QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Al-Haqqah

ٱلْحَاقَّة

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 69 · 52 verses

69:1

ٱلۡحَآقَّةُ

ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔ [5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ [6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔ [7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔ [8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔
69:2

مَا ٱلۡحَآقَّةُ

ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔ [5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ [6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔ [7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔ [8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔
69:3

وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡحَآقَّةُ

ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔ [5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ [6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔ [7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔ [8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔
69:4

كَذَّبَتۡ ثَمُودُ وَعَادُۢ بِٱلۡقَارِعَةِ

ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔ [5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ [6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔ [7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔ [8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔
69:5

فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهۡلِكُواْ بِٱلطَّاغِيَةِ

ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔ [5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ [6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔ [7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔ [8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔
69:6

وَأَمَّا عَادٞ فَأُهۡلِكُواْ بِرِيحٖ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٖ

ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔ [5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ [6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔ [7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔ [8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔
69:7

سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٖ وَثَمَٰنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومٗاۖ فَتَرَى ٱلۡقَوۡمَ فِيهَا صَرۡعَىٰ كَأَنَّهُمۡ أَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٖ

ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔ [5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ [6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔ [7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔ [8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔
69:8

فَهَلۡ تَرَىٰ لَهُم مِّنۢ بَاقِيَةٖ

ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔ [4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔ [5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ [6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔ [7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔ [8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔
69:9

وَجَآءَ فِرۡعَوۡنُ وَمَن قَبۡلَهُۥ وَٱلۡمُؤۡتَفِكَٰتُ بِٱلۡخَاطِئَةِ

اور ارتکاب کیا تھا فرعون نے اور جو اس سے پہلے تھے اور الٹ جانے والی(بستیوں والوں)نے گناہوں کا(9) پس انھوں نے نافرمانی کی اپنے رب کے رسول کی تو اس (رب) نے پکڑا ان کو پکڑنا نہایت سخت (10) بلاشبہ، جب طغیانی کی پانی نے تو سوار کیا ہم نے تمھیں کشتی میں (11) تاکہ کریں ہم اس (فعل) کو تمھارے لیے نصیحت اور (تاکہ) یاد رکھیں اسے کان یاد رکھنے والے (12) [10,9] اسی طرح ان دو سرکش قوموں، عاد و ثمود کے علاوہ بھی سرکش اور نافرمان لوگ آئے، جیسے فرعون مصر جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو مبعوث کیا اور انھیں واضح نشانیاں دکھائیں جن کی بنا پر انھیں حق کا یقین آ گیا مگر انھوں نے ظلم اور تکبر سے ان کار کر دیا اور کفر کا رویہ اختیار کیا، اور اس سے پہلے بھی جھٹلانے والے آئے۔ ﴿ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتُ﴾ ’’اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔‘‘ یعنی حضرت لوط u کی قوم کی بستیاں، سب گناہ کا کام کرتے تھے ﴿ بِالۡخَاطِئَةِ﴾ یعنی سرکشی کے افعال کرتے تھے، اس سے مراد کفر، تکذیب، ظلم اور عناد ہے، نیز فسق و معاصی کی دیگر اقسام بھی اس میں شامل ہے۔ ﴿ فَعَصَوۡا رَسُوۡلَ رَبِّهِمۡ﴾ یہ اسم جنس ہے ، یعنی ان تمام قوموں نے اپنے رسول کو جھٹلایا جو ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو پکڑ لیا ﴿ اَخۡذَةً رَّابِيَةً﴾ یعنی حد اور مقدار سے بڑھ کر ان کی گرفت کی جس سے وہ تباہ و برباد ہو گئے۔ [12,11] منجملہ ان قوموں کے، نوحuکی قوم بھی تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے سمندر (کے سیلاب) میں غرق کر ڈالا جب پانی سرکشی کر کے زمین پر پھیل گیا اور بلند مقامات سے بھی بلند ہو گیا۔ حضرت نوحu کی سرکش قوم کے غرق ہونے کے بعد جو مخلوق موجود تھی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ ان کو سوار کیا﴿ فِي الۡجَارِيَةِ﴾’’کشتی میں ‘‘جبکہ یہ اپنے آباء اور ماؤ ں کی صلب میں تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے طوفان سے نجات دی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو، اس کا شکرکرو جس نے تمھیں اس وقت نجات دی جب اس نے سرکش لوگوں کو ہلاک کر ڈالا ۔۔ اور اس کی آیات سے عبرت حاصل کرو جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔﴿ لِنَجۡعَلَهَا﴾ ’’تاکہ ہم اس کو بنادیں۔‘‘ یعنی کشتی کواور اس سے مراد اسم جنس ہے، تمھارے لیے ﴿ تَذۡكِرَةً﴾ ’’یادگار‘‘ جو تمھیں اولین کشتی کی صنعت اور اس کے قصے کی یاد دلاتی ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے اس کشتی پر سوار ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور اپنے رسول کی اتباع کی اور روئے زمین کے دیگر تمام لوگوں کو ہلاک کر ڈالا، کیونکہ اشیاء کی جنس اپنی اصل کی یاد دلاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّتَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ﴾ ’’اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔‘‘ یعنی خرد مند لوگ ہی اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس سے مقصود کی معرفت اور اس کے ذریعے سے نشانی و معجزے کی وجہ معلوم کرتے ہیں۔ اور اہل غفلت، کند ذہن اور ذہانت سے محروم لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرتوں کو یاد نہ رکھنے اور اس کی آیات میں غور و فکر نہ کرنے کے سبب سے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔
69:10

فَعَصَوۡاْ رَسُولَ رَبِّهِمۡ فَأَخَذَهُمۡ أَخۡذَةٗ رَّابِيَةً

اور ارتکاب کیا تھا فرعون نے اور جو اس سے پہلے تھے اور الٹ جانے والی(بستیوں والوں)نے گناہوں کا(9) پس انھوں نے نافرمانی کی اپنے رب کے رسول کی تو اس (رب) نے پکڑا ان کو پکڑنا نہایت سخت (10) بلاشبہ، جب طغیانی کی پانی نے تو سوار کیا ہم نے تمھیں کشتی میں (11) تاکہ کریں ہم اس (فعل) کو تمھارے لیے نصیحت اور (تاکہ) یاد رکھیں اسے کان یاد رکھنے والے (12) [10,9] اسی طرح ان دو سرکش قوموں، عاد و ثمود کے علاوہ بھی سرکش اور نافرمان لوگ آئے، جیسے فرعون مصر جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو مبعوث کیا اور انھیں واضح نشانیاں دکھائیں جن کی بنا پر انھیں حق کا یقین آ گیا مگر انھوں نے ظلم اور تکبر سے ان کار کر دیا اور کفر کا رویہ اختیار کیا، اور اس سے پہلے بھی جھٹلانے والے آئے۔ ﴿ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتُ﴾ ’’اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔‘‘ یعنی حضرت لوط u کی قوم کی بستیاں، سب گناہ کا کام کرتے تھے ﴿ بِالۡخَاطِئَةِ﴾ یعنی سرکشی کے افعال کرتے تھے، اس سے مراد کفر، تکذیب، ظلم اور عناد ہے، نیز فسق و معاصی کی دیگر اقسام بھی اس میں شامل ہے۔ ﴿ فَعَصَوۡا رَسُوۡلَ رَبِّهِمۡ﴾ یہ اسم جنس ہے ، یعنی ان تمام قوموں نے اپنے رسول کو جھٹلایا جو ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو پکڑ لیا ﴿ اَخۡذَةً رَّابِيَةً﴾ یعنی حد اور مقدار سے بڑھ کر ان کی گرفت کی جس سے وہ تباہ و برباد ہو گئے۔ [12,11] منجملہ ان قوموں کے، نوحuکی قوم بھی تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے سمندر (کے سیلاب) میں غرق کر ڈالا جب پانی سرکشی کر کے زمین پر پھیل گیا اور بلند مقامات سے بھی بلند ہو گیا۔ حضرت نوحu کی سرکش قوم کے غرق ہونے کے بعد جو مخلوق موجود تھی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ ان کو سوار کیا﴿ فِي الۡجَارِيَةِ﴾’’کشتی میں ‘‘جبکہ یہ اپنے آباء اور ماؤ ں کی صلب میں تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے طوفان سے نجات دی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو، اس کا شکرکرو جس نے تمھیں اس وقت نجات دی جب اس نے سرکش لوگوں کو ہلاک کر ڈالا ۔۔ اور اس کی آیات سے عبرت حاصل کرو جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔﴿ لِنَجۡعَلَهَا﴾ ’’تاکہ ہم اس کو بنادیں۔‘‘ یعنی کشتی کواور اس سے مراد اسم جنس ہے، تمھارے لیے ﴿ تَذۡكِرَةً﴾ ’’یادگار‘‘ جو تمھیں اولین کشتی کی صنعت اور اس کے قصے کی یاد دلاتی ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے اس کشتی پر سوار ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور اپنے رسول کی اتباع کی اور روئے زمین کے دیگر تمام لوگوں کو ہلاک کر ڈالا، کیونکہ اشیاء کی جنس اپنی اصل کی یاد دلاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّتَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ﴾ ’’اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔‘‘ یعنی خرد مند لوگ ہی اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس سے مقصود کی معرفت اور اس کے ذریعے سے نشانی و معجزے کی وجہ معلوم کرتے ہیں۔ اور اہل غفلت، کند ذہن اور ذہانت سے محروم لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرتوں کو یاد نہ رکھنے اور اس کی آیات میں غور و فکر نہ کرنے کے سبب سے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔
69:11

إِنَّا لَمَّا طَغَا ٱلۡمَآءُ حَمَلۡنَٰكُمۡ فِي ٱلۡجَارِيَةِ

اور ارتکاب کیا تھا فرعون نے اور جو اس سے پہلے تھے اور الٹ جانے والی(بستیوں والوں)نے گناہوں کا(9) پس انھوں نے نافرمانی کی اپنے رب کے رسول کی تو اس (رب) نے پکڑا ان کو پکڑنا نہایت سخت (10) بلاشبہ، جب طغیانی کی پانی نے تو سوار کیا ہم نے تمھیں کشتی میں (11) تاکہ کریں ہم اس (فعل) کو تمھارے لیے نصیحت اور (تاکہ) یاد رکھیں اسے کان یاد رکھنے والے (12) [10,9] اسی طرح ان دو سرکش قوموں، عاد و ثمود کے علاوہ بھی سرکش اور نافرمان لوگ آئے، جیسے فرعون مصر جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو مبعوث کیا اور انھیں واضح نشانیاں دکھائیں جن کی بنا پر انھیں حق کا یقین آ گیا مگر انھوں نے ظلم اور تکبر سے ان کار کر دیا اور کفر کا رویہ اختیار کیا، اور اس سے پہلے بھی جھٹلانے والے آئے۔ ﴿ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتُ﴾ ’’اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔‘‘ یعنی حضرت لوط u کی قوم کی بستیاں، سب گناہ کا کام کرتے تھے ﴿ بِالۡخَاطِئَةِ﴾ یعنی سرکشی کے افعال کرتے تھے، اس سے مراد کفر، تکذیب، ظلم اور عناد ہے، نیز فسق و معاصی کی دیگر اقسام بھی اس میں شامل ہے۔ ﴿ فَعَصَوۡا رَسُوۡلَ رَبِّهِمۡ﴾ یہ اسم جنس ہے ، یعنی ان تمام قوموں نے اپنے رسول کو جھٹلایا جو ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو پکڑ لیا ﴿ اَخۡذَةً رَّابِيَةً﴾ یعنی حد اور مقدار سے بڑھ کر ان کی گرفت کی جس سے وہ تباہ و برباد ہو گئے۔ [12,11] منجملہ ان قوموں کے، نوحuکی قوم بھی تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے سمندر (کے سیلاب) میں غرق کر ڈالا جب پانی سرکشی کر کے زمین پر پھیل گیا اور بلند مقامات سے بھی بلند ہو گیا۔ حضرت نوحu کی سرکش قوم کے غرق ہونے کے بعد جو مخلوق موجود تھی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ ان کو سوار کیا﴿ فِي الۡجَارِيَةِ﴾’’کشتی میں ‘‘جبکہ یہ اپنے آباء اور ماؤ ں کی صلب میں تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے طوفان سے نجات دی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو، اس کا شکرکرو جس نے تمھیں اس وقت نجات دی جب اس نے سرکش لوگوں کو ہلاک کر ڈالا ۔۔ اور اس کی آیات سے عبرت حاصل کرو جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔﴿ لِنَجۡعَلَهَا﴾ ’’تاکہ ہم اس کو بنادیں۔‘‘ یعنی کشتی کواور اس سے مراد اسم جنس ہے، تمھارے لیے ﴿ تَذۡكِرَةً﴾ ’’یادگار‘‘ جو تمھیں اولین کشتی کی صنعت اور اس کے قصے کی یاد دلاتی ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے اس کشتی پر سوار ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور اپنے رسول کی اتباع کی اور روئے زمین کے دیگر تمام لوگوں کو ہلاک کر ڈالا، کیونکہ اشیاء کی جنس اپنی اصل کی یاد دلاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّتَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ﴾ ’’اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔‘‘ یعنی خرد مند لوگ ہی اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس سے مقصود کی معرفت اور اس کے ذریعے سے نشانی و معجزے کی وجہ معلوم کرتے ہیں۔ اور اہل غفلت، کند ذہن اور ذہانت سے محروم لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرتوں کو یاد نہ رکھنے اور اس کی آیات میں غور و فکر نہ کرنے کے سبب سے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔
69:12

لِنَجۡعَلَهَا لَكُمۡ تَذۡكِرَةٗ وَتَعِيَهَآ أُذُنٞ وَٰعِيَةٞ

اور ارتکاب کیا تھا فرعون نے اور جو اس سے پہلے تھے اور الٹ جانے والی(بستیوں والوں)نے گناہوں کا(9) پس انھوں نے نافرمانی کی اپنے رب کے رسول کی تو اس (رب) نے پکڑا ان کو پکڑنا نہایت سخت (10) بلاشبہ، جب طغیانی کی پانی نے تو سوار کیا ہم نے تمھیں کشتی میں (11) تاکہ کریں ہم اس (فعل) کو تمھارے لیے نصیحت اور (تاکہ) یاد رکھیں اسے کان یاد رکھنے والے (12) [10,9] اسی طرح ان دو سرکش قوموں، عاد و ثمود کے علاوہ بھی سرکش اور نافرمان لوگ آئے، جیسے فرعون مصر جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو مبعوث کیا اور انھیں واضح نشانیاں دکھائیں جن کی بنا پر انھیں حق کا یقین آ گیا مگر انھوں نے ظلم اور تکبر سے ان کار کر دیا اور کفر کا رویہ اختیار کیا، اور اس سے پہلے بھی جھٹلانے والے آئے۔ ﴿ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتُ﴾ ’’اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔‘‘ یعنی حضرت لوط u کی قوم کی بستیاں، سب گناہ کا کام کرتے تھے ﴿ بِالۡخَاطِئَةِ﴾ یعنی سرکشی کے افعال کرتے تھے، اس سے مراد کفر، تکذیب، ظلم اور عناد ہے، نیز فسق و معاصی کی دیگر اقسام بھی اس میں شامل ہے۔ ﴿ فَعَصَوۡا رَسُوۡلَ رَبِّهِمۡ﴾ یہ اسم جنس ہے ، یعنی ان تمام قوموں نے اپنے رسول کو جھٹلایا جو ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو پکڑ لیا ﴿ اَخۡذَةً رَّابِيَةً﴾ یعنی حد اور مقدار سے بڑھ کر ان کی گرفت کی جس سے وہ تباہ و برباد ہو گئے۔ [12,11] منجملہ ان قوموں کے، نوحuکی قوم بھی تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے سمندر (کے سیلاب) میں غرق کر ڈالا جب پانی سرکشی کر کے زمین پر پھیل گیا اور بلند مقامات سے بھی بلند ہو گیا۔ حضرت نوحu کی سرکش قوم کے غرق ہونے کے بعد جو مخلوق موجود تھی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ ان کو سوار کیا﴿ فِي الۡجَارِيَةِ﴾’’کشتی میں ‘‘جبکہ یہ اپنے آباء اور ماؤ ں کی صلب میں تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے طوفان سے نجات دی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو، اس کا شکرکرو جس نے تمھیں اس وقت نجات دی جب اس نے سرکش لوگوں کو ہلاک کر ڈالا ۔۔ اور اس کی آیات سے عبرت حاصل کرو جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔﴿ لِنَجۡعَلَهَا﴾ ’’تاکہ ہم اس کو بنادیں۔‘‘ یعنی کشتی کواور اس سے مراد اسم جنس ہے، تمھارے لیے ﴿ تَذۡكِرَةً﴾ ’’یادگار‘‘ جو تمھیں اولین کشتی کی صنعت اور اس کے قصے کی یاد دلاتی ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے اس کشتی پر سوار ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور اپنے رسول کی اتباع کی اور روئے زمین کے دیگر تمام لوگوں کو ہلاک کر ڈالا، کیونکہ اشیاء کی جنس اپنی اصل کی یاد دلاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّتَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ﴾ ’’اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔‘‘ یعنی خرد مند لوگ ہی اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس سے مقصود کی معرفت اور اس کے ذریعے سے نشانی و معجزے کی وجہ معلوم کرتے ہیں۔ اور اہل غفلت، کند ذہن اور ذہانت سے محروم لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرتوں کو یاد نہ رکھنے اور اس کی آیات میں غور و فکر نہ کرنے کے سبب سے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔
69:13

فَإِذَا نُفِخَ فِي ٱلصُّورِ نَفۡخَةٞ وَٰحِدَةٞ

پس جب پھونکا جائے گا صور میں پھونکنا ایک بار (13) اور اٹھائی جائے گی زمین اور پہاڑ، پس کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے وہ دونوں (مکمل) ریزہ ریزہ کر دیا جانا ایک ہی بار (14) پس اس دن واقع ہو گی واقع ہونے والی (قیامت)(15) اور پھٹ جائے گا آسمان پس وہ ہو گا اس دن کمزور (16) اور فرشتے (ہو ں گے) اس کےکناروں پر اور اٹھائیں گے عرش آپ کے رب کا اپنے اوپر اس دن آٹھ (فرشتے)(17) اس دن تم پیش کیے جاؤ گے (حساب کے لیے) نہیں چھپے گا تمھارے (رازوں) میں سے کوئی راز (18) [18-13] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا، انھیں کیسا بدلہ دیا، دنیا کے اندر ہی ان پر عذاب بھیج دیا اور اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا ۔یہ قیامت کے روز اخروی جزا اور اعمال کے کامل بدلے کا مقدمہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ہولناک واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوں گے۔ ان میں سے اولین واقعہ یہ ہو گا کہ اسرافیل ﴿ فِي الصُّوۡرِ﴾ صور پھونکیں گے جب اجساد مکمل ہوجائیں گے﴿نَفۡخَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾’’ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔‘‘ پس روحیں نکل آئیں گی اور ہر روح اپنے جسد میں داخل ہو جائے گی، تب تمام لوگ رب کائنات کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔﴿وَّحُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَالۡؔجِبَالُ فَدُكَّـتَا دَؔكَّةً وَّاحِدَةً﴾یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے، وہ نیست و نابود ہو کر رزق خاک ہو جائیں گے ، یعنی ان کو ڈھا کر زمین میں برابر کر دیا جائے گا، چنانچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے۔ یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہو گا۔ رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہو گا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہو جائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہو جائیں گے، یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہو گا جو ان کو کمزور کر دے گا۔﴿وَّالۡمَلَكُ﴾ اور مکرم فرشتے ﴿عَلٰۤى اَرۡجَآىِٕهَا﴾ آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے ﴿وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جو انتہائی طاقت ور ہوں گے (یہ اس وقت ہو گا) جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل و انصاف اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ، فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿يَوۡمَىِٕذٍ تُعۡرَضُوۡنَ﴾ اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ ﴿لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ﴾ تمھارے اجساد اور ذوات چھپ سکیں گے نہ تمھارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور موجود سب کا علم رکھتا ہے۔ تمام بندے ننگے پاؤ ں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں، ایک ہموار میدان میں جمع کیے جائیں گے، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ ان سب تک پہنچ سکے گی، اس وقت اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا اس لیے جزا کی کیفیت کا ذکر کیا۔
69:14

وَحُمِلَتِ ٱلۡأَرۡضُ وَٱلۡجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةٗ وَٰحِدَةٗ

پس جب پھونکا جائے گا صور میں پھونکنا ایک بار (13) اور اٹھائی جائے گی زمین اور پہاڑ، پس کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے وہ دونوں (مکمل) ریزہ ریزہ کر دیا جانا ایک ہی بار (14) پس اس دن واقع ہو گی واقع ہونے والی (قیامت)(15) اور پھٹ جائے گا آسمان پس وہ ہو گا اس دن کمزور (16) اور فرشتے (ہو ں گے) اس کےکناروں پر اور اٹھائیں گے عرش آپ کے رب کا اپنے اوپر اس دن آٹھ (فرشتے)(17) اس دن تم پیش کیے جاؤ گے (حساب کے لیے) نہیں چھپے گا تمھارے (رازوں) میں سے کوئی راز (18) [18-13] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا، انھیں کیسا بدلہ دیا، دنیا کے اندر ہی ان پر عذاب بھیج دیا اور اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا ۔یہ قیامت کے روز اخروی جزا اور اعمال کے کامل بدلے کا مقدمہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ہولناک واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوں گے۔ ان میں سے اولین واقعہ یہ ہو گا کہ اسرافیل ﴿ فِي الصُّوۡرِ﴾ صور پھونکیں گے جب اجساد مکمل ہوجائیں گے﴿نَفۡخَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾’’ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔‘‘ پس روحیں نکل آئیں گی اور ہر روح اپنے جسد میں داخل ہو جائے گی، تب تمام لوگ رب کائنات کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔﴿وَّحُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَالۡؔجِبَالُ فَدُكَّـتَا دَؔكَّةً وَّاحِدَةً﴾یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے، وہ نیست و نابود ہو کر رزق خاک ہو جائیں گے ، یعنی ان کو ڈھا کر زمین میں برابر کر دیا جائے گا، چنانچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے۔ یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہو گا۔ رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہو گا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہو جائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہو جائیں گے، یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہو گا جو ان کو کمزور کر دے گا۔﴿وَّالۡمَلَكُ﴾ اور مکرم فرشتے ﴿عَلٰۤى اَرۡجَآىِٕهَا﴾ آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے ﴿وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جو انتہائی طاقت ور ہوں گے (یہ اس وقت ہو گا) جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل و انصاف اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ، فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿يَوۡمَىِٕذٍ تُعۡرَضُوۡنَ﴾ اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ ﴿لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ﴾ تمھارے اجساد اور ذوات چھپ سکیں گے نہ تمھارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور موجود سب کا علم رکھتا ہے۔ تمام بندے ننگے پاؤ ں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں، ایک ہموار میدان میں جمع کیے جائیں گے، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ ان سب تک پہنچ سکے گی، اس وقت اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا اس لیے جزا کی کیفیت کا ذکر کیا۔
69:15

فَيَوۡمَئِذٖ وَقَعَتِ ٱلۡوَاقِعَةُ

پس جب پھونکا جائے گا صور میں پھونکنا ایک بار (13) اور اٹھائی جائے گی زمین اور پہاڑ، پس کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے وہ دونوں (مکمل) ریزہ ریزہ کر دیا جانا ایک ہی بار (14) پس اس دن واقع ہو گی واقع ہونے والی (قیامت)(15) اور پھٹ جائے گا آسمان پس وہ ہو گا اس دن کمزور (16) اور فرشتے (ہو ں گے) اس کےکناروں پر اور اٹھائیں گے عرش آپ کے رب کا اپنے اوپر اس دن آٹھ (فرشتے)(17) اس دن تم پیش کیے جاؤ گے (حساب کے لیے) نہیں چھپے گا تمھارے (رازوں) میں سے کوئی راز (18) [18-13] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا، انھیں کیسا بدلہ دیا، دنیا کے اندر ہی ان پر عذاب بھیج دیا اور اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا ۔یہ قیامت کے روز اخروی جزا اور اعمال کے کامل بدلے کا مقدمہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ہولناک واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوں گے۔ ان میں سے اولین واقعہ یہ ہو گا کہ اسرافیل ﴿ فِي الصُّوۡرِ﴾ صور پھونکیں گے جب اجساد مکمل ہوجائیں گے﴿نَفۡخَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾’’ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔‘‘ پس روحیں نکل آئیں گی اور ہر روح اپنے جسد میں داخل ہو جائے گی، تب تمام لوگ رب کائنات کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔﴿وَّحُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَالۡؔجِبَالُ فَدُكَّـتَا دَؔكَّةً وَّاحِدَةً﴾یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے، وہ نیست و نابود ہو کر رزق خاک ہو جائیں گے ، یعنی ان کو ڈھا کر زمین میں برابر کر دیا جائے گا، چنانچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے۔ یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہو گا۔ رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہو گا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہو جائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہو جائیں گے، یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہو گا جو ان کو کمزور کر دے گا۔﴿وَّالۡمَلَكُ﴾ اور مکرم فرشتے ﴿عَلٰۤى اَرۡجَآىِٕهَا﴾ آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے ﴿وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جو انتہائی طاقت ور ہوں گے (یہ اس وقت ہو گا) جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل و انصاف اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ، فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿يَوۡمَىِٕذٍ تُعۡرَضُوۡنَ﴾ اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ ﴿لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ﴾ تمھارے اجساد اور ذوات چھپ سکیں گے نہ تمھارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور موجود سب کا علم رکھتا ہے۔ تمام بندے ننگے پاؤ ں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں، ایک ہموار میدان میں جمع کیے جائیں گے، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ ان سب تک پہنچ سکے گی، اس وقت اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا اس لیے جزا کی کیفیت کا ذکر کیا۔
69:16

وَٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَهِيَ يَوۡمَئِذٖ وَاهِيَةٞ

پس جب پھونکا جائے گا صور میں پھونکنا ایک بار (13) اور اٹھائی جائے گی زمین اور پہاڑ، پس کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے وہ دونوں (مکمل) ریزہ ریزہ کر دیا جانا ایک ہی بار (14) پس اس دن واقع ہو گی واقع ہونے والی (قیامت)(15) اور پھٹ جائے گا آسمان پس وہ ہو گا اس دن کمزور (16) اور فرشتے (ہو ں گے) اس کےکناروں پر اور اٹھائیں گے عرش آپ کے رب کا اپنے اوپر اس دن آٹھ (فرشتے)(17) اس دن تم پیش کیے جاؤ گے (حساب کے لیے) نہیں چھپے گا تمھارے (رازوں) میں سے کوئی راز (18) [18-13] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا، انھیں کیسا بدلہ دیا، دنیا کے اندر ہی ان پر عذاب بھیج دیا اور اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا ۔یہ قیامت کے روز اخروی جزا اور اعمال کے کامل بدلے کا مقدمہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ہولناک واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوں گے۔ ان میں سے اولین واقعہ یہ ہو گا کہ اسرافیل ﴿ فِي الصُّوۡرِ﴾ صور پھونکیں گے جب اجساد مکمل ہوجائیں گے﴿نَفۡخَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾’’ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔‘‘ پس روحیں نکل آئیں گی اور ہر روح اپنے جسد میں داخل ہو جائے گی، تب تمام لوگ رب کائنات کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔﴿وَّحُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَالۡؔجِبَالُ فَدُكَّـتَا دَؔكَّةً وَّاحِدَةً﴾یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے، وہ نیست و نابود ہو کر رزق خاک ہو جائیں گے ، یعنی ان کو ڈھا کر زمین میں برابر کر دیا جائے گا، چنانچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے۔ یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہو گا۔ رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہو گا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہو جائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہو جائیں گے، یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہو گا جو ان کو کمزور کر دے گا۔﴿وَّالۡمَلَكُ﴾ اور مکرم فرشتے ﴿عَلٰۤى اَرۡجَآىِٕهَا﴾ آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے ﴿وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جو انتہائی طاقت ور ہوں گے (یہ اس وقت ہو گا) جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل و انصاف اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ، فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿يَوۡمَىِٕذٍ تُعۡرَضُوۡنَ﴾ اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ ﴿لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ﴾ تمھارے اجساد اور ذوات چھپ سکیں گے نہ تمھارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور موجود سب کا علم رکھتا ہے۔ تمام بندے ننگے پاؤ ں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں، ایک ہموار میدان میں جمع کیے جائیں گے، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ ان سب تک پہنچ سکے گی، اس وقت اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا اس لیے جزا کی کیفیت کا ذکر کیا۔
69:17

وَٱلۡمَلَكُ عَلَىٰٓ أَرۡجَآئِهَاۚ وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَئِذٖ ثَمَٰنِيَةٞ

پس جب پھونکا جائے گا صور میں پھونکنا ایک بار (13) اور اٹھائی جائے گی زمین اور پہاڑ، پس کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے وہ دونوں (مکمل) ریزہ ریزہ کر دیا جانا ایک ہی بار (14) پس اس دن واقع ہو گی واقع ہونے والی (قیامت)(15) اور پھٹ جائے گا آسمان پس وہ ہو گا اس دن کمزور (16) اور فرشتے (ہو ں گے) اس کےکناروں پر اور اٹھائیں گے عرش آپ کے رب کا اپنے اوپر اس دن آٹھ (فرشتے)(17) اس دن تم پیش کیے جاؤ گے (حساب کے لیے) نہیں چھپے گا تمھارے (رازوں) میں سے کوئی راز (18) [18-13] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا، انھیں کیسا بدلہ دیا، دنیا کے اندر ہی ان پر عذاب بھیج دیا اور اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا ۔یہ قیامت کے روز اخروی جزا اور اعمال کے کامل بدلے کا مقدمہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ہولناک واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوں گے۔ ان میں سے اولین واقعہ یہ ہو گا کہ اسرافیل ﴿ فِي الصُّوۡرِ﴾ صور پھونکیں گے جب اجساد مکمل ہوجائیں گے﴿نَفۡخَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾’’ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔‘‘ پس روحیں نکل آئیں گی اور ہر روح اپنے جسد میں داخل ہو جائے گی، تب تمام لوگ رب کائنات کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔﴿وَّحُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَالۡؔجِبَالُ فَدُكَّـتَا دَؔكَّةً وَّاحِدَةً﴾یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے، وہ نیست و نابود ہو کر رزق خاک ہو جائیں گے ، یعنی ان کو ڈھا کر زمین میں برابر کر دیا جائے گا، چنانچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے۔ یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہو گا۔ رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہو گا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہو جائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہو جائیں گے، یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہو گا جو ان کو کمزور کر دے گا۔﴿وَّالۡمَلَكُ﴾ اور مکرم فرشتے ﴿عَلٰۤى اَرۡجَآىِٕهَا﴾ آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے ﴿وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جو انتہائی طاقت ور ہوں گے (یہ اس وقت ہو گا) جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل و انصاف اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ، فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿يَوۡمَىِٕذٍ تُعۡرَضُوۡنَ﴾ اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ ﴿لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ﴾ تمھارے اجساد اور ذوات چھپ سکیں گے نہ تمھارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور موجود سب کا علم رکھتا ہے۔ تمام بندے ننگے پاؤ ں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں، ایک ہموار میدان میں جمع کیے جائیں گے، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ ان سب تک پہنچ سکے گی، اس وقت اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا اس لیے جزا کی کیفیت کا ذکر کیا۔
69:18

يَوۡمَئِذٖ تُعۡرَضُونَ لَا تَخۡفَىٰ مِنكُمۡ خَافِيَةٞ

پس جب پھونکا جائے گا صور میں پھونکنا ایک بار (13) اور اٹھائی جائے گی زمین اور پہاڑ، پس کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے وہ دونوں (مکمل) ریزہ ریزہ کر دیا جانا ایک ہی بار (14) پس اس دن واقع ہو گی واقع ہونے والی (قیامت)(15) اور پھٹ جائے گا آسمان پس وہ ہو گا اس دن کمزور (16) اور فرشتے (ہو ں گے) اس کےکناروں پر اور اٹھائیں گے عرش آپ کے رب کا اپنے اوپر اس دن آٹھ (فرشتے)(17) اس دن تم پیش کیے جاؤ گے (حساب کے لیے) نہیں چھپے گا تمھارے (رازوں) میں سے کوئی راز (18) [18-13] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا، انھیں کیسا بدلہ دیا، دنیا کے اندر ہی ان پر عذاب بھیج دیا اور اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا ۔یہ قیامت کے روز اخروی جزا اور اعمال کے کامل بدلے کا مقدمہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ہولناک واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوں گے۔ ان میں سے اولین واقعہ یہ ہو گا کہ اسرافیل ﴿ فِي الصُّوۡرِ﴾ صور پھونکیں گے جب اجساد مکمل ہوجائیں گے﴿نَفۡخَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾’’ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔‘‘ پس روحیں نکل آئیں گی اور ہر روح اپنے جسد میں داخل ہو جائے گی، تب تمام لوگ رب کائنات کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔﴿وَّحُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَالۡؔجِبَالُ فَدُكَّـتَا دَؔكَّةً وَّاحِدَةً﴾یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے، وہ نیست و نابود ہو کر رزق خاک ہو جائیں گے ، یعنی ان کو ڈھا کر زمین میں برابر کر دیا جائے گا، چنانچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے۔ یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہو گا۔ رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہو گا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہو جائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہو جائیں گے، یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہو گا جو ان کو کمزور کر دے گا۔﴿وَّالۡمَلَكُ﴾ اور مکرم فرشتے ﴿عَلٰۤى اَرۡجَآىِٕهَا﴾ آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے ﴿وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جو انتہائی طاقت ور ہوں گے (یہ اس وقت ہو گا) جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل و انصاف اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ، فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿يَوۡمَىِٕذٍ تُعۡرَضُوۡنَ﴾ اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ ﴿لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ﴾ تمھارے اجساد اور ذوات چھپ سکیں گے نہ تمھارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور موجود سب کا علم رکھتا ہے۔ تمام بندے ننگے پاؤ ں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں، ایک ہموار میدان میں جمع کیے جائیں گے، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ ان سب تک پہنچ سکے گی، اس وقت اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا اس لیے جزا کی کیفیت کا ذکر کیا۔
69:19

فَأَمَّا مَنۡ أُوتِيَ كِتَٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ فَيَقُولُ هَآؤُمُ ٱقۡرَءُواْ كِتَٰبِيَهۡ

پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، لو پڑھو تم میرا نامۂ اعمال(19) بلاشبہ مجھے یقین تھا کہ بے شک میں ملنے والا ہوں اپنے حساب سے (20) پس وہ ہو گا پسندیدہ زندگی میں (21)(یعنی )بہشت بریں میں (22) اس کے پھل قریب ہوں گے (23)(کہا جائے گا:) کھاؤ اور پیو خوش گوار، بدلے ان (نیک اعمال) کے جو آگے بھیجے تم نے ایام گزشتہ میں (24) [20,19] یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے، ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے، ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے۔ اس وقت ان میں سے کوئی فرحت و سرور، اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا:﴿ هَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا كِتٰبِيَهۡ﴾ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو، یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایا وہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے قیامت کے دن کے لیے تیاری کی توفیق دی جو امکان اور استطاعت میں ہیں، اسی لیے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ ظَنَنۡتُ اَنِّيۡ مُلٰقٍ حِسَابِيَهۡ﴾ ’’ مجھے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔‘‘ یہاں (ظَنّ) یقین کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ [24-21]﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ ’’پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔‘‘ یعنی جو ان تمام چیزوں پر مشتمل ہو گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ اس زندگی سے راضی ہوں گے اور اس کے بدلے کسی اور چیز کو منتخب نہیں کریں گے۔ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ﴾ بلند رہائش گاہوں اور بلند محلوں والی جنت میں ہوں گے﴿ قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ﴾ اس کے پھل اور محتلف انواع کے میوے بہت قریب ہوں گے۔ اہل جنت کے لیے ان کا حاصل کرنا بہت آسان ہو گا۔ اہل جنت، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے، ہر حالت میں ان کو حاصل کر سکیں گے۔ اکرام و تکریم کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ ہر قسم کا لذیذ کھانا اور مزیدار مشروب کھاؤ اور پیو۔ ﴿ هَنِيۡٓــًٔۢا﴾ کسی تکدر اور ناخوشگواری کے بغیر کامل طریقے سے کھاؤ اور پیو۔ یہ جزا تمھیں اس سبب سے حاصل ہوئی ہے ﴿ بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِي الۡاَيَّامِ الۡخَالِيَةِ﴾ جو تم نے اعمال صالحہ، نماز، روزہ زکاۃ، حج مخلوق کے ساتھ حسن سلوک، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی طرف انابت اور برے اعمال ترک کیے، پس اعمال کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کا سبب، اس کی نعمتوں کا مادہ اور اس کی سعادت کی بنیاد بنایا ہے۔
69:20

إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَٰقٍ حِسَابِيَهۡ

پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، لو پڑھو تم میرا نامۂ اعمال(19) بلاشبہ مجھے یقین تھا کہ بے شک میں ملنے والا ہوں اپنے حساب سے (20) پس وہ ہو گا پسندیدہ زندگی میں (21)(یعنی )بہشت بریں میں (22) اس کے پھل قریب ہوں گے (23)(کہا جائے گا:) کھاؤ اور پیو خوش گوار، بدلے ان (نیک اعمال) کے جو آگے بھیجے تم نے ایام گزشتہ میں (24) [20,19] یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے، ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے، ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے۔ اس وقت ان میں سے کوئی فرحت و سرور، اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا:﴿ هَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا كِتٰبِيَهۡ﴾ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو، یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایا وہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے قیامت کے دن کے لیے تیاری کی توفیق دی جو امکان اور استطاعت میں ہیں، اسی لیے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ ظَنَنۡتُ اَنِّيۡ مُلٰقٍ حِسَابِيَهۡ﴾ ’’ مجھے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔‘‘ یہاں (ظَنّ) یقین کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ [24-21]﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ ’’پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔‘‘ یعنی جو ان تمام چیزوں پر مشتمل ہو گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ اس زندگی سے راضی ہوں گے اور اس کے بدلے کسی اور چیز کو منتخب نہیں کریں گے۔ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ﴾ بلند رہائش گاہوں اور بلند محلوں والی جنت میں ہوں گے﴿ قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ﴾ اس کے پھل اور محتلف انواع کے میوے بہت قریب ہوں گے۔ اہل جنت کے لیے ان کا حاصل کرنا بہت آسان ہو گا۔ اہل جنت، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے، ہر حالت میں ان کو حاصل کر سکیں گے۔ اکرام و تکریم کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ ہر قسم کا لذیذ کھانا اور مزیدار مشروب کھاؤ اور پیو۔ ﴿ هَنِيۡٓــًٔۢا﴾ کسی تکدر اور ناخوشگواری کے بغیر کامل طریقے سے کھاؤ اور پیو۔ یہ جزا تمھیں اس سبب سے حاصل ہوئی ہے ﴿ بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِي الۡاَيَّامِ الۡخَالِيَةِ﴾ جو تم نے اعمال صالحہ، نماز، روزہ زکاۃ، حج مخلوق کے ساتھ حسن سلوک، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی طرف انابت اور برے اعمال ترک کیے، پس اعمال کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کا سبب، اس کی نعمتوں کا مادہ اور اس کی سعادت کی بنیاد بنایا ہے۔
69:21

فَهُوَ فِي عِيشَةٖ رَّاضِيَةٖ

پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، لو پڑھو تم میرا نامۂ اعمال(19) بلاشبہ مجھے یقین تھا کہ بے شک میں ملنے والا ہوں اپنے حساب سے (20) پس وہ ہو گا پسندیدہ زندگی میں (21)(یعنی )بہشت بریں میں (22) اس کے پھل قریب ہوں گے (23)(کہا جائے گا:) کھاؤ اور پیو خوش گوار، بدلے ان (نیک اعمال) کے جو آگے بھیجے تم نے ایام گزشتہ میں (24) [20,19] یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے، ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے، ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے۔ اس وقت ان میں سے کوئی فرحت و سرور، اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا:﴿ هَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا كِتٰبِيَهۡ﴾ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو، یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایا وہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے قیامت کے دن کے لیے تیاری کی توفیق دی جو امکان اور استطاعت میں ہیں، اسی لیے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ ظَنَنۡتُ اَنِّيۡ مُلٰقٍ حِسَابِيَهۡ﴾ ’’ مجھے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔‘‘ یہاں (ظَنّ) یقین کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ [24-21]﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ ’’پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔‘‘ یعنی جو ان تمام چیزوں پر مشتمل ہو گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ اس زندگی سے راضی ہوں گے اور اس کے بدلے کسی اور چیز کو منتخب نہیں کریں گے۔ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ﴾ بلند رہائش گاہوں اور بلند محلوں والی جنت میں ہوں گے﴿ قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ﴾ اس کے پھل اور محتلف انواع کے میوے بہت قریب ہوں گے۔ اہل جنت کے لیے ان کا حاصل کرنا بہت آسان ہو گا۔ اہل جنت، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے، ہر حالت میں ان کو حاصل کر سکیں گے۔ اکرام و تکریم کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ ہر قسم کا لذیذ کھانا اور مزیدار مشروب کھاؤ اور پیو۔ ﴿ هَنِيۡٓــًٔۢا﴾ کسی تکدر اور ناخوشگواری کے بغیر کامل طریقے سے کھاؤ اور پیو۔ یہ جزا تمھیں اس سبب سے حاصل ہوئی ہے ﴿ بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِي الۡاَيَّامِ الۡخَالِيَةِ﴾ جو تم نے اعمال صالحہ، نماز، روزہ زکاۃ، حج مخلوق کے ساتھ حسن سلوک، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی طرف انابت اور برے اعمال ترک کیے، پس اعمال کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کا سبب، اس کی نعمتوں کا مادہ اور اس کی سعادت کی بنیاد بنایا ہے۔
69:22

فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٖ

پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، لو پڑھو تم میرا نامۂ اعمال(19) بلاشبہ مجھے یقین تھا کہ بے شک میں ملنے والا ہوں اپنے حساب سے (20) پس وہ ہو گا پسندیدہ زندگی میں (21)(یعنی )بہشت بریں میں (22) اس کے پھل قریب ہوں گے (23)(کہا جائے گا:) کھاؤ اور پیو خوش گوار، بدلے ان (نیک اعمال) کے جو آگے بھیجے تم نے ایام گزشتہ میں (24) [20,19] یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے، ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے، ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے۔ اس وقت ان میں سے کوئی فرحت و سرور، اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا:﴿ هَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا كِتٰبِيَهۡ﴾ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو، یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایا وہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے قیامت کے دن کے لیے تیاری کی توفیق دی جو امکان اور استطاعت میں ہیں، اسی لیے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ ظَنَنۡتُ اَنِّيۡ مُلٰقٍ حِسَابِيَهۡ﴾ ’’ مجھے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔‘‘ یہاں (ظَنّ) یقین کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ [24-21]﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ ’’پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔‘‘ یعنی جو ان تمام چیزوں پر مشتمل ہو گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ اس زندگی سے راضی ہوں گے اور اس کے بدلے کسی اور چیز کو منتخب نہیں کریں گے۔ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ﴾ بلند رہائش گاہوں اور بلند محلوں والی جنت میں ہوں گے﴿ قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ﴾ اس کے پھل اور محتلف انواع کے میوے بہت قریب ہوں گے۔ اہل جنت کے لیے ان کا حاصل کرنا بہت آسان ہو گا۔ اہل جنت، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے، ہر حالت میں ان کو حاصل کر سکیں گے۔ اکرام و تکریم کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ ہر قسم کا لذیذ کھانا اور مزیدار مشروب کھاؤ اور پیو۔ ﴿ هَنِيۡٓــًٔۢا﴾ کسی تکدر اور ناخوشگواری کے بغیر کامل طریقے سے کھاؤ اور پیو۔ یہ جزا تمھیں اس سبب سے حاصل ہوئی ہے ﴿ بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِي الۡاَيَّامِ الۡخَالِيَةِ﴾ جو تم نے اعمال صالحہ، نماز، روزہ زکاۃ، حج مخلوق کے ساتھ حسن سلوک، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی طرف انابت اور برے اعمال ترک کیے، پس اعمال کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کا سبب، اس کی نعمتوں کا مادہ اور اس کی سعادت کی بنیاد بنایا ہے۔
69:23

قُطُوفُهَا دَانِيَةٞ

پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، لو پڑھو تم میرا نامۂ اعمال(19) بلاشبہ مجھے یقین تھا کہ بے شک میں ملنے والا ہوں اپنے حساب سے (20) پس وہ ہو گا پسندیدہ زندگی میں (21)(یعنی )بہشت بریں میں (22) اس کے پھل قریب ہوں گے (23)(کہا جائے گا:) کھاؤ اور پیو خوش گوار، بدلے ان (نیک اعمال) کے جو آگے بھیجے تم نے ایام گزشتہ میں (24) [20,19] یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے، ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے، ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے۔ اس وقت ان میں سے کوئی فرحت و سرور، اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا:﴿ هَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا كِتٰبِيَهۡ﴾ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو، یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایا وہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے قیامت کے دن کے لیے تیاری کی توفیق دی جو امکان اور استطاعت میں ہیں، اسی لیے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ ظَنَنۡتُ اَنِّيۡ مُلٰقٍ حِسَابِيَهۡ﴾ ’’ مجھے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔‘‘ یہاں (ظَنّ) یقین کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ [24-21]﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ ’’پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔‘‘ یعنی جو ان تمام چیزوں پر مشتمل ہو گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ اس زندگی سے راضی ہوں گے اور اس کے بدلے کسی اور چیز کو منتخب نہیں کریں گے۔ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ﴾ بلند رہائش گاہوں اور بلند محلوں والی جنت میں ہوں گے﴿ قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ﴾ اس کے پھل اور محتلف انواع کے میوے بہت قریب ہوں گے۔ اہل جنت کے لیے ان کا حاصل کرنا بہت آسان ہو گا۔ اہل جنت، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے، ہر حالت میں ان کو حاصل کر سکیں گے۔ اکرام و تکریم کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ ہر قسم کا لذیذ کھانا اور مزیدار مشروب کھاؤ اور پیو۔ ﴿ هَنِيۡٓــًٔۢا﴾ کسی تکدر اور ناخوشگواری کے بغیر کامل طریقے سے کھاؤ اور پیو۔ یہ جزا تمھیں اس سبب سے حاصل ہوئی ہے ﴿ بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِي الۡاَيَّامِ الۡخَالِيَةِ﴾ جو تم نے اعمال صالحہ، نماز، روزہ زکاۃ، حج مخلوق کے ساتھ حسن سلوک، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی طرف انابت اور برے اعمال ترک کیے، پس اعمال کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کا سبب، اس کی نعمتوں کا مادہ اور اس کی سعادت کی بنیاد بنایا ہے۔
69:24

كُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ هَنِيٓـَٔۢا بِمَآ أَسۡلَفۡتُمۡ فِي ٱلۡأَيَّامِ ٱلۡخَالِيَةِ

پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، لو پڑھو تم میرا نامۂ اعمال(19) بلاشبہ مجھے یقین تھا کہ بے شک میں ملنے والا ہوں اپنے حساب سے (20) پس وہ ہو گا پسندیدہ زندگی میں (21)(یعنی )بہشت بریں میں (22) اس کے پھل قریب ہوں گے (23)(کہا جائے گا:) کھاؤ اور پیو خوش گوار، بدلے ان (نیک اعمال) کے جو آگے بھیجے تم نے ایام گزشتہ میں (24) [20,19] یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے، ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے، ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے۔ اس وقت ان میں سے کوئی فرحت و سرور، اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا:﴿ هَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا كِتٰبِيَهۡ﴾ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو، یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایا وہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے قیامت کے دن کے لیے تیاری کی توفیق دی جو امکان اور استطاعت میں ہیں، اسی لیے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ ظَنَنۡتُ اَنِّيۡ مُلٰقٍ حِسَابِيَهۡ﴾ ’’ مجھے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔‘‘ یہاں (ظَنّ) یقین کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ [24-21]﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ ’’پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔‘‘ یعنی جو ان تمام چیزوں پر مشتمل ہو گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ اس زندگی سے راضی ہوں گے اور اس کے بدلے کسی اور چیز کو منتخب نہیں کریں گے۔ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ﴾ بلند رہائش گاہوں اور بلند محلوں والی جنت میں ہوں گے﴿ قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ﴾ اس کے پھل اور محتلف انواع کے میوے بہت قریب ہوں گے۔ اہل جنت کے لیے ان کا حاصل کرنا بہت آسان ہو گا۔ اہل جنت، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے، ہر حالت میں ان کو حاصل کر سکیں گے۔ اکرام و تکریم کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ ہر قسم کا لذیذ کھانا اور مزیدار مشروب کھاؤ اور پیو۔ ﴿ هَنِيۡٓــًٔۢا﴾ کسی تکدر اور ناخوشگواری کے بغیر کامل طریقے سے کھاؤ اور پیو۔ یہ جزا تمھیں اس سبب سے حاصل ہوئی ہے ﴿ بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِي الۡاَيَّامِ الۡخَالِيَةِ﴾ جو تم نے اعمال صالحہ، نماز، روزہ زکاۃ، حج مخلوق کے ساتھ حسن سلوک، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی طرف انابت اور برے اعمال ترک کیے، پس اعمال کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کا سبب، اس کی نعمتوں کا مادہ اور اس کی سعادت کی بنیاد بنایا ہے۔
69:25

وَأَمَّا مَنۡ أُوتِيَ كِتَٰبَهُۥ بِشِمَالِهِۦ فَيَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي لَمۡ أُوتَ كِتَٰبِيَهۡ

اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37) [29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔ [37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
69:26

وَلَمۡ أَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ

اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37) [29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔ [37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
69:27

يَٰلَيۡتَهَا كَانَتِ ٱلۡقَاضِيَةَ

اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37) [29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔ [37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
69:28

مَآ أَغۡنَىٰ عَنِّي مَالِيَهۡۜ

اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37) [29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔ [37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
69:29

هَلَكَ عَنِّي سُلۡطَٰنِيَهۡ

اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37) [29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔ [37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
69:30

خُذُوهُ فَغُلُّوهُ

اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37) [29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔ [37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
69:31

ثُمَّ ٱلۡجَحِيمَ صَلُّوهُ

اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37) [29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔ [37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
69:32

ثُمَّ فِي سِلۡسِلَةٖ ذَرۡعُهَا سَبۡعُونَ ذِرَاعٗا فَٱسۡلُكُوهُ

اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37) [29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔ [37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
69:33

إِنَّهُۥ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ ٱلۡعَظِيمِ

اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37) [29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔ [37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
69:34

وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ

اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37) [29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔ [37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
69:35

فَلَيۡسَ لَهُ ٱلۡيَوۡمَ هَٰهُنَا حَمِيمٞ

اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37) [29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔ [37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
69:36

وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنۡ غِسۡلِينٖ

اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37) [29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔ [37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
69:37

لَّا يَأۡكُلُهُۥٓ إِلَّا ٱلۡخَٰطِـُٔونَ

اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37) [29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔ [37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
69:38

فَلَآ أُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُونَ

سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52) [43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ [47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔ [48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔ [49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔ [50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔ [51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔ [52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
69:39

وَمَا لَا تُبۡصِرُونَ

سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52) [43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ [47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔ [48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔ [49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔ [50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔ [51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔ [52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
69:40

إِنَّهُۥ لَقَوۡلُ رَسُولٖ كَرِيمٖ

سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52) [43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ [47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔ [48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔ [49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔ [50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔ [51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔ [52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
69:41

وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَاعِرٖۚ قَلِيلٗا مَّا تُؤۡمِنُونَ

سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52) [43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ [47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔ [48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔ [49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔ [50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔ [51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔ [52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
69:42

وَلَا بِقَوۡلِ كَاهِنٖۚ قَلِيلٗا مَّا تَذَكَّرُونَ

سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52) [43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ [47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔ [48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔ [49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔ [50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔ [51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔ [52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
69:43

تَنزِيلٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ

سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52) [43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ [47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔ [48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔ [49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔ [50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔ [51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔ [52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
69:44

وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَيۡنَا بَعۡضَ ٱلۡأَقَاوِيلِ

سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52) [43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ [47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔ [48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔ [49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔ [50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔ [51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔ [52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
69:45

لَأَخَذۡنَا مِنۡهُ بِٱلۡيَمِينِ

سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52) [43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ [47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔ [48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔ [49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔ [50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔ [51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔ [52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
69:46

ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ ٱلۡوَتِينَ

سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52) [43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ [47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔ [48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔ [49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔ [50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔ [51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔ [52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
69:47

فَمَا مِنكُم مِّنۡ أَحَدٍ عَنۡهُ حَٰجِزِينَ

سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52) [43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ [47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔ [48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔ [49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔ [50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔ [51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔ [52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
69:48

وَإِنَّهُۥ لَتَذۡكِرَةٞ لِّلۡمُتَّقِينَ

سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52) [43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ [47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔ [48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔ [49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔ [50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔ [51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔ [52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
69:49

وَإِنَّا لَنَعۡلَمُ أَنَّ مِنكُم مُّكَذِّبِينَ

سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52) [43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ [47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔ [48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔ [49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔ [50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔ [51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔ [52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
69:50

وَإِنَّهُۥ لَحَسۡرَةٌ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ

سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52) [43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ [47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔ [48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔ [49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔ [50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔ [51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔ [52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
69:51

وَإِنَّهُۥ لَحَقُّ ٱلۡيَقِينِ

سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52) [43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ [47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔ [48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔ [49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔ [50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔ [51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔ [52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔
69:52

فَسَبِّحۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلۡعَظِيمِ

سو قسم کھاتا ہوں میں ان چیزوں کی جو تم دیکھتے ہو (38) اور ان کی جو نہیں دیکھتے تم(39) بلاشبہ یہ (قرآن) البتہ قول ہے رسول کریم کا (40) اور نہیں ہے یہ(قرآن)قول کسی شاعر کا بہت ہی کم ایمان لاتے ہو تم (41) اور نہیں ہے (یہ) قول کسی کاہن کا، بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو تم (42)(یہ تو) نازل شدہ ہے رب العالمین کی طرف سے (43) اور اگر وہ (رسول) گھڑ کر لگا دیتا ہمارے ذمے بعض باتیں (44) تو البتہ پکڑ لیتے ہم اس کا دایاں ہاتھ (45) پھر البتہ ہم کاٹ دیتے اس کی رگ دل(شہ رگ)(46) پھر نہ ہوتا تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں) اس سے روکنے والا (47) اور بلاشبہ وہ (قرآن) البتہ نصیحت ہے متقی لوگوں کے لیے (48) اور یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک کچھ تم میں سے جھٹلانے والے ہیں(49) اور یقیناً وہ (جھٹلانا) البتہ حسرت ہو گا کافروں پر (50) اور بلاشبہ وہ البتہ یقینی حق ہے (51) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظمت والا ہے (52) [43-38] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے جنھیں مخلوق دیکھ سکتی ہے اور جنھیں نہیں دیکھ سکتی، ان میں تمام مخلوق داخل ہے بلکہ اس کا نفس مقدس بھی شامل ہے ۔ یہ قسم رسول اللہﷺ اور اس قرآن کی صداقت پر کھائی ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں، نیز اس بات پر کہ رسول کریم ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان تمام بہتان طرازیوں سے … مثلاً: یہ کہ آپ شاعر ہیں یا آپ جادوگر ہیں … منزہ قرار دیا ہے۔ ان بہتان طرازیوں پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا، وہ ہے ان کا عدم ایمان اور عدم تفکر، چنانچہ اگر وہ ایمان لائے ہوتے اور انھوں نے غور و فکر کیاہوتا تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز نقصان دیتی ہے، اس میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ وہ نبی ٔکریمﷺ کے احوال میں غور کریں، آپ کے اوصاف اور اخلاق کو گہری نظر سے دیکھیں تاکہ ان کو ایسا معاملہ نظر آئے جو سورج کی مانند روشن ہے جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہ نمائی کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے اور وہ بشر کا قول نہیں ہو سکتا بلکہ وہ ایسا کلام ہے جو کلام کرنے والے کی عظمت، اس کے اوصاف کی جلالت، بندوں کے لیے اس کے کمال تربیت اور بندوں پر اس کے بلند ہونے پر دلالت کرتا ہے، نیز یہ ان کی طرف سے ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت کے لائق نہیں۔ [47-44] اگر اس رسول نے ہم پر کوئی جھوٹ گھڑا ہوتا ﴿ بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِ﴾ اور بعض جھوٹی باتیں بنائی ہوتیں۔ ﴿ لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾ ’’تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور رگ گردن کاٹ دیتے۔‘‘ (وَتِیْنٌ )وہ رگ ہے جو دل کے قریب ہوتی ہے اگر وہ کٹ جائے تو انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے … حاشا و کلا … کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو فوراً سزا دیتا اور آپ کو اس طرح پکڑتا جس طرح ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی پکڑتی ہے کیونکہ وہ حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں جھوٹ گھڑنے والے کو مہلت نہ دے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خون اور اموال اس کے لیے مباح ٹھہرا دیے ہیں جو اس کی مخالفت کریں، نجات صرف اسی کے لیے اور اس کے پیروکاروں کے لیے ہے اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے معجزات کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد فرمائی اور جو کچھ لے کر وہ مبعوث ہوا اس کی صداقت پر واضح نشانیوں کے ساتھ دلائل و براہین دیے، اس کے دشمنوں کے خلاف اسے فتح و نصرت سے نوازا اور ان کی پیشانیاں اس کے قبضے میں دے دیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسالت پر سب سے بڑی گواہی ہے۔ ﴿ فَمَا مِنۡكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡهُ حٰؔجِزِيۡنَ﴾ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک کرنا چاہے تو آپ خود اس کی ہلاکت سے بچ سکتے ہیں نہ کوئی اس پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے۔ [48]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ بے شک یہ قرآن کریم ﴿ لَتَذۡكِرَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ وہ اپنے دین و دنیا کے مصالح کے بارے میں اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ پس وہ اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، چنانچہ وہ ان کو عقائد دینیہ، اخلاق حَسَینہ، اور احکام شرعیہ کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پس وہ علمائے ربانی، عباد عارفین اور ائمۂ مہدیین بن جاتے ہیں۔ [49]﴿ وَاِنَّا لَنَعۡلَمُ اَنَّ مِنۡكُمۡ مُّكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اسے جھٹلاتے ہیں۔‘‘ اس میں رسول کو جھٹلانے والے اور تکذیب کرنے والوں کے لیے وعید اور تہدید ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو سخت عقوبت کے ذریعے سے سزا دے گا۔ [50]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَسۡرَةٌ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور یہ کافروں کے لیے حسرت ہے۔‘‘ چونکہ انھوں نے اس کا انکار کیا تھا اس نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ انھوں نے دیکھ لیا، اس لیے وہ حسرت کا اظہار کریں گے کہ انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل نہ کی اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس وہ ثواب سے محروم ہو کر شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے۔ [51]﴿ وَاِنَّهٗ لَحَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق ہے۔‘‘ یعنی علم کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے کیونکہ علم کا بلند ترین مرتبہ یقین ہے اور یقین، علم ثابت کو کہا جاتا ہے جو کبھی متزلزل ہوتا ہے نہ زائل ہوتا ہے۔ یقین کے تین مراتب ہیں ان میں سے ہر مرتبہ ما قبل مرتبے سے بلند تر ہے:اول :علم الیقین وہ علم ہے جو خبر سے مستفاد ہوتا ہے۔ثانی: عین الیقن وہ علم ہے جس کا ادراک حاسۂ بصر سے ہوتا ہے۔ ثالث: حق الیقین وہ علم جس کا ادراک حاسۂ ذوق و لمس سے ہوتا ہے۔اس قرآن میں حق الیقین کا وصف پایا جاتا ہے کیونکہ اس میں جو علوم مذکور ہیں قطعی دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس میں جو حقائق اور معارف ایمانی ہیں وہ اسے حاصل ہوتے ہیں جس نے حق الیقین کا ذائقہ چکھا ہے۔ [52]﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’پس تو اپنے رب عظیم کی پاگی بیان کرو۔‘‘ یعنی اسے ان اوصاف سے منزہ گردانیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، اس کے اوصاف جلال و جمال اور اوصاف کمال کا ذکر کر کے اس کی تقدیس بیان کریں۔