QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Fussilat

فُصِّلَتْ

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 41 · 54 verses

41:1

حمٓ

حٰمٓ(1)(یہ قرآن )نا زل کیا ہوا ہے رحمٰن رحیم کی طرف سے(2) ایک ایسی کتاب ہے کہ کھول کر بیان کی گئی ہیں آیتیں اس کی درآں حا لیکہ قرآن ہے عربی، اس قوم کے لیے جو علم رکھتی ہے(3) خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا، پس منہ موڑلیا اکثر نے ان میں سے پس وہ نہیں سنتے(4) اور انھوں نے کہا، ہمارے دل پردوں میں ہیں اس بات سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں اس کی طرف اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک پردہ ہے، پس تو (اپنا) کام کر، بلاشبہ ہم (اپنا) کام کرنے والے ہیں(5)کہہ دیجیے:بے شک میں تو ایک بشر ہوں تمھاری مثل، وحی کی جاتی ہے میری طرف یہ کہ معبود تمھارا معبود ہے ایک ہی، پس یکسوئی سے متوجہ رہو اس کی طرف اور بخشش مانگو اس سے اور ہلاکت ہے مشرکین کے لیے(6) وہ لوگ جو نہیں دیتے زکاۃ اور وہ آخرت کا بھی، وہ انکار کرنے والے ہیں(7) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(8) [2] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل ﴿تَنۡزِيۡلٌ ﴾ اتارا گیا ہے‘‘ یعنی صادر ہواہے ﴿مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’رحمان و رحیم کی طرف سے‘‘ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نوروشفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے۔ [3] پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿فُصِّلَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔‘‘ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیانِ کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور حقائق کے مابین امتیاز کو مستلزم ہے۔ ﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ یعنی فصیح عربی میں، جو کامل ترین زبان ہے جس کی آیات کو تفصیل سے بیان گیا ہے اور اس کتاب کو قرآن عربی بنایا گیا ہے۔ ﴿لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’علم رکھنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی (یہ قرآن) اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ علم رکھنے والے لوگوں پر جس طرح اس کے الفاظ واضح ہیں، اس کے معانی بھی واضح ہوں، اور ان کے سامنے ہدایت اور گمراہی نمایاں ہو کر ایک دوسرے سے ممیز ہو جائیں۔ اور رہے جہلاء جن کو ہدایت گمراہی میں اور بیا ن اور اندھے پن میں اضافہ کرتا ہے، تو ان لوگوں کے لیے یہ کلام نہیں لایا گیا۔ ﴿سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾(البقرۃ: 2؍6) ’’ان کے لیے برابر ہے خواہ آپ ان کو برے انجام سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [4]﴿بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا ﴾ یعنی دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا اور دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا، پھر تبشیر و انذار کی تفصیل کا ذکر کیا اور ان اسباب و اوصاف کا ذکر کیا جن کے ذریعے سے تبشیر و انذار حاصل ہوتے ہیں۔ یہ اس کتاب کے وہ اوصاف ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ اسے قبول کیا جائے، اس کے سامنے سراطاعت خم کیا جائے، اس پر ایمان لایا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ مگر اکثر لوگوں نے اس طرح روگردانی کی ہے جس طرح متکبرین کا وتیرہ ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ اور وہ اسے قبول کرنے کے ارادے سے نہیں سنتے اگرچہ وہ اسے اس طرح ضرور سنتے ہیں جس سے ان پر شرعی حجت قائم ہو جائے۔ [5]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی اس کتاب کریم سے روگردانی کرنے والے، اس سے اپنے عدم انتفاع اور اس تک پہنچانے والے دروازوں کے بند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:﴿قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَكِنَّةٍ ﴾ ’’ہمارے دل پردوں میں ہیں۔‘‘ یعنی پردوں میں ڈھانپے ہوئے ہیں۔ ﴿مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ وَفِيۡۤ اٰذَانِنَا وَقۡرٌ ﴾ ’’اس چیز سے جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اور اس سے ہمارے کانوں میں بوجھ ہے۔‘‘ یعنی ہمارے کانوں میں گرانی ہے پس ہم سن نہیں سکتے۔ ﴿وَّمِنۢۡ بَيۡنِنَا وَبَيۡنِكَ حِجَابٌ ﴾ ’’اور ہمارے اور تمھارے درمیان پردہ ہے۔‘‘ اس لیے ہم تجھے دیکھ نہیں سکتے۔ ان کا مقصد صرف ہر لحاظ سے اس کتاب عظیم سے اعراض کا اظہار تھا، انھوں نے اس کتاب سے اپنے بغض اور اپنے باطل موقف پر پسندیدگی کا اظہار کیا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿فَاعۡمَلۡ اِنَّنَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’پس تو اپنا کام کیے جا، ہم اپناکام کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی جیسے اپنے دین پر عمل کرنا تم پسند کرتے ہو ویسے ہی ہم بھی اپنے دین پر پوری پسندیدگی کے ساتھ عمل پیراہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سب سے بڑی محرومی ہے کہ وہ ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی پر راضی ہو گئے، ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کیا اور دنیا کے بدلے آخرت کو بیچ دیا۔ [6، 7]﴿قُلۡ ﴾ اے نبی! ان سے کہہ دیجیے: ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ يُوۡحٰۤى اِلَيَّ ﴾ ’’میں تو تمھارے جیسا ہی ایک انسان ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی میرا وصف اور میرا وظیفہ یہ ہے کہ میں تمھارے جیسا بشر ہوں، میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں اور نہ میرے اختیار میں وہ عذاب ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس وحی کے ذریعے سے مجھے تم پر فضیلت عطا کی، اس کے ذریعے سے مجھے تم سے ممتاز کیا اور اس کے لیے مجھے مختص کیا، جو وحی اس نے میری طرف بھیجی، مجھے اس کی اتباع اور تمھیں اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’ لہٰذا سیدھے اس طرف متوجہ رہو‘‘ یعنی میں جن امور کے بارے میں تمھیں خبر دے رہا ہوں اس کی تصدیق، اوامر کی اتباع اور نواہی سے اجتناب کر کے، اس راستے پر گامزن ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے ۔ یہ حقیقت استقامت ہے۔ اور پھر اس پر قائم رہو۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِلَيۡهِ ﴾ میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی عمل کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا مقصد اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچنا قرار دے، اس طرح اس کا عمل خالص، صالح اور نفع مند ہو گا اور اخلاص کی عدم موجودگی سے اس کا عمل باطل ہو جائے گا اور چونکہ بندہ، خواہ وہ استقامت کا کتنا ہی حریص کیوں نہ ہوں، مامورات میں تقصیر، منہیات کے ارتکاب کی بنا پر خلل کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو استغفار کی دوا کے استعمال کا حکم دیا ہے، جو توبہ کو متضمن ہے، پس فرمایا:﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’اور اس سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ پھر ترک استقامت پر اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَيۡلٌ لِّلۡمُشۡرِكِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾’’مشرکین کے لیے ہلاکت ہے۔ جو زکاۃ نہیں دیتے۔‘‘ یعنی جو اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی کو نفع و نقصان دینے کا اختیار رکھتی ہیں نہ موت و حیات کا اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا۔ انھوں نے اپنے آپ کو گندگی میں دھنسا لیا ہے اور اپنے رب کی توحید اور اخلاص کے ذریعے سے اپنے آپ کو پاک نہیں کرتے، وہ نماز پڑھتے ہیں نہ زکاۃ دیتے ہیں اور وہ توحید اور نماز کے ذریعے سے اپنے رب کے لیے اخلاص رکھتے ہیں نہ زکاۃ کے ذریعے سے مخلوق کو نفع پہنچاتے ہیں۔ ﴿وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں۔‘‘ یعنی وہ حیات بعدالموت پر ایمان رکھتے ہیں نہ جنت اور جہنم پر، اس لیے ان کے دلوں سے خوف زائل نہیں ہو گا۔ انھوں نے ایسے ایسے کام کیے ہیں جو آخرت میں انھیں سخت نقصان دیں گے۔ [8] اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان کے اوصاف اور ان کی جزا کا ذکر فرمایا ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے‘‘ یعنی اس کتاب پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر کتاب مشتمل ہے اور ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی جو اخلاص للہ اور متابعت رسول کے جامع ہیں۔ ﴿لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ﴾ ’’ان کے لیے (ختم) نہ ہونے والا اجر ہے۔‘‘ یعنی ان کے لیے اجر عظیم ہے جو کبھی منقطع ہو گا نہ ختم ہو گا بلکہ وہ ہمیشہ رہے گا اور ہر گھڑی بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ یہ اجر ہر قسم کی لذات و مشتہیات پر مشتمل ہو گا۔
41:2

تَنزِيلٞ مِّنَ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

حٰمٓ(1)(یہ قرآن )نا زل کیا ہوا ہے رحمٰن رحیم کی طرف سے(2) ایک ایسی کتاب ہے کہ کھول کر بیان کی گئی ہیں آیتیں اس کی درآں حا لیکہ قرآن ہے عربی، اس قوم کے لیے جو علم رکھتی ہے(3) خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا، پس منہ موڑلیا اکثر نے ان میں سے پس وہ نہیں سنتے(4) اور انھوں نے کہا، ہمارے دل پردوں میں ہیں اس بات سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں اس کی طرف اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک پردہ ہے، پس تو (اپنا) کام کر، بلاشبہ ہم (اپنا) کام کرنے والے ہیں(5)کہہ دیجیے:بے شک میں تو ایک بشر ہوں تمھاری مثل، وحی کی جاتی ہے میری طرف یہ کہ معبود تمھارا معبود ہے ایک ہی، پس یکسوئی سے متوجہ رہو اس کی طرف اور بخشش مانگو اس سے اور ہلاکت ہے مشرکین کے لیے(6) وہ لوگ جو نہیں دیتے زکاۃ اور وہ آخرت کا بھی، وہ انکار کرنے والے ہیں(7) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(8) [2] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل ﴿تَنۡزِيۡلٌ ﴾ اتارا گیا ہے‘‘ یعنی صادر ہواہے ﴿مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’رحمان و رحیم کی طرف سے‘‘ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نوروشفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے۔ [3] پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿فُصِّلَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔‘‘ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیانِ کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور حقائق کے مابین امتیاز کو مستلزم ہے۔ ﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ یعنی فصیح عربی میں، جو کامل ترین زبان ہے جس کی آیات کو تفصیل سے بیان گیا ہے اور اس کتاب کو قرآن عربی بنایا گیا ہے۔ ﴿لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’علم رکھنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی (یہ قرآن) اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ علم رکھنے والے لوگوں پر جس طرح اس کے الفاظ واضح ہیں، اس کے معانی بھی واضح ہوں، اور ان کے سامنے ہدایت اور گمراہی نمایاں ہو کر ایک دوسرے سے ممیز ہو جائیں۔ اور رہے جہلاء جن کو ہدایت گمراہی میں اور بیا ن اور اندھے پن میں اضافہ کرتا ہے، تو ان لوگوں کے لیے یہ کلام نہیں لایا گیا۔ ﴿سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾(البقرۃ: 2؍6) ’’ان کے لیے برابر ہے خواہ آپ ان کو برے انجام سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [4]﴿بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا ﴾ یعنی دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا اور دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا، پھر تبشیر و انذار کی تفصیل کا ذکر کیا اور ان اسباب و اوصاف کا ذکر کیا جن کے ذریعے سے تبشیر و انذار حاصل ہوتے ہیں۔ یہ اس کتاب کے وہ اوصاف ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ اسے قبول کیا جائے، اس کے سامنے سراطاعت خم کیا جائے، اس پر ایمان لایا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ مگر اکثر لوگوں نے اس طرح روگردانی کی ہے جس طرح متکبرین کا وتیرہ ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ اور وہ اسے قبول کرنے کے ارادے سے نہیں سنتے اگرچہ وہ اسے اس طرح ضرور سنتے ہیں جس سے ان پر شرعی حجت قائم ہو جائے۔ [5]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی اس کتاب کریم سے روگردانی کرنے والے، اس سے اپنے عدم انتفاع اور اس تک پہنچانے والے دروازوں کے بند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:﴿قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَكِنَّةٍ ﴾ ’’ہمارے دل پردوں میں ہیں۔‘‘ یعنی پردوں میں ڈھانپے ہوئے ہیں۔ ﴿مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ وَفِيۡۤ اٰذَانِنَا وَقۡرٌ ﴾ ’’اس چیز سے جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اور اس سے ہمارے کانوں میں بوجھ ہے۔‘‘ یعنی ہمارے کانوں میں گرانی ہے پس ہم سن نہیں سکتے۔ ﴿وَّمِنۢۡ بَيۡنِنَا وَبَيۡنِكَ حِجَابٌ ﴾ ’’اور ہمارے اور تمھارے درمیان پردہ ہے۔‘‘ اس لیے ہم تجھے دیکھ نہیں سکتے۔ ان کا مقصد صرف ہر لحاظ سے اس کتاب عظیم سے اعراض کا اظہار تھا، انھوں نے اس کتاب سے اپنے بغض اور اپنے باطل موقف پر پسندیدگی کا اظہار کیا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿فَاعۡمَلۡ اِنَّنَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’پس تو اپنا کام کیے جا، ہم اپناکام کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی جیسے اپنے دین پر عمل کرنا تم پسند کرتے ہو ویسے ہی ہم بھی اپنے دین پر پوری پسندیدگی کے ساتھ عمل پیراہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سب سے بڑی محرومی ہے کہ وہ ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی پر راضی ہو گئے، ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کیا اور دنیا کے بدلے آخرت کو بیچ دیا۔ [6، 7]﴿قُلۡ ﴾ اے نبی! ان سے کہہ دیجیے: ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ يُوۡحٰۤى اِلَيَّ ﴾ ’’میں تو تمھارے جیسا ہی ایک انسان ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی میرا وصف اور میرا وظیفہ یہ ہے کہ میں تمھارے جیسا بشر ہوں، میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں اور نہ میرے اختیار میں وہ عذاب ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس وحی کے ذریعے سے مجھے تم پر فضیلت عطا کی، اس کے ذریعے سے مجھے تم سے ممتاز کیا اور اس کے لیے مجھے مختص کیا، جو وحی اس نے میری طرف بھیجی، مجھے اس کی اتباع اور تمھیں اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’ لہٰذا سیدھے اس طرف متوجہ رہو‘‘ یعنی میں جن امور کے بارے میں تمھیں خبر دے رہا ہوں اس کی تصدیق، اوامر کی اتباع اور نواہی سے اجتناب کر کے، اس راستے پر گامزن ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے ۔ یہ حقیقت استقامت ہے۔ اور پھر اس پر قائم رہو۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِلَيۡهِ ﴾ میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی عمل کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا مقصد اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچنا قرار دے، اس طرح اس کا عمل خالص، صالح اور نفع مند ہو گا اور اخلاص کی عدم موجودگی سے اس کا عمل باطل ہو جائے گا اور چونکہ بندہ، خواہ وہ استقامت کا کتنا ہی حریص کیوں نہ ہوں، مامورات میں تقصیر، منہیات کے ارتکاب کی بنا پر خلل کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو استغفار کی دوا کے استعمال کا حکم دیا ہے، جو توبہ کو متضمن ہے، پس فرمایا:﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’اور اس سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ پھر ترک استقامت پر اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَيۡلٌ لِّلۡمُشۡرِكِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾’’مشرکین کے لیے ہلاکت ہے۔ جو زکاۃ نہیں دیتے۔‘‘ یعنی جو اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی کو نفع و نقصان دینے کا اختیار رکھتی ہیں نہ موت و حیات کا اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا۔ انھوں نے اپنے آپ کو گندگی میں دھنسا لیا ہے اور اپنے رب کی توحید اور اخلاص کے ذریعے سے اپنے آپ کو پاک نہیں کرتے، وہ نماز پڑھتے ہیں نہ زکاۃ دیتے ہیں اور وہ توحید اور نماز کے ذریعے سے اپنے رب کے لیے اخلاص رکھتے ہیں نہ زکاۃ کے ذریعے سے مخلوق کو نفع پہنچاتے ہیں۔ ﴿وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں۔‘‘ یعنی وہ حیات بعدالموت پر ایمان رکھتے ہیں نہ جنت اور جہنم پر، اس لیے ان کے دلوں سے خوف زائل نہیں ہو گا۔ انھوں نے ایسے ایسے کام کیے ہیں جو آخرت میں انھیں سخت نقصان دیں گے۔ [8] اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان کے اوصاف اور ان کی جزا کا ذکر فرمایا ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے‘‘ یعنی اس کتاب پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر کتاب مشتمل ہے اور ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی جو اخلاص للہ اور متابعت رسول کے جامع ہیں۔ ﴿لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ﴾ ’’ان کے لیے (ختم) نہ ہونے والا اجر ہے۔‘‘ یعنی ان کے لیے اجر عظیم ہے جو کبھی منقطع ہو گا نہ ختم ہو گا بلکہ وہ ہمیشہ رہے گا اور ہر گھڑی بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ یہ اجر ہر قسم کی لذات و مشتہیات پر مشتمل ہو گا۔
41:3

كِتَٰبٞ فُصِّلَتۡ ءَايَٰتُهُۥ قُرۡءَانًا عَرَبِيّٗا لِّقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ

حٰمٓ(1)(یہ قرآن )نا زل کیا ہوا ہے رحمٰن رحیم کی طرف سے(2) ایک ایسی کتاب ہے کہ کھول کر بیان کی گئی ہیں آیتیں اس کی درآں حا لیکہ قرآن ہے عربی، اس قوم کے لیے جو علم رکھتی ہے(3) خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا، پس منہ موڑلیا اکثر نے ان میں سے پس وہ نہیں سنتے(4) اور انھوں نے کہا، ہمارے دل پردوں میں ہیں اس بات سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں اس کی طرف اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک پردہ ہے، پس تو (اپنا) کام کر، بلاشبہ ہم (اپنا) کام کرنے والے ہیں(5)کہہ دیجیے:بے شک میں تو ایک بشر ہوں تمھاری مثل، وحی کی جاتی ہے میری طرف یہ کہ معبود تمھارا معبود ہے ایک ہی، پس یکسوئی سے متوجہ رہو اس کی طرف اور بخشش مانگو اس سے اور ہلاکت ہے مشرکین کے لیے(6) وہ لوگ جو نہیں دیتے زکاۃ اور وہ آخرت کا بھی، وہ انکار کرنے والے ہیں(7) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(8) [2] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل ﴿تَنۡزِيۡلٌ ﴾ اتارا گیا ہے‘‘ یعنی صادر ہواہے ﴿مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’رحمان و رحیم کی طرف سے‘‘ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نوروشفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے۔ [3] پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿فُصِّلَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔‘‘ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیانِ کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور حقائق کے مابین امتیاز کو مستلزم ہے۔ ﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ یعنی فصیح عربی میں، جو کامل ترین زبان ہے جس کی آیات کو تفصیل سے بیان گیا ہے اور اس کتاب کو قرآن عربی بنایا گیا ہے۔ ﴿لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’علم رکھنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی (یہ قرآن) اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ علم رکھنے والے لوگوں پر جس طرح اس کے الفاظ واضح ہیں، اس کے معانی بھی واضح ہوں، اور ان کے سامنے ہدایت اور گمراہی نمایاں ہو کر ایک دوسرے سے ممیز ہو جائیں۔ اور رہے جہلاء جن کو ہدایت گمراہی میں اور بیا ن اور اندھے پن میں اضافہ کرتا ہے، تو ان لوگوں کے لیے یہ کلام نہیں لایا گیا۔ ﴿سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾(البقرۃ: 2؍6) ’’ان کے لیے برابر ہے خواہ آپ ان کو برے انجام سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [4]﴿بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا ﴾ یعنی دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا اور دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا، پھر تبشیر و انذار کی تفصیل کا ذکر کیا اور ان اسباب و اوصاف کا ذکر کیا جن کے ذریعے سے تبشیر و انذار حاصل ہوتے ہیں۔ یہ اس کتاب کے وہ اوصاف ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ اسے قبول کیا جائے، اس کے سامنے سراطاعت خم کیا جائے، اس پر ایمان لایا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ مگر اکثر لوگوں نے اس طرح روگردانی کی ہے جس طرح متکبرین کا وتیرہ ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ اور وہ اسے قبول کرنے کے ارادے سے نہیں سنتے اگرچہ وہ اسے اس طرح ضرور سنتے ہیں جس سے ان پر شرعی حجت قائم ہو جائے۔ [5]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی اس کتاب کریم سے روگردانی کرنے والے، اس سے اپنے عدم انتفاع اور اس تک پہنچانے والے دروازوں کے بند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:﴿قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَكِنَّةٍ ﴾ ’’ہمارے دل پردوں میں ہیں۔‘‘ یعنی پردوں میں ڈھانپے ہوئے ہیں۔ ﴿مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ وَفِيۡۤ اٰذَانِنَا وَقۡرٌ ﴾ ’’اس چیز سے جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اور اس سے ہمارے کانوں میں بوجھ ہے۔‘‘ یعنی ہمارے کانوں میں گرانی ہے پس ہم سن نہیں سکتے۔ ﴿وَّمِنۢۡ بَيۡنِنَا وَبَيۡنِكَ حِجَابٌ ﴾ ’’اور ہمارے اور تمھارے درمیان پردہ ہے۔‘‘ اس لیے ہم تجھے دیکھ نہیں سکتے۔ ان کا مقصد صرف ہر لحاظ سے اس کتاب عظیم سے اعراض کا اظہار تھا، انھوں نے اس کتاب سے اپنے بغض اور اپنے باطل موقف پر پسندیدگی کا اظہار کیا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿فَاعۡمَلۡ اِنَّنَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’پس تو اپنا کام کیے جا، ہم اپناکام کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی جیسے اپنے دین پر عمل کرنا تم پسند کرتے ہو ویسے ہی ہم بھی اپنے دین پر پوری پسندیدگی کے ساتھ عمل پیراہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سب سے بڑی محرومی ہے کہ وہ ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی پر راضی ہو گئے، ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کیا اور دنیا کے بدلے آخرت کو بیچ دیا۔ [6، 7]﴿قُلۡ ﴾ اے نبی! ان سے کہہ دیجیے: ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ يُوۡحٰۤى اِلَيَّ ﴾ ’’میں تو تمھارے جیسا ہی ایک انسان ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی میرا وصف اور میرا وظیفہ یہ ہے کہ میں تمھارے جیسا بشر ہوں، میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں اور نہ میرے اختیار میں وہ عذاب ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس وحی کے ذریعے سے مجھے تم پر فضیلت عطا کی، اس کے ذریعے سے مجھے تم سے ممتاز کیا اور اس کے لیے مجھے مختص کیا، جو وحی اس نے میری طرف بھیجی، مجھے اس کی اتباع اور تمھیں اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’ لہٰذا سیدھے اس طرف متوجہ رہو‘‘ یعنی میں جن امور کے بارے میں تمھیں خبر دے رہا ہوں اس کی تصدیق، اوامر کی اتباع اور نواہی سے اجتناب کر کے، اس راستے پر گامزن ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے ۔ یہ حقیقت استقامت ہے۔ اور پھر اس پر قائم رہو۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِلَيۡهِ ﴾ میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی عمل کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا مقصد اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچنا قرار دے، اس طرح اس کا عمل خالص، صالح اور نفع مند ہو گا اور اخلاص کی عدم موجودگی سے اس کا عمل باطل ہو جائے گا اور چونکہ بندہ، خواہ وہ استقامت کا کتنا ہی حریص کیوں نہ ہوں، مامورات میں تقصیر، منہیات کے ارتکاب کی بنا پر خلل کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو استغفار کی دوا کے استعمال کا حکم دیا ہے، جو توبہ کو متضمن ہے، پس فرمایا:﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’اور اس سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ پھر ترک استقامت پر اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَيۡلٌ لِّلۡمُشۡرِكِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾’’مشرکین کے لیے ہلاکت ہے۔ جو زکاۃ نہیں دیتے۔‘‘ یعنی جو اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی کو نفع و نقصان دینے کا اختیار رکھتی ہیں نہ موت و حیات کا اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا۔ انھوں نے اپنے آپ کو گندگی میں دھنسا لیا ہے اور اپنے رب کی توحید اور اخلاص کے ذریعے سے اپنے آپ کو پاک نہیں کرتے، وہ نماز پڑھتے ہیں نہ زکاۃ دیتے ہیں اور وہ توحید اور نماز کے ذریعے سے اپنے رب کے لیے اخلاص رکھتے ہیں نہ زکاۃ کے ذریعے سے مخلوق کو نفع پہنچاتے ہیں۔ ﴿وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں۔‘‘ یعنی وہ حیات بعدالموت پر ایمان رکھتے ہیں نہ جنت اور جہنم پر، اس لیے ان کے دلوں سے خوف زائل نہیں ہو گا۔ انھوں نے ایسے ایسے کام کیے ہیں جو آخرت میں انھیں سخت نقصان دیں گے۔ [8] اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان کے اوصاف اور ان کی جزا کا ذکر فرمایا ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے‘‘ یعنی اس کتاب پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر کتاب مشتمل ہے اور ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی جو اخلاص للہ اور متابعت رسول کے جامع ہیں۔ ﴿لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ﴾ ’’ان کے لیے (ختم) نہ ہونے والا اجر ہے۔‘‘ یعنی ان کے لیے اجر عظیم ہے جو کبھی منقطع ہو گا نہ ختم ہو گا بلکہ وہ ہمیشہ رہے گا اور ہر گھڑی بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ یہ اجر ہر قسم کی لذات و مشتہیات پر مشتمل ہو گا۔
41:4

بَشِيرٗا وَنَذِيرٗا فَأَعۡرَضَ أَكۡثَرُهُمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُونَ

حٰمٓ(1)(یہ قرآن )نا زل کیا ہوا ہے رحمٰن رحیم کی طرف سے(2) ایک ایسی کتاب ہے کہ کھول کر بیان کی گئی ہیں آیتیں اس کی درآں حا لیکہ قرآن ہے عربی، اس قوم کے لیے جو علم رکھتی ہے(3) خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا، پس منہ موڑلیا اکثر نے ان میں سے پس وہ نہیں سنتے(4) اور انھوں نے کہا، ہمارے دل پردوں میں ہیں اس بات سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں اس کی طرف اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک پردہ ہے، پس تو (اپنا) کام کر، بلاشبہ ہم (اپنا) کام کرنے والے ہیں(5)کہہ دیجیے:بے شک میں تو ایک بشر ہوں تمھاری مثل، وحی کی جاتی ہے میری طرف یہ کہ معبود تمھارا معبود ہے ایک ہی، پس یکسوئی سے متوجہ رہو اس کی طرف اور بخشش مانگو اس سے اور ہلاکت ہے مشرکین کے لیے(6) وہ لوگ جو نہیں دیتے زکاۃ اور وہ آخرت کا بھی، وہ انکار کرنے والے ہیں(7) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(8) [2] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل ﴿تَنۡزِيۡلٌ ﴾ اتارا گیا ہے‘‘ یعنی صادر ہواہے ﴿مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’رحمان و رحیم کی طرف سے‘‘ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نوروشفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے۔ [3] پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿فُصِّلَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔‘‘ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیانِ کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور حقائق کے مابین امتیاز کو مستلزم ہے۔ ﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ یعنی فصیح عربی میں، جو کامل ترین زبان ہے جس کی آیات کو تفصیل سے بیان گیا ہے اور اس کتاب کو قرآن عربی بنایا گیا ہے۔ ﴿لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’علم رکھنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی (یہ قرآن) اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ علم رکھنے والے لوگوں پر جس طرح اس کے الفاظ واضح ہیں، اس کے معانی بھی واضح ہوں، اور ان کے سامنے ہدایت اور گمراہی نمایاں ہو کر ایک دوسرے سے ممیز ہو جائیں۔ اور رہے جہلاء جن کو ہدایت گمراہی میں اور بیا ن اور اندھے پن میں اضافہ کرتا ہے، تو ان لوگوں کے لیے یہ کلام نہیں لایا گیا۔ ﴿سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾(البقرۃ: 2؍6) ’’ان کے لیے برابر ہے خواہ آپ ان کو برے انجام سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [4]﴿بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا ﴾ یعنی دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا اور دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا، پھر تبشیر و انذار کی تفصیل کا ذکر کیا اور ان اسباب و اوصاف کا ذکر کیا جن کے ذریعے سے تبشیر و انذار حاصل ہوتے ہیں۔ یہ اس کتاب کے وہ اوصاف ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ اسے قبول کیا جائے، اس کے سامنے سراطاعت خم کیا جائے، اس پر ایمان لایا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ مگر اکثر لوگوں نے اس طرح روگردانی کی ہے جس طرح متکبرین کا وتیرہ ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ اور وہ اسے قبول کرنے کے ارادے سے نہیں سنتے اگرچہ وہ اسے اس طرح ضرور سنتے ہیں جس سے ان پر شرعی حجت قائم ہو جائے۔ [5]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی اس کتاب کریم سے روگردانی کرنے والے، اس سے اپنے عدم انتفاع اور اس تک پہنچانے والے دروازوں کے بند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:﴿قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَكِنَّةٍ ﴾ ’’ہمارے دل پردوں میں ہیں۔‘‘ یعنی پردوں میں ڈھانپے ہوئے ہیں۔ ﴿مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ وَفِيۡۤ اٰذَانِنَا وَقۡرٌ ﴾ ’’اس چیز سے جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اور اس سے ہمارے کانوں میں بوجھ ہے۔‘‘ یعنی ہمارے کانوں میں گرانی ہے پس ہم سن نہیں سکتے۔ ﴿وَّمِنۢۡ بَيۡنِنَا وَبَيۡنِكَ حِجَابٌ ﴾ ’’اور ہمارے اور تمھارے درمیان پردہ ہے۔‘‘ اس لیے ہم تجھے دیکھ نہیں سکتے۔ ان کا مقصد صرف ہر لحاظ سے اس کتاب عظیم سے اعراض کا اظہار تھا، انھوں نے اس کتاب سے اپنے بغض اور اپنے باطل موقف پر پسندیدگی کا اظہار کیا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿فَاعۡمَلۡ اِنَّنَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’پس تو اپنا کام کیے جا، ہم اپناکام کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی جیسے اپنے دین پر عمل کرنا تم پسند کرتے ہو ویسے ہی ہم بھی اپنے دین پر پوری پسندیدگی کے ساتھ عمل پیراہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سب سے بڑی محرومی ہے کہ وہ ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی پر راضی ہو گئے، ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کیا اور دنیا کے بدلے آخرت کو بیچ دیا۔ [6، 7]﴿قُلۡ ﴾ اے نبی! ان سے کہہ دیجیے: ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ يُوۡحٰۤى اِلَيَّ ﴾ ’’میں تو تمھارے جیسا ہی ایک انسان ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی میرا وصف اور میرا وظیفہ یہ ہے کہ میں تمھارے جیسا بشر ہوں، میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں اور نہ میرے اختیار میں وہ عذاب ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس وحی کے ذریعے سے مجھے تم پر فضیلت عطا کی، اس کے ذریعے سے مجھے تم سے ممتاز کیا اور اس کے لیے مجھے مختص کیا، جو وحی اس نے میری طرف بھیجی، مجھے اس کی اتباع اور تمھیں اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’ لہٰذا سیدھے اس طرف متوجہ رہو‘‘ یعنی میں جن امور کے بارے میں تمھیں خبر دے رہا ہوں اس کی تصدیق، اوامر کی اتباع اور نواہی سے اجتناب کر کے، اس راستے پر گامزن ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے ۔ یہ حقیقت استقامت ہے۔ اور پھر اس پر قائم رہو۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِلَيۡهِ ﴾ میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی عمل کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا مقصد اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچنا قرار دے، اس طرح اس کا عمل خالص، صالح اور نفع مند ہو گا اور اخلاص کی عدم موجودگی سے اس کا عمل باطل ہو جائے گا اور چونکہ بندہ، خواہ وہ استقامت کا کتنا ہی حریص کیوں نہ ہوں، مامورات میں تقصیر، منہیات کے ارتکاب کی بنا پر خلل کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو استغفار کی دوا کے استعمال کا حکم دیا ہے، جو توبہ کو متضمن ہے، پس فرمایا:﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’اور اس سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ پھر ترک استقامت پر اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَيۡلٌ لِّلۡمُشۡرِكِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾’’مشرکین کے لیے ہلاکت ہے۔ جو زکاۃ نہیں دیتے۔‘‘ یعنی جو اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی کو نفع و نقصان دینے کا اختیار رکھتی ہیں نہ موت و حیات کا اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا۔ انھوں نے اپنے آپ کو گندگی میں دھنسا لیا ہے اور اپنے رب کی توحید اور اخلاص کے ذریعے سے اپنے آپ کو پاک نہیں کرتے، وہ نماز پڑھتے ہیں نہ زکاۃ دیتے ہیں اور وہ توحید اور نماز کے ذریعے سے اپنے رب کے لیے اخلاص رکھتے ہیں نہ زکاۃ کے ذریعے سے مخلوق کو نفع پہنچاتے ہیں۔ ﴿وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں۔‘‘ یعنی وہ حیات بعدالموت پر ایمان رکھتے ہیں نہ جنت اور جہنم پر، اس لیے ان کے دلوں سے خوف زائل نہیں ہو گا۔ انھوں نے ایسے ایسے کام کیے ہیں جو آخرت میں انھیں سخت نقصان دیں گے۔ [8] اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان کے اوصاف اور ان کی جزا کا ذکر فرمایا ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے‘‘ یعنی اس کتاب پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر کتاب مشتمل ہے اور ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی جو اخلاص للہ اور متابعت رسول کے جامع ہیں۔ ﴿لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ﴾ ’’ان کے لیے (ختم) نہ ہونے والا اجر ہے۔‘‘ یعنی ان کے لیے اجر عظیم ہے جو کبھی منقطع ہو گا نہ ختم ہو گا بلکہ وہ ہمیشہ رہے گا اور ہر گھڑی بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ یہ اجر ہر قسم کی لذات و مشتہیات پر مشتمل ہو گا۔
41:5

وَقَالُواْ قُلُوبُنَا فِيٓ أَكِنَّةٖ مِّمَّا تَدۡعُونَآ إِلَيۡهِ وَفِيٓ ءَاذَانِنَا وَقۡرٞ وَمِنۢ بَيۡنِنَا وَبَيۡنِكَ حِجَابٞ فَٱعۡمَلۡ إِنَّنَا عَٰمِلُونَ

حٰمٓ(1)(یہ قرآن )نا زل کیا ہوا ہے رحمٰن رحیم کی طرف سے(2) ایک ایسی کتاب ہے کہ کھول کر بیان کی گئی ہیں آیتیں اس کی درآں حا لیکہ قرآن ہے عربی، اس قوم کے لیے جو علم رکھتی ہے(3) خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا، پس منہ موڑلیا اکثر نے ان میں سے پس وہ نہیں سنتے(4) اور انھوں نے کہا، ہمارے دل پردوں میں ہیں اس بات سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں اس کی طرف اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک پردہ ہے، پس تو (اپنا) کام کر، بلاشبہ ہم (اپنا) کام کرنے والے ہیں(5)کہہ دیجیے:بے شک میں تو ایک بشر ہوں تمھاری مثل، وحی کی جاتی ہے میری طرف یہ کہ معبود تمھارا معبود ہے ایک ہی، پس یکسوئی سے متوجہ رہو اس کی طرف اور بخشش مانگو اس سے اور ہلاکت ہے مشرکین کے لیے(6) وہ لوگ جو نہیں دیتے زکاۃ اور وہ آخرت کا بھی، وہ انکار کرنے والے ہیں(7) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(8) [2] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل ﴿تَنۡزِيۡلٌ ﴾ اتارا گیا ہے‘‘ یعنی صادر ہواہے ﴿مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’رحمان و رحیم کی طرف سے‘‘ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نوروشفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے۔ [3] پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿فُصِّلَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔‘‘ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیانِ کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور حقائق کے مابین امتیاز کو مستلزم ہے۔ ﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ یعنی فصیح عربی میں، جو کامل ترین زبان ہے جس کی آیات کو تفصیل سے بیان گیا ہے اور اس کتاب کو قرآن عربی بنایا گیا ہے۔ ﴿لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’علم رکھنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی (یہ قرآن) اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ علم رکھنے والے لوگوں پر جس طرح اس کے الفاظ واضح ہیں، اس کے معانی بھی واضح ہوں، اور ان کے سامنے ہدایت اور گمراہی نمایاں ہو کر ایک دوسرے سے ممیز ہو جائیں۔ اور رہے جہلاء جن کو ہدایت گمراہی میں اور بیا ن اور اندھے پن میں اضافہ کرتا ہے، تو ان لوگوں کے لیے یہ کلام نہیں لایا گیا۔ ﴿سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾(البقرۃ: 2؍6) ’’ان کے لیے برابر ہے خواہ آپ ان کو برے انجام سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [4]﴿بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا ﴾ یعنی دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا اور دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا، پھر تبشیر و انذار کی تفصیل کا ذکر کیا اور ان اسباب و اوصاف کا ذکر کیا جن کے ذریعے سے تبشیر و انذار حاصل ہوتے ہیں۔ یہ اس کتاب کے وہ اوصاف ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ اسے قبول کیا جائے، اس کے سامنے سراطاعت خم کیا جائے، اس پر ایمان لایا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ مگر اکثر لوگوں نے اس طرح روگردانی کی ہے جس طرح متکبرین کا وتیرہ ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ اور وہ اسے قبول کرنے کے ارادے سے نہیں سنتے اگرچہ وہ اسے اس طرح ضرور سنتے ہیں جس سے ان پر شرعی حجت قائم ہو جائے۔ [5]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی اس کتاب کریم سے روگردانی کرنے والے، اس سے اپنے عدم انتفاع اور اس تک پہنچانے والے دروازوں کے بند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:﴿قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَكِنَّةٍ ﴾ ’’ہمارے دل پردوں میں ہیں۔‘‘ یعنی پردوں میں ڈھانپے ہوئے ہیں۔ ﴿مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ وَفِيۡۤ اٰذَانِنَا وَقۡرٌ ﴾ ’’اس چیز سے جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اور اس سے ہمارے کانوں میں بوجھ ہے۔‘‘ یعنی ہمارے کانوں میں گرانی ہے پس ہم سن نہیں سکتے۔ ﴿وَّمِنۢۡ بَيۡنِنَا وَبَيۡنِكَ حِجَابٌ ﴾ ’’اور ہمارے اور تمھارے درمیان پردہ ہے۔‘‘ اس لیے ہم تجھے دیکھ نہیں سکتے۔ ان کا مقصد صرف ہر لحاظ سے اس کتاب عظیم سے اعراض کا اظہار تھا، انھوں نے اس کتاب سے اپنے بغض اور اپنے باطل موقف پر پسندیدگی کا اظہار کیا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿فَاعۡمَلۡ اِنَّنَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’پس تو اپنا کام کیے جا، ہم اپناکام کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی جیسے اپنے دین پر عمل کرنا تم پسند کرتے ہو ویسے ہی ہم بھی اپنے دین پر پوری پسندیدگی کے ساتھ عمل پیراہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سب سے بڑی محرومی ہے کہ وہ ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی پر راضی ہو گئے، ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کیا اور دنیا کے بدلے آخرت کو بیچ دیا۔ [6، 7]﴿قُلۡ ﴾ اے نبی! ان سے کہہ دیجیے: ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ يُوۡحٰۤى اِلَيَّ ﴾ ’’میں تو تمھارے جیسا ہی ایک انسان ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی میرا وصف اور میرا وظیفہ یہ ہے کہ میں تمھارے جیسا بشر ہوں، میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں اور نہ میرے اختیار میں وہ عذاب ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس وحی کے ذریعے سے مجھے تم پر فضیلت عطا کی، اس کے ذریعے سے مجھے تم سے ممتاز کیا اور اس کے لیے مجھے مختص کیا، جو وحی اس نے میری طرف بھیجی، مجھے اس کی اتباع اور تمھیں اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’ لہٰذا سیدھے اس طرف متوجہ رہو‘‘ یعنی میں جن امور کے بارے میں تمھیں خبر دے رہا ہوں اس کی تصدیق، اوامر کی اتباع اور نواہی سے اجتناب کر کے، اس راستے پر گامزن ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے ۔ یہ حقیقت استقامت ہے۔ اور پھر اس پر قائم رہو۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِلَيۡهِ ﴾ میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی عمل کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا مقصد اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچنا قرار دے، اس طرح اس کا عمل خالص، صالح اور نفع مند ہو گا اور اخلاص کی عدم موجودگی سے اس کا عمل باطل ہو جائے گا اور چونکہ بندہ، خواہ وہ استقامت کا کتنا ہی حریص کیوں نہ ہوں، مامورات میں تقصیر، منہیات کے ارتکاب کی بنا پر خلل کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو استغفار کی دوا کے استعمال کا حکم دیا ہے، جو توبہ کو متضمن ہے، پس فرمایا:﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’اور اس سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ پھر ترک استقامت پر اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَيۡلٌ لِّلۡمُشۡرِكِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾’’مشرکین کے لیے ہلاکت ہے۔ جو زکاۃ نہیں دیتے۔‘‘ یعنی جو اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی کو نفع و نقصان دینے کا اختیار رکھتی ہیں نہ موت و حیات کا اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا۔ انھوں نے اپنے آپ کو گندگی میں دھنسا لیا ہے اور اپنے رب کی توحید اور اخلاص کے ذریعے سے اپنے آپ کو پاک نہیں کرتے، وہ نماز پڑھتے ہیں نہ زکاۃ دیتے ہیں اور وہ توحید اور نماز کے ذریعے سے اپنے رب کے لیے اخلاص رکھتے ہیں نہ زکاۃ کے ذریعے سے مخلوق کو نفع پہنچاتے ہیں۔ ﴿وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں۔‘‘ یعنی وہ حیات بعدالموت پر ایمان رکھتے ہیں نہ جنت اور جہنم پر، اس لیے ان کے دلوں سے خوف زائل نہیں ہو گا۔ انھوں نے ایسے ایسے کام کیے ہیں جو آخرت میں انھیں سخت نقصان دیں گے۔ [8] اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان کے اوصاف اور ان کی جزا کا ذکر فرمایا ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے‘‘ یعنی اس کتاب پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر کتاب مشتمل ہے اور ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی جو اخلاص للہ اور متابعت رسول کے جامع ہیں۔ ﴿لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ﴾ ’’ان کے لیے (ختم) نہ ہونے والا اجر ہے۔‘‘ یعنی ان کے لیے اجر عظیم ہے جو کبھی منقطع ہو گا نہ ختم ہو گا بلکہ وہ ہمیشہ رہے گا اور ہر گھڑی بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ یہ اجر ہر قسم کی لذات و مشتہیات پر مشتمل ہو گا۔
41:6

قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡ يُوحَىٰٓ إِلَيَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ فَٱسۡتَقِيمُوٓاْ إِلَيۡهِ وَٱسۡتَغۡفِرُوهُۗ وَوَيۡلٞ لِّلۡمُشۡرِكِينَ

حٰمٓ(1)(یہ قرآن )نا زل کیا ہوا ہے رحمٰن رحیم کی طرف سے(2) ایک ایسی کتاب ہے کہ کھول کر بیان کی گئی ہیں آیتیں اس کی درآں حا لیکہ قرآن ہے عربی، اس قوم کے لیے جو علم رکھتی ہے(3) خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا، پس منہ موڑلیا اکثر نے ان میں سے پس وہ نہیں سنتے(4) اور انھوں نے کہا، ہمارے دل پردوں میں ہیں اس بات سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں اس کی طرف اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک پردہ ہے، پس تو (اپنا) کام کر، بلاشبہ ہم (اپنا) کام کرنے والے ہیں(5)کہہ دیجیے:بے شک میں تو ایک بشر ہوں تمھاری مثل، وحی کی جاتی ہے میری طرف یہ کہ معبود تمھارا معبود ہے ایک ہی، پس یکسوئی سے متوجہ رہو اس کی طرف اور بخشش مانگو اس سے اور ہلاکت ہے مشرکین کے لیے(6) وہ لوگ جو نہیں دیتے زکاۃ اور وہ آخرت کا بھی، وہ انکار کرنے والے ہیں(7) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(8) [2] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل ﴿تَنۡزِيۡلٌ ﴾ اتارا گیا ہے‘‘ یعنی صادر ہواہے ﴿مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’رحمان و رحیم کی طرف سے‘‘ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نوروشفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے۔ [3] پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿فُصِّلَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔‘‘ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیانِ کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور حقائق کے مابین امتیاز کو مستلزم ہے۔ ﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ یعنی فصیح عربی میں، جو کامل ترین زبان ہے جس کی آیات کو تفصیل سے بیان گیا ہے اور اس کتاب کو قرآن عربی بنایا گیا ہے۔ ﴿لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’علم رکھنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی (یہ قرآن) اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ علم رکھنے والے لوگوں پر جس طرح اس کے الفاظ واضح ہیں، اس کے معانی بھی واضح ہوں، اور ان کے سامنے ہدایت اور گمراہی نمایاں ہو کر ایک دوسرے سے ممیز ہو جائیں۔ اور رہے جہلاء جن کو ہدایت گمراہی میں اور بیا ن اور اندھے پن میں اضافہ کرتا ہے، تو ان لوگوں کے لیے یہ کلام نہیں لایا گیا۔ ﴿سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾(البقرۃ: 2؍6) ’’ان کے لیے برابر ہے خواہ آپ ان کو برے انجام سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [4]﴿بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا ﴾ یعنی دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا اور دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا، پھر تبشیر و انذار کی تفصیل کا ذکر کیا اور ان اسباب و اوصاف کا ذکر کیا جن کے ذریعے سے تبشیر و انذار حاصل ہوتے ہیں۔ یہ اس کتاب کے وہ اوصاف ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ اسے قبول کیا جائے، اس کے سامنے سراطاعت خم کیا جائے، اس پر ایمان لایا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ مگر اکثر لوگوں نے اس طرح روگردانی کی ہے جس طرح متکبرین کا وتیرہ ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ اور وہ اسے قبول کرنے کے ارادے سے نہیں سنتے اگرچہ وہ اسے اس طرح ضرور سنتے ہیں جس سے ان پر شرعی حجت قائم ہو جائے۔ [5]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی اس کتاب کریم سے روگردانی کرنے والے، اس سے اپنے عدم انتفاع اور اس تک پہنچانے والے دروازوں کے بند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:﴿قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَكِنَّةٍ ﴾ ’’ہمارے دل پردوں میں ہیں۔‘‘ یعنی پردوں میں ڈھانپے ہوئے ہیں۔ ﴿مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ وَفِيۡۤ اٰذَانِنَا وَقۡرٌ ﴾ ’’اس چیز سے جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اور اس سے ہمارے کانوں میں بوجھ ہے۔‘‘ یعنی ہمارے کانوں میں گرانی ہے پس ہم سن نہیں سکتے۔ ﴿وَّمِنۢۡ بَيۡنِنَا وَبَيۡنِكَ حِجَابٌ ﴾ ’’اور ہمارے اور تمھارے درمیان پردہ ہے۔‘‘ اس لیے ہم تجھے دیکھ نہیں سکتے۔ ان کا مقصد صرف ہر لحاظ سے اس کتاب عظیم سے اعراض کا اظہار تھا، انھوں نے اس کتاب سے اپنے بغض اور اپنے باطل موقف پر پسندیدگی کا اظہار کیا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿فَاعۡمَلۡ اِنَّنَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’پس تو اپنا کام کیے جا، ہم اپناکام کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی جیسے اپنے دین پر عمل کرنا تم پسند کرتے ہو ویسے ہی ہم بھی اپنے دین پر پوری پسندیدگی کے ساتھ عمل پیراہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سب سے بڑی محرومی ہے کہ وہ ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی پر راضی ہو گئے، ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کیا اور دنیا کے بدلے آخرت کو بیچ دیا۔ [6، 7]﴿قُلۡ ﴾ اے نبی! ان سے کہہ دیجیے: ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ يُوۡحٰۤى اِلَيَّ ﴾ ’’میں تو تمھارے جیسا ہی ایک انسان ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی میرا وصف اور میرا وظیفہ یہ ہے کہ میں تمھارے جیسا بشر ہوں، میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں اور نہ میرے اختیار میں وہ عذاب ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس وحی کے ذریعے سے مجھے تم پر فضیلت عطا کی، اس کے ذریعے سے مجھے تم سے ممتاز کیا اور اس کے لیے مجھے مختص کیا، جو وحی اس نے میری طرف بھیجی، مجھے اس کی اتباع اور تمھیں اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’ لہٰذا سیدھے اس طرف متوجہ رہو‘‘ یعنی میں جن امور کے بارے میں تمھیں خبر دے رہا ہوں اس کی تصدیق، اوامر کی اتباع اور نواہی سے اجتناب کر کے، اس راستے پر گامزن ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے ۔ یہ حقیقت استقامت ہے۔ اور پھر اس پر قائم رہو۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِلَيۡهِ ﴾ میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی عمل کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا مقصد اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچنا قرار دے، اس طرح اس کا عمل خالص، صالح اور نفع مند ہو گا اور اخلاص کی عدم موجودگی سے اس کا عمل باطل ہو جائے گا اور چونکہ بندہ، خواہ وہ استقامت کا کتنا ہی حریص کیوں نہ ہوں، مامورات میں تقصیر، منہیات کے ارتکاب کی بنا پر خلل کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو استغفار کی دوا کے استعمال کا حکم دیا ہے، جو توبہ کو متضمن ہے، پس فرمایا:﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’اور اس سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ پھر ترک استقامت پر اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَيۡلٌ لِّلۡمُشۡرِكِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾’’مشرکین کے لیے ہلاکت ہے۔ جو زکاۃ نہیں دیتے۔‘‘ یعنی جو اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی کو نفع و نقصان دینے کا اختیار رکھتی ہیں نہ موت و حیات کا اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا۔ انھوں نے اپنے آپ کو گندگی میں دھنسا لیا ہے اور اپنے رب کی توحید اور اخلاص کے ذریعے سے اپنے آپ کو پاک نہیں کرتے، وہ نماز پڑھتے ہیں نہ زکاۃ دیتے ہیں اور وہ توحید اور نماز کے ذریعے سے اپنے رب کے لیے اخلاص رکھتے ہیں نہ زکاۃ کے ذریعے سے مخلوق کو نفع پہنچاتے ہیں۔ ﴿وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں۔‘‘ یعنی وہ حیات بعدالموت پر ایمان رکھتے ہیں نہ جنت اور جہنم پر، اس لیے ان کے دلوں سے خوف زائل نہیں ہو گا۔ انھوں نے ایسے ایسے کام کیے ہیں جو آخرت میں انھیں سخت نقصان دیں گے۔ [8] اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان کے اوصاف اور ان کی جزا کا ذکر فرمایا ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے‘‘ یعنی اس کتاب پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر کتاب مشتمل ہے اور ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی جو اخلاص للہ اور متابعت رسول کے جامع ہیں۔ ﴿لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ﴾ ’’ان کے لیے (ختم) نہ ہونے والا اجر ہے۔‘‘ یعنی ان کے لیے اجر عظیم ہے جو کبھی منقطع ہو گا نہ ختم ہو گا بلکہ وہ ہمیشہ رہے گا اور ہر گھڑی بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ یہ اجر ہر قسم کی لذات و مشتہیات پر مشتمل ہو گا۔
41:7

ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ كَٰفِرُونَ

حٰمٓ(1)(یہ قرآن )نا زل کیا ہوا ہے رحمٰن رحیم کی طرف سے(2) ایک ایسی کتاب ہے کہ کھول کر بیان کی گئی ہیں آیتیں اس کی درآں حا لیکہ قرآن ہے عربی، اس قوم کے لیے جو علم رکھتی ہے(3) خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا، پس منہ موڑلیا اکثر نے ان میں سے پس وہ نہیں سنتے(4) اور انھوں نے کہا، ہمارے دل پردوں میں ہیں اس بات سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں اس کی طرف اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک پردہ ہے، پس تو (اپنا) کام کر، بلاشبہ ہم (اپنا) کام کرنے والے ہیں(5)کہہ دیجیے:بے شک میں تو ایک بشر ہوں تمھاری مثل، وحی کی جاتی ہے میری طرف یہ کہ معبود تمھارا معبود ہے ایک ہی، پس یکسوئی سے متوجہ رہو اس کی طرف اور بخشش مانگو اس سے اور ہلاکت ہے مشرکین کے لیے(6) وہ لوگ جو نہیں دیتے زکاۃ اور وہ آخرت کا بھی، وہ انکار کرنے والے ہیں(7) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(8) [2] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل ﴿تَنۡزِيۡلٌ ﴾ اتارا گیا ہے‘‘ یعنی صادر ہواہے ﴿مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’رحمان و رحیم کی طرف سے‘‘ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نوروشفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے۔ [3] پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿فُصِّلَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔‘‘ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیانِ کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور حقائق کے مابین امتیاز کو مستلزم ہے۔ ﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ یعنی فصیح عربی میں، جو کامل ترین زبان ہے جس کی آیات کو تفصیل سے بیان گیا ہے اور اس کتاب کو قرآن عربی بنایا گیا ہے۔ ﴿لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’علم رکھنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی (یہ قرآن) اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ علم رکھنے والے لوگوں پر جس طرح اس کے الفاظ واضح ہیں، اس کے معانی بھی واضح ہوں، اور ان کے سامنے ہدایت اور گمراہی نمایاں ہو کر ایک دوسرے سے ممیز ہو جائیں۔ اور رہے جہلاء جن کو ہدایت گمراہی میں اور بیا ن اور اندھے پن میں اضافہ کرتا ہے، تو ان لوگوں کے لیے یہ کلام نہیں لایا گیا۔ ﴿سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾(البقرۃ: 2؍6) ’’ان کے لیے برابر ہے خواہ آپ ان کو برے انجام سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [4]﴿بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا ﴾ یعنی دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا اور دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا، پھر تبشیر و انذار کی تفصیل کا ذکر کیا اور ان اسباب و اوصاف کا ذکر کیا جن کے ذریعے سے تبشیر و انذار حاصل ہوتے ہیں۔ یہ اس کتاب کے وہ اوصاف ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ اسے قبول کیا جائے، اس کے سامنے سراطاعت خم کیا جائے، اس پر ایمان لایا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ مگر اکثر لوگوں نے اس طرح روگردانی کی ہے جس طرح متکبرین کا وتیرہ ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ اور وہ اسے قبول کرنے کے ارادے سے نہیں سنتے اگرچہ وہ اسے اس طرح ضرور سنتے ہیں جس سے ان پر شرعی حجت قائم ہو جائے۔ [5]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی اس کتاب کریم سے روگردانی کرنے والے، اس سے اپنے عدم انتفاع اور اس تک پہنچانے والے دروازوں کے بند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:﴿قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَكِنَّةٍ ﴾ ’’ہمارے دل پردوں میں ہیں۔‘‘ یعنی پردوں میں ڈھانپے ہوئے ہیں۔ ﴿مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ وَفِيۡۤ اٰذَانِنَا وَقۡرٌ ﴾ ’’اس چیز سے جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اور اس سے ہمارے کانوں میں بوجھ ہے۔‘‘ یعنی ہمارے کانوں میں گرانی ہے پس ہم سن نہیں سکتے۔ ﴿وَّمِنۢۡ بَيۡنِنَا وَبَيۡنِكَ حِجَابٌ ﴾ ’’اور ہمارے اور تمھارے درمیان پردہ ہے۔‘‘ اس لیے ہم تجھے دیکھ نہیں سکتے۔ ان کا مقصد صرف ہر لحاظ سے اس کتاب عظیم سے اعراض کا اظہار تھا، انھوں نے اس کتاب سے اپنے بغض اور اپنے باطل موقف پر پسندیدگی کا اظہار کیا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿فَاعۡمَلۡ اِنَّنَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’پس تو اپنا کام کیے جا، ہم اپناکام کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی جیسے اپنے دین پر عمل کرنا تم پسند کرتے ہو ویسے ہی ہم بھی اپنے دین پر پوری پسندیدگی کے ساتھ عمل پیراہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سب سے بڑی محرومی ہے کہ وہ ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی پر راضی ہو گئے، ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کیا اور دنیا کے بدلے آخرت کو بیچ دیا۔ [6، 7]﴿قُلۡ ﴾ اے نبی! ان سے کہہ دیجیے: ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ يُوۡحٰۤى اِلَيَّ ﴾ ’’میں تو تمھارے جیسا ہی ایک انسان ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی میرا وصف اور میرا وظیفہ یہ ہے کہ میں تمھارے جیسا بشر ہوں، میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں اور نہ میرے اختیار میں وہ عذاب ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس وحی کے ذریعے سے مجھے تم پر فضیلت عطا کی، اس کے ذریعے سے مجھے تم سے ممتاز کیا اور اس کے لیے مجھے مختص کیا، جو وحی اس نے میری طرف بھیجی، مجھے اس کی اتباع اور تمھیں اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’ لہٰذا سیدھے اس طرف متوجہ رہو‘‘ یعنی میں جن امور کے بارے میں تمھیں خبر دے رہا ہوں اس کی تصدیق، اوامر کی اتباع اور نواہی سے اجتناب کر کے، اس راستے پر گامزن ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے ۔ یہ حقیقت استقامت ہے۔ اور پھر اس پر قائم رہو۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِلَيۡهِ ﴾ میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی عمل کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا مقصد اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچنا قرار دے، اس طرح اس کا عمل خالص، صالح اور نفع مند ہو گا اور اخلاص کی عدم موجودگی سے اس کا عمل باطل ہو جائے گا اور چونکہ بندہ، خواہ وہ استقامت کا کتنا ہی حریص کیوں نہ ہوں، مامورات میں تقصیر، منہیات کے ارتکاب کی بنا پر خلل کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو استغفار کی دوا کے استعمال کا حکم دیا ہے، جو توبہ کو متضمن ہے، پس فرمایا:﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’اور اس سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ پھر ترک استقامت پر اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَيۡلٌ لِّلۡمُشۡرِكِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾’’مشرکین کے لیے ہلاکت ہے۔ جو زکاۃ نہیں دیتے۔‘‘ یعنی جو اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی کو نفع و نقصان دینے کا اختیار رکھتی ہیں نہ موت و حیات کا اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا۔ انھوں نے اپنے آپ کو گندگی میں دھنسا لیا ہے اور اپنے رب کی توحید اور اخلاص کے ذریعے سے اپنے آپ کو پاک نہیں کرتے، وہ نماز پڑھتے ہیں نہ زکاۃ دیتے ہیں اور وہ توحید اور نماز کے ذریعے سے اپنے رب کے لیے اخلاص رکھتے ہیں نہ زکاۃ کے ذریعے سے مخلوق کو نفع پہنچاتے ہیں۔ ﴿وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں۔‘‘ یعنی وہ حیات بعدالموت پر ایمان رکھتے ہیں نہ جنت اور جہنم پر، اس لیے ان کے دلوں سے خوف زائل نہیں ہو گا۔ انھوں نے ایسے ایسے کام کیے ہیں جو آخرت میں انھیں سخت نقصان دیں گے۔ [8] اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان کے اوصاف اور ان کی جزا کا ذکر فرمایا ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے‘‘ یعنی اس کتاب پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر کتاب مشتمل ہے اور ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی جو اخلاص للہ اور متابعت رسول کے جامع ہیں۔ ﴿لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ﴾ ’’ان کے لیے (ختم) نہ ہونے والا اجر ہے۔‘‘ یعنی ان کے لیے اجر عظیم ہے جو کبھی منقطع ہو گا نہ ختم ہو گا بلکہ وہ ہمیشہ رہے گا اور ہر گھڑی بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ یہ اجر ہر قسم کی لذات و مشتہیات پر مشتمل ہو گا۔
41:8

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ لَهُمۡ أَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُونٖ

حٰمٓ(1)(یہ قرآن )نا زل کیا ہوا ہے رحمٰن رحیم کی طرف سے(2) ایک ایسی کتاب ہے کہ کھول کر بیان کی گئی ہیں آیتیں اس کی درآں حا لیکہ قرآن ہے عربی، اس قوم کے لیے جو علم رکھتی ہے(3) خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا، پس منہ موڑلیا اکثر نے ان میں سے پس وہ نہیں سنتے(4) اور انھوں نے کہا، ہمارے دل پردوں میں ہیں اس بات سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں اس کی طرف اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک پردہ ہے، پس تو (اپنا) کام کر، بلاشبہ ہم (اپنا) کام کرنے والے ہیں(5)کہہ دیجیے:بے شک میں تو ایک بشر ہوں تمھاری مثل، وحی کی جاتی ہے میری طرف یہ کہ معبود تمھارا معبود ہے ایک ہی، پس یکسوئی سے متوجہ رہو اس کی طرف اور بخشش مانگو اس سے اور ہلاکت ہے مشرکین کے لیے(6) وہ لوگ جو نہیں دیتے زکاۃ اور وہ آخرت کا بھی، وہ انکار کرنے والے ہیں(7) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(8) [2] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل ﴿تَنۡزِيۡلٌ ﴾ اتارا گیا ہے‘‘ یعنی صادر ہواہے ﴿مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’رحمان و رحیم کی طرف سے‘‘ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نوروشفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے۔ [3] پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿فُصِّلَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔‘‘ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیانِ کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور حقائق کے مابین امتیاز کو مستلزم ہے۔ ﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ یعنی فصیح عربی میں، جو کامل ترین زبان ہے جس کی آیات کو تفصیل سے بیان گیا ہے اور اس کتاب کو قرآن عربی بنایا گیا ہے۔ ﴿لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’علم رکھنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی (یہ قرآن) اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ علم رکھنے والے لوگوں پر جس طرح اس کے الفاظ واضح ہیں، اس کے معانی بھی واضح ہوں، اور ان کے سامنے ہدایت اور گمراہی نمایاں ہو کر ایک دوسرے سے ممیز ہو جائیں۔ اور رہے جہلاء جن کو ہدایت گمراہی میں اور بیا ن اور اندھے پن میں اضافہ کرتا ہے، تو ان لوگوں کے لیے یہ کلام نہیں لایا گیا۔ ﴿سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾(البقرۃ: 2؍6) ’’ان کے لیے برابر ہے خواہ آپ ان کو برے انجام سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ [4]﴿بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا ﴾ یعنی دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا اور دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا، پھر تبشیر و انذار کی تفصیل کا ذکر کیا اور ان اسباب و اوصاف کا ذکر کیا جن کے ذریعے سے تبشیر و انذار حاصل ہوتے ہیں۔ یہ اس کتاب کے وہ اوصاف ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ اسے قبول کیا جائے، اس کے سامنے سراطاعت خم کیا جائے، اس پر ایمان لایا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ مگر اکثر لوگوں نے اس طرح روگردانی کی ہے جس طرح متکبرین کا وتیرہ ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ اور وہ اسے قبول کرنے کے ارادے سے نہیں سنتے اگرچہ وہ اسے اس طرح ضرور سنتے ہیں جس سے ان پر شرعی حجت قائم ہو جائے۔ [5]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی اس کتاب کریم سے روگردانی کرنے والے، اس سے اپنے عدم انتفاع اور اس تک پہنچانے والے دروازوں کے بند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:﴿قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَكِنَّةٍ ﴾ ’’ہمارے دل پردوں میں ہیں۔‘‘ یعنی پردوں میں ڈھانپے ہوئے ہیں۔ ﴿مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ وَفِيۡۤ اٰذَانِنَا وَقۡرٌ ﴾ ’’اس چیز سے جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اور اس سے ہمارے کانوں میں بوجھ ہے۔‘‘ یعنی ہمارے کانوں میں گرانی ہے پس ہم سن نہیں سکتے۔ ﴿وَّمِنۢۡ بَيۡنِنَا وَبَيۡنِكَ حِجَابٌ ﴾ ’’اور ہمارے اور تمھارے درمیان پردہ ہے۔‘‘ اس لیے ہم تجھے دیکھ نہیں سکتے۔ ان کا مقصد صرف ہر لحاظ سے اس کتاب عظیم سے اعراض کا اظہار تھا، انھوں نے اس کتاب سے اپنے بغض اور اپنے باطل موقف پر پسندیدگی کا اظہار کیا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿فَاعۡمَلۡ اِنَّنَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’پس تو اپنا کام کیے جا، ہم اپناکام کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی جیسے اپنے دین پر عمل کرنا تم پسند کرتے ہو ویسے ہی ہم بھی اپنے دین پر پوری پسندیدگی کے ساتھ عمل پیراہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سب سے بڑی محرومی ہے کہ وہ ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی پر راضی ہو گئے، ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کیا اور دنیا کے بدلے آخرت کو بیچ دیا۔ [6، 7]﴿قُلۡ ﴾ اے نبی! ان سے کہہ دیجیے: ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ يُوۡحٰۤى اِلَيَّ ﴾ ’’میں تو تمھارے جیسا ہی ایک انسان ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی میرا وصف اور میرا وظیفہ یہ ہے کہ میں تمھارے جیسا بشر ہوں، میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں اور نہ میرے اختیار میں وہ عذاب ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس وحی کے ذریعے سے مجھے تم پر فضیلت عطا کی، اس کے ذریعے سے مجھے تم سے ممتاز کیا اور اس کے لیے مجھے مختص کیا، جو وحی اس نے میری طرف بھیجی، مجھے اس کی اتباع اور تمھیں اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’ لہٰذا سیدھے اس طرف متوجہ رہو‘‘ یعنی میں جن امور کے بارے میں تمھیں خبر دے رہا ہوں اس کی تصدیق، اوامر کی اتباع اور نواہی سے اجتناب کر کے، اس راستے پر گامزن ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے ۔ یہ حقیقت استقامت ہے۔ اور پھر اس پر قائم رہو۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِلَيۡهِ ﴾ میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی عمل کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا مقصد اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچنا قرار دے، اس طرح اس کا عمل خالص، صالح اور نفع مند ہو گا اور اخلاص کی عدم موجودگی سے اس کا عمل باطل ہو جائے گا اور چونکہ بندہ، خواہ وہ استقامت کا کتنا ہی حریص کیوں نہ ہوں، مامورات میں تقصیر، منہیات کے ارتکاب کی بنا پر خلل کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو استغفار کی دوا کے استعمال کا حکم دیا ہے، جو توبہ کو متضمن ہے، پس فرمایا:﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’اور اس سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ پھر ترک استقامت پر اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَيۡلٌ لِّلۡمُشۡرِكِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾’’مشرکین کے لیے ہلاکت ہے۔ جو زکاۃ نہیں دیتے۔‘‘ یعنی جو اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی کو نفع و نقصان دینے کا اختیار رکھتی ہیں نہ موت و حیات کا اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا۔ انھوں نے اپنے آپ کو گندگی میں دھنسا لیا ہے اور اپنے رب کی توحید اور اخلاص کے ذریعے سے اپنے آپ کو پاک نہیں کرتے، وہ نماز پڑھتے ہیں نہ زکاۃ دیتے ہیں اور وہ توحید اور نماز کے ذریعے سے اپنے رب کے لیے اخلاص رکھتے ہیں نہ زکاۃ کے ذریعے سے مخلوق کو نفع پہنچاتے ہیں۔ ﴿وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں۔‘‘ یعنی وہ حیات بعدالموت پر ایمان رکھتے ہیں نہ جنت اور جہنم پر، اس لیے ان کے دلوں سے خوف زائل نہیں ہو گا۔ انھوں نے ایسے ایسے کام کیے ہیں جو آخرت میں انھیں سخت نقصان دیں گے۔ [8] اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان کے اوصاف اور ان کی جزا کا ذکر فرمایا ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے‘‘ یعنی اس کتاب پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر کتاب مشتمل ہے اور ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی جو اخلاص للہ اور متابعت رسول کے جامع ہیں۔ ﴿لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ﴾ ’’ان کے لیے (ختم) نہ ہونے والا اجر ہے۔‘‘ یعنی ان کے لیے اجر عظیم ہے جو کبھی منقطع ہو گا نہ ختم ہو گا بلکہ وہ ہمیشہ رہے گا اور ہر گھڑی بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ یہ اجر ہر قسم کی لذات و مشتہیات پر مشتمل ہو گا۔
41:9

۞قُلۡ أَئِنَّكُمۡ لَتَكۡفُرُونَ بِٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡأَرۡضَ فِي يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُونَ لَهُۥٓ أَندَادٗاۚ ذَٰلِكَ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ

کہہ دیجیے! کیا بے شک تم البتہ کفر کرتے ہو ساتھ اس ذات کے جس نے پیدا کیا زمین کو دو دن میں اور بناتے ہو تم اس کے لیے شریک، وہ رب ہے جہانوں کا(9) اور بنائے اس نے اس میں مضبوط پہاڑ اس کے اوپر اور برکت دی اس میں اور اندازہ کیا اس میں اس کی غذاؤ ں کا (یہ سارے کام ہوئے) چار دن میں، یکساں طور پر پوچھنے والوں کے لیے (10) پھر وہ متوجہ ہوا آسمان کی طرف جبکہ وہ دھواں تھا، پس کہا اللہ نے اس سے اور زمین سے، آؤ تم دونوں خوشی یا ناخوشی سے، تو کہا ان دونوں نے، آئے ہم برضاو رغبت(خوشی خوشی)(11) پس بنا دیا ان کو سات آسمان دو دن میں اور القا کیا اس نے ہر آسمان میں اس کا کام اور مزین کیا ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے اور (اس کی) حفا ظت (بھی) کی، یہ اندازہ ہے غالب خوب جاننے والے کا (12) [9، 10] اللہ تبارک وتعالیٰ تعجب کے ساتھ کفار کے کفر کا انکار کرتا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ہم سر گھڑ رکھے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا ہوا ہے، ان کی عبادت کرتے ہیں، انھیں رب عظیم اور مالک کریم کے برابر گردانتے ہیں، جس نے اتنی بڑی زمین کو صرف دو دن میں پیدا کیا، پھر دو دن میں اس کو ہموار کیا، اس کے اندر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اسے مٹنے، ہلنے اور عدم استقرار سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کی تکمیل کی، پھر پھیلا کر ہموار کیا، اس میں سے خوراک اور اس کی توابعات نکالیں ﴿فِيۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءًؔ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ ﴾ ’’چار دن میں، سوال کرنے والوں کے لیے یکساں ہے۔‘‘ یہ اس بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے ٹھیک ٹھیک جواب ہے۔ تجھے یہ خبر ایک خبردار ہستی کے سوا کوئی نہیں دے سکتا ہے اور یہ ایسی سچی خبر ہے جس میں کوئی کمی ہے نہ بیشی۔ [11]﴿ثُمَّ ﴾ یعنی زمین کی تخلیق کے بعد ﴿اسۡتَوٰۤى ﴾ قصد کیا ﴿اِلَى السَّمَآءِ ﴾ آسمان کی تخلیق کا ﴿وَهِيَ دُخَانٌ ﴾ ’’اور وہ دھواں تھا۔‘‘ جو پانی کی سطح پر اٹھ رہا تھا۔ ﴿فَقَالَ لَهَا ﴾ ’’پس آسمان سے کہا‘‘ چونکہ اس میں اختصاص کا وہم تھا اس لیے اس پر اپنے اس فرمان کا عطف ڈالا: ﴿وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا ﴾ ’’اور زمین سے کہ دونوں آؤ ! خوشی سے یا ناخوشی سے۔‘‘ یعنی میرے حکم کی طوعاً یا کرہاً تعمیل کرو یہ نافذ ہو کر رہے گا ﴿قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآىِٕعِيۡنَ ﴾ ’’دونوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں۔‘‘ ہمارا ارادہ تیرے ارادے کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ [12]﴿فَقَضٰىهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ ﴾ ’’ پھر دو دن میں سات آسمان بنائے۔‘‘ پس آسمانوں اور زمین کی تخلیق چھ دنوں میں مکمل ہو گئی۔ پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت تمام کائنات کو لمحہ میں تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی مگر وہ قدرت رکھنے کے ساتھ ساتھ رفق اور حکمت والا بھی ہے، یہ اس کی حکمت اور رفق ہی ہے کہ اس نے اس کائنات کی تخلیق اس مقررہ مدت میں کی۔معلوم ہونا چاہیے کہ اس آیت کریمہ اور سورۃ النازعات کی آیت:﴿وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ دَحٰؔىهَا۰۰﴾(النّٰزعٰت: 79؍30) ’’اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا۔‘‘ میں بظاہر تعارض دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کوئی تعارض ہے نہ اختلاف… سلف میں بہت سے اہل علم نے اس کا جواب دیا ہے کہ زمین کی تخلیق اور اس کی صورت گری آسمانوں کی تخلیق سے متقدم ہے۔ جیسا کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے اور زمین کو پھیلانا ﴿اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰۳۱ وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾(النّٰزعٰت: 79؍31۔32) ’’اس نے اس میں سے اس کا پانی جاری کیا اور چارہ اگایا، پھر اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا۔‘‘ آسمانوں کی تخلیق سے متأخر ہے جیسا کہ سورۃ النازعات میں آتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ دَحٰؔىهَاؕ۰۰ اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾(النزعت: 32-30/79)اور اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا: (وَالْاَرْضَ بَعَدَ ذٰلِکَ خَلَقَھَا)﴿وَاَوۡحٰى فِيۡ كُلِّ سَمَآءٍ اَمۡرَهَا ﴾ ’’اور ہر آسمان کی طرف اس کے کام کا حکم بھیجا۔‘‘ یعنی ہر آسمان کے لائق امروتدبیر وحی کی جوا حکم الحاکمین کی حکمت کا تقاضا تھا۔ ﴿وَزَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡيَا بِمَصَابِيۡحَ ﴾ ’’اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ذریعے سے مزین کیا۔‘‘ اس سے مراد ستارے ہیں جن سے روشنی اور راہنمائی حاصل ہوتی ہے اور ظاہری طور پر یہ ستارے آسمان کی زینت اور خوبصورتی ہیں ﴿وَحِفۡظًا ﴾ اور باطنی طور پر شیاطین سے حفاظت کے لیے ان کو شہاب ثاقب بنایا ہے تاکہ وہ آسمانوں سے سن گن نہ لے سکیں۔ ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی زمین، آسمانوں اور ان میں جوکچھ ہے، سب کا یہ مذکورہ انتظام ﴿تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ﴾ ’’منصوبہ ہے ایک زبردست ہستی کا جو علیم بھی ہے۔‘‘ یعنی زبردست ہستی کا مقرر کردہ اندازہ ہے جو اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر تمام اشیاء پر غالب ہے اور ان کی تدبیر کر رہی ہے اور اس نے اپنی قوت اور غلبے سے تمام مخلوقات کو تخلیق کیا۔ ﴿الۡعَلِيۡمِ ﴾ جس کے علم نے غائب اور شاہد، تمام مخلوقات کا اپنے علم کے ساتھ احاطہ کر رکھا ہے۔ پس مشرکین کا اس رب عظیم اور واحد قہار کے لیے اخلاص کو ترک کر دینا، جس کے سامنے تمام مخلوق سرافگندہ ہے اور تمام کائنات پر اس کی قدرت نافذ ہے، سب سے زیادہ تعجب انگیز چیز ہے، پھر خودساختہ معبود بنانا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دینا، حالانکہ وہ اپنے اوصاف و افعال میں ناقص ہیں، اس سے بھی عجیب تر ہے۔ اگر یہ اپنی روگردانی پر جمے رہے تو دنیاوی اور اخروی عذاب کے سوا ان کا کوئی علاج نہیں۔ اس لیے ان کو ڈراتے ہوئے فرمایا:
41:10

وَجَعَلَ فِيهَا رَوَٰسِيَ مِن فَوۡقِهَا وَبَٰرَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَآ أَقۡوَٰتَهَا فِيٓ أَرۡبَعَةِ أَيَّامٖ سَوَآءٗ لِّلسَّآئِلِينَ

کہہ دیجیے! کیا بے شک تم البتہ کفر کرتے ہو ساتھ اس ذات کے جس نے پیدا کیا زمین کو دو دن میں اور بناتے ہو تم اس کے لیے شریک، وہ رب ہے جہانوں کا(9) اور بنائے اس نے اس میں مضبوط پہاڑ اس کے اوپر اور برکت دی اس میں اور اندازہ کیا اس میں اس کی غذاؤ ں کا (یہ سارے کام ہوئے) چار دن میں، یکساں طور پر پوچھنے والوں کے لیے (10) پھر وہ متوجہ ہوا آسمان کی طرف جبکہ وہ دھواں تھا، پس کہا اللہ نے اس سے اور زمین سے، آؤ تم دونوں خوشی یا ناخوشی سے، تو کہا ان دونوں نے، آئے ہم برضاو رغبت(خوشی خوشی)(11) پس بنا دیا ان کو سات آسمان دو دن میں اور القا کیا اس نے ہر آسمان میں اس کا کام اور مزین کیا ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے اور (اس کی) حفا ظت (بھی) کی، یہ اندازہ ہے غالب خوب جاننے والے کا (12) [9، 10] اللہ تبارک وتعالیٰ تعجب کے ساتھ کفار کے کفر کا انکار کرتا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ہم سر گھڑ رکھے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا ہوا ہے، ان کی عبادت کرتے ہیں، انھیں رب عظیم اور مالک کریم کے برابر گردانتے ہیں، جس نے اتنی بڑی زمین کو صرف دو دن میں پیدا کیا، پھر دو دن میں اس کو ہموار کیا، اس کے اندر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اسے مٹنے، ہلنے اور عدم استقرار سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کی تکمیل کی، پھر پھیلا کر ہموار کیا، اس میں سے خوراک اور اس کی توابعات نکالیں ﴿فِيۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءًؔ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ ﴾ ’’چار دن میں، سوال کرنے والوں کے لیے یکساں ہے۔‘‘ یہ اس بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے ٹھیک ٹھیک جواب ہے۔ تجھے یہ خبر ایک خبردار ہستی کے سوا کوئی نہیں دے سکتا ہے اور یہ ایسی سچی خبر ہے جس میں کوئی کمی ہے نہ بیشی۔ [11]﴿ثُمَّ ﴾ یعنی زمین کی تخلیق کے بعد ﴿اسۡتَوٰۤى ﴾ قصد کیا ﴿اِلَى السَّمَآءِ ﴾ آسمان کی تخلیق کا ﴿وَهِيَ دُخَانٌ ﴾ ’’اور وہ دھواں تھا۔‘‘ جو پانی کی سطح پر اٹھ رہا تھا۔ ﴿فَقَالَ لَهَا ﴾ ’’پس آسمان سے کہا‘‘ چونکہ اس میں اختصاص کا وہم تھا اس لیے اس پر اپنے اس فرمان کا عطف ڈالا: ﴿وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا ﴾ ’’اور زمین سے کہ دونوں آؤ ! خوشی سے یا ناخوشی سے۔‘‘ یعنی میرے حکم کی طوعاً یا کرہاً تعمیل کرو یہ نافذ ہو کر رہے گا ﴿قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآىِٕعِيۡنَ ﴾ ’’دونوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں۔‘‘ ہمارا ارادہ تیرے ارادے کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ [12]﴿فَقَضٰىهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ ﴾ ’’ پھر دو دن میں سات آسمان بنائے۔‘‘ پس آسمانوں اور زمین کی تخلیق چھ دنوں میں مکمل ہو گئی۔ پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت تمام کائنات کو لمحہ میں تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی مگر وہ قدرت رکھنے کے ساتھ ساتھ رفق اور حکمت والا بھی ہے، یہ اس کی حکمت اور رفق ہی ہے کہ اس نے اس کائنات کی تخلیق اس مقررہ مدت میں کی۔معلوم ہونا چاہیے کہ اس آیت کریمہ اور سورۃ النازعات کی آیت:﴿وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ دَحٰؔىهَا۰۰﴾(النّٰزعٰت: 79؍30) ’’اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا۔‘‘ میں بظاہر تعارض دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کوئی تعارض ہے نہ اختلاف… سلف میں بہت سے اہل علم نے اس کا جواب دیا ہے کہ زمین کی تخلیق اور اس کی صورت گری آسمانوں کی تخلیق سے متقدم ہے۔ جیسا کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے اور زمین کو پھیلانا ﴿اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰۳۱ وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾(النّٰزعٰت: 79؍31۔32) ’’اس نے اس میں سے اس کا پانی جاری کیا اور چارہ اگایا، پھر اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا۔‘‘ آسمانوں کی تخلیق سے متأخر ہے جیسا کہ سورۃ النازعات میں آتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ دَحٰؔىهَاؕ۰۰ اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾(النزعت: 32-30/79)اور اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا: (وَالْاَرْضَ بَعَدَ ذٰلِکَ خَلَقَھَا)﴿وَاَوۡحٰى فِيۡ كُلِّ سَمَآءٍ اَمۡرَهَا ﴾ ’’اور ہر آسمان کی طرف اس کے کام کا حکم بھیجا۔‘‘ یعنی ہر آسمان کے لائق امروتدبیر وحی کی جوا حکم الحاکمین کی حکمت کا تقاضا تھا۔ ﴿وَزَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡيَا بِمَصَابِيۡحَ ﴾ ’’اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ذریعے سے مزین کیا۔‘‘ اس سے مراد ستارے ہیں جن سے روشنی اور راہنمائی حاصل ہوتی ہے اور ظاہری طور پر یہ ستارے آسمان کی زینت اور خوبصورتی ہیں ﴿وَحِفۡظًا ﴾ اور باطنی طور پر شیاطین سے حفاظت کے لیے ان کو شہاب ثاقب بنایا ہے تاکہ وہ آسمانوں سے سن گن نہ لے سکیں۔ ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی زمین، آسمانوں اور ان میں جوکچھ ہے، سب کا یہ مذکورہ انتظام ﴿تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ﴾ ’’منصوبہ ہے ایک زبردست ہستی کا جو علیم بھی ہے۔‘‘ یعنی زبردست ہستی کا مقرر کردہ اندازہ ہے جو اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر تمام اشیاء پر غالب ہے اور ان کی تدبیر کر رہی ہے اور اس نے اپنی قوت اور غلبے سے تمام مخلوقات کو تخلیق کیا۔ ﴿الۡعَلِيۡمِ ﴾ جس کے علم نے غائب اور شاہد، تمام مخلوقات کا اپنے علم کے ساتھ احاطہ کر رکھا ہے۔ پس مشرکین کا اس رب عظیم اور واحد قہار کے لیے اخلاص کو ترک کر دینا، جس کے سامنے تمام مخلوق سرافگندہ ہے اور تمام کائنات پر اس کی قدرت نافذ ہے، سب سے زیادہ تعجب انگیز چیز ہے، پھر خودساختہ معبود بنانا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دینا، حالانکہ وہ اپنے اوصاف و افعال میں ناقص ہیں، اس سے بھی عجیب تر ہے۔ اگر یہ اپنی روگردانی پر جمے رہے تو دنیاوی اور اخروی عذاب کے سوا ان کا کوئی علاج نہیں۔ اس لیے ان کو ڈراتے ہوئے فرمایا:
41:11

ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰٓ إِلَى ٱلسَّمَآءِ وَهِيَ دُخَانٞ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡأَرۡضِ ٱئۡتِيَا طَوۡعًا أَوۡ كَرۡهٗا قَالَتَآ أَتَيۡنَا طَآئِعِينَ

کہہ دیجیے! کیا بے شک تم البتہ کفر کرتے ہو ساتھ اس ذات کے جس نے پیدا کیا زمین کو دو دن میں اور بناتے ہو تم اس کے لیے شریک، وہ رب ہے جہانوں کا(9) اور بنائے اس نے اس میں مضبوط پہاڑ اس کے اوپر اور برکت دی اس میں اور اندازہ کیا اس میں اس کی غذاؤ ں کا (یہ سارے کام ہوئے) چار دن میں، یکساں طور پر پوچھنے والوں کے لیے (10) پھر وہ متوجہ ہوا آسمان کی طرف جبکہ وہ دھواں تھا، پس کہا اللہ نے اس سے اور زمین سے، آؤ تم دونوں خوشی یا ناخوشی سے، تو کہا ان دونوں نے، آئے ہم برضاو رغبت(خوشی خوشی)(11) پس بنا دیا ان کو سات آسمان دو دن میں اور القا کیا اس نے ہر آسمان میں اس کا کام اور مزین کیا ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے اور (اس کی) حفا ظت (بھی) کی، یہ اندازہ ہے غالب خوب جاننے والے کا (12) [9، 10] اللہ تبارک وتعالیٰ تعجب کے ساتھ کفار کے کفر کا انکار کرتا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ہم سر گھڑ رکھے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا ہوا ہے، ان کی عبادت کرتے ہیں، انھیں رب عظیم اور مالک کریم کے برابر گردانتے ہیں، جس نے اتنی بڑی زمین کو صرف دو دن میں پیدا کیا، پھر دو دن میں اس کو ہموار کیا، اس کے اندر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اسے مٹنے، ہلنے اور عدم استقرار سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کی تکمیل کی، پھر پھیلا کر ہموار کیا، اس میں سے خوراک اور اس کی توابعات نکالیں ﴿فِيۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءًؔ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ ﴾ ’’چار دن میں، سوال کرنے والوں کے لیے یکساں ہے۔‘‘ یہ اس بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے ٹھیک ٹھیک جواب ہے۔ تجھے یہ خبر ایک خبردار ہستی کے سوا کوئی نہیں دے سکتا ہے اور یہ ایسی سچی خبر ہے جس میں کوئی کمی ہے نہ بیشی۔ [11]﴿ثُمَّ ﴾ یعنی زمین کی تخلیق کے بعد ﴿اسۡتَوٰۤى ﴾ قصد کیا ﴿اِلَى السَّمَآءِ ﴾ آسمان کی تخلیق کا ﴿وَهِيَ دُخَانٌ ﴾ ’’اور وہ دھواں تھا۔‘‘ جو پانی کی سطح پر اٹھ رہا تھا۔ ﴿فَقَالَ لَهَا ﴾ ’’پس آسمان سے کہا‘‘ چونکہ اس میں اختصاص کا وہم تھا اس لیے اس پر اپنے اس فرمان کا عطف ڈالا: ﴿وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا ﴾ ’’اور زمین سے کہ دونوں آؤ ! خوشی سے یا ناخوشی سے۔‘‘ یعنی میرے حکم کی طوعاً یا کرہاً تعمیل کرو یہ نافذ ہو کر رہے گا ﴿قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآىِٕعِيۡنَ ﴾ ’’دونوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں۔‘‘ ہمارا ارادہ تیرے ارادے کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ [12]﴿فَقَضٰىهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ ﴾ ’’ پھر دو دن میں سات آسمان بنائے۔‘‘ پس آسمانوں اور زمین کی تخلیق چھ دنوں میں مکمل ہو گئی۔ پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت تمام کائنات کو لمحہ میں تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی مگر وہ قدرت رکھنے کے ساتھ ساتھ رفق اور حکمت والا بھی ہے، یہ اس کی حکمت اور رفق ہی ہے کہ اس نے اس کائنات کی تخلیق اس مقررہ مدت میں کی۔معلوم ہونا چاہیے کہ اس آیت کریمہ اور سورۃ النازعات کی آیت:﴿وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ دَحٰؔىهَا۰۰﴾(النّٰزعٰت: 79؍30) ’’اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا۔‘‘ میں بظاہر تعارض دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کوئی تعارض ہے نہ اختلاف… سلف میں بہت سے اہل علم نے اس کا جواب دیا ہے کہ زمین کی تخلیق اور اس کی صورت گری آسمانوں کی تخلیق سے متقدم ہے۔ جیسا کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے اور زمین کو پھیلانا ﴿اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰۳۱ وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾(النّٰزعٰت: 79؍31۔32) ’’اس نے اس میں سے اس کا پانی جاری کیا اور چارہ اگایا، پھر اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا۔‘‘ آسمانوں کی تخلیق سے متأخر ہے جیسا کہ سورۃ النازعات میں آتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ دَحٰؔىهَاؕ۰۰ اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾(النزعت: 32-30/79)اور اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا: (وَالْاَرْضَ بَعَدَ ذٰلِکَ خَلَقَھَا)﴿وَاَوۡحٰى فِيۡ كُلِّ سَمَآءٍ اَمۡرَهَا ﴾ ’’اور ہر آسمان کی طرف اس کے کام کا حکم بھیجا۔‘‘ یعنی ہر آسمان کے لائق امروتدبیر وحی کی جوا حکم الحاکمین کی حکمت کا تقاضا تھا۔ ﴿وَزَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡيَا بِمَصَابِيۡحَ ﴾ ’’اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ذریعے سے مزین کیا۔‘‘ اس سے مراد ستارے ہیں جن سے روشنی اور راہنمائی حاصل ہوتی ہے اور ظاہری طور پر یہ ستارے آسمان کی زینت اور خوبصورتی ہیں ﴿وَحِفۡظًا ﴾ اور باطنی طور پر شیاطین سے حفاظت کے لیے ان کو شہاب ثاقب بنایا ہے تاکہ وہ آسمانوں سے سن گن نہ لے سکیں۔ ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی زمین، آسمانوں اور ان میں جوکچھ ہے، سب کا یہ مذکورہ انتظام ﴿تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ﴾ ’’منصوبہ ہے ایک زبردست ہستی کا جو علیم بھی ہے۔‘‘ یعنی زبردست ہستی کا مقرر کردہ اندازہ ہے جو اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر تمام اشیاء پر غالب ہے اور ان کی تدبیر کر رہی ہے اور اس نے اپنی قوت اور غلبے سے تمام مخلوقات کو تخلیق کیا۔ ﴿الۡعَلِيۡمِ ﴾ جس کے علم نے غائب اور شاہد، تمام مخلوقات کا اپنے علم کے ساتھ احاطہ کر رکھا ہے۔ پس مشرکین کا اس رب عظیم اور واحد قہار کے لیے اخلاص کو ترک کر دینا، جس کے سامنے تمام مخلوق سرافگندہ ہے اور تمام کائنات پر اس کی قدرت نافذ ہے، سب سے زیادہ تعجب انگیز چیز ہے، پھر خودساختہ معبود بنانا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دینا، حالانکہ وہ اپنے اوصاف و افعال میں ناقص ہیں، اس سے بھی عجیب تر ہے۔ اگر یہ اپنی روگردانی پر جمے رہے تو دنیاوی اور اخروی عذاب کے سوا ان کا کوئی علاج نہیں۔ اس لیے ان کو ڈراتے ہوئے فرمایا:
41:12

فَقَضَىٰهُنَّ سَبۡعَ سَمَٰوَاتٖ فِي يَوۡمَيۡنِ وَأَوۡحَىٰ فِي كُلِّ سَمَآءٍ أَمۡرَهَاۚ وَزَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِمَصَٰبِيحَ وَحِفۡظٗاۚ ذَٰلِكَ تَقۡدِيرُ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡعَلِيمِ

کہہ دیجیے! کیا بے شک تم البتہ کفر کرتے ہو ساتھ اس ذات کے جس نے پیدا کیا زمین کو دو دن میں اور بناتے ہو تم اس کے لیے شریک، وہ رب ہے جہانوں کا(9) اور بنائے اس نے اس میں مضبوط پہاڑ اس کے اوپر اور برکت دی اس میں اور اندازہ کیا اس میں اس کی غذاؤ ں کا (یہ سارے کام ہوئے) چار دن میں، یکساں طور پر پوچھنے والوں کے لیے (10) پھر وہ متوجہ ہوا آسمان کی طرف جبکہ وہ دھواں تھا، پس کہا اللہ نے اس سے اور زمین سے، آؤ تم دونوں خوشی یا ناخوشی سے، تو کہا ان دونوں نے، آئے ہم برضاو رغبت(خوشی خوشی)(11) پس بنا دیا ان کو سات آسمان دو دن میں اور القا کیا اس نے ہر آسمان میں اس کا کام اور مزین کیا ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے اور (اس کی) حفا ظت (بھی) کی، یہ اندازہ ہے غالب خوب جاننے والے کا (12) [9، 10] اللہ تبارک وتعالیٰ تعجب کے ساتھ کفار کے کفر کا انکار کرتا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ہم سر گھڑ رکھے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا ہوا ہے، ان کی عبادت کرتے ہیں، انھیں رب عظیم اور مالک کریم کے برابر گردانتے ہیں، جس نے اتنی بڑی زمین کو صرف دو دن میں پیدا کیا، پھر دو دن میں اس کو ہموار کیا، اس کے اندر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اسے مٹنے، ہلنے اور عدم استقرار سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کی تکمیل کی، پھر پھیلا کر ہموار کیا، اس میں سے خوراک اور اس کی توابعات نکالیں ﴿فِيۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءًؔ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ ﴾ ’’چار دن میں، سوال کرنے والوں کے لیے یکساں ہے۔‘‘ یہ اس بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے ٹھیک ٹھیک جواب ہے۔ تجھے یہ خبر ایک خبردار ہستی کے سوا کوئی نہیں دے سکتا ہے اور یہ ایسی سچی خبر ہے جس میں کوئی کمی ہے نہ بیشی۔ [11]﴿ثُمَّ ﴾ یعنی زمین کی تخلیق کے بعد ﴿اسۡتَوٰۤى ﴾ قصد کیا ﴿اِلَى السَّمَآءِ ﴾ آسمان کی تخلیق کا ﴿وَهِيَ دُخَانٌ ﴾ ’’اور وہ دھواں تھا۔‘‘ جو پانی کی سطح پر اٹھ رہا تھا۔ ﴿فَقَالَ لَهَا ﴾ ’’پس آسمان سے کہا‘‘ چونکہ اس میں اختصاص کا وہم تھا اس لیے اس پر اپنے اس فرمان کا عطف ڈالا: ﴿وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا ﴾ ’’اور زمین سے کہ دونوں آؤ ! خوشی سے یا ناخوشی سے۔‘‘ یعنی میرے حکم کی طوعاً یا کرہاً تعمیل کرو یہ نافذ ہو کر رہے گا ﴿قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآىِٕعِيۡنَ ﴾ ’’دونوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں۔‘‘ ہمارا ارادہ تیرے ارادے کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ [12]﴿فَقَضٰىهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ ﴾ ’’ پھر دو دن میں سات آسمان بنائے۔‘‘ پس آسمانوں اور زمین کی تخلیق چھ دنوں میں مکمل ہو گئی۔ پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت تمام کائنات کو لمحہ میں تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی مگر وہ قدرت رکھنے کے ساتھ ساتھ رفق اور حکمت والا بھی ہے، یہ اس کی حکمت اور رفق ہی ہے کہ اس نے اس کائنات کی تخلیق اس مقررہ مدت میں کی۔معلوم ہونا چاہیے کہ اس آیت کریمہ اور سورۃ النازعات کی آیت:﴿وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ دَحٰؔىهَا۰۰﴾(النّٰزعٰت: 79؍30) ’’اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا۔‘‘ میں بظاہر تعارض دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کوئی تعارض ہے نہ اختلاف… سلف میں بہت سے اہل علم نے اس کا جواب دیا ہے کہ زمین کی تخلیق اور اس کی صورت گری آسمانوں کی تخلیق سے متقدم ہے۔ جیسا کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے اور زمین کو پھیلانا ﴿اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰۳۱ وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾(النّٰزعٰت: 79؍31۔32) ’’اس نے اس میں سے اس کا پانی جاری کیا اور چارہ اگایا، پھر اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا۔‘‘ آسمانوں کی تخلیق سے متأخر ہے جیسا کہ سورۃ النازعات میں آتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ دَحٰؔىهَاؕ۰۰ اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾(النزعت: 32-30/79)اور اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا: (وَالْاَرْضَ بَعَدَ ذٰلِکَ خَلَقَھَا)﴿وَاَوۡحٰى فِيۡ كُلِّ سَمَآءٍ اَمۡرَهَا ﴾ ’’اور ہر آسمان کی طرف اس کے کام کا حکم بھیجا۔‘‘ یعنی ہر آسمان کے لائق امروتدبیر وحی کی جوا حکم الحاکمین کی حکمت کا تقاضا تھا۔ ﴿وَزَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡيَا بِمَصَابِيۡحَ ﴾ ’’اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ذریعے سے مزین کیا۔‘‘ اس سے مراد ستارے ہیں جن سے روشنی اور راہنمائی حاصل ہوتی ہے اور ظاہری طور پر یہ ستارے آسمان کی زینت اور خوبصورتی ہیں ﴿وَحِفۡظًا ﴾ اور باطنی طور پر شیاطین سے حفاظت کے لیے ان کو شہاب ثاقب بنایا ہے تاکہ وہ آسمانوں سے سن گن نہ لے سکیں۔ ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی زمین، آسمانوں اور ان میں جوکچھ ہے، سب کا یہ مذکورہ انتظام ﴿تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ﴾ ’’منصوبہ ہے ایک زبردست ہستی کا جو علیم بھی ہے۔‘‘ یعنی زبردست ہستی کا مقرر کردہ اندازہ ہے جو اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر تمام اشیاء پر غالب ہے اور ان کی تدبیر کر رہی ہے اور اس نے اپنی قوت اور غلبے سے تمام مخلوقات کو تخلیق کیا۔ ﴿الۡعَلِيۡمِ ﴾ جس کے علم نے غائب اور شاہد، تمام مخلوقات کا اپنے علم کے ساتھ احاطہ کر رکھا ہے۔ پس مشرکین کا اس رب عظیم اور واحد قہار کے لیے اخلاص کو ترک کر دینا، جس کے سامنے تمام مخلوق سرافگندہ ہے اور تمام کائنات پر اس کی قدرت نافذ ہے، سب سے زیادہ تعجب انگیز چیز ہے، پھر خودساختہ معبود بنانا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دینا، حالانکہ وہ اپنے اوصاف و افعال میں ناقص ہیں، اس سے بھی عجیب تر ہے۔ اگر یہ اپنی روگردانی پر جمے رہے تو دنیاوی اور اخروی عذاب کے سوا ان کا کوئی علاج نہیں۔ اس لیے ان کو ڈراتے ہوئے فرمایا:
41:13

فَإِنۡ أَعۡرَضُواْ فَقُلۡ أَنذَرۡتُكُمۡ صَٰعِقَةٗ مِّثۡلَ صَٰعِقَةِ عَادٖ وَثَمُودَ

پس اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دیجیے: میں نے ڈرا دیا تم کو کڑک (آسمانی عذاب) سے مثل کڑک عاد اور ثمود کے(13) جب آئے ان کے پاس رسول ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے یہ (کہتے ہوئے)کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، تو انھوں نے کہا، اگر چاہتا ہمارا رب تو البتہ نازل کر دیتا فرشتے، پس بلاشبہ ہم تو ساتھ اس چیز کے، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں (14) [13، 14] یعنی اگر یہ مکذبین اس کے باوجود بھی اعراض کریں، حالانکہ ان کے سامنے قرآن کے اوصاف حمیدہ اور رب عظیم کی صفات جلیلہ بیان کی جاچکی ہیں۔ ﴿فَقُلۡ اَنۡذَرۡتُكُمۡ صٰعِقَةً ﴾ ’’تو کہہ دیجیے: میں تمھیں ایسی کڑک سے ڈراتا ہوں‘‘ یعنی کہ میں تمھیں ایسے عذاب سے ڈراتا ہوں جو تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿مِّثۡلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوۡدَ﴾’’جیسی کڑک قوم عاد اور ثمود پر گری تھی۔‘‘ عاد اور ثمود یہ دو معروف قبیلے تھے، ان پر ٹوٹنے والے عذاب نے ان کو ملیامیٹ کر کے رکھ دیا تھا اور انھیں سخت سزا دی گئی، یہ سب کچھ ان کے ظلم اور کفر کے باعث تھا۔﴿اِذۡ جَآءَتۡهُمُ الرُّسُلُ مِنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول ان کے آگے سے اور پیچھے سے آئے۔‘‘ یعنی یکے بعد دیگرے لگاتار رسول آئے، ان تمام رسولوں کی دعوت ایک تھی۔ ﴿اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کا حکم دیتے تھے اور شرک سے روکتے تھے، مگر انھوں نے انبیائے کرام کی دعوت کو رد کرتے ہوئے ان کی تکذیب کی اور کہنے لگے:﴿ لَوۡ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنۡزَلَ مَؔلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتار دیتا۔‘‘ رہے تم، تو تم ہماری ہی طرح بشر ہو ﴿فَاِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’پس تم جو دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے۔‘‘ اور یہ شبہ تمام کافر قوموں میں نسل در نسل متوارث چلا آرہا ہے اور یہ انتہائی کمزور شبہ ہے۔ کیونکہ رسالت کے لیے یہ شرط نہیں کہ جس کو رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہو، وہ فرشتہ ہو ۔ رسالت کی شرط صرف یہ ہے کہ رسول ایسی دعوت پیش کرے جو اس کی صداقت کی دلیل ہو، لہٰذا اگر وہ کر سکتے ہوں تو ان کو چاہیے کہ وہ عقلی اور شرعی دلائل کی بنیاد پر جرح و قدح کریں، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکیں گے۔ یہ ان مذکورہ بالا دو قوموں یعنی عادوثمود کا مفصل قصہ ہے۔
41:14

إِذۡ جَآءَتۡهُمُ ٱلرُّسُلُ مِنۢ بَيۡنِ أَيۡدِيهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّا ٱللَّهَۖ قَالُواْ لَوۡ شَآءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَـٰٓئِكَةٗ فَإِنَّا بِمَآ أُرۡسِلۡتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ

پس اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دیجیے: میں نے ڈرا دیا تم کو کڑک (آسمانی عذاب) سے مثل کڑک عاد اور ثمود کے(13) جب آئے ان کے پاس رسول ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے یہ (کہتے ہوئے)کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، تو انھوں نے کہا، اگر چاہتا ہمارا رب تو البتہ نازل کر دیتا فرشتے، پس بلاشبہ ہم تو ساتھ اس چیز کے، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں (14) [13، 14] یعنی اگر یہ مکذبین اس کے باوجود بھی اعراض کریں، حالانکہ ان کے سامنے قرآن کے اوصاف حمیدہ اور رب عظیم کی صفات جلیلہ بیان کی جاچکی ہیں۔ ﴿فَقُلۡ اَنۡذَرۡتُكُمۡ صٰعِقَةً ﴾ ’’تو کہہ دیجیے: میں تمھیں ایسی کڑک سے ڈراتا ہوں‘‘ یعنی کہ میں تمھیں ایسے عذاب سے ڈراتا ہوں جو تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿مِّثۡلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوۡدَ﴾’’جیسی کڑک قوم عاد اور ثمود پر گری تھی۔‘‘ عاد اور ثمود یہ دو معروف قبیلے تھے، ان پر ٹوٹنے والے عذاب نے ان کو ملیامیٹ کر کے رکھ دیا تھا اور انھیں سخت سزا دی گئی، یہ سب کچھ ان کے ظلم اور کفر کے باعث تھا۔﴿اِذۡ جَآءَتۡهُمُ الرُّسُلُ مِنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول ان کے آگے سے اور پیچھے سے آئے۔‘‘ یعنی یکے بعد دیگرے لگاتار رسول آئے، ان تمام رسولوں کی دعوت ایک تھی۔ ﴿اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کا حکم دیتے تھے اور شرک سے روکتے تھے، مگر انھوں نے انبیائے کرام کی دعوت کو رد کرتے ہوئے ان کی تکذیب کی اور کہنے لگے:﴿ لَوۡ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنۡزَلَ مَؔلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتار دیتا۔‘‘ رہے تم، تو تم ہماری ہی طرح بشر ہو ﴿فَاِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’پس تم جو دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے۔‘‘ اور یہ شبہ تمام کافر قوموں میں نسل در نسل متوارث چلا آرہا ہے اور یہ انتہائی کمزور شبہ ہے۔ کیونکہ رسالت کے لیے یہ شرط نہیں کہ جس کو رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہو، وہ فرشتہ ہو ۔ رسالت کی شرط صرف یہ ہے کہ رسول ایسی دعوت پیش کرے جو اس کی صداقت کی دلیل ہو، لہٰذا اگر وہ کر سکتے ہوں تو ان کو چاہیے کہ وہ عقلی اور شرعی دلائل کی بنیاد پر جرح و قدح کریں، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکیں گے۔ یہ ان مذکورہ بالا دو قوموں یعنی عادوثمود کا مفصل قصہ ہے۔
41:15

فَأَمَّا عَادٞ فَٱسۡتَكۡبَرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَقَالُواْ مَنۡ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةًۖ أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِي خَلَقَهُمۡ هُوَ أَشَدُّ مِنۡهُمۡ قُوَّةٗۖ وَكَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يَجۡحَدُونَ

پس لیکن عاد (قوم) نے تو تکبر کیا زمین میں ناحق اور انھوں نے کہا، کون ہے زیادہ سخت ہم سے قوت میں؟ کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک اللہ جس نے پیدا کیا ان کو، وہ زیادہ سخت ہے ان سے قوت میں، اور تھے وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے (15) پس بھیجی ہم نے ان پر ہوا سخت منحوس ثابت ہونے والے دنوں میں تاکہ چکھائیں ہم ان کو عذاب رسوائی کا زندگانی ٔدنیا میں، اور البتہ عذاب آخرت کا بہت زیادہ رسوا کرنے والا ہے اور وہ مدد نہیں کیے جائیں گے (16) [15] فرمایا: ﴿فَاَمَّا عَادٌ ﴾ قوم عاد اپنے کفر، آیات الٰہی اور انبیاء و مرسلین کی تکذیب کے ساتھ ساتھ، زمین پر تکبر کے ساتھ رہتے تھے۔ اپنے اردگرد بندگان الٰہی پر قہر اور ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے تھے، ان کی قوت نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ ﴿وَقَالُوۡا مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾ ’’اور وہ کہتے تھے: بھلا ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا جواب دیا جسے ہر شخص جانتا ہے۔ ﴿اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيۡ خَلَقَهُمۡ هُوَ اَشَدُّ مِنۡهُمۡ قُوَّةً ﴾ ’’کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے ان کو پیدا کیا، وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘ اگر اللہ تعالیٰ ان کو تخلیق نہ کرتا تو وہ کبھی وجود میں نہ آسکتے، اگر وہ اپنے اس حال پر صحیح طریقے سے غور کرتے تو کبھی اپنی طاقت کے فریب میں مبتلا نہ ہوتے۔ [16] اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی سزا دی جو ان کی اس قوت سے عین مناسبت رکھتی تھی جس کی وجہ سے وہ مغرور تھے۔﴿فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيۡحًا صَرۡصَرًا ﴾ یعنی ہم نے ان پر انتہائی سخت طوفانی آندھی بھیجی جس میں بجلی کی کڑک کی مانند سخت ہولناک آواز تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس طوفانی ہوا کو ان پر ﴿ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقۃ: 69؍7) ’’ لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک چلائے رکھا، اس ہوا میں تو ان لوگوں کو اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھتا گویا وہ کھجوروں کے خالی تنے ہیں۔‘‘ ﴿نَحِسَاتٍ﴾یعنی یہ دن ان کے لیے منحوس تھا۔اس ہوا نے ان کو ہلاک کرکے تباہ و برباد کر دیا اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ ان کے اجڑے ہوئے گھروں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ﴿لِّنُذِيۡقَهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’تاکہ ہم انھیں دنیا کی زندگی ہی میں رسوائی کا عذاب چکھائیں‘‘ اس عذاب کی وجہ سے انھوں نے مخلوق میں فضیحت اور رسوائی کا سامنا کیا۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَخۡزٰى وَهُمۡ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ ’’اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے، اور ان کی مددنہیں کی جائے گی۔‘‘ کوئی ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو روک سکے گا نہ وہ اپنے آپ کو کوئی فائدہ پہنچا سکیں گے۔
41:16

فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيحٗا صَرۡصَرٗا فِيٓ أَيَّامٖ نَّحِسَاتٖ لِّنُذِيقَهُمۡ عَذَابَ ٱلۡخِزۡيِ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَعَذَابُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَخۡزَىٰۖ وَهُمۡ لَا يُنصَرُونَ

پس لیکن عاد (قوم) نے تو تکبر کیا زمین میں ناحق اور انھوں نے کہا، کون ہے زیادہ سخت ہم سے قوت میں؟ کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک اللہ جس نے پیدا کیا ان کو، وہ زیادہ سخت ہے ان سے قوت میں، اور تھے وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے (15) پس بھیجی ہم نے ان پر ہوا سخت منحوس ثابت ہونے والے دنوں میں تاکہ چکھائیں ہم ان کو عذاب رسوائی کا زندگانی ٔدنیا میں، اور البتہ عذاب آخرت کا بہت زیادہ رسوا کرنے والا ہے اور وہ مدد نہیں کیے جائیں گے (16) [15] فرمایا: ﴿فَاَمَّا عَادٌ ﴾ قوم عاد اپنے کفر، آیات الٰہی اور انبیاء و مرسلین کی تکذیب کے ساتھ ساتھ، زمین پر تکبر کے ساتھ رہتے تھے۔ اپنے اردگرد بندگان الٰہی پر قہر اور ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے تھے، ان کی قوت نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ ﴿وَقَالُوۡا مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾ ’’اور وہ کہتے تھے: بھلا ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا جواب دیا جسے ہر شخص جانتا ہے۔ ﴿اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيۡ خَلَقَهُمۡ هُوَ اَشَدُّ مِنۡهُمۡ قُوَّةً ﴾ ’’کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے ان کو پیدا کیا، وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘ اگر اللہ تعالیٰ ان کو تخلیق نہ کرتا تو وہ کبھی وجود میں نہ آسکتے، اگر وہ اپنے اس حال پر صحیح طریقے سے غور کرتے تو کبھی اپنی طاقت کے فریب میں مبتلا نہ ہوتے۔ [16] اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی سزا دی جو ان کی اس قوت سے عین مناسبت رکھتی تھی جس کی وجہ سے وہ مغرور تھے۔﴿فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيۡحًا صَرۡصَرًا ﴾ یعنی ہم نے ان پر انتہائی سخت طوفانی آندھی بھیجی جس میں بجلی کی کڑک کی مانند سخت ہولناک آواز تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس طوفانی ہوا کو ان پر ﴿ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقۃ: 69؍7) ’’ لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک چلائے رکھا، اس ہوا میں تو ان لوگوں کو اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھتا گویا وہ کھجوروں کے خالی تنے ہیں۔‘‘ ﴿نَحِسَاتٍ﴾یعنی یہ دن ان کے لیے منحوس تھا۔اس ہوا نے ان کو ہلاک کرکے تباہ و برباد کر دیا اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ ان کے اجڑے ہوئے گھروں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ﴿لِّنُذِيۡقَهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’تاکہ ہم انھیں دنیا کی زندگی ہی میں رسوائی کا عذاب چکھائیں‘‘ اس عذاب کی وجہ سے انھوں نے مخلوق میں فضیحت اور رسوائی کا سامنا کیا۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَخۡزٰى وَهُمۡ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ ’’اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے، اور ان کی مددنہیں کی جائے گی۔‘‘ کوئی ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو روک سکے گا نہ وہ اپنے آپ کو کوئی فائدہ پہنچا سکیں گے۔
41:17

وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيۡنَٰهُمۡ فَٱسۡتَحَبُّواْ ٱلۡعَمَىٰ عَلَى ٱلۡهُدَىٰ فَأَخَذَتۡهُمۡ صَٰعِقَةُ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡهُونِ بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ

اور لیکن ثمود (قوم) پس رہنمائی کی ہم نے ان کی تو انھوں نے پسند کیا اندھے پن کو اوپر ہدایت کے، پس پکڑ لیا ان کو کڑک نے عذابِ رسوائی کی بسبب اس کے جو تھے وہ کماتے (17) اور نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تھے وہ تقوٰی اختیار کرتے (18) [17]﴿وَاَمَّا ثَمُوۡدُ ﴾ اور رہے ثمود تو یہ ایک معروف قبیلہ ہے جو حجر اور اس کے اردگرد کے علاقے میں آباد تھا۔ جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالحu کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو ان کے رب کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک سے روکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزے کے طور پر اونٹنی عطا کی، جس کے لیے پانی پینے کا ایک دن مقرر تھا۔ ثمود کے لوگ ایک دن اس اونٹنی کا دودھ پیتے تھے اور ایک دن پانی پیتے تھے اور اس پر انھیں کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ اونٹنی زمین پر چر کر گزارہ کرتی تھی۔ اس لیے ثمود کے بارے میں فرمایا:﴿وَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَهَدَيۡنٰهُمۡ ﴾ ’’جو ثمود تھے، ہم نے انھیں سیدھا راستہ دکھایا۔‘‘ یہاں ہدایت سے مراد ہدایت بیان ہے۔ ہرچندکہ ہلاکت کا شکار ہونے والی تمام امتوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی اور راہ راست ان کے سامنے واضح کر دی گئی، مگر اللہ تعالیٰ نے ثمود کے لیے ہدایت کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ ان کو بہت بڑا معجزہ عطا کیا گیا تھا، اس معجزے کو ان کے بچوں، بوڑھوں، مردوں اور عورتوں سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہدایت اور بیان کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔ مگر انھوں نے اپنے شر اور ظلم کی وجہ سے ہدایت یعنی علم و ایمان کی بجائے، اندھے پن یعنی کفر اور گمراہی کو پسند کیاتو جو کچھ وہ کمایا کرتے تھے، اس کی وجہ سے انھیں عذاب نے پکڑ لیا اور یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا ظلم نہ تھا۔ [18]﴿وَنَجَّيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان لوگوں کو بچالیا جو ایمان لائے اور (نافرمانی سے) بچتے رہے‘‘یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت صالحu اور ان کی اتباع کرنے والے ان مومنین کو نجات دی جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔
41:18

وَنَجَّيۡنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ

اور لیکن ثمود (قوم) پس رہنمائی کی ہم نے ان کی تو انھوں نے پسند کیا اندھے پن کو اوپر ہدایت کے، پس پکڑ لیا ان کو کڑک نے عذابِ رسوائی کی بسبب اس کے جو تھے وہ کماتے (17) اور نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تھے وہ تقوٰی اختیار کرتے (18) [17]﴿وَاَمَّا ثَمُوۡدُ ﴾ اور رہے ثمود تو یہ ایک معروف قبیلہ ہے جو حجر اور اس کے اردگرد کے علاقے میں آباد تھا۔ جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالحu کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو ان کے رب کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک سے روکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزے کے طور پر اونٹنی عطا کی، جس کے لیے پانی پینے کا ایک دن مقرر تھا۔ ثمود کے لوگ ایک دن اس اونٹنی کا دودھ پیتے تھے اور ایک دن پانی پیتے تھے اور اس پر انھیں کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ اونٹنی زمین پر چر کر گزارہ کرتی تھی۔ اس لیے ثمود کے بارے میں فرمایا:﴿وَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَهَدَيۡنٰهُمۡ ﴾ ’’جو ثمود تھے، ہم نے انھیں سیدھا راستہ دکھایا۔‘‘ یہاں ہدایت سے مراد ہدایت بیان ہے۔ ہرچندکہ ہلاکت کا شکار ہونے والی تمام امتوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی اور راہ راست ان کے سامنے واضح کر دی گئی، مگر اللہ تعالیٰ نے ثمود کے لیے ہدایت کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ ان کو بہت بڑا معجزہ عطا کیا گیا تھا، اس معجزے کو ان کے بچوں، بوڑھوں، مردوں اور عورتوں سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہدایت اور بیان کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔ مگر انھوں نے اپنے شر اور ظلم کی وجہ سے ہدایت یعنی علم و ایمان کی بجائے، اندھے پن یعنی کفر اور گمراہی کو پسند کیاتو جو کچھ وہ کمایا کرتے تھے، اس کی وجہ سے انھیں عذاب نے پکڑ لیا اور یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا ظلم نہ تھا۔ [18]﴿وَنَجَّيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان لوگوں کو بچالیا جو ایمان لائے اور (نافرمانی سے) بچتے رہے‘‘یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت صالحu اور ان کی اتباع کرنے والے ان مومنین کو نجات دی جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔
41:19

وَيَوۡمَ يُحۡشَرُ أَعۡدَآءُ ٱللَّهِ إِلَى ٱلنَّارِ فَهُمۡ يُوزَعُونَ

اور جس دن (ہانک ہانک کر) جمع کیا جائے گا اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف، پس وہ رو کے جائیں گے(19) یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے اس کےپاس تو گواہی دیں گے ان کے خلاف ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی جلدیں ، ساتھ ان (عملوں) کے جو تھے وہ کرتے (20) اور وہ کہیں گے اپنی جلدوں سے کیوں گواہی دی تم نے ہمارے خلاف؟ تو وہ کہیں گی بلوایا ہمیں اللہ نے جس نے بلوایا ہر چیز کو اور اسی نے پیدا کیا تمھیں پہلی مرتبہ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (21) اور نہیں تھے تم پردہ کرتے اس(خوف) سے کہ گواہی دیں گے تمھارے خلاف تمھارے کان اور نہ تمھاری آنکھیں اور نہ تمھاری جلدیں اورلیکن گمان کیا تم نے کہ بلاشبہ اللہ نہیں جانتا بہت سے ان عملوں کو جو تم کرتے (تھے)(22) اور یہ تمھارا گمان وہ جو گمان کیا تم نے اپنے رب کے بارے میں، اسی نے ہلاک کیا تم کو، پس ہو گئے تم خسارہ پانے والوں میں سے (23) پس اگر وہ صبر کریں تو بھی آگ ہی ٹھکانا ہے ان کے لیے ، اور اگر وہ معافی طلب کریں گے تو نہیں ہوں گے وہ معاف کیے گئے لوگوں میں سے (24) [19] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دشمنوں کے بارے میں خبر دیتا ہے جنھوں نے اس کے ساتھ اور اس کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب اور ان کے خلاف جنگ کی، کہ قیامت کے روز ان کا کتنا برا حال ہو گا، جب ان کو اکٹھا کیا جائے گا۔ ﴿اِلَى النَّارِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’آگ کی طرف، پس وہ روکے جائیں گے۔‘‘ ان کے پہلے شخص کو آخری شخص کے آنے تک روکے رکھا جائے گا اور آخری شخص پہلے شخص کی پیروی کرے گا، پھر نہایت سختی کے ساتھ جہنم کی طرف ہانکا جائے گا وہ جہنم سے بچ نہیں سکیں گے وہ اپنی مددخود کر سکیں گے نہ ان کی مدد کی جا سکے گی۔ [20]﴿حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوۡهَا ﴾ یعنی جب وہ سب جہنم میں وارد ہوں گے اور اپنی بداعمالیوں کا انکار کرنے کا ارادہ کریں گے۔ ﴿شَهِدَ عَلَيۡهِمۡ سَمۡعُهُمۡ وَاَبۡصَارُهُمۡ وَجُلُوۡدُهُمۡ ﴾ ’’تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف شہادت دیں گے۔‘‘ یہ خصوص کے بعد عموم ہے۔ ﴿بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ان کا ہر ہر عضو ان کے خلاف گواہی دے گا۔ ان کا ہر ہر عضو یہ کہے گا ’’میں نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا۔‘‘ پھر ان تین اعضاء کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ اکثر گناہوں کا ارتکاب یہی تین اعضاء کرتے ہیں، یا انھی کے سبب سے اکثر گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے۔ [21] جب یہ اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے تو یہ ان اعضاء پر سخت ناراض ہوں گے ﴿وَقَالُوۡا لِجُلُوۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے:‘‘ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہر عضو کی طرف سے گواہی واقع ہو گی جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں۔ ﴿لِمَ شَهِدۡتُّمۡ عَلَيۡنَا ﴾ ’’تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟‘‘ حالانکہ ہم تمھارا دفاع کیا کرتے تھے ﴿قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيۡۤ اَنۡطَقَ كُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’تووہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے قوتِ گویائی بخشی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے۔‘‘ لہٰذا گواہی دینے سے انکار کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں، اس کی مشیت کے سامنے کسی چیز کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ ﴿وَّهُوَ خَلَقَكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’اور اس نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا‘‘ جس طرح اس نے تمھاری ذوات و اجسام کو تخلیق فرمایا اسی طرح تمھاری صفات کو بھی تخلیق فرمایا اور گویائی بھی انھی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ ﴿وَّاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘‘ پھر وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد تخلیق اول کے ذریعے سے مرنے کے بعد زندہ کیے جانے پر استدلال ہو۔ جیسا کہ قرآن کریم کا طریقہ ہے۔ [22]﴿وَمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَتِرُوۡنَ اَنۡ يَّشۡهَدَ عَلَيۡكُمۡ سَمۡعُكُمۡ وَلَاۤ اَبۡصَارُؔكُمۡ وَلَا جُلُوۡدُكُمۡ ﴾ ’’اور (گناہ کرتے وقت) تم اس بات کے خوف سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمھارے کان اور تمھاری آنکھیں اور تمھارے چمڑے تمھارے خلاف شہادت دیں گے۔‘‘ یعنی تم اپنے اعضاء کی گواہی سے اپنے آپ کو چھپا سکتے ہو نہ اس سے بچ سکتے ہو۔ ﴿وَلٰكِنۡ ظَنَنۡتُمۡ ﴾ ’’لیکن تم یہ سمجھتے رہے‘‘ گناہوں کا ارتکاب کر کے ﴿اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعۡلَمُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ کو تمھارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں۔‘‘ اسی لیے تم سے یہ گناہ صادر ہوئے۔ [23] ان کا یہ گمان ان کی ہلاکت اور بدبختی کا سبب بنا۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَذٰلِكُمۡ ظَنُّكُمُ الَّذِيۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے متعلق کر رکھا تھا‘‘ یعنی تم نے اپنے رب کے بارے میں برا گمان کیا جو اس کے جلال کے لائق نہ تھا۔ ﴿اَرۡدٰىكُمۡ ﴾ ’’وہی تمھیں لے ڈوبا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں ہلاک کر دیا۔ ﴿فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’ لہٰذا تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے۔‘‘ تم نے اپنے اعمال کے سبب سے، جن کا موجب اپنے رب کے بارے میں تمھارا براگمان تھا، اپنے آپ کو، اپنے گھر والوں اور اپنے دین کو خسارے میں ڈالا۔ بنابریں تم عذاب اور بدبختی کے مستحق ٹھہرے اور تمھارے لیے عذاب جہنم میں دائمی خلود واجب ہوا، یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی تم سے علیحدہ نہ ہو گا۔ [24]﴿فَاِنۡ يَّصۡبِرُوۡا فَالنَّارُ مَثۡوًى لَّهُمۡ ﴾ ’’اب اگر یہ صبر کریں (یا نہ کریں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔‘‘ اس پر کسی بھی حالت میں صبر نہیں ہوگا۔ اگر کسی حال میں صبر کا امکان فرض کر لیا جائے تاہم آگ کے سامنے صبر کرنا ممکن نہیں اور اس آگ پر صبر کرنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے جس کی حرارت بے انتہا شدید ہے، اس کی حرارت دنیا کی آگ کی حرارت سے ستر گنا زیادہ ہے، اس کا پانی شدید گرم ہو گا، اس کی پیپ بے انتہا بدبودار ہو گی، جہنم کے ٹھنڈے طبقے کی ٹھنڈک کئی گنا زیادہ ہو گی، اس کی زنجیریں، طوق اور گرز بہت بڑے ہوں گے۔ اس کے داروغے نہایت درشت مزاج ہوں گے اور ان کے دلوں سے ہر قسم کا رحم نکل چکا ہو گا اور آخری چیز یہ کہ جبار کی سخت ناراضی ہو گی ، چنانچہ جب وہ اسے مدد کے لیے پکاریں گے تو وہ فرمائے گا:﴿اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون: 23؍108)’’دفع ہو جاؤ ، اسی میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔‘‘﴿وَاِنۡ يَّسۡتَعۡتِبُوۡا۠﴾ ’’اگر وہ توبہ کرنا چاہیں‘‘ یعنی اگر وہ عتاب الٰہی کا ازالہ چاہتے ہوئے درخواست کریں گے کہ انھیں دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے تاکہ وہ نئے سرے سے عمل کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو دور کر سکیں۔ ﴿فَمَا هُمۡ مِّنَ الۡمُعۡتَبِيۡنَ ﴾ ’’تو ان کی توبہ قبول نہ کی جائے گی۔‘‘ کیونکہ اس کا وقت گزر چکا تھا، اس گزرے ہوئے عرصے کے دوران ان کو غوروفکر کا موقع دیا گیا اور ان کے پاس برے انجام سے خبردار کرنے والے بھی آئے۔ ان کی حجت منقطع ہو گئی، نیز ان کی عتاب دور کرنے کی التجا بھی محض جھوٹ ہے۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28) ’’اگر ان کو لوٹا بھی دیا گیا تو یہ دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا اور بے شک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘
41:20

حَتَّىٰٓ إِذَا مَا جَآءُوهَا شَهِدَ عَلَيۡهِمۡ سَمۡعُهُمۡ وَأَبۡصَٰرُهُمۡ وَجُلُودُهُم بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ

اور جس دن (ہانک ہانک کر) جمع کیا جائے گا اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف، پس وہ رو کے جائیں گے(19) یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے اس کےپاس تو گواہی دیں گے ان کے خلاف ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی جلدیں ، ساتھ ان (عملوں) کے جو تھے وہ کرتے (20) اور وہ کہیں گے اپنی جلدوں سے کیوں گواہی دی تم نے ہمارے خلاف؟ تو وہ کہیں گی بلوایا ہمیں اللہ نے جس نے بلوایا ہر چیز کو اور اسی نے پیدا کیا تمھیں پہلی مرتبہ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (21) اور نہیں تھے تم پردہ کرتے اس(خوف) سے کہ گواہی دیں گے تمھارے خلاف تمھارے کان اور نہ تمھاری آنکھیں اور نہ تمھاری جلدیں اورلیکن گمان کیا تم نے کہ بلاشبہ اللہ نہیں جانتا بہت سے ان عملوں کو جو تم کرتے (تھے)(22) اور یہ تمھارا گمان وہ جو گمان کیا تم نے اپنے رب کے بارے میں، اسی نے ہلاک کیا تم کو، پس ہو گئے تم خسارہ پانے والوں میں سے (23) پس اگر وہ صبر کریں تو بھی آگ ہی ٹھکانا ہے ان کے لیے ، اور اگر وہ معافی طلب کریں گے تو نہیں ہوں گے وہ معاف کیے گئے لوگوں میں سے (24) [19] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دشمنوں کے بارے میں خبر دیتا ہے جنھوں نے اس کے ساتھ اور اس کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب اور ان کے خلاف جنگ کی، کہ قیامت کے روز ان کا کتنا برا حال ہو گا، جب ان کو اکٹھا کیا جائے گا۔ ﴿اِلَى النَّارِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’آگ کی طرف، پس وہ روکے جائیں گے۔‘‘ ان کے پہلے شخص کو آخری شخص کے آنے تک روکے رکھا جائے گا اور آخری شخص پہلے شخص کی پیروی کرے گا، پھر نہایت سختی کے ساتھ جہنم کی طرف ہانکا جائے گا وہ جہنم سے بچ نہیں سکیں گے وہ اپنی مددخود کر سکیں گے نہ ان کی مدد کی جا سکے گی۔ [20]﴿حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوۡهَا ﴾ یعنی جب وہ سب جہنم میں وارد ہوں گے اور اپنی بداعمالیوں کا انکار کرنے کا ارادہ کریں گے۔ ﴿شَهِدَ عَلَيۡهِمۡ سَمۡعُهُمۡ وَاَبۡصَارُهُمۡ وَجُلُوۡدُهُمۡ ﴾ ’’تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف شہادت دیں گے۔‘‘ یہ خصوص کے بعد عموم ہے۔ ﴿بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ان کا ہر ہر عضو ان کے خلاف گواہی دے گا۔ ان کا ہر ہر عضو یہ کہے گا ’’میں نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا۔‘‘ پھر ان تین اعضاء کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ اکثر گناہوں کا ارتکاب یہی تین اعضاء کرتے ہیں، یا انھی کے سبب سے اکثر گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے۔ [21] جب یہ اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے تو یہ ان اعضاء پر سخت ناراض ہوں گے ﴿وَقَالُوۡا لِجُلُوۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے:‘‘ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہر عضو کی طرف سے گواہی واقع ہو گی جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں۔ ﴿لِمَ شَهِدۡتُّمۡ عَلَيۡنَا ﴾ ’’تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟‘‘ حالانکہ ہم تمھارا دفاع کیا کرتے تھے ﴿قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيۡۤ اَنۡطَقَ كُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’تووہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے قوتِ گویائی بخشی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے۔‘‘ لہٰذا گواہی دینے سے انکار کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں، اس کی مشیت کے سامنے کسی چیز کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ ﴿وَّهُوَ خَلَقَكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’اور اس نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا‘‘ جس طرح اس نے تمھاری ذوات و اجسام کو تخلیق فرمایا اسی طرح تمھاری صفات کو بھی تخلیق فرمایا اور گویائی بھی انھی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ ﴿وَّاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘‘ پھر وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد تخلیق اول کے ذریعے سے مرنے کے بعد زندہ کیے جانے پر استدلال ہو۔ جیسا کہ قرآن کریم کا طریقہ ہے۔ [22]﴿وَمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَتِرُوۡنَ اَنۡ يَّشۡهَدَ عَلَيۡكُمۡ سَمۡعُكُمۡ وَلَاۤ اَبۡصَارُؔكُمۡ وَلَا جُلُوۡدُكُمۡ ﴾ ’’اور (گناہ کرتے وقت) تم اس بات کے خوف سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمھارے کان اور تمھاری آنکھیں اور تمھارے چمڑے تمھارے خلاف شہادت دیں گے۔‘‘ یعنی تم اپنے اعضاء کی گواہی سے اپنے آپ کو چھپا سکتے ہو نہ اس سے بچ سکتے ہو۔ ﴿وَلٰكِنۡ ظَنَنۡتُمۡ ﴾ ’’لیکن تم یہ سمجھتے رہے‘‘ گناہوں کا ارتکاب کر کے ﴿اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعۡلَمُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ کو تمھارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں۔‘‘ اسی لیے تم سے یہ گناہ صادر ہوئے۔ [23] ان کا یہ گمان ان کی ہلاکت اور بدبختی کا سبب بنا۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَذٰلِكُمۡ ظَنُّكُمُ الَّذِيۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے متعلق کر رکھا تھا‘‘ یعنی تم نے اپنے رب کے بارے میں برا گمان کیا جو اس کے جلال کے لائق نہ تھا۔ ﴿اَرۡدٰىكُمۡ ﴾ ’’وہی تمھیں لے ڈوبا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں ہلاک کر دیا۔ ﴿فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’ لہٰذا تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے۔‘‘ تم نے اپنے اعمال کے سبب سے، جن کا موجب اپنے رب کے بارے میں تمھارا براگمان تھا، اپنے آپ کو، اپنے گھر والوں اور اپنے دین کو خسارے میں ڈالا۔ بنابریں تم عذاب اور بدبختی کے مستحق ٹھہرے اور تمھارے لیے عذاب جہنم میں دائمی خلود واجب ہوا، یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی تم سے علیحدہ نہ ہو گا۔ [24]﴿فَاِنۡ يَّصۡبِرُوۡا فَالنَّارُ مَثۡوًى لَّهُمۡ ﴾ ’’اب اگر یہ صبر کریں (یا نہ کریں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔‘‘ اس پر کسی بھی حالت میں صبر نہیں ہوگا۔ اگر کسی حال میں صبر کا امکان فرض کر لیا جائے تاہم آگ کے سامنے صبر کرنا ممکن نہیں اور اس آگ پر صبر کرنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے جس کی حرارت بے انتہا شدید ہے، اس کی حرارت دنیا کی آگ کی حرارت سے ستر گنا زیادہ ہے، اس کا پانی شدید گرم ہو گا، اس کی پیپ بے انتہا بدبودار ہو گی، جہنم کے ٹھنڈے طبقے کی ٹھنڈک کئی گنا زیادہ ہو گی، اس کی زنجیریں، طوق اور گرز بہت بڑے ہوں گے۔ اس کے داروغے نہایت درشت مزاج ہوں گے اور ان کے دلوں سے ہر قسم کا رحم نکل چکا ہو گا اور آخری چیز یہ کہ جبار کی سخت ناراضی ہو گی ، چنانچہ جب وہ اسے مدد کے لیے پکاریں گے تو وہ فرمائے گا:﴿اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون: 23؍108)’’دفع ہو جاؤ ، اسی میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔‘‘﴿وَاِنۡ يَّسۡتَعۡتِبُوۡا۠﴾ ’’اگر وہ توبہ کرنا چاہیں‘‘ یعنی اگر وہ عتاب الٰہی کا ازالہ چاہتے ہوئے درخواست کریں گے کہ انھیں دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے تاکہ وہ نئے سرے سے عمل کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو دور کر سکیں۔ ﴿فَمَا هُمۡ مِّنَ الۡمُعۡتَبِيۡنَ ﴾ ’’تو ان کی توبہ قبول نہ کی جائے گی۔‘‘ کیونکہ اس کا وقت گزر چکا تھا، اس گزرے ہوئے عرصے کے دوران ان کو غوروفکر کا موقع دیا گیا اور ان کے پاس برے انجام سے خبردار کرنے والے بھی آئے۔ ان کی حجت منقطع ہو گئی، نیز ان کی عتاب دور کرنے کی التجا بھی محض جھوٹ ہے۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28) ’’اگر ان کو لوٹا بھی دیا گیا تو یہ دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا اور بے شک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘
41:21

وَقَالُواْ لِجُلُودِهِمۡ لِمَ شَهِدتُّمۡ عَلَيۡنَاۖ قَالُوٓاْ أَنطَقَنَا ٱللَّهُ ٱلَّذِيٓ أَنطَقَ كُلَّ شَيۡءٖۚ وَهُوَ خَلَقَكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ

اور جس دن (ہانک ہانک کر) جمع کیا جائے گا اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف، پس وہ رو کے جائیں گے(19) یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے اس کےپاس تو گواہی دیں گے ان کے خلاف ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی جلدیں ، ساتھ ان (عملوں) کے جو تھے وہ کرتے (20) اور وہ کہیں گے اپنی جلدوں سے کیوں گواہی دی تم نے ہمارے خلاف؟ تو وہ کہیں گی بلوایا ہمیں اللہ نے جس نے بلوایا ہر چیز کو اور اسی نے پیدا کیا تمھیں پہلی مرتبہ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (21) اور نہیں تھے تم پردہ کرتے اس(خوف) سے کہ گواہی دیں گے تمھارے خلاف تمھارے کان اور نہ تمھاری آنکھیں اور نہ تمھاری جلدیں اورلیکن گمان کیا تم نے کہ بلاشبہ اللہ نہیں جانتا بہت سے ان عملوں کو جو تم کرتے (تھے)(22) اور یہ تمھارا گمان وہ جو گمان کیا تم نے اپنے رب کے بارے میں، اسی نے ہلاک کیا تم کو، پس ہو گئے تم خسارہ پانے والوں میں سے (23) پس اگر وہ صبر کریں تو بھی آگ ہی ٹھکانا ہے ان کے لیے ، اور اگر وہ معافی طلب کریں گے تو نہیں ہوں گے وہ معاف کیے گئے لوگوں میں سے (24) [19] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دشمنوں کے بارے میں خبر دیتا ہے جنھوں نے اس کے ساتھ اور اس کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب اور ان کے خلاف جنگ کی، کہ قیامت کے روز ان کا کتنا برا حال ہو گا، جب ان کو اکٹھا کیا جائے گا۔ ﴿اِلَى النَّارِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’آگ کی طرف، پس وہ روکے جائیں گے۔‘‘ ان کے پہلے شخص کو آخری شخص کے آنے تک روکے رکھا جائے گا اور آخری شخص پہلے شخص کی پیروی کرے گا، پھر نہایت سختی کے ساتھ جہنم کی طرف ہانکا جائے گا وہ جہنم سے بچ نہیں سکیں گے وہ اپنی مددخود کر سکیں گے نہ ان کی مدد کی جا سکے گی۔ [20]﴿حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوۡهَا ﴾ یعنی جب وہ سب جہنم میں وارد ہوں گے اور اپنی بداعمالیوں کا انکار کرنے کا ارادہ کریں گے۔ ﴿شَهِدَ عَلَيۡهِمۡ سَمۡعُهُمۡ وَاَبۡصَارُهُمۡ وَجُلُوۡدُهُمۡ ﴾ ’’تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف شہادت دیں گے۔‘‘ یہ خصوص کے بعد عموم ہے۔ ﴿بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ان کا ہر ہر عضو ان کے خلاف گواہی دے گا۔ ان کا ہر ہر عضو یہ کہے گا ’’میں نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا۔‘‘ پھر ان تین اعضاء کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ اکثر گناہوں کا ارتکاب یہی تین اعضاء کرتے ہیں، یا انھی کے سبب سے اکثر گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے۔ [21] جب یہ اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے تو یہ ان اعضاء پر سخت ناراض ہوں گے ﴿وَقَالُوۡا لِجُلُوۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے:‘‘ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہر عضو کی طرف سے گواہی واقع ہو گی جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں۔ ﴿لِمَ شَهِدۡتُّمۡ عَلَيۡنَا ﴾ ’’تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟‘‘ حالانکہ ہم تمھارا دفاع کیا کرتے تھے ﴿قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيۡۤ اَنۡطَقَ كُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’تووہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے قوتِ گویائی بخشی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے۔‘‘ لہٰذا گواہی دینے سے انکار کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں، اس کی مشیت کے سامنے کسی چیز کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ ﴿وَّهُوَ خَلَقَكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’اور اس نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا‘‘ جس طرح اس نے تمھاری ذوات و اجسام کو تخلیق فرمایا اسی طرح تمھاری صفات کو بھی تخلیق فرمایا اور گویائی بھی انھی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ ﴿وَّاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘‘ پھر وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد تخلیق اول کے ذریعے سے مرنے کے بعد زندہ کیے جانے پر استدلال ہو۔ جیسا کہ قرآن کریم کا طریقہ ہے۔ [22]﴿وَمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَتِرُوۡنَ اَنۡ يَّشۡهَدَ عَلَيۡكُمۡ سَمۡعُكُمۡ وَلَاۤ اَبۡصَارُؔكُمۡ وَلَا جُلُوۡدُكُمۡ ﴾ ’’اور (گناہ کرتے وقت) تم اس بات کے خوف سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمھارے کان اور تمھاری آنکھیں اور تمھارے چمڑے تمھارے خلاف شہادت دیں گے۔‘‘ یعنی تم اپنے اعضاء کی گواہی سے اپنے آپ کو چھپا سکتے ہو نہ اس سے بچ سکتے ہو۔ ﴿وَلٰكِنۡ ظَنَنۡتُمۡ ﴾ ’’لیکن تم یہ سمجھتے رہے‘‘ گناہوں کا ارتکاب کر کے ﴿اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعۡلَمُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ کو تمھارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں۔‘‘ اسی لیے تم سے یہ گناہ صادر ہوئے۔ [23] ان کا یہ گمان ان کی ہلاکت اور بدبختی کا سبب بنا۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَذٰلِكُمۡ ظَنُّكُمُ الَّذِيۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے متعلق کر رکھا تھا‘‘ یعنی تم نے اپنے رب کے بارے میں برا گمان کیا جو اس کے جلال کے لائق نہ تھا۔ ﴿اَرۡدٰىكُمۡ ﴾ ’’وہی تمھیں لے ڈوبا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں ہلاک کر دیا۔ ﴿فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’ لہٰذا تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے۔‘‘ تم نے اپنے اعمال کے سبب سے، جن کا موجب اپنے رب کے بارے میں تمھارا براگمان تھا، اپنے آپ کو، اپنے گھر والوں اور اپنے دین کو خسارے میں ڈالا۔ بنابریں تم عذاب اور بدبختی کے مستحق ٹھہرے اور تمھارے لیے عذاب جہنم میں دائمی خلود واجب ہوا، یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی تم سے علیحدہ نہ ہو گا۔ [24]﴿فَاِنۡ يَّصۡبِرُوۡا فَالنَّارُ مَثۡوًى لَّهُمۡ ﴾ ’’اب اگر یہ صبر کریں (یا نہ کریں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔‘‘ اس پر کسی بھی حالت میں صبر نہیں ہوگا۔ اگر کسی حال میں صبر کا امکان فرض کر لیا جائے تاہم آگ کے سامنے صبر کرنا ممکن نہیں اور اس آگ پر صبر کرنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے جس کی حرارت بے انتہا شدید ہے، اس کی حرارت دنیا کی آگ کی حرارت سے ستر گنا زیادہ ہے، اس کا پانی شدید گرم ہو گا، اس کی پیپ بے انتہا بدبودار ہو گی، جہنم کے ٹھنڈے طبقے کی ٹھنڈک کئی گنا زیادہ ہو گی، اس کی زنجیریں، طوق اور گرز بہت بڑے ہوں گے۔ اس کے داروغے نہایت درشت مزاج ہوں گے اور ان کے دلوں سے ہر قسم کا رحم نکل چکا ہو گا اور آخری چیز یہ کہ جبار کی سخت ناراضی ہو گی ، چنانچہ جب وہ اسے مدد کے لیے پکاریں گے تو وہ فرمائے گا:﴿اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون: 23؍108)’’دفع ہو جاؤ ، اسی میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔‘‘﴿وَاِنۡ يَّسۡتَعۡتِبُوۡا۠﴾ ’’اگر وہ توبہ کرنا چاہیں‘‘ یعنی اگر وہ عتاب الٰہی کا ازالہ چاہتے ہوئے درخواست کریں گے کہ انھیں دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے تاکہ وہ نئے سرے سے عمل کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو دور کر سکیں۔ ﴿فَمَا هُمۡ مِّنَ الۡمُعۡتَبِيۡنَ ﴾ ’’تو ان کی توبہ قبول نہ کی جائے گی۔‘‘ کیونکہ اس کا وقت گزر چکا تھا، اس گزرے ہوئے عرصے کے دوران ان کو غوروفکر کا موقع دیا گیا اور ان کے پاس برے انجام سے خبردار کرنے والے بھی آئے۔ ان کی حجت منقطع ہو گئی، نیز ان کی عتاب دور کرنے کی التجا بھی محض جھوٹ ہے۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28) ’’اگر ان کو لوٹا بھی دیا گیا تو یہ دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا اور بے شک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘
41:22

وَمَا كُنتُمۡ تَسۡتَتِرُونَ أَن يَشۡهَدَ عَلَيۡكُمۡ سَمۡعُكُمۡ وَلَآ أَبۡصَٰرُكُمۡ وَلَا جُلُودُكُمۡ وَلَٰكِن ظَنَنتُمۡ أَنَّ ٱللَّهَ لَا يَعۡلَمُ كَثِيرٗا مِّمَّا تَعۡمَلُونَ

اور جس دن (ہانک ہانک کر) جمع کیا جائے گا اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف، پس وہ رو کے جائیں گے(19) یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے اس کےپاس تو گواہی دیں گے ان کے خلاف ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی جلدیں ، ساتھ ان (عملوں) کے جو تھے وہ کرتے (20) اور وہ کہیں گے اپنی جلدوں سے کیوں گواہی دی تم نے ہمارے خلاف؟ تو وہ کہیں گی بلوایا ہمیں اللہ نے جس نے بلوایا ہر چیز کو اور اسی نے پیدا کیا تمھیں پہلی مرتبہ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (21) اور نہیں تھے تم پردہ کرتے اس(خوف) سے کہ گواہی دیں گے تمھارے خلاف تمھارے کان اور نہ تمھاری آنکھیں اور نہ تمھاری جلدیں اورلیکن گمان کیا تم نے کہ بلاشبہ اللہ نہیں جانتا بہت سے ان عملوں کو جو تم کرتے (تھے)(22) اور یہ تمھارا گمان وہ جو گمان کیا تم نے اپنے رب کے بارے میں، اسی نے ہلاک کیا تم کو، پس ہو گئے تم خسارہ پانے والوں میں سے (23) پس اگر وہ صبر کریں تو بھی آگ ہی ٹھکانا ہے ان کے لیے ، اور اگر وہ معافی طلب کریں گے تو نہیں ہوں گے وہ معاف کیے گئے لوگوں میں سے (24) [19] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دشمنوں کے بارے میں خبر دیتا ہے جنھوں نے اس کے ساتھ اور اس کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب اور ان کے خلاف جنگ کی، کہ قیامت کے روز ان کا کتنا برا حال ہو گا، جب ان کو اکٹھا کیا جائے گا۔ ﴿اِلَى النَّارِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’آگ کی طرف، پس وہ روکے جائیں گے۔‘‘ ان کے پہلے شخص کو آخری شخص کے آنے تک روکے رکھا جائے گا اور آخری شخص پہلے شخص کی پیروی کرے گا، پھر نہایت سختی کے ساتھ جہنم کی طرف ہانکا جائے گا وہ جہنم سے بچ نہیں سکیں گے وہ اپنی مددخود کر سکیں گے نہ ان کی مدد کی جا سکے گی۔ [20]﴿حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوۡهَا ﴾ یعنی جب وہ سب جہنم میں وارد ہوں گے اور اپنی بداعمالیوں کا انکار کرنے کا ارادہ کریں گے۔ ﴿شَهِدَ عَلَيۡهِمۡ سَمۡعُهُمۡ وَاَبۡصَارُهُمۡ وَجُلُوۡدُهُمۡ ﴾ ’’تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف شہادت دیں گے۔‘‘ یہ خصوص کے بعد عموم ہے۔ ﴿بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ان کا ہر ہر عضو ان کے خلاف گواہی دے گا۔ ان کا ہر ہر عضو یہ کہے گا ’’میں نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا۔‘‘ پھر ان تین اعضاء کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ اکثر گناہوں کا ارتکاب یہی تین اعضاء کرتے ہیں، یا انھی کے سبب سے اکثر گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے۔ [21] جب یہ اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے تو یہ ان اعضاء پر سخت ناراض ہوں گے ﴿وَقَالُوۡا لِجُلُوۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے:‘‘ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہر عضو کی طرف سے گواہی واقع ہو گی جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں۔ ﴿لِمَ شَهِدۡتُّمۡ عَلَيۡنَا ﴾ ’’تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟‘‘ حالانکہ ہم تمھارا دفاع کیا کرتے تھے ﴿قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيۡۤ اَنۡطَقَ كُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’تووہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے قوتِ گویائی بخشی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے۔‘‘ لہٰذا گواہی دینے سے انکار کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں، اس کی مشیت کے سامنے کسی چیز کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ ﴿وَّهُوَ خَلَقَكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’اور اس نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا‘‘ جس طرح اس نے تمھاری ذوات و اجسام کو تخلیق فرمایا اسی طرح تمھاری صفات کو بھی تخلیق فرمایا اور گویائی بھی انھی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ ﴿وَّاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘‘ پھر وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد تخلیق اول کے ذریعے سے مرنے کے بعد زندہ کیے جانے پر استدلال ہو۔ جیسا کہ قرآن کریم کا طریقہ ہے۔ [22]﴿وَمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَتِرُوۡنَ اَنۡ يَّشۡهَدَ عَلَيۡكُمۡ سَمۡعُكُمۡ وَلَاۤ اَبۡصَارُؔكُمۡ وَلَا جُلُوۡدُكُمۡ ﴾ ’’اور (گناہ کرتے وقت) تم اس بات کے خوف سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمھارے کان اور تمھاری آنکھیں اور تمھارے چمڑے تمھارے خلاف شہادت دیں گے۔‘‘ یعنی تم اپنے اعضاء کی گواہی سے اپنے آپ کو چھپا سکتے ہو نہ اس سے بچ سکتے ہو۔ ﴿وَلٰكِنۡ ظَنَنۡتُمۡ ﴾ ’’لیکن تم یہ سمجھتے رہے‘‘ گناہوں کا ارتکاب کر کے ﴿اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعۡلَمُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ کو تمھارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں۔‘‘ اسی لیے تم سے یہ گناہ صادر ہوئے۔ [23] ان کا یہ گمان ان کی ہلاکت اور بدبختی کا سبب بنا۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَذٰلِكُمۡ ظَنُّكُمُ الَّذِيۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے متعلق کر رکھا تھا‘‘ یعنی تم نے اپنے رب کے بارے میں برا گمان کیا جو اس کے جلال کے لائق نہ تھا۔ ﴿اَرۡدٰىكُمۡ ﴾ ’’وہی تمھیں لے ڈوبا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں ہلاک کر دیا۔ ﴿فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’ لہٰذا تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے۔‘‘ تم نے اپنے اعمال کے سبب سے، جن کا موجب اپنے رب کے بارے میں تمھارا براگمان تھا، اپنے آپ کو، اپنے گھر والوں اور اپنے دین کو خسارے میں ڈالا۔ بنابریں تم عذاب اور بدبختی کے مستحق ٹھہرے اور تمھارے لیے عذاب جہنم میں دائمی خلود واجب ہوا، یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی تم سے علیحدہ نہ ہو گا۔ [24]﴿فَاِنۡ يَّصۡبِرُوۡا فَالنَّارُ مَثۡوًى لَّهُمۡ ﴾ ’’اب اگر یہ صبر کریں (یا نہ کریں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔‘‘ اس پر کسی بھی حالت میں صبر نہیں ہوگا۔ اگر کسی حال میں صبر کا امکان فرض کر لیا جائے تاہم آگ کے سامنے صبر کرنا ممکن نہیں اور اس آگ پر صبر کرنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے جس کی حرارت بے انتہا شدید ہے، اس کی حرارت دنیا کی آگ کی حرارت سے ستر گنا زیادہ ہے، اس کا پانی شدید گرم ہو گا، اس کی پیپ بے انتہا بدبودار ہو گی، جہنم کے ٹھنڈے طبقے کی ٹھنڈک کئی گنا زیادہ ہو گی، اس کی زنجیریں، طوق اور گرز بہت بڑے ہوں گے۔ اس کے داروغے نہایت درشت مزاج ہوں گے اور ان کے دلوں سے ہر قسم کا رحم نکل چکا ہو گا اور آخری چیز یہ کہ جبار کی سخت ناراضی ہو گی ، چنانچہ جب وہ اسے مدد کے لیے پکاریں گے تو وہ فرمائے گا:﴿اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون: 23؍108)’’دفع ہو جاؤ ، اسی میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔‘‘﴿وَاِنۡ يَّسۡتَعۡتِبُوۡا۠﴾ ’’اگر وہ توبہ کرنا چاہیں‘‘ یعنی اگر وہ عتاب الٰہی کا ازالہ چاہتے ہوئے درخواست کریں گے کہ انھیں دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے تاکہ وہ نئے سرے سے عمل کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو دور کر سکیں۔ ﴿فَمَا هُمۡ مِّنَ الۡمُعۡتَبِيۡنَ ﴾ ’’تو ان کی توبہ قبول نہ کی جائے گی۔‘‘ کیونکہ اس کا وقت گزر چکا تھا، اس گزرے ہوئے عرصے کے دوران ان کو غوروفکر کا موقع دیا گیا اور ان کے پاس برے انجام سے خبردار کرنے والے بھی آئے۔ ان کی حجت منقطع ہو گئی، نیز ان کی عتاب دور کرنے کی التجا بھی محض جھوٹ ہے۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28) ’’اگر ان کو لوٹا بھی دیا گیا تو یہ دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا اور بے شک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘
41:23

وَذَٰلِكُمۡ ظَنُّكُمُ ٱلَّذِي ظَنَنتُم بِرَبِّكُمۡ أَرۡدَىٰكُمۡ فَأَصۡبَحۡتُم مِّنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ

اور جس دن (ہانک ہانک کر) جمع کیا جائے گا اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف، پس وہ رو کے جائیں گے(19) یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے اس کےپاس تو گواہی دیں گے ان کے خلاف ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی جلدیں ، ساتھ ان (عملوں) کے جو تھے وہ کرتے (20) اور وہ کہیں گے اپنی جلدوں سے کیوں گواہی دی تم نے ہمارے خلاف؟ تو وہ کہیں گی بلوایا ہمیں اللہ نے جس نے بلوایا ہر چیز کو اور اسی نے پیدا کیا تمھیں پہلی مرتبہ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (21) اور نہیں تھے تم پردہ کرتے اس(خوف) سے کہ گواہی دیں گے تمھارے خلاف تمھارے کان اور نہ تمھاری آنکھیں اور نہ تمھاری جلدیں اورلیکن گمان کیا تم نے کہ بلاشبہ اللہ نہیں جانتا بہت سے ان عملوں کو جو تم کرتے (تھے)(22) اور یہ تمھارا گمان وہ جو گمان کیا تم نے اپنے رب کے بارے میں، اسی نے ہلاک کیا تم کو، پس ہو گئے تم خسارہ پانے والوں میں سے (23) پس اگر وہ صبر کریں تو بھی آگ ہی ٹھکانا ہے ان کے لیے ، اور اگر وہ معافی طلب کریں گے تو نہیں ہوں گے وہ معاف کیے گئے لوگوں میں سے (24) [19] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دشمنوں کے بارے میں خبر دیتا ہے جنھوں نے اس کے ساتھ اور اس کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب اور ان کے خلاف جنگ کی، کہ قیامت کے روز ان کا کتنا برا حال ہو گا، جب ان کو اکٹھا کیا جائے گا۔ ﴿اِلَى النَّارِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’آگ کی طرف، پس وہ روکے جائیں گے۔‘‘ ان کے پہلے شخص کو آخری شخص کے آنے تک روکے رکھا جائے گا اور آخری شخص پہلے شخص کی پیروی کرے گا، پھر نہایت سختی کے ساتھ جہنم کی طرف ہانکا جائے گا وہ جہنم سے بچ نہیں سکیں گے وہ اپنی مددخود کر سکیں گے نہ ان کی مدد کی جا سکے گی۔ [20]﴿حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوۡهَا ﴾ یعنی جب وہ سب جہنم میں وارد ہوں گے اور اپنی بداعمالیوں کا انکار کرنے کا ارادہ کریں گے۔ ﴿شَهِدَ عَلَيۡهِمۡ سَمۡعُهُمۡ وَاَبۡصَارُهُمۡ وَجُلُوۡدُهُمۡ ﴾ ’’تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف شہادت دیں گے۔‘‘ یہ خصوص کے بعد عموم ہے۔ ﴿بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ان کا ہر ہر عضو ان کے خلاف گواہی دے گا۔ ان کا ہر ہر عضو یہ کہے گا ’’میں نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا۔‘‘ پھر ان تین اعضاء کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ اکثر گناہوں کا ارتکاب یہی تین اعضاء کرتے ہیں، یا انھی کے سبب سے اکثر گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے۔ [21] جب یہ اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے تو یہ ان اعضاء پر سخت ناراض ہوں گے ﴿وَقَالُوۡا لِجُلُوۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے:‘‘ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہر عضو کی طرف سے گواہی واقع ہو گی جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں۔ ﴿لِمَ شَهِدۡتُّمۡ عَلَيۡنَا ﴾ ’’تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟‘‘ حالانکہ ہم تمھارا دفاع کیا کرتے تھے ﴿قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيۡۤ اَنۡطَقَ كُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’تووہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے قوتِ گویائی بخشی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے۔‘‘ لہٰذا گواہی دینے سے انکار کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں، اس کی مشیت کے سامنے کسی چیز کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ ﴿وَّهُوَ خَلَقَكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’اور اس نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا‘‘ جس طرح اس نے تمھاری ذوات و اجسام کو تخلیق فرمایا اسی طرح تمھاری صفات کو بھی تخلیق فرمایا اور گویائی بھی انھی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ ﴿وَّاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘‘ پھر وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد تخلیق اول کے ذریعے سے مرنے کے بعد زندہ کیے جانے پر استدلال ہو۔ جیسا کہ قرآن کریم کا طریقہ ہے۔ [22]﴿وَمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَتِرُوۡنَ اَنۡ يَّشۡهَدَ عَلَيۡكُمۡ سَمۡعُكُمۡ وَلَاۤ اَبۡصَارُؔكُمۡ وَلَا جُلُوۡدُكُمۡ ﴾ ’’اور (گناہ کرتے وقت) تم اس بات کے خوف سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمھارے کان اور تمھاری آنکھیں اور تمھارے چمڑے تمھارے خلاف شہادت دیں گے۔‘‘ یعنی تم اپنے اعضاء کی گواہی سے اپنے آپ کو چھپا سکتے ہو نہ اس سے بچ سکتے ہو۔ ﴿وَلٰكِنۡ ظَنَنۡتُمۡ ﴾ ’’لیکن تم یہ سمجھتے رہے‘‘ گناہوں کا ارتکاب کر کے ﴿اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعۡلَمُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ کو تمھارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں۔‘‘ اسی لیے تم سے یہ گناہ صادر ہوئے۔ [23] ان کا یہ گمان ان کی ہلاکت اور بدبختی کا سبب بنا۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَذٰلِكُمۡ ظَنُّكُمُ الَّذِيۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے متعلق کر رکھا تھا‘‘ یعنی تم نے اپنے رب کے بارے میں برا گمان کیا جو اس کے جلال کے لائق نہ تھا۔ ﴿اَرۡدٰىكُمۡ ﴾ ’’وہی تمھیں لے ڈوبا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں ہلاک کر دیا۔ ﴿فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’ لہٰذا تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے۔‘‘ تم نے اپنے اعمال کے سبب سے، جن کا موجب اپنے رب کے بارے میں تمھارا براگمان تھا، اپنے آپ کو، اپنے گھر والوں اور اپنے دین کو خسارے میں ڈالا۔ بنابریں تم عذاب اور بدبختی کے مستحق ٹھہرے اور تمھارے لیے عذاب جہنم میں دائمی خلود واجب ہوا، یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی تم سے علیحدہ نہ ہو گا۔ [24]﴿فَاِنۡ يَّصۡبِرُوۡا فَالنَّارُ مَثۡوًى لَّهُمۡ ﴾ ’’اب اگر یہ صبر کریں (یا نہ کریں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔‘‘ اس پر کسی بھی حالت میں صبر نہیں ہوگا۔ اگر کسی حال میں صبر کا امکان فرض کر لیا جائے تاہم آگ کے سامنے صبر کرنا ممکن نہیں اور اس آگ پر صبر کرنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے جس کی حرارت بے انتہا شدید ہے، اس کی حرارت دنیا کی آگ کی حرارت سے ستر گنا زیادہ ہے، اس کا پانی شدید گرم ہو گا، اس کی پیپ بے انتہا بدبودار ہو گی، جہنم کے ٹھنڈے طبقے کی ٹھنڈک کئی گنا زیادہ ہو گی، اس کی زنجیریں، طوق اور گرز بہت بڑے ہوں گے۔ اس کے داروغے نہایت درشت مزاج ہوں گے اور ان کے دلوں سے ہر قسم کا رحم نکل چکا ہو گا اور آخری چیز یہ کہ جبار کی سخت ناراضی ہو گی ، چنانچہ جب وہ اسے مدد کے لیے پکاریں گے تو وہ فرمائے گا:﴿اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون: 23؍108)’’دفع ہو جاؤ ، اسی میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔‘‘﴿وَاِنۡ يَّسۡتَعۡتِبُوۡا۠﴾ ’’اگر وہ توبہ کرنا چاہیں‘‘ یعنی اگر وہ عتاب الٰہی کا ازالہ چاہتے ہوئے درخواست کریں گے کہ انھیں دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے تاکہ وہ نئے سرے سے عمل کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو دور کر سکیں۔ ﴿فَمَا هُمۡ مِّنَ الۡمُعۡتَبِيۡنَ ﴾ ’’تو ان کی توبہ قبول نہ کی جائے گی۔‘‘ کیونکہ اس کا وقت گزر چکا تھا، اس گزرے ہوئے عرصے کے دوران ان کو غوروفکر کا موقع دیا گیا اور ان کے پاس برے انجام سے خبردار کرنے والے بھی آئے۔ ان کی حجت منقطع ہو گئی، نیز ان کی عتاب دور کرنے کی التجا بھی محض جھوٹ ہے۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28) ’’اگر ان کو لوٹا بھی دیا گیا تو یہ دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا اور بے شک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘
41:24

فَإِن يَصۡبِرُواْ فَٱلنَّارُ مَثۡوٗى لَّهُمۡۖ وَإِن يَسۡتَعۡتِبُواْ فَمَا هُم مِّنَ ٱلۡمُعۡتَبِينَ

اور جس دن (ہانک ہانک کر) جمع کیا جائے گا اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف، پس وہ رو کے جائیں گے(19) یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے اس کےپاس تو گواہی دیں گے ان کے خلاف ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی جلدیں ، ساتھ ان (عملوں) کے جو تھے وہ کرتے (20) اور وہ کہیں گے اپنی جلدوں سے کیوں گواہی دی تم نے ہمارے خلاف؟ تو وہ کہیں گی بلوایا ہمیں اللہ نے جس نے بلوایا ہر چیز کو اور اسی نے پیدا کیا تمھیں پہلی مرتبہ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (21) اور نہیں تھے تم پردہ کرتے اس(خوف) سے کہ گواہی دیں گے تمھارے خلاف تمھارے کان اور نہ تمھاری آنکھیں اور نہ تمھاری جلدیں اورلیکن گمان کیا تم نے کہ بلاشبہ اللہ نہیں جانتا بہت سے ان عملوں کو جو تم کرتے (تھے)(22) اور یہ تمھارا گمان وہ جو گمان کیا تم نے اپنے رب کے بارے میں، اسی نے ہلاک کیا تم کو، پس ہو گئے تم خسارہ پانے والوں میں سے (23) پس اگر وہ صبر کریں تو بھی آگ ہی ٹھکانا ہے ان کے لیے ، اور اگر وہ معافی طلب کریں گے تو نہیں ہوں گے وہ معاف کیے گئے لوگوں میں سے (24) [19] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دشمنوں کے بارے میں خبر دیتا ہے جنھوں نے اس کے ساتھ اور اس کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب اور ان کے خلاف جنگ کی، کہ قیامت کے روز ان کا کتنا برا حال ہو گا، جب ان کو اکٹھا کیا جائے گا۔ ﴿اِلَى النَّارِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’آگ کی طرف، پس وہ روکے جائیں گے۔‘‘ ان کے پہلے شخص کو آخری شخص کے آنے تک روکے رکھا جائے گا اور آخری شخص پہلے شخص کی پیروی کرے گا، پھر نہایت سختی کے ساتھ جہنم کی طرف ہانکا جائے گا وہ جہنم سے بچ نہیں سکیں گے وہ اپنی مددخود کر سکیں گے نہ ان کی مدد کی جا سکے گی۔ [20]﴿حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوۡهَا ﴾ یعنی جب وہ سب جہنم میں وارد ہوں گے اور اپنی بداعمالیوں کا انکار کرنے کا ارادہ کریں گے۔ ﴿شَهِدَ عَلَيۡهِمۡ سَمۡعُهُمۡ وَاَبۡصَارُهُمۡ وَجُلُوۡدُهُمۡ ﴾ ’’تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف شہادت دیں گے۔‘‘ یہ خصوص کے بعد عموم ہے۔ ﴿بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ان کا ہر ہر عضو ان کے خلاف گواہی دے گا۔ ان کا ہر ہر عضو یہ کہے گا ’’میں نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا۔‘‘ پھر ان تین اعضاء کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ اکثر گناہوں کا ارتکاب یہی تین اعضاء کرتے ہیں، یا انھی کے سبب سے اکثر گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے۔ [21] جب یہ اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے تو یہ ان اعضاء پر سخت ناراض ہوں گے ﴿وَقَالُوۡا لِجُلُوۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے:‘‘ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہر عضو کی طرف سے گواہی واقع ہو گی جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں۔ ﴿لِمَ شَهِدۡتُّمۡ عَلَيۡنَا ﴾ ’’تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟‘‘ حالانکہ ہم تمھارا دفاع کیا کرتے تھے ﴿قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيۡۤ اَنۡطَقَ كُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’تووہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے قوتِ گویائی بخشی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے۔‘‘ لہٰذا گواہی دینے سے انکار کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں، اس کی مشیت کے سامنے کسی چیز کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ ﴿وَّهُوَ خَلَقَكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’اور اس نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا‘‘ جس طرح اس نے تمھاری ذوات و اجسام کو تخلیق فرمایا اسی طرح تمھاری صفات کو بھی تخلیق فرمایا اور گویائی بھی انھی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ ﴿وَّاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘‘ پھر وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد تخلیق اول کے ذریعے سے مرنے کے بعد زندہ کیے جانے پر استدلال ہو۔ جیسا کہ قرآن کریم کا طریقہ ہے۔ [22]﴿وَمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَتِرُوۡنَ اَنۡ يَّشۡهَدَ عَلَيۡكُمۡ سَمۡعُكُمۡ وَلَاۤ اَبۡصَارُؔكُمۡ وَلَا جُلُوۡدُكُمۡ ﴾ ’’اور (گناہ کرتے وقت) تم اس بات کے خوف سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمھارے کان اور تمھاری آنکھیں اور تمھارے چمڑے تمھارے خلاف شہادت دیں گے۔‘‘ یعنی تم اپنے اعضاء کی گواہی سے اپنے آپ کو چھپا سکتے ہو نہ اس سے بچ سکتے ہو۔ ﴿وَلٰكِنۡ ظَنَنۡتُمۡ ﴾ ’’لیکن تم یہ سمجھتے رہے‘‘ گناہوں کا ارتکاب کر کے ﴿اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعۡلَمُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ کو تمھارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں۔‘‘ اسی لیے تم سے یہ گناہ صادر ہوئے۔ [23] ان کا یہ گمان ان کی ہلاکت اور بدبختی کا سبب بنا۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَذٰلِكُمۡ ظَنُّكُمُ الَّذِيۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے متعلق کر رکھا تھا‘‘ یعنی تم نے اپنے رب کے بارے میں برا گمان کیا جو اس کے جلال کے لائق نہ تھا۔ ﴿اَرۡدٰىكُمۡ ﴾ ’’وہی تمھیں لے ڈوبا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں ہلاک کر دیا۔ ﴿فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’ لہٰذا تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے۔‘‘ تم نے اپنے اعمال کے سبب سے، جن کا موجب اپنے رب کے بارے میں تمھارا براگمان تھا، اپنے آپ کو، اپنے گھر والوں اور اپنے دین کو خسارے میں ڈالا۔ بنابریں تم عذاب اور بدبختی کے مستحق ٹھہرے اور تمھارے لیے عذاب جہنم میں دائمی خلود واجب ہوا، یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی تم سے علیحدہ نہ ہو گا۔ [24]﴿فَاِنۡ يَّصۡبِرُوۡا فَالنَّارُ مَثۡوًى لَّهُمۡ ﴾ ’’اب اگر یہ صبر کریں (یا نہ کریں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔‘‘ اس پر کسی بھی حالت میں صبر نہیں ہوگا۔ اگر کسی حال میں صبر کا امکان فرض کر لیا جائے تاہم آگ کے سامنے صبر کرنا ممکن نہیں اور اس آگ پر صبر کرنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے جس کی حرارت بے انتہا شدید ہے، اس کی حرارت دنیا کی آگ کی حرارت سے ستر گنا زیادہ ہے، اس کا پانی شدید گرم ہو گا، اس کی پیپ بے انتہا بدبودار ہو گی، جہنم کے ٹھنڈے طبقے کی ٹھنڈک کئی گنا زیادہ ہو گی، اس کی زنجیریں، طوق اور گرز بہت بڑے ہوں گے۔ اس کے داروغے نہایت درشت مزاج ہوں گے اور ان کے دلوں سے ہر قسم کا رحم نکل چکا ہو گا اور آخری چیز یہ کہ جبار کی سخت ناراضی ہو گی ، چنانچہ جب وہ اسے مدد کے لیے پکاریں گے تو وہ فرمائے گا:﴿اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون: 23؍108)’’دفع ہو جاؤ ، اسی میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔‘‘﴿وَاِنۡ يَّسۡتَعۡتِبُوۡا۠﴾ ’’اگر وہ توبہ کرنا چاہیں‘‘ یعنی اگر وہ عتاب الٰہی کا ازالہ چاہتے ہوئے درخواست کریں گے کہ انھیں دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے تاکہ وہ نئے سرے سے عمل کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو دور کر سکیں۔ ﴿فَمَا هُمۡ مِّنَ الۡمُعۡتَبِيۡنَ ﴾ ’’تو ان کی توبہ قبول نہ کی جائے گی۔‘‘ کیونکہ اس کا وقت گزر چکا تھا، اس گزرے ہوئے عرصے کے دوران ان کو غوروفکر کا موقع دیا گیا اور ان کے پاس برے انجام سے خبردار کرنے والے بھی آئے۔ ان کی حجت منقطع ہو گئی، نیز ان کی عتاب دور کرنے کی التجا بھی محض جھوٹ ہے۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28) ’’اگر ان کو لوٹا بھی دیا گیا تو یہ دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا اور بے شک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘
41:25

۞وَقَيَّضۡنَا لَهُمۡ قُرَنَآءَ فَزَيَّنُواْ لَهُم مَّا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ وَحَقَّ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقَوۡلُ فِيٓ أُمَمٖ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِم مِّنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِۖ إِنَّهُمۡ كَانُواْ خَٰسِرِينَ

اور مقرر کر دیے ہم نے ان کے لیے کچھ ہم نشین، پس اچھے کر دکھائے انھوں نے ان کے لیے و ہ جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور ثابت ہو گئی ان پر بات ساتھ ان امتوں کے جو گزر چکیں ان سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے، بلاشبہ تھے وہ خسارہ پانے والوں میں سے (25) [25] یعنی ہم نے حق کا انکار کرنے والے ان ظالموں کے لیے ﴿قُرَنَآءَ ﴾ ’’ہم نشین‘‘ شیاطین کو ساتھی مقرر کر دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَمۡ تَرَ اَنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ تَؤُزُّهُمۡ اَزًّا﴾(مریم: 19؍83) ’’کیا آپ دیکھتے نہیں ہم کفار کی طرف شیاطین کو بھیجتے ہیں جو انھیں برائی پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ انھیں گناہ کا ارتکاب کرنے کے لیے بے قرار رکھتے ہیں اور ان کو بہکاتے رہتے ہیں۔اس کا سبب یہ ہے کہ ان شیاطین نے مزین کردیا۔﴿ لَهُمۡ مَّا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ ﴾ ’’ان کے لیے جو ان کے آگے تھا اور جو ان کے پیچھے تھا۔‘‘ پس ان شیاطین نے دنیا اور اس کی خوبصورتی کو ان کی آنکھوں کے سامنے مزین کر دیا اور انھیں اس کی لذات و شہوات محرمہ کے حوالے کر دیا، یہاں تک کہ وہ فتنے میں مبتلا ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا اقدام کیا اور جیسے چاہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے خلاف جنگ کی راہ چل نکلے اور انھوں نے آخرت کو ان سے دور کر دیا اور اس کی یاد کو فراموش کرا دیا۔ بسااوقات آخرت کے وقوع کے بارے میں ان کے دلوں میں شبہات پیدا کیے جس سے ان کے دلوں سے آخرت کا خوف چلا گیا اور وہ ان کو لے کر کفر، بدعات اور معاصی کی راہوں پر گامزن ہو گئے۔اللہ تعالیٰ کا ان مکذبینِ حق پر شیاطین کو مسلط کرنا، ان کی اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی آیات سے روگردانی اور ان کے انکار حق کے سبب سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَنۡ يَّعۡشُ عَنۡ ذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ نُقَيِّضۡ لَهٗ شَيۡطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيۡنٌ۰۰۳۶ وَاِنَّهُمۡ لَيَصُدُّوۡنَهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍36۔37)’’جو شخص رحمان کے ذکر سے غفلت برتتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں جو اس کا ساتھی ہوتا ہے، یہ شیاطین انھیں راہ راست پر چلنے سے روک دیتے ہیں اور یہ اپنی جگہ یہی سمجھتے ہیں کہ راہ راست پر چل رہے ہیں۔‘‘﴿وَحَقَّ عَلَيۡهِمُ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور ان پر حکم الٰہی ثابت ہوگیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا قول ان پر واجب ہو گیا اور اس کی قضاوقدر کا فیصلہ، عذاب کے ساتھ ان پر نازل ہو گیا۔ ﴿فِيۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ١ۚ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا خٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’جنوں اور انسانوں کی جماعتوں میں جو ان سے پہلے گزر چکیں (جن پر بھی اللہ کا وعدہ پورا ہوا) کہ بے شک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔‘‘ جو اپنے دین اور آخرت کے بارے میں گھاٹے میں پڑ گئے اور جو شخص گھاٹے میں پڑ جائے تو اسے ذلت ، اور عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
41:26

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَا تَسۡمَعُواْ لِهَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ وَٱلۡغَوۡاْ فِيهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُونَ

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہ سنو تم اس قرآن کو اور غل مچاؤ اس (کے پڑھنے کے وقت) میں تاکہ تم غالب آ جاؤ (26) پس البتہ ہم ضرور چکھائیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا عذاب سخت اور البتہ ہم ضرور بدلہ دیں گے ان کو برے عملوں کا جو تھےوہ کرتے(27) یہ بدلہ ہے اللہ کے دشمنوں کا آگ، ان کے لیے اس میں گھر ہے ہمیشہ کا، بدلہ اس کا جو تھے وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے(28) اور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اے ہمارے رب! دکھا ہم کو وہ دونوں (فریق) جنھوں نے گمراہ کیا تھا ہم کو جنوں اور انسانوں میں سے، کر دیں ہم انھیں نیچے اپنے قدموں کے تاکہ ہوں وہ سب سے نچلے لوگوں میں سے(29) [26] اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کے بارے میں کفار کی روگردانی اور اس روگردانی کے ضمن میں ان کی ایک دوسرے کو وصیت سے آگاہ فرماتا ہے: ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ ﴾ ’’اور کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو‘‘ یعنی اس قرآن کو سننے سے گریز کرو، اس کی طرف کوئی التفات کرو نہ اس کے لانے والے کی بات کی طرف کوئی توجہ دو۔ اگر تمھیں اس کے سننے کا کبھی اتفاق ہو یا اس کے احکام سننے کی دعوت دی جائے تو اس کی مخالفت کرو۔ ﴿وَالۡغَوۡا فِيۡهِ ﴾ ’’(جب پڑھا جائے تو)خوب شور مچاؤ‘‘ یعنی ایسی باتیں کرو جن کا کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ الٹا نقصان ہو۔ جہاں تک تمھارے بس میں ہو کسی کو اپنے ساتھ، قرآن کی بات کرنے اور اس کے الفاظ یا اس کے معانی کی تلاوت کی اجازت نہ دو۔ اس قرآن مجید سے اعراض کے بارے میں یہ ان کی زبانِ حال اور زبانِ مقال ہے۔﴿لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ اگر تم نے یہ سب کچھ کیا ﴿تَغۡلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم غالب رہو۔‘‘ یہ دشمنوں کی طرف سے گواہی ہے اور واضح ترین حق وہ ہوتا ہے جس کی گواہی خود دشمن دیں۔ کیونکہ انھوں نے اس شخص پر جو حق لے کر آیا، اپنے غلبے کا حکم صرف اعراض اور روگردانی کے حال میں ایک دوسرے کو روگردانی کی وصیت کی صورت میں لگایا۔ ان کے کلام کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ اس کی تلاوت میں خلل نہ ڈالیں اور اسے غور سے سنیں تو وہ کبھی غالب نہیں آسکتے کیونکہ حق ہمیشہ غالب رہتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہو سکتا۔ اس حقیقت کو اصحاب حق اور اعدائے حق سب جانتے ہیں۔ [27] چونکہ یہ سب کچھ ان کے ظلم اور عناد کے باعث تھا، اس لیے ان کی ہدایت کی توقع باقی نہیں رہی اب ان کے لیے عذاب اور سزا باقی رہ گئی تھی۔ بنابریں فرمایا:﴿فَلَنُذِيۡقَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَذَابًا شَدِيۡدًا١ۙ وَّلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’پس ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی، جو وہ کرتے تھے، سزا دیں گے۔‘‘ اس سے مراد کفر اور معاصی ہے اور یہ ان کے بدترین اعمال ہیں۔ یہ عذاب کی سزا ان کے شرک کی جزا ہے۔ ﴿وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18/49) ’’اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ [28]﴿ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعۡدَآءِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے دشمنوں کی یہی سزا ہے‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کی اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے ساتھ جنگ کی۔ ان کی جزا ان کے کفر، تکذیب، مجادلہ اور جنگ کے سبب سے ﴿النَّارُ١ۚ لَهُمۡ فِيۡهَا دَارُ الۡخُلۡدِ ﴾ ’’جہنم کی آگ (ہے) جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے۔‘‘ یعنی وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے گھڑی بھر کے لیے ان سے عذاب دور نہیں ہو گا اور نہ ان کی مدد ہی کی جائے گی۔ ﴿جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ اس بات کی سزا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔‘‘ کیونکہ یہ نہایت واضح آیات اور قطعی دلائل ہیں جو یقین کا فائدہ دیتے ہیں، لہٰذا ان کا انکار کرنا سب سے بڑا عناد اور سب سے بڑا ظلم ہے۔ [29]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور کافروں نے کہا‘‘ اس سے مراد متبعین ہیں اور اس کی دلیل بعد میں آنے والا کلام ہے یعنی یہ کفار ان لوگوں پر سخت غصے کی وجہ سے یہ بات کہیں گے جنھوں نے ان کو گمراہ کیا ﴿رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَيۡنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ لوگ دکھلادے جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی جن و انس کی دونوں اصناف، جنھوں نے گمراہی اور عذاب کی طرف ہمیں دعوت دی اور اس راہ میں ہماری قیادت کی، وہ ہمیں دکھا۔ ﴿نَجۡعَلۡهُمَا تَحۡتَ اَقۡدَامِنَا لِيَكُوۡنَا مِنَ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’ہم انھیں اپنے پاؤ ں تلے روند ڈالیں، تاکہ وہ سب سے زیادہ ذلیل و خوار لوگوں میں شمار ہوں۔‘‘ انھوں نے ہمیں گمراہ کیا، ہمیں فتنے میں مبتلا کیا اور ہمیں جہنم میں ڈالنے کا سبب بنے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جہنمی ایک دوسرے کے خلاف سخت بغض رکھیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔
41:27

فَلَنُذِيقَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ عَذَابٗا شَدِيدٗا وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ أَسۡوَأَ ٱلَّذِي كَانُواْ يَعۡمَلُونَ

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہ سنو تم اس قرآن کو اور غل مچاؤ اس (کے پڑھنے کے وقت) میں تاکہ تم غالب آ جاؤ (26) پس البتہ ہم ضرور چکھائیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا عذاب سخت اور البتہ ہم ضرور بدلہ دیں گے ان کو برے عملوں کا جو تھےوہ کرتے(27) یہ بدلہ ہے اللہ کے دشمنوں کا آگ، ان کے لیے اس میں گھر ہے ہمیشہ کا، بدلہ اس کا جو تھے وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے(28) اور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اے ہمارے رب! دکھا ہم کو وہ دونوں (فریق) جنھوں نے گمراہ کیا تھا ہم کو جنوں اور انسانوں میں سے، کر دیں ہم انھیں نیچے اپنے قدموں کے تاکہ ہوں وہ سب سے نچلے لوگوں میں سے(29) [26] اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کے بارے میں کفار کی روگردانی اور اس روگردانی کے ضمن میں ان کی ایک دوسرے کو وصیت سے آگاہ فرماتا ہے: ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ ﴾ ’’اور کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو‘‘ یعنی اس قرآن کو سننے سے گریز کرو، اس کی طرف کوئی التفات کرو نہ اس کے لانے والے کی بات کی طرف کوئی توجہ دو۔ اگر تمھیں اس کے سننے کا کبھی اتفاق ہو یا اس کے احکام سننے کی دعوت دی جائے تو اس کی مخالفت کرو۔ ﴿وَالۡغَوۡا فِيۡهِ ﴾ ’’(جب پڑھا جائے تو)خوب شور مچاؤ‘‘ یعنی ایسی باتیں کرو جن کا کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ الٹا نقصان ہو۔ جہاں تک تمھارے بس میں ہو کسی کو اپنے ساتھ، قرآن کی بات کرنے اور اس کے الفاظ یا اس کے معانی کی تلاوت کی اجازت نہ دو۔ اس قرآن مجید سے اعراض کے بارے میں یہ ان کی زبانِ حال اور زبانِ مقال ہے۔﴿لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ اگر تم نے یہ سب کچھ کیا ﴿تَغۡلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم غالب رہو۔‘‘ یہ دشمنوں کی طرف سے گواہی ہے اور واضح ترین حق وہ ہوتا ہے جس کی گواہی خود دشمن دیں۔ کیونکہ انھوں نے اس شخص پر جو حق لے کر آیا، اپنے غلبے کا حکم صرف اعراض اور روگردانی کے حال میں ایک دوسرے کو روگردانی کی وصیت کی صورت میں لگایا۔ ان کے کلام کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ اس کی تلاوت میں خلل نہ ڈالیں اور اسے غور سے سنیں تو وہ کبھی غالب نہیں آسکتے کیونکہ حق ہمیشہ غالب رہتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہو سکتا۔ اس حقیقت کو اصحاب حق اور اعدائے حق سب جانتے ہیں۔ [27] چونکہ یہ سب کچھ ان کے ظلم اور عناد کے باعث تھا، اس لیے ان کی ہدایت کی توقع باقی نہیں رہی اب ان کے لیے عذاب اور سزا باقی رہ گئی تھی۔ بنابریں فرمایا:﴿فَلَنُذِيۡقَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَذَابًا شَدِيۡدًا١ۙ وَّلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’پس ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی، جو وہ کرتے تھے، سزا دیں گے۔‘‘ اس سے مراد کفر اور معاصی ہے اور یہ ان کے بدترین اعمال ہیں۔ یہ عذاب کی سزا ان کے شرک کی جزا ہے۔ ﴿وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18/49) ’’اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ [28]﴿ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعۡدَآءِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے دشمنوں کی یہی سزا ہے‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کی اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے ساتھ جنگ کی۔ ان کی جزا ان کے کفر، تکذیب، مجادلہ اور جنگ کے سبب سے ﴿النَّارُ١ۚ لَهُمۡ فِيۡهَا دَارُ الۡخُلۡدِ ﴾ ’’جہنم کی آگ (ہے) جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے۔‘‘ یعنی وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے گھڑی بھر کے لیے ان سے عذاب دور نہیں ہو گا اور نہ ان کی مدد ہی کی جائے گی۔ ﴿جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ اس بات کی سزا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔‘‘ کیونکہ یہ نہایت واضح آیات اور قطعی دلائل ہیں جو یقین کا فائدہ دیتے ہیں، لہٰذا ان کا انکار کرنا سب سے بڑا عناد اور سب سے بڑا ظلم ہے۔ [29]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور کافروں نے کہا‘‘ اس سے مراد متبعین ہیں اور اس کی دلیل بعد میں آنے والا کلام ہے یعنی یہ کفار ان لوگوں پر سخت غصے کی وجہ سے یہ بات کہیں گے جنھوں نے ان کو گمراہ کیا ﴿رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَيۡنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ لوگ دکھلادے جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی جن و انس کی دونوں اصناف، جنھوں نے گمراہی اور عذاب کی طرف ہمیں دعوت دی اور اس راہ میں ہماری قیادت کی، وہ ہمیں دکھا۔ ﴿نَجۡعَلۡهُمَا تَحۡتَ اَقۡدَامِنَا لِيَكُوۡنَا مِنَ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’ہم انھیں اپنے پاؤ ں تلے روند ڈالیں، تاکہ وہ سب سے زیادہ ذلیل و خوار لوگوں میں شمار ہوں۔‘‘ انھوں نے ہمیں گمراہ کیا، ہمیں فتنے میں مبتلا کیا اور ہمیں جہنم میں ڈالنے کا سبب بنے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جہنمی ایک دوسرے کے خلاف سخت بغض رکھیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔
41:28

ذَٰلِكَ جَزَآءُ أَعۡدَآءِ ٱللَّهِ ٱلنَّارُۖ لَهُمۡ فِيهَا دَارُ ٱلۡخُلۡدِ جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يَجۡحَدُونَ

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہ سنو تم اس قرآن کو اور غل مچاؤ اس (کے پڑھنے کے وقت) میں تاکہ تم غالب آ جاؤ (26) پس البتہ ہم ضرور چکھائیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا عذاب سخت اور البتہ ہم ضرور بدلہ دیں گے ان کو برے عملوں کا جو تھےوہ کرتے(27) یہ بدلہ ہے اللہ کے دشمنوں کا آگ، ان کے لیے اس میں گھر ہے ہمیشہ کا، بدلہ اس کا جو تھے وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے(28) اور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اے ہمارے رب! دکھا ہم کو وہ دونوں (فریق) جنھوں نے گمراہ کیا تھا ہم کو جنوں اور انسانوں میں سے، کر دیں ہم انھیں نیچے اپنے قدموں کے تاکہ ہوں وہ سب سے نچلے لوگوں میں سے(29) [26] اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کے بارے میں کفار کی روگردانی اور اس روگردانی کے ضمن میں ان کی ایک دوسرے کو وصیت سے آگاہ فرماتا ہے: ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ ﴾ ’’اور کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو‘‘ یعنی اس قرآن کو سننے سے گریز کرو، اس کی طرف کوئی التفات کرو نہ اس کے لانے والے کی بات کی طرف کوئی توجہ دو۔ اگر تمھیں اس کے سننے کا کبھی اتفاق ہو یا اس کے احکام سننے کی دعوت دی جائے تو اس کی مخالفت کرو۔ ﴿وَالۡغَوۡا فِيۡهِ ﴾ ’’(جب پڑھا جائے تو)خوب شور مچاؤ‘‘ یعنی ایسی باتیں کرو جن کا کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ الٹا نقصان ہو۔ جہاں تک تمھارے بس میں ہو کسی کو اپنے ساتھ، قرآن کی بات کرنے اور اس کے الفاظ یا اس کے معانی کی تلاوت کی اجازت نہ دو۔ اس قرآن مجید سے اعراض کے بارے میں یہ ان کی زبانِ حال اور زبانِ مقال ہے۔﴿لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ اگر تم نے یہ سب کچھ کیا ﴿تَغۡلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم غالب رہو۔‘‘ یہ دشمنوں کی طرف سے گواہی ہے اور واضح ترین حق وہ ہوتا ہے جس کی گواہی خود دشمن دیں۔ کیونکہ انھوں نے اس شخص پر جو حق لے کر آیا، اپنے غلبے کا حکم صرف اعراض اور روگردانی کے حال میں ایک دوسرے کو روگردانی کی وصیت کی صورت میں لگایا۔ ان کے کلام کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ اس کی تلاوت میں خلل نہ ڈالیں اور اسے غور سے سنیں تو وہ کبھی غالب نہیں آسکتے کیونکہ حق ہمیشہ غالب رہتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہو سکتا۔ اس حقیقت کو اصحاب حق اور اعدائے حق سب جانتے ہیں۔ [27] چونکہ یہ سب کچھ ان کے ظلم اور عناد کے باعث تھا، اس لیے ان کی ہدایت کی توقع باقی نہیں رہی اب ان کے لیے عذاب اور سزا باقی رہ گئی تھی۔ بنابریں فرمایا:﴿فَلَنُذِيۡقَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَذَابًا شَدِيۡدًا١ۙ وَّلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’پس ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی، جو وہ کرتے تھے، سزا دیں گے۔‘‘ اس سے مراد کفر اور معاصی ہے اور یہ ان کے بدترین اعمال ہیں۔ یہ عذاب کی سزا ان کے شرک کی جزا ہے۔ ﴿وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18/49) ’’اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ [28]﴿ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعۡدَآءِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے دشمنوں کی یہی سزا ہے‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کی اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے ساتھ جنگ کی۔ ان کی جزا ان کے کفر، تکذیب، مجادلہ اور جنگ کے سبب سے ﴿النَّارُ١ۚ لَهُمۡ فِيۡهَا دَارُ الۡخُلۡدِ ﴾ ’’جہنم کی آگ (ہے) جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے۔‘‘ یعنی وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے گھڑی بھر کے لیے ان سے عذاب دور نہیں ہو گا اور نہ ان کی مدد ہی کی جائے گی۔ ﴿جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ اس بات کی سزا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔‘‘ کیونکہ یہ نہایت واضح آیات اور قطعی دلائل ہیں جو یقین کا فائدہ دیتے ہیں، لہٰذا ان کا انکار کرنا سب سے بڑا عناد اور سب سے بڑا ظلم ہے۔ [29]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور کافروں نے کہا‘‘ اس سے مراد متبعین ہیں اور اس کی دلیل بعد میں آنے والا کلام ہے یعنی یہ کفار ان لوگوں پر سخت غصے کی وجہ سے یہ بات کہیں گے جنھوں نے ان کو گمراہ کیا ﴿رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَيۡنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ لوگ دکھلادے جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی جن و انس کی دونوں اصناف، جنھوں نے گمراہی اور عذاب کی طرف ہمیں دعوت دی اور اس راہ میں ہماری قیادت کی، وہ ہمیں دکھا۔ ﴿نَجۡعَلۡهُمَا تَحۡتَ اَقۡدَامِنَا لِيَكُوۡنَا مِنَ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’ہم انھیں اپنے پاؤ ں تلے روند ڈالیں، تاکہ وہ سب سے زیادہ ذلیل و خوار لوگوں میں شمار ہوں۔‘‘ انھوں نے ہمیں گمراہ کیا، ہمیں فتنے میں مبتلا کیا اور ہمیں جہنم میں ڈالنے کا سبب بنے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جہنمی ایک دوسرے کے خلاف سخت بغض رکھیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔
41:29

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ رَبَّنَآ أَرِنَا ٱلَّذَيۡنِ أَضَلَّانَا مِنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ نَجۡعَلۡهُمَا تَحۡتَ أَقۡدَامِنَا لِيَكُونَا مِنَ ٱلۡأَسۡفَلِينَ

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہ سنو تم اس قرآن کو اور غل مچاؤ اس (کے پڑھنے کے وقت) میں تاکہ تم غالب آ جاؤ (26) پس البتہ ہم ضرور چکھائیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا عذاب سخت اور البتہ ہم ضرور بدلہ دیں گے ان کو برے عملوں کا جو تھےوہ کرتے(27) یہ بدلہ ہے اللہ کے دشمنوں کا آگ، ان کے لیے اس میں گھر ہے ہمیشہ کا، بدلہ اس کا جو تھے وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے(28) اور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اے ہمارے رب! دکھا ہم کو وہ دونوں (فریق) جنھوں نے گمراہ کیا تھا ہم کو جنوں اور انسانوں میں سے، کر دیں ہم انھیں نیچے اپنے قدموں کے تاکہ ہوں وہ سب سے نچلے لوگوں میں سے(29) [26] اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کے بارے میں کفار کی روگردانی اور اس روگردانی کے ضمن میں ان کی ایک دوسرے کو وصیت سے آگاہ فرماتا ہے: ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ ﴾ ’’اور کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو‘‘ یعنی اس قرآن کو سننے سے گریز کرو، اس کی طرف کوئی التفات کرو نہ اس کے لانے والے کی بات کی طرف کوئی توجہ دو۔ اگر تمھیں اس کے سننے کا کبھی اتفاق ہو یا اس کے احکام سننے کی دعوت دی جائے تو اس کی مخالفت کرو۔ ﴿وَالۡغَوۡا فِيۡهِ ﴾ ’’(جب پڑھا جائے تو)خوب شور مچاؤ‘‘ یعنی ایسی باتیں کرو جن کا کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ الٹا نقصان ہو۔ جہاں تک تمھارے بس میں ہو کسی کو اپنے ساتھ، قرآن کی بات کرنے اور اس کے الفاظ یا اس کے معانی کی تلاوت کی اجازت نہ دو۔ اس قرآن مجید سے اعراض کے بارے میں یہ ان کی زبانِ حال اور زبانِ مقال ہے۔﴿لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ اگر تم نے یہ سب کچھ کیا ﴿تَغۡلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم غالب رہو۔‘‘ یہ دشمنوں کی طرف سے گواہی ہے اور واضح ترین حق وہ ہوتا ہے جس کی گواہی خود دشمن دیں۔ کیونکہ انھوں نے اس شخص پر جو حق لے کر آیا، اپنے غلبے کا حکم صرف اعراض اور روگردانی کے حال میں ایک دوسرے کو روگردانی کی وصیت کی صورت میں لگایا۔ ان کے کلام کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ اس کی تلاوت میں خلل نہ ڈالیں اور اسے غور سے سنیں تو وہ کبھی غالب نہیں آسکتے کیونکہ حق ہمیشہ غالب رہتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہو سکتا۔ اس حقیقت کو اصحاب حق اور اعدائے حق سب جانتے ہیں۔ [27] چونکہ یہ سب کچھ ان کے ظلم اور عناد کے باعث تھا، اس لیے ان کی ہدایت کی توقع باقی نہیں رہی اب ان کے لیے عذاب اور سزا باقی رہ گئی تھی۔ بنابریں فرمایا:﴿فَلَنُذِيۡقَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَذَابًا شَدِيۡدًا١ۙ وَّلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’پس ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی، جو وہ کرتے تھے، سزا دیں گے۔‘‘ اس سے مراد کفر اور معاصی ہے اور یہ ان کے بدترین اعمال ہیں۔ یہ عذاب کی سزا ان کے شرک کی جزا ہے۔ ﴿وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18/49) ’’اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ [28]﴿ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعۡدَآءِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے دشمنوں کی یہی سزا ہے‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کی اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے ساتھ جنگ کی۔ ان کی جزا ان کے کفر، تکذیب، مجادلہ اور جنگ کے سبب سے ﴿النَّارُ١ۚ لَهُمۡ فِيۡهَا دَارُ الۡخُلۡدِ ﴾ ’’جہنم کی آگ (ہے) جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے۔‘‘ یعنی وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے گھڑی بھر کے لیے ان سے عذاب دور نہیں ہو گا اور نہ ان کی مدد ہی کی جائے گی۔ ﴿جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ اس بات کی سزا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔‘‘ کیونکہ یہ نہایت واضح آیات اور قطعی دلائل ہیں جو یقین کا فائدہ دیتے ہیں، لہٰذا ان کا انکار کرنا سب سے بڑا عناد اور سب سے بڑا ظلم ہے۔ [29]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور کافروں نے کہا‘‘ اس سے مراد متبعین ہیں اور اس کی دلیل بعد میں آنے والا کلام ہے یعنی یہ کفار ان لوگوں پر سخت غصے کی وجہ سے یہ بات کہیں گے جنھوں نے ان کو گمراہ کیا ﴿رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَيۡنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ لوگ دکھلادے جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی جن و انس کی دونوں اصناف، جنھوں نے گمراہی اور عذاب کی طرف ہمیں دعوت دی اور اس راہ میں ہماری قیادت کی، وہ ہمیں دکھا۔ ﴿نَجۡعَلۡهُمَا تَحۡتَ اَقۡدَامِنَا لِيَكُوۡنَا مِنَ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’ہم انھیں اپنے پاؤ ں تلے روند ڈالیں، تاکہ وہ سب سے زیادہ ذلیل و خوار لوگوں میں شمار ہوں۔‘‘ انھوں نے ہمیں گمراہ کیا، ہمیں فتنے میں مبتلا کیا اور ہمیں جہنم میں ڈالنے کا سبب بنے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جہنمی ایک دوسرے کے خلاف سخت بغض رکھیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔
41:30

إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسۡتَقَٰمُواْ تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ أَلَّا تَخَافُواْ وَلَا تَحۡزَنُواْ وَأَبۡشِرُواْ بِٱلۡجَنَّةِ ٱلَّتِي كُنتُمۡ تُوعَدُونَ

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کہا، ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر جم گئے، اترتے ہیں ان پر فرشتے(یہ کہتے ہوئے)کہ نہ خوف کرو تم اور نہ غم کھاؤ اورخوش ہو جاؤ تم ساتھ جنت کے، وہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (30) ہم دوست ہیں تمھارے زندگانی ٔدنیا میں اور آخرت میں بھی اور تمھارے لیے ہے اس میں جو چاہیں گے تمھارے جی اور تمھارے لیے ہے اس میں جو تم مانگو گے (31) بطور مہمانی کے بڑے بخشنے والے نہایت مہربان کی طرف سے (32) [30] اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کا ذکر فرماتا ہے اور اس ضمن میں اہل ایمان میں نشاط پیدا کرتا اور انھیں ان کی اقتدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا ﴾ ’’بے شک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے ، پھر وہ اس پر ڈٹ گئے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اعتراف کر کے اس کا اعلان کیا، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر راضی ہوئے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا ، پھر علم و عمل کے اعتبار سے راہ راست پر استقامت کے ساتھ گامزن ہوئے۔ ان کے لیے دنیا و آخرت میں خوشخبری ہے۔ ﴿تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ ’’ان پر (نہایت عزت و اکرام والے) فرشتے نازل ہوتے ہیں‘‘ یعنی ان کا نزول بتکرار ہوتا ہے۔ وہ ان کے پاس حاضر ہو کر خوشخبری دیتے ہیں: ﴿اَلَّا تَخَافُوۡا ﴾ ’’نہ ڈرو‘‘ یعنی اس معاملے پر خوف نہ کھاؤ جو مستقبل میں تمھیں پیش آنے والا ہے۔ ﴿وَ لَا تَحۡزَنُوۡا ﴾ ’’اور نہ غمگین رہو‘‘ یعنی جو کچھ گزر چکا ہے اس پر غم نہ کھاؤ ۔ گویا ماضی اور مستقبل میں ان سے کسی بھی ناگوار امر کی نفی کر دی گئی ہے۔ ﴿وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’اور تمھیں اس جنت کی بشارت ہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یہ جنت تمھارے لیے واجب ہو گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو پورا ہو کر رہے گا۔ [31] وہ ثابت قدمی کے لیے ان کی ہمت بڑھاتے اور ان کو خوشخبری دیتے ہوئے یہ بھی کہیں گے: ﴿نَحۡنُ اَوۡلِيٰٓؤُكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’ہم تمھارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔‘‘ وہ دنیا کے اندر انھیں بھلائی کی ترغیب دیتے ہیں اور بھلائی کو ان کے سامنے مزین کرتے ہیں۔ وہ ان کو برائی سے ڈراتے ہیں اور ان کے دلوں میں برائی کو قبیح بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں اور مصائب اور مقاماتِ خوف میں ان کو ثابت قدم رکھتے ہیں۔ خاص طور پر موت کی سختیوں، قبر کی تاریکیوں، قیامت کے روز پل صراط کے ہولناک منظر کے وقت ان کی ہمت بڑھاتے ہیں اور جنت کے اندر ان کے رب کی طرف سے عطا کردہ اکرام و تکریم پر انھیں مبارک باد دیتے اور ہر دروازے میں سے داخل ہوتے ہوئے ان سے کہیں گے:﴿سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد: 13؍24) ’’تم پر سلامتی ہے، دنیا میں تمھارے صبر کے سبب سے، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر!‘‘ نیز وہ ان سے یہ بھی کہیں گے:﴿وَلَكُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’اور اس میں تمھارے لیے‘‘ یعنی جنت کے اندر ﴿ مَا تَشۡتَهِيۡۤ اَنۡفُسُكُمۡ ﴾ ’’جو چیز تمھارے نفس چاہیں گے‘‘ وہ تیار اور مہیا ہو گی۔ ﴿وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَدَّعُوۡنَ﴾ ’’اور تمھارے لیے ہوگا جو کچھ تم طلب کرو گے‘‘ یعنی لذات و شہوات میں سے جس چیز کا تم ارادہ کرو گے تمھیں حاصل ہو گی۔ ان لذات کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے قلب میں اس کا خیال گزرا ہے۔ [32]﴿نُزُلًا ﴾ یہ بے پایاں ثواب اور ہمیشہ رہنے والی نعمت، مہمانی اور ضیافت ہے ﴿مِّنۡ غَفُوۡرٍ ﴾ ’’بخش دینے والی ہستی کی طرف سے‘‘ جس نے تمھارے گناہوں کو بخش دیا ہے۔ ﴿رَّحِيۡمٍ ﴾ ’’اور بہت ہی رحم کرنے والی ہستی کی طرف سے‘‘ جس نے تمھیں نیکیوں کی توفیق دی ، پھر ان نیکیوں کو قبول فرمایا۔ اس نے اپنی مغفرت سے برائی کو تم سے دور کیا اور اپنی رحمت سے تمھارا مطلوب تمھیں عطا کیا۔
41:31

نَحۡنُ أَوۡلِيَآؤُكُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِۖ وَلَكُمۡ فِيهَا مَا تَشۡتَهِيٓ أَنفُسُكُمۡ وَلَكُمۡ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کہا، ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر جم گئے، اترتے ہیں ان پر فرشتے(یہ کہتے ہوئے)کہ نہ خوف کرو تم اور نہ غم کھاؤ اورخوش ہو جاؤ تم ساتھ جنت کے، وہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (30) ہم دوست ہیں تمھارے زندگانی ٔدنیا میں اور آخرت میں بھی اور تمھارے لیے ہے اس میں جو چاہیں گے تمھارے جی اور تمھارے لیے ہے اس میں جو تم مانگو گے (31) بطور مہمانی کے بڑے بخشنے والے نہایت مہربان کی طرف سے (32) [30] اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کا ذکر فرماتا ہے اور اس ضمن میں اہل ایمان میں نشاط پیدا کرتا اور انھیں ان کی اقتدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا ﴾ ’’بے شک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے ، پھر وہ اس پر ڈٹ گئے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اعتراف کر کے اس کا اعلان کیا، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر راضی ہوئے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا ، پھر علم و عمل کے اعتبار سے راہ راست پر استقامت کے ساتھ گامزن ہوئے۔ ان کے لیے دنیا و آخرت میں خوشخبری ہے۔ ﴿تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ ’’ان پر (نہایت عزت و اکرام والے) فرشتے نازل ہوتے ہیں‘‘ یعنی ان کا نزول بتکرار ہوتا ہے۔ وہ ان کے پاس حاضر ہو کر خوشخبری دیتے ہیں: ﴿اَلَّا تَخَافُوۡا ﴾ ’’نہ ڈرو‘‘ یعنی اس معاملے پر خوف نہ کھاؤ جو مستقبل میں تمھیں پیش آنے والا ہے۔ ﴿وَ لَا تَحۡزَنُوۡا ﴾ ’’اور نہ غمگین رہو‘‘ یعنی جو کچھ گزر چکا ہے اس پر غم نہ کھاؤ ۔ گویا ماضی اور مستقبل میں ان سے کسی بھی ناگوار امر کی نفی کر دی گئی ہے۔ ﴿وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’اور تمھیں اس جنت کی بشارت ہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یہ جنت تمھارے لیے واجب ہو گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو پورا ہو کر رہے گا۔ [31] وہ ثابت قدمی کے لیے ان کی ہمت بڑھاتے اور ان کو خوشخبری دیتے ہوئے یہ بھی کہیں گے: ﴿نَحۡنُ اَوۡلِيٰٓؤُكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’ہم تمھارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔‘‘ وہ دنیا کے اندر انھیں بھلائی کی ترغیب دیتے ہیں اور بھلائی کو ان کے سامنے مزین کرتے ہیں۔ وہ ان کو برائی سے ڈراتے ہیں اور ان کے دلوں میں برائی کو قبیح بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں اور مصائب اور مقاماتِ خوف میں ان کو ثابت قدم رکھتے ہیں۔ خاص طور پر موت کی سختیوں، قبر کی تاریکیوں، قیامت کے روز پل صراط کے ہولناک منظر کے وقت ان کی ہمت بڑھاتے ہیں اور جنت کے اندر ان کے رب کی طرف سے عطا کردہ اکرام و تکریم پر انھیں مبارک باد دیتے اور ہر دروازے میں سے داخل ہوتے ہوئے ان سے کہیں گے:﴿سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد: 13؍24) ’’تم پر سلامتی ہے، دنیا میں تمھارے صبر کے سبب سے، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر!‘‘ نیز وہ ان سے یہ بھی کہیں گے:﴿وَلَكُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’اور اس میں تمھارے لیے‘‘ یعنی جنت کے اندر ﴿ مَا تَشۡتَهِيۡۤ اَنۡفُسُكُمۡ ﴾ ’’جو چیز تمھارے نفس چاہیں گے‘‘ وہ تیار اور مہیا ہو گی۔ ﴿وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَدَّعُوۡنَ﴾ ’’اور تمھارے لیے ہوگا جو کچھ تم طلب کرو گے‘‘ یعنی لذات و شہوات میں سے جس چیز کا تم ارادہ کرو گے تمھیں حاصل ہو گی۔ ان لذات کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے قلب میں اس کا خیال گزرا ہے۔ [32]﴿نُزُلًا ﴾ یہ بے پایاں ثواب اور ہمیشہ رہنے والی نعمت، مہمانی اور ضیافت ہے ﴿مِّنۡ غَفُوۡرٍ ﴾ ’’بخش دینے والی ہستی کی طرف سے‘‘ جس نے تمھارے گناہوں کو بخش دیا ہے۔ ﴿رَّحِيۡمٍ ﴾ ’’اور بہت ہی رحم کرنے والی ہستی کی طرف سے‘‘ جس نے تمھیں نیکیوں کی توفیق دی ، پھر ان نیکیوں کو قبول فرمایا۔ اس نے اپنی مغفرت سے برائی کو تم سے دور کیا اور اپنی رحمت سے تمھارا مطلوب تمھیں عطا کیا۔
41:32

نُزُلٗا مِّنۡ غَفُورٖ رَّحِيمٖ

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کہا، ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر جم گئے، اترتے ہیں ان پر فرشتے(یہ کہتے ہوئے)کہ نہ خوف کرو تم اور نہ غم کھاؤ اورخوش ہو جاؤ تم ساتھ جنت کے، وہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (30) ہم دوست ہیں تمھارے زندگانی ٔدنیا میں اور آخرت میں بھی اور تمھارے لیے ہے اس میں جو چاہیں گے تمھارے جی اور تمھارے لیے ہے اس میں جو تم مانگو گے (31) بطور مہمانی کے بڑے بخشنے والے نہایت مہربان کی طرف سے (32) [30] اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کا ذکر فرماتا ہے اور اس ضمن میں اہل ایمان میں نشاط پیدا کرتا اور انھیں ان کی اقتدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا ﴾ ’’بے شک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے ، پھر وہ اس پر ڈٹ گئے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اعتراف کر کے اس کا اعلان کیا، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر راضی ہوئے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا ، پھر علم و عمل کے اعتبار سے راہ راست پر استقامت کے ساتھ گامزن ہوئے۔ ان کے لیے دنیا و آخرت میں خوشخبری ہے۔ ﴿تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ ’’ان پر (نہایت عزت و اکرام والے) فرشتے نازل ہوتے ہیں‘‘ یعنی ان کا نزول بتکرار ہوتا ہے۔ وہ ان کے پاس حاضر ہو کر خوشخبری دیتے ہیں: ﴿اَلَّا تَخَافُوۡا ﴾ ’’نہ ڈرو‘‘ یعنی اس معاملے پر خوف نہ کھاؤ جو مستقبل میں تمھیں پیش آنے والا ہے۔ ﴿وَ لَا تَحۡزَنُوۡا ﴾ ’’اور نہ غمگین رہو‘‘ یعنی جو کچھ گزر چکا ہے اس پر غم نہ کھاؤ ۔ گویا ماضی اور مستقبل میں ان سے کسی بھی ناگوار امر کی نفی کر دی گئی ہے۔ ﴿وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’اور تمھیں اس جنت کی بشارت ہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یہ جنت تمھارے لیے واجب ہو گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو پورا ہو کر رہے گا۔ [31] وہ ثابت قدمی کے لیے ان کی ہمت بڑھاتے اور ان کو خوشخبری دیتے ہوئے یہ بھی کہیں گے: ﴿نَحۡنُ اَوۡلِيٰٓؤُكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’ہم تمھارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔‘‘ وہ دنیا کے اندر انھیں بھلائی کی ترغیب دیتے ہیں اور بھلائی کو ان کے سامنے مزین کرتے ہیں۔ وہ ان کو برائی سے ڈراتے ہیں اور ان کے دلوں میں برائی کو قبیح بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں اور مصائب اور مقاماتِ خوف میں ان کو ثابت قدم رکھتے ہیں۔ خاص طور پر موت کی سختیوں، قبر کی تاریکیوں، قیامت کے روز پل صراط کے ہولناک منظر کے وقت ان کی ہمت بڑھاتے ہیں اور جنت کے اندر ان کے رب کی طرف سے عطا کردہ اکرام و تکریم پر انھیں مبارک باد دیتے اور ہر دروازے میں سے داخل ہوتے ہوئے ان سے کہیں گے:﴿سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد: 13؍24) ’’تم پر سلامتی ہے، دنیا میں تمھارے صبر کے سبب سے، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر!‘‘ نیز وہ ان سے یہ بھی کہیں گے:﴿وَلَكُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’اور اس میں تمھارے لیے‘‘ یعنی جنت کے اندر ﴿ مَا تَشۡتَهِيۡۤ اَنۡفُسُكُمۡ ﴾ ’’جو چیز تمھارے نفس چاہیں گے‘‘ وہ تیار اور مہیا ہو گی۔ ﴿وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَدَّعُوۡنَ﴾ ’’اور تمھارے لیے ہوگا جو کچھ تم طلب کرو گے‘‘ یعنی لذات و شہوات میں سے جس چیز کا تم ارادہ کرو گے تمھیں حاصل ہو گی۔ ان لذات کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے قلب میں اس کا خیال گزرا ہے۔ [32]﴿نُزُلًا ﴾ یہ بے پایاں ثواب اور ہمیشہ رہنے والی نعمت، مہمانی اور ضیافت ہے ﴿مِّنۡ غَفُوۡرٍ ﴾ ’’بخش دینے والی ہستی کی طرف سے‘‘ جس نے تمھارے گناہوں کو بخش دیا ہے۔ ﴿رَّحِيۡمٍ ﴾ ’’اور بہت ہی رحم کرنے والی ہستی کی طرف سے‘‘ جس نے تمھیں نیکیوں کی توفیق دی ، پھر ان نیکیوں کو قبول فرمایا۔ اس نے اپنی مغفرت سے برائی کو تم سے دور کیا اور اپنی رحمت سے تمھارا مطلوب تمھیں عطا کیا۔
41:33

وَمَنۡ أَحۡسَنُ قَوۡلٗا مِّمَّن دَعَآ إِلَى ٱللَّهِ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ

اور کون زیادہ اچھا ہے بات کے اعتبار سے، اس شخص سے جس نے بلایا اللہ کی طرف اور عمل کیا نیک اور کہا، بے شک میں تو فرماں برداروں میں سے ہوں (33) [33] یہ استفہام متحقق اور ثابت شدہ نفی کے معنوں میں ہے۔ یعنی کسی کا قول اچھا نہیں، یعنی کسی کا کلام، طریقہ اور حال اس شخص سے بڑھ کر اچھا نہیں ﴿مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’جس نے اللہ کی طرف بلایا‘‘ جو جہلاء کو تعلیم کے ذریعے سے، غافلین اور اعراض کرنے والوں کو وعظ و نصیحت کے ذریعے سے اور اہل باطل کو بحث و جدال کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی تمام انواع کی عبادت کا حکم اور اس کی ترغیب دیتا ہے اور جیسے بھی ممکن ہو اس عبادت کی تحسین کرتا ہے۔ اور ہر اس چیز پر زجروتوبیخ کرتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہو اور ہر اس طریقے سے اس کی قباحت بیان کرتا ہے جو اس کے ترک کرنے کا موجب ہے۔ خاص طور پر یہ دعوت اصول دین اسلام، اس کی تحسین اور اس کے دشمنوں کے ساتھ احسن طریقے سے مباحثہ و مجادلہ کی دعوت، اس دعوت کے متضاد امور ، مثلاً: کفروشرک سے ممانعت، امربالمعروف اور نہی عن المنکر پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی تفاصیل، اس کے لامحدود جودو احسان، اس کی کامل رحمت، اس کے اوصاف کمال اور نعوت جلال کے ذکر کے ذریعے سے اس کے بندوں میں اس کی محبت پیدا کرنا، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا ہے۔ کتاب اللہ اور سنت رسول سے علم و ہدایت کے حصول کی ترغیب اور ہر طریقے سے اس پر آمادہ کرنا، دعوت الی اللہ کے زمرے میں آتا ہے۔ مکارم اخلاق کی ترغیب، تمام مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنا، برائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا، صلہ رحمی اور والدین کے ساتھ حسن سلوک سب دعوت الی اللہ کا حصہ ہے۔ مختلف مواقع، حوادث اور مصائب پر حالات کی مناسبت سے عام لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنا دعوت الی اللہ میں شمار ہوتا ہے۔ الغرض ہر بھلائی کی ترغیب اور ہر برائی سے ترہیب دعوت الی اللہ میں شامل ہے۔ پھر فرمایا:﴿وَعَمِلَ صَالِحًا ﴾ ’’اور نیک عمل کیے‘‘ یعنی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کے ساتھ ساتھ، خود بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے عمل صالح کرتا ہو ﴿وَّقَالَ اِنَّنِيۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہے کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں‘‘ یعنی جو اس کے حکموں کے تابع اور اس کی راہ پر گامزن ہیں اور یہ تمام ترصدیقین کا مرتبہ ہے، جو اپنی تکمیل اور دوسروں کی تکمیل کے لیے عمل پیرا رہتے ہیں۔ انھیں انبیاء و مرسلین کی مکمل وراثت حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح گمراہی کے راستے پر چلنے والے گمراہ داعیوں کا قول بدترین قول ہے۔ ان دو متباین مراتب کے درمیان، جن میں ایک اعلی علیین کا مرتبہ اور دوسرا اسفل السافلین کا مرتبہ ہے، اتنے مراتب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہر مرتبہ لوگوں سے معمور ہے ﴿وَلِكُلٍّ دَرَجٰؔتٌ مِّؔمَّا عَمِلُوۡا١ؕ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍132) ’’اور ہر شخص کے لیے اس کے عمل کے مطابق درجہ ہے اور آپ کا رب ان اعمال سے بے خبر نہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں۔‘‘
41:34

وَلَا تَسۡتَوِي ٱلۡحَسَنَةُ وَلَا ٱلسَّيِّئَةُۚ ٱدۡفَعۡ بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ فَإِذَا ٱلَّذِي بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهُۥ عَدَٰوَةٞ كَأَنَّهُۥ وَلِيٌّ حَمِيمٞ

اور نہیں برابر ہوتی نیکی اور نہ برائی، ٹالیے(برائی کو) ایسی بات سے کہ وہ احسن ہو، تو یکایک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے(ایسا ہو جائے گا) گویا کہ وہ دوست ہے نہایت گہرا (34) اور نہیں سکھلائی جاتی یہ (خصلت) مگر انھی لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور نہیں سکھلائی جاتی یہ (خصلت) مگر اسی کو جو بڑا نصیبے والا ہے (35) [34]﴿وَلَا تَسۡتَوِي الۡحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ﴾ ’’نیکی اور بدی یکساں نہیں ہوسکتیں‘‘ یعنی نیکی اور اطاعت کا فعل، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر سرانجام دیا گیا اور بدی اور گناہ کا فعل جس میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہو، کبھی برابر نہیں ہو سکتے، مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور مخلوق کے ساتھ برا سلوک دونوں برابر نہیں ہو سکتے، اپنی ذات میں برابر ہو سکتے ہیں نہ اپنے اوصاف میں اور نہ اپنی جزا میں۔ فرمایا:﴿هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمن: 55؍60) ’’نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے احسانِ خاص کا ذکر فرمایا، اس کا بڑا مقام ہے اور وہ ہے اس شخص کے ساتھ احسان کرنا، جس نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ ﴾ ’’آپ (بدی کا) ایسی بات سے دفاع کیجیے جو اچھی ہو‘‘ یعنی جب کبھی لوگوں میں سے کوئی شخص آپ کے ساتھ برا سلوک کرے، خاص طور پر وہ شخص، جس کا آپ پر بہت بڑا حق ہے، مثلاً: عزیز و اقارب اور دوست احباب وغیرہ۔ یہ برا سلوک قول کے ذریعے سے ہو یا فعل کے ذریعے سے، اس کا مقابلہ ہمیشہ حسن سلوک سے کریں۔ اگر اس نے آپ سے قطع رحمی کی ہے تو آپ اس سے صلہ رحمی کریں، اگر وہ آپ پر ظلم کرے، آپ اس کو معاف کریں اگر وہ آپ کے بارے میں آپ کی موجودگی میں کوئی بات کہے یا غیر موجودگی میں کوئی بات کہے تو آپ اس کا مقابلہ نہ کریں بلکہ اس کو معاف کر دیں اور اس کے ساتھ انتہائی نرمی سے بات کریں۔ اگر وہ آپ سے بول چال چھوڑ دے تو آپ اس سے اچھی طرح بات کریں اور اسے کثرت سے سلام کریں۔ جب آپ اس کی برائی کے بدلے حسن سلوک سے پیش آئیں گے تو آپ کو عظیم فائدہ حاصل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا الَّذِيۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيۡمٌ ﴾ ’’کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمھارا گرم جوش دوست ہے۔‘‘ یعنی گویا کہ وہ قریبی اور انتہائی مشفق ہے۔ [35]﴿وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ ﴾ ’’اور نہیں نصیب ہوتی یہ (صفت)‘‘ یعنی اس خصلت حمیدہ کی توفیق نہیں دی جاتی ہے۔ ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا ﴾’’مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں۔‘‘ جو اپنے نفس کو ان امور کا پابند بناتے ہیں، جنھیں ان کے نفس ناپسند کرتے ہیں اور انھیں ایسے امور پر عمل کرنے پر مجبور کرتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ نفس انسانی کی جبلت ہے کہ وہ برائی کا مقابلہ برائی اور عدم عفو سے کرتا ہے۔ تب وہ احسان کیوں کر کر سکتا ہے؟ جب انسان اپنے نفس کو صبر کا پابند بنالیتا ہے اور اپنے رب کی اطاعت کرتا ہے اور اس کے بے پایاں ثواب کو جانتا ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ اسی جیسا سلوک کرنا اسے کچھ فائدہ نہیں دے گا اور عداوت صرف شدت ہی میں اضافے کا باعث ہو گی اور یہ بھی علم ہے کہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے اس کی قدرومنزلت کم نہیں ہو گی، بلکہ جو اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے رفعت عطا کرتا ہے، تب معاملہ اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے اور وہ اس فعل کو سرانجام دیتے ہوئے لذت محسوس کرتا ہے۔﴿وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’اور یہ مقام انھی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں۔‘‘ یہ خاص لوگوں کی خصلت ہے جس کے ذریعے سے بندے کو دنیا و آخرت میں رفعت عطا ہوتی ہے اور یہ مکارم اخلاق میں سب سے بڑی خصلت ہے۔
41:35

وَمَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ٱلَّذِينَ صَبَرُواْ وَمَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٖ

اور نہیں برابر ہوتی نیکی اور نہ برائی، ٹالیے(برائی کو) ایسی بات سے کہ وہ احسن ہو، تو یکایک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے(ایسا ہو جائے گا) گویا کہ وہ دوست ہے نہایت گہرا (34) اور نہیں سکھلائی جاتی یہ (خصلت) مگر انھی لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور نہیں سکھلائی جاتی یہ (خصلت) مگر اسی کو جو بڑا نصیبے والا ہے (35) [34]﴿وَلَا تَسۡتَوِي الۡحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ﴾ ’’نیکی اور بدی یکساں نہیں ہوسکتیں‘‘ یعنی نیکی اور اطاعت کا فعل، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر سرانجام دیا گیا اور بدی اور گناہ کا فعل جس میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہو، کبھی برابر نہیں ہو سکتے، مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور مخلوق کے ساتھ برا سلوک دونوں برابر نہیں ہو سکتے، اپنی ذات میں برابر ہو سکتے ہیں نہ اپنے اوصاف میں اور نہ اپنی جزا میں۔ فرمایا:﴿هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمن: 55؍60) ’’نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے احسانِ خاص کا ذکر فرمایا، اس کا بڑا مقام ہے اور وہ ہے اس شخص کے ساتھ احسان کرنا، جس نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ ﴾ ’’آپ (بدی کا) ایسی بات سے دفاع کیجیے جو اچھی ہو‘‘ یعنی جب کبھی لوگوں میں سے کوئی شخص آپ کے ساتھ برا سلوک کرے، خاص طور پر وہ شخص، جس کا آپ پر بہت بڑا حق ہے، مثلاً: عزیز و اقارب اور دوست احباب وغیرہ۔ یہ برا سلوک قول کے ذریعے سے ہو یا فعل کے ذریعے سے، اس کا مقابلہ ہمیشہ حسن سلوک سے کریں۔ اگر اس نے آپ سے قطع رحمی کی ہے تو آپ اس سے صلہ رحمی کریں، اگر وہ آپ پر ظلم کرے، آپ اس کو معاف کریں اگر وہ آپ کے بارے میں آپ کی موجودگی میں کوئی بات کہے یا غیر موجودگی میں کوئی بات کہے تو آپ اس کا مقابلہ نہ کریں بلکہ اس کو معاف کر دیں اور اس کے ساتھ انتہائی نرمی سے بات کریں۔ اگر وہ آپ سے بول چال چھوڑ دے تو آپ اس سے اچھی طرح بات کریں اور اسے کثرت سے سلام کریں۔ جب آپ اس کی برائی کے بدلے حسن سلوک سے پیش آئیں گے تو آپ کو عظیم فائدہ حاصل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا الَّذِيۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيۡمٌ ﴾ ’’کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمھارا گرم جوش دوست ہے۔‘‘ یعنی گویا کہ وہ قریبی اور انتہائی مشفق ہے۔ [35]﴿وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ ﴾ ’’اور نہیں نصیب ہوتی یہ (صفت)‘‘ یعنی اس خصلت حمیدہ کی توفیق نہیں دی جاتی ہے۔ ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا ﴾’’مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں۔‘‘ جو اپنے نفس کو ان امور کا پابند بناتے ہیں، جنھیں ان کے نفس ناپسند کرتے ہیں اور انھیں ایسے امور پر عمل کرنے پر مجبور کرتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ نفس انسانی کی جبلت ہے کہ وہ برائی کا مقابلہ برائی اور عدم عفو سے کرتا ہے۔ تب وہ احسان کیوں کر کر سکتا ہے؟ جب انسان اپنے نفس کو صبر کا پابند بنالیتا ہے اور اپنے رب کی اطاعت کرتا ہے اور اس کے بے پایاں ثواب کو جانتا ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ اسی جیسا سلوک کرنا اسے کچھ فائدہ نہیں دے گا اور عداوت صرف شدت ہی میں اضافے کا باعث ہو گی اور یہ بھی علم ہے کہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے اس کی قدرومنزلت کم نہیں ہو گی، بلکہ جو اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے رفعت عطا کرتا ہے، تب معاملہ اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے اور وہ اس فعل کو سرانجام دیتے ہوئے لذت محسوس کرتا ہے۔﴿وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’اور یہ مقام انھی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں۔‘‘ یہ خاص لوگوں کی خصلت ہے جس کے ذریعے سے بندے کو دنیا و آخرت میں رفعت عطا ہوتی ہے اور یہ مکارم اخلاق میں سب سے بڑی خصلت ہے۔
41:36

وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ نَزۡغٞ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ

اور اگر ابھارے آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ تو پناہ مانگیے اللہ کی، یقیناً وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (36) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے رات اور دن اور سورج اور چاند، نہ سجدہ کرو تم سورج کو اور نہ چاند کو اور سجدہ کرو اللہ کو جس نے پیدا کیا ان (سب) کو، اگر ہو تم صرف اسی کی عبادت کرتے (37) پس اگر وہ تکبر کریں، تو وہ لوگ جو آپ کے رب کے پاس ہیں، وہ تسبیح کرتے ہیں اس کی رات کو اور دن کو اور وہ نہیں تھکتے (38) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ دیکھتے ہیں آپ زمین کو دبی ہوئی(بنجر) پس جب نازل کیا ہم نے اس پر پانی تو وہ لہلہانے لگی اور ابھر آئی(بلند ہو کر) بلاشبہ وہ (اللہ) جس نے زندہ کیا اس(زمین)کو البتہ زندہ کرنے و الا ہے مردوں کو، بے شک وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(39) [36] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انسان کو اپنے دشمن انسان کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے، یعنی اسے اس کی برائی کے مقابلے میں حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ اس کے بعد ذکر فرمایا کہ انسان شیطان کو، جو اس کا دشمن ہے، کیسے دور ہٹائے؟ اور وہ اس طرح کہ بندہ شیطان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِمَّا يَنۡزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ ﴾ ’’اگر تمھیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہو۔‘‘ یعنی آپ کسی بھی وقت، شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کریں، یعنی شیطان کا وسوسہ، اس کا شر کو آراستہ کرنا اور خیر کو بدنما بنا کر پیش کرنا، یا اس کے کسی حکم کی اطاعت کا خدشہ محسوس کریں۔ ﴿فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’تو اللہ کی پناہ مانگیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی احتیاج کا اظہار کرتے ہوئے اس سے سوال کریں کہ وہ آپ کو پناہ دے اور آپ کو شیطان سے محفوظ رکھے۔ ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ کیونکہ وہ آپ کی بات اور عاجزانہ دعا کو سنتا ہے، وہ آپ کے حال کو جانتا ہے، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ اس کی حمایت و حفاظت کے ضرورت مند ہیں۔ [37] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهِ ﴾ ’’اس کی نشانیوں میں سے‘‘ جو اس کے کمال قدرت، نفوذ مشیت، لامحدود قوت اور بندوں پر بے پایاں رحمت پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿الَّيۡلُ وَالنَّهَارُ ﴾ ’’دن اور رات ہیں۔‘‘ دن اپنی روشنی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ لوگ دن کی روشنی میں اپنے کام کاج کے لیے چلتے پھرتے ہیں۔ رات اپنی تاریکی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ مخلوق رات کی تاریکی میں آرام کرتی ہے۔ ﴿وَالشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ ﴾’’اور سورج اور چاندہیں۔‘‘ جن کے بغیر بندوں کی معاش، ان کے ابدان اور ان کے حیوانات کے ابدان درست نہیں رہتے۔ سورج اور چاند کے ساتھ مخلوق کے بے شمار مصالح وابستہ ہیں۔﴿لَا تَسۡجُدُوۡا لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ ﴾ ’’سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو‘‘ کیونکہ یہ دونوں تو مخلوق اور اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں ﴿وَاسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ خَلَقَهُنَّ ﴾ ’’اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی اسی اکیلے کی عبادت کرو کیونکہ وہی خالق عظیم ہے اور اس کے سوا تمام مخلوقات کی عبادت چھوڑ دو خواہ وہ کتنی ہی بڑی اور ان کے فوائد کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں کیونکہ یہ مصالح اور فوائد ان کے خالق کی طرف سے ودیعت کیے گئے ہیں۔ جو نہایت بابرکت اور بلند ہے، ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس اسی کے لیے اپنی عبادت کو خاص کرو اور اسی کے لیے اپنے دین کو خالص کرو۔ [38]﴿فَاِنِ اسۡتَكۡبَرُوۡا ﴾ اگر وہ تکبرو استکبار کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی آیات و براہین کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں تو وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، اللہ ان سے بے نیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ مکرم بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور ان کو جو حکم دیا جاتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿فَالَّذِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّكَ ﴾ ’’پس جو تیرے رب کے پاس ہیں‘‘ یعنی مقرب فرشتے ﴿يُسَبِّحُوۡنَ لَهٗ بِالَّيۡلِ وَالنَّهَارِ وَهُمۡ لَا يَسۡـَٔمُوۡنَ﴾ ’’وہ دن رات اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ تھکتے نہیں۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اکتاتے نہیں، کیونکہ وہ نہایت طاقتور ہوتے ہیں۔ ان کے اندر عبادت کا داعیہ بھی نہایت قوی ہوتا ہے۔ [39]﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ﴾ ’’اور اس کی نشانیوں میں سے‘‘ جو اس کے کمال قدرت اور ملکیت و تدبیر کائنات اور وحدانیت میں متفرد ہونے پر دلالت کرتی ہیں، ایک نشانی یہ ہے ﴿اَنَّكَ تَرَى الۡاَرۡضَ خَاشِعَةً ﴾ ’’کہ بے شک تو زمین کو دبی ہوئی دیکھتا ہے۔‘‘ یعنی اس کے اندر کوئی نباتات نہیں ہوتی ﴿فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَ ﴾ ’’پس جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں۔‘‘ یعنی بارش برساتے ہیں ﴿اهۡتَزَّتۡ ﴾ ’’تو وہ شاداب ہو جاتی ہے۔‘‘ یعنی نباتات کے ساتھ لہلہا اٹھتی ہے۔ ﴿وَرَبَتۡ ﴾ ’’اور ابھرنے لگتی ہے‘‘ یعنی وہ ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگاتی ہے، جس سے تمام بندوں اور زمین کی زندگی ہوتی ہے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡۤ اَحۡيَاهَا ﴾ ’’بے شک جس نے اس (زمین) کو زندہ کیا‘‘ جس نے اس کے مر جانے اور بنجر ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کیا ﴿لَمُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ وہ قبروں سے مردوں کو بھی قیامت کے روز زندہ کرے گا۔ ﴿اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ جس طرح اس کی قدرت زمین کے مردہ اور بنجر ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کرنے سے عاجز نہیں اسی طرح وہ مردوں کو زندہ کرنے میں بھی بے بس نہیں۔
41:37

وَمِنۡ ءَايَٰتِهِ ٱلَّيۡلُ وَٱلنَّهَارُ وَٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَرُۚ لَا تَسۡجُدُواْ لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ وَٱسۡجُدُواْۤ لِلَّهِۤ ٱلَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمۡ إِيَّاهُ تَعۡبُدُونَ

اور اگر ابھارے آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ تو پناہ مانگیے اللہ کی، یقیناً وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (36) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے رات اور دن اور سورج اور چاند، نہ سجدہ کرو تم سورج کو اور نہ چاند کو اور سجدہ کرو اللہ کو جس نے پیدا کیا ان (سب) کو، اگر ہو تم صرف اسی کی عبادت کرتے (37) پس اگر وہ تکبر کریں، تو وہ لوگ جو آپ کے رب کے پاس ہیں، وہ تسبیح کرتے ہیں اس کی رات کو اور دن کو اور وہ نہیں تھکتے (38) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ دیکھتے ہیں آپ زمین کو دبی ہوئی(بنجر) پس جب نازل کیا ہم نے اس پر پانی تو وہ لہلہانے لگی اور ابھر آئی(بلند ہو کر) بلاشبہ وہ (اللہ) جس نے زندہ کیا اس(زمین)کو البتہ زندہ کرنے و الا ہے مردوں کو، بے شک وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(39) [36] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انسان کو اپنے دشمن انسان کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے، یعنی اسے اس کی برائی کے مقابلے میں حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ اس کے بعد ذکر فرمایا کہ انسان شیطان کو، جو اس کا دشمن ہے، کیسے دور ہٹائے؟ اور وہ اس طرح کہ بندہ شیطان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِمَّا يَنۡزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ ﴾ ’’اگر تمھیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہو۔‘‘ یعنی آپ کسی بھی وقت، شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کریں، یعنی شیطان کا وسوسہ، اس کا شر کو آراستہ کرنا اور خیر کو بدنما بنا کر پیش کرنا، یا اس کے کسی حکم کی اطاعت کا خدشہ محسوس کریں۔ ﴿فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’تو اللہ کی پناہ مانگیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی احتیاج کا اظہار کرتے ہوئے اس سے سوال کریں کہ وہ آپ کو پناہ دے اور آپ کو شیطان سے محفوظ رکھے۔ ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ کیونکہ وہ آپ کی بات اور عاجزانہ دعا کو سنتا ہے، وہ آپ کے حال کو جانتا ہے، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ اس کی حمایت و حفاظت کے ضرورت مند ہیں۔ [37] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهِ ﴾ ’’اس کی نشانیوں میں سے‘‘ جو اس کے کمال قدرت، نفوذ مشیت، لامحدود قوت اور بندوں پر بے پایاں رحمت پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿الَّيۡلُ وَالنَّهَارُ ﴾ ’’دن اور رات ہیں۔‘‘ دن اپنی روشنی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ لوگ دن کی روشنی میں اپنے کام کاج کے لیے چلتے پھرتے ہیں۔ رات اپنی تاریکی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ مخلوق رات کی تاریکی میں آرام کرتی ہے۔ ﴿وَالشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ ﴾’’اور سورج اور چاندہیں۔‘‘ جن کے بغیر بندوں کی معاش، ان کے ابدان اور ان کے حیوانات کے ابدان درست نہیں رہتے۔ سورج اور چاند کے ساتھ مخلوق کے بے شمار مصالح وابستہ ہیں۔﴿لَا تَسۡجُدُوۡا لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ ﴾ ’’سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو‘‘ کیونکہ یہ دونوں تو مخلوق اور اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں ﴿وَاسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ خَلَقَهُنَّ ﴾ ’’اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی اسی اکیلے کی عبادت کرو کیونکہ وہی خالق عظیم ہے اور اس کے سوا تمام مخلوقات کی عبادت چھوڑ دو خواہ وہ کتنی ہی بڑی اور ان کے فوائد کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں کیونکہ یہ مصالح اور فوائد ان کے خالق کی طرف سے ودیعت کیے گئے ہیں۔ جو نہایت بابرکت اور بلند ہے، ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس اسی کے لیے اپنی عبادت کو خاص کرو اور اسی کے لیے اپنے دین کو خالص کرو۔ [38]﴿فَاِنِ اسۡتَكۡبَرُوۡا ﴾ اگر وہ تکبرو استکبار کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی آیات و براہین کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں تو وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، اللہ ان سے بے نیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ مکرم بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور ان کو جو حکم دیا جاتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿فَالَّذِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّكَ ﴾ ’’پس جو تیرے رب کے پاس ہیں‘‘ یعنی مقرب فرشتے ﴿يُسَبِّحُوۡنَ لَهٗ بِالَّيۡلِ وَالنَّهَارِ وَهُمۡ لَا يَسۡـَٔمُوۡنَ﴾ ’’وہ دن رات اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ تھکتے نہیں۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اکتاتے نہیں، کیونکہ وہ نہایت طاقتور ہوتے ہیں۔ ان کے اندر عبادت کا داعیہ بھی نہایت قوی ہوتا ہے۔ [39]﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ﴾ ’’اور اس کی نشانیوں میں سے‘‘ جو اس کے کمال قدرت اور ملکیت و تدبیر کائنات اور وحدانیت میں متفرد ہونے پر دلالت کرتی ہیں، ایک نشانی یہ ہے ﴿اَنَّكَ تَرَى الۡاَرۡضَ خَاشِعَةً ﴾ ’’کہ بے شک تو زمین کو دبی ہوئی دیکھتا ہے۔‘‘ یعنی اس کے اندر کوئی نباتات نہیں ہوتی ﴿فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَ ﴾ ’’پس جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں۔‘‘ یعنی بارش برساتے ہیں ﴿اهۡتَزَّتۡ ﴾ ’’تو وہ شاداب ہو جاتی ہے۔‘‘ یعنی نباتات کے ساتھ لہلہا اٹھتی ہے۔ ﴿وَرَبَتۡ ﴾ ’’اور ابھرنے لگتی ہے‘‘ یعنی وہ ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگاتی ہے، جس سے تمام بندوں اور زمین کی زندگی ہوتی ہے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡۤ اَحۡيَاهَا ﴾ ’’بے شک جس نے اس (زمین) کو زندہ کیا‘‘ جس نے اس کے مر جانے اور بنجر ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کیا ﴿لَمُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ وہ قبروں سے مردوں کو بھی قیامت کے روز زندہ کرے گا۔ ﴿اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ جس طرح اس کی قدرت زمین کے مردہ اور بنجر ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کرنے سے عاجز نہیں اسی طرح وہ مردوں کو زندہ کرنے میں بھی بے بس نہیں۔
41:38

فَإِنِ ٱسۡتَكۡبَرُواْ فَٱلَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ يُسَبِّحُونَ لَهُۥ بِٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ وَهُمۡ لَا يَسۡـَٔمُونَ۩

اور اگر ابھارے آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ تو پناہ مانگیے اللہ کی، یقیناً وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (36) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے رات اور دن اور سورج اور چاند، نہ سجدہ کرو تم سورج کو اور نہ چاند کو اور سجدہ کرو اللہ کو جس نے پیدا کیا ان (سب) کو، اگر ہو تم صرف اسی کی عبادت کرتے (37) پس اگر وہ تکبر کریں، تو وہ لوگ جو آپ کے رب کے پاس ہیں، وہ تسبیح کرتے ہیں اس کی رات کو اور دن کو اور وہ نہیں تھکتے (38) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ دیکھتے ہیں آپ زمین کو دبی ہوئی(بنجر) پس جب نازل کیا ہم نے اس پر پانی تو وہ لہلہانے لگی اور ابھر آئی(بلند ہو کر) بلاشبہ وہ (اللہ) جس نے زندہ کیا اس(زمین)کو البتہ زندہ کرنے و الا ہے مردوں کو، بے شک وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(39) [36] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انسان کو اپنے دشمن انسان کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے، یعنی اسے اس کی برائی کے مقابلے میں حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ اس کے بعد ذکر فرمایا کہ انسان شیطان کو، جو اس کا دشمن ہے، کیسے دور ہٹائے؟ اور وہ اس طرح کہ بندہ شیطان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِمَّا يَنۡزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ ﴾ ’’اگر تمھیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہو۔‘‘ یعنی آپ کسی بھی وقت، شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کریں، یعنی شیطان کا وسوسہ، اس کا شر کو آراستہ کرنا اور خیر کو بدنما بنا کر پیش کرنا، یا اس کے کسی حکم کی اطاعت کا خدشہ محسوس کریں۔ ﴿فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’تو اللہ کی پناہ مانگیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی احتیاج کا اظہار کرتے ہوئے اس سے سوال کریں کہ وہ آپ کو پناہ دے اور آپ کو شیطان سے محفوظ رکھے۔ ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ کیونکہ وہ آپ کی بات اور عاجزانہ دعا کو سنتا ہے، وہ آپ کے حال کو جانتا ہے، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ اس کی حمایت و حفاظت کے ضرورت مند ہیں۔ [37] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهِ ﴾ ’’اس کی نشانیوں میں سے‘‘ جو اس کے کمال قدرت، نفوذ مشیت، لامحدود قوت اور بندوں پر بے پایاں رحمت پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿الَّيۡلُ وَالنَّهَارُ ﴾ ’’دن اور رات ہیں۔‘‘ دن اپنی روشنی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ لوگ دن کی روشنی میں اپنے کام کاج کے لیے چلتے پھرتے ہیں۔ رات اپنی تاریکی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ مخلوق رات کی تاریکی میں آرام کرتی ہے۔ ﴿وَالشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ ﴾’’اور سورج اور چاندہیں۔‘‘ جن کے بغیر بندوں کی معاش، ان کے ابدان اور ان کے حیوانات کے ابدان درست نہیں رہتے۔ سورج اور چاند کے ساتھ مخلوق کے بے شمار مصالح وابستہ ہیں۔﴿لَا تَسۡجُدُوۡا لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ ﴾ ’’سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو‘‘ کیونکہ یہ دونوں تو مخلوق اور اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں ﴿وَاسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ خَلَقَهُنَّ ﴾ ’’اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی اسی اکیلے کی عبادت کرو کیونکہ وہی خالق عظیم ہے اور اس کے سوا تمام مخلوقات کی عبادت چھوڑ دو خواہ وہ کتنی ہی بڑی اور ان کے فوائد کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں کیونکہ یہ مصالح اور فوائد ان کے خالق کی طرف سے ودیعت کیے گئے ہیں۔ جو نہایت بابرکت اور بلند ہے، ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس اسی کے لیے اپنی عبادت کو خاص کرو اور اسی کے لیے اپنے دین کو خالص کرو۔ [38]﴿فَاِنِ اسۡتَكۡبَرُوۡا ﴾ اگر وہ تکبرو استکبار کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی آیات و براہین کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں تو وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، اللہ ان سے بے نیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ مکرم بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور ان کو جو حکم دیا جاتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿فَالَّذِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّكَ ﴾ ’’پس جو تیرے رب کے پاس ہیں‘‘ یعنی مقرب فرشتے ﴿يُسَبِّحُوۡنَ لَهٗ بِالَّيۡلِ وَالنَّهَارِ وَهُمۡ لَا يَسۡـَٔمُوۡنَ﴾ ’’وہ دن رات اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ تھکتے نہیں۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اکتاتے نہیں، کیونکہ وہ نہایت طاقتور ہوتے ہیں۔ ان کے اندر عبادت کا داعیہ بھی نہایت قوی ہوتا ہے۔ [39]﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ﴾ ’’اور اس کی نشانیوں میں سے‘‘ جو اس کے کمال قدرت اور ملکیت و تدبیر کائنات اور وحدانیت میں متفرد ہونے پر دلالت کرتی ہیں، ایک نشانی یہ ہے ﴿اَنَّكَ تَرَى الۡاَرۡضَ خَاشِعَةً ﴾ ’’کہ بے شک تو زمین کو دبی ہوئی دیکھتا ہے۔‘‘ یعنی اس کے اندر کوئی نباتات نہیں ہوتی ﴿فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَ ﴾ ’’پس جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں۔‘‘ یعنی بارش برساتے ہیں ﴿اهۡتَزَّتۡ ﴾ ’’تو وہ شاداب ہو جاتی ہے۔‘‘ یعنی نباتات کے ساتھ لہلہا اٹھتی ہے۔ ﴿وَرَبَتۡ ﴾ ’’اور ابھرنے لگتی ہے‘‘ یعنی وہ ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگاتی ہے، جس سے تمام بندوں اور زمین کی زندگی ہوتی ہے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡۤ اَحۡيَاهَا ﴾ ’’بے شک جس نے اس (زمین) کو زندہ کیا‘‘ جس نے اس کے مر جانے اور بنجر ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کیا ﴿لَمُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ وہ قبروں سے مردوں کو بھی قیامت کے روز زندہ کرے گا۔ ﴿اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ جس طرح اس کی قدرت زمین کے مردہ اور بنجر ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کرنے سے عاجز نہیں اسی طرح وہ مردوں کو زندہ کرنے میں بھی بے بس نہیں۔
41:39

وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنَّكَ تَرَى ٱلۡأَرۡضَ خَٰشِعَةٗ فَإِذَآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡهَا ٱلۡمَآءَ ٱهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡۚ إِنَّ ٱلَّذِيٓ أَحۡيَاهَا لَمُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰٓۚ إِنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ

اور اگر ابھارے آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ تو پناہ مانگیے اللہ کی، یقیناً وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (36) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے رات اور دن اور سورج اور چاند، نہ سجدہ کرو تم سورج کو اور نہ چاند کو اور سجدہ کرو اللہ کو جس نے پیدا کیا ان (سب) کو، اگر ہو تم صرف اسی کی عبادت کرتے (37) پس اگر وہ تکبر کریں، تو وہ لوگ جو آپ کے رب کے پاس ہیں، وہ تسبیح کرتے ہیں اس کی رات کو اور دن کو اور وہ نہیں تھکتے (38) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ دیکھتے ہیں آپ زمین کو دبی ہوئی(بنجر) پس جب نازل کیا ہم نے اس پر پانی تو وہ لہلہانے لگی اور ابھر آئی(بلند ہو کر) بلاشبہ وہ (اللہ) جس نے زندہ کیا اس(زمین)کو البتہ زندہ کرنے و الا ہے مردوں کو، بے شک وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(39) [36] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انسان کو اپنے دشمن انسان کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے، یعنی اسے اس کی برائی کے مقابلے میں حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ اس کے بعد ذکر فرمایا کہ انسان شیطان کو، جو اس کا دشمن ہے، کیسے دور ہٹائے؟ اور وہ اس طرح کہ بندہ شیطان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِمَّا يَنۡزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ ﴾ ’’اگر تمھیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہو۔‘‘ یعنی آپ کسی بھی وقت، شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کریں، یعنی شیطان کا وسوسہ، اس کا شر کو آراستہ کرنا اور خیر کو بدنما بنا کر پیش کرنا، یا اس کے کسی حکم کی اطاعت کا خدشہ محسوس کریں۔ ﴿فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’تو اللہ کی پناہ مانگیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی احتیاج کا اظہار کرتے ہوئے اس سے سوال کریں کہ وہ آپ کو پناہ دے اور آپ کو شیطان سے محفوظ رکھے۔ ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ کیونکہ وہ آپ کی بات اور عاجزانہ دعا کو سنتا ہے، وہ آپ کے حال کو جانتا ہے، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ اس کی حمایت و حفاظت کے ضرورت مند ہیں۔ [37] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهِ ﴾ ’’اس کی نشانیوں میں سے‘‘ جو اس کے کمال قدرت، نفوذ مشیت، لامحدود قوت اور بندوں پر بے پایاں رحمت پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿الَّيۡلُ وَالنَّهَارُ ﴾ ’’دن اور رات ہیں۔‘‘ دن اپنی روشنی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ لوگ دن کی روشنی میں اپنے کام کاج کے لیے چلتے پھرتے ہیں۔ رات اپنی تاریکی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ مخلوق رات کی تاریکی میں آرام کرتی ہے۔ ﴿وَالشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ ﴾’’اور سورج اور چاندہیں۔‘‘ جن کے بغیر بندوں کی معاش، ان کے ابدان اور ان کے حیوانات کے ابدان درست نہیں رہتے۔ سورج اور چاند کے ساتھ مخلوق کے بے شمار مصالح وابستہ ہیں۔﴿لَا تَسۡجُدُوۡا لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ ﴾ ’’سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو‘‘ کیونکہ یہ دونوں تو مخلوق اور اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں ﴿وَاسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ خَلَقَهُنَّ ﴾ ’’اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی اسی اکیلے کی عبادت کرو کیونکہ وہی خالق عظیم ہے اور اس کے سوا تمام مخلوقات کی عبادت چھوڑ دو خواہ وہ کتنی ہی بڑی اور ان کے فوائد کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں کیونکہ یہ مصالح اور فوائد ان کے خالق کی طرف سے ودیعت کیے گئے ہیں۔ جو نہایت بابرکت اور بلند ہے، ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس اسی کے لیے اپنی عبادت کو خاص کرو اور اسی کے لیے اپنے دین کو خالص کرو۔ [38]﴿فَاِنِ اسۡتَكۡبَرُوۡا ﴾ اگر وہ تکبرو استکبار کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی آیات و براہین کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں تو وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، اللہ ان سے بے نیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ مکرم بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور ان کو جو حکم دیا جاتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿فَالَّذِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّكَ ﴾ ’’پس جو تیرے رب کے پاس ہیں‘‘ یعنی مقرب فرشتے ﴿يُسَبِّحُوۡنَ لَهٗ بِالَّيۡلِ وَالنَّهَارِ وَهُمۡ لَا يَسۡـَٔمُوۡنَ﴾ ’’وہ دن رات اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ تھکتے نہیں۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اکتاتے نہیں، کیونکہ وہ نہایت طاقتور ہوتے ہیں۔ ان کے اندر عبادت کا داعیہ بھی نہایت قوی ہوتا ہے۔ [39]﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ﴾ ’’اور اس کی نشانیوں میں سے‘‘ جو اس کے کمال قدرت اور ملکیت و تدبیر کائنات اور وحدانیت میں متفرد ہونے پر دلالت کرتی ہیں، ایک نشانی یہ ہے ﴿اَنَّكَ تَرَى الۡاَرۡضَ خَاشِعَةً ﴾ ’’کہ بے شک تو زمین کو دبی ہوئی دیکھتا ہے۔‘‘ یعنی اس کے اندر کوئی نباتات نہیں ہوتی ﴿فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَ ﴾ ’’پس جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں۔‘‘ یعنی بارش برساتے ہیں ﴿اهۡتَزَّتۡ ﴾ ’’تو وہ شاداب ہو جاتی ہے۔‘‘ یعنی نباتات کے ساتھ لہلہا اٹھتی ہے۔ ﴿وَرَبَتۡ ﴾ ’’اور ابھرنے لگتی ہے‘‘ یعنی وہ ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگاتی ہے، جس سے تمام بندوں اور زمین کی زندگی ہوتی ہے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡۤ اَحۡيَاهَا ﴾ ’’بے شک جس نے اس (زمین) کو زندہ کیا‘‘ جس نے اس کے مر جانے اور بنجر ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کیا ﴿لَمُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ وہ قبروں سے مردوں کو بھی قیامت کے روز زندہ کرے گا۔ ﴿اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ جس طرح اس کی قدرت زمین کے مردہ اور بنجر ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کرنے سے عاجز نہیں اسی طرح وہ مردوں کو زندہ کرنے میں بھی بے بس نہیں۔
41:40

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُلۡحِدُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا لَا يَخۡفَوۡنَ عَلَيۡنَآۗ أَفَمَن يُلۡقَىٰ فِي ٱلنَّارِ خَيۡرٌ أَم مَّن يَأۡتِيٓ ءَامِنٗا يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ ٱعۡمَلُواْ مَا شِئۡتُمۡ إِنَّهُۥ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ

بلاشبہ وہ لوگ جو کج روی کرتے ہیں ہماری آیتوں میں نہیں وہ مخفی رہتے ہم پر، کیا پس جو شخص ڈالا جائے گا آگ میں، وہ بہتر ہے یا وہ جو آئے گا امن سے دن قیامت کے؟ عمل کرو تم جو چاہو، بے شک وہ (اللہ) ساتھ اس کےجوتم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے (40) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ ذکر (قرآن) کے جب آیا وہ ان کے پاس(تو وہ ہلاک ہوں گے) اور بے شک وہ البتہ ایک کتاب ہے بہت زبردست (41) نہیں آ سکتا اس کےپاس باطل اس کےآگے سے اور نہ اس کےپیچھے سے، وہ نازل کر دہ ہے بڑی حکمت والی قابل تعریف ذات کی طرف سے (42) [40] اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد سے مراد ہے کہ ان کو کسی بھی لحاظ سے حق و صواب سے ہٹا دینا۔ یا تو ان آیات الٰہی کا انکار کر دینا اور ان آیات کو لانے والے رسول کی تکذیب کرنا، یا ان آیات الٰہی کو ان کے حقیقی معانی سے ہٹا کر، ایسے معانی کا اثبات کرنا جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے الحاد کرنے والوں کو وعید سنائی ہے کہ اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، اسے اس کے ظاہر و باطن کی اطلاع ہےاور وہ عنقریب اسے اس کے الحاد کی سزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿اَفَمَنۡ يُّلۡقٰى فِي النَّارِ ﴾ ’’کیا جو شخص آگ میں ڈالا جائے گا۔‘‘ مثلاً: اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد کرنے والا ﴿خَيۡرٌ اَمۡ مَّنۡ يَّاۡتِيۡۤ اٰمِنًا يَّوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن و امان سے آئے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ و مامون اور اس کے ثواب کا مستحق ہے؟ اور یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ یہی شخص بہتر ہے۔جب باطل سے حق واضح ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دینے والا راستہ ہلاکت کی گھاٹیوں میں پہنچانے والے راستے سے الگ ہو گیا تو فرمایا:﴿اِعۡمَلُوۡا مَا شِئۡتُمۡ ﴾ ’’تم جو چاہو کرلو۔‘‘ چاہو تو ہدایت کا راستہ اختیار کر لو جو رضائے الٰہی اور جنت کی منزل کو جاتا ہے، اور چاہو تو گمراہی کے راستے کو اختیار کر لو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور بدبختی کی منزل پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس لیے وہ تمھارے احوال و اعمال کے مطابق جزا دے گا۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف: 18؍29) ’’کہہ دیجیے: حق تمھارے رب کی طرف سے ہے، جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کا رویہ اختیار کرے۔‘‘ [41، 42] پھرفرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِالذِّكۡرِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ذکر (قرآن کریم) کا‘‘ یعنی جو لوگ قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں، جو بندوں کو ان کے دینی، دنیاوی اور اخروی مصالح کی یاد دہانی کراتا ہے اور جو اس کی اتباع کرے اس کا مرتبہ بلند کرتا ہے۔ ﴿لَمَّا جَآءَهُمۡ ﴾ ’’جبکہ وہ ان کے پاس آیا۔‘‘ یعنی افضل اور کامل ترین ہستی کے ذریعے سے ان کے رب کی طرف سے نعمت کے طور پر آیا۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ حال یہ ہے کہ ﴿اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ ﴾ ’’بے شک وہ ایک کتاب ہے‘‘ یہ اوصافِ کمال کی جامع کتاب ہے۔ ﴿عَزِيۡزٌ﴾ ’’زبردست‘‘ یعنی ہر قسم کے ارادۂ تحریف اور برائی سے محفوظ و مامون ہے۔اسی لیے فرمایا: ﴿لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ﴾ ’’اس پر جھوٹ کا دخل آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس میں سے کوئی شیطان، چوری یا دخل اندازی یا کمی بیشی کے ارادے سے اس کے قریب نہیں آسکتا۔ یہ اپنی تنزیل میں محفوظ اور اس کے الفاظ و معانی ہر تحریف سے مامون و مصئون ہیں۔ جس ہستی نے اسے نازل کیا ہے اس نے اس کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا ہے اور فرمایا:﴿اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ﴾(الحجر: 15؍9) ’’بے شک ہم نے ’’ذکر‘‘ (یعنی قرآن)کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘﴿تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ حَكِيۡمٍ ﴾ یعنی اس ہستی کی طرف سے نازل کردہ ہے جو اپنے خلق و امر میں حکمت والی ہے۔ جو ہر چیز کو اس کے مناسب حال مقام پر رکھتی ہے۔ ﴿حَمِيۡدٍ ﴾ ’’قابل تعریف ہے‘‘ جو اپنی صفات کمال، نعوت جلال اور اپنے عدل و احسان پر قابل تعریف ہے، بنابریں اس کی کتاب تمام ترحکمت، تحصیل مصالح و منافع اور دفع مفاسد کی تکمیل پر مشتمل ہے جن پر وہ ہستی قابل تعریف ہے۔
41:41

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِٱلذِّكۡرِ لَمَّا جَآءَهُمۡۖ وَإِنَّهُۥ لَكِتَٰبٌ عَزِيزٞ

بلاشبہ وہ لوگ جو کج روی کرتے ہیں ہماری آیتوں میں نہیں وہ مخفی رہتے ہم پر، کیا پس جو شخص ڈالا جائے گا آگ میں، وہ بہتر ہے یا وہ جو آئے گا امن سے دن قیامت کے؟ عمل کرو تم جو چاہو، بے شک وہ (اللہ) ساتھ اس کےجوتم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے (40) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ ذکر (قرآن) کے جب آیا وہ ان کے پاس(تو وہ ہلاک ہوں گے) اور بے شک وہ البتہ ایک کتاب ہے بہت زبردست (41) نہیں آ سکتا اس کےپاس باطل اس کےآگے سے اور نہ اس کےپیچھے سے، وہ نازل کر دہ ہے بڑی حکمت والی قابل تعریف ذات کی طرف سے (42) [40] اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد سے مراد ہے کہ ان کو کسی بھی لحاظ سے حق و صواب سے ہٹا دینا۔ یا تو ان آیات الٰہی کا انکار کر دینا اور ان آیات کو لانے والے رسول کی تکذیب کرنا، یا ان آیات الٰہی کو ان کے حقیقی معانی سے ہٹا کر، ایسے معانی کا اثبات کرنا جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے الحاد کرنے والوں کو وعید سنائی ہے کہ اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، اسے اس کے ظاہر و باطن کی اطلاع ہےاور وہ عنقریب اسے اس کے الحاد کی سزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿اَفَمَنۡ يُّلۡقٰى فِي النَّارِ ﴾ ’’کیا جو شخص آگ میں ڈالا جائے گا۔‘‘ مثلاً: اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد کرنے والا ﴿خَيۡرٌ اَمۡ مَّنۡ يَّاۡتِيۡۤ اٰمِنًا يَّوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن و امان سے آئے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ و مامون اور اس کے ثواب کا مستحق ہے؟ اور یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ یہی شخص بہتر ہے۔جب باطل سے حق واضح ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دینے والا راستہ ہلاکت کی گھاٹیوں میں پہنچانے والے راستے سے الگ ہو گیا تو فرمایا:﴿اِعۡمَلُوۡا مَا شِئۡتُمۡ ﴾ ’’تم جو چاہو کرلو۔‘‘ چاہو تو ہدایت کا راستہ اختیار کر لو جو رضائے الٰہی اور جنت کی منزل کو جاتا ہے، اور چاہو تو گمراہی کے راستے کو اختیار کر لو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور بدبختی کی منزل پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس لیے وہ تمھارے احوال و اعمال کے مطابق جزا دے گا۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف: 18؍29) ’’کہہ دیجیے: حق تمھارے رب کی طرف سے ہے، جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کا رویہ اختیار کرے۔‘‘ [41، 42] پھرفرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِالذِّكۡرِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ذکر (قرآن کریم) کا‘‘ یعنی جو لوگ قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں، جو بندوں کو ان کے دینی، دنیاوی اور اخروی مصالح کی یاد دہانی کراتا ہے اور جو اس کی اتباع کرے اس کا مرتبہ بلند کرتا ہے۔ ﴿لَمَّا جَآءَهُمۡ ﴾ ’’جبکہ وہ ان کے پاس آیا۔‘‘ یعنی افضل اور کامل ترین ہستی کے ذریعے سے ان کے رب کی طرف سے نعمت کے طور پر آیا۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ حال یہ ہے کہ ﴿اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ ﴾ ’’بے شک وہ ایک کتاب ہے‘‘ یہ اوصافِ کمال کی جامع کتاب ہے۔ ﴿عَزِيۡزٌ﴾ ’’زبردست‘‘ یعنی ہر قسم کے ارادۂ تحریف اور برائی سے محفوظ و مامون ہے۔اسی لیے فرمایا: ﴿لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ﴾ ’’اس پر جھوٹ کا دخل آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس میں سے کوئی شیطان، چوری یا دخل اندازی یا کمی بیشی کے ارادے سے اس کے قریب نہیں آسکتا۔ یہ اپنی تنزیل میں محفوظ اور اس کے الفاظ و معانی ہر تحریف سے مامون و مصئون ہیں۔ جس ہستی نے اسے نازل کیا ہے اس نے اس کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا ہے اور فرمایا:﴿اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ﴾(الحجر: 15؍9) ’’بے شک ہم نے ’’ذکر‘‘ (یعنی قرآن)کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘﴿تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ حَكِيۡمٍ ﴾ یعنی اس ہستی کی طرف سے نازل کردہ ہے جو اپنے خلق و امر میں حکمت والی ہے۔ جو ہر چیز کو اس کے مناسب حال مقام پر رکھتی ہے۔ ﴿حَمِيۡدٍ ﴾ ’’قابل تعریف ہے‘‘ جو اپنی صفات کمال، نعوت جلال اور اپنے عدل و احسان پر قابل تعریف ہے، بنابریں اس کی کتاب تمام ترحکمت، تحصیل مصالح و منافع اور دفع مفاسد کی تکمیل پر مشتمل ہے جن پر وہ ہستی قابل تعریف ہے۔
41:42

لَّا يَأۡتِيهِ ٱلۡبَٰطِلُ مِنۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهِۦۖ تَنزِيلٞ مِّنۡ حَكِيمٍ حَمِيدٖ

بلاشبہ وہ لوگ جو کج روی کرتے ہیں ہماری آیتوں میں نہیں وہ مخفی رہتے ہم پر، کیا پس جو شخص ڈالا جائے گا آگ میں، وہ بہتر ہے یا وہ جو آئے گا امن سے دن قیامت کے؟ عمل کرو تم جو چاہو، بے شک وہ (اللہ) ساتھ اس کےجوتم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے (40) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ ذکر (قرآن) کے جب آیا وہ ان کے پاس(تو وہ ہلاک ہوں گے) اور بے شک وہ البتہ ایک کتاب ہے بہت زبردست (41) نہیں آ سکتا اس کےپاس باطل اس کےآگے سے اور نہ اس کےپیچھے سے، وہ نازل کر دہ ہے بڑی حکمت والی قابل تعریف ذات کی طرف سے (42) [40] اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد سے مراد ہے کہ ان کو کسی بھی لحاظ سے حق و صواب سے ہٹا دینا۔ یا تو ان آیات الٰہی کا انکار کر دینا اور ان آیات کو لانے والے رسول کی تکذیب کرنا، یا ان آیات الٰہی کو ان کے حقیقی معانی سے ہٹا کر، ایسے معانی کا اثبات کرنا جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے الحاد کرنے والوں کو وعید سنائی ہے کہ اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، اسے اس کے ظاہر و باطن کی اطلاع ہےاور وہ عنقریب اسے اس کے الحاد کی سزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿اَفَمَنۡ يُّلۡقٰى فِي النَّارِ ﴾ ’’کیا جو شخص آگ میں ڈالا جائے گا۔‘‘ مثلاً: اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد کرنے والا ﴿خَيۡرٌ اَمۡ مَّنۡ يَّاۡتِيۡۤ اٰمِنًا يَّوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن و امان سے آئے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ و مامون اور اس کے ثواب کا مستحق ہے؟ اور یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ یہی شخص بہتر ہے۔جب باطل سے حق واضح ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دینے والا راستہ ہلاکت کی گھاٹیوں میں پہنچانے والے راستے سے الگ ہو گیا تو فرمایا:﴿اِعۡمَلُوۡا مَا شِئۡتُمۡ ﴾ ’’تم جو چاہو کرلو۔‘‘ چاہو تو ہدایت کا راستہ اختیار کر لو جو رضائے الٰہی اور جنت کی منزل کو جاتا ہے، اور چاہو تو گمراہی کے راستے کو اختیار کر لو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور بدبختی کی منزل پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس لیے وہ تمھارے احوال و اعمال کے مطابق جزا دے گا۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف: 18؍29) ’’کہہ دیجیے: حق تمھارے رب کی طرف سے ہے، جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کا رویہ اختیار کرے۔‘‘ [41، 42] پھرفرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِالذِّكۡرِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ذکر (قرآن کریم) کا‘‘ یعنی جو لوگ قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں، جو بندوں کو ان کے دینی، دنیاوی اور اخروی مصالح کی یاد دہانی کراتا ہے اور جو اس کی اتباع کرے اس کا مرتبہ بلند کرتا ہے۔ ﴿لَمَّا جَآءَهُمۡ ﴾ ’’جبکہ وہ ان کے پاس آیا۔‘‘ یعنی افضل اور کامل ترین ہستی کے ذریعے سے ان کے رب کی طرف سے نعمت کے طور پر آیا۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ حال یہ ہے کہ ﴿اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ ﴾ ’’بے شک وہ ایک کتاب ہے‘‘ یہ اوصافِ کمال کی جامع کتاب ہے۔ ﴿عَزِيۡزٌ﴾ ’’زبردست‘‘ یعنی ہر قسم کے ارادۂ تحریف اور برائی سے محفوظ و مامون ہے۔اسی لیے فرمایا: ﴿لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ﴾ ’’اس پر جھوٹ کا دخل آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس میں سے کوئی شیطان، چوری یا دخل اندازی یا کمی بیشی کے ارادے سے اس کے قریب نہیں آسکتا۔ یہ اپنی تنزیل میں محفوظ اور اس کے الفاظ و معانی ہر تحریف سے مامون و مصئون ہیں۔ جس ہستی نے اسے نازل کیا ہے اس نے اس کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا ہے اور فرمایا:﴿اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ﴾(الحجر: 15؍9) ’’بے شک ہم نے ’’ذکر‘‘ (یعنی قرآن)کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘﴿تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ حَكِيۡمٍ ﴾ یعنی اس ہستی کی طرف سے نازل کردہ ہے جو اپنے خلق و امر میں حکمت والی ہے۔ جو ہر چیز کو اس کے مناسب حال مقام پر رکھتی ہے۔ ﴿حَمِيۡدٍ ﴾ ’’قابل تعریف ہے‘‘ جو اپنی صفات کمال، نعوت جلال اور اپنے عدل و احسان پر قابل تعریف ہے، بنابریں اس کی کتاب تمام ترحکمت، تحصیل مصالح و منافع اور دفع مفاسد کی تکمیل پر مشتمل ہے جن پر وہ ہستی قابل تعریف ہے۔
41:43

مَّا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدۡ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبۡلِكَۚ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغۡفِرَةٖ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٖ

نہیں کہا جاتا آپ سے مگر وہی جو تحقیق کہا گیا رسولوں سے آپ سے پہلے، بے شک آپ کا رب بخشش والا اور درد ناک عذاب دینے والا ہے (43) [43]﴿مَا يُقَالُ لَكَ ﴾ ’’نہیں کہا جاتا ہے کہ آپ کے بارے میں‘‘ اے رسول! یہ اقوال جو آپ کی تکذیب کرنے والوں اور آپ سے عناد رکھنے والوں کی زبان سے صادر ہو رہے ہیں۔ ﴿اِلَّا مَا قَدۡ قِيۡلَ لِلرُّسُلِ مِنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’مگر وہی جو تم سے پہلے رسولوں سے کہا گیا‘‘ یعنی یہ اقوال ان اقوال کی جنس سے ہیں جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہے گئے، بلکہ بسااوقات انھوں نے ایک جیسی بات کہی، مثلاً: انبیاء و مرسلین کی تکذیب کرنے والی امتوں نے اخلاص للہ اور اس اکیلے کی عبادت کی طرف دعوت پر تعجب کا اظہار کیا اور ہر ممکن طریقے سے اس دعوت کو رد کیا۔ وہ بھی کہتے تھے: ﴿مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾(يٰسٓ:36؍15) ’’تم ہماری ہی طرح بشر ہو۔‘‘ اسی طرح ان کا اپنے رسولوں سے معجزات کا مطالبہ کرنا جن کا دکھانا ان پر لازم نہ تھا اور اسی قسم کے دیگر الفاظ جو اہل تکذیب کی زبان سے صادر ہوئے۔ چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ تمام انبیاء و مرسلین نے کفار کی ایذا رسانی اور ان کی تکذیب پر صبر کیا اس لیے آپ بھی صبر کیجیے جس طرح آپ سے قبل انبیاء و مرسلین نے صبر کیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کو توبہ اور اسباب مغفرت کی طرف آنے کی دعوت دی اور انھیں اپنی گمراہی پر جمے رہنے سے ڈرایا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَذُوۡ مَغۡفِرَةٍ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب معاف کردینے والا بھی ہے‘‘ یعنی تیرا رب عظیم مغفرت کا مالک ہے جو اس شخص کے ہر گناہ کو مٹا دیتا ہے جو توبہ کر کے گناہ سے رک جاتا ہے۔ ﴿وَّذُوۡ عِقَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور دردناک سزا دینے والا بھی ہے۔‘‘ اس شخص کے لیے دردناک عذاب ہے جو تکبر کرتے ہوئے گناہ پر اصرار کرتا ہے۔
41:44

وَلَوۡ جَعَلۡنَٰهُ قُرۡءَانًا أَعۡجَمِيّٗا لَّقَالُواْ لَوۡلَا فُصِّلَتۡ ءَايَٰتُهُۥٓۖ ءَا۬عۡجَمِيّٞ وَعَرَبِيّٞۗ قُلۡ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدٗى وَشِفَآءٞۚ وَٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ فِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٞ وَهُوَ عَلَيۡهِمۡ عَمًىۚ أُوْلَـٰٓئِكَ يُنَادَوۡنَ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٖ

اور اگر کرتے ہم اس کو قرآن عجمی زبان کا تو البتہ وہ کہتے، کیوں نہیں کھول کر بیان کی گئیں آیتیں اس کی؟ کیا(کتاب) عجمی اور (رسول) عربی؟ کہہ دیجیے: وہ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، ہدایت اور شفا ہے، اور وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے، ان کے کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے اور وہ ان کے حق میں اندھا پن ہے، یہ لوگ (گویا) پکارے جاتے ہیں دور جگہ سے (44) [44] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل وکرم کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اپنی کتاب رسول عربی ﷺ پر آپ کی قوم کی زبان، عربی میں نازل کی تاکہ اس سے ان پر راہ ہدایت واضح ہو جائے۔ اس کتاب کریم کا یہ وصف زیادہ اعتنا کا موجب ہے اور اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ سر تسلیم خم کر کے اسے قبول کیا جائے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب عظیم کو کسی عجمی زبان میں بھیجا ہوتا تو اس کی تکذیب کرنے والے کہتے۔ ﴿لَوۡلَا فُصِّلَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ اس کی آیات کو واضح کیوں نہ کیا گیا، اس کی تفسیر کیوں نہ بیان کی گئی ﴿ءَؔاَعۡجَمِيٌّ وَّعَرَبِيٌّ ﴾ ’’یہ کیا بات ہے کہ کتاب عجمی زبان میں اور مخاطب عربی‘‘ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ محمد ﷺ عربی ہیں اور کتاب عجمی ہو؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے اپنی کتاب سے ہر امر کی نفی کر دی جس میں اہل باطل کے لیے کوئی شبہ ہو سکتا ہے اور اسے ایسے اوصاف سے موصوف فرمایا جو ان پر اطاعت کو واجب ٹھہراتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اہل ایمان جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق سے نوازا ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور بلنددرجے پاتے ہیں اور دیگر لوگوں کے احوال اس کے برعکس ہوتے ہیں۔بنابریں فرمایا:﴿قُلۡ هُوَ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا هُدًى وَّشِفَآءٌ ﴾’’کہہ دیجیے کہ جو ایمان لاتے ہیں، ان کے لیے یہ ہدایت اور شفا ہے۔‘‘ یعنی یہ کتاب انھیں رشد و ہدایت اور راہ راست دکھاتی ہے اور انھیں علوم نافعہ کی تعلیم دیتی ہے جس سے ہدایت کامل حاصل ہوتی ہے۔ اس کتاب عظیم میں ان کے جسمانی اور روحانی امراض کی شفا ہے۔ کیونکہ کتاب، برے اخلاق اور برے اعمال پر ان کی زجروتوبیخ کرتی ہے اور انھیں ایسی خالص توبہ پر آمادہ کرتی ہے جو گناہوں کو دھو کر قلوب کو شفا بخشتی ہے۔﴿وَالَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’وہ لوگ جو (قرآن پر) ایمان نہیں لاتے‘‘ ﴿فِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرٌ ﴾ ’’ان کے کانوں میں بوجھ ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کو سننے سے محروم اور اس سے روگردانی کا شکار ہیں۔ ﴿وَّهُوَ عَلَيۡهِمۡ عَمًى ﴾ ’’یہ ان کے حق میں اندھا پن ہے۔‘‘ جس کی وجہ سے انھیں رشدوہدایت نظر آتی ہے نہ راہ راست ملتی ہے۔ یہ کتاب ان کی گمراہی میں اضافہ کرتی ہے۔ کیونکہ جب یہ لوگ حق کو ٹھکرا دیتے ہیں تو ان کے اندھے پن میں اضافہ ہو جاتا ہے اور ان پر ایک اور تہہ چڑھ جاتی ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ يُنَادَوۡنَ مِنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’یہ وہ ہیں جنھیں دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے۔‘‘ یعنی جنھیں ایمان کے لیے پکارا اور اس کی طرف بلایا جا رہا ہو اور یہ جواب نہ دے سکتے ہوں۔ ایسے لوگ اس شخص کی مانند ہیں جسے بہت دور سے پکارا جا رہا ہو، جسے پکارنے والے کی آواز سنائی دیتی ہو نہ وہ جواب دے سکتا ہو۔مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو قرآن پر ایمان نہیں لاتے، اس کی راہنمائی اور اس کی روشنی سے مستفید ہو سکتے ہیں نہ انھیں اس عظیم کتاب سے کوئی بھلائی حاصل ہو سکتی ہے کیونکہ انھوں نے اپنے اعراض اور کفر کے سبب سے خود اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے بند کر لیے ہیں۔
41:45

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ فَٱخۡتُلِفَ فِيهِۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّهُمۡ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُ مُرِيبٖ

اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کوکتاب، پس اختلاف کیا گیا اس میں، اور اگر نہ ہوتی ایک بات، جو پہلے سے (طے) ہو چکی تھی آپ کے رب کی طرف سے، تو البتہ فیصلہ کر دیا جاتا درمیان ان کے، اور بے شک وہ البتہ شک میں ہیں اس کی طرف سے، جو اضطراب میں ڈالنے والا ہے (45) جس نے عمل کیا نیک، تو اس کےاپنے ہی لیے ہے اور جس نے برا کیا تو اسی پر ہے وبال(اس کا) اور نہیں ہے آپ کا رب ظلم کرنے والا بندوں پر (46) [45] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو بھی کتاب عطا کی تھی‘‘ جس طرح آپ(ﷺ) کو کتاب عطا کی ہے۔ لوگوں نے حضرت موسیٰu کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو آپ کے ساتھ کر رہے ہیں۔ پس لوگوں نے اس کتاب کے بارے میں اختلاف کیا۔ ان میں سے کچھ لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئے، انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل کی اور اس سے مستفید ہوئے اور کچھ لوگوں نے اس کتاب کی تکذیب کی اور اس سے مستفید نہ ہو سکے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے حلم اور سابقہ فیصلے کی بنا پر ان پر عذاب کو ایک مدت مقررہ تک مؤخر نہ کرتا، جس سے یہ عذاب آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔ ﴿لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تو ان کے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا‘‘ جس سے اہل ایمان اور کفار کے درمیان فرق واضح ہو جاتا اور کافروں کو اسی حال میں ہلاک کر دیا جاتا کیونکہ ان کی ہلاکت کا سبب پورا ہو چکا تھا۔ ﴿وَاِنَّهُمۡ لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ مُرِيۡبٍ ﴾ ’’اور یہ اس (قرآن) کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔‘‘ شک نے ان کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے، جہاں وہ متزلزل ہو گئے ہیں۔ اس لیے انھوں نے اس کی تکذیب کی۔ [46]﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا ﴾ ’’جس نے نیک کام کیے۔‘‘ عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہو۔ ﴿فَلِنَفۡسِهٖ﴾ دنیا و آخرت میں اس کا ثواب اور فائدہ اسی کے لیے ہے ﴿وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا ﴾ ’’جس نے برے کام کیے ان کا ضرر اسی کو ہوگا۔‘‘ دنیا و آخرت میں اس کا نقصان اور عذاب بھی وہی بھگتے گا۔ اس آیت کریمہ میں فعل خیر اور ترک شر کی ترغیب دی گئی ہے نیز اس میں ذکر کیا گیا ہے کہ اصحاب اعمال اپنے نیک اعمال سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور برے اعمال سے ان کو ضرر پہنچتا ہے۔ نیز یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾ ’’اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا کہ ان پر ان کی برائیوں سے بڑھ کر عذاب مسلط کر دے۔
41:46

مَّنۡ عَمِلَ صَٰلِحٗا فَلِنَفۡسِهِۦۖ وَمَنۡ أَسَآءَ فَعَلَيۡهَاۗ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّـٰمٖ لِّلۡعَبِيدِ

اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کوکتاب، پس اختلاف کیا گیا اس میں، اور اگر نہ ہوتی ایک بات، جو پہلے سے (طے) ہو چکی تھی آپ کے رب کی طرف سے، تو البتہ فیصلہ کر دیا جاتا درمیان ان کے، اور بے شک وہ البتہ شک میں ہیں اس کی طرف سے، جو اضطراب میں ڈالنے والا ہے (45) جس نے عمل کیا نیک، تو اس کےاپنے ہی لیے ہے اور جس نے برا کیا تو اسی پر ہے وبال(اس کا) اور نہیں ہے آپ کا رب ظلم کرنے والا بندوں پر (46) [45] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو بھی کتاب عطا کی تھی‘‘ جس طرح آپ(ﷺ) کو کتاب عطا کی ہے۔ لوگوں نے حضرت موسیٰu کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو آپ کے ساتھ کر رہے ہیں۔ پس لوگوں نے اس کتاب کے بارے میں اختلاف کیا۔ ان میں سے کچھ لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئے، انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل کی اور اس سے مستفید ہوئے اور کچھ لوگوں نے اس کتاب کی تکذیب کی اور اس سے مستفید نہ ہو سکے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے حلم اور سابقہ فیصلے کی بنا پر ان پر عذاب کو ایک مدت مقررہ تک مؤخر نہ کرتا، جس سے یہ عذاب آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔ ﴿لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تو ان کے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا‘‘ جس سے اہل ایمان اور کفار کے درمیان فرق واضح ہو جاتا اور کافروں کو اسی حال میں ہلاک کر دیا جاتا کیونکہ ان کی ہلاکت کا سبب پورا ہو چکا تھا۔ ﴿وَاِنَّهُمۡ لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ مُرِيۡبٍ ﴾ ’’اور یہ اس (قرآن) کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔‘‘ شک نے ان کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے، جہاں وہ متزلزل ہو گئے ہیں۔ اس لیے انھوں نے اس کی تکذیب کی۔ [46]﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا ﴾ ’’جس نے نیک کام کیے۔‘‘ عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہو۔ ﴿فَلِنَفۡسِهٖ﴾ دنیا و آخرت میں اس کا ثواب اور فائدہ اسی کے لیے ہے ﴿وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا ﴾ ’’جس نے برے کام کیے ان کا ضرر اسی کو ہوگا۔‘‘ دنیا و آخرت میں اس کا نقصان اور عذاب بھی وہی بھگتے گا۔ اس آیت کریمہ میں فعل خیر اور ترک شر کی ترغیب دی گئی ہے نیز اس میں ذکر کیا گیا ہے کہ اصحاب اعمال اپنے نیک اعمال سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور برے اعمال سے ان کو ضرر پہنچتا ہے۔ نیز یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾ ’’اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا کہ ان پر ان کی برائیوں سے بڑھ کر عذاب مسلط کر دے۔
41:47

۞إِلَيۡهِ يُرَدُّ عِلۡمُ ٱلسَّاعَةِۚ وَمَا تَخۡرُجُ مِن ثَمَرَٰتٖ مِّنۡ أَكۡمَامِهَا وَمَا تَحۡمِلُ مِنۡ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلۡمِهِۦۚ وَيَوۡمَ يُنَادِيهِمۡ أَيۡنَ شُرَكَآءِي قَالُوٓاْ ءَاذَنَّـٰكَ مَامِنَّا مِن شَهِيدٖ

اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے علم قیامت (کے آنے)کا اور نہیں نکلتا کوئی پھل اپنے غلافوں سے اور نہیں حمل سے ہوتی کوئی مادہ اور نہ (کوئی بچہ) جنتی ہے مگر اس کے علم ہی سے اور جس دن پکارے گا وہ ان کو، کہا ں ہیں میرے شریک؟ وہ کہیں گے: ہم نے بتلا دیا تجھ کو، نہیں ہے ہم میں سے کوئی گواہ (اس بات کا)(47)اور گم ہو جائیں گے ان سے وہ جن کو تھے وہ پکارتے اس سے پہلے اور وہ گمان کریں گے کہ نہیں ہے ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ (48) [47، 48] یہ اللہ تعالیٰ کے وسیع علم کا ذکر ہے۔ نیز یہ ان امور کا ذکر ہے جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے، جنھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِلَيۡهِ يُرَدُّ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾ ’’قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوق کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتا ہے۔ تمام انبیاء و مرسلین اور فرشتے وغیرھم اس بارے میں اپنے عجز اور بے بسی کا اقرار کرتے ہیں۔ ﴿وَمَا تَخۡرُجُ مِنۡ ثَمَرٰتٍ مِّنۡ اَكۡمَامِهَا ﴾ ’’اور نہ تو پھل گابھوں سے نکلتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں۔ یہ تمام درختوں کے پھل کو شامل ہے جو شہروں میں یا جنگلوں میں اگتے ہیں۔ کسی درخت پر جو پھل بھی لگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو تفصیلی طور پر جانتا ہے۔ ﴿وَمَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰى ﴾ ’’اور نہیں حاملہ ہوتی کوئی مادہ۔‘‘ بنی آدم اور تمام حیوانات میں سے حاملہ جو حمل اٹھاتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ ﴿وَلَا تَضَعُ ﴾ ’’اور نہ كوئی حاملہ بچہ جنم دیتی ہے ﴿ اِلَّا بِعِلۡمِهٖ﴾ مگر اس کے علم سے۔‘‘ مشرکین نے ان ہستیوں کو کیسے اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہرا دیا جو سن سکتی ہیں نہ دیکھ سکتی ہیں۔ ﴿وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین کو، زجروتوبیخ کے طور پر اور ان کے جھوٹ کو ظاہر کرتے ہوئے پکارے گا اور فرمائے گا:﴿اَيۡنَ شُرَؔكَآءِيۡ ﴾ ’’میرے شریک کہاں ہیں۔‘‘ جن کو تم میرا شریک سمجھتے ہوئے ان کی عبادت کرتے تھے اس کی بنا پر تم جھگڑتے اور رسولوں سے عداوت رکھتے تھے۔ ﴿قَالُوۡۤا ﴾ وہ اپنے خودساختہ معبودوں کی الوہیت اور ان کی شرکت کے بطلان کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنۡ شَهِيۡدٍ﴾ ’’ہم آپ سے کہہ چکے کہ (آج) ہم میں سے کوئی (ایسی) گواہی دینے والا نہیں۔‘‘ یعنی اے ہمارے رب ہم تیرے سامنے اقرار کرتے ہیں، تو گواہ رہنا کہ ہم میں سے کوئی بھی ان معبودان باطل کی الوہیت اور شرکت کی گواہی نہیں دیتا۔ اب ہم سب ان کی عبادت کے بطلان کا اقرار اور ان سے براء ت کا اعلان کرتے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَدۡعُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہوجائیں گے ان سے وہ جن کو وہ پکارا کرتے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یعنی ان کے وہ تمام عقائد اور اعمال اکارت جائیں گے جن کے اندر انھوں نے غیراللہ کی عبادت کرتے ہوئے عمریں گزاریں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے یہ خودساختہ معبود انھیں کوئی فائدہ دیں گے، ان سے عذاب دور کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے سفارشی ہوں گے۔ ان کی تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی، ان کا گمان جھوٹا ثابت ہوگا اور ان کے خودساختہ شرکاء ان کے کسی کام نہ آسکیں گے۔ ﴿وَظَنُّوۡا ﴾ اور اس حال میں انھیں یقین آ جائے گا ﴿مَا لَهُمۡ مِّنۡ مَّحِيۡصٍ﴾ کہ کوئی ان کو بچانے والا ہے نہ کوئی مدد کو پہنچنے والا اور نہ ان کو کوئی جائے پناہ ہی ملے گی۔ یہ ہے اس شخص کا انجام جس نے شرک کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واضح کر دیا ہے کہ وہ شرک سے بچیں۔
41:48

وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَدۡعُونَ مِن قَبۡلُۖ وَظَنُّواْ مَا لَهُم مِّن مَّحِيصٖ

اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے علم قیامت (کے آنے)کا اور نہیں نکلتا کوئی پھل اپنے غلافوں سے اور نہیں حمل سے ہوتی کوئی مادہ اور نہ (کوئی بچہ) جنتی ہے مگر اس کے علم ہی سے اور جس دن پکارے گا وہ ان کو، کہا ں ہیں میرے شریک؟ وہ کہیں گے: ہم نے بتلا دیا تجھ کو، نہیں ہے ہم میں سے کوئی گواہ (اس بات کا)(47)اور گم ہو جائیں گے ان سے وہ جن کو تھے وہ پکارتے اس سے پہلے اور وہ گمان کریں گے کہ نہیں ہے ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ (48) [47، 48] یہ اللہ تعالیٰ کے وسیع علم کا ذکر ہے۔ نیز یہ ان امور کا ذکر ہے جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے، جنھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِلَيۡهِ يُرَدُّ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾ ’’قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوق کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتا ہے۔ تمام انبیاء و مرسلین اور فرشتے وغیرھم اس بارے میں اپنے عجز اور بے بسی کا اقرار کرتے ہیں۔ ﴿وَمَا تَخۡرُجُ مِنۡ ثَمَرٰتٍ مِّنۡ اَكۡمَامِهَا ﴾ ’’اور نہ تو پھل گابھوں سے نکلتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں۔ یہ تمام درختوں کے پھل کو شامل ہے جو شہروں میں یا جنگلوں میں اگتے ہیں۔ کسی درخت پر جو پھل بھی لگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو تفصیلی طور پر جانتا ہے۔ ﴿وَمَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰى ﴾ ’’اور نہیں حاملہ ہوتی کوئی مادہ۔‘‘ بنی آدم اور تمام حیوانات میں سے حاملہ جو حمل اٹھاتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ ﴿وَلَا تَضَعُ ﴾ ’’اور نہ كوئی حاملہ بچہ جنم دیتی ہے ﴿ اِلَّا بِعِلۡمِهٖ﴾ مگر اس کے علم سے۔‘‘ مشرکین نے ان ہستیوں کو کیسے اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہرا دیا جو سن سکتی ہیں نہ دیکھ سکتی ہیں۔ ﴿وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین کو، زجروتوبیخ کے طور پر اور ان کے جھوٹ کو ظاہر کرتے ہوئے پکارے گا اور فرمائے گا:﴿اَيۡنَ شُرَؔكَآءِيۡ ﴾ ’’میرے شریک کہاں ہیں۔‘‘ جن کو تم میرا شریک سمجھتے ہوئے ان کی عبادت کرتے تھے اس کی بنا پر تم جھگڑتے اور رسولوں سے عداوت رکھتے تھے۔ ﴿قَالُوۡۤا ﴾ وہ اپنے خودساختہ معبودوں کی الوہیت اور ان کی شرکت کے بطلان کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنۡ شَهِيۡدٍ﴾ ’’ہم آپ سے کہہ چکے کہ (آج) ہم میں سے کوئی (ایسی) گواہی دینے والا نہیں۔‘‘ یعنی اے ہمارے رب ہم تیرے سامنے اقرار کرتے ہیں، تو گواہ رہنا کہ ہم میں سے کوئی بھی ان معبودان باطل کی الوہیت اور شرکت کی گواہی نہیں دیتا۔ اب ہم سب ان کی عبادت کے بطلان کا اقرار اور ان سے براء ت کا اعلان کرتے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَدۡعُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہوجائیں گے ان سے وہ جن کو وہ پکارا کرتے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یعنی ان کے وہ تمام عقائد اور اعمال اکارت جائیں گے جن کے اندر انھوں نے غیراللہ کی عبادت کرتے ہوئے عمریں گزاریں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے یہ خودساختہ معبود انھیں کوئی فائدہ دیں گے، ان سے عذاب دور کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے سفارشی ہوں گے۔ ان کی تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی، ان کا گمان جھوٹا ثابت ہوگا اور ان کے خودساختہ شرکاء ان کے کسی کام نہ آسکیں گے۔ ﴿وَظَنُّوۡا ﴾ اور اس حال میں انھیں یقین آ جائے گا ﴿مَا لَهُمۡ مِّنۡ مَّحِيۡصٍ﴾ کہ کوئی ان کو بچانے والا ہے نہ کوئی مدد کو پہنچنے والا اور نہ ان کو کوئی جائے پناہ ہی ملے گی۔ یہ ہے اس شخص کا انجام جس نے شرک کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واضح کر دیا ہے کہ وہ شرک سے بچیں۔
41:49

لَّا يَسۡـَٔمُ ٱلۡإِنسَٰنُ مِن دُعَآءِ ٱلۡخَيۡرِ وَإِن مَّسَّهُ ٱلشَّرُّ فَيَـُٔوسٞ قَنُوطٞ

نہیں تھکتا انسان بھلائی مانگنے سے اور اگر پہنچے اسے تکلیف، تو وہ انتہائی مایوس سخت ناامید ہو جاتا ہے (49) اور البتہ اگر چکھائیں ہم اسے رحمت اپنی طرف سے بعد اس تکلیف کے جو پہنچی اسے تو وہ یقیناً کہتا ہے: یہ تو میرے لیے ہے اور نہیں گمان کرتا میں قیامت کو قائم ہونے والی اور البتہ اگر میں لوٹایا گیا اپنے رب کی طرف تو بلاشبہ میرے لیے اس کےپاس البتہ بھلائی ہی ہو گی، پس البتہ ہم ضرور بتلائیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ اس کےجو انھوں نے عمل کیے اور البتہ ہم ضرورچکھائیں گے ان کو عذاب سخت (50) اور جب احسان کرتے ہیں ہم انسان پر تو وہ منہ موڑ لیتا ہے اور دور ہو جاتا ہے اپنے پہلو کے ساتھ اور جب پہنچتی ہے اسے تکلیف تو دعائیں کرنے والا ہو جاتا ہے لمبی چوڑی (51) [49] اس آیت کریمہ میں انسان کی فطرت و طبیعت کا بیان ہے کہ وہ خیر پر صبر کر سکتا ہے نہ شر پر۔ سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ اس حالت سے نکال کر حالت کمال میں منتقل کر دے۔ فرمایا: ﴿لَا يَسۡـَٔمُ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ دُعَآءِ الۡخَيۡرِ ﴾ یعنی انسان اللہ تعالیٰ سے، اپنی فوزوفلاح، مال، اولاد اور دیگر دنیاوی مطالب و مقاصد کے لیے دعا کرتے ہوئے کبھی نہیں اکتاتا اور اس پر ہمیشہ عمل پیرا رہتا ہے وہ قلیل یا کثیر کسی چیز پر قناعت نہیں کرتا، اگر اسے دنیا کی ہر چیز مل جائے تب بھی وہ مزید دنیا طلب کرتا رہے گا۔ ﴿وَاِنۡ مَّسَّهُ الشَّرُّ ﴾ ’’اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچے۔‘‘ یعنی بیماری ،فقر اور مختلف مصائب وغیرہ اسے لاحق ہوں۔ ﴿فَيَـُٔوۡسٌ قَنُوۡطٌ ﴾ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ مصیبت اسے ہلاک کر ڈالے گی اور ایسے اسباب اختیار کرنے کی فکر کرتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ اس رویے سے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، ان لوگوں کو اگر بھلائی، نعمت اور کوئی محبوب چیز عطا ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس چیز سے بھی ڈرتے ہیں کہ یہ نعمتیں کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے استدراج اور مہلت نہ ہوں۔ اگر انھیں اپنی جان، مال اور اولاد میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے، تو صبر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل کی امید رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتے۔ [50] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَىِٕنۡ اَذَقۡنٰهُ ﴾ ’’اور اگر ہم اسے چکھاتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ شخص جو بھلائی کی دعا سے اکتاتا نہیں اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو مایوس ہو جاتا ہے۔ ﴿رَحۡمَةً مِّؔنَّا ﴾ ’’اپنی طرف سے رحمت۔‘‘ یعنی اس برائی کے بعد جو اسے پہنچتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اسے مرض سے شفا دیتا ہے یا اس کا فقر دور کر کے غنی بنا دیتا ہے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ وہ بغاوت اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے اور کہتا ہے:﴿هٰؔذَا لِيۡ ﴾ یعنی یہ مجھے عطا ہوا ہے کیونکہ میں اس کا اہل اور مستحق ہوں۔ ﴿وَمَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً ﴾ ’’اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہوگی‘‘ یہ اس کی طرف سے انکار قیامت ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت اور رحمت کی ناسپاسی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی۔ ﴿وَّلَىِٕنۡ رُّجِعۡتُ اِلٰى رَبِّيۡۤ اِنَّ لِيۡ عِنۡدَهٗ لَلۡحُسۡنٰى ﴾ فرض کیا اگر قیامت کی گھڑی آہی جائے اور مجھے اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے تو میرے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی بھلائی ہے۔ جس طرح دنیا میں مجھے نعمتوں سے نوازا گیا ہے، اسی طرح آخرت میں بھی مجھے نعمتوں سے بہرہ مند کیا جائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے بڑی جسارت اور بلاعلم قول ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَلَنُنَبِّئَنَّ۠ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا١ٞ وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’پس کافر جو عمل کرتے ہیں، وہ ہم انھیں ضرور بتائیں گے اور انھیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘ یعنی نہایت سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ [51]﴿وَاِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَى الۡاِنۡسَانِ ﴾ یعنی جب ہم انسان کو صحت اور رزق وغیرہ کی نعمت سے بہرہ ور کرتے ہیں۔ ﴿اَعۡرَضَ ﴾ تو وہ اپنے رب اور اس کی شکر گزاری سے روگردانی کرتا ہے۔ ﴿وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ﴾ اور تکبر اور خود پسندی کی بنا پر کنارہ کش ہوجاتا ہے۔ ﴿وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ ﴾ ’’اور اگر اسے برائی پہنچتی ہے۔‘‘ یعنی اگر مرض اور فقر اسے آ لیتا ہے۔ ﴿فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِيۡضٍ ﴾ تو عدم صبر کی بنا پر بہت دعائیں کرتا ہے، پس کوئی بھی تنگی میں صبر کرتا ہے نہ فراخی میں شکر۔ سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا ہو۔
41:50

وَلَئِنۡ أَذَقۡنَٰهُ رَحۡمَةٗ مِّنَّا مِنۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡهُ لَيَقُولَنَّ هَٰذَا لِي وَمَآ أَظُنُّ ٱلسَّاعَةَ قَآئِمَةٗ وَلَئِن رُّجِعۡتُ إِلَىٰ رَبِّيٓ إِنَّ لِي عِندَهُۥ لَلۡحُسۡنَىٰۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيظٖ

نہیں تھکتا انسان بھلائی مانگنے سے اور اگر پہنچے اسے تکلیف، تو وہ انتہائی مایوس سخت ناامید ہو جاتا ہے (49) اور البتہ اگر چکھائیں ہم اسے رحمت اپنی طرف سے بعد اس تکلیف کے جو پہنچی اسے تو وہ یقیناً کہتا ہے: یہ تو میرے لیے ہے اور نہیں گمان کرتا میں قیامت کو قائم ہونے والی اور البتہ اگر میں لوٹایا گیا اپنے رب کی طرف تو بلاشبہ میرے لیے اس کےپاس البتہ بھلائی ہی ہو گی، پس البتہ ہم ضرور بتلائیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ اس کےجو انھوں نے عمل کیے اور البتہ ہم ضرورچکھائیں گے ان کو عذاب سخت (50) اور جب احسان کرتے ہیں ہم انسان پر تو وہ منہ موڑ لیتا ہے اور دور ہو جاتا ہے اپنے پہلو کے ساتھ اور جب پہنچتی ہے اسے تکلیف تو دعائیں کرنے والا ہو جاتا ہے لمبی چوڑی (51) [49] اس آیت کریمہ میں انسان کی فطرت و طبیعت کا بیان ہے کہ وہ خیر پر صبر کر سکتا ہے نہ شر پر۔ سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ اس حالت سے نکال کر حالت کمال میں منتقل کر دے۔ فرمایا: ﴿لَا يَسۡـَٔمُ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ دُعَآءِ الۡخَيۡرِ ﴾ یعنی انسان اللہ تعالیٰ سے، اپنی فوزوفلاح، مال، اولاد اور دیگر دنیاوی مطالب و مقاصد کے لیے دعا کرتے ہوئے کبھی نہیں اکتاتا اور اس پر ہمیشہ عمل پیرا رہتا ہے وہ قلیل یا کثیر کسی چیز پر قناعت نہیں کرتا، اگر اسے دنیا کی ہر چیز مل جائے تب بھی وہ مزید دنیا طلب کرتا رہے گا۔ ﴿وَاِنۡ مَّسَّهُ الشَّرُّ ﴾ ’’اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچے۔‘‘ یعنی بیماری ،فقر اور مختلف مصائب وغیرہ اسے لاحق ہوں۔ ﴿فَيَـُٔوۡسٌ قَنُوۡطٌ ﴾ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ مصیبت اسے ہلاک کر ڈالے گی اور ایسے اسباب اختیار کرنے کی فکر کرتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ اس رویے سے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، ان لوگوں کو اگر بھلائی، نعمت اور کوئی محبوب چیز عطا ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس چیز سے بھی ڈرتے ہیں کہ یہ نعمتیں کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے استدراج اور مہلت نہ ہوں۔ اگر انھیں اپنی جان، مال اور اولاد میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے، تو صبر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل کی امید رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتے۔ [50] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَىِٕنۡ اَذَقۡنٰهُ ﴾ ’’اور اگر ہم اسے چکھاتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ شخص جو بھلائی کی دعا سے اکتاتا نہیں اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو مایوس ہو جاتا ہے۔ ﴿رَحۡمَةً مِّؔنَّا ﴾ ’’اپنی طرف سے رحمت۔‘‘ یعنی اس برائی کے بعد جو اسے پہنچتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اسے مرض سے شفا دیتا ہے یا اس کا فقر دور کر کے غنی بنا دیتا ہے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ وہ بغاوت اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے اور کہتا ہے:﴿هٰؔذَا لِيۡ ﴾ یعنی یہ مجھے عطا ہوا ہے کیونکہ میں اس کا اہل اور مستحق ہوں۔ ﴿وَمَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً ﴾ ’’اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہوگی‘‘ یہ اس کی طرف سے انکار قیامت ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت اور رحمت کی ناسپاسی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی۔ ﴿وَّلَىِٕنۡ رُّجِعۡتُ اِلٰى رَبِّيۡۤ اِنَّ لِيۡ عِنۡدَهٗ لَلۡحُسۡنٰى ﴾ فرض کیا اگر قیامت کی گھڑی آہی جائے اور مجھے اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے تو میرے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی بھلائی ہے۔ جس طرح دنیا میں مجھے نعمتوں سے نوازا گیا ہے، اسی طرح آخرت میں بھی مجھے نعمتوں سے بہرہ مند کیا جائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے بڑی جسارت اور بلاعلم قول ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَلَنُنَبِّئَنَّ۠ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا١ٞ وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’پس کافر جو عمل کرتے ہیں، وہ ہم انھیں ضرور بتائیں گے اور انھیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘ یعنی نہایت سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ [51]﴿وَاِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَى الۡاِنۡسَانِ ﴾ یعنی جب ہم انسان کو صحت اور رزق وغیرہ کی نعمت سے بہرہ ور کرتے ہیں۔ ﴿اَعۡرَضَ ﴾ تو وہ اپنے رب اور اس کی شکر گزاری سے روگردانی کرتا ہے۔ ﴿وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ﴾ اور تکبر اور خود پسندی کی بنا پر کنارہ کش ہوجاتا ہے۔ ﴿وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ ﴾ ’’اور اگر اسے برائی پہنچتی ہے۔‘‘ یعنی اگر مرض اور فقر اسے آ لیتا ہے۔ ﴿فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِيۡضٍ ﴾ تو عدم صبر کی بنا پر بہت دعائیں کرتا ہے، پس کوئی بھی تنگی میں صبر کرتا ہے نہ فراخی میں شکر۔ سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا ہو۔
41:51

وَإِذَآ أَنۡعَمۡنَا عَلَى ٱلۡإِنسَٰنِ أَعۡرَضَ وَنَـَٔا بِجَانِبِهِۦ وَإِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ فَذُو دُعَآءٍ عَرِيضٖ

نہیں تھکتا انسان بھلائی مانگنے سے اور اگر پہنچے اسے تکلیف، تو وہ انتہائی مایوس سخت ناامید ہو جاتا ہے (49) اور البتہ اگر چکھائیں ہم اسے رحمت اپنی طرف سے بعد اس تکلیف کے جو پہنچی اسے تو وہ یقیناً کہتا ہے: یہ تو میرے لیے ہے اور نہیں گمان کرتا میں قیامت کو قائم ہونے والی اور البتہ اگر میں لوٹایا گیا اپنے رب کی طرف تو بلاشبہ میرے لیے اس کےپاس البتہ بھلائی ہی ہو گی، پس البتہ ہم ضرور بتلائیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ اس کےجو انھوں نے عمل کیے اور البتہ ہم ضرورچکھائیں گے ان کو عذاب سخت (50) اور جب احسان کرتے ہیں ہم انسان پر تو وہ منہ موڑ لیتا ہے اور دور ہو جاتا ہے اپنے پہلو کے ساتھ اور جب پہنچتی ہے اسے تکلیف تو دعائیں کرنے والا ہو جاتا ہے لمبی چوڑی (51) [49] اس آیت کریمہ میں انسان کی فطرت و طبیعت کا بیان ہے کہ وہ خیر پر صبر کر سکتا ہے نہ شر پر۔ سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ اس حالت سے نکال کر حالت کمال میں منتقل کر دے۔ فرمایا: ﴿لَا يَسۡـَٔمُ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ دُعَآءِ الۡخَيۡرِ ﴾ یعنی انسان اللہ تعالیٰ سے، اپنی فوزوفلاح، مال، اولاد اور دیگر دنیاوی مطالب و مقاصد کے لیے دعا کرتے ہوئے کبھی نہیں اکتاتا اور اس پر ہمیشہ عمل پیرا رہتا ہے وہ قلیل یا کثیر کسی چیز پر قناعت نہیں کرتا، اگر اسے دنیا کی ہر چیز مل جائے تب بھی وہ مزید دنیا طلب کرتا رہے گا۔ ﴿وَاِنۡ مَّسَّهُ الشَّرُّ ﴾ ’’اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچے۔‘‘ یعنی بیماری ،فقر اور مختلف مصائب وغیرہ اسے لاحق ہوں۔ ﴿فَيَـُٔوۡسٌ قَنُوۡطٌ ﴾ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ مصیبت اسے ہلاک کر ڈالے گی اور ایسے اسباب اختیار کرنے کی فکر کرتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ اس رویے سے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، ان لوگوں کو اگر بھلائی، نعمت اور کوئی محبوب چیز عطا ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس چیز سے بھی ڈرتے ہیں کہ یہ نعمتیں کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے استدراج اور مہلت نہ ہوں۔ اگر انھیں اپنی جان، مال اور اولاد میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے، تو صبر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل کی امید رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتے۔ [50] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَىِٕنۡ اَذَقۡنٰهُ ﴾ ’’اور اگر ہم اسے چکھاتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ شخص جو بھلائی کی دعا سے اکتاتا نہیں اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو مایوس ہو جاتا ہے۔ ﴿رَحۡمَةً مِّؔنَّا ﴾ ’’اپنی طرف سے رحمت۔‘‘ یعنی اس برائی کے بعد جو اسے پہنچتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اسے مرض سے شفا دیتا ہے یا اس کا فقر دور کر کے غنی بنا دیتا ہے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ وہ بغاوت اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے اور کہتا ہے:﴿هٰؔذَا لِيۡ ﴾ یعنی یہ مجھے عطا ہوا ہے کیونکہ میں اس کا اہل اور مستحق ہوں۔ ﴿وَمَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً ﴾ ’’اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہوگی‘‘ یہ اس کی طرف سے انکار قیامت ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت اور رحمت کی ناسپاسی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی۔ ﴿وَّلَىِٕنۡ رُّجِعۡتُ اِلٰى رَبِّيۡۤ اِنَّ لِيۡ عِنۡدَهٗ لَلۡحُسۡنٰى ﴾ فرض کیا اگر قیامت کی گھڑی آہی جائے اور مجھے اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے تو میرے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی بھلائی ہے۔ جس طرح دنیا میں مجھے نعمتوں سے نوازا گیا ہے، اسی طرح آخرت میں بھی مجھے نعمتوں سے بہرہ مند کیا جائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے بڑی جسارت اور بلاعلم قول ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَلَنُنَبِّئَنَّ۠ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا١ٞ وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’پس کافر جو عمل کرتے ہیں، وہ ہم انھیں ضرور بتائیں گے اور انھیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘ یعنی نہایت سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ [51]﴿وَاِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَى الۡاِنۡسَانِ ﴾ یعنی جب ہم انسان کو صحت اور رزق وغیرہ کی نعمت سے بہرہ ور کرتے ہیں۔ ﴿اَعۡرَضَ ﴾ تو وہ اپنے رب اور اس کی شکر گزاری سے روگردانی کرتا ہے۔ ﴿وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ﴾ اور تکبر اور خود پسندی کی بنا پر کنارہ کش ہوجاتا ہے۔ ﴿وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ ﴾ ’’اور اگر اسے برائی پہنچتی ہے۔‘‘ یعنی اگر مرض اور فقر اسے آ لیتا ہے۔ ﴿فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِيۡضٍ ﴾ تو عدم صبر کی بنا پر بہت دعائیں کرتا ہے، پس کوئی بھی تنگی میں صبر کرتا ہے نہ فراخی میں شکر۔ سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا ہو۔
41:52

قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِن كَانَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ ثُمَّ كَفَرۡتُم بِهِۦ مَنۡ أَضَلُّ مِمَّنۡ هُوَ فِي شِقَاقِۭ بَعِيدٖ

کہہ دیجیے: بھلا دیکھو تو! اگر ہو وہ (قرآن) اللہ کی طرف سے، پھر انکار کرو تم اس کا، تو کون زیادہ گمراہ ہے اس شخص سے کہ ہے وہ مخالفت میں دور کی (52) عنقریب دکھائیں گے ہم ان کو اپنی نشانیاں کناروں میں اور ان کے نفسوں میں، یہاں تک کہ واضح ہو جائے گا ان کے لیے کہ بے شک وہ (قرآن)حق ہے، کیا کافی نہیں ہے آپ کا رب (اس بات پر) کہ بے شک وہ اوپر ہر چیز کے گواہ ہے (53) خبردار! بے شک وہ لوگ شک میں ہیں اپنے رب کی ملاقات سے، خبردار! بے شک وہ ہر چیز کو گھیرنے والا ہے (54) [52]﴿قُلۡ ﴾ قرآن کی تکذیب اور کفران نعمت میں جلدی کرنے والوں سے کہہ دیجیے: ﴿اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كَانَ ﴾ ’’مجھے بتایئے اگر یہ ہو‘‘ یعنی یہ قرآن ﴿مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ بغیر کسی شک و شبہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ ﴿ثُمَّ كَفَرۡتُمۡ بِهٖ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ هُوَ فِيۡ شِقَاقٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہےجو اس (قرآن) کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کی مخالفت اورعناد میں، کیونکہ حق تم پر واضح ہو چکا ہے اس کے باوجود تم نے اس سے منہ موڑا۔ تم نے حق کو نہیں بلکہ باطل اور جہالت کو اختیار کیا ہے۔ تب تم لوگوں میں سب سے زیادہ گمراہ اور سب سے بڑھ کر ظالم ہو۔ [53] اگر تمھیں اس کی حقیقت اور صحت میں کوئی شک ہے تو اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا اور دلائل قائم کرے گا، مثلاً: آسمان اور زمین کی نشانیاں اور ایسے بڑے بڑے حوادث دکھائے گا جنھیں اللہ تعالیٰ وجود میں لاتا ہے جو صاحب بصیرت کے لیے حق پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿وَفِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اور خود ان کے نفسوں میں بھی۔‘‘ ایسی نشانیاں ہیں جو اس کی تعجب خیز کاریگری اور اس کی لامحدود قدرت میں سے ہیں، نیز اہل تکذیب پر عذاب اور عبرتناک سزاؤ ں کے نزول اور اہل ایمان کی نصرت میں ان کے لیے دلائل ہیں۔ ﴿حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمۡ ﴾ ’’حتی کہ ان پر واضح ہوجائے گا۔‘‘ ان آیات سے جن میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ ﴿اَنَّهُ الۡحَقُّ ﴾ ’’بلاشبہ وہ حق ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، جس سے حق واضح ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ایمان کی توفیق سے نواز دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہو جاتا ہے۔ ﴿اَوَلَمۡ يَكۡفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’کیا یہ بات کافی نہیں کہ آپ کا رب ہر شے پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی کیا ان کے لیے اس حقیقت پر اللہ تعالیٰ کی شہادت کافی نہیں کہ قرآن حق ہے اور اس کو پیش کرنے والی ہستی سچی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی صداقت کی گواہی دی ہے اور وہ سب سے سچا گواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ہستی کی تائید فرمائی اور نصرت سے نوازا جو اس شخص کے لیے شہادت قولی کو متضمن ہے، جو اس میں شک کرتا ہے۔ [54]﴿اَلَاۤ اِنَّهُمۡ فِيۡ مِرۡيَةٍ مِّنۡ لِّقَآءِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’آگاہ رہو! یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات سے شک میں ہیں۔‘‘ یعنی وہ حیات بعدالموت اور قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں، ان کے نزدیک دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں، اس لیے وہ آخرت کے لیے کوئی کام کرتے ہیں نہ آخرت کی طرف التفات کرتے ہیں۔ ﴿اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيۡءٍ مُّؔحِيۡطٌ ﴾ آگاہ رہو! بے شک اس نے اپنے علم، قدرت اور غلبہ سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔
41:53

سَنُرِيهِمۡ ءَايَٰتِنَا فِي ٱلۡأٓفَاقِ وَفِيٓ أَنفُسِهِمۡ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمۡ أَنَّهُ ٱلۡحَقُّۗ أَوَلَمۡ يَكۡفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ

کہہ دیجیے: بھلا دیکھو تو! اگر ہو وہ (قرآن) اللہ کی طرف سے، پھر انکار کرو تم اس کا، تو کون زیادہ گمراہ ہے اس شخص سے کہ ہے وہ مخالفت میں دور کی (52) عنقریب دکھائیں گے ہم ان کو اپنی نشانیاں کناروں میں اور ان کے نفسوں میں، یہاں تک کہ واضح ہو جائے گا ان کے لیے کہ بے شک وہ (قرآن)حق ہے، کیا کافی نہیں ہے آپ کا رب (اس بات پر) کہ بے شک وہ اوپر ہر چیز کے گواہ ہے (53) خبردار! بے شک وہ لوگ شک میں ہیں اپنے رب کی ملاقات سے، خبردار! بے شک وہ ہر چیز کو گھیرنے والا ہے (54) [52]﴿قُلۡ ﴾ قرآن کی تکذیب اور کفران نعمت میں جلدی کرنے والوں سے کہہ دیجیے: ﴿اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كَانَ ﴾ ’’مجھے بتایئے اگر یہ ہو‘‘ یعنی یہ قرآن ﴿مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ بغیر کسی شک و شبہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ ﴿ثُمَّ كَفَرۡتُمۡ بِهٖ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ هُوَ فِيۡ شِقَاقٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہےجو اس (قرآن) کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کی مخالفت اورعناد میں، کیونکہ حق تم پر واضح ہو چکا ہے اس کے باوجود تم نے اس سے منہ موڑا۔ تم نے حق کو نہیں بلکہ باطل اور جہالت کو اختیار کیا ہے۔ تب تم لوگوں میں سب سے زیادہ گمراہ اور سب سے بڑھ کر ظالم ہو۔ [53] اگر تمھیں اس کی حقیقت اور صحت میں کوئی شک ہے تو اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا اور دلائل قائم کرے گا، مثلاً: آسمان اور زمین کی نشانیاں اور ایسے بڑے بڑے حوادث دکھائے گا جنھیں اللہ تعالیٰ وجود میں لاتا ہے جو صاحب بصیرت کے لیے حق پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿وَفِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اور خود ان کے نفسوں میں بھی۔‘‘ ایسی نشانیاں ہیں جو اس کی تعجب خیز کاریگری اور اس کی لامحدود قدرت میں سے ہیں، نیز اہل تکذیب پر عذاب اور عبرتناک سزاؤ ں کے نزول اور اہل ایمان کی نصرت میں ان کے لیے دلائل ہیں۔ ﴿حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمۡ ﴾ ’’حتی کہ ان پر واضح ہوجائے گا۔‘‘ ان آیات سے جن میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ ﴿اَنَّهُ الۡحَقُّ ﴾ ’’بلاشبہ وہ حق ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، جس سے حق واضح ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ایمان کی توفیق سے نواز دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہو جاتا ہے۔ ﴿اَوَلَمۡ يَكۡفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’کیا یہ بات کافی نہیں کہ آپ کا رب ہر شے پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی کیا ان کے لیے اس حقیقت پر اللہ تعالیٰ کی شہادت کافی نہیں کہ قرآن حق ہے اور اس کو پیش کرنے والی ہستی سچی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی صداقت کی گواہی دی ہے اور وہ سب سے سچا گواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ہستی کی تائید فرمائی اور نصرت سے نوازا جو اس شخص کے لیے شہادت قولی کو متضمن ہے، جو اس میں شک کرتا ہے۔ [54]﴿اَلَاۤ اِنَّهُمۡ فِيۡ مِرۡيَةٍ مِّنۡ لِّقَآءِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’آگاہ رہو! یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات سے شک میں ہیں۔‘‘ یعنی وہ حیات بعدالموت اور قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں، ان کے نزدیک دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں، اس لیے وہ آخرت کے لیے کوئی کام کرتے ہیں نہ آخرت کی طرف التفات کرتے ہیں۔ ﴿اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيۡءٍ مُّؔحِيۡطٌ ﴾ آگاہ رہو! بے شک اس نے اپنے علم، قدرت اور غلبہ سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔
41:54

أَلَآ إِنَّهُمۡ فِي مِرۡيَةٖ مِّن لِّقَآءِ رَبِّهِمۡۗ أَلَآ إِنَّهُۥ بِكُلِّ شَيۡءٖ مُّحِيطُۢ

کہہ دیجیے: بھلا دیکھو تو! اگر ہو وہ (قرآن) اللہ کی طرف سے، پھر انکار کرو تم اس کا، تو کون زیادہ گمراہ ہے اس شخص سے کہ ہے وہ مخالفت میں دور کی (52) عنقریب دکھائیں گے ہم ان کو اپنی نشانیاں کناروں میں اور ان کے نفسوں میں، یہاں تک کہ واضح ہو جائے گا ان کے لیے کہ بے شک وہ (قرآن)حق ہے، کیا کافی نہیں ہے آپ کا رب (اس بات پر) کہ بے شک وہ اوپر ہر چیز کے گواہ ہے (53) خبردار! بے شک وہ لوگ شک میں ہیں اپنے رب کی ملاقات سے، خبردار! بے شک وہ ہر چیز کو گھیرنے والا ہے (54) [52]﴿قُلۡ ﴾ قرآن کی تکذیب اور کفران نعمت میں جلدی کرنے والوں سے کہہ دیجیے: ﴿اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كَانَ ﴾ ’’مجھے بتایئے اگر یہ ہو‘‘ یعنی یہ قرآن ﴿مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ بغیر کسی شک و شبہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ ﴿ثُمَّ كَفَرۡتُمۡ بِهٖ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ هُوَ فِيۡ شِقَاقٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’ پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہےجو اس (قرآن) کی مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کی مخالفت اورعناد میں، کیونکہ حق تم پر واضح ہو چکا ہے اس کے باوجود تم نے اس سے منہ موڑا۔ تم نے حق کو نہیں بلکہ باطل اور جہالت کو اختیار کیا ہے۔ تب تم لوگوں میں سب سے زیادہ گمراہ اور سب سے بڑھ کر ظالم ہو۔ [53] اگر تمھیں اس کی حقیقت اور صحت میں کوئی شک ہے تو اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا اور دلائل قائم کرے گا، مثلاً: آسمان اور زمین کی نشانیاں اور ایسے بڑے بڑے حوادث دکھائے گا جنھیں اللہ تعالیٰ وجود میں لاتا ہے جو صاحب بصیرت کے لیے حق پر دلالت کرتے ہیں۔ ﴿وَفِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اور خود ان کے نفسوں میں بھی۔‘‘ ایسی نشانیاں ہیں جو اس کی تعجب خیز کاریگری اور اس کی لامحدود قدرت میں سے ہیں، نیز اہل تکذیب پر عذاب اور عبرتناک سزاؤ ں کے نزول اور اہل ایمان کی نصرت میں ان کے لیے دلائل ہیں۔ ﴿حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمۡ ﴾ ’’حتی کہ ان پر واضح ہوجائے گا۔‘‘ ان آیات سے جن میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ ﴿اَنَّهُ الۡحَقُّ ﴾ ’’بلاشبہ وہ حق ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، جس سے حق واضح ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ایمان کی توفیق سے نواز دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہو جاتا ہے۔ ﴿اَوَلَمۡ يَكۡفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’کیا یہ بات کافی نہیں کہ آپ کا رب ہر شے پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی کیا ان کے لیے اس حقیقت پر اللہ تعالیٰ کی شہادت کافی نہیں کہ قرآن حق ہے اور اس کو پیش کرنے والی ہستی سچی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی صداقت کی گواہی دی ہے اور وہ سب سے سچا گواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ہستی کی تائید فرمائی اور نصرت سے نوازا جو اس شخص کے لیے شہادت قولی کو متضمن ہے، جو اس میں شک کرتا ہے۔ [54]﴿اَلَاۤ اِنَّهُمۡ فِيۡ مِرۡيَةٍ مِّنۡ لِّقَآءِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’آگاہ رہو! یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات سے شک میں ہیں۔‘‘ یعنی وہ حیات بعدالموت اور قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں، ان کے نزدیک دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں، اس لیے وہ آخرت کے لیے کوئی کام کرتے ہیں نہ آخرت کی طرف التفات کرتے ہیں۔ ﴿اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيۡءٍ مُّؔحِيۡطٌ ﴾ آگاہ رہو! بے شک اس نے اپنے علم، قدرت اور غلبہ سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔