al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 38 · 88 verses
38:1صٓۚ وَٱلۡقُرۡءَانِ ذِي ٱلذِّكۡرِ
صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11)
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔
[2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔
[3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
[4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘
[5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔
[6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔
[7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔
[8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔
[9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔
[10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟
[11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘
38:2بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي عِزَّةٖ وَشِقَاقٖ
صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11)
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔
[2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔
[3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
[4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘
[5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔
[6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔
[7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔
[8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔
[9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔
[10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟
[11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘
38:3كَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَبۡلِهِم مِّن قَرۡنٖ فَنَادَواْ وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٖ
صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11)
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔
[2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔
[3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
[4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘
[5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔
[6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔
[7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔
[8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔
[9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔
[10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟
[11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘
38:4وَعَجِبُوٓاْ أَن جَآءَهُم مُّنذِرٞ مِّنۡهُمۡۖ وَقَالَ ٱلۡكَٰفِرُونَ هَٰذَا سَٰحِرٞ كَذَّابٌ
صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11)
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔
[2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔
[3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
[4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘
[5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔
[6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔
[7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔
[8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔
[9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔
[10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟
[11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘
38:5أَجَعَلَ ٱلۡأٓلِهَةَ إِلَٰهٗا وَٰحِدًاۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيۡءٌ عُجَابٞ
صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11)
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔
[2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔
[3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
[4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘
[5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔
[6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔
[7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔
[8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔
[9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔
[10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟
[11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘
38:6وَٱنطَلَقَ ٱلۡمَلَأُ مِنۡهُمۡ أَنِ ٱمۡشُواْ وَٱصۡبِرُواْ عَلَىٰٓ ءَالِهَتِكُمۡۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيۡءٞ يُرَادُ
صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11)
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔
[2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔
[3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
[4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘
[5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔
[6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔
[7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔
[8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔
[9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔
[10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟
[11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘
38:7مَا سَمِعۡنَا بِهَٰذَا فِي ٱلۡمِلَّةِ ٱلۡأٓخِرَةِ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا ٱخۡتِلَٰقٌ
صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11)
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔
[2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔
[3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
[4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘
[5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔
[6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔
[7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔
[8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔
[9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔
[10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟
[11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘
38:8أَءُنزِلَ عَلَيۡهِ ٱلذِّكۡرُ مِنۢ بَيۡنِنَاۚ بَلۡ هُمۡ فِي شَكّٖ مِّن ذِكۡرِيۚ بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11)
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔
[2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔
[3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
[4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘
[5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔
[6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔
[7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔
[8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔
[9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔
[10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟
[11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘
38:9أَمۡ عِندَهُمۡ خَزَآئِنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡوَهَّابِ
صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11)
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔
[2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔
[3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
[4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘
[5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔
[6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔
[7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔
[8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔
[9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔
[10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟
[11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘
38:10أَمۡ لَهُم مُّلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَاۖ فَلۡيَرۡتَقُواْ فِي ٱلۡأَسۡبَٰبِ
صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11)
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔
[2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔
[3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
[4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘
[5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔
[6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔
[7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔
[8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔
[9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔
[10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟
[11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘
38:11جُندٞ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُومٞ مِّنَ ٱلۡأَحۡزَابِ
صٓ، قسم ہے قرآن نصیحت والے کی(1)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، وہ تکبر اور مخالفت میں(پڑے ہوئے) ہیں (2) کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، پس پکارا انھوں نے (مدد کے لیے)اور نہ رہا تھا وہ وقت خلاصی کا(3) اور تعجب کیا انھوں نے اس بات پر کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، اور کہا کافروں نے: یہ تو ایک جادو گر ہے بڑا جھوٹا(4) کیا کر دیا اس نے (متعدد) معبودوں کو ایک معبود ؟ بے شک یہ تو البتہ ایک چیز ہے بڑی عجیب(5) اورچلے سردار ان کے(یہ کہتے ہوئے) کہ چلو اور جمے رہو اوپر اپنے معبودوں کے، بے شک یہ تو البتہ کوئی چیز (غرض) ہے کہ (اس کا) ارادہ کیا جاتا ہے(6) نہیں سنی ہم نے یہ بات پچھلے دین میں، نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی بات(7) کیا نازل کی گئی ہے اوپر اسی کے نصیحت ہمارے درمیان میں سے؟ بلکہ وہ تو شک میں ہیں میری نصیحت سے، بلکہ (ابھی تک) نہیں چکھا انھوں نے میرا عذاب(8) کیا ان کے پاس خزانے ہیں آپ کے رب کی رحمت کے، جو بڑا غالب بہت دینے والا ہے؟(9) یا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے؟ تو چاہیے کہ چڑھ جائیں وہ (آسمان پر) رسیوں کے ذریعے سے (10)(یہ)ایک لشکر ہے جو وہاں شکست خوردہ ہو گا، لشکروں میں سے (11)
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انھوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کیساتھ روا رکھا۔ فرمایا: ﴿صٓ وَالۡقُرۡاٰنِ ذِي الذِّكۡرِ﴾ ’’ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور معاد اور جزا وسزا کا علم۔ قرآن انھیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور وہ ہے قرآن، جو اس وصف جلیل سے موصوف ہے۔
[2] جب قرآن اس وصف سے موصوف ہے تو معلوم ہوا کہ بندوں کے لیے اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے اور بندوں پر فرض ہے کہ وہ ایمان اور تصدیق کے ساتھ اس کو قبول کریں۔ اس سے ان امور کا استنباط کریں جن سے نصیحت حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو ہدایت سے نوازا، اس کو اس کی طرف راہ دکھادی۔ کفار نے قرآن اور اس ہستی کا انکار کر دیا جس کے ہاں قرآن نازل کیا گیا۔ اسے ان کی طرف سے ﴿عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ﴾ ’’غرور، مخالفت‘‘ تکبر، عدم ایمان اور ضد کا سامنا کرنا پڑا، یعنی انھوں نے اس کو رد کرنے، اس کا ابطال کرنے اور اس کو لانے والے میں جرح و قدح کرنے کے لیے اس کی مخالفت اور مخاصمت پر کمر باندھ رکھی ہے۔
[3] اللہ تعالیٰ نے ان کو گزشتہ قوموں کی مانند ہلاک کرنے کی وعید سنائی ہے جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی، جب ان کی ہلاکت کا وقت آن پہنچا تو چیخ و پکار کرنے اور عذاب کو ٹالنے کی التجائیں کرنے لگے لیکن ﴿لَاتَ حِيۡنَ مَنَاصٍ ﴾ ’’وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔‘‘ یعنی یہ وقت اس عذاب سے گلو خلاصی اور اس کو دور کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پس ان لوگوں کو اپنے تکبر اور ضد پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔
[4]﴿وَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌؔ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ یعنی ان جھٹلانے والوں کو ایسے معاملے پر تعجب ہے، جو مقام تعجب نہیں، کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا تاکہ وہ اس سے علم حاصل کر سکیں اور اسے پہچان لیں جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور چونکہ وہ ڈرانے والا انھی کی قوم میں سے ہے، اس لیے اس کی اتباع کرنے میں ان کی قومی نخوت آڑے نہیں آئے گی۔ یہ تو ایسی چیز ہے جس پر شکر کرنا اور اس ڈرانے والی ہستی کی اتباع کرنا فرض تھا۔ مگر ان کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے انکار کرنے والے تعجب کا اظہار کیا اور اپنے کفر و ظلم کی بنا پر کہا:﴿هٰؔذَا سٰؔحِرٌؔ كَذَّابٌ﴾ ’’یہ جادوگر اور نہایت جھوٹا شخص ہے۔‘‘
[5] ان کے نزدیک اس کا گناہ صرف یہ ہے کہ بلاشبہ ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ﴾ ’’اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔‘‘ یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کے شریک اور ہمسر بنانے سے کیونکر روکتا ہے اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا حکم دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ ’’یقینا یہ‘‘ جسے وہ لے کر آیا ہے ﴿لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾ ’’ البتہ بڑی عجیب چیز ہے۔‘‘ یعنی ان کے نزدیک یہ چیز اپنے بطلان اور فساد کی بنا پر تعجب کا تقاضا کرتی ہے۔
[6]﴿وَانۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡهُمۡ ﴾ یعنی اشراف قوم، جن کی بات مانی جاتی تھی، اپنی قوم کو شرک پر جمے رہنے پر آمادہ کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے نکلے ﴿اَنِ امۡشُوۡا وَاصۡبِرُوۡا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمۡ ﴾ یعنی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہنے کی کوشش کرو، کوئی تمھیں ان کی عبادت سے روک نہ دے ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ یہ جو محمد ﷺ، بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ﴿لَشَيۡءٌ يُّرَادُ ﴾ ’’یہ وہ چیز ہے جو مقصود ہے۔‘‘ یعنی اس بارے میں اس کا مقصد اور نیت درست نہیں۔ یہ شبہ احمقوں کے ذہن ہی میں جگہ پاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی حق یا باطل چیز کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کی نیت میں جرح و قدح کرتے ہوئے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا اس کی نیت اور اس کا عمل اسی کے لیے ہے اس کی دعوت کو صرف ان دلائل و براہین کے ذریعے سے رد کیا جا سکتا ہے جو اس کا فساد واضح کر کے اس کا ابطال کر سکیں اور ان کا مقصد تو صرف یہ بتانا تھا کہ محمد ﷺ صرف اس لیے دعوت دیتے ہیں کہ وہ تمھارے سردار، تمھارے بڑے اور تمارے قائد بن جائیں۔
[7]﴿مَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا ﴾ یہ بات جو محمد ﷺ کہتے ہیں اور وہ دین، جس کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں، اس کے بارے میں ہم نے نہیں سنا ﴿فِي الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پچھلے مذہب میں۔‘‘ یعنی قریب کے زمانے کی کسی ملت کے بارے میں سنا ہے نہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے پایا ہے اور نہ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پس اسی راستے پر چلتے رہو جس پر تمھارے آباء و اجداد چلتے رہے ہیں۔ وہی حق ہے اور جس کی طرف محمد ﷺ دعوت دیتے ہیں وہ جھوٹ اور افترا پردازی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی اسی قسم کا شبہ ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے کیونکہ انھوں نے ایک ایسی چیز کی بنا پر حق کو ٹھکرا دیا جو ایک نہایت ادنیٰ سی بات کو ٹھکرانے کے لیے بھی حجت اور دلیل نہیں بن سکتی، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت، ان کے گمراہ آباء و اجداد کے قول کی مخالف ہے۔ ان کے آباء واجداد کے قول میں کون سی ایسی دلیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بطلان پر دلالت کرتی ہو۔
[8]﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کتاب) اتری ہے؟‘‘ یعنی اسے ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے کہ ہمیں چھوڑ کر، اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے وحی کے لیے مختص کرتا ہے؟ یہ بھی باطل شبہ ہے، اس میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لیے کون سی دلیل ہے؟ یا کیا تمام انبیاء و رسل کے یہی اوصاف نہ تھے کہ اللہ انھیں رسالت سے سرفراز فرماتا اور مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کا حکم دیتا تھا۔ چونکہ ان سے صادر ہونے والے یہ تمام اقوال، کسی لحاظ سے بھی رسول (ﷺ)کی لائی ہوئی دعوت کو رد کرنے کے لیے درست نہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ اقوال کہاں سے صادر ہوئے ہیں اور بے شک وہ ﴿فِيۡ شَكٍّ مِّنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’میری نصیحت (کتاب) کے بارے شک میں ہیں۔‘‘ ان کے پاس کوئی علم اور دلیل نہیں اور جب وہ شک میں مبتلا ہو کر اس پر راضی ہو گئے، ان کے پاس واضح اور صریح حق آ گیا اور وہ اپنے شک پر قائم تھے، تب انھوں نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کو ٹھکرانے کے لیے یہ تمام باتیں کہیں۔ ان کی یہ تمام باتیں بہتان طرازی کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کوئی ان اوصاف کا حامل ہو اور وہ شک وعناد کی بنا پر باتیں کرے تو اس کا قول قابل قبول ہے نہ حق میں ذرہ بھر قادح ہے، بلکہ وہ تو ایسا شخص ہے جو محض اپنی اس بات کے سبب سے مذمت اور ملامت کا مستحق ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ لَّمَّا يَذُوۡقُوۡا عَذَابِ﴾ ’’انھوں نے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘ انھیں ایسی باتیں کہنے کی اس لیے جرأت ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں مزے اڑا رہے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہیں ہوا اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھا ہوتا تو وہ ایسی باتیں کہنے کی کبھی جرأت نہ کرتے۔
[9]﴿اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآىِٕنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ﴾ ’’کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں عطا کریں اور جس کو چاہیں اس رحمت سے محروم کر دیں؟ کیونکہ ان کا قول ہے:﴿ءَاُنۡزِلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ مِنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا ہم میں سے صرف یہی شخص ہے، جس پر ذکر نازل کر دیا گیا‘‘ یعنی یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت جو ان کے قبضۂ قدرت میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پرقرآن کے نزول کے معاملے میں سختی کر سکیں۔
[10]﴿اَمۡ لَهُمۡ مُّؔلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان پر ان ہی کی حکومت ہے‘‘ کہ جو چاہیں اسے پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ﴿فَلۡيَرۡتَقُوۡا فِي الۡاَسۡبَابِ ﴾ ’’تب وہ ان راستوں پر چڑھ دیکھیں‘‘ جو انھیں آسمان تک لے جائیں اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی رحمت سے محروم کر دیں۔یہ مشرکین کیسی باتیں کرتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی کمزور ترین مخلوق ہیں؟
[11] کیا ان کا مقصد گروہ بندی، باطل کی مدد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کرنا اور حق کو چھوڑنا ہے؟ فی الواقع یہی ان کا مقصود و مطلوب ہے، مگر ان کا یہ مقصد کبھی پورا نہیں ہو گا، ان کی کوششیں رائیگاں جائیں گی اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہو گی۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿جُنۡدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴾ ’’یہ بھی یہاں کے شکست خوردہ بڑے بڑے لشکروں میں سے ایک معمولی سا لشکر ہے۔‘‘
38:12كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوحٖ وَعَادٞ وَفِرۡعَوۡنُ ذُو ٱلۡأَوۡتَادِ
جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح اور عاد نے اور فرعون میخوں والے نے (12) اور قوم ثمود اور قوم لوط اوربَن والوں نے (بھی) یہ لشکر ہیں(13)نہیں ہیں ان میں سے کوئی بھی، مگرجھٹلایا اس نے رسولوں کو، پس ثابت ہو گیا (ان پر) میرا عذاب (14) نہیں انتظار کررہے ہیں یہ لوگ، مگر ایک زور کی آواز کا، نہیں ہو گا اس آوازکے لیے (درمیان میں)کوئی وقفہ (15)
[15-12] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مشرکین کو ڈراتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کے ساتھ کیا گیا جو ان سے زیادہ قوت والی اور باطل پر ان سے زیادہ کمربستہ تھیں: ﴿قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ ﴾ ’’قوم نوح اور عاد‘‘ جو کہ حضرت ہودu کی قوم تھی ﴿وَّفِرۡعَوۡنُ ذُو الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور میخوں والا فرعون‘‘یعنی جو عظیم فوج اور ہولناک قوت کا مالک تھا ﴿وَثَمُوۡدُ ﴾ ’’اور ثمود‘‘ صالحu کی قوم ﴿وَقَوۡمُ لُوۡطٍ وَّاَصۡحٰؔبُ لۡــَٔيۡكَةِ ﴾ ’’اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ‘‘ یعنی گھنے درختوں اور باغات کی مالک قوم، اس سے مراد، حضرت شعیبu کی قوم ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ جنھوں نے اپنی طاقت، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان کو حق کو نیچا دکھانے کے لیے جمع کیا، مگر یہ سب کچھ ان کے کسی کام نہ آیا۔ ﴿اِنۡ كُلٌّ ﴾ ’’نہیں تھا کوئی‘‘ گروہ ان میں سے ﴿اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ ﴾ ’’مگر انھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ثابت ہوگیا‘‘ ان پر ﴿عِقَابِ ﴾ ’’عذاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا۔ وہ کون سی چیز ہے جو انھیں پاک اور طاہر رکھ سکتی ہے کہ ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا۔ پس یہ لوگ انتظار کریں ﴿صَيۡحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنۡ فَوَاقٍ ﴾ ’’صرف ایک زور کی آواز کا جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔‘‘ یعنی اب اس عذاب کو روکنا اور اس کا واپس ہونا ممکن نہیں اگر یہ اپنے شرک اور انھی اعمال پر قائم رہے تو یہ چنگھاڑ انھیں ہلاک کر کے ان کا استیصال کر ڈالے گی۔
38:13وَثَمُودُ وَقَوۡمُ لُوطٖ وَأَصۡحَٰبُ لۡـَٔيۡكَةِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلۡأَحۡزَابُ
جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح اور عاد نے اور فرعون میخوں والے نے (12) اور قوم ثمود اور قوم لوط اوربَن والوں نے (بھی) یہ لشکر ہیں(13)نہیں ہیں ان میں سے کوئی بھی، مگرجھٹلایا اس نے رسولوں کو، پس ثابت ہو گیا (ان پر) میرا عذاب (14) نہیں انتظار کررہے ہیں یہ لوگ، مگر ایک زور کی آواز کا، نہیں ہو گا اس آوازکے لیے (درمیان میں)کوئی وقفہ (15)
[15-12] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مشرکین کو ڈراتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کے ساتھ کیا گیا جو ان سے زیادہ قوت والی اور باطل پر ان سے زیادہ کمربستہ تھیں: ﴿قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ ﴾ ’’قوم نوح اور عاد‘‘ جو کہ حضرت ہودu کی قوم تھی ﴿وَّفِرۡعَوۡنُ ذُو الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور میخوں والا فرعون‘‘یعنی جو عظیم فوج اور ہولناک قوت کا مالک تھا ﴿وَثَمُوۡدُ ﴾ ’’اور ثمود‘‘ صالحu کی قوم ﴿وَقَوۡمُ لُوۡطٍ وَّاَصۡحٰؔبُ لۡــَٔيۡكَةِ ﴾ ’’اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ‘‘ یعنی گھنے درختوں اور باغات کی مالک قوم، اس سے مراد، حضرت شعیبu کی قوم ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ جنھوں نے اپنی طاقت، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان کو حق کو نیچا دکھانے کے لیے جمع کیا، مگر یہ سب کچھ ان کے کسی کام نہ آیا۔ ﴿اِنۡ كُلٌّ ﴾ ’’نہیں تھا کوئی‘‘ گروہ ان میں سے ﴿اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ ﴾ ’’مگر انھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ثابت ہوگیا‘‘ ان پر ﴿عِقَابِ ﴾ ’’عذاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا۔ وہ کون سی چیز ہے جو انھیں پاک اور طاہر رکھ سکتی ہے کہ ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا۔ پس یہ لوگ انتظار کریں ﴿صَيۡحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنۡ فَوَاقٍ ﴾ ’’صرف ایک زور کی آواز کا جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔‘‘ یعنی اب اس عذاب کو روکنا اور اس کا واپس ہونا ممکن نہیں اگر یہ اپنے شرک اور انھی اعمال پر قائم رہے تو یہ چنگھاڑ انھیں ہلاک کر کے ان کا استیصال کر ڈالے گی۔
38:14إِن كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ ٱلرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح اور عاد نے اور فرعون میخوں والے نے (12) اور قوم ثمود اور قوم لوط اوربَن والوں نے (بھی) یہ لشکر ہیں(13)نہیں ہیں ان میں سے کوئی بھی، مگرجھٹلایا اس نے رسولوں کو، پس ثابت ہو گیا (ان پر) میرا عذاب (14) نہیں انتظار کررہے ہیں یہ لوگ، مگر ایک زور کی آواز کا، نہیں ہو گا اس آوازکے لیے (درمیان میں)کوئی وقفہ (15)
[15-12] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مشرکین کو ڈراتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کے ساتھ کیا گیا جو ان سے زیادہ قوت والی اور باطل پر ان سے زیادہ کمربستہ تھیں: ﴿قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ ﴾ ’’قوم نوح اور عاد‘‘ جو کہ حضرت ہودu کی قوم تھی ﴿وَّفِرۡعَوۡنُ ذُو الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور میخوں والا فرعون‘‘یعنی جو عظیم فوج اور ہولناک قوت کا مالک تھا ﴿وَثَمُوۡدُ ﴾ ’’اور ثمود‘‘ صالحu کی قوم ﴿وَقَوۡمُ لُوۡطٍ وَّاَصۡحٰؔبُ لۡــَٔيۡكَةِ ﴾ ’’اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ‘‘ یعنی گھنے درختوں اور باغات کی مالک قوم، اس سے مراد، حضرت شعیبu کی قوم ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ جنھوں نے اپنی طاقت، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان کو حق کو نیچا دکھانے کے لیے جمع کیا، مگر یہ سب کچھ ان کے کسی کام نہ آیا۔ ﴿اِنۡ كُلٌّ ﴾ ’’نہیں تھا کوئی‘‘ گروہ ان میں سے ﴿اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ ﴾ ’’مگر انھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ثابت ہوگیا‘‘ ان پر ﴿عِقَابِ ﴾ ’’عذاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا۔ وہ کون سی چیز ہے جو انھیں پاک اور طاہر رکھ سکتی ہے کہ ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا۔ پس یہ لوگ انتظار کریں ﴿صَيۡحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنۡ فَوَاقٍ ﴾ ’’صرف ایک زور کی آواز کا جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔‘‘ یعنی اب اس عذاب کو روکنا اور اس کا واپس ہونا ممکن نہیں اگر یہ اپنے شرک اور انھی اعمال پر قائم رہے تو یہ چنگھاڑ انھیں ہلاک کر کے ان کا استیصال کر ڈالے گی۔
38:15وَمَا يَنظُرُ هَـٰٓؤُلَآءِ إِلَّا صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ مَّا لَهَا مِن فَوَاقٖ
جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح اور عاد نے اور فرعون میخوں والے نے (12) اور قوم ثمود اور قوم لوط اوربَن والوں نے (بھی) یہ لشکر ہیں(13)نہیں ہیں ان میں سے کوئی بھی، مگرجھٹلایا اس نے رسولوں کو، پس ثابت ہو گیا (ان پر) میرا عذاب (14) نہیں انتظار کررہے ہیں یہ لوگ، مگر ایک زور کی آواز کا، نہیں ہو گا اس آوازکے لیے (درمیان میں)کوئی وقفہ (15)
[15-12] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مشرکین کو ڈراتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کے ساتھ کیا گیا جو ان سے زیادہ قوت والی اور باطل پر ان سے زیادہ کمربستہ تھیں: ﴿قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ ﴾ ’’قوم نوح اور عاد‘‘ جو کہ حضرت ہودu کی قوم تھی ﴿وَّفِرۡعَوۡنُ ذُو الۡاَوۡتَادِ﴾ ’’اور میخوں والا فرعون‘‘یعنی جو عظیم فوج اور ہولناک قوت کا مالک تھا ﴿وَثَمُوۡدُ ﴾ ’’اور ثمود‘‘ صالحu کی قوم ﴿وَقَوۡمُ لُوۡطٍ وَّاَصۡحٰؔبُ لۡــَٔيۡكَةِ ﴾ ’’اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ‘‘ یعنی گھنے درختوں اور باغات کی مالک قوم، اس سے مراد، حضرت شعیبu کی قوم ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ جنھوں نے اپنی طاقت، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان کو حق کو نیچا دکھانے کے لیے جمع کیا، مگر یہ سب کچھ ان کے کسی کام نہ آیا۔ ﴿اِنۡ كُلٌّ ﴾ ’’نہیں تھا کوئی‘‘ گروہ ان میں سے ﴿اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ ﴾ ’’مگر انھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ثابت ہوگیا‘‘ ان پر ﴿عِقَابِ ﴾ ’’عذاب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا۔ وہ کون سی چیز ہے جو انھیں پاک اور طاہر رکھ سکتی ہے کہ ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا۔ پس یہ لوگ انتظار کریں ﴿صَيۡحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنۡ فَوَاقٍ ﴾ ’’صرف ایک زور کی آواز کا جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔‘‘ یعنی اب اس عذاب کو روکنا اور اس کا واپس ہونا ممکن نہیں اگر یہ اپنے شرک اور انھی اعمال پر قائم رہے تو یہ چنگھاڑ انھیں ہلاک کر کے ان کا استیصال کر ڈالے گی۔
38:16وَقَالُواْ رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبۡلَ يَوۡمِ ٱلۡحِسَابِ
اور (کافروں نے) کہا: اے ہمارے رب! جلدی دے ہمیں ہمارا حصہ پہلے یوم حساب سے (16) صبر کیجیے ان باتوں پرجو وہ کہتے ہیں اور یاد کیجیے ہمارے بندے داؤ د صاحبِ قوت کو، بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (17)
[16] یہ جھٹلانے والے اپنی جہالت اور حق کے ساتھ عناد کی بنا پر عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿رَبَّنَا عَجِّلۡ لَّنَا قِطَّنَا ﴾ یعنی ہمارے حصے کا عذاب ہمیں جلدی دے دے ﴿قَبۡلَ يَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’حساب کے دن سے پہلے۔‘‘ وہ اپنے اس قول سے باز نہیں آتے۔ اے محمدﷺ! یہ کفار سمجھتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی سچائی کی علامت یہ ہے کہ آپ ان پر عذاب لے آئیں۔
[17] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿اِصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے۔‘‘ جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین نے صبر کیا۔ ان کی باتیں حق کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں نہ آپ کو۔ وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے آپ کو تلقین فرمائی کہ آپ اللہ وحدہ کی عبادت اور اس کے عبادت گزار بندوں کے احوال کو یاد کر کے صبر پر مدد لیں، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا:﴿فَاصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَقَبۡلَ غُرُوۡبِهَا ﴾(طٰہٰ:20؍130)(اے محمد!ﷺ) جو یہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے، اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے۔‘‘ سب سے بڑے عبادت گزار انبیاء میں سے اللہ کے نبی حضرت داؤ دu ہیں وہ ﴿ذَا الۡاَيۡدِ ﴾ ’’صاحب قوت تھے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے اپنے قلب و بدن میں عظیم طاقت رکھتے تھے ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ یعنی وہ تمام امور میں انابت، محبت، تعبد، خوف، امید، کثرتِ گریہ زاری اور کثرتِ دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے۔ اگر عبادت میں کوئی خلل واقع ہو جاتا، تو اس خلل کو دور کر کے سچی توبہ کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔
38:17ٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَٱذۡكُرۡ عَبۡدَنَا دَاوُۥدَ ذَا ٱلۡأَيۡدِۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ
اور (کافروں نے) کہا: اے ہمارے رب! جلدی دے ہمیں ہمارا حصہ پہلے یوم حساب سے (16) صبر کیجیے ان باتوں پرجو وہ کہتے ہیں اور یاد کیجیے ہمارے بندے داؤ د صاحبِ قوت کو، بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (17)
[16] یہ جھٹلانے والے اپنی جہالت اور حق کے ساتھ عناد کی بنا پر عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿رَبَّنَا عَجِّلۡ لَّنَا قِطَّنَا ﴾ یعنی ہمارے حصے کا عذاب ہمیں جلدی دے دے ﴿قَبۡلَ يَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’حساب کے دن سے پہلے۔‘‘ وہ اپنے اس قول سے باز نہیں آتے۔ اے محمدﷺ! یہ کفار سمجھتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی سچائی کی علامت یہ ہے کہ آپ ان پر عذاب لے آئیں۔
[17] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿اِصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے۔‘‘ جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین نے صبر کیا۔ ان کی باتیں حق کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں نہ آپ کو۔ وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے آپ کو تلقین فرمائی کہ آپ اللہ وحدہ کی عبادت اور اس کے عبادت گزار بندوں کے احوال کو یاد کر کے صبر پر مدد لیں، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا:﴿فَاصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَقَبۡلَ غُرُوۡبِهَا ﴾(طٰہٰ:20؍130)(اے محمد!ﷺ) جو یہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے، اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے۔‘‘ سب سے بڑے عبادت گزار انبیاء میں سے اللہ کے نبی حضرت داؤ دu ہیں وہ ﴿ذَا الۡاَيۡدِ ﴾ ’’صاحب قوت تھے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے اپنے قلب و بدن میں عظیم طاقت رکھتے تھے ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ یعنی وہ تمام امور میں انابت، محبت، تعبد، خوف، امید، کثرتِ گریہ زاری اور کثرتِ دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے۔ اگر عبادت میں کوئی خلل واقع ہو جاتا، تو اس خلل کو دور کر کے سچی توبہ کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔
بے شک ہم نے تابع کردیا تھا پہاڑوں کو اس کےساتھ، وہ تسبیح بیان کرتے تھے شام و صبح (18) اور پرندوں کو بھی دراں حالیکہ وہ اکٹھے کر دیے جاتے تھے سب اس کےآگے رجوع کرنے والے تھے (19) اور مضبوط کر دی تھی ہم نے بادشاہی اس کی اور دی تھی ہم نے اسے حکمت اور فیصلہ کن خطاب(کی صلاحیت)(20)
[18، 19] یہ ان کی اپنے رب کی طرف انابت اور اس کی عبادت ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کر دیا جو آپ کی معیت میں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے تھے ﴿بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِشۡرَاقِ﴾ صبح اور شام کو ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ تابع کردیا ﴿الطَّيۡرَ مَحۡشُوۡرَةً ﴾ ’’پرندوں کو بھی وہ سمٹ کر آگئے‘‘ یعنی وہ اس کے پاس جمع کردیے گئے۔ ﴿كُلٌّ ﴾ ’’سب کے سب‘‘ پہاڑ اور پرندے اللہ تعالیٰ کے لیے ﴿لَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’مطیع تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کرتے ہوئے ﴿يٰؔجِبَالُ اَوِّبِيۡ مَعَهٗ وَالطَّيۡرَ ﴾(سبا: 34؍10) ’’اے پہاڑو! تم اس (داؤ د) کے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کرو اور ہم نے پرندوں کو بھی یہی حکم دیا۔‘‘ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ کو عبادت کی توفیق سے نوازا۔
[20] پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی اس نوازش کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو عظیم مملکت اور اقتدار عطا کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَشَدَدۡنَا مُلۡكَهٗ﴾ ’’اور ہم نے ان کی بادشاہی کو استحکام بخشا۔‘‘ آپ کو جو اسباب، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان عطا کیا اس کے ذریعے سے ہم نے ان کی مملکت کو طاقتور بنایا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو علم عطا کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحِكۡمَةَ ﴾ یعنی ہم نے آپ کو نبوت اور علم عظیم سے سرفراز کیا۔ ﴿وَفَصۡلَ الۡخِطَابِ ﴾ ’’اور بات کا فیصلہ (سکھایا)‘‘ یعنی لوگوں کے باہمی جھگڑوں میں فیصلہ کن بات کہنے کا ملکہ بخشا تھا۔
38:18إِنَّا سَخَّرۡنَا ٱلۡجِبَالَ مَعَهُۥ يُسَبِّحۡنَ بِٱلۡعَشِيِّ وَٱلۡإِشۡرَاقِ
بے شک ہم نے تابع کردیا تھا پہاڑوں کو اس کےساتھ، وہ تسبیح بیان کرتے تھے شام و صبح (18) اور پرندوں کو بھی دراں حالیکہ وہ اکٹھے کر دیے جاتے تھے سب اس کےآگے رجوع کرنے والے تھے (19) اور مضبوط کر دی تھی ہم نے بادشاہی اس کی اور دی تھی ہم نے اسے حکمت اور فیصلہ کن خطاب(کی صلاحیت)(20)
[18، 19] یہ ان کی اپنے رب کی طرف انابت اور اس کی عبادت ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کر دیا جو آپ کی معیت میں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے تھے ﴿بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِشۡرَاقِ﴾ صبح اور شام کو ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ تابع کردیا ﴿الطَّيۡرَ مَحۡشُوۡرَةً ﴾ ’’پرندوں کو بھی وہ سمٹ کر آگئے‘‘ یعنی وہ اس کے پاس جمع کردیے گئے۔ ﴿كُلٌّ ﴾ ’’سب کے سب‘‘ پہاڑ اور پرندے اللہ تعالیٰ کے لیے ﴿لَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’مطیع تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کرتے ہوئے ﴿يٰؔجِبَالُ اَوِّبِيۡ مَعَهٗ وَالطَّيۡرَ ﴾(سبا: 34؍10) ’’اے پہاڑو! تم اس (داؤ د) کے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کرو اور ہم نے پرندوں کو بھی یہی حکم دیا۔‘‘ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ کو عبادت کی توفیق سے نوازا۔
[20] پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی اس نوازش کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو عظیم مملکت اور اقتدار عطا کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَشَدَدۡنَا مُلۡكَهٗ﴾ ’’اور ہم نے ان کی بادشاہی کو استحکام بخشا۔‘‘ آپ کو جو اسباب، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان عطا کیا اس کے ذریعے سے ہم نے ان کی مملکت کو طاقتور بنایا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو علم عطا کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحِكۡمَةَ ﴾ یعنی ہم نے آپ کو نبوت اور علم عظیم سے سرفراز کیا۔ ﴿وَفَصۡلَ الۡخِطَابِ ﴾ ’’اور بات کا فیصلہ (سکھایا)‘‘ یعنی لوگوں کے باہمی جھگڑوں میں فیصلہ کن بات کہنے کا ملکہ بخشا تھا۔
38:19وَٱلطَّيۡرَ مَحۡشُورَةٗۖ كُلّٞ لَّهُۥٓ أَوَّابٞ
بے شک ہم نے تابع کردیا تھا پہاڑوں کو اس کےساتھ، وہ تسبیح بیان کرتے تھے شام و صبح (18) اور پرندوں کو بھی دراں حالیکہ وہ اکٹھے کر دیے جاتے تھے سب اس کےآگے رجوع کرنے والے تھے (19) اور مضبوط کر دی تھی ہم نے بادشاہی اس کی اور دی تھی ہم نے اسے حکمت اور فیصلہ کن خطاب(کی صلاحیت)(20)
[18، 19] یہ ان کی اپنے رب کی طرف انابت اور اس کی عبادت ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کر دیا جو آپ کی معیت میں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے تھے ﴿بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِشۡرَاقِ﴾ صبح اور شام کو ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ تابع کردیا ﴿الطَّيۡرَ مَحۡشُوۡرَةً ﴾ ’’پرندوں کو بھی وہ سمٹ کر آگئے‘‘ یعنی وہ اس کے پاس جمع کردیے گئے۔ ﴿كُلٌّ ﴾ ’’سب کے سب‘‘ پہاڑ اور پرندے اللہ تعالیٰ کے لیے ﴿لَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’مطیع تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کرتے ہوئے ﴿يٰؔجِبَالُ اَوِّبِيۡ مَعَهٗ وَالطَّيۡرَ ﴾(سبا: 34؍10) ’’اے پہاڑو! تم اس (داؤ د) کے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کرو اور ہم نے پرندوں کو بھی یہی حکم دیا۔‘‘ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ کو عبادت کی توفیق سے نوازا۔
[20] پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی اس نوازش کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو عظیم مملکت اور اقتدار عطا کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَشَدَدۡنَا مُلۡكَهٗ﴾ ’’اور ہم نے ان کی بادشاہی کو استحکام بخشا۔‘‘ آپ کو جو اسباب، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان عطا کیا اس کے ذریعے سے ہم نے ان کی مملکت کو طاقتور بنایا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو علم عطا کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحِكۡمَةَ ﴾ یعنی ہم نے آپ کو نبوت اور علم عظیم سے سرفراز کیا۔ ﴿وَفَصۡلَ الۡخِطَابِ ﴾ ’’اور بات کا فیصلہ (سکھایا)‘‘ یعنی لوگوں کے باہمی جھگڑوں میں فیصلہ کن بات کہنے کا ملکہ بخشا تھا۔
38:20وَشَدَدۡنَا مُلۡكَهُۥ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡحِكۡمَةَ وَفَصۡلَ ٱلۡخِطَابِ
بے شک ہم نے تابع کردیا تھا پہاڑوں کو اس کےساتھ، وہ تسبیح بیان کرتے تھے شام و صبح (18) اور پرندوں کو بھی دراں حالیکہ وہ اکٹھے کر دیے جاتے تھے سب اس کےآگے رجوع کرنے والے تھے (19) اور مضبوط کر دی تھی ہم نے بادشاہی اس کی اور دی تھی ہم نے اسے حکمت اور فیصلہ کن خطاب(کی صلاحیت)(20)
[18، 19] یہ ان کی اپنے رب کی طرف انابت اور اس کی عبادت ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کر دیا جو آپ کی معیت میں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے تھے ﴿بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِشۡرَاقِ﴾ صبح اور شام کو ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ تابع کردیا ﴿الطَّيۡرَ مَحۡشُوۡرَةً ﴾ ’’پرندوں کو بھی وہ سمٹ کر آگئے‘‘ یعنی وہ اس کے پاس جمع کردیے گئے۔ ﴿كُلٌّ ﴾ ’’سب کے سب‘‘ پہاڑ اور پرندے اللہ تعالیٰ کے لیے ﴿لَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’مطیع تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کرتے ہوئے ﴿يٰؔجِبَالُ اَوِّبِيۡ مَعَهٗ وَالطَّيۡرَ ﴾(سبا: 34؍10) ’’اے پہاڑو! تم اس (داؤ د) کے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کرو اور ہم نے پرندوں کو بھی یہی حکم دیا۔‘‘ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ کو عبادت کی توفیق سے نوازا۔
[20] پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی اس نوازش کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو عظیم مملکت اور اقتدار عطا کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَشَدَدۡنَا مُلۡكَهٗ﴾ ’’اور ہم نے ان کی بادشاہی کو استحکام بخشا۔‘‘ آپ کو جو اسباب، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان عطا کیا اس کے ذریعے سے ہم نے ان کی مملکت کو طاقتور بنایا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو علم عطا کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحِكۡمَةَ ﴾ یعنی ہم نے آپ کو نبوت اور علم عظیم سے سرفراز کیا۔ ﴿وَفَصۡلَ الۡخِطَابِ ﴾ ’’اور بات کا فیصلہ (سکھایا)‘‘ یعنی لوگوں کے باہمی جھگڑوں میں فیصلہ کن بات کہنے کا ملکہ بخشا تھا۔
38:21۞وَهَلۡ أَتَىٰكَ نَبَؤُاْ ٱلۡخَصۡمِ إِذۡ تَسَوَّرُواْ ٱلۡمِحۡرَابَ
اور کیا آئی آپ کے پاس خبر جھگڑنے والوں کی، جبکہ وہ دیوار پھاند کر آگئے کمرے میں (21) جب وہ اندر آئے داؤ د پر تو گھبرا گئے وہ ان سے، انھوں نے کہا، نہ ڈریے(ہم) دو جھگڑنے والے ہیں، زیادتی کی ہے ہمارے بعض نے بعض پر، تو آپ فیصلہ فرمائیں ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور نہ کیجیے بے انصافی اور رہنمائی کیجیے ہماری طرف سیدھی راہ کے (22) بے شک یہ میرا بھائی ہے، اس کے لیے ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس دنبی ہے ایک ہی، پس(یہ) کہتا ہے، میرے سپرد کر دے وہ بھی، اور غالب آ جاتا ہے مجھ پر بات کرنے میں (23) آپ نے فرمایا البتہ تحقیق ظلم کیا ہے اس نے تجھ پر سوال کر کے تیری دنبی کا(تاکہ ملا لے اسے بھی) اپنی دنبیوں میں، اور بلاشبہ بہت سے شرکاء البتہ زیادتی کرتے ہیں بعض ان کے بعض پر، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور تھوڑے ہیں ایسے لوگ، اور گمان کیا داؤ د نے کہ بے شک ہم نے آزمایا ہے اسے، پس بخشش مانگی اس نے اپنے رب سے اور گر پڑا رکوع میں اور رجوع ہوا (24) پس بخش دی ہم نے اس کی یہ( غلطی)، اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب ہے اور اچھا ٹھکانا ہے(25) اے داؤ د! بے شک ہم نے بنایا تجھے خلیفہ زمین میں، پس فیصلہ کر درمیان لوگوں کے ساتھ حق کے اور نہ اتباع کر خواہش نفس کی کہ وہ گمراہ کر دے تجھے اللہ کے راستے سے، بلاشبہ وہ لوگ جو گمراہ ہوتے ہیں اللہ کے راستے سے ان کے لیے ہے عذاب سخت ، بہ سبب اس کے جو بھلا دیا انھوں نے یوم حساب کو (26)
[21] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤ دu کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں معروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے ، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دو اشخاص کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کے لیے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤ دu سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی توبہ قبول کر کے بخش دیا اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا:﴿وَهَلۡ اَتٰىكَ نَبَؤُا الۡخَصۡمِ ﴾ ’’اور کیا تمھارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے۔‘‘ یہ بڑی ہی تعجب انگیز خبر ہے۔ ﴿اِذۡ تَسَوَّرُوا ﴾ ’’جب وہ دیوار پھاند کر آئے تھے‘‘ حضرت داؤ دu کے پاس ﴿الۡمِحۡرَابَ﴾ ’’محراب میں۔‘‘ یعنی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی عبادت کرنے کی جگہ میں دروازے کے علاوہ دوسرے راستے سے داخل ہوئے۔
[22] جب وہ اس طریقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ گھبرا گئے اور ان سے ڈر گئے، انھوں نے آپ سے کہا کہ ہم ﴿خَصۡمٰنِ ﴾ ’’دو جھگڑا کرنے والے ہیں‘‘ اس لیے ڈریے مت، ﴿بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا ہے‘‘ ظلم کرتے ہوئے ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَنَا بِالۡحَقِّ ﴾ لہٰذا ہمارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور کسی ایک طرف مائل نہ ہوں ﴿وَلَا تُشۡطِطۡ وَاهۡدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ ﴾ ’’اور بے انصافی نہ کیجیے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی کیجیے۔‘‘
[23] اس پورے واقعہ سے مقصود یہ ہے کہ حضرت داؤ دu کو معلوم ہو گیا تھا کہ ان دو اشخاص کا مقصد واضح اور صریح حق تھا۔ جب یہ معاملہ ہے تو وہ حضرت داؤ دu کے سامنے حق کے ساتھ قصہ بیان کرتے ہیں تب اللہ کے نبی داؤدu ان کے وعظ و نصیحت سے منقبض ہوئے نہ آپ نے ان کو ملامت کی۔ ان میں سے ایک نے کہا: ﴿اِنَّ هٰؔذَاۤ اَخِيۡ ﴾ ’’ بے شک یہ میرا بھائی‘‘ یعنی اس نے دین، نسب یا دوستی کی اخوت کا ذکر کیا جو تقاضا کرتی ہے کہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس بھائی سے زیادتی کا صادر ہونا غیر کی زیادتی سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے ﴿لَهٗ تِسۡعٌ وَّتِسۡعُوۡنَ نَعۡجَةً ﴾ ’’اس کی ننانوے دنبیاں ہیں‘‘ اور یہ خیر کثیر ہے اور اس چیز پر قناعت کی موجب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے ﴿وَّلِيَ نَعۡجَةٌ وَّاحِدَةٌ ﴾ ’’اور میرے پاس ایک دنبی ہے‘‘ اور یہ اس میں بھی طمع رکھتا ہے۔ ﴿فَقَالَ اَكۡفِلۡنِيۡهَا ﴾ اس کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری خاطر اسے چھوڑ دے اور اسے میری کفالت میں دے دے ﴿وَعَزَّنِيۡ فِي الۡخِطَابِ ﴾ اور اس نے بات چیت میں مجھے دبا لیا ہے حتیٰ کہ وہ میری دنبی کو حاصل کرنے ہی والا ہے۔
[24] جب داؤ دu نے اس کی بات سنی… فریقین کی باتوں کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا تھا کہ فی الواقع ایسا ہوا ہے، اس لیے حضرت داؤ دu نے ضرورت نہ سمجھی کہ دوسرا فریق بات کرے ، لہٰذا اعتراض کرنے والے کے لیے اس قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حضرت داؤ دu نے فریق ثانی کا موقف سننے سے پہلے فیصلہ کیوں کیا؟ تو فرمایا:﴿لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ﴾ ’’یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بے شک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔‘‘ اکثر ساتھ اور مل جل کر رہنے والوں کی یہی عادت ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡؔخُلَطَآءِ لَيَبۡغِيۡ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔‘‘ کیونکہ ظلم کرنا نفوس کا وصف ہے ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ کیونکہ انھیں ایمان اور عمل صالح کی معیت حاصل ہوتی ہے جو انھیں ظلم سے باز رکھتے ہیں۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مَّا هُمۡ ﴾ ’’اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(سبا: 34؍13) ’’اور میرے بندوں میں کم لوگ ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ ﴿وَظَنَّ دَاوٗدُ ﴾ جب حضرت داؤ دu نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا تو آپ سمجھ گئے کہ ﴿اَنَّمَا فَتَنّٰهُ ﴾ یعنی ہم نے حضرت داؤ دu کی آزمائش کے لیے یہ مقدمہ بنا کر ان کے سامنے پیش کیا ہے۔ ﴿فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّهٗ﴾ جب آپ سے لغزش سرزد ہوئی تو آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا ﴾ ’’اور جھک کر گر پڑے۔‘‘ یعنی سجدے میں گر پڑے ﴿وَّاَنَابَ﴾ اور سچی توبہ اور عبادت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔
[25]﴿فَغَفَرۡنَا لَهٗ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس ہم نے معاف کردی یہ لغزش‘‘ جو آپ سے صادر ہوئی تھی اور مختلف انواع کی کرامات کے ذریعے سے آپ کو اکرام سے سرفراز کیا، فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى ﴾ ’’اور بلاشبہ ہمارے ہاں اس کے لیے خاص مرتبہ ہے‘‘ یعنی بہت بلند مرتبہ، ہمارا قرب ﴿وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور اچھا انجام ہے‘‘ حضرت داؤ دu سے جو لغزش سرزد ہوئی، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اس کی کوئی حاجت نہیں اس لیے اس بارے میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو واقعہ بیان فرمایا ہے صرف اسی میں فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے لطف و کرم سے نوازا، آپ کی توبہ اور انابت کو قبول کیا، آپ کا مرتبہ بلند ہوا ، لہٰذا توبہ کے بعد آپ کو پہلے سے بہتر مرتبہ حاصل ہوا۔
[26]﴿يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اے داود! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا۔‘‘ تاکہ آپ دنیا میں دینی اور دنیاوی احکام نافذ کر سکیں۔ ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیجیے‘‘ یعنی عدل وانصاف کے ساتھ۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ واجب کا علم اور واقع کا علم نہ ہو اور حق کو نافذ کرنے کی قدرت نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعِ الۡهَوٰى ﴾ ’’اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے‘‘ ایسا نہ ہو کہ آپ کا دل کسی کی طرف اس کی قرابت، دوستی یا محبت یا فریق مخالف سے ناراضی کے باعث مائل ہو جائے ﴿فَيُضِلَّكَ ﴾ ’’پس وہ (خواہش نفس) آپ کو گمراہ کر دے‘‘ ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی راہ سے‘‘ اور آپ کو صراط مستقیم سے دور کر دے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں‘‘ خاص طور پر وہ لوگ جو دانستہ طور پر اس کاارتکاب کرتے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا يَوۡمَ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ ان کے لیے یوم جزا سے غافل رہنے کی وجہ سے سخت عذاب ہے۔‘‘ اگر وہ اسے یاد رکھتے اور ان کے دل میں اس کا خوف ہوتا تو فتنے میں مبتلا کرنے والی خواہشات نفس کبھی بھی انھیں ظلم اور ناانصافی کی طرف مائل نہ کر سکتیں۔
38:22إِذۡ دَخَلُواْ عَلَىٰ دَاوُۥدَ فَفَزِعَ مِنۡهُمۡۖ قَالُواْ لَا تَخَفۡۖ خَصۡمَانِ بَغَىٰ بَعۡضُنَا عَلَىٰ بَعۡضٖ فَٱحۡكُم بَيۡنَنَا بِٱلۡحَقِّ وَلَا تُشۡطِطۡ وَٱهۡدِنَآ إِلَىٰ سَوَآءِ ٱلصِّرَٰطِ
اور کیا آئی آپ کے پاس خبر جھگڑنے والوں کی، جبکہ وہ دیوار پھاند کر آگئے کمرے میں (21) جب وہ اندر آئے داؤ د پر تو گھبرا گئے وہ ان سے، انھوں نے کہا، نہ ڈریے(ہم) دو جھگڑنے والے ہیں، زیادتی کی ہے ہمارے بعض نے بعض پر، تو آپ فیصلہ فرمائیں ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور نہ کیجیے بے انصافی اور رہنمائی کیجیے ہماری طرف سیدھی راہ کے (22) بے شک یہ میرا بھائی ہے، اس کے لیے ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس دنبی ہے ایک ہی، پس(یہ) کہتا ہے، میرے سپرد کر دے وہ بھی، اور غالب آ جاتا ہے مجھ پر بات کرنے میں (23) آپ نے فرمایا البتہ تحقیق ظلم کیا ہے اس نے تجھ پر سوال کر کے تیری دنبی کا(تاکہ ملا لے اسے بھی) اپنی دنبیوں میں، اور بلاشبہ بہت سے شرکاء البتہ زیادتی کرتے ہیں بعض ان کے بعض پر، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور تھوڑے ہیں ایسے لوگ، اور گمان کیا داؤ د نے کہ بے شک ہم نے آزمایا ہے اسے، پس بخشش مانگی اس نے اپنے رب سے اور گر پڑا رکوع میں اور رجوع ہوا (24) پس بخش دی ہم نے اس کی یہ( غلطی)، اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب ہے اور اچھا ٹھکانا ہے(25) اے داؤ د! بے شک ہم نے بنایا تجھے خلیفہ زمین میں، پس فیصلہ کر درمیان لوگوں کے ساتھ حق کے اور نہ اتباع کر خواہش نفس کی کہ وہ گمراہ کر دے تجھے اللہ کے راستے سے، بلاشبہ وہ لوگ جو گمراہ ہوتے ہیں اللہ کے راستے سے ان کے لیے ہے عذاب سخت ، بہ سبب اس کے جو بھلا دیا انھوں نے یوم حساب کو (26)
[21] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤ دu کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں معروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے ، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دو اشخاص کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کے لیے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤ دu سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی توبہ قبول کر کے بخش دیا اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا:﴿وَهَلۡ اَتٰىكَ نَبَؤُا الۡخَصۡمِ ﴾ ’’اور کیا تمھارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے۔‘‘ یہ بڑی ہی تعجب انگیز خبر ہے۔ ﴿اِذۡ تَسَوَّرُوا ﴾ ’’جب وہ دیوار پھاند کر آئے تھے‘‘ حضرت داؤ دu کے پاس ﴿الۡمِحۡرَابَ﴾ ’’محراب میں۔‘‘ یعنی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی عبادت کرنے کی جگہ میں دروازے کے علاوہ دوسرے راستے سے داخل ہوئے۔
[22] جب وہ اس طریقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ گھبرا گئے اور ان سے ڈر گئے، انھوں نے آپ سے کہا کہ ہم ﴿خَصۡمٰنِ ﴾ ’’دو جھگڑا کرنے والے ہیں‘‘ اس لیے ڈریے مت، ﴿بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا ہے‘‘ ظلم کرتے ہوئے ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَنَا بِالۡحَقِّ ﴾ لہٰذا ہمارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور کسی ایک طرف مائل نہ ہوں ﴿وَلَا تُشۡطِطۡ وَاهۡدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ ﴾ ’’اور بے انصافی نہ کیجیے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی کیجیے۔‘‘
[23] اس پورے واقعہ سے مقصود یہ ہے کہ حضرت داؤ دu کو معلوم ہو گیا تھا کہ ان دو اشخاص کا مقصد واضح اور صریح حق تھا۔ جب یہ معاملہ ہے تو وہ حضرت داؤ دu کے سامنے حق کے ساتھ قصہ بیان کرتے ہیں تب اللہ کے نبی داؤدu ان کے وعظ و نصیحت سے منقبض ہوئے نہ آپ نے ان کو ملامت کی۔ ان میں سے ایک نے کہا: ﴿اِنَّ هٰؔذَاۤ اَخِيۡ ﴾ ’’ بے شک یہ میرا بھائی‘‘ یعنی اس نے دین، نسب یا دوستی کی اخوت کا ذکر کیا جو تقاضا کرتی ہے کہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس بھائی سے زیادتی کا صادر ہونا غیر کی زیادتی سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے ﴿لَهٗ تِسۡعٌ وَّتِسۡعُوۡنَ نَعۡجَةً ﴾ ’’اس کی ننانوے دنبیاں ہیں‘‘ اور یہ خیر کثیر ہے اور اس چیز پر قناعت کی موجب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے ﴿وَّلِيَ نَعۡجَةٌ وَّاحِدَةٌ ﴾ ’’اور میرے پاس ایک دنبی ہے‘‘ اور یہ اس میں بھی طمع رکھتا ہے۔ ﴿فَقَالَ اَكۡفِلۡنِيۡهَا ﴾ اس کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری خاطر اسے چھوڑ دے اور اسے میری کفالت میں دے دے ﴿وَعَزَّنِيۡ فِي الۡخِطَابِ ﴾ اور اس نے بات چیت میں مجھے دبا لیا ہے حتیٰ کہ وہ میری دنبی کو حاصل کرنے ہی والا ہے۔
[24] جب داؤ دu نے اس کی بات سنی… فریقین کی باتوں کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا تھا کہ فی الواقع ایسا ہوا ہے، اس لیے حضرت داؤ دu نے ضرورت نہ سمجھی کہ دوسرا فریق بات کرے ، لہٰذا اعتراض کرنے والے کے لیے اس قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حضرت داؤ دu نے فریق ثانی کا موقف سننے سے پہلے فیصلہ کیوں کیا؟ تو فرمایا:﴿لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ﴾ ’’یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بے شک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔‘‘ اکثر ساتھ اور مل جل کر رہنے والوں کی یہی عادت ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡؔخُلَطَآءِ لَيَبۡغِيۡ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔‘‘ کیونکہ ظلم کرنا نفوس کا وصف ہے ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ کیونکہ انھیں ایمان اور عمل صالح کی معیت حاصل ہوتی ہے جو انھیں ظلم سے باز رکھتے ہیں۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مَّا هُمۡ ﴾ ’’اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(سبا: 34؍13) ’’اور میرے بندوں میں کم لوگ ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ ﴿وَظَنَّ دَاوٗدُ ﴾ جب حضرت داؤ دu نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا تو آپ سمجھ گئے کہ ﴿اَنَّمَا فَتَنّٰهُ ﴾ یعنی ہم نے حضرت داؤ دu کی آزمائش کے لیے یہ مقدمہ بنا کر ان کے سامنے پیش کیا ہے۔ ﴿فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّهٗ﴾ جب آپ سے لغزش سرزد ہوئی تو آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا ﴾ ’’اور جھک کر گر پڑے۔‘‘ یعنی سجدے میں گر پڑے ﴿وَّاَنَابَ﴾ اور سچی توبہ اور عبادت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔
[25]﴿فَغَفَرۡنَا لَهٗ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس ہم نے معاف کردی یہ لغزش‘‘ جو آپ سے صادر ہوئی تھی اور مختلف انواع کی کرامات کے ذریعے سے آپ کو اکرام سے سرفراز کیا، فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى ﴾ ’’اور بلاشبہ ہمارے ہاں اس کے لیے خاص مرتبہ ہے‘‘ یعنی بہت بلند مرتبہ، ہمارا قرب ﴿وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور اچھا انجام ہے‘‘ حضرت داؤ دu سے جو لغزش سرزد ہوئی، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اس کی کوئی حاجت نہیں اس لیے اس بارے میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو واقعہ بیان فرمایا ہے صرف اسی میں فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے لطف و کرم سے نوازا، آپ کی توبہ اور انابت کو قبول کیا، آپ کا مرتبہ بلند ہوا ، لہٰذا توبہ کے بعد آپ کو پہلے سے بہتر مرتبہ حاصل ہوا۔
[26]﴿يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اے داود! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا۔‘‘ تاکہ آپ دنیا میں دینی اور دنیاوی احکام نافذ کر سکیں۔ ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیجیے‘‘ یعنی عدل وانصاف کے ساتھ۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ واجب کا علم اور واقع کا علم نہ ہو اور حق کو نافذ کرنے کی قدرت نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعِ الۡهَوٰى ﴾ ’’اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے‘‘ ایسا نہ ہو کہ آپ کا دل کسی کی طرف اس کی قرابت، دوستی یا محبت یا فریق مخالف سے ناراضی کے باعث مائل ہو جائے ﴿فَيُضِلَّكَ ﴾ ’’پس وہ (خواہش نفس) آپ کو گمراہ کر دے‘‘ ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی راہ سے‘‘ اور آپ کو صراط مستقیم سے دور کر دے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں‘‘ خاص طور پر وہ لوگ جو دانستہ طور پر اس کاارتکاب کرتے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا يَوۡمَ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ ان کے لیے یوم جزا سے غافل رہنے کی وجہ سے سخت عذاب ہے۔‘‘ اگر وہ اسے یاد رکھتے اور ان کے دل میں اس کا خوف ہوتا تو فتنے میں مبتلا کرنے والی خواہشات نفس کبھی بھی انھیں ظلم اور ناانصافی کی طرف مائل نہ کر سکتیں۔
38:23إِنَّ هَٰذَآ أَخِي لَهُۥ تِسۡعٞ وَتِسۡعُونَ نَعۡجَةٗ وَلِيَ نَعۡجَةٞ وَٰحِدَةٞ فَقَالَ أَكۡفِلۡنِيهَا وَعَزَّنِي فِي ٱلۡخِطَابِ
اور کیا آئی آپ کے پاس خبر جھگڑنے والوں کی، جبکہ وہ دیوار پھاند کر آگئے کمرے میں (21) جب وہ اندر آئے داؤ د پر تو گھبرا گئے وہ ان سے، انھوں نے کہا، نہ ڈریے(ہم) دو جھگڑنے والے ہیں، زیادتی کی ہے ہمارے بعض نے بعض پر، تو آپ فیصلہ فرمائیں ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور نہ کیجیے بے انصافی اور رہنمائی کیجیے ہماری طرف سیدھی راہ کے (22) بے شک یہ میرا بھائی ہے، اس کے لیے ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس دنبی ہے ایک ہی، پس(یہ) کہتا ہے، میرے سپرد کر دے وہ بھی، اور غالب آ جاتا ہے مجھ پر بات کرنے میں (23) آپ نے فرمایا البتہ تحقیق ظلم کیا ہے اس نے تجھ پر سوال کر کے تیری دنبی کا(تاکہ ملا لے اسے بھی) اپنی دنبیوں میں، اور بلاشبہ بہت سے شرکاء البتہ زیادتی کرتے ہیں بعض ان کے بعض پر، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور تھوڑے ہیں ایسے لوگ، اور گمان کیا داؤ د نے کہ بے شک ہم نے آزمایا ہے اسے، پس بخشش مانگی اس نے اپنے رب سے اور گر پڑا رکوع میں اور رجوع ہوا (24) پس بخش دی ہم نے اس کی یہ( غلطی)، اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب ہے اور اچھا ٹھکانا ہے(25) اے داؤ د! بے شک ہم نے بنایا تجھے خلیفہ زمین میں، پس فیصلہ کر درمیان لوگوں کے ساتھ حق کے اور نہ اتباع کر خواہش نفس کی کہ وہ گمراہ کر دے تجھے اللہ کے راستے سے، بلاشبہ وہ لوگ جو گمراہ ہوتے ہیں اللہ کے راستے سے ان کے لیے ہے عذاب سخت ، بہ سبب اس کے جو بھلا دیا انھوں نے یوم حساب کو (26)
[21] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤ دu کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں معروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے ، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دو اشخاص کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کے لیے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤ دu سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی توبہ قبول کر کے بخش دیا اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا:﴿وَهَلۡ اَتٰىكَ نَبَؤُا الۡخَصۡمِ ﴾ ’’اور کیا تمھارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے۔‘‘ یہ بڑی ہی تعجب انگیز خبر ہے۔ ﴿اِذۡ تَسَوَّرُوا ﴾ ’’جب وہ دیوار پھاند کر آئے تھے‘‘ حضرت داؤ دu کے پاس ﴿الۡمِحۡرَابَ﴾ ’’محراب میں۔‘‘ یعنی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی عبادت کرنے کی جگہ میں دروازے کے علاوہ دوسرے راستے سے داخل ہوئے۔
[22] جب وہ اس طریقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ گھبرا گئے اور ان سے ڈر گئے، انھوں نے آپ سے کہا کہ ہم ﴿خَصۡمٰنِ ﴾ ’’دو جھگڑا کرنے والے ہیں‘‘ اس لیے ڈریے مت، ﴿بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا ہے‘‘ ظلم کرتے ہوئے ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَنَا بِالۡحَقِّ ﴾ لہٰذا ہمارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور کسی ایک طرف مائل نہ ہوں ﴿وَلَا تُشۡطِطۡ وَاهۡدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ ﴾ ’’اور بے انصافی نہ کیجیے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی کیجیے۔‘‘
[23] اس پورے واقعہ سے مقصود یہ ہے کہ حضرت داؤ دu کو معلوم ہو گیا تھا کہ ان دو اشخاص کا مقصد واضح اور صریح حق تھا۔ جب یہ معاملہ ہے تو وہ حضرت داؤ دu کے سامنے حق کے ساتھ قصہ بیان کرتے ہیں تب اللہ کے نبی داؤدu ان کے وعظ و نصیحت سے منقبض ہوئے نہ آپ نے ان کو ملامت کی۔ ان میں سے ایک نے کہا: ﴿اِنَّ هٰؔذَاۤ اَخِيۡ ﴾ ’’ بے شک یہ میرا بھائی‘‘ یعنی اس نے دین، نسب یا دوستی کی اخوت کا ذکر کیا جو تقاضا کرتی ہے کہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس بھائی سے زیادتی کا صادر ہونا غیر کی زیادتی سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے ﴿لَهٗ تِسۡعٌ وَّتِسۡعُوۡنَ نَعۡجَةً ﴾ ’’اس کی ننانوے دنبیاں ہیں‘‘ اور یہ خیر کثیر ہے اور اس چیز پر قناعت کی موجب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے ﴿وَّلِيَ نَعۡجَةٌ وَّاحِدَةٌ ﴾ ’’اور میرے پاس ایک دنبی ہے‘‘ اور یہ اس میں بھی طمع رکھتا ہے۔ ﴿فَقَالَ اَكۡفِلۡنِيۡهَا ﴾ اس کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری خاطر اسے چھوڑ دے اور اسے میری کفالت میں دے دے ﴿وَعَزَّنِيۡ فِي الۡخِطَابِ ﴾ اور اس نے بات چیت میں مجھے دبا لیا ہے حتیٰ کہ وہ میری دنبی کو حاصل کرنے ہی والا ہے۔
[24] جب داؤ دu نے اس کی بات سنی… فریقین کی باتوں کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا تھا کہ فی الواقع ایسا ہوا ہے، اس لیے حضرت داؤ دu نے ضرورت نہ سمجھی کہ دوسرا فریق بات کرے ، لہٰذا اعتراض کرنے والے کے لیے اس قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حضرت داؤ دu نے فریق ثانی کا موقف سننے سے پہلے فیصلہ کیوں کیا؟ تو فرمایا:﴿لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ﴾ ’’یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بے شک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔‘‘ اکثر ساتھ اور مل جل کر رہنے والوں کی یہی عادت ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡؔخُلَطَآءِ لَيَبۡغِيۡ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔‘‘ کیونکہ ظلم کرنا نفوس کا وصف ہے ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ کیونکہ انھیں ایمان اور عمل صالح کی معیت حاصل ہوتی ہے جو انھیں ظلم سے باز رکھتے ہیں۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مَّا هُمۡ ﴾ ’’اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(سبا: 34؍13) ’’اور میرے بندوں میں کم لوگ ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ ﴿وَظَنَّ دَاوٗدُ ﴾ جب حضرت داؤ دu نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا تو آپ سمجھ گئے کہ ﴿اَنَّمَا فَتَنّٰهُ ﴾ یعنی ہم نے حضرت داؤ دu کی آزمائش کے لیے یہ مقدمہ بنا کر ان کے سامنے پیش کیا ہے۔ ﴿فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّهٗ﴾ جب آپ سے لغزش سرزد ہوئی تو آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا ﴾ ’’اور جھک کر گر پڑے۔‘‘ یعنی سجدے میں گر پڑے ﴿وَّاَنَابَ﴾ اور سچی توبہ اور عبادت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔
[25]﴿فَغَفَرۡنَا لَهٗ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس ہم نے معاف کردی یہ لغزش‘‘ جو آپ سے صادر ہوئی تھی اور مختلف انواع کی کرامات کے ذریعے سے آپ کو اکرام سے سرفراز کیا، فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى ﴾ ’’اور بلاشبہ ہمارے ہاں اس کے لیے خاص مرتبہ ہے‘‘ یعنی بہت بلند مرتبہ، ہمارا قرب ﴿وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور اچھا انجام ہے‘‘ حضرت داؤ دu سے جو لغزش سرزد ہوئی، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اس کی کوئی حاجت نہیں اس لیے اس بارے میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو واقعہ بیان فرمایا ہے صرف اسی میں فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے لطف و کرم سے نوازا، آپ کی توبہ اور انابت کو قبول کیا، آپ کا مرتبہ بلند ہوا ، لہٰذا توبہ کے بعد آپ کو پہلے سے بہتر مرتبہ حاصل ہوا۔
[26]﴿يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اے داود! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا۔‘‘ تاکہ آپ دنیا میں دینی اور دنیاوی احکام نافذ کر سکیں۔ ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیجیے‘‘ یعنی عدل وانصاف کے ساتھ۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ واجب کا علم اور واقع کا علم نہ ہو اور حق کو نافذ کرنے کی قدرت نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعِ الۡهَوٰى ﴾ ’’اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے‘‘ ایسا نہ ہو کہ آپ کا دل کسی کی طرف اس کی قرابت، دوستی یا محبت یا فریق مخالف سے ناراضی کے باعث مائل ہو جائے ﴿فَيُضِلَّكَ ﴾ ’’پس وہ (خواہش نفس) آپ کو گمراہ کر دے‘‘ ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی راہ سے‘‘ اور آپ کو صراط مستقیم سے دور کر دے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں‘‘ خاص طور پر وہ لوگ جو دانستہ طور پر اس کاارتکاب کرتے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا يَوۡمَ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ ان کے لیے یوم جزا سے غافل رہنے کی وجہ سے سخت عذاب ہے۔‘‘ اگر وہ اسے یاد رکھتے اور ان کے دل میں اس کا خوف ہوتا تو فتنے میں مبتلا کرنے والی خواہشات نفس کبھی بھی انھیں ظلم اور ناانصافی کی طرف مائل نہ کر سکتیں۔
38:24قَالَ لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِۦۖ وَإِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡخُلَطَآءِ لَيَبۡغِي بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٍ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَقَلِيلٞ مَّا هُمۡۗ وَظَنَّ دَاوُۥدُ أَنَّمَا فَتَنَّـٰهُ فَٱسۡتَغۡفَرَ رَبَّهُۥ وَخَرَّۤ رَاكِعٗاۤ وَأَنَابَ۩
اور کیا آئی آپ کے پاس خبر جھگڑنے والوں کی، جبکہ وہ دیوار پھاند کر آگئے کمرے میں (21) جب وہ اندر آئے داؤ د پر تو گھبرا گئے وہ ان سے، انھوں نے کہا، نہ ڈریے(ہم) دو جھگڑنے والے ہیں، زیادتی کی ہے ہمارے بعض نے بعض پر، تو آپ فیصلہ فرمائیں ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور نہ کیجیے بے انصافی اور رہنمائی کیجیے ہماری طرف سیدھی راہ کے (22) بے شک یہ میرا بھائی ہے، اس کے لیے ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس دنبی ہے ایک ہی، پس(یہ) کہتا ہے، میرے سپرد کر دے وہ بھی، اور غالب آ جاتا ہے مجھ پر بات کرنے میں (23) آپ نے فرمایا البتہ تحقیق ظلم کیا ہے اس نے تجھ پر سوال کر کے تیری دنبی کا(تاکہ ملا لے اسے بھی) اپنی دنبیوں میں، اور بلاشبہ بہت سے شرکاء البتہ زیادتی کرتے ہیں بعض ان کے بعض پر، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور تھوڑے ہیں ایسے لوگ، اور گمان کیا داؤ د نے کہ بے شک ہم نے آزمایا ہے اسے، پس بخشش مانگی اس نے اپنے رب سے اور گر پڑا رکوع میں اور رجوع ہوا (24) پس بخش دی ہم نے اس کی یہ( غلطی)، اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب ہے اور اچھا ٹھکانا ہے(25) اے داؤ د! بے شک ہم نے بنایا تجھے خلیفہ زمین میں، پس فیصلہ کر درمیان لوگوں کے ساتھ حق کے اور نہ اتباع کر خواہش نفس کی کہ وہ گمراہ کر دے تجھے اللہ کے راستے سے، بلاشبہ وہ لوگ جو گمراہ ہوتے ہیں اللہ کے راستے سے ان کے لیے ہے عذاب سخت ، بہ سبب اس کے جو بھلا دیا انھوں نے یوم حساب کو (26)
[21] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤ دu کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں معروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے ، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دو اشخاص کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کے لیے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤ دu سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی توبہ قبول کر کے بخش دیا اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا:﴿وَهَلۡ اَتٰىكَ نَبَؤُا الۡخَصۡمِ ﴾ ’’اور کیا تمھارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے۔‘‘ یہ بڑی ہی تعجب انگیز خبر ہے۔ ﴿اِذۡ تَسَوَّرُوا ﴾ ’’جب وہ دیوار پھاند کر آئے تھے‘‘ حضرت داؤ دu کے پاس ﴿الۡمِحۡرَابَ﴾ ’’محراب میں۔‘‘ یعنی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی عبادت کرنے کی جگہ میں دروازے کے علاوہ دوسرے راستے سے داخل ہوئے۔
[22] جب وہ اس طریقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ گھبرا گئے اور ان سے ڈر گئے، انھوں نے آپ سے کہا کہ ہم ﴿خَصۡمٰنِ ﴾ ’’دو جھگڑا کرنے والے ہیں‘‘ اس لیے ڈریے مت، ﴿بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا ہے‘‘ ظلم کرتے ہوئے ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَنَا بِالۡحَقِّ ﴾ لہٰذا ہمارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور کسی ایک طرف مائل نہ ہوں ﴿وَلَا تُشۡطِطۡ وَاهۡدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ ﴾ ’’اور بے انصافی نہ کیجیے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی کیجیے۔‘‘
[23] اس پورے واقعہ سے مقصود یہ ہے کہ حضرت داؤ دu کو معلوم ہو گیا تھا کہ ان دو اشخاص کا مقصد واضح اور صریح حق تھا۔ جب یہ معاملہ ہے تو وہ حضرت داؤ دu کے سامنے حق کے ساتھ قصہ بیان کرتے ہیں تب اللہ کے نبی داؤدu ان کے وعظ و نصیحت سے منقبض ہوئے نہ آپ نے ان کو ملامت کی۔ ان میں سے ایک نے کہا: ﴿اِنَّ هٰؔذَاۤ اَخِيۡ ﴾ ’’ بے شک یہ میرا بھائی‘‘ یعنی اس نے دین، نسب یا دوستی کی اخوت کا ذکر کیا جو تقاضا کرتی ہے کہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس بھائی سے زیادتی کا صادر ہونا غیر کی زیادتی سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے ﴿لَهٗ تِسۡعٌ وَّتِسۡعُوۡنَ نَعۡجَةً ﴾ ’’اس کی ننانوے دنبیاں ہیں‘‘ اور یہ خیر کثیر ہے اور اس چیز پر قناعت کی موجب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے ﴿وَّلِيَ نَعۡجَةٌ وَّاحِدَةٌ ﴾ ’’اور میرے پاس ایک دنبی ہے‘‘ اور یہ اس میں بھی طمع رکھتا ہے۔ ﴿فَقَالَ اَكۡفِلۡنِيۡهَا ﴾ اس کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری خاطر اسے چھوڑ دے اور اسے میری کفالت میں دے دے ﴿وَعَزَّنِيۡ فِي الۡخِطَابِ ﴾ اور اس نے بات چیت میں مجھے دبا لیا ہے حتیٰ کہ وہ میری دنبی کو حاصل کرنے ہی والا ہے۔
[24] جب داؤ دu نے اس کی بات سنی… فریقین کی باتوں کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا تھا کہ فی الواقع ایسا ہوا ہے، اس لیے حضرت داؤ دu نے ضرورت نہ سمجھی کہ دوسرا فریق بات کرے ، لہٰذا اعتراض کرنے والے کے لیے اس قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حضرت داؤ دu نے فریق ثانی کا موقف سننے سے پہلے فیصلہ کیوں کیا؟ تو فرمایا:﴿لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ﴾ ’’یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بے شک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔‘‘ اکثر ساتھ اور مل جل کر رہنے والوں کی یہی عادت ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡؔخُلَطَآءِ لَيَبۡغِيۡ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔‘‘ کیونکہ ظلم کرنا نفوس کا وصف ہے ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ کیونکہ انھیں ایمان اور عمل صالح کی معیت حاصل ہوتی ہے جو انھیں ظلم سے باز رکھتے ہیں۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مَّا هُمۡ ﴾ ’’اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(سبا: 34؍13) ’’اور میرے بندوں میں کم لوگ ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ ﴿وَظَنَّ دَاوٗدُ ﴾ جب حضرت داؤ دu نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا تو آپ سمجھ گئے کہ ﴿اَنَّمَا فَتَنّٰهُ ﴾ یعنی ہم نے حضرت داؤ دu کی آزمائش کے لیے یہ مقدمہ بنا کر ان کے سامنے پیش کیا ہے۔ ﴿فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّهٗ﴾ جب آپ سے لغزش سرزد ہوئی تو آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا ﴾ ’’اور جھک کر گر پڑے۔‘‘ یعنی سجدے میں گر پڑے ﴿وَّاَنَابَ﴾ اور سچی توبہ اور عبادت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔
[25]﴿فَغَفَرۡنَا لَهٗ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس ہم نے معاف کردی یہ لغزش‘‘ جو آپ سے صادر ہوئی تھی اور مختلف انواع کی کرامات کے ذریعے سے آپ کو اکرام سے سرفراز کیا، فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى ﴾ ’’اور بلاشبہ ہمارے ہاں اس کے لیے خاص مرتبہ ہے‘‘ یعنی بہت بلند مرتبہ، ہمارا قرب ﴿وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور اچھا انجام ہے‘‘ حضرت داؤ دu سے جو لغزش سرزد ہوئی، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اس کی کوئی حاجت نہیں اس لیے اس بارے میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو واقعہ بیان فرمایا ہے صرف اسی میں فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے لطف و کرم سے نوازا، آپ کی توبہ اور انابت کو قبول کیا، آپ کا مرتبہ بلند ہوا ، لہٰذا توبہ کے بعد آپ کو پہلے سے بہتر مرتبہ حاصل ہوا۔
[26]﴿يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اے داود! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا۔‘‘ تاکہ آپ دنیا میں دینی اور دنیاوی احکام نافذ کر سکیں۔ ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیجیے‘‘ یعنی عدل وانصاف کے ساتھ۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ واجب کا علم اور واقع کا علم نہ ہو اور حق کو نافذ کرنے کی قدرت نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعِ الۡهَوٰى ﴾ ’’اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے‘‘ ایسا نہ ہو کہ آپ کا دل کسی کی طرف اس کی قرابت، دوستی یا محبت یا فریق مخالف سے ناراضی کے باعث مائل ہو جائے ﴿فَيُضِلَّكَ ﴾ ’’پس وہ (خواہش نفس) آپ کو گمراہ کر دے‘‘ ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی راہ سے‘‘ اور آپ کو صراط مستقیم سے دور کر دے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں‘‘ خاص طور پر وہ لوگ جو دانستہ طور پر اس کاارتکاب کرتے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا يَوۡمَ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ ان کے لیے یوم جزا سے غافل رہنے کی وجہ سے سخت عذاب ہے۔‘‘ اگر وہ اسے یاد رکھتے اور ان کے دل میں اس کا خوف ہوتا تو فتنے میں مبتلا کرنے والی خواہشات نفس کبھی بھی انھیں ظلم اور ناانصافی کی طرف مائل نہ کر سکتیں۔
38:25فَغَفَرۡنَا لَهُۥ ذَٰلِكَۖ وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلۡفَىٰ وَحُسۡنَ مَـَٔابٖ
اور کیا آئی آپ کے پاس خبر جھگڑنے والوں کی، جبکہ وہ دیوار پھاند کر آگئے کمرے میں (21) جب وہ اندر آئے داؤ د پر تو گھبرا گئے وہ ان سے، انھوں نے کہا، نہ ڈریے(ہم) دو جھگڑنے والے ہیں، زیادتی کی ہے ہمارے بعض نے بعض پر، تو آپ فیصلہ فرمائیں ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور نہ کیجیے بے انصافی اور رہنمائی کیجیے ہماری طرف سیدھی راہ کے (22) بے شک یہ میرا بھائی ہے، اس کے لیے ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس دنبی ہے ایک ہی، پس(یہ) کہتا ہے، میرے سپرد کر دے وہ بھی، اور غالب آ جاتا ہے مجھ پر بات کرنے میں (23) آپ نے فرمایا البتہ تحقیق ظلم کیا ہے اس نے تجھ پر سوال کر کے تیری دنبی کا(تاکہ ملا لے اسے بھی) اپنی دنبیوں میں، اور بلاشبہ بہت سے شرکاء البتہ زیادتی کرتے ہیں بعض ان کے بعض پر، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور تھوڑے ہیں ایسے لوگ، اور گمان کیا داؤ د نے کہ بے شک ہم نے آزمایا ہے اسے، پس بخشش مانگی اس نے اپنے رب سے اور گر پڑا رکوع میں اور رجوع ہوا (24) پس بخش دی ہم نے اس کی یہ( غلطی)، اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب ہے اور اچھا ٹھکانا ہے(25) اے داؤ د! بے شک ہم نے بنایا تجھے خلیفہ زمین میں، پس فیصلہ کر درمیان لوگوں کے ساتھ حق کے اور نہ اتباع کر خواہش نفس کی کہ وہ گمراہ کر دے تجھے اللہ کے راستے سے، بلاشبہ وہ لوگ جو گمراہ ہوتے ہیں اللہ کے راستے سے ان کے لیے ہے عذاب سخت ، بہ سبب اس کے جو بھلا دیا انھوں نے یوم حساب کو (26)
[21] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤ دu کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں معروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے ، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دو اشخاص کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کے لیے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤ دu سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی توبہ قبول کر کے بخش دیا اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا:﴿وَهَلۡ اَتٰىكَ نَبَؤُا الۡخَصۡمِ ﴾ ’’اور کیا تمھارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے۔‘‘ یہ بڑی ہی تعجب انگیز خبر ہے۔ ﴿اِذۡ تَسَوَّرُوا ﴾ ’’جب وہ دیوار پھاند کر آئے تھے‘‘ حضرت داؤ دu کے پاس ﴿الۡمِحۡرَابَ﴾ ’’محراب میں۔‘‘ یعنی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی عبادت کرنے کی جگہ میں دروازے کے علاوہ دوسرے راستے سے داخل ہوئے۔
[22] جب وہ اس طریقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ گھبرا گئے اور ان سے ڈر گئے، انھوں نے آپ سے کہا کہ ہم ﴿خَصۡمٰنِ ﴾ ’’دو جھگڑا کرنے والے ہیں‘‘ اس لیے ڈریے مت، ﴿بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا ہے‘‘ ظلم کرتے ہوئے ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَنَا بِالۡحَقِّ ﴾ لہٰذا ہمارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور کسی ایک طرف مائل نہ ہوں ﴿وَلَا تُشۡطِطۡ وَاهۡدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ ﴾ ’’اور بے انصافی نہ کیجیے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی کیجیے۔‘‘
[23] اس پورے واقعہ سے مقصود یہ ہے کہ حضرت داؤ دu کو معلوم ہو گیا تھا کہ ان دو اشخاص کا مقصد واضح اور صریح حق تھا۔ جب یہ معاملہ ہے تو وہ حضرت داؤ دu کے سامنے حق کے ساتھ قصہ بیان کرتے ہیں تب اللہ کے نبی داؤدu ان کے وعظ و نصیحت سے منقبض ہوئے نہ آپ نے ان کو ملامت کی۔ ان میں سے ایک نے کہا: ﴿اِنَّ هٰؔذَاۤ اَخِيۡ ﴾ ’’ بے شک یہ میرا بھائی‘‘ یعنی اس نے دین، نسب یا دوستی کی اخوت کا ذکر کیا جو تقاضا کرتی ہے کہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس بھائی سے زیادتی کا صادر ہونا غیر کی زیادتی سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے ﴿لَهٗ تِسۡعٌ وَّتِسۡعُوۡنَ نَعۡجَةً ﴾ ’’اس کی ننانوے دنبیاں ہیں‘‘ اور یہ خیر کثیر ہے اور اس چیز پر قناعت کی موجب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے ﴿وَّلِيَ نَعۡجَةٌ وَّاحِدَةٌ ﴾ ’’اور میرے پاس ایک دنبی ہے‘‘ اور یہ اس میں بھی طمع رکھتا ہے۔ ﴿فَقَالَ اَكۡفِلۡنِيۡهَا ﴾ اس کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری خاطر اسے چھوڑ دے اور اسے میری کفالت میں دے دے ﴿وَعَزَّنِيۡ فِي الۡخِطَابِ ﴾ اور اس نے بات چیت میں مجھے دبا لیا ہے حتیٰ کہ وہ میری دنبی کو حاصل کرنے ہی والا ہے۔
[24] جب داؤ دu نے اس کی بات سنی… فریقین کی باتوں کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا تھا کہ فی الواقع ایسا ہوا ہے، اس لیے حضرت داؤ دu نے ضرورت نہ سمجھی کہ دوسرا فریق بات کرے ، لہٰذا اعتراض کرنے والے کے لیے اس قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حضرت داؤ دu نے فریق ثانی کا موقف سننے سے پہلے فیصلہ کیوں کیا؟ تو فرمایا:﴿لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ﴾ ’’یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بے شک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔‘‘ اکثر ساتھ اور مل جل کر رہنے والوں کی یہی عادت ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡؔخُلَطَآءِ لَيَبۡغِيۡ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔‘‘ کیونکہ ظلم کرنا نفوس کا وصف ہے ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ کیونکہ انھیں ایمان اور عمل صالح کی معیت حاصل ہوتی ہے جو انھیں ظلم سے باز رکھتے ہیں۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مَّا هُمۡ ﴾ ’’اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(سبا: 34؍13) ’’اور میرے بندوں میں کم لوگ ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ ﴿وَظَنَّ دَاوٗدُ ﴾ جب حضرت داؤ دu نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا تو آپ سمجھ گئے کہ ﴿اَنَّمَا فَتَنّٰهُ ﴾ یعنی ہم نے حضرت داؤ دu کی آزمائش کے لیے یہ مقدمہ بنا کر ان کے سامنے پیش کیا ہے۔ ﴿فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّهٗ﴾ جب آپ سے لغزش سرزد ہوئی تو آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا ﴾ ’’اور جھک کر گر پڑے۔‘‘ یعنی سجدے میں گر پڑے ﴿وَّاَنَابَ﴾ اور سچی توبہ اور عبادت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔
[25]﴿فَغَفَرۡنَا لَهٗ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس ہم نے معاف کردی یہ لغزش‘‘ جو آپ سے صادر ہوئی تھی اور مختلف انواع کی کرامات کے ذریعے سے آپ کو اکرام سے سرفراز کیا، فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى ﴾ ’’اور بلاشبہ ہمارے ہاں اس کے لیے خاص مرتبہ ہے‘‘ یعنی بہت بلند مرتبہ، ہمارا قرب ﴿وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور اچھا انجام ہے‘‘ حضرت داؤ دu سے جو لغزش سرزد ہوئی، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اس کی کوئی حاجت نہیں اس لیے اس بارے میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو واقعہ بیان فرمایا ہے صرف اسی میں فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے لطف و کرم سے نوازا، آپ کی توبہ اور انابت کو قبول کیا، آپ کا مرتبہ بلند ہوا ، لہٰذا توبہ کے بعد آپ کو پہلے سے بہتر مرتبہ حاصل ہوا۔
[26]﴿يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اے داود! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا۔‘‘ تاکہ آپ دنیا میں دینی اور دنیاوی احکام نافذ کر سکیں۔ ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیجیے‘‘ یعنی عدل وانصاف کے ساتھ۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ واجب کا علم اور واقع کا علم نہ ہو اور حق کو نافذ کرنے کی قدرت نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعِ الۡهَوٰى ﴾ ’’اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے‘‘ ایسا نہ ہو کہ آپ کا دل کسی کی طرف اس کی قرابت، دوستی یا محبت یا فریق مخالف سے ناراضی کے باعث مائل ہو جائے ﴿فَيُضِلَّكَ ﴾ ’’پس وہ (خواہش نفس) آپ کو گمراہ کر دے‘‘ ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی راہ سے‘‘ اور آپ کو صراط مستقیم سے دور کر دے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں‘‘ خاص طور پر وہ لوگ جو دانستہ طور پر اس کاارتکاب کرتے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا يَوۡمَ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ ان کے لیے یوم جزا سے غافل رہنے کی وجہ سے سخت عذاب ہے۔‘‘ اگر وہ اسے یاد رکھتے اور ان کے دل میں اس کا خوف ہوتا تو فتنے میں مبتلا کرنے والی خواہشات نفس کبھی بھی انھیں ظلم اور ناانصافی کی طرف مائل نہ کر سکتیں۔
38:26يَٰدَاوُۥدُ إِنَّا جَعَلۡنَٰكَ خَلِيفَةٗ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱحۡكُم بَيۡنَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ ٱلۡهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدُۢ بِمَا نَسُواْ يَوۡمَ ٱلۡحِسَابِ
اور کیا آئی آپ کے پاس خبر جھگڑنے والوں کی، جبکہ وہ دیوار پھاند کر آگئے کمرے میں (21) جب وہ اندر آئے داؤ د پر تو گھبرا گئے وہ ان سے، انھوں نے کہا، نہ ڈریے(ہم) دو جھگڑنے والے ہیں، زیادتی کی ہے ہمارے بعض نے بعض پر، تو آپ فیصلہ فرمائیں ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور نہ کیجیے بے انصافی اور رہنمائی کیجیے ہماری طرف سیدھی راہ کے (22) بے شک یہ میرا بھائی ہے، اس کے لیے ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس دنبی ہے ایک ہی، پس(یہ) کہتا ہے، میرے سپرد کر دے وہ بھی، اور غالب آ جاتا ہے مجھ پر بات کرنے میں (23) آپ نے فرمایا البتہ تحقیق ظلم کیا ہے اس نے تجھ پر سوال کر کے تیری دنبی کا(تاکہ ملا لے اسے بھی) اپنی دنبیوں میں، اور بلاشبہ بہت سے شرکاء البتہ زیادتی کرتے ہیں بعض ان کے بعض پر، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور تھوڑے ہیں ایسے لوگ، اور گمان کیا داؤ د نے کہ بے شک ہم نے آزمایا ہے اسے، پس بخشش مانگی اس نے اپنے رب سے اور گر پڑا رکوع میں اور رجوع ہوا (24) پس بخش دی ہم نے اس کی یہ( غلطی)، اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب ہے اور اچھا ٹھکانا ہے(25) اے داؤ د! بے شک ہم نے بنایا تجھے خلیفہ زمین میں، پس فیصلہ کر درمیان لوگوں کے ساتھ حق کے اور نہ اتباع کر خواہش نفس کی کہ وہ گمراہ کر دے تجھے اللہ کے راستے سے، بلاشبہ وہ لوگ جو گمراہ ہوتے ہیں اللہ کے راستے سے ان کے لیے ہے عذاب سخت ، بہ سبب اس کے جو بھلا دیا انھوں نے یوم حساب کو (26)
[21] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤ دu کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں معروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے ، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دو اشخاص کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کے لیے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤ دu سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی توبہ قبول کر کے بخش دیا اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا:﴿وَهَلۡ اَتٰىكَ نَبَؤُا الۡخَصۡمِ ﴾ ’’اور کیا تمھارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے۔‘‘ یہ بڑی ہی تعجب انگیز خبر ہے۔ ﴿اِذۡ تَسَوَّرُوا ﴾ ’’جب وہ دیوار پھاند کر آئے تھے‘‘ حضرت داؤ دu کے پاس ﴿الۡمِحۡرَابَ﴾ ’’محراب میں۔‘‘ یعنی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی عبادت کرنے کی جگہ میں دروازے کے علاوہ دوسرے راستے سے داخل ہوئے۔
[22] جب وہ اس طریقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ گھبرا گئے اور ان سے ڈر گئے، انھوں نے آپ سے کہا کہ ہم ﴿خَصۡمٰنِ ﴾ ’’دو جھگڑا کرنے والے ہیں‘‘ اس لیے ڈریے مت، ﴿بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا ہے‘‘ ظلم کرتے ہوئے ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَنَا بِالۡحَقِّ ﴾ لہٰذا ہمارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور کسی ایک طرف مائل نہ ہوں ﴿وَلَا تُشۡطِطۡ وَاهۡدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ ﴾ ’’اور بے انصافی نہ کیجیے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی کیجیے۔‘‘
[23] اس پورے واقعہ سے مقصود یہ ہے کہ حضرت داؤ دu کو معلوم ہو گیا تھا کہ ان دو اشخاص کا مقصد واضح اور صریح حق تھا۔ جب یہ معاملہ ہے تو وہ حضرت داؤ دu کے سامنے حق کے ساتھ قصہ بیان کرتے ہیں تب اللہ کے نبی داؤدu ان کے وعظ و نصیحت سے منقبض ہوئے نہ آپ نے ان کو ملامت کی۔ ان میں سے ایک نے کہا: ﴿اِنَّ هٰؔذَاۤ اَخِيۡ ﴾ ’’ بے شک یہ میرا بھائی‘‘ یعنی اس نے دین، نسب یا دوستی کی اخوت کا ذکر کیا جو تقاضا کرتی ہے کہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس بھائی سے زیادتی کا صادر ہونا غیر کی زیادتی سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے ﴿لَهٗ تِسۡعٌ وَّتِسۡعُوۡنَ نَعۡجَةً ﴾ ’’اس کی ننانوے دنبیاں ہیں‘‘ اور یہ خیر کثیر ہے اور اس چیز پر قناعت کی موجب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے ﴿وَّلِيَ نَعۡجَةٌ وَّاحِدَةٌ ﴾ ’’اور میرے پاس ایک دنبی ہے‘‘ اور یہ اس میں بھی طمع رکھتا ہے۔ ﴿فَقَالَ اَكۡفِلۡنِيۡهَا ﴾ اس کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری خاطر اسے چھوڑ دے اور اسے میری کفالت میں دے دے ﴿وَعَزَّنِيۡ فِي الۡخِطَابِ ﴾ اور اس نے بات چیت میں مجھے دبا لیا ہے حتیٰ کہ وہ میری دنبی کو حاصل کرنے ہی والا ہے۔
[24] جب داؤ دu نے اس کی بات سنی… فریقین کی باتوں کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا تھا کہ فی الواقع ایسا ہوا ہے، اس لیے حضرت داؤ دu نے ضرورت نہ سمجھی کہ دوسرا فریق بات کرے ، لہٰذا اعتراض کرنے والے کے لیے اس قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حضرت داؤ دu نے فریق ثانی کا موقف سننے سے پہلے فیصلہ کیوں کیا؟ تو فرمایا:﴿لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ﴾ ’’یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بے شک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔‘‘ اکثر ساتھ اور مل جل کر رہنے والوں کی یہی عادت ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡؔخُلَطَآءِ لَيَبۡغِيۡ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔‘‘ کیونکہ ظلم کرنا نفوس کا وصف ہے ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ کیونکہ انھیں ایمان اور عمل صالح کی معیت حاصل ہوتی ہے جو انھیں ظلم سے باز رکھتے ہیں۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مَّا هُمۡ ﴾ ’’اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(سبا: 34؍13) ’’اور میرے بندوں میں کم لوگ ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ ﴿وَظَنَّ دَاوٗدُ ﴾ جب حضرت داؤ دu نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا تو آپ سمجھ گئے کہ ﴿اَنَّمَا فَتَنّٰهُ ﴾ یعنی ہم نے حضرت داؤ دu کی آزمائش کے لیے یہ مقدمہ بنا کر ان کے سامنے پیش کیا ہے۔ ﴿فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّهٗ﴾ جب آپ سے لغزش سرزد ہوئی تو آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا ﴾ ’’اور جھک کر گر پڑے۔‘‘ یعنی سجدے میں گر پڑے ﴿وَّاَنَابَ﴾ اور سچی توبہ اور عبادت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔
[25]﴿فَغَفَرۡنَا لَهٗ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس ہم نے معاف کردی یہ لغزش‘‘ جو آپ سے صادر ہوئی تھی اور مختلف انواع کی کرامات کے ذریعے سے آپ کو اکرام سے سرفراز کیا، فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى ﴾ ’’اور بلاشبہ ہمارے ہاں اس کے لیے خاص مرتبہ ہے‘‘ یعنی بہت بلند مرتبہ، ہمارا قرب ﴿وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور اچھا انجام ہے‘‘ حضرت داؤ دu سے جو لغزش سرزد ہوئی، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اس کی کوئی حاجت نہیں اس لیے اس بارے میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو واقعہ بیان فرمایا ہے صرف اسی میں فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے لطف و کرم سے نوازا، آپ کی توبہ اور انابت کو قبول کیا، آپ کا مرتبہ بلند ہوا ، لہٰذا توبہ کے بعد آپ کو پہلے سے بہتر مرتبہ حاصل ہوا۔
[26]﴿يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اے داود! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا۔‘‘ تاکہ آپ دنیا میں دینی اور دنیاوی احکام نافذ کر سکیں۔ ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیجیے‘‘ یعنی عدل وانصاف کے ساتھ۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ واجب کا علم اور واقع کا علم نہ ہو اور حق کو نافذ کرنے کی قدرت نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعِ الۡهَوٰى ﴾ ’’اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے‘‘ ایسا نہ ہو کہ آپ کا دل کسی کی طرف اس کی قرابت، دوستی یا محبت یا فریق مخالف سے ناراضی کے باعث مائل ہو جائے ﴿فَيُضِلَّكَ ﴾ ’’پس وہ (خواہش نفس) آپ کو گمراہ کر دے‘‘ ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی راہ سے‘‘ اور آپ کو صراط مستقیم سے دور کر دے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں‘‘ خاص طور پر وہ لوگ جو دانستہ طور پر اس کاارتکاب کرتے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا يَوۡمَ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ ان کے لیے یوم جزا سے غافل رہنے کی وجہ سے سخت عذاب ہے۔‘‘ اگر وہ اسے یاد رکھتے اور ان کے دل میں اس کا خوف ہوتا تو فتنے میں مبتلا کرنے والی خواہشات نفس کبھی بھی انھیں ظلم اور ناانصافی کی طرف مائل نہ کر سکتیں۔
38:27وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا بَٰطِلٗاۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ فَوَيۡلٞ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ ٱلنَّارِ
اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، بے کار یہ تو گمان ہے ان لوگوں کا جنھوں نے کفر کیا، پس ہلاکت ہے واسطے ان کے جنھوں نے کفر کیا، دوزخ سے (27) کیا ہم کر دیں گے ان کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، مانند ان کی جو فساد کرنے والے ہیں زمین میں؟ یا کردیں گے ہم پرہیز گاروں کو مانند بدکاروں کی؟ (28)(یہ)ایک کتاب ہے، نازل کیا ہم نے اسے آپ کی طرف، بڑی برکت والی، تاکہ وہ غور کریں اس کی آیتوں پر اور تاکہ نصیحت پکڑیں عقل والے(29)
[27] اللہ تبارک وتعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی حکمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ اس نے زمین وآسمان کو باطل، یعنی بغیر کسی فائدے، مصلحت اور کھیل تماشے کے طور پر عبث پیدا نہیں کیا۔ ﴿ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے‘‘ اپنے رب کے ساتھ کہ وہ اپنے رب کے بارے میں ایسا گمان رکھتے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنَ النَّارِ﴾ ’’پس کافروں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔‘‘ یہ آگ ہے جو ان سے حق حاصل کرے گی اور انھیں پوری طرح عذاب میں مبتلا کرے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ اور حق کی خاطر تخلیق فرمایا ہے، ان کو اس لیے تخلیق فرمایا تاکہ بندوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کامل علم، کامل قدرت اور لامحدود قوت کا مالک ہے اور وہی اکیلا معبود ہے اور وہ معبود نہیں ہیں جو زمین و آسمان میں ایک ذرہ بھی تخلیق نہیں کر سکتے۔ حیات بعدالموت حق ہے قیامت کے روز اللہ نیکوکاروں اور بدکاروں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ کوئی جاہل شخص اللہ تعالیٰ کی حکمت کے بارے میں یہ گمان نہ کرے کہ وہ اپنے فیصلے میں نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک کرے گا۔
[28] اس لیے فرمایا: ﴿اَمۡ نَجۡعَلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَالۡمُفۡسِدِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ١ٞ اَمۡ نَجۡعَلُ الۡمُتَّقِيۡنَ كَالۡفُجَّارِ ﴾ ’’کیا ہم انھیں جو ایمان لائے ہیں ان کی طرح بنادیں جو زمین میں فساد کرتے ہیں یا ہم متقین اور بدکاروں کو یکساں کردیں؟‘‘ یعنی ایسا کرنا ہماری حکمت اور ہمارے حکم کے شایاں نہیں۔
[29]﴿كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’یہ کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے۔‘‘ جو خیر کثیر اور علم بسیط کی حامل ہے۔ اس کے اندر ہدایت، ہر بیماری کی شفا اور نور ہے جس سے گمراہی کی تاریکیوں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے اندر ہر وہ حکم موجود ہے، جس کے مکلفین محتاج ہیں اور اس کے اندر ہر مطلوب کے لیے قطعی دلائل موجود ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق فرمایا ہے اس وقت سے لے کر اس کتاب سے زیادہ کوئی جلیل القدر کتاب نہیں آئی ﴿لِّيَدَّبَّرُوۡۤا اٰيٰتِهٖ﴾ یعنی اس کتاب جلیل کو نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں، اس کے علم کا استنباط کریں اور اس کے اسرار و حکم میں غوروفکر کریں۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم میں تدبر کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم میں تدبر اور غور وفکر کرنا سب سے افضل عمل ہے، نیز یہ اس کی دلیل ہے کہ وہ قراء ت جو تدبر وتفکر پر مشتمل ہو اس تلاوت سے کہیں افضل ہے جو بہت تیزی سے کی جاری ہو، مگر اس سے متذکرہ بالا مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو۔ ﴿وَلِيَتَذَكَّـرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ تاکہ عقل صحیح کے حاملین، اس میں غوروفکر کر کے ہر علم اور ہر مطلوب حاصل کریں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر انسان کو اپنی عقل کے مطابق اس عظیم کتاب سے نصیحت حاصل ہوتی ہے۔
38:28أَمۡ نَجۡعَلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ كَٱلۡمُفۡسِدِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَمۡ نَجۡعَلُ ٱلۡمُتَّقِينَ كَٱلۡفُجَّارِ
اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، بے کار یہ تو گمان ہے ان لوگوں کا جنھوں نے کفر کیا، پس ہلاکت ہے واسطے ان کے جنھوں نے کفر کیا، دوزخ سے (27) کیا ہم کر دیں گے ان کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، مانند ان کی جو فساد کرنے والے ہیں زمین میں؟ یا کردیں گے ہم پرہیز گاروں کو مانند بدکاروں کی؟ (28)(یہ)ایک کتاب ہے، نازل کیا ہم نے اسے آپ کی طرف، بڑی برکت والی، تاکہ وہ غور کریں اس کی آیتوں پر اور تاکہ نصیحت پکڑیں عقل والے(29)
[27] اللہ تبارک وتعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی حکمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ اس نے زمین وآسمان کو باطل، یعنی بغیر کسی فائدے، مصلحت اور کھیل تماشے کے طور پر عبث پیدا نہیں کیا۔ ﴿ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے‘‘ اپنے رب کے ساتھ کہ وہ اپنے رب کے بارے میں ایسا گمان رکھتے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنَ النَّارِ﴾ ’’پس کافروں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔‘‘ یہ آگ ہے جو ان سے حق حاصل کرے گی اور انھیں پوری طرح عذاب میں مبتلا کرے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ اور حق کی خاطر تخلیق فرمایا ہے، ان کو اس لیے تخلیق فرمایا تاکہ بندوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کامل علم، کامل قدرت اور لامحدود قوت کا مالک ہے اور وہی اکیلا معبود ہے اور وہ معبود نہیں ہیں جو زمین و آسمان میں ایک ذرہ بھی تخلیق نہیں کر سکتے۔ حیات بعدالموت حق ہے قیامت کے روز اللہ نیکوکاروں اور بدکاروں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ کوئی جاہل شخص اللہ تعالیٰ کی حکمت کے بارے میں یہ گمان نہ کرے کہ وہ اپنے فیصلے میں نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک کرے گا۔
[28] اس لیے فرمایا: ﴿اَمۡ نَجۡعَلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَالۡمُفۡسِدِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ١ٞ اَمۡ نَجۡعَلُ الۡمُتَّقِيۡنَ كَالۡفُجَّارِ ﴾ ’’کیا ہم انھیں جو ایمان لائے ہیں ان کی طرح بنادیں جو زمین میں فساد کرتے ہیں یا ہم متقین اور بدکاروں کو یکساں کردیں؟‘‘ یعنی ایسا کرنا ہماری حکمت اور ہمارے حکم کے شایاں نہیں۔
[29]﴿كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’یہ کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے۔‘‘ جو خیر کثیر اور علم بسیط کی حامل ہے۔ اس کے اندر ہدایت، ہر بیماری کی شفا اور نور ہے جس سے گمراہی کی تاریکیوں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے اندر ہر وہ حکم موجود ہے، جس کے مکلفین محتاج ہیں اور اس کے اندر ہر مطلوب کے لیے قطعی دلائل موجود ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق فرمایا ہے اس وقت سے لے کر اس کتاب سے زیادہ کوئی جلیل القدر کتاب نہیں آئی ﴿لِّيَدَّبَّرُوۡۤا اٰيٰتِهٖ﴾ یعنی اس کتاب جلیل کو نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں، اس کے علم کا استنباط کریں اور اس کے اسرار و حکم میں غوروفکر کریں۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم میں تدبر کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم میں تدبر اور غور وفکر کرنا سب سے افضل عمل ہے، نیز یہ اس کی دلیل ہے کہ وہ قراء ت جو تدبر وتفکر پر مشتمل ہو اس تلاوت سے کہیں افضل ہے جو بہت تیزی سے کی جاری ہو، مگر اس سے متذکرہ بالا مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو۔ ﴿وَلِيَتَذَكَّـرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ تاکہ عقل صحیح کے حاملین، اس میں غوروفکر کر کے ہر علم اور ہر مطلوب حاصل کریں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر انسان کو اپنی عقل کے مطابق اس عظیم کتاب سے نصیحت حاصل ہوتی ہے۔
38:29كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ إِلَيۡكَ مُبَٰرَكٞ لِّيَدَّبَّرُوٓاْ ءَايَٰتِهِۦ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ
اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، بے کار یہ تو گمان ہے ان لوگوں کا جنھوں نے کفر کیا، پس ہلاکت ہے واسطے ان کے جنھوں نے کفر کیا، دوزخ سے (27) کیا ہم کر دیں گے ان کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، مانند ان کی جو فساد کرنے والے ہیں زمین میں؟ یا کردیں گے ہم پرہیز گاروں کو مانند بدکاروں کی؟ (28)(یہ)ایک کتاب ہے، نازل کیا ہم نے اسے آپ کی طرف، بڑی برکت والی، تاکہ وہ غور کریں اس کی آیتوں پر اور تاکہ نصیحت پکڑیں عقل والے(29)
[27] اللہ تبارک وتعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی حکمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ اس نے زمین وآسمان کو باطل، یعنی بغیر کسی فائدے، مصلحت اور کھیل تماشے کے طور پر عبث پیدا نہیں کیا۔ ﴿ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے‘‘ اپنے رب کے ساتھ کہ وہ اپنے رب کے بارے میں ایسا گمان رکھتے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنَ النَّارِ﴾ ’’پس کافروں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔‘‘ یہ آگ ہے جو ان سے حق حاصل کرے گی اور انھیں پوری طرح عذاب میں مبتلا کرے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ اور حق کی خاطر تخلیق فرمایا ہے، ان کو اس لیے تخلیق فرمایا تاکہ بندوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کامل علم، کامل قدرت اور لامحدود قوت کا مالک ہے اور وہی اکیلا معبود ہے اور وہ معبود نہیں ہیں جو زمین و آسمان میں ایک ذرہ بھی تخلیق نہیں کر سکتے۔ حیات بعدالموت حق ہے قیامت کے روز اللہ نیکوکاروں اور بدکاروں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ کوئی جاہل شخص اللہ تعالیٰ کی حکمت کے بارے میں یہ گمان نہ کرے کہ وہ اپنے فیصلے میں نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک کرے گا۔
[28] اس لیے فرمایا: ﴿اَمۡ نَجۡعَلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَالۡمُفۡسِدِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ١ٞ اَمۡ نَجۡعَلُ الۡمُتَّقِيۡنَ كَالۡفُجَّارِ ﴾ ’’کیا ہم انھیں جو ایمان لائے ہیں ان کی طرح بنادیں جو زمین میں فساد کرتے ہیں یا ہم متقین اور بدکاروں کو یکساں کردیں؟‘‘ یعنی ایسا کرنا ہماری حکمت اور ہمارے حکم کے شایاں نہیں۔
[29]﴿كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’یہ کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے۔‘‘ جو خیر کثیر اور علم بسیط کی حامل ہے۔ اس کے اندر ہدایت، ہر بیماری کی شفا اور نور ہے جس سے گمراہی کی تاریکیوں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے اندر ہر وہ حکم موجود ہے، جس کے مکلفین محتاج ہیں اور اس کے اندر ہر مطلوب کے لیے قطعی دلائل موجود ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق فرمایا ہے اس وقت سے لے کر اس کتاب سے زیادہ کوئی جلیل القدر کتاب نہیں آئی ﴿لِّيَدَّبَّرُوۡۤا اٰيٰتِهٖ﴾ یعنی اس کتاب جلیل کو نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں، اس کے علم کا استنباط کریں اور اس کے اسرار و حکم میں غوروفکر کریں۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم میں تدبر کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم میں تدبر اور غور وفکر کرنا سب سے افضل عمل ہے، نیز یہ اس کی دلیل ہے کہ وہ قراء ت جو تدبر وتفکر پر مشتمل ہو اس تلاوت سے کہیں افضل ہے جو بہت تیزی سے کی جاری ہو، مگر اس سے متذکرہ بالا مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو۔ ﴿وَلِيَتَذَكَّـرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ تاکہ عقل صحیح کے حاملین، اس میں غوروفکر کر کے ہر علم اور ہر مطلوب حاصل کریں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر انسان کو اپنی عقل کے مطابق اس عظیم کتاب سے نصیحت حاصل ہوتی ہے۔
38:30وَوَهَبۡنَا لِدَاوُۥدَ سُلَيۡمَٰنَۚ نِعۡمَ ٱلۡعَبۡدُ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ
اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40)
[30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔
[33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔
[39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔
[40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔
فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔
38:31إِذۡ عُرِضَ عَلَيۡهِ بِٱلۡعَشِيِّ ٱلصَّـٰفِنَٰتُ ٱلۡجِيَادُ
اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40)
[30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔
[33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔
[39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔
[40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔
فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔
38:32فَقَالَ إِنِّيٓ أَحۡبَبۡتُ حُبَّ ٱلۡخَيۡرِ عَن ذِكۡرِ رَبِّي حَتَّىٰ تَوَارَتۡ بِٱلۡحِجَابِ
اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40)
[30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔
[33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔
[39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔
[40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔
فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔
38:33رُدُّوهَا عَلَيَّۖ فَطَفِقَ مَسۡحَۢا بِٱلسُّوقِ وَٱلۡأَعۡنَاقِ
اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40)
[30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔
[33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔
[39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔
[40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔
فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔
38:34وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمَٰنَ وَأَلۡقَيۡنَا عَلَىٰ كُرۡسِيِّهِۦ جَسَدٗا ثُمَّ أَنَابَ
اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40)
[30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔
[33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔
[39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔
[40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔
فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔
38:35قَالَ رَبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَهَبۡ لِي مُلۡكٗا لَّا يَنۢبَغِي لِأَحَدٖ مِّنۢ بَعۡدِيٓۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡوَهَّابُ
اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40)
[30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔
[33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔
[39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔
[40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔
فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔
38:36فَسَخَّرۡنَا لَهُ ٱلرِّيحَ تَجۡرِي بِأَمۡرِهِۦ رُخَآءً حَيۡثُ أَصَابَ
اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40)
[30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔
[33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔
[39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔
[40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔
فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔
38:37وَٱلشَّيَٰطِينَ كُلَّ بَنَّآءٖ وَغَوَّاصٖ
اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40)
[30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔
[33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔
[39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔
[40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔
فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔
38:38وَءَاخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي ٱلۡأَصۡفَادِ
اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40)
[30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔
[33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔
[39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔
[40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔
فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔
38:39هَٰذَا عَطَآؤُنَا فَٱمۡنُنۡ أَوۡ أَمۡسِكۡ بِغَيۡرِ حِسَابٖ
اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40)
[30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔
[33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔
[39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔
[40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔
فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔
38:40وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلۡفَىٰ وَحُسۡنَ مَـَٔابٖ
اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40)
[30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔
[33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔
[39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔
[40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔
فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔
38:41وَٱذۡكُرۡ عَبۡدَنَآ أَيُّوبَ إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّي مَسَّنِيَ ٱلشَّيۡطَٰنُ بِنُصۡبٖ وَعَذَابٍ
اور یاد کر ہمارے بندے ایوب کو، جب پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ پہنچائی مجھے شیطان نے تکلیف اور ا یذا (41)(فرمایا)تومار(زمین پر) اپنا پیریہ (پانی ) ہے غسل کرنے کو ٹھنڈا اور پینے کو (42) اورعطا کیے ہم نے اس کو اس کے گھر والے اور ان کے برابر (اور) ان کے ساتھ، اپنی رحمت سے اور نصیحت واسطے عقل مندوں کے (43) اور پکڑ اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا تنکوں کا(یعنی جھاڑو)اور مار ساتھ اس کے (اپنی بیوی کو) اور نہ توڑ قسم، بے شک پایا ہم نے اسے صابر، اچھا بندہ تھاوہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (44)
[41]﴿وَاذۡكُرۡ ﴾ ’’اور یاد کرو‘‘ یعنی نصیحت والی اس کتاب عظیم کے اندر ﴿عَبۡدَنَاۤ اَيُّوۡبَ ﴾ ’’ہمارے بندے ایوب کا‘‘ بہترین پیرائے میں ذکر کیجیے اور احسن طریقے سے ان کی مدح و ثنا کیجیے جب انھیں تکلیف اور مصیبت پہنچی تو انھوں نے اس تکلیف پر صبر کیا اور غیر کے سامنے اپنے رب کا شکوہ کیا نہ اس کے سوا کسی اور کا سہارا لیا ﴿اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗۤ ﴾ جب ایوبu نے غیراللہ کے پاس نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس شکوہ کرتے اور اس سے دعا کرتے ہوئے اسی کو پکارا اور عرض کیا اے میرے رب! ﴿اَنِّيۡ مَسَّنِيَ الشَّيۡطٰنُ بِنُصۡبٍ وَّعَذَابٍ﴾ یعنی شیطان نے مجھے مشقت انگیز اور نہایت تکلیف دہ عذاب میں ڈال دیا ہے۔ شیطان کو آپ کے جسد پر تسلط حاصل ہو گیا اس نے پھونک ماری تو جسم پر پھوڑے بن گئے ، پھر ان سے پیپ بہنے لگی اور اس کے بعد معاملہ بہت سخت ہو گیا اور اسی طرح ان کا مال اور ان کے اہل و عیال بھی ہلاک ہو گئے۔
[42] ان سے کہا گیا ﴿اُرۡؔكُضۡ بِرِجۡلِكَ ﴾ یعنی اپنی ایڑی زمین پر ماریں آپ کے لیے ایک چشمہ زمین سے پھوٹ پڑے گا، اس چشمے کا پانی پیجیے اور اس سے غسل کیجیے۔ آپ کی بیماری اور تکلیف دور ہو جائے گی۔ آپ نے ایسا ہی کیا آپ کی بیماری دور ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا بخش دی۔
[43]﴿وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اَهۡلَهٗ﴾ ’’اور ہم نے انھیں ان کے اہل و عیال عطا کردیے۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اہل و عیال کو زندہ کر دیا تھا۔ ﴿وَمِثۡلَهُمۡ مَّعَهُمۡ ﴾ اور دنیا میں اتنے ہی اور عطا کر دیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ مال سے بہرہ مند کر کے نہایت مال دار کر دیا ﴿رَحۡمَةً مِّؔنَّا ﴾ یعنی ہماری طرف سے ہمارے بندے ایوب پر رحمت تھی کیونکہ انھوں نے صبر کیا اور ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دنیاوی اور اخروی ثواب سے بہرہ مند کیا۔ ﴿وَذِكۡرٰى لِاُولِي الۡاَلۡبَابِ ﴾ تاکہ عقل مند لوگ حضرت ایوبu کی حالت سے نصیحت اور عبرت پکڑیں اور انھیں معلوم ہو جائے کہ جو کوئی مصیبت میں صبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دنیاوی اور اخروی ثواب سے نوازتا ہے اور جب وہ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے۔
[44] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ایوبu کو حکم دیا ﴿وَخُذۡ بِيَدِكَ ضِغۡثًا ﴾ ’’اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو۔‘‘ یعنی درخت کی باریک شاخوں کا گٹھا ﴿فَاضۡرِبۡ بِّهٖ وَلَا تَحۡنَثۡ ﴾ ’’اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ ایوبu بیماری اور تکلیف کے دوران کسی معاملے میں اپنی بیوی سے ناراض ہو گئے تھے، اس پر آپ نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو سو کوڑے ماریں گے۔ ان کی بیوی، انتہائی نیک اور آپ کے ساتھ بھلائی کرنے والی خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس خاتون پر اور حضرت ایوبu پر رحم فرمایا اور فتویٰ دیا کہ وہ درخت کی باریک سو شاخوں کا گٹھا لے کر اس سے ایک ہی دفعہ ماریں ان کی قسم پوری ہو جائے گی۔ ﴿اِنَّا وَجَدۡنٰهُ صَابِرًا ﴾ یعنی ہم نے آپ کو بہت بڑی بیماری اور تکلیف کے ذریعے سے آزمایا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کیا۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’وہ بہترین بندے تھے‘‘ جنھوں نے خوشی اور مصیبت، خوش حالی اور بدحالی میں عبودیت کے مراتب کی تکمیل کی ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ یعنی آپ اپنے دینی اور دنیاوی مطالب میں اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے، اپنے رب کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے، اس کو بہت زیادہ پکارنے والے، اس سے محبت اور اس کی عبادت کرنے والے تھے۔
38:42ٱرۡكُضۡ بِرِجۡلِكَۖ هَٰذَا مُغۡتَسَلُۢ بَارِدٞ وَشَرَابٞ
اور یاد کر ہمارے بندے ایوب کو، جب پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ پہنچائی مجھے شیطان نے تکلیف اور ا یذا (41)(فرمایا)تومار(زمین پر) اپنا پیریہ (پانی ) ہے غسل کرنے کو ٹھنڈا اور پینے کو (42) اورعطا کیے ہم نے اس کو اس کے گھر والے اور ان کے برابر (اور) ان کے ساتھ، اپنی رحمت سے اور نصیحت واسطے عقل مندوں کے (43) اور پکڑ اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا تنکوں کا(یعنی جھاڑو)اور مار ساتھ اس کے (اپنی بیوی کو) اور نہ توڑ قسم، بے شک پایا ہم نے اسے صابر، اچھا بندہ تھاوہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (44)
[41]﴿وَاذۡكُرۡ ﴾ ’’اور یاد کرو‘‘ یعنی نصیحت والی اس کتاب عظیم کے اندر ﴿عَبۡدَنَاۤ اَيُّوۡبَ ﴾ ’’ہمارے بندے ایوب کا‘‘ بہترین پیرائے میں ذکر کیجیے اور احسن طریقے سے ان کی مدح و ثنا کیجیے جب انھیں تکلیف اور مصیبت پہنچی تو انھوں نے اس تکلیف پر صبر کیا اور غیر کے سامنے اپنے رب کا شکوہ کیا نہ اس کے سوا کسی اور کا سہارا لیا ﴿اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗۤ ﴾ جب ایوبu نے غیراللہ کے پاس نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس شکوہ کرتے اور اس سے دعا کرتے ہوئے اسی کو پکارا اور عرض کیا اے میرے رب! ﴿اَنِّيۡ مَسَّنِيَ الشَّيۡطٰنُ بِنُصۡبٍ وَّعَذَابٍ﴾ یعنی شیطان نے مجھے مشقت انگیز اور نہایت تکلیف دہ عذاب میں ڈال دیا ہے۔ شیطان کو آپ کے جسد پر تسلط حاصل ہو گیا اس نے پھونک ماری تو جسم پر پھوڑے بن گئے ، پھر ان سے پیپ بہنے لگی اور اس کے بعد معاملہ بہت سخت ہو گیا اور اسی طرح ان کا مال اور ان کے اہل و عیال بھی ہلاک ہو گئے۔
[42] ان سے کہا گیا ﴿اُرۡؔكُضۡ بِرِجۡلِكَ ﴾ یعنی اپنی ایڑی زمین پر ماریں آپ کے لیے ایک چشمہ زمین سے پھوٹ پڑے گا، اس چشمے کا پانی پیجیے اور اس سے غسل کیجیے۔ آپ کی بیماری اور تکلیف دور ہو جائے گی۔ آپ نے ایسا ہی کیا آپ کی بیماری دور ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا بخش دی۔
[43]﴿وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اَهۡلَهٗ﴾ ’’اور ہم نے انھیں ان کے اہل و عیال عطا کردیے۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اہل و عیال کو زندہ کر دیا تھا۔ ﴿وَمِثۡلَهُمۡ مَّعَهُمۡ ﴾ اور دنیا میں اتنے ہی اور عطا کر دیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ مال سے بہرہ مند کر کے نہایت مال دار کر دیا ﴿رَحۡمَةً مِّؔنَّا ﴾ یعنی ہماری طرف سے ہمارے بندے ایوب پر رحمت تھی کیونکہ انھوں نے صبر کیا اور ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دنیاوی اور اخروی ثواب سے بہرہ مند کیا۔ ﴿وَذِكۡرٰى لِاُولِي الۡاَلۡبَابِ ﴾ تاکہ عقل مند لوگ حضرت ایوبu کی حالت سے نصیحت اور عبرت پکڑیں اور انھیں معلوم ہو جائے کہ جو کوئی مصیبت میں صبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دنیاوی اور اخروی ثواب سے نوازتا ہے اور جب وہ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے۔
[44] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ایوبu کو حکم دیا ﴿وَخُذۡ بِيَدِكَ ضِغۡثًا ﴾ ’’اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو۔‘‘ یعنی درخت کی باریک شاخوں کا گٹھا ﴿فَاضۡرِبۡ بِّهٖ وَلَا تَحۡنَثۡ ﴾ ’’اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ ایوبu بیماری اور تکلیف کے دوران کسی معاملے میں اپنی بیوی سے ناراض ہو گئے تھے، اس پر آپ نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو سو کوڑے ماریں گے۔ ان کی بیوی، انتہائی نیک اور آپ کے ساتھ بھلائی کرنے والی خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس خاتون پر اور حضرت ایوبu پر رحم فرمایا اور فتویٰ دیا کہ وہ درخت کی باریک سو شاخوں کا گٹھا لے کر اس سے ایک ہی دفعہ ماریں ان کی قسم پوری ہو جائے گی۔ ﴿اِنَّا وَجَدۡنٰهُ صَابِرًا ﴾ یعنی ہم نے آپ کو بہت بڑی بیماری اور تکلیف کے ذریعے سے آزمایا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کیا۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’وہ بہترین بندے تھے‘‘ جنھوں نے خوشی اور مصیبت، خوش حالی اور بدحالی میں عبودیت کے مراتب کی تکمیل کی ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ یعنی آپ اپنے دینی اور دنیاوی مطالب میں اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے، اپنے رب کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے، اس کو بہت زیادہ پکارنے والے، اس سے محبت اور اس کی عبادت کرنے والے تھے۔
38:43وَوَهَبۡنَا لَهُۥٓ أَهۡلَهُۥ وَمِثۡلَهُم مَّعَهُمۡ رَحۡمَةٗ مِّنَّا وَذِكۡرَىٰ لِأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ
اور یاد کر ہمارے بندے ایوب کو، جب پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ پہنچائی مجھے شیطان نے تکلیف اور ا یذا (41)(فرمایا)تومار(زمین پر) اپنا پیریہ (پانی ) ہے غسل کرنے کو ٹھنڈا اور پینے کو (42) اورعطا کیے ہم نے اس کو اس کے گھر والے اور ان کے برابر (اور) ان کے ساتھ، اپنی رحمت سے اور نصیحت واسطے عقل مندوں کے (43) اور پکڑ اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا تنکوں کا(یعنی جھاڑو)اور مار ساتھ اس کے (اپنی بیوی کو) اور نہ توڑ قسم، بے شک پایا ہم نے اسے صابر، اچھا بندہ تھاوہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (44)
[41]﴿وَاذۡكُرۡ ﴾ ’’اور یاد کرو‘‘ یعنی نصیحت والی اس کتاب عظیم کے اندر ﴿عَبۡدَنَاۤ اَيُّوۡبَ ﴾ ’’ہمارے بندے ایوب کا‘‘ بہترین پیرائے میں ذکر کیجیے اور احسن طریقے سے ان کی مدح و ثنا کیجیے جب انھیں تکلیف اور مصیبت پہنچی تو انھوں نے اس تکلیف پر صبر کیا اور غیر کے سامنے اپنے رب کا شکوہ کیا نہ اس کے سوا کسی اور کا سہارا لیا ﴿اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗۤ ﴾ جب ایوبu نے غیراللہ کے پاس نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس شکوہ کرتے اور اس سے دعا کرتے ہوئے اسی کو پکارا اور عرض کیا اے میرے رب! ﴿اَنِّيۡ مَسَّنِيَ الشَّيۡطٰنُ بِنُصۡبٍ وَّعَذَابٍ﴾ یعنی شیطان نے مجھے مشقت انگیز اور نہایت تکلیف دہ عذاب میں ڈال دیا ہے۔ شیطان کو آپ کے جسد پر تسلط حاصل ہو گیا اس نے پھونک ماری تو جسم پر پھوڑے بن گئے ، پھر ان سے پیپ بہنے لگی اور اس کے بعد معاملہ بہت سخت ہو گیا اور اسی طرح ان کا مال اور ان کے اہل و عیال بھی ہلاک ہو گئے۔
[42] ان سے کہا گیا ﴿اُرۡؔكُضۡ بِرِجۡلِكَ ﴾ یعنی اپنی ایڑی زمین پر ماریں آپ کے لیے ایک چشمہ زمین سے پھوٹ پڑے گا، اس چشمے کا پانی پیجیے اور اس سے غسل کیجیے۔ آپ کی بیماری اور تکلیف دور ہو جائے گی۔ آپ نے ایسا ہی کیا آپ کی بیماری دور ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا بخش دی۔
[43]﴿وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اَهۡلَهٗ﴾ ’’اور ہم نے انھیں ان کے اہل و عیال عطا کردیے۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اہل و عیال کو زندہ کر دیا تھا۔ ﴿وَمِثۡلَهُمۡ مَّعَهُمۡ ﴾ اور دنیا میں اتنے ہی اور عطا کر دیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ مال سے بہرہ مند کر کے نہایت مال دار کر دیا ﴿رَحۡمَةً مِّؔنَّا ﴾ یعنی ہماری طرف سے ہمارے بندے ایوب پر رحمت تھی کیونکہ انھوں نے صبر کیا اور ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دنیاوی اور اخروی ثواب سے بہرہ مند کیا۔ ﴿وَذِكۡرٰى لِاُولِي الۡاَلۡبَابِ ﴾ تاکہ عقل مند لوگ حضرت ایوبu کی حالت سے نصیحت اور عبرت پکڑیں اور انھیں معلوم ہو جائے کہ جو کوئی مصیبت میں صبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دنیاوی اور اخروی ثواب سے نوازتا ہے اور جب وہ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے۔
[44] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ایوبu کو حکم دیا ﴿وَخُذۡ بِيَدِكَ ضِغۡثًا ﴾ ’’اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو۔‘‘ یعنی درخت کی باریک شاخوں کا گٹھا ﴿فَاضۡرِبۡ بِّهٖ وَلَا تَحۡنَثۡ ﴾ ’’اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ ایوبu بیماری اور تکلیف کے دوران کسی معاملے میں اپنی بیوی سے ناراض ہو گئے تھے، اس پر آپ نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو سو کوڑے ماریں گے۔ ان کی بیوی، انتہائی نیک اور آپ کے ساتھ بھلائی کرنے والی خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس خاتون پر اور حضرت ایوبu پر رحم فرمایا اور فتویٰ دیا کہ وہ درخت کی باریک سو شاخوں کا گٹھا لے کر اس سے ایک ہی دفعہ ماریں ان کی قسم پوری ہو جائے گی۔ ﴿اِنَّا وَجَدۡنٰهُ صَابِرًا ﴾ یعنی ہم نے آپ کو بہت بڑی بیماری اور تکلیف کے ذریعے سے آزمایا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کیا۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’وہ بہترین بندے تھے‘‘ جنھوں نے خوشی اور مصیبت، خوش حالی اور بدحالی میں عبودیت کے مراتب کی تکمیل کی ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ یعنی آپ اپنے دینی اور دنیاوی مطالب میں اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے، اپنے رب کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے، اس کو بہت زیادہ پکارنے والے، اس سے محبت اور اس کی عبادت کرنے والے تھے۔
38:44وَخُذۡ بِيَدِكَ ضِغۡثٗا فَٱضۡرِب بِّهِۦ وَلَا تَحۡنَثۡۗ إِنَّا وَجَدۡنَٰهُ صَابِرٗاۚ نِّعۡمَ ٱلۡعَبۡدُ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٞ
اور یاد کر ہمارے بندے ایوب کو، جب پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ پہنچائی مجھے شیطان نے تکلیف اور ا یذا (41)(فرمایا)تومار(زمین پر) اپنا پیریہ (پانی ) ہے غسل کرنے کو ٹھنڈا اور پینے کو (42) اورعطا کیے ہم نے اس کو اس کے گھر والے اور ان کے برابر (اور) ان کے ساتھ، اپنی رحمت سے اور نصیحت واسطے عقل مندوں کے (43) اور پکڑ اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا تنکوں کا(یعنی جھاڑو)اور مار ساتھ اس کے (اپنی بیوی کو) اور نہ توڑ قسم، بے شک پایا ہم نے اسے صابر، اچھا بندہ تھاوہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (44)
[41]﴿وَاذۡكُرۡ ﴾ ’’اور یاد کرو‘‘ یعنی نصیحت والی اس کتاب عظیم کے اندر ﴿عَبۡدَنَاۤ اَيُّوۡبَ ﴾ ’’ہمارے بندے ایوب کا‘‘ بہترین پیرائے میں ذکر کیجیے اور احسن طریقے سے ان کی مدح و ثنا کیجیے جب انھیں تکلیف اور مصیبت پہنچی تو انھوں نے اس تکلیف پر صبر کیا اور غیر کے سامنے اپنے رب کا شکوہ کیا نہ اس کے سوا کسی اور کا سہارا لیا ﴿اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗۤ ﴾ جب ایوبu نے غیراللہ کے پاس نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس شکوہ کرتے اور اس سے دعا کرتے ہوئے اسی کو پکارا اور عرض کیا اے میرے رب! ﴿اَنِّيۡ مَسَّنِيَ الشَّيۡطٰنُ بِنُصۡبٍ وَّعَذَابٍ﴾ یعنی شیطان نے مجھے مشقت انگیز اور نہایت تکلیف دہ عذاب میں ڈال دیا ہے۔ شیطان کو آپ کے جسد پر تسلط حاصل ہو گیا اس نے پھونک ماری تو جسم پر پھوڑے بن گئے ، پھر ان سے پیپ بہنے لگی اور اس کے بعد معاملہ بہت سخت ہو گیا اور اسی طرح ان کا مال اور ان کے اہل و عیال بھی ہلاک ہو گئے۔
[42] ان سے کہا گیا ﴿اُرۡؔكُضۡ بِرِجۡلِكَ ﴾ یعنی اپنی ایڑی زمین پر ماریں آپ کے لیے ایک چشمہ زمین سے پھوٹ پڑے گا، اس چشمے کا پانی پیجیے اور اس سے غسل کیجیے۔ آپ کی بیماری اور تکلیف دور ہو جائے گی۔ آپ نے ایسا ہی کیا آپ کی بیماری دور ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا بخش دی۔
[43]﴿وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اَهۡلَهٗ﴾ ’’اور ہم نے انھیں ان کے اہل و عیال عطا کردیے۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اہل و عیال کو زندہ کر دیا تھا۔ ﴿وَمِثۡلَهُمۡ مَّعَهُمۡ ﴾ اور دنیا میں اتنے ہی اور عطا کر دیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ مال سے بہرہ مند کر کے نہایت مال دار کر دیا ﴿رَحۡمَةً مِّؔنَّا ﴾ یعنی ہماری طرف سے ہمارے بندے ایوب پر رحمت تھی کیونکہ انھوں نے صبر کیا اور ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دنیاوی اور اخروی ثواب سے بہرہ مند کیا۔ ﴿وَذِكۡرٰى لِاُولِي الۡاَلۡبَابِ ﴾ تاکہ عقل مند لوگ حضرت ایوبu کی حالت سے نصیحت اور عبرت پکڑیں اور انھیں معلوم ہو جائے کہ جو کوئی مصیبت میں صبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دنیاوی اور اخروی ثواب سے نوازتا ہے اور جب وہ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے۔
[44] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ایوبu کو حکم دیا ﴿وَخُذۡ بِيَدِكَ ضِغۡثًا ﴾ ’’اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو۔‘‘ یعنی درخت کی باریک شاخوں کا گٹھا ﴿فَاضۡرِبۡ بِّهٖ وَلَا تَحۡنَثۡ ﴾ ’’اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ ایوبu بیماری اور تکلیف کے دوران کسی معاملے میں اپنی بیوی سے ناراض ہو گئے تھے، اس پر آپ نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو سو کوڑے ماریں گے۔ ان کی بیوی، انتہائی نیک اور آپ کے ساتھ بھلائی کرنے والی خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس خاتون پر اور حضرت ایوبu پر رحم فرمایا اور فتویٰ دیا کہ وہ درخت کی باریک سو شاخوں کا گٹھا لے کر اس سے ایک ہی دفعہ ماریں ان کی قسم پوری ہو جائے گی۔ ﴿اِنَّا وَجَدۡنٰهُ صَابِرًا ﴾ یعنی ہم نے آپ کو بہت بڑی بیماری اور تکلیف کے ذریعے سے آزمایا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کیا۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’وہ بہترین بندے تھے‘‘ جنھوں نے خوشی اور مصیبت، خوش حالی اور بدحالی میں عبودیت کے مراتب کی تکمیل کی ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ یعنی آپ اپنے دینی اور دنیاوی مطالب میں اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے، اپنے رب کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے، اس کو بہت زیادہ پکارنے والے، اس سے محبت اور اس کی عبادت کرنے والے تھے۔
38:45وَٱذۡكُرۡ عِبَٰدَنَآ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ أُوْلِي ٱلۡأَيۡدِي وَٱلۡأَبۡصَٰرِ
اوریاد کیجیے! ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب اصحاب قوت و بصیرت کو (45) بے شک چن لیا تھا ہم نے ان کو ایک خاص (خصلت) کے ساتھ (وہ ہے) یاد آخرت (46) اور بے شک وہ ہمارے نزدیک البتہ برگزیدہ نیک بندوں میں سے تھے (47)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’ہمارے اور بندوں کا ذکر کیجیے‘‘ جنھوں نے خالص ہماری عبادت کی اور ہمیں اچھی طرح یاد کیا ﴿اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ ’’ابراہیم‘‘ خلیل اللہ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کے بیٹے ﴿اِسۡحٰقَ وَ﴾ ’’اسحاق اور ان (ابراہیمu) کے پوتے ﴿يَعۡقُوۡبَ اُولِي الۡاَيۡدِيۡ ﴾ ’’یعقوب یہ سب قوت والے تھے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے قوت رکھتے تھے۔ ﴿وَالۡاَبۡصَارِ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کے دین میں بصیرت سے بہرہ مند تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو علم نافع اور عمل صالح سے موصوف کیا۔
[46]﴿اِنَّـاۤ اَخۡلَصۡنٰهُمۡ بِخَالِصَةٍ ﴾ ’’بے شک ہم نے انہیں ایک امتیازی بات کے ساتھ خاص کیا۔‘‘ یعنی بہت بڑی خالص صفت کے ساتھ جو کہ ﴿ذِكۡرَى الدَّارِ﴾ ’’آخرت کی یاد ہے‘‘ یعنی ہم نے آخرت کی یاد ان کے دلوں میں جاگزیں کر دی، عمل صالح کو ان کے وقت کا مصرف، اخلاص اور مراقبہ کو ان کا دائمی وصف بنا دیا۔ ہم نے ان کو اس طرح آخرت کی یاد بنا دیا کہ نصیحت پکڑنے والا ان کے احوال سے نصیحت اور عبرت حاصل کرنے والا عبرت حاصل کرتا ہے اور یہ بہترین طریقے سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔
[47]﴿وَاِنَّهُمۡ عِنۡدَنَا لَمِنَ الۡمُصۡطَفَيۡنَ ﴾ ’’اور یقینا وہ ہمارے نزدیک منتخب لوگوں میں سے ہیں‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی بہترین مخلوق میں سے چن لیا۔ ﴿الۡاَخۡيَارِ﴾ ’’بہترین لوگ ہیں‘‘ یعنی وہ لوگ اخلاق کریمہ اور عمل صالح کے حامل ہیں۔
38:46إِنَّآ أَخۡلَصۡنَٰهُم بِخَالِصَةٖ ذِكۡرَى ٱلدَّارِ
اوریاد کیجیے! ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب اصحاب قوت و بصیرت کو (45) بے شک چن لیا تھا ہم نے ان کو ایک خاص (خصلت) کے ساتھ (وہ ہے) یاد آخرت (46) اور بے شک وہ ہمارے نزدیک البتہ برگزیدہ نیک بندوں میں سے تھے (47)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’ہمارے اور بندوں کا ذکر کیجیے‘‘ جنھوں نے خالص ہماری عبادت کی اور ہمیں اچھی طرح یاد کیا ﴿اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ ’’ابراہیم‘‘ خلیل اللہ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کے بیٹے ﴿اِسۡحٰقَ وَ﴾ ’’اسحاق اور ان (ابراہیمu) کے پوتے ﴿يَعۡقُوۡبَ اُولِي الۡاَيۡدِيۡ ﴾ ’’یعقوب یہ سب قوت والے تھے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے قوت رکھتے تھے۔ ﴿وَالۡاَبۡصَارِ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کے دین میں بصیرت سے بہرہ مند تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو علم نافع اور عمل صالح سے موصوف کیا۔
[46]﴿اِنَّـاۤ اَخۡلَصۡنٰهُمۡ بِخَالِصَةٍ ﴾ ’’بے شک ہم نے انہیں ایک امتیازی بات کے ساتھ خاص کیا۔‘‘ یعنی بہت بڑی خالص صفت کے ساتھ جو کہ ﴿ذِكۡرَى الدَّارِ﴾ ’’آخرت کی یاد ہے‘‘ یعنی ہم نے آخرت کی یاد ان کے دلوں میں جاگزیں کر دی، عمل صالح کو ان کے وقت کا مصرف، اخلاص اور مراقبہ کو ان کا دائمی وصف بنا دیا۔ ہم نے ان کو اس طرح آخرت کی یاد بنا دیا کہ نصیحت پکڑنے والا ان کے احوال سے نصیحت اور عبرت حاصل کرنے والا عبرت حاصل کرتا ہے اور یہ بہترین طریقے سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔
[47]﴿وَاِنَّهُمۡ عِنۡدَنَا لَمِنَ الۡمُصۡطَفَيۡنَ ﴾ ’’اور یقینا وہ ہمارے نزدیک منتخب لوگوں میں سے ہیں‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی بہترین مخلوق میں سے چن لیا۔ ﴿الۡاَخۡيَارِ﴾ ’’بہترین لوگ ہیں‘‘ یعنی وہ لوگ اخلاق کریمہ اور عمل صالح کے حامل ہیں۔
38:47وَإِنَّهُمۡ عِندَنَا لَمِنَ ٱلۡمُصۡطَفَيۡنَ ٱلۡأَخۡيَارِ
اوریاد کیجیے! ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب اصحاب قوت و بصیرت کو (45) بے شک چن لیا تھا ہم نے ان کو ایک خاص (خصلت) کے ساتھ (وہ ہے) یاد آخرت (46) اور بے شک وہ ہمارے نزدیک البتہ برگزیدہ نیک بندوں میں سے تھے (47)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’ہمارے اور بندوں کا ذکر کیجیے‘‘ جنھوں نے خالص ہماری عبادت کی اور ہمیں اچھی طرح یاد کیا ﴿اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ ’’ابراہیم‘‘ خلیل اللہ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کے بیٹے ﴿اِسۡحٰقَ وَ﴾ ’’اسحاق اور ان (ابراہیمu) کے پوتے ﴿يَعۡقُوۡبَ اُولِي الۡاَيۡدِيۡ ﴾ ’’یعقوب یہ سب قوت والے تھے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے قوت رکھتے تھے۔ ﴿وَالۡاَبۡصَارِ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کے دین میں بصیرت سے بہرہ مند تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو علم نافع اور عمل صالح سے موصوف کیا۔
[46]﴿اِنَّـاۤ اَخۡلَصۡنٰهُمۡ بِخَالِصَةٍ ﴾ ’’بے شک ہم نے انہیں ایک امتیازی بات کے ساتھ خاص کیا۔‘‘ یعنی بہت بڑی خالص صفت کے ساتھ جو کہ ﴿ذِكۡرَى الدَّارِ﴾ ’’آخرت کی یاد ہے‘‘ یعنی ہم نے آخرت کی یاد ان کے دلوں میں جاگزیں کر دی، عمل صالح کو ان کے وقت کا مصرف، اخلاص اور مراقبہ کو ان کا دائمی وصف بنا دیا۔ ہم نے ان کو اس طرح آخرت کی یاد بنا دیا کہ نصیحت پکڑنے والا ان کے احوال سے نصیحت اور عبرت حاصل کرنے والا عبرت حاصل کرتا ہے اور یہ بہترین طریقے سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔
[47]﴿وَاِنَّهُمۡ عِنۡدَنَا لَمِنَ الۡمُصۡطَفَيۡنَ ﴾ ’’اور یقینا وہ ہمارے نزدیک منتخب لوگوں میں سے ہیں‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی بہترین مخلوق میں سے چن لیا۔ ﴿الۡاَخۡيَارِ﴾ ’’بہترین لوگ ہیں‘‘ یعنی وہ لوگ اخلاق کریمہ اور عمل صالح کے حامل ہیں۔
38:48وَٱذۡكُرۡ إِسۡمَٰعِيلَ وَٱلۡيَسَعَ وَذَا ٱلۡكِفۡلِۖ وَكُلّٞ مِّنَ ٱلۡأَخۡيَارِ
اوریاد کیجیے ! اسماعیل اور یسع اور ذوالکفل کو، اور ہر ایک (ان میں سے) نیکوں میں سے تھا (48) یہ ایک نصیحت ہے اور بے شک واسطے متقیوں کے البتہ اچھا ٹھکانا ہے(49)
[48] یعنی ان انبیائے کرام کو احسن طریقے سے یاد کیجیے اور بہترین طریقے سے ان کی مدح و ثنا کیجیے کیونکہ یہ سب بہترین لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے چن لیا، ان کو کامل ترین احوال، بہترین اعمال واخلاق، قابل تعریف اوصاف اور درست خصائل کا حامل بنایا۔
[49]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین اور ان کے اوصاف کا تذکرہ تو ﴿ذِكۡرٌ ﴾ ’’نصیحت ہے‘‘ اس نصیحت کرنے والے قرآن کریم تاکہ ان کے احوال سے نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں، اقتدا کرنے والے ان کے اوصاف حمیدہ کی پیروی کے مشتاق ہوں اور ان اوصاف زکیہ اور ثنائے حسن کی معرفت حاصل ہو، جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا۔ یہ بھی ذکر کی ایک قسم ہے، یعنی اہل خیر کا تذکرہ، اہل خیر اور اہل شر کی جزا و سزا کا تذکرہ بھی ذکر ہی کی ایک قسم ہے، اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی ان تمام مومنین اور مومنات کے لیے جو اپنے رب کے حکم کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کرتے ہیں ﴿لَحُسۡنَ مَاٰبٍ﴾ بہترین ٹھکانا اور خوب ترین مرجع ہے۔
38:49هَٰذَا ذِكۡرٞۚ وَإِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ لَحُسۡنَ مَـَٔابٖ
اوریاد کیجیے ! اسماعیل اور یسع اور ذوالکفل کو، اور ہر ایک (ان میں سے) نیکوں میں سے تھا (48) یہ ایک نصیحت ہے اور بے شک واسطے متقیوں کے البتہ اچھا ٹھکانا ہے(49)
[48] یعنی ان انبیائے کرام کو احسن طریقے سے یاد کیجیے اور بہترین طریقے سے ان کی مدح و ثنا کیجیے کیونکہ یہ سب بہترین لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے چن لیا، ان کو کامل ترین احوال، بہترین اعمال واخلاق، قابل تعریف اوصاف اور درست خصائل کا حامل بنایا۔
[49]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین اور ان کے اوصاف کا تذکرہ تو ﴿ذِكۡرٌ ﴾ ’’نصیحت ہے‘‘ اس نصیحت کرنے والے قرآن کریم تاکہ ان کے احوال سے نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں، اقتدا کرنے والے ان کے اوصاف حمیدہ کی پیروی کے مشتاق ہوں اور ان اوصاف زکیہ اور ثنائے حسن کی معرفت حاصل ہو، جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا۔ یہ بھی ذکر کی ایک قسم ہے، یعنی اہل خیر کا تذکرہ، اہل خیر اور اہل شر کی جزا و سزا کا تذکرہ بھی ذکر ہی کی ایک قسم ہے، اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی ان تمام مومنین اور مومنات کے لیے جو اپنے رب کے حکم کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کرتے ہیں ﴿لَحُسۡنَ مَاٰبٍ﴾ بہترین ٹھکانا اور خوب ترین مرجع ہے۔
38:50جَنَّـٰتِ عَدۡنٖ مُّفَتَّحَةٗ لَّهُمُ ٱلۡأَبۡوَٰبُ
باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، کھولے جائیں گے ان کے لیے (ان کے) دروازے (50) تکیہ لگائے ہوں گے ان میں، منگوائیں گے وہ ان میں میوے بہت سے اور شراب (51) اور ان کے پاس ہوں گی نیچی نگاہ رکھنے والیں ہم عمر(بیویاں)(52)(انھیں کہا جائے گا)یہ ہے (وہ جزا)جس کا وعدہ دیے جاتے تھے تم واسطے یوم حساب کے (53) بے شک یہ البتہ ہمارا رزق ہے، نہیں ہے اس کے لیے ختم ہونا (54)
[50] پھر اللہ تعالیٰ نے اس بہترین ٹھکانے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَنّٰتِ عَدۡنٍ ﴾ یعنی ہمیشہ سرسبز وشاداب رہنے والے باغات، ان کے کمال اور ان کی نعمتوں کے باعث یہاں کے رہنے والے ان کو کبھی بدلنا نہیں چاہیں گے۔ وہ وہاں سے خود نکلیں گے نہ ان کو نکالا جائے گا ﴿مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الۡاَبۡوَابُ﴾ یعنی ان کی خاطر جنت کی منازل و مساکن کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے، ان کو خود دروازے کھلوانے کی حاجت نہیں ہو گی بلکہ ان کی خدمت کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں مکمل امن و امان ہو گا۔ جنت عدن میں کوئی ایسی خطرے کی بات نہ ہو گی جو دروازے بند رکھنے کی موجب ہو۔
[51]﴿مُتَّـكِـــِٕيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ سجائی ہوئی نشست گاہوں اور آراستہ کیے ہوئے تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھیں گے ﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا ﴾ یعنی وہ اپنے خدام کو حکم دیں گے ﴿بِفَاكِهَةٍ كَثِيۡرَةٍ وَّشَرَابٍ ﴾ کہ وہ ان کی خدمت میں بکثرت پھل اور مشروبات پیش کریں، جن کو ان کے نفس پسند کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہاں ان کو کامل نعمت، کامل راحت و طمانینت اور کامل لذت حاصل ہو گی۔
[52]﴿وَعِنۡدَهُمۡ ﴾ ’’ان کے پاس‘‘ گوری چٹی موٹی آنکھوں والی بیویاں ہوں گی۔ ﴿قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ یعنی دونوں میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کے حسن و جمال اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے باعث نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے، وہ دونوں میاں بیوی کسی اور طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گے، وہ اپنے ساتھی کو بدلنا چاہیں گے نہ اس کے عوض کچھ اور چاہیں گے ﴿اَتۡرَابٌ ﴾ یعنی وہ میاں بیوی ہم عمر ہوں گے۔ وہ جوانی کے بہترین دور اور انتہائی لذت انگیز عمر میں ہوں گے۔
[53]﴿هٰؔذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’(اے تقویٰ شعار لوگو!) یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا‘‘ ﴿لِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’حساب کے دن کے لیے‘‘ یہ تمھارے نیک اعمال کی جزا ہے۔
[54]﴿اِنَّ هٰؔذَا لَرِزۡقُنَا ﴾ ’’یقینا یہ ہمارا رزق ہے‘‘ جو ہم نے اہل جنت کو عطا کیا ہے ﴿مَا لَهٗ مِنۡ نَّفَادٍ﴾ یہ رزق کبھی منقطع نہ ہو گا بلکہ وہ دائمی ہو گا اور ہر آن اس میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ یہ سب کچھ رب کریم کے لیے کوئی بڑا کام نہیں ہے جو رؤ وف و رحیم، محسن و جواد، واسع و غنی، قابل تعریف، لطف عظیم کا حامل، نہایت مہربان بادشاہ، بااختیار، جلیل القدر، جمیل الشان، احسان کرنے والا، بے پناہ فضل اور متواتر کرم کا مالک ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے جس کی نعمتوں کو شمار کیا جا سکتا ہے نہ اس کے کسی احسان کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔
38:51مُتَّكِـِٔينَ فِيهَا يَدۡعُونَ فِيهَا بِفَٰكِهَةٖ كَثِيرَةٖ وَشَرَابٖ
باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، کھولے جائیں گے ان کے لیے (ان کے) دروازے (50) تکیہ لگائے ہوں گے ان میں، منگوائیں گے وہ ان میں میوے بہت سے اور شراب (51) اور ان کے پاس ہوں گی نیچی نگاہ رکھنے والیں ہم عمر(بیویاں)(52)(انھیں کہا جائے گا)یہ ہے (وہ جزا)جس کا وعدہ دیے جاتے تھے تم واسطے یوم حساب کے (53) بے شک یہ البتہ ہمارا رزق ہے، نہیں ہے اس کے لیے ختم ہونا (54)
[50] پھر اللہ تعالیٰ نے اس بہترین ٹھکانے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَنّٰتِ عَدۡنٍ ﴾ یعنی ہمیشہ سرسبز وشاداب رہنے والے باغات، ان کے کمال اور ان کی نعمتوں کے باعث یہاں کے رہنے والے ان کو کبھی بدلنا نہیں چاہیں گے۔ وہ وہاں سے خود نکلیں گے نہ ان کو نکالا جائے گا ﴿مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الۡاَبۡوَابُ﴾ یعنی ان کی خاطر جنت کی منازل و مساکن کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے، ان کو خود دروازے کھلوانے کی حاجت نہیں ہو گی بلکہ ان کی خدمت کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں مکمل امن و امان ہو گا۔ جنت عدن میں کوئی ایسی خطرے کی بات نہ ہو گی جو دروازے بند رکھنے کی موجب ہو۔
[51]﴿مُتَّـكِـــِٕيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ سجائی ہوئی نشست گاہوں اور آراستہ کیے ہوئے تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھیں گے ﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا ﴾ یعنی وہ اپنے خدام کو حکم دیں گے ﴿بِفَاكِهَةٍ كَثِيۡرَةٍ وَّشَرَابٍ ﴾ کہ وہ ان کی خدمت میں بکثرت پھل اور مشروبات پیش کریں، جن کو ان کے نفس پسند کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہاں ان کو کامل نعمت، کامل راحت و طمانینت اور کامل لذت حاصل ہو گی۔
[52]﴿وَعِنۡدَهُمۡ ﴾ ’’ان کے پاس‘‘ گوری چٹی موٹی آنکھوں والی بیویاں ہوں گی۔ ﴿قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ یعنی دونوں میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کے حسن و جمال اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے باعث نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے، وہ دونوں میاں بیوی کسی اور طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گے، وہ اپنے ساتھی کو بدلنا چاہیں گے نہ اس کے عوض کچھ اور چاہیں گے ﴿اَتۡرَابٌ ﴾ یعنی وہ میاں بیوی ہم عمر ہوں گے۔ وہ جوانی کے بہترین دور اور انتہائی لذت انگیز عمر میں ہوں گے۔
[53]﴿هٰؔذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’(اے تقویٰ شعار لوگو!) یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا‘‘ ﴿لِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’حساب کے دن کے لیے‘‘ یہ تمھارے نیک اعمال کی جزا ہے۔
[54]﴿اِنَّ هٰؔذَا لَرِزۡقُنَا ﴾ ’’یقینا یہ ہمارا رزق ہے‘‘ جو ہم نے اہل جنت کو عطا کیا ہے ﴿مَا لَهٗ مِنۡ نَّفَادٍ﴾ یہ رزق کبھی منقطع نہ ہو گا بلکہ وہ دائمی ہو گا اور ہر آن اس میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ یہ سب کچھ رب کریم کے لیے کوئی بڑا کام نہیں ہے جو رؤ وف و رحیم، محسن و جواد، واسع و غنی، قابل تعریف، لطف عظیم کا حامل، نہایت مہربان بادشاہ، بااختیار، جلیل القدر، جمیل الشان، احسان کرنے والا، بے پناہ فضل اور متواتر کرم کا مالک ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے جس کی نعمتوں کو شمار کیا جا سکتا ہے نہ اس کے کسی احسان کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔
38:52۞وَعِندَهُمۡ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرۡفِ أَتۡرَابٌ
باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، کھولے جائیں گے ان کے لیے (ان کے) دروازے (50) تکیہ لگائے ہوں گے ان میں، منگوائیں گے وہ ان میں میوے بہت سے اور شراب (51) اور ان کے پاس ہوں گی نیچی نگاہ رکھنے والیں ہم عمر(بیویاں)(52)(انھیں کہا جائے گا)یہ ہے (وہ جزا)جس کا وعدہ دیے جاتے تھے تم واسطے یوم حساب کے (53) بے شک یہ البتہ ہمارا رزق ہے، نہیں ہے اس کے لیے ختم ہونا (54)
[50] پھر اللہ تعالیٰ نے اس بہترین ٹھکانے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَنّٰتِ عَدۡنٍ ﴾ یعنی ہمیشہ سرسبز وشاداب رہنے والے باغات، ان کے کمال اور ان کی نعمتوں کے باعث یہاں کے رہنے والے ان کو کبھی بدلنا نہیں چاہیں گے۔ وہ وہاں سے خود نکلیں گے نہ ان کو نکالا جائے گا ﴿مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الۡاَبۡوَابُ﴾ یعنی ان کی خاطر جنت کی منازل و مساکن کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے، ان کو خود دروازے کھلوانے کی حاجت نہیں ہو گی بلکہ ان کی خدمت کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں مکمل امن و امان ہو گا۔ جنت عدن میں کوئی ایسی خطرے کی بات نہ ہو گی جو دروازے بند رکھنے کی موجب ہو۔
[51]﴿مُتَّـكِـــِٕيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ سجائی ہوئی نشست گاہوں اور آراستہ کیے ہوئے تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھیں گے ﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا ﴾ یعنی وہ اپنے خدام کو حکم دیں گے ﴿بِفَاكِهَةٍ كَثِيۡرَةٍ وَّشَرَابٍ ﴾ کہ وہ ان کی خدمت میں بکثرت پھل اور مشروبات پیش کریں، جن کو ان کے نفس پسند کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہاں ان کو کامل نعمت، کامل راحت و طمانینت اور کامل لذت حاصل ہو گی۔
[52]﴿وَعِنۡدَهُمۡ ﴾ ’’ان کے پاس‘‘ گوری چٹی موٹی آنکھوں والی بیویاں ہوں گی۔ ﴿قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ یعنی دونوں میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کے حسن و جمال اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے باعث نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے، وہ دونوں میاں بیوی کسی اور طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گے، وہ اپنے ساتھی کو بدلنا چاہیں گے نہ اس کے عوض کچھ اور چاہیں گے ﴿اَتۡرَابٌ ﴾ یعنی وہ میاں بیوی ہم عمر ہوں گے۔ وہ جوانی کے بہترین دور اور انتہائی لذت انگیز عمر میں ہوں گے۔
[53]﴿هٰؔذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’(اے تقویٰ شعار لوگو!) یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا‘‘ ﴿لِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’حساب کے دن کے لیے‘‘ یہ تمھارے نیک اعمال کی جزا ہے۔
[54]﴿اِنَّ هٰؔذَا لَرِزۡقُنَا ﴾ ’’یقینا یہ ہمارا رزق ہے‘‘ جو ہم نے اہل جنت کو عطا کیا ہے ﴿مَا لَهٗ مِنۡ نَّفَادٍ﴾ یہ رزق کبھی منقطع نہ ہو گا بلکہ وہ دائمی ہو گا اور ہر آن اس میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ یہ سب کچھ رب کریم کے لیے کوئی بڑا کام نہیں ہے جو رؤ وف و رحیم، محسن و جواد، واسع و غنی، قابل تعریف، لطف عظیم کا حامل، نہایت مہربان بادشاہ، بااختیار، جلیل القدر، جمیل الشان، احسان کرنے والا، بے پناہ فضل اور متواتر کرم کا مالک ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے جس کی نعمتوں کو شمار کیا جا سکتا ہے نہ اس کے کسی احسان کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔
38:53هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوۡمِ ٱلۡحِسَابِ
باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، کھولے جائیں گے ان کے لیے (ان کے) دروازے (50) تکیہ لگائے ہوں گے ان میں، منگوائیں گے وہ ان میں میوے بہت سے اور شراب (51) اور ان کے پاس ہوں گی نیچی نگاہ رکھنے والیں ہم عمر(بیویاں)(52)(انھیں کہا جائے گا)یہ ہے (وہ جزا)جس کا وعدہ دیے جاتے تھے تم واسطے یوم حساب کے (53) بے شک یہ البتہ ہمارا رزق ہے، نہیں ہے اس کے لیے ختم ہونا (54)
[50] پھر اللہ تعالیٰ نے اس بہترین ٹھکانے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَنّٰتِ عَدۡنٍ ﴾ یعنی ہمیشہ سرسبز وشاداب رہنے والے باغات، ان کے کمال اور ان کی نعمتوں کے باعث یہاں کے رہنے والے ان کو کبھی بدلنا نہیں چاہیں گے۔ وہ وہاں سے خود نکلیں گے نہ ان کو نکالا جائے گا ﴿مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الۡاَبۡوَابُ﴾ یعنی ان کی خاطر جنت کی منازل و مساکن کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے، ان کو خود دروازے کھلوانے کی حاجت نہیں ہو گی بلکہ ان کی خدمت کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں مکمل امن و امان ہو گا۔ جنت عدن میں کوئی ایسی خطرے کی بات نہ ہو گی جو دروازے بند رکھنے کی موجب ہو۔
[51]﴿مُتَّـكِـــِٕيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ سجائی ہوئی نشست گاہوں اور آراستہ کیے ہوئے تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھیں گے ﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا ﴾ یعنی وہ اپنے خدام کو حکم دیں گے ﴿بِفَاكِهَةٍ كَثِيۡرَةٍ وَّشَرَابٍ ﴾ کہ وہ ان کی خدمت میں بکثرت پھل اور مشروبات پیش کریں، جن کو ان کے نفس پسند کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہاں ان کو کامل نعمت، کامل راحت و طمانینت اور کامل لذت حاصل ہو گی۔
[52]﴿وَعِنۡدَهُمۡ ﴾ ’’ان کے پاس‘‘ گوری چٹی موٹی آنکھوں والی بیویاں ہوں گی۔ ﴿قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ یعنی دونوں میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کے حسن و جمال اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے باعث نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے، وہ دونوں میاں بیوی کسی اور طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گے، وہ اپنے ساتھی کو بدلنا چاہیں گے نہ اس کے عوض کچھ اور چاہیں گے ﴿اَتۡرَابٌ ﴾ یعنی وہ میاں بیوی ہم عمر ہوں گے۔ وہ جوانی کے بہترین دور اور انتہائی لذت انگیز عمر میں ہوں گے۔
[53]﴿هٰؔذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’(اے تقویٰ شعار لوگو!) یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا‘‘ ﴿لِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’حساب کے دن کے لیے‘‘ یہ تمھارے نیک اعمال کی جزا ہے۔
[54]﴿اِنَّ هٰؔذَا لَرِزۡقُنَا ﴾ ’’یقینا یہ ہمارا رزق ہے‘‘ جو ہم نے اہل جنت کو عطا کیا ہے ﴿مَا لَهٗ مِنۡ نَّفَادٍ﴾ یہ رزق کبھی منقطع نہ ہو گا بلکہ وہ دائمی ہو گا اور ہر آن اس میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ یہ سب کچھ رب کریم کے لیے کوئی بڑا کام نہیں ہے جو رؤ وف و رحیم، محسن و جواد، واسع و غنی، قابل تعریف، لطف عظیم کا حامل، نہایت مہربان بادشاہ، بااختیار، جلیل القدر، جمیل الشان، احسان کرنے والا، بے پناہ فضل اور متواتر کرم کا مالک ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے جس کی نعمتوں کو شمار کیا جا سکتا ہے نہ اس کے کسی احسان کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔
38:54إِنَّ هَٰذَا لَرِزۡقُنَا مَا لَهُۥ مِن نَّفَادٍ
باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، کھولے جائیں گے ان کے لیے (ان کے) دروازے (50) تکیہ لگائے ہوں گے ان میں، منگوائیں گے وہ ان میں میوے بہت سے اور شراب (51) اور ان کے پاس ہوں گی نیچی نگاہ رکھنے والیں ہم عمر(بیویاں)(52)(انھیں کہا جائے گا)یہ ہے (وہ جزا)جس کا وعدہ دیے جاتے تھے تم واسطے یوم حساب کے (53) بے شک یہ البتہ ہمارا رزق ہے، نہیں ہے اس کے لیے ختم ہونا (54)
[50] پھر اللہ تعالیٰ نے اس بہترین ٹھکانے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَنّٰتِ عَدۡنٍ ﴾ یعنی ہمیشہ سرسبز وشاداب رہنے والے باغات، ان کے کمال اور ان کی نعمتوں کے باعث یہاں کے رہنے والے ان کو کبھی بدلنا نہیں چاہیں گے۔ وہ وہاں سے خود نکلیں گے نہ ان کو نکالا جائے گا ﴿مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الۡاَبۡوَابُ﴾ یعنی ان کی خاطر جنت کی منازل و مساکن کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے، ان کو خود دروازے کھلوانے کی حاجت نہیں ہو گی بلکہ ان کی خدمت کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں مکمل امن و امان ہو گا۔ جنت عدن میں کوئی ایسی خطرے کی بات نہ ہو گی جو دروازے بند رکھنے کی موجب ہو۔
[51]﴿مُتَّـكِـــِٕيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ سجائی ہوئی نشست گاہوں اور آراستہ کیے ہوئے تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھیں گے ﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا ﴾ یعنی وہ اپنے خدام کو حکم دیں گے ﴿بِفَاكِهَةٍ كَثِيۡرَةٍ وَّشَرَابٍ ﴾ کہ وہ ان کی خدمت میں بکثرت پھل اور مشروبات پیش کریں، جن کو ان کے نفس پسند کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہاں ان کو کامل نعمت، کامل راحت و طمانینت اور کامل لذت حاصل ہو گی۔
[52]﴿وَعِنۡدَهُمۡ ﴾ ’’ان کے پاس‘‘ گوری چٹی موٹی آنکھوں والی بیویاں ہوں گی۔ ﴿قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ یعنی دونوں میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کے حسن و جمال اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے باعث نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے، وہ دونوں میاں بیوی کسی اور طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گے، وہ اپنے ساتھی کو بدلنا چاہیں گے نہ اس کے عوض کچھ اور چاہیں گے ﴿اَتۡرَابٌ ﴾ یعنی وہ میاں بیوی ہم عمر ہوں گے۔ وہ جوانی کے بہترین دور اور انتہائی لذت انگیز عمر میں ہوں گے۔
[53]﴿هٰؔذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’(اے تقویٰ شعار لوگو!) یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا‘‘ ﴿لِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’حساب کے دن کے لیے‘‘ یہ تمھارے نیک اعمال کی جزا ہے۔
[54]﴿اِنَّ هٰؔذَا لَرِزۡقُنَا ﴾ ’’یقینا یہ ہمارا رزق ہے‘‘ جو ہم نے اہل جنت کو عطا کیا ہے ﴿مَا لَهٗ مِنۡ نَّفَادٍ﴾ یہ رزق کبھی منقطع نہ ہو گا بلکہ وہ دائمی ہو گا اور ہر آن اس میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ یہ سب کچھ رب کریم کے لیے کوئی بڑا کام نہیں ہے جو رؤ وف و رحیم، محسن و جواد، واسع و غنی، قابل تعریف، لطف عظیم کا حامل، نہایت مہربان بادشاہ، بااختیار، جلیل القدر، جمیل الشان، احسان کرنے والا، بے پناہ فضل اور متواتر کرم کا مالک ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے جس کی نعمتوں کو شمار کیا جا سکتا ہے نہ اس کے کسی احسان کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔
38:55هَٰذَاۚ وَإِنَّ لِلطَّـٰغِينَ لَشَرَّ مَـَٔابٖ
یہ ہے (معاملہ اہل خیر کا) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے البتہ بہت برا ٹھکانا ہے (55)(یعنی ) جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس بری ہے آرام کرنے کی جگہ (56) یہ ہے، پس چکھیں وہ اس کو، کھولتا ہوا پانی اور پیپ (57) اور دوسرے (عذاب) ہیں، اس کی مثل ہی، کئی قسم کے (58) یہ ہے ایک گروہ جو گھسا چلا آتا ہے تمھارے ساتھ، نہ زمین کی فراخی ہو ان کے لیے، بے شک یہ داخل ہونے والے ہیں آگ میں(59) وہ کہیں گے، نہ زمین کی فراخی ہو تمھارے لیے، تم ہی آگے لائے ہو اس کو ہمارے، پس بری قرار گاہ ہے (60) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! جو آگے لایا ہمارے یہ(عذاب) پس زیادہ کر اس کو عذاب دگنا آگ میں (61) اور وہ کہیں گے، کیا ہے ہمارے لیے، نہیں ہم دیکھتے ان آدمیوں کو کہ تھے ہم شمار کرتے ان کو برے لوگوں میں؟ (62) کیا بنائے رکھا ہم نے ان کو(دنیا میں) مذاق(غلط طور پر) یا پھر گئیں ان سے(ہماری) نگاہیں؟ (63) بلاشبہ یہ البتہ حق ہے، باہم جھگڑنا اہل دوزخ کا (64)
[55]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقویٰ کے لیے ہے ﴿وَاِنَّ لِلطّٰغِيۡنَ ﴾ یعنی کفرومعاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے ﴿لَشَرَّ مَاٰبٍ﴾ بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔
[56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم ہے‘‘ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کر دیا گیا ہے، جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ ﴿يَصۡلَوۡنَهَا ﴾ جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہو گی اور اوپر سے بھی آگ برسے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ﴾ بدترین مسکن اور ٹھکانا ہو گا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہو گا۔
[57]﴿هٰؔذَا ﴾ یہ بدترین ٹھکانا، یہ سخت عذاب، یہ فضیحت و رسوائی اور یہ سزا ﴿فَلۡيَذُوۡقُوۡهُ۠ حَمِيۡمٌ ﴾ پس اسے چکھو، کھولتا ہوا پانی ہو گا، جو سخت گرم ہو گا جسے جہنمی پئیں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿وَّغَسَّاقٌ﴾ یہ بدترین پینے کی چیز ہو گی جو پیپ اور خون پر مشتمل ہو گی جو بہت کڑوی اور انتہائی بدبودار ہوگی۔
[58]﴿وَّاٰخَرُ مِنۡ شَكۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اس کی ایک اور قسم ﴿اَزۡوَاجٌ﴾ یعنی عذاب کی متعدد انواع و اقسام ہوں گی جن میں ان کو مبتلا کیا جائے گا اور اس عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کیا جائے گا۔ جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے کو سب و شتم کرتے ہوئے کہیں گے۔
[59، 60]﴿هٰؔذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک فوج ہے جو تمھارے ساتھ گھسی چلی آرہی ہے‘‘ آگ میں ﴿لَا مَرۡحَبًۢا بِهِمۡ١ؕ اِنَّهُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴾ ’’ان کے لیے کوئی خیرمقدم نہیں ہے یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔‘‘ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے: ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ١۫ لَا مَرۡحَبًۢا بِكُمۡ١ؕ اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡهُ ﴾ ’’بلکہ تم ہی ہو تمھارا خیر مقدم نہ ہو تم ہی تو لائے تھے اسے‘‘ یعنی عذاب کو ﴿لَنَا ﴾ ’’ہمارے پاس‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کر کے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لیے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴾ اب ہم سب کے لیے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔
[61] پھر وہ ان گمراہ کنندہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے اور ﴿قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا هٰؔذَا فَزِدۡهُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِي النَّارِ ﴾ ’’کہیں گے: اے ہمارے رب! جو اس کوہمارے سامنے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دینا۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لِكُلٍّ ضِعۡفٌ وَّلٰكِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’سب کے لیے دوگنا عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں۔‘‘
[62]﴿وَقَالُوۡا﴾ اور وہ جہنم کے اندر کہیں گے: ﴿مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ﴾ یعنی ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ برے لوگ ہیں اور جہنم کے عذاب کے مستحق ہیں وہ آج ہمیں نظر نہیں آرہے؟ مراد اہل ایمان ہیں، جہنمی ان کو جہنم میں تلاش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، کیا وہ ان کو جہنم میں نظر آئیں گے؟
[63]﴿اَتَّؔخَذۡنٰهُمۡ سِخۡرِيًّا اَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’کیا ہم نے ان سے مذاق کیا تھا یا ہماری آنکھیں پھر گئی ہیں۔‘‘ یعنی ان کا ہمیں نظر نہ آنا دو اسباب میں سے ایک سبب پر مبنی ہے یا تو ہم ان کو اشرار شمار کرنے میں غلطی پر تھے، حالانکہ وہ اچھے لوگ تھے۔ تب ان کے بارے میں ہماری باتیں تمسخر و استہزا کے زمرے میں آئیں گی۔ حقیقت فی الواقع یہی ہے جیسا کہ جہنمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَۚۖ۰۰ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾(المؤمنون: 23؍109-110) ’’بے شک میرے بندوں میں سے کچھ لوگ جب یہ کہتے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا رحم فرمانے والا ہے، تو تم نے ان کا تمسخر اڑایا اور انھیں نشانۂ تضحیک بنایا کرتے تھے۔‘‘ دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید وہ ہمارے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوں مگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ گئے ہوں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ ان کا اہل ایمان کے بارے میں یہ موقف، دنیا میں ان کے دلوں میں جڑ پکڑ کر عقائد میں ڈھل گیا تھا، انھوں نے اہل ایمان کے بارے میں نہایت کثرت سے جہنمی ہونے کا حکم لگایا، وہ ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا اور ان کے دل اسی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ اسی حال میں انھوں نے متذکرہ بالا الفاظ کہے۔ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا کلام، خلاف واقعہ اور ملمّع سازی کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ وہ دنیا میں ملمع سازی کیا کرتے تھے، حتی کہ انھوں نے جہنم میں بھی ملمع سازی کی اسی لیے اہل اعراف اہل جہنم سے کہیں گے:﴿اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ١ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍49) ’’کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے میں تم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے بہرہ مند نہیں کرے گا۔ ان کو یوں حکم ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر کوئی خوف ہے نہ تم غمگین ہوگے۔‘‘
[64] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی دی ہوئی خبر کی تاکید کے طور پر فرمایا اور وہ سب سے زیادہ سچ کہنے والا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک یہ‘‘ جس کا میں نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے ﴿لَحَقٌّ ﴾ ’’حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ ﴿تَخَاصُمُ اَهۡلِ النَّارِ ﴾ ’’اہل جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا اور تنازعہ ہے۔‘‘
38:56جَهَنَّمَ يَصۡلَوۡنَهَا فَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ
یہ ہے (معاملہ اہل خیر کا) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے البتہ بہت برا ٹھکانا ہے (55)(یعنی ) جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس بری ہے آرام کرنے کی جگہ (56) یہ ہے، پس چکھیں وہ اس کو، کھولتا ہوا پانی اور پیپ (57) اور دوسرے (عذاب) ہیں، اس کی مثل ہی، کئی قسم کے (58) یہ ہے ایک گروہ جو گھسا چلا آتا ہے تمھارے ساتھ، نہ زمین کی فراخی ہو ان کے لیے، بے شک یہ داخل ہونے والے ہیں آگ میں(59) وہ کہیں گے، نہ زمین کی فراخی ہو تمھارے لیے، تم ہی آگے لائے ہو اس کو ہمارے، پس بری قرار گاہ ہے (60) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! جو آگے لایا ہمارے یہ(عذاب) پس زیادہ کر اس کو عذاب دگنا آگ میں (61) اور وہ کہیں گے، کیا ہے ہمارے لیے، نہیں ہم دیکھتے ان آدمیوں کو کہ تھے ہم شمار کرتے ان کو برے لوگوں میں؟ (62) کیا بنائے رکھا ہم نے ان کو(دنیا میں) مذاق(غلط طور پر) یا پھر گئیں ان سے(ہماری) نگاہیں؟ (63) بلاشبہ یہ البتہ حق ہے، باہم جھگڑنا اہل دوزخ کا (64)
[55]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقویٰ کے لیے ہے ﴿وَاِنَّ لِلطّٰغِيۡنَ ﴾ یعنی کفرومعاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے ﴿لَشَرَّ مَاٰبٍ﴾ بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔
[56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم ہے‘‘ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کر دیا گیا ہے، جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ ﴿يَصۡلَوۡنَهَا ﴾ جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہو گی اور اوپر سے بھی آگ برسے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ﴾ بدترین مسکن اور ٹھکانا ہو گا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہو گا۔
[57]﴿هٰؔذَا ﴾ یہ بدترین ٹھکانا، یہ سخت عذاب، یہ فضیحت و رسوائی اور یہ سزا ﴿فَلۡيَذُوۡقُوۡهُ۠ حَمِيۡمٌ ﴾ پس اسے چکھو، کھولتا ہوا پانی ہو گا، جو سخت گرم ہو گا جسے جہنمی پئیں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿وَّغَسَّاقٌ﴾ یہ بدترین پینے کی چیز ہو گی جو پیپ اور خون پر مشتمل ہو گی جو بہت کڑوی اور انتہائی بدبودار ہوگی۔
[58]﴿وَّاٰخَرُ مِنۡ شَكۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اس کی ایک اور قسم ﴿اَزۡوَاجٌ﴾ یعنی عذاب کی متعدد انواع و اقسام ہوں گی جن میں ان کو مبتلا کیا جائے گا اور اس عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کیا جائے گا۔ جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے کو سب و شتم کرتے ہوئے کہیں گے۔
[59، 60]﴿هٰؔذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک فوج ہے جو تمھارے ساتھ گھسی چلی آرہی ہے‘‘ آگ میں ﴿لَا مَرۡحَبًۢا بِهِمۡ١ؕ اِنَّهُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴾ ’’ان کے لیے کوئی خیرمقدم نہیں ہے یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔‘‘ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے: ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ١۫ لَا مَرۡحَبًۢا بِكُمۡ١ؕ اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡهُ ﴾ ’’بلکہ تم ہی ہو تمھارا خیر مقدم نہ ہو تم ہی تو لائے تھے اسے‘‘ یعنی عذاب کو ﴿لَنَا ﴾ ’’ہمارے پاس‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کر کے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لیے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴾ اب ہم سب کے لیے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔
[61] پھر وہ ان گمراہ کنندہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے اور ﴿قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا هٰؔذَا فَزِدۡهُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِي النَّارِ ﴾ ’’کہیں گے: اے ہمارے رب! جو اس کوہمارے سامنے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دینا۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لِكُلٍّ ضِعۡفٌ وَّلٰكِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’سب کے لیے دوگنا عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں۔‘‘
[62]﴿وَقَالُوۡا﴾ اور وہ جہنم کے اندر کہیں گے: ﴿مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ﴾ یعنی ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ برے لوگ ہیں اور جہنم کے عذاب کے مستحق ہیں وہ آج ہمیں نظر نہیں آرہے؟ مراد اہل ایمان ہیں، جہنمی ان کو جہنم میں تلاش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، کیا وہ ان کو جہنم میں نظر آئیں گے؟
[63]﴿اَتَّؔخَذۡنٰهُمۡ سِخۡرِيًّا اَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’کیا ہم نے ان سے مذاق کیا تھا یا ہماری آنکھیں پھر گئی ہیں۔‘‘ یعنی ان کا ہمیں نظر نہ آنا دو اسباب میں سے ایک سبب پر مبنی ہے یا تو ہم ان کو اشرار شمار کرنے میں غلطی پر تھے، حالانکہ وہ اچھے لوگ تھے۔ تب ان کے بارے میں ہماری باتیں تمسخر و استہزا کے زمرے میں آئیں گی۔ حقیقت فی الواقع یہی ہے جیسا کہ جہنمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَۚۖ۰۰ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾(المؤمنون: 23؍109-110) ’’بے شک میرے بندوں میں سے کچھ لوگ جب یہ کہتے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا رحم فرمانے والا ہے، تو تم نے ان کا تمسخر اڑایا اور انھیں نشانۂ تضحیک بنایا کرتے تھے۔‘‘ دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید وہ ہمارے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوں مگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ گئے ہوں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ ان کا اہل ایمان کے بارے میں یہ موقف، دنیا میں ان کے دلوں میں جڑ پکڑ کر عقائد میں ڈھل گیا تھا، انھوں نے اہل ایمان کے بارے میں نہایت کثرت سے جہنمی ہونے کا حکم لگایا، وہ ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا اور ان کے دل اسی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ اسی حال میں انھوں نے متذکرہ بالا الفاظ کہے۔ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا کلام، خلاف واقعہ اور ملمّع سازی کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ وہ دنیا میں ملمع سازی کیا کرتے تھے، حتی کہ انھوں نے جہنم میں بھی ملمع سازی کی اسی لیے اہل اعراف اہل جہنم سے کہیں گے:﴿اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ١ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍49) ’’کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے میں تم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے بہرہ مند نہیں کرے گا۔ ان کو یوں حکم ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر کوئی خوف ہے نہ تم غمگین ہوگے۔‘‘
[64] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی دی ہوئی خبر کی تاکید کے طور پر فرمایا اور وہ سب سے زیادہ سچ کہنے والا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک یہ‘‘ جس کا میں نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے ﴿لَحَقٌّ ﴾ ’’حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ ﴿تَخَاصُمُ اَهۡلِ النَّارِ ﴾ ’’اہل جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا اور تنازعہ ہے۔‘‘
38:57هَٰذَا فَلۡيَذُوقُوهُ حَمِيمٞ وَغَسَّاقٞ
یہ ہے (معاملہ اہل خیر کا) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے البتہ بہت برا ٹھکانا ہے (55)(یعنی ) جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس بری ہے آرام کرنے کی جگہ (56) یہ ہے، پس چکھیں وہ اس کو، کھولتا ہوا پانی اور پیپ (57) اور دوسرے (عذاب) ہیں، اس کی مثل ہی، کئی قسم کے (58) یہ ہے ایک گروہ جو گھسا چلا آتا ہے تمھارے ساتھ، نہ زمین کی فراخی ہو ان کے لیے، بے شک یہ داخل ہونے والے ہیں آگ میں(59) وہ کہیں گے، نہ زمین کی فراخی ہو تمھارے لیے، تم ہی آگے لائے ہو اس کو ہمارے، پس بری قرار گاہ ہے (60) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! جو آگے لایا ہمارے یہ(عذاب) پس زیادہ کر اس کو عذاب دگنا آگ میں (61) اور وہ کہیں گے، کیا ہے ہمارے لیے، نہیں ہم دیکھتے ان آدمیوں کو کہ تھے ہم شمار کرتے ان کو برے لوگوں میں؟ (62) کیا بنائے رکھا ہم نے ان کو(دنیا میں) مذاق(غلط طور پر) یا پھر گئیں ان سے(ہماری) نگاہیں؟ (63) بلاشبہ یہ البتہ حق ہے، باہم جھگڑنا اہل دوزخ کا (64)
[55]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقویٰ کے لیے ہے ﴿وَاِنَّ لِلطّٰغِيۡنَ ﴾ یعنی کفرومعاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے ﴿لَشَرَّ مَاٰبٍ﴾ بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔
[56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم ہے‘‘ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کر دیا گیا ہے، جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ ﴿يَصۡلَوۡنَهَا ﴾ جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہو گی اور اوپر سے بھی آگ برسے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ﴾ بدترین مسکن اور ٹھکانا ہو گا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہو گا۔
[57]﴿هٰؔذَا ﴾ یہ بدترین ٹھکانا، یہ سخت عذاب، یہ فضیحت و رسوائی اور یہ سزا ﴿فَلۡيَذُوۡقُوۡهُ۠ حَمِيۡمٌ ﴾ پس اسے چکھو، کھولتا ہوا پانی ہو گا، جو سخت گرم ہو گا جسے جہنمی پئیں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿وَّغَسَّاقٌ﴾ یہ بدترین پینے کی چیز ہو گی جو پیپ اور خون پر مشتمل ہو گی جو بہت کڑوی اور انتہائی بدبودار ہوگی۔
[58]﴿وَّاٰخَرُ مِنۡ شَكۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اس کی ایک اور قسم ﴿اَزۡوَاجٌ﴾ یعنی عذاب کی متعدد انواع و اقسام ہوں گی جن میں ان کو مبتلا کیا جائے گا اور اس عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کیا جائے گا۔ جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے کو سب و شتم کرتے ہوئے کہیں گے۔
[59، 60]﴿هٰؔذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک فوج ہے جو تمھارے ساتھ گھسی چلی آرہی ہے‘‘ آگ میں ﴿لَا مَرۡحَبًۢا بِهِمۡ١ؕ اِنَّهُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴾ ’’ان کے لیے کوئی خیرمقدم نہیں ہے یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔‘‘ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے: ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ١۫ لَا مَرۡحَبًۢا بِكُمۡ١ؕ اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡهُ ﴾ ’’بلکہ تم ہی ہو تمھارا خیر مقدم نہ ہو تم ہی تو لائے تھے اسے‘‘ یعنی عذاب کو ﴿لَنَا ﴾ ’’ہمارے پاس‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کر کے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لیے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴾ اب ہم سب کے لیے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔
[61] پھر وہ ان گمراہ کنندہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے اور ﴿قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا هٰؔذَا فَزِدۡهُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِي النَّارِ ﴾ ’’کہیں گے: اے ہمارے رب! جو اس کوہمارے سامنے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دینا۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لِكُلٍّ ضِعۡفٌ وَّلٰكِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’سب کے لیے دوگنا عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں۔‘‘
[62]﴿وَقَالُوۡا﴾ اور وہ جہنم کے اندر کہیں گے: ﴿مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ﴾ یعنی ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ برے لوگ ہیں اور جہنم کے عذاب کے مستحق ہیں وہ آج ہمیں نظر نہیں آرہے؟ مراد اہل ایمان ہیں، جہنمی ان کو جہنم میں تلاش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، کیا وہ ان کو جہنم میں نظر آئیں گے؟
[63]﴿اَتَّؔخَذۡنٰهُمۡ سِخۡرِيًّا اَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’کیا ہم نے ان سے مذاق کیا تھا یا ہماری آنکھیں پھر گئی ہیں۔‘‘ یعنی ان کا ہمیں نظر نہ آنا دو اسباب میں سے ایک سبب پر مبنی ہے یا تو ہم ان کو اشرار شمار کرنے میں غلطی پر تھے، حالانکہ وہ اچھے لوگ تھے۔ تب ان کے بارے میں ہماری باتیں تمسخر و استہزا کے زمرے میں آئیں گی۔ حقیقت فی الواقع یہی ہے جیسا کہ جہنمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَۚۖ۰۰ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾(المؤمنون: 23؍109-110) ’’بے شک میرے بندوں میں سے کچھ لوگ جب یہ کہتے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا رحم فرمانے والا ہے، تو تم نے ان کا تمسخر اڑایا اور انھیں نشانۂ تضحیک بنایا کرتے تھے۔‘‘ دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید وہ ہمارے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوں مگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ گئے ہوں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ ان کا اہل ایمان کے بارے میں یہ موقف، دنیا میں ان کے دلوں میں جڑ پکڑ کر عقائد میں ڈھل گیا تھا، انھوں نے اہل ایمان کے بارے میں نہایت کثرت سے جہنمی ہونے کا حکم لگایا، وہ ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا اور ان کے دل اسی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ اسی حال میں انھوں نے متذکرہ بالا الفاظ کہے۔ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا کلام، خلاف واقعہ اور ملمّع سازی کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ وہ دنیا میں ملمع سازی کیا کرتے تھے، حتی کہ انھوں نے جہنم میں بھی ملمع سازی کی اسی لیے اہل اعراف اہل جہنم سے کہیں گے:﴿اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ١ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍49) ’’کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے میں تم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے بہرہ مند نہیں کرے گا۔ ان کو یوں حکم ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر کوئی خوف ہے نہ تم غمگین ہوگے۔‘‘
[64] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی دی ہوئی خبر کی تاکید کے طور پر فرمایا اور وہ سب سے زیادہ سچ کہنے والا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک یہ‘‘ جس کا میں نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے ﴿لَحَقٌّ ﴾ ’’حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ ﴿تَخَاصُمُ اَهۡلِ النَّارِ ﴾ ’’اہل جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا اور تنازعہ ہے۔‘‘
38:58وَءَاخَرُ مِن شَكۡلِهِۦٓ أَزۡوَٰجٌ
یہ ہے (معاملہ اہل خیر کا) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے البتہ بہت برا ٹھکانا ہے (55)(یعنی ) جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس بری ہے آرام کرنے کی جگہ (56) یہ ہے، پس چکھیں وہ اس کو، کھولتا ہوا پانی اور پیپ (57) اور دوسرے (عذاب) ہیں، اس کی مثل ہی، کئی قسم کے (58) یہ ہے ایک گروہ جو گھسا چلا آتا ہے تمھارے ساتھ، نہ زمین کی فراخی ہو ان کے لیے، بے شک یہ داخل ہونے والے ہیں آگ میں(59) وہ کہیں گے، نہ زمین کی فراخی ہو تمھارے لیے، تم ہی آگے لائے ہو اس کو ہمارے، پس بری قرار گاہ ہے (60) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! جو آگے لایا ہمارے یہ(عذاب) پس زیادہ کر اس کو عذاب دگنا آگ میں (61) اور وہ کہیں گے، کیا ہے ہمارے لیے، نہیں ہم دیکھتے ان آدمیوں کو کہ تھے ہم شمار کرتے ان کو برے لوگوں میں؟ (62) کیا بنائے رکھا ہم نے ان کو(دنیا میں) مذاق(غلط طور پر) یا پھر گئیں ان سے(ہماری) نگاہیں؟ (63) بلاشبہ یہ البتہ حق ہے، باہم جھگڑنا اہل دوزخ کا (64)
[55]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقویٰ کے لیے ہے ﴿وَاِنَّ لِلطّٰغِيۡنَ ﴾ یعنی کفرومعاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے ﴿لَشَرَّ مَاٰبٍ﴾ بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔
[56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم ہے‘‘ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کر دیا گیا ہے، جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ ﴿يَصۡلَوۡنَهَا ﴾ جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہو گی اور اوپر سے بھی آگ برسے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ﴾ بدترین مسکن اور ٹھکانا ہو گا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہو گا۔
[57]﴿هٰؔذَا ﴾ یہ بدترین ٹھکانا، یہ سخت عذاب، یہ فضیحت و رسوائی اور یہ سزا ﴿فَلۡيَذُوۡقُوۡهُ۠ حَمِيۡمٌ ﴾ پس اسے چکھو، کھولتا ہوا پانی ہو گا، جو سخت گرم ہو گا جسے جہنمی پئیں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿وَّغَسَّاقٌ﴾ یہ بدترین پینے کی چیز ہو گی جو پیپ اور خون پر مشتمل ہو گی جو بہت کڑوی اور انتہائی بدبودار ہوگی۔
[58]﴿وَّاٰخَرُ مِنۡ شَكۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اس کی ایک اور قسم ﴿اَزۡوَاجٌ﴾ یعنی عذاب کی متعدد انواع و اقسام ہوں گی جن میں ان کو مبتلا کیا جائے گا اور اس عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کیا جائے گا۔ جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے کو سب و شتم کرتے ہوئے کہیں گے۔
[59، 60]﴿هٰؔذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک فوج ہے جو تمھارے ساتھ گھسی چلی آرہی ہے‘‘ آگ میں ﴿لَا مَرۡحَبًۢا بِهِمۡ١ؕ اِنَّهُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴾ ’’ان کے لیے کوئی خیرمقدم نہیں ہے یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔‘‘ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے: ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ١۫ لَا مَرۡحَبًۢا بِكُمۡ١ؕ اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡهُ ﴾ ’’بلکہ تم ہی ہو تمھارا خیر مقدم نہ ہو تم ہی تو لائے تھے اسے‘‘ یعنی عذاب کو ﴿لَنَا ﴾ ’’ہمارے پاس‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کر کے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لیے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴾ اب ہم سب کے لیے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔
[61] پھر وہ ان گمراہ کنندہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے اور ﴿قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا هٰؔذَا فَزِدۡهُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِي النَّارِ ﴾ ’’کہیں گے: اے ہمارے رب! جو اس کوہمارے سامنے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دینا۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لِكُلٍّ ضِعۡفٌ وَّلٰكِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’سب کے لیے دوگنا عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں۔‘‘
[62]﴿وَقَالُوۡا﴾ اور وہ جہنم کے اندر کہیں گے: ﴿مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ﴾ یعنی ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ برے لوگ ہیں اور جہنم کے عذاب کے مستحق ہیں وہ آج ہمیں نظر نہیں آرہے؟ مراد اہل ایمان ہیں، جہنمی ان کو جہنم میں تلاش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، کیا وہ ان کو جہنم میں نظر آئیں گے؟
[63]﴿اَتَّؔخَذۡنٰهُمۡ سِخۡرِيًّا اَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’کیا ہم نے ان سے مذاق کیا تھا یا ہماری آنکھیں پھر گئی ہیں۔‘‘ یعنی ان کا ہمیں نظر نہ آنا دو اسباب میں سے ایک سبب پر مبنی ہے یا تو ہم ان کو اشرار شمار کرنے میں غلطی پر تھے، حالانکہ وہ اچھے لوگ تھے۔ تب ان کے بارے میں ہماری باتیں تمسخر و استہزا کے زمرے میں آئیں گی۔ حقیقت فی الواقع یہی ہے جیسا کہ جہنمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَۚۖ۰۰ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾(المؤمنون: 23؍109-110) ’’بے شک میرے بندوں میں سے کچھ لوگ جب یہ کہتے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا رحم فرمانے والا ہے، تو تم نے ان کا تمسخر اڑایا اور انھیں نشانۂ تضحیک بنایا کرتے تھے۔‘‘ دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید وہ ہمارے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوں مگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ گئے ہوں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ ان کا اہل ایمان کے بارے میں یہ موقف، دنیا میں ان کے دلوں میں جڑ پکڑ کر عقائد میں ڈھل گیا تھا، انھوں نے اہل ایمان کے بارے میں نہایت کثرت سے جہنمی ہونے کا حکم لگایا، وہ ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا اور ان کے دل اسی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ اسی حال میں انھوں نے متذکرہ بالا الفاظ کہے۔ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا کلام، خلاف واقعہ اور ملمّع سازی کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ وہ دنیا میں ملمع سازی کیا کرتے تھے، حتی کہ انھوں نے جہنم میں بھی ملمع سازی کی اسی لیے اہل اعراف اہل جہنم سے کہیں گے:﴿اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ١ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍49) ’’کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے میں تم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے بہرہ مند نہیں کرے گا۔ ان کو یوں حکم ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر کوئی خوف ہے نہ تم غمگین ہوگے۔‘‘
[64] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی دی ہوئی خبر کی تاکید کے طور پر فرمایا اور وہ سب سے زیادہ سچ کہنے والا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک یہ‘‘ جس کا میں نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے ﴿لَحَقٌّ ﴾ ’’حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ ﴿تَخَاصُمُ اَهۡلِ النَّارِ ﴾ ’’اہل جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا اور تنازعہ ہے۔‘‘
38:59هَٰذَا فَوۡجٞ مُّقۡتَحِمٞ مَّعَكُمۡ لَا مَرۡحَبَۢا بِهِمۡۚ إِنَّهُمۡ صَالُواْ ٱلنَّارِ
یہ ہے (معاملہ اہل خیر کا) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے البتہ بہت برا ٹھکانا ہے (55)(یعنی ) جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس بری ہے آرام کرنے کی جگہ (56) یہ ہے، پس چکھیں وہ اس کو، کھولتا ہوا پانی اور پیپ (57) اور دوسرے (عذاب) ہیں، اس کی مثل ہی، کئی قسم کے (58) یہ ہے ایک گروہ جو گھسا چلا آتا ہے تمھارے ساتھ، نہ زمین کی فراخی ہو ان کے لیے، بے شک یہ داخل ہونے والے ہیں آگ میں(59) وہ کہیں گے، نہ زمین کی فراخی ہو تمھارے لیے، تم ہی آگے لائے ہو اس کو ہمارے، پس بری قرار گاہ ہے (60) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! جو آگے لایا ہمارے یہ(عذاب) پس زیادہ کر اس کو عذاب دگنا آگ میں (61) اور وہ کہیں گے، کیا ہے ہمارے لیے، نہیں ہم دیکھتے ان آدمیوں کو کہ تھے ہم شمار کرتے ان کو برے لوگوں میں؟ (62) کیا بنائے رکھا ہم نے ان کو(دنیا میں) مذاق(غلط طور پر) یا پھر گئیں ان سے(ہماری) نگاہیں؟ (63) بلاشبہ یہ البتہ حق ہے، باہم جھگڑنا اہل دوزخ کا (64)
[55]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقویٰ کے لیے ہے ﴿وَاِنَّ لِلطّٰغِيۡنَ ﴾ یعنی کفرومعاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے ﴿لَشَرَّ مَاٰبٍ﴾ بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔
[56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم ہے‘‘ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کر دیا گیا ہے، جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ ﴿يَصۡلَوۡنَهَا ﴾ جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہو گی اور اوپر سے بھی آگ برسے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ﴾ بدترین مسکن اور ٹھکانا ہو گا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہو گا۔
[57]﴿هٰؔذَا ﴾ یہ بدترین ٹھکانا، یہ سخت عذاب، یہ فضیحت و رسوائی اور یہ سزا ﴿فَلۡيَذُوۡقُوۡهُ۠ حَمِيۡمٌ ﴾ پس اسے چکھو، کھولتا ہوا پانی ہو گا، جو سخت گرم ہو گا جسے جہنمی پئیں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿وَّغَسَّاقٌ﴾ یہ بدترین پینے کی چیز ہو گی جو پیپ اور خون پر مشتمل ہو گی جو بہت کڑوی اور انتہائی بدبودار ہوگی۔
[58]﴿وَّاٰخَرُ مِنۡ شَكۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اس کی ایک اور قسم ﴿اَزۡوَاجٌ﴾ یعنی عذاب کی متعدد انواع و اقسام ہوں گی جن میں ان کو مبتلا کیا جائے گا اور اس عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کیا جائے گا۔ جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے کو سب و شتم کرتے ہوئے کہیں گے۔
[59، 60]﴿هٰؔذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک فوج ہے جو تمھارے ساتھ گھسی چلی آرہی ہے‘‘ آگ میں ﴿لَا مَرۡحَبًۢا بِهِمۡ١ؕ اِنَّهُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴾ ’’ان کے لیے کوئی خیرمقدم نہیں ہے یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔‘‘ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے: ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ١۫ لَا مَرۡحَبًۢا بِكُمۡ١ؕ اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡهُ ﴾ ’’بلکہ تم ہی ہو تمھارا خیر مقدم نہ ہو تم ہی تو لائے تھے اسے‘‘ یعنی عذاب کو ﴿لَنَا ﴾ ’’ہمارے پاس‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کر کے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لیے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴾ اب ہم سب کے لیے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔
[61] پھر وہ ان گمراہ کنندہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے اور ﴿قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا هٰؔذَا فَزِدۡهُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِي النَّارِ ﴾ ’’کہیں گے: اے ہمارے رب! جو اس کوہمارے سامنے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دینا۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لِكُلٍّ ضِعۡفٌ وَّلٰكِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’سب کے لیے دوگنا عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں۔‘‘
[62]﴿وَقَالُوۡا﴾ اور وہ جہنم کے اندر کہیں گے: ﴿مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ﴾ یعنی ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ برے لوگ ہیں اور جہنم کے عذاب کے مستحق ہیں وہ آج ہمیں نظر نہیں آرہے؟ مراد اہل ایمان ہیں، جہنمی ان کو جہنم میں تلاش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، کیا وہ ان کو جہنم میں نظر آئیں گے؟
[63]﴿اَتَّؔخَذۡنٰهُمۡ سِخۡرِيًّا اَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’کیا ہم نے ان سے مذاق کیا تھا یا ہماری آنکھیں پھر گئی ہیں۔‘‘ یعنی ان کا ہمیں نظر نہ آنا دو اسباب میں سے ایک سبب پر مبنی ہے یا تو ہم ان کو اشرار شمار کرنے میں غلطی پر تھے، حالانکہ وہ اچھے لوگ تھے۔ تب ان کے بارے میں ہماری باتیں تمسخر و استہزا کے زمرے میں آئیں گی۔ حقیقت فی الواقع یہی ہے جیسا کہ جہنمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَۚۖ۰۰ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾(المؤمنون: 23؍109-110) ’’بے شک میرے بندوں میں سے کچھ لوگ جب یہ کہتے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا رحم فرمانے والا ہے، تو تم نے ان کا تمسخر اڑایا اور انھیں نشانۂ تضحیک بنایا کرتے تھے۔‘‘ دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید وہ ہمارے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوں مگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ گئے ہوں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ ان کا اہل ایمان کے بارے میں یہ موقف، دنیا میں ان کے دلوں میں جڑ پکڑ کر عقائد میں ڈھل گیا تھا، انھوں نے اہل ایمان کے بارے میں نہایت کثرت سے جہنمی ہونے کا حکم لگایا، وہ ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا اور ان کے دل اسی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ اسی حال میں انھوں نے متذکرہ بالا الفاظ کہے۔ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا کلام، خلاف واقعہ اور ملمّع سازی کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ وہ دنیا میں ملمع سازی کیا کرتے تھے، حتی کہ انھوں نے جہنم میں بھی ملمع سازی کی اسی لیے اہل اعراف اہل جہنم سے کہیں گے:﴿اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ١ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍49) ’’کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے میں تم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے بہرہ مند نہیں کرے گا۔ ان کو یوں حکم ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر کوئی خوف ہے نہ تم غمگین ہوگے۔‘‘
[64] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی دی ہوئی خبر کی تاکید کے طور پر فرمایا اور وہ سب سے زیادہ سچ کہنے والا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک یہ‘‘ جس کا میں نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے ﴿لَحَقٌّ ﴾ ’’حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ ﴿تَخَاصُمُ اَهۡلِ النَّارِ ﴾ ’’اہل جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا اور تنازعہ ہے۔‘‘
38:60قَالُواْ بَلۡ أَنتُمۡ لَا مَرۡحَبَۢا بِكُمۡۖ أَنتُمۡ قَدَّمۡتُمُوهُ لَنَاۖ فَبِئۡسَ ٱلۡقَرَارُ
یہ ہے (معاملہ اہل خیر کا) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے البتہ بہت برا ٹھکانا ہے (55)(یعنی ) جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس بری ہے آرام کرنے کی جگہ (56) یہ ہے، پس چکھیں وہ اس کو، کھولتا ہوا پانی اور پیپ (57) اور دوسرے (عذاب) ہیں، اس کی مثل ہی، کئی قسم کے (58) یہ ہے ایک گروہ جو گھسا چلا آتا ہے تمھارے ساتھ، نہ زمین کی فراخی ہو ان کے لیے، بے شک یہ داخل ہونے والے ہیں آگ میں(59) وہ کہیں گے، نہ زمین کی فراخی ہو تمھارے لیے، تم ہی آگے لائے ہو اس کو ہمارے، پس بری قرار گاہ ہے (60) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! جو آگے لایا ہمارے یہ(عذاب) پس زیادہ کر اس کو عذاب دگنا آگ میں (61) اور وہ کہیں گے، کیا ہے ہمارے لیے، نہیں ہم دیکھتے ان آدمیوں کو کہ تھے ہم شمار کرتے ان کو برے لوگوں میں؟ (62) کیا بنائے رکھا ہم نے ان کو(دنیا میں) مذاق(غلط طور پر) یا پھر گئیں ان سے(ہماری) نگاہیں؟ (63) بلاشبہ یہ البتہ حق ہے، باہم جھگڑنا اہل دوزخ کا (64)
[55]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقویٰ کے لیے ہے ﴿وَاِنَّ لِلطّٰغِيۡنَ ﴾ یعنی کفرومعاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے ﴿لَشَرَّ مَاٰبٍ﴾ بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔
[56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم ہے‘‘ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کر دیا گیا ہے، جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ ﴿يَصۡلَوۡنَهَا ﴾ جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہو گی اور اوپر سے بھی آگ برسے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ﴾ بدترین مسکن اور ٹھکانا ہو گا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہو گا۔
[57]﴿هٰؔذَا ﴾ یہ بدترین ٹھکانا، یہ سخت عذاب، یہ فضیحت و رسوائی اور یہ سزا ﴿فَلۡيَذُوۡقُوۡهُ۠ حَمِيۡمٌ ﴾ پس اسے چکھو، کھولتا ہوا پانی ہو گا، جو سخت گرم ہو گا جسے جہنمی پئیں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿وَّغَسَّاقٌ﴾ یہ بدترین پینے کی چیز ہو گی جو پیپ اور خون پر مشتمل ہو گی جو بہت کڑوی اور انتہائی بدبودار ہوگی۔
[58]﴿وَّاٰخَرُ مِنۡ شَكۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اس کی ایک اور قسم ﴿اَزۡوَاجٌ﴾ یعنی عذاب کی متعدد انواع و اقسام ہوں گی جن میں ان کو مبتلا کیا جائے گا اور اس عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کیا جائے گا۔ جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے کو سب و شتم کرتے ہوئے کہیں گے۔
[59، 60]﴿هٰؔذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک فوج ہے جو تمھارے ساتھ گھسی چلی آرہی ہے‘‘ آگ میں ﴿لَا مَرۡحَبًۢا بِهِمۡ١ؕ اِنَّهُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴾ ’’ان کے لیے کوئی خیرمقدم نہیں ہے یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔‘‘ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے: ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ١۫ لَا مَرۡحَبًۢا بِكُمۡ١ؕ اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡهُ ﴾ ’’بلکہ تم ہی ہو تمھارا خیر مقدم نہ ہو تم ہی تو لائے تھے اسے‘‘ یعنی عذاب کو ﴿لَنَا ﴾ ’’ہمارے پاس‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کر کے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لیے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴾ اب ہم سب کے لیے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔
[61] پھر وہ ان گمراہ کنندہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے اور ﴿قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا هٰؔذَا فَزِدۡهُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِي النَّارِ ﴾ ’’کہیں گے: اے ہمارے رب! جو اس کوہمارے سامنے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دینا۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لِكُلٍّ ضِعۡفٌ وَّلٰكِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’سب کے لیے دوگنا عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں۔‘‘
[62]﴿وَقَالُوۡا﴾ اور وہ جہنم کے اندر کہیں گے: ﴿مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ﴾ یعنی ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ برے لوگ ہیں اور جہنم کے عذاب کے مستحق ہیں وہ آج ہمیں نظر نہیں آرہے؟ مراد اہل ایمان ہیں، جہنمی ان کو جہنم میں تلاش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، کیا وہ ان کو جہنم میں نظر آئیں گے؟
[63]﴿اَتَّؔخَذۡنٰهُمۡ سِخۡرِيًّا اَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’کیا ہم نے ان سے مذاق کیا تھا یا ہماری آنکھیں پھر گئی ہیں۔‘‘ یعنی ان کا ہمیں نظر نہ آنا دو اسباب میں سے ایک سبب پر مبنی ہے یا تو ہم ان کو اشرار شمار کرنے میں غلطی پر تھے، حالانکہ وہ اچھے لوگ تھے۔ تب ان کے بارے میں ہماری باتیں تمسخر و استہزا کے زمرے میں آئیں گی۔ حقیقت فی الواقع یہی ہے جیسا کہ جہنمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَۚۖ۰۰ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾(المؤمنون: 23؍109-110) ’’بے شک میرے بندوں میں سے کچھ لوگ جب یہ کہتے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا رحم فرمانے والا ہے، تو تم نے ان کا تمسخر اڑایا اور انھیں نشانۂ تضحیک بنایا کرتے تھے۔‘‘ دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید وہ ہمارے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوں مگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ گئے ہوں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ ان کا اہل ایمان کے بارے میں یہ موقف، دنیا میں ان کے دلوں میں جڑ پکڑ کر عقائد میں ڈھل گیا تھا، انھوں نے اہل ایمان کے بارے میں نہایت کثرت سے جہنمی ہونے کا حکم لگایا، وہ ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا اور ان کے دل اسی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ اسی حال میں انھوں نے متذکرہ بالا الفاظ کہے۔ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا کلام، خلاف واقعہ اور ملمّع سازی کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ وہ دنیا میں ملمع سازی کیا کرتے تھے، حتی کہ انھوں نے جہنم میں بھی ملمع سازی کی اسی لیے اہل اعراف اہل جہنم سے کہیں گے:﴿اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ١ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍49) ’’کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے میں تم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے بہرہ مند نہیں کرے گا۔ ان کو یوں حکم ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر کوئی خوف ہے نہ تم غمگین ہوگے۔‘‘
[64] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی دی ہوئی خبر کی تاکید کے طور پر فرمایا اور وہ سب سے زیادہ سچ کہنے والا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک یہ‘‘ جس کا میں نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے ﴿لَحَقٌّ ﴾ ’’حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ ﴿تَخَاصُمُ اَهۡلِ النَّارِ ﴾ ’’اہل جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا اور تنازعہ ہے۔‘‘
38:61قَالُواْ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدۡهُ عَذَابٗا ضِعۡفٗا فِي ٱلنَّارِ
یہ ہے (معاملہ اہل خیر کا) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے البتہ بہت برا ٹھکانا ہے (55)(یعنی ) جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس بری ہے آرام کرنے کی جگہ (56) یہ ہے، پس چکھیں وہ اس کو، کھولتا ہوا پانی اور پیپ (57) اور دوسرے (عذاب) ہیں، اس کی مثل ہی، کئی قسم کے (58) یہ ہے ایک گروہ جو گھسا چلا آتا ہے تمھارے ساتھ، نہ زمین کی فراخی ہو ان کے لیے، بے شک یہ داخل ہونے والے ہیں آگ میں(59) وہ کہیں گے، نہ زمین کی فراخی ہو تمھارے لیے، تم ہی آگے لائے ہو اس کو ہمارے، پس بری قرار گاہ ہے (60) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! جو آگے لایا ہمارے یہ(عذاب) پس زیادہ کر اس کو عذاب دگنا آگ میں (61) اور وہ کہیں گے، کیا ہے ہمارے لیے، نہیں ہم دیکھتے ان آدمیوں کو کہ تھے ہم شمار کرتے ان کو برے لوگوں میں؟ (62) کیا بنائے رکھا ہم نے ان کو(دنیا میں) مذاق(غلط طور پر) یا پھر گئیں ان سے(ہماری) نگاہیں؟ (63) بلاشبہ یہ البتہ حق ہے، باہم جھگڑنا اہل دوزخ کا (64)
[55]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقویٰ کے لیے ہے ﴿وَاِنَّ لِلطّٰغِيۡنَ ﴾ یعنی کفرومعاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے ﴿لَشَرَّ مَاٰبٍ﴾ بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔
[56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم ہے‘‘ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کر دیا گیا ہے، جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ ﴿يَصۡلَوۡنَهَا ﴾ جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہو گی اور اوپر سے بھی آگ برسے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ﴾ بدترین مسکن اور ٹھکانا ہو گا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہو گا۔
[57]﴿هٰؔذَا ﴾ یہ بدترین ٹھکانا، یہ سخت عذاب، یہ فضیحت و رسوائی اور یہ سزا ﴿فَلۡيَذُوۡقُوۡهُ۠ حَمِيۡمٌ ﴾ پس اسے چکھو، کھولتا ہوا پانی ہو گا، جو سخت گرم ہو گا جسے جہنمی پئیں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿وَّغَسَّاقٌ﴾ یہ بدترین پینے کی چیز ہو گی جو پیپ اور خون پر مشتمل ہو گی جو بہت کڑوی اور انتہائی بدبودار ہوگی۔
[58]﴿وَّاٰخَرُ مِنۡ شَكۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اس کی ایک اور قسم ﴿اَزۡوَاجٌ﴾ یعنی عذاب کی متعدد انواع و اقسام ہوں گی جن میں ان کو مبتلا کیا جائے گا اور اس عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کیا جائے گا۔ جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے کو سب و شتم کرتے ہوئے کہیں گے۔
[59، 60]﴿هٰؔذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک فوج ہے جو تمھارے ساتھ گھسی چلی آرہی ہے‘‘ آگ میں ﴿لَا مَرۡحَبًۢا بِهِمۡ١ؕ اِنَّهُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴾ ’’ان کے لیے کوئی خیرمقدم نہیں ہے یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔‘‘ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے: ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ١۫ لَا مَرۡحَبًۢا بِكُمۡ١ؕ اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡهُ ﴾ ’’بلکہ تم ہی ہو تمھارا خیر مقدم نہ ہو تم ہی تو لائے تھے اسے‘‘ یعنی عذاب کو ﴿لَنَا ﴾ ’’ہمارے پاس‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کر کے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لیے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴾ اب ہم سب کے لیے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔
[61] پھر وہ ان گمراہ کنندہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے اور ﴿قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا هٰؔذَا فَزِدۡهُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِي النَّارِ ﴾ ’’کہیں گے: اے ہمارے رب! جو اس کوہمارے سامنے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دینا۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لِكُلٍّ ضِعۡفٌ وَّلٰكِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’سب کے لیے دوگنا عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں۔‘‘
[62]﴿وَقَالُوۡا﴾ اور وہ جہنم کے اندر کہیں گے: ﴿مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ﴾ یعنی ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ برے لوگ ہیں اور جہنم کے عذاب کے مستحق ہیں وہ آج ہمیں نظر نہیں آرہے؟ مراد اہل ایمان ہیں، جہنمی ان کو جہنم میں تلاش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، کیا وہ ان کو جہنم میں نظر آئیں گے؟
[63]﴿اَتَّؔخَذۡنٰهُمۡ سِخۡرِيًّا اَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’کیا ہم نے ان سے مذاق کیا تھا یا ہماری آنکھیں پھر گئی ہیں۔‘‘ یعنی ان کا ہمیں نظر نہ آنا دو اسباب میں سے ایک سبب پر مبنی ہے یا تو ہم ان کو اشرار شمار کرنے میں غلطی پر تھے، حالانکہ وہ اچھے لوگ تھے۔ تب ان کے بارے میں ہماری باتیں تمسخر و استہزا کے زمرے میں آئیں گی۔ حقیقت فی الواقع یہی ہے جیسا کہ جہنمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَۚۖ۰۰ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾(المؤمنون: 23؍109-110) ’’بے شک میرے بندوں میں سے کچھ لوگ جب یہ کہتے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا رحم فرمانے والا ہے، تو تم نے ان کا تمسخر اڑایا اور انھیں نشانۂ تضحیک بنایا کرتے تھے۔‘‘ دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید وہ ہمارے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوں مگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ گئے ہوں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ ان کا اہل ایمان کے بارے میں یہ موقف، دنیا میں ان کے دلوں میں جڑ پکڑ کر عقائد میں ڈھل گیا تھا، انھوں نے اہل ایمان کے بارے میں نہایت کثرت سے جہنمی ہونے کا حکم لگایا، وہ ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا اور ان کے دل اسی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ اسی حال میں انھوں نے متذکرہ بالا الفاظ کہے۔ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا کلام، خلاف واقعہ اور ملمّع سازی کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ وہ دنیا میں ملمع سازی کیا کرتے تھے، حتی کہ انھوں نے جہنم میں بھی ملمع سازی کی اسی لیے اہل اعراف اہل جہنم سے کہیں گے:﴿اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ١ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍49) ’’کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے میں تم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے بہرہ مند نہیں کرے گا۔ ان کو یوں حکم ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر کوئی خوف ہے نہ تم غمگین ہوگے۔‘‘
[64] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی دی ہوئی خبر کی تاکید کے طور پر فرمایا اور وہ سب سے زیادہ سچ کہنے والا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک یہ‘‘ جس کا میں نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے ﴿لَحَقٌّ ﴾ ’’حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ ﴿تَخَاصُمُ اَهۡلِ النَّارِ ﴾ ’’اہل جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا اور تنازعہ ہے۔‘‘
38:62وَقَالُواْ مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالٗا كُنَّا نَعُدُّهُم مِّنَ ٱلۡأَشۡرَارِ
یہ ہے (معاملہ اہل خیر کا) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے البتہ بہت برا ٹھکانا ہے (55)(یعنی ) جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس بری ہے آرام کرنے کی جگہ (56) یہ ہے، پس چکھیں وہ اس کو، کھولتا ہوا پانی اور پیپ (57) اور دوسرے (عذاب) ہیں، اس کی مثل ہی، کئی قسم کے (58) یہ ہے ایک گروہ جو گھسا چلا آتا ہے تمھارے ساتھ، نہ زمین کی فراخی ہو ان کے لیے، بے شک یہ داخل ہونے والے ہیں آگ میں(59) وہ کہیں گے، نہ زمین کی فراخی ہو تمھارے لیے، تم ہی آگے لائے ہو اس کو ہمارے، پس بری قرار گاہ ہے (60) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! جو آگے لایا ہمارے یہ(عذاب) پس زیادہ کر اس کو عذاب دگنا آگ میں (61) اور وہ کہیں گے، کیا ہے ہمارے لیے، نہیں ہم دیکھتے ان آدمیوں کو کہ تھے ہم شمار کرتے ان کو برے لوگوں میں؟ (62) کیا بنائے رکھا ہم نے ان کو(دنیا میں) مذاق(غلط طور پر) یا پھر گئیں ان سے(ہماری) نگاہیں؟ (63) بلاشبہ یہ البتہ حق ہے، باہم جھگڑنا اہل دوزخ کا (64)
[55]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقویٰ کے لیے ہے ﴿وَاِنَّ لِلطّٰغِيۡنَ ﴾ یعنی کفرومعاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے ﴿لَشَرَّ مَاٰبٍ﴾ بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔
[56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم ہے‘‘ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کر دیا گیا ہے، جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ ﴿يَصۡلَوۡنَهَا ﴾ جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہو گی اور اوپر سے بھی آگ برسے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ﴾ بدترین مسکن اور ٹھکانا ہو گا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہو گا۔
[57]﴿هٰؔذَا ﴾ یہ بدترین ٹھکانا، یہ سخت عذاب، یہ فضیحت و رسوائی اور یہ سزا ﴿فَلۡيَذُوۡقُوۡهُ۠ حَمِيۡمٌ ﴾ پس اسے چکھو، کھولتا ہوا پانی ہو گا، جو سخت گرم ہو گا جسے جہنمی پئیں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿وَّغَسَّاقٌ﴾ یہ بدترین پینے کی چیز ہو گی جو پیپ اور خون پر مشتمل ہو گی جو بہت کڑوی اور انتہائی بدبودار ہوگی۔
[58]﴿وَّاٰخَرُ مِنۡ شَكۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اس کی ایک اور قسم ﴿اَزۡوَاجٌ﴾ یعنی عذاب کی متعدد انواع و اقسام ہوں گی جن میں ان کو مبتلا کیا جائے گا اور اس عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کیا جائے گا۔ جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے کو سب و شتم کرتے ہوئے کہیں گے۔
[59، 60]﴿هٰؔذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک فوج ہے جو تمھارے ساتھ گھسی چلی آرہی ہے‘‘ آگ میں ﴿لَا مَرۡحَبًۢا بِهِمۡ١ؕ اِنَّهُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴾ ’’ان کے لیے کوئی خیرمقدم نہیں ہے یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔‘‘ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے: ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ١۫ لَا مَرۡحَبًۢا بِكُمۡ١ؕ اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡهُ ﴾ ’’بلکہ تم ہی ہو تمھارا خیر مقدم نہ ہو تم ہی تو لائے تھے اسے‘‘ یعنی عذاب کو ﴿لَنَا ﴾ ’’ہمارے پاس‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کر کے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لیے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴾ اب ہم سب کے لیے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔
[61] پھر وہ ان گمراہ کنندہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے اور ﴿قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا هٰؔذَا فَزِدۡهُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِي النَّارِ ﴾ ’’کہیں گے: اے ہمارے رب! جو اس کوہمارے سامنے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دینا۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لِكُلٍّ ضِعۡفٌ وَّلٰكِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’سب کے لیے دوگنا عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں۔‘‘
[62]﴿وَقَالُوۡا﴾ اور وہ جہنم کے اندر کہیں گے: ﴿مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ﴾ یعنی ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ برے لوگ ہیں اور جہنم کے عذاب کے مستحق ہیں وہ آج ہمیں نظر نہیں آرہے؟ مراد اہل ایمان ہیں، جہنمی ان کو جہنم میں تلاش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، کیا وہ ان کو جہنم میں نظر آئیں گے؟
[63]﴿اَتَّؔخَذۡنٰهُمۡ سِخۡرِيًّا اَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’کیا ہم نے ان سے مذاق کیا تھا یا ہماری آنکھیں پھر گئی ہیں۔‘‘ یعنی ان کا ہمیں نظر نہ آنا دو اسباب میں سے ایک سبب پر مبنی ہے یا تو ہم ان کو اشرار شمار کرنے میں غلطی پر تھے، حالانکہ وہ اچھے لوگ تھے۔ تب ان کے بارے میں ہماری باتیں تمسخر و استہزا کے زمرے میں آئیں گی۔ حقیقت فی الواقع یہی ہے جیسا کہ جہنمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَۚۖ۰۰ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾(المؤمنون: 23؍109-110) ’’بے شک میرے بندوں میں سے کچھ لوگ جب یہ کہتے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا رحم فرمانے والا ہے، تو تم نے ان کا تمسخر اڑایا اور انھیں نشانۂ تضحیک بنایا کرتے تھے۔‘‘ دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید وہ ہمارے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوں مگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ گئے ہوں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ ان کا اہل ایمان کے بارے میں یہ موقف، دنیا میں ان کے دلوں میں جڑ پکڑ کر عقائد میں ڈھل گیا تھا، انھوں نے اہل ایمان کے بارے میں نہایت کثرت سے جہنمی ہونے کا حکم لگایا، وہ ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا اور ان کے دل اسی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ اسی حال میں انھوں نے متذکرہ بالا الفاظ کہے۔ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا کلام، خلاف واقعہ اور ملمّع سازی کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ وہ دنیا میں ملمع سازی کیا کرتے تھے، حتی کہ انھوں نے جہنم میں بھی ملمع سازی کی اسی لیے اہل اعراف اہل جہنم سے کہیں گے:﴿اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ١ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍49) ’’کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے میں تم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے بہرہ مند نہیں کرے گا۔ ان کو یوں حکم ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر کوئی خوف ہے نہ تم غمگین ہوگے۔‘‘
[64] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی دی ہوئی خبر کی تاکید کے طور پر فرمایا اور وہ سب سے زیادہ سچ کہنے والا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک یہ‘‘ جس کا میں نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے ﴿لَحَقٌّ ﴾ ’’حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ ﴿تَخَاصُمُ اَهۡلِ النَّارِ ﴾ ’’اہل جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا اور تنازعہ ہے۔‘‘
38:63أَتَّخَذۡنَٰهُمۡ سِخۡرِيًّا أَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ ٱلۡأَبۡصَٰرُ
یہ ہے (معاملہ اہل خیر کا) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے البتہ بہت برا ٹھکانا ہے (55)(یعنی ) جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس بری ہے آرام کرنے کی جگہ (56) یہ ہے، پس چکھیں وہ اس کو، کھولتا ہوا پانی اور پیپ (57) اور دوسرے (عذاب) ہیں، اس کی مثل ہی، کئی قسم کے (58) یہ ہے ایک گروہ جو گھسا چلا آتا ہے تمھارے ساتھ، نہ زمین کی فراخی ہو ان کے لیے، بے شک یہ داخل ہونے والے ہیں آگ میں(59) وہ کہیں گے، نہ زمین کی فراخی ہو تمھارے لیے، تم ہی آگے لائے ہو اس کو ہمارے، پس بری قرار گاہ ہے (60) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! جو آگے لایا ہمارے یہ(عذاب) پس زیادہ کر اس کو عذاب دگنا آگ میں (61) اور وہ کہیں گے، کیا ہے ہمارے لیے، نہیں ہم دیکھتے ان آدمیوں کو کہ تھے ہم شمار کرتے ان کو برے لوگوں میں؟ (62) کیا بنائے رکھا ہم نے ان کو(دنیا میں) مذاق(غلط طور پر) یا پھر گئیں ان سے(ہماری) نگاہیں؟ (63) بلاشبہ یہ البتہ حق ہے، باہم جھگڑنا اہل دوزخ کا (64)
[55]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقویٰ کے لیے ہے ﴿وَاِنَّ لِلطّٰغِيۡنَ ﴾ یعنی کفرومعاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے ﴿لَشَرَّ مَاٰبٍ﴾ بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔
[56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم ہے‘‘ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کر دیا گیا ہے، جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ ﴿يَصۡلَوۡنَهَا ﴾ جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہو گی اور اوپر سے بھی آگ برسے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ﴾ بدترین مسکن اور ٹھکانا ہو گا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہو گا۔
[57]﴿هٰؔذَا ﴾ یہ بدترین ٹھکانا، یہ سخت عذاب، یہ فضیحت و رسوائی اور یہ سزا ﴿فَلۡيَذُوۡقُوۡهُ۠ حَمِيۡمٌ ﴾ پس اسے چکھو، کھولتا ہوا پانی ہو گا، جو سخت گرم ہو گا جسے جہنمی پئیں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿وَّغَسَّاقٌ﴾ یہ بدترین پینے کی چیز ہو گی جو پیپ اور خون پر مشتمل ہو گی جو بہت کڑوی اور انتہائی بدبودار ہوگی۔
[58]﴿وَّاٰخَرُ مِنۡ شَكۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اس کی ایک اور قسم ﴿اَزۡوَاجٌ﴾ یعنی عذاب کی متعدد انواع و اقسام ہوں گی جن میں ان کو مبتلا کیا جائے گا اور اس عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کیا جائے گا۔ جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے کو سب و شتم کرتے ہوئے کہیں گے۔
[59، 60]﴿هٰؔذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک فوج ہے جو تمھارے ساتھ گھسی چلی آرہی ہے‘‘ آگ میں ﴿لَا مَرۡحَبًۢا بِهِمۡ١ؕ اِنَّهُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴾ ’’ان کے لیے کوئی خیرمقدم نہیں ہے یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔‘‘ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے: ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ١۫ لَا مَرۡحَبًۢا بِكُمۡ١ؕ اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡهُ ﴾ ’’بلکہ تم ہی ہو تمھارا خیر مقدم نہ ہو تم ہی تو لائے تھے اسے‘‘ یعنی عذاب کو ﴿لَنَا ﴾ ’’ہمارے پاس‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کر کے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لیے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴾ اب ہم سب کے لیے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔
[61] پھر وہ ان گمراہ کنندہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے اور ﴿قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا هٰؔذَا فَزِدۡهُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِي النَّارِ ﴾ ’’کہیں گے: اے ہمارے رب! جو اس کوہمارے سامنے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دینا۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لِكُلٍّ ضِعۡفٌ وَّلٰكِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’سب کے لیے دوگنا عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں۔‘‘
[62]﴿وَقَالُوۡا﴾ اور وہ جہنم کے اندر کہیں گے: ﴿مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ﴾ یعنی ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ برے لوگ ہیں اور جہنم کے عذاب کے مستحق ہیں وہ آج ہمیں نظر نہیں آرہے؟ مراد اہل ایمان ہیں، جہنمی ان کو جہنم میں تلاش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، کیا وہ ان کو جہنم میں نظر آئیں گے؟
[63]﴿اَتَّؔخَذۡنٰهُمۡ سِخۡرِيًّا اَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’کیا ہم نے ان سے مذاق کیا تھا یا ہماری آنکھیں پھر گئی ہیں۔‘‘ یعنی ان کا ہمیں نظر نہ آنا دو اسباب میں سے ایک سبب پر مبنی ہے یا تو ہم ان کو اشرار شمار کرنے میں غلطی پر تھے، حالانکہ وہ اچھے لوگ تھے۔ تب ان کے بارے میں ہماری باتیں تمسخر و استہزا کے زمرے میں آئیں گی۔ حقیقت فی الواقع یہی ہے جیسا کہ جہنمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَۚۖ۰۰ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾(المؤمنون: 23؍109-110) ’’بے شک میرے بندوں میں سے کچھ لوگ جب یہ کہتے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا رحم فرمانے والا ہے، تو تم نے ان کا تمسخر اڑایا اور انھیں نشانۂ تضحیک بنایا کرتے تھے۔‘‘ دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید وہ ہمارے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوں مگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ گئے ہوں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ ان کا اہل ایمان کے بارے میں یہ موقف، دنیا میں ان کے دلوں میں جڑ پکڑ کر عقائد میں ڈھل گیا تھا، انھوں نے اہل ایمان کے بارے میں نہایت کثرت سے جہنمی ہونے کا حکم لگایا، وہ ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا اور ان کے دل اسی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ اسی حال میں انھوں نے متذکرہ بالا الفاظ کہے۔ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا کلام، خلاف واقعہ اور ملمّع سازی کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ وہ دنیا میں ملمع سازی کیا کرتے تھے، حتی کہ انھوں نے جہنم میں بھی ملمع سازی کی اسی لیے اہل اعراف اہل جہنم سے کہیں گے:﴿اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ١ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍49) ’’کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے میں تم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے بہرہ مند نہیں کرے گا۔ ان کو یوں حکم ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر کوئی خوف ہے نہ تم غمگین ہوگے۔‘‘
[64] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی دی ہوئی خبر کی تاکید کے طور پر فرمایا اور وہ سب سے زیادہ سچ کہنے والا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک یہ‘‘ جس کا میں نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے ﴿لَحَقٌّ ﴾ ’’حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ ﴿تَخَاصُمُ اَهۡلِ النَّارِ ﴾ ’’اہل جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا اور تنازعہ ہے۔‘‘
38:64إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقّٞ تَخَاصُمُ أَهۡلِ ٱلنَّارِ
یہ ہے (معاملہ اہل خیر کا) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے البتہ بہت برا ٹھکانا ہے (55)(یعنی ) جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس بری ہے آرام کرنے کی جگہ (56) یہ ہے، پس چکھیں وہ اس کو، کھولتا ہوا پانی اور پیپ (57) اور دوسرے (عذاب) ہیں، اس کی مثل ہی، کئی قسم کے (58) یہ ہے ایک گروہ جو گھسا چلا آتا ہے تمھارے ساتھ، نہ زمین کی فراخی ہو ان کے لیے، بے شک یہ داخل ہونے والے ہیں آگ میں(59) وہ کہیں گے، نہ زمین کی فراخی ہو تمھارے لیے، تم ہی آگے لائے ہو اس کو ہمارے، پس بری قرار گاہ ہے (60) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! جو آگے لایا ہمارے یہ(عذاب) پس زیادہ کر اس کو عذاب دگنا آگ میں (61) اور وہ کہیں گے، کیا ہے ہمارے لیے، نہیں ہم دیکھتے ان آدمیوں کو کہ تھے ہم شمار کرتے ان کو برے لوگوں میں؟ (62) کیا بنائے رکھا ہم نے ان کو(دنیا میں) مذاق(غلط طور پر) یا پھر گئیں ان سے(ہماری) نگاہیں؟ (63) بلاشبہ یہ البتہ حق ہے، باہم جھگڑنا اہل دوزخ کا (64)
[55]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقویٰ کے لیے ہے ﴿وَاِنَّ لِلطّٰغِيۡنَ ﴾ یعنی کفرومعاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے ﴿لَشَرَّ مَاٰبٍ﴾ بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔
[56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم ہے‘‘ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کر دیا گیا ہے، جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ ﴿يَصۡلَوۡنَهَا ﴾ جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہو گی اور اوپر سے بھی آگ برسے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ﴾ بدترین مسکن اور ٹھکانا ہو گا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہو گا۔
[57]﴿هٰؔذَا ﴾ یہ بدترین ٹھکانا، یہ سخت عذاب، یہ فضیحت و رسوائی اور یہ سزا ﴿فَلۡيَذُوۡقُوۡهُ۠ حَمِيۡمٌ ﴾ پس اسے چکھو، کھولتا ہوا پانی ہو گا، جو سخت گرم ہو گا جسے جہنمی پئیں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿وَّغَسَّاقٌ﴾ یہ بدترین پینے کی چیز ہو گی جو پیپ اور خون پر مشتمل ہو گی جو بہت کڑوی اور انتہائی بدبودار ہوگی۔
[58]﴿وَّاٰخَرُ مِنۡ شَكۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اس کی ایک اور قسم ﴿اَزۡوَاجٌ﴾ یعنی عذاب کی متعدد انواع و اقسام ہوں گی جن میں ان کو مبتلا کیا جائے گا اور اس عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کیا جائے گا۔ جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے کو سب و شتم کرتے ہوئے کہیں گے۔
[59، 60]﴿هٰؔذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک فوج ہے جو تمھارے ساتھ گھسی چلی آرہی ہے‘‘ آگ میں ﴿لَا مَرۡحَبًۢا بِهِمۡ١ؕ اِنَّهُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴾ ’’ان کے لیے کوئی خیرمقدم نہیں ہے یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔‘‘ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے: ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ١۫ لَا مَرۡحَبًۢا بِكُمۡ١ؕ اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡهُ ﴾ ’’بلکہ تم ہی ہو تمھارا خیر مقدم نہ ہو تم ہی تو لائے تھے اسے‘‘ یعنی عذاب کو ﴿لَنَا ﴾ ’’ہمارے پاس‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کر کے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لیے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴾ اب ہم سب کے لیے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔
[61] پھر وہ ان گمراہ کنندہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے اور ﴿قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا هٰؔذَا فَزِدۡهُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِي النَّارِ ﴾ ’’کہیں گے: اے ہمارے رب! جو اس کوہمارے سامنے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دینا۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لِكُلٍّ ضِعۡفٌ وَّلٰكِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’سب کے لیے دوگنا عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں۔‘‘
[62]﴿وَقَالُوۡا﴾ اور وہ جہنم کے اندر کہیں گے: ﴿مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ﴾ یعنی ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ برے لوگ ہیں اور جہنم کے عذاب کے مستحق ہیں وہ آج ہمیں نظر نہیں آرہے؟ مراد اہل ایمان ہیں، جہنمی ان کو جہنم میں تلاش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، کیا وہ ان کو جہنم میں نظر آئیں گے؟
[63]﴿اَتَّؔخَذۡنٰهُمۡ سِخۡرِيًّا اَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’کیا ہم نے ان سے مذاق کیا تھا یا ہماری آنکھیں پھر گئی ہیں۔‘‘ یعنی ان کا ہمیں نظر نہ آنا دو اسباب میں سے ایک سبب پر مبنی ہے یا تو ہم ان کو اشرار شمار کرنے میں غلطی پر تھے، حالانکہ وہ اچھے لوگ تھے۔ تب ان کے بارے میں ہماری باتیں تمسخر و استہزا کے زمرے میں آئیں گی۔ حقیقت فی الواقع یہی ہے جیسا کہ جہنمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَۚۖ۰۰ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾(المؤمنون: 23؍109-110) ’’بے شک میرے بندوں میں سے کچھ لوگ جب یہ کہتے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا رحم فرمانے والا ہے، تو تم نے ان کا تمسخر اڑایا اور انھیں نشانۂ تضحیک بنایا کرتے تھے۔‘‘ دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید وہ ہمارے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوں مگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ گئے ہوں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ ان کا اہل ایمان کے بارے میں یہ موقف، دنیا میں ان کے دلوں میں جڑ پکڑ کر عقائد میں ڈھل گیا تھا، انھوں نے اہل ایمان کے بارے میں نہایت کثرت سے جہنمی ہونے کا حکم لگایا، وہ ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا اور ان کے دل اسی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ اسی حال میں انھوں نے متذکرہ بالا الفاظ کہے۔ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا کلام، خلاف واقعہ اور ملمّع سازی کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ وہ دنیا میں ملمع سازی کیا کرتے تھے، حتی کہ انھوں نے جہنم میں بھی ملمع سازی کی اسی لیے اہل اعراف اہل جہنم سے کہیں گے:﴿اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ١ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍49) ’’کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے میں تم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے بہرہ مند نہیں کرے گا۔ ان کو یوں حکم ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر کوئی خوف ہے نہ تم غمگین ہوگے۔‘‘
[64] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی دی ہوئی خبر کی تاکید کے طور پر فرمایا اور وہ سب سے زیادہ سچ کہنے والا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک یہ‘‘ جس کا میں نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے ﴿لَحَقٌّ ﴾ ’’حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ ﴿تَخَاصُمُ اَهۡلِ النَّارِ ﴾ ’’اہل جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا اور تنازعہ ہے۔‘‘
38:65قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ مُنذِرٞۖ وَمَا مِنۡ إِلَٰهٍ إِلَّا ٱللَّهُ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّارُ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:66رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡغَفَّـٰرُ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:67قُلۡ هُوَ نَبَؤٌاْ عَظِيمٌ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:68أَنتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُونَ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:69مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمِۭ بِٱلۡمَلَإِ ٱلۡأَعۡلَىٰٓ إِذۡ يَخۡتَصِمُونَ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:70إِن يُوحَىٰٓ إِلَيَّ إِلَّآ أَنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٞ مُّبِينٌ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:71إِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ إِنِّي خَٰلِقُۢ بَشَرٗا مِّن طِينٖ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:72فَإِذَا سَوَّيۡتُهُۥ وَنَفَخۡتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُۥ سَٰجِدِينَ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:73فَسَجَدَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ كُلُّهُمۡ أَجۡمَعُونَ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:74إِلَّآ إِبۡلِيسَ ٱسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:75قَالَ يَـٰٓإِبۡلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّۖ أَسۡتَكۡبَرۡتَ أَمۡ كُنتَ مِنَ ٱلۡعَالِينَ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:76قَالَ أَنَا۠ خَيۡرٞ مِّنۡهُ خَلَقۡتَنِي مِن نَّارٖ وَخَلَقۡتَهُۥ مِن طِينٖ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:77قَالَ فَٱخۡرُجۡ مِنۡهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٞ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:78وَإِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلدِّينِ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:79قَالَ رَبِّ فَأَنظِرۡنِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:80قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلۡمُنظَرِينَ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:81إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡوَقۡتِ ٱلۡمَعۡلُومِ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:82قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغۡوِيَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:83إِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ ٱلۡمُخۡلَصِينَ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:84قَالَ فَٱلۡحَقُّ وَٱلۡحَقَّ أَقُولُ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:85لَأَمۡلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ أَجۡمَعِينَ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:86قُلۡ مَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٖ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُتَكَلِّفِينَ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:87إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
38:88وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَأَهُۥ بَعۡدَ حِينِۭ
کہہ دیجیے:بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کےجو ایک ہے بڑا زبردست (65) رب آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو کچھ ان (دونوں)کے درمیان میں ہے، بڑا غالب، بہت معاف کرنے والا (66)کہہ دیجیے:وہ ایک خبر ہے بہت بڑی (67) تم اس سے اعراض کرنے والے ہو (68) نہیں تھا مجھے کوئی علم مجلس بالا کا، جب وہ تکرار کر رہے تھے(69) نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہی کہ بے شک میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں کھول کر (70) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، بے شک میں پیدا کرنے والا ہوں ایک انسان مٹی سے (71) پس جب میں ٹھیک بنا دوں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی طرف سے روح، تو گر پڑنا تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے(72) پس سجدہ کیافرشتوں نے سب کے سب نے اکٹھے (73) سوائے ابلیس کے، اس نے تکبر کیا اور ہو گیا وہ کافروں میں سے (74)اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! کس چیز نے منع کیا تجھے سجدہ کرنے سے، اس کو جسے پیدا کیا میں نے اپنے ہاتھوں سے، کیا تکبر کیا تو نے یا تھا تو بلند درجہ لوگوں میں سے؟ (75) اس نے کہا، میں بہتر ہوں اس سے، پیدا کیا تو نے مجھے آگ سے اورپیدا کیا تو نے اسے مٹی سے (76)فرمایا: پس نکل جا تو یہاں سے، پس بے شک تو مردود ہے (77) اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک (78) اس نے کہا: اے میرے رب! پس مہلت دے تو مجھے، اس دن تک کہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے(79) فرمایا، پس بلاشبہ تو مہلت دیے گئے لوگوں میں سے ہے (80) اس دن تک جس کا وقت معلوم (عند اللہ مقرر) ہے(81)اس نے کہا : قسم ہے تیری عزت کی، البتہ میں ضرور گمراہ کروں گا ان کو سب کو (82) سوائے تیرے بندوں ان میں سےخالص کیے(چنے) ہوئے (83) فرمایا، پس حق یہی ہے اور حق بات ہی میں کہتا ہوں (84) البتہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اوران سے جو پیروی کریں گے تیری ان میں سے ، سب سے (85) کہہ دیجیے:نہیں مانگتا میں تم سے اوپر اس کے کوئی اجر اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں سے (86) نہیں ہے یہ (قرآن) مگر نصیحت واسطے جہانوں کے (87) اور البتہ ضرور جان لو گے تم حال اس کا بعد کچھ مدت کے (88)
[65]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجیے! ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ﴾ ’’میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں۔‘‘ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمھارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے مگر میں تمھیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمھیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں۔ پس جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لیے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ ﴿وَّمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ ﴿الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’وہ واحد و قہار ہے۔‘‘ اس قطعی دلیل و برہان کے ذریعے سے یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے اور وہ ہر چیز پر غالب ہے کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے۔ پس کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔
[66] پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے‘‘ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿الۡعَزِيۡزُ ﴾ وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ جو کوئی توبہ کر کے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کیے جانے کی مستحق ہے… جو پیدا کر سکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار نہیں اور نہ اس کے قبضۂ قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔
[67، 68]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿هُوَ نَبَؤٌا عَظِيۡمٌ﴾ یعنی میں نے تمھیں حیات بعدالموت، حشرونشر اور اعمال کی جزا و سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملہ کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ﴿اَنۡتُمۡ عَنۡهُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’تم اس سے اعراض کرتے ہو۔‘‘ گویا تمھیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔
[69، 70] اگر تمھیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمھیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمھارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿مَا كَانَ لِيَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤى ﴾ ’’مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں۔‘‘ مراد ہے فرشتے ﴿اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ﴾ ’’جب وہ جھگڑتے تھے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا، بنابریں فرمایا:﴿اِنۡ يُّوۡحٰۤى اِلَيَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طورپر نذیر ہوں۔‘‘ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔
[71، 72] پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا:‘‘ ﴿اِنِّيۡ خَالِـقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔‘‘ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔﴿فَاِذَا سَوَّيۡتُهٗ﴾ جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کر دوں اور وہ مکمل ہو جائے ﴿وَنَفَخۡتُ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِيۡ فَقَعُوۡا لَهٗ سٰؔجِدِيۡنَ ﴾ ’’اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔‘‘
[73، 74] جب آدمu کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدمu کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کے لیے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمu کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کر دی تو اللہ نے آدمu اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدمu کی فضیلت ظاہر ہو گئی تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدمu کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا ﴿كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ۰۰ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ ﴾ ’’ان سب نے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ ﴿اِسۡتَكۡبَرَ ﴾ اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدمu کے سامنے تکبر کا اظہار کیا ﴿وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کافروں میں سے تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔
[75]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے زجروتوبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا مَنَعَكَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِيَدَيَّ ﴾ ’’(اے ابلیس!) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کسی چیز نے منع کیا۔‘‘ یعنی جسے میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بنا پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبر کا تقاضا کرتی ہے۔ ﴿اَسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہ کیا ﴿اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡعَالِيۡنَ ﴾ ’’یا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے؟‘‘
[76]﴿قَالَ ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا: ﴿اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ١ؕ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجرونباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی، اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تب شاگردوں کا کیا حال ہو گا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔
[77، 78]﴿قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا: ﴿فَاخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا ﴿فَاِنَّكَ رَجِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تو مردود ہے‘‘ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ﴿وَّاِنَّ عَلَيۡكَ لَعۡنَتِيۡۤ ﴾ ’’اور تجھ پر میری لعنت ہے۔‘‘ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا ﴿اِلٰى يَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ ’’قیامت کے دن تک ہے‘‘ یعنی دائمی اور ابدالآباد تک ہے۔
[79]﴿قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِيۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ ﴾ ’’اس نے کہا، میرے رب! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔‘‘ چونکہ اسے آدمu اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی ، اس لیے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کر سکے جن کے لیے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہے۔
[80، 81]﴿قَالَ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ۰۰ اِلٰى يَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔‘‘ جب ذریت آدم پوری ہو جائے گی تو امتحان بھی پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
[82، 83] جب ابلیس کو معلوم ہو گیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بنا پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کر دیا اور کہنے لگا:﴿فَبِعِزَّتِكَ لَاُغۡوِيَنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لیے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ﴿اِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کر لیا ہے۔‘‘ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکرو فریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لیے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کر سکتا، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔ اے ہمارے رب! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصوروار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت و قدرت اور تمام مخلوق کے لیے تیری بے پایاں رحمت کے ذریعے سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا… شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا:﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِيۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ ﴾(غافر: 40؍60) ’’اور تمھارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔‘‘ اے ہمارے رب! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ ﴿اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾(آل عمران: 3/194) ’’بے شک تو اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘
[84، 85]﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَالۡحَقُّ١ٞ وَالۡحَقَّ اَقُوۡلُ﴾ ’’سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔‘‘ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’کہ میں تجھ سے اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘
[86] پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اوران کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں فرمایا:﴿قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔؔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر‘‘ یعنی تمھیں اللہ کی طرف بلانے پر ﴿مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ ﴾ ’’کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں۔‘‘ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار نہیں اور نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔
[87]﴿اِنۡ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَاۤ ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندے کو‘‘ ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’اور یاد کرو ہمارے بندوں کو‘‘ ﴿رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَذِكۡرٰى ﴾ ’’یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے‘‘ ﴿هٰؔذَا ذِكۡرُ ﴾ ’’یہ نصیحت ہے۔‘‘ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
[88]﴿وَلَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَهٗ﴾ ’’اور تم اس کی خبر جان لو گے۔‘‘ یعنی جو اس نے خبر دی ہے ﴿بَعۡدَ حِيۡنٍ﴾ ’’ایک وقت کے بعد‘‘ اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان پر عذاب واقع ہو گا اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔