QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Az-Zumar

ٱلزُّمَر

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 39 · 75 verses

39:1

تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ

(یہ) نازل کردہ کتاب ہے اللہ کی طرف سے، جو بڑا غالب، بہت حکمت والا ہے (1) بے شک ہم نے نازل کیا آپ کی طرف اس کتاب کو ساتھ حق کے، پس عبادت کیجیے آپ اللہ کی، خالص کرتے ہوئے ا س کے لیے بندگی کو(2) سنو! اللہ ہی کے لیے ہے بندگی خالص، اور وہ لوگ جنھوں نے بنا لیے، اس کےسوا، اور کارساز، (کہتے ہیں) نہیں عبادت کرتے ہم ان کی مگر اس لیے کہ قریب کر دیں وہ ہمیں اللہ کے زیادہ قریب، بے شک اللہ فیصلہ فرمائے گا درمیان ان کے ان باتوں میں کہ وہ ان میں اختلاف کرتے تھے، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت کرتا اس کو جو ہے جھوٹا ناشکرا(3) [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کی عظمت اور اس ہستی کے جلال کے بارے میں آگاہ کرتا ہے جس نے اس قرآن کے ذریعے سے کلام کیا اور جس کی طرف سے یہ قرآن نازل ہوا۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ قرآن، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ مخلوق کے لیے الوہیت اس کا وصف ہے کیونکہ وہ عظمت و کمال اور عزت و غلبہ کا مالک ہے جس کی بنا پر وہ تمام مخلوق پر غالب اور ہر چیز اس کی مطیع اور اس کے سامنے سرافگندہ ہے۔ اس کی تخلیق و امر حکمت پر مبنی ہے۔ قرآن اس ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے جس کا یہ وصف ہے، کلام متکلم کا وصف ہے اور وصف ہمیشہ اپنے موصوف کے تابع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے کامل ہے، اس کا کوئی مثیل و نظیر نہیں اسی طرح اس کا کلام بھی ہر لحاظ سے کامل اور بے مثال و بے نظیر ہے۔ یہ ایک وصف ہی اللہ تعالیٰ کے مرتبہ پر دلالت کرنے کے لیے کافی ہے۔ [2] مگر بایں ہمہ، اللہ تعالیٰ نے جس ہستی پر اسے نازل فرمایا ہے اس کے ذریعے سے اس کے کمال کو بیان فرمایا اور وہ ہستی حضرت محمد مصطفیﷺ کی ذات بابرکات ہے جو تمام مخلوق میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہے۔ تب معلوم ہوا کہ یہ کتاب اپنی دعوت سمیت، تمام کتابوں میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہے اور یہ سراسر حق ہے۔ پس قرآن حق کے ساتھ نازل ہوا جو اپنی سچی خبروں اور عدل و انصاف پر مبنی احکام پر مشتمل ہے، تاکہ مخلوق کو گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کی روشنی میں لائے اور یہ کتاب اپنی اخبار صادقہ اور اپنے احکام عادلہ کے بارے میں حق پر مشتمل نازل ہوئی۔ یہ کتاب تمام مطالب علمیہ میں سے جس چیز پر دلالت کرتی ہے، وہ سب سے بڑا حق ہے اور حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا باقی رہ جاتا ہے۔ چونکہ یہ قرآن حق کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، مخلوق کی ہدایت کے لیے حق پر مشتمل ہے اور تمام مخلوق میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہستی پر نازل کیا گیا ہے، اس لیے یہ نعمت بہت عظیم اور جلیل القدر ہے، اس کا شکر ادا کرنا فرض ہے اور اس کا شکریہ ہے کہ دین کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿فَاعۡبُدِ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾ اپنے تمام دین یعنی ظاہری اور باطنی اعمالِ شریعت، (اسلام، ایمان اور احسان) کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیجیے۔ ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھیے اور اس کے سوا آپ کا کوئی اور مقصد نہ ہو۔ [3]﴿اَلَا لِلّٰهِ الدِّيۡنُ الۡخَالِصُ ﴾ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا اخلاص کے حکم کو متحقق کرتا ہے اور اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے تمام تر کمال کا مالک ہے اور اس نے اپنے بندوں کو ہر لحاظ سے اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے اسی طرح ہر قسم کے شک وشبے سے پاک دین خالص بھی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ یہی وہ دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے پسند فرمایا اور مخلوق میں سے چنے ہوئے بندوں کے لیے منتخب فرمایا اور اسی کو اختیار کرنے کا اپنے بندوں کو حکم دیا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی محبت، اس سے خوف، اس پر امید، اس کی طرف انابت کے ذریعے سے بندوں کے مطالب کے حصول میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کو متضمن ہے۔ یہی وہ دین ہے جو قلوب کی اصلاح کر کے ان کو پاک اور ان کی تطہیر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کسی بھی قسم کی عبادت میں شرک کرنا کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ شرک سے بری الذمہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا شرک سے کوئی تعلق نہیں اور وہ شریکوں سے، سب سے زیادہ بے نیاز ہے۔ شرک قلب و روح اور دنیاوآخرت کو فاسد کرتا ہے اور نفوس کو بدبختی کی انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ اس لیے جہاں اللہ تعالیٰ نے توحید اور اخلاص کا حکم دیا ہے، وہاں شرک سے بھی روکا ہے اور ان لوگوں کی مذمت کی خبر دی ہے جنھوں نے شرک کا ارتکاب کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ان کو پکارتے ہیں وہ انھیں اپنا والی و مددگار بناتے ہیں وہ اپنا عذر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ﴿مَا نَعۡبُدُهُمۡ اِلَّا لِيُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلۡفٰى ﴾ ’’ہم انھیں صرف ، اس لیے پوجتے ہیں کہ وہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری حاجتیں پیش کریں اور اس کے ہاں ہماری سفارش کریں۔ ورنہ درحقیقت ہمیں معلوم ہے کہ یہ کوئی چیز پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں اور نہ انھیں کسی قسم کا کچھ اختیار ہی حاصل ہے۔ یعنی ان مشرکین نے اخلاص کو چھوڑ دیا جس کو اختیار کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ سب سے بڑی چیز، یعنی شرک کاارتکاب کیا اور اس ہستی کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کیا جس کی نظر کوئی چیز نہیں، جو عظیم بادشاہ ہے۔ وہ اپنی فاسد عقل اور سقیم رائے کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ جس طرح بادشاہوں کی خدمت میں ان کے مقربین، سفارشیوں اور وزیروں کے بغیر حاضر نہیں ہوا جاسکتا جو رعایا کی ضروریات اور حاجتیں ان بادشاہوں تک پہنچاتے ہیں، رعایا کے لیے بادشاہوں سے رحم طلب کرتے ہیں ان بادشاہوں کے پاس رعایا کے معاملات پیش کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ بھی ان بادشاہوں کی مانند ہے۔ یہ فاسد ترین قیاس ہے کیونکہ عقل و نقل اور فطرت کے مطابق خالق اور مخلوق کے درمیان عظیم فرق ہونے کے باوجود یہ قیاس خالق اور مخلوق میں مساوات کو متضمن ہے۔ بادشاہ براہ راست رعایا کے احوال نہیں جانتے اس لیے انھیں اپنے اور رعایا کے درمیان واسطے کی ضرورت ہوتی ہے، رعایا کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو بادشاہوں تک ان کے حالات پہنچائیں۔ بسااوقات ان بادشاہوں کے دلوں میں ضرورت مند کے لیے کوئی رحم نہیں ہوتا تب رعایا سفارش کرنے والوں اور وزراء وغیرہ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور ان سے ڈرتے ہیں ۔ یہ لوگ بادشاہوں کے ہاں ان کے لیے مراعات کے حصول اور ان کی دلجوئی کے لیے واسطہ بننے والے سفارشیوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ بسااوقات رعایا خود محتاج اور مفلس ہوتی ہے اس لیے وہ محتاجی کے ڈر سے ان کی خاطرومدارات نہیں کر سکتی۔ جہاں تک رب تعالیٰ کا معاملہ ہے تووہ ایسی ہستی ہے جس کے علم نے تمام امور کے ظاہر اور باطن کا احاطہ کر رکھا ہے، وہ کسی ایسی ہستی کا محتاج نہیں جو اسے اس کے بندوں اور اس کی رعایا کے احوال سے آگاہ کرے، وہ سب سے بڑا رحم کرنے والا اور سب سے بڑھ کر سخی ہے، وہ مخلوق میں سے کسی ہستی کا محتاج نہیں جو اسے بندوں پر رحم کرنے پر آمادہ کرے بلکہ رب تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرتا ہے جو وہ خود اپنے آپ پر یا ان کے والدین ان پر رحم کرتے ہیں۔ وہ انھیں ترغیب دیتا ہے کہ وہ ایسے اسباب اختیار کریں جن کی بنا پر وہ اس کی رحمت کو حاصل کر لیں وہ ان کی بھلائی چاہتا ہے جو وہ خود بھی اپنے لیے نہیں چاہتے۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے جو کامل غنائے مطلق کا مالک ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ اگر اول سے لے کر آخر تک تمام مخلوق، ایک میدان میں اکٹھی ہو جائے اور وہ اس سے اپنی اپنی ضرورت اور تمنا کے مطابق سوال کریں تو وہ سب کو عطا کرے گی۔ وہ اس کی غنا میں سے ذرہ بھر کمی کر سکتے ہیں نہ اس کے خزانوں میں، مگر اتنی سی کہ جو سمندر میں سوئی ڈبونے سے اس کے پانی میں کمی واقع ہوتی ہے، پھر تمام سفارشی اس سے ڈرتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا۔ تمام تر سفارش کا صرف وہی مالک ہے۔ اس فرق سے مشرکین کی جہالت، حماقت اور اللہ کے حضور ان کی جسارت ظاہر ہوتی ہے اور اس سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ شرک کے مرتکب کے لیے عدم مغفرت میں کیا حکمت ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ شرک اللہ تعالیٰ کی ذات میں جرح و قدح کو متضمن ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فریقین، یعنی مخلص مومنوں اور مشرکین کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا… اور اس میں مشرکین کے لیے تہدید بھی ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِيۡ مَا هُمۡ فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں، اللہ ان میں ان کا فیصلہ کردے گا۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ معلوم ہے جو یہ ہے کہ مخلص اہل ایمان، نعمتوں بھری جنت میں ہوں گے اور جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا، اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ راہ راست پر گامزن ہونے کی توفیق عطا نہیں کرتا ﴿مَنۡ هُوَؔ كٰذِبٌ كَفَّارٌ ﴾ ’’اس شخص کو جو جھوٹا اور ناشکرا ہو‘‘ یعنی جس کا وصف کذب اور کفر ہے، اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اور نصیحتیں آتی ہیں، مگر اس کے برے اوصاف دور نہیں ہوتے، اللہ تعالیٰ اسے بڑے بڑے معجزات دکھاتا ہے، مگر یہ ان کا انکار کر دیتا ہے ان کے ساتھ کفر کرتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے۔ پس ان حالات میں ایسے شخص کے لیے ہدایت کیسے ہوسکتی ہے جس نے اپنے لیے ہدایت کا دروازہ بند کردیا ہو اور انجام کے طورپر اللہ تعالیٰ نے اس کے دل پر مہر لگا دی پس وہ ایمان نہیں لائے گا۔
39:2

إِنَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ فَٱعۡبُدِ ٱللَّهَ مُخۡلِصٗا لَّهُ ٱلدِّينَ

(یہ) نازل کردہ کتاب ہے اللہ کی طرف سے، جو بڑا غالب، بہت حکمت والا ہے (1) بے شک ہم نے نازل کیا آپ کی طرف اس کتاب کو ساتھ حق کے، پس عبادت کیجیے آپ اللہ کی، خالص کرتے ہوئے ا س کے لیے بندگی کو(2) سنو! اللہ ہی کے لیے ہے بندگی خالص، اور وہ لوگ جنھوں نے بنا لیے، اس کےسوا، اور کارساز، (کہتے ہیں) نہیں عبادت کرتے ہم ان کی مگر اس لیے کہ قریب کر دیں وہ ہمیں اللہ کے زیادہ قریب، بے شک اللہ فیصلہ فرمائے گا درمیان ان کے ان باتوں میں کہ وہ ان میں اختلاف کرتے تھے، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت کرتا اس کو جو ہے جھوٹا ناشکرا(3) [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کی عظمت اور اس ہستی کے جلال کے بارے میں آگاہ کرتا ہے جس نے اس قرآن کے ذریعے سے کلام کیا اور جس کی طرف سے یہ قرآن نازل ہوا۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ قرآن، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ مخلوق کے لیے الوہیت اس کا وصف ہے کیونکہ وہ عظمت و کمال اور عزت و غلبہ کا مالک ہے جس کی بنا پر وہ تمام مخلوق پر غالب اور ہر چیز اس کی مطیع اور اس کے سامنے سرافگندہ ہے۔ اس کی تخلیق و امر حکمت پر مبنی ہے۔ قرآن اس ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے جس کا یہ وصف ہے، کلام متکلم کا وصف ہے اور وصف ہمیشہ اپنے موصوف کے تابع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے کامل ہے، اس کا کوئی مثیل و نظیر نہیں اسی طرح اس کا کلام بھی ہر لحاظ سے کامل اور بے مثال و بے نظیر ہے۔ یہ ایک وصف ہی اللہ تعالیٰ کے مرتبہ پر دلالت کرنے کے لیے کافی ہے۔ [2] مگر بایں ہمہ، اللہ تعالیٰ نے جس ہستی پر اسے نازل فرمایا ہے اس کے ذریعے سے اس کے کمال کو بیان فرمایا اور وہ ہستی حضرت محمد مصطفیﷺ کی ذات بابرکات ہے جو تمام مخلوق میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہے۔ تب معلوم ہوا کہ یہ کتاب اپنی دعوت سمیت، تمام کتابوں میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہے اور یہ سراسر حق ہے۔ پس قرآن حق کے ساتھ نازل ہوا جو اپنی سچی خبروں اور عدل و انصاف پر مبنی احکام پر مشتمل ہے، تاکہ مخلوق کو گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کی روشنی میں لائے اور یہ کتاب اپنی اخبار صادقہ اور اپنے احکام عادلہ کے بارے میں حق پر مشتمل نازل ہوئی۔ یہ کتاب تمام مطالب علمیہ میں سے جس چیز پر دلالت کرتی ہے، وہ سب سے بڑا حق ہے اور حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا باقی رہ جاتا ہے۔ چونکہ یہ قرآن حق کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، مخلوق کی ہدایت کے لیے حق پر مشتمل ہے اور تمام مخلوق میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہستی پر نازل کیا گیا ہے، اس لیے یہ نعمت بہت عظیم اور جلیل القدر ہے، اس کا شکر ادا کرنا فرض ہے اور اس کا شکریہ ہے کہ دین کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿فَاعۡبُدِ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾ اپنے تمام دین یعنی ظاہری اور باطنی اعمالِ شریعت، (اسلام، ایمان اور احسان) کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیجیے۔ ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھیے اور اس کے سوا آپ کا کوئی اور مقصد نہ ہو۔ [3]﴿اَلَا لِلّٰهِ الدِّيۡنُ الۡخَالِصُ ﴾ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا اخلاص کے حکم کو متحقق کرتا ہے اور اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے تمام تر کمال کا مالک ہے اور اس نے اپنے بندوں کو ہر لحاظ سے اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے اسی طرح ہر قسم کے شک وشبے سے پاک دین خالص بھی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ یہی وہ دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے پسند فرمایا اور مخلوق میں سے چنے ہوئے بندوں کے لیے منتخب فرمایا اور اسی کو اختیار کرنے کا اپنے بندوں کو حکم دیا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی محبت، اس سے خوف، اس پر امید، اس کی طرف انابت کے ذریعے سے بندوں کے مطالب کے حصول میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کو متضمن ہے۔ یہی وہ دین ہے جو قلوب کی اصلاح کر کے ان کو پاک اور ان کی تطہیر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کسی بھی قسم کی عبادت میں شرک کرنا کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ شرک سے بری الذمہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا شرک سے کوئی تعلق نہیں اور وہ شریکوں سے، سب سے زیادہ بے نیاز ہے۔ شرک قلب و روح اور دنیاوآخرت کو فاسد کرتا ہے اور نفوس کو بدبختی کی انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ اس لیے جہاں اللہ تعالیٰ نے توحید اور اخلاص کا حکم دیا ہے، وہاں شرک سے بھی روکا ہے اور ان لوگوں کی مذمت کی خبر دی ہے جنھوں نے شرک کا ارتکاب کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ان کو پکارتے ہیں وہ انھیں اپنا والی و مددگار بناتے ہیں وہ اپنا عذر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ﴿مَا نَعۡبُدُهُمۡ اِلَّا لِيُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلۡفٰى ﴾ ’’ہم انھیں صرف ، اس لیے پوجتے ہیں کہ وہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری حاجتیں پیش کریں اور اس کے ہاں ہماری سفارش کریں۔ ورنہ درحقیقت ہمیں معلوم ہے کہ یہ کوئی چیز پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں اور نہ انھیں کسی قسم کا کچھ اختیار ہی حاصل ہے۔ یعنی ان مشرکین نے اخلاص کو چھوڑ دیا جس کو اختیار کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ سب سے بڑی چیز، یعنی شرک کاارتکاب کیا اور اس ہستی کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کیا جس کی نظر کوئی چیز نہیں، جو عظیم بادشاہ ہے۔ وہ اپنی فاسد عقل اور سقیم رائے کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ جس طرح بادشاہوں کی خدمت میں ان کے مقربین، سفارشیوں اور وزیروں کے بغیر حاضر نہیں ہوا جاسکتا جو رعایا کی ضروریات اور حاجتیں ان بادشاہوں تک پہنچاتے ہیں، رعایا کے لیے بادشاہوں سے رحم طلب کرتے ہیں ان بادشاہوں کے پاس رعایا کے معاملات پیش کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ بھی ان بادشاہوں کی مانند ہے۔ یہ فاسد ترین قیاس ہے کیونکہ عقل و نقل اور فطرت کے مطابق خالق اور مخلوق کے درمیان عظیم فرق ہونے کے باوجود یہ قیاس خالق اور مخلوق میں مساوات کو متضمن ہے۔ بادشاہ براہ راست رعایا کے احوال نہیں جانتے اس لیے انھیں اپنے اور رعایا کے درمیان واسطے کی ضرورت ہوتی ہے، رعایا کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو بادشاہوں تک ان کے حالات پہنچائیں۔ بسااوقات ان بادشاہوں کے دلوں میں ضرورت مند کے لیے کوئی رحم نہیں ہوتا تب رعایا سفارش کرنے والوں اور وزراء وغیرہ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور ان سے ڈرتے ہیں ۔ یہ لوگ بادشاہوں کے ہاں ان کے لیے مراعات کے حصول اور ان کی دلجوئی کے لیے واسطہ بننے والے سفارشیوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ بسااوقات رعایا خود محتاج اور مفلس ہوتی ہے اس لیے وہ محتاجی کے ڈر سے ان کی خاطرومدارات نہیں کر سکتی۔ جہاں تک رب تعالیٰ کا معاملہ ہے تووہ ایسی ہستی ہے جس کے علم نے تمام امور کے ظاہر اور باطن کا احاطہ کر رکھا ہے، وہ کسی ایسی ہستی کا محتاج نہیں جو اسے اس کے بندوں اور اس کی رعایا کے احوال سے آگاہ کرے، وہ سب سے بڑا رحم کرنے والا اور سب سے بڑھ کر سخی ہے، وہ مخلوق میں سے کسی ہستی کا محتاج نہیں جو اسے بندوں پر رحم کرنے پر آمادہ کرے بلکہ رب تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرتا ہے جو وہ خود اپنے آپ پر یا ان کے والدین ان پر رحم کرتے ہیں۔ وہ انھیں ترغیب دیتا ہے کہ وہ ایسے اسباب اختیار کریں جن کی بنا پر وہ اس کی رحمت کو حاصل کر لیں وہ ان کی بھلائی چاہتا ہے جو وہ خود بھی اپنے لیے نہیں چاہتے۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے جو کامل غنائے مطلق کا مالک ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ اگر اول سے لے کر آخر تک تمام مخلوق، ایک میدان میں اکٹھی ہو جائے اور وہ اس سے اپنی اپنی ضرورت اور تمنا کے مطابق سوال کریں تو وہ سب کو عطا کرے گی۔ وہ اس کی غنا میں سے ذرہ بھر کمی کر سکتے ہیں نہ اس کے خزانوں میں، مگر اتنی سی کہ جو سمندر میں سوئی ڈبونے سے اس کے پانی میں کمی واقع ہوتی ہے، پھر تمام سفارشی اس سے ڈرتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا۔ تمام تر سفارش کا صرف وہی مالک ہے۔ اس فرق سے مشرکین کی جہالت، حماقت اور اللہ کے حضور ان کی جسارت ظاہر ہوتی ہے اور اس سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ شرک کے مرتکب کے لیے عدم مغفرت میں کیا حکمت ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ شرک اللہ تعالیٰ کی ذات میں جرح و قدح کو متضمن ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فریقین، یعنی مخلص مومنوں اور مشرکین کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا… اور اس میں مشرکین کے لیے تہدید بھی ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِيۡ مَا هُمۡ فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں، اللہ ان میں ان کا فیصلہ کردے گا۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ معلوم ہے جو یہ ہے کہ مخلص اہل ایمان، نعمتوں بھری جنت میں ہوں گے اور جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا، اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ راہ راست پر گامزن ہونے کی توفیق عطا نہیں کرتا ﴿مَنۡ هُوَؔ كٰذِبٌ كَفَّارٌ ﴾ ’’اس شخص کو جو جھوٹا اور ناشکرا ہو‘‘ یعنی جس کا وصف کذب اور کفر ہے، اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اور نصیحتیں آتی ہیں، مگر اس کے برے اوصاف دور نہیں ہوتے، اللہ تعالیٰ اسے بڑے بڑے معجزات دکھاتا ہے، مگر یہ ان کا انکار کر دیتا ہے ان کے ساتھ کفر کرتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے۔ پس ان حالات میں ایسے شخص کے لیے ہدایت کیسے ہوسکتی ہے جس نے اپنے لیے ہدایت کا دروازہ بند کردیا ہو اور انجام کے طورپر اللہ تعالیٰ نے اس کے دل پر مہر لگا دی پس وہ ایمان نہیں لائے گا۔
39:3

أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ

(یہ) نازل کردہ کتاب ہے اللہ کی طرف سے، جو بڑا غالب، بہت حکمت والا ہے (1) بے شک ہم نے نازل کیا آپ کی طرف اس کتاب کو ساتھ حق کے، پس عبادت کیجیے آپ اللہ کی، خالص کرتے ہوئے ا س کے لیے بندگی کو(2) سنو! اللہ ہی کے لیے ہے بندگی خالص، اور وہ لوگ جنھوں نے بنا لیے، اس کےسوا، اور کارساز، (کہتے ہیں) نہیں عبادت کرتے ہم ان کی مگر اس لیے کہ قریب کر دیں وہ ہمیں اللہ کے زیادہ قریب، بے شک اللہ فیصلہ فرمائے گا درمیان ان کے ان باتوں میں کہ وہ ان میں اختلاف کرتے تھے، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت کرتا اس کو جو ہے جھوٹا ناشکرا(3) [1] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کی عظمت اور اس ہستی کے جلال کے بارے میں آگاہ کرتا ہے جس نے اس قرآن کے ذریعے سے کلام کیا اور جس کی طرف سے یہ قرآن نازل ہوا۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ قرآن، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ مخلوق کے لیے الوہیت اس کا وصف ہے کیونکہ وہ عظمت و کمال اور عزت و غلبہ کا مالک ہے جس کی بنا پر وہ تمام مخلوق پر غالب اور ہر چیز اس کی مطیع اور اس کے سامنے سرافگندہ ہے۔ اس کی تخلیق و امر حکمت پر مبنی ہے۔ قرآن اس ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے جس کا یہ وصف ہے، کلام متکلم کا وصف ہے اور وصف ہمیشہ اپنے موصوف کے تابع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے کامل ہے، اس کا کوئی مثیل و نظیر نہیں اسی طرح اس کا کلام بھی ہر لحاظ سے کامل اور بے مثال و بے نظیر ہے۔ یہ ایک وصف ہی اللہ تعالیٰ کے مرتبہ پر دلالت کرنے کے لیے کافی ہے۔ [2] مگر بایں ہمہ، اللہ تعالیٰ نے جس ہستی پر اسے نازل فرمایا ہے اس کے ذریعے سے اس کے کمال کو بیان فرمایا اور وہ ہستی حضرت محمد مصطفیﷺ کی ذات بابرکات ہے جو تمام مخلوق میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہے۔ تب معلوم ہوا کہ یہ کتاب اپنی دعوت سمیت، تمام کتابوں میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہے اور یہ سراسر حق ہے۔ پس قرآن حق کے ساتھ نازل ہوا جو اپنی سچی خبروں اور عدل و انصاف پر مبنی احکام پر مشتمل ہے، تاکہ مخلوق کو گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کی روشنی میں لائے اور یہ کتاب اپنی اخبار صادقہ اور اپنے احکام عادلہ کے بارے میں حق پر مشتمل نازل ہوئی۔ یہ کتاب تمام مطالب علمیہ میں سے جس چیز پر دلالت کرتی ہے، وہ سب سے بڑا حق ہے اور حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا باقی رہ جاتا ہے۔ چونکہ یہ قرآن حق کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، مخلوق کی ہدایت کے لیے حق پر مشتمل ہے اور تمام مخلوق میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہستی پر نازل کیا گیا ہے، اس لیے یہ نعمت بہت عظیم اور جلیل القدر ہے، اس کا شکر ادا کرنا فرض ہے اور اس کا شکریہ ہے کہ دین کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿فَاعۡبُدِ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾ اپنے تمام دین یعنی ظاہری اور باطنی اعمالِ شریعت، (اسلام، ایمان اور احسان) کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیجیے۔ ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھیے اور اس کے سوا آپ کا کوئی اور مقصد نہ ہو۔ [3]﴿اَلَا لِلّٰهِ الدِّيۡنُ الۡخَالِصُ ﴾ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا اخلاص کے حکم کو متحقق کرتا ہے اور اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے تمام تر کمال کا مالک ہے اور اس نے اپنے بندوں کو ہر لحاظ سے اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے اسی طرح ہر قسم کے شک وشبے سے پاک دین خالص بھی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ یہی وہ دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے پسند فرمایا اور مخلوق میں سے چنے ہوئے بندوں کے لیے منتخب فرمایا اور اسی کو اختیار کرنے کا اپنے بندوں کو حکم دیا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی محبت، اس سے خوف، اس پر امید، اس کی طرف انابت کے ذریعے سے بندوں کے مطالب کے حصول میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کو متضمن ہے۔ یہی وہ دین ہے جو قلوب کی اصلاح کر کے ان کو پاک اور ان کی تطہیر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کسی بھی قسم کی عبادت میں شرک کرنا کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ شرک سے بری الذمہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا شرک سے کوئی تعلق نہیں اور وہ شریکوں سے، سب سے زیادہ بے نیاز ہے۔ شرک قلب و روح اور دنیاوآخرت کو فاسد کرتا ہے اور نفوس کو بدبختی کی انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ اس لیے جہاں اللہ تعالیٰ نے توحید اور اخلاص کا حکم دیا ہے، وہاں شرک سے بھی روکا ہے اور ان لوگوں کی مذمت کی خبر دی ہے جنھوں نے شرک کا ارتکاب کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ان کو پکارتے ہیں وہ انھیں اپنا والی و مددگار بناتے ہیں وہ اپنا عذر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ﴿مَا نَعۡبُدُهُمۡ اِلَّا لِيُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلۡفٰى ﴾ ’’ہم انھیں صرف ، اس لیے پوجتے ہیں کہ وہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری حاجتیں پیش کریں اور اس کے ہاں ہماری سفارش کریں۔ ورنہ درحقیقت ہمیں معلوم ہے کہ یہ کوئی چیز پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں اور نہ انھیں کسی قسم کا کچھ اختیار ہی حاصل ہے۔ یعنی ان مشرکین نے اخلاص کو چھوڑ دیا جس کو اختیار کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ سب سے بڑی چیز، یعنی شرک کاارتکاب کیا اور اس ہستی کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کیا جس کی نظر کوئی چیز نہیں، جو عظیم بادشاہ ہے۔ وہ اپنی فاسد عقل اور سقیم رائے کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ جس طرح بادشاہوں کی خدمت میں ان کے مقربین، سفارشیوں اور وزیروں کے بغیر حاضر نہیں ہوا جاسکتا جو رعایا کی ضروریات اور حاجتیں ان بادشاہوں تک پہنچاتے ہیں، رعایا کے لیے بادشاہوں سے رحم طلب کرتے ہیں ان بادشاہوں کے پاس رعایا کے معاملات پیش کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ بھی ان بادشاہوں کی مانند ہے۔ یہ فاسد ترین قیاس ہے کیونکہ عقل و نقل اور فطرت کے مطابق خالق اور مخلوق کے درمیان عظیم فرق ہونے کے باوجود یہ قیاس خالق اور مخلوق میں مساوات کو متضمن ہے۔ بادشاہ براہ راست رعایا کے احوال نہیں جانتے اس لیے انھیں اپنے اور رعایا کے درمیان واسطے کی ضرورت ہوتی ہے، رعایا کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو بادشاہوں تک ان کے حالات پہنچائیں۔ بسااوقات ان بادشاہوں کے دلوں میں ضرورت مند کے لیے کوئی رحم نہیں ہوتا تب رعایا سفارش کرنے والوں اور وزراء وغیرہ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور ان سے ڈرتے ہیں ۔ یہ لوگ بادشاہوں کے ہاں ان کے لیے مراعات کے حصول اور ان کی دلجوئی کے لیے واسطہ بننے والے سفارشیوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ بسااوقات رعایا خود محتاج اور مفلس ہوتی ہے اس لیے وہ محتاجی کے ڈر سے ان کی خاطرومدارات نہیں کر سکتی۔ جہاں تک رب تعالیٰ کا معاملہ ہے تووہ ایسی ہستی ہے جس کے علم نے تمام امور کے ظاہر اور باطن کا احاطہ کر رکھا ہے، وہ کسی ایسی ہستی کا محتاج نہیں جو اسے اس کے بندوں اور اس کی رعایا کے احوال سے آگاہ کرے، وہ سب سے بڑا رحم کرنے والا اور سب سے بڑھ کر سخی ہے، وہ مخلوق میں سے کسی ہستی کا محتاج نہیں جو اسے بندوں پر رحم کرنے پر آمادہ کرے بلکہ رب تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرتا ہے جو وہ خود اپنے آپ پر یا ان کے والدین ان پر رحم کرتے ہیں۔ وہ انھیں ترغیب دیتا ہے کہ وہ ایسے اسباب اختیار کریں جن کی بنا پر وہ اس کی رحمت کو حاصل کر لیں وہ ان کی بھلائی چاہتا ہے جو وہ خود بھی اپنے لیے نہیں چاہتے۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے جو کامل غنائے مطلق کا مالک ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ اگر اول سے لے کر آخر تک تمام مخلوق، ایک میدان میں اکٹھی ہو جائے اور وہ اس سے اپنی اپنی ضرورت اور تمنا کے مطابق سوال کریں تو وہ سب کو عطا کرے گی۔ وہ اس کی غنا میں سے ذرہ بھر کمی کر سکتے ہیں نہ اس کے خزانوں میں، مگر اتنی سی کہ جو سمندر میں سوئی ڈبونے سے اس کے پانی میں کمی واقع ہوتی ہے، پھر تمام سفارشی اس سے ڈرتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا۔ تمام تر سفارش کا صرف وہی مالک ہے۔ اس فرق سے مشرکین کی جہالت، حماقت اور اللہ کے حضور ان کی جسارت ظاہر ہوتی ہے اور اس سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ شرک کے مرتکب کے لیے عدم مغفرت میں کیا حکمت ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ شرک اللہ تعالیٰ کی ذات میں جرح و قدح کو متضمن ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فریقین، یعنی مخلص مومنوں اور مشرکین کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا… اور اس میں مشرکین کے لیے تہدید بھی ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِيۡ مَا هُمۡ فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں، اللہ ان میں ان کا فیصلہ کردے گا۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ معلوم ہے جو یہ ہے کہ مخلص اہل ایمان، نعمتوں بھری جنت میں ہوں گے اور جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا، اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ راہ راست پر گامزن ہونے کی توفیق عطا نہیں کرتا ﴿مَنۡ هُوَؔ كٰذِبٌ كَفَّارٌ ﴾ ’’اس شخص کو جو جھوٹا اور ناشکرا ہو‘‘ یعنی جس کا وصف کذب اور کفر ہے، اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اور نصیحتیں آتی ہیں، مگر اس کے برے اوصاف دور نہیں ہوتے، اللہ تعالیٰ اسے بڑے بڑے معجزات دکھاتا ہے، مگر یہ ان کا انکار کر دیتا ہے ان کے ساتھ کفر کرتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے۔ پس ان حالات میں ایسے شخص کے لیے ہدایت کیسے ہوسکتی ہے جس نے اپنے لیے ہدایت کا دروازہ بند کردیا ہو اور انجام کے طورپر اللہ تعالیٰ نے اس کے دل پر مہر لگا دی پس وہ ایمان نہیں لائے گا۔
39:4

لَّوۡ أَرَادَ ٱللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدٗا لَّٱصۡطَفَىٰ مِمَّا يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ سُبۡحَٰنَهُۥۖ هُوَ ٱللَّهُ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّارُ

اگر ارادہ کرتا اللہ(اس کا) کہ بنائے فرزند وہ، تو چن لیتا، ان میں سے جن کو وہ پیدا کرتا ہے، جس کو وہ چاہتا، (لیکن) وہ تو پاک ہے(ان چیزوں سے) وہ اللہ ایک ہے بڑا زبردست(4) [4]﴿لَوۡ اَرَادَ اللّٰهُ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ وَلَدًا﴾ ’’اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا‘‘ جیسا کہ بعض بے وقوف لوگوں کا خیال ہے ﴿لَّاصۡطَفٰى مِمَّا يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ ﴾ تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن کر اپنے لیے مختص کر لیتا اور اسے اپنا بیٹا بنا لیتا اور اسے بیوی کی ضرورت نہ ہوتی۔ ﴿سُبۡحٰؔنَهٗ ﴾ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک اور منزہ ہے جن کا یہ کفار اللہ تعالیٰ کے بارے میں گمان کرتے ہیں اور ملحدین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ﴿هُوَ اللّٰهُ الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات اور اپنے افعال میں ایک ہے، لہٰذا اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شبیہ ہے نہ مثیل۔ اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہوتا تو وہ اپنی وحدت میں اس کا شبیہ ہونے کا مقتضی ہوتا، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حصہ اور اس کا جز ہوتا۔ وہ تمام عالم علوی اور عالم سفلی پر غالب ہے۔ اگر اس کا کوئی بیٹا ہوتا تو وہ مقہورومغلوب نہ ہوتا اور اپنے باپ کے خلاف جرأت اور گستاخی کر نے والا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدت اور اس کا قہر لازم و ملزوم ہیں۔ صرف ایک ہستی ہی غالب اور قاہر ہو سکتی ہے۔ اس لیے یہ چیز ہر لحاظ سے شراکت کی نفی کرتی ہے۔
39:5

خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّۖ يُكَوِّرُ ٱلَّيۡلَ عَلَى ٱلنَّهَارِ وَيُكَوِّرُ ٱلنَّهَارَ عَلَى ٱلَّيۡلِۖ وَسَخَّرَ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلّٞ يَجۡرِي لِأَجَلٖ مُّسَمًّىۗ أَلَا هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡغَفَّـٰرُ

پیدا کیا اس نے آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے، وہ لپیٹتا ہے رات کو اوپر دن کے اور لپیٹتا ہے دن کو اوپر رات کے، اور کام میں لگا دیا اس نے سورج اورچاند کو، ہرایک چل رہا ہے ایک وقت مقرر تک، سنو! وہ ہے بڑا غالب بہت بخشنے والا(5) اس نے پیدا کیا تمھیں ایک ہی جان سے، پھر بنایا اس نے اس سے جوڑا اس کا اور اتارے اس نے تمھارے لیے چارپایوں میں سے آٹھ جوڑے (نر اورمادہ)، پیدا کرتا ہے وہ تم کو تمھاری ماؤ ں کے پیٹوں میں، ایک (طرح کی) پیدائش بعد دوسری پیدائش کے، اندھیروں میں تین قسم کے یہ ہے اللہ رب تمھارا، اسی کی ہے بادشاہی، نہیں کوئی معبود مگروہی، پس کہاں تم پھیرے جاتے ہو؟(6) اگر کفرکرو گے تم تو اللہ بے پروا ہے تم سے، اور نہیں پسند کرتا وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو اور اگرشکر کرو گے تم تو پسند کرتا ہے وہ اسے تمھارے لیے اور نہیں بوجھ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا ، پھر طرف اپنے پروردگار ہی کے تمھارا لوٹنا ہے، پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے جو تھے تم عمل کرتے، بلاشبہ وہ جانتا ہے راز سینوں کے(7) [5] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ بے شک اس نے ﴿خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ زمین و آسمان کو حکمت اور مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ وہ بندوں پراپنے امرونہی کے ضابطے نافذ کرے اور ان کو ثواب و عقاب عطا کرے ﴿يُكَوِّرُ الَّيۡلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّيۡلِ ﴾ یعنی وہ رات اور دن دونوں کو ایک دوسرے میں داخل کرتا ہے، وہ دن اور رات دونوں کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے، دن اور رات کبھی یکجا نہیں ہوتے بلکہ جب ان میں سے ایک آتا ہے تو دوسرا علیحدہ ہو جاتا ہے۔ ﴿وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو انتہائی منظم طور پر اور ایک خاص رفتار کے ساتھ مسخر کر رکھا ہے۔ ﴿كُلٌّ ﴾ یعنی چاند اور سورج ﴿يَّجۡرِيۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی تسخیر کے مطابق چلتے ہیں۔ ﴿لِاَجَلٍ مُّسَمًّى﴾ ’’ایک وقت مقررہ تک‘‘ یعنی ان دونوں کو ایک مدت مقررہ تک کے لیے مسخر کر رکھا ہے… یعنی اس دنیا کے خاتمے اور اس کے تباہ ہونے تک… اللہ تعالیٰ اس دنیا میں موجود ہر چیز کو، چاند اور سورج کو تباہ کر دے گا، پھر وہ مخلوق کو دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ وہ اپنے اپنے ٹھکانے یعنی جنت اور جہنم میں رہیں۔ ﴿اَلَا هُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو ہر چیز پر غالب اور قاہر ہے کوئی چیز اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی۔ جس نے اپنی قوت عالیہ سے اس عظیم کائنات کو وجود بخشا اور اس کو مسخر کیا جو اس کے حکم کے تحت چل رہی ہے۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ وہ اپنے توبہ شعار بندوں کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَاِنِّيۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهۡتَدٰؔى ﴾(طٰہٰ: 20؍82) ’’اور جو کوئی توبہ کرے، ایمان لاکر نیک عمل کرے اور راہ راست اختیار کرے، تو میں اسے بخش دیتا ہوں۔‘‘ میں اس شخص کو بھی بخش دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں کو دیکھنے اور شرک کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ [6] یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہے کہ ﴿خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ تمھاری کثرت اور زمین کے دور دراز گوشوں میں پھیل جانے کے باوجود، اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے۔ ﴿ثُمَّ جَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾’’پھر اس کا جوڑا بنایا۔‘‘ تاکہ وہ اس کے پاس سکون حاصل کرے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہو۔﴿وَاَنۡزَلَ لَكُمۡ مِّنَ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’اور اسی نے تمھارے لیے چوپایوں میں سے بنائے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی تقدیر سے تخلیق فرمایا جو آسمان سے نازل ہوتی ہے، یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے ﴿ثَمٰنِيَةَ اَزۡوَاجٍ ﴾ ’’آٹھ جوڑے‘‘ اس سے مراد وہ مویشی ہیں جن کا سورۃ الانعام میں ذکر آیا ہے ﴿ثَمٰنِيَةَ اَزۡوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاۡنِ اثۡنَيۡنِ وَمِنَ الۡمَعۡزِ اثۡنَيۡنِ ﴾(الانعام: 6/143) ’’یہ چوپائے آٹھ قسم کے ہیں دو بھیڑوں میں سے اور دو بکریوں میں سے‘‘ ﴿وَمِنَ الۡاِبِلِ اثۡنَيۡنِ وَمِنَ الۡبَقَرِ اثۡنَيۡنِ ﴾(الانعام: 6؍144) اور دو اونٹوں میں سے اور دو گایوں میں سے۔‘‘ متذکرہ بالا مویشیوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح کے لیے بہت سے مویشی تخلیق فرمائے ہیں، مگر مذکورہ مویشوں میں فوائد کی کثرت، ان کے مصالح کی عمومیت اور ان کے شرف کی بنا پر خاص طور پر ان کا ذکر کیا ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ یہ بعض امور کے لیے مخصوص ہیں جن کے لیے کوئی دوسرا مویشی مخصوص نہیں ہے، مثلاً: قربانی، ہدی، عقیقہ، ان میں زکاۃ کا واجب ہونا اور دیت کی ادائیگی کے لیے ان کا مختص ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جدامجد اور ہماری ماں (حضرت حوا[) کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد ہماری تخلیق کی ابتدا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَخۡلُقُكُمۡ فِيۡ بُطُوۡنِ اُمَّهٰؔتِكُمۡ خَلۡقًا مِّنۢۡ بَعۡدِ خَلۡقٍ ﴾’’اللہ تعالیٰ تمھیں تمھاری ماؤ ں کے پیٹوں میں ایک مرحلہ کے بعد دوسرے مرحلے میں تخلیق دیتا چلا جاتا ہے‘‘ اور تمھاری یہ حالت ہوتی ہے کہ کسی مخلوق کا ہاتھ تمھیں چھو سکتا ہے نہ کوئی آنکھ تمھیں دیکھ سکتی ہے۔ اس تنگ جگہ پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری پرورش کی ہے ﴿فِيۡ ظُلُمٰؔتٍ ثَلٰثٍ ﴾ ’’تین اندھیروں میں‘‘ یعنی پیٹ کا اندھیرا، رحم کا اندھیرا اور اس جھلی کا اندھیرا جس میں بچہ لپٹا ہوتا ہے۔ ﴿ذٰلِكُمُ ﴾ وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، سورج اور چاند کو مسخر کیا، جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھارے لیے مویشی اور نعمتیں پیدا کیں۔ ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ اللہ، تمھارا معبود حقیقی ہے۔ جس نے تمھاری پرورش کی اور تمھاری تدبیر کی۔ جس طرح وہ تمھیں پیدا کرنے اور تمھاری پرورش کرنے میں اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اپنی الوہیت میں بھی اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو؟‘‘ اس توضیح کے بعد اس استحقاق کو بیان فرمایا کہ بتوں کی عبادت کی بجائے اللہ تعالیٰ کے لیے عبادت کو خالص کیا جائے، جو کسی چیز کی تدبیر کرتے ہیں نہ انھیں کوئی اختیار ہے۔ [7]﴿اِنۡ تَكۡفُرُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنۡكُمۡ ﴾ ’’اگر ناشکری کروگے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے۔‘‘ جس طرح تمھاری اطاعت اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی اسی طرح تمھارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، بلکہ تمھارے لیے اس کا امرونہی تم پر اس کا محض فضل و احسان ہے ﴿وَلَا يَرۡضٰى لِعِبَادِهِ الۡكُفۡرَ ﴾ ’’اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیں کرتا۔‘‘ کیونکہ ان پر اس کا کامل احسان ہے اسے معلوم ہے کہ کفر ان کو ایسی بدبختی میں مبتلا کر دے گا کہ اس کے بعد انھیں کبھی خوش بختی نصیب نہ ہو گی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہی وہ غرض و غایت ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، اس لیے اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بندے اس مخلوق کو پکاریں جس کو اس مقصد کے لیے تخلیق نہیں کیا گیا ﴿وَاِنۡ تَشۡكُرُوۡا ﴾ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے لیے دین میں اخلاص اختیار کر کے اس کا شکر ادا کرو تو ﴿يَرۡضَهُ لَكُمۡ ﴾ ’’وہ اس کو تمھارے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ تم پر اس کی بے پایاں رحمت سایہ کناں ہے، وہ تم پر احسان کو پسند کرتا ہے اور تم اس فعل کو بجا لارہے ہو جس کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔تمھارے شرک سے اسے کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے نہ تمھارے اعمال اور تمھاری توحید سے اسے کوئی فائدہ، تم میں سے ہر شخص کا اچھا برا عمل اسی کے لیے ہے۔ ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾ ’’کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ ﴿ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ مَّرۡجِعُكُمۡ ﴾ ’’، پھر تم کو اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’ وہ تمھارے اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گا‘‘ جن کا اس کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے، جن پر اس کا قلم جاری ہو چکا ہے، جنھیں معزز محافظین نے صحیفوں میں درج کر رکھا ہے اور جن پر تمھارے جوارح تمھارے خلاف گواہی دیں گے اور وہ تم میں سے ہر ایک کو اس کے استحقاق کے مطابق جزا دے گا۔ ﴿اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ اللہ تعالیٰ سینوں کے اندر پنہاں نیکی اور برائی کے اوصاف کو خوب جانتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مقصود کامل عدل و انصاف پر مبنی جزا و سزا کے بارے میں خبر دینا ہے۔
39:6

خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ ثُمَّ جَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ ثَمَٰنِيَةَ أَزۡوَٰجٖۚ يَخۡلُقُكُمۡ فِي بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمۡ خَلۡقٗا مِّنۢ بَعۡدِ خَلۡقٖ فِي ظُلُمَٰتٖ ثَلَٰثٖۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡ لَهُ ٱلۡمُلۡكُۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُصۡرَفُونَ

پیدا کیا اس نے آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے، وہ لپیٹتا ہے رات کو اوپر دن کے اور لپیٹتا ہے دن کو اوپر رات کے، اور کام میں لگا دیا اس نے سورج اورچاند کو، ہرایک چل رہا ہے ایک وقت مقرر تک، سنو! وہ ہے بڑا غالب بہت بخشنے والا(5) اس نے پیدا کیا تمھیں ایک ہی جان سے، پھر بنایا اس نے اس سے جوڑا اس کا اور اتارے اس نے تمھارے لیے چارپایوں میں سے آٹھ جوڑے (نر اورمادہ)، پیدا کرتا ہے وہ تم کو تمھاری ماؤ ں کے پیٹوں میں، ایک (طرح کی) پیدائش بعد دوسری پیدائش کے، اندھیروں میں تین قسم کے یہ ہے اللہ رب تمھارا، اسی کی ہے بادشاہی، نہیں کوئی معبود مگروہی، پس کہاں تم پھیرے جاتے ہو؟(6) اگر کفرکرو گے تم تو اللہ بے پروا ہے تم سے، اور نہیں پسند کرتا وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو اور اگرشکر کرو گے تم تو پسند کرتا ہے وہ اسے تمھارے لیے اور نہیں بوجھ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا ، پھر طرف اپنے پروردگار ہی کے تمھارا لوٹنا ہے، پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے جو تھے تم عمل کرتے، بلاشبہ وہ جانتا ہے راز سینوں کے(7) [5] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ بے شک اس نے ﴿خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ زمین و آسمان کو حکمت اور مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ وہ بندوں پراپنے امرونہی کے ضابطے نافذ کرے اور ان کو ثواب و عقاب عطا کرے ﴿يُكَوِّرُ الَّيۡلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّيۡلِ ﴾ یعنی وہ رات اور دن دونوں کو ایک دوسرے میں داخل کرتا ہے، وہ دن اور رات دونوں کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے، دن اور رات کبھی یکجا نہیں ہوتے بلکہ جب ان میں سے ایک آتا ہے تو دوسرا علیحدہ ہو جاتا ہے۔ ﴿وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو انتہائی منظم طور پر اور ایک خاص رفتار کے ساتھ مسخر کر رکھا ہے۔ ﴿كُلٌّ ﴾ یعنی چاند اور سورج ﴿يَّجۡرِيۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی تسخیر کے مطابق چلتے ہیں۔ ﴿لِاَجَلٍ مُّسَمًّى﴾ ’’ایک وقت مقررہ تک‘‘ یعنی ان دونوں کو ایک مدت مقررہ تک کے لیے مسخر کر رکھا ہے… یعنی اس دنیا کے خاتمے اور اس کے تباہ ہونے تک… اللہ تعالیٰ اس دنیا میں موجود ہر چیز کو، چاند اور سورج کو تباہ کر دے گا، پھر وہ مخلوق کو دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ وہ اپنے اپنے ٹھکانے یعنی جنت اور جہنم میں رہیں۔ ﴿اَلَا هُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو ہر چیز پر غالب اور قاہر ہے کوئی چیز اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی۔ جس نے اپنی قوت عالیہ سے اس عظیم کائنات کو وجود بخشا اور اس کو مسخر کیا جو اس کے حکم کے تحت چل رہی ہے۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ وہ اپنے توبہ شعار بندوں کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَاِنِّيۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهۡتَدٰؔى ﴾(طٰہٰ: 20؍82) ’’اور جو کوئی توبہ کرے، ایمان لاکر نیک عمل کرے اور راہ راست اختیار کرے، تو میں اسے بخش دیتا ہوں۔‘‘ میں اس شخص کو بھی بخش دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں کو دیکھنے اور شرک کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ [6] یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہے کہ ﴿خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ تمھاری کثرت اور زمین کے دور دراز گوشوں میں پھیل جانے کے باوجود، اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے۔ ﴿ثُمَّ جَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾’’پھر اس کا جوڑا بنایا۔‘‘ تاکہ وہ اس کے پاس سکون حاصل کرے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہو۔﴿وَاَنۡزَلَ لَكُمۡ مِّنَ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’اور اسی نے تمھارے لیے چوپایوں میں سے بنائے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی تقدیر سے تخلیق فرمایا جو آسمان سے نازل ہوتی ہے، یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے ﴿ثَمٰنِيَةَ اَزۡوَاجٍ ﴾ ’’آٹھ جوڑے‘‘ اس سے مراد وہ مویشی ہیں جن کا سورۃ الانعام میں ذکر آیا ہے ﴿ثَمٰنِيَةَ اَزۡوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاۡنِ اثۡنَيۡنِ وَمِنَ الۡمَعۡزِ اثۡنَيۡنِ ﴾(الانعام: 6/143) ’’یہ چوپائے آٹھ قسم کے ہیں دو بھیڑوں میں سے اور دو بکریوں میں سے‘‘ ﴿وَمِنَ الۡاِبِلِ اثۡنَيۡنِ وَمِنَ الۡبَقَرِ اثۡنَيۡنِ ﴾(الانعام: 6؍144) اور دو اونٹوں میں سے اور دو گایوں میں سے۔‘‘ متذکرہ بالا مویشیوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح کے لیے بہت سے مویشی تخلیق فرمائے ہیں، مگر مذکورہ مویشوں میں فوائد کی کثرت، ان کے مصالح کی عمومیت اور ان کے شرف کی بنا پر خاص طور پر ان کا ذکر کیا ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ یہ بعض امور کے لیے مخصوص ہیں جن کے لیے کوئی دوسرا مویشی مخصوص نہیں ہے، مثلاً: قربانی، ہدی، عقیقہ، ان میں زکاۃ کا واجب ہونا اور دیت کی ادائیگی کے لیے ان کا مختص ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جدامجد اور ہماری ماں (حضرت حوا[) کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد ہماری تخلیق کی ابتدا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَخۡلُقُكُمۡ فِيۡ بُطُوۡنِ اُمَّهٰؔتِكُمۡ خَلۡقًا مِّنۢۡ بَعۡدِ خَلۡقٍ ﴾’’اللہ تعالیٰ تمھیں تمھاری ماؤ ں کے پیٹوں میں ایک مرحلہ کے بعد دوسرے مرحلے میں تخلیق دیتا چلا جاتا ہے‘‘ اور تمھاری یہ حالت ہوتی ہے کہ کسی مخلوق کا ہاتھ تمھیں چھو سکتا ہے نہ کوئی آنکھ تمھیں دیکھ سکتی ہے۔ اس تنگ جگہ پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری پرورش کی ہے ﴿فِيۡ ظُلُمٰؔتٍ ثَلٰثٍ ﴾ ’’تین اندھیروں میں‘‘ یعنی پیٹ کا اندھیرا، رحم کا اندھیرا اور اس جھلی کا اندھیرا جس میں بچہ لپٹا ہوتا ہے۔ ﴿ذٰلِكُمُ ﴾ وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، سورج اور چاند کو مسخر کیا، جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھارے لیے مویشی اور نعمتیں پیدا کیں۔ ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ اللہ، تمھارا معبود حقیقی ہے۔ جس نے تمھاری پرورش کی اور تمھاری تدبیر کی۔ جس طرح وہ تمھیں پیدا کرنے اور تمھاری پرورش کرنے میں اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اپنی الوہیت میں بھی اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو؟‘‘ اس توضیح کے بعد اس استحقاق کو بیان فرمایا کہ بتوں کی عبادت کی بجائے اللہ تعالیٰ کے لیے عبادت کو خالص کیا جائے، جو کسی چیز کی تدبیر کرتے ہیں نہ انھیں کوئی اختیار ہے۔ [7]﴿اِنۡ تَكۡفُرُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنۡكُمۡ ﴾ ’’اگر ناشکری کروگے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے۔‘‘ جس طرح تمھاری اطاعت اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی اسی طرح تمھارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، بلکہ تمھارے لیے اس کا امرونہی تم پر اس کا محض فضل و احسان ہے ﴿وَلَا يَرۡضٰى لِعِبَادِهِ الۡكُفۡرَ ﴾ ’’اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیں کرتا۔‘‘ کیونکہ ان پر اس کا کامل احسان ہے اسے معلوم ہے کہ کفر ان کو ایسی بدبختی میں مبتلا کر دے گا کہ اس کے بعد انھیں کبھی خوش بختی نصیب نہ ہو گی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہی وہ غرض و غایت ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، اس لیے اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بندے اس مخلوق کو پکاریں جس کو اس مقصد کے لیے تخلیق نہیں کیا گیا ﴿وَاِنۡ تَشۡكُرُوۡا ﴾ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے لیے دین میں اخلاص اختیار کر کے اس کا شکر ادا کرو تو ﴿يَرۡضَهُ لَكُمۡ ﴾ ’’وہ اس کو تمھارے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ تم پر اس کی بے پایاں رحمت سایہ کناں ہے، وہ تم پر احسان کو پسند کرتا ہے اور تم اس فعل کو بجا لارہے ہو جس کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔تمھارے شرک سے اسے کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے نہ تمھارے اعمال اور تمھاری توحید سے اسے کوئی فائدہ، تم میں سے ہر شخص کا اچھا برا عمل اسی کے لیے ہے۔ ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾ ’’کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ ﴿ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ مَّرۡجِعُكُمۡ ﴾ ’’، پھر تم کو اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’ وہ تمھارے اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گا‘‘ جن کا اس کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے، جن پر اس کا قلم جاری ہو چکا ہے، جنھیں معزز محافظین نے صحیفوں میں درج کر رکھا ہے اور جن پر تمھارے جوارح تمھارے خلاف گواہی دیں گے اور وہ تم میں سے ہر ایک کو اس کے استحقاق کے مطابق جزا دے گا۔ ﴿اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ اللہ تعالیٰ سینوں کے اندر پنہاں نیکی اور برائی کے اوصاف کو خوب جانتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مقصود کامل عدل و انصاف پر مبنی جزا و سزا کے بارے میں خبر دینا ہے۔
39:7

إِن تَكۡفُرُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ عَنكُمۡۖ وَلَا يَرۡضَىٰ لِعِبَادِهِ ٱلۡكُفۡرَۖ وَإِن تَشۡكُرُواْ يَرۡضَهُ لَكُمۡۗ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرۡجِعُكُمۡ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

پیدا کیا اس نے آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے، وہ لپیٹتا ہے رات کو اوپر دن کے اور لپیٹتا ہے دن کو اوپر رات کے، اور کام میں لگا دیا اس نے سورج اورچاند کو، ہرایک چل رہا ہے ایک وقت مقرر تک، سنو! وہ ہے بڑا غالب بہت بخشنے والا(5) اس نے پیدا کیا تمھیں ایک ہی جان سے، پھر بنایا اس نے اس سے جوڑا اس کا اور اتارے اس نے تمھارے لیے چارپایوں میں سے آٹھ جوڑے (نر اورمادہ)، پیدا کرتا ہے وہ تم کو تمھاری ماؤ ں کے پیٹوں میں، ایک (طرح کی) پیدائش بعد دوسری پیدائش کے، اندھیروں میں تین قسم کے یہ ہے اللہ رب تمھارا، اسی کی ہے بادشاہی، نہیں کوئی معبود مگروہی، پس کہاں تم پھیرے جاتے ہو؟(6) اگر کفرکرو گے تم تو اللہ بے پروا ہے تم سے، اور نہیں پسند کرتا وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو اور اگرشکر کرو گے تم تو پسند کرتا ہے وہ اسے تمھارے لیے اور نہیں بوجھ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا ، پھر طرف اپنے پروردگار ہی کے تمھارا لوٹنا ہے، پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے جو تھے تم عمل کرتے، بلاشبہ وہ جانتا ہے راز سینوں کے(7) [5] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ بے شک اس نے ﴿خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ زمین و آسمان کو حکمت اور مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ وہ بندوں پراپنے امرونہی کے ضابطے نافذ کرے اور ان کو ثواب و عقاب عطا کرے ﴿يُكَوِّرُ الَّيۡلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّيۡلِ ﴾ یعنی وہ رات اور دن دونوں کو ایک دوسرے میں داخل کرتا ہے، وہ دن اور رات دونوں کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے، دن اور رات کبھی یکجا نہیں ہوتے بلکہ جب ان میں سے ایک آتا ہے تو دوسرا علیحدہ ہو جاتا ہے۔ ﴿وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو انتہائی منظم طور پر اور ایک خاص رفتار کے ساتھ مسخر کر رکھا ہے۔ ﴿كُلٌّ ﴾ یعنی چاند اور سورج ﴿يَّجۡرِيۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی تسخیر کے مطابق چلتے ہیں۔ ﴿لِاَجَلٍ مُّسَمًّى﴾ ’’ایک وقت مقررہ تک‘‘ یعنی ان دونوں کو ایک مدت مقررہ تک کے لیے مسخر کر رکھا ہے… یعنی اس دنیا کے خاتمے اور اس کے تباہ ہونے تک… اللہ تعالیٰ اس دنیا میں موجود ہر چیز کو، چاند اور سورج کو تباہ کر دے گا، پھر وہ مخلوق کو دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ وہ اپنے اپنے ٹھکانے یعنی جنت اور جہنم میں رہیں۔ ﴿اَلَا هُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو ہر چیز پر غالب اور قاہر ہے کوئی چیز اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی۔ جس نے اپنی قوت عالیہ سے اس عظیم کائنات کو وجود بخشا اور اس کو مسخر کیا جو اس کے حکم کے تحت چل رہی ہے۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ وہ اپنے توبہ شعار بندوں کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَاِنِّيۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهۡتَدٰؔى ﴾(طٰہٰ: 20؍82) ’’اور جو کوئی توبہ کرے، ایمان لاکر نیک عمل کرے اور راہ راست اختیار کرے، تو میں اسے بخش دیتا ہوں۔‘‘ میں اس شخص کو بھی بخش دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں کو دیکھنے اور شرک کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ [6] یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہے کہ ﴿خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ تمھاری کثرت اور زمین کے دور دراز گوشوں میں پھیل جانے کے باوجود، اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے۔ ﴿ثُمَّ جَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾’’پھر اس کا جوڑا بنایا۔‘‘ تاکہ وہ اس کے پاس سکون حاصل کرے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہو۔﴿وَاَنۡزَلَ لَكُمۡ مِّنَ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’اور اسی نے تمھارے لیے چوپایوں میں سے بنائے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی تقدیر سے تخلیق فرمایا جو آسمان سے نازل ہوتی ہے، یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے ﴿ثَمٰنِيَةَ اَزۡوَاجٍ ﴾ ’’آٹھ جوڑے‘‘ اس سے مراد وہ مویشی ہیں جن کا سورۃ الانعام میں ذکر آیا ہے ﴿ثَمٰنِيَةَ اَزۡوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاۡنِ اثۡنَيۡنِ وَمِنَ الۡمَعۡزِ اثۡنَيۡنِ ﴾(الانعام: 6/143) ’’یہ چوپائے آٹھ قسم کے ہیں دو بھیڑوں میں سے اور دو بکریوں میں سے‘‘ ﴿وَمِنَ الۡاِبِلِ اثۡنَيۡنِ وَمِنَ الۡبَقَرِ اثۡنَيۡنِ ﴾(الانعام: 6؍144) اور دو اونٹوں میں سے اور دو گایوں میں سے۔‘‘ متذکرہ بالا مویشیوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح کے لیے بہت سے مویشی تخلیق فرمائے ہیں، مگر مذکورہ مویشوں میں فوائد کی کثرت، ان کے مصالح کی عمومیت اور ان کے شرف کی بنا پر خاص طور پر ان کا ذکر کیا ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ یہ بعض امور کے لیے مخصوص ہیں جن کے لیے کوئی دوسرا مویشی مخصوص نہیں ہے، مثلاً: قربانی، ہدی، عقیقہ، ان میں زکاۃ کا واجب ہونا اور دیت کی ادائیگی کے لیے ان کا مختص ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جدامجد اور ہماری ماں (حضرت حوا[) کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد ہماری تخلیق کی ابتدا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَخۡلُقُكُمۡ فِيۡ بُطُوۡنِ اُمَّهٰؔتِكُمۡ خَلۡقًا مِّنۢۡ بَعۡدِ خَلۡقٍ ﴾’’اللہ تعالیٰ تمھیں تمھاری ماؤ ں کے پیٹوں میں ایک مرحلہ کے بعد دوسرے مرحلے میں تخلیق دیتا چلا جاتا ہے‘‘ اور تمھاری یہ حالت ہوتی ہے کہ کسی مخلوق کا ہاتھ تمھیں چھو سکتا ہے نہ کوئی آنکھ تمھیں دیکھ سکتی ہے۔ اس تنگ جگہ پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری پرورش کی ہے ﴿فِيۡ ظُلُمٰؔتٍ ثَلٰثٍ ﴾ ’’تین اندھیروں میں‘‘ یعنی پیٹ کا اندھیرا، رحم کا اندھیرا اور اس جھلی کا اندھیرا جس میں بچہ لپٹا ہوتا ہے۔ ﴿ذٰلِكُمُ ﴾ وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، سورج اور چاند کو مسخر کیا، جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھارے لیے مویشی اور نعمتیں پیدا کیں۔ ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ اللہ، تمھارا معبود حقیقی ہے۔ جس نے تمھاری پرورش کی اور تمھاری تدبیر کی۔ جس طرح وہ تمھیں پیدا کرنے اور تمھاری پرورش کرنے میں اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اپنی الوہیت میں بھی اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو؟‘‘ اس توضیح کے بعد اس استحقاق کو بیان فرمایا کہ بتوں کی عبادت کی بجائے اللہ تعالیٰ کے لیے عبادت کو خالص کیا جائے، جو کسی چیز کی تدبیر کرتے ہیں نہ انھیں کوئی اختیار ہے۔ [7]﴿اِنۡ تَكۡفُرُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنۡكُمۡ ﴾ ’’اگر ناشکری کروگے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے۔‘‘ جس طرح تمھاری اطاعت اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی اسی طرح تمھارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، بلکہ تمھارے لیے اس کا امرونہی تم پر اس کا محض فضل و احسان ہے ﴿وَلَا يَرۡضٰى لِعِبَادِهِ الۡكُفۡرَ ﴾ ’’اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیں کرتا۔‘‘ کیونکہ ان پر اس کا کامل احسان ہے اسے معلوم ہے کہ کفر ان کو ایسی بدبختی میں مبتلا کر دے گا کہ اس کے بعد انھیں کبھی خوش بختی نصیب نہ ہو گی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہی وہ غرض و غایت ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، اس لیے اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بندے اس مخلوق کو پکاریں جس کو اس مقصد کے لیے تخلیق نہیں کیا گیا ﴿وَاِنۡ تَشۡكُرُوۡا ﴾ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے لیے دین میں اخلاص اختیار کر کے اس کا شکر ادا کرو تو ﴿يَرۡضَهُ لَكُمۡ ﴾ ’’وہ اس کو تمھارے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ تم پر اس کی بے پایاں رحمت سایہ کناں ہے، وہ تم پر احسان کو پسند کرتا ہے اور تم اس فعل کو بجا لارہے ہو جس کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔تمھارے شرک سے اسے کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے نہ تمھارے اعمال اور تمھاری توحید سے اسے کوئی فائدہ، تم میں سے ہر شخص کا اچھا برا عمل اسی کے لیے ہے۔ ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾ ’’کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ ﴿ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ مَّرۡجِعُكُمۡ ﴾ ’’، پھر تم کو اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’ وہ تمھارے اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گا‘‘ جن کا اس کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے، جن پر اس کا قلم جاری ہو چکا ہے، جنھیں معزز محافظین نے صحیفوں میں درج کر رکھا ہے اور جن پر تمھارے جوارح تمھارے خلاف گواہی دیں گے اور وہ تم میں سے ہر ایک کو اس کے استحقاق کے مطابق جزا دے گا۔ ﴿اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ اللہ تعالیٰ سینوں کے اندر پنہاں نیکی اور برائی کے اوصاف کو خوب جانتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مقصود کامل عدل و انصاف پر مبنی جزا و سزا کے بارے میں خبر دینا ہے۔
39:8

۞وَإِذَا مَسَّ ٱلۡإِنسَٰنَ ضُرّٞ دَعَا رَبَّهُۥ مُنِيبًا إِلَيۡهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُۥ نِعۡمَةٗ مِّنۡهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدۡعُوٓاْ إِلَيۡهِ مِن قَبۡلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَندَادٗا لِّيُضِلَّ عَن سَبِيلِهِۦۚ قُلۡ تَمَتَّعۡ بِكُفۡرِكَ قَلِيلًا إِنَّكَ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلنَّارِ

اور جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف تو پکارتا ہے اپنے رب کو رجوع کرتے ہوئے اس کی طرف، پھرجب عطا کرتا ہے وہ اسے کوئی نعمت اپنی طرف سے تو بھول جاتا ہے وہ اس کو جو تھا وہ پکارتا اس کی طرف اس سے پہلے اور ٹھہراتا ہے اللہ کے لیے شریک تاکہ گمراہ کرے اس کے راستے سے، کہہ دیجیے:فائدہ اٹھا ساتھ اپنے کفر کے تھوڑا، بلاشبہ تو دوزخیوں میں سے ہے(8) [8] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے پر اپنے فضل و کرم اور اپنے احسان اور بندے کی ناشکری کا ذکر کرتا ہے، بندے کو جب مرض اور فقروفاقہ وغیرہ کی کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا وہ سمندر وغیرہ میں گھر جاتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس صورت حال میں اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا تو نہایت عاجزی اور انابت کے ساتھ اسے پکارتا ہے اور اس مصیبت کو دور کرنے میں گڑگڑا کر اس سے مدد طلب کرتا ہے۔ ﴿ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعۡمَةً مِّؔنۡهُ ﴾ ’’ پھر جب اللہ تعالیٰ اسے نعمت سے نواز دیتا ہے‘‘ اور اس سے مصیبت اور تکلیف کو دور کر دیتا ہے ﴿نَسِيَ مَا كَانَ يَدۡعُوۡۤا اِلَيۡهِ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ تو وہ اس تکلیف اور مصیبت کو بھول جاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کو پکارتا تھا اور اس طرح گزرتا ہے گویا اس پر کبھی کوئی مصیبت نازل ہی نہیں ہوئی اور یوں اپنے شرک پر جما رہتا ہے۔ ﴿وَجَعَلَ لِلّٰهِ اَنۡدَادًؔا لِّيُضِلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ ’’اور اللہ کا شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو)اس کے راستے سے گمراہ کرے۔‘‘ یعنی خود اپنے نفس کو بھی گمراہ کرے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے کیونکہ دوسروں کو گمراہ کرنا، گمراہ ہونے ہی کا ایک شعبہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے لازم پر دلالت کرنے کے لیے ملزوم کا ذکر کیا ہے۔﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے!‘‘ اس سرکش انسان سے جس نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل ڈالا ﴿تَمَتَّعۡ بِكُفۡرِكَ قَلِيۡلًا١ۖ ۗ اِنَّكَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ النَّارِ ﴾ ’’اپنے کفر کاتھوڑا سا فائدہ اٹھالے یقیناتو جہنمیوں میں سے ہے۔‘‘ جب تیرا انجام جہنم ہے تو یہ نعمتیں جن سے تو فائدہ اٹھا رہا ہے تیرے کسی کام نہ آئیں گی۔ ﴿اَفَرَءَيۡتَ اِنۡ مَّتَّعۡنٰهُمۡ سِنِيۡنَۙ۰۰ ثُمَّ جَآءَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَۙ۰۰ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُمَتَّعُوۡنَ﴾(الشعراء :26؍205-207) ’’کیا آپ نے دیکھا کہ اگر ہم انھیں مہلت دے کر برسوں فائدہ اٹھانے دیں ، پھر ان کے پاس وہ چیز آ جائے جس سے انھیں ڈرایا جا رہا تھا تو یہ سامان زیست جو انھیں عطا کیا گیا ہے، ان کے کسی کام نہ آئے گا۔‘‘
39:9

أَمَّنۡ هُوَ قَٰنِتٌ ءَانَآءَ ٱلَّيۡلِ سَاجِدٗا وَقَآئِمٗا يَحۡذَرُ ٱلۡأٓخِرَةَ وَيَرۡجُواْ رَحۡمَةَ رَبِّهِۦۗ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي ٱلَّذِينَ يَعۡلَمُونَ وَٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ

کیا (یہ برابر ہو سکتا ہے اس کے) جو شخص کہ وہ عبادت کرنے والا ہو رات کی گھڑیوں میں سجدہ کرتے اور کھڑے، ڈرتا ہے آخرت سے اور امید رکھتا ہے اپنے رب کی رحمت کی، کہہ دیجیے! کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو نہیں علم رکھتے؟ بلاشبہ نصیحت تو پکڑتے ہیں عقل والے ہی(9) [9]یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے اور نافرمانی کرنے والے کے درمیان اور عالم اور جاہل کے مابین مقابلہ ہے۔ نیز اس کا شمار ایسے امور میں ہوتا ہے جن کا تضاد عقل انسانی میں راسخ اور ان کے درمیان تفاوت یقینی طور پر معلوم ہے۔ پس اپنے رب کی اطاعت سے روگرداں اور خواہشات کی پیروی کرنے والا اس شخص کی مانند نہیں ہو سکتا ہے جو افضل اوقات یعنی رات کے اوقات میں بہترین عبادت، یعنی نماز کے ذریعے سے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرماں برداری کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بہترین اعمال کو کثرت کے ساتھ بجالانے کے وصف سے موصوف کیا، پھر اسے خوف اور امید کی صفات سے موصوف کیا، نیز ذکر فرمایا کہ خوف ان گناہوں کے بارے میں آخرت کے عذاب سے تعلق رکھتا ہے، جو اس سے سرزد ہو چکے ہیں اور امید کا تعلق اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ظاہری اور باطنی عمل سے موصوف فرمایا۔﴿قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے کیا وہ برابر ہوسکتے ہیں جو جانتے ہیں۔‘‘ جو اپنے رب، اس کے دین شرعی، دین جزائی اور دین کے اسرار اور حکمتوں کا علم رکھتے ہیں ﴿وَالَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ اور جو ان مذکورہ امور کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے؟ یہ دونوں قسم کے لوگ کبھی برابر نہیں ہوتے جس طرح رات اور دن، روشنی اور اندھیرا اور آگ اور پانی برابر نہیں ہوتے۔ ﴿اِنَّمَا يَتَذَكَّـرُ ﴾ جب نصیحت کی جاتی ہے تو صرف وہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں ﴿اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ جو صاف ستھری اور تیز عقل کے مالک ہیں۔ پس یہی لوگ اعلیٰ کو ادنیٰ پر مقدم رکھتے ہیں، چنانچہ یہ لوگ علم کو جہالت پر اور اللہ کی اطاعت کو اس کی مخالفت پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کی عقل ان کو عواقب میں غوروفکر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس کے برعکس بے عقل شخص اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیتا ہے۔
39:10

قُلۡ يَٰعِبَادِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡۚ لِلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٞۗ وَأَرۡضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةٌۗ إِنَّمَا يُوَفَّى ٱلصَّـٰبِرُونَ أَجۡرَهُم بِغَيۡرِ حِسَابٖ

کہہ دیجیے :اے میرے بندو! جو ایمان لائے! ڈرو اپنے رب سے، واسطے ان لوگوں کے، جنھوں نے اچھے عمل کیے اس دنیا میں، بھلائی ہے، اور زمین اللہ کی کشادہ ہے، بلاشبہ پورا دیا جائے گا صبر کرنے والوں کو، ثواب ان کا، بے شمار (10) [10] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اشرف المخلوقات یعنی اہل ایمان کو دینی امور میں سے سب سے بہتر چیز تقوی کا حکم دیتے ہوئے کہہ دیجیے اور ان کے سامنے اس سبب کا بھی ذکر کیجیے جو تقویٰ کا موجب ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کی نعمتوں کا اقرار، جو ان سے تقویٰ اختیار کرنے کا تقاضا کرتی ہیں اور ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کو ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا، جو تقویٰ کا موجب ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کسی سخی شخص سے کہیں ’’اے سخی! صدقہ کر‘‘ اور کسی بہادر شخص سے کہیں ’’اے بہادر لڑائی کر۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ثواب کا ذکر فرمایا جو دنیا میں ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’جنھوں نے اس دنیا میں نیکی کی‘‘ اپنے رب کی عبادت کے ذریعے سے تو ان کے لیے ﴿حَسَنَةٌ ﴾ ’’بھلائی‘‘ لامحدود رزق، نفس مطمئنہ اور انشراح قلب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ﴾(النحل: 16؍97)’’جو کوئی بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہو، ہم اسے نہایت پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے۔‘‘﴿وَاَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ ﴾ ’’اور اللہ کی زمین وسیع ہے۔‘‘ یعنی اگر تمھیں زمین کے کسی خطے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روک دیا جائے تو زمین کے کسی دوسرے خطے کی طرف ہجرت کر جاؤ جہاں تم اپنے رب کی عبادت کر سکو اور جہاں تمھارے لیے اقامت دین ممکن ہو۔جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةٌ ﴾ اور چونکہ یہ نص عام ہے… تو اس مقام پر بعض لوگوں کے لیے یہ کہنے کی مجال تھی کہ جو شخص بھی نیک کام کرے گا اس کے لیے دنیا میں بھلائی ہے، تو اس شخص کا کیا حال ہے جو کسی خطۂ زمین میں ایمان لایا بایں ہمہ وہ مظلوم اور محکوم و مجبور ہے اور وہ اس بھلائی سے محروم ہے؟ اس لیے اس گمان کا جواب ان الفاظ میں فرمایا:﴿وَاَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ ﴾ ’’اور اللہ کی زمین بڑی فراخ ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہے۔ حضرت نبی اکرم ﷺ نے بھی اس بشارت کو ان الفاظ میں منصوص فرمایا ’’میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، کسی کا ان سے علیحدہ ہونا اور مخالفت کرنا انھیں کوئی نقصان نہ دے سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچے گا اور یہ گروہِ حق اسی نہج پر ہو گا۔‘‘ (صحیح البخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ ﴿انما قولنا لشئي اذا اردنٰه﴾‘ ح:7460۔ وصحیح مسلم، الجہاد، باب قولہﷺ لاتزال طائفۃ من امتي…، ح: 1920۔) یہ آیت کریمہ اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس کی زمین بہت کشادہ ہے اس لیے جب کبھی بھی کسی جگہ تمھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روک دیا جائے تو تم کسی دوسری جگہ ہجرت کر جاؤ ۔ ہر زمان و مکان میں یہ حکم عام ہے۔ تب لازم ٹھہرا کہ ہر ہجرت کرنے والے مومن کے لیے مسلمانوں کے اندر کوئی ٹھکانا ہو جہاں وہ پناہ لے سکے اور ایک جگہ ہو جہاں وہ اپنے دین کو قائم کر سکے۔ ﴿اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰؔبِرُوۡنَ اَجۡرَهُمۡ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’جو صبر کرنے والے ہیں، انھیں بے شمار ثواب ملے گا۔‘‘ یہ آیت کریمہ صبر کی تمام انواع کے لیے عام ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضا و قدر پر اس طرح صبر کرنا کہ اس میں ناراضی کا شائبہ نہ ہو، گناہ اور معاصی کے مقابلے میں صبر کرتے ہوئے ان کے ارتکاب سے بچنا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرتے ہوئے اس پر قائم رہنا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے صبر شعار لوگوں کے لیے بے حساب اجر کا وعدہ کیا ہے، یعنی کسی حد، تعداد اور مقدار کے بغیر۔ یہ صبر کی فضیلت ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس موقع ومحل ہے اور بلاشبہ یہ ہر معاملے میں معین ہے۔
39:11

قُلۡ إِنِّيٓ أُمِرۡتُ أَنۡ أَعۡبُدَ ٱللَّهَ مُخۡلِصٗا لَّهُ ٱلدِّينَ

کہہ دیجیے:بے شک حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ عبادت کرو میں اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی کو (11) اور حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ ہوں میں پہلا مسلمان (12) کہہ دیجیے: بے شک میں ڈرتا ہوں، اگرنافرمانی کی میں نے اپنے رب کی، عذاب سے بڑے دن کے (13) کہہ دیجیے: اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں میں، خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اپنی بندگی کو (14) پس عبادت کرو تم جس کی تم چاہو، اس کےسوا، کہہ دیجیے: بلاشبہ نقصان اٹھانے والے تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو اوراپنے گھر والوں کو دن قیامت کے، خبردار! یہ (جہنم کی ہمیشگی) وہی ہے خسران ظاہر (15) واسطے ان کے، ان کے اوپر سائبان ہوں گے آگ کے اور ان کے نیچے (بھی) سائبان ہوں گے، ( یہی) وہ (عذاب) ہے کہ ڈراتا ہے اللہ اس کے ساتھ اپنے بندوں کو، اے میرے بندو! پس ڈرو تم مجھی سے (16) [11]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! لوگوں سے کہہ دیجیے! ﴿اِنِّيۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾ ’’بلاشبہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے، اس کی عبادت کروں‘‘ جیسا کہ اس سورۂ مبارکہ کی ابتدا میں فرمایا:﴿فَاعۡبُدِ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾(الزمر: 39/2) ’’پس آپ اللہ کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کرو۔‘‘ [12]﴿وَاُمِرۡتُ لِاَنۡ اَكُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلمان بنو۔‘‘ کیونکہ میں مخلوق کے لیے داعی اور ان کے رب کی طرف ان کی راہنمائی کرنے والا ہوں یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جس کام کا حکم دیا جائے میں تمام لوگوں سے پہلے اس حکم کی تعمیل کروں اور سب سے پہلے میں اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دوں۔ اس حکم کو بجا لانا رسول اللہ ﷺ پر اور ان لوگوں پر لازم ہے جو آپ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ظاہری اعمال میں اسلام پر عمل کرنا اور ظاہری اور باطنی اعمال میں اللہ کے لیے اخلاص کو مدنظر رکھنا واجب ہے۔ [13]﴿قُلۡ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے اندیشہ ہے‘‘ یعنی اخلاص اور اسلام کے بارے میں میرے رب نے مجھے جو حکم دیا ہے ﴿عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’بڑے ان کے عذاب کا‘‘ جس نے شرک کا ارتکاب کیا وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا اور جس نے گناہ کیا اسے اس عذاب کے ذریعے سے سزا دی جائے گی۔ [14، 15]﴿قُلِ اللّٰهَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّهٗ دِيۡنِيۡۙ۰۰فَاعۡبُدُوۡا مَا شِئۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں۔ تم اسے چھوڑ کر جس کی چاہو عبادت کرتے رہو‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا الۡكٰفِرُوۡنَۙ۰۰ لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَۙ۰۰ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُۚ۰۰ وَلَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدۡتُّمۡۙ۰۰ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُؕ۰۰ لَكُمۡ دِيۡنُكُمۡ وَ لِيَ دِيۡنِ﴾(الکافرون: 109؍1-6)’’کہہ دیجیے اے کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، نہ تم اس ہستی کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں، نہ میں ان ہستیوں کی عبادت کر سکتا ہوں، جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس ہستی ہی کی عبادت کرتے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں، تمھارا دین تمھارے لیے اور میرا دین میرے لیےہے۔‘‘﴿قُلۡ اِنَّ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ نقصان اٹھانے والے۔‘‘ درحقیقت وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا‘‘ اور اپنے آپ کو ثواب سے محروم کیا اور اس سبب سے وہ بدترین عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ ﴿وَاَهۡلِيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ان کے درمیان اور ان کے گھر والوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی۔ شدید حزن و غم انھیں آگھیرے گا اور وہ بہت بڑے گھاٹے میں پڑ جائیں گے۔ ﴿اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’خبردار! یہی صریح خسارہ ہے۔‘‘ اس جیسا اور کوئی خسارہ نہیں اور یہ دائمی خسارہ ہے جس کے بعد کوئی نفع نہیں، بلکہ اس کے بعد سلامتی ہی نہیں۔ [16] پھر اللہ تعالیٰ نے اس بدتر بدبختی کا ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ مبتلا ہوں گے، چنانچہ فرمایا:﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ ﴾ ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہونگے۔‘‘ یعنی بادل کی مانند عذاب کے بڑے بڑے ٹکڑے ہوں گے۔ ﴿وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ ﴾ ’’اور ان کے نیچے بھی آگ کے سائبان ہوں گے‘‘ ﴿ذٰلِكَ ﴾ یعنی جہنمیوں کے عذاب کا یہ وصف جو ہم نے بیان کیا ہے ایک ایسا کوڑا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی رحمت کے سائے کی طرف ہانکتا ہے۔ ﴿يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’اللہ اس عذاب کے ذ ریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ پس اے میرے بندو! مجھ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کے لیے جو عذاب تیار کر رکھا ہے، یہ اس کے بندوں کو تقویٰ کی طرف بلاتا ہے اور ان امور پر زجروتوبیخ ہے جو عذاب کے موجب ہیں۔ پاک ہے وہ ذات جو ہر چیز میں اپنے بندوں پر رحم کرتی ہے، جس نے اپنے (اللہ) تک پہنچانے والے راستوں کو ان کے لیے نہایت سہل بنایا، ان پر گامزن ہونے کے لیے ان کو آمادہ کیا اور ہر ایسے طریقے سے ان کو ترغیب دی جن کے ذریعے سے نفوسِ انسانی میں شوق پیدا ہوتا ہے اور اس سے قلب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے سوا دیگر اعمال سے ڈرایا ہے اور ان کے سامنے ان اسباب کا بھی ذکر کیا ہے جو انھیں ان اعمال کو ترک کرنے سے روکتے ہیں۔
39:12

وَأُمِرۡتُ لِأَنۡ أَكُونَ أَوَّلَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ

کہہ دیجیے:بے شک حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ عبادت کرو میں اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی کو (11) اور حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ ہوں میں پہلا مسلمان (12) کہہ دیجیے: بے شک میں ڈرتا ہوں، اگرنافرمانی کی میں نے اپنے رب کی، عذاب سے بڑے دن کے (13) کہہ دیجیے: اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں میں، خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اپنی بندگی کو (14) پس عبادت کرو تم جس کی تم چاہو، اس کےسوا، کہہ دیجیے: بلاشبہ نقصان اٹھانے والے تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو اوراپنے گھر والوں کو دن قیامت کے، خبردار! یہ (جہنم کی ہمیشگی) وہی ہے خسران ظاہر (15) واسطے ان کے، ان کے اوپر سائبان ہوں گے آگ کے اور ان کے نیچے (بھی) سائبان ہوں گے، ( یہی) وہ (عذاب) ہے کہ ڈراتا ہے اللہ اس کے ساتھ اپنے بندوں کو، اے میرے بندو! پس ڈرو تم مجھی سے (16) [11]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! لوگوں سے کہہ دیجیے! ﴿اِنِّيۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾ ’’بلاشبہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے، اس کی عبادت کروں‘‘ جیسا کہ اس سورۂ مبارکہ کی ابتدا میں فرمایا:﴿فَاعۡبُدِ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾(الزمر: 39/2) ’’پس آپ اللہ کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کرو۔‘‘ [12]﴿وَاُمِرۡتُ لِاَنۡ اَكُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلمان بنو۔‘‘ کیونکہ میں مخلوق کے لیے داعی اور ان کے رب کی طرف ان کی راہنمائی کرنے والا ہوں یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جس کام کا حکم دیا جائے میں تمام لوگوں سے پہلے اس حکم کی تعمیل کروں اور سب سے پہلے میں اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دوں۔ اس حکم کو بجا لانا رسول اللہ ﷺ پر اور ان لوگوں پر لازم ہے جو آپ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ظاہری اعمال میں اسلام پر عمل کرنا اور ظاہری اور باطنی اعمال میں اللہ کے لیے اخلاص کو مدنظر رکھنا واجب ہے۔ [13]﴿قُلۡ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے اندیشہ ہے‘‘ یعنی اخلاص اور اسلام کے بارے میں میرے رب نے مجھے جو حکم دیا ہے ﴿عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’بڑے ان کے عذاب کا‘‘ جس نے شرک کا ارتکاب کیا وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا اور جس نے گناہ کیا اسے اس عذاب کے ذریعے سے سزا دی جائے گی۔ [14، 15]﴿قُلِ اللّٰهَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّهٗ دِيۡنِيۡۙ۰۰فَاعۡبُدُوۡا مَا شِئۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں۔ تم اسے چھوڑ کر جس کی چاہو عبادت کرتے رہو‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا الۡكٰفِرُوۡنَۙ۰۰ لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَۙ۰۰ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُۚ۰۰ وَلَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدۡتُّمۡۙ۰۰ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُؕ۰۰ لَكُمۡ دِيۡنُكُمۡ وَ لِيَ دِيۡنِ﴾(الکافرون: 109؍1-6)’’کہہ دیجیے اے کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، نہ تم اس ہستی کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں، نہ میں ان ہستیوں کی عبادت کر سکتا ہوں، جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس ہستی ہی کی عبادت کرتے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں، تمھارا دین تمھارے لیے اور میرا دین میرے لیےہے۔‘‘﴿قُلۡ اِنَّ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ نقصان اٹھانے والے۔‘‘ درحقیقت وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا‘‘ اور اپنے آپ کو ثواب سے محروم کیا اور اس سبب سے وہ بدترین عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ ﴿وَاَهۡلِيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ان کے درمیان اور ان کے گھر والوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی۔ شدید حزن و غم انھیں آگھیرے گا اور وہ بہت بڑے گھاٹے میں پڑ جائیں گے۔ ﴿اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’خبردار! یہی صریح خسارہ ہے۔‘‘ اس جیسا اور کوئی خسارہ نہیں اور یہ دائمی خسارہ ہے جس کے بعد کوئی نفع نہیں، بلکہ اس کے بعد سلامتی ہی نہیں۔ [16] پھر اللہ تعالیٰ نے اس بدتر بدبختی کا ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ مبتلا ہوں گے، چنانچہ فرمایا:﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ ﴾ ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہونگے۔‘‘ یعنی بادل کی مانند عذاب کے بڑے بڑے ٹکڑے ہوں گے۔ ﴿وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ ﴾ ’’اور ان کے نیچے بھی آگ کے سائبان ہوں گے‘‘ ﴿ذٰلِكَ ﴾ یعنی جہنمیوں کے عذاب کا یہ وصف جو ہم نے بیان کیا ہے ایک ایسا کوڑا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی رحمت کے سائے کی طرف ہانکتا ہے۔ ﴿يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’اللہ اس عذاب کے ذ ریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ پس اے میرے بندو! مجھ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کے لیے جو عذاب تیار کر رکھا ہے، یہ اس کے بندوں کو تقویٰ کی طرف بلاتا ہے اور ان امور پر زجروتوبیخ ہے جو عذاب کے موجب ہیں۔ پاک ہے وہ ذات جو ہر چیز میں اپنے بندوں پر رحم کرتی ہے، جس نے اپنے (اللہ) تک پہنچانے والے راستوں کو ان کے لیے نہایت سہل بنایا، ان پر گامزن ہونے کے لیے ان کو آمادہ کیا اور ہر ایسے طریقے سے ان کو ترغیب دی جن کے ذریعے سے نفوسِ انسانی میں شوق پیدا ہوتا ہے اور اس سے قلب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے سوا دیگر اعمال سے ڈرایا ہے اور ان کے سامنے ان اسباب کا بھی ذکر کیا ہے جو انھیں ان اعمال کو ترک کرنے سے روکتے ہیں۔
39:13

قُلۡ إِنِّيٓ أَخَافُ إِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّي عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٖ

کہہ دیجیے:بے شک حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ عبادت کرو میں اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی کو (11) اور حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ ہوں میں پہلا مسلمان (12) کہہ دیجیے: بے شک میں ڈرتا ہوں، اگرنافرمانی کی میں نے اپنے رب کی، عذاب سے بڑے دن کے (13) کہہ دیجیے: اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں میں، خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اپنی بندگی کو (14) پس عبادت کرو تم جس کی تم چاہو، اس کےسوا، کہہ دیجیے: بلاشبہ نقصان اٹھانے والے تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو اوراپنے گھر والوں کو دن قیامت کے، خبردار! یہ (جہنم کی ہمیشگی) وہی ہے خسران ظاہر (15) واسطے ان کے، ان کے اوپر سائبان ہوں گے آگ کے اور ان کے نیچے (بھی) سائبان ہوں گے، ( یہی) وہ (عذاب) ہے کہ ڈراتا ہے اللہ اس کے ساتھ اپنے بندوں کو، اے میرے بندو! پس ڈرو تم مجھی سے (16) [11]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! لوگوں سے کہہ دیجیے! ﴿اِنِّيۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾ ’’بلاشبہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے، اس کی عبادت کروں‘‘ جیسا کہ اس سورۂ مبارکہ کی ابتدا میں فرمایا:﴿فَاعۡبُدِ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾(الزمر: 39/2) ’’پس آپ اللہ کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کرو۔‘‘ [12]﴿وَاُمِرۡتُ لِاَنۡ اَكُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلمان بنو۔‘‘ کیونکہ میں مخلوق کے لیے داعی اور ان کے رب کی طرف ان کی راہنمائی کرنے والا ہوں یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جس کام کا حکم دیا جائے میں تمام لوگوں سے پہلے اس حکم کی تعمیل کروں اور سب سے پہلے میں اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دوں۔ اس حکم کو بجا لانا رسول اللہ ﷺ پر اور ان لوگوں پر لازم ہے جو آپ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ظاہری اعمال میں اسلام پر عمل کرنا اور ظاہری اور باطنی اعمال میں اللہ کے لیے اخلاص کو مدنظر رکھنا واجب ہے۔ [13]﴿قُلۡ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے اندیشہ ہے‘‘ یعنی اخلاص اور اسلام کے بارے میں میرے رب نے مجھے جو حکم دیا ہے ﴿عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’بڑے ان کے عذاب کا‘‘ جس نے شرک کا ارتکاب کیا وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا اور جس نے گناہ کیا اسے اس عذاب کے ذریعے سے سزا دی جائے گی۔ [14، 15]﴿قُلِ اللّٰهَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّهٗ دِيۡنِيۡۙ۰۰فَاعۡبُدُوۡا مَا شِئۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں۔ تم اسے چھوڑ کر جس کی چاہو عبادت کرتے رہو‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا الۡكٰفِرُوۡنَۙ۰۰ لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَۙ۰۰ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُۚ۰۰ وَلَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدۡتُّمۡۙ۰۰ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُؕ۰۰ لَكُمۡ دِيۡنُكُمۡ وَ لِيَ دِيۡنِ﴾(الکافرون: 109؍1-6)’’کہہ دیجیے اے کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، نہ تم اس ہستی کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں، نہ میں ان ہستیوں کی عبادت کر سکتا ہوں، جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس ہستی ہی کی عبادت کرتے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں، تمھارا دین تمھارے لیے اور میرا دین میرے لیےہے۔‘‘﴿قُلۡ اِنَّ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ نقصان اٹھانے والے۔‘‘ درحقیقت وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا‘‘ اور اپنے آپ کو ثواب سے محروم کیا اور اس سبب سے وہ بدترین عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ ﴿وَاَهۡلِيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ان کے درمیان اور ان کے گھر والوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی۔ شدید حزن و غم انھیں آگھیرے گا اور وہ بہت بڑے گھاٹے میں پڑ جائیں گے۔ ﴿اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’خبردار! یہی صریح خسارہ ہے۔‘‘ اس جیسا اور کوئی خسارہ نہیں اور یہ دائمی خسارہ ہے جس کے بعد کوئی نفع نہیں، بلکہ اس کے بعد سلامتی ہی نہیں۔ [16] پھر اللہ تعالیٰ نے اس بدتر بدبختی کا ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ مبتلا ہوں گے، چنانچہ فرمایا:﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ ﴾ ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہونگے۔‘‘ یعنی بادل کی مانند عذاب کے بڑے بڑے ٹکڑے ہوں گے۔ ﴿وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ ﴾ ’’اور ان کے نیچے بھی آگ کے سائبان ہوں گے‘‘ ﴿ذٰلِكَ ﴾ یعنی جہنمیوں کے عذاب کا یہ وصف جو ہم نے بیان کیا ہے ایک ایسا کوڑا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی رحمت کے سائے کی طرف ہانکتا ہے۔ ﴿يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’اللہ اس عذاب کے ذ ریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ پس اے میرے بندو! مجھ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کے لیے جو عذاب تیار کر رکھا ہے، یہ اس کے بندوں کو تقویٰ کی طرف بلاتا ہے اور ان امور پر زجروتوبیخ ہے جو عذاب کے موجب ہیں۔ پاک ہے وہ ذات جو ہر چیز میں اپنے بندوں پر رحم کرتی ہے، جس نے اپنے (اللہ) تک پہنچانے والے راستوں کو ان کے لیے نہایت سہل بنایا، ان پر گامزن ہونے کے لیے ان کو آمادہ کیا اور ہر ایسے طریقے سے ان کو ترغیب دی جن کے ذریعے سے نفوسِ انسانی میں شوق پیدا ہوتا ہے اور اس سے قلب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے سوا دیگر اعمال سے ڈرایا ہے اور ان کے سامنے ان اسباب کا بھی ذکر کیا ہے جو انھیں ان اعمال کو ترک کرنے سے روکتے ہیں۔
39:14

قُلِ ٱللَّهَ أَعۡبُدُ مُخۡلِصٗا لَّهُۥ دِينِي

کہہ دیجیے:بے شک حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ عبادت کرو میں اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی کو (11) اور حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ ہوں میں پہلا مسلمان (12) کہہ دیجیے: بے شک میں ڈرتا ہوں، اگرنافرمانی کی میں نے اپنے رب کی، عذاب سے بڑے دن کے (13) کہہ دیجیے: اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں میں، خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اپنی بندگی کو (14) پس عبادت کرو تم جس کی تم چاہو، اس کےسوا، کہہ دیجیے: بلاشبہ نقصان اٹھانے والے تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو اوراپنے گھر والوں کو دن قیامت کے، خبردار! یہ (جہنم کی ہمیشگی) وہی ہے خسران ظاہر (15) واسطے ان کے، ان کے اوپر سائبان ہوں گے آگ کے اور ان کے نیچے (بھی) سائبان ہوں گے، ( یہی) وہ (عذاب) ہے کہ ڈراتا ہے اللہ اس کے ساتھ اپنے بندوں کو، اے میرے بندو! پس ڈرو تم مجھی سے (16) [11]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! لوگوں سے کہہ دیجیے! ﴿اِنِّيۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾ ’’بلاشبہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے، اس کی عبادت کروں‘‘ جیسا کہ اس سورۂ مبارکہ کی ابتدا میں فرمایا:﴿فَاعۡبُدِ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾(الزمر: 39/2) ’’پس آپ اللہ کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کرو۔‘‘ [12]﴿وَاُمِرۡتُ لِاَنۡ اَكُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلمان بنو۔‘‘ کیونکہ میں مخلوق کے لیے داعی اور ان کے رب کی طرف ان کی راہنمائی کرنے والا ہوں یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جس کام کا حکم دیا جائے میں تمام لوگوں سے پہلے اس حکم کی تعمیل کروں اور سب سے پہلے میں اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دوں۔ اس حکم کو بجا لانا رسول اللہ ﷺ پر اور ان لوگوں پر لازم ہے جو آپ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ظاہری اعمال میں اسلام پر عمل کرنا اور ظاہری اور باطنی اعمال میں اللہ کے لیے اخلاص کو مدنظر رکھنا واجب ہے۔ [13]﴿قُلۡ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے اندیشہ ہے‘‘ یعنی اخلاص اور اسلام کے بارے میں میرے رب نے مجھے جو حکم دیا ہے ﴿عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’بڑے ان کے عذاب کا‘‘ جس نے شرک کا ارتکاب کیا وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا اور جس نے گناہ کیا اسے اس عذاب کے ذریعے سے سزا دی جائے گی۔ [14، 15]﴿قُلِ اللّٰهَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّهٗ دِيۡنِيۡۙ۰۰فَاعۡبُدُوۡا مَا شِئۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں۔ تم اسے چھوڑ کر جس کی چاہو عبادت کرتے رہو‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا الۡكٰفِرُوۡنَۙ۰۰ لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَۙ۰۰ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُۚ۰۰ وَلَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدۡتُّمۡۙ۰۰ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُؕ۰۰ لَكُمۡ دِيۡنُكُمۡ وَ لِيَ دِيۡنِ﴾(الکافرون: 109؍1-6)’’کہہ دیجیے اے کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، نہ تم اس ہستی کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں، نہ میں ان ہستیوں کی عبادت کر سکتا ہوں، جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس ہستی ہی کی عبادت کرتے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں، تمھارا دین تمھارے لیے اور میرا دین میرے لیےہے۔‘‘﴿قُلۡ اِنَّ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ نقصان اٹھانے والے۔‘‘ درحقیقت وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا‘‘ اور اپنے آپ کو ثواب سے محروم کیا اور اس سبب سے وہ بدترین عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ ﴿وَاَهۡلِيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ان کے درمیان اور ان کے گھر والوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی۔ شدید حزن و غم انھیں آگھیرے گا اور وہ بہت بڑے گھاٹے میں پڑ جائیں گے۔ ﴿اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’خبردار! یہی صریح خسارہ ہے۔‘‘ اس جیسا اور کوئی خسارہ نہیں اور یہ دائمی خسارہ ہے جس کے بعد کوئی نفع نہیں، بلکہ اس کے بعد سلامتی ہی نہیں۔ [16] پھر اللہ تعالیٰ نے اس بدتر بدبختی کا ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ مبتلا ہوں گے، چنانچہ فرمایا:﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ ﴾ ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہونگے۔‘‘ یعنی بادل کی مانند عذاب کے بڑے بڑے ٹکڑے ہوں گے۔ ﴿وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ ﴾ ’’اور ان کے نیچے بھی آگ کے سائبان ہوں گے‘‘ ﴿ذٰلِكَ ﴾ یعنی جہنمیوں کے عذاب کا یہ وصف جو ہم نے بیان کیا ہے ایک ایسا کوڑا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی رحمت کے سائے کی طرف ہانکتا ہے۔ ﴿يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’اللہ اس عذاب کے ذ ریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ پس اے میرے بندو! مجھ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کے لیے جو عذاب تیار کر رکھا ہے، یہ اس کے بندوں کو تقویٰ کی طرف بلاتا ہے اور ان امور پر زجروتوبیخ ہے جو عذاب کے موجب ہیں۔ پاک ہے وہ ذات جو ہر چیز میں اپنے بندوں پر رحم کرتی ہے، جس نے اپنے (اللہ) تک پہنچانے والے راستوں کو ان کے لیے نہایت سہل بنایا، ان پر گامزن ہونے کے لیے ان کو آمادہ کیا اور ہر ایسے طریقے سے ان کو ترغیب دی جن کے ذریعے سے نفوسِ انسانی میں شوق پیدا ہوتا ہے اور اس سے قلب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے سوا دیگر اعمال سے ڈرایا ہے اور ان کے سامنے ان اسباب کا بھی ذکر کیا ہے جو انھیں ان اعمال کو ترک کرنے سے روکتے ہیں۔
39:15

فَٱعۡبُدُواْ مَا شِئۡتُم مِّن دُونِهِۦۗ قُلۡ إِنَّ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَأَهۡلِيهِمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡخُسۡرَانُ ٱلۡمُبِينُ

کہہ دیجیے:بے شک حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ عبادت کرو میں اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی کو (11) اور حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ ہوں میں پہلا مسلمان (12) کہہ دیجیے: بے شک میں ڈرتا ہوں، اگرنافرمانی کی میں نے اپنے رب کی، عذاب سے بڑے دن کے (13) کہہ دیجیے: اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں میں، خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اپنی بندگی کو (14) پس عبادت کرو تم جس کی تم چاہو، اس کےسوا، کہہ دیجیے: بلاشبہ نقصان اٹھانے والے تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو اوراپنے گھر والوں کو دن قیامت کے، خبردار! یہ (جہنم کی ہمیشگی) وہی ہے خسران ظاہر (15) واسطے ان کے، ان کے اوپر سائبان ہوں گے آگ کے اور ان کے نیچے (بھی) سائبان ہوں گے، ( یہی) وہ (عذاب) ہے کہ ڈراتا ہے اللہ اس کے ساتھ اپنے بندوں کو، اے میرے بندو! پس ڈرو تم مجھی سے (16) [11]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! لوگوں سے کہہ دیجیے! ﴿اِنِّيۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾ ’’بلاشبہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے، اس کی عبادت کروں‘‘ جیسا کہ اس سورۂ مبارکہ کی ابتدا میں فرمایا:﴿فَاعۡبُدِ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾(الزمر: 39/2) ’’پس آپ اللہ کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کرو۔‘‘ [12]﴿وَاُمِرۡتُ لِاَنۡ اَكُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلمان بنو۔‘‘ کیونکہ میں مخلوق کے لیے داعی اور ان کے رب کی طرف ان کی راہنمائی کرنے والا ہوں یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جس کام کا حکم دیا جائے میں تمام لوگوں سے پہلے اس حکم کی تعمیل کروں اور سب سے پہلے میں اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دوں۔ اس حکم کو بجا لانا رسول اللہ ﷺ پر اور ان لوگوں پر لازم ہے جو آپ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ظاہری اعمال میں اسلام پر عمل کرنا اور ظاہری اور باطنی اعمال میں اللہ کے لیے اخلاص کو مدنظر رکھنا واجب ہے۔ [13]﴿قُلۡ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے اندیشہ ہے‘‘ یعنی اخلاص اور اسلام کے بارے میں میرے رب نے مجھے جو حکم دیا ہے ﴿عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’بڑے ان کے عذاب کا‘‘ جس نے شرک کا ارتکاب کیا وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا اور جس نے گناہ کیا اسے اس عذاب کے ذریعے سے سزا دی جائے گی۔ [14، 15]﴿قُلِ اللّٰهَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّهٗ دِيۡنِيۡۙ۰۰فَاعۡبُدُوۡا مَا شِئۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں۔ تم اسے چھوڑ کر جس کی چاہو عبادت کرتے رہو‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا الۡكٰفِرُوۡنَۙ۰۰ لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَۙ۰۰ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُۚ۰۰ وَلَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدۡتُّمۡۙ۰۰ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُؕ۰۰ لَكُمۡ دِيۡنُكُمۡ وَ لِيَ دِيۡنِ﴾(الکافرون: 109؍1-6)’’کہہ دیجیے اے کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، نہ تم اس ہستی کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں، نہ میں ان ہستیوں کی عبادت کر سکتا ہوں، جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس ہستی ہی کی عبادت کرتے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں، تمھارا دین تمھارے لیے اور میرا دین میرے لیےہے۔‘‘﴿قُلۡ اِنَّ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ نقصان اٹھانے والے۔‘‘ درحقیقت وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا‘‘ اور اپنے آپ کو ثواب سے محروم کیا اور اس سبب سے وہ بدترین عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ ﴿وَاَهۡلِيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ان کے درمیان اور ان کے گھر والوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی۔ شدید حزن و غم انھیں آگھیرے گا اور وہ بہت بڑے گھاٹے میں پڑ جائیں گے۔ ﴿اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’خبردار! یہی صریح خسارہ ہے۔‘‘ اس جیسا اور کوئی خسارہ نہیں اور یہ دائمی خسارہ ہے جس کے بعد کوئی نفع نہیں، بلکہ اس کے بعد سلامتی ہی نہیں۔ [16] پھر اللہ تعالیٰ نے اس بدتر بدبختی کا ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ مبتلا ہوں گے، چنانچہ فرمایا:﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ ﴾ ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہونگے۔‘‘ یعنی بادل کی مانند عذاب کے بڑے بڑے ٹکڑے ہوں گے۔ ﴿وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ ﴾ ’’اور ان کے نیچے بھی آگ کے سائبان ہوں گے‘‘ ﴿ذٰلِكَ ﴾ یعنی جہنمیوں کے عذاب کا یہ وصف جو ہم نے بیان کیا ہے ایک ایسا کوڑا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی رحمت کے سائے کی طرف ہانکتا ہے۔ ﴿يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’اللہ اس عذاب کے ذ ریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ پس اے میرے بندو! مجھ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کے لیے جو عذاب تیار کر رکھا ہے، یہ اس کے بندوں کو تقویٰ کی طرف بلاتا ہے اور ان امور پر زجروتوبیخ ہے جو عذاب کے موجب ہیں۔ پاک ہے وہ ذات جو ہر چیز میں اپنے بندوں پر رحم کرتی ہے، جس نے اپنے (اللہ) تک پہنچانے والے راستوں کو ان کے لیے نہایت سہل بنایا، ان پر گامزن ہونے کے لیے ان کو آمادہ کیا اور ہر ایسے طریقے سے ان کو ترغیب دی جن کے ذریعے سے نفوسِ انسانی میں شوق پیدا ہوتا ہے اور اس سے قلب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے سوا دیگر اعمال سے ڈرایا ہے اور ان کے سامنے ان اسباب کا بھی ذکر کیا ہے جو انھیں ان اعمال کو ترک کرنے سے روکتے ہیں۔
39:16

لَهُم مِّن فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٞ مِّنَ ٱلنَّارِ وَمِن تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٞۚ ذَٰلِكَ يُخَوِّفُ ٱللَّهُ بِهِۦ عِبَادَهُۥۚ يَٰعِبَادِ فَٱتَّقُونِ

کہہ دیجیے:بے شک حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ عبادت کرو میں اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی کو (11) اور حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ ہوں میں پہلا مسلمان (12) کہہ دیجیے: بے شک میں ڈرتا ہوں، اگرنافرمانی کی میں نے اپنے رب کی، عذاب سے بڑے دن کے (13) کہہ دیجیے: اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں میں، خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اپنی بندگی کو (14) پس عبادت کرو تم جس کی تم چاہو، اس کےسوا، کہہ دیجیے: بلاشبہ نقصان اٹھانے والے تو وہ لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو اوراپنے گھر والوں کو دن قیامت کے، خبردار! یہ (جہنم کی ہمیشگی) وہی ہے خسران ظاہر (15) واسطے ان کے، ان کے اوپر سائبان ہوں گے آگ کے اور ان کے نیچے (بھی) سائبان ہوں گے، ( یہی) وہ (عذاب) ہے کہ ڈراتا ہے اللہ اس کے ساتھ اپنے بندوں کو، اے میرے بندو! پس ڈرو تم مجھی سے (16) [11]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! لوگوں سے کہہ دیجیے! ﴿اِنِّيۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾ ’’بلاشبہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے، اس کی عبادت کروں‘‘ جیسا کہ اس سورۂ مبارکہ کی ابتدا میں فرمایا:﴿فَاعۡبُدِ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾(الزمر: 39/2) ’’پس آپ اللہ کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کرو۔‘‘ [12]﴿وَاُمِرۡتُ لِاَنۡ اَكُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلمان بنو۔‘‘ کیونکہ میں مخلوق کے لیے داعی اور ان کے رب کی طرف ان کی راہنمائی کرنے والا ہوں یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جس کام کا حکم دیا جائے میں تمام لوگوں سے پہلے اس حکم کی تعمیل کروں اور سب سے پہلے میں اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دوں۔ اس حکم کو بجا لانا رسول اللہ ﷺ پر اور ان لوگوں پر لازم ہے جو آپ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ظاہری اعمال میں اسلام پر عمل کرنا اور ظاہری اور باطنی اعمال میں اللہ کے لیے اخلاص کو مدنظر رکھنا واجب ہے۔ [13]﴿قُلۡ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے اندیشہ ہے‘‘ یعنی اخلاص اور اسلام کے بارے میں میرے رب نے مجھے جو حکم دیا ہے ﴿عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’بڑے ان کے عذاب کا‘‘ جس نے شرک کا ارتکاب کیا وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا اور جس نے گناہ کیا اسے اس عذاب کے ذریعے سے سزا دی جائے گی۔ [14، 15]﴿قُلِ اللّٰهَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّهٗ دِيۡنِيۡۙ۰۰فَاعۡبُدُوۡا مَا شِئۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں۔ تم اسے چھوڑ کر جس کی چاہو عبادت کرتے رہو‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا الۡكٰفِرُوۡنَۙ۰۰ لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَۙ۰۰ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُۚ۰۰ وَلَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدۡتُّمۡۙ۰۰ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُؕ۰۰ لَكُمۡ دِيۡنُكُمۡ وَ لِيَ دِيۡنِ﴾(الکافرون: 109؍1-6)’’کہہ دیجیے اے کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، نہ تم اس ہستی کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں، نہ میں ان ہستیوں کی عبادت کر سکتا ہوں، جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس ہستی ہی کی عبادت کرتے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں، تمھارا دین تمھارے لیے اور میرا دین میرے لیےہے۔‘‘﴿قُلۡ اِنَّ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ نقصان اٹھانے والے۔‘‘ درحقیقت وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا‘‘ اور اپنے آپ کو ثواب سے محروم کیا اور اس سبب سے وہ بدترین عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ ﴿وَاَهۡلِيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ان کے درمیان اور ان کے گھر والوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی۔ شدید حزن و غم انھیں آگھیرے گا اور وہ بہت بڑے گھاٹے میں پڑ جائیں گے۔ ﴿اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’خبردار! یہی صریح خسارہ ہے۔‘‘ اس جیسا اور کوئی خسارہ نہیں اور یہ دائمی خسارہ ہے جس کے بعد کوئی نفع نہیں، بلکہ اس کے بعد سلامتی ہی نہیں۔ [16] پھر اللہ تعالیٰ نے اس بدتر بدبختی کا ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ مبتلا ہوں گے، چنانچہ فرمایا:﴿لَهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ ﴾ ’’ان کے اوپر آگ کے سائبان ہونگے۔‘‘ یعنی بادل کی مانند عذاب کے بڑے بڑے ٹکڑے ہوں گے۔ ﴿وَمِنۡ تَحۡتِهِمۡ ظُلَلٌ ﴾ ’’اور ان کے نیچے بھی آگ کے سائبان ہوں گے‘‘ ﴿ذٰلِكَ ﴾ یعنی جہنمیوں کے عذاب کا یہ وصف جو ہم نے بیان کیا ہے ایک ایسا کوڑا ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی رحمت کے سائے کی طرف ہانکتا ہے۔ ﴿يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ يٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’اللہ اس عذاب کے ذ ریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ پس اے میرے بندو! مجھ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کے لیے جو عذاب تیار کر رکھا ہے، یہ اس کے بندوں کو تقویٰ کی طرف بلاتا ہے اور ان امور پر زجروتوبیخ ہے جو عذاب کے موجب ہیں۔ پاک ہے وہ ذات جو ہر چیز میں اپنے بندوں پر رحم کرتی ہے، جس نے اپنے (اللہ) تک پہنچانے والے راستوں کو ان کے لیے نہایت سہل بنایا، ان پر گامزن ہونے کے لیے ان کو آمادہ کیا اور ہر ایسے طریقے سے ان کو ترغیب دی جن کے ذریعے سے نفوسِ انسانی میں شوق پیدا ہوتا ہے اور اس سے قلب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے سوا دیگر اعمال سے ڈرایا ہے اور ان کے سامنے ان اسباب کا بھی ذکر کیا ہے جو انھیں ان اعمال کو ترک کرنے سے روکتے ہیں۔
39:17

وَٱلَّذِينَ ٱجۡتَنَبُواْ ٱلطَّـٰغُوتَ أَن يَعۡبُدُوهَا وَأَنَابُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ لَهُمُ ٱلۡبُشۡرَىٰۚ فَبَشِّرۡ عِبَادِ

اور وہ لوگ کہ بچے وہ طاغوت سے کہ عبادت کریں اس کی اور رجوع کیا انھوں نے اللہ کی طرف، ان کے لیے خوشخبری ہے، پس خوشخبری دے دیں آپ میرے بندوں کو (17) وہ لوگ جو سنتے ہیں بات کو اورپیروی کرتے ہیں اس میں سے اچھی بات کی یہی وہ لوگ ہیں کہ ہدایت دی ان کو اللہ نے، اور یہی لوگ ہیں عقل والے (18) [17] اللہ تبارک و تعالیٰ مجرمین کا حال بیان کرنے کے بعد اپنی طرف رجوع کرنے والے بندوں کا حال بیان کرتے اور ان کے لیے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِيۡنَ اجۡتَنَبُوا الطَّاغُوۡتَ اَنۡ يَّعۡبُدُوۡهَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جو طاغوت کی عبادت کرنے سے بچتے رہے۔‘‘ اس مقام پر طاغوت سے مراد، غیراللہ کی عبادت ہے یعنی جنھوں نے غیراللہ کی عبادت سے اجتناب کیا۔ یہ حکیم و علیم کی طرف سے بہترین احتراز ہے کیونکہ مدح تو صرف اسی شخص کو پہنچتی ہے جو ان کی عبادت سے بچتا ہے ﴿وَاَنَابُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ ﴾ اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اخلاص دین کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ان کی فطرت کے داعیے بتوں کی عبادت کو چھوڑ کر ہر چیز کا علم رکھنے والے بادشاہ کی عبادت کی طرف، شرک اور معاصی کو ترک کرکے توحید و اطاعت کی طرف رخ کر لیتے ہیں۔ ﴿لَهُمُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’ان کے لیے ایسی خوشخبری ہے‘‘ جس کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے اور صرف وہی لوگ اس سے واقف ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس خوشخبری سے سرفراز فرمایا ہے۔ اس میں، دنیا کے اندر وہ بشارت بھی شامل ہے جو بندۂ مومن کو ثنائے حسن، سچے خوابوں اور عنایت ربانی کی صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ انھیں اس بشارت کے اندر صاف دکھائی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کا اکرام چاہتا ہے۔ ان کے لیے موت کے وقت، قبر کے اندر اور قیامت کے روز خوشخبری ہے اور ان کے لیے آخری بشارت وہ ہے جو رب کریم ان کو اپنی دائمی رضا، اپنے فضل و احسان اور جنت کے اندر امان کی صورت میں دے گا۔ [18] جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان مومن بندوں کے لیے خوشخبری ہے تو اس نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ ان کو خوشخبری دے دیں اور وہ وصف بھی ذکر کر دیا جس کی بنا پر وہ بشارت کے مستحق قرار پائے ہیں۔ ﴿فَبَشِّرۡ عِبَادِۙ۰۰ الَّذِيۡنَ يَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ ﴾ ’’پس میرے بندوں کو خوش خبری سنا دو، جو بات کو سنتے ہیں‘‘ یہاں (القول) ہر قسم کی بات کو شامل ہے وہ بات کو سنتے ہیں تاکہ وہ امتیاز کر سکیں کہ کس بات کو ترجیح دی جائے اور کس بات سے اجتناب کیا جائے۔ یہ ان کا حزم و احتیاط اور عقل مندی ہے کہ وہ اس میں سے بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں۔بہترین کلام علی الاطلاق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ)کا کلام ہے جیسا کہ آگے چل کر اسی سورۂ مبارکہ میں فرمایا: ﴿اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِيۡثِ كِتٰبًا مُّؔتَشَابِهًا ﴾(الزمر: 39/23) ’’اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے ایک ایسی کتاب کی صورت میں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ نکتہ پنہاں ہے کہ جب ان ممدوح لوگوں کا یہ وصف بیان کیا گیا ہے کہ وہ بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس میں سے بہترین قول کی اتباع کرتے ہیں، تو گویا یہ کہا گیا ہے کہ آیا کوئی ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے سے بہترین کلام کی معرفت حاصل ہو تاکہ ہم بھی عقل مندوں کی صفات سے متصف ہوجائیں اور جو کوئی اس صفت سے متصف ہو تو ہمیں پتہ چل جائے کہ یہ عقل مندوں میں سے ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں! بہترین کلام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا:﴿اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِيۡثِ كِتٰبًا مُّؔتَشَابِهًا ﴾(الزمر:39؍23)’’اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے ایک ایسی کتاب کی صورت میں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہے۔‘‘﴿الَّذِيۡنَ يَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ فَيَتَّبِعُوۡنَ اَحۡسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدٰؔىهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’وہ لوگ جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں ، پھر اس کے بہترین پہلو کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت بخشی ہے‘‘ یعنی بہترین اخلاق و اعمال کی طرف ﴿وَاُولٰٓىِٕكَ هُمۡ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’اور یہی لوگ عقل مند ہیں۔‘‘ یعنی پاک عقل کے مالک ہیں۔ یہ ان کی عقل مندی اور ان کا حزم و احتیاط ہے کہ انھوں نے قول حسن اور غیر حسن کو پہچان لیا اور پھر اس قول کو ترجیح دی جس کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی اور یہ عقل مندی کی علامت ہے، بلکہ عقل مندی کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور علامت نہیں ہے کیونکہ وہ شخص جو قول حسن اور غیر حسن میں امتیاز نہیں کر سکتا، ان لوگوں کے زمرے میں نہیں آتا جو عقل صحیح کے مالک ہیں یا وہ اچھی اور بری بات کے درمیان امتیاز تو کر سکتا ہے لیکن جب شہوتِ نفس عقل پر غالب آجاتی ہے اور عقل شہوت کی محض تابع ہو جاتی ہے تو وہ بہترین کلام کی تعظیم نہیں کرتا تب وہ ناقص العقل قرار پاتا ہے۔
39:18

ٱلَّذِينَ يَسۡتَمِعُونَ ٱلۡقَوۡلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحۡسَنَهُۥٓۚ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَىٰهُمُ ٱللَّهُۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمۡ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ

اور وہ لوگ کہ بچے وہ طاغوت سے کہ عبادت کریں اس کی اور رجوع کیا انھوں نے اللہ کی طرف، ان کے لیے خوشخبری ہے، پس خوشخبری دے دیں آپ میرے بندوں کو (17) وہ لوگ جو سنتے ہیں بات کو اورپیروی کرتے ہیں اس میں سے اچھی بات کی یہی وہ لوگ ہیں کہ ہدایت دی ان کو اللہ نے، اور یہی لوگ ہیں عقل والے (18) [17] اللہ تبارک و تعالیٰ مجرمین کا حال بیان کرنے کے بعد اپنی طرف رجوع کرنے والے بندوں کا حال بیان کرتے اور ان کے لیے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِيۡنَ اجۡتَنَبُوا الطَّاغُوۡتَ اَنۡ يَّعۡبُدُوۡهَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جو طاغوت کی عبادت کرنے سے بچتے رہے۔‘‘ اس مقام پر طاغوت سے مراد، غیراللہ کی عبادت ہے یعنی جنھوں نے غیراللہ کی عبادت سے اجتناب کیا۔ یہ حکیم و علیم کی طرف سے بہترین احتراز ہے کیونکہ مدح تو صرف اسی شخص کو پہنچتی ہے جو ان کی عبادت سے بچتا ہے ﴿وَاَنَابُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ ﴾ اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اخلاص دین کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ان کی فطرت کے داعیے بتوں کی عبادت کو چھوڑ کر ہر چیز کا علم رکھنے والے بادشاہ کی عبادت کی طرف، شرک اور معاصی کو ترک کرکے توحید و اطاعت کی طرف رخ کر لیتے ہیں۔ ﴿لَهُمُ الۡبُشۡرٰى ﴾ ’’ان کے لیے ایسی خوشخبری ہے‘‘ جس کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے اور صرف وہی لوگ اس سے واقف ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس خوشخبری سے سرفراز فرمایا ہے۔ اس میں، دنیا کے اندر وہ بشارت بھی شامل ہے جو بندۂ مومن کو ثنائے حسن، سچے خوابوں اور عنایت ربانی کی صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ انھیں اس بشارت کے اندر صاف دکھائی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کا اکرام چاہتا ہے۔ ان کے لیے موت کے وقت، قبر کے اندر اور قیامت کے روز خوشخبری ہے اور ان کے لیے آخری بشارت وہ ہے جو رب کریم ان کو اپنی دائمی رضا، اپنے فضل و احسان اور جنت کے اندر امان کی صورت میں دے گا۔ [18] جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان مومن بندوں کے لیے خوشخبری ہے تو اس نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ ان کو خوشخبری دے دیں اور وہ وصف بھی ذکر کر دیا جس کی بنا پر وہ بشارت کے مستحق قرار پائے ہیں۔ ﴿فَبَشِّرۡ عِبَادِۙ۰۰ الَّذِيۡنَ يَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ ﴾ ’’پس میرے بندوں کو خوش خبری سنا دو، جو بات کو سنتے ہیں‘‘ یہاں (القول) ہر قسم کی بات کو شامل ہے وہ بات کو سنتے ہیں تاکہ وہ امتیاز کر سکیں کہ کس بات کو ترجیح دی جائے اور کس بات سے اجتناب کیا جائے۔ یہ ان کا حزم و احتیاط اور عقل مندی ہے کہ وہ اس میں سے بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں۔بہترین کلام علی الاطلاق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ)کا کلام ہے جیسا کہ آگے چل کر اسی سورۂ مبارکہ میں فرمایا: ﴿اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِيۡثِ كِتٰبًا مُّؔتَشَابِهًا ﴾(الزمر: 39/23) ’’اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے ایک ایسی کتاب کی صورت میں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ نکتہ پنہاں ہے کہ جب ان ممدوح لوگوں کا یہ وصف بیان کیا گیا ہے کہ وہ بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس میں سے بہترین قول کی اتباع کرتے ہیں، تو گویا یہ کہا گیا ہے کہ آیا کوئی ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے سے بہترین کلام کی معرفت حاصل ہو تاکہ ہم بھی عقل مندوں کی صفات سے متصف ہوجائیں اور جو کوئی اس صفت سے متصف ہو تو ہمیں پتہ چل جائے کہ یہ عقل مندوں میں سے ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں! بہترین کلام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا:﴿اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِيۡثِ كِتٰبًا مُّؔتَشَابِهًا ﴾(الزمر:39؍23)’’اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے ایک ایسی کتاب کی صورت میں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہے۔‘‘﴿الَّذِيۡنَ يَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ فَيَتَّبِعُوۡنَ اَحۡسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدٰؔىهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’وہ لوگ جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں ، پھر اس کے بہترین پہلو کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت بخشی ہے‘‘ یعنی بہترین اخلاق و اعمال کی طرف ﴿وَاُولٰٓىِٕكَ هُمۡ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’اور یہی لوگ عقل مند ہیں۔‘‘ یعنی پاک عقل کے مالک ہیں۔ یہ ان کی عقل مندی اور ان کا حزم و احتیاط ہے کہ انھوں نے قول حسن اور غیر حسن کو پہچان لیا اور پھر اس قول کو ترجیح دی جس کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی اور یہ عقل مندی کی علامت ہے، بلکہ عقل مندی کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور علامت نہیں ہے کیونکہ وہ شخص جو قول حسن اور غیر حسن میں امتیاز نہیں کر سکتا، ان لوگوں کے زمرے میں نہیں آتا جو عقل صحیح کے مالک ہیں یا وہ اچھی اور بری بات کے درمیان امتیاز تو کر سکتا ہے لیکن جب شہوتِ نفس عقل پر غالب آجاتی ہے اور عقل شہوت کی محض تابع ہو جاتی ہے تو وہ بہترین کلام کی تعظیم نہیں کرتا تب وہ ناقص العقل قرار پاتا ہے۔
39:19

أَفَمَنۡ حَقَّ عَلَيۡهِ كَلِمَةُ ٱلۡعَذَابِ أَفَأَنتَ تُنقِذُ مَن فِي ٱلنَّارِ

کیا پس جو شخص کہ ثابت ہو گئی اس پر بات عذاب کی، کیا پس آپ چھڑا لیں گے اس کو جو آگ میں ہے؟(19) لیکن وہ لوگ جو ڈر گئے اپنے رب سے ، ان کے لیے بالاخانے ہیں، ان کے اوپر(اور )بالاخانے ہیں بنائے ہوئے، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں(یہ ہے) وعدہ اللہ نے ، نہیں خلاف کرتا اللہ اپنے وعدے کے (20) [19] یعنی وہ شخص جس کے گمراہی، عناد اور کفر پر جمے رہنے کے باعث، اس پر عذاب کا حکم واجب ہو گیا، تو اس کی ہدایت کے لیے آپ کے پاس کوئی چارہ نہیں اور نہ ہی آپ اس شخص کو کسی صورت میں آگ سے بچا سکتے ہیں جو آگ میں گرچکا ہو۔ [20] ہر قسم کی غنا اور فوزوفلاح صرف تقویٰ شعار لوگوں کے لیے ہے جن کے لیے اکرام و تکریم اور مختلف اقسام کی نعمتیں تیار کی گئی ہیں جن کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ ﴿لَهُمۡ غُرَفٌ ﴾ یعنی ان کے لیے آراستہ کیے گئے بالاخانے ہیں جن کی خوبصورتی، حسن اور صفائی کی بنا پر ان کے اندر صاف دیکھا جاسکے گا اور وہ اپنی بلندی کی وجہ سے یوں نظر آئیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں غروب ہونے والا ستارہ۔ بنابریں فرمایا:﴿مِّنۡ فَوۡقِهَا غُرَفٌ ﴾ یعنی یہ بالا خانے ایک دوسرے کے اوپر ﴿مَّبۡنِيَّةٌ ﴾ سونے چاند کی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے ہوں گے جن کو آپس میں جوڑنے کے لیے مشک کا گارا بنایا گیا ہوگا۔ ﴿تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔‘‘ جن کا پانی نہایت تیزی سے رواں ہو گایہ نہریں جنت کے خوبصورت باغات اور اس کے پاکیزہ درختوں کو سیراب کریں گی جن سے نہایت لذید قسم کے پھل اور پکے ہوئے میوے پیدا ہوں گے۔ ﴿وَعۡدَ اللّٰهِ١ؕ لَا يُخۡلِفُ اللّٰهُ الۡمِيۡعَادَ ﴾ ’’یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا‘‘ اس نے پرہیز گار لوگوں سے اس ثواب کا وعدہ کر رکھا ہے۔ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا، لہٰذا انھیں چاہیے کہ وہ تقویٰ کے تمام خصائل کو پورا کریں تاکہ ان کو پورا پورا اجر عطا کیا جائے۔
39:20

لَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ رَبَّهُمۡ لَهُمۡ غُرَفٞ مِّن فَوۡقِهَا غُرَفٞ مَّبۡنِيَّةٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ وَعۡدَ ٱللَّهِ لَا يُخۡلِفُ ٱللَّهُ ٱلۡمِيعَادَ

کیا پس جو شخص کہ ثابت ہو گئی اس پر بات عذاب کی، کیا پس آپ چھڑا لیں گے اس کو جو آگ میں ہے؟(19) لیکن وہ لوگ جو ڈر گئے اپنے رب سے ، ان کے لیے بالاخانے ہیں، ان کے اوپر(اور )بالاخانے ہیں بنائے ہوئے، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں(یہ ہے) وعدہ اللہ نے ، نہیں خلاف کرتا اللہ اپنے وعدے کے (20) [19] یعنی وہ شخص جس کے گمراہی، عناد اور کفر پر جمے رہنے کے باعث، اس پر عذاب کا حکم واجب ہو گیا، تو اس کی ہدایت کے لیے آپ کے پاس کوئی چارہ نہیں اور نہ ہی آپ اس شخص کو کسی صورت میں آگ سے بچا سکتے ہیں جو آگ میں گرچکا ہو۔ [20] ہر قسم کی غنا اور فوزوفلاح صرف تقویٰ شعار لوگوں کے لیے ہے جن کے لیے اکرام و تکریم اور مختلف اقسام کی نعمتیں تیار کی گئی ہیں جن کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ ﴿لَهُمۡ غُرَفٌ ﴾ یعنی ان کے لیے آراستہ کیے گئے بالاخانے ہیں جن کی خوبصورتی، حسن اور صفائی کی بنا پر ان کے اندر صاف دیکھا جاسکے گا اور وہ اپنی بلندی کی وجہ سے یوں نظر آئیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں غروب ہونے والا ستارہ۔ بنابریں فرمایا:﴿مِّنۡ فَوۡقِهَا غُرَفٌ ﴾ یعنی یہ بالا خانے ایک دوسرے کے اوپر ﴿مَّبۡنِيَّةٌ ﴾ سونے چاند کی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے ہوں گے جن کو آپس میں جوڑنے کے لیے مشک کا گارا بنایا گیا ہوگا۔ ﴿تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔‘‘ جن کا پانی نہایت تیزی سے رواں ہو گایہ نہریں جنت کے خوبصورت باغات اور اس کے پاکیزہ درختوں کو سیراب کریں گی جن سے نہایت لذید قسم کے پھل اور پکے ہوئے میوے پیدا ہوں گے۔ ﴿وَعۡدَ اللّٰهِ١ؕ لَا يُخۡلِفُ اللّٰهُ الۡمِيۡعَادَ ﴾ ’’یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا‘‘ اس نے پرہیز گار لوگوں سے اس ثواب کا وعدہ کر رکھا ہے۔ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا، لہٰذا انھیں چاہیے کہ وہ تقویٰ کے تمام خصائل کو پورا کریں تاکہ ان کو پورا پورا اجر عطا کیا جائے۔
39:21

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَسَلَكَهُۥ يَنَٰبِيعَ فِي ٱلۡأَرۡضِ ثُمَّ يُخۡرِجُ بِهِۦ زَرۡعٗا مُّخۡتَلِفًا أَلۡوَٰنُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصۡفَرّٗا ثُمَّ يَجۡعَلُهُۥ حُطَٰمًاۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكۡرَىٰ لِأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ

کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ ہی نے نازل کیا آسمان سے پانی، پھر داخل کیا اس کو چشموں میں زمین کے ، پھر وہ نکالتا ہے اس کےذریعے سے کھیتی اس حال میں کہ مختلف ہیں رنگ اس کے، پھر وہ خشک ہو جاتی ہے، پس دیکھتے ہیں آپ اس کو زرد شدہ ، پھر کر دیتا ہے وہ اس کو ریزہ ریزہ۔ بلاشبہ اس میں البتہ نصیحت ہے واسطے اہل عقل کے (21) [21] اللہ تعالیٰ عقل مندوں کو یاد دلاتا ہے کہ اس نے آسمان سے پانی برسایا، اس پانی کو زمین کے اندر چشموں کی صورت میں رواں دواں کیا، یعنی اس پانی کو چشموں میں محفوظ کیا جہاں سے یہ پانی نہایت آسانی اور سہولت سے نکالا جاتا ہے۔ ﴿ثُمَّ يُخۡرِجُ بِهٖ زَرۡعًا مُّؔخۡتَلِفًا اَلۡوَانُهٗ﴾ ’’، پھر اللہ تعالیٰ اس پانی کے ذریعے سے مختلف قسم کے غلہ جات نکالتا ہے‘‘ مثلاً: گیہوں، مکئی، جو اور چاول پیدا کرتا ہے۔ ﴿ثُمَّ يَهِيۡجُ ﴾ ، پھر یہ کھیتیاں پوری طرح پک کر یا کسی آفت کی وجہ سے خشک ہو جاتی ہیں ﴿فَتَرٰىهُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ يَجۡعَلُهٗ حُطَامًا ﴾ ’’تو تم اسے زرد دیکھتے ہو، پھر وہ اسے چورا چورا کردیتا ہے۔‘‘ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَذِكۡرٰى لِاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ ’’بلاشبہ عقل مندوں کے لیے البتہ اس میں نصیحت ہے۔‘‘ ان کھیتیوں کے ذریعے سے اپنے رب کی عنایات اور بندوں پر اس کی بے پایاں رحمت کو یاد کرتے ہیں کہ اس نے ان کے لیے اس پانی کے حصول کو آسان بنایا اور ان کے مصالح کے مطابق اس پانی کو زمین کے خزانوں میں جمع کیا۔ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو یاد کرتے ہیں کہ وہ مردوں کو اسی طرح زندہ کرے گا جس طرح اس نے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا ہے۔ وہ یہ بھی یاد کرتے ہیں کہ ان تمام افعال کوسرانجام دینے والی ہستی ہی درحقیقت عبادت کی مستحق ہے۔ اے اللہ! ہمیں بھی ان عقل مندوں میں شامل فرما، جن کا تو نے نام بلند کیا ہے، انھیں عقل سے بہرہ مند کر کے راہ راست پر گامزن کیا اور ان کے سامنے اپنی عظیم کتاب کے اسرار اور اپنی آیات سے پردہ اٹھایا جن اسرار کی معرفت ان کے سوا کسی اور کو حاصل نہ ہو سکی بے شک تو ہی عطا کرنے والا ہے۔
39:22

أَفَمَن شَرَحَ ٱللَّهُ صَدۡرَهُۥ لِلۡإِسۡلَٰمِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٖ مِّن رَّبِّهِۦۚ فَوَيۡلٞ لِّلۡقَٰسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكۡرِ ٱللَّهِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٍ

کیا پس جو شخص کہ کھول دیا اللہ نے سینہ اس کا واسطے اسلام کے اور وہ روشنی پر ہے اپنے رب کی طرف سے ( تنگ دل کافر کے برابرہے؟) پس ہلاکت ہے ان کے لیے کہ سخت ہیں دل ان کے اللہ کی یاد سے، یہی لوگ ہیں صریح گمراہی میں (22) [22] کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے کھول دیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو قبول کرنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کے لیے وسعت ہو اور وہ اسلام کے معاملے میں انشراح صدر اور آنکھوں کی ٹھنڈک کے ساتھ بصیرت کی راہ پر گامزن ہو… اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿فَهُوَ عَلٰى نُوۡرٍ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ ’’پس وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی پر ہو۔‘‘ سے یہی مراد ہے… اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو ان مذکورہ اوصاف سے محروم ہے؟اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿فَوَيۡلٌ لِّلۡقٰسِيَةِ قُلُوۡبُهُمۡ مِّنۡ ذِكۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس ہلاکت ہے ان کے لیے جن کے دل اللہ کی یاد سے سخت ہورہے ہیں۔‘‘ یعنی ان کے سخت دل اس کی کتاب کو سمجھنے کے لیے نرم ہوتے ہیں نہ اس کی آیات سے نصیحت پکڑتے ہیں اور نہ اس کے ذکر سے اطمینان ہی حاصل کرتے ہیں بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے رب سے روگردانی کر کے غیر کی طرف التفات کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے شدید ہلاکت اور بہت بڑی برائی ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔‘‘ اس شخص کی گمراہی سے بڑھ کر کون سی گمراہی ہے جو اپنے والی اور سرپرست سے منہ موڑتا ہے جس کی طرف التفات میں ہر قسم کی سعادت ہے، جس کا دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بارے میں پتھر کی مانند سخت ہے اور وہ اس چیز کی طرف متوجہ ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہے۔
39:23

ٱللَّهُ نَزَّلَ أَحۡسَنَ ٱلۡحَدِيثِ كِتَٰبٗا مُّتَشَٰبِهٗا مَّثَانِيَ تَقۡشَعِرُّ مِنۡهُ جُلُودُ ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمۡ وَقُلُوبُهُمۡ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهۡدِي بِهِۦ مَن يَشَآءُۚ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنۡ هَادٍ

اللہ نے نازل کی سب سے اچھی بات(یعنی ) کتاب، باہم ملتی جلتی، بار بار دہرائی ہوئی، کانپ اٹھتی ہیں اس سے جلدیں ان لوگوں کی جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے، پھر نرم ہو جاتی ہیں ان کی جلدیں اوران کے دل اللہ کی یاد کی طرف، یہی ہے ہدایت اللہ کی، ہدایت دیتا ہے وہ اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور جسے گمراہ کر دے اللہ، پس نہیں ہے اس کو کوئی ہدایت دینے والا (23) [23] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب کے بارے میں، جسے اس نے نازل فرمایا خبر دیتا ہے کہ یہ کتاب علی الاطلاق ﴿اَحۡسَنَ الۡحَدِيۡثِ ﴾ ’’بہترین کلام ہے۔‘‘ پس بہتر کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام سے نازل کی گئی کتابوں میں بہترین کتاب یہ قرآن کریم ہے۔ جب قرآن کریم بہترین کتاب ہے تب معلوم ہوا کہ اس کے الفاظ فصیح ترین اور واضح ترین، اس کے معانی جلیل ترین ہیں کیونکہ یہ اپنے الفاظ اور معانی میں بہترین کلام ہے۔ اپنے حسن تالیف اور ہر لحاظ سے عدم اختلاف کے اعتبار سے اس کے تمام اجزاء ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں حتی کہ اگر کوئی اس میں غوروفکر کرے تو اسے اس میں ایسی مہارت، اس کے معانی میں ایسی گہرائی نظر آئے گی جو دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہے اور اسے یقین ہوجاتا ہے کہ یہ (بے عیب) کلام حکمت اور علم والی ہستی کے سوا کسی اور سے صادر نہیں ہو سکتا۔ اس مقام پر ’’تشابہ‘‘ سے یہی مراد ہے۔ رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ مِنۡهُ اٰيٰتٌ مُّحۡكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الۡكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ﴾(آل عمران:3؍7) ’’وہ اللہ ہی ہے جس نے آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی، اس میں محکم آیات بھی ہیں جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور بعض دوسری متشابہات ہیں۔‘‘ تو اس سے مراد وہ آیات کریمہ ہیں جو بہت سے لوگوں کے فہم سے پوشیدہ اور مشتبہ ہوتی ہیں۔ یہ اشتباہ اس وقت تک زائل نہیں ہوتا جب تک کہ ان کو آیات محکمات کی طرف نہ لوٹایا جائے۔ اس لیے فرمایا:﴿مِنۡهُ اٰيٰتٌ مُّحۡكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الۡكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ﴾(آل عمران:3/7) ’’اس میں محکم آیات بھی ہیں جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور بعض دوسری متشابہات ہیں۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض آیات میں تشابہ قرار دیا گیا ہے اور یہاں تمام آیات کو متشابہکہا ہے، یعنی حسن میں مشابہ ہیں، کیونکہ ارشاد فرمایا:﴿اَحۡسَنَ الۡحَدِيۡثِ ﴾’’نہایت اچھی باتیں‘‘ اس سے مراد تمام آیات اور سورتیں ہیں، جو ایک دوسری سے مشابہت رکھتی ہیں۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں ہم ذکر کر چکے ہیں۔﴿مَّؔثَانِيَ ﴾ ’’دہرائی جاتی ہیں۔‘‘ یعنی اس بہترین کلام میں قصص و احکام، وعد و وعید، اہل خیر کے اوصاف اور اہل شر کے اعمال کو بار بار دہرایا جاتا ہے، نیز اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ اس کلام کا حسن و جلال ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ مخلوق اس کلام کے معانی کی محتاج ہے جو دلوں کو پاک اور اخلاق کی تکمیل کرتے ہیں، اس لیے اس نے ان معانی کو دلوں کے لیے وہی حیثیت دی ہے جو درختوں اور پودوں کے لیے پانی کی ہے۔ جس طرح درخت اور پودے عدم سیرابی کے باعث ناقص بلکہ بسااوقات تلف ہو جاتے ہیں اور پودوں کو جتنا زیادہ بار بار سیراب کیا جائے گا اتنے ہی وہ خوبصورت ہوں گے اور اتنا ہی زیادہ وہ پھل لائیں گے… اسی طرح دل بھی کلام اللہ کے معانی کے تکرار کے ہمیشہ محتاج رہتے ہیں۔ اگر تمام قرآن میں اس کے سامنے ایک ہی معنی بیان کیا جائے تو معنی اس کی گہرائی میں جاگزیں ہو گا نہ اس سے مطلوبہ نتائج ہی حاصل ہوں گے۔بنابریں میں اپنی تفسیر میں، قرآن مجید کے اسلوب کی اقتدا میں، اسی مسلک کریم پر گامزن ہوں۔ اس لیے آپ کسی بھی مقام پر کوئی حوالہ نہیں پائیں گے، بلکہ آپ ہر مقام پر گزشتہ صفحات میں اس سے ملتے جلتے مقام کی تفسیر کی رعایت رکھے بغیر، اس کی مکمل تفسیر پائیں گے۔ اگرچہ بعض مقامات پر نسبتاً زیادہ بسط و شرح سے کام لیا گیا اور اس میں فوائد دیے گئے ہیں۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے اور اس کے معانی میں غوروفکر کرنے والے کے لیے بھی یہی مناسب ہے کہ وہ قرآن مجید کے تمام مقامات میں تدبر کو ترک نہ کرے کیونکہ اس سبب سے اسے خیرکثیر اور بہت زیادہ فائدہ حاصل ہو گا۔ چونکہ قرآن عظیم اس عظمت و جلال کے ساتھ ہدایت یافتہ اور عقل مند لوگوں کے دلوں پر بہت اثر کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿تَقۡشَعِرُّ مِنۡهُ جُلُوۡدُ الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ﴾ ’’جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں، اس (قرآن) سے ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔‘‘ کیونکہ اس کے اندر بے قرار کر دینے والی تخویف و ترہیب ہے ﴿ثُمَّ تَلِيۡنُ جُلُوۡدُهُمۡ وَقُلُوۡبُهُمۡ اِلٰى ذِكۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’ پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہوکر) اللہ کی یاد کی طرف (متوجہ)ہوجاتے ہیں۔‘‘ یعنی امید اور ترغیب کے ذکر کے وقت۔ یہ ذکر کبھی تو ان کو بھلائی کے عمل کی ترغیب دیتا ہے اور کبھی برائی کے عمل سے ڈراتا ہے۔﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘یعنی ان کے اندر تاثیر قرآن کا اللہ تعالیٰ نے جو ذکر کیا ہے ﴿هُدَى اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی ہدایت ہے‘‘ یعنی اس کے بندوں کے لیے اس کی طرف سے ہدایت ہے اور ان پر یہ اس کے جملہ فضل و احسان میں سے ہے۔ ﴿يَهۡدِيۡ بِهٖ﴾ اس تاثیر قرآن کے ذریعے سے ہدایت دیتا ہے ﴿مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’جسے چاہتا ہے‘‘ اپنے بندوں میں سے۔ اس میں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ ﴿ذٰلِكَ ﴾ سے مراد قرآن ہو ، یعنی وہ قرآن جس کا وصف ہم نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے ﴿هُدَى اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی ہدایت ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے اس کے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں ﴿يَهۡدِيۡ بِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت عطا کرتا ہے۔‘‘ یعنی جو اچھا مقصد رکھتے ہوں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَّهۡدِيۡ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ ﴾(المائدۃ: 5؍16) ’’اللہ اس کتاب کے ذریعے سے ان لوگوں کو سلامتی کا راستہ دکھاتا ہے جو اس کی رضا کے طالب ہیں۔‘‘ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی توفیق کے سوا کوئی راستہ نہیں جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہو، کتاب اللہ پر توجہ مرکوز کرنے کی توفیق بھی اسی سے ملتی ہے۔ پس اگر اللہ کی توفیق نصیب نہ ہو تو راہ راست پر چلنے کا کوئی طریقہ نہیں تب واضح گمراہی اور رسوا کن بدبختی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
39:24

أَفَمَن يَتَّقِي بِوَجۡهِهِۦ سُوٓءَ ٱلۡعَذَابِ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ وَقِيلَ لِلظَّـٰلِمِينَ ذُوقُواْ مَا كُنتُمۡ تَكۡسِبُونَ

کیا پس جو شخص بچتا ہے اپنے چہرے کے ذریعے سے برے عذاب سے دن قیامت کے (وہ برابر ہے جنتی کے؟)اور کہا جائے گا ظالموں سے‘ چکھو تم (مزا ) اس کاجو تھے تم کماتے (24) جھٹلایا (تھا) ان لوگوں نے جو ان سے پہلے ہوئے‘ تو آیا ان کے پاس عذاب ایسی جگہ سے کہ نہیں وہ شعور رکھتے تھے (25) پس چکھائی ان کو اللہ نے رسوائی دنیا کی زندگی میں اور البتہ عذاب آخرت کا بہت بڑا ہے‘ کاش کہ وہ ہوتے جانتے (26) [24] کیا یہ شخص، جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور اپنے اکرام و تکریم کے گھر پہنچانے والے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق سے بہرہ مند کیا ہے اور وہ شخص برابر ہو سکتے ہیں جو اپنی گمراہی پرجما ہوا اور دائمی عناد میں سرگرداں ہے یہاں تک کہ قیامت آ پہنچے اور بڑا عذاب اسے گھیر لے؟ اور اپنے چہرے کو اس عذاب سے بچانے کی ناکام کوشش کرے۔ چہرہ تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ ادنیٰ سا عذاب اس پر بہت زیادہ اثر کرتا ہے۔ وہ اپنے چہرے کو بہت برے عذاب سے بچانے کی کوشش کرے گا لیکن اس کے ہاتھ اور پاؤ ں جھکڑے ہوئے ہوں گے۔ ﴿وَقِيۡلَ لِلظّٰلِمِيۡنَ ﴾ کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں سے زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿ذُوۡقُوۡا مَا كُنۡتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اپنے کرتوتوں کا مزہ چکھو۔‘‘ [25]﴿كَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ گزشتہ قوموں نے بھی اپنے انبیاء کی تکذیب کی جس طرح ان لوگوں نے تکذیب کی ﴿فَاَتٰىهُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’تو ان پر ایسی جگہ سے عذاب آگیا کہ انھیں خبر ہی نہ تھی۔‘‘ ان پر یہ عذاب ان کی غفلت کے اوقات میں یا دن کے وقت یا اس وقت آ نازل ہوا جب وہ دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے۔ [26]﴿فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’پس اللہ نے انھیں چکھایا۔‘‘ یعنی اس عذاب کے ذریعے سے ﴿الۡخِزۡيَ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ دنیا ہی میں رسوائی کا مزہ چکھایا، چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے ہاں رسوا ہو گئے۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَكۡبَرُ١ۘ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے کاش! وہ جان لیتے۔‘‘ اس لیے ان لوگوں کو آپ کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
39:25

كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ فَأَتَىٰهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُونَ

کیا پس جو شخص بچتا ہے اپنے چہرے کے ذریعے سے برے عذاب سے دن قیامت کے (وہ برابر ہے جنتی کے؟)اور کہا جائے گا ظالموں سے‘ چکھو تم (مزا ) اس کاجو تھے تم کماتے (24) جھٹلایا (تھا) ان لوگوں نے جو ان سے پہلے ہوئے‘ تو آیا ان کے پاس عذاب ایسی جگہ سے کہ نہیں وہ شعور رکھتے تھے (25) پس چکھائی ان کو اللہ نے رسوائی دنیا کی زندگی میں اور البتہ عذاب آخرت کا بہت بڑا ہے‘ کاش کہ وہ ہوتے جانتے (26) [24] کیا یہ شخص، جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور اپنے اکرام و تکریم کے گھر پہنچانے والے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق سے بہرہ مند کیا ہے اور وہ شخص برابر ہو سکتے ہیں جو اپنی گمراہی پرجما ہوا اور دائمی عناد میں سرگرداں ہے یہاں تک کہ قیامت آ پہنچے اور بڑا عذاب اسے گھیر لے؟ اور اپنے چہرے کو اس عذاب سے بچانے کی ناکام کوشش کرے۔ چہرہ تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ ادنیٰ سا عذاب اس پر بہت زیادہ اثر کرتا ہے۔ وہ اپنے چہرے کو بہت برے عذاب سے بچانے کی کوشش کرے گا لیکن اس کے ہاتھ اور پاؤ ں جھکڑے ہوئے ہوں گے۔ ﴿وَقِيۡلَ لِلظّٰلِمِيۡنَ ﴾ کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں سے زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿ذُوۡقُوۡا مَا كُنۡتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اپنے کرتوتوں کا مزہ چکھو۔‘‘ [25]﴿كَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ گزشتہ قوموں نے بھی اپنے انبیاء کی تکذیب کی جس طرح ان لوگوں نے تکذیب کی ﴿فَاَتٰىهُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’تو ان پر ایسی جگہ سے عذاب آگیا کہ انھیں خبر ہی نہ تھی۔‘‘ ان پر یہ عذاب ان کی غفلت کے اوقات میں یا دن کے وقت یا اس وقت آ نازل ہوا جب وہ دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے۔ [26]﴿فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’پس اللہ نے انھیں چکھایا۔‘‘ یعنی اس عذاب کے ذریعے سے ﴿الۡخِزۡيَ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ دنیا ہی میں رسوائی کا مزہ چکھایا، چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے ہاں رسوا ہو گئے۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَكۡبَرُ١ۘ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے کاش! وہ جان لیتے۔‘‘ اس لیے ان لوگوں کو آپ کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
39:26

فَأَذَاقَهُمُ ٱللَّهُ ٱلۡخِزۡيَ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَعَذَابُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَكۡبَرُۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ

کیا پس جو شخص بچتا ہے اپنے چہرے کے ذریعے سے برے عذاب سے دن قیامت کے (وہ برابر ہے جنتی کے؟)اور کہا جائے گا ظالموں سے‘ چکھو تم (مزا ) اس کاجو تھے تم کماتے (24) جھٹلایا (تھا) ان لوگوں نے جو ان سے پہلے ہوئے‘ تو آیا ان کے پاس عذاب ایسی جگہ سے کہ نہیں وہ شعور رکھتے تھے (25) پس چکھائی ان کو اللہ نے رسوائی دنیا کی زندگی میں اور البتہ عذاب آخرت کا بہت بڑا ہے‘ کاش کہ وہ ہوتے جانتے (26) [24] کیا یہ شخص، جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور اپنے اکرام و تکریم کے گھر پہنچانے والے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق سے بہرہ مند کیا ہے اور وہ شخص برابر ہو سکتے ہیں جو اپنی گمراہی پرجما ہوا اور دائمی عناد میں سرگرداں ہے یہاں تک کہ قیامت آ پہنچے اور بڑا عذاب اسے گھیر لے؟ اور اپنے چہرے کو اس عذاب سے بچانے کی ناکام کوشش کرے۔ چہرہ تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ ادنیٰ سا عذاب اس پر بہت زیادہ اثر کرتا ہے۔ وہ اپنے چہرے کو بہت برے عذاب سے بچانے کی کوشش کرے گا لیکن اس کے ہاتھ اور پاؤ ں جھکڑے ہوئے ہوں گے۔ ﴿وَقِيۡلَ لِلظّٰلِمِيۡنَ ﴾ کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں سے زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿ذُوۡقُوۡا مَا كُنۡتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اپنے کرتوتوں کا مزہ چکھو۔‘‘ [25]﴿كَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ گزشتہ قوموں نے بھی اپنے انبیاء کی تکذیب کی جس طرح ان لوگوں نے تکذیب کی ﴿فَاَتٰىهُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’تو ان پر ایسی جگہ سے عذاب آگیا کہ انھیں خبر ہی نہ تھی۔‘‘ ان پر یہ عذاب ان کی غفلت کے اوقات میں یا دن کے وقت یا اس وقت آ نازل ہوا جب وہ دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے۔ [26]﴿فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’پس اللہ نے انھیں چکھایا۔‘‘ یعنی اس عذاب کے ذریعے سے ﴿الۡخِزۡيَ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ دنیا ہی میں رسوائی کا مزہ چکھایا، چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے ہاں رسوا ہو گئے۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَكۡبَرُ١ۘ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے کاش! وہ جان لیتے۔‘‘ اس لیے ان لوگوں کو آپ کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
39:27

وَلَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٖ لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ

اور البتہ تحقیق بیان کی ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (27) قرآن عربی (زبان) میں ہے، نہیں ہے کجی والا، تاکہ وہ ڈریں (28) بیان کی اللہ نے مثال ایک آدمی کی، اس میں کئی شریک ہیں باہم اختلاف رکھنے والے، اور ایک(اور)آدمی کہ (وہ) خالص ہے ایک ہی آدمی کے لیے ، کیا برابر ہوسکتے ہیں وہ دونوں مثال میں؟ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ اکثر ان کے نہیں علم رکھتے(29) بلاشبہ آپ بھی مرنے والے ہیں اور بے شک وہ بھی مرنے والے ہیں (30) پھر بلاشبہ تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے (31) [27] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں تمام مثالیں بیان کی ہیں۔ اہل خیر کی مثالیں، اہل شر کی مثالیں اور توحید و شرک کی مثالیں، نیز ہر وہ مثال بیان کی ہے جو اشیاء کے حقائق اور ان کی حکمتوں کو ذہن کے قریب لاتی ہے ﴿لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت پکڑیں‘‘ جب ہم ان پر حق واضح کریں اور اس کو جان لینے کے بعد اس پر عمل کریں۔ [28]﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا غَيۡرَ ذِيۡ عِوَجٍ ﴾ یعنی ہم نے اس قرآن عظیم کو عربی میں واضح الفاظ اور آسان معانی والا بنایا ہے، خاص طور پر اہل عرب کے لیے بہت سہل ہے ﴿غَيۡرَ ذِيۡ عِوَجٍ ﴾ یعنی کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی خلل اور کوئی نقص نہیں ہے، نہ اس کے الفاظ میں اور نہ اس کے معانی میں۔ یہ وصف اس کے کمال اعتدال اور کمال استقامت کو مستلزم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰى عَبۡدِهِ الۡكِتٰبَ وَلَمۡ يَجۡعَلۡ لَّهٗ عِوَجًا﴾(الکہف: 18؍12) ’’ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی جس میں کوئی کجی نہ رکھی، ٹھیک ٹھیک کہنے والی کتاب۔‘‘ ﴿لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں‘‘ کیونکہ ہم نے ان کے لیے اس عربی قرآنِ مستقیم کے ذریعے سے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر مثال بیان کی ہے… علمی اور عملی تقویٰ کی راہ استوار کر دی ہے۔ [29] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک اور توحید کی تفہیم کے لیے مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا ﴾ ’’اللہ ایک آدمی کی مثال بیان فرماتا ہے۔‘‘ یعنی غلام کی ﴿فِيۡهِ شُرَؔكَآءُ مُتَشٰكِسُوۡنَ ﴾ایک دوسرے کی مخالفت کرنے والے بہت سے لوگ اس غلام کی ملکیت میں شریک ہیں جو کسی حالت میں کسی بھی معاملے پر متفق نہیں ہوتے کہ وہ اس کے لیے آرام کرناممکن ہوسکے بلکہ وہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے اور جھگڑتے ہیں۔ ہر ایک شریک کا اپنا اپنا مفاد ہے جسے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تمھارے خیال میں، ان اختلاف کرنے والے اور جھگڑنے والے شرکاء کے مابین، اس غلام کی کیا حالت ہو گی؟﴿وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ﴾ اور ایک آدمی جو خالص صرف ایک شخص کی ملکیت میں ہے۔ وہ اپنے آقا کے مقاصد کو پہچانتا ہے اور اسے کامل راحت حاصل ہے ﴿هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ ﴾ ’’کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں۔‘‘ ﴿مَثَلًا ﴾ ’’اس حالت میں‘‘ یہ دونوں شخص کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ مشرک کی یہی حالت ہے اس میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے والی بہت سی ہستیاں شریک ہیں۔ وہ کبھی اس کو پکارتا ہے اور کبھی اس کو پکارتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ اسے قرار آتا ہے نہ کسی مقام پر اسے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس موحد اپنے رب کے لیے مخلص ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو غیر کی شرکت سے پاک رکھا ہے اس لیے وہ کامل راحت اور کامل اطمینان میں ہوتا ہے۔ ﴿هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’کیا دونوں کی حالت مساوی ہو سکتی ہے؟ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں‘‘ یعنی باطل میں سے حق کو واضح کرنے اور ان جہلاء کو سیدھی راہ دکھانے پر اللہ تعالیٰ کی ستائش ہے۔ ﴿بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے۔‘‘ [30]﴿اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمۡ مَّيِّتُوۡنَ﴾ ’’(اے نبی!) بلاشبہ آپ کو مرنا ہے اور یہ بھی مرنے والے ہیں‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک کو مرنا ہے۔ ﴿وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ الۡخُلۡدَ١ؕ اَفَاۡىِٕنۡ مِّؔتَّ فَهُمُ الۡخٰؔلِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍34) ’’دائمی زندگی، ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کے لیے نہیں رکھی اگر آپ کو موت آ گئی تو کیا یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے؟‘‘ [31]﴿ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عِنۡدَ رَبِّكُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ یعنی قیامت کے روز ان امور کے بارے میں تم اپنے رب کے پاس جھگڑو گے جو تمھارے درمیان متنازع ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنے عدل و انصاف پر مبنی حکم کے ذریعے سے تمھارے درمیان فیصلہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ ﴾(المجادلة: 58؍6) ’’جسے اللہ تعالیٰ نے شمار کر رکھا ہے اور یہ لوگ اسے بھلا بیٹھے ہیں۔‘‘
39:28

قُرۡءَانًا عَرَبِيًّا غَيۡرَ ذِي عِوَجٖ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ

اور البتہ تحقیق بیان کی ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (27) قرآن عربی (زبان) میں ہے، نہیں ہے کجی والا، تاکہ وہ ڈریں (28) بیان کی اللہ نے مثال ایک آدمی کی، اس میں کئی شریک ہیں باہم اختلاف رکھنے والے، اور ایک(اور)آدمی کہ (وہ) خالص ہے ایک ہی آدمی کے لیے ، کیا برابر ہوسکتے ہیں وہ دونوں مثال میں؟ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ اکثر ان کے نہیں علم رکھتے(29) بلاشبہ آپ بھی مرنے والے ہیں اور بے شک وہ بھی مرنے والے ہیں (30) پھر بلاشبہ تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے (31) [27] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں تمام مثالیں بیان کی ہیں۔ اہل خیر کی مثالیں، اہل شر کی مثالیں اور توحید و شرک کی مثالیں، نیز ہر وہ مثال بیان کی ہے جو اشیاء کے حقائق اور ان کی حکمتوں کو ذہن کے قریب لاتی ہے ﴿لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت پکڑیں‘‘ جب ہم ان پر حق واضح کریں اور اس کو جان لینے کے بعد اس پر عمل کریں۔ [28]﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا غَيۡرَ ذِيۡ عِوَجٍ ﴾ یعنی ہم نے اس قرآن عظیم کو عربی میں واضح الفاظ اور آسان معانی والا بنایا ہے، خاص طور پر اہل عرب کے لیے بہت سہل ہے ﴿غَيۡرَ ذِيۡ عِوَجٍ ﴾ یعنی کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی خلل اور کوئی نقص نہیں ہے، نہ اس کے الفاظ میں اور نہ اس کے معانی میں۔ یہ وصف اس کے کمال اعتدال اور کمال استقامت کو مستلزم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰى عَبۡدِهِ الۡكِتٰبَ وَلَمۡ يَجۡعَلۡ لَّهٗ عِوَجًا﴾(الکہف: 18؍12) ’’ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی جس میں کوئی کجی نہ رکھی، ٹھیک ٹھیک کہنے والی کتاب۔‘‘ ﴿لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں‘‘ کیونکہ ہم نے ان کے لیے اس عربی قرآنِ مستقیم کے ذریعے سے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر مثال بیان کی ہے… علمی اور عملی تقویٰ کی راہ استوار کر دی ہے۔ [29] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک اور توحید کی تفہیم کے لیے مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا ﴾ ’’اللہ ایک آدمی کی مثال بیان فرماتا ہے۔‘‘ یعنی غلام کی ﴿فِيۡهِ شُرَؔكَآءُ مُتَشٰكِسُوۡنَ ﴾ایک دوسرے کی مخالفت کرنے والے بہت سے لوگ اس غلام کی ملکیت میں شریک ہیں جو کسی حالت میں کسی بھی معاملے پر متفق نہیں ہوتے کہ وہ اس کے لیے آرام کرناممکن ہوسکے بلکہ وہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے اور جھگڑتے ہیں۔ ہر ایک شریک کا اپنا اپنا مفاد ہے جسے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تمھارے خیال میں، ان اختلاف کرنے والے اور جھگڑنے والے شرکاء کے مابین، اس غلام کی کیا حالت ہو گی؟﴿وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ﴾ اور ایک آدمی جو خالص صرف ایک شخص کی ملکیت میں ہے۔ وہ اپنے آقا کے مقاصد کو پہچانتا ہے اور اسے کامل راحت حاصل ہے ﴿هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ ﴾ ’’کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں۔‘‘ ﴿مَثَلًا ﴾ ’’اس حالت میں‘‘ یہ دونوں شخص کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ مشرک کی یہی حالت ہے اس میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے والی بہت سی ہستیاں شریک ہیں۔ وہ کبھی اس کو پکارتا ہے اور کبھی اس کو پکارتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ اسے قرار آتا ہے نہ کسی مقام پر اسے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس موحد اپنے رب کے لیے مخلص ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو غیر کی شرکت سے پاک رکھا ہے اس لیے وہ کامل راحت اور کامل اطمینان میں ہوتا ہے۔ ﴿هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’کیا دونوں کی حالت مساوی ہو سکتی ہے؟ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں‘‘ یعنی باطل میں سے حق کو واضح کرنے اور ان جہلاء کو سیدھی راہ دکھانے پر اللہ تعالیٰ کی ستائش ہے۔ ﴿بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے۔‘‘ [30]﴿اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمۡ مَّيِّتُوۡنَ﴾ ’’(اے نبی!) بلاشبہ آپ کو مرنا ہے اور یہ بھی مرنے والے ہیں‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک کو مرنا ہے۔ ﴿وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ الۡخُلۡدَ١ؕ اَفَاۡىِٕنۡ مِّؔتَّ فَهُمُ الۡخٰؔلِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍34) ’’دائمی زندگی، ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کے لیے نہیں رکھی اگر آپ کو موت آ گئی تو کیا یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے؟‘‘ [31]﴿ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عِنۡدَ رَبِّكُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ یعنی قیامت کے روز ان امور کے بارے میں تم اپنے رب کے پاس جھگڑو گے جو تمھارے درمیان متنازع ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنے عدل و انصاف پر مبنی حکم کے ذریعے سے تمھارے درمیان فیصلہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ ﴾(المجادلة: 58؍6) ’’جسے اللہ تعالیٰ نے شمار کر رکھا ہے اور یہ لوگ اسے بھلا بیٹھے ہیں۔‘‘
39:29

ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا رَّجُلٗا فِيهِ شُرَكَآءُ مُتَشَٰكِسُونَ وَرَجُلٗا سَلَمٗا لِّرَجُلٍ هَلۡ يَسۡتَوِيَانِ مَثَلًاۚ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ

اور البتہ تحقیق بیان کی ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (27) قرآن عربی (زبان) میں ہے، نہیں ہے کجی والا، تاکہ وہ ڈریں (28) بیان کی اللہ نے مثال ایک آدمی کی، اس میں کئی شریک ہیں باہم اختلاف رکھنے والے، اور ایک(اور)آدمی کہ (وہ) خالص ہے ایک ہی آدمی کے لیے ، کیا برابر ہوسکتے ہیں وہ دونوں مثال میں؟ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ اکثر ان کے نہیں علم رکھتے(29) بلاشبہ آپ بھی مرنے والے ہیں اور بے شک وہ بھی مرنے والے ہیں (30) پھر بلاشبہ تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے (31) [27] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں تمام مثالیں بیان کی ہیں۔ اہل خیر کی مثالیں، اہل شر کی مثالیں اور توحید و شرک کی مثالیں، نیز ہر وہ مثال بیان کی ہے جو اشیاء کے حقائق اور ان کی حکمتوں کو ذہن کے قریب لاتی ہے ﴿لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت پکڑیں‘‘ جب ہم ان پر حق واضح کریں اور اس کو جان لینے کے بعد اس پر عمل کریں۔ [28]﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا غَيۡرَ ذِيۡ عِوَجٍ ﴾ یعنی ہم نے اس قرآن عظیم کو عربی میں واضح الفاظ اور آسان معانی والا بنایا ہے، خاص طور پر اہل عرب کے لیے بہت سہل ہے ﴿غَيۡرَ ذِيۡ عِوَجٍ ﴾ یعنی کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی خلل اور کوئی نقص نہیں ہے، نہ اس کے الفاظ میں اور نہ اس کے معانی میں۔ یہ وصف اس کے کمال اعتدال اور کمال استقامت کو مستلزم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰى عَبۡدِهِ الۡكِتٰبَ وَلَمۡ يَجۡعَلۡ لَّهٗ عِوَجًا﴾(الکہف: 18؍12) ’’ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی جس میں کوئی کجی نہ رکھی، ٹھیک ٹھیک کہنے والی کتاب۔‘‘ ﴿لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں‘‘ کیونکہ ہم نے ان کے لیے اس عربی قرآنِ مستقیم کے ذریعے سے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر مثال بیان کی ہے… علمی اور عملی تقویٰ کی راہ استوار کر دی ہے۔ [29] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک اور توحید کی تفہیم کے لیے مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا ﴾ ’’اللہ ایک آدمی کی مثال بیان فرماتا ہے۔‘‘ یعنی غلام کی ﴿فِيۡهِ شُرَؔكَآءُ مُتَشٰكِسُوۡنَ ﴾ایک دوسرے کی مخالفت کرنے والے بہت سے لوگ اس غلام کی ملکیت میں شریک ہیں جو کسی حالت میں کسی بھی معاملے پر متفق نہیں ہوتے کہ وہ اس کے لیے آرام کرناممکن ہوسکے بلکہ وہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے اور جھگڑتے ہیں۔ ہر ایک شریک کا اپنا اپنا مفاد ہے جسے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تمھارے خیال میں، ان اختلاف کرنے والے اور جھگڑنے والے شرکاء کے مابین، اس غلام کی کیا حالت ہو گی؟﴿وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ﴾ اور ایک آدمی جو خالص صرف ایک شخص کی ملکیت میں ہے۔ وہ اپنے آقا کے مقاصد کو پہچانتا ہے اور اسے کامل راحت حاصل ہے ﴿هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ ﴾ ’’کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں۔‘‘ ﴿مَثَلًا ﴾ ’’اس حالت میں‘‘ یہ دونوں شخص کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ مشرک کی یہی حالت ہے اس میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے والی بہت سی ہستیاں شریک ہیں۔ وہ کبھی اس کو پکارتا ہے اور کبھی اس کو پکارتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ اسے قرار آتا ہے نہ کسی مقام پر اسے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس موحد اپنے رب کے لیے مخلص ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو غیر کی شرکت سے پاک رکھا ہے اس لیے وہ کامل راحت اور کامل اطمینان میں ہوتا ہے۔ ﴿هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’کیا دونوں کی حالت مساوی ہو سکتی ہے؟ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں‘‘ یعنی باطل میں سے حق کو واضح کرنے اور ان جہلاء کو سیدھی راہ دکھانے پر اللہ تعالیٰ کی ستائش ہے۔ ﴿بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے۔‘‘ [30]﴿اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمۡ مَّيِّتُوۡنَ﴾ ’’(اے نبی!) بلاشبہ آپ کو مرنا ہے اور یہ بھی مرنے والے ہیں‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک کو مرنا ہے۔ ﴿وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ الۡخُلۡدَ١ؕ اَفَاۡىِٕنۡ مِّؔتَّ فَهُمُ الۡخٰؔلِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍34) ’’دائمی زندگی، ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کے لیے نہیں رکھی اگر آپ کو موت آ گئی تو کیا یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے؟‘‘ [31]﴿ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عِنۡدَ رَبِّكُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ یعنی قیامت کے روز ان امور کے بارے میں تم اپنے رب کے پاس جھگڑو گے جو تمھارے درمیان متنازع ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنے عدل و انصاف پر مبنی حکم کے ذریعے سے تمھارے درمیان فیصلہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ ﴾(المجادلة: 58؍6) ’’جسے اللہ تعالیٰ نے شمار کر رکھا ہے اور یہ لوگ اسے بھلا بیٹھے ہیں۔‘‘
39:30

إِنَّكَ مَيِّتٞ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ

اور البتہ تحقیق بیان کی ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (27) قرآن عربی (زبان) میں ہے، نہیں ہے کجی والا، تاکہ وہ ڈریں (28) بیان کی اللہ نے مثال ایک آدمی کی، اس میں کئی شریک ہیں باہم اختلاف رکھنے والے، اور ایک(اور)آدمی کہ (وہ) خالص ہے ایک ہی آدمی کے لیے ، کیا برابر ہوسکتے ہیں وہ دونوں مثال میں؟ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ اکثر ان کے نہیں علم رکھتے(29) بلاشبہ آپ بھی مرنے والے ہیں اور بے شک وہ بھی مرنے والے ہیں (30) پھر بلاشبہ تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے (31) [27] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں تمام مثالیں بیان کی ہیں۔ اہل خیر کی مثالیں، اہل شر کی مثالیں اور توحید و شرک کی مثالیں، نیز ہر وہ مثال بیان کی ہے جو اشیاء کے حقائق اور ان کی حکمتوں کو ذہن کے قریب لاتی ہے ﴿لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت پکڑیں‘‘ جب ہم ان پر حق واضح کریں اور اس کو جان لینے کے بعد اس پر عمل کریں۔ [28]﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا غَيۡرَ ذِيۡ عِوَجٍ ﴾ یعنی ہم نے اس قرآن عظیم کو عربی میں واضح الفاظ اور آسان معانی والا بنایا ہے، خاص طور پر اہل عرب کے لیے بہت سہل ہے ﴿غَيۡرَ ذِيۡ عِوَجٍ ﴾ یعنی کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی خلل اور کوئی نقص نہیں ہے، نہ اس کے الفاظ میں اور نہ اس کے معانی میں۔ یہ وصف اس کے کمال اعتدال اور کمال استقامت کو مستلزم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰى عَبۡدِهِ الۡكِتٰبَ وَلَمۡ يَجۡعَلۡ لَّهٗ عِوَجًا﴾(الکہف: 18؍12) ’’ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی جس میں کوئی کجی نہ رکھی، ٹھیک ٹھیک کہنے والی کتاب۔‘‘ ﴿لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں‘‘ کیونکہ ہم نے ان کے لیے اس عربی قرآنِ مستقیم کے ذریعے سے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر مثال بیان کی ہے… علمی اور عملی تقویٰ کی راہ استوار کر دی ہے۔ [29] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک اور توحید کی تفہیم کے لیے مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا ﴾ ’’اللہ ایک آدمی کی مثال بیان فرماتا ہے۔‘‘ یعنی غلام کی ﴿فِيۡهِ شُرَؔكَآءُ مُتَشٰكِسُوۡنَ ﴾ایک دوسرے کی مخالفت کرنے والے بہت سے لوگ اس غلام کی ملکیت میں شریک ہیں جو کسی حالت میں کسی بھی معاملے پر متفق نہیں ہوتے کہ وہ اس کے لیے آرام کرناممکن ہوسکے بلکہ وہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے اور جھگڑتے ہیں۔ ہر ایک شریک کا اپنا اپنا مفاد ہے جسے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تمھارے خیال میں، ان اختلاف کرنے والے اور جھگڑنے والے شرکاء کے مابین، اس غلام کی کیا حالت ہو گی؟﴿وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ﴾ اور ایک آدمی جو خالص صرف ایک شخص کی ملکیت میں ہے۔ وہ اپنے آقا کے مقاصد کو پہچانتا ہے اور اسے کامل راحت حاصل ہے ﴿هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ ﴾ ’’کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں۔‘‘ ﴿مَثَلًا ﴾ ’’اس حالت میں‘‘ یہ دونوں شخص کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ مشرک کی یہی حالت ہے اس میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے والی بہت سی ہستیاں شریک ہیں۔ وہ کبھی اس کو پکارتا ہے اور کبھی اس کو پکارتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ اسے قرار آتا ہے نہ کسی مقام پر اسے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس موحد اپنے رب کے لیے مخلص ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو غیر کی شرکت سے پاک رکھا ہے اس لیے وہ کامل راحت اور کامل اطمینان میں ہوتا ہے۔ ﴿هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’کیا دونوں کی حالت مساوی ہو سکتی ہے؟ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں‘‘ یعنی باطل میں سے حق کو واضح کرنے اور ان جہلاء کو سیدھی راہ دکھانے پر اللہ تعالیٰ کی ستائش ہے۔ ﴿بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے۔‘‘ [30]﴿اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمۡ مَّيِّتُوۡنَ﴾ ’’(اے نبی!) بلاشبہ آپ کو مرنا ہے اور یہ بھی مرنے والے ہیں‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک کو مرنا ہے۔ ﴿وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ الۡخُلۡدَ١ؕ اَفَاۡىِٕنۡ مِّؔتَّ فَهُمُ الۡخٰؔلِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍34) ’’دائمی زندگی، ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کے لیے نہیں رکھی اگر آپ کو موت آ گئی تو کیا یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے؟‘‘ [31]﴿ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عِنۡدَ رَبِّكُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ یعنی قیامت کے روز ان امور کے بارے میں تم اپنے رب کے پاس جھگڑو گے جو تمھارے درمیان متنازع ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنے عدل و انصاف پر مبنی حکم کے ذریعے سے تمھارے درمیان فیصلہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ ﴾(المجادلة: 58؍6) ’’جسے اللہ تعالیٰ نے شمار کر رکھا ہے اور یہ لوگ اسے بھلا بیٹھے ہیں۔‘‘
39:31

ثُمَّ إِنَّكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عِندَ رَبِّكُمۡ تَخۡتَصِمُونَ

اور البتہ تحقیق بیان کی ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (27) قرآن عربی (زبان) میں ہے، نہیں ہے کجی والا، تاکہ وہ ڈریں (28) بیان کی اللہ نے مثال ایک آدمی کی، اس میں کئی شریک ہیں باہم اختلاف رکھنے والے، اور ایک(اور)آدمی کہ (وہ) خالص ہے ایک ہی آدمی کے لیے ، کیا برابر ہوسکتے ہیں وہ دونوں مثال میں؟ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ اکثر ان کے نہیں علم رکھتے(29) بلاشبہ آپ بھی مرنے والے ہیں اور بے شک وہ بھی مرنے والے ہیں (30) پھر بلاشبہ تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے (31) [27] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں تمام مثالیں بیان کی ہیں۔ اہل خیر کی مثالیں، اہل شر کی مثالیں اور توحید و شرک کی مثالیں، نیز ہر وہ مثال بیان کی ہے جو اشیاء کے حقائق اور ان کی حکمتوں کو ذہن کے قریب لاتی ہے ﴿لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت پکڑیں‘‘ جب ہم ان پر حق واضح کریں اور اس کو جان لینے کے بعد اس پر عمل کریں۔ [28]﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا غَيۡرَ ذِيۡ عِوَجٍ ﴾ یعنی ہم نے اس قرآن عظیم کو عربی میں واضح الفاظ اور آسان معانی والا بنایا ہے، خاص طور پر اہل عرب کے لیے بہت سہل ہے ﴿غَيۡرَ ذِيۡ عِوَجٍ ﴾ یعنی کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی خلل اور کوئی نقص نہیں ہے، نہ اس کے الفاظ میں اور نہ اس کے معانی میں۔ یہ وصف اس کے کمال اعتدال اور کمال استقامت کو مستلزم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰى عَبۡدِهِ الۡكِتٰبَ وَلَمۡ يَجۡعَلۡ لَّهٗ عِوَجًا﴾(الکہف: 18؍12) ’’ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی جس میں کوئی کجی نہ رکھی، ٹھیک ٹھیک کہنے والی کتاب۔‘‘ ﴿لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں‘‘ کیونکہ ہم نے ان کے لیے اس عربی قرآنِ مستقیم کے ذریعے سے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر مثال بیان کی ہے… علمی اور عملی تقویٰ کی راہ استوار کر دی ہے۔ [29] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک اور توحید کی تفہیم کے لیے مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا ﴾ ’’اللہ ایک آدمی کی مثال بیان فرماتا ہے۔‘‘ یعنی غلام کی ﴿فِيۡهِ شُرَؔكَآءُ مُتَشٰكِسُوۡنَ ﴾ایک دوسرے کی مخالفت کرنے والے بہت سے لوگ اس غلام کی ملکیت میں شریک ہیں جو کسی حالت میں کسی بھی معاملے پر متفق نہیں ہوتے کہ وہ اس کے لیے آرام کرناممکن ہوسکے بلکہ وہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے اور جھگڑتے ہیں۔ ہر ایک شریک کا اپنا اپنا مفاد ہے جسے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تمھارے خیال میں، ان اختلاف کرنے والے اور جھگڑنے والے شرکاء کے مابین، اس غلام کی کیا حالت ہو گی؟﴿وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ﴾ اور ایک آدمی جو خالص صرف ایک شخص کی ملکیت میں ہے۔ وہ اپنے آقا کے مقاصد کو پہچانتا ہے اور اسے کامل راحت حاصل ہے ﴿هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ ﴾ ’’کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں۔‘‘ ﴿مَثَلًا ﴾ ’’اس حالت میں‘‘ یہ دونوں شخص کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ مشرک کی یہی حالت ہے اس میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے والی بہت سی ہستیاں شریک ہیں۔ وہ کبھی اس کو پکارتا ہے اور کبھی اس کو پکارتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ اسے قرار آتا ہے نہ کسی مقام پر اسے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس موحد اپنے رب کے لیے مخلص ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو غیر کی شرکت سے پاک رکھا ہے اس لیے وہ کامل راحت اور کامل اطمینان میں ہوتا ہے۔ ﴿هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’کیا دونوں کی حالت مساوی ہو سکتی ہے؟ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں‘‘ یعنی باطل میں سے حق کو واضح کرنے اور ان جہلاء کو سیدھی راہ دکھانے پر اللہ تعالیٰ کی ستائش ہے۔ ﴿بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے۔‘‘ [30]﴿اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمۡ مَّيِّتُوۡنَ﴾ ’’(اے نبی!) بلاشبہ آپ کو مرنا ہے اور یہ بھی مرنے والے ہیں‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک کو مرنا ہے۔ ﴿وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ الۡخُلۡدَ١ؕ اَفَاۡىِٕنۡ مِّؔتَّ فَهُمُ الۡخٰؔلِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍34) ’’دائمی زندگی، ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کے لیے نہیں رکھی اگر آپ کو موت آ گئی تو کیا یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے؟‘‘ [31]﴿ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عِنۡدَ رَبِّكُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ یعنی قیامت کے روز ان امور کے بارے میں تم اپنے رب کے پاس جھگڑو گے جو تمھارے درمیان متنازع ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنے عدل و انصاف پر مبنی حکم کے ذریعے سے تمھارے درمیان فیصلہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ ﴾(المجادلة: 58؍6) ’’جسے اللہ تعالیٰ نے شمار کر رکھا ہے اور یہ لوگ اسے بھلا بیٹھے ہیں۔‘‘
39:32

۞فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن كَذَبَ عَلَى ٱللَّهِ وَكَذَّبَ بِٱلصِّدۡقِ إِذۡ جَآءَهُۥٓۚ أَلَيۡسَ فِي جَهَنَّمَ مَثۡوٗى لِّلۡكَٰفِرِينَ

پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے جھوٹ بولا اوپر اللہ کے اور جھٹلایا سچائی کو جب آئی وہ اس کےپاس، کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکاناکافروں کے لیے؟ (32) اوروہ جو آیا ساتھ سچائی کے اور جس نے تصدیق کی اس کی، یہی لوگ ہیں متقی (33) ان کے لیے ہے جو وہ چاہیں گے ان کے رب کے پاس، یہی ہے بدلہ نیکی کرنے والوں کا (34) تاکہ دور کر دے اللہ ان سے برائی، وہ جو انھوں نے کی اور دے ان کواجر ان کا بدلے میں نیکی کے جوتھے وہ کرتے (35) [32] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے اور خبردار کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ﴿مِمَّنۡ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا‘‘ یا تو کسی ایسی چیز کو اس کی طرف منسوب کیا جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس نے نبوت کا دعویٰ کیا یا اللہ تعالیٰ کے بارے میں خبر دی کہ وہ یوں کہتا ہے یا یوں خبر دیتا ہے یا اس طرح کاحکم دیا ہے، جبکہ اس نے جھوٹ کہا ہے۔اگر کسی نے جہالت کی بنا پر ایسی بات کہی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتا ہے:﴿وَّاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف:7؍33) ’’(اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام ٹھہرا دیا)کہ تم اللہ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔‘‘ ورنہ یہ بدترین بات ہے۔﴿وَؔكَذَّبَ بِالصِّدۡقِ اِذۡ جَآءَهٗ﴾ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جس کے پاس حق آیا، واضح دلائل جس کی تائید کرتے تھے، مگر اس نے حق کی تکذیب کی۔ اس کی تکذیب بہت بڑا ظلم ہے۔ کیونکہ حق واضح ہو جانے کے بعد اس نے حق کو رد کیا۔ اگر اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور حق کی تکذیب کو جمع کیا تو یہ ظلم در ظلم ہے۔ ﴿اَلَيۡسَ فِيۡ جَهَنَّمَ مَثۡوًى لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں۔‘‘ جہنم کے عذاب میں مبتلا کرکے اس سے بدلہ لیاجائے گا اور ہر ظالم اور کافر سے اللہ تعالیٰ کا حق وصول کیا جائے گا۔ ﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾(لقمٰن: 31؍13) ’’بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘ [33] اللہ تبارک وتعالیٰ نے جھوٹے اور جھٹلانے والے کا جرم اور اس کی سزاکا ذکر کرنے کے بعد، صاحب صدق اور حق کی تصدیق کرنے والے اور اس کے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَالَّذِيۡ جَآءَؔ بِالصِّدۡقِ ﴾’’اور جو شخص سچی بات لے کر آئے۔‘‘ یعنی جو اپنے قول و عمل میں صدق کا حامل ہے۔ اس آیت کریمہ میں انبیاء علیہ السلام اور ان کے متبعین داخل ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبروں اور احکام کی تصدیق کی اور خصائل صدق کو اپنایا۔﴿وَصَدَّقَ بِهٖۤ ﴾ یعنی صدق (حق بات) کی تصدیق کی۔ انسان کبھی کبھی صاحب صدق تو ہوتا ہے، مگر وہ صدق کی تصدیق نہیں کرتا اس کا سبب کبھی تو اس کا متکبر ہونا ہوتا ہے اور کبھی اس کا سبب وہ حقارت ہوتی ہے جو وہ صدق لانے والے کے لیے اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس لیے مدح میں صدق اور تصدیق دونوں لازم ہیں۔ پس اس کا صدق اس کے علم اور عدل پر دلالت کرتا ہے اور اس کی تصدیق اس کے تواضع اور عدم تکبر پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جنھیں ان دونوں امور کو جمع کرنے کی توفیق سے نوازا گیا۔ ﴿هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’وہی متقی ہیں۔‘‘ کیونکہ تقویٰ کے تمام خصائل و اوصاف صدق اور تصدیق حق کی طرف لوٹتے ہیں۔ [34]﴿لَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ جو چاہیں گے ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہے۔‘‘ ان کے لیے ان کے رب کے پاس ایسا ثواب ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے حاشیۂ خیال میں اس کا کبھی گزر ہوا ہے۔ لذات و خواہشات میں سے جس چیز کا بھی ارادہ کریں گے وہ ان کو حاصل ہو گی اور ان کو مہیا کر دی جائے گی۔ ﴿ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اس کیفیت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں گویا کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں اگر ان میں یہ کیفیت نہ ہو تو انھیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ ﴿الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔ [35]﴿لِيُكَـفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ اللہ ان سے برائیوں کو جو انھوں نے کیں دور کرے اور نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے بہتر بدلہ دے۔‘‘ انسانی عمل کے تین احوال ہیں: اول: بدترین عمل ۔دوم: بہترین عمل۔ سوم: نہ برا نہ اچھا۔ یہ آخری قسم مباحات کے زمرے میں آتی ہے، جن پر کوئی ثواب وعقاب مترتب نہیں ہوتا۔ بدترین اعمال سب معاصی اور بہترین اعمال سب نیکیاں ہیں۔ اس تفصیل سے آیت کریمہ کا معنی واضح ہو جاتا ہے۔ فرمایا:﴿لِيُكَـفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا ﴾ یعنی ان کے تقویٰ اور احسان کے سبب سے ان کے صغیرہ گناہوں کو مٹا دے گا۔ ﴿وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی ان کی نیکیوں اور تقویٰ کے سبب سے ان کو ان کی تمام نیکیوں کا اجر ملے گا۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾(النساء:4؍40) ’’اللہ کسی پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتااگر نیکی ہو تو وہ اسے دوگنا کر دیتا ہے اور اسے اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرتا ہے۔‘‘
39:33

وَٱلَّذِي جَآءَ بِٱلصِّدۡقِ وَصَدَّقَ بِهِۦٓ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُتَّقُونَ

پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے جھوٹ بولا اوپر اللہ کے اور جھٹلایا سچائی کو جب آئی وہ اس کےپاس، کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکاناکافروں کے لیے؟ (32) اوروہ جو آیا ساتھ سچائی کے اور جس نے تصدیق کی اس کی، یہی لوگ ہیں متقی (33) ان کے لیے ہے جو وہ چاہیں گے ان کے رب کے پاس، یہی ہے بدلہ نیکی کرنے والوں کا (34) تاکہ دور کر دے اللہ ان سے برائی، وہ جو انھوں نے کی اور دے ان کواجر ان کا بدلے میں نیکی کے جوتھے وہ کرتے (35) [32] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے اور خبردار کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ﴿مِمَّنۡ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا‘‘ یا تو کسی ایسی چیز کو اس کی طرف منسوب کیا جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس نے نبوت کا دعویٰ کیا یا اللہ تعالیٰ کے بارے میں خبر دی کہ وہ یوں کہتا ہے یا یوں خبر دیتا ہے یا اس طرح کاحکم دیا ہے، جبکہ اس نے جھوٹ کہا ہے۔اگر کسی نے جہالت کی بنا پر ایسی بات کہی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتا ہے:﴿وَّاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف:7؍33) ’’(اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام ٹھہرا دیا)کہ تم اللہ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔‘‘ ورنہ یہ بدترین بات ہے۔﴿وَؔكَذَّبَ بِالصِّدۡقِ اِذۡ جَآءَهٗ﴾ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جس کے پاس حق آیا، واضح دلائل جس کی تائید کرتے تھے، مگر اس نے حق کی تکذیب کی۔ اس کی تکذیب بہت بڑا ظلم ہے۔ کیونکہ حق واضح ہو جانے کے بعد اس نے حق کو رد کیا۔ اگر اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور حق کی تکذیب کو جمع کیا تو یہ ظلم در ظلم ہے۔ ﴿اَلَيۡسَ فِيۡ جَهَنَّمَ مَثۡوًى لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں۔‘‘ جہنم کے عذاب میں مبتلا کرکے اس سے بدلہ لیاجائے گا اور ہر ظالم اور کافر سے اللہ تعالیٰ کا حق وصول کیا جائے گا۔ ﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾(لقمٰن: 31؍13) ’’بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘ [33] اللہ تبارک وتعالیٰ نے جھوٹے اور جھٹلانے والے کا جرم اور اس کی سزاکا ذکر کرنے کے بعد، صاحب صدق اور حق کی تصدیق کرنے والے اور اس کے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَالَّذِيۡ جَآءَؔ بِالصِّدۡقِ ﴾’’اور جو شخص سچی بات لے کر آئے۔‘‘ یعنی جو اپنے قول و عمل میں صدق کا حامل ہے۔ اس آیت کریمہ میں انبیاء علیہ السلام اور ان کے متبعین داخل ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبروں اور احکام کی تصدیق کی اور خصائل صدق کو اپنایا۔﴿وَصَدَّقَ بِهٖۤ ﴾ یعنی صدق (حق بات) کی تصدیق کی۔ انسان کبھی کبھی صاحب صدق تو ہوتا ہے، مگر وہ صدق کی تصدیق نہیں کرتا اس کا سبب کبھی تو اس کا متکبر ہونا ہوتا ہے اور کبھی اس کا سبب وہ حقارت ہوتی ہے جو وہ صدق لانے والے کے لیے اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس لیے مدح میں صدق اور تصدیق دونوں لازم ہیں۔ پس اس کا صدق اس کے علم اور عدل پر دلالت کرتا ہے اور اس کی تصدیق اس کے تواضع اور عدم تکبر پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جنھیں ان دونوں امور کو جمع کرنے کی توفیق سے نوازا گیا۔ ﴿هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’وہی متقی ہیں۔‘‘ کیونکہ تقویٰ کے تمام خصائل و اوصاف صدق اور تصدیق حق کی طرف لوٹتے ہیں۔ [34]﴿لَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ جو چاہیں گے ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہے۔‘‘ ان کے لیے ان کے رب کے پاس ایسا ثواب ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے حاشیۂ خیال میں اس کا کبھی گزر ہوا ہے۔ لذات و خواہشات میں سے جس چیز کا بھی ارادہ کریں گے وہ ان کو حاصل ہو گی اور ان کو مہیا کر دی جائے گی۔ ﴿ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اس کیفیت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں گویا کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں اگر ان میں یہ کیفیت نہ ہو تو انھیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ ﴿الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔ [35]﴿لِيُكَـفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ اللہ ان سے برائیوں کو جو انھوں نے کیں دور کرے اور نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے بہتر بدلہ دے۔‘‘ انسانی عمل کے تین احوال ہیں: اول: بدترین عمل ۔دوم: بہترین عمل۔ سوم: نہ برا نہ اچھا۔ یہ آخری قسم مباحات کے زمرے میں آتی ہے، جن پر کوئی ثواب وعقاب مترتب نہیں ہوتا۔ بدترین اعمال سب معاصی اور بہترین اعمال سب نیکیاں ہیں۔ اس تفصیل سے آیت کریمہ کا معنی واضح ہو جاتا ہے۔ فرمایا:﴿لِيُكَـفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا ﴾ یعنی ان کے تقویٰ اور احسان کے سبب سے ان کے صغیرہ گناہوں کو مٹا دے گا۔ ﴿وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی ان کی نیکیوں اور تقویٰ کے سبب سے ان کو ان کی تمام نیکیوں کا اجر ملے گا۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾(النساء:4؍40) ’’اللہ کسی پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتااگر نیکی ہو تو وہ اسے دوگنا کر دیتا ہے اور اسے اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرتا ہے۔‘‘
39:34

لَهُم مَّا يَشَآءُونَ عِندَ رَبِّهِمۡۚ ذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلۡمُحۡسِنِينَ

پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے جھوٹ بولا اوپر اللہ کے اور جھٹلایا سچائی کو جب آئی وہ اس کےپاس، کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکاناکافروں کے لیے؟ (32) اوروہ جو آیا ساتھ سچائی کے اور جس نے تصدیق کی اس کی، یہی لوگ ہیں متقی (33) ان کے لیے ہے جو وہ چاہیں گے ان کے رب کے پاس، یہی ہے بدلہ نیکی کرنے والوں کا (34) تاکہ دور کر دے اللہ ان سے برائی، وہ جو انھوں نے کی اور دے ان کواجر ان کا بدلے میں نیکی کے جوتھے وہ کرتے (35) [32] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے اور خبردار کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ﴿مِمَّنۡ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا‘‘ یا تو کسی ایسی چیز کو اس کی طرف منسوب کیا جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس نے نبوت کا دعویٰ کیا یا اللہ تعالیٰ کے بارے میں خبر دی کہ وہ یوں کہتا ہے یا یوں خبر دیتا ہے یا اس طرح کاحکم دیا ہے، جبکہ اس نے جھوٹ کہا ہے۔اگر کسی نے جہالت کی بنا پر ایسی بات کہی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتا ہے:﴿وَّاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف:7؍33) ’’(اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام ٹھہرا دیا)کہ تم اللہ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔‘‘ ورنہ یہ بدترین بات ہے۔﴿وَؔكَذَّبَ بِالصِّدۡقِ اِذۡ جَآءَهٗ﴾ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جس کے پاس حق آیا، واضح دلائل جس کی تائید کرتے تھے، مگر اس نے حق کی تکذیب کی۔ اس کی تکذیب بہت بڑا ظلم ہے۔ کیونکہ حق واضح ہو جانے کے بعد اس نے حق کو رد کیا۔ اگر اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور حق کی تکذیب کو جمع کیا تو یہ ظلم در ظلم ہے۔ ﴿اَلَيۡسَ فِيۡ جَهَنَّمَ مَثۡوًى لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں۔‘‘ جہنم کے عذاب میں مبتلا کرکے اس سے بدلہ لیاجائے گا اور ہر ظالم اور کافر سے اللہ تعالیٰ کا حق وصول کیا جائے گا۔ ﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾(لقمٰن: 31؍13) ’’بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘ [33] اللہ تبارک وتعالیٰ نے جھوٹے اور جھٹلانے والے کا جرم اور اس کی سزاکا ذکر کرنے کے بعد، صاحب صدق اور حق کی تصدیق کرنے والے اور اس کے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَالَّذِيۡ جَآءَؔ بِالصِّدۡقِ ﴾’’اور جو شخص سچی بات لے کر آئے۔‘‘ یعنی جو اپنے قول و عمل میں صدق کا حامل ہے۔ اس آیت کریمہ میں انبیاء علیہ السلام اور ان کے متبعین داخل ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبروں اور احکام کی تصدیق کی اور خصائل صدق کو اپنایا۔﴿وَصَدَّقَ بِهٖۤ ﴾ یعنی صدق (حق بات) کی تصدیق کی۔ انسان کبھی کبھی صاحب صدق تو ہوتا ہے، مگر وہ صدق کی تصدیق نہیں کرتا اس کا سبب کبھی تو اس کا متکبر ہونا ہوتا ہے اور کبھی اس کا سبب وہ حقارت ہوتی ہے جو وہ صدق لانے والے کے لیے اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس لیے مدح میں صدق اور تصدیق دونوں لازم ہیں۔ پس اس کا صدق اس کے علم اور عدل پر دلالت کرتا ہے اور اس کی تصدیق اس کے تواضع اور عدم تکبر پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جنھیں ان دونوں امور کو جمع کرنے کی توفیق سے نوازا گیا۔ ﴿هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’وہی متقی ہیں۔‘‘ کیونکہ تقویٰ کے تمام خصائل و اوصاف صدق اور تصدیق حق کی طرف لوٹتے ہیں۔ [34]﴿لَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ جو چاہیں گے ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہے۔‘‘ ان کے لیے ان کے رب کے پاس ایسا ثواب ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے حاشیۂ خیال میں اس کا کبھی گزر ہوا ہے۔ لذات و خواہشات میں سے جس چیز کا بھی ارادہ کریں گے وہ ان کو حاصل ہو گی اور ان کو مہیا کر دی جائے گی۔ ﴿ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اس کیفیت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں گویا کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں اگر ان میں یہ کیفیت نہ ہو تو انھیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ ﴿الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔ [35]﴿لِيُكَـفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ اللہ ان سے برائیوں کو جو انھوں نے کیں دور کرے اور نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے بہتر بدلہ دے۔‘‘ انسانی عمل کے تین احوال ہیں: اول: بدترین عمل ۔دوم: بہترین عمل۔ سوم: نہ برا نہ اچھا۔ یہ آخری قسم مباحات کے زمرے میں آتی ہے، جن پر کوئی ثواب وعقاب مترتب نہیں ہوتا۔ بدترین اعمال سب معاصی اور بہترین اعمال سب نیکیاں ہیں۔ اس تفصیل سے آیت کریمہ کا معنی واضح ہو جاتا ہے۔ فرمایا:﴿لِيُكَـفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا ﴾ یعنی ان کے تقویٰ اور احسان کے سبب سے ان کے صغیرہ گناہوں کو مٹا دے گا۔ ﴿وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی ان کی نیکیوں اور تقویٰ کے سبب سے ان کو ان کی تمام نیکیوں کا اجر ملے گا۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾(النساء:4؍40) ’’اللہ کسی پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتااگر نیکی ہو تو وہ اسے دوگنا کر دیتا ہے اور اسے اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرتا ہے۔‘‘
39:35

لِيُكَفِّرَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ أَسۡوَأَ ٱلَّذِي عَمِلُواْ وَيَجۡزِيَهُمۡ أَجۡرَهُم بِأَحۡسَنِ ٱلَّذِي كَانُواْ يَعۡمَلُونَ

پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے جھوٹ بولا اوپر اللہ کے اور جھٹلایا سچائی کو جب آئی وہ اس کےپاس، کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکاناکافروں کے لیے؟ (32) اوروہ جو آیا ساتھ سچائی کے اور جس نے تصدیق کی اس کی، یہی لوگ ہیں متقی (33) ان کے لیے ہے جو وہ چاہیں گے ان کے رب کے پاس، یہی ہے بدلہ نیکی کرنے والوں کا (34) تاکہ دور کر دے اللہ ان سے برائی، وہ جو انھوں نے کی اور دے ان کواجر ان کا بدلے میں نیکی کے جوتھے وہ کرتے (35) [32] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے اور خبردار کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ﴿مِمَّنۡ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا‘‘ یا تو کسی ایسی چیز کو اس کی طرف منسوب کیا جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس نے نبوت کا دعویٰ کیا یا اللہ تعالیٰ کے بارے میں خبر دی کہ وہ یوں کہتا ہے یا یوں خبر دیتا ہے یا اس طرح کاحکم دیا ہے، جبکہ اس نے جھوٹ کہا ہے۔اگر کسی نے جہالت کی بنا پر ایسی بات کہی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتا ہے:﴿وَّاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف:7؍33) ’’(اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام ٹھہرا دیا)کہ تم اللہ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔‘‘ ورنہ یہ بدترین بات ہے۔﴿وَؔكَذَّبَ بِالصِّدۡقِ اِذۡ جَآءَهٗ﴾ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جس کے پاس حق آیا، واضح دلائل جس کی تائید کرتے تھے، مگر اس نے حق کی تکذیب کی۔ اس کی تکذیب بہت بڑا ظلم ہے۔ کیونکہ حق واضح ہو جانے کے بعد اس نے حق کو رد کیا۔ اگر اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور حق کی تکذیب کو جمع کیا تو یہ ظلم در ظلم ہے۔ ﴿اَلَيۡسَ فِيۡ جَهَنَّمَ مَثۡوًى لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں۔‘‘ جہنم کے عذاب میں مبتلا کرکے اس سے بدلہ لیاجائے گا اور ہر ظالم اور کافر سے اللہ تعالیٰ کا حق وصول کیا جائے گا۔ ﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾(لقمٰن: 31؍13) ’’بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘ [33] اللہ تبارک وتعالیٰ نے جھوٹے اور جھٹلانے والے کا جرم اور اس کی سزاکا ذکر کرنے کے بعد، صاحب صدق اور حق کی تصدیق کرنے والے اور اس کے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَالَّذِيۡ جَآءَؔ بِالصِّدۡقِ ﴾’’اور جو شخص سچی بات لے کر آئے۔‘‘ یعنی جو اپنے قول و عمل میں صدق کا حامل ہے۔ اس آیت کریمہ میں انبیاء علیہ السلام اور ان کے متبعین داخل ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبروں اور احکام کی تصدیق کی اور خصائل صدق کو اپنایا۔﴿وَصَدَّقَ بِهٖۤ ﴾ یعنی صدق (حق بات) کی تصدیق کی۔ انسان کبھی کبھی صاحب صدق تو ہوتا ہے، مگر وہ صدق کی تصدیق نہیں کرتا اس کا سبب کبھی تو اس کا متکبر ہونا ہوتا ہے اور کبھی اس کا سبب وہ حقارت ہوتی ہے جو وہ صدق لانے والے کے لیے اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس لیے مدح میں صدق اور تصدیق دونوں لازم ہیں۔ پس اس کا صدق اس کے علم اور عدل پر دلالت کرتا ہے اور اس کی تصدیق اس کے تواضع اور عدم تکبر پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جنھیں ان دونوں امور کو جمع کرنے کی توفیق سے نوازا گیا۔ ﴿هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’وہی متقی ہیں۔‘‘ کیونکہ تقویٰ کے تمام خصائل و اوصاف صدق اور تصدیق حق کی طرف لوٹتے ہیں۔ [34]﴿لَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ جو چاہیں گے ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہے۔‘‘ ان کے لیے ان کے رب کے پاس ایسا ثواب ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے حاشیۂ خیال میں اس کا کبھی گزر ہوا ہے۔ لذات و خواہشات میں سے جس چیز کا بھی ارادہ کریں گے وہ ان کو حاصل ہو گی اور ان کو مہیا کر دی جائے گی۔ ﴿ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اس کیفیت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں گویا کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں اگر ان میں یہ کیفیت نہ ہو تو انھیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ ﴿الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔ [35]﴿لِيُكَـفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ اللہ ان سے برائیوں کو جو انھوں نے کیں دور کرے اور نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے بہتر بدلہ دے۔‘‘ انسانی عمل کے تین احوال ہیں: اول: بدترین عمل ۔دوم: بہترین عمل۔ سوم: نہ برا نہ اچھا۔ یہ آخری قسم مباحات کے زمرے میں آتی ہے، جن پر کوئی ثواب وعقاب مترتب نہیں ہوتا۔ بدترین اعمال سب معاصی اور بہترین اعمال سب نیکیاں ہیں۔ اس تفصیل سے آیت کریمہ کا معنی واضح ہو جاتا ہے۔ فرمایا:﴿لِيُكَـفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا ﴾ یعنی ان کے تقویٰ اور احسان کے سبب سے ان کے صغیرہ گناہوں کو مٹا دے گا۔ ﴿وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی ان کی نیکیوں اور تقویٰ کے سبب سے ان کو ان کی تمام نیکیوں کا اجر ملے گا۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾(النساء:4؍40) ’’اللہ کسی پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتااگر نیکی ہو تو وہ اسے دوگنا کر دیتا ہے اور اسے اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرتا ہے۔‘‘
39:36

أَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِكَافٍ عَبۡدَهُۥۖ وَيُخَوِّفُونَكَ بِٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦۚ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنۡ هَادٖ

کیا نہیں ہے اللہ کافی اپنے بندے کو؟اوروہ ڈراتے ہیں آپ کو ان لوگوں سے جواس کےسوا ہیں، اور جس کو گمراہ کر دے اللہ، تو نہیں ہے اس کو کوئی ہدایت دینے والا (36) اور جس کو ہدایت دے اللہ، تو نہیں ہے اسے کوئی گمراہ کرنے والا، کیا نہیں ہے اللہ غالب انتقام لینے والا؟ (37) [36، 37]﴿اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبۡدَهٗ﴾ ’’کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے۔‘‘ یعنی کیا یہ اللہ کا اپنے اس بندے پر جودوکرم اور اس کی عنایت نہیں جو اس کی عبودیت پر قائم ہے، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتا ہے۔ خاص طور پر وہ بندہ جو تمام مخلوق میں عبودیت کے کامل ترین مرتبے پر فائز ہے یعنی محمد مصطفیﷺ۔ اللہ تعالیٰ ان کے تمام دینی اور دنیاوی امور میں ان کے لیے کافی ہو گا اور جو کوئی آپ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے آپ کی مدافعت کرے گا۔﴿وَيُخَوِّفُوۡنَكَ بِالَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ﴾ یعنی وہ آپ کو بتوں اور خود ساختہ معبودوں سے ڈراتے ہیں کہ آپ پر ان کی مار پڑے گی، یہ ان کی گمراہی ہے ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍۚ۰۰ وَمَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ مُّضِلٍّ ﴾ ’’اور اللہ جسے گمراہی میں مبتلا کر دے توکوئی اسے راستہ نہیں دکھا سکتا اور جس کو اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔‘‘ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے ہاتھ میں ہدایت اور گمراہی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے جو نہیں چاہتا وہ کبھی بھی نہیں ہو سکتا ﴿اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِعَزِيۡزٍ ﴾ ’’کیا اللہ غالب نہیں؟‘‘ یعنی وہ کامل قہر اور غلبے کا مالک ہے جس کے ذریعے سے وہ ہر چیز پر غالب ہے اسی غلبہ و قہر کی بنا پر وہ اپنے بندے کے لیے کافی ہے اور اس سے ان کی سازشوں اور مکروفریب کو دور کرتا ہے ﴿ذِي انۡتِقَامٍ ﴾ جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ اس سے انتقام لیتا ہے۔ اس لیے ان تمام امور سے بچو جو اس کی ناراضی کے موجب ہیں۔
39:37

وَمَن يَهۡدِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن مُّضِلٍّۗ أَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِعَزِيزٖ ذِي ٱنتِقَامٖ

کیا نہیں ہے اللہ کافی اپنے بندے کو؟اوروہ ڈراتے ہیں آپ کو ان لوگوں سے جواس کےسوا ہیں، اور جس کو گمراہ کر دے اللہ، تو نہیں ہے اس کو کوئی ہدایت دینے والا (36) اور جس کو ہدایت دے اللہ، تو نہیں ہے اسے کوئی گمراہ کرنے والا، کیا نہیں ہے اللہ غالب انتقام لینے والا؟ (37) [36، 37]﴿اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبۡدَهٗ﴾ ’’کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے۔‘‘ یعنی کیا یہ اللہ کا اپنے اس بندے پر جودوکرم اور اس کی عنایت نہیں جو اس کی عبودیت پر قائم ہے، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتا ہے۔ خاص طور پر وہ بندہ جو تمام مخلوق میں عبودیت کے کامل ترین مرتبے پر فائز ہے یعنی محمد مصطفیﷺ۔ اللہ تعالیٰ ان کے تمام دینی اور دنیاوی امور میں ان کے لیے کافی ہو گا اور جو کوئی آپ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے آپ کی مدافعت کرے گا۔﴿وَيُخَوِّفُوۡنَكَ بِالَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ﴾ یعنی وہ آپ کو بتوں اور خود ساختہ معبودوں سے ڈراتے ہیں کہ آپ پر ان کی مار پڑے گی، یہ ان کی گمراہی ہے ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍۚ۰۰ وَمَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ مُّضِلٍّ ﴾ ’’اور اللہ جسے گمراہی میں مبتلا کر دے توکوئی اسے راستہ نہیں دکھا سکتا اور جس کو اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔‘‘ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے ہاتھ میں ہدایت اور گمراہی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے جو نہیں چاہتا وہ کبھی بھی نہیں ہو سکتا ﴿اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِعَزِيۡزٍ ﴾ ’’کیا اللہ غالب نہیں؟‘‘ یعنی وہ کامل قہر اور غلبے کا مالک ہے جس کے ذریعے سے وہ ہر چیز پر غالب ہے اسی غلبہ و قہر کی بنا پر وہ اپنے بندے کے لیے کافی ہے اور اس سے ان کی سازشوں اور مکروفریب کو دور کرتا ہے ﴿ذِي انۡتِقَامٍ ﴾ جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ اس سے انتقام لیتا ہے۔ اس لیے ان تمام امور سے بچو جو اس کی ناراضی کے موجب ہیں۔
39:38

وَلَئِن سَأَلۡتَهُم مَّنۡ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُۚ قُلۡ أَفَرَءَيۡتُم مَّا تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ إِنۡ أَرَادَنِيَ ٱللَّهُ بِضُرٍّ هَلۡ هُنَّ كَٰشِفَٰتُ ضُرِّهِۦٓ أَوۡ أَرَادَنِي بِرَحۡمَةٍ هَلۡ هُنَّ مُمۡسِكَٰتُ رَحۡمَتِهِۦۚ قُلۡ حَسۡبِيَ ٱللَّهُۖ عَلَيۡهِ يَتَوَكَّلُ ٱلۡمُتَوَكِّلُونَ

اور البتہ اگر آپ پوچھیں ان سے کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟ تو ضرور کہیں گے وہ: اللہ نے، کہہ دیجیے:بھلا دیکھو تو، جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا اگر ارادہ کرے میرے حق میں اللہ تکلیف کا، تو کیا وہ دور کر سکتے ہیں اس کی تکلیف کو؟ یاوہ ارادہ کرے میرے حق میں مہربانی کا تو کیا وہ روک سکتے ہیں اس کی مہربانی کو؟ کہہ دیجیے: کافی ہے مجھے اللہ، اسی پر بھروسہ کرتے ہیں بھروسہ کرنے والے (38) [38] یعنی اگر آپ ان گمراہ لوگوں سے پوچھیں جو آپ کو اللہ کے سوا خودساختہ معبودوں سے ڈراتے ہیں، جبکہ آپ نے ان کے خلاف انھی کے نفسوں سے دلیل قائم کی ہے، اور ان سے کہیں :﴿مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟‘‘ تو یہ مشرکین اس بات کو ثابت کرنے سے قاصر رہیں گے کہ ان کی تخلیق میں ان کے معبودوں کا کچھ حصہ ہے۔ ﴿لَيَقُوۡلُنَّ اللّٰهُ ﴾ وہ ضرور کہیں گے کہ اس کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے تخلیق فرمایا ہے۔ ﴿قُلۡ ﴾ اللہ تعالیٰ کی قدرت واضح ہونے کے بعد ان کے معبودوں کی بے بسی ثابت کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿اَفَرَءَيۡتُمۡ ﴾ ’’مجھے بتاؤ ‘‘ ﴿مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَنِيَ اللّٰهُ بِضُرٍّ ﴾ ’’جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ مجھے (کسی بھی قسم کا) نقصان دینا چاہے‘‘ ﴿هَلۡ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ ﴾’’کیا وہ اس کی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے پہنچائے ہوئے ضرر کا مکمل ازالہ یا ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل کر کے اس ضرر میں کوئی تخفیف کر سکتے ہیں؟﴿اَوۡ اَرَادَنِيۡ بِرَحۡمَةٍ ﴾ یا وہ میرے ساتھ رحمت وفضل کا معاملہ کرنا چاہے جس کے ذریعے سے وہ مجھے کوئی دینی یا دنیاوی منفعت عطا کرے، ﴿هَلۡ هُنَّ مُمۡسِكٰؔتُ رَحۡمَتِهٖ﴾ کیا وہ خود ساختہ معبود اس رحمت کو مجھ تک پہنچنے سے روک سکتے ہیں؟ یقینا وہ یہی جواب دیں گے کہ ان کے معبود کسی نقصان کو دور کر سکتے ہیں نہ اللہ کی رحمت کو روک سکتے ہیں۔ یقیناً وہ یہی جواب دیں گے کہ ان کے معبود کسی نقصان کو دور کرسکتے ہیں نہ اللہ کی ر حمت کو روک سکتے ہیں۔قطعی دلیل کے واضح ہو جانے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود برحق ہے وہی تمام کائنات کا خالق ہے، نفع و نقصان صرف اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے اس کے سوا دیگر معبودان باطل ہر لحاظ سے کچھ پیدا کرنے اور کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ کی کفایت کے حصول اور ان مشرکین کے مکروفریب سے بچنے کی دعا کرتے ہوئے کہہ دیجیے:﴿حَسۡبِيَ اللّٰهُ١ؕ عَلَيۡهِ يَتَوَكَّلُ الۡمُتَوَؔكِّلُوۡنَ ﴾ یعنی اپنے مصالح کے حصول اور دفع ضررکے لیے بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ ہستی جو اکیلی کفایت کی مالک ہے، میرے لیے کافی ہے وہ میرے اہم اور غیر اہم امور میں میری کفایت کرے گی۔
39:39

قُلۡ يَٰقَوۡمِ ٱعۡمَلُواْ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمۡ إِنِّي عَٰمِلٞۖ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ

کہہ دیجیے:اے میری قوم! عمل کرو تم اپنی جگہ پر، بے شک میں (بھی) عمل کرنے والا ہوں، پس عنقریب تم جان لوگے(39) کون ہے کہ آتا ہے اس کےپاس عذاب جو رسوا کر دے اس کواور اترتا ہے اس پرعذاب ہمیشہ دائمی رہنے والا (40) [39، 40]﴿قُلۡ ﴾ ’’(اے رسول! ان سے) کہہ دیجیے: ﴿يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ‘‘ یعنی تم اسی حالت میں عمل کرتے رہو جس پر تم اپنے لیے راضی ہو، یعنی ان ہستیوں کی عبادت کرتے رہو جو عبادت کی مستحق نہیں ہیں نہ انھیں کسی چیز کا کوئی اختیار ہے۔ ﴿اِنِّيۡ عَامِلٌ ﴾ اور میں تمھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کے لیے دین کو خالص کرنے کی دعوت دیتا رہوں گا۔ ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ کس کا انجام اچھا ہے۔ ﴿مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’اور کس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا؟‘‘ یعنی دنیا میں ﴿وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور نازل ہوگا اس پر‘‘ یعنی آخرت میں ﴿عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ ﴾ ’’ہمیشہ کا عذاب۔‘‘آخرت میں اس کو ہمیشہ قائم رہنے والے عذاب میں ڈالا جائے گا، یہ عذاب اس سے ہٹایا جائے گا نہ ختم ہو گا۔ یہ مشرکین کے لیے سخت تہدید ہے۔ انھیں بھی معلوم ہے کہ وہ دائمی عذاب کے مستحق ہیں، مگر ظلم اور عناد ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہوگیا ہے ۔
39:40

مَن يَأۡتِيهِ عَذَابٞ يُخۡزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٞ مُّقِيمٌ

کہہ دیجیے:اے میری قوم! عمل کرو تم اپنی جگہ پر، بے شک میں (بھی) عمل کرنے والا ہوں، پس عنقریب تم جان لوگے(39) کون ہے کہ آتا ہے اس کےپاس عذاب جو رسوا کر دے اس کواور اترتا ہے اس پرعذاب ہمیشہ دائمی رہنے والا (40) [39، 40]﴿قُلۡ ﴾ ’’(اے رسول! ان سے) کہہ دیجیے: ﴿يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ‘‘ یعنی تم اسی حالت میں عمل کرتے رہو جس پر تم اپنے لیے راضی ہو، یعنی ان ہستیوں کی عبادت کرتے رہو جو عبادت کی مستحق نہیں ہیں نہ انھیں کسی چیز کا کوئی اختیار ہے۔ ﴿اِنِّيۡ عَامِلٌ ﴾ اور میں تمھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کے لیے دین کو خالص کرنے کی دعوت دیتا رہوں گا۔ ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ کس کا انجام اچھا ہے۔ ﴿مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’اور کس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا؟‘‘ یعنی دنیا میں ﴿وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور نازل ہوگا اس پر‘‘ یعنی آخرت میں ﴿عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ ﴾ ’’ہمیشہ کا عذاب۔‘‘آخرت میں اس کو ہمیشہ قائم رہنے والے عذاب میں ڈالا جائے گا، یہ عذاب اس سے ہٹایا جائے گا نہ ختم ہو گا۔ یہ مشرکین کے لیے سخت تہدید ہے۔ انھیں بھی معلوم ہے کہ وہ دائمی عذاب کے مستحق ہیں، مگر ظلم اور عناد ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہوگیا ہے ۔
39:41

إِنَّآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ لِلنَّاسِ بِٱلۡحَقِّۖ فَمَنِ ٱهۡتَدَىٰ فَلِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَاۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيۡهِم بِوَكِيلٍ

بلاشبہ نازل کی ہم نے آپ پر کتاب لوگوں کے لیے ساتھ حق کے، پس جس نے ہدایت پائی، تو اپنے ہی لیے اور جو گمراہ ہوا تو وہ گمراہ ہوتا ہے اپنے ہی نقصان کو اورنہیں ہیں آپ ان پرکوئی ذمے دار(41) [41]اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسولﷺپر کتاب نازل فرمائی جو اپنی خبر اور اپنے اوامرونواہی میں حق پر مشتمل ہے، جو ہدایت کی اصل بنیاد اور ہر اس شخص کے لیے پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر پہنچنا چاہتا ہے۔ نیز اس کتاب کے ذریعے سے تمام جہانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو گئی۔﴿فَمَنِ اهۡتَدٰؔى ﴾ پس جس نے اس کی روشنی سے راہنمائی حاصل کی اور اس کے احکامات کی پیروی کی ﴿فَلِنَفۡسِهٖ﴾ تو اس کا فائدہ اسی کی طرف لوٹے گا ﴿وَمَنۡ ضَلَّ ﴾ جو ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد بھی گمراہ ہوا ﴿فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَا ﴾ ’’تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔‘‘ اور وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ ’’اور آپ ان پر نگران نہیں ہیں‘‘ کہ آپ ان کے اعمال پر نگاہ رکھیں، ان پر ان کا محاسبہ کریں اور جس کام پر چاہیں ان کو مجبور کریں۔ آپ تو صرف پہنچا دینے والے ہیں اور آپ وہ چیز ان تک پہنچا دیتے ہیں جسے پہنچا دینے کا آپ کو حکم دیا جاتا ہے۔
39:42

ٱللَّهُ يَتَوَفَّى ٱلۡأَنفُسَ حِينَ مَوۡتِهَا وَٱلَّتِي لَمۡ تَمُتۡ فِي مَنَامِهَاۖ فَيُمۡسِكُ ٱلَّتِي قَضَىٰ عَلَيۡهَا ٱلۡمَوۡتَ وَيُرۡسِلُ ٱلۡأُخۡرَىٰٓ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمًّىۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ

اللہ ہی قبض کرتا ہے جانوں کووقت ان کی موت کے ، اورجو نہیں مریں(انھیں بھی قبض کرتا ہے) ان کی نیند میں ، پس وہ روک لیتا ہے اس (روح) کو کہ فیصلہ کردیا اس نے اس پر موت کا اور بھیج دیتا ہے دوسری کوایک وقت مقرر تک، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو غور و فکر کرتی ہے (42) [42] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اکیلا ہی بندوں پر، ان کی نیند اور بیداری میں، ان کی زندگی اور موت میں، تصرف کرتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الۡاَنۡفُسَ حِيۡنَ مَوۡتِهَا ﴾ ’’اللہ لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے۔‘‘ یہ وفاتِ کبریٰ، موت ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ خبر دینا کہ وہ وفات دیتا ہے اور فعل کی اپنی طرف اضافت کرنا، اس بات کے منافی نہیں کہ اس نے اس کام کے لیے ایک فرشتہ اور اس کے کچھ اعوان و مددگار مقرر کر رکھے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا:﴿قُلۡ يَتَوَفّٰىكُمۡ مَّلَكُ الۡمَوۡتِ الَّذِيۡ وُكِّلَ بِكُمۡ ﴾(السجدۃ: 32؍11) ’’کہہ دیجیے کہ وہ فرشتہ تمھیں وفات دیتا ہے جو تمھارے لیے مقرر کیا گیا ہے‘‘ نیز فرمایا: ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَؔ اَحَدَؔكُمُ الۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُنَا وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍61)’’حتیٰ کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی روح قبص کر لیتے ہیں اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمام امور کی اضافت اس اعتبار سے اپنی طرف کی ہے کہ وہی خالق اور تدبیر کرنے والا ہے اور ان امور کو اس اعتبار سے ان کے اسباب کی طرف مضاف کرتا ہے کہ اس کی سنت اور حکمت ہے کہ اس نے ہر کام کا کوئی سبب مقرر فرمایا ہے۔﴿وَالَّتِيۡ لَمۡ تَمُتۡ فِيۡ مَنَامِهَا ﴾ ’’اور اس جان کو بھی (عارضی وفات دیتا ہے) جو اپنی نیند میں نہیں مرتی۔‘‘ اور یہ موت صغریٰ ہے یعنی وہ اس نفس کو روک رکھتا ہے جو نیند کے دوران حقیقی موت سے ہم کنار نہیں ہوتا ﴿فَيُمۡسِكُ ﴾ پھر ان دو نفسوں میں سے اس نفس کو روک رکھتا ہے ﴿الَّتِيۡ قَضٰى عَلَيۡهَا الۡمَوۡتَ ﴾ ’’جس کے بارے موت کا فیصلہ کردیتا ہے۔‘‘ اس سے مراد وہ نفس ہے جس پر حقیقی موت وارد ہوتی ہے یا نیند کے دوران اس پر موت آتی ہے۔ ﴿وَيُرۡسِلُ الۡاُخۡرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’اور دوسرے نفس کو ایک مقررہ وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے‘‘ یعنی ان کے رزق اور مدت کی تکمیل تک کے لیے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّـرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اس میں ان کے لیے نشانیاں ہیں(جو اس کے کامل اقتدار، مرنے کے بعد اس کی دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت پر) غوروفکر کرتے ہیں۔‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ روح اور نفس ایک جسم ہے اور بنفسہ قائم ہے، اس کا جو ہر بدن کے جو ہر سے مختلف ہے، یہ بھی مخلوق ہے اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت ہے، وفات دینے، روک لینے اور چھوڑ دینے میں اللہ تعالیٰ کا تصرف اس پر ہے۔ زندوں کی اور مردوں کی ارواح عالم برزخ میں ایک دوسرے سے ملاقات کرتی ہیں وہ اکٹھی ہو کر آپس میں باتیں کرتی ہیں، پس اللہ زندوں کی ارواح کو چھوڑ دیتا ہے اور مردوں کی روحوں کو روک لیتا ہے۔
39:43

أَمِ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ شُفَعَآءَۚ قُلۡ أَوَلَوۡ كَانُواْ لَا يَمۡلِكُونَ شَيۡـٔٗا وَلَا يَعۡقِلُونَ

کیا بنائے ہیں انھوں نے اللہ کے سواسفارشی، کہہ دیجیے:اگرچہ ہوں وہ نہ اختیار رکھتے کسی چیز کا اور نہ عقل رکھتے( ہوں)(43) کہہ دیجیے: اللہ ہی کے لیے ہے سفارش سب، اسی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (44) [43] اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر سخت نکیر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کو سفارشی بناتے ہیں، ہ ان کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں، ان سے مانگتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔ ﴿قُلۡ ﴾ ان کی جہالت اور ان کے خود ساختہ معبودوں کے عبادت کے مستحق نہ ہونے کو واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿اَوَلَوۡ كَانُوۡا﴾ ’’خواہ وہ۔‘‘ یعنی جن کو تم نے اپنا سفارشی بنا رکھا ہے۔ ﴿لَا يَمۡلِكُوۡنَ شَيۡـًٔؔا ﴾ زمین اور آسمان میں، چھوٹی یا بڑی، کسی ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہ ہوں، بلکہ ﴿وَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ﴾ان میں عقل ہی نہیں کہ وہ مدح کے مستحق ہوں کیونکہ یہ جمادات، پتھر، درخت، بت یا مرے ہوئے لوگ ہیں۔ کیا اس شخص میں، جس نے ان کو اپنا معبود بنایا ہے، کوئی عقل ہے؟ یا وہ دنیا کا گمراہ ترین، جاہل ترین اور سب سے بڑا ظالم ہے؟ [44]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان مشرکین سے کہہ دیجیے: ﴿لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيۡعًا ﴾ ’’سفارش تو سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔‘‘ کیونکہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں۔ ہر سفارش کرنے والا اللہ سے ڈرتا ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس، اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کر سکے اور جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر رحم کرنا چاہتا ہے تو اچھے سفارشی کو اپنے ہاں سفارش کرنے کی اجازت عطا کر دیتا ہے۔ یہ اس کی طرف سے ان دونوں پر رحمت ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے متحقق فرمایا کہ شفاعت تمام تر اسی کا اختیار ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی حکومت اسی کے لیے ہے‘‘ یعنی ان میں ذوات، افعال اور صفات جو کچھ بھی ہیں سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہیں، لہٰذا واجب ہے کہ سفارش اسی سے طلب کی جائے جو اس کا مالک ہے اور اسی کے لیے عبادات کو خالص کیا جائے ﴿ثُمَّ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ اور وہ صاحب اخلاص کو ثواب جزیل عطا کرے گا اور جس نے شرک کیا اسے دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔
39:44

قُل لِّلَّهِ ٱلشَّفَٰعَةُ جَمِيعٗاۖ لَّهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ ثُمَّ إِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ

کیا بنائے ہیں انھوں نے اللہ کے سواسفارشی، کہہ دیجیے:اگرچہ ہوں وہ نہ اختیار رکھتے کسی چیز کا اور نہ عقل رکھتے( ہوں)(43) کہہ دیجیے: اللہ ہی کے لیے ہے سفارش سب، اسی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (44) [43] اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر سخت نکیر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کو سفارشی بناتے ہیں، ہ ان کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں، ان سے مانگتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔ ﴿قُلۡ ﴾ ان کی جہالت اور ان کے خود ساختہ معبودوں کے عبادت کے مستحق نہ ہونے کو واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿اَوَلَوۡ كَانُوۡا﴾ ’’خواہ وہ۔‘‘ یعنی جن کو تم نے اپنا سفارشی بنا رکھا ہے۔ ﴿لَا يَمۡلِكُوۡنَ شَيۡـًٔؔا ﴾ زمین اور آسمان میں، چھوٹی یا بڑی، کسی ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہ ہوں، بلکہ ﴿وَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ﴾ان میں عقل ہی نہیں کہ وہ مدح کے مستحق ہوں کیونکہ یہ جمادات، پتھر، درخت، بت یا مرے ہوئے لوگ ہیں۔ کیا اس شخص میں، جس نے ان کو اپنا معبود بنایا ہے، کوئی عقل ہے؟ یا وہ دنیا کا گمراہ ترین، جاہل ترین اور سب سے بڑا ظالم ہے؟ [44]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان مشرکین سے کہہ دیجیے: ﴿لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيۡعًا ﴾ ’’سفارش تو سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔‘‘ کیونکہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں۔ ہر سفارش کرنے والا اللہ سے ڈرتا ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس، اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کر سکے اور جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر رحم کرنا چاہتا ہے تو اچھے سفارشی کو اپنے ہاں سفارش کرنے کی اجازت عطا کر دیتا ہے۔ یہ اس کی طرف سے ان دونوں پر رحمت ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے متحقق فرمایا کہ شفاعت تمام تر اسی کا اختیار ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی حکومت اسی کے لیے ہے‘‘ یعنی ان میں ذوات، افعال اور صفات جو کچھ بھی ہیں سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہیں، لہٰذا واجب ہے کہ سفارش اسی سے طلب کی جائے جو اس کا مالک ہے اور اسی کے لیے عبادات کو خالص کیا جائے ﴿ثُمَّ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ اور وہ صاحب اخلاص کو ثواب جزیل عطا کرے گا اور جس نے شرک کیا اسے دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔
39:45

وَإِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَحۡدَهُ ٱشۡمَأَزَّتۡ قُلُوبُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِۖ وَإِذَا ذُكِرَ ٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦٓ إِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُونَ

اور جب ذکرکیا جاتا ہے اللہ اکیلے کا تو (توحید الٰہی سے) نفرت کرتے (تنگ پڑ جاتے) ہیں دل ان کے جو نہیں ایمان رکھتے آخرت پراور جب ذکر کیاجاتا ہے ان (معبودوں) کا جو اس کے سوا ہیں تو اس وقت وہ بڑے خوش ہوتے ہیں(45) کہہ دیجیے: اے اللہ! پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے، جاننے والے چھپے اور ظاہر کے! تو ہی فیصلہ کرے گا درمیان اپنے بندوں کے ا ن باتوں میں کہ تھے وہ ان میں اختلاف کرتے (46) [45، 46] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے حال اور ان کے شرک کے تقاضے کا ذکر کرتا ہے۔ ﴿وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحۡدَهُ ﴾ ’’جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے‘‘ یعنی جب اس کی توحید کا ذکر کیا جاتا ہے، دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرکے عمل کرنے اور اس کے سوا دیگر معبودوں کو چھوڑنے کے لیے کہا جاتا ہے جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، تو وہ منقبض ہو جاتے ہیں، نفرت کرتے ہیں اور شدید ناگواری کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ﴾ اور جب اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور خود ساختہ معبودوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور دعوت دینے والا ان کی عبادت اور ان کی مدح کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾ تو وہ اپنے معبودوں کا ذکر سن کر فرحت اور خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔ کیونکہ شرک ان کی خواہشات نفس کے موافق ہے ، ان کی یہ حالت بدترین حالت ہے، مگر ان سے روز جزا تک کے لیے مہلت کا وعدہ کیا گیا ہے، اس لیے اس دن ان سے حق وصول کیا جائے گا اور اس دن دیکھا جائے گا کہ آیا ان کے معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکتے ہیں جن کی یہ لوگ عبادت کیا کرتے ہیں؟ اسی لیے فرمایا:﴿قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی کہہ دیجیے: اے اللہ! زمین و آسمان کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے والے ﴿عٰؔلِمَ الۡغَيۡبِ ﴾ اور ان تمام امور کو جاننے والے جو ہماری آنکھوں اور ہمارے علم سے غائب ہیں ﴿وَالشَّهَادَةِ ﴾ اور جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ ﴿اَنۡتَ تَحۡكُمُ بَيۡنَ عِبَادِكَ فِيۡ مَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’تو ہی اپنے بندوں میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں، فیصلہ کرے گا۔‘‘ اور سب سے بڑا اختلاف جو موحد و مخلص بندوں، جو کہتے ہیں کہ ان کا موقف حق ہے اور آخرت میں صرف انھی کے لیے بھلائی ہے، اور مشرکین کے درمیان ہے جنھوں نے تجھے چھوڑ کر بتوں اور دوسری ہستیوں کو اپنا معبود بنا لیا اور ان ہستیوں کو تیرے برابر ٹھہرایا جو کسی طرح بھی برابر نہیں ہیں وہ تجھے انتہائی حد تک ناقص قرار دیتے ہیں، جب ان کے خود ساختہ معبودوں کا ذکر ہوتا ہے تو خوشی سے کھل اٹھتے ہیں اور جب تیرا ذکر ہوتا ہے تو وہ نہایت کراہت سے منقبض ہو جاتے ہیں بایں ہمہ ان کو زعم ہے کہ وہ حق پر ہیں اور دوسرے باطل پر ہیں اور وہ آخرت میں بھلائی سے بہرہ مند ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالصّٰؔبِــِٕيۡنَ وَالنَّصٰرٰى وَالۡمَجُوۡسَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡۤا١ۖ ۗ اِنَّ اللّٰهَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾(الحج: 22؍17) ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے، جو یہودی، عیسائی، صابی اور مجوسی ہیں اور وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ بے شک اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس کے بعد آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فیصلے سے آگاہ فرمایا:﴿هٰؔذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِيۡ رَبِّهِمۡ١ٞ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٌ مِّنۡ نَّارٍ١ؕ يُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُؔءُوۡسِهِمُ الۡحَمِيۡمُۚ۰۰ يُصۡهَرُ بِهٖ مَا فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ وَالۡجُلُوۡدُؕ۰۰ وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ۰۰كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا مِنۡ غَمٍّ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا١ۗ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِؒ۰۰ اِنَّ اللّٰهَ يُدۡخِلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ وَّلُؤۡلُؤًا١ؕ وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾(الحج: 22؍19-23) ’’یہ جھگڑے کے دو فریق ہیں جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔ پس ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان کو آگ کے کپڑے پہنائے جائیں گے اور ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔ جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر تک کے حصے گل جائیں گے اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے، جب بھی وہ غم کے مارے جہنم سے نکلنا چاہیں گے تو اسی میں لوٹادیے جائیں گے (اور انھیں کہا جائے گا:) اب جلا دینے والے عذاب کا مزا چکھو، بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ انھیں اس میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کے لباس ریشم کے ہوں گے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يَلۡبِسُوۡۤا اِيۡمَانَهُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الۡاَمۡنُ وَهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍82) ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہ کیا، وہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے (مکمل) امن ہے اور وہی راہ راست پر ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿اِنَّهٗ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ ﴾(المائدۃ: 5؍72) ’’جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو بلاشبہ اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عموم تخلیق، عموم علم اور بندوں کے درمیان عموم حکم کا بیان ہے، تمام مخلوقات اس کی قدرت سے پیدا ہوئی ہے اس کا علم ہر شے کو محیط ہے اور دلالت کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور انھیں دوبارہ زندہ کرے گا، بندوں کے اچھے برے اعمال اور ان کی جزاوسزا اور اس کی تخلیق اس کے علم پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ ﴾(الملک:67؍14)’’ کیا وہ نہیں جانتا جس نے (انھیں) پیدا کیا؟‘‘
39:46

قُلِ ٱللَّهُمَّ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ عَٰلِمَ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ أَنتَ تَحۡكُمُ بَيۡنَ عِبَادِكَ فِي مَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ

اور جب ذکرکیا جاتا ہے اللہ اکیلے کا تو (توحید الٰہی سے) نفرت کرتے (تنگ پڑ جاتے) ہیں دل ان کے جو نہیں ایمان رکھتے آخرت پراور جب ذکر کیاجاتا ہے ان (معبودوں) کا جو اس کے سوا ہیں تو اس وقت وہ بڑے خوش ہوتے ہیں(45) کہہ دیجیے: اے اللہ! پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے، جاننے والے چھپے اور ظاہر کے! تو ہی فیصلہ کرے گا درمیان اپنے بندوں کے ا ن باتوں میں کہ تھے وہ ان میں اختلاف کرتے (46) [45، 46] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے حال اور ان کے شرک کے تقاضے کا ذکر کرتا ہے۔ ﴿وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحۡدَهُ ﴾ ’’جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے‘‘ یعنی جب اس کی توحید کا ذکر کیا جاتا ہے، دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرکے عمل کرنے اور اس کے سوا دیگر معبودوں کو چھوڑنے کے لیے کہا جاتا ہے جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، تو وہ منقبض ہو جاتے ہیں، نفرت کرتے ہیں اور شدید ناگواری کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ﴾ اور جب اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور خود ساختہ معبودوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور دعوت دینے والا ان کی عبادت اور ان کی مدح کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾ تو وہ اپنے معبودوں کا ذکر سن کر فرحت اور خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔ کیونکہ شرک ان کی خواہشات نفس کے موافق ہے ، ان کی یہ حالت بدترین حالت ہے، مگر ان سے روز جزا تک کے لیے مہلت کا وعدہ کیا گیا ہے، اس لیے اس دن ان سے حق وصول کیا جائے گا اور اس دن دیکھا جائے گا کہ آیا ان کے معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکتے ہیں جن کی یہ لوگ عبادت کیا کرتے ہیں؟ اسی لیے فرمایا:﴿قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی کہہ دیجیے: اے اللہ! زمین و آسمان کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے والے ﴿عٰؔلِمَ الۡغَيۡبِ ﴾ اور ان تمام امور کو جاننے والے جو ہماری آنکھوں اور ہمارے علم سے غائب ہیں ﴿وَالشَّهَادَةِ ﴾ اور جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ ﴿اَنۡتَ تَحۡكُمُ بَيۡنَ عِبَادِكَ فِيۡ مَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’تو ہی اپنے بندوں میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں، فیصلہ کرے گا۔‘‘ اور سب سے بڑا اختلاف جو موحد و مخلص بندوں، جو کہتے ہیں کہ ان کا موقف حق ہے اور آخرت میں صرف انھی کے لیے بھلائی ہے، اور مشرکین کے درمیان ہے جنھوں نے تجھے چھوڑ کر بتوں اور دوسری ہستیوں کو اپنا معبود بنا لیا اور ان ہستیوں کو تیرے برابر ٹھہرایا جو کسی طرح بھی برابر نہیں ہیں وہ تجھے انتہائی حد تک ناقص قرار دیتے ہیں، جب ان کے خود ساختہ معبودوں کا ذکر ہوتا ہے تو خوشی سے کھل اٹھتے ہیں اور جب تیرا ذکر ہوتا ہے تو وہ نہایت کراہت سے منقبض ہو جاتے ہیں بایں ہمہ ان کو زعم ہے کہ وہ حق پر ہیں اور دوسرے باطل پر ہیں اور وہ آخرت میں بھلائی سے بہرہ مند ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالصّٰؔبِــِٕيۡنَ وَالنَّصٰرٰى وَالۡمَجُوۡسَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡۤا١ۖ ۗ اِنَّ اللّٰهَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾(الحج: 22؍17) ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے، جو یہودی، عیسائی، صابی اور مجوسی ہیں اور وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ بے شک اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس کے بعد آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فیصلے سے آگاہ فرمایا:﴿هٰؔذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِيۡ رَبِّهِمۡ١ٞ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٌ مِّنۡ نَّارٍ١ؕ يُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُؔءُوۡسِهِمُ الۡحَمِيۡمُۚ۰۰ يُصۡهَرُ بِهٖ مَا فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ وَالۡجُلُوۡدُؕ۰۰ وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ۰۰كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا مِنۡ غَمٍّ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا١ۗ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِؒ۰۰ اِنَّ اللّٰهَ يُدۡخِلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ وَّلُؤۡلُؤًا١ؕ وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾(الحج: 22؍19-23) ’’یہ جھگڑے کے دو فریق ہیں جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔ پس ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان کو آگ کے کپڑے پہنائے جائیں گے اور ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔ جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر تک کے حصے گل جائیں گے اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے، جب بھی وہ غم کے مارے جہنم سے نکلنا چاہیں گے تو اسی میں لوٹادیے جائیں گے (اور انھیں کہا جائے گا:) اب جلا دینے والے عذاب کا مزا چکھو، بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ انھیں اس میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کے لباس ریشم کے ہوں گے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يَلۡبِسُوۡۤا اِيۡمَانَهُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الۡاَمۡنُ وَهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍82) ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہ کیا، وہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے (مکمل) امن ہے اور وہی راہ راست پر ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿اِنَّهٗ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ ﴾(المائدۃ: 5؍72) ’’جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو بلاشبہ اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عموم تخلیق، عموم علم اور بندوں کے درمیان عموم حکم کا بیان ہے، تمام مخلوقات اس کی قدرت سے پیدا ہوئی ہے اس کا علم ہر شے کو محیط ہے اور دلالت کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور انھیں دوبارہ زندہ کرے گا، بندوں کے اچھے برے اعمال اور ان کی جزاوسزا اور اس کی تخلیق اس کے علم پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ ﴾(الملک:67؍14)’’ کیا وہ نہیں جانتا جس نے (انھیں) پیدا کیا؟‘‘
39:47

وَلَوۡ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ مَا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا وَمِثۡلَهُۥ مَعَهُۥ لَٱفۡتَدَوۡاْ بِهِۦ مِن سُوٓءِ ٱلۡعَذَابِ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ وَبَدَا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مَا لَمۡ يَكُونُواْ يَحۡتَسِبُونَ

اور اگر بلاشبہ ہو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس کی مثل اس کے ساتھ (اور بھی) تو وہ البتہ فدیے میں دے دیں اسے برے عذاب سے، قیامت کے دن، اور ظاہر ہو جائے گا ان کے لیے اللہ کی طرف سے وہ (عذاب) جس کا نہیں تھے وہ گمان کرتے (47) اورظاہر ہو جائیں گی ان کے لیے برائیاں ان (عملوں)کی جو انھوں نے کمائے ہو ں گے اور گھیر لے گا ان کو وہ (عذاب) کہ تھے وہ جس کے ساتھ ٹھٹھا کرتے (48) [47] اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، مشرکین کے قول اور اس کی قباحت کا ذکر کیا۔ گویا نفوس اس انتظار میں ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کے لیے ﴿سُوۡٓءِ الۡعَذَابِ ﴾ سخت ترین اور بدترین عذاب ہے جس طرح وہ سخت ترین اور بدترین کفر کی باتیں کیا کرتے تھے۔ فرض کیا زمین کا تمام سونا، چاندی، جواہرات، اس کے تمام حیوانات، اس کے تمام درخت اور کھیتیاں، اس کے تمام برتن اور اثاثے اور اتنا ہی سب کچھ اور ان کی ملکیت ہو اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے خرچ کریں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان میں سے کچھ بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے کام نہیں آسکے گا ﴿يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾(الشعراء: 26؍88، 89) ’’اس روز مال فائدہ دے گا نہ بیٹے، سوائے اس کے جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔‘‘ [48]﴿وَبَدَا لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمۡ يَكُوۡنُوۡا يَحۡتَسِبُوۡنَ ﴾’’اور ان پر اللہ کی طرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا انھیں خیال بھی نہ تھا۔‘‘ یعنی اس بہت بڑی ناراضی کا تو انھیں گمان تک نہ تھا وہ تو اپنے بارے میں اس کے برعکس فیصلے کرتے رہے تھے۔﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا ﴾ یعنی ان کے کرتوتوں کے سبب ان پر وہ امور ظاہر ہوں گے جو ان کو بہت برے لگیں گے ﴿وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ اور وہ عذاب اور وعید جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے، وہ ان پر آنازل ہوگی۔
39:48

وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُواْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ

اور اگر بلاشبہ ہو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس کی مثل اس کے ساتھ (اور بھی) تو وہ البتہ فدیے میں دے دیں اسے برے عذاب سے، قیامت کے دن، اور ظاہر ہو جائے گا ان کے لیے اللہ کی طرف سے وہ (عذاب) جس کا نہیں تھے وہ گمان کرتے (47) اورظاہر ہو جائیں گی ان کے لیے برائیاں ان (عملوں)کی جو انھوں نے کمائے ہو ں گے اور گھیر لے گا ان کو وہ (عذاب) کہ تھے وہ جس کے ساتھ ٹھٹھا کرتے (48) [47] اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، مشرکین کے قول اور اس کی قباحت کا ذکر کیا۔ گویا نفوس اس انتظار میں ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کے لیے ﴿سُوۡٓءِ الۡعَذَابِ ﴾ سخت ترین اور بدترین عذاب ہے جس طرح وہ سخت ترین اور بدترین کفر کی باتیں کیا کرتے تھے۔ فرض کیا زمین کا تمام سونا، چاندی، جواہرات، اس کے تمام حیوانات، اس کے تمام درخت اور کھیتیاں، اس کے تمام برتن اور اثاثے اور اتنا ہی سب کچھ اور ان کی ملکیت ہو اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے خرچ کریں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان میں سے کچھ بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے کام نہیں آسکے گا ﴿يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾(الشعراء: 26؍88، 89) ’’اس روز مال فائدہ دے گا نہ بیٹے، سوائے اس کے جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔‘‘ [48]﴿وَبَدَا لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمۡ يَكُوۡنُوۡا يَحۡتَسِبُوۡنَ ﴾’’اور ان پر اللہ کی طرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا انھیں خیال بھی نہ تھا۔‘‘ یعنی اس بہت بڑی ناراضی کا تو انھیں گمان تک نہ تھا وہ تو اپنے بارے میں اس کے برعکس فیصلے کرتے رہے تھے۔﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا ﴾ یعنی ان کے کرتوتوں کے سبب ان پر وہ امور ظاہر ہوں گے جو ان کو بہت برے لگیں گے ﴿وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ اور وہ عذاب اور وعید جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے، وہ ان پر آنازل ہوگی۔
39:49

فَإِذَا مَسَّ ٱلۡإِنسَٰنَ ضُرّٞ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلۡنَٰهُ نِعۡمَةٗ مِّنَّا قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَىٰ عِلۡمِۭۚ بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٞ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ

پس جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف تو پکارتا ہے ہمیں، پھر جب عطا کر دیتے ہیں ہم اس کو کوئی نعمت اپنی طرف سے، تو کہتا ہے بلاشبہ دیا گیا ہوں میں یہ (اپنے) علم کی بدولت (نہیں)بلکہ وہ توایک آزمائش ہے، اور لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے(49)تحقیق کہی یہی بات ان لوگوں نے جو ہوئے ان سے پہلے، پس نہ کام آیاان کے وہ جو تھے وہ کماتے (50) پس پہنچیں ان کو برائیاں ان(عملوں)کی جو انھوں نے کمائے، اور وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا ان میں سے، عنقریب پہنچیں گی ان کو برائیاں ان(عملوں)کی جو انھوں نے کمائے ہوں گے اور نہیں ہیں وہ عاجز کرنے والے (51)کیانہیں جانا انھوں نے کہ بلاشبہ اللہ ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں (52) [49] اللہ تعالیٰ انسان کے حال اور اس کی فطرت کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ جب اسے کوئی بیماری، شدت یا تکلیف پہنچتی ہے ﴿دَعَانَا ﴾ تو وہ اس نازل ہونے والی مصیبت کو دور کرنے کے لیے گڑگڑا کر ہمیں پکارتا ہے۔ ﴿ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰهُ نِعۡمَةً مِّؔنَّا ﴾ ’’پھر جب ہم اسے اپنی نعمت عطا کر دیتے ہیں‘‘ یعنی جب ہم اس کی تکلیف کو دور اور اس کی مشقت کو زائل کر دیتے ہیں تو وہ اپنے رب کی ناسپاسی اور اس کے احسان کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور ﴿قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ ’’کہتا ہے: مجھے تو یہ سب کچھ علم کے سبب دیا گیا ہے‘‘ یعنی اللہ کی طرف سے علم کی بنا پر حاصل ہواہے اور میں اس کا اہل اور اس کا مستحق ہوں کیونکہ میں اس کے ہاں بہت برگزیدہ ہوں،یا اس کا معنی یہ ہے کہ یہ سب کچھ مجھے مختلف طریقوں سے حاصل کیے گئے میرے علم کے سبب سے مجھے عطا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’بلکہ یہ ایک فتنہ ہے‘‘ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس کا شکر گزار ہے اور کون اس کی ناشکری کرتا ہے۔ ﴿وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ فتنہ اور آزمائش کو اللہ تعالیٰ کی نوازش سمجھتے ہیں، ان کے سامنے خالص بھلائی اس چیز کے ساتھ مشتبہ ہو جاتی ہے جو بھلائی یا برائی کا سبب ہے۔ [50] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قَدۡ قَالَهَا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ یعنی ان سے پہلے لوگ بھی یہی کہتے تھے، یعنی ان کا یہ مقولہ:﴿اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اہل تکذیب کے ہاں ہمیشہ سے متوارث چلا آرہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہیں نہ اس کا کوئی حق سمجھتے ہیں۔ گزشتہ لوگوں کی یہی عادت رہی یہاں تک کہ ان کو ہلاک کر دیا گیا ﴿فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ جب ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے پکڑا تو ان کی کمائی ان کے کسی کام نہ آئی۔ [51]﴿فَاَصَابَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا ﴾ ’’ان پر ان کے اعمال کے وبال پڑ گئے۔‘‘ اس مقام پر (سیئات) سے مراد ’’عقوبات‘‘ ہیں کیونکہ یہ عقوبات ہی انسان کے لیے تکلیف دہ اور اس کو غم زدہ کرتی ہیں۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ هٰۤؤُلَآءِ سَيُصِيۡبُهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں عنقریب ان پر ان کے عملوں کے وبال پڑیں گے۔‘‘ پس یہ لوگ نہ تو گزشتہ لوگوں سے بہتر ہیں اور نہ ان کو کوئی براء ت نامہ ہی لکھ کر دیا گیا ہے۔ [52] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایاکہ یہ لوگ اپنے مال کی وجہ سے فریب میں مبتلا ہو گئے ہیں اور اپنی جہالت کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ مال اپنے مالک کے حسن حال پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خبردار کرتے ہوئے فرمایاکہ اس کا رزق اس بات پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ بے شک اللہ تعالیٰ ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ﴾ اپنے بندوں میں سے، خواہ وہ نیک ہوں یا بد، جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے۔ ﴿وَيَقۡدِرُ ﴾اور جس کو چاہتا ہے نپاتلا دیتا ہے، یعنی وہ اپنے بندوں میں سے خواہ وہ نیک ہوں یا بد جس کا چاہے اس کا رزق تنگ کر دیتا ہے، اس کا رزق تمام مخلوق میں مشترک ہے، مگر ایمان اور عمل صالح صرف ان لوگوں کے لیے مختص کرتا ہے جو مخلوق میں بہترین لوگ ہوتے ہیں۔﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں بھی ان کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔‘‘ یعنی رزق کی کشادگی اور تنگی میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں ہیں۔ کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ رزق کی تنگی اور کشادگی کا مرجع محض اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حال کو خوب جانتا ہے۔ کبھی کبھی اپنے بندوں پر لطف و کرم کی وجہ سے بھی ان پر رزق تنگ کر دیتا ہے کیونکہ اگر وہ ان کا رزق کشادہ کر دے تو وہ زمین میں سرکشی کرتے ہیں۔ رزق کی اس تنگی میں اللہ تعالیٰ ان کے دین کی اصلاح کی رعایت رکھتا ہے جو ان کی سعادت اور فلاح کی بنیاد ہے۔ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ۔
39:50

قَدۡ قَالَهَا ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ فَمَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ

پس جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف تو پکارتا ہے ہمیں، پھر جب عطا کر دیتے ہیں ہم اس کو کوئی نعمت اپنی طرف سے، تو کہتا ہے بلاشبہ دیا گیا ہوں میں یہ (اپنے) علم کی بدولت (نہیں)بلکہ وہ توایک آزمائش ہے، اور لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے(49)تحقیق کہی یہی بات ان لوگوں نے جو ہوئے ان سے پہلے، پس نہ کام آیاان کے وہ جو تھے وہ کماتے (50) پس پہنچیں ان کو برائیاں ان(عملوں)کی جو انھوں نے کمائے، اور وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا ان میں سے، عنقریب پہنچیں گی ان کو برائیاں ان(عملوں)کی جو انھوں نے کمائے ہوں گے اور نہیں ہیں وہ عاجز کرنے والے (51)کیانہیں جانا انھوں نے کہ بلاشبہ اللہ ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں (52) [49] اللہ تعالیٰ انسان کے حال اور اس کی فطرت کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ جب اسے کوئی بیماری، شدت یا تکلیف پہنچتی ہے ﴿دَعَانَا ﴾ تو وہ اس نازل ہونے والی مصیبت کو دور کرنے کے لیے گڑگڑا کر ہمیں پکارتا ہے۔ ﴿ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰهُ نِعۡمَةً مِّؔنَّا ﴾ ’’پھر جب ہم اسے اپنی نعمت عطا کر دیتے ہیں‘‘ یعنی جب ہم اس کی تکلیف کو دور اور اس کی مشقت کو زائل کر دیتے ہیں تو وہ اپنے رب کی ناسپاسی اور اس کے احسان کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور ﴿قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ ’’کہتا ہے: مجھے تو یہ سب کچھ علم کے سبب دیا گیا ہے‘‘ یعنی اللہ کی طرف سے علم کی بنا پر حاصل ہواہے اور میں اس کا اہل اور اس کا مستحق ہوں کیونکہ میں اس کے ہاں بہت برگزیدہ ہوں،یا اس کا معنی یہ ہے کہ یہ سب کچھ مجھے مختلف طریقوں سے حاصل کیے گئے میرے علم کے سبب سے مجھے عطا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’بلکہ یہ ایک فتنہ ہے‘‘ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس کا شکر گزار ہے اور کون اس کی ناشکری کرتا ہے۔ ﴿وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ فتنہ اور آزمائش کو اللہ تعالیٰ کی نوازش سمجھتے ہیں، ان کے سامنے خالص بھلائی اس چیز کے ساتھ مشتبہ ہو جاتی ہے جو بھلائی یا برائی کا سبب ہے۔ [50] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قَدۡ قَالَهَا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ یعنی ان سے پہلے لوگ بھی یہی کہتے تھے، یعنی ان کا یہ مقولہ:﴿اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اہل تکذیب کے ہاں ہمیشہ سے متوارث چلا آرہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہیں نہ اس کا کوئی حق سمجھتے ہیں۔ گزشتہ لوگوں کی یہی عادت رہی یہاں تک کہ ان کو ہلاک کر دیا گیا ﴿فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ جب ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے پکڑا تو ان کی کمائی ان کے کسی کام نہ آئی۔ [51]﴿فَاَصَابَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا ﴾ ’’ان پر ان کے اعمال کے وبال پڑ گئے۔‘‘ اس مقام پر (سیئات) سے مراد ’’عقوبات‘‘ ہیں کیونکہ یہ عقوبات ہی انسان کے لیے تکلیف دہ اور اس کو غم زدہ کرتی ہیں۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ هٰۤؤُلَآءِ سَيُصِيۡبُهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں عنقریب ان پر ان کے عملوں کے وبال پڑیں گے۔‘‘ پس یہ لوگ نہ تو گزشتہ لوگوں سے بہتر ہیں اور نہ ان کو کوئی براء ت نامہ ہی لکھ کر دیا گیا ہے۔ [52] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایاکہ یہ لوگ اپنے مال کی وجہ سے فریب میں مبتلا ہو گئے ہیں اور اپنی جہالت کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ مال اپنے مالک کے حسن حال پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خبردار کرتے ہوئے فرمایاکہ اس کا رزق اس بات پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ بے شک اللہ تعالیٰ ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ﴾ اپنے بندوں میں سے، خواہ وہ نیک ہوں یا بد، جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے۔ ﴿وَيَقۡدِرُ ﴾اور جس کو چاہتا ہے نپاتلا دیتا ہے، یعنی وہ اپنے بندوں میں سے خواہ وہ نیک ہوں یا بد جس کا چاہے اس کا رزق تنگ کر دیتا ہے، اس کا رزق تمام مخلوق میں مشترک ہے، مگر ایمان اور عمل صالح صرف ان لوگوں کے لیے مختص کرتا ہے جو مخلوق میں بہترین لوگ ہوتے ہیں۔﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں بھی ان کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔‘‘ یعنی رزق کی کشادگی اور تنگی میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں ہیں۔ کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ رزق کی تنگی اور کشادگی کا مرجع محض اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حال کو خوب جانتا ہے۔ کبھی کبھی اپنے بندوں پر لطف و کرم کی وجہ سے بھی ان پر رزق تنگ کر دیتا ہے کیونکہ اگر وہ ان کا رزق کشادہ کر دے تو وہ زمین میں سرکشی کرتے ہیں۔ رزق کی اس تنگی میں اللہ تعالیٰ ان کے دین کی اصلاح کی رعایت رکھتا ہے جو ان کی سعادت اور فلاح کی بنیاد ہے۔ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ۔
39:51

فَأَصَابَهُمۡ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُواْۚ وَٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنۡ هَـٰٓؤُلَآءِ سَيُصِيبُهُمۡ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُواْ وَمَا هُم بِمُعۡجِزِينَ

پس جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف تو پکارتا ہے ہمیں، پھر جب عطا کر دیتے ہیں ہم اس کو کوئی نعمت اپنی طرف سے، تو کہتا ہے بلاشبہ دیا گیا ہوں میں یہ (اپنے) علم کی بدولت (نہیں)بلکہ وہ توایک آزمائش ہے، اور لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے(49)تحقیق کہی یہی بات ان لوگوں نے جو ہوئے ان سے پہلے، پس نہ کام آیاان کے وہ جو تھے وہ کماتے (50) پس پہنچیں ان کو برائیاں ان(عملوں)کی جو انھوں نے کمائے، اور وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا ان میں سے، عنقریب پہنچیں گی ان کو برائیاں ان(عملوں)کی جو انھوں نے کمائے ہوں گے اور نہیں ہیں وہ عاجز کرنے والے (51)کیانہیں جانا انھوں نے کہ بلاشبہ اللہ ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں (52) [49] اللہ تعالیٰ انسان کے حال اور اس کی فطرت کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ جب اسے کوئی بیماری، شدت یا تکلیف پہنچتی ہے ﴿دَعَانَا ﴾ تو وہ اس نازل ہونے والی مصیبت کو دور کرنے کے لیے گڑگڑا کر ہمیں پکارتا ہے۔ ﴿ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰهُ نِعۡمَةً مِّؔنَّا ﴾ ’’پھر جب ہم اسے اپنی نعمت عطا کر دیتے ہیں‘‘ یعنی جب ہم اس کی تکلیف کو دور اور اس کی مشقت کو زائل کر دیتے ہیں تو وہ اپنے رب کی ناسپاسی اور اس کے احسان کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور ﴿قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ ’’کہتا ہے: مجھے تو یہ سب کچھ علم کے سبب دیا گیا ہے‘‘ یعنی اللہ کی طرف سے علم کی بنا پر حاصل ہواہے اور میں اس کا اہل اور اس کا مستحق ہوں کیونکہ میں اس کے ہاں بہت برگزیدہ ہوں،یا اس کا معنی یہ ہے کہ یہ سب کچھ مجھے مختلف طریقوں سے حاصل کیے گئے میرے علم کے سبب سے مجھے عطا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’بلکہ یہ ایک فتنہ ہے‘‘ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس کا شکر گزار ہے اور کون اس کی ناشکری کرتا ہے۔ ﴿وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ فتنہ اور آزمائش کو اللہ تعالیٰ کی نوازش سمجھتے ہیں، ان کے سامنے خالص بھلائی اس چیز کے ساتھ مشتبہ ہو جاتی ہے جو بھلائی یا برائی کا سبب ہے۔ [50] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قَدۡ قَالَهَا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ یعنی ان سے پہلے لوگ بھی یہی کہتے تھے، یعنی ان کا یہ مقولہ:﴿اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اہل تکذیب کے ہاں ہمیشہ سے متوارث چلا آرہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہیں نہ اس کا کوئی حق سمجھتے ہیں۔ گزشتہ لوگوں کی یہی عادت رہی یہاں تک کہ ان کو ہلاک کر دیا گیا ﴿فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ جب ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے پکڑا تو ان کی کمائی ان کے کسی کام نہ آئی۔ [51]﴿فَاَصَابَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا ﴾ ’’ان پر ان کے اعمال کے وبال پڑ گئے۔‘‘ اس مقام پر (سیئات) سے مراد ’’عقوبات‘‘ ہیں کیونکہ یہ عقوبات ہی انسان کے لیے تکلیف دہ اور اس کو غم زدہ کرتی ہیں۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ هٰۤؤُلَآءِ سَيُصِيۡبُهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں عنقریب ان پر ان کے عملوں کے وبال پڑیں گے۔‘‘ پس یہ لوگ نہ تو گزشتہ لوگوں سے بہتر ہیں اور نہ ان کو کوئی براء ت نامہ ہی لکھ کر دیا گیا ہے۔ [52] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایاکہ یہ لوگ اپنے مال کی وجہ سے فریب میں مبتلا ہو گئے ہیں اور اپنی جہالت کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ مال اپنے مالک کے حسن حال پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خبردار کرتے ہوئے فرمایاکہ اس کا رزق اس بات پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ بے شک اللہ تعالیٰ ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ﴾ اپنے بندوں میں سے، خواہ وہ نیک ہوں یا بد، جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے۔ ﴿وَيَقۡدِرُ ﴾اور جس کو چاہتا ہے نپاتلا دیتا ہے، یعنی وہ اپنے بندوں میں سے خواہ وہ نیک ہوں یا بد جس کا چاہے اس کا رزق تنگ کر دیتا ہے، اس کا رزق تمام مخلوق میں مشترک ہے، مگر ایمان اور عمل صالح صرف ان لوگوں کے لیے مختص کرتا ہے جو مخلوق میں بہترین لوگ ہوتے ہیں۔﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں بھی ان کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔‘‘ یعنی رزق کی کشادگی اور تنگی میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں ہیں۔ کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ رزق کی تنگی اور کشادگی کا مرجع محض اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حال کو خوب جانتا ہے۔ کبھی کبھی اپنے بندوں پر لطف و کرم کی وجہ سے بھی ان پر رزق تنگ کر دیتا ہے کیونکہ اگر وہ ان کا رزق کشادہ کر دے تو وہ زمین میں سرکشی کرتے ہیں۔ رزق کی اس تنگی میں اللہ تعالیٰ ان کے دین کی اصلاح کی رعایت رکھتا ہے جو ان کی سعادت اور فلاح کی بنیاد ہے۔ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ۔
39:52

أَوَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ

پس جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف تو پکارتا ہے ہمیں، پھر جب عطا کر دیتے ہیں ہم اس کو کوئی نعمت اپنی طرف سے، تو کہتا ہے بلاشبہ دیا گیا ہوں میں یہ (اپنے) علم کی بدولت (نہیں)بلکہ وہ توایک آزمائش ہے، اور لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے(49)تحقیق کہی یہی بات ان لوگوں نے جو ہوئے ان سے پہلے، پس نہ کام آیاان کے وہ جو تھے وہ کماتے (50) پس پہنچیں ان کو برائیاں ان(عملوں)کی جو انھوں نے کمائے، اور وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا ان میں سے، عنقریب پہنچیں گی ان کو برائیاں ان(عملوں)کی جو انھوں نے کمائے ہوں گے اور نہیں ہیں وہ عاجز کرنے والے (51)کیانہیں جانا انھوں نے کہ بلاشبہ اللہ ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں (52) [49] اللہ تعالیٰ انسان کے حال اور اس کی فطرت کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ جب اسے کوئی بیماری، شدت یا تکلیف پہنچتی ہے ﴿دَعَانَا ﴾ تو وہ اس نازل ہونے والی مصیبت کو دور کرنے کے لیے گڑگڑا کر ہمیں پکارتا ہے۔ ﴿ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰهُ نِعۡمَةً مِّؔنَّا ﴾ ’’پھر جب ہم اسے اپنی نعمت عطا کر دیتے ہیں‘‘ یعنی جب ہم اس کی تکلیف کو دور اور اس کی مشقت کو زائل کر دیتے ہیں تو وہ اپنے رب کی ناسپاسی اور اس کے احسان کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور ﴿قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ ’’کہتا ہے: مجھے تو یہ سب کچھ علم کے سبب دیا گیا ہے‘‘ یعنی اللہ کی طرف سے علم کی بنا پر حاصل ہواہے اور میں اس کا اہل اور اس کا مستحق ہوں کیونکہ میں اس کے ہاں بہت برگزیدہ ہوں،یا اس کا معنی یہ ہے کہ یہ سب کچھ مجھے مختلف طریقوں سے حاصل کیے گئے میرے علم کے سبب سے مجھے عطا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’بلکہ یہ ایک فتنہ ہے‘‘ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس کا شکر گزار ہے اور کون اس کی ناشکری کرتا ہے۔ ﴿وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ فتنہ اور آزمائش کو اللہ تعالیٰ کی نوازش سمجھتے ہیں، ان کے سامنے خالص بھلائی اس چیز کے ساتھ مشتبہ ہو جاتی ہے جو بھلائی یا برائی کا سبب ہے۔ [50] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قَدۡ قَالَهَا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ یعنی ان سے پہلے لوگ بھی یہی کہتے تھے، یعنی ان کا یہ مقولہ:﴿اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اہل تکذیب کے ہاں ہمیشہ سے متوارث چلا آرہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہیں نہ اس کا کوئی حق سمجھتے ہیں۔ گزشتہ لوگوں کی یہی عادت رہی یہاں تک کہ ان کو ہلاک کر دیا گیا ﴿فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ جب ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے پکڑا تو ان کی کمائی ان کے کسی کام نہ آئی۔ [51]﴿فَاَصَابَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا ﴾ ’’ان پر ان کے اعمال کے وبال پڑ گئے۔‘‘ اس مقام پر (سیئات) سے مراد ’’عقوبات‘‘ ہیں کیونکہ یہ عقوبات ہی انسان کے لیے تکلیف دہ اور اس کو غم زدہ کرتی ہیں۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ هٰۤؤُلَآءِ سَيُصِيۡبُهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں عنقریب ان پر ان کے عملوں کے وبال پڑیں گے۔‘‘ پس یہ لوگ نہ تو گزشتہ لوگوں سے بہتر ہیں اور نہ ان کو کوئی براء ت نامہ ہی لکھ کر دیا گیا ہے۔ [52] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایاکہ یہ لوگ اپنے مال کی وجہ سے فریب میں مبتلا ہو گئے ہیں اور اپنی جہالت کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ مال اپنے مالک کے حسن حال پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خبردار کرتے ہوئے فرمایاکہ اس کا رزق اس بات پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ بے شک اللہ تعالیٰ ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ﴾ اپنے بندوں میں سے، خواہ وہ نیک ہوں یا بد، جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے۔ ﴿وَيَقۡدِرُ ﴾اور جس کو چاہتا ہے نپاتلا دیتا ہے، یعنی وہ اپنے بندوں میں سے خواہ وہ نیک ہوں یا بد جس کا چاہے اس کا رزق تنگ کر دیتا ہے، اس کا رزق تمام مخلوق میں مشترک ہے، مگر ایمان اور عمل صالح صرف ان لوگوں کے لیے مختص کرتا ہے جو مخلوق میں بہترین لوگ ہوتے ہیں۔﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں بھی ان کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔‘‘ یعنی رزق کی کشادگی اور تنگی میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں ہیں۔ کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ رزق کی تنگی اور کشادگی کا مرجع محض اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حال کو خوب جانتا ہے۔ کبھی کبھی اپنے بندوں پر لطف و کرم کی وجہ سے بھی ان پر رزق تنگ کر دیتا ہے کیونکہ اگر وہ ان کا رزق کشادہ کر دے تو وہ زمین میں سرکشی کرتے ہیں۔ رزق کی اس تنگی میں اللہ تعالیٰ ان کے دین کی اصلاح کی رعایت رکھتا ہے جو ان کی سعادت اور فلاح کی بنیاد ہے۔ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ۔
39:53

۞قُلۡ يَٰعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ أَسۡرَفُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُواْ مِن رَّحۡمَةِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَمِيعًاۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ

کہہ دیجیے: اے میرے بندو! وہ جنھوں نے ظلم کیا ہے اپنی جانوں پر، نہ مایوس ہو تم اللہ کی رحمت سے، بلاشبہ اللہ معاف کر دیتا ہے گناہ سب، یقیناً وہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(53)اور رجوع کرو تم اپنے رب کی طرف اورمطیع ہو جاؤ اس کے پہلے اس کےکہ آ جائے تمھارے پاس عذاب ، پھر نہ تم مدد کیے جاؤ (54) اورپیروی کرو تم اس بہترین بات کی جو نازل کی گئی تمھاری طرف تمھارے رب کی طرف سے پہلے اس کےکہ آجائے تمھارے پاس عذاب اچانک اس حال میں کہ تم نہ شعور رکھتے ہو (55)(ایسا نہ ہو)کہ کہے کوئی نفس، ہائے افسوس اس پر جو کوتاہی کی میں نے اللہ کے حق میں اور بلاشبہ رہا میں ٹھٹھا کرنے والوں میں سے (56) یا کہے اگر بے شک اللہ ہدایت دیتا مجھے تو ضرور ہو جاتا میں پرہیز گاروں میں سے (57) یا کہے جس وقت دیکھے گا عذاب، اگر بے شک (ہو) میرے لیے دوبارہ لوٹنا تو ہو جاؤ ں گا میں نیکوکاروں میں سے (58)کیوں نہیں، تحقیق آئیں تیرے پاس میری آیتیں تو جھٹلایا تو نے ان کو اور تکبر کیا تو نے اور تھا تو کافروں میں سے(59) [53] اللہ تعالیٰ اپنے حد سے بڑھ جانے والے، یعنی بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے، بندوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اس کا فضل و کرم بہت وسیع ہے نیز انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس سے قبل کہ رجوع کرنا ان کے لیے ممکن نہ رہے ، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اور جو کوئی دعوت دین میں آپ کا قائم مقام ہو! اپنے رب کی طرف سے بندوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے‘‘ یعنی جنھوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اور علام الغیوب کی ناراضی کے امور میں کوشاں ہو کر اپنے آپ پر زیادتی کی ﴿لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ کہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالو اور کہنے لگو کہ ہمارے گناہ بہت زیادہ اور ہمارے عیوب بہت بڑھ گئے اب ایسا کوئی طریقہ نہیں جس سے وہ گناہ زائل ہو جائیں ، پھر اس بنا پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مصر رہو اور اس طرح رحمٰنکی ناراضی مول لیتے رہو۔اپنے رب کو اس کے ان اسماء سے پہچانو جو اس کے جودوکرم پر دلالت کرتے ہیں اور جان رکھو کہ بے شک اللہ تعالیٰ ﴿يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا ﴾ ’’سارے ہی گناہ معاف کردیتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ شرک، قتل، زنا ، سودخوری اور ظلم وغیرہ تمام چھوٹے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے‘‘ یعنی مغفرت اور رحمت دونوں اللہ تعالیٰ کے لازم اور ذاتی اوصاف ہیں جو اس کی ذات سے کبھی جدا نہیں ہوتے اور نہ ان کے آثار ہی زائل ہوتے ہیں جو تمام کائنات میں جاری و ساری اور تمام موجودات پر سایہ کناں ہیں۔ دن رات اس کے ہاتھوں کی سخاوت جاری ہے، کھلے اور چھپے وہ اپنے بندوں کو اپنی لگاتار نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے۔ عطا کرنا اسے محروم کرنے سے زیادہ پسند ہے اور اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب اور اس پر سبقت لے گئی ہے۔ [54] اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے حصول کے کچھ اسباب ہیں، بندہ اگر ان اسباب کو اختیار نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ پر عظیم ترین اور جلیل ترین رحمت و مغفرت کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔ بلکہ خالص توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، دعا، اس کے سامنے عاجزی و انکسار اور اظہار تعبد کے سوا کوئی سبب نہیں۔ پس اس جلیل القدر سبب اور اس عظیم راستے کی طرف بڑھو۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف انابت میں جلدی کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَنِيۡبُوۡۤا اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو ﴿وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ﴾ اور اپنے اپنے جوارح کے ساتھ اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ اگر ’’انابت‘‘ کو مفرد بیان کیا گیا ہو تو اس میں اعمال جوارح بھی داخل ہیں اور اگر ’’انابت‘‘ کو دوسرے امور کے ساتھ بیان کیا گیا ہو جیسا کہ اس مقام پر کیا گیا ہے تو اس کا معنیٰ وہی ہو گا جو ہم نے بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِلٰى رَبِّكُمۡ وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ ﴾ اخلاص پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اخلاص کے بغیر ظاہری اور باطنی اعمال کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ﴿مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو۔‘‘ اور اسے روکا نہ جا سکے گا ﴿ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴾ پھر اس عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔ [55] گویا کہ پوچھا گیا کہ ’’انابت‘‘ اور ’’اسلام‘‘ کیا ہیں ،ان کی جزئیات و اعمال کیا ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿وَاتَّبِعُوۡۤا اَحۡسَنَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور پیروی کرو ان بہترین باتوں کی جو نازل کی گئیں تمھاری طرف تمھارے پروردگار کی طرف سے۔‘‘ یعنی باطنی اعمال کو بجا لاؤ جن کا تمھیں حکم دیا گیا ہے ، مثلاً: محبت الٰہی، خشیت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، اس کے بندوں کی خیرخواہی، ان کے لیے ہمیشہ بھلائی چاہنا اور ان امور سے متضاد امور سے اجتناب اور ظاہری اعمال بجالانا ، مثلاً: نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا، صدقہ دینا اور بھلائی کے مختلف کام کرنا جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور یہی بہترین کام ہیں جن کو ہمارے رب نے ہماری طرف نازل فرمایا ہے ، لہٰذا ان امور میں اپنے رب کے احکام کی تعمیل کرنے والا ’’منیب‘‘ اور ’’مسلم‘‘ ہے۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ بَغۡتَةً وَّاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اور یہ سب کچھ جلدی کرنے اور فرصت سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب ہے۔ [56] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈراتے (اوران کی خیرخواہی کرتے) ہوئے فرمایا: ﴿اَنۡ ﴾ کہ وہ اپنی غفلت پر نہ جمے رہیں یہاں تک کہ وہ دن آجائے جس دن انھیں نادم ہونا پڑے اور اس دن ندامت کسی کام نہیں آئے گی۔ اور ﴿تَقُوۡلَ نَفۡسٌ يّٰحَسۡرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطۡتُّ فِيۡ جَنۢۡبِ اللّٰهِ ﴾ ’’کوئی نفس کہے: اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے اللہ کے حق میں کی۔‘‘ ﴿وَاِنۡ كُنۡتُ ﴾ ’’بے شک میں تو تھا‘‘ دنیا میں ﴿لَمِنَ السّٰخِرِيۡنَ﴾ ’’مذاق اڑانے والوں میں سے‘‘ یعنی میں دنیا میں جزاوسزا کا تمسخر اڑایا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے اسے عیاں (آنکھوں سے) دیکھ لیا۔ [57]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ لَوۡ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰؔىنِيۡ لَكُنۡتُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’یا یوں کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔‘‘ اس مقام پر (لَوْ) تمنا کے معنی میں ہے۔ یعنی کاش اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت عطا کی ہوتی تو میں بھی پرہیز گار بن جاتا اور عذاب سے بچ جاتا اور ثواب کا مستحق بن جاتا۔ یہاں (لو) شرطیہ نہیں ہے اگر یہاں (لو) شرطیہ ہو تا تو ان کو اپنی گمراہی کے لیے قضاوقدر کی حجت ہاتھ آجاتی ہے اور یہ باطل حجت ہے اور قیامت کے روز ہر باطل حجت مضمحل ہو جائے گی۔ [58]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ حِيۡنَ تَرَى الۡعَذَابَ ﴾ ’’یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے۔‘‘ جب اسے عذاب کے وارد ہونے کا یقین ہو جائے گا تو وہ کہے گا ﴿لَوۡ اَنَّ لِيۡ كَرَّةً ﴾ یعنی اگر ایک بار اور مجھے دنیا میں واپس بھیجا جائے تو میں ہوجاؤں گا ﴿مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ نیک عمل کرنے والوں میں سے۔ [59] اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا کہ اس کا دنیا میں دوبارہ بھیجا جانا ممکن ہے نہ مفید، یہ تو محض باطل آرزو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ انسان کو دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا۔ اگر اسے دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو پہلے بیان اور احکام کے بعد اب کوئی نیا بیان اور حکم نہیں آئے گا۔ ﴿بَلٰى قَدۡ جَآءَتۡكَ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی تھیں۔‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں، ایسی دلالت کہ اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا تھا۔ ﴿فَكَذَّبۡتَ بِهَا وَاسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ ’’تونے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا۔‘‘ اور تکبر کی بنا پر تو نے ان کی اتباع نہیں کی ﴿وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو کافر بن گیا۔‘‘ اس لیے دنیا کی طرف لوٹائے جانے کا مطالبہ عبث ہے۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28) ’’اگر انھیں پھر دنیا کی زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا تھا اور بے شک وہ جھوٹے ہیں۔‘‘
39:54

وَأَنِيبُوٓاْ إِلَىٰ رَبِّكُمۡ وَأَسۡلِمُواْ لَهُۥ مِن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَكُمُ ٱلۡعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ

کہہ دیجیے: اے میرے بندو! وہ جنھوں نے ظلم کیا ہے اپنی جانوں پر، نہ مایوس ہو تم اللہ کی رحمت سے، بلاشبہ اللہ معاف کر دیتا ہے گناہ سب، یقیناً وہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(53)اور رجوع کرو تم اپنے رب کی طرف اورمطیع ہو جاؤ اس کے پہلے اس کےکہ آ جائے تمھارے پاس عذاب ، پھر نہ تم مدد کیے جاؤ (54) اورپیروی کرو تم اس بہترین بات کی جو نازل کی گئی تمھاری طرف تمھارے رب کی طرف سے پہلے اس کےکہ آجائے تمھارے پاس عذاب اچانک اس حال میں کہ تم نہ شعور رکھتے ہو (55)(ایسا نہ ہو)کہ کہے کوئی نفس، ہائے افسوس اس پر جو کوتاہی کی میں نے اللہ کے حق میں اور بلاشبہ رہا میں ٹھٹھا کرنے والوں میں سے (56) یا کہے اگر بے شک اللہ ہدایت دیتا مجھے تو ضرور ہو جاتا میں پرہیز گاروں میں سے (57) یا کہے جس وقت دیکھے گا عذاب، اگر بے شک (ہو) میرے لیے دوبارہ لوٹنا تو ہو جاؤ ں گا میں نیکوکاروں میں سے (58)کیوں نہیں، تحقیق آئیں تیرے پاس میری آیتیں تو جھٹلایا تو نے ان کو اور تکبر کیا تو نے اور تھا تو کافروں میں سے(59) [53] اللہ تعالیٰ اپنے حد سے بڑھ جانے والے، یعنی بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے، بندوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اس کا فضل و کرم بہت وسیع ہے نیز انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس سے قبل کہ رجوع کرنا ان کے لیے ممکن نہ رہے ، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اور جو کوئی دعوت دین میں آپ کا قائم مقام ہو! اپنے رب کی طرف سے بندوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے‘‘ یعنی جنھوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اور علام الغیوب کی ناراضی کے امور میں کوشاں ہو کر اپنے آپ پر زیادتی کی ﴿لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ کہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالو اور کہنے لگو کہ ہمارے گناہ بہت زیادہ اور ہمارے عیوب بہت بڑھ گئے اب ایسا کوئی طریقہ نہیں جس سے وہ گناہ زائل ہو جائیں ، پھر اس بنا پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مصر رہو اور اس طرح رحمٰنکی ناراضی مول لیتے رہو۔اپنے رب کو اس کے ان اسماء سے پہچانو جو اس کے جودوکرم پر دلالت کرتے ہیں اور جان رکھو کہ بے شک اللہ تعالیٰ ﴿يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا ﴾ ’’سارے ہی گناہ معاف کردیتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ شرک، قتل، زنا ، سودخوری اور ظلم وغیرہ تمام چھوٹے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے‘‘ یعنی مغفرت اور رحمت دونوں اللہ تعالیٰ کے لازم اور ذاتی اوصاف ہیں جو اس کی ذات سے کبھی جدا نہیں ہوتے اور نہ ان کے آثار ہی زائل ہوتے ہیں جو تمام کائنات میں جاری و ساری اور تمام موجودات پر سایہ کناں ہیں۔ دن رات اس کے ہاتھوں کی سخاوت جاری ہے، کھلے اور چھپے وہ اپنے بندوں کو اپنی لگاتار نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے۔ عطا کرنا اسے محروم کرنے سے زیادہ پسند ہے اور اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب اور اس پر سبقت لے گئی ہے۔ [54] اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے حصول کے کچھ اسباب ہیں، بندہ اگر ان اسباب کو اختیار نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ پر عظیم ترین اور جلیل ترین رحمت و مغفرت کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔ بلکہ خالص توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، دعا، اس کے سامنے عاجزی و انکسار اور اظہار تعبد کے سوا کوئی سبب نہیں۔ پس اس جلیل القدر سبب اور اس عظیم راستے کی طرف بڑھو۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف انابت میں جلدی کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَنِيۡبُوۡۤا اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو ﴿وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ﴾ اور اپنے اپنے جوارح کے ساتھ اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ اگر ’’انابت‘‘ کو مفرد بیان کیا گیا ہو تو اس میں اعمال جوارح بھی داخل ہیں اور اگر ’’انابت‘‘ کو دوسرے امور کے ساتھ بیان کیا گیا ہو جیسا کہ اس مقام پر کیا گیا ہے تو اس کا معنیٰ وہی ہو گا جو ہم نے بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِلٰى رَبِّكُمۡ وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ ﴾ اخلاص پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اخلاص کے بغیر ظاہری اور باطنی اعمال کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ﴿مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو۔‘‘ اور اسے روکا نہ جا سکے گا ﴿ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴾ پھر اس عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔ [55] گویا کہ پوچھا گیا کہ ’’انابت‘‘ اور ’’اسلام‘‘ کیا ہیں ،ان کی جزئیات و اعمال کیا ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿وَاتَّبِعُوۡۤا اَحۡسَنَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور پیروی کرو ان بہترین باتوں کی جو نازل کی گئیں تمھاری طرف تمھارے پروردگار کی طرف سے۔‘‘ یعنی باطنی اعمال کو بجا لاؤ جن کا تمھیں حکم دیا گیا ہے ، مثلاً: محبت الٰہی، خشیت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، اس کے بندوں کی خیرخواہی، ان کے لیے ہمیشہ بھلائی چاہنا اور ان امور سے متضاد امور سے اجتناب اور ظاہری اعمال بجالانا ، مثلاً: نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا، صدقہ دینا اور بھلائی کے مختلف کام کرنا جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور یہی بہترین کام ہیں جن کو ہمارے رب نے ہماری طرف نازل فرمایا ہے ، لہٰذا ان امور میں اپنے رب کے احکام کی تعمیل کرنے والا ’’منیب‘‘ اور ’’مسلم‘‘ ہے۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ بَغۡتَةً وَّاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اور یہ سب کچھ جلدی کرنے اور فرصت سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب ہے۔ [56] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈراتے (اوران کی خیرخواہی کرتے) ہوئے فرمایا: ﴿اَنۡ ﴾ کہ وہ اپنی غفلت پر نہ جمے رہیں یہاں تک کہ وہ دن آجائے جس دن انھیں نادم ہونا پڑے اور اس دن ندامت کسی کام نہیں آئے گی۔ اور ﴿تَقُوۡلَ نَفۡسٌ يّٰحَسۡرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطۡتُّ فِيۡ جَنۢۡبِ اللّٰهِ ﴾ ’’کوئی نفس کہے: اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے اللہ کے حق میں کی۔‘‘ ﴿وَاِنۡ كُنۡتُ ﴾ ’’بے شک میں تو تھا‘‘ دنیا میں ﴿لَمِنَ السّٰخِرِيۡنَ﴾ ’’مذاق اڑانے والوں میں سے‘‘ یعنی میں دنیا میں جزاوسزا کا تمسخر اڑایا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے اسے عیاں (آنکھوں سے) دیکھ لیا۔ [57]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ لَوۡ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰؔىنِيۡ لَكُنۡتُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’یا یوں کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔‘‘ اس مقام پر (لَوْ) تمنا کے معنی میں ہے۔ یعنی کاش اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت عطا کی ہوتی تو میں بھی پرہیز گار بن جاتا اور عذاب سے بچ جاتا اور ثواب کا مستحق بن جاتا۔ یہاں (لو) شرطیہ نہیں ہے اگر یہاں (لو) شرطیہ ہو تا تو ان کو اپنی گمراہی کے لیے قضاوقدر کی حجت ہاتھ آجاتی ہے اور یہ باطل حجت ہے اور قیامت کے روز ہر باطل حجت مضمحل ہو جائے گی۔ [58]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ حِيۡنَ تَرَى الۡعَذَابَ ﴾ ’’یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے۔‘‘ جب اسے عذاب کے وارد ہونے کا یقین ہو جائے گا تو وہ کہے گا ﴿لَوۡ اَنَّ لِيۡ كَرَّةً ﴾ یعنی اگر ایک بار اور مجھے دنیا میں واپس بھیجا جائے تو میں ہوجاؤں گا ﴿مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ نیک عمل کرنے والوں میں سے۔ [59] اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا کہ اس کا دنیا میں دوبارہ بھیجا جانا ممکن ہے نہ مفید، یہ تو محض باطل آرزو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ انسان کو دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا۔ اگر اسے دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو پہلے بیان اور احکام کے بعد اب کوئی نیا بیان اور حکم نہیں آئے گا۔ ﴿بَلٰى قَدۡ جَآءَتۡكَ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی تھیں۔‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں، ایسی دلالت کہ اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا تھا۔ ﴿فَكَذَّبۡتَ بِهَا وَاسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ ’’تونے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا۔‘‘ اور تکبر کی بنا پر تو نے ان کی اتباع نہیں کی ﴿وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو کافر بن گیا۔‘‘ اس لیے دنیا کی طرف لوٹائے جانے کا مطالبہ عبث ہے۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28) ’’اگر انھیں پھر دنیا کی زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا تھا اور بے شک وہ جھوٹے ہیں۔‘‘
39:55

وَٱتَّبِعُوٓاْ أَحۡسَنَ مَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُم مِّن رَّبِّكُم مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَكُمُ ٱلۡعَذَابُ بَغۡتَةٗ وَأَنتُمۡ لَا تَشۡعُرُونَ

کہہ دیجیے: اے میرے بندو! وہ جنھوں نے ظلم کیا ہے اپنی جانوں پر، نہ مایوس ہو تم اللہ کی رحمت سے، بلاشبہ اللہ معاف کر دیتا ہے گناہ سب، یقیناً وہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(53)اور رجوع کرو تم اپنے رب کی طرف اورمطیع ہو جاؤ اس کے پہلے اس کےکہ آ جائے تمھارے پاس عذاب ، پھر نہ تم مدد کیے جاؤ (54) اورپیروی کرو تم اس بہترین بات کی جو نازل کی گئی تمھاری طرف تمھارے رب کی طرف سے پہلے اس کےکہ آجائے تمھارے پاس عذاب اچانک اس حال میں کہ تم نہ شعور رکھتے ہو (55)(ایسا نہ ہو)کہ کہے کوئی نفس، ہائے افسوس اس پر جو کوتاہی کی میں نے اللہ کے حق میں اور بلاشبہ رہا میں ٹھٹھا کرنے والوں میں سے (56) یا کہے اگر بے شک اللہ ہدایت دیتا مجھے تو ضرور ہو جاتا میں پرہیز گاروں میں سے (57) یا کہے جس وقت دیکھے گا عذاب، اگر بے شک (ہو) میرے لیے دوبارہ لوٹنا تو ہو جاؤ ں گا میں نیکوکاروں میں سے (58)کیوں نہیں، تحقیق آئیں تیرے پاس میری آیتیں تو جھٹلایا تو نے ان کو اور تکبر کیا تو نے اور تھا تو کافروں میں سے(59) [53] اللہ تعالیٰ اپنے حد سے بڑھ جانے والے، یعنی بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے، بندوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اس کا فضل و کرم بہت وسیع ہے نیز انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس سے قبل کہ رجوع کرنا ان کے لیے ممکن نہ رہے ، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اور جو کوئی دعوت دین میں آپ کا قائم مقام ہو! اپنے رب کی طرف سے بندوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے‘‘ یعنی جنھوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اور علام الغیوب کی ناراضی کے امور میں کوشاں ہو کر اپنے آپ پر زیادتی کی ﴿لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ کہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالو اور کہنے لگو کہ ہمارے گناہ بہت زیادہ اور ہمارے عیوب بہت بڑھ گئے اب ایسا کوئی طریقہ نہیں جس سے وہ گناہ زائل ہو جائیں ، پھر اس بنا پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مصر رہو اور اس طرح رحمٰنکی ناراضی مول لیتے رہو۔اپنے رب کو اس کے ان اسماء سے پہچانو جو اس کے جودوکرم پر دلالت کرتے ہیں اور جان رکھو کہ بے شک اللہ تعالیٰ ﴿يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا ﴾ ’’سارے ہی گناہ معاف کردیتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ شرک، قتل، زنا ، سودخوری اور ظلم وغیرہ تمام چھوٹے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے‘‘ یعنی مغفرت اور رحمت دونوں اللہ تعالیٰ کے لازم اور ذاتی اوصاف ہیں جو اس کی ذات سے کبھی جدا نہیں ہوتے اور نہ ان کے آثار ہی زائل ہوتے ہیں جو تمام کائنات میں جاری و ساری اور تمام موجودات پر سایہ کناں ہیں۔ دن رات اس کے ہاتھوں کی سخاوت جاری ہے، کھلے اور چھپے وہ اپنے بندوں کو اپنی لگاتار نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے۔ عطا کرنا اسے محروم کرنے سے زیادہ پسند ہے اور اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب اور اس پر سبقت لے گئی ہے۔ [54] اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے حصول کے کچھ اسباب ہیں، بندہ اگر ان اسباب کو اختیار نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ پر عظیم ترین اور جلیل ترین رحمت و مغفرت کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔ بلکہ خالص توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، دعا، اس کے سامنے عاجزی و انکسار اور اظہار تعبد کے سوا کوئی سبب نہیں۔ پس اس جلیل القدر سبب اور اس عظیم راستے کی طرف بڑھو۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف انابت میں جلدی کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَنِيۡبُوۡۤا اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو ﴿وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ﴾ اور اپنے اپنے جوارح کے ساتھ اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ اگر ’’انابت‘‘ کو مفرد بیان کیا گیا ہو تو اس میں اعمال جوارح بھی داخل ہیں اور اگر ’’انابت‘‘ کو دوسرے امور کے ساتھ بیان کیا گیا ہو جیسا کہ اس مقام پر کیا گیا ہے تو اس کا معنیٰ وہی ہو گا جو ہم نے بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِلٰى رَبِّكُمۡ وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ ﴾ اخلاص پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اخلاص کے بغیر ظاہری اور باطنی اعمال کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ﴿مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو۔‘‘ اور اسے روکا نہ جا سکے گا ﴿ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴾ پھر اس عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔ [55] گویا کہ پوچھا گیا کہ ’’انابت‘‘ اور ’’اسلام‘‘ کیا ہیں ،ان کی جزئیات و اعمال کیا ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿وَاتَّبِعُوۡۤا اَحۡسَنَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور پیروی کرو ان بہترین باتوں کی جو نازل کی گئیں تمھاری طرف تمھارے پروردگار کی طرف سے۔‘‘ یعنی باطنی اعمال کو بجا لاؤ جن کا تمھیں حکم دیا گیا ہے ، مثلاً: محبت الٰہی، خشیت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، اس کے بندوں کی خیرخواہی، ان کے لیے ہمیشہ بھلائی چاہنا اور ان امور سے متضاد امور سے اجتناب اور ظاہری اعمال بجالانا ، مثلاً: نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا، صدقہ دینا اور بھلائی کے مختلف کام کرنا جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور یہی بہترین کام ہیں جن کو ہمارے رب نے ہماری طرف نازل فرمایا ہے ، لہٰذا ان امور میں اپنے رب کے احکام کی تعمیل کرنے والا ’’منیب‘‘ اور ’’مسلم‘‘ ہے۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ بَغۡتَةً وَّاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اور یہ سب کچھ جلدی کرنے اور فرصت سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب ہے۔ [56] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈراتے (اوران کی خیرخواہی کرتے) ہوئے فرمایا: ﴿اَنۡ ﴾ کہ وہ اپنی غفلت پر نہ جمے رہیں یہاں تک کہ وہ دن آجائے جس دن انھیں نادم ہونا پڑے اور اس دن ندامت کسی کام نہیں آئے گی۔ اور ﴿تَقُوۡلَ نَفۡسٌ يّٰحَسۡرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطۡتُّ فِيۡ جَنۢۡبِ اللّٰهِ ﴾ ’’کوئی نفس کہے: اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے اللہ کے حق میں کی۔‘‘ ﴿وَاِنۡ كُنۡتُ ﴾ ’’بے شک میں تو تھا‘‘ دنیا میں ﴿لَمِنَ السّٰخِرِيۡنَ﴾ ’’مذاق اڑانے والوں میں سے‘‘ یعنی میں دنیا میں جزاوسزا کا تمسخر اڑایا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے اسے عیاں (آنکھوں سے) دیکھ لیا۔ [57]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ لَوۡ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰؔىنِيۡ لَكُنۡتُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’یا یوں کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔‘‘ اس مقام پر (لَوْ) تمنا کے معنی میں ہے۔ یعنی کاش اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت عطا کی ہوتی تو میں بھی پرہیز گار بن جاتا اور عذاب سے بچ جاتا اور ثواب کا مستحق بن جاتا۔ یہاں (لو) شرطیہ نہیں ہے اگر یہاں (لو) شرطیہ ہو تا تو ان کو اپنی گمراہی کے لیے قضاوقدر کی حجت ہاتھ آجاتی ہے اور یہ باطل حجت ہے اور قیامت کے روز ہر باطل حجت مضمحل ہو جائے گی۔ [58]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ حِيۡنَ تَرَى الۡعَذَابَ ﴾ ’’یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے۔‘‘ جب اسے عذاب کے وارد ہونے کا یقین ہو جائے گا تو وہ کہے گا ﴿لَوۡ اَنَّ لِيۡ كَرَّةً ﴾ یعنی اگر ایک بار اور مجھے دنیا میں واپس بھیجا جائے تو میں ہوجاؤں گا ﴿مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ نیک عمل کرنے والوں میں سے۔ [59] اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا کہ اس کا دنیا میں دوبارہ بھیجا جانا ممکن ہے نہ مفید، یہ تو محض باطل آرزو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ انسان کو دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا۔ اگر اسے دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو پہلے بیان اور احکام کے بعد اب کوئی نیا بیان اور حکم نہیں آئے گا۔ ﴿بَلٰى قَدۡ جَآءَتۡكَ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی تھیں۔‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں، ایسی دلالت کہ اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا تھا۔ ﴿فَكَذَّبۡتَ بِهَا وَاسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ ’’تونے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا۔‘‘ اور تکبر کی بنا پر تو نے ان کی اتباع نہیں کی ﴿وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو کافر بن گیا۔‘‘ اس لیے دنیا کی طرف لوٹائے جانے کا مطالبہ عبث ہے۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28) ’’اگر انھیں پھر دنیا کی زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا تھا اور بے شک وہ جھوٹے ہیں۔‘‘
39:56

أَن تَقُولَ نَفۡسٞ يَٰحَسۡرَتَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّطتُ فِي جَنۢبِ ٱللَّهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ ٱلسَّـٰخِرِينَ

کہہ دیجیے: اے میرے بندو! وہ جنھوں نے ظلم کیا ہے اپنی جانوں پر، نہ مایوس ہو تم اللہ کی رحمت سے، بلاشبہ اللہ معاف کر دیتا ہے گناہ سب، یقیناً وہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(53)اور رجوع کرو تم اپنے رب کی طرف اورمطیع ہو جاؤ اس کے پہلے اس کےکہ آ جائے تمھارے پاس عذاب ، پھر نہ تم مدد کیے جاؤ (54) اورپیروی کرو تم اس بہترین بات کی جو نازل کی گئی تمھاری طرف تمھارے رب کی طرف سے پہلے اس کےکہ آجائے تمھارے پاس عذاب اچانک اس حال میں کہ تم نہ شعور رکھتے ہو (55)(ایسا نہ ہو)کہ کہے کوئی نفس، ہائے افسوس اس پر جو کوتاہی کی میں نے اللہ کے حق میں اور بلاشبہ رہا میں ٹھٹھا کرنے والوں میں سے (56) یا کہے اگر بے شک اللہ ہدایت دیتا مجھے تو ضرور ہو جاتا میں پرہیز گاروں میں سے (57) یا کہے جس وقت دیکھے گا عذاب، اگر بے شک (ہو) میرے لیے دوبارہ لوٹنا تو ہو جاؤ ں گا میں نیکوکاروں میں سے (58)کیوں نہیں، تحقیق آئیں تیرے پاس میری آیتیں تو جھٹلایا تو نے ان کو اور تکبر کیا تو نے اور تھا تو کافروں میں سے(59) [53] اللہ تعالیٰ اپنے حد سے بڑھ جانے والے، یعنی بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے، بندوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اس کا فضل و کرم بہت وسیع ہے نیز انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس سے قبل کہ رجوع کرنا ان کے لیے ممکن نہ رہے ، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اور جو کوئی دعوت دین میں آپ کا قائم مقام ہو! اپنے رب کی طرف سے بندوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے‘‘ یعنی جنھوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اور علام الغیوب کی ناراضی کے امور میں کوشاں ہو کر اپنے آپ پر زیادتی کی ﴿لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ کہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالو اور کہنے لگو کہ ہمارے گناہ بہت زیادہ اور ہمارے عیوب بہت بڑھ گئے اب ایسا کوئی طریقہ نہیں جس سے وہ گناہ زائل ہو جائیں ، پھر اس بنا پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مصر رہو اور اس طرح رحمٰنکی ناراضی مول لیتے رہو۔اپنے رب کو اس کے ان اسماء سے پہچانو جو اس کے جودوکرم پر دلالت کرتے ہیں اور جان رکھو کہ بے شک اللہ تعالیٰ ﴿يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا ﴾ ’’سارے ہی گناہ معاف کردیتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ شرک، قتل، زنا ، سودخوری اور ظلم وغیرہ تمام چھوٹے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے‘‘ یعنی مغفرت اور رحمت دونوں اللہ تعالیٰ کے لازم اور ذاتی اوصاف ہیں جو اس کی ذات سے کبھی جدا نہیں ہوتے اور نہ ان کے آثار ہی زائل ہوتے ہیں جو تمام کائنات میں جاری و ساری اور تمام موجودات پر سایہ کناں ہیں۔ دن رات اس کے ہاتھوں کی سخاوت جاری ہے، کھلے اور چھپے وہ اپنے بندوں کو اپنی لگاتار نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے۔ عطا کرنا اسے محروم کرنے سے زیادہ پسند ہے اور اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب اور اس پر سبقت لے گئی ہے۔ [54] اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے حصول کے کچھ اسباب ہیں، بندہ اگر ان اسباب کو اختیار نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ پر عظیم ترین اور جلیل ترین رحمت و مغفرت کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔ بلکہ خالص توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، دعا، اس کے سامنے عاجزی و انکسار اور اظہار تعبد کے سوا کوئی سبب نہیں۔ پس اس جلیل القدر سبب اور اس عظیم راستے کی طرف بڑھو۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف انابت میں جلدی کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَنِيۡبُوۡۤا اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو ﴿وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ﴾ اور اپنے اپنے جوارح کے ساتھ اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ اگر ’’انابت‘‘ کو مفرد بیان کیا گیا ہو تو اس میں اعمال جوارح بھی داخل ہیں اور اگر ’’انابت‘‘ کو دوسرے امور کے ساتھ بیان کیا گیا ہو جیسا کہ اس مقام پر کیا گیا ہے تو اس کا معنیٰ وہی ہو گا جو ہم نے بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِلٰى رَبِّكُمۡ وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ ﴾ اخلاص پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اخلاص کے بغیر ظاہری اور باطنی اعمال کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ﴿مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو۔‘‘ اور اسے روکا نہ جا سکے گا ﴿ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴾ پھر اس عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔ [55] گویا کہ پوچھا گیا کہ ’’انابت‘‘ اور ’’اسلام‘‘ کیا ہیں ،ان کی جزئیات و اعمال کیا ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿وَاتَّبِعُوۡۤا اَحۡسَنَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور پیروی کرو ان بہترین باتوں کی جو نازل کی گئیں تمھاری طرف تمھارے پروردگار کی طرف سے۔‘‘ یعنی باطنی اعمال کو بجا لاؤ جن کا تمھیں حکم دیا گیا ہے ، مثلاً: محبت الٰہی، خشیت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، اس کے بندوں کی خیرخواہی، ان کے لیے ہمیشہ بھلائی چاہنا اور ان امور سے متضاد امور سے اجتناب اور ظاہری اعمال بجالانا ، مثلاً: نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا، صدقہ دینا اور بھلائی کے مختلف کام کرنا جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور یہی بہترین کام ہیں جن کو ہمارے رب نے ہماری طرف نازل فرمایا ہے ، لہٰذا ان امور میں اپنے رب کے احکام کی تعمیل کرنے والا ’’منیب‘‘ اور ’’مسلم‘‘ ہے۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ بَغۡتَةً وَّاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اور یہ سب کچھ جلدی کرنے اور فرصت سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب ہے۔ [56] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈراتے (اوران کی خیرخواہی کرتے) ہوئے فرمایا: ﴿اَنۡ ﴾ کہ وہ اپنی غفلت پر نہ جمے رہیں یہاں تک کہ وہ دن آجائے جس دن انھیں نادم ہونا پڑے اور اس دن ندامت کسی کام نہیں آئے گی۔ اور ﴿تَقُوۡلَ نَفۡسٌ يّٰحَسۡرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطۡتُّ فِيۡ جَنۢۡبِ اللّٰهِ ﴾ ’’کوئی نفس کہے: اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے اللہ کے حق میں کی۔‘‘ ﴿وَاِنۡ كُنۡتُ ﴾ ’’بے شک میں تو تھا‘‘ دنیا میں ﴿لَمِنَ السّٰخِرِيۡنَ﴾ ’’مذاق اڑانے والوں میں سے‘‘ یعنی میں دنیا میں جزاوسزا کا تمسخر اڑایا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے اسے عیاں (آنکھوں سے) دیکھ لیا۔ [57]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ لَوۡ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰؔىنِيۡ لَكُنۡتُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’یا یوں کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔‘‘ اس مقام پر (لَوْ) تمنا کے معنی میں ہے۔ یعنی کاش اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت عطا کی ہوتی تو میں بھی پرہیز گار بن جاتا اور عذاب سے بچ جاتا اور ثواب کا مستحق بن جاتا۔ یہاں (لو) شرطیہ نہیں ہے اگر یہاں (لو) شرطیہ ہو تا تو ان کو اپنی گمراہی کے لیے قضاوقدر کی حجت ہاتھ آجاتی ہے اور یہ باطل حجت ہے اور قیامت کے روز ہر باطل حجت مضمحل ہو جائے گی۔ [58]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ حِيۡنَ تَرَى الۡعَذَابَ ﴾ ’’یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے۔‘‘ جب اسے عذاب کے وارد ہونے کا یقین ہو جائے گا تو وہ کہے گا ﴿لَوۡ اَنَّ لِيۡ كَرَّةً ﴾ یعنی اگر ایک بار اور مجھے دنیا میں واپس بھیجا جائے تو میں ہوجاؤں گا ﴿مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ نیک عمل کرنے والوں میں سے۔ [59] اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا کہ اس کا دنیا میں دوبارہ بھیجا جانا ممکن ہے نہ مفید، یہ تو محض باطل آرزو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ انسان کو دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا۔ اگر اسے دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو پہلے بیان اور احکام کے بعد اب کوئی نیا بیان اور حکم نہیں آئے گا۔ ﴿بَلٰى قَدۡ جَآءَتۡكَ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی تھیں۔‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں، ایسی دلالت کہ اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا تھا۔ ﴿فَكَذَّبۡتَ بِهَا وَاسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ ’’تونے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا۔‘‘ اور تکبر کی بنا پر تو نے ان کی اتباع نہیں کی ﴿وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو کافر بن گیا۔‘‘ اس لیے دنیا کی طرف لوٹائے جانے کا مطالبہ عبث ہے۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28) ’’اگر انھیں پھر دنیا کی زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا تھا اور بے شک وہ جھوٹے ہیں۔‘‘
39:57

أَوۡ تَقُولَ لَوۡ أَنَّ ٱللَّهَ هَدَىٰنِي لَكُنتُ مِنَ ٱلۡمُتَّقِينَ

کہہ دیجیے: اے میرے بندو! وہ جنھوں نے ظلم کیا ہے اپنی جانوں پر، نہ مایوس ہو تم اللہ کی رحمت سے، بلاشبہ اللہ معاف کر دیتا ہے گناہ سب، یقیناً وہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(53)اور رجوع کرو تم اپنے رب کی طرف اورمطیع ہو جاؤ اس کے پہلے اس کےکہ آ جائے تمھارے پاس عذاب ، پھر نہ تم مدد کیے جاؤ (54) اورپیروی کرو تم اس بہترین بات کی جو نازل کی گئی تمھاری طرف تمھارے رب کی طرف سے پہلے اس کےکہ آجائے تمھارے پاس عذاب اچانک اس حال میں کہ تم نہ شعور رکھتے ہو (55)(ایسا نہ ہو)کہ کہے کوئی نفس، ہائے افسوس اس پر جو کوتاہی کی میں نے اللہ کے حق میں اور بلاشبہ رہا میں ٹھٹھا کرنے والوں میں سے (56) یا کہے اگر بے شک اللہ ہدایت دیتا مجھے تو ضرور ہو جاتا میں پرہیز گاروں میں سے (57) یا کہے جس وقت دیکھے گا عذاب، اگر بے شک (ہو) میرے لیے دوبارہ لوٹنا تو ہو جاؤ ں گا میں نیکوکاروں میں سے (58)کیوں نہیں، تحقیق آئیں تیرے پاس میری آیتیں تو جھٹلایا تو نے ان کو اور تکبر کیا تو نے اور تھا تو کافروں میں سے(59) [53] اللہ تعالیٰ اپنے حد سے بڑھ جانے والے، یعنی بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے، بندوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اس کا فضل و کرم بہت وسیع ہے نیز انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس سے قبل کہ رجوع کرنا ان کے لیے ممکن نہ رہے ، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اور جو کوئی دعوت دین میں آپ کا قائم مقام ہو! اپنے رب کی طرف سے بندوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے‘‘ یعنی جنھوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اور علام الغیوب کی ناراضی کے امور میں کوشاں ہو کر اپنے آپ پر زیادتی کی ﴿لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ کہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالو اور کہنے لگو کہ ہمارے گناہ بہت زیادہ اور ہمارے عیوب بہت بڑھ گئے اب ایسا کوئی طریقہ نہیں جس سے وہ گناہ زائل ہو جائیں ، پھر اس بنا پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مصر رہو اور اس طرح رحمٰنکی ناراضی مول لیتے رہو۔اپنے رب کو اس کے ان اسماء سے پہچانو جو اس کے جودوکرم پر دلالت کرتے ہیں اور جان رکھو کہ بے شک اللہ تعالیٰ ﴿يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا ﴾ ’’سارے ہی گناہ معاف کردیتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ شرک، قتل، زنا ، سودخوری اور ظلم وغیرہ تمام چھوٹے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے‘‘ یعنی مغفرت اور رحمت دونوں اللہ تعالیٰ کے لازم اور ذاتی اوصاف ہیں جو اس کی ذات سے کبھی جدا نہیں ہوتے اور نہ ان کے آثار ہی زائل ہوتے ہیں جو تمام کائنات میں جاری و ساری اور تمام موجودات پر سایہ کناں ہیں۔ دن رات اس کے ہاتھوں کی سخاوت جاری ہے، کھلے اور چھپے وہ اپنے بندوں کو اپنی لگاتار نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے۔ عطا کرنا اسے محروم کرنے سے زیادہ پسند ہے اور اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب اور اس پر سبقت لے گئی ہے۔ [54] اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے حصول کے کچھ اسباب ہیں، بندہ اگر ان اسباب کو اختیار نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ پر عظیم ترین اور جلیل ترین رحمت و مغفرت کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔ بلکہ خالص توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، دعا، اس کے سامنے عاجزی و انکسار اور اظہار تعبد کے سوا کوئی سبب نہیں۔ پس اس جلیل القدر سبب اور اس عظیم راستے کی طرف بڑھو۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف انابت میں جلدی کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَنِيۡبُوۡۤا اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو ﴿وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ﴾ اور اپنے اپنے جوارح کے ساتھ اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ اگر ’’انابت‘‘ کو مفرد بیان کیا گیا ہو تو اس میں اعمال جوارح بھی داخل ہیں اور اگر ’’انابت‘‘ کو دوسرے امور کے ساتھ بیان کیا گیا ہو جیسا کہ اس مقام پر کیا گیا ہے تو اس کا معنیٰ وہی ہو گا جو ہم نے بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِلٰى رَبِّكُمۡ وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ ﴾ اخلاص پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اخلاص کے بغیر ظاہری اور باطنی اعمال کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ﴿مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو۔‘‘ اور اسے روکا نہ جا سکے گا ﴿ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴾ پھر اس عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔ [55] گویا کہ پوچھا گیا کہ ’’انابت‘‘ اور ’’اسلام‘‘ کیا ہیں ،ان کی جزئیات و اعمال کیا ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿وَاتَّبِعُوۡۤا اَحۡسَنَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور پیروی کرو ان بہترین باتوں کی جو نازل کی گئیں تمھاری طرف تمھارے پروردگار کی طرف سے۔‘‘ یعنی باطنی اعمال کو بجا لاؤ جن کا تمھیں حکم دیا گیا ہے ، مثلاً: محبت الٰہی، خشیت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، اس کے بندوں کی خیرخواہی، ان کے لیے ہمیشہ بھلائی چاہنا اور ان امور سے متضاد امور سے اجتناب اور ظاہری اعمال بجالانا ، مثلاً: نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا، صدقہ دینا اور بھلائی کے مختلف کام کرنا جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور یہی بہترین کام ہیں جن کو ہمارے رب نے ہماری طرف نازل فرمایا ہے ، لہٰذا ان امور میں اپنے رب کے احکام کی تعمیل کرنے والا ’’منیب‘‘ اور ’’مسلم‘‘ ہے۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ بَغۡتَةً وَّاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اور یہ سب کچھ جلدی کرنے اور فرصت سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب ہے۔ [56] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈراتے (اوران کی خیرخواہی کرتے) ہوئے فرمایا: ﴿اَنۡ ﴾ کہ وہ اپنی غفلت پر نہ جمے رہیں یہاں تک کہ وہ دن آجائے جس دن انھیں نادم ہونا پڑے اور اس دن ندامت کسی کام نہیں آئے گی۔ اور ﴿تَقُوۡلَ نَفۡسٌ يّٰحَسۡرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطۡتُّ فِيۡ جَنۢۡبِ اللّٰهِ ﴾ ’’کوئی نفس کہے: اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے اللہ کے حق میں کی۔‘‘ ﴿وَاِنۡ كُنۡتُ ﴾ ’’بے شک میں تو تھا‘‘ دنیا میں ﴿لَمِنَ السّٰخِرِيۡنَ﴾ ’’مذاق اڑانے والوں میں سے‘‘ یعنی میں دنیا میں جزاوسزا کا تمسخر اڑایا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے اسے عیاں (آنکھوں سے) دیکھ لیا۔ [57]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ لَوۡ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰؔىنِيۡ لَكُنۡتُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’یا یوں کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔‘‘ اس مقام پر (لَوْ) تمنا کے معنی میں ہے۔ یعنی کاش اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت عطا کی ہوتی تو میں بھی پرہیز گار بن جاتا اور عذاب سے بچ جاتا اور ثواب کا مستحق بن جاتا۔ یہاں (لو) شرطیہ نہیں ہے اگر یہاں (لو) شرطیہ ہو تا تو ان کو اپنی گمراہی کے لیے قضاوقدر کی حجت ہاتھ آجاتی ہے اور یہ باطل حجت ہے اور قیامت کے روز ہر باطل حجت مضمحل ہو جائے گی۔ [58]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ حِيۡنَ تَرَى الۡعَذَابَ ﴾ ’’یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے۔‘‘ جب اسے عذاب کے وارد ہونے کا یقین ہو جائے گا تو وہ کہے گا ﴿لَوۡ اَنَّ لِيۡ كَرَّةً ﴾ یعنی اگر ایک بار اور مجھے دنیا میں واپس بھیجا جائے تو میں ہوجاؤں گا ﴿مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ نیک عمل کرنے والوں میں سے۔ [59] اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا کہ اس کا دنیا میں دوبارہ بھیجا جانا ممکن ہے نہ مفید، یہ تو محض باطل آرزو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ انسان کو دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا۔ اگر اسے دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو پہلے بیان اور احکام کے بعد اب کوئی نیا بیان اور حکم نہیں آئے گا۔ ﴿بَلٰى قَدۡ جَآءَتۡكَ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی تھیں۔‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں، ایسی دلالت کہ اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا تھا۔ ﴿فَكَذَّبۡتَ بِهَا وَاسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ ’’تونے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا۔‘‘ اور تکبر کی بنا پر تو نے ان کی اتباع نہیں کی ﴿وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو کافر بن گیا۔‘‘ اس لیے دنیا کی طرف لوٹائے جانے کا مطالبہ عبث ہے۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28) ’’اگر انھیں پھر دنیا کی زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا تھا اور بے شک وہ جھوٹے ہیں۔‘‘
39:58

أَوۡ تَقُولَ حِينَ تَرَى ٱلۡعَذَابَ لَوۡ أَنَّ لِي كَرَّةٗ فَأَكُونَ مِنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ

کہہ دیجیے: اے میرے بندو! وہ جنھوں نے ظلم کیا ہے اپنی جانوں پر، نہ مایوس ہو تم اللہ کی رحمت سے، بلاشبہ اللہ معاف کر دیتا ہے گناہ سب، یقیناً وہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(53)اور رجوع کرو تم اپنے رب کی طرف اورمطیع ہو جاؤ اس کے پہلے اس کےکہ آ جائے تمھارے پاس عذاب ، پھر نہ تم مدد کیے جاؤ (54) اورپیروی کرو تم اس بہترین بات کی جو نازل کی گئی تمھاری طرف تمھارے رب کی طرف سے پہلے اس کےکہ آجائے تمھارے پاس عذاب اچانک اس حال میں کہ تم نہ شعور رکھتے ہو (55)(ایسا نہ ہو)کہ کہے کوئی نفس، ہائے افسوس اس پر جو کوتاہی کی میں نے اللہ کے حق میں اور بلاشبہ رہا میں ٹھٹھا کرنے والوں میں سے (56) یا کہے اگر بے شک اللہ ہدایت دیتا مجھے تو ضرور ہو جاتا میں پرہیز گاروں میں سے (57) یا کہے جس وقت دیکھے گا عذاب، اگر بے شک (ہو) میرے لیے دوبارہ لوٹنا تو ہو جاؤ ں گا میں نیکوکاروں میں سے (58)کیوں نہیں، تحقیق آئیں تیرے پاس میری آیتیں تو جھٹلایا تو نے ان کو اور تکبر کیا تو نے اور تھا تو کافروں میں سے(59) [53] اللہ تعالیٰ اپنے حد سے بڑھ جانے والے، یعنی بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے، بندوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اس کا فضل و کرم بہت وسیع ہے نیز انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس سے قبل کہ رجوع کرنا ان کے لیے ممکن نہ رہے ، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اور جو کوئی دعوت دین میں آپ کا قائم مقام ہو! اپنے رب کی طرف سے بندوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے‘‘ یعنی جنھوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اور علام الغیوب کی ناراضی کے امور میں کوشاں ہو کر اپنے آپ پر زیادتی کی ﴿لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ کہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالو اور کہنے لگو کہ ہمارے گناہ بہت زیادہ اور ہمارے عیوب بہت بڑھ گئے اب ایسا کوئی طریقہ نہیں جس سے وہ گناہ زائل ہو جائیں ، پھر اس بنا پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مصر رہو اور اس طرح رحمٰنکی ناراضی مول لیتے رہو۔اپنے رب کو اس کے ان اسماء سے پہچانو جو اس کے جودوکرم پر دلالت کرتے ہیں اور جان رکھو کہ بے شک اللہ تعالیٰ ﴿يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا ﴾ ’’سارے ہی گناہ معاف کردیتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ شرک، قتل، زنا ، سودخوری اور ظلم وغیرہ تمام چھوٹے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے‘‘ یعنی مغفرت اور رحمت دونوں اللہ تعالیٰ کے لازم اور ذاتی اوصاف ہیں جو اس کی ذات سے کبھی جدا نہیں ہوتے اور نہ ان کے آثار ہی زائل ہوتے ہیں جو تمام کائنات میں جاری و ساری اور تمام موجودات پر سایہ کناں ہیں۔ دن رات اس کے ہاتھوں کی سخاوت جاری ہے، کھلے اور چھپے وہ اپنے بندوں کو اپنی لگاتار نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے۔ عطا کرنا اسے محروم کرنے سے زیادہ پسند ہے اور اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب اور اس پر سبقت لے گئی ہے۔ [54] اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے حصول کے کچھ اسباب ہیں، بندہ اگر ان اسباب کو اختیار نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ پر عظیم ترین اور جلیل ترین رحمت و مغفرت کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔ بلکہ خالص توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، دعا، اس کے سامنے عاجزی و انکسار اور اظہار تعبد کے سوا کوئی سبب نہیں۔ پس اس جلیل القدر سبب اور اس عظیم راستے کی طرف بڑھو۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف انابت میں جلدی کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَنِيۡبُوۡۤا اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو ﴿وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ﴾ اور اپنے اپنے جوارح کے ساتھ اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ اگر ’’انابت‘‘ کو مفرد بیان کیا گیا ہو تو اس میں اعمال جوارح بھی داخل ہیں اور اگر ’’انابت‘‘ کو دوسرے امور کے ساتھ بیان کیا گیا ہو جیسا کہ اس مقام پر کیا گیا ہے تو اس کا معنیٰ وہی ہو گا جو ہم نے بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِلٰى رَبِّكُمۡ وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ ﴾ اخلاص پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اخلاص کے بغیر ظاہری اور باطنی اعمال کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ﴿مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو۔‘‘ اور اسے روکا نہ جا سکے گا ﴿ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴾ پھر اس عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔ [55] گویا کہ پوچھا گیا کہ ’’انابت‘‘ اور ’’اسلام‘‘ کیا ہیں ،ان کی جزئیات و اعمال کیا ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿وَاتَّبِعُوۡۤا اَحۡسَنَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور پیروی کرو ان بہترین باتوں کی جو نازل کی گئیں تمھاری طرف تمھارے پروردگار کی طرف سے۔‘‘ یعنی باطنی اعمال کو بجا لاؤ جن کا تمھیں حکم دیا گیا ہے ، مثلاً: محبت الٰہی، خشیت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، اس کے بندوں کی خیرخواہی، ان کے لیے ہمیشہ بھلائی چاہنا اور ان امور سے متضاد امور سے اجتناب اور ظاہری اعمال بجالانا ، مثلاً: نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا، صدقہ دینا اور بھلائی کے مختلف کام کرنا جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور یہی بہترین کام ہیں جن کو ہمارے رب نے ہماری طرف نازل فرمایا ہے ، لہٰذا ان امور میں اپنے رب کے احکام کی تعمیل کرنے والا ’’منیب‘‘ اور ’’مسلم‘‘ ہے۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ بَغۡتَةً وَّاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اور یہ سب کچھ جلدی کرنے اور فرصت سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب ہے۔ [56] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈراتے (اوران کی خیرخواہی کرتے) ہوئے فرمایا: ﴿اَنۡ ﴾ کہ وہ اپنی غفلت پر نہ جمے رہیں یہاں تک کہ وہ دن آجائے جس دن انھیں نادم ہونا پڑے اور اس دن ندامت کسی کام نہیں آئے گی۔ اور ﴿تَقُوۡلَ نَفۡسٌ يّٰحَسۡرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطۡتُّ فِيۡ جَنۢۡبِ اللّٰهِ ﴾ ’’کوئی نفس کہے: اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے اللہ کے حق میں کی۔‘‘ ﴿وَاِنۡ كُنۡتُ ﴾ ’’بے شک میں تو تھا‘‘ دنیا میں ﴿لَمِنَ السّٰخِرِيۡنَ﴾ ’’مذاق اڑانے والوں میں سے‘‘ یعنی میں دنیا میں جزاوسزا کا تمسخر اڑایا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے اسے عیاں (آنکھوں سے) دیکھ لیا۔ [57]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ لَوۡ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰؔىنِيۡ لَكُنۡتُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’یا یوں کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔‘‘ اس مقام پر (لَوْ) تمنا کے معنی میں ہے۔ یعنی کاش اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت عطا کی ہوتی تو میں بھی پرہیز گار بن جاتا اور عذاب سے بچ جاتا اور ثواب کا مستحق بن جاتا۔ یہاں (لو) شرطیہ نہیں ہے اگر یہاں (لو) شرطیہ ہو تا تو ان کو اپنی گمراہی کے لیے قضاوقدر کی حجت ہاتھ آجاتی ہے اور یہ باطل حجت ہے اور قیامت کے روز ہر باطل حجت مضمحل ہو جائے گی۔ [58]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ حِيۡنَ تَرَى الۡعَذَابَ ﴾ ’’یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے۔‘‘ جب اسے عذاب کے وارد ہونے کا یقین ہو جائے گا تو وہ کہے گا ﴿لَوۡ اَنَّ لِيۡ كَرَّةً ﴾ یعنی اگر ایک بار اور مجھے دنیا میں واپس بھیجا جائے تو میں ہوجاؤں گا ﴿مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ نیک عمل کرنے والوں میں سے۔ [59] اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا کہ اس کا دنیا میں دوبارہ بھیجا جانا ممکن ہے نہ مفید، یہ تو محض باطل آرزو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ انسان کو دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا۔ اگر اسے دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو پہلے بیان اور احکام کے بعد اب کوئی نیا بیان اور حکم نہیں آئے گا۔ ﴿بَلٰى قَدۡ جَآءَتۡكَ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی تھیں۔‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں، ایسی دلالت کہ اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا تھا۔ ﴿فَكَذَّبۡتَ بِهَا وَاسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ ’’تونے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا۔‘‘ اور تکبر کی بنا پر تو نے ان کی اتباع نہیں کی ﴿وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو کافر بن گیا۔‘‘ اس لیے دنیا کی طرف لوٹائے جانے کا مطالبہ عبث ہے۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28) ’’اگر انھیں پھر دنیا کی زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا تھا اور بے شک وہ جھوٹے ہیں۔‘‘
39:59

بَلَىٰ قَدۡ جَآءَتۡكَ ءَايَٰتِي فَكَذَّبۡتَ بِهَا وَٱسۡتَكۡبَرۡتَ وَكُنتَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ

کہہ دیجیے: اے میرے بندو! وہ جنھوں نے ظلم کیا ہے اپنی جانوں پر، نہ مایوس ہو تم اللہ کی رحمت سے، بلاشبہ اللہ معاف کر دیتا ہے گناہ سب، یقیناً وہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(53)اور رجوع کرو تم اپنے رب کی طرف اورمطیع ہو جاؤ اس کے پہلے اس کےکہ آ جائے تمھارے پاس عذاب ، پھر نہ تم مدد کیے جاؤ (54) اورپیروی کرو تم اس بہترین بات کی جو نازل کی گئی تمھاری طرف تمھارے رب کی طرف سے پہلے اس کےکہ آجائے تمھارے پاس عذاب اچانک اس حال میں کہ تم نہ شعور رکھتے ہو (55)(ایسا نہ ہو)کہ کہے کوئی نفس، ہائے افسوس اس پر جو کوتاہی کی میں نے اللہ کے حق میں اور بلاشبہ رہا میں ٹھٹھا کرنے والوں میں سے (56) یا کہے اگر بے شک اللہ ہدایت دیتا مجھے تو ضرور ہو جاتا میں پرہیز گاروں میں سے (57) یا کہے جس وقت دیکھے گا عذاب، اگر بے شک (ہو) میرے لیے دوبارہ لوٹنا تو ہو جاؤ ں گا میں نیکوکاروں میں سے (58)کیوں نہیں، تحقیق آئیں تیرے پاس میری آیتیں تو جھٹلایا تو نے ان کو اور تکبر کیا تو نے اور تھا تو کافروں میں سے(59) [53] اللہ تعالیٰ اپنے حد سے بڑھ جانے والے، یعنی بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے، بندوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اس کا فضل و کرم بہت وسیع ہے نیز انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس سے قبل کہ رجوع کرنا ان کے لیے ممکن نہ رہے ، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اور جو کوئی دعوت دین میں آپ کا قائم مقام ہو! اپنے رب کی طرف سے بندوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے‘‘ یعنی جنھوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اور علام الغیوب کی ناراضی کے امور میں کوشاں ہو کر اپنے آپ پر زیادتی کی ﴿لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ کہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالو اور کہنے لگو کہ ہمارے گناہ بہت زیادہ اور ہمارے عیوب بہت بڑھ گئے اب ایسا کوئی طریقہ نہیں جس سے وہ گناہ زائل ہو جائیں ، پھر اس بنا پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مصر رہو اور اس طرح رحمٰنکی ناراضی مول لیتے رہو۔اپنے رب کو اس کے ان اسماء سے پہچانو جو اس کے جودوکرم پر دلالت کرتے ہیں اور جان رکھو کہ بے شک اللہ تعالیٰ ﴿يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا ﴾ ’’سارے ہی گناہ معاف کردیتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ شرک، قتل، زنا ، سودخوری اور ظلم وغیرہ تمام چھوٹے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے‘‘ یعنی مغفرت اور رحمت دونوں اللہ تعالیٰ کے لازم اور ذاتی اوصاف ہیں جو اس کی ذات سے کبھی جدا نہیں ہوتے اور نہ ان کے آثار ہی زائل ہوتے ہیں جو تمام کائنات میں جاری و ساری اور تمام موجودات پر سایہ کناں ہیں۔ دن رات اس کے ہاتھوں کی سخاوت جاری ہے، کھلے اور چھپے وہ اپنے بندوں کو اپنی لگاتار نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے۔ عطا کرنا اسے محروم کرنے سے زیادہ پسند ہے اور اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب اور اس پر سبقت لے گئی ہے۔ [54] اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے حصول کے کچھ اسباب ہیں، بندہ اگر ان اسباب کو اختیار نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ پر عظیم ترین اور جلیل ترین رحمت و مغفرت کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔ بلکہ خالص توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، دعا، اس کے سامنے عاجزی و انکسار اور اظہار تعبد کے سوا کوئی سبب نہیں۔ پس اس جلیل القدر سبب اور اس عظیم راستے کی طرف بڑھو۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف انابت میں جلدی کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَنِيۡبُوۡۤا اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو ﴿وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ﴾ اور اپنے اپنے جوارح کے ساتھ اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ اگر ’’انابت‘‘ کو مفرد بیان کیا گیا ہو تو اس میں اعمال جوارح بھی داخل ہیں اور اگر ’’انابت‘‘ کو دوسرے امور کے ساتھ بیان کیا گیا ہو جیسا کہ اس مقام پر کیا گیا ہے تو اس کا معنیٰ وہی ہو گا جو ہم نے بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِلٰى رَبِّكُمۡ وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ ﴾ اخلاص پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اخلاص کے بغیر ظاہری اور باطنی اعمال کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ﴿مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو۔‘‘ اور اسے روکا نہ جا سکے گا ﴿ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴾ پھر اس عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔ [55] گویا کہ پوچھا گیا کہ ’’انابت‘‘ اور ’’اسلام‘‘ کیا ہیں ،ان کی جزئیات و اعمال کیا ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿وَاتَّبِعُوۡۤا اَحۡسَنَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور پیروی کرو ان بہترین باتوں کی جو نازل کی گئیں تمھاری طرف تمھارے پروردگار کی طرف سے۔‘‘ یعنی باطنی اعمال کو بجا لاؤ جن کا تمھیں حکم دیا گیا ہے ، مثلاً: محبت الٰہی، خشیت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، اس کے بندوں کی خیرخواہی، ان کے لیے ہمیشہ بھلائی چاہنا اور ان امور سے متضاد امور سے اجتناب اور ظاہری اعمال بجالانا ، مثلاً: نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا، صدقہ دینا اور بھلائی کے مختلف کام کرنا جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور یہی بہترین کام ہیں جن کو ہمارے رب نے ہماری طرف نازل فرمایا ہے ، لہٰذا ان امور میں اپنے رب کے احکام کی تعمیل کرنے والا ’’منیب‘‘ اور ’’مسلم‘‘ ہے۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ بَغۡتَةً وَّاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اور یہ سب کچھ جلدی کرنے اور فرصت سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب ہے۔ [56] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈراتے (اوران کی خیرخواہی کرتے) ہوئے فرمایا: ﴿اَنۡ ﴾ کہ وہ اپنی غفلت پر نہ جمے رہیں یہاں تک کہ وہ دن آجائے جس دن انھیں نادم ہونا پڑے اور اس دن ندامت کسی کام نہیں آئے گی۔ اور ﴿تَقُوۡلَ نَفۡسٌ يّٰحَسۡرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطۡتُّ فِيۡ جَنۢۡبِ اللّٰهِ ﴾ ’’کوئی نفس کہے: اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے اللہ کے حق میں کی۔‘‘ ﴿وَاِنۡ كُنۡتُ ﴾ ’’بے شک میں تو تھا‘‘ دنیا میں ﴿لَمِنَ السّٰخِرِيۡنَ﴾ ’’مذاق اڑانے والوں میں سے‘‘ یعنی میں دنیا میں جزاوسزا کا تمسخر اڑایا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے اسے عیاں (آنکھوں سے) دیکھ لیا۔ [57]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ لَوۡ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰؔىنِيۡ لَكُنۡتُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’یا یوں کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔‘‘ اس مقام پر (لَوْ) تمنا کے معنی میں ہے۔ یعنی کاش اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت عطا کی ہوتی تو میں بھی پرہیز گار بن جاتا اور عذاب سے بچ جاتا اور ثواب کا مستحق بن جاتا۔ یہاں (لو) شرطیہ نہیں ہے اگر یہاں (لو) شرطیہ ہو تا تو ان کو اپنی گمراہی کے لیے قضاوقدر کی حجت ہاتھ آجاتی ہے اور یہ باطل حجت ہے اور قیامت کے روز ہر باطل حجت مضمحل ہو جائے گی۔ [58]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ حِيۡنَ تَرَى الۡعَذَابَ ﴾ ’’یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے۔‘‘ جب اسے عذاب کے وارد ہونے کا یقین ہو جائے گا تو وہ کہے گا ﴿لَوۡ اَنَّ لِيۡ كَرَّةً ﴾ یعنی اگر ایک بار اور مجھے دنیا میں واپس بھیجا جائے تو میں ہوجاؤں گا ﴿مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ نیک عمل کرنے والوں میں سے۔ [59] اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا کہ اس کا دنیا میں دوبارہ بھیجا جانا ممکن ہے نہ مفید، یہ تو محض باطل آرزو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ انسان کو دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا۔ اگر اسے دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو پہلے بیان اور احکام کے بعد اب کوئی نیا بیان اور حکم نہیں آئے گا۔ ﴿بَلٰى قَدۡ جَآءَتۡكَ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی تھیں۔‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں، ایسی دلالت کہ اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا تھا۔ ﴿فَكَذَّبۡتَ بِهَا وَاسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ ’’تونے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا۔‘‘ اور تکبر کی بنا پر تو نے ان کی اتباع نہیں کی ﴿وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو کافر بن گیا۔‘‘ اس لیے دنیا کی طرف لوٹائے جانے کا مطالبہ عبث ہے۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28) ’’اگر انھیں پھر دنیا کی زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا تھا اور بے شک وہ جھوٹے ہیں۔‘‘
39:60

وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ تَرَى ٱلَّذِينَ كَذَبُواْ عَلَى ٱللَّهِ وُجُوهُهُم مُّسۡوَدَّةٌۚ أَلَيۡسَ فِي جَهَنَّمَ مَثۡوٗى لِّلۡمُتَكَبِّرِينَ

اوردن قیامت کے آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ پر، ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا؟ (60) اور نجات دے گا اللہ ان لوگوں کو جنھوں نے تقوی اختیار کیا، ساتھ ان کی کامیابی کے، نہیں پہنچے گی ان کو برائی اور نہ وہ غمگین ہوں گے (61) [60] جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں افترا پردازی کی، اللہ تعالیٰ ان کی رسوائی بیان کرتا ہے کہ قیامت کے روز ان کے چہرے سیاہ تاریک رات کی مانند سیاہ ہوں گے، ان کے سیاہ چہروں کی وجہ سے اہل موقف انھیں پہچانیں گے اور روشن صبح کی مانند حق صاف واضح ہو گا۔ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر حق کے چہرے کو جھوٹ کے ساتھ سیاہ کر دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں کو بھی سیاہ کر دیا۔ یہ سزا ان کے عمل کی جنس ہی سے ہے۔ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ان کے لیے جہنم کا نہایت سخت عذاب ہو گا اس لیے فرمایا:﴿اَلَيۡسَ فِيۡ جَهَنَّمَ مَثۡوًى لِّلۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ کیا جو لوگ حق اور اپنے رب کی عبادت کے بارے میں تکبر کا رویہ رکھتے تھے اور اس پر بہتان طرازی کرتے تھے، ان کا ٹھکانا دوزخ میں نہیں اللہ کی قسم! بلاشبہ جہنم میں شدید عذاب، بے انتہا رسوائی اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی ہوگی۔ جہاں متکبرین کو پور ی طرح عذاب دیا جائے گا اور ان سے حق وصول کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا، اس کا بیٹا اور بیوی قرار دینا، اس کی طرف سے کوئی ایسی خبر دینا جو اس کے جلال کے لائق نہ ہو، نبوت کا دعویٰ کرنا، اس کی شریعت میں ایسی بات کہنا جو اس نے نہ کہی ہو اور دعویٰ کرنا کہ اسے اللہ تعالیٰ نے مشروع کیا ہے، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ [61] متکبرین کا حال بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کا حال بیان کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَيُنَجِّي اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا بِمَفَازَتِهِمۡ ﴾ ’’اور جو پرہیز گار ہیں ان کی کامیابی کے سبب اللہ ان کو نجات دے گا۔‘‘ کیونکہ ان کے پاس آلۂ نجات یعنی تقویٰ ہو گا جو ہر شدت اور ہولناکی کے وقت بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ ﴿لَا يَمَسُّهُمُ السُّوۡٓءُ ﴾ یعنی تکلیف دہ عذاب انھیں چھوئے گا نہیں۔ ﴿وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ﴾ ’’اوروہ غمگین نہیں ہوں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب اور خوف کی نفی کر دی اور یہ ا من کی انتہا ہے۔ ان کے لیے مکمل امن ہو گا اور یہ امن ان کے ساتھ رہے گا یہاں تک کہ وہ سلامتی کے گھر یعنی جنت میں داخل ہو جائیں گے تب وہ ہر تکلیف اور ہر برائی سے محفوظ و مامون ہوں گے اور ان پر نعمتوں کی تازگی چھا جائے گی اور وہ پکار اٹھیں گے: ﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَذۡهَبَ عَنَّا الۡحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوۡرٌ شَكُوۡرُ ﴾(فاطر: 35؍34)’’ہر قسم کی تعریف ہے اس ذات کے لیے جس نے ہم سے حزن و غم کو دور کیا بلاشبہ ہمارا رب بخشنے والا قدردان ہے۔‘‘
39:61

وَيُنَجِّي ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ بِمَفَازَتِهِمۡ لَا يَمَسُّهُمُ ٱلسُّوٓءُ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ

اوردن قیامت کے آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ پر، ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا؟ (60) اور نجات دے گا اللہ ان لوگوں کو جنھوں نے تقوی اختیار کیا، ساتھ ان کی کامیابی کے، نہیں پہنچے گی ان کو برائی اور نہ وہ غمگین ہوں گے (61) [60] جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں افترا پردازی کی، اللہ تعالیٰ ان کی رسوائی بیان کرتا ہے کہ قیامت کے روز ان کے چہرے سیاہ تاریک رات کی مانند سیاہ ہوں گے، ان کے سیاہ چہروں کی وجہ سے اہل موقف انھیں پہچانیں گے اور روشن صبح کی مانند حق صاف واضح ہو گا۔ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر حق کے چہرے کو جھوٹ کے ساتھ سیاہ کر دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں کو بھی سیاہ کر دیا۔ یہ سزا ان کے عمل کی جنس ہی سے ہے۔ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ان کے لیے جہنم کا نہایت سخت عذاب ہو گا اس لیے فرمایا:﴿اَلَيۡسَ فِيۡ جَهَنَّمَ مَثۡوًى لِّلۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ کیا جو لوگ حق اور اپنے رب کی عبادت کے بارے میں تکبر کا رویہ رکھتے تھے اور اس پر بہتان طرازی کرتے تھے، ان کا ٹھکانا دوزخ میں نہیں اللہ کی قسم! بلاشبہ جہنم میں شدید عذاب، بے انتہا رسوائی اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی ہوگی۔ جہاں متکبرین کو پور ی طرح عذاب دیا جائے گا اور ان سے حق وصول کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا، اس کا بیٹا اور بیوی قرار دینا، اس کی طرف سے کوئی ایسی خبر دینا جو اس کے جلال کے لائق نہ ہو، نبوت کا دعویٰ کرنا، اس کی شریعت میں ایسی بات کہنا جو اس نے نہ کہی ہو اور دعویٰ کرنا کہ اسے اللہ تعالیٰ نے مشروع کیا ہے، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ [61] متکبرین کا حال بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کا حال بیان کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَيُنَجِّي اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا بِمَفَازَتِهِمۡ ﴾ ’’اور جو پرہیز گار ہیں ان کی کامیابی کے سبب اللہ ان کو نجات دے گا۔‘‘ کیونکہ ان کے پاس آلۂ نجات یعنی تقویٰ ہو گا جو ہر شدت اور ہولناکی کے وقت بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ ﴿لَا يَمَسُّهُمُ السُّوۡٓءُ ﴾ یعنی تکلیف دہ عذاب انھیں چھوئے گا نہیں۔ ﴿وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ﴾ ’’اوروہ غمگین نہیں ہوں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب اور خوف کی نفی کر دی اور یہ ا من کی انتہا ہے۔ ان کے لیے مکمل امن ہو گا اور یہ امن ان کے ساتھ رہے گا یہاں تک کہ وہ سلامتی کے گھر یعنی جنت میں داخل ہو جائیں گے تب وہ ہر تکلیف اور ہر برائی سے محفوظ و مامون ہوں گے اور ان پر نعمتوں کی تازگی چھا جائے گی اور وہ پکار اٹھیں گے: ﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَذۡهَبَ عَنَّا الۡحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوۡرٌ شَكُوۡرُ ﴾(فاطر: 35؍34)’’ہر قسم کی تعریف ہے اس ذات کے لیے جس نے ہم سے حزن و غم کو دور کیا بلاشبہ ہمارا رب بخشنے والا قدردان ہے۔‘‘
39:62

ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ وَكِيلٞ

اللہ ہی خالق ہے ہر چیز کا اور وہ اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (62) اسی کے پاس ہیں چابیاں آسمانوں اور زمین کی اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اللہ کی آیتوں کے ساتھ، یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے (63) [62] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی عظمت و کمال کے متعلق آگاہ فرماتا ہے جو اس شخص کے لیے خسارے کا باعث ہیں جس نے ان کا انکار کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اَللّٰهُ خَالِـقُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یہ عبارت اور اس قسم کی دیگر عبارات، قرآن کریم میں بکثرت ملتی ہیں، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ (اور اس کے اسماء و صفات) کے سوا ہر چیز مخلوق ہے۔ اس آیت کریمہ میں ہر اس شخص کے نظریے کا رد ہے جو مخلوق کے قدیم ہونے کا قائل ہے، مثلاً: فلاسفہ کہتے ہیں کہ یہ آسمان اور زمین قدیم ہیں۔ اسی طرح ان لوگوں کے قول اور دیگر باطل نظریات کا بھی رد ہے جو روح کو قدیم مانتے ہیں۔ اہل باطل کے ان باطل نظریات کو مان لینے سے خالق کا اپنی تخلیق سے معطل ہونا لازم آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کلام مخلوق نہیں کیونکہ کلام متکلم کی صفت ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اسماء و صفات کے ساتھ ہمیشہ سے موجود ہے، اس سے پہلے کچھ بھی موجود نہ تھا۔معتزلہ نے اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات سے یہ استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام مخلوق ہے۔ یہ ان کی سب سے بڑی جہالت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اسماء و صفات سمیت قدیم ہے، اس کی صفات نئی پیدا ہوئی ہیں نہ اس سے کسی صفت کا تعطل ہواہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں خود خبر دی ہے کہ اس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور وہ ہر چیز پر وکیل ہے۔ اور وکالتِ کامل میں وکیل کے لیے لازم ہے کہ وہ جس چیز کی وکالت کر رہا ہے اسے اس کا پورا علم ہو اور وہ اس کی تمام تفاصیل کا احاطہ کیے ہوئے ہو، جس چیز پر وہ وکیل ہے اس میں تصرف کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہو، اس کی حفاظت کر سکتا ہو، تصرف کے تمام پہلوؤ ں کی حکمت اور معرفت رکھتا ہو تاکہ بہترین طریقے سے اس میں تصرف اور اس کی تدبیر کر سکے۔ مذکورہ بالا تمام امور کے بغیر وکالت کی تکمیل ممکن نہیں۔ ان امور میں جتنا نقص واقع ہو گا اس کی وکالت بھی اتنی ہی ناقص ہوگی۔ یہ چیز متحقق اور معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات میں سے ہر صفت میں ہر قسم کے نقص سے منزہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا یہ خبر دینا کہ وہ ہر چیز پر وکیل ہے دلالت کرتا ہے کہ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ ہر چیز کی تدبیر پر کامل قدرت اور کامل حکمت رکھتا ہے جس کے ذریعے سے اس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ [63]﴿لَهٗ مَقَالِيۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔‘‘ یعنی علم اور تدبیر کے لحاظ سے زمین و آسمان کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہیں اس لیے: ﴿مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا١ۚ وَمَا يُمۡسِكۡ١ۙ فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ١ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾(فاطر:35؍2) ’’اللہ اپنے بندوں کے لیے اپنی رحمت کا جو دروازہ کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور اگر وہ اپنی رحمت کو روک لے تو اس کے بعد اسے کوئی کھول نہیں سکتا۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ کی عظمت واضح ہو گئی جو اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ بندوں کے دل اللہ تعالیٰ کے اجلال و اکرام سے لبریز ہوں تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان کیا جن کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہ کی جس طرح قدر کرنے کا حق ہے۔ فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جنھوں نے آیات الٰہی کا انکار کیا‘‘ جو حق، یقین اور صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتی ہیں ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے۔‘‘ یعنی اس چیز کے بارے میں خسارے میں رہے جس سے قلوب کی اصلاح ہوتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے لیے اخلاص۔ جس سے زبانوں کی اصلاح ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوتی ہیں اور جس سے جوارح کی اصلاح ہوتی ہے اور وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کے بدلے انھوں نے ہر وہ چیز لے لی جو قلوب و ابدان کو فاسد کرتی ہے، وہ نعمتوں بھری جنت سے محروم رہے اور اس کے بدلے انھوں نے دردناک عذاب لے لیا۔
39:63

لَّهُۥ مَقَالِيدُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ

اللہ ہی خالق ہے ہر چیز کا اور وہ اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (62) اسی کے پاس ہیں چابیاں آسمانوں اور زمین کی اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اللہ کی آیتوں کے ساتھ، یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے (63) [62] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی عظمت و کمال کے متعلق آگاہ فرماتا ہے جو اس شخص کے لیے خسارے کا باعث ہیں جس نے ان کا انکار کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اَللّٰهُ خَالِـقُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یہ عبارت اور اس قسم کی دیگر عبارات، قرآن کریم میں بکثرت ملتی ہیں، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ (اور اس کے اسماء و صفات) کے سوا ہر چیز مخلوق ہے۔ اس آیت کریمہ میں ہر اس شخص کے نظریے کا رد ہے جو مخلوق کے قدیم ہونے کا قائل ہے، مثلاً: فلاسفہ کہتے ہیں کہ یہ آسمان اور زمین قدیم ہیں۔ اسی طرح ان لوگوں کے قول اور دیگر باطل نظریات کا بھی رد ہے جو روح کو قدیم مانتے ہیں۔ اہل باطل کے ان باطل نظریات کو مان لینے سے خالق کا اپنی تخلیق سے معطل ہونا لازم آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کلام مخلوق نہیں کیونکہ کلام متکلم کی صفت ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اسماء و صفات کے ساتھ ہمیشہ سے موجود ہے، اس سے پہلے کچھ بھی موجود نہ تھا۔معتزلہ نے اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات سے یہ استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام مخلوق ہے۔ یہ ان کی سب سے بڑی جہالت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اسماء و صفات سمیت قدیم ہے، اس کی صفات نئی پیدا ہوئی ہیں نہ اس سے کسی صفت کا تعطل ہواہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں خود خبر دی ہے کہ اس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور وہ ہر چیز پر وکیل ہے۔ اور وکالتِ کامل میں وکیل کے لیے لازم ہے کہ وہ جس چیز کی وکالت کر رہا ہے اسے اس کا پورا علم ہو اور وہ اس کی تمام تفاصیل کا احاطہ کیے ہوئے ہو، جس چیز پر وہ وکیل ہے اس میں تصرف کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہو، اس کی حفاظت کر سکتا ہو، تصرف کے تمام پہلوؤ ں کی حکمت اور معرفت رکھتا ہو تاکہ بہترین طریقے سے اس میں تصرف اور اس کی تدبیر کر سکے۔ مذکورہ بالا تمام امور کے بغیر وکالت کی تکمیل ممکن نہیں۔ ان امور میں جتنا نقص واقع ہو گا اس کی وکالت بھی اتنی ہی ناقص ہوگی۔ یہ چیز متحقق اور معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات میں سے ہر صفت میں ہر قسم کے نقص سے منزہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا یہ خبر دینا کہ وہ ہر چیز پر وکیل ہے دلالت کرتا ہے کہ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ ہر چیز کی تدبیر پر کامل قدرت اور کامل حکمت رکھتا ہے جس کے ذریعے سے اس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ [63]﴿لَهٗ مَقَالِيۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔‘‘ یعنی علم اور تدبیر کے لحاظ سے زمین و آسمان کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہیں اس لیے: ﴿مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا١ۚ وَمَا يُمۡسِكۡ١ۙ فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ١ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾(فاطر:35؍2) ’’اللہ اپنے بندوں کے لیے اپنی رحمت کا جو دروازہ کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور اگر وہ اپنی رحمت کو روک لے تو اس کے بعد اسے کوئی کھول نہیں سکتا۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ کی عظمت واضح ہو گئی جو اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ بندوں کے دل اللہ تعالیٰ کے اجلال و اکرام سے لبریز ہوں تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان کیا جن کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہ کی جس طرح قدر کرنے کا حق ہے۔ فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جنھوں نے آیات الٰہی کا انکار کیا‘‘ جو حق، یقین اور صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتی ہیں ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے۔‘‘ یعنی اس چیز کے بارے میں خسارے میں رہے جس سے قلوب کی اصلاح ہوتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے لیے اخلاص۔ جس سے زبانوں کی اصلاح ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوتی ہیں اور جس سے جوارح کی اصلاح ہوتی ہے اور وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کے بدلے انھوں نے ہر وہ چیز لے لی جو قلوب و ابدان کو فاسد کرتی ہے، وہ نعمتوں بھری جنت سے محروم رہے اور اس کے بدلے انھوں نے دردناک عذاب لے لیا۔
39:64

قُلۡ أَفَغَيۡرَ ٱللَّهِ تَأۡمُرُوٓنِّيٓ أَعۡبُدُ أَيُّهَا ٱلۡجَٰهِلُونَ

کہہ دیجیے:کیا غیر اللہ کی بابت تم حکم دیتے ہو مجھے کہ میں (ان کی) عبادت کروں؟ اے جاہلو! (64) اور البتہ تحقیق وحی کی گئی آپ کی طرف اور ان کی طرف جو آپ سے پہلے ہوئے، کہ البتہ اگر شرک کیا آپ نے تو یقیناً ضائع ہو جائیں گے آپ کے عمل اوریقیناً ہو جائیں گے آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے (65)بلکہ اللہ ہی کی آپ عبادت کریں اورہو جائیں شکر گزاروں میں سے (66) [64]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! ان جہلاء سے، جو آپ کو غیراللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں، کہہ دیجیے:﴿اَفَغَيۡرَ اللّٰهِ تَاۡمُرُوۡٓنِّيۡۤ اَعۡبُدُ اَيُّهَا الۡجٰهِلُوۡنَ ﴾ ’’اے جاہلو! کیا تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں۔‘‘ یہ معاملہ تمھاری جہالت کی بنا پر صادر ہوا ہے ورنہ اگر تمھیں اس بات کا علم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے کامل ہے وہی نعمتیں عطا کرتا ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے اور وہ ہستیاں عبادت کی مستحق نہیں جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں، جو نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، تب تم مجھے ان کی عبادت کا کیوں حکم دیتے ہو؟ شرک اعمال کو ساقط اور احوال کو فاسد کر دیتا ہے۔ [65] بنابریں فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ وَاِلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’(اے نبی!) آپ کی طرف اور ان کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے وحی کی گئی۔‘‘ یعنی تمام انبیائے کرام کی طرف ﴿لَىِٕنۡ اَشۡرَؔكۡتَ لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ ﴾ ’’اگر تم نے شرک کیا تو تمھارے سارے عمل برباد ہوجائیں گے۔‘‘ یہ مفرد مضاف ہے جو تمام اعمال کو متضمن ہے۔ سابقہ جمیع انبیائے کرام کی نبوتوں میں یہ حکم تھا کہ شرک تمام اعمال کو ضائع کردیتا ہے جیسا کہ سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهۡدِيۡ بِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَلَوۡ اَشۡرَؔكُوۡا لَحَبِطَ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍88) ’’یہ ہے اللہ کی ہدایت، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس طرح کی ہدایت دے اور اگر یہ لوگ (انبیائے کرام) شرک کرتے تو ان کا سارا کیا دھرا ضائع ہوجاتا۔‘‘ ﴿وَلَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ (دین اور آخرت کے بارے میں) خسارے میں پڑ جاؤ گے۔‘‘ پس معلوم ہوا کہ شرک سے تمام اعمال اکارت ہو جاتے ہیں اور بندہ عذاب اور سزا کا مستحق بن جاتا ہے۔ [66] پھر فرمایا: ﴿بَلِ اللّٰهَ فَاعۡبُدۡ ﴾ ’’بلکہ آپ اللہ ہی کی عبادت کیجیے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے جب جہلاء کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ وہ آپ کو شرک کا حکم دیتے ہیں اور یہ خبر بھی دی کہ شرک بہت قبیح جرم ہے تو نبیﷺ کو اخلاص کاحکم دیا اور فرمایا: ﴿بَلِ اللّٰهَ فَاعۡبُدۡ ﴾ یعنی اللہ وحدہ لاشریک کے لیے اپنی عبادت کو خالص کیجیے ﴿وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کی توفیق پر اس کا شکر ادا کیجیے۔ جس طرح دنیاوی نعمتوں، مثلاً: جسمانی صحت و عافیت اور حصول رزق وغیرہ پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دینی نعمتوں، مثلاً: توفیقِ اخلاص اور تقویٰ وغیرہ پر بھی اس کا شکر ادا کیا جاتا اوراس کی حمدوثنا کی جاتی ہے۔ بلکہ دینی نعمتیں ہی حقیقی نعمتیں ہیں اور یہ تدبر کرنا کہ یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں اور ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا واجب ہے کیونکہ یہ انسان کو غرور اور خودپسندی کی آفت سے محفوظ رکھتا ہے۔ بہت سے عمل کرنے والے اپنی جہالت کے باعث، اس عجب میں مبتلا ہو جاتے ہیں ورنہ اگر بندہ حقیقت حال کی معرفت حاصل کر لے تو اللہ تعالیٰ کی کسی نعمت پر غرور میں مبتلا نہ ہو جو زیادہ سے زیادہ شکر کی مستحق ہے۔
39:65

وَلَقَدۡ أُوحِيَ إِلَيۡكَ وَإِلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكَ لَئِنۡ أَشۡرَكۡتَ لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ

کہہ دیجیے:کیا غیر اللہ کی بابت تم حکم دیتے ہو مجھے کہ میں (ان کی) عبادت کروں؟ اے جاہلو! (64) اور البتہ تحقیق وحی کی گئی آپ کی طرف اور ان کی طرف جو آپ سے پہلے ہوئے، کہ البتہ اگر شرک کیا آپ نے تو یقیناً ضائع ہو جائیں گے آپ کے عمل اوریقیناً ہو جائیں گے آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے (65)بلکہ اللہ ہی کی آپ عبادت کریں اورہو جائیں شکر گزاروں میں سے (66) [64]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! ان جہلاء سے، جو آپ کو غیراللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں، کہہ دیجیے:﴿اَفَغَيۡرَ اللّٰهِ تَاۡمُرُوۡٓنِّيۡۤ اَعۡبُدُ اَيُّهَا الۡجٰهِلُوۡنَ ﴾ ’’اے جاہلو! کیا تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں۔‘‘ یہ معاملہ تمھاری جہالت کی بنا پر صادر ہوا ہے ورنہ اگر تمھیں اس بات کا علم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے کامل ہے وہی نعمتیں عطا کرتا ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے اور وہ ہستیاں عبادت کی مستحق نہیں جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں، جو نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، تب تم مجھے ان کی عبادت کا کیوں حکم دیتے ہو؟ شرک اعمال کو ساقط اور احوال کو فاسد کر دیتا ہے۔ [65] بنابریں فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ وَاِلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’(اے نبی!) آپ کی طرف اور ان کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے وحی کی گئی۔‘‘ یعنی تمام انبیائے کرام کی طرف ﴿لَىِٕنۡ اَشۡرَؔكۡتَ لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ ﴾ ’’اگر تم نے شرک کیا تو تمھارے سارے عمل برباد ہوجائیں گے۔‘‘ یہ مفرد مضاف ہے جو تمام اعمال کو متضمن ہے۔ سابقہ جمیع انبیائے کرام کی نبوتوں میں یہ حکم تھا کہ شرک تمام اعمال کو ضائع کردیتا ہے جیسا کہ سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهۡدِيۡ بِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَلَوۡ اَشۡرَؔكُوۡا لَحَبِطَ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍88) ’’یہ ہے اللہ کی ہدایت، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس طرح کی ہدایت دے اور اگر یہ لوگ (انبیائے کرام) شرک کرتے تو ان کا سارا کیا دھرا ضائع ہوجاتا۔‘‘ ﴿وَلَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ (دین اور آخرت کے بارے میں) خسارے میں پڑ جاؤ گے۔‘‘ پس معلوم ہوا کہ شرک سے تمام اعمال اکارت ہو جاتے ہیں اور بندہ عذاب اور سزا کا مستحق بن جاتا ہے۔ [66] پھر فرمایا: ﴿بَلِ اللّٰهَ فَاعۡبُدۡ ﴾ ’’بلکہ آپ اللہ ہی کی عبادت کیجیے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے جب جہلاء کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ وہ آپ کو شرک کا حکم دیتے ہیں اور یہ خبر بھی دی کہ شرک بہت قبیح جرم ہے تو نبیﷺ کو اخلاص کاحکم دیا اور فرمایا: ﴿بَلِ اللّٰهَ فَاعۡبُدۡ ﴾ یعنی اللہ وحدہ لاشریک کے لیے اپنی عبادت کو خالص کیجیے ﴿وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کی توفیق پر اس کا شکر ادا کیجیے۔ جس طرح دنیاوی نعمتوں، مثلاً: جسمانی صحت و عافیت اور حصول رزق وغیرہ پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دینی نعمتوں، مثلاً: توفیقِ اخلاص اور تقویٰ وغیرہ پر بھی اس کا شکر ادا کیا جاتا اوراس کی حمدوثنا کی جاتی ہے۔ بلکہ دینی نعمتیں ہی حقیقی نعمتیں ہیں اور یہ تدبر کرنا کہ یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں اور ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا واجب ہے کیونکہ یہ انسان کو غرور اور خودپسندی کی آفت سے محفوظ رکھتا ہے۔ بہت سے عمل کرنے والے اپنی جہالت کے باعث، اس عجب میں مبتلا ہو جاتے ہیں ورنہ اگر بندہ حقیقت حال کی معرفت حاصل کر لے تو اللہ تعالیٰ کی کسی نعمت پر غرور میں مبتلا نہ ہو جو زیادہ سے زیادہ شکر کی مستحق ہے۔
39:66

بَلِ ٱللَّهَ فَٱعۡبُدۡ وَكُن مِّنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ

کہہ دیجیے:کیا غیر اللہ کی بابت تم حکم دیتے ہو مجھے کہ میں (ان کی) عبادت کروں؟ اے جاہلو! (64) اور البتہ تحقیق وحی کی گئی آپ کی طرف اور ان کی طرف جو آپ سے پہلے ہوئے، کہ البتہ اگر شرک کیا آپ نے تو یقیناً ضائع ہو جائیں گے آپ کے عمل اوریقیناً ہو جائیں گے آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے (65)بلکہ اللہ ہی کی آپ عبادت کریں اورہو جائیں شکر گزاروں میں سے (66) [64]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! ان جہلاء سے، جو آپ کو غیراللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں، کہہ دیجیے:﴿اَفَغَيۡرَ اللّٰهِ تَاۡمُرُوۡٓنِّيۡۤ اَعۡبُدُ اَيُّهَا الۡجٰهِلُوۡنَ ﴾ ’’اے جاہلو! کیا تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں۔‘‘ یہ معاملہ تمھاری جہالت کی بنا پر صادر ہوا ہے ورنہ اگر تمھیں اس بات کا علم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے کامل ہے وہی نعمتیں عطا کرتا ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے اور وہ ہستیاں عبادت کی مستحق نہیں جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں، جو نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، تب تم مجھے ان کی عبادت کا کیوں حکم دیتے ہو؟ شرک اعمال کو ساقط اور احوال کو فاسد کر دیتا ہے۔ [65] بنابریں فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ وَاِلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’(اے نبی!) آپ کی طرف اور ان کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے وحی کی گئی۔‘‘ یعنی تمام انبیائے کرام کی طرف ﴿لَىِٕنۡ اَشۡرَؔكۡتَ لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ ﴾ ’’اگر تم نے شرک کیا تو تمھارے سارے عمل برباد ہوجائیں گے۔‘‘ یہ مفرد مضاف ہے جو تمام اعمال کو متضمن ہے۔ سابقہ جمیع انبیائے کرام کی نبوتوں میں یہ حکم تھا کہ شرک تمام اعمال کو ضائع کردیتا ہے جیسا کہ سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهۡدِيۡ بِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَلَوۡ اَشۡرَؔكُوۡا لَحَبِطَ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍88) ’’یہ ہے اللہ کی ہدایت، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس طرح کی ہدایت دے اور اگر یہ لوگ (انبیائے کرام) شرک کرتے تو ان کا سارا کیا دھرا ضائع ہوجاتا۔‘‘ ﴿وَلَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ (دین اور آخرت کے بارے میں) خسارے میں پڑ جاؤ گے۔‘‘ پس معلوم ہوا کہ شرک سے تمام اعمال اکارت ہو جاتے ہیں اور بندہ عذاب اور سزا کا مستحق بن جاتا ہے۔ [66] پھر فرمایا: ﴿بَلِ اللّٰهَ فَاعۡبُدۡ ﴾ ’’بلکہ آپ اللہ ہی کی عبادت کیجیے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے جب جہلاء کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ وہ آپ کو شرک کا حکم دیتے ہیں اور یہ خبر بھی دی کہ شرک بہت قبیح جرم ہے تو نبیﷺ کو اخلاص کاحکم دیا اور فرمایا: ﴿بَلِ اللّٰهَ فَاعۡبُدۡ ﴾ یعنی اللہ وحدہ لاشریک کے لیے اپنی عبادت کو خالص کیجیے ﴿وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کی توفیق پر اس کا شکر ادا کیجیے۔ جس طرح دنیاوی نعمتوں، مثلاً: جسمانی صحت و عافیت اور حصول رزق وغیرہ پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دینی نعمتوں، مثلاً: توفیقِ اخلاص اور تقویٰ وغیرہ پر بھی اس کا شکر ادا کیا جاتا اوراس کی حمدوثنا کی جاتی ہے۔ بلکہ دینی نعمتیں ہی حقیقی نعمتیں ہیں اور یہ تدبر کرنا کہ یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں اور ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا واجب ہے کیونکہ یہ انسان کو غرور اور خودپسندی کی آفت سے محفوظ رکھتا ہے۔ بہت سے عمل کرنے والے اپنی جہالت کے باعث، اس عجب میں مبتلا ہو جاتے ہیں ورنہ اگر بندہ حقیقت حال کی معرفت حاصل کر لے تو اللہ تعالیٰ کی کسی نعمت پر غرور میں مبتلا نہ ہو جو زیادہ سے زیادہ شکر کی مستحق ہے۔
39:67

وَمَا قَدَرُواْ ٱللَّهَ حَقَّ قَدۡرِهِۦ وَٱلۡأَرۡضُ جَمِيعٗا قَبۡضَتُهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَٱلسَّمَٰوَٰتُ مَطۡوِيَّـٰتُۢ بِيَمِينِهِۦۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ

اور نہیں قدر کی انھوں نے اللہ کی جیسا حق ہے اس کی قدر کر نے کا اور زمین سب اس کی مٹھی میں ہو گی دن قیامت کے اور آسمان لپٹے ہوں گے اس کے دائیں ہاتھ میں وہ پاک ہے اور بلند اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (67) [67] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان مشرکین نے اپنے رب کی قدر اور تعظیم نہیں کی جیسا کہ اس کی قدروتعظیم کا حق ہے بلکہ اس کے برعکس انھوں نے ایسے افعال سرانجام دیے جو اس کی تعظیم سے متناقض ہیں، مثلاً: ایسی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا جو اپنے اوصاف و افعال میں ناقص ہیں۔ ان کے اوصاف ہر لحاظ سے ناقص ہیں، اور ان کے افعال ایسے ہیں کہ وہ کسی کو نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم، وہ کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔ پس انھوں نے اس ناقص مخلوق کو، خالق کائنات، رب عظیم کے برابر ٹھہرا دیا جس کی عظمت باہرہ اور قدرت قاہرہ یہ ہے کہ قیامت کے روز، تمام زمین رحمٰن کی مٹھی میں ہوگی اور ساتوں آسمان اپنی وسعتوں اور عظمتوں کے باوجود اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کی تعظیم نہیں کی جیسا کہ اس کی تعظیم کرنے کا حق ہے جس نے دوسری ہستیوں کو اس کے مساوی ٹھہرا دیا۔ جس نے یہ کام کیا اس سے بھی بڑھ کر کوئی ظالم ہے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے منزہ، پاک اور بہت بلند ہے۔
39:68

وَنُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخۡرَىٰ فَإِذَا هُمۡ قِيَامٞ يَنظُرُونَ

اور پھونک ماری جائے گی صور میں تو بیہوش ہو جائے گا جو ہے آسمانوں میں اور جو ہے زمین میں مگر جسے چاہے گا اللہ ، پھر پھونک ماری جائے گی اس میں دوسری مرتبہ تو یکایک وہ کھڑے(ہو کر)دیکھتے ہوں گے (68) اورچمک اٹھے گی زمین اپنے رب کے نور سے اور رکھی جائے گی کتاب اور لائے جائیں گے انبیاء اور گواہ اور فیصلہ کیا جائے گا درمیان ان کے حق کے ساتھ اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(69) اور پورا دیا جائے گا ہر نفس کو (بدلہ اس کا) جو اس نے کیا ہو گا اور وہ خوب جانتا ہے(اس کو)جو وہ کر رہے ہیں (70) [68] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی عظمت کا خوف دلانے کے بعد، قیامت کے احوال کے ذریعے سے انھیں ڈرایا اور انھیں ترغیب و ترہیب دی ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَنُفِخَ فِي الصُّوۡرِ ﴾ ’’اور صور میں پھونکا جائے گا۔‘‘ یہ بہت بڑا سینگ ہے جس کی عظمت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شخص نہیں جانتا یا صرف اس شخص کو علم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مطلع کر دیا ہو، اس صور میں اسرافیلu، جو اللہ تعالیٰ کے مقرب اور اس کا عرش اٹھانے والے فرشتوں میں سے ہیں، پھونک ماریں گے ﴿فَصَعِقَ ﴾ ’’تو بے ہوش ہو جائیں گے یا مر جائیں گے۔ اس بارے میں یہ دونوں قول منقول ہیں۔ ﴿مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘ یعنی زمین اور آسمانوں کی تمام مخلوق جب صور پھونکنے کی آواز سنے گی تو اس کی شدت، اور ان احوال کے بارے میں علم ہونے کے باعث گھبرا اٹھے گی، جن کا یہ آواز مقدمہ ہے۔ ﴿اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جسے اللہ (بچانا) چاہے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے سوا جن کو اللہ تعالیٰ مضبوط اور ثابت قدم رکھے، مثلاً: شہداء اور بعض دیگر لوگ، ان پر بے ہوشی طاری نہیں ہو گی۔ یہ پہلی پھونک نَفْخَۃُ الصَّعْق اور نَفْخَۃُ الْفَزَعْ ہے۔ ﴿ثُمَّ نُفِخَ فِيۡهِ ﴾ ’’ پھر اس میں (ایک اور) پھونک ماری جائے گی۔‘‘ یہ نَفْخَۃُ الْبَعْث ہے ﴿فَاِذَا هُمۡ قِيَامٌ يَّنۡظُرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ فوراً اٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔‘‘ یعنی وہ حساب و کتاب کے لیے اپنی قبروں میں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، جبکہ ان کی تخلیقِ اجساد اور تخلیقِ ارواح مکمل ہوچکی ہو گی۔ ان کی آنکھیں اوپر کو اٹھی ہوئی ہوں گی، وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ [69]﴿وَاَشۡرَقَتِ الۡاَرۡضُ بِنُوۡرِ رَبِّهَا ﴾ ’’اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ موجودہ تمام روشنیاں قیامت کے روز مضمحل ہو کر ختم ہو جائیں گی اور حقیقت میں ایسا ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ (قیامت کے روز)سورج بے نور ہو جائے گا، چاند کی روشنی ختم ہو جائے گی، ستارے بکھر جائیں گے اور لوگ تاریکی میں ڈوب جائیں گے، تب اس وقت زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی جب وہ تجلی فرمائے گا اور بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نازل ہوگا۔ اس دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو ایسی قوت اور ایسی تخلیق عطا کرے گا جس کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ کی تجلی کو برداشت کرنے کی قوت سے سرفراز ہوں گے، اللہ تعالیٰ کا نور ان کو جلا نہیں ڈالے گا، اس دن ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنا ممکن ہو گا، ورنہ اللہ تعالیٰ کا نور اس قدر عظیم ہے کہ اگر وہ اپنے چہرے سے پردہ ہٹا دے تو جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے اس کے چہرے کا نور تمام مخلوق کو جلا کر راکھ کر ڈالے۔﴿وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ ﴾ ’’اور (اعمال کی) کتاب رکھ دی جائے گی۔‘‘ یعنی اعمال نامہ کھول کر پھیلا دیا جائے گا تاکہ بندہ اپنی نیکیوں اور گناہوں کو پڑھ لے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49) ’’اور اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا تو آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ اپنے اعمال نامے کے مندرجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے ہماری ہلاکت! یہ کیسی کتاب ہے کہ ہمارا کوئی چھوٹا بڑا عمل ایسا نہیں جو اس نے درج نہ کیا ہو۔ وہ اپنے تمام اعمال کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اور عمل کرنے والے سے مکمل عدل و انصاف کے ساتھ کہا جائے گا: ﴿اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾(بنی اسراء یل:17؍14) ’’اپنی کتاب (اعمال نامہ )پڑھ، آج اپنا حساب لینے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔‘‘﴿وَجِايۡٓءَ بِالنَّبِيّٖنَ ﴾ ’’اور نبیوں کو لایا جائے گا۔‘‘ تاکہ ان سے تبلیغ اور ان کی امتوں کے رویے کے بارے میں سوال کیا جائے اور یہ ان پر گواہی دیں ﴿وَالشُّهَدَآءِ ﴾ ’’اور گواہ‘‘ یعنی فرشتے، زمین اور انسان کے اعضاء گواہی دیں گے ﴿وَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیاجائے گا۔‘‘ یعنی پورے عدل اور کامل انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ حساب ایسی ہستی کی طرف سے کیاجائے گا جو ذرہ بھر ظلم نہیں کرتی اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس کی کتاب یعنی لوح محفوظ ان کے تمام اعمال پر مشتمل ہے۔ کراماً کاتبین اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرتے، بندے جو عمل بھی کرتے ہیں یہ ان کے اعمال ناموں میں درج کر لیتے ہیں۔ عادل ترین گواہ اس فیصلے میں گواہی دیں گے اور فیصلہ وہ ہستی کرے گی جو اعمال کی مقدار اور ان کے ثواب و عقاب کے استحقاق کی مقدار کو خوب جانتی ہے۔ فیصلہ ہو گا اور تمام مخلوق اس کا اقرار کرے گی۔ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کے عدل کا اعتراف کرے گی وہ اس کی عظمت، اس کے علم و حکمت، اور اس کی رحمت کا اس طرح اعتراف کریں گے کہ دل میں کبھی اس کا خیال گزرا ہوگا نہ ان کی زبانوں نے کبھی اس کی تعبیر کی ہوگی۔ [70] اس لیے فرمایا: ﴿وَوُفِّيَتۡ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِمَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’جس شخص نے جو عمل کیا اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اس کو سب کی خبر ہے۔‘‘
39:69

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ ٱلۡكِتَٰبُ وَجِاْيٓءَ بِٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَقُضِيَ بَيۡنَهُم بِٱلۡحَقِّ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ

اور پھونک ماری جائے گی صور میں تو بیہوش ہو جائے گا جو ہے آسمانوں میں اور جو ہے زمین میں مگر جسے چاہے گا اللہ ، پھر پھونک ماری جائے گی اس میں دوسری مرتبہ تو یکایک وہ کھڑے(ہو کر)دیکھتے ہوں گے (68) اورچمک اٹھے گی زمین اپنے رب کے نور سے اور رکھی جائے گی کتاب اور لائے جائیں گے انبیاء اور گواہ اور فیصلہ کیا جائے گا درمیان ان کے حق کے ساتھ اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(69) اور پورا دیا جائے گا ہر نفس کو (بدلہ اس کا) جو اس نے کیا ہو گا اور وہ خوب جانتا ہے(اس کو)جو وہ کر رہے ہیں (70) [68] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی عظمت کا خوف دلانے کے بعد، قیامت کے احوال کے ذریعے سے انھیں ڈرایا اور انھیں ترغیب و ترہیب دی ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَنُفِخَ فِي الصُّوۡرِ ﴾ ’’اور صور میں پھونکا جائے گا۔‘‘ یہ بہت بڑا سینگ ہے جس کی عظمت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شخص نہیں جانتا یا صرف اس شخص کو علم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مطلع کر دیا ہو، اس صور میں اسرافیلu، جو اللہ تعالیٰ کے مقرب اور اس کا عرش اٹھانے والے فرشتوں میں سے ہیں، پھونک ماریں گے ﴿فَصَعِقَ ﴾ ’’تو بے ہوش ہو جائیں گے یا مر جائیں گے۔ اس بارے میں یہ دونوں قول منقول ہیں۔ ﴿مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘ یعنی زمین اور آسمانوں کی تمام مخلوق جب صور پھونکنے کی آواز سنے گی تو اس کی شدت، اور ان احوال کے بارے میں علم ہونے کے باعث گھبرا اٹھے گی، جن کا یہ آواز مقدمہ ہے۔ ﴿اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جسے اللہ (بچانا) چاہے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے سوا جن کو اللہ تعالیٰ مضبوط اور ثابت قدم رکھے، مثلاً: شہداء اور بعض دیگر لوگ، ان پر بے ہوشی طاری نہیں ہو گی۔ یہ پہلی پھونک نَفْخَۃُ الصَّعْق اور نَفْخَۃُ الْفَزَعْ ہے۔ ﴿ثُمَّ نُفِخَ فِيۡهِ ﴾ ’’ پھر اس میں (ایک اور) پھونک ماری جائے گی۔‘‘ یہ نَفْخَۃُ الْبَعْث ہے ﴿فَاِذَا هُمۡ قِيَامٌ يَّنۡظُرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ فوراً اٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔‘‘ یعنی وہ حساب و کتاب کے لیے اپنی قبروں میں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، جبکہ ان کی تخلیقِ اجساد اور تخلیقِ ارواح مکمل ہوچکی ہو گی۔ ان کی آنکھیں اوپر کو اٹھی ہوئی ہوں گی، وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ [69]﴿وَاَشۡرَقَتِ الۡاَرۡضُ بِنُوۡرِ رَبِّهَا ﴾ ’’اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ موجودہ تمام روشنیاں قیامت کے روز مضمحل ہو کر ختم ہو جائیں گی اور حقیقت میں ایسا ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ (قیامت کے روز)سورج بے نور ہو جائے گا، چاند کی روشنی ختم ہو جائے گی، ستارے بکھر جائیں گے اور لوگ تاریکی میں ڈوب جائیں گے، تب اس وقت زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی جب وہ تجلی فرمائے گا اور بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نازل ہوگا۔ اس دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو ایسی قوت اور ایسی تخلیق عطا کرے گا جس کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ کی تجلی کو برداشت کرنے کی قوت سے سرفراز ہوں گے، اللہ تعالیٰ کا نور ان کو جلا نہیں ڈالے گا، اس دن ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنا ممکن ہو گا، ورنہ اللہ تعالیٰ کا نور اس قدر عظیم ہے کہ اگر وہ اپنے چہرے سے پردہ ہٹا دے تو جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے اس کے چہرے کا نور تمام مخلوق کو جلا کر راکھ کر ڈالے۔﴿وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ ﴾ ’’اور (اعمال کی) کتاب رکھ دی جائے گی۔‘‘ یعنی اعمال نامہ کھول کر پھیلا دیا جائے گا تاکہ بندہ اپنی نیکیوں اور گناہوں کو پڑھ لے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49) ’’اور اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا تو آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ اپنے اعمال نامے کے مندرجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے ہماری ہلاکت! یہ کیسی کتاب ہے کہ ہمارا کوئی چھوٹا بڑا عمل ایسا نہیں جو اس نے درج نہ کیا ہو۔ وہ اپنے تمام اعمال کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اور عمل کرنے والے سے مکمل عدل و انصاف کے ساتھ کہا جائے گا: ﴿اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾(بنی اسراء یل:17؍14) ’’اپنی کتاب (اعمال نامہ )پڑھ، آج اپنا حساب لینے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔‘‘﴿وَجِايۡٓءَ بِالنَّبِيّٖنَ ﴾ ’’اور نبیوں کو لایا جائے گا۔‘‘ تاکہ ان سے تبلیغ اور ان کی امتوں کے رویے کے بارے میں سوال کیا جائے اور یہ ان پر گواہی دیں ﴿وَالشُّهَدَآءِ ﴾ ’’اور گواہ‘‘ یعنی فرشتے، زمین اور انسان کے اعضاء گواہی دیں گے ﴿وَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیاجائے گا۔‘‘ یعنی پورے عدل اور کامل انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ حساب ایسی ہستی کی طرف سے کیاجائے گا جو ذرہ بھر ظلم نہیں کرتی اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس کی کتاب یعنی لوح محفوظ ان کے تمام اعمال پر مشتمل ہے۔ کراماً کاتبین اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرتے، بندے جو عمل بھی کرتے ہیں یہ ان کے اعمال ناموں میں درج کر لیتے ہیں۔ عادل ترین گواہ اس فیصلے میں گواہی دیں گے اور فیصلہ وہ ہستی کرے گی جو اعمال کی مقدار اور ان کے ثواب و عقاب کے استحقاق کی مقدار کو خوب جانتی ہے۔ فیصلہ ہو گا اور تمام مخلوق اس کا اقرار کرے گی۔ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کے عدل کا اعتراف کرے گی وہ اس کی عظمت، اس کے علم و حکمت، اور اس کی رحمت کا اس طرح اعتراف کریں گے کہ دل میں کبھی اس کا خیال گزرا ہوگا نہ ان کی زبانوں نے کبھی اس کی تعبیر کی ہوگی۔ [70] اس لیے فرمایا: ﴿وَوُفِّيَتۡ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِمَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’جس شخص نے جو عمل کیا اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اس کو سب کی خبر ہے۔‘‘
39:70

وَوُفِّيَتۡ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا عَمِلَتۡ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِمَا يَفۡعَلُونَ

اور پھونک ماری جائے گی صور میں تو بیہوش ہو جائے گا جو ہے آسمانوں میں اور جو ہے زمین میں مگر جسے چاہے گا اللہ ، پھر پھونک ماری جائے گی اس میں دوسری مرتبہ تو یکایک وہ کھڑے(ہو کر)دیکھتے ہوں گے (68) اورچمک اٹھے گی زمین اپنے رب کے نور سے اور رکھی جائے گی کتاب اور لائے جائیں گے انبیاء اور گواہ اور فیصلہ کیا جائے گا درمیان ان کے حق کے ساتھ اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(69) اور پورا دیا جائے گا ہر نفس کو (بدلہ اس کا) جو اس نے کیا ہو گا اور وہ خوب جانتا ہے(اس کو)جو وہ کر رہے ہیں (70) [68] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی عظمت کا خوف دلانے کے بعد، قیامت کے احوال کے ذریعے سے انھیں ڈرایا اور انھیں ترغیب و ترہیب دی ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَنُفِخَ فِي الصُّوۡرِ ﴾ ’’اور صور میں پھونکا جائے گا۔‘‘ یہ بہت بڑا سینگ ہے جس کی عظمت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شخص نہیں جانتا یا صرف اس شخص کو علم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مطلع کر دیا ہو، اس صور میں اسرافیلu، جو اللہ تعالیٰ کے مقرب اور اس کا عرش اٹھانے والے فرشتوں میں سے ہیں، پھونک ماریں گے ﴿فَصَعِقَ ﴾ ’’تو بے ہوش ہو جائیں گے یا مر جائیں گے۔ اس بارے میں یہ دونوں قول منقول ہیں۔ ﴿مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘ یعنی زمین اور آسمانوں کی تمام مخلوق جب صور پھونکنے کی آواز سنے گی تو اس کی شدت، اور ان احوال کے بارے میں علم ہونے کے باعث گھبرا اٹھے گی، جن کا یہ آواز مقدمہ ہے۔ ﴿اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جسے اللہ (بچانا) چاہے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے سوا جن کو اللہ تعالیٰ مضبوط اور ثابت قدم رکھے، مثلاً: شہداء اور بعض دیگر لوگ، ان پر بے ہوشی طاری نہیں ہو گی۔ یہ پہلی پھونک نَفْخَۃُ الصَّعْق اور نَفْخَۃُ الْفَزَعْ ہے۔ ﴿ثُمَّ نُفِخَ فِيۡهِ ﴾ ’’ پھر اس میں (ایک اور) پھونک ماری جائے گی۔‘‘ یہ نَفْخَۃُ الْبَعْث ہے ﴿فَاِذَا هُمۡ قِيَامٌ يَّنۡظُرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ فوراً اٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔‘‘ یعنی وہ حساب و کتاب کے لیے اپنی قبروں میں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، جبکہ ان کی تخلیقِ اجساد اور تخلیقِ ارواح مکمل ہوچکی ہو گی۔ ان کی آنکھیں اوپر کو اٹھی ہوئی ہوں گی، وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔ [69]﴿وَاَشۡرَقَتِ الۡاَرۡضُ بِنُوۡرِ رَبِّهَا ﴾ ’’اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ موجودہ تمام روشنیاں قیامت کے روز مضمحل ہو کر ختم ہو جائیں گی اور حقیقت میں ایسا ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ (قیامت کے روز)سورج بے نور ہو جائے گا، چاند کی روشنی ختم ہو جائے گی، ستارے بکھر جائیں گے اور لوگ تاریکی میں ڈوب جائیں گے، تب اس وقت زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی جب وہ تجلی فرمائے گا اور بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نازل ہوگا۔ اس دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو ایسی قوت اور ایسی تخلیق عطا کرے گا جس کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ کی تجلی کو برداشت کرنے کی قوت سے سرفراز ہوں گے، اللہ تعالیٰ کا نور ان کو جلا نہیں ڈالے گا، اس دن ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنا ممکن ہو گا، ورنہ اللہ تعالیٰ کا نور اس قدر عظیم ہے کہ اگر وہ اپنے چہرے سے پردہ ہٹا دے تو جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے اس کے چہرے کا نور تمام مخلوق کو جلا کر راکھ کر ڈالے۔﴿وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ ﴾ ’’اور (اعمال کی) کتاب رکھ دی جائے گی۔‘‘ یعنی اعمال نامہ کھول کر پھیلا دیا جائے گا تاکہ بندہ اپنی نیکیوں اور گناہوں کو پڑھ لے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49) ’’اور اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا تو آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ اپنے اعمال نامے کے مندرجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے ہماری ہلاکت! یہ کیسی کتاب ہے کہ ہمارا کوئی چھوٹا بڑا عمل ایسا نہیں جو اس نے درج نہ کیا ہو۔ وہ اپنے تمام اعمال کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اور عمل کرنے والے سے مکمل عدل و انصاف کے ساتھ کہا جائے گا: ﴿اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾(بنی اسراء یل:17؍14) ’’اپنی کتاب (اعمال نامہ )پڑھ، آج اپنا حساب لینے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔‘‘﴿وَجِايۡٓءَ بِالنَّبِيّٖنَ ﴾ ’’اور نبیوں کو لایا جائے گا۔‘‘ تاکہ ان سے تبلیغ اور ان کی امتوں کے رویے کے بارے میں سوال کیا جائے اور یہ ان پر گواہی دیں ﴿وَالشُّهَدَآءِ ﴾ ’’اور گواہ‘‘ یعنی فرشتے، زمین اور انسان کے اعضاء گواہی دیں گے ﴿وَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیاجائے گا۔‘‘ یعنی پورے عدل اور کامل انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ حساب ایسی ہستی کی طرف سے کیاجائے گا جو ذرہ بھر ظلم نہیں کرتی اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس کی کتاب یعنی لوح محفوظ ان کے تمام اعمال پر مشتمل ہے۔ کراماً کاتبین اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرتے، بندے جو عمل بھی کرتے ہیں یہ ان کے اعمال ناموں میں درج کر لیتے ہیں۔ عادل ترین گواہ اس فیصلے میں گواہی دیں گے اور فیصلہ وہ ہستی کرے گی جو اعمال کی مقدار اور ان کے ثواب و عقاب کے استحقاق کی مقدار کو خوب جانتی ہے۔ فیصلہ ہو گا اور تمام مخلوق اس کا اقرار کرے گی۔ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کے عدل کا اعتراف کرے گی وہ اس کی عظمت، اس کے علم و حکمت، اور اس کی رحمت کا اس طرح اعتراف کریں گے کہ دل میں کبھی اس کا خیال گزرا ہوگا نہ ان کی زبانوں نے کبھی اس کی تعبیر کی ہوگی۔ [70] اس لیے فرمایا: ﴿وَوُفِّيَتۡ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِمَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’جس شخص نے جو عمل کیا اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اس کو سب کی خبر ہے۔‘‘
39:71

وَسِيقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ جَهَنَّمَ زُمَرًاۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوهَا فُتِحَتۡ أَبۡوَٰبُهَا وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَآ أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ رُسُلٞ مِّنكُمۡ يَتۡلُونَ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتِ رَبِّكُمۡ وَيُنذِرُونَكُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هَٰذَاۚ قَالُواْ بَلَىٰ وَلَٰكِنۡ حَقَّتۡ كَلِمَةُ ٱلۡعَذَابِ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ

اور ہانک کر لے جائے جائیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا جہنم کی طرف گروہ گروہ یہاں تک کہ جب آئیں گے وہ اس کےپاس تو کھول دیے جائیں گے دروازے اس کےاور کہیں گے ان سے داروغے اس کے، کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے جو پڑھتے (تھے) تم پر آیتیں تمھارے رب کی اور ڈراتے (تھے) تم کو تمھاری اس دن کی ملاقات سے؟ وہ کہیں گے(ہاں)کیوں نہیں، اور لیکن ثابت ہو گئی بات عذاب کی اوپر کافروں کے (71) کہا جائے گا: داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ رہو گے اس میں، پس برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا (72) اور لے جائے جائیں گے وہ لوگ جو ڈرتے تھے اپنے رب سے، طرف جنت کی گروہ گروہ حتی کہ جب آئیں گے وہ اس کے پاس اورکھلے ہوں گے دروازے اس کےاورکہیں گے ان سے اس کےدربان ، سلام ہو تم پر، تم پاکیزہ رہے، پس داخل ہو جاؤ تم اس میں ہمیشہ رہنے والے (73) اور وہ کہیں گے: سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہ جس نے سچا کیا ہم سے اپنا وعدہ اور وارث کر دیا ہمیں اس زمین کا ہم ٹھکانا بنائیں جنت میں جہاں ہم چاہیں، پس اچھا ہے اجر عمل کرنے والوں کا (74) اور دیکھیں گے آپ فرشتوں کو گھیرے ہوئے عرش کے اردگردکو، پاکیزگی بیان کرتے ہوں گے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور فیصلہ کیا جائے گا درمیان ان کے سا تھ حق کے اور کہا جائے گا سب تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں(75) [71] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کا ذکر فرمایا جن کو اس نے تخلیق، رزق اور تدبیر میں اکٹھا کیا، دنیا کے اندر وہ سب اکٹھے رہے، قیامت کے روز بھی اکٹھے ہوں گے مگر ان کی جزا کے وقت ان کے درمیان اسی طرح تفریق کر دی جائے گی جس طرح دنیا میں ایمان اور کفر، تقویٰ اور فسق و فجور کے اعتبار سے ان کے درمیان فرق تھا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے کفر کیا انھیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔‘‘ یعنی کافروں کو نہایت سختی سے جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ انتہائی سخت فرشتے کوڑوں سے مارتے ہوئے، بہت برے قید خانے، بدترین جگہ یعنی جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ جہاں ہر قسم کا عذاب جمع ہو گا اور ہر قسم کی بدبختی موجود ہو گی۔ جہاں ہر سرور زائل ہو جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾(الطور: 52؍13) ’’جس روز انھیں آتش جہنم کی طرف دھکیل دھکیل کر لے جایا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو دھکے دے کر جہنم میں پھینکا جائے گا کیونکہ وہ جہنم میں داخل ہونے سے مزاحمت کریں گے، ان کو جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ ﴿زُمَرًا ﴾ متفرق جماعتوں کی صورت میں ہرگروہ اس گروہ کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ اس کے اعمال مناسبت رکھتے ہوں گے اور جن کے کرتوت ایک دوسرے کے مشابہ ہوں گے۔ وہ ایک دوسرے کو لعنت ملامت اور ایک دوسرے سے براء ت اور بیزاری کا اظہار کریں گے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡهَا ﴾ یعنی جب جہنم کے قریب پہنچیں گے ﴿فُتِحَتۡ﴾ ’’کھول دیے جائیں گے‘‘ ان کے لیے یعنی ان کی خاطر ﴿اَبۡوَابُهَا ﴾ ’’اس کے دروازے۔‘‘ ان کی آمد اور مہمانی کرتے ہوئے جہنم کے دروازے کھولے جائیں گے۔ ﴿وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ ﴾ جہنم کے داروغے ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی مبارک دیں گے اور ان اعمال پر، جن کے سبب سے وہ اس بدترین جگہ پر پہنچے، انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہیں گے:﴿اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّؔنۡكُمۡ ﴾’’کیا تمھارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے، جنھیں تم پہچانتے اور ان کی صداقت کو خوب جانتے تھے اور تم ان سے ہدایت حاصل کر سکتے تھے؟﴿يَتۡلُوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِ رَبِّكُمۡ ﴾ ’’وہ تم کو تمھارے رب کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے۔‘‘ جن آیات کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء و مرسلین کو مبعوث فرمایا تھا جو روشن ترین دلائل و براہین کے ذریعے سے حق الیقین پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَيُنۡذِرُوۡنَكُمۡ۠ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’اور وہ تمھیں اس دن کے پیش آنے (ملاقات) سے ڈراتے تھے۔‘‘ اور یہ چیز اس دن کے ڈر کو مد نظر رکھتے ہوئے تمھارے ان رسولوں کی اتباع اور اس دن کے عذاب سے بچنے کی موجب تھی، مگر تمھارا حال اس مطلوبہ حال کے بالکل برعکس تھا۔ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ اپنے گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہونے کا اعتراف و اقرار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿بَلٰى ﴾ کیوں نہیں! ہمارے پاس ہمارے رب کے رسول واضح دلائل اور نشانیوں کے ساتھ آئے، انھوں نے ان نشانیوں کو ہمارے سامنے پوری طرح واضح کر دیا تھا اور انھوں نے ہمیں آج کے دن سے ڈرایا تھا ﴿وَلٰكِنۡ حَقَّتۡ كَلِمَةُ الۡعَذَابِ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’لیکن عذاب کا حکم (وعدہ) کافروں پر ثابت ہوکر رہا۔‘‘ یعنی ان کے کفر کے سبب سے ان پر عذاب واجب ہو گیا۔ یہ عذاب ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتا ہے اور اس چیزکو جھٹلاتا ہے جسے لے کر انبیاء ورسل مبعوث ہوئے۔ پس یہ کفار اپنے گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی حجت کے قائم ہونے کا اعتراف کریں گے۔ [72]﴿قِيۡلَ ﴾ انھیں ذلیل و رسوا کرتے ہوئے کہا جائے گا: ﴿ادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ۔‘‘ ہر گروہ اس دروازے سے جہنم میں داخل ہو گا جو اس کے مناسب اور موافق حال ہو گا۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ وہاں ابدا لآباد تک رہیں گے۔ وہ وہاں سے کبھی کوچ نہیں کریں گے، ایک گھڑی کے لیے ان سے عذاب دور نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ ’’پس تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔‘‘ یعنی جہنم ان کا ٹھکانا ہے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ یہ سب کچھ اس پاداش میں ہے کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کی جزا ان کے عمل کی جنس سے دی ہے، اہانت، ذلت اور رسوائی ان کی سزا ہے۔ [73] پھر اہل جنت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے تھے انھیں لے جایا جائے گا‘‘ متقین کو اللہ تعالیٰ کی توحید، ان کے عمل اور اطاعت کے سبب سے نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ وفدوں کی صورت میں ﴿اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾ ’’جنت کی طرف گروہ در گروہ۔‘‘ وہ خوش و خرم جنت میں جائیں گے۔ ہر جماعت ایسی جماعت کی معیت میں جنت میں داخل ہو گی جس کے ساتھ وہ عمل میں مشابہت رکھتی ہوگی۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡهَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے‘‘ یعنی جب یہ لوگ کشادہ اورخوبصورت جنتوں میں پہنچیں گے، بادنسیم کے جھونکے ان کااستقبال کریں گے، یہ نعمتیں اور جنتیں ہمیشہ رہیں گی۔ ﴿وَفُتِحَتۡ﴾ ’’اور کھول دیے جائیں گے‘‘ ان کے لیے ﴿ اَبۡوَابُهَا ﴾’’اس کے دروازے۔‘‘ سب سے زیادہ باعزت مخلوق کے لیے، عزت و اکرام کے ساتھ جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے تاکہ جنت میں ان کی عزت و تکریم ہو ﴿وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَا ﴾ اور جنت کے دربان ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہیں گے ﴿سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر سلامتی ہو‘‘ تم ہر آفت اوربرے حال سے سلامت اور محفوظ ہو ﴿طِبۡتُمۡ ﴾ تمھارے دل اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اس کی خشیت کے باعث، تمھاری زبانیں اس کے ذکر اور تمھارے جوارح اس کی اطاعت کے باعث اچھے رہے، لہٰذا اپنی اچھائی کے سبب سے ﴿فَادۡخُلُوۡهَا خٰؔلِدِيۡنَ ﴾ ’’اس جنت میں ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ۔‘‘ یہ پاک اور طیب گھر ہے اور طیبین کے سوا کسی کے لائق نہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہنم کے بارے میں فرمایا: ﴿فُتِحَتۡ اَبۡوَابُهَا ﴾ اور جنت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَفُتِحَتۡ ﴾ یعنی واؤ کے ساتھ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل جہنم کے وہاں مجرد پہنچنے پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے، انھیں انتظار کی مہلت نہیں دی جائے گی، جہنم کے دروازے ان کے پہنچنے پر اور ان کے سامنے ، اس لیے کھلیں گے کہ اس کی حرارت بہت زیادہ اور اس کا عذاب انتہائی شدید ہوگا۔ رہی جنت، تو یہ بہت ہی عالی مرتبہ مقام ہے، جہاں ہر شخص نہیں پہنچ سکتا۔ صرف وہی شخص جنت تک پہنچ سکتا ہے جو ان وسائل کو اختیار کرتا ہے جو جنت تک پہنچاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ جنت میں داخل ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل تکریم ہستی کی سفارش کے محتاج ہوں گے۔ مجرد وہاں پہنچنے پر ان کے لیے جنت کے دروازے نہیں کھول دیے جائیں گے بلکہ وہ جناب نبی مصطفیٰ محمد ﷺ سے سفارش کرائیں گے، آپ اہل ایمان کی سفارش کریں گے اور اللہ تعالیٰ آپﷺ کی سفارش کو قبول فرمائے گا۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ جہنم اور جنت کے دروازے ہوں گے، جو کھولے اور بند کیے جا سکیں گے۔ اور ہر دروازے پر داروغہ مقرر ہو گا۔ یہ خالص گھر ہیں جہاں صرف وہی شخص داخل ہو سکے گا جو ان کا مستحق ہو گا بخلاف عام گھروں اور جگہوں کے، جہاں ہر کوئی داخل ہو سکتا ہے۔ [74]﴿وَقَالُوا ﴾ وہ جنت میں داخل ہو کر، اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے ہدایت عطا کرنے پر، اس کی حمدوثنا بیان کرتے ہوئے کہیں گے:﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ صَدَقَنَا وَعۡدَهٗ﴾ ’’اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچا کر دکھایا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبانوں پر ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ اگر ہم ایمان لے آئے اور نیک عمل کیے تو وہ ہمیں جنت عطا کرے گا ۔پس اس نے اپنا وعدہ ایفاء کر کے ہماری آرزو پوری کر دی ﴿وَاَوۡرَثَنَا الۡاَرۡضَ ﴾ ’’اور ہمیں زمین کا وارث بنایا‘‘ یعنی جنت کی زمین کا۔ ﴿نَتَبَوَّاُ مِنَ الۡؔجَنَّةِ حَيۡثُ نَشَآءُ ﴾ یعنی ہم جنت میں جس جگہ بھی چاہیں ٹھہر سکتے ہیں اور اس کی نعمتوں سے جو چیز بھی چاہیں لے سکتے ہیں۔ ہمارے لیے کوئی چیز ممنوع نہیں جس کا ارادہ کریں ﴿فَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ ﴾ ’’پس (نیک) عمل کرنے والوں کا بدلہ بھی کیسا خوب ہے۔‘‘ جنھوں نے ختم ہو جانے والی نہایت قلیل سی مدت میں اپنے رب کی اطاعت کے لیے کوشش کی اور اس کے بدلے انھوں نے خیرعظیم حاصل کی جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ یہ ہے وہ گھر جو حقیقی مدح کا مستحق ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو سرفراز فرمائے گا، جوادوکریم اللہ نے ان کے لیے جنت کے گھر کی مہمانی کو پسند فرمایا ہے، اللہ نے اس گھر کو نہایت بلند اور خوبصورت بنایا ہے۔ اس میں اپنے ہاتھوں سے انواع و اقسام کے درخت اور پودے لگائے ہیں۔ اسے اپنی رحمت و تکریم سے لبریز کیاہے جس کے ادنیٰ حصے سے غم زدہ کو فرحت حاصل ہو گی اور تمام تکدر ختم ہو کر صفا کی تکمیل ہو جائے گی۔ [75]﴿وَتَرَى الۡمَلٰٓىِٕكَةَ ﴾ اے دیکھنے والے! تو اس عظیم دن، فرشتوں کو دیکھے گا کہ ﴿حَآفِّيۡنَ مِنۡ حَوۡلِ الۡعَرۡشِ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کے جلال کے سامنے سرافگندہ، اس کے جمال میں مستغرق ہو کر اور اس کے کمال کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے عرش کے اردگرد اس کی خدمت میں جمع ہوں گے۔ ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾یعنی وہ اپنے رب کی ہر اس وصف سے تنزیہ و تقدیس کریں گے جو اس کے جلال کے لائق نہیں، جو مشرکین نے اس کی طرف منسوب کیے ہیں یا نہیں کیے۔﴿وَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی اولین و آخرین تمام مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا ﴿بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ حق کے ساتھ۔‘‘ جس میں کوئی اشتباہ ہو گا نہ وہ شخص انکار کر سکے گا جس کے ذمہ یہ حق ہو گا۔ ﴿وَقِيۡلَ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: ہر طرح کی حمد و تعریف اللہ ہی کو سزاوار ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یہاں قائل کا ذکر نہیں کیا گیا تاکہ اس بات کی دلیل ہو کہ تمام مخلوق اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے میں اس کی حکمت پر اس کی حمد بیان کرے گی یعنی فضل و احسان کی حمد اور عدل و حکمت کی حمد۔
39:72

قِيلَ ٱدۡخُلُوٓاْ أَبۡوَٰبَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَاۖ فَبِئۡسَ مَثۡوَى ٱلۡمُتَكَبِّرِينَ

اور ہانک کر لے جائے جائیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا جہنم کی طرف گروہ گروہ یہاں تک کہ جب آئیں گے وہ اس کےپاس تو کھول دیے جائیں گے دروازے اس کےاور کہیں گے ان سے داروغے اس کے، کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے جو پڑھتے (تھے) تم پر آیتیں تمھارے رب کی اور ڈراتے (تھے) تم کو تمھاری اس دن کی ملاقات سے؟ وہ کہیں گے(ہاں)کیوں نہیں، اور لیکن ثابت ہو گئی بات عذاب کی اوپر کافروں کے (71) کہا جائے گا: داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ رہو گے اس میں، پس برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا (72) اور لے جائے جائیں گے وہ لوگ جو ڈرتے تھے اپنے رب سے، طرف جنت کی گروہ گروہ حتی کہ جب آئیں گے وہ اس کے پاس اورکھلے ہوں گے دروازے اس کےاورکہیں گے ان سے اس کےدربان ، سلام ہو تم پر، تم پاکیزہ رہے، پس داخل ہو جاؤ تم اس میں ہمیشہ رہنے والے (73) اور وہ کہیں گے: سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہ جس نے سچا کیا ہم سے اپنا وعدہ اور وارث کر دیا ہمیں اس زمین کا ہم ٹھکانا بنائیں جنت میں جہاں ہم چاہیں، پس اچھا ہے اجر عمل کرنے والوں کا (74) اور دیکھیں گے آپ فرشتوں کو گھیرے ہوئے عرش کے اردگردکو، پاکیزگی بیان کرتے ہوں گے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور فیصلہ کیا جائے گا درمیان ان کے سا تھ حق کے اور کہا جائے گا سب تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں(75) [71] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کا ذکر فرمایا جن کو اس نے تخلیق، رزق اور تدبیر میں اکٹھا کیا، دنیا کے اندر وہ سب اکٹھے رہے، قیامت کے روز بھی اکٹھے ہوں گے مگر ان کی جزا کے وقت ان کے درمیان اسی طرح تفریق کر دی جائے گی جس طرح دنیا میں ایمان اور کفر، تقویٰ اور فسق و فجور کے اعتبار سے ان کے درمیان فرق تھا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے کفر کیا انھیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔‘‘ یعنی کافروں کو نہایت سختی سے جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ انتہائی سخت فرشتے کوڑوں سے مارتے ہوئے، بہت برے قید خانے، بدترین جگہ یعنی جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ جہاں ہر قسم کا عذاب جمع ہو گا اور ہر قسم کی بدبختی موجود ہو گی۔ جہاں ہر سرور زائل ہو جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾(الطور: 52؍13) ’’جس روز انھیں آتش جہنم کی طرف دھکیل دھکیل کر لے جایا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو دھکے دے کر جہنم میں پھینکا جائے گا کیونکہ وہ جہنم میں داخل ہونے سے مزاحمت کریں گے، ان کو جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ ﴿زُمَرًا ﴾ متفرق جماعتوں کی صورت میں ہرگروہ اس گروہ کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ اس کے اعمال مناسبت رکھتے ہوں گے اور جن کے کرتوت ایک دوسرے کے مشابہ ہوں گے۔ وہ ایک دوسرے کو لعنت ملامت اور ایک دوسرے سے براء ت اور بیزاری کا اظہار کریں گے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡهَا ﴾ یعنی جب جہنم کے قریب پہنچیں گے ﴿فُتِحَتۡ﴾ ’’کھول دیے جائیں گے‘‘ ان کے لیے یعنی ان کی خاطر ﴿اَبۡوَابُهَا ﴾ ’’اس کے دروازے۔‘‘ ان کی آمد اور مہمانی کرتے ہوئے جہنم کے دروازے کھولے جائیں گے۔ ﴿وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ ﴾ جہنم کے داروغے ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی مبارک دیں گے اور ان اعمال پر، جن کے سبب سے وہ اس بدترین جگہ پر پہنچے، انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہیں گے:﴿اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّؔنۡكُمۡ ﴾’’کیا تمھارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے، جنھیں تم پہچانتے اور ان کی صداقت کو خوب جانتے تھے اور تم ان سے ہدایت حاصل کر سکتے تھے؟﴿يَتۡلُوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِ رَبِّكُمۡ ﴾ ’’وہ تم کو تمھارے رب کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے۔‘‘ جن آیات کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء و مرسلین کو مبعوث فرمایا تھا جو روشن ترین دلائل و براہین کے ذریعے سے حق الیقین پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَيُنۡذِرُوۡنَكُمۡ۠ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’اور وہ تمھیں اس دن کے پیش آنے (ملاقات) سے ڈراتے تھے۔‘‘ اور یہ چیز اس دن کے ڈر کو مد نظر رکھتے ہوئے تمھارے ان رسولوں کی اتباع اور اس دن کے عذاب سے بچنے کی موجب تھی، مگر تمھارا حال اس مطلوبہ حال کے بالکل برعکس تھا۔ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ اپنے گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہونے کا اعتراف و اقرار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿بَلٰى ﴾ کیوں نہیں! ہمارے پاس ہمارے رب کے رسول واضح دلائل اور نشانیوں کے ساتھ آئے، انھوں نے ان نشانیوں کو ہمارے سامنے پوری طرح واضح کر دیا تھا اور انھوں نے ہمیں آج کے دن سے ڈرایا تھا ﴿وَلٰكِنۡ حَقَّتۡ كَلِمَةُ الۡعَذَابِ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’لیکن عذاب کا حکم (وعدہ) کافروں پر ثابت ہوکر رہا۔‘‘ یعنی ان کے کفر کے سبب سے ان پر عذاب واجب ہو گیا۔ یہ عذاب ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتا ہے اور اس چیزکو جھٹلاتا ہے جسے لے کر انبیاء ورسل مبعوث ہوئے۔ پس یہ کفار اپنے گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی حجت کے قائم ہونے کا اعتراف کریں گے۔ [72]﴿قِيۡلَ ﴾ انھیں ذلیل و رسوا کرتے ہوئے کہا جائے گا: ﴿ادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ۔‘‘ ہر گروہ اس دروازے سے جہنم میں داخل ہو گا جو اس کے مناسب اور موافق حال ہو گا۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ وہاں ابدا لآباد تک رہیں گے۔ وہ وہاں سے کبھی کوچ نہیں کریں گے، ایک گھڑی کے لیے ان سے عذاب دور نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ ’’پس تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔‘‘ یعنی جہنم ان کا ٹھکانا ہے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ یہ سب کچھ اس پاداش میں ہے کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کی جزا ان کے عمل کی جنس سے دی ہے، اہانت، ذلت اور رسوائی ان کی سزا ہے۔ [73] پھر اہل جنت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے تھے انھیں لے جایا جائے گا‘‘ متقین کو اللہ تعالیٰ کی توحید، ان کے عمل اور اطاعت کے سبب سے نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ وفدوں کی صورت میں ﴿اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾ ’’جنت کی طرف گروہ در گروہ۔‘‘ وہ خوش و خرم جنت میں جائیں گے۔ ہر جماعت ایسی جماعت کی معیت میں جنت میں داخل ہو گی جس کے ساتھ وہ عمل میں مشابہت رکھتی ہوگی۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡهَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے‘‘ یعنی جب یہ لوگ کشادہ اورخوبصورت جنتوں میں پہنچیں گے، بادنسیم کے جھونکے ان کااستقبال کریں گے، یہ نعمتیں اور جنتیں ہمیشہ رہیں گی۔ ﴿وَفُتِحَتۡ﴾ ’’اور کھول دیے جائیں گے‘‘ ان کے لیے ﴿ اَبۡوَابُهَا ﴾’’اس کے دروازے۔‘‘ سب سے زیادہ باعزت مخلوق کے لیے، عزت و اکرام کے ساتھ جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے تاکہ جنت میں ان کی عزت و تکریم ہو ﴿وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَا ﴾ اور جنت کے دربان ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہیں گے ﴿سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر سلامتی ہو‘‘ تم ہر آفت اوربرے حال سے سلامت اور محفوظ ہو ﴿طِبۡتُمۡ ﴾ تمھارے دل اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اس کی خشیت کے باعث، تمھاری زبانیں اس کے ذکر اور تمھارے جوارح اس کی اطاعت کے باعث اچھے رہے، لہٰذا اپنی اچھائی کے سبب سے ﴿فَادۡخُلُوۡهَا خٰؔلِدِيۡنَ ﴾ ’’اس جنت میں ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ۔‘‘ یہ پاک اور طیب گھر ہے اور طیبین کے سوا کسی کے لائق نہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہنم کے بارے میں فرمایا: ﴿فُتِحَتۡ اَبۡوَابُهَا ﴾ اور جنت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَفُتِحَتۡ ﴾ یعنی واؤ کے ساتھ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل جہنم کے وہاں مجرد پہنچنے پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے، انھیں انتظار کی مہلت نہیں دی جائے گی، جہنم کے دروازے ان کے پہنچنے پر اور ان کے سامنے ، اس لیے کھلیں گے کہ اس کی حرارت بہت زیادہ اور اس کا عذاب انتہائی شدید ہوگا۔ رہی جنت، تو یہ بہت ہی عالی مرتبہ مقام ہے، جہاں ہر شخص نہیں پہنچ سکتا۔ صرف وہی شخص جنت تک پہنچ سکتا ہے جو ان وسائل کو اختیار کرتا ہے جو جنت تک پہنچاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ جنت میں داخل ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل تکریم ہستی کی سفارش کے محتاج ہوں گے۔ مجرد وہاں پہنچنے پر ان کے لیے جنت کے دروازے نہیں کھول دیے جائیں گے بلکہ وہ جناب نبی مصطفیٰ محمد ﷺ سے سفارش کرائیں گے، آپ اہل ایمان کی سفارش کریں گے اور اللہ تعالیٰ آپﷺ کی سفارش کو قبول فرمائے گا۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ جہنم اور جنت کے دروازے ہوں گے، جو کھولے اور بند کیے جا سکیں گے۔ اور ہر دروازے پر داروغہ مقرر ہو گا۔ یہ خالص گھر ہیں جہاں صرف وہی شخص داخل ہو سکے گا جو ان کا مستحق ہو گا بخلاف عام گھروں اور جگہوں کے، جہاں ہر کوئی داخل ہو سکتا ہے۔ [74]﴿وَقَالُوا ﴾ وہ جنت میں داخل ہو کر، اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے ہدایت عطا کرنے پر، اس کی حمدوثنا بیان کرتے ہوئے کہیں گے:﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ صَدَقَنَا وَعۡدَهٗ﴾ ’’اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچا کر دکھایا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبانوں پر ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ اگر ہم ایمان لے آئے اور نیک عمل کیے تو وہ ہمیں جنت عطا کرے گا ۔پس اس نے اپنا وعدہ ایفاء کر کے ہماری آرزو پوری کر دی ﴿وَاَوۡرَثَنَا الۡاَرۡضَ ﴾ ’’اور ہمیں زمین کا وارث بنایا‘‘ یعنی جنت کی زمین کا۔ ﴿نَتَبَوَّاُ مِنَ الۡؔجَنَّةِ حَيۡثُ نَشَآءُ ﴾ یعنی ہم جنت میں جس جگہ بھی چاہیں ٹھہر سکتے ہیں اور اس کی نعمتوں سے جو چیز بھی چاہیں لے سکتے ہیں۔ ہمارے لیے کوئی چیز ممنوع نہیں جس کا ارادہ کریں ﴿فَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ ﴾ ’’پس (نیک) عمل کرنے والوں کا بدلہ بھی کیسا خوب ہے۔‘‘ جنھوں نے ختم ہو جانے والی نہایت قلیل سی مدت میں اپنے رب کی اطاعت کے لیے کوشش کی اور اس کے بدلے انھوں نے خیرعظیم حاصل کی جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ یہ ہے وہ گھر جو حقیقی مدح کا مستحق ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو سرفراز فرمائے گا، جوادوکریم اللہ نے ان کے لیے جنت کے گھر کی مہمانی کو پسند فرمایا ہے، اللہ نے اس گھر کو نہایت بلند اور خوبصورت بنایا ہے۔ اس میں اپنے ہاتھوں سے انواع و اقسام کے درخت اور پودے لگائے ہیں۔ اسے اپنی رحمت و تکریم سے لبریز کیاہے جس کے ادنیٰ حصے سے غم زدہ کو فرحت حاصل ہو گی اور تمام تکدر ختم ہو کر صفا کی تکمیل ہو جائے گی۔ [75]﴿وَتَرَى الۡمَلٰٓىِٕكَةَ ﴾ اے دیکھنے والے! تو اس عظیم دن، فرشتوں کو دیکھے گا کہ ﴿حَآفِّيۡنَ مِنۡ حَوۡلِ الۡعَرۡشِ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کے جلال کے سامنے سرافگندہ، اس کے جمال میں مستغرق ہو کر اور اس کے کمال کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے عرش کے اردگرد اس کی خدمت میں جمع ہوں گے۔ ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾یعنی وہ اپنے رب کی ہر اس وصف سے تنزیہ و تقدیس کریں گے جو اس کے جلال کے لائق نہیں، جو مشرکین نے اس کی طرف منسوب کیے ہیں یا نہیں کیے۔﴿وَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی اولین و آخرین تمام مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا ﴿بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ حق کے ساتھ۔‘‘ جس میں کوئی اشتباہ ہو گا نہ وہ شخص انکار کر سکے گا جس کے ذمہ یہ حق ہو گا۔ ﴿وَقِيۡلَ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: ہر طرح کی حمد و تعریف اللہ ہی کو سزاوار ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یہاں قائل کا ذکر نہیں کیا گیا تاکہ اس بات کی دلیل ہو کہ تمام مخلوق اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے میں اس کی حکمت پر اس کی حمد بیان کرے گی یعنی فضل و احسان کی حمد اور عدل و حکمت کی حمد۔
39:73

وَسِيقَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ رَبَّهُمۡ إِلَى ٱلۡجَنَّةِ زُمَرًاۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوهَا وَفُتِحَتۡ أَبۡوَٰبُهَا وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَا سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡ طِبۡتُمۡ فَٱدۡخُلُوهَا خَٰلِدِينَ

اور ہانک کر لے جائے جائیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا جہنم کی طرف گروہ گروہ یہاں تک کہ جب آئیں گے وہ اس کےپاس تو کھول دیے جائیں گے دروازے اس کےاور کہیں گے ان سے داروغے اس کے، کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے جو پڑھتے (تھے) تم پر آیتیں تمھارے رب کی اور ڈراتے (تھے) تم کو تمھاری اس دن کی ملاقات سے؟ وہ کہیں گے(ہاں)کیوں نہیں، اور لیکن ثابت ہو گئی بات عذاب کی اوپر کافروں کے (71) کہا جائے گا: داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ رہو گے اس میں، پس برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا (72) اور لے جائے جائیں گے وہ لوگ جو ڈرتے تھے اپنے رب سے، طرف جنت کی گروہ گروہ حتی کہ جب آئیں گے وہ اس کے پاس اورکھلے ہوں گے دروازے اس کےاورکہیں گے ان سے اس کےدربان ، سلام ہو تم پر، تم پاکیزہ رہے، پس داخل ہو جاؤ تم اس میں ہمیشہ رہنے والے (73) اور وہ کہیں گے: سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہ جس نے سچا کیا ہم سے اپنا وعدہ اور وارث کر دیا ہمیں اس زمین کا ہم ٹھکانا بنائیں جنت میں جہاں ہم چاہیں، پس اچھا ہے اجر عمل کرنے والوں کا (74) اور دیکھیں گے آپ فرشتوں کو گھیرے ہوئے عرش کے اردگردکو، پاکیزگی بیان کرتے ہوں گے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور فیصلہ کیا جائے گا درمیان ان کے سا تھ حق کے اور کہا جائے گا سب تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں(75) [71] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کا ذکر فرمایا جن کو اس نے تخلیق، رزق اور تدبیر میں اکٹھا کیا، دنیا کے اندر وہ سب اکٹھے رہے، قیامت کے روز بھی اکٹھے ہوں گے مگر ان کی جزا کے وقت ان کے درمیان اسی طرح تفریق کر دی جائے گی جس طرح دنیا میں ایمان اور کفر، تقویٰ اور فسق و فجور کے اعتبار سے ان کے درمیان فرق تھا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے کفر کیا انھیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔‘‘ یعنی کافروں کو نہایت سختی سے جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ انتہائی سخت فرشتے کوڑوں سے مارتے ہوئے، بہت برے قید خانے، بدترین جگہ یعنی جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ جہاں ہر قسم کا عذاب جمع ہو گا اور ہر قسم کی بدبختی موجود ہو گی۔ جہاں ہر سرور زائل ہو جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾(الطور: 52؍13) ’’جس روز انھیں آتش جہنم کی طرف دھکیل دھکیل کر لے جایا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو دھکے دے کر جہنم میں پھینکا جائے گا کیونکہ وہ جہنم میں داخل ہونے سے مزاحمت کریں گے، ان کو جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ ﴿زُمَرًا ﴾ متفرق جماعتوں کی صورت میں ہرگروہ اس گروہ کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ اس کے اعمال مناسبت رکھتے ہوں گے اور جن کے کرتوت ایک دوسرے کے مشابہ ہوں گے۔ وہ ایک دوسرے کو لعنت ملامت اور ایک دوسرے سے براء ت اور بیزاری کا اظہار کریں گے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡهَا ﴾ یعنی جب جہنم کے قریب پہنچیں گے ﴿فُتِحَتۡ﴾ ’’کھول دیے جائیں گے‘‘ ان کے لیے یعنی ان کی خاطر ﴿اَبۡوَابُهَا ﴾ ’’اس کے دروازے۔‘‘ ان کی آمد اور مہمانی کرتے ہوئے جہنم کے دروازے کھولے جائیں گے۔ ﴿وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ ﴾ جہنم کے داروغے ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی مبارک دیں گے اور ان اعمال پر، جن کے سبب سے وہ اس بدترین جگہ پر پہنچے، انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہیں گے:﴿اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّؔنۡكُمۡ ﴾’’کیا تمھارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے، جنھیں تم پہچانتے اور ان کی صداقت کو خوب جانتے تھے اور تم ان سے ہدایت حاصل کر سکتے تھے؟﴿يَتۡلُوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِ رَبِّكُمۡ ﴾ ’’وہ تم کو تمھارے رب کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے۔‘‘ جن آیات کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء و مرسلین کو مبعوث فرمایا تھا جو روشن ترین دلائل و براہین کے ذریعے سے حق الیقین پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَيُنۡذِرُوۡنَكُمۡ۠ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’اور وہ تمھیں اس دن کے پیش آنے (ملاقات) سے ڈراتے تھے۔‘‘ اور یہ چیز اس دن کے ڈر کو مد نظر رکھتے ہوئے تمھارے ان رسولوں کی اتباع اور اس دن کے عذاب سے بچنے کی موجب تھی، مگر تمھارا حال اس مطلوبہ حال کے بالکل برعکس تھا۔ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ اپنے گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہونے کا اعتراف و اقرار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿بَلٰى ﴾ کیوں نہیں! ہمارے پاس ہمارے رب کے رسول واضح دلائل اور نشانیوں کے ساتھ آئے، انھوں نے ان نشانیوں کو ہمارے سامنے پوری طرح واضح کر دیا تھا اور انھوں نے ہمیں آج کے دن سے ڈرایا تھا ﴿وَلٰكِنۡ حَقَّتۡ كَلِمَةُ الۡعَذَابِ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’لیکن عذاب کا حکم (وعدہ) کافروں پر ثابت ہوکر رہا۔‘‘ یعنی ان کے کفر کے سبب سے ان پر عذاب واجب ہو گیا۔ یہ عذاب ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتا ہے اور اس چیزکو جھٹلاتا ہے جسے لے کر انبیاء ورسل مبعوث ہوئے۔ پس یہ کفار اپنے گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی حجت کے قائم ہونے کا اعتراف کریں گے۔ [72]﴿قِيۡلَ ﴾ انھیں ذلیل و رسوا کرتے ہوئے کہا جائے گا: ﴿ادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ۔‘‘ ہر گروہ اس دروازے سے جہنم میں داخل ہو گا جو اس کے مناسب اور موافق حال ہو گا۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ وہاں ابدا لآباد تک رہیں گے۔ وہ وہاں سے کبھی کوچ نہیں کریں گے، ایک گھڑی کے لیے ان سے عذاب دور نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ ’’پس تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔‘‘ یعنی جہنم ان کا ٹھکانا ہے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ یہ سب کچھ اس پاداش میں ہے کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کی جزا ان کے عمل کی جنس سے دی ہے، اہانت، ذلت اور رسوائی ان کی سزا ہے۔ [73] پھر اہل جنت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے تھے انھیں لے جایا جائے گا‘‘ متقین کو اللہ تعالیٰ کی توحید، ان کے عمل اور اطاعت کے سبب سے نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ وفدوں کی صورت میں ﴿اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾ ’’جنت کی طرف گروہ در گروہ۔‘‘ وہ خوش و خرم جنت میں جائیں گے۔ ہر جماعت ایسی جماعت کی معیت میں جنت میں داخل ہو گی جس کے ساتھ وہ عمل میں مشابہت رکھتی ہوگی۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡهَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے‘‘ یعنی جب یہ لوگ کشادہ اورخوبصورت جنتوں میں پہنچیں گے، بادنسیم کے جھونکے ان کااستقبال کریں گے، یہ نعمتیں اور جنتیں ہمیشہ رہیں گی۔ ﴿وَفُتِحَتۡ﴾ ’’اور کھول دیے جائیں گے‘‘ ان کے لیے ﴿ اَبۡوَابُهَا ﴾’’اس کے دروازے۔‘‘ سب سے زیادہ باعزت مخلوق کے لیے، عزت و اکرام کے ساتھ جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے تاکہ جنت میں ان کی عزت و تکریم ہو ﴿وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَا ﴾ اور جنت کے دربان ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہیں گے ﴿سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر سلامتی ہو‘‘ تم ہر آفت اوربرے حال سے سلامت اور محفوظ ہو ﴿طِبۡتُمۡ ﴾ تمھارے دل اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اس کی خشیت کے باعث، تمھاری زبانیں اس کے ذکر اور تمھارے جوارح اس کی اطاعت کے باعث اچھے رہے، لہٰذا اپنی اچھائی کے سبب سے ﴿فَادۡخُلُوۡهَا خٰؔلِدِيۡنَ ﴾ ’’اس جنت میں ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ۔‘‘ یہ پاک اور طیب گھر ہے اور طیبین کے سوا کسی کے لائق نہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہنم کے بارے میں فرمایا: ﴿فُتِحَتۡ اَبۡوَابُهَا ﴾ اور جنت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَفُتِحَتۡ ﴾ یعنی واؤ کے ساتھ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل جہنم کے وہاں مجرد پہنچنے پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے، انھیں انتظار کی مہلت نہیں دی جائے گی، جہنم کے دروازے ان کے پہنچنے پر اور ان کے سامنے ، اس لیے کھلیں گے کہ اس کی حرارت بہت زیادہ اور اس کا عذاب انتہائی شدید ہوگا۔ رہی جنت، تو یہ بہت ہی عالی مرتبہ مقام ہے، جہاں ہر شخص نہیں پہنچ سکتا۔ صرف وہی شخص جنت تک پہنچ سکتا ہے جو ان وسائل کو اختیار کرتا ہے جو جنت تک پہنچاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ جنت میں داخل ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل تکریم ہستی کی سفارش کے محتاج ہوں گے۔ مجرد وہاں پہنچنے پر ان کے لیے جنت کے دروازے نہیں کھول دیے جائیں گے بلکہ وہ جناب نبی مصطفیٰ محمد ﷺ سے سفارش کرائیں گے، آپ اہل ایمان کی سفارش کریں گے اور اللہ تعالیٰ آپﷺ کی سفارش کو قبول فرمائے گا۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ جہنم اور جنت کے دروازے ہوں گے، جو کھولے اور بند کیے جا سکیں گے۔ اور ہر دروازے پر داروغہ مقرر ہو گا۔ یہ خالص گھر ہیں جہاں صرف وہی شخص داخل ہو سکے گا جو ان کا مستحق ہو گا بخلاف عام گھروں اور جگہوں کے، جہاں ہر کوئی داخل ہو سکتا ہے۔ [74]﴿وَقَالُوا ﴾ وہ جنت میں داخل ہو کر، اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے ہدایت عطا کرنے پر، اس کی حمدوثنا بیان کرتے ہوئے کہیں گے:﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ صَدَقَنَا وَعۡدَهٗ﴾ ’’اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچا کر دکھایا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبانوں پر ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ اگر ہم ایمان لے آئے اور نیک عمل کیے تو وہ ہمیں جنت عطا کرے گا ۔پس اس نے اپنا وعدہ ایفاء کر کے ہماری آرزو پوری کر دی ﴿وَاَوۡرَثَنَا الۡاَرۡضَ ﴾ ’’اور ہمیں زمین کا وارث بنایا‘‘ یعنی جنت کی زمین کا۔ ﴿نَتَبَوَّاُ مِنَ الۡؔجَنَّةِ حَيۡثُ نَشَآءُ ﴾ یعنی ہم جنت میں جس جگہ بھی چاہیں ٹھہر سکتے ہیں اور اس کی نعمتوں سے جو چیز بھی چاہیں لے سکتے ہیں۔ ہمارے لیے کوئی چیز ممنوع نہیں جس کا ارادہ کریں ﴿فَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ ﴾ ’’پس (نیک) عمل کرنے والوں کا بدلہ بھی کیسا خوب ہے۔‘‘ جنھوں نے ختم ہو جانے والی نہایت قلیل سی مدت میں اپنے رب کی اطاعت کے لیے کوشش کی اور اس کے بدلے انھوں نے خیرعظیم حاصل کی جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ یہ ہے وہ گھر جو حقیقی مدح کا مستحق ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو سرفراز فرمائے گا، جوادوکریم اللہ نے ان کے لیے جنت کے گھر کی مہمانی کو پسند فرمایا ہے، اللہ نے اس گھر کو نہایت بلند اور خوبصورت بنایا ہے۔ اس میں اپنے ہاتھوں سے انواع و اقسام کے درخت اور پودے لگائے ہیں۔ اسے اپنی رحمت و تکریم سے لبریز کیاہے جس کے ادنیٰ حصے سے غم زدہ کو فرحت حاصل ہو گی اور تمام تکدر ختم ہو کر صفا کی تکمیل ہو جائے گی۔ [75]﴿وَتَرَى الۡمَلٰٓىِٕكَةَ ﴾ اے دیکھنے والے! تو اس عظیم دن، فرشتوں کو دیکھے گا کہ ﴿حَآفِّيۡنَ مِنۡ حَوۡلِ الۡعَرۡشِ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کے جلال کے سامنے سرافگندہ، اس کے جمال میں مستغرق ہو کر اور اس کے کمال کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے عرش کے اردگرد اس کی خدمت میں جمع ہوں گے۔ ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾یعنی وہ اپنے رب کی ہر اس وصف سے تنزیہ و تقدیس کریں گے جو اس کے جلال کے لائق نہیں، جو مشرکین نے اس کی طرف منسوب کیے ہیں یا نہیں کیے۔﴿وَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی اولین و آخرین تمام مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا ﴿بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ حق کے ساتھ۔‘‘ جس میں کوئی اشتباہ ہو گا نہ وہ شخص انکار کر سکے گا جس کے ذمہ یہ حق ہو گا۔ ﴿وَقِيۡلَ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: ہر طرح کی حمد و تعریف اللہ ہی کو سزاوار ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یہاں قائل کا ذکر نہیں کیا گیا تاکہ اس بات کی دلیل ہو کہ تمام مخلوق اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے میں اس کی حکمت پر اس کی حمد بیان کرے گی یعنی فضل و احسان کی حمد اور عدل و حکمت کی حمد۔
39:74

وَقَالُواْ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي صَدَقَنَا وَعۡدَهُۥ وَأَوۡرَثَنَا ٱلۡأَرۡضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ ٱلۡجَنَّةِ حَيۡثُ نَشَآءُۖ فَنِعۡمَ أَجۡرُ ٱلۡعَٰمِلِينَ

اور ہانک کر لے جائے جائیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا جہنم کی طرف گروہ گروہ یہاں تک کہ جب آئیں گے وہ اس کےپاس تو کھول دیے جائیں گے دروازے اس کےاور کہیں گے ان سے داروغے اس کے، کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے جو پڑھتے (تھے) تم پر آیتیں تمھارے رب کی اور ڈراتے (تھے) تم کو تمھاری اس دن کی ملاقات سے؟ وہ کہیں گے(ہاں)کیوں نہیں، اور لیکن ثابت ہو گئی بات عذاب کی اوپر کافروں کے (71) کہا جائے گا: داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ رہو گے اس میں، پس برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا (72) اور لے جائے جائیں گے وہ لوگ جو ڈرتے تھے اپنے رب سے، طرف جنت کی گروہ گروہ حتی کہ جب آئیں گے وہ اس کے پاس اورکھلے ہوں گے دروازے اس کےاورکہیں گے ان سے اس کےدربان ، سلام ہو تم پر، تم پاکیزہ رہے، پس داخل ہو جاؤ تم اس میں ہمیشہ رہنے والے (73) اور وہ کہیں گے: سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہ جس نے سچا کیا ہم سے اپنا وعدہ اور وارث کر دیا ہمیں اس زمین کا ہم ٹھکانا بنائیں جنت میں جہاں ہم چاہیں، پس اچھا ہے اجر عمل کرنے والوں کا (74) اور دیکھیں گے آپ فرشتوں کو گھیرے ہوئے عرش کے اردگردکو، پاکیزگی بیان کرتے ہوں گے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور فیصلہ کیا جائے گا درمیان ان کے سا تھ حق کے اور کہا جائے گا سب تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں(75) [71] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کا ذکر فرمایا جن کو اس نے تخلیق، رزق اور تدبیر میں اکٹھا کیا، دنیا کے اندر وہ سب اکٹھے رہے، قیامت کے روز بھی اکٹھے ہوں گے مگر ان کی جزا کے وقت ان کے درمیان اسی طرح تفریق کر دی جائے گی جس طرح دنیا میں ایمان اور کفر، تقویٰ اور فسق و فجور کے اعتبار سے ان کے درمیان فرق تھا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے کفر کیا انھیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔‘‘ یعنی کافروں کو نہایت سختی سے جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ انتہائی سخت فرشتے کوڑوں سے مارتے ہوئے، بہت برے قید خانے، بدترین جگہ یعنی جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ جہاں ہر قسم کا عذاب جمع ہو گا اور ہر قسم کی بدبختی موجود ہو گی۔ جہاں ہر سرور زائل ہو جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾(الطور: 52؍13) ’’جس روز انھیں آتش جہنم کی طرف دھکیل دھکیل کر لے جایا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو دھکے دے کر جہنم میں پھینکا جائے گا کیونکہ وہ جہنم میں داخل ہونے سے مزاحمت کریں گے، ان کو جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ ﴿زُمَرًا ﴾ متفرق جماعتوں کی صورت میں ہرگروہ اس گروہ کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ اس کے اعمال مناسبت رکھتے ہوں گے اور جن کے کرتوت ایک دوسرے کے مشابہ ہوں گے۔ وہ ایک دوسرے کو لعنت ملامت اور ایک دوسرے سے براء ت اور بیزاری کا اظہار کریں گے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡهَا ﴾ یعنی جب جہنم کے قریب پہنچیں گے ﴿فُتِحَتۡ﴾ ’’کھول دیے جائیں گے‘‘ ان کے لیے یعنی ان کی خاطر ﴿اَبۡوَابُهَا ﴾ ’’اس کے دروازے۔‘‘ ان کی آمد اور مہمانی کرتے ہوئے جہنم کے دروازے کھولے جائیں گے۔ ﴿وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ ﴾ جہنم کے داروغے ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی مبارک دیں گے اور ان اعمال پر، جن کے سبب سے وہ اس بدترین جگہ پر پہنچے، انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہیں گے:﴿اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّؔنۡكُمۡ ﴾’’کیا تمھارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے، جنھیں تم پہچانتے اور ان کی صداقت کو خوب جانتے تھے اور تم ان سے ہدایت حاصل کر سکتے تھے؟﴿يَتۡلُوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِ رَبِّكُمۡ ﴾ ’’وہ تم کو تمھارے رب کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے۔‘‘ جن آیات کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء و مرسلین کو مبعوث فرمایا تھا جو روشن ترین دلائل و براہین کے ذریعے سے حق الیقین پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَيُنۡذِرُوۡنَكُمۡ۠ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’اور وہ تمھیں اس دن کے پیش آنے (ملاقات) سے ڈراتے تھے۔‘‘ اور یہ چیز اس دن کے ڈر کو مد نظر رکھتے ہوئے تمھارے ان رسولوں کی اتباع اور اس دن کے عذاب سے بچنے کی موجب تھی، مگر تمھارا حال اس مطلوبہ حال کے بالکل برعکس تھا۔ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ اپنے گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہونے کا اعتراف و اقرار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿بَلٰى ﴾ کیوں نہیں! ہمارے پاس ہمارے رب کے رسول واضح دلائل اور نشانیوں کے ساتھ آئے، انھوں نے ان نشانیوں کو ہمارے سامنے پوری طرح واضح کر دیا تھا اور انھوں نے ہمیں آج کے دن سے ڈرایا تھا ﴿وَلٰكِنۡ حَقَّتۡ كَلِمَةُ الۡعَذَابِ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’لیکن عذاب کا حکم (وعدہ) کافروں پر ثابت ہوکر رہا۔‘‘ یعنی ان کے کفر کے سبب سے ان پر عذاب واجب ہو گیا۔ یہ عذاب ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتا ہے اور اس چیزکو جھٹلاتا ہے جسے لے کر انبیاء ورسل مبعوث ہوئے۔ پس یہ کفار اپنے گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی حجت کے قائم ہونے کا اعتراف کریں گے۔ [72]﴿قِيۡلَ ﴾ انھیں ذلیل و رسوا کرتے ہوئے کہا جائے گا: ﴿ادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ۔‘‘ ہر گروہ اس دروازے سے جہنم میں داخل ہو گا جو اس کے مناسب اور موافق حال ہو گا۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ وہاں ابدا لآباد تک رہیں گے۔ وہ وہاں سے کبھی کوچ نہیں کریں گے، ایک گھڑی کے لیے ان سے عذاب دور نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ ’’پس تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔‘‘ یعنی جہنم ان کا ٹھکانا ہے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ یہ سب کچھ اس پاداش میں ہے کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کی جزا ان کے عمل کی جنس سے دی ہے، اہانت، ذلت اور رسوائی ان کی سزا ہے۔ [73] پھر اہل جنت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے تھے انھیں لے جایا جائے گا‘‘ متقین کو اللہ تعالیٰ کی توحید، ان کے عمل اور اطاعت کے سبب سے نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ وفدوں کی صورت میں ﴿اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾ ’’جنت کی طرف گروہ در گروہ۔‘‘ وہ خوش و خرم جنت میں جائیں گے۔ ہر جماعت ایسی جماعت کی معیت میں جنت میں داخل ہو گی جس کے ساتھ وہ عمل میں مشابہت رکھتی ہوگی۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡهَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے‘‘ یعنی جب یہ لوگ کشادہ اورخوبصورت جنتوں میں پہنچیں گے، بادنسیم کے جھونکے ان کااستقبال کریں گے، یہ نعمتیں اور جنتیں ہمیشہ رہیں گی۔ ﴿وَفُتِحَتۡ﴾ ’’اور کھول دیے جائیں گے‘‘ ان کے لیے ﴿ اَبۡوَابُهَا ﴾’’اس کے دروازے۔‘‘ سب سے زیادہ باعزت مخلوق کے لیے، عزت و اکرام کے ساتھ جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے تاکہ جنت میں ان کی عزت و تکریم ہو ﴿وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَا ﴾ اور جنت کے دربان ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہیں گے ﴿سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر سلامتی ہو‘‘ تم ہر آفت اوربرے حال سے سلامت اور محفوظ ہو ﴿طِبۡتُمۡ ﴾ تمھارے دل اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اس کی خشیت کے باعث، تمھاری زبانیں اس کے ذکر اور تمھارے جوارح اس کی اطاعت کے باعث اچھے رہے، لہٰذا اپنی اچھائی کے سبب سے ﴿فَادۡخُلُوۡهَا خٰؔلِدِيۡنَ ﴾ ’’اس جنت میں ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ۔‘‘ یہ پاک اور طیب گھر ہے اور طیبین کے سوا کسی کے لائق نہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہنم کے بارے میں فرمایا: ﴿فُتِحَتۡ اَبۡوَابُهَا ﴾ اور جنت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَفُتِحَتۡ ﴾ یعنی واؤ کے ساتھ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل جہنم کے وہاں مجرد پہنچنے پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے، انھیں انتظار کی مہلت نہیں دی جائے گی، جہنم کے دروازے ان کے پہنچنے پر اور ان کے سامنے ، اس لیے کھلیں گے کہ اس کی حرارت بہت زیادہ اور اس کا عذاب انتہائی شدید ہوگا۔ رہی جنت، تو یہ بہت ہی عالی مرتبہ مقام ہے، جہاں ہر شخص نہیں پہنچ سکتا۔ صرف وہی شخص جنت تک پہنچ سکتا ہے جو ان وسائل کو اختیار کرتا ہے جو جنت تک پہنچاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ جنت میں داخل ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل تکریم ہستی کی سفارش کے محتاج ہوں گے۔ مجرد وہاں پہنچنے پر ان کے لیے جنت کے دروازے نہیں کھول دیے جائیں گے بلکہ وہ جناب نبی مصطفیٰ محمد ﷺ سے سفارش کرائیں گے، آپ اہل ایمان کی سفارش کریں گے اور اللہ تعالیٰ آپﷺ کی سفارش کو قبول فرمائے گا۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ جہنم اور جنت کے دروازے ہوں گے، جو کھولے اور بند کیے جا سکیں گے۔ اور ہر دروازے پر داروغہ مقرر ہو گا۔ یہ خالص گھر ہیں جہاں صرف وہی شخص داخل ہو سکے گا جو ان کا مستحق ہو گا بخلاف عام گھروں اور جگہوں کے، جہاں ہر کوئی داخل ہو سکتا ہے۔ [74]﴿وَقَالُوا ﴾ وہ جنت میں داخل ہو کر، اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے ہدایت عطا کرنے پر، اس کی حمدوثنا بیان کرتے ہوئے کہیں گے:﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ صَدَقَنَا وَعۡدَهٗ﴾ ’’اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچا کر دکھایا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبانوں پر ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ اگر ہم ایمان لے آئے اور نیک عمل کیے تو وہ ہمیں جنت عطا کرے گا ۔پس اس نے اپنا وعدہ ایفاء کر کے ہماری آرزو پوری کر دی ﴿وَاَوۡرَثَنَا الۡاَرۡضَ ﴾ ’’اور ہمیں زمین کا وارث بنایا‘‘ یعنی جنت کی زمین کا۔ ﴿نَتَبَوَّاُ مِنَ الۡؔجَنَّةِ حَيۡثُ نَشَآءُ ﴾ یعنی ہم جنت میں جس جگہ بھی چاہیں ٹھہر سکتے ہیں اور اس کی نعمتوں سے جو چیز بھی چاہیں لے سکتے ہیں۔ ہمارے لیے کوئی چیز ممنوع نہیں جس کا ارادہ کریں ﴿فَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ ﴾ ’’پس (نیک) عمل کرنے والوں کا بدلہ بھی کیسا خوب ہے۔‘‘ جنھوں نے ختم ہو جانے والی نہایت قلیل سی مدت میں اپنے رب کی اطاعت کے لیے کوشش کی اور اس کے بدلے انھوں نے خیرعظیم حاصل کی جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ یہ ہے وہ گھر جو حقیقی مدح کا مستحق ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو سرفراز فرمائے گا، جوادوکریم اللہ نے ان کے لیے جنت کے گھر کی مہمانی کو پسند فرمایا ہے، اللہ نے اس گھر کو نہایت بلند اور خوبصورت بنایا ہے۔ اس میں اپنے ہاتھوں سے انواع و اقسام کے درخت اور پودے لگائے ہیں۔ اسے اپنی رحمت و تکریم سے لبریز کیاہے جس کے ادنیٰ حصے سے غم زدہ کو فرحت حاصل ہو گی اور تمام تکدر ختم ہو کر صفا کی تکمیل ہو جائے گی۔ [75]﴿وَتَرَى الۡمَلٰٓىِٕكَةَ ﴾ اے دیکھنے والے! تو اس عظیم دن، فرشتوں کو دیکھے گا کہ ﴿حَآفِّيۡنَ مِنۡ حَوۡلِ الۡعَرۡشِ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کے جلال کے سامنے سرافگندہ، اس کے جمال میں مستغرق ہو کر اور اس کے کمال کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے عرش کے اردگرد اس کی خدمت میں جمع ہوں گے۔ ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾یعنی وہ اپنے رب کی ہر اس وصف سے تنزیہ و تقدیس کریں گے جو اس کے جلال کے لائق نہیں، جو مشرکین نے اس کی طرف منسوب کیے ہیں یا نہیں کیے۔﴿وَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی اولین و آخرین تمام مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا ﴿بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ حق کے ساتھ۔‘‘ جس میں کوئی اشتباہ ہو گا نہ وہ شخص انکار کر سکے گا جس کے ذمہ یہ حق ہو گا۔ ﴿وَقِيۡلَ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: ہر طرح کی حمد و تعریف اللہ ہی کو سزاوار ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یہاں قائل کا ذکر نہیں کیا گیا تاکہ اس بات کی دلیل ہو کہ تمام مخلوق اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے میں اس کی حکمت پر اس کی حمد بیان کرے گی یعنی فضل و احسان کی حمد اور عدل و حکمت کی حمد۔
39:75

وَتَرَى ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةَ حَآفِّينَ مِنۡ حَوۡلِ ٱلۡعَرۡشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡۚ وَقُضِيَ بَيۡنَهُم بِٱلۡحَقِّۚ وَقِيلَ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ

اور ہانک کر لے جائے جائیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا جہنم کی طرف گروہ گروہ یہاں تک کہ جب آئیں گے وہ اس کےپاس تو کھول دیے جائیں گے دروازے اس کےاور کہیں گے ان سے داروغے اس کے، کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے جو پڑھتے (تھے) تم پر آیتیں تمھارے رب کی اور ڈراتے (تھے) تم کو تمھاری اس دن کی ملاقات سے؟ وہ کہیں گے(ہاں)کیوں نہیں، اور لیکن ثابت ہو گئی بات عذاب کی اوپر کافروں کے (71) کہا جائے گا: داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ رہو گے اس میں، پس برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا (72) اور لے جائے جائیں گے وہ لوگ جو ڈرتے تھے اپنے رب سے، طرف جنت کی گروہ گروہ حتی کہ جب آئیں گے وہ اس کے پاس اورکھلے ہوں گے دروازے اس کےاورکہیں گے ان سے اس کےدربان ، سلام ہو تم پر، تم پاکیزہ رہے، پس داخل ہو جاؤ تم اس میں ہمیشہ رہنے والے (73) اور وہ کہیں گے: سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہ جس نے سچا کیا ہم سے اپنا وعدہ اور وارث کر دیا ہمیں اس زمین کا ہم ٹھکانا بنائیں جنت میں جہاں ہم چاہیں، پس اچھا ہے اجر عمل کرنے والوں کا (74) اور دیکھیں گے آپ فرشتوں کو گھیرے ہوئے عرش کے اردگردکو، پاکیزگی بیان کرتے ہوں گے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور فیصلہ کیا جائے گا درمیان ان کے سا تھ حق کے اور کہا جائے گا سب تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں(75) [71] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کا ذکر فرمایا جن کو اس نے تخلیق، رزق اور تدبیر میں اکٹھا کیا، دنیا کے اندر وہ سب اکٹھے رہے، قیامت کے روز بھی اکٹھے ہوں گے مگر ان کی جزا کے وقت ان کے درمیان اسی طرح تفریق کر دی جائے گی جس طرح دنیا میں ایمان اور کفر، تقویٰ اور فسق و فجور کے اعتبار سے ان کے درمیان فرق تھا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے کفر کیا انھیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔‘‘ یعنی کافروں کو نہایت سختی سے جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ انتہائی سخت فرشتے کوڑوں سے مارتے ہوئے، بہت برے قید خانے، بدترین جگہ یعنی جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ جہاں ہر قسم کا عذاب جمع ہو گا اور ہر قسم کی بدبختی موجود ہو گی۔ جہاں ہر سرور زائل ہو جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾(الطور: 52؍13) ’’جس روز انھیں آتش جہنم کی طرف دھکیل دھکیل کر لے جایا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو دھکے دے کر جہنم میں پھینکا جائے گا کیونکہ وہ جہنم میں داخل ہونے سے مزاحمت کریں گے، ان کو جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ ﴿زُمَرًا ﴾ متفرق جماعتوں کی صورت میں ہرگروہ اس گروہ کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ اس کے اعمال مناسبت رکھتے ہوں گے اور جن کے کرتوت ایک دوسرے کے مشابہ ہوں گے۔ وہ ایک دوسرے کو لعنت ملامت اور ایک دوسرے سے براء ت اور بیزاری کا اظہار کریں گے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡهَا ﴾ یعنی جب جہنم کے قریب پہنچیں گے ﴿فُتِحَتۡ﴾ ’’کھول دیے جائیں گے‘‘ ان کے لیے یعنی ان کی خاطر ﴿اَبۡوَابُهَا ﴾ ’’اس کے دروازے۔‘‘ ان کی آمد اور مہمانی کرتے ہوئے جہنم کے دروازے کھولے جائیں گے۔ ﴿وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ ﴾ جہنم کے داروغے ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی مبارک دیں گے اور ان اعمال پر، جن کے سبب سے وہ اس بدترین جگہ پر پہنچے، انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہیں گے:﴿اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّؔنۡكُمۡ ﴾’’کیا تمھارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے، جنھیں تم پہچانتے اور ان کی صداقت کو خوب جانتے تھے اور تم ان سے ہدایت حاصل کر سکتے تھے؟﴿يَتۡلُوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِ رَبِّكُمۡ ﴾ ’’وہ تم کو تمھارے رب کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے۔‘‘ جن آیات کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء و مرسلین کو مبعوث فرمایا تھا جو روشن ترین دلائل و براہین کے ذریعے سے حق الیقین پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَيُنۡذِرُوۡنَكُمۡ۠ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’اور وہ تمھیں اس دن کے پیش آنے (ملاقات) سے ڈراتے تھے۔‘‘ اور یہ چیز اس دن کے ڈر کو مد نظر رکھتے ہوئے تمھارے ان رسولوں کی اتباع اور اس دن کے عذاب سے بچنے کی موجب تھی، مگر تمھارا حال اس مطلوبہ حال کے بالکل برعکس تھا۔ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ اپنے گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہونے کا اعتراف و اقرار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿بَلٰى ﴾ کیوں نہیں! ہمارے پاس ہمارے رب کے رسول واضح دلائل اور نشانیوں کے ساتھ آئے، انھوں نے ان نشانیوں کو ہمارے سامنے پوری طرح واضح کر دیا تھا اور انھوں نے ہمیں آج کے دن سے ڈرایا تھا ﴿وَلٰكِنۡ حَقَّتۡ كَلِمَةُ الۡعَذَابِ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’لیکن عذاب کا حکم (وعدہ) کافروں پر ثابت ہوکر رہا۔‘‘ یعنی ان کے کفر کے سبب سے ان پر عذاب واجب ہو گیا۔ یہ عذاب ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتا ہے اور اس چیزکو جھٹلاتا ہے جسے لے کر انبیاء ورسل مبعوث ہوئے۔ پس یہ کفار اپنے گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی حجت کے قائم ہونے کا اعتراف کریں گے۔ [72]﴿قِيۡلَ ﴾ انھیں ذلیل و رسوا کرتے ہوئے کہا جائے گا: ﴿ادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ۔‘‘ ہر گروہ اس دروازے سے جہنم میں داخل ہو گا جو اس کے مناسب اور موافق حال ہو گا۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ وہاں ابدا لآباد تک رہیں گے۔ وہ وہاں سے کبھی کوچ نہیں کریں گے، ایک گھڑی کے لیے ان سے عذاب دور نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ ’’پس تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔‘‘ یعنی جہنم ان کا ٹھکانا ہے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ یہ سب کچھ اس پاداش میں ہے کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کی جزا ان کے عمل کی جنس سے دی ہے، اہانت، ذلت اور رسوائی ان کی سزا ہے۔ [73] پھر اہل جنت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے تھے انھیں لے جایا جائے گا‘‘ متقین کو اللہ تعالیٰ کی توحید، ان کے عمل اور اطاعت کے سبب سے نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ وفدوں کی صورت میں ﴿اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾ ’’جنت کی طرف گروہ در گروہ۔‘‘ وہ خوش و خرم جنت میں جائیں گے۔ ہر جماعت ایسی جماعت کی معیت میں جنت میں داخل ہو گی جس کے ساتھ وہ عمل میں مشابہت رکھتی ہوگی۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡهَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے‘‘ یعنی جب یہ لوگ کشادہ اورخوبصورت جنتوں میں پہنچیں گے، بادنسیم کے جھونکے ان کااستقبال کریں گے، یہ نعمتیں اور جنتیں ہمیشہ رہیں گی۔ ﴿وَفُتِحَتۡ﴾ ’’اور کھول دیے جائیں گے‘‘ ان کے لیے ﴿ اَبۡوَابُهَا ﴾’’اس کے دروازے۔‘‘ سب سے زیادہ باعزت مخلوق کے لیے، عزت و اکرام کے ساتھ جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے تاکہ جنت میں ان کی عزت و تکریم ہو ﴿وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَا ﴾ اور جنت کے دربان ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہیں گے ﴿سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر سلامتی ہو‘‘ تم ہر آفت اوربرے حال سے سلامت اور محفوظ ہو ﴿طِبۡتُمۡ ﴾ تمھارے دل اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اس کی خشیت کے باعث، تمھاری زبانیں اس کے ذکر اور تمھارے جوارح اس کی اطاعت کے باعث اچھے رہے، لہٰذا اپنی اچھائی کے سبب سے ﴿فَادۡخُلُوۡهَا خٰؔلِدِيۡنَ ﴾ ’’اس جنت میں ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ۔‘‘ یہ پاک اور طیب گھر ہے اور طیبین کے سوا کسی کے لائق نہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہنم کے بارے میں فرمایا: ﴿فُتِحَتۡ اَبۡوَابُهَا ﴾ اور جنت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَفُتِحَتۡ ﴾ یعنی واؤ کے ساتھ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل جہنم کے وہاں مجرد پہنچنے پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے، انھیں انتظار کی مہلت نہیں دی جائے گی، جہنم کے دروازے ان کے پہنچنے پر اور ان کے سامنے ، اس لیے کھلیں گے کہ اس کی حرارت بہت زیادہ اور اس کا عذاب انتہائی شدید ہوگا۔ رہی جنت، تو یہ بہت ہی عالی مرتبہ مقام ہے، جہاں ہر شخص نہیں پہنچ سکتا۔ صرف وہی شخص جنت تک پہنچ سکتا ہے جو ان وسائل کو اختیار کرتا ہے جو جنت تک پہنچاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ جنت میں داخل ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل تکریم ہستی کی سفارش کے محتاج ہوں گے۔ مجرد وہاں پہنچنے پر ان کے لیے جنت کے دروازے نہیں کھول دیے جائیں گے بلکہ وہ جناب نبی مصطفیٰ محمد ﷺ سے سفارش کرائیں گے، آپ اہل ایمان کی سفارش کریں گے اور اللہ تعالیٰ آپﷺ کی سفارش کو قبول فرمائے گا۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ جہنم اور جنت کے دروازے ہوں گے، جو کھولے اور بند کیے جا سکیں گے۔ اور ہر دروازے پر داروغہ مقرر ہو گا۔ یہ خالص گھر ہیں جہاں صرف وہی شخص داخل ہو سکے گا جو ان کا مستحق ہو گا بخلاف عام گھروں اور جگہوں کے، جہاں ہر کوئی داخل ہو سکتا ہے۔ [74]﴿وَقَالُوا ﴾ وہ جنت میں داخل ہو کر، اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے ہدایت عطا کرنے پر، اس کی حمدوثنا بیان کرتے ہوئے کہیں گے:﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ صَدَقَنَا وَعۡدَهٗ﴾ ’’اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچا کر دکھایا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبانوں پر ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ اگر ہم ایمان لے آئے اور نیک عمل کیے تو وہ ہمیں جنت عطا کرے گا ۔پس اس نے اپنا وعدہ ایفاء کر کے ہماری آرزو پوری کر دی ﴿وَاَوۡرَثَنَا الۡاَرۡضَ ﴾ ’’اور ہمیں زمین کا وارث بنایا‘‘ یعنی جنت کی زمین کا۔ ﴿نَتَبَوَّاُ مِنَ الۡؔجَنَّةِ حَيۡثُ نَشَآءُ ﴾ یعنی ہم جنت میں جس جگہ بھی چاہیں ٹھہر سکتے ہیں اور اس کی نعمتوں سے جو چیز بھی چاہیں لے سکتے ہیں۔ ہمارے لیے کوئی چیز ممنوع نہیں جس کا ارادہ کریں ﴿فَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ ﴾ ’’پس (نیک) عمل کرنے والوں کا بدلہ بھی کیسا خوب ہے۔‘‘ جنھوں نے ختم ہو جانے والی نہایت قلیل سی مدت میں اپنے رب کی اطاعت کے لیے کوشش کی اور اس کے بدلے انھوں نے خیرعظیم حاصل کی جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ یہ ہے وہ گھر جو حقیقی مدح کا مستحق ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو سرفراز فرمائے گا، جوادوکریم اللہ نے ان کے لیے جنت کے گھر کی مہمانی کو پسند فرمایا ہے، اللہ نے اس گھر کو نہایت بلند اور خوبصورت بنایا ہے۔ اس میں اپنے ہاتھوں سے انواع و اقسام کے درخت اور پودے لگائے ہیں۔ اسے اپنی رحمت و تکریم سے لبریز کیاہے جس کے ادنیٰ حصے سے غم زدہ کو فرحت حاصل ہو گی اور تمام تکدر ختم ہو کر صفا کی تکمیل ہو جائے گی۔ [75]﴿وَتَرَى الۡمَلٰٓىِٕكَةَ ﴾ اے دیکھنے والے! تو اس عظیم دن، فرشتوں کو دیکھے گا کہ ﴿حَآفِّيۡنَ مِنۡ حَوۡلِ الۡعَرۡشِ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کے جلال کے سامنے سرافگندہ، اس کے جمال میں مستغرق ہو کر اور اس کے کمال کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے عرش کے اردگرد اس کی خدمت میں جمع ہوں گے۔ ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾یعنی وہ اپنے رب کی ہر اس وصف سے تنزیہ و تقدیس کریں گے جو اس کے جلال کے لائق نہیں، جو مشرکین نے اس کی طرف منسوب کیے ہیں یا نہیں کیے۔﴿وَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی اولین و آخرین تمام مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا ﴿بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ حق کے ساتھ۔‘‘ جس میں کوئی اشتباہ ہو گا نہ وہ شخص انکار کر سکے گا جس کے ذمہ یہ حق ہو گا۔ ﴿وَقِيۡلَ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: ہر طرح کی حمد و تعریف اللہ ہی کو سزاوار ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یہاں قائل کا ذکر نہیں کیا گیا تاکہ اس بات کی دلیل ہو کہ تمام مخلوق اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے میں اس کی حکمت پر اس کی حمد بیان کرے گی یعنی فضل و احسان کی حمد اور عدل و حکمت کی حمد۔