al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 42 · 53 verses
42:1حٰمٓ (1)عٓسٓقٓ(2) اسی طرح وحی کرتا ہے آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے (تھے) اللہ زبردست، خوب حکمت والا(3) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہ بلند ہے خوب عظمت والا(4) قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اپنے اوپر سے، اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور مغفرت مانگتے ہیں ان کے لیے جو زمین میں ہیں، خبردار! بلاشبہ اللہ، وہی ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(5) اور وہ لوگ جنھوں نے بنا لیے اس کے سوا (دوسرے) کارساز، اللہ نگہبان ہے ان پر اور نہیں ہیں آپ ان پر نگران(6) اور اسی طرح وحی کی ہم نے آپ کی طرف ایک قرآن عربی کی، تاکہ ڈرائیں آپ مکہ (والوں)کو اور ان کو جو ارد گرد ہیں اس کےاور ڈرائیں آپ جمع ہونے کے دن سے کہ نہیں ہے شک جس میں، ایک گروہ جنت میں ہو گا اور ایک گروہ بھڑکنے والی آگ میں(7) اور اگر چاہتا اللہ تو یقیناً کر دیتا ان (سب)کو امت ایک ہی اور لیکن داخل کرتا ہے وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں اور ظالم، نہیں ہے ان کے لیے کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(8) کیا بنا لیے انھوں نے اس کے سوا (دوسرے)کارساز؟ پس اللہ ہی ہے کارساز اور وہی زندہ کرے گا مردوں کو اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم، نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کیے۔ نیز یہ کہ محمد مصطفیﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں۔ آپ کا طریقہ وہی ہے جو پہلے انبیاء و مرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال، گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں، وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچ ہے۔ اور یہ کتابیں اسی ہستی کی طرف سے نازل کی گئی ہیں، جو الوہیت، غلبۂ عظیم اور حکمت بالغہ سے موصوف ہے، تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر قدری اور تدبیر شرعی کے تحت ہیں۔ ﴿الۡعَلِيُّ ﴾ وہ اپنی ذات، اپنی قدرت اور اپنے قہروغلبہ کے ساتھ بلند ہے ﴿ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’وہ عظمت والا ہے۔‘‘ جس کی عظمتِ شان سے ﴿تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِهِنَّ ﴾ ’’قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں۔‘‘ باوجود اپنی عظمت اور مضبوطی کے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ اور مکرم و مقرب فرشتے اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز اور اس کی ربوبیت کے سامنے مطیع اور فروتن ہیں۔ ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس کی تعظیم اور ہر نقص سے اس کی تنزیہ کرتے ہیں۔ اور ہر صفت کمال سے اسے متصف قرار دیتے ہیں۔ ﴿وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ لِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور جو زمین میں ہیں ان کے لیے وہ مغفرت طلب کرتے ہیں۔‘‘ ان سے جو ایسی باتیں صادر ہوتیں ہیں، جو ان کے رب کی عظمت اور کبریائی کے لائق نہیں، اس پر ان کے لیے بخشش مانگتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اللہ ہی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘ اگر اس کی مغفرت اور رحمت نہ ہوتی تو مخلوق پر فورا عذاب بھیج دیتا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا۔ اس امر کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و مرسلین کو عام طور پر اور نبی مصطفیٰ محمد ﷺ پر خاص طور پر وحی بھیجی، ان اوصاف سے اپنے آپ کو موصوف کرنے میں، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس قرآن کریم میں ایسے دلائل و براہین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال، اس کے ان اسمائے عظیم سے اپنے آپ کو موصوف کرنے پر دلالت کرتے ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ قلوب اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی تعظیم اور اس کے جلال و اکرام سے لبریز ہوں، اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبودیت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ہم سر بنانا، جن کے ہاتھ میں کوئی نفع و نقصان نہیں، سب سے بڑا ظلم اور قبیح ترین قول ہے۔ یہ خود ساختہ ہم سر و معبود تو محض مخلوق ہیں اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔
[6] بنا بریں اس کے بعد فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور جنھوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں۔‘‘ ان کی اس طرح عبادت اور اطاعت کرتے ہیں، جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معبود حقیقت میں والی اور مددگار نہیں ہیں۔ ان مشرکین نے محض باطل کو اختیار کر رکھا ہے۔ ﴿اللّٰهُ حَفِيۡؔظٌ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ ان پر نگران ہے۔‘‘ وہ ان کے اعمال کو (ان کے نامۂ اعمال) میں محفوظ کرتا ہے۔ سو وہ ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں۔‘‘ کہ آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے۔ آپ تو صرف پہنچا دینے والے ہیں اور آپ نے اپنا فرض پورا کر دیا۔
[7] پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ اور لوگوں پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے نازل کیا ہے﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ ’’عربی قرآن ۔‘‘ جو اپنے الفاظ و معانی میں واضح ہے۔ ﴿لِّتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى ﴾ ’’تاکہ آپ اہلِ مکہ کو ڈرائیں۔‘‘ اس سے مکہ مکرمہ ہی مراد ہے۔ ﴿وَمَنۡ حَوۡلَهَا ﴾ اور جو مکہ مکرمہ کے ارد گرد عرب بستیاں ہیں اور پھر یہ ڈرانا تمام مخلوق کو شامل ہوجاتا ہے۔ ﴿وَتُنۡذِرَ ﴾ تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں ﴿يَوۡمَ الۡجَمۡعِ ﴾ اس دن سےجس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو جمع کرے گا۔ اور انھیں آگاہ کیجیے کہ ﴿لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اس دن تمام مخلوق دو گروہوں میں تقسیم ہو گی۔ ﴿فَرِيۡقٌ فِي الۡجَنَّةِ ﴾ ’’ایک گروہ جنت میں ہوگا۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی ﴿وَفَرِيۡقٌ فِي السَّعِيۡرِ﴾ ’’اور ایک گروہ آگ میں ہوگا۔‘‘ یہ لوگ کفار اور اہل تکذیب کی تمام اصناف پر مشتمل ہیں۔
[8]﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ بایں ہمہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو بنا دیتا تمام لوگوں کو ﴿اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’ایک امت ‘‘ جو راہ ہدایت پر چلتی کیونکہ وہ قادر مطلق ہے، کسی چیز کو اس کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں مگر اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی مخلوق کے خاص بندوں میں سے جسے چاہے اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ رہے ظالم لوگ جن سے کوئی نیکی نہیں ہوتی تو وہ اس کی رحمت سے محروم رہیں گے۔ ﴿مَا لَهُمۡ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے۔‘‘ اللہ کے سوا ﴿ مِّنۡ وَّلِيٍّ ﴾’’کوئی کارساز۔‘‘ جو ان کی مدد کر سکے اور اس طرح ان کو اپنا محبوب و مرغوب مقصد حاصل ہو سکے۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار ہو گا۔‘‘، جو ان سے کسی تکلیف دہ امر کو دور کر سکے۔
[9]﴿اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’کیا ان لوگوں نے دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے؟‘‘ جو ان کی عبادت کے ذریعے سے ان کو اپنا مددگار بناتے ہیں، وہ قبیح ترین غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی والی و مددگار ہے، اس کا بندہ اس کی عبادت و اطاعت اور ہر ممکن وسیلۂ تقرب کے ذریعے سے اس کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ عمومی طور پر تمام بندوں کا اپنی تدبیر اور ان پر قدرت کے نفاذ کے ذریعے سے سرپرست ہے اور خاص طور پر اپنے مومن بندوں کی اس طرح سرپرستی فرماتا ہے کہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اپنے لطف و کرم سے ان کی تربیت کرتا اور تمام امور میں ان پر اپنی اعانت کا فیضان کرتا ہے۔ ﴿وَهُوَ يُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ١ٞ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہی مردے زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قارد ہے۔‘‘ یعنی زندگی و موت اور نفوذ مشیت و قدرت میں وہی تصرف کرتا ہے اور وہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
42:2حٰمٓ (1)عٓسٓقٓ(2) اسی طرح وحی کرتا ہے آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے (تھے) اللہ زبردست، خوب حکمت والا(3) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہ بلند ہے خوب عظمت والا(4) قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اپنے اوپر سے، اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور مغفرت مانگتے ہیں ان کے لیے جو زمین میں ہیں، خبردار! بلاشبہ اللہ، وہی ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(5) اور وہ لوگ جنھوں نے بنا لیے اس کے سوا (دوسرے) کارساز، اللہ نگہبان ہے ان پر اور نہیں ہیں آپ ان پر نگران(6) اور اسی طرح وحی کی ہم نے آپ کی طرف ایک قرآن عربی کی، تاکہ ڈرائیں آپ مکہ (والوں)کو اور ان کو جو ارد گرد ہیں اس کےاور ڈرائیں آپ جمع ہونے کے دن سے کہ نہیں ہے شک جس میں، ایک گروہ جنت میں ہو گا اور ایک گروہ بھڑکنے والی آگ میں(7) اور اگر چاہتا اللہ تو یقیناً کر دیتا ان (سب)کو امت ایک ہی اور لیکن داخل کرتا ہے وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں اور ظالم، نہیں ہے ان کے لیے کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(8) کیا بنا لیے انھوں نے اس کے سوا (دوسرے)کارساز؟ پس اللہ ہی ہے کارساز اور وہی زندہ کرے گا مردوں کو اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم، نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کیے۔ نیز یہ کہ محمد مصطفیﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں۔ آپ کا طریقہ وہی ہے جو پہلے انبیاء و مرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال، گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں، وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچ ہے۔ اور یہ کتابیں اسی ہستی کی طرف سے نازل کی گئی ہیں، جو الوہیت، غلبۂ عظیم اور حکمت بالغہ سے موصوف ہے، تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر قدری اور تدبیر شرعی کے تحت ہیں۔ ﴿الۡعَلِيُّ ﴾ وہ اپنی ذات، اپنی قدرت اور اپنے قہروغلبہ کے ساتھ بلند ہے ﴿ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’وہ عظمت والا ہے۔‘‘ جس کی عظمتِ شان سے ﴿تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِهِنَّ ﴾ ’’قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں۔‘‘ باوجود اپنی عظمت اور مضبوطی کے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ اور مکرم و مقرب فرشتے اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز اور اس کی ربوبیت کے سامنے مطیع اور فروتن ہیں۔ ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس کی تعظیم اور ہر نقص سے اس کی تنزیہ کرتے ہیں۔ اور ہر صفت کمال سے اسے متصف قرار دیتے ہیں۔ ﴿وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ لِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور جو زمین میں ہیں ان کے لیے وہ مغفرت طلب کرتے ہیں۔‘‘ ان سے جو ایسی باتیں صادر ہوتیں ہیں، جو ان کے رب کی عظمت اور کبریائی کے لائق نہیں، اس پر ان کے لیے بخشش مانگتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اللہ ہی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘ اگر اس کی مغفرت اور رحمت نہ ہوتی تو مخلوق پر فورا عذاب بھیج دیتا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا۔ اس امر کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و مرسلین کو عام طور پر اور نبی مصطفیٰ محمد ﷺ پر خاص طور پر وحی بھیجی، ان اوصاف سے اپنے آپ کو موصوف کرنے میں، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس قرآن کریم میں ایسے دلائل و براہین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال، اس کے ان اسمائے عظیم سے اپنے آپ کو موصوف کرنے پر دلالت کرتے ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ قلوب اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی تعظیم اور اس کے جلال و اکرام سے لبریز ہوں، اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبودیت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ہم سر بنانا، جن کے ہاتھ میں کوئی نفع و نقصان نہیں، سب سے بڑا ظلم اور قبیح ترین قول ہے۔ یہ خود ساختہ ہم سر و معبود تو محض مخلوق ہیں اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔
[6] بنا بریں اس کے بعد فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور جنھوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں۔‘‘ ان کی اس طرح عبادت اور اطاعت کرتے ہیں، جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معبود حقیقت میں والی اور مددگار نہیں ہیں۔ ان مشرکین نے محض باطل کو اختیار کر رکھا ہے۔ ﴿اللّٰهُ حَفِيۡؔظٌ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ ان پر نگران ہے۔‘‘ وہ ان کے اعمال کو (ان کے نامۂ اعمال) میں محفوظ کرتا ہے۔ سو وہ ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں۔‘‘ کہ آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے۔ آپ تو صرف پہنچا دینے والے ہیں اور آپ نے اپنا فرض پورا کر دیا۔
[7] پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ اور لوگوں پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے نازل کیا ہے﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ ’’عربی قرآن ۔‘‘ جو اپنے الفاظ و معانی میں واضح ہے۔ ﴿لِّتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى ﴾ ’’تاکہ آپ اہلِ مکہ کو ڈرائیں۔‘‘ اس سے مکہ مکرمہ ہی مراد ہے۔ ﴿وَمَنۡ حَوۡلَهَا ﴾ اور جو مکہ مکرمہ کے ارد گرد عرب بستیاں ہیں اور پھر یہ ڈرانا تمام مخلوق کو شامل ہوجاتا ہے۔ ﴿وَتُنۡذِرَ ﴾ تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں ﴿يَوۡمَ الۡجَمۡعِ ﴾ اس دن سےجس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو جمع کرے گا۔ اور انھیں آگاہ کیجیے کہ ﴿لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اس دن تمام مخلوق دو گروہوں میں تقسیم ہو گی۔ ﴿فَرِيۡقٌ فِي الۡجَنَّةِ ﴾ ’’ایک گروہ جنت میں ہوگا۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی ﴿وَفَرِيۡقٌ فِي السَّعِيۡرِ﴾ ’’اور ایک گروہ آگ میں ہوگا۔‘‘ یہ لوگ کفار اور اہل تکذیب کی تمام اصناف پر مشتمل ہیں۔
[8]﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ بایں ہمہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو بنا دیتا تمام لوگوں کو ﴿اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’ایک امت ‘‘ جو راہ ہدایت پر چلتی کیونکہ وہ قادر مطلق ہے، کسی چیز کو اس کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں مگر اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی مخلوق کے خاص بندوں میں سے جسے چاہے اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ رہے ظالم لوگ جن سے کوئی نیکی نہیں ہوتی تو وہ اس کی رحمت سے محروم رہیں گے۔ ﴿مَا لَهُمۡ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے۔‘‘ اللہ کے سوا ﴿ مِّنۡ وَّلِيٍّ ﴾’’کوئی کارساز۔‘‘ جو ان کی مدد کر سکے اور اس طرح ان کو اپنا محبوب و مرغوب مقصد حاصل ہو سکے۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار ہو گا۔‘‘، جو ان سے کسی تکلیف دہ امر کو دور کر سکے۔
[9]﴿اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’کیا ان لوگوں نے دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے؟‘‘ جو ان کی عبادت کے ذریعے سے ان کو اپنا مددگار بناتے ہیں، وہ قبیح ترین غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی والی و مددگار ہے، اس کا بندہ اس کی عبادت و اطاعت اور ہر ممکن وسیلۂ تقرب کے ذریعے سے اس کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ عمومی طور پر تمام بندوں کا اپنی تدبیر اور ان پر قدرت کے نفاذ کے ذریعے سے سرپرست ہے اور خاص طور پر اپنے مومن بندوں کی اس طرح سرپرستی فرماتا ہے کہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اپنے لطف و کرم سے ان کی تربیت کرتا اور تمام امور میں ان پر اپنی اعانت کا فیضان کرتا ہے۔ ﴿وَهُوَ يُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ١ٞ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہی مردے زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قارد ہے۔‘‘ یعنی زندگی و موت اور نفوذ مشیت و قدرت میں وہی تصرف کرتا ہے اور وہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
42:3كَذَٰلِكَ يُوحِيٓ إِلَيۡكَ وَإِلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكَ ٱللَّهُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
حٰمٓ (1)عٓسٓقٓ(2) اسی طرح وحی کرتا ہے آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے (تھے) اللہ زبردست، خوب حکمت والا(3) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہ بلند ہے خوب عظمت والا(4) قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اپنے اوپر سے، اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور مغفرت مانگتے ہیں ان کے لیے جو زمین میں ہیں، خبردار! بلاشبہ اللہ، وہی ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(5) اور وہ لوگ جنھوں نے بنا لیے اس کے سوا (دوسرے) کارساز، اللہ نگہبان ہے ان پر اور نہیں ہیں آپ ان پر نگران(6) اور اسی طرح وحی کی ہم نے آپ کی طرف ایک قرآن عربی کی، تاکہ ڈرائیں آپ مکہ (والوں)کو اور ان کو جو ارد گرد ہیں اس کےاور ڈرائیں آپ جمع ہونے کے دن سے کہ نہیں ہے شک جس میں، ایک گروہ جنت میں ہو گا اور ایک گروہ بھڑکنے والی آگ میں(7) اور اگر چاہتا اللہ تو یقیناً کر دیتا ان (سب)کو امت ایک ہی اور لیکن داخل کرتا ہے وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں اور ظالم، نہیں ہے ان کے لیے کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(8) کیا بنا لیے انھوں نے اس کے سوا (دوسرے)کارساز؟ پس اللہ ہی ہے کارساز اور وہی زندہ کرے گا مردوں کو اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم، نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کیے۔ نیز یہ کہ محمد مصطفیﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں۔ آپ کا طریقہ وہی ہے جو پہلے انبیاء و مرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال، گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں، وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچ ہے۔ اور یہ کتابیں اسی ہستی کی طرف سے نازل کی گئی ہیں، جو الوہیت، غلبۂ عظیم اور حکمت بالغہ سے موصوف ہے، تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر قدری اور تدبیر شرعی کے تحت ہیں۔ ﴿الۡعَلِيُّ ﴾ وہ اپنی ذات، اپنی قدرت اور اپنے قہروغلبہ کے ساتھ بلند ہے ﴿ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’وہ عظمت والا ہے۔‘‘ جس کی عظمتِ شان سے ﴿تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِهِنَّ ﴾ ’’قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں۔‘‘ باوجود اپنی عظمت اور مضبوطی کے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ اور مکرم و مقرب فرشتے اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز اور اس کی ربوبیت کے سامنے مطیع اور فروتن ہیں۔ ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس کی تعظیم اور ہر نقص سے اس کی تنزیہ کرتے ہیں۔ اور ہر صفت کمال سے اسے متصف قرار دیتے ہیں۔ ﴿وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ لِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور جو زمین میں ہیں ان کے لیے وہ مغفرت طلب کرتے ہیں۔‘‘ ان سے جو ایسی باتیں صادر ہوتیں ہیں، جو ان کے رب کی عظمت اور کبریائی کے لائق نہیں، اس پر ان کے لیے بخشش مانگتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اللہ ہی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘ اگر اس کی مغفرت اور رحمت نہ ہوتی تو مخلوق پر فورا عذاب بھیج دیتا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا۔ اس امر کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و مرسلین کو عام طور پر اور نبی مصطفیٰ محمد ﷺ پر خاص طور پر وحی بھیجی، ان اوصاف سے اپنے آپ کو موصوف کرنے میں، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس قرآن کریم میں ایسے دلائل و براہین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال، اس کے ان اسمائے عظیم سے اپنے آپ کو موصوف کرنے پر دلالت کرتے ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ قلوب اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی تعظیم اور اس کے جلال و اکرام سے لبریز ہوں، اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبودیت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ہم سر بنانا، جن کے ہاتھ میں کوئی نفع و نقصان نہیں، سب سے بڑا ظلم اور قبیح ترین قول ہے۔ یہ خود ساختہ ہم سر و معبود تو محض مخلوق ہیں اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔
[6] بنا بریں اس کے بعد فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور جنھوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں۔‘‘ ان کی اس طرح عبادت اور اطاعت کرتے ہیں، جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معبود حقیقت میں والی اور مددگار نہیں ہیں۔ ان مشرکین نے محض باطل کو اختیار کر رکھا ہے۔ ﴿اللّٰهُ حَفِيۡؔظٌ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ ان پر نگران ہے۔‘‘ وہ ان کے اعمال کو (ان کے نامۂ اعمال) میں محفوظ کرتا ہے۔ سو وہ ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں۔‘‘ کہ آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے۔ آپ تو صرف پہنچا دینے والے ہیں اور آپ نے اپنا فرض پورا کر دیا۔
[7] پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ اور لوگوں پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے نازل کیا ہے﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ ’’عربی قرآن ۔‘‘ جو اپنے الفاظ و معانی میں واضح ہے۔ ﴿لِّتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى ﴾ ’’تاکہ آپ اہلِ مکہ کو ڈرائیں۔‘‘ اس سے مکہ مکرمہ ہی مراد ہے۔ ﴿وَمَنۡ حَوۡلَهَا ﴾ اور جو مکہ مکرمہ کے ارد گرد عرب بستیاں ہیں اور پھر یہ ڈرانا تمام مخلوق کو شامل ہوجاتا ہے۔ ﴿وَتُنۡذِرَ ﴾ تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں ﴿يَوۡمَ الۡجَمۡعِ ﴾ اس دن سےجس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو جمع کرے گا۔ اور انھیں آگاہ کیجیے کہ ﴿لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اس دن تمام مخلوق دو گروہوں میں تقسیم ہو گی۔ ﴿فَرِيۡقٌ فِي الۡجَنَّةِ ﴾ ’’ایک گروہ جنت میں ہوگا۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی ﴿وَفَرِيۡقٌ فِي السَّعِيۡرِ﴾ ’’اور ایک گروہ آگ میں ہوگا۔‘‘ یہ لوگ کفار اور اہل تکذیب کی تمام اصناف پر مشتمل ہیں۔
[8]﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ بایں ہمہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو بنا دیتا تمام لوگوں کو ﴿اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’ایک امت ‘‘ جو راہ ہدایت پر چلتی کیونکہ وہ قادر مطلق ہے، کسی چیز کو اس کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں مگر اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی مخلوق کے خاص بندوں میں سے جسے چاہے اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ رہے ظالم لوگ جن سے کوئی نیکی نہیں ہوتی تو وہ اس کی رحمت سے محروم رہیں گے۔ ﴿مَا لَهُمۡ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے۔‘‘ اللہ کے سوا ﴿ مِّنۡ وَّلِيٍّ ﴾’’کوئی کارساز۔‘‘ جو ان کی مدد کر سکے اور اس طرح ان کو اپنا محبوب و مرغوب مقصد حاصل ہو سکے۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار ہو گا۔‘‘، جو ان سے کسی تکلیف دہ امر کو دور کر سکے۔
[9]﴿اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’کیا ان لوگوں نے دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے؟‘‘ جو ان کی عبادت کے ذریعے سے ان کو اپنا مددگار بناتے ہیں، وہ قبیح ترین غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی والی و مددگار ہے، اس کا بندہ اس کی عبادت و اطاعت اور ہر ممکن وسیلۂ تقرب کے ذریعے سے اس کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ عمومی طور پر تمام بندوں کا اپنی تدبیر اور ان پر قدرت کے نفاذ کے ذریعے سے سرپرست ہے اور خاص طور پر اپنے مومن بندوں کی اس طرح سرپرستی فرماتا ہے کہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اپنے لطف و کرم سے ان کی تربیت کرتا اور تمام امور میں ان پر اپنی اعانت کا فیضان کرتا ہے۔ ﴿وَهُوَ يُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ١ٞ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہی مردے زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قارد ہے۔‘‘ یعنی زندگی و موت اور نفوذ مشیت و قدرت میں وہی تصرف کرتا ہے اور وہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
42:4لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ
حٰمٓ (1)عٓسٓقٓ(2) اسی طرح وحی کرتا ہے آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے (تھے) اللہ زبردست، خوب حکمت والا(3) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہ بلند ہے خوب عظمت والا(4) قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اپنے اوپر سے، اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور مغفرت مانگتے ہیں ان کے لیے جو زمین میں ہیں، خبردار! بلاشبہ اللہ، وہی ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(5) اور وہ لوگ جنھوں نے بنا لیے اس کے سوا (دوسرے) کارساز، اللہ نگہبان ہے ان پر اور نہیں ہیں آپ ان پر نگران(6) اور اسی طرح وحی کی ہم نے آپ کی طرف ایک قرآن عربی کی، تاکہ ڈرائیں آپ مکہ (والوں)کو اور ان کو جو ارد گرد ہیں اس کےاور ڈرائیں آپ جمع ہونے کے دن سے کہ نہیں ہے شک جس میں، ایک گروہ جنت میں ہو گا اور ایک گروہ بھڑکنے والی آگ میں(7) اور اگر چاہتا اللہ تو یقیناً کر دیتا ان (سب)کو امت ایک ہی اور لیکن داخل کرتا ہے وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں اور ظالم، نہیں ہے ان کے لیے کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(8) کیا بنا لیے انھوں نے اس کے سوا (دوسرے)کارساز؟ پس اللہ ہی ہے کارساز اور وہی زندہ کرے گا مردوں کو اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم، نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کیے۔ نیز یہ کہ محمد مصطفیﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں۔ آپ کا طریقہ وہی ہے جو پہلے انبیاء و مرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال، گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں، وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچ ہے۔ اور یہ کتابیں اسی ہستی کی طرف سے نازل کی گئی ہیں، جو الوہیت، غلبۂ عظیم اور حکمت بالغہ سے موصوف ہے، تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر قدری اور تدبیر شرعی کے تحت ہیں۔ ﴿الۡعَلِيُّ ﴾ وہ اپنی ذات، اپنی قدرت اور اپنے قہروغلبہ کے ساتھ بلند ہے ﴿ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’وہ عظمت والا ہے۔‘‘ جس کی عظمتِ شان سے ﴿تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِهِنَّ ﴾ ’’قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں۔‘‘ باوجود اپنی عظمت اور مضبوطی کے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ اور مکرم و مقرب فرشتے اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز اور اس کی ربوبیت کے سامنے مطیع اور فروتن ہیں۔ ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس کی تعظیم اور ہر نقص سے اس کی تنزیہ کرتے ہیں۔ اور ہر صفت کمال سے اسے متصف قرار دیتے ہیں۔ ﴿وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ لِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور جو زمین میں ہیں ان کے لیے وہ مغفرت طلب کرتے ہیں۔‘‘ ان سے جو ایسی باتیں صادر ہوتیں ہیں، جو ان کے رب کی عظمت اور کبریائی کے لائق نہیں، اس پر ان کے لیے بخشش مانگتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اللہ ہی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘ اگر اس کی مغفرت اور رحمت نہ ہوتی تو مخلوق پر فورا عذاب بھیج دیتا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا۔ اس امر کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و مرسلین کو عام طور پر اور نبی مصطفیٰ محمد ﷺ پر خاص طور پر وحی بھیجی، ان اوصاف سے اپنے آپ کو موصوف کرنے میں، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس قرآن کریم میں ایسے دلائل و براہین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال، اس کے ان اسمائے عظیم سے اپنے آپ کو موصوف کرنے پر دلالت کرتے ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ قلوب اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی تعظیم اور اس کے جلال و اکرام سے لبریز ہوں، اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبودیت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ہم سر بنانا، جن کے ہاتھ میں کوئی نفع و نقصان نہیں، سب سے بڑا ظلم اور قبیح ترین قول ہے۔ یہ خود ساختہ ہم سر و معبود تو محض مخلوق ہیں اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔
[6] بنا بریں اس کے بعد فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور جنھوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں۔‘‘ ان کی اس طرح عبادت اور اطاعت کرتے ہیں، جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معبود حقیقت میں والی اور مددگار نہیں ہیں۔ ان مشرکین نے محض باطل کو اختیار کر رکھا ہے۔ ﴿اللّٰهُ حَفِيۡؔظٌ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ ان پر نگران ہے۔‘‘ وہ ان کے اعمال کو (ان کے نامۂ اعمال) میں محفوظ کرتا ہے۔ سو وہ ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں۔‘‘ کہ آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے۔ آپ تو صرف پہنچا دینے والے ہیں اور آپ نے اپنا فرض پورا کر دیا۔
[7] پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ اور لوگوں پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے نازل کیا ہے﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ ’’عربی قرآن ۔‘‘ جو اپنے الفاظ و معانی میں واضح ہے۔ ﴿لِّتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى ﴾ ’’تاکہ آپ اہلِ مکہ کو ڈرائیں۔‘‘ اس سے مکہ مکرمہ ہی مراد ہے۔ ﴿وَمَنۡ حَوۡلَهَا ﴾ اور جو مکہ مکرمہ کے ارد گرد عرب بستیاں ہیں اور پھر یہ ڈرانا تمام مخلوق کو شامل ہوجاتا ہے۔ ﴿وَتُنۡذِرَ ﴾ تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں ﴿يَوۡمَ الۡجَمۡعِ ﴾ اس دن سےجس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو جمع کرے گا۔ اور انھیں آگاہ کیجیے کہ ﴿لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اس دن تمام مخلوق دو گروہوں میں تقسیم ہو گی۔ ﴿فَرِيۡقٌ فِي الۡجَنَّةِ ﴾ ’’ایک گروہ جنت میں ہوگا۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی ﴿وَفَرِيۡقٌ فِي السَّعِيۡرِ﴾ ’’اور ایک گروہ آگ میں ہوگا۔‘‘ یہ لوگ کفار اور اہل تکذیب کی تمام اصناف پر مشتمل ہیں۔
[8]﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ بایں ہمہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو بنا دیتا تمام لوگوں کو ﴿اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’ایک امت ‘‘ جو راہ ہدایت پر چلتی کیونکہ وہ قادر مطلق ہے، کسی چیز کو اس کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں مگر اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی مخلوق کے خاص بندوں میں سے جسے چاہے اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ رہے ظالم لوگ جن سے کوئی نیکی نہیں ہوتی تو وہ اس کی رحمت سے محروم رہیں گے۔ ﴿مَا لَهُمۡ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے۔‘‘ اللہ کے سوا ﴿ مِّنۡ وَّلِيٍّ ﴾’’کوئی کارساز۔‘‘ جو ان کی مدد کر سکے اور اس طرح ان کو اپنا محبوب و مرغوب مقصد حاصل ہو سکے۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار ہو گا۔‘‘، جو ان سے کسی تکلیف دہ امر کو دور کر سکے۔
[9]﴿اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’کیا ان لوگوں نے دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے؟‘‘ جو ان کی عبادت کے ذریعے سے ان کو اپنا مددگار بناتے ہیں، وہ قبیح ترین غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی والی و مددگار ہے، اس کا بندہ اس کی عبادت و اطاعت اور ہر ممکن وسیلۂ تقرب کے ذریعے سے اس کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ عمومی طور پر تمام بندوں کا اپنی تدبیر اور ان پر قدرت کے نفاذ کے ذریعے سے سرپرست ہے اور خاص طور پر اپنے مومن بندوں کی اس طرح سرپرستی فرماتا ہے کہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اپنے لطف و کرم سے ان کی تربیت کرتا اور تمام امور میں ان پر اپنی اعانت کا فیضان کرتا ہے۔ ﴿وَهُوَ يُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ١ٞ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہی مردے زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قارد ہے۔‘‘ یعنی زندگی و موت اور نفوذ مشیت و قدرت میں وہی تصرف کرتا ہے اور وہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
42:5تَكَادُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِن فَوۡقِهِنَّۚ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَيَسۡتَغۡفِرُونَ لِمَن فِي ٱلۡأَرۡضِۗ أَلَآ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
حٰمٓ (1)عٓسٓقٓ(2) اسی طرح وحی کرتا ہے آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے (تھے) اللہ زبردست، خوب حکمت والا(3) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہ بلند ہے خوب عظمت والا(4) قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اپنے اوپر سے، اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور مغفرت مانگتے ہیں ان کے لیے جو زمین میں ہیں، خبردار! بلاشبہ اللہ، وہی ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(5) اور وہ لوگ جنھوں نے بنا لیے اس کے سوا (دوسرے) کارساز، اللہ نگہبان ہے ان پر اور نہیں ہیں آپ ان پر نگران(6) اور اسی طرح وحی کی ہم نے آپ کی طرف ایک قرآن عربی کی، تاکہ ڈرائیں آپ مکہ (والوں)کو اور ان کو جو ارد گرد ہیں اس کےاور ڈرائیں آپ جمع ہونے کے دن سے کہ نہیں ہے شک جس میں، ایک گروہ جنت میں ہو گا اور ایک گروہ بھڑکنے والی آگ میں(7) اور اگر چاہتا اللہ تو یقیناً کر دیتا ان (سب)کو امت ایک ہی اور لیکن داخل کرتا ہے وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں اور ظالم، نہیں ہے ان کے لیے کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(8) کیا بنا لیے انھوں نے اس کے سوا (دوسرے)کارساز؟ پس اللہ ہی ہے کارساز اور وہی زندہ کرے گا مردوں کو اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم، نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کیے۔ نیز یہ کہ محمد مصطفیﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں۔ آپ کا طریقہ وہی ہے جو پہلے انبیاء و مرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال، گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں، وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچ ہے۔ اور یہ کتابیں اسی ہستی کی طرف سے نازل کی گئی ہیں، جو الوہیت، غلبۂ عظیم اور حکمت بالغہ سے موصوف ہے، تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر قدری اور تدبیر شرعی کے تحت ہیں۔ ﴿الۡعَلِيُّ ﴾ وہ اپنی ذات، اپنی قدرت اور اپنے قہروغلبہ کے ساتھ بلند ہے ﴿ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’وہ عظمت والا ہے۔‘‘ جس کی عظمتِ شان سے ﴿تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِهِنَّ ﴾ ’’قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں۔‘‘ باوجود اپنی عظمت اور مضبوطی کے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ اور مکرم و مقرب فرشتے اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز اور اس کی ربوبیت کے سامنے مطیع اور فروتن ہیں۔ ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس کی تعظیم اور ہر نقص سے اس کی تنزیہ کرتے ہیں۔ اور ہر صفت کمال سے اسے متصف قرار دیتے ہیں۔ ﴿وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ لِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور جو زمین میں ہیں ان کے لیے وہ مغفرت طلب کرتے ہیں۔‘‘ ان سے جو ایسی باتیں صادر ہوتیں ہیں، جو ان کے رب کی عظمت اور کبریائی کے لائق نہیں، اس پر ان کے لیے بخشش مانگتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اللہ ہی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘ اگر اس کی مغفرت اور رحمت نہ ہوتی تو مخلوق پر فورا عذاب بھیج دیتا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا۔ اس امر کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و مرسلین کو عام طور پر اور نبی مصطفیٰ محمد ﷺ پر خاص طور پر وحی بھیجی، ان اوصاف سے اپنے آپ کو موصوف کرنے میں، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس قرآن کریم میں ایسے دلائل و براہین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال، اس کے ان اسمائے عظیم سے اپنے آپ کو موصوف کرنے پر دلالت کرتے ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ قلوب اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی تعظیم اور اس کے جلال و اکرام سے لبریز ہوں، اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبودیت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ہم سر بنانا، جن کے ہاتھ میں کوئی نفع و نقصان نہیں، سب سے بڑا ظلم اور قبیح ترین قول ہے۔ یہ خود ساختہ ہم سر و معبود تو محض مخلوق ہیں اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔
[6] بنا بریں اس کے بعد فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور جنھوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں۔‘‘ ان کی اس طرح عبادت اور اطاعت کرتے ہیں، جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معبود حقیقت میں والی اور مددگار نہیں ہیں۔ ان مشرکین نے محض باطل کو اختیار کر رکھا ہے۔ ﴿اللّٰهُ حَفِيۡؔظٌ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ ان پر نگران ہے۔‘‘ وہ ان کے اعمال کو (ان کے نامۂ اعمال) میں محفوظ کرتا ہے۔ سو وہ ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں۔‘‘ کہ آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے۔ آپ تو صرف پہنچا دینے والے ہیں اور آپ نے اپنا فرض پورا کر دیا۔
[7] پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ اور لوگوں پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے نازل کیا ہے﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ ’’عربی قرآن ۔‘‘ جو اپنے الفاظ و معانی میں واضح ہے۔ ﴿لِّتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى ﴾ ’’تاکہ آپ اہلِ مکہ کو ڈرائیں۔‘‘ اس سے مکہ مکرمہ ہی مراد ہے۔ ﴿وَمَنۡ حَوۡلَهَا ﴾ اور جو مکہ مکرمہ کے ارد گرد عرب بستیاں ہیں اور پھر یہ ڈرانا تمام مخلوق کو شامل ہوجاتا ہے۔ ﴿وَتُنۡذِرَ ﴾ تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں ﴿يَوۡمَ الۡجَمۡعِ ﴾ اس دن سےجس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو جمع کرے گا۔ اور انھیں آگاہ کیجیے کہ ﴿لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اس دن تمام مخلوق دو گروہوں میں تقسیم ہو گی۔ ﴿فَرِيۡقٌ فِي الۡجَنَّةِ ﴾ ’’ایک گروہ جنت میں ہوگا۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی ﴿وَفَرِيۡقٌ فِي السَّعِيۡرِ﴾ ’’اور ایک گروہ آگ میں ہوگا۔‘‘ یہ لوگ کفار اور اہل تکذیب کی تمام اصناف پر مشتمل ہیں۔
[8]﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ بایں ہمہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو بنا دیتا تمام لوگوں کو ﴿اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’ایک امت ‘‘ جو راہ ہدایت پر چلتی کیونکہ وہ قادر مطلق ہے، کسی چیز کو اس کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں مگر اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی مخلوق کے خاص بندوں میں سے جسے چاہے اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ رہے ظالم لوگ جن سے کوئی نیکی نہیں ہوتی تو وہ اس کی رحمت سے محروم رہیں گے۔ ﴿مَا لَهُمۡ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے۔‘‘ اللہ کے سوا ﴿ مِّنۡ وَّلِيٍّ ﴾’’کوئی کارساز۔‘‘ جو ان کی مدد کر سکے اور اس طرح ان کو اپنا محبوب و مرغوب مقصد حاصل ہو سکے۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار ہو گا۔‘‘، جو ان سے کسی تکلیف دہ امر کو دور کر سکے۔
[9]﴿اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’کیا ان لوگوں نے دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے؟‘‘ جو ان کی عبادت کے ذریعے سے ان کو اپنا مددگار بناتے ہیں، وہ قبیح ترین غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی والی و مددگار ہے، اس کا بندہ اس کی عبادت و اطاعت اور ہر ممکن وسیلۂ تقرب کے ذریعے سے اس کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ عمومی طور پر تمام بندوں کا اپنی تدبیر اور ان پر قدرت کے نفاذ کے ذریعے سے سرپرست ہے اور خاص طور پر اپنے مومن بندوں کی اس طرح سرپرستی فرماتا ہے کہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اپنے لطف و کرم سے ان کی تربیت کرتا اور تمام امور میں ان پر اپنی اعانت کا فیضان کرتا ہے۔ ﴿وَهُوَ يُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ١ٞ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہی مردے زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قارد ہے۔‘‘ یعنی زندگی و موت اور نفوذ مشیت و قدرت میں وہی تصرف کرتا ہے اور وہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
42:6وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ ٱللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيۡهِمۡ وَمَآ أَنتَ عَلَيۡهِم بِوَكِيلٖ
حٰمٓ (1)عٓسٓقٓ(2) اسی طرح وحی کرتا ہے آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے (تھے) اللہ زبردست، خوب حکمت والا(3) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہ بلند ہے خوب عظمت والا(4) قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اپنے اوپر سے، اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور مغفرت مانگتے ہیں ان کے لیے جو زمین میں ہیں، خبردار! بلاشبہ اللہ، وہی ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(5) اور وہ لوگ جنھوں نے بنا لیے اس کے سوا (دوسرے) کارساز، اللہ نگہبان ہے ان پر اور نہیں ہیں آپ ان پر نگران(6) اور اسی طرح وحی کی ہم نے آپ کی طرف ایک قرآن عربی کی، تاکہ ڈرائیں آپ مکہ (والوں)کو اور ان کو جو ارد گرد ہیں اس کےاور ڈرائیں آپ جمع ہونے کے دن سے کہ نہیں ہے شک جس میں، ایک گروہ جنت میں ہو گا اور ایک گروہ بھڑکنے والی آگ میں(7) اور اگر چاہتا اللہ تو یقیناً کر دیتا ان (سب)کو امت ایک ہی اور لیکن داخل کرتا ہے وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں اور ظالم، نہیں ہے ان کے لیے کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(8) کیا بنا لیے انھوں نے اس کے سوا (دوسرے)کارساز؟ پس اللہ ہی ہے کارساز اور وہی زندہ کرے گا مردوں کو اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم، نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کیے۔ نیز یہ کہ محمد مصطفیﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں۔ آپ کا طریقہ وہی ہے جو پہلے انبیاء و مرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال، گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں، وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچ ہے۔ اور یہ کتابیں اسی ہستی کی طرف سے نازل کی گئی ہیں، جو الوہیت، غلبۂ عظیم اور حکمت بالغہ سے موصوف ہے، تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر قدری اور تدبیر شرعی کے تحت ہیں۔ ﴿الۡعَلِيُّ ﴾ وہ اپنی ذات، اپنی قدرت اور اپنے قہروغلبہ کے ساتھ بلند ہے ﴿ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’وہ عظمت والا ہے۔‘‘ جس کی عظمتِ شان سے ﴿تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِهِنَّ ﴾ ’’قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں۔‘‘ باوجود اپنی عظمت اور مضبوطی کے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ اور مکرم و مقرب فرشتے اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز اور اس کی ربوبیت کے سامنے مطیع اور فروتن ہیں۔ ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس کی تعظیم اور ہر نقص سے اس کی تنزیہ کرتے ہیں۔ اور ہر صفت کمال سے اسے متصف قرار دیتے ہیں۔ ﴿وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ لِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور جو زمین میں ہیں ان کے لیے وہ مغفرت طلب کرتے ہیں۔‘‘ ان سے جو ایسی باتیں صادر ہوتیں ہیں، جو ان کے رب کی عظمت اور کبریائی کے لائق نہیں، اس پر ان کے لیے بخشش مانگتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اللہ ہی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘ اگر اس کی مغفرت اور رحمت نہ ہوتی تو مخلوق پر فورا عذاب بھیج دیتا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا۔ اس امر کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و مرسلین کو عام طور پر اور نبی مصطفیٰ محمد ﷺ پر خاص طور پر وحی بھیجی، ان اوصاف سے اپنے آپ کو موصوف کرنے میں، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس قرآن کریم میں ایسے دلائل و براہین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال، اس کے ان اسمائے عظیم سے اپنے آپ کو موصوف کرنے پر دلالت کرتے ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ قلوب اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی تعظیم اور اس کے جلال و اکرام سے لبریز ہوں، اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبودیت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ہم سر بنانا، جن کے ہاتھ میں کوئی نفع و نقصان نہیں، سب سے بڑا ظلم اور قبیح ترین قول ہے۔ یہ خود ساختہ ہم سر و معبود تو محض مخلوق ہیں اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔
[6] بنا بریں اس کے بعد فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور جنھوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں۔‘‘ ان کی اس طرح عبادت اور اطاعت کرتے ہیں، جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معبود حقیقت میں والی اور مددگار نہیں ہیں۔ ان مشرکین نے محض باطل کو اختیار کر رکھا ہے۔ ﴿اللّٰهُ حَفِيۡؔظٌ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ ان پر نگران ہے۔‘‘ وہ ان کے اعمال کو (ان کے نامۂ اعمال) میں محفوظ کرتا ہے۔ سو وہ ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں۔‘‘ کہ آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے۔ آپ تو صرف پہنچا دینے والے ہیں اور آپ نے اپنا فرض پورا کر دیا۔
[7] پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ اور لوگوں پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے نازل کیا ہے﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ ’’عربی قرآن ۔‘‘ جو اپنے الفاظ و معانی میں واضح ہے۔ ﴿لِّتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى ﴾ ’’تاکہ آپ اہلِ مکہ کو ڈرائیں۔‘‘ اس سے مکہ مکرمہ ہی مراد ہے۔ ﴿وَمَنۡ حَوۡلَهَا ﴾ اور جو مکہ مکرمہ کے ارد گرد عرب بستیاں ہیں اور پھر یہ ڈرانا تمام مخلوق کو شامل ہوجاتا ہے۔ ﴿وَتُنۡذِرَ ﴾ تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں ﴿يَوۡمَ الۡجَمۡعِ ﴾ اس دن سےجس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو جمع کرے گا۔ اور انھیں آگاہ کیجیے کہ ﴿لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اس دن تمام مخلوق دو گروہوں میں تقسیم ہو گی۔ ﴿فَرِيۡقٌ فِي الۡجَنَّةِ ﴾ ’’ایک گروہ جنت میں ہوگا۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی ﴿وَفَرِيۡقٌ فِي السَّعِيۡرِ﴾ ’’اور ایک گروہ آگ میں ہوگا۔‘‘ یہ لوگ کفار اور اہل تکذیب کی تمام اصناف پر مشتمل ہیں۔
[8]﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ بایں ہمہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو بنا دیتا تمام لوگوں کو ﴿اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’ایک امت ‘‘ جو راہ ہدایت پر چلتی کیونکہ وہ قادر مطلق ہے، کسی چیز کو اس کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں مگر اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی مخلوق کے خاص بندوں میں سے جسے چاہے اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ رہے ظالم لوگ جن سے کوئی نیکی نہیں ہوتی تو وہ اس کی رحمت سے محروم رہیں گے۔ ﴿مَا لَهُمۡ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے۔‘‘ اللہ کے سوا ﴿ مِّنۡ وَّلِيٍّ ﴾’’کوئی کارساز۔‘‘ جو ان کی مدد کر سکے اور اس طرح ان کو اپنا محبوب و مرغوب مقصد حاصل ہو سکے۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار ہو گا۔‘‘، جو ان سے کسی تکلیف دہ امر کو دور کر سکے۔
[9]﴿اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’کیا ان لوگوں نے دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے؟‘‘ جو ان کی عبادت کے ذریعے سے ان کو اپنا مددگار بناتے ہیں، وہ قبیح ترین غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی والی و مددگار ہے، اس کا بندہ اس کی عبادت و اطاعت اور ہر ممکن وسیلۂ تقرب کے ذریعے سے اس کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ عمومی طور پر تمام بندوں کا اپنی تدبیر اور ان پر قدرت کے نفاذ کے ذریعے سے سرپرست ہے اور خاص طور پر اپنے مومن بندوں کی اس طرح سرپرستی فرماتا ہے کہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اپنے لطف و کرم سے ان کی تربیت کرتا اور تمام امور میں ان پر اپنی اعانت کا فیضان کرتا ہے۔ ﴿وَهُوَ يُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ١ٞ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہی مردے زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قارد ہے۔‘‘ یعنی زندگی و موت اور نفوذ مشیت و قدرت میں وہی تصرف کرتا ہے اور وہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
42:7وَكَذَٰلِكَ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ قُرۡءَانًا عَرَبِيّٗا لِّتُنذِرَ أُمَّ ٱلۡقُرَىٰ وَمَنۡ حَوۡلَهَا وَتُنذِرَ يَوۡمَ ٱلۡجَمۡعِ لَا رَيۡبَ فِيهِۚ فَرِيقٞ فِي ٱلۡجَنَّةِ وَفَرِيقٞ فِي ٱلسَّعِيرِ
حٰمٓ (1)عٓسٓقٓ(2) اسی طرح وحی کرتا ہے آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے (تھے) اللہ زبردست، خوب حکمت والا(3) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہ بلند ہے خوب عظمت والا(4) قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اپنے اوپر سے، اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور مغفرت مانگتے ہیں ان کے لیے جو زمین میں ہیں، خبردار! بلاشبہ اللہ، وہی ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(5) اور وہ لوگ جنھوں نے بنا لیے اس کے سوا (دوسرے) کارساز، اللہ نگہبان ہے ان پر اور نہیں ہیں آپ ان پر نگران(6) اور اسی طرح وحی کی ہم نے آپ کی طرف ایک قرآن عربی کی، تاکہ ڈرائیں آپ مکہ (والوں)کو اور ان کو جو ارد گرد ہیں اس کےاور ڈرائیں آپ جمع ہونے کے دن سے کہ نہیں ہے شک جس میں، ایک گروہ جنت میں ہو گا اور ایک گروہ بھڑکنے والی آگ میں(7) اور اگر چاہتا اللہ تو یقیناً کر دیتا ان (سب)کو امت ایک ہی اور لیکن داخل کرتا ہے وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں اور ظالم، نہیں ہے ان کے لیے کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(8) کیا بنا لیے انھوں نے اس کے سوا (دوسرے)کارساز؟ پس اللہ ہی ہے کارساز اور وہی زندہ کرے گا مردوں کو اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم، نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کیے۔ نیز یہ کہ محمد مصطفیﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں۔ آپ کا طریقہ وہی ہے جو پہلے انبیاء و مرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال، گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں، وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچ ہے۔ اور یہ کتابیں اسی ہستی کی طرف سے نازل کی گئی ہیں، جو الوہیت، غلبۂ عظیم اور حکمت بالغہ سے موصوف ہے، تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر قدری اور تدبیر شرعی کے تحت ہیں۔ ﴿الۡعَلِيُّ ﴾ وہ اپنی ذات، اپنی قدرت اور اپنے قہروغلبہ کے ساتھ بلند ہے ﴿ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’وہ عظمت والا ہے۔‘‘ جس کی عظمتِ شان سے ﴿تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِهِنَّ ﴾ ’’قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں۔‘‘ باوجود اپنی عظمت اور مضبوطی کے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ اور مکرم و مقرب فرشتے اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز اور اس کی ربوبیت کے سامنے مطیع اور فروتن ہیں۔ ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس کی تعظیم اور ہر نقص سے اس کی تنزیہ کرتے ہیں۔ اور ہر صفت کمال سے اسے متصف قرار دیتے ہیں۔ ﴿وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ لِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور جو زمین میں ہیں ان کے لیے وہ مغفرت طلب کرتے ہیں۔‘‘ ان سے جو ایسی باتیں صادر ہوتیں ہیں، جو ان کے رب کی عظمت اور کبریائی کے لائق نہیں، اس پر ان کے لیے بخشش مانگتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اللہ ہی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘ اگر اس کی مغفرت اور رحمت نہ ہوتی تو مخلوق پر فورا عذاب بھیج دیتا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا۔ اس امر کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و مرسلین کو عام طور پر اور نبی مصطفیٰ محمد ﷺ پر خاص طور پر وحی بھیجی، ان اوصاف سے اپنے آپ کو موصوف کرنے میں، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس قرآن کریم میں ایسے دلائل و براہین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال، اس کے ان اسمائے عظیم سے اپنے آپ کو موصوف کرنے پر دلالت کرتے ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ قلوب اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی تعظیم اور اس کے جلال و اکرام سے لبریز ہوں، اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبودیت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ہم سر بنانا، جن کے ہاتھ میں کوئی نفع و نقصان نہیں، سب سے بڑا ظلم اور قبیح ترین قول ہے۔ یہ خود ساختہ ہم سر و معبود تو محض مخلوق ہیں اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔
[6] بنا بریں اس کے بعد فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور جنھوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں۔‘‘ ان کی اس طرح عبادت اور اطاعت کرتے ہیں، جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معبود حقیقت میں والی اور مددگار نہیں ہیں۔ ان مشرکین نے محض باطل کو اختیار کر رکھا ہے۔ ﴿اللّٰهُ حَفِيۡؔظٌ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ ان پر نگران ہے۔‘‘ وہ ان کے اعمال کو (ان کے نامۂ اعمال) میں محفوظ کرتا ہے۔ سو وہ ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں۔‘‘ کہ آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے۔ آپ تو صرف پہنچا دینے والے ہیں اور آپ نے اپنا فرض پورا کر دیا۔
[7] پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ اور لوگوں پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے نازل کیا ہے﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ ’’عربی قرآن ۔‘‘ جو اپنے الفاظ و معانی میں واضح ہے۔ ﴿لِّتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى ﴾ ’’تاکہ آپ اہلِ مکہ کو ڈرائیں۔‘‘ اس سے مکہ مکرمہ ہی مراد ہے۔ ﴿وَمَنۡ حَوۡلَهَا ﴾ اور جو مکہ مکرمہ کے ارد گرد عرب بستیاں ہیں اور پھر یہ ڈرانا تمام مخلوق کو شامل ہوجاتا ہے۔ ﴿وَتُنۡذِرَ ﴾ تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں ﴿يَوۡمَ الۡجَمۡعِ ﴾ اس دن سےجس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو جمع کرے گا۔ اور انھیں آگاہ کیجیے کہ ﴿لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اس دن تمام مخلوق دو گروہوں میں تقسیم ہو گی۔ ﴿فَرِيۡقٌ فِي الۡجَنَّةِ ﴾ ’’ایک گروہ جنت میں ہوگا۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی ﴿وَفَرِيۡقٌ فِي السَّعِيۡرِ﴾ ’’اور ایک گروہ آگ میں ہوگا۔‘‘ یہ لوگ کفار اور اہل تکذیب کی تمام اصناف پر مشتمل ہیں۔
[8]﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ بایں ہمہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو بنا دیتا تمام لوگوں کو ﴿اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’ایک امت ‘‘ جو راہ ہدایت پر چلتی کیونکہ وہ قادر مطلق ہے، کسی چیز کو اس کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں مگر اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی مخلوق کے خاص بندوں میں سے جسے چاہے اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ رہے ظالم لوگ جن سے کوئی نیکی نہیں ہوتی تو وہ اس کی رحمت سے محروم رہیں گے۔ ﴿مَا لَهُمۡ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے۔‘‘ اللہ کے سوا ﴿ مِّنۡ وَّلِيٍّ ﴾’’کوئی کارساز۔‘‘ جو ان کی مدد کر سکے اور اس طرح ان کو اپنا محبوب و مرغوب مقصد حاصل ہو سکے۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار ہو گا۔‘‘، جو ان سے کسی تکلیف دہ امر کو دور کر سکے۔
[9]﴿اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’کیا ان لوگوں نے دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے؟‘‘ جو ان کی عبادت کے ذریعے سے ان کو اپنا مددگار بناتے ہیں، وہ قبیح ترین غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی والی و مددگار ہے، اس کا بندہ اس کی عبادت و اطاعت اور ہر ممکن وسیلۂ تقرب کے ذریعے سے اس کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ عمومی طور پر تمام بندوں کا اپنی تدبیر اور ان پر قدرت کے نفاذ کے ذریعے سے سرپرست ہے اور خاص طور پر اپنے مومن بندوں کی اس طرح سرپرستی فرماتا ہے کہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اپنے لطف و کرم سے ان کی تربیت کرتا اور تمام امور میں ان پر اپنی اعانت کا فیضان کرتا ہے۔ ﴿وَهُوَ يُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ١ٞ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہی مردے زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قارد ہے۔‘‘ یعنی زندگی و موت اور نفوذ مشیت و قدرت میں وہی تصرف کرتا ہے اور وہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
42:8وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَهُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَلَٰكِن يُدۡخِلُ مَن يَشَآءُ فِي رَحۡمَتِهِۦۚ وَٱلظَّـٰلِمُونَ مَا لَهُم مِّن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٍ
حٰمٓ (1)عٓسٓقٓ(2) اسی طرح وحی کرتا ہے آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے (تھے) اللہ زبردست، خوب حکمت والا(3) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہ بلند ہے خوب عظمت والا(4) قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اپنے اوپر سے، اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور مغفرت مانگتے ہیں ان کے لیے جو زمین میں ہیں، خبردار! بلاشبہ اللہ، وہی ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(5) اور وہ لوگ جنھوں نے بنا لیے اس کے سوا (دوسرے) کارساز، اللہ نگہبان ہے ان پر اور نہیں ہیں آپ ان پر نگران(6) اور اسی طرح وحی کی ہم نے آپ کی طرف ایک قرآن عربی کی، تاکہ ڈرائیں آپ مکہ (والوں)کو اور ان کو جو ارد گرد ہیں اس کےاور ڈرائیں آپ جمع ہونے کے دن سے کہ نہیں ہے شک جس میں، ایک گروہ جنت میں ہو گا اور ایک گروہ بھڑکنے والی آگ میں(7) اور اگر چاہتا اللہ تو یقیناً کر دیتا ان (سب)کو امت ایک ہی اور لیکن داخل کرتا ہے وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں اور ظالم، نہیں ہے ان کے لیے کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(8) کیا بنا لیے انھوں نے اس کے سوا (دوسرے)کارساز؟ پس اللہ ہی ہے کارساز اور وہی زندہ کرے گا مردوں کو اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم، نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کیے۔ نیز یہ کہ محمد مصطفیﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں۔ آپ کا طریقہ وہی ہے جو پہلے انبیاء و مرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال، گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں، وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچ ہے۔ اور یہ کتابیں اسی ہستی کی طرف سے نازل کی گئی ہیں، جو الوہیت، غلبۂ عظیم اور حکمت بالغہ سے موصوف ہے، تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر قدری اور تدبیر شرعی کے تحت ہیں۔ ﴿الۡعَلِيُّ ﴾ وہ اپنی ذات، اپنی قدرت اور اپنے قہروغلبہ کے ساتھ بلند ہے ﴿ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’وہ عظمت والا ہے۔‘‘ جس کی عظمتِ شان سے ﴿تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِهِنَّ ﴾ ’’قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں۔‘‘ باوجود اپنی عظمت اور مضبوطی کے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ اور مکرم و مقرب فرشتے اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز اور اس کی ربوبیت کے سامنے مطیع اور فروتن ہیں۔ ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس کی تعظیم اور ہر نقص سے اس کی تنزیہ کرتے ہیں۔ اور ہر صفت کمال سے اسے متصف قرار دیتے ہیں۔ ﴿وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ لِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور جو زمین میں ہیں ان کے لیے وہ مغفرت طلب کرتے ہیں۔‘‘ ان سے جو ایسی باتیں صادر ہوتیں ہیں، جو ان کے رب کی عظمت اور کبریائی کے لائق نہیں، اس پر ان کے لیے بخشش مانگتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اللہ ہی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘ اگر اس کی مغفرت اور رحمت نہ ہوتی تو مخلوق پر فورا عذاب بھیج دیتا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا۔ اس امر کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و مرسلین کو عام طور پر اور نبی مصطفیٰ محمد ﷺ پر خاص طور پر وحی بھیجی، ان اوصاف سے اپنے آپ کو موصوف کرنے میں، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس قرآن کریم میں ایسے دلائل و براہین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال، اس کے ان اسمائے عظیم سے اپنے آپ کو موصوف کرنے پر دلالت کرتے ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ قلوب اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی تعظیم اور اس کے جلال و اکرام سے لبریز ہوں، اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبودیت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ہم سر بنانا، جن کے ہاتھ میں کوئی نفع و نقصان نہیں، سب سے بڑا ظلم اور قبیح ترین قول ہے۔ یہ خود ساختہ ہم سر و معبود تو محض مخلوق ہیں اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔
[6] بنا بریں اس کے بعد فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور جنھوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں۔‘‘ ان کی اس طرح عبادت اور اطاعت کرتے ہیں، جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معبود حقیقت میں والی اور مددگار نہیں ہیں۔ ان مشرکین نے محض باطل کو اختیار کر رکھا ہے۔ ﴿اللّٰهُ حَفِيۡؔظٌ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ ان پر نگران ہے۔‘‘ وہ ان کے اعمال کو (ان کے نامۂ اعمال) میں محفوظ کرتا ہے۔ سو وہ ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں۔‘‘ کہ آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے۔ آپ تو صرف پہنچا دینے والے ہیں اور آپ نے اپنا فرض پورا کر دیا۔
[7] پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ اور لوگوں پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے نازل کیا ہے﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ ’’عربی قرآن ۔‘‘ جو اپنے الفاظ و معانی میں واضح ہے۔ ﴿لِّتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى ﴾ ’’تاکہ آپ اہلِ مکہ کو ڈرائیں۔‘‘ اس سے مکہ مکرمہ ہی مراد ہے۔ ﴿وَمَنۡ حَوۡلَهَا ﴾ اور جو مکہ مکرمہ کے ارد گرد عرب بستیاں ہیں اور پھر یہ ڈرانا تمام مخلوق کو شامل ہوجاتا ہے۔ ﴿وَتُنۡذِرَ ﴾ تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں ﴿يَوۡمَ الۡجَمۡعِ ﴾ اس دن سےجس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو جمع کرے گا۔ اور انھیں آگاہ کیجیے کہ ﴿لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اس دن تمام مخلوق دو گروہوں میں تقسیم ہو گی۔ ﴿فَرِيۡقٌ فِي الۡجَنَّةِ ﴾ ’’ایک گروہ جنت میں ہوگا۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی ﴿وَفَرِيۡقٌ فِي السَّعِيۡرِ﴾ ’’اور ایک گروہ آگ میں ہوگا۔‘‘ یہ لوگ کفار اور اہل تکذیب کی تمام اصناف پر مشتمل ہیں۔
[8]﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ بایں ہمہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو بنا دیتا تمام لوگوں کو ﴿اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’ایک امت ‘‘ جو راہ ہدایت پر چلتی کیونکہ وہ قادر مطلق ہے، کسی چیز کو اس کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں مگر اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی مخلوق کے خاص بندوں میں سے جسے چاہے اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ رہے ظالم لوگ جن سے کوئی نیکی نہیں ہوتی تو وہ اس کی رحمت سے محروم رہیں گے۔ ﴿مَا لَهُمۡ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے۔‘‘ اللہ کے سوا ﴿ مِّنۡ وَّلِيٍّ ﴾’’کوئی کارساز۔‘‘ جو ان کی مدد کر سکے اور اس طرح ان کو اپنا محبوب و مرغوب مقصد حاصل ہو سکے۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار ہو گا۔‘‘، جو ان سے کسی تکلیف دہ امر کو دور کر سکے۔
[9]﴿اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’کیا ان لوگوں نے دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے؟‘‘ جو ان کی عبادت کے ذریعے سے ان کو اپنا مددگار بناتے ہیں، وہ قبیح ترین غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی والی و مددگار ہے، اس کا بندہ اس کی عبادت و اطاعت اور ہر ممکن وسیلۂ تقرب کے ذریعے سے اس کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ عمومی طور پر تمام بندوں کا اپنی تدبیر اور ان پر قدرت کے نفاذ کے ذریعے سے سرپرست ہے اور خاص طور پر اپنے مومن بندوں کی اس طرح سرپرستی فرماتا ہے کہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اپنے لطف و کرم سے ان کی تربیت کرتا اور تمام امور میں ان پر اپنی اعانت کا فیضان کرتا ہے۔ ﴿وَهُوَ يُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ١ٞ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہی مردے زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قارد ہے۔‘‘ یعنی زندگی و موت اور نفوذ مشیت و قدرت میں وہی تصرف کرتا ہے اور وہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
42:9أَمِ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَۖ فَٱللَّهُ هُوَ ٱلۡوَلِيُّ وَهُوَ يُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
حٰمٓ (1)عٓسٓقٓ(2) اسی طرح وحی کرتا ہے آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے (تھے) اللہ زبردست، خوب حکمت والا(3) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہ بلند ہے خوب عظمت والا(4) قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اپنے اوپر سے، اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور مغفرت مانگتے ہیں ان کے لیے جو زمین میں ہیں، خبردار! بلاشبہ اللہ، وہی ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(5) اور وہ لوگ جنھوں نے بنا لیے اس کے سوا (دوسرے) کارساز، اللہ نگہبان ہے ان پر اور نہیں ہیں آپ ان پر نگران(6) اور اسی طرح وحی کی ہم نے آپ کی طرف ایک قرآن عربی کی، تاکہ ڈرائیں آپ مکہ (والوں)کو اور ان کو جو ارد گرد ہیں اس کےاور ڈرائیں آپ جمع ہونے کے دن سے کہ نہیں ہے شک جس میں، ایک گروہ جنت میں ہو گا اور ایک گروہ بھڑکنے والی آگ میں(7) اور اگر چاہتا اللہ تو یقیناً کر دیتا ان (سب)کو امت ایک ہی اور لیکن داخل کرتا ہے وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں اور ظالم، نہیں ہے ان کے لیے کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(8) کیا بنا لیے انھوں نے اس کے سوا (دوسرے)کارساز؟ پس اللہ ہی ہے کارساز اور وہی زندہ کرے گا مردوں کو اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم، نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کیے۔ نیز یہ کہ محمد مصطفیﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں۔ آپ کا طریقہ وہی ہے جو پہلے انبیاء و مرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال، گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں، وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچ ہے۔ اور یہ کتابیں اسی ہستی کی طرف سے نازل کی گئی ہیں، جو الوہیت، غلبۂ عظیم اور حکمت بالغہ سے موصوف ہے، تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر قدری اور تدبیر شرعی کے تحت ہیں۔ ﴿الۡعَلِيُّ ﴾ وہ اپنی ذات، اپنی قدرت اور اپنے قہروغلبہ کے ساتھ بلند ہے ﴿ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’وہ عظمت والا ہے۔‘‘ جس کی عظمتِ شان سے ﴿تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِهِنَّ ﴾ ’’قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں۔‘‘ باوجود اپنی عظمت اور مضبوطی کے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ اور مکرم و مقرب فرشتے اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز اور اس کی ربوبیت کے سامنے مطیع اور فروتن ہیں۔ ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس کی تعظیم اور ہر نقص سے اس کی تنزیہ کرتے ہیں۔ اور ہر صفت کمال سے اسے متصف قرار دیتے ہیں۔ ﴿وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ لِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور جو زمین میں ہیں ان کے لیے وہ مغفرت طلب کرتے ہیں۔‘‘ ان سے جو ایسی باتیں صادر ہوتیں ہیں، جو ان کے رب کی عظمت اور کبریائی کے لائق نہیں، اس پر ان کے لیے بخشش مانگتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اللہ ہی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘ اگر اس کی مغفرت اور رحمت نہ ہوتی تو مخلوق پر فورا عذاب بھیج دیتا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا۔ اس امر کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و مرسلین کو عام طور پر اور نبی مصطفیٰ محمد ﷺ پر خاص طور پر وحی بھیجی، ان اوصاف سے اپنے آپ کو موصوف کرنے میں، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس قرآن کریم میں ایسے دلائل و براہین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال، اس کے ان اسمائے عظیم سے اپنے آپ کو موصوف کرنے پر دلالت کرتے ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ قلوب اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی تعظیم اور اس کے جلال و اکرام سے لبریز ہوں، اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبودیت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ہم سر بنانا، جن کے ہاتھ میں کوئی نفع و نقصان نہیں، سب سے بڑا ظلم اور قبیح ترین قول ہے۔ یہ خود ساختہ ہم سر و معبود تو محض مخلوق ہیں اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔
[6] بنا بریں اس کے بعد فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور جنھوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں۔‘‘ ان کی اس طرح عبادت اور اطاعت کرتے ہیں، جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معبود حقیقت میں والی اور مددگار نہیں ہیں۔ ان مشرکین نے محض باطل کو اختیار کر رکھا ہے۔ ﴿اللّٰهُ حَفِيۡؔظٌ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ ان پر نگران ہے۔‘‘ وہ ان کے اعمال کو (ان کے نامۂ اعمال) میں محفوظ کرتا ہے۔ سو وہ ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں۔‘‘ کہ آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے۔ آپ تو صرف پہنچا دینے والے ہیں اور آپ نے اپنا فرض پورا کر دیا۔
[7] پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ اور لوگوں پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے نازل کیا ہے﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ ’’عربی قرآن ۔‘‘ جو اپنے الفاظ و معانی میں واضح ہے۔ ﴿لِّتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى ﴾ ’’تاکہ آپ اہلِ مکہ کو ڈرائیں۔‘‘ اس سے مکہ مکرمہ ہی مراد ہے۔ ﴿وَمَنۡ حَوۡلَهَا ﴾ اور جو مکہ مکرمہ کے ارد گرد عرب بستیاں ہیں اور پھر یہ ڈرانا تمام مخلوق کو شامل ہوجاتا ہے۔ ﴿وَتُنۡذِرَ ﴾ تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں ﴿يَوۡمَ الۡجَمۡعِ ﴾ اس دن سےجس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو جمع کرے گا۔ اور انھیں آگاہ کیجیے کہ ﴿لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اس دن تمام مخلوق دو گروہوں میں تقسیم ہو گی۔ ﴿فَرِيۡقٌ فِي الۡجَنَّةِ ﴾ ’’ایک گروہ جنت میں ہوگا۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی ﴿وَفَرِيۡقٌ فِي السَّعِيۡرِ﴾ ’’اور ایک گروہ آگ میں ہوگا۔‘‘ یہ لوگ کفار اور اہل تکذیب کی تمام اصناف پر مشتمل ہیں۔
[8]﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ بایں ہمہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو بنا دیتا تمام لوگوں کو ﴿اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’ایک امت ‘‘ جو راہ ہدایت پر چلتی کیونکہ وہ قادر مطلق ہے، کسی چیز کو اس کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں مگر اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی مخلوق کے خاص بندوں میں سے جسے چاہے اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ رہے ظالم لوگ جن سے کوئی نیکی نہیں ہوتی تو وہ اس کی رحمت سے محروم رہیں گے۔ ﴿مَا لَهُمۡ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے۔‘‘ اللہ کے سوا ﴿ مِّنۡ وَّلِيٍّ ﴾’’کوئی کارساز۔‘‘ جو ان کی مدد کر سکے اور اس طرح ان کو اپنا محبوب و مرغوب مقصد حاصل ہو سکے۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار ہو گا۔‘‘، جو ان سے کسی تکلیف دہ امر کو دور کر سکے۔
[9]﴿اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’کیا ان لوگوں نے دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے؟‘‘ جو ان کی عبادت کے ذریعے سے ان کو اپنا مددگار بناتے ہیں، وہ قبیح ترین غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی والی و مددگار ہے، اس کا بندہ اس کی عبادت و اطاعت اور ہر ممکن وسیلۂ تقرب کے ذریعے سے اس کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ عمومی طور پر تمام بندوں کا اپنی تدبیر اور ان پر قدرت کے نفاذ کے ذریعے سے سرپرست ہے اور خاص طور پر اپنے مومن بندوں کی اس طرح سرپرستی فرماتا ہے کہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اپنے لطف و کرم سے ان کی تربیت کرتا اور تمام امور میں ان پر اپنی اعانت کا فیضان کرتا ہے۔ ﴿وَهُوَ يُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ١ٞ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہی مردے زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قارد ہے۔‘‘ یعنی زندگی و موت اور نفوذ مشیت و قدرت میں وہی تصرف کرتا ہے اور وہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
42:10وَمَا ٱخۡتَلَفۡتُمۡ فِيهِ مِن شَيۡءٖ فَحُكۡمُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبِّي عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَإِلَيۡهِ أُنِيبُ
اور جو کچھ کہ اختلاف کیا تم نے اس میں کسی چیز سے تو فیصلہ اس کا اللہ کی طرف ہے، یہی اللہ میرا رب ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں (10)(وہ) پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا، بنائے اس نے تمھارے لیے تمھارے ہی نفسوں سے جوڑے اور چوپاؤ ں سے بھی (ان کے) جوڑے، پھیلاتا ہے وہ تم کو اس میں، نہیں ہے اس کی مثل کوئی چیز اور وہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے (11) اسی کے لیے ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین کی وہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور وہی تنگ کرتا ہے، بلاشبہ وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (12)
[10]﴿وَمَا اخۡتَلَفۡتُمۡ فِيۡهِ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور جن باتوں میں تم آپس میں اختلاف رکھتے ہو۔‘‘ یعنی اپنے دین کے اصول و فروع میں اگر تم ایک دوسرے سے متفق نہ ہو۔ ﴿فَحُكۡمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ تو اسے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی طرف لوٹایا جائے وہ دونوں جو فیصلہ کریں، وہی حق ہے اور جو ان دونوں کے خلاف ہو، وہ باطل ہے۔ ﴿ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّيۡ ﴾ ’’یہی اللہ میرا رب ہے۔‘‘ جس طرح اللہ تعالیٰ کائنات کا رب، خالق، رازق اور مدبر ہے، اسی طرح وہ اپنے بندوں کے درمیان ان کے تمام امور میں اپنی شریعت کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ کسی امر پر اتفاقِ امت حجتِ قطعی ہے کیونکہ جن امور میں ہمارے درمیان اختلاف نہ ہو اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ تب معلوم ہوا کہ جس چیز پر ہم اتفاق کریں تو امت کا اتفاق، اس کے حق ہونے کی دلیل کے لیے کافی ہے کیونکہ امت مجموعی طور پر معصوم عن الخطا ہے۔ اس لیے یہ لازمی امر ہے کہ کسی مسئلہ پر امت کا اتفاق، کتاب و سنت کے موافق ہو۔ ﴿عَلَيۡهِ تَوَؔكَّلۡتُ ﴾ ’’میں نے اسی پر بھروسا کیا۔‘‘ جلب منفعت، دفع مضرت اور اپنی حاجت کے پورا ہونے کے بارے میں پورے وثوق کے ساتھ اسی پر اعتماد کرتا ہوں ﴿وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾ اور میں اپنے دل و جان سے اس کی طرف اور اس کی عبادت و اطاعت کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔یہ دو ایسے اصول ہیں جن کا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب عظیم میں نہایت کثرت سے ذکر فرماتا ہے، کیونکہ ان دونوں کے جمع ہونے سے بندۂ مومن کو کمال حاصل ہوتا ہے۔ اور ان دونوں کے نہ ہونے یا ان میں سے کسی ایک سے محروم ہونے سے بندۂ مومن کمال سے محروم ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحۃ:1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد کے طلب گار ہیں‘‘ اور فرمایا: ﴿فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ ﴾(ہود:11؍123) ’’اس کی عبادت کیجیے اور اس پر بھروسہ کیجیے۔‘‘
[11]﴿فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت، مشیت اور حکمت سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ ﴿جَعَلَ لَكُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ اَزۡوَاجًا ﴾ ’’اسی نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے جوڑے بنائے۔‘‘ تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کر سکو، تمھاری نسل بڑھ سکے اور تمھیں فائدہ حاصل ہو ﴿وَّمِنَ الۡاَنۡعَامِ اَزۡوَاجًا ﴾ ’’اور چوپایوں کے جوڑے بنائے۔‘‘ تمام اصناف سے نر اور مادہ دونوں اقسام بنائیں تاکہ ان کی نسل باقی رہ کر بڑھتی رہے اور تمھاری بہت سی ضرورتیں پوری ہوں۔ اس لیے اس کو ’’لام‘‘ کے ذریعے سے متعدی بنایا ہے، جو تعلیل پر دلالت کرتا ہے، یعنی اس نے یہ جوڑے تمھارے لیے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کے لیے بنائے ہیں ، اس لیے فرمایا:﴿يَذۡرَؤُكُمۡ فِيۡهِ ﴾ یعنی وہ تمھیں پھیلاتا اور بڑھاتا ہے اور تمھارے مویشیوں کو بھی بڑھاتا ہے، اس طریقے سے کہ اس نے تمھارے لیے تم میں سے تمھارے جوڑے بنائے اور تمھارے لیے تمھارے مویشیوں کے جوڑے بنائے۔ ﴿لَيۡسَ كَمِثۡلِهٖ شَيۡءٌ ﴾ ’’ کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں۔‘‘ یعنی اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس کی ذات میں، اس کے اسماء میں، اس کی صفات میں اور اس کے افعال میں مشابہت رکھتی ہے نہ مماثلت کیونکہ اس کے تمام اسماء، اسمائے حسنیٰ ہیں اور اس کی تمام صفات، صفات کمال و عظمت ہیں۔ اس نے اپنے افعال کے ذریعے سے اتنی بڑی کائنات کو بغیر کسی مددگار کے وجود بخشا۔ پس اس جیسی کوئی چیز نہیں کیونکہ وہ ہر لحاظ سے اپنے کمال میں واحد اور متفرد ہے۔ ﴿وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ ’’اور وہ خوب سننے والا ہے۔‘‘ یعنی مخلوقات کی مختلف زبانوں اور متنوع حاجات کے باوجود وہ سب کی آوازیں سنتا ہے ﴿الۡبَصِيۡرُ ﴾ ’’خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ سیاہ رات میں، ٹھوس پتھر پر سیاہ چیونٹی کے رینگنے کو بھی دیکھتا ہے۔ وہ چھوٹے سے چھوٹے حیوان کے جسم میں سرایت کرتی ہوئی خوراک اور درخت کی باریک سے باریک ٹہنی میں سرایت کرتے ہوئے پانی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ آیت کریمہ، صفات کے اثبات اور مخلوقات سے مماثلت کی نفی کے بارے میں اہل سنت و الجماعت کے مذاہب پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿لَيۡسَ كَمِثۡلِهٖ شَيۡءٌ ﴾ میں مشبہہ ’’اہل تشبیہ‘‘ کا رد ہے اور ﴿وَهُوَ السَّمِيۡعُ الۡبَصِيۡرُ ﴾ میں معطلہ ’’صفاتِ الٰہی کا انکار کرنے والوں‘‘ کا رد ہے۔
[12]﴿لَهٗ مَقَالِيۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اس کے پاس آسمانوں اور زمین کی چابیاں ہیں۔‘‘ آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا وہی مالک ہے اور اسی کے ہاتھ میں رحمت و رزق اور ظاہری و باطنی نعمتوں کی کنجیاں ہیں۔ تمام مخلوق ہر حال میں جلب مصالح اور دفع ضرر کے لیے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے۔ کسی کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں، اللہ تعالیٰ ہی عطا کرتا ہے اور محروم کرتا ہے۔ اسی کے ہاتھ میں نفع و نقصان ہے، بندوں کے پاس جو بھی نعمت ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہے اور اس کے سوا کوئی ہستی شر کو دور نہیں کر سکتی۔ فرمایا:﴿مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا١ۚ وَمَا يُمۡسِكۡ١ۙ فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾(فاطر:35؍2) ’’اللہ لوگوں پر جس رحمت کا دروازہ کھول دے، اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے، اس کے بعد اسے کوئی بھیجنے (کھولنے) والا نہیں۔‘‘ ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ ﴾ وہ اصناف رزق میں سے جس کے لیے چاہتا ہے، جو چاہتا ہے کشادہ رزق عطا کرتا ہے ﴿وَيَقۡدِرُ ﴾ جس کے لیے چاہتا ہے اس کا رزق تنگ کر دیتا، یہاں تک کہ اسے صرف بقدر حاجت رزق عطا کرتا ہے اور حاجت سے زیادہ عطا نہیں کرتا۔ یہ سب کچھ اس کے علم و حکمت کے تابع ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’وہ اپنے بندوں کے احوال کو خوب جانتا ہے۔‘‘ ہر شخص کو وہی کچھ عطا کرتا ہے جو اس کی مشیت تقاضا کرتی ہے اور جو اس کی حکمت کے لائق ہے۔
42:11فَاطِرُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ جَعَلَ لَكُم مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ أَزۡوَٰجٗا وَمِنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ أَزۡوَٰجٗا يَذۡرَؤُكُمۡ فِيهِۚ لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡءٞۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ
اور جو کچھ کہ اختلاف کیا تم نے اس میں کسی چیز سے تو فیصلہ اس کا اللہ کی طرف ہے، یہی اللہ میرا رب ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں (10)(وہ) پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا، بنائے اس نے تمھارے لیے تمھارے ہی نفسوں سے جوڑے اور چوپاؤ ں سے بھی (ان کے) جوڑے، پھیلاتا ہے وہ تم کو اس میں، نہیں ہے اس کی مثل کوئی چیز اور وہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے (11) اسی کے لیے ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین کی وہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور وہی تنگ کرتا ہے، بلاشبہ وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (12)
[10]﴿وَمَا اخۡتَلَفۡتُمۡ فِيۡهِ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور جن باتوں میں تم آپس میں اختلاف رکھتے ہو۔‘‘ یعنی اپنے دین کے اصول و فروع میں اگر تم ایک دوسرے سے متفق نہ ہو۔ ﴿فَحُكۡمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ تو اسے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی طرف لوٹایا جائے وہ دونوں جو فیصلہ کریں، وہی حق ہے اور جو ان دونوں کے خلاف ہو، وہ باطل ہے۔ ﴿ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّيۡ ﴾ ’’یہی اللہ میرا رب ہے۔‘‘ جس طرح اللہ تعالیٰ کائنات کا رب، خالق، رازق اور مدبر ہے، اسی طرح وہ اپنے بندوں کے درمیان ان کے تمام امور میں اپنی شریعت کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ کسی امر پر اتفاقِ امت حجتِ قطعی ہے کیونکہ جن امور میں ہمارے درمیان اختلاف نہ ہو اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ تب معلوم ہوا کہ جس چیز پر ہم اتفاق کریں تو امت کا اتفاق، اس کے حق ہونے کی دلیل کے لیے کافی ہے کیونکہ امت مجموعی طور پر معصوم عن الخطا ہے۔ اس لیے یہ لازمی امر ہے کہ کسی مسئلہ پر امت کا اتفاق، کتاب و سنت کے موافق ہو۔ ﴿عَلَيۡهِ تَوَؔكَّلۡتُ ﴾ ’’میں نے اسی پر بھروسا کیا۔‘‘ جلب منفعت، دفع مضرت اور اپنی حاجت کے پورا ہونے کے بارے میں پورے وثوق کے ساتھ اسی پر اعتماد کرتا ہوں ﴿وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾ اور میں اپنے دل و جان سے اس کی طرف اور اس کی عبادت و اطاعت کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔یہ دو ایسے اصول ہیں جن کا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب عظیم میں نہایت کثرت سے ذکر فرماتا ہے، کیونکہ ان دونوں کے جمع ہونے سے بندۂ مومن کو کمال حاصل ہوتا ہے۔ اور ان دونوں کے نہ ہونے یا ان میں سے کسی ایک سے محروم ہونے سے بندۂ مومن کمال سے محروم ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحۃ:1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد کے طلب گار ہیں‘‘ اور فرمایا: ﴿فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ ﴾(ہود:11؍123) ’’اس کی عبادت کیجیے اور اس پر بھروسہ کیجیے۔‘‘
[11]﴿فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت، مشیت اور حکمت سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ ﴿جَعَلَ لَكُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ اَزۡوَاجًا ﴾ ’’اسی نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے جوڑے بنائے۔‘‘ تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کر سکو، تمھاری نسل بڑھ سکے اور تمھیں فائدہ حاصل ہو ﴿وَّمِنَ الۡاَنۡعَامِ اَزۡوَاجًا ﴾ ’’اور چوپایوں کے جوڑے بنائے۔‘‘ تمام اصناف سے نر اور مادہ دونوں اقسام بنائیں تاکہ ان کی نسل باقی رہ کر بڑھتی رہے اور تمھاری بہت سی ضرورتیں پوری ہوں۔ اس لیے اس کو ’’لام‘‘ کے ذریعے سے متعدی بنایا ہے، جو تعلیل پر دلالت کرتا ہے، یعنی اس نے یہ جوڑے تمھارے لیے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کے لیے بنائے ہیں ، اس لیے فرمایا:﴿يَذۡرَؤُكُمۡ فِيۡهِ ﴾ یعنی وہ تمھیں پھیلاتا اور بڑھاتا ہے اور تمھارے مویشیوں کو بھی بڑھاتا ہے، اس طریقے سے کہ اس نے تمھارے لیے تم میں سے تمھارے جوڑے بنائے اور تمھارے لیے تمھارے مویشیوں کے جوڑے بنائے۔ ﴿لَيۡسَ كَمِثۡلِهٖ شَيۡءٌ ﴾ ’’ کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں۔‘‘ یعنی اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس کی ذات میں، اس کے اسماء میں، اس کی صفات میں اور اس کے افعال میں مشابہت رکھتی ہے نہ مماثلت کیونکہ اس کے تمام اسماء، اسمائے حسنیٰ ہیں اور اس کی تمام صفات، صفات کمال و عظمت ہیں۔ اس نے اپنے افعال کے ذریعے سے اتنی بڑی کائنات کو بغیر کسی مددگار کے وجود بخشا۔ پس اس جیسی کوئی چیز نہیں کیونکہ وہ ہر لحاظ سے اپنے کمال میں واحد اور متفرد ہے۔ ﴿وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ ’’اور وہ خوب سننے والا ہے۔‘‘ یعنی مخلوقات کی مختلف زبانوں اور متنوع حاجات کے باوجود وہ سب کی آوازیں سنتا ہے ﴿الۡبَصِيۡرُ ﴾ ’’خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ سیاہ رات میں، ٹھوس پتھر پر سیاہ چیونٹی کے رینگنے کو بھی دیکھتا ہے۔ وہ چھوٹے سے چھوٹے حیوان کے جسم میں سرایت کرتی ہوئی خوراک اور درخت کی باریک سے باریک ٹہنی میں سرایت کرتے ہوئے پانی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ آیت کریمہ، صفات کے اثبات اور مخلوقات سے مماثلت کی نفی کے بارے میں اہل سنت و الجماعت کے مذاہب پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿لَيۡسَ كَمِثۡلِهٖ شَيۡءٌ ﴾ میں مشبہہ ’’اہل تشبیہ‘‘ کا رد ہے اور ﴿وَهُوَ السَّمِيۡعُ الۡبَصِيۡرُ ﴾ میں معطلہ ’’صفاتِ الٰہی کا انکار کرنے والوں‘‘ کا رد ہے۔
[12]﴿لَهٗ مَقَالِيۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اس کے پاس آسمانوں اور زمین کی چابیاں ہیں۔‘‘ آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا وہی مالک ہے اور اسی کے ہاتھ میں رحمت و رزق اور ظاہری و باطنی نعمتوں کی کنجیاں ہیں۔ تمام مخلوق ہر حال میں جلب مصالح اور دفع ضرر کے لیے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے۔ کسی کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں، اللہ تعالیٰ ہی عطا کرتا ہے اور محروم کرتا ہے۔ اسی کے ہاتھ میں نفع و نقصان ہے، بندوں کے پاس جو بھی نعمت ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہے اور اس کے سوا کوئی ہستی شر کو دور نہیں کر سکتی۔ فرمایا:﴿مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا١ۚ وَمَا يُمۡسِكۡ١ۙ فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾(فاطر:35؍2) ’’اللہ لوگوں پر جس رحمت کا دروازہ کھول دے، اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے، اس کے بعد اسے کوئی بھیجنے (کھولنے) والا نہیں۔‘‘ ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ ﴾ وہ اصناف رزق میں سے جس کے لیے چاہتا ہے، جو چاہتا ہے کشادہ رزق عطا کرتا ہے ﴿وَيَقۡدِرُ ﴾ جس کے لیے چاہتا ہے اس کا رزق تنگ کر دیتا، یہاں تک کہ اسے صرف بقدر حاجت رزق عطا کرتا ہے اور حاجت سے زیادہ عطا نہیں کرتا۔ یہ سب کچھ اس کے علم و حکمت کے تابع ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’وہ اپنے بندوں کے احوال کو خوب جانتا ہے۔‘‘ ہر شخص کو وہی کچھ عطا کرتا ہے جو اس کی مشیت تقاضا کرتی ہے اور جو اس کی حکمت کے لائق ہے۔
42:12لَهُۥ مَقَالِيدُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُۚ إِنَّهُۥ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ
اور جو کچھ کہ اختلاف کیا تم نے اس میں کسی چیز سے تو فیصلہ اس کا اللہ کی طرف ہے، یہی اللہ میرا رب ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں (10)(وہ) پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا، بنائے اس نے تمھارے لیے تمھارے ہی نفسوں سے جوڑے اور چوپاؤ ں سے بھی (ان کے) جوڑے، پھیلاتا ہے وہ تم کو اس میں، نہیں ہے اس کی مثل کوئی چیز اور وہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے (11) اسی کے لیے ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین کی وہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور وہی تنگ کرتا ہے، بلاشبہ وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (12)
[10]﴿وَمَا اخۡتَلَفۡتُمۡ فِيۡهِ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور جن باتوں میں تم آپس میں اختلاف رکھتے ہو۔‘‘ یعنی اپنے دین کے اصول و فروع میں اگر تم ایک دوسرے سے متفق نہ ہو۔ ﴿فَحُكۡمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ تو اسے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی طرف لوٹایا جائے وہ دونوں جو فیصلہ کریں، وہی حق ہے اور جو ان دونوں کے خلاف ہو، وہ باطل ہے۔ ﴿ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّيۡ ﴾ ’’یہی اللہ میرا رب ہے۔‘‘ جس طرح اللہ تعالیٰ کائنات کا رب، خالق، رازق اور مدبر ہے، اسی طرح وہ اپنے بندوں کے درمیان ان کے تمام امور میں اپنی شریعت کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ کسی امر پر اتفاقِ امت حجتِ قطعی ہے کیونکہ جن امور میں ہمارے درمیان اختلاف نہ ہو اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ تب معلوم ہوا کہ جس چیز پر ہم اتفاق کریں تو امت کا اتفاق، اس کے حق ہونے کی دلیل کے لیے کافی ہے کیونکہ امت مجموعی طور پر معصوم عن الخطا ہے۔ اس لیے یہ لازمی امر ہے کہ کسی مسئلہ پر امت کا اتفاق، کتاب و سنت کے موافق ہو۔ ﴿عَلَيۡهِ تَوَؔكَّلۡتُ ﴾ ’’میں نے اسی پر بھروسا کیا۔‘‘ جلب منفعت، دفع مضرت اور اپنی حاجت کے پورا ہونے کے بارے میں پورے وثوق کے ساتھ اسی پر اعتماد کرتا ہوں ﴿وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾ اور میں اپنے دل و جان سے اس کی طرف اور اس کی عبادت و اطاعت کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔یہ دو ایسے اصول ہیں جن کا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب عظیم میں نہایت کثرت سے ذکر فرماتا ہے، کیونکہ ان دونوں کے جمع ہونے سے بندۂ مومن کو کمال حاصل ہوتا ہے۔ اور ان دونوں کے نہ ہونے یا ان میں سے کسی ایک سے محروم ہونے سے بندۂ مومن کمال سے محروم ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحۃ:1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد کے طلب گار ہیں‘‘ اور فرمایا: ﴿فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ ﴾(ہود:11؍123) ’’اس کی عبادت کیجیے اور اس پر بھروسہ کیجیے۔‘‘
[11]﴿فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت، مشیت اور حکمت سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ ﴿جَعَلَ لَكُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ اَزۡوَاجًا ﴾ ’’اسی نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے جوڑے بنائے۔‘‘ تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کر سکو، تمھاری نسل بڑھ سکے اور تمھیں فائدہ حاصل ہو ﴿وَّمِنَ الۡاَنۡعَامِ اَزۡوَاجًا ﴾ ’’اور چوپایوں کے جوڑے بنائے۔‘‘ تمام اصناف سے نر اور مادہ دونوں اقسام بنائیں تاکہ ان کی نسل باقی رہ کر بڑھتی رہے اور تمھاری بہت سی ضرورتیں پوری ہوں۔ اس لیے اس کو ’’لام‘‘ کے ذریعے سے متعدی بنایا ہے، جو تعلیل پر دلالت کرتا ہے، یعنی اس نے یہ جوڑے تمھارے لیے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کے لیے بنائے ہیں ، اس لیے فرمایا:﴿يَذۡرَؤُكُمۡ فِيۡهِ ﴾ یعنی وہ تمھیں پھیلاتا اور بڑھاتا ہے اور تمھارے مویشیوں کو بھی بڑھاتا ہے، اس طریقے سے کہ اس نے تمھارے لیے تم میں سے تمھارے جوڑے بنائے اور تمھارے لیے تمھارے مویشیوں کے جوڑے بنائے۔ ﴿لَيۡسَ كَمِثۡلِهٖ شَيۡءٌ ﴾ ’’ کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں۔‘‘ یعنی اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس کی ذات میں، اس کے اسماء میں، اس کی صفات میں اور اس کے افعال میں مشابہت رکھتی ہے نہ مماثلت کیونکہ اس کے تمام اسماء، اسمائے حسنیٰ ہیں اور اس کی تمام صفات، صفات کمال و عظمت ہیں۔ اس نے اپنے افعال کے ذریعے سے اتنی بڑی کائنات کو بغیر کسی مددگار کے وجود بخشا۔ پس اس جیسی کوئی چیز نہیں کیونکہ وہ ہر لحاظ سے اپنے کمال میں واحد اور متفرد ہے۔ ﴿وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ ’’اور وہ خوب سننے والا ہے۔‘‘ یعنی مخلوقات کی مختلف زبانوں اور متنوع حاجات کے باوجود وہ سب کی آوازیں سنتا ہے ﴿الۡبَصِيۡرُ ﴾ ’’خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ سیاہ رات میں، ٹھوس پتھر پر سیاہ چیونٹی کے رینگنے کو بھی دیکھتا ہے۔ وہ چھوٹے سے چھوٹے حیوان کے جسم میں سرایت کرتی ہوئی خوراک اور درخت کی باریک سے باریک ٹہنی میں سرایت کرتے ہوئے پانی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ آیت کریمہ، صفات کے اثبات اور مخلوقات سے مماثلت کی نفی کے بارے میں اہل سنت و الجماعت کے مذاہب پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿لَيۡسَ كَمِثۡلِهٖ شَيۡءٌ ﴾ میں مشبہہ ’’اہل تشبیہ‘‘ کا رد ہے اور ﴿وَهُوَ السَّمِيۡعُ الۡبَصِيۡرُ ﴾ میں معطلہ ’’صفاتِ الٰہی کا انکار کرنے والوں‘‘ کا رد ہے۔
[12]﴿لَهٗ مَقَالِيۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اس کے پاس آسمانوں اور زمین کی چابیاں ہیں۔‘‘ آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا وہی مالک ہے اور اسی کے ہاتھ میں رحمت و رزق اور ظاہری و باطنی نعمتوں کی کنجیاں ہیں۔ تمام مخلوق ہر حال میں جلب مصالح اور دفع ضرر کے لیے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے۔ کسی کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں، اللہ تعالیٰ ہی عطا کرتا ہے اور محروم کرتا ہے۔ اسی کے ہاتھ میں نفع و نقصان ہے، بندوں کے پاس جو بھی نعمت ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہے اور اس کے سوا کوئی ہستی شر کو دور نہیں کر سکتی۔ فرمایا:﴿مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا١ۚ وَمَا يُمۡسِكۡ١ۙ فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾(فاطر:35؍2) ’’اللہ لوگوں پر جس رحمت کا دروازہ کھول دے، اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے، اس کے بعد اسے کوئی بھیجنے (کھولنے) والا نہیں۔‘‘ ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ ﴾ وہ اصناف رزق میں سے جس کے لیے چاہتا ہے، جو چاہتا ہے کشادہ رزق عطا کرتا ہے ﴿وَيَقۡدِرُ ﴾ جس کے لیے چاہتا ہے اس کا رزق تنگ کر دیتا، یہاں تک کہ اسے صرف بقدر حاجت رزق عطا کرتا ہے اور حاجت سے زیادہ عطا نہیں کرتا۔ یہ سب کچھ اس کے علم و حکمت کے تابع ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’وہ اپنے بندوں کے احوال کو خوب جانتا ہے۔‘‘ ہر شخص کو وہی کچھ عطا کرتا ہے جو اس کی مشیت تقاضا کرتی ہے اور جو اس کی حکمت کے لائق ہے۔
42:13۞شَرَعَ لَكُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِۦ نُوحٗا وَٱلَّذِيٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ وَمَا وَصَّيۡنَا بِهِۦٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰٓۖ أَنۡ أَقِيمُواْ ٱلدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُواْ فِيهِۚ كَبُرَ عَلَى ٱلۡمُشۡرِكِينَ مَا تَدۡعُوهُمۡ إِلَيۡهِۚ ٱللَّهُ يَجۡتَبِيٓ إِلَيۡهِ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِيٓ إِلَيۡهِ مَن يُنِيبُ
مقرر کیا ہے اس نے تمھارے لیے(وہ)دین کہ وصیت کی اس نے اس کی نوح کو اور وہ جس کی وحی کی ہم نے آپ کی طرف اور وہ کہ وصیت کی ہم نے اس کی ابراہیم اور موسٰی اور عیسٰی کو، یہ کہ قائم رکھو تم اس دین کو اور نہ جدا جدا ہو تم اس میں، گراں گزرتی ہے مشرکین پر وہ (بات)کہ بلاتے ہیں آپ ان کو اس کی طرف، اللہ چن لیتا ہے اپنی طرف جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے اپنی طرف اس کو جو رجوع کرتا ہے (13)
[13]یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو سرفراز فرمایا۔ اس نے ان کے لیے دین اسلام مشروع کیا، جو تمام ادیان میں سب سے افضل اور سب سے پاک دین ہے۔ دین اسلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے چنے ہوئے بندوں کے لیے مشروع کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے چنے ہوئے بندوں میں سے بھی خاص بندوں کے لیے اس دین کو مشروع کیا، جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا، جو ہر لحاظ سے تمام مخلوق میں سب سے کامل اور جن کا درجہ سب سے بلند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو دین ان کے لیے مشروع فرمایا، ضروری ہے کہ وہ مقدس ہستیوں کے مناسب حال اور ان کے کمال کے موافق ہو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے دین کو قائم کرنے کے سبب سے کمال سے سرفراز فرمایا اور اپنے لیے چن لیا۔ اگر دین اسلام نہ ہوتا تو تمام مخلوق میں کوئی بھی بلندی پر نہ پہنچ سکتا۔ اسلام سعادت کی روح اور کمال کی بنیاد ہے۔ اسلام وہی ہے جو اس کتاب کریم میں دیا گیا ہے اور جس کی طرف یہ کتاب دعوت دیتی ہے، یعنی توحید، اعمال صالحہ، مکارم اخلاق اور آداب وغیرہ۔﴿اَنۡ اَقِيۡمُوا الدِّيۡنَ ﴾ یعنی اس نے تمھیں حکم دیا ہے کہ تم دین کے تمام اصول و فروع کو قائم کرو۔ ان کو خود اپنی ذات پر نافذ کرو، پھر دوسروں پر نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کرو۔ نیکی اور تقویٰ پر تعاون کرو، گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو۔ ﴿وَلَا تَتَفَرَّقُوۡا فِيۡهِ ﴾ ’’اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔‘‘ تاکہ تم دین کے اصول و فروع پر متفق رہو۔ اس امر پر پوری توجہ رکھو کہ مسائل تم میں تفرقہ ڈال کر کہیں تمھیں گروہ در گروہ تقسیم نہ کر دیں اور یوں تم ایک دوسرے کے دشمن نہ بن جاؤ باوجودیکہ تمھارا دین ایک ہے۔ دین پر اجتماع اور عدم تفرقہ میں وہ اجتماعات عامہ بھی شامل ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ، مثلاً: حج، عیدین، جمعہ، نماز پنجگانہ اور جہاد وغیرہ ۔ یہ ایسی عبادات ہیں جو اجتماعات اور عدم تفرق کے بغیر مکمل نہیں ہوتیں۔ ﴿كَبُرَ عَلَى الۡمُشۡرِكِيۡنَ مَا تَدۡعُوۡهُمۡ اِلَيۡهِ ﴾ یعنی جب آپ ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی دعوت دیتے ہیں تو یہ بات ان پر بے انتہا شاق گزرتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحۡدَهُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ١ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾(الزمر39؍45) ’’جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور جب اللہ کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو یکایک خوش ہو جاتے ہیں۔‘‘ جیسا کہ مشرکین کہتے تھے: ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖ ۚ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾(ص:38؍5) ’’کیا اس نے ان سارے معبودوں کی بجائے ایک ہی معبود بنا دیا، یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘ ﴿اَللّٰهُ يَجۡتَبِيۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ میں برگزیدہ بنالیتا ہے۔‘‘ اللہ اپنی مخلوق میں ان لوگوں کو اپنے لیے منتخب کرتا ہے جن کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ اس کی رسالت، اس کی ولایت اور اس کی نعمت کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ اس طرح اس نے اس امت کا انتخاب کیا اور اسے تمام امتوں پر فضیلت سے نوازا اور اس کے لیے بہترین دین چنا۔ ﴿وَيَهۡدِيۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ يُّنِيۡبُ ﴾ ’’اور جو اس کی طرف رجوع کرے وہ اسے اپنی طرف راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ بندے کی طرف سے یہ سبب جس کے ذریعے سے وہ ہدایت الٰہی کی منزل تک پہنچتا ہے، اپنے رب کی طرف انابت، دلی محرکات کا اس کی طرف میلان اور اپنے رب کی رضا کو اپنا مقصد بنانا یہ تمام اسباب، طلب ہدایت کے حصول کو آسان بناتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَّهۡدِيۡ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ ﴾(المائدہ:5؍16) ’’اس کتاب کے ذریعے سے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی رضا چاہتے ہیں۔‘‘ اس آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿وَيَهۡدِيۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ يُّنِيۡبُ ﴾ اور فرمایا: ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾(لقمن:31؍15) ’’اور چلو اس شخص کے طریق پر جو ہماری طرف رجوع کیے ہوئے ہو۔‘‘ اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں صحابہ کرام کے احوال معلوم ہیں اور ان کی شدت انابت بھی جو اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام خاص طور پر خلفائے راشدین کا قول حجت ہے۔ (y)
42:14وَمَا تَفَرَّقُوٓاْ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى لَّقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُورِثُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُ مُرِيبٖ
اور نہ جدا جدا ہوئے وہ، مگر بعد اس کے کہ آ گیا ان کے پاس علم (محض) سرکشی سے آپس میں، اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے سے (طے) تھی آپ کے رب کی طرف سے ایک وقت مقرر تک، تو ضرور فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان، اور بلاشبہ وہ لوگ جو وارث بنائے گئے اس کتاب کے ان کے بعد، البتہ شک میں ہیں اس کی بابت، جو اضطراب انگیز ہے (14) پس اسی (دین) کی طرف آپ بلائیں اور ثابت قدم رہیں جیسے حکم دیا گیا ہے آپ کو اور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی اور کہہ دیجیے: ایمان لایا میں ساتھ اس کےجو نازل کی اللہ نے کتاب سے، اور حکم دیا گیا ہوں میں کہ انصاف کروں تمھارے درمیان، اللہ رب ہے ہمارا اور رب ہے تمھارا، ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال، نہیں کوئی جھگڑا ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان اللہ (روز قیامت)یکجائی کر دے گا ہمارے درمیان اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (15)
[14] اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے دین پر مجتمع رہنے کا حکم دیا اور تفرقہ سے منع کیا۔ اس کے بعد انھیں خبردار کیا کہ وہ اس بات پر غرور نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کتاب نازل فرمائی۔ کیونکہ اہل کتاب نے کتاب نازل ہونے کے بعد جو اجتماع و اتحاد کی موجب تھی، ایک دوسرے سے اختلاف کیا ، لہٰذا ان کا عمل کتاب اللہ کے حکم کے خلاف تھا اور یہ سب کچھ ان کی طرف سے بغاوت اور عدوان کی وجہ سے صادر ہوا۔ کیونکہ انھوں نے آپس میں بغض، کینہ اور حسد کا رویہ رکھا جس سے ان کے درمیان عداوت پیدا ہوئی اور اس طرح اختلاف پیدا ہوا۔ اے مسلمانو! ان جیسا رویہ اختیار کرنے سے بچو۔ ﴿وَلَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اور اگر تمھارے رب کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لیے فیصلہ نہ ٹھہر چکا ہوتا۔‘‘ یعنی فیصلہ کن عذاب کو ایک مدت مقررہ تک مؤخر کر دینے کا فیصلہ ﴿لَّقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔‘‘ مگر اللہ کی حکمت اور اس کا حکم اس تاخیر کے متقاضی تھے۔ ﴿وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡرِثُوا الۡكِتٰبَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور جو لوگ ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے۔‘‘ یعنی علم سے انتساب رکھنے والے لوگ جو ان کے وارث ہوئے اور ان کے جانشین ٹھہرے۔ ﴿لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ مُرِيۡبٍ ﴾ بہت زیادہ شک و اشتباہ میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے ان میں اختلاف واقع ہو گیا۔ جہاں ان کے اسلاف نے بغاوت اور عناد کے سبب سے ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف کیا وہاں اخلاف نے بھی شک و ریب کی بنا پر اختلاف کیا۔ اختلاف مذموم میں سب لوگ شریک تھے۔
[15]﴿فَلِذٰلِكَ فَادۡعُ ﴾ یعنی اس دین قویم اور صراط مستقیم کی طرف اپنی امت کو دعوت دیجیے جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرمائیں اور رسول مبعوث کیےاور انھیں اس کی ترغیب دیجیے اور اس کی خاطر ان لوگوں سے جہاد کیجیے جو اس کو قبول نہیں کرتے۔ ﴿وَاسۡتَقِمۡ ﴾ ’’اور خود بھی استقامت اختیار کیجیے‘‘ ﴿كَمَاۤ اُمِرۡتَ ﴾ ’’جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے۔‘‘ استقامت سے مراد اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت ہے، جس میں کوئی افراط و تفریط نہ ہو بلکہ اس میں دائمی طور پر اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب ہو۔ سو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی تکمیل کے لیے استقامت کے التزام اور دوسروں کی تکمیل کے لیے اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا نیز ہمیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو دیے گئے حکم کا اطلاق امت پر بھی ہوتا ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ حکم صرف آپ کے ساتھ مخصوص نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ ﴾ یعنی دین سے منحرف لوگوں ، یعنی کفارومنافقین کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔ یہ اتباع یا تو ان کے دین کے کسی حصے کی اتباع کے ذریعے سے یا اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کو ترک کرنے یا استقامت کو ترک کرنے سے واقع ہوتی ہے۔ اگر آپ نے علم کے آ جانے کے بعد بھی، ان کی خواہشات کی پیروی کی تو آپ کا شمار ظالموں میں ہو گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے ارشاد میں )وَلَا تَتَّبِـعْ دِینَھُمْ( نہیں کہا کیونکہ حقیقت میں ان کا دین جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مشروع فرمایا ہے، وہی دین ہے جو تمام انبیاء و مرسلین کا دین ہے، مگر ان کے متبعین نے اس دین کی پیروی نہ کی بلکہ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے اور اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا۔ ﴿وَقُلۡ ﴾ ان کے مناظرہ اور بحث کرنے پر کہہ دیجیے ﴿اٰمَنۡتُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ مِنۡ كِتٰبٍ ﴾ ’’جو کتاب اللہ نے نازل کی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ آپ کا بحث و مناظرہ، اس عظیم اصول پر مبنی ہونا چاہیے جو اسلام کے شرف و جلال پر دلالت کرتا ہے اور تمام ادیان پر اس کے نگران ہونے کا اور یہ اہل کتاب جس دین پر چلنے کے دعویدار ہیں، وہ بھی اسلام کا ایک جزو ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی طرف راہ نمائی کی گئی ہے کہ اگر اہل کتاب، بعض کتابوں اور بعض رسولوں پر ایمان لا کر اور دیگر کا انکار کر کے مناظرہ کریں تو یہ قابل قبول نہیں کیونکہ جس کتاب کی طرف یہ لوگ دعوت دیتے ہیں اور جس رسول کی طرف یہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، اس کی صداقت کی شرط یہ ہے کہ وہ اس قرآن کی اور اس کو لانے والے کی تصدیق کرتا ہو۔ پس ہماری کتاب اور ہمارا رسول (ﷺ) ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰi تورات اور انجیل پر ایمان لائیں جن کی قرآن مجید نے تصدیق کی ہے ان کے بارے یہ بھی خبر دی ہے کہ وہ قرآن کی تصدیق اور اس کی صحت کا اقرار کرتی ہیں۔ مجرد تورات و انجیل اور حضرت موسیٰ و عیسیٰi، جو ہمارے اوصاف بیان کرتے ہیں نہ ہماری کتاب کی موافقت کرتے ہیں، تو ان پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم نہیں دیا۔ ﴿وَ اُمِرۡتُ لِاَعۡدِلَ بَيۡنَكُمۡ ﴾ ’’اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمھارے درمیان انصاف کروں۔‘‘ یعنی ان امور میں فیصلہ کرتے وقت جن میں تم آپس میں اختلاف کرتے ہو ۔ اے اہل کتاب! تمھاری عداوت اور میرے خلاف تمھارا بغض مجھے تمھارے درمیان انصاف کرنے سے روک سکتا ہے نہ اہل کتاب وغیرہ میں مختلف اقوال کے قائلین کے درمیان فیصلے میں عدل سے باز رکھ سکتا ہے اور نہ ان کے ساتھ جو حق ہے اسے قبول کرنے اور ان کے باطل کو رد کرنے سے روک سکتاہے۔ ﴿اَللّٰهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمۡ ﴾ ’’اللہ ہی ہمارا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ یعنی وہ سب کا رب ہے، تم ہم سے زیادہ اس کے مستحق نہیں ہو۔ ﴿لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَلَكُمۡ اَعۡمَالُكُمۡ ﴾ ’’ہمارے اچھے برے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اچھے برے اعمال تمھارے لیے ہیں۔‘‘ ﴿لَا حُجَّةَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ ﴾ ’’ہمارے اور تمھارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہے۔‘‘ حقائق کے عیاں ہو جانے، باطل میں سے حق اور گمراہی میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد حجت بازی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ کیونکہ بحث و مباحثہ کا مقصد محض حق اور باطل کو واضح کرنا ہوتا ہے تاکہ ہدایت یافتہ شخص اس سے راہ نمائی حاصل کرے اور گمراہ پر حجت قائم ہو جائے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اہل کتاب مباحثہ نہیں کرتے اور یہ مراد ہو بھی کیسے سکتی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَلَا تُجَادِلُوۡۤا اَهۡلَ الۡكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ ﴾(العنکبوت:29؍46) ’’اہل کتاب کے ساتھ بحث مباحثہ نہ کرو، مگر احسن طریقے سے۔‘‘ اس سے مراد وہی ہے جو ہم نے ذکر کر دی ہے۔ ﴿اَللّٰهُ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا١ۚ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ہمیں جمع کرے گا ، پھر وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کی جزا دے گا۔ اس وقت واضح ہو جائے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔
42:15فَلِذَٰلِكَ فَٱدۡعُۖ وَٱسۡتَقِمۡ كَمَآ أُمِرۡتَۖ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَهُمۡۖ وَقُلۡ ءَامَنتُ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِن كِتَٰبٖۖ وَأُمِرۡتُ لِأَعۡدِلَ بَيۡنَكُمُۖ ٱللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمۡۖ لَنَآ أَعۡمَٰلُنَا وَلَكُمۡ أَعۡمَٰلُكُمۡۖ لَا حُجَّةَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُۖ ٱللَّهُ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَاۖ وَإِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ
اور نہ جدا جدا ہوئے وہ، مگر بعد اس کے کہ آ گیا ان کے پاس علم (محض) سرکشی سے آپس میں، اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے سے (طے) تھی آپ کے رب کی طرف سے ایک وقت مقرر تک، تو ضرور فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان، اور بلاشبہ وہ لوگ جو وارث بنائے گئے اس کتاب کے ان کے بعد، البتہ شک میں ہیں اس کی بابت، جو اضطراب انگیز ہے (14) پس اسی (دین) کی طرف آپ بلائیں اور ثابت قدم رہیں جیسے حکم دیا گیا ہے آپ کو اور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی اور کہہ دیجیے: ایمان لایا میں ساتھ اس کےجو نازل کی اللہ نے کتاب سے، اور حکم دیا گیا ہوں میں کہ انصاف کروں تمھارے درمیان، اللہ رب ہے ہمارا اور رب ہے تمھارا، ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال، نہیں کوئی جھگڑا ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان اللہ (روز قیامت)یکجائی کر دے گا ہمارے درمیان اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (15)
[14] اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے دین پر مجتمع رہنے کا حکم دیا اور تفرقہ سے منع کیا۔ اس کے بعد انھیں خبردار کیا کہ وہ اس بات پر غرور نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کتاب نازل فرمائی۔ کیونکہ اہل کتاب نے کتاب نازل ہونے کے بعد جو اجتماع و اتحاد کی موجب تھی، ایک دوسرے سے اختلاف کیا ، لہٰذا ان کا عمل کتاب اللہ کے حکم کے خلاف تھا اور یہ سب کچھ ان کی طرف سے بغاوت اور عدوان کی وجہ سے صادر ہوا۔ کیونکہ انھوں نے آپس میں بغض، کینہ اور حسد کا رویہ رکھا جس سے ان کے درمیان عداوت پیدا ہوئی اور اس طرح اختلاف پیدا ہوا۔ اے مسلمانو! ان جیسا رویہ اختیار کرنے سے بچو۔ ﴿وَلَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اور اگر تمھارے رب کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لیے فیصلہ نہ ٹھہر چکا ہوتا۔‘‘ یعنی فیصلہ کن عذاب کو ایک مدت مقررہ تک مؤخر کر دینے کا فیصلہ ﴿لَّقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔‘‘ مگر اللہ کی حکمت اور اس کا حکم اس تاخیر کے متقاضی تھے۔ ﴿وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡرِثُوا الۡكِتٰبَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور جو لوگ ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے۔‘‘ یعنی علم سے انتساب رکھنے والے لوگ جو ان کے وارث ہوئے اور ان کے جانشین ٹھہرے۔ ﴿لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ مُرِيۡبٍ ﴾ بہت زیادہ شک و اشتباہ میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے ان میں اختلاف واقع ہو گیا۔ جہاں ان کے اسلاف نے بغاوت اور عناد کے سبب سے ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف کیا وہاں اخلاف نے بھی شک و ریب کی بنا پر اختلاف کیا۔ اختلاف مذموم میں سب لوگ شریک تھے۔
[15]﴿فَلِذٰلِكَ فَادۡعُ ﴾ یعنی اس دین قویم اور صراط مستقیم کی طرف اپنی امت کو دعوت دیجیے جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرمائیں اور رسول مبعوث کیےاور انھیں اس کی ترغیب دیجیے اور اس کی خاطر ان لوگوں سے جہاد کیجیے جو اس کو قبول نہیں کرتے۔ ﴿وَاسۡتَقِمۡ ﴾ ’’اور خود بھی استقامت اختیار کیجیے‘‘ ﴿كَمَاۤ اُمِرۡتَ ﴾ ’’جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے۔‘‘ استقامت سے مراد اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت ہے، جس میں کوئی افراط و تفریط نہ ہو بلکہ اس میں دائمی طور پر اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب ہو۔ سو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی تکمیل کے لیے استقامت کے التزام اور دوسروں کی تکمیل کے لیے اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا نیز ہمیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو دیے گئے حکم کا اطلاق امت پر بھی ہوتا ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ حکم صرف آپ کے ساتھ مخصوص نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ ﴾ یعنی دین سے منحرف لوگوں ، یعنی کفارومنافقین کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔ یہ اتباع یا تو ان کے دین کے کسی حصے کی اتباع کے ذریعے سے یا اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کو ترک کرنے یا استقامت کو ترک کرنے سے واقع ہوتی ہے۔ اگر آپ نے علم کے آ جانے کے بعد بھی، ان کی خواہشات کی پیروی کی تو آپ کا شمار ظالموں میں ہو گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے ارشاد میں )وَلَا تَتَّبِـعْ دِینَھُمْ( نہیں کہا کیونکہ حقیقت میں ان کا دین جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مشروع فرمایا ہے، وہی دین ہے جو تمام انبیاء و مرسلین کا دین ہے، مگر ان کے متبعین نے اس دین کی پیروی نہ کی بلکہ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے اور اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا۔ ﴿وَقُلۡ ﴾ ان کے مناظرہ اور بحث کرنے پر کہہ دیجیے ﴿اٰمَنۡتُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ مِنۡ كِتٰبٍ ﴾ ’’جو کتاب اللہ نے نازل کی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ آپ کا بحث و مناظرہ، اس عظیم اصول پر مبنی ہونا چاہیے جو اسلام کے شرف و جلال پر دلالت کرتا ہے اور تمام ادیان پر اس کے نگران ہونے کا اور یہ اہل کتاب جس دین پر چلنے کے دعویدار ہیں، وہ بھی اسلام کا ایک جزو ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی طرف راہ نمائی کی گئی ہے کہ اگر اہل کتاب، بعض کتابوں اور بعض رسولوں پر ایمان لا کر اور دیگر کا انکار کر کے مناظرہ کریں تو یہ قابل قبول نہیں کیونکہ جس کتاب کی طرف یہ لوگ دعوت دیتے ہیں اور جس رسول کی طرف یہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، اس کی صداقت کی شرط یہ ہے کہ وہ اس قرآن کی اور اس کو لانے والے کی تصدیق کرتا ہو۔ پس ہماری کتاب اور ہمارا رسول (ﷺ) ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰi تورات اور انجیل پر ایمان لائیں جن کی قرآن مجید نے تصدیق کی ہے ان کے بارے یہ بھی خبر دی ہے کہ وہ قرآن کی تصدیق اور اس کی صحت کا اقرار کرتی ہیں۔ مجرد تورات و انجیل اور حضرت موسیٰ و عیسیٰi، جو ہمارے اوصاف بیان کرتے ہیں نہ ہماری کتاب کی موافقت کرتے ہیں، تو ان پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم نہیں دیا۔ ﴿وَ اُمِرۡتُ لِاَعۡدِلَ بَيۡنَكُمۡ ﴾ ’’اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمھارے درمیان انصاف کروں۔‘‘ یعنی ان امور میں فیصلہ کرتے وقت جن میں تم آپس میں اختلاف کرتے ہو ۔ اے اہل کتاب! تمھاری عداوت اور میرے خلاف تمھارا بغض مجھے تمھارے درمیان انصاف کرنے سے روک سکتا ہے نہ اہل کتاب وغیرہ میں مختلف اقوال کے قائلین کے درمیان فیصلے میں عدل سے باز رکھ سکتا ہے اور نہ ان کے ساتھ جو حق ہے اسے قبول کرنے اور ان کے باطل کو رد کرنے سے روک سکتاہے۔ ﴿اَللّٰهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمۡ ﴾ ’’اللہ ہی ہمارا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ یعنی وہ سب کا رب ہے، تم ہم سے زیادہ اس کے مستحق نہیں ہو۔ ﴿لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَلَكُمۡ اَعۡمَالُكُمۡ ﴾ ’’ہمارے اچھے برے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اچھے برے اعمال تمھارے لیے ہیں۔‘‘ ﴿لَا حُجَّةَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ ﴾ ’’ہمارے اور تمھارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہے۔‘‘ حقائق کے عیاں ہو جانے، باطل میں سے حق اور گمراہی میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد حجت بازی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ کیونکہ بحث و مباحثہ کا مقصد محض حق اور باطل کو واضح کرنا ہوتا ہے تاکہ ہدایت یافتہ شخص اس سے راہ نمائی حاصل کرے اور گمراہ پر حجت قائم ہو جائے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اہل کتاب مباحثہ نہیں کرتے اور یہ مراد ہو بھی کیسے سکتی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَلَا تُجَادِلُوۡۤا اَهۡلَ الۡكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ ﴾(العنکبوت:29؍46) ’’اہل کتاب کے ساتھ بحث مباحثہ نہ کرو، مگر احسن طریقے سے۔‘‘ اس سے مراد وہی ہے جو ہم نے ذکر کر دی ہے۔ ﴿اَللّٰهُ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا١ۚ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ہمیں جمع کرے گا ، پھر وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کی جزا دے گا۔ اس وقت واضح ہو جائے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔
42:16وَٱلَّذِينَ يُحَآجُّونَ فِي ٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ مَا ٱسۡتُجِيبَ لَهُۥ حُجَّتُهُمۡ دَاحِضَةٌ عِندَ رَبِّهِمۡ وَعَلَيۡهِمۡ غَضَبٞ وَلَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدٌ
اور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں اللہ کے بارے میں، بعد اس کے کہ مان لیا گیا اس کو، ان کی دلیل کمزور ہے نزدیک ان کے رب کے اور اوپر ان کے غضب ہے اور ان کے لیے ہے عذاب سخت (16)
[16] یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿لَا حُجَّةَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ ﴾(الشوریٰ: 15/42) کا بیان ہے، چنانچہ یہاں آگاہ فرمایا:﴿الَّذِيۡنَ يُحَآجُّوۡنَ فِي اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔‘‘ یعنی باطل دلائل اور متناقض شبہات کے ذریعے سے ۔ ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا اسۡتُجِيۡبَ لَهٗ﴾ ’’اس (الله كی ذات) کے تسلیم کیے جانے کے بعد۔‘‘ یعنی اس کے بعد کہ جب عقل سے بہرہ مند لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک کہا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے قطعی دلائل اور روشن براہین بیان کر دیے تھے تو وہ لوگ جو حق کے واضح ہو جانے کے بعد، حق کے ساتھ مجادلہ کرتے ہیں۔ ﴿حُجَّتُهُمۡ دَاحِضَةٌ ﴾ ان کی حجت باطل اور ناقابل قبول ہے۔ ﴿عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’ان کے رب کے نزدیک۔‘‘ کیونکہ یہ ایسے امور پر مشتمل ہے جو حق کے خلاف ہیں اور جو چیز حق کے خلاف ہو وہ باطل ہوتی ہے۔ ﴿وَعَلَيۡهِمۡ غَضَبٌ ﴾ ان کی نافرمانی، اللہ تعالیٰ کے دلائل و براہین سے روگردانی اور ان کو جھٹلانے کے سبب سے، ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے۔ ﴿وَّلَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے شدید عذاب ہے۔‘‘ یہ سخت عذاب اللہ تعالیٰ کے غضب کا نتیجہ ہے اور یہ ہر اس شخص کی سزا ہے جو باطل دلائل سے حق کے خلاف جھگڑتا ہے۔
42:17ٱللَّهُ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ وَٱلۡمِيزَانَۗ وَمَا يُدۡرِيكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ قَرِيبٞ
اللہ وہ ہے جس نے نازل کی کتاب ساتھ حق کے اور ترازو اور کیا معلوم آپ کو شاید قیامت قریب ہی ہو (17) جلدی مانگتے ہیں اس (قیامت) کو وہ لوگ جو نہیں ایمان رکھتے اس پر اور وہ لوگ جو ایمان لائے، ڈرنے والے ہیں اس سے، اور وہ جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے، آگاہ رہو! بلاشبہ وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں قیامت کے بارے میں، البتہ وہ دور کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں (18)
[17] یہ واضح کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کے دلائل واضح اور روشن ہیں، کیونکہ ہر وہ شخص ان کو قبول کرتا ہے جس میں کچھ بھی بھلائی ہے، ان کا قاعدہ اور اصول بیان کیا بلکہ تمام دلائل بیان کیے جو اس نے بندوں کو عطا کیے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ وَالۡمِيۡزَانَ ﴾ ’’اللہ ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور میزان۔‘‘ کتاب سے مراد قرآن عظیم ہے، جو حق کے ساتھ نازل ہوا اور حق، صدق اور یقین پر مشتمل ہے۔ تمام مطالب الٰہیہ اور عقائد دینیہ کے بارے میں وہ روشن نشانیوں اور واضح دلائل پر مشتمل ہے یہ کتاب عظیم بہترین مسائل اور واضح ترین دلائل لے کر آئی ہے۔ میزان سے مراد قیاس صحیح اور عقل راجح کے ذریعے سے عدل و تعبیر ہے ، چنانچہ تمام عقلی دلائل یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیاں، شرعی تعبیرات، مناسبات، علتیں، احکام اور حکمتیں، میزان میں داخل ہیں، جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرما کر بندوں کے سامنے پیش کیا ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے ان امور کا وزن کریں جن کا اللہ تعالیٰ نے اثبات کیا ہے یا جن کی اس نے نفی کی ہے اور ان امور کو پہچانیں جن کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے خبر دی ہے اور ان امور کو پہچانیں جو کتاب اور میزان پر پورے نہیں اترتے اور جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ حجت، برہان یا دلیل یا اس قسم کی کوئی تعبیر ہے کیونکہ یہ سب باطل اور متناقض ہیں ۔ ان کے اصول فاسد اور ان کی بنیاد اور ان کی فروع منہدم ہو گئے۔ اس میزان کے ذریعے سے مسائل کی خبر اور اس کے ماخذ کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے دلائل راجحہ اور دلائل مرجوحہ کے درمیان امتیاز اور اس کے ذریعے سے دلائل اور شبہات کے درمیان فرق کیا جاتا ہے۔ رہا وہ شخص جو آراستہ عبارات، ملمع شدہ خوبصورت الفاظ کے فریب میں مبتلا ہو کر معنیٔ مراد میں بصیرت حاصل نہیں کرتا تو وہ اس شان کے لوگوں میں شامل ہے نہ اس میدان کا شاہسوار ہے۔ پس اس کی موافقت اور مخالفت برابر ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے لیے جلدی مچانے والوں اور اس کا انکار کرنے والوں کو ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو۔‘‘ یعنی اس کے دور ہونے کا علم ہے نہ یہ معلوم ہے کہ وہ کب قائم ہو گی؟ پس اس کا وقوع ہر وقت متوقع ہے اور اس کے واقع ہونے کی آواز بہت خوفناک ہو گی۔
[18]﴿يَسۡتَعۡجِلُ بِهَا الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهَا ﴾ ’’اس کی جلدی انھیں پڑی ہے جو اسے نہیں مانتے۔‘‘ یعنی منکرین حق عناد اور تکذیب کے طور پر اور اپنے رب کو قیامت قائم کرنے سے عاجز سمجھتے ہوئے قیامت کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مُشۡفِقُوۡنَ مِنۡهَا ﴾ ’’اور اہل ایمان اس سے ڈرتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کے ڈرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ قیامت کے روز اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی اور وہ اپنے رب کی مغفرت کی بنا پر ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اعمال نجات کے حصول میں مدد نہ کر سکیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّهَا الۡحَقُّ ﴾ ’’اور وہ جانتے ہیں کہ یہ حق ہے۔‘‘ جس میں کوئی جھگڑا ہے نہ شک۔ ﴿اَلَاۤ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُمَارُوۡنَ فِي السَّاعَةِ ﴾ ’’آگاہ رہو! جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔‘‘ یعنی قیامت میں شک کرنے کے علاوہ قیامت کے بارے میں انبیاء اور ان کے پیرو کاروں سے جھگڑا کرتے ہیں، پس وہ دور کی مخالفت میں ہیں، یعنی صواب و درستی کے قریب نہیں ہیں بلکہ حق سے انتہائی دور معاندانہ اور مخاصمانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں ۔ اس شخص سے بڑھ کر حق سے کون دور ہو سکتا ہے جس نے آخرت کے گھر کو جھٹلایا، جو حقیقی گھر ہے جو دائمی طور پر باقی رہنے اور خلود سرمدی کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور وہ دارالجزا ہے ، جہاں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و عدل کو ظاہر کرے گا۔ دنیا کے گھر کی اس دائمی گھر سے بس اتنی سی نسبت ہے جیسے کوئی مسافر درخت کے سائے تلے آرام کرے ، پھر اس سایہ دار درخت کو چھوڑ کر کوچ کر جائے۔ یہ تو عبوری گھر اور گزرگاہ ہے، ہمیشہ رہنے کا ٹھکانا نہیں۔ چونکہ انھوں نے اس دارفانی کو دیکھا اور اس کا مشاہدہ کیا اس لیے انھوں نے اس کی تصدیق کی اور آخرت کے گھر کو جھٹلایا، جس کے بارے میں کتب الٰہیہ میں تواتر کے ساتھ اخبار وارد ہوئی ہیں اور انبیائے کرام علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں نے آگاہ کیا، جو عقل میں سب سے زیادہ کامل، علم میں سب زیادہ وسعت کے حامل اور سب سے زیادہ فہم و فطانت رکھنے والے نفوس قدسیہ ہیں۔
42:18يَسۡتَعۡجِلُ بِهَا ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِهَاۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مُشۡفِقُونَ مِنۡهَا وَيَعۡلَمُونَ أَنَّهَا ٱلۡحَقُّۗ أَلَآ إِنَّ ٱلَّذِينَ يُمَارُونَ فِي ٱلسَّاعَةِ لَفِي ضَلَٰلِۭ بَعِيدٍ
اللہ وہ ہے جس نے نازل کی کتاب ساتھ حق کے اور ترازو اور کیا معلوم آپ کو شاید قیامت قریب ہی ہو (17) جلدی مانگتے ہیں اس (قیامت) کو وہ لوگ جو نہیں ایمان رکھتے اس پر اور وہ لوگ جو ایمان لائے، ڈرنے والے ہیں اس سے، اور وہ جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے، آگاہ رہو! بلاشبہ وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں قیامت کے بارے میں، البتہ وہ دور کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں (18)
[17] یہ واضح کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کے دلائل واضح اور روشن ہیں، کیونکہ ہر وہ شخص ان کو قبول کرتا ہے جس میں کچھ بھی بھلائی ہے، ان کا قاعدہ اور اصول بیان کیا بلکہ تمام دلائل بیان کیے جو اس نے بندوں کو عطا کیے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ وَالۡمِيۡزَانَ ﴾ ’’اللہ ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور میزان۔‘‘ کتاب سے مراد قرآن عظیم ہے، جو حق کے ساتھ نازل ہوا اور حق، صدق اور یقین پر مشتمل ہے۔ تمام مطالب الٰہیہ اور عقائد دینیہ کے بارے میں وہ روشن نشانیوں اور واضح دلائل پر مشتمل ہے یہ کتاب عظیم بہترین مسائل اور واضح ترین دلائل لے کر آئی ہے۔ میزان سے مراد قیاس صحیح اور عقل راجح کے ذریعے سے عدل و تعبیر ہے ، چنانچہ تمام عقلی دلائل یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیاں، شرعی تعبیرات، مناسبات، علتیں، احکام اور حکمتیں، میزان میں داخل ہیں، جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرما کر بندوں کے سامنے پیش کیا ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے ان امور کا وزن کریں جن کا اللہ تعالیٰ نے اثبات کیا ہے یا جن کی اس نے نفی کی ہے اور ان امور کو پہچانیں جن کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے خبر دی ہے اور ان امور کو پہچانیں جو کتاب اور میزان پر پورے نہیں اترتے اور جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ حجت، برہان یا دلیل یا اس قسم کی کوئی تعبیر ہے کیونکہ یہ سب باطل اور متناقض ہیں ۔ ان کے اصول فاسد اور ان کی بنیاد اور ان کی فروع منہدم ہو گئے۔ اس میزان کے ذریعے سے مسائل کی خبر اور اس کے ماخذ کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے دلائل راجحہ اور دلائل مرجوحہ کے درمیان امتیاز اور اس کے ذریعے سے دلائل اور شبہات کے درمیان فرق کیا جاتا ہے۔ رہا وہ شخص جو آراستہ عبارات، ملمع شدہ خوبصورت الفاظ کے فریب میں مبتلا ہو کر معنیٔ مراد میں بصیرت حاصل نہیں کرتا تو وہ اس شان کے لوگوں میں شامل ہے نہ اس میدان کا شاہسوار ہے۔ پس اس کی موافقت اور مخالفت برابر ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے لیے جلدی مچانے والوں اور اس کا انکار کرنے والوں کو ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو۔‘‘ یعنی اس کے دور ہونے کا علم ہے نہ یہ معلوم ہے کہ وہ کب قائم ہو گی؟ پس اس کا وقوع ہر وقت متوقع ہے اور اس کے واقع ہونے کی آواز بہت خوفناک ہو گی۔
[18]﴿يَسۡتَعۡجِلُ بِهَا الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهَا ﴾ ’’اس کی جلدی انھیں پڑی ہے جو اسے نہیں مانتے۔‘‘ یعنی منکرین حق عناد اور تکذیب کے طور پر اور اپنے رب کو قیامت قائم کرنے سے عاجز سمجھتے ہوئے قیامت کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مُشۡفِقُوۡنَ مِنۡهَا ﴾ ’’اور اہل ایمان اس سے ڈرتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کے ڈرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ قیامت کے روز اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی اور وہ اپنے رب کی مغفرت کی بنا پر ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اعمال نجات کے حصول میں مدد نہ کر سکیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّهَا الۡحَقُّ ﴾ ’’اور وہ جانتے ہیں کہ یہ حق ہے۔‘‘ جس میں کوئی جھگڑا ہے نہ شک۔ ﴿اَلَاۤ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُمَارُوۡنَ فِي السَّاعَةِ ﴾ ’’آگاہ رہو! جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔‘‘ یعنی قیامت میں شک کرنے کے علاوہ قیامت کے بارے میں انبیاء اور ان کے پیرو کاروں سے جھگڑا کرتے ہیں، پس وہ دور کی مخالفت میں ہیں، یعنی صواب و درستی کے قریب نہیں ہیں بلکہ حق سے انتہائی دور معاندانہ اور مخاصمانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں ۔ اس شخص سے بڑھ کر حق سے کون دور ہو سکتا ہے جس نے آخرت کے گھر کو جھٹلایا، جو حقیقی گھر ہے جو دائمی طور پر باقی رہنے اور خلود سرمدی کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور وہ دارالجزا ہے ، جہاں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و عدل کو ظاہر کرے گا۔ دنیا کے گھر کی اس دائمی گھر سے بس اتنی سی نسبت ہے جیسے کوئی مسافر درخت کے سائے تلے آرام کرے ، پھر اس سایہ دار درخت کو چھوڑ کر کوچ کر جائے۔ یہ تو عبوری گھر اور گزرگاہ ہے، ہمیشہ رہنے کا ٹھکانا نہیں۔ چونکہ انھوں نے اس دارفانی کو دیکھا اور اس کا مشاہدہ کیا اس لیے انھوں نے اس کی تصدیق کی اور آخرت کے گھر کو جھٹلایا، جس کے بارے میں کتب الٰہیہ میں تواتر کے ساتھ اخبار وارد ہوئی ہیں اور انبیائے کرام علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں نے آگاہ کیا، جو عقل میں سب سے زیادہ کامل، علم میں سب زیادہ وسعت کے حامل اور سب سے زیادہ فہم و فطانت رکھنے والے نفوس قدسیہ ہیں۔
42:19ٱللَّهُ لَطِيفُۢ بِعِبَادِهِۦ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُۖ وَهُوَ ٱلۡقَوِيُّ ٱلۡعَزِيزُ
اللہ بہت مہربان ہے اپنے بندوں کے ساتھ، وہ رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ خوب طاقت ور، زبردست ہے(19) جو شخص ارادہ کرتا ہے آخرت کی کھیتی کا، زیادتی کرتے ہیں ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اور جو شخص ارادہ کرتا ہے دنیا کی کھیتی کا، دیتے ہیں ہم اس کو اس میں سے کچھ اور نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ (20)
[19] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے لطف و کرم سے آگاہ فرماتا ہے تاکہ وہ اسے پہچانیں ، اس سے محبت کریں اور اس کے فضل و کرم کے حصول کے درپے رہیں۔لطف اللہ تعالیٰ کے اوصاف میں سے ایک وصف ہے جس سے مراد وہ ہستی ہے جو ضمائر اور نیتوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو بھی جانتی ہے، جو اپنے بندوں کو، خاص طور پر اہل ایمان کو اس مقام تک پہنچاتی ہے جس کے بارے میں انھیں کوئی علم ہوتا ہے نہ گمان۔ یہ بندۂ مومن پر اس کا لطف و کرم ہے کہ اس نے بھلائی کے اسباب مہیا کر کے اسے بھلائی کی راہ دکھائی، جس کا اس کے دل میں خیال تک نہیں آتا، اس کی فطرت میں موجود یہ اسباب محبت حق اور اس کی اطاعت کی طرف بلاتے ہیں، نیز یہ کہ اس نے اپنے مکرم فرشتوں کو الہام کیا کہ وہ اس کے مومن بندوں کو ثابت قدم رکھیں، انھیں بھلائی کی ترغیب دیں، ان کے دلوں میں حق کو مزین کریں تاکہ یہ تزیین حق، اتباع حق کی دعوت دے۔ یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اہل ایمان کو اجتماعی عبادات کا حکم دیا جن کے ذریعے سے ان کے عزائم میں قوت آتی ہے، ان کی ہمتیں بیدار ہوتی ہیں ،بھلائی میں رغبت پیدا ہوتی ہے، بھلائی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور ایک دوسرے کی پیروی کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندے کو ہر سبب مہیا کیا جو اسے معاصی سے باز رکھتا ہے اور اس کے اور معاصی کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر اللہ تعالیٰ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ دنیا، مال و متاع اور ریاست وغیرہ، جس کی خاطر دنیا دار ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے بندے کو اس کی اطاعت سے دور کر دے گی یا اس میں غفلت پیدا کر دے گی یا اسے معصیت پر ابھارے گی، تو وہ اس دنیا کو اس سے دور ہٹا دیتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے اور اپنے لطف و کرم کے مطابق جسے چاہتا ہے رزق سے بہرہ مند کرتا ہے ﴿وَهُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ بہت قوت والا، نہایت غالب ہے۔‘‘ وہ تمام قوت کا مالک ہے اس کی مدد کے بغیر مخلوق میں کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔اسی کے سامنے کائنات سرنگوں ہے۔
[20] پھر فرمایا: ﴿مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ حَرۡثَ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی آخرت کا اجروثواب چاہتے ہوئے اس پر ایمان لاتا ہے، اس کی تصدیق کرتا ہے اور اس کے حصول کے لیے پوری طرح کوشاں رہتا ہے ﴿نَزِدۡ لَهٗ فِيۡ حَرۡثِهٖ﴾ ’’ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کر دیتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم اس کے عمل اور اس کی جزا کو کئی گنا کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعۡيَهَا وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعۡيُهُمۡ مَّشۡكُوۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍19) ’’جو کوئی آخرت کا گھر چاہتا ہے اور اس کے لیے کوشش کرے جیسا کہ کوشش کا حق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔‘‘ اس کے باوجود دنیا میں سے اس کے لیے مقرر کیا گیا حصہ اسے ضرور ملے گا۔ ﴿وَمَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ حَرۡثَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے۔‘‘ یعنی دنیا ہی اس کا مطلوب و مقصود ہو، آخرت کے لیے کچھ بھی آگے نہ بھیجے، اسے آخرت کے ثواب کی امید ہے نہ اس کے عذاب کا ڈر۔ ﴿نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا ﴾ تو ہم اسے دنیا میں سے اس کا حصہ عطا کرتے ہیں جو اس کے لیے مقرر ہے۔ ﴿وَمَا لَهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ مِنۡ نَّصِيۡبٍ ﴾ ’’اور اس کے لیے آخرت کا کچھ حصہ نہیں ہوگا۔‘‘ اس پر جنت حرام کر دی گئی اور وہ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کا مستحق ٹھہرا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے: ﴿مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيۡهِمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فِيۡهَا وَهُمۡ فِيۡهَا لَا يُبۡخَسُوۡنَ ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَيۡسَ لَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖٞ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِيۡهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(ہود:11؍15، 16) ’’جو لوگ اس دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کے طلب گار ہیں ہم انھیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ اسی دنیا میں عطا کر دیتے ہیں اور اس میں ان کو کوئی گھاٹا نہیں دیا جاتا۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں کیا تھا، وہ سب اکارت ہے اور جو کچھ وہ کرتے تھے، سب برباد ہونے والا ہے۔‘‘
42:20مَن كَانَ يُرِيدُ حَرۡثَ ٱلۡأٓخِرَةِ نَزِدۡ لَهُۥ فِي حَرۡثِهِۦۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرۡثَ ٱلدُّنۡيَا نُؤۡتِهِۦ مِنۡهَا وَمَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ
اللہ بہت مہربان ہے اپنے بندوں کے ساتھ، وہ رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ خوب طاقت ور، زبردست ہے(19) جو شخص ارادہ کرتا ہے آخرت کی کھیتی کا، زیادتی کرتے ہیں ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اور جو شخص ارادہ کرتا ہے دنیا کی کھیتی کا، دیتے ہیں ہم اس کو اس میں سے کچھ اور نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ (20)
[19] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے لطف و کرم سے آگاہ فرماتا ہے تاکہ وہ اسے پہچانیں ، اس سے محبت کریں اور اس کے فضل و کرم کے حصول کے درپے رہیں۔لطف اللہ تعالیٰ کے اوصاف میں سے ایک وصف ہے جس سے مراد وہ ہستی ہے جو ضمائر اور نیتوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو بھی جانتی ہے، جو اپنے بندوں کو، خاص طور پر اہل ایمان کو اس مقام تک پہنچاتی ہے جس کے بارے میں انھیں کوئی علم ہوتا ہے نہ گمان۔ یہ بندۂ مومن پر اس کا لطف و کرم ہے کہ اس نے بھلائی کے اسباب مہیا کر کے اسے بھلائی کی راہ دکھائی، جس کا اس کے دل میں خیال تک نہیں آتا، اس کی فطرت میں موجود یہ اسباب محبت حق اور اس کی اطاعت کی طرف بلاتے ہیں، نیز یہ کہ اس نے اپنے مکرم فرشتوں کو الہام کیا کہ وہ اس کے مومن بندوں کو ثابت قدم رکھیں، انھیں بھلائی کی ترغیب دیں، ان کے دلوں میں حق کو مزین کریں تاکہ یہ تزیین حق، اتباع حق کی دعوت دے۔ یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اہل ایمان کو اجتماعی عبادات کا حکم دیا جن کے ذریعے سے ان کے عزائم میں قوت آتی ہے، ان کی ہمتیں بیدار ہوتی ہیں ،بھلائی میں رغبت پیدا ہوتی ہے، بھلائی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور ایک دوسرے کی پیروی کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندے کو ہر سبب مہیا کیا جو اسے معاصی سے باز رکھتا ہے اور اس کے اور معاصی کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر اللہ تعالیٰ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ دنیا، مال و متاع اور ریاست وغیرہ، جس کی خاطر دنیا دار ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے بندے کو اس کی اطاعت سے دور کر دے گی یا اس میں غفلت پیدا کر دے گی یا اسے معصیت پر ابھارے گی، تو وہ اس دنیا کو اس سے دور ہٹا دیتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے اور اپنے لطف و کرم کے مطابق جسے چاہتا ہے رزق سے بہرہ مند کرتا ہے ﴿وَهُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ بہت قوت والا، نہایت غالب ہے۔‘‘ وہ تمام قوت کا مالک ہے اس کی مدد کے بغیر مخلوق میں کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔اسی کے سامنے کائنات سرنگوں ہے۔
[20] پھر فرمایا: ﴿مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ حَرۡثَ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی آخرت کا اجروثواب چاہتے ہوئے اس پر ایمان لاتا ہے، اس کی تصدیق کرتا ہے اور اس کے حصول کے لیے پوری طرح کوشاں رہتا ہے ﴿نَزِدۡ لَهٗ فِيۡ حَرۡثِهٖ﴾ ’’ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کر دیتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم اس کے عمل اور اس کی جزا کو کئی گنا کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعۡيَهَا وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعۡيُهُمۡ مَّشۡكُوۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍19) ’’جو کوئی آخرت کا گھر چاہتا ہے اور اس کے لیے کوشش کرے جیسا کہ کوشش کا حق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔‘‘ اس کے باوجود دنیا میں سے اس کے لیے مقرر کیا گیا حصہ اسے ضرور ملے گا۔ ﴿وَمَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ حَرۡثَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے۔‘‘ یعنی دنیا ہی اس کا مطلوب و مقصود ہو، آخرت کے لیے کچھ بھی آگے نہ بھیجے، اسے آخرت کے ثواب کی امید ہے نہ اس کے عذاب کا ڈر۔ ﴿نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا ﴾ تو ہم اسے دنیا میں سے اس کا حصہ عطا کرتے ہیں جو اس کے لیے مقرر ہے۔ ﴿وَمَا لَهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ مِنۡ نَّصِيۡبٍ ﴾ ’’اور اس کے لیے آخرت کا کچھ حصہ نہیں ہوگا۔‘‘ اس پر جنت حرام کر دی گئی اور وہ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کا مستحق ٹھہرا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے: ﴿مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيۡهِمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فِيۡهَا وَهُمۡ فِيۡهَا لَا يُبۡخَسُوۡنَ ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَيۡسَ لَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖٞ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِيۡهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(ہود:11؍15، 16) ’’جو لوگ اس دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کے طلب گار ہیں ہم انھیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ اسی دنیا میں عطا کر دیتے ہیں اور اس میں ان کو کوئی گھاٹا نہیں دیا جاتا۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں کیا تھا، وہ سب اکارت ہے اور جو کچھ وہ کرتے تھے، سب برباد ہونے والا ہے۔‘‘
42:21أَمۡ لَهُمۡ شُرَكَـٰٓؤُاْ شَرَعُواْ لَهُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا لَمۡ يَأۡذَنۢ بِهِ ٱللَّهُۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةُ ٱلۡفَصۡلِ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۗ وَإِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
کیا ان کے لیے(اور) شریک ہیں جنھوں نے مقرر کیا ہے ان کے لیے وہ دین کہ نہیں حکم دیا اس کا اللہ نے، اور اگر نہ ہوتی بات فیصلہ کرنے(کے وعدے)کی تو یقیناً (فوراً ہی) فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان، اور بلاشبہ ظالم لوگ، ان کے لیے عذاب ہے درد ناک (21) آپ دیکھیں گے ظالموں کو، ڈررہے ہوں گے ان (عملوں کی جزا سے) جو انھوں نے کمائے اور وہ (جزا ضرور) واقع ہو گی ان پر اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، وہ سبزہ زاروں میں ہوں گے باغوں کے، ان کے لیے ہو گا جو وہ چاہیں گے اپنے رب کے پاس، یہی ہے وہ فضل بہت بڑا (22) یہ (فضل) وہی ہے جس کی خوش خبری دیتا ہے اللہ اپنے بندوں کو، وہ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، کہہ دیجیے: نہیں سوال کرتا میں تم سے اس پر کسی صلے کا، مگر محبت کا رشتے داری کی وجہ سے اور جو شخص کماتا ہے کوئی نیکی تو زیادہ کرتے ہیں ہم اس کے لیے اس میں بھلائی کو، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت قدردان ہے (23)
[21] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے شریک بنا لیے جن کے ساتھ وہ دوستی رکھتے ہیں اور وہ کفر کے داعی انسانی شیاطین کے ساتھ کفر اور اعمال کفر میں شریک ہیں ﴿شَرَعُوۡا لَهُمۡ مِّنَ الدِّيۡنِ مَا لَمۡ يَاۡذَنۢۡ بِهِ اللّٰهُ ﴾ ’’انھوں نے ان کے لیے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا اللہ نے انھیں حکم نہیں دیا۔‘‘ یعنی شرک اور بدعات کو رواج دیا، اپنی خواہشات نفس کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا اور اس کی محرمات کو حلال قرار دیا، حالانکہ دین وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ دین قرار دے تاکہ لوگ اسے دین بنائیں اور اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کریں ۔اس بارے میں اصول یہ ہے کہ ہر شخص کے لیے کسی ایسی چیز کو شریعت قرار دینا ممنوع ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے نہ آئی ہو… تب ان فساق کو شریعت سازی کا کیوں کر اختیار دیا جا سکتا ہے جو کفار کے کفر میں شریک ہیں۔ ﴿وَلَوۡلَا كَلِمَةُ الۡفَصۡلِ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر پہلے سے طے شدہ بات نہ ہوتی تو ان کے درمیان ضرور فیصلہ کیا جاچکا ہوتا۔‘‘ یعنی اگر مدت مقرر نہ کر دی گئی ہوتی جسے اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے والے تمام گروہوں کے درمیان فیصلہ کن قرار دیا ہے نیز یہ کہ وہ ان تمام لوگوں کو اس مدت تک مہلت دے گا تو اللہ تعالیٰ اسی وقت حق پرست کی سعادت اور باطل پرست کی ہلاکت کا فیصلہ کر دیتا کیونکہ ہلاکت کا تقاضا موجود ہے، مگر ان لوگوں کو اور ہر ظالم کو آخرت میں دردناک عذاب کا سامنا کرنا ہے۔
[22] اس روز ﴿تَرَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تم ظالموں کو دیکھو گے۔‘‘ جنھوں نے کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿مُشۡفِقِيۡنَ ﴾ یعنی ڈر رہے ہوں گے ﴿مِمَّا كَسَبُوۡا ﴾ ’’اس (انجام) سے جو انھوں نے (اپنے اعمال سے) کیا۔‘‘ کہ انھیں اپنی بداعمالیوں کی سزا ملے گی۔ چونکہ ڈرنے والے کے ساتھ کبھی تو وہ چیز پیش آجاتی ہے جس سے ڈرتا ہے اور کبھی وہ چیز پیش نہیں آتی اس لیے آگاہ فرمایا کہ وہ ﴿ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ عذاب ان پر ضرور واقع ہو گا جس سے وہ ڈرتے ہیں۔ کیونکہ اس نے اس کامل سبب کو اختیار کیا ہے جو عذاب کا موجب ہے اور اس موجب عذاب کا کوئی معارض بھی نہیں، مثلاً: توبہ وغیرہ۔ مزید برآں وہ ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں مہلت کا وقت گزر گیا ہے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ اور وہ لوگ جو اپنے دل سے اللہ تعالیٰ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور اس کا اظہار کیا۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’او ر عمل کیے نیک۔‘‘ اس میں اعمال قلوب، اعمال جوارح، اعمال واجبہ اور اعمال مستحبہ سب شامل ہیں، لہٰذا یہ لوگ ﴿فِيۡ رَوۡضٰتِ الۡجَنّٰتِ ﴾ ’’بہشتوں کے باغات میں ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ ان باغات میں ہوں گے جو جنت کی طرف مضاف (منسوب) ہیں اور مضاف، مضاف الیہ کے مطابق ہوتا ہے۔مت پوچھیے کہ ان خوبصورت باغات کی خوبصورتی، ان میں اچھل اچھل کر بہتی ہوئی ندیاں، بیلوں سے ڈھکے ہوئے درخت کے جھنڈ، حسین مناظر، پھلوں سے لدے ہوئے درخت، چہچہاتے ہوئے پرندے، طرب انگیز آوازیں، تمام دوستوں سے ملاقاتیں اور اس ہم نشینی سے حاصل ہونے والا بہرۂ کامل کیسا ہو گا؟ وہ ایسے باغات ہوں گے کہ دور دور تک حسن ہی حسن ہو گا، ان باغات کے رہنے والوں میں ان باغات کی لذات کی چاہت اور اشتیاق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿لَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ ﴾ یعنی ان باغات میں وہ جس چیز کا ارادہ کریں گے وہ فوراً انھیں حاصل ہو گی اور جب بھی طلب کریں گے حاضر کر دی جائے گی، جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے طائر خیال میں اس کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَضۡلُ الۡكَبِيۡرُ ﴾ ’’یہی ہے بہت بڑا فضل۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں کامیابی اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر میں اس کے تقرب کی نعمت سے بہرہ مند ہونے سے بڑھ کر بھی کوئی فضل ہے؟
[23]﴿ذٰلِكَ الَّذِيۡ يُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’یہی وہ ہے جس کی اللہ اپنے بندوں کو جو ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں بشارت دیتا ہے۔‘‘ یہ عظیم خوشخبری جو بلاشبہ علی الاطلاق سب سے بڑی خوشخبری ہے، جس سے رحمان و رحیم نے، مخلوق میں سے بہترین ہستی کے ذریعے سے ایمان اور عمل صالح کے حاملین کو سرفراز فرمایا ہے۔ یہ جلیل ترین غایت مقصود ہے اور اس مقصد تک پہنچانے والا وسیلہ افضل ترین وسیلہ ہے۔ ﴿قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے! میں اس پر تم سے کوئی سوال نہیں کرتا۔‘‘ یعنی تمھیں یہ قرآن پہنچانے اور تمھیں اس کے احکام کی طرف دعوت دینے پر ﴿اَجۡرًا ﴾ ’’اجر کا۔‘‘ میں تم سے تمھارا مال لینا چاہتا ہوں نہ تمھارا سردار بننا چاہتا ہوں اور نہ میری کوئی اور ہی غرض ہے ﴿اِلَّا الۡمَوَدَّةَ فِي الۡقُرۡبٰى﴾ ’’مگر قرابت داری کی محبت۔‘‘ ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد ہو کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے ایک اجر کے، وہ تمھارے ہی لیے ہے، اس کا فائدہ بھی تمھیں ہی پہنچتا ہے ، یعنی تم مجھ سے رشتہ داری کی وجہ سے محبت کرو اور یہ مودت، ایمان کی مودت سے زائد چیز ہے کیونکہ رسول (ﷺ) پر ایمان کی مودت اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے بعد رسول کی محبت کو تمام محبتوں پر مقدم رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اور ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایمان کی محبت زائد قرابت داری کی بنا پر اس سے محبت کرو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے قریب ترین رشتہ داروں تک اپنی دعوت پہنچائی۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ قریش کے گھرانوں میں کوئی ایسا گھرانہ نہ تھا جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی رشتہ داری نہ ہو ۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچی مودت و محبت ہو اور یہ ایسی محبت ہے جس کی مصاحبت میں تقرب الٰہی اور توسل ہوتے ہیں جن کی بنیاد اطاعت ہے، جو اس مودت و محبت کی صحت و صداقت کی دلیل ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الۡمَوَدَّةَ فِي الۡقُرۡبٰى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف تقرب حاصل کرنے کے لیے۔ دونوں اقوال کے مطابق، یہ استثنا اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اکرم ﷺ تم سے اس پر کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتے، سوائے اس چیز کے کہ جس کا فائدہ خود تمھی کی طرف لوٹتا ہے۔ یہ کسی بھی طرح کوئی اجر نہیں، بلکہ یہ تو ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اجر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ﴾(البروج:85؍8) ’’وہ اہل ایمان سے صرف اس وجہ سے ناراض ہیں کہ وہ اللہ پر ایمان لائے، جو زبردست اور قابل تعریف ہے۔‘‘ اور جیسے کسی کا یہ کہنا:تمھارے نزدیک فلاں شخص کا بس یہی گناہ ہے کہ وہ تمھارے ساتھ بھلائی کرنے والا ہے۔ ﴿وَمَنۡ يَّقۡتَرِفۡ حَسَنَةً ﴾ ’’اور جو کوئی نیکی کاکام کرے گا۔‘‘ یعنی نماز، روزہ اور حج پر کاربند رہتا ہے اور مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے۔ ﴿نَّزِدۡ لَهٗ فِيۡهَا حُسۡنًا ﴾ ’’ہم اس کے لیے اس میں بھلائی بڑھا دیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اس کے سینے کو کھول دیتا ہے، اس کے معاملے کو آسان کر دیتا ہے اور یہ نیکی کسی دوسرے نیک عمل کی توفیق کا ذریعہ بن جاتی ہے اور اس ذریعے سے مومن کے اعمال صالحہ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے نزدیک اس کا مرتبہ بلند ہو جاتا ہے اور وہ دنیاوی اور اخروی ثواب سے بہرہ مند ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ شَكُوۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بہت قدردان ہے۔‘‘ وہ توبہ کرنے پر تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ وہ تھوڑے سے عمل پر بہت زیادہ اجر عطا کر کے اس عمل کی قدر دانی کرتا ہے۔ پس وہ اپنی مغفرت کے ذریعے سے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور عیبوں کو چھپاتا ہے اور اپنی قدر دانی کی بنا پر نیکیوں کو قبول کر کے ان میں کئی گنا اضافہ کرتا ہے۔
42:22تَرَى ٱلظَّـٰلِمِينَ مُشۡفِقِينَ مِمَّا كَسَبُواْ وَهُوَ وَاقِعُۢ بِهِمۡۗ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ فِي رَوۡضَاتِ ٱلۡجَنَّاتِۖ لَهُم مَّا يَشَآءُونَ عِندَ رَبِّهِمۡۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡكَبِيرُ
کیا ان کے لیے(اور) شریک ہیں جنھوں نے مقرر کیا ہے ان کے لیے وہ دین کہ نہیں حکم دیا اس کا اللہ نے، اور اگر نہ ہوتی بات فیصلہ کرنے(کے وعدے)کی تو یقیناً (فوراً ہی) فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان، اور بلاشبہ ظالم لوگ، ان کے لیے عذاب ہے درد ناک (21) آپ دیکھیں گے ظالموں کو، ڈررہے ہوں گے ان (عملوں کی جزا سے) جو انھوں نے کمائے اور وہ (جزا ضرور) واقع ہو گی ان پر اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، وہ سبزہ زاروں میں ہوں گے باغوں کے، ان کے لیے ہو گا جو وہ چاہیں گے اپنے رب کے پاس، یہی ہے وہ فضل بہت بڑا (22) یہ (فضل) وہی ہے جس کی خوش خبری دیتا ہے اللہ اپنے بندوں کو، وہ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، کہہ دیجیے: نہیں سوال کرتا میں تم سے اس پر کسی صلے کا، مگر محبت کا رشتے داری کی وجہ سے اور جو شخص کماتا ہے کوئی نیکی تو زیادہ کرتے ہیں ہم اس کے لیے اس میں بھلائی کو، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت قدردان ہے (23)
[21] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے شریک بنا لیے جن کے ساتھ وہ دوستی رکھتے ہیں اور وہ کفر کے داعی انسانی شیاطین کے ساتھ کفر اور اعمال کفر میں شریک ہیں ﴿شَرَعُوۡا لَهُمۡ مِّنَ الدِّيۡنِ مَا لَمۡ يَاۡذَنۢۡ بِهِ اللّٰهُ ﴾ ’’انھوں نے ان کے لیے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا اللہ نے انھیں حکم نہیں دیا۔‘‘ یعنی شرک اور بدعات کو رواج دیا، اپنی خواہشات نفس کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا اور اس کی محرمات کو حلال قرار دیا، حالانکہ دین وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ دین قرار دے تاکہ لوگ اسے دین بنائیں اور اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کریں ۔اس بارے میں اصول یہ ہے کہ ہر شخص کے لیے کسی ایسی چیز کو شریعت قرار دینا ممنوع ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے نہ آئی ہو… تب ان فساق کو شریعت سازی کا کیوں کر اختیار دیا جا سکتا ہے جو کفار کے کفر میں شریک ہیں۔ ﴿وَلَوۡلَا كَلِمَةُ الۡفَصۡلِ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر پہلے سے طے شدہ بات نہ ہوتی تو ان کے درمیان ضرور فیصلہ کیا جاچکا ہوتا۔‘‘ یعنی اگر مدت مقرر نہ کر دی گئی ہوتی جسے اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے والے تمام گروہوں کے درمیان فیصلہ کن قرار دیا ہے نیز یہ کہ وہ ان تمام لوگوں کو اس مدت تک مہلت دے گا تو اللہ تعالیٰ اسی وقت حق پرست کی سعادت اور باطل پرست کی ہلاکت کا فیصلہ کر دیتا کیونکہ ہلاکت کا تقاضا موجود ہے، مگر ان لوگوں کو اور ہر ظالم کو آخرت میں دردناک عذاب کا سامنا کرنا ہے۔
[22] اس روز ﴿تَرَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تم ظالموں کو دیکھو گے۔‘‘ جنھوں نے کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿مُشۡفِقِيۡنَ ﴾ یعنی ڈر رہے ہوں گے ﴿مِمَّا كَسَبُوۡا ﴾ ’’اس (انجام) سے جو انھوں نے (اپنے اعمال سے) کیا۔‘‘ کہ انھیں اپنی بداعمالیوں کی سزا ملے گی۔ چونکہ ڈرنے والے کے ساتھ کبھی تو وہ چیز پیش آجاتی ہے جس سے ڈرتا ہے اور کبھی وہ چیز پیش نہیں آتی اس لیے آگاہ فرمایا کہ وہ ﴿ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ عذاب ان پر ضرور واقع ہو گا جس سے وہ ڈرتے ہیں۔ کیونکہ اس نے اس کامل سبب کو اختیار کیا ہے جو عذاب کا موجب ہے اور اس موجب عذاب کا کوئی معارض بھی نہیں، مثلاً: توبہ وغیرہ۔ مزید برآں وہ ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں مہلت کا وقت گزر گیا ہے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ اور وہ لوگ جو اپنے دل سے اللہ تعالیٰ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور اس کا اظہار کیا۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’او ر عمل کیے نیک۔‘‘ اس میں اعمال قلوب، اعمال جوارح، اعمال واجبہ اور اعمال مستحبہ سب شامل ہیں، لہٰذا یہ لوگ ﴿فِيۡ رَوۡضٰتِ الۡجَنّٰتِ ﴾ ’’بہشتوں کے باغات میں ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ ان باغات میں ہوں گے جو جنت کی طرف مضاف (منسوب) ہیں اور مضاف، مضاف الیہ کے مطابق ہوتا ہے۔مت پوچھیے کہ ان خوبصورت باغات کی خوبصورتی، ان میں اچھل اچھل کر بہتی ہوئی ندیاں، بیلوں سے ڈھکے ہوئے درخت کے جھنڈ، حسین مناظر، پھلوں سے لدے ہوئے درخت، چہچہاتے ہوئے پرندے، طرب انگیز آوازیں، تمام دوستوں سے ملاقاتیں اور اس ہم نشینی سے حاصل ہونے والا بہرۂ کامل کیسا ہو گا؟ وہ ایسے باغات ہوں گے کہ دور دور تک حسن ہی حسن ہو گا، ان باغات کے رہنے والوں میں ان باغات کی لذات کی چاہت اور اشتیاق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿لَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ ﴾ یعنی ان باغات میں وہ جس چیز کا ارادہ کریں گے وہ فوراً انھیں حاصل ہو گی اور جب بھی طلب کریں گے حاضر کر دی جائے گی، جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے طائر خیال میں اس کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَضۡلُ الۡكَبِيۡرُ ﴾ ’’یہی ہے بہت بڑا فضل۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں کامیابی اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر میں اس کے تقرب کی نعمت سے بہرہ مند ہونے سے بڑھ کر بھی کوئی فضل ہے؟
[23]﴿ذٰلِكَ الَّذِيۡ يُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’یہی وہ ہے جس کی اللہ اپنے بندوں کو جو ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں بشارت دیتا ہے۔‘‘ یہ عظیم خوشخبری جو بلاشبہ علی الاطلاق سب سے بڑی خوشخبری ہے، جس سے رحمان و رحیم نے، مخلوق میں سے بہترین ہستی کے ذریعے سے ایمان اور عمل صالح کے حاملین کو سرفراز فرمایا ہے۔ یہ جلیل ترین غایت مقصود ہے اور اس مقصد تک پہنچانے والا وسیلہ افضل ترین وسیلہ ہے۔ ﴿قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے! میں اس پر تم سے کوئی سوال نہیں کرتا۔‘‘ یعنی تمھیں یہ قرآن پہنچانے اور تمھیں اس کے احکام کی طرف دعوت دینے پر ﴿اَجۡرًا ﴾ ’’اجر کا۔‘‘ میں تم سے تمھارا مال لینا چاہتا ہوں نہ تمھارا سردار بننا چاہتا ہوں اور نہ میری کوئی اور ہی غرض ہے ﴿اِلَّا الۡمَوَدَّةَ فِي الۡقُرۡبٰى﴾ ’’مگر قرابت داری کی محبت۔‘‘ ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد ہو کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے ایک اجر کے، وہ تمھارے ہی لیے ہے، اس کا فائدہ بھی تمھیں ہی پہنچتا ہے ، یعنی تم مجھ سے رشتہ داری کی وجہ سے محبت کرو اور یہ مودت، ایمان کی مودت سے زائد چیز ہے کیونکہ رسول (ﷺ) پر ایمان کی مودت اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے بعد رسول کی محبت کو تمام محبتوں پر مقدم رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اور ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایمان کی محبت زائد قرابت داری کی بنا پر اس سے محبت کرو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے قریب ترین رشتہ داروں تک اپنی دعوت پہنچائی۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ قریش کے گھرانوں میں کوئی ایسا گھرانہ نہ تھا جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی رشتہ داری نہ ہو ۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچی مودت و محبت ہو اور یہ ایسی محبت ہے جس کی مصاحبت میں تقرب الٰہی اور توسل ہوتے ہیں جن کی بنیاد اطاعت ہے، جو اس مودت و محبت کی صحت و صداقت کی دلیل ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الۡمَوَدَّةَ فِي الۡقُرۡبٰى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف تقرب حاصل کرنے کے لیے۔ دونوں اقوال کے مطابق، یہ استثنا اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اکرم ﷺ تم سے اس پر کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتے، سوائے اس چیز کے کہ جس کا فائدہ خود تمھی کی طرف لوٹتا ہے۔ یہ کسی بھی طرح کوئی اجر نہیں، بلکہ یہ تو ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اجر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ﴾(البروج:85؍8) ’’وہ اہل ایمان سے صرف اس وجہ سے ناراض ہیں کہ وہ اللہ پر ایمان لائے، جو زبردست اور قابل تعریف ہے۔‘‘ اور جیسے کسی کا یہ کہنا:تمھارے نزدیک فلاں شخص کا بس یہی گناہ ہے کہ وہ تمھارے ساتھ بھلائی کرنے والا ہے۔ ﴿وَمَنۡ يَّقۡتَرِفۡ حَسَنَةً ﴾ ’’اور جو کوئی نیکی کاکام کرے گا۔‘‘ یعنی نماز، روزہ اور حج پر کاربند رہتا ہے اور مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے۔ ﴿نَّزِدۡ لَهٗ فِيۡهَا حُسۡنًا ﴾ ’’ہم اس کے لیے اس میں بھلائی بڑھا دیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اس کے سینے کو کھول دیتا ہے، اس کے معاملے کو آسان کر دیتا ہے اور یہ نیکی کسی دوسرے نیک عمل کی توفیق کا ذریعہ بن جاتی ہے اور اس ذریعے سے مومن کے اعمال صالحہ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے نزدیک اس کا مرتبہ بلند ہو جاتا ہے اور وہ دنیاوی اور اخروی ثواب سے بہرہ مند ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ شَكُوۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بہت قدردان ہے۔‘‘ وہ توبہ کرنے پر تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ وہ تھوڑے سے عمل پر بہت زیادہ اجر عطا کر کے اس عمل کی قدر دانی کرتا ہے۔ پس وہ اپنی مغفرت کے ذریعے سے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور عیبوں کو چھپاتا ہے اور اپنی قدر دانی کی بنا پر نیکیوں کو قبول کر کے ان میں کئی گنا اضافہ کرتا ہے۔
42:23ذَٰلِكَ ٱلَّذِي يُبَشِّرُ ٱللَّهُ عِبَادَهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِۗ قُل لَّآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًا إِلَّا ٱلۡمَوَدَّةَ فِي ٱلۡقُرۡبَىٰۗ وَمَن يَقۡتَرِفۡ حَسَنَةٗ نَّزِدۡ لَهُۥ فِيهَا حُسۡنًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ شَكُورٌ
کیا ان کے لیے(اور) شریک ہیں جنھوں نے مقرر کیا ہے ان کے لیے وہ دین کہ نہیں حکم دیا اس کا اللہ نے، اور اگر نہ ہوتی بات فیصلہ کرنے(کے وعدے)کی تو یقیناً (فوراً ہی) فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان، اور بلاشبہ ظالم لوگ، ان کے لیے عذاب ہے درد ناک (21) آپ دیکھیں گے ظالموں کو، ڈررہے ہوں گے ان (عملوں کی جزا سے) جو انھوں نے کمائے اور وہ (جزا ضرور) واقع ہو گی ان پر اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، وہ سبزہ زاروں میں ہوں گے باغوں کے، ان کے لیے ہو گا جو وہ چاہیں گے اپنے رب کے پاس، یہی ہے وہ فضل بہت بڑا (22) یہ (فضل) وہی ہے جس کی خوش خبری دیتا ہے اللہ اپنے بندوں کو، وہ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، کہہ دیجیے: نہیں سوال کرتا میں تم سے اس پر کسی صلے کا، مگر محبت کا رشتے داری کی وجہ سے اور جو شخص کماتا ہے کوئی نیکی تو زیادہ کرتے ہیں ہم اس کے لیے اس میں بھلائی کو، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت قدردان ہے (23)
[21] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے شریک بنا لیے جن کے ساتھ وہ دوستی رکھتے ہیں اور وہ کفر کے داعی انسانی شیاطین کے ساتھ کفر اور اعمال کفر میں شریک ہیں ﴿شَرَعُوۡا لَهُمۡ مِّنَ الدِّيۡنِ مَا لَمۡ يَاۡذَنۢۡ بِهِ اللّٰهُ ﴾ ’’انھوں نے ان کے لیے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا اللہ نے انھیں حکم نہیں دیا۔‘‘ یعنی شرک اور بدعات کو رواج دیا، اپنی خواہشات نفس کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا اور اس کی محرمات کو حلال قرار دیا، حالانکہ دین وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ دین قرار دے تاکہ لوگ اسے دین بنائیں اور اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کریں ۔اس بارے میں اصول یہ ہے کہ ہر شخص کے لیے کسی ایسی چیز کو شریعت قرار دینا ممنوع ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے نہ آئی ہو… تب ان فساق کو شریعت سازی کا کیوں کر اختیار دیا جا سکتا ہے جو کفار کے کفر میں شریک ہیں۔ ﴿وَلَوۡلَا كَلِمَةُ الۡفَصۡلِ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر پہلے سے طے شدہ بات نہ ہوتی تو ان کے درمیان ضرور فیصلہ کیا جاچکا ہوتا۔‘‘ یعنی اگر مدت مقرر نہ کر دی گئی ہوتی جسے اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے والے تمام گروہوں کے درمیان فیصلہ کن قرار دیا ہے نیز یہ کہ وہ ان تمام لوگوں کو اس مدت تک مہلت دے گا تو اللہ تعالیٰ اسی وقت حق پرست کی سعادت اور باطل پرست کی ہلاکت کا فیصلہ کر دیتا کیونکہ ہلاکت کا تقاضا موجود ہے، مگر ان لوگوں کو اور ہر ظالم کو آخرت میں دردناک عذاب کا سامنا کرنا ہے۔
[22] اس روز ﴿تَرَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تم ظالموں کو دیکھو گے۔‘‘ جنھوں نے کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿مُشۡفِقِيۡنَ ﴾ یعنی ڈر رہے ہوں گے ﴿مِمَّا كَسَبُوۡا ﴾ ’’اس (انجام) سے جو انھوں نے (اپنے اعمال سے) کیا۔‘‘ کہ انھیں اپنی بداعمالیوں کی سزا ملے گی۔ چونکہ ڈرنے والے کے ساتھ کبھی تو وہ چیز پیش آجاتی ہے جس سے ڈرتا ہے اور کبھی وہ چیز پیش نہیں آتی اس لیے آگاہ فرمایا کہ وہ ﴿ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ عذاب ان پر ضرور واقع ہو گا جس سے وہ ڈرتے ہیں۔ کیونکہ اس نے اس کامل سبب کو اختیار کیا ہے جو عذاب کا موجب ہے اور اس موجب عذاب کا کوئی معارض بھی نہیں، مثلاً: توبہ وغیرہ۔ مزید برآں وہ ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں مہلت کا وقت گزر گیا ہے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ اور وہ لوگ جو اپنے دل سے اللہ تعالیٰ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور اس کا اظہار کیا۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’او ر عمل کیے نیک۔‘‘ اس میں اعمال قلوب، اعمال جوارح، اعمال واجبہ اور اعمال مستحبہ سب شامل ہیں، لہٰذا یہ لوگ ﴿فِيۡ رَوۡضٰتِ الۡجَنّٰتِ ﴾ ’’بہشتوں کے باغات میں ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ ان باغات میں ہوں گے جو جنت کی طرف مضاف (منسوب) ہیں اور مضاف، مضاف الیہ کے مطابق ہوتا ہے۔مت پوچھیے کہ ان خوبصورت باغات کی خوبصورتی، ان میں اچھل اچھل کر بہتی ہوئی ندیاں، بیلوں سے ڈھکے ہوئے درخت کے جھنڈ، حسین مناظر، پھلوں سے لدے ہوئے درخت، چہچہاتے ہوئے پرندے، طرب انگیز آوازیں، تمام دوستوں سے ملاقاتیں اور اس ہم نشینی سے حاصل ہونے والا بہرۂ کامل کیسا ہو گا؟ وہ ایسے باغات ہوں گے کہ دور دور تک حسن ہی حسن ہو گا، ان باغات کے رہنے والوں میں ان باغات کی لذات کی چاہت اور اشتیاق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿لَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ ﴾ یعنی ان باغات میں وہ جس چیز کا ارادہ کریں گے وہ فوراً انھیں حاصل ہو گی اور جب بھی طلب کریں گے حاضر کر دی جائے گی، جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے طائر خیال میں اس کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَضۡلُ الۡكَبِيۡرُ ﴾ ’’یہی ہے بہت بڑا فضل۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں کامیابی اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر میں اس کے تقرب کی نعمت سے بہرہ مند ہونے سے بڑھ کر بھی کوئی فضل ہے؟
[23]﴿ذٰلِكَ الَّذِيۡ يُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’یہی وہ ہے جس کی اللہ اپنے بندوں کو جو ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں بشارت دیتا ہے۔‘‘ یہ عظیم خوشخبری جو بلاشبہ علی الاطلاق سب سے بڑی خوشخبری ہے، جس سے رحمان و رحیم نے، مخلوق میں سے بہترین ہستی کے ذریعے سے ایمان اور عمل صالح کے حاملین کو سرفراز فرمایا ہے۔ یہ جلیل ترین غایت مقصود ہے اور اس مقصد تک پہنچانے والا وسیلہ افضل ترین وسیلہ ہے۔ ﴿قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے! میں اس پر تم سے کوئی سوال نہیں کرتا۔‘‘ یعنی تمھیں یہ قرآن پہنچانے اور تمھیں اس کے احکام کی طرف دعوت دینے پر ﴿اَجۡرًا ﴾ ’’اجر کا۔‘‘ میں تم سے تمھارا مال لینا چاہتا ہوں نہ تمھارا سردار بننا چاہتا ہوں اور نہ میری کوئی اور ہی غرض ہے ﴿اِلَّا الۡمَوَدَّةَ فِي الۡقُرۡبٰى﴾ ’’مگر قرابت داری کی محبت۔‘‘ ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد ہو کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے ایک اجر کے، وہ تمھارے ہی لیے ہے، اس کا فائدہ بھی تمھیں ہی پہنچتا ہے ، یعنی تم مجھ سے رشتہ داری کی وجہ سے محبت کرو اور یہ مودت، ایمان کی مودت سے زائد چیز ہے کیونکہ رسول (ﷺ) پر ایمان کی مودت اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے بعد رسول کی محبت کو تمام محبتوں پر مقدم رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اور ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایمان کی محبت زائد قرابت داری کی بنا پر اس سے محبت کرو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے قریب ترین رشتہ داروں تک اپنی دعوت پہنچائی۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ قریش کے گھرانوں میں کوئی ایسا گھرانہ نہ تھا جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی رشتہ داری نہ ہو ۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچی مودت و محبت ہو اور یہ ایسی محبت ہے جس کی مصاحبت میں تقرب الٰہی اور توسل ہوتے ہیں جن کی بنیاد اطاعت ہے، جو اس مودت و محبت کی صحت و صداقت کی دلیل ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الۡمَوَدَّةَ فِي الۡقُرۡبٰى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف تقرب حاصل کرنے کے لیے۔ دونوں اقوال کے مطابق، یہ استثنا اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اکرم ﷺ تم سے اس پر کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتے، سوائے اس چیز کے کہ جس کا فائدہ خود تمھی کی طرف لوٹتا ہے۔ یہ کسی بھی طرح کوئی اجر نہیں، بلکہ یہ تو ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اجر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ﴾(البروج:85؍8) ’’وہ اہل ایمان سے صرف اس وجہ سے ناراض ہیں کہ وہ اللہ پر ایمان لائے، جو زبردست اور قابل تعریف ہے۔‘‘ اور جیسے کسی کا یہ کہنا:تمھارے نزدیک فلاں شخص کا بس یہی گناہ ہے کہ وہ تمھارے ساتھ بھلائی کرنے والا ہے۔ ﴿وَمَنۡ يَّقۡتَرِفۡ حَسَنَةً ﴾ ’’اور جو کوئی نیکی کاکام کرے گا۔‘‘ یعنی نماز، روزہ اور حج پر کاربند رہتا ہے اور مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے۔ ﴿نَّزِدۡ لَهٗ فِيۡهَا حُسۡنًا ﴾ ’’ہم اس کے لیے اس میں بھلائی بڑھا دیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اس کے سینے کو کھول دیتا ہے، اس کے معاملے کو آسان کر دیتا ہے اور یہ نیکی کسی دوسرے نیک عمل کی توفیق کا ذریعہ بن جاتی ہے اور اس ذریعے سے مومن کے اعمال صالحہ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے نزدیک اس کا مرتبہ بلند ہو جاتا ہے اور وہ دنیاوی اور اخروی ثواب سے بہرہ مند ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ شَكُوۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بہت قدردان ہے۔‘‘ وہ توبہ کرنے پر تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ وہ تھوڑے سے عمل پر بہت زیادہ اجر عطا کر کے اس عمل کی قدر دانی کرتا ہے۔ پس وہ اپنی مغفرت کے ذریعے سے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور عیبوں کو چھپاتا ہے اور اپنی قدر دانی کی بنا پر نیکیوں کو قبول کر کے ان میں کئی گنا اضافہ کرتا ہے۔
42:24أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗاۖ فَإِن يَشَإِ ٱللَّهُ يَخۡتِمۡ عَلَىٰ قَلۡبِكَۗ وَيَمۡحُ ٱللَّهُ ٱلۡبَٰطِلَ وَيُحِقُّ ٱلۡحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
کیا وہ کہتے ہیں گھڑ لیا ہے اس نے اوپر اللہ کے جھوٹ؟ پس اگر چاہے اللہ تو مہر لگا دے اوپر آپ کے دل کے اور مٹاتا ہے اللہ باطل کو اور ثابت کرتا ہے حق کو اپنی باتوں سے، بلاشبہ وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے (24)
[24] کیا رسول (ﷺ) کو جھٹلانے والے یہ لوگ اپنی جسارت اور کذب بیانی کی بنا پر کہتے ہیں :﴿افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾ ’’اس (رسول) نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے۔‘‘ پس انھوں نے آپ پر بدترین اور قبیح ترین بہتان لگایا، وہ یہ کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ کر کے اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا جبکہ آپ اس سے بری ہیں، حالانکہ وہ آپ کی صداقت اور امانت کو خوب جانتے ہیں، وہ اس صریح جھوٹ کی کیوں کر جرأت کر رہے ہیں؟ بلکہ اس ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں جرح و قدح ہے کہ اس نے آپ کے لیے اس عظیم دعوت کو ممکن بنایا جو ان کے زعم کے موجب زمین کے اندر سب سے بڑے فساد کو متضمن ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس صراحت کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کرنے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کا اختیار بخشا، مزید برآں وہ ظاہری معجزات، بڑے بڑے دلائل، فتح مبین اور آپ کی مخالفت کرنے والوں پر غلبہ عطا کر کے آپ کی تائید کرتا ہے۔ درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ اس دعوت کو اس کی جڑ اور بنیاد سے ختم کرنے پر قادر ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ رسول (ﷺ) کے قلب پر مہر لگا دے تاکہ اس کے اندر کوئی بھلائی داخل نہ ہو، جب آپ کے قلب پر مہر لگا دی جائے گی تو تمام معاملہ ختم ہو جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں اس کی صحت پر یہ اس کی قطعی دلیل اور آپ کے نبوت کے دعویٰ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوی ترین شہادت ہے، اس سے عظیم اور اس سے بڑی کوئی اور شہادت نہیں مل سکتی۔ بنابریں یہ اس کی حکمت، رحمت اور سنت جاریہ ہے کہ وہ باطل کو مٹا دیتا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اسے غلبہ حاصل ہوتا ہے، مگر انجام کار باطل نیست و نابود ہوتا ہے۔ ﴿وَيُحِقُّ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ﴾ وہ اپنے سچے وعدے اور احکام تکوینی کے ذریعے سے حق کو حق کر دکھاتا ہے جس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں، نیز اپنے ان کے کلمات دینیہ کے ذریعے سے بھی حق کو حق کر دکھاتا ہے جو ان احکام حق کو ثابت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مشروع کیے ہیں اور انھیں قلوب میں جاگزیں کرتے ہیں اور خرد مندوں کو بصیرت سے بہرہ مند کرتے ہیں حتی کہ اللہ تعالیٰ کا حق کو حق ثابت کرنا یہ ہے کہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کے لیے باطل کو مقرر کر دیتا ہے۔ جب باطل حق کا مقابلہ کرتا ہے تو حق اپنے دلائل و براہین کے ساتھ باطل پر حملہ آور ہوتا ہے، تب نور حق اور اس کی ہدایت ظاہر ہوتے ہیں جس سے باطل مضمحل ہو کر نیست و نابود ہو جاتا ہے اور ہر ایک پر باطل کا بطلان واضح اور ہر ایک کے لیے حق پوری طرح ظاہر ہو جاتا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ یعنی جو کچھ دلوں میں ہے اور جن اچھے برے اوصاف سے دل متصف ہیں اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور اسے ظاہر نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے۔
42:25وَهُوَ ٱلَّذِي يَقۡبَلُ ٱلتَّوۡبَةَ عَنۡ عِبَادِهِۦ وَيَعۡفُواْ عَنِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ وَيَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُونَ
اور وہی ہے جو قبول کرتا ہے توبہ اپنے بندوں کی اور معاف کر دیتا ہے برائیاں اور جانتا ہے جو تم کرتے ہو (25) اور قبول کرتا ہے (دعا) ان لوگوں کی جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور زیادہ دیتا ہے ان کو اپنے فضل سے، اور کافر لوگ، ان کے لیے ہے عذاب بہت سخت (26) اور اگر فراخ کر دے اللہ رزق واسطے اپنے بندوں کے تو ضرور وہ سرکشی کریں زمین میں اور لیکن وہ نازل کرتا ہے ساتھ ایک اندازے کے جتنا چاہتا ہے، بلاشبہ وہ اپنے بندوں سے خوب خبردار، انھیں خوب دیکھنے والا ہے (27) اور وہ، وہ ہے جو نازل کرتا ہے بارش بعد ان کے ناامید ہو جانے کے اور عام کر دیتا ہے اپنی رحمت کو اور وہ کارساز ہے تعریف کے لائق (28)
[25] یہ اللہ تعالیٰ کے کمال فضل و کرم، اس کی وسعت جود اور اس کے لطف کامل کا بیان ہے کہ وہ اپنے بندوں سے صادر ہونے والی توبہ کو قبول کرتا ہے جب وہ گناہوں کو ترک کر کے ان پر نادم ہوتے ہیں اور ان گناہوں کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کر لیتے ہیں ۔جب وہ اس توبہ میں خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس توبہ کو قبول کرتا ہے، جبکہ یہ گناہ ہلاکت اور دنیاوی و اخروی عذاب کا سبب بن چکے تھے۔ ﴿وَيَعۡفُوۡا عَنِ السَّيِّاٰتِ ﴾ اللہ تعالیٰ برائیوں کو مٹا دیتا ہے، ان کے برے اثرات اور عقوبات کو بھی ختم کر دیتا ہے جن کا تقاضا یہ برائیاں کرتی ہیں اور توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوبارہ اچھے لوگوں کے زمرے میں شمار ہونے لگتا ہے گویا کہ اس نے کبھی کوئی برا کام کیا ہی نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور اسے ایسے اعمال کی توفیق بخشتا ہے جو اسے اس کا قرب عطا کرتے ہیں۔ چونکہ توبہ عظیم اعمال میں شمار ہوتی ہے، جو کبھی تو کامل صدق و اخلاص کی بنا پر کامل ہوتی ہے اور کبھی صدق و اخلاص میں کمی کے سبب سے ناقص ہوتی ہے اور کبھی توبہ فاسد ہوتی ہے جب توبہ کا مقصد کوئی دنیاوی غرض ہو، اور توبہ کا محل قلب ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کو اس ارشاد پر ختم فرمایا :﴿وَيَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’اور تم جو عمل کرتے ہو، وہ جانتاہے۔‘‘
[26] اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام بندوں کو اپنی طرف انابت اور تقصیر پر توبہ کرنے کی دعوت دی ہے پس بندے اس دعوت کو قبول کرنے کے بارے میں دو اقسام میں منقسم ہیں:۱۔ پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے اس دعوت کو قبول کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا وصف بیان فرمایا ہے: ﴿وَيَسۡتَجِيۡبُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی ان کا رب انھیں جس چیز کی طرف بلاتا ہے وہ اس کی پکار کا جواب دیتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں کیونکہ ان کے اعمال اور عمل صالح انھیں ایسا کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی پکار پر لبیک کہتے ہیں تو وہ ان کی قدر کرتا ہے وہ بہت بخشنے والا اور نہایت قدردان ہے۔ ﴿وَيَزِيۡدُهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ﴾ ’’اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے عمل کے لیے ان کی توفیق و نشاط میں اضافہ کرتا ہے، ان کے اعمال جس ثواب اور فوزعظیم کے مستحق ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اس سے کئی گنا زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔۲۔ رہے وہ جو اللہ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے اور وہ معاندین حق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کا انکار کرنے والے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ان کے لیے دنیا و آخرت میں سخت عذاب ہے۔
[27] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے لطف و کرم کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے بندوں پر دنیا کو اتنی زیادہ فراخ نہیں کرتا، جس سے ان کے دین کو نقصان پہنچے، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَوۡ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزۡقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق میں فراخی کردیتا تو وہ زمین میں فساد کرنے لگتے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل ہو کر شہوات دنیا سے تمتع میں مصروف ہو جاتے اور دنیا انھیں ان کی خواہشات نفس میں مشغول کر دیتی خواہ وہ معصیت اور ظلم ہی کیوں نہ ہوتے۔ ﴿وَلٰكِنۡ يُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَآءُ ﴾ ’’لیکن وہ اپنے اندازے سے جو چیز چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔‘‘ یعنی اپنے لطف و کرم اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ﴿اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ جیسا کہ ایک اثر میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف غنا ہی کرتا ہے اگر میں اسے فقروفاقہ میں مبتلا کر دوں تو یہ فقروفاقہ اسے فاسد کر کے رکھ دے گا اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح فقر کے سوا کوئی اور چیز نہیں کرتی اگر میں اسے غنا عطا کر دوں تو وہ ان کے ایمان کو خراب کردے اور میرے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح، صحت کے سوا کسی چیز سے نہیں ہوتی اگر میں انھیں بیمار کر دوں تو وہ انھیں فاسد کر کے رکھ دے اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف مرض سے ہوتی ہے اگر میں انھیں عافیت سے نواز دوں تو یہ عافیت ان کے ایمان کو فاسد کر دے۔ بندوں کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کے بارے میں اپنے علم کے مطابق بندوں کے امور کی تدبیر کرتا ہوں۔ بے شک میں خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہوں۔‘‘ (العلل المتناہیۃ فی الأحادیث الواہیۃ، الإیمان، باب تدبیر الخلق بما یصلح الإیمان، حدیث: 27 اس حدیث کی سند ضعیف ہے جیسا کہ حافظ ابن حجرa نے کہا ہے لیکن اس کا معنی و مفہوم درست ہے۔ (فتح ا لباري: 415/11)
[28]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ يُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ ﴾ یعنی وہی موسلادھار بارش برساتا ہے جس کے ذریعے سے وہ زمین اور بندوں کی مدد کرتا ہے ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا قَنَطُوۡا ﴾ ’’اس کے بعد کہ وہ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں۔‘‘ ایک مدت سے ان سے بارش منقطع ہو چکی ہوتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اب بارش نہیں ہو گی اور یوں وہ مایوس ہو کر قحط سالی کے لیے کوئی کام کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ بارش برسا دیتا ہے ﴿وَيَنۡشُرُ ﴾ وہ اس بارش کے ذریعے سے پھیلاتا ہے ﴿رَحۡمَتَهٗ﴾ ’’اپنی رحمت کو۔‘‘ انسانوں اور ان کے چوپایوں کی خوراک کا سامان پیدا کر کے اور انسانوں کے نزدیک یہ بارش بہت اچھے موقع پر برستی ہے، اس موقع پر وہ خوش ہوتے اور فرحت کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡوَلِيُّ ﴾ ’’اور وہی کارساز ہے۔‘‘ جو مختلف تدابیر کے ساتھ اپنے بندوں کی سرپرستی اور ان کے دینی اور دنیاوی مصالح کا انتظام کرتا ہے۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ ﴾ وہ سرپرستی اور تدبیر و انتظام میں قابل ستائش ہے، اور کمال کا مالک ہونے اور مخلوق کو جو مختلف نعمتیں اس نے بہم پہنچائی ہیں، اس پر وہ قابل ستائش ہے۔
42:26وَيَسۡتَجِيبُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضۡلِهِۦۚ وَٱلۡكَٰفِرُونَ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدٞ
اور وہی ہے جو قبول کرتا ہے توبہ اپنے بندوں کی اور معاف کر دیتا ہے برائیاں اور جانتا ہے جو تم کرتے ہو (25) اور قبول کرتا ہے (دعا) ان لوگوں کی جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور زیادہ دیتا ہے ان کو اپنے فضل سے، اور کافر لوگ، ان کے لیے ہے عذاب بہت سخت (26) اور اگر فراخ کر دے اللہ رزق واسطے اپنے بندوں کے تو ضرور وہ سرکشی کریں زمین میں اور لیکن وہ نازل کرتا ہے ساتھ ایک اندازے کے جتنا چاہتا ہے، بلاشبہ وہ اپنے بندوں سے خوب خبردار، انھیں خوب دیکھنے والا ہے (27) اور وہ، وہ ہے جو نازل کرتا ہے بارش بعد ان کے ناامید ہو جانے کے اور عام کر دیتا ہے اپنی رحمت کو اور وہ کارساز ہے تعریف کے لائق (28)
[25] یہ اللہ تعالیٰ کے کمال فضل و کرم، اس کی وسعت جود اور اس کے لطف کامل کا بیان ہے کہ وہ اپنے بندوں سے صادر ہونے والی توبہ کو قبول کرتا ہے جب وہ گناہوں کو ترک کر کے ان پر نادم ہوتے ہیں اور ان گناہوں کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کر لیتے ہیں ۔جب وہ اس توبہ میں خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس توبہ کو قبول کرتا ہے، جبکہ یہ گناہ ہلاکت اور دنیاوی و اخروی عذاب کا سبب بن چکے تھے۔ ﴿وَيَعۡفُوۡا عَنِ السَّيِّاٰتِ ﴾ اللہ تعالیٰ برائیوں کو مٹا دیتا ہے، ان کے برے اثرات اور عقوبات کو بھی ختم کر دیتا ہے جن کا تقاضا یہ برائیاں کرتی ہیں اور توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوبارہ اچھے لوگوں کے زمرے میں شمار ہونے لگتا ہے گویا کہ اس نے کبھی کوئی برا کام کیا ہی نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور اسے ایسے اعمال کی توفیق بخشتا ہے جو اسے اس کا قرب عطا کرتے ہیں۔ چونکہ توبہ عظیم اعمال میں شمار ہوتی ہے، جو کبھی تو کامل صدق و اخلاص کی بنا پر کامل ہوتی ہے اور کبھی صدق و اخلاص میں کمی کے سبب سے ناقص ہوتی ہے اور کبھی توبہ فاسد ہوتی ہے جب توبہ کا مقصد کوئی دنیاوی غرض ہو، اور توبہ کا محل قلب ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کو اس ارشاد پر ختم فرمایا :﴿وَيَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’اور تم جو عمل کرتے ہو، وہ جانتاہے۔‘‘
[26] اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام بندوں کو اپنی طرف انابت اور تقصیر پر توبہ کرنے کی دعوت دی ہے پس بندے اس دعوت کو قبول کرنے کے بارے میں دو اقسام میں منقسم ہیں:۱۔ پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے اس دعوت کو قبول کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا وصف بیان فرمایا ہے: ﴿وَيَسۡتَجِيۡبُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی ان کا رب انھیں جس چیز کی طرف بلاتا ہے وہ اس کی پکار کا جواب دیتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں کیونکہ ان کے اعمال اور عمل صالح انھیں ایسا کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی پکار پر لبیک کہتے ہیں تو وہ ان کی قدر کرتا ہے وہ بہت بخشنے والا اور نہایت قدردان ہے۔ ﴿وَيَزِيۡدُهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ﴾ ’’اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے عمل کے لیے ان کی توفیق و نشاط میں اضافہ کرتا ہے، ان کے اعمال جس ثواب اور فوزعظیم کے مستحق ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اس سے کئی گنا زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔۲۔ رہے وہ جو اللہ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے اور وہ معاندین حق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کا انکار کرنے والے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ان کے لیے دنیا و آخرت میں سخت عذاب ہے۔
[27] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے لطف و کرم کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے بندوں پر دنیا کو اتنی زیادہ فراخ نہیں کرتا، جس سے ان کے دین کو نقصان پہنچے، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَوۡ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزۡقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق میں فراخی کردیتا تو وہ زمین میں فساد کرنے لگتے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل ہو کر شہوات دنیا سے تمتع میں مصروف ہو جاتے اور دنیا انھیں ان کی خواہشات نفس میں مشغول کر دیتی خواہ وہ معصیت اور ظلم ہی کیوں نہ ہوتے۔ ﴿وَلٰكِنۡ يُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَآءُ ﴾ ’’لیکن وہ اپنے اندازے سے جو چیز چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔‘‘ یعنی اپنے لطف و کرم اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ﴿اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ جیسا کہ ایک اثر میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف غنا ہی کرتا ہے اگر میں اسے فقروفاقہ میں مبتلا کر دوں تو یہ فقروفاقہ اسے فاسد کر کے رکھ دے گا اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح فقر کے سوا کوئی اور چیز نہیں کرتی اگر میں اسے غنا عطا کر دوں تو وہ ان کے ایمان کو خراب کردے اور میرے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح، صحت کے سوا کسی چیز سے نہیں ہوتی اگر میں انھیں بیمار کر دوں تو وہ انھیں فاسد کر کے رکھ دے اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف مرض سے ہوتی ہے اگر میں انھیں عافیت سے نواز دوں تو یہ عافیت ان کے ایمان کو فاسد کر دے۔ بندوں کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کے بارے میں اپنے علم کے مطابق بندوں کے امور کی تدبیر کرتا ہوں۔ بے شک میں خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہوں۔‘‘ (العلل المتناہیۃ فی الأحادیث الواہیۃ، الإیمان، باب تدبیر الخلق بما یصلح الإیمان، حدیث: 27 اس حدیث کی سند ضعیف ہے جیسا کہ حافظ ابن حجرa نے کہا ہے لیکن اس کا معنی و مفہوم درست ہے۔ (فتح ا لباري: 415/11)
[28]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ يُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ ﴾ یعنی وہی موسلادھار بارش برساتا ہے جس کے ذریعے سے وہ زمین اور بندوں کی مدد کرتا ہے ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا قَنَطُوۡا ﴾ ’’اس کے بعد کہ وہ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں۔‘‘ ایک مدت سے ان سے بارش منقطع ہو چکی ہوتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اب بارش نہیں ہو گی اور یوں وہ مایوس ہو کر قحط سالی کے لیے کوئی کام کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ بارش برسا دیتا ہے ﴿وَيَنۡشُرُ ﴾ وہ اس بارش کے ذریعے سے پھیلاتا ہے ﴿رَحۡمَتَهٗ﴾ ’’اپنی رحمت کو۔‘‘ انسانوں اور ان کے چوپایوں کی خوراک کا سامان پیدا کر کے اور انسانوں کے نزدیک یہ بارش بہت اچھے موقع پر برستی ہے، اس موقع پر وہ خوش ہوتے اور فرحت کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡوَلِيُّ ﴾ ’’اور وہی کارساز ہے۔‘‘ جو مختلف تدابیر کے ساتھ اپنے بندوں کی سرپرستی اور ان کے دینی اور دنیاوی مصالح کا انتظام کرتا ہے۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ ﴾ وہ سرپرستی اور تدبیر و انتظام میں قابل ستائش ہے، اور کمال کا مالک ہونے اور مخلوق کو جو مختلف نعمتیں اس نے بہم پہنچائی ہیں، اس پر وہ قابل ستائش ہے۔
42:27۞وَلَوۡ بَسَطَ ٱللَّهُ ٱلرِّزۡقَ لِعِبَادِهِۦ لَبَغَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَٰكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٖ مَّا يَشَآءُۚ إِنَّهُۥ بِعِبَادِهِۦ خَبِيرُۢ بَصِيرٞ
اور وہی ہے جو قبول کرتا ہے توبہ اپنے بندوں کی اور معاف کر دیتا ہے برائیاں اور جانتا ہے جو تم کرتے ہو (25) اور قبول کرتا ہے (دعا) ان لوگوں کی جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور زیادہ دیتا ہے ان کو اپنے فضل سے، اور کافر لوگ، ان کے لیے ہے عذاب بہت سخت (26) اور اگر فراخ کر دے اللہ رزق واسطے اپنے بندوں کے تو ضرور وہ سرکشی کریں زمین میں اور لیکن وہ نازل کرتا ہے ساتھ ایک اندازے کے جتنا چاہتا ہے، بلاشبہ وہ اپنے بندوں سے خوب خبردار، انھیں خوب دیکھنے والا ہے (27) اور وہ، وہ ہے جو نازل کرتا ہے بارش بعد ان کے ناامید ہو جانے کے اور عام کر دیتا ہے اپنی رحمت کو اور وہ کارساز ہے تعریف کے لائق (28)
[25] یہ اللہ تعالیٰ کے کمال فضل و کرم، اس کی وسعت جود اور اس کے لطف کامل کا بیان ہے کہ وہ اپنے بندوں سے صادر ہونے والی توبہ کو قبول کرتا ہے جب وہ گناہوں کو ترک کر کے ان پر نادم ہوتے ہیں اور ان گناہوں کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کر لیتے ہیں ۔جب وہ اس توبہ میں خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس توبہ کو قبول کرتا ہے، جبکہ یہ گناہ ہلاکت اور دنیاوی و اخروی عذاب کا سبب بن چکے تھے۔ ﴿وَيَعۡفُوۡا عَنِ السَّيِّاٰتِ ﴾ اللہ تعالیٰ برائیوں کو مٹا دیتا ہے، ان کے برے اثرات اور عقوبات کو بھی ختم کر دیتا ہے جن کا تقاضا یہ برائیاں کرتی ہیں اور توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوبارہ اچھے لوگوں کے زمرے میں شمار ہونے لگتا ہے گویا کہ اس نے کبھی کوئی برا کام کیا ہی نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور اسے ایسے اعمال کی توفیق بخشتا ہے جو اسے اس کا قرب عطا کرتے ہیں۔ چونکہ توبہ عظیم اعمال میں شمار ہوتی ہے، جو کبھی تو کامل صدق و اخلاص کی بنا پر کامل ہوتی ہے اور کبھی صدق و اخلاص میں کمی کے سبب سے ناقص ہوتی ہے اور کبھی توبہ فاسد ہوتی ہے جب توبہ کا مقصد کوئی دنیاوی غرض ہو، اور توبہ کا محل قلب ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کو اس ارشاد پر ختم فرمایا :﴿وَيَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’اور تم جو عمل کرتے ہو، وہ جانتاہے۔‘‘
[26] اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام بندوں کو اپنی طرف انابت اور تقصیر پر توبہ کرنے کی دعوت دی ہے پس بندے اس دعوت کو قبول کرنے کے بارے میں دو اقسام میں منقسم ہیں:۱۔ پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے اس دعوت کو قبول کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا وصف بیان فرمایا ہے: ﴿وَيَسۡتَجِيۡبُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی ان کا رب انھیں جس چیز کی طرف بلاتا ہے وہ اس کی پکار کا جواب دیتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں کیونکہ ان کے اعمال اور عمل صالح انھیں ایسا کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی پکار پر لبیک کہتے ہیں تو وہ ان کی قدر کرتا ہے وہ بہت بخشنے والا اور نہایت قدردان ہے۔ ﴿وَيَزِيۡدُهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ﴾ ’’اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے عمل کے لیے ان کی توفیق و نشاط میں اضافہ کرتا ہے، ان کے اعمال جس ثواب اور فوزعظیم کے مستحق ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اس سے کئی گنا زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔۲۔ رہے وہ جو اللہ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے اور وہ معاندین حق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کا انکار کرنے والے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ان کے لیے دنیا و آخرت میں سخت عذاب ہے۔
[27] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے لطف و کرم کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے بندوں پر دنیا کو اتنی زیادہ فراخ نہیں کرتا، جس سے ان کے دین کو نقصان پہنچے، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَوۡ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزۡقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق میں فراخی کردیتا تو وہ زمین میں فساد کرنے لگتے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل ہو کر شہوات دنیا سے تمتع میں مصروف ہو جاتے اور دنیا انھیں ان کی خواہشات نفس میں مشغول کر دیتی خواہ وہ معصیت اور ظلم ہی کیوں نہ ہوتے۔ ﴿وَلٰكِنۡ يُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَآءُ ﴾ ’’لیکن وہ اپنے اندازے سے جو چیز چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔‘‘ یعنی اپنے لطف و کرم اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ﴿اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ جیسا کہ ایک اثر میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف غنا ہی کرتا ہے اگر میں اسے فقروفاقہ میں مبتلا کر دوں تو یہ فقروفاقہ اسے فاسد کر کے رکھ دے گا اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح فقر کے سوا کوئی اور چیز نہیں کرتی اگر میں اسے غنا عطا کر دوں تو وہ ان کے ایمان کو خراب کردے اور میرے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح، صحت کے سوا کسی چیز سے نہیں ہوتی اگر میں انھیں بیمار کر دوں تو وہ انھیں فاسد کر کے رکھ دے اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف مرض سے ہوتی ہے اگر میں انھیں عافیت سے نواز دوں تو یہ عافیت ان کے ایمان کو فاسد کر دے۔ بندوں کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کے بارے میں اپنے علم کے مطابق بندوں کے امور کی تدبیر کرتا ہوں۔ بے شک میں خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہوں۔‘‘ (العلل المتناہیۃ فی الأحادیث الواہیۃ، الإیمان، باب تدبیر الخلق بما یصلح الإیمان، حدیث: 27 اس حدیث کی سند ضعیف ہے جیسا کہ حافظ ابن حجرa نے کہا ہے لیکن اس کا معنی و مفہوم درست ہے۔ (فتح ا لباري: 415/11)
[28]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ يُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ ﴾ یعنی وہی موسلادھار بارش برساتا ہے جس کے ذریعے سے وہ زمین اور بندوں کی مدد کرتا ہے ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا قَنَطُوۡا ﴾ ’’اس کے بعد کہ وہ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں۔‘‘ ایک مدت سے ان سے بارش منقطع ہو چکی ہوتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اب بارش نہیں ہو گی اور یوں وہ مایوس ہو کر قحط سالی کے لیے کوئی کام کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ بارش برسا دیتا ہے ﴿وَيَنۡشُرُ ﴾ وہ اس بارش کے ذریعے سے پھیلاتا ہے ﴿رَحۡمَتَهٗ﴾ ’’اپنی رحمت کو۔‘‘ انسانوں اور ان کے چوپایوں کی خوراک کا سامان پیدا کر کے اور انسانوں کے نزدیک یہ بارش بہت اچھے موقع پر برستی ہے، اس موقع پر وہ خوش ہوتے اور فرحت کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡوَلِيُّ ﴾ ’’اور وہی کارساز ہے۔‘‘ جو مختلف تدابیر کے ساتھ اپنے بندوں کی سرپرستی اور ان کے دینی اور دنیاوی مصالح کا انتظام کرتا ہے۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ ﴾ وہ سرپرستی اور تدبیر و انتظام میں قابل ستائش ہے، اور کمال کا مالک ہونے اور مخلوق کو جو مختلف نعمتیں اس نے بہم پہنچائی ہیں، اس پر وہ قابل ستائش ہے۔
42:28وَهُوَ ٱلَّذِي يُنَزِّلُ ٱلۡغَيۡثَ مِنۢ بَعۡدِ مَا قَنَطُواْ وَيَنشُرُ رَحۡمَتَهُۥۚ وَهُوَ ٱلۡوَلِيُّ ٱلۡحَمِيدُ
اور وہی ہے جو قبول کرتا ہے توبہ اپنے بندوں کی اور معاف کر دیتا ہے برائیاں اور جانتا ہے جو تم کرتے ہو (25) اور قبول کرتا ہے (دعا) ان لوگوں کی جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور زیادہ دیتا ہے ان کو اپنے فضل سے، اور کافر لوگ، ان کے لیے ہے عذاب بہت سخت (26) اور اگر فراخ کر دے اللہ رزق واسطے اپنے بندوں کے تو ضرور وہ سرکشی کریں زمین میں اور لیکن وہ نازل کرتا ہے ساتھ ایک اندازے کے جتنا چاہتا ہے، بلاشبہ وہ اپنے بندوں سے خوب خبردار، انھیں خوب دیکھنے والا ہے (27) اور وہ، وہ ہے جو نازل کرتا ہے بارش بعد ان کے ناامید ہو جانے کے اور عام کر دیتا ہے اپنی رحمت کو اور وہ کارساز ہے تعریف کے لائق (28)
[25] یہ اللہ تعالیٰ کے کمال فضل و کرم، اس کی وسعت جود اور اس کے لطف کامل کا بیان ہے کہ وہ اپنے بندوں سے صادر ہونے والی توبہ کو قبول کرتا ہے جب وہ گناہوں کو ترک کر کے ان پر نادم ہوتے ہیں اور ان گناہوں کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کر لیتے ہیں ۔جب وہ اس توبہ میں خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس توبہ کو قبول کرتا ہے، جبکہ یہ گناہ ہلاکت اور دنیاوی و اخروی عذاب کا سبب بن چکے تھے۔ ﴿وَيَعۡفُوۡا عَنِ السَّيِّاٰتِ ﴾ اللہ تعالیٰ برائیوں کو مٹا دیتا ہے، ان کے برے اثرات اور عقوبات کو بھی ختم کر دیتا ہے جن کا تقاضا یہ برائیاں کرتی ہیں اور توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوبارہ اچھے لوگوں کے زمرے میں شمار ہونے لگتا ہے گویا کہ اس نے کبھی کوئی برا کام کیا ہی نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور اسے ایسے اعمال کی توفیق بخشتا ہے جو اسے اس کا قرب عطا کرتے ہیں۔ چونکہ توبہ عظیم اعمال میں شمار ہوتی ہے، جو کبھی تو کامل صدق و اخلاص کی بنا پر کامل ہوتی ہے اور کبھی صدق و اخلاص میں کمی کے سبب سے ناقص ہوتی ہے اور کبھی توبہ فاسد ہوتی ہے جب توبہ کا مقصد کوئی دنیاوی غرض ہو، اور توبہ کا محل قلب ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کو اس ارشاد پر ختم فرمایا :﴿وَيَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’اور تم جو عمل کرتے ہو، وہ جانتاہے۔‘‘
[26] اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام بندوں کو اپنی طرف انابت اور تقصیر پر توبہ کرنے کی دعوت دی ہے پس بندے اس دعوت کو قبول کرنے کے بارے میں دو اقسام میں منقسم ہیں:۱۔ پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے اس دعوت کو قبول کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا وصف بیان فرمایا ہے: ﴿وَيَسۡتَجِيۡبُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی ان کا رب انھیں جس چیز کی طرف بلاتا ہے وہ اس کی پکار کا جواب دیتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں کیونکہ ان کے اعمال اور عمل صالح انھیں ایسا کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی پکار پر لبیک کہتے ہیں تو وہ ان کی قدر کرتا ہے وہ بہت بخشنے والا اور نہایت قدردان ہے۔ ﴿وَيَزِيۡدُهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ﴾ ’’اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے عمل کے لیے ان کی توفیق و نشاط میں اضافہ کرتا ہے، ان کے اعمال جس ثواب اور فوزعظیم کے مستحق ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اس سے کئی گنا زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔۲۔ رہے وہ جو اللہ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے اور وہ معاندین حق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کا انکار کرنے والے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ان کے لیے دنیا و آخرت میں سخت عذاب ہے۔
[27] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے لطف و کرم کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے بندوں پر دنیا کو اتنی زیادہ فراخ نہیں کرتا، جس سے ان کے دین کو نقصان پہنچے، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَوۡ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزۡقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق میں فراخی کردیتا تو وہ زمین میں فساد کرنے لگتے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل ہو کر شہوات دنیا سے تمتع میں مصروف ہو جاتے اور دنیا انھیں ان کی خواہشات نفس میں مشغول کر دیتی خواہ وہ معصیت اور ظلم ہی کیوں نہ ہوتے۔ ﴿وَلٰكِنۡ يُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَآءُ ﴾ ’’لیکن وہ اپنے اندازے سے جو چیز چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔‘‘ یعنی اپنے لطف و کرم اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ﴿اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ جیسا کہ ایک اثر میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف غنا ہی کرتا ہے اگر میں اسے فقروفاقہ میں مبتلا کر دوں تو یہ فقروفاقہ اسے فاسد کر کے رکھ دے گا اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح فقر کے سوا کوئی اور چیز نہیں کرتی اگر میں اسے غنا عطا کر دوں تو وہ ان کے ایمان کو خراب کردے اور میرے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح، صحت کے سوا کسی چیز سے نہیں ہوتی اگر میں انھیں بیمار کر دوں تو وہ انھیں فاسد کر کے رکھ دے اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف مرض سے ہوتی ہے اگر میں انھیں عافیت سے نواز دوں تو یہ عافیت ان کے ایمان کو فاسد کر دے۔ بندوں کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کے بارے میں اپنے علم کے مطابق بندوں کے امور کی تدبیر کرتا ہوں۔ بے شک میں خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہوں۔‘‘ (العلل المتناہیۃ فی الأحادیث الواہیۃ، الإیمان، باب تدبیر الخلق بما یصلح الإیمان، حدیث: 27 اس حدیث کی سند ضعیف ہے جیسا کہ حافظ ابن حجرa نے کہا ہے لیکن اس کا معنی و مفہوم درست ہے۔ (فتح ا لباري: 415/11)
[28]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ يُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ ﴾ یعنی وہی موسلادھار بارش برساتا ہے جس کے ذریعے سے وہ زمین اور بندوں کی مدد کرتا ہے ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا قَنَطُوۡا ﴾ ’’اس کے بعد کہ وہ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں۔‘‘ ایک مدت سے ان سے بارش منقطع ہو چکی ہوتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اب بارش نہیں ہو گی اور یوں وہ مایوس ہو کر قحط سالی کے لیے کوئی کام کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ بارش برسا دیتا ہے ﴿وَيَنۡشُرُ ﴾ وہ اس بارش کے ذریعے سے پھیلاتا ہے ﴿رَحۡمَتَهٗ﴾ ’’اپنی رحمت کو۔‘‘ انسانوں اور ان کے چوپایوں کی خوراک کا سامان پیدا کر کے اور انسانوں کے نزدیک یہ بارش بہت اچھے موقع پر برستی ہے، اس موقع پر وہ خوش ہوتے اور فرحت کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡوَلِيُّ ﴾ ’’اور وہی کارساز ہے۔‘‘ جو مختلف تدابیر کے ساتھ اپنے بندوں کی سرپرستی اور ان کے دینی اور دنیاوی مصالح کا انتظام کرتا ہے۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ ﴾ وہ سرپرستی اور تدبیر و انتظام میں قابل ستائش ہے، اور کمال کا مالک ہونے اور مخلوق کو جو مختلف نعمتیں اس نے بہم پہنچائی ہیں، اس پر وہ قابل ستائش ہے۔
42:29وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ خَلۡقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِن دَآبَّةٖۚ وَهُوَ عَلَىٰ جَمۡعِهِمۡ إِذَا يَشَآءُ قَدِيرٞ
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے پیدا کرنا آسمانوں اور زمین کا اور جو پھیلائے اس نے ان میں جاندار، اور وہ ان کے جمع کرنے پر، جب چاہے، قادر ہے(29)
[29]﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖ﴾’’اور اس کی نشانیوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی اس کی عظیم قدرت کہ جس میں مُردوں کو زندہ کرنا بھی ہے، کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل ﴿ خَلۡقُ ﴾ ’’پیدائش‘‘ ان ﴿السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی۔‘‘ ان کی عظمت اور وسعت کے ساتھ، وہ اللہ کی قدرت اور وسعت سلطنت پر دلالت کرتی ہے اور ان کی تخلیق میں مہارت اور مضبوطی ہے، وہ اس کی حکمت پر اور ان کے اندر جو منافع اور مصالح رکھے گئے ہیں، وہ اس کی رحمت کی دلیل ہیں اور یہ سب کچھ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی الوہیت باطل ہے۔ ﴿وَمَا بَثَّ فِيۡهِمَا مِنۡ دَآبَّةٍ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے آسمانوں اور زمین میں جانداروں کی اصناف پھیلائیں اور ان کو اپنے بندوں کے لیے منافع اور مصالح قرار دیا۔ ﴿وَهُوَ عَلٰى جَمۡعِهِمۡ ﴾ یعنی وہ تمام مخلوق کو ان کے مرنے کے بعد قیامت کے موقف کے لیے جمع کرنے پر ﴿اِذَا يَشَآءُ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’جب چاہے، خوب قادر ہے‘‘ پس اس کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا وقوع، خبر صادق کے وجود پر موقوف ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین اور ان کی کتابوں کی طرف سے اس کے وقوع کی خبر نہایت تواتر کے ساتھ دی گئی ہے۔
42:30وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٖ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖ
اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو کوئی مصیبت توبسبب اس کےجو کمایا تمھارے ہاتھوں نے اور وہ درگزر کر دیتا ہے بہت سی باتوں سے (30) اور نہیں ہو تم عاجز کرنے والے (اسے) زمین میں اور نہیں ہے تمھارے لیے سوائے اللہ کے کوئی کارساز اور نہ کوئی مددگار (31)
[30] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ بندوں کو ان کے ابدان، اموال، اولاد اور ان کی محبوب اور عزیز چیزوں میں جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے اس کا سبب ان کے ہاتھوں سے کمائی ہوئی برائیاں ہیں اور وہ برائیاں جو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے، اس سے بھی زیادہ ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہے، بندے خود اپنے آپ پر ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ﴿وَلَوۡ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوۡا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهۡرِهَا مِنۡ دَآبَّةٍ ﴾(فاطر:35؍45) ’’اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں پر پکڑتا تو روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا۔‘‘
[31] اللہ تعالیٰ کی طرف سے عقوبات کو موخر کرنا، کسی بھول کی بنا پر ہے نہ کسی عجز کی بنا پر ۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور تم زمین میں (اسے) عاجز نہیں کرسکتے۔‘‘ یعنی تم پر جو اللہ تعالیٰ کو قدرت حاصل ہے اس بارے میں تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں پاؤ گے۔ بلکہ تم زمین کے اندر بے بس اور عاجز ہو۔ اللہ تم پر جو حکم نافذ کرتا ہے تم اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’اللہ کے سوا تمھارا کوئی دوست نہیں۔‘‘ جو تمھاری سرپرستی کرے اور تمھیں فوائد عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو تم سے ضرر رساں چیزوں کو دور کرے۔
42:31وَمَآ أَنتُم بِمُعۡجِزِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ
اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو کوئی مصیبت توبسبب اس کےجو کمایا تمھارے ہاتھوں نے اور وہ درگزر کر دیتا ہے بہت سی باتوں سے (30) اور نہیں ہو تم عاجز کرنے والے (اسے) زمین میں اور نہیں ہے تمھارے لیے سوائے اللہ کے کوئی کارساز اور نہ کوئی مددگار (31)
[30] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ بندوں کو ان کے ابدان، اموال، اولاد اور ان کی محبوب اور عزیز چیزوں میں جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے اس کا سبب ان کے ہاتھوں سے کمائی ہوئی برائیاں ہیں اور وہ برائیاں جو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے، اس سے بھی زیادہ ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہے، بندے خود اپنے آپ پر ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ﴿وَلَوۡ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوۡا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهۡرِهَا مِنۡ دَآبَّةٍ ﴾(فاطر:35؍45) ’’اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں پر پکڑتا تو روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا۔‘‘
[31] اللہ تعالیٰ کی طرف سے عقوبات کو موخر کرنا، کسی بھول کی بنا پر ہے نہ کسی عجز کی بنا پر ۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور تم زمین میں (اسے) عاجز نہیں کرسکتے۔‘‘ یعنی تم پر جو اللہ تعالیٰ کو قدرت حاصل ہے اس بارے میں تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں پاؤ گے۔ بلکہ تم زمین کے اندر بے بس اور عاجز ہو۔ اللہ تم پر جو حکم نافذ کرتا ہے تم اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’اللہ کے سوا تمھارا کوئی دوست نہیں۔‘‘ جو تمھاری سرپرستی کرے اور تمھیں فوائد عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو تم سے ضرر رساں چیزوں کو دور کرے۔
42:32وَمِنۡ ءَايَٰتِهِ ٱلۡجَوَارِ فِي ٱلۡبَحۡرِ كَٱلۡأَعۡلَٰمِ
اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں چلنے والی کشتیاں سمندر میں، مانند پہاڑوں کے (32) اگر وہ چاہے تو ٹھہرا دے ہوا کو، تو ہو جائیں وہ (کشتیاں)کھڑی ہونے والی اس (سمندر) کی سطح پر، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر، شاکرکے (33) یا (چاہے تو) تباہ کر دے ان کو بسبب اس کےجو انھوں نے کمایا اور (چاہے تو) درگزر کر دے بہت سوں سے (34) اور (تاکہ) جان لیں وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں ہماری آیتوں میں کہ نہیں ہے ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ (35)
[32] یعنی اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل ﴿الۡجَوَارِ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’سمندر میں جہاز‘‘ کشتیاں، دخانی اور بادبانی جہاز ہیں جو اپنی بڑی جسامت کی بنا پر ﴿كَالۡاَعۡلَامِ﴾ بڑے بڑے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو مسخر کر دیا اور متلاطم موجوں سے ان کی حفاظت کی، یہ کشتیاں انھیں اور ان کے سامان تجارت کو دور دور ملکوں اور شہروں تک لے جاتی ہیں اور ان کے لیے ایسے اسباب مہیا کیے جو ان کو ان ملکوں اور شہروں تک جانے میں مدد دیتے ہیں۔
[33، 34] پھر اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُسۡكِنِ الرِّيۡحَ ﴾ ’’اگر وہ (اللہ) چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے۔‘‘ جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کشتیوں کے چلنے کا سبب بنایا ہے، ﴿فَيَظۡلَلۡنَ ﴾ ’’اور وہ رہ جائیں۔‘‘ یعنی مختلف انواع کی کشتیاں ﴿رَوَاكِدَ ﴾ سطح سمندر پر ٹھہر جائیں، آگے بڑھیں نہ پیچھے ہٹیں۔ یہ چیز دخانی کشتیوں کے متناقض نہیں ہے کیونکہ دخانی کشتیوں کے چلنے کے لیے ہوا کا موجود ہونا شرط ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کشتیوں کو، ان پر سوار ہونے والوں کے کرتوتوں کے سبب سے تباہ کر دے یعنی سمندر میں غرق کر کے تلف کر دے، مگر وہ حلم سے کام لیتا ہے اور بہت سے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ ﴾ ’’بے شک صبر شکر کرنے والوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔‘‘ یعنی جو ان امور پر بہت صبر کرنے والا ہے جن کو اس کا نفس ناپسند کرتا ہے اور اس پر یہ امور شاق گزرتے ہیں وہ اپنے نفس کو اس مشقت اور اطاعت پر مجبور کرتا ہے، معصیت کے داعی کو اور مصیبت کے وقت نفس کو اللہ تعالیٰ پر ناراضی سے روکتا ہے ﴿شَكُوۡرٍ﴾ نعمتوں اور آسودہ حالی میں شکر ادا کرتا ہے، وہ اپنے رب کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق صرف کرتا ہے۔ پس یہی وہ شخص ہے جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ رہا وہ شخص جو صبر سے بہرہ ور ہے نہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کرتا ہے تو یہ شخص یا تو آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والا یا ان سے عناد رکھنے والا ہے، وہ آیات الٰہی سے مستفید نہیں ہوسکتا۔
[35] پھر فرمایا: ﴿وَّيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور جان لیں وہ لوگ جو ہماری آیتوں کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔‘‘تاکہ اپنے باطل نظریے کے ذریعے سے انھیں جھٹلاتے ہیں۔ ﴿مَا لَهُمۡ مِّنۡ مَّحِيۡصٍ ﴾ اس عذاب سے انھیں کوئی بچا نہیں سکے گا جو ان پر نازل ہو گا۔
42:33إِن يَشَأۡ يُسۡكِنِ ٱلرِّيحَ فَيَظۡلَلۡنَ رَوَاكِدَ عَلَىٰ ظَهۡرِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٍ
اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں چلنے والی کشتیاں سمندر میں، مانند پہاڑوں کے (32) اگر وہ چاہے تو ٹھہرا دے ہوا کو، تو ہو جائیں وہ (کشتیاں)کھڑی ہونے والی اس (سمندر) کی سطح پر، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر، شاکرکے (33) یا (چاہے تو) تباہ کر دے ان کو بسبب اس کےجو انھوں نے کمایا اور (چاہے تو) درگزر کر دے بہت سوں سے (34) اور (تاکہ) جان لیں وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں ہماری آیتوں میں کہ نہیں ہے ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ (35)
[32] یعنی اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل ﴿الۡجَوَارِ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’سمندر میں جہاز‘‘ کشتیاں، دخانی اور بادبانی جہاز ہیں جو اپنی بڑی جسامت کی بنا پر ﴿كَالۡاَعۡلَامِ﴾ بڑے بڑے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو مسخر کر دیا اور متلاطم موجوں سے ان کی حفاظت کی، یہ کشتیاں انھیں اور ان کے سامان تجارت کو دور دور ملکوں اور شہروں تک لے جاتی ہیں اور ان کے لیے ایسے اسباب مہیا کیے جو ان کو ان ملکوں اور شہروں تک جانے میں مدد دیتے ہیں۔
[33، 34] پھر اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُسۡكِنِ الرِّيۡحَ ﴾ ’’اگر وہ (اللہ) چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے۔‘‘ جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کشتیوں کے چلنے کا سبب بنایا ہے، ﴿فَيَظۡلَلۡنَ ﴾ ’’اور وہ رہ جائیں۔‘‘ یعنی مختلف انواع کی کشتیاں ﴿رَوَاكِدَ ﴾ سطح سمندر پر ٹھہر جائیں، آگے بڑھیں نہ پیچھے ہٹیں۔ یہ چیز دخانی کشتیوں کے متناقض نہیں ہے کیونکہ دخانی کشتیوں کے چلنے کے لیے ہوا کا موجود ہونا شرط ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کشتیوں کو، ان پر سوار ہونے والوں کے کرتوتوں کے سبب سے تباہ کر دے یعنی سمندر میں غرق کر کے تلف کر دے، مگر وہ حلم سے کام لیتا ہے اور بہت سے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ ﴾ ’’بے شک صبر شکر کرنے والوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔‘‘ یعنی جو ان امور پر بہت صبر کرنے والا ہے جن کو اس کا نفس ناپسند کرتا ہے اور اس پر یہ امور شاق گزرتے ہیں وہ اپنے نفس کو اس مشقت اور اطاعت پر مجبور کرتا ہے، معصیت کے داعی کو اور مصیبت کے وقت نفس کو اللہ تعالیٰ پر ناراضی سے روکتا ہے ﴿شَكُوۡرٍ﴾ نعمتوں اور آسودہ حالی میں شکر ادا کرتا ہے، وہ اپنے رب کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق صرف کرتا ہے۔ پس یہی وہ شخص ہے جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ رہا وہ شخص جو صبر سے بہرہ ور ہے نہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کرتا ہے تو یہ شخص یا تو آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والا یا ان سے عناد رکھنے والا ہے، وہ آیات الٰہی سے مستفید نہیں ہوسکتا۔
[35] پھر فرمایا: ﴿وَّيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور جان لیں وہ لوگ جو ہماری آیتوں کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔‘‘تاکہ اپنے باطل نظریے کے ذریعے سے انھیں جھٹلاتے ہیں۔ ﴿مَا لَهُمۡ مِّنۡ مَّحِيۡصٍ ﴾ اس عذاب سے انھیں کوئی بچا نہیں سکے گا جو ان پر نازل ہو گا۔
42:34أَوۡ يُوبِقۡهُنَّ بِمَا كَسَبُواْ وَيَعۡفُ عَن كَثِيرٖ
اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں چلنے والی کشتیاں سمندر میں، مانند پہاڑوں کے (32) اگر وہ چاہے تو ٹھہرا دے ہوا کو، تو ہو جائیں وہ (کشتیاں)کھڑی ہونے والی اس (سمندر) کی سطح پر، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر، شاکرکے (33) یا (چاہے تو) تباہ کر دے ان کو بسبب اس کےجو انھوں نے کمایا اور (چاہے تو) درگزر کر دے بہت سوں سے (34) اور (تاکہ) جان لیں وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں ہماری آیتوں میں کہ نہیں ہے ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ (35)
[32] یعنی اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل ﴿الۡجَوَارِ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’سمندر میں جہاز‘‘ کشتیاں، دخانی اور بادبانی جہاز ہیں جو اپنی بڑی جسامت کی بنا پر ﴿كَالۡاَعۡلَامِ﴾ بڑے بڑے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو مسخر کر دیا اور متلاطم موجوں سے ان کی حفاظت کی، یہ کشتیاں انھیں اور ان کے سامان تجارت کو دور دور ملکوں اور شہروں تک لے جاتی ہیں اور ان کے لیے ایسے اسباب مہیا کیے جو ان کو ان ملکوں اور شہروں تک جانے میں مدد دیتے ہیں۔
[33، 34] پھر اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُسۡكِنِ الرِّيۡحَ ﴾ ’’اگر وہ (اللہ) چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے۔‘‘ جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کشتیوں کے چلنے کا سبب بنایا ہے، ﴿فَيَظۡلَلۡنَ ﴾ ’’اور وہ رہ جائیں۔‘‘ یعنی مختلف انواع کی کشتیاں ﴿رَوَاكِدَ ﴾ سطح سمندر پر ٹھہر جائیں، آگے بڑھیں نہ پیچھے ہٹیں۔ یہ چیز دخانی کشتیوں کے متناقض نہیں ہے کیونکہ دخانی کشتیوں کے چلنے کے لیے ہوا کا موجود ہونا شرط ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کشتیوں کو، ان پر سوار ہونے والوں کے کرتوتوں کے سبب سے تباہ کر دے یعنی سمندر میں غرق کر کے تلف کر دے، مگر وہ حلم سے کام لیتا ہے اور بہت سے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ ﴾ ’’بے شک صبر شکر کرنے والوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔‘‘ یعنی جو ان امور پر بہت صبر کرنے والا ہے جن کو اس کا نفس ناپسند کرتا ہے اور اس پر یہ امور شاق گزرتے ہیں وہ اپنے نفس کو اس مشقت اور اطاعت پر مجبور کرتا ہے، معصیت کے داعی کو اور مصیبت کے وقت نفس کو اللہ تعالیٰ پر ناراضی سے روکتا ہے ﴿شَكُوۡرٍ﴾ نعمتوں اور آسودہ حالی میں شکر ادا کرتا ہے، وہ اپنے رب کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق صرف کرتا ہے۔ پس یہی وہ شخص ہے جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ رہا وہ شخص جو صبر سے بہرہ ور ہے نہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کرتا ہے تو یہ شخص یا تو آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والا یا ان سے عناد رکھنے والا ہے، وہ آیات الٰہی سے مستفید نہیں ہوسکتا۔
[35] پھر فرمایا: ﴿وَّيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور جان لیں وہ لوگ جو ہماری آیتوں کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔‘‘تاکہ اپنے باطل نظریے کے ذریعے سے انھیں جھٹلاتے ہیں۔ ﴿مَا لَهُمۡ مِّنۡ مَّحِيۡصٍ ﴾ اس عذاب سے انھیں کوئی بچا نہیں سکے گا جو ان پر نازل ہو گا۔
42:35وَيَعۡلَمَ ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا مَا لَهُم مِّن مَّحِيصٖ
اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں چلنے والی کشتیاں سمندر میں، مانند پہاڑوں کے (32) اگر وہ چاہے تو ٹھہرا دے ہوا کو، تو ہو جائیں وہ (کشتیاں)کھڑی ہونے والی اس (سمندر) کی سطح پر، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر، شاکرکے (33) یا (چاہے تو) تباہ کر دے ان کو بسبب اس کےجو انھوں نے کمایا اور (چاہے تو) درگزر کر دے بہت سوں سے (34) اور (تاکہ) جان لیں وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں ہماری آیتوں میں کہ نہیں ہے ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ (35)
[32] یعنی اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل ﴿الۡجَوَارِ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’سمندر میں جہاز‘‘ کشتیاں، دخانی اور بادبانی جہاز ہیں جو اپنی بڑی جسامت کی بنا پر ﴿كَالۡاَعۡلَامِ﴾ بڑے بڑے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو مسخر کر دیا اور متلاطم موجوں سے ان کی حفاظت کی، یہ کشتیاں انھیں اور ان کے سامان تجارت کو دور دور ملکوں اور شہروں تک لے جاتی ہیں اور ان کے لیے ایسے اسباب مہیا کیے جو ان کو ان ملکوں اور شہروں تک جانے میں مدد دیتے ہیں۔
[33، 34] پھر اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُسۡكِنِ الرِّيۡحَ ﴾ ’’اگر وہ (اللہ) چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے۔‘‘ جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کشتیوں کے چلنے کا سبب بنایا ہے، ﴿فَيَظۡلَلۡنَ ﴾ ’’اور وہ رہ جائیں۔‘‘ یعنی مختلف انواع کی کشتیاں ﴿رَوَاكِدَ ﴾ سطح سمندر پر ٹھہر جائیں، آگے بڑھیں نہ پیچھے ہٹیں۔ یہ چیز دخانی کشتیوں کے متناقض نہیں ہے کیونکہ دخانی کشتیوں کے چلنے کے لیے ہوا کا موجود ہونا شرط ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کشتیوں کو، ان پر سوار ہونے والوں کے کرتوتوں کے سبب سے تباہ کر دے یعنی سمندر میں غرق کر کے تلف کر دے، مگر وہ حلم سے کام لیتا ہے اور بہت سے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ ﴾ ’’بے شک صبر شکر کرنے والوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔‘‘ یعنی جو ان امور پر بہت صبر کرنے والا ہے جن کو اس کا نفس ناپسند کرتا ہے اور اس پر یہ امور شاق گزرتے ہیں وہ اپنے نفس کو اس مشقت اور اطاعت پر مجبور کرتا ہے، معصیت کے داعی کو اور مصیبت کے وقت نفس کو اللہ تعالیٰ پر ناراضی سے روکتا ہے ﴿شَكُوۡرٍ﴾ نعمتوں اور آسودہ حالی میں شکر ادا کرتا ہے، وہ اپنے رب کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق صرف کرتا ہے۔ پس یہی وہ شخص ہے جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ رہا وہ شخص جو صبر سے بہرہ ور ہے نہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کرتا ہے تو یہ شخص یا تو آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والا یا ان سے عناد رکھنے والا ہے، وہ آیات الٰہی سے مستفید نہیں ہوسکتا۔
[35] پھر فرمایا: ﴿وَّيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور جان لیں وہ لوگ جو ہماری آیتوں کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔‘‘تاکہ اپنے باطل نظریے کے ذریعے سے انھیں جھٹلاتے ہیں۔ ﴿مَا لَهُمۡ مِّنۡ مَّحِيۡصٍ ﴾ اس عذاب سے انھیں کوئی بچا نہیں سکے گا جو ان پر نازل ہو گا۔
42:36فَمَآ أُوتِيتُم مِّن شَيۡءٖ فَمَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۚ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ
پس جو بھی دیے گئے ہو تم کسی چیز سے تو وہ سامان ہے زندگانیٔ دنیا کا، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے، وہ کہیں بہتر اور بہت پائیدار ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر وہ بھروسا کرتے ہیں (36) اور وہ لوگ جو بچتے ہیں کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے اور جب غصے ہوتے ہیں تو وہ معاف کر دیتے ہیں (37) اور وہ جنھوں نے حکم مانا اپنے رب کا اور قائم کی انھوں نے نماز اور ان کا کام ہے مشورہ کرنا آپس میں، اور اس میں سے جو دیا ہم نے ان کو، وہ خرچ کرتے ہیں (38) اور وہ لوگ کہ جب پہنچتا ہے ان کو ظلم تو وہ بدلہ لیتے ہیں(39)
[36] اس آیت کریمہ میں دنیا کو ترک کرنے اور آخرت کو اختیارکرنے کی ترغیب اور ان اعمال کا ذکر ہے جو آخرت کی منزل تک پہنچاتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿فَمَاۤ اُوۡتِيۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’پس جو کچھ تمھیں دیا گیا ہے۔‘‘ یعنی اقتدار، ریاست، سرداری، مال، بیٹے اور بدنی صحت و عافیت وغیرہ۔ ﴿فَمَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’پس دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے۔‘‘ یعنی منقطع ہونے والی لذت ہے۔ ﴿وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ بے پایاں ثواب، جلیل القدر اور دائمی نعمتوں میں سے وہ﴿خَيۡرٌ ﴾ لذات دنیا سے بہتر ہے، اخروی نعمتوں اور دنیا کی لذتوں کے مابین کوئی نسبت ہی نہیں۔ ﴿وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور زیادہ پائدار ہیں۔‘‘ کیونکہ یہ ایسی نعمتیں ہیں کہ ان میں کوئی تکدر ہے نہ یہ ختم ہونے والی ہیں اور نہ یہ کہیں اور منتقل ہوں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو اس ثواب سے بہرہ مند کیا جائے گا ، چنانچہ فرمایا :﴿لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ﴾ یعنی جنھوں نے ایمان صحیح، جو ظاہری اور باطنی ایمان کے اعمال کو مستلزم ہے اور توکل کو جمع کر لیا ہے جو ہر عمل کا آلہ ہے پس ہر عمل جس کی مصاحبت میں توکل نہ ہو، غیرمکمل ہے۔ اور جس چیز کو بندہ پسند کرتا ہے اسے حاصل کرنے اور جسے ناپسند کرتا ہے اسے دور کرنے میں قلب کے اللہ تعالیٰ پر پورے وثوق کے ساتھ بھروسہ کرنے کا نام توکل ہے۔
[37]﴿وَالَّذِيۡنَ يَجۡتَنِبُوۡنَ كَبٰٓىِٕرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔‘‘ کبائر اور فواحش میں، دونوں کے گناہ کبیرہ ہونے کے باوجود، فرق یہ ہے کہ فواحش وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کے لیے نفس انسانی میں داعیہ موجود ہوتا ہے، مثلاً: زنا وغیرہ اور کبائر وہ گناہ ہیں جن کے لیے نفس میں داعیہ موجود نہیں ہوتا، یہ مفہوم دونوں کے اکٹھا استعمال کے وقت ہے۔ اور رہا ان کا انفرادی وجود، تو وہ سب کبائر میں داخل ہیں۔ ﴿وَاِذَا مَا غَضِبُوۡا هُمۡ يَغۡفِرُوۡنَ﴾ ’’اور جب وہ غصے میں آتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی انھوں نے مکارم اخلاق اور محاسن عادات سے اپنے آپ کو آراستہ کر رکھا ہے، حلم ان کی فطرت اور حسن خلق ان کی طبیعت بن گیا ہے حتیٰ کہ جب کبھی کوئی شخص کسی قول یا فعل کے ذریعے سے انھیں ناراض کر دیتا ہے تو وہ اپنے غصے کو پی جاتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے، بلکہ قصور بخش دیتے ہیں اور وہ اس کے مقابلے میں حسن سلوک اور عفوودرگزر سے کام لیتے ہیں۔ پس اس عفوودگزر پر، خود ان کی ذات میں اور دوسروں میں بہت سے مصالح مترتب اور بہت سے مفاسد دور ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِيۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيۡمٌ۰۰ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(حم السجدۃ:41؍34، 35) ’’برائی کو نیکی کے ذریعے سے دور کیجیے، آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص بھی جس کی آپ کے ساتھ دشمنی ہے، جگری دوست بن جائے گا، اس وصف سے صرف وہی لوگ بہرہ مند ہوتے ہیں، جو صبر کرتے ہیں اور یہ وصف صرف انھیں لوگوں کو عطا ہوتا ہے جو بڑے نصیبے والے ہیں۔‘‘
[38]﴿وَالَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور جو اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جو اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا ان کا مطمحِ نظر اور اس کے قرب کا حصول ان کی غرض و غایت بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دعوت کا جواب دینے سے مراد ہے، نماز قائم کرنا اور زکاۃ ادا کرنا، اس لیے ان کا استجابت پر عطف کیا ہے، یہ خاص پر عام کے عطف کے باب میں سے ہے، جو اس کے فضل و شرف کی دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ یعنی اس کے ظاہر و باطن اور فرائض و نوافل کو قائم کرتے ہیں۔ ﴿وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ﴾ ’’اور ہم نے جو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ اور اقارب پر خرچ کرنا وغیرہ اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: عام مخلوق پر صدقہ کرنا۔ ﴿وَاَمۡرُهُمۡ ﴾ ان کے دینی اور دنیاوی معاملات ﴿شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’باہم مشورے سے طے پاتے ہیں۔‘‘ یعنی مشترکہ امور میں ان میں سے کوئی بھی اپنی رائے کو مسلط نہیں کرتا۔ یہ وصف ان کی اجتماعیت، آپس کی الفت، مودت اور محبت ہی کا حصہ ہے۔ ان کا کمال عقل ہے کہ جب وہ کسی ایسے کام کا ارادہ کرتے ہیں جس میں غوروفکر کی ضرورت ہو تو وہ اکٹھے ہو کر اس بارے میں بحث و تمحیص اور آپس میں مشورہ کرتے ہیں، جب ان پر مصلحت واضح ہو جاتی ہے تو اسے جلدی سے قبول کر لیتے ہیں، جیسے غزوہ، جہاد، امارت یا قضا وغیرہ کے لیے عمّال مقرر کرنے میں مشورہ کرنا اور دینی مسائل میں بحث و تحقیق کرنا کیونکہ یہ اعمال مشترکہ امور میں شمار ہوتے ہیں تاکہ صحیح رائے واضح ہو جائے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ یہ بھی اسی آیت کریمہ کے تحت آتا ہے۔
[39]﴿وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الۡبَغۡيُ ﴾ ’’اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم و تعدی ہو۔‘‘ یعنی ان کے دشمنوں کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی کی جاتی ہے ﴿هُمۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ بدلہ لیتے ہیں۔‘‘ اپنی قوت و طاقت کی بنا پر ان سے بدلہ لیتے ہیں، وہ کمزور اور بدلہ لینے سے عاجز نہیں ہیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان، اللہ پر توکل، کبائر و فواحش سے اجتناب جس سے صغیرہ گناہ مٹ جاتے ہیں، مکمل اطاعت، اپنے رب کی دعوت کو قبول کرنے، نماز قائم کرنے، نیکی کے راستوں میں خرچ کرنے، اپنے معاملات میں باہم مشورہ کرنے، دشمن کے خلاف قوت استعمال کرنے اور اس سے مقابلہ کرنے سے متصف کیا ہے۔ وہ ان خصائل کمال کے جامع ہیں اور یوں ان سے کمتر افعال کے صدور اور مرقومہ بالاخصائل کی اضداد کی نفی لازم آتی ہے۔
42:37وَٱلَّذِينَ يَجۡتَنِبُونَ كَبَـٰٓئِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡفَوَٰحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُواْ هُمۡ يَغۡفِرُونَ
پس جو بھی دیے گئے ہو تم کسی چیز سے تو وہ سامان ہے زندگانیٔ دنیا کا، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے، وہ کہیں بہتر اور بہت پائیدار ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر وہ بھروسا کرتے ہیں (36) اور وہ لوگ جو بچتے ہیں کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے اور جب غصے ہوتے ہیں تو وہ معاف کر دیتے ہیں (37) اور وہ جنھوں نے حکم مانا اپنے رب کا اور قائم کی انھوں نے نماز اور ان کا کام ہے مشورہ کرنا آپس میں، اور اس میں سے جو دیا ہم نے ان کو، وہ خرچ کرتے ہیں (38) اور وہ لوگ کہ جب پہنچتا ہے ان کو ظلم تو وہ بدلہ لیتے ہیں(39)
[36] اس آیت کریمہ میں دنیا کو ترک کرنے اور آخرت کو اختیارکرنے کی ترغیب اور ان اعمال کا ذکر ہے جو آخرت کی منزل تک پہنچاتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿فَمَاۤ اُوۡتِيۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’پس جو کچھ تمھیں دیا گیا ہے۔‘‘ یعنی اقتدار، ریاست، سرداری، مال، بیٹے اور بدنی صحت و عافیت وغیرہ۔ ﴿فَمَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’پس دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے۔‘‘ یعنی منقطع ہونے والی لذت ہے۔ ﴿وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ بے پایاں ثواب، جلیل القدر اور دائمی نعمتوں میں سے وہ﴿خَيۡرٌ ﴾ لذات دنیا سے بہتر ہے، اخروی نعمتوں اور دنیا کی لذتوں کے مابین کوئی نسبت ہی نہیں۔ ﴿وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور زیادہ پائدار ہیں۔‘‘ کیونکہ یہ ایسی نعمتیں ہیں کہ ان میں کوئی تکدر ہے نہ یہ ختم ہونے والی ہیں اور نہ یہ کہیں اور منتقل ہوں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو اس ثواب سے بہرہ مند کیا جائے گا ، چنانچہ فرمایا :﴿لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ﴾ یعنی جنھوں نے ایمان صحیح، جو ظاہری اور باطنی ایمان کے اعمال کو مستلزم ہے اور توکل کو جمع کر لیا ہے جو ہر عمل کا آلہ ہے پس ہر عمل جس کی مصاحبت میں توکل نہ ہو، غیرمکمل ہے۔ اور جس چیز کو بندہ پسند کرتا ہے اسے حاصل کرنے اور جسے ناپسند کرتا ہے اسے دور کرنے میں قلب کے اللہ تعالیٰ پر پورے وثوق کے ساتھ بھروسہ کرنے کا نام توکل ہے۔
[37]﴿وَالَّذِيۡنَ يَجۡتَنِبُوۡنَ كَبٰٓىِٕرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔‘‘ کبائر اور فواحش میں، دونوں کے گناہ کبیرہ ہونے کے باوجود، فرق یہ ہے کہ فواحش وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کے لیے نفس انسانی میں داعیہ موجود ہوتا ہے، مثلاً: زنا وغیرہ اور کبائر وہ گناہ ہیں جن کے لیے نفس میں داعیہ موجود نہیں ہوتا، یہ مفہوم دونوں کے اکٹھا استعمال کے وقت ہے۔ اور رہا ان کا انفرادی وجود، تو وہ سب کبائر میں داخل ہیں۔ ﴿وَاِذَا مَا غَضِبُوۡا هُمۡ يَغۡفِرُوۡنَ﴾ ’’اور جب وہ غصے میں آتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی انھوں نے مکارم اخلاق اور محاسن عادات سے اپنے آپ کو آراستہ کر رکھا ہے، حلم ان کی فطرت اور حسن خلق ان کی طبیعت بن گیا ہے حتیٰ کہ جب کبھی کوئی شخص کسی قول یا فعل کے ذریعے سے انھیں ناراض کر دیتا ہے تو وہ اپنے غصے کو پی جاتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے، بلکہ قصور بخش دیتے ہیں اور وہ اس کے مقابلے میں حسن سلوک اور عفوودرگزر سے کام لیتے ہیں۔ پس اس عفوودگزر پر، خود ان کی ذات میں اور دوسروں میں بہت سے مصالح مترتب اور بہت سے مفاسد دور ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِيۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيۡمٌ۰۰ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(حم السجدۃ:41؍34، 35) ’’برائی کو نیکی کے ذریعے سے دور کیجیے، آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص بھی جس کی آپ کے ساتھ دشمنی ہے، جگری دوست بن جائے گا، اس وصف سے صرف وہی لوگ بہرہ مند ہوتے ہیں، جو صبر کرتے ہیں اور یہ وصف صرف انھیں لوگوں کو عطا ہوتا ہے جو بڑے نصیبے والے ہیں۔‘‘
[38]﴿وَالَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور جو اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جو اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا ان کا مطمحِ نظر اور اس کے قرب کا حصول ان کی غرض و غایت بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دعوت کا جواب دینے سے مراد ہے، نماز قائم کرنا اور زکاۃ ادا کرنا، اس لیے ان کا استجابت پر عطف کیا ہے، یہ خاص پر عام کے عطف کے باب میں سے ہے، جو اس کے فضل و شرف کی دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ یعنی اس کے ظاہر و باطن اور فرائض و نوافل کو قائم کرتے ہیں۔ ﴿وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ﴾ ’’اور ہم نے جو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ اور اقارب پر خرچ کرنا وغیرہ اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: عام مخلوق پر صدقہ کرنا۔ ﴿وَاَمۡرُهُمۡ ﴾ ان کے دینی اور دنیاوی معاملات ﴿شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’باہم مشورے سے طے پاتے ہیں۔‘‘ یعنی مشترکہ امور میں ان میں سے کوئی بھی اپنی رائے کو مسلط نہیں کرتا۔ یہ وصف ان کی اجتماعیت، آپس کی الفت، مودت اور محبت ہی کا حصہ ہے۔ ان کا کمال عقل ہے کہ جب وہ کسی ایسے کام کا ارادہ کرتے ہیں جس میں غوروفکر کی ضرورت ہو تو وہ اکٹھے ہو کر اس بارے میں بحث و تمحیص اور آپس میں مشورہ کرتے ہیں، جب ان پر مصلحت واضح ہو جاتی ہے تو اسے جلدی سے قبول کر لیتے ہیں، جیسے غزوہ، جہاد، امارت یا قضا وغیرہ کے لیے عمّال مقرر کرنے میں مشورہ کرنا اور دینی مسائل میں بحث و تحقیق کرنا کیونکہ یہ اعمال مشترکہ امور میں شمار ہوتے ہیں تاکہ صحیح رائے واضح ہو جائے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ یہ بھی اسی آیت کریمہ کے تحت آتا ہے۔
[39]﴿وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الۡبَغۡيُ ﴾ ’’اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم و تعدی ہو۔‘‘ یعنی ان کے دشمنوں کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی کی جاتی ہے ﴿هُمۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ بدلہ لیتے ہیں۔‘‘ اپنی قوت و طاقت کی بنا پر ان سے بدلہ لیتے ہیں، وہ کمزور اور بدلہ لینے سے عاجز نہیں ہیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان، اللہ پر توکل، کبائر و فواحش سے اجتناب جس سے صغیرہ گناہ مٹ جاتے ہیں، مکمل اطاعت، اپنے رب کی دعوت کو قبول کرنے، نماز قائم کرنے، نیکی کے راستوں میں خرچ کرنے، اپنے معاملات میں باہم مشورہ کرنے، دشمن کے خلاف قوت استعمال کرنے اور اس سے مقابلہ کرنے سے متصف کیا ہے۔ وہ ان خصائل کمال کے جامع ہیں اور یوں ان سے کمتر افعال کے صدور اور مرقومہ بالاخصائل کی اضداد کی نفی لازم آتی ہے۔
42:38وَٱلَّذِينَ ٱسۡتَجَابُواْ لِرَبِّهِمۡ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَمۡرُهُمۡ شُورَىٰ بَيۡنَهُمۡ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ
پس جو بھی دیے گئے ہو تم کسی چیز سے تو وہ سامان ہے زندگانیٔ دنیا کا، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے، وہ کہیں بہتر اور بہت پائیدار ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر وہ بھروسا کرتے ہیں (36) اور وہ لوگ جو بچتے ہیں کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے اور جب غصے ہوتے ہیں تو وہ معاف کر دیتے ہیں (37) اور وہ جنھوں نے حکم مانا اپنے رب کا اور قائم کی انھوں نے نماز اور ان کا کام ہے مشورہ کرنا آپس میں، اور اس میں سے جو دیا ہم نے ان کو، وہ خرچ کرتے ہیں (38) اور وہ لوگ کہ جب پہنچتا ہے ان کو ظلم تو وہ بدلہ لیتے ہیں(39)
[36] اس آیت کریمہ میں دنیا کو ترک کرنے اور آخرت کو اختیارکرنے کی ترغیب اور ان اعمال کا ذکر ہے جو آخرت کی منزل تک پہنچاتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿فَمَاۤ اُوۡتِيۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’پس جو کچھ تمھیں دیا گیا ہے۔‘‘ یعنی اقتدار، ریاست، سرداری، مال، بیٹے اور بدنی صحت و عافیت وغیرہ۔ ﴿فَمَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’پس دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے۔‘‘ یعنی منقطع ہونے والی لذت ہے۔ ﴿وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ بے پایاں ثواب، جلیل القدر اور دائمی نعمتوں میں سے وہ﴿خَيۡرٌ ﴾ لذات دنیا سے بہتر ہے، اخروی نعمتوں اور دنیا کی لذتوں کے مابین کوئی نسبت ہی نہیں۔ ﴿وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور زیادہ پائدار ہیں۔‘‘ کیونکہ یہ ایسی نعمتیں ہیں کہ ان میں کوئی تکدر ہے نہ یہ ختم ہونے والی ہیں اور نہ یہ کہیں اور منتقل ہوں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو اس ثواب سے بہرہ مند کیا جائے گا ، چنانچہ فرمایا :﴿لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ﴾ یعنی جنھوں نے ایمان صحیح، جو ظاہری اور باطنی ایمان کے اعمال کو مستلزم ہے اور توکل کو جمع کر لیا ہے جو ہر عمل کا آلہ ہے پس ہر عمل جس کی مصاحبت میں توکل نہ ہو، غیرمکمل ہے۔ اور جس چیز کو بندہ پسند کرتا ہے اسے حاصل کرنے اور جسے ناپسند کرتا ہے اسے دور کرنے میں قلب کے اللہ تعالیٰ پر پورے وثوق کے ساتھ بھروسہ کرنے کا نام توکل ہے۔
[37]﴿وَالَّذِيۡنَ يَجۡتَنِبُوۡنَ كَبٰٓىِٕرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔‘‘ کبائر اور فواحش میں، دونوں کے گناہ کبیرہ ہونے کے باوجود، فرق یہ ہے کہ فواحش وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کے لیے نفس انسانی میں داعیہ موجود ہوتا ہے، مثلاً: زنا وغیرہ اور کبائر وہ گناہ ہیں جن کے لیے نفس میں داعیہ موجود نہیں ہوتا، یہ مفہوم دونوں کے اکٹھا استعمال کے وقت ہے۔ اور رہا ان کا انفرادی وجود، تو وہ سب کبائر میں داخل ہیں۔ ﴿وَاِذَا مَا غَضِبُوۡا هُمۡ يَغۡفِرُوۡنَ﴾ ’’اور جب وہ غصے میں آتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی انھوں نے مکارم اخلاق اور محاسن عادات سے اپنے آپ کو آراستہ کر رکھا ہے، حلم ان کی فطرت اور حسن خلق ان کی طبیعت بن گیا ہے حتیٰ کہ جب کبھی کوئی شخص کسی قول یا فعل کے ذریعے سے انھیں ناراض کر دیتا ہے تو وہ اپنے غصے کو پی جاتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے، بلکہ قصور بخش دیتے ہیں اور وہ اس کے مقابلے میں حسن سلوک اور عفوودرگزر سے کام لیتے ہیں۔ پس اس عفوودگزر پر، خود ان کی ذات میں اور دوسروں میں بہت سے مصالح مترتب اور بہت سے مفاسد دور ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِيۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيۡمٌ۰۰ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(حم السجدۃ:41؍34، 35) ’’برائی کو نیکی کے ذریعے سے دور کیجیے، آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص بھی جس کی آپ کے ساتھ دشمنی ہے، جگری دوست بن جائے گا، اس وصف سے صرف وہی لوگ بہرہ مند ہوتے ہیں، جو صبر کرتے ہیں اور یہ وصف صرف انھیں لوگوں کو عطا ہوتا ہے جو بڑے نصیبے والے ہیں۔‘‘
[38]﴿وَالَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور جو اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جو اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا ان کا مطمحِ نظر اور اس کے قرب کا حصول ان کی غرض و غایت بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دعوت کا جواب دینے سے مراد ہے، نماز قائم کرنا اور زکاۃ ادا کرنا، اس لیے ان کا استجابت پر عطف کیا ہے، یہ خاص پر عام کے عطف کے باب میں سے ہے، جو اس کے فضل و شرف کی دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ یعنی اس کے ظاہر و باطن اور فرائض و نوافل کو قائم کرتے ہیں۔ ﴿وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ﴾ ’’اور ہم نے جو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ اور اقارب پر خرچ کرنا وغیرہ اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: عام مخلوق پر صدقہ کرنا۔ ﴿وَاَمۡرُهُمۡ ﴾ ان کے دینی اور دنیاوی معاملات ﴿شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’باہم مشورے سے طے پاتے ہیں۔‘‘ یعنی مشترکہ امور میں ان میں سے کوئی بھی اپنی رائے کو مسلط نہیں کرتا۔ یہ وصف ان کی اجتماعیت، آپس کی الفت، مودت اور محبت ہی کا حصہ ہے۔ ان کا کمال عقل ہے کہ جب وہ کسی ایسے کام کا ارادہ کرتے ہیں جس میں غوروفکر کی ضرورت ہو تو وہ اکٹھے ہو کر اس بارے میں بحث و تمحیص اور آپس میں مشورہ کرتے ہیں، جب ان پر مصلحت واضح ہو جاتی ہے تو اسے جلدی سے قبول کر لیتے ہیں، جیسے غزوہ، جہاد، امارت یا قضا وغیرہ کے لیے عمّال مقرر کرنے میں مشورہ کرنا اور دینی مسائل میں بحث و تحقیق کرنا کیونکہ یہ اعمال مشترکہ امور میں شمار ہوتے ہیں تاکہ صحیح رائے واضح ہو جائے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ یہ بھی اسی آیت کریمہ کے تحت آتا ہے۔
[39]﴿وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الۡبَغۡيُ ﴾ ’’اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم و تعدی ہو۔‘‘ یعنی ان کے دشمنوں کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی کی جاتی ہے ﴿هُمۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ بدلہ لیتے ہیں۔‘‘ اپنی قوت و طاقت کی بنا پر ان سے بدلہ لیتے ہیں، وہ کمزور اور بدلہ لینے سے عاجز نہیں ہیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان، اللہ پر توکل، کبائر و فواحش سے اجتناب جس سے صغیرہ گناہ مٹ جاتے ہیں، مکمل اطاعت، اپنے رب کی دعوت کو قبول کرنے، نماز قائم کرنے، نیکی کے راستوں میں خرچ کرنے، اپنے معاملات میں باہم مشورہ کرنے، دشمن کے خلاف قوت استعمال کرنے اور اس سے مقابلہ کرنے سے متصف کیا ہے۔ وہ ان خصائل کمال کے جامع ہیں اور یوں ان سے کمتر افعال کے صدور اور مرقومہ بالاخصائل کی اضداد کی نفی لازم آتی ہے۔
42:39وَٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَابَهُمُ ٱلۡبَغۡيُ هُمۡ يَنتَصِرُونَ
پس جو بھی دیے گئے ہو تم کسی چیز سے تو وہ سامان ہے زندگانیٔ دنیا کا، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے، وہ کہیں بہتر اور بہت پائیدار ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر وہ بھروسا کرتے ہیں (36) اور وہ لوگ جو بچتے ہیں کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے اور جب غصے ہوتے ہیں تو وہ معاف کر دیتے ہیں (37) اور وہ جنھوں نے حکم مانا اپنے رب کا اور قائم کی انھوں نے نماز اور ان کا کام ہے مشورہ کرنا آپس میں، اور اس میں سے جو دیا ہم نے ان کو، وہ خرچ کرتے ہیں (38) اور وہ لوگ کہ جب پہنچتا ہے ان کو ظلم تو وہ بدلہ لیتے ہیں(39)
[36] اس آیت کریمہ میں دنیا کو ترک کرنے اور آخرت کو اختیارکرنے کی ترغیب اور ان اعمال کا ذکر ہے جو آخرت کی منزل تک پہنچاتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿فَمَاۤ اُوۡتِيۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’پس جو کچھ تمھیں دیا گیا ہے۔‘‘ یعنی اقتدار، ریاست، سرداری، مال، بیٹے اور بدنی صحت و عافیت وغیرہ۔ ﴿فَمَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’پس دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے۔‘‘ یعنی منقطع ہونے والی لذت ہے۔ ﴿وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ بے پایاں ثواب، جلیل القدر اور دائمی نعمتوں میں سے وہ﴿خَيۡرٌ ﴾ لذات دنیا سے بہتر ہے، اخروی نعمتوں اور دنیا کی لذتوں کے مابین کوئی نسبت ہی نہیں۔ ﴿وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور زیادہ پائدار ہیں۔‘‘ کیونکہ یہ ایسی نعمتیں ہیں کہ ان میں کوئی تکدر ہے نہ یہ ختم ہونے والی ہیں اور نہ یہ کہیں اور منتقل ہوں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو اس ثواب سے بہرہ مند کیا جائے گا ، چنانچہ فرمایا :﴿لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ﴾ یعنی جنھوں نے ایمان صحیح، جو ظاہری اور باطنی ایمان کے اعمال کو مستلزم ہے اور توکل کو جمع کر لیا ہے جو ہر عمل کا آلہ ہے پس ہر عمل جس کی مصاحبت میں توکل نہ ہو، غیرمکمل ہے۔ اور جس چیز کو بندہ پسند کرتا ہے اسے حاصل کرنے اور جسے ناپسند کرتا ہے اسے دور کرنے میں قلب کے اللہ تعالیٰ پر پورے وثوق کے ساتھ بھروسہ کرنے کا نام توکل ہے۔
[37]﴿وَالَّذِيۡنَ يَجۡتَنِبُوۡنَ كَبٰٓىِٕرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔‘‘ کبائر اور فواحش میں، دونوں کے گناہ کبیرہ ہونے کے باوجود، فرق یہ ہے کہ فواحش وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کے لیے نفس انسانی میں داعیہ موجود ہوتا ہے، مثلاً: زنا وغیرہ اور کبائر وہ گناہ ہیں جن کے لیے نفس میں داعیہ موجود نہیں ہوتا، یہ مفہوم دونوں کے اکٹھا استعمال کے وقت ہے۔ اور رہا ان کا انفرادی وجود، تو وہ سب کبائر میں داخل ہیں۔ ﴿وَاِذَا مَا غَضِبُوۡا هُمۡ يَغۡفِرُوۡنَ﴾ ’’اور جب وہ غصے میں آتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی انھوں نے مکارم اخلاق اور محاسن عادات سے اپنے آپ کو آراستہ کر رکھا ہے، حلم ان کی فطرت اور حسن خلق ان کی طبیعت بن گیا ہے حتیٰ کہ جب کبھی کوئی شخص کسی قول یا فعل کے ذریعے سے انھیں ناراض کر دیتا ہے تو وہ اپنے غصے کو پی جاتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے، بلکہ قصور بخش دیتے ہیں اور وہ اس کے مقابلے میں حسن سلوک اور عفوودرگزر سے کام لیتے ہیں۔ پس اس عفوودگزر پر، خود ان کی ذات میں اور دوسروں میں بہت سے مصالح مترتب اور بہت سے مفاسد دور ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِيۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيۡمٌ۰۰ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(حم السجدۃ:41؍34، 35) ’’برائی کو نیکی کے ذریعے سے دور کیجیے، آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص بھی جس کی آپ کے ساتھ دشمنی ہے، جگری دوست بن جائے گا، اس وصف سے صرف وہی لوگ بہرہ مند ہوتے ہیں، جو صبر کرتے ہیں اور یہ وصف صرف انھیں لوگوں کو عطا ہوتا ہے جو بڑے نصیبے والے ہیں۔‘‘
[38]﴿وَالَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور جو اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جو اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا ان کا مطمحِ نظر اور اس کے قرب کا حصول ان کی غرض و غایت بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دعوت کا جواب دینے سے مراد ہے، نماز قائم کرنا اور زکاۃ ادا کرنا، اس لیے ان کا استجابت پر عطف کیا ہے، یہ خاص پر عام کے عطف کے باب میں سے ہے، جو اس کے فضل و شرف کی دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ یعنی اس کے ظاہر و باطن اور فرائض و نوافل کو قائم کرتے ہیں۔ ﴿وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ﴾ ’’اور ہم نے جو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ اور اقارب پر خرچ کرنا وغیرہ اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: عام مخلوق پر صدقہ کرنا۔ ﴿وَاَمۡرُهُمۡ ﴾ ان کے دینی اور دنیاوی معاملات ﴿شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’باہم مشورے سے طے پاتے ہیں۔‘‘ یعنی مشترکہ امور میں ان میں سے کوئی بھی اپنی رائے کو مسلط نہیں کرتا۔ یہ وصف ان کی اجتماعیت، آپس کی الفت، مودت اور محبت ہی کا حصہ ہے۔ ان کا کمال عقل ہے کہ جب وہ کسی ایسے کام کا ارادہ کرتے ہیں جس میں غوروفکر کی ضرورت ہو تو وہ اکٹھے ہو کر اس بارے میں بحث و تمحیص اور آپس میں مشورہ کرتے ہیں، جب ان پر مصلحت واضح ہو جاتی ہے تو اسے جلدی سے قبول کر لیتے ہیں، جیسے غزوہ، جہاد، امارت یا قضا وغیرہ کے لیے عمّال مقرر کرنے میں مشورہ کرنا اور دینی مسائل میں بحث و تحقیق کرنا کیونکہ یہ اعمال مشترکہ امور میں شمار ہوتے ہیں تاکہ صحیح رائے واضح ہو جائے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ یہ بھی اسی آیت کریمہ کے تحت آتا ہے۔
[39]﴿وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الۡبَغۡيُ ﴾ ’’اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم و تعدی ہو۔‘‘ یعنی ان کے دشمنوں کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی کی جاتی ہے ﴿هُمۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ بدلہ لیتے ہیں۔‘‘ اپنی قوت و طاقت کی بنا پر ان سے بدلہ لیتے ہیں، وہ کمزور اور بدلہ لینے سے عاجز نہیں ہیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان، اللہ پر توکل، کبائر و فواحش سے اجتناب جس سے صغیرہ گناہ مٹ جاتے ہیں، مکمل اطاعت، اپنے رب کی دعوت کو قبول کرنے، نماز قائم کرنے، نیکی کے راستوں میں خرچ کرنے، اپنے معاملات میں باہم مشورہ کرنے، دشمن کے خلاف قوت استعمال کرنے اور اس سے مقابلہ کرنے سے متصف کیا ہے۔ وہ ان خصائل کمال کے جامع ہیں اور یوں ان سے کمتر افعال کے صدور اور مرقومہ بالاخصائل کی اضداد کی نفی لازم آتی ہے۔
42:40وَجَزَـٰٓؤُاْ سَيِّئَةٖ سَيِّئَةٞ مِّثۡلُهَاۖ فَمَنۡ عَفَا وَأَصۡلَحَ فَأَجۡرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور بدلہ برائی کا برائی ہے اسی کی مثل، پس جو معاف کر دے اور صلح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، بلاشبہ وہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو (40) اور البتہ جس نے بدلہ لیا بعد اپنے آپ پر ظلم ہونے کے تو یہی لوگ ہیں کہ نہیں ہے اوپر ان کے کوئی راستہ (گرفت کرنے کا)(41) بلاشبہ راستہ تو ان لوگوں پر ہے جو ظلم کرتے ہیں لوگوں پر اور سرکشی کرتے ہیں زمین میں ناحق، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہے عذاب درد ناک (42) اور البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا تو بے شک یہ ہمت کے کاموں سے ہے (43)
[40] اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عقوبات کے مراتب بیان کیے ہیں، عقوبات کے تین مراتب ہیں: عدل، فضل اور ظلم۔ 1کسی کمی بیشی کے بغیر، برائی کے بدلے میں اسی جیسی برائی، مرتبۂ عدل ہے۔ پس جان کے بدلے جان ہے، عضو کے بدلے اس جیسا عضو اور مال کی ضمان اسی جیسا مال ہے۔ 2برائی کرنے والے کو معاف کر کے اصلاح کرنا مرتبۂ فضل ہے اس لیے فرمایا:﴿فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’پس جو کوئی درگزر کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اسے اجر عظیم اور ثواب جزیل عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے درگزر کرنے میں اصلاح کی شرط دلالت کرتی ہے کہ اگر مجرم عفو کے لائق نہ ہو اور مصلحت شرعیہ اس کو سزا دینے کا تقاضا کرتی ہو تو اس صورت میں وہ عفو پر مامور نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا معاف کرنے والے کو اجر عطا کرنا، عفو پر آمادہ کرتا ہے نیز اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ مخلوق کے ساتھ وہ معاملہ کرے، جو وہ اپنے بارے میں چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کرے۔ جیسا کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے، لہٰذا اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کو معاف کر دے۔ اور جیسا کہ وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ نرمی کرے، تب اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ نرمی کرے۔ کیونکہ جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ 3 رہا مرتبۂ ظلم، تو اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ جو دوسروں پر زیادتی کرنے میں ابتدا کرتے ہیں، یا جرم کرنے والے سے اس کے جرم سے بڑھ کر بدلہ لیتے ہیں تو یہ زیادتی ظلم ہے۔
[41]﴿وَلَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهٖ﴾ جو ظلم کے وقوع کے بعد ظلم کرنے والے سے بدلہ لیتا ہے۔ ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ مَا عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سَبِيۡلٍ﴾ تو یہی وہ لوگ ہیں جن پر بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الۡبَغۡيُ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَلَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهٖ﴾ دلالت کرتے ہیں کہ ظلم و زیادتی کے وقوع کے بعد بدلہ لینا ضروری ہے۔ رہا کسی پر ظلم اور زیادتی کا ارادہ کرنا اور ابھی اس سے ظلم و زیادتی واقع نہیں ہوئی تو اسے وہ سزا تو نہیں دی جائے گی جو جرم کے ارتکاب پر دی جاتی ہے، البتہ اس کو تادیبی سزا ضرور دی جائے گی جو اسے اس قول و فعل سے باز رکھ سکے جو اس سے صادر ہوا۔
[42]﴿اِنَّمَا السَّبِيۡلُ ﴾ یعنی عقوبت شرعیہ کی حجت تو صرف انھی لوگوں پر قائم ہوگی۔ ﴿عَلَى الَّذِيۡنَ يَظۡلِمُوۡنَ النَّاسَ وَيَبۡغُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں، اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں۔‘‘ یہ آیت لوگوں کے خون، مال اور ناموس کے بارے میں ظلم و زیادتی کو شامل ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یعنی ان کے ظلم و زیادتی کے مطابق ان کے قلوب و ابدان کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ہو گا۔
[43]﴿وَلَمَنۡ صَبَرَ ﴾ ’’اور جو صبر کرے۔‘‘ یعنی مخلوق کی طرف سے جو تکلیف اسے پہنچتی ہے اس پر صبر کرتا ہے۔ ﴿وَغَفَرَ ﴾ یعنی ان سے جو جرم واقع ہوا، ان سے مسامحت کرتے ہوئے ان کو بخش دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴾ یعنی یہ چیز ایسے امور میں شمار ہوتی ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے ترغیب دی ، اس پر تاکید فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ صرف انھی لوگوں کو عطا ہوتی ہے جو صبر سے بہرہ مند اور بڑے نصیبے والے ہیں اور یہ ان امور میں سے ہے جن کی توفیق بڑے عزم و ہمت اور عقل و بصیرت والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ نفس کے لیے قول یا فعل سے انتقام نہ لینا انتہائی باعث مشقت ہے اور اذیت پر صبر کرنا، اس سے درگزر کرنا، اس کو بخش دینا اور اس کے مقابلے یں حسن سلوک سے پیش آنا تو بہت ہی پرمشقت کام ہے، مگر یہ اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے اور وہ بھی اس وصف سے متصف ہونے کے لیے اپنے نفس سے جہاد کرے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے، پھر بندہ جب اذیت برداشت کرنے کی حلاوت کو چکھ لیتا ہے اور اس کے آثار کو دیکھ لیتا ہے تو اسے شرح صدر، کشادہ دلی اور ذوق و شوق سے قبول کرتا ہے۔
42:41وَلَمَنِ ٱنتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهِۦ فَأُوْلَـٰٓئِكَ مَا عَلَيۡهِم مِّن سَبِيلٍ
اور بدلہ برائی کا برائی ہے اسی کی مثل، پس جو معاف کر دے اور صلح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، بلاشبہ وہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو (40) اور البتہ جس نے بدلہ لیا بعد اپنے آپ پر ظلم ہونے کے تو یہی لوگ ہیں کہ نہیں ہے اوپر ان کے کوئی راستہ (گرفت کرنے کا)(41) بلاشبہ راستہ تو ان لوگوں پر ہے جو ظلم کرتے ہیں لوگوں پر اور سرکشی کرتے ہیں زمین میں ناحق، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہے عذاب درد ناک (42) اور البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا تو بے شک یہ ہمت کے کاموں سے ہے (43)
[40] اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عقوبات کے مراتب بیان کیے ہیں، عقوبات کے تین مراتب ہیں: عدل، فضل اور ظلم۔ 1کسی کمی بیشی کے بغیر، برائی کے بدلے میں اسی جیسی برائی، مرتبۂ عدل ہے۔ پس جان کے بدلے جان ہے، عضو کے بدلے اس جیسا عضو اور مال کی ضمان اسی جیسا مال ہے۔ 2برائی کرنے والے کو معاف کر کے اصلاح کرنا مرتبۂ فضل ہے اس لیے فرمایا:﴿فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’پس جو کوئی درگزر کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اسے اجر عظیم اور ثواب جزیل عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے درگزر کرنے میں اصلاح کی شرط دلالت کرتی ہے کہ اگر مجرم عفو کے لائق نہ ہو اور مصلحت شرعیہ اس کو سزا دینے کا تقاضا کرتی ہو تو اس صورت میں وہ عفو پر مامور نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا معاف کرنے والے کو اجر عطا کرنا، عفو پر آمادہ کرتا ہے نیز اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ مخلوق کے ساتھ وہ معاملہ کرے، جو وہ اپنے بارے میں چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کرے۔ جیسا کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے، لہٰذا اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کو معاف کر دے۔ اور جیسا کہ وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ نرمی کرے، تب اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ نرمی کرے۔ کیونکہ جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ 3 رہا مرتبۂ ظلم، تو اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ جو دوسروں پر زیادتی کرنے میں ابتدا کرتے ہیں، یا جرم کرنے والے سے اس کے جرم سے بڑھ کر بدلہ لیتے ہیں تو یہ زیادتی ظلم ہے۔
[41]﴿وَلَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهٖ﴾ جو ظلم کے وقوع کے بعد ظلم کرنے والے سے بدلہ لیتا ہے۔ ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ مَا عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سَبِيۡلٍ﴾ تو یہی وہ لوگ ہیں جن پر بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الۡبَغۡيُ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَلَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهٖ﴾ دلالت کرتے ہیں کہ ظلم و زیادتی کے وقوع کے بعد بدلہ لینا ضروری ہے۔ رہا کسی پر ظلم اور زیادتی کا ارادہ کرنا اور ابھی اس سے ظلم و زیادتی واقع نہیں ہوئی تو اسے وہ سزا تو نہیں دی جائے گی جو جرم کے ارتکاب پر دی جاتی ہے، البتہ اس کو تادیبی سزا ضرور دی جائے گی جو اسے اس قول و فعل سے باز رکھ سکے جو اس سے صادر ہوا۔
[42]﴿اِنَّمَا السَّبِيۡلُ ﴾ یعنی عقوبت شرعیہ کی حجت تو صرف انھی لوگوں پر قائم ہوگی۔ ﴿عَلَى الَّذِيۡنَ يَظۡلِمُوۡنَ النَّاسَ وَيَبۡغُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں، اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں۔‘‘ یہ آیت لوگوں کے خون، مال اور ناموس کے بارے میں ظلم و زیادتی کو شامل ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یعنی ان کے ظلم و زیادتی کے مطابق ان کے قلوب و ابدان کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ہو گا۔
[43]﴿وَلَمَنۡ صَبَرَ ﴾ ’’اور جو صبر کرے۔‘‘ یعنی مخلوق کی طرف سے جو تکلیف اسے پہنچتی ہے اس پر صبر کرتا ہے۔ ﴿وَغَفَرَ ﴾ یعنی ان سے جو جرم واقع ہوا، ان سے مسامحت کرتے ہوئے ان کو بخش دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴾ یعنی یہ چیز ایسے امور میں شمار ہوتی ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے ترغیب دی ، اس پر تاکید فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ صرف انھی لوگوں کو عطا ہوتی ہے جو صبر سے بہرہ مند اور بڑے نصیبے والے ہیں اور یہ ان امور میں سے ہے جن کی توفیق بڑے عزم و ہمت اور عقل و بصیرت والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ نفس کے لیے قول یا فعل سے انتقام نہ لینا انتہائی باعث مشقت ہے اور اذیت پر صبر کرنا، اس سے درگزر کرنا، اس کو بخش دینا اور اس کے مقابلے یں حسن سلوک سے پیش آنا تو بہت ہی پرمشقت کام ہے، مگر یہ اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے اور وہ بھی اس وصف سے متصف ہونے کے لیے اپنے نفس سے جہاد کرے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے، پھر بندہ جب اذیت برداشت کرنے کی حلاوت کو چکھ لیتا ہے اور اس کے آثار کو دیکھ لیتا ہے تو اسے شرح صدر، کشادہ دلی اور ذوق و شوق سے قبول کرتا ہے۔
42:42إِنَّمَا ٱلسَّبِيلُ عَلَى ٱلَّذِينَ يَظۡلِمُونَ ٱلنَّاسَ وَيَبۡغُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
اور بدلہ برائی کا برائی ہے اسی کی مثل، پس جو معاف کر دے اور صلح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، بلاشبہ وہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو (40) اور البتہ جس نے بدلہ لیا بعد اپنے آپ پر ظلم ہونے کے تو یہی لوگ ہیں کہ نہیں ہے اوپر ان کے کوئی راستہ (گرفت کرنے کا)(41) بلاشبہ راستہ تو ان لوگوں پر ہے جو ظلم کرتے ہیں لوگوں پر اور سرکشی کرتے ہیں زمین میں ناحق، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہے عذاب درد ناک (42) اور البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا تو بے شک یہ ہمت کے کاموں سے ہے (43)
[40] اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عقوبات کے مراتب بیان کیے ہیں، عقوبات کے تین مراتب ہیں: عدل، فضل اور ظلم۔ 1کسی کمی بیشی کے بغیر، برائی کے بدلے میں اسی جیسی برائی، مرتبۂ عدل ہے۔ پس جان کے بدلے جان ہے، عضو کے بدلے اس جیسا عضو اور مال کی ضمان اسی جیسا مال ہے۔ 2برائی کرنے والے کو معاف کر کے اصلاح کرنا مرتبۂ فضل ہے اس لیے فرمایا:﴿فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’پس جو کوئی درگزر کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اسے اجر عظیم اور ثواب جزیل عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے درگزر کرنے میں اصلاح کی شرط دلالت کرتی ہے کہ اگر مجرم عفو کے لائق نہ ہو اور مصلحت شرعیہ اس کو سزا دینے کا تقاضا کرتی ہو تو اس صورت میں وہ عفو پر مامور نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا معاف کرنے والے کو اجر عطا کرنا، عفو پر آمادہ کرتا ہے نیز اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ مخلوق کے ساتھ وہ معاملہ کرے، جو وہ اپنے بارے میں چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کرے۔ جیسا کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے، لہٰذا اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کو معاف کر دے۔ اور جیسا کہ وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ نرمی کرے، تب اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ نرمی کرے۔ کیونکہ جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ 3 رہا مرتبۂ ظلم، تو اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ جو دوسروں پر زیادتی کرنے میں ابتدا کرتے ہیں، یا جرم کرنے والے سے اس کے جرم سے بڑھ کر بدلہ لیتے ہیں تو یہ زیادتی ظلم ہے۔
[41]﴿وَلَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهٖ﴾ جو ظلم کے وقوع کے بعد ظلم کرنے والے سے بدلہ لیتا ہے۔ ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ مَا عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سَبِيۡلٍ﴾ تو یہی وہ لوگ ہیں جن پر بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الۡبَغۡيُ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَلَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهٖ﴾ دلالت کرتے ہیں کہ ظلم و زیادتی کے وقوع کے بعد بدلہ لینا ضروری ہے۔ رہا کسی پر ظلم اور زیادتی کا ارادہ کرنا اور ابھی اس سے ظلم و زیادتی واقع نہیں ہوئی تو اسے وہ سزا تو نہیں دی جائے گی جو جرم کے ارتکاب پر دی جاتی ہے، البتہ اس کو تادیبی سزا ضرور دی جائے گی جو اسے اس قول و فعل سے باز رکھ سکے جو اس سے صادر ہوا۔
[42]﴿اِنَّمَا السَّبِيۡلُ ﴾ یعنی عقوبت شرعیہ کی حجت تو صرف انھی لوگوں پر قائم ہوگی۔ ﴿عَلَى الَّذِيۡنَ يَظۡلِمُوۡنَ النَّاسَ وَيَبۡغُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں، اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں۔‘‘ یہ آیت لوگوں کے خون، مال اور ناموس کے بارے میں ظلم و زیادتی کو شامل ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یعنی ان کے ظلم و زیادتی کے مطابق ان کے قلوب و ابدان کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ہو گا۔
[43]﴿وَلَمَنۡ صَبَرَ ﴾ ’’اور جو صبر کرے۔‘‘ یعنی مخلوق کی طرف سے جو تکلیف اسے پہنچتی ہے اس پر صبر کرتا ہے۔ ﴿وَغَفَرَ ﴾ یعنی ان سے جو جرم واقع ہوا، ان سے مسامحت کرتے ہوئے ان کو بخش دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴾ یعنی یہ چیز ایسے امور میں شمار ہوتی ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے ترغیب دی ، اس پر تاکید فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ صرف انھی لوگوں کو عطا ہوتی ہے جو صبر سے بہرہ مند اور بڑے نصیبے والے ہیں اور یہ ان امور میں سے ہے جن کی توفیق بڑے عزم و ہمت اور عقل و بصیرت والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ نفس کے لیے قول یا فعل سے انتقام نہ لینا انتہائی باعث مشقت ہے اور اذیت پر صبر کرنا، اس سے درگزر کرنا، اس کو بخش دینا اور اس کے مقابلے یں حسن سلوک سے پیش آنا تو بہت ہی پرمشقت کام ہے، مگر یہ اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے اور وہ بھی اس وصف سے متصف ہونے کے لیے اپنے نفس سے جہاد کرے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے، پھر بندہ جب اذیت برداشت کرنے کی حلاوت کو چکھ لیتا ہے اور اس کے آثار کو دیکھ لیتا ہے تو اسے شرح صدر، کشادہ دلی اور ذوق و شوق سے قبول کرتا ہے۔
42:43وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ
اور بدلہ برائی کا برائی ہے اسی کی مثل، پس جو معاف کر دے اور صلح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، بلاشبہ وہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو (40) اور البتہ جس نے بدلہ لیا بعد اپنے آپ پر ظلم ہونے کے تو یہی لوگ ہیں کہ نہیں ہے اوپر ان کے کوئی راستہ (گرفت کرنے کا)(41) بلاشبہ راستہ تو ان لوگوں پر ہے جو ظلم کرتے ہیں لوگوں پر اور سرکشی کرتے ہیں زمین میں ناحق، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہے عذاب درد ناک (42) اور البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا تو بے شک یہ ہمت کے کاموں سے ہے (43)
[40] اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عقوبات کے مراتب بیان کیے ہیں، عقوبات کے تین مراتب ہیں: عدل، فضل اور ظلم۔ 1کسی کمی بیشی کے بغیر، برائی کے بدلے میں اسی جیسی برائی، مرتبۂ عدل ہے۔ پس جان کے بدلے جان ہے، عضو کے بدلے اس جیسا عضو اور مال کی ضمان اسی جیسا مال ہے۔ 2برائی کرنے والے کو معاف کر کے اصلاح کرنا مرتبۂ فضل ہے اس لیے فرمایا:﴿فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’پس جو کوئی درگزر کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اسے اجر عظیم اور ثواب جزیل عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے درگزر کرنے میں اصلاح کی شرط دلالت کرتی ہے کہ اگر مجرم عفو کے لائق نہ ہو اور مصلحت شرعیہ اس کو سزا دینے کا تقاضا کرتی ہو تو اس صورت میں وہ عفو پر مامور نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا معاف کرنے والے کو اجر عطا کرنا، عفو پر آمادہ کرتا ہے نیز اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ مخلوق کے ساتھ وہ معاملہ کرے، جو وہ اپنے بارے میں چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کرے۔ جیسا کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے، لہٰذا اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کو معاف کر دے۔ اور جیسا کہ وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ نرمی کرے، تب اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ نرمی کرے۔ کیونکہ جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ 3 رہا مرتبۂ ظلم، تو اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ جو دوسروں پر زیادتی کرنے میں ابتدا کرتے ہیں، یا جرم کرنے والے سے اس کے جرم سے بڑھ کر بدلہ لیتے ہیں تو یہ زیادتی ظلم ہے۔
[41]﴿وَلَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهٖ﴾ جو ظلم کے وقوع کے بعد ظلم کرنے والے سے بدلہ لیتا ہے۔ ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ مَا عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سَبِيۡلٍ﴾ تو یہی وہ لوگ ہیں جن پر بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الۡبَغۡيُ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَلَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهٖ﴾ دلالت کرتے ہیں کہ ظلم و زیادتی کے وقوع کے بعد بدلہ لینا ضروری ہے۔ رہا کسی پر ظلم اور زیادتی کا ارادہ کرنا اور ابھی اس سے ظلم و زیادتی واقع نہیں ہوئی تو اسے وہ سزا تو نہیں دی جائے گی جو جرم کے ارتکاب پر دی جاتی ہے، البتہ اس کو تادیبی سزا ضرور دی جائے گی جو اسے اس قول و فعل سے باز رکھ سکے جو اس سے صادر ہوا۔
[42]﴿اِنَّمَا السَّبِيۡلُ ﴾ یعنی عقوبت شرعیہ کی حجت تو صرف انھی لوگوں پر قائم ہوگی۔ ﴿عَلَى الَّذِيۡنَ يَظۡلِمُوۡنَ النَّاسَ وَيَبۡغُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں، اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں۔‘‘ یہ آیت لوگوں کے خون، مال اور ناموس کے بارے میں ظلم و زیادتی کو شامل ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یعنی ان کے ظلم و زیادتی کے مطابق ان کے قلوب و ابدان کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ہو گا۔
[43]﴿وَلَمَنۡ صَبَرَ ﴾ ’’اور جو صبر کرے۔‘‘ یعنی مخلوق کی طرف سے جو تکلیف اسے پہنچتی ہے اس پر صبر کرتا ہے۔ ﴿وَغَفَرَ ﴾ یعنی ان سے جو جرم واقع ہوا، ان سے مسامحت کرتے ہوئے ان کو بخش دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴾ یعنی یہ چیز ایسے امور میں شمار ہوتی ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے ترغیب دی ، اس پر تاکید فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ صرف انھی لوگوں کو عطا ہوتی ہے جو صبر سے بہرہ مند اور بڑے نصیبے والے ہیں اور یہ ان امور میں سے ہے جن کی توفیق بڑے عزم و ہمت اور عقل و بصیرت والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ نفس کے لیے قول یا فعل سے انتقام نہ لینا انتہائی باعث مشقت ہے اور اذیت پر صبر کرنا، اس سے درگزر کرنا، اس کو بخش دینا اور اس کے مقابلے یں حسن سلوک سے پیش آنا تو بہت ہی پرمشقت کام ہے، مگر یہ اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے اور وہ بھی اس وصف سے متصف ہونے کے لیے اپنے نفس سے جہاد کرے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے، پھر بندہ جب اذیت برداشت کرنے کی حلاوت کو چکھ لیتا ہے اور اس کے آثار کو دیکھ لیتا ہے تو اسے شرح صدر، کشادہ دلی اور ذوق و شوق سے قبول کرتا ہے۔
42:44وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن وَلِيّٖ مِّنۢ بَعۡدِهِۦۗ وَتَرَى ٱلظَّـٰلِمِينَ لَمَّا رَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَ يَقُولُونَ هَلۡ إِلَىٰ مَرَدّٖ مِّن سَبِيلٖ
اور جسے گمراہ کر دے اللہ تو نہیں ہے اس کے لیے کوئی کارساز اس کے بعد، اور آپ دیکھیں گے ظالموں کو، جب دیکھیں گے وہ عذاب، تو کہیں گے: کیا ہے واپس جانے کا کوئی راستہ؟(44) اور دیکھیں گے آپ ان کو کہ پیش کیے جائیں گے وہ اس (جہنم) پر، جھکے ہوئے ذلت کی وجہ سے، دیکھتے ہوں گے چھپی نگاہ سے، اور کہیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے (تھے)، بلاشبہ خسارہ پانے والے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالااپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دن قیامت کے، آگاہ رہو! بلاشبہ ظالم لوگ ہی دائمی عذاب میں ہوں گے (45) اور نہیں ہوں گے ان کے لیے کوئی دوست، جو مدد کریں ان کی سوائے اللہ کے، اور جس کو گمراہ کر دے اللہ تو نہیں ہے اس کے لیے کوئی راستہ (ہدایت کا)(46)
[44] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہدایت عطا کرنے اور اصلاح کرنے میں یکتا ہے۔ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ ﴾ جسے اللہ تعالیٰ اس کے ظلم کے سبب سے گمراہ کر دے۔ ﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ وَّلِيٍّ مِّنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾ ’’تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔‘‘ جو اس کے معاملے کی سرپرستی کرے اور اس کی راہ نمائی کرے۔ ﴿وَتَرَى الظّٰلِمِيۡنَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ﴾ اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ عذاب کا بہت ہی برا، بہت مشکل اور نہایت قبیح منظر دیکھیں گے تو وہ بہت زیادہ ندامت اور اپنے گزشتہ کرتوتوں پر افسوس کا اظہار کریں گے۔ ﴿يَقُوۡلُوۡنَ هَلۡ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنۡ سَبِيۡلٍ﴾ اور کہیں گے: کیا دنیا میں دوبارہ جانے کا کوئی طریقہ یا کوئی حیلہ ہے تاکہ ہم ان کاموں سے مختلف کام کریں جو ہم پہلے کیا کرتے تھے۔ ان کی یہ درخواست ایک امر محال کے لیے ہو گی جس کا پورا ہونا ممکن نہیں۔
[45]﴿وَتَرٰىهُمۡ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’اور تم ان کو دیکھو گے کہ وہ دوزخ (کی آگ) کے سامنے لائے جائیں گے۔‘‘ ﴿خٰشِعِيۡنَ مِنَ الذُّلِّ ﴾ یعنی آپ ان کے اجسام کو اس ذلت کی وجہ سے عاجز اور بے بس دیکھیں گے جو ان کے دلوں میں جاگزیں ہے۔ ﴿يَنۡظُرُوۡنَ مِنۡ طَرۡفٍ خَفِيٍّ ﴾ یعنی وہ جہنم کو اس کی ہیبت اور خوف کی وجہ سے چوری چوری ترچھی نظر سے دیکھیں گے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ جب مخلوق کا انجام ظاہر اور اہل صدق دوسرے لوگوں سے ممتاز ہو جائیں گے، تو اہل ایمان کہیں گے:﴿اِنَّ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ حقیقت میں خسارے والے وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَاَهۡلِيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو بے پایاں ثواب سے محروم کر لیا اور دردناک عذاب کو حاصل کیا۔ ان کے اور ان کے گھر والوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی اور وہ ان کے ساتھ کبھی اکٹھے نہ ہوں گے۔ ﴿اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’آگاہ رہو! بے شک ظالم ہی۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿فِيۡ عَذَابٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’ہمیشگی کے عذاب میں رہیں گے۔‘‘ یعنی وہ دردناک عذاب کے عین وسط میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ وہ وہاں سے کبھی نکل سکیں گے نہ ان سے عذاب منقطع ہو گا اور وہ اس عذاب کے اندر سخت مایوس ہوں گے۔
[46]﴿وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ اَوۡلِيَآءَؔ يَنۡصُرُوۡنَهُمۡ۠ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کے سوا ان کے کوئی دوست نہیں ہوں گے جو ان کی مدد کرسکیں۔‘‘ جیسا کہ وہ دنیا میں اپنے آپ کو امیدیں دلایا کرتے تھے۔ پس قیامت کے روز ان پر اور دوسرے لوگوں پر عیاں ہو جائے گا کہ وہ اسباب جن کے ساتھ انھوں نے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، منقطع ہو گئے اور جب ان پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ان پر سے ہٹایا نہ جاسکے گا۔ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ سَبِيۡلٍ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے، اس کے لیے کوئی راستہ نہیں۔‘‘ کوئی ایسا طریقہ نہیں جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو حاصل کر سکیں۔ یہ لوگ اس وقت گمراہ ہوئے جب یہ سمجھتے تھے کہ ان خود ساختہ شریکوں میں نفع پہنچانے اور نقصان کو دور کرنے کی طاقت ہے، تب ان کی گمراہی واضح ہوجائے گی۔
42:45وَتَرَىٰهُمۡ يُعۡرَضُونَ عَلَيۡهَا خَٰشِعِينَ مِنَ ٱلذُّلِّ يَنظُرُونَ مِن طَرۡفٍ خَفِيّٖۗ وَقَالَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَأَهۡلِيهِمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ أَلَآ إِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ فِي عَذَابٖ مُّقِيمٖ
اور جسے گمراہ کر دے اللہ تو نہیں ہے اس کے لیے کوئی کارساز اس کے بعد، اور آپ دیکھیں گے ظالموں کو، جب دیکھیں گے وہ عذاب، تو کہیں گے: کیا ہے واپس جانے کا کوئی راستہ؟(44) اور دیکھیں گے آپ ان کو کہ پیش کیے جائیں گے وہ اس (جہنم) پر، جھکے ہوئے ذلت کی وجہ سے، دیکھتے ہوں گے چھپی نگاہ سے، اور کہیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے (تھے)، بلاشبہ خسارہ پانے والے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالااپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دن قیامت کے، آگاہ رہو! بلاشبہ ظالم لوگ ہی دائمی عذاب میں ہوں گے (45) اور نہیں ہوں گے ان کے لیے کوئی دوست، جو مدد کریں ان کی سوائے اللہ کے، اور جس کو گمراہ کر دے اللہ تو نہیں ہے اس کے لیے کوئی راستہ (ہدایت کا)(46)
[44] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہدایت عطا کرنے اور اصلاح کرنے میں یکتا ہے۔ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ ﴾ جسے اللہ تعالیٰ اس کے ظلم کے سبب سے گمراہ کر دے۔ ﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ وَّلِيٍّ مِّنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾ ’’تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔‘‘ جو اس کے معاملے کی سرپرستی کرے اور اس کی راہ نمائی کرے۔ ﴿وَتَرَى الظّٰلِمِيۡنَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ﴾ اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ عذاب کا بہت ہی برا، بہت مشکل اور نہایت قبیح منظر دیکھیں گے تو وہ بہت زیادہ ندامت اور اپنے گزشتہ کرتوتوں پر افسوس کا اظہار کریں گے۔ ﴿يَقُوۡلُوۡنَ هَلۡ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنۡ سَبِيۡلٍ﴾ اور کہیں گے: کیا دنیا میں دوبارہ جانے کا کوئی طریقہ یا کوئی حیلہ ہے تاکہ ہم ان کاموں سے مختلف کام کریں جو ہم پہلے کیا کرتے تھے۔ ان کی یہ درخواست ایک امر محال کے لیے ہو گی جس کا پورا ہونا ممکن نہیں۔
[45]﴿وَتَرٰىهُمۡ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’اور تم ان کو دیکھو گے کہ وہ دوزخ (کی آگ) کے سامنے لائے جائیں گے۔‘‘ ﴿خٰشِعِيۡنَ مِنَ الذُّلِّ ﴾ یعنی آپ ان کے اجسام کو اس ذلت کی وجہ سے عاجز اور بے بس دیکھیں گے جو ان کے دلوں میں جاگزیں ہے۔ ﴿يَنۡظُرُوۡنَ مِنۡ طَرۡفٍ خَفِيٍّ ﴾ یعنی وہ جہنم کو اس کی ہیبت اور خوف کی وجہ سے چوری چوری ترچھی نظر سے دیکھیں گے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ جب مخلوق کا انجام ظاہر اور اہل صدق دوسرے لوگوں سے ممتاز ہو جائیں گے، تو اہل ایمان کہیں گے:﴿اِنَّ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ حقیقت میں خسارے والے وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَاَهۡلِيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو بے پایاں ثواب سے محروم کر لیا اور دردناک عذاب کو حاصل کیا۔ ان کے اور ان کے گھر والوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی اور وہ ان کے ساتھ کبھی اکٹھے نہ ہوں گے۔ ﴿اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’آگاہ رہو! بے شک ظالم ہی۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿فِيۡ عَذَابٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’ہمیشگی کے عذاب میں رہیں گے۔‘‘ یعنی وہ دردناک عذاب کے عین وسط میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ وہ وہاں سے کبھی نکل سکیں گے نہ ان سے عذاب منقطع ہو گا اور وہ اس عذاب کے اندر سخت مایوس ہوں گے۔
[46]﴿وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ اَوۡلِيَآءَؔ يَنۡصُرُوۡنَهُمۡ۠ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کے سوا ان کے کوئی دوست نہیں ہوں گے جو ان کی مدد کرسکیں۔‘‘ جیسا کہ وہ دنیا میں اپنے آپ کو امیدیں دلایا کرتے تھے۔ پس قیامت کے روز ان پر اور دوسرے لوگوں پر عیاں ہو جائے گا کہ وہ اسباب جن کے ساتھ انھوں نے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، منقطع ہو گئے اور جب ان پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ان پر سے ہٹایا نہ جاسکے گا۔ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ سَبِيۡلٍ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے، اس کے لیے کوئی راستہ نہیں۔‘‘ کوئی ایسا طریقہ نہیں جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو حاصل کر سکیں۔ یہ لوگ اس وقت گمراہ ہوئے جب یہ سمجھتے تھے کہ ان خود ساختہ شریکوں میں نفع پہنچانے اور نقصان کو دور کرنے کی طاقت ہے، تب ان کی گمراہی واضح ہوجائے گی۔
42:46وَمَا كَانَ لَهُم مِّنۡ أَوۡلِيَآءَ يَنصُرُونَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِۗ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن سَبِيلٍ
اور جسے گمراہ کر دے اللہ تو نہیں ہے اس کے لیے کوئی کارساز اس کے بعد، اور آپ دیکھیں گے ظالموں کو، جب دیکھیں گے وہ عذاب، تو کہیں گے: کیا ہے واپس جانے کا کوئی راستہ؟(44) اور دیکھیں گے آپ ان کو کہ پیش کیے جائیں گے وہ اس (جہنم) پر، جھکے ہوئے ذلت کی وجہ سے، دیکھتے ہوں گے چھپی نگاہ سے، اور کہیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے (تھے)، بلاشبہ خسارہ پانے والے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالااپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دن قیامت کے، آگاہ رہو! بلاشبہ ظالم لوگ ہی دائمی عذاب میں ہوں گے (45) اور نہیں ہوں گے ان کے لیے کوئی دوست، جو مدد کریں ان کی سوائے اللہ کے، اور جس کو گمراہ کر دے اللہ تو نہیں ہے اس کے لیے کوئی راستہ (ہدایت کا)(46)
[44] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہدایت عطا کرنے اور اصلاح کرنے میں یکتا ہے۔ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ ﴾ جسے اللہ تعالیٰ اس کے ظلم کے سبب سے گمراہ کر دے۔ ﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ وَّلِيٍّ مِّنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾ ’’تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔‘‘ جو اس کے معاملے کی سرپرستی کرے اور اس کی راہ نمائی کرے۔ ﴿وَتَرَى الظّٰلِمِيۡنَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ﴾ اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ عذاب کا بہت ہی برا، بہت مشکل اور نہایت قبیح منظر دیکھیں گے تو وہ بہت زیادہ ندامت اور اپنے گزشتہ کرتوتوں پر افسوس کا اظہار کریں گے۔ ﴿يَقُوۡلُوۡنَ هَلۡ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنۡ سَبِيۡلٍ﴾ اور کہیں گے: کیا دنیا میں دوبارہ جانے کا کوئی طریقہ یا کوئی حیلہ ہے تاکہ ہم ان کاموں سے مختلف کام کریں جو ہم پہلے کیا کرتے تھے۔ ان کی یہ درخواست ایک امر محال کے لیے ہو گی جس کا پورا ہونا ممکن نہیں۔
[45]﴿وَتَرٰىهُمۡ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’اور تم ان کو دیکھو گے کہ وہ دوزخ (کی آگ) کے سامنے لائے جائیں گے۔‘‘ ﴿خٰشِعِيۡنَ مِنَ الذُّلِّ ﴾ یعنی آپ ان کے اجسام کو اس ذلت کی وجہ سے عاجز اور بے بس دیکھیں گے جو ان کے دلوں میں جاگزیں ہے۔ ﴿يَنۡظُرُوۡنَ مِنۡ طَرۡفٍ خَفِيٍّ ﴾ یعنی وہ جہنم کو اس کی ہیبت اور خوف کی وجہ سے چوری چوری ترچھی نظر سے دیکھیں گے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ جب مخلوق کا انجام ظاہر اور اہل صدق دوسرے لوگوں سے ممتاز ہو جائیں گے، تو اہل ایمان کہیں گے:﴿اِنَّ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ حقیقت میں خسارے والے وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَاَهۡلِيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو بے پایاں ثواب سے محروم کر لیا اور دردناک عذاب کو حاصل کیا۔ ان کے اور ان کے گھر والوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی اور وہ ان کے ساتھ کبھی اکٹھے نہ ہوں گے۔ ﴿اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’آگاہ رہو! بے شک ظالم ہی۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿فِيۡ عَذَابٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’ہمیشگی کے عذاب میں رہیں گے۔‘‘ یعنی وہ دردناک عذاب کے عین وسط میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ وہ وہاں سے کبھی نکل سکیں گے نہ ان سے عذاب منقطع ہو گا اور وہ اس عذاب کے اندر سخت مایوس ہوں گے۔
[46]﴿وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ اَوۡلِيَآءَؔ يَنۡصُرُوۡنَهُمۡ۠ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کے سوا ان کے کوئی دوست نہیں ہوں گے جو ان کی مدد کرسکیں۔‘‘ جیسا کہ وہ دنیا میں اپنے آپ کو امیدیں دلایا کرتے تھے۔ پس قیامت کے روز ان پر اور دوسرے لوگوں پر عیاں ہو جائے گا کہ وہ اسباب جن کے ساتھ انھوں نے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، منقطع ہو گئے اور جب ان پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ان پر سے ہٹایا نہ جاسکے گا۔ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ سَبِيۡلٍ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے، اس کے لیے کوئی راستہ نہیں۔‘‘ کوئی ایسا طریقہ نہیں جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو حاصل کر سکیں۔ یہ لوگ اس وقت گمراہ ہوئے جب یہ سمجھتے تھے کہ ان خود ساختہ شریکوں میں نفع پہنچانے اور نقصان کو دور کرنے کی طاقت ہے، تب ان کی گمراہی واضح ہوجائے گی۔
42:47ٱسۡتَجِيبُواْ لِرَبِّكُم مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ يَوۡمٞ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِۚ مَا لَكُم مِّن مَّلۡجَإٖ يَوۡمَئِذٖ وَمَا لَكُم مِّن نَّكِيرٖ
تم حکم قبول کرو اپنے رب کا پہلے اس کے کہ آ جائے وہ دن کہ نہیں ہے پھرنا اس کا اللہ کی طرف سے نہیں ہو گی تمھارے لیے کوئی جائے پناہ اس دن اور نہ ہو گا تمھارے لیے(چھپ کر)انجان بن جانا (47) پس اگر وہ منہ موڑیں، تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان پر کوئی نگران، نہیں ہے آپ کے ذمے مگر پہنچا دینا ہی اور بلاشبہ جب ہم چکھاتے ہیں انسان کو اپنی طرف سے رحمت تو وہ خوش ہوتا ہے ساتھ اس کے، اور اگر پہنچتی ہے ان کو کوئی تکلیف، بسبب ان (اعمال) کے جو آگے بھیجے ان کے ہاتھوں نے، تو بلاشبہ انسان بہت ہی ناشکرا ہے (48)
[47] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی دعوت پر لبیک کہیں، وہ جس چیز کا حکم دے اس کی تعمیل کریں اور جس چیز سے روکے اس سے اجتناب کریں اس کو ٹالنے کی بجائے اس پر جلدی سے عمل کریں قیامت کے دن کے آنے سے پہلے کہ جب وہ آئے گا تو اس کو روکا جا سکے گا نہ کسی رہ جانے والی چیز کا تدارک ہو سکے گا۔ اس دن بندے کے پاس کوئی پناہ گاہ نہ ہوگی جہاں وہ پناہ لے کر اپنے رب سے بچ سکے اور اس سے بھاگ سکے۔ بلکہ فرشتے تمام خلائق کو پیچھے سے گھیرے ہوئے ہوں گے اور ان کو پکار کر کہا جائے گا:﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍33) ’’اے جن و انس کے گروہ! اگر تم آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جانے کی طاقت رکھتے ہو تو پھر نکل جاؤ ، تم نکل نہیں سکتے مگر طاقت کے ساتھ۔‘‘ اس روز بندہ اپنے کیے ہوئے جرائم کا انکار نہیں کرسکے گا، بلکہ اگر وہ انکار کرے گا تو اس کے اعضاء اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ اس آیت اور اس نوع کی دیگر آیات کریمہ میں جھوٹی امیدوں کی مذمت کی گئی ہے اور ہر وہ عمل جو بندے کو پیش آسکتا ہے، فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ تاخیر میں بہت سی آفتیں ہیں۔
[48]﴿فَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا ﴾ بیان کامل کے بعد اگر یہ لوگ اس چیز سے منہ موڑیں جو آپ نے پیش کی۔ ﴿فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا ﴾ ’’تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘ کہ آپ ان کے اعمال کی نگرانی کریں اور آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے ۔ ﴿اِنۡ عَلَيۡكَ اِلَّا الۡبَلٰغُ﴾ ’’آپ کے ذمے صرف (احکام) پہنچا دینا ہے۔‘‘ جب آپ نے اپنی ذمہ داری کو پورا کر دیا تو اللہ تعالیٰ پر آپ کا اجر واجب ٹھہرا، خواہ وہ آپ کی دعوت کو قبول کریں یا روگردانی کریں، ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے جس نے ان کے چھوٹے بڑے اور ظاہری، باطنی اعمال کو محفوظ کر رکھا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی حالت بیان کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے یعنی اسے جسمانی صحت، رزق کی فراوانی اور عزت و جاہ عطا کرتا ہے۔ تو ﴿فَرِحَ بِهَا ﴾ ’’وہ اس سے خوش ہوجاتا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس طرح خوش ہوتا ہے کہ اس کی خوشی انھی چیزوں پر مرتکز ہو کر رہ جاتی ہے، اس سے آگے نہیں بڑھتی۔ اس کے اس رویے سے، ان چیزوں پر اس کی طمانیت اور منعم حقیقی سے روگردانی لازم آتی ہے۔ ﴿وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌۢ﴾’’ اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے۔‘‘ یعنی کوئی مرض یا فقر وغیرہ لاحق ہوتا ہے ﴿بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ فَاِنَّ الۡاِنۡسَانَ كَفُوۡرٌ ﴾ ’’ان اعمال کے سبب جو انھوں نے کیے، تو انسان بہت ہی ناشکرا ہے۔‘‘ یعنی اس کی فطرت میں سابقہ نعمت کی ناشکری اور اسے جو تکلیف پہنچتی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ سے ناراضی رچی بسی ہوئی ہے۔
42:48فَإِنۡ أَعۡرَضُواْ فَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيظًاۖ إِنۡ عَلَيۡكَ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُۗ وَإِنَّآ إِذَآ أَذَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِنَّا رَحۡمَةٗ فَرِحَ بِهَاۖ وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ فَإِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ كَفُورٞ
تم حکم قبول کرو اپنے رب کا پہلے اس کے کہ آ جائے وہ دن کہ نہیں ہے پھرنا اس کا اللہ کی طرف سے نہیں ہو گی تمھارے لیے کوئی جائے پناہ اس دن اور نہ ہو گا تمھارے لیے(چھپ کر)انجان بن جانا (47) پس اگر وہ منہ موڑیں، تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان پر کوئی نگران، نہیں ہے آپ کے ذمے مگر پہنچا دینا ہی اور بلاشبہ جب ہم چکھاتے ہیں انسان کو اپنی طرف سے رحمت تو وہ خوش ہوتا ہے ساتھ اس کے، اور اگر پہنچتی ہے ان کو کوئی تکلیف، بسبب ان (اعمال) کے جو آگے بھیجے ان کے ہاتھوں نے، تو بلاشبہ انسان بہت ہی ناشکرا ہے (48)
[47] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی دعوت پر لبیک کہیں، وہ جس چیز کا حکم دے اس کی تعمیل کریں اور جس چیز سے روکے اس سے اجتناب کریں اس کو ٹالنے کی بجائے اس پر جلدی سے عمل کریں قیامت کے دن کے آنے سے پہلے کہ جب وہ آئے گا تو اس کو روکا جا سکے گا نہ کسی رہ جانے والی چیز کا تدارک ہو سکے گا۔ اس دن بندے کے پاس کوئی پناہ گاہ نہ ہوگی جہاں وہ پناہ لے کر اپنے رب سے بچ سکے اور اس سے بھاگ سکے۔ بلکہ فرشتے تمام خلائق کو پیچھے سے گھیرے ہوئے ہوں گے اور ان کو پکار کر کہا جائے گا:﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍33) ’’اے جن و انس کے گروہ! اگر تم آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جانے کی طاقت رکھتے ہو تو پھر نکل جاؤ ، تم نکل نہیں سکتے مگر طاقت کے ساتھ۔‘‘ اس روز بندہ اپنے کیے ہوئے جرائم کا انکار نہیں کرسکے گا، بلکہ اگر وہ انکار کرے گا تو اس کے اعضاء اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ اس آیت اور اس نوع کی دیگر آیات کریمہ میں جھوٹی امیدوں کی مذمت کی گئی ہے اور ہر وہ عمل جو بندے کو پیش آسکتا ہے، فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ تاخیر میں بہت سی آفتیں ہیں۔
[48]﴿فَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا ﴾ بیان کامل کے بعد اگر یہ لوگ اس چیز سے منہ موڑیں جو آپ نے پیش کی۔ ﴿فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا ﴾ ’’تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘ کہ آپ ان کے اعمال کی نگرانی کریں اور آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے ۔ ﴿اِنۡ عَلَيۡكَ اِلَّا الۡبَلٰغُ﴾ ’’آپ کے ذمے صرف (احکام) پہنچا دینا ہے۔‘‘ جب آپ نے اپنی ذمہ داری کو پورا کر دیا تو اللہ تعالیٰ پر آپ کا اجر واجب ٹھہرا، خواہ وہ آپ کی دعوت کو قبول کریں یا روگردانی کریں، ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے جس نے ان کے چھوٹے بڑے اور ظاہری، باطنی اعمال کو محفوظ کر رکھا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی حالت بیان کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے یعنی اسے جسمانی صحت، رزق کی فراوانی اور عزت و جاہ عطا کرتا ہے۔ تو ﴿فَرِحَ بِهَا ﴾ ’’وہ اس سے خوش ہوجاتا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس طرح خوش ہوتا ہے کہ اس کی خوشی انھی چیزوں پر مرتکز ہو کر رہ جاتی ہے، اس سے آگے نہیں بڑھتی۔ اس کے اس رویے سے، ان چیزوں پر اس کی طمانیت اور منعم حقیقی سے روگردانی لازم آتی ہے۔ ﴿وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌۢ﴾’’ اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے۔‘‘ یعنی کوئی مرض یا فقر وغیرہ لاحق ہوتا ہے ﴿بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ فَاِنَّ الۡاِنۡسَانَ كَفُوۡرٌ ﴾ ’’ان اعمال کے سبب جو انھوں نے کیے، تو انسان بہت ہی ناشکرا ہے۔‘‘ یعنی اس کی فطرت میں سابقہ نعمت کی ناشکری اور اسے جو تکلیف پہنچتی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ سے ناراضی رچی بسی ہوئی ہے۔
42:49لِّلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ يَهَبُ لِمَن يَشَآءُ إِنَٰثٗا وَيَهَبُ لِمَن يَشَآءُ ٱلذُّكُورَ
اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، پیدا کرتا ہے وہ جو چاہتا ہے، بخشتا ہے جسے چاہتا ہے(صرف)لڑکیاں اور بخشتا ہے جسے چاہتا ہے(صرف)لڑکے(49) یا ملا کر دیتا ہے ان کو لڑکے اور لڑکیاں اور کر دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بانجھ، بلاشبہ وہ خوب جاننے والا بہت قدرت رکھنے والا ہے (50)
[49، 50] اس آیت کریمہ میں، اللہ تعالی کے لامحدود اقتدار، اپنی مخلوق اور اپنی ملکیت میں اپنی مشیت کے مطابق تصرف کے نفاذ اور تمام امور کی تدبیر کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عمومی تدبیر اسباب سے پیدا شدہ ان اشیاء کو بھی شامل ہے جنھیں بندے اختیار کرتے ہیں۔ پس نکاح تو اولاد کے لیے ایک سبب ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں جو چاہتا ہے اولاد عطا کرتا ہے، مخلوق میں کسی کو بیٹیاں عطا کرتا ہے، کسی کو بیٹے عطا کرتا ہے، کسی کو بیٹے بیٹیاں دونوں عطا کرتا ہے، کسی کو بانجھ رکھتا ہے اور ان کو اولاد پیدا نہیں ہوتی۔ ﴿اِنَّهٗ عَلِيۡمٌ ﴾ بے شک وہ ہر چیز کا علم اور ﴿قَدِيۡرٌ ﴾ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، وہ اپنے علم اور مہارت کے ذریعے سے تمام اشیاء میں اور اپنی قدرت کے ذریعے سے تمام مخلوقات میں تصرف کرتا ہے۔
42:50أَوۡ يُزَوِّجُهُمۡ ذُكۡرَانٗا وَإِنَٰثٗاۖ وَيَجۡعَلُ مَن يَشَآءُ عَقِيمًاۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٞ قَدِيرٞ
اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، پیدا کرتا ہے وہ جو چاہتا ہے، بخشتا ہے جسے چاہتا ہے(صرف)لڑکیاں اور بخشتا ہے جسے چاہتا ہے(صرف)لڑکے(49) یا ملا کر دیتا ہے ان کو لڑکے اور لڑکیاں اور کر دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بانجھ، بلاشبہ وہ خوب جاننے والا بہت قدرت رکھنے والا ہے (50)
[49، 50] اس آیت کریمہ میں، اللہ تعالی کے لامحدود اقتدار، اپنی مخلوق اور اپنی ملکیت میں اپنی مشیت کے مطابق تصرف کے نفاذ اور تمام امور کی تدبیر کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عمومی تدبیر اسباب سے پیدا شدہ ان اشیاء کو بھی شامل ہے جنھیں بندے اختیار کرتے ہیں۔ پس نکاح تو اولاد کے لیے ایک سبب ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں جو چاہتا ہے اولاد عطا کرتا ہے، مخلوق میں کسی کو بیٹیاں عطا کرتا ہے، کسی کو بیٹے عطا کرتا ہے، کسی کو بیٹے بیٹیاں دونوں عطا کرتا ہے، کسی کو بانجھ رکھتا ہے اور ان کو اولاد پیدا نہیں ہوتی۔ ﴿اِنَّهٗ عَلِيۡمٌ ﴾ بے شک وہ ہر چیز کا علم اور ﴿قَدِيۡرٌ ﴾ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، وہ اپنے علم اور مہارت کے ذریعے سے تمام اشیاء میں اور اپنی قدرت کے ذریعے سے تمام مخلوقات میں تصرف کرتا ہے۔
42:51۞وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ ٱللَّهُ إِلَّا وَحۡيًا أَوۡ مِن وَرَآيِٕ حِجَابٍ أَوۡ يُرۡسِلَ رَسُولٗا فَيُوحِيَ بِإِذۡنِهِۦ مَا يَشَآءُۚ إِنَّهُۥ عَلِيٌّ حَكِيمٞ
اور نہیں لائق واسطے کسی بشر کے یہ کہ کلام کرے اس سے اللہ، مگر الہام (دل میں القا) کر کے یا پردے کے پیچھے سے یا بھیج کر فرشتہ، پس وہ (وحی) پہنچاتا اس کےحکم سے جو وہ چاہتا، بلاشبہ وہ بہت بلند ہے نہایت حکمت والا (51) اور اسی طرح وحی کی ہم نے آپ کی طرف ایک روح (قرآن) اپنے حکم سے، نہیں تھے آپ جانتے، کیا ہے کتاب اور نہ ایمان، اور لیکن بنا دیا ہم نے اس کو نور، ہدایت کرتے ہیں ہم اس کےذریعے سے جس کو چاہتے ہیں اپنے بندوں میں سے اور بلاشبہ آپ البتہ رہنمائی کرتے ہیں طرف سیدھے راستے کی (52) اللہ کے راستے کی، وہ (اللہ) جس کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، آگاہ رہو! اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں سب معاملات (53)
[51] چونکہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے تکبر اور سرکشی کی بنا پر کہتے تھے: ﴿لَوۡلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوۡ تَاۡتِيۡنَاۤ اٰيَةٌ ﴾(البقرہ:2؍118) ’’ہمارے ساتھ اللہ کلام کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کے ذریعے سے ان کا رد کیا اور واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں میں سے صرف اپنے خاص بندوں یعنی رسولوں سے کلام کرتا ہے اور وہ بھی ذیل کی صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں:(۱)یا تو وہ ان کے ساتھ وحی کے ذریعے سے کلام کرتا ہے اور وہ اس طرح کہ فرشتہ بھیجے بغیر اور بالمشافہ مخاطب ہوئے بغیر اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے قلب پر وحی کا القا کرتا ہے۔(۲)﴿اَوۡ ﴾ یا اس کے ساتھ بالمشافہ کلام کرتا ہے، مگر ﴿مِنۡ وَّرَآئِ حِجَابٍ ﴾پردے کے پیچھے سے جیسا کہ حضرت موسیٰ بن عمرانp کو شرف کلام حاصل ہوا۔(۳)﴿اَوۡ ﴾ یا اللہ تعالیٰ فرشتے کے توسط سے کلام کرتا ہے پس ﴿يُرۡسِلَ رَسُوۡلًا ﴾ ’’وہ کسی پیغام رساں کو بھیجتا ہے۔‘‘ مثلاً: جبریلu کو یا دیگر فرشتوں میں سے کسی فرشتے کو۔ ﴿فَيُوۡحِيَ بِـاِذۡنِهٖ﴾ پس وہ فرشتہ مجرد اپنی خواہش سے نہیں بلکہ اپنے رب کے حکم سے وحی القا کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ﴾ ’’بے شک وہ‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے اوصاف میں بہت بلند اور افعال میں بہت عظیم ہے، وہ ہر چیز پر غالب ہے اور تمام مخلوق اس کی مطیع ہے۔ ﴿حَكِيۡمٌ ﴾ تمام مخلوقات اور شرائع میں سے ہر چیز کو اس کے لائق مقام پر رکھنے میں حکمت والا ہے۔
[52]﴿وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ جب ہم نے آپ سے پہلے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی بھیجی تو ﴿اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ﴾ ’’ہم نے اپنے حکم سے آپ کی طرف روح بھیجی۔‘‘ اور وہ روح یہ قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو روح کے نام سے موسوم کیا کیونکہ روح سے جسد زندہ ہوتا ہے اور قرآن سے قلب و روح زندہ ہوتے ہیں۔ قرآن سے دین و دنیا کے مصالح کو زندگی ملتی ہے کیونکہ اس میں خیر کثیر اور بے پایاں علم ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسولﷺ اور اپنے اہل ایمان بندوں پر ان کی طرف سے کسی سبب کے بغیر، محض احسان ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿مَا كُنۡتَ تَدۡرِيۡ ﴾ ’’آپ نہیں جانتے تھے‘‘ یعنی آپ پر قرآن نازل ہونے سے پہلے ﴿مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ ﴾ ’’کتاب کو نہ ایمان کو‘‘ یعنی آپ کے پاس کتب سابقہ کی خبروں کا علم تھا نہ شرائع الٰہیہ پر ایمان و عمل کا علم بلکہ آپ تو امی تھے، لکھ سکتے تھے نہ پڑھ سکتے تھے۔ پس آپ کے پاس یہ کتاب آئی۔ ﴿جَعَلۡنٰهُ نُوۡرًؔا نَّهۡدِيۡ بِهٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ﴾ ’’ہم نے اسے نور اور ہدایت بنایا ہے کہ ہم اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں۔‘‘ جس سے ہمارے بندے کفروبدعت کی تاریکیوں اور ہلاک کر دینے والی خواہشات میں، روشنی حاصل کرتے ہیں، اس کتاب کے ذریعے سے حقائق کو پہچانتے ہیں اور اس کتاب سے راہ نمائی حاصل کر کے صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہیں۔ ﴿وَاِنَّكَ لَتَهۡدِيۡۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ یعنی آپ ان کے سامنے صراط مستقیم واضح کرتے ہیں، صراط مستقیم کی ترغیب دینے اور اس کے متضاد راستوں پر چلنے سے روکتے اور ان سے ڈراتے ہیں۔
[53] پھر اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِيۡ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی یہ وہ راستہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر فرمایا اور انھیں آگاہ کیا کہ یہ راستہ اس کے پاس اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِيۡرُ الۡاُمُوۡرُ ﴾ یعنی تمام اچھے برے معاملات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہو گا تو بری جزا ہو گی۔
42:52وَكَذَٰلِكَ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ رُوحٗا مِّنۡ أَمۡرِنَاۚ مَا كُنتَ تَدۡرِي مَا ٱلۡكِتَٰبُ وَلَا ٱلۡإِيمَٰنُ وَلَٰكِن جَعَلۡنَٰهُ نُورٗا نَّهۡدِي بِهِۦ مَن نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَاۚ وَإِنَّكَ لَتَهۡدِيٓ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
اور نہیں لائق واسطے کسی بشر کے یہ کہ کلام کرے اس سے اللہ، مگر الہام (دل میں القا) کر کے یا پردے کے پیچھے سے یا بھیج کر فرشتہ، پس وہ (وحی) پہنچاتا اس کےحکم سے جو وہ چاہتا، بلاشبہ وہ بہت بلند ہے نہایت حکمت والا (51) اور اسی طرح وحی کی ہم نے آپ کی طرف ایک روح (قرآن) اپنے حکم سے، نہیں تھے آپ جانتے، کیا ہے کتاب اور نہ ایمان، اور لیکن بنا دیا ہم نے اس کو نور، ہدایت کرتے ہیں ہم اس کےذریعے سے جس کو چاہتے ہیں اپنے بندوں میں سے اور بلاشبہ آپ البتہ رہنمائی کرتے ہیں طرف سیدھے راستے کی (52) اللہ کے راستے کی، وہ (اللہ) جس کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، آگاہ رہو! اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں سب معاملات (53)
[51] چونکہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے تکبر اور سرکشی کی بنا پر کہتے تھے: ﴿لَوۡلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوۡ تَاۡتِيۡنَاۤ اٰيَةٌ ﴾(البقرہ:2؍118) ’’ہمارے ساتھ اللہ کلام کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کے ذریعے سے ان کا رد کیا اور واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں میں سے صرف اپنے خاص بندوں یعنی رسولوں سے کلام کرتا ہے اور وہ بھی ذیل کی صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں:(۱)یا تو وہ ان کے ساتھ وحی کے ذریعے سے کلام کرتا ہے اور وہ اس طرح کہ فرشتہ بھیجے بغیر اور بالمشافہ مخاطب ہوئے بغیر اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے قلب پر وحی کا القا کرتا ہے۔(۲)﴿اَوۡ ﴾ یا اس کے ساتھ بالمشافہ کلام کرتا ہے، مگر ﴿مِنۡ وَّرَآئِ حِجَابٍ ﴾پردے کے پیچھے سے جیسا کہ حضرت موسیٰ بن عمرانp کو شرف کلام حاصل ہوا۔(۳)﴿اَوۡ ﴾ یا اللہ تعالیٰ فرشتے کے توسط سے کلام کرتا ہے پس ﴿يُرۡسِلَ رَسُوۡلًا ﴾ ’’وہ کسی پیغام رساں کو بھیجتا ہے۔‘‘ مثلاً: جبریلu کو یا دیگر فرشتوں میں سے کسی فرشتے کو۔ ﴿فَيُوۡحِيَ بِـاِذۡنِهٖ﴾ پس وہ فرشتہ مجرد اپنی خواہش سے نہیں بلکہ اپنے رب کے حکم سے وحی القا کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ﴾ ’’بے شک وہ‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے اوصاف میں بہت بلند اور افعال میں بہت عظیم ہے، وہ ہر چیز پر غالب ہے اور تمام مخلوق اس کی مطیع ہے۔ ﴿حَكِيۡمٌ ﴾ تمام مخلوقات اور شرائع میں سے ہر چیز کو اس کے لائق مقام پر رکھنے میں حکمت والا ہے۔
[52]﴿وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ جب ہم نے آپ سے پہلے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی بھیجی تو ﴿اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ﴾ ’’ہم نے اپنے حکم سے آپ کی طرف روح بھیجی۔‘‘ اور وہ روح یہ قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو روح کے نام سے موسوم کیا کیونکہ روح سے جسد زندہ ہوتا ہے اور قرآن سے قلب و روح زندہ ہوتے ہیں۔ قرآن سے دین و دنیا کے مصالح کو زندگی ملتی ہے کیونکہ اس میں خیر کثیر اور بے پایاں علم ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسولﷺ اور اپنے اہل ایمان بندوں پر ان کی طرف سے کسی سبب کے بغیر، محض احسان ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿مَا كُنۡتَ تَدۡرِيۡ ﴾ ’’آپ نہیں جانتے تھے‘‘ یعنی آپ پر قرآن نازل ہونے سے پہلے ﴿مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ ﴾ ’’کتاب کو نہ ایمان کو‘‘ یعنی آپ کے پاس کتب سابقہ کی خبروں کا علم تھا نہ شرائع الٰہیہ پر ایمان و عمل کا علم بلکہ آپ تو امی تھے، لکھ سکتے تھے نہ پڑھ سکتے تھے۔ پس آپ کے پاس یہ کتاب آئی۔ ﴿جَعَلۡنٰهُ نُوۡرًؔا نَّهۡدِيۡ بِهٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ﴾ ’’ہم نے اسے نور اور ہدایت بنایا ہے کہ ہم اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں۔‘‘ جس سے ہمارے بندے کفروبدعت کی تاریکیوں اور ہلاک کر دینے والی خواہشات میں، روشنی حاصل کرتے ہیں، اس کتاب کے ذریعے سے حقائق کو پہچانتے ہیں اور اس کتاب سے راہ نمائی حاصل کر کے صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہیں۔ ﴿وَاِنَّكَ لَتَهۡدِيۡۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ یعنی آپ ان کے سامنے صراط مستقیم واضح کرتے ہیں، صراط مستقیم کی ترغیب دینے اور اس کے متضاد راستوں پر چلنے سے روکتے اور ان سے ڈراتے ہیں۔
[53] پھر اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِيۡ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی یہ وہ راستہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر فرمایا اور انھیں آگاہ کیا کہ یہ راستہ اس کے پاس اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِيۡرُ الۡاُمُوۡرُ ﴾ یعنی تمام اچھے برے معاملات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہو گا تو بری جزا ہو گی۔
42:53صِرَٰطِ ٱللَّهِ ٱلَّذِي لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ أَلَآ إِلَى ٱللَّهِ تَصِيرُ ٱلۡأُمُورُ
اور نہیں لائق واسطے کسی بشر کے یہ کہ کلام کرے اس سے اللہ، مگر الہام (دل میں القا) کر کے یا پردے کے پیچھے سے یا بھیج کر فرشتہ، پس وہ (وحی) پہنچاتا اس کےحکم سے جو وہ چاہتا، بلاشبہ وہ بہت بلند ہے نہایت حکمت والا (51) اور اسی طرح وحی کی ہم نے آپ کی طرف ایک روح (قرآن) اپنے حکم سے، نہیں تھے آپ جانتے، کیا ہے کتاب اور نہ ایمان، اور لیکن بنا دیا ہم نے اس کو نور، ہدایت کرتے ہیں ہم اس کےذریعے سے جس کو چاہتے ہیں اپنے بندوں میں سے اور بلاشبہ آپ البتہ رہنمائی کرتے ہیں طرف سیدھے راستے کی (52) اللہ کے راستے کی، وہ (اللہ) جس کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، آگاہ رہو! اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں سب معاملات (53)
[51] چونکہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے تکبر اور سرکشی کی بنا پر کہتے تھے: ﴿لَوۡلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوۡ تَاۡتِيۡنَاۤ اٰيَةٌ ﴾(البقرہ:2؍118) ’’ہمارے ساتھ اللہ کلام کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کے ذریعے سے ان کا رد کیا اور واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں میں سے صرف اپنے خاص بندوں یعنی رسولوں سے کلام کرتا ہے اور وہ بھی ذیل کی صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں:(۱)یا تو وہ ان کے ساتھ وحی کے ذریعے سے کلام کرتا ہے اور وہ اس طرح کہ فرشتہ بھیجے بغیر اور بالمشافہ مخاطب ہوئے بغیر اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے قلب پر وحی کا القا کرتا ہے۔(۲)﴿اَوۡ ﴾ یا اس کے ساتھ بالمشافہ کلام کرتا ہے، مگر ﴿مِنۡ وَّرَآئِ حِجَابٍ ﴾پردے کے پیچھے سے جیسا کہ حضرت موسیٰ بن عمرانp کو شرف کلام حاصل ہوا۔(۳)﴿اَوۡ ﴾ یا اللہ تعالیٰ فرشتے کے توسط سے کلام کرتا ہے پس ﴿يُرۡسِلَ رَسُوۡلًا ﴾ ’’وہ کسی پیغام رساں کو بھیجتا ہے۔‘‘ مثلاً: جبریلu کو یا دیگر فرشتوں میں سے کسی فرشتے کو۔ ﴿فَيُوۡحِيَ بِـاِذۡنِهٖ﴾ پس وہ فرشتہ مجرد اپنی خواہش سے نہیں بلکہ اپنے رب کے حکم سے وحی القا کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ﴾ ’’بے شک وہ‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے اوصاف میں بہت بلند اور افعال میں بہت عظیم ہے، وہ ہر چیز پر غالب ہے اور تمام مخلوق اس کی مطیع ہے۔ ﴿حَكِيۡمٌ ﴾ تمام مخلوقات اور شرائع میں سے ہر چیز کو اس کے لائق مقام پر رکھنے میں حکمت والا ہے۔
[52]﴿وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ جب ہم نے آپ سے پہلے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی بھیجی تو ﴿اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ﴾ ’’ہم نے اپنے حکم سے آپ کی طرف روح بھیجی۔‘‘ اور وہ روح یہ قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو روح کے نام سے موسوم کیا کیونکہ روح سے جسد زندہ ہوتا ہے اور قرآن سے قلب و روح زندہ ہوتے ہیں۔ قرآن سے دین و دنیا کے مصالح کو زندگی ملتی ہے کیونکہ اس میں خیر کثیر اور بے پایاں علم ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسولﷺ اور اپنے اہل ایمان بندوں پر ان کی طرف سے کسی سبب کے بغیر، محض احسان ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿مَا كُنۡتَ تَدۡرِيۡ ﴾ ’’آپ نہیں جانتے تھے‘‘ یعنی آپ پر قرآن نازل ہونے سے پہلے ﴿مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ ﴾ ’’کتاب کو نہ ایمان کو‘‘ یعنی آپ کے پاس کتب سابقہ کی خبروں کا علم تھا نہ شرائع الٰہیہ پر ایمان و عمل کا علم بلکہ آپ تو امی تھے، لکھ سکتے تھے نہ پڑھ سکتے تھے۔ پس آپ کے پاس یہ کتاب آئی۔ ﴿جَعَلۡنٰهُ نُوۡرًؔا نَّهۡدِيۡ بِهٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ﴾ ’’ہم نے اسے نور اور ہدایت بنایا ہے کہ ہم اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں۔‘‘ جس سے ہمارے بندے کفروبدعت کی تاریکیوں اور ہلاک کر دینے والی خواہشات میں، روشنی حاصل کرتے ہیں، اس کتاب کے ذریعے سے حقائق کو پہچانتے ہیں اور اس کتاب سے راہ نمائی حاصل کر کے صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہیں۔ ﴿وَاِنَّكَ لَتَهۡدِيۡۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ یعنی آپ ان کے سامنے صراط مستقیم واضح کرتے ہیں، صراط مستقیم کی ترغیب دینے اور اس کے متضاد راستوں پر چلنے سے روکتے اور ان سے ڈراتے ہیں۔
[53] پھر اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِيۡ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی یہ وہ راستہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر فرمایا اور انھیں آگاہ کیا کہ یہ راستہ اس کے پاس اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِيۡرُ الۡاُمُوۡرُ ﴾ یعنی تمام اچھے برے معاملات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہو گا تو بری جزا ہو گی۔