبتلا ہوئے اور یہ ان کی برائی میں مزید اضافہ ہے کہ انھوں نے اہل جہنم کے اعمال کیے جو عذاب کے موجب ہیں اور سمجھتے رہے کہ یہ اعمال انھیں جنت میں لے جائیں گے۔ذرا یہود و نصاریٰ وغیرہ کا حال دیکھو، ان کا وہی رویہ ہے جس کی بابت اللہ نے خبر دی، انھوں نے کہا۔ ﴿ لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰؔى١ؕ تِلۡكَ اَمَانِيُّهُمۡ ﴾(البقرۃ : 2؍111) ’’کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا یہ ان کی محض باطل آرزوئیں ہیں۔‘‘ فرمایا: ﴿ كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمۡ﴾(الانعام : 6؍108) ’’اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے عمل کو ان کے سامنے آراستہ کر دیا ہے۔‘‘ اور فرمایا ﴿ قُلۡ هَلۡ نُنَبِّئُكُمۡ بِالۡاَخۡسَرِيۡنَ اَعۡمَالًاؕ۰۰ اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَهُمۡ يَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ يُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا ﴾(الکہف : 18؍103۔104) ’’کہہ دو کہ کیا ہم تمھیں بتائیں کہ اعمال کے لحاظ سے خسارے میں کون ہیں؟ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ منافقین کے بارے میں فرماتا ہے کہ قیامت کے روز وہ اہل ایمان سے کہیں گے ﴿ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ١ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَلٰكِنَّكُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ ﴾(الحدید : 57؍14) ’’کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟ اہل ایمان جواب دیں گے کیوں نہیں مگر تم نے اپنے تئیں فتنے میں ڈال لیا تھا اور ہمارے بارے میں حوادث زمانہ کے منتظر تھے اور تم شک میں مبتلا ہوئے۔ تمھیں آرزوؤں نے فریب میں مبتلا کیے رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا۔ اور دھوکے باز (شیطان)تمھیں اللہ کے بارے میں فریب دیتا رہا۔‘‘﴿ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُبَتِّكُنَّ۠ اٰذَانَ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’اور یہ حکم دیتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں۔‘‘ یعنی میں ان کو مویشیوں کے کان کاٹنے کا حکم دوں گا (تاکہ علامت بن جائے کہ یہ غیر اللہ کے نام پر چھوڑا ہوا جانور ہے)مثلاً ’’بَحِیرَہ‘‘ ’’سَائِبَہ‘‘ ’’وَصِیلَہ‘‘ اور ’’حَام‘‘ وغیرہ پس ایک کی طرف اشارہ کر کے تمام مراد لیے ہیں۔ گمراہی کی یہ قسم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال ٹھہرانے کی مقتضی ہے اور اسی میں فاسد اعتقادات اور ظلم و جور پر مبنی احکام بھی شامل ہیں جو بڑی گمراہیوں میں سے ہیں۔﴿ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُغَيِّرُنَّ۠ خَلۡقَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں انھیں حکم دوں گا پس وہ اللہ کی بنائی ہوئی صورتیں بدلیں گے‘‘ اس کا اطلاق ظاہری تخلیق پر ہوتا ہے یعنی گودنا، دانتوں کو باریک کرنا، چہرے سے بال اکھیڑنا اور دانتوں کے درمیان فاصلہ بنانا ان تمام چیزوں کے ذریعے سے شیطان نے لوگوں کو گمراہ کیا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدل ڈالا۔ لوگوں کی یہ حرکتیں اس بات کو متضمن ہیں کہ یہ لوگ اللہ کی پیدائش پر ناراض اور اس کی حکمت پر نکتہ چین ہیں۔ نیز ان کا اعتقاد ہے کہ وہ کام جو وہ اپنے ہاتھوں سے سرانجام دیتے ہیں وہ اللہ کی تخلیق سے بہتر ہے۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور تدبیر پر بھی راضی نہیں ہیں۔ شیطان کا یہ کام باطنی تخلیق کی تبدیلی کو بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حنیف بنا کر اچھی فطرت پر پیدا کیا ہے، ان میں قبول حق اور حق کو ترجیح دینے والوں کی فطرت تخلیق کی۔ شیاطین آئے اور انھوں نے ان کو اس خوبصورت تخلیق سے ہٹا دیا اور شر، شرک، کفر، فسق اور معصیت کو ان کے سامنے آراستہ کر دیا، اس لیے کہ پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ مگر اس کے والدین اسے یہودی نصرانی یا مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی محبت اور اس کی معرفت، وہ اس فطرت کو بدل ڈالتے ہیں۔ اس مقام پر شیاطین بندوں کا اسی طرح شکار کرتے ہیں جس طرح درندے اور بھیڑیئے ریوڑ سے الگ ہونے والی بھیڑ بکریوں کو پھاڑ کھاتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر فضل و کرم نہ ہوتا تو ان کا بھی وہی حشر ہوتا جو ان فتنہ زدہ لوگوں کا ہوا ہے۔ پس وہ بھی دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ جاتے اور انھیں ناکامی اور گھاٹے کا منہ دیکھنا پڑتا۔ان فتنہ زدہ لوگوں کا یہ حشر اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے اپنے رب اور اپنے پیدا کرنے والے سے منہ موڑ کر ایسے دشمن کو اپنا سرپرست بنا لیا جو ہر لحاظ سے ان سے برائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّؔتَّؔخِذِ الشَّيۡطٰنَ وَلِيًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّؔبِيۡنًا﴾ ’’جو شخص اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنائے گا وہ صریح نقصان میں ڈوبے گا۔‘‘ جو دین و دنیا کے خسارے میں پڑ جائے اور جسے اس کے گناہ اور نافرمانیاں ہلاک کر ڈالیں اس سے زیادہ واضح اور بڑا خسارہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ وہ ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم ہو کر ابدی بدبختی میں مبتلا ہو گئے۔اسی طرح جو کوئی اپنے آقا اور مولا ہی کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی رضا کو ترجیح دیتا ہے، وہ ہر لحاظ سے فائدے میں رہتا ہے، ہر طرح سے فلاح پاتا ہے دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرتا ہے اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ اے اللہ! جو چیز تو عطا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس چیز سے تو محروم کر دے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا۔ اے اللہ! جن لوگوں کی تو نے سرپرستی فرمائی ان لوگوں کی معیت میں ہماری بھی سرپرستی فرما۔ اور جن لوگوں کو تو نے عافیت سے نوازا ان کے ساتھ ہمیں بھی عافیت سے نواز۔ [120]﴿ يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ ﴾ ’’وہ ان کو وعدے دیتا ہے اور امیدیں دلاتا ہے۔‘‘ یعنی شیطان ان لوگوں سے وعدہ کرتا ہے اور ان کو امیدیں دلاتا ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ یہاں وعدہ میں وعید بھی شامل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلشَّيۡطٰنُ يَعِدُؔكُمُ الۡفَقۡرَ ﴾(البقرۃ : 2؍268) ’’شیطان تمھیں محتاجی سے ڈراتا ہے۔‘‘ وہ بندوں کو یہ وعید سناتا ہے کہ اگر وہ اللہ کے راستے میں خرچ کریں گے تو محتاج اور تنگ دست ہو جائیں گے۔ وہ انھیں خوف دلاتا ہے کہ انھوں نے اللہ کے راستے میں جہاد میں حصہ لیا تو وہ قتل ہو جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيۡطٰنُ يُخَوِّفُ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾(آل عمران : 3؍175) ’’یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے خوف دلاتا ہے۔‘‘جب بندے اللہ تعالیٰ کی مرضی کو ترجیح دیتے ہیں تو وہ انھیں ہر ممکن طریقے سے جو اس کی عقل میں آ سکے، ڈراتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بھلائی کا کام کرنے میں سست پڑ جاتے ہیں۔۔۔ اسی طرح شیطان انھیں جھوٹی اور باطل تمناؤں میں مبتلا کرتا ہے اور تحقیق کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ تمنائیں تو محض سراب تھیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [121]﴿ اُولٰٓىِٕكَ مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ ﴾ ’’ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘ یعنی جس نے شیطان کی اطاعت کی اور اپنے رب سے روگردانی کی وہ شیطان کے پیروکاروں اور اس کے گروہ میں شامل ہو گیا، ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ﴿ وَلَا يَجِدُوۡنَ عَنۡهَا مَحِيۡصًا ﴾ ’’اور وہاں سے بھاگنے اور گلوخلاصی کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔‘‘ بلکہ وہ جہنم میں ابد الآباد تک رہیں گے۔ بدبخت لوگوں یعنی اولیائے شیطان کا انجام کار بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خوش بخت لوگوں یعنی اولیائے رحمان کے انجام کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا:
4:119

وَلَأُضِلَّنَّهُمۡ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمۡ وَلَأٓمُرَنَّهُمۡ فَلَيُبَتِّكُنَّ ءَاذَانَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ وَلَأٓمُرَنَّهُمۡ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلۡقَ ٱللَّهِۚ وَمَن يَتَّخِذِ ٱلشَّيۡطَٰنَ وَلِيّٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانٗا مُّبِينٗا

نہیں پکارتے وہ اس (اللہ) کے سوا مگر عورتوں کو اور نہیں پکارتے وہ مگر شیطان سرکش کو(117) لعنت کی اس پر اللہ نےاور کہا اس (شیطان) نے ، البتہ ضرور لوں گا میں تیرے بندوں میں سے ایک حصہ مقرر(118) اور ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو اور امیدیں دلاؤں گا ان کو اور ضرور حکم دوں گا میں ان کو پس چیریں گے وہ کان چوپایوں کے اور یقینا حکم دوں گا میں ان کو پس ضرور تبدیل کر لیں گے وہ بناوٹ اللہ کی اور جو بناتا ہے شیطان کو دوست سوائے اللہ کے، پس تحقیق خسارہ اٹھایا اس نے خسارہ ظاہر(119) وعدہ دیتا ہے وہ (شیطان) ان کو اور امیدیں دلاتا ہے انھیں اور نہیں وعدہ دیتا انھیں شیطان مگر دھوکے کا(120) یہ لوگ ہیں ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور نہیں پائیں گے وہ اس (جہنم) سے کوئی بھاگنے کی جگہ(121) [118,117] یعنی یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہیں سب مؤنث ہیں یعنی لوگ جن بتوں کو پوجتے ہیں وہ عورتوں جیسے ناموں سے موسوم ہیں۔ مثلاً ’’عزی‘‘ اور ’’مناۃ‘‘ وغیرہ۔ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ اسم اپنے مسمی پر دلالت کرتا ہے اور جب ان بتوں کے نام مؤنث اور ناقص ہیں تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان اسماء کے مسمیات بھی ناقص اور صفات کمال سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے کہ یہ بت کوئی چیز تخلیق کر سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں بلکہ وہ تو اپنی ذات تک کے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ اور اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ اپنی مدد کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ ان میں سماعت ہے نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت۔ جس کے یہ اوصاف ہوں وہ کیسے عبادت کا مستحق ہو سکتا ہے اور اس ہستی کے لیے اخلاص کو کیسے ترک کیا جا سکتا ہے جو اسمائے حسنی، صفات علیا، حمد و کمال، مجد و جلال، غلبہ و جمال، رحمت و احسان، تخلیق و تدبیر میں منفرد اور امر و تقدیر میں عظیم حکمت کی مالک ہے۔کیا یہ بدترین قباحت نہیں ہے جو ان ہستیوں کے نقص پر دلالت کرتی ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کی پرستش خساست و دناء ت کے اس انتہائی نچلے درجے پر پہنچی ہوئی ہے جس کا کوئی تصورکر سکتا ہے یا کوئی بیان کرنے والا بیان کر سکتا ہے؟ بایں ہمہ یہ لوگ جو ان ناقص بتوں کی عبادت کرتے ہیں محض ان کی شکل و صورت کی عبادت کرتے ہیں ورنہ درحقیقت وہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں جو ان کا دشمن ہے اور وہ ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت دور ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ملعون قرار دے کر اپنی رحمت سے بہت دور کر دیا ہے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کی رحمت سے دور کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر : 35؍6) ’’وہ تو اپنے پیروکاروں کے گروہ کو محض اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔‘‘اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو گمراہ کرنے، شر اور فساد کو ان کے لیے مزین کرنے کی شیطانی کوششوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان نے قسم کھا کر اپنے رب سے کہا ہے ﴿ لَاَتَّؔخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِكَ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا﴾ ’’میں ضرور لوں گا تیرے بندوں سے حصہ مقررہ‘‘ یعنی مقدر کیا ہوا حصہ۔ شیطان لعین کو علم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں کو گمراہ نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر اس کا کوئی زور نہیں چلتا۔ اس کا بس تو صرف اسی پر چلتا ہے جو اسے اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ترجیح دیتا ہے ایک اور مقام پر وہ قسم کھا کر کہتا ہے کہ وہ ضرور ان کو گمراہ کرے گا ﴿ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾(ص : 38؍82۔83) ’’میں ضرور ان سب کو بہکاتا رہوں گا سوائے ان کے جو تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔‘‘یہ شیطان خبیث کا خیال تھا جس کو اس نے نہایت جزم کے ساتھ ظاہر کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں اس کے وقوع کی خبر دی ہے ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ اِبۡلِيۡسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوۡهٗ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُوۡمِنِيۡنَ﴾(سبا : 34؍20) ’’اور ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا قول سچ کر دکھایا کہ اہل ایمان کے ایک گروہ کے سوا سب نے اس کی پیروی کی۔‘‘ [119] یہی وہ مقررہ حصہ ہے جس کے بارے میں شیطان نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ان سے ضرور حاصل کر کے رہے گا۔ اس نے بتا دیا ہے کہ وہ ان سے کیا چاہتا ہے اور ان کے بارے میں اس کے کیا مقاصد ہیں ﴿ وَّلَاُضِلَّنَّهُمۡ۠ ﴾ ’’اور میں انھیں گمراہ کرتا رہوں گا۔‘‘ یعنی میں انھیں صراط مستقیم سے بھٹکاؤں گا اور علم و عمل میں انھیں گمراہ کر کے رہوں گا۔ ﴿ وَلَاُمَنِّيَنَّهُمۡ ﴾ ’’اور انھیں امیدیں دلاتا رہوں گا۔‘‘ یعنی میں ان کو گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ امیدیں بھی دلاتا رہوں گا کہ انھیں وہ سب کچھ حاصل ہوگا جو ہدایت یافتہ لوگوں کو حاصل ہوتا ہے اور یہ عین فریب ہے۔ پس اس نے ان کو مجرد گمراہ کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے اس گمراہی کو ان کے سامنے آراستہ کیا جس میں وہ مبتلا ہوئے اور یہ ان کی برائی میں مزید اضافہ ہے کہ انھوں نے اہل جہنم کے اعمال کیے جو عذاب کے موجب ہیں اور سمجھتے رہے کہ یہ اعمال انھیں جنت میں لے جائیں گے۔ذرا یہود و نصاریٰ وغیرہ کا حال دیکھو، ان کا وہی رویہ ہے جس کی بابت اللہ نے خبر دی، انھوں نے کہا۔ ﴿ لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰؔى١ؕ تِلۡكَ اَمَانِيُّهُمۡ ﴾(البقرۃ : 2؍111) ’’کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا یہ ان کی محض باطل آرزوئیں ہیں۔‘‘ فرمایا: ﴿ كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمۡ﴾(الانعام : 6؍108) ’’اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے عمل کو ان کے سامنے آراستہ کر دیا ہے۔‘‘ اور فرمایا ﴿ قُلۡ هَلۡ نُنَبِّئُكُمۡ بِالۡاَخۡسَرِيۡنَ اَعۡمَالًاؕ۰۰ اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَهُمۡ يَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ يُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا ﴾(الکہف : 18؍103۔104) ’’کہہ دو کہ کیا ہم تمھیں بتائیں کہ اعمال کے لحاظ سے خسارے میں کون ہیں؟ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ منافقین کے بارے میں فرماتا ہے کہ قیامت کے روز وہ اہل ایمان سے کہیں گے ﴿ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ١ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَلٰكِنَّكُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ ﴾(الحدید : 57؍14) ’’کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟ اہل ایمان جواب دیں گے کیوں نہیں مگر تم نے اپنے تئیں فتنے میں ڈال لیا تھا اور ہمارے بارے میں حوادث زمانہ کے منتظر تھے اور تم شک میں مبتلا ہوئے۔ تمھیں آرزوؤں نے فریب میں مبتلا کیے رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا۔ اور دھوکے باز (شیطان)تمھیں اللہ کے بارے میں فریب دیتا رہا۔‘‘﴿ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُبَتِّكُنَّ۠ اٰذَانَ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’اور یہ حکم دیتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں۔‘‘ یعنی میں ان کو مویشیوں کے کان کاٹنے کا حکم دوں گا (تاکہ علامت بن جائے کہ یہ غیر اللہ کے نام پر چھوڑا ہوا جانور ہے)مثلاً ’’بَحِیرَہ‘‘ ’’سَائِبَہ‘‘ ’’وَصِیلَہ‘‘ اور ’’حَام‘‘ وغیرہ پس ایک کی طرف اشارہ کر کے تمام مراد لیے ہیں۔ گمراہی کی یہ قسم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال ٹھہرانے کی مقتضی ہے اور اسی میں فاسد اعتقادات اور ظلم و جور پر مبنی احکام بھی شامل ہیں جو بڑی گمراہیوں میں سے ہیں۔﴿ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُغَيِّرُنَّ۠ خَلۡقَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں انھیں حکم دوں گا پس وہ اللہ کی بنائی ہوئی صورتیں بدلیں گے‘‘ اس کا اطلاق ظاہری تخلیق پر ہوتا ہے یعنی گودنا، دانتوں کو باریک کرنا، چہرے سے بال اکھیڑنا اور دانتوں کے درمیان فاصلہ بنانا ان تمام چیزوں کے ذریعے سے شیطان نے لوگوں کو گمراہ کیا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدل ڈالا۔ لوگوں کی یہ حرکتیں اس بات کو متضمن ہیں کہ یہ لوگ اللہ کی پیدائش پر ناراض اور اس کی حکمت پر نکتہ چین ہیں۔ نیز ان کا اعتقاد ہے کہ وہ کام جو وہ اپنے ہاتھوں سے سرانجام دیتے ہیں وہ اللہ کی تخلیق سے بہتر ہے۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور تدبیر پر بھی راضی نہیں ہیں۔ شیطان کا یہ کام باطنی تخلیق کی تبدیلی کو بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حنیف بنا کر اچھی فطرت پر پیدا کیا ہے، ان میں قبول حق اور حق کو ترجیح دینے والوں کی فطرت تخلیق کی۔ شیاطین آئے اور انھوں نے ان کو اس خوبصورت تخلیق سے ہٹا دیا اور شر، شرک، کفر، فسق اور معصیت کو ان کے سامنے آراستہ کر دیا، اس لیے کہ پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ مگر اس کے والدین اسے یہودی نصرانی یا مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی محبت اور اس کی معرفت، وہ اس فطرت کو بدل ڈالتے ہیں۔ اس مقام پر شیاطین بندوں کا اسی طرح شکار کرتے ہیں جس طرح درندے اور بھیڑیئے ریوڑ سے الگ ہونے والی بھیڑ بکریوں کو پھاڑ کھاتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر فضل و کرم نہ ہوتا تو ان کا بھی وہی حشر ہوتا جو ان فتنہ زدہ لوگوں کا ہوا ہے۔ پس وہ بھی دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ جاتے اور انھیں ناکامی اور گھاٹے کا منہ دیکھنا پڑتا۔ان فتنہ زدہ لوگوں کا یہ حشر اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے اپنے رب اور اپنے پیدا کرنے والے سے منہ موڑ کر ایسے دشمن کو اپنا سرپرست بنا لیا جو ہر لحاظ سے ان سے برائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّؔتَّؔخِذِ الشَّيۡطٰنَ وَلِيًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّؔبِيۡنًا﴾ ’’جو شخص اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنائے گا وہ صریح نقصان میں ڈوبے گا۔‘‘ جو دین و دنیا کے خسارے میں پڑ جائے اور جسے اس کے گناہ اور نافرمانیاں ہلاک کر ڈالیں اس سے زیادہ واضح اور بڑا خسارہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ وہ ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم ہو کر ابدی بدبختی میں مبتلا ہو گئے۔اسی طرح جو کوئی اپنے آقا اور مولا ہی کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی رضا کو ترجیح دیتا ہے، وہ ہر لحاظ سے فائدے میں رہتا ہے، ہر طرح سے فلاح پاتا ہے دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرتا ہے اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ اے اللہ! جو چیز تو عطا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس چیز سے تو محروم کر دے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا۔ اے اللہ! جن لوگوں کی تو نے سرپرستی فرمائی ان لوگوں کی معیت میں ہماری بھی سرپرستی فرما۔ اور جن لوگوں کو تو نے عافیت سے نوازا ان کے ساتھ ہمیں بھی عافیت سے نواز۔ [120]﴿ يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ ﴾ ’’وہ ان کو وعدے دیتا ہے اور امیدیں دلاتا ہے۔‘‘ یعنی شیطان ان لوگوں سے وعدہ کرتا ہے اور ان کو امیدیں دلاتا ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ یہاں وعدہ میں وعید بھی شامل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلشَّيۡطٰنُ يَعِدُؔكُمُ الۡفَقۡرَ ﴾(البقرۃ : 2؍268) ’’شیطان تمھیں محتاجی سے ڈراتا ہے۔‘‘ وہ بندوں کو یہ وعید سناتا ہے کہ اگر وہ اللہ کے راستے میں خرچ کریں گے تو محتاج اور تنگ دست ہو جائیں گے۔ وہ انھیں خوف دلاتا ہے کہ انھوں نے اللہ کے راستے میں جہاد میں حصہ لیا تو وہ قتل ہو جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيۡطٰنُ يُخَوِّفُ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾(آل عمران : 3؍175) ’’یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے خوف دلاتا ہے۔‘‘جب بندے اللہ تعالیٰ کی مرضی کو ترجیح دیتے ہیں تو وہ انھیں ہر ممکن طریقے سے جو اس کی عقل میں آ سکے، ڈراتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بھلائی کا کام کرنے میں سست پڑ جاتے ہیں۔۔۔ اسی طرح شیطان انھیں جھوٹی اور باطل تمناؤں میں مبتلا کرتا ہے اور تحقیق کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ تمنائیں تو محض سراب تھیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [121]﴿ اُولٰٓىِٕكَ مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ ﴾ ’’ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘ یعنی جس نے شیطان کی اطاعت کی اور اپنے رب سے روگردانی کی وہ شیطان کے پیروکاروں اور اس کے گروہ میں شامل ہو گیا، ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ﴿ وَلَا يَجِدُوۡنَ عَنۡهَا مَحِيۡصًا ﴾ ’’اور وہاں سے بھاگنے اور گلوخلاصی کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔‘‘ بلکہ وہ جہنم میں ابد الآباد تک رہیں گے۔ بدبخت لوگوں یعنی اولیائے شیطان کا انجام کار بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خوش بخت لوگوں یعنی اولیائے رحمان کے انجام کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا:
4:120

يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيهِمۡۖ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ إِلَّا غُرُورًا

نہیں پکارتے وہ اس (اللہ) کے سوا مگر عورتوں کو اور نہیں پکارتے وہ مگر شیطان سرکش کو(117) لعنت کی اس پر اللہ نےاور کہا اس (شیطان) نے ، البتہ ضرور لوں گا میں تیرے بندوں میں سے ایک حصہ مقرر(118) اور ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو اور امیدیں دلاؤں گا ان کو اور ضرور حکم دوں گا میں ان کو پس چیریں گے وہ کان چوپایوں کے اور یقینا حکم دوں گا میں ان کو پس ضرور تبدیل کر لیں گے وہ بناوٹ اللہ کی اور جو بناتا ہے شیطان کو دوست سوائے اللہ کے، پس تحقیق خسارہ اٹھایا اس نے خسارہ ظاہر(119) وعدہ دیتا ہے وہ (شیطان) ان کو اور امیدیں دلاتا ہے انھیں اور نہیں وعدہ دیتا انھیں شیطان مگر دھوکے کا(120) یہ لوگ ہیں ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور نہیں پائیں گے وہ اس (جہنم) سے کوئی بھاگنے کی جگہ(121) [118,117] یعنی یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہیں سب مؤنث ہیں یعنی لوگ جن بتوں کو پوجتے ہیں وہ عورتوں جیسے ناموں سے موسوم ہیں۔ مثلاً ’’عزی‘‘ اور ’’مناۃ‘‘ وغیرہ۔ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ اسم اپنے مسمی پر دلالت کرتا ہے اور جب ان بتوں کے نام مؤنث اور ناقص ہیں تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان اسماء کے مسمیات بھی ناقص اور صفات کمال سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے کہ یہ بت کوئی چیز تخلیق کر سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں بلکہ وہ تو اپنی ذات تک کے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ اور اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ اپنی مدد کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ ان میں سماعت ہے نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت۔ جس کے یہ اوصاف ہوں وہ کیسے عبادت کا مستحق ہو سکتا ہے اور اس ہستی کے لیے اخلاص کو کیسے ترک کیا جا سکتا ہے جو اسمائے حسنی، صفات علیا، حمد و کمال، مجد و جلال، غلبہ و جمال، رحمت و احسان، تخلیق و تدبیر میں منفرد اور امر و تقدیر میں عظیم حکمت کی مالک ہے۔کیا یہ بدترین قباحت نہیں ہے جو ان ہستیوں کے نقص پر دلالت کرتی ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کی پرستش خساست و دناء ت کے اس انتہائی نچلے درجے پر پہنچی ہوئی ہے جس کا کوئی تصورکر سکتا ہے یا کوئی بیان کرنے والا بیان کر سکتا ہے؟ بایں ہمہ یہ لوگ جو ان ناقص بتوں کی عبادت کرتے ہیں محض ان کی شکل و صورت کی عبادت کرتے ہیں ورنہ درحقیقت وہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں جو ان کا دشمن ہے اور وہ ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت دور ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ملعون قرار دے کر اپنی رحمت سے بہت دور کر دیا ہے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کی رحمت سے دور کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر : 35؍6) ’’وہ تو اپنے پیروکاروں کے گروہ کو محض اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔‘‘اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو گمراہ کرنے، شر اور فساد کو ان کے لیے مزین کرنے کی شیطانی کوششوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان نے قسم کھا کر اپنے رب سے کہا ہے ﴿ لَاَتَّؔخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِكَ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا﴾ ’’میں ضرور لوں گا تیرے بندوں سے حصہ مقررہ‘‘ یعنی مقدر کیا ہوا حصہ۔ شیطان لعین کو علم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں کو گمراہ نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر اس کا کوئی زور نہیں چلتا۔ اس کا بس تو صرف اسی پر چلتا ہے جو اسے اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ترجیح دیتا ہے ایک اور مقام پر وہ قسم کھا کر کہتا ہے کہ وہ ضرور ان کو گمراہ کرے گا ﴿ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾(ص : 38؍82۔83) ’’میں ضرور ان سب کو بہکاتا رہوں گا سوائے ان کے جو تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔‘‘یہ شیطان خبیث کا خیال تھا جس کو اس نے نہایت جزم کے ساتھ ظاہر کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں اس کے وقوع کی خبر دی ہے ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ اِبۡلِيۡسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوۡهٗ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُوۡمِنِيۡنَ﴾(سبا : 34؍20) ’’اور ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا قول سچ کر دکھایا کہ اہل ایمان کے ایک گروہ کے سوا سب نے اس کی پیروی کی۔‘‘ [119] یہی وہ مقررہ حصہ ہے جس کے بارے میں شیطان نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ان سے ضرور حاصل کر کے رہے گا۔ اس نے بتا دیا ہے کہ وہ ان سے کیا چاہتا ہے اور ان کے بارے میں اس کے کیا مقاصد ہیں ﴿ وَّلَاُضِلَّنَّهُمۡ۠ ﴾ ’’اور میں انھیں گمراہ کرتا رہوں گا۔‘‘ یعنی میں انھیں صراط مستقیم سے بھٹکاؤں گا اور علم و عمل میں انھیں گمراہ کر کے رہوں گا۔ ﴿ وَلَاُمَنِّيَنَّهُمۡ ﴾ ’’اور انھیں امیدیں دلاتا رہوں گا۔‘‘ یعنی میں ان کو گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ امیدیں بھی دلاتا رہوں گا کہ انھیں وہ سب کچھ حاصل ہوگا جو ہدایت یافتہ لوگوں کو حاصل ہوتا ہے اور یہ عین فریب ہے۔ پس اس نے ان کو مجرد گمراہ کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے اس گمراہی کو ان کے سامنے آراستہ کیا جس میں وہ مبتلا ہوئے اور یہ ان کی برائی میں مزید اضافہ ہے کہ انھوں نے اہل جہنم کے اعمال کیے جو عذاب کے موجب ہیں اور سمجھتے رہے کہ یہ اعمال انھیں جنت میں لے جائیں گے۔ذرا یہود و نصاریٰ وغیرہ کا حال دیکھو، ان کا وہی رویہ ہے جس کی بابت اللہ نے خبر دی، انھوں نے کہا۔ ﴿ لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰؔى١ؕ تِلۡكَ اَمَانِيُّهُمۡ ﴾(البقرۃ : 2؍111) ’’کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا یہ ان کی محض باطل آرزوئیں ہیں۔‘‘ فرمایا: ﴿ كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمۡ﴾(الانعام : 6؍108) ’’اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے عمل کو ان کے سامنے آراستہ کر دیا ہے۔‘‘ اور فرمایا ﴿ قُلۡ هَلۡ نُنَبِّئُكُمۡ بِالۡاَخۡسَرِيۡنَ اَعۡمَالًاؕ۰۰ اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَهُمۡ يَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ يُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا ﴾(الکہف : 18؍103۔104) ’’کہہ دو کہ کیا ہم تمھیں بتائیں کہ اعمال کے لحاظ سے خسارے میں کون ہیں؟ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ منافقین کے بارے میں فرماتا ہے کہ قیامت کے روز وہ اہل ایمان سے کہیں گے ﴿ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ١ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَلٰكِنَّكُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ ﴾(الحدید : 57؍14) ’’کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟ اہل ایمان جواب دیں گے کیوں نہیں مگر تم نے اپنے تئیں فتنے میں ڈال لیا تھا اور ہمارے بارے میں حوادث زمانہ کے منتظر تھے اور تم شک میں مبتلا ہوئے۔ تمھیں آرزوؤں نے فریب میں مبتلا کیے رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا۔ اور دھوکے باز (شیطان)تمھیں اللہ کے بارے میں فریب دیتا رہا۔‘‘﴿ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُبَتِّكُنَّ۠ اٰذَانَ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’اور یہ حکم دیتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں۔‘‘ یعنی میں ان کو مویشیوں کے کان کاٹنے کا حکم دوں گا (تاکہ علامت بن جائے کہ یہ غیر اللہ کے نام پر چھوڑا ہوا جانور ہے)مثلاً ’’بَحِیرَہ‘‘ ’’سَائِبَہ‘‘ ’’وَصِیلَہ‘‘ اور ’’حَام‘‘ وغیرہ پس ایک کی طرف اشارہ کر کے تمام مراد لیے ہیں۔ گمراہی کی یہ قسم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال ٹھہرانے کی مقتضی ہے اور اسی میں فاسد اعتقادات اور ظلم و جور پر مبنی احکام بھی شامل ہیں جو بڑی گمراہیوں میں سے ہیں۔﴿ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُغَيِّرُنَّ۠ خَلۡقَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں انھیں حکم دوں گا پس وہ اللہ کی بنائی ہوئی صورتیں بدلیں گے‘‘ اس کا اطلاق ظاہری تخلیق پر ہوتا ہے یعنی گودنا، دانتوں کو باریک کرنا، چہرے سے بال اکھیڑنا اور دانتوں کے درمیان فاصلہ بنانا ان تمام چیزوں کے ذریعے سے شیطان نے لوگوں کو گمراہ کیا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدل ڈالا۔ لوگوں کی یہ حرکتیں اس بات کو متضمن ہیں کہ یہ لوگ اللہ کی پیدائش پر ناراض اور اس کی حکمت پر نکتہ چین ہیں۔ نیز ان کا اعتقاد ہے کہ وہ کام جو وہ اپنے ہاتھوں سے سرانجام دیتے ہیں وہ اللہ کی تخلیق سے بہتر ہے۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور تدبیر پر بھی راضی نہیں ہیں۔ شیطان کا یہ کام باطنی تخلیق کی تبدیلی کو بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حنیف بنا کر اچھی فطرت پر پیدا کیا ہے، ان میں قبول حق اور حق کو ترجیح دینے والوں کی فطرت تخلیق کی۔ شیاطین آئے اور انھوں نے ان کو اس خوبصورت تخلیق سے ہٹا دیا اور شر، شرک، کفر، فسق اور معصیت کو ان کے سامنے آراستہ کر دیا، اس لیے کہ پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ مگر اس کے والدین اسے یہودی نصرانی یا مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی محبت اور اس کی معرفت، وہ اس فطرت کو بدل ڈالتے ہیں۔ اس مقام پر شیاطین بندوں کا اسی طرح شکار کرتے ہیں جس طرح درندے اور بھیڑیئے ریوڑ سے الگ ہونے والی بھیڑ بکریوں کو پھاڑ کھاتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر فضل و کرم نہ ہوتا تو ان کا بھی وہی حشر ہوتا جو ان فتنہ زدہ لوگوں کا ہوا ہے۔ پس وہ بھی دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ جاتے اور انھیں ناکامی اور گھاٹے کا منہ دیکھنا پڑتا۔ان فتنہ زدہ لوگوں کا یہ حشر اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے اپنے رب اور اپنے پیدا کرنے والے سے منہ موڑ کر ایسے دشمن کو اپنا سرپرست بنا لیا جو ہر لحاظ سے ان سے برائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّؔتَّؔخِذِ الشَّيۡطٰنَ وَلِيًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّؔبِيۡنًا﴾ ’’جو شخص اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنائے گا وہ صریح نقصان میں ڈوبے گا۔‘‘ جو دین و دنیا کے خسارے میں پڑ جائے اور جسے اس کے گناہ اور نافرمانیاں ہلاک کر ڈالیں اس سے زیادہ واضح اور بڑا خسارہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ وہ ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم ہو کر ابدی بدبختی میں مبتلا ہو گئے۔اسی طرح جو کوئی اپنے آقا اور مولا ہی کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی رضا کو ترجیح دیتا ہے، وہ ہر لحاظ سے فائدے میں رہتا ہے، ہر طرح سے فلاح پاتا ہے دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرتا ہے اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ اے اللہ! جو چیز تو عطا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس چیز سے تو محروم کر دے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا۔ اے اللہ! جن لوگوں کی تو نے سرپرستی فرمائی ان لوگوں کی معیت میں ہماری بھی سرپرستی فرما۔ اور جن لوگوں کو تو نے عافیت سے نوازا ان کے ساتھ ہمیں بھی عافیت سے نواز۔ [120]﴿ يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ ﴾ ’’وہ ان کو وعدے دیتا ہے اور امیدیں دلاتا ہے۔‘‘ یعنی شیطان ان لوگوں سے وعدہ کرتا ہے اور ان کو امیدیں دلاتا ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ یہاں وعدہ میں وعید بھی شامل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلشَّيۡطٰنُ يَعِدُؔكُمُ الۡفَقۡرَ ﴾(البقرۃ : 2؍268) ’’شیطان تمھیں محتاجی سے ڈراتا ہے۔‘‘ وہ بندوں کو یہ وعید سناتا ہے کہ اگر وہ اللہ کے راستے میں خرچ کریں گے تو محتاج اور تنگ دست ہو جائیں گے۔ وہ انھیں خوف دلاتا ہے کہ انھوں نے اللہ کے راستے میں جہاد میں حصہ لیا تو وہ قتل ہو جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيۡطٰنُ يُخَوِّفُ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾(آل عمران : 3؍175) ’’یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے خوف دلاتا ہے۔‘‘جب بندے اللہ تعالیٰ کی مرضی کو ترجیح دیتے ہیں تو وہ انھیں ہر ممکن طریقے سے جو اس کی عقل میں آ سکے، ڈراتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بھلائی کا کام کرنے میں سست پڑ جاتے ہیں۔۔۔ اسی طرح شیطان انھیں جھوٹی اور باطل تمناؤں میں مبتلا کرتا ہے اور تحقیق کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ تمنائیں تو محض سراب تھیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [121]﴿ اُولٰٓىِٕكَ مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ ﴾ ’’ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘ یعنی جس نے شیطان کی اطاعت کی اور اپنے رب سے روگردانی کی وہ شیطان کے پیروکاروں اور اس کے گروہ میں شامل ہو گیا، ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ﴿ وَلَا يَجِدُوۡنَ عَنۡهَا مَحِيۡصًا ﴾ ’’اور وہاں سے بھاگنے اور گلوخلاصی کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔‘‘ بلکہ وہ جہنم میں ابد الآباد تک رہیں گے۔ بدبخت لوگوں یعنی اولیائے شیطان کا انجام کار بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خوش بخت لوگوں یعنی اولیائے رحمان کے انجام کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا:
4:121

أُوْلَـٰٓئِكَ مَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنۡهَا مَحِيصٗا

نہیں پکارتے وہ اس (اللہ) کے سوا مگر عورتوں کو اور نہیں پکارتے وہ مگر شیطان سرکش کو(117) لعنت کی اس پر اللہ نےاور کہا اس (شیطان) نے ، البتہ ضرور لوں گا میں تیرے بندوں میں سے ایک حصہ مقرر(118) اور ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو اور امیدیں دلاؤں گا ان کو اور ضرور حکم دوں گا میں ان کو پس چیریں گے وہ کان چوپایوں کے اور یقینا حکم دوں گا میں ان کو پس ضرور تبدیل کر لیں گے وہ بناوٹ اللہ کی اور جو بناتا ہے شیطان کو دوست سوائے اللہ کے، پس تحقیق خسارہ اٹھایا اس نے خسارہ ظاہر(119) وعدہ دیتا ہے وہ (شیطان) ان کو اور امیدیں دلاتا ہے انھیں اور نہیں وعدہ دیتا انھیں شیطان مگر دھوکے کا(120) یہ لوگ ہیں ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور نہیں پائیں گے وہ اس (جہنم) سے کوئی بھاگنے کی جگہ(121) [118,117] یعنی یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہیں سب مؤنث ہیں یعنی لوگ جن بتوں کو پوجتے ہیں وہ عورتوں جیسے ناموں سے موسوم ہیں۔ مثلاً ’’عزی‘‘ اور ’’مناۃ‘‘ وغیرہ۔ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ اسم اپنے مسمی پر دلالت کرتا ہے اور جب ان بتوں کے نام مؤنث اور ناقص ہیں تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان اسماء کے مسمیات بھی ناقص اور صفات کمال سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر فرمایا ہے کہ یہ بت کوئی چیز تخلیق کر سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں نہ وہ اپنے عبادت گزاروں کی کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں بلکہ وہ تو اپنی ذات تک کے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ اور اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ اپنی مدد کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ ان میں سماعت ہے نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت۔ جس کے یہ اوصاف ہوں وہ کیسے عبادت کا مستحق ہو سکتا ہے اور اس ہستی کے لیے اخلاص کو کیسے ترک کیا جا سکتا ہے جو اسمائے حسنی، صفات علیا، حمد و کمال، مجد و جلال، غلبہ و جمال، رحمت و احسان، تخلیق و تدبیر میں منفرد اور امر و تقدیر میں عظیم حکمت کی مالک ہے۔کیا یہ بدترین قباحت نہیں ہے جو ان ہستیوں کے نقص پر دلالت کرتی ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان کی پرستش خساست و دناء ت کے اس انتہائی نچلے درجے پر پہنچی ہوئی ہے جس کا کوئی تصورکر سکتا ہے یا کوئی بیان کرنے والا بیان کر سکتا ہے؟ بایں ہمہ یہ لوگ جو ان ناقص بتوں کی عبادت کرتے ہیں محض ان کی شکل و صورت کی عبادت کرتے ہیں ورنہ درحقیقت وہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں جو ان کا دشمن ہے اور وہ ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بہت دور ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ملعون قرار دے کر اپنی رحمت سے بہت دور کر دیا ہے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کی رحمت سے دور کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر : 35؍6) ’’وہ تو اپنے پیروکاروں کے گروہ کو محض اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔‘‘اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو گمراہ کرنے، شر اور فساد کو ان کے لیے مزین کرنے کی شیطانی کوششوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ شیطان نے قسم کھا کر اپنے رب سے کہا ہے ﴿ لَاَتَّؔخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِكَ نَصِيۡبًا مَّفۡرُوۡضًا﴾ ’’میں ضرور لوں گا تیرے بندوں سے حصہ مقررہ‘‘ یعنی مقدر کیا ہوا حصہ۔ شیطان لعین کو علم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں کو گمراہ نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں پر اس کا کوئی زور نہیں چلتا۔ اس کا بس تو صرف اسی پر چلتا ہے جو اسے اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ترجیح دیتا ہے ایک اور مقام پر وہ قسم کھا کر کہتا ہے کہ وہ ضرور ان کو گمراہ کرے گا ﴿ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾(ص : 38؍82۔83) ’’میں ضرور ان سب کو بہکاتا رہوں گا سوائے ان کے جو تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔‘‘یہ شیطان خبیث کا خیال تھا جس کو اس نے نہایت جزم کے ساتھ ظاہر کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں اس کے وقوع کی خبر دی ہے ﴿وَلَقَدۡ صَدَّقَ عَلَيۡهِمۡ اِبۡلِيۡسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوۡهٗ اِلَّا فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُوۡمِنِيۡنَ﴾(سبا : 34؍20) ’’اور ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا قول سچ کر دکھایا کہ اہل ایمان کے ایک گروہ کے سوا سب نے اس کی پیروی کی۔‘‘ [119] یہی وہ مقررہ حصہ ہے جس کے بارے میں شیطان نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ان سے ضرور حاصل کر کے رہے گا۔ اس نے بتا دیا ہے کہ وہ ان سے کیا چاہتا ہے اور ان کے بارے میں اس کے کیا مقاصد ہیں ﴿ وَّلَاُضِلَّنَّهُمۡ۠ ﴾ ’’اور میں انھیں گمراہ کرتا رہوں گا۔‘‘ یعنی میں انھیں صراط مستقیم سے بھٹکاؤں گا اور علم و عمل میں انھیں گمراہ کر کے رہوں گا۔ ﴿ وَلَاُمَنِّيَنَّهُمۡ ﴾ ’’اور انھیں امیدیں دلاتا رہوں گا۔‘‘ یعنی میں ان کو گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ امیدیں بھی دلاتا رہوں گا کہ انھیں وہ سب کچھ حاصل ہوگا جو ہدایت یافتہ لوگوں کو حاصل ہوتا ہے اور یہ عین فریب ہے۔ پس اس نے ان کو مجرد گمراہ کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے اس گمراہی کو ان کے سامنے آراستہ کیا جس میں وہ مبتلا ہوئے اور یہ ان کی برائی میں مزید اضافہ ہے کہ انھوں نے اہل جہنم کے اعمال کیے جو عذاب کے موجب ہیں اور سمجھتے رہے کہ یہ اعمال انھیں جنت میں لے جائیں گے۔ذرا یہود و نصاریٰ وغیرہ کا حال دیکھو، ان کا وہی رویہ ہے جس کی بابت اللہ نے خبر دی، انھوں نے کہا۔ ﴿ لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰؔى١ؕ تِلۡكَ اَمَانِيُّهُمۡ ﴾(البقرۃ : 2؍111) ’’کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا یہ ان کی محض باطل آرزوئیں ہیں۔‘‘ فرمایا: ﴿ كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمۡ﴾(الانعام : 6؍108) ’’اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے عمل کو ان کے سامنے آراستہ کر دیا ہے۔‘‘ اور فرمایا ﴿ قُلۡ هَلۡ نُنَبِّئُكُمۡ بِالۡاَخۡسَرِيۡنَ اَعۡمَالًاؕ۰۰ اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَهُمۡ يَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ يُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا ﴾(الکہف : 18؍103۔104) ’’کہہ دو کہ کیا ہم تمھیں بتائیں کہ اعمال کے لحاظ سے خسارے میں کون ہیں؟ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ منافقین کے بارے میں فرماتا ہے کہ قیامت کے روز وہ اہل ایمان سے کہیں گے ﴿ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ١ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَلٰكِنَّكُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ ﴾(الحدید : 57؍14) ’’کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟ اہل ایمان جواب دیں گے کیوں نہیں مگر تم نے اپنے تئیں فتنے میں ڈال لیا تھا اور ہمارے بارے میں حوادث زمانہ کے منتظر تھے اور تم شک میں مبتلا ہوئے۔ تمھیں آرزوؤں نے فریب میں مبتلا کیے رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا۔ اور دھوکے باز (شیطان)تمھیں اللہ کے بارے میں فریب دیتا رہا۔‘‘﴿ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُبَتِّكُنَّ۠ اٰذَانَ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’اور یہ حکم دیتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں۔‘‘ یعنی میں ان کو مویشیوں کے کان کاٹنے کا حکم دوں گا (تاکہ علامت بن جائے کہ یہ غیر اللہ کے نام پر چھوڑا ہوا جانور ہے)مثلاً ’’بَحِیرَہ‘‘ ’’سَائِبَہ‘‘ ’’وَصِیلَہ‘‘ اور ’’حَام‘‘ وغیرہ پس ایک کی طرف اشارہ کر کے تمام مراد لیے ہیں۔ گمراہی کی یہ قسم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے اور حرام کردہ چیزوں کو حلال ٹھہرانے کی مقتضی ہے اور اسی میں فاسد اعتقادات اور ظلم و جور پر مبنی احکام بھی شامل ہیں جو بڑی گمراہیوں میں سے ہیں۔﴿ وَلَاٰمُرَنَّهُمۡ فَلَيُغَيِّرُنَّ۠ خَلۡقَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں انھیں حکم دوں گا پس وہ اللہ کی بنائی ہوئی صورتیں بدلیں گے‘‘ اس کا اطلاق ظاہری تخلیق پر ہوتا ہے یعنی گودنا، دانتوں کو باریک کرنا، چہرے سے بال اکھیڑنا اور دانتوں کے درمیان فاصلہ بنانا ان تمام چیزوں کے ذریعے سے شیطان نے لوگوں کو گمراہ کیا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدل ڈالا۔ لوگوں کی یہ حرکتیں اس بات کو متضمن ہیں کہ یہ لوگ اللہ کی پیدائش پر ناراض اور اس کی حکمت پر نکتہ چین ہیں۔ نیز ان کا اعتقاد ہے کہ وہ کام جو وہ اپنے ہاتھوں سے سرانجام دیتے ہیں وہ اللہ کی تخلیق سے بہتر ہے۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور تدبیر پر بھی راضی نہیں ہیں۔ شیطان کا یہ کام باطنی تخلیق کی تبدیلی کو بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حنیف بنا کر اچھی فطرت پر پیدا کیا ہے، ان میں قبول حق اور حق کو ترجیح دینے والوں کی فطرت تخلیق کی۔ شیاطین آئے اور انھوں نے ان کو اس خوبصورت تخلیق سے ہٹا دیا اور شر، شرک، کفر، فسق اور معصیت کو ان کے سامنے آراستہ کر دیا، اس لیے کہ پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ مگر اس کے والدین اسے یہودی نصرانی یا مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی محبت اور اس کی معرفت، وہ اس فطرت کو بدل ڈالتے ہیں۔ اس مقام پر شیاطین بندوں کا اسی طرح شکار کرتے ہیں جس طرح درندے اور بھیڑیئے ریوڑ سے الگ ہونے والی بھیڑ بکریوں کو پھاڑ کھاتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر فضل و کرم نہ ہوتا تو ان کا بھی وہی حشر ہوتا جو ان فتنہ زدہ لوگوں کا ہوا ہے۔ پس وہ بھی دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ جاتے اور انھیں ناکامی اور گھاٹے کا منہ دیکھنا پڑتا۔ان فتنہ زدہ لوگوں کا یہ حشر اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے اپنے رب اور اپنے پیدا کرنے والے سے منہ موڑ کر ایسے دشمن کو اپنا سرپرست بنا لیا جو ہر لحاظ سے ان سے برائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّؔتَّؔخِذِ الشَّيۡطٰنَ وَلِيًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّؔبِيۡنًا﴾ ’’جو شخص اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنائے گا وہ صریح نقصان میں ڈوبے گا۔‘‘ جو دین و دنیا کے خسارے میں پڑ جائے اور جسے اس کے گناہ اور نافرمانیاں ہلاک کر ڈالیں اس سے زیادہ واضح اور بڑا خسارہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ وہ ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم ہو کر ابدی بدبختی میں مبتلا ہو گئے۔اسی طرح جو کوئی اپنے آقا اور مولا ہی کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اس کی رضا کو ترجیح دیتا ہے، وہ ہر لحاظ سے فائدے میں رہتا ہے، ہر طرح سے فلاح پاتا ہے دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرتا ہے اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ اے اللہ! جو چیز تو عطا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس چیز سے تو محروم کر دے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا۔ اے اللہ! جن لوگوں کی تو نے سرپرستی فرمائی ان لوگوں کی معیت میں ہماری بھی سرپرستی فرما۔ اور جن لوگوں کو تو نے عافیت سے نوازا ان کے ساتھ ہمیں بھی عافیت سے نواز۔ [120]﴿ يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ ﴾ ’’وہ ان کو وعدے دیتا ہے اور امیدیں دلاتا ہے۔‘‘ یعنی شیطان ان لوگوں سے وعدہ کرتا ہے اور ان کو امیدیں دلاتا ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ یہاں وعدہ میں وعید بھی شامل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلشَّيۡطٰنُ يَعِدُؔكُمُ الۡفَقۡرَ ﴾(البقرۃ : 2؍268) ’’شیطان تمھیں محتاجی سے ڈراتا ہے۔‘‘ وہ بندوں کو یہ وعید سناتا ہے کہ اگر وہ اللہ کے راستے میں خرچ کریں گے تو محتاج اور تنگ دست ہو جائیں گے۔ وہ انھیں خوف دلاتا ہے کہ انھوں نے اللہ کے راستے میں جہاد میں حصہ لیا تو وہ قتل ہو جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيۡطٰنُ يُخَوِّفُ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾(آل عمران : 3؍175) ’’یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے خوف دلاتا ہے۔‘‘جب بندے اللہ تعالیٰ کی مرضی کو ترجیح دیتے ہیں تو وہ انھیں ہر ممکن طریقے سے جو اس کی عقل میں آ سکے، ڈراتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بھلائی کا کام کرنے میں سست پڑ جاتے ہیں۔۔۔ اسی طرح شیطان انھیں جھوٹی اور باطل تمناؤں میں مبتلا کرتا ہے اور تحقیق کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ تمنائیں تو محض سراب تھیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [121]﴿ اُولٰٓىِٕكَ مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ ﴾ ’’ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘ یعنی جس نے شیطان کی اطاعت کی اور اپنے رب سے روگردانی کی وہ شیطان کے پیروکاروں اور اس کے گروہ میں شامل ہو گیا، ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ﴿ وَلَا يَجِدُوۡنَ عَنۡهَا مَحِيۡصًا ﴾ ’’اور وہاں سے بھاگنے اور گلوخلاصی کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔‘‘ بلکہ وہ جہنم میں ابد الآباد تک رہیں گے۔ بدبخت لوگوں یعنی اولیائے شیطان کا انجام کار بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خوش بخت لوگوں یعنی اولیائے رحمان کے انجام کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا:
4:122

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٗاۚ وَمَنۡ أَصۡدَقُ مِنَ ٱللَّهِ قِيلٗا

اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک عنقریب ہم داخل کریں گے ان کو ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، وعدہ ہے اللہ کا سچااور کون زیادہ سچا ہے اللہ سے قول (و قرار) میں؟(122) [122] یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر علم، تصدیق اور اقرار کے ساتھ اس طرح ایمان لائیں جس طرح ان کو حکم دیا گیا ہے۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور نیک کام کرتے رہے۔‘‘ یعنی وہ اعمال جو ایمان سے جنم لیتے ہیں اور یہ تمام مامورات کو شامل ہے، چاہے وہ فرض ہوں یا مستحب، ان کا تعلق اعمال قلب سے ہو، اعمال لسان سے ہو اور بقیہ اعمال جوارح سے۔ ہر شخص کے لیے اس کے حال و مقام، اس کے ایمان اور عمل صالح کی تکمیل کے مطابق ثواب مرتب ہوتا ہے۔ ایمان و عمل میں جو کوتاہی واقع ہوتی ہے اس پر مترتب ہونے والا ثواب اس کی تلافی کر دیتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت کے مطابق ہوتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کا سچا وعدہ ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسولﷺکے تتبع سے معلوم کیا جاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس پر مترتب ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’ہم انھیں ان باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں‘‘ جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جن کو اس سے پہلے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کس بشر کے دل میں ان کے تصور کا گزر ہوا ہے۔ جنت میں مختلف انواع کے ماکولات، لذیذ قسم کے مشروبات، دلکش نظارے، حسین و جمیل بیویاں ، خوبصورت محل، آراستہ کیے ہوئے بالا خانے، پھل سے لدے ہوئے درخت، عجیب و غریب میوے، مسحور کن آوازیں، وافر نعمتیں، دوستوں کی مجلسیں اور جنت کے باغات میں اپنی یادوں کے تذکرے اور سب کچھ ہو گا۔ان سب سے اعلیٰ اور جلیل ترین نعمت جو جنت میں عطا ہو گی وہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا، روح کا اس کے قرب سے فیض یاب ہونا، آنکھوں سے اس کا دیدار کرنا اور کانوں سے اس کے خطاب کو سننا۔ یہ نعمت بندے کو ہر نعمت و مسرت فراموش کرا دے گی۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثبات و استقامت عطا نہ کی گئی ہو تو بندے خوشی سے اڑ جائیں اور فرحت و مسرت سے مر جائیں۔اللہ اللہ! کتنی شیریں ہو گی یہ نعمت اورکتنے بلند مرتبہ ہوں گے وہ انعامات جو رب کریم ان کو عطا کرے گا اور وہ بھلائی اور مسرت جو انھیں حاصل ہو گی۔ کوئی شخص ان کا وصف بیان نہیں کر سکتا اور ان تمام نعمتوں کا اتمام اور ان کی تکمیل یہ ہے کہ وہ ان عالی شان منازل میں ہمیشہ رہیں گے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيۡلًا ﴾ ’’اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، یہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور کون ہے جو اپنی بات میں اللہ سے بڑھ کر سچا ہے‘‘ اللہ عظیم نے سچ فرمایا ہے، اس کا قول اور اس کی بات سچائی کے بلند ترین مرتبے پر پہنچی ہوئی ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام سچا ہے اور اس کی خبر سچی ہے، اس لیے اس کا کلام جس چیز پر دلالت کرتا ہے وہ بھی اس کے مطابق اور سچائی کو متضمن ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے کلام سے مراد ہے۔اسی طرح رسول اللہﷺکا کلام سچا ہے اور سچائی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ رسول اللہﷺصرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے خبر دیتے ہیں اور آپ صرف اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے سے ہی کلام کرتے ہیں۔
4:123

لَّيۡسَ بِأَمَانِيِّكُمۡ وَلَآ أَمَانِيِّ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِۗ مَن يَعۡمَلۡ سُوٓءٗا يُجۡزَ بِهِۦ وَلَا يَجِدۡ لَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيّٗا وَلَا نَصِيرٗا

نہیں ہے (مدار) تمھاری خواہشات پر اور نہ خواہشات پر اہل کتاب کی(بلکہ) جو کوئی عمل کرے گا برا، بدلہ دیا جائے گا ساتھ اس کے اور نہیں پائے گا وہ سوائے اللہ کے کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار(123) اور جو کوئی عمل کرے گا نیک مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو، پس یہ لوگ داخل ہوں گے جنت میں اور نہ ظلم کیے جائیں گے وہ تل برابر (بھی)(124) [123] یعنی معاملہ، نجات اور تزکیہ تمھاری اور اہل کتاب کی خواہشات پر مبنی نہیں۔ (اَلْاَمَانِيِّ) سے مراد ایسی خواہشات اور تمنائیں ہیں جو عمل سے عاری اور محض دعویٰ ہوں۔ اگر ان تمناؤں کا مقابلہ ان جیسی دیگر تمناؤں سے کیا جائے تو یہ ان کی جنس میں شمار ہوں گی۔ ہر امر میں تمنا اور آرزو کا یہی معاملہ ہے۔ تب ایمان اور ابدی سعادت محض خواہشات اور آرزوؤں سے کیسے حاصل ہو سکتی ہے؟ اہل کتاب کی جھوٹی خواہشات اور تمناؤں کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ کر چکا ہے، وہ کہا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالُوۡا لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰؔى١ؕ تِلۡكَ اَمَانِيُّهُمۡ ﴾(البقرۃ : 2؍111) ’’یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا یہ ان کی محض باطل آرزوئیں ہیں۔‘‘ یہ تو تھے اہل کتاب، اور دیگر لوگ جو کسی کتاب اور کسی رسول کی طرف منسوب نہیں۔ ان کی آرزوئیں تو بدرجہ اولیٰ باطل ہیں۔اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے کامل عدل و انصاف کی بنا پر ان لوگوں کو بھی اس دائرے میں شامل کیا ہے جو اپنے آپ کو اسلام سے منسوب کرتے ہیں۔ اگر انسان اپنے دعویٰ کی صحت پر دلیل و برہان فراہم نہ کرے تو کسی بھی دین کی طرف مجرد انتساب کسی کام نہیں آتا۔ اعمال دعوے کی تصدیق یا تکذیب کرتے ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًؔا يُّجۡزَ بِهٖ ﴾ ’’جو برائی کرے گا اس کی سزا پائے گا‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ اصول تمام عاملین کو شامل ہے کیونکہ (سوء) ’’برائی‘‘ کا اطلاق چھوٹے یا بڑے ہر قسم کے گناہ پر ہوتا ہے اسی طرح ’’جزا‘‘ میں تھوڑی یا زیادہ، دنیاوی یا اخروی ہر قسم کی جزا شامل ہے۔اس مقام پر لوگ بے شمار درجات میں منقسم ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے نیک (یا برے) اعمال بہت کم ہوں گے اور کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے نیک (یا برے) اعمال بہت زیادہ ہوں گے۔ پس جن کے اعمال سارے کے سارے برائی پر مشتمل ہوں گے اور ایسے لوگ صرف کافر ہی ہوں گے جب ان میں سے کوئی توبہ کیے بغیر مر جائے تو اس کی جزا یہ ہو گی کہ وہ دردناک عذاب میں ہمیشہ رہے گا اور جس کے اعمال نیک ہوں گے اور وہ اپنے غالب احوال میں درست طرز عمل اپنانے والا ہو گا، البتہ کبھی کبھار اس سے چھوٹے موٹے گناہ صادر ہو جاتے رہے ہوں گے تو اس کو اپنے بدن، قلب، اپنے محبوب شخص یا مال و منال میں جو رنج و غم اور اذیت و الم پہنچتے ہیں تو یہ تکالیف بھی اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم سے اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ ان دو حالتوں کے درمیان بہت سے مراتب ہیں۔عام برے عمل کی یہ جزا صرف ان لوگوں سے مخصوص ہے جو توبہ نہیں کرتے، کیونکہ گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس کا کوئی گناہ نہ ہو۔ جیسا کہ نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿ وَلَا يَجِدۡ لَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہیں پائے گا وہ اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار‘‘ یہ اس وہم کے ازالہ کے لیے ہے کہ شاید وہ شخص جو اپنے (برے) عمل پر بدلے کا مستحق ہے، یہ زعم رکھتا ہو کہ کبھی اس کا کوئی حمایتی یا مددگار یا کوئی سفارشی اس سے عذاب کو دور کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی نفی کی ہے، اس کا کوئی حمایتی نہیں ہو گا جو اس کے لیے اس کا مطلوب حاصل کر سکے اور نہ اس کا کوئی مددگار ہو گا جو اس کا ڈر دور کر سکے سوائے اس کے رب اور مالک کے۔ [124]﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’جونیک اعمال کرے‘‘ اس میں تمام اعمال قلب اور اعمال بدن شامل ہیں۔ اور عمل کرنے والوں میں جن و انس، چھوٹا بڑا اور مرد و عورت سب داخل ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ مِنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ ﴾ ’’مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو‘‘ ایمان تمام اعمال کی قبولیت کے لیے اولین شرط ہے۔ کوئی عمل اس وقت تک نیک ہو سکتا ہے نہ قبول اور نہ اس پر ثواب مترتب اور نہ وہ کسی عذاب سے بچا سکتا ہے جب تک کہ عمل کرنے والا مومن نہ ہو۔ ایمان کے بغیر اعمال اس درخت کی شاخوں کی مانند ہیں جس کی جڑ کاٹ دی گئی ہو اور اس عمارت کی مانند ہیں جسے پانی کی موج پر تعمیر کیا گیا ہو۔ ایمان درحقیقت وہ اصل، اساس اور قاعدہ ہے جس پر ہر چیز کی بنیاد ہے اس قید کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے ہر عمل جو مطلقا بیان کیا گیا ہو وہ ایمان کی قید سے مقید ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’تو ایسے لوگ‘‘ یعنی وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کے جامع ہیں ﴿ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘ ایسی جنت میں داخل ہوں گے جو ان نعمتوں پر مشتمل ہو گی جنھیں نفس چاہتے ہیں اور آنکھیں جن سے لذت حاصل کرتی ہیں ﴿ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ نَقِيۡرًا ﴾ ’’اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔‘‘ ان کے اعمال خیر میں ذرہ بھر بھی حق تلفی نہ ہو گی۔ بلکہ وہ ان اعمال کا پورا پورا، وافر اور کئی گنا اجر پائیں گے۔
4:124

وَمَن يَعۡمَلۡ مِنَ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ مِن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَأُوْلَـٰٓئِكَ يَدۡخُلُونَ ٱلۡجَنَّةَ وَلَا يُظۡلَمُونَ نَقِيرٗا

نہیں ہے (مدار) تمھاری خواہشات پر اور نہ خواہشات پر اہل کتاب کی(بلکہ) جو کوئی عمل کرے گا برا، بدلہ دیا جائے گا ساتھ اس کے اور نہیں پائے گا وہ سوائے اللہ کے کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار(123) اور جو کوئی عمل کرے گا نیک مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو، پس یہ لوگ داخل ہوں گے جنت میں اور نہ ظلم کیے جائیں گے وہ تل برابر (بھی)(124) [123] یعنی معاملہ، نجات اور تزکیہ تمھاری اور اہل کتاب کی خواہشات پر مبنی نہیں۔ (اَلْاَمَانِيِّ) سے مراد ایسی خواہشات اور تمنائیں ہیں جو عمل سے عاری اور محض دعویٰ ہوں۔ اگر ان تمناؤں کا مقابلہ ان جیسی دیگر تمناؤں سے کیا جائے تو یہ ان کی جنس میں شمار ہوں گی۔ ہر امر میں تمنا اور آرزو کا یہی معاملہ ہے۔ تب ایمان اور ابدی سعادت محض خواہشات اور آرزوؤں سے کیسے حاصل ہو سکتی ہے؟ اہل کتاب کی جھوٹی خواہشات اور تمناؤں کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ کر چکا ہے، وہ کہا کرتے تھے۔ ﴿ وَقَالُوۡا لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰؔى١ؕ تِلۡكَ اَمَانِيُّهُمۡ ﴾(البقرۃ : 2؍111) ’’یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا یہ ان کی محض باطل آرزوئیں ہیں۔‘‘ یہ تو تھے اہل کتاب، اور دیگر لوگ جو کسی کتاب اور کسی رسول کی طرف منسوب نہیں۔ ان کی آرزوئیں تو بدرجہ اولیٰ باطل ہیں۔اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے کامل عدل و انصاف کی بنا پر ان لوگوں کو بھی اس دائرے میں شامل کیا ہے جو اپنے آپ کو اسلام سے منسوب کرتے ہیں۔ اگر انسان اپنے دعویٰ کی صحت پر دلیل و برہان فراہم نہ کرے تو کسی بھی دین کی طرف مجرد انتساب کسی کام نہیں آتا۔ اعمال دعوے کی تصدیق یا تکذیب کرتے ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًؔا يُّجۡزَ بِهٖ ﴾ ’’جو برائی کرے گا اس کی سزا پائے گا‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ اصول تمام عاملین کو شامل ہے کیونکہ (سوء) ’’برائی‘‘ کا اطلاق چھوٹے یا بڑے ہر قسم کے گناہ پر ہوتا ہے اسی طرح ’’جزا‘‘ میں تھوڑی یا زیادہ، دنیاوی یا اخروی ہر قسم کی جزا شامل ہے۔اس مقام پر لوگ بے شمار درجات میں منقسم ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے نیک (یا برے) اعمال بہت کم ہوں گے اور کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے نیک (یا برے) اعمال بہت زیادہ ہوں گے۔ پس جن کے اعمال سارے کے سارے برائی پر مشتمل ہوں گے اور ایسے لوگ صرف کافر ہی ہوں گے جب ان میں سے کوئی توبہ کیے بغیر مر جائے تو اس کی جزا یہ ہو گی کہ وہ دردناک عذاب میں ہمیشہ رہے گا اور جس کے اعمال نیک ہوں گے اور وہ اپنے غالب احوال میں درست طرز عمل اپنانے والا ہو گا، البتہ کبھی کبھار اس سے چھوٹے موٹے گناہ صادر ہو جاتے رہے ہوں گے تو اس کو اپنے بدن، قلب، اپنے محبوب شخص یا مال و منال میں جو رنج و غم اور اذیت و الم پہنچتے ہیں تو یہ تکالیف بھی اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم سے اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ ان دو حالتوں کے درمیان بہت سے مراتب ہیں۔عام برے عمل کی یہ جزا صرف ان لوگوں سے مخصوص ہے جو توبہ نہیں کرتے، کیونکہ گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس کا کوئی گناہ نہ ہو۔ جیسا کہ نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿ وَلَا يَجِدۡ لَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’اور نہیں پائے گا وہ اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار‘‘ یہ اس وہم کے ازالہ کے لیے ہے کہ شاید وہ شخص جو اپنے (برے) عمل پر بدلے کا مستحق ہے، یہ زعم رکھتا ہو کہ کبھی اس کا کوئی حمایتی یا مددگار یا کوئی سفارشی اس سے عذاب کو دور کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی نفی کی ہے، اس کا کوئی حمایتی نہیں ہو گا جو اس کے لیے اس کا مطلوب حاصل کر سکے اور نہ اس کا کوئی مددگار ہو گا جو اس کا ڈر دور کر سکے سوائے اس کے رب اور مالک کے۔ [124]﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’جونیک اعمال کرے‘‘ اس میں تمام اعمال قلب اور اعمال بدن شامل ہیں۔ اور عمل کرنے والوں میں جن و انس، چھوٹا بڑا اور مرد و عورت سب داخل ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿ مِنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ ﴾ ’’مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو‘‘ ایمان تمام اعمال کی قبولیت کے لیے اولین شرط ہے۔ کوئی عمل اس وقت تک نیک ہو سکتا ہے نہ قبول اور نہ اس پر ثواب مترتب اور نہ وہ کسی عذاب سے بچا سکتا ہے جب تک کہ عمل کرنے والا مومن نہ ہو۔ ایمان کے بغیر اعمال اس درخت کی شاخوں کی مانند ہیں جس کی جڑ کاٹ دی گئی ہو اور اس عمارت کی مانند ہیں جسے پانی کی موج پر تعمیر کیا گیا ہو۔ ایمان درحقیقت وہ اصل، اساس اور قاعدہ ہے جس پر ہر چیز کی بنیاد ہے اس قید کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے ہر عمل جو مطلقا بیان کیا گیا ہو وہ ایمان کی قید سے مقید ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’تو ایسے لوگ‘‘ یعنی وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح کے جامع ہیں ﴿ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘ ایسی جنت میں داخل ہوں گے جو ان نعمتوں پر مشتمل ہو گی جنھیں نفس چاہتے ہیں اور آنکھیں جن سے لذت حاصل کرتی ہیں ﴿ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ نَقِيۡرًا ﴾ ’’اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔‘‘ ان کے اعمال خیر میں ذرہ بھر بھی حق تلفی نہ ہو گی۔ بلکہ وہ ان اعمال کا پورا پورا، وافر اور کئی گنا اجر پائیں گے۔
4:125

وَمَنۡ أَحۡسَنُ دِينٗا مِّمَّنۡ أَسۡلَمَ وَجۡهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحۡسِنٞ وَٱتَّبَعَ مِلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۗ وَٱتَّخَذَ ٱللَّهُ إِبۡرَٰهِيمَ خَلِيلٗا

اور کون زیادہ اچھا ہے دین میں اس شخص سے جس نے جھکا دیا، اپنا چہرہ اللہ کے لیےاور وہ نیکی کرنے والا (بھی) ہو اور پیروی کرے وہ ملت ابراہیم کی جو صرف حق کا پرستار تھا۔ اور بنا لیا اللہ نے ابراہیم کو خاص دوست(125) [125] یعنی اس شخص کے دین سے بہتر کسی کا دین نہیں جس نے اخلاص اور اللہ کی طرف تمام اعضاء کی توجہ کو جمع کر لیا ہے۔ یہاں اخلاص سے مراد ہے چہرے کا اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جانا جو قلب کے خشوع، اس کی توجہ، اس کی انابت اور اس کے اخلاص پر دلالت کرتا ہے۔ اس اخلاص اور فرماں برداری کے ساتھ ساتھ ﴿ وَهُوَ مُحۡسِنٌ ﴾ ’’اور وہ نیکوکار بھی ہے۔‘‘ وہ اس شریعت کا متبع ہو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو مبعوث فرمایا، اپنی کتابیں نازل کیں اور اسے اپنے خاص بندوں اور ان کے متبعین کے لیے لائحہ عمل قرار دیا۔ ﴿ وَّاتَّبَعَ مِلَّةَ اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ ’’اور ابراہیم(u)کے دین کا پیرو ہے۔‘‘ یعنی اس نے حضرت ابراہیم کے دین اور شریعت کی اتباع کی ﴿ حَنِيۡفًا ﴾ ’’یکسو ہوکر‘‘ یعنی شرک کو چھوڑ کر توحید کو اپنایا، مخلوق سے توجہ ہٹا کر خالق کی طرف توجہ کی ﴿وَاتَّؔخَذَ اللّٰهُ اِبۡرٰهِيۡمَ خَلِيۡلًا ﴾ ’’اور اللہ نے ابراہیم کو خلیل بنایا‘‘ (خُلّتْ) محبت کی بلند ترین نوع ہے اور محبت کا یہ اعلیٰ ترین مرتبہ اللہ تعالیٰ کے دو خلیلوں کو حاصل ہوا ہے۔ یعنی جناب محمد مصطفیٰﷺاور جناب ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو۔ اور رہی اللہ تعالیٰ کی محبت عامہ تو یہ عام اہل ایمان کے لیے ہے۔ حضرت ابراہیمuکو خلیل اس لیے بنایا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو پورا کیا اور ہر آزمائش میں پورے اترے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں تمام لوگوں کا امام ٹھہرایا اور اپنا خلیل بنا لیا اور تمام جہانوں میں ان کے ذکر کو بلند کیا۔
4:126

وَلِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٖ مُّحِيطٗا

اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہےاور ہے اللہ ہر چیز کو گھیرنے والا(126) [126] اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس نے خبر دی ہے کہ ﴿ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے (سب اسی کا ہے)۔‘‘ یعنی ہر چیز اس کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے غلام ہیں۔ پس تمام لوگ غلام اور وہ اکیلا ان کا مالک اور ان کے تمام معاملات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ اس کے علم نے تمام معلومات، اس کی بصر نے تمام مبصرات اور اس کی سماعت نے تمام مسموعات کا احاطہ کر رکھا ہے۔ اس کی مشیت اور قدرت تمام موجودات پر نافذ اور اس کی رحمت زمین و آسمان کی تمام مخلوق پر سایہ کناں ہے۔ وہ اپنے قہر اور غلبہ کی بنا پر تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام موجودات اس کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔
4:127

وَيَسۡتَفۡتُونَكَ فِي ٱلنِّسَآءِۖ قُلِ ٱللَّهُ يُفۡتِيكُمۡ فِيهِنَّ وَمَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ فِي يَتَٰمَى ٱلنِّسَآءِ ٱلَّـٰتِي لَا تُؤۡتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرۡغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ وَٱلۡمُسۡتَضۡعَفِينَ مِنَ ٱلۡوِلۡدَٰنِ وَأَن تَقُومُواْ لِلۡيَتَٰمَىٰ بِٱلۡقِسۡطِۚ وَمَا تَفۡعَلُواْ مِنۡ خَيۡرٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِهِۦ عَلِيمٗا

اور فتویٰ پوچھتے ہیں آپ سے عورتوں کے بارے میں کہہ دیجیے! اللہ فتویٰ دیتا ہے تمھیں ان کی بابت اور (وہ بھی) جو پڑھا جاتا ہے تم پر کتاب میں، (ان) یتیم عورتوں کے متعلق کہ نہیں دیتے تم ان کو جو مقرر کیا گیا ہے ان کے لیےاور رغبت کرتے ہو تم یہ کہ نکاح کرو ان سےاور کمزور بچوں (کے بارے) میں اور یہ کہ قائم رہو تم یتیموں کے لیے انصاف پر اور جو کرو تم کوئی اچھائی، پس تحقیق اللہ ہے اس کو خوب جاننے والا(127) [127](اِسْتِفْتَاء) سے مراد ہے سائل کا مسؤل (مفتی یاعالم) سے اپنے مسئلہ کے بارے میں شرعی حکم کا بیان طلب کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے بارے میں خبر دی ہے کہ انھوں نے عورتوں کے بارے میں رسول اللہﷺسے استفتاء کیا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود اس استفتاء کا جواب دیا ﴿ قُلِ اللّٰهُ يُفۡتِيۡكُمۡ فِيۡهِنَّ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ خود اللہ ان کے بارے میں تمھیں حکم دے رہا ہے‘‘ پس عورتوں کے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ نے جو فتویٰ دیا ہے اس پر عمل کرو۔ عام طور پر اور خاص طور پر ان کے حقوق کو ادا کرو اور ان پر ظلم کرنا چھوڑ دو۔یہ حکم عام ہے اور عورتوں کے حقوق کے بارے میں خواہ وہ بیویاں ہوں یا کوئی اور، چھوٹی ہوں یا بڑی ہوں۔ امر و نہی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مشروع کیا ہے، سب کو شامل ہے۔اس عموم کے بیان کرنے کے بعد ، اللہ تعالیٰ نے کمزور بچوں اور یتیموں کے معاملے میں اہتمام اور ان کے حقوق میں کوتاہی پر زجر و توبیخ کے طور پر، خصوصی وصیت فرمائی ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا يُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ فِي الۡكِتٰبِ فِيۡ يَتٰمَى النِّسَآءِ ﴾ یتیم عورتوں کے معاملے میں کتاب اللہ کے اندر جو کچھ تم پر تلاوت کیا جاتا ہے (اللہ تعالیٰ تمھیں اسی کا فتویٰ دیتا ہے۔)‘‘﴿ الّٰتِيۡ لَا تُؤۡتُوۡنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ ﴾ ’’وہ جن کو تم نہیں دیتے، جو ان کے لیے مقرر کیا گیا ہے‘‘ یہ اس وقت کی موجود حالت کے بارے میں خبر ہے۔ کیونکہ یتیم لڑکی جب کسی کی سرپرستی میں ہوتی تھی تو وہ اس کی حق تلفی کرتا اور اس پر ظلم کا ارتکاب کرتا تھا یا تو اس کا تمام مال یا اس کا کچھ حصہ کھا جاتا یا اس کو نکاح کرنے سے روکتا تاکہ اس کے مال سے فائدہ اٹھاتا رہے اور اس خوف سے کہ اگر اس نے اس کا نکاح کر دیا تو مال ہاتھ سے نکل جائے گا اور اگر وہ اس عورت میں رغبت نہیں رکھتا تو جس شخص سے یہ نکاح کرتی، اس پر شرائط وغیرہ عائد کرتا۔ یا اگر وہ اس کے حسن و جمال کی وجہ سے، اس کے ساتھ خود نکاح کرنے کی خواہش رکھتا تو اس کے مہر کو ساقط تو نہیں کرتا مگر وہ اسے اتنا حق مہر بھی ادا نہیں کرتا جتنے مہر کی وہ مستحق ہوتی۔ یہ تمام صورتیں ظلم کی تھیں، جو اس نص کے تحت آتی ہیں۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرۡغَبُوۡنَ اَنۡ تَنۡكِحُوۡهُنَّ ﴾ ’’تم ان سے نکاح کرنے کی رغبت رکھتے ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ نکاح کرنے سے گریز کرتے ہویا نکاح کرنے میں رغبت رکھتے ہو۔ جیسا کہ ہم نے اس کی مثال بیان کی ہے ﴿ وَالۡمُسۡتَضۡعَفِيۡنَ مِنَ الۡوِلۡدَانِ ﴾ ’’اور بے کس بچوں کے بارے میں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کمزور اور چھوٹے بچوں کے بارے میں تمھیں حکم دیتا ہے کہ تم وراثت میں ان کا حق ادا کرو اور ظلم و استبداد سے ان کے مال پر قبضہ نہ جما لو۔ ﴿ وَاَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلۡيَتٰمٰى بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اور یہ (بھی حکم دیتاہے)کہ یتیموں کے بارے میں پورے عدل و انصاف سے کام لو‘‘ اس حکم میں ان کے معاملات کی دیکھ بھال، ان سے ان احکام کا التزام کروانا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب قرار دیے ہیں سب شامل ہیں اس بارے میں یتیموں کے سرپرست مکلف ٹھہرائے گئے کہ وہ ان سے اللہ تعالیٰ کے واجبات کا التزام کروائیں۔ اس حکم میں ان کے دنیاوی مصالح کی دیکھ بھال، ان کے مال میں اضافہ کرنا اور ان کے لیے بہتری طلب کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ نیز یہ کہ اس کے سرپرست احسن طریقے سے ان کے مال کے قریب جائیں۔ اسی طرح ان کے نکاح وغیرہ میں ان کی حق تلفی کرتے ہوئے کسی دوست وغیرہ کی محبت کو ترجیح نہ دیں۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت اور انتہائی درجے کی ترغیب ہے کہ ان لوگوں کے مصالح کی دیکھ بھال کی جائے جو اپنی کمزوری اور اپنے باپ سے محروم ہونے کی بنا پر خود اپنے مفادات کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔ پھر علی العموم بھلائی کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ ﴾ ’’اور تم جو بھلائی کروگے۔‘‘ یعنی تم یتیموں یا دوسروں کے ساتھ جو بھلائی کرو گے خواہ یہ بھلائی متعدی ہو یا صرف تمھیں تک محدود ہو ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِيۡمًا ﴾ ’’اللہ اس کو جانتا ہے۔‘‘ یعنی نیک عمل کرنے والوں کے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے اعمال خواہ کم ہوں یا زیادہ، اچھے ہوں یا برے، اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا دے گا۔
4:128

وَإِنِ ٱمۡرَأَةٌ خَافَتۡ مِنۢ بَعۡلِهَا نُشُوزًا أَوۡ إِعۡرَاضٗا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يُصۡلِحَا بَيۡنَهُمَا صُلۡحٗاۚ وَٱلصُّلۡحُ خَيۡرٞۗ وَأُحۡضِرَتِ ٱلۡأَنفُسُ ٱلشُّحَّۚ وَإِن تُحۡسِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٗا

اور اگر کوئی عورت اندیشہ کرے اپنے خاوند سے ظلم و زیادتی کا یا اعراض کا تو نہیں گناہ ان دونوں پر کہ صلح کر لیں وہ آپس میں (کسی طرح ) صلح کرنااور صلح بہت بہتر ہے اور حاضر کیے گئے ہیں نفس بخل کواور اگر تم نیکی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بلاشبہ ہے اللہ، ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خبردار(128) [128] یعنی جب عورت اپنے شوہر کے سخت رویے اور ظلم سے ڈرے یعنی خاوند اپنے آپ کو اس سے برتر سمجھے اور اس میں عدم رغبت کی وجہ سے اعراض کرے تو اس حالت میں بہتر صورت یہ ہے کہ وہ دونوں آپس میں مصالحت کر لیں۔ اور وہ اس طرح کہ بیوی اپنے بعض ان حقوق کو، جو شوہر پر لازم ہیں اس طرح نظر انداز کر دے کہ وہ شوہر کے ساتھ رہ سکے۔ یا تو وہ نان و نفقہ لباس، مکان وغیرہ میں سے قلیل ترین واجب پر راضی ہو جائے۔ یا اپنی باری میں سے اپنا حق ساقط کر دے یا اپنی باری کے شب و روز اپنی سوکن کو ہبہ کر دے اگر میاں بیوی اس صورت حال پر راضی ہو جائیں تو اس میں دونوں کے لیے کوئی حرج نہیں، اس میں میاں بیوی دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔ تب اس صورت حال میں اپنی بیوی کے ساتھ باقی رہنا جائز ہے اور یہ علیحدگی سے بہتر ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالصُّلۡحُ خَيۡرٌ ﴾ ’’صلح بہتر ہے۔‘‘ اس لفظ اور معنی کے عموم سے یہ بات اخذ کی جاتی ہے کہ فریقین کے درمیان کسی حق یا تمام اشیاء میں نزاع ہو تو صلح اس سے بہتر ہے کہ وہ تمام اشیاء میں پورا پورا حق وصول کرنے کا مطالبہ کریں۔ کیونکہ اس صلح میں اصلاح، دونوں کے مابین الفت کی بقا اور سماحت (درگزر کرنے) کی صفت سے متصف ہونا ہے۔ یہ صلح تمام اشیاء میں جائز ہے سوائے اس صورت کے جس میں کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام ٹھہرایا گیا ہو۔ تب یہ صلح نہیں بلکہ ظلم و جور ہے۔معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی حکم اس کے مقتضی کے وجود اور موانع کی نفی کے بغیر مکمل اور پورا نہیں ہوتا اس کی مثال یہی بڑا حکم ہے یعنی فریقین کے درمیان صلح، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کا تقاضا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بھلائی ہے اور عمل کرنے والا ہر شخص بھلائی کا طالب اور بھلائی میں رغبت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر اللہ تعالیٰ نے اس بھلائی کا حکم دیا ہو اور اس کی طرف رغبت دلائی ہو تو اس میں مومن کی طلب اور رغبت اور بڑھ جاتی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَاُحۡضِرَتِ الۡاَنۡفُسُ الشُّحَّ ﴾ ’’طمع ہر نفس میں شامل کر دی گئی ہے‘‘ یعنی بخل انسان کی جبلت ہے یہاں (الشُّ٘حَّ) ’’بخل‘‘ سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ انسان پر خرچ کرنا واجب ہے اسے خرچ کرنے میں راغب نہ ہو۔ اور اپنا حق حاصل کرنے کا بڑا حریص ہو۔ تمام نفوس طبعی طور پر اسی جبلت پر پیدا کیے گئے ہیں۔ یعنی تمھارے لیے مناسب یہ ہے کہ تم اپنے نفس سے اس گھٹیا خلق کا قلع قمع کرنے اور اس کی جگہ اس کی ضد یعنی سماحت کو اختیار کرنے کی کوشش کرو۔ سماحت سے مراد یہ ہے کہ تم اس حق کو ادا کرو جو تمھارے ذمہ ہے اور اپنے حق کے بارے میں اس کے کچھ حصے پر قناعت کرو۔ جب کبھی انسان کو اس خلق حسن کو اپنانے کی توفیق مل جاتی ہے تو اس کے لیے اپنے اور اپنے مخالف کے درمیان صلح آسان ہو جاتی ہے اور منزل مقصود تک پہنچنے کا راستہ سہل ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی طبیعت سے بخل کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتا تو اس کے لیے صلح اور موافقت بہت مشکل کام ہے کیونکہ وہ اپنا پورا حق لیے بغیر راضی نہیں ہوتا اور اس پر جو حق واجب ہے اسے ادا کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔ اگر دوسرے فریق کا رویہ بھی ایسا ہی ہو تو معاملہ اور زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔پھر فرمایا: ﴿ وَاِنۡ تُحۡسِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا ﴾ ’’اگر تم اچھا سلوک کرو اور پرہیز گاری اختیار کرو‘‘ یعنی اگر تم خالق کی عبادت میں احسان سے کام لو یعنی بندہ اپنے رب کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے اگر ایسی کیفیت پیدا نہیں ہو سکتی تو یہ تصور پیدا کرے کہ وہ تو اسے دیکھ رہا ہے۔ اور تم احسان کے تمام طریقوں سے یعنی مال، اور جاہ وغیرہ کے ذریعے سے لوگوں سے بھلائی کرو ﴿ وَتَتَّقُوۡا ﴾ ’’پرہیز گاری اختیار کرو۔‘‘ یعنی تمام مامورات پر عمل کرتے ہوئے اور تمام محظورات سے اجتناب کرتے ہوئے اللہ سے ڈرو۔ یا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم مامورات پر عمل کرنے میں احسان سے کام لو اور محظورات کو ترک کر کے اللہ سے ڈرو۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرًا ﴾ ’’اللہ تمھارے سب کاموں سے باخبر ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ بندے کے ظاہر و باطن کا اپنے علم و خبر کے ذریعے سے احاطہ کیے ہوئے ہے پس وہ تمھارے اعمال کو محفوظ کر رہا ہے وہ تمھیں ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
4:129

وَلَن تَسۡتَطِيعُوٓاْ أَن تَعۡدِلُواْ بَيۡنَ ٱلنِّسَآءِ وَلَوۡ حَرَصۡتُمۡۖ فَلَا تَمِيلُواْ كُلَّ ٱلۡمَيۡلِ فَتَذَرُوهَا كَٱلۡمُعَلَّقَةِۚ وَإِن تُصۡلِحُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا

اور ہرگز نہیں طاقت رکھو گے تم یہ کہ عدل کر سکو درمیان عورتوں کے اگرچہ حرص کرو تم، پس نہ جھک جاؤ تم مکمل جھک جانا (ایک طرف) کہ چھوڑ دو تم اس (دوسری) کو مانند (درمیان میں) لٹکی ہوئی کےاور اگر صلح کرو تم اور تقویٰ اختیار کرو تو یقینا اللہ بخشنے والا مہربان(129) [129] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ شوہر اپنی بیویوں کے درمیان انصاف نہیں کر سکتے اور پورا پورا عدل و انصاف کرنا ان کے بس میں بھی نہیں۔ کیونکہ عدل اس بات کو مستلزم ہے کہ تمام بیویوں کے ساتھ یکساں محبت ہو، محبت کا داعیہ سب کے لیے برابر ہو اور دل کا میلان ان سب کے لیے مساوی ہو۔ پھر اس کے تقاضے کے مطابق عمل ہو۔ چونکہ یہ ناقابل عمل اور ناممکن ہے اس لیے جو چیز انسان کے بس میں نہیں اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کر دیا ہے اور اس چیز سے منع کر دیا جو انسان کے بس میں ہے چنانچہ فرمایا ﴿ فَلَا تَمِيۡلُوۡا كُلَّ الۡمَيۡلِ فَتَذَرُوۡهَا كَالۡمُعَلَّقَةِ۠ ﴾ ’’ایک ہی کی طرف مائل نہ ہوجانا کہ دوسروں کو ایسی حالت میں چھوڑدو کہ گویا وہ لٹک رہی ہے۔‘‘ یعنی تم ایک طرف بہت زیادہ نہ جھک جاؤ کہ تم ان کے وہ حقوق بھی ادا نہ کر سکو جو واجب ہیں۔ بلکہ اپنی استطاعت بھر عدل و انصاف سے کام لو۔ پس نان و نفقہ، لباس اور شب باشی کی تقسیم وغیرہ ایسے امور ہیں جن میں عدل کرنا تم پر فرض ہے، اس کے برعکس محبت اور مجامعت وغیرہ میں عدل و انصاف ممکن نہیں۔ پس جب شوہر بیوی کے وہ حقوق ترک کر دیتا ہے جنھیں ادا کرنا واجب ہے تو بیوی اس معلق عورت کی مانند ہو جاتی ہے جس کا خاوند نہیں ہوتا کہ جس سے وہ راحت حاصل کرے اور حقوق زوجیت ادا کرنے کی تیاری کرے اور نہ وہ خاوند والی ہوتی ہے جو اس کے حقوق کی دیکھ بھال کرے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصۡلِحُوۡا ﴾ ’’اور اگر آپس میں موافقت کرلو۔‘‘ یعنی اگر تم اپنے اور اپنی بیویوں کے درمیان معاملات کی اصلاح کر لو۔ یعنی بیوی کے حقوق ادا کرتے ہوئے احتساب کے ساتھ اپنے نفس کو اس فعل پر مجبور کرو جس کو بجا لانے پر وہ آمادہ نہیں اور ان معاملات کی بھی اصلاح کر لو جو تمھارے اور لوگوں کے درمیان ہیں اور لوگوں کے تنازعات میں ان کے مابین صلح کرواؤ۔ یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ صلح کے لیے علی الاطلاق ہر طریقہ بروئے کار لایا جائے۔ ﴿ وَتَتَّقُوۡا ﴾ ’’اور پرہیز گاری کرو۔‘‘ مامورات پر عمل اور محظورات کو ترک کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مقدور بھر صبر کرو ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًؔا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ تمھارے تمام گناہوں کو معاف کر دے گا جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور ان کوتاہیوں کو نظر انداز کر دے گا اور جیسے تم اپنی بیویوں کے ساتھ شفقت و مودت کا رویہ رکھتے ہو اللہ تعالیٰ بھی تم پر رحم کرے گا۔
4:130

وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغۡنِ ٱللَّهُ كُلّٗا مِّن سَعَتِهِۦۚ وَكَانَ ٱللَّهُ وَٰسِعًا حَكِيمٗا

اور اگر وہ دونوں الگ ہو جائیں تو بے نیاز کر دے گا اللہ ہر ایک کو اپنے فضل سےاور ہے اللہ وسعت والا حکمت والا(130) [130] میاں بیوی کے درمیان تیسری حالت یہ ہے کہ جب اتفاق کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو دونوں کے درمیان علیحدگی میں کوئی حرج نہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِنۡ يَّتَفَرَّقَا ﴾ ’’اگر وہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں۔‘‘ یعنی اگر دونوں طلاق، فسخ یا خلع کے ذریعے سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں ﴿يُغۡنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنۡ سَعَتِهٖ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ دونوں میاں بیوی کو اپنے فضل و کرم اور لامحدود احسان کے ذریعے سے ایک دوسرے سے بے نیاز کر دے گا‘‘ شوہر کو کسی دوسری بیوی کے ذریعے سے پہلی بیوی سے اور بیوی کو اپنے فضل و کرم سے مستغنی کر دے گا۔ اگر بیوی کا اپنے شوہر کے رزق میں سے حصہ ختم ہو گیا ہے تو اس کا رزق اس ہستی کے ذمے ہے جو تمام مخلوق کو رزق عطا کرتی ہے اور ان کے مصالح کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ شاید اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر شوہر عطا کر دے۔ ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَؔكِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ بڑی کشائش والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ فضل و کرم اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے۔ جہاں جہاں اس کے علم نے احاطہ کیا ہوا ہے، وہاں تک اس کی رحمت سایہ کناں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ حَؔكِيۡمًا ﴾ ’’وہ حکمت والا ہے‘‘ اگر کسی کو عطا کرتا ہے تو حکمت کی بنیاد پر اور محروم کرتا ہے تو حکمت ہی کی بنیاد پر۔ جب اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ کسی بندے کو کسی سبب کی بنا پر اپنے فضل و احسان سے محروم کرے جس کا وہ مستحق نہیں، تو اپنے عدل و حکمت سے اسے محروم کر دیتا ہے۔
4:131

وَلِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَلَقَدۡ وَصَّيۡنَا ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَإِيَّاكُمۡ أَنِ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ وَإِن تَكۡفُرُواْ فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَنِيًّا حَمِيدٗا

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہےاور البتہ تحقیق وصیت کی ہم نے ان لوگوں کو جو دیے گئے کتاب تم سے پہلے اور خود تمھیں بھی یہ کہ ڈرو تم اللہ سےاور اگر کفر کرو گے تم تو تحقیق اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہےاور ہے اللہ بے پروا قابل تعریف(131) اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہےاور کافی ہے اللہ کارساز(132) [132,131] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وسیع اور عظیم اقتدار کے عموم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ شرعاً اور قدراً مختلف طریقوں سے کائنات کی تدبیر کرے اور گوناگوں تصرفات کے ذریعے سے اس میں تصرف کرے۔ اس کا تصرف شرعی یہ ہے کہ اس نے سابقین و اولین اور کتب سابقہ اور بعد میں نازل ہونے والی کتابوں کے ماننے والوں کو تقویٰ کی وصیت کی ہے جو امر و نہی، تشریح احکام اور اس شخص کے لیے ثواب کو متضمن ہے جو اس وصیت پر عمل کرتا ہے اور اس شخص کے لیے دردناک عذاب کی وعید کو متضمن ہے جو اس وصیت کو ضائع کرتا ہے۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تَكۡفُرُوۡا ﴾ ’’اور اگر کفر کروگے۔‘‘ یعنی اگر تم تقویٰ ترک کر دو اور کفر اختیار کر لو اور ایسی چیزوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا لو جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی تو اس طرح تم صرف اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاؤ گے، اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں ذرہ بھر کمی نہیں کر سکتے۔ اس کے اور بھی بندے ہیں جو تم سے بہتر اور تم سے زیادہ اطاعت گزار اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد فرمایا:﴿ وَاِنۡ تَكۡفُرُوۡا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَنِيًّا حَمِيۡدًا ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ کامل جود و کرم اور احسان کا مالک ہے جو کچھ اس کی رحمت کے خزانوں سے صادر ہوتا ہے وہ خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتا۔ یہ خزانے اگر دن رات خرچ ہوتے رہیں تب بھی ختم نہیں ہوں گے۔ اگر زمین و آسمان کے رہنے والے اول سے لے کر آخر تک تمام لوگ اپنی اپنی آرزوؤں کے مطابق اللہ تعالیٰ سے سوال کریں تو اس کی ملکیت میں ذرہ بھر کمی نہ ہو گی۔ کیونکہ وہ جواد ہے، ہر چیز کو وجود بخشنے والا اور بزرگی کا مالک ہے۔ وہ اپنے کلام سے عطا کرتا ہے اور اپنے کلام سے عذاب دیتا ہے۔ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ’’ہوجا‘‘ اور وہ ہو جاتی ہے۔اس کی تمام تر بے نیازی یہ ہے کہ وہ کامل اوصاف کا مالک ہے کیونکہ اگر کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی نقص ہوتا تو وہ اس کمال کے لیے محتاج ہوتا۔ بلکہ اس کے لیے کمال کی ہر صفت ہے اور انھی میں سے ایک صفت کمال ہے اور یہ اس کی بے نیازی ہی ہے کہ اس کی کوئی بیوی اور کوئی اولاد نہیں۔ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ کوئی مددگار اور اس کے اپنے اقتدار کی تدبیر میں اس کا کسی قسم کا کوئی معاون نہیں۔یہ اس کا کامل غنا اور اس کی بے نیازی ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی اپنے تمام احوال اور تمام معاملات میں اسی کے محتاج ہیں اور اپنی چھوٹی بڑی حاجتوں میں اسی سے سوال کرتے ہیں..... اور اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے مطلوب اور سوال کو پورا کرتا ہے، ان کو غنی اور مال دار کر دیتا ہے ان کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا ہے اور انھیں راہ ہدایت دکھاتا ہے۔رہا اسم گرامی (حمید) تو یہ نام اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی میں شمار ہوتا ہے اور اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ہر قسم کی حمد و ثنا، محبت اور اکرام کا مستحق ہے۔ اس لیے وہ صفات حمد سے متصف ہے جو کہ جمال و جلال کی صفات ہیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اس لیے وہ ہر حال میں ’’محمود‘‘ ہے۔ ان دو اسمائے گرامی یعنی (اَلْغَنِیُّ)(اَلْحَمِیْدُ) کا یک جا ہونا کتنا خوبصورت ہے۔ یقینا وہ بے نیاز اور قابل تعریف ہے، اسے کمال بے نیازی بھی حاصل ہے اور کمال حمد بھی اور ان دونوں کے حسن امتزاج کا کمال بھی۔پھر اس نے مکرر فرمایا ہے کہ زمین اور آسمانوں میں اقتدار اسی کا ہے اور ہر چیز کو کفایت کرنے والا وہی ہے۔ یعنی وہ علم رکھنے والا اور اپنی حکمت کے مطابق تمام اشیاء کی تدبیر کرتا ہے اور یہی کامل کفایت اور وکالت ہے کیونکہ وکالت اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ جس چیز کا وکیل ہے اسے اس کا پورا پورا علم ہو۔ پھر اس کو نافذ کرنے اور تدبیر کرنے میں پوری قوت اور قدرت رکھتا ہو۔ اور یہ تدبیر حکمت اور مصلحت پر مبنی ہو۔ اگر ان امور میں کوئی کمی ہے تو وہ وکیل میں نقص کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ ہر نقص سے منزہ ہے۔
4:132

وَلِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہےاور البتہ تحقیق وصیت کی ہم نے ان لوگوں کو جو دیے گئے کتاب تم سے پہلے اور خود تمھیں بھی یہ کہ ڈرو تم اللہ سےاور اگر کفر کرو گے تم تو تحقیق اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہےاور ہے اللہ بے پروا قابل تعریف(131) اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہےاور کافی ہے اللہ کارساز(132) [132,131] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وسیع اور عظیم اقتدار کے عموم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ شرعاً اور قدراً مختلف طریقوں سے کائنات کی تدبیر کرے اور گوناگوں تصرفات کے ذریعے سے اس میں تصرف کرے۔ اس کا تصرف شرعی یہ ہے کہ اس نے سابقین و اولین اور کتب سابقہ اور بعد میں نازل ہونے والی کتابوں کے ماننے والوں کو تقویٰ کی وصیت کی ہے جو امر و نہی، تشریح احکام اور اس شخص کے لیے ثواب کو متضمن ہے جو اس وصیت پر عمل کرتا ہے اور اس شخص کے لیے دردناک عذاب کی وعید کو متضمن ہے جو اس وصیت کو ضائع کرتا ہے۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تَكۡفُرُوۡا ﴾ ’’اور اگر کفر کروگے۔‘‘ یعنی اگر تم تقویٰ ترک کر دو اور کفر اختیار کر لو اور ایسی چیزوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا لو جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی تو اس طرح تم صرف اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاؤ گے، اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں ذرہ بھر کمی نہیں کر سکتے۔ اس کے اور بھی بندے ہیں جو تم سے بہتر اور تم سے زیادہ اطاعت گزار اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد فرمایا:﴿ وَاِنۡ تَكۡفُرُوۡا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَنِيًّا حَمِيۡدًا ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ کامل جود و کرم اور احسان کا مالک ہے جو کچھ اس کی رحمت کے خزانوں سے صادر ہوتا ہے وہ خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتا۔ یہ خزانے اگر دن رات خرچ ہوتے رہیں تب بھی ختم نہیں ہوں گے۔ اگر زمین و آسمان کے رہنے والے اول سے لے کر آخر تک تمام لوگ اپنی اپنی آرزوؤں کے مطابق اللہ تعالیٰ سے سوال کریں تو اس کی ملکیت میں ذرہ بھر کمی نہ ہو گی۔ کیونکہ وہ جواد ہے، ہر چیز کو وجود بخشنے والا اور بزرگی کا مالک ہے۔ وہ اپنے کلام سے عطا کرتا ہے اور اپنے کلام سے عذاب دیتا ہے۔ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ’’ہوجا‘‘ اور وہ ہو جاتی ہے۔اس کی تمام تر بے نیازی یہ ہے کہ وہ کامل اوصاف کا مالک ہے کیونکہ اگر کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی نقص ہوتا تو وہ اس کمال کے لیے محتاج ہوتا۔ بلکہ اس کے لیے کمال کی ہر صفت ہے اور انھی میں سے ایک صفت کمال ہے اور یہ اس کی بے نیازی ہی ہے کہ اس کی کوئی بیوی اور کوئی اولاد نہیں۔ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ کوئی مددگار اور اس کے اپنے اقتدار کی تدبیر میں اس کا کسی قسم کا کوئی معاون نہیں۔یہ اس کا کامل غنا اور اس کی بے نیازی ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی اپنے تمام احوال اور تمام معاملات میں اسی کے محتاج ہیں اور اپنی چھوٹی بڑی حاجتوں میں اسی سے سوال کرتے ہیں..... اور اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے مطلوب اور سوال کو پورا کرتا ہے، ان کو غنی اور مال دار کر دیتا ہے ان کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا ہے اور انھیں راہ ہدایت دکھاتا ہے۔رہا اسم گرامی (حمید) تو یہ نام اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی میں شمار ہوتا ہے اور اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ہر قسم کی حمد و ثنا، محبت اور اکرام کا مستحق ہے۔ اس لیے وہ صفات حمد سے متصف ہے جو کہ جمال و جلال کی صفات ہیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اس لیے وہ ہر حال میں ’’محمود‘‘ ہے۔ ان دو اسمائے گرامی یعنی (اَلْغَنِیُّ)(اَلْحَمِیْدُ) کا یک جا ہونا کتنا خوبصورت ہے۔ یقینا وہ بے نیاز اور قابل تعریف ہے، اسے کمال بے نیازی بھی حاصل ہے اور کمال حمد بھی اور ان دونوں کے حسن امتزاج کا کمال بھی۔پھر اس نے مکرر فرمایا ہے کہ زمین اور آسمانوں میں اقتدار اسی کا ہے اور ہر چیز کو کفایت کرنے والا وہی ہے۔ یعنی وہ علم رکھنے والا اور اپنی حکمت کے مطابق تمام اشیاء کی تدبیر کرتا ہے اور یہی کامل کفایت اور وکالت ہے کیونکہ وکالت اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ جس چیز کا وکیل ہے اسے اس کا پورا پورا علم ہو۔ پھر اس کو نافذ کرنے اور تدبیر کرنے میں پوری قوت اور قدرت رکھتا ہو۔ اور یہ تدبیر حکمت اور مصلحت پر مبنی ہو۔ اگر ان امور میں کوئی کمی ہے تو وہ وکیل میں نقص کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ ہر نقص سے منزہ ہے۔
4:133

إِن يَشَأۡ يُذۡهِبۡكُمۡ أَيُّهَا ٱلنَّاسُ وَيَأۡتِ بِـَٔاخَرِينَۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ قَدِيرٗا

اگر چاہے وہ تو لے جائے تمھیں اے لوگو! اور لے آئے دوسروں کواور ہے اللہ اوپر اس کے خوب قدرت رکھنے والا(133) جو کوئی ارادہ کرتا ہے ثواب (صلے) کا دنیا میں تو اللہ کے ہاں ثواب ہے دنیا کا اور آخرت کا اور ہے اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا(134) [133] یعنی وہ (غَنِيٌّ حَمِیْدٌ) ہے اور وہ قدرت کاملہ اور مشیت نافذہ کا مالک ہے۔ ﴿ اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ اَيُّهَا النَّاسُ وَيَاۡتِ بِاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور (تمھاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کردے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے علاوہ اور لوگوں کو لے آئے گا وہ تم سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کی زیادہ اطاعت کرنے والے ہوں گے۔ یہ آیت کریمہ لوگوں کے لیے ان کے اپنے کفر پر قائم رہنے اور اپنے رب سے روگردانی کرنے پر تہدید ہے۔ اگر وہ اطاعت نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کو ان کی ذرہ بھر بھی پروا نہیں۔ مگر وہ ان کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔ (یعنی حساب ضرور لے گا) [134] پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ جس کسی کی ہمت اور ارادہ گھٹیا ہے اور دنیا کے ثواب سے آگے نہیں بڑھتا۔ اور وہ آخرت کا کوئی ارادہ ہی نہیں رکھتا، پس اس کی نظر اور اس کی کوشش کوتاہ ہے۔ بایں ہمہ اسے دنیا کا ثواب بھی صرف اتنا ہی ملے گا جتنا اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے دنیا و آخرت کا ثواب اسی کے پاس ہے، پس دنیا و آخرت اسی سے طلب کی جائے اور ان کے حصول کے لیے اسی سے مدد مانگی جائے۔ کیونکہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ صرف اس کی اطاعت ہی سے حاصل ہوسکتا ہے اور تمام دینی اور دنیاوی امور کا حصول اسی سے مدد طلب کرنے اور ہمیشہ صرف اسی کا محتاج ہونے سے ممکن ہے وہ جس کسی کو اپنی توفیق سے نوازتا ہے یا اسے توفیق سے محروم کر کے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے اس میں اس کی حکمت پنہاں ہے اس کا کسی کو عطا کرنا اور محروم کرنا اس کی حکمت ہی پر مبنی ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا﴾ ’’اللہ تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے۔‘‘
4:134

مَّن كَانَ يُرِيدُ ثَوَابَ ٱلدُّنۡيَا فَعِندَ ٱللَّهِ ثَوَابُ ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ سَمِيعَۢا بَصِيرٗا

اگر چاہے وہ تو لے جائے تمھیں اے لوگو! اور لے آئے دوسروں کواور ہے اللہ اوپر اس کے خوب قدرت رکھنے والا(133) جو کوئی ارادہ کرتا ہے ثواب (صلے) کا دنیا میں تو اللہ کے ہاں ثواب ہے دنیا کا اور آخرت کا اور ہے اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا(134) [133] یعنی وہ (غَنِيٌّ حَمِیْدٌ) ہے اور وہ قدرت کاملہ اور مشیت نافذہ کا مالک ہے۔ ﴿ اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ اَيُّهَا النَّاسُ وَيَاۡتِ بِاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور (تمھاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کردے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے علاوہ اور لوگوں کو لے آئے گا وہ تم سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کی زیادہ اطاعت کرنے والے ہوں گے۔ یہ آیت کریمہ لوگوں کے لیے ان کے اپنے کفر پر قائم رہنے اور اپنے رب سے روگردانی کرنے پر تہدید ہے۔ اگر وہ اطاعت نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کو ان کی ذرہ بھر بھی پروا نہیں۔ مگر وہ ان کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔ (یعنی حساب ضرور لے گا) [134] پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ جس کسی کی ہمت اور ارادہ گھٹیا ہے اور دنیا کے ثواب سے آگے نہیں بڑھتا۔ اور وہ آخرت کا کوئی ارادہ ہی نہیں رکھتا، پس اس کی نظر اور اس کی کوشش کوتاہ ہے۔ بایں ہمہ اسے دنیا کا ثواب بھی صرف اتنا ہی ملے گا جتنا اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے دنیا و آخرت کا ثواب اسی کے پاس ہے، پس دنیا و آخرت اسی سے طلب کی جائے اور ان کے حصول کے لیے اسی سے مدد مانگی جائے۔ کیونکہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ صرف اس کی اطاعت ہی سے حاصل ہوسکتا ہے اور تمام دینی اور دنیاوی امور کا حصول اسی سے مدد طلب کرنے اور ہمیشہ صرف اسی کا محتاج ہونے سے ممکن ہے وہ جس کسی کو اپنی توفیق سے نوازتا ہے یا اسے توفیق سے محروم کر کے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے اس میں اس کی حکمت پنہاں ہے اس کا کسی کو عطا کرنا اور محروم کرنا اس کی حکمت ہی پر مبنی ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا﴾ ’’اللہ تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے۔‘‘
4:135

۞يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّـٰمِينَ بِٱلۡقِسۡطِ شُهَدَآءَ لِلَّهِ وَلَوۡ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمۡ أَوِ ٱلۡوَٰلِدَيۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِينَۚ إِن يَكُنۡ غَنِيًّا أَوۡ فَقِيرٗا فَٱللَّهُ أَوۡلَىٰ بِهِمَاۖ فَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلۡهَوَىٰٓ أَن تَعۡدِلُواْۚ وَإِن تَلۡوُۥٓاْ أَوۡ تُعۡرِضُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٗا

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ہو جاؤ تم قائم رہنے والے انصاف پر، گواہی دینے والے اللہ کے لیے اگرچہ ہو وہ خلاف تمھاری اپنی جانوں کے یا والدین کے یا قرابت داروں کے۔ اگر ہو (وہ شخص) مال دار یا فقیر، پس اللہ زیادہ حق دار ہے، بہ نسبت ان دونوں کے، پس نہ پیروی کرو تم خواہش کی (کہ گریز کرو تم) انصاف کرنے سے اور اگر موڑو تم زبان کو یا اعراض کرو تم، پس تحقیق اللہ ہے، ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خبردار(135) [135] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ انصاف پر قائم رہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی دینے والے بن جائیں۔ (اَلْقَوَّام) مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یعنی اپنے تمام احوال میں عدل پر قائم رہو (قِسْطٌ) سے مراد حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں عدل و انصاف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے حقوق میں انصاف یہ ہے کہ اس کی نعمتوں کو اس کی نافرمانی میں استعمال نہ کیا جائے بلکہ ان کو اس کی اطاعت و فرماں برداری میں صرف کیا جائے اور حقوق العباد میں عدل و انصاف یہ ہے کہ بندوں کے وہ تمام حقوق ادا کیے جائیں جو تجھ پر اسی طرح واجب ہیں جس طرح تیرے حقوق ان پر واجب ہیں اور تو اپنے حقوق کا مطالبہ کرتا ہے پس تو نفقات واجبہ اور قرض وغیرہ ادا کر اور تو لوگوں سے اسی اخلاق و حسن صلہ کے ساتھ معاملہ کر، جو تو اپنے بارے میں ان سے چاہتا ہے۔ سب سے بڑا انصاف، باتوں اور بات کہنے والوں کے بارے میں ہے۔ دو باتوں میں سے کسی ایک بات کے حق میں یا کسی تنازع کے فریقین میں کسی فریق کے حق میں محض اس وجہ سے فیصلہ نہ کرے کہ اسے اس بات سے یا فریق سے کوئی نسبت ہے یا اس کی طرف میلان ہے بلکہ ان دونوں کے درمیان عدل کو مقدم رکھے۔ عدل و انصاف کی ایک قسم یہ ہے کہ تو اس شہادت کو ادا کر جو تیرے ذمہ عائد ہے خواہ وہ کسی ہی کے خلاف کیوں نہ ہوں خواہ یہ شہادت تیرے محبوب لوگوں کے خلاف بلکہ خود تیری اپنی ذات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ١ۚ اِنۡ يَّكُنۡ غَنِيًّا اَوۡ فَقِيۡرًا فَاللّٰهُ اَوۡلٰى بِهِمَا ﴾ ’’اللہ کے لیے سچی گواہی دینے والے اگرچہ وہ تمھارے اپنے خلاف ہو یا والدین کے یا رشتہ داروں کے وہ شخص اگر امیر ہو یا فقیر، پس اللہ زیادہ حق دار ہے بہ نسبت ان دونوں کے۔‘‘ یعنی کسی دولت مند کی اس کی دولت کی وجہ سے رعایت کرو نہ کسی محتاج پر بزعم خویش ترس کھاتے ہوئے اس کی رعایت کرو، بلکہ صحیح صحیح شہادت دو، خواہ کسی ہی کے خلاف کیوں نہ ہو۔ عدل و انصاف قائم کرنا عظیم ترین امور میں شمار ہوتا ہے نیز یہ چیز عدل قائم کرنے والے کے دین، ورع اور اسلام میں اس کے مقام پر دلالت کرتی ہے۔ پس یہ بات متعین ہے کہ جو کوئی اپنے نفس کا خیر خواہ ہے اور وہ اس کی نجات چاہتا ہے، تو وہ عدل کا پورا پورا اہتمام کرے، اس کو مدنظر رکھے اور اپنے ارادے کا مرکز بنائے رکھے اور نفس سے ہر اس داعیے کو دور کر دے جو عدل کے ارادے سے مانع اور اس پر عمل کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہو اور انصاف کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ خواہشات نفس کی پیروی ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس رکاوٹ کو دور کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فَلَا تَتَّبِعُوا الۡهَوٰۤى اَنۡ تَعۡدِلُوۡا ﴾ ’’تم خواہش نفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا۔‘‘ یعنی تم حق کی مخالفت میں اپنے نفس کی اتباع نہ کرو۔ اگر تم نے اپنے نفس کی پیروی کی تو راہ صواب سے ہٹ جاؤ گے اور تم عدل و انصاف کی توفیق سے محروم ہو جاؤ گے۔ کیونکہ خواہش نفس یا تو انسان کی بصیرت کو اندھا کر دیتی ہے اور اسے حق باطل اور باطل حق دکھائی دیتا ہے۔ یا وہ حق کو پہچان لیتا ہے مگر اپنی خواہش نفس کی خاطر اسے چھوڑ دیتا ہے۔ پس جو شخص خواہش نفس سے محفوظ رہا اسے حق کی توفیق عطا ہوتی ہے اور وہ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی سے نوازا جاتا ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ عدل و انصاف کو قائم کرنا واجب ہے، تو اس نے ہر اس چیز سے بھی روک دیا جو عدل کی ضد ہے۔ یعنی شہادت وغیرہ میں زبان کو حق سے ہٹا دینا اور ہر لحاظ سے یا کسی ایک پہلو سے نطق زبان کو صواب مقصود سے پھیر دینا اور اسی میں، شہادت میں تحریف کرنا، اس کی عدم تکمیل اور شاہد کا شہادت کی تاویل کرتے ہوئے اس کا رخ کسی اور طرف پھیر دینا، بھی شامل ہے۔ اس لیے کہ یہ بھی (لَيّ) زبان کی کجی میں سے ہے، کیونکہ یہ حق سے انحراف ہے۔ ﴿ اَوۡ تُعۡرِضُوۡا ﴾ ’’یا تم اعراض کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس عدل و انصاف کو ترک کر دو جس کا دار و مدار تم پر ہے جیسے شاہد کا شہادت کو ترک کر دینا یا حاکم کا اپنے فیصلے کو ترک کر دینا جو کہ اس پر واجب تھا ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرًا ﴾ ’’تو (جان رکھو) اللہ تمھارے سب کاموں سے واقف ہے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے افعال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور تمھارے ظاہر و باطن تمام اعمال کا علم رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت تہدید ہے جو زبان سے کجی اختیار کرتا یا حق سے اعراض کرتا ہے اور وہ شخص اس تہدید کا بدرجہ اولیٰ مستحق ہے جو باطل فیصلہ کرتا یا جھوٹی گواہی دیتا ہے۔ اس لیے کہ اس کا جرم سب سے بڑا ہے۔ کیونکہ پہلے دو اشخاص نے حق کو ترک کیا اور اس نے باطل کو قائم کیا۔
4:136

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ ءَامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ مِن قَبۡلُۚ وَمَن يَكۡفُرۡ بِٱللَّهِ وَمَلَـٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلَۢا بَعِيدًا

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے اور (ساتھ) اس کتاب کے جو نازل کی اس نے اپنے رسول پر اور (ساتھ) اس کتاب کے جو نازل کی اس نے پہلےاور جو کوئی کفر کرے ساتھ اللہ کے اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور دن آخرت کے، پس تحقیق گمراہ ہو گیا وہ گمراہ ہونا دور کا(136) [136] معلوم ہونا چاہیے کہ امر یعنی حکم کا رخ یا تو اس شخص کی طرف ہوتا ہے جو اس شے میں داخل نہیں اور اس سے کچھ بھی متصف نہیں، تب اس کے لیے یہ حکم اس چیز میں داخل ہونے کا ہے۔ مثلاً اس شخص کے لیے ایمان لانے کا حکم جو مومن نہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا نَزَّلۡنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ ﴾(النساء : 4؍47) ’’اے وہ لوگو جن کو کتاب عطا کی گئی ہے اس کتاب پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کی ہے اور اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو تمھارے ساتھ ہے۔‘‘ یا اس حکم کا رخ اس شخص کی طرف ہوتا ہے جو اس چیز میں داخل ہو چکا ہے، تب یہ حکم اس لیے ہوتا ہے تاکہ اس چیز کی تصحیح کر لے جسے وہ پا چکا ہے اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے جو اس نے ابھی تک نہیں پائی۔ اور اس کی مثال یہی آیت کریمہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایمان لانے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ یہ ان سے اس چیز کے حکم کا تقاضا کرتی ہے جو ان کے ایمان یعنی صدق و اخلاص کی تصحیح کرتی ہے اور مفسدات سے اجتناب اور نقص میں ڈالنے والی ہر چیز سے توبہ کا تقاضا کرتی ہے۔ نیز یہ اس چیز کے حکم کا بھی تقاضا کرتی ہے جو ابھی مومن میں موجود نہیں یعنی علوم ایمان و عمل وغیرہ۔ کیونکہ جب کبھی اس کے پاس کوئی نص پہنچے گی، تو وہ اس کا معنی سمجھے گا اور اسے اپنے اعتقاد کا حصہ بنائے گا اور اسی چیز کا اسے حکم دیا گیا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی اعمال کا یہی معاملہ ہے تمام اعمال ایمان ہی کے دائرے میں آتے ہیں جیسا کہ بہت سی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں اور امت کا اس پر اجماع ہے۔ پھر اس پر استمرار اور موت تک اس پر ثابت قدمی ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾(آل عمران : 3؍102)’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔‘‘یہاں ہمیں اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسولوں پر، قرآن کریم پر اور سابقہ کتب پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ تمام تر، ایمان واجب میں سے ہیں جس کے بغیر کوئی بندہ مومن نہیں ہو سکتا۔ جس چیز کے بارے میں تفصیل نہیں پہنچی اس پر اجمالاً ایمان لانا فرض ہے اور جہاں تفصیل معلوم ہے وہاں تفصیلاً ایمان لانا فرض ہے۔ جو کوئی اس مامور طریقے پر ایمان لاتا ہے وہی ہدایت پا کر فوزیاب ہوتا ہے۔﴿ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَؔكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا ﴾ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے، تو وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا‘‘ یعنی ان لوگوں سے بھی کوئی بڑھ کر گمراہ ہو سکتا ہے جو ہدایت کی راہ راست کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس راستے پر چل نکلتے ہیں جو دردناک عذاب میں لے جاتا ہے؟یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ان تمام امور میں سے کسی ایک کے ساتھ کفر گویا ان تمام امور کے ساتھ کفر ہے کیونکہ یہ تمام امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اور ان میں سے کسی ایک پر ایمان لانے سے بھی ایمان کا وجود ممتنع ہے۔
4:137

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ثُمَّ كَفَرُواْ ثُمَّ ءَامَنُواْ ثُمَّ كَفَرُواْ ثُمَّ ٱزۡدَادُواْ كُفۡرٗا لَّمۡ يَكُنِ ٱللَّهُ لِيَغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَهۡدِيَهُمۡ سَبِيلَۢا

بے شک جو لوگ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا، پھر وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا، پھر زیادہ ہوگئے وہ کفر میں نہیں ہے اللہ کہ بخشے ان کو اور نہیں ہے کہ ہدایت دے ان کو راستے کی(137) [137] یعنی جو کوئی ایمان لانے کے بعد بتکرار کفر کرتا رہا، ہدایت کا راستہ اختیار کیا، پھر گمراہ ہو گیا پھر ایمان لایا۔ پھر اندھا ہو گیا پھر ایمان لے آیا پھر کفر کیا اور اپنے کفر پر قائم رہا بلکہ اپنے کفر میں بڑھتا رہا۔ تو وہ توفیق اور راہ راست سے بہت دور اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت سے بہت بعید ہے کیونکہ وہ ایسی چیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا جو مغفرت کے لیے سب سے بڑا مانع ہے۔ اس لیے کہ اس کا کفر اس کے لیے سزا اور اس کی طبیعت بن جاتا ہے جو کبھی زائل نہیں ہوتی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف : 61؍5) ’’جب وہ کج رو ہو گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ اور فرمایا : ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام : 6؍110) ’’ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے اور جس طرح وہ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہ لائے تھے (ویسے پھر ایمان نہ لائیں گے)۔‘‘آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر وہ اپنے کفر میں بڑھتے نہ چلے جائیں بلکہ وہ ایمان کی طرف لوٹ آئیں اور کفر کے رویے کو ترک کر دیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا خواہ بار بار ان سے ارتداد کا ارتکاب ہوا ہو اور جب کفر کے مقابلے میں یہ حکم ہے تو دیگر گناہ جو کفر سے کم تر ہیں وہ بدرجہ اولیٰ اس بات کے مستحق ہیں کہ اگر بندے سے ان گناہوں کا تکرار ہو اور وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ ان کے یہ گناہ بخش دے۔
4:138

بَشِّرِ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ بِأَنَّ لَهُمۡ عَذَابًا أَلِيمًا

بشارت دے دیجیے منافقین کو اس بات کی کہ تحقیق ان کے لیے عذاب ہے بہت دردناک(138) جو لوگ بناتے ہیں کافروں کو دوست سوائے مومنوں کے، کیا تلاش کرتے ہیں وہ ان کے پاس عزت؟ پس بے شک عزت تو اللہ ہی کے لیے ہے ساری(139) [139,138] ’’بشارت‘‘ کا لفظ خیر کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور شر کے معنوں میں اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی قید سے مقید ہو۔ جیسا کہ اس آیت کریمہ میں ہے۔ ﴿ بَشِّرِ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’منافقوں کو بشارت سنادو۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اسلام ظاہر کرتے ہیں اور اپنے دلوں میں کفر کو چھپائے ہوئے ہیں انھیں بدترین بشارت سنا دیجیے۔ اور وہ ہے دردناک عذاب کی بشارت۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ کفار سے محبت کرتے ہیں، ان سے موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اہل ایمان سے ترک موالات کرتے ہیں۔ کس چیز نے انھیں اس رویے پر آمادہ کیا؟ کیا یہ ان کے پاس عزت کے متلاشی ہیں؟یہ منافقین کے احوال تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی کا شکار تھے۔ ان کا یقین اس بارے میں بہت کمزور تھا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی مدد فرمائے گا وہ بعض ان اسباب کو دیکھ رہے تھے جو کفار کو میسر تھے اور اس سے آگے دیکھنے سے ان کی نظر قاصر تھی۔ پس انھوں نے کفار کو اپنا دوست اور ولی و مددگار بنا لیا جن سے یہ مدد طلب کرتے ہیں اور جن کے پاس یہ عزت ڈھونڈتے ہیں۔ حالانکہ تمام تر عزت کا مالک اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ بندوں کی پیشانیاں اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور ان میں اسی کی مشیت نافذ ہے۔ وہ اپنے دین اور اپنے مومن بندوں کی مدد کا ضامن ہے۔ اگرچہ وہ کبھی کبھی اہل ایمان کا امتحان لینے کے لیے یہ مدد چھوڑ دیتا ہے اور دشمن کو ان پر غلبہ دے دیتا ہے۔ مگر دشمن کی فتح اور کامیابی دائمی اور مستقل نہیں ہوتی۔ انجام کار، فتح اور کامیابی اہل ایمان ہی کی ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں کفار کے ساتھ موالات رکھنے اور اہل ایمان کے ساتھ موالات ترک کرنے پر زبردست ترہیب ہے۔ نیز بتایا گیا ہے کہ یہ منافقین کی صفات ہیں۔ ایمان تو اہل ایمان کے ساتھ محبت اور موالات اور کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔
4:139

ٱلَّذِينَ يَتَّخِذُونَ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۚ أَيَبۡتَغُونَ عِندَهُمُ ٱلۡعِزَّةَ فَإِنَّ ٱلۡعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعٗا

بشارت دے دیجیے منافقین کو اس بات کی کہ تحقیق ان کے لیے عذاب ہے بہت دردناک(138) جو لوگ بناتے ہیں کافروں کو دوست سوائے مومنوں کے، کیا تلاش کرتے ہیں وہ ان کے پاس عزت؟ پس بے شک عزت تو اللہ ہی کے لیے ہے ساری(139) [139,138] ’’بشارت‘‘ کا لفظ خیر کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور شر کے معنوں میں اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی قید سے مقید ہو۔ جیسا کہ اس آیت کریمہ میں ہے۔ ﴿ بَشِّرِ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’منافقوں کو بشارت سنادو۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اسلام ظاہر کرتے ہیں اور اپنے دلوں میں کفر کو چھپائے ہوئے ہیں انھیں بدترین بشارت سنا دیجیے۔ اور وہ ہے دردناک عذاب کی بشارت۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ کفار سے محبت کرتے ہیں، ان سے موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اہل ایمان سے ترک موالات کرتے ہیں۔ کس چیز نے انھیں اس رویے پر آمادہ کیا؟ کیا یہ ان کے پاس عزت کے متلاشی ہیں؟یہ منافقین کے احوال تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی کا شکار تھے۔ ان کا یقین اس بارے میں بہت کمزور تھا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی مدد فرمائے گا وہ بعض ان اسباب کو دیکھ رہے تھے جو کفار کو میسر تھے اور اس سے آگے دیکھنے سے ان کی نظر قاصر تھی۔ پس انھوں نے کفار کو اپنا دوست اور ولی و مددگار بنا لیا جن سے یہ مدد طلب کرتے ہیں اور جن کے پاس یہ عزت ڈھونڈتے ہیں۔ حالانکہ تمام تر عزت کا مالک اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ بندوں کی پیشانیاں اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور ان میں اسی کی مشیت نافذ ہے۔ وہ اپنے دین اور اپنے مومن بندوں کی مدد کا ضامن ہے۔ اگرچہ وہ کبھی کبھی اہل ایمان کا امتحان لینے کے لیے یہ مدد چھوڑ دیتا ہے اور دشمن کو ان پر غلبہ دے دیتا ہے۔ مگر دشمن کی فتح اور کامیابی دائمی اور مستقل نہیں ہوتی۔ انجام کار، فتح اور کامیابی اہل ایمان ہی کی ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں کفار کے ساتھ موالات رکھنے اور اہل ایمان کے ساتھ موالات ترک کرنے پر زبردست ترہیب ہے۔ نیز بتایا گیا ہے کہ یہ منافقین کی صفات ہیں۔ ایمان تو اہل ایمان کے ساتھ محبت اور موالات اور کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔
4:140

وَقَدۡ نَزَّلَ عَلَيۡكُمۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ أَنۡ إِذَا سَمِعۡتُمۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَأُ بِهَا فَلَا تَقۡعُدُواْ مَعَهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦٓ إِنَّكُمۡ إِذٗا مِّثۡلُهُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ جَامِعُ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱلۡكَٰفِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا

اور تحقیق نازل کیا ہے اس نے تم پر کتاب میں یہ کہ جب سنو تم آیتیں اللہ کی، کہ کفر کیا جارہا ہو ساتھ ان کے اور استہزاء کیا جارہا ہو ساتھ ان کے تو نہ بیٹھو تم ان کے ساتھ، یہاں تک کہ مشغول ہو جائیں وہ کسی اور بات میں اس کے علاوہ۔ بلاشبہ تم اس وقت ان جیسے ہی ہو گے تحقیق اللہ جمع کرنے والا ہے منافقوں اور کافروں کو جہنم میں سب کو(140) جو (منافق) انتظار کرتے ہیں تمھاری بابت، پھر اگر ہو تمھارے لیے فتح اللہ کی طرف سے تو کہتے ہیں کیا نہ تھے ہم تمھارے ساتھ؟ اور اگر ہو واسطے کافروں کے حصہ (غلبہ) تو کہتے ہیں کیا نہ غالب آنے لگے تھے ہم تم پراور (کیا نہ) بچایا تھا ہم نے تمھیں مسلمانوں سے؟ پس اللہ فیصلہ کرے گا تمھارے درمیان دن قیامت کےاور ہرگز نہیں کرے گا اللہ کافروں کے لیے اوپر مومنوں کے کوئی راہ (غلبے کی)(141) [140] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ کتاب میں کفر اور معاصی کی مجالس میں موجود ہونے کی صورت میں اپنا شرعی حکم واضح کر دیا ہے۔ ﴿ اَنۡ اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَاُ بِهَا﴾ ’’کہ جب تم (کہیں) سنو کہ اللہ کی آیتوں سے انکار ہورہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جارہی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کی اہانت کی جا رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں ہر مکلف شخص پر فرض ہے کہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی تعظیم و تکریم کرے۔ ان کو نازل کرنے کا یہی مقصد ہے اور اسی کی خاطر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام کائنات تخلیق کی ہے۔ پس ان پر ایمان لانے کی ضد ان کے ساتھ کفر کرنا، اور ان کی تعظیم و تکریم کی ضد ان کے ساتھ استہزاء اور ان کی تحقیر کرنا ہے۔ نیز اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ابطال کے لیے کفار و منافقین کا مجادلہ اور ان کی اپنے کفر کی تائید کرنا بھی شامل ہے۔ اسی طرح ہر قسم کے بدعتی بھی داخل ہیں کیونکہ ان کا اپنے باطل نظریات کے لیے استدلال کرنا اللہ تعالیٰ کی آیات کی اہانت کو متضمن ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات حق کے سوا کسی چیز پر دلالت نہیں کرتیں اور صدق کے سوا کسی چیز کو مستلزم نہیں۔اسی طرح اس حکم میں ان مجالس کی حاضری بھی شامل ہے جن میں فسق و فجور اور معصیت کے کام ہوتے ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کی اہانت ہوتی ہے اور اس کی حدود توڑی جاتی ہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کی ہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھنے کی ممانعت کا منتہی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿حَتّٰى يَخُوۡضُوۡا فِيۡ حَدِيۡثٍ غَيۡرِهٖۤ ﴾ ’’حتی کہ وہ اور باتیں کرنے لگیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر اور استہزاء کے سوا کوئی اور بات کرنے لگیں ﴿اِنَّـكُمۡ اِذًا﴾ ’’ورنہ تم بھی (ان ہی جیسے) ہوجاؤ گے۔‘‘ یعنی اگر تم آیت کریمہ میں مذکور حالت میں ان کے ساتھ بیٹھو گے ﴿ مِّؔثۡلُهُمۡ ﴾ ’’تو ان جیسے شمار ہو گے‘‘ کیونکہ تم ان کے کفر و استہزاء پر راضی تھے۔ کسی معصیت کے فعل پر راضی ہونا اس فعل کے ارتکاب کی مانند ہے۔ اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ جو کوئی کسی ایسی مجلس میں موجود ہو جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جا رہی ہو تو قدرت رکھتے ہوئے اس نافرمانی پر نکیر کرنا اور اس سے روکنا واجب ہے۔ اگر روکنے کی قدرت نہ ہو تو اس مجلس سے اٹھ کر چلا جانا ضروری ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الۡمُنٰفِقِيۡنَ وَالۡكٰفِرِيۡنَ فِيۡ جَهَنَّمَ جَمِيۡعًا﴾ ’’یقینا اللہ تمام کافروں اور سب منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے‘‘ جیسے وہ اس دنیا میں کفر و موالات پر مجتمع ہیں۔منافقین کو، ان کا ظاہری طور پر اہل ایمان کے ساتھ ہونا، کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ يَوۡمَ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ١ۚ قِيۡلَ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا١ؕ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ بِسُوۡرٍ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُؕ۰۰ يُنَادُوۡنَهُمۡ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ١ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَلٰكِنَّكُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ۰۰فَالۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنۡكُمۡ فِدۡيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا١ؕ مَاۡوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِيَ مَوۡلٰىكُمۡ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾(الحدید : 57؍13۔15) ’’اس روز منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے کہیں گے، ٹھہرو! ہم بھی تمھارے نور سے روشنی حاصل کر لیں! ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے لوٹ جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا جس کے اندرونی جانب رحمت ہو گی اور بیرونی جانب عذاب، منافق پکار پکار کر اہل ایمان سے کہیں گے کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟ مومن جواب دیں گے ہاں تم ہمارے ساتھ تو تھے مگر تم نے اپنے آپ کو فتنے میں ڈالا اور تم حوادث زمانہ کے منتظر رہے، تم نے اسلام کے بارے میں شک کیا، جھوٹی آرزوؤں نے تمھیں دھوکے میں مبتلا کیے رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا اور تمھیں شیطان دھوکے باز دھوکہ دیتا رہا۔ آج تم سے کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ تمھارا ٹھکانا جہنم ہے اور وہی تمھارا دوست ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔‘‘ [141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ منافقین کی کفار کے ساتھ موالات اور اہل ایمان کے ساتھ عداوت متحقق ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَرَبَّصُوۡنَ بِكُمۡ ﴾ ’’جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں۔‘‘ یعنی مستقبل میں تمھارے اچھے یا برے حالات کے منتظر ہیں انھوں نے اپنے نفاق کے مطابق ہر حالت کے بارے میں جواب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ فَتۡحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوۡۤا اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ ﴾’’پھر اگر اللہ تمھیں فتح دے تو یہ کہتے ہیں کیا ہم تمھارے ساتھ نہیں تھے؟‘‘ وہ ظاہر کریں گے کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر اہل ایمان کے ساتھ تھے تاکہ طعن و تشنیع سے بچ سکیں نیز فے اور مال غنیمت میں سے حصہ وصول کر سکیں اور ان کے ساتھ مل کر وہ محفوظ رہیں۔﴿ وَاِنۡ كَانَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ نَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور اگر کافروں کو کچھ حصہ مل جائے‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر کافروں کی فتح ہو کیونکہ ان کو ایسی فتح حاصل نہیں ہوتی جو ان کی دائمی نصرت کی ابتدا ہو۔ اگر ان کے لیے کوئی حصہ ہوتا ہے تو اس کی انتہا یہ ہے کہ وہ عارضی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ چنانچہ جب یہ صورت حال ہوتی ہے ﴿ قَالُوۡۤا اَلَمۡ نَسۡتَحۡوِذۡ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تو کہتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہ تھے‘‘ ﴿ وَنَمۡنَعۡكُمۡ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾’’اور تم کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے بچایا نہیں؟‘‘ یعنی وہ کفار کے پاس بناوٹ اور تصنع سے کام لے کر ان سے کہتے تھے کہ قدرت اور طاقت کے باوجود انھوں نے ان سے لڑائی نہیں کی اور ان کو مسلمانوں سے بچائے رکھا اور وہ ہر لحاظ سے جنگ کے لیے گھر سے نکلنے سے رکے رہے، لڑائی سے گریز کرتے رہے اور مسلمانوں کے دشمنوں کی مدد کرتے رہے۔ اور ان کے بارے میں یہ تمام امور معروف ہیں۔﴿ فَاللّٰهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’پس اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان فیصلہ کرے گا‘‘ اور اہل ایمان کو، ظاہری اور باطنی طور پر، بدلے میں جنت عطا کرے گا اور منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جہنم کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ ﴿ وَلَنۡ يَّجۡعَلَ اللّٰهُ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا۔‘‘ یعنی اللہ کفار کو اہل ایمان پر کبھی تسلط اور غلبہ عطا نہیں کرے گا، بلکہ اہل ایمان کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی۔ اللہ اس جماعت کی مدد کرے گا، جو ان سے علیحدہ ہو گا اور ان کی مخالفت کرے گا وہ ان کا کوئی نقصان نہیں کر سکے گا۔ اہل ایمان کی فتح و نصرت کے اسباب پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔ اور کفار کا تسلط ختم ہوتا چلا جائے گا اور اس کا واضح طور پر مشاہدہ ہو چکا ہے۔ حتیٰ کہ بعض مسلمان، جن پر کفار حکومت کرتے ہیں وہ ان کے ہاں قابل احترام ہیں وہ ان کے دین سے کوئی تعرض نہیں کرتے وہ ان کے ہاں کمزور اور ماتحت بن کر نہیں رہتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو پوری عزت عطا کی گئی ہے۔ اول و آخر اور ظاہر و باطن میں ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے۔
4:141

ٱلَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمۡ فَإِن كَانَ لَكُمۡ فَتۡحٞ مِّنَ ٱللَّهِ قَالُوٓاْ أَلَمۡ نَكُن مَّعَكُمۡ وَإِن كَانَ لِلۡكَٰفِرِينَ نَصِيبٞ قَالُوٓاْ أَلَمۡ نَسۡتَحۡوِذۡ عَلَيۡكُمۡ وَنَمۡنَعۡكُم مِّنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۚ فَٱللَّهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ وَلَن يَجۡعَلَ ٱللَّهُ لِلۡكَٰفِرِينَ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ سَبِيلًا

اور تحقیق نازل کیا ہے اس نے تم پر کتاب میں یہ کہ جب سنو تم آیتیں اللہ کی، کہ کفر کیا جارہا ہو ساتھ ان کے اور استہزاء کیا جارہا ہو ساتھ ان کے تو نہ بیٹھو تم ان کے ساتھ، یہاں تک کہ مشغول ہو جائیں وہ کسی اور بات میں اس کے علاوہ۔ بلاشبہ تم اس وقت ان جیسے ہی ہو گے تحقیق اللہ جمع کرنے والا ہے منافقوں اور کافروں کو جہنم میں سب کو(140) جو (منافق) انتظار کرتے ہیں تمھاری بابت، پھر اگر ہو تمھارے لیے فتح اللہ کی طرف سے تو کہتے ہیں کیا نہ تھے ہم تمھارے ساتھ؟ اور اگر ہو واسطے کافروں کے حصہ (غلبہ) تو کہتے ہیں کیا نہ غالب آنے لگے تھے ہم تم پراور (کیا نہ) بچایا تھا ہم نے تمھیں مسلمانوں سے؟ پس اللہ فیصلہ کرے گا تمھارے درمیان دن قیامت کےاور ہرگز نہیں کرے گا اللہ کافروں کے لیے اوپر مومنوں کے کوئی راہ (غلبے کی)(141) [140] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ کتاب میں کفر اور معاصی کی مجالس میں موجود ہونے کی صورت میں اپنا شرعی حکم واضح کر دیا ہے۔ ﴿ اَنۡ اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَاُ بِهَا﴾ ’’کہ جب تم (کہیں) سنو کہ اللہ کی آیتوں سے انکار ہورہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جارہی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کی اہانت کی جا رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں ہر مکلف شخص پر فرض ہے کہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی تعظیم و تکریم کرے۔ ان کو نازل کرنے کا یہی مقصد ہے اور اسی کی خاطر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام کائنات تخلیق کی ہے۔ پس ان پر ایمان لانے کی ضد ان کے ساتھ کفر کرنا، اور ان کی تعظیم و تکریم کی ضد ان کے ساتھ استہزاء اور ان کی تحقیر کرنا ہے۔ نیز اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ابطال کے لیے کفار و منافقین کا مجادلہ اور ان کی اپنے کفر کی تائید کرنا بھی شامل ہے۔ اسی طرح ہر قسم کے بدعتی بھی داخل ہیں کیونکہ ان کا اپنے باطل نظریات کے لیے استدلال کرنا اللہ تعالیٰ کی آیات کی اہانت کو متضمن ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات حق کے سوا کسی چیز پر دلالت نہیں کرتیں اور صدق کے سوا کسی چیز کو مستلزم نہیں۔اسی طرح اس حکم میں ان مجالس کی حاضری بھی شامل ہے جن میں فسق و فجور اور معصیت کے کام ہوتے ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کی اہانت ہوتی ہے اور اس کی حدود توڑی جاتی ہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کی ہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھنے کی ممانعت کا منتہی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿حَتّٰى يَخُوۡضُوۡا فِيۡ حَدِيۡثٍ غَيۡرِهٖۤ ﴾ ’’حتی کہ وہ اور باتیں کرنے لگیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر اور استہزاء کے سوا کوئی اور بات کرنے لگیں ﴿اِنَّـكُمۡ اِذًا﴾ ’’ورنہ تم بھی (ان ہی جیسے) ہوجاؤ گے۔‘‘ یعنی اگر تم آیت کریمہ میں مذکور حالت میں ان کے ساتھ بیٹھو گے ﴿ مِّؔثۡلُهُمۡ ﴾ ’’تو ان جیسے شمار ہو گے‘‘ کیونکہ تم ان کے کفر و استہزاء پر راضی تھے۔ کسی معصیت کے فعل پر راضی ہونا اس فعل کے ارتکاب کی مانند ہے۔ اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ جو کوئی کسی ایسی مجلس میں موجود ہو جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جا رہی ہو تو قدرت رکھتے ہوئے اس نافرمانی پر نکیر کرنا اور اس سے روکنا واجب ہے۔ اگر روکنے کی قدرت نہ ہو تو اس مجلس سے اٹھ کر چلا جانا ضروری ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الۡمُنٰفِقِيۡنَ وَالۡكٰفِرِيۡنَ فِيۡ جَهَنَّمَ جَمِيۡعًا﴾ ’’یقینا اللہ تمام کافروں اور سب منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے‘‘ جیسے وہ اس دنیا میں کفر و موالات پر مجتمع ہیں۔منافقین کو، ان کا ظاہری طور پر اہل ایمان کے ساتھ ہونا، کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ يَوۡمَ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ١ۚ قِيۡلَ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا١ؕ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ بِسُوۡرٍ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُؕ۰۰ يُنَادُوۡنَهُمۡ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ١ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَلٰكِنَّكُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ۰۰فَالۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنۡكُمۡ فِدۡيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا١ؕ مَاۡوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِيَ مَوۡلٰىكُمۡ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾(الحدید : 57؍13۔15) ’’اس روز منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے کہیں گے، ٹھہرو! ہم بھی تمھارے نور سے روشنی حاصل کر لیں! ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے لوٹ جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا جس کے اندرونی جانب رحمت ہو گی اور بیرونی جانب عذاب، منافق پکار پکار کر اہل ایمان سے کہیں گے کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟ مومن جواب دیں گے ہاں تم ہمارے ساتھ تو تھے مگر تم نے اپنے آپ کو فتنے میں ڈالا اور تم حوادث زمانہ کے منتظر رہے، تم نے اسلام کے بارے میں شک کیا، جھوٹی آرزوؤں نے تمھیں دھوکے میں مبتلا کیے رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا اور تمھیں شیطان دھوکے باز دھوکہ دیتا رہا۔ آج تم سے کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ تمھارا ٹھکانا جہنم ہے اور وہی تمھارا دوست ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔‘‘ [141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ منافقین کی کفار کے ساتھ موالات اور اہل ایمان کے ساتھ عداوت متحقق ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَرَبَّصُوۡنَ بِكُمۡ ﴾ ’’جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں۔‘‘ یعنی مستقبل میں تمھارے اچھے یا برے حالات کے منتظر ہیں انھوں نے اپنے نفاق کے مطابق ہر حالت کے بارے میں جواب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ فَتۡحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوۡۤا اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ ﴾’’پھر اگر اللہ تمھیں فتح دے تو یہ کہتے ہیں کیا ہم تمھارے ساتھ نہیں تھے؟‘‘ وہ ظاہر کریں گے کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر اہل ایمان کے ساتھ تھے تاکہ طعن و تشنیع سے بچ سکیں نیز فے اور مال غنیمت میں سے حصہ وصول کر سکیں اور ان کے ساتھ مل کر وہ محفوظ رہیں۔﴿ وَاِنۡ كَانَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ نَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور اگر کافروں کو کچھ حصہ مل جائے‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر کافروں کی فتح ہو کیونکہ ان کو ایسی فتح حاصل نہیں ہوتی جو ان کی دائمی نصرت کی ابتدا ہو۔ اگر ان کے لیے کوئی حصہ ہوتا ہے تو اس کی انتہا یہ ہے کہ وہ عارضی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ چنانچہ جب یہ صورت حال ہوتی ہے ﴿ قَالُوۡۤا اَلَمۡ نَسۡتَحۡوِذۡ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تو کہتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہ تھے‘‘ ﴿ وَنَمۡنَعۡكُمۡ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾’’اور تم کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے بچایا نہیں؟‘‘ یعنی وہ کفار کے پاس بناوٹ اور تصنع سے کام لے کر ان سے کہتے تھے کہ قدرت اور طاقت کے باوجود انھوں نے ان سے لڑائی نہیں کی اور ان کو مسلمانوں سے بچائے رکھا اور وہ ہر لحاظ سے جنگ کے لیے گھر سے نکلنے سے رکے رہے، لڑائی سے گریز کرتے رہے اور مسلمانوں کے دشمنوں کی مدد کرتے رہے۔ اور ان کے بارے میں یہ تمام امور معروف ہیں۔﴿ فَاللّٰهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’پس اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان فیصلہ کرے گا‘‘ اور اہل ایمان کو، ظاہری اور باطنی طور پر، بدلے میں جنت عطا کرے گا اور منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جہنم کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ ﴿ وَلَنۡ يَّجۡعَلَ اللّٰهُ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا۔‘‘ یعنی اللہ کفار کو اہل ایمان پر کبھی تسلط اور غلبہ عطا نہیں کرے گا، بلکہ اہل ایمان کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی۔ اللہ اس جماعت کی مدد کرے گا، جو ان سے علیحدہ ہو گا اور ان کی مخالفت کرے گا وہ ان کا کوئی نقصان نہیں کر سکے گا۔ اہل ایمان کی فتح و نصرت کے اسباب پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔ اور کفار کا تسلط ختم ہوتا چلا جائے گا اور اس کا واضح طور پر مشاہدہ ہو چکا ہے۔ حتیٰ کہ بعض مسلمان، جن پر کفار حکومت کرتے ہیں وہ ان کے ہاں قابل احترام ہیں وہ ان کے دین سے کوئی تعرض نہیں کرتے وہ ان کے ہاں کمزور اور ماتحت بن کر نہیں رہتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو پوری عزت عطا کی گئی ہے۔ اول و آخر اور ظاہر و باطن میں ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے۔
4:142

إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ يُخَٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَهُوَ خَٰدِعُهُمۡ وَإِذَا قَامُوٓاْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ قَامُواْ كُسَالَىٰ يُرَآءُونَ ٱلنَّاسَ وَلَا يَذۡكُرُونَ ٱللَّهَ إِلَّا قَلِيلٗا

بلاشبہ منافق فریب دیتے ہیں اللہ کو اور وہ (بھی) فریب دینے والا ہے ان کواور جب کھڑے ہوتے ہیں طرف نماز کی تو کھڑے ہوتے ہیں کاہلی سے، دکھلاتے ہیں لوگوں کو اور نہیں یاد کرتے اللہ کو مگر بہت تھوڑا(142) متردد ہیں درمیان اس (کفرو ایمان) کے، نہ ان کی طرف اور نہ ان کی طرف اور جس کو گمراہ کرے اللہ، پس ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی راہ(143) [142] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کی قبیح صفات اور مکروہ علامات کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے نیز یہ کہ ان کا طریق اللہ کو فریب دینا ہے یعنی بظاہر وہ مومن ہیں مگر باطن میں کافر ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دے دیں گے اور اللہ تعالیٰ کو ان کے کرتوتوں کا علم نہیں اور وہ ان کا دھوکا اپنے بندوں پر ظاہر نہیں کرے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ خود ان کو دھوکے میں مبتلا کر رہا ہے۔ ان کا مجرد یہ حال ہونا اور اس راستے پر گامزن رہنا ان کا اپنے آپ کو دھوکے میں مبتلا کرنا ہے بھلا اس سے بڑا دھوکہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص پوری دوڑ دھوپ کرے مگر اس کا ماحصل رسوائی، ذلت اور محرومی کے سوا کچھ نہ ہو۔ یہ چیز اس شخص کی کم عقلی پر دلالت کرتی ہے کہ وہ معصیت کا ارتکاب کرتا ہے اور اسے نیکی خیال کرتا ہے اور اسے بڑی عقل مندی اور چال بازی سمجھتا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جہالت اور خذلان اسے کس انجام پر پہنچائیں گے۔قیامت کے روز ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا دھوکہ یہ ہو گا۔ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے ﴿ يَوۡمَ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ١ۚ قِيۡلَ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا١ؕ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ بِسُوۡرٍ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُؕ۰۰ يُنَادُوۡنَهُمۡ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ …﴾(الحدید : 57؍13) ’’اس روز منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے کہیں گے ٹھہرو ہم بھی تمھارے نور سے روشنی حاصل کر لیں، ان سے کہا جائے گا پیچھے لوٹ جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو، پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا جس کے اندرونی جانب رحمت ہو گی اور بیرونی جانب عذاب۔ منافق پکار پکار کر اہل ایمان سے کہیں گے کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟‘‘ان منافقین کی صفات یہ ہیں ﴿ وَاِذَا قَامُوۡۤا اِلَى الصَّلٰوةِ ﴾ ’’جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘ نماز جو کہ سب سے بڑی عملی نیکی ہے۔ اگر وہ نماز کے لیے کھڑے ہو ہی جاتے ہیں ﴿ قَامُوۡا كُسَالٰى ﴾ ’’تو سست ہوکر۔‘‘ یعنی بوجھل پن کے ساتھ تنگ دل اور زچ ہو کر اٹھتے ہیں۔’’کاہلی‘‘ کا اطلاق ان پر تب ہوتا ہے جب ان کے دلوں میں رغبت کا فقدان ہو، اگر انکے دل اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب کی طرف رغبت سے خالی نہ ہوتے اور ان میں ایمان معدوم نہ ہوتا تو ان سے سستی اور کسل مندی کبھی صادر نہ ہوتی۔ ﴿ يُرَؔآءُوۡنَ النَّاسَ ﴾ ’’لوگوں کے دکھانے کو۔‘‘ یعنی یہ ان کی فطرت ہے اور یہی ان کے اعمال کا مصدر ہے۔ ان کے اعمال لوگوں کے دکھاوے کے لیے ہیں انکا مقصد محض ریاکاری اور لوگوں سے تعظیم اور احترام حاصل کرنا ہے۔ اپنے اعمال کو اللہ کے لیے خالص نہیں کرتے۔ لہٰذا فرمایا: ﴿ وَلَا يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ کا ذکر نہیں کرتے مگر بہت کم۔‘‘ کیونکہ ان کے دل ریا سے لبریز ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کا التزام صرف مومن ہی کر سکتا ہے، کیونکہ اس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت اور عظمت سے لبریز ہے۔ [143]﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں۔ نہ ان کی طرف (ہوتے ہیں) نہ ان کی طرف۔‘‘ یعنی وہ اہل ایمان اور کفار کے گروہوں کے درمیان متذبذب اور متردد ہیں۔ ظاہری اور باطنی طور پر اہل ایمان کے ساتھ ہیں نہ کفار کے ساتھ۔ انھوں نے اپنا باطن کفار کو عطا کر رکھا ہے اور ظاہر مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ اور یہ سب سے بڑی گمراہی ہے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلًا ﴾ ’’اور جس کو اللہ بھٹکائے تو آپ اس کے لیے کبھی بھی راستہ نہیں پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ اس کی ہدایت کا کوئی راستہ اور اس کو گمراہی سے بچانے کے لیے کوئی وسیلہ نہیں پائیں گے کیونکہ اس پر رحمت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اس کی رحمت کی بجائے اللہ تعالیٰ کا غضب و انتقام اس کا نصیب بن چکا ہے۔یہ تمام مذموم اوصاف اشارتاً دلالت کرتے ہیں کہ اہل ایمان ان کی متضاد صفات سے متصف ہیں اور وہ ہیں ظاہر و باطن میں صدق اور اخلاص۔ انھیں اپنی نمازوں، عبادات اور کثرت ذکر الٰہی میں جو نشاط حاصل ہوتا ہے وہ سب معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت عطا کی اور صراط مستقیم پر گامزن کیا۔ پس ایک عقل مند شخص کو چاہیے کہ وہ ان دو امور پر غور کرے اور جو اس کے لیے بہتر ہے اسے اختیار کر لے۔ واللہ المستعان۔
4:143

مُّذَبۡذَبِينَ بَيۡنَ ذَٰلِكَ لَآ إِلَىٰ هَـٰٓؤُلَآءِ وَلَآ إِلَىٰ هَـٰٓؤُلَآءِۚ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلٗا

بلاشبہ منافق فریب دیتے ہیں اللہ کو اور وہ (بھی) فریب دینے والا ہے ان کواور جب کھڑے ہوتے ہیں طرف نماز کی تو کھڑے ہوتے ہیں کاہلی سے، دکھلاتے ہیں لوگوں کو اور نہیں یاد کرتے اللہ کو مگر بہت تھوڑا(142) متردد ہیں درمیان اس (کفرو ایمان) کے، نہ ان کی طرف اور نہ ان کی طرف اور جس کو گمراہ کرے اللہ، پس ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی راہ(143) [142] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کی قبیح صفات اور مکروہ علامات کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے نیز یہ کہ ان کا طریق اللہ کو فریب دینا ہے یعنی بظاہر وہ مومن ہیں مگر باطن میں کافر ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دے دیں گے اور اللہ تعالیٰ کو ان کے کرتوتوں کا علم نہیں اور وہ ان کا دھوکا اپنے بندوں پر ظاہر نہیں کرے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ خود ان کو دھوکے میں مبتلا کر رہا ہے۔ ان کا مجرد یہ حال ہونا اور اس راستے پر گامزن رہنا ان کا اپنے آپ کو دھوکے میں مبتلا کرنا ہے بھلا اس سے بڑا دھوکہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص پوری دوڑ دھوپ کرے مگر اس کا ماحصل رسوائی، ذلت اور محرومی کے سوا کچھ نہ ہو۔ یہ چیز اس شخص کی کم عقلی پر دلالت کرتی ہے کہ وہ معصیت کا ارتکاب کرتا ہے اور اسے نیکی خیال کرتا ہے اور اسے بڑی عقل مندی اور چال بازی سمجھتا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جہالت اور خذلان اسے کس انجام پر پہنچائیں گے۔قیامت کے روز ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا دھوکہ یہ ہو گا۔ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے ﴿ يَوۡمَ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ١ۚ قِيۡلَ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا١ؕ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ بِسُوۡرٍ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُؕ۰۰ يُنَادُوۡنَهُمۡ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ …﴾(الحدید : 57؍13) ’’اس روز منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے کہیں گے ٹھہرو ہم بھی تمھارے نور سے روشنی حاصل کر لیں، ان سے کہا جائے گا پیچھے لوٹ جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو، پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا جس کے اندرونی جانب رحمت ہو گی اور بیرونی جانب عذاب۔ منافق پکار پکار کر اہل ایمان سے کہیں گے کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟‘‘ان منافقین کی صفات یہ ہیں ﴿ وَاِذَا قَامُوۡۤا اِلَى الصَّلٰوةِ ﴾ ’’جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘ نماز جو کہ سب سے بڑی عملی نیکی ہے۔ اگر وہ نماز کے لیے کھڑے ہو ہی جاتے ہیں ﴿ قَامُوۡا كُسَالٰى ﴾ ’’تو سست ہوکر۔‘‘ یعنی بوجھل پن کے ساتھ تنگ دل اور زچ ہو کر اٹھتے ہیں۔’’کاہلی‘‘ کا اطلاق ان پر تب ہوتا ہے جب ان کے دلوں میں رغبت کا فقدان ہو، اگر انکے دل اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب کی طرف رغبت سے خالی نہ ہوتے اور ان میں ایمان معدوم نہ ہوتا تو ان سے سستی اور کسل مندی کبھی صادر نہ ہوتی۔ ﴿ يُرَؔآءُوۡنَ النَّاسَ ﴾ ’’لوگوں کے دکھانے کو۔‘‘ یعنی یہ ان کی فطرت ہے اور یہی ان کے اعمال کا مصدر ہے۔ ان کے اعمال لوگوں کے دکھاوے کے لیے ہیں انکا مقصد محض ریاکاری اور لوگوں سے تعظیم اور احترام حاصل کرنا ہے۔ اپنے اعمال کو اللہ کے لیے خالص نہیں کرتے۔ لہٰذا فرمایا: ﴿ وَلَا يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ کا ذکر نہیں کرتے مگر بہت کم۔‘‘ کیونکہ ان کے دل ریا سے لبریز ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کا التزام صرف مومن ہی کر سکتا ہے، کیونکہ اس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت اور عظمت سے لبریز ہے۔ [143]﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں۔ نہ ان کی طرف (ہوتے ہیں) نہ ان کی طرف۔‘‘ یعنی وہ اہل ایمان اور کفار کے گروہوں کے درمیان متذبذب اور متردد ہیں۔ ظاہری اور باطنی طور پر اہل ایمان کے ساتھ ہیں نہ کفار کے ساتھ۔ انھوں نے اپنا باطن کفار کو عطا کر رکھا ہے اور ظاہر مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ اور یہ سب سے بڑی گمراہی ہے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلًا ﴾ ’’اور جس کو اللہ بھٹکائے تو آپ اس کے لیے کبھی بھی راستہ نہیں پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ اس کی ہدایت کا کوئی راستہ اور اس کو گمراہی سے بچانے کے لیے کوئی وسیلہ نہیں پائیں گے کیونکہ اس پر رحمت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اس کی رحمت کی بجائے اللہ تعالیٰ کا غضب و انتقام اس کا نصیب بن چکا ہے۔یہ تمام مذموم اوصاف اشارتاً دلالت کرتے ہیں کہ اہل ایمان ان کی متضاد صفات سے متصف ہیں اور وہ ہیں ظاہر و باطن میں صدق اور اخلاص۔ انھیں اپنی نمازوں، عبادات اور کثرت ذکر الٰہی میں جو نشاط حاصل ہوتا ہے وہ سب معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت عطا کی اور صراط مستقیم پر گامزن کیا۔ پس ایک عقل مند شخص کو چاہیے کہ وہ ان دو امور پر غور کرے اور جو اس کے لیے بہتر ہے اسے اختیار کر لے۔ واللہ المستعان۔
4:144

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجۡعَلُواْ لِلَّهِ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطَٰنٗا مُّبِينًا

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم کافروں کو دوست سوائے مومنوں کے، کیا چاہتے ہو تم یہ کہ (ثابت) کرو اللہ کے لیے اپنے خلاف حجت ظاہر؟(144) [144] چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ اہل ایمان کو چھوڑ کر کفار کو دوست بناتے ہیں۔ اس لیے اس نے اپنے مومن بندوں کو اس قبیح حالت سے متصف ہونے سے روکا ہے۔ نیز انھیں منافقین کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا ہے۔ کیونکہ تمھارا یہ عمل اللہ تعالیٰ کو حجت فراہم کرے گا فرمایا: ﴿ اَنۡ تَجۡعَلُوۡا لِلّٰهِ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطٰنًا مُّؔبِيۡنًا ﴾ ’’یہ کہ تم اپنے اوپر اللہ کا صریح الزام لو۔‘‘ یعنی تمھیں عذاب دینے کے لیے یہ واضح دلیل ہو گی۔ کیونکہ ہم تمھیں اس رویے سے ڈرا چکے ہیں اور تمھیں اس سے بچنے کی تلقین کر چکے ہیں اور اس میں جو مفاسد پنہاں ہیں ان سے آگاہ کر چکے ہیں۔ اس کے بعد بھی اسی راہ پر چلنا عذاب کا موجب ہو گا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے کامل عدل پر دلالت کرتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قانون پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ حجت قائم کرنے سے پہلے کسی کو سزا نہیں دے گا اور اس میں گناہوں سے بچنے کی تلقین ہے کیونکہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اپنے خلاف اللہ تعالیٰ کو واضح دلیل فراہم کرتا ہے۔
4:145

إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ فِي ٱلدَّرۡكِ ٱلۡأَسۡفَلِ مِنَ ٱلنَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمۡ نَصِيرًا

بلاشبہ منافقین سب سے نچلے درجے میں ہوں گے آگ کے اور ہرگز نہیں پائیں گے آپ ان کے لیے کوئی مددگار(145) سوائے ان کے جنھوں نے توبہ کی اور اصلاح کر لی اور مضبوط پکڑا اللہ (کے دین) کو اور خالص کر لیا اپنا دین اللہ کے لیے، پس یہ لوگ ساتھ ہوں گے مومنوں کےاور عنقریب دے گا اللہ مومنوں کو اجر بہت بڑا(146) کیا کرے گا اللہ تمھیں عذاب دے کر اگر شکر کرو تم اور ایمان لے آؤ تم؟ اور ہے اللہ قدر دان خوب جاننے والا(147) [145] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے انجام کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں بدترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ وہ تمام کفار کے نیچے ہوں گے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے اور رسول اللہﷺکی عداوت میں کفار کے ساتھ شریک تھے مزید برآں وہ مکر و فریب اور اہل ایمان کے ساتھ مختلف اقسام کی عداوت رکھتے تھے اور یہ عداوت اس طرح رکھتے تھے کہ وہ محسوس نہیں ہوتی تھی بنابریں ان پر اسلام کے احکام جاری ہوتے تھے اور اس بنیاد پر وہ اپنا استحقاق ظاہر کرتے تھے حالانکہ وہ اس کے مستحق نہ تھے۔ پس اس قسم کے مکرو فریب اور ہتھکنڈوں کی بنا پر سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ کوئی ہستی ان کو اس عذاب سے بچا سکے گی نہ کوئی مددگار اس عذاب کو ان سے دور کر سکے گا۔ [146] یہ عذاب ہر منافق کے لیے عام ہے سوائے ان کے جن کو اللہ تعالیٰ گناہوں سے توبہ کی توفیق سے نواز دے ﴿ وَاَصۡلَحُوۡا ﴾ ’’اور وہ (اپنے ظاہر و باطن کی) اصلاح کر لیں۔‘‘ ﴿ وَاعۡتَصَمُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ (کی رسی) کو مضبوط پکڑلیں۔‘‘ اپنے منافع کے حصول اور ضرر کے دفعیہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر لیں ﴿ وَاَخۡلَصُوۡا دِيۡنَهُمۡ ﴾ ’’اور اپنے دین کو خالص کر لیں‘‘ یہاں دین سے مراد اسلام، ایمان اور احسان ہے ﴿ لِلّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے لیے‘‘ یعنی ظاہری اور باطنی اعمال میں ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو نیز ریا اور نفاق سے بچے ہوئے ہوں۔ جو لوگ ان صفات سے متصف ہوں گے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ وہی دنیا، برزخ اور آخرت میں اہل ایمان کے ساتھ ہوں گے ﴿ وَسَوۡفَ يُؤۡتِ اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ عنقریب اہل ایمان کو ایسے اجر سے نوازے گا جس کی حقیقت و ماہیت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں اس کے تصور کا گزر ہوا ہے۔غور کیجیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ’’اعتصام باللہ‘‘ اور ’’اخلاص‘‘ کا خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ارشاد (وَاَصْلَحُوْا) میں داخل ہیں کیونکہ ’’اِعْتِصَام بِاللہِ‘‘ اور ’’اِخْلَاص‘‘ اصلاح کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصلاح میں ان دو امور کی سخت ضرورت ہے۔ خاص طورپر یہ مقام حرج جہاں دلوں میں نفاق جڑ پکڑ لیتا ہے.... اور نفاق کو صرف اعتصام باللہ، اللہ کے پاس پناہ لینے، اور اس کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی حاجت پیش کر کے ہی زائل کیا جا سکتا ہے اخلاص ہر لحاظ سے پوری طرح نفاق کے منافی ہے۔ اخلاص اور اعتصام کی فضیلت کی بنا پر ان کا تذکرہ کیا ہے، تمام ظاہری اور باطنی اعمال کا دار و مدار انھی دو امور پر ہے کیونکہ اس مقام پر ان دونوں امور کی سخت حاجت ہوتی ہے۔ اس امر پر بھی غور کیجیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ان کا ذکر کیا تو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اس نے یہ نہیں فرمایا (وَسَوْفَ یُؤْتِیْھِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا) بلکہ فرمایا ﴿ وَسَوۡفَ يُؤۡتِ اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدۂ شریف ہے جس کا وہ ہمیشہ اعادہ کرتا رہا ہے کہ جب کلام کا سیاق بعض جزئیات کے بارے میں ہو اور اللہ تعالیٰ ان جزئیات پر ثواب یا عقاب مرتب کرنا چاہتا ہو اور جس جنس میں یہ جزئیات داخل ہیں عذاب یا عقاب ان میں مشترک ہو۔ تو وہ عام حکم کے مقابلہ میں، جس کے تحت یہ قضیہ مندرج ہے ثواب مرتب کرتا ہے تاکہ اس جزوی امر کے ساتھ حکم کا اختصاص متوہم نہ ہو یہ قرآن کریم کے اسرار و بدائع ہیں۔ پس منافقین میں سے اپنے نفاق سے توبہ کرنے والا شخص اہل ایمان کے ساتھ ہو گا اور اسے بھی اہل ایمان والا ثواب ملے گا۔ [147] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال غنا، وسعت حلم و رحمت اور احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ مَا يَفۡعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمۡ اِنۡ شَكَرۡتُمۡ وَاٰمَنۡتُمۡ ﴾ ’’اگر تم (اللہ کے) شکر گزار رہو اور (اس پر) ایمان لے آؤ تو اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔‘‘ اور حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قدر شناس اور علم رکھنے والا ہے۔ وہ اپنے راستے میں بوجھ اٹھانے والوں اور اعمال میں مشقت برداشت کرنے والوں کو بہت زیادہ ثواب اور بے پایاں احسان سے نوازے گا۔جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی چیز ترک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ نیز اس کے ساتھ ساتھ وہ ظاہر و باطن اور تمھارے اعمال کو جانتا ہے۔ وہ ان اعمال کا بھی علم رکھتا ہے جو صدق و اخلاص سے صادر ہوتے ہیں اور ان اعمال کا بھی علم رکھتا ہے جو ان کی ضد ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ تم توبہ اور انابت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو۔ اور جب تم اس کی طرف رجوع کرو گے تو وہ تمھیں عذاب دے کر کیا کرے گا؟ وہ تشفی حاصل کرنے کے لیے تمھیں عذاب اور کسی فائدے کے حصول کی خاطر تمھیں عقاب میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ معاصی کا ارتکاب کرنے والا اپنے آپ ہی کو نقصان دیتا ہے جیسے اطاعت کرنے والے کا عمل صرف اس کی ذات کے لیے ہے۔شکر دل کے خضوع، اس کے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اعتراف کرنے اور زبان سے مشکور کی مدح و ثنا بیان کرنے کا نام ہے۔ نیز شکر یہ ہے کہ جوارح مشکور کی اطاعت کے اعمال میں مصروف ہوں اور وہ منعم و مشکور کی عطا کردہ نعمتوں کو اس کی نافرمانی میں استعمال نہ کرے۔
4:146

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُواْ وَأَصۡلَحُواْ وَٱعۡتَصَمُواْ بِٱللَّهِ وَأَخۡلَصُواْ دِينَهُمۡ لِلَّهِ فَأُوْلَـٰٓئِكَ مَعَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ وَسَوۡفَ يُؤۡتِ ٱللَّهُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ أَجۡرًا عَظِيمٗا

بلاشبہ منافقین سب سے نچلے درجے میں ہوں گے آگ کے اور ہرگز نہیں پائیں گے آپ ان کے لیے کوئی مددگار(145) سوائے ان کے جنھوں نے توبہ کی اور اصلاح کر لی اور مضبوط پکڑا اللہ (کے دین) کو اور خالص کر لیا اپنا دین اللہ کے لیے، پس یہ لوگ ساتھ ہوں گے مومنوں کےاور عنقریب دے گا اللہ مومنوں کو اجر بہت بڑا(146) کیا کرے گا اللہ تمھیں عذاب دے کر اگر شکر کرو تم اور ایمان لے آؤ تم؟ اور ہے اللہ قدر دان خوب جاننے والا(147) [145] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے انجام کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں بدترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ وہ تمام کفار کے نیچے ہوں گے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے اور رسول اللہﷺکی عداوت میں کفار کے ساتھ شریک تھے مزید برآں وہ مکر و فریب اور اہل ایمان کے ساتھ مختلف اقسام کی عداوت رکھتے تھے اور یہ عداوت اس طرح رکھتے تھے کہ وہ محسوس نہیں ہوتی تھی بنابریں ان پر اسلام کے احکام جاری ہوتے تھے اور اس بنیاد پر وہ اپنا استحقاق ظاہر کرتے تھے حالانکہ وہ اس کے مستحق نہ تھے۔ پس اس قسم کے مکرو فریب اور ہتھکنڈوں کی بنا پر سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ کوئی ہستی ان کو اس عذاب سے بچا سکے گی نہ کوئی مددگار اس عذاب کو ان سے دور کر سکے گا۔ [146] یہ عذاب ہر منافق کے لیے عام ہے سوائے ان کے جن کو اللہ تعالیٰ گناہوں سے توبہ کی توفیق سے نواز دے ﴿ وَاَصۡلَحُوۡا ﴾ ’’اور وہ (اپنے ظاہر و باطن کی) اصلاح کر لیں۔‘‘ ﴿ وَاعۡتَصَمُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ (کی رسی) کو مضبوط پکڑلیں۔‘‘ اپنے منافع کے حصول اور ضرر کے دفعیہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر لیں ﴿ وَاَخۡلَصُوۡا دِيۡنَهُمۡ ﴾ ’’اور اپنے دین کو خالص کر لیں‘‘ یہاں دین سے مراد اسلام، ایمان اور احسان ہے ﴿ لِلّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے لیے‘‘ یعنی ظاہری اور باطنی اعمال میں ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو نیز ریا اور نفاق سے بچے ہوئے ہوں۔ جو لوگ ان صفات سے متصف ہوں گے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ وہی دنیا، برزخ اور آخرت میں اہل ایمان کے ساتھ ہوں گے ﴿ وَسَوۡفَ يُؤۡتِ اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ عنقریب اہل ایمان کو ایسے اجر سے نوازے گا جس کی حقیقت و ماہیت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں اس کے تصور کا گزر ہوا ہے۔غور کیجیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ’’اعتصام باللہ‘‘ اور ’’اخلاص‘‘ کا خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ارشاد (وَاَصْلَحُوْا) میں داخل ہیں کیونکہ ’’اِعْتِصَام بِاللہِ‘‘ اور ’’اِخْلَاص‘‘ اصلاح کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصلاح میں ان دو امور کی سخت ضرورت ہے۔ خاص طورپر یہ مقام حرج جہاں دلوں میں نفاق جڑ پکڑ لیتا ہے.... اور نفاق کو صرف اعتصام باللہ، اللہ کے پاس پناہ لینے، اور اس کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی حاجت پیش کر کے ہی زائل کیا جا سکتا ہے اخلاص ہر لحاظ سے پوری طرح نفاق کے منافی ہے۔ اخلاص اور اعتصام کی فضیلت کی بنا پر ان کا تذکرہ کیا ہے، تمام ظاہری اور باطنی اعمال کا دار و مدار انھی دو امور پر ہے کیونکہ اس مقام پر ان دونوں امور کی سخت حاجت ہوتی ہے۔ اس امر پر بھی غور کیجیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ان کا ذکر کیا تو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اس نے یہ نہیں فرمایا (وَسَوْفَ یُؤْتِیْھِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا) بلکہ فرمایا ﴿ وَسَوۡفَ يُؤۡتِ اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدۂ شریف ہے جس کا وہ ہمیشہ اعادہ کرتا رہا ہے کہ جب کلام کا سیاق بعض جزئیات کے بارے میں ہو اور اللہ تعالیٰ ان جزئیات پر ثواب یا عقاب مرتب کرنا چاہتا ہو اور جس جنس میں یہ جزئیات داخل ہیں عذاب یا عقاب ان میں مشترک ہو۔ تو وہ عام حکم کے مقابلہ میں، جس کے تحت یہ قضیہ مندرج ہے ثواب مرتب کرتا ہے تاکہ اس جزوی امر کے ساتھ حکم کا اختصاص متوہم نہ ہو یہ قرآن کریم کے اسرار و بدائع ہیں۔ پس منافقین میں سے اپنے نفاق سے توبہ کرنے والا شخص اہل ایمان کے ساتھ ہو گا اور اسے بھی اہل ایمان والا ثواب ملے گا۔ [147] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال غنا، وسعت حلم و رحمت اور احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ مَا يَفۡعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمۡ اِنۡ شَكَرۡتُمۡ وَاٰمَنۡتُمۡ ﴾ ’’اگر تم (اللہ کے) شکر گزار رہو اور (اس پر) ایمان لے آؤ تو اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔‘‘ اور حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قدر شناس اور علم رکھنے والا ہے۔ وہ اپنے راستے میں بوجھ اٹھانے والوں اور اعمال میں مشقت برداشت کرنے والوں کو بہت زیادہ ثواب اور بے پایاں احسان سے نوازے گا۔جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی چیز ترک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ نیز اس کے ساتھ ساتھ وہ ظاہر و باطن اور تمھارے اعمال کو جانتا ہے۔ وہ ان اعمال کا بھی علم رکھتا ہے جو صدق و اخلاص سے صادر ہوتے ہیں اور ان اعمال کا بھی علم رکھتا ہے جو ان کی ضد ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ تم توبہ اور انابت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو۔ اور جب تم اس کی طرف رجوع کرو گے تو وہ تمھیں عذاب دے کر کیا کرے گا؟ وہ تشفی حاصل کرنے کے لیے تمھیں عذاب اور کسی فائدے کے حصول کی خاطر تمھیں عقاب میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ معاصی کا ارتکاب کرنے والا اپنے آپ ہی کو نقصان دیتا ہے جیسے اطاعت کرنے والے کا عمل صرف اس کی ذات کے لیے ہے۔شکر دل کے خضوع، اس کے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اعتراف کرنے اور زبان سے مشکور کی مدح و ثنا بیان کرنے کا نام ہے۔ نیز شکر یہ ہے کہ جوارح مشکور کی اطاعت کے اعمال میں مصروف ہوں اور وہ منعم و مشکور کی عطا کردہ نعمتوں کو اس کی نافرمانی میں استعمال نہ کرے۔
4:147

مَّا يَفۡعَلُ ٱللَّهُ بِعَذَابِكُمۡ إِن شَكَرۡتُمۡ وَءَامَنتُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمٗا

بلاشبہ منافقین سب سے نچلے درجے میں ہوں گے آگ کے اور ہرگز نہیں پائیں گے آپ ان کے لیے کوئی مددگار(145) سوائے ان کے جنھوں نے توبہ کی اور اصلاح کر لی اور مضبوط پکڑا اللہ (کے دین) کو اور خالص کر لیا اپنا دین اللہ کے لیے، پس یہ لوگ ساتھ ہوں گے مومنوں کےاور عنقریب دے گا اللہ مومنوں کو اجر بہت بڑا(146) کیا کرے گا اللہ تمھیں عذاب دے کر اگر شکر کرو تم اور ایمان لے آؤ تم؟ اور ہے اللہ قدر دان خوب جاننے والا(147) [145] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے انجام کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں بدترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ وہ تمام کفار کے نیچے ہوں گے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے اور رسول اللہﷺکی عداوت میں کفار کے ساتھ شریک تھے مزید برآں وہ مکر و فریب اور اہل ایمان کے ساتھ مختلف اقسام کی عداوت رکھتے تھے اور یہ عداوت اس طرح رکھتے تھے کہ وہ محسوس نہیں ہوتی تھی بنابریں ان پر اسلام کے احکام جاری ہوتے تھے اور اس بنیاد پر وہ اپنا استحقاق ظاہر کرتے تھے حالانکہ وہ اس کے مستحق نہ تھے۔ پس اس قسم کے مکرو فریب اور ہتھکنڈوں کی بنا پر سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ کوئی ہستی ان کو اس عذاب سے بچا سکے گی نہ کوئی مددگار اس عذاب کو ان سے دور کر سکے گا۔ [146] یہ عذاب ہر منافق کے لیے عام ہے سوائے ان کے جن کو اللہ تعالیٰ گناہوں سے توبہ کی توفیق سے نواز دے ﴿ وَاَصۡلَحُوۡا ﴾ ’’اور وہ (اپنے ظاہر و باطن کی) اصلاح کر لیں۔‘‘ ﴿ وَاعۡتَصَمُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ (کی رسی) کو مضبوط پکڑلیں۔‘‘ اپنے منافع کے حصول اور ضرر کے دفعیہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر لیں ﴿ وَاَخۡلَصُوۡا دِيۡنَهُمۡ ﴾ ’’اور اپنے دین کو خالص کر لیں‘‘ یہاں دین سے مراد اسلام، ایمان اور احسان ہے ﴿ لِلّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے لیے‘‘ یعنی ظاہری اور باطنی اعمال میں ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو نیز ریا اور نفاق سے بچے ہوئے ہوں۔ جو لوگ ان صفات سے متصف ہوں گے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ وہی دنیا، برزخ اور آخرت میں اہل ایمان کے ساتھ ہوں گے ﴿ وَسَوۡفَ يُؤۡتِ اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ عنقریب اہل ایمان کو ایسے اجر سے نوازے گا جس کی حقیقت و ماہیت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں اس کے تصور کا گزر ہوا ہے۔غور کیجیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ’’اعتصام باللہ‘‘ اور ’’اخلاص‘‘ کا خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ارشاد (وَاَصْلَحُوْا) میں داخل ہیں کیونکہ ’’اِعْتِصَام بِاللہِ‘‘ اور ’’اِخْلَاص‘‘ اصلاح کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصلاح میں ان دو امور کی سخت ضرورت ہے۔ خاص طورپر یہ مقام حرج جہاں دلوں میں نفاق جڑ پکڑ لیتا ہے.... اور نفاق کو صرف اعتصام باللہ، اللہ کے پاس پناہ لینے، اور اس کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی حاجت پیش کر کے ہی زائل کیا جا سکتا ہے اخلاص ہر لحاظ سے پوری طرح نفاق کے منافی ہے۔ اخلاص اور اعتصام کی فضیلت کی بنا پر ان کا تذکرہ کیا ہے، تمام ظاہری اور باطنی اعمال کا دار و مدار انھی دو امور پر ہے کیونکہ اس مقام پر ان دونوں امور کی سخت حاجت ہوتی ہے۔ اس امر پر بھی غور کیجیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ان کا ذکر کیا تو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اس نے یہ نہیں فرمایا (وَسَوْفَ یُؤْتِیْھِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا) بلکہ فرمایا ﴿ وَسَوۡفَ يُؤۡتِ اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدۂ شریف ہے جس کا وہ ہمیشہ اعادہ کرتا رہا ہے کہ جب کلام کا سیاق بعض جزئیات کے بارے میں ہو اور اللہ تعالیٰ ان جزئیات پر ثواب یا عقاب مرتب کرنا چاہتا ہو اور جس جنس میں یہ جزئیات داخل ہیں عذاب یا عقاب ان میں مشترک ہو۔ تو وہ عام حکم کے مقابلہ میں، جس کے تحت یہ قضیہ مندرج ہے ثواب مرتب کرتا ہے تاکہ اس جزوی امر کے ساتھ حکم کا اختصاص متوہم نہ ہو یہ قرآن کریم کے اسرار و بدائع ہیں۔ پس منافقین میں سے اپنے نفاق سے توبہ کرنے والا شخص اہل ایمان کے ساتھ ہو گا اور اسے بھی اہل ایمان والا ثواب ملے گا۔ [147] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال غنا، وسعت حلم و رحمت اور احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ مَا يَفۡعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمۡ اِنۡ شَكَرۡتُمۡ وَاٰمَنۡتُمۡ ﴾ ’’اگر تم (اللہ کے) شکر گزار رہو اور (اس پر) ایمان لے آؤ تو اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔‘‘ اور حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قدر شناس اور علم رکھنے والا ہے۔ وہ اپنے راستے میں بوجھ اٹھانے والوں اور اعمال میں مشقت برداشت کرنے والوں کو بہت زیادہ ثواب اور بے پایاں احسان سے نوازے گا۔جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی چیز ترک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ نیز اس کے ساتھ ساتھ وہ ظاہر و باطن اور تمھارے اعمال کو جانتا ہے۔ وہ ان اعمال کا بھی علم رکھتا ہے جو صدق و اخلاص سے صادر ہوتے ہیں اور ان اعمال کا بھی علم رکھتا ہے جو ان کی ضد ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ تم توبہ اور انابت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو۔ اور جب تم اس کی طرف رجوع کرو گے تو وہ تمھیں عذاب دے کر کیا کرے گا؟ وہ تشفی حاصل کرنے کے لیے تمھیں عذاب اور کسی فائدے کے حصول کی خاطر تمھیں عقاب میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ معاصی کا ارتکاب کرنے والا اپنے آپ ہی کو نقصان دیتا ہے جیسے اطاعت کرنے والے کا عمل صرف اس کی ذات کے لیے ہے۔شکر دل کے خضوع، اس کے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اعتراف کرنے اور زبان سے مشکور کی مدح و ثنا بیان کرنے کا نام ہے۔ نیز شکر یہ ہے کہ جوارح مشکور کی اطاعت کے اعمال میں مصروف ہوں اور وہ منعم و مشکور کی عطا کردہ نعمتوں کو اس کی نافرمانی میں استعمال نہ کرے۔
4:148

۞لَّا يُحِبُّ ٱللَّهُ ٱلۡجَهۡرَ بِٱلسُّوٓءِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ إِلَّا مَن ظُلِمَۚ وَكَانَ ٱللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا

نہیں پسند کرتا اللہ اونچی آواز سے برائی کی بات کرنے کو مگر جس پر ظلم کیا گیا ہو اور ہے اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا(148) اگر تم علانیہ کرو کوئی بھلائی یا خفیہ کرو اسے یا معاف کر دو برائی کو تو اللہ (بھی) ہے بہت معاف کرنے والا بڑی قدرت والا(149) [148] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی اعلانیہ بری بات کہے، یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض ہوتا ہے اور اس پر سزا دیتا ہے۔ اس میں وہ تمام برے اقوال شامل ہیں جو تکلیف دہ اور صدمہ پہنچاتے ہیں ، مثلاً: گالی گلوچ، قذف اور سب و شتم کرنا۔ اس لیے کہ ایسے تمام اقوال سے منع کیا گیا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اچھی بات کو پسند کرتا ہے ، مثلاً: ذکر الٰہی، اچھا اور نرم پاکیزہ کلام، وغیرہ۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ ﴾ ’’مگر وہ جو مظلوم ہو۔‘‘ یعنی جس شخص پر ظلم کیا گیا ہو وہ ظلم کرنے والے کے لیے بد دعا کر سکتا ہے، شکایت کر سکتا ہے اور اس شخص کو اعلانیہ بری بات کہہ سکتا ہے جس نے اعلانیہ بری بات کہی ہے، البتہ اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس پر بہتان لگائے یا اس کے ظلم سے بڑھ کر زیادتی کرے یا ظالم کے علاوہ کسی اور کو گالی وغیرہ دے۔ بایں ہمہ معاف کر دینا اور ظلم و زیادتی میں مقابلہ نہ کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوری: 42؍40)’’پس جس کسی نے معاف کر دیا اور اصلاح کی اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔‘‘﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ سَمِيۡعًا عَلِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ (سب کچھ) سنتا، جانتا ہے۔‘‘ چونکہ آیت کریمہ برے، اچھے اور مباح کلام کے احکام پر مشتمل ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ وہ سننے والا ہے، تمھارے اقوال سنتا ہے اس لیے ایسی بات کہنے سے بچو جو تمھارے رب کی ناراضی کا باعث بنے اور وہ تمھیں سزا دے۔ اس آیت کریمہ میں اچھی بات کہنے کی بھی ترغیب ہے ﴿ عَلِيۡمًا ﴾ وہ تمھاری نیتوں اور تمھارے اقوال کے مصدر کو جانتا ہے۔ [149] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنۡ تُبۡدُوۡا خَيۡرًا اَوۡ تُخۡفُوۡهُ ﴾ ’’اگر تم بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر۔‘‘ یہ قولی و فعلی، ظاہری و باطنی ، واجب و مستحب ہر بھلائی کو شامل ہے۔ ﴿اَوۡ تَعۡفُوۡا عَنۡ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’یا برائی سے درگزر کروگے۔‘‘ یعنی وہ شخص جو تمھارے بدن، تمھارے اموال اور تمھاری عزت و ناموس کے معاملے میں تمھارے ساتھ برا سلوک کرے تم اسے معاف کر دو کیونکہ عمل کی جزا عمل کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے جو کسی کے ساتھ بھلائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بھلائی کرتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيۡرًا ﴾ ’’تو اللہ بھی معاف کرنے والا صاحب قدرت ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے بندوں کی لغزشوں اور ان کے بڑے بڑے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور ان کی پردہ پوشی کرتا ہے اور کامل عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے ان سے معاملہ کرتا ہے۔ جو اس کی قدرت کاملہ سے صادر ہوتے ہیں ۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے معانی میں تدبر و تفکر کی طرف راہنمائی کی گئی ہے۔ نیز یہ کہ خلق و امر ان اسماء و صفات سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اسماء و صفات خلق و امر کا تقاضا کرتے ہیں ۔ بنابریں اسمائے حسنی کو احکام کی علت بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ اس آیت کریمہ میں بیان ہوا ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کے عمل اور برا سلوک کرنے والے کو معاف کر دینے کا ذکر کیا ہے اس لیے اس نے اس پر یہ امر مرتب فرمایا کہ اس نے اپنے اسماء کی معرفت کو ہمارا مدار بنا دیا اور یہ چیز ہمیں ان اسماء حسنی کے ثواب خاص کے ذکر سے مستغنی کرتی ہے۔
4:149

إِن تُبۡدُواْ خَيۡرًا أَوۡ تُخۡفُوهُ أَوۡ تَعۡفُواْ عَن سُوٓءٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوّٗا قَدِيرًا

نہیں پسند کرتا اللہ اونچی آواز سے برائی کی بات کرنے کو مگر جس پر ظلم کیا گیا ہو اور ہے اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا(148) اگر تم علانیہ کرو کوئی بھلائی یا خفیہ کرو اسے یا معاف کر دو برائی کو تو اللہ (بھی) ہے بہت معاف کرنے والا بڑی قدرت والا(149) [148] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی اعلانیہ بری بات کہے، یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض ہوتا ہے اور اس پر سزا دیتا ہے۔ اس میں وہ تمام برے اقوال شامل ہیں جو تکلیف دہ اور صدمہ پہنچاتے ہیں ، مثلاً: گالی گلوچ، قذف اور سب و شتم کرنا۔ اس لیے کہ ایسے تمام اقوال سے منع کیا گیا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اچھی بات کو پسند کرتا ہے ، مثلاً: ذکر الٰہی، اچھا اور نرم پاکیزہ کلام، وغیرہ۔ ﴿ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ ﴾ ’’مگر وہ جو مظلوم ہو۔‘‘ یعنی جس شخص پر ظلم کیا گیا ہو وہ ظلم کرنے والے کے لیے بد دعا کر سکتا ہے، شکایت کر سکتا ہے اور اس شخص کو اعلانیہ بری بات کہہ سکتا ہے جس نے اعلانیہ بری بات کہی ہے، البتہ اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس پر بہتان لگائے یا اس کے ظلم سے بڑھ کر زیادتی کرے یا ظالم کے علاوہ کسی اور کو گالی وغیرہ دے۔ بایں ہمہ معاف کر دینا اور ظلم و زیادتی میں مقابلہ نہ کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾(الشوری: 42؍40)’’پس جس کسی نے معاف کر دیا اور اصلاح کی اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔‘‘﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ سَمِيۡعًا عَلِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ (سب کچھ) سنتا، جانتا ہے۔‘‘ چونکہ آیت کریمہ برے، اچھے اور مباح کلام کے احکام پر مشتمل ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ وہ سننے والا ہے، تمھارے اقوال سنتا ہے اس لیے ایسی بات کہنے سے بچو جو تمھارے رب کی ناراضی کا باعث بنے اور وہ تمھیں سزا دے۔ اس آیت کریمہ میں اچھی بات کہنے کی بھی ترغیب ہے ﴿ عَلِيۡمًا ﴾ وہ تمھاری نیتوں اور تمھارے اقوال کے مصدر کو جانتا ہے۔ [149] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنۡ تُبۡدُوۡا خَيۡرًا اَوۡ تُخۡفُوۡهُ ﴾ ’’اگر تم بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر۔‘‘ یہ قولی و فعلی، ظاہری و باطنی ، واجب و مستحب ہر بھلائی کو شامل ہے۔ ﴿اَوۡ تَعۡفُوۡا عَنۡ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’یا برائی سے درگزر کروگے۔‘‘ یعنی وہ شخص جو تمھارے بدن، تمھارے اموال اور تمھاری عزت و ناموس کے معاملے میں تمھارے ساتھ برا سلوک کرے تم اسے معاف کر دو کیونکہ عمل کی جزا عمل کی جنس ہی سے ہوتی ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی کو معاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے جو کسی کے ساتھ بھلائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بھلائی کرتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيۡرًا ﴾ ’’تو اللہ بھی معاف کرنے والا صاحب قدرت ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے بندوں کی لغزشوں اور ان کے بڑے بڑے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور ان کی پردہ پوشی کرتا ہے اور کامل عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے ان سے معاملہ کرتا ہے۔ جو اس کی قدرت کاملہ سے صادر ہوتے ہیں ۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے معانی میں تدبر و تفکر کی طرف راہنمائی کی گئی ہے۔ نیز یہ کہ خلق و امر ان اسماء و صفات سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اسماء و صفات خلق و امر کا تقاضا کرتے ہیں ۔ بنابریں اسمائے حسنی کو احکام کی علت بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ اس آیت کریمہ میں بیان ہوا ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کے عمل اور برا سلوک کرنے والے کو معاف کر دینے کا ذکر کیا ہے اس لیے اس نے اس پر یہ امر مرتب فرمایا کہ اس نے اپنے اسماء کی معرفت کو ہمارا مدار بنا دیا اور یہ چیز ہمیں ان اسماء حسنی کے ثواب خاص کے ذکر سے مستغنی کرتی ہے۔
4:150

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡفُرُونَ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُواْ بَيۡنَ ٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيَقُولُونَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٖ وَنَكۡفُرُ بِبَعۡضٖ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُواْ بَيۡنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا

بے شک جو کفر کرتے ہیں ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور چاہتے ہیں وہ کہ تفریق کریں درمیان اللہ اور اس کے رسولوں کے اور کہتے ہیں ہم ایمان لاتے ہیں ساتھ بعض کے اور کفر کرتے ہیں ساتھ بعض کے اور وہ چاہتے ہیں کہ اختیار کریں درمیان اس کے کوئی راہ(150) یہ لوگ، وہی ہیں کافر اصل اور ہم نے تیار کیا ہے واسطے کافروں کے عذاب رسواکن(151) اور جو لوگ ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور نہیں تفریق کی انھوں نے درمیان کسی ایک کے ان میں سے یہ لوگ ہیں جلد دے گا ان کو (اللہ) اجر ان کے اور ہے اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(152) [150] یہاں تک لوگوں کی دو اقسام ہیں جن کو ہر ایک کے لیے واضح کر دیا گیا ہے۔ (۱) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لانے والے لوگ (۲) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کا انکار کرنے والے لوگ۔ رہ گئی تیسری قسم تو یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ بعض رسولوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دے گا مگر یہ ان کی مجرد آرزوئیں ہیں ۔پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جو کوئی حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کو اپنا ولی اور دوست بناتا ہے وہ تمام انبیاء و رسل کو دوست بناتا ہے کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کی دوستی کی تکمیل ہے اور جو کوئی انبیاء و رسل میں سے کسی ایک کے ساتھ عداوت رکھتا ہے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ اور تمام رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبۡرِيۡلَ وَمِيۡكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾(البقرۃ: 2؍98) ’’جو کوئی اللہ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔‘‘اسی طرح جو کوئی کسی رسول کا انکار کرتا ہے وہ تمام رسولوں کا انکار کرتا ہے بلکہ وہ اس رسول کا بھی انکار کرتا ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس پر ایمان لایا ہے۔ [152,151] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ حَقًّا﴾ ’’وہ بلاشبہ کافر ہیں پکے۔‘‘ اور (حقا) کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے تاکہ کوئی اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ ان کا مرتبہ ایمان اور کفر کے درمیان ہے۔ اور ان کے کافر ہونے کی… یہاں تک کہ اس رسول کے ساتھ بھی کفر کرنے کی، جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں … وجہ یہ ہے کہ ہر وہ دلیل جو اس نبی پر ایمان لانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، وہی دلیل یا اس جیسی یا اس سے بڑھ کر دلیل موجود ہے جو اس نبی کی نبوت پر دلالت کرتی ہے جس کا وہ انکار کر رہے ہیں ۔ اسی طرح ہر وہ شبہ جس کی بنیاد پر وہ اس نبی پر اعتراض کرتے ہیں جس کے ساتھ انھوں نے کفر کیا ہے، وہی شبہ یا اس جیسا یا اس سے بھی بڑا شبہ اس نبی کی نبوت میں بھی موجود ہے جس پر وہ ایمان لائے ہیں .... تب اس کے بعد سوائے خواہشات نفس اور مجرد دعویٰ کے کچھ باقی نہیں ۔ جس کے مقابلہ میں اس جیسا دعویٰ کرنا ہر ایک کے لیے ممکن ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہی لوگ حقیقی (پکے) کافر ہیں تو اس عذاب کا ذکر بھی فرما دیا جو ان کو اور دیگر کفار کو دیا جائے گا۔ ﴿وَاَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا﴾’’اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔‘‘ جس طرح انھوں نے تکبر کی بنا پر ایمان لانے سے انکار کر دیا اسی طرح اللہ تعالیٰ رسوا کن اور درد ناک عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کرے گا۔﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ﴾ ’’اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ہر اس خبر پر ایمان لانے کو متضمن ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں دی ہے اور ان تمام اخبار و احکام پر ایمان لانے کو بھی جنھیں لے کر انبیاء و رسل مبعوث ہوئے۔ ﴿وَلَمۡ يُفَرِّؔقُوۡا بَيۡنَ اَحَدٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور انھوں نے ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا۔‘‘ بلکہ وہ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لائے اور یہی وہ حقیقی اور یقینی ایمان ہے جو دلیل اور برہان پر مبنی ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ سَوۡفَ يُؤۡتِيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں ) کے صلے عطا فرمائے گا۔‘‘ یعنی ان کے ایمان اور ایمان پر مبنی عمل صالح، قول حسن اور خلق جمیل کی جزا دی جائے گی اور یہ جزا ہر ایک کو اس کے حسب حال عطا ہو گی۔ شاید ان کے اجر میں اضافے کا یہی سرنہاں ہے ﴿وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًؔا رَّحِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور نیکیوں کو قبول فرماتا ہے۔
4:151

أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ حَقّٗاۚ وَأَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٗا مُّهِينٗا

بے شک جو کفر کرتے ہیں ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور چاہتے ہیں وہ کہ تفریق کریں درمیان اللہ اور اس کے رسولوں کے اور کہتے ہیں ہم ایمان لاتے ہیں ساتھ بعض کے اور کفر کرتے ہیں ساتھ بعض کے اور وہ چاہتے ہیں کہ اختیار کریں درمیان اس کے کوئی راہ(150) یہ لوگ، وہی ہیں کافر اصل اور ہم نے تیار کیا ہے واسطے کافروں کے عذاب رسواکن(151) اور جو لوگ ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور نہیں تفریق کی انھوں نے درمیان کسی ایک کے ان میں سے یہ لوگ ہیں جلد دے گا ان کو (اللہ) اجر ان کے اور ہے اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(152) [150] یہاں تک لوگوں کی دو اقسام ہیں جن کو ہر ایک کے لیے واضح کر دیا گیا ہے۔ (۱) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لانے والے لوگ (۲) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کا انکار کرنے والے لوگ۔ رہ گئی تیسری قسم تو یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ بعض رسولوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دے گا مگر یہ ان کی مجرد آرزوئیں ہیں ۔پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جو کوئی حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کو اپنا ولی اور دوست بناتا ہے وہ تمام انبیاء و رسل کو دوست بناتا ہے کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کی دوستی کی تکمیل ہے اور جو کوئی انبیاء و رسل میں سے کسی ایک کے ساتھ عداوت رکھتا ہے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ اور تمام رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبۡرِيۡلَ وَمِيۡكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾(البقرۃ: 2؍98) ’’جو کوئی اللہ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔‘‘اسی طرح جو کوئی کسی رسول کا انکار کرتا ہے وہ تمام رسولوں کا انکار کرتا ہے بلکہ وہ اس رسول کا بھی انکار کرتا ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس پر ایمان لایا ہے۔ [152,151] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ حَقًّا﴾ ’’وہ بلاشبہ کافر ہیں پکے۔‘‘ اور (حقا) کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے تاکہ کوئی اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ ان کا مرتبہ ایمان اور کفر کے درمیان ہے۔ اور ان کے کافر ہونے کی… یہاں تک کہ اس رسول کے ساتھ بھی کفر کرنے کی، جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں … وجہ یہ ہے کہ ہر وہ دلیل جو اس نبی پر ایمان لانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، وہی دلیل یا اس جیسی یا اس سے بڑھ کر دلیل موجود ہے جو اس نبی کی نبوت پر دلالت کرتی ہے جس کا وہ انکار کر رہے ہیں ۔ اسی طرح ہر وہ شبہ جس کی بنیاد پر وہ اس نبی پر اعتراض کرتے ہیں جس کے ساتھ انھوں نے کفر کیا ہے، وہی شبہ یا اس جیسا یا اس سے بھی بڑا شبہ اس نبی کی نبوت میں بھی موجود ہے جس پر وہ ایمان لائے ہیں .... تب اس کے بعد سوائے خواہشات نفس اور مجرد دعویٰ کے کچھ باقی نہیں ۔ جس کے مقابلہ میں اس جیسا دعویٰ کرنا ہر ایک کے لیے ممکن ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہی لوگ حقیقی (پکے) کافر ہیں تو اس عذاب کا ذکر بھی فرما دیا جو ان کو اور دیگر کفار کو دیا جائے گا۔ ﴿وَاَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا﴾’’اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔‘‘ جس طرح انھوں نے تکبر کی بنا پر ایمان لانے سے انکار کر دیا اسی طرح اللہ تعالیٰ رسوا کن اور درد ناک عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کرے گا۔﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ﴾ ’’اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ہر اس خبر پر ایمان لانے کو متضمن ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں دی ہے اور ان تمام اخبار و احکام پر ایمان لانے کو بھی جنھیں لے کر انبیاء و رسل مبعوث ہوئے۔ ﴿وَلَمۡ يُفَرِّؔقُوۡا بَيۡنَ اَحَدٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور انھوں نے ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا۔‘‘ بلکہ وہ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لائے اور یہی وہ حقیقی اور یقینی ایمان ہے جو دلیل اور برہان پر مبنی ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ سَوۡفَ يُؤۡتِيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں ) کے صلے عطا فرمائے گا۔‘‘ یعنی ان کے ایمان اور ایمان پر مبنی عمل صالح، قول حسن اور خلق جمیل کی جزا دی جائے گی اور یہ جزا ہر ایک کو اس کے حسب حال عطا ہو گی۔ شاید ان کے اجر میں اضافے کا یہی سرنہاں ہے ﴿وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًؔا رَّحِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور نیکیوں کو قبول فرماتا ہے۔
4:152

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَلَمۡ يُفَرِّقُواْ بَيۡنَ أَحَدٖ مِّنۡهُمۡ أُوْلَـٰٓئِكَ سَوۡفَ يُؤۡتِيهِمۡ أُجُورَهُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا

بے شک جو کفر کرتے ہیں ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور چاہتے ہیں وہ کہ تفریق کریں درمیان اللہ اور اس کے رسولوں کے اور کہتے ہیں ہم ایمان لاتے ہیں ساتھ بعض کے اور کفر کرتے ہیں ساتھ بعض کے اور وہ چاہتے ہیں کہ اختیار کریں درمیان اس کے کوئی راہ(150) یہ لوگ، وہی ہیں کافر اصل اور ہم نے تیار کیا ہے واسطے کافروں کے عذاب رسواکن(151) اور جو لوگ ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے اور نہیں تفریق کی انھوں نے درمیان کسی ایک کے ان میں سے یہ لوگ ہیں جلد دے گا ان کو (اللہ) اجر ان کے اور ہے اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(152) [150] یہاں تک لوگوں کی دو اقسام ہیں جن کو ہر ایک کے لیے واضح کر دیا گیا ہے۔ (۱) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لانے والے لوگ (۲) اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کا انکار کرنے والے لوگ۔ رہ گئی تیسری قسم تو یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ بعض رسولوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دے گا مگر یہ ان کی مجرد آرزوئیں ہیں ۔پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جو کوئی حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کو اپنا ولی اور دوست بناتا ہے وہ تمام انبیاء و رسل کو دوست بناتا ہے کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کی دوستی کی تکمیل ہے اور جو کوئی انبیاء و رسل میں سے کسی ایک کے ساتھ عداوت رکھتا ہے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ اور تمام رسولوں سے عداوت رکھتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبۡرِيۡلَ وَمِيۡكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾(البقرۃ: 2؍98) ’’جو کوئی اللہ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔‘‘اسی طرح جو کوئی کسی رسول کا انکار کرتا ہے وہ تمام رسولوں کا انکار کرتا ہے بلکہ وہ اس رسول کا بھی انکار کرتا ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس پر ایمان لایا ہے۔ [152,151] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ حَقًّا﴾ ’’وہ بلاشبہ کافر ہیں پکے۔‘‘ اور (حقا) کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے تاکہ کوئی اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ ان کا مرتبہ ایمان اور کفر کے درمیان ہے۔ اور ان کے کافر ہونے کی… یہاں تک کہ اس رسول کے ساتھ بھی کفر کرنے کی، جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں … وجہ یہ ہے کہ ہر وہ دلیل جو اس نبی پر ایمان لانے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، وہی دلیل یا اس جیسی یا اس سے بڑھ کر دلیل موجود ہے جو اس نبی کی نبوت پر دلالت کرتی ہے جس کا وہ انکار کر رہے ہیں ۔ اسی طرح ہر وہ شبہ جس کی بنیاد پر وہ اس نبی پر اعتراض کرتے ہیں جس کے ساتھ انھوں نے کفر کیا ہے، وہی شبہ یا اس جیسا یا اس سے بھی بڑا شبہ اس نبی کی نبوت میں بھی موجود ہے جس پر وہ ایمان لائے ہیں .... تب اس کے بعد سوائے خواہشات نفس اور مجرد دعویٰ کے کچھ باقی نہیں ۔ جس کے مقابلہ میں اس جیسا دعویٰ کرنا ہر ایک کے لیے ممکن ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہی لوگ حقیقی (پکے) کافر ہیں تو اس عذاب کا ذکر بھی فرما دیا جو ان کو اور دیگر کفار کو دیا جائے گا۔ ﴿وَاَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا﴾’’اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔‘‘ جس طرح انھوں نے تکبر کی بنا پر ایمان لانے سے انکار کر دیا اسی طرح اللہ تعالیٰ رسوا کن اور درد ناک عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کرے گا۔﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ﴾ ’’اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘ یہ آیت کریمہ ہر اس خبر پر ایمان لانے کو متضمن ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں دی ہے اور ان تمام اخبار و احکام پر ایمان لانے کو بھی جنھیں لے کر انبیاء و رسل مبعوث ہوئے۔ ﴿وَلَمۡ يُفَرِّؔقُوۡا بَيۡنَ اَحَدٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور انھوں نے ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا۔‘‘ بلکہ وہ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لائے اور یہی وہ حقیقی اور یقینی ایمان ہے جو دلیل اور برہان پر مبنی ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ سَوۡفَ يُؤۡتِيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں ) کے صلے عطا فرمائے گا۔‘‘ یعنی ان کے ایمان اور ایمان پر مبنی عمل صالح، قول حسن اور خلق جمیل کی جزا دی جائے گی اور یہ جزا ہر ایک کو اس کے حسب حال عطا ہو گی۔ شاید ان کے اجر میں اضافے کا یہی سرنہاں ہے ﴿وَؔكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًؔا رَّحِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور نیکیوں کو قبول فرماتا ہے۔
4:153

يَسۡـَٔلُكَ أَهۡلُ ٱلۡكِتَٰبِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيۡهِمۡ كِتَٰبٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِۚ فَقَدۡ سَأَلُواْ مُوسَىٰٓ أَكۡبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوٓاْ أَرِنَا ٱللَّهَ جَهۡرَةٗ فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلصَّـٰعِقَةُ بِظُلۡمِهِمۡۚ ثُمَّ ٱتَّخَذُواْ ٱلۡعِجۡلَ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُ فَعَفَوۡنَا عَن ذَٰلِكَۚ وَءَاتَيۡنَا مُوسَىٰ سُلۡطَٰنٗا مُّبِينٗا

سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161) [158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔ [159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔ [161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
4:154

وَرَفَعۡنَا فَوۡقَهُمُ ٱلطُّورَ بِمِيثَٰقِهِمۡ وَقُلۡنَا لَهُمُ ٱدۡخُلُواْ ٱلۡبَابَ سُجَّدٗا وَقُلۡنَا لَهُمۡ لَا تَعۡدُواْ فِي ٱلسَّبۡتِ وَأَخَذۡنَا مِنۡهُم مِّيثَٰقًا غَلِيظٗا

سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161) [158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔ [159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔ [161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
4:155

فَبِمَا نَقۡضِهِم مِّيثَٰقَهُمۡ وَكُفۡرِهِم بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَقَتۡلِهِمُ ٱلۡأَنۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقّٖ وَقَوۡلِهِمۡ قُلُوبُنَا غُلۡفُۢۚ بَلۡ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَيۡهَا بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُونَ إِلَّا قَلِيلٗا

سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161) [158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔ [159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔ [161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
4:156

وَبِكُفۡرِهِمۡ وَقَوۡلِهِمۡ عَلَىٰ مَرۡيَمَ بُهۡتَٰنًا عَظِيمٗا

سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161) [158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔ [159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔ [161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
4:157

وَقَوۡلِهِمۡ إِنَّا قَتَلۡنَا ٱلۡمَسِيحَ عِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ رَسُولَ ٱللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمۡۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُۚ مَا لَهُم بِهِۦ مِنۡ عِلۡمٍ إِلَّا ٱتِّبَاعَ ٱلظَّنِّۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَۢا

سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161) [158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔ [159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔ [161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
4:158

بَل رَّفَعَهُ ٱللَّهُ إِلَيۡهِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمٗا

سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161) [158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔ [159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔ [161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
4:159

وَإِن مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ إِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهِۦ قَبۡلَ مَوۡتِهِۦۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكُونُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيدٗا

سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161) [158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔ [159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔ [161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
4:160

فَبِظُلۡمٖ مِّنَ ٱلَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ طَيِّبَٰتٍ أُحِلَّتۡ لَهُمۡ وَبِصَدِّهِمۡ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ كَثِيرٗا

سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161) [158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔ [159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔ [161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
4:161

وَأَخۡذِهِمُ ٱلرِّبَوٰاْ وَقَدۡ نُهُواْ عَنۡهُ وَأَكۡلِهِمۡ أَمۡوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡبَٰطِلِۚ وَأَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ مِنۡهُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا

سوال کرتے ہیں آپ سے اہل کتاب کہ اتار لائیں آپ ان پر ایک کتاب (بیک بار) آسمان سے، سو سوال کیا انھوں نے موسیٰ سے بڑی چیز کا اس سے بھی اور کہا، دکھا ہم کو اللہ بالکل سامنے پکڑ لیا ان کو بجلی نے ان کے ظلم کی وجہ سے، پھر بنا لیا انھوں نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے کہ آچکی تھیں ان کے پاس واضح دلیلیں ، پھر معاف کر دیا ہم نے یہ بھی اور دیا ہم نے موسیٰ کو غلبہ واضح(153) اور بلند کیا ہم نے اوپر ان کے طور پہاڑ ان سے اقرار لینے کے لیے اور ہم نے کہا ان سے داخل ہو جاؤ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا ان سے نہ زیادتی کرو ہفتے کے دن میں اور لیا ہم نے ان سے عہد مضبوط(154)پس (لعنت کی ہم نے ان پر) بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو اور ان کے کفر کرنے کے ساتھ آیتوں کے اللہ کی اور ان کے قتل کرنے کے انبیاء کو ناحق اور (بہ سبب) ان کے کہنے کے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں بلکہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پربہ سبب ان کے کفر کے، سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر تھوڑے ہی(155) اور بہ سبب ان کے کفر کے اور ان کے باندھنے کے مریم پر بہتان بہت بڑا(156) اور بہ سبب ان کے کہنے کے کہ یقینا ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول کو حالانکہ انھوں نے نہ قتل کیا ان کو اور نہ سولی پر چڑھایا ان کو لیکن شبہے میں ڈال دیا گیا ان کو اور بے شک جنھوں نے اختلاف کیا عیسیٰ کے بارے میں ، شک میں ہیں ان کی بابت۔ نہیں ہے ان کے پاس ان کی بابت کوئی علم سوائے پیروی کے ظن کی اور نہیں قتل کیا انھوں نے ان کو یقینی طور پر(157)بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ نے اپنی طرف اور ہے اللہ بڑا زبردست حکمت والا(158) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور ایمان لائے گا عیسیٰ پر ان کی موت سے پہلے اور دن قیامت کے دو ہوں گے ان پر گواہ(159) پس بہ سبب ظلم کرنے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، ہم نے حرام کر دیں ان پر کچھ پاک چیزیں جو حلال تھیں ان کے لیے اور بہ سبب ان کے روکنے کے اللہ کی راہ سے بہتوں کو(160) اور بہ سبب ان کے لینے کے سود، حالانکہ روکے گئے تھے وہ اس سے اور ان کے کھانے کے سبب مال لوگوں کے ناحق اور ہم نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ان میں سے عذاب بہت دردناک(161) [158-153]اہل کتاب نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بناپر کیا تھا۔ اور اسی پر انھوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہو جائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں ۔ یہ ان کی طرف سے انتہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسولﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں ، رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں ۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کیے تھے۔﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا﴾(بني إسرائیل: 17؍93) ’’کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔‘‘اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فارق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمھارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ جُمۡلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلۡنٰهُ تَرۡتِيۡلًا۰۰وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا۰۰﴾(الفرقان: 25؍32۔33) ’’اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمھارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ لوگ تمھارے پاس جو اعتراض بھی لے کر آئیں ہم تمھارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں ۔‘‘جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتلایا کہ ان کے معاملے میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انھوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں ، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔مثلاً: ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔عبادت کے لیے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کر دیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کر لیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انھیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انھوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انھوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حالانکہ انھوں نے انھیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انھوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپﷺ جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ان کا سود اور حرام کھانا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دے۔باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھکرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہو… تو وہ اس مخالف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں ۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اعتراضات بھی اسی خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (ﷺ) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اسی قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جا سکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اس طرح ان کے شر کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اور ہر وہ دلیل جس کووہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لیے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمدﷺ کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں ۔چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لیے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔ [159]﴿وَاِنۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهٖ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ ’’اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔‘‘ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾ میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کر لے گا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰu پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لیے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انھیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہو گا؟اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ ﴿ قَبۡلَ مَوۡتِهٖ﴾میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰu ہوں ۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیحu کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیحu قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰu کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰu کا نزول ہو گا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کر دیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰu پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰu ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں ؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جو شریعت قرآن کے مخالف ہو گا۔چونکہ محمد رسول اللہﷺ نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لیے ہمیں اس بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰu کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰu صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفیﷺ جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔ [161,160] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں ۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکنے، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ وہ محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کر دیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں ۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کی تحریم تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں ۔
4:162

لَّـٰكِنِ ٱلرَّـٰسِخُونَ فِي ٱلۡعِلۡمِ مِنۡهُمۡ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ يُؤۡمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبۡلِكَۚ وَٱلۡمُقِيمِينَ ٱلصَّلَوٰةَۚ وَٱلۡمُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ أُوْلَـٰٓئِكَ سَنُؤۡتِيهِمۡ أَجۡرًا عَظِيمًا

لیکن جو پکے ہیں علم میں ان میں سےاور مومن، وہ ایمان لاتے ہیں اس پر جو نازل کیا گیا آپ کی طرف اور جو نازل کیا گیا آپ سے پہلے اور قائم کرنے والے ہیں نماز اور ادا کرنے والے ہیں زکاۃ اور ایمان رکھنے والے ہیں ساتھ اللہ اور یوم آخرت کے، یہ لوگ ہیں ، عنقریب دیں گے ہم ان کو اجر بہت بڑا(162) [162] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے معایب بیان کیے تو اب ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو ان میں سے قابل تعریف ہیں ۔ ﴿لٰكِنِ الرّٰؔسِخُوۡنَ فِي الۡعِلۡمِ مِنۡهُمۡ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور مومن ہیں ‘‘ یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں علم مضبوط اور ایقان راسخ ہے اور اس کے ثمرہ میں انھیں ایمان کامل حاصل ہوتا ہے ﴿ يُؤۡمِنُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو آپﷺ پر اتاری گئی اور ان کتابوں پر جو آپ سے پہلے اتاری گئیں ۔‘‘ یہ ایمان انھیں اعمال صالحہ کا پھل عطا کرتا ہے ، مثلاً: نماز قائم کرنا اور زکٰوۃ ادا کرنا، یہ دونوں سب سے افضل اعمال ہیں ۔ کیونکہ یہ دونوں معبود کے لیے اخلاص اور اس کے بندوں کے لیے احسان پر مشتمل ہیں ۔ وہ لوگ روز قیامت پر بھی ایمان لاتے ہیں ۔ بنابریں وہ اللہ تعالیٰ کی وعید سے ڈرتے ہیں اور اس کے وعدے پر امید رکھتے ہیں ۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ سَنُؤۡتِيۡهِمۡ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾ ’’ہم عنقریب انھیں اجر عظیم سے نوازیں گے‘‘ کیونکہ انھوں نے علم و ایمان، عمل صالح، گزشتہ اور آئندہ آنے والے انبیاء و مرسلین اور تمام کتب الہیہ پر ایمان کو جمع کر دیا۔
4:163

۞إِنَّآ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ كَمَآ أَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ نُوحٖ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ مِنۢ بَعۡدِهِۦۚ وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡمَٰعِيلَ وَإِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ وَٱلۡأَسۡبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَٰرُونَ وَسُلَيۡمَٰنَۚ وَءَاتَيۡنَا دَاوُۥدَ زَبُورٗا

بلاشبہ وحی کی ہم نے آپ کی طرف جیسے وحی کی ہم نے نوح اور (دوسرے) نبیوں کی طرف اس کے بعد اور وحی کی ہم نے طرف ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی اور دی ہم نے داود کو زبور(163) اور (بھیجے ہم نے) کئی رسول، تحقیق بیان کیا ہم نے ان کا حال آپ پر اس سے پہلے اور کئی رسول ایسے کہ نہیں بیان کیا ان کا حال آپ پر اور کلام کیا اللہ نے موسیٰ سے (خاص طور پر) کلام(164)(بھیجے) رسول خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تاکہ (باقی) نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی الزام، بعد رسولوں کے اور ہے اللہ زبردست حکمت والا(165) [163] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیﷺ پر اسی طرح عظیم شریعت اور سچی خبریں وحی کی ہیں جس طرح اس نے ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی کی تھیں ۔ اس میں متعدد فوائد ہیں : (۱) نبی اکرمﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ سے پہلے بھی بے شمار رسول بھیجے ہیں اس لیے آپﷺ کی رسالت کو انوکھا اور نادر سمجھنا جہالت اور عناد کے سوا کچھ نہیں ۔ (۲) اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ کی طرف اصول اور عدل کے ضابطے وحی کیے ہیں جس طرح انبیائے سابقین کی طرف وحی فرمائے تھے جن پر عمل کر کے وہ تقویٰ اختیار کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کی تصدیق اور ایک دوسرے کی موافقت کرتے تھے۔ (۳) محمد مصطفیﷺ انھی انبیاء و رسل کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ، لہٰذا آپ کو دیگر انبیاء و رسل کے زمرے میں رکھ کر آپ کا اعتبار کرنا چاہیے۔ آپ کی دعوت وہی ہے جو ان رسولوں کی دعوت تھی، آپ کے اخلاق ان کے اخلاق سے متفق، آپ کی اور ان کی تعلیمات کا مصدر ایک اور آپ کے اور ان سب کے مقاصد یکساں ہیں ... پس اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کا مجہول اور کذاب لوگوں اور ظالم بادشاہوں کے ساتھ ذکر نہیں کیا۔ (۴)(قرآن مجید میں ) ان انبیاء و رسل کے تذکرے اور ان کی تعداد بیان کرنے میں ان کی ایسی مدح و ثنا اور تعریف و تعظیم ہے اور ان کے احوال کی اس طرح تشریح ہے جس سے ان کے بارے میں مومن کے ایمان اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے، ان کے طریقے اور سنت کو اپنانے کا جذبہ بڑھتا ہے اور ان کے حقوق کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کا مصداق ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰى نُوۡحٍ فِي الۡعٰلَمِيۡنَ (الصافات:37؍79) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ (الصافات: 37؍109) سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ (الصافات: 37؍120) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ (الصافات: 37؍130) اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ (الصافات: 37؍131)﴾ پس بھلائی اور احسان کرنے والے ہر شخص کو اس کے احسان کے مطابق مخلوق کے اندر ثنائے حسن نصیب ہوتی ہے۔ تمام انبیاء و رسل خصوصاً وہ انبیائے کرام جن کے اسمائے گرامی گزشتہ سطور میں ذکر کیے گئے ہیں احسان کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں ۔جہاں اللہ تعالیٰ نے وحی میں ان کے اشتراک کا ذکر فرمایا، وہاں اس نے بعض انبیاء کے اختصاص کا بھی ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے جناب داودu کو زبور عطا کی اور یہ وہ معروف اور لکھی ہوئی کتاب ہے جو داودu کے فضل و شرف کی بنا پر ان کے لیے مخصوص کی گئی۔اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu کے ساتھ کلام فرمایا، یعنی بغیر کسی واسطہ کے بالمشافہ کلام فرمایا۔ حتیٰ کہ یہ بات تمام دنیا میں مشہور ہوگئی اور جناب موسیٰu کو ’’کلیم الرحمن‘‘ کہا جانے لگا۔ [164] نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ ان انبیاء و رسل میں سے بعض کا قصہ رسول اللہﷺ پر بیان فرمایا اور بعض انبیاء کا قصہ بیان نہیں فرمایا۔ اور یہ امر انبیائے کرام کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔ [165] اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی سعادت کی خوشخبری سنانے والے بنا کر مبعوث فرمایا جو ان کی اطاعت کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے دونوں جہانوں کی بدبختی سے ڈرانے والے بنا کر بھیجا جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ان رسولوں کی مخالفت کرتے ہیں ... تاکہ انبیاء و رسل مبعوث کرنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے اور وہ یہ نہ کہیں کہ:﴿مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ١ٞ فَقَدۡ جَآءَؔكُمۡ بَشِيۡرٌ وَّنَذِيۡرٌ﴾(المآئدہ: 5؍19) ’’ہمارے پاس کوئی خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ پس تحقیق تمھارے پاس خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا آ گیا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ کے مسلسل رسول بھیجنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہی یہ رسول لوگوں کے سامنے ان کا دین بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضی کے اسباب اور جنت و جہنم کے راستے واضح کرتے ہیں .... تب جو کوئی ان انبیاء و رسل کا انکار کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کے کامل غلبہ اور کامل حکمت کی دلیل ہے کہ اس نے لوگوں کی طرف رسول مبعوث فرمائے اور ان پر کتابیں نازل فرمائیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان بھی ہے کیونکہ لوگ انبیاء و رسل کی بعثت کے سخت ضرورت مند تھے تب اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اضطرار کا ازالہ فرمایا۔ پس وہی حمد و ثنا اور شکر کا مستحق ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ اس نے جس طرح اپنے رسول بھیج کر ہم پر اپنی نعمت کی ابتدا کی، اسی طرح وہ ہمیں ان کے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق سے نواز کر اس نعمت کا اتمام کرے، بے شک وہ جواد اور کریم ہے۔
4:164

وَرُسُلٗا قَدۡ قَصَصۡنَٰهُمۡ عَلَيۡكَ مِن قَبۡلُ وَرُسُلٗا لَّمۡ نَقۡصُصۡهُمۡ عَلَيۡكَۚ وَكَلَّمَ ٱللَّهُ مُوسَىٰ تَكۡلِيمٗا

بلاشبہ وحی کی ہم نے آپ کی طرف جیسے وحی کی ہم نے نوح اور (دوسرے) نبیوں کی طرف اس کے بعد اور وحی کی ہم نے طرف ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی اور دی ہم نے داود کو زبور(163) اور (بھیجے ہم نے) کئی رسول، تحقیق بیان کیا ہم نے ان کا حال آپ پر اس سے پہلے اور کئی رسول ایسے کہ نہیں بیان کیا ان کا حال آپ پر اور کلام کیا اللہ نے موسیٰ سے (خاص طور پر) کلام(164)(بھیجے) رسول خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تاکہ (باقی) نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی الزام، بعد رسولوں کے اور ہے اللہ زبردست حکمت والا(165) [163] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیﷺ پر اسی طرح عظیم شریعت اور سچی خبریں وحی کی ہیں جس طرح اس نے ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی کی تھیں ۔ اس میں متعدد فوائد ہیں : (۱) نبی اکرمﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ سے پہلے بھی بے شمار رسول بھیجے ہیں اس لیے آپﷺ کی رسالت کو انوکھا اور نادر سمجھنا جہالت اور عناد کے سوا کچھ نہیں ۔ (۲) اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ کی طرف اصول اور عدل کے ضابطے وحی کیے ہیں جس طرح انبیائے سابقین کی طرف وحی فرمائے تھے جن پر عمل کر کے وہ تقویٰ اختیار کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کی تصدیق اور ایک دوسرے کی موافقت کرتے تھے۔ (۳) محمد مصطفیﷺ انھی انبیاء و رسل کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ، لہٰذا آپ کو دیگر انبیاء و رسل کے زمرے میں رکھ کر آپ کا اعتبار کرنا چاہیے۔ آپ کی دعوت وہی ہے جو ان رسولوں کی دعوت تھی، آپ کے اخلاق ان کے اخلاق سے متفق، آپ کی اور ان کی تعلیمات کا مصدر ایک اور آپ کے اور ان سب کے مقاصد یکساں ہیں ... پس اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کا مجہول اور کذاب لوگوں اور ظالم بادشاہوں کے ساتھ ذکر نہیں کیا۔ (۴)(قرآن مجید میں ) ان انبیاء و رسل کے تذکرے اور ان کی تعداد بیان کرنے میں ان کی ایسی مدح و ثنا اور تعریف و تعظیم ہے اور ان کے احوال کی اس طرح تشریح ہے جس سے ان کے بارے میں مومن کے ایمان اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے، ان کے طریقے اور سنت کو اپنانے کا جذبہ بڑھتا ہے اور ان کے حقوق کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کا مصداق ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰى نُوۡحٍ فِي الۡعٰلَمِيۡنَ (الصافات:37؍79) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ (الصافات: 37؍109) سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ (الصافات: 37؍120) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ (الصافات: 37؍130) اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ (الصافات: 37؍131)﴾ پس بھلائی اور احسان کرنے والے ہر شخص کو اس کے احسان کے مطابق مخلوق کے اندر ثنائے حسن نصیب ہوتی ہے۔ تمام انبیاء و رسل خصوصاً وہ انبیائے کرام جن کے اسمائے گرامی گزشتہ سطور میں ذکر کیے گئے ہیں احسان کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں ۔جہاں اللہ تعالیٰ نے وحی میں ان کے اشتراک کا ذکر فرمایا، وہاں اس نے بعض انبیاء کے اختصاص کا بھی ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے جناب داودu کو زبور عطا کی اور یہ وہ معروف اور لکھی ہوئی کتاب ہے جو داودu کے فضل و شرف کی بنا پر ان کے لیے مخصوص کی گئی۔اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu کے ساتھ کلام فرمایا، یعنی بغیر کسی واسطہ کے بالمشافہ کلام فرمایا۔ حتیٰ کہ یہ بات تمام دنیا میں مشہور ہوگئی اور جناب موسیٰu کو ’’کلیم الرحمن‘‘ کہا جانے لگا۔ [164] نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ ان انبیاء و رسل میں سے بعض کا قصہ رسول اللہﷺ پر بیان فرمایا اور بعض انبیاء کا قصہ بیان نہیں فرمایا۔ اور یہ امر انبیائے کرام کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔ [165] اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی سعادت کی خوشخبری سنانے والے بنا کر مبعوث فرمایا جو ان کی اطاعت کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے دونوں جہانوں کی بدبختی سے ڈرانے والے بنا کر بھیجا جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ان رسولوں کی مخالفت کرتے ہیں ... تاکہ انبیاء و رسل مبعوث کرنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے اور وہ یہ نہ کہیں کہ:﴿مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ١ٞ فَقَدۡ جَآءَؔكُمۡ بَشِيۡرٌ وَّنَذِيۡرٌ﴾(المآئدہ: 5؍19) ’’ہمارے پاس کوئی خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ پس تحقیق تمھارے پاس خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا آ گیا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ کے مسلسل رسول بھیجنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہی یہ رسول لوگوں کے سامنے ان کا دین بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضی کے اسباب اور جنت و جہنم کے راستے واضح کرتے ہیں .... تب جو کوئی ان انبیاء و رسل کا انکار کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کے کامل غلبہ اور کامل حکمت کی دلیل ہے کہ اس نے لوگوں کی طرف رسول مبعوث فرمائے اور ان پر کتابیں نازل فرمائیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان بھی ہے کیونکہ لوگ انبیاء و رسل کی بعثت کے سخت ضرورت مند تھے تب اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اضطرار کا ازالہ فرمایا۔ پس وہی حمد و ثنا اور شکر کا مستحق ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ اس نے جس طرح اپنے رسول بھیج کر ہم پر اپنی نعمت کی ابتدا کی، اسی طرح وہ ہمیں ان کے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق سے نواز کر اس نعمت کا اتمام کرے، بے شک وہ جواد اور کریم ہے۔
4:165

رُّسُلٗا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى ٱللَّهِ حُجَّةُۢ بَعۡدَ ٱلرُّسُلِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمٗا

بلاشبہ وحی کی ہم نے آپ کی طرف جیسے وحی کی ہم نے نوح اور (دوسرے) نبیوں کی طرف اس کے بعد اور وحی کی ہم نے طرف ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی اور دی ہم نے داود کو زبور(163) اور (بھیجے ہم نے) کئی رسول، تحقیق بیان کیا ہم نے ان کا حال آپ پر اس سے پہلے اور کئی رسول ایسے کہ نہیں بیان کیا ان کا حال آپ پر اور کلام کیا اللہ نے موسیٰ سے (خاص طور پر) کلام(164)(بھیجے) رسول خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تاکہ (باقی) نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی الزام، بعد رسولوں کے اور ہے اللہ زبردست حکمت والا(165) [163] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیﷺ پر اسی طرح عظیم شریعت اور سچی خبریں وحی کی ہیں جس طرح اس نے ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی کی تھیں ۔ اس میں متعدد فوائد ہیں : (۱) نبی اکرمﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ سے پہلے بھی بے شمار رسول بھیجے ہیں اس لیے آپﷺ کی رسالت کو انوکھا اور نادر سمجھنا جہالت اور عناد کے سوا کچھ نہیں ۔ (۲) اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ کی طرف اصول اور عدل کے ضابطے وحی کیے ہیں جس طرح انبیائے سابقین کی طرف وحی فرمائے تھے جن پر عمل کر کے وہ تقویٰ اختیار کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کی تصدیق اور ایک دوسرے کی موافقت کرتے تھے۔ (۳) محمد مصطفیﷺ انھی انبیاء و رسل کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ، لہٰذا آپ کو دیگر انبیاء و رسل کے زمرے میں رکھ کر آپ کا اعتبار کرنا چاہیے۔ آپ کی دعوت وہی ہے جو ان رسولوں کی دعوت تھی، آپ کے اخلاق ان کے اخلاق سے متفق، آپ کی اور ان کی تعلیمات کا مصدر ایک اور آپ کے اور ان سب کے مقاصد یکساں ہیں ... پس اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کا مجہول اور کذاب لوگوں اور ظالم بادشاہوں کے ساتھ ذکر نہیں کیا۔ (۴)(قرآن مجید میں ) ان انبیاء و رسل کے تذکرے اور ان کی تعداد بیان کرنے میں ان کی ایسی مدح و ثنا اور تعریف و تعظیم ہے اور ان کے احوال کی اس طرح تشریح ہے جس سے ان کے بارے میں مومن کے ایمان اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے، ان کے طریقے اور سنت کو اپنانے کا جذبہ بڑھتا ہے اور ان کے حقوق کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کا مصداق ہے۔ ﴿سَلٰمٌ عَلٰى نُوۡحٍ فِي الۡعٰلَمِيۡنَ (الصافات:37؍79) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبۡرٰهِيۡمَ (الصافات: 37؍109) سَلٰمٌ عَلٰى مُوۡسٰؔى وَهٰرُوۡنَ (الصافات: 37؍120) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ (الصافات: 37؍130) اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ (الصافات: 37؍131)﴾ پس بھلائی اور احسان کرنے والے ہر شخص کو اس کے احسان کے مطابق مخلوق کے اندر ثنائے حسن نصیب ہوتی ہے۔ تمام انبیاء و رسل خصوصاً وہ انبیائے کرام جن کے اسمائے گرامی گزشتہ سطور میں ذکر کیے گئے ہیں احسان کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں ۔جہاں اللہ تعالیٰ نے وحی میں ان کے اشتراک کا ذکر فرمایا، وہاں اس نے بعض انبیاء کے اختصاص کا بھی ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے جناب داودu کو زبور عطا کی اور یہ وہ معروف اور لکھی ہوئی کتاب ہے جو داودu کے فضل و شرف کی بنا پر ان کے لیے مخصوص کی گئی۔اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu کے ساتھ کلام فرمایا، یعنی بغیر کسی واسطہ کے بالمشافہ کلام فرمایا۔ حتیٰ کہ یہ بات تمام دنیا میں مشہور ہوگئی اور جناب موسیٰu کو ’’کلیم الرحمن‘‘ کہا جانے لگا۔ [164] نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ ان انبیاء و رسل میں سے بعض کا قصہ رسول اللہﷺ پر بیان فرمایا اور بعض انبیاء کا قصہ بیان نہیں فرمایا۔ اور یہ امر انبیائے کرام کی کثرت پر دلالت کرتا ہے۔ [165] اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں کے لیے دنیاوی اور اخروی سعادت کی خوشخبری سنانے والے بنا کر مبعوث فرمایا جو ان کی اطاعت کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے دونوں جہانوں کی بدبختی سے ڈرانے والے بنا کر بھیجا جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ان رسولوں کی مخالفت کرتے ہیں ... تاکہ انبیاء و رسل مبعوث کرنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے اور وہ یہ نہ کہیں کہ:﴿مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ١ٞ فَقَدۡ جَآءَؔكُمۡ بَشِيۡرٌ وَّنَذِيۡرٌ﴾(المآئدہ: 5؍19) ’’ہمارے پاس کوئی خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ پس تحقیق تمھارے پاس خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا آ گیا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ کے مسلسل رسول بھیجنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہی یہ رسول لوگوں کے سامنے ان کا دین بیان کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضی کے اسباب اور جنت و جہنم کے راستے واضح کرتے ہیں .... تب جو کوئی ان انبیاء و رسل کا انکار کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کے کامل غلبہ اور کامل حکمت کی دلیل ہے کہ اس نے لوگوں کی طرف رسول مبعوث فرمائے اور ان پر کتابیں نازل فرمائیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان بھی ہے کیونکہ لوگ انبیاء و رسل کی بعثت کے سخت ضرورت مند تھے تب اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اضطرار کا ازالہ فرمایا۔ پس وہی حمد و ثنا اور شکر کا مستحق ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ اس نے جس طرح اپنے رسول بھیج کر ہم پر اپنی نعمت کی ابتدا کی، اسی طرح وہ ہمیں ان کے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق سے نواز کر اس نعمت کا اتمام کرے، بے شک وہ جواد اور کریم ہے۔
4:166

لَّـٰكِنِ ٱللَّهُ يَشۡهَدُ بِمَآ أَنزَلَ إِلَيۡكَۖ أَنزَلَهُۥ بِعِلۡمِهِۦۖ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ يَشۡهَدُونَۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًا

لیکن اللہ گواہی دیتا ہے اس کی جو نازل کیا اس نے طرف آپ کی کہ نازل کیا ہے اس کو اپنے علم کے ساتھ اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور کافی ہے اللہ گواہ(166) [166] اللہ تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ اس نے محمد مصطفیﷺ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جس طرح دیگر انبیاء کی طرف، وہاں یہ خبر بھی دی ہے کہ اس نے آپﷺ کی رسالت کی اور جو تعلیمات لے کر آپ مبعوث ہوئے، ان کی صحت کی گواہی دی ہے۔فرمایا:﴿اَنۡزَلَهٗ بِعِلۡمِهٖ﴾ ’’اس نے اپنے علم سے اسے نازل کیا ہے۔‘‘ اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ اس نے قرآن کو اس طرح نازل فرمایا کہ وہ اس (اللہ) کے علم پر مشتمل ہے، یعنی اس کے اندر تمام علوم الہیہ، احکام شرعیہ اور اخبار غیبیہ موجود ہیں ۔ یہ تمام اللہ تعالیٰ کا وہ علم ہے جو اس نے اپنے بندوں کو سکھایا۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد ہو کہ اس نے اس قرآن کو اپنے علم کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ تب اس کے اندر اللہ تعالیٰ کی شہادت کے پہلو کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے اس طرح نازل فرمایا ہے کہ وہ اوامر و نواہی پر مشتمل ہے اور یہ سب کچھ جانتا ہے۔ اور وہ اس کے احوال کو بھی جانتا ہے جس پر یہ نازل کیا گیا اور اللہ تعالیٰ یہ بھی جانتا ہے کہ اس نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی ہے۔ پس جس کسی نے اس کی دعوت پر لبیک کہی اور اس کی تصدیق کی وہ اللہ تعالیٰ کا دوست ہے اور جس کسی نے اس کو جھٹلایا اور اس کے ساتھ عداوت رکھی وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا مال اور خون مباح کر دیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دوست کو قدرت عطا کرتا ہے اور پے در پے اس کی مدد کرتا ہے، اس کی دعائیں قبول کرتا ہے، اس کے دشمنوں سے الگ ہو جاتا ہے اور اس کے دوستوں کی مدد کرتا ہے۔کیا کوئی ایسی شہادت ہے جو اس شہادت سے بڑی ہو؟ اللہ تعالیٰ کے علم، اس کی قدرت اور اس کی حکمت میں عیب لگائے بغیر نیز فرشتوں کے ایمان کامل اور مشہود علیہ کی جلالت شان کی بنا پر اس چیز پر ان کی شہادت کے بارے میں جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے عیب چینی کیے بغیر اس شہادت میں جرح و قدح ممکن نہیں ۔ اس قسم کے عظیم الشان امور پر خواص ہی سے شہادت طلب کی جاتی ہے جیسا کہ توحید پر شہادت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ وَاُولُوا الۡعِلۡمِ قَآىِٕمًۢا بِالۡقِسۡطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾(ال عمران: 3؍18) ’’اس نے شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی الہ نہیں ،فرشتوں اور اہل علم نے بھی شہادت دی ہے کہ وہ انصاف کے ساتھ حکومت کر رہا ہے،اس کے سوا کوئی الہ نہیں وہی زبردست ہے اور حکمت والا ہے۔‘‘
4:167

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ قَدۡ ضَلُّواْ ضَلَٰلَۢا بَعِيدًا

بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور روکا (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، یقینا وہ گمراہ ہوگئے گمراہ بہت دور کے(167) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ظلم کیا، نہیں ہے اللہ کہ بخش دے ان کو اور نہ ایسا کہ دکھلائے ان کو راہ(168) مگر راہ جہنم کی، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ابد تک اور ہے یہ اللہ پر بہت آسان(169) [167] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و رسل صلوات اللہ وسلامہ علیہم کی رسالت اور خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ کی رسالت کے بارے میں خبر دی ہے۔ اس رسالت پر خود بھی گواہی دی اور اس کے فرشتوں نے بھی گواہی دی اور اس سے مشہود بہ اور امر متحقق کا ثابت ہونا لازم آتا ہے۔ پس اس طرح انبیاء کی تصدیق، ان پر ایمان لانا اور ان کی اتباع کرنا واجب ہے، پھر جن لوگوں نے انبیائے کرام علیہ السلام کا انکار کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا۔‘‘ یعنی انھوں نے خود اپنے کفر کرنے کو اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کو جمع کر دیا۔ یہ لوگ ائمہ کفر اور گمراہی کے داعی ہیں ﴿قَدۡ ضَلُّوۡا ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا﴾ ’’وہ راستے سے بھٹک کر دور جاپڑے۔‘‘ جو شخص خود بھی گمراہ ہو اور اس نے دوسروں کو بھی گمراہ کر دیا ہو اس سے بڑی گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس نے دو گناہ سمیٹے اور وہ دو خسارے لے کر لوٹا اور دو ہدایتوں سے محروم ہو گیا۔ [169,168] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَظَلَمُوۡا ﴾ ’’جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے۔‘‘ اور یہ ظلم ان کے کفر پر اضافہ ہے ورنہ جب ظلم کا اطلاق کیا جاتا ہے تو کفر اس کے اندر شامل ہوتا ہے۔ یہاں ظلم سے مراد اعمال کفر اور اس کے اندر استغراق ہے۔ پس یہ لوگ مغفرت اور صراط مستقیم کی طرف راہنمائی سے بہت دور ہیں ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَمۡ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَهۡدِيَهُمۡ طَرِيۡقًاۙ۰۰ اِلَّا طَرِيۡقَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’اللہ ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انھیں راستہ ہی دکھائے گا، ہاں دوزخ کا راستہ۔‘‘ ان کے لیے مغفرت اور ہدایت کی نفی محض اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنی سرکشی پر قائم اور اپنے کفر میں بڑھتے جارہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر ہدایت کی راہ مسدود ہو گئی ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46)’’تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘﴿وَؔكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا﴾ ’’اور یہ بات اللہ کو آسان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں کیونکہ وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے اور وہ اسی حال کے لائق ہیں جس کو انھوں نے اپنے لیے منتخب کیا۔
4:168

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَظَلَمُواْ لَمۡ يَكُنِ ٱللَّهُ لِيَغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَهۡدِيَهُمۡ طَرِيقًا

بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور روکا (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، یقینا وہ گمراہ ہوگئے گمراہ بہت دور کے(167) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ظلم کیا، نہیں ہے اللہ کہ بخش دے ان کو اور نہ ایسا کہ دکھلائے ان کو راہ(168) مگر راہ جہنم کی، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ابد تک اور ہے یہ اللہ پر بہت آسان(169) [167] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و رسل صلوات اللہ وسلامہ علیہم کی رسالت اور خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ کی رسالت کے بارے میں خبر دی ہے۔ اس رسالت پر خود بھی گواہی دی اور اس کے فرشتوں نے بھی گواہی دی اور اس سے مشہود بہ اور امر متحقق کا ثابت ہونا لازم آتا ہے۔ پس اس طرح انبیاء کی تصدیق، ان پر ایمان لانا اور ان کی اتباع کرنا واجب ہے، پھر جن لوگوں نے انبیائے کرام علیہ السلام کا انکار کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا۔‘‘ یعنی انھوں نے خود اپنے کفر کرنے کو اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کو جمع کر دیا۔ یہ لوگ ائمہ کفر اور گمراہی کے داعی ہیں ﴿قَدۡ ضَلُّوۡا ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا﴾ ’’وہ راستے سے بھٹک کر دور جاپڑے۔‘‘ جو شخص خود بھی گمراہ ہو اور اس نے دوسروں کو بھی گمراہ کر دیا ہو اس سے بڑی گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس نے دو گناہ سمیٹے اور وہ دو خسارے لے کر لوٹا اور دو ہدایتوں سے محروم ہو گیا۔ [169,168] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَظَلَمُوۡا ﴾ ’’جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے۔‘‘ اور یہ ظلم ان کے کفر پر اضافہ ہے ورنہ جب ظلم کا اطلاق کیا جاتا ہے تو کفر اس کے اندر شامل ہوتا ہے۔ یہاں ظلم سے مراد اعمال کفر اور اس کے اندر استغراق ہے۔ پس یہ لوگ مغفرت اور صراط مستقیم کی طرف راہنمائی سے بہت دور ہیں ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَمۡ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَهۡدِيَهُمۡ طَرِيۡقًاۙ۰۰ اِلَّا طَرِيۡقَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’اللہ ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انھیں راستہ ہی دکھائے گا، ہاں دوزخ کا راستہ۔‘‘ ان کے لیے مغفرت اور ہدایت کی نفی محض اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنی سرکشی پر قائم اور اپنے کفر میں بڑھتے جارہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر ہدایت کی راہ مسدود ہو گئی ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46)’’تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘﴿وَؔكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا﴾ ’’اور یہ بات اللہ کو آسان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں کیونکہ وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے اور وہ اسی حال کے لائق ہیں جس کو انھوں نے اپنے لیے منتخب کیا۔
4:169

إِلَّا طَرِيقَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٗا

بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور روکا (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، یقینا وہ گمراہ ہوگئے گمراہ بہت دور کے(167) بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ظلم کیا، نہیں ہے اللہ کہ بخش دے ان کو اور نہ ایسا کہ دکھلائے ان کو راہ(168) مگر راہ جہنم کی، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ابد تک اور ہے یہ اللہ پر بہت آسان(169) [167] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و رسل صلوات اللہ وسلامہ علیہم کی رسالت اور خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ کی رسالت کے بارے میں خبر دی ہے۔ اس رسالت پر خود بھی گواہی دی اور اس کے فرشتوں نے بھی گواہی دی اور اس سے مشہود بہ اور امر متحقق کا ثابت ہونا لازم آتا ہے۔ پس اس طرح انبیاء کی تصدیق، ان پر ایمان لانا اور ان کی اتباع کرنا واجب ہے، پھر جن لوگوں نے انبیائے کرام علیہ السلام کا انکار کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا۔‘‘ یعنی انھوں نے خود اپنے کفر کرنے کو اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کو جمع کر دیا۔ یہ لوگ ائمہ کفر اور گمراہی کے داعی ہیں ﴿قَدۡ ضَلُّوۡا ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا﴾ ’’وہ راستے سے بھٹک کر دور جاپڑے۔‘‘ جو شخص خود بھی گمراہ ہو اور اس نے دوسروں کو بھی گمراہ کر دیا ہو اس سے بڑی گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس نے دو گناہ سمیٹے اور وہ دو خسارے لے کر لوٹا اور دو ہدایتوں سے محروم ہو گیا۔ [169,168] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَظَلَمُوۡا ﴾ ’’جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے۔‘‘ اور یہ ظلم ان کے کفر پر اضافہ ہے ورنہ جب ظلم کا اطلاق کیا جاتا ہے تو کفر اس کے اندر شامل ہوتا ہے۔ یہاں ظلم سے مراد اعمال کفر اور اس کے اندر استغراق ہے۔ پس یہ لوگ مغفرت اور صراط مستقیم کی طرف راہنمائی سے بہت دور ہیں ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَمۡ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَهۡدِيَهُمۡ طَرِيۡقًاۙ۰۰ اِلَّا طَرِيۡقَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’اللہ ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انھیں راستہ ہی دکھائے گا، ہاں دوزخ کا راستہ۔‘‘ ان کے لیے مغفرت اور ہدایت کی نفی محض اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنی سرکشی پر قائم اور اپنے کفر میں بڑھتے جارہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر ہدایت کی راہ مسدود ہو گئی ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46)’’تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘﴿وَؔكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا﴾ ’’اور یہ بات اللہ کو آسان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں کیونکہ وہ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے اور وہ اسی حال کے لائق ہیں جس کو انھوں نے اپنے لیے منتخب کیا۔
4:170

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمُ ٱلرَّسُولُ بِٱلۡحَقِّ مِن رَّبِّكُمۡ فَـَٔامِنُواْ خَيۡرٗا لَّكُمۡۚ وَإِن تَكۡفُرُواْ فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمٗا

اے لوگو! تحقیق آگیا تمھارے پاس یہ رسول حق لے کر تمھارے رب کی طرف سے، پس ایمان لاؤ تم، (ہوگا یہ) بہتر تمھارے لیے اور اگر تم کفر کرو گے تو اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور ہے اللہ خوب جاننے والا حکمت والا(170) [170] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کے بندے اور رسول محمد مصطفیﷺ پر ایمان لائیں ۔ اس نے اس سبب کا بھی ذکر فرمایا ہے جو ایمان کا موجب ہے اور ایمان کے اندر جو فوائد اور عدم ایمان کے اندر جو نقصانات ہیں ان سب کا ذکر کیا ہے۔ پس ایمان کا موجب سبب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دینا ہے کہ رسول اللہﷺ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ۔ آپ کی تشریف آوری فی نفسہ حق اور جو شریعت آپ لائے ہیں وہ بھی حق ہے۔عقلمند شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ مخلوق کا اپنی جہالت میں سرگرداں رہنا اور اپنے کفر میں ادھر ادھر مارے مارے پھرنا جبکہ رسالت منقطع ہو چکی ہو .... اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی رحمت کے لائق نہیں ۔ پس یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اور بے پایاں رحمت ہے کہ اس نے ان کی طرف رسول کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ ان کو گمراہی اور ضلالت میں سے رشد و ہدایت کی پہچان کروائیں ۔ آپﷺ کی رسالت میں مجرد غور و فکر ہی آپ کی نبوت کی صداقت کی قطعی دلیل ہے۔ اسی طرح اس عظیم شریعت اور صراط مستقیم میں غور و فکر، جس کے ساتھ آپ تشریف لائے ہیں ۔ آپﷺ کی نبوت کی دلیل ہے کیونکہ اس میں گزشتہ زمانوں اور آئندہ آنے والے زمانوں کے امور غیبیہ نیز اللہ تعالیٰ اور روز آخرت کے بارے میں ایسی ایسی خبریں دی گئی ہیں کہ کوئی شخص وحی اور رسالت کے بغیر ان کی معرفت حاصل نہیں کر سکتا اور اس میں ہر قسم کی خیر و صلاح، رشد و ہدایت، عدل و احسان، صدق، نیکی، صلہ رحمی اور حسن اخلاق کا حکم دیا گیا ہے اور ہر قسم کے شر، فساد، بغاوت، ظلم، بدخلقی، جھوٹ اور والدین کی نافرمانی سے روکا گیا ہے جن کے بارے میں قطعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔بندے کی بصیرت میں جب بھی اضافہ ہوتا ہے اس کے ایمان و ایقان میں اضافہ ہوتا ہے پس یہ ہے وہ سبب جو بندے کو ایمان کی دعوت دیتا ہے۔ رہی ایمان میں فائدے کی بات تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ ﴿خَيۡرًا لَّـكُمۡ ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ خیر، شر کی ضد ہے۔ پس ایمان اہل ایمان کے ابدان، ان کے دلوں ، ان کی ارواح اور ان کی دنیا و آخرت میں ان کے لیے بہتر ہے۔ کیونکہ ایمان پر مصالح اور فوائد مترتب ہوتے ہیں ، چنانچہ ہر قسم کا ثواب، خواہ وہ اسی دنیا میں حاصل ہو یا آخرت میں ، ایمان ہی کا ثمرہ ہے اور فتح و نصرت، ہدایت، علم، عمل صالح، مسرتیں ، فرحتیں ، جنت اور جنت کی تمام نعمتیں ، ان سب کا سبب ایمان ہے۔ جیسے دنیاوی اور اخروی بدبختی عدم ایمان یا نقص ایمان کے باعث ہے۔رہا رسول اللہﷺ پر عدم ایمان کا ضرر تو اسے ان فوائد کی ضد سے معلوم کیا جا سکتا ہے جو ایمان کے باعث حاصل ہوتے ہیں اور بندہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔ تمام گناہ گاروں کا گناہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔‘‘ یعنی زمین و آسمان میں ہر چیز اس کی مخلوق، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر اور تصرف کے تحت ہے ﴿وَؔكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔‘‘ ﴿حَكِيۡمًا ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ وہ اپنے خلق و امر میں حکمت کا مالک ہے۔ پس وہ جانتا ہے کہ کون ہدایت اور کون گمراہی کا مستحق ہے۔ ہدایت اور گمراہی کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھنے میں وہ حکمت سے کام لیتا ہے۔
4:171

يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لَا تَغۡلُواْ فِي دِينِكُمۡ وَلَا تَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّۚ إِنَّمَا ٱلۡمَسِيحُ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ رَسُولُ ٱللَّهِ وَكَلِمَتُهُۥٓ أَلۡقَىٰهَآ إِلَىٰ مَرۡيَمَ وَرُوحٞ مِّنۡهُۖ فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦۖ وَلَا تَقُولُواْ ثَلَٰثَةٌۚ ٱنتَهُواْ خَيۡرٗا لَّكُمۡۚ إِنَّمَا ٱللَّهُ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۖ سُبۡحَٰنَهُۥٓ أَن يَكُونَ لَهُۥ وَلَدٞۘ لَّهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلٗا

اے اہل کتاب!نہ غلو (زیادتی) کرو اپنے دین میں اور نہ کہو اللہ کے بارے میں مگر حق بات، بس مسیح عیسیٰ ابن مریم تو اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ ہی ہے جس کو اس نے ڈالا مریم کی طرف اور ایک روح ہے اس کی طرف سے، پس ایمان لاؤ تم اللہ اور اس کے رسولوں پر اور نہ کہو کہ (الٰہ) تین ہیں ۔ باز آجاؤ (اس سے، ہوگا) بہتر تمھارے لیے بس اللہ ہی معبود ہے اکیلا، وہ پاک ہے اس سے کہ ہو اس کی کوئی اولاد، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافی ہے اللہ کارساز(171) [171] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل کتاب کو دین میں غلو کرنے سے منع کرتا ہے۔ اور غلو سے مراد ہے حد سے تجاوز کرنا اور حدود مشروع سے نکل کر غیر مشروع کی طرف جانا۔ جیسے نصاریٰ جناب عیسیٰu کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں اور انھیں نبوت اور رسالت کے مقام سے اٹھا کر ربوبیت کے مقام پر بٹھا دیتے ہیں جو اللہ تعالی ٰ کے سوا کسی کے لائق نہیں ۔ پس جس طرح تقصیر اور تفریط (کمی) منہیات میں سے ہے، غلو بھی اسی طرح ممنوع ہے۔ اسی لیے فرمایا ﴿وَلَا تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ﴾ ’’اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔‘‘ یہ کلام اقدس تین امور کو متضمن ہے۔ ان میں سے پہلے دو امور ممنوع ہیں۔اول: اللہ تبارک و تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا۔ثانی: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اس کے افعال، اس کی شریعت اور اس کے رسولوں کے بارے میں بلاعلم بات کرنا۔ثالث: اور تیسری چیز وہ ہے جس کا حکم دیا گیا ہے اور وہ ہے ان تمام امور میں قول حق۔ چونکہ یہ ایک عام قاعدہ کلیہ ہے اور سیاق کلام جناب عیسیٰu کے بارے میں نص اور قول حق ہے اور یہودیت اور نصرانیت کے طریقے کے خلاف ہے اس لیے فرمایا :﴿اِنَّمَا الۡمَسِيۡحُ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ رَسُوۡلُ اللّٰهِ ﴾ ’’مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (u)اللہ کے رسول ہیں ۔‘‘ یعنی جناب مسیحu کی غایت اور مراتب کمال کی انتہاء وہ اعلیٰ ترین حالت ہے جو کسی مخلوق کے لیے ہو سکتی ہے اور وہ مرتبۂ رسالت ہے، جو بلند ترین درجہ اور جلیل ترین مقام ہے۔﴿وَؔكَلِمَتُهٗ١ۚ اَلۡقٰىهَاۤ اِلٰى مَرۡيَمَ ﴾ ’’اور اس کا کلمہ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا۔‘‘ اور وہ ایک کلمہ ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا اور اس کلمہ کے ذریعے سے حضرت عیسیٰu نے تخلیق پائی۔ خود حضرت عیسیٰu وہ کلمہ نہ تھے بلکہ وہ اس کلمہ کے ذریعے سے وجود میں آئے اور یہ شرف و تکریم کی اضافت ہے۔ اسی طرح فرمایا: ﴿وَرُوۡحٌ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اور اس کی طرف سے ایک روح تھے۔‘‘ یعنی ان ارواح میں سے ایک روح ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے تخلیق فرمایا اور صفات فاضلہ اور اخلاق کاملہ کے ساتھ اس کی تکمیل کی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے وہ روح جبریلu کو دے کر جناب مریم علیہا السلام کی طرف بھیجا اور انھوں نے جناب مریم علیہا السلام کی فرج میں روح کو پھونک دیا، پس اللہ کے حکم سے ان کو حمل ٹھہر گیا جس سے حضرت عیسیٰ کی ولادت ہوئی۔جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰu کی حقیقت واضح کر دی تو اس نے اہل کتاب کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کا حکم دیا اور ان کو تین خدا بنانے سے منع کیا، یعنی اللہ تعالیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم علیہا السلام۔ ان کا برا ہو یہ نصاریٰ کا قول باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس تثلیث سے باز آ جائیں اور انھیں آگاہ فرمایا کہ یہ ان کے لیے بہتر ہے کیونکہ یہ امر متعین ہے کہ یہی نجات کی راہ ہے اور اس کے سوا ہر راستہ ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو شریک اور اولاد سے منزہ قرار دیا ہے۔فرمایا:﴿اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ﴾ ’’اللہ ہی معبود واحد ہے۔‘‘ یعنی وہ الوہیت میں منفرد (یکتا) ہے جس کے سوا عبادت کا کوئی مستحق نہیں ﴿سُبۡحٰؔنَهٗۤ ﴾ وہ اس سے منزہ اور پاک ہے ﴿اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهٗ وَلَدٌ ﴾ ’’کہ اس کا کوئی بیٹا ہو‘‘ کیونکہ ﴿لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے‘‘ پس تمام اس کے مملوک اور اس کے محتاج ہیں ۔ اس لیے یہ محال ہے کہ ان میں سے اس کا کوئی شریک یا اس کا کوئی بیٹا ہو۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ تمام عالم علوی اور سفلی کا مالک ہے تو وہ یہ بھی بتلاتا ہے کہ وہی تمام دنیوی اور اخروی مصالح کا بھی انتظام فرماتا ہے، ان مصالح کی حفاظت کرتاہے اور ان کی جزا دیتا ہے۔
4:172

لَّن يَسۡتَنكِفَ ٱلۡمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبۡدٗا لِّلَّهِ وَلَا ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ ٱلۡمُقَرَّبُونَۚ وَمَن يَسۡتَنكِفۡ عَنۡ عِبَادَتِهِۦ وَيَسۡتَكۡبِرۡ فَسَيَحۡشُرُهُمۡ إِلَيۡهِ جَمِيعٗا

ہرگز نہیں عار کریں گے مسیح اس سے کہ ہوں وہ بندے اللہ کے اور نہ فرشتے مقرب اور جو کوئی عار کرے اللہ کی عبادت سے اور تکبر کرے تو یقینا وہ جمع کرے گا ان کو اپنی طرف سب کو(172) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو پورا دے گا وہ ان کو اجر ان کا اور زیادہ دے گا ان کو اپنے فضل سے اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے عار کیا اور تکبر کیا تو عذاب دے گا وہ ان کو عذاب بہت دردناک اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ مددگار(173) [172] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰu کے بارے میں نصاریٰ کے غلو کا ذکر فرمایا اور بیان فرمایا کہ جناب عیسیٰ اللہ کے بندے اور رسول ہیں تو اب یہاں یہ بھی واضح کر دیا کہ حضرت عیسیٰu اپنے رب کی عبادت میں عار نہیں سمجھتے تھے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روگردانی نہیں کرتے تھے ﴿وَلَا الۡمَلٰٓىِٕكَةُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠ ﴾’’اور نہ اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے‘‘ اس کی عبادت سے منہ موڑتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس چیز سے پاک رکھا ہے کہ وہ اس کی عبادت کو عار سمجھیں اور تکبر و استکبار سے پاک ہونا تو بدرجہ اولیٰ ان کی صفت ہے۔ کسی چیز کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے… یعنی عیسیٰu اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے تو اپنے رب کی عبادت میں رغبت رکھتے ہیں ، اس کی عبادت کو پسند کرتے ہیں اور اپنے اپنے حسب احوال اس کی عبادت میں سعی کرتے ہیں ۔ ان کی یہ عبادت ان کے لیے بہت بڑے شرف اور فوز عظیم کی موجب ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور الوہیت میں اپنے آپ کو بندے سمجھنے میں عار محسوس نہیں کی بلکہ وہ ہر طرح سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کا محتاج سمجھتے ہیں ۔یہ نہ سمجھا جائے کہ عیسیٰu یا کسی اور کو اس مرتبے سے بڑھانا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے، ان کے لیے کوئی کمال ہے بلکہ یہ تو عین نقص اور مذمت و عذاب کا محل و مقام ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا﴿وَمَنۡ يَّسۡتَنۡكِفۡ عَنۡ عِبَادَتِهٖ وَيَسۡتَؔكۡبِرۡ فَسَيَحۡشُرُهُمۡ۠ اِلَيۡهِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اور جو شخص اللہ کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو اللہ سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی عبادت کو عار سمجھنے والوں ، متکبروں اور اپنے مومن بندوں ، سب کو عنقریب جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اور اپنی جزا سے نوازے گا۔ [173] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مذکورہ افراد کی بابت اپنے الگ الگ فیصلے کی بابت فرمایا: ﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے‘‘ یعنی انھوں نے ایمان مامور کے ساتھ اعمال صالحہ یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ضمن میں واجبات و مستحبات کو جمع کیا ﴿فَيُوَفِّيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ ﴾ ’’وہ ان کو ان کا پورا بدلہ دے گا۔‘‘ یعنی وہ اجر، جس کو اللہ تعالیٰ نے اعمال پر مترتب فرمایا ہے۔ ہر شخص کو اس کے ایمان اور عمل کے مطابق ملے گا ﴿وَيَزِيۡدُهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ثواب میں اتنا اضافہ کرے گا کہ ان کے اعمال یہ ثواب حاصل نہیں کر سکتے، ان کے افعال اس ثواب تک نہیں پہنچ سکتے اور اس ثواب کا تصور بھی ان کے دل میں نہیں آ سکتا۔ اس ثواب میں ہر وہ چیز شامل ہے جو جنت میں موجود ہے ، مثلاً:ماکولات، مشروبات، بیویاں ، خوبصورت مناظر، فرحت و سرور، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں ۔ بلکہ اس میں ہر دینی اور دنیاوی بھلائی شامل ہے جو ایمان اور عمل صالح پر مترتب ہوتی ہے۔﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡتَنۡكَفُوۡا وَاسۡتَؔكۡبَرُوۡا ﴾ ’’لیکن وہ لوگ جنھوں نے عار کی اور تکبر کیا‘‘ یعنی وہ لوگ جو تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کو عار سمجھتے ہیں ﴿فَيُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’ان کو وہ تکلیف دینے والا عذاب دے گا۔‘‘ یہ عذاب الیم اللہ تعالیٰ کی ناراضی، اس کے غضب اور بھڑکتی ہوئی آگ پر مشتمل ہے جو دلوں کے ساتھ لپٹ جائے گی۔ ﴿وَّلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’تو اور یہ لوگ اللہ کے سوا اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے۔‘‘ یعنی وہ مخلوق میں کوئی ایسا شخص نہیں پائیں گے جو ان کا ولی و مددگار بن سکے اور وہ اپنا مطلوب و مقصود حاصل کر سکیں ۔ اور نہ ان کا کوئی حامی و ناصر ہو گا جو ان سے اس چیز کو دور کر سکے جس سے یہ ڈرتے ہیں ۔ بلکہ صورت حال یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ جو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے وہ بھی ان سے الگ ہو جائے گا اور ان کو دائمی عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جو فیصلہ کرتا ہے اس کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کر سکتا اور نہ اس کی قضا کو کوئی بدل سکتا ہے۔
4:173

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فَيُوَفِّيهِمۡ أُجُورَهُمۡ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضۡلِهِۦۖ وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱسۡتَنكَفُواْ وَٱسۡتَكۡبَرُواْ فَيُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَلِيّٗا وَلَا نَصِيرٗا

ہرگز نہیں عار کریں گے مسیح اس سے کہ ہوں وہ بندے اللہ کے اور نہ فرشتے مقرب اور جو کوئی عار کرے اللہ کی عبادت سے اور تکبر کرے تو یقینا وہ جمع کرے گا ان کو اپنی طرف سب کو(172) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک تو پورا دے گا وہ ان کو اجر ان کا اور زیادہ دے گا ان کو اپنے فضل سے اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے عار کیا اور تکبر کیا تو عذاب دے گا وہ ان کو عذاب بہت دردناک اور نہیں پائیں گے وہ اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ مددگار(173) [172] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰu کے بارے میں نصاریٰ کے غلو کا ذکر فرمایا اور بیان فرمایا کہ جناب عیسیٰ اللہ کے بندے اور رسول ہیں تو اب یہاں یہ بھی واضح کر دیا کہ حضرت عیسیٰu اپنے رب کی عبادت میں عار نہیں سمجھتے تھے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روگردانی نہیں کرتے تھے ﴿وَلَا الۡمَلٰٓىِٕكَةُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠ ﴾’’اور نہ اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے‘‘ اس کی عبادت سے منہ موڑتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس چیز سے پاک رکھا ہے کہ وہ اس کی عبادت کو عار سمجھیں اور تکبر و استکبار سے پاک ہونا تو بدرجہ اولیٰ ان کی صفت ہے۔ کسی چیز کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے… یعنی عیسیٰu اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے تو اپنے رب کی عبادت میں رغبت رکھتے ہیں ، اس کی عبادت کو پسند کرتے ہیں اور اپنے اپنے حسب احوال اس کی عبادت میں سعی کرتے ہیں ۔ ان کی یہ عبادت ان کے لیے بہت بڑے شرف اور فوز عظیم کی موجب ہے۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور الوہیت میں اپنے آپ کو بندے سمجھنے میں عار محسوس نہیں کی بلکہ وہ ہر طرح سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کا محتاج سمجھتے ہیں ۔یہ نہ سمجھا جائے کہ عیسیٰu یا کسی اور کو اس مرتبے سے بڑھانا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے، ان کے لیے کوئی کمال ہے بلکہ یہ تو عین نقص اور مذمت و عذاب کا محل و مقام ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا﴿وَمَنۡ يَّسۡتَنۡكِفۡ عَنۡ عِبَادَتِهٖ وَيَسۡتَؔكۡبِرۡ فَسَيَحۡشُرُهُمۡ۠ اِلَيۡهِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اور جو شخص اللہ کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو اللہ سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی عبادت کو عار سمجھنے والوں ، متکبروں اور اپنے مومن بندوں ، سب کو عنقریب جمع کرے گا اور ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اور اپنی جزا سے نوازے گا۔ [173] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مذکورہ افراد کی بابت اپنے الگ الگ فیصلے کی بابت فرمایا: ﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے‘‘ یعنی انھوں نے ایمان مامور کے ساتھ اعمال صالحہ یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ضمن میں واجبات و مستحبات کو جمع کیا ﴿فَيُوَفِّيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ ﴾ ’’وہ ان کو ان کا پورا بدلہ دے گا۔‘‘ یعنی وہ اجر، جس کو اللہ تعالیٰ نے اعمال پر مترتب فرمایا ہے۔ ہر شخص کو اس کے ایمان اور عمل کے مطابق ملے گا ﴿وَيَزِيۡدُهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ثواب میں اتنا اضافہ کرے گا کہ ان کے اعمال یہ ثواب حاصل نہیں کر سکتے، ان کے افعال اس ثواب تک نہیں پہنچ سکتے اور اس ثواب کا تصور بھی ان کے دل میں نہیں آ سکتا۔ اس ثواب میں ہر وہ چیز شامل ہے جو جنت میں موجود ہے ، مثلاً:ماکولات، مشروبات، بیویاں ، خوبصورت مناظر، فرحت و سرور، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں ۔ بلکہ اس میں ہر دینی اور دنیاوی بھلائی شامل ہے جو ایمان اور عمل صالح پر مترتب ہوتی ہے۔﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡتَنۡكَفُوۡا وَاسۡتَؔكۡبَرُوۡا ﴾ ’’لیکن وہ لوگ جنھوں نے عار کی اور تکبر کیا‘‘ یعنی وہ لوگ جو تکبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کو عار سمجھتے ہیں ﴿فَيُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’ان کو وہ تکلیف دینے والا عذاب دے گا۔‘‘ یہ عذاب الیم اللہ تعالیٰ کی ناراضی، اس کے غضب اور بھڑکتی ہوئی آگ پر مشتمل ہے جو دلوں کے ساتھ لپٹ جائے گی۔ ﴿وَّلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيۡرًا ﴾ ’’تو اور یہ لوگ اللہ کے سوا اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے۔‘‘ یعنی وہ مخلوق میں کوئی ایسا شخص نہیں پائیں گے جو ان کا ولی و مددگار بن سکے اور وہ اپنا مطلوب و مقصود حاصل کر سکیں ۔ اور نہ ان کا کوئی حامی و ناصر ہو گا جو ان سے اس چیز کو دور کر سکے جس سے یہ ڈرتے ہیں ۔ بلکہ صورت حال یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ جو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے وہ بھی ان سے الگ ہو جائے گا اور ان کو دائمی عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جو فیصلہ کرتا ہے اس کے فیصلے کو کوئی رد نہیں کر سکتا اور نہ اس کی قضا کو کوئی بدل سکتا ہے۔
4:174

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَآءَكُم بُرۡهَٰنٞ مِّن رَّبِّكُمۡ وَأَنزَلۡنَآ إِلَيۡكُمۡ نُورٗا مُّبِينٗا

اے لوگو! تحقیق آگئی تمھارے پاس ایک دلیل تمھارے رب کی طرف سےاور نازل کیا ہم نے تمھاری طرف ایک نور واضح(174) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور مضبوط پکڑا اس کو تو وہ ضرور داخل کرے گا ان کو اپنی رحمت اور فضل میں اور بتلا دے گا ان کو اپنے تک (پہنچنے کے لیے) راہ سیدھی(175) [174] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں پر احسان جتلاتا ہے کہ اس نے ان تک براہین قاطعہ اور واضح روشنی پہنچائی، ان پر حجت قائم کرتا ہے اور ان کے سامنے ہدایت کی راہ واضح کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمۡ بُرۡهَانٌؔ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’لوگو! تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے پاس دلیل آچکی ہے۔‘‘ یعنی تمھارے پاس حق کی تائید میں قطعی دلائل آچکے ہیں جو حق کو واضح کرتے ہیں اور اس کی ضد کو بیان کرتے ہیں ۔ یہ براہین دلائل عقلیہ، دلائل نقلیہ، آیات افقی اور آیات نفسی پر مشتمل ہیں ، فرمایا:﴿سَنُرِيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا فِي الۡاٰفَاقِ وَفِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمۡ اَنَّهُ الۡحَقُّ﴾(حم السجدہ: 41؍53) ’’ہم عنقریب ان کو آفاق میں اور خود ان کی ذات میں نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ حق ان پر واضح ہو جائے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ اس برہان و دلیل کی عظمت و شرف پر دلالت کرتا ہے کیونکہ یہ تمھارے رب کی طرف سے ہے جس نے تمھاری دینی اور دنیوی تربیت کی ہے۔ یہ اس کی تربیت ہی ہے جس پر اس کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے تمھیں دلائل عطا کیے تاکہ وہ صراط مستقیم کی طرف تمھاری راہنمائی کرے اور تمھیں نعمتوں سے بھری ہوئی جنتوں تک پہنچائے۔﴿وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ نُوۡرًؔا مُّبِيۡنًا ﴾ ’’اور اتارا ہم نے تمھاری طرف واضح نور‘‘ وہ یہی قرآن عظیم ہے جو اولین و آخرین کے علوم، سچی خبروں ، عدل و احسان اور بھلائی کے احکام اور ہر قسم کے ظلم اور شر سے ممانعت پر مشتمل ہے۔ لوگ اگر قرآن سے روشنی حاصل کر کے اپنی راہوں کو روشن نہیں کریں گے تو اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔ اگر انھوں نے قرآن سے بھلائی کو حاصل نہ کیا تو بہت بڑی بدبختی میں پڑے رہیں گے۔ [175]تاہم قرآن عظیم پر ایمان لانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے اعتبار سے لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں :(۱)﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے وجود کا اعتراف کیا اور یہ تسلیم کیا کہ وہ تمام اوصاف کاملہ سے متصف اور ہر نقص اور ہر عیب سے منزہ ہے۔ ﴿وَاعۡتَصَمُوۡا بِهٖ ﴾ ’’اور اس (کے دین کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے ہاں پناہ لی اور اپنی قوت اور طاقت سے بری ہو کر اپنے رب سے مدد کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَسَيُدۡخِلُهُمۡ۠ فِيۡ رَحۡمَةٍ مِّؔنۡهُ وَفَضۡلٍ﴾ ’’ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کی بہشتوں ) میں داخل کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اپنی خاص رحمت سے ڈھانپ لے گا، انھیں نیکیوں کی توفیق عنایت کرے گا، انھیں بے پایاں ثواب عطا کرے گا اور ان سے بلائیں دور کرے گا ﴿وَّيَهۡدِيۡهِمۡ اِلَيۡهِ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور اپنی طرف (پہنچنے کا)سیدھا راستہ دکھائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں علم و عمل کی توفیق اور انھیں حق اور اس پر عمل کی معرفت عطا کرے گا۔(۲) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے، اللہ کے پاس پناہ نہ لی اور اس کی کتاب کو مضبوطی سے نہ پکڑا تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل اور رحمت سے محروم کر دے گا ان کو ان کے نفس کے حوالے کر دے گا۔ انھوں نے ہدایت کی راہ کو اختیار نہ کیا بلکہ وہ واضح طور پر گمراہی میں جا پڑے۔ ایمان ترک کرنے پر یہ ان کی سزا ہے، پس ناکامی اور محرومی ان کا نصیب بن گئی ہم اللہ تبارک و تعالیٰ سے عفو، عافیت اور معافی کا سوال کرتے ہیں ۔
4:175

فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَٱعۡتَصَمُواْ بِهِۦ فَسَيُدۡخِلُهُمۡ فِي رَحۡمَةٖ مِّنۡهُ وَفَضۡلٖ وَيَهۡدِيهِمۡ إِلَيۡهِ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا

اے لوگو! تحقیق آگئی تمھارے پاس ایک دلیل تمھارے رب کی طرف سےاور نازل کیا ہم نے تمھاری طرف ایک نور واضح(174) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور مضبوط پکڑا اس کو تو وہ ضرور داخل کرے گا ان کو اپنی رحمت اور فضل میں اور بتلا دے گا ان کو اپنے تک (پہنچنے کے لیے) راہ سیدھی(175) [174] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں پر احسان جتلاتا ہے کہ اس نے ان تک براہین قاطعہ اور واضح روشنی پہنچائی، ان پر حجت قائم کرتا ہے اور ان کے سامنے ہدایت کی راہ واضح کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمۡ بُرۡهَانٌؔ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’لوگو! تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے پاس دلیل آچکی ہے۔‘‘ یعنی تمھارے پاس حق کی تائید میں قطعی دلائل آچکے ہیں جو حق کو واضح کرتے ہیں اور اس کی ضد کو بیان کرتے ہیں ۔ یہ براہین دلائل عقلیہ، دلائل نقلیہ، آیات افقی اور آیات نفسی پر مشتمل ہیں ، فرمایا:﴿سَنُرِيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا فِي الۡاٰفَاقِ وَفِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمۡ اَنَّهُ الۡحَقُّ﴾(حم السجدہ: 41؍53) ’’ہم عنقریب ان کو آفاق میں اور خود ان کی ذات میں نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ حق ان پر واضح ہو جائے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’تمھارے رب کی طرف سے۔‘‘ اس برہان و دلیل کی عظمت و شرف پر دلالت کرتا ہے کیونکہ یہ تمھارے رب کی طرف سے ہے جس نے تمھاری دینی اور دنیوی تربیت کی ہے۔ یہ اس کی تربیت ہی ہے جس پر اس کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے تمھیں دلائل عطا کیے تاکہ وہ صراط مستقیم کی طرف تمھاری راہنمائی کرے اور تمھیں نعمتوں سے بھری ہوئی جنتوں تک پہنچائے۔﴿وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ نُوۡرًؔا مُّبِيۡنًا ﴾ ’’اور اتارا ہم نے تمھاری طرف واضح نور‘‘ وہ یہی قرآن عظیم ہے جو اولین و آخرین کے علوم، سچی خبروں ، عدل و احسان اور بھلائی کے احکام اور ہر قسم کے ظلم اور شر سے ممانعت پر مشتمل ہے۔ لوگ اگر قرآن سے روشنی حاصل کر کے اپنی راہوں کو روشن نہیں کریں گے تو اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے۔ اگر انھوں نے قرآن سے بھلائی کو حاصل نہ کیا تو بہت بڑی بدبختی میں پڑے رہیں گے۔ [175]تاہم قرآن عظیم پر ایمان لانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے اعتبار سے لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں :(۱)﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے وجود کا اعتراف کیا اور یہ تسلیم کیا کہ وہ تمام اوصاف کاملہ سے متصف اور ہر نقص اور ہر عیب سے منزہ ہے۔ ﴿وَاعۡتَصَمُوۡا بِهٖ ﴾ ’’اور اس (کے دین کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہے۔‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے ہاں پناہ لی اور اپنی قوت اور طاقت سے بری ہو کر اپنے رب سے مدد کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَسَيُدۡخِلُهُمۡ۠ فِيۡ رَحۡمَةٍ مِّؔنۡهُ وَفَضۡلٍ﴾ ’’ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کی بہشتوں ) میں داخل کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اپنی خاص رحمت سے ڈھانپ لے گا، انھیں نیکیوں کی توفیق عنایت کرے گا، انھیں بے پایاں ثواب عطا کرے گا اور ان سے بلائیں دور کرے گا ﴿وَّيَهۡدِيۡهِمۡ اِلَيۡهِ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور اپنی طرف (پہنچنے کا)سیدھا راستہ دکھائے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں علم و عمل کی توفیق اور انھیں حق اور اس پر عمل کی معرفت عطا کرے گا۔(۲) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے، اللہ کے پاس پناہ نہ لی اور اس کی کتاب کو مضبوطی سے نہ پکڑا تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل اور رحمت سے محروم کر دے گا ان کو ان کے نفس کے حوالے کر دے گا۔ انھوں نے ہدایت کی راہ کو اختیار نہ کیا بلکہ وہ واضح طور پر گمراہی میں جا پڑے۔ ایمان ترک کرنے پر یہ ان کی سزا ہے، پس ناکامی اور محرومی ان کا نصیب بن گئی ہم اللہ تبارک و تعالیٰ سے عفو، عافیت اور معافی کا سوال کرتے ہیں ۔
4:176

يَسۡتَفۡتُونَكَ قُلِ ٱللَّهُ يُفۡتِيكُمۡ فِي ٱلۡكَلَٰلَةِۚ إِنِ ٱمۡرُؤٌاْ هَلَكَ لَيۡسَ لَهُۥ وَلَدٞ وَلَهُۥٓ أُخۡتٞ فَلَهَا نِصۡفُ مَا تَرَكَۚ وَهُوَ يَرِثُهَآ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهَا وَلَدٞۚ فَإِن كَانَتَا ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُمَا ٱلثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَۚ وَإِن كَانُوٓاْ إِخۡوَةٗ رِّجَالٗا وَنِسَآءٗ فَلِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۗ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ أَن تَضِلُّواْۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمُۢ

فتویٰ پوچھتے ہیں وہ آپ سے، کہہ دیجیے! اللہ فتویٰ دیتا ہے تمھیں کلالہ کے بارے میں کہ اگر کوئی مرد مر جائے، نہ ہو اس کی کوئی اولاد اوراس کی ایک بہن ہو تو اس کے لیے آدھا ہے اس (مال) کا جو وہ چھوڑ گیا اور وہ وارث ہوگا اس بہن کااگر نہ ہو اس بہن کی اولاد ، پھر اگر ہوں وہ دو بہنیں تو ان کے لیے ہے دو تہائی اس میں سے جو وہ چھوڑ گیا اور اگر (وارث) ہوں کئی بھائی (بہن)، مرد اور عورتیں تو واسطے مرد کے ہے مثل حصے دو عورتوں کے۔ وضاحت کرتا ہے اللہ تمھارے لیے تاکہ نہ گمراہ ہو تم اور اللہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے(176) [176] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ لوگوں نے رسول اللہﷺ سے کلالہ کے بارے میں فتویٰ طلب کیا تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿قُلِ اللّٰهُ يُفۡتِيۡكُمۡ فِي الۡكَلٰلَةِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ تعالیٰ تمھیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے‘‘ (کَلَالَہ) سے مراد وہ میت ہے جس کی صلب سے کوئی اولاد ہو، نہ کوئی پوتا پوتی، نہ باپ ہو نہ دادا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنِ امۡرُؤٌا هَلَكَ لَيۡسَ لَهٗ وَلَدٌ ﴾ ’’اگر کوئی ایسا مرد مر جائے جس کے اولاد نہ ہو۔‘‘ یعنی اس کا کوئی بیٹا یا بیٹی ہو، نہ صلبی بیٹا ہو اور نہ بیٹے کا بیٹا ہو… اور اسی طرح نہ اس کا باپ ہو اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بھائی اور بہنیں اس کے وارث بنیں گے کیونکہ اس پر علماء کا اجماع ہے کہ بہن بھائی باپ کی معیت میں وارث نہیں بنیں گے۔ پس جب ایسا شخص فوت ہو جائے گا جس کی اولاد ہے نہ باپ ﴿وَّلَهٗۤ اُخۡتٌ ﴾ البتہ اس کی حقیقی یا باپ شریک بہن ہے، نہ کہ ماں شریک کیونکہ اس کا حکم پہلے گزر چکا ہے۔ ﴿فَلَهَا نِصۡفُ مَا تَرَكَ﴾ ’’اس (بہن)کے کے لیے ترکے میں سے آدھا حصہ ہے۔‘‘ یعنی بہن کو کلالہ بھائی کے ترکہ، یعنی نقدی، جائداد اور دیگر اثاثوں میں سے نصف ملے گا۔ یہ حصہ میت کی وصیت پوری کرنے اور قرض کی ادائیگی کے بعد دیا جائے گا۔ جیسا کہ اس کے بارے میں احکام گزشتہ اوراق میں گزر چکے ہیں ۔﴿وَهُوَ ﴾ ’’اور وہ‘‘ یعنی میت کا حقیقی بھائی یا باپ کی طرف سے بھائی ﴿يَرِثُهَاۤ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهَا وَلَدٌ﴾ ’’اس بہن کا وارث ہو گا، اگر اس کی اولاد نہیں ہو گی‘‘ اور اس کے لیے حصۂ میراث مقرر نہ ہو کیونکہ وہ تو عصبہ ہے اگر اصحاب فروض یا عصبہ میں شریک کوئی فرد نہ ہو تو وہ تمام ترکہ لے گا یا اصحاب فروض کو ان کے حصے دینے کے بعد جو کچھ باقی بچے گا وہ اس کو ملے گا۔ ﴿فَاِنۡ كَانَتَا اثۡنَتَيۡنِ ﴾ ’’اور اگر دو بہنیں ہوں ۔‘‘ یعنی دو یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں ﴿فَلَهُمَا الثُّلُـثٰنِ مِمَّؔا تَرَكَ﴾ ’’تو ان کو ترکے میں سے دو تہائی ملے گا‘‘ ﴿وَاِنۡ كَانُوۡۤا اِخۡوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً ﴾ ’’اور اگر بھائی اور بہن، یعنی مرد اور عورتیں ملے جلے وارث ہوں ۔‘‘ یعنی اگر باپ کی طرف سے بھائی اور بہنیں وارث ہوں ﴿فَلِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾ ’’تو مرد کے لیے، دو عورتوں کے برابر حصہ ہے‘‘ پس عورتوں کا مقررہ حصہ (دو تہائی) ساقط ہو جائے گا اور ان عورتوں کو ان کے بھائی عصبہ بنا دیں گے۔ (گویا اس میں عصبات کا حکم بیان کیا گیا ہے)عورتوں کا حصہ ساقط ہو جائے گا اور ان کے بھائی ان کے عصبہ بنیں گے۔﴿يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اَنۡ تَضِلُّوۡا ﴾ ’’اللہ تم سے اس لیے بیان فرماتا ہے کہ بھٹکتے نہ پھرو۔‘‘ اللہ تعالیٰ تمھارے لیے ان احکام کو واضح کرتا ہے اور ان کی تشریح کرتا ہے جن کے تم محتاج ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل و احسان ہے تاکہ تم راہ ہدایت پا لو۔ اور تم اس کے احکام پر عمل کرو اور تاکہ تم اپنی جہالت اور عدم علم کی وجہ سے راہ راست سے بھٹک نہ جاؤ۔ ﴿وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ غائب اور موجود، ماضی اور مستقبل کے تمام امور کو جانتا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ تم اس کی وضاحت اور تعلیم کے محتاج ہو، وہ اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھاتاہے جو تمھیں ہر زمان و مکان میں ہمیشہ فائدہ دے گا۔